اسلامی شریعت اور حلالہ / ایک سوال نامہ اور اس کے مختصر جوابات
محمد عمار خان ناصر
ہمارے معاشرے میں دین وشریعت کے غلط اور مبنی بر جہالت فہم کے جو مختلف مظاہر پائے جاتے ہیں، ان میں سے ایک، حلالہ کی رسم ہے۔ مروجہ رسم کے مطابق حلالہ کا تصور یہ ہے کہ اگر شوہر، بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اب ان کے اکٹھا رہنے کے جواز کے لیے شرط ہے کہ عورت، عارضی طور پر کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے، اس سے جسمانی تعلق قائم کرے اور پھر طلاق لے کر پہلے شوہر کے پاس واپس آ جائے۔ یعنی اس میں دو تین چیزیں پہلے سے طے ہیں: ایک یہ کہ یہ دوسرا نکاح وقتی اور عارضی مدت کی نیت سے ہوگا۔ دوسرا یہ کہ اس کا مقصد ہی پہلے شوہر کے لیے عورت کو حلال کرنا ہے۔ اور تیسرا یہ کہ اس سارے عمل میں عورت کی مرضی کی کوئی اہمیت نہیں، اسے بس ایک بتایا گیا پروسیجر پورا کر کے بہرحال پہلے شوہر کے پاس واپس آنا ہے۔
اسلامی شریعت میں حلالہ کے اس تصور کی کوئی بنیاد نہیں۔ شریعت میں جو قانون دیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ اگر شوہر دو دفعہ بیوی کو طلاق دینے کے بعد رجوع کر چکا ہو اور پھر تیسری مرتبہ بیوی کو طلاق دے دے تو اب وہ رجوع نہیں کر سکتا اور تیسری طلاق کے بعد وہ دونوں، میاں بیوی کے طور پر اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ عورت اب کسی دوسرے مرد سے ہی نکاح کرے گی اور یہ نکاح ہرگز عارضی تعلق کی نیت سے اور پہلے شوہر کے لیے عورت کو حلال کرنے کے ارادے سے نہیں ہوگا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نیت سے نکاح کرنے والے اور پہلے شوہر، جس کے لیے نکاح کیا جا رہا ہے، دونوں پر لعنت فرمائی ہے اور عارضی نکاح کرنے والے کو کرایے کے سانڈ سے تشبیہ دی ہے۔ اس طرح کا مقدمہ سامنے آنے پر سیدنا عمر نے دوسرے شوہر کو سخت زجر وتوبیخ کی اور اسے پابند کیا کہ اب وہ اس نکاح کو قائم رکھے۔ نیز یہ کہ اگر اس نے پہلے شوہر کے لیے عورت کو حلال کرنے کی غرض سے اسے طلاق دی تو اسے بدکاری کی پاداش میں سنگسار کیا جائے گا۔ جمہور فقہائے اسلام حلالہ کی نیت سے کیے گئے نکاح کو منعقد ہی نہیں مانتے اور نہ اس کی بنیاد پر عورت کو پہلے شوہر کے لیے حلال قرار دیتے ہیں۔ صرف حنفی فقہاء نے ایک فقہی نکتے کی بنیاد پر اس طریقے کو اصولاً واخلاقاً ناجائز قرار دیتے ہوئے صرف قانونی اثرات کی حد تک معتبر تسلیم کیا ہے۔
اس تفصیل سے واضح ہے کہ شریعت میں دراصل، عورت کو پہلے شوہر کے لیے حلال کرنے کا کوئی طریقہ تجویز نہیں کیا گیا، بلکہ تیسری طلاق کے بعد دونوں کے اکٹھے رہنے پر پابندی عائد کی ہے اور عورت سے کہا ہے کہ اب وہ کسی دوسرے مرد کے ساتھ ہی زندگی گزارے۔ البتہ اگر کسی وجہ سے اتفاقاً دوسرے شوہر سے بھی علیحدگی ہو جائے اور عورت اپنی آزادانہ مرضی سے دوبارہ پہلے شوہر کے نکاح میں جانا چاہے اور دونوں کو یہ اطمینان ہو کہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے رشتہ نکاح کو نباہ سکیں گے تو ایسی صورت میں شریعت انھیں دوبارہ نکاح کی اجازت دیتی ہے۔ اس طریقے کا، جیسا کہ واضح ہے، حلالہ کے مروجہ طریقے سے کوئی تعلق نہیں جو سر تا سر جہالت اور حرام حیلوں پر مبنی طریقہ ہے۔ اس میں شوہر کی غلطی کی سزا بیوی کو دی جاتی ہے جو غیر منصفانہ بھی ہے اور عورت کی تذلیل بھی۔
البتہ یہاں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ تیسری طلاق کے بعد شریعت میں مرد اور عورت کو اکٹھا رہنے سے کیوں روکا گیا ہے؟ اس کی حکمت عموماً یہ بتائی جاتی ہے کہ اس پابندی کے ذریعے سے، شوہر سے بیوی کو اذیت پہنچانے کا ایک ہتھیار چھین لیا گیا ہے، کیونکہ اگر شوہر کو طلاق دینے کے بعد عدت کے اندر بیوی سے رجوع کر لینے کا لا محدود اختیار حاصل ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ نہ تو اپنی ناپسندیدہ بیوی کو مکمل حقوق کے ساتھ نکاح میں رکھے گا اور نہ اسے بندھن سے آزاد کرے گا تاکہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کر لے۔ گویا زمانہ جاہلیت کے غیر اخلاقی طرز عمل کے تناظر میں شریعت میں شوہر پر یہ پابندی عائد کر دی گئی کہ وہ طلاق کے بعد رجوع کا حق صرف دو مرتبہ استعمال کر سکتا ہے، تیسری مرتبہ طلاق دینے پر اسے یہ حق حاصل نہیں ہوگا۔
یہ حکمت جزوی طور پر درست معلوم ہوتی ہے، لیکن اس سے حکم کی مکمل توجیہ نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ حکم کے مطابق پابندی صرف شوہر کے رجوع کرنے پرنہیں، بلکہ میاں بیوی کے اکٹھا رہنے پر عائد کی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خود عورت بھی بدستور اس شوہر کے نکاح میں رہنے پر راضی ہو، تب بھی اس کی گنجائش نہیں اور عورت کو بہرحال کسی دوسرے آدمی سے ہی نکاح کرنا پڑے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پابندی صرف عورت کو ضرر سے بچانے کے لیے نہیں لگائی گئی، بلکہ اس میں کوئی دوسرا پہلو بھی ہے۔ ہماری رائے میں اس پابندی سے رشتہ نکاح کے تقدس کے حوالے سے شریعت کی مخصوص حساسیت کا اظہار ہوتا ہے۔ شریعت کی نظر میں یہ رشتہ محض مادی یعنی جسمانی وسماجی ضروریات کے پہلو سے اہمیت نہیں رکھتا، بلکہ اسے ایک خاص طرح کا روحانی تقدس بھی حاصل ہے جو یہ تقاضا کرتا ہے کہ انسان اس رشتے کو معمولی سمجھتے ہوئے غیر سنجیدہ اور لا ابالی قسم کا رویہ اختیار نہ کرے۔ انسانی نفسیات میں اس حساسیت کو زندہ رکھنے کے لیے ناگزیر ہے کہ اس رشتے کو قائم کرنے اور اسے ختم کرنے کے ضمن میں اس نوعیت کی کچھ پابندیاں عائد کی جائیں۔ شریعت کا منشا یہ ہے کہ نکاح کا رشتہ خوب سوچ سمجھ کر قائم کیا جائے اور ہمیشہ قائم رکھے جانے کے عزم کے ساتھ وجود میں لایا جائے۔ اگر کسی وجہ سے نباہ نہ ہو سکے تو اسے ختم کرنے کا فیصلہ بھی پوری طرح سوچ سمجھ کر اور اسی صورت میں کیا جائے جب موافقت اور ہم آہنگی کے امکانات بالکل ختم ہو جائیں۔ یہاں تک کہ طلاق دینے کا فیصلہ کیا جائے تو بھی ایک مخصوص مدت کے اندر فیصلے پر نظر ثانی کی گنجائش باقی رکھی گئی ہے، تاہم مذکورہ زاویہ نظر سے شریعت کی منشا یہ ہے کہ نظر ثانی کی گنجائش لامحدود نہیں، بلکہ محدود اور کچھ شرائط کے ساتھ مشروط ہو تاکہ طلاق کے حوالے سے غیر سنجیدگی اور لابالی پن کی نفسیات پیدا نہ ہو سکے۔
اسی نوعیت کی حساسیت ہمیں ظہار کے قانون میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ قبل از اسلام کی عرب معاشرت میں اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہہ دیتا کہ تم مجھ پر میری ماں کی طرح حرام ہو تو اسے حتمی اور ابدی حرمت کا مستوجب سمجھا جاتا تھا۔ اسلامی شریعت میں ابتداءً اسی قانون کو برقرار رکھا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رشتہ نکاح میں اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو شریعت بھی سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہے اور چاہتی ہے کہ اس تشبیہ کے بعد مرد اور عورت، میاں بیوی کے طور پر اکٹھے نہ رہیں۔تاہم ایک خاص واقعہ رونما ہونے پر اللہ تعالیٰ نے اس قانون میں آسانی پیدا کرتے ہوئے ترمیم کر دی اور سورۃ المجادلہ میں فرمایا کہ بیوی کو ماں سے تشبیہ دینے کے بعد ، دونوں کے بطور میاں بیوی رہنے کی گنجائش تو ہے، لیکن اس کے لیے شوہر کو، بالترتیب، ایک غلام آزاد کرنے یا دو مہینے کے مسلسل روزے رکھنے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی صورت میں اپنی غلطی کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ غور کیا جائے تو تیسری طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش باقی نہ رکھنے کے قانون میں بھی اسی نوعیت کی حکمت دکھائی دیتی ہے۔
اس بحث سے ان فقہاء کے نقطہ نظر کا وزن بھی واضح ہوتا ہے جو تیسری طلاق کے بعد رجوع کے عدم امکان کی پابندی کو اس صورت سے متعلق قرار دیتے ہیں جب شوہر نے الگ الگ موقعوں پر صورت حال کا بغور جائزہ لے کر بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ کیا ہو۔ اگر اس طرح کے دو فیصلوں کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دی گئی ہو تو شریعت کی عائد کردہ زیر بحث پابندی کی حکمت پوری طرح برقراررہتی ہے۔ اس کے برخلاف اگر کسی شخص نے وقتی جذبات کے زیر اثر نادانی میں بیک وقت تینوں طلاقیں دے دی ہوں تو قانون کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے لیے رجوع کی گنجائش باقی رکھی جائے اور بیک وقت دی گئی تین طلاقوں کے عددکو بنیاد بنانے کے بجائے اس نکتے کو زیادہ اہمیت دی جائے کہ اس نے طلاق کا حق بہرحال ایک ہی موقع پر استعمال کیا ہے۔ علامہ ابن رشد المالکیؒ اس نکتے کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یوں لگتا ہے کہ جمہور فقہاء نے سد ذریعہ کے طور پر (یعنی تاکہ لوگ طلاق کے معاملے میں جری نہ ہو جائیں)، تین طلاقوں کے معاملے میں سختی کا طریقہ اختیار کیا (اور بیک وقت تین طلاقوں کو نافذ قرار دے دیا) ہے، لیکن اس سے وہ شرعی رخصت اور وہ آسانی جو شریعت کا مقصود ہے، فوت ہو جاتی ہے، یعنی جس کا ذکر اللہ تعالی ٰنے یوں کیا ہے کہ ہو سکتا ہے، اللہ اس کے بعد (موافقت اور مصالحت کی) کوئی راہ پیدا کر دے۔‘‘ (بدایۃ المجتہد ج ۲، ص ۶۲)
ایک سوال نامہ اور اس کے مختصر جوابات
1۔ پاکستان میں مسلکی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ابھرنے والی سیاسی قوتوں خاص طور پر بریلوی مسلک سے وابستہ ’’تحریک لبیک یا رسول اللہ‘‘ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب : ایسی تحریکیں اپنے مسلکی فکر کی نمائندگی کرتی ہیں اور ان سے عوامی سطح پر پائے جانے والے مذہبی جذبات ورجحانات کا اندازہ ہوتا ہے۔
2۔ پاکستان کی سیاست میں اس نئی مذہبی سیاسی قوت کی آمد کے معاشرتی اور سیاسی محرکات و وجوہات کیا ہیں؟
جواب : بریلوی مسلک کی پیروی پاکستانی عوام کی اکثریت کرتی ہے، تاہم کچھ عرصے سے مذہبی سیاست میں اس طبقے کی نمائندگی کوئی موثر شخصیت یا جماعت نہیں کر رہی۔ تحریک لبیک اسی احساس محرومی کا اظہار اور اس خلا کو پر کرنے کی کوشش ہے۔
3۔ ختم نبوت، توہین رسالت وغیرہ کے عنوان سے قائم مذہبی سیاسی جماعتیں اور ان کے شدت پسندی بیانیے کے حوالے سے ریاست کا کیا رسپانس ہونا چاہیے؟
جواب : ریاست کو آئین میں طے کردہ حدود کے مطابق ایسی تحریکوں کے جائز مطالبات کو وزن دینا چاہیے اور حدود سے متجاوز مطالبات کی، حکمت عملی اور فراست کے ساتھ مزاحمت کرنی چاہیے۔
4۔ مذکورہ بالا مقاصد کے تحت سیاسی میدان میں قدم رکھنے والی مذہبی سیاسی جماعت کس طرح آنے والے انتخابات کے ذریعے پاکستان کے سیاسی و سماجی ماحول پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟
جواب : پاکستانی سیاست میں مذہبی جماعتوں کی حیثیت پریشر گروپس کی ہے جو مذہبی حساسیت رکھنے والے ایشوز میں تو ایک موثر کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن انتخابی سیاست کے عمومی نتائج پر کوئی خاص اثر مرتب نہیں کر سکتیں، الا یہ کہ وقتی حالات اور ماحول سے ایسی کوئی فضا بن جائے، جیسے نائن الیون کے بعد متحدہ مجلس عمل کو ملی۔
5۔ آپ دیوبندی سیاسی جماعتوں اوربریلوی مسلک کی نئی ابھرتی ہوئی جماعت جیسے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے تقابل کے بارے میں کیا نقطہ نظر رکھتے ہیں؟
جواب : ان دونوں طبقوں کی constituencies الگ الگ ہیں، اس لیے میرے خیال میں بظاہر براہ راست ٹکراو کا کوئی خاص امکان نہیں۔ البتہ اگر بریلوی مسلک کی نمائندہ جماعتوں کو سیاسی میدان میں ایک خاص سطح پر accommodate نہ کیا گیا تو وہ زیادہ شدت کے ساتھ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کا راستہ اختیار کریں گی۔ اس لیے دوسری مذہبی سیاسی قوتوں اور خاص طور پر دیوبندی قیادت کو چاہیے کہ انھیں سیاسی میدان میں انگیج کر کے مذہبی سیاست کے مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کریں۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۰)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۳۵) فھم یوزعون کا ترجمہ
یوزعون کا لفظ قرآن مجید میں تین مقامات پر آیا ہے، یہ فعل مضارع ہے، لفظی لحاظ سے اس کا ماضی وزع بھی ہوسکتا ہے اور أوزع بھی ہوسکتا ہے، گو کہ معنوی پہلو سے وزع ہی درست لگتا ہے جس کے معنی روکنے کے ہیں، اور لشکر کو قابو میں رکھنے کے بھی ہیں، جبکہ أوزع کے معنی ترغیب وتوفیق دینے کے ہیں ، اہل لغت کے مطابق ایزاع توزیع کے ہم معنی ہوکرتقسیم کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے،بہرحال یہ مفہوم اگر ہو بھی تو استعمال میں رائج نہیں ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ تینوں مقامات پر اس لفظ کے مختلف ترجمے کئے گئے ہیں:
(۱) وَحُشِرَ لِسُلَیْْمَانَ جُنُودُہُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ وَالطَّیْْرِ فَہُمْ یُوزَعُونَ۔ (النمل:۱۷)
’’سلیمانؑ کے لیے جن اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے تھے اور وہ پورے ضبط میں رکھے جاتے تھے‘‘ (سید مودودی)
’’اور جمع کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اور آدمیوں اور پرندوں سے تو وہ روکے جاتے تھے‘‘(احمد رضا خان)
’’اور سلیمان کے لیے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور قسم وار کیے جاتے تھے‘‘(فتح محمدجالندھری)
’’سلیمان کے سامنے ان کے تمام لشکر جنات اور انسان اور پرند میں سے جمع کیے گئے (ہر ہر قسم کی) الگ الگ درجہ بندی کردی گئی‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’اور سلیمان کے جائزے کے لیے ان کا سارا لشکر، جنوں انسانوں اور پرندوں میں سے، اکٹھا کیا گیا اور ان کی درجہ بندی کی جارہی تھی ‘‘(امین احسن اصلاحی، یہاں جائزے کے لیے نہیں بلکہ مہم پر نکلنے کے لیے مراد ہے، کیونکہ اس کے فورا بعد ایک مہم پر نکلنے کا تذکرہ ہے)
’’اور سلیمان کے لیے اکٹھا کردیے گئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر، تو وہ پوری طرح منظم تھے‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
(۲) وَیَوْمَ نَحْشُرُ مِن کُلِّ أُمَّۃٍ فَوْجاً مِّمَّن یُکَذِّبُ بِآیَاتِنَا فَہُمْ یُوزَعُون۔ (النمل:۸۳)
’’اور ذرا تصور کرو اُس دن کا جب ہم ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج اُن لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے، پھر ان کو (ان کی اقسام کے لحاظ سے درجہ بدرجہ) مرتب کیا جائے گا‘‘(سید مودودی)
’’اور جس دن اٹھائیں گے ہم ہر گروہ میں سے ایک فوج جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتی ہے تو ان کے اگلے روکے جائیں گے کہ پچھلے ان سے آملیں‘‘ (احمد رضا خان)
’’اور جس روز ہم ہر اُمت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے تو اُن کی جماعت بندی کی جائے گی‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’اور جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کے گروہ کو جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے گھیر گھار کرلائیں گے، پھر وہ سب کے سب الگ کر دیے جائیں گے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’اور جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی ایک فوج اکٹھا کریں گے جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے تھے، پس وہ پوری طرح منظم ہوں گے‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
(۳) وَیَوْمَ یُحْشَرُ أَعْدَاءُ اللّٰہِ إِلَی النَّارِ فَہُمْ یُوزَعُون۔ (فصلت: ۱۹)
’’اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے یہ دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے، اُن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا‘‘(سید مودودی)
’’اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف ہانکے جائیں گے تو ان کے اگلوں کو روکیں گے‘‘(احمد رضا خان)
’’اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کرلیے جائیں گے‘‘(فتح محمدجالندھری)
’’اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف لائے جائیں گے اور ان (سب) کو جمع کر دیا جائے گا‘‘(محمد جوناگڑھی)
’’اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے، پس وہ پوری طرح منظم ہوں گے‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
مذکورہ ترجموں پر نظر ڈالنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایک ہی لفظ اور ایک ہی اسلوب (فھم یوزعون) کا بعض مترجم تینوں مقامات پر الگ الگ ترجمہ کرتے ہیں، مثال کے طور پر صاحب تفہیم نے پہلے مقام پر قابو میں رکھنا، دوسرے مقام پر اقسام کے لحاظ سے درجہ بدرجہ مرتب کرنا اور تیسرے مقام پر روکنا ترجمہ کیا ہے۔
موخر الذکر دونوں آیتوں کا بہت سے لوگوں نے روکنے کا ترجمہ کیا ہے، وزع کے معنی روکنا ہوتے ہیں مگر وہ روکنا چلتے ہوئے شخص کو روکنا نہیں ہوتا ہے بلکہ کسی کام سے کسی کوباز رکھنا ہوتا ہے۔اسی کو قابو میں رکھنا کہتے ہیں۔
لشکر کے ساتھ جب یہ لفظ آتا ہے تو اس کا مفہوم لشکر کو منظم اور ڈسپلن میں رکھنا ہوتا ہے۔ اوریہی مفہوم مذکورہ بالا تینوں مقامات پر زیادہ بہتر طریقے سے فٹ ہوتا ہے۔
(۱۳۶) غنم کا ترجمہ
غنم کا لفظ قرآن مجید میں تین جگہ آیا ہے، اس لفظ کے اندر بھیڑ اور بکری دونوں شامل ہوتے ہیں، (الغنم) القطیع من المعز والضأن. المعجم الوسیط (۲؍۶۶۴)
صرف بھیڑ کے لیے ضأن اور صرف بکری کے لیے معز آتا ہے، قرآن مجید میں مذکورہ ذیل ایک مقام پر دونوں ایک ساتھ استعمال ہوئے:
ثَمَانِیَۃَ أَزْوَاجٍ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَیْْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْْنِ۔ (الانعام: ۱۴۳)
(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو)بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ)۔(فتح محمدجالندھری)
ہشت جفت آفریدہ است: از گوسفند دو جفت و از بز دو جفت. (خرمدل)
Eight pairs: Of the sheep twain, and of the goats twain. (Pickthall)
(Take) eight (head of cattle) in (four) pairs: of sheep a pair, and of goats a pair; (Yusuf Ali)
اس آیت کے ترجمے میں ایک غلطی عام طور سے ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ثمانیۃ أزواج کا ترجمہ آٹھ جوڑے یا آٹھ قسمیں کیا گیا ہے، حالانکہ قسمیں یا جوڑے چار ہیں، البتہ ان چار قسموں کے افراد یا چار جوڑوں کی جوڑیاں آٹھ ہیں۔ اس پہلو سے اوپر درج کئے گئے ترجمے تصحیح طلب معلوم ہوتے ہیں۔ آٹھ قسم، ہشت جفت، Eight pairsلفظ کی صحیح ترجمانی نہیں کرتے۔
اس آیت کے ترجموں کو یہاں ذکر کرنے سے سے یہ واضح کرنا بھی مقصود ہے کہ عربی کے ان دونوں الفاظ یعنی ضأن اور معز کے مختلف زبانوں میں متبادل الفاظ کیا ہیں۔ ان دونوں الفاظ کے مقابلے میں غنم کا لفظ چونکہ ضأن اور معز یعنی بھیڑ اور بکری دونوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ صرف بھیڑ یا صرف بکری کرنے سے لفظ غنم کا حق ادا نہیں ہوتا ہے۔
مندرجہ ذیل تینوں آیتوں کے ترجموں کا اس پہلو سے جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
(۱) وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُواْ حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْْہِمْ شُحُومَہُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُہُورُہُمَا أَوِ الْحَوَایَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْم۔ (الانعام: ۱۴۶)
’’اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کی چربی حرام کر دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی میں ہو یا ہڈی میں ملی ہو‘‘(فتح محمدجالندھری)
’’(این چیزھائی بود کہ بر شما حرام کردہ ایم) و بر یھودیان ھر (حیوان) ناخنداری (یعنی: درندگان کہ دارای پنجہ ھای قوی، و پرندگان شکاری کہ از چنگال نیرومند برخوردارند) حرام کردہ بودیم، و از گاو و گوسفند (تنھا) پیہ ھا و چربیھای آنھا را بر آنان حرام نمودہ بودیم، مگر پیہ ھا و چربیھائی کہ بر پشت اینھا یا در اندرونہ (و لابلای احشاء و امعاء) قرار دارد و یا پیہ ھا و چربیھائی کہ آمیزہ ی استخوان گردیدہ است‘‘(خرمدل)
Unto those who are Jews We forbade every animal with claws. And of the oxen and the sheep forbade We unto them the fat thereof save that upon the backs or the entrails, or that which is mixed with the bone. (Pickthall)
For those who followed the Jewish Law, We forbade every (animal) with undivided hoof, and We forbade them that fat of the ox and the sheep, except what adheres to their backs or their entrails, or is mixed up with a bone. (Yusuf Ali)
(۲) وَدَاوُدَ وَسُلَیْْمَانَ إِذْ یَحْکُمَانِ فِیْ الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِیْہِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَکُنَّا لِحُکْمِہِمْ شَاہِدِیْن۔ (الانبیاء:۷۸)
’’اور داؤد اور سلیمان (کا حال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصلہ کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چر گئی (اور اسے روند گئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت موجود تھے‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’(و یاد کن) داود و سلیمان را، ھنگامی کہ دربارہ ی کشتزاری کہ گوسفندان مردمانی، شبانگاھان در آن چریدہ و تباھش کردہ بودند، داوری می کردند، و ما شاھد داوری آنان بودیم‘‘(خرمدل)
And remember David and Solomon, when they gave judgment in the matter of the field into which the sheep of certain people had strayed by night: We did witness their judgment. (Yusuf Ali)
And David and Solomon, when they gave judgment concerning the field, when people's sheep had strayed and browsed therein by night; and We were witnesses to their judgment.(Pickthall)
(۳) قَالَ ہِیَ عَصَایَ أَتَوَکَّأُ عَلَیْْہَا وَأَہُشُّ بِہَا عَلَی غَنَمِی۔ (طہ:۱۸)
’’انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے۔ اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’پاسخ داد کہ این عصای من است و بر آن تکیہ می کنم و با آن گوسفندانم را می رانم و برای آنھا برگ می ریزم‘‘ (خرمدل)
He said: This is my staff whereon I lean, and wherewith I bear down branches for my sheep, (Pickthall)
He said, "It is my rod: on it I lean; with it I beat down fodder for my flocks;" (Yusuf Ali)
مذکورہ بالا ترجموں کو دیکھنے پر ایک بڑی اہم اور دلچسپ بات سامنے آتی ہے، وہ یہ کہ تمام اردو مترجمین غنم کا ترجمہ بھیڑ نہیں کرکے بکری کرتے ہیں، اور تقریباً تمام انگریزی مترجمین اس کا ترجمہ Sheep کرتے ہیں جس کے معنی بھیڑ کے ہیں، اور تمام فارسی مترجمین اس کا ترجمہ گو اسفند کرتے ہیں، جو بھیڑ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔یہ دیکھ کر ذہن اس طرف جاتا ہے کہ ہندوستان میں بھیڑ کے مقابلے میں بکری کا رواج زیادہ ہے، اس لیے ترجمہ کرتے وقت اس کا اثر زیادہ رہا، جبکہ دوسرے علاقوں میں بھیڑ کا رواج ترجمہ پر اثر انداز رہا۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ مذکورہ تینوں مقامات پر غنم کا ترجمہ مویشی یا ریوڑ یا’’بھیڑ بکری‘‘ ہونا چاہیے، تاکہ لفظ میں موجود معنی کی وسعت میں کوئی کمی واقع نہیں ہو۔غنم ترجمہ کرتے وقت بھیڑ اور بکری دونوں کا ذکر کرنے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ قرآن مجید میں (جیسا کہ اوپر گزرا) ایک مقام پر صراحت کے ساتھ بھیڑ اور بکری دونوں کا خصوصیت کے ساتھ الگ الگ ذکر کیا گیا ہے۔
(۱۳۷) اولیاء کا ترجمہ
أولیاء کا لفظ ولی کی جمع ہے، جس کا اصل مطلب دوست ہے، فیروزآبادی لکھتے ہیں:
الوَلْیُ: القُرْبُ والدُّنُوُّ، المَطَرُ بَعْدَ المَطَرِ، وُلِیَتِ الأرضُ، بالضم۔ والوَلِیُّ: الاسمُ منہ، والمحبُّ، والصدیقُ والنصیرُ۔ القاموس المحیط
بعض مقامات پر اس کا ترجمہ لوگوں نے معبود اور کارساز وغیرہ بھی کیا ہے، لیکن کبھی محل کلام خود تقاضا کرتا ہے کہ اس لفظ کا ترجمہ دوست کیا جائے، کوئی اور ترجمہ وہاں مناسب نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے ذیل کی آیتوں کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
(۱) وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ وَمَا یَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّٰہِ فَیَقُولُ أَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ہَؤُلَاءِ أَمْ ہُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ۔ قَالُوا سُبْحَانَکَ مَا کَانَ یَنبَغِیْ لَنَا أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِکَ مِنْ أَوْلِیَاءَ وَلَکِن مَّتَّعْتَہُمْ وَآبَاءَ ہُمْ حَتَّی نَسُوا الذِّکْرَ وَکَانُوا قَوْماً بُوراً۔ (الفرقان:۱۷،۱۸)
’’اور وہ وہی دن ہو گا جبکہ (تمہارا رب) اِن لوگوں کو بھی گھیر لائے گا اور ان کے اُن معبودوں کو بھی بُلا لے گا جنہیں آج یہ اللہ کو چھوڑ کر پوج رہے ہیں، پھر وہ اُن سے پوچھے گا ’’کیا تم نے میرے اِن بندوں کر گمراہ کیا تھا؟ یا یہ خود راہِ راست سے بھٹک گئے تھے؟‘‘وہ عرض کریں گے ’’پاک ہے آپ کی ذات، ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولا بنائیں مگر آپ نے اِن کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامانِ زندگی دیا حتیٰ کہ یہ سبق بھول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہے‘‘(سید مودودی)
قَالُوا سُبْحَانَکَ مَا کَانَ یَنبَغِیْ لَنَا أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِکَ مِنْ أَوْلِیَاءَ
کے مزید ترجمے حسب ذیل ہیں:
’’وہ کہیں گے کہ پاک ہے تیری ذات ہمیں یہ حق نہیں تھا کہ ہم تجھے چھوڑ کر کسی اور کو اپنا مولا بنائیں‘‘ (محمد حسین نجفی)
’’وہ عرض کریں گے پاکی ہے تجھ کو ہمیں سزاوار (حق) نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کو مولیٰ بنائیں‘‘ (احمد رضا خان)
’’کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ کب لائق تھا کہ تیرے سوا کسی اور کو کارساز بناتے‘‘ (احمد علی)
’’وہ کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ بات شایان نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو دوست بناتے‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ذات ہے خود ہمیں ہی یہ زیبا نہ تھا کہ تیرے سوا اوروں کو اپنا کارساز بناتے‘‘(محمد جوناگڑھی)
(۲) وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ یَقُولُ لِلْمَلَائِکَۃِ أَہَؤُلَاءِ إِیَّاکُمْ کَانُوا یَعْبُدُونَ۔ قَالُوا سُبْحَانَکَ أَنتَ وَلِیُّنَا مِن دُونِہِم بَلْ کَانُوا یَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَکْثَرُہُم بِہِم مُّؤْمِنُون۔ (سبا: ۴۰، ۴۱)
’’اور جس دن وہ لوگوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے کہے گا (پوچھے گا) کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کرتے تھے؟وہ کہیں گے پاک ہے تیری ذات! تو ہمارا آقا ہے نہ کہ وہ (ہمارا تعلق تجھ سے ہے نہ کہ ان سے) بلکہ یہ تو جنات کی عبادت کیا کرتے تھے ان کی اکثریت انہی پر ایمان و اعتقاد رکھتی تھی‘‘(محمد حسین نجفی)
قَالُوا سُبْحَانَکَ أَنتَ وَلِیُّنَا مِن دُونِہِم کے مزید ترجمے حسب ذیل ہیں:
’’تو وہ جواب دیں گے کہ ’’پاک ہے آپ کی ذات، ہمارا تعلق تو آپ سے ہے نہ کہ اِن لوگوں سے‘‘۔ (سید مودودی)
’’وہ عرض کریں گے پاکی ہے تجھ کو تو ہمارا دوست ہے نہ وہ‘‘ (احمد رضا خان)
’’وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے۔ نہ یہ‘‘(فتح محمدجالندھری)
’’وہ کہیں گے تیری ذات پاک ہے اور ہمارا ولی تو تو ہے نہ کہ یہ‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے ان کے بالمقابل تو ہمارا کارساز ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب سوال ان سے کیا جائے گا جن کو لوگ معبود مانتے تھے، تو وہ جواب میں یہ کیوں کہیں گے کہ ہم نے تیرے سوا کسی کو مولا یا سرپرست یا کارساز نہیں بنایا۔ مولی یا سرپرست یا کارساز تو انہیں معبود بنانے والوں نے بنایا تھا، اس سلسلے میں صفائی تو معبود بنانے والوں کو پیش کرنی ہوگی، یہاں تو جن کو معبود بنایا گیا انہوں نے اپنی طرف سے یہ وضاحت پیش کی ہے کہ ہم نے ان سے کوئی دوستی نہیں کی جس کی وجہ سے ہم پر انہیں اس طرح کی کوئی شہ دینے کا کوئی الزام آئے۔
غور طلب بات یہ بھی ہے کہ اکثر حضرات نے دوسری آیت میں ولی کا ترجمہ دوست کیا ہے، لیکن انہیں لوگوں نے پہلی آیت میں اولیاء کا ترجمہ دوست کرنے کے بجائے مولی اور کارساز کیا۔
غرض لفظ کا تقاضا بھی یہی ہے، اور پورے کلام کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دونوں مقامات پر دوست ترجمہ کیا جائے۔
(۱۳۸) کلمات کا ترجمہ
مذکورہ ذیل دونوں آیتوں میں کلمات کا لفظ آیا ہے، صاحب تدبر نے اس کا ترجمہ نشانیاں کیا ہے، بعض نے اس سے صفتیں مراد لیا ہے، بعض نے باتیں ترجمہ کیا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ لفظ آلاء کی طرح کلمات کا ترجمہ’’ کرشمے ‘‘کرنا زیادہ مناسب ہے۔
(۲) وَلَوْ أَنَّمَا فِیْ الْأَرْضِ مِن شَجَرَۃٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ یَمُدُّہُ مِن بَعْدِہِ سَبْعَۃُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ کَلِمَاتُ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔ (لقمان: ۲۷)
’’روئے زمین کے (تمام) درختوں کے اگر قلمیں ہو جائیں اور تمام سمندروں کی سیاہی ہو اور ان کے بعد سات سمندر اور ہوں تاہم اللہ کے کلمات ختم نہیں ہو سکتے، بیشک اللہ تعالیٰ غالب اور باحکمت ہے‘‘ (محمدجوناگڑھی، یہاں تمام سمندروں کے بجائے سمندر ہونا چاہئے)
’’اور اگر زمین میں جتنے پیڑ ہیں سب قلمیں ہوجائیں اور سمندر اس کی سیاہی ہو اس کے پیچھے سات سمندر اور تو اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی بیشک اللہ عزت و حکمت والا ہے‘‘(احمد رضا خان)
’’اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اس کے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہو جائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں۔ بیشک خدا غالب حکمت والا ہے‘‘(فتح محمدجالندھری)
’’اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر سات سمندروں کے ساتھ (روشنائی بن جائیں) جب بھی اللہ کی نشانیاں قلم بند نہیں ہوسکتیں۔ بے شک اللہ غالب اور حکمت والا ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
(۲) قُل لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَاداً لِّکَلِمَاتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہِ مَدَداً۔ (الکہف:۱۰۹)
’’کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے (لکھنے کے) لئے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائے اگرچہ ہم ویسا ہی اور (سمندر) اس کی مدد کو لائیں‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’کہہ دیجئے کہ اگر میرے پروردگار کی باتوں کے لکھنے کے لئے سمندر سیاہی بن جائے تو وہ بھی میرے رب کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا، گو ہم اسی جیسا اور بھی اس کی مدد میں لے آئیں‘‘ (محمدجوناگڑھی)
’’اے محمدؐ، کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہو جائے مگر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں، بلکہ اتنی ہی روشنائی ہم اور لے آئیں تو وہ بھی کفایت نہ کرے‘‘(سید مودودی)
’’کہہ دو اگر میرے رب کی نشانیوں کو قلم بند کرنے کے لیے سمندر روشنائی بن جائے تو میرے رب کی نشانیوں کے ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملادیں‘‘ (امین احسن اصلاحی)
دوسری آیت میں (لو کان) آیا ہے ، اس کے لحاظ سے ترجمہ ماضی کا ہونا چاہئے ، نہ کہ مستقبل کا جیسا کہ عام طور سے مترجمین نے کیا ہے، درست ترجمہ یوں ہوگا:کہہ دو اگر میرے رب کی نشانیوں کو قلم بند کرنے کے لیے سمندر روشنائی بن جاتا تو میرے رب کی نشانیوں کے ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجاتا اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملادیتے۔
(جاری)
درک ’’درِ ادراک‘‘
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک
مسیحیت ، ہندو مت ، بدھ مت، اور دیگر مذاہب کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہوں نے ترک دنیا اور رہبانیت کے تیشے سے انسانی جسم کو صرف اس لیے گھائل کر دیا تاکہ انسانی روح کو بیدار کیا جا سکے، لیکن اس غیر طبعی تعلیم اور جان سوزی کے نتیجے میں روح کی شمع بھی گل ہو کر رہ گئی۔ اہل کلیسا نے خانقاہوں میں بسیرا کر لیا، ہندؤوں او ر بدھوں نے جنگلوں کا رخ کر لیا۔ مسیحیت کی غیر فطری تعلیمات کے ردِ عمل میں پروان چڑھنے والے مغربی فکرو فلسفہ میں یورپ کے ارباب فکر ودانش نے مادہ پرستی کی رو میں بہتے ہوئے نہ صرف روح کے ہر تقاضے کو نظر انداز کر دیا بلکہ روح ہی کا انکار کر دیا اور اس عالم رنگ وبو کو ہی انسانیت کا منتہا قرار دیا ۔ جسم کی تو خوب پرورش کی ،لیکن روح کو کچل کر رکھ دیا۔ نتیجہ کے طور پر وہ انسان تیار ہوا جوان اخلاقی اقدار ہی سے عاری ہے جو اس کا طرۂ امتیاز ہے ۔مغرب کی اخلاقی اقدار کسی روحانی محرک سے محروم ہیں۔اخلاقی قدروں کی ترویج میں بھی مارکیٹنگ کی نفسیات کار فرما ہے ۔"Eathical guide book for call girl"جیسی کتابوں کا سر عام فروخت کے لیے پیش کیا جانامغرب کے اخلاقی بحران اور دیوالیہ پن کا نکتہ کمال ہے۔سچ تو یہ ہے کہ مذاہبِ عالم کے زوال کے بعد مغربی تہذیب بھی اپنے زوال کی منازل طے کر رہی ہے، اور اس زوال کی سب سے بڑی وجہ ’’فطرت‘‘ کے نام پرفطرت سے بغاوت ہے۔ بقول اقبال
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
مغربی تہذیب کا سب سے تباہ کن پہلو یہ ہے کہ اس نے روح اور بدن میں افتراق پیدا کر دیا ہے، حالانکہ انسان کی شخصیت روح اور بدن کی تالیف اور امتزاج سے عبارت ہے۔ ایساکوئی مذہب اور کوئی نظریہ کامیاب نہیں ہو سکتا جو روح اور بدن میں سے ایک کو ابھارے اور دوسرے کو کچل دے۔ مغربی تہذیب نے گذشتہ کئی صدیوں میں فکری ارتقاء کا کٹھن سفر طے کیا ہے،مسلسل فکری ارتقاء اور تجربات کے نتیجے میں اس کے ہاں کئی تصورات اور نظریات اب مسلمہ عقائد کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔اہلِ مغرب اب ان نظریات پرکوئی سمجھوتا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ مغرب نے سماجی ،معاشرتی اور اخلاقی حوالے سے جو تجربات کیے ہیں، اس کے نتیجے میں ان کے ہاںیہ سوچ پختہ ہو رہی ہے کہ انسانیت اپنے سماجی ارتقاء کی آخری سیڑھی پر قدم رکھ چکی ہے ۔مغرب میں "The End of History"کے عنوان سے لکھی جانے والی کتب اسی سوچ کی مظہر ہیں ۔اس اندازِ فکر پر یہ سوال بہرحال موجود ہے کہ پھر انسان مسلسل روحانی اور اخلاقی بحران کا شکار کیوں ہے؟کمی کہاں پر ہے ؟
اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے آزادئ اظہارِ رائے، انسانی جان کی حرمت، انسانی مساوات، سماجی انصاف، حقوقِ نسواں، مذہبی آزادی، عدلِ اجتماعی اور امن عالم جیسے تصورات کو مذہبی اور روحانی بنیادیں فراہم کیں۔ مذاہب عالم اور جدید مغربی فکر و فلسفہ کے مقابل ا سلام کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے روح اور جسم ددنوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھا ہے۔ مذاہبِ عالم میں شاید اسلام ہی واحد دین ہے جس نے خالصتاً روحانی غلطیوں پر بھی مالی جرمانے کی سزا عائد کی ہے۔ حکم ہے کہ اگر رمضان کا روزہ ٹوٹ جائے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔قسم ٹوٹنے کی صورت میں تین مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے ۔اپنی بیوی سےِ ظہار کی صورت میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے ۔حتی کہ قتل جیسے سنگین معاملے میں مقتول کے ورثاء ضرورت مند ہوں تو وہ دیت پر صلح کر سکتے ہیں ۔ گویا اسلام کی نظر میں ضرورت مندوں کی داد رسی سے ہی روحانی سکون حاصل ہوسکتا ہے ۔ اسلام کے نظامِ عبادت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ،روزہ، زکوٰۃ اور حج کا بنیادی فلسفہ عدل اجتماعی کا قیام ہی ہے ۔
دینِ اسلام پر اس انداز سے غور کرنے سے ا للہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں انسان کی معاشی ، سماجی اور معاشرتی زندگی اور حقوق کی اہمیت کو سمجھا جا سکتا ہے ۔
اعلانِ نبوت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی زندگی لوگوں کے لیے آپؐ کی نبوت و رسالت کی دلیل ٹھہری ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی قرآن وسنت اور اسوۂ رسول ؐ سے یہی أ خذکیا کہ وہی شخص اللہ تعالیٰ کی نظر میں معتبر ہے جو اس کے بندو ں سے اپنے معاملات ٹھیک رکھتا ہے ۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت عمرؓ (م ۲۳ھ) نے ایک شخص کے حال کی تحقیق کے لیے گواہ طلب کیے تو ایک آدمی نے گواہی دی کہ موصوف ایک شریف آدمی ہیں ۔حضرت عمر فارقؓ نے اس سے بڑا اہم سوال کیاکہ کیاآپ اس کے پڑوسی ہیں ؟ اس نے عرض کی کہ نہیں ۔پھر پوچھا کہ کیا آپ نے اس کے ساتھ کبھی لین دین کیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ پھر فرمایا کہ کبھی اس کے ساتھ سفر کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ نہیں ۔حضرت عمرؓ نے فرمایا :تم نے اسے رکوع وسجود اور ذکر اذکار میں مشغول دیکھا ہو گا ؟ اس کہا جی ہاں۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا : تم اسے نہیں جانتے اورپھر حضرت عمرؓ نے اس شخص کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاکسی ایسے شخص کو بلاؤ جو تمہیں جانتا ہو ۔گویا حضرت عمرؓ کی نظر میں کسی انسان کی اصل پہچان عبادت و ریاضت سے نہیں بلکہ اس کے سماجی رویے سے ہوتی ہے۔
امام محمد بن حسن الشیبانی(م ۲۸۵ھ) فقہ حنفی کے مدونِ اول تھے ان سے کسی نے سوال کیا کہ آپؒ نے زہد اور رِقاق کے موضوع پر کوئی کتاب نہیں لکھی کہ لوگ اس کو پڑھتے اور ان کے دلوں میں تقویٰ پیدا ہوتا ۔آپؒ نے فرمایا کہ میں نے کتاب البیوع لکھ دی ہے ۔یعنی جو شخص کتاب البیوع میں حلال و حرام کے احکام پر مسلسل عمل کرے گا اس میں تدین ضرور پیدا ہوگا ۔دنیا دار العمل ہے اورعمل کا ’’معیاری اظہار ‘‘ حلال و حرام کی تمیز اور مثبت سر گرمیوں سے ہوتا ہے ۔
اسلام کی نظر میں سماجی زندگی کی اس اہمیت کے پس منظر میں ہمارے قابلِ قدر تلمیذ محمد تہا می بشر علوی کی تحریروں کا زیر نظر مجموعہ ’’درِ ادراک ‘‘ ایک قابلِ قدر کاوش ہے ۔یہ تصنیف کل تین حصوں پر مشتمل ہے، جبکہ زیرتبصرہ حصہ کتاب کے آخری دوحصے ہیں۔فاضل محقق نے اپنی ان تحریروں میں سماجی رویوں کی تشکیل میں اسلام کے کردار کی اہمیت کو خوب اجاگر کیا ہے۔ موصوف نے داعیانہ اسلوب اور پورے دردِ دل کے ساتھ مختلف طبقات میں موجود خرابیوں کی نشاندہی کی ہے اور ان خرابیوں کے اسباب و وجوہ کا تجزیہ کرنے کے بعد حل بھی تجویز کیا ہے ۔
ہمیں نہایت تاسف سے اعتراف کرنا چاہیے کہ آج علماء کرام عمل کے معیاری اظہار کے فروغ کے بجائے تبلیغ محض کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔دین کی بجائے مسلک کی تبلیغ روز افزوں ہے ،نادان لوگوں نے اپنے اپنے مسلک کو ہی کل دین سمجھ لیا ہے ۔دینداری کے بجائے فنِ دین داری کا خوب دور دورہ ہے ۔ ظاہری وضع قطع اورعبادت کے نام پرچند عادات اورمرنے جینے کی مخصوص رسموں کے علاوہ دین کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ اور جس مسلک کی دین کے نام سے تبلیغ کی جارہی ہے اس کا غالب حصہ بھی ما بعد الطبعیاتی مباحث سے متعلق ہے۔نور وبشر ،علم غیب ،حاضرو ناظر ،محرم،میلاد اور گیارہویں کی مجالس کے جواز اور عدم جواز کی بحثیں ہی زندہ موضوعات ہیں ۔عام لوگوں میں یہ سوچ پختہ ہو رہی ہے کہ مذہب کا ریاست، سیاست اورمعاشرت وغیرہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لوگ بجا طور پر یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دین کا چونکہ دنیوی امور سے کوئی تعلق نہیں ہے، لہٰذا اس کے حقیقی فوائدو ثمرات کے لئے فوت ہو نا ضروری ہے۔ معاشرتی اصلاح اور سماجی رویوں کی تشکیل میں اسلام کے کردار کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔علماء کرام لوگوں کے سماجی اور نفسیاتی مسائل اور عرف سے بڑی حد تک نابلد ہیں ۔مذہبی طبقے میں دعوت و تبلیغ کی جگہ فتویٰ بازی سکہ رائج الوقت ہے ،فتویٰ بازی میں عرف اور سماجی رویوں کامطالعہ کرنے کی بجائے محض فتاویٰ جات کی قدیم کتب سے استفادہ کافی سمجھا جاتا ہے ۔ معاشرتی اصلاح اب مذہبی طبقے کی ترجیحات میں آخری درجے میں ہے۔ فاضل محقق نے دینی مدارس کے موجودہ کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے خوب لکھا ہے:
’’ایک وقت تھا جب مدرسے تعلیمی ادارے ہوا کرتے تھے ۔پھر المیہ یہ ہوا کہ اب یہ مسلک پرستوں کے تحریکی ادارے بن کر رہ گئے ہیں ۔یہاں ’’میں اور میرا مسلک ‘‘ عین حق اور میں اور میرے مسلک کے سوا مکمل باطل کا نفسیاتی شاکلہ تیار ہوتا ہے۔‘‘
اقبال سے انتہائی معذرت کے ساتھ یہ کہنا پڑتاہے:
گلا توگھونٹ دیا ’’اہلِ مدرسہ‘‘ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لاالہ الا اللہ
عام طور پر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ"THE SOCIAL CONTRACT"کا مصنف مشہور فرانسیسی مفکر اور دانشور ژاں ژاک روسو(م ۱۷۷۸ء) انسانی تاریخ کا پہلا شخص ہے جس نے انسانی ضروریات اور احتیاجات کو اس کا ’’حق‘‘ ثابت کیا ہے۔ ہماری بد نصیبی ملاحظہ کیجئے کہ مغرب کی طرف سے آنے والی کوئی انسانی قدر جب شہرتِ دوام حاصل کرنے لگتی ہے توہم اسے قرآن و حدیث سے ثابت کرنے بیٹھ جاتے ہیں ۔اگرچہ حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے وہ اس کو جہاں بھی پائے حاصل کر لے،لیکن اگروہ جواہر پارہ براہِ راست ہمارے علمی خزانے کا حصہ ہو اور ہم اپنی کور چشمی کی وجہ سے اس کو دیکھ ہی نہ پارہے ہوں تو اس پرماتم کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے ۔ اب بھلا کون ہماری اس بات پرغور کرے گا کہ انسانی تاریخ میں روسو نہیں بلکہ اسلام نے سب سے پہلے انسانی ضروریات کو انسان کا ’’حق‘‘ ثابت کیا ہے۔ سورۃ الذاریات میں ہے:
وَفِیْ أَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّاءِلِ وَالْمَحْرُومِ (۵۱/۱۹)
ترجمہ : اور ان مالوں میں سائل اور محروم لوگوں کا’’ حق ‘‘ہے۔
یہ آیت مکی دور میں نازل ہوئی اور اس وقت تک زکوٰۃ فرض نہیں ہوئی تھی ۔مطلب یہ کہ زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے ہی مسلمانوں کی تربیت اس ماحول میں ہو رہی ہے کہ اسلامی ریاست کے قیام کے بغیر بھی ان پر دوسرے مسلمانوں کی ضروریات کو پورا کرنا بطور ’’حق‘‘ لازم ہے ۔قرآن و سنت میں زکوٰۃ اورصدقہ جیسے الفاظ’’ فریضہ‘‘ اور’’ حق‘‘ کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں ۔ کسی چیز کو خیرات کے طور پر مانگنے اور حق کے طور پر طلب کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے ،لیکن ہماری غلط دینی تعبیرات کا نتیجہ یہ ہے کہ عام لوگوں کا تو کیا کہنا پڑھے لکھے لوگ بھی زکوٰۃ اورصدقہ کو خیرات کے ہم معنی ہی سمجھتے ہیں ۔ فقیہ شہر کا فتویٰ یہ ہے کہ فرض تو قرض کی طرح ہے جنت کا ٹکٹ تو صرف اس کے لیے کنفرم ہو گا جو ’خیرات‘ بانٹتا ہے۔اس تبلیغ کا نتیجہ یہ ہے کہ آج باوسائل اور مقتدر طبقہ مزدور اور غریب کے لازمی حق کو نظر اندازکرکے صدقہ و خیرات کے نام پر اس کا استیصال رہا ہے ۔مقتدر طبقات کی نظر میں مزدور اور غریب کو اس کا حق دینے کی بجائے خیرات دینا پسندیدہ عمل ہے تاکہ اس کی گردن ہمیشہ اپنے مالک کے سامنے جھکی رہے اور وہ انہیں اپنا آقاو مولیٰ سمجھتا رہے ۔زیر نظر کتاب میں اس معاشرتی کجی کی ان الفاظ میں نشاندہی کی گئی ہے :
’’پاکستان دنیا کا کم ترین مزدوری دینے والا ملک ہے ،اور پاکستان ہی دنیا کا سب سے زیادہ خیرات کرنے والا ملک بھی ہے ۔ہمارے معاشرے کا یہ تضاد ایک بہت بڑی کجی کا اظہار ہے ۔ہم نے مزدور کے استحصال کو ایک معاشرتی قدر بنادیا ہے ۔ہم پہلے ان کو کم مزدوری دے کر محتاج بناتے ہیں ، پھر ان کی محتاجیوں سے مزید محتاجیاں جنم لیتی ہیں ،اور پھر ہم صدقہ و خیرات سے ان محتاجوں کی مدد کرکے ان کو اپنا احسان مند بھی بنالیتے ہیں اور اس احسان مندی سے ایک طرف ہم اپنا کاروبار چمکاتے ہیں اور دوسری طرف ان کی دعاؤں سے جنت کے محل تعمیر کرالیتے ہیں۔‘‘
ایک غیر ہنرمند مزدور کے خاندان کو ماہانہ تقریباً36,000سے40,000ہزار درکار ہیں جبکہ حکومت نے کمال مہربانی سے مزدور کی کم ازکم اجرت 13سے14ہزار روپے مقرر کی ہے ۔جبکہ مزدوروں کا ایک طبقہ اس سے بھی کم ماہانہ تنخواہ پا رہا ہے۔ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ مذہب سے گہری عقیدت رکھنے والا سرمایہ داربھی مزدور کو اس کا حق دینے کی بجائے خیرات دینا ہی پسند کرتا ہے ۔کسی کی عزت نفس کا لحاظ، اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں کتنے رتبے کا کام ہے، کاش یہ بات ہم پر کھل جائے تو یقین کیجئے معاشرے کا مزاج ہی تبدیل ہو جائے ۔لوگ خیرات بھی رات کے اندھیرے میں دینا پسند کریں گے ۔
دنیا کے تمام مذاہب نے مختلف طبقات کے حقوق کی نشاندہی اپنے اپنے اسلوب میں کی ہے ،بالخصوص جدید مغربی معاشرے میں بنیادی انسانی حقوق کی تحریک کا منظم ظہور ہواہے ۔مغرب بجا طور پر انسانی حقوق کی جدید تحریکوں کا بانی ہے، لیکن محض حقوق کے مطالبات سے معاشرے میں ٹکراوکی نفسیات جنم لیتی ہیں سماجی سطح پر اس حوالے سے اسلام کا اسلوب بہترین ہے کہ حقوق کے شعور کے ساتھ اصل زور فرائض کی ادائیگی پر دیا جائے ۔ جب ہر طبقہ اپنے فرائض کو ادا کرنے لگے تو کسی طبقے کے حقوق پامال نہیں ہوں گے ۔ بظاہر یہ بات معمولی نظر آتی ہے لیکن نتائج کے اعتبار سے یہ طرزِ عمل دور رس نتائج کا حامل ہے۔ مغرب میں اس طرزِ فکر کی ایک بڑی مثال حقوقِ نسواں کی جدید تحریک ہے جس نے عورت کو بھڑکا کر مرد کا مدمقابل بنا دیا ہے ۔جس کے نتیجے میں مغرب میں خاندانی نظام کا شیرازہ بکھر رہا ہے ۔ عورتوں کا اپنے حقوق سے آگاہ ہونا بے شک ضروری سہی لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ عورت کے حوالے سے مرد پر بحیثیت باپ،بھائی اور شوہرجو فرائض عائد ہوتے ہیں ان کا شعور اتنے تسلسل سے اجاگر کیا جائے کہ حقوقِ نسواں کی کسی تحریک کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔اس حوالے سے ہمارے فاضل تلمیذ نے آج کے معروضی حالات کے تناظر میں معاشرتی اصلاح کے لیے زیر نظر کتاب میں عورت کے حقوق اور مرد کے فرائض کے حوالے سے اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے ۔تفصیل کے لیے :’’نکاح کے بعد‘‘،’’بیوی پر پابندیاں‘‘،’’ شادی کا فیصلہ‘‘،’’رفیقِ حیات کا فیصلہ کیسے ہو؟‘‘،کے عنوانا ت ملاحظہ فرمائیں ۔
کسی معاشرے کی طاقت اس کا اتحاد اور یکجہتی ہے ،اسلام کی برکت سے جب عربوں میں اتحادو یگانگت کا ظہور ہوا تواللہ تعالیٰ نے اس اتحاد کا اپنے خصوصی فضل کے طور پر تذکرہ فرمایا اسی اتحادکی بدولت وہ موقع پیدا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقیقی معنوں میں ’خاک کے ذروں کو ہمدوش ثریا کردیا ‘لیکن پھر ’اپنی ملت کو اقوام مغرب پر قیاس نہ کرنے والوں ‘ نے اس سبق کو بھلادیا تو اللہ نے بھی ان کو بھلادیا۔خاک مدینہ و نجف کو اپنی آنکھوں کا سرمابنانے والی قوم فرقہ بندی کے عفریت کی نظر ہو گئی۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ فرقہ وارایت کا جن بے قابوہو چکا ہے۔ مسئلہ صرف مذہبی تعصبات تک محدود نہیں رہا بلکہ ہمارے سماج میں فرقہ وارایت کا ظہور کئی شکلوں میں ہورہا ہے ۔اس وقت مسلم معاشرے کا اتحادذات برادری، مسلکی،فقہی،لسانی ، جغرافیائی اورنسلی تعصّبات کے طوفان میں بری طرح گھر چکا ہے ۔ جس طبقے کے ذمے ان تعصبات کے خلاف سر پر کفن باندھ کر میدان کارزار میں نکلنا تھا اس کی نظر میں سرے سے یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ۔ ہمارے مذہبی طبقے میں تو یہ موضوع سماجی مسئلے کے طورکم ہی زیر بحث آتا ہے ۔اس تناظر میں فاضل مصنف نے اتحادو یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے والے منفی سماجی رویوں کو پوری قوت سے اجاگر کیا ہے ۔موصوف نے ’’قبیلہ پرستی‘‘،’’تعصبات اور قبیلہ پرستی خدااوررسول ؐ کی نظر میں‘‘، ’’قبیلے سے باہر شادیاں‘‘،’’بزرگوں کے طور طریقے‘‘، ’’اب ایسا نہیں چلے گا‘‘،جیسے عنوانات کے تحت آج کے ایک زندہ مسئلے کو موضوع بحث بنایا ہے ۔
کتاب کے مطالعے سے احساس ہوتا ہے کہ فاضل محقق بلدئ فکر کے ساتھ زبان و بیان پر بھی گہری گرفت رکھتے ہیں۔ بعض جملے اتنے شاندار ہیں کہ گویا دریا کوزے میں بند کر دیا گیا ہو اس نوعیت کے جملے بجا طور پر ان کو’’ اقوالِ زریں ‘‘ میں شمار کرنے کے لائق ہیں ۔چند جملے ملاحظہ ہوں :
(ہمارا علاج قیمتی باتوں میں نہیں ،ضروری باتوں میں ہے ۔)
(انسانی تعمیر سے دلچسپی میں مبتلاء احباب کو علیم سے زیادہ حکیم ہونا ضروری ہے ۔)
(لوگ اس خیال پر جمے بیٹھے ہیں کہ تبدیلی حکمران بدلنے سے آئے گی حقیقت مگر یہ ہے کہ حکومت ہمارے بدلنے سے بدلے گی ۔)
(مدرسوں میں بندگی کو چھوتا ہواادب ایک طرف طلبہ کے مزاج میں پستی پیدا کر رہا ہوتاہے اور دوسری طرف اساتذہ میں غرور بڑھا رہا ہوتا ہے ۔)
(قربانی کسی ’’صاحبِ نصاب ‘‘کے’’عمل ‘‘کے طور نہیں بلکہ اپنے ’’وفا شعاروں ‘‘ کی ’’ادا‘‘کے طور پر ہی محبوب ہے۔)
اس وقت زیر نظر کتاب پر تفصیلی تبصرہ مقصود نہیں ہے تاہم مختلف مضامین پر نظر ڈالنے سے کتاب کی اس خصوصیت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ’’درِ ادراک‘‘ ایک طرف ہمارے ہاں منفی سماجی رویوں کا بیان ہے تو دوسری طرف اصلاح معاشرہ کی کوششوں اور طریق کار پر ایک شاندار استدراک بھی ہے ۔توقع ہے کہ کتاب اپنے اسلوبِ بیان اور مصنف کے گہرے سماجی مطالعے اور تنقیدی نظر کی وجہ سے قارئین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی۔
دینی مدارس میں عصری تعلیم کے تجربات و نتائج
مولانا مفتی محمد زاہد
(۱۴ نومبر ۲۰۱۷ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ اور اقبال انٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ (IIRD) کے اشتراک سے ’’دینی مدارس میں عصری تعلیم کے تجربات و نتائج‘‘ کے عنوان پر منعقدہ سیمینار میں گفتگو۔)
بعدالحمدوالصلوٰۃ۔میں سب سے پہلے تو مخدوم و مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، جناب مولانا عمارخان ناصر صاحب، الشریعہ اکادمی کے ذمہ داران اور ادارہ اقبال برائے مکالمہ و تحقیق کے ذمہ دارحضرات کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس محفل میں حاضری کا اور اپنی گزارشات پیش کرنے کا موقع عنایت فرمایا۔ میں انتہائی مختصر وقت میں چند موٹی موٹی باتوں کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کروں گا۔
دینی مدارس میں عصری تعلیم کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ یا کیا ہونا چاہیے؟
اس سلسلے میں سب سے پہلی چیز تویہ ہے کہ اس زمانے میں بچے کی سوشلائیزیشن یعنی بچے کو اپنی سوسائٹی کا، اپنے سماج کا حصہ بنانا کہ بچے کو اپنے معاشرے کی اقدار، معروف و منکر اور رہن سہن کا علم ہو، یہ مقصود ہوتا ہے۔اس طرح کے کام عموماً بچے کو والدین سکھایاکرتے تھے، لیکن آج کے دورمیں بچے کی سوشلائیزیشن کا عمل بھی تعلیمی اداروں ہی کے ذریعے سے ہوتاہے ۔ دینی مدارس میں ابتدائی عصری تعلیم کاایک مقصد یہ ہوسکتاہے اوردوسری طرف یہ بھی مقصد ہونا چاہیے کہ ہمارے جتنے بھی بچے ہیں اور بڑے ہوکرجس لائن میں بھی وہ جانے والے ہیں، چاہے وہ عالم دین بننے والے ہوں، انجینئر بننے والے ہوں یا ڈاکٹربننے والے ہوں، ان کی جو ابتدائی سوشلائیزیشن ہو رہی ہے، وہ تقریباً یکساں ہو۔ اگرہمارا بچہ شروع میں اسکول کی تعلیم سے بالکلیہ ناواقف ہوگاتوا س بات کاامکان موجود رہے گاکہ وہ اپنے آپ کو سوسائٹی کامکمل طور پرحصہ نہ سمجھ سکے۔
دوسری طرف بھی اس چیزکی ضرورت ہے کہ اسکول میں دینی بنیادی تعلیم، قرآن کی تعلیم کولازمی حصہ بنایاجائے۔ کہنے کی حدتک تویہ حصہ ہے، لیکن اس کو فعال اور متحرک بنانے کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں مختلف تجربات مختلف جگہوں پرہوئے ہیں۔ مثلاً بہت ساری جگہوں پرحفظ کے ساتھ ساتھ ایک آدھ گھنٹہ نکال کربچے کو اسکول کی تعلیم دے دی جاتی ہے اورتھوڑے وقت میں بچہ بہت کچھ کور کر لیتا ہے۔ ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اصلاً تو بچہ اسکول جا رہا ہوتا ہے، لیکن پارٹ ٹائم قرآن کریم حفظ کررہاہوتاہے ۔ اس کی مثالیں بلکہ کامیاب مثالیں موجود ہیں۔
عام طور پر اس طرح کی چیزوں میں سب سے بڑاسوال یہ اٹھتاہے کہ حفظ کی تعلیم کے ساتھ اگر دوسری چیز اٹیچ ہوگی یادوسری تعلیم کے ساتھ حفظ اٹیچ ہوگا توحفظ کمزوررہے گا، لیکن حفظ کے کمزوررہنے یانہ رہنے کادارومدار اس چیز پر ہوتا ہے کہ حافظ بننے کے بعد اس نے قرآن مجید کی طرف توجہ کتنی دی ہے ۔ اگرکچا پکا یا درمیانہ سا یاد ہے لیکن زندگی بھر خاص طور پررمضان میں اگروہ قرآن کی طرف متوجہ رہتاہے تواس کاحفظ ٹھیک ہوتاہے۔ ایک تیسراتجربہ ہے، ہمارے ہاں بھی اس پرعمل ہورہاہے، اوربھی کئی جگہ پر اس پرعمل ہورہاہے۔ وہ یہ کہ وہ بچہ داخل کیاجائے جوپرائمری پاس ہویعنی ابتدا میں بچہ ناظرہ پڑھنے کے لیے مسجد میں بے شک جائے، لیکن حفظ کے لیے مدرسے میں قاری صاحب کے حوالے کرنے کی بجائے وہ روٹین میں اسکول ہی جائے، ابتدا میں ہم نے رعایت رکھی تھی کہ اساتذہ کے بچوں کوہم ابتدا ہی سے حفظ میں داخل کرلیتے تھے اورایک استادان بچوں کے لیے مقرر کر دیا تھا، لیکن وہ تجربہ بھی اتناکامیاب نہیں ہوا۔ اب ہم اپنے اساتذہ کوبھی کہتے ہیں کہ اپنے بچوں کوپرائمری تک اسکول میں پڑھاؤ۔
اس کے مختلف اسباب ہیں جن میں سے ایک تویہ کہ قاری صاحب کی درس گاہ میں جو جلال کاغلبہ ہوتاہے، چھوٹے بچے کے لیے وہ ماحول شایداتنازیادہ سازگار نہ ہو۔ دوسرے ماحول میں وقت گزارکرآئے گاتوبہت سی چیزیں سیکھا ہوا ہو گا اور ان پر محنت کی ضرورت نہیں رہے گی۔ دوسرایہ کہ اتنے چھوٹے بچے کی لرننگ کی رفتار سست ہوتی ہے ، اس کی سست رفتاری کو اپنے یا قاری صاحب کے ذمہ ڈالنے کی بجائے ابتدائی تعلیم اسکول میں عام ماحول میں ہی ہو تو بہتر ہے۔ بچہ پانچویں پڑھ چکاہو گاتواس کوحروف کی شناخت ہوچکی ہوتی ہے، سمجھ دارہوچکاہوتا ہے، وہ اڑھائی تین سالوں میں حفظ مکمل کر سکتا ہے۔ اس کی بہت ساری مثالیں ہیں بلکہ ایک سال میں حفظ کرنے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ کرتے ہیں اوربہت ساری جگہوں پریہ ہو رہا ہے کہ چھٹی، ساتویں، آٹھویں کے مشکل مضامین تھوڑے تھوڑے کر کے ساتھ پڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ بچہ جب حفظ سے فارغ ہوتاہے توتھوڑی سی ٹیوشن پڑھ کر مڈل کاامتحان دے لیتاہے۔ اس کے بعد پھرا س کے لیے آگے راستہ کھلاہوتاہے۔
اس سے اوپرکی تعلیم میں کئی مقاصد پیش نظر ہوتے ہیں۔ ایک تویہ کہ عصری تعلیم کی ایسی سندموجود ہو جو سرکاری طور پر مسلمہ ہو۔ اس سے دینی مدرسے کے فارغ التحصیل کے لیے یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے راستے کھل جائیں گے اور الحمدللہ جب سے یہ راستے کھلے ہیں، اس کے بہت سارے اچھے فوائداورثمرات نظر آئے ہیں۔ دوسری چیز یہ پیش نظرہوتی ہے کہ ہمارے مدارس اور مساجدمیں شاید افرادکے کھپانے کی اتنی گنجائش نہیں ہے جتنی بڑی تعداد دینی مدارس سے الحمدللہ فارغ ہورہی ہے۔ جوفارغ التحصیل ،ہیں ان کے لیے روزگار کے مواقع ہونے چاہئیں تو اس حوالے سے بھی عصری تعلیم کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ یہ تعلیم روزگار میں کتنی کارگر ہے، یہ ایک الگ بحث ہے، لیکن بہرحال یہ سوچ ذہن میں ہوتی ضرورہے۔
اس سلسلے میں ایک مستقل مجلس الشریعہ اکادمی میں ہو چکی ہے کہ فضلائے کرام کے معاشی مسائل کا حل کیا ہو؟ اس سلسلے میں، میں یہ عرض کروں گایہ صرف ہماری تعلیم ہی کامسئلہ نہیں ہے، ہماری جومین اسٹریم ایجوکیشن ہے، اس میں بھی یہ مسئلہ ہے کہ صرف نوکری کرنا سکھلایا جاتا ہے، اس کے علاوہ بچے کو اور کچھ نہیں سکھایاجاتا، حالانکہ تھوڑاسابزنس مائنڈ بنانا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ایک فارغ التحصیل عالم نے کسی اور لائن میں جانا ہی ہے تو اگر وہ کچھ بزنس مائنڈڈ ہوگا تو بجائے اس کے کہ وہ کسی سے روزگار مانگے، وہ روزگار دینے والا بن جائے گا۔ اس کے علاوہ عصری تعلیم سے متعلق کچھ خالص دینی مقاصد بھی ہوتے ہیں اور یہ جتنی بھی بحثیں ہیں، اصل مقصدضرورہمارے پیش نظر رہنا چاہیے۔ اصل مقصود وہ متبحر، عمیق علم رکھنے والے، رسوخ فی العلم رکھنے والے علماء پیداکرناہے جوہرزمانے کے مطابق لوگوں کواللہ کی طرف، اللہ کے رسول کی طرف بلاسکیں اوردینی امورمیں لوگوں کی رہنمائی کرسکیں۔ یہ ایک مستقل مقصد ہے اوراس کے لیے الگ انداز سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ محض کوئی سندیاڈگری حاصل کر لینا شاید اس کے لیے کافی نہیں ہے۔ اس دورکے جو چیلنجز ہیں، کچھ کلامی نوعیت کے ہیں، کچھ فقہی اورقانونی نوعیت کے ہیں، سماجی اور معاشرتی نوعیت کے ہیں، معاشی نوعیت کے ہیں، دعوتی نوعیت کے ہیں۔ ہرایک کوسامنے رکھ کراس کے حساب سے الگ سے تعلیم کابندوبست کرنے کی ضرورت ہے۔
ابتدائی تعلیم کے بعد بہت سارے مدارس ایسے ہیں جن میں اولیٰ کے سال کو دو حصوں میں تقسیم کرکے باقاعدہ میٹرک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ کافی حد تک اچھااور کامیاب تجربہ ہے، لیکن میری معلومات کی حد تک اس میں دوتین مسائل پیش آرہے ہیں۔ ایک مسئلہ تووہی ہے جس کا حضرت مولانا مفتی حامد حسن صاحب نے ذکرفرمایاتھاکہ ایک استاد رکھا تواس کے نتیجے میں طلباء چلے گئے۔ اپنااستاد ہوتویہ مسئلہ ذراکم ہوجاتاہے۔ یہ مسئلہ اس وجہ سے ہے کہ گھر والے بچے کویہ سوچ کر مدرسے میں بھیجتے ہیں کہ یہ کوئی زیادہ صلاحیت رکھنے والابچہ نہیں ہے، لیکن یہاں چونکہ وہ چوبیس گھنٹے ہماری نگرانی میں ہوتاہے، محنت کرتاہے، پڑھتا ہے، اس کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جاتا ہے تووہ میٹرک میں بہت اچھے نمبرلے لیتا ہے اور بعض اوقات والدین کی توقعات سے بہت بڑھ کرنمبرلے لیتاہے تووالدین کاذہن دوسری طرف چلناشروع ہو جاتا ہے کہ اچھا! ہمیں تواب پتہ چلا کہ ہمارابچہ ذہین ہے۔ اگریہ ذہین ہے تواسے ایف ایس سی کرانی چاہیے، اس کوکسی اورطرف لگاناچاہیے۔ اگرچہ یہ بچہ ابتداء میں مدرسے میں پڑھ کرکسی اورطرف بھی چلا گیا تو دین کی جوبنیاد اس کے اندرپڑ گئی ہے، وہ ان شاء اللہ اس کے ساتھ رہے گی، لیکن پھربھی ہم نے اس پرمحنت کی ہے، ہمارے ہی کام آئے اورآخرتک ہمارے پاس ہی پڑھے، یہ ہماراایک مقصد ہوسکتاہے۔ تواس میں اگرہمارے اپنے اساتذہ ہوں، وہ ترغیب سے کام لیں تواس مسئلے کوحل کیاجاسکتاہے۔
دوسرے ایک چیزمحسو س کی گئی ہے، ہماراپناذاتی تجربہ بھی ہے کہ آپ اولیٰ میں عربی زبان کے قواعد پڑھاتے ہیں یا اسے دوسالوں میں تقسیم کردیتے ہیں، اگرچہ دورانیہ اتناہی ہوتاہے، لیکن اس کے باوجود قواعدمیں، صرف ونحومیں کچھ نہ کچھ کمی ضرور رہ جاتی ہے۔ یہ قابل غورہے اور اس کاحل ہونا چاہیے۔ میں یہ سمجھتاہوں کہ دارالعلوم دیوبندمیں تعلیمی سال کا اختتام شعبان کے آخرمیں ہوتاتھا۔ پچیس شعبان کے لگ بھگ امتحان ہوتے تھے۔ دینی مدارس میں تعلیمی سال چھوٹا ہوتا جا رہا ہے۔ شعبان کاپہلاہفتہ امتحان کاہوتاتھا، اب رجب کے آخری ہفتہ بلکہ آخری عشرہ کی طرف آنے لگ گئے ہیں، اوردوسری طرف بعض مدارس میں تعلیم کاآغاز بھی ذرادیر سے ہوتا ہے۔ تو تعلیمی سال کودوبارہ بڑھانے کی طرف توجہ دیں تواس مسئلے کوحل کیاجاسکتاہے۔ ہم نے ایک تجربہ یہ بھی کیاکہ اولیٰ میں جومیٹرک والے طلبہ ہیں، ان کوہم رمضان سے ایک دو دن پہلے چھٹی دیں، لیکن باقی مدرسے میں چھٹی ہوچکی ہوتی ہے۔ چند ایک کوجب رکھتے ہیں تووہ ایک نیاماحول محسوس کرتے ہیں، اس میں ان کا دل پوری طرح لگانا، ان کوپڑھائی پر لگانا بھی اچھاخاصاکام ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم جس لیول پربھی ہو، ایک اہم مسئلہ تاریخوں کاclash ہوتاہے، انہی تاریخوں میں بورڈ کے امتحان ہورہے ہوتے ہیں، انہی تاریخوں میں وفاق کے امتحان ہو رہے ہوتے ہیں ۔ قمری وشمسی حساب کی وجہ سے بعض اوقات تاریخیں تقریباً اکٹھی ہو جاتی ہیں۔
میٹرک کے بعدمیرے علم کے مطابق تین ماڈلز چل رہے ہیں۔ ایک یہ کہ میٹرک کر کے طالب علم دورہ حدیث تک اب اپنے آپ کوروک کررکھے، اس دوران مزیدکسی اورطرف توجہ نہ دے۔ بہت ساری جگہوں پریہ ماڈل روبہ عمل ہے اور اس کے اپنے فوائد، اثرات اور نتائج ہیں۔ دوسراماڈل ہے کہ عصری تعلیم کوباقاعدہ اپنے نظام کاحصہ بنا لیا جائے، وہاڑی میں جامعہ خالدبن ولیدمیں، جامعۃ الرشید میں،اسلام آبادکے اندر مولانافیض الرحمٰن عثمانی کے ہاں، جامعہ حنفیہ بورے والا میں ایسا ہی ہے اور اس طرح کی کئی اور مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں۔ تیسراماڈل یہ ہے کہ ادارہ اپنی طرف سے کوئی اس طرح کاانتظام نہیں کرتا، لیکن طلبہ کومشروط طور پراجازت دے دیتاہے۔ مثلاًہمارے ہاں جامعہ امدادیہ میں گذشتہ سال کی حاضریوں کا ریکارڈ دیکھاجاتاہے، گزشتہ تعلیمی سال میں امتحانات میں نمبروں کی ایک مخصوص حدمتعین کی جاتی ہے تاکہ پتہ چلے کہ اس تعلیم میں توجہ کیسی ہے اورایک یہ کہ چھٹی جوملے گی، وہ صرف امتحان دینے کی ملے گی، تیاری کا زیادہ حصہ شعبان رمضان کی یادیگر چھٹیوں میں مکمل کرناہوگا۔
لیکن ان تینوں ماڈلز میں بھی مسائل ومشکلات ہیں۔ ممانعت والے میں یہ ہے کہ دورہ حدیث کے بعد اس گیپ کو اگر طالب علم کور کرنا چاہے توسال زیادہ لگتے ہیں اور کسی جگہ سیٹل ہونے میں وقت زیادہ لگ جاتا ہے۔ عمرکا مسئلہ بھی اس میں آ جاتا ہے۔ اپنے طورپرتیاری کے ماڈل میں ایک مشکل یہ پیش آرہی ہے کہ بچے چھٹیوں کے دوران اپنے گھروں میں کسی استادسے تیاری کر رہے ہوتے ہیں یا تعلیم کے ساتھ ہی عصرکے بعد یاکسی اوروقت اپنے طورپرکسی کے پاس جاکرتیاری کر رہے ہوتے ہیں۔ دوقسم کی تیاریوں میں یکسانیت بعض اوقات نہیں ہوتی، اس سے تیاری کے سلسلے میں طالب علم کے ذہن پر اضافی بوجھ پڑتاہے۔ دوسرایہ کہ ایک بالکل مختلف ماحول میں کچھ دیر کے لیے طالب علم کو جانا پڑتا ہے ۔اصل ضرورت اس چیز کی ہے کہ بحیثیت مجموعی پورے سسٹم اورپورے نظام پرطویل اوروسیع پیمانے پرمشاورت ہواوروسیع غور وفکرہو۔
اس کی دوجہتیں ہیں۔ ایک تومدارس، وفاق ہائے مدارس، تنظیمات ہائے مدارس کی سطح پر۔ اگرہم اپنی پہلی ٹرمنالوجی کودیکھیں تو دینیات اور درسیات کے الگ الگ حصے ہوتے تھے۔ جس طرح آج کل عصری تعلیم کے بارے میں یہ ہے کہ یہ تدین کے حوالے سے برے اثرات پیداکرے گی، بعینہ یہی تحفظات پہلے بزرگوں کے ملفوظات میں درسیات، مثلاً منطق وفلسفہ کے متعلق ملتے ہیں، کیونکہ یہ اس دورکے عصری علوم تھے ۔ مثلاً حضرت مولانا خیر محمد صاحب کے بارے میں حضرت والدصاحب سے سناکہ ان کاذوق یہ تھاکہ مشکوٰۃ اوردورہ حدیث سے پہلے جودرسیات پڑھنی ہیں، شمس بازغہ اورملاصدرا وغیرہ، پڑھ لو، تاکہ اس کے اوپرجوتہہ لگے، وہ علم حدیث کی لگے اورجوبرے اثرات ہوسکتے ہیں، ان کاحدیث کے ذریعے سے ازالہ ہوجائے۔ وہ تحفظات وہاں بھی تھے جو آج عصری علوم میں ہیں، لیکن ان چیزوں کو نظام کا حصہ بنایا گیا۔ جوچیزیں ہم لے کرچل رہے ہیں، ان میں جوغیرضروری چیزیں ہوں، ان میں کمی کرکے ان کی جگہ پر ضروری چیزوں کو شامل کر لیں۔ بہرحال ہم عملی طور پر دوالگ الگ نظام ہائے تعلیم کی پیوندکاری کررہے ہوتے ہیں، بلکہ ہم کیاکررہے ہوتے ہیں، طالب علم اپنے طور پر کر رہا ہوتا ہے جس سے وہ ایک عجیب ساملغوبہ سا بن جاتا ہے۔ اگرمدارس ازخوداس پر جامع مشاورت کرکے ایک جامع نظام بنالیں تواس سے طلباء کے لیے آسانی بھی ہو جائے گی اورنتائج بھی بہترسامنے آنے کی توقع ہے ۔
اس مشاورت کادوسرا پہلو سرکاری سطح پر ہے، کیونکہ بہت سارے مقاصد اس چیزپرمنحصرہیں کہ جو سندبھی ہمارے بچے کے پاس ہے، وہ سرکاری طورپرتسلیم شدہ ہو۔ مدارس کی اسنادکا اعتراف کیسے کرناہے؟ کن بنیادوں پر کرنا ہے؟ اس کے لیے فی الحال میری ناقص معلومات کے مطابق کوئی قانون موجودنہیں ہے، چندایک نوٹیفکیشنز ہیں اور بس۔ ایک جامع قانون سازی کی ضرورت ہے اوراس قانون سازی کے پیچھے جتنے بھی اسٹیک ہولڈرزہیں، وفاق ہوں، مدارس ہوں، مدارس کے فضلاء ہوں، جہاں ان فضلاء نے کھپنا ہوتا ہے، وہ لوگ ہوں، جہاں ان فضلاء نے داخلہ لینا ہوتا ہے، وہ ادارے ہوں یا سوسائٹی کے سرکردہ لوگ ہوں، پہلے تو اس پروسیع مباحثہ ہوناچاہیے اور اس کے بعدضرورت کے مطابق ایک جامع قانون سازی کی جانی چاہیے۔خاص طور پردوبڑے اہم مسئلے آئندہ آرہے ہیں اور وہ ہمارے لیے مسائل پیداکریں گے ۔ ایک تویہ کہ اب تک گریجویشن دوسالہ ہے، دوسال میں بی اے ہو جاتی ہے ، لیکن ممکن ہے کہ پوری دنیا کے ٹرینڈ کے مطابق چارسالہ گریجویشن ہو جائے۔ اس سے یہ اپنے طور پر چلنے والاسلسلہ نبھانابہت مشکل ہو جائے گا۔ اس کے لیے ایک پورے سسٹم کی اور وسیع اور گہرے غوروخوض کی ضرورت ہے۔ دوسرامسئلہ یہ کہ یونیورسٹی لیول کی تعلیم میں پرائیویٹ تعلیم کا تصور اگر ختم ہو گیا توبھی مسائل پیدا ہوں گے۔ آنے والے وقت میں ہمارا جنرل تعلیمی رجحان اور دنیاکا رجحان کس طرف جارہا ہو گا، ہماری ملک کی عمومی تعلیم کدھرجارہی ہوگی، اس کاصحیح اندازہ لگاکربروقت سوچناہماری ذمہ داری ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے اس بیٹھنے کی برکت سے مزیدراہیں کھولیں۔ آمین
موجودہ دور میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(۲۴ جنوری ۲۰۱۸ء کو مجلس صوت الاسلام کلفٹن کراچی میں علماء کرام کی ایک نشست سے خطاب کا خلاصہ۔)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج ہماری گفتگو کا عنوان ہے کہ ایک مسلمان ریاست میں غیر مسلموں کے کیا حقوق و مسائل ہیں اور کسی غیر مسلم ریاست میں رہنے والے مسلمانوں کے معاملات کی نوعیت کیا ہے؟ ہمارے ہاں جب پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور برما سمیت یہ خطہ، جو برصغیر کہلاتا ہے، متحد تھا اور مسلمانوں کی حکمرانی تھی تو اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں فقہی بحث و مباحثہ اس قسم کے عنوانات سے ہوتا تھا کہ یہاں رہنے والے ذمی ہیں یا معاہد ہیں، اور یہاں کی زمینیں عشری ہیں یا خراجی ہیں۔ اس علاقہ میں اسلام مجاہدین کی جنگوں کے ذریعے بھی آیا ہے، صوفیاء کرام کی دعوت و اصلاح کی محنت سے بھی آیا ہے اور تاجروں کی آمد ورفت بھی فروغِ اسلام کا ذریعہ بنی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جہاد کے ذریعے مغلوب ہونے والے لوگوں اور علاقوں کی حیثیت از خود مسلمان ہوجانے والے لوگوں اور علاقوں سے مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے اس حوالہ سے یہاں ہمارے فقہی مباحث کا ایک وسیع دائرہ ماضی کے علمی ذخیرہ میں ملتا ہے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دس سالہ مدنی دور میں ہمیں اس سلسلہ میں مختلف صورتیں دکھائی دیتی ہیں:
- ریاست مدینہ جنگ اور غلبہ کے ذریعے قائم نہیں ہوئی تھی بلکہ قبائل کے ساتھ مسلسل گفتگو اور مذاکرات کے ذریعہ وجود میں آئی تھی جس میں یہودی اور دیگر غیر مسلم قبائل بھی شامل تھے اور ’’میثاقِ مدینہ‘‘ ایک باہمی معاہدہ کی صورت میں اس ریاست کے دستور کی حیثیت رکھتا تھا۔
- خیبر اور بہت سے دیگر علاقے جنگ اور جہاد کے ذریعے اس ریاست میں شامل ہوئے تھے۔
- یمن کے بیشتر قبائل خود مسلمان ہوئے تھے جس کے نتیجے میں یمن ریاست مدینہ کا حصہ بن گیا تھا۔
- نجران کے عیسائی ایک معاہدہ کے تحت ریاست مدینہ کا حصہ بنے تھے۔
چنانچہ دورِ نبوی کی انہی مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک مسلمان ریاست کا حصہ بننے والے خطوں اور وہاں کے لوگوں کے بارے میں فقہاء کرام نے الگ الگ فقہی ابواب و احکام مرتب فرمائے اور متحدہ ہندوستان پر مسلمانوں کے اقتدار کے دور میں بھی بحث و مباحثہ کا یہ تنوع موجود رہا جس کی ایک مثال یہاں کی زمین کے عشری یا خراجی ہونے کی بحث میں ملتی ہے۔ لیکن جب برصغیر پر انگریزوں کا اقتدار قائم ہوجانے کے بعد دہلی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا انتظامی و مالیاتی کنٹرول قائم ہونے پر حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی اور حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا فتویٰ دیا اور اہل علم کے عمومی حلقوں میں اس فتویٰ کو قبول کر لیا گیا جس کے نتیجے میں فرنگی اقتدار کے خلاف مسلح جنگوں کا وسیع سلسلہ شروع ہوگیا تو میری طالب علمانہ رائے میں یہ سارے فقہی مباحث ماضی کا حصہ بن گئے تھے اور اس پورے خطہ کی شرعی حیثیت یکسر تبدیل ہوگئی تھی۔ اس سے قبل اس علاقہ میں مسلمان غالب اور غیر مسلم مغلوب تھے جبکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی عملداری قائم ہونے کے بعد یہ پہلے کے غالب و مغلوب دونوں مغلوب ہوگئے تھے اور دونوں نے مل کر اس نئے غلبہ کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ اب ان کے درمیان غالب اور مغلوب کا تعلق نہیں رہا تھا بلکہ مستقبل کے معاملات میں یہ باہمی شریک کار بن گئے تھے اور اس طرح ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا جسے شرعی اور فقہی حوالہ سے نئی صورتحال کے طو رپر دیکھنا ضروری ہے۔ یہ میری طالب علمانہ رائے ہے جس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ جنگ آزادی اور اس کے بعد کے معاملات کے حوالہ سے اس خطہ کے مسلم اور غیر مسلم دونوں باہمی معاہد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے باہمی معاملات کو ان معاہدات کے دائرہ میں دیکھنا ہوگا جو حضرت شاہ عبد العزیزؒ کے فتویٰ کے بعد جنگ آزادی میں یہاں کی مسلم اور غیر مسلم اقوام کے درمیان باہمی اشتراک عمل کی صورت میں وجود میں آئے تھے او یہ عملی اور خاموش معاہدات ہی آئندہ کے سارے معاملات کی بنیاد بنتے ہیں۔
اس پس منظر میں پاکستان بننے کے بعد اس ریاست کے تمام غیر مسلم طبقوں کی حیثیت معاہدین کی بنتی ہے اور ان پر ذمی کا اطلاق درست معلوم نہیں ہوتا اس لیے کہ جنگ آزادی اور تحریک پاکستان میں یہ سب باہم شریک کار تھے جبکہ پاکستان کے قیام کے بعد ’’دستور پاکستان‘‘ کی صورت میں ہمارے درمیان ایک سماجی معاہدہ تشکیل پا چکا ہے۔ اس لیے جو غیر مسلم حلقے پاکستان کے شہری کے طور پر دستور پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کی پابندی کا عہد کرتے ہیں، وہ ہمارے معاہدین ہیں اور ان کے ساتھ دستور میں ہمارے جو معاملات طے پائے ہیں، ان کی پابندی کرنا اور دستور کے مطابق وطن عزیز کے غیر مسلم باشندوں کو ان کے حقوق ادا کرنا بلکہ ان کی پاسداری کرنا ہماری قومی اور شرعی ذمہ داری قرار پاتی ہے۔ البتہ قادیانیوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے، اس لیے کہ وہ اس دستوری معاہدہ کو تسلیم نہیں کر رہے اور اس سے مسلسل انکاری ہیں۔ چنانچہ جب تک وہ ملک کی دیگر غیر مسلم آبادیوں کی طرح دستور پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے اور اس پر عملدرآمد کی ضمانت نہیں دیتے، انہیں دوسری غیر مسلم آبادیوں کی طرح برابر کے حقوق نہیں دیے جا سکتے۔
یہ تو ایک مسلم ریاست میں رہنے والے غیر مسلموں کی بات ہے جس کے بارے میں پاکستان کے تناظر میں ہم نے چند گزارشات پیش کی ہیں۔ اب ہم مسئلہ کے دوسرے پہلو کی طرف آتے ہیں کہ غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کو وہاں کس طرح رہنا چاہیے۔ اس سلسلہ میں ہم اپنی معروضات کو درج ذیل دائروں میں پیش کریں گے:
- امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے جو وہاں ایک معاہدے کے تحت گئے ہیں جس کے ذریعے انہیں وہاں کا ویزا اور رہنے کی اجازت ملی ہے، انہیں اس معاہدہ کی پابندی کرنی چاہیے۔
- غیر مسلم ممالک میں رہتے ہوئے اپنے عقیدہ و ایمان، شرعی فرائض و واجبات کی ادائیگی اور اپنی اگلی نسل کے ایمان و اعمال کی حفاظت کا اہتمام کرنا مسلمانوں کی دینی ذمہ داری ہے۔ اس لیے اگر کسی غیر مسلم ماحول میں وہ اپنے دینی فرائض و احکام پر عمل نہیں کر سکتے یا اپنی نئی نسل کے ایمان و عقیدہ اور دین سے وابستگی برقرار رہنے سے مطمئن نہیں ہیں تو ان کا اس ماحول میں رہنے کا شرعی جواز باقی نہیں رہے گا۔
- مسلمانوں کو وہاں کے اجتماعی نظام میں شرکت کے مواقع کو استعمال کرنا چاہیے بلکہ ایسے مواقع تلاش کر کے ان سے استفادہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ اسی صورت میں وہاں کے نظام و ماحول میں مسلمانوں کے حقوق و مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں اور مسلمانوں کے لیے باوقار زندگی کی صورتیں مہیا کر سکتے ہیں۔
- ان غیر مسلم ممالک کے قانون و دستور کے دائرے میں رہتے ہوئے اگر اپنے شرعی احکام و قوانین کے نفاذ کے لیے کوئی قانونی سہولت میسر ہو تو اسے ضرور استعمال کرنا چاہیے۔ جیسا کہ امریکہ، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک کے دستور و قانون میں مسلمانوں کے لیے نکاح و طلاق اور دیگر خاندانی معاملات میں باہمی تنازعات کا شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے لیے شرعی عدالتوں کے قیام کی گنجائش موجود ہے اور وہاں کے مسلمان اس سے کسی حد تک استفادہ بھی کر رہے ہیں۔
- اور آخری بات یہ عرض ہے کہ کسی غیر مسلم معاشرہ میں رہنے والے مسلمان وہاں اسلام کے سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں، انہیں وہاں کے ماحول کے مطابق اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کوئی مؤثر طریق کار ضرور اختیار کرنا چاہیے۔
تکفیر کی اتھارٹی، علماء یا حکومت؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
ایک سوال ان دنوں کم و بیش ہر جگہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے ذریعے کفر کے فتوے کی اتھارٹی اب حکومت و عدالت کو منتقل ہوگئی ہے؟ اور اگر ایسا ہوگیا ہے تو مفتیان کرام کا اس میں کیا کردار باقی رہ گیا ہے؟
اس سلسلہ میں اپنا ذاتی نقطہ نظر پیش کر رہا ہوں جسے من و عن قبول کرنا ضروری نہیں ہے البتہ اس کے بارے میں اہل علم و دانش سے سنجیدہ توجہ اور غور و خوض کی درخواست ضرور کروں گا۔ یہ سوال اس سے قبل ہمارے سامنے اس وقت بھی آیا تھا جب بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی میں یہ تحریک پیش کی گئی تھی کہ بنگلہ دیش میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ وہاں کے قادیانی حلقوں نے بڑے شد و مد کے ساتھ یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا کسی کو مسلمان یا کافر قرار دینا اسمبلیوں کا کام ہوتا ہے یا یہ ذمہ داری اہل علم و فتویٰ کی ہے؟ بنگلہ دیش کے بعض علماء کرام نے سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی سے اس سلسلہ میں رجوع کر کے راہنمائی طلب کی تھی جس پر مولانا چنیوٹی نے بہت سے دیگر علماء کرام کے علاوہ مجھ سے بھی مشورہ کیا تھا اور میری اس گزارش سے اتفاق کیا تھا کہ قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی شرعی حیثیت تو علماء کرام نے واضح کر دی ہے اور سب اہل علم کا اس سے اتفاق ہے، مگر اسے عملی قانون کا حصہ بنانے اور اس کے معاشرتی اطلاق و تنفیذ کے لیے پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے، کیونکہ کسی معاملہ کے سوسائٹی پر اطلاق اور اس کی عملی تنفیذ کی اتھارٹی بہرحال حکومت وقت کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ ہم نے جب پاکستان کی حکومت اور پارلیمنٹ سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا تو وہ مطالبہ یہ نہیں تھا کہ پارلیمنٹ قادیانیوں کو کافر قرار دینے کا فتویٰ صادر کرے، بلکہ یہ تھا کہ چونکہ اس گروہ کو پوری امت مسلمہ غیر مسلم قرار دے چکی ہے، اس لیے قانون و دستور میں بھی ان کی یہ حیثیت تسلیم کی جائے۔
میرے خیال میں وہی سوال اب مذکورہ صورت میں ہمارے سامنے آگیا ہے کہ کفر و اسلام کی بحث تو اہل علم و افتاء کا کام ہوتا ہے، اس میں حکومت یا پارلیمنٹ کو اتھارٹی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ میری طالب علمانہ رائے میں کسی فرد یا گروہ کے کفر یا اسلام کو واضح کرنا تو بہرحال اہل علم و فتویٰ ہی کی ذمہ داری بنتی ہے مگر اس کی عملی تطبیق اور معاشرتی اطلاق کی اتھارٹی عدالت، پارلیمنٹ یا حکومت کے پاس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد ان کے بارے میں اس اجتماعی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے عدالت، حکومت اور پارلیمنٹ سے رجوع کیا تھا۔ قیامِ پاکستان سے قبل اس مقصد کے لیے ریاست بہاولپور کی عدالت کے سامنے حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کاشمیری، حضرت علامہ غلام محمد گھوٹوی اور دیگر اکابر علماء کرام کا پیش ہونا اور اس سے فیصلہ طلب کرنا اسی مقصد کے لیے تھا، جبکہ اسی ناگزیر ضرورت کے تحت قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ حکومت وقت سے کیا گیا تھا جو ۱۹۴۷ء میں ایک دستوری بل کی صورت میں منتخب پارلیمنٹ کے سامنے رکھا گیا تھا اور اس کے بعد یہ معاملہ وفاقی شرعی عدالت اور عدالت عظمیٰ کے سامنے بھی پیش ہوا تھا۔ یہ سارے مراحل اس امر کی توثیق کرتے ہیں کہ کسی فتویٰ کا عملی اطلاق اور اس کی معاشرتی تنفیذ حکومت و عدالت ہی کی ذمہ داری بنتی ہے۔
اس کی ایک مثال یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کسی قانونی یا دستوری مسئلہ پر حکومتی رائے وہ ہوتی ہے جو اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل یا ڈسٹرکٹ اٹارنی پیش کرتے ہیں، لیکن اسے قانونی فیصلے کی حیثیت متعلقہ عدالت کے حکم سے حاصل ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ باقاعدہ قانونی صورت اختیار کرتی ہے۔ ایک حد تک اس معاملہ کو اس فقہی قاعدہ کی صورت میں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ کسی کیس میں قاضی کا فیصلہ قانونی تقاضے تو پورے کر لیتا ہے جبکہ حقیقتاً وہ درست نہیں ہوتا حتیٰ کہ اس میں حلال و حرام کے معاملات بھی گڑبڑ ہو جاتے ہیں، تو ایسی بعض صورتوں میں فقہاء کرام یہ کہتے ہیں کہ وہ فیصلہ قضاء میں تو نافذ ہو جائے گا مگر دیانتاً نافذ نہیں ہوگا۔ دیانت اور قضا کے درمیان جو یہ فرق کیا جاتا ہے اس سے اتنی بات سمجھ میں آتی ہے کہ کسی مسئلہ کے عملی نفاذ و اطلاق کی صورت اس کی علمی و دینی حیثیت سے مختلف ہو سکتی ہے اور اس کا فقہی طور پر بھی اعتراف کیا جاتا ہے۔
میری یہ گزارشات ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کی توضیح یا دفاع کے حوالہ سے نہیں بلکہ اس سے پیدا ہونے والے ایک سوال کے بارے میں فقہی صورتحال کے ایک پہلو کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہیں کہ کسی فرد، طبقہ یا گروہ کے مسلمان یا کافر ہونے کی بحث و فیصلہ تو اصولی طور پر اہل علم و فقہ کا کام ہے مگر اس کی معاشرتی تنفیذ اور قانونی اطلاق متعلقہ اور مسلمہ اداروں کے ذریعے ہی قابل عمل ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب ہم کسی مسئلہ کی شرعی پوزیشن کی وضاحت کے ساتھ ساتھ اس کے عملی اطلاق اور معاشرتی تنفیذ کے معاملات بھی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے بہرحال کنفیوڑن پیدا ہوتا ہے، جبکہ ان دونوں معاملات کو الگ الگ رکھا جائے تو اس قسم کی الجھنوں سے بچا جا سکتا ہے۔
’’پیغام پاکستان‘‘ : پس منظر اور پیش منظر
مولانا حافظ عبد الغنی محمدی
دہشت گردی کے خلاف علماء کرام نے ’’ پیغام پاکستان‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں ایک متفقہ فتویٰ صادرکیا ہے جس پر 1800 سے زائد علماء کے دستخط ہیں۔اس کتا بچے کو ادارہ تحقیقا ت اسلامی نے شائع کیا ہے۔ اس کا قومی بیانیے کے حوالے سے اجراء صدر پاکستان کی سربراہی میں علماء کرام اور حکومتی نمائندہ شخصیات کی موجود گی میں اسلام آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس میں ہوا۔ اس فتویٰ میں دہشت گردی، خونریزی، خود کش حملوں اور ریاست کے خلا ف مسلح جدو جہد کو، خواہ وہ کسی نام یا مقصد سے ہو، حرام قرارد یا گیا ہے اور ان چیزوں سے کیسے نمٹا جائے، اس حوالے سے علماء کرام کی تجاویز ہیں۔ اس فتویٰ کی اہمیت کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کو تمام مسالک کے علماء ومفتیان کرام کی ایک بڑی تعداد نے نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے اور پھر ریاست نے اس کو قومی بیانیہ قرار دے دیا ہے۔
پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے نا درست خارجہ پالیسیوں یا کچھ عناصر کے بے لگام ہونے کی وجہ سے بد امنی اور انتشار کی کیفیت تھی۔ مشر ف حکومت کے بعد دہشت گردی اور بد امنی میں مزید اضافہ ہوا۔دہشت گردی ، بدامنی اور انتشار کی اس کیفیت نے ملک عزیز کی سلامتی کوداؤپر لگا رکھا تھا، پاکستان کی معیشت ہچکولے کھار ہی تھی، بہت سی قیمتی جانوں کا نقصان ہو چکا تھا۔ ملک میں داخلی سطح پر جو کیفیت تھی سو تھی، عالمی طور پر پاکستان کا امیج خراب ہو چکا تھا، اور ہمارے ہمسایے ہمیں آڑے ہاتھوں لے رہے تھے۔ انھی حالات میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ آرمی پبلک اسکو ل میں ڈیڑ ھ سو کے قریب بچوں، اساتذہ اور یگر عملے کی شہادت کا تھا۔ ننھی اور معصوم کلیوں کی شہادت کے درد کو پوری قوم نے محسوس کیا اور اس المناک حادثہ نے پوری قوم کو دہشت گردی کے خلاف ایک صف میں لا کھڑا کیا۔ دہشت گر دی کا مقابلہ کرنے اور اس کو شکست دینے کے لیے پوری قوم مضبوط و آہنی عز م کے ساتھ متحد ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ در حقیقت ملک عزیز کو درپیش چیلجز سے نمٹنے کے لیے ایسے ہی اتفاق و اتحاد کی ضرورت تھی۔
اس واقعہ کے بعددہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لیے ریاست نے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا، دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے لیے مختلف آپریشن کیے گئے، بینکوں میں اکاؤنٹس کی چھان بین کی گئی، سموں اور شناختی کارڈز کی رجسٹریشن کا نظام سخت کر دیا گیا، میڈیا و سوشل میڈیا کی کڑی نگرانی کی گئی، اور انسداد دہشت گردی کے ادارہ نیکٹا کو مضبوط کیاگیا۔ ان تمام عملی کاموں کے ساتھ دہشت گردوں کا نظری سطح پر بھی مقابلہ کیا گیا۔ اس ضمن میں علماء کرام کی خدمات نہایت وقیع ہیں۔ علماء کرام نے دہشت گردی کے خلاف فتاویٰ اور بیانیے صادر کیے، دہشتگردوں کا نظری سہارا ختم کرنے کے لیے ان آیات، احادیث اور عبارات کے جواب دیے جن کو وہ استعمال کر رہے تھے، ان نصوص کی درست تعبیرات و محل کو امت کے سامنے واضح کیا۔ دہشت گر دی کے خلاف جنگ میں امن پسند علماء کرام کو اپنے فتاویٰ کی بھاری قیمت چکا نا پڑی۔ اس جنگ میں بہت سے ممتاز علماء کرام کی شہادتیں ہوئیں۔ ان علماء کرام کی انفرادی کوششوں کے بعد اب یہ اجتما عی اور متفقہ فتویٰ بھی آچکا ہے جس کو قومی بیانیہ قرار دینا اور اس حوالے سے مزید کوششیں کرنا نہایت خوش آئند اقدام ہے۔
ہمارے ہاں مخصوص حالات اور خاص پس منظر میں کی جانے والی کوششیں صرف ان حالات سے نمٹنے کے لیے ہی ہوتی ہیں۔ بلاشبہ عام طور پر کوئی بھی کوشش مخصوص حالات اور خاص پس منظر میں ہی شروع کی جاتی ہے، لیکن اس کو ایسی مستقل بنیادوں پر استوار کرنا کہ دوبارہ اس قسم کے حالات سے دوچار نہ ہونے پڑے، یہی اصل دانشمندی ہوتی ہے۔ دہشت گر دی کے خلاف ہماری جو کوششیں ہیں، انہیں بھی مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم وقتی امن کی بجائے مستقل اور پائیدا ر امن قائم کرسکیں اور نسل نو کو آگے بڑھنے کے اچھے مواقع فراہم کرسکیں۔
اس ضمن میں کیا کیا جاسکتاہے، اس حوالے سے مختلف اہل علم اور صاحب قلم حضرات آرا دے رہے ہیں۔ میں بھی چند آرا دینا چاہوں گا۔
فرقہ واریت کا خاتمہ
دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے مختلف نوعیت کی محنت درکارہے۔ ایک کوشش فرقہ واریت کو ختم کرنے کی ہے۔ فرقہ واریت سے مراد کسی بھی سطح پر ایسی گروہ بندی یا فرقہ بندی ہے جو دیگر گروہوں کے خلاف منفی جذبات کی تعمیر میں مصروف ہو اور شدت پسندی کو ابھار رہی ہو۔ ایسی گروہ بندی مذہبی، لسانی، صوبائی یا کسی بھی لحاظ سے ہو، اس کا قلع قمع کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہمیں ایک قوم بننا ہے جس کی امنگیں، خواہشیں، ترجیحات اور مفادات یکساں ہوں۔ تبھی ہم ترقی کر سکتے ہیں اور اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔
جو فرقے اور جماعتیں بن چکی ہیں، ان کو ختم کرنا تو شاید ممکن نہ ہو لیکن رواداری، احترام اوربرداشت کے ذریعے ہم پر امن ماحول پیدا کرسکتے ہیں۔ فرقہ واریت میں چند چیزیں ایسی ہیں جن کو اگر ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو فرقہ واریت کی شد ت کم ہو سکتی ہے:
1۔ مختلف فرقوں کی کتابوں اور لٹریچر میں ایک دوسرے کے خلاف سخت فتاو یٰ اور غیر مہذب اور اخلا ق سے عاری الفاظ موجود ہیں۔ ان فتاویٰ پر شاید ان مسالک کو دل و جان سے حرز جان بنانے والے لوگ بھی نہ عمل کر پاتے ہوں، کیونکہ معاشرتی طور پر ایک دوسرے سے اتنا کٹ جانا کہ آدمی معاشرتی افعال خرید و فروخت، شراکت، تعلق داری اور دیگر معاملات میں صرف اپنے مسلک تک محدود ہو کر رہے، یہ عملی طور پر بہت مشکل کام ہے۔ اس قسم کے شدت پسندی پر مبنی فتاویٰ اگر چہ عملی اور معاشرتی زندگی میں ناقابل عمل ہیں، لیکن نظری طور پر یہی فتاویٰ کسی بھی مسلک میں شدت پسندی اور دوسروں سے بغض و عداوت پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ نہ صرف موقع پرست علماء کے لیے بہتر ین ہتھیار ثابت ہوتے ہیں بلکہ جادہ اعتدال پر گامزن اور امن باہمی کی کوششیں کرنے والے علماء کے لیے بھی بہت بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اب اس قسم کے عمر رسید ہ و سن یاس کو پہنچے ہوئے فتاویٰ کو ختم کر کے ان پر نظری تکیہ رکھنے والوں کا سہارا بھی ختم کیا جائے۔ اس زمرے میں کون سے فتاویٰ آتے ہیں، اس میں ہر مسلک کے معتدل و جید علماء و مفتیان کرام کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔ اگر تمام مسالک کے معتدل علماء اس قسم کے فتاویٰ کو ختم کرنے میں متفق و متحد ہوجائیں تو راکھ میں دبی اس چنگاری سے جو کسی بھی وقت ہلاکت خیز آگ کا روپ دھار سکتی ہے، ہم بچ سکتے ہیں۔
2۔ مولانا مودودیٰ کی کتابوں میں مقد س شخصیات کے حوالے سے بعض ایسی باتیں تھیں جو بظاہر نظر دیکھنے سے خلاف ادب معلوم ہوتی ہیں اور دینی حمیت رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے ناقابل برداشت ہیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے مقد س شخصیات کے بار ے میں ہمارے جذبات ایسے ہی ہونے چاہییں، لیکن ان جذبات کو اگرہم دائرہ قانون میں لے آئیں تو شاید اس قسم کے مسائل زیادہ احسن طریقے سے حل ہو سکیں گے۔ مولانا مودودی کی کتابوں سے قاضی حسین احمد صاحب نے اس قسم کا مواد ہٹا دیا۔ قاضی صاحب عبقری شخصیت کے مالک تھے، ان کے دیگر سیاسی و مذہبی کارناموں کے ساتھ یہ بہت بڑا کا رنامہ تھا۔ جماعت کے اندر سے بہت سے لوگوں نے اس کی سخت مخالفت کی، لیکن قاضی صاحب اپنی جرا ت رندانہ کے باعث یہ کام کر گزرے۔
قاضی حسین احمد کے ایسا کرنے کافائدہ یہ ہوا کہ مولانا مودودی کی شخصیت اصل روپ کے ساتھ نکھر کر سامنے آگئی۔ ان کی چند باتوں کو لے کر مخالفین نے ان کی شخصیت کے بہت سے مفید پہلوؤں کو چھپادیا تھا۔ قاضی حسین احمد نے ایسے لوگوں کے لیے وہ راہ مسدود کر دی اور مولانا مودودی کو بحیثیت بے مثل مفکر لوگوں کے سامنے پیش کردیا۔ اب جس شخص نے مولانا مودودی کے حوالے سے بات کرنی ہے، وہ کوئی فکری بات ہی کرے گا۔ طعن و تشنیع یا لایعنی و غیر مفید ابحاث کا سلسلہ ختم ہو چکاہے، اگر چہ بعض لوگ اب بھی گڑے مردے اکھاڑنے میں لگے رہتے ہیں۔
ایسے ہی اگر ہر مسلک کی نمائندہ شخصیات اپنے اکابر کی ایسی باتوں کو ختم کرنے کی طرف توجہ دیں تو ہم بجا طور پر ایک اچھی روایت کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔ ایسی عبارات کی نشاندہی کوئی مشکل کام نہیں۔ ان پر باقاعدہ مختلف مسالک کے علماء کی کتابیں اور مناظرے موجود ہیں ۔ اپنے مسلک کی کسی بڑی اور عقیدتوں کی مرکز شخصیت کی تصانیف سے اس قسم کا مواد ہٹانا یقیناًبہت مشکل ہے۔ شاید اس کو ناممکن بھی کہا جا سکے۔ اس سے بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، مسلکی طور پر لوگوں کا یقین و اعتبار اٹھنے کا خطرہ ہوتا ہے، لیکن جتنا یہ پر امن بقائے باہمی اور شدت پسند ی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے، اتنا ہی علمی ترقی اور مکالماتی ماحول میں مفید ابحاث پر گفت و شنید کے لیے بھی ضروری ہے۔ ہمارے ہاں مکالماتی ماحول اٹھ چکا ہے۔ اس کی جگہ جدل و مناظرہ نے لے لی ہے جس کا اختتام کسی فائدے کی بجائے باہمی رقابتوں میں اضافے، ماحول میں کشیدگی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر ہوتا ہے۔ مفید علمی ابحاث کا مکالمہ ایک عرصہ ہوا شاید ختم ہی ہو چکا ہے اوران حالات میں علمی ترقی ایک خواب اور سراب ہی ہو سکتی ہے۔
3۔ ہمارے ہاں طویل عرصہ سے چلنے والے مسلکی اختلافات دشمنی اور رقابت کا روپ دھار چکے ہیں جن میں ایک دوسرے سے شدید نفرت و عداوت پائی جاتی ہے۔ ان حالات میں ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیوں کا پیدا ہوجانا بھی لازمی اور یقینی امر ہے۔ ہم کسی کا نقطہ نظر اس سے معلوم کر نے کی بجائے خود ہی طے کر کے اس پر فرضی قضیوں کی پوری عمارت تیار کر لیتے ہیں، ایسے میں غلط فہمیوں کا پیدا ہونا اور بھی لازمی اور یقنیی ہوجا تا ہے۔ہو سکتا ہے کہ ان غلط فہمیوں میں خیانت کا بھی دخل ہو ، لیکن ابتدائی طور پر کی گئی خیانت بعد میں ذہن میں رچ بس کر فکر کا ایسا حصہ بن جاتی ہے جس پر انسان ازسر نو غور نہیں کرتا اور ایسے خیالا ت ایک دوسرے کے بارے میں نسل در نسل چلتے رہتے ہیں۔ یہ غلط فہمیاں سیاسی، معاشرتی اور مذہبی ہر طرح کے مسائل میں ہو سکتی ہیں۔سب سے زیادہ غلط فہمیاں دوسروں کی عبارات و نظریات کی تفہیم میں ہوتی ہیں۔ ہر مسلک والے لازماً خود پر ہونے والی تنقید میں یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ ان کے موقف پر دیانتدارانہ غور و فکر نہیں کیا گیا بلکہ اس سے من مانے معانی اخذ کر کے خیانت کا ارتکا ب کیا گیا ہے۔ یہ صرف آج کے دور میں ہی ایسا نہیں بلکہ ابتدائی ازمنہ سے ہی ہم مختلف مسالک کی آویز ش میں ایسی بہت سی مثالیں تلاش کر سکتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ مکالماتی ماحول پیداکیا جائے جس میں مختلف مسالک کے لوگ ایک دوسرے کے قریب آسکیں اور باہم غلط فہمیاں دور کرسکیں۔ اس مکالماتی ماحول میں بازاری علماء اور پیشہ ور مناظرین جن کی روزی روٹی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور کسی بھی طرح غلط ثابت کرنے سے وابستہ ہو، ان کو دور رکھ کر سنجیدہ اور امن کی چاہت رکھنے والے علماء کو موقع دیا جائے۔
4۔ ایسی تحریروں، تقریروں، جلسے جلوسوں اور مناظروں پر پابندی عائد کی جائے جن سے باہمی نفرت میں اضافہ اور ماحول میں کشید گی پیدا ہوتی ہے۔ ایسے علماء و مناظرین کی ذہنی اور اخلاقی سطح کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تربیتی کورسز اور ورکشاپس کااہتمام کیا جائے۔ ان علماء کی توجہ جدید مسائل اور اسلام کی آفاقیت کو در پیش چیلنجز کی طرف مبذول کروائی جائے تاکہ ان کی صلاحیتیں کسی اچھے مصرف میں استعمال ہو سکیں۔ دور جدید میں اسلام کو کس قسم کے چیلنجز اور مسائل کا سامنا ہے اور مسلم امہ کے مسائل کیا ہیں ؟ مسالک سے ماوراء مذاہب کی رقابت موجودہ دور میں کس موڑ پر پہنچ چکی ہے ؟ اور پھر اس سے بھی آگے مذہب کو لا دینیت اور دہریت کی موجودہ جن شکلوں سے سابقہ ہے، اس کا ادراک علماء امت کو ہونا چاہیے ۔ اس کے لیے ٹیم ورک کی ضرورت ہے اور ایسے افراد کو پیدا کرنا ضروری ہے جو علماء کی ان خطوط پر تربیت کر سکیں۔
پرائیویٹ جہادی گروپوں کا خاتمہ
علماء کرام کے موجودہ قومی بیانیہ کی حیثیت اختیار کرجانے والے فتویٰ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ جہاد صرف ریاست کا حق ہے، ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کسی کو اجازت نہیں اور ریاست کی اجازت کے بغیر کوئی جہاد نہیں کر سکتا۔ اس بات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے اور اس فتویٰ کے بعد اس قسم کے تمام فتاویٰ جن سے دہشت گردوں کی پشت پناہی یا نظریات کو تقویت ملتی ہو، ختم کرنا بھی ضروری ہے۔ ایسے افراد یا جماعتیں جو اس کام میں ملوث رہی ہیں، ان کو قومی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے۔ ایسے افراد اگر سیاست میں حصہ لیتے ہیں یا فلاحی کام کر تے ہیں تو ہمیں اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ تاہم لوگوں کو پرائیویٹ جہاد کے لیے تیار کرنے والوں، یا ایسے لوگوں کی کسی بھی قسم کی اعانت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی ہونی چاہیے اور جن جماعتوں کو کا لعدم قرار دیا جا چکا ہے، ان کو کسی دوسرے نام سے وہی کام کرنے کی اجازت بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کا نظری سہارا ختم کریں تا کہ جن نصوص کی بنیادپر وہ خود غلط فہمی کا شکار ہیں یا لوگوں کو تیار کر تے ہیں، ان سے وہ استدلال نہ کرسکیں اور درست راستے کی طرف آسکیں۔
دیگر ممالک اور عالمی پالیسیوں پر نظررکھنا
ہمارے ملک میں دہشت گردی کی بڑی وجہ دوسرے ملکوں کی مداخلت بھی ہے۔ دوسرے ملکوں کے وہ لوگ جو اپنے مفادات کے لیے کسی خاص مسلک کی پشت پناہی کر رہے ہیں، اس کو جس حد تک ہو سکے روکا جائے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایران پاکستان میں شیعہ گروپوں کی سب سے زیادہ امداد کرتاہے۔ اب ایران ہو، سعودیہ یا کوئی اور ملک، یہ لوگ مذہبی نام پر مختلف مسالک یا تنظیموں کی مدد کرتے ہیں اور ان سے سیاسی مفادات حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کے مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ آج بھی ایران یا سعودیہ کے مختلف محاذوں پر باقاعدہ سپاہی کا کام کررہے ہیں اور اس کا محرک صرف مذہبی عقیدت ہے اور یہ سب ریاست سے ماوراء ہو رہا ہے۔ ایسے عناصر اور ان کے سر کردہ لوگوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح عالمی طور پر دہشت گردی نے ایک کاروبار کی شکل اختیار کی ہوئی ہے۔ امریکہ یا مختلف ملک باقاعدہ تنظیموں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اس کو کاروبار سمجھتے ہیں۔ جانے انجانے میں ان کی آلہ کار بننے والی شدت پسند تنظیموں اور جماعتوں پر بھی کڑی نظررکھی جائے۔ یورپی اور مغربی ممالک پاکستان کی نظریا تی سرحدوں کو متاثر کرنے کے لیے جس قدر سرمایہ کاری کرتے ہیں، اس کا ادراک و احساس بھی ضروری ہے۔
علماء کرام کے متفقہ فتوے میں یہ بات بھی موجود ہے جسے قوم کو اچھی طرح ذہن نشین کروانے کی ضرورت ہے کہ اسلام کے نام پر آئین کو پرے پھینک کر اور جغرافیائی سرحدوں کو نظر انداز کرکے کسی دوسرے ملک میں لشکر کشی کا حصہ بننا بھی خلافِ اسلام ہے اور عہد شکنی کے زمرے میں آتا ہے۔ پاکستانی شہری پر لازم ہے کہ وہ دستور میں کیے گئے عمرانی معاہدے کی پابندی دیں اور کسی بیرون ملک گروہ کی مدد کے نام پر اس میثاق کی خلاف ورزی نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوگا۔
ریاستی پالیسیاں
سب سے زیادہ ضرورت اس امرکی ہے کہ ریاست کی پالیسیاں بالکل صاف شفاف اور ملکی و عالمی قوانین و معاہدات کے مطابق ہوں۔ عالم اسلام میں مختلف مسلم ممالک میں جو ظلم و زیادتی کے واقعات ہیں، ہمیں ان کی سیاسی و سفارتی سطح پر مذمت کرنی چاہیے، تاہم دنیا بھر میں کسی بھی جگہ بشمول افغانستان، کشمیر، فلسطین وغیرہ، ہمیں نہ صرف ریاستی سطح پر مسلح جدو جہد کی پشت پناہی نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہمارے ملک کے ایسے لوگ یا تنظیمیں جو ان جگہوں پر مسلح جدوجہد میں مصروف عمل ہیں، ان کے خلا ف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لانی چاہیے، اور شدت پسندی کے رویے پر بنی کسی بھی تنظیم کی حوصلہ شکنی کر نی چاہیے، نہ کہ حوصلہ افزائی۔
سماجی اور معاشرتی اصلاحات
دہشتگر دی کے خاتمے اور پر امن معاشرے کے قیام کے لیے مذہبی، معاشی، معاشرتی، قانونی اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں عدل وانصاف بہت ضروری ہے۔ معاشرے میں کچھ طبقات کے حقوق کو مسلسل نظر انداز کرنے سے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں، ان کا اچھی طرح ادراک بہت ضروری ہے۔ وہ افراد اور گروہ جو مایوسی اور محرومی کی زندگی گزار رہے ہیں، وہ اپنے ادنی مفادات کے لیے کسی بھی حدتک جا سکتے ہیں، اس لیے ہمیں انہیں حقوق دے کر ان کا احساس محرومی ختم کر نا چاہیے۔ ہمارے ملک میں مذہبی، معاشی، معاشرتی، قانونی، لسانی اور صوبائی سطحوں پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے جن کے اندر نہ صرف احساس مایوسی اور محرومی پنپ رہا ہے بلکہ ایک آتش فشاں کی شکل اختیار کر رہا ہے جس کے پھٹنے سے جونقصان ہو گا، اس کی قیمت ہمیں نسل در نسل چکانی پڑے گی، اس لیے ہمیں نہ صرف ان لوگوں کی شکایات کو ٹھنڈے دل و دماغ سے سننا ہوگا بلکہ ان کو مساوی حقو ق بھی مہیاکرنا ہوں گے۔ حقوق سے محرومی کے معاملے میں مذہبی اقلیتوں اور چھوٹے و پسماندہ صوبوں اور علاقوں کے لوگوں کا لحاظ خاص طور پر ضروری ہے۔
اسی طرح دہشت گردی ، بدامنی اور جرائم کے بنیا دی اسباب یعنی غربت جہا لت اور کر پشن کے خاتمے کے لیے موثر اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روایتی کھیلوں، ثقافتی میلوں، موسیقی، ڈرامے اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے باضابطہ پالیسیاں مرتب کی جائیں تاکہ فرسٹریشن سے پاک ایک اچھا اور صحت مند معاشرہ قائم ہو سکے۔
تین طلاقوں کا مسئلہ
ڈاکٹر مختار احمد
جناب محترم مفتی شبیراحمد صاحب کی ہدایت پراس ناچیز نے جناب ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب کا مضمون "یکبارگی تین طلاقوں کے نفاذ کا مسئلہ" مطالعہ کیا، لیکن افسوس مجھے شدید مایوسی ہوئی کہ انہوں نے تین طلاقوں کو تین ہی قرار دینے کی کچھ خودساختہ علتیں بیان کی ہیں۔ان علتوں کو طلاق کے مسئلے سے منسلک کرنے کے لیے انہوں نے قرآن وسنت سے کوئی دلیل نہیں دی، بلکہ "عرب معاشرے اور سماج" کی کچھ خصوصیات کو اپنی دانست میں تین طلاقوں کے اکھٹے نفاذ کی علت قرار دے دیا ہے اورپھرخود ہی نتیجہ نکالتے ہوئے فرمایا ہے کہ چونکہ آج ہمارے "معاشرے" میں یہ علتیں موجود نہیں ہیں، اس لیے تین طلاقوں کو تین نہیں بلکہ ایک طلاق قرار دینا چاہیے۔ حالانکہ اگر ان علتوں کوتسلیم کرلیاجائے تو پھر سرے سے طلاق کے تصور ہی کو ختم کرنا پڑے گا۔ کجا ایک ، دو اور تین طلاقوں کی بحث میں انسان الجھے!
۱۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ "عرب معاشرے" میں عورت کو مہر کی ادائیگی نکاح کے قبل یا پھرفوراً بعد کی جاتی تھی اور اس پر عورت کا قطعی حق تسلیم کیاجاتا تھا، جبکہ آج کل عورت کو مہر کی ادائیگی نہیں کی جاتی یا مہر کی مقدار بہت تھوڑی مقرر کی جاتی ہے۔
مہر کی ادائیگی اور اس کی ملکیت تو عورت کا قطعی حق اب بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کس نے آکریہ حق تین طلاقوں کوایک سے بدلنے کے عوض سلب کر لیا ہے؟ مہر کے تقرر اور ادائیگی کا تعلق نکاح سے ہے، نہ کہ طلاق سے۔ نکاح کے منعقد ہونے کے لیے مہر مقرر کرنا شرط ہے جس کے بغیر نکاح ہی درست نہیں ہوتا، کجا کہ طلاق کا سوال پیدا ہو سکے۔ اگر عورت کو حق مہر سے محروم رکھا جاتا ہے تو اس کی حق تلفی کو روکنے کے لیے مرد کو ریاستی طاقت یا عدالت کے ذریعے حق مہر اداکرنے پر مجبور کیاجائے۔ طلاق کا قانون چھیڑنے کی کوئی سبیل نہیں۔
۲۔ دوسری علت ڈاکٹر صاحب نے یہ بیان فرمائی ہے کہ عرب معاشرے میں طلاق کے بعد بچوں کی ذمہ داری مرد پر ہی عائد ہوتی تھی، آج کل عورت پر سارا بار ڈال دیا جاتا ہے۔ بچوں کی پرورش کی ذمہ داری طلاق سے پہلے بھی اور بعد میں بھی مرد پرہی عائد ہوتی ہے۔ شریعت کا یہ حکم بھی منسوخ کرنے والا کوئی پیدا نہیں ہوا۔ بچوں کی ذمہ داری عورت پر ڈالنے کے بدلے میں مرد کی دی گئی تین طلاقوں کو ایک تصور کرلینا دین میں خودساختہ قطع وبرید سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ بہانے بازیاں دراصل شریعت اسلامی کے متعلق پھیلائی گئی سیکولر اور لبرلز طبقات کی ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہے جس سے بعض مسلمان مفکرین غیر ارادی طور متاثر ہوئے ہیں۔
۳۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق عرب معاشرے کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس میں مطلقہ اور بیوہ سے شادی کرنا نہ صرف معیوب تصورنہیں کیاجاتا تھا بلکہ مستحسن امر گرداناجاتا تھا۔ یہ خصوصیت تو درحقیقت عرب معاشرے کی اسلامائزیشن کا اثرتھا۔ اسلام نے اس ٹمٹماتے رویے کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ اس کی طرف اور زیادہ مؤثر انداز سے ترغیب دی، لیکن اس کا طلاق کے منعقد ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔
یہ ہمارے آج کے معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے کہ طلاق کوعورت کے لیے (اور بعض علاقوں میں مرد کے لیے بھی) ایک گالی بناکررکھ دیا گیا ہے۔ طلاق یافتہ عورت کو طلاق ہونے کاواحدسبب اس کی مبینہ" بدکرداری" ہی کو سمجھاجاتا ہے۔ چنانچہ اس سے شادی کرنا پورے معاشرے کی توپوں کا رخ اپنی طرف کرانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ یہ معاشرے کی جاہلانہ سوچ ہے۔ لڑکی کی منگنی ٹوٹنے یااس کوطلاق ہوجانے کومحض بدکرداری کی عینک سے دیکھ کراس کو ہمیشہ کے لیے اچھوت قراردینا معاشرے میں علم اور سمجھ بوجھ کے عنقا ہونے کی علامت ہے، نہ کہ طلاق کے قانون میں خرابی کی دلیل۔شریعت مرد کو طلاق کی مطلق اجازت دیتا ہے۔ طلاق کی بہت سی دیگر وجوہات بھی ہیں جو ضروری نہیں کہ عورت کی بدکرداری پر ہی دلالت کرتی ہوں۔ معاشرے کی اس جہالت کو دور کرنے کی بجائے طلاق کے منعقد ہونے یا نہ ہونے کو اس خودساختہ علت پر موقوف ٹھہرایاجارہا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔
۴۔ ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب کا یہ فرمانا کہ " عرب معاشرے میں اکٹھے تین طلاقوں کو نافذ کرنے کا نقصان مرد کوہوتا تھا، اس لیے حضرت عمررضی اللہ عنہ نے مرد کو سزا دینے کے لیے اسے نافذ کیا، اور ساتھ میں اکٹھے تین طلاق دینے والے مرد کو تعزیری سزا بھی دیتے تھے'' بھی میرے ناقص خیال میں ناواقفیت پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر صاحب مرد کو تعزیری سزا دینے کے حضرت عمر کے فیصلے کو تو باقی رکھنا چاہتے ہیں، البتہ تین طلاقوں کو تین ہی نافذکرنے کے حضرت عمر کے اسی فیصلے کے دوسرے پہلو کو ختم کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں آپس میں لازم وملزوم ہیں۔ تین طلاقیں ایک ساتھ دینا معصیت ہے اور اس معصیت کا ارتکاب نہ صرف مرد کے لیے رجوع کی گنجائش باقی نہیں چھوڑتا بلکہ عورت کو بھی مرد کی رنجش اور ناراضگی دور کرنے کے مواقع سے محروم کردیتا ہے، تبھی حضرت عمر نے اس کے لیے تعزیری سزائیں دیں۔ اگر تین طلاقیں بیک وقت واقع ہی نہ ہوتیں تو یہ ایک لغو فعل ہوتا۔ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص پر غضبناک ہوتے جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں ایک ساتھ دی تھیں اور نہ حضرت عمر تعزیری درے لگواتے۔ قرآن اور احادیث رسول کی روشنی میں ایک اچھے مسلمان کی علامت یہ ہے کہ وہ لغوباتوں سے تعرض نہیں کرتے۔
ڈاکٹر صاحب نے معاشرے کی جاہلانہ رسوم ورواج اور ان کے نتیجے میں عورت پرمرتب ہونے والی زیادتیوں کا ذمہ دار سراسر تین طلاقوں کے یکبار گی انعقاد کو قرار دے کر ثابت کیا ہے کہ انہیں کچھ بھی ایسا چاہیے جس سے ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دیا جاسکے۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر ان کی رائے کو اپناتے ہوئے مرد تین مختلف اوقات میں طلاق دے کر عورت کو گھر سے نکالے گا تو پھر کیا اس کو مہر کی ادائیگی فرشتے اتر کریں گے؟ کیا اس صورت میں بچوں کی ذمہ داریاں مرد اٹھانے پر رضاکارانہ تیار ہو جائے گا؟ کیا اس صورت میں مہر کے کم ہوتے ہوئے بھی عورت مالدار ہوجائے گی؟ کیا پھر طلاق یافتہ عورتوں کو بدکردارسمجھنے کا رجحان جڑ سے اکھڑ جائے گا؟ اور ان سے شادی کرنے میں کوئی امرمانع نہیں رہے گا؟ میرے خیال میں تو جو عورت اس طرح طلاقیں لے کر گھرسے نکلے گی، وہ زیادہ ذلت ورسوائی کا سامنا کرے گی۔ اگر معاشرے کی اصلاح کی بجائے طلاق کے قوانین کا "اصلاح" کے نام پر اس طرح حلیہ بگاڑا جاتا رہا تو ایسی صورت میں طلاق یافتہ عورت سے نکاح کرنا تو درکنار، کوئی ترس کھاکر اس کو بھیک بھی نہیں دے گا۔
اب ذرا اس پر نظر ڈالتے ہیں کہ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے واقعی ڈاکٹر صاحب کے بیان کردہ انہی معاشرتی علل کے تحت تین طلاقوں کو تین نافذ کیا تھا یا اس کی دلیل "شرعی" ہے؟
مستند احادیث کے مطابق اکٹھی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں جسے فقہی اصطلاح میں طلاق مغلظہ کہاجاتا ہے۔ مستند اور صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود تین طلاقوں کو نافذ کیا ہے، لیکن طلاق دینے والے کو اللہ کی نافرمانی کا مرتکب بھی قراردیا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کی والدہ کو ہزار طلاقیں دیں۔ انہوں نے جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا۔ آپ نے فرمایا:
بانت منہ بثلٰث فی معصیۃ اللہ تعالیٰ، وبقی تسع ماءۃ وسبع وتسعون ظلماً وعدواناً؛ ان شاء اللہ عذبہ وان شاء غفرلہ
’’تین طلاقوں سے تو اللہ کی نافرمانی کے ساتھ وہ عورت اس سے جدا ہوگئی،اور باقی نو سو ستانوے طلاقیں ظلم اور عدوان کے طورپر باقی رہ گئی ہیں جن پر اللہ چاہے تو اسے (یعنی تیرے باپ کو) عذاب دے اور چاہے تو معاف کردے۔‘‘
البتہ ایک حدیث میں، جس سے انتہائی کمزور طرز استدلال کے ذریعے یکبار دی گئی تین طلاقوں کو ایک طلاق ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے، ذکر ہے کہ ایک شخص نے آکر عرض کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دیتے وقت محض تاکید کی خاطر لفظ "طلاق" کو تین بار دہرایا تھا حالانکہ میری نیت ایک ہی طلاق دینے کی تھی۔ آپ نے اس سے دوبارہ پوچھا کہ کیا واقعی تم نے ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی؟ اس نے اقرار کیا۔ تب آپ نے اسے ایک طلاق قراردیا۔ تین طلاقوں کو ایک ثابت کرنے کی کوشش کرنے والے اس حدیث کا سہارا لیتے ہیں، حالانکہ یہ حدیث بھی تین طلاقوں کو تین ثابت کرنے میں صریح ہے، کیونکہ اس میں نیت ایک طلاق کی ہونے کی تصریح ہے۔لہٰذا اس کو تین کی نیت سے دی گئی طلاقوں کو ایک قرار دینے کی دلیل کس طرح بنایاجاسکتا ہے؟
اس واقعے کو بنیاد بناکر لوگ کثرت سے تین طلاق دینے کے بعد یہی عذر تراشنے لگے کہ ان کی نیت فقط ایک ہی طلاق کی تھی جس پر حضرت عمرنے اپنے دورخلافت میں لوگوں کے اس قسم کے دعووں پر اعتماد کرنے سے انکارکرنے کا اعلان کیا کہ آئندہ ایسا کوئی عذر قبول نہیں کیاجائے گا اور تین طلاقیں تین ہی سمجھی جائیں گی۔ عہد نبوی میں کسی ضعیف الایمان شخص کو بھی جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ کوئی بیان خلاف واقعہ دے سکے کیونکہ یہ خوف تھا کہ کہیں اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آشکارا نہ کردے۔ (غالباً حضرت عبداللہ بن عمر سے منقول ہے کہ عہد نبوی میں ہم اپنی بیویوں کے ساتھ بھی دل کھول کر بے تکلفی کرنے سے ڈرتے تھے، مبادا ہمارے بارے میں وحی نازل نہ ہو جائے)۔ لیکن عہد رسالت کے بعد یہ اندیشہ نہیں رہا تھا، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس اقدام پر کسی ایک صحابی نے بھی اعتراض نہیں کیا، حالانکہ ان کے دور میں اگرایک بدو کو بھی شبہ ہوتا کہ کسی معاملے میں امیر المومنین سے خلاف سنت یا خلاف انصاف فعل سرزد ہورہا ہے تو وہ فوراًبلاخوف اور براہ راست انہیں ٹوک سکتا تھا۔
لہٰذا اگر تین طلاقوں کی یکبارگی نفاذ کے سلسلے میں وہ قرآن مجید یا سنت رسول کی منشاء کے خلاف کوئی قانون وضع کر رہے ہوتے توجماعت صحابہ میں ان کی بھرپور مخالفت کی جاتی۔ اور یہ کوئی ایسا غیرمعمولی اقدام نہ تھا جس پر کبار صحابہ میں سے کوئی بھی نوٹس نہ لیتا۔ نہ صرف ان کے دور میں کسی نے ا س کے خلاف رائے نہیں دی بلکہ ان کے بعد حضرات عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کے ادوار خلافت میں بھی اکٹھی دی گئی تین طلاقوں کو تین قراردینے پر اتفاق رہا۔ بعد کے ادوار میں بھی بشمول ائمہ اربعہ متفقہ مسلک یہی بن کر سامنے آیا۔ آج بھی پوری دنیا کے اندر علمائے دین کی عظیم اور غالب اکثریت اسی قول کو راجح مانتی ہے۔
اگر غور کیا جائے تو اصل مسئلہ طلاق کا نہیں، بلکہ طلاق کے بعد دونوں خاندانوں میں بالخصوص اور معاشرے کے رویوں میں بالعموم افراط وتفریط پر مبنی رویوں کا ہے جسے دعوت، تعلیم وتربیت اور تزکیہ نفوس کے ذریعے دور کرنا ایک صبرآزما اور محنت طلب کام ہے۔اگر اصلاح ، آگاہی اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کا مطلوبِ شریعت کلچر پیدا کیا گیا تو پھر نہ بچوں کی پرورش کا بہانہ بنا کر "حلالہ" جیسے ملعون افعال کا ارتکا ب کرنے کی "ضرورت" باقی رہے گی اور نہ ہی عورت کو طلاق کے بعد دوسری یا تیسری شادی میں کوئی مشکل پیش آئے گی۔ لیکن ہمارے دانشور حضرات بنیادی کام سے جان چھڑا کر شارٹ کٹ کے چکروں میں پڑگئے ہیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ اس طرح کی کچھ ملمع کاریاں کرکے وہ کچھ معاشرتی مسائل کوڈھانپ سکیں گے اوراسلام کے چہرے پر جمی"گرد" کو صاف کرکے سیکولر اورلبرل طبقات کی طعنہ زنی سے بچ جائیں گے، حالانکہ یہ انداز فکر سراسر غیر علمی ہونے کے ساتھ ساتھ عملاً ناممکن بھی ہے۔
قرآن مجید میں خدا کے وعدوں کو سمجھنے میں غلطی
محمد ندیم پشاوری
اسلام کے دشمنوں نے مختلف زمانوں میں اسلام کو ناقص بنانے اور اس کے اجزاء میں کتر بیونت پیدا کرنے اور پیوند کاری کی کوششیں کی ہیں جس میں وہ ہمیشہ ناکام ہوتے رہے ہیں کیونکہ دین کی حفاظت کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیشہ اہل علم پیدا فرمائے جو دین کو اس کی مکمل شکل میں باقی رکھنے کے لئے جدوجہد کرتے رہے کیونکہ اسلام مکمل اور آخری دین کی صورت میں آیا ہے اور اس کو قیامت تک اسی طرح مکمل طریقہ سے باقی رہنا ہے۔ اس وقت بھی دین کو اس کی مکمل شکل سے ہٹا کر پیش کرنے کی کوششیں وقتاً فوقتاً ہوتی نظر آتی ہیں اور بعض اوقات غلط فہمی، کم علمی یا کسی شخصیت کی حاضر جوابی اور عقلی استدلالات سے متاثر ہو کر بعض اہل علم اور اہل قلم حضرات بھی غلط نظریات، افکار اور رجحانات کا شکار ہوجاتے ہیں اور اُن غلط افکار، نظریات و رجحانات کی ترویج کے لیے کبھی کبھار زبان کے ساتھ ساتھ قلم کی مدد بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ پچھلے مہینے ایسے ہی ایک صاحب قلم محترمی و مکرمی جناب اکٹر عرفان شہزاد صاحب کا مضمون ماہنامہ الشریعہ کے جنوری کے شمارے میں پڑھنے کا اتفاق ہوا جس پر چند تحفظات پیش کرنا مقصود ہے۔
محترم موصوف کے مضمون ’’قرآن مجید میں خدا کے وعدوں کو خدا کا حکم سمجھنے کی غلطی‘‘ کو بار بار پڑھنے سے جو نتیجہ اخذ کیا گیا ہے اور جہاں تک موصوف کے موقف کو سمجھا گیا ہے، اس کو دو نکات میں مختصرا یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
۱۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئے گئے تمام یا اکثر (جن کا مضمون میں تذکرہ کیا گیا ہے)وعدے عمومی حیثیت کے نہیں ہیں بلکہ مخصوص ہیں۔ ان کا مصداق نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) تھے جو مجموعی طور پر امت مسلمہ کو شامل نہیں ہیں۔
اس موقف کو اختیار کرنے کے لیے جس نظریے کا سہارا لیا گیا ہے وہ کچھ یوں ہے:
۲۔ مسلمانوں کا اسلام کے سیاسی غلبے کے لیے جدوجہد کرنا حالات کا تقاضا تو ہو سکتا ہے، انسانی سماج کی ضرورت تو ہو سکتی ہے لیکن اس جدوجہد کو دینی فریضہ سمجھ کر سر انجام دینا مسلمانوں کی غلط فہمی اور قرآن مجید میں خدا کے وعدوں سے نا واقفیت ہے۔مسلمانوں کے لیے اس جدوجہد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت، فتح و کامرانی حکمت کا تقاضا تو ہو سکتا ہے لیکن شرط، ذمہ داری یا کوئی عام قانون نہیں۔
موصوف کے مضمون کا تنقیدی جائزہ پیش کرنے سے قبل اس بنیادی غلط فہمی کا ازالہ ناگزیر ہے جو موصوف کے مذکورہ بالا نظریے کی پشت پر کارفرما دکھائی دیتا ہے اور وہ بنیادی غلط فہمی ’’دین اور سیاست و ریاست کے رشتے‘‘ سے ناواقفیت ہے جس کے نتیجے میں اجتماعی جدوجہد وجود میں آتی ہے۔دین و سیاست کا رشتہ بے حد نازک ہے اور اس رشتہ کو بیان کرنا پل صراط پر چلنے سے زیادہ مشکل کام ہے کیونکہ کسی ایک پہلو پر ضرورت سے کم یا ضرورت سے زیادہ بات کرنا آسمانی دین کی غلط تشریح تک پہنچا دیتا ہے۔ اسلام کے سیاسی غلبے کو اگر نظر انداز کیا جائے تو موجودہ سیاسی کشمکش اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی استعماری سازشیں بے معنی ہیں کیونکہ حزب اختلاف اسلام کو ہر شخص کی انفرادی زندگی کے طور پر قبول کرنے کا برملا اعتراف کر چکے ہیں۔
امریکہ کے مشہور مصنف جے ویلیم فیڈرر اپنی کتاب What Every American Needs to know about the Qur'an میں اسلام کو ایک دہشت گرد اور خونخوار مذہب کے طور پر پیش کرنے کے باوجود انفرادی طور پر اسلام کے مستقبل کے بارے میں رقمطراز ہیں:
We say to Muslim believers there is a noble future for Islam as a personal faith, not a political doctrine.
ترجمہ: ’’ہم مسلمانوں سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی غلبے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انفرادی طور پر اسلام کا مستقبل خوش آئند ہے۔‘‘
یہی وہ موقف ہے جس کے بارے میں مفکر اسلام سید ابو الحسن علی ندوی نے اپنی وفات سے دو سال قبل اپریل 1997ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء کے شعبہ ’’دعوت و تربیت‘‘ کی زیر نگرانی قائم ’’المعہد العالی للدعوۃ والفکر الاسلامی‘‘ کے زیر اہتمام ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’اہل مغرب اسلام کو بحیثیت عالمگیر دعوت ، سیاسی قوت اور مذہبی آزادی کے اتنا کمزور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ محدود رقبہ میں اور خاص نسل اور قومیتوں کے دائرہ کے اندر ہی نافذ اور کارفرما رہے، لیکن عالمی پیمانے پر اس کا وجود اور نفوذ ختم ہو جائے۔‘‘
حضرت عمر کے دور میں ربعی بن عامر سردارانِ فارس کے دربار میں سفیر بن کر گئے تھے اور اپنی تقریر میں اسلام کی تعریف کے دوران اسلام اور سیاست کے نازک رشتے اور حساس تعلق کی وضاحت کچھ یوں کرتے ہیں:
فَقَالوا لَہ مَا جَاءَ بِکم؟ فَقَالَ، اَللہ اِبتَعَثنَا لِنخرِجَ مَن شَاءَ مِن عِبَادَۃِ العِبَادِ اِلیَ عِبَادَۃ اللہِ وَمِن ضَیقِ الدّْنیَا اِلَی وسعَتِھَا وَمِن جَوَرِ الاَدیَانِ اِلَی عَدلِ الاِسلَامِ فَاَرسَلنَا بِدِینِہِ اِلَی خَلقِہِ لِنَدعوھم الیہِ (البدایۃ و النہایۃ /الجزء السابع/غزوۃ القادسیۃ)
’’اہل دربار نے پوچھا کہ تم لوگ یہاں کس لئے آئے ہو ؟ربعی بن عامر نے جواب دیا: اللہ نے ہمیں اس لئے بھیجا ہے تاکہ وہ جسے چاہے اسے بندوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں داخل کرے، دنیا کی تنگی سے آخرت کی وسعت کی طرف، مذاہب کے ظلم سے اسلام کے عدل کی طرف لائیں۔ پس اللہ نے ہم کو اپنے دین کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس طرف بلائیں‘‘۔
اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ مِن عِبَادَۃِ العِبَادِ اِلیَ عِبَادَۃ اللہِ سے مطلق العنان اور استبدادی نظام حکومت و سیاست سے نجات دلانا مراد ہے، وَمِن ضَیقِ الدّْنیَا اِلَی وسعَتِھَا میں اسلام کی جہاں گیری اور وسعت و آفاقیت کا ذکر ہے اور وَمِن جَوَرِ الاَدیَانِ اِلَی عَدلِ الاِسلَامِ سے اسلام کے عادلانہ قوانین کی طرف اشارہ ہے؟
امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
’’دین میں سیاست اور روحانیت دونوں کی اہمیت ہے۔ سیاست اور سلطنت کو نظر انداز کر دینا یا اسلامی معاشرہ میں اسلام کے معاشی، سیاسی اور اجتماعی قوانین کے نفاذ کی کوششوں کا تمسخر اور استہزاء غلط تصور دین کا حامل ہونا ہے اور اس کج فکری و مسلمانوں کے ذہنوں تک پھیلانا ایک محرف دین کی طرف مسلمانوں کو بلانے کے مرادف ہے۔‘‘
مزید لکھتے ہیں :
’’جب کبھی دین و سیاست میں جدائی ہوتی ہے دو، گروہ معرض وجود میں آتے ہیں۔ ایک گروہ ان لوگوں کا ہوتا ہے جو دین دار تو ہوتے ہیں، لیکن قوتِ حرب، و جاہ و مال سے، جس کا دین خداوندی ضرورت مند ہوتا ہے، دین کی تکمیل نہیں کر سکتے۔ دوسرا گروہ ایسے امراء و حکام پر مشتمل ہوتا ہے جو مال اور حربی قوت کو بروئے کار تو لاتے ہیں، لیکن اس سے ان کا مقصد دین کی اقامت نہیں ہوتا۔ دونوں گروہ اسلام کے لیے بے کار ہیں‘‘۔ (السیاسۃ الشرعیۃ)
علامہ سید سلیمان ندوی اس موضوع پر رقم طراز ہیں:
’’اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت حکومت و سلطنت اور دنیا کی سیاست ہے، یہاں تک کہ کتاب و نبوت کی دولت کے بعد اس کا درجہ ہے‘‘۔ (سیرۃ النبی جلد ۷ صفحہ ۵)
مزید فرماتے ہیں :
’’اسلام دین و دنیا اور جنت ارضی و جنت سماوی اور آسمانی بادشاہت اور زمین کی خلافت دونوں کی دعوت کو لے کر اول ہی روز سے پیدا ہوا ہے۔ اس کے نزدیک عیسائیوں کی طرح خدا اور قیصر دو نہیں، ایک ہی شہنشاہ علی الاطلاق ہے جس کے حدود حکومت میں نہ کوئی قیصر ہے نہ کوئی کسریٰ۔ اس کا حکم عرش سے فرش تک اور آسمان سے زمین تک جاری ہے۔ وہی آسمان پر حکمراں ہے، وہی زمین پر فرماں روا ہے‘‘۔ (سیرۃ النبی جلد ۷ ص ۷)
یہی اسلام کی انفرادیت ہے کہ یہ تسبیح و مناجات کے ساتھ سیاسی شوکت اور اجتماعی قوت کا ضامن ہے اور اسی لئے اقبال نے کہا ہے:
وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگ و حشیش
جس نبوت میں نہ ہو قوت و شوکت کا پیام
اقبال کا یہ شعر محض ایک شعر نہیں بلکہ قرآن کریم کی چند آیتوں کا پرتو ہے:
وَلِلّٰہِ العِزَّۃ وَلِرَسُولِہِ وَلِلمُومِنِینَ (المنافقون ۸)
’’اور اللہ ہی کے لئے غلطہ و عزت اور اس کے رسول کے لئے اور مومنین کے لئے‘‘ (المنافقون: ۸)
وَلَا تَھِنُوا وَلَا تَحزَنُوا وَاَنتُمُ الاَعلَونَ اِن کُنتُمْ مُّومِنِینَ (آل عمران : ۱۳۹)
’’ہراساں اور غم زدہ مت ہو، تم ہی سربلند ہو گے اگر تم صاحب ایمان ہو۔‘‘
مولاناابو الکلام آزاد فرماتے ہیں:
’’اسلام کا قانونِ شرعی یہ ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کا ایک خلیفہ و امام ہونا چاہیے۔ خلیفہ سے مقصود ایسا خود مختار مسلمان سربراہ اور صاحب حکومت و مملکت ہے جو مسلمانوں اور ان کی آبادیوں کی حفاظت اور شریعت کے اجراء و نفاذ کی پوری قدرت رکھتا ہو اور دشمنوں سے مقابلہ کے لیے پوری طرح طاقتور ہو۔‘‘ [تحریک خلافت از قاضی محمد عدیل عباسی، ص ۵۱]
اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ غلبہ اسلام کی راہ میں خون شہادت کا ایک قطرہ بھی مومن کے معاصی کے دفتر کو دھو دیتا ہے اور قرآن مجید میں موجود وہ تمام وہ وعدے، جن کو سمجھنے میں ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب سے غلطی سرزد ہوئی ہے، متوجہ ہوتے ہیں۔
امید قوی ہے کہ قارئین کو اس نازک رشتے اور تعلق کا احساس ہو گیا ہو گا کیونکہ اسلام کی تاریخ سلطنت و مذہب کے اشتراک کی تاریخ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں مکی و مدنی دونوں زندگیاں جمع کر دی گئی تھیں۔ آپ کی ذاتِ مبارک میں امامت و نبوت دونوں کو اس طرح بہم کر دیا گیا تھا، اسی لیے تو علامہ سید سلیمان ندوی فرماتے ہیں کہ ’’اسلام اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا کرنا ناخن کو گوشت سے علیحدہ کرنا ہے‘‘۔ ان شواہد کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بھی عقل سلیم کے لیے اس بات کو قبول کرنا ممکن نہیں کہ ’’دین کے سیاسی غلبے کے لیے جدوجہد کرنا دینی فریضہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘ یہ الفاظ مخصوص ذہنی تراش خراش کے بعد ہی زبان اور قلم سے ادا ہو سکتے ہیں کہ ’’دین اسلام کو غالب کرنے اور سیاسی طور پر نافذ کرنے کے لیے اجتماعی کوشش دین کا ایک اضافی جزو ہے اور اس قسم کی جدوجہد پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت مسلمہ کے ساتھ کوئی وعدہ نہیں کیا گیا اور نہ یہ جدوجہد اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کو مشروط ہے۔‘‘
دلائل و استدلالات کا جائزہ
اقتباس: ’’قرآن میں سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں کئے گئے وعدے صحابہ کرام کے حق میں تھے جو پورے ہوئے، عام مسلمان ان وعدوں کا مخاطب ہیں نہ مصداق۔‘‘
تبصرہ: ہر خاص و عام جانتا ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا محکم پیغام قیامت تک تمام انسانوں کے لیے نور ہدایت ہے جس کے اولین مخاطب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اور صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) تھے اور اِن ذوات فاضلہ کے بعد قیامت تک آنے والا ہر انسان اس پیغام کے ایک ایک حرف کا مخاطب ہے۔ قرآن مجید کی عمومیت ہی اِس کا اعجاز ہے۔ مثلاً کسی شخص کے بالغ ہونے یا غیر مسلم کے اسلام قبول کرنے کے بعد ’’اَقِیمُوا الصَّلٰوۃ‘‘ کا حکم دونوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ صاحب نصاب ہونے کی صورت میں ’’اٰتُوا الزَّکٰوۃ‘‘ پر عمل کرنا لازم ہے۔ ماہ رمضان میں ’’اَتِمُّوا الصِّیَامَ‘‘ کے حکم کا بجا لانا فرض ہے۔ حج کی فرضیت کے بعد ’’اَتِمُّوا الحَجَّ‘‘ بیت اللہ کی زیارت اور مخصوص احکام کی بجا آوری کا تقاضا کرتا ہے۔ اِن احکامات پر عمل کرنے کے بعدمسلمانوں کو اِن احکامات کی بجا آوری پر انعام و اکرام اللہ تعالیٰ ہی کی شایان شان ہے۔
کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ مسلمانوں کو نماز پڑھنے کا تو حکم ہے، لیکن تنھی عن الفحشاء والمنکر اْن کے لیے نہیں ہے؟ رمضان کے مہینے میں مشقتوں اور تکلیفوں کو برداشت کر کے لمبے لمبے روزے رکھنے کے تو مسلمان پابند ہیں، لیکن لعلکم تتقون اور وانا اجزی بہ صرف پیغمبر اور صحابہ کرام کے لیے تھے؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ صاحب استطاعت ہونے کے بعد مسلمانوں پر مناسک حج کی بجا آوری لازمی ہے لیکن رجع کیوم ولدتہ امہ سے ان کا اکرام نہیں کیا جائے گا؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ صدقات و خیرات کے ذریعے مسلمانوں پر غریبوں کی مدد کرنا ایمان کا تقاضا ہے، لیکن کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّاءَۃُ حَبَّۃٍ وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ (البقرۃ: ۲۶۱) تو آپ اور صحابہ کرام کے لیے خاص تھے؟ اگر اِن احکامات کی تعمیل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جزا اور بدلے کے تمام وعدے مسلمانوں کے لیے ہیں اور روگردانی کی صورت میں تمام وعیدات مسلمانوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو پھر کون سے قاعدوں اور قوانین کے تحت مسلمانوں کی اسلام کے سیاسی غلبے کے لیے سیاسی جدوجہد کے وعدوں کو قرون اولیٰ کے ساتھ مخصوص کیا جا رہا ہے؟
قرآن کی کسی بھی آیت کے مفہوم کی تخصیص یا تو قرآن کی دوسری آیت کے ذریعے ممکن ہے یا پھر خبر متواتر اور مشہور کے ذریعے تخصیص کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ صرف خالص عقلی استدلالات کے ذریعے تخصیص کرنا مسلمانوں کو غلط پٹڑی پر گامزن کرنا ہے۔ کل کو اگر کوئی شخص نبوت کا اعلان کرے اور دعوی کرے کہ قرآن پچھلی نسلوں کے لیے تھا اور موجودہ امت کے لیے مجھ پر وحی بھیجی جا رہی ہے تو موصوف اپنے پیش کردہ اصول کی روشنی میں قرآن کی صداقت کو کیسے ثابت کریں گے؟
اقتباس: ’’زبان کا معروف اسلوب ہے کہ وعدہ اگر خاص کسی شخص یا اشخاص سے یا جائے تو وہی اس کا مخاطب اور مصداق ہوتے ہیں۔۔۔۔۔اس کا انکار ممکن نہیں۔‘‘
اگر کوئی شخص کسی بچے سے کہے کہ ’’امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھانے پر اسے انعام ملے گا‘‘ تو اِس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ بچے کو محنت کی ترغیب دی جا رہی ہے اور مطلوبہ نتائج حاصل ہونے پر اس شخص کی طرف سے بچے کو انعام دینا لازمی ہو گا، لیکن اگر نہیں دے گا تو جھوٹا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ کے غلام ہیں اگر احکام کی بجا آوری پر ہمیں جزا نہ بھی ملے اور اللہ کی تائید و نصرت شامل حال نہ ہو تو اعتراض نہیں کیا جا سکتا، لیکن جو ذات اپنے بارے میں ومن اصدق من اللہ قیلا کا اقرار کرے، جس کی رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہو، اور جو احکام کی بجا آوری کے سلسلے میں بار بار وعدوں کی یاد دہانی کرے تو اس کے لیے جزا اور بدلہ نہ دینا اس کے شایان شان نہیں۔
دوسری بات یہ کہ مخلوق اور خالق کے درمیان کسی بھی قسم کی مماثلت کا تصورنہیں کیا جا سکتا، چہ جائیکہ اپنے وعدوں کو خدا کے وعدوں پر قیاس کیا جائے۔ اس قسم کے استدلالات مشرکین مکہ بھی کیا کرتے تھے جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’فَلَا تَضرِبُوا لِلہِ الاَمثَال‘‘۔
تیسری بات یہ کہ اگر کوئی شخص کسی بچے کو ’’مکتوب ‘‘ پیش کرے جس میں یہ وعدہ کیا گیا ہو کہ’’اچھی کارکردگی پر اسے انعام دیا جائے گا‘‘، بچہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ شخص اپنے وعدے کے مطابق بچے کو انعام سے نوازتا ہے۔ اس کے بعد وہی ’’مکتوب‘‘ دوسرے بچے کو پکڑاتا ہے اور دوسرا بچہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر انعام کا مطالبہ کرتا ہے تو اس شخص کے لیے یہ کہنا کس طرح صحیح اور ممکن ہو سکتا ہے کہ اِس ’’مکتوب‘‘ میں لکھا گیا وعدہ تو پہلے بچے کے لیے تھا، آپ کے لیے نہیں ہے، لہٰذا آپ انعام کے مستحق نہیں ٹھہرتے؟
موصوف نے اِس عقلی استدلال کے ضمن میں چار آیتیں پیش کی ہیں:
وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ [سورۃ آل عمران: ۱۳۹]
وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ، وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا، یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْءًا، وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ [سورۃ النور: ۵۵]
وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِی اللّٰہِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّءَنَّھُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ [سورۃ النحل: ۴۱]
وَمَنْ یُّھَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَۃً [سورۃ النساء: ۱۰۰]
پہلی آیت میں مخاطب کے صیغوں کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے جس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اِن آیتوں کے مصداق صرف آپ اور صحابہ کرام ہیں اور دیگر مسلمان اِس کے مصداق ہیں نہ مخاطب۔ دوسری آیت میں خطاب کے صیغے بھی مفقود ہیں، جبکہ تیسری اور چوتھی آیت میں تو خطاب عموم کے صیغوں سے کیا گیا ہے، لیکن موصوف کو اِس میں بھی تخصیص کا مفہوم دکھائی دے تو کیا کہا جا سکتا ہے۔
اقتباس: ’’قرآن مجید میں بڑی وضاحت سے یہ بات آئی ہے کہ خدا اپنے اصول کبھی نہیں بدلتا۔ اگر یہ وعدے عام مسلمانوں کے لیے بھی ہوتے تو کامیابی ان کو بھی نصیب ہوتی۔ چونکہ یہ وعدے مسلمانوں کے لیے تھے ہی نہیں، اس لیے ان کے حق میں پورے نہیں ہوئے۔ خدا نے اپنا اصول نہیں بدلا۔‘‘
یہ وعدے مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ خاص ہیں، اس کے لئے مذکورہ بالا ترتیب کے مطابق دلیل پیش کرنا لازمی ہے۔ عقل کی بنیاد پر کسی آیت کو ایک زمانے کے ساتھ مخصوص کر دینا نا انصافی بھی ہے اور قرآن کریم کی غلط تشریح بھی ہے۔ رہی یہ بات کہ یہ وعدے مسلمانوں کے حق میں کبھی پورے نہیں ہوئے تو نتائج اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ ہمیں فقط محنت، کوشش اور جدوجہد کا مکلف کیا گیا ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی ہجرت کے بعد ملک خدادا د پاکستان جو صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست کا قیام ہے، درجہ بالا آیت کی عملی تشریح ہے۔یقیناًاللہ تعالیٰ اپنے اصول کبھی نہیں بدلتا اور اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ جو بھی ہمارے راستے میں کوشش کریں گے، ہماری تائید و نصرت اور امداد ان کے ساتھ ضرور شامل حال ہوگی۔ چنانچہ ارشاد ہے:
وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا وَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ (العنکبوت ۶۹)
اس آیت میں شک کی گنجائش ہے نہ تاویل کی کیونکہ لَنَھْدِیَنَّھُمْ میں تاکیدات کے مجموعہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کی یقین دہانی کرتا ہے۔اس کے علاوہ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَھُوَ مُؤْمِن فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً وَلَنَجْزِیَنَّھُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (النحل ۹۷) میں بھی تاکیدات کو جمع کر کے ’’عام مسلمانوں‘‘ سے وعدے کو یقینی بنایا گیا ہے۔
اقتباس: ’’یہ بات ذہنی میں رہنی چاہیے کہ صحابہ نے دشمنان اسلام کے خلاف جو قتال کیا، وہ غلبہ و حکومت کے لیے نہیں تھا بلکہ خدا کے نافرمانوں کو اتمام حجت کے بعد خدا کے آخری سزا دینے کے لیے اور مظلوم مسلمانوں کو ان کے پنجہ ظلم سے چھڑانے کے لیے تھا۔‘‘
مظلوم مسلمانوں کا مدد کے لیے پکارنے پر لبیک کہنا ہمیشہ سے مسلمانوں کا دینی فریضہ رہا ہے اور یہی غلبہ و حکومت کی بنیاد ہے۔ اگر صرف مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا ہی مقصود تھا تو آپ کو حیات میں اور آپ کے رخصت ہونے کے بعد صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) اور ان کے رفقاء کبھی سو سال تک ریاست و حکومت کو برقرار رکھنے کی کوشش نہ کرتے بلکہ کبھی کبھار مشاجرات تک بھی نوبت پہنچ چکی تھی۔
اقتباس: ’’مسلمانوں نے دین کے نام پر غلبے کے حصول کے لیے جن مشکلات کا راستہ اپنے لیے چنا ہے ، وہ ان کے دین کا تقاضا ہی نہیں ہے کیونکہ دین کا اصل مقصد تزکیہ نفس ہے۔‘‘
اسلام ایک جامع دین ہے اور اس کے جامع ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ عبادت و ریاست کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعہ میں مرکزی حیثیت یقیناًخدا کے ساتھ لگاؤ اور تعلق کو حاصل ہے اور وہ اصلاً مطلوب ہے، لیکن خدا کے ساتھ تعلق کی استواری اور پھر اس کے بعد خدا کے عادلانہ قوانین کے نفاذ کے لیے اختیار اور طاقت کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ اس کے لیے بھی سعی و کاوش ایک دینی ضروت ہے۔ نہ حکومت کے بغیر زمین میں فتنہ و فساد کو دفع کیا جا سکتا ہے اور نہ اللہ کے بندوں کے درمیان عدل و انصاف اور امن و امان کا قیام ممکن ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسان خلیفۃ اللہ ہے اور اس کا مقصد زندگی عبادت ہے۔ عبادت کے صرف داخلی تقاضوں کو پورا کرنا اور تسبیح و مناجات میں مشغولیت کو کافی سمجھ لینا ، ملت کے اجتماعی مسائل سے روگردانی اور عبادت کے خارجی تقاضوں کو جن کا تعلق خاکدان ارضی پر احکام الہٰی کے نفاذ سے اور غلبہ اسلام سے ہے، بالکلیہ نظر انداز کر دینا اور ان کو اہمیت نہ دینا اور اس میدان میں کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی یا تحقیر کرنا دین کے متوازن تصور کے خلاف ہے۔ عبادت کے داخلی تقاضے جوہر اور اصل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اسلامی حکومت کا قیام اور دین کے قوانین عدل کا نفاذ اس کے لئے وسیلے کا درجہ رکھتے ہیں، اس لئے وہ بھی مطلوب ہیں۔ وسیلے اور مقصد کے اس فرق کو آشکارا کرنے کے لیے قرآن کریم کا ارشاد ہے:
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ (سورۃ الحج: ۴۱)
’’وسیلے‘‘ اور ’’مقصد‘‘ کے اِس فرق پر مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی نے اپنی کتاب ’’ارکان اربعہ‘‘ میں یوں روشنی ڈالی ہے:
’’انسان کی حیثیت یہ ہے کہ وہ اس زمین میں اللہ کا خلیفہ ہے۔ چونکہ وہ اللہ کا خلیفہ ہے، اس لئے اس کے اندر ذوق علم، شوق جستجو اور زمی کے خزینوں اور دفینوں سے فائدہ اٹھانے اور ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی صلاحیت بخشی گئی اور تعلیم اسماء کا امتیاز اسے عطا کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں انسان مسلسل رکوع و سجود اور مسلسل تسبیح و ذکر کا پابند نہیں۔ اگر وہ اس کی کوشش کرے گا تو اس زمین پر اللہ تعالیٰ کے خلیفہ کی حیثیت سے اپنی ناکامی کا ثبوت فراہم کرے گا۔‘‘
اس موضوع پر سید سلیمان ندویؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’سیرۃ النبی‘‘ میں یوں رقمطراز ہیں:
’’اسلام کے سارے دفتر میں ایک حرف بھی ایسا موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ قیام سلطنت اس دعوت کا اصل مقصد تھا اور عقائد و ایمان، شرائع و احکام اس کے لیے بمنزلہ تمہید تھے بلکہ جو کچھ ثابت ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ شرائع اور حقوق و فرائض ہی اصل مطلوب تھے اور ایک حکومت صالحہ کا قیام ان کے لیے وجہ اطمینان اور سکون خاطر کا باعث ہے تاکہ وہ احکام الہٰی کی تعمیل بآسانی کر سکیں۔ اس لیے وہ بھی عرضاً مطلوب ہے۔‘‘ (سیرۃ النبی جلد ۷ ص ۶)
قرآن میں سلطنت کے ملنے کو عزت اور سلطنت کے چھن جانے کو ذلت قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ ارشاد ہے:
قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ، اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر (آل عمران ۲۶)
’’اے اللہ، حکومتوں کے مالک، تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے حکومت چھین لے۔ تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے اور تیرے ہی قبضے میں ہر قسم کا خیر ہے۔‘‘
اس آیت میں عزت و ذلت سے مراد سلطنت کا ملنا اور سلطنت کا چھن جانا ہے۔ بلاغت کی اصطلاح میں اسے لف و نشر مرتب کہتے ہیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات میں نبوت و ہدایت کے بعد حکومت و سلطنت کا ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ، فَقَدْ اٰتَیْنَآ اٰلَ اِبْرٰھِیْمَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاٰتَیْنٰھُمْ مُّلْکًا عَظِیْمًا (النساء: ۵۴)
’’یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے فضل پر لوگوں (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام) سے حسد کرتے ہیں حالانکہ ہم نے ابراہیم کی اولاد کو بھی حکمت اور عظیم بادشاہت عطا کی تھی۔‘‘
خلاصہ بحث یہ کہ دین میں حکومت کا قیام مقصود بالذات نہیں ہے۔ جن لوگوں نے دین کی تشریح اس انداز میں کی ہے کہ تمام پیغمبروں کو خدائی فوجدار بنا کر بھیجا گیا تھا اور ان کا مشن یہ تھا کہ وہ دوسروں سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیں، وہ تشریح کے معاملے میں عدم توازن کا شکار ہوئے ہیں۔ قرآن و سنت میں اس بات کی صراحت نہیں ملتی ہے۔ غور کیجئے تو اس میں حکمت کا پہلو ہے اور بندوں پر اللہ کی خاص شفقت نظر آتی ہے۔ اگر اس کی صراحت کر دی جاتی تو کسی ملک میں دو مسلمان بھی پائے جاتے تو حکومت کا قیام ان پر فرض ہو جاتا اور ان کے لیے یہ کام ضروری ہو جاتا، خواہ اس کے لیے ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔اسی طرح سے وہ لوگ بھی عدم توازن کا شکار ہوئے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صرف بشیر و نذیر بنا کر بھیجے گئے تھے، اس لیے مسلمانوں کے لیے حکومت قائم کرنے کی کوشش غیر مشروع ہے۔
قرآن کریم میں غلبہ و اقتدار کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی بڑی آرزو اور تمنا کے طور پر ذکر کیا گیا ہے:
وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا نَصْر مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْح قَرِیْب وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ (الصف ۱۳)
’’اور ایک چیز دے گا جسے تم عزیز رکھتے ہو مدد اللہ کی اور فتح قریب۔ اور خوشی سنا دو ایمان والوں کو‘‘۔
نصوص سے اقتدار اور غلبہ کے حصول کے اشارے ملتے ہیں۔ سیرت طیبہ اور تاریخ سے ثابت ہے کہ اس کے لیے مواقع کو استعمال کیا گیا ہے اور اسی لئے علماء اور ائمہ کرام نے اس کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا ہے اور نظام عدل کے قیام اور مظالم کے سد باب کو ضرور قرار دیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں لکھا ہے کہ: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ملت و مدن، دونوں قسم کے مصالح کی تدبیر و انتظام کے لئے ہوئی تھی اور چونکہ امام ان کا نائب اور ان کے امر کو نافذ کرنے والا ہوتا ہے، اس لئے یہ دونوں کام اس کے لئے ضروری ہیں اور نبی کی اطاعت کی طرف اس کی اطاعت بھی واجب ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائیں اور اپنی غلطی کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کی صلاحیت عنایت فرمائے۔ آمین
مدرسہ ڈسکورسز : سفر قطر کے احوال و تاثرات
مولانا محمد رفیق شنواری
امریکہ کی ایک معروف کیتھولک یونیورسٹی، یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم میں اسلامیات کے پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ صاحب نے پاک و ہند کے دینی مدارس کے فضلاء کے لیے " مدرسہ ڈسکورسز" کے عنوان سے ایک تین سالہ کورس متعارف کروایا ہے جو پچھلے سال شروع ہوا تھا اور آئندہ سال اختتام پذیر ہوگا۔ پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کی پیدائش ساؤتھ افریقہ میں ہوئی، دارلعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء لکھنو میں دینی تعلیم کی تکمیل کی۔ اس کے بعد لندن میں صحافت سے وابستہ رہے اور اس کے بعد امریکہ منتقل ہوگئے۔ امام غزالی کے فلسفہ لسانیات پر پی ایچ ڈی کی۔ ان کا پی ایچ ڈی کا کام تو اب تک غیر مطبو ع ہے، لیکن امام غزالی پر ان کی ایک اور کتاب Ghazali and the Poetics of Imagination زیور طبع سے آراستہ ہے جس نے ۲۰۰۵ء میں American Academy of Religion سے مذہبیات کی تاریخ میں بہترین کتاب کا ٹائٹل بھی حاصل کیا ہے۔ پروفیسر صاحب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ذیلی ادارے اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ سے شائع ہونے والی کتاب ’’دینی مدارس: عصری معنویت اور جدید تقاضے‘‘ کے مصنف بھی ہیں جو دراصل ان کی انگریزی تصنیف ?What is a Madrasa کا ترجمہ ہے۔ ترجمہ ہندوستانی فاضل محقق مولانا ڈاکٹر وارث مظہری نے کیا ہے۔ ابراہیم موسیٰ صاحب آج کل یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم (امریکہ)میں بطور پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پروفیسر ابراہیم موسیٰ فلسفہ لسانیات کے متخصص ہیں اور اس باب میں ابتدائی دینی تعلیم مدرسے سے لینے کی بدولت اسلامی علوم اور تراث کے ساتھ ان کا گہراتعلق واضح طور پر ان کے کام میں محسوس ہوتا ہے۔ ان کے سامنے یہ حقیقت واضح ہے کہ اسلامی علوم و فنون کے کسی بھی پہلو پر کام تراث کے ساتھ مضبوط تعلق اور کامل فہم کے بغیر بہر صورت ادھورا ہوگا۔ اسی طرح پروفیسر صاحب یہ بھی جانتے ہیں کہ مدارس کا نظام تعلیم کئی اعتبار سے قابل نقد و اصلاح ہونے کے باوجود طلبہ کا تراث کے ساتھ گہرے فہم اور مضبوط گرفت کا رشتہ استوار کر دیتا ہے۔ انہی باتوں کو سامنے رکھ کر انہوں نے یہ ضرورت محسوس کی کہ مدارس میں پروان چڑھنے والی تراث فہمی کی ان صلاحیتوں کے لیے مغرب کے جدید اسلوبِ تحقیق اور نقد و نظر کے نئے اور متعارف منہاج کے مطابق نشوونما کا موقع پیدا کیا جائے جو ممکن ہے مستقبل میں مغرب اور اسلام کے درمیان علمی وتہذیبی مکالمے کی بنیاد ثابت ہو۔
اس فکر کو عملی شکل دینے کے لیے " مدرسہ ڈسکورسز" کے عنوان سے یہ پروگرام متعارف کرایا گیا جس کومالی طور پر امریکہ کا ایک مشہور ادارہ جان ٹمپلٹن فاؤنڈیشن سپورٹ کر رہا ہے۔ اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں پروفیسر صاحب کو نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے رفقائے کار، خاص طور پر ڈاکٹر ماہان مرزا کے علاوہ پاکستان سے مولانا عمار خان ناصر اور ہندوستان سے مولانا ڈاکٹر وارث مظہری کا تعاون بھی حاصل ہے۔ اس کورس کا دورانیہ تین سال رکھا گیا ہے جس کو چھ سمسٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہفتہ وار تدریسی سرگرمیاں آن لائن رکھی گئی ہیں اور استفادہ کو آسان بنانے کے لیے تدریس کے اوقات شام کے بعد رکھے گئے ہیں۔ نصاب کے طور پر علم کلام ، عقیدہ ، فلسفہ اور فلسفہ تاریخ کے اہم مباحث انتخاب کیا گیا ہے اور ان کی لیے کسی مخصوص کتاب کے بجائے مختلف مصنفین کی تحریریں منتخب کی گئی ہیں۔
اس کورس کا باقاعدہ آغاز پچھلے سال ہوا تھا۔ میں چونکہ اس سال شریک ہو سکا ہوں، اس لیے اپنے پہلے سمسٹر کے حوالے سے کچھ گذارشات پیش کروں گا۔
سمسٹر کے آغاز میں ہمارے سامنے عمومی سولات رکھے گئے۔ بعد میں ان سوالات کا تفصیلی تعارف، طلبہ کی طرف سے اشکالات و جوابات کا سلسلہ اور بحث کے سمٹنے تک جزوی سوالات بھی شامل ہوتے گئے۔ یوں پورے سمسٹر میں زیر بحث آنے والے تقریباً تمام موضوعات کا ایک جامع خاکہ شرکاء کے سامنے آگیا۔ ہر پہلو سے متعلق شہرہ آفاق اور نہایت معتبر اصحابِ قلم کی کتابو ں کے منتخبات کو تدریسی مواد کے طور پر رکھاگیا۔ تدریس کی ذمہ داری پاکستان سے مولانا عمار خان ناصر، ہندوستان سے مولانا ڈاکٹر وارث مظہری صاحب اور یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم سے ڈاکٹر ماہان مرزا صاحب نے اٹھائی، جبکہ وقتاً فوقتاً ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ بھی شریک گفتگو ہوتے رہے۔
کلاسز کا انتظام اس طور پر کیا گیا کہ ایک ہفتہ قبل ہمیں اگلی کلاس میں پڑھایا جانے والا مواد بھیج دیا جاتا اور کلاس کے مقررہ دن سے ایک یا دو دن پہلے پاکستانی طلبہ کے ساتھ مولانا عمار خان ناصر جبکہ ہندوستانی طلبہ کے ساتھ مولانا ڈاکٹر وارث مظہری ایک گھنٹے کی تیاری کی کلاس منعقد کرتے۔ اس میں ہر شریک اس مواد کو پڑھ کر کلاس میں شریک ہوتااور متن کی کسی مشکل کو سمجھنے کے لیے اپنا سوال استاد کے سامنے رکھ دیتا۔ کورس کی مرکزی کلاس شام سات بجے سے، درمیان میں عشاء کے لیے بیس پچیس منٹ کے وقفے کے ساتھ، رات دس بجے تک چلتی۔ یہ سب سے اہم اور بنیادی کلاس ہوتی جس میں پاک و ہند کے تمام شرکاء شریک ہوتے۔ اس کو دو یا تین حصوں میں تقسیم کر کے ہر استاد اپنا حصہ پڑھا دیتا اورآخر میں شرکا کے سولات کا جواب دیتا۔ مرکزی کلاس کے علاوہ طلبہ کی استعداد میں اضافہ کے لیے چند ذیلی سرگرمیاں بھی اس کورس کا حصہ ہیں۔ مثلاً شرکاء کو تین یا چار افراد پر مشتمل گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ، ہفتہ میں ایک دفعہ یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم کے کسی طالب علم کے ساتھ مخصوص موضوع پر انگریزی میں مکالمہ کرتا ہے۔ موضوع کا انتخاب اور متعلقہ مواد بذریعہ ای میل پہلے سے ارسال کر دیا جاتا ہے۔ ایک ہفتہ وار کلاس انگریزی زبان کے حوالے سے ہوتی ہے، جبکہ ایک کلاس تاریخ فلسفہ پر مبنی مشہور ناول Sophie's World کو گروپ کی شکل میں مشترکہ طور پر پڑھنے کے لیے منعقد کی جاتی ہے۔
پروگرام کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ونٹر اور سمر میں تمام شرکا کو ایک ہی جگہ جمع کیا جائے تاکہ براہِ راست مل بیٹھنے اور آپس میں بالمشافہہ گفتگوا ور ایک دوسرے کے ساتھ خیالات و آراء کے تبادلہ کا موقع ملے۔ چنانچہ دسمبر ۲۰۱۷ء کے آخری ہفتے میں کورس کے سالِ اول اور سالِ دوم میں شریک پاک وہند کے تمام طلبہ کو قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی کے کالج آف اسلامک اسٹڈیز کی دعوت پر قطر لے جانے کا پروگرام بنایا گیا۔
قطر میں ورکشاپ کے احوال
قطر جانے سے پہلے ونٹر انٹینسو کے لیے تدریسی مواد ہمیں بھیجا گیا اور وہاں کی مصروفیات کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی۔ کورس کے پاکستانی شرکاء لاہور ایئر پورٹ سے بذریعہ سری لنکن ائیر لائن ۲۴ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز اتوار روانہ ہوئے۔ کولمبو ایئر پورٹ پر دو گھنٹے کے وقفے کے بعد دوحہ کی فلائیٹ لی اور رات بارہ بجے ہم دوحہ کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترے۔ دوحہ کا یہ خوب صورت ایئر پورٹ دنیا کا آٹھواں بڑا ائیر پورٹ مانا جاتا ہے۔ائیر پورٹ سے باہر ہوٹل کی بسیں انتظار میں کھڑی تھی جو ہمیں سیدھا ہوٹل لے گئیں۔ قطر میں ہم دوحہ کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی کے کالج آف اسلامک اسٹڈیز کے مہمان رہے اور اسی کے آڈیٹوریم میں کلاسز کا انعقاد ہوتارہا۔ حمد بن خلیفہ یونیورسٹی دوحہ کے ایجوکیشن سٹی میں واقع ہے جس کا قیام ۲۰۱۰ء میں عمل میں لایا گیا۔ ہمارے قیام کا انتظام ایجوکیشن سٹی میں ہی ایک فور اسٹار ہوٹل میں کیا گیا جہاں سے کالج تک آنے جانے کے لیے گاڑیوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ ایجوکیشن سٹی کو ’’نیشنل فاؤنڈیشن فار ایجوکیشن، سائنس اینڈ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ‘‘ نامی تنظیم نے سنٹر فار ہائر ایجوکیشن کے طور پر تعمیر کیا ہے اور اب تک یہاں چھ امریکی جامعات کے کیمپسز کے علاوہ قطر نیشنل لائبریری (جس کا ذکر آگے آرہا ہے) سمیت دیگر کئی تعلیمی ادارے قائم ہو چکے ہیں۔
قطر میں ہمارا قیام ایک ہفتہ رہا اور اس دوران کورس کے اساتذہ اور دیگر اہل علم و دانش کو سننے اوران سے براہ راست استفادہ کے مواقع میسر آئے۔ ۲۵ دسمبر بروز پیر سے باقاعدہ ورکشاپ کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر ماہان مرزا صاحب نے اس کورس کے اہداف اور اس پورے ہفتے کی سرگرمیوں اور طریقہ کار سے متعلق مفصل بریفنگ دی اور اس کے بعد ’’معاصر فکری تحدیات‘‘ کے موضوع پر محاضرہ پیش کیا جس میں مذہب اور سائنس کے درمیان تعلق کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ مستقبل کے کیا امکانات ہیں؟ مفکرین اس پہلو کو اپنے چشم تخیل سے کیسے دیکھ رہے ہیں؟ ان امور بھی پر ڈاکٹر صاحب نے مختلف اہل فکر و دانش کی تحریروں کی روشنی میں تفصیلی گفتگو کی جس کی تکمیل سوالات و جوابات کے سیشن سے ہوئی۔ لنچ کے بعد ڈاکٹر ماہان مرزا کے لیکچر میں زیر بحث آنے والے موضوعات پر طلبہ کے درمیان گروپس کی شکل میں گفتگو ہوتی رہی۔ مغرب کے بعد اگلے دن کے مواد سے متعلق تیاری کی کلاس ہوئی۔ رات کو حمد بن خلیفہ یونیورسٹی کی جانب سے عشائیے کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں کالج آف اسلامک اسٹڈیز کے ڈین پروفیسر عماد شاہین اور چند پروفیسر حضرات نے اپنے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور پروگرام کے آئندہ مراحل پر بھی اپنی میزبانی کی پیش کش کی۔
اگلا دن یعنی ۲۶ دسمبر پروفیسر ابراہیم موسیٰ صاحب کے لیکچر کے لیے تھا۔ پروفیسر صاحب نے’’نص کی تعبیر و تشریح (Hermeneutics)، روایت اور تاریخ ‘‘پر گفتگو کی۔ لنچ کے بعد گروپس کی شکل میں مذاکرہ اور اگلی کلاس کی تیاری کے ساتھ یہ دن بھی اختتام پذیر ہوا۔
۲۷ دسمبر کو ڈاکٹر محمد خلیفہ نے ’’مذہب ، سائنس اور ترقی ‘‘ کے موضوع پر اور ڈاکٹر دین محمد نے ’’جدیدیت ، مذہب اور مختلف آرا‘‘ کے موضوعات پر بات کی۔ لنچ اور تیاری کے بعد سب شرکاء دوحہ کے ’’سوق واقف‘‘ دیکھنے کے لیے گئے۔ سوق واقف کوئی بہت پرانا شہر نہیں، لیکن دوحہ جیسے جدید شہر میں اپنے قدیم انداز، پرانے طرز تعمیر اور ہاتھ کی بنی اشیاء کی دکانوں کی کثرت کی وجہ سے یہ بازار سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔ دوگھنٹے اس بازار میں گھومنے اور سیر وتفریح کے بعد ہم واپس ہوٹل پہنچے۔ مغرب کی نماز کے بعد ہم یونیورسٹی گئے جہاں اگلے دن کی کلاس کی تیاری کی گئی اور پھریونیورسٹی کے ریستوران میں ڈنر پر اس دن کی مصروفیات بھی ختم ہوئیں۔
۲۸ دسمبر بروزِ جمعرات ڈاکٹر رناء دجانی نے (جن کا تعلق اردن سے ہے اور الجامعہ الہاشمیہ، اردن میں ایسو سی ایٹ پروفیسر ہیں) ’’مسلم دنیا میں ارتقا کی تدریس‘‘ سے متعلق تفصیلی لیکچر دیا۔
ظہر اور لنچ کے بعد دوحہ میں واقع میوزیم آف اسلامک آرٹ جانے کا پروگرام تھا۔ یہ میوزیم مصنوعی جزیرے پر کئی منزلہ انتہائی عالیشان بلڈنگ اور اس میں متنوع تاریخی اور نادر اشیا کے مجموعے کا نام ہے۔ میوزیم کی بلڈنگ کو اس طرز پر تعمیر کیا گیا ہے کہ دوحہ کی فلک بوس عمارتوں سے کسی بھی طرف سے دیکھنے والوں کو دور سے نظر آئے۔ ایک طرف وسیع و عریض سڑک اور باقی تینوں اطراف میں سمندر کا پانی۔ میوزیم کا ماحول بھی کافی خوبصورت اور پر فضا ہے۔ میوزیم کے اندردیگر نوادرات کے علاوہ اسلامی تہذیب کے اثرات و باقیات کو بھی اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ پانی کی طرح پیسہ خرچ کیے جانے کے باوجود ابھی یہ میوزیم تاریخ اور تہذیبوں کے آثار سے محبت رکھنے والوں کے لیے تسکین کا وہ سامان نہیں رکھتا جو ہمارے ملک پاکستان کیکئی میوزیمز میں پایا جاتا ہے۔ کاش ان کا خیال رکھنے اور سیاحوں کے لیے انھیں پرکشش بنانے پر توجہ دی جائے۔ میوزیم سے واپسی پر یہ دن بھی حسب معمول گروپس کی شکل میں اجتماعی مذاکرے اور اگلی کلاس کی تیاری کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔
۲۹ دسمبر بروز جمعہ مولانا عمار خان ناصر اور مولانا ڈاکٹر وارث مظہری نے ’’مذہب اور نصوص کی تاویل‘‘ کے موضوعات پر تفصیلی بات کی۔ اس دن شرکاء میں سے کچھ اپنے دوست احباب سے ملاقات کے لیے گئے اور باقی شرکا کے لیے اساتذہ کے ساتھ دوحہ کے علاقے نیو سٹی کارنیش جانے کا پروگرام بنایا گیا۔ کارنیش بلند و بالا عمارتوں کے سائے میں ساحل سمندر کے سات کلومیٹر پر پھیلا خوب صورت اور پر فضا علاقہ ہے۔رات کو ان بلندو بالا عمارتوں سے پانیوں میں گرتی رنگا رنگ روشنیاں اورسمندر سے آنے والی ہلکی ہوائیں بہت خوب صورت نظارہ پیش کر رہی ہوتی ہیں۔
۳۰ دسمبر کو تمام شرکا کو کئی گروپس میں تقسیم کر کے ہر گروپ کو ایک یا دو اہم سوال طے کرنے اور پھر مؤثر انداز میں اس کا جواب پیش کرنے کی سرگرمی دی گئی۔ اس کی تیاری اور باہمی مشاورت کے لیے وقت بھی دیا گیا۔ تمام گروپس کی طرف سے اپنے منتخب کردہ سوال یا مشکل کی تفہیم کے لیے کافی دلچسپ انداز اختیار کیے گئے۔ تعلیمی تسلسل میں تمرین کا یہ پہلو قدرے مسرور کن بھی تھا۔ لنچ کے بعد ہمارا پروگرام دوحہ میں قائم قومی کتب جانے کا دورہ تھا۔
نیشنل قطر لائبریری کا دورہ
بطور نیشنل لائبریری اس کے قیام کا اعلان قطر فاؤنڈیشن کی چیئر پرسن ملکہ موزا بنت ناصر المسند کی طرف سے نومبر ۲۰۱۲ء میں قطر کے پچاسویں یاد گاری دن پر کیا گیا۔ تب سے اس لائبریری پر کام شروع ہے۔ اس کا افتتاح امیر قطر خود کریں گے جس کی تقریب میں کئی دیگر ممالک کے سربراہان کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اس لائبریری میں اب تک پندرہ لاکھ کتابیں جمع کی گئی ہیں اور کل بیس لاکھ کتابوں کی گنجائش ہے۔ میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق تقریباً ہر کتاب پرحفاظت کی غرض سے پلاسٹک کور چڑھایا گیا ہے۔ اس لائبریری کا وزٹ کرانے کے لیے ہم سب شرکا کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور لائبریری کے مختلف حصوں کا الگ الگ نمائندے تفصیلی تعارف کراتے رہے۔ اس لائبریری کی خاص بات اس کا انوکھا طرزِ تعمیر اور خالص کتابی دنیا میں جدید ترین ٹیکنالوجی کی تنصیب ہے۔
اس کی تعمیر کا انداز کچھ یوں ہے کہ بالکل درمیان میں تہہ خانے بنائے گئے ہیں جس میں مخطوطات اور قدیم نایاب کتابیں جمع کی گئی ہیں۔ تہہ خانوں کے ارد گرد چار سو سیڑھی نما فرش ہیں جن پر الماریاں رکھی گئی ہیں اور بیچ میں پڑھنے کے لیے کرسیاں رکھی گئی ہیں۔ الماریوں میں جگہ جگہ کمپیوٹر اور آئی پیڈ نصب ہیں جن کے ذریعے کسی کتاب کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔ لائبریری کے ممبرز کو کتاب دی بھی جاسکتی ہے۔ پڑھنے کے بعد کتاب عملہ کو بھی واپس کی جا سکتی ہے اور لائبریری کے اندر نصب سات ڈراپ سٹیشنز کے ذریعے بھی اپنی مقررہ جگہ پر واپس بھیجی جاسکتی ہے۔ کسی بھی ڈراپ سٹیشن میں کتاب ڈالی جائے تو تین منٹ کے اندر وہ اپنی الماری تک پہنچ جائے گی۔لائبریری کے اندر سیڑھی نما فرش، جہاں الماریاں رکھی گئی ہیں، کے نیچے لائبریری عملہ کے دفاتر، مختلف ہالز ، عملی کام کے لیے مخصوص کمرے وغیرہ تعمیر کیے گئے ہیں۔ مخطوطات کی سکیننگ اور کمپیوٹر میں انھیں محفوظ کرنے کے لیے نہایت جدید آلات نصب کیے گئے ہیں۔ لائبریری کے مختلف حصوں کے تفصیلی وزٹ کے بعد ہمیں ایک ہال میں لے جایا گیا جہاں ایک خاتون نے اس لائبریری کے بارے میں مزید معلومات دیں۔ اس کے اہداف کیا ہیں اور اس کی رکنیت کے حصول کا طریقہ اورفوائد کیا ہیں، ان سب امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
لائبریری کے وزٹ کے دوران مجھے ایک خیال بار بار آتا رہا کہ سادہ، پر سکون اور یکسوئی والے ماحول کی بہ نسبت ٹیکنالوجی سے بوجھل اور سہولیات سے لبریز اس ماحول میں کتاب کی طرف بھر پور توجہ کتنا آسان یا مشکل عمل ہوگا۔
ہفتے کا دن واپسی کی تیاریوں، وہاں کے پروفیسرز اور تمام اساتذہ کی اختتامی تقریروں میں گذرنے کے بعد اسی روز یعنی ۳۰ دسمبر بروز ہفتہ سری لنکن ایئر لائن کے ذریعے وطن عزیز کا رخ کیا اور ۳۱ دسمبر کو جب لاہور پہنچے تو سال ۲۰۱۷ء کا سورج اپنی الوداعی روشنیاں پاکستان اور بالخصوص اہل لاہور پر پوری فیاضی کے ساتھ بکھیر رہا تھا اور وہ نئے سال کی آمد اور استقبال کی تیاریوں میں مگن تھے۔
تاثرات
میکس پلانک فاؤنڈیشن کے بعد میرا کسی غیر ملکی ادارے کے ساتھ سفر اور تعلیمی دورے کا یہ دوسرا تجربہ تھا۔ دونوں میں جو چیز مجھے زیادہ عجیب لگی، وہ ان لوگوں کے ہاں وقت کی پابندی ہے۔ ان لوگوں کے لیے سب سے بیش قیمت چیز وقت ہے۔ ایک ایک لمحہ سوچ سوچ کر خرچ کرتے ہیں اور مقررہ وقت پر نہ صرف یہ کہ خود موجود رہتے ہیں بلکہ سب دوستوں کو نہایت خوش اخلاقی اور محبت سے بلا بلا کر نظام الاوقات کا پورا پورا خیال رکھنے کا پابند بناتے ہیں۔
دوسرا خاص پہلو، اس کورس کے دوران سلیبس کی ترتیب و تدوین، تدریسی انداز، اور عمل تعلم کو آسان سے آسان تر بنانے کے لیے اختیار کردہ حکمت عملی ہے۔ یہ شایداس کورس کی خصوصیت کے بجائے پورے مغرب کی روایت ہو۔ اولاً کسی بھی موضوع سے متعلق نہایت اہم سوالات کا تعین ہوتا ہے۔ پھر ان سولات کے جوابات کے لیے کسی ایک کتاب یا ایک مصنف کو ہمیشہ پڑھتے رہنے کے بجائے نہایت مستند تحریروں کاا نتخاب ہوتا ہے۔ ان منتخبات کو سمجھنے کے لیے الگ کلاس رکھی جاتی ہے، پھر استاد کے ساتھ پڑھنے اور تنقیدی جائزہ لینے اور اپنے سوالات پیش کرنے کے لیے الگ سیشن ہوتا ہے، اس کے بعد مزید غور و فکر کے لیے طلبہ کے آپس میں مل بیٹھنے اور مذاکرے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان تمام مراحل میں بالکل بھی متوجہ نہ رہنے والے کے دماغ کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور چپک جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پڑھانے کے انداز میں مسلسل تقریر اور محض لکھوانے کے بجائے مکالمہ اور طالب علم کو بولنے اور سوال پوچھنے کا موقع دینے کا اسلوب کافی مؤثر محسوس ہوتا ہے۔ تدریس کا یہ انداز اب رفتہ رفتہ پاکستان کی عصری جامعات میں بھی فروغ پا رہا ہے۔
حمد بن خلیفہ یونیورسٹی اور قطر کی نیشنل لائبریری کے ماحول سے اندازہ ہوا کہ قطر کے حکمران خاندان کے لیے عوام کو خوش رکھنا اور انھیں ہر طرح کی سہولت فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، اسی لیے ہمیں بھی ہر جگہ عوام کے اندر اپنے حکمرانوں سے محبت کے اظہار کے مختلف انداز ملے۔ کاش پاکستان میں بھی حکمرانوں اور عوام کے درمیان ایسا ہی باہمی محبت کا رشتہ اور اس کے مثبت ثمرات دیکھنے کو ملیں۔
’’نماز کے اختلافات اور ان کا آسان حل‘‘
ڈاکٹر عرفان شہزاد
ڈاکٹر محی الدین غازی انڈیا سے تعلق رکھنے والے، دینی علوم کے ماہر اور متوازن فکر کی حامل شخصیت ہیں۔ ڈاکٹر صاحب وحدتِ امت کے ایک متحرک داعی ہیں۔
غازی صاحب کی کتاب "نماز کے اختلافات اور ان کا آسان حل"، ایک نہایت ہی اہم موضوع پر ایک چشم کشا کتاب ہے جس سے دین کے اندر علم کا ایک پورا پیرا ڈائم بدل جاتا ہے۔ پیش لفظ میں غازی صاحب لکھتے ہیں:
"راقم کے علم کی حد تک اس موضوع پر ایک مکمل کتاب کی صورت میں یہ ایک منفرد کوشش ہے۔"
غازی صاحب نے ایک نہایت اہم علمی حقیقت کی طرف رہنمائی کی ہے جو بوجوہ امت کے ذہن سے اوجھل ہو گئی، تاہم اس کا ادراک کسی نہ کسی درجے میں بڑے علمائے محققین کے ہاں مل جاتا ہے۔انھوں نے اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دین اس امت کو تواتر عملی کی صورت میں منتقل ہوا ہے، جس میں اہم ترین عمل نماز ہے۔ جو عمل تواتر سے امت کو منتقل ہو ا ہو، اس میں کسی قسم کے شک و شبہ اور اختلاف کی گنجایش نہیں ہو سکتی۔
اس کی وضاحت میں غازی صاحب لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوری امت نے نماز کا طریقہ سیکھ کر آگے پوری امت کو منتقل کیا، یہ سلسلہ بغیر کسی انقطاع کے مسلسل ہم تک چلا آتا ہے، اس لیے نماز میں کسی اختلاف کا کوئی سوال اٹھنا ہی نہیں چاہیے۔ نماز ایسا عمل تھا جو روزانہ دن میں پانچ بار ادا کیا جاتا تھا، اور آپ نے اسے مسلسل کئی برس صحابہ کی معیت میں کھلے عام کر کے دکھایا تھا۔ یہ نہایت آسان عمل تھا، اس کو یاد کر لینا اور دوسروں کو منتقل کرنا نہایت سہل ہے۔آج کے گئے گزرے دور میں بھی ہر مسلم گھرانہ اہتمام کے ساتھ اپنے بچوں کو نماز سکھاتا ہے تو کیا کسی دور میں اس کے اہتمام میں کسی کوتاہی کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک لاکھ سے زائد صحابہ نے نماز سیکھی، اور اسے اپنی اولاد اور انھوں نے اپنی اولاد کو سکھایا اور یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا ہے،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اپنی تمام کیفیات اور تنوع کے ساتھ پوری امت میں تواتر کے ساتھ رائج ہوئی ہے۔ نماز کے وہ تمام طریقے جو تواترِ عملی کی صورت میں امت میں رائج ہیں، وہ در حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی زندہ سنتیں ہیں اور ان میں سے کسی بھی طریقے کو خلافِ سنت قرار دینا تواتر عملی سے تغافل اورسراسر غلط رویہ ہے۔
رہی یہ بات کہ نماز کے طریقوں میں اختلاف کیوں ہے، تو حقیقت اس کی یہ ہے کہ نماز کے کچھ اعمال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ایک طرح ادا فرماتے تھے۔ ان اعمال میں پوری امت کا ہمیشہ اجماع رہا ہے کہ وہ ایسے ہی ہیں اور ان میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں، جیسے ایک رکعت میں رکوع ایک اور سجدے دو ہیں، فجر کی نماز دو رکعات اور مغرب کی تین رکعات ہیں وغیرہ، لیکن نماز کے بعض اعمال میں آپ نے تنوع اور گنجایش رکھی تھی، آپ انھیں ہمیشہ ایک ہی انداز سے ادا نہیں کرتے تھے۔ مثلاً قیام میں ہاتھ باندھنے کی جگہ، تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین، جلسہ استراحت، قنوت کا وقت اور طریقہ وغیرہ۔ ان میں آپ نے امت کو کسی ایک چیز کا پابند نہیں کیا تھا۔ چنانچہ صحابہ تنوع کے اس دائرے میں اپنے اپنے ذوق کے مطابق کوئی ایک یا زائد طریقے اختیار کر لیتے تھے۔ صحابہ کے اپنائے ہوئے یہ مختلف طریقے مختلف علاقوں میں، جہاں جہاں وہ گئے، لوگوں میں پھیل گئے۔ یعنی یہ طریقے ان میں تواترِ عملی کے ذریعے سے رائج ہو گئے۔ پھر لوگ اپنے ہاں رائج نماز کے طریقوں سے مانوس ہوگئے اور دوسرے تنوعات کو اجنبی نظر سے دیکھنے لگے۔ پھر جب تدوین فقہ کا دور آیا تو فقہاء نے اپنے اپنے علاقوں میں رائج طریقوں کو اپنی فقہی کتب میں مدون کر دیا۔ پھر یوں ہوا کہ تواتر عملی سے حاصل ہونے والی نماز کو فقہا کی طرف منسوب کر دیا گیا۔ نماز حنفی، مالکی، شافعی کہلانے لگی، اور یہ تاثر قائم ہوتا چلا گیا کہ گویا نماز کا طریقہ ان کے ائمہ نے طے کر کے دیا تھا، حالانکہ لوگوں نے نماز فقہا سے نہیں سیکھی تھی، بلکہ فقہا نے اپنے دور کے لوگوں سے سیکھی تھی۔ انھوں نے تو بس ایک تواتر عملی کو اپنی کتب میں درج کیا تھا۔ ان کے بعد کے لوگ پھر یہ اصرار بھی کرنے لگے کہ ان کی نماز کا طریقہ ہی افضل اور مطابق سنت ہے۔ کچھ حضرات مزید آگے بڑھے اور دوسروں کے طریقہ ہائے نماز میں پائے جانے والے اختلاف کو باطل اور خلافِ سنت بھی قرار دینے لگے۔ یوں وحدت امت اور دینی ہم آہنگی کی ضامن نماز فرقہ واریت کی نذر ہوگئی۔
تواتر عملی کی اس زبردست دلیل کے سامنے نماز سے متعلق ہر اختلاف بے وقعت ٹھیرتا ہے۔ مگر افسوس کہ اس واضح اور ناقابل تردید دلیل کی طرف عموماً توجہ نہیں دی گئی۔ شروع کے دور میں امام مالک نے تواتر عملی کو بہت نمایاں کیا۔ انھوں نے عمل مدینہ پر اپنے مسلک کی بنیاد رکھی، لیکن بعد کے مالکی فقہا بھی یہ نظر انداز کر گئے کہ نماز سے متعلق یہ تواتر عمل پوری امت کو منتقل ہوا ہے نہ کہ صرف اہلِ مدینہ کو، اس لیے ایسے معاملات میں ان کی طرف سے دوسرے طریقہ ہائے نماز پر طعن بے اصل تھا۔ اذان اور اقامت کے کلمات میں تکرار کے اختلاف کی نوعیت بھی یہی تھی کہ یہ اصل میں تنوع کے اختلاف تھے، کوئی بھی طریقہ اپنایا جا سکتا ہے۔ مگر یہ بھی ہر گروہ کے مسلک کی پہچان بن جانے کے بعد بلا وجہ محل اختلاف بن گئے۔
غازی صاحب نے نماز کے ہر ہر عمل پر فقہا کے اختلافات نقل کر کے ان کے ہاں کے معتدل اور معروف فقہا کے اقوال بھی نقل کیے ہیں جن کے ہاں تواتر عملی کی اہمیت کسی نہ کسی درجے میں پائی جاتی تھی اور وہ اپنے مسلک کے عمومی رجحان کے برعکس تواتر عملی کی بنیاد پر اختلاف کو گنجایش دینے کی بات کرتے ہیں۔ بہر حال غازی صاحب کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے تواتر عملی کی دلیل کو بہت خوبی سے نمایاں کیا ہے۔
اس امت کی فقہی روایت کی تاریخ میں یہ ہوا کہ نماز کے اختلافات کو حل کرنے کے لیے تواتر عملی کی ناقابل تردید دلیل کو پیش نظر رکھنے کی بجائے، ہر گروہ اپنی اپنی نمازوں کے مختلف طریقوں کے ثبوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب روایات سے استشہاد کرنے لگا۔ ایک گروہ نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کے پاس اپنے طریقے کے ثبوت میں احادیث دوسرے سے زیادہ ہیں، تو دوسرے نے یہ دعویٰ کر دیا کہ اس کے پاس دوسرے گروہ کے طریقہ نماز کی منسوخی کی روایات موجود ہیں۔
محی الدین غازی صاحب نے یہ توجہ دلائی ہے کہ نماز کے سلسلے میں وارد ہونے والی روایات سے نماز نہیں سیکھی گئی، نماز تو امت نے ہر دور میں اپنے بڑوں کے عمل سے سیکھی ہے۔ ان روایات اور آثار میں البتہ نماز کے ان طریقوں میں سے بعض یا اکثر اعمال کا تذکرہ بھی آ گیا ہے، لیکن نماز کا انحصار روایات پر نہیں، عمل تواتر پر ہے۔
غازی صاحب نے اس اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا کہ نماز کے بارے میں روایات پر انحصار کرنا یوں بھی غلط ہے کہ نماز کے بعض متفقہ اعمال کے بارے میں کوئی مستند روایت موجود نہیں۔ اس کے باوجود امت کو ان کا نماز کا حصہ ہونے پر کبھی کوئی شبہ نہیں ہوا۔ مثلاً خواتین کی نماز کا انداز مردوں کی نماز سے مختلف ہے، اس بارے میں روایات میں مردو عورت کی نماز کے اس اختلاف کی تفصیل موجود نہیں، لیکن امت ہمیشہ سے متفق رہی ہے کہ خواتین کی نماز کا انداز مردوں کی نماز سے مختلف ہے۔ اسی طرح رکوع و سجدے کی تسبیحات، تشہد اور درودکا بلا آواز پڑھنا، اسی طرح جہری نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں بنا آواز قراء ت کے اجماعی عمل کے پیچھے کوئی مضبوط اور قابل اطمینان روایات موجود نہیں ہیں، لیکن ساری امت کا ان عمال پر اتفاق ہے۔ یہ کہنا کہ کسی فقیہ کو کچھ روایات نہیں پہنچی تھیں، اس لیے انھوں نے مسائل میں اختلاف کیا تو یہ بات کبھی کبھار پیش آنے والے مسائل کے بارے میں تو کہی جا سکتی ہے لیکن نماز جیسے متواتر عمل کے بارے میں کہنا غلط ہے۔
ایک اور اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے غازی صاحب نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری نماز امت کو سکھائی ہے، اس میں یہ نہیں بتایا کہ اس میں کیا فرض ہے، کیا واجب اور کیا سنت۔ یہ تعیین فقہا نے کی جس میں اختلافات ہو گئے۔ یعنی، نماز کے وہ اعمال بھی جو سب کے نزدیک نماز کا حصہ تھے، ان کی حیثیت کہ وہ فرض، واجب یاسنت ہیں، اس تعیین میں فقہی اختلاف ہو گیا، جیسے قیام میں امام کے پیچھے مقتدی کو فاتحہ پڑھنی چاہیے یا خاموش رہنا چاہیے۔ اس میں بعض فقہاء کی طرف سے تشدد برتا گیا اور فاتحہ پڑھنے یا نہ پڑھنے کی بنا پر ایک دوسرے کی نماز کو باطل تک قرار دے دیا گیا، حالانکہ اس کا حل یہ تھا کہ یہ کہا جاتا کہ اس بارے میں تواتر عمل موجود ہی نہیں ،جس کی بنیاد پر حق و باطل کا فیصلہ ہوتا۔ اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ یہ بھی تنوع کا مسئلہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو کسی ایک طریقہ کا پابند نہیں کیا تھا، چنانچہ مقتدی اپنے مزاج و مذاق کے اعتبار سے کوئی بھی طریقہ اختیار کر سکتا ہے۔
اس بے جا تشدد نے امت کو تقسیم کر رکھا ہے۔کرنے کا کام یہ ہے کہ نماز کی کیفیت پر توجہ دی جائے جو بندے کو خدا سے اور فرد کو فرد سے جوڑنے کا ذریعہ ہے، نہ کہ نماز کے فقہی اختلافات کو ہوا دی جائے، جن کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔
آخر میں غازی صاحب نے تجویز پیش کی ہے کہ فقہ کے نصاب کی تدوین نو کی ضرورت ہے۔ لکھتے ہیں:
’’بلا شبہ، آج ضرورت ہے فقہ کی ایسی کتابوں کی تیاری کی، جن میں تمام شرعی دلیلوں کا احترام ہو، متواتر عملی سنت کا بھی لحاظ ہو، احادیث اور آثار کا بھی خیال ہو، اور پھر ساتھ ہی ساتھ ائمہ کرام کے اجتہاد و استنباط کا بھی احترام ہو۔ مدارس میں جب اس طرح کی کتابیں پڑھائی جائیں گی تو مثبت سوچ رکھنے والا اور پوری امت اور ساری شریعت سے محبت کرنے والا ذہن تیار ہوگا۔‘‘
راقم کے مطابق، صرف نماز ہی نہیں بلکہ پورے کا پورا دین، اپنی عملی صورت میں اس امت کو اجماع اور تواتر کے ذریعے سے منتقل ہوا ہے۔ چنانچہ اصلی اور بنیادی دین میں پوری امت میں حقیقتاً کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا اور اس کی اس حیثیت کے باوجود جو اعتراضات یا شبہات پیش کیے گئے ہیں، وہ لائق اعتنا نہیں ہیں۔ قرآن مجید، دین کی علمی اساس ہے جو اجماع و تواتر کے قطعی ذریعے سے امت کو منتقل ہوا ہے اور سنت متواترہ سارا عملی دین ہے جو اجماع اور تواتر عملی سے امت کو منتقل ہوا ہے۔ فروعات میں اختلافات ہیں، لیکن اصل دین میں کوئی بھی اختلاف نہیں۔ یہ دین روایات پر منحصر نہیں رہنے دیا گیا۔ روایات کی اپنی جگہ اہمیت ہے، لیکن ثبوت دین کا انحصار روایات پر نہیں ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہر مسلمان کو یہ کتا ب ایک بار ضرور پڑھ لینی چاہیے۔ غازی صاحب سے میں یہ گزارش بھی کروں گا کہ کتاب اگرچہ پہلے ہی کم ضخامت کی ہے، تاہم اس کے بنیادی استدلال کو بغیر فقہی تفصیلات کے الگ سے مرتب کر کے بھی شائع کریں تاکہ ایک مختصرتر جامع ورژن بانداز راست عام قاری کو میسر آ سکے۔