جون ۲۰۱۸ء

قومی ریاست اور جہاد: کیا کوئی نیا فکری پیراڈائم ممکن ہے؟محمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۳)ڈاکٹر محی الدین غازی 
جدید ریاست میں فقہِ اسلامی کی تشکیلِ جدید (۲)مولانا سمیع اللہ سعدی 
دھتکارے ہوئے بھارتی مسلمانوں کی داستانِ کرب ۔ ایک اور پاکستان؟پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان 
قرآن مجید میں تحریف کا جاہلانہ مطالبہحافظ عاکف سعید 
مذہبی انتہا پسندی کے محرکاتمولانا غازی عبد الرحمن قاسمی 
مغربی ممالک کے مسلمانوں کے مسائل اور ذمہ داریاںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
حضرت مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاریؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا نظریہ تخریج (۳)مولانا عبید اختر رحمانی 
الشریعہ اکادمی کی سالانہ کارکردگی رپورٹمولانا مفتی محمد عثمان 

قومی ریاست اور جہاد: کیا کوئی نیا فکری پیراڈائم ممکن ہے؟

محمد عمار خان ناصر

جدید قومی ریاست کے بارے میں ایک بہت بنیادی احساس جو روایتی مذہبی اذہان میں بہت شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے، یہ ہے کہ اس تصور کو قبول کرنا درحقیقت جہاد کی تنسیخ کو تسلیم کر لینے کے مترادف ہےجو اسلامی تصور حکومت واقتدار کا ایک جزو لا ینفک ہے۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ اسلامی شریعت میں مسلمان ریاست کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے، چند ضروری شرائط کے ساتھ، ارد گرد کے علاقوں میں قائم غیر مسلم حکومتوں کے خلاف جنگ کر کے یا تو ان کا خاتمہ کر دے اور ان علاقوں کو مسلمان ریاست کا حصہ بنا لے  یا کم سے کم انھیں اپنا تابع اور باج گزار بننے پر مجبور کر دے۔ قومی ریاست کے جدید تصور میں، ظاہر ہے، اس کی گنجائش نہیں، کیونکہ  اپنی جغرافیائی حدود میں سیاسی خود مختاری  کو ہر قومی ریاست کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے اور کسی ریاست کو  یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی بھی بنیاد پر  دوسری ریاست کی جغرافیائی حدود یا  انتظام کار میں مداخلت کرے ۔ یوں جہاد اور قومی ریاست میں گویا تباین کی نسبت پائی جاتی ہے۔
تاہم مذہبی فکر کو اس عملی حقیقت کا بھی ادراک ہے کہ موجودہ عہد میں  معاشروں کی بقا سر تا سر قومی ریاست کے تصور پر منحصر ہے، اس لیے جہاں یہ سوال اہم ہے کہ قومی ریاست میں جہاد کا امکان باقی رہتا ہے یا نہیں، وہاں یہ سوال بھی اتنی ہی بلکہ اس سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے  کہ اگر قومی ریاست کے تصور کو کالعدم کر دیا جائے تو بحالات موجودہ معاشروں کی نفس بقا کیسے ممکن ہوگی۔ یہ معلوم ہے کہ دور جدید میں نہ صرف استعمار (یعنی طاقت کے زور پر بالادست قوموں کے کمزور قوموں پر مسلط ہونے کے عمل) کا خاتمہ قومی ریاست کے تصور کے تحت ہی ممکن ہوا ہے، بلکہ طاقتور قوموں کے باہمی جنگ وجدال اور خوں ریزی کا سلسلہ بھی اسی اصول کو قبول کر لینے کی بدولت ہی رکا ہوا ہے۔ مزید براں،  طاقتور قوموں کے جوار میں قائم چھوٹے چھوٹے ممالک بھی اگر ایک سطح پر انفرادیت اور خود ارادی سے بہرہ ور اور اپنے زور آور پڑوسیوں کی  براہ راست چیرہ دستی سے محفوظ ہیں تو اس کے پیچھے بھی قومی ریاست کے احترام کا ہی اصول کار فرما ہے۔چنانچہ خدا نخواستہ آج اگر اس اصول کے حوالے سے بین الاقوامی اتفاق رائے ختم ہو جائے تو ایک نئی جنگ عظیم کا شروع ہو جانا  ہفتوں یا دنوں کی نہیں، بلکہ لمحوں کی بات ہے اور اس سارے فساد میں خاص طور پر کمزور اور پس ماندہ قومیں  جس تباہی سے دوچار ہوں گی، اس کا بس تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔
گویا فکر اسلامی کو ایک مخمصے کا سامنا ہے۔ اگر قومی ریاست کے تصور کو قبول نہیں کیا جاتا  تو خود اس معاشرے کا قیام اور بقا ممکن نہیں جس نے جہاد کی ذمہ داری انجام دینی ہے، اور اگر کیا جاتا ہے تو  مسلمان ریاست کی ایک بنیادی ذمہ داری یعنی جہاد سے دستبرداری کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ روایتی مذہبی فکر میں اس مخمصے کا عمومی طور پر قابل قبول حل یہ ہے کہ قومی ریاست کے تصورکو بادل نخواستہ اور بامر مجبوری ایک وقتی وعارضی  صورت حال کے طور پر تو قبول کیا جائے، اور جب تک یہ عملی رکاوٹ موجود ہو، اس وقت تک  جہاد پر عمل کو بھی  مجبوراً‌ معطل رکھا جائے، لیکن اسے کوئی مستقل اور معیاری اصول نہ مانا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے ہی مسلمان حکومتیں اس پوزیشن میں آ جائیں کہ قومی ریاست کے تصور کو چیلنج کر سکیں تو وہ ایسا ہی کریں اور طاقت وحوصلہ کے بل بوتے پر اسلام کی سیاسی بالادستی غیر مسلم قوموں پر قائم کرنے کے لیے جہاد کا آغاز کر دیں۔ 
یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ یہ نقطہ نظر فقہ اسلامی کے ایک خاص فہم اور  تعبیر پر مبنی ہے جس سے مختلف نقطہ نظر بھی موجود ہے۔ اس متوازی نقطہ نظر کے مطابق فقہ اسلامی میں غیر مسلم حکومتوں کے اصولی جواز کو تسلیم کیا گیا ہے اور ان کے ساتھ لازماً‌ جنگ جاری رکھنے کو مسلمان ریاست کا مقصد یا فریضہ قرار نہیں دیا گیا۔ تاہم سردست ہم اس دوسرے نقطہ نظر پر بات نہیں کر رہے جس کی نوعیت دراصل دور جدید کے تناظر میں  فقہی ذخیرے کی تعبیر نو کی ہے۔ یہاں ہماری گفتگو فقہ اسلامی کی روایتی اور کلاسیکی تعبیر کےتناظر میں ہےجس کی رو سے مسلمان اور غیر مسلم ریاستوں کے مابین اصل تعلق جنگ ہی کا ہے۔ اس زاویہ نظر سے جدید قومی ریاست، جہاد کی ذمہ داری کی ادائیگی میں ایک مانع کا درجہ رکھتی ہے اور، جیسا کہ واضح کیا گیا ، اسے ایک وقتی اور عارضی کیفیت کے طور پر ہی قبول کیا جا سکتا ہے۔ 
تاہم یہ ایک فقہی اور قانونی انداز کا حل ہے جو ایک محدود دائرے میں قابل فہم ہے، لیکن صورت حال کی اصل پیچیدگی  کو موضوع نہیں بناتا۔اس پیچیدگی کے تین چار پہلو بہت بنیادی ہیں۔ ایک تو وہی جس کا اوپر ذکر کیا گیا، یعنی یہ کہ طاقت کے غیر معمولی عدم توازن کی موجودہ صورت حال میں  قومی ریاست کے تصور کی نفی کا نتیجہ عملاً‌ کس کے حق میں نکلے گا؟
دوسرا یہ کہ جدید دور میں قومی ریاست کے اصول سے انحراف کا تعلق طاقت اور استطاعت کی فراہمی یا عدم فراہمی سے ثانوی ، جبکہ قانونی واخلاقی جواز سے بنیادی ہے۔ اس اصول پر دنیا کے اجتماعی اخلاقی ضمیر کا اجماع ہو چکا ہے اور کوئی طاقت ور سے طاقت ور حکومت بھی اس کی خلاف ورزی کرے تو اخلاقی اور قانونی طور پر اس کا جواز تسلیم نہیں کیا جاتا۔ جب تک اجتماعی انسانی شعور میں اس حوالے سے کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی اور، مثال کے طور پر، ماقبل جدید ادوار کے سیاسی تصورات کے مطابق دوبارہ طاقت کو حق حکومت کی جائز  بنیاد نہیں مان لیا جاتا، ایسا کوئی بھی اقدام اجتماعی انسانی ضمیر کی نظروں میں غیر اخلاقی اور غیر قانونی رہے گا۔ یہ صورت حال دور قدیم سے جوہری طور پر مختلف ہے جب سلطنتوں اور ریاستوں کے لیے توسیع حدود کو  ایک جائز سیاسی حق تصور کیا جاتا تھا اور  تسلط کے بالفعل قائم ہو جانے کے بعد  غالب طاقت کو  وہاں کا قانونی حاکم تسلیم کر لیا جاتا تھا۔ اس اصول کو بین الاقوامی عرف کی حیثیت حاصل تھی ، چنانچہ طاقت کے استعمال کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں نکلنے کے بعد قانونی واخلاقی جواز کا سوال  مستقل طور پر  سر نہیں اٹھاتا رہتا تھا۔ 
اس پہلو کو یہ کہہ کر جھٹکا نہیں جا سکتا کہ مسلمان اپنے اقدامات کےلیے دنیا سے سند جواز حاصل کرنے کے پابند نہیں، ان کے لیے خدا کی شریعت کا حکم ہی کافی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ  یہاں مسئلہ صرف ابتداءا سند جواز کی فراہمی کا نہیں، بلکہ عالمی اخلاقی عرف کے تناظر میں جواز کی مستقل sustainability کا ہے اور اس کے بارے میں یہ فرض کرنا کہ شریعت کو  اس سے مطلقاً‌ کوئی غرض نہیں یا یہ کہ وہ مسلمانوں کو    عالمی رائے عامہ کے سامنے مستقلاً‌ ایک اخلاقی ملزم سمجھے جانے کے امتحان میں ڈالنا چاہتی ہے، انتہائی سادہ فکری کا نتیجہ ہوگا۔ یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے کہ صرف سیاسی طاقت ہر سوال کا جواب نہیں دے سکتی۔ طاقت کے استعمال کو اخلاقی جواز درکار ہوتا ہے اور اس جواز کی بنیادیں انسانی ضمیر کی سطح پر  مشترک ہونی چاہییں۔ اخلاقی جواز کے دائرے میں جزوی اور محدود سطح کے اختلافات، جن کا اثر وقتی اور عارضی ہو،  کی تلافی تو طاقت سے کی جا سکتی ہے، لیکن طاقت کے زور پر اخلاقی نوعیت کے سوالات کو مستقلاً‌ ایڈریس نہیں کیا جا سکتا۔ 
تیسرا انتہائی اہم پہلو وہ تبدیلیاں ہیں جو دور جدید میں جنگ کی نوعیت اور اس کی تباہ کاری کی صلاحیت میں رونما ہو چکی ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، آج کی جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی اور  معیشت واقتصاد پر اس کے عمومی اثرات کے علاوہ جنگی ہتھیار بھی مقاتل اور غیر مقاتل کی تفریق سے عاجز ہیں، بلکہ بہت سے ہتھیار تو بنائے ہی اس مقصد سے گئے ہیں کہ تباہی کا دائرہ صرف مقاتلین تک محدود نہ رہے۔ جنگ سے پھیلنے والی تباہی کا نشانہ سب سے زیادہ عام لوگ بنتے ہیں جو جنگ کا فیصلہ کرنے یا جنگی عمل کی انجام دہی میں شریک بھی نہیں ہوتے۔ جنگ کے بارے میں کلاسیکی اسلامی قانون کا تصور یہ ہے کہ یہ حسن لغیرہ ہے، یعنی انسانی خون بہانا اگرچہ فی نفسہ ایک قبیح چیز ہے، لیکن چونکہ اس پر قیام امن اور دفع فساد کا مقصد موقوف ہے، اس لیے ایک ذریعے کے طور پر اس میں بالواسطہ اخلاقی حسن پیدا ہو جاتا ہے۔ دور جدید میں جنگ کی تباہ کاری کی نوعیت بدل جانے کے تناظر میں مذکورہ تصور کی معنویت بھی  بدیہی طور پر برقرار نہیں رہی ، اس لیے کہ حسن وقبح کی بحث میں  تناسب کا سوال بنیادی ہوتا ہے۔ ایک قبیح چیز اسی وقت تک حسن لغیرہ ہو سکتی ہے جب تک اس سے پیدا ہونے والا ضرر، اس سے حاصل ہونے والے فائدے کے مقابلے میں  کم ہو اور متوقع فائدے کے حصول کا امکان بھی غالب ہو۔ دور جدید کی جنگ میں، جیسا کہ ہم جانتے ہیں،  صورت حال بالکل برعکس ہے۔
ایک اور نہایت اہم سوال یہ ہے کہ جہاد کے ذریعے سے اسلامی ریاست کے رقبے کی توسیع کی پالیسی قدیم دور میں دار الاسلام اور دار الحرب کی جس تقسیم پر مبنی تھی، بذات خود وہ تقسیم جدید دور میں کتنی بامعنی رہ گئی ہے؟ جدید دور میں کم سے کم دو بنیادی تبدیلیوں نے اس معاملے کی نوعیت کو بالکل بدل دیا ہے: ایک، بڑے پیمانے پر  انتقال آبادی اور دوسرے، شہری حقوق کا جدید سیاسی تصور۔ قدیم دور میں دنیا کے مسلمان، بنیادی طور پر اسلامی سلطنتوں کے حدود میں مقیم ہوتے تھے اور غیر مسلم حکومتوں کے دائرہ اختیار میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد کا تناسب نہ ہونے کے برابر تھا۔  جدید دور میں صورت حال بالکل مختلف ہے اور مختلف عوامل کے تحت مسلمانوں کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اب غیر مسلم ریاستوں میں سکونت پذیر ہو چکا ہے۔ پھر یہ کہ بیشتر ممالک میں ان مسلمانوں کی حیثیت اجنبی یا  دوسرے درجے کے شہری کی نہیں، بلکہ انھیں مساوی مدنی وسیاسی حقوق سے بہرہ ور تسلیم کیا گیا ہے اور اس حیثیت سے انھیں اپنی تعداد اور معاشی صورت حال کے لحاظ سے ان ممالک کی پالیسیوں اور فیصلوں کی تشکیل میں شامل ہونے کا موقع بھی حاصل ہے۔ گویا غیر مسلم ممالک کے بارے میں یہ تصور کہ وہ اصولی طور پر غیر مسلموں کے ملک ہیں، اب اس طرح بامعنی نہیں رہا  جیسا کہ ماضی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دور جدید کے فقہاء  نے ایسی مسلمان کمیونٹیز کے مسائل واحکام پر گفتگو کے لیے فقہ الاقلیات کے عنوان سے ایک مستقل باب وضع کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے، جبکہ کلاسیکی فقہ میں  اس موضوع پر چند منتشر جزئیات سے زیادہ کوئی راہ نمائی نہیں ملتی۔ 
صورت حال کی یہ تبدیلی قانون بین الممالک کے اساسی تصورات اور عملی ڈھانچے پر بھی براہ راست اثرات مرتب کرتی ہے اور بدیہی طور پر اس فریم ورک میں  جہاد کے کلاسیکی تصور کو، جس میں فرض کردہ صورت واقعہ بالکل مختلف تھی، رو بہ عمل نہیں کیا جا سکتا۔ 
یہ تمام پہلو ایک گہرے اور بنیادی نوعیت کے اجتہادی زاویہ نظر کا تقاضا کرتے ہیں اور فکر اسلامی کو اس حوالے سے سب سے اہم سوال یہ درپیش ہے کہ کیا حالات کے جبر اور اصول ضرورت کے علاوہ ان نئے سیاسی واخلاقی  تصورات کے ساتھ تعامل کا کوئی علمیاتی اور اخلاقی زاویہ بھی ہو سکتا ہےجس میں ان تصورات کی داخلی قدر وقیمت یا عملی افادیت  کو فیصلے کی بنیاد بنایا جا سکے؟اگر ایسا ممکن ہے تو کیا یہ تصور جہاد کی تنسیخ کے ہم معنی ہوگا یا اس کی کوئی ایسی تعبیر  بھی کی جا سکتی ہے جو شریعت کی آفاقیت اور جامعیت کے اسلامی عقیدے سے ہم آہنگ ہو؟ اتنا بہرحال واضح ہے کہ سوالات فلسفیانہ اور اصولی نوعیت کے ہیں۔ جزوی وفقہی نوعیت کا انداز نظر ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے کافی نہیں ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۳)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۴۲) انتصر کا ترجمہ

انتصر کے لغت میں دو مفہوم ملتے ہیں: ایک انتقام لینا، اور دوسرا ظالم کا مقابلہ کرنا۔

وانتَصَرَ منہ: انتَقَمَ (القاموس المحیط) وانتصر الرجل اذا امتنع من ظالمہ، قال الازھری: یکون الانتصار من الظالم الانتصاف والانتقام، وانتصر منہ: انتقم۔ والانتصار: الانتقام (لسان العرب) وانتَصَرَ منہ: انتقم۔ (الصحاح)

جدید لغت المعجم الوسیط میں اس کی اچھی تفصیل ملتی ہے کہ جب یہ فعل من کے ساتھ ہو تو انتقام لینا، علی کے ساتھ ہو تو غلبہ حاصل کرنا اور بغیر صلے کے عام معنی ظالم کا مقابلہ کرنا اور اس کے ظلم کو روکنا ہوتا ہے۔

انتصر: امتنع من ظالمہ وعَلی خَصمہ استظھر وَمِنہ انتقم۔ (المعجم الوسیط)

انتصر کا قرآن مجید میں تین طرح استعمال ملتاہے:
کچھ مقامات پر اہل ایمان کے خاص وصف کے طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ اس حوالے سے کہ ظلم وتعدی کے سلسلے میں ان کا رویہ کیا ہوتا ہے، ایسے مقام پر بدلہ لینا اور انتقام لینا مناسب نہیں لگتا، کیونکہ بدلہ لینااور انتقام لینا جائز تو ہے لیکن کوئی قابل تعریف وصف نہیں ہے، کہ اس کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا جائے، بلکہ ظلم کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا مناسب مفہوم لگتا ہے، اور یہ واقعی ایک قابل قدر وصف ہے جس سے ظلم کی روک تھام ممکن ہوتی ہے۔ مثالیں حسب ذیل ہیں:

(۱) وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُونَ۔ وَجَزَاء سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ۔ وَلَمَنِ انتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّن سَبِيلٍ۔ إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُوْلَئِكَ لَهُم عَذَابٌ أَلِيمٌ۔ (الشوری: 39 - 42)

”اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں، برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا، اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کو ملامت نہیں کی جا سکتی، ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے“۔(سید مودودی)
”اور وہ کہ جب انہیں بغاوت پہنچے بدلہ لیتے ہیں“۔(احمد رضا خان)
”اور جب ان پر ظلم (و زیادتی) ہو تو وہ صرف بدلہ لے لیتے ہیں “۔(محمدجوناگڑھی)

(۲) إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ۔ (الشعراء: 227)

”مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور بکثرت اللہ کی یاد کی اور بدلہ لیا بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے“۔(احمد رضا خان)
”بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا، اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں“۔ (سید مودودی)
”مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں“۔ (فتح محمدجالندھری)
”سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا، جنہوں نے ظلم کیا ہے وہ بھی ابھی جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں“۔ (محمدجوناگڑھی)
انتصر کچھ مقامات پر اللہ کے عذاب کے مقابلہ میں مجرموں کے بارے میں مذکورہوا ہے، وہاں بھی بدلہ اور انتقام کا محل نہیں ہے، ظاہر ہے کہ اللہ کا عذاب درپیش ہوتو بدلہ لینے اور انتقام لینے کا کیا محل ہے، ویسے بھی کسی کے ذہن میں اللہ سے بدلہ اور انتقام لینے کی بات بھی نہیں آتی ہے، دراصل یہ مقابلہ کرنے اور اپنا بچاو خود کرنے کا محل ہے، کہ جب اللہ کا عذاب سامنے آئے گا تو اس وقت نہ دوسرے مجرموں کی مدد کرسکتے ہیں، اور نہ وہ مجرم خود اپنا بچاو کرکے اللہ کے عذاب کے سامنے ٹھہر سکتے ہیں۔اس کی مثالیں حسب ذیل ہیں:

(۱) یُرسَلُ عَلَیکُمَا شُوَاظ مِّن نَّارٍ وَنُحَاس فَلَا تَنتَصِرَان۔ (الرحمن: 35)

”(بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے“۔(سید مودودی)
”تم پر چھوڑی جائے گی بے دھویں کی آگ کی لپٹ اور بے لپٹ کا کالا دھواں تو پھر بدلہ نہ لے سکو گے“۔ (احمد رضا خان)
”تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو پھر تم مقابلہ نہ کرسکو گے“۔ (فتح محمدجالندھری)
”تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم مقابلہ نہ کر سکو گے“۔ (محمدجوناگڑھی)

(۲) وَقِیلَ لَھم اَینَ مَا کُنتُم تَعبُدُونَ۔ مِن دُونِ اللَّہِ ھَل یَنصُرُونَکُم اَو یَنتَصِرُون۔ (الشعراء: 92، 93)

”اور ان سے پوچھا جائے گا کہ ''اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے؟کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں؟“۔(سید مودودی)
”اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا بدلہ لیں گے“۔(احمد رضا خان)
”یعنی جن کو خدا کے سوا (پوجتے تھے) کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں “۔(فتح محمدجالندھری)
”جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے، کیاوہ تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں“۔(محمدجوناگڑھی)

(۳) اَم یَقُولُونَ نَحنُ جَمِیع مُّنتَصِر۔ سَیُہزَمُ الجَمعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ۔ (القمر: 44، 45)

”یا یہ کہتے ہیں کہ ہم غلبہ پانے والی جماعت ہیں عنقریب یہ جماعت شکست دی جائےگی اور پیٹھ دے کر بھاگے گی“۔(محمدجوناگڑھی)
”یا اِن لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں، اپنا بچاو  کر لیں گے؟“۔(سید مودودی)
”یا یہ کہتے ہیں کہ ہم سب مل کر بدلہ لے لیں گے“۔ (احمد رضا خان)
”کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت بڑی مضبوط ہے“۔ (فتح محمدجالندھری)

(۴) وَلَم تَکُن لَّہُ فِئَة یَنصُرُونَہُ مِن دُونِ اللَّہِ وَمَا کَانَ مُنتَصِرا۔ (الکہف: 43)

”اس کی حمایت میں کوئی جماعت نہ اٹھی کہ اللہ سے اس کا کوئی بچاو  کرتی اور نہ وہ خود ہی بدلہ لینے والا بن سکا“۔(محمدجوناگڑھی)
”نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی جتھا کہ اس کی مدد کرتا، اور نہ کر سکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ“۔ (سید مودودی)
”اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ کے سامنے اس کی مدد کرتی نہ وہ بدلہ لینے کے قابل تھا“۔(احمد رضا خان)
”(اس وقت) خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا“۔ (فتح محمد جالندھری)

(۵) فَخَسَفنَا بِہِ وَبِدَارِہِ الارضَ فَمَا کَانَ لَہُ مِن فِئَةٍ یَنصُرُونَہُ مِن دُونِ اللَّہِ وَمَا کَانَ مِنَ المُنتَصِرِینَ۔ (القصص: 81)

”(آخرکار) ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لیے تیار نہ ہوئی نہ وہ خود اپنے بچانے والوں میں سے ہوسکا“۔ (محمدجوناگڑھی)
”(آخرکار) ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لیے تیار نہ ہوئی نہ وہ خود اپنے بچانے والوں میں سے ہو سکا“۔(سید مودودی)
”تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسایا تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ سے بچانے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا“۔ (احمد رضا خان)
”پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی۔ اور نہ وہ بدلہ لے سکا“۔ (فتح محمدجالندھری)

(۶) فَمَا استَطَاعُوا مِن قِیَامٍ وَمَا کَانُوا مُنتَصِرِینَ۔ (الذاریات: 45)

”پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی۔ اور نہ وہ بدلہ لے سکا“۔(فتح محمدجالندھری)
”پس نہ تو وہ کھڑے ہو سکے اور نہ بدلہ لے سکے“۔ (محمدجوناگڑھی)
”تو وہ نہ کھڑے ہوسکے اور نہ وہ بدلہ لے سکتے تھے“۔(احمد رضا خان)
”پھر نہ اُن میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاو کر سکتے تھے“ ۔(سید مودودی)
انتصر بعض مقامات پر وہ اللہ کے لیے استعمال ہوا ہے، وہاں بدلہ لینے کا مفہوم بھی ہوسکتا ہے اور نمٹ لینے کا مفہوم بھی ہوسکتا ہے۔

(۱) وَلَو یَشَاءُ اللَّہُ لَانتَصَرَ مِنھُم۔ (محمد: 4)

”اللہ چاہتا تو خود ہی اُن سے نمٹ لیتا“۔(سید مودودی)
”اوراللہ چاہتا تو آپ ہی اُن سے بدلہ لیتا“۔ (احمد رضا خان)
”اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا“۔ (فتح محمدجالندھری)
”اور اللہ اگر چاہتا تو (خود) ہی ان سے بدلہ لے لیتا“۔ (محمدجوناگڑھی)

(۲) فَدَعَا رَبَّہُ اَنِّی مَغلُوب فَانتَصِر۔ (القمر: 10)

”پس اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر“۔ (محمدجوناگڑھی، اس ترجمے میں ایک تو ”میری“ زائد ہے، دوسرے انتصر کامطلب مدد کرنا نہیں ہوتا ہے۔)
”آخر کار اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ ''میں مغلوب ہو چکا، اب تو اِن سے انتقام لے“۔ (سید مودودی)
”تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوں تو میرا بدلہ لے“۔ (احمد رضا خان)
”تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ (بار الٰہا) میں (ان کے مقابلے میں) کمزور ہوں تو (ان سے) بدلہ لے “۔ (فتح محمدجالندھری)
(جاری)

جدید ریاست میں فقہِ اسلامی کی تشکیلِ جدید (۲)

بنیادی خدوخال اور طریقِ کار

مولانا سمیع اللہ سعدی

بحث دوم: فقہ اسلامی  اور تشکیل جدید کا متقاضی حصہ 

فقہ اسلامی کی تشکیل جدید سے پہلے اس سوال کا جواب معلوم کرنا نہایت ضروری ہے کہ  فقہ اسلامی کے کس حصے کی تشکیل جدید وقت کی ضرورت ہے اور کس قسم کے مسائل   تجدید  کا تقاضا کرتے ہیں ؟تجدید کے بنیادی خدوخال طے کرنے سے پہلے اگر محل ِتجدید کا تعین نہیں ہوا تو قوی امکان  ہے کہ عمل تجدید تحریف یا تغییر میں تبدیل ہوجائے ۔اس نکتے پر بحث سے  کرنے سے پہلے فقہ اسلامی کے بنیادی شعبہ جات  اور فقہی مسائل  کی مختلف انواع کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ فقہ اسلامی اور معاصر قانون کے نامور ماہر ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب  رحمہ اللہ  نے فقہی موضوعات کو درجہ ذیل آٹھ قسموں میں تقسیم کیا ہے:
۱۔عبادات 
۲۔مناکحات 
۳۔معاملات
۴۔فقہ التعامل الاجتماعی (الحظروالاباحہ)
۵۔الاحکام السلطانیہ
۶۔ جنایات
۷۔ادب القاضی
۸۔ فقہ السیر1

فقہی مسائل کی انواع و اقسام 

کتب فقہ میں مذکور مسائل کی  استقرائی  طور درجہ ذیل انواع و اقسام ہیں:
۱۔ وہ مسائل جو منصوص ہیں اور قطعی و حتمی ہیں  ،یعنی اس کا مفہوم بھی واضح ہے اور اس کے معارض نصوص بھی نہیں ہیں ،جیسے بنیادی محرمات و محللات اسے ہم منصوص حتمی کا نام دیں گے ۔
۲۔ وہ مسائل جو منصوص تو ہیں ،لیکن مفہوم میں ایک سے زیادہ احتمالات ہونے کی وجہ سے یا معارض نصوص  کی وجہ سے ان میں مجتہدین کی مختلف آرا پائی جاتی ہیں  ،اسے منصوص غیر حتمی کہہ سکتے ہیں  ،نیز اسے مجتہد فیھا مسائل بھی کہتے ہیں ۔
۳۔وہ مسائل جو منصوص نہیں ہیں  ،بلکہ فقہا نے منصوص مسائل پر قیاس و استنباط  کے ذریعے  ان کا حکم  معلوم کیا ہے ،اسے آسانی کے لئے مسائل قیاسیہ کہیں گے ۔پھر مسائل قیاسیہ کی  آگے متعدد قسمیں ہیں:
الف۔ وہ مسائل  جن پر  چاروں  مکاتب  فقہیہ کا اتفاق ہے ،اسے مسائل قیاسیہ اجماعیہ کا نام دیں  گے۔
ب۔ وہ مسائل جن  پر مجتہدین اربعہ کا  تو اتفاق نہیں ہے ،لیکن ایک مذہب و مکتب میں وہ متفقہ ہیں ،اسے آسانی کے لئے مسائل قیاسیہ   اتفاقیہ کہہ سکتے ہیں 
ج۔ وہ مسائل جو ایک مسلک و مذہب میں بھی اختلافی ہیں ،اسے ہم مسائل قیاسیہ  خلافیہ کہیں گے ۔
د۔ وہ مسائل  جن کے حکم کی بنیادسدِ ذریعہ،عموم ِبلوی ، مصلحت یا عرف ہے ۔اسے ہم (تغلیبا)مسائل قیاسیہ  عرفیہ کہیں گے ۔
۴۔ وہ مسائل  جو قدیم فقہی ذخیرے میں مذکور نہیں ہیں ،بلکہ  نوازل و حوادث کے قبیل سے ہیں ۔
اس طرح سے مسائل فقہیہ کی درجہ ذیل انواع بنیں گی:
۱۔ منصوص حتمی 
۲۔منصوص غیر حتمی 
۳۔قیاسی 
۴۔ نوازل و حوادث
پھر قیاسی کی  درجہ ذیل چار قسمیں ہیں:
۱۔قیاسی اجماعی
۲۔قیاسی اتفاقی 
۳۔قیاسی خلافی 
۴۔قیاسی عرفی 
اب  فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کے متقاضی حصے کے بنیادی خدوخال کچھ یوں بنتے ہیں:
۱۔ وہ مسائل جو نوازل و حوادث کے قبیل سے ہیں ،ان کا  فقہی اصولوں اور جزئیات کی روشنی میں حکم معلوم کرنا وقت کی سب بڑی ضرورت ہے اور فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا سب سے اہم تقاضا  ہے ۔ یہ ضرورت فقہ کے  تما م موضوعات و شعبہ جات میں ہے اور عبادات سے لے کر فقہ السیر تک نوازل و حوادث کا ڈھیر لگ گیا ہے ،جن کا فقہی حل   عصر حاضر کے نمایاں  چلینجز میں سے ہیں ۔
۲۔ وہ مسائل جو منصوص حتمی ہیں ،ان کو کسی صورت نہیں چھیڑا جائے گا ،ان میں تشکیل جدید دراصل تحریف و تغییر ہے ۔
۳۔وہ مسائل جو منصوص غیر حتمی ہیں ،ان میں حالات کے مطابق متعدد آرا میں انتخاب کیا جاسکتا ہے ، بشرطیکہ اس میں  فقہی طریقہ کار کی پوری پابندی ہو ،جو  کتب اصول میں افتا ءبمذہب الغیر یا  افتاء بقول المرجوح کے عنوان سے مذکور ہے ۔
۴۔مسائل اجماعیہ و اتفاقیہ  بھی منصوص حتمی کے قریب قریب ہیں ،اس لئے اس میں تبدیلی  کے لئے اجتہاد ِاجماعی درکار ہوگا ۔
۵۔مسائل قیاسیہ خلافیہ میں   حالات کے مطابق انتخاب  یا متعدد آرا کا جمع بھی تشکیلِ جدید کے زمرے میں آتا ہے ،معاصر سطح پر کاسموپولیٹن فقہ یا تلفیق بین المذاہب کی جو صدائیں بلند ہورہی ہیں ،اور اس کی موافقت و مخالفت میں بحث کا بازار گرم ہے 2، اس کا مصداق دراصل اسی قسم کے مسائل ہیں ۔
۶۔ مسائل قیاسیہ عرفیہ نوازل و حوادث کے بعد فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا سب سے بڑا تقاضا ہے ، معاصر سطح پر تشکیل جدید کی جو   آوازیں اٹھ رہی ہیں ،عمومی طور پر انہی دو اقسام کے مسائل مراد ہوتے ہیں، لہذا فقہ اسلامی کے ذخیرے میں جن مسائل کی بنیاد اس وقت کا عرف تھا ،یا  ان کا حکم سد ذریعہ یا کسی مصلحت کے طور پر  نکالا گیا تھا ، ان مسائل پر دوبارہ غور و فکر کر کے معاصر عرف کے مطابق اس کا نیا حکم معلوم کرنا چاہیے ، اسی طرح  مصلحت پر مبنی مسائل میں مصلحت  کی تبدیلی  کی صورت میں حکم تبدیل کرنا چاہئے یا سد ذریعہ والے احکامات میں ذرائع کی دوبارہ جانچ پڑتال کر کے  موجودہ حالات کے مطابق حکم نکالنا  چاہئے ۔

بحث سوم: تشکیل جدید کے بنیادی خدوخال اور اس کا  طریقہ کار

فقہ اسلامی کی تشکیل جدید  کن خطوط پر ہونی چاہئے ؟اس کے لئے کیا طریقہ کار اپنانا چاہیے اور تشکیل جدید کے بنیادی خدوخال کیا ہوں گے ؟یہ ایک طویل الذیل اور ذو ابعاد موضوع ہے ،    عمومی طور پر اس سے احکام فقہیہ کی تبدیلی  مراد ہوتی ہے ،حالانکہ تغییر و تبدیلی تشکیل جدید کا ایک جزو ہے جو بعض  مسائل میں   جاری ہوتی ہے  ،وہ بھی اصطلاحا تبدیلی کے زمرے میں نہیں آتا ،کیونکہ  عرف کے بدلنے ،مصلحت کی تبدیلی یا ذرائع  و علل کے تغییر سے  مسائل پر نیا حکم لگانا  فقہی اصطلاح میں تبدیلی نہیں کہلاتی ، درجہ ذیل میں تشکیل جدید کے چند مراحل بیان کئے جاتے ہیں:

۱۔ تصنیف و تالیف میں تجدید 

فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا سب سے  اہم مرحلہ    فقہی کتب کے طرزِ تصنیف و تالیف میں تجدید ہے ،قدیم تراث بے پناہ اہمیت و مرکزیت رکھنے کے باوجود معاصر  اسلوب ِتصنیف سے ہم آہنگ نہیں ہے ،فقہی کتب کے طرز ِتالیف میں  درجہ ذیل تبدیلیاں  وقت کا تقاضا ہے:
۱۔قدیم فقہی تراث کا انداز جزئیات کے ضمن میں اصول و کلیات کی تفہیم ہے ،جبکہ معاصر ذہن    اصول و قواعد  کو جاننے میں دلچسپی رکھتا ہے ،اس لئے جدید طرز کے مطابق ایسی کتب فقہیہ تصنیف ہونی چاہیں ،جن میں ابوابِ  فقہیہ  سے بحث اصولی انداز میں ہو ،اور ہر باب میں تعریفات ،تقاسیم ،انواع و اقسام مرتب انداز میں موجود ہو ،معاصر سطح پر معروف فقہیہ وہبہ الزحیلی کی الفقہ الاسلامی و ادلتہ  جدید منہج کی نمائندہ مثال ہے ۔
۲۔ قدیم تراث میں ابواب  و مسائل کی طے شدہ ترتیب ہے ،جو تقریباً‌ ہر فقہی کتاب میں یکساں  نظر آتی ہے ، جبکہ جدید ذہن فقہی تصورات کو بحیثیت مجموعی جاننے  کا  متمنی ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی باب سے ہو ، مثلاً‌ ضمان  کا فقہی تصور خواہ اس کا تعلق کتاب الغصب سے ہو ،لقطہ سے ہو ،کتاب البیوع سے ہو یادیگر ابواب فقہیہ سے،مال کا فقہی تصور ،فساد و بطلان کا فقہی تصور  وغیرہ ۔اس لئے ایسی کتب کی ضرورت ہے جو  فقہی  تصورات و نظریات پر مشتمل ہو اور اس مخصوص تصور کا پوری فقہ اسلامی  کی روشنی میں جائزہ لیا گیا اور اس کی وضاحت کی گئی ہو۔
۳۔قدیم  تراث میں عمومیت ہے  فقہ اسلامی کے جملہ ابواب  پر کتب فقہیہ مشتمل ہوتی ہیں ،جبکہ جدید دور تخصص و سپیشلائزیشن کا ہے ،اس لئے ہر باب پر تفصیلی کتب ہونی چاہیں ،اس پر اگرچہ کافی کام ہوا ہے، لیکن مزید بھی اس نہج پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
۴۔قانون دان اور وکیل حضرات کے لئے فقہ اسلامی کی دفعہ وار تدوین و ترتیب وقت کا تقاضا ہے ،اس کی عمدہ مثال مجلہ الاحکام العدلیہ ہے ،نیز معاصر سطح پر مزید کام بھی ہوا ہے ،مزید بھی اس نہج پر کام فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا اہم مرحلہ ہے ۔
۵۔ مباحث فقہیہ  کو  الفبائی ترتیب پر  موسوعات و قوامیس کی صورت میں مرتب کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ عربی میں اس کی مثال الموسوعہ الفقہیہ جبکہ اردو میں  مولنا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی قاموس الفقہ اس کی بہترین مثالیں ہیں ،لیکن اس پر مزید تفصیلی انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔معروف فقیہ جمال الدین عطیہ نے اپنی کتاب تجدید الفقہ الاسلامی میں ایک ضخیم  فقہی موسوعہ مرتب کرنے کے  کا تفصیلی نقشہ پیش کیا ہے3،جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی یہ موضوع مزید کام کا متقاضی ہے ۔
۶۔قدیم تراث کی جدید طرز پر اشاعت بھی تشکیل جدید کا اہم تقاضا ہے ،یہ بات ایک حقیقت ہے کہ جدید اصول تحقیق و تدوین کے مطابق قدیم تراث کی اشاعت نے فقہ اسلامی سے استفادہ  بہت آسان بنا دیا ہے ،عالم عرب سے اگرچہ اہم مصادر فقہیہ محقق انداز میں چھپ چکی ہیں ،لیکن اب بھی دنیا بھر کے  مکتبات میں ہزاروں کتب  فقہیہ اشاعت کی منتظر ہیں ۔
۷۔نواز ل و حوادث  پر مشتمل فقہی کتب  کی تیاری تشکیل جدید کا اہم مرحلہ ہے ، اس پر عربی و اردو میں کچھ کام ہوا ہے ،لیکن وہ بالکل ابتدائی نوعیت کا کام ہے ،نیز وہ اکثر انفرادی کاوشیں ہیں ،جبکہ نواز ل کے فقہی حل کے لئے اجتماعی غور و فکر کی ضرورت ہے ۔
تصنیف و تالیف میں  تجدید کے چند اہم  پہلو بطور مثال کے ذکر کئے ،ورنہ تجدید کا یہ پہلو متنوع ابعاد کا حامل ہے  اور انفرادی کوششوں کی بجائے اجتماعی کاوشوں کا متقاضی ہے۔

۲۔ تعبیر و اصطلاح میں تجدید

فقہ اسلامی کی تجدید کا دوسرا اہم مرحلہ فقہی تعبیرات و اصطلاحات کو عصر حاضر کی قانونی مصطلحات ، مروج تعبیرات اور معاصر ذہن سے ہم آہنگ الفاظ کا جامہ پہنانا ہے ،اس کام کا مقصد جدید تعلیم یافتہ حضرات ، اور جدید قانونی نظا م و اصطلاحات کے ماہرین   کے لئے فقہ اسلامی  کو عام فہم بنانا ہے ،ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب رحمہ اللہ  محاضرات فقہ   کے ابتدائی تعارف میں  لکھتے ہیں:
"مزید برآں  کسی بھی علم وفن کی طرح   فقہ اور اصول فقہ کے کلیات کو بیان کرنے کا انداز اور اسلوب بھی ہرزمانے میں بدلتا رہتا ہے ،ایک زمانہ تھا مثلا ائمہ مجتہدین کا زمانہ ،جب ان کلیات کو خالص مذہبی عقائد اور تعلیمات کی زبان اور انداز میں بیان کیا جاتا تھا ۔چنانچہ امام شافعی اور امام محمد بن شیبانی اور ان جیسے دوسرے فقہا کی تحریروں میں شریعت کے کلیات بحث کرنے کا ایک خاص انداز پایا جاتا تھا ۔پھر جلد ہی ایک دور ایسا آیا جب فقہی اور اصولی مباحث منطق اور فلسفہ کے اسلوب میں بیان کیا جانے لگا ،اس اسلوب کا اعلی ترین نمونہ امام غزالی اور امام رازی کی تصنیفات میں نظر آتا ہے ،یہ اسلوب متقدمین  کے اسلوب سے بالکل مختلف ہے ،دور جدید میں مغرب کے تصورات اور مباحث نے فقہ اسلامی کے مباحث اور انداز گفتگو پر گہرا  اثر ڈالا ،آج عرب دنیا میں جو کتابیں لکھی جارہی ہیں ،ان میں خاصا بڑا حصہ ان کتابوں کا ہے جو مغربی قوانین کے اسلوب اور تصورات کے مطابق لکھی جارہی ہیں ،ان  حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو زبان میں بھی نئے اسلوب کے مطابق کتابیں   تیار کی جائیں تاکہ قانون دان حضرات اور وکالت پیشہ حضرات زادہ بہتر اور موثر انداز میں فقہ اسلامی کے موقف کو سمجھ سکیں4"

۳۔ احکام کی نوعیت میں تجدید

فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا سب سے حساس مرحلہ احکام کی نوعیت میں تجدید ہے ،وہ فقہی احکام جو عرف ،مصلحت ،سد ذریعہ  ،عموم بلوی ،اور متنوع احوال و ظروف  پر مبنی ہیں ،ان میں آج کے حالات کے مطابق   اور موجودہ ظروف کے موافق حکم نکالنا موجودہ حالات کا  سب سے بڑا تقاضاہے ،لیکن اس عمل میں ماضی سے مکمل ربط اور حال کا کامل ادراک بیک وقت ہونا چاہئے  ،ورنہ تجدید تحریف میں بدل سکتی ہے ۔

۴۔ درس و تدریس میں تجدید 

درس و تدریس میں تجدید فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے ،نصاب اور طریقہ تدریس دونوں تجدید کے متقاضی ہیں ،اس وقت صورتحال یہ ہے کہ قدیم طرز کے مدارس میں متاخرین کی کتب پر مکمل اعتماد ہے ،جن میں   احکام و اصول کی اصل روح سے زیادہ لفظی ابحاث پر زور ہے جبکہ جدید اداروں میں  تدریس کا سارا مواد جدید کتب ہیں  ،جن میں اکثر کتب  مرتب ہونے کے باوجود  اس فقہی عمق کی حامل نہیں ہیں ،جو فقہ کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے ،اس لئے درس و تدریس میں ہر فقہ کی   امہات الکتب کی طرف رجوع ہونا چاہئے ،نیز طریقہ تدریس میں بھی جدت وقت کا تقاضا ہے ،مناظرانہ و مباحثانہ طرز کی بجائے تقابلی جائزہ کو رواج دینا چاہئے  ۔

۵۔ شعبہ افتا ءمیں تجدید 

افتا ءفقہ اسلامی کے تطبیقی عمل کانام ہے ،جس کا ایک سرا کتاب اور دوسرا خارجی عمل ہے ،کتاب کے فہم میں خلل یا خارجی عمل کو سمجھنے میں نقص   سے   عمل فتوی  اپنی جاذبیت کھو بیٹھتا ہے ، اور وہ محض ایک موقف بن جاتا ہے ، جو جذبات ،میلانات  اور خواہشات و ترجیحات کے تابع ہوتا ہے ،بد قسمتی سے امت مسلمہ کے دور زوال میں عمل ِفتوی مناظرہ و مباحثہ کا مظہر بن گیا ہے ،  اس کے ساتھ جدت پسند حضرات اباحتِ کلی کے درپے ہیں ،جبکہ روایتی علما جمود پر عمل پیرا ہیں ،اس لئے شعبہ افتا میں  تجدیدی نوعیت کے کام وقت کی ضرورت ہیں ،منصب افتا ءکے لئے کڑی شرائط رکھنی چاہییں ،جس میں ایک طرف  تراث کا  گہرا مطالعہ شامل ہو اور دوسری طرف  موجودہ حالات و تغیرات کا مکمل احاطہ ہو ۔

۶۔ طریقہ اجتہاد  میں تجدید 

اجتہاد کی تاریخ کا اگر تجزیہ کیا  جائے تو انفرادی اجتہاد کا غلبہ دکھائی دیتا ہے ،فقہ اسلامی کا اکثر حصہ انفراد ی کاوشوں کا نتیجہ ہے ،سوائے  امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  کے ،جنہوں نے اجتماعی اجتہاد کی ابتدائی شکل کی  داغ بیل ڈالی تھی ،فقہ اسلامی کو درپیش معاصر چلینجز  اجتماعی اجتہاد سے حل ہونگے ،اس لئے عملِ اجتہاد کو  فرد کی سرگرمی سے نکا ل کر اجتماعی سرگرمی بنانا چاہئے ،دور حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے ادارے خوش آئند مستقبل کی نوید ہے ،مجمع الفقہ الاسلامی ،اسلامک فقہ اکیڈمی ،مجمع البحوث الاسلامیہ ،ھیئہ کبار العلما ،یورپی مجلس برائے افتا و تحقیق جیسے اداروں کی  منظور کردہ قرار دادیں طریقہ اجتہاد میں تجدید کی بہترین مثال ہے،اس کے علاوہ ریاستی سطح پر قوانین کو اسلامیانے کے لئے اجتماعی اجتہاد کے ادارے وقت کی ضرورت ہیں ،تاکہ اجتماعی اجتہاد سے کئے گئے فیصلے  قانونی حیثیت کے حامل ہو ں ،پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت اپیلٹ بینچ کو اس کی مثال میں پیش کر سکتے ہیں ۔
طریقہ اجتہاد میں تجدید کی دوسری سطح  مقاصدی اجتہاد کی وہ لہر ہے جو معاصر سطح پر اٹھی ہے ،مقاصدی اجتہاد وقت کی اہم ضرورت ہے اگر اسے  قواعد و ضوابط کا پابند کیا جائے ،اس سلسلے میں اہل علم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ افراط و تفریط سے ہٹ کر مقاصدی اجتہاد کے اصول ،حدود ،قیود اور طریقہ کار کو منضبط کریں ۔

۷۔ امثلہ و جزئیات میں تجدید 

قدیم ذخیرہ  لاکھوں جزئیات و امثلہ سے عبارت ہے ،لیکن  اکثر جزئیات اس وقت کے تمدن اور  احوال  پر مبنی ہیں ،ان  قدیم جزئیات کا  طلبا کے ذہن پر غیر شعوری طور  پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ فقہ اسلامی کو  ایک زندہ جاوید فن کے طو ر پر نہیں دیکھتے  اور انہیں فقہ اسلامی قدیم  مقدسات کے قبیل  سے لگتی ہے ،دوسرا  نقصان یہ ہوتا ہے کہ قدیم جزئیات کے نواز ل پر  انطباق  کے لئے جس فقہی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے ،وہ مفقود ہونے کی وجہ سے انطباق  کما حقہ نہیں ہوپاتا ،جس کی وجہ سے عمل  فتوی بھی  متاثر ہوتا ہے ،اس لئے فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا  اہم ترین مرحلہ ان جزئیات کو حال سے جوڑنا ہے تاکہ فقہ اسلامی میں رواں دواں زندگی کی جھلک محسوس ہو ،یہ نہایت مشکل اور تفصیلی کام ہے ،جو انفرادی سطح کی بجائے اجتماعی کوششوں کا متقاضی ہے۔
امثلہ کی تجدید کا دوسرا مرحلہ اصول فقہ میں  قواعد کی تفہیم کے لئے دی  گئی امثلہ میں تجدید ہے ،عمومی طور پر اصول فقہ کے ذخیرے میں چند مثالیں ہیں ،جو ہر اصولی کتاب کی زینت ہیں  ،اس سے اصول فقہ کا تطبیقی عمل شدید متاثر ہوا اور اصول فقہ ، فقہ اسلامی  کی رگوں میں دوڑتے خون کی بجائے   چند نظری قواعد پر مبنی علم کی صورت میں سامنے آیا ہے ،اس لئے اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ کتب اصول میں  مروج  امثلہ میں کم و کیف دونوں اعتبار سے بہتری لائی جائے ۔

۸۔ مکاتب فقہیہ کے تقابل و مقارنہ میں تجدید 

مکاتب فقہیہ کا تقابلی مطالعہ ہماری فقہی روایت کا حصہ رہا ہے ،ائمہ مجتہدین کے دور سے اس کی داغ بیل پڑ گئی تھی ،امام محمد کی الحجہ علی اہل المدینہ ،اما م ابویوسف کی الرد علی  سیر الاوزاعی  اور امام شافعی کی الرد علی محمد بن الحسن تقابلی مطالعے کے اولین نقوش ہیں ،ان کتب  کا  انداز عمومی طور پر مباحثانہ رہا ہے ،جس میں مخالف نقطہ نظر کا تخطئہ،مرجوحیت اور اس میں پائے جانے والی کمزوریوں کی نشاندہی  کی کوشش  ہوتی ،اور اپنے موقف کی تقویت اور اصابت کے دلائل دئے جاتے ،یہی منہج بعد میں تقابلی مطالعے کا امتیاز قرار پایا ،اور یوں   مختلف مکاتب میں بحث و مباحثہ کا بازار گرم رہا ، اس منہج کا سب سے بڑا فائدہ دلائل کی تنقیح اور ان میں پائے جانے والی  فنی خامیوں کا تعین کی شکل میں سامنے آیا  ، انہی مباحثوں کی بدولت ہر  فقہی  مکتب نے اپنے مستدلات کو از سر نو منضبط کیا اور اپنے مواقف کے لئے دلائل کا  ڈھیر لگا دیا ،جس سے  منصوص مسائل    پوری طرح مبرہن ہوئے، دور جدید میں اس منہج کی تشکیل جدید کی ضرورت ہے اور تقابلی مطالعے  کا یہ قدیم انداز  تبدیل کرنے کی ضرورت  ہے ،تقابلی مطالعہ میں اس بات کی کوشش ہو کہ   مختلف اقوال کا تقابل عصر حاضر کے تناظر میں کیا جائے کہ آج جدید دور میں امت مسلمہ کی آسانی اور  نوازل و حوادث کو حل کرنے کے لئے کونسا قول زیادہ مناسب ،احوط اور قابل عمل ہے ۔نیز مختلف  آرا کا  بلا امتیاز مسلک مختلف پہلووں سے جائزہ  ہو ،قوت دلیل کے اعتبار سے ،احوط ہونے کے اعتبار سے ،تیسیر کے اعتبار سے وغیرہ ،مبادا اس  سے تلفیق کی طرف دعوت دینا  مقصود نہیں ، بلکہ مقصد یہ ہے کہ   افتا ءبمذہب الغیر کی ضرورت کے وقت ان جیسی کتب کی طرف رجوع ہو اور کسی مسئلہ میں مختلف فقہی اقوا ل کا تیسیر ،احتیاط  ،تشدید اور دیگر پہلووں سے موازنہ و تقابل    کرنا آسان ہو ۔

۹۔ مطالعہ تراث  کے منہج میں تجدید

ہمارے ہاں مطالعہ تراث کے محدود مقاصد ہیں ،درس و تدریس ،افہام و تفہیم ،توضیح و تشریح اور تعلیق و اختصار ، دور جدید میں اس منہج میں خاص طور پر یہ چیز  شامل کرنے کی ضرورت ہے کہ  تہذیب و تنقیح کے اعتبار سے  تراث کا مطالعہ و تحقیق ہو  ،فقہی تراث  میں مختلف اسباب  کی بنا پر     ایسی چیزیں پروان  چڑھیں ،جو اپنی اصل کے اعتبار سے  جس نوعیت کی تھیں ،آگے جاکر اس کی وہ نوعیت برقرار نہ  رہ سکی ، اس کی کچھ مثالیں علامہ ابن  عابدین شامی نے عقود رسم المفتی میں دی ہیں ،نیز بعض مسلم  مانے جانے والے تصورات  پر بھی از سر نو  تحقیق کی ضرورت ہے ،اس کی سب سے بہترین مثال معاصر محقق سائد بکداش کا کتابچہ  تکوین المذہب الحنفی مع تاملات فی ضوابط المفتی بہ  ہے ،جس میں محقق نے صاحبین کے اقوال کو فقہ حنفی کا حصہ سمجھنے پر نقد کیا ہے اور مفتی بہ قول کے بعض ضوابط پر تنقیدی نگاہ ڈالی ہے ۔ اتفاق یا اختلاف سے قطع نظر  تراث کی تحقیق و تہذیب کی اچھی کاوش ہے۔ مطالعہ تراث کے اس منہج سے فقہی ورثہ میں نکھار آئے گا اور  حوادث زمانہ سے جمی گرد کی تہیں   اتریں گی ۔

۱۰۔ مندرس مکاتب فقہیہ و مجتہدین کی آرا کی  تجدید 

تدوینِ فقہ کے دور میں عالم اسلام کے مختلف خطوں سے قا بل قدر مجتہدین اٹھے ،لیکن مختلف وجوہات و اسباب کی بنا پر چار کے علاوہ باقی مجتہدین کی  آرا حوادثِ زمانہ کی نذر ہوگئیں اور ان کے مستقل مقلدین  کا سلسلہ نہ چل سکا ،البتہ کتب میں ان کے اقوال اور ان کی فقہی ترجیحات بکھری پڑی ہیں ،دور جدید میں  ان مندرس مکاتب کے احیا کی ضرورت ہے ،تراث سے ان کی فقہی آرا ،ان کےپیش نظر اصول اور ان کی ترجیحات نکال کر انہیں ایک مرتب شکل دینے کی ضرورت ہے ۔فقہ اسلامی کی تشکیل جدید اور  نوازل فقہیہ کے حل میں ان اقوال و آرا سے بہت مدد مل سکتی ہے اور فکر و نظر کے نئے دریچے وا ہوسکتے ہیں ۔ معروف   شامی محقق رواس قلعہ جی کی کوششیں اس حوالے سے خشت اول کی حیثیت رکھتی ہیں  کہ انہوں نے فقہ السلف کے عنوان سے اٹھارہ کے قریب معجم تیار کئے ہیں ،جن میں سلف کے اقوال فقہیہ کو بالاستیعاب جمع کرنے کی کوشش کی ہے ،اب ان اقوال کی تہہ میں کار فرما اصول و قواعد  کی تخریج اور ائمہ اربعہ کے فقہی اصولوں سے اس کے تقابل کی ضرورت ہے ۔

بحث چہارم: فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کی معاصر کوششیں اور اس کے اثرات 

دور جدید فقہ اسلامی کے حوالے سے بیداری  و اٹھان کا دور ہے ،فقہ اسلامی کی مرحلہ وار  تا ریخ  لکھنے والے مصنفین نے  دور جدید کو فقہ اسلامی کا تجدیدی زمانہ  قرار دیا ہے 5، دور جدید میں فقہ اسلامی پر مختلف جہات سے کام ہوا ،نئے تصورات اور نئے طرز و اسلوب کی داغ بیل ڈالی گئی  اور فقہ اسلامی کو جدید ذہن اور جدید احوال و ظروف سے ہم آہنگ کرنے کے لئے  قابل قدر کوششیں ہوئیں ،ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"بیسویں صدی کی آخرکی تین چوتھائیاں اور بالخصوص اس کا نصف ثانی فقہ اسلامی میں  ایک نئے دور کا آغاز ہے ،عرب دنیا میں اور غیر عرب مسلم دنیا میں عام طور پر فقہ اسلامی پر ایک نئے انداز سے کام کا وسیع پیمانہ پر آغاز ہوا ،ایسا کام جس کے مخاطبین مغربی تعلیم یافتہ لوگ اور مسلمانو ں میں  وہ لوگ تھے ،جو مغربی قوانین اور افکار سے مانوس یا متاثر ہیں6"
ذیل میں ان  کاوشوں کی اہم جہات کا ذکر کیا جاتا ہے:
۱۔ فقہ اسلامی کی تشکیل جدید  اور اس کے بنیادی خدوخال پر قابل قدر تصانیف منظر عام پر آئیں ،جن میں فقہ اسلامی کی تجدید کی صدا بلند کی گئی ،اس کا نقشہ کھینچا گیا ،اس کے اسباب و موانع پر بحث کی گئی  اور اس راہ میں حائل مشکلات و صعوبات کی نشاندہی کی گئی،ان تصانیف کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ان سے فقہ اسلامی کی تجدیدکی فکر کو مہمیز ملی ،علمی حلقوں کی توجہ مبذول ہوئی  اور  اس موضوع پر مختلف فورمز اور کانفرنسوں میں مباحثے و مکالمے ہوئے ،ان تصانیف میں شیخ ازہر علی جاد الحق کی تصنیف الفقہ الاسلامی  مرونتہ و تطورہ ،معروف فقیہ شیخ مصطفی احمد زرقا کی المدخل المفقہی العام ،شیخ جما  ل الدین عطیہ  اور شیخ وھبہ الزحیلی کی مشترکہ تصنیف تجدید الفقہ الاسلامی ،الدکتور عبد الوہاب ابو سلیمان کی منہج البحث فی الفقہ الاسلامی خصائصہ و نقائصہ ،مشہور مصری مصنف محمد سلیم العواکی ضخیم کتاب الفقہ الاسلامی فی طریق التجدید ،ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی الفقہ الاسلامی بین الاصالہ و التجدید ،جزائر یونیورسٹی سے  حوریہ تاغلابت کا لکھا ہوا پی ایچ ڈی کا ضخیم مقالہ الفقہ الاسلامی بین الاصالہ و التجدید،جما ل البنا کی نحو فقہ جدید ، ڈاکٹر حسن ترابی کی کتباور ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ کی محاضرات فقہ و محاضرات شریعت کے بعض خطبات  قابل ذکر ہیں ۔عالم اسلام کے مختلف خطوں سے مسلم مفکرین کی جانب سے فقہ اسلامی کی تجدید کی یہ صدائیں بہت موثر ثابت ہوئیں ،اور اس فکری صدا پر  عمل کی مختلف صورتیں سامنے آئیں ۔
۲۔ تصنیف و تالیف کے میدان میں فقہ اسلامی  پر تجدیدی کام ہوا ہے ،اور جدید طرز و اسلوب پر فقہ اصول فقہ اور فقہ و اصو ل فقہ کے تعارف و تاریخ  کی کتب لکھی گئیں ہیں ،تجدیدی تصانیف کی  اہم انواع کا تذکرہ کیا جاتا ہے:
  1. جدید قانونی طرز پر فقہ اسلامی کی تدوین نو  جیسے  مجلہ الاحکام العدلیہ ،شیخ احمد القاری کی مجلہ الاحکام الشریعہ  اور  محمد قدوری پاشا کی مرشد الحیران وغیرہ
  2. فقہی موسوعات و انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری جیسےموسوعہ الفقہ الاسلامی  ، موسوعہ جمال عبد الناصر  فی الفقہ الاسلامی ،محمد  صدقی البورنو کی موسوعہ القواعد الفقہیہ وغیرہ
  3. فقہ و اصول فقہ کا مقارن مطالعہ جیسے وھبہ زحیلی کی الفقہ الاسلامی و ادلتہ ،ڈاکٹر عبد الکریم النملہ کی المہذہب فی اصول الفقہ المقارن
  4. مقاصد شریعت پر جدید انداز میں  تصانیف جیسے شیخ طاہر بن عاشور کی مقاصد الشریعہ الاسامیہ ،محمد سلیم العوا کی  مقاصد الشریعہ الاسلامیہ اور جما ل الدین عطیہ کی نحو تفعیل مقاصد الشریعہ وغیرہ
  5. فقہ اسلامی و مذاہب فقہیہ کی تاریخ و تعارف پر مبنی کتب جیسے شیخ خضری کی تاریخ التشریع الاسلامی، حجوی کی الفکر السامی وغیرہ
  6. معدوم فقہی مسالک و مجتہدین کے اوقوال فقہیہ کی جمع و تدوین نو جیسے محمد رواس قلعہ جی کے تیار کردہ معاجم
  7. عالم اسلام کی مختلف جامعات و یونیورسٹیوں سے جاری شدہ ماجستیر ،ایم فل و پی ایچ ڈی مقالات ،جو فقہ اسلامی کے مختلف پہلووں پر مشتمل ہیں  اور بلا شبہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں ۔
  8. فقہ اسلامی کے مختلف ابواب  پر تفصیلی و ضخیم تصانیف  جیسے شیخ ابوزہرہ مرحوم کی الاحوال الشخصیۃ، شیخ عبدالقادر عودہ کی التشریع الجنائی الاسلامی مقارنا بالقانون الوضعی  وغیرہ
  9. قدیم تراث کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ اشاعت جدید جیسے الدکتور حسام الدین الفرفور کی نگرانی میں فتاوی شامی کی جدید اشاعت
  10. فقہی ویب سائٹس و سافٹ وئیر کی تیاری جیسے الشبکہ الفقہیہ وغیرہ7
۳۔فقہی مسائل پر اجتماعی غور و غوص کے ادارے وجود میں آئے  ہیں ،جن میں عالم اسلام کے ممتاز فقہا و قانون دان حضرات اہم مسائل پر مشترکہ غور و فکر اور بحث و مباحثہ کرتے ہیں اور اجماعی یا اکثریتی فیصلے کئے جاتے ہیں ۔یہ ادارے ملکی و بین الاقوامی دونوں سطح پر وجود میں آئے ،پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل ، المرکز العالمی الاسلامی (بنوں )مجلس  تحقیق مسائٍل حاضرہ (کراچی ) ،انڈیا میں اسلامک فقہ اکیڈمی ،مجلس تحقیقات شرعیہ   اور ادارہ المباحث الفقہیہ ،مصر میں مجمع البحوث الاسلامیہ ،سعودی عرب میں ھیئہ کبار العلما ، کویت میں الادارہ العامہ للافتاء،یورپ میں یورپی  مجلس برائے افتا و تحقیق ،امریکہ میں فقہائے  شریعت اسمبلی، شمالی امریکی فقہ کونسل ،جبکہ عالم اسلام کی  مشترکہ فورمز میں رابطہ عالم اسلامی کے تحت  مجمع الفقہ الاسلامی ،او آئی سی کے تحت مجمع الفقہ الاسلامی الدولی  اہم ادارے ہیں ۔ان اداروں سے سینکڑوں مسائل  پر فقہی فیصلے جاری ہوئے  ہیں ،انفرادی کاوشوں کی بنسبت یہ اجماعی کوششیں استناد ،قوت ،صحت اور ثقاہت  کے اعلی معیار پر ہیں  اور  عالم اسلام میں ان فیصلون کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔
۴۔ دور جدید میں ریاستی سطح پر فقہ کو نافذ کرنے اور اسلامی ممالک کے دساتیر کو اسلامیانے کے عمل کا آغاز ہوا  اور مختلف اسلامی ممالک میں مختلف فقہی مکاتب کے نفاذ کی کوششیں ہوئیں ، یہ کوششیں اگرچہ زیادہ تر عائلی ،فوجداری اور بعض دیوانی  قوانین  میں ہوئیں ،لیکن بہر حال ان سے جدید  دور میں فقہ کے نفاذ اور جدید قوانین کی اسلامائزیشن کی راہیں ہموار ہوئیں ،پاکستان ،ہندوستان ،سعودی عرب ،مصر ،عراق اور شام میں یہ کوششیں بڑے پیمانے پر ہوئیں ، خاص طور پر پاکستان میں قرار داد مقاصد ،۱۹۷۳ کی اسلامی دفعات ،ضیا ءالحق  کے دور حکومت میں جاری کئے گئے آرڈیننس اور ریاستی سطح پر قوانین کو اسلامیانے کے عمل کو تیز تر بنانے کے لئے شریعت اپیلٹ بینچ اور اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام فقہ اسلامی کے نفاذ کے لئے  اہم سنگ میل ہیں ۔
۵۔دور جدید میں فقہ الاقلیات  معاصر فقہا کا خصوصی موضوع ہے ،یورپ و امریکہ میں مقیم مسلم اقلیتوں کو درپیش مسائل اور ان کے حل پر خصوصی کام ہوا ہے  اور فقہ الاقلیات المسلمہ ایک ممتاز فقہی شعبہ بن گیا ہے ، جس کے اصول و فروع کے انضباط پر مستقل کام ہوا ہے ،اس حوالے سے ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی  فی فقہ الاقلیات المسلمۃ، سید عبد المجید بکر کی الاقلیات المسلمۃ فی اوروبا، محمد یسری ابراہیم کا ضخیم مقالہ فقہ النوازل للاقلیات المسلمہ تاصیلا و تفعیلا، علی بن نایف کی الخلاصۃ فی فقہ الاقلیات، اشرف عبدالعاطی کی فقہ الاقلیات المسلمۃ بین النظریۃ والتطبیق اور شیخ عبد اللہ بن بیہ کی صناعۃ الفتوی و فقہ الاقلیات اہم کتب ہیں ،اس کے علاوہ یورپی مجلس  برائے افتا و تحقیق اور اسلامک فقہ اکیڈمی کی منظور کردہ قرار دادیں فقہ الاقلیات کے مختلف پہلووں پر  اہم فیصلے ہیں ۔
۶۔جدید معاشیات کی اسلامائزیشن اور بینکنگ سسٹم کو اسلامی قوانین سے ہم آہنگ بنانے کے لئے بڑے پیمانے پر کام ہوا ہے ،خصوصا پچھلی تین چار دھائیوں سے  نوے فیصد فقہی کاوشیں مالیاتی نظام سے متعلق ہیں ،دور جدید میں فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا سب سے بڑا مظہر فقہ المعاملات المعاصرہ ہے ،اس فقہی پیراڈائم میں اگرچہ کافی چیزیں محل نظر ہیں  اور اس پر عالم اسلام کے مختلف خطوں سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے لیکن  یہ تنقیدیں   مزید نکھار اور  تنقیح و تہذیب  کا سبب ہیں ،جدید معاشی نظام کے اسلامیانے کا عمل اگر پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے تو فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کا سب سے اہم اور بنیادی مرحلہ عبور ہوجائے گا ۔
۷۔فقہ السیر کے میدان میں قابل قدر تجدیدی کام ہوا ہے ،ڈاکٹرحمید اللہ ،علی علی المنصور ،صبحی محمصانی ،شیخ ابوزہرہ ،شیخ وھبہ الزحیلی اور ڈاکٹر محمود احمد غازی   سمیت  نامور فقہا نے اس میدان میں قابل  قدر کتب لکھی ہیں ،لیکن اکیسویں صدی  میں فقہ السیر کو نئے چلینجز کا سامنا ہے ،خاص طور پر جہاد ،بغاوت، ارتداد،مسلم حکمرانوں کے فسق و تکفیر   اور ان کی اطاعت یا معزولی کا مسئلہ  اور مسلم معاشروں میں خود کش حملوں جیسے مسائل کا فقہ السیر کے اصولوں کی روشنی میں جائزہ لینا  وقت کی اہم ترین ضرورت ہے 8،مسلم امہ  خارجیت  کے افراط اور تجدد پسندی کی تفریط کے درمیان پِس رہی ہے ،بین الاقوامی حالات کے اتار چڑھاو سے لگ رہا ہے کہ اگلی صدی میں مسلم مفکرین کو فقہ السیر پر خصوصی  توجہ دینا پڑے گی ۔
۸۔جدید دور میں مختلف فقہی مکاتب میں  قربتیں بڑ ھ گئی ہیں  اور خاص طور پر اجتماعی فقہی اداروں کے قیام نے مکاتب فقہیہ کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ،اور بقول ڈاکٹر غازی صاحب کہ دنیا ایک عالمی فقہ (کاسموپولیٹن  فقہ )کی طرف بڑھ رہی ہے ،جس میں چارو ں مکاتب سے اخذو استفادہ ہوگا ، البتہ اس  کے نتیجے میں  تلفیق بین المذاہب اور شواذ آرا  کے انتخاب کا رجحان پیدا ہورہا ہے ،جس سے ٹھیٹھ اور روایت پرست فقہا متفق نہیں ہیں ، اسلامی بینکاری کے جواز و عدم جواز پر مبنی  مباحثوں میں  خاص طور پر یہ دونوں رجحانات ممتاز طور پر سامنے آئے  ہیں ۔یہ دونوں رجحانات اپنے دلائل اور بنیادیں رکھتے ہیں  ،ان میں سے کس رجحان کو  قبو ل عام ملتا ہے ،اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا ۔

اختتامی بات

جدید دور میں فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کے بنیادی خاکے اور اس کی مختصر تاریخ  سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ  جدید  تغیرات کے ساتھ چلنے کے لئے فقہ اسلامی کی مستحکم بنیادوں پر تشکیل جدید انتہائی اہم ترین کام ہے ،اس مضمون کا اختتام   فقہ اسلامی کی تشکیل جدید  کے سب سے بڑے داعی ،نامور قانون دان اور ممتاز فقیہ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب رحمہ اللہ کی ایک عبارت پر کرنا چاہوں گا ،جس سے فقہ اسلامی کی تشکیل جدید کی اہمیت  و ضرورت واضح ہوتی ہے ،ڈاکٹر غازی صاحب رحمہ اللہ محاضرات فقہ کے آخری محاضرہ میں فرماتے ہیں:
"اگر دنیائے اسلام کا مستقبل خوشگوار ہے ،اگر د نیائے اسلام کی آئندہ زندگی کا نقشہ ان کی اپنی آرزووں اور تمناوں کی روشنی میں تشکیل پانا ہے ،اگر مسلم ممالک  کی آئندہ سیاسی زندگی خود مختار،آزاد اور باعزت  مستقبل پر مبنی ہے  اور یقینا ایسا ہی ہے تو ایسا صرف اور صرف ایک بنیاد پر ممکن ہے ،وہ یہ کہ مسلمان شریعت اسلامیہ کے بارے میں اپنے عمومی رویہ پر نظر ثانی کریں، دور جدید میں فقہ اسلامی کی فہم از سر نو حاصل کریں اور اس رشتہ گم گشتہ کو بازیاب کریں،جس سے ان کا تعلق گزشتہ کئی سو سال سے ٹوٹ گیا ہے یا کمزور پڑ گیا ہے ۔اس ساری صورتحال میں جو چیز ان کی زندگیوں کو نئی تشکیل عطا کر سکتی ہے ،وہ فقہ اسلامی کا نیا فہم ہے۔فقہ اسلامی کے نئے فہم سے ہر گز یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ نیا فہم ماضی کے فہم  سے مختلف ہوگا ،یا اکابر فقہا ئے اسلام کے فہم و بصیرت پر عدم اعتماد کا غماز ہوگا ،بالکل نہیں ۔بلکہ یہ فہم ماضی کے فہم ہی کا تسلسل ہوگا۔یہ فہم صدر اسلام کے ائمہ مجتہدین کے فہم کا تسلسل اور احیا ہوگا ۔ جس انداز سے اسلام کے ابتدائی چار پانچ سو سال میں فقہ اسلامی نے ان کی رہنمائی کی ،اسی انداز کی  رہنمائی فقہ اسلامی مسلمانوں  کے مستقبل کے لئے کر سکتی ہے اور ان شاء اللہ کرے گی ۔9"

حواشی

1. غازی ،ڈاکٹر محمود احمد ،اسلام کا قانون بین الممالک ، ص ۳۸، شریعہ اکیڈمی اسلام آباد  ۲۰۰۷۔
2. ڈاکٹر عمران احسن نیازی اور ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ کا اس حوالے سے اختلاف معروف ہے۔
3. عطیہ ،جما ل الدین ،تجدید الفقہ الاسلامی ،ص ۷۵ ت ۱۴۰ دار الفکر بیروت ۲۰۰۰۔
4. غازی ،ڈاکٹر محمود احمد ،محاضرات فقہ ، ص۷،۸الفیصل ناشران و تاجران کتب لاہور ۲۰۰۵۔
5. القطان ،مناع ،تاریخ التشریع الاسلامی ، ص ۳۹۷،مکتبہ المعارف، ریاض۱۹۹۶۔
6. غازی ،ڈاکٹر محمود احمد ،محاضرات فقہ ، ص۵۳۳،الفیصل ناشران و تاجران کتب لاہور ۲۰۰۵۔
7. جدید دور کے فقہی ذخیرہ کے تفصیلی تعارف پر راقم الحروف کا مقالہ الشریعہ ج۲۶ شمارہ۵ اور ۶ میں شائع ہوچکا ہے۔
8. اردو میں اس حوالے سے اسلامک یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر مشتاق صاحب کی کتاب" جہاد ،مزاحمت اور بغاوت اسلامی شریعت اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں" اہم کتاب ہے۔
9. غازی ،ڈاکٹر محمود احمد ،محاضرات فقہ ،ص ۵۱۶،۵۱۵،الفیصل ناشران و تاجران کتب ۲۰۰۵۔

دھتکارے ہوئے بھارتی مسلمانوں کی داستانِ کرب ۔ ایک اور پاکستان؟

پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان

شمس الرحمان فاروقی (۱۹۳۵ء) ادبی دنیا کا ایک مقتدر نام ہے۔ وہ شاعر، ادیب، نقاد اور سماجی دانشور ہیں۔ الٰہ آباد سے ایم اے انگریزی بھی کیا ہے اور انوکھے انداز میں تنقیدی کلیے وضع کیے ہیں۔ مختلف اعزازات سے انہیں نوازا گیا ہے۔ پاکستان آچکے ہیں اور کراچی کی ایک باوقار ادبی تقریب میں چبھتے ہوئے سوالوں کا جواب محتاط انداز میں دیا ہے جس کا انہوں نے اپنی تحریر یں ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے انڈین ایکسپریس کی ۵ اپریل کی اشاعت میں ایک بھرپور مضمون لکھا ہے۔ یہ ایک چشم کشا تحریر ہے اور پاکستانی دانشوروں کے لیے ایک لمحۂ فکریہ۔ مضمون ۷۰ سالہ تجربات، مشاہدات کا نچوڑ ہے۔ ڈاکٹر صاحب روایتی طور پر جمعیۃ علماء ہند سے تعلق کے ناطے کانگریس کے وفادار ہیں۔ اس مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر فاروقی بچپن ہی سے سیاسی منظر نامہ کو دیکھ اور سمجھ رہے تھے۔ انہوں نے تقسیم ہند کو بھارتی مسلمانوں کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جو ایک روایتی اپروچ ہے۔ لیکن ایک نقاد کی حیثیت سے انہوں نے اپنے مضمون میں جس توازن اور احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے وہ سامنے نظر آرہا ہے۔ کانگریس اور بھارتی قیادتوں کی تعریف اور توصیف کے پس پردہ وہ اپنے دل کی بات بھی کر گئے ہیں۔ مضمون کا عنوان ایک عالمانہ اور حساس ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔ “تنہائی کا شکار اقلیتوں کی کرب ناک زندگی” ،اگرچہ یہ ترجمہ انگریزی عنوان کی مؤثر شکل نہیں ہے۔
اس مضمون میں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ کئی مرتبہ مختلف انداز میں دہرائی گئی ہیں لیکن ڈاکٹر شمس الرحمان فاروقی کے قلم سے لکھی گئی باتیں پروپیگنڈا یا سیاست بازی کے زمرے میں نہیں آتیں۔ یہ ایک مفکرانہ اور معروضی اظہار حقیقت ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے واضح طور پر بتایا ہے کہ تقسیم کے بعد مسلم دشمنی میں اضافہ ہوا ہے اور اب بات بہت آگے نکل چکی ہے۔ یہ بات ڈاکٹر صاحب کی گرفت میں نہیں آتی کہ ان ہی خدشات نے پاکستان کی تخلیق کی۔ کانگریس کی وزارتوں نے سیاسی، مالی، نظریاتی اور انتظامی اعتبار سے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا اس سے اکٹھا رہنے کے تمام امکانات ختم ہوگئے۔ ڈاکٹر صاحب نے موجودہ قیادتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے دبے لہجے میں یہ کہہ دیا ہے کہ موجودہ صورتحال اگر زیادہ دیر تک قائم رہی تو مسلمان اپنی شناخت سے محروم ہو جائیں گے۔ دراصل یہ کوئی نئی پالیسی نہیں۔ کانگریس کی حکومت ہو یا آر ایس ایس کی، مسلمانوں کے بارے میں ایک جیسی سوچ رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کانگریس نے اپنے نفاق سے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے اور بی جے پی کھل کر مسلمان دشمنی کا اظہار کر رہی ہے۔ امریکی پشت پناہی نے اسے اتنا منہ زور کر دیا ہے کہ وہ مصلحت اور اخفاء کو ضروری نہیں سمجھتی۔
یہ ان کوششوں کا عروج ہے جن کا آغاز بہت پہلے سے ہوا۔ ڈی پی دھرکی سرپرستی میں ایک کمیٹی (کمیشن) بنائی گئی اور اس کے ذمہ اسپین (ہسپانیہ) کے ثقافتی امور کا مطالعہ تھا۔ اصل میں وہ یہ تحقیق کرنا چاہتے تھے کہ اسپین میں مسلمانوں کو کیسے ختم کیا گیا حالانکہ وہاں پر بھی مسلمانوں نے ۶ سو سال حکومت کی تھی۔ سب سے بڑی کامیابی نصاب سازی کی شکل میں ہوئی، بھارت کے تعلیمی اداروں میں ایسا نصاب پڑھایا جا رہا ہے جس سے مسلمانوں کی حکومت کے اثرات ختم کیے جائیں۔ نصاب میں مسلمانوں کو غاصب اور استعماری حکمرانوں کا نام دیا گیا ہے، تاریخ کو مسخ کیا گیا ہے، الٹی سیدھی توجیہیں دے کر یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسلمانوں نے ہندوستان کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ یہ سب عمارتیں ہندوؤں نے بنائیں جن پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔ جب طلباء مہا بھارت کے مقدس مقامات کے بارے میں پوچھتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ کچھ ملیچ (پلید)مسلمانوں کے قبضے میں ہیں جنہیں آزاد کرانا ضروری ہے۔
دراصل بھارت سے ہمارا جھگڑا پانی، سرحدوں اور تجارت کا ہی نہیں، بھارت نے اب تک پاکستان کے وجود کو قبول نہیں کیا۔ ان کا سیاسی نقشہ ہندوکش سے لے کر خلیج ملاکا تک پھیلا ہوا ہے۔ نتھورام گاڈسے کی راکھ ممبئی کے ایک مندر میں محفوظ ہے اور ہر سال اسے باہر نکال کر اس عہد کی تجدید کی جاتی ہے کہ اس راکھ کو اس دن گنگا میں بہایا جائے گا جب نتھو رام کا مشن مکمل ہو جائے گا۔ اور مشن کیا ہے؟ تقسیم ہند کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت کا قیام۔ ان کا تاریخی اور سیاسی فلسفہ داہریت سے جڑا ہوا ہے۔ اسلام وہ واحد دین/عقیدہ ہے جسے وہ ہضم نہیں کر سکے۔ یہ اس دین کی حقانیت کا ثبوت ہے۔
دوسری جانب ہم نے اپنے نصاب کی جو درگت بنائی ہے وہ اب کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ہم تحریک پاکستان کی توانائی کو اپنی آنے والی نسلوں تک منتقل نہیں کر سکے۔ بھارت نے پاکستان دشمنی ہر طالب علم کے بستے تک پہنچا دی ہے۔ ڈاکٹر فاروقی نے اپنی کلاس روم کے ایک استاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم (جسے وہ جناح میاں کہتے ہیں) جب مشرقی پاکستان جائیں گے تو ان کا جہاز بھارت کے وسیع علاقے میں گم ہو جائے گا اور وہ اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔ جب کلاس روم میں یہ پڑھایا جائے تو اس نسل سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کیونکہ قومیں نصاب سے بنتی ہیں۔ اب یہ مسئلہ بیس کروڑ مسلمانوں کا ہے جنہیں کسی صورت بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کی سیاست میں مسلمانوں کے لیے کسی خیر کی گنجائش نہیں۔ اب بھارتی مسلمانوں کے مسائل کا پائیدار حل ایک اور پاکستان ہے۔ یہ نعرہ مسلمانوں کو ایک احساس سمت مہیا کرے گا اور ان کی قوت کو ایک نقطہ ماسکہ فراہم کرے گا۔ ظاہر ہے بھارتی قیادتوں کا ردعمل سفاکانہ ہوگا لیکن قومی اور دینی شناخت کو بچانے کے لیے ایک نسل تو وقف کرنی ہوگی۔ ’’فاش میگویم جہاں برہم زنم‘‘ اگر یہ نعرہ لگ گیا تو کلمہ طیبہ اس کو توانائی بخشے گا۔ پاکستان کی تخلیق میں بھی ایسا ہی ہوا۔
کانگریس نے تین مراحل میں بابری مسجد کو اجاڑا۔ ۱۹۴۸ء میں مسجد میں بت سجائے گئے، اس کے بعد وہاں بتوں کی پرستش بھی شروع کی گئی اور اس کے بعد حملہ کر کے مسجد کو تباہ کر دیا گیا۔ اس وقت کے ایس پی (ضلعی پولیس چیف) آج کل پٹنہ کے ڈی جی پولیس ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑے ربط اور تسلسل کے ساتھ یہ معلومات فراہم کی ہیں۔ مضمون زیر نظر میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے لیے بطور مسلمان کوئی جگہ نہیں ہے۔ بھارت میں آکر رہنا ہے تو پھر گھر لوٹنا ہے یعنی ہندو بن کر رہنا ہے یا ہندونما مسلمان بن کر۔ صاحب دانش حضرات بھارتی جمہوریت کا ذکر بڑے فاخرانہ انداز میں کرتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ بھارت پر کن لوگوں کی حکومت رہی ہے۔ شرع میں نہرو ۱۷ سال تک وزیر اعظم رہے، وہ کشمیری پنڈت (سپرد) تھے جو سب سے اعلیٰ درجہ کے برہمن سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے بعد مسلسل برہمنوں کی حکومتیں رہیں اور ہیں۔ ہندو مت برہمن کو حکومت کا حقدار سمجھا جاتا ہے۔ جے پی نرائن نے پہلی مرتبہ برہمن رول کو مؤثر طریقہ سے چیلنج کیا تو ہنگامی حالت (Emergency) کے تحت بنیادی حقوق کو معطل کیا گیا۔ اسی طرح وی پی سنگھ کا حشر بھی عبرتناک تھا۔ ان حقائق کو ذرا گہری نظر سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بھارت ایک مذہبی حکومت (Theocracy) ہے جس نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے مذہب کو قبول کیا ہے ریاستی سطح پر (Theocracy) کو نہیں۔ تھامس ٹان بی نے اسلامی تاریخ کے اہم واقعات کی درجہ بندی (Ranking) کی ہے۔ سب سے پہلے ریاست مدینہ کا قیام اور اس کے بعد اس نے قیام پاکستان کو رکھا ہے۔ کیونکہ پاکستان عقیدتاً ایک Generic تصور ہے کسیBrand کا نام نہیں۔ جہاں کہیں بھی مسلمانوں کی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی وہاں ایک پاکستان بنے گا۔ اس کا نام مختلف ہو سکتا ہے لیکن وجہ وجود وہی ہوگی جو پاکستان کی تھی۔ اس کی مثال آج کا بوسنیا ہے، اس کا جغرافیہ بے ہنگم سہی لیکن مسلمان وہاں مذہبی طور پر آزاد ہیں، مسجدیں ہیں، مدارس ہیں، موانع پر کسی حد تک کنٹرول ہے اور نئی نسل کو محفوظ کر لیا گیا ہے۔ بھارت میں بات یہاں تک آ پہنچی ہے کہ وہاں کے وزراء کہتے پھرتے ہیں کہ یا رام زادے بنو یا حرام زادے۔ جس کا سلیس لفظوں میں طلب یہ ہے کہ غیر ہندو بالخصوص مسلمانوں کے لیے بھارت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
بنگلہ دیش کی تخلیق کے بعد پاکستان دشمنوں نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبونے کی کوشش کی اور کچھ لوگوں نے پاکستان کے اندر بھی اسی منطق کو دہرایا اور دہرا رہے ہیں۔ لیکن وہ واضح اور غیر مبہم حقیقت کو نفاقاً نظر انداز کر جاتے ہیں کہ پاکستان سے علیحدہ ہونے کے بعد بنگالیوں نے انڈین یونین میں شمولیت اختیار نہیں کی حالانکہ بنگال اور مشرقی بنگال میں بہت کچھ مشترک ہے۔ زبان ایک ہے، لباس اور خوراک بھی ایک جیسی ہے، ثقافتی اور روایتی اقدار بھی کسی حد تک مشترک ہیں۔ لیکن انہوں نے مغربی بنگال کے ساتھ اتحاد نہیں کیا اور ایک علیحدہ ملک بنایا۔ جس کا جواز صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور ان کی شناخت ہندوانہ نہیں ہے۔ ہماری دشمنی اپنی جگہ، اس کے سیاسی و معاشی وجوہ تھے، نظریاتی نہیں۔ اگر بنگالی انڈین یونین میں شامل ہو جاتے تو دو قومی نظریے کو کچھ نقصان ضرور پہنچتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ڈاکٹر فاروقی نے اس طویل نوحہ کے بعد ایک معرکہ کا سوال پوچھا ہے۔ اور وہ یہ کہ کوئی یہ بتائے کہ آج کا عام بھارتی مسلمان پاکستان کو کیوں محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے پاکستان کو جانے والے رستے کیوں پرکشش نظر آتے ہیں؟ حالانکہ ان لوگوں کو پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کے نام تک نہیں آتے۔ وہ بات ادھوری چھوڑ گئے ہیں۔ اس لاعلمی کا مقصد یہ ہے کہ بھارت کے عام مسلمان ہمارے لیڈروں سے نہیں بلکہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں کہ ایسے میں تو پاکستانی عوام اور بھارتی مسلمانوں کے انداز فکر میں کچھ مماثلت سی نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب بین السطور بہت کچھ کہہ گئے ہیں جو مقام فکر ہے۔ آخر میں وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ بھارتی مسلمانوں کے لیے کانگریس ہی ایک آپشن ہے، اس کے نفاق کے باوجود وہ مسلمانوں کو ساتھ رکھنے کے لیے زبانی جمع خرچ تو کرتے ہیں جسے ڈاکٹر صاحب نے Lip Service کا نام دیا ہے۔ بات یہاں نہیں رکتی، کانگریس ہو یا کوئی اور ، مسلمانوں کا مستقبل غیر یقینی رہے گا۔ کے ایل گابا نے اپنی کتاب Passive Voices (مجہول آوازیں) میں بہت پہلے مسلمانوں کی حالت زار بمعہ اعداد و شمار بیان کی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کانگریس کو پھر اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن بھارتی مسلمانوں کے مسائل اور تحفظِ شناخت کے لیے ایک اور پاکستان کی ضرورت ہے، اس میں جو مشکلات او رخطرات پیش آئیں گے اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے لیکن قربانیوں کے بغیر اپنے دینی شناخت کا تحفظ ممکن نہیں، ورنہ گائے کو ذبح کرنا ایک سنگین جرم ہوگا اور مسلمان کو ذبح کرنا ایک قابل قبول ردعمل بات ہوگی جن کا ذکر ڈاکٹر صاحب نے کیا ہے۔ ایک اور پاکستان، یہ نعرہ اب لگ جانا چاہیے۔

قرآن مجید میں تحریف کا جاہلانہ مطالبہ

حافظ عاکف سعید

فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی اور وہاں کے سابق وزیر اعظم کے علاوہ تین سوسیاستدانوں اور دانشوروں نے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے ہیں جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ چونکہ قرآن مجید کے بعض حصے یہود مخالف تعلیمات پر مشتمل ہیں ، لہٰذا انہیں قرآن سے نکال دینا چاہیے۔یہ اعلامیہ فرانس کے روزنامہ Le parisien میں 21 اپریل کو شائع ہوا ہے۔فرانس کے سابق صدر اور وزیر اعظم سمیت ان تمام تین سو سیاستدانوں اور دانشوروں کو اس بات کا شاید علم نہیں کہ قرآن انجیل اور تورات کی طرح نہیں کہ جس میں اپنی مرضی کے مطابق جب چاہا، تحریف کردی۔ قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لیا ہے۔ اس کا اعلان قرآن مجید میں چودہ سو سال قبل کردیا گیا ہے ۔چنانچہ یہ امر واقعہ ہے کہ قرآن چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود اپنی اصل شکل میں موجود ہے اور اس میں زبر زیر تک کی تحریف اپنی سرتوڑ کوششوں کے باوجود بھی کوئی نہیں کرسکا۔
دشمنان اسلام قرآن مجید کے کروڑوں مصحفوں کو تلف بھی کردیں تو امت مسلمہ کے لاکھوں ہی نہیں کروڑوں حفاظ کے سینوں سے قرآن کو نہیں نکال سکتے۔ اس سے پہلے بھی قرآن کے نام پر بہت سی کوششیں کی گئی ہیں کہ اس کا کوئی نیا تحرئف شدہ ایڈیشن تیار کیا جائے ۔پچھلی دہائی میں بھی اس کی کوششیں ہوئیں اور یہود تو اس میں تحریف کرنے کی مسلسل کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی ہر کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی ہے کیونکہ اس کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔بہرحال دشمنان خدا اپنی سی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تو ہمیں اس کے جواب میں کم ازکم یہ تو ضرور کرنا چاہیے کہ قرآن کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کریں۔ رمضان المبارک کے مہینے کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

مذہبی انتہا پسندی کے محرکات

مولانا غازی عبد الرحمن قاسمی

امت مسلمہ جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں ایک اہم مسئلہ مذہبی انتہا پسندی سے متعلق ہے جس کی وجہ سے امن عامہ کا بری طرح متاثر ہونا، عدم برداشت، رواداری کافقدان اور دیگر خوفناک مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔
شریعت اسلامیہ میں جو وسعت اوراعتدال پسندی کا تناسب ہے، اس کو نظر انداز کرتے ہوئے مذہبی تعلیمات اور معاملات کوایسی انتہا کی بھینٹ چڑھادینا جو روح شریعت سے متصادم ہو، مذہبی انتہا پسندی ہے۔ مثلاً ایسے مذہبی احکامات یا معاملات جو مباح یا مستحب ہیں، ان کو فرض یا واجب کے بالمقابل لے آنا اور اسی طرح مکروہ تنزیہی اور اس کے قریب ترین کاموں کو حرام اور مکروہ تحریمی کے دائرہ میں داخل کرنا،یا استحبابی اعمال کے ترک کرنے والے پر سخت تنقید کرنا اور بعض مذہبی معاملات جن میں بحث ومباحثہ کی گنجائش ہے اوروہ اجتہاد اور غورووفکر کے متقاضی ہیں، ان میں صرف اپنی رائے کو اقرب الی الصواب سمجھتے ہوئے دوسروں کی رائے کو مکمل طور پر باطل قرار دینا یا اختلاف رائے کی صورت میں مرنے ومارنے پر اتر آنا یا اس کی دھمکیاں دینا وغیرہ مذہبی انتہا پسندی ہے۔
مذہبی انتہا پسندی کے محرکات اور اسباب کا جب جائزہ لیا جاتاہے تو اس بارے میں متعدد جوہ سامنے آتی ہیں۔ 

فرقہ واریت

اس وقت مذہبی انتہا پسندی کی ایک بڑی وجہ فرقہ واریت ہے۔ ہر جماعت اپنی شناخت اور انفرادیت کے لیے دوسرے سے ممتاز ہونا چاہتی ہے اور خود کو متبع حق سمجھتے ہوئے دوسروں کو راہ راست سے دور سمجھتی ہے اور بسااوقات اسی پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ دوسروں کی تکفیر کرناضروری سمجھا جاتاہے۔ فرقہ واریت کے اس رویے سے عدم برداشت اور انتہا پرستی کے جذبات پروان چڑھتے ہیں،جبکہ قرآن وحدیث میں فرقہ پرستی کی کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام فرقہ واریت سے منع کرتا ہے۔ مگر نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہم لوگ خود کومسلمان کہلواتے ہیں، مگر قرآن وسنت کے بیان کردہ احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنی من مانی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ ان مسائل کے گرداب میں پھنس چکی ہے جو نقصان اورخسران کی طرف لے جا رہے ہیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ جب قرآن وسنت صریح الفاظ میں فرقہ واریت کی مذمت کرتے ہیں توپھر یہ صورت حال کیوں پیدا ہورہی ہے ؟اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ان احکامات کی صحیح طریقے سے وضاحت اور اس حوالہ سے طلباءکی ذہن سازی نہیں ہورہی،وہ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ جو فرقہ ہمارا ہے یہی درست ہے اور باقی غلط ہیں۔جبکہ ان کو یہ باور کرایا جائے کہ وہ جماعت طائفہ منصورہ میں شامل ہوگی جو قرآن وسنت کے مطابق عمل کرے، صرف باتوں تک خود کو محدود نہ رکھے۔

اپنے مسلک یاجماعت کو دوسروں سے افضل سمجھنا

انتہا پسندی کا دوسرا بڑا محرک اپنے مسلک اور جماعت کو دوسروں کے مسالک اور جماعتوں سے نہ صرف بہتر سمجھنا بلکہ زور وشور سے قول وفعل کے ذریعے اس کا پر چار بھی ہے، حالانکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا روز قیامت فیصلہ ہوگا کہ عنداللہ کون مقبول ہے۔
 حدیث میں ایک مسلمان اوریہودی کا واقعہ آتاہے کہ ایک مسلمان اور یہودی کی آپس میں بحث ہوگئی۔ مسلمان نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیاپر فضیلت دی ۔یہود ی نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو دنیا پر فضیلت دی۔ اس پر مسلمان نے یہود ی کے چہرے پر تھپڑ ماردیا ۔یہود ی نے سار ا ماجرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا۔ اس پر آپ نے مسلمان سے صورت حال دریافت کی اور فرمایا:
لا تخیرونی علی موسی، فان الناس یصعقون یوم القیامة فاصعق معھم، فاکون اول من یفیق فاذا موسی باطش جانب العرش فلا ادری اکان فی من صعق فافاق قبلی او کان ممن استثنی اللہ (۱)
”مجھ کو موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو، اس لئے کہ لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہو جائیں گے، میں بھی ان لوگوں کے ساتھ بے ہوش ہو جاوں گا۔ سب سے پہلے مجھے ہوش آئے گا تو میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا کونہ پکڑے ہوئے ہوں گے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ بے ہوش ہو کر مجھے سے پہلے ہوش میں آجائیں گے، یا اللہ تعالیٰ نے ان کو بے ہوشی سے مستثنیٰ کر دیا ہے۔“
امام بدر الدین عینی لکھتے ہیں: ”اور اس حدیث میں ایسی فضیلت بیان کرنے سے منع کیا گیا جو لڑائی جھگڑے کا باعث بنے جیسے کہ مسلمان نے یہودی کو طمانچہ مار دیا۔“(۲)
جب آپ کا اپنی بلندوبالاشان اوررفعت مکان کے باوجوداپنے آپ کو حضرت موسیٰ پر اور پیغمبروں کو ایک دوسرے پر فضیلت دینے سے منع کیا باوجود اس بات کہ آپ امام الانبیاءاور خاتم النبین ہیں تو پھرعصر حاضر میں ا س بات کی گنجائش کہاں نکل سکتی ہے کہ ہر جماعت صرف اپنے آپ کو متبع حق سمجھتے ہوئے دوسروں سے خود کو افضل وبرتر سمجھے اور ایسے افکار وخیالات پھیلائے جو انتہا پسندی کی طرف لے جارہے ہیں؟

مخالفت و موافقت میں انتہا کرنا

مذہبی انتہا پسندی کا ایک اہم سبب اپنے مدمقابل جماعتوں کی مخالفت یا موافقت میں انتہا کرناہے کہ ہروہ کام اور طریقہ اختیار کیا جائے جس سے دیگر مخالف جماعتوں اور گروہوں کی بھر پورمخالفت ہو یاکسی جماعت سے ایسی موافقت کا اظہار ہو کہ اس طرز عمل سے ان کی انفرادیت قائم ہو۔ یہ طرز عمل بسا اوقات اس انتہا تک لے جاتاہے جو دنگا فساد اورقتل وغارت کا موجب بنتے ہیں۔
احادیث مبارکہ میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے جس میں اعتدال پسندی کا حکم اور انتہا پسندی سے دوری کا سبق ملتاہے۔اس کا اطلاق آج کی اس صورت حال پر کیا جاسکتاہے۔
یہود کا طرز عمل تھا کہ ماہواری کے ایام میں اپنی عورتوں سے الگ تھلگ رہتے،کھانا وپینا ،رہائش اور جملہ معاملات ترک کردیتے تھے۔ اور نصاریٰ ان ایام کی کچھ پروا نہ کرتے،اپنی بیویوں سے جماع کرتے تھے۔ اور زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی عادت بھی یہود کی طرح تھی۔(۳۲)صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو جب اس مسئلہ کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو یہ آیات مبارکہ نازل ہوئیں:
وَیَسئَلُونَکَ عَن المَحِیضِ، قُل ھُوَ اَذًی فَاعتَزِلُوا النِّسَاء فِی المَحِیضِ (۳)
”آپ سے یہ لوگ حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں تو آپ ان کو بتا دیجئے کہ حیض ایک طرح کی گندگی ہے لہٰذا زمانہ حیض میں عورتوں سے دور رہو۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید وضاحت بیان فرمادی:
جامعوھن فی البیوت واصنعوا کل شیء غیر النکاح (۴)
 ”ان کے ساتھ گھروں میں رہو، ماہواری کے ایا م میں وطی کے علاوہ دیگر تمام معاملات کی اجازت ہے۔“
جب اس بات کا علم یہود کو ہوا توانہوں نے چہ مگوئیاں شروع کردیں کہ آپ ہر بات میں ہماری مخالفت کرتے ہیں۔ یہ سن کر دو صحابیوں حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد ابن بشر نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات سناکر کہا :” اے اللہ کے رسول ! یہودی ایسی ایسی باتیں کہہ رہے ہیں تو کیا ہم زمانہ حیض میں عورتوں کے ساتھ جماع نہ کر لیا کریں؟“ (۵)
ان دو صحابیوں کی اس بات کامقصود یہ تھا کہ ہم اپنی بیویوں کے ساتھ ان ایام میں جماع کیاکریں تاکہ ان یہودکی انتہائی مخالفت ہوجائے۔ یہ بات سن کر  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اقدس متغیر ہو گیا۔وجہ ناراضی یہ تھی کہ کسی کی مخالفت میں اتنا نہ آگے بڑھ جاو کہ شریعت کی مخالفت اور معصیت کا ارتکاب لازم آئے۔ 
یہود ونصاریٰ نے اس مسئلہ میں جو شدت اور انتہا پسندی اختیار رکھی تھی، اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لیے درمیانی راستہ نکال دیا کہ وطی کے علاوہ باقی معاملات کی اجازت ہے۔ لہٰذا جہاں یہ معلوم ہوا کہ کسی کی مخالفت یا محبت میں اتنا آگے بڑھ جانا جو شریعت کے مقرر کردہ اصو ل وضوابط کے خلاف ہو، وہ ناجائز ہے، وہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام میں انتہا پسند ی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس قسم کی روایات کی ایسی تشریح وتوضیح کی جائے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے افراد شریعت کی اصل روح تک پہنچ سکیں اور اس کے مطابق اپنی زندگیو ں کو ڈھالیں اور معاشرتی زندگی کے بہتربنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

رواداری کا فقدان

اس وقت رواداری بالکل مفقود ہے۔حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ عوام تو ایک طرف، خواص ایک دوسرے کو برداشت کرنا،اکٹھے بیٹھنا تو درکنار، دیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔ ظاہر ہے، جب اس قسم کا طرز عمل مذہبی پیشواوں اور طبقوں کی طر ف سے آئے گا تو عوام پر اس کے اثرات ویسے ہی مرتب ہوں گے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوا م وخواص میں سے رواداری کے جذبات ختم ہوگئے ہیں۔حالانکہ اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتلاتاہے کہ اسلام میں غیرمسلموں کے ساتھ بھی رواداری سے کام لینے کا کہا گیا ہے چہ جائیکہ مسلمانوں کے ایک دوسرے سے تعلقات عدم رواداری کی نذ ر ہوجائیں۔جب اسلام نے غیرمسلموں کے ساتھ رواداری اور حسن سلوک برتنے کا حکم دیا ہے تو وہ کب اس بات کی اجازت دے سکتاہےکہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ رواداری سے نہ پیش آئیں۔
اس وقت فقہائے اربعہ کے پیروکار دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔آپ شروح حدیث ،تفسیر یا فقہ میں حنفی ومالکی،شافعی ،حنبلی اہل علم کی کتب کا مطالعہ کریں تو ان میں بہت سے دیگر فقہی مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے تفسیری یا فقہی اقوال ملیں گے، مثلاً حنفی مفسرین کے اقوال، مالکی وشافعی مفسرین کی کتب تفسیر میں ملیں گے اور اسی طرح ان کے اقوا ل حنفی مفسرین کی تفاسیر میں موجود ہیں۔ علیٰ ہذ االقیاس حنفی کتب فقہ میں دیگر فقہی مسالک کے اہل علم کے اقوال ہیں اور ان کی کتب میں حنفی علماءکے حوالے اور اقتباسات موجود ہیں۔ باوجود اس بات کہ وہ علماءمسلکاً امام ابو حنیفہ، امام مالک،امام شافعی ،امام احمد کی فقہ پر عمل کرنے والے ہیں۔مگر ان کی کتب میں دیگر مسالک کے اہل علم کے حوالے اور اقوال واقتباسات کا موجود ہونا رواداری کی بہت بڑی مثال ہے۔
علامہ ابن عبدالبر مالکی (م -463ھ)نے اپنی مشہور کتاب ”جامع بیان العلم “میں ایک خوبصورت بات لکھی ہے کہ ہمارے اکابر دوران تحقیق دیگر ہم عصر یا متقدم اہل علم کی تحقیق کے برعکس رائے قائم کرنے کے باوجود ایک دوسرے پر فتویٰ بازی نہیں کرتے تھے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں :
 ما برح المستفتون یستفتون فیحل ھذا ویحرم ھذا فلا یری المحرم ان المحلل ھلک لتحلیلہ ولا یری المحلل ان المحرم ھلک لتحریمہ (۶)
”مفتی حضرات ہمیشہ فتویٰ دیتے رہے۔ ان میں سے ایک حلال کا فتوی دیتا ہے اور دوسرا حرام کا فتویٰ دیتاہے۔ حرام کا فتویٰ دینے والا یہ نہیں کہتا کہ حلال کا فتویٰ دینے والا اس فتویٰ کی وجہ سے ہلاک ہوگیا اورنہ حلال کا فتویٰ دینے والا یہ کہتا ہے کہ حرام کا فتویٰ دینے والا اس فتوے کی وجہ سے ہلا ک ہوگیا۔“
امت مسلمہ میں جوا خوت وعصمت کے اثرات ملتے ہیں، اس کی بڑی وجہ روداری ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ علمی وتحقیقی اختلاف کے باوجودقطع تعلقی کو بیچ میں آنے نہیں دیا گیااور اختلاف رائے کو مخالفت میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ جبکہ آج ہم کسی بھی جماعت کی اچھی باتوں کا تسلیم کرناتو در کنار، ان کے وجود کو ہی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ رویہ اسلامی تعلیمات اور ہمارے اکابر کے طرز عمل کے خلاف ہے۔اگر ہم خود قرآن وسنت پر عمل کرنے والا مسلمان اور سابقہ علماءکے علمی ورثہ کا امین ثابت کرنا ہے تو اپنی اس روش کو تبدیل کرنا ہوگا۔ 

اہل علم کی طرف غلط اقوال کی نسبت

مذہبی انتہا پسندی کا ایک اور بڑا محرک دوسرو ں کی طرف غلط اقوال کی نسبت ہے۔جیسا کہ علامہ ابن تیمیہ کی مخالفت کی بڑی وجہ ان کی طرف ایسے غلط اقوال کی نسبت تھی جس سے مقام رسالت میں بے ادبی اور تنقیص کا پہلو نکلتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ آٹھویں صدی ہجری کے آخر میں ایک گروہ مخالفین کا اتنا غلو کرچکا تھا کہ انہوں نے یہ فتویٰ دے دیا تھا جو ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہے، وہ کافرہے۔اس کی تردید میں حافظ شمس الدین الشافعی ( م-842ھ)نے کتاب ”الرد الوافر علی من زعم ان من سمی ابن تیمیة شیخ الاسلام کافر“ لکھی جس میں ستاسی علماءکی ابن تیمیہ کے بارے میں عمدہ کلمات اور تاثرات جس پر حافظ ابن حجر اور امام عینی کی تقاریظ بھی ہیں۔شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتابوں میں بھی امام شعرانی کے بقول یہ عمل ہوا ہے۔ وہ اپنا واقعہ الاجوبة المرضیة میں بیان فرماتے ہیں کہ میری کتاب ”البحر المورود فی المواثیق والمعھود“ میں بعض حاسدوں نے ایسا کردیا اور جامع ازہر میں اس کی خوب تشہیر کی گئی۔ ایک فتنہ کھڑا ہوگیا۔ پھرمیں نے اصل نسخہ جید علماءکی تقریظات کے ساتھ بھیجا تو معاملہ ختم ہوا۔(۷)
اس لیے جب کسی صاحب علم کا ایسا قول ملے جو محل اشکال ہو تو اسی سے رجوع کرنا چاہیے۔ حدیث مبارکہ میں ایک واقعہ آتاہے۔حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ راوی ہیں کہ میری نظر میں مدینہ کے لوگوں میں نمازیوں میں سے کسی کا مکان مسجد سے اتنا دور نہ تھا جتنا کہ ایک شخص کا تھا، مگر اس کی جماعت ناغہ نہ ہوتی تھی۔ میں نے اس سے کہا کہ اگر تم ایک گدھا خرید لو جس پر گرمی کی شدت اور تاریکی کی بنا پر تم سوار ہو کر مسجد آسکو تو بہتر ہوگا۔ اس نے کہا مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد سے متصل ہو۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی پہنچی۔ آپ نے اس سے پوچھا، تیرا اس قول سے کیا مقصد تھا؟ وہ بولا یارسول اللہ، میری غرض اس سے یہ تھی کہ مجھے مسجد میں آنے اور جانے کا ثواب ملے۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا کہ اللہ نے تجھے وہ سب عطا فرمادیا جو تو نے اس سے چاہا۔(۸)
اس صحابی کا یہ کہنا کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد سے متصل ہو، بظاہر بہت سخت بات لگتی ہے مگر آپ نے اس پر کسی قسم کا ردعمل ظاہرکرنے سے پہلے اس کی مراد پوچھی۔ اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ اس حدیث سے جو پیغام مل رہاہے، اس پر عمل کریں۔ مذہبی شخصیات کے اقوال نقل کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرور ت ہے اور محل نظر افکار کی اصل کتب سے مراجعت کرکے رائے قائم کی جائے اور اگر وہ شخصیت زندہ ہوتو اسی سے استفسا ر کیاجائے۔

اسلاف پرستی

اس وقت اسلاف پرستی اس قدر مذہبی طبقوں میں راسخ ہوچکی ہے کہ کسی بھی شخصیت پر جائز اور تعمیری تنقید کا سننا بھی گوارا نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ انبیاء کے بعدکوئی بھی شخص خطا سے معصوم نہیں ہے۔اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ اس کی تحریر یا تقریر میں کبھی کوئی خطا یا لغز ش نہ ہوئی،اور اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو بتقاضائے بشریت یہ معبوب نہیں ہے۔مگر اس وقت جو صورتحال ہے، کسی بھی مسلک کے پیروکار سے اگرکہا جائے کہ اس مسئلہ میں آپ کے امام،استاد یا عالم کی فلاں تحقیق درست نہیں ہے یا اس پر یہ سوالات ہوتے ہیں اور اس کے مقابلے میں فلاں کی بات درست ہے تو وہ لوگ قطع نظر اس بات سے کہ ان کاتعلق کس جماعت سے ہے، شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہیں یا ایسی تاویلات کا سہارا لیں گے جس سے ان کے امام، شیخ، استاد کی بات کی تردید نہ ہوسکے، اگرچہ وہ تاویلیں فاسد ہوں۔اور یہ رویہ بھی صرف موجود ہ دور کا نہیں ہے بلکہ صدیوں پہلے یہ رویہ سامنے آیا اوراب پوری طرح اپنی بنیادوں پر کھڑاہے۔
شیخ الاسلام عزالدین بن عبدالسلام (م -660ھ)لکھتے ہیں :
”اور عجیب تر بات یہ ہے کہ بعض فقہائے مقلدین کو اپنے امام کی دلیل کے ایسے ضعف پر واقفیت ہو جاتی ہے کہ جس کی کمزوری کو دور کرنے کے لیے وہ کوئی راہ نہیں پاتے، اور وہ اس کے باوجود اس مسئلہ میں اسی کی تقلید کرتے ہیں اوران ائمہ کامذہب ترک کر دیتے ہیں جن کی تائید میں کتاب وسنت او ر صحیح قیاسات ہیں ،محض اس لیے کہ ان کو امام کی تقلید سے انحراف گوارا نہیں ،بلکہ کتاب وسنت کے ظاہر مطلب کو دور کرنے کے لیے وہ تدبیریں کرتے ہیں ،اور اپنے امام کے دفاع میں ہرطرح کی بعید اور بے بنیاد تاویلوں سے ان کو احتراز نہیں ہوتا۔“ (۹)
جب اندھی عقیدت وتقلید سے یہ حال ہو کہ سب کچھ جانتے ہوئے کہ اس مسئلہ یا قول ورائے میں اس کے امام کی بات مرجوح اور دوسرے امام کی بات راجح اور حدیث کے زیادہ موافق ہے، تب بھی وہ اپنے امام کی بات کو رد کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا تو پھر انتہا پسندی کی شدت میں کمی نہیں ہوسکے گی۔ جبکہ اگر ان ائمہ یا بزرگوں کی زندگی میں ان سے اختلاف رائے ہوتا تو وہ بھی ایسا نہ کرتے۔ عصر حاضر کے محققین میں یہ حوصلہ ہونا چاہیے کہ ان کی تحقیقات پر اگر کسی کو اعتراض ہوتو وہ اپنی تحقیقات پر نظر ثانی کریں۔ اگر اصلاح کی ضرورت ہو یا رجوع کرنے کی نوبت آئے تو ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے ،اگر اس جماعت کے کسی امام یا عالم کی کوئی اصلاح طلب بات ہو تو اسے تسلیم کرتے ہوئے قبول کرلیا جائے اور خوامخواہ کی بے جان وضاحتوں سے اجتناب کیا جائے۔اور تقلید کا انکار نہیں ہے ،مگراندھی تقلید سے بچنا بھی ضروری ہے۔

حوالہ جات 

1.  البخاری،محمد بن اسماعیل ،ابو عبداللہ ،الجامع الصحیح ،دار طوق النجاة، 1422ھ ،جلد3،صفحہ120
2.  العینی ،بدرالدین،محمود بن احمد ،عمدة القاری شرح صحیح البخاری،بیروت،داراحیاءالتراث العربی،س ن ،جلد 12، صفحہ 250
3.  البقرہ:222
4.  ابو داود،سلیمان بن الاشعث ،السجستانی ،السنن ،بیروت ،المکتبة العصریہ،س ن ،جلد1،صفحہ67
5.  ابو داود،السنن ،جلد1،صفحہ67
6.  ابن عبدالبر،یوسف بن عبداللہ،جامع بیان العلم وفضلہ،المملکة العربیہ السعودیہ،دار ابن الجوزی، 1414ھ، جلد 2، صفحہ 902
7. ندوی ،ابوالحسن علی ،سید ،تاریخ دعوت وعزیمت،لکھنو ،مجلس تحقیقات ونشریات اسلام، 2005ء،جلد2،صفحہ158
8. ابو داود،سلیمان بن اشعث السجستانی ،السنن ،بیروت ،المکتبة العصریة، س ن ،جلد1،صفحہ152
9. ابن عبدالسلام ،عزالدین عبدالعزیز،ابو محمد،قواعد الاحکام فی مصالح الانام،قاہرہ،مکتبة الکلیات الازھریہ، 1414ھ، جلد 2، صفحہ 159

مغربی ممالک کے مسلمانوں کے مسائل اور ذمہ داریاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ، اسلام آباد کے زیر اہتمام شائع ہونے والے مجموعہ “دیار مغرب کے مسلمان: مسائل، ذمہ داریاں، لائحہ عمل” کا دیباچہ۔)

برطانیہ کا پہلا سفر میں نے ۱۹۸۵ءمیں اور امریکہ کا پہلا سفر ۱۹۸۷ءمیں کیا تھا۔ دونوں ممالک کے اس سفر کا ابتدائی داعیہ ”قادیانی مسئلہ“ تھا۔ ۱۹۸۴ءمیں صدر جنرل محمد ضیاءالحق مرحوم نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پاکستان میں اسلام کے نام پر اور مسلمانوں کی اصطلاحات کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے سے قادیانیوں کو روک دیا اور ان کے لیے اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر واصطلاحات کے استعمال کو قانوناً جرم قرار دے دیا تو قادیانیوں نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز لندن کو بنا لیا اور وہاں ”اسلام آباد“ کے نام سے نیا مرکز بنا کر اپنی سرگرمیوں کو اسلام کے نام پر ہی جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔
اس سے پہلے قادیانیوں کا سالانہ جلسہ ربوہ (چناب نگر) میں ہوتا تھا اور اس کے مقابلے میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مسلمانوں کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں ہوا کرتی تھی جس سے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماے کرام خطاب کرتے تھے۔ ۱۹۸۵ءمیں قادیانیوں نے سالانہ جلسہ لندن میں منعقد کرنے کا اعلان کیا تو بعض علماے کرام کو خیال ہوا کہ اس موقع پر مسلمانوں کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس بھی لندن میں ہونی چاہیے۔ چنانچہ حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی، حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی، حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود اور حضرت مولانا محمد ضیاءالقاسمی نے انٹرنیشنل ختم نبوت مشن کے نام سے ایک فورم قائم کر کے لندن میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا او راس کی تیاریاں شروع کر دیں۔ 
میں ایک دن اپنے ایک کام کے لیے لاہور شیرانوالہ گیٹ گیا تو وہاں یہ حضرات اس سلسلے میں صلاح مشورہ کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر مولانا محمد ضیاءالقاسمیؒ نے کہا کہ اچھا ہوا، تم بھی آ گئے ہو۔ ہم یہ مشورہ کر رہے ہیں اور چونکہ تم لکھنے پڑھنے کا کام اچھی طرح کر لیتے ہو اور وہاں تمھاری ضرورت بھی پڑے گی، اس لیے تم بھی ہمارے ساتھ چلو۔ اس زمانے میں برطانیہ کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، صرف پاکستانی پاسپورٹ سفر کے لیے کافی ہوتا تھا اور لندن ایئر پورٹ پر مختصر انٹرویو کے بعد ویزا لگ جایا کرتا تھا۔ یہ حضرات جس تاریخ کو کانفرنس منعقد کرنے کا مشورہ کر رہے تھے، اس کے دو تین ہفتے بعد حج کا موقع آ رہا تھا، اس لیے میں نے کہا کہ اگر واپسی پر حج کی سہولت مل جائے تو میں ساتھ چلنے کو تیار ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا پروگرام بھی یہی ہے، اس لیے تم تیاری کرو۔ چنانچہ ہم نے پروگرام بنا لیا اور لندن کے لیے پہلا سفر میں نے حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی اور حضرت مولانا محمد ضیاءالقاسمی کی رفاقت میں ترکش ایئر لائنز سے کیا۔ راستے میں ہم ایک روز استنبول ٹھہرے اور لندن پہنچ کر ہم نے ختم نبوت کانفرنس کے لیے مختلف شہروں کا دورہ کیا۔ جمعیة علماے برطانیہ نے اس سلسلے میں بھرپور تعاون کیا اور انٹر نیشنل ختم نبوت مشن کے زیر اہتمام لندن کے ویمبلے کانفرنس سنٹر میں اگست ۱۹۸۵ءکے دوران عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ بعد میں یہ انٹرنیشنل ختم نبوت مشن، مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان میں ضم ہو گیا اور دونوں کے اشتراک سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تشکیل پائی، مگر معاملات زیادہ دیر تک اکٹھے نہ چل سکے تو انٹرنیشنل ختم نبوت مشن کے حضرات نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے الگ ہو کر انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے نام سے ایک نئی جماعت قائم کی جو اب تک مسلسل کام کر رہی ہے۔
میں ابتدا میں انٹرنیشنل ختم نبوت مشن کے ساتھ تھا اور اس کے لیے کام کرتا رہا، مگر مجلس تحفظ ختم نبوت میں اس کا انضمام میری سمجھ سے بالاتر تھا اور میرے ذہن میں نقشہ یہ تھا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت حسب معمول پاکستان میں کام کرتی رہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ کام انٹرنیشنل ختم نبوت مشن کے فورم سے ہو اور دونو ں آپس میں تعاون کا کوئی طریق کار طے کر لیں۔ میرے خیال میں ان دونوں کا آپس میں ایک جماعت کے طور پر کام کرنے کا پروگرام قابل عمل نہیں تھا، اس لیے میں نے کنارہ کشی میں عافیت سمجھی ، اسی لیے جب دوبارہ علیحدگی کے بعد انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا تو حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ اور حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کے بار بار اصرار کے باوجود میں نے اس کے نظم کا حصہ بننے سے معذرت کر لی اور اب میری پوزیشن یہ ہے کہ تحفظ ختم نبوت کے مشن اور کاز کے لیے دونوں کا خادم ہوں اور ہر ممکن تعاون کی کوشش کرتا ہوں، مگر نظم میں کسی کا حصہ نہیں ہوں۔
بہرحال یہ پس منظر ہے میرے برطانیہ کے پہلے سفر کا جس کے بعد کم وبیش ہر سال برطانیہ جانے، ختم نبوت کانفرنس میں شریک ہونے اور اس کے لیے کچھ نہ کچھ خدمت سرانجام دینے کا معمول بن گیا جو ایک عرصہ تک جاری رہا کہ موسم گرما کے دو تین ماہ کے لیے میں برطانیہ چلا جاتا تھا، البتہ مدرسہ نصرة العلوم میں اسباق کی باقاعدہ ذمہ داری قبول کر نے کے بعد سے یہ معمول تبدیل ہو گیا ہے۔ اب صرف ششماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران دو اڑھائی ہفتے کے لیے برطانیہ جانے کا موقع مل جاتا ہے جبکہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت اسی وجہ سے کئی برسوں سے نہیں ہو رہی۔
امریکہ کے پہلے سفر کا پس منظر بھی یہی تھا کہ ۱۹۸۷ءمیں امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کے لیے امداد کی بحالی کی شرائط میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے دستوری فیصلے اور انھیں اسلام کے نام پر سرگرمیاں جاری رکھنے سے روکنے کے لیے صدارتی آرڈیننس کو واپس لینے کی شرط بھی شامل کر دی اور قومی سطح پر قادیانی مسئلہ کے سلسلے میں عالمی دباو نے ¶ ایک نئی صورت اختیار کر گیا۔ اس پر حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری زید مجدہم نے ایک روز مجھ سے کہا کہ اگر ہم دونوں امریکہ کا سفر کریں اور قادیانیت کے سلسلے میں وہاں اپنے موقف کی وضاحت کے لیے محنت کریں تو یہ بہت مفید رہے گا۔ حضر ت میاں صاحب کو اللہ تعالیٰ نے انگلش میں گفتگو کی اچھی صلاحیت سے نوازا ہے اور قادیانی مسئلہ کے مالہ وماعلیہ سے بحمد اللہ تعالیٰ مجھے کچھ نہ کچھ واقفیت حاصل ہے، اس لیے مجھے یہ جوڑ اچھا لگا اور میں نے آمادگی کا اظہار کر دیا۔ حضرت میاں صاحب نے ہی ویزا لگوایا اور سفر کے اخراجات برداشت کیے، لیکن جب ہم امریکہ پہنچے تو اس مشن کے لیے کوئی منظم کام نہ کر سکے اور مکی مسجد بروک لین نیو یارک میں کم وبیش ایک ہفتہ تک قادیانیت کے موضوع پر میرے روزانہ دروس کے علاوہ اس عنوان پر اور کچھ نہ کیا جا سکا، لیکن ویزا چونکہ پانچ سال کا لگ چکا تھا، اس لیے موسم گرما میں برطانیہ آمد کے موقع پر میرا کچھ دنوں کے لیے امریکہ حاضر ہونے کا معمول بھی بن گیا جو اب تک کسی نہ کسی طور پر جاری ہے۔
برطانیہ اور امریکہ کے لیے میرے اسفار کا آغاز قادیانی مسئلہ کے حوالے سے ہوا تھا اور کئی برس تک سرگرمیوں کا محور یہی مسئلہ رہا، مگر وہاں کے حالات، مسلمانوں کے مسائل ومشکلات اور مسلمانوں اورمغرب کی فکری وثقافتی کشمکش کے تناظر میں مشاہدات ومحسوسات اور تاثرات کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا رہا اور ملت اسلامیہ کے دیگر مسائل ومعاملات بھی تگ وتاز کے اہداف میں شامل ہوتے گئے، حتیٰ کہ گزشتہ صدی کے آخری عشرہ کے آغاز میں جب لندن میں حضرت مولانا محمد عیسیٰ منصوری زید مجدہم کی رفاقت سے ورلڈ اسلامک فورم کے قیام کا فیصلہ کیا تو جدوجہد اور سعی و محنت کے مقاصد کا افق اور زیادہ وسعت اختیار کر گیا۔ 
حضرت مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے ساتھ ملاقات اور رفاقت کا معاملہ بھی اچانک اور اتفاقاً ہوا۔ ہمارا پہلے سے کوئی باہمی تعارف نہیں تھا۔ میں ان دونوں اپٹن پارک میں سیلون روڈ کے اسلامک سنٹر میں ٹھہرا ہوا تھا۔ آل گیٹ کے علاقے میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک جلسہ تھا جس میں مولانا منصوری اور راقم الحروف نے خطاب کیا۔ ہم دونوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھا اور سنا اور دونوں کا ابتدائی تاثر یہ تھاکہ ہم ایک دوسرے کے کام کے آدمی ہیں۔ جلسہ کے اختتام پر میں نے مولانا منصوری کو اپنی قیام گاہ پر آنے کی دعوت دی۔ اگلے روز وہ تشریف لائے۔ کوئی گھنٹہ بھر مختلف مسائل پر گفتگو ہوئی اور ہم نے باہمی رفاقت کا رشتہ استوار کر لیا۔ اس کے بعد ورلڈ اسلامک فورم تشکیل پایا اور ہمارے ساتھ اور بھی دوست شامل ہوتے چلے گئے۔
امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ مجھے ایک موقع پر کینیڈا جانے کا بھی موقع ملا اور کچھ دن میں نے وہاں گزارے۔ اس کے علاوہ مغربی ممالک میں سے کسی اور ملک میں جانے کا اب تک اتفاق نہیں ہوا او رکئی بار خواہش اور ارادے کے باوجود کسی اور مغربی ملک میں حاضری کی کوئی صورت نہیں بنی، البتہ ان تین مغربی ممالک میں گزشتہ تیئس سال کے دوران سینکڑوں اجتماعات سے خطاب، بیسیوں تعلیمی اداروں کے ساتھ مشاورت اور ہزاروں افراد سے ملاقاتوں کا موقع ملا اور مختلف حوالوں سے میں اپنے تاثرات ومشاہدات کو قلم بند بھی کرتا رہا جو متعدد جرائد واخبارات میں شائع ہوتے رہے۔ ان مضامین اور خطابات کا ایک منتخب مجموعہ عزیزان حافظ محمد عمار خان ناصر اور مولانا محمد یونس قاسمی نے زیر نظر کتاب کی صورت میں مرتب کر دیا ہے جو قارئین کے سامنے ہے۔
یہ مضامین وخطابات کسی ایک موضوع پرمرتب ومربوط انداز میں خیالات کی ترجمانی نہیں کرتے، بلکہ مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کو درپیش مختلف النوع مسائل ومشکلات اور مغرب کے حوالے سے عالم اسلام کو درپیش چیلنجز کے بارے میں مختلف مواقع او رمقامات پر کی گئی گفتگو اور تحریر کیے گئے تاثرات واحساسات کا مجموعہ ہیں، اس لیے قارئین سے درخواست ہے کہ انھیں اسی پس منظرمیں دیکھا جائے اور ان کے اصل پیغام کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
اللہ تعالیٰ ہماری اس سعی کو قبولیت سے نوازیں اور دین وملت کے لیے کسی نہ کسی انداز میں مثبت اور موثر خدمت کا سلسلہ آخر دم تک جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

حضرت مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاریؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاریؒ گزشتہ ماہ انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کافی دنوں سے علالت میں اضافہ کی خبریں آرہی تھیں، اس دوران ایک موقع پر ملتان حاضری اور بیمار پرسی کا موقع بھی ملا اور ان کے فرزند گرامی مولانا سید عطاء اللہ شاہ ثالث سے وقتاً فوقتاً ان کے احوال کا علم ہوتا رہا مگر ہر آنے والے نے اپنے وقت پر اس دنیا سے رخصت ہو جانا ہے اور شاہ جی محترمؒ بھی ایک طویل متحرک زندگی گزار کر دار فانی سے رخصت ہوگئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاریؒ کے ساتھ میرا ربط و تعلق اس دور سے چلا آرہا ہے جب وہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخل ہوئے تھے اور کچھ عرصہ انہوں نے جامعہ میں گزارا تھا۔ میرا بھی طالب علمی کا دور تھا اور حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمارا کچھ دوستوں کا ایک گپ شپ کا حلقہ بن گیا تھا جس میں مولانا سعید الرحمان علویؒ اور مولانا عزیز الرحمان خورشید بھی ہمارے ساتھ شریک تھے۔ کم و بیش روزانہ شام کو چائے کی محفل جمتی تھی اور ادبی، سیاسی، دینی اور سماجی نوعیت کے مختلف امور پر تبادلۂ خیالات ہوتا تھا اور خالص ’’احراریانہ ذوق و ماحول‘‘ کی اس پر لطف مجلس میں بعض دیگر دوست بھی شامل ہو جایا کرتے تھے۔ اس کے بعد ہمارے جماعتی راستے تو الگ الگ رہے مگر دینی تحریکات میں تھوڑی بہت رفاقت، اجتماعات میں مشترکہ شرکت اور وقتاً فوقتاً تبادلۂ خیالات کا سلسلہ چلتا رہا۔ بعض مسائل میں باہمی اختلاف ہو جاتا تھا اور ہم آپس میں گرمی سردی کا اظہار بھی کر لیا کرتے تھے مگر باہمی مودت و محبت اور احترام کا رشتہ بدستور قائم رہا۔
ایک موقع پر شاہ جی مرحوم نے انتہائی درد دل اور فکرمندی کے ساتھ دیوبندی مکتب فکر کے سب حلقوں اور جماعتوں کو ایک مشترکہ فورم پر جمع کرنے کے لیے اچھی خاصی محنت کی بلکہ دل و جگر کا خون جلایا اور ’’کل جماعتی مجلس عمل علماء اسلام پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک مشترکہ فورم تشکیل دینے میں کامیاب ہوگئے جس کا سربراہ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کو چنا گیا اور رابطہ سیکرٹری کی ذمہ داریاں مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاریؒ نے سنبھال لیں۔ نیلا گنبد لاہور میں بھرپور ملک گیر اجتماع ہوا جس میں دیوبندی مکتب فکر کے کم و بیش سبھی حلقے اور جماعتیں شریک تھیں، مجھے بھی اس کی ہائی کمان میں شاہ جی کے معاون کے طور پر تھوڑا بہت کام کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران انہوں نے ’’امریکہ مردہ باد‘‘ کے عنوان سے عوامی رابطہ کی مہم چلائی اور مختلف شہروں میں عوامی ریلیوں کا اہتمام کیا مگر یہ بات زیادہ دیر تک نہ چل سکی جس کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ ہمارا دینی حلقوں اور جماعتوں کا یہ مزاج تقریباً پختہ ہوگیا ہے کہ کسی دینی یا قومی مسئلہ پر انتہائی گرم جوشی کے ساتھ مہم کا آغاز کرتے ہیں مگر یہ گرم جوشی جلسہ و جلوس کی حد تک ہی رہتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی صورتحال چند جلسوں اور جلوسوں کے بعد زیادہ عرصہ جاری نہیں رہ پاتی۔ گزشتہ نصف صدی کے دوران مجھے درجن بھر ایسی مہمات کے ساتھ شریک ہونے کا موقع ملا ہے مگر دو تین تحریکوں کے سوا کسی مہم جوئی کو چند سالوں بلکہ زیادہ تر کو کچھ مہینوں سے آگے بڑھتے دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ شاہ جی مرحوم نے زندگی کے آخری چند برسوں میں اس مہم کا دوبارہ آغاز کیا اور مختلف دیوبندی جماعتوں کے قائدین کو ایک جگہ بٹھانے میں پھر کامیابی حاصل کی لیکن بات اس سے آگے نہ بڑھ سکی۔ مگر اس کے ساتھ ہی شاہ جیؒ کی علالت بڑھتی چلی گئی اور وہ مستقل صاحب فراش ہوگئے۔
مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاریؒ کے ساتھ ہمارے ربط و تعلق کا ایک اور میدان بھی تھا۔ گوجرانوالہ کے شیرانوالہ باغ میں عیدین کی نماز کا اہتمام کافی عرصہ سے مجلس احرار اسلام کرتی آرہی ہے اور امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے فرزندان گرامی میں سے کوئی بزرگ ملتان سے تشریف لا کر شیرانوالہ باغ میں نماز عید پڑھاتے رہے ہیں۔ جبکہ شیرانوالہ باغ سے متصل مرکزی جامع مسجد کے خطیب کی حیثیت سے مجھے کم وبیش نصف صدی سے قبرستان کلاں مبارک شاہ روڈ کے ساتھ متصل گراؤنڈ میں نماز عید پڑھانے کا اعزاز حاصل ہے۔ دونوں جگہوں میں خاصا فاصلہ ہے اس لیے عام طور پر کبھی کوئی مسئلہ کھڑا نہیں ہوا البتہ بارش کی صورت میں ہم نماز عید مرکزی جامع مسجد میں پڑھتے ہیں اور دونوں اجتماعوں کے درمیان صرف ایک دیوار کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ ایسے موقع پر ہم باہمی مشورہ سے نماز عید کے وقت میں اتنا وقفہ رکھ لیتے ہیں کہ کوئی الجھن نہ پیدا ہو۔ مگر چند سال قبل عید کے موقع پر بارش کی وجہ سے شیرانوالہ باغ کی گراؤنڈ بھی قابل استعمال نہ رہی تو میں نے حضرت شاہ جیؒ کو پیغام بھجوایا کہ وہ جامع مسجد میں ہی نماز عید کا خطبہ ارشاد فرمائیں، ہم اکٹھے عید پڑھ لیں گے، انہیں اس پر حیرانی ہوئی مگر بہت خوش ہوئے اور تشریف لا کر خطبہ و نماز کی امامت فرمائی، اس کے بعد بھی چند بار ایسا ہو چکا ہے۔
شاہ جی مرحوم ہمارے قابل احترام بزرگ تھے اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے فرزند ہونے کے تعلق سے دیگر سب اہل خاندان کی طرح ہماری عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز بھی تھے۔ آج وہ ہم سے رخصت ہوگئے ہیں لیکن ان کی یادیں تازہ رہیں گی اور دین حق کے لیے ان کی جدوجہد کا تسلسل بھی ان شاء اللہ العزیز قائم رہے گا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں اور ان کے خاندان و متعلقین بالخصوص ان کے فرزند مولانا سید عطاء اللہ شاہ ثالث کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا نظریہ تخریج (۳)

ایک تنقیدی جائزہ

مولانا عبید اختر رحمانی

اب ہم ذیل میں چند وہ مثالیں ذکر کریں گے جن سے واضح ہوگاکہ امام صاحب نے نہ صرف ابراہیم نخعی کے قول کو ترک کیاہے بلکہ فقہاء کوفہ کو چھوڑ کر اس معاملہ مکی اورمدنی فقہ سے اورفقہاء سےا ستفادہ کیاہے۔
مُحَمَّد، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَۃ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاہيمَ أَنَّہ قَالَ فِي الرَّجُلِ يَجْلِسُ خَلْفَ الْإِمَامِ قَدْرَ التَّشَہُّدِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ الْإِمَامُ، قَالَ: «لَايُجْزِئُہ» وَقَالَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ: «إِذَا جَلَسَقَدْرَ التَّشَہّدِ أَجْزَأَہ» قَالَ أَبُو حَنِيفَۃ: قَوْلِي قَوْلُ عَطَاءٍ قَالَ مُحَمَّد: وَبِقَوْلِ عَطَاءٍ نَأْخُذُ نَحْنُ أَيْضًا    (کتاب الآثارللامام محمدؒ،ص:1/475)
جوشخص امام کے پیچھے تشہد کے بقدر بیٹھے(قعدہ اخیرہ میں)اور پھر امام کے سلام پھیرنے سے قبل چلاجائے ،ایسے شخص کے بارے میں ابراہیم کی رائے یہ ہے کہ اس کی نماز نہیں ہوئی اور عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ جب وہ امام کے پیچھے تشہد کے بقدر بیٹھ چکاتواس کی نماز ہوجائے گی ،امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں عطاکاقول میراقول ہے، امام محمد فرماتے ہیں کہ ہم بھی عطاء کے ہی قول کو اختیار کرتے ہیں۔
مُحَمَّد، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَۃ، عَنْ حَمَّاد، عَنْ إِبْرَاہيمَ، قَالَ: «إِذَا تَخَالَجَكَ أَمْرَانِ، فَظُنَّ أَنَّ أَقْرَبَہمَا إِلَی الْحَقِّ أَوْسَعُہمَا» مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّہ قَالَ: «يُعِيدُ مَرَّۃ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِہ نَأْخُذُ، وَہوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃ رَضِيَ اللَّہ عَنْہ (کتاب الآثارللامام محمدؒ،ص:463)
جب کسی کو نماز میں شک ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تواس بارے میں عطابن ابی رباح کا قول یہ ہے کہ پہلی مرتبہ ہوتونماز کو لوٹاناچاہئے،امام محمد فرماتے ہیں کہ مجھے یہی قول پسند ہے اوریہی قول امام ابوحنیفہؓ کا بھی ہے۔
مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَۃ، عَنْ عَبْدِ اللَّہ بْنِ سَعِيدِ بْنِ [ص:470] أَبِي ہنْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: إِنَّ فُلَانًا عَطَسَ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَشَمَّتَہ فُلَانٌ، قَالَ: «مُرْہ فَلَا يَعُودَنَّ»[ص:471] قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِہذَا نَأْخُذُ. الْخُطْبَۃُ بِمَنْزِلَۃ الصَّلَاۃ لَا يُشَمَّتُ فِيہا الْعَاطِسُ ، وَلَا يُرَدُّ فِيہا السَّلَامُ. وَہوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَۃ رَضِيَ اللَّہ عَنْہ (کتاب الآثارللامام محمدؒ،ص:472)
مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَۃ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاہيمَ، قَالَ: «يُرَدُّ السَّلَامُ وَيُشَمَّتُ الْعَاطِسُ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَۃ»  قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَسْنَا نَأْخُذُ بِہذَا، وَلَكِنَّا نَأْخُذُ بِقَوْلِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ رَحِمَہ اللَّہ تَعَالَی (کتاب الآثارللامام محمدؒ،ص:469)
جب جمعہ کا خطبہ شروع ہو،ایسے میں اگرکوئی سلام کرے،یاکسی کو چھینک آجائے اس کا جواب دینے کے بارے میں سعید بن المسیب کی رائے یہ ہے کہ نہ سلام کا جواب دیاجائے اورنہ چھینک کا ،جب کہ ابراہیم نخعی کی رائے یہ ہے کہ سلام اورچھینک کا جواب دیاجائے،امام محمد فرماتے ہیں ہم ابراہیم نخعی کے قول کو اختیار نہیں کرتے ہیں، ہم اس مسئلہ میں سعید بن المسیب کا قول اختیار کرتے ہیں اوریہی قول امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کابھی ہے۔
کتاب الآثار حضرت شاہ ولی اللہ کے موقف کی دلیل نہیں، بلکہ ان کی بات کی تردید کرتی ہے اوراس بات کو بخوبی واضح کرتی ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ نے اپنے قول اورمسلک میں کسی علاقائی حد بندی میں محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے ہرجگہ سے کسب فیض کیاہے، چاہے وہ کوفی فقہ ہو،مکی فقہ ہو یامدنی فقہ ہو اورحضرت شاہ ولی اللہ کا یہ کہناکہ’’ وہ ابراہیم کے اقوال سے باہر نہیں جاتے اوراگرابراہیم کے اقوال سے کہیں باہر نکلتے بھی ہیں تو فقہائے کوفہ کے اقوال سے باہر نہیں جاتے’’اس کی بہترین تردید خود کتاب الآثار کررہی ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کایہ کلام کہ امام صاحب فقہ کوفی کے متبع ہیں، اس کی احسن طورپر تردید خود امام شافعی کی کتاب الام میں باب اختلاف علی وعبداللہ بن مسعود سے ہوتی ہے،جس میں امام شافعی نے ان مسائل کی نشاندہی کی ہے، جہاں احناف نے یاامام ابوحنیفہؓ نے حضرت علیؓ اورحضرت عبداللہ بن مسعودؓ رضی اللہ عنہ کے قول سے اختلاف کیاہےاوریہ باب خاصا طویل ہے،تعجب ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ امام شافعی کے ساتھ خصوصی شغف رکھتے ہیں(الانصاف فی بیان سبب الاختلاف،ص:۸۶) اوران کی کتابوں میں کتاب الام کا حوالہ بھی ملتاہے، ان کی نظر کیسے اس باب میں چوک گئی؟حضرت امام شافعی کا طرز عمل اس باب میں یہ ہے کہ وہ اولاًحضرت علیؓ یاحضرت عبداللہ بن مسعود کی فقہی رائے نقل کرتے ہیں اورپھر بتاتے ہیں کہ اس مسئلہ پر احناف کا عمل نہیں ہے،امام شافعی نے اس کا اہتمام کیاہے کہ ہراہم فقہی باب میں ان حضرات کی رائے نقل کرنے کے بعد یہ بتایاجائے کہ اس رائے پر احناف عمل نہیں کرتے ہیں(دیکھئے،کتاب الام للامام الشافعی ۷؍۱۷۲ تا۷؍۲۰۰) صرف نمونہ کے لحاظ سے ایک مثال ذکر کی جاتی ہے:
أَخْبَرَنَا ابْنُ مَہْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عَلِيًّا سُئِلَ عَنْ الْقُبْلَۃ لِلصَّائِمِ فَقَالَ: مَا يُرِيدُ إلَی خُلُوفِ فَمِہا وَلَيْسُوا يَقُولُونَ بِہذَا يَقُولُونَ: لَا بَأْسَ بِقُبْلَۃ الصَّائِمِ.(کتاب الام ۷؍۱۹۹)
عبیدبن عمیر کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ سے ایسے روزہ دار کے بارے میں پوچھاگیاجس نے اپنی بیوی کا بوسہ لیاہو، حضرت علی ؓ نے فرمایاکہ شاید وہ اپنے منہ کی بو کوبرقرارنہیں رکھناچاہتا،جب کہ احناف کا قول حضرت علی ؓ کے اس قول کے مطابق نہیں ہے ،وہ کہتے ہیں کہ روزہ دار کے بوسہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
رواس قلعہ جی عالم عرب کے مشہور محقق ہیں اورانہوں نے اسلاف کی فقہ پر بڑامعتبر اوروقیع کام کیاہے، اورہرشخصیت کے فقہی آراء کا علاحدہ موسوعہ تیار کیاہے،ان کی اس پہلی کی اہل علم نے ستائش کی ہے ،ان کا ایک فقہی موسوعہ حضرت ابراہیم نخعی پر ہے، جس میں انہوں نے حضرت ابراہیم نخعی کے تمام اجتہادی آراء کو تفصیل کے ساتھ مزین کیاہے۔کتاب کے پہلے باب میں جہاں انہوں نے حضرت ابراہیم نخعی کی شخصیت اوران کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی ہے، وہیں ایک باب انہوں  نے اس عنوان سے بھی قائم کیاہے کہ حضرت ابراہیم نخعی کی شخصیت کا فقہ حنفی پر کیااثر پڑاہے، اس باب میں انہوں نے پہلی بات تویہ کہی ہے کہ وہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے تجزیہ سے بالکل متفق ہیں کہ ابراہیم نخعی کے اقوال ہی فقہ حنفی کا مصدر اورسرچشمہ ہیں اورانہی کےا قوال پر امام ابوحنیفہ اورصاحبین تخریج کرتے ہیں، اس دعویٰ کو انہوں نے یہ کہہ کر مؤکد کیاہے :
ولقد اخذت عینۃ مؤلفۃ من مائۃ مسألۃ فرعیۃ من فقہ ابراہیم النخعی، فوجدت أن أباحنیفۃ یوافقہ فی أربع وثمانین مسألۃویخالفہ فی ست عشرۃ مسألۃ ،نعم ان اباحنیفۃ اخذ فقہ ابراہیم النخعی ،ولکن اخذہ کان اخذ العالم المجتھد الواعی ،عن المجتھد الواعی (موسوعۃ فقہ ابراہیم النخعی ۱؍۱۵۰)
میں نے ابراہیم نخعی اورحنیفہ کے فروعی مسائل کا تقابلی جائزہ لیا تو پایا کہ سومسائل میں سے ۸۴مسائل میں دونوں متفق ہیں اور ۱۶مسائل میں دونوں میں اختلاف ہے ،ہاں یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ امام ابوحنیفہ کاابراہیم نخعی کی فقہ کو اختیار کرنا اسی قبیل سے ہے جس قبیل سے ایک مجتہد دوسرے مجتہد کی رائے کو اختیار کرتاہے۔
اولاًتویہ رائے بذات خود قابل تنقید نظرآتی ہے ،کیونکہ محض کتاب الاثار کے مطالعہ سے ہمیں پتہ چلتاہے کہ ابراہیم نخعی کے امام ابوحنیفہ کی مخالفت تقریباًپچاس سےز ائد ہے،ایسے میں ان کامحض سولہ کی تعداد بیان کرنا درست نہیں ہے،دوسری بات یہ ہے کہ ابراہیم نخعی کے مربی ،علمی سرپرست اورماموں حضرت علقمہ کے فقہی آراء پرعبدالرحمن یوسف اسماعیل ملاوی نے اپنے ایم اے کا مقالہ جامعہ ام القریٰ میں لکھاہے، اس میں انہوں نے حضرت علمقہ کے فقہی آراء اوراحناف کے فقہی آراء کا تقابلی مطالعہ کیاہے ،اس کاخلاصہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:
وقد بلغت المسائل التی جمعتھا لعلقمۃ مائۃ وتسع مسائل تأثرالحنفیۃ فیہا فی احدی وثمانین مسألۃ ،وھذادلیل واضح علی تاثر الحنفیۃ بفقہ علقمۃ بن قیس النخعی(فقہ علقمہ بن قیس النخعی فی العبادات واثرہ فی الفقہ الحنفی۳)
اب سومیں سےچوراسی مسائل میں نخعی کی موافقت کی بناء پر نظریہ تخریج درست ٹھہرتاہے تواس کے بالمقابل ۱۰۹میں سے ۸۱مسائل میں موافقت کی بناء پر علقمہ کی تخریج کا نظریہ کیوں نہ تسلیم کیاجائے،بالخصوص جب کہ امام ابوحنیفہ نخعی سے زیادہ علقمہ کی فقاہت کے قائل ہیں، چنانچہ آپ کا ہی مناظر شاہ ولی اللہ نے نقل کیاہے  کہ آپ نے  فرمایا: اگرشرف صحبت کا پاس نہ ہوتا تومیں کہتاکہ علقمہ ابن عمر سے زیادہ فقیہ ہیں۔
اوراگرمحض موافقت ہی نظریہ تخریج کیلئے کافی ماناجائے تو حضرت عبداللہ بن مسعود اورحضرت عمرؓ کی فقہی آراء میں کافی موافقت ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود کے بارے میں یہ منقول ہے کہ وہ حضرت عمرؓ کاقول ملنے پر اپنی فقہی رائے ترک کردیتے تھے اوریہ فرماتے تھے کہ اگر سارے لوگ بھی کسی الگ وادی میں چلیں اور حضرت عمرؓ الگ وادی میں چلیں تو میں عمر کی وادی میں چلناپسند کروں گا یعنی ان کی رائے کی موافقت کروں گا،ان تاثرانہ اقوال اور فقہی آراء میں موافقت کی وجہ سے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو حضرت عمرؓ کے قول پر تخریج کرنے والا کیوں نہ ماناجائے۔

نظریہ تخریج کی عدم وضاحت اورالجھن

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اہل الرائے اوراہل الحدیث کے درمیان جوہری فرق’’تخریج ‘‘کو قراردیا،لیکن تخریج کی بحث میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے نظریہ میں کچھ الجھن سی محسوس ہوتی ہے،مثلا ماقبل میں آپ نے ملاحظہ کیاکہ انہوں نے اہل حدیث کے بالمقابل تخریج کواحناف یا اہل الرائے کا شعار وطرزعمل قراردیا اور اسی کو اہل حدیث اوراہل الرائے میں وجہ امتیاز بیان کیا،لیکن ایک جگہ حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ تخریج کا عمل محدثین کے بھی یہاں جاری ہے :
 وَكَانَ أہل التَّخْرِيج مِنْہم يخرجُون فِيمَا لَا يجدونہ مُصَرحًا، ويجتہدون فِي الْمَذْہب، وَكَانَ ہؤُلَاءِ ينسبون إِلَی مَذْہب أحدہم فَيُقَال: فلَان شَافِعِيّ، وَفُلَان حَنَفِيّ، حجۃ اللہ البالغۃ (1/ 261)
“اور اہل حدیث میں سے تخریج کرنے والے جب کسی مسئلہ کے بارے میں کوئی صریح قول نہیں پاتے تھے تو وہ تخریج کرتے ہوئے اور یہ لوگ مجتہد فی المذہب کے درجہ پر تھے اوریہ لوگ کسی ایک جانب منسوب نہیں کئے جاتے تھے جیساکہ دوسروں کو حنفی شافعی کہاجاتاتھا”
مزید برآں حضرت شاہ ولی اللہ اسی مبحث میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ تخریج کا عمل ہرایک کے یہاں کثرت سے ہواہے(مراد اہل الرائے اوراہل الحدیث ہیں) - (الإنصاف في بيان أسباب الاختلاف،ص 61) پھر حضرت شاہ ولی اللہ ہی اسی مبحث میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ تخریج کا عمل دوصدی کے بعد ہوا ہے،یعنی تیسری صدی میں ۔  (الإنصاف،ص68)
سوال یہ ہے کہ اگر تخریج کا ظہور دوسری صدی ہجری کے بعد تیسری صدی ہجری میں ہواہے اور وہ بھی تھوڑا بہت ،توپھر حضرت امام ابوحنیفہ اور صاحبین جن کا انتقال تیسری صدی ہجری سے قبل ہوچکاتھا، ان کو ابراہیم کےا قوال پر تخریج کرنے والابتانا کہاں تک درست ہوسکتاہے؟
حضرت شاہ ولی اللہ کے تخریج کے نظریہ میں اس الجھن کو دکتور عبدالمجید نے بھی محسوس کیا ہے،چنانچہ وہ حضرت شاہ ولی اللہ کے نظریہ تخریج کے داخلی الجھنوں اورموقف میں تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
 اور ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ محدث دہلوی پہلے  تخریج کا ایک زمانہ متعین کرتے ہیں اورپھر اس کو تمام زمانوں پر منطبق کردیتے ہیں یعنی سعید بن المسیب ،ابراہیم اورزہری،امام مالک سفیان اوربعد کے زمانہ وغیرہ کو۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ تخریج کے بارے میں انہوں نے جس نظریہ کا اظہار کیاہے ،اس کا ظہور تقلید کے دور میں ہواہے، دوسری صدی ہجری تک وہ چیز تھی ہی نہیں، جیساکہ اس کا اعتراف محدث دہلوی نے بھی خود کیاہےچنانچہ وہ لکھتے ہیں:
جان لو! کہ چوتھی صدی ہجری سے قبل لوگ محض تقلید پر قانع نہیں تھے ابوطالب مکی نے قوت القلوب میں لکھاہے ،کتب اور مجموعات نئی چیزیں ہیں، اسی طرح لوگوں کی باتیں، کسی ایک کے قول پر فتویٰ دینا اور ہرچیز میں اسی کی جانب رجوع کرنا،کسی ایک شخص کے فقہی مذاہب سے آگاہی حاصل کرنا پہلی اوردوسری صدی ہجری میں نہیں تھا ،اورشاہ ولی اللہ خود بھی لکھتے ہیں کہ دوصدیوں کے بعد تخریج کا تھوڑا بہت ظہور ہوا۔
شاہ ولی اللہ باوجود یہ کہ اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ دو صدی کے بعد تخریج کا تھوڑا تھوڑا ظہور ہوا(امام ابوحنیفہ کا انتقال ۱۵۰ہجری میں ہوچکاتھا)محدث دہلوی زبردستی اوربتکلف اپنانظریہ قائم کرتےہیں اور رائ کا اطلاق محض احناف پر کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ کے متعلق ایساتاثر پیش کرتے ہیں کہ ان کی حیثیت محج ابراہیم نخعی کے مقلد اوران کےا قوال پر تخریج کرنے والے کی ہے ،مزید تعجب یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ کو اس کا بھی اعتراف ہے کہ تخریج محض احناف کے یہاں نہیں ہے بلکہ دوسرے مذاہب اورمسالک میں بھی تخریج سے کام لیاگیاہے، چنانچہ محدث دہلوی لکھتے ہیں: “ہرمذہب ومسلک میں تخریج بکثرت ہوئی”اور خود شاہ ولی اللہ اہل الحدیث کااصول بیان کرتے ہوئے لکھ چکے ہیں:”اور اہل حدیث میں سے تخریج کرنے والے جب کسی مسئلہ کے بارے میں کوئی صریح قول نہیں پاتے تھے تو وہ تخریج کرتے ہوئے اور یہ لوگ مجتہد فی المذہب کے درجہ پر تھے اوریہ لوگ کسی ایک جانب منسوب نہیں کئے جاتے تھے جیساکہ دوسروں کو حنفی شافعی کہاجاتاتھا۔”محدث دہلوی کیلئے مناسب تھاکہ وہ اشارتاًیہ بیان کرتے کہ سنی مذاہب ومسالک کے درمیان کوئی جوہری اختلاف نہیں ہے، سب کے اصول ایک ہیں اور استنباط واجتہاد کے طریقہ میں بھی کوئی ایسااصولی اختلاف نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے کسی کو گلے لگایاجائے اورکسی کو دھتکاراجائے ،اور ہرایک کے مسلک  میں کچھ چیزیں آسان اورکچھ چیزیں مشکل ہیں اورہرایک نے رفتار زمانہ کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے جس سے عوام الناس کا بھلاہوا.،محدث دہلوی کا امام ابوحنیفہ کو مخرجی میں شمار کرنا اور ان کو اسی وجہ سے اہل الرائے بتلاناایسی بات ہے جودلائل کے برعکس ہے۔”(الاتجاهات الفقهيۃ عند أصحاب الحديث في القرن الثالث الهجري، الناشر: مكتبة الخانجي، مصر.ص88-89)

نظریہ تخریج کے خلاف دلائل

حضرت شاہ صاحب کا دعویٰ ہے کہ امام ابوحنیفہ ابراہیم نخعی اور ان کے دیگرمعاصرین فقہاء کوفہ کے مذہب پر سختی سے چمٹے ہوئے تھے اوراس سے کبھی کبھار تجاوز کرتے تھے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ ابراہیم نخعی کے اجتہادی اقوال وفتاویٰ کو اپنے لئے حجت تسلیم کرتے تھے اورجب کسی مسئلہ میں ابراہیم کاکوئی قول مل جاتاتھاتواس سے تجاوز نہیں کرتے تھے ،حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کایہ نظریہ کئی بنیادوں پر کمزور ہے،ہم ترتیب وار اس کو بیان کریں گے۔
۱ :اس نظریہ کے حق میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے پاس حضرت امام ابوحنیفہ کا کوئی قول موجود نہیں ہے،امام ابوحنیفہ کے شاگردوں یاان کے شاگردوں کے شاگرد کابھی اس طرح کا کوئی قول موجود نہیں ہے جس سے ان کے نظریہ ٔتخریج کی تائید ہوتی ہو،یہ نظریہ تمام تر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کاذاتی استدلال بلکہ اجتہاد ہے،یہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ ہی ہیں، جو بعض اصول فقہ احناف پر یہ کہہ کر تنقید کرتے ہیں کہ یہ ائمہ احناف سے مروی نہیں ہیں، لہذا اس کی صداقت مشتبہ ہے بلکہ متاخرین نے ان کو وضع کیاہے(الانصاف،ص۹۱)لیکن وہ نظریہ جوتمام تر متقدمین ومتاخرین علماء سے ہٹ کرہواورمحض حضرت شاہ ولی اللہ کے ذہن رساکی دین ہو، اس کو کہاں تک معتبر مانااورسمجھاجائے، خود ان کے ہی اس قول کی روشنی میں ،یہ اہل علم کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے؟

امام ابوحنیفہ تابعی کی تقلید نہیں کرتے

۲ :ابراہیم نخعی تابعی تھے اور تابعی میں بھی محدثین نے انہیں کبار تابعین کے درجے میں نہیں بلکہ اوسط درجے کا تابعی قراردیاہے(محدثین میں سے بعض نے ان کو صغار درجہ کا تابعی بتایاہے)،ابراہیم نخعی خواہ اوسط درجے کے تابعی ہوں یاصغار درجے کے،یہ واضح ہے کہ جو مقام ومرتبہ علقمہ ،مسروق،ربیع بن خیثم اوراسود رضی اللہ عنہم کا ہے، وہ ابراہیم نخعی کا نہیں ہوسکتا،حضرت امام ابوحنیفہ کا اپناقول یہ ہے کہ وہ تابعی خواہ وہ کسی درجہ کا ہو،وہ تابعین حضرات کے احترام آراء کے باوجود ان کے قول پراکتفاء نہیں کریں گے،بلکہ ان کی ہی طرح قرآن وحدیث سے اجتہاد کریں گے۔
حَدثنَا يحيی قَالَ حَدثنَا عبيد بن أبي قُرَّۃ قَالَ سَمِعت يحيی بن ضريس يَقُول شہدت سُفْيَان وَأَتَاہ رجل فَقَالَ مَا تنقم علی أبي حنيفَۃ قَالَ وَمَالہ قَالَ سمعتہ يَقُول آخذ بِكِتَاب اللہ فَمَا لم أجد فبسنۃ رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَيْہ وَسلم فَإِن لم أجد فِي كتاب اللہ وَلَا سنۃ آخذ بقول أَصْحَابہ آخذ بقول من شِئْت مِنْہم وأدع قَول من شِئْت ولاأخرج من قَوْلہم إِلَی قَول غَيرہم فَإِذا مَا انْتہی الْأَمر أَو جَاءَ الْأَمر إِلَی إِبْرَاہيم وَالشعْبِيّ وَابْن سِيرِين وَالْحسن وَعَطَاء وَسَعِيد بن الْمسيب وَعدد رجَالًا فقوم اجتہدوا فأجتہد كَمَا اجتہدوا ۔(تاریخ ابن معین روایۃ الدوري 4/63)
ترجمہ:یحیی ضریس کہتے ہیں میں سفیان ثوری کی مجلس میں حاضر تھاکہ ایک شخص آیا(بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ شخص علم اورعبادت میں مشہور تھا)اس نے سفیان ثوری سے کہاکہ آپ ابوحنیفہ پر نکتہ چینی کیوں کرتے ہیں ،سفیان ثوری نے کہا،تم یہ بات کیوں پوچھ رہے ہو، اس شخص نے جواب دیاکہ میں نے ابوحنیفہ کو کہتے ہوئے سناہے کہ میں کسی مسئلہ میں سب سے پہلے اللہ کی کتاب سے دلیل اخذ کرتاہوں، اگراس میں نہ ملے تورسول اللہ کی احادیث میں ڈھونڈتاہوں،اگرکتاب وسنت میں نہ ملے تو پھرصحابہ کے اقوال میں سے کسی ایک کو اختیارکرلیتاہوں،ہاں جب معاملہ ابراہیم ،شعبی، ابن سیرین ،حسن عطاء وغیرہ تک پہنچتاہے (یعنی وہ مسئلہ نہ توکتاب وسنت میں ہے اورنہ کسی صحابی نے اس پر لب کشائی کی ہے اورحضرات تابعین نے اس بارے میں اجتہاد کیاہے)اورمزید چندنام گنائے جنہوں نے اجتہاد کیاہے،تومیں بھی ان کی طرح اجتہاد کرتاہوں۔
اس اقتباس سے یہ بھی پوری وضاحت کے ساتھ معلوم ہوگیا کہ شاہ ولی اللہ نے ماقبل میں جو یہ دعویٰ کیاہے کہ الزمھم بمذہب ابراہیم ،تو یہ درست نہیں ہے، حضرت امام ابوحنیفہ تو نہایت صراحت اور وضاحت کے ساتھ سعید بن المسیب اورابراہیم نخعی کانام لےکرکہہ رہے ہیں کہ وہ ان حضرات کی آراء اورفتاویٰ کے پابند نہیں ؛بلکہ جیسے انہوں نے قرآن وحدیث اوردیگر دلائل شرعیہ سےا جتہاد کیاہے، ویسے ہی وہ بھی اجتہاد کریں گے۔
ابراہیم نخعی تابعی اوران کے معاصرین تابعی ہیں، اور امام ابوحنیفہ نے متعدد مواقع پر اپنایہ مسلک صاف وصریح لفظوں میں بیان کیاہے کہ وہ تابعین کے اجتہاد وفتاویٰ کے پابند نہیں ہیں۔
أَبُو حَمْزَۃ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَۃ يَقُولُ إِذَا جَاءَنَا الْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّہ صلی اللہ عَلَيْہ وَسلم أَخَذْنَا بِہ وَإِذَا جَاءَنَا عَنِ الصَّحَابَۃ تَخَيَّرْنَا وَإِذَا جَاءَنَا عَنِ التَّابِعِينَ زَاحَمْنَاہمْ  (الانتقاء فی فضائل الائمۃ الثلاثۃ للامام ابن عبدالبر ص144)
ابوحمزہ کہتے ہیں ،میں نے ابوحنیفہ کو کہتے ہوئے سناہے جب کسی مسئلہ میں رسول پاک کی حدیث آجائے تو ہم اس پر عمل کرتے ہیں اور جب صحابہ سے ایک مسئلہ میں متعدد اقوال منقول ہوں توان متعدد اقوال میں سے کسی ایک پر عمل کرتے ہیں اورجب تابعین کے اقوال  کی باری آتی ہے توہم ان سے مزاحمت کرتے ہیں(یعنی جس طرح انہوں نے اجتہاد کیاہے ،اسی طرح ہم بھی اجتہاد کرتے ہیں، ہم ان کے اجتہاد کے پابند نہیں  ہیں)
أَبُو عِصْمَۃ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَۃ يَقُولُ مَا جَاءَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہ صلی اللہ عَلَيْہ وَسلم قَبِلْنَاہ عَلَی الرَّأْسِ وَالْعَيْنَيْنِ وَمَا جَاءَنَا عَنْ أَصْحَابِہ رَحِمَہمُ اللَّہ اخْتَرْنَا مِنْہ وَلَمْ نَخْرُجْ عَنْ قَوْلِہمْ وَمَا جَاءَنَا عَنِ التَّابِعِينَ فَہمْ رِجَالٌ وَنَحْنُ رِجَالٌ. (الانتقاء فی فضائل الائمۃ الثلاثۃ للامام ابن عبدالبر ص144)
ابوعصمہ کہتے ہیں کہ جو کچھ رسول پاک سے منقول ہے وہ ہمارے سرآنکھوں پر اور جوکچھ صحابہ کرام سے منقول ہے تواس میں سے کسی ایک قول کو ہم اختیار کریں گے اورایسانہیں ہوگاکہ ہم کسی بھی صحابی کے قول کو اختیار نہ کریں اورجوکچھ تابعین سے منقول ہے تووہ بھی اجتہاد کے میدان کے مرد ہیں اورہم بھی میدان اجتہاد میں داد شجاعت دیتے ہیں۔
یہ معلوم حقیقت ہے کہ صاحب واقعہ کابیان اپنی نسبت سب سے زیادہ معتبر ہوتاہےلہذا حضرت امام صاحب کا یہ قول کہ وہ ابراہیم نخعی ،سعید بن المسیب اوردیگر تابعین کے فتاویٰ اوراجتہاد کوماننے کے پابند نہیں، بلکہ وہ ان کی طرح اجتہاد کرتے ہیں ،انتہائی معتبر  اوررمستند  ہے اوراس کے بالمقابل حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کا فرمان کہ وہ ابراہیم اوران کے ہمعصر فقہائے کوفہ سے چمٹے ہوئے تھے،امام ابوحنیفہ کے بیان کے بالمقابل قابل اعتبار نہیں رہ جاتا۔

اصول فقہ میں تابعی کی تقلید جائز نہیں ہے

۳: حیرت کی بات یہ ہے کہ شاہ صاحب اصول فقہ احناف سے اتنی ہی اچھی طرح واقف ہیں جتناکہ کسی مسلک کا کوئی متبحر عالم اپنے مسلک کے اصولوں سے ہوسکتاہے،اس کے باوجود ان سے اصول فقہ کا یہ متفقہ مسئلہ نظرانداز ہوگیا کہ احناف کے یہاں تابعین کے اقوال کی لازمی حیثیت نہیں ہے، صحابہ کے اقوال اگرکسی مسئلہ میں متفق ہوں تواس متفقہ رائے کی پابندی ضروری ہے، اگرمختلف ہوں توکسی ایک قول کو ترجیح دے کر اپنایاجائے ،لیکن ایساکرنا کہ کسی بھی صحابی کے قول کو اختیار نہ کیاجائے، یہ جائز نہیں، جہاں تک تابعین کی بات ہے تو تابعین کے قول کی پابندی ضروری نہیں ہے، احناف کی اصول فقہ کی کتابوں میں یہ مسئلہ وضاحت کے ساتھ مذکور ہے،امام سرخسی اس سلسلے میں لکھتے ہیں:
لَا خلاف أَن قَول التَّابِعِيّ لَا يكون حجَّۃ علی وَجہ يتْرك الْقيَاس بقولہ فقد روينَا عَن أبي حنيفَۃ أَنہ كَانَ يَقُول مَا جَاءَنَا عَن التَّابِعين زاحمناہم (اصول السرخسی2/114)
“اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ تابعی کا قول اس طورپر حجت نہیں ہےکہ اس کی وجہ سے قیاس کو ترک کیاجائے، کیونکہ امام ابوحنیفہ سے منقول ہے ،جوکچھ تابعین سے منقول ہے ،ہم اس میں ان کی مزاحمت کریں گے۔ “
جب کہ علامہ علاء الدین بخاری تقلید تابعی کے مسئلہ پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں
ذَكَرَ الصَّدْرُ الشَّہيدُ حُسَامُ الدِّينِ - رَحِمَہ اللَّہ - فِي شَرْحِ أَدَبِ الْقَاضِي أَنَّ فِي تَقْلِيدِ التَّابِعِيِّ عَنْ أَبِي حَنِيفَۃ - رَحِمَہ اللَّہ - رِوَايَتَيْنِ إحْدَاہمَا أَنَّہ قَالَ: لَا أُقَلِّدُہمْ ہمْ رِجَالٌ اجْتَہدُوا وَنَحْنُ رِجَالٌ نَجْتَہدُ وَہوَ الظَّاہرُ مِنْ الْمَذْہبِ وَالثَّانِيَۃُ مَا ذُكِرَ فِي النَّوَادِرِ أَنَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَئِمَّۃ التَّابِعِينَ وَأَفْتَی فِي زَمَنِ الصَّحَابَۃ وَزَاحَمَہمْ فِي الْفَتْوَی وَسَوَّغُوا لَہ الِاجْتِہادَ فَأَنَا أُقَلِّدُہ.................... وَجْہ الظَّاہرِ أَنَّ قَوْلَ الصَّحَابِيِّ إنَّمَا جُعِلَ حُجَّۃ لِاحْتِمَالِ السَّمَاعِ وَلِفَضْلِ إصَابَتِہمْ فِي الرَّأْيِ بِبَرَكَۃ صُحْبَۃ النَّبِيِّ - عَلَيْہ السَّلَامُ - وَذَانِكَ مَفْقُودَانِ فِي حَقِّ التَّابِعِيِّ.وَإِنْ بَلَغَ الِاجْتِہادَ وَزَاحَمَہمْ فِي الْفَتْوَی وَلَا حُجَّۃ لَہمْ فِيمَا ذَكَرُوا مِنْ الْأَمْثِلَۃ؛ لِأَنَّ غَايَۃ ذَلِكَ أَنَّہمْ صَارُوا مِثْلَہمْ فِي الْفَتْوَی وَزَاحَمُوہمْ فِيہا وَأَنَّ الصَّحَابَۃ سَلَّمُوا لَہمْ الِاجْتِہادَ وَلَكِنَّ الْمَعَانِيَ الَّتِي بُنِيَ عَلَيْہا وُجُوبُ التَّقْلِيدِ مِنْ احْتِمَالِ السَّمَاعِ وَمُشَاہدَۃ أَحْوَالِ التَّنْزِيلِ وَبَرَكَۃ صُحْبَۃ الرَّسُولِ - عَلَيْہ السَّلَامُ - مَفْقُودَۃٌ فِي حَقِّہمْ أَصْلًا فَلَا يَجُوزُ تَقْلِيدُہمْ بِحَالٍ.
(كشف الأسرار شرح أصول البزدوي،المؤلف: عبد العزيز بن أحمد بن محمد، علاء الدين البخاري الحنفي (المتوفی: 730هـ)الناشر: دار الكتاب الإسلامي 3/226)
“صدرشہیدحسام الدین ؒ نے ادب القاضی کی شرح میں لکھاہے کہ تابعی کی تقلید کے بارے میں امام ابوحنیفہ سے دوروایتیں منقول ہیں پہلی تویہ ہے کہ میں ان کی تقلید نہیں کروں گا ،وہ بھی میدان اجتہاد کے مرد ہیں اور ہم بھی میدان اجتہاد کےمرد ہیں، اور ظاہر مذہب یہی ہے اوردوسری روایت وہ ہے جو نوادر میں منقول ہے  وہ ائمہ تابعین جودورصحابہ میں بھی فتویٰ دیاکرتے تھے اورصحابہ کرام کی آراء واجتہاد سے ٹکر لیتے تھے اور صحابہ کرام نے ان کو اجتہاد کی گنجائش دی تھی تومیں ان کی تقلید کروں گا..........ظاہر مذہب کی دلیل یہ ہے کہ صحابی کے قول کو تواس لئے حجت بنایاگیاہے کہ اس میں اس کا احتمال ہے کہ وہ جوکچھ اپنی رائے کے طورپر بیان کررہے ہیں ،ہوسکتاہے کہ انہوں نے اس بارے میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد سناہواوریہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف صحبت سے ان کی رائے کے درست ہونے کا احتمال زیادہ ہےاوریہ دونوں باتیں تابعین کے حق میں مفقود ہیں اگرچہ وہ تابعی درجہ اجتہاد کو پہونچاہو اور صحابہ کرام کے فتاوی وآراء کی مخالفت ہی کیوں نہ کرتاہو،تابعین کے اقوال کے قابل تقلید ہونے کی سلسلے میں جو دلیلیں بیان کی گئیں وہ کسی بھی طورپرقابل تسلیم نہیں ہیں،کیوں کہ اس باب میں جو دلائل ذکر کئے گئے ہیں، ان کا مفاد بس اسی قدر ہے کہ وہ صاحبان اجتہاد تھے، انہوں نے صحابہ کرام کے اجتہاد وآراء کی مخالفت بھی کی ہےلیکن تقلید صحابی جس بنیاد پر قائم ہے یعنی اس قول کاحدیث رسول ہونے کا احتمال اورشرف صحبت کی برکت سے اجتہاد میں صواب کے پہلو کا راجح ہونا اوروحی کے نزول کا مشاہدہ وغیرہ تویہ سب امور تابعین کے حق میں کلیتاًمعدوم ہیں سوتابعین کی تقلید کسی بھی حال میں جائز نہیں۔”
مشہورحنفی اصولی محمد شمس الدین فناری لکھتے ہیں:
وأما التابعی فيقلد في روايۃ النوادر إن ظہر فتواہ في زمنہم كشريح ومسروق والنخعی والحسن البصري لتسليمہم مزاحمتہ إياہم إياہم فيكون كأحدہم كما خاصم علي رضي اللہ عنہ شريحًا فخالفہ في رد شہادۃ الحسن رضي اللہ عنہ لہ بالبنوۃ لا يقلد في ظاہر الروايۃ إذ ہم رجال ونحن رجال بخلاف صحبہ عليہ السلام لاحتمال السماع والإصابۃ ببركۃ صحبتہ والقرن المشہود لہ بالخيريۃ المطلقۃ وإن لم يظہر فلا. (فصول البدائع في أصول الشرائع، المؤلف: محمد بن حمزۃ بن محمد، شمس الدين الفناري (أو الفَنَري) الرومي (المتوفی: 834هـ)الناشر: دار الكتب العلميۃ، بيروت 2/439)
“نوادر کی روایت یہ ہے کہ ایساتابعی جس کااجتہاد دورصحابہ میں بھی مشہور ہوجیسے کہ شریح،مسروق ،نخعی ،حسن بصری توان کی تقلید کی جائے گی کیونکہ صحابہ کرام نے ان کو اجتہاد کا اہل سمجھااور اس کی اجازت دی کہ وہ ان کی آراء کی مخالفت کرسکیں توگویااس باب میں ایسے تابعی بھی صحابہ کرام کی طرح ہیں،جیساکہ حضرت علی نے شریح کے روبرو مقدمہ پیش کیاتوبیٹے کی شہادت قبول کرنے کے بارے میں شریح نے حضرت علیؓ کی مخالفت کی،اورظاہر روایت یہ ہے کہ تابعین کی تقلید نہیں کی جائے گی کیونکہ جس طرح انہوں نے اجتہاد کیاہے،اسی طرح دوسرے مجتہدین کو بھی اجتہاد کا حق حاصل ہے،برخلاف صحابہ کے ،کیونکہ ان کے بارے میں احتمال ہے کہ وہ جس قول کو رائے کے طورپر بیان کررہے ہوں،ہوسکتاہے کہ اس بارے میں انہوں نے زبان رسالت سے کچھ سناہو،شرف صحبت سے ان کی رائے کے صواب ہونے کا بھی احتمال زیادہ ہےاوروہ ایسے دور میں تھے جب ہرطرف بھلائی کا دور دورہ تھا اورجس کے مطلقا خیر ہونے کی زبان رسالت نے گواہی دی ہے۔”

مکی، مدنی اوربصرہ فقہاء ومحدثین کرام سے استفادہ

۴: امام صاحب نے یقیناًفقہائے کوفہ سےاستفادہ کیاہے، بالخصوص حماد کے واسطے سے ابراہیم نخعی کے اقوال وآراء سے مستفید ہوئے ہیں اورفقہ کوفی کے بانی حضرت عبداللہ بن مسعود کی فقہ سے استفادہ کیاہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ امام صاحب نے حضرت ابن عباس،حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم وغیرہ کی فقہ سے بھی استفادہ کیاہے،چنانچہ ایک موقع پر جب عباسی خلیفہ منصور نے حضرت امام صاحب سے ان کے علم کا ماخذ دریافت کیا تو امام صاحب نے فرمایا:
عن حماد، عن إبراہيم، عن عُمَر بن الخطاب، وعلي بن أبي طالب، وعبد اللہ بن مسعود، وعبد اللہ بن عباس، قال: فقال أَبُو جعفر: بخ، بخ، استوثقت ما شئت يا أبا حنيفۃ الطيبين الطاہرين المباركين، صلوات اللہ عليہم۔(تاريخ بغداد،المؤلف: الخطيب البغدادي (المتوفی: 463هـ،15/444)
حماد سے ،ابراہیم سے، عمربن خطاب ؓ سے ،علی بن ابی طالبؓ سے،عبداللہ بن مسعودؓ سے اور عبداللہ بن عباس ؓ سے،یہ سن کر ابوجعفر نے کہا،بس بس 1۔
دخل أَبُو حنيفۃ يوما علی المنصور، وعندہ عيسى بن موسى، فقال للمنصور: ہذا عالم الدنيا اليوم، فقال لہ: يا نعمان عمن أخذت العلم؟ قال: عن أصحاب عُمَر، عن عُمَر، وعن أصحاب علي، عن علي، وعن أصحاب عبد اللہ، عن عبد اللہ، وما كان في وقت ابن عباس على وجہ الأرض أعلم منہ، قال: لقد استوثقت لنفسك۔ (المصدرالسابق)
“ربیع بن یونس کہتے ہیں امام ابوحنیفہ ایک مرتبہ منصور کے پاس گئے، اس وقت منصور کے پاس عیسیٰ بن موسیٰ بھی موجود تھے،توعیسی بن موسیٰ نے منصور سے کہاآج دنیا کے سب سے بڑے عالم یہ ہیں،یہ سن کر منصور نے امام ابوحنیفہ سے دریافت کیاکہ آپ نے کن حضرات سے علم حاصل کیاہے، امام ابوحنیفہ نے جواب دیا،حضرت عمر کے شاگردوں کے ذریعہ حضرت عمرؓ سے،حضرت علیؓ کے شاگردوں کے ذریعہ حضرت علیؓ سے اورحضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے شاگردوں کے ذریعہ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے اورحضرت ابن عباس کے عہد میں ان سے بڑاعالم دنیا میں کوئی نہیں تھا۔”
اس کے علاوہ کتاب الآثار امام ابویوسف اورامام محمد کے مطالعہ سے واضح ہوجاتاہے کہ امام ابوحنیفہ نے صرف کوفہ کے فقہاء اورکوفہ مین وارد صحابہ کرام سے استفادہ نہیں فرمایا بلکہ آپ نے حضرت عبداللہ بن عباس ،حضرت عبداللہ بن عمر،حضرت عائشہ اور دیگر صحابہ کرام کے فقہی افکار وآراء سے بھی استفادہ کیاہے۔ 
۵: جس طرح امام صاحب نے عبداللہ بن مسعود کے ساتھ ساتھ حضرت عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر وغیرہم کے فقہ واجتہاد سے واقفیت حاصل کی، اسی طرح آپ نے مکہ مدینہ اور دیگر شہروں کے تابعین اوراکابر علماء ومجتہدین سے بھی کسب فیض کیاتھا؛لیکن یہ کہنا کہ مکہ ،مدینہ اوردیگر مقامات کے اکابر فقہاء وتابعین کا ان کی فقہی تفکیر اورتشکیل میں کوئی اثر نہیں ،انتہائی غیرفطری بلکہ غیرمعقول بات ہے،حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب نے بسااوقات اپنے غیرکوفی وغیرعراقی اساتذہ سے اپنے تاثر کابھی بڑے بلیغ لفظوں میں اظہار کیاہے،جس سے پتہ چلتاہے کہ آپ اپنے ان اساتذہ کی فقہ اورفکر سے کتنامتاثر تھے۔

حضرت عطاء سے تاثر کا اظہار

حضرت امام ابوحنیفہ نے حضرت حمادؒسے برسوں تک کس فیض کیا اوران کے آگے زانوئے تلمذتہہ کیا ،شاگردی کی یہ مدت کتنے عرصہ پر محیط تھی، اس بارے میں روایات مختلف ہیں، زیادہ سے زیادہ کی تعداد بیس سال ہے اور کم سے کم کی روایت دس سال ہے لیکن شیخ ابوزہرہ نے اٹھارہ سال کو راجح تسلیم کیا ہے۔(ابوحنیفہ حیاتہ وعصرہ ،آراؤہ وفقہہ، للشیخ ابوزہرہ ص26)اس کی وجہ یہ ہے کہ خود امام ابوحنیفہ کا ایک قول تاریخ بغداد میں ہے،جس میں انہوں نے حضرت حماد بن سلیمان سے اٹھارہ سال کے تلمذ کا اعتراف کیاہے،(تاریخ بغداد 13/334)اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ جتنے متاثر حضرت عطاء سے ہیں، اتنےحضرت حماد سے نہیں ہیں، اگر چہ وہ حماد کا ہرممکن احترام کرتے ہیں یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق کبھی ان کے مکان کی جانب اپناپاؤں نہیں پھیلایا۔(2) 
دعا میں اپنے والدین کے ساتھ حضرت حماد کیلئے دعائے مغفرت کیاکرتے تھے3(تاریخ بغداد 15/444) لیکن ان سب کے باوجود وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے زیادہ افضل کسی شخص سے ملاقات نہیں کی4(الكامل في ضعفاء الرجال،المؤلف: أبو أحمد بن عدي الجرجاني (المتوفى: 365هـ)الناشر: الكتب العلميۃ - بيروت-لبنان)
یہ حضرت عطاءؓ ابن ابی رباح مکی ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس کے شاگرد خصوصی ہیں،گویاان کا تعلق مکی فقہ سے ہے، حضرت ابوحنیفہ جب ابن ہبیرہ کے داروگیر سے کوفہ ترک کرکے مکہ میں رہنے لگے تھے(مناقب ابی حنیفہ للمکی1/23/24،بحوالہ ابوحنیفہ حیاتہ وعصرہ ،آراؤہ وفقہہ، للشیخ ابوزہرہ ص33)اسی دوران آپ نے حضرت عطاءؓ سے استفادہ کیا اور کتاب الآثار کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ بعض مقامات پر آپ نے ابراہیم نخعی کے قول کو  چھوڑ کر حضرت عطاء کے قول کو اختیار کیاہے( مثالیں آگے آئیں گی)

امام جعفرصادقؒ سے تاثر کا اظہار 

امام صاحب نےامام باقر اور امام جعفر صادق سےبھی استفادہ کیاہے5،اوران کے بارے میں بلند کلمات کہے ہیں، جس سے امام صاحب کے ان کی فقاہت سے تاثر کا اندازہ لگایاجاسکتاہے،شیخ ابوزہرہ اس بارے میں لکھتے ہیں:
وکما کان لابی حنیفۃ اتصال علمی بالباقر ،کان لہ اتصال بابنہ جعفر الصادق، وقد کان فی سن ابی حنیفۃ رضی اللہ عنہا، فقد ولدا فی سنۃ واحدۃ، ولکنہ مات قبل ابی حنیفۃ،فقد توفی سنۃ ۱۴۸، ای قبل ابی حنیفۃ بنحو سنتین ، وقد قال ابوحنیفۃ فیہ،واللہ مارأیت افقہ من جعفر بن محمد الصادق (ابوحنیفہ حیاتہ وعصرہ،آراؤہ الفقھیۃ‘‘ ص81)
“جیساکہ امام صاحب کا علمی استفادہ کا تعلق امام باقر سے تھا، اسی طرح امام جعفرصادق سے بھی تھا، امام جعفرصادق امام صاحب کے ہم عمر تھے، دونوں کی ولادت کا سال ایک ہی ہے،لیکن امام جعفرصادق کی وفات امام ابوحنیفہ سے دوسال قبل سنہ ۱۴۸ہجری میں ہوگئی تھی، امام ابوحنیفہ نے امام جعفرصادق کے بارے میں فرمایا: خدا کی قسم میں نے جعفر بن محمد الصادق سے بڑافقیہ کسی کو نہیں دیکھا۔ٍ”
یہ اقوال بتاتے ہیں کہ امام صاحب کی فقہی تشکیل اورتعمیر میں صرف کوفہ کے فقہاء نہیں بلکہ مکی اورمدنی فقہ کا بھی خاصااہم کردار رہاہے اوراس کا سب سے معتبر اور مستحکم ثبوت کتاب الآثار سے ہی ملتاہے ، جس میں وہ جابجا مکی اورمدنی فقہاء کی آراء سے استشہاد کرتے نظرآتے ہیں، تفصیل آگے آئے گی۔

امام صاحب کے علمی رحلات

یہ بات بلاشبہ قابل تسلیم ہے کہ امام صاحب نے محدثین کرام کی طرح شہروں کی خاک نہیں چھانی، لیکن اب ایسابھی نہیں ہے کہ رحلات علمیہ سے امام صاحب کی سوانح بالکل ہی خالی ہے،حافظ ذہبی لکھتے ہیں:
وعنی بطلب الآثار ،وارتحل فی ذلک (سیراعلام النبلاء/392) امام صاحب نے آثار کی تحصیل پر توجہ مرکوز کی اوراس سلسلے میں اسفار کیے۔ ٓپ کی سیرت وسوانح سے پتہ چلتاہے کہ آپ بکثرت بصرہ جایاکرتے تھے،آپ کوبنوامیہ کے عراقی گورنر کے داروگیر کی وجہ سے مکہ میں چھ سال رہناپڑاتھا،مکہ میں قیام کے دوران دنیا بھر کے اہل علم سےاستفادہ کا موقع تھا،آپ بکثرت حج کرتے تھے، بعض حضرات نے توآپ کے حج کی تعداد ۵۵ بیان کی ہے۔ اگر اس تعداد کو مبالغہ خیال کیا جائے تو بھی اس قدر ماننے میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ اکثر حج فرماتے تھے۔ حج کے سلسلے میں مدینہ جاتے تھے، وہاں کے اہل علم سے استفادہ کا تعلق تھا، ہم عصر اہل علم سے بحث ومباحثہ ہواکرتاتھا۔اسی مدینہ کی زیارت اورامام مالک سے بحث ومباحثہ کانتیجہ اس مشہور تاثر کی صورت میں نمودار ہواہے جب امام مالک سے حضرت لیث بن سعدؓ نے دریافت کیاکہ آپ کیوں پسینہ پسینہ ہورہے ہیں، تو فرمایا:میں ابوحنیفہ کے ساتھ بحث ومباحثہ میں پسینہ پسینہ ہورہاہوں، مصری وہ واقعی فقیہ ہیں (6)۔

حواشی

1. اس روایت میں اصحاب یعنی شاگردوں کا ذکر چھوٹ گیاہے، یعنی حضرت عمر ؓکے شاگردوں کے ذریعہ حضرت عمر ؓسے اورحضرت ابن عباسؓ کے شاگردوں کے ذریعہ ان سے، الخ اس کی صراحت مابعد کی بھی روایت میں ہے اوراس پر شیخ زاہد الکوثری نے بھی تانیب الخطیب کی روایت میں تنبیہ فرمائی ہے۔ (ملاحظہ کیجئے، تانیب الخطیب ص 29)
2. قال ما مددت رجلي نحو سكۃ حماد قط وكان بينہما مقدار سبع سكك، امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ کبھی میں نے حماد ؓ کی گلی کی جانب پاؤں نہیں پھیلایا، بعض روایات میں گلی کی جگہ گھر کا ذکر ہے۔ (الجواہر المضیئۃ فی طبقات الحنفیۃ۲؍۴۹۷) 
3. أبا حنيفۃ، يقول: ما صليت صلاۃ منذ مات حماد إلا استغفرت لہ مع والدي۔
4. أبا يَحْيی الحماني يَقُولُ: سَمعتُ أبا حنيفۃ يَقُولُ ما رأيت فيمن رأيت أفضل من عطاء۔
5. ابن تیمیہ نے امام جعفر صادق سے استفادہ کی تردید کی ہے لیکن ان کی تردید تاریخی حوالوں کی روشنی میں درست نہیں ہے، امام ابن تیمیہ تو امام شافعی کے امام محمد کے شاگرد ہونے کے بھی منکر ہیں اوراسی طرح اس کے بھی منکر ہیں کہ امام احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگرد تھے۔
6. :ترتیب المدارك وتقريب المسالك،المؤلف: قاضي عياض بن موسى اليحصبي (المتوفى: 544هـ) الناشر: مطبعة فضالة - المحمدية، المغرب،۱؍۱۵۲۔

الشریعہ اکادمی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

مولانا مفتی محمد عثمان

الشریعہ اکادمی کا قیام آج سے ربع  صدی قبل مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب ،مدرسہ نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی صاحب کی نگرانی واہتمام میں عمل میں لایا گیا ۔اس کا بنیادی مقصد  دینی  حلقوں میں عصری تقاضوں کا شعور اجاگر کرنا اور باہمی رابطہ و تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ علمی و فکری  بیداری کی فضا قائم کرنا ہے ۔اس مقصد کے لیے تعلیم وتدریس،ابلاغ عامہ کے میسر ذرائع اور فکری و علمی مجالس کے ذریعے جدوجہد جاری ہے ۔ابتدائی چند سال اکادمی کی سر گرمیاں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جاری رہیں ۔بعد میں کھیالی گوجرانوالہ کے ایک بزرگ حاجی یوسف علی قریشی رحمہ اللہ نے ہاشمی کالونی کنگنی والہ میں ایک کنال اراضی الشریعہ اکادمی  کے لیے وقف کردی. جہاں مسجد خدیجۃ  الکبریؓ اور تعلیمی بلاک کی تعمیر کی گئی ۔تہہ خانہ اور اس کے اوپر ایک منزل تعمیر ہوچکی ہے ۔
الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہدالراشدی اور ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا عمار خان ناصر ہیں جبکہ مولانا محمدعثمان جتوئی،مولانا طبیب الرحمن،مولانا عبدالوہاب،مولانا کامران،مولانا عبدالغنی،مولانا محفوظ الرحمٰن،قاری ابوبکر اور حافظ عبد الرحمن پر مشتمل اساتدہ ومنتظمین کی ٹیم ان کے ساتھ مصروف کار ہے۔ معاونین میں حاجی عثمان عمر ہاشمی، محمد معظم میر، محمد مبشر چیمہ، قیصرصاحب، طیب صاحب، یحییٰ میر، عاصم بٹ صاحب، ڈاکٹر محمد عمران، محمد  دلشاد، زبیر صاحب اور حاجی بشیر صاحب نمایاں ہیں ۔ 

اکادمی کے شعبہ جات

الشریعہ اکادمی میں درج ذیل شعبوں میں کام جاری ہے :

جامع مسجد خورشید ومدرسہ طیبہ کوروٹانہ

کوروٹانہ کے قریب شیخوپورہ روڈ کی طرف جانے والی سڑک پر کھیالی کے ایک مخیر دوست حاجی میاں ثناء اللہ جنجوعہ ایڈووکیٹ کے خاندان نے ایک ایکڑ زمین وقف کی  ہے جہاں الشریعہ اکادمی کے تحت جامع مسجد خورشید ومدرسہ طیبہ کوروٹانہ کی بنیاد رکھی گئی۔ ابتداءًحاجی محمد معظم میر کی نگرانی میں چند کمرے تعمیر کرکے قرآن کریم کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا گیا جو تاحال جاری ہے۔جبکہ تعلیمی پروگرام کی توسیع کے لیے جامع مسجد خورشید اور چند کمروں پر مشتمل تعلیمی بلاک تعمیر کر لیا گیا ہے اور انشاء اللہ رمضان کے بعد شروع ہونے والے تعلیمی سال سے وہاں با قاعدہ پڑھائی کا آغاز ہو جا ئے گا جبکہ منصوبے کے مطابق وہا ں ابھی بہت سا تعمیری کام باقی ہے ۔

علمی وفکری نشستیں/ سیمینار

اکادمی میں وقتا ًفوقتاً مختلف علمی و فکری موضوعات پر اہل علم کی نشستوں ،سیمینارز اور تربیتی ورک شاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں معروف ارباب علم و فکر اظہار خیال فرماتے ہیں ۔سال رواں منعقد ہونے والی نشستوں کی تفصیل حسب ذیل ہے :

دورۂ تفسیر قرآن کریم

۶ شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ مطابق۲۲ اپریل ۲۰۱۸ بروز اتوارسے سالانہ دورۂ تفسیر قرآن کریم و محاضرات قرآنی کا آغازکیا گیا جو ۲۷ شعبان بمطابق ۱۴ مئی تک جاری رہا۔ حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ نے  سورۃ فاتحہ ،البقرہ ،آل عمران،النساء اور آخری پارہ کی ، جبکہ مولانا فضل الہادی صاحب نے سورۃ الاعراف، الانفال، التوبہ، ارض القرآن ،جغرافیہ کے تحت آنے والی سورتوں کی تفسیر پڑھائی ۔ سورۂ یونس،رعد،ابراہیم ،النحل ،بنی اسرائیل اور الحج کی تدریس مولانا ظفر فیاض صاحب مدرس  جامعہ  نصرۃالعلوم  نے کی، جبکہ قرآن کریم کے باقی حصوں کی تدریس مولانا محمد یوسف، مولانا حافظ محمد رشید،مولانا عمار خان ناصر اور مولانا وقاراحمد نےکی ۔اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر محاضرات بھی ہوئے جن میں مولانا فضل الہادی  صاحب نے ”ارض القرآن“ کے موضوع پر،مولانا احسان الحق نے ”مشکلات القرآن “کے موضوع پر ،مولانا وقار احمدو مولانا اورنگزیب اعوان نے ”امام شاہ ولی اللہ ؒسےمولانا عبیداللہ سندھیؒ تک“  کے موضوع پر ،مولانا عبدالرشید نے ”اصول تحقیق“ کے موضوع پر ،مولانا محمد عثمان اور مولانا محمد سرور نے کیرئر کونسلنگ کے موضوع پر ،پروفیسر محمداکرم ورک صاحب نے”استشراق“ کے موضوع پر اور مولانا منیر احمد علوی صاحب نے”ختم نبوت و قادیانیت“ کے موضوع پر  لیکچر دیے ۔