جولائی ۲۰۱۸ء

سیکولرزم یا نظریاتی ریاست: بحث کو بند گلی سے نکالنے کی ضرورتمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۴)ڈاکٹر محی الدین غازی 
نئی زمینوں کی تلاشعاصم بخشی 
ذرائع ابلاغ کی صورت حال پر عدالت عظمیٰ کا ازخود نوٹسمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دینی خدمات کا معاوضہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا نظریہ تخریج (۴)مولانا عبید اختر رحمانی 
درس نظامی: چند مباحثمحمد دین جوہر 

سیکولرزم یا نظریاتی ریاست: بحث کو بند گلی سے نکالنے کی ضرورت

محمد عمار خان ناصر

مذہبی ریاست یا سیکولرزم کی بحث ہمارے ہاں کی بہت بنیادی اور اہم نظریاتی بحثوں میں سے ہے جس پر سنجیدہ گفتگو اور تجزیے کی ضرورت ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ ابھی تک اس موضوع پر بامعنی اور نتیجہ خیز ”مکالمہ“ شروع نہیں ہو سکا۔ حقیقی مکالمے کے آغاز کی شرط اولین اس نکتے کو تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے پاس اپنی بات کی قابل اعتنا فکری بنیادیں موجود ہیں جو مکالمے سے ایک دوسرے کو سمجھائی جا سکتی ہیں۔ اس بحث میں بھی دونوں فریقوں کے موقف کے کچھ پہلو اپنے داخلی میرٹ پر ایسے ہیں جن کا ابلاغ دوسرے فریق تک ہونا چاہیے اور جو مخالف موقف پر اثر انداز ہونے کی فکری صلاحیت بھی رکھتے ہیں، لیکن حقیقی مکالمہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ پہلو خط تنصیف کے اس پار پہنچ ہی نہیں پا رہے۔ 
سیکولرزم کے حامی دانش وروں میں سے دو تین نام ہی لیے جا سکتے ہیں جو اپنا مقدمہ سنجیدہ فکری بنیاد پر پیش کرتے ہیں، معروضیت کے ساتھ مخالف نقطہ نظر کو اس کی اپنی بنیادوں پر سمجھتے ہیں اور ان کے طرز استدلال میں طبقاتی کشاکش، حریفانہ رد عمل اور منطقی مغالطوں کے اثرات بھی کافی کم دکھائی دیتے ہیں، مثلاً ڈاکٹر مبارک علی، محمود مرزا، خالد احمد اور ممتاز حیدر۔ (موخر الذکر کی کتاب ”تہذیبی نرگسیت“ کا مطالعہ، اختلاف کی پوری گنجائش کے باوجود اہل مذہب اور لبرلز، دونوں کو کرنا چاہیے۔) تاہم اخبارات میں اس مکتب کی ”عوامی“ نمائندگی کرنے والے زیادہ تر حضرات کو فکری انتہا پسندی اور اسلوب اظہار، دونوں کے لحاظ سے اپنے مکتب فکر کے ”ملا“ ہی قرار دیا جا سکتا ہے جن کے طرز استدلال اور ذہنی اپروچ کے باعث یہ بحث نتیجے کے اعتبار سے ”خود کلامی“ سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ مکالمہ وہ ہوتا ہے جس میں بھلے طنز وتعریض ہو، لیکن استدلال کی جہت ایسی ہو کہ مخالف اس میں وزن محسوس کرے اور چاہے تسلیم نہ کرے، لیکن اس کے ہاں خاموش نظر ثانی کا عمل شروع ہو سکے۔ 
سنجیدہ مکالمہ شروع نہ ہو سکنے کی ایک بڑی وجہ اس بحث کو دیکھنے کا تناظر اور بحث کا بنیادی مفروضہ ہے جو اتفاق سے بحث کے دونوں فریقوں میں مشترک ہے۔ دونوں فریق بنیادی طور پر اس بحث کو تاریخی تناظر میں دیکھتے ہیں، یعنی یہ کہ نئی ریاست کی تشکیل میں قائدانہ کردار ادا کرنے والی تاریخی شخصیات یا طبقات کا زاویہ نظر کیا تھا،جبکہ دونوں طرف مسلم مفروضہ یہ ہے کہ ان تاریخی شخصیات یا طبقات کے زاویہ نظر سے ریاست کی نظریاتی حیثیت کا مسئلہ طے شدہ اور مسلمہ تھا جس سے بعد میں انحراف کی راہیں اختیار کرنے کی کوشش کی گئی۔ 
حقیقت یہ ہے کہ مذہب کے ریاستی کردار کے حوالے سے تقسیم سے پہلے ہی بہت واضح فکری تقسیم موجود تھی اور ہر فریق نئی ریاست میں اپنے تصورات کے رو بہ عمل ہونے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ تقسیم کے بعد، اس کشمکش میں مذہبی قوتوں کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی، لیکن اس سے یہ سمجھنا کہ مخالف فکری قوتیں اور ان کے افکار عملاً یا اصولاً کالعدم ہو گئے ہیں، بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ اس حقیقت کا ادراک ہمارے ہاں کے سب سے بڑے مذہبی سیاسی مفکر مولانا مودودی نے خود بھی کیا تھا اور اسلامی جدوجہد کے کارکنان کو بھی بڑے واضح طریقے سے یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ مولانا نے لکھا کہ:
”ہم جس ملک اور جس آبادی میں بھی ایک قائم شدہ نظام کو تبدیل کر کے دوسرا نظام قائم کرنے کی کوشش کریں گے، وہاں ایسا خلا ہم کو کبھی نہ ملے گا کہ ہم بس اطمینان سے ”براہ راست“ اپنے مقصود کی طرف بڑھتے چلے جائیں۔ لامحالہ اس ملک کی کوئی تاریخ ہوگی، اس آبادی کی مجموعی طور پر اور اس کے مختلف عناصر کی انفرادی طور پر کچھ روایات ہوں گی۔ کوئی ذہنی اور اخلاقی اور نفسیاتی فضا بھی وہاں موجود ہوگی۔ ہماری طرح کچھ دوسرے دماغ اور دست وپا بھی وہاں پائے جاتے ہوں گے جو کسی اور طرح سوچنے والے اور کسی اور راستے کی طرف اس ملک اور اس آبادی کو لے چلنے کی سعی کرنے والے ہوں گے .... ان حالات میں نہ تو اس امر کا کوئی امکان ہے کہ ہم کہیں اور سے پوری تیاری کر کے آئیں اور یکایک اس نظام کو بدل ڈالیں جو ملک کے ماضی اور حال میں اپنی گہری جڑیں رکھتا ہے، نہ یہ ممکن ہے کہ اسی ماحول میں رہ کر کشمکش کیے بغیر کہیں الگ بیٹھے ہوئے اتنی تیاری کر لیں کہ میدان مقابلہ میں اترتے ہی سیدھے منزل مقصود پر پہنچ جائیں اور نہ اس بات ہی کا تصور کیا جا سکتا ہے کہ ہم اس کشمکش میں سے گزرتے ہوئے کسی طرح ”براہ راست“ اپنے مقصود تک جا پہنچیں۔ “ (”مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اور ان کا طریق فکر“، مرتب: محمد ریاض درانی، جمعیة پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۱ء، ص ۱۱۶، ۱۱۷)
اسلامی ریاست کی جدوجہد کو تاریخی تناظر میں واضح کرتے ہوئے مولانا مودودی نے لکھا:
”واقعات کی دنیا میں ہم جس صورت حال سے دوچار ہیں، وہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مجالس قانون ساز کے قیام کی ابتداءانگریزوں کے دور حکومت میں ہوئی۔ اس نظام کو انھوں نے اپنے نظریات کے مطابق قومی، جمہوری، لادینی ریاست کے اصولوں پر قائم کیا۔ انھی اصولوں پر سالہا سال تک اس کا مسلسل ارتقا ہوتا رہا اور انھی اصولوں پر نہ صرف پوری ریاست کا نظام تعمیر ہوا، بلکہ نظام تعلیم نے ان کو پوری طرح اپنا لیا اور بحیثیت مجموعی سارے معاشرے نے ان کے ساتھ مطابقت پیدا کر لی۔ ان واقعات کی موجودگی میں جتنے کچھ ذرائع ہمارے (یعنی دینی نظام کے حامیوں کے) پاس تھے، ان کو دیکھتے ہوئے یہ بھی کوئی آسان کام نہ تھا کہ کم از کم آئینی حیثیت سے اس عمارت کی اصل کافرانہ بنیاد (لادینیت) کو بدلوا کر اس کی جگہ وہ بنیاد رکھ دی گئی جس کی بنا پر آپ موجودہ دستور کو نیم دینی تسلیم کر رہے ہیں۔“ (ایضاً، ص ۱۲۱، ۱۲۲)
ان میں سے دوسرے اقتباس کو بطور خاص دیکھیں تو واضح ہوگا کہ ایک قائم شدہ نظام سے انحراف، لادینی عناصر نے نہیں کیا، کیونکہ اس نظام کے ساتھ تو معاشرے کے سارے عناصر نے مطابقت پیدا کر لی تھی۔ اصل میں اس طرز سیاست میں تبدیلی لانے کی جدوجہد دینی عناصر کر رہے تھے جس میں انھیں سخت مشکلات کا سامنا تھا۔ ایسی صورت میں اس اختلافی سیاسی بحث کو اس طرح دیکھنا جیسے مذہبی روایت میں مبتدعانہ افکار کو دیکھنا جاتا ہے، غیر حقیقی اور غیر واقعی انداز فکر ہے۔ 
اس انداز فکر کے زیر اثر بعض دفعہ مذہبی اہل دانش کی طرف سے اس طرح کے بیانات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ ریاست کی نظریاتی حیثیت پر کسی کو سوال اٹھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ ایک بنیادی اور اساسی معاملہ ہے جو طے شدہ ہے اور ایسے امور کو چھیڑنے کی اجازت کوئی ریاست یا معاشرہ نہیں دیتا۔ یہ بات ایک تو اس لحاظ سے درست نہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ یہاں اسلامی یا سیکولر ریاست کی بحث پہلے دن سے موجود ہے اور آئینی طور پر فیصلہ ہو جانے کے باوجود نظری طور پر اب تک یہ بحث جاری ہے اور نظری بحث کے علاوہ آئین کی تعبیر کے حوالے سے اعلیٰ عدالتوں میں یہ بحث موجود ہے کہ کیا شریعت کی بالادستی کی ضمانت دینے والی شقیں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں یا ان کی حیثیت آئین کی دوسری شقوں کے برابر ہے، یعنی تضاد کی صورت میں شریعت کو بالادست حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔ 
دوسرے یہ کہ کسی بھی اجتماعی فیصلے کی قوت اسی میں مضمر ہوتی ہے کہ اس کی فکری ونظریاتی اساسات کا وزن لوگوں پر واضح رہے اور اس حوالے سے سوالات یا شبہات اٹھ رہے ہوں تو ان کا نظریاتی دلائل کے ساتھ ہی ازالہ کیا جائے۔ جو فیصلہ کیا گیا، اگر وہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہے تو سوالات سے نہیں گھبرانا چاہیے، بلکہ سوالات کو روکنے کی کوشش کرنا بسا اوقات منفی نتائج کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ جو سوالات واقعتاً ذہنوں میں موجود ہوں، انھیں کسی طرح کے قانونی یا معاشرتی دباو سے زیادہ دیر تک دبائے رکھنا ممکن بھی نہیں ہوتا اور ایسا کرنا حکمت اور دانش کے خلاف بھی ہوتا ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ فیصلے کا دفاع کھلے بحث ومباحثہ میں اس کے اپنے میرٹ کی روشنی میں کیا جائے اور سوالات کی کمزوری کو دلیل ہی کے میدان میں واضح کیا جائے۔
اب دوسری طرف ایک نظر ڈالیے:
لبرل حلقے کی طرف سے سیکولرزم کے حق میں مضبوط ترین دلیل قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر ہے جو بحث کے تاریخی تناظر کو فیصلہ کن سمجھنے کے ذہنی رویے کا اظہار ہے۔ تاہم لبرل مکتبہ فکر کو اس استدلال کی کمزوریوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مثلاً قائد اعظم گیارہ اگست کو دستور ساز اسمبلی کے سامنے اپنی تقریر میں جو کچھ کہہ رہے تھے (اس کی جو بھی تعبیر کی جائے، سردست اس سے بحث نہیں)، اس کی حیثیت راہ نما مشورے یا تجویز کی تھی یا دستور ساز اسمبلی کو ڈکٹیشن کی؟ اگر وہ ڈکٹیشن دے رہے تھے تو اپنے دائرہ اختیار سے صریحاً تجاوز فرما رہے تھے جو انھیں زیب نہیں دیتا تھا۔ اور اگر ان کے ارشادات کی حیثیت راہ نما مشورے کی تھی تو انھوں نے دیانت داری سے جو مشورہ بہتر سمجھا، دے دیا، لیکن دستور ساز ادارے نے بصد احترام اسے قبول نہیں کیا۔ خود قائد اعظم نے تحریک پاکستان کے دوران میں دستور پاکستان کی نوعیت اور نظریاتی نہج کے حوالے سے بنیادی ذمہ داری دستور ساز اسمبلی کی بیان کی تھی اور یہ بات گیارہ اگست کی تقریر کے بھی بعد فروری ۱۹۴۸ءمیں امریکی عوام کے نام جاری کردہ ایک ریڈیو پیغام میں کہی گئی تھی جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بانی پاکستان اپنا کوئی نظریہ اسمبلی پر مسلط نہیں کر رہے تھے۔ انھوں نے فرمایا:
”پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ابھی دستور بنانا ہے۔ مجھے علم نہیں کہ اس کی حتمی شکل وصورت کیا ہوگی۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ پاکستان کا آئین جمہوری قسم کا ہوگا جسے اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جائے گا۔ اسلام کے اصول آج بھی عملی زندگی پر اسی طرح لاگو ہوتے ہیں جس طرح تیرہ سو سال قبل ہوتے تھے۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے اور مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے۔ ہم ان شان دار روایات کے امین اور وارث ہیں اور دستور سازی میں انھی سے راہنمائی حاصل کی جائے گی۔ بہرحال پاکستان ایک تھیو کریٹ (مذہبی) ریاست نہیں ہوگی اور یہاں تمام اقلیتوں، ہندو، عیسائی، پارسی کو بحیثیت شہری وہی حقوق حاصل ہوں گے جو دوسرے شہریوں کو حاصل ہوں گے۔“ 
اقتباس سے واضح ہے کہ قائد اعظم کے ذہن میں کسی لا مذہبی یعنی سیکولر ریاست کا تصور نہیں، البتہ وہ ”مذہبی ریاست“ کے اس تصور کو قطعاً قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جس میں شہریت دراصل کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کی ہوتی ہے، جبکہ مذہبی اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا اور مساوی سیاسی حقوق کا حق دار نہیں سمجھا جاتا۔ 
اسی نوعیت کا ایک اور اعتراض یہ ہے کہ تحریک پاکستان میں شامل مذہبی طبقے سیاسی طور پر تو قائد اعظم کی قائدانہ صلاحیتوں کے قائل تھے، لیکن نئی ریاست کیسی ہونی چاہیے، اس کے متعلق قائد اعظم کے وژن کو قبول نہیں کرتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ یہ آخر کس اصول کی رو سے اعتراض بنتا ہے؟ یہ سامنے کی بات ہے کہ تحریک پاکستان میں شامل مختلف طبقوں کے اپنے اپنے تصورات اور مقاصد تھے۔ تحریک میں شرکت صرف اس نکتے کے حوالے سے تھی کہ مسلمانوں کا ایک الگ ملک ہونا چاہیے۔ اگر اس سے یہ لازم آتا ہے کہ قیام وطن کے بعد کے اہداف میں بھی سب کا اتفاق ہونا چاہیے تو یہی اعتراض پلٹ کر خود قائد اعظم پر بھی وارد ہوتا ہے۔ کیا انھیں نہیں معلوم تھا کہ مذہبی علماءومشائخ کس جذبے اور تصور کے تحت تحریک کا حصہ بنے ہیں؟ پھر بھی انھوں نے مشترک مقصد کے حصول کے لیے انھیں ساتھ رکھا اور ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا۔ بعض تجزیہ نگار ان کی اس حکمت عملی کی یہ تعبیر بھی کرتے ہیں کہ انھوں نے حصول مقصد سے پہلے اپنی پوزیشن گول مول رکھی۔ علماءکے سامنے ان کی پسند کی باتیں کیں اور دوسری جگہوں پر اپنی پسند کی، لیکن ملک بن جانے کے بعد اپنا اصل تصور گیارہ اگست کی تقریر میں واضح کر دیا۔ اگر قائد اعظم  کے طرز سیاست کی یہ تعبیر درست ہے تو اخلاقی لحاظ سے ان کی حیثیت مذہبی طبقے سے بہتر نہیں، بلکہ کم تر ہی بنتی ہے، کیونکہ علماءتو شروع سے آخر تک اپنے موقف میں واضح تھے اور قیام وطن کے بعد بھی انھوں نے وہی بات کہی جو پہلے سے کہتے چلے آ رہے تھے۔ غالباً‌ انھی وجوہ سے ڈاکٹر مبارک علی نے ایک انٹرویو میں قائد اعظم کے زاویہ نظر پر ارتکاز کرنے والے اس رائج اور مقبول استدلال کی کمزوری تسلیم کی اور کہا کہ ہمیں سیکولر ریاست کے آپشن پر خود اس تصور ریاست کی افادیت نیز اپنے سابقہ تجربات کے حوالے سے غور کرنا چاہیے۔
بحث کے تاریخی پہلووں پر ارتکاز کے علاوہ فریقین کے انداز استدلال میں ’’جرح شخصیات’’ بھی ایک غالب عنصر کی حیثیت سے موجود رہا ہے جو منطقی مغالطے کی ایک صورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نفس دلیل کی کمزوری پر بات کرنے کے بجائے، دلیل یا موقف پیش کرنے والے کی نیت اور کردار وغیرہ کی خرابی نمایاں کی جائے اور اس سے یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ چونکہ کہنے والا ایسا اور ایسا ہے، اس لیے اس کی بات غلط ہے۔
مذہبی اور سیاسی اختلاف رائے میں اس مغالطے کا استعمال ہمارے ہاں ایک معمول کی بات رہی ہے۔ تقسیم ہند کے موقع پر قوم پرستوں اور مسلم لیگیوں نے ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر اس طرز استدلال کے نمونے پیش کیے۔ مسلم لیگیوں نے جمعیة علماءہند اور کانگریس کے زعماءکی کردار کشی اور تحقیر وتوہین میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور جمعیة علماءکے حضرات نے یہی سلوک مسلم لیگی قیادت کے ساتھ کیا۔ پاکستان بن جانے کے بعد یہاں اہل مذہب اور لبرلز کی کشمکش شروع ہو گئی اور مذکورہ طرز استدلال نے اس بحث میں بھی نمایاں جگہ پائی۔ مثلاً بالکل ابتدائی دور میں ہی جن مذہبی شخصیات (مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا مودودی وغیرہ) نے سیکولر ریاست کے مقدمے کے خلاف آئینی جنگ جیتنے میں بنیادی کردار ادا کیا، وہ آج تک لبرلز کی نظر میں ناقابل معافی اور مطعون ہیں اور ان کی شخصیات یا جدوجہد کے مختلف پہلووں کو ہدف بنا کر یہ ثابت کیا جا تا ہے کہ چونکہ قرارداد مقاصد ان حضرات نے پیش کی تھی، اس لیے وہ غلط تھی۔ اتفاق سے مسلم لیگی قیادت، خاص طور پر قائد اعظم کے متعلق یہی طرز استدلال ان کے قوم پرست مخالفین اختیار کیا کرتے تھے۔ 
ان گزارشات کا حاصل یہ ہے کہ سیکولر ریاست کے مویدین اور مذہبی ریاست کے حامیوں، دونوں کو اپنے بیانیے کی تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ جیسے سیکولرسٹ اسی پرانے بیانیے کو نئی بوتل میں پیش کر کے نئی نسل کو زیادہ متاثر نہیں کر سکتے، اسی طرح مذہبی بیانیہ بھی اپنے مقدمات اور استدلال کو ازسرنو مرتب کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سابقہ بیانیے سے تاریخی طور پر کلی انقطاع ظاہر ہے کہ ممکن نہیں، لیکن بحث کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کے ایک مرحلے کے ساتھ مقید بھی نہیں رکھا جا سکتا۔ تحریک پاکستان کے مختلف کرداروں کا تصور اور عملی کردار کیا تھا، اس سوال کو بتدریج بحث کے “تاریخی“ گوشے تک محدود کر دینا ضروری ہے۔ آج کی نسل کو، سوالات کو ان کے اپنے میرٹ پر ڈسکس کرنے کی جرات کرنی ہوگی۔ دونوں طرف کے نوجوان ذہنوں کو بات اس سے آگے بڑھانی چاہیے جہاں تک ان کے بڑوں نے پہنچائی ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۴)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۴۳) اسلوب متعین کرنے کی ایک غلطی

درج ذیل آیت پر غور کریں:

وَإِنْ تَجْہرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّہ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَی۔ (طہ: 7)

اس آیت کا ترجمہ عام طور سے اس طرح کیا گیا ہے:
”تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے“ (سید مودودی)
”اور اگر تو بات پکار کر کہے تو وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے“ (احمد رضا خان)
صاحب تدبر نے یہاں عام مترجمین سے مختلف ترجمہ کیا ہے۔
”خواہ تم علانیہ بات کہو (یا چپکے سے) وہ علانیہ اور پوشیدہ سب کو جانتا ہے“ (امین احسن اصلاحی)
صاحب تدبر نے یہاں وہ اسلوب مراد لیا ہے جس میں مقابل کو حذف کردیا جاتا ہے، لیکن السر کے ساتھ واخفی یہ بتارہا ہے کہ یہاں وہ اسلوب مراد نہیں ہے، بلکہ وہ اسلوب مراد ہے جس میں کلام میں درجہ درجہ قوت پیدا ہوتی جاتی ہے، کہ علانیہ بات تو کیا وہ تو پوشیدہ اور پھر پوشیدہ تر کو بھی جانتا ہے۔ اس لیے پہلے جملے میں چپکے سے اور دوسرے جملے میں علانیہ محذوف ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ترجمہ میں دوسری غلطی یہ رہ گئی ہے کہ اخفی کا ترجمہ نہیں ہوسکا ہے، حالانکہ آیت کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تدبر نے اخفی کا مفہوم بھی ذکر کیا ہے۔

(۱۴۴) فاذ لم تفعلوا کا ترجمہ

أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ ۚ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّہ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاۃ وَآتُوا الزَّكَاۃ وَأَطِيعُوا اللَّہ وَرَسُولَہ ۚ وَاللَّہ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔ (المجادلۃ: 13)

اس آیت میں اذ لم تفعلوا میں اذ برائے ظرف ہے، اور جملہ ظرفیہ ماضی کا مفہوم ادا کررہا ہے، حسب قواعد ترجمہ ہوگا ”جب تم نے نہیں کیا“۔
یہی ترجمہ عام طور سے مترجمین نے کیا ہے، جیسے:
”کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے سے ڈر گئے؟ پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا تو اب (بخوبی) نمازوں کو قائم رکھو زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو اس (سب) سے اللہ (خوب) خبردار ہے“ (محمد جوناگڑھی)
البتہ درج ذیل ترجمہ ہمیں مختلف ملتا ہے:
”کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے؟ اچھا، اگر تم ایسا نہ کرو اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کر دیا تو نماز قائم کرتے رہو، زکوٰة دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے“(سید مودودی)
اس میں اذ لم تفعلوا کا ترجمہ کیا ہے،” اگر تم ایسا نہ کرو“، یہ ترجمہ کسی طرح درست نہیں ہے، غالب گمان یہ ہے کہ اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے دوسری آیت کے ان لم تفعلوا سے اشتباہ ہوگیا ہے، جو قرآن مجید میں دوسرے مقام پر آیا ہے۔

(۱۴۵) مریب کا ترجمہ

قرآن مجید میں چھ مقامات پر مریب کا لفظ شک کی صفت کے طور پر آیا ہے، (شک مریب) کا ترجمہ لوگوں نے مختلف طرح سے کیا ہے، اس تعبیر کا صحیح مفہوم وہ ہے جو علامہ زمخشری نے ذکر کیا ہے، 

مُرِیبٍ من ارابہ اذا اوقعہ فی الریبۃ وھی قلق النفس وانتفاء الطمانینۃ بالیقین. (تفسیر الزمخشری 2/ 407)

یعنی وہ شک جو الجھن اور پریشانی میں مبتلا کردے۔ تفسیر جلالین میں بھی اس کی تفسیر موقع فی الریبۃ ملتی ہے، یعنی الجھن اورخلجان میں ڈالنے والاشک۔
اس وضاحت کی روشنی میں ذیل کے ترجموں کو جائزہ لیا جاسکتا ہے:

(۱) وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْہ مُرِيبٍ۔ (ھود: 62)

”اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھا ہے“ (سید مودودی، یہ ترجمہ درست ہے)
”ہمیں تو اس دین میں حیران کن شک ہے جس کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے“ (محمدجوناگڑھی، ترجمہ درست ہے)
”اور بیشک جس بات کی طرف ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے ایک بڑے دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں“ (احمد رضا خان، مریب دھوکہ ڈالنے والی چیز کو نہیں کہتے ہیں)
” اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، اس میں ہمیں قوی شبہہ ہے“ (فتح محمدجالندھری، یہ ترجمہ درست نہیں ہے)

(۲) وَإِنَّہمْ لَفِي شَكٍّ مِنْہ مُرِيبٍ۔ (ھود: 110)

”یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں“(سید مودودی، یہ ترجمہ درست نہیں ہے، موصوف صفت کا ترجمہ ہونا چاہئے)
”اور وہ تو اس سے قوی شبہے میں (پڑے ہوئے) ہیں“ (فتح محمدجالندھری، یہ ترجمہ درست نہیں ہے، مریب وہ چیز نہیں ہے جو شبہ کو قوی بنادے، بلکہ وہ جو شبہ کو پریشان کن بنادے)
”انہیں تو اس میں سخت شبہہ ہے“ (محمدجوناگڑھی، یہ بھی درست نہیں ہے)
” اور بیشک وہ اس کی طرف سے دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں“ (احمد رضا خان، مریب دھوکہ ڈالنے والی چیز کو نہیں کہتے ہیں)

(۳) وَإِنَّا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَنَا إِلَيْہ مُرِيبٍ۔ (ابراہیم: 9)

”اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں“ (سید مودودی، خلجان آمیز نہیں بلکہ خلجان انگیز ہونا چاہئے)
”اور جس راہ کی طرف ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں وہ شک ہے کہ بات کھلنے نہیں دیتا“(احمد رضا خان، یہ ترجمہ درست ہے)
”اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک میں ہیں“ (فتحح محمدجالندھری، یہ بھی درست نہیں ہے)
”اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو ہمیں تو اس میں بڑا بھاری شبہ ہے“ (محمدجوناگڑھی، یہ بھی درست نہیں ہے)

(۴) إِنَّہمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُرِيبٍ۔ (سبا: 54)

”وہ بھی (ان ہی کی طرح) شک وتردد میں (پڑے ہوئے) تھے“ (محمدجوناگڑھی، یہ درست نہیں ہے، محل عطف کا نہیں بلکہ موصوف صفت کا ہے)
”یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے“ (سید مودودی، یہ بھی درست نہیں ہے، گمراہ کن مریب کا ترجمہ نہیں ہے)
”بیشک وہ دھوکا ڈالنے والے شک میں تھے“ (احمد رضا خان)
”وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے“(فتح محمدجالندھری، یہ درست ترجمہ ہے)

(۵) وَإِنَّہمْ لَفِي شَكٍّ مِنْہ مُرِيبٍ۔ (فصلت: 45)

”اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس کی طرف سے سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں“(سید مودودی، یہ درست ترجمہ ہے)
”اور بیشک وہ ضرور اس کی طرف سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں“ (احمد رضا خان)
”اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں“ (فتح محمدجالندھری، یہ بھی درست ترجمہ نہیں ہے)
”یہ لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں“ (جوناگڑھی، یہ درست ترجمہ ہے)

(۶) وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِہمْ لَفِي شَكٍّ مِنْہ مُرِيبٍ۔ (الشوری: 14)

”اور جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی ہے وہ بھی اس کی طرف سے الجھن والے شک میں پڑے ہوئے ہیں“(محمدجوناگڑھی، یہ درست ترجمہ ہے)
”اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اُس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں“ (سید مودودی، یہ درست ترجمہ ہے)
”اور بیشک وہ جو ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے وہ اس سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں“ (احمد رضا خان)
”اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ اس (کی طرف) سے شبہے کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں“ (فتح محمدجالندھری، یہ درست ترجمہ نہیں ہے)
ان مذکورہ بالا چھ مقامات کے علاوہ ایک مقام پر لفظ مریب، شک کی صفت کے طور پر نہیں آیا ہے بلکہ جہنم میں جانے والے کافر کی صفت کے طور پر آیا ہے۔ اس کا ترجمہ کچھ لوگوں نے کیا ہے، شک میں پڑا ہوا، اور کچھ لوگوں نے کیا ہے شک کرنے والا، ان دونوں کے حق میں مفسرین کے اقوال بھی موجود ہیں، کچھ لوگوں نے ایک ساتھ دونوں ترجمے کردیے ہیں، یہ غلط ہے دونوں میں سے کوئی ایک ہی ترجمہ اختیار کرنا ہوگا۔

مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُرِيبٍ۔ (ق: 25)

”خیر کو روکنے والا اور حد سے تجاوز کرنے والا تھا، شک میں پڑا ہوا تھا“(سید مودودی)
”جو بھلائی سے بہت روکنے والا حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا “(احمد رضا خان)
”جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا شبہے نکالنے والا تھا“ (فتح محمدجالندھری)
”جو نیکی سے روکنے والا ہے، حد سے بڑھ جانے والا ہے، شک کرنے اور ڈالنے والا ہے“ (طاہر القادری)
”جو نیکی و خیرات سے بڑا روکنے والا، حد سے بڑھنے والا اور شک کرنے والا اور دوسروں کو شک میں ڈالنے والا تھا“ (نجفی)
آخر کے دونوں ترجمہ درست نہیں ہیں، مریب کا کوئی ایک ترجمہ کرنا ہوگا ، ایک ہی لفظ کے دو ترجمے بیک وقت کرنا صحیح نہیں ہے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی اس آیت میں مریب کا ترجمہ عام لوگوں سے مختلف کرتے ہیں، ان کے نزدیک اوپر کی آیتوں میں تو مریب، شک کی صفت کے طور پر آیا ہے، یعنی الجھن میں ڈالنے والا شک، جب کہ یہاں یہ انسان کی صفت کے طور پر آیا ہے، اس لئے یہاں مریب متعدی نہیں بلکہ لازم مانا جائے گا، اور” شک میں پڑا ہوا“ کے بجائے ” الجھن اور خلجان میں پڑا ہوا“ ترجمہ کیا جائے گا۔ 
(جاری)

نئی زمینوں کی تلاش

عاصم بخشی

(فلسفہ سائنس، سماجیات اور چارلس پرس کے منتخب مقالات کے اردو ترجمہ ’’نئی زمینوں کی تلاش’’ کا پیش  لفظ)

مترجم کے تناظر سےترجمہ چاہے ادبی ہو یا تکنیکی دونوں صورتوں میں لازماًقرأتِ متن،  تفہیمِ متن اور شرحِ متن کی ایک سہ جہتی سرگرمی ہوتا ہے۔ پہلی جہت   ایک زبان کے طرزِ کلام کی دوسری زبان میں منتقلی،  دوسری جہت متن کی مخصوص معنوی  صورتوں کی  مترجم کے  پردۂ ذہن پر منتقلی اور تیسری جہت  مترجم  کی ان صورتوں میں ترجیح و انتخاب  سے تعلق رکھتی ہے۔ لیکن یہ تینوں جہتیں  ترجمے کے دوران  نہ صرف گڈ مڈ ہو جاتی ہیں بلکہ پس منظر میں اتنی مبہم ہو جاتی ہیں  کہ عام طور پر  مترجم اس قابل نہیں ہوتا کہ ترجمے کی کامیابی یا ناکامی  یا دوسرے لفظوں میں افادیت  یا غیر افادیت کے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکے۔لہٰذا یہ فیصلہ حتمی طور پر صرف اور صرف قاری ہی کا حق ٹھہرتا ہے۔
دوسری  طرف کسی بھی قاری کے تناظر میں  یہ سوال عمومی طور پر اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ آخر وہ  اصل متن کی بجائے ترجمہ کیوں پڑھے؟ اس کی متعدد وجوہات ممکن ہیں جن میں اصل متون کا حصول،  اصل زبان سے خاطر خواہ واقفیت یا پھر سیدھے سادے دلچسپی  سے متعلقہ متغیرات  شامل ہیں۔ لیکن بالفرض اگر ان میں سے کوئی بھی  مسئلہ آڑے نہ آئے،  تو بھی  یہ سوال اپنی پیچیدگی اسی طرح برقرار رکھتا ہے۔مثال کے طور پر عین ممکن ہے کہ خاطر خواہ اردو  اور انگریزی جاننے والا ایک شوقین  قاری ہومر  کے قدیم یونانی متون کے انگریزی تراجم کےساتھ ساتھ محمد سلیم الرحمٰن صاحب کے شاندار اردو ترجمے  کا  لطف اٹھانا بھی ضروری سمجھے، لیکن ایسے قارئین شاید ہی ہوں گے جو  خاطر خواہ  انگریزی جاننے کے باوجود   کانٹ  کی ‘‘تنقیدِ عقلِ محض’’ کو  اردو میں پڑھنے کو ترجیح دیں۔ خواص کی بات علیحدہ ہے  کہ وہ یقیناً ڈاکٹر سید عابد  حسین  صاحب کی زبان سے فلسفیانہ اصطلاح سازی کے جواہر جمع کرنے کو ترجیح دیں گے۔قصہ مختصر  ترجمہ  بالخصوص دقیق متون کا  ترجمہ قاری اور مترجم کے دو تناظرات کی ایسی موضوعی جنگ ہے جس میں  یقیناً آخری اور حتمی فتح قاری کا مقدر ہے۔
اس  دلچسپ کشمکش میں  مترجم  بہرحال  اپنی عاجزی کااعتراف ہی کر سکتا ہے اور کسی بھی ایسی تخلیقی سرگرمی کی طرح  جہاں تخلیق فی نفسہٖ مقصود ِ  اول و آخر  ہو اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے۔ لہٰذا یہ تمہیدی کلمات  نہ صرف اس عاجزی کا اعتراف ہیں، بلکہ ایک قسم کی تنبیہ بھی ہیں کہ اگر آپ ان ادّق موضوعات اور فلسفیانہ گتھیوں کو انگریزی زبان میں سلجھانے  کے قابل ہیں اور    کم از کم اگر فلسفیانہ اور سائنسی ادب کی حد تک اردو زبان  کسی نہ کسی حیثیت میں آپ کی   دوسری ترجیح ہے تو شاید یہ تراجم آپ کے لیے نہیں ہیں۔ یہ مان لینے میں کوئی جھجک نہیں کہ یہ عاجز خود بھی  اس  سلسلے میں انگریزی ہی  کو ترجیح دینے کا ہی قائل ہے، لیکن  ساتھ ہی ساتھ  یہ بھی ماننا ہے کہ یہ مسائل نہ صرف اردو میں اٹھائے جا سکتے ہیں بلکہ اگر کثیر تعداد میں ہوں تو اردو زبان کو نئی زندگی بھی عطا کر سکتے ہیں ۔ کیا  زبان سے متعلق یہ ثقافتی خلا  پر ہونا ممکن ہے؟ مجھ جیسے فکری فقیر کی  رائے میں یہ  نہایت مشکل ضرور ہے لیکن ہرگز ناممکن نہیں۔ سویہ اس سلسلے میں بس  ایک اپنی سی کوشش  ہے جو درحقیقت   ترجمے سے زیادہ زبان اورفنِ  مطالعہ سیکھنے کی جستجو ہے۔جہاں تک اس ترجمے کی اشاعت کا تعلق ہے تو وہ  اس  عاجزانہ کوشش کا ایک ایسا  امکانی ماحصل ہے جو صرف اور صرف   ڈاکٹر ناصر عباس نیّر اور اردو سائنس بورڈ  کی مرہونِ منت ہے۔
لیکن   ان  داخلی مقاصد کے  ساتھ ساتھ اگر کچھ عمومی مقاصد متعین کرنا اہم ہو تو مضامین کا یہ انتخاب  ایک طرف تو  مترجم کے تناظر میں بنیادی طور پر زبان کی حدود اور ترجمے کے امکانات جانچنےاور دوسری طرف قاری کے تناظر میں  اس قسم کے تراجم کی افادیت جاننے کی کوشش ہے۔اس انتخاب  کی تشکیل کے  اوّلین مراحل میں خیال یہی تھا کہ  حتی الوسع کئی ممکنہ موضوعات  جیسے ادب، فلسفہ، سائنس، سماجیات، سیاسیات اور تاریخ وغیرہ میں تھیوری کی  ترمیم پسند  جہتوں   کو چھونے کی کوشش کی جائے۔ لیکن وقت کی قلت اور غیر معمولی موضوعی وسعت کے پیشِ نظر کچھ تحدیدی سمجھوتے لازم آئے جن میں اہم ترین یہ ہے کہ  اس انتخاب میں فلسفۂ سیاسیات ، ادبی تھیوری اور  خالص نظری فلسفے   سے متعلق مباحث شامل نہیں کیے گئے۔یہ انتخاب اب تمام ناگزیر ترجیحی سمجھوتوں کے ساتھ فلسفۂ سائنس،  تاریخِ سائنس،  فلسفۂ ذہن، سماجیات، مذہبی سماجیات اور بیسویں صدی کے ایک اہم  منطق دان اور سائنسی  فلسفی چارلس پرس  کے  چند نادر  مضامین پر مشتمل ہے۔یہ واقعہ بھی شاید کچھ حوالوں سے اہمیت کا حامل ہو کہ انتخاب میں شامل تمام مضامین کی اصل زبان انگریزی ہے، لہٰذا ترجمہ ایک سے زیادہ تہیں نہیں رکھتا اور قارئین اور مترجمین باآسانی اصل متون کی جانب رجوع کرتے ہوئے راقم کی کسی کوتاہی کی نشاندہی  کر سکتے ہیں۔ کوشش کی گئی ہے کہ غیرمانوس اور ادق اصطلاحات کے انگریزی اصل متن کےاندر ہی الفاظ کے آگے کم از کم پہلی بار قوسین میں درج کر دیے جائیں۔ علاوہ ازیں بار بار استعمال ہونے والے کچھ الفاظ و اصطلاحات کے مختصر مطالب پر مشتمل ایک فرہنگ بھی آخر میں شامل کی گئی ہے۔
کتاب کو قارئین کی سہولت کے پیشِ نظر دو حصوں میں  تقسیم کیا گیا ہے۔ حصۂ اول میں شامل  ساتوں مضامین  اپنی انفرادی  حیثیت میں  ترمیم پسند تحقیقی سوالات اٹھاتےہیں۔ پہلا مضمون  انیسویں صدی کے امریکی فلسفی ایڈون برٹ کی  تاریخِ سائنس پر اہم ترین کتاب کا پہلا باب ہے۔ اس کتاب  میں برٹ کا بنیادی   نکتۂ تحقیق یہ ہے کہ  جدید سماجی   فکر  اور ثقافتی رجحانات   سائنسی تناظر کی مرہونِ منت ہیں اور  یہ سائنسی تناظر اپنی بنیادوں میں ایسے مابعد الطبیعیاتی مفروضے رکھتا ہے جو اب  اجتماعی یاداشت سے اس حد تک  فراموش ہو چکے ہیں کہ  جدید انسان  اب کوپرنیکس، ٹائیکو براہے، کیپلر، نیوٹن  اور گیلیلو وغیرہ کے انداز میں سوچنے کے قابل نہیں رہا۔ اس کے لیے ماضی میں ایک فکری جست درکار ہے  جو برٹ کی کتاب کا موضوع ہے۔ پہلا باب اس لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ اس میں  ان  قدرے جدید سوالات کے اولین  تخم بھی ملتےہیں جو الیگزنڈر کوائر،  مائیکل پولانی، تھامس کوہن  یہاں تک کہ پال  فئیرابینڈ  وغیرہ نے بعد میں اٹھائے۔امید ہے کہ پہلا باب  شوقین مترجمین  کو برٹ کی مکمل کتاب کو ترجمہ کرنے کی  دعوتِ عام دیتا نظر آئے گا۔
یوجین  وگنر کا نام نظری اور اطلاقی طبیعیات میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ انھیں اساسی اصول ہائے مشاکلت کی دریافت اور اطلاق پر ۱۹۶۳ءکا نوبل انعام بھی دیا گیا۔ زیرِ نظر مضمون ان  کی زندگی کے آخری اوائل کی  ایک ہلکی پھلکی سی فلسفیانہ سرگرمی   تھی جسے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس مضمون میں وہ ریاضی  کی طبیعیاتی دائروں میں  اطلاقی سر گرمی سے لے کر ایک نیم معجزاتی سی  نوعیت پر کچھ ایسے سوالات اٹھاتے ہیں جو فیثاغورث کے زمانے سے لے کر  تاحال لاینحل ہیں۔کتاب میں شامل تیسرا مضمون  برطانوی  ماہرِ حیاتیات روپرٹ شیلڈریک  کا ایک اہم    مقالہ ہے۔ شیلڈریک  کم و بیش دو دہائیوں سے خالص سائنسی  دائروں میں یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ   کیا سائنس کا مادیت پسند رجحان ہی واحد بامعنی رجحان ہے؟ کیا  اس قسم کی سائنسی مفروضہ بندی   ممکن ہے جو مادیت پسندی  سے آگے بڑھ کر  تحقیق کی راہیں  ممکن بنا سکے؟   اسی قسم کا ایک اور ترمیم پسند رجحان جو فلسفۂ ذہن  سے تعلق رکھتا ہےآسٹریلوی فلسفی اور وقوفی سائنس دان  ڈیوڈ شالمرز  کا بنیادی  موضوعِ تحقیق ہے۔ ان کے مقالے نے  پہلی بار  فلسفۂ ذہن میں مشکل اور آسان مسائل کی تقسیم  وضع کی  جس کے مطابق مسئلۂ شعور  ‘‘مشکل مسئلہ’’ہے۔ کتاب میں شامل یہ پانچواں مضمون نہ صرف ان کا بلکہ شاید جدید فلسفۂ ذہن  کے حالیہ دور کا اہم ترین مقالہ ہے جس نے تحقیق کی کئی نئی راہیں متعارف کروائیں۔اگلے دو مضامین   فلسفۂ اخلاق کے چوٹی کے مفکر ایلسڈئیر میک اینٹائر کے دو مختصر مضامین ہیں ۔ پہلے مضمون میں وہ  خدا پرست فلسفیوں کو  بحث کا رخ مکمل طور پر موڑنے کی کچھ تجاویز دیتے ہیں اور دوسرے مضمون میں   یہ خاکہ بندی کرتے ہیں کہ اس کام کے لیے  تعلیمی نصاب کس قسم کا ہونا  چاہیے۔حصۂ اول میں شامل آخری مضمون پیٹر برگر  کی طویل  سماجیاتی تحقیق کا نچوڑ  سمجھا جا سکتا ہے جو  یہ دکھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے کہ سماجیاتی تحقیق اس وقت کس مقام پر کھڑی ہے اورمستقبل کے  امکانات  کیا ہیں۔ 
حصۂ دوم مکمل  طور پر چارلس پرس کے مضامین پر مشتمل ہے۔پرس کا کُل فلسفہ ہی   ایسی شش جہتی ندرت اور ترمیم پسندی کا حامل ہے جو بیک وقت طبیعی سائنس، فلسفۂ سائنس، مذہبی علوم، فلسفیانہ تھیوری، ریاضی و منطق اورادبی تنقید میں تازہ تحقیقی سوالات سے متعلق ہے۔ اس سلسلے  میں تھامس نائٹ کا پہلا مضمون پرس کی زندگی اور فلسفے کا ایک سیر حاصل نچوڑ ہے۔ چونکہ پرس کا تمام کام  بہت پھیلاؤ رکھتا ہے  لہٰذا  نائٹ کا مضمون  اس کا ایک مرتب خاکہ پیش کرنےکے لیے بہت اہم ہے۔ اگلے چاروں مضامین  پرس کے   اساسی کام کا ایک ایسا  محدود انتخاب ہیں جو مکرر اور مسلسل  تفہیم کا تقاضا کرتے ہیں۔پرس کا بقیہ ماندہ ضخیم کام کئی حوالوں سے  اس انتخاب میں شامل آخری تین مضامین سے   یوں جڑا ہے کہ پرس کا کوئی بھی شوقین قاری  یا سنجیدہ محقق  ان کی طرف باربار لوٹنے  کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔اس حوالے سے حصۂ دوم اردو میں پرس کو متعارف کروانے کی پہلی کوشش ہے۔ اس حصے میں شامل تراجم پر نظر ثانی اور حواشی کے لیے میں   اپنے رفیقِ تحقیق برادرم عاصم رضا کا ممنون ہوں  جنہوں نے مسودے کو بغور پڑھا  اور اہم حواشی  کی جانب اشارے کیے۔
حصۂ دوم میں  شامل مضامین کے لیے میں بالخصوص پروفیسر ڈاکٹر باسط بلال کوشل کا ممنون ہوں جنہوں نے کئی سال قبل مجھے چارلس پرس کی فکر  سے متعارف کروایا۔ڈاکٹر کوشل لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے شعبۂ سماجیات سے وابستہ ہیں اور ان کا حلقہ جان ٹمپلٹن فاؤنڈیشن کے ایک علمی منصوبے کے تحت مدارس اور جامعات کے ذہین طلبہ کے درمیان مکالمے کی فضا ہموار کرنے کے لئے مسلسل کوشاں ہے۔ یہ مکالمہ عظیم وسعت کے حامل ان سوالات کو وضع کرنے کی کوشش ہے جو فلسفے، سائنس اور مذہب کی مشترکہ میراث ہیں۔حصۂ اول میں شامل تین اورحصۂ دوم میں شامل پانچوں مضامین ڈاکٹر کوشل ہی کی ہدایت پراس مخصوص  حلقے میں بحث و تمحیص  کی خاطر اردو میں منتقل کیے گئے۔یہ مجموعہ یقیناً ان مضامین کی وسیع تر رسائی کو ممکن بنائے گا تاکہ  فلسفے، سائنس،  مذہب اور دیگر  اقالیمِ علم سے متعلق محققین اردو زبان میں ان سوالوں پر تنقید و تبصرہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔مکالمے کے ان امکانات پر غوروفکر کے لیے  جان ٹمپلٹن فاؤنڈیشن اور ڈاکٹر باسط کوشل خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں۔
آخر میں ایک بار پھر ڈاکٹر ناصر عباس نیر صاحب کا شکریہ جن کی  ترغیب  و تحریک، حوصلہ افزائی اورعملی تعاون  کے باعث یہ مجموعہ  ممکن ہوا۔ امید ہے کہ اردو کے قارئین اور  خاص طور پر وہ محققین  جو  کسی نہ کسی درجے میں اردو  میں یہ مسائل اٹھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں  ان  سے  فائدہ اٹھا سکیں گے اوراس قسم کے مزید   تراجم کے لیے راہ ہموار ہو گی۔

ذرائع ابلاغ کی صورت حال پر عدالت عظمیٰ کا ازخود نوٹس

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے لوکل میڈیا اور کیبل چینلز میں غیر ملکی فلموں اور پروگراموں کی یلغار کا ازخود نوٹس لیا ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بینچ ان دنوں اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ 
لوکل میڈیا، کیبل انڈسٹریز، سوشل میڈیا اور اس کے ساتھ ساتھ ریاستی میڈیا میں مختلف حوالوں سے اس وقت جو دھماچوکڑی مچی ہوئی ہے اس نے ہر شریف اور محب وطن شہری کو پریشان کر رکھا ہے۔ اور اس یلغار کا دائرہ فکری، سیاسی، مذہبی، اخلاقی، تہذیبی او رثقافتی تمام دائروں تک پھیلا ہوا ہے جس کا مشترکہ مقصد یہ سمجھ میں آرہا ہے کہ پاکستانی قوم کو تہذیبی خلفشار، فکری انارکی، سیاسی افراتفری اور مذہبی بے یقینی کی دلدل میں اس حد تک دھکیل دیا جائے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بارے میں عالمی اور علاقائی بالادست قوتوں کے عزائم اور ایجنڈے کی تکمیل میں کسی مزاحمت اور رکاوٹ کے قابل نہ رہے۔ اس لیے اصل ضرورت تو وسیع پیمانے پر ملک میں جاری و ساری حکومتی اور پرائیویٹ میڈیا پالیسیوں اور سرگرمیوں کا مکمل جائزہ لینے کی ہے جو ظاہر ہے کہ قیام پاکستان کے مقاصد اور دستور پاکستان کے نظریاتی و تہذیبی اہداف سے سنجیدہ دلچسپی رکھنے والی کوئی حکومت یا ریاستی ادارہ ہی کر سکتا ہے جس کا سردست کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔ تاہم محدود اور جزوی دائرہ میں عدالت عظمیٰ کا یہ اقدام خوش آئند اور معاملات میں بہتری کا احساس پیدا کرنے کی ایک اچھی کوشش کے طور پر قابل تبریک و تحسین ہے اور ہم چیف جسٹس آف پاکستان کو اس سلسلہ میں مبارک باد اور ہدیہ تشکر پیش کرتے ہوئے اس سلسلہ میں کچھ گزارشات ان کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔
زیر بحث کیس کا دائرہ تہذیبی و ثقافتی ہے جس کے بارے میں چیف جسٹس آف پاکستان کے یہ ریمارکس قومی پریس میں سامنے آئے ہیں کہ:
’’انڈین، ترکش اور دیگر پروگراموں کی بھرمار سے ملک کے اسلامی اور ثقافتی کلچر کو ایک سازش کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے۔‘‘
جبکہ چند معروف فنکاروں لیلیٰ زبیری، فریال گوہر، ایوب کھوسہ اور ثمینہ احمد کا یہ تبصرہ بھی اخبارات کی زینت بنا ہے جو انہوں نے کیس کی مذکورہ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے کہ:
’’پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کو بیرون ملک سے آنے والے بحران سے بچایا جائے، اس کی وجہ سے ہماری تہذیب و ثقافت تباہ ہو رہی ہے اور نوجوان نسل خراب ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے پروگراموں پر مناسب پابندی ضروری ہے۔‘‘
اس کیس میں ہماری دلچسپی اور اس میں کسی حد تک خوشی کے اظہار کا یہی پہلو ہے جس نے یہ چند سطور قلمبند کرنے پر ہمیں آمادہ کیا ہے کہ یہ بات بسا غنیمت ہے کہ عدالت عظمیٰ کو اسلامی تہذیب اور چند فنکاروں کو علاقائی تہذیب وثقافت کی تباہی اور نوجوان نسل کے خراب ہونے کا احساس تو ہے۔ اگرچہ “دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے” کے مصداق ماضی کے بہت سے تلخ تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اس موقع پر بھی یہ خدشہ بار بار ہمارے ذہن میں ابھر رہا ہے کہ اس ساری کاروائی کا مقصد فی الواقع اسلامی تہذیب و ثقافت کا بچاؤ اور نئی نسل کی خرابی کا سدباب ہی ہے؟ کہیں غیر ملکی میڈیا پروگراموں کی طرف سے ملکی میڈیا کو درپیش مقابلہ کی فضا تو اس کا اصل باعث نہیں؟ اور کیا اس مقصد کے حصول کے لیے اسلام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو ہمیشہ کی طرح اب بھی ہمارے لیے “محفوظ شیلٹر” کا رول ادا کرنا ہے؟
جہاں تک اسلامی تہذیب و ثقافت کی تباہی اور نوجوان نسل کے خراب ہوجانے کی بات ہے اس حوالہ سے اس وقت جاری اور معروضی منظر میں کم از کم ہمیں تو ملکی اور غیر ملکی پالیسیوں اور سرگرمیوں میں کوئی جوہری فرق دکھائی نہیں دے رہا۔ صرف اتنی بات ہے کہ دستور و قانون میں اس سلسلہ میں کچھ تحفظات اور پابندیاں مذکور ہیں جن پر عملدرآمد میں کوئی متعلقہ ادارہ کبھی سنجیدہ نہیں رہا اور ان کا تذکرہ صرف اس وقت سامنے آتا ہے جب کسی ادارہ کے طرز عمل یا کسی پالیسی سے متاثر ہونے والا کوئی فریق اپنے بچاؤ کے لیے کسی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو قوم کو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دستور و قانون میں یہ بات بھی لکھی ہوئی ہے اور ہمارے ہاں اسلامی تہذیب و ثقافت کا کوئی تصور قانون کی فائلوں میں موجود ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ کے یہ ریمارکس کہیں پڑھے تھے کہ “ہم نے اسلام کا تحفظ کبھی نہیں کیا بلکہ اسلام ہی ہمیشہ ہمارا تحفظ کرتا ہے”۔ بدقسمتی سے اقبالؒ کے تصور پر قائم ہونے والے پاکستان میں بھی تحریک پاکستان سے لے کر اب تک ہماری قومی نفسیات و رجحانات کا رخ اور سطح یہی چلی آرہی ہے۔ ہم سب کے ہاتھ میں “اسلام” ایک چھتری کی صورت میں ہر وقت موجود رہتا ہے، جہاں کہیں دھوپ یا بارش کی وجہ سے اس کی ضرورت پڑتی ہے، ہم اسے اپنے سر پر تان لیتے ہیں اور جونہی وہ ضرورت ختم ہوجاتی ہے یا خود ہمارا موڈ اس دھوپ یا بارش کو انجوائے کرنے کا بن جاتا ہے تو وہ چھتری خودبخود سمٹ کر پھر سے ہمارے ہاتھ کی چھڑی بن کر رہ جاتی ہے۔ ہمارا ایک اور “طریق واردات” بھی ہے کہ اسلام اور اسلامی تہذیب کی کوئی بات ہمیں اختیار کرنا پڑ جائے تو ہم سرے سے اس کو ہی شک و نزاع کا موضوع بنا دیتے ہیں تاکہ “نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری”۔ عدالت عظمیٰ میں زیر بحث آنے والے بہت سے معاملات میں سے دو باتوں کا حوالہ اس سلسلہ میں مناسب معلوم ہوتا ہے۔
ایک سود کی بات ہے جس کے بارے میں دستور پاکستان کی واضح ہدایت موجود ہے کہ سودی نظام کو جلد از جلد ختم کیا جائے۔ جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے ایک تفصیلی فیصلہ میں دستور و قانون میں سودی نظام سے متعلقہ دفعات کی نشاندہی کر کے انہیں ختم کرنے اور ان کی جگہ اسلامی احکام و قوانین کو قانونی نظام کا حصہ بنانے کی نہ صرف ہدایت کر چکی ہے بلکہ متبادل نظام و قانون کا مکمل ڈھانچہ بھی عدالت عظمیٰ کی طرف سے پیش کیا جا چکا ہے۔ مگر ہم اس پر عمل کرنے کی بجائے عدالتی فورم پر ہی “سود” کی ازسرنو تعبیر و تشریح اور اس کے من چاہے اطلاقات کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہمیں اس سے غرض نہیں رہی کہ امت نے شروع سے اب تک جس سود کو حرام سمجھا وہ کیا ہے اور سود کی جس تعریف و اطلاق سے امت کے جمہور اہل علم و فقہ نے ہمیشہ اتفاق کیا ہے اس کا دائرہ کیا ہے؟ ہم نے تو سرے سے سود ہی کو متنازعہ اور مشکوک بنا کر دستوری پابندی سے پیچھا چھڑانا ہے جو ہم پوری سنجیدگی کے ساتھ کر رہے ہیں اور یہی ہمارے ریاستی اداروں اور حکمران طبقات کی طے شدہ پالیسی ہے۔
دوسرا مسئلہ اسی فحاشی اور عریانی کا ہے۔ جب ہمارے ایک محترم قومی راہنما قاضی حسین احمد مرحوم نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ فحاشی پر پابندی لگائی جائے تو خود “فحاشی” زیربحث موضوع بن گئی کہ فحاشی کہتے کس کو ہیں اور ہم نے فیتہ لے کر کرتے اور پاجامے ماپنے شروع کر دیے کہ یہ فحاشی شروع کہاں سے ہوتی ہے اور کہاں جا کر ختم ہوتی ہے۔ اس دور میں مجھ سے کسی نے سوال کیا کہ آپ بتائیں کہ فحاشی کی تعریف کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ قرآن کریم سے یہ بات پوچھ لیتے ہیں جس نے متعدد مقامات پر فحاشی کا ذکر کیا ہے، اس سے منع کیا ہے اور اسے قابل سزا جرم قرار دیا ہے۔ ان میں سے دو کو ہی دیکھ لیں۔ 
(۱)سورہ الاعراف کی آیت ۲۶ تا ۳۱ میں اللہ تعالیٰ نے “فحشاء” کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ لباس انسان کے لیے زینت بھی ہے اور یہ پردہ و ستر بھی ہے۔ شیطان نے تمہارے ماں باپ آدم و حوا علیہما السلام کو جنت سے نکلوانے کے لیے انہیں بے لباس کرنے کا حربہ استعمال کیا تھا اور وہ نسل انسانی کو جنت میں جانے سے روکنے کے لیے بھی لباس اتروانے کا حربہ ہی استعمال کر رہا ہے۔ یہ “فحشاء” ہے جس کا شیطان حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے تمہیں منع کرتا ہے۔ گویا لباس کا پردہ و ستر کی ضرورت سے کم ہونا قرآن کریم کے نزدیک فحاشی کہلاتا ہے۔ 
(۲) سورہ النور کی آیت ۱۱ تا ۲۶ میں اللہ تعالیٰ نے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ پر منافقین کی طرف سے لگائی گئی نعوذ باللہ بدکاری کی تہمت کا ذکر کیا ہے اور اسے “بہتان عظیم” قرار دے کر ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی پاکدامنی کی گواہی دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس تہمت کی تشہیر اور اس پر طرح طرح کے تبصروں اور کمنٹس کو “فحشاء” قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت دونوں جگہ سزا بیان فرمائی ہے۔
میں نے عرض کیا کہ قرآن کریم کے ان دو مقامات کو سامنے رکھتے ہوئے “فحاشی” کی تعریف و اطلاق کا قانونی دائرہ آسانی کے ساتھ متعین کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے اتنے لمبے مباحثہ کی آخر کیا ضرورت ہے؟ لیکن یہ ہمارا اجتماعی مزاج بن گیا ہے کہ قرآن و سنت کے کسی صریح حکم پر بھی عمل کرنے کی بجائے اس سے فرار کے راستے تلاش کرتے ہیں اور اس میں ہماری “مہارت” بلاشبہ کسی بڑے سے بڑے عالمی ایوارڈ کے معیار سے کم نہیں ہے۔ یہ ہماری چابکدستی نہیں تو اور کیا ہے کہ محبت اور عقیدت تو حضرت مجدد الف ثانیؒ سے رکھتے ہیں اور قصیدے بھی انہی کے پڑھتے ہیں لیکن راستہ ہم نے اکبر بادشاہ کے “دین الٰہی” کا اختیار کر رکھا ہے اور پوری قوم بلکہ امت مسلمہ کو اسی راستے پر گامزن کر دینے کے لیے ہماری ’’علم و دانش‘‘ کی صلاحیتیں مسلسل صرف ہو رہی ہیں۔
اسلامی تہذیب کے تحفظ کے جذبہ و احساس اور اس سلسلہ میں میڈیا کی سرگرمیوں کا ازخود نوٹس لینے پر ہم عدالت عظمیٰ بالخصوص چیف جسٹس جناب جسٹس نثار ثاقب کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ اس موقع پر ملک کے ایک شہری اور مسلمان کے طور پر ہماری ان گزارشات پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے، جزاکم اللہ احسن الجزاء۔

دینی خدمات کا معاوضہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ دنوں کسی دوست نے واٹس ایپ پر جمعیۃ علماء ہند صوبہ دہلی کے صدر اور مدرسہ عالیہ عربیہ فتح پوری دہلی کے مہتمم مولانا محمد مسلم قاسمی کے اس فتویٰ کا ایک صفحہ بھجوایا ہے جو ائمہ مساجد اور مدارس و مکاتب کے اساتذہ کی تنخواہوں کے بارے میں ہے اور اس پر کچھ دیگر حضرات کے دستخط بھی ہیں۔ اس کا ایک حصہ ملاحظہ فرما لیجئے:
’’کل قیامت کے دن یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ مسجد میں ماربل، اے سی، بہترین قالین اور عمدہ جھاڑ فانوس وغیرہ لگائے تھے یا نہیں؟ لیکن اگر اتنی کم تنخواہ دی جس سے روزمرہ کی عام ضروریات زندگی بھی پوری نہ ہو سکیں تو یہ ان کی حق تلفی ہے جس کا حساب یقینا اللہ کے ہاں دینا پڑے گا۔ مسجد و مدرسہ کی آمدنی کے سب سے زیادہ مستحق امام، مؤذن اور اساتذہ ہیں۔ یہ جتنے اچھے اور خوشحال رہیں گے مسجد اور مدرسوں کا نظام اتنا ہی اچھا چلے گا۔ صرف امام کی تنخواہ دے کر امام پر اذان کی بھی ذمہ داری ڈالنا اور جھاڑو وغیرہ دینے کے کام پر مامور کرنا یہ ان کی توہین ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حاملین قرآن (قرآن کا علم رکھنے والے) کی تعظیم کرو، بے شک جس نے ان کی عزت کی اس نے میری عزت کی (الجامع الصغیر ۱/۱۴)۔ تنخواہ اچھی دینا بھی ان کی عزت کرنے میں داخل ہے اور حدیث میں ہے کہ حاملین قرآن اسلام کا جھنڈا اٹھانے والے اور اس کو بڑھاوا دینے والے ہیں، جس نے ان کی تعظیم کی اس نے اللہ کی تعظیم کی اور جس نے ان کی توہین کی اس پر اللہ کی لعنت ہے (الجامع الصغیر ۱/۱۴۲)۔ تنخواہ کم ہونے اور ضروریات زندگی زیادہ ہونے کی وجہ سے امام اور اساتذہ ہو کر وہ کسی مالدار صاحب خیر سے سوال کرنے کی جرأت کر بیٹھتے ہیں اور بعض دفعہ سوال پورا نہ ہونے کی صورت میں سخت ذلت اٹھانی پڑتی ہے۔ ایسے حالات میں تنخواہ نہ بڑھا کر انہیں پریشانی میں ڈالنا بھی ایک طرح کی توہین ہی ہے۔ لہٰذا امام اور اساتذہ کی تنخواہیں ان کے گھر کے خرچہ کے مطابق موازنہ کر کے مہنگائی کے ساتھ ساتھ بڑھاتے رہنا چاہیے۔ سال پورا ہونے کا انتظار یا تنخواہ بڑھانے کے معاملہ میں تنگ دلی سے کام لینا یا دیگر نامناسب شرط و قید لگانا صحیح نہیں۔ (مستفاد از فتاوٰی رحیمیہ قدیم ۵۳۵/۴)”
یہ فتویٰ ۱۷ اپریل ۲۰۱۸ء کو جاری کیا گیا ہے اور اس میں ہمارے دینی ماحول کے ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ پاکستان، بنگلہ دیش اور پورے جنوبی ایشیا کے عمومی ماحول میں دن بدن سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے تو ہمارے ہاں یہ غلط تصور رواج پا گیا ہے کہ دینی خدمات کسی معاوضہ کے بغیر سرانجام دینی چاہئیں اور کسی دینی خدمت پر وظیفہ یا تنخواہ کا تقاضا کرنا ثواب اور اجر سے محرومی کا باعث بن جاتا ہے۔ بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی خدمت ان کے سپرد کی اور اس کی انجام دہی کے بعد آنحضرتؐ نے انہیں کچھ حق الخدمت پیش کیا جو انہوں نے یہ کہہ کر قبول کرنے میں تامل کیا کہ میں نے تو یہ خدمت اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے سرانجام دی ہے اور میری مالی حالت بہتر ہے مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ جناب رسول اللہ نے ان کی یہ بات قبول نہیں کی اور فرمایا کہ ’’خذہ وتمولہ‘‘ اس کو وصول کرو اور اپنے مال میں شامل کرو، اس کے بعد اگر تمہاری مرضی ہو تو صدقہ کر دو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی دینی خدمت پر حق الخدمت ادا کرنا ضروری ہے، اسے وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس سے دینی خدمت کا ثواب و اجر ختم نہیں ہو جاتا۔
اسی طرح یہ بات ہمارے ہاں معمول بن گئی ہے کہ دینی خدمات سرانجام دینے والوں کی تنخواہیں اور دیگر سہولتیں عام طور پر کم از کم معیار پر مقرر کی جاتی ہیں۔ کچھ خدا ترس اور معیاری دینی مدارس و مراکز اساتذہ اور ائمہ و حفاظ کو معقول مشاہرے دیتے ہیں اور سہولتیں بھی مہیا کرتے ہیں مگر ان کی تعداد اکثریت میں بہرحال نہیں ہے۔ جبکہ عمومی ماحول یہ ہے کہ جس شخص کو ہم امامت، اذان، تعلیم قرآن کریم، دینی تدریس اور اس نوعیت کی کوئی ذمہ داری سونپ رہے ہیں اور اس کے اوقات کار کو اس کام کے لیے مخصوص کر رہے ہیں اس کا وظیفہ مقرر کرتے وقت ہم اس بات کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے کہ اس سے اس کی اور اس کے کنبہ کی روزمرہ کی ضروریات اس علاقہ کے عرف کے مطابق باوقار طریقہ سے پوری ہو سکتی ہیں یا نہیں؟ ضروریات اور اخراجات کے تعین میں قرآن کریم نے “عرف” کو معیار قرار دیا ہے اور اس کی پابندی کا حکم دیا ہے۔ ’’متاعاً بالمعروف‘‘ کے ارشاد گرامی کے ساتھ ساتھ یتیم کے مال کی نگرانی اور انتظام کرنے والے کے لیے قرآن کریم میں ’’فلیأکل بالمعروف‘‘ فرمایا گیا ہے۔ جبکہ اس عرف کا دائرہ متعین کرتے وقت ہمیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس ارشاد گرامی کو سامنے رکھنا ہوگا جو انہوں نے خلیفۂ اول حضرت صدیق اکبرؓ کا بیت المال سے وظیفہ مقرر کرتے وقت صحابہ کرامؓ کی مشاورت کے دوران فرمایا تھا کہ جس سے وہ مدینہ منورہ کے ایک عام شہری کی طرح باعزت زندگی گزار سکیں اور اسی پر فیصلہ ہوگیا تھا۔ اس لیے مؤذن، امام، خطیب، مدرس، قاری اور دینی خدمت کے مختلف شعبوں کے رجال کار کا وظیفہ اور سہولتیں مقرر کرتے وقت یہ بات بہرحال ملحوظ رکھنا ہوگی کہ وہ جس علاقہ میں رہتے ہیں وہاں کے عمومی ماحول کے مطابق ان کے کنبہ کی ضروریات زندگی اس وظیفہ سے باعزت طور پر پوری ہو جائیں، ورنہ یہ نا انصافی اور حق تلفی شمار ہوگی۔
ایک اور بات بھی ہمارے ہاں کہہ دی جاتی ہے کہ جب ایک امام اور مدرس خود اس تنخواہ پر راضی ہے اور اسے قبول کر رہا ہے تو پھر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ مجھے اس بات کو تسلیم کرنے میں تامل ہے اس لیے کہ ہمارے ہاں کسی شخص کو قاری اور عالم کے طور پر تعلیم و تربیت دینے کے دوران اس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ وہ دینی خدمت کے سوا کوئی اور کام نہ کر سکے بلکہ اس کے کوئی متبادل ہنر یا ذریعۂ روزگار سیکھنے کی عام طور پر حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔جس کے نتیجے میں ایک عالم دین کوئی متبادل ذریعہ اختیار کرنے کی اول تو استعداد اور صلاحیت ہی نہیں رکھتا اور اگر کوئی شخص اپنی ذاتی محنت اور توجہ سے ایسا کر لیتا ہے تو اسے خود اپنے اساتذہ، ساتھیوں اور ماحول کی طرف سے تحقیر و استخفاف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ معاشرتی طور پر مجبور ہو جاتا ہے کہ دینی خدمت ہی کے دائرے میں رہے اور اسی کو معاش کا ذریعہ بنائے، چنانچہ اس مجبوری کے باعث وہ کم وظیفے پر راضی ہو جاتا ہے کہ چلو کچھ نہ ہونے سے تو یہ بہتر ہے۔ تو کیا اس کی یہ رضا شرعاً رضا شمار ہوگی ؟ صاحبِ ہدایہ نے حضرت امام ابوحنیفہؒ سے یہ اصول نقل کیا ہے کہ ’’لا رضاء مع الاضطرار‘‘ یعنی اضطرار اور مجبوری کی حالت کی رضا کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ میری طالب علمانہ رائے میں آج کی مساجد و مدارس میں اس کیفیت کے ساتھ دینی خدمات سرانجام دینے والے زیادہ تر حضرات اس کا اولین مصداق ہیں جو مسلسل زیادتی اور حق تلفی کا شکار ہو رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک اور پہلو پر بھی غور فرما لیں کہ بعض حضرات سادگی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ فارغ اوقات میں کوئی اور کام بھی تو کر سکتے ہیں۔ اور ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ یہ بات زیادہ تر ان لوگوں کی طرف سے کی جاتی ہے جو کہتے ہیں کہ علماء کرام کو دینی خدمات تو بلامعاوضہ سرانجام دینی چاہئیں اور فارغ اوقات میں متبادل ذریعہ اختیار کر کے روزگار کا بندوبست کرنا چاہیے۔ یہ حضرات آج کے اس مسلمہ بین الاقوامی ضابطے کو بھول جاتے ہیں کہ کسی بھی شخص کی ڈیوٹی کے اوقات کار کا تعین ضروری ہے جو عام طو رپر یومیہ چھ یا آٹھ گھنٹے ہوتا ہے اور اس کے علاوہ اس کے اوقات کا اس کی گھریلو ضروریات، آرام، بیوی بچوں اور تفریح وغیرہ کے لیے فارغ ہونا اس کا بنیادی انسانی حق ہے جو اس کی ضروریات زندگی میں شامل ہے۔ اوقات کار کے حوالہ سے آج کے مسلمہ قانون کو اگر سامنے رکھا جائے جس سے اسلام بھی انکار نہیں کرتا تو ہمارے اساتذہ، ائمہ اور دینی خدمت کے دیگر رجال کار پہلے ہی اس دائرہ سے زیادہ وقت دے رہے ہیں اس لیے اس سے ہٹ کر ان پر کسی مزید ڈیوٹی اور کام کی ذمہ داری ڈالنا ان کی حق تلفی اور ان کے ساتھ نا انصافی کی بات ہوگی۔
دہلی کے مولانا مفتی محمد مسلم قاسمی کے مذکورہ فتویٰ کو دیکھ کر یہ چند معروضات پیش کرنے کا موقع مل گیا ہے ورنہ یہ مسئلہ بہت زیادہ توجہ اور فکرمندی کا تقاضہ کرتا ہے جو اہل فتویٰ کی دینی ذمہ داری میں شامل ہے بلکہ اس طرف توجہ نہ دینے والے حضرات بھی میری طالب علمانہ رائے میں اس نا انصافی میں شریک ہی سمجھے جائیں گے۔ رمضان المبارک کے رخصت ہونے کے بعد شوال المکرم کے دوران ہمارے ہاں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے جس میں مدارس و مساجد کے سال بھر کے معاملات طے پاتے ہیں اس لیے دینی مدارس کے وفاقوں، دینی جماعتوں، افتاء و ارشاد کے بڑے مراکز اور مسلمہ علمی شخصیات سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلہ پر توجہ فرمائیں اور مساجد و مدارس کے شعبوں میں ان کے منتظمین کے لیے کچھ باقاعدہ اصول و ضوابط وضع کر کے ان کی راہنمائی کریں تاکہ وہ ان کی روشنی میں ائمہ، مدرسین، مؤذنین اور دینی خدمات کے دیگر رجال کار کے ساتھ مسلسل ہونے والی اس نا انصافی کی تلافی کے لیے کوئی معقول راستہ اختیار کر سکیں۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا نظریہ تخریج (۴)

ایک تنقیدی جائزہ

مولانا عبید اختر رحمانی

حضرت امام صاحب کے غیر کوفی اساتذہ کرام کی مختصر فہرست 1

مدنی اساتذہ کرام

عبدالرحمٰن بن ہرمز مدنی

آپ نے حضرت ابوہریرہ اورحضرت ابوسعید خدری اوردیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے روایت کی ہے،آپ کو حافظ ذہبی نے الامام الحافظ ،الحجۃ کے گراں قدر القاب سے یاد کیاہے۔ (سير أعلام النبلاء،المؤلف: شمس الدين الذهبي (المتوفى : 748هـ) الناشر:مؤسسة الرسالة،5/69)

ہشام بن عروۃ بن الزبیر بن العوام الاسدی

آپ کو اپنے والد عروہ ،چچا زبیر،عبداللہ بن عثمان اور دیگر کبار تابعین سے روایت  کاشرف حاصل ہے،حافظ ذہبی نے آپ کاالامام الثقہ شیخ الاسلام کے باعظمت القاب سے ذکر کیاہے۔(سير أعلام النبلاء،المؤلف: شمس الدين الذهبي (المتوفى : 748هـ) الناشر:مؤسسة الرسالة،6/34)

ابن شہاب الزہری

آپ کی ولادت سنہ ۵۰ ہجری میں ہوئی اور بیس سے کچھ زائد عمر میں علم حاصل کرنا شروع کیا۔ حضرت ابن عمرؓ سے دو حدیثیں روایت کیں۔ ان کے علاوہ سہل بن سعد، انس بن مالک، محمود بن الربیع اور دیگر متعدد صحابہ کرام اور کبار تابعین سے روایت کا آپ کو شرف حاصل ہے، علم حدیث میں آپ کا بڑامقام ومرتبہ ہے،اورتقریباآپ کی جلالت علمی پر محدثین کا اتفاق ہے،حافظ ذہبی نے آپ کو احدالاعلام وحافظ زمانہ سے ملقب کیاہے۔(تاريخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام،المؤلف: شمس الدين الذهبي، الناشر: دار الغرب الإسلامي 3/499)

نافع مولی ابن عمرؓ

 آپ اصلاًدیلم کے رہنے والے تھے، اسیر ہوکر حضرت عبداللہ بن عمرکے پاس پہنچے،آپ نے عبداللہ بن عمرؓ کے علاوہ ابوسعید الخدریؓ،مالک بن انس ودیگر صحابہ کرام وکبار تابعین سے روایت کی ہے،حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایات کے آپ مرکزی راوی ہیں، اورآپ ہی کے سلسلہ سند کو امام بخاری سلسلۃ الذہب واصح الاسناد قراردیاہے۔آپ کی علمی جلالت شان اور علم حدیث میں ثقاہت واتقان پر محدثین کرام کا اتفاق واجماع ہے۔.(وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان،المؤلف: ابن خلكان الإربلي (المتوفى: 681هـ)الناشر: دار صادر – 5/367)بيروت)

ربیعۃ الرای

آپ نے صغار صحابہ کرام اور کبا رتابعین سے حصول علم میں استفادہ کیاہے،آپ کے شاگردوں میں اساطین اہل علم کاشمار ہے،امام مالک نے فقہ میں آپ سے بطور خاص استفادہ کیاہے اورآپ کی فقاہت کی داد دیگر فقہاء ومحدثین نے بلند وبالا الفاظ میں دی ہے،صحابہ کرام کی موجودگی میں آپ فتویٰ دیاکرتے تھے،بعض حضرات نے توآپ کوحسن بصریؓ اور ابن سیرینؓ سے بھی زیادہ بڑافقیہ قراردیاہے،امام مالک فرمایاکرتے تھے کہ ربیعہ کی موت سے فقہ کی مٹھاس چلی گئی ،فقہ کے ساتھ حدیث میں بھی آپ کو پوری دستگاہ حاصل تھی، ابن سعد نے نے آپ کو کثیرالحدیث قراردیاہے۔(تهذيب التهذيب، المؤلف: ابن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ)الناشر: مطبعة دائرة المعارف النظامية، الهند3/258)
امام ابوحنیفہ کے متعلق بعض محدثین نے ایسے اقوال نقل کیے ہیں، جس سے پتہ چلتاہے کہ امام ابوحنیفہ ان کی باتوں کو نہایت غور سے سنتے تھے توبجائے اس کے کہ اس کو امام ابوحنیفہ کے حسن ادب اور علمی مجالس کے آداب نشست وبرخاست برتنے کے سلیقہ میں شمار کیاجائے ،بعض سوء فہم کے شکار افرادنےاس چیز کو امام ابوحنیفہ کے عیب وتنقیص میں شمار کیاہے(دیکھئے نشرالصحیفۃللوادعی:ص۳۹۱)،جیساکہ ایک روایت ہمیں ملتی ہے کہ امام ابوحنیفہ امام مالک کی مجلس میں اسی طرح بیٹھتے تھے جیسے بچے اپنی ماں کے سامنے باادب بیٹھتے ہیں(تذکرۃ الحفاظ ،الناشر: دار الكتب العلمية بيروت-لبنان۱؍۱۵۵)اس پر حافظ ذہبی نے لکھاہے:
’’ قلت: فہذا يدل علی حسن أدب أبي حنيفة وتواضعہ مع كونہ أسنّ من مالك بثلاث عشرة سنة.‘‘ (المصدرالسابق)
میں کہتاہوں(ذہبی)یہ امام ابوحنیفہ کے حسن ادب اور تواضع کی دلیل ہے،کیونکہ امام ابوحنیفہ امام مالک سے عمر میں تیرہ برس بڑے تھے2۔

محمد بن المنکدر

آپ نسب ونسبت کے اعتبار سے قریشی ،تمیمی اور مدنی ہیں،آپ کا شمار کبارتابعین ہیں، آپ کوجلیل القدر صحابہ کرام اورامہات المومنین سے روایت کا شرف حاصل ہے،آپ نے حضرت سلمان فارسی، ابورافع،اسماء بنت عمیس،ابوقتادہ سے مرسلاً روایت کی ہے،صحابہ کرام میں حضرت ابن عمر،حضرت جابر،حضرت ابوہریرہ،حضرت ابن عباس،حضرت عبداللہ بن زبیر،حضرت انس بن مالک، حضرت ابوامامہ،حضرت مسعود بن الحکم ،حضرت عبداللہ بن حنین اورصحابیات میں ام المومنین حضرت عائشہؓ ،امیمہ بنت رقیقہ سے روایت کا شرف حاصل ہے، اس کے علاوہ آپ نے کبار تابعین سے بھی روایت کی ہے جس میں سعید بن المسیب،عروہ بن زبیر اور عبدالرحمن بن یربوع اوراپنے والد منکدر ودیگر شامل ہیں،حافظ ذہبی نے آپ کو الإِمَامُ، الحَافِظُ، القُدْوَۃ، شَيْخُ الإِسْلاَمِ کے گراں قدر القاب سے یاد کیاہے۔(سير أعلام النبلاء،المؤلف: شمس الدين الذهبي (المتوفى : 748هـ) الناشر:مؤسسة الرسالة،5/354)

عکرمۃ مولی ابن عباس

آپ کا آبائی تعلق بربر قبیلہ سے ہے،مجاہدین کے ہاتھوں اسیر ہوئے، اورایک صاحب نے آپ کو حضرت عبداللہ بن عباس کو تحفے میں دیدیا،آپ کوحضرت عبداللہ بن عباس کے علوم کا وارث خیال کیاجاتاہے،بالخصوص تفسیر میں آپ کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے،آپ نے حضرت ابن عباسؓ کے علاوہ ام المومنین حضرت عائشہ،حضرت ابوہریرہ،حضرت عبداللہ بن عمر ،حضرت عبداللہ بن عمرو ودیگر کبار تابعین سے روایت کیاہے، حضرت علیؓ سے آپ نے مرسلاروایت کیاہے۔آپ کے شاگردوں مین اساطین فقہ وحدیث موجود ہیں،صحابہ کرام تک آپ سے استفادہ کرتے تھے، حضرت شعبی فرمایاکرتے تھے کہ اب روئے زمین پر عکرمہ سے زیادہ کتاب اللہ کا واقف کار کوئی دوسرا نہیں ہے،آپ کو حافظ ذہبی نے العلامة الحافظ، إمام المفسرين کے باوقعت الفاظ سے یاد کیاہے۔

یحیی بن سعید الانصاری

آپ نسباًانصاری ہیں، اولاًمدینہ کے قاضی رہے پھر منصور نے آپ کوقاضی القضاۃ مقرر کیا، آپ کو صغارصحابہ کرام اور اکابر تابعین عظام سے روایت کا شرف حاصل ہے،آپ کے شاگردوں میں علم حدیث وفقہ کےنامور افراد موجود ہیں۔فقہ کا عالم یہ ہے کہ ایوب سختیانی کہتے ہیں کہ مدینہ میں یحیی بن سعید سے زیادہ فقیہ کوئی دوسرانہیں، اورحدیث میں بقول سفیان ثوری آپ زہری کے مد مقابل ہیں۔(تذكرة الحفاظ،المؤلف: شمس الدين الذهبي ،الناشر: دار الكتب العلمية بيروت-لبنان1/104)

ابو جعفر الباقر

آپ اہل بیت میں سے ہیں، آپ حضرت حسینؓ کے پوتے اور حضرت علیؓ وفاطمہؓ کے پرپوتے ہیں ،آپ جلیل القدر تابعی ہیں۔متعدد صحابہ کرام اور کبار تابعین سے آپ نے روایت کی ہے، اورآپ کے شاگردوں میں آفتاب علم وفضل کی کثیرتعداد موجود ہے۔آپ حدیث وفقہ دونوں میدان کے شہسوار تھے۔(البداية والنهاية،المؤلف: ابن كثير (المتوفى: 774هـ)الناشر: دار إحياء التراث العربي9/338)

مکی اساتذہ کرام

عطاء بن ابی رباح

(27 - 114 هـ = 647 - 732 م)

آپ حبشی غلام تھے، یمن کے جند نامی مقام میں پیداہوئے،اور حضرت ابن عباس کی خدمت میں رہ کر علم میں وہ مقام پیداکیاکہ حج کے دورمیں صرف انہی کا فتویٰ چلتاتھا،امام ابوحنیفہ کے ان سے تاثر کا ذکر ماقبل میں آچکاہے۔(الاعلامللزرکلی۴؍۲۳۵)

عمرو بن دِينار

(46 - 126 هـ = 666 - 743 م)
آپ کا نسب کے اعتبار سے فارسی ہیں، آپ کی پیدائش صنعااوروفات مکہ میں ہوئی ،اپنے عہد میں آپ مکہ کے مفتی اورمحدث تھے،شعبہ کہتے ہیں کہ میں آپ سے زیادہ حدیث میں کسی کو پختہ کار نہیں دیکھااور امام نسائی ثقہ اور ثبت کہتے ہیں۔(الاعلامللزرکلی۵؍۷۷)

نافذ المکی

حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:آپ کی کنیت ابومعبد ہے،آپ حضرت ابن عباس کے غلام تھے، ا ثقہ ہین اور راویوں کے چوتھے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔آپ کا انتقال ۱۰۴؍ہجریمیںہوا۔(تقریب۱؍۵۵۸)

محمد بن مسلم تدرس

آپ کی کنیت ابوالزبیر ہے،حافظ ذہبی نے آپ کو تاریخ الاسلام میں احد الاعلام اور سیر اعلام النبلاء میں الإمام، الحافظ، الصدوق کے گراں قدر القاب سے یاد کیاہے،آپ نے درج ذیل صحابہ کرام جابر بن عبد الله، وابن عباس، وابن عمر، وعبد الله بن عمرو، وأبي الطفيل، وابن الزبيررضی اللہ عنہم اجمعین ودیگر سے روایت کی ہےآپ کے شاگردوں میں کبار اہل علم جیسے عطاء بن ابی رباح ،زہری ودیگر ہیں۔
مکی اساتذہ میں امام ابوحنیفہ کے دیگر مشائخ درج ذیل ہیں۔
عبدالعزیز بن رفیع مکی
عبداللہ بن ابی نجیح المکی
عبداللہ بن عبدالرحمن
طلحہ بن نافع الواسطی
شیبہ بن مساور ،مسور المکی
حمید بن قیس المکی الاعراج الطویل
ابراہیم بن میسرہ الطائفی نزیل مکہ

بصرہ کے اساتذہ 

حسن بصریؒ

آپ کاعلمی مقام محتاج تعارف نہیں،مختلف علوم وفنون بشمول حدیث وفقہ اورتفسیر میں آپ کو امامت کا درجہ تھا، آپ کی زبان سے حکمت کے موتی جھڑتے تھے،امام غزالی فرماتے ہیں کہ آپ کاکلام انبیاء وصحابہ کے کلام کے مشابہ ہے۔(الاعلامللزرکلی۲؍۲۲۶)

قتادہ بن دعامہؒ

آپ کی کنیت ابوخطاب ہے،علم حدیث ،تفسیر ،عربی زبان وادب اورایام عرب میں آپ بڑے ماہر تھے،احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں،بصرہ میں حدیث کے آپ سب سے بڑے حافظ تھے،آپ کا انتقال واسط میں طاعون کی بیماری میں ہوا۔ (الاعلام للزرکلی۵؍۱۸۹) حافظ ابن حبان آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ اپنے عہد کے عالی مرتبت حدیث کے حافظ، مفسر قرآن اور فقیہ تھے۔ (مشاهير علماء الأمصار وأعلام فقهاء الأقطار،/154)

ایوب سختیانیؒ

آپ نے حسن بصری ،ابن سیرین ودیگر کبار تابعین واہل علم سے استفادہ کیااورآپ کے شاگردوں میں شُعْبَۃ، ،حماد بن زید ،حماد بن سلمہ ،سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ ، ومَعْمَرٌ، وَمُعْتَمِرٌ، وابْنُ عُلَيَّةَ، وعَبْدُ الْوَارِثِ اوردیگر ساطین اہل علم ہیں۔آپ کے بارے میں شعبہ کہتے ہیں ،آپ اپنے دو رمیں فقہاء کے سردار تھے، ابن عیینہ کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ جیساکسی کو نہیں دیکھا،ابن سعد آپ کو حدیث میں نہایت پختہ کار،مختلف علوم وفنون کے جامع ،وسیع علم کے حامل اورعادل وحجت مانتے ہیں۔امام مالک فرماتے ہیں میں نے تم لوگوں سے جن لوگوں کی تعریف وتوصیف کی ہے،ایوب ان سب میں سب سے فائق ہیں۔ (تاریخ الاسلام للذہبی۳؍۶۱۸)

شعبہ بن الحجاج الواسطی

حدیث وادب عربی میں آپ کا خاص مقام تھا، حدیث میں آپ کو امیر المومنین فی الحدیث کا گراں قدر خطاب دیاگیاہے، آپ نے ہی اولاعراق میں راویوں کی تفتیش اور چھان بین کی بناڈالی اورضعیف راویوں کی روایت سے اجتناب شروع کیا، امام احمد بن حنبل کہتے ہیں علم حدیث میں آپ تنہا ایک امت کے برابر ہیں،امام شافعی کہتے ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتے توعراق میں علم حدیث مٹ جاتا،اصمعی کہتے ہیں میں نے شعروادب میں آپ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ (الاعلام للزرکلی۳؍۱۶۴)
واضح رہے کہ شعبہ بن الحجاج امام ابوحنیفہ کے معاصر ہیں اور امام ابوحنیفہ سے آپ کو محبت تھی، چنانچہ آپ کو امام ابوحنیفہ کے انتقال کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا کہ ان کے ساتھ ہی کوفہ کی فقہ بھی چلی گئی (الانتقاء فی فضائل الائمۃ الثلاثۃ 126)
ان کے علاوہ آپ کے مشائخ میں متعدد ایسے افراد کے نام آتے ہیں جو یمن وشام کے رہنے والے تھے،جیسے طائوس بن  کیسان اور معاصرین میں امام اوزاعی،مکحول ودیگر۔

اجتہاد مطلق کسی تابعی کے قول پر تخریج کاکام نہیں 

۷: تخریج کا جو نظریہ حضرت شاہ ولی نے پیش کیاہے ­––––امام صاحب  قواعد کلیہ اوراصول جاننے کے بعد ابراہیم نخعی اوران کے ہم عصر کوفی مشائخ کے اقوال پر تخریج کرکے پیش آمدہ مسائل کا جواب دیتے تھے ،پیش آمدہ مسائل کے سلسلہ میں احادیث کی کھوج کرید نہیں کرتے تھے––––وہ مجتہد مطلق جو ایک عظیم فقہی مسلک کا بانی ہو ،کی رفعت شان کے بالکل خلاف ہے، تمام کتب اصول فقہ اورتمام اصولیین اس بات پر متفق ہیں کہ مجتہد مطلق کا فریضہ ہے کہ وہ قرآن وحدیث اوراجماع سے مسائل کا استنباط کرے اور اگرقرآن وحدیث میں دلالت،اقتضاء،اشارہ وایماء وغیرہ کے طورپر بھی کوئی مسئلہ مذکور نہ ہو تواس  سلسلے میں قرآن وحدیث کی نظیروں کو سامنے رکھ کر قیاس کرے، یہی ایک مجتہد کی شان ہوتی ہے؛ لیکن حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے نظریہ تخریج سے ایسامستفاد ہوتاہے کہ امام صاحب حافظ قرآن تو تھے ،پاس پڑوس سے جتنا اورجیساحدیث کا علم حاصل ہوگیا،اسی پر قانع اورشاکر تھے،اوربقیہ مسائل کے استنباط واستخراج میں اصل کام ابراہیم نخعی کے فتاوی واجتہاد کواپنانے اورانہی کے بیان کردہ مسائل پر دیگر مسائل کی تفریع تھی۔
 اگرحضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کانظریہ تسلیم کرلیاجائے تو پھر امام صاحب کی مجتہد مطلق کی حیثیت خطرہ میں پڑجاتی ہے اوران کی حیثیت بڑی حد تک صاحب تخریج تک سمٹ کر رہ جاتی ہے اورامت کا تقریباًاس پر اجماع ہے کہ امام صاحب مجتہد مطلق تھے، ادلہ اربعہ سے استنباط واجتہاد کرتے تھے،اوریہ واضح ہے کہ ادلہ اربعہ میں ابراہیم نخعی اوران کے ہمعصر کوفی فقہاء کا شمار نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ غیرجانبدار اور ایسے اہل علم حضرات نے جو تاریخ اور فقہ اسلامی پر گہری نگاہ رکھتے ہیں،انہوں نے اس نظریہ کو امام صاحب کی فقہی واجتہادی شان کے منافی بتایاہے، چنانچہ شیخ ابوزہرہ لکھتے ہیں:
ولقد کان فی مقابل ھولاء الذین افرطوا فی التعصب من ادعی ان اباحنیفۃ مکانہ فی الفقہ مکان المتبع لم یات بجدید الافی التخریج وسرعۃ التفریع وعین ھولاء صاحب ھذہ الطریقۃ التی اتبعہ فیھا ابوحنیفۃ وھو ابراہیم النخعی ومن ھولاء الدہلوی ،فقد جاء فی کتابہ حجۃ اللہ البالغۃ ما نصہ،"کان ابوحنیفہ الزمھہم بمذہب ابراہیم واقرانہ ........فقہاء الکوفۃ،وفی ھذاالنص کماتری حکم علیٰ ابی حنیفۃ بانہ لم یات بتفکیر فقہی جدید ،بل ھو متبع کل الاتباع ،ناقل کل النقل لابراہیم واقرانہ ،لایخرج عن آرائہم،الا فیما لایکون لھم اجتہاد فیہ ،وان خرج فالی اقوال علماء الکوفۃ،ولاشک ان فی ھذاالحکم ھضمالمکان ابی حنیفۃ فی الفقہ، لانہ یجعلہ مقلدا أو فی حکم المقلد المتبع۔ ( ابوحنیفہ حیاتہ وعصرہ وآراہ وفقھہ ص253-255)
اوراس کے بالمقابل وہ لوگ تھے جوتعصب میں حد سے تجاوز کرگئے،ان کا دعویٰ یہ ہےکہ امام ابوحنیفہ کا فقہ واجتہاد کا مقام متبع کا ہے،انہوں نے کئی نئی فکر پیش نہیں کی گئی اوران کی فقہ کا پورا سرمایہ تخریج اور تفریع میں سرعت ہے،اورجن حضرات نے ابوحنیفہ کو ابراہیم نخعی کا متبع قراردیاہے،ان میں ہی شاہ ولی اللہ دہلوی بھی ہیں، انہوں نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں لکھاہے(..............یہاں وہی باتیں حضرت شاہ ولی اللہ کی نقل کی ہیں جس کو ہم پہلے نقل کرچکے ہیں)اورجیساکہ آپ دیکھ سکتے ہیں،اس تحریر میں واضح طورپر کہاگیاہےکہ امام ابوحنیفہ نے فقہ واجتہاد کے باب ومیدان میں کوئی نئی فکر اورنیافقہی سانچہ پیش نہیں کیا بلکہ وہ پورے طورپر متبع اورناقل ہیں، ابراہیم نخعی اوران کے معاصرین کے ،ان کی آراء سے تجاوز نہیں کرتے،ہاں کسی مسئلہ میں ان سے کوئی نقل مروی نہیں ہے تو اس میں اجتہاد کرتے ہیں،اگرابراہیم نخعی سے عدول کرتے بھی ہیں تو ان کا دائرہ صرف علماء کوفہ تک ہی محدود ہے،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ نظریہ امام ابوحنیفہ کے شان کے منافی ہے،کیونکہ اس نظریہ کا مفاد یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ مقلد اورمتبع ہیں۔

مداحین یامخالفین سے اس بارے میں کچھ بھی منقول نہ ہونا

یہ ایک حقیقت ہے کہ ایسی شخصیت جس کے مخالفین کی بڑی تعداد ہو اور جس کے حامیوں کا جم غفیر ہو،(جس کی ایک نمایاں مثال خود حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ ہیں،جیساکہ ابن عبدالبر نے جامع بین العلم وفضلہ3 میں اور شیخ ابوزہرہ نے4 لکھاہے،ایسی شخصیت کے بارے میں کسی ایسے نظریہ کا اظہار جس کا سراغ نہ حامیوں کے یہاں ملتاہواورنہ مخالفین کے یہاں ،اسے قبول کرنا بہت مشکل کام ہے۔
اگرایسی کسی شخصیت کے بارے میں کسی ایسے نظریہ کا دعویٰ کیاجائے جس کا سراغ نہ حامیوں کے یہاں ملتاہے اورنہ مخالفین کے یہاں، تواس کیلئے بڑی مضبوط اورناقابل تردید دلیل نہیں بلکہ دلائل کی ضرورت ہوتی ہے،اورہم دیکھ چکے ہیں کہ تخریج کے بارے میں حضرت شاہ ولی اللہ کی جودلیل ہیں وہ سبھی کی سبھی نہ صرف یہ کہ کمزور ہیں؛ بلکہ ان سے اس نظریہ تخریج کا بھی اظہار نہیں ہوتا جس کے وہ مدعی ہیں؛ بلکہ قوی دلائل ان کے موقف کےبرعکس ہیں۔

دلیل نہ کہ شخصیت

یوں تو ہرمجتہد مطلق کا فریضہ ہے کہ وہ دلیل کی پیروی کرے اور دلائل کی بنیاد پراجتہاد واستنباط کرے،لیکن اس میں بھی امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کا خاص امتیاز ہے ،امام صاحب دلیل کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے تھے،اوران کا قول تھاکہ اگرکسی کے پاس ہماری بات سے اچھی بات ہے توہم اس کی بات قبول کرلیں گے:
ھذا الذی نحن فیہ رائ لا نجبر علیہ احدا، ولا نقول یجب علی احد قبولہ، فمن کان عندہ احسن منہ فلیات بہ، الحسن بن زیاد اللولوی قال قال ابو حنیفۃ علمنا ھذا رای وھو احسن ما قدرنا علیہ، ومن جاءنا باحسن منہ قبلناہ منہ (مناقب الامام ابی حنیفۃ وصاحبیہ،ص۳۴)
ہم اپنی رائے کے سلسلہ میں کسی پر زبردستی نہیں کرتی اور نہ کسی سے اصرار کرتے ہیں کہ وہ اس کو تسلیم ہی کرے،اگرکسی کے پاس اس سے چھی رائے ہو تو وہ لے کر آئے،ایک دوسری روایت میں آپ نے فرمایا:ہمارا یہ علم رائے(فقہ وقیاس) ہےاوراس پر ہم اپنی بہترین کوشش کے بعد قادر ہوئے ہیں ،اگرکوئی اس سے اچھی رائے (فقہ واجتہاد)پیش کرتاہے توہم اس کی رائے قبول کرلیں  گے۔
ایسابھی ہواہے کہ بعض مرتبہ آپ نے اپنی رائے پیش کی لیکن آپ عمر اورعلم وفضل میں کم کسی دوسرے فرد نے اس رائے کی مخالفت کی تو حق کی وضاحت کے بعد آپ اپنی رائے سے فوراًدستبردار ہوگئے، آپ کی رائے تھی کہ اگر غلام دشمن سے لڑائی میں شریک نہیں ہے تواس کی امان باطل ہے ،لیکن جب زہیر بن معاویہ نے حضرت عمرؓ کے واقعہ سے استدلال کیا توآپ اپنی رائے ترک کرکے اس کے قائل ہوگئے۔5۔
حفص بن غیاث کی روایت ہے  کہ مسائل میں غوروفکر کرنے کے بعد ایک ہی دن میں تین چارپانچ بار اپنی رائے کو بدل دیتے تھے6اوراس سلسلے میں اس بات کی بالکل پرواہ نہیں کرتے تھے کہ ان کی رائے کی اس تبدیلی کو سطحی نظروالے کیاسمجھیں گے،ابوعوانہ کی روایت ہے کہ وہ امام صاحب کے مسائل وآراء سے وہ اچھی طرح واقف ہوگئے تھے لیکن ایک طویل عرصہ کے بعد جب دوبارہ امام صاحب کے پاس واپس آئے تواس دوران امام صاحب کے خیالات وآراء بدل چکے تھے ،لہذا یہ دیکھ کر وہ امام صاحب سے برگشتہ ہوگئے7۔
امام صاحب نے ہی ایک مرتبہ حضرت امام ابویوسف سے فرمایاکہ میری ہر بات نہ لکھ لیاکرو ،کیونکہ خیالات میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، ہوسکتاہے کہ جس بات کو تم نے لکھ لیاہو ،کل کلاں کو اس تعلق سے میرے خیالات بدل جائیں اور تم اس سے واقف نہ ہوسکو8۔

خلاصہ کلام

اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے متعلق تخریج کے جس نظریہ کا اظہار حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے فرمایاہے، وہ دلائل کی بنیاد پر کمزور اورمخدوش ہے،اوراس سے نہ صرف یہ کہ امام ابوحنیفہ کی بطور مجتہد مطلق شان میں کمی واقع ہوتی ہے ؛بلکہ تخریج کے ضمن میں خود حضرت شاہ صاحب کے نظریات میں الجھن سی محسوس ہوتی ہے،جس کی ماقبل میں نشاندہی کی گئی ہے،ایسے میں یہ ضروری ہے کہ اس موضوع اوراس پہلو پر مزید تحقیق کی جائے اوردلائل کی روشنی میں جس جانب قوت ہو،اس کو تسلیم کیاجائے۔
ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب۔

حواشی

1. امام صاحب کے مدنی ،مکی اوربصری اساتذہ میں سے محض چنداورمشہورحضرات  کا یہ تعارف ہے،وگرنہ امام صاحب  کے مشائخ کی تعداد اگرہزاروں نہیں تو سینکڑوں میں ضرور ہے۔ابوحفص الکبیر کی روایت ہے کہ امام صاحب کے مشائخ واساتذہ کی تعداد چارہزار ہے ،حافظ صالحی نے عقودالجمان میں آپ کے 334 مشائخ کا نام بنام شمار کرایا ہےاوراسی طرح آپ کے ۹۰۰ سے زائد شاگردوں کے نام لکھے ہیں۔ (دیکھئے عقود الجمان  ص86)
2. یہ روایت سند کے اعتبار سے تونہیں لیکن متن کے اعتبار سے مخدوش ہے ،وہ اس لئے کہ امام ابوحنیفہ کا جب انتقال ہوا ہے یعنی ۱۵۰ہجری میں ،اس وقت اشہب اس روایت کے راوی کی عمرپانچ سال تھی اور یہ متیقن نہیں کہ امام ابوحنیفہ کا یہ واقعہ ان کے انتقال سے کتناپہلے کاہے، اگرہم بالفرض مان ہی لیں کہ ان کے انتقال کے سال کا واقعہ ہے توبھی اتنی کم عمر کے بچے سے اس طرح کے واقعہ کایاد رکھنا بہت مستبعد ہے اور بالخصوص جب کہ اشہب مدینہ کے نہیں مصر کے رہنے والے تھے،ہاں جیساکہ شیخ زاہد الکوثری نے لکھاہے کہ ہوسکتاہے کہ اشہب نے یہ بات امام محمد بن الحسن الشیبانی کے بارے میں لکھی ہو اور بعد میں ناقلین ونساخ کی غلطی سے امام ابوحنیفہ کا نام آگیاہو۔
3. قَالَ أَبُو عُمَرَ رَحِمَہ اللَّہ: " الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي حَنِيفَۃ وَوَثَّقُوہ وَأَثْنَوْا عَلَيْہِ أَكْثَرَ مِنَ الَّذِينَ تَكَلَّمُوا فِيہ، وَالَّذِينَ تَكَلَّمُوا فِيہ مِنْ أَہلِ الْحَدِيثِ، أَكْثَرُ مَا عَابُوا عَلَيْہ الْإِغْرَاقَ فِي الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ وَالْإِرْجَاءَ وَكَانَ يُقَالُ: يُسْتَدَلُّ عَلَی نَبَاھۃ الرَّجُلِ مِنَ الْمَاضِينَ بِتَبَايُنِ النَّاسِ فِيہ قَالُوا: أَلَا تَرَی إِلَی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْہ السَّلَامُ، أَنَّہ قَدْ ھلَكَ فِيہ فَتَيَانِ مُحِبٌّ مُفْرِطٌ وَمُبْغِضٌ مُفَرِّطٌ،وَقَدْ جَاءَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّہ يَہلِكُ فِيہ رَجُلَانِ مُحِبٌّ مُطْرٍ وَمُبْغِضٌ مُفْتَرٍ، وَہذِہ صِفَۃ أَہلِ النَّبَاھَۃ وَمَنْ بَلَغَ فِي الدِّينِ وَالْفَضْلِ الْغَايَۃ، وَاللَّہ أَعْلَمُ" [جامع بیان العلم وفضلہ ص:1085]
ابوعمرؒ کہتے ہیں کہ جن حضرات نے امام ابوحنیفه سے روایت كی ہے اوران كوثقہ قراردیاہے اوران كی تعریف كی ہے، ان كی تعداد ان سے زیاده ہے جنهوں نے ان پر كلام كیاہے،اورجن محدثین حضرات نے ان پر كلام كیاہے توان كے كلام كی وجه زیاده تریہ ہے كه امام ابوحنیفہ كا رائے اورقیاس سے اشتغال زیاده ہے اور وه ارجاء كے قائل ہیں،یہ بات کہی جاتی رہی ہےكہ فوت شده اشخاص كی عظمت كی دلیل ان كے بارے میں لوگوں كا مختلف الرائے ہونا ہے اوراس كی واضح مثال حضرت علی رضی الله عنه كی ذات گرامی ہے،ان كے بارے میں دوجماعت دوانتہاپسندانہ موقف كی قائل ہوگئیں، ایك انتہائی محبت كرنے والا اورایك ان سے انتہائی بغض ركهنے والا اورحدیث میں بهی حضرت علی رضی الله عنہ كے بارے میں فرمایاگیاہے کہ ان كے بارے میں دوجماعت ہلاک ہوں گی، ایك محبت میں غلو كرنے والا اور دوسرا نفرت میں حد سے تجاوز كرنے والا ،كسی كے بارے میں لوگوں كی رائے كا مختلف ہوناہی عظمت اوربلندیٔ مرتبت كی دلیل  ہے۔
4. جاء فی كتاب الخیرات الحسان مانصہ:’’ يُسْتَدَلُّ عَلَی نَبَاھَۃ الرَّجُلِ مِنَ الْمَاضِينَ بِتَبَايُنِ النَّاسِ فِيہ قَالُوا: أَلَا تَرَی إِلَی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْہ السَّلَامُ، أَنَّہ قَدْ ھَلَكَ فِيہ فَتَيَان مُحِبٌّ مُفْرِطٌ وَمُبْغِضٌ مُفَرِّطٌ‘‘وان ہذہ الكلمة الصادقۃ تنطبق علیٰ ابی حنیفۃ رضی اللہ عنہ ،فقد تعصب لہ الناس حتی قاربوابہ منازل النبین المرسلین ،فزعموا أن التوراۃ بشرت بہ، وأن محمداً ﷺذكرہ باسمہ ،وبین أنہ سراج أمتہ،ونحلوہ من الصفات والمناقب ماعدوابہ رتبتہ وتجاوزوا معہ درجتہ وتعصب ناس علیہ فرموہ بالزندقۃ ،والخروج عن الجادۃ، وإفساد الدین ،وہجرالسنۃ بل مناقضتہا ،ثم الفتویٰ فی الدین بغیر حجۃ ولاسلطان مبین ،فتجاوزوافی طعہنم حدالنقد ولم تیجہوا إلیٰ آرائہ بالفحص والدراسۃ ،ولم یكتفوا بالتزییف لہا من غیرحجۃ ولادراسۃ ،بل عدوا عدواناشدیدا ،فطعنوا فی دینہ وشخصہ وإیمانہ (أبوحنیفه حیاته وعصره آراؤه الفقهیۃ،ص۷)
الخیرات الحسان میں یہ قول نقل ہواہےماضی کے افراد کی عظمت کی دلیل ان کے بارے میں لوگوں کا مختلف الرائے ہونا ہے ، اوراس قول کی صداقت کی واضح مثال حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی ہے ،جن کے بارے میں دوفریق دوانتہاپسندانہ موقف کے قائل ہوگئے،اوریہ بات بعینہ حضرت امام ابوحنیفہؓ پر صادق آتی ہے ،ان کے بارے میں ایک فریق نے محبت میں اس درجہ غلو کیاکہ ان کا مرتبہ نبیوں اوررسولوں تک پہنچادیا اور یہ کہاکہ تورات میں ان کی بشارت آئی ہے اورحضورپاکﷺ نے نام کے ساتھ ان کا ذکر کیاہے اوربتایاکہ آپ اس امت کے چراغ ہیں اورآپ کے ایسے صفات اورمناقب بیان کئے جس کے ذریعہ آپ کا مرتبہ کوحد سے زیادہ بڑھادیا،دوسرا فریق وہ ہے جنہوں نے آپ سے تعصب کو روا رکھااورآپ کے بارے میں ہرطرح کی گفتنی اورناگفتنی باتیں کہیں،مثلاًیہ کہ آپ زندیق تھے، راہ راست سے منحرف تھے،دین میں بگاڑ کیلئے کوشاں تھے،سنت کے تارک تھے بلکہ سنت کے مخالف تھے،دینی وشرعی امور میں فتویٰ بغیر کسی دلیل وحجت کے دیاکرتے تھے،انہوں نے تنقید میں حد سے تجاوز کرلیا،ابوحنیفہ کی آراء وافکار کا غیرجانبداری اورگہرائی سے جائزہ نہیں لیا بلکہ بغیر کسی دلیل کے آپ کے آراء وافکار کو کھوٹاقراردیا اوران سب کے ساتھ آپ کی ذات وشخصیت سے دشمنی میں حد سےگزرگئے،یہاں تک کہ ان کے نزدیک آپ کا دین وایمان اورشخصیت ہرچیز قابل تنقید ہے۔
5. (الانتقاء فی فضائل الائمۃ الثلاثۃ الفقہاء:۱۴۰)
6. (تاريخ بغداد،پہلی طباعت:1422هـ - 2002 م،۱۵؍۵۴۴)
7. (المصدرالسابق) ان کی یہ برگشتگی اگرچہ  ذہنی افق کی تنگی کی وجہ سے تھی ورنہ یہ وہ بھی خیال کرسکتے تھے کہ اپنی رائے سے برسرعام رجوع بہت بڑا مجاہدہ اورنفس کشی ہے اور اس کا ظرف اچھے اچھوں میں نہیں ہوتا ،ہاں وہ جس کا جینا مرنا خدا کیلئے ہو،اوریہی حال کچھ امام شافعی کے قول قدیم اورقول جدید کاہے۔
8. (المصدرالسابق)

درس نظامی: چند مباحث

محمد دین جوہر

نوٹ: یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ درسِ نظامی پر ہماری اس گفتگو میں تعلیم اپنے نظری اور عملی پہلوؤں سے زیربحث ہے، اور مذہب پر گفتگو اس سے خارج ہے۔ آغاز ہی میں عرض کرنا چاہوں گا کہ درس نظامی کی عمومی حمایت اور اس کی بنیاد ”فرقہ ورانہ وابستگی“  یا کوئی ”سیاسی وفاداری“ ہے، اور اس کا تعلق کسی تعلیمی یا تہذیبی شعور سے نہیں ہے۔ یہ حمایت خاص تاریخی حالات میں ایک ضروری ردِ عمل کے طور پر سامنے آئی تھی۔ لیکن ”رد عمل“ کا مسئلہ یہ ہےکہ معترض فکر سے باخبر ہوتا ہے اور نہ اس سے مخاطب، اور مخالف قوت کے مساوی کوئی عمل سامنے نہیں لانے کی سکت بھی نہیں رکھتا۔  ”رد عمل“ کا نتیجہ اپنی فکر اور عمل کی بتدریج کمزوری اور بالآخر خاتمہ ہے۔  اس کی بڑی وجہ ردعمل کا خودآگہی سے خالی ہونا ہے۔ رد کے برعکس، ردِ عمل کو فکری کمک بھی حاصل نہیں ہوتی اس لیے یہ بہت جلد ہانپ کر ختم ہو جاتا ہے، اور متبادل فکر اور عمل کے لیے راستہ صاف ہو جاتا ہے۔ درس نظامی پر گزشتہ دو سو سال میں ہونے والے اعتراضات اور ان سے جنم لینے والے شکوک و شبہات خود ان لوگوں میں مؤثر ہو گئے ہیں جو اس کے حامی یا وارث ہیں۔ اس لیے انہیں خود اب درسِ نظامی کے کسی ”مناسب بندوبست“ کی بہت جلدی ہے، اور اسے تجربات کہا جاتا ہے اور جن کا خام مال بچے ہیں۔ 
درس نظامی میں رد و بدل اعتراضات کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ وقت کے ساتھ داخلی طور پر درس نظامی میں تبدیلیاں لائی جاتی رہیں، اور ان تبدیلیوں کی وجہ سے یہ اپنی اصل حالت میں ویسے بھی باقی نہیں رہا۔ یہ تبدیلیاں عموماً داخلی ”تقاضوں“ کا نتیجہ تھیں۔ یہ تبدیلیاں کیوں لائی گئیں، ان کے مقاصد کیا تھے، پس پردہ فکر کیا تھی، اور ان کا کیا نتیجہ سامنے آیا؟ منتشر معلومات کے علاوہ، تبدیلیوں پر کسی مربوط محاکمے سے میں واقف نہیں ہوں۔ لیکن ان تبدیلیوں سے درسِ نظامی داخلی طور پر بھی سنگین مسائل کا شکار ہو گیا، اور ”عصری تقاضوں“ کا دباؤ بھی کم نہ ہوا۔ درسِ نظامی کی افادیت اب چونکہ اپنے شعبے میں بھی ظاہر نہیں ہو رہی،  اس لیے مذہبی طبقات اس میں خود ہی تبدیلی یا ریڈیکل تبدیلی لا رہے ہیں، جس کی نوعیت تجرباتی ہے۔ اس کا بہت سادہ مطلب یہ ہے کہ معترضین ٹھیک ہی کہتے آئے ہیں اور اب مذہبی لوگوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ موجودہ ثقافتی، معاشی اور سیاسی دباؤ میں درسِ نظامی کا علی حالہٖ باقی رکھنا مفید نہیں۔ لیکن ان تبدیلیوں کا مطلب درس نظامی کا خاتمہ ہی ہے۔ 
اس سے کوئی بحث نہیں کہ درس نظامی ”عصری تقاضوں“ کے مطابق نہیں ہے، اور اس پر اعتراض اور تبدیلی کا مطالبہ بھی اسی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ لیکن آمد استعمار کے ساتھ عین یہی اعتراض خود اسلام پر بھی وارد ہوتا آیا ہے۔ سرسید اور متجددین کے بنا کردہ  ”جدید اسلام” کا بنیادی موقف یہی تھا کہ مذہب کو ”عصری تقاضوں” کے مطابق ہونا چاہیے، اور درس نظامی پر زیادہ تر اعتراضات بھی اسی حلقے سے سامنے آئے ہیں۔ گزارش ہے کہ درس نظامی پر گفتگو کا درست تناظر ”عصری تقاضوں“ کی بجائے بطور مسلمان ہماری چند ”مستقل ضروریات “ ہیں۔ مستقل ضروریات میں وقت کے ساتھ کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ ”عصری تقاضوں“ کا بیانیہ اب اس قدر مضبوط ہو گیا ہے کہ ان مستقل ضرورتوں پر بات کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔  دینی روایت، مستقل ضرورتوں اور عصری تقاضوں سے درس نظامی کا تعلق الگ الگ زیر بحث آنا چاہیے۔   
بطور مسلمان ہماری یہ ”مستقل ضروریات“ دینی بھی ہیں اور تہذیبی بھی۔ درس نظامی ضروری ابتدائی تعلیم، درکار تعلیمی انتطام اور مطلوبہ تدریس کی تین اہم شرائط پر ان کو بہ تمام و کمال پورا کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ لیکن ان مستقل ضروریات کا کوئی بیان چونکہ موجود نہیں ہے اس لیے درس نظامی کی گفتگو میں ہر قدم مداہنت کا ہے اور ہر گھڑی شکست کی ہے۔ چونکہ دین اب ہمارے سر کا تاج نہیں رہا بلکہ ہمارے پاؤں کی زنجیر بن گئی ہے، اس لیے ہم ”عصری تقاضوں“ کی آڑ میں اسے کاٹنے کے لیے بڑے بڑے پاپڑ بیل رہے ہیں۔ درس نظامی میں کی جانے والی تبدیلیاں انتہائی پست درجہ سکولوں کی پست ترین نقل اور نقالی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ آڑ، جان چھڑانے کے لیے ہوتی ہے، اور عصری تقاضے پورے کرنے کے لیے زندہ ذہن اور مضبوط ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔  
عرض ہے کہ تعلیم اور علم سے ”ہم عصریت“ کو بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔ درس نظامی سے ہم عصریت یا عصری تقاضوں کا تعلق فی نفسہٖ نصاب کا مسئلہ نہیں ہے، اس کی praxis کا ہے۔ praxis سے ہماری مراد ایسے عمل کی ہے جو کسی قدر یا تصور کے تحقق کے لیے بروئے کار لایا جائے۔ کوئی بھی praxis ہمعصریت سے خالی نہیں ہو سکتی۔ درس نظامی کے ساتھ جڑی ہوئی ہماری روایتی  praxis کی زبوں حالی سے ہمعصریت کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ ہماری مذہبی praxis کی کمزوری اور تہذیبی افکار سے انقطاع کا نتیجہ یہ نکلا کہ درس نظامی ”عصری تقاضوں“ کے مہلک دباؤ کا شکار ہو گیا، اور بہت جلد سرسید کی تعلیم کی طرح روزگار کا ذریعہ بن گیا۔ یہ عصری تقاضوں سے انہی کی شرائط پر ہم آہنگی ہے۔ تعلیم روزگار کے لیے بھی ہوتی ہے، لیکن مسلمانوں کا موقف یہ رہا ہے کہ صرف روزگار کے لیے نہیں ہوتی۔ اب ”عصری تقاضوں“ کی بات درس نظامی کی بنیاد پر روزگار کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے ہو رہی ہے یا استعماری قوتوں کے ڈسکورس کو تقویت دینے کے لیے اس کے خاتمے کی تجویز زیر غور ہے۔ روزگار کے امکانات بہتر بنانے کے لیے درس نظامی کو بدلنا بہت زیادہ مضرات رکھتا ہے۔ اگر ”عصری تقاضوں“ کا معروضی تجزیہ کیا جائے یا ان لوگوں ہی سے پوچھ لیا جائے جن کا اوڑھنا بچھونا ”عصری تقاضے“ ہی ہیں، تو یہی نتیجہ نکلے گا کہ مدرسے کو ختم کر کے اس کی جگہ اسکول بنا دینا زیادہ انسانی اور دیانتدارانہ فیصلہ ہو گا۔ 
درس نظامی پر بہت باتیں ہو چکی ہیں اور شاید ناچیز کی گزارشات غیر ضروری بھی ہوں۔ لیکن ایک ناکس اور ناقص معلم کی حیثیت سے ایک ضروری امر کی طرف توجہ دلانے کی جسارت کروں گا۔ اگر اخلاص، تقویٰ، دینداری، للہیت، خیرخواہی، تقدس، عقیدت وغیرہ جیسی مذہبی شرائط کو درس نظامی کی بحث سے فی الوقت خارج کر دیا جائے تو کام کی بات ہو سکتی ہے۔ یہ مذہبی شرائط تو ہر مسلمان کے لیے لازم ہیں اور ان کا حصول ہم سب کے لیے ضروری۔ درس نظامی پر گفتگو میں یہ گوشوارہ ایک آڑ کا کام دیتا ہے، جبکہ بحث کا بنیادی ترین حوالہ تعلیمی ہے، اور باقی باتیں اس کے بعد ہونی چاہییں۔
اوریجنل درس نظامی کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ یہ ایک غیرمعمولی نصاب ہے، اور انسانی، دینی اور تہذیبی بصیرت کا شاہکار ہے۔ اس پر ضروری گفتگو کا ابھی آغاز بھی نہیں ہوا ہے۔ اس پر جو تحریریں میری نظر سے گزری ہیں وہ قطعی غیرمتعلق اور اکثر لغو ہیں۔ درس نظامی کے مقاصد کیا تھے، اس کا تعلیمی طریقۂ کار کیا تھا، حصول علم کے لیے اس کی تعلیمی شرائط کیا تھیں، اور کیوں متعین کی گئی تھیں، ایک مذہبی ذہن کی تشکیل کے لیے یہ کون کون سے وسائل بروئے کار لایا تھا، درس نظامی میں عصری تقاضوں کی تفہیم کیونکر ممکن تھی، اس کے پس پردہ متحرک ورلڈ ویو کیا تھا، اس کا اصول تعلیم اور نظریہ علم کیا تھا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر کوئی گفتگو نہیں کرتا۔ ہم نے بحیثیت قوم اور معاشرہ چونکہ درس نظامی سے دستبرداری کا فیصلہ کر لیا ہے، اس لیے عصری تقاضوں کا فاتحانہ زمزمہ ہر وقت بجا کرتا ہے۔     
یہ سوال و جواب درس نظامی اور موجودہ صورت حال کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔  آپ نے سوالات جس ترتیب سے اٹھائے ہیں، جوابات بھی اسی ترتیب سے ہیں۔ میں سوالات کی ضروری ایڈٹنگ بھی نہیں کی اور انہیں ویسے ہی رہنے دیا ہے۔ جوابات میں ایک داخلی وحدت تو یقیناً موجود ہے، جبکہ ظاہری طور پر ان میں ترتیب کا فقدان محسوس ہو سکتا ہے۔ 
سوال: میرے محترم! عرض یہ ہے کہ ”مرحوم“ درس نظامی پر بہت سے اعتراضوں میں سے ایک یہ بهی ہے کہ اس میں نحو کی کتب جو داخلِ نصاب ہیں، جیسے ہدایۃ النحو، کافیہ اور   خاص کر شرح ملا جامی   وغیرہ، وہ ایسے ذہن کی غمازی کرتی ہیں جو بال کی کهال اتارنے کا بہت شوق رکهتا ہے  اور جو بہت ہی فضول ذہنی ورزش کا ذوق رکهتا ہے۔
جواب: گزارش ہے کہ اعتراض ایک عام چیز ہے اور کوئی بھی کر سکتا ہے۔ لیکن کسی بھی شعبے پر اس کے متعلقین اور ماہرین کی طرف سے آنے والا اعتراض مفید، ثقہ اور معتبر ہوتا ہے، اور اس کے جواب میں فکر اور عملی حکمت کے وسائل بروئے کار لانا پڑتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ معترض درس نظامی کے پیچھے کارفرما تصورِ تعلیم سے بے خبر ہے، بلکہ یہ کہ وہ کسی تصور تعلیم سے باخبر نہیں۔ ہر ظاہری کام پر تنقید، اس کے عملی اور نظری پہلوؤں کو شامل ہوتی ہے۔ درس نظامی کے تحت واقع ہونے والا تعلیمی عمل جامعاتی تھا جو عملی اور نظری پہلوؤں کو لیے ہوئے تھا۔  ایک وقت تھا کہ اس کے مقاصد جن کی حیثیت اب نظری ہے بدیہی تھے اور اسی تعلیمی عمل سے حاصل ہوتے تھے۔ تاریخی حالات کے بدلنے سے ان کا استحضار جاتا رہا، اور جب ان مقاصد کے مرتب اور مبسوط بیان کی ضرورت پڑی تو وہ فراہم نہ ہو سکا۔ ان مقاصد کا حصول اب بدیہی تجربے اور مشاہدے میں بھی نہیں ہے، اور ان کا کوئی نظری بیان بھی موجود نہیں ہے۔ درس نظامی کی نظری تغلیط بھی اب تک مکمل ہو چکی ہے، اور اب جو باقی ماندہ تعلیمی عمل ہے وہ ازخود مہمل نظر آنے لگا ہے۔  
 اگر لسانی مباحث کا تعلق اہم چیزوں مثلاً انسان کے اعتقادی حقائق یا بنیادی اقدار سے ہو تو بال کی کھال معمولی چیز ہے، اس میں تو بال کی کھال کے خلیے بھی ادھیڑنے پڑتے ہیں۔ ذہنی ادراک و اظہار کی صلاحیت اور اس میں کمال، جزیات اور تفصیل میں جائے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ یہ بات صرف درس نظامی کے حوالے سے نہیں کہی جا رہی، بلکہ علی الاطلاق ہے۔ تعلیم میں یہ ایک فطری اور لابدی امر ہے اور ہر طرح کی تعلیم میں ضروری طور پر شامل ہے۔  جدید سائنس آج  nano precision کے بغیر ناقابل تصور ہے، اور یہی حال اس کے نظری مباحث کا ہے۔ یہ صورت حال اس لیے ہے کہ جدید سائنسی تعلیم نے اپنے بنیادی قضایا کے تعاقب میں پہلے بال اکھیڑا، پھر اس کی کھال ادھیڑی، پھر کھال کی کھال اور جسدِ بال کو ادھیڑا، پھر خلیے کی کھال ادھیڑی، پھر خلیے کے اندر پرزے کھولے، پھر ان پرزوں میں مالیکیول کو کان سے پکڑ کر لا حاضر کیا، پھر ایٹم کی باری آئی، اور وہاں تک پہنچے جہاں اب ادھیڑنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ سکنات اور حرکات کا ایک پورا نظام اس عمل میں الگ سے ساتھ ساتھ ہے۔ یہ ہنر ہے، عیب نہیں کیونکہ سائنس شے مرکز ہے۔ اور ہماری روایت میں لفظ کی اہمیت بہت بنیادی ہے، اور اگر اس پر محنت ہونے لگے تو کیا یہ عیب بن جاتا ہے؟    
یہ درست ہے کہ ”بال کی کھال“ اتارنے کا کام مواعظ اور روزمرہ زندگی میں قطعی غیر ضروری بلکہ مضر ہے، لیکن تعلیم اور علم میں ضروری ہے۔ 
گزارش ہے کہ تعلیمی عمل کا مقصد اور فوکس بنیادی طور اجزا ہوتے ہیں، اور علم کلیات کے بغیر ناقابل تصور ہے۔ تعلیم میں حاصل شدہ جز، علم کے کل سے جڑ کر بامعنی ہو جاتا ہے۔ اگر طالب علم کے پاس جزیات کا علم نہ ہو تو وہ علم کی دہلیز پر رک جاتا ہے کیونکہ وہ کلیات کا علم حاصل کرنے کے لیے ضروری اور مطلوب استعداد سے ابھی بہرہ ور نہیں ہوتا۔ جس چیز کو معترض ”بال کی کھال“ کہہ رہا ہے وہ یہی جزیات کی تعلیم ہے۔ جو ذہن جز سے اوبھ گیا ہو، وہ کل کا سامنا نہیں کر سکتا۔  
انسانی ذہن کی فطری ترتیب اور مذہبی شخصیت کی تشکیل کے مطالبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، درس نظامی نے تعلیمی مقاصد کے حصول کے تمام وسائل  فراہم کیے تھے، لیکن ہم ان کو محفوظ نہ رکھ سکے۔ درس نظامی کو ”جدید“ اور ”عصر حاضر“ کے مطابق بنانے کا جو منصوبہ ہے اس کی بنیاد جہالت اور بددیانتی ہے، اور کچھ نہیں ہے۔ اس منصوبے میں یہ کوشش داخل ہے کہ اہم اور بحث طلب امور کی طرف دھیان نہ جانے پائے۔ 
محولہ بالا اعتراض اس لیے لغو ہے کہ جز کی تو بات کرتا ہے اور اس جز کو معنی دینے والے کل کو فراموش کر دیتا ہے۔ اس کل کی فراموشگاری سے ہمارے اجزا بھی بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔ کل کی فراموشگاری میں ”بال کی کھال“ ادھیڑنا بالکل معیوب ہے، لیکن کل اور جز کی متوازیت میں یہ امرِ مطلوب ہے۔ یہ تو کمال کی بات تھی، اور چونکہ عیب و ہنر کا شعور ہی ختم ہو کر رہ گیا ہے، اس لیے ہمارے ہنر اگر کہیں باقی ہیں تو عیب ہی شمار ہوتے ہیں۔ یہ اسی تعلیم کا اثر تھا کہ آج سے سو دو سو سال پہلے جو کتابیں لکھی گئیں، وہ اپنے فنی کمال میں بھی حیرت انگیز تھیں۔ آج معجزہ ہائے ہنر اگر ظاہر نہیں ہوتے تو بلا سبب نہیں۔ 
سوال: جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ مثلاً ایک نحوی عبارت الكلمۃ لفظ وضع لمعنى مفرد پر بلا مبالغہ صوبہ پنجاب کے عام مدارس میں کئی دنوں تک سبق ہوتا ہے، بلکہ بعض اوقات ایک مکمل ہفتہ استاد کی تقاریر، اور اگر   صوبہ خیبر پختون خواہ یا بلوچستان اور بعض اور علاقوں میں بهی ایک ہفتہ سے زیادہ۔ 
جواب: یہ اعتراض نصاب پر نہیں، طریقۂ تدریس پر ہے اور اس کی نوعیت بنیادی طور پر ایک اخلاقی مسئلے کی ہے۔ درس نظامی سے جڑی ہوئی ہماری دینی اور تہذیبی praxis کے خاتمے سے یہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ درس نظامی تقویٰ، مکارم الاخلاق اور معاشرتی آداب کی رسومیات میں واقع ہونے والا تدریسی عمل تھا۔ 
 میں یہاں تقویٰ، مکارم الاخلاق اور معاشرتی رسومیات کا ذکر نہیں کرتا، لیکن یہ ضرور پوچھنا چاہوں گا کہ ناقص تدریس، بدانتظامی، تعلیمی عمل سے بے خبری اور جدید تعلیمی عمل کی پست ترین نقالی کس دینی ضرورت کو پورا کرتی ہے؟ حضرت نور محمد حقانیؒ اپنے نورانی قاعدے کے مینؤل کی پہلی تختی میں فرماتے ہیں:
جب تک اتنی مشق نہ ہو، آگے نہ پڑھائیں۔ ورنہ وہی مثل صادق آئے گی، آگا دوڑ پیچھا چوڑ۔ اگر کوشش اور محنت سے پڑھا نہیں سکتے تو ناحق بچوں کی عمر اور استعداد برباد نہ کریں۔ اس کا گناہ چوری اور رہزنی سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ مال و اسباب پھر بھی مل سکتا ہے، لیکن گزری ہوئی عمر واپس نہیں آ سکتی، اور بگڑی ہوئی استعداد درست نہیں ہوتی۔ صفحہ نمبر ۶، نورانی قاعدہ مع طریقۂ تعلیم، مؤلفہ حضرت  مولانا نور محمد حقانی رحمۃ اللہ علیہ، دار الفکر، اردو بازار، لاہور، پاکستان۔ 
اب ذرا اس قول کی روشنی میں درس نظامی کی تدریس کو دیکھنے کی کوشش کریں تو ذہن سن ہو جائے گا اور آنکھیں پتھرا جائیں گی۔ 
اب یہی فقرہ لیجیے جو آپ نے لکھا ہے۔ عین اسی فقرے پر چند ایک سوالات اور ”مدرسین“ کی قطعی لاعلمی میرے مشاہدے میں ہے۔ ان کو تو خود پتہ نہیں ہوتا کہ اس فقرے کی مراد اور اس کے توسیعی امکانات کیا ہیں؟ تو اگر وہ سال بھر بھی ”پڑھاتے“ رہیں تو کیا فرق پڑے گا؟ یہیں سے لفظ و معنی کی بحث کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ لفظ اور معنی کی ایک نسبت کا بیان ہے۔ آپ نے آگے چل کر خود ہی کہا ہے کہ اس تدریس یا ایسی تدریس کے بعد طالب علم تو اپنی روایت میں عین اسی ڈسپلن کی کوئی کتاب پڑھنے کے قابل نہیں ہوتا۔ اس سے ایک چیز مبرہن ہو گئی کہ اس اعتراض کا درس نظامی کے نصاب سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ عمل تدریس اور انتظام تدریس سے ہے۔ اور یہی وہ طریقۂِ تدریس ہے جس کی بدولت روایت بھی ہاتھ سے جاتی رہی اور جدیدیت کا شعور بھی پیدا نہ ہوا۔ 
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ درسِ نظامی کو جدید بنانے کی بات تو ہر کوئی کرتا ہے، لیکن جدید تدریسیات (modern pedagogy) نے جو تعلیمی وسائل پیدا کیے ہیں اور جن کی حیثیت گھوڑے کی بجائے کار میں سفر کرنے جیسی ہے، ان کی بات کوئی نہیں کرتا۔ جدید تدریسیات کے نئے وسائل انتخاب کے بعد بخوبی درس نظامی کی تدریس میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔ آپ کا ذکر کردہ مسئلہ بنیادی طور پر اخلاقی اور ضمناً پیشہ ورانہ ہے اور اسے کوئی بھی زیر بحث نہیں لانا چاہتا۔
درس نظامی پر جتنی بھی گفتگو ہوتی ہے اس میں واحد موضوع نصاب اور اس کی تبدیلی ہے۔ تبدیلی کی اس تجویز کو ”بہتری“، ”عصری ضرورت“ وغیرہ کے عنوان سے متعارف کرایا جاتا ہے۔ کچھ اس کے حامی ہیں اور کچھ مخالف۔ اس بحث میں ضروری پہلوؤں کا بیان کوئی جگہ نہیں لے پاتا، اور جو فوراً مذہبی رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ مدارس میں درس نظامی  کی جگہ اکسفرڈ کا نصاب لگا دیا جائے اور باقی چیزوں کو علی حالہٖ رہنے دیا جائے، یعنی تعلیمی انتظام، بچے کی عمر اور اس کی ذہنی نمو کے مسائل، طریقۂ تدریس، آموزش اور امتحان کے جاری طریقۂ کار کو نہ چھیڑا جائے تو کیا نتائج ہوں گے؟ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اس سے کیا بہتری آئے گی اور کون سی چیز بہتر ہو گی؟ ہم اسی سوال کو الٹ دیتے ہیں کہ  کسی جدید اسکول کے نصاب کو چھیڑے بغیر اس کا تعلیمی انتظام، تدریس، آموزش اور امتحان وغیرہ مدارس کی طرز پر بنا دیا جائے تو کیا نتائج نکلیں گے؟ اس پر کوئی غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ درس نظامی پر ساری گفتگو میں دیانت داری اور انسانی ذمہ داری کا قطعی فقدان ہے۔    
سوال: چونکہ طالب علم پر برصغیر کی قدیم   تدریسی   روایت کے مطابق کتاب کے حل کرنے پر زیادہ زور لگایا جاتا ہے، اور بے ضرورت احتمالات کو نکال نکال کر زور لگایا جاتا ہے   جس سے مقصودِ اصلی یعنی کتاب کا حل کہیں اور ہی رہ جاتے ہیں، اور طالب علموں کو ذہنی کوفت الگ سے۔
جواب: بھائی صرف بستہ باقی ہے اور اب اسی کا بندوبست ہو رہا ہے۔ یہ بات محل نظر ہے کہ ہمارے ہاں ”برصغیر کی قدیم تدریسی روایت کے مطابق“ جیسی کوئی چیز موجود ہے۔ میں اس اعتراض کو درست نہیں سمجھتا۔ ایسی کوئی شے موجود نہیں ہے۔ 
لیکن اگر کچھ کہنا ضروری ہے تو عرض ہے کہ یہ اعتراض بھی تدریس پر ہی ہے۔ آج کل متن کی تدریس میں close reading خود ایک آرٹ ہے۔ ہم چونکہ اس سے بے خبر ہیں اس لیے اس طرح کے اعتراضات پیدا ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں مطالعہ متن کی روایت anaesthesia کی حالت میں جاری ہے۔ اسے اس حالت سے باہر لانے کی ضرورت ہے۔ متن کی تدریس روزمرہ تجہیز اور تکفین کا عمل بن گیا ہے، اور جو طویل عرصے سے جاری ہے۔ معترض مطالبہ کر رہا ہے کہ اس عمل کو پورا کرو، اور اب عملِ تجہیز و تکفین کرنے والے بھی تدفین کے قائل ہو گئے ہیں۔ یہ کوئی نہیں کہتا کہ متن تفہیم، تنمو اور تزئین کا مطالبہ رکھتا ہے کیونکہ یہ بات کسی کو اچھی نہیں لگتی۔ 
درس نظامی کا اندازہ آج کل اس کے ”فارغ“ لوگوں کو دیکھ کر نہیں لگانا چاہیے۔ اس نصاب کو اس کی اپنی شرائط اور اس کے اپنے تناظر میں  سمجھ کر  کوئی critique سامنے  آنی چاہیے اور جدید نصاب سے اس کا موازنہ ہونا چاہیے۔ ہمیں نہ تنقید کا خوف ہے اور نہ موازنے پر اعتراض ہے۔ لیکن اعتراض موضوع سے متعلق ہونا چاہیے۔ ہاں، یہ اعتراض تو ہو سکتا ہے اور ہونا بھی چاہیے کہ ہم نے درسِ نظامی کو anaesthesia machine کیوں بنا دیا ہے؟ یہ کارنامہ ہم نے تدریس اور امتحان کی اخلاقی بنیادوں کو ختم کر کے سرانجام دیا ہے۔ 
یہاں ضمناً اس امر کی یاد دہانی ضروری ہے کہ سرسید نے جدید تعلیم سے کوئی تہذیبی مسئلہ حل نہیں کیا تھا، بلکہ ان کی آوردہ تعلیم سیاسی طاقت کی غلام گردشوں کا گردباد اور معاش مرکز تھی۔ جب محکوم مسلم معاشرے میں روٹی ہی مقصد تہذیب اور حاصل حیات بن گئی تو اس کا اثر مدارس پر بھی پڑا، اور وہاں بھی مقاصد اور طریقۂ کار میں تغیر آنے لگا۔ اس سے  ہمیں بحث نہیں کہ مدارس میں بہت خرابیاں ہیں، کیونکہ انسانی عمل نارسائی کا شکار رہتا ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی کلام نہیں کہ مدارس نے انتہائی محدود وسائل اور شدید تہذیبی اور ثقافتی دباؤ میں جس کام کو جاری رکھا وہ غیرمعمولی ہے۔ ہم مدارس سے perpetual sacrfice کا مطالبہ قطعی ناجائز سمجھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے نے جدید تعلیم پر جو وسائل خرچ کیے ہیں اور جو نتائج اس وقت سامنے ہیں، ان کا اگر مدارس سے موازنہ کیا جائے تو مدارس کی قربانیوں کا درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مدارس کی موجودہ صورت حال کی ذمہ داری صرف مدارس پر عائد نہیں کی جا سکتی، ہمارا پورا معاشرہ اس کا ذمہ دار ہے۔ 
سوال: اور حواشی پر زور اتنا زیادہ دیا جاتا ہے متن کا حل کہیں دور جا پڑتا ہے جیسے مثلاً اصول الفقہ کی ایک کتاب ہے التوضیح و التلویح، اس کتاب میں خود التنقیح تین کتب کا خلاصہ ہے اور پهر اس کی شرح جو مصنف نے خود کی ہے یعنی التوضیح، پهر اس پر علامہ تفتازانی کا حاشیہ  اور پھر مزید ایک اور حاشیہ آج کل کی درسی کتب کی زینت ہے اور اس پر بحث ایسی کہ التوضیح کا متن کئی دنوں بعد پڑهنا نصیب ہوتا ہے۔
جواب: یہ سوال بھی التباس کا شکار ہے اور اصلاً تدریسی انتظام (academic management)  کے ناکارہ پن اور اس کے مضر اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مسائل ہماری تدریسی نارسائی سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس سے یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ تدریس اور تدریسی ترتیب میں سنگین مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ جدید تدریسیات میں نصابی کتاب سازی کا تدریس سے براہ راست تعلق ہے۔ تدریس میں تدریسی مواد، طریقۂ تدریس، بچے کی عمر کا تعین ازحد ضروری ہے۔ ”مذہبی، مذہبی“ کا غلغلہ اس قدر ہے کہ ایسی باتیں کوئی سننے کے لیے بھی تیار نہیں کیونکہ اس سے تدریسی کام کا طریقہ اور اس کی کوالٹی زیر بحث آتی ہے جس سے رد عمل پیدا ہوتا ہے۔ 
ایک اور بڑا مسئلہ تعلیم اور علم کے فرق کو نہ سمجھنے کی ضد سے پیدا ہوا ہے۔ درس نظامی دینی تعلیم کا نصاب نہیں ہے، دینی علوم کے حاصل کرنے کا نصاب ہے۔ دینی تعلیم ہر مسلمان کی ضرورت اور اس پر فرض ہے، لیکن دینی علوم ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور نہ ضرورت، اور نہ ہر مسلمان اس کی اہلیت رکھتا ہے۔ دینی تعلیم ہدایت کی تعلیم ہے جو عام ہے اور دینی علوم عام نہیں خاص ہیں۔ یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ مدرسہ تعلیم کی جگہ ہے اور جامعہ علم کا گھر ہے۔ ہم نے یہ فرق بالکل ہی مٹا دیا ہے۔ درس نظامی اصلاً یونی ورسٹی کے نصاب جیسا ہے جس کے لیے ابتدائی تعلیم کی شرائط لازمی اہمیت کی حامل ہیں۔ تمثیلاً عرض ہے کہ ہم یونی ورسٹی کا نصاب سکول کے بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔ میں اس امر کا براہ راست مشاہدہ رکھتا ہوں کہ جس طالب علم کی استعداد پنجم یا ششم کا عام نصاب پڑھنے کی بھی نہیں ہے، اسے یونی ورسٹی کا نصاب پڑھایا جا رہا ہے۔ اس سے کون سا مقصد پورا ہوتا ہے؟ 
بطور ایک عام مقلد میری دینی تعلیم کی بنیادی ضروریات ”تعلیم الاسلام“ پڑھ کر پوری ہو جاتی ہیں، اور میں دین کے مطابق زندگی گزارنے کی استعداد پیدا کر لیتا ہوں۔ لیکن اگر کہا جائے کہ یہ دینی تعلیم، دینی علوم کی سیڑھی بھی بن گئی تو نہایت افسوسناک ہو گا۔ دینی تعلیم اور دینی علوم کے امتیاز کو باقی رکھنا درس نظامی پر گفتگو کے لیے ضروری ہے۔ دینی علوم کے حصول کے لیے دینی تعلیم قطعی غیرمتعلق چیز ہے۔  دینی تعلیم کا براہ راست تعلق عقائد، عبادات اور سنن مبارکہ سکھانے کرانے سے ہے اور یہ مقصد کئی طریقوں سے حاصل ہو سکتا ہے۔ صرف و نحو، لفظ و معنی کی بحث، جزئی اور کلی کے مسائل، متون کی خواندگی کا اعلیٰ معیار، افکار کی پیچیدہ حرکیات دینی تعلیم میں قطعی عبث، غیر ضروری اور مضر ہیں، لیکن دینی علوم میں مثلاً اصول دین، اصول فقہ وغیرہ میں یہ شرطِ اول ہیں۔ 
مثلاً کلام الہی ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، اور اگر اس میں لفظ و معنی کی بحث چھڑ جائے، اور فرض کیا کہ اس میں باطنی موقف غالب آ جائے تو کیا صورت حال پیدا ہو جائے گی؟ ابھی میں نے افلاطون اور ارسطو کا ذکر نہیں کیا۔ یہ بحث بالکل بھی دینی نہیں ہے، لیکن اس کے نتائج براہ راست دینی ہیں۔ تقویٰ ضروری چیز ہے لیکن اس بحث سے غیر متعلق ہے۔ ہم نے فرض کر لیا ہے کہ دنیا میں اب باطنی بھی نہیں رہے، اور افلاطون اور ارسطو بھی مر مرا گئے ہیں، علوم کی ضرورت بھی ختم ہو گئی ہے، اہل مغرب قرآن مجید کی غواصی سے سائنس بنا چکے ہیں، اور ان کا معاشرہ بھی قرآنی منشور کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے، لہذا اب ”عصری ضرورت“ کے مطابق تیسیر عمل میں لائی جانی چاہیے تاکہ ہمیں کوئی کام نہ کرنا پڑے۔
موقع کی مناسبت سے ایک اہم بات کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔ تعلیم میں سیکولر اور مذہبی کا فرق بہت اہمیت رکھتا ہے اور اس فرق کو ملحوظ رکھنا ہماری دینی ضرورت ہے۔ دینی تعلیم مقصود بالذات ہے کیونکہ اس کے مشمولات دینی ہیں اور غیر مبدل ہیں۔ مثلاً عقائد، عبادات، مکارم الاخلاق وغیرہ کی تعلیم مقصود بالذات ہے، ورنہ ہمارے مسلمان ہونے کا کوئی معنی باقی نہیں رہتا۔ جبکہ نظری علوم مقصود بالذات نہیں ہوتے، محض ایک ذریعہ ہیں اور نہایت ضروری ذریعہ ہیں۔ تعلیم ہمیشہ مانعاتی (exclusionary) اصولوں پر قائم ہوتی ہے، اور علم ہمیشہ جامعاتی (inclusionary) اصولوں پر تشکیل پاتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کی تعلیم کی شرائط باقی مذہب و ملت کے لوگوں سے قطعی الگ ہوں گی، جبکہ حصول علم کے وسائل اور ذرائع باقی انسانیت کے ساتھ مشترک ہوں گے۔ تعلیم کا اصول عمومِ اشتراک نہیں ہے، جبکہ علم کی بنیادی شرط ہی عمومِ اشتراک ہے۔ دینی تعلیم میں ”عصری تقاضوں“ کا مسئلہ بصیرت اور احتیاط کا متقاضی ہے، اور علم میں لابدی ضرورت ہے۔
اگرچہ بات طویل ہو گئی لیکن ایک اور ضروری بات کا موقع یہی ہے۔ تعلیم میں تدریس اور تذکیر دونوں شامل ہیں۔ تدریس کی بنیاد تفہیم ہے، جبکہ تذکیر کی بنیاد حافظہ ہے۔ دینی تعلیم میں حافظے کو مرکزیت دی جاتی ہے، علوم کے لیے لازمی تعلیم میں تفہیم کو اولیت حاصل ہوتی ہے۔ آپ بخوبی واقف ہیں کہ تذکیر ہمارے لیے کس قدر اہم ہے۔ کلمے، نماز، دعائیں، اذکار وغیرہ اولاً سمجھنے کے لیے نہیں، یاد کرنے اور عمل کرنے کے لیے ہے۔ یہ بات ہم غیرمذہبی متون کے بارے میں نہیں کہہ سکتے۔ اس پر تفصیل سے پھر کسی موقع پر عرض کروں گا، لیکن ان کی بنیاد پر تعلیمی حکمت عملی اور ترتیب بنانا کچھ مشکل نہیں ہے۔ 
سوال: علوم عقلی کا ذوق ایسا غالب کہ منطق کی تقریباً ١٥ کتب ہوتی ہیں، اور فلسفہ کی بهی تقریباًً کوئی ١٠ کے قریب کتب اور ان پر کم از کم تین حواشی مستزاد  کہ معاملہ ایک چیستاں کو حل کرنے سے کم نہیں۔ اور مزید یہ کہ اندازِ تدریس ایسا گنجلک کہ ایک متوسط کے لیے بہت ہی تنگی۔ اور یہ کہ علوم عقلی سے ایسے متاثر کہ اگر کوئی عقلی علوم میں کوئی خاص مہارت نہیں رکھتا اگرچہ فن حدیث سے خوب واقف تو بھی اس کی تدریس کم مشہور اور حلقہ تدریس بھی بہت کم۔ 
جواب: درس نظامی میں منطق اور فلسفہ کی کتابیں اس لیے شامل کی گئی تھیں کہ پورا تعلیمی عمل متوازن رہے، جو میں ابھی عرض کرتا ہوں۔ جدید تعلیم کے بنیادی مسئلے کا ذکر یہاں ضروری ہے اور وہ اس میں ”شے“ اور ”صورت“ کا غلبہ اور ان کا مقصودِ واحد ہو جانا ہے۔ جدید تعلیم صرف جز کی تعلیم ہے، یعنی مادی شے اور اس کی حرکیات معلوم کرنے تک محدود ہے۔ جدید تعلیم میں شے اور صورتِ شے تدریس اور عملی کام کا مقصود ہے۔ جدید تعلیم میں نصابی متن ہر لمحہ شے کے طواف میں ہے کیونکہ اس میں لفظ و معنی شے کی شرائط پر ہیں۔  پھر بلیک بورڈ پر شے کی تصویر ہر وقت کھنچتی ہے تاکہ ذہن کی طرح آنکھ صرف صورت ہی کو دیکھنے کا ذریعہ بن جائے۔ اور شے کی پیمائش و مقدار روزانہ بتائی، سکھائی اور پوچھی جاتی ہے۔ پھر لیبارٹری میں عمل کو شے سے متعلق اور اس کے تابع رکھنے کا پورا نظام موجود ہے۔ امتحان کا مطلب ہے کہ اگر ذہن میں شے کا استحضار ناقص رہا تو فیل اور اگر عمل شے کے تابع نہ ہوا تو بھی فیل۔ جدید تعلیم میں بیان اور پریکٹیکل کو متوازن رکھ کر صورت کی حاکمیت قائم کی جاتی ہے۔  
لیکن تعلیم کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر یہ جزئی تک محدود رہے تو بچے میں اقدار اور حقائق کا شعور پیدا نہیں ہوتا اور ان کی قبولیت کی استعداد بھی باقی نہیں رکھی جا سکتی۔  اور اگر جزئی کے بغیر، تعلیمی عمل صرف کلیات میں محدود ہو جائے تو طالب علم زندگی کی واقعیت کے ادراک سے محروم رہتا ہے۔ پہلی صورت مذہب سے انسان کے ذہنی تضاد اور تخالف کو مکمل کر دیتی ہے، اور دوسری صورت دنیا سے عملی تضاد اور تخالف کو پورا کر دیتی ہے۔ جز اور کل کا باہم غیر متعلق اور ایک دوسرے کے بغیر شعور میکانکی ہوتا ہے۔ اس وقت مذہبی تعلیم دوسرے مسئلے کا شکار ہے اور  جدید تعلیم پہلے مسئلے کا۔ انسانی ذہن اور شخصیت کی تباہی اس وقت مکمل ہو جاتی ہے جب اسے ”کل“ کی تعلیم ”جز“ کی شرائط پر دی جائے، یا ”جز“ کی تعلیم ”کل“ کی شرائط پر دی جانے لگے۔ ”جدید مذہبی تعلیم“ میں کل تک رسائی چونکہ جز کے بغیر ہے، اس لیے یہ فرد اور معاشرے کے لیے سنگین خطرات رکھتی ہے۔ 
تفصیل کا یہ موقع نہیں لیکن یہ مختصر گزارش اس لیے ضروری تھی کہ ایمان کی کوئی علمی گفتگو کلیات پر منتہی ہوئے بغیر مکمل نہیں ہو پاتی اور عمل صالح پر کوئی کلام جزیات کے شعور کے بغیر بے معنی ہے۔ درس نظامی نے انسانی ذہن اور عمل میں کل اور جز کے مسئلے کو جس خوبی سے متوازن رکھا وہ حیرت انگیز ہے۔ موجودہ مسئلہ ہماری نادانی، کام چوری اور دنیا داری سے پیدا ہوا ہے، اس کا نصاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ درس نظامی کی ترتیب فطری طور پر جز سے کل کی طرف سفر ہے۔ ابتدائی درجے میں مجوزہ کتابیں بالکل بجا جز پر حد درجہ زور دیتی ہیں، اور اعلی درجے کی کتب طالب علم کو بجا طور پر کل سے نسبتیں پیدا کرنے کا اہل بناتی ہیں۔ لیکن دونوں سطحوں پر درس نظامی سخت محنت اور جگر کاوی کا لازمی مطالبہ رکھتا ہے۔        
سوال: اول ایسے علاقوں میں جہاں حدیث کی منتہی کتاب ہی مشکات ہی ہو  تو ایسے لوگ ہی کم پیدا ہوں گے جو حدیث وغیرہ میں ائمہ میں شمار کیے جائیں جیسا کہ عقلی علوم میں شمار کیے گئے۔ اور اگر مقاصد کو ہی نصاب بنانا درست نہیں تو مشکات کو رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور پھر مشکات کی بجائے صحاح ستہ زیادہ مناسب نہیں، جس کے نتیجے میں ہند میں حدیث کے ائمہ پیدا ہوئے۔
جواب: میں نے گزارش کی تھی کہ نصاب کی حیثیت ایک ذریعے کی ہے، یہ مقصود کبھی نہیں ہوتا اور نہ بن سکتا ہے۔ اسی تقدیر پر میں بنیادی دینی متون یعنی قرآن مجید یا حدیث شریف کو ”نصاب“ بنانا درست نہیں سمجھتا، بلکہ اسے مضر خیال کرتا ہوں۔ جب درس نظامی کا اصل مقصود ہی ان متون کی باریابی ہے، تو ان کو نصاب بنا دینا چہ معنی دارد؟ ذریعے کو مقصود سمجھنے کی غلطی ہی درس نظامی میں اولین تبدیلی کا باعث بنی تھی، اور اس کے نقصانات ہمارے سامنے ہیں۔ ہماری روایت میں متن صرف مفہوم کا carrier نہیں ہے، بلکہ یہ ایک حضور رکھتا ہے، خیر و برکت کی نعمت لاتا ہے، قوائے روحانی کو مضبوطی اور صلابت عطا کرتا ہے اور شعور کو دنیاوی ریگزار نہیں بننے دیتا۔ تدریس میں صرف مفہموم زیربحث ہوتا ہے۔ متن سے متعلقہ دوسرے مقاصد تذکیر سے حاصل ہوتے ہیں۔ درس نظامی میں تدریس اور تذکیر کا لحاظ رکھا گیا تھا۔ ہمارے لیے اب تدریس اور تذکیر سب چیستاں بن گئے ہیں۔  
میرا خیال ہے کہ اگر تعلیم کے بنیادی مقاصد ہی پورے نہ ہو رہے ہوں تو کسی بھی شعبے میں منتہی ہونے کا سوال بے معنی ہے۔ یہاں تو مبتدیات کا حصول کبریت احمر بن گیا ہے، بڑی مہارتوں کا سوال کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ باقی حدیث یا کسی اور شعبے میں ”ائمہ“ کا ظہور صرف نصاب سے متعلق نہیں ہوتا۔ اس میں متعلقہ معاشرے کے سیاسی اور معاشی اداروں، فرمانروئی کے اسالیب اور کلچر کی مجموعی حالت کو بہت بڑا دخل ہوتا ہے۔ ہماری گفتگو میں نصاب تک محدود رہنا مفید ہو گا۔ 
آپ کے سوال کی تقدیر پر ہمارے ہاں تو سائنس اور ہیومنیٹیز کے ائمہ کثیر تعداد میں پیدا ہونے چاہییں تھے۔ اور یہاں حالت یہ ہے کہ ”پروفیسر“ تو بن جاتے ہیں، اور اپنے مضمون کے بنیادی مباحث ہی کا پتہ نہیں ہوتا۔ طالب علمانہ ضرورتوں کے قضیے نمٹائے بغیر ائمہ سازی کے مسائل حل نہیں ہوتے۔  
سوال: اور عربی تو شریعت کو سمجھنے کا بنیادی آلہ ہے۔ پر ادھر عربی ادب کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ ادب میں صرف مقامات ہے جو کسی خاص دور کی ادبی صنف کے متعلق ہے۔  اور جس سے صرف عربی الفاظ کی لغت کو ہی معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا جائے تو شاید مصنف مقامات پر ظلم ہے۔ نہ تو جدید عربی ادب سے مانوسیت اور نہ قدیم ادب سے واقفیت۔ اسی لیے تو قدیم درس نظامی میں  ایک دو کے علاوہ کوئی نمایاں ادیب ظاہر نہ ہو سکے، اور عربی تکلم کی مشق تو بالکل ہی نہیں۔
جواب: یہاں کئی سوالات خلط ملط ہو گئے ہیں۔ اس میں کسے کلام ہے کہ عربی دانی شرعی علوم کے حصول میں بنیادی شرط ہے۔ درس نظامی کا ایک مقصد کلاسیکل عربی کی تدریس اور اس میں مہارت تھا، اور اس میں یہ بہت کامیاب رہا۔ مقامات کے حوالے سے آپ نے جو بات کی ہے میں اس سے متفق ہوں۔ درس نظامی کو عربی تکلم کا ذریعہ خیال کرنا بے خبری ہے، اور تکلم کو دینی علوم میں اہمیت دینا بھی نادانی ہے۔ تکلم سماجی، ثقافتی اور معاشی ضرورت تو ہوتی ہے، علمی ضرورت بالکل نہیں ہے۔ 
میرا خیال ہے کہ جس زمانے میں درس نظامی کا آغاز ہوا، عربی ایک ثقافتی مظہر اور علمی روایت کے طور بھی موجود تھی، صرف نصاب تک محدود نہیں تھی۔ اب یہ صورت حال نہیں رہی۔ عربی ادب کی استعداد بڑھانے کے لیے نئی کتابوں کو متعارف کرانا ضرورت کے درست ادراک سے مشروط ہے جس کا امکان بہت کم ہے۔ لیکن سوال یہ ہے درس نظامی کی زبوں حالی سے دھیان فوراً نئی کتابوں کی طرف کیوں جاتا ہے؟  مدارس کے جو اصل مسائل ہیں ان کو کوئی بھی زیربحث نہیں لاتا۔ تدریس اور دینی علوم کے مقاصد پر بات کرنا اب بھی شجر ممنوعہ ہے۔  
سوال: اور عقلی علم کے بعد تمام صلاحیتوں کا فقہ میں کھپنا۔ جس کا لازمی نتیجہ فقہ کی جزئیات تک میں تشدد  جو بعض اوقات انتہائی عجب کیفیت اختیار کر لیتا جیسے خواجہ نظام الدین اولیا کے ساتھ مناظرہ میں علما کا خواجہ صاحب کے اپنے موقف کو مضبوط کرنے کے لیے حدیث کے پیش کرنے پر یہ کہنا کہ ہمارے شہر میں فقہ پر عمل کیا جاتا ہے، فقہا کے اقوال کو پیش کیا جاتا ہے۔ اب جہاں حدیث کے فن کی یہ حالت کہ آخری کتاب ہی مشکات سے بڑھ کر کوئی نہ ہو تو دلائل میں تبادلہ فقہی اقوال سے بڑھ کر کس چیز میں ہونا ہے!
جواب: میرے خیال میں یہ سوال اہم ہے، لیکن موضوع زیربحث سے متعلق نہیں۔ یہ ایک دینی مسئلہ ہے اور اس کے لیے علما کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ 
سوال: مزید یہ کہ جب مقابلہ نئے فلسفے سے ہے تو قدیم فلسفے کو پڑھاتے ہوئے وقت کو گزارنا کون سا مناسب فعل ہے؟ آخر اب جدید فلسفہ کے مقابلے میں مثلاً زمانے کے قدیم ہونے یا عذابِ قبر کے ہونے یا اعمال کا جزوِ ایمان ہونے نہ ہونے سے کیا تعلق ہے؟ اب درس نظامی میں جو بھی عقیدے کی کتاب ہے قدیم فلسفے سے لبریز ہے۔ کم از کم ان کے ساتھ  جدید فلسفہ کے رد کے لیے بھی کوئی نہ کوئی انتظام ہونا چاہیے ناں؟
جواب: انتظام تو بھائی کافی سارے ہونے چاہییں، لیکن کرے کون؟ اس میں سوال یہ ہے کہ کیا اہلِ فلسفۂ جدید، قدیم فلسفے سے دستبردار ہو گئے ہیں؟ اور کیا آج بھی جدید فلسفہ یونانی فلسفے کے بغیر کوئی معنی رکھتا ہے؟ فلسفہ تو دور کی بات ہے جدید ادبی تھیوری پر بھی کوئی گفتگو یونانی فلسفے سے آگہی کے بغیر ممکن نہیں۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ ”مقابلے“ کی خام خیالی سے ہمیں باہر آنا چاہیے۔ ہمارے حالات اتنے ناگفتہ بہ ہیں کہ ہمیں نہ میدان کا پتہ معلوم ہے، نہ میدان میں اترنے کی ضروریات کا کوئی ادراک ہے، نہ اس بات کہ وہاں کیا گھمسان برپا ہے، نہ اس بات کا کہ ہم میدان کے اندر ہیں یا باہر۔ ہم تو آج کے میدانوں کے تماشائی جیسا شعور بھی نہیں رکھتے۔ مقابلے کی بات محض خودفریبی ہے۔ ہمیں یہ ادراک ہونا چاہیے کہ یہ مقابلہ کب کا ہمارے خلاف فیصل ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ ہماری نااہلی ہے، کوئی اور نہیں ہے۔ 
ایمان اور عمل صالح کے لیے مذہبی آدمی کو فلسفے یا مابعد الطبیعیاتی علوم کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔  لیکن مذہبی آدمی کو فلسفے سے اعتنا کی ضرورت دو وجوہات سے پڑتی ہے۔ ایک یہ کہ دنیا ایسی چیزوں سے خالی نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے جو نہ صرف ”ایمان نما“ ہیں، بلکہ اکثر اوقات ایمان کی جگہ لے لیتی ہیں۔ ہر وقت موجود اس خطرے سے بچاؤ کے لیے عقیدے کا خود آگاہ اور خود نگر ہونا لازم ہے۔ نظری یا ”فلسفیانہ“ ہونے کا یہی مطلب ہے۔ دوسری وجہ زیادہ اہم ہے کہ قرنِ اول کے تدوینی دور میں روایت کے مختلف شعبوں میں اصول سازی کی ضرورت پیش آئی، جو ایک نظری سرگرمی ہے۔ اسی باعث اصول سازی فلسفیانہ طریقۂ کار سے جزوی مشابہت اور مماثلت رکھتی ہے۔ 
مختصراً یہ کہ ہماری دینی روایت میں مختلف علوم جس اصول پر قائم ہوئے ہیں، وہ ہدایت سے متصادم نہیں، بلکہ اس کے ضمن میں ہیں۔ جدید علوم میں اول اصولوں کی حیثیت اصولِ محض کی ہے۔ مثلاً فزکس کا اصل اصول بگ بینگ ہے، حیاتیات میں نظریۂ ارتقا ہے، اور نفسیات میں لاشعور ہے اور ان سب کی حیثیت اصولِ محض (pure principle/theory) کی ہے، اور ان میں سے کوئی بھی rational نہیں ہے۔ ان کے ضمن میں جو بھی علوم تشکیل دیے گئے ہیں ان کی کل معنویت انہی اصولوں سے اخذ ہوتی ہے، مثلاً بگ بینگ کا اصول یہ فرض کرتا ہے کہ مادہ یا کائنات خود بخود وجود میں آئی ہے۔ اب اس اصول پر قائم ہونے والا علم اور اس کے تحت واقع ہونے والی عقلی کارگزاری جو آخری نتیجہ اخذ کرتی ہے وہ بھی یہی ہوتا ہے کہ کائنات خود بخود وجود میں آئی ہے۔ کسی شعبہ علم میں اصولِ اول قائم کرنا انسانی شعور کی نہ صرف ضرورت ہے بلکہ عقل کی فعلیت کے ضروری ہے۔  اصولِ محض کی حیثیت دراصل ایک وجودی اصول کی ہے اور عقل اس سے آگے سفر نہیں کرتی اور نہ کر سکتی ہے۔ لیکن یہ اصولِ اول ضروری نہیں کہ اصولِ محض ہو۔ اصول محض عقیدے سے مشابہ اور متوازی ہے، اور عقل کا گھر بھی ہے اور منزل بھی۔ جدید علوم میں کسی بنیادی علمی ڈسپلن کا تصور اصولِ محض کے بغیر ممکن نہیں۔ اصول سازی کا عمل انسان کی وجودی اور علمی آٹونومی کا مظہر ہے۔ دینی روایت میں بھی اصول سازی ایک ضروری امر ہے لیکن اس میں ضروری امتیازات صرف اسی صورت میں باقی رکھے جا سکتے ہیں جب ہمیں نظری علوم سے بھی کوئی مضبوط نسبت پیدا ہو چکی ہو۔ 
اہم بات یہ ہے کہ ہماری تہذیبی روایت میں فلسفہ اپنی پورائی میں حملہ آور ہو کر شکست کھا چکا ہے۔ یہ بات ایک تاریخی واقعہ کے طور پر ظاہر ہو چکی ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب صرف ایک ہی ہے کہ اب دنیا میں ”مذہبی“ ہونے کا اسلامی کے علاوہ کوئی اور مطلب نہیں ہے کیونکہ فلسفہ اور اس کے متولد علوم براہ راست یا بالواسطہ باقی تہذیبوں کی غیرمادی اور مذہبی اساس کو ختم کر چکے ہیں۔  کیا ہم کسی کو یہ مطلب بتانے کی ضروری تیاری اور اس کے لیے مطلوبہ اعتماد رکھتے ہیں؟ دوسرا مسئلہ یہ ہوا ہے کہ فلسفے نے وجود کے سوال سے دستبردار ہو کر اسلامی تہذیب کی اس strategic کامیابی کو غیر اہم بنا دیا، اور ایک tactical brilliance کو کام میں لاتے ہوئے اس کامیابی کے نشانات بھی مٹا دیے۔ وجودی سوالات سے دستبرداری کے بعد جدید علم کے  ”حق کی دریافت“ جیسے دعوے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ لیکن اس بنیادی تبدیلی سے فلسفہ اور جدید علم، فطرت کے ان وسائل تک رسائی پانے میں کامیاب ہو گئے جو طاقت اور سرمائے کے حصول کا ذریعہ ہیں۔
 نظری سرگرمی یا فلسفیانہ علوم آج کی دنیا کو سمجھنے اور اس میں راستہ بنانے کے لیے ایک ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔ آج کی دنیا میں اجتماعی زندگی کا ہر شعبہ نظام کے اصول پر قائم ہوتا ہے۔ سیاسی، معاشی، تعلیمی، ابلاغیاتی، عسکری اور ٹیکنالوجی کے نظام وغیرہ  قائم ہونے کی وجہ سے علت و معلول کا بدیہی اور حسی سلسلہ ختم ہو گیا ہے، اور چیزوں اور واقعات کی باہمی نسبتیں اب نظری ہو گئی ہیں۔ نظری علم اور نظام جڑواں ہیں۔ ہمارے ہاں نظری بحث کا خاتمہ ہو گیا ہے  اور نظام کا شوق بہت بڑھ گیا ہے، اور یہ شوق بہت خطرناک ہے۔ ”اسلامی نظام“ کا شوق بھی اوروں کی کوئی چیز ”دیکھ“ کر پیدا ہوا ہے، کسی نظری شعور کا ثمر نہیں ہے۔ 
سوال: اور تفسیر میں بیضاوی جو کہ عقلی علوم سے لبالب اور ماثور تفسیری انداز سے بالکل مبرا۔
جواب: یہ دلچسپ بات ہے۔ جدید اثرات کے تحت ہم ماثورات کو بعینہٖ قبول کرنے کی استعداد نہیں رکھتے کیونکہ دینی اعتماد باقی نہیں رہا، اور بچگانہ تشریحات سے ان کو جدید اصول و قضایا سے ”تطابق“ دینے کا جوش بہت ہے۔ دوسری طرف عقلی علوم سے کوئی نسبت تو دور کی بات ہے، ان کا خاتمہ بالخیر ہو گیا ہے، بلکہ ان کے خلاف ماثورات سے دلائل بھی لاتے ہیں۔ یہ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے علمی وغیرہ نہیں ہے۔ 
سوال:  اور تمام فنون کی کتب جیسے کہ پہلے عرض کیا تین تین چار چار حواشی سے مزین جیسے عقائد میں امام نجم الدین نسفی کی العقائد اس پر تفتازانی کی شرح، اس پر امام خیالی کا نفیس حاشیہ، اس پر ملا عبد الحکیم کا حاشیہ اس پر ہر پڑھانے والے کی اپنی تشریح۔ متن کا فہم کہاں، حاشیے ہی یاد ہوں گے۔
جواب: اس سوال پر ذرا غور فرمائیں تو فوراً اندازہ ہو جائے گا کہ یہ پھر وہی تدریس اور انتظام تدریس کا مسئلہ ہے۔ اسی سے متعلقہ ایک مسئلہ اور بھی ہے کہ کتاب سازی، متن کی پیشکاری اور تدریس کا ہم آہنگ ہونا بھی ضروری ہے۔ اس سے تعلیمی انتظام میں بہت آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔ 
دیکھیں، مدرس کا کام سبق پڑھانا ہے، معلم کا کام تعلیم دینا ہے، اور عالم کا کام علم پروری ہے۔ مدرس ایک مضمون کے دو اسباق کی باہمی نسبتوں سے واقف ہوتا ہے، معلم دو الگ مضمونوں کی باہمی نسبتوں سے آگاہ ہوتا ہے۔ اور عالم تمام مضامین کی باہمی نسبتوں کا عملی اور نظری سطح پر ادراک رکھتا ہے۔ اب ذرا مذہبی تعلیم کو اس سادہ اصول پر دیکھنے کی کوشش کریں۔ 
سوال: مزید یہ کہ ایک ہی فن کی کئی کتب کئی سال پڑھانے کے بعد اگر اسی فن کی کوئی منتہی کتاب دے دیں تو پریشانی، جیسے کافی عرصہ بلاغت میں مختصر المعانی پڑھانے والے کو شیخ عبد القاہر جرجانی کی دلائل الاعجاز دے دیں تو مسئلہ ہے کیونکہ اس کا کوئی حاشیہ اور شرح موجود نہیں۔ 
جواب: میں اس کا جواب اوپر عرض کر چکا ہوں۔ درس نظامی کا مقصد دینی تعلیم نہیں ہے، دینی علم ہے۔ یہ تو آپ نے بلاغت کی کتاب کا ذکر کیا۔ خاص دینی موضوعات پر اگر کوئی کتاب دے دی جائے تو اس کا حشر بھی یہی ہو گا۔  
سوال: اب اس دور میں اگر وہی بقول بعض نری عقلی عیاشی کو سبق میں لے آئیں  تو اب جدید افکار کے ماحول میں ڈوبے ہوئے کو یہ طریقہ تعلیم و تدریس پلے بھی پڑے گا؟
جواب: مجھے معلوم نہیں کہ ”عقلی عیاشی“ سے کیا مراد ہے، کیونکہ یہاں تو کسی کو عقلی غربت بھی حاصل نہیں۔ مجھے تو عقلی عیاشی کرتا ہوا کوئی آدمی اس معاشرے میں کبھی نظر نہیں آیا۔  
سوال: کیا جدید دور کے تقاضوں  اور جدیدیت سے متاثر ذہن کو مد نظر رکھتے ہوئے نظام تعلیم، تدریس اور نصاب میں تبدیلی نہیں لانی چاہیے؟
جواب: اصولاً تو اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ لیکن یہ اتنا سادہ معاملہ نہیں جتنا کہ اس سوال میں ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس لیے یہ سوال نہیں، جواب ہے۔ مثلاً ”جدید دور کے تقاضے بدل گئے ہیں، جدیدیت کے غلبے سے ذہن متاثر ہیں، یعنی دین سے دور ہو رہے ہیں۔ اس کا سبب نیا نظام تعلیم، جدید تدریس اور نئے نصابات ہیں۔ درس نظامی ان کے مطابق نہیں وغیرہ، وغیرہ“۔ میں نے عرض کیا تھا کہ اب صرف بستہ باقی ہے، اسی کا بندوبست ہو رہا ہے۔ آپ جس نظام تعلیم، تدریس اور نصاب کو بدلنے کی بات کر رہے ہیں وہ کہاں ہے اور کون سا ہے، اور اس کا بیان کیا ہے؟ 
تبدیلی ایک صورت حال سے دوسری صورت حال کی طرف ارادی پیشرفت کا نام ہے۔ اور اس پیشرفت کی سمت موجود اور مطلوب صورت حال کے مفصل نظری نقشے پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان تفصیلات اور ضروری ارادے کے بغیر عصری تقاضوں کا بلڈوزر سب کچھ ویسے ہی صاف کر دیتا ہے، اسے ہماری معاونت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ 
سوال: یہ ہے کہ درس نظامی میں اکثر بلکہ تقریباً تمام کتب متاخرین کی ہیں، متقدمین کی کوئی کتاب شامل نصاب نہیں۔ حالانکہ متقدمین کی کتب ان سے بہتر ہیں۔ علم و فضل ان کا مقدم، تہذیب اور صاحبِ شریعت کے دور سے زیادہ قربت، اس کے ساتھ علمی شعور، معنویت متاخرین کی بنسبت زیادہ اور اس کے ساتھ سادہ طرز بیان۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایسے مشکل نہیں کہ بغیر شروح و حواشی کے حل نہ ہوں۔
جواب: یہاں درس نظامی ایک نصاب کے طور پر زیر بحث ہے۔ متقدمین کے زہد و تقویٰ اور عظمتِ کردار سے کسے انکار ہے؟ متقدمین کے نمونے اور فضائل ہماری پیروی اور محبت کے لیے ہیں، نصابی کتب کے انتخاب کا معیار بالکل نہیں ہیں۔ متاخرین کی کتب نصاب میں شامل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پوری دینی اور علمی روایت تک رسائی کے وسائل فراہم ہو جائیں، اور تاریخی سفر میں جو فنی پہلو علمی روایت کا لازمی حصہ بن جاتے ہیں، ان میں بھی ضروری تربیت ہو جائے۔ درس نظامی کا مقصد ہی متقدمین سے زندہ تعلق کو باقی رکھنا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ درس نظامی کی کتابیں متاخرین کی ہیں یا متقدمین کی، اس میں جس ضرورت کو سامنے رکھا گیا اور اس کے حصول کے جو ذرائع اختیار کیے گئے، وہ غیرمعمولی ہیں۔ ہر علمی روایت وقت کے ساتھ فطرتاً اور ضرورتاً ٹیکنیکل ہو جاتی ہے، اور یہ کوئی عیب نہیں خوبی ہے۔ متقدمین اور متاخرین میں اس طرح کے غیرضروری موازنے زیادہ مفید نہیں ہوتے۔   
سوال: یہ بات بھی کہ خود درس نظامی کے ساتھ ساتھ ہمارے پرانے نصاب میں ایک تو مشکل کتب، اس کے ساتھ انتہائی دقیق اور کئی جگہ تو بہت مختصر متون شامل کیے گئے۔ تو کیا نصاب میں آسان  مگر جامع کتب نہیں رکھی جا سکتیں؟ جس سے طلبا پر بوجھ بہت زیادہ نہ پڑے۔ اور اگر یوں کہا جائے کہ انتہائی دقیق کتب لکھ کر ان کی آسانی کے لیے  کتب حواشی سے بھر دی گئیں اور مزید اس کے لیے شروحات لکھ دی گئیں۔ تو کیا ایسی ہی کتب کیوں نہ لکھ دی گئیں تو اگرچہ بہت زیادہ نہیں تو درمیانی حد تک آسان کتب نصاب کے لیے لکھ دی جاتیں۔ اگر طالب علم سے دقت مطلوب تھی تو اتنا شروح و حواشی کی بھر مار چہ معنی دارد؟
جواب: جدید تعلیم اور علوم میں رہتے ہوئے اگر مشکل اور آسان کی حیثیت معلوم ہو جائے تو یہ بحث بھی فیصل ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں آسان، آسان کا جو شور ہے وہ کسی اخلاقی، دینی یا علمی ضرورت سے پیدا نہیں ہوا، بلکہ ہمارے ذہن کی شکست کا اظہار ہے۔ زیادہ سخت لیکن درست تر بات یہ ہے کہ ایسے مطالبات ہمارے ذہن کے خاتمے کا اظہار ہیں۔ تیسیر کے مطالبات اس لحاظ سے درست ہیں کہ جب ذہن ہی ختم ہو گیا تو ذہن سے متعلق چیزوں کا باقی رکھنا کیا ضرور ہے؟ اس مطالبے کی ایک اور وجہ تعلیم اور علم کے امتیازات کو ارادی طور پر نظرانداز کرنا اور ان کے وجود ہی سے انکار کرنا ہے۔ تہذیبی ذہن کی نمو میں پیچیدگی ایک لازمی عنصر کے طور پر شامل ہوتی ہے۔ 
 تیسیر کے مسئلے کو درست پوزیشن پر کھڑے ہو کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے کی درست تفہیم نہ ہونے کی خرابی اس قدر ہے کہ اب جہالت کو مذہبی تقدیس حاصل ہو چکی ہے۔ اس مسئلے کی بنیاد یہ قضیہ ہے کہ دین سادہ ہے۔ دین یقیناً سادہ اور آسان ہے۔ عقائد، احکام اور اقدار اپنے بیان میں بہت سادہ ہیں، فوراً معلوم ہو جاتے ہیں اور عمل میں لائے جا سکتے ہیں۔ اس میں کوئی کلام نہیں۔ لیکن امتداد وقت کے ساتھ ایک نئی اور ضروری چیز پیدا ہوئی جسے ”دینی علوم“ کہا جاتا ہے۔ اب بیان یہ ہو گا کہ دین یا دینی ہدایت سادہ ہے، لیکن ”دینی علوم“ پیچیدہ ہیں۔ دینی تعلیم کی بنیاد، طریقے اور مقصود، ہر مرحلے میں تیسیر اصول کے طور پر شامل ہو گی۔ لیکن ”دینی علوم“ سے تیسیر کا اصول لازماً خارج ہو گا، ورنہ ”دینی علوم“ کا قیام اور حصول ممکن نہیں۔  اصول کے بغیر علم کا تصور نہیں کیا جا سکتا، اور اصول سازی ایک نظری سرگرمی ہے جو تیسیر کا سایہ پڑتے ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ہمارا یہ موقف رہا ہے کہ  دینی تعلیم بھی ضروری ہے اور ”دینی علوم“ بھی ضروری ہیں، لیکن ان کے تشکیلی اصول باہم یکسر مختلف اور بعض اوقات متضاد ہیں۔ 
اس میں بحث طلب بات صرف یہ رہ گئی ہے کہ ”دینی علوم“ سے کیا مراد ہے اور کیا وہ ضروری ہیں؟ اس سوال کا حل ہونا اب اشد ضروری ہے۔ اس میں بنیادی قضیہ یہ ہے کہ علم کی کوئی ایسی تعریف ممکن نہیں جو وحی اور فزکس، یا وحی اور عمرانیات، یا وحی اور اصول قانون کو بیک وقت شامل ہو۔ وحی لاریب ہے اور علم باریب ہے۔ جو آدمی اس بات کو نہیں سمجھتا، وہ یا تو نادان ہے، یا شیطان ہے۔ ہماری روایت میں منقول اور معقول کی تقسیم اسی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ چونکہ اب ہم اس تقسیم کے بنیادی قضایا کو سمجھنے کی استعداد سے محروم ہو چکے ہیں اس لیے تیسیری لغویات کا عروج ہو گیا ہے۔ 
ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ”دینی علوم“ نام کی کوئی شے نہیں جیسا کہ ہمارے ہاں یہ مفروضہ بہت عام اور قوی ہے۔ یہ فرض کر لینے کے بعد ہم کسی طور بھی یہ فرض نہیں کر سکتے کہ دنیا کے معاشروں میں بھی کسی قسم کے دیگر علوم موجود نہیں رہے۔ یہ مفروضہ ایک پاگل ہی کا ہو سکتا ہے کہ انسانی معاشرے علم سے خالی ہوتے ہیں۔ اب صرف ایک سوال باقی رہ گیا ہے کہ دینی عقائد، احکام اور اقدار ہیں اور ان کے چاروں طرف ہم عصر علوم ہیں، تو کیا صورت پیدا ہو گی؟ اس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ دینی عقائد، احکام اور اقدار  کا صفایا ہے، جیسا کہ اس وقت یہ صورت حال تیزی سے سامنے آ رہی ہے۔ اور تیسیر کا مقصد صرف یہ ہے کہ ”دینی علوم“ کے حصول کا امکان ہی ختم کر دیا جائے۔    
تیسیر کا مطلب ہے لفظ کو حسیات اور بدیہیات تک محدود کر دینا۔ جدید عہد میں تعلیم کا مقصد ہے لفظ کو حسیات تک محدود کر دینا، اور جدید علم کا واحد مقصود ہے لفظ کو تجرید کی نوآبادی بنا دینا۔ تیسیر جدیدیت کا وہ اصلاحی ہرکارہ ہے جو اب ہمارے منبر و محراب تک آ پہنچا ہے۔ تیسیری فتوحات کے بعد دینی عمل کو کچھ دیر برقرار رکھا جا سکتا ہے، لیکن دینی ذہن کی تشکیل ناممکن ہے۔ اور دینی ذہن کے خاتمے کے ساتھ دینی عمل کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ انسانی ذہن کا فطری اسلوب کار اور عقلی فعلیت تجریدی (abstract) ہے۔ مغیبات کو تجریدات کا محیط بنا دینا دینی علم کا بڑا مسئلہ ہے، اور صرف اسلامی تہذیب ہی اس سے نبردآزما ہو سکی ہے۔ عقیدے کی شرائط پر تجریدات اور مغیبات کا باہمی تعامل انسانی ذہن کی اعلیٰ ترین فعلیت ہے، جہاں تیسیری ”ذہن“ کا گزر نہیں ہو سکتا۔ 
یہاں ضمناً ایک ضروری بات کا موقع پیدا ہو گیا ہے۔ معاشرے میں مظاہرِ خیر اور مظاہرِ علم، صرف مظاہر ہی ہیں، یعنی خیر عمل کی اوڑھنی ہے اور علم ذہن کی چادر ہے۔ خیر اور علم دونوں حق اور باطل سے نسبت پیدا کرنے کا یکساں میلان رکھتے ہیں، یعنی خیر اور علم میں حق اور باطل کی بجاآوری کی استعداد یکساں ہے۔ خیر اور علم کے حتمی تعینات حق اور باطل کے تناظر میں طے ہوتے ہیں، فی نفسہٖ ان میں رہتے ہوئے ممکن نہیں ہوتے۔ دینی علوم سے انکار اصلاً باطل ہی کی طرفداری کا موقف ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں باطل سے نسبت رکھنے والے علوم کا غلبہ ہو چکا ہو، دینی تعلیم کی سرگرمی محض خام خیالی ہے۔  
سوال: آخر درس نظامی ہی کی کیا ایسی خصوصیت ہے کہ زیادہ سے زیادہ عراق و عجم تک پر اس سے آگے جزیرة العرب کے ساتھ ساتھ مراکش کی القرویین کا، مراکش کے دوسرے علاقوں کے مدارس کا اور تیونس میں زیتونہ کا نصاب مختلف تھا۔ اگر وہاں علمائے ربانیین پیدا ہوئے اسی نصاب سے تو ہم برصغیر میں درس نظامی کی کیا تخصیص؟
جواب: یہ کون کہہ رہا ہے کہ ”علمائے ربانیین پیدا“ کرنے کے لیے درس نظامی ہی ضروری ہے؟  لیکن سوال یہ ہے کہ آیا درس نظامی ”علمائے ربانیین پیدا“ کرنے میں رکاوٹ ہے؟ اور کیا ”علمائے ربانیین“ صرف نصاب کی جمع تفریق سے پیدا ہوتے ہیں؟ ہمارے ہاں نصاب کی بحث پر زور صرف اس لیے ہے کہ نظری ادراک کا خاتمہ ہو گیا ہے، اور صرف حسی اور تیسیری ادراک باقی رہ گیا ہے۔ تسیری ادراک میں درس نظامی کا صرف بستہ ہی نظر آ سکتا ہے لیکن یہ سمجھ نہیں آ سکتا کہ یہ ہے کس لیے؟ علمائے ربانین کی اگر کوئی فہرست بنائی جائے تو ان کے اذہان کے حاصلات کا گوشوارہ بھی ساتھ لف ہونا چاہیے۔ ان علمائے ربانین کی تعقلاتی پہنائی، عرفانی علویت اور استدلالی کاٹ کو دیکھ لینا بھی مفید ہو سکتا ہے۔     
سوال: کیا نصاب اور نظام تعلیم کسی معاشرے یا قوم کے ذہن کی عکاسی، نمائندگی کرتا ہے؟ اور قوم کے ذہن نصاب کی نوعیت سے تبدیل ہوتے ہیں؟ کیا نظام تعلیم بدلتا رہتا ہے؟ اگر نظام نہیں بدلتا تو کیا نصاب ہی تبدیل ہوتا ہے؟ اگر نظام یا نصاب اس وجہ سے بدلتا رہا ہو کہ وقت کے مطابق کچھ نہ کچھ تبدیلی آنی چاہیے تو درس نظامی بھی اس تسلسل کا حصہ تو ضرور بن سکتا ہے؟ 
جواب: یہ بھی عمومی سوالات ہیں، اور اپنی جگہ بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں صرف یہ عرض کروں گا کہ وقت کے ساتھ انسان کی بہت سی ضروریات اور ان کو پورا کرنے کے اسالیب تبدیل ہو جایا کرتے ہیں۔ یعنی تبدیلی مستقبل کی کوکھ سے برآمد ہوتی ہے۔ اس میں کافر و مسلم کی کوئی تفریق نہیں؛ دونوں کے مشاہدے اور تجربے میں ہے۔ لیکن وقت اور تبدیلی کے بارے میں ہمارے اور جدیدیت کے تصورات میں بہت فرق ہے۔ ہم اس تبدیلی میں کچھ ایسی چیزوں کو مستقل رکھنا چاہتے ہیں جن کا تعلق ماضی سے ہے۔ اور جدیدیت کچھ ایسی چیزوں کو مستقل رکھنا چاہتی ہے جن کا تعلق مستقبل سے ہے۔ ہمارا آئیڈیل ماضی میں ہے اور جدیدیت کا مستقبل میں۔ اس لیے تبدیلی کی کوئی بات علی الاطلاق نہیں ہو سکتی، کیونکہ تبدیلی کا طریقۂ کار، سمت اور مقاصد ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔  
جدیدیت جس مستقبل پر یقین رکھتی ہے وہ زمانی نہیں ہے، بلکہ یوٹوپیائی اور فرجامی ہے۔ جدیدیت کی تقویم میں ماضی کوئی مستقل چیز نہیں ہے، اور انسان کی عصری ضرورت اور ارادے کے تابع ہے۔ ہمارا ماضی کا تصور جدیدیت کے تصورات سے قطعی مختلف بلکہ قطعی متضاد ہے۔ جدیدیت میں ماضی، مستقبل سے کہیں زیادہ ”بدلتا“ ہے۔ کیا ہم یہ پوزیشن لے سکتے ہیں؟ کیا ہمارے نزدیک مسلمان ہونے کی معنویت اور غایت تبدیل کی جا سکتی ہے؟ جدیدیت میں ماضی کسی حق کا محتویٰ نہیں ہے، اپنے اندر کوئی قدر نہیں رکھتا، اپنے اندر کوئی اتھارٹی نہیں رکھتا، اپنے اندر کوئی نمونہ نہیں رکھتا۔ ماضی کی زیادہ سے زیادہ یہ حیثیت ضرور ہے کہ اس کی ”کھدائی“ اور ”ادھڑائی“ کر کے اس کے ملبے سے ایسی چیزیں نکالی جائیں جو علم جدید کا استدلالی ایندھن بن سکیں۔ تو کیا ہم یہ پوزیشن لے سکتے ہیں؟ ہمارے لیے ماضی اس سے بالکل مختلف ہے، اور یہی ادراک درسِ نظامی کی تشکیل میں کارفرما تھا، اور وہ ادراک ہے ماضی پر ہم عصر دنیا کو اثرانداز نہ ہونے دینا۔ 
آپ نے نظام کی بات کی جو ہمارے خیال میں بہت اہم ہے۔  جدید نظام کی تشکیل اصولِ تنظیم پر ہوتی ہے، اور ٹیکنالوجی ہر نظام کا جزو لاینفک ہے۔ اصول/تھیوری اور نظام کی بحث توام ہے۔ اور یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں کہ اصول اور نظام دونوں تاریخی اور انسان کی بنائی ہوئی چیزیں ہیں، اور دونوں کچھ مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ مقاصد کی تبدیلی سے اصول اور نظام دونوں بدل جاتے ہیں، اور جدید معاشروں میں اصول اور نظریے کی ادھڑائی بنائی روز ہوتی ہے۔ اصولِ تنظیم طاقت اور سرمائے کا اصول ہے، کوئی اخلاقی یا مذہبی یا روحانی چیز نہیں ہے۔ ہماری خوش فہمی کے برعکس، نظام ہاتھ میں پکڑ کر یا آنکھوں سے دیکھنے کی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ ذہن سے ”دکھائی“ دیتا ہے۔  آج کی دنیا میں طاقت اور سرمائے کا حصول تنظیم اور نظام کے بغیر ناقابل تصور ہے، اور نظام کا مقصدِ قیام بھی مقداری اہداف کا حصول ہوتا ہے۔ تعلیم میں بھی نظام کچھ مقداری اہداف ہی کو حاصل کر پاتا ہے، جبکہ ہمارے اہداف صرف مقداری نہیں ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نظام کی بحث سے پہلے کوئی نظری تناظر بہم کیا جائے۔ 
سوال: کیا مدارس میں جدید سکول کی تعلیم کا انتظام مناسب ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اگر اب بہت سے دینی مدارس ایسا کر رہے ہیں تو نتیجتاً کیا ہو سکتا ہے؟
جواب: میرا خیال ہے کہ یہ سوال اہم ہے۔ درس نظامی پر تمام گفتگو چونکہ سیاسی اور فرقہ ورانہ تناظر میں ہوتی ہے، اس لیے تعلیمی تناظر بالکل غائب ہے۔  ایسے اہم سوالات اسی باعث زیر بحث نہیں آ پاتے۔ درس نظامی کو ”مذہبی تعلیم“ کہنا بھی کئی لحاظ سے محل نظر ہے۔ اس کی حیثیت humanities کے اعلی اور معیاری نصاب سے بہت مشابہ ہے، اور یہی وہ اعتراض تھا جس کی وجہ سے بنیادی مذہبی متون کو اس میں متعارف کرایا گیا۔ درس نظامی اصلاً دینی علوم تک رسائی کا  نصاب ہے۔ 
جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، درس نظامی کی تجہیز اور تکفین تو ہو چکی ہے۔ اب اس کی تدفین جدید تعلیم کے وسیع و عریض نظام کی گود میں ہونے لگی ہے۔ جدید تعلیم کی گود توسیعی مزاج ہے، اور اب مدارس بھی اس میں گرا چاہتے ہیں۔ اس گود میں درس نظامی سسکتی میت کے طور پر اور جدید تعلیم کی فتح کی ٹرافی کے طور پر آئندہ نسلوں کے فخر ومباہات کا ذریعہ رہے گا۔ اس عظیم کامیابی پر میکالے کی روح کے احوال کیا ہوں گے، یہ تو کوئی صاحب کشف ہی بتا سکتا ہے۔ درس نظامی کے وارث اس کا گلا گھونٹ کر اگر اپنے گھر آنگن ہی میں دفن کر دیتے تو زیادہ عزت کی بات تھی۔ جدید تعلیم کا اونٹ بدو کے خیمے میں داخل ہو چکا ہے۔ اور اب درس نظامی کی فکر چھوڑ کر بدو کو اپنی ہی فکر کرنی چاہیے۔ 
سوال: نصاب اور نظام میں کیا فرق ہے اور کیا فرق رکھنا چاہیے؟ اصل میں پچھلی کئی دہائیوں سے جب تعلیم پر بات ہوتی ہے تو نصاب کی تبدیلی کی طرف تگ و دو ہوتی ہے اور اس کی گواہ ہمارے درمیان لکھی گئی کتب ہیں، جس سے محسوس ہوتا ہے کہ نصاب کی بات ہی دراصل نظام کی بات ہے۔
جواب: یہ پھر عمومی لیکن اہم سوالات ہیں، اور ان کو فی الوقت مؤخر کر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ عرض ہے کہ نظام اور سسٹم وغیرہ کی بحث کو یہاں چھیڑنا مفید نہیں ہو گا، اور موضوع بدل جائے گا۔ صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ  نظری علوم اور سسٹم کی بحث توام ہے، اور ایک کے بغیر دوسرے کو زیر بحث لانا کچھ مفید نہیں۔ جیسے ہمارے ہاں ایمان اور عمل صالحہ کا تناظر ہے، یہ تناظر بھی اس سے مشابہ ہے۔ مزید یہ کہ جدید سسٹم اور اعمال صالحہ کی بحث نوعاً ایک ہے، اور ہمارے خیال میں ازحد اہمیت کی حامل ہے۔ 
میرا مشورہ یہ ہے کہ گھبرائے بغیر اس طرح کے سوالات کے ساتھ تادیر دوستانہ رہنا سیکھیں۔ ابھی سوالات کو منکشف ہونے دیں۔ یہ بھی جاننے کی کوشش کریں کہ سوال کیا ہوتا ہے۔ کچھ سوالات انسانی شعور کی ضرورتوں کے عکاس ہوتے ہیں، جو بتاتے ہیں کہ وہ پیاسا ہے کہ سرشار؟ کچھ سوالات ذہن کی حرکت اور اس کی سمتِ حرکت سے پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ سوالات شرارت، نفرت، تعصب اور ایجنڈے کا غلاف ہوتے ہیں۔ ایک بات یادر رکھنے کی ہے کہ دنیا میں جواب سب سے زیادہ رسوا ہوتے ہیں، سچا سوال ہمیشہ سرخرو رہتا ہے کیونکہ وہ خالص نیت کا جڑواں ہے۔ سچے سوال کے دیکھنے کو کائنات بھی ٹھہر جاتی ہے۔ پھر یہ کہ سوال صرف ذہنی نہیں ہوتے، اور اگر وہ انسان کی اصلِ وجود سے پھوٹ نکلیں تو کاسۂِ کلام کے محتاج نہیں رہتے۔ یہ عین وہ لمحہ ہے جب خالق کائنات بھی متوجہ ہو جاتا ہے۔ سوال ناقص رہ جائیں تو جواب بھی ادھورے اور بیکار ہوتے ہیں۔ ہم تاریخ کی اندھیری رات میں بے نسب جوابوں کے نرغے میں آئے ہوئے تہذیبی پناہ گزیں ہیں۔ سوال کی نمو کے وقت سب سے بڑا خطرہ نفسی شب خون کا ہوتا ہے۔ اگر یہ کامیاب ہو جائے تو انسان شعور کی آٹونومی سے محروم ہو جاتا ہے کیونکہ سوالات انسانی شعور کی آٹونومی کا پہلا زینہ ہے، جیسے مکارم الاخلاق انسان کی اخلاقی آٹونومی کا مظہر ہے۔ انسان رہنا اسی پیہم جدوجہد کا نام ہے۔  
سوال: کیا جیسے متقدمین کے ہاں تمام علوم کے  حلقے لگا کرتے تھے اور کسی کتاب کو چھوڑ کر استاد کی تقریر کو ضبط کر لیا جاتا جسے امالی کہا جاتا اور کتب کی بجائے فنون کی تعلیم ہوتی زیادہ سود مند نہیں؟ کیا جب مستقل طور پر مدارس کی عمارت بنائی گئی جیسے مدرسہ نظامیہ نیشاپور و بغداد تو علما نے اسے برا جانا کہ اب علم کے لیے سیاحت اور سفر کی صعوبتیں اور مجاہدے اور علمی اسفار بہت کم بلکہ ختم ہونے کی حد تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن ہم استاد کو چھوڑ کر آہستہ آہستہ ادارہ کے فضلا کہلانے لگے۔ پر اس کے نتائج بھی خوبصورت ہی نکلے۔ تو اب اگر مدارس کو ایک جدت دے دی جائے تو کیا نامناسب ہے؟
جواب: اس سوال میں جو بنیادی insight ہے میں اس سے متفق ہوں۔ اصل میں استاد اور شاگرد کا تہذیبی تعلق ہی ہمارا پورا نصاب تھا۔ استاد کی نارسائی سے کتاب کا سہارا لینا پڑا۔ ”کتاب یاد ہونے“ اور کسی علم پر دسترس ہونے میں مکمل فرق ہے۔ تعلیمی خرابی کی تمام ذمہ داری صرف نصاب پر یا استاد پر نہیں ڈالی جا سکتی، اور تعلیمی عمل کے دیگر پہلوؤں کا تجزیہ بھی درکار ہے۔ مزید یہ کہ تعلیم میں معاشرتی اور ریاستی ذمہ داری پر گفتگو لازمی طور پر شامل ہونی چاہیے۔ 
سوال: کیا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ  جدید مفید علوم حاصل کریں جو اس دور میں بہت ضروری  ہیں، پر اثرات سے بچنے کے لیے ان جدید علوم کا اپنا نصاب مرتب کر لیں؟
جواب: میں نے کوشش کی ہے کہ جدید تعلیم یا جدید علوم پر اشد اور پس منظری ضرورت کے علاوہ کوئی بات نہ کروں، تاکہ توجہ ایک ہی موضوع پر مرکوز رہے۔ بہت اختصار کے ساتھ عرض ہے کہ سائنس کی سادہ ترین تعریف یہ ہے کہ زمان و مکاں کے فریم ورک میں رہتے ہوئے شے (object) کو اس کی ساخت اور میکانکس کے تمام پہلوؤں میں مکمل طور پر define کر دینا۔ جدید سائنس نے شے کو اس کے تمام مظاہر میں مکمل طور پر define کر دیا ہے۔ جدید علم، جدید انسان کے جبڑوں اور پنجوں کی طرح ہے جس سے وہ شے کے ”چھتے“ سے چمٹا ہوا ہے۔ اس ”چھتے“ سے وہ سرمائے اور طاقت کا ”شہد“ برآمد کرتا ہے۔ اس اہمیت کے پیش نظر، جدید تعلیم شے (object) سے بچے کی ذہنی اور نفسی نسبتوں کو ابتدائی سطح پر مکمل کر دینے کا نام ہے۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ جدید عہد میں سرمائے اور طاقت تک رسائی کا واحد ذریعہ جدید تعلیم ہے کیونکہ جدید سرمایہ اور طاقت دنیا کی منتہائی تجلیل ہے۔ اچھے برے کی بحث میں پڑے بغیر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دین کا مقصود ہو سکتا ہے؟ آج کی دنیا میں سرمایہ اور طاقت شرائط بقا ہیں، لیکن دین کا مقصود نہیں ہیں۔ جدید تعلیم اور درس نظامی کی غایات میں ۱۸۰ درجے کا فرق ہے۔ دین، دینی علوم اور دینی مرادات کی کوئی چھوٹی سی پگڈنڈی بھی جدید تعلیم سے ہو کر نہیں گزرتی۔ ہم تو کوئی پرانی چیز بھی سنبھال نہیں سکے، جدید نصاب مرتب کرنے کی صلاحیت کہاں سے لائیں گے؟ نقالی ہم بہت کرتے ہیں، لیکن وہ بھی اتنی پست ہوتی ہے کہ خدا پناہ!
دوسرا اہم تر سوال یہ ہے کہ “مفید” سے کیا مراد ہے؟ درس نظامی کی بحث میں یہ سب سے زیادہ مسئلہ انگیز لفظ ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ آج کے دور میں فزکس انسانوں کی ضروریات کو کہیں زیادہ پورا کرتی ہے۔ قرآن شریف کی ٹیوشن پانچ سو روپے ماہانہ اور فزکس دس ہزار ماہانہ ہے۔ یہ تو معاشی فائدے کی بات ہوئی، جو بدیہی ہے۔ سماجی اور اخلاقی فائدے کو بھی دیکھ لینا چاہیے۔ فزکس پڑھانے والے سے وقت لینا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ تعلیمی ضرورت اور کلچر میں وہ معاشرے کے لیے زیادہ ”مفید“ لہذا مصروف ہے۔ تاریخ اور معاشرے نے مذہبی تعلیم یافتہ کو ایک stereotype بنا کر غیر اہم کر دیا ہے، جبکہ جدید ٹیچر عین اسی معاشرے اور تاریخ کے طاقتور مؤثرات میں سے ایک ہے۔ ہمارے لیے ”مفید“ ہونا حق و باطل کے تناظر میں کوئی معنی رکھتا ہے، جو اولاً شعوری اور ذہنی ہے۔ مذہبی تعلیم یافتہ تاریخی اور معاشرتی قوتوں کا شکار ہے اور ”ذہن“ فی نفسہٖ کے خلاف ایک گہرا رد عمل رکھتا ہے۔ ایسی صورت حال میں مفید کا معنی معلوم ہونا اور اس کو طے کرنا ضروری ہے تاکہ صحیح مرادات تک پہنچا جا سکے۔
سوال: کیا اس وقت امت کو جس نصاب و نظام کی ضرورت ہے وہ جدید اور قدیم کا امتزاج کہلائے؟
جواب: مجھے تو ابھی امتزاج کا مفہوم معلوم نہیں ہو سکا، اور جب تک میں اپنی کم علمی کا علاج نہیں کر لیتا اس کا جواب بھی نہیں دے سکتا۔ اتنا ڈر ضرور ہے کہ کہیں یہ کوئی ”حسین امتزاج“ ہی نہ ہو جو سرکس میں بہت نظر آتا ہے۔ 
سوال: آخر اس وقت کون سے اور کیسے نظام کی ضرورت ہے؟ اس نظام کے عناصر کیا ہوں گے؟
جواب: اگر درسِ نظامی کو تعلیم کے فکری تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جائے، اور اس میں حکمتِ نظری اور حکمتِ عملی دونوں کو پیش نظر رکھا جائے تو ایسے نظام کی ضرورت اور اس کے خدو خال ازخود واضح ہو جائیں گے۔     
سوال: کیا جامعہ عثمانیہ حیدر آباد کسی حد تک کامیاب ہوئی؟ ان کا نظام کیسا تھا؟
جواب: یہ ایک short-lived لیکن زبردست کوشش تھی اور اپنے تمام بنیادی اہداف میں کامیاب رہی۔ میری ناقص رائے میں ہمارے عہد زوال اور دور غلامی کا یہ واحد ادارہ ہے جس نے بہت وقیع کام کیا ہے، اور اس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں اہم ترین اردو کا ذریعہ تعلیم ہونا ہے، یعنی سائنس اور دیگر تمام علوم میں ذریعہ تعلیم اردو ہی تھی۔ اگر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ یہ کارنامہ ”زبان کا مسئلہ“ حل ہونے کے بعد ممکن ہوا۔ 
سوال: اب ہمیں اپنا تعلیمی نظام نئے اور جدید طرز میں قدیم کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کرنا ہے یا قدیم کو اسی انداز میں پیش کرنا ہے یا ہجرت الی الخیر القرون کی ضرورت  ہے۔ ہماری تاریخ میں انداز تعلیم متنوع قسم کے رہے، آخر ندوہ اور جامعہ ملیہ، مدرسہ الہیات کانپور  نے کون سا کام نہیں کیا جو ہمیں کرنا چاہیے؟ دیوبند ایک اہم وقت کا ایک اہم تقاضا ضرور تھا ہمیشہ تھامنے کے لیے نہیں تھا۔ اب ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے کہ ان تینوں کے ذریعے جس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی اس کمی کو پورا کرنے کی مکمل یقین دہانی دے۔ مگر جب تک ایسا نہیں ہوتا میرا خیال نہیں ہمیں دیوبند کے نظام کو چھوڑنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے  کہ مدارس کی تاسیس کے جو دو مقاصد ہو سکتے ہیں کہ علوم دینیہ کا احیا اور بقا اور دوسرا اسلام کا تہذیبی رنگ  وہ ذمہ داری تو اس نے پوری کی۔ اور مزید یہ کہ  اس وقت مذہب کو بچانے کی جو جیسی کیسی معیار کی کھیپ نکل رہی ہے پھر بھی اپنے اخلاص کے اعتبار سے  نابغہ روزگار ہیں۔
جواب: میرا خیال ہے کہ تعلیم پر اس انداز ہی پر گفتگو ہوتی آئی ہے، اور اس کا جو فائدہ ہوا وہ معلوم ہے۔ ایک ضروری بات یہاں عرض کرنا چاہوں گا کہ استعمار نے ایک نئی چیز متعارف کرائی تھی جو پہلے ہمارے معاشروں میں نہیں تھی، اور جسے Public Instruction (تعلیم عامہ) کہا جاتا ہے، یعنی ہندوستانی معاشرے میں ”تعلیم“ تو تھی، ”تعلیم عامہ“ کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ہمارے ہاں تعلیم پر جو گفتگو ہوتی آئی ہے اس میں آپ نے اس کا ذکر بھی کبھی نہ سنا ہو گا کہ کس بلا کا نام ہے۔ اس کا سادہ مطلب ہے تعلیم کو جدید ریاست کی سیاسی اور معاشی ترجیحات کے تابع اور سپرد کر دینا۔ یہ موضوع بہت تفصیل کا تقاضا کرتا ہے جو یہاں ممکن نہیں۔ دہلی پر انگریزوں کے قبضے کے فوراً بعد ایک مدرسے ہی کو دہلی عربی کالج یا قدیم دہلی کالج بنایا گیا تھا۔ یہی معاملہ ہندوؤں کے اداروں کے ساتھ بھی پیش آیا۔ استعماری قبضے کے بعد ان اداروں میں جو مسائل سامنے آنا شروع ہوئے، وہ بنیادی طور پر ”تعلیم“ اور ”تعلیم عامہ“ کی باہم آویزش سے پیدا ہوئے تھے۔ چند دہائیوں بعد لارڈ میکالے نے اپنے منٹ سے عین انہی مسائل کو ”حل“ کیا تھا۔ لارڈ میکالے کا مطلب یہ تھا کہ اگر ریاست پیسہ دے گی، تو تعلیم مکمل طور پر ریاست کی ترجیحات پر طے ہو گی، یہانتک کہ علم کا معنی، تعلیمی طریقۂ کار اور اس کے مشمولات، اور تعلیم کے مقاصد بھی ریاست ہی طے کرے گی۔ لارڈ میکالے کے مطابق جو علم کوڑی کا بھی نہیں اس کو ان ”اداروں“ میں کیوں جگہ دی جائے، اور ریاست اپنے معاشی وسائل ان پر کیوں خرچ کرے؟ اپنی تعلیمی پالیسی کو جواز دینے کے لیے استعماری ریاست کے اس نمائندے نے مقامی علوم کی تحقیر، تنقیص اور تذلیل سے ان کو delegitmize کر دیا، یعنی ان علوم کا تعین یا رد کسی علمی طریقۂ کار پر مبنی نہیں تھا بلکہ ایک استعماری فرمان تھا۔ میکالے کی بنیادی دلیل معاشی اور سائنسی تھی۔ اس کی یہ دلیل مقامی لوگوں نے بہ جبر و اکراہ تسلیم کر لی، اور آج تک اسی پر کاربند ہیں۔ لیکن وہ ابھی تک اس کی معنویت کو نہیں سمجھ سکے۔ میکالے کی معاشی اور سائنسی دلیل آج کل ”عصری تقاضوں“ کے نقاب میں ظاہر ہوتی ہے۔  ہم تو نہ جانے کب کے گھگھیائے ہوئے ہیں، اس لیے کرتے وہی کچھ ہیں جو میکالے چاہتا تھا کہ ہم کریں۔ 
ماضی میں تعلیم کے حوالے سے ہمارے حکمرانوں اور امرا و رؤسا کی ذمہ داری صرف معاشی تھی۔ اس کے علاوہ وہ تعلیمی عمل میں کسی بھی سطح پر کوئی دخل اندازی نہیں کرتے تھے۔  
میکالے کے بعد تعلیم عامہ کے اثرات ہمارے مذہبی مدارس پر بھی بہت گہرے مرتب ہوئے، اور ان کا طریقۂ کار بھی تعلیم عامہ کے ماڈل پر بتدریج ڈھلنے لگا اور جس میں سیاست بازی اور فرقہ پرستی جزو لاینفک کے طور پر شامل رہی۔ میکالے نے ہمارے علوم کو کئی اور دلائل سے بھی رد کیا۔ ہم نے اس کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے علوم کو عملاً ناکارہ اور ردی ثابت کرنے میں بھرپور تعاون کیا ہے۔ 
میں سیاست کو ضروری سمجھتا ہوں، لیکن تعلیم کو سیاست اور فرقہ ورانہ سیاست کا ایندھن بنانا درست خیال نہیں کرتا۔ آپ نے اوپر جو ماڈل پیش کیے ہیں، مجھے تو ان کی افادیت سے انکار نہیں لیکن اب تو تجربے سے بھی پتہ چل گیا کہ وہ ہمارے مسئلے کا حل نہیں۔ درس نظامی، دینی تعلیم اور روایتی علوم کے تلازمات جاننے کے لیے فرنگی محل زیادہ بہتر مثال ہے، جہاں بیسیوں صدی تک ہماری علمی روایت کے کئی اجزا اپنی اصلی حالت میں باقی رہے۔
یہاں ڈرتے ڈرے ایک اہم سوال ضرور اٹھانا چاہوں گا۔ یہ بات متفق علیہ ہے کہ سرسید کی تعلیم ہماری دینی اور تہذیبی روایت میں انقطاع عظیم کی نشاندہی کرتی ہے۔ لیکن سنہ ۱۸۵۷ء کے بعد کیا ہمارے مدارس اور ان کی تعلیم کسی دینی اور تہذیبی روایت کا تسلسل ہے؟  اپنے مشمولات میں اس تعلیم کا سرسید کی تعلیم سے مختلف ہونا تو بدیہی ہے۔ لیکن میری رائے میں تہذیبی روایت کے انقطاع میں دونوں مماثل اور مساوی ہیں۔ اس انقطاع کی نوعیت میں فرق ہے۔  درس نظامی کا کسی بھی productive حالت میں زندہ نہ رہنا اس کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ درس نظامی رد و بدل کے بعد تبرک کے طور پر مدارس میں رائج ہوا تھا، اور چونکہ اب یہ تبرک سنبھالنا بھی مشکل ہے، اس لیے ”عصری تقاضوں“ کے والہانہ استقبال کی تیاریاں مکمل ہیں۔ 
آپ نے جن اداروں کا ذکر کیا، ان کی تاسیس، نمو اور ارتقا کو علمی روایت اور تعلیمی تناظر میں رکھ کر دیکھیں تو بہت دلچسپ صورت حال سامنے آتی ہے۔  ہماری تعلیمی زبوں حالی اور علمی نسل کشی (genocide) سمجھ میں آ ہی نہیں سکتی اگر ہم نصف اٹھارھویں صدی کے بعد کے حالات کو نظرانداز کر دیں۔ جنگ آزادی کے بعد جو کچھ سامنے آیا وہ تو محض ثمرات تھے، اور اب وہ بھی اپنے امکانات پورے کر چکے ہیں۔ 
اس دراز نفسی کا مقصد صرف ایک نکتے کی طرف توجہ دلانا ہے کہ درس نظامی کا نصاب ہمارے دینی علوم اور طویل تہذیبی روایت کے تسلسل کا نمائندہ تھا، جبکہ سنہ ۱۸۵۷ء کے بعد ہماری مذہبی تعلیم اور مذہبی علوم انقطاع عظیم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مابعد جنگِ آزادی ہمارے مذہبی علوم میں کارفرما تصور علم اس سے قطعی مختلف ہے جس پر ہماری طویل علمی روایت کی نمو ہوئی ہے۔ اس طرح جنگ آزادی کے بعد ہمارے مذہبی علوم میں اور درس نظامی میں ایک بہت ہی گہری عدم مطابقت موجود رہی ہے۔ یعنی مابعد جنگ آزادی ہمارے مذہبی علوم اور درس نظامی کا ایک ساتھ موجود رہنا تقریباً ناممکن تھا۔ اور موجودہ صورت حال اسی حقیقت کا اظہار ہے۔ اہل علم واقف ہیں کہ وہ ٹیکنیکل اور علمی وسائل جو درس نظامی سے فراہم ہوتے ہیں وہ مابعد جنگ آزادی ہمارے مذہبی علوم کی پیداوار اور تشکیل میں کہیں کارفرما نظر نہیں آتے، کیونکہ یہ علوم ایک نئی منہج اور تصور علم سے پیدا ہوئے جو درس نظامی سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ ناچیز کی رائے میں درس نظامی کے فراہم کردہ علمی اور فنی وسائل طریقۂ کار کی معمولی تبدیلی کے ساتھ عصر حاضر کے علوم سے روبروئی کی بھی مکمل استعداد رکھتے تھے، جبکہ مابعد جنگ آزادی پیدا ہونے والے علوم اس استعداد سے پیدائشی طور پر خالی تھے۔  
سوال: یہ چند نکات پر مشتمل ایک فہرست ہے جس میں اشارتاً بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ نصاب کیسا ہونا چاہیے۔ یہ اسلاف کی کتب سے اکٹھا کیا گیا مواد ہے۔
١۔ نصاب میں ایسی کتب داخل کی جائیں کہ ان کے مصنفین و مولفین علم و عمل کے اعتبار سے مسلم ہوں، تقوی کے اعتبار سے شہرت رکھتے ہوں۔
٢۔ کتابیں مختصر ہوں پر جامع ہوں جس سے ٹھوس استعداد بنے۔
٣۔ نہ ہی سہل و سلیس کتب رکھی جائیں کہ طلبا خود ہی مطالعہ سے حل کر سکیں اور استاد کی مدد ہی درکار نہ رہے۔
٤۔ جدید فلسفہ اور سائنس اور تاریخ وغیرہ کی کتب داخل نصاب کی جائیں تو شرط یہ ہے کہ اس کی تعلیم دین کی تعلیم کے تابع ہو۔ اور اگر جدید، کافر فلاسفہ کی کتب ہوں تو تنقیدی انداز میں پڑھایا جائے جیسے پہلے فلاسفہ کی کتب میں شروح و حواشی کے انداز کا طریقہ رہا ہے، اور ایسی اشیا پڑھانے والے بھی اسلامی رنگ میں رنگے ہوں۔ 
جواب: اگر درس نظامی کی بہتری کے لیے ایسی ہی تجویزیں آتی رہیں، تو آخر میں نصاب الف بے پے اور ایک دو تین رہ جائے گا کیونکہ بچوں کو ابتدا میں حروف تہجی اور اعداد کا سیکھنا بھی  بہت مشکل ہوتا ہے۔ آسانی اسی میں ہے ایک متفقہ فیصلے سے تعلیم کو کھیل کود اور علم کو جرم قرار دے دیا جائےاور تعلیمِ شے کو مقصود حیات بنا لیا جائے۔ شے کے ”علم“ میں سہولت یہ ہے کہ لفظ کے بغیر بھی حاصل ہو جاتا ہے، اور ان پڑھ مستری تو آپ نے دیکھے ہی ہوں گے جو اپنے کام میں منتہی ہوتے ہیں۔ مستری ”عصری ضرورت“ کو سب سے بہتر پورا کرتا ہے۔ اور اگر وہ نہ ہو تو پورا ”عصر“ ہی ٹھپ ہو جائے۔ شے کی تعلیم اور ”علم“ میں دل بھی بہت لگتا ہے، آدمی مصروف بھی رہتا ہے اور روٹی کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔ ہم یہ کیا نصاب وغیرہ کی بحثوں میں الجھ گئے ہیں؟ کوئی بیوقوف ہی ہو گا جو مذہب، مذہبی تعلیم اور دینی علوم کو ”عصری ضرورت“ سمجھتا ہو گا۔ یہ تو مسلمانوں کی مستقل ضروریات کا مسئلہ ہے اور ان کو پورا کرنے کے لیے ہم نے پست ترین نمونوں کا انتخاب کیا ہے۔ نصاب اور تعلیم کے بارے میں ایسی باتیں کرنے سے بہتر ہے آدمی کوئی وظیفہ کر لے یا خاموش رہے کیونکہ دونوں ثواب کے کام ہیں۔ 
ایک دفعہ ایک مہتمم سے ملاقات ہوئی، اور ناچیز نے جدیدیت اور جدید تعلیم کے بارے میں کچھ گزارش کرنے کی کوشش کی تو معاملہ انتہائی سنگین ہو گیا اور جو الزامات مجھے سننے پڑے، ان میں ایک یہ تھا کہ آپ جدیدیت کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ مدارس دنیا کی نعمتوں سے بہرہ مند نہ ہو سکیں، اور خود جدید اداروں میں کام کر کے اچھی تنخواہیں لیتے رہیں۔ آپ کو خوف ہے کہ وہ بھی جدید ہو کر اچھی تنخواہیں لینے لگیں گے اور جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ اب کوئی کیا بات کرے؟ تعلیم اور تنخواہ کے ”حسین امتزاج“ سے یہی کچھ برآمد ہوتا ہے۔ 
سوال: کیا یہ جو وفاق بنا کر اپنے مسالک کے مدارس کو جوڑ دیا گیا ہے اور ان تمام وفاقوں کو بھی آپس میں جوڑ دیا گیا ہے۔ اس کا کیا فائدہ ہے اور آپ کو اس میں کوئی نقصان بھی نظر آتا ہے۔ امتحانی نظام کسی بھی نظام تعلیم میں کیا حثیت رکھتا ہے اور اس کے فوائد اور ممکنہ نقصان ہیں؟ ہمارے ایک محترم جو کہ ایک صاحب علم آدمی ہیں فرماتے ہیں کہ وفاق کا بننا ایک طرح سے ہماری تہذیبی شکست ہے۔ کیا یہ بات درست ہے معلوم ہوتی ہے آپ کو؟
جواب: آپ کے محترم نے جو کہا سچ کہا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ہمارے ہاں تعلیم تو تھی، تعلیم عامہ نہیں تھی۔ ہماری شکست کے بعد جو کچھ بچ رہا، ہم نے اسے استعماری تعلیم عامہ کے ماڈل پر ڈھالنے کی بہت بھونڈی کوشش کی اور اس میں ایک بات کا سختی سے خیال رکھا کہ اہلیت، ذہانت اور محنت کا گزر بھی اس میں نہ ہو۔ اس کی جگہ ہم نے خالی تقدیس، لایعنی تجلیل اور مسموم فرقہ واریت کو اعلی مقاصد کے طور پر متعارف کرایا۔ ہم نے جو کیا، اس کے نتائج پا لیے۔ اب بھی اگر وہی کچھ کرنا ہے تو نتائج مختلف کیسے ہوں گے؟