جنوری ۲۰۱۸ء

خواتین کے نکاح میں سرپرست کا اختیار / سرسید احمد خان اور مذہبی علماءمحمد عمار خان ناصر 
سرسید احمد خان اور مذہبی علماءمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۸)ڈاکٹر محی الدین غازی 
دور جدید کا حدیثی ذخیرہ: ایک تعارفی جائزہ (۶)مولانا سمیع اللہ سعدی 
دستور کی اسلامی دفعات اور ’’سیاسی اسلام‘‘مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
بیت المقدس کو اسرائیلی دار الحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
ظلماتِ وقت میں علم و آگہی کے چراغ (۲)پروفیسر غلام رسول عدیم 
قرآن مجید میں خدا کے وعدوں کو خدا کا حکم سمجھنے کی غلطیڈاکٹر عرفان شہزاد 
’’تذکار رفتگاں‘‘ ۔ اہل علم کے لیے ایک علمی سوغاتمولانا مفتی محمد اصغر 

خواتین کے نکاح میں سرپرست کا اختیار / سرسید احمد خان اور مذہبی علماء

محمد عمار خان ناصر

خواتین کے نکاح کے ضمن میں سرپرست کے اختیار سے متعلق کتب حدیث میں منقول نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد ارشادات منقول ہیں جو اس معاملے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس حوالے سے عموماً جن روایات کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان میں خاتون کے نکاح میں سرپرست کی رضامندی کو فیصلہ کن حیثیت دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سرپرست کے بغیر کیے گئے نکاح کی کوئی حیثیت نہیں۔ (ترمذی، رقم ۱۱۰۱) اسی طرح ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کسی عورت کا نکاح سرپرست نے نہ کرایا ہو، اس کا نکاح باطل ہے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ کہی۔ البتہ اگر خاوند نے اس سے ہم بستری کر لی تو اسے اس کا مہر ملے گا۔ (ترمذی، رقم ۱۱۰۲)
مذکورہ روایات کے الفاظ کا ظاہری عموم اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کوئی بھی عورت اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر ازخود اپنا نکاح کرنے کا اختیار نہیں رکھتی اور اگر وہ ایسا کرے گی تو اس کا نکاح باطل قرار پائے گا، تاہم اس مسئلے سے متعلق دیگر روایات واحادیث کو جمع کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ زیر بحث روایات کے الفاظ کا ظاہری عموم شارع کی مراد نہیں ہے، بلکہ یہ ان کنواری لڑکیوں سے متعلق ہے جو کسی معقول وجہ کے بغیر اپنے ولی کی رضامندی اور اجازت کو نظر انداز کر کے ازخود نکاح کر لیں۔ چنانچہ خود روایات ہی میں درج ذیل صورتوں کو مذکورہ حکم سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے: 
ایک یہ کہ ازخود نکاح کرنے والی خاتون کنواری نہیں بلکہ شوہر دیدہ ہو۔ چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’شوہر دیدہ عورت اپنے نفس پر اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، جبکہ کنواری لڑکی سے اس کا باپ اس کی ذات کے معاملے میں اجازت طلب کرے اور اس کا خاموش رہنا اس کی رضامندی کی دلیل ہے۔‘‘ (مسلم، رقم ۳۴۷۶)
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ قبیلہ بنو اسلم میں سبیعہ نامی ایک عورت نے اپنی خاوند کی وفات کے پندرہ دن بعد بچہ جنم دیا۔ اس طرح اس کی عدت مکمل ہوگئی تو دو آدمیوں نے ،جن میں سے ایک نوجوان اور دوسرا ادھیڑ عمر تھا ،اسے نکاح کا پیغام بھیجا۔ سبیعہ نوجوان کے ساتھ نکا ح کرنے کی طرف مائل ہوگئی تو ادھیڑ عمر آدمی نے اس سے کہا کہ ابھی تیر ی عدت مکمل نہیں ہوئی۔ اس وقت سبیعہ کے گھر والے موجود نہ تھے اور اس آدمی کو توقع تھی کہ جب اس کے گھر والے آجائیں گے تو وہ اس نوجوان کے مقابلے میں اس کو ترجیح دیں گے۔ اس پر سبیعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو صورت حال بتائی۔ آپ نے اس سے فرمایا:
’’تیری عدت پوری ہو چکی ہے، اب تو جس سے چاہتی ہے اس سے نکاح کرلے۔‘‘ (مالک، الموطا، رقم ۱۸۲۹۔ نسائی، السنن الکبریٰ، ۵۷۰۳)
دوسری یہ کہ کسی لڑکی کا سرپرست اس کا نکاح کرنے میں خود لڑکی کی رضامندی کو نظر انداز کر رہا ہو۔ چنانچہ ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیٹی کی مرضی کے خلاف اس کا نکاح کر دیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہاکہ میرے والد نے میری رضامندی کے بغیر ایک شخص سے میرا نکاح کر دیا ہے، جبکہ میرا ایک چچا زاد بھی میرے ساتھ نکاح کا خواہش مند تھا۔ آپ نے اس کے والد سے بلا کر پوچھا تو اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیٹی کی خیر خواہی کرتے ہوئے ہی یہ فیصلہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا:
’’اس نکاح کی کوئی حیثیت نہیں۔ تم جاؤ اور جس سے چاہتی ہو، اس سے نکاح کر لو۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۵۹۵۳)
عبد اللہ بن بریدہ سے مرسلاً روایت ہے کہ ایک نوجوان لڑکی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور کہا کہ میرے والد نے اپنے بھتیجے کی عزت افزائی کے لیے میرا نکاح اس کے ساتھ کر دیا ہے جبکہ مجھے یہ پسند نہیں۔ ام المومنین نے اس سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے تک یہیں بیٹھو اور آپ کو اس بات سے آگاہ کرو۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس نے آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے اس کے والد کو بلایا۔ جب وہ آیا تو آپ نے اس لڑکی کو اپنا نکاح اپنی مرضی سے کرنے کا اختیار دے دیا۔ (بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۳۴۵۴)
تیسری یہ کہ کسی خاتون کا کوئی سرپرست ہی موجود نہ ہو جس کی وساطت سے وہ نکاح انجام دے سکے:
ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کی وفات کے بعد عدت پوری ہونے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ان کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس پر تردد کا اظہار کیا اور اس کی ایک وجہ یہ بیان کی کہ اس وقت میرے اولیا میں سے کوئی بھی موجود نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمھارے اولیا میں سے کوئی موجود یا غائب شخص ایسا نہیں ہے جو اس نکاح کو ناپسند کرے گا۔ اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے نابالغ بیٹے عمر بن ابی سلمہ سے کہا کہ اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرا نکاح کردو۔ چنانچہ عمر بن ابی سلمہ نے اپنی والدہ کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا۔ (سنن النسائی، رقم ۳۲۵۶)
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ یا رسول اللہ، میں اس لیے حاضر ہوئی ہوں کہ اپنے آپ کو آپ کی خدمت میں پیش کر دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر اس کو غور سے دیکھا اور پھر اپنا سر جھکا لیا۔ جب اس خاتون نے دیکھا کہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی۔ اس پر ایک آپ کے صحابہ میں سے ایک آدمی اٹھا اور کہا کہ یا رسول اللہ، اگرآپ اس عورت سے نکاح نہیں کرنا چاہتے ہو تو میرا نکاح اس سے کر دیجئے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کا نکاح اس صحابی سے کر دیا۔ (بخاری ، رقم ۵۰۳۰)
مذکورہ تفصیل سے واضح ہے کہ ولی کی اجازت اور وساطت کے بغیر کسی خاتون کے نکاح کو باطل قرار دینا کوئی مطلق اور عام حکم نہیں، بلکہ اس کا ایک خاص محل ہے اور یہ اس صورت سے متعلق ہے جب کسی کنواری خاتون نے اپنے سرپرست کی موجودگی میں سرکشی کرتے ہوئے اس کی رضامندی اور وساطت کے بغیر کسی سے نکاح کر لیا ہو۔ منشا ئے کلام دراصل خواتین کو سرکشی کرتے ہوئے اپنے اولیا کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے سے روکنا اور اس طرح کے کسی بھی قدم کو قانونی طور پر غیر موثر قرار دینا ہے، چنانچہ اس خاص محل سے ہٹ کر ہر طرح کی صورت حال میں اس حکم کا اطلاق کرنا درست نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر عورت کے اولیا موجود ہی نہ ہوں اور ان کے آنے تک نکاح کے معاملے کو معلق رکھنا مصلحت کے خلاف ہو یا اس بات کا اطمینان ہو کہ اولیا کو عورت کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا یا ولی موجود تو ہو لیکن اس کے رویے سے یہ ثابت ہو جائے کہ وہ اس معاملے میں عورت کی رضامندی کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں اور اپنی مرضی یک طرفہ طور پر اس پر ٹھونسنا چاہتا ہے تو ان سب صورتوں میں عورت کو ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے کا حق ہوگا اور اسے اس کا اذن شامل نہ ہونے کی بنیاد پر باطل قرار نہیں دیا جائے گا۔ حکم کا صحیح محل متعین ہونے کے بعد ان صورتوں کا اس کے دائرہ اطلاق میں شامل نہ ہونا نہ صرف عقل وقیاس کی رو سے واضح ہے، بلکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد فیصلوں سے بھی واضح ہوتا ہے۔
فقہائے احناف نے اس حکم کے دائرہ اطلاق میں ایک مزید قیاسی تخصیص کی ہے، چنانچہ وہ اسے اس صورت سے متعلق قرار دیتے ہیں جب عورت نے غیر کفو میں یعنی اپنی برادری یا اپنے ہم پلہ لوگوں کو چھوڑ کر خاندانی لحاظ سے کم تر لوگوں میں نکاح کر لیا ہو۔ اس صورت میں چونکہ خاندان کی عزت ووقار کا سوال ہوتاہے اور بہتر معاشرتی حیثیت رکھنے والے خاندانوں کے یہاں اپنی خواتین کا نکاح معاشرتی لحاظ سے کم تر خاندانوں میں کرنا معیوب سمجھا جاتاہے، اس لیے ولی کی اجازت اور منظوری کے بغیر یہ نکاح درست نہیں۔ چنانچہ امام ابو حنیفہ ایک روایت کے مطابق غیر کفو میں نکاح کو ولی کی اجازت پر موقوف جبکہ دوسری روایت کے مطابق ایسے نکاح کو باطل قرار دیتے ہیں۔ تاہم اگر یہ معاملہ نہ ہو اور عاقل وبالغ عورت نے خاندانی اعتبار سے ہم پلہ لوگوں میں نکاح کیا ہو جس پر اس کے سرپرست کے اعتراض کا کوئی معقول جواز نہ ہو تو ایسی صورت میں فقہائے احناف کے نزدیک محض اس بنیاد پر اس کے نکاح کو باطل قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس کا سرپرست اس نکاح پر رضامند نہیں تھا۔ 
احناف کا کہنا ہے کہ قرآن مجید کی آیات اور عقل وقیاس کی رو سے نکاح کرنا اصلاً عورت کا حق ہے اور وہ بالغ ہونے کے بعد جیسے اپنے مال میں خود تصرف کرنے کا حق رکھتی ہے، اسی طرح اپنی ذات کے بارے میں بھی فیصلہ کرنے کا پورا اختیار رکھتی ہے، البتہ اسے فیصلے میں اپنے اولیا اور خاندان کے جذبات واحساسات کی بھی پاس داری کرنی چاہیے۔ چنانچہ اگر وہ کسی ایسے شخص کے ساتھ نکاح کر لے جس کے ساتھ تعلق داری میں اس کے اہل خاندان عار محسوس کریں تو یقیناًیہ نکاح اس کے سرپرست کی رضامندی پر موقوف ہوگا اور اگر وہ اس پر اعتراض کرے تو نکاح فسخ قرار پائے گا، لیکن مطلقاً اور ہر حالت میں عورت کے حق نکاح کو سرپرست کی رضامندی پر منحصر اور موقوف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ (الشیبانی، الحجۃ علیٰ اہل المدینۃ، ۳/۵۱۲۔ الطحاوی، شرح معانی الآثار، ۲/۳۷۰) 
مزید برآں اس معاملے میں اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر بحث ارشادات بنیادی طور پر ایک قبائلی معاشرت کے پس منظر میں فرمائے گئے ہیں۔ یہ معلوم ہے کہ خاندان اور سماج کی شیرازہ بندی قبائلی معاشرے میں مختلف اصولوں پر ہوتی ہے اور متمدن اور ترقی یافتہ معاشروں میں دوسرے اصولوں پر۔ ایک قبائلی معاشرہ اپنی ساخت کے لحاظ سے رشتے ناتوں کو جس طرح interdependent بناتا ہے، اس میں فرد کے حقوق اور اختیارات بہرحال زیادہ محدود اور خاندان اور سماج کی پسند ناپسند کے زیادہ زیر اثر ہوتے ہیں۔ سماجی تنظیم کے اصولوں کے تحت اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ قبائلی معاشرے میں خاندان ، قبیلہ اور سماج فرد کو ایک غیر قبائلی معاشرے کے مقابلے میں زیادہ تحفظ فراہم کرتے ہیں اور اس بنا پر اس کا بھی بجا طور پر استحقاق رکھتے ہیں کہ فرد اپنے فیصلوں میں ان کی پسند اور نا پسند کو خاص طور پر ملحوظ رکھے۔ معاشرے کے ارتقا کے ساتھ ساتھ جوں جوں قبائلی نظم کمزور ہوتا جاتا ہے، فرد اور سماج میں اس کو تحفظ دینے والے گروہوں یعنی خاندان اور قبیلوں پر اس کا انحصار بھی کم ہوتا جاتا ہے اور نتیجتاً اسے اپنے فیصلوں کو اپنی صواب دید کی روشنی میں کرنے کی زیادہ آزادی حاصل ہو جاتی ہے۔ ا س بحث کی روشنی میں دیکھیے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ حکم کی تعبیر اس مخصوص سماجی صورت حال کے تناظر میں بھی کی جا سکتی ہے جس کے پیش نظر آپ نے یہ فیصلہ فرمایا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس حکم کا مقصد دراصل عورت اور اس کے سرپرست کے باہمی حقوق واختیارات کی حتمی وقطعی تعیین نہیں، بلکہ مخصوص زمان ومکان میں سماج کے ایک اہم ادارے یعنی خاندان کو انتشار اور انہدام سے بچانا ہے۔ 

سرسید احمد خان اور مذہبی علماء

سرسید احمد خان اور ان کے مذہبی وسیاسی افکار گزشتہ دنوں سوشل میڈیا میں زیر بحث رہے۔ سرسید کے ناقدین نے ان کی مذہبی تعبیرات اور برطانوی اقتدار سے متعلق ان کے جذبات وفاداری کو موضوع بنایا، جبکہ حامیوں نے اس کے جواب میں ’’ملائیت‘‘ کو بے نقط سنائیں۔ 
اس تناظر میں یہ مختصر وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ سرسید کی مذہبی تعبیرات کو اگرچہ راسخ العقیدہ علماء نے علمی سطح پر رد کیا (بلکہ سچ یہ ہے کہ انھیں سرسید کے علاوہ کسی نے قبول ہی نہیں کیا)، لیکن انھیں ’’ہوا‘‘ نہیں بنایا اور نہ ان کی بنا پر ان کے خلاف مذہبی فتوے بازی کی کوئی مہم ذمہ دار علماء کی طرف سے منظم کی گئی، بلکہ اکابر علماء نے سرسید کی اس کوشش کو ان کے خلوص کی بنا پر ہمدردانہ نظر سے دیکھا اور ان پر کوئی فتویٰ عائد کرنے سے گریز کیا۔ چنانچہ مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادیؒ کے سامنے کسی نے سرسید کے مذہبی خیالات پر سخت الفاظ میں تبصرہ کیا تو مولانا نے کہا کہ ’’ان کی ظاہری تقریر کو نہ دیکھو، ان کے قلب کو دیکھو کہ کیسا ہے‘‘۔ اسی طرح ایک موقع پر انھوں نے چند مولوی صاحبان کو مسجد میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ سرسید روایات صحیحہ کا انکار کرتا ہے، تواتر کا انکار کرتا ہے، کافر ہے وغیرہ وغیرہ، تو اپنے حجرے سے نکلے، مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا ’’یہ لوگ اس بے چارے کو کافر بناتے ہیں، مگر اس کے قلب کو دیکھ کہ کیسا ہے۔‘‘ (’’کمالات رحمانی‘‘ از شاہ تجمل حسین بہاری، بحوالہ صدق جدید، ۵؍ مئی ۱۹۶۱ء)
اسی طرح کے خیالات مولانا اشرف علی تھانویؒ کے تھے، چنانچہ خواجہ عزیز الحسن مجذوب، مولانا کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ’’سرسید کا عقیدہ توحید اور رسالت کے متعلق جس درجہ کا بھی تھا، بلا وسوسہ اور نہایت پختہ تھا جیسا کہ ان کی بعض تصانیف سے مجھ کو ظاہر ہوا اور قرآن وحدیث کی جو توجیہات انھوں نے کیں، ان کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین کا اسلام پر کوئی اعتراض وارد نہ ہو۔ گو اس کے لیے انھوں نے جو طریقہ اختیار کیا، وہ غلط تھا، اس لیے میں ان کو نادان دوست کہتا ہوں۔‘‘ (اشرف السوانح از خواجہ عزیز الحسن مجذوب، جلد اول، ص ۲۱۵)
اس کے علاوہ سرسید کے متعارف کردہ بہت سے نئے مذہبی مباحث سے علماء نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس پہلو پر اب بعض مطالعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت کے ممتاز محقق مولانا رضی الاسلام ندوی نے ’’سرسید کی تفسیر القرآن اور مابعد تفاسیر پر اس کے اثرات‘‘ کے زیر عنوان اپنے مقالے میں سرسید کی تفسیر قرآن کی تالیف کا فکری پس منظر واضح کیا ہے اور سرسید کے منہج تفسیر پر روشنی ڈالتے ہوئے قرآن اور بائبل کے بیانات کے تقابلی مطالعہ، اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کے رد اور غیبیات و معجزات کی عقلی توجیہ کو اس کی اہم خصوصیات میں شمار کیا ہے۔ مصنف نے یہ دلچسپ حقیقت بیان کی ہے کہ تفسیر قرآن کے ضمن میں ان تینوں پہلووں سے بعد کے مفسرین نے سرسید کے اثرات قبول کیے اور اردو تفاسیر میں نہ صرف قرآن اور بائبل کے تقابلی مطالعہ اور اسلام پر اعتراضات کا رد کرنے کی ریت قائم ہوئی، بلکہ غیبیات اور معجزات کی عقلی توجیہ کے باب میں بھی ’’اس تفسیر کے مابعد تفاسیر پر اثرات مرتب ہوئے اور اہل علم نے اس کے اسلوب اور انداز تحقیق کو اپنایا۔‘‘ (ص ۲۳) 
مصنف کے خیال میں اس طرز فکر کے بعض مثبت اثرات بھی ہیں، چنانچہ ’’قدیم مفسرین کی عجوبہ پسندی کا یہ حال تھا کہ وہ ایسے واقعات کو بھی جن کی مناسب عقلی توجیہ ممکن ہے، معجزات قرار دیتے تھے۔ ..... معجزات کے سلسلے میں سرسید کا نقطہ نظر تو قبولیت حاصل نہ کر سکا، لیکن اس کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ عجوبہ پسندی کی شدت میں کمی آئی اور بعض قرآنی واقعات پر اس حیثیت سے بھی غور ہونے لگا کہ ان کی عقلی توجیہ کر کے انھیں غیر معجزانہ واقعات کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔ اسے بھی تفسیر سرسید کا ایک قابل لحاظ اثر قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘ (ص ۲۴) اس نکتے کی وضاحت میں مصنف نے متعدد مثالیں بھی نقل کی ہیں۔ سرسید کی تفسیری خدمات کے حوالے سے مصنف کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ بعض پہلووں سے ’’یہ تفسیر سرسید کی مذہبی خدمات میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور یہ ان کا ایک قابل قدر علمی کارنامہ ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ جہاں ان کی غلطیوں اور لغزشوں پر بے لاگ تنقید کی جائے، وہیں ان کی وقیع تحقیقات کو سراہا جائے۔‘‘ (ص ۱۱) 
جہاں تک برطانوی اقتدار کے حوالے سے سرسید کی فکر کا تعلق ہے تو اس میں اور مذہبی علماء کی ایک بڑی تعداد کے زاویہ نظر میں بنیادی اشتراک دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے جس پر ان شاء اللہ ہم آئندہ کسی نشست میں بات کریں گے۔

سرسید احمد خان اور مذہبی علماء

محمد عمار خان ناصر

سرسید احمد خان اور ان کے مذہبی وسیاسی افکار گزشتہ دنوں سوشل میڈیا میں زیر بحث رہے۔ سرسید کے ناقدین نے ان کی مذہبی تعبیرات اور برطانوی اقتدار سے متعلق ان کے جذبات وفاداری کو موضوع بنایا، جبکہ حامیوں نے اس کے جواب میں ’’ملائیت‘‘ کو بے نقط سنائیں۔ 
اس تناظر میں یہ مختصر وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ سرسید کی مذہبی تعبیرات کو اگرچہ راسخ العقیدہ علماء نے علمی سطح پر رد کیا (بلکہ سچ یہ ہے کہ انھیں سرسید کے علاوہ کسی نے قبول ہی نہیں کیا)، لیکن انھیں ’’ہوا‘‘ نہیں بنایا اور نہ ان کی بنا پر ان کے خلاف مذہبی فتوے بازی کی کوئی مہم ذمہ دار علماء کی طرف سے منظم کی گئی، بلکہ اکابر علماء نے سرسید کی اس کوشش کو ان کے خلوص کی بنا پر ہمدردانہ نظر سے دیکھا اور ان پر کوئی فتویٰ عائد کرنے سے گریز کیا۔ چنانچہ مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادیؒ کے سامنے کسی نے سرسید کے مذہبی خیالات پر سخت الفاظ میں تبصرہ کیا تو مولانا نے کہا کہ ’’ان کی ظاہری تقریر کو نہ دیکھو، ان کے قلب کو دیکھو کہ کیسا ہے‘‘۔ اسی طرح ایک موقع پر انھوں نے چند مولوی صاحبان کو مسجد میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ سرسید روایات صحیحہ کا انکار کرتا ہے، تواتر کا انکار کرتا ہے، کافر ہے وغیرہ وغیرہ، تو اپنے حجرے سے نکلے، مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا ’’یہ لوگ اس بے چارے کو کافر بناتے ہیں، مگر اس کے قلب کو دیکھ کہ کیسا ہے۔‘‘ (’’کمالات رحمانی‘‘ از شاہ تجمل حسین بہاری، بحوالہ صدق جدید، ۵؍ مئی ۱۹۶۱ء)
اسی طرح کے خیالات مولانا اشرف علی تھانویؒ کے تھے، چنانچہ خواجہ عزیز الحسن مجذوب، مولانا کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ’’سرسید کا عقیدہ توحید اور رسالت کے متعلق جس درجہ کا بھی تھا، بلا وسوسہ اور نہایت پختہ تھا جیسا کہ ان کی بعض تصانیف سے مجھ کو ظاہر ہوا اور قرآن وحدیث کی جو توجیہات انھوں نے کیں، ان کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین کا اسلام پر کوئی اعتراض وارد نہ ہو۔ گو اس کے لیے انھوں نے جو طریقہ اختیار کیا، وہ غلط تھا، اس لیے میں ان کو نادان دوست کہتا ہوں۔‘‘ (اشرف السوانح از خواجہ عزیز الحسن مجذوب، جلد اول، ص ۲۱۵)
اس کے علاوہ سرسید کے متعارف کردہ بہت سے نئے مذہبی مباحث سے علماء نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس پہلو پر اب بعض مطالعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت کے ممتاز محقق مولانا رضی الاسلام ندوی نے ’’سرسید کی تفسیر القرآن اور مابعد تفاسیر پر اس کے اثرات‘‘ کے زیر عنوان اپنے مقالے میں سرسید کی تفسیر قرآن کی تالیف کا فکری پس منظر واضح کیا ہے اور سرسید کے منہج تفسیر پر روشنی ڈالتے ہوئے قرآن اور بائبل کے بیانات کے تقابلی مطالعہ، اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کے رد اور غیبیات و معجزات کی عقلی توجیہ کو اس کی اہم خصوصیات میں شمار کیا ہے۔ مصنف نے یہ دلچسپ حقیقت بیان کی ہے کہ تفسیر قرآن کے ضمن میں ان تینوں پہلووں سے بعد کے مفسرین نے سرسید کے اثرات قبول کیے اور اردو تفاسیر میں نہ صرف قرآن اور بائبل کے تقابلی مطالعہ اور اسلام پر اعتراضات کا رد کرنے کی ریت قائم ہوئی، بلکہ غیبیات اور معجزات کی عقلی توجیہ کے باب میں بھی ’’اس تفسیر کے مابعد تفاسیر پر اثرات مرتب ہوئے اور اہل علم نے اس کے اسلوب اور انداز تحقیق کو اپنایا۔‘‘ (ص ۲۳) 
مصنف کے خیال میں اس طرز فکر کے بعض مثبت اثرات بھی ہیں، چنانچہ ’’قدیم مفسرین کی عجوبہ پسندی کا یہ حال تھا کہ وہ ایسے واقعات کو بھی جن کی مناسب عقلی توجیہ ممکن ہے، معجزات قرار دیتے تھے۔ ..... معجزات کے سلسلے میں سرسید کا نقطہ نظر تو قبولیت حاصل نہ کر سکا، لیکن اس کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ عجوبہ پسندی کی شدت میں کمی آئی اور بعض قرآنی واقعات پر اس حیثیت سے بھی غور ہونے لگا کہ ان کی عقلی توجیہ کر کے انھیں غیر معجزانہ واقعات کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔ اسے بھی تفسیر سرسید کا ایک قابل لحاظ اثر قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘ (ص ۲۴) اس نکتے کی وضاحت میں مصنف نے متعدد مثالیں بھی نقل کی ہیں۔ سرسید کی تفسیری خدمات کے حوالے سے مصنف کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ بعض پہلووں سے ’’یہ تفسیر سرسید کی مذہبی خدمات میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور یہ ان کا ایک قابل قدر علمی کارنامہ ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ جہاں ان کی غلطیوں اور لغزشوں پر بے لاگ تنقید کی جائے، وہیں ان کی وقیع تحقیقات کو سراہا جائے۔‘‘ (ص ۱۱) 
جہاں تک برطانوی اقتدار کے حوالے سے سرسید کی فکر کا تعلق ہے تو اس میں اور مذہبی علماء کی ایک بڑی تعداد کے زاویہ نظر میں بنیادی اشتراک دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے جس پر ان شاء اللہ ہم آئندہ کسی نشست میں بات کریں گے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۸)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۲۹) نظر المغشی علیہ من الموت کا ترجمہ

مندرجہ ذیل دو قرآنی مقامات کے بعض ترجمے توجہ طلب ہیں:

(۱) رَأَیْْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ یَنظُرُونَ إِلَیْْکَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْْہِ مِنَ الْمَوْتِ۔ (محمد: 20)

’’مگر جب ایک محکم سورت نازل کر دی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو ‘‘(سید مودودی، اس ترجمہ میں ایک غلطی یہ بھی ہے کہ اذا کے ہوتے ہوئے ترجمہ ماضی کا کیا گیا ہے، حالانکہ اذا فعل ماضی پر داخل ہوتا ہے اور اسے حال یا مستقبل کے مفہوم میں بدل دیتا ہے)
’’سو جس وقت کوئی صاف (مضمون) کی سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا بھی ذکر ہوتا ہے تو جن لوگو ں کے دلوں میں بیماری (نفاق) ہے آپ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی بیہوشی طاری ہو‘‘ (احمد علی)
مذکورہ بالا ترجموں میں ایک توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ ینظروں الیک نظر المغشي علیہ من الموت کا ترجمہ کیا گیا: ’’آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی بیہوشی طاری ہو‘‘ یہ عبارت کا صحیح اور واضح ترجمہ نہیں ہے، اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ دیکھنے والے کی یہ کیفیت ہے یا جسے وہ دیکھ رہے ہیں اس کی یہ کیفیت ہے، ترجمہ میں یہ بالکل واضح ہونا چاہئے کہ دیکھنے والوں کی یہ کیفیت بتائی جارہی ہے۔
اس پہلو سے مندرجہ ذیل ترجمے زیادہ مناسب ہیں، ان میں عبارت کا حق بھی ادا ہورہا ہے اور وضاحت کا تقاضا بھی پورا ہورہا ہے۔
’’پھر جب اتری ایک سورۃ جانچی ہوئی، اور ذکر ہوا اس میں لڑائی کا تو تو دیکھتا ہے جن کے دل میں روگ ہے تکتے ہیں تیری طرف جیسے تکتا ہے کوئی بے ہوش پڑا مرنے کے وقت‘‘(شاہ عبدالقادر، اس ترجمہ میں زیر بحث غلطی تو نہیں ہے لیکن وہ غلطی یہاں بھی موجود ہے جس کا اوپر کے ایک ترجمے میں ذکر کیا گیا ، اور وہ یہ کہ اذا کے ہوتے ہوئے ترجمہ ماضی کا کیا گیا، حالانکہ اذا فعل ماضی پر داخل ہوتا ہے اور اسے حال یا مستقبل کے مفہوم میں بدل دیتا ہے)
’’پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی اور اس میں جہاد کا حکم فرمایا گیا تو تم دیکھو گے انہیں جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ تمہاری طرف اس کا دیکھنا دیکھتے ہیں جس پر مْرونی چھائی ہو‘‘(احمد رضا خان،یہاں بھی وہ غلطی ہے)
’’پس جب اتاری جاوے گی سورت ثابت اور ذکر کیا جاوے بیچ اس کے لڑائی کا، دیکھے گا تو ان لوگوں کو ،بیچ دلوں ان کے بیماری ہے ،دیکھتے ہیں تیری طرف ،جیسا دیکھتا ہے وہ شخص کہ بیہوشی آئی ہو اوپر اس کے موت سے ‘‘(شاہ رفیع الدین)
’’پھر جب کوئی صاف مطلب والی سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے اس شخص کی نظر ہوتی ہے جس پر موت کی بیہوشی طاری ہو ‘‘(محمد جوناگڑھی)
آخر الذکر دونوں ترجموں میں زیر بحث دونوں غلطیاں نہیں ہیں۔

(۲) فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَیْْتَہُمْ یَنظُرُونَ إِلَیْْکَ تَدُورُ أَعْیُنُہُمْ کَالَّذِیْ یُغْشَی عَلَیْْہِ مِنَ الْمَوْت۔ (الاحزاب: 19)

اس آیت کے ترجموں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اکثر لوگوں کے یہاں نظر المغشي علیہ من الموت کی طرح کالذي یغشی علیہ من الموت کے ترجمے میں بھی وہی خامی باقی رہ گئی، چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
’’پھر جب آوے ڈر کا وقت تو تو دیکھے تکتے ہیں تیری طرف ٹکر ٹکر کرتی ہیں آنکھیں ان کی جیسے کسی پر آوے بیہوشی موت کی‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’خطرے کا وقت آ جائے تو اس طرح دیدے پھرا پھرا کر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہو رہی ہو‘‘ (سید مودودی)
’’پھر جب ڈر کا وقت آئے تم انہیں دیکھو گے تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں جیسے کسی پر موت چھائی ہو ‘‘(احمد رضا خان)
’’پھر جب ڈر کا وقت آجائے تو تْو انھیں دیکھے گا کہ تیری طرف دیکھتے ہیں ان کی آنکھیں پھرتی ہیں جیسے کسی پر موت کی بے ہوشی آئے‘‘(احمد علی)
’’ پھر جب ڈر (کا وقت) آئے تو تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں (اور) اُن کی آنکھیں (اسی طرح) پھر رہی ہیں جیسے کسی کو موت سے غشی آرہی ہو‘‘(فتح محمدجالندھری)
مذکورہ ذیل ترجمہ مناسب ہے، اور اس میں یہ خامی نہیں ہے:
’’پھر جب خوف ودہشت کا موقعہ آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ آپ کی طرف نظریں جما دیتے ہیں اور ان کی انکھیں اس طرح گھومتی ہیں جیسے اس شخص کی جس پر موت کی غشی طاری ہو‘‘(محمد جوناگڑھی)
دیکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ اوپر والی آیت کے ترجمہ میں بعض لوگوں نے اذا کے ہوتے ہوئے بھی پورے جملہ کا زمانہ ماضی سے ترجمہ کیا، لیکن انہی حضرات نے اس دوسری آیت میں اذاکی رعایت کی ہے، اوردرست طور سے حال یا مستقبل کا ترجمہ کیا ہے۔

(۱۳۰) مخلفون کا ترجمہ

مخلفون کا لفظ سورہ فتح میں تین بار آیا ہے، اور تینوں جگہ سب لوگوں نے ’’پیچھے رہ جانے والے‘‘ اور ’’پیچھے چھوڑ دیے جانے والے‘‘ ترجمہ کیا ہے۔

(۱) سَیَقُولُ لَکَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَہْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا۔ (الفتح: 11)

’’دیہاتیوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے وہ اب تجھ سے کہیں گے کہ ہم اپنے مال اور بال بچوں میں لگے رہ گئے پس آپ ہمارے لیے مغفرت طلب کیجئے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
’’اے نبیؐ، بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے اب وہ آ کر ضرور تم سے کہیں گے کہ ’’ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول کر رکھا تھا، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں‘‘۔(سید مودودی)

(۲) سَیَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انطَلَقْتُمْ إِلَی مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوہَا ذَرُونَا نَتَّبِعْکُمْ۔ (الفتح: 15)

جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو۔ (سید مودودی)
جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجیے کہ آپ کے ساتھ چلیں۔(فتح محمد جالندھری)

(۳) قُل لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَی قَوْمٍ أُوْلِیْ بَأْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُونَہُمْ أَوْ یُسْلِمُون۔ (الفتح: 16)

اِن پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ "عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہو جائیں گے۔(سید مودودی)
جو گنوار پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم ایک سخت جنگجو قوم کے (ساتھ لڑائی کے) لیے بلائے جاؤ گے ان سے تم (یا تو) جنگ کرتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے۔(فتح محمد جالندھری)
مخلفون کا لفظ ایک بار سورہ توبہ میں بھی آیا ہے وہاں صاحب تفہیم نے ایک مختلف ترجمہ کیا ہے، ذیل کی آیت کا ترجمہ ملاحظہ ہو:

فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِہِمْ خِلاَفَ رَسُولِ اللّہِ وَکَرِہُواْ أَن یُجَاہِدُواْ بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَقَالُواْ لاَ تَنفِرُواْ فِیْ الْحَرِّ قُلْ نَارُ جَہَنَّمَ أَشَدُّ حَرّاً لَّوْ کَانُوا یَفْقَہُونَ۔ (التوبۃ: 81)

’’جن لوگوں کو پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی گئی تھی وہ اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دینے اور گھر بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کریں انہوں نے لوگوں سے کہا کہ ’’اس سخت گرمی میں نہ نکلو‘‘ ان سے کہو کہ جہنم کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے، کاش انہیں اس کا شعور ہوتا‘‘۔(سید مودودی)
یہ ترجمہ لفظ کے موافق بھی نہیں ہے، اور حقیقت حال کے مطابق بھی نہیں ہے، کیونکہ اس ترجمہ سے صرف وہی لوگ مراد ہوتے ہیں جو اجازت لے کر رکے، حالانکہ آیت میں جو بات کہی جارہی ہے وہ ان تمام لوگوں کے بارے میں ہے جو پیچھے رہ گئے، خواہ وہ اجازت لے کر رہ گئے ہوں یا بغیر اجازت لیے رہ گئے ہوں، کسی بھی مہم کے موقعہ پر رکنے والے سب لوگ اجازت لے کر نہیں رکتے تھے، بہت سے یوں بھی رک جاتے تھے۔
مخلفون کا درست ترجمہ وہی ہے جو صاحب تفہیم نے مذکورہ بالا دوسرے مقامات پر کیا ہے یا دوسرے مترجمین نے خود اس مقام پر کیا ہے، جس کی ذیل میں مثالیں ہیں۔
’’پیچھے رہ جانے والے لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جانے کے بعد اپنے بیٹھے رہنے پر خوش ہیں انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرنا ناپسند رکھا اور انہوں نے کہہ دیا کہ اس گرمی میں مت نکلو۔ کہہ دیجئے کہ دوزخ کی آگ بہت ہی سخت گرم ہے، کاش کہ وہ سمجھتے ہوتے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
’’جو لوگ (غزوہ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا (کی مرضی) کے خلاف بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا۔ (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات) کو سمجھتے‘‘۔(فتح محمدجالندھری)

(۱۳۱) وصلوات الرسول کا معطوف علیہ کیا ہے؟

وَمِنَ الأَعْرَابِ مَن یُؤْمِنُ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنفِقُ قُرُبَاتٍ عِندَ اللّہِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ أَلا إِنَّہَا قُرْبَۃٌ لَّہُمْ سَیُدْخِلُہُمُ اللّہُ فِیْ رَحْمَتِہِ إِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ۔ (التوبۃ: 99)

اس آیت میں وصلوات الرسول کا عطف کس پر ہے، اس سلسلے میں مفسرین دو احتمال ذکر کرتے ہیں ایک یہ کہ قربات پر عطف ہے اور دوسرا یہ کہ ما ینفق پر عطف ہے۔ 
مشہور مفسر ابن عطیہ لکھتے ہیں:

ف صَلَواتِ علی ھذا عطف علی قُرُباتٍ، ویحتمل أن یکون عطفا علی ما ینفق، أی ویتخذ بالأعمال الصالحۃ وصلوات الرسول قربۃ، والأولی أبین. (المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز)

پہلی صورت کو ابن عطیہ ترجیح دیتے ہیں، اردو اور انگریزی مترجمین قرآن نے بھی پہلی صورت کو اختیار کیا ہے، بطور مثال یہاں کچھ ترجمے ذکر کیے جاتے ہیں:
’’اور انہی بدویوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اُسے اللہ کے تقرب کا اور رسولؐ کی طرف سے رحمت کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں ہاں! وہ ضرور ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے اور اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا، یقیناًاللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو عنداللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
اور کچھ گاؤں والے وہ ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو خرچ کریں اسے اللہ کی نزدیکیوں اور رسول سے دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھیں۔ (احمد رضا خان)
And of the dwellers of the desert is one who believeth in Allah and the Last Day, and taketh that which he expendeth as approaches unto Allah and the blessings of His apostle.(Daryabadi)
جبکہ مذکورہ ذیل دونوں ترجمے عام ترجموں سے مختلف ہیں اور اس بنیاد پر ہیں کہ وصلوات الرسول کا عطف ماینفق پر ہے:
اور ان دیہاتیوں میں وہ بھی ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو اور رسول کی دعاؤں کو حصول تقرب الٰہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ (امین احسن اصلاحی)
And of the wandering Arabs there is he who believeth in Allah and the Last Day, and taketh that which he expendeth and also the prayers of the messenger as acceptable offerings in the sight of Allah.(Pickthall)
اول الذکر ترجموں کا مطلب یہ ہوگا کہ انفاق کا مقصود اللہ کا تقرب اور رسول کی دعائیں ہیں، جبکہ دوسرے ترجمے کا مطلب یہ ہوگا کہ انفاق کا مقصود بھی اور رسول کی دعائیں لینے کا مقصود بھی اللہ کا تقرب ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی اس دوسرے ترجمے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس جملے کے بعد أَلا إِنَّہَا قُرْبَۃٌ لَّہُمْ آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیش نظر صرف اللہ کے تقرب کی بات ہے کہ وہ کس طرح سے اور کن کن چیزوں سے حاصل ہو، انفاق کرنے سے بھی اور رسول کی دعا لینے سے بھی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ انفاق یا کسی بھی نیک عمل کا مقصود صرف رضائے الٰہی ہونا چاہئے، اخلاص کا یہی تقاضا ہے، اس عمل سے خوش ہو کر رسول دعائیں دیں یہ تو ٹھیک ہے، لیکن عمل کا مقصود یہ بن جائے کہ رسول دعائیں دیں یہ اخلاص کے منافی معلوم ہوتا ہے۔ 
اس مفہوم کی تائید جملے کی لفظی ترکیب سے بھی ہوتی ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اتخذ فعل کے دو مفعول آتے ہیں پہلا مفعول حقیقت میں مبتدأ کی جگہ پر ہوتا ہے اور دوسرا مفعول خبر کی جگہ پر ہوتا ہے، مبتدأ عام طور سے معرفہ ہوتا ہے اور خبر عام طور سے نکرہ ہوتی ہے، یہاں ما ینفق مفعول اول ہے اور مبتدأ کی جگہ پر ہے، قربات مفعول بہ ہے اور خبر کی جگہ پر ہے، سوال صلوات الرسول کا ہے کہ اسے مفعول اول پر عطف کریں یا مفعول ثانی پر عطف کریں، چونکہ صلوات الرسول معرفہ ہے اس لئے اسے مفعول اول یعنی ما ینفق پر عطف کرنا ہی اولی ہے۔ اسے مفعول ثانی کے بعد لانے کی حکمت یہ ہے کہ اصل بات تو قربات عند اللہ پر پوری ہوگئی ہے، اس کے بعد صلوات الرسول دراصل ما ینفق کے لازمہ کے طور پر آیا ہے، اور یہ بتانے کے لئے کہ قربات کا ایک اور وسیلہ یہ بھی ہے۔
(جاری)

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ: ایک تعارفی جائزہ (۶)

مولانا سمیع اللہ سعدی

۳۔ موسوعات الحدیث بحسب الافراد و الاشخاص

موسوعات کی تیسری قسم ان کتب کی ہے جن میں کسی خاص راوی (خاص طور پر صحابہ)کی مرویات کو جمع کیا گیا ہو، یا کسی خاص حدیث کے جملہ طرق کو اکٹھا کیا گیا ہو ۔یہ موسوعات زیادہ تر ایم فل اور پی ایچ ڈی مقالات کی صورت میں تیار ہوئے ہیں۔ اس سلسلے کی اہم کاوش یوسف ازبک کی قابل قدر تصنیف مسند علی بن ابی طالب ہے۔ یہ ضخیم موسوعہ دار المامون دمشق سے سات جلدوں میں چھپا ہے، اس کی تصنیف میں معروف سلفی عالم شیخ علی رضا نے بھی تعاون کیا ہے ۔اس کے علاوہ عبد العزیز بن عبد اللہ الحمیدی نے کتب حدیث میں حضرت ابن عباس کی تفسیری روایات کو تفسیر ابن عباس و مریاوتہ فی التفسیر من کتب السنۃ کے نام سے جمع کیا ہے، یہ کتاب دو جلدوں میں مرکز البحث العلمی مکہ مکرمہ سے چھپی ہے۔
کسی خاص حدیث کے جملہ طرق اور ان پر بحث کے سلسلے میں متعدد کتب منظر عام پرآئی ہیں ۔خلیل ابن ابراہیم نے حدیث الذبابۃ (وہ حدیث جس میں کھانے میں مکھی گرنے کا حکم بیان ہوا ہے ) پر ایک ضخیم کتاب الاصابۃ فی صحۃ حدیث الذبابۃ کے نام سے لکھی ہے جو دار القبلہ جدہ سے چھپی ہے۔ علی حسن عبد الحمید نے تنویر العینین فی طرق حدیث اسما ء فی کشف الوجہ و الکفین (دار عمار ،عمان )کے نام سے چہرہ اور کفین کے کشف کی معروف حدیث کے طرق جمع کیے ہیں۔ اس طرح کی کتب کثیر تعداد میں چھپی ہیں جو فہارسِ کتب پر مبنی معاجم میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ (ان معاجم کا ذکر مستقل عنوان کے ساتھ آرہا ہے۔) ذیل میں اہم کتب کی ایک فہرست پیش کی جاتی ہے :
1۔ مرویات ابن مسعود فی الکتب الستۃ وموطا مالک و مسند احمد، منصور بن عون العبدلی ،دار الشروق ،جدہ (مجلدین)
2۔ ابو ایوب الانصاری و مرویاتہ فی الکتب الستۃ ومسند الامام احمد، محمد عبد اللہ ،دار عالم الکتب ،ریاض 
3۔ مرویات الصحابی سلمۃ بن الاکوع فی الکتب الستۃ وموطا مالک ومسند احمد، حکمت بشیر یاسین ،دار المعرفہ ،جدہ 
4۔ ارشاد المربعین الی طرق حدیث الاربعین، احمد بن محمد صدیق غماری ،مطبعہ الشرق ،قاہرہ
5۔ الامنیۃ فی تخریج المسلسل بالاولیۃ،محمود بن محمد الحداد ،دار العاصمہ ،ریاض 
6۔ التعلقۃ الامینۃ فی طرق حدیث اللھم احیینی مسکینا، علی حسن عبد الحمید الحلبی ،مکتبہ المدینہ، مدینہ منورہ 
7۔ کشف اللثام عن طرق حدیث غربۃ الاسلام، عبد اللہ بن یوسف الجدیع ،مکتبہ الرشد ،ریاض 
8۔ جزء حدیث ابی حمید الساعدی فی صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم و جزء حدیث المسیء صلاتہ، بتجمیع طرقہ و زیاداتہ، محمد عمر بازمول، دار الہجرہ، ریاض 
9۔ رفع المنار لطرق حدیث من سئل عن علم فکتمہ الجم یوم القیامہ بلجام من نار، احمد بن محمد صدیق غماری ،مکتبہ الامام بخاری ،مصر
10۔ امتاع مشیخۃ الاحمدیۃ بطرق حدیث فضل المرویات الاربعینیۃ، صالح بن عبد اللہ العصیمی ،دار اہل الحدیث ،ریاض 

۴۔ موسوعات علوم الحدیث و المصطلحات 

مصطلح الحدیث کے مباحث کو موسوعاتی شکل میں بیان کرنے کے سلسلے میں اہم کتب لکھی گئی ہیں، اس سلسلے کی سب سے اہم کتاب معروف مصنف و محقق سید عبد الماجد غوری کا تیا رکردہ ضخیم موسوعہ "موسوعۃ علوم الحدیث و فنونہ" ہے، یہ قابل قدر کاوش دار ابن کثیر بیروت سے تین جلدوں میں چھپی ہے۔ اس موسوعہ میں حروف تہجی کے اعتبار سے علوم الحدیث کے مباحث ذکر کیے گئے ہیں۔ اس کے شروع میں ایک جامع مقدمہ بھی ہے جس میں علم مصطلح الحدیث کی تاریخ و ارتقاء کو جامعیت و اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ڈا کٹر عبد الرحمان الخمیسی نے معجم علوم الحدیث النبوی کے نام سے ایک ضخیم معجم تیار کیا ہے، جو دار ابن حزم بیروت سے چھپا ہے ۔مصر کی وزارت اوقاف کے ذیلی ادارے مجلس الاعلی للشؤن الاسلامیہ نے بھی ایک ضخیم موسوعہ "موسوعۃ علوم الحدیث الشریف" کے نام سے تیار کیا ہے ،جو ایک ہزار صفحات کی ضخیم جلد میں اسی ادارے سے چھپا ہے ۔
ا ہم موسوعات و معاجم کی فہرست پیش خدمت ہے:
1۔ معجم مصطلحات الحدیث و لطائف الاسانید، محمد ضیاء الرحمان الاعظمی، اضواء السلف، ریاض 
2۔ معجم المصطلحات الحدیثیۃ، سلیمان مسلم الحرش، حسین اسماعیل الجمل ،مکتبہ العبیکان ،ریاض 
3۔ معجم مصطلحات الحدیثیۃ، نور الدین عتر ،مجمع اللغہ العربیہ ،دمشق
4۔ قاموس مصطلحات الحدیث النبوی، محمد صدیق المنشاوی ،دار الفضیلہ ،قاہرہ
5۔ معجم اصطلاحات الاحادیث النبویۃ، عبد المنان راسخ ،دار ابن حزم ،بیروت
6۔ مصطلحات الجرح والتعدیل المتعارضۃ، جمال اسطیری ،اضواء السلف ،ریاض 
7۔ الشرح و التعلیل لالفاظ الجرح و التعدیل، یوسف محمد صدیق ،مکتبہ ابن تیمیہ ،کویت 
8۔ معجم الفاظ الجرح و التعدیل، سید عبد الماجد غوری ،دار ابن کثیر ،دمشق
9۔ معجم المصطلحات الحدیثیۃ، سید عبد الماجد غوری ،دار ابن کثیر ،دمشق
10۔ معجم لسان المحدثین، محمد خلف سلامہ (5 مجلدات)

۵۔ موسوعات کتبِ حدیث

پانچویں قسم ان موسوعات کی ہیں جو کتب حدیث کی ببلو گرافی پر مشتمل ہو، ان میں سے بعض موسوعاتِ عامہ ہیں جن میں مطبوعہ کتب حدیث کا بلا قید زمان و مکان اشاریہ ترتیب دیا گیا ہے۔ ان میں سے سب سے اہم اور مفصل کتاب "دلیل مولفات الحدیث الشریف القدیمہ و الحدیثہ" ہے ،یہ اشاریہ تین مصنفین کی کاوش کا نتیجہ ہے، دار ابن حزم بیروت سے دو جلدوں میں چھپا ہے۔ اس کتاب کا تکملہ انہی تین مصنفین میں سے ایک نے "المعجم المصنف لمولفات الحدیث الشریف" کے نام سے تین ضخیم جلدوں میں لکھا ۔یوں یہ کتاب پانچ جلدوں پر مشتمل ہے ۔اس کتاب میں عالم عرب سے چھپی کتب حدیث کی جملہ انواع کا اشاریہ ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض موسوعات خاص زمانے، خاص کتب حدیث ،خاص مصنفین یا خاص خطوں سے متعلق کتبِ حدیث کی فہارس پر مشتمل ہیں۔ ذیل چند اہم موسوعاتِ عامہ و خاصہ کی فہرست دی جاتی ہے :
1۔ المعین علی کتب الاربعین من احادیث سید المرسلین، سہیل العود ،عالم الکتب ،بیروت
2۔ الرسالۃ المستطرفۃ لبیان مشھور کتب السنۃ المشرفۃ، محمد بن جعفر کتانی ،دار البشائر الا اسلامیہ،بیروت
3۔ الامالی المستظرفۃ علی الرسالۃ المستطرفۃ، احمد بن محمد صدیق الغماری ،دار البیارق ،عمان 
4۔ معجم ما طبع من کتب السنۃ، مصطفی عمار ،دار البخاری ،مدینہ منورہ 
5۔ تراث المغاربۃ فی الحدیث النبوی وعلومہ، محمد بن عبد اللہ التلیدی ،دار البشائر الاسلامیہ ، بیروت
6۔ اتحاف القاری بمعرفہ جھود واعمال العلماء علی صحیح البخاری، محمد عصام عرار الحسنی ، الیمامہ للطباعہ والنشر، دمشق
7۔ ببلوغرافیا لکتب الحدیث والسنۃ باللغۃ الانکلیزیۃ، صہیب بن عبد الغفار حسن ،مجمع الملک فہد للطباعہ ،مدینہ منورہ
8۔ المولفات الخاصۃ بالسنۃ النبویۃ باللغۃ الاردیۃ، ببلیو غرافیا ،احمد خان بن علی محمد ،مجمع الملک فہد ، مدینہ منورہ
9۔ المطبوعات الحجریۃ فی المغرب، فوزی عبد الرزاق ،دار النشر ،رباط
10۔ التصنیف فی السنۃ النبویہ و علومہا، خلدون الاحدب ،موسسہ الریان ،بیروت
مطبوعات کی مذکورہ فہارس کے علاوہ کتب حدیث کے مخطوطات کی فہرستیں بھی چھپی ہیں۔ ان میں سب سے مفصل الفھرس الشامل للتراث العربی المخطوط (الحدیث النبوی و علومہ و رجالہ) ہے ،یہ فہرس تین جلدوں پر مشتمل ہے۔موسسہ ال البیت عمان سے چھپی ہے۔اس کے علاوہ دنیا کے مشہور مکتبات کی اپنی فہارس مخطوطات چھپی ہیں،ان میں کتب حدیث کے مخطوطات کا اشاریہ بھی شامل ہوتا ہے۔

۶۔ موسوعات الرواۃ و الرجال 

رواۃِ حدیث پر متنوع موسوعات و معاجم منظر عام پر آئی ہیں، بعض موسوعات اہم متونِ حدیث کے رجال کے تراجم پر مشتمل ہیں ، اس کی عمدہ مثال عبد الغفار بنداری اور سید کسروی حسن کا تیار کردہ موسوعہ معجم رجال الکتب التسعۃ ہے جس میں صحاح ستہ، موطا، مسند احمد اور مسند دارمی کے تراجمِ رواۃ بیان ہوئے ہیں ۔ یہ کتاب چار جلدوں میں دار الکتب العلمیہ بیروت سے چھپی ہے ۔بعض موسوعات راویوں کی اقسام (وحدان ،ضعاف ،ثقات ، مدلسین وغیرہ) کے اعتبار سے تیار ہوئی ہیں ،جیسے سید کسروی حسن نے ھدی القاصد الی اصحاب الحدیث الواحد کے نام سے ان تمام رواۃ کو جمع کیا ہے جو وحدان(جن سے صرف ایک راوی نے روایتیں لی ہوں) کہلاتے ہیں۔ یہ کتاب دار الکتب العلمیہ بیروت سے سات جلدوں میں چھپی ہے ۔بعض موسوعات اہم متون حدیث کے رجالِ زوائد پر مشتمل ہیں، جیسے یحییٰ بن عبد اللہ الشہری نے ابن حبان کے رجال زوائد کو زوائد رجال صحیح ابن حبان علی الکتب الستۃ کے نام سے ایک موسوعہ میں جمع کیا ہے ۔ یہ ضخیم کتاب چھ جلدوں میں مکتبہ الرشد ریاض سے چھپی ہے ۔ بعض موسوعات کتبِ رجال کی تلخیصات یا تذییلات(اضافہ جات ) کے قبیل سے ہیں ، جیسے الشریف حاتم بن عارف عونی نے ذیل لسان ا لمیزان کے نام سے لسان ا لمیزان پر ایک ذیل لکھا ہے ،یہ کتاب دار عالم الفوائد مکہ مکرمہ سے چھپی ہے ۔
بعض موسوعات مخصوص خطوں کے محدثین اور رواۃ کے تعارف پر مشتمل ہیں ، جیسے عبد العزیز بن عبد اللہ الزہرانی نے قبیلہ زہران و غامد کے رواۃ حدیث پر ایک مفصل معجم معجم رواۃ الحدیث الاماجد من علماء زھران وغامد تیار کیا ہے ۔یہ معجم آٹھ جلدوں میں مکتبہ نزار مکہ مکرمہ سے چھپا ہے ۔ بعض موسوعات محدثین و رواۃِ حدیث کے القابات کے اعتبار سے لکھے گئے ہیں،جیسے عبد الفتاح ابو غدہ نے امراء المومنین فی الحدیث کے نام سے ان رواۃ پر کتاب لکھی ہے جو تراجم میں امیر المومنین کے لقب سے معروف ہیں ۔یہ کتاب مکتب المطبوعات الاسلامیہ حلب سے چھپی ہے ۔بعض موسوعات خاص راویوں کے اوہام و مدرجات پر مشتمل ہیں ، جیسے شیخ سعید باشنفر نے ایک مفصل کتاب اوھام المحدثین الثقات کے نام سے لکھی ہے ۔یہ ضخیم کتاب گیارہ جلدوں میں دار ابن حزم بیروت سے چھپی ہے ۔بعض موسوعات کمپیوٹر سافٹ وئیرز کی شکل میں ہیں (جن کا ذکر مستقل عنوان کے تحت آرہا ہے)۔ الغرض رواۃِ حدیث پر ایک وسیع و ضخیم مکتبہ وجود میں آچکا ہے ۔ذیل میں اہم معاجم رواۃ کی فہرست دی جارہی ہے :
1۔ رجال تفسیر الطبری جرحا و تعدیلا، محمد صبحی حلاق ،دار ابن حزم ،بیروت 
2۔ قرۃ العین فی تلخیص رجال الصحیحین، محمد بن علی بن ادم الاثیوبی ،موسسہ الریان ،بیروت
3۔ معجم اسامی الرواۃ الذین ترجم لہم الالبانی جرحا و تعدیلا، احمد اسماعیل شکوکانی ، صالح عثمان اللحام ،دار ابن حزم بیروت (4مجلدات)
4۔ الاحتفال بمعرفۃ الرواۃ الثقات الذین لیسوا فی تہذیب الکمال، محمود سعید ممدوح ،دار البحوث للدراسات الاسلامیہ ،دبئی (4مجلدات)
5۔ التذییل علی کتاب تہذیب التہذیب، محمد بن طلعت ،اضواء السلف ،ریاض 
6۔ رجال الحاکم فی المستدرک، مقبل بن ہادی الوداعی ،دار الحرمین ،قاہرہ (مجلدین )
7۔ اسعاف القاری بمعجم شیوخ الامام البخاری، مجدی بن محمد بن عرفات ،مکتبہ ابن تیمیہ ،قاہرہ
8۔ معجم شیوخ الامام احمد بن حنبل فی المسند، عامر حسن صبری ،دار البشائر الاسلامیہ ، بیروت
9۔ خلاصۃ القول المفھم علی تراجم رجال جامع الامام مسلم، محمد امین بن عبد اللہ الاثیوبی ، مکتبہ جدہ (مجلدین )
10۔ تراجم الاحبار من رجال شرح معانی الاثار، محمد ایوب المظاہری ،مکتبہ اشاعت العلوم ، سہارنپور (4 مجلدات)
11۔ معجم المختلطین، محمد بن طلعت ،اضواء السلف ،ریاض 
12۔ طبقات النساء المحدثات من الطبقہ الاولی الی السادسۃ، عبد العزیز سید الاہل ،الناشر ، خاص
13۔ معجم من رمی بالتدلیس، ابو عمرو نادر بن وہبی 

۷۔ معاجم الاثبات و الاسانید 

موسوعات کی ساتویں قسم ان کتب کی ہیں جن میں معروف شیوخ نے اپنی اسانید، شیوخ اور مسموعات کی فہرست دی ہو۔ اس سلسلے میں سب سے مفصل معجم معروف محقق یوسف عبد الرحمان المرعشلی نے معجم المعاجم و المشیخات والفھارس والبرامج والاثبات کے نام سے لکھا ہے ۔اس معجم میں مصنف نے پہلی صدی ہجری سے لے کر عصر حاضر تک ان تمام شیوخ کی فہرست مرتب کی ہے جنہوں نے مشیخہ یا ثبت لکھا ہے ۔نیز ان کے اساتذہ کی بھی فہرست دی ہے ۔یہ ضخیم کتاب چار جلدوں میں مکتبہ الرشد ریاض سے چھپی ہے۔ اس کے علاوہ معروف محدث محمد عبد الحی الکتانی نے فھرس الفھارس والاثبات ومعجم المعاجم والمسلسلات کے نام سے ضخیم کتاب لکھی ہے جس میں شیوخ الحدیث کی مرتب کردہ اثبات و مسلسلات کا اشاریہ ترتیب دیا ہے ۔یہ کتاب دار الغرب الاسلامی بیروت سے دو جلدوں میں چھپی ہے ۔اسانید و مسلسلات کے سلسلے میں مکہ مکرمہ کے معروف محدث محمد یاسین فادانی کی خدمات سنہری حروف سے لکھنے کے لائق ہیں ۔موصوف نے دو درجن سے زائد کتب اسانید ،اثبات ،مشیخات اور مسلسلات پر لکھی ہیں ۔ اس کے علاوہ عالم عرب اور برصغیر کے اجل محدثین کی اثبات و اسانید پر مبنی کتب بھی شائع ہوئی ہیں ۔ ذیل میں اہم کتب کی فہرست دی جارہی ہے :
1۔ الیانع الجنی فی اسانید الشیخ عبد الغنی، محمد بن یحییٰ التیمی ، طبع حیدر آباد
2۔ تشنیف الاسماع بشیوخ الاجازۃ و السماع، محمد سعید ممدوح ،دار الشباب ،قاہرہ 
3۔ العناقید الغالیۃ من الاسانید العالیۃ، محمد عاشق الہی برنی ،مکتبہ الشیخ ،کراچی 
4۔ بلوغ امانی الابرار فی التعریف بشیوخ واسانید مسند الدیار الحلبیہ احمد بن محمد سردار الحلبی الشافعی، خالد عبد الکریم المکی ،دار القلم، حلب(مجلدین)
5۔ امداد الفتاح باسانید و مرویات الشیخ عبد الفتاح (ابو غدہ)، محمد بن عبد اللہ ال رشید ،مکتبہ الامام الشافعی ،ریاض 
6۔ نفحات الہند و الیمن باسانید الشیخ ابی الحسن (علی میاں ندوی )محمد اکرم ندوی ،مکتبہ الامام الشافعی 
7۔ فھرسۃ الشیوخ والاسانید للام السید علوی بن عباس بن عبد العزیز المالکی الحسنی، محمد بن علوی المالکی ،خاص 
8۔ فتح الجلیل فی ترجمۃ وثبت شیخ الحنابلہ عبد اللہ بن عبد العزیز العقیل، محمد زیاد عمر، دار البشائر الاسلامیہ ،بیروت
9۔ منح المنۃ فی سلسلۃ بعض کتب السنۃ، محمد عبد الحی الکتانی ،المطبعہ الماجدیہ ،مکہ مکرمہ
10۔ الازدیاد السنی علی الیانع الجنی، مفتی محمد شفیع ، مکتبہ دار العلوم ،کراچی 

۸۔ معاجم متفرقہ 

آٹھویں قسم ان معاجم و موسوعات کی ہے جومذکورہ بالا عنوانات کے تحت نہ آتے ہوں۔ کتبِ حدیث یا ائمہ حدیث کی مختلف جہات سے متعلق ہونے کی وجہ سے ان معاجم کی متعین درجہ بندی نہیں کی جاسکتی ، جیسے شوقی ابو خلیل نے صحاح ستہ میں مذکور اماکن و اقوام کے تعارف پر ایک مفصل اطلس تیار کیا ہے ،یہ کتاب "اطلس الحدیث النبوی من الکتب الستہ،اماکن و اقوام" کے نام سے دار الفکر دمشق سے چھپی ہے۔ محمد التونجی نے معجم اعلام متن الحدیث کے نام سے ان اسماء کو جمع کیا ہے جن کا ذکر کسی نہ کسی حدیث میں آیا ہے۔ یہ کتاب دار المعرفہ بیروت سے چھپی ہے ۔ اس کے علاوہ ولید الزبیری نے اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ مل کر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے ان تمام اقوال کو جمع کیا ہے جن میں حافظ ابن حجر نے اپنی مولفات میں کسی حدیث یا اثر پر حکم لگایا ہے اور اس پر کسی جہت سے کلام کیا ہے ۔یہ قابل قدر کاوش "موسوعۃ الحافظ ابن حجر العسقلانی الحدیثیۃ" کے نام سے سلسلہ اصدارات مجلہ الحکمہ لیڈز برطانیہ سے چھپی ہے ۔
حدیث،کتب حدیث اور ائمہ حدیث سے متعلق اہم معاجم و موسوعات کی فہرست پیش خدمت ہے :
1۔ معجم المصنفات الواردۃ فی فتح الباری، مشہور حسن ال سلمان ،رائد بن صبری ،دار الہجرہ ،ریاض 
2۔ معجم الامکنۃ الواردۃ ذکرھا فی صحیح البخاری، سعد بن جنیدل
3۔ غبطۃ القاری ببیان احالات فتح الباری،صفا الضوی، مکتبہ ابن تیمیہ ،قاہرہ 
4۔ معجم اعلام الحدیث النبوی من الصحیحین، محمد التونجی ،مرکز المخطوطات و التراث و الوثائق ، کویت
5۔ موسوعۃ اقوال الامام احمد بن حنبل فی رجال الحدیث و عللہ، محمود محمد خلیل و آخرون، عالم الکتب،بیروت (4مجلدات)
6۔ معجم مسانید کتب الحدیث، ابو الفداء سامی ،دار الکتب العلمیہ ،بیروت
7۔ تراجعات الحافظ ابن حجر فی فتح الباری، مشہور حسن ال سلیمان ،مکتبہ الخراز ،جدہ

ساتویں جہت: فہارس و اطراف الحدیث

کتبِ حدیث کی فہارس اور اطراف پر کثرت سے کتب لکھی گئی ہیں ۔ایک کتاب کی متنوع فہارس منظر عام پر آئی ہیں جن میں اعلام،اماکن ،آیات ،ابواب و فصول اور خاص طور پر حروف تہجی کے اعتبار سے کتاب کی احادیث (جنہیں اطراف کہا جاتا ہے ) کی فہرستیں مرتب ہوئی ہیں ۔ اس کے ساتھ علم فہرست اور اشاریہ سازی کے اصول و ضوابط پر الگ سے کام ہوا ہے۔ معروف محقق یوسف عبد الرحمان المرعشلی نے علم فھرست الحدیث، نشاتہ، تطورہ واشھر ما دون فیہ کے نام سے ایک قابل قدر کتاب لکھی ہے جس میں فن فہرس حدیث کا آغاز و ارتقاء اور اس فن پر لکھی گئی اہم کتب کا تعارف کرا یا ہے۔
فہارس کتب حدیث کی ابتداء مستشرقین کی طرف سے ہوئی۔ خاص طور پر مستشرقین کی ایک جماعت نے نو بنیادی متون حدیث صحاح ستہ ،مسند دارمی ،موطا امام مالک اور مسند احمد کی فہارس حدیث پر مشتمل ایک مفصل معجم تیار کیا ہے ۔ یہ کتاب "المعجم المفھرس لالفاظ الحدیث النبوی" کے نام سے آٹھ ضخیم جلدوں میں مکتبہ بریل ہالینڈ سے چھپی ہے ۔ اس میں حروف تہجی کے اعتبار سے الفاظ حدیث کی فہرست دی گئی ہے۔ معروف مستشرق ای فنسنک نے مفتاح کنوز السنۃ کے نام سے ایک مختصر اشاریہ ترتیب دیا ہے۔ یہ اشاریہ حدیث کی چودہ کتب (صحاح ستہ،مسند دارمی ،موطا،مسند زید بن علی ،مسند طیالسی ،مسند احمد، طبقات ابن سعد ،سیرۃ ابن ہشام ،مغازی واقدی) کے اطراف پر مشتمل ہے ۔ اس کا عربی ترجمہ معروف محقق فواد عبد الباقی نے کیا ہے ۔
مستشرقین کے بعد اسلامی دنیا میں بھی کثرت سے فہارس پر کتب لکھی گئیں ۔ اطراف الحدیث پر معاصر سطح کی سب سے مفصل فہرست محقق محمد سعید بن بسیونی زغلول نے تیار کی ہے ۔ موصوف نے حدیث کی دو سو کتب کے اطراف کو موسوعۃ اطراف الحدیث النبوی کے نام سے جمع کیا ہے ۔ یہ موسوعہ عالم الکتاب بیروت سے پندرہ جلدوں میں چھپا ہے ۔ مفصل فہارس کے سلسلے میں شعیب الارناووط کی فہارس مسند احمد بھی قابل ذکر ہیں ۔ موصوف نے مسند احمد پر قابل قدر تحقیق مکمل کرنے کے بعد اس کی مفصل فہارس تیار کیں۔ یہ الفھارس العامۃ لمسند الامام احمد بن حنبل کے نام سے پانچ جلدوں پر مشتمل ہیں ۔ موسسہ الرسالہ کی تحقیق شعیب الارناوط کی طباعتِ مسند کی آخری پانچ جلدیں انہی فہارس کی ہیں ۔ اس کے علاوہ عبد الکریم غانم سے ضعیف و موضوع احادیث کا ایک اشاریہ ترتیب دیا ہے ،جو دو جلدوں میں مکتبہ العبیکان ریاض سے چھپا ہے۔
ذیل میں اہم کتب حدیث کی فہارس و اطراف پر مشتمل کتب کی فہرست دی جارہی ہے :
1۔ قرۃ العینین فی اطراف الصحیحین، فواد عبد الباقی ، المکتبہ التجاریہ ،مکہ مکرمہ (3مجلدات)
2۔ فہارس صحیح مسلم، فواد عبد الباقی، دار احیاء الکتب العربیہ ،بیروت
3۔ المرشد الی احادیث سنن الترمذی، صدقی البیک ،مطبعۃ الفجر ،حمص
4۔ فھارس جامع الاصول فی احادیث الرسول لابن الاثیر، عبد اللہ بن محمد الغنیمان، دار المامون للتراث، دمشق(مجلدین)
5۔ المعجم المفھرس لالفاظ الحدیث النبوی فی سنن دار قطنی، یوسف عبد الرحمان المرعشلی، دار المعرفہ ،بیروت
6۔ فھارس احادیث سنن الکبری للبیھقی، یوسف عبد الرحمان المرعشلی ،دار المعرفہ ،بیروت
7۔ فھارس سنن النسائی ، عبد الفتاح ابو غدہ ،مکتب المطبوعات الاسلامیہ ،حلب
8۔ فھرس احادیث وآثار للمستدرک علی الصحیحین، یوسف عبد الرحمان المرعشلی ،دار المعرفہ ، بیروت (مجلدین)
9۔ فھارس سنن ابن ماجہ، محمد سعید بن بسیونی زغلول ،دار الکتب العلمیہ ،بیروت
10۔ فھارس شرح معانی الاثار، عبد الرحمان دمشقیہ ،سلیمان الحرش،دار طیبہ ،ریاض
11۔ المرشد الی کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال، ندیم مرعشلی، اسامہ مرعشلی، موسسہ الرسالہ، بیروت (مجلدین )
12۔ فھرس احادیث وآثار مجمع الزوائد، محمد سلیم ابراہیم سمارہ ،عالم الکتب ،بیروت(4مجلدات)
13۔ فھارس احادیث و آثار سنن ابی داود، عبد الرحمان دمشقیہ ،دار طیبہ ،ریاض
14۔ فھارس احادیث و آثار نصب الرایۃ، عدنان علی شلاق ،عالم الکتب بیروت (مجلدین )
15۔ فھرس مصنفی عبد الرزاق و ابن ابی شیبۃ، ام عبد اللہ بن محروس ،دار طیبہ ،ریاض (مجلدین )
16۔ الجامع المفھرس لالفاظ صحیح مسلم، سعد المرصفی ،مجلس النشر العلمی ،جامعہ الکویت (4 مجلدات)
متونِ حدیث میں سے تقریباً ہر ایک کتاب کی متعدد فہارس تیار ہوئی ہیں ۔ مزید کتب کے لیے المعجم المصنف لمولفات الحدیث الشریف (ص947 تا 960 ج2) کی طرف رجوع کیا جائے۔

آٹھویں جہت: کتبِ حدیث کی تہذیب، ترتیب اور اختصار

دورِ جدید کے حدیثی ذخیرے کی ایک جہت اہم متونِ حدیث کی ترتیبِ جدید ،تہذیب اور ان کا اختصار ہے۔ اختصار میں عموماً سلسلہ سند حذف کر کے(سوائے صحابی کے) صرف متونِ حدیث ذکر کیے جاتے ہیں۔ بعض اختصارات میں سلسلہ سند کے ساتھ مکررات بھی حذف کیے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں معروف شامی محقق مصطفی دیب البغا نے قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ موصوف نے صحاح ستہ کے اختصارات تیار کیے ہیں۔ اس کے علاوہ فیصل بن عبد العزیز ال مبارک نے نیل الاوطار کا دو جلدوں میں اختصار کیا ہے ۔ یہ اختصار بستان الاحبار مختصر نیل الاوطار کے نام سے مطبعہ سلفیہ قاہرہ سے چھپا ہے ۔ معروف سلفی محدث ناصر الدین البانی نے بھی کتب حدیث کے عمدہ اختصارات کیے ہیں جن میں خاص طور پر صحیح بخاری کا اختصار قابل ذکر ہے ۔یہ اختصار مختصر صحیح الامام البخاری کے نام سے مکتب المعارف ریاض سے چار جلدوں میں چھپا ہے۔
اہم متونِ حدیث کے مختصرات کی ایک فہرست پیش خدمت ہے :
1۔ فتح الالہ فی اختصار السنن الکبری للبیھقی، محمد ابن احمد الشنقیطی ،دار الفکر، بیروت (5 مجلدات)
2۔ مختصر الشمائل المحمدیۃ للترمذی، ناصر الدین البانی ،المکتبہ الاسلامیہ ،عمان
3۔ مختصر النھایۃ فی غریب الحدیث لابن الاثیر، صلاح الدین حفنی ،دار البحوث العلمیہ ،کویت
4۔ مختصر مسند الامام احمد، خالد عبد الرحمان العک، محمد ادریس اسلام ،دار الحکمہ ،دمشق
5۔ مختصر صحیح مسلم، محمد بن یاسین بن عبد اللہ ،المکتبہ التجاریہ ،مکہ مکرمہ (مجلدین )
6۔ مختصر صحیح البخاری مع شرحہ فتح الباری، خالد عبد الرحمان العک ،دار الحکمہ ،دمشق (مجلدین)
7۔ مختصر مصنف عبد الرزاق، مصطفی بن علی بن عوض ،دار الجیل ،بیروت (4 مجلدات)
8۔ مختصر عمدۃ الاحکام للمقدسی، محمود الارناووط ،موسسہ الریان ،بیروت
9۔ المحصل من مسند الامام احمد بن حنبل، عبد اللہ بن ابراہیم القرعاوی ،ریاض (3 مجلدات)
10۔ مختصر صحیح الامام مسلم بشرح النووی، خالد عبد الرحمان العک ،دار الالباب ،دمشق
اختصارات کے ساتھ متونِ حدیث کی ترتیبِ جدید اور تہذیب پر بھی متنوع کام ہوئے ہیں۔اطراف الحدیث کے ماہر محقق محمد سعید بن بسیونی زغلول کی سر براہی میں دو محققین نے امام مزی کی تحفۃ الاشراف کی تہذیب و ترتیب جدید مرتب کی ہے۔ یہ عمدہ تہذیب "تقریب تحفۃ الاشراف بمعرفہ الاطراف" کے نام سے موسسہ الکتب بیروت سے چھ جلدوں میں شائع ہوئی ہے ۔ اس کتاب میں تحفہ الاشراف میں مذکورہ اطراف کی اسناد حذف کی گئی ہیں،ہر حدیث کی تخریج کی گئی ہے،جملہ رواۃ خواہ صحابہ ہوں یا تابعین، ان کی مرویات کی تعداد بتائی گئی ہے۔ الغرض تحفۃ الااشراف کے مباحث کی نئے انداز میں تہذیب کی گئی ہے ۔
تہذیبات کے سلسلے میں اہم کام موطا امام مالک کی معروف شرح التمھید لابن عبد البر کی فقہی ابواب پر ترتیبِ جدید ہے ۔ محمد بن عبد الرحمان المغراوی نے فتح البر فی الترتیب الفقھی لتمھید ابن عبد البر کے نام سے التمہید کو فقہی ابواب کے مطابق مرتب کیا ہے ۔ یہ کتاب چودہ جلدوں میں ریاض سے چھپی ہے ۔ خالد محمود رباط نے امام طحاوی کی شرح مشکل الآثار کو نئے قالب میں ڈھالا ہے ۔ یہ کتاب تحفۃ الاخیار بترتیب شرح مشکل الآثار کے نام سے دار بلنسیہ ریاض سے دس جلدوں میں چھپی ہے ،اس میں مصنف نے شرح مشکل الاثار کی جدید تبویب کی ہے اور احادیث و آثار کی تخریج بھی کی ہے ۔ عبدہ علی کوشک نے مسند ابی یعلی کو "المقصد الاعلی فی تقریب احادیث الحافظ ابی یعلی" کے نام سے فقہی ابواب پر مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب تین جلدوں میں دار ابن حزم بیروت سے چھپی ہے ۔
کتبِ حدیث کی اہم تہذیبات پیش خدمت ہیں:
1۔ تھذیب جامع الترمذی، عبد اللہ عبد القادر تلیدی ،دار الفکر ،بیروت(3مجلدات)
2۔ تقریب بلوغ المرام للحافظ، فہد بن عبد الرحمان یحیی ،طارق بن محمد الخضر ،دار ابن جوزی ،دمام
3۔ الشھاب اللامع  بتھذیب کتاب الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع، ضیاء الدین بن رجب ،دار الفتح، متحدہ عرب امارات
4۔ تھذیب الترغیب والترھیب، عونی نعیم اشرف ،دار الجیل ،بیروت(مجلدین ) 
5۔ تقریب التقریب  (لابن حجر)، عائض بن عبد اللہ القرنی ،مکتبہ ابہا ،سعودی
6۔ تقریب التدریب، صلاح محمد عویضہ ،دار الکتب العلمیہ ،بیروت
7۔ مھذب عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی، علی حسن عبد الحمید حلبی ،المکتبہ الاسلامیہ ،عمان

نویں جہت: کتبِ تخریجات 

معاصر سطح پر تخریج ِ حدیث کے سلسلے میں وسیع پیمانے پر کام ہوا ہے ،علم التخریج اور اس کے اصولوں و ضوابط پر پورا مکتبہ وجود میں آچکا ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ اصولِ حدیث میں لفظ تخریج متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔ معاصر اصطلاح میں خصوصیت کے ساتھ اس کے مفہوم میں دراسۃ الاسانید یعنی اسانید پر جرح و تعدیل کے اعتبار سے بحث کر کے حدیث کے درجے کا تعین کرنا بھی شامل ہوا ہے۔ یوں اس فن کی دقت اور اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ۔ اس لیے فن تخریج پر کثیر تعداد میں کتب لکھی گئی ہیں،ان کتب میں تفصیلی ہونے کے اعتبار سے عبد الموجود محمد عبد اللطیف کی کتاب کشف اللثام عن اسرار تخریج حدیثِ سید الانام قابل ذکر ہے ،یہ کتاب مکتبہ الازہر قاہرہ سے دو جلدوں میں چھپی ہے، فن تخریج اور اس کے اصولوں و ضوابط پر شاید سب سے ضخیم کتاب ہے۔
اس کے علاوہ تفصیلی کتب میں کمال علی الجمل کی کتاب کنز الدقائق فی بیان ما فی التخریج من دقائق (خاص ،قاہرہ)، معروف مصنف عداب محمود الحمش کی کتاب علم التخریج الحدیث و نقدہ، تاصیل و تطبیق (دار الفرقان، عمان)، دس مصنفین کی مشترکہ کاوش الواضح فی فن التخریج ودراسۃ الاسانید (الدار العالمیہ للنشر، عمان)، علی نائف بقاعی کی تخریج الحدیث الشریف (دار البشائر الاسلامیہ، بیروت) اور محمد عزت حسین کی ضخیم کتاب المغنی فی طرق تخریج الحدیث (خاص ،قاہرہ )اہم کتب ہیں ، جبکہ درسی حوالے سے معروف مدرس و مصنف محمود طحان کی مختصر و جامع کتاب اصول التخریج ودراسۃ الاسانید (المطبعہ العربیہ، حلب) قابل ذکر ہے۔
اس موضوع پر چند تفصیلی کتب کی فہرست پیش خدمت ہے:
1۔ طرق تخریج حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، عبد المہدی عبد الہادی ،جامعہ الازہر، مصر
2۔ تیسیر علم التخریج ، محمود عمر ہاشم ، مطبعہ الشروق ،مصر
3۔ التاصیل لاصول التخریج و قواعد الجرح و التعدیل، بکر بن عبد اللہ ابو زید ،دار العاصمہ ، ریاض
4۔ المغنی فی علم تخریج احادیث المصطفی، دلال محمو ابو سالم ،خاص ،مصر
5۔ مفتاح المتبدئین فی تخریج حدیث خاتم النبیین، رضا بن زکریا حمیدہ ،خاص قاہرہ
علم تخریج کے ساتھ علوم اسلامیہ کے مختلف گوشوں پر لکھی گئی کتب میں مذکور احادیث کی تخریج پر بے شمار کام ہوئے ہیں ۔ زیادہ تر کام ایم فل، پی ایچ ڈی مقالات کی صورت میں ہوئے ہیں۔ لغت ،نحو ،صرف ،بلاغت ،فقہ و اصول فقہ اور تفسیر پر لکھی گئی اہم کتب میں مذکور احادیث کی تخریج مع ان کی درجہ بندی پر کام ہوا ہے۔ چند اہم کام ملاحظہ ہوں :
احمد بن محمد الغماری نے بدایۃ المجتہد کی احادیث کی مفصل تخریج الھدایۃ فی تخریج احادیث البدایۃ کے نام سے کی ہے۔ یہ کتاب عالم الکتب بیروت سے آٹھ جلدوں میں چھپی ہے ۔ مروان کجک نے امام ابن تیمیہ کے مجموعہ فتاوی میں مذکور احادیث کی تخریج کی ہے ۔یہ قابل قدر کام تخریج احادیث مجموعۃ الفتاوی شیخ الاسلام تقی الدین احمد ابن تیمیہ الحرانی کے نام سے دار ابن حزم بیروت سے چھ جلدوں میں چھپا ہے ۔ مخیمر صالح نے ابونعیم کی معروف کتاب حلیۃ الاولیاء کی احادیث کی تخریج کی ہے ۔یہ کتاب کمال البغیۃ فی تخریج احادیث الحلیۃ کے نام سے جامعہ الیرموک اردن سے دو جلدوں میں چھپی ہے۔ 
ابن حجر عسقلانی کی بلوغ المرام احادیثِ احکام کے بنیادی مصادر میں شمار ہوتی ہے ، اس کتاب کی مفصل تخریج خالد بن ضیف اللہ الشلاحی نے کی ہے۔ یہ ضخیم کتاب التبیان فی تخریج وتبویب احادیث بلوغ المرام و بیان ما ورد فی الباب کے نام سے موسسہ الرسالہ بیروت سے آٹھ جلدوں میں چھپی ہے۔ ابن سنی کی عمل الیوم و اللیلۃ کتب اذکار میں اہم مقام کی حامل ہے ، اس کی تخریج معروف مصنف سلیم بن عید الہلالی نے عجالۃ الراغب المتمنی فی تخریج کتاب عمل الیوم و اللیلۃ لابن سنی کے نام سے کی ہے ،جو دار ابن حزم بیروت سے دو جلدوں میں چھپی ہے ۔ احمد بن محمد صدیق الغماری نے تصوف کی معروف کتاب عوارف المعارف کی احادیث کی تخریج غنیۃ العارف بتخریج احادیث عوارف المعارف کے نام سے کی ہے ۔یہ کتاب المکتبہ المکیہ مکہ مکرمہ سے دو جلدوں میں چھپی ہے۔
تخریج کے حوالے سے چند مزید اہم کتب کی فہرست پیش خدمت ہے :
1۔ ارواء الغلیل فی تخریج احادیث منار السبیل، ناصر الدین البانی ،المکتب الاسلامی ،بیروت (8 مجلدات)
2۔ تخریج االاحادیث الواردۃ فی مدونۃ الامام مالک بن انس، طاہر محمد دردیری، جامعہ ام القری، مکہ مکرمہ (3 مجلدات)
3۔ غوث المکدود بتخریج منتقی ابن الجارود، ابو اسحاق الحوینی ،حجازی بن محمد ،دار الکتاب العربی، بیروت (3 مجلدات)
4۔ الروض البسام بترتیب و تخریج فوائد التمام، دار البشائر الاسلامیہ ،بیروت (5مجلدات)
5۔ فتح الجلا ل فی تخریج احادیث الظلال (سید قطب)عبد المنعم ابراہیم ،محمد ابراہیم ،مکتبہ نزار ،مکہ مکرمہ (3 مجلدات)
6۔ التعلیقات الحسان علی صحیح ابن حبان، ناصر الدین البانی ،جدہ (12 مجلدات) صحیح ابن حبان کی احادیث کی تخریج ہے۔ 
7۔ الاحادیث والآثار الواردۃ فی تاریخ بغدادللخطیب البغدادی، علی بن عبد اللہ الجمعہ، جامعہ ام القری (6مجلدات)
کتب تخریجات علمی تحقیقات میں بڑی معاون ہیں، ان کتب کی مدد سے احادیث پر تحقیق اور درجہ بندی کا تعین آسان ہوجاتا ہے۔

دستور کی اسلامی دفعات اور ’’سیاسی اسلام‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ربع صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ گکھڑ میں حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر? کی مسجد میں دینی جلسہ تھا، اس دور کے ایک معروف خطیب بیان فرما رہے تھے، موضوعِ گفتگو دارالعلوم دیوبند کی خدمات و امتیازات تھا۔ جوشِ خطابت میں انہوں نے یہ فرما دیا کہ دارالعلوم دیوبند نے شاہ اسماعیل شہید جیسے سپوت پیدا کیے۔ جلسہ کے بعد دسترخوان پر ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ حضرت! دارالعلوم دیوبند کا آغاز 1866ء میں ہوا تھا جبکہ شاہ اسماعیل شہید اس سے تقریباً پینتیس سال قبل بالاکوٹ میں شہید ہوگئے تھے، آپ نے انہیں دارالعلوم دیوبند کے سپوتوں میں کیسے شامل کر لیا؟ فرمانے لگے کہ یہ بات میرے ذہن میں نہیں تھی آئندہ اس کا خیال رکھوں گا۔ بھلے آدمی تھے، انتقال کر گئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ شاہ اسماعیل شہید اور ان کے رفقاء کی قربانیوں کے نتیجے میں دارالعلوم دیوبند وجود میں آیا مگر شہدائے بالاکوٹ کو دارالعلوم دیوبند کے ثمرات میں شامل کرنے والی بات درست نہیں ہے۔
ہمارے ہاں تاریخ سے بے خبری کے باعث اس قسم کی باتیں عام طور پر ہو جاتی ہیں جو لاعلمی کی وجہ سے ہوں تو زیادہ سے زیادہ جہالت کا عنوان پاتی ہیں، لیکن اگر ایسی باتیں باخبر ہوتے ہوئے بھی جان بوجھ کر کی جائیں تو اس کے لیے بے خبری اور جہالت کی بجائے دجل اور جاہلیت کا عنوان زیادہ مناسب ہوتا ہے۔ آج کل ایک بات تواتر کے ساتھ کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے دستور میں اسلامی دفعات جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے شامل کی تھیں اور یہ ان کے دورِ آمریت کی یادگار ہیں۔ حالانکہ دستور کی بنیادی اسلامی دفعات ۱۹۷۳ء اور ۱۹۷۴ء میں منتخب پارلیمنٹ نے طے کی تھیں مثلاً (۱) ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگا (۲) سرکاری مذہب اسلام ہوگا (۳) پارلیمنٹ قرآن و سنت کی پابند ہوگی (۴) قرآن و سنت کے منافی قانون سازی نہیں کی جا سکے گی اور (۵) قادیانیوں کا شمار غیر مسلم اقلیتوں میں ہوگا۔ جبکہ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم اس وقت فوج کی ہائی کمان کا حصہ بھی نہیں تھے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے مگر ہمارے ہاں چونکہ سیاست میں نکولو میکیاولی اور پراپیگنڈا اور لابنگ میں جوزف گوئبلز کے ذوق و اسلوب کی حکمرانی ہے اس لیے یہ سب کچھ کسی حجاب کے بغیر کہا اور دہرایا جا رہا ہے۔
اسی طرح ایک بات ’’سیاسی اسلام‘‘ کے عنوان سے بھی وضع کر لی گئی ہے کہ جنوبی ایشیا میں اس کا پرچم سب سے پہلے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے بلند کیا تھا، اس لیے یہ ان کی اختراع ہے۔ ’’سیاسی اسلام‘‘ کے تعارف کے لیے اس کے عناصر اربعہ کے طور پر جو باتیں آج کل بیان کی جا رہی ہیں وہ یہ ہیں کہ
آج کی دنیا میں ان امور کو ’’سیاسی اسلام‘‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور مغربی دانش و سیاست کا مسلسل یہ تقاضا ہے کہ ہم ان امور سے دست بردار ہو کر دین و مذہب کو عقیدہ و عبادت اور اخلاقیات کے دائرے میں ہی محدود سمجھ لیں۔ اس سلسلہ میں باقی تمام پہلوؤں سے قطع نظر کرتے ہوئے ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ اگر اس کا نام ’’سیاسی اسلام‘‘ ہے تو یہ مولانا مودودی کی ایجاد نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں ہمارے بہت پہلے کے ماضی میں پیوست ہیں۔ حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی اور حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی دخل اندازی بڑھتے دیکھ کر جو تاریخی فتویٰ صادر کیا تھا اس کی بنیاد دو بڑے نکات پر تھی:
اس وقت رسمی طور پر مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کی حکومت تھی اور ایسٹ انڈیا کمپنی بادشاہ کے نام پر وہ اقدامات کر رہی تھی جن کی بنیاد پر ہندوستان کے ’’دارالحرب‘‘ ہونے کا یہ فتویٰ صادر کیا گیا تھا۔ پھر اسی فتویٰ کی بنیاد پر سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے مسلح بغاوت اور جہاد کے نتیجے میں جو حکومت قائم کی تھی وہ امیر المومنین کی سربراہی میں اسلامی حکومت تھی۔ کم و بیش اسی دور میں بنگال میں حاجی شریعت اللہ کی ’’فرائضی تحریک‘‘ کا ٹائٹل بھی غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت اور نفاذِ شریعت تھا۔ جبکہ اس کے بعد برصغیر کے طول و عرض میں جو بیسیوں تحریکات اٹھیں وہ غیر ملکی تسلط سے نجات اور شرعی احکام و قوانین کے نفاذ کے عنوان سے آگے بڑھیں۔ حتیٰ کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے خلافت عثمانیہ، جرمنی، جاپان اور افغانستان کی حکومتوں کے تعاون سے جس انقلاب کی منصوبہ بندی کی تھی اس کا ٹائٹل ’’حکومتِ الٰہیہ‘‘ تھا جس کا دستورِ اساسی بھی شائع ہو چکا تھا اور اس کے مسلح لشکر کا عنوان ’’جنود ربانیہ‘‘ تھا۔
اس لیے اگر کسی دانشور کو یہ ’’سیاسی اسلام‘‘ قبول نہیں ہے اور حکومت و سیاست اور غلبہ و بالادستی کے عنوان سے انہیں الرجی ہوتی ہے تو وہ انقلابِ فرانس کے بعد کی مسیحیت کی طرز پر اسلام کو جس لبادے میں چاہیں پیش کرتے رہیں مگر خدارا تاریخی حقائق کو مسخ نہ کریں اور تاریخ کی ترتیب تبدیل کرنے کی کوشش نہ فرمائیں۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جسے ’’سیاسی اسلام‘‘ کہہ کر پس منظر میں دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ ماضی قریب کی تاریخ میں شاہ عبد العزیز دہلوی، شاہ اسماعیل شہید، سید احمد شہید، حاجی شریعت اللہ، تیتومیر شہید، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، شیخ الہند مولانا محمود حسن، فقیر ایپی، حاجی صاحب ترنگ زئی، مولانا عبید اللہ سندھی او رپیر صاحب آف پگارا شہید کے پرچم تلے آگے بڑھتا رہا اور آج بھی انہی کے خوشہ چینوں نے اپنے ہاتھوں میں اس کا پرچم بحمد اللہ تعالیٰ تھام رکھا ہے۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اگر اس ’’سیاسی اسلام‘‘ کو اپنے اسلوب میں پیش کیا ہے تو ان کے اسلوب سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ مولانا مودودی کی بہت سی باتوں سے جمہور علماء اہل سنت کو اختلاف ہے اور ہم اس اختلاف میں جمہور علماء اہل سنت کے ساتھ ہیں لیکن جہاں نفاذِ اسلام کی جدوجہد میں مولانا مودودی کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا، وہاں ان سے اختلاف کی آڑ میں برصغیر کی دو سو سالہ تحریکِ آزادی کے نظریاتی اور دینی مقاصد کو نئی نسل کی نگاہوں سے اوجھل کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔

بیت المقدس کو اسرائیلی دار الحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امریکی صدر ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اس مسئلہ پر عالم اسلام کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے اب تک چلے آنے والے اجتماعی موقف کو بھی مسترد کر دیا ہے جس پر دنیائے اسلام اس کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ اس مذمت و احتجاج میں عالمی رائے عامہ کے سنجیدہ حلقے برابر کے شریک ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم او آئی سی اور عرب لیگ اس سلسلہ میں مذمت و احتجاج سے آگے بڑھ کر عملی طور پر کیا اقدامات کرتی ہے؟ مذمت و احتجاج کا سلسلہ تو ایک صدی سے جاری ہے، ضرورت عملی اقدامات کی ہے اور اس کے لیے پوری دنیا کی نظریں مسلمان حکمرانوں اور عرب حکومتوں پر ہیں۔ خدا کرے کہ وہ ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کے سحر سے نکل کر اس طرف کوئی عملی پیش رفت کر سکیں۔
اب سے چودہ برس قبل فلسطین کو اسرائیل میں تبدیل کرنے کے حوالہ سے برطانیہ کے کردار کا ہم نے مختصراً ایک مضمون میں ذکر کیا تھا جبکہ امریکہ اسی برطانوی کردار کے تسلسل کو آگے بڑھانے میں مصروفِ عمل ہے۔ یہ مضمون دوبارہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے جس سے بیت المقدس اور فلسطین کے بارے میں اسرائیل، امریکہ اور اس کے حواریوں کے مستقبل کے عزائم کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ربع صدی کے دوران عالمی استعمار کی گرفت دنیا کے معاملات پر جس طرح مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ہے اور وہ جس دیدہ دلیری اور بے فکری سے اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کو تیز سے تیز تر کرتے چلے جا رہے ہیں اور مسلم قیادت جس طرح خوابِ غفلت میں مدہوش دکھائی دے رہی ہے اس پر ہم اپنے جذبات و احساسات عالمِ تصور میں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور اس درخواست کی صورت میں ہی کر سکتے ہیں کہ
اے خاصہ خاصانِ رسل وقت دعا ہے
امت پر تری آکے عجب وقت پڑا ہے
’’روزنامہ نوائے وقت لاہور نے 5 مارچ 2003ء کو ایک اسرائیلی اخبار کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ اسرائیل کے وزیر دفاع جنرل موفاذ نے کہا ہے کہ چند روز تک عراق پر ہمارا قبضہ ہوگا اور ہمارے راستے میں جو بھی رکاوٹ بنے گا اس کا حشر عراق جیسا ہی ہوگا۔ جنرل موفاذ نے خلافت عثمانیہ کا حوالہ بھی دیا ہے کہ عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید نے ہمیں فلسطین میں جگہ دینے سے انکار کیا تھا جس کی وجہ سے ہم نے نہ صرف ان کی حکومت ختم کر دی بلکہ عثمانی خلافت کا بستر ہی گول کر دیا۔ اب جو اسرائیل کی راہ میں مزاحم ہوگا اسے اسی انجام سے دو چار ہونا پڑے گا۔
اسرائیلی وزیر دفاع کے اس بیان سے یہ حقیقت ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے کہ عراق پر امریکی حملے کا منصوبہ در اصل صیہونی عزائم کی تکمیل کے لیے ہے اور اس عالمی پروگرام کا حصہ ہے جو عالم اسلام کے وسائل پر قبضہ اور اسرائیلی سرحدوں کو وسیع اور مستحکم کرنے کے لیے گزشتہ ایک صدی سے تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور اس میں امریکہ، برطانیہ اور ان کے اتحادی مسلسل سرگرم عمل ہیں۔
آج سے ایک صدی قبل سلطان عبدالحمید (ثانی) خلافت عثمانیہ کے تاجدار تھے جن کا تذکرہ جنرل موفاذ نے اپنے مذکورہ بیان میں کیا ہے۔ خلافت عثمانیہ کا دار السلطنت استنبول ( قسطنطنیہ) تھا اور فلسطین، اردن، عراق، شام، مصر اور حجاز سمیت اکثر عرب علاقے ایک عرصہ سے خلافت عثمانیہ کے زیر نگین تھے۔ فلسطین خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا اور بیت المقدس کا شہر بھی عثمانی سلطنت کے اہم شہروں شمار ہوتا تھا۔ یہودی عالمی سطح پر فلسطین میں آباد ہونے اور اسرائیلی ریاست کے قیام کے ساتھ ساتھ بیت المقدس پر قبضہ کر کے مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی تعمیرکرنے کا پروگرام بنا چکے تھے اور اس کے لیے مختلف حوالوں سے راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ سلطان عبدالحمید مرحوم نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ یہودیوں کی عالمی تنظیم کا وفد ان کے پاس آیا اور ان سے درخواست کی کہ انہیں فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دی جائے۔ چونکہ عثمانی سلطنت کے قانون کے مطابق یہودیوں کو فلسطین میں آنے کی اور بیت المقدس کی زیارت کی اجازت تو تھی مگر وہاں زمین خریدنے اور آباد ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ چنانچہ بیسویں صدی کے آغاز تک پورے فلسطین میں یہودیوں کی کوئی بستی نہیں تھی، یہودی دنیا کے مختلف ممالک میں بکھرے ہوئے تھے اور کسی ایک جگہ بھی ان کی ریاست یا مستقل شہر نہیں تھا۔ سلطان عبدالحمید مرحوم نے یہ درخواست منظور کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اسرائیل، بیت المقدس اور فلسطین کے بارے میں یہودیوں کا عالمی منصوبہ ان کے علم میں آچکا تھا اس لیے ان کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اس صورتحال میں یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دیتے۔
سلطان مرحوم کا کہنا ہے کہ دوسری بار یہودی لیڈروں کا وفد ان سے ملا تو یہ پیشکش کی کہ ہم سلطنت عثمانیہ کے لیے ایک بڑی یونیورسٹی بنانے کے لیے تیار ہیں جس میں دنیا بھر سے یہودی سائنس دانوں کو اکٹھا کیا جائے گا اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے لیے یہودی سائنسدان خلافت عثمانیہ کا ہاتھ بٹائیں گے، اس کے لیے انہیں جگہ فراہم کی جائے اور مناسب سہولتیں مہیا کی جائیں۔ سلطان عبدالحمید مرحوم نے وفد کو جواب دیا کہ وہ یونیورسٹی کے لیے جگہ فراہم کرنے اور ہر ممکن سہولتیں دینے کو تیار ہیں بشرطیکہ یہ یونیورسٹی فلسطین کی بجائے کسی اور علاقہ میں قائم کی جائے۔ یونیورسٹی کے نام پر وہ یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت نہیں دیں گے لیکن وفد نے یہ بات قبول نہ کی۔
سلطان عبدالحمید مرحوم نے لکھا ہے کہ تیسری بار پھر یہودی لیڈروں کا وفد ان سے ملا اور یہ پیشکش کی کہ وہ جتنی رقم چاہیں انہیں دے دی جائے گی مگر وہ صرف یہودیوں کی ایک محدود تعداد کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دے دیں۔ سلطان مرحوم نے اس پر سخت غیظ و غضب کا اظہار کیا اور وفد کو ملاقات کے کمرے سے فوراً نکل جانے کی ہدایت کی نیز اپنے عملہ سے کہا کہ آئندہ اس وفد کو دوبارہ ان سے ملاقات کا وقت نہ دیا جائے۔
اس کے بعد ترکی میں خلافت عثمانیہ کے فرمانروا سلطان عبد الحمید مرحوم کے خلاف سیاسی تحریک کی آبیاری کی گئی اور مختلف الزامات کے تحت عوام کو ان کے خلاف بھڑکا کر ان کی حکومت کو ختم کرا دیا گیا۔ چنانچہ حکومت کے خاتمہ کے بعد انہوں نے بقیہ زندگی نظر بندی کی حالت میں بسر کی اور اسی دوران مذکورہ یادداشتیں تحریر کیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ انہیں خلافت سے برطرنی کا پروانہ دینے کے لیے جو وفد آیا اس میں ترکی پارلیمنٹ کا یہودی ممبر قرہ صو بھی شامل تھا جو اس سے قبل مذکورہ یہودی وفد میں بھی شریک تھا۔ اور یہ اس بات کی علامت تھی کہ سلطان مرحوم کے خلاف سیاسی تحریک اور ان کی برطرنی کی یہ ساری کارروائی یہودی سازشوں کا شاخسانہ تھی جس کی تصدیق اب تقریباً ایک صدی گزر جانے کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع جنرل موفاذ نے بھی مذکورہ بیان میں کر دی۔
سلطان عبد الحمید مرحوم ایک باغیرت اور باخبر حکمران تھے جنہوں نے اپنی ہمت کی حد تک خلافت کا دفاع کیا اور یہودی سازشوں کا راستہ روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے لیکن ان کے بعد بننے والے عثمانی خلفاء کٹھ پتلی حکمران ثابت ہوئے جن کی آڑ میں مغربی ممالک اور یہودی اداروں نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے ایجنڈے کی تکمیل کی اور 1924ء میں خلافت کا خاتمہ ہو گیا۔ ترکوں نے عرب دنیا سے لاتعلقی اختیار کر کے ترک نیشنلزم کی بنیاد پر سیکولر حکومت قائم کرلی، جبکہ مکہ مکرمہ کے گورنر حسین شریف مکہ نے، جو اردن کے موجودہ حکمران شاہ عبد اللہ کے پردادا تھے، خلافت عثمانیہ کے خلاف مسلح بغاوت کر کے عرب خطہ کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ انہیں یہ چکمہ دیا گیا تھا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد ان کی خلافت عالم اسلام میں قائم ہو جائے گی مگر ان کے ایک بیٹے کو عراق اور دوسرے بیٹے کو اردن کا بادشاہ بنا کر ان کی عرب خلافت کا خواب سبو تاڑ کر دیا گیا۔ جبکہ حجاز مقدس پر آل سعود کے قبضہ کی راہ ہموار کر کے حسین شریف کو نظر بند کر دیا گیا جنہوں نے باقی زندگی اسی حالت میں گزاری۔
اس دوران فلسطین پر برطانیہ نے قبضہ کر کے اپنا گورنر بٹھا دیا جس نے یہودیوں کو اجازت دے دی کہ وہ فلسطین میں آکر جگہ خرید سکتے ہیں اور آباد ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ دنیا کے مختلف ممالک سے منظم پروگرام کے تحت یہودیوں نے فلسطین میں آکر آباد ہونا شروع کیا۔ وہ فلسطین میں جگہ خریدتے تھے اور اس کی دوگنی چوگنی قیمت ادا کرتے تھے۔ فلسطینی عوام نے اس لالچ میں جگہیں فروخت کیں اور علماء کرام کے منع کرنے کے با وجود محض دگنی قیمت کی لالچ میں یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کا موقع فراہم کیا۔ اس وقت مفتی اعظم فلسطین الحاج سید امین الحسینی اور ان کی حمایت میں عالم اسلام کے سرکردہ علماء کرام نے فتویٰ صادر کیا کہ چونکہ یہودی فلسطین میں آباد ہو کر اسرائیلی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں اور بیت المقدس پر قبضہ ان کا اصل پروگرام ہے اس لیے یہودیوں کو فلسطین کی زمین فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ یہ فتویٰ دیگر بڑے علماء کرام کی طرح حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی جاری کیا جو ان کی کتاب ’’ بوادر النوادر‘‘ میں موجود ہے۔ مگر فلسطینیوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور دنیا کے مختلف اطراف سے آنے والے یہودی فلسطین میں بہت سی زمینیں خرید کر اپنی بستیاں بنانے اور آباد ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ حتیٰ کہ 1945ء4 میں اقوام متحدہ نے یہودیوں کو فلسطین کے ایک حصے کا حقدار تسلیم کر کے ان کی ریاست کے حق کو جائز قرار دے دیا اور فلسطین میں اسرائیل اور فلسطین کے نام سے دو الگ الگ ریاستوں کے قیام کی منظوری دے دی جس کے بعد برطانوی گورنر نے اقتدار یہودی حکومت کے حوالہ کر دیا۔
یہ اس بیان کا مختصر سا پس منظر ہے جس میں اسرائیلی وزیر دفاع کے جنرل موفاذ نے خلافت عثمانیہ کے فرمانروا سلطان عبد الحمید مرحوم کی معزولی اور خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں یہودی کردار کا ذکر کیا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ عالم اسلام کے دشمن کس قدر چوکنا، با خبر اور مستعد ہیں اور اس کے مقابلہ میں ہماری بے حسی، بے خبری اور نا عاقبت اندیشی کی سطح کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں،آمین یا رب العالمین۔‘‘
(روزنامہ اسلام، لاہور۔ ۱۷ مارچ ۲۰۰۳)

ظلماتِ وقت میں علم و آگہی کے چراغ (۲)

پروفیسر غلام رسول عدیم

مدرسہ نصرۃ العلوم

چوک گھنٹہ گھرسے مغرب کی جانب مسجد نور سے ملحق مرسہ نصرۃالعلوم ضلع گوجرانوالہ کی عظیم دینی درس گاہ ہے۔ ۱۳۷۱ء بمطابق۱۹۵۲ء کومدرسہ کی بنیاد رکھی گئی۔ مدرسہ کی سہ منزلہ عظیم لشان عمارت ۴۷کمروں پرمشتمل ہے، جن میں ۱۹۰طلباء کی اقامتی گنجائش ہے۔ مدرسہ کے مہتمم حکیم صوفی عبدالحمیدسواتی (فاضل دارالعلوم دیوبند، فاضل دارالمبلغین لکھنؤ، مستندنظامیہ طبیہ کالج حیدرآباددکن )ایک عالم باعمل اور درویش صفت انسان ہیں۔ یوں تومدرسہ انجمنِ نصرۃ العلوم کے تحت چل رہاہے مگرمہتمم کی پرکشش شخصیت مدرسے کے جملہ انصرامی امور کامحورومرکزہے۔ وہ مسجدمیں خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ ان کے سلسلہ درس قرآن میں کوئی ۲۰۰کی تعدادمیں ہرروزحاضری ہوتی ہے جو ساتھ ساتھ طبع بھی کیاجا رہاہے۔ چارجلدیں زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ مدرسے کامسلک حنفی دیوبندی ہے۔
صدرمدرس کے فرائض شیخ الحدیث مولانامحمدسرفرازخاں صفدرؔ اداکرتے ہیں۔ مولاناموصوف عصر حاضر کے جیدعلماء حدیث میں شمارکیے جاتے ہیں۔ علوم حدیث خصوصاً"علم اسماء الرجال"پران کی گہری نظرہے۔ وہ علوم دینیہ کے ایک ماہرعالم، ایک محنتی استاد، ایک بلندپایہ مصنف اورایک ملنساراورشگفتہ طبع انسان ہیں۔ ان کی تصانیف اعلیٰ علمی حلقوں میں قدرکی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ وہ راہِ سنت، راہِ ہدایت، صرف ایک اسلام(بجواب دواسلام از ڈاکٹر برق)، احسن الکلام (۲جلد)، الکلام الحاوی، تبریدالنواظر، گلدستہ توحید، ازالۃالریب اور شوقِ حدیث کے علاوہ کوئی چاردرجن کے لگ بھگ کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کا انداز تحریر عامۃالناس کے لیے عام فہم اورخواص علماء کے لیے علمی استدلال سے مملوہوتاہے۔ ان کی دینی بصیرت قابل اعتماد، تفہیمِ مسائل قابل قدر، تحقیقات علمی قابل داد اور زہدوتقوی قابل رشک ہیں۔ ان کے تبلیغی اورمناظراتی رسائل منطقی دلائل وبراہین کالاجواب شاہکارہیں۔ مدرسے کی تعطیلات کے دومہینے کے دوران میں وہ ترجمہ و تفسیر کاخصوصی درس دیتے ہیں جس میں منتہی طلباء کے علاوہ جدیدتعلیم یافتہ اصحاب بھی شامل ہوتے ہیں۔ باقاعدہ امتحان کے بعدامیدواروں کوسندات دی جاتی ہیں۔
مدرسے میں درس نظامی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ نصاب ۸سے۱۰سال تک ہے۔ طلباء کی مجموعی تعداد ۱۵۰ ہے۔ مسجدکاوسیع ہال اورصحن مختلف درجوں کی جماعتوں کی درس گاہ کاکام دیتاہے۔
مدرسے کے دارالافتاء کی سرگرمی کارقابلِ ستائش ہے۔ مفتی محمدعیسیٰ گورمانی فرائض تدریس کے ساتھ ساتھ فتوے جاری کرتے ہیں۔ ان کاریکارڈ بھی رکھتے ہیں ان کی مددکے لیے مفتی عبدالشکوربطورنائب مفتی کام کرتے ہیں۔ کتب خانہ سہ منزلہ ہے۔ درسی کتابوں کے علاوہ کوئی چارہزار کے قریب دینی وادبی کتابیں نہایت قرینے سے سجائی گئی ہیں۔ مولانامحمداشرف ناظم کتب خانہ ہیں جونہایت محنتی ہیں۔ انتظامی امور مولانا حافظ عبدالقدوس قارن کے سپردہیں جو پورے مدرسے کے ناظم ہیں۔
شروع میں یہ متروکہ جگہ تھی۔ مدرسہ کی بنیاد رکھتے وقت کسی کوسان گمان نہ تھاکہ ایک دن یہ درس گاہ اس قدر شان دار عمارت اورجاندارکام کاعمدہ نمونہ ہوگی۔ ہرسال کوئی بیس کے لگ بھگ طالب علم وفاق المدارس کا امتحان پاس کرکے دینی خدمت کے جذبے سے سرشارہوکریہاں سے فارغ ہوتے ہیں۔ مدرسے کاسالانہ بجٹ چھ لاکھ سے سات لاکھ روپے تک ہے۔ حسابات کی باقاعدہ پڑتال کے لیے ایک محتسب مقرر ہے۔ مدرسہ حکومت سے کسی قسم کی استعانت نہیں کرتا۔
اساتذہ کرام کے اسماء گرامی یہ ہیں:
شیخ الحدیث مولانامحمدسرفرازخاں صفدرؔ (صدر مدرس)، مولانا صوفی عبدالحمیدسواتی (مہتمم )، مولاناحافظ عبدالقدوس قارن، مولاناعبدالقیوم، مولانا عبدالمہیمن، مولاناسید غازی شاہ، مولانا مفتی محمدعیسیٰ گورمانی، مولانا محمد یوسف، مولانا فاروق احمدکھٹانہ، مولانامحمداشرف صابر، مولانا عبدالشکور، مولانا حافظ رشیدالحق عابد۔
مدرسہ وفاق المدارس سے وابستہ ہے۔ فاضلین میں چندکے اسماء گرامی یہ ہیں :
حافظ محمودالحسن (آزادکشمیر)، مولاناقاری محمدسلیمان( جہلمی)، مفتی محمدعیسیٰ گورمانی (مفتی مدرسہ)، مولانا عبدالرحیم (سرگودھا)، مولاناعبدالقیوم( مدرس مدرسہ)، مولانازاہدالراشد ی( مدرس انوارالعلوم)۔ مدرسہ وفاق المدارس سے وابستہ ہے۔
اس دینی مدرسے کے شیخ الحدیث اورصدرمدرس مولانامحمدسرفرازخاں صفدرؔ کااجمالی تعارف درج ذیل ہے۔
صحیح تاریخ ولادت تومعلوم نہیں، البتہ سال ولادت ۱۹۱۴ء مولدومنشاچیڑاں ڈھکی داخلی کڑمنگ بالاتحصیل مانسہرہ (ضلع ہزارہ)حال ضلع مانسہرہ۔ والدگرامی کانا م نوراحمدخاں بن گل احمد خاں۔  
شیخ سعدی نے کہاتھا:
تمتع زہرگوشۂ یافتم
زہر خرمنے خوشۂ یافتم
کچھ یہی حال مولاناموصوف کابھی ہے۔ ابتدائی تعلیم قریبی موضع بٹل اورشیرپورسے حاصل کی بعدازاں مانسہرہ میں بغرض تعلیم چلے آئے۔ یہاں ان دنوں مرحوم مولاناغلام غوث ہزاروی مدرس تھے۔ ۱۹۳۴ء میں لاہور آئے۔ پھروڈالہ سندھواں ضلع سیالکوٹ میں مولانامحمداسحاق سے فیض اٹھایا۔ ۱۹۳۷ء میں انّہی ضلع گجرات سے مولاناولی اللہ سے اکتساب کیا۔ ملتان میں مدرسہ مفتی عبدالکریم میں پڑھتے رہے۔ جہانیاں منڈی میں مدرسہ رحمانیہ میں مولاناغلام محمد لدھیانوی اورمولاناعبدالخالق سے پڑھاپھرمدرسہ انوارالعلوم گوجرانوالہ میں مولانا عبدالقدیراورمفتی عبدالواحد سے استفادہ کیا۔ اصول فقہ، فقہ، تفسیر، اصول حدیث، منطق، صرف، نحو حتی کہ حدیث میں بھی منتہی ہونے کے باوجوداس حدیث کے مصداق کہ اثنان لایشبعان طالب علم وطالبِ مال (دوآدمی کبھی سیرنہیں ہوتے علم کاچاہنے والااورمال کا چاہنے والا۔
اپنے برادرخورد صوفی عبدالحمیدسواتی کوہمراہ لے کردیوبندکے لیے رخت سفرباندھا۔
چلی ہے لے کے وطن کے نگارخانے سے
شراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو
۱۹۴۱ء میں دیوبندگئے، اپنے وقت کے جیداساتذہ سے فیض اٹھایا۔ ان کے اساتذہ میں وہ جگمگاتے نام آتے ہیں جوعلم ودانش کے آفتاب وماہتاب تھے ان میں چنداہم یہ ہیں:
دیوبندسے واپسی پرگوجرانوالہ میں مدرسہ انوارالعلوم میں فرائض تدریس سنبھالے، ساتھ ہی گکھڑ میں بھی درس و تدریس کا آغازکردیا۔ ۱۹۵۶ء میں مولاناصوفی عبدالحمید(موصوف کے برادرخورد)کے زیرِاہتمام چلنے والے مدرسے نصرۃالعلوم میں بطورِصدرمدرس اورشیخ الحدیث آپ کی خدمات لے لی گئیں۔ سالہاسال تک ٹیچرز ٹریننگ سکول گکھڑمیں بعدازنمازعصرسلسلہ درس قرآن جاری رہامگرآج کل بوجوہ موقوف ہے۔ مولانا کی ذات گرامی اپنی ذات میں ایک انجمن ہے۔ وہ دورحاضرمیں اساتذۃ علوم حدیث میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ علمِ رجال پرخصوصی طور پر ان کی نگاہ گہری ہے۔ آپ کادرس قرآن ہویادرسِ حدیث یوں محسوس ہوتا ہے کہ علم و حکمت، دینی بصیرت اوررموزو غوامض کاایک ٹھاٹھیں مارتاہواسمندرہے جس کے سامنے خیالات فاسدہ اورعقائدباطلہ خس وخاشاک کی طرح بہتے چلے جاتے ہیں۔ ایک مینارۂ نورہے کہ جہالت و نافہمی کی تاریکیاں کافور ہوتی چلی جاتی ہیں۔ کلام میں نہ خشونت ہے نہ تیزگفتاری، ٹھہرٹھہرکربات کرتے ہیں جو سامع کے ذہن کواپیل کرتی ہوئی دل تک اترجاتی ہے۔ شب ور وزقرآن وحدیث کی تعلیم کی دھن ہے۔ لکھتے ہیں تو قلم موتی رولتاہے۔ ادق اورگنجلک علمی مسائل کونہایت شگفتہ پیرائے میں واضح کردیتے ہیں۔ آپ ماضی بعیدکے کثیرالتصانیف بزرگوں کی زندہ نشانی ہیں۔ اندازتحریرمیں ادبی رعنائی بھی ہے اوراستدلال کازور بھی، جامعیت بھی ہے اوردلآویزی بھی، برجستہ اوربرمحل استشہادکے استعمال سے وہ مشکل سے مشکل عبارت میں بھی رنگینی پیداکرلیتے ہیں۔ مناظرانہ اورمجادلانہ تحریروں کے جواب میں ان کاقلم دودھاری تلواربن جاتاہے تاہم ثقاہت اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ ان کی تحریرکی سب سے بڑی خصوصیت عالمانہ شان ہے جس میں رکاکت و ابتذال نام کی کوئی چیزنہیں ہوتی۔ بعض تحریریں پڑھ کریوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک گلیشیربلندی سے یوں آ رہا ہے کہ ہرشے کواپنے ساتھ بہائے لیے جاتاہے۔
مکر، مفر، مقبل، مدبر معاً
کجلمودصخر حطہ السیل من عل
( امرؤ القیس)
موصوف کی تعلیمی وتصنیفی زندگی سے ہٹ کرنجی اورشخصی زندگی کاجائزہ کیاجائے تومعلوم ہوگاوہ علم وعمل اورزہدو تقوی میں قرنِ اول کے بزرگوں کی سچی تصویرہیں۔ کئی جسمانی عوارض اٹھائے لیے پھرنے کے باوجود یہ گوہرشبِ چراغ شب وروز ایک اورصرف ایک ہی دھن میں مگن ہے کہ ارتیاب آگیں ماحول نورِیقیں سے جگمگا اٹھے، ایمان وایقاں کے اجالے پھیلیں، توحیدورسالت کاغلغلہ بلندہو۔ وہ ضعف پیری میں مبتلاضرورہے مگر اس کے پرعزم شیب پرہزارشباب قربان۔ سنِ ستربرس سے متجاوزہے مگررعنائی خیال اوربرنائی ذوق حدیث میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا۔

جامعہ مدینۃ الاسلام 

جنرل بس سٹینڈکے قریب ماڈل ٹاؤن میں جامعہ مدینۃالاسلام واقع ہے مدرسے کامسلک حنفی بریلوی ہے۔ علامہ سعیداحمدمجددی مہتمم مدرسہ اورخطیب جامع مسجدنقشبندیہ ہیں۔ مدرسے کاقیام ۶اکتوبر۱۹۷۸ء کو عمل میں آیا۔ اس لحاظ سے شہرکے کئی قدیم مدارس کی نسبت یہ مدرسہ اپنے ایام طفلی میں ہے۔ دومدرس کتابوں کی تعلیم کے لیے ہیں اوردو اساتذہ شعبۂ حفظ وناظرہ میں فرائض تدریس انجام دیتے ہیں۔ طلباء کی تعداد۲۰۰کے لگ بھگ ہے۔ ۱۵۰مقامی اور۵۰ بیرونی۔ مدرسہ اقامتی ادارہ ہے۔ کتب خانے میں ایک ہزارکتابیں ہیں۔ عمارتِ جامعہ دس کمروں پرمشتمل ہے۔ دوسری منزل کاپروگرام بھی پیش نظرہے۔ مدرسہ انجمن نقشبندیہ مجددیہ کے زیراہتمام چل رہاہے۔ دوسرے دینی مدارس کی طرح یہ جامعہ بھی اہل خیرکے تعاون سے کام کررہی ہے۔ ۱۹۸۲ء میں سالانہ بجٹ ۱۰۵۵۲۵روپے تھا۔ تعمیرکے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ جامعہ کانصاب وہی ہے جو جامعہ غوثیہ بھیرہ میں زیرتدریس ہے۔
مدرسے کوپاکستان کے مایہ نازعالم دین اورمشہورماہرتعلیم جسٹس پیرکرم شاہ کی اعزازی سرپرستی اوررہنمائی ہے۔ علامہ سعید احمدمجددی راجوری (مقبوضہ کشمیر)کے ایک علمی ودینی خاندان کے چشم وچراغ ہیں۔ جامعہ انوارالعلوم ملتان سے دورۂ حدیث کی تکمیل کی۔ دورہ قرآن کی سندشیخ القرآن علامہ عبدالغفورہزاروی جامعہ نظامیہ غوثیہ وزیرآبادسے حاصل کی۔ ان کی تبلیغی وتدریسی سرگرمیاں اس امرکاپتہ دیتی ہیں کہ وہ خلوص ودیانت سے سرگرم عمل رہے تووہ دن دور نہیں جب یہ مدرسہ شہرکے صف اول کے مدارس کے ہم پلہ ہوسکے گا۔ وہ دارالعلوم نقشبندیہ قبرستان کے بھی ناظم اعلیٰ ہیں وہ حضرت خواجہ صوفی محمدعلی نقشبندی سے بیعت ہیں۔
وہ مجلس تعلیمات مجددیہ کے زیراہتمام لٹریچربھی شائع کرتے ہیں۔ اہم تالیفات یہ ہیں : سرمایہ ملت کا نگہبان، درس طریقت، آداب الحرمین، اسلام میں عیدمیلادالنبی ﷺکی حیثیت اورشجرہ خواجگان نقشبندیہ۔  
چونکہ مدرسہ درس میں ترمیم وتنسیخ کاقائل ہے اس لیے یہاں جدیدذہن تیارکرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ میٹرک سے بی۔ اے تک آرٹس کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ ، ادیب عربی، عالم عربی اورفاضل عربی بھی نصاب میں شامل ہیں۔ یوں یہ ادارہ قدیم وجدیدکاحسین امتزاج ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلباء کوخطابت کی بھی مشق کرائی جاتی ہے۔ مذاکرات، مضمون نویسی، اورحسن قرأت کے مقابلے کرواکرانعامات بھی تقسیم کیے جاتے ہیں۔ سالانہ امتحان کے پرچے بھیرہ سے آتے ہیں اورجانچے بھی وہیں جاتے ہیں اوروہیں سے نتیجے کا اعلان ہوتاہے۔
کوشش کی جاتی ہے کہ طلباء کو تصوف وطریقت کی چاشنی سے لذت یاب کیاجائے۔ علم کے ساتھ ساتھ عمل پر بھی زور دیاجاتاہے۔ مدرسے کا اصول یہ ہے کہ صاحب کردارعلماء ہی معاشرے میں انقلاب پیداکرسکتے ہیں۔ مختلف مذہبی تہواروں مثلاًعیدمیلادالنبی، یوم عاشورہ، معراج النبی، عیدین اوراکابرمسلک کے ایام منا کر اسلامی تعلیمات کا پرچار کیا جاتا ہے۔ اولیائے عظام کوخراج عقیدت پیش کیاجاتاہے۔
اساتذہ کرام کے اسمائے گرمی یہ ہیں :مولاناسعیداحمدمجددی مہتمم وصدرمدرس، مولانانوازظفرایم اے، مولانا نورالحسن تنویرچشتی بی اے، قاری محمدافضل مجددی۔

مدرسہ فاروقیہ رضویہ تعلیم القرآن

محلہ فاروق گنج کی ملک سٹریٹ میں مسلک بریلوی کی نہایت شانداردرس گاہ ہے مدرسے کاقیام کوئی بیس سال قبل ہوا۔ بانیوں میں مولاناعبداللطیف قادری اورمولانا محمدعبداللہ بٹ کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔ اگرچہ وسعت میں توجگہ اتنی نہیں تاہم گنجائش میں اتنی کم بھی نہیں۔ عمارت ۱۵کمروں پرمشتمل ہے جس میں تدریسی کمرے بھی ہیں اور اقامتی بھی۔ سالانہ بجٹ کوئی ۶۰، ۶۵ہزارتک ہے۔ دورہ حدیث تک تعلیم دی جاتی ہے مگرسندکے لیے طلباء کو انوارالعلوم ملتان یاجامعہ رضویہ مظہرالعلوم فیصل آبادجاکرمنتہی ہوناپڑتا ہے۔ بیرونی طلباء کی تعدادپچاس ہے اوراساتذہ کی تعدادپانچ ہے۔
مولاناغلام فریدصدرمدرس کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ مولاناموصوف علم حدیث میں گہری بصیرت رکھتے ہیں اوربڑی جانکاہی سے تدریسی فرائض انجام دیتے ہیں۔ ان کے خلوص اورلگن کانتیجہ ہے کہ تشنگانِ علم اس غیرمعروف سی جگہ سے علم وحکمت کے قیمتی موتیوں سے جھولیاں بھربھرکرجاتے اورمعاشرے میں دعوت و اردات کافریضہ انجام دیتے ہیں۔ درس نظامی میں ترمیم وتنسیخ مدرسے کے مسلک کے منافی ہے، لہٰذاکوشش یہ کی جاتی ہے کہ تمام و کمال کتب درس نظامی پڑھائی جائیں۔ فتوے کا ریکارڈنہیں رکھاجاتاتاہم فرضِ افتاء شیخ الحدیث مولاناغلام فریدہی اداکرتے ہیں۔ آپ علمی بصیرتوں کامرقع اورفکری عظمتوں کی تصویرہیں۔ قحط الرجال کے اس دورمیں آپ کاوجودغنیمت ہے۔ اس علاقے کے لیے آپ وجہ رحمت بھی ہیں اوروجہ ناز بھی۔ آپ کاسوانحی خاکہ درج ذیل ہے :
آپ کے والدمحترم کانام الحاج مولاناعبدالجلیل ہے۔ آپ ۱۱ ؍ اکتوبر ۱۹۳۷ء کوموضع جھاڑ مضافات تربیلا (ہزارہ) میں پیداہوئے۔ مشہورپٹھان قوم عیسیٰ خیل کے مورث اعلیٰ عیسیٰ خان آپ کے جداعلیٰ تھے۔ آپ کے خاندان کے ایک اور بزرگ عبدالرشیدخان قندھارکے حاکم اعلیٰ ہوگزرے ہیں۔ آپ علمی اورروحانی خاندان کے چشم وچراغ ہیں۔ آپ کے والداورآپ کے جدامجدکے حقیقی بھائی امیرمحمودمبلغ دین بھی تھے اورعلاقہ کے لیے مرکز رشدوہدایت بھی۔
جناب مولاناغلام فریدنے ابتدائی تعلیم بعض مساجد سے حاصل کی پھروالدماجدکی وساطت سے ہزارہ ڈویژن کے روحانی و علمی مرکزدارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ میں داخل ہوئے۔ مولاناقاضی حبیب الرحمٰن اور مولانا قاضی غلام محمودسے علمی استفادہ کیا۔ مولاناحافظ محمدیوسف بھی آپ کے اساتذہ میں رہے ہیں۔ چارسال بعد جامعہ رضویہ مظہراسلام فیصل آبادمیں داخلہ لیا۔ دوسال بعدجامعہ نعیمیہ لاہورآگئے جہاں سے آپ نے مولانا مفتی محمدحسین نعیمی سے اکتسابِ علم کیا۔ درس نظامی کی آخری کتب آپ نے یہیں سے پڑھیں۔ بخاری شریف کادرس بھی یہیں ختم کیا۔ مفتی عزیزاحمدبدایونی سے بھی کچھ اسباق پڑھے۔ ۱۹۵۹ء میں جامعہ نعیمیہ سے دستارِ فضیلت اورفراغت حاصل کی۔
آپ نے تدریسی زندگی کاآغازجامعہ گنج بخش لاہور سے کیا۔ یہاں آپ نے ابتدائی اورمتوسط کتب پڑھائیں۔ دو سال جامعہ امینیہ گوجرانوالہ میں اوردو سال دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پورمیں مسندتدریس پر فائز رہے۔ ۱۹۶۶ء میں علامہ احمدسعید کاظمی کے ارشادپرمدرسہ جامع العلوم خانیوال میں صدر مدرس کی حیثیت سے تدریسی فرائض انجام دینے شروع کیے۔ دوسال جامعہ فضل العلوم ڈسکہ میں مدرس رہے اوراب عرصہ بارہ سال سے جامعہ فاروقیہ رضویہ تعلیم القرآن گوجرانوالہ میں بطور صدرمدرس علوم اسلامیہ کی تدریس میں مصروف ہیں۔ آپ ایک مصروف زندگی گزاررہے ہیں۔ شب وروز دین اسلام کی تبلیغ واشاعت میں گزرتے ہیں اور اس سرزمین پرآپ کے بہت احسانات ہیں۔ کتنے ہی دل ہیں جو آپ کے طفیل نورہدایت سے منورہوئے اور کتنے ہی ذہن ہیں جنہیں آپ کی مروت وعلمیت نے نکتہ داں بنایا۔
آپ صاحبِ قرطاس وقلم بھی ہیں آپ نے گوناگوں علمی وتدریسی مصروفیات کے باوجود بہت سی دینی اور علمی کتب تصنیف فرمائی ہیں جن میں سے درج ذیل خاص طور سے قابل ذکرہیں:
اثباتِ علم الغیب بجواب ازالۃالغیب، مفتاح الجنۃ بجواب راہ سنت، صداقتِ میلاد، حاضرو ناظراورعلم غیب ملاعلی قاری کی نظرمیں، اثبات الدعاء بعدالجنازۃ، رسالہ علم الغیب ملاعلی قاری۔  
علوم قرآن و حدیث پرآپ کودسترس حاصل ہے۔ اس شہرہی کے نہیں بلکہ دوردرازکے علاقوں کے متلاشیانِ حق و صداقت نگاہوں سے دیکھاجاتاہے۔ آپ مدرسہ سے ملحقہ جامع مسجد میں فرائض خطابت بھی انجام دیتے۔ آپ کو علامہ سیداحمدسدسے شاہ کاظمی مدظلہ سے شرفِ تلمذ توتھاہی بعدمیں آپ نے انہی کے دستِ حق پرست پربیعت کرلی۔ حضرت کاظمی نے آپ کوسلسلہ چشت میں بیعت کی اجازت بھی عطا فرمائی۔ آپ کو۱۹۷۶ء میں حج حرمین الشریفین کی زیارت کاشرف حاصل ہوا۔ آپ کے برادراصغر مولانا محمد شریف ہزاروی بھی معروف خطیب، عالم نکتہ داں اورجامعہ فاروقیہ میں آپ کی سربراہی میں فرائض تدریس انجام دے رہے ہیں۔ مولاناغلام فریدہزاروی سے اب تک ہزاروں تلامذہ فیوض علمی حاصل کرکے وطن عزیز کے اطراف و اکناف میں رشدو ہدایت کی روشنی پھیلارہے ہیں۔ آپ کے معروف تلامذہ میں مندرجہ ذیل علماء خاص طور سے قابل ذکرہیں:
مولاناسیدبشیرحسین شاہ، مولاناخالدحسن مجددی، مولاناسعیداحمدمجددی، مولاناگل احمد عتیق، مولانا صداقت علی، مولاناقاضی محمدیوسف، مولاناحافظ محمدعلی، مولاناقاری عبدالرزاق، مولانامحمدحنیف اختر، مولانا محمد صدیق ہزاروی۔ (حالات ماخوذ از تعارف علمائے اہل سنت، مرتبہ مولانامحمدصدیق ہزاروی )

جامعہ صدیقیہ مجاہد پورہ

محلہ مجاہدپورہ میں جامعہ صدیقیہ مسلک حنفی دیوبندی کااہم مدرسہ ہے۔ مدرسے کا قیام ۱۹۶۰ء میں عمل میں آیا۔ مدرسے کانصاب خالصتاًدرس نطامی ہے اس میں ترمیم وتنسیخ کومذموم خیال کیاجاتاہے۔ مدرسے کے مہتمم اور صدر مدرس قاضی شمس الدین، فاضل ومدرس دارالعلوم دیوبند ہیں۔ مولاناموصوف ایک منجھے ہوئے عالم اور ایک عظیم سکالرہیں۔ ان کارجحان طبع تحقیق و تدقیق کامتقاضی ہے۔ وہ قیام پاکستان سے پہلے دارالعلوم دیوبندجیسے عظیم ادارے میں بحیثیتِ استاد کام کرچکے ہیں۔ ان کی عربی و اردوتصانیف اس بات کی گواہی دیتی ہیں، ان کاعلمی مرتبہ عصرحاضرکے بلندپایہ علمائے دین میں نمایاں و ممتازہے۔ کم وبیش اکسٹھ سال سے قرآن و حدیث کی شمع کوروشن رکھے ہوئے ہیں۔ سادگی کامرقع، نمود و نمائش سے بے نیاز اور فقروغناء کوایک پیکر دلآویز۔
آپ ۱۹۰۱ء میں مقام پٹری ڈاکخانہ ناڑہ، تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک میں پیداہوئے۔ آباء و اجدادعلم دین کے مشتاق تھے۔ آپ کے دادااوروالدبھی اپنے وقت کے معروف عالم تھے گو وہ بعض خانگی امورکی بناء پر درس نظامی کی تکمیل نہ کرسکے مگروالدنے اپنے بیٹوں کوعلم دین کی تحصیل کے لیے وقف کر دیا۔ مولانا نور محمد، مولانا بدرالدین اورمولانامحمدرفیق، قاضی صاحب کے تینوں بھائی عالم باعمل تھے اورتینوں بھائیوں کاانتقال ہو چکا ہے۔ مولائے کریم ان سب کواپنے جوارِرحمت میں جگہ دے۔
مولاناقاضی شمس الدین صاحب کی زندگی محنت، خلوص اورسعی بلیغ کی ایک قابل تقلیدمثال ہے۔ آپ نے ناظرہ قرآن ناڑہ ضلع اٹک میں پڑھا۔ ۱۹۱۲ء میں جامعہ نعمانیہ لاہورمیں تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۱۳ء میں انّھی تحصیل پھالیہ ضلع گجرات میں مولاناغلام رسول مرحوم سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ ۱۹۲۲ء میں دارالعلوم دیوبند میں مولاناانورشاہ کشمیریؒ، مولانارسول خاں اورمولاناشبیراحمدعثمانی سے دورہ حدیث پڑھا۔ ۱۹۲۳ء کے آخر میں مدرسہ انوارالعلوم مسجد شیرانوالہ گوجرانوالہ میں آگئے اورایک سال تک تدریس کے فرائض انجام دیے۔ بعد ازاں۱۹برس تک پنڈی گھیب ضلع اٹک میں مصروفِ تدریس رہے۔ ۱۹۴۲ء میں دیوبندکے اساتذہ کے اصرار پر وہاں تشریف لے گئے اورتشنگانِ علم و معرفت کوسیراب کرتے رہے۔ وہاں انہوں نے وہ کتابیں پڑھائیں جو فی الواقع ان کے فنون میں ماہر ہونے کی دلیل تھیں۔ دیوبندسے واپسی پرفیصل آبادمیں مدرسہ اشاعتِ علوم میں بطورِصدرمدرس کام کرتے رہے۔ ۱۹۴۶ء میں گوجرانوالہ کے مدرسہ انوارالعلوم اور نصرۃالعلوم میں صدرمدرس رہے۔ ۱۹۶۰ء میں جامعہ صدیقیہ کی بنیادڈالی جو اب تک انتہائی کامیابی کے ساتھ رواں دواں ہے۔
مولاناموصوف کوحضرت مولاناحسین علی واں بھچراں سے قلبی عقیدت ہے۔ وہیں سے آپ نے سلوک و معرفت کی منزلیں طے کیں اورکم و بیش چوبیس سال تک ان سے کسبِ فیض کرتے رہے۔ وہیں سے تفسیرِ قرآن، مثنوی مولانا روم، مسلم شریف، دارالمحارف ورسراجی پڑھی۔ مولاناکی پوری زندگی درس و تدریس اور قرطاس وقلم سے متعلق رہی۔ وہ بہت سی علمی ودینی کتابوں کے مصنف ہیں، چندایک کے نا مدرج ذیل ہیں:۔
اردو:تفسیرتیسرالقرآن، غایۃالمامون، شرح عبدالرسول، القول الجلی فی حیاۃالنبیﷺ، الشھاب الثاقب۔
عربی :تفسیرانوارالتبیان فی اسرارالقرآن، الہام الباری فی حل مشکلات البخاری، کشف الودودشرح سنن ابی داؤد، التعلیق الفصیح شرح مشکوٰۃالمصابیح، الہام الملہم شرح صحیح مسلم۔
جہاں تک قاضی صاحب کے تلامذہ کاتعلق ہے ان کی فہرست خاصی طویل ہے۔ چندنام درج کیے جاتے ہیں، جن سے خود صاحب موصوف کی علمی وجاہت، دینی عظمت اور فکری رفعت کااندازہ ہوتاہے: مولانا نصیر احمد سابق شیخ الحدیث و مدرس دارالعلوم دیوبند، شیخ غازی احمدسابق پرنسپل بوچھال کلاں، مولاناعبدالرحیم پروفیسرڈھاکہ یونیورسٹی، مولانامفتی عبدالواحدگوجرانوالہ، قاضی عصمت اللہ، مولاناعلی محمد حقانی (لاڑکانہ)، مولانا عبدالرؤف مہتمم مدرسہ مفتاح العلوم حیدرآباد، مولاناسرفرازخاں صفدر(گوجرانوالہ)اورمولاناعبدالحکیم (راولپنڈی ) قاضی شمس الدین کے چند ایسے تلامذہ ہیں جن پرفکرکی بلندیاں عمل کی لطافتیں اورعلم کی نظافتیں نازکرتی ہیں۔
مدرسے کا علمی معیار نہایت اعلیٰ ہے اوردور درازکے علاقوں سے طلباء تحصیل علم کے لیے آتے ہیں۔ دورہ حدیث میں تخصص کے درجے تک تعلیمی معیار رکھاگیاہے۔ اب تک ۴۵۴طلباء فارغ التحصیل ہوکرگئے ہیں۔ فاضلین میں درج ذیل نام خاص اہمیت کے حامل ہیں :
مولاناعبدالمجیدندیم، مولاناضیاء اللہ شاہ بخاری، مولاناخالدرشید، مولانااحمدسعیدملتانی، مولاناعلی محمدحقانی مدرسہ اشاعت الاسلام لاڑکانہ، مولاناقاضی عصمت اللہ مدرسہ محمدیہ قلعہ دیدارسنگھ۔
زیادہ ترطلباء بیرونی ہیں۔ اس وقت ۲۷طلباء زیرِتعلیم ہیں۔ نئی عمارت ۲کنال ۹مرلے میں زیرتعمیر پر ۱۰۰طلباء کی اقامتی گنجائش ہو گی۔
اساتذہ کرام درج ذیل ہیں :مولانامفتی سیدبدیع الزمان بخاری، مولاناقاضی عطاء اللہ، مولاناقاضی ثناء اللہ، مولاناحافظ نذیراحمد، مولاناعبدالرحمن۔ افتاء کے فرائض، مفتی سیدبدیع الزمان بخاری انجام دیتے ہیں۔ سالانہ بجٹ ستا سی ہزاروپے کے لگ بھگ ہے۔ درس نظامی اپنی اصلی شکل میں پڑھایاجاتاہے۔

مدرسہ نعمانیہ

نعمانیہ روڈ محلہ اسلام آباد میں حنفی بریلوی مسلک کاایک شاندارمدرسہ ہے۔ کوئی ۱۶سال پہلے ۱۹۶۷ء میں مدرسے کی بنیادرکھی گئی۔ اس وقت یہ مدرسہ ابتداءً اقبال گنج میں قائم ہوا بعدازاں مدینہ مسجدگوبندگڑھ میں تدریس کاکام شروع ہوا تو ۱۵ طالب علم زیرتعلیم تھے۔
مولانامحمدعبداللہ جوایک درویش صفت عالمِ دین ہیں، اس مدرسے کے موسس ومہتمم ہیں۔ آغازِکارمیں حفظِ قرآن سے کام شروع کیاگیا۔ ۱۹۶۸ء تک صرف حفظ کاہی اہتمام تھابعدمیں تدریسِ کتب کابھی انتظام کر لیا گیا۔ مدرسے کا نصاب درس نظامی ہے مگرتنظیم المدارس کے نصاب کے مطابق تدریس ہوتی ہے۔ صرف و نحو اور فقہ کے علاوہ تاریخی شعور بھی بیدارکیاجاتاہے تاہم تاریخ پرمکمل انحصارنہیں کیاجاتا۔ مدرسے کاسالانہ بجٹ تقریباً۳۵ ہزارروپے ہے۔ مدرسے کی انصرامی ذمہ داریوں کا بارانجمن نعمانیہ فیض العلوم کے سر ہے۔ صدر انجمن شیخ حاجی محمدشفیع صاحب ہیں۔  
مدرسے کے فاضلین میں چنداہم نام یہ ہیں:مولاناخالدحسین مجددی، مولاناگل احمدجامعہ رضویہ فیصل آباد، مولاناطالب حسین سول لائینز، مولاناسلطان العارفین (پی ڈی پی)، مولاناہدایت اللہ (مظفرآباد)۔ اساتذہ کی کمی کا شدت سے احساس ہوتاہے۔

جامعہ جعفریہ 

بائی پاس قلعہ چندسے جانب لاہوجی ٹی روڈ میں ۳ ایکڑ۳ مر لے میں پاکستان کی اثناعشری شیعہ مکتب فکرکی عظیم جامعہ ہے۔ جامعہ کی تاسیس۱۹۷۹ء میں ہوئی۔ مفتی جعفرحسین مجتہداس کے بانی تھے۔ مفتی مرحوم جو ۱۹۸۳ء میں راہی ملک عدم ہوئے۔ ملتِ جعفریہ کے بلندپایہ اورمجتہدتھے۔ ملت جعفریہ ان کی دینی بصیرت پر پورا عتمادرکھتی تھی۔ حق یہ ہے کہ وہ علم ودانش کے جرعہ کش ہی نہیں خم بدوش بلانوش بھی تھے۔ تادم زیست انہوں نے کتاب وقلم سے رشتہ قائم رکھا۔ وہ ایک خوددار، صلح کیش اوردرویش منش عالم دین تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم حنفی دیوبندی مکاتب میں حاصل کی۔ پھر لکھنؤاورایران سے تکمیل علوم کی۔ یوں وہ سعدی کے اس شعر کا پور امصداق تھے۔
تمتع زہرگوشۂ یافتم
زہرخرمنے خوشۂ یافتم
ان کی تحریریں ان کے وسیع المعلومات اورعمیق المطالعہ ہونے پرگواہ ہیں۔ نہج البلاغۃکااردوترجمہ ان کی ادبی صلاحیتوں کابھی پتہ دیتاہے۔ ان کے عربی و فارسی اشعارسے ان کاشعری ذوق بھی نکھرکرسامنے آتاہے۔
دابخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں 
مدرسے کا نصاب درس نظامی ہے مگراصولِ فقہ میں دوسرے مسالک سے کلی اختلاف ہے۔ حدیث میں بھی یہاں صحاح ستہ کی بجائے کتبَ اربعہ لائقِ اعتمادخیال کی جاتی ہیں۔ کتب اربعہ یہ ہیں: الکافی للکلینی، استبصار، تہذیب الاحکام، من لایحضرہ الفقیہ۔
فقہ میں تبصرۃالمتعلمین، شرائع السلام، شرح لمعہ اورمکاسب قابل قدرکتابیں ہیں۔ اصول فقہ میں منتہی طلباء اصول فقہ، رسائل اورکفایۃالاصول پڑھتے ہیں۔ مستقل اساتذہ صرف دوہیں، موقت و زائدتین۔ طلبہ بالفعل بیس۔ پروگرام کے مطابق ۲۰۰طلباء کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ سردست بیس لاکھ کے خرچ سے بنائی ہوئی عمارت ۲۶کمروں پرمشتمل ہے تاہم منصوبہ ۱۰۰کمروں کاہے جس پردوکروڑروپے خرچ آئے گا۔
ملحقہ جعفریہ کالونی ادار ے کے اساتذہ اورطلبہ کی رہائش کے لیے مخصوص ہوگی۔ امتحان کااپنانظام ہو گا جو مجتہدینِ ایران کے زیرِنظرہوگا۔ سہم امام (خمس )عطیہ جات مدرسے کے وسائل اخراجات ہیں۔ دوسرے دینی مدارس کی طرح طلبہ کے قیام و طعام کابندوبست جامعہ کے ذمے ہے۔ جامعہ کاکتب خانہ نہایت شاندارہے جس میں تین ہزارسے زائدکتب ہیں، چندقلمی نسخے بھی ہیں۔ اس وقت تخصص کے لیے نجف و قم میں جاتے ہیں تاہم منصوبہ یہ ہے کہ یہیں درسِ اجتہادیادرس خارج بھی دیاجائے۔ مفتی مرحوم کی وفات کے ساتھ جامعہ کو ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے۔
اس ادارے کے پرنسپل جناب علامہ حسین بخش ہمارے شہرکے ایک معروف عالم دین ہیں جن کی زندگی درس و تدریس کے لیے وقف ہے۔ جیساکہ اوپرلکھاجاچکاہے کہ مفتی جعفرحسین نے جامعہ جعفریہ کے نام سے جس علمی ادارے کا آغازکیاتھا۔ ان کے بعدعلامہ حسین بخش کی زیرنگرانی ادارہ ایک بہارآفرین مستقبل کی جانب بڑی تیزی سے رواں دواں ہے۔ علامہ موصوف کاشمار ان علمی شخصیات میں کیاجاسکتاہے جواپنی ذاتی استعداد، پیہم محنت اورفکری ریاضت کی بنا پربلندیوں کی طرف لپکتے ہیں بلکہ خود بلندیاں ان کااستقبال کرتی ہیں۔
آپ کے والدگرامی کانام ملک اللہ بخش ہے سن پیدائش۱۹۲۰ء اورمقامِ پیدائش جاڑاضلع ڈیرہ اسماعیل خان ہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد علامہ سیدباقرشاہ مرحوم کی صحبت میں رہے۔ ان کے بعدمولاناسیدمحمدیارشاہ اور مفتی جعفرحسین سے علمی ودینی استفادہ کیا۔ ایک عرصہ دیگرمکاتب فکرکے دینی مدارس میں بھی زیرتعلیم رہے جن میں جامع مسجد شیرانوالہ باغ کامدرسہ قابل ذکرہے اوربالخصوص مولاناعبدالقدیر جووہاں درس دیاکرتے تھے معقولات کی تمام کتابیں انّھی شریف ضلع گجرات میں مولاناولی اللہ سے پڑھیں۔ ۱۹۵۲ء میں نجف اشرف میں تشریف لے گئے اوروہیں سے فقہی اوراصولی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۵۵ء میں واپس آئے۔ جامعہ علمیہ باب النجف جاڑاضلع میانوالی کی بنیادرکھی جو اب تک جاری ہے۔ نجف اشرف میں جن علمی شخصیات سے کسبِ فیض کیا، ان میں سے چندکے نام درج ذیل ہیں:
سیدابوالقاسم خوئی، سیدعبداللہ شیرازی، سیدمحسن الحکیم، مرزاحسن یزدی، مرزامحمدباقر رنجانی، سیدحسین حمامی، سید حسن بجنوری۔
علامہ حسین بخش کے تلامذہ کی فہرست بہت طویل ہے چند نام یوں ہیں:
مولانامحمدحسین ڈھکو، ملک اعجازحسین، سیدصفدرحسین نجفی، مولاناغلام حسین نجفی، سیدکرامت علی شاہ، مولاناغلام حسن، کاظم حسین اثیر، سیدامدادحسین شیرازی، وزیرحیدر۔
آپ کی علمی کتابیں درج ذیل ہیں :تفسیرقرِ آن چودہ جلدوں میں، لمعۃالانوار، اصحاب الیمین، المجالس المرضیہ، امامت وملوکیت، اسلامی سیاست، معیار شرافت، اسلامی فکر، انوارشرافت، انوارشریعت، نمازامامیہ، احبابِ رسول ﷺ۔ (سوانحی معلومات آغاقربان علی ایڈووکیٹ نے فراہم کیں) 

مدرسہ فیض القرآن

گل روڈ پرواقع مدرسہ حنفی دیوبندی مسلک کاہے۔ ابھی ابتدائے کارہے تاہم مولاناحافظ احسان الحق کی شبانہ روزکوششوں سے مدرسہ پھیلنے پھولنے کے خاصے امکانات نظرآتے ہیں۔ مولاناموصوف یکہ و تنہا ۳۰ طلباء کوموقوف علیہ کے درجے تک تعلیم دیتے ہیں۔ یہ ان کابہت بڑاایثارہے۔

مدرسہ احیاء العلوم 

نوشہرہ روڈ پرواقع مدرسہ احیاء العلوم حنفی دیوبندی مسلک کااہم مدرسہ ہے۔ اپنی وسعت کے لحاظ سے شہرکے بڑے بڑے دینی مدارس میں شمارکیاجاسکتاہے۔ مولاناامان اللہ خاں دینی جذبے سے سرشاراہل خیرکے تعاون سے سرگرم عمل ہیں۔ مولانامحمدواصل خاں اورحافظ حبیب اللہ تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔

مدرسہ تفہیم القرآن

محلہ توحیدگنج میں قاری حافظ محمداسلم (نابینا)کے زیراہتمام مسلک حنفی دیوبندی کااہم مدرسہ ہے۔

مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث 

نوشہرہ روڈ پرمدرسہ تعلیم القرآن والحدیث مولاناعبدالعزیز راشدی کی زیرنگرانی خدمت دین کا فریضہ انجام دے رہاہے۔

جامعہ عثمانیہ فیروز والا روڈ

جامع مسجد عثمانیہ سے ملحق فیروزوالاروڈپرجامعہ عثمانیہ حنفی دیوبندی مسلک کی ایک درس گاہ ہے۔ صاحبزادہ محمدداؤدیہاں کے مہتمم ہیں۔ مدرسہ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ عصرحاضرکے تقاضوں کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے اسلام کے معاشی نظام پرزوردیاجاتاہے تاکہ معاشرے کے معاشی مسائل کاحل تلا ش کیا جا سکے اورنسلِ نوکوآگاہ کیاجاسکے کہ اسلام تمدن انسانی کے ہرپہلومیں رہنمااصول پیش کرتاہے۔

جامعہ نظامیہ غوثیہ وزیر آباد

جامعہ نظامیہ غوثیہ وزیرآبادمیں حنفی بریلوی کی سب سے بڑی درس گاہ ہے۔ مولانامحمدعبدالغفور ہزاروی نے ۱۹۴۰ ء میں اس کی بنیاد رکھی۔ مولاناہزاروی اپنے دورکے ایک جیدعالم دین اورفن حدیث میں گہری بصیرت رکھنے والے مدرس تھے۔ وہ ایک شعلہ بارخطیب، علم و حکمت کے بحر زخاراورنہایت قوی حافظے کے مدرسِ حدیث تھے۔ ان کی وفات پرعلمی حلقوں میں ایک بہت بڑاخلامحسوس کیاگیا۔ مولانا کی سیاسی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔ وہ تحریک پاکستان کے ہراول دستے کے عظیم سپاہی تھے۔ مفتی عبدالشکورجوآج کل جامعہ کے مہتمم ہیں انہی کے خلف الرشید ہیں۔ نصاب درس نظامی ہے۔ حفظ وتجویدکابندوبست بھی ہے۔ جہاں ۳۸ بیرونی اور۴۰ مقامی طلباء ہیں۔ درس نظامی میں ۱۰طلباء ہیں۔ مدرسے کی تعطیلات کے دوران دورہ تفسیرہوتاہے جس میں ۴۰، ۵۰منتہی طالب علم شریک ہوتے ہیں۔ سالانہ بجٹ کوئی اسی ہزارروپے ہے۔ مفتی صاحب خود ہی فتوی جاری کرتے ہیں مگررجسٹرنہیں، تنظیم المدارس سے وابستگی نہیں۔ عمارت پانچ کمروں پرمشتمل ہے۔ کتب خانے میں دوسوکے لگ بھگ کتابیں ہیں مزیدتوسیع کاعزم ہے۔ طلباء کے قیام وطعام کابندوبست مدرسے کے ذمے ہے جواہل خیراورحکومت کے زکوٰۃ فنڈ سے پوراہوتاہے۔

ممتاز المدارس وزیر آباد

جی ٹی روڈ پرواقع مسلک شیعہ اثناعشریہ کاوزیرآبادمیں سب سے بڑامدرسہ ہے۔ مدرسے کی تاسیس جون ۱۹۷۸ء میں ہوئی۔ مہتمم سیدمحمدسبطین نقوی فاضل قم (ایران )ہیں۔ علامہ موصوف ایک فاضل نوجوان اور باعمل انسان ہیں دیگراساتذہ کے اسماء گرامی یہ ہیں :مولانا اخترعباس، حافظ سید منظور حسین، مولانا محمد اصغر یزدانی۔  
طلباء کی تعداد۲۳ہے۔ نصاب آٹھ سال کاہے۔ مدرسے کایک شاندارہال ہے۔ جہاں تقاریب کا اہتمام کیاجاتاہے۔ گاہِ گاہِ ایران کے مشاہیرعلماء بھی یہاں آکرخطاب فرماتے ہیں۔ مثلاًجنوری۱۹۸۳ء میں حسن طاہری خرم آبادی تشریف لائے۔ دارالاقامہ کے نوکمرے ہیں۔ امتحان زبانی و تحریری دونوں طرح سے ہوتا ہے۔ فتویٰ جاری کیا جاتاہے مگررجسٹرنہیں۔ سالانہ بجٹ کم وبیش ۵۰ہزارہے۔ اصول فقہ اورفلسفہ میں تخصیص کی جاتی ہے ایک مختصر مگر نہایت شاندارکتب خانہ تدریسی ودرسی ضروریات کوپوراکرتاہے۔

مدرسہ محمدیہ قلعہ دیدار سنگھ

یہ مدرسہ موضع قلعہ دیدارسنگھ میں شیخ الحدیث قاضی نورمحمدفاضل دارالعلوم دیوبند نے ۱۹۲۳ء میں قائم کیا۔ یوں یہ ضلع کانہایت قدیم مدرسہ ہے۔ مرحوم۴۰ برس تک خدمت دین کرکے اس جہان فانی سے ۱۹۶۲ء میں رخصت ہوگئے۔ وہ ایک سادہ طبع عالم باعمل تھے۔ علم ودانش کے موتی رولتے اورتقوی وپرہیزمیں سرمست رہتے۔ ان کے بعدان کے خلف الرشیدقاضی عصمت اللہ نے مدرسے کابار اپنے ذمے لیا۔ مدرسے کامسلک حنفی دیوبندی ہے۔ اولیائے عظام کے سلاسل اربعہ میں نقشبندی مجددی کی پیروکاری کی جاتی ہے۔ درس نظامی کی تدریس ہوتی ہے۔ دورہ حدیث تک تکمیل ہوتی ہے۔ مدرسہ دور افتادہ علاقے میں علم و اخلاق کی شمع فروزاں ہے۔

دارالعلوم سلطانیہ رضویہ گکھڑ

گکھڑمیں جی ٹی روڈ پرجانب مشرق واقع ہے۔ اگست۱۹۶۸ء میں مدرسہ کی تاسیس عمل میں آئی۔ حافظ محمد حمیداختراس کے بانی ہیں، جو سراج العلوم گوجرانوالہ کے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ مشائخ میں قادری، سروری سلطانی سلسلے کے پیرو کارہیں۔ حفظ وکتابت کاشعبہ بھی ہے۔ ۳۵، ۴۰کے درمیا ن طلبہ کی تعدادہوتی ہے۔ اساتذہ کی تعدادتین ہے۔ مولاناموصوف عرصہ درازسے ایک دینی پرچہ بھی جاری کرتے ہیں جس میں تصوف کا رنگ غالب ہے۔ سالانہ بجٹ کوئی ۲۰ہزارکے لگ بھگ ہے۔

جامعہ عربیہ ہمدانیہ کامونکے

کامونکے میں سب سے پرانامدرسہ ہے جو۱۹۴۴ء کے لگ بھگ قائم ہوا۔ مسلک حنفی دیوبندی ہے۔ حافظ عبدالشکور فاضل دارالعلوم دیوبند نے مدرسہ کی بنیاد ڈالی۔ وہ ایک زمانے تک علم وحکمت کی روشنی پھیلاتے رہے۔ وہ اپنی وفات فروری۱۹۸۱ء تک اس کے مہتمم اور صدرمدرس رہے۔ وہ صدربلدیہ کامونکے، کونسلر اور حزبِ اختلاف کے لیڈربھی رہے۔ ان کی شخصیت نہایت متوازن اورعلمی حیثیت مسلم تھی۔ تازیست وہ مسجد کے خطیب بھی رہے۔ اس وقت درس نظامی نہیں پڑھا یاجاتا۔ اس وقت تین مدرسین ہیں۔ حافظ احمددین (صدرمدرس)، حافظ عبدالرحمن، حافظ محمدسلیمان۔ مولاناعبدالرؤف فاروقی خطابت کے فرائض نجام دیتے ہیں۔ مدرسے نے حافظ مفتی محمدامین فاضل جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ مبعوث سعودیہ (مچاکوسٹ کینیا)جیسے فاضلین پیداکیے ہیں۔ بجٹ ۷۵ہزارروپے سالانہ ہے۔

مدرسہ اسلامیہ جامع مسجد حیدری کامونکے

کامونکے میں حنفی بریلوی مسلک کانہایت اہم مدرسہ ہے۔ جنوری ۱۹۷۴ء میں قائم ہوا۔ الحاج لطیف احمد چشتی مدرسے کے بانی ہیں۔ چشتی صاحب موصوف کامونکے کی اہم سیاسی وسماجی شخصیت سے متعارف ہیں۔  
اساتذہ کے اسمائے گرامی یہ ہیں:حاجی نواب دین، حافظ محمدناصر، حافظ شیرمحمد، حافظ محمد اشرف، مولانا رب نواز۔ مدرسہ پندرہ کمروں پرمشتمل ہے۔ دارالاقامہ کے چارکمرے ہیں۔ درس نظامی میں دس طالب علم ہیں، باقی حفظ وتجویدو قرأت اورناظرہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ فتوی جاری نہیں کیاجاتا۔ لائبریری کوئی ایک ہزارکتب پرمشتمل ہے۔ مدرسہ تنظیم المدارس سے منسلک ہے۔

مدرسہ حنفیہ رضویہ اکرم العلوم کامونکے

مدرسہ جی ٹی روڈ سے جانب مغرب واقع ہے۔ مدرسہ کاافتتاح۱۹۷۸ء میں ہوا۔ مولانامحمداکرم رضوی فاضل مدرسہ سراج العلوم (گوجرانوالہ) اس مدرسے کے بانی اورمہتمم ہیں۔ عمارت چارکمروں پرمشتمل ہے اور طلبہ کی تعدادکوئی ۱۵۰ہے۔ درس نظامی سردست نہیں پڑھا یاجاتا۔ مولاناابوداؤدمحمدصادق مدرسے کے اعزازی نگران ہیں۔ مولانامحمداکرم ایک شعلہ نواخطیب اورباعمل نوجوان ہیں۔

دارالعلوم حبیبیہ رضویہ کامونکے

منڈیالہ روڈ حنفی بریلوی مسلک کامدرسہ ہے جس میں شعبہ حفظ وتجویدمیں ۷۰طالب علم ہیں۔ مولانامفتی حبیب اللہ مدرسے کے بانی اورمہتمم ہیں۔ مفتی صاحب ایک متقی اورعالم باعمل انسان ہیں۔ درس نظامی کے طلباء کی تعدادساٹھ ہے۔ ۱۲اساتذہ فرائض تعلیم اداکررہے ہیں۔

جامعہ ریاض المدینہ (زیرتکمیل)

جامعہ ریاض المدینۃایک ایسی عظیم الشان دینی درس گا ہ ہے جوابھی تعمیرکے مراحل سے گزررہی ہے۔ جی ٹی روڈ پرپانچ ایکڑرقبہ پرتعمیرہونے والااہل سنت وجماعت کایہ مرکزی دارالعلوم علوم قدیمہ و جدیدہ کا مرکز ہو گا۔ انجمن مرکزی دارالعلوم کے شائع کردہ پروگرام کے مطابق اس دارالعلوم میں میٹرک سے لے کرایم اے ایم ایس سی اورحفظ قرآن سے لے کرمکمل درس نظامی تک تعلیم دی جائے گی۔ اس کے علاوہ فنی اورپیشہ وارانہ تعلیم کااہتمام بھی کیاجائیگا۔ علوم دینی کے تحصیل کے ساتھ ساتھ علوم دنیوی کی تحصیل کا انتظام اس خاطر کیا جا رہا ہے کہ جو علماء یہاں سے فارغ التحصیل ہوکرنکلیں وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسرکرنے کے لیے روزگارکے معقول ذرائع تلاش کرسکیں۔ علوم دینی و دنیوی کے امتزاج سے جوعلماء یہاں سے فارغ ہوں گے وہ عہدحاضرکے جدید علمی وفکری تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہوں گے اورخدمتِ ملک ودین کے لیے بھی نمایاں کردار ادا کرسکیں گے۔ اس طور وطن عزیزمیں اسلام کی ترویج وتبلیغ کی رفتارتیزسے تیزترہوجائے گی۔
اس زیرتکمیل درس گاہ میں مجوزہ نقشے کے مطابق جوعمارات ابھررہی ہیں ان میں مہتم بالشان مسجد، لائبریری، دفاترانتظامیہ، علوم دینی کے لیے آٹھ بلاک، علوم دنیوی کے لیے دوبلاک، ۴۰۰طلباء کی رہائش کے لیے دو منزلہ ہوسٹل، شعبہ تصنیف و تالیف، ایک بڑاہال، اورشعبہ تبلیغ خاص طورسے قابل ذکرہیں۔ مختلف بلاکوں کے درمیان خوب صورت لان اس درس گاہ کی خوب صورت اورتزئین میں اضافے کاموجب بنیں گے۔
اس کے سرپرست اعلیٰ الحاج محمداسلم بٹ میئرمیونسپل کارپوریشن ہیں جبکہ انجمن انتظامیہ کے صدرحاجی معراج دین ہیں۔ انجمن مرکزی دارالعلوم باقاعدہ طورپررجسٹرڈہے اورشہرکے تمام جیدعلماء اس دارالعلوم کی سرپرستی کررہے ہیں۔ جسٹس پیرمحمدکرم شاہ آف بھیرہ شریف مسلسل انتظامیہ کواپنے عملی وفکری تعاون سے نوازرہے ہیں۔

دارالعلوم تحفظ ختم نبوت کنگنی والا

یہ مجوزہ دارالعلوم چارکنال کے رقبے پرجی ٹی روڈ سے مغرب کی جانب آبادی کے کچھ اندرجانے والی شاہراہ پرواقع ہے۔ دارالعلوم کی عمارت زیرتعمیرہے ملحقہ مسجدکی تکمیل ہوچکی ہے۔ مسجد سے ملحق چارکمرے ہیں۔ ساتھ ہی ۲۲ عدد دکانوں پرمشتمل ایک مارکیٹ ہو گی تاکہ مدرسے کے مصارف کا بندوبست ہو سکے۔ یہاں درس نظامی کی تعلیم دی جائے گی مگرخصوصی مطالعہ سرور کائنات کی ختم المرسلینی کے پہلوکاہو گا۔ یوں یہ دارالعلوم پورے علاقے میں اپنی نوعیت کاواحدادارہ ہو گاجوختم نبوت کے تخصص کے ساتھ تعلیم دے گا۔  
ادارہ کی سرپرستی مولاناخان محمدصاحب کندیاں نے قبول فرمائی ہے۔ دارالعلوم کے لیے جگہ موضع کھیالی کے ایک زمیندارحاجی محمدیوسف علی قریشی نے وقف کی۔ اس کاسنگ بنیادبھی مرحوم نے خودہی رکھا۔ حافظ نذیراحمدبالفعل مدرسے کے مہتمم ہیں۔ اس وقت قرأت وناظرہ وحفظ کاسلسلہ جاری ہے اورطلبہ کی تعداد۱۰۰کے لگ بھگ ہے۔ مرحوم حاجی یوسف علی قریشی ہاشمی نہایت درددل رکھنے والے اورسرورکونین ﷺ کی ختم المرسلینی پرجان تک نچھاورکرنے والے انسان تھے۔ موصوف سیدعطاء اللہ شاہ بخاری، چودھری افضل حق، شیخ حسام الدین اورماسٹرتاج الدین انصاری اوردوسرے زعماء احراراورشمع ختم نبوت کے پروانوں کے محبوب نظرتھے۔
ان مدارس کے علاوہ بھی سینکڑوں مدارس ہیں جوعلم وعمل کے مینارہ ہائے نورہیں۔ طوالت کے پیش نظر ان مدارس کے منتظمین سے معذرت کے ساتھ ہم چندایک کے محض نام گنوانے پراکتفاء کرتے ہیں:
یہ ہے ایک اجمالی تذکرہ گوجرانوالہ کے دینی مدارس کا۔ ان دینی مدارس کاوجود رشدوہدایت کاایک ایسا سرچشمہ ہے جہاں سے نوربھی ملتاہے اورسروربھی، حضوری کی نعمتیں بھی عطاہوتی ہیں اورشعور کی رفعتیں بھی۔ اسلام اگرباقی ہے توانہی بوریہ نشینوں کے دم سے اوردین تمام ترمخالفانہ یورشوں کے باوجود اگر زندہ و تابندہ ہے تو انہی فقیروں کے طفیل، جوعلم دین کی تحصیل کوایک معاشی وسیلہ نہیں بلکہ فرض اورمقصد سمجھتے ہیں۔ یہی وہ اربابِ ہمت ہیں جن کے نزدیک علم بازارکی جنس نہیں بلکہ انسانیت کاجوہر، کردارکاحسن اورفرض کی پکارہے۔ یہ لوگ تاریخ اسلامی کی تاباں روایات کے امین ہیں۔ تاریخ جانتی ہے کہ امام ابوحنیفہ ؒ کا ذریعہ معیشت بزازی تھا، علم نہیں۔ امام معروف کرخی پاپوش سازتھے مگراپنے علم سے فکرو نظرکی گرہیں کھولتے چلے جاتے تھے۔ ان عظمتوں نے علم کوعلم کے لیے حاصل کیا، دنیاکے لیے نہیں۔ وہ علمِ دین جوصرف معیشت کاذریعہ بن جائے اور فرض نہ رہے جنس کاسب سے زیادہ وقیع نہیں ہوا کرتا۔
مولاناابوالکلام آزاد اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں :عربی تعلیم کوآج کوئی نہیں پوچھتاحتی کہ روٹی بھی اس کے ذریعے نہیں مل سکتی۔ عربی مدارس کے طلباء اس کسمپرسی میں عربی تعلیم ہی کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردیتے ہیں۔ یہ جذبہ بجزعلم پرستی اوررضائے الٰہی کے اورکوئی دنیوی غرض نہیں رکھتااور اس لیے دنیابھرمیں علم کوعلم کے لیے اگرپڑھنے والی جماعت ہے توعربی مدارس کی جماعت ہے۔
ان مدارس کے بارے میں علامہ اقبال کی آرزو یہ ہے:
’’اگرہندوستان کے مسلمان ا ن مکتبوں کے اثر سے محروم ہوگئے توبالکل اس طرح جس طرح ہسپانیہ میں مسلمانوں کی آٹھ سوسال کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اورقرطبہ کے کھنڈراورالحمراء اور باب الاخوتین کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اوراسلامی تہذیب کے آثارکاکوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرے، تاج محل اوردلی کے لال قلعے کے سوامسلمانوں کی آٹھ سوبرس کی حکومت اوران کی تہذیب کاکوئی نشان نہیں ملے گا‘‘۔

قرآن مجید میں خدا کے وعدوں کو خدا کا حکم سمجھنے کی غلطی

ڈاکٹر عرفان شہزاد

اسلام کے سیاسی غلبے کو دینی فریضہ قرار دینے کے حق میں یہ استدلال ایک بنیادی استدلال کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام سے فتح و نصرت کے وعدے کیے تھے جو ان کے حق میں پورے ہوئے۔ یہی وعدے دیگر اہل ایمان کے لے بھی عام ہیں۔مسلمان اگر پورے جذبہ ایمانی سے اسلامی حکومت کے قیام کے لیے کوشش کریں گے تو یہ وعدے ان کے حق میں بھی اسی طرح پورے ہوں گے جیسے یہ صحابہ کے لیے پورے ہوئے تھے۔ اس استدلال کے بھروسے پر مسلم تاریخ میں بے شمار مسلح اور غیر مسلح سیاسی تحاریک برپا کی گئیں جن کا انجام تاریخ کے صفحات میں رقم ہے۔ زیر نظر مضمون میں اس استدلال کا تجزیہ زبان و بیان کے معروف اسالیب کی روشنی میں ،تاریخی اور معروضی حقائق کے حوالے کیا گیا ہے۔
یہاں دو نکات قابل غور ہیں:
پہلا یہ کہ زبان کا معلوم و معروف اسلوب ہے کہ وعدہ، حکم نہیں ہوتا، یعنی جب کسی سے کوئی وعدہ کیا جاتا ہے تو یہ نہیں سمجھا جاتا کہ کوئی حکم دیا جا رہا ہے۔ مثلاً میں اپنے بیٹے سے کہوں کہ امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھانے پر اسے کوئی انعام دوں گا تو اس کا مطلب بس یہی ہے کہ اس کی کارکردگی اچھی ہوئی تو میں اپنا وعدہ پورا کروں گا۔ اس سے یہ کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا کہ اس انعام کا حصول میرے بیٹے کے لیے فرض ہو گیا ہے یا میرے لیے اپنا وعدہ ہر حال میں پورا کرنا فرض ہو گیا ہے۔ یہ ایک عام فہم بات ہے۔ کوئی صحیح الفہم شخص اس کا انکار نہیں کر سکتا۔
دوسرا یہ ہے کہ وعدہ اگر خاص کسی شخص یا اشخاص سے کیا جائے تو وہی اس کا مخاطب اور مصداق ہوتے ہیں، دیگر لوگ اس سے مراد نہیں ہوتے۔ جیسے مذکورہ بالا مثال میں میرے وعدے کا مخاطب میرا بیٹا ہے۔ اس وعدے کا مصداق بھی وہی ہے، کوئی دوسرا نہیں ہے، حتی کہ اس کے علاوہ میری دوسری اولاد بھی اس وعدے کا مصداق نہیں بن سکتی تاوقتیکہ ان کو بھی اس میں شامل کرنے کا اعلان میں خود نہ کروں، یا وعدے کی نوعیت ہی عام ہو جیسے میں اپنے بچوں سے کہوں کہ جو بھی اچھی کارکردگی دکھائے گا، اسے انعام ملے گا۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ سب اس میں شامل ہوں گے۔ لیکن وعدہ خاص الفاظ میں ہے تو عام ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ یہ بھی ایک معروف بات ہے۔ اس کا انکار بھی ممکن نہیں۔
ان دونوں اصولوں کی روشنی میں قرآن مجید میں صحابہ سے متعلق خدا کے وعدوں کو دیکھتے ہیں۔
پہلی بات یہ کہ خدا نے صحابہ کے ساتھ جو وعدے کیے، وہ صرف وعدے ہیں، حکم نہیں۔ اگر کوئی ان کو حکم سمجھتا ہے تو اس کے لیے دلیل درکار ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ خدا کے یہ وعدے صحابہ کے حق میں بعینہ پورے ہوئے کیونکہ وہی ان کے مخاطب تھے، لیکن یہ وعدے دیگر مسلمانوں کے لیے تھے نہ ان کے حق میں پورے ہوئے، کیونکہ وہ ان کے مخاطب ہی نہیں تھے۔ ان خاص وعدوں کو اگر کوئی عام سمجھتا ہے تو اس کے لیے بھی دلیل لانی پڑے گی۔
یہاں قرآن مجید سے خدا کے دو وعدے پیش کیے جاتے ہیں۔ ہم ان کا تجزیہ کر کے دیکھتے ہیں کہ کیا ان وعدوں کو حکم اور پھر اس حکم کو عام سمجھا جانا درست ہو سکتا ہے۔
خدا نے صحابہ سے بحیثیت جماعت وعدہ کیا کہ ان کے صالحین کو اس دنیا ہی میں غلبہ و حکومت عطا کرے گا:
وَلاَ تَہِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (3:139)
’’اور (جو نقصان تمھیں پہنچا ہے، اْس سے) بے حوصلہ نہ ہو اور غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو غلبہ بالآخر تمھیں ہی حاصل ہو گا۔‘‘
وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُم فِی الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِیْ ارْتَضَی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُم مِّن بَعْدِ خَوْفِہِمْ أَمْناً یَعْبُدُونَنِیْ لَا یُشْرِکُونَ بِیْ شَیْْئاً وَمَن کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْفَاسِقُون (24:55)
’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اچھے عمل کیے ہیں، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو وہ اِس سرزمین میں ضرور اسی طرح اقتدار عطا فرمائے گا، جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو اس نے عطا فرمایا تھا اور ان کے لیے ان کے دین کو پوری طرح قائم کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے اور ان کے اِس خوف کی حالت کے بعد اِسے ضرورامن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، کسی چیز کو میرا شریک نہ ٹھیرائیں گے۔ اور جو اِس کے بعد بھی منکر ہوں تو وہی نافرمان ہیں۔‘‘
خدا کا ایک وعدہ ہجرت کرنے والے مسلمانوں سے تھا کہ اگر وہ خدا کی راہ میں ہجرت کریں گے تو خدا کی طرف سے بحیثیت جماعت اس دنیا ہی میں امن و خوش حالی پائیں گے۔ یہ وعدہ پہلے وعدے ہی کا ابتدائیہ ہے، تاہم یہ الگ سے بھی کیا گیا ہے، اس لیے بوجوہ اسے یہاں الگ وعدہ شمار کیا گیا ہے:
وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوا فِی اللّٰہِ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّءَنَّہُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَلَأَجْرُ الآخِرَۃِ أَکْبَرُ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ (16:41)
’’جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہے، اِس کے بعد کہ ان پر ظلم ڈھائے گئے ، ہم ان کو دنیا میں بھی لازماً اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر تو کہیں بڑھ کر ہے۔ اے کاش، یہ منکرین جانتے۔‘‘
وَمَن یُہَاجِرْ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الأَرْضِ مُرَاغَماً کَثِیْراً وَسَعَۃً (4:100)
’’(یہ لوگ گھروں سے نکلیں اور مطمئن رہیں کہ) جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا، وہ زمین میں پناہ کے لیے بڑے ٹھکانے اور بڑی گنجایش پائے گا۔‘‘
ہم جانتے ہیں کہ صحابہ سے کیے گئے یہ دونوں وعدے صحابہ کے حق میں پورے ہوئے۔ انھوں نے ہجرت کے نتیجے میں امن و خوش حالی بھی پائی اور اپنے مخالفین کے ساتھ ہونے والی جنگوں کے نتیجے میں غلبہ و حکومت بھی۔
زبان و عقل کے عام اور معروف فہم کے مطابق، خدا کے یہ وعدے حکم نہیں ہو سکتے، دوسرے یہ کہ یہ وعدے عام نہیں ہو سکتے، لیکن مسلمانوں نے دونوں مغالطے اختیار کیے: انھوں نے ان وعدوں کو حکم بھی سمجھا اوراس مزعومہ حکم کو عام بھی سمجھا۔ اس کے نتیجے میں انھوں نے حصول غلبہ و حکومت کو اپنے لیے دینی فریضہ اور اس کے وقوع کو خدائی وعدہ قرار دے دیا۔ پھر اس بھروسے پر انھوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں حصول اقتدار کے لیے مسلح اور غیر مسلح سیاسی تحریکیں برپا کیں جو کم و بیش تمام کی تمام ناکامی سے دو چار ہوئیں۔ اس قسم کی تحریکوں اور ان کی ناکامیوں کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ قرآن مجید میں بڑی وضاحت سے یہ بیان آیا ہے کہ خدا اپنے اصول کبھی نہیں بدلتا۔ اگر یہ وعدے عام مسلمانوں کے لیے بھی ہوتے تو کامیابی ان کو بھی نصیب ہوتی۔ چونکہ یہ وعدے عام مسلمانوں کے لیے تھے ہی نہیں ، اس لیے ان کے لیے پورے بھی نہیں ہوئے۔ خدا نے اپنااصول نہیں بدلا۔
بالکل اسی طرح، جب کبھی مسلمانوں کی کسی جماعت کو کسی علاقے سے ہجرت کرنا پڑ جاتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ساری زندگی مہاجر کیمپوں میں کسمپرسی کے عالم میں گزار دیتے ہیں، مگر بحیثیت جماعت امن و خوش حالی کا منہ نہیں دیکھ پاتے۔ یہاں افراد کی انفرادی حیثیت نہیں، بلکہ جماعتی حیثیت مد نظر ہے۔ چنانچہ جس ملک میں بھی یہ جا کر رہ پاتے ہیں، دوسرے بلکہ تیسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے ہی رہ پاتے ہیں۔ ہجرت کے بعد امن و خوش حالی کے خدائی وعدے بھی اگر عام ہوتے تو ان کے حق میں بھی پورے ہوتے نظر آتے۔ چنانچہ تاریخی اور معروضی حقائق بھی اس فہم کے خلاف کھڑے ہیں کہ صحابہ سے کیے جانے والے لازمی فتح و نصرت اور لازمی امن و خوش حالی کے وعدے عام ہیں۔ 
یہاں تاویل کرنے والے یہ کہہ سکتے ہیں کہ غلبہ و حکومت کے وعدے اعلی ایمان کے ساتھ مشروط ہیں۔ چونکہ صحابہ جیسا ایمان اب تک دستیاب نہ ہو سکا، اس لیے یہ وعدے عام مسلمانوں کے حق میں کبھی پورے ہو کر نہ دیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات ماضی و حال میں برپا ہونے والی تمام مسلح و غیر مسلح سیاسی تحاریک کے لیے علی الاطلاق کہی جا سکتی ہے، حالانکہ ان میں سے بعض بلکہ اکثر کے تذکرے ان کے رہنماؤں اور ان میں شامل افراد کے اعلیٰ کردار اور ایمان افروز واقعات سے بھرے پڑے ہیں؟سوچنے کی بات یہ ہے کہ اپنے جان و مال قربان کر دینے سے بڑھ کر ایمان و نیت کے خالص پن کا اور کیا ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے اور مسلم عسکری تنظمیں یہ قربانیاں آج بھی پیش کر رہی ہیں؟ تاہم،حقیقت یہ ہے کہ غلبہ و حکومت انھیں میسر نہ آئے۔
بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ ان تمام لوگوں میں سے کوئی بھی پورے ایمان والے نہ ہو سکے تو ہجرت پر مجبور کر دیے جانے والے مسلمانوں کی مظلومیت میں تو عموماً کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔ ہجرت کے بعد امن و خوش حالی کے وعدے اگر عام ہوتے تو بحیثیت جماعت عام مسلم مظلوم مہاجرین کے حق میں تو لازماً پورے ہونے چاہیے تھے، مگر وہ بھی نہیں ہوتے؟اور اگر ہجرت کے بعد کے وعدے عام نہیں ہیں، تو غلبہ و حکومت والے وعدے کیونکر عام ہو سکتے ہیں؟ 
ان سوالوں کا جواب اس کے سوا اور کیا ہے کہ غلبہ و حکومت اور امن و خوش حالی کے یہ وعدے عام نہیں تھے۔عام مسلمان ان وعدوں کا مخاطب ہیں نہ مصداق۔
بعض حضرات خدا کے ان وعدوں میں موجود غلبہ و حکومت کی بشارتوں کو اخلاقی فتح قرار دیتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ خدا کے ان وعدوں کی رو سے صحابہ کو کیا صرف اخلاقی فتح ملی تھی؟ان سے وعدہ دنیوی سیاسی غلبے و حکومت کا تھا، انھیں وہی ملا۔ اب دیگر لوگوں کے لیے یہ وعدہ اگر صرف اخلاقی فتح تک محدود ہو گیا ہے تو اس تخصیص کی کیا دلیل ہے؟ اور اگر یہ تخصیص مان بھی لی جائے تو پھر مسلمانوں کو مسلح و غیر مسلح سیاسی تحاریک برپا کرنے کی بجائے اخلاق کے میدان میں ہی فتح حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے؛ یا پھر یہ مان لیا جائے کہ اس اخلاقی فتح کا یہ فہم غلبہ و حکومت کے حصول میں کوشاں گزشتہ اور موجودہ تحاریک کے سربراہان کو بھی نہ تھا اور نہ ہے۔ وہ اسے سیاسی فتح ہی سمجھتے رہے، مگر ناکامی کے بعد قرآن کے وعدوں کا عمومی مصداق اور ان تحریکوں کی شکست دونوں کا محل درست کرنے کے لیے اسے اخلاقی فتح قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
یہاں اس سوال کو بھی لے لینا چاہیے کہ صحابہ ہی کے ساتھ یہ وعدے کیوں کیے گئے اور انھی کے حق میں کیوں پورے ہوئے؟ یہ وعدے عام نہیں تھے تو قرآن میں قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے ان کے تذکرے کا مقصد کیا ہے؟
اختصار سے بیان کیا جائے تو اس سب کا مقصد مسلمانوں کو وہ سرگزشت سنانا ہے جس میں خدائی مدد سے جزیرہ عرب میں ایک غیر معمولی واقعہ برپا کیا گیا تاکہ وہ ایک نشانِ حق بن کر قیامت تک کے انسانوں کے لیے تذکیر اور دعوت ایمان کا سامان بن جائے۔ بالکل اسی طرح جس طرح دیگر رسولوں کی سرگزشت ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں جن میں ہم خدا کی خاص نصرت کے واقعات عبرت اور تذکیر کے لیے پڑھتے ہیں، جیسے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ جس میں موسیٰ علیہ السلام خدا کی خاص مدد سے اپنے دشمنوں پر اپنے عصا، عبور بحر اور دیگر معجزات کے ذریعے غالب آئے۔ ان کو پڑھتے وقت ہم یہ نہیں سمجھتے کہ موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہم بھی کسی فرعون سے جا ٹکرائیں تو خدا کی مدد اسی طرح نازل ہو گی جس طرح موسیٰ کے لیے اتری تھی۔ ہم اسے خدا کا ایک خاص نشانِ حق سمجھ کر پڑھتے ہیں۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ خدا کے رسولوں کا اسی دنیا میں اپنے مخالفین پر غالب آ جانا خدا کا ایک خاص قانون ہے:
کَتَبَ اللّٰہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِیْ إِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ (58:21)
’’اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑے زور والا اور بڑا زبردست ہے۔‘‘
چنانچہ ہر رسول کے مخالفین خدائی عذاب کے نتیجے میں بالآخر مغلوب ہوئے۔ 
قرآن مجید کی درج ذیل آیت بھی اسی تناظر میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبے کا خدائی فیصلہ سناتی ہے:
ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ (9:33)
’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ (اِس سرزمین کے) تمام ادیان پر اس کو غالب کر دے، خواہ مشرکین اِسے کتنا ہی نا پسند کریں۔‘‘
یہ غلبہ خدا کے مذکورہ قانون کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی ظاہر ہو کر رہا۔اس سے دیگر مسلمانوں کے لیے سیاسی غلبے کے حصول کی ہدایت یا حکم کا کوئی قرینہ نہیں نکلتا۔ آیت میں موجود الدین کلہ (تمام ادیان) کے الفاظ سے غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ’’تمام ادیان‘‘ وہ ادیان تھے جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے غالب آنا تھا، یعنی جزیرہ عرب میں پائے جانے والے ادیان۔ یہ تخصیص اس لیے کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے دین کاغالب ہونا بیان کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ آیت میں موجود المشرکین کا الف لام عہد کا ہے جو تمام مشرکین نہیں بلکہ عرب کے مشرکین کو بیان کر رہا ہے۔ اس غلبے کے خاص ہونے کا یہ ایک مزید واضح قرینہ ہے۔
دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ذریت ابراہیم کو ان کے ایمان و عمل کے مطلوبہ معیار پر پورا اترنے کی صورت میں اسی دنیا میں غلبے کا وعدہ اور ایمان و عمل میں غیر مطلوب طرز عمل اختیار کرنے پر اسی دنیا میں ذلت و رسوائی کی وعید سنائی ہے:
چنانچہ پہلے مرحلے میں ذریت ابراہیم کی ایک شاخ، بنی اسرائیل اس امتحان کے لیے چنے گئے تھے:
یَا بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ اذْکُرُوا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ أَنْعَمْتُ عَلَیْْکُمْ وَأَوْفُوا بِعَہْدِیْ أُوفِ بِعَہْدِکُمْ وَإِیَّایَ فَارْہَبُونِ (سورۃ البقرہ، 2:40)
’’اے بنی اسرائیل، میری اْس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی تھی اور میرے عہد کو پورا کرو ، میں تمھارے عہد کو پورا کروں گا، اور مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔‘‘
یہ وعدہ یہی تھا کہ خدا کے فضل و سرفرازی کی جو نعمت وہ اپنی حرکتوں کی وجہ سے گنوا چکے ہیں، انھیں دوبارہ مل سکتی ہے اگر وہ اپنی روش بدل کر دوبارہ خدا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اختیار کر لیتے ہیں۔
دوسرے مرحلے میں ذریت ابراہیم کی دوسری شاخ، بنی اسماعیل چنے گئے:
أَمْ یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَی مَا آتَاہُمُ اللّٰہُ مِن فَضْلِہِ فَقَدْ آتَیْْنَا آلَ إِبْرَاہِیْمَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَآتَیْْنَاہُم مُّلْکاً عَظِیْماً (4:54)
’’کیا یہ لوگوں سے اللہ کی اس عنایت پر حسد کر رہے ہیں جو اس نے ان پر کی ہے؟ (یہی بات ہے تو سن لیں کہ) ہم نے تو اولاد ابراہیم (کی اِس شاخ یعنی بنی اسماعیل) کو اپنی شریعت اور اپنی حکمت بخش دی اور انھیں ایک عظیم بادشاہی عطا فرما دی ہے۔‘‘
پھر انہی مسلمانوں سے گزشتہ سنت الٰہی کے مطابق وعدہ کیا گیا:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوَا إِن تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ کَفَرُوا یَرُدُّوکُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِیْنَ (آل عمران، 3:149)
’’ایمان والو، اگر اِن منکروں کی بات مانو گے تو یہ تمھیں الٹا پھیر کر رہیں گے اور تم نامراد ہو جاؤ گے۔‘‘
وَلاَ تَہِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (3:139)
’’اور (جو نقصان تمھیں پہنچا ، اس سے) بے حوصلہ نہ ہو اور غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو غلبہ بالآخر تمھیں ہی حاصل ہوگا۔‘‘
ان کی ہجرت کے بعد امن و خوش حالی بھی اسی وعدے کی فرع تھی۔ 
اس خصوصی اہتمام کی وجہ دین کے لیے انسانی محافظین کا چناؤ، ان کے ذریعے سے بعد از رسالت دنیا میں تبلیغِ دین اور عام لوگوں کے لیے خدا کی زندہ نشانی قائم کرنا تھا کہ کس طرح ذریت ابراہیم اپنے ایمان و عمل کی درستی اور بگاڑ کی بنیاد پر بار بار عروج و زوال کے ادوار سے گزرتے ہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی ساڑھے تین ہزار سالہ تاریخ اور بنی اسماعیل کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں خدا کے اس فیصلے کی داستانیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ صحابہ نے دشمنان اسلام کے خلاف جو قتال کیا، وہ غلبہ و حکومت کے لیے نہیں، بلکہ خدا کے نافرمانوں کو اتمام حجت کے بعد خدا کے حکم سے آخری سزا دینے کے لیے اور مظلوم مسلمانوں کو ان کے پنجہ ظلم سے چھڑانے کے لیے کیا تھا:
قَاتِلُوہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللّٰہُ بِأَیْْدِیْکُمْ وَیُخْزِہِمْ وَیَنصُرْکُمْ عَلَیْْہِمْ وَیَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ (سورہ التوبہ 9:14)
’’ان سے لڑو، اللہ تمھارے ہاتھوں سے ان کو سزا دے گا اور اْنھیں ذلیل و خوار کرے گا اور تمھیں ان پر غلبہ عطا فرمائے گا اور مومنوں کے ایک گروہ کے کلیجے (اِس سے) ٹھنڈے کرے گا۔‘‘
وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ ہَذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ أَہْلُہَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ وَلِیّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ نَصِیْراً (4:75)
’’(ایمان والو)، تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے جو فریاد کر رہے ہیں کہ پروردگار، ہمیں ظالموں کی اِس بستی سے نکال اور ہمارے لیے اپنے پاس سے ہمدرد پیدا کر دے اور اپنے پاس سے حامی اور مددگار پیدا کر دے۔‘‘
مسلمانوں کے غلبہ و حکومت کا ذکر ان مہمات کے نتیجے اور خدا کی طرف سے انعام کے طور پر کیا گیا ہے۔ ذریت ابراہیم کے علاوہ، خدا نے اپنے ذمے یہ لیا ہے نہ اس پر لازم ہے کہ مسلمانوں کے دیگر گروہوں کے لیے بھی یہی قانون لاگو کرے۔ ان وعدوں کو حکم اور پھر حکم کو اپنے لیے عام سمجھنا مسلمانوں کی اپنی غلط فہمی ہے۔ خدا ان کی غلط فہمی کا ذمہ دار نہیں، اور نہ وہ ان کی غلط فہمی کی وجہ سے اپنے اصول بدلنے والا ہے۔
اپنے حقوق کے لیے اگر سیاسی جدوجہد کرنا مسلمانوں کے حالات کا تقاضا ہو تو وہ اسے انسانی سماج کی ایک ضرورت سمجھ کر اختیارکر سکتے ہیں، نہ کہ کوئی دینی فریضہ سمجھ کر۔ نیز یہ بھی ذہن میں رہے کہ ان کی کاوشوں کی وجہ سے خدا پر ان کی فتح و نصرت کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ خدا کی حکمت کا تقاضا ہوگا تو وہ مدد کر بھی سکتا ہے، مگر یہ نہ اس کا وعدہ ہے نہ کوئی عام قانون۔
سماجی حقیقت یہ ہے کہ آج کے کثیر القومی اور کثیر المذاہب جمہوری سماجوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہوگی، وہاں ان کو اپنی حکومت تشکیل دینے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آنی چاہیے جہاں وہ اسلام کے مسلم اجتماعیت سے متعلق احکامات مسلم کمیونٹی پر لاگو کریں۔ اور جہاں وہ اقلیت میں ہوں، وہاں انھیں ایک مفید، صالح اور دوستانہ اقلیت بننے سے کوئی چیز مانع نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم،ان کے صالح طرز عمل کے باجودبطور اقلیت انھیں اپنے سماج کے نظام یا سماجی رویوں کی وجہ سے کسی ناانصافی یا زیادتی سے پالا پڑتا ہے تو اس کی اصلاح کی ہر ممکن کوشش، جس کی اجازت سماج اور قانون انھیں دیتا ہے،انھیں کرنی چاہیے۔ ناانصافی اور زیادتی کی ایسی صورت حال تو مسلم اکثریت کے سماج میں مسلمانوں کے مختلف مسلکی یا لسانی گروہوں کو بھی درپیش رہتی ہے۔جاننا چاہیے کہ یہ مذہبی سے زیادہ انسانی رویوں کا مسئلہ ہے۔ اس کا حل ہتھیار اٹھا لینا نہیں، سماجی رویوں کی اصلاح کی کوششیں کرنا ہے۔تاہم، معاملہ اگر مسلم کمیونٹی کی برداشت سے باہر ہو جائے تو انھیں وہاں سے ہجرت کر جانی چاہیے۔ ہجرت بھی ممکن نہ ہو تو بیرونی ریاستی طاقتوں اور اداروں کو مدد کے لیے بلایا جانا چاہیے، نہ کہ خود ہتھیار اٹھا کر اپنے لیے مزید خرابی کے اسباب پیدا کرنا چاہئیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عہد رسالت میں مسلمانوں میں سے جو لوگ ہجرت نہ کر پائے تھے اور کفار کے ظلم کا شکار تھے تومدینہ کی اسلامی ریاست کو ان کی مدد کے لیے ابھارا گیا لیکن جہاد کے احکام نازل ہو جانے کے باوجود ان محکوم و مظلوم مسلمانوں کو ہتھیار اٹھا لینے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا بلکہ یہ ہدایت دی گئی کہ خدا سے دعا کریں کہ وہ کسی طاقت کو ان کی مدد کے لیے بھیجے۔ (دیکھیے مذکورہ بالا آیت 4:75) نوبت البتہ اگر یہاں تک پہنچ جائے کہ مسلمانوں کی طرف سے پر امن رہتے ہوئے بھی ان کے مخالفین کی طرف سے ان کی جان، عزت اور آبرو بھی محفوظ نہ رہیں تو ذاتی دفاع کے فطری حق کے لیے لڑ پڑنا، ہتھیار اٹھا لینا ناگزیر تقاضا بن جاتا ہے۔
دور جدید میں دنیا کے کثیر القومی اور کثیر المذاہب سماجوں میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کے پیچھے بڑی وجہ مسلمانوں کی اپنے دین کی بنیاد پر دیگر کمیونٹیز پر غالب آنے کی نفسیات ہے۔ مسلمان اگر اس نفسیات سے باہر آ جائیں توبقائے باہمی کے اصول پر دنیا کے ساتھ آگے بڑ ھ سکتے ہیں۔ دنیا بھی ان پر بھروسہ کرے گی اور جن مشکلات کا سامنا انھیں اب ہے، ان میں سے اکثر کا خاتمہ ہو جائے گا۔ المیہ مگر یہ ہے کہ مسلمانوں نے دین کے نام پر غلبے کے حصول کے لیے جن مشکلات کا راستہ اپنے لیے چنا ہے، وہ ان کے دین کا تقاضا ہی نہیں ہے۔ جن وعدوں کے بھروسے پر یہ سب کیا جا رہا ہے، وہ وعدے ان کے لیے ہیں ہی نہیں۔
دین کا اصل مقصد تزکیہ نفس ہے۔ مسلمانوں سے ان کے دین کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مسلمان جہاں بھی رہے، اپنی انفرادی اور سماجی حیثیت کے مطابق ایمان و عمل کے بہترین معیار کے حصول میں کوشاں رہے۔ پھر وہ چاہے باپ ہو یا بیٹا، معلم ہو یا شاگرد، حاکم ہو یا محکوم ہر حال میں خدا کے حکم کا پابند ہو کر رہے۔ مسلمان جتنا جلد ان حقائق کو باور کر لیں، اتنا ہی ان کے لیے بہتر ہے تاکہ ان کی توانائیاں غیر ضروری ترک تازیوں میں ضائع ہونے کی بجائے مثبت مقاصد کے لیے استعمال ہو سکیں۔

’’تذکار رفتگاں‘‘ ۔ اہل علم کے لیے ایک علمی سوغات

مولانا مفتی محمد اصغر

اس وقت مولانا زاہد الراشدی صاحب کی تازہ تصنیف ’’تذکار رفتگاں‘‘ ہمارے سامنے ہے۔ کتاب کیا ہے، پڑھ کر ہی اندازہ ہو سکتا ہے کہ کس پایے کی کتاب ہے اور اس میں کتنا قیمتی تاریخی علمی مواد موجود ہے۔ یہ کتاب تقریباً نصف صدی سے زائد کے اکابر علماء، زعماء، مشائخ، قائدین، سربراہان مملکت اور قومی وبین الاقوامی شخصیات کے حالات زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔ کتاب میں اس فانی دنیا سے رخصت ہو جانے والے اکابر اہل علم کی وفات پر ہلکے پھلکے انداز میں مولانا نے اپنے قلبی تاثرات وجذبات کا اظہار پیش کیا ہے۔ 
مولانا کو اللہ رب العزت نے گوناگوں صفات وکمالات سے نوازا ہے۔ علم وعمل، درس وتدریس، تقریر وتحریر، خطابت وصحافت، فقہ واجتہاد، تواضع وانکسار جیسی صفات سے مالا مال فرمایا ہے۔ مولانا کا قلم عجب قلم ہے، آپ کی تحریر کی خوبی یہ ہے کہ آپ کو مشکل سے مشکل بات آسان پیرایے میں بیان کرنے کا ملکہ حاصل ہے۔ پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کا حل نکالنے میں مولانا اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ غبی اور کم علم بھی آپ کی تحریر کو شوق سے پڑھ اور سمجھ سکتا ہے۔ اہل علم کا ایک بڑا طبقہ آپ کے قلم کا گر ویدہ ہے۔ آپ کے قلم سے نکلی شستہ تحریر محبت کا پیغام دیتی، مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑتی اور پست ہمت لوگوں کو باہمت بنا دیتی ہے۔ آپ کی تحریر بھٹکے ہوؤں کو راہ راست پر لاتی، فرقوں اور گروہوں میں بٹے ہوؤں کو وحدت آشناکرتی اور گم کردہ راہوں کو نشان منزل عطا کرتی ہے۔ 
مولانا کو نصف صدی سے زیادہ تک امت کے اساطین علم اور اکابر اہل علم کی سرپرستی میں دینی خدمات کا موقع ملا ہے، حافظ الحدیث مولانا عبد اللہ درخواستی، مفتی محمود صاحب، مولانا عبید اللہ انور، مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہم اللہ جیسی عظیم ہستیوں سے حصول علم اور کسب فیض کا موقع میسر آیا ہے۔ اللہ رب العزت مولانا کو اور زیادہ صحت وعافیت سے نوازیں اور ان کی قومی، ملکی، دینی، ملی خدمات کے دائرے کو وسیع فرمائیں۔
زیر نظر کتاب کو چار مرکزی عنوانات میں تقسیم کیا گیا ہے: اساتذہ واکابر، قومی وبین الاقوامی شخصیات، رفقاء واحباب، اور مختصر تعزیتی شذرات۔ تقریباً ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے اہل علم و قلم، اصحاب علم و دانش، صاحب ثروت شخصیات کا تذکرہ عقیدت و محبت کے ساتھ بڑے والہانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے، بالخصوص چند عظیم شخصیات کا تذکرہ تو بڑی چاہت و محبت اور تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے۔ حضرت مفتی محمود صاحب کی شخصیت کے مختلف پہلووں پر لگ بھگ پچپن صفحات میں اظہار خیال کیا گیا ہے، مرکز ی جامع مسجد گوجرانوالہ کے سابق خطیب حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحب کو چودہ صفحوں میں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے، مولانا عبیداللہ انور اور مولانا عبداللہ درخواستی کا تذکرہ بھی محبت و عقیدت کے ساتھ بڑی تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، لیکن سب سے زیادہ قلبی جذبات و تاثرات کا اظہار مولانا صوفی عبدالحمید سواتی اور شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے تذکرہ میں ہوا ہے۔ اول الذکر مولانا کے عم محترم اور ثانی الذکر مولانا کے والد محترم ہیں، ان دونوں کا تذکرہ مولانا نے بڑی چاہت اور محبت میں ڈوب کر کیا ہے۔ 
مولانا اپنے والد محترم کے تذکرہ میں مضمون کا آغاز ان الفاظ سے کرتے ہیں:
’’حضرت مولانا سرفراز خان صفدر میرے والد گرامی تھے، استاد محترم تھے، شیخ ومربی تھے، اور ہمارے درمیان دوستی اور بے تکلفی کا وہ رشتہ موجود تھا جو ہر باپ اور اس کے بڑے بیٹے کے درمیان ہوتا ہے۔‘‘
اس کے بعد مولانا نے اپنے والد گرامی کے خانگی حالات، بچوں کی تعلیم وتربیت کا انداز، تدریسی اور تحریکی زندگی، تصنیفی اور تالیفی خدمات اور روزمرہ کے معمولات کو سپرد قلم کیا ہے جو ہم سب کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے۔ مولانا لکھتے ہیں:
’’حضرت والد صاحب کی صحت میں شب و روز کا نظام کچھ اس طرح ہوتا تھا کہ سحری کے وقت اٹھ کر بلاناغہ غسل کرتے تھے اور تہجد کی نماز ادا کرتے تھے۔ اس وقت ہماری والدہ مرحومہ بھی بیدار ہو کر تہجد پڑھتی تھیں اور ناشتہ تیار کرتی تھیں۔ اذان فجر کے فوراً بعد والد محترم ناشتہ کرتے تھے جو عام طور پر پراٹھے اور چائے پر مشتمل ہوتا تھا۔ اس کے بعد مسجد میں چلے جاتے تھے، ساتھ ہی والدہ مرحومہ بھی مسجد میں چلی جاتی تھیں، اس لیے کہ فجر کی نماز اور درس میں خواتین بھی باقاعدہ شریک ہوا کرتی تھیں اور خواتین کے لیے مسجد میں الگ انتظام موجود تھا۔ نماز فجر پڑھانے کے فوراً بعد حضرت والد محترم درس دیتے تھے جو تین دن قرآن پاک اور تین دن حدیث پاک کا ہوتا تھا۔ اس کے بعد وہ گوجرانوالہ میں مدرسہ نصرت العلوم میں پڑھانے کے لیے چلے جاتے تھے جہاں سے دوپہر سے کچھ پہلے واپسی ہوتی تھی۔ کھانا کھا کر اور اخبار پڑھ کر سو جاتے تھے۔ ظہر تک آرام ہوتا تھا، ظہر سے عصر تک اپنی چارپائی پر بیٹھے لکھنے اور پڑھنے کا کام کرتے رہتے تھے اور اسی دوران بچیاں مختلف اسباق کی تعلیم حاصل کرتی رہتی تھیں۔ عصر کی نماز کے بعد قرآن کی منزل پڑھتے تھے جو عام طور پر روزانہ ایک پارہ ہوتا تھا۔ اس کے بعد گھر کے چھوٹے موٹے کام اپنے ہاتھ سے کیا کرتے تھے۔ جس زمانے میں ابھی بجلی نہیں آئی تھی، لیمپ اور لالٹین کے شیشے صاف کرنا، چارپائی کی ڈھیلی ادوائن کو کسنا، پیڑھی وغیرہ اگر قابل مرمت ہو تو اسے ٹھیک کرنا اور اسی طرح کے دیگر چھوٹے چھوٹے کام کرنا ان کے معمولات میں شامل تھا۔ نماز مغرب کے بعد کھانا کھاتے اور مطالعہ کرتے تھے، عشاء کے بعد سردیوں میں مطالعہ کرتے اور گرمیوں میں جلد سونے کی کوشش کرتے تھے۔‘‘
حضرت مولانا مفتی محمود صاحب کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں:
’’حضرت مولانا مفتی محمود صاحب صرف ایک سیاستدان نہیں تھے بلکہ دینی علوم کے معتبر استاد، بیدار مغز مفتی، فقیہ النفس عالم، حق گو خطیب، شب زندہ دار عارف باللہ بھی تھے، اس لیے ان کی ان متنوع اور گو نا گوں حیثیتوں میں سے سیاستدان اور سیاسی قائد کی حیثیت کو الگ کرنا اور اس کے امتیازات و تخصصات کو جداگانہ طور پر پیش کرنا ایک مشکل اور دشوار امر ہے، اور یہ شاید ان کے ساتھ نا انصافی بھی ہو کہ ان کو صرف سیاسی قائد کے طور پر سامنے لایا جائے۔ مولانا مفتی محمود صاحب ایک مفتی اور فقیہ کی حیثیت سے اسلامی احکام کی تعبیر و تشریح، ترجمانی اور دفاع کی ذمہ داری سے تدبیر اور بصیرت کے ساتھ عہدہ برآ ہوتے تھے۔ 
افتاء اور تفقہ میں ابتدائے اسلام سے دو الگ الگ ذوق پائے جاتے ہیں۔ ایک ذوق سختی اور تشدد کا ہے کہ مسئلہ بیان کرنے اور فتویٰ دینے میں کوئی لچک نہ دی جائے، دوسرا ذوق رخصت اور لچک کا ہے کہ مسئلہ پوچھنے والے کو شرعی اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن سہولت اور لچک فراہم کی جائے اور اسے مشکل اور الجھن سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے، حضرت مفتی محمود صاحب کا ذوق نرمی اور سہولت کا تھا اور وہ یہ کہا کرتے تھے کہ کوئی شخص مسئلہ پوچھنے کے لیے آیا ہے تو اس بات کو غنیمت سمجھو کہ وہ دین کے دائرے میں رہنا چاہتا ہے، اس لیے اسے جتنی سہولت فراہم کر سکتے ہو، اس کے لیے پوری کوشش کرو اور اصول کے دائرے کو قائم رکھتے ہوئے فروع و جزئیات میں زیادہ سختی نہ کرو، امت کے اجتماعی مسائل و مشکلات کے حوالے سے ان کا ذوق یہی تھا اور ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ کسی بھی مسئلہ میں شرعی اصول اور قواعد کی حدودمیں رہتے ہوئے نرمی اور سہولت کا راستہ اختیار کیا جائے اور مسئلہ کو الجھانے اور ڈیڈلاک کی کیفیت پیدا کرنے کی بجائے مسئلہ کے حل اورسلجھاؤ کی کوئی صورت نکالی جائے۔ مفتی صاحب کو قدرت نے اسلامی احکام و مسائل کی حکیمانہ تشریح اور دفاع کا بھی خصوصی ذوق عطا کیا تھا اور وہ اسلامی قوانین پر اعتراضات کے جواب میں پورے اعتماد کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے منطق و استدلال کا ایسا حصار قائم کر دیتے تھے کہ کسی بڑے سے بڑے مخالف کے لیے بھی ان کے دلائل کا سامنا مشکل ہو جاتا تھا۔‘‘
جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ رائے پوری کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں:
’’مولانا عبداللہ رائے پوری کی ذاتی زندگی انتہائی سادگی اور کفایت شعاری سے عبارت تھی، وہ جامعہ رشیدیہ سے اپنی تنخواہ وصول کرتے وقت مہینہ میں کی ہوئی چھٹیوں کا حساب کر کے اتنے دنوں کی تنخواہ وضع کروا لیتے تھے۔ درسگاہ میں پڑھائی کے وقت کے علاوہ جو وقت گزارتے، اس کا حساب کر کے اتنا بجلی کا بل مدرسہ میں جمع کروا دیتے۔ حضرت کے لیے جامعہ رشیدیہ میں ایک کمرہ الگ مخصوص کیا گیا تھا مگر وہ آخر وقت تک جامعہ کو اس کا کرایہ ادا کرتے رہے۔ حضرت مدرسہ کے شیخ الحدیث ہو نے کے باوجود مدرسہ کے لیٹر پیڈ اور قلم دوات کو فتویٰ نویسی کے علاوہ کسی کام کی لیے استعمال نہیں کرتے تھے۔ وہ مدرسہ کی سالانہ تعطیلات کی تنخواہ بھی وصول نہیں کرتے تھے۔ دوسرے مدارس کے سالانہ اجتماعات اور امتحانات وغیرہ کے لیے جاتے تو ان سے سفر کے اخراجات سے زائد رقم وصول نہ کرتے تھے۔‘‘
مولانا زاہد الراشدی صاحب کا اصلاح و ارشاد اور بیعت کا تعلق مولانا عبیداللہ انور صاحب سے تھا، ان کا تذکرہ بھی مولانا نے بڑی محبت سے کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’مولانا عبید اللہ انور میرے شیخ تھے، میرا ان کے ساتھ اصل تعلق سلسلہ قادریہ میں بیعت کا تھا۔ میں نے چند بزرگ ایسے دیکھے ہیں جن کا مستقل معمول تھا کہ وہ رات کو نہیں سوتے تھے۔ ایک مولانا عبیداللہ انور، دوسرے مولانا سید حامد میاں۔ ان کا معمول تھا کہ ساری رات نماز، مطالعہ، ذکر میں گزارتے تھے۔ مطالعہ بہت کرتے تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں وسعت مطالعہ کے اعتبار سے تین چار آدمی دیکھے ہیں کہ وہ ہر موضوع پر طویل کتابوں کا بالاستیعاب مطالعہ کرتے تھے۔ ایک والد محترم مولانا سرفراز خان صفدر مطالعہ و تحقیق کے آدمی تھے۔ دوسرے امیر شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کے بڑے بیٹے حضرت مولانا سید ابوذر شاہ بخاری۔ تیسرے مولانا عبیداللہ انور۔ چوتھے حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب بڑے کتاب دوست آدمی تھے۔ 
ابتدا میں جب میں لکھتا تھا تو ’’زاہد گکھڑوی‘‘ کے نام سے لکھتا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت فرمانے لگے کہ زاہد صاحب! یہ گکھڑوی بڑا ثقیل لفظ ہے، کہتے ہوئے بڑ ا زور لگانا پڑتا ہے۔ کوئی سادہ سا لفظ ساتھ رکھیں۔ میں نے کہا حضرت! گکھڑ سے تعلق ہے، اس لیے یہ اپنے نام کے ساتھ استعمال کرتا ہوں۔ فرمانے لگے کہ سلسلہ کی نسبت کرو۔ ہمارا سلسلہ کہلاتا ہے، عالیہ قادریہ راشدیہ۔ عالیہ حضرت علیؓ کے حوالے سے، قادریہ حضرت شنخ عبدالقادر جیلانی کے حوالہ سے، اور راشدیہ حضرت شاہ محمد راشد سندھی کے حوالہ سے۔ اس وقت مولانا سعید الرحمان علوی میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا، علوی تو یہ بیٹھے ہیں اور قادری بھی بہت ہیں، اب میں راشدی ہو جاؤں؟ فرمایا: ہاں، ہو جاؤ، چنانچہ اس دن سے میں ’’زاہد راشدی‘‘ ہوں۔‘‘
غرض مولانا نے تین سو کے لگ بھگ اکابر علماء، مشائخ عظام، احباب ورفقاء، قومی وبین الاقوامی شخصیات کا تذکرہ بڑے ہی دل نشیں انداز میں کیا ہے۔ چند ایک کے نام حسب ذیل ہیں: قائد احرار مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی، مولانا مفتی محمد حسن، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا قاری محمد طیب، الشیخ عبدالفتاح ابوغدہ، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا خواجہ خان محمد، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف، مولانا سلیم اللہ خان، شاہ فیصل بن عبدالعزیز، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل محمد ضیاء الحق شہید، ڈاکٹر محمد حمیداللہ، نوابزادہ نصراللہ خان، نواب محمد اکبر خان بگٹی، صدر صدام حسین، ملا محمد عمر مجاہد، اسامہ بن لادن، مولانا شاہ احمدنورانی، قاضی حسین احمد، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا حق نواز جھنگوی، حکیم محمد سعید، مولانا محمد ضیاء القاسمی، ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی، ڈاکٹر اسرار احمد، مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی، مولانا محمد اعظم طارق، علامہ علی شیر حیدری، مجید نظامی اور جنرل حمید گل۔
کتاب بہترین کاغذ، خوبصورت ٹائٹل کےِ ساتھ تقریباً آٹھ سو صفحات کے لگ بھگ شائع ہوئی ہے۔ شائقین علم وادب کے لیے بہترین تحفہ ہے۔ کتاب کا پہلا ایڈیشن ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کی اشاعت خاص کے طور پر منظر عام پر آیا ہے۔ امید ہے کہ اگلا ایڈیشن مزید اضافوں کے ساتھ اس سے بہتر انداز میں شائع ہو گا، ان شاء اللہ۔