احمدیوں کی مذہبی اور آئینی حیثیت کی بحث
محمد عمار خان ناصر
احمدیوں کی تکفیر اور ختم نبوت سے متعلق امت مسلمہ کے اجماعی عقیدے کے تحفظ کے ضمن میں ہمارے ہاں کی جانے والی قانون سازی گزشتہ دنوں بعض مبینہ قانونی ترمیمات کے تناظر میں ایک بار پھر زیر بحث آئی۔ اس پس منظر میں والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں بعض توجہ طلب سوالات دینی حلقوں کے غور وفکر کے لیے اٹھائے۔ ان میں سے ایک نکتہ یہ ہے کہ:
’’چوتھی بات اس مسئلہ کے حوالہ سے ان حلقوں کے بارے میں کرنا چاہتا ہوں جو ۱۹۴۷ء کے بعد سے مسلسل مسئلہ ختم نبوت کے دستوری اور قانونی معاملات کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ بین الاقوامی ادارے ہوں، عالمی سیکولر لابیاں ہوں یا ملک کے اندر قادیانیت نواز حلقے ہوں، جب یہ ان کے علم میں ہے اور انہیں اس بات کا پوری طرح اندازہ ہے کہ وہ اس مسئلہ پر پاکستان کی رائے عامہ، سول سوسائٹی اور منتخب اداروں میں سے کسی کا کھلے بندوں سامنا نہیں کر سکتے اور ہر بار انہیں درپردہ سازشوں کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے تو وہ پاکستانی قوم کے اجتماعی فیصلے کو تسلیم کرنے اور زمینی حقائق کا اعتراف کر لینے سے مسلسل کیوں انکاری ہیں؟ یہ انصاف، جمہوریت، اصول پرستی اور حقیقت پسندی کی کون سی قسم ہے کہ پاکستانی قوم نے اجتماعی طور پر ایک فیصلہ کیا ہے اور وہ اس پر قائم رہنا چاہتی ہے تو اسے اس سے ہٹانے کے لیے دباؤ، سازش اور درپردہ کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اپنے اجماعی عقیدہ اور موقف سے ہٹنے پر بلاوجہ مجبور کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ ان بین الاقوامی اور اندرون ملک حلقوں کو ان کی اس غلط روی بلکہ دھاندلی کا احساس دلانے کی ضرورت ہے۔‘‘ (روزنامہ اسلام، ۸ نومبر ۲۰۱۷ء)
آئندہ سطور میں ہم اس سوال کے بعض پہلوؤں کے حوالے سے اپنی معروضات پیش کرنا چاہیں گے۔
یہ بات درست ہے کہ مغربی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے پاکستان میں اسلامی قانون سازی کے ضمن میں کیے جانے والے اقدامات کو ختم کرنے کے لیے دباؤ موجود ہے اور اس کے لیے علانیہ اور پس پردہ کوششوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ احمدی کمیونٹی اپنا مقدمہ بین الاقوامی فورمز پر مسلسل پیش کر کے عالمی سطح پر عمومی ہمدردی حاصل کر چکی ہے اور اپنے خلاف امتیازی قوانین کے خاتمے کے لیے پاکستانی حکومت پر مختلف اطراف سے دباؤ کو بڑھانے کے لیے بھی کوشاں رہتی ہے۔ تاہم ہمارے نزدیک اس صورت حال کو سادہ طور پر ’’پاکستانی قوم کے اجتماعی فیصلے کو تسلیم نہ کرنے‘‘ اور ’’اپنے اجماعی عقیدہ اور موقف سے ہٹنے پر بلا وجہ مجبور کرنے‘‘ سے تعبیر کرنے سے پہلے ذرا توقف کر کے معاملے کے چند بنیادی پہلووں پر غور کر لینے اور بالخصوص زاویہ نظر کے اس اختلاف کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو احمدیوں کے حوالے سے ہمارے مذہبی موقف اور اس کی مخالفت کرنے والے بین الاقوامی اور قومی حلقوں کے مابین پایا جاتا ہے۔
احمدیوں سے متعلق مذہبی موقف کا ایک نکتہ تو یہ ہے کہ احمدی، امت مسلمہ کے نزدیک مسلمہ اور متفقہ مفہوم کے اعتبار سے اسلام کے ایک بنیادی عقیدے یعنی ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے اور اس وجہ سے امت مسلمہ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اعتقادی اور قانونی لحاظ سے انھیں مسلمانوں کا حصہ شمار نہیں کیا جائے گا۔ اسلام کے اعتقادی نظام کا تحفظ نہ صرف مسلمانوں کا اجتماعی دینی فریضہ ہے، بلکہ سیکولر اخلاقی معیارات کے لحاظ سے بھی یہ مسلمانوں کا گروہی حق بنتا ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے کسی ایسے گروہ کو اپنا حصہ شمار نہ کریں جو شناخت کے کسی بنیادی اور اساسی جزو کو تسلیم نہ کرتا ہو۔ تاہم اصل پیچیدگی اس نکتے کو تسلیم کر لینے کے بعد سامنے آتی ہے۔
مسلمانوں کی روایتی مذہبی تعبیرات کی رو سے اگر مسلمانوں میں سے کوئی فرد یا گروہ اپنے کسی عقیدے یا عمل کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج شمار کیا جائے تو اس کا قانونی حکم یہ ہے کہ توبہ کا موقع دیے جانے کے باوجود اگر وہ اپنے عقیدہ وعمل پر قائم رہے تو اسے قتل کر دیا جائے۔ اس تعبیر کی رو سے احمدیوں کا، اور خاص طور پر ان کی پہلی نسل کا، شرعی حکم یہ بنتا تھا کہ انھیں ارتداد کی پاداش میں قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ علماء نے نظری طور پر احمدیوں کی تکفیر کے ساتھ ساتھ ان کا یہ قانونی حکم بھی واضح کیا، تاہم چونکہ یہ صورت حال اس وقت پیش آئی تھی جب برصغیر میں اسلامی اقتدار قائم نہیں تھا، اس لیے مذکورہ قانون پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا تھا۔ اس پس منظر میں علامہ محمد اقبال نے، جو اس صورت حال کو روایتی فقہی تعبیرات کے بجائے جدید سیاسی وقانونی تصورات کے تناظر میں دیکھ رہے تھے، یہ تجویز کیا کہ احمدیوں کو مرتد اور گردن زدنی قرار دینے کے بجائے ایک غیر مسلم اقلیت کا درجہ دے دیا جائے اور مسلمان ان کے ساتھ عملاً وہی برتاؤ کریں جو دوسرے غیر مسلموں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ روایتی علما اگرچہ اپنی تحریروں میں عموماً احمدیوں کے متعلق روایتی فقہی موقف کا ہی اعادہ کرتے رہے، تاہم پاکستان بننے کے بعد جب اس ضمن میں عملی قانون سازی کا موقع آیا تو تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کی ایک مجلس نے اتفاق رائے سے علامہ اقبال کے تجویز کردہ حل کو قبول کر لیا اور یہ مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو پاکستان میں غیر مسلم اقلیت کا درجہ دیا جائے۔
والد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے موقف کی اس تبدیلی کو علماء کے اجتہادی زاویہ نظر کی ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’اس تاریخی حقیقت کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جب علمائے کرام کو نئی ریاست کی دستوری حیثیت کا تعین کرنے کے لیے فیصلہ کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے ماضی کی روایات سے بے لچک طور پر بندھے رہنے کے بجائے وقت کے تقاضوں اور علامہ اقبال کی فکر کا ساتھ دیا ۔۔۔ عقیدۂ ختم نبوت کے منکر قادیانیوں کو مرتد کا درجہ دے کر فقہی احکام کے مطابق گردن زدنی قرار دینے کے بجائے علامہ اقبال کی تجویز کی روشنی میں غیر مسلم اقلیت کی حیثیت دے کر ان کے جان ومال کے تحفظ کے حق کو تسلیم کرنا بھی ملک کے علما کا ایک ایسا اجتہادی فیصلہ ہے جس کے پیچھے علامہ محمد اقبال کی فکر کارفرما دکھائی دیتی ہے۔‘‘
(عصر حاضر میں اجتہاد، شائع کردہ: الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ، فروری ۲۰۰۸ء، ص ۳۸)
یہاں یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ مذہبی علماء نے علامہ محمد اقبال کی تجویز کو نتیجے کے اعتبار سے تو قبول کر لیا، یعنی یہ کہ احمدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا، تاہم وہ اقبال کی رائے کی اصل بنیاد پر یا تو غور نہیں کر سکے اور یا اسے قبول کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوا۔ اقبال کی رائے، جیسا کہ عرض کیا گیا، ایک جمہوری ریاست میں حق شہریت کے جدید تصورات پر مبنی تھی جس کی رو سے ریاست کے تمام باشندوں کو یکساں شہری وسیاسی حقوق حاصل ہوتے ہیں اور ریاست کسی گروہ کے ساتھ مذہبی جبر کا اختیار نہیں رکھتی۔ یہ تصور، ظاہر ہے کہ دار الاسلام کے کلاسیکی فقہی تصور سے بالکل مختلف ہے جس میں نہ صرف یہ کہ ریاست کو ارتداد پر سزا دینے کا حق حاصل تھا، بلکہ ریاست کے غیر مسلم باشندے بھی شہری وسیاسی حقوق کے اعتبار سے مساوی درجے کے شہری تسلیم نہیں کیے جاتے تھے، اگرچہ ریاست مخصوص شرائط کی پابندی کے ساتھ ان کے جان ومال اور مذہبی آزادی کے تحفظ کی ذمہ دار سمجھی جاتی تھی۔ فقہی اصطلاح میں اسی وجہ سے انھیں ’’اہل ذمہ‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ مزید برآں اسلامی قانون کی رو سے اسلام سے ارتداد اختیار کرنے والے فرد یا گروہ کے بارے میں ریاست کو یہ اختیار بھی حاصل نہیں تھا کہ وہ انھیں ’’اہل ذمہ‘‘ کا درجہ دے کر دوسرے غیر مسلموں کی طرح ان کے جان ومال اور مذہبی آزادی کے تحفظ کی ضامن بن جائے۔
اب ہوا یہ کہ احمدیوں کے حوالے سے اقبال کی تجویز کو علماء نے ظاہری نتیجے کے لحاظ سے تو قبول کیا، لیکن معاملے کے مختلف پہلوؤں کو بنیادی طور پر روایتی فقہی زاویے سے ہی دیکھتے رہے اور اس ثنویت یا دو ذہنی کا اظہار علماء کے موقف میں مختلف پہلووں سے ہونے لگا۔ مثلاً متعدد ذمہ دار مذہبی علماء اور اداروں کی طرف سے تسلسل کے ساتھ یہ کہا گیا کہ قادیانیوں کے بارے میں پارلیمنٹ کا فیصلہ موجودہ حالات کے اعتبار سے وہ کم سے کم اقدام ہے جو ممکن تھا، لیکن ان کا اصل حکم یہی ہے کہ جب بھی حالات سازگار ہوں، ان پر زندقہ وارتداد کے احکام جاری کیے جائیں۔ پھر جن علماء نے پارلیمنٹ کے فیصلے کو ایک حتمی فیصلے کے طور پر قبول کیا، انھوں نے بھی احمدیوں کے لیے غیر مسلم اقلیت کے حقوق تسلیم کرنے کو ایسی شرائط کے ساتھ مشروط کر دیا جو شہریت کے جدید تصور کے بجائے ذمہ کے روایتی فقہی تصور سے پیدا ہوتی تھیں۔ مثال کے طور پر ۱۹۴۷ء میں قومی اسمبلی کے فیصلے کے بعد مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے اس کے شرعی نتائج واضح کرتے ہوئے لکھا:
’’مرزائیوں کی حیثیت قبل ازیں کفار محاربین کی تھی اور قومی اسمبلی کے فیصلہ کے بعد اس کی حیثیت پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کی ہے جن کو ذمی کہا جاتا ہے (بشرطیکہ وہ بھی پاکستان میں بحیثیت غیر مسلم کے رہنا قبول کر لیں، اس لیے کہ عقد ذمہ دو طرفہ معاہدہ ہے)۔ اور کسی ذمی کے جان ومال پر ہاتھ ڈالنا اتنا سنگین جرم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں ایسے شخص کے خلاف نالش کریں گے۔ اس بنا پر تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کی جان ومال کی حفاظت کریں۔ مجلس عمل نے مرزائیوں سے سوشل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا جو مسلمانوں کے دائرہ اختیار کی چیز تھی، لیکن جن مرزائیوں نے قومی اسمبلی کا فیصلہ تسلیم کر کے اپنے غیر مسلم شہری ہونے کا اقرار کر لیا ہو، اب ان سے سوشل بائیکاٹ نہیں ہوگا۔ اور جو مرزائی اس فیصلہ کو قبول نہ کر رہے ہوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مسلمانوں سے ترک محاربت پر آمادہ نہیں۔‘‘ (احتساب قادیانیت، شائع کردہ مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان، جلد ۱۶، ص ۳۳۳)
یہاں ’’محاربین‘‘ اور ’’ذمی‘‘ کی اصطلاحات کے استعمال سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا کے ذہن میں گفتگو کا تناظر ایک جمہوری ریاست نہیں، بلکہ دار الاسلام کا فقہی تصور ہے، اس لیے کہ جمہوری ریاست کے باشندوں کو نہ تو عقیدہ ومذہب کے اختلاف کی وجہ سے محارب کہا جا سکتا ہے اور نہ غیر مسلم شہریوں کو ذمی۔ پاکستان کے آئین کی رو سے احمدیوں کے شہری وسیاسی حقوق سے بہرہ ور ہونے یا نہ ہونے کا تعین ان کے مسلمان یا غیر مسلم ہونے پر سرے سے منحصر ہی نہیں تھا، کیونکہ انھیں یہ تمام حقوق اس فیصلے سے پہلے بھی حاصل تھے اور اس کے بعد بھی۔
پھر ’’ذمی‘‘ کی حیثیت سے ان کے جان ومال کے تحفظ کو اس سے مشروط کرنا کہ وہ خود کو غیر مسلم تسلیم کر لیں، بدیہی وجوہ سے ناقابل فہم ہے۔ آئین شہریت کی شرائط میں اسے شمار نہیں کرتا کہ کوئی شخص نظری طور پر من کل الوجوہ آئین کے تمام اجزا کو تسلیم کرے۔ شہریت کا تعلق عملاً آئین اور قانون کی پابندی کرنے اور ملک وقوم کے مفاد کے ساتھ وفاداری سے ہے اور کسی مخصوص سیاسی نظریے یا مذہبی عقیدے کو غداری کے ہم معنی نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مذہبی آئین کے مخالف اور سیکولر ریاست کے حامی گروہ موجود ہیں اور پوری طرح شہری وسیاسی حقوق سے بہرہ مند ہیں۔ اسی طرح جمہوریت کو غلط سمجھنے اور اس پر تنقید کرنے والے مذہبی گروہ بھی یہاں پائے جاتے ہیں اور ان کے لیے بھی وہ تمام شہری وسیاسی حقوق تسلیم کیے جاتے ہیں جو باقی شہریوں کو حاصل ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ غیر مسلم اقلیت تسلیم کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ انھیں اپنے عقیدے پر رہتے ہوئے شہری حقوق حاصل ہوں گے۔ احمدی اپنے عقیدے کے مطابق خود کو مسلمان تصور کرتے ہیں۔ امت مسلمہ ان کا یہ دعویٰ قبول نہیں کرتی، یہ تو درست ہے، لیکن احمدیوں سے یہ مطالبہ کہ وہ بھی خود کو مسلمان نہ سمجھیں، دراصل اس بات کا مطالبہ ہے کہ وہ اپنا عقیدہ چھوڑ دیں، تبھی انھیں اقلیت کے حقوق حاصل ہوں گے۔
(اس حوالے سے مذہبی طبقوں کی عمومی نفسیات نامعقولیت کی جن حدوں کو چھو رہی ہے، اس کا اندازہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک درخواست سے کیا جا سکتا ہے جو ایک مذہبی تنظیم کے ذمہ داران کی طرف سے احمدیوں کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لیے پولیس کو دی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ فلاں اور فلاں احمدیوں نے ضلعی انتظامیہ کے نام درخواست کے شروع میں بسم اللہ اور حضرت محمد کے نام کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم لکھا ہے جو کہ اسلامی شعائر ہیں اور ان کا استعمال صرف مسلمان کر سکتے ہیں، اس لیے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور قانون کی خلاف ورزی پر مذکورہ درخواست دہندگان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون)
شہریت کے تصور کے حوالے سے زیر بحث الجھاؤ کا دوسرا بنیادی اظہار اس مطالبے میں ہوتا ہے کہ احمدیوں کے لیے کلیدی مناصب پر تقرر کو ممنوع قرار دیا جائے۔ یہ مذہبی علماء کا ایک بنیادی مطالبہ رہا ہے اور پارلیمنٹ میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے بعد سے لے کر اب تک اس کا اعادہ کیا جاتا اور اس کی قانونی عدم تنفیذ کی وجہ سے غیر مسلم قرار دیے جانے کے فیصلے کو بھی ادھورا قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں بھی بدیہی طور پر وہی الجھاؤ کار فرما ہے، کیونکہ یہ مطالبہ دار الاسلام کے اہل ذمہ کے بارے میں تو کیا جا سکتا ہے، لیکن جمہوری قومی ریاست کے تناظر میں اس کا کوئی آئینی جواز نہیں بنتا۔ آئین، چند ایک استثناءات کے ساتھ، شہری وسیاسی حقوق میں مذہب کی بنیاد پر کوئی تمیز نہیں کرتا اور احمدیوں کے لیے اس امتیاز کا مطالبہ دراصل آئین میں دی گئی عدم امتیاز کی ضمانت کو رد کرنا ہے۔
الجھاؤ کا اس سے بھی بڑھ کر اظہار علماء کے اس عمومی فتوے میں ہوتا ہے جس کی رو سے احمدیوں کے سماجی اور معاشی مقاطعہ کو مسلمانوں کی دینی ذمہ داری قرار دیا جاتا اور کسی بھی سطح پر احمدیوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کو عقیدہ ختم نبوت پر ایمان کے منافی گردانا جاتا ہے۔ اس ضمن میں جو شرعی و فقہی استدلال پیش کیا جاتا ہے، وہ تمام تر شہریت کے اسی فقہی تصور پر مبنی ہے جس میں ان معاملات کو عقیدہ اور مذہب کی روشنی میں طے کیا جاتا ہے۔ یہاں ہمارے پیش نظر اس نوعیت کا ایک مفصل فتویٰ ہے جو مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی مرحوم کے قلم سے ہے اور ’’فتاویٰ بینات‘‘ کی پہلی جلد میں شامل ہے۔ مولانا نے اس فتوے میں احمدیوں کے مقاطعہ کے تفصیلی و شرعی دلائل پیش کرنے کے بعد جو نتائج اخذ کیے ہیں، ان میں سے چند اہم نتائج یہ ہیں:
کفار محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں۔ جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے، وہ گمراہ، ظالم اور مستحق عذاب الیم ہے۔
جو کافر مسلمانوں کے دین کا مذاق اڑاتے ہوں، ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات، نشست و برخاست وغیرہ بھی حرام ہے۔
جو کافر مسلمانوں سے برسرپیکار ہوں، ان کے محلے میں ان کے ساتھ رہنا بھی ناجائز ہے۔
مرتد کو سخت سے سخت سزا دینا ضروری ہے۔ اس کی کوئی انسانی حرمت نہیں، یہاں تک کہ اگر پیاس سے جاں بلب ہو کر تڑپ رہا ہو، تب بھی اسے پانی نہ پلایا جائے۔
اقتصادی اور معاشرتی مقاطعہ کے علاوہ مرتدین، موذیوں اور مفسدوں کو یہ سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں: قتل کرنا، شہر بدر کرنا، ان کے گھروں کو ویران کرنا، ان پر ہجوم (یعنی حملہ) کرنا وغیرہ۔
اگر محارب کافروں اور مفسدوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان کی عورتیں اور بچے بھی تبعاً اس کی زد میں آ جائیں تو اس کی پروا نہیں کی جائے گی، ہاں اصالتاً عورتوں اور بچوں پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔
ان لوگوں کے خلاف مذکورہ بالا اقدامات کرنا دراصل اسلامی حکومت کا فرض ہے، لیکن اگر حکومت اس میں کوتاہی کرے تو خود مسلمان بھی ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جو ان کے دائر ہ اختیار کے اندر ہوں اور ظاہر ہے کہ عوام کے اختیار میں مکمل مقاطعہ ہی ایک ایسا اقدام ہے جو موثر بھی ہے اور پرامن بھی۔ (ص ۲۳۹، ۲۴۰)
استدلال کے دروبست سے واضح ہے کہ صاحب فتویٰ احمدیوں کی قانونی حیثیت محارب کے فقہی تصور کے تحت متعین کر رہے ہیں۔ اس سوال سے قطع نظر کر لیا جائے کہ فقہی لحاظ سے یہاں محارب کی تعریف صادق آتی ہے یا نہیں، لیکن یہ سامنے کی بات ہے کہ جمہوری ریاست کے تناظر میں یہ بحث نہ صرف بالکل غیر متعلق ہے، بلکہ کسی گروہ کے مقاطعہ کی عمومی دعوت دینا اور اس کی مہم چلانا ریاست کی دی ہوئی اس ضمانت کی نفی ہے کہ کسی شہری کے ساتھ اس کے عقیدے کی وجہ سے امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ ریاست نہ صرف خود اس اصول کی پابند ہے، بلکہ اس کی بھی ذمہ دار ہے کہ کسی گروہ کو کسی دوسرے گرو ہ کے خلاف نفرت کا ایسا ماحول پیدا کرنے کی اجازت نہ دے جس سے اس کے مسلمہ شہری یا سیاسی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
اس تفصیل سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس معاملے میں اصل الجھاؤ کہاں ہے اور اس کا فکری منبع کیا ہے۔ مذہبی علماء اصولاً اس مسئلے کو روایتی فقہی احکام کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور اقبال کے تجویز کردہ حل کو اس کی پوری قانونی بنیاد اور تمام مضمرات کے ساتھ نہیں، بلکہ صرف ظاہری نتیجے کے لحاظ سے قبول کرتے ہیں۔ اسی سے ایک طرف علماء کے مطالبات اور فتووں اور دوسری طرف آئین کی دی گئی ضمانتوں کے درمیان وہ تمام تضادات پیدا ہوتے ہیں جن کا سابقہ سطور میں ذکر کیا گیا۔ احمدیوں کو مظلوم اور مذہبی امتیاز کا شکار قرار دینے اور اس بنیاد پر ان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے بین الاقوامی اور قومی حلقوں کے سامنے بنیادی طور پر معاملے کا یہ پہلو ہوتا ہے اور احمدی حضرات بھی جب اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں تو انھی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے خود کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے فیصلے کو اس کے ساتھ نتھی کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جدید دنیا میں ریاست اور شہریت کے معروف اور مسلم تصورات کی رو سے ان کے موقف میں وزن محسوس کیا جاتا ہے، جبکہ مذہبی علماء اس پہلو کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے اپنے تئیں یہ تصور قائم کر لیتے ہیں کہ امت مسلمہ کو اس کے اجماعی عقیدے سے ہٹانے کے لیے ناروا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ یہ یقیناً معاملے کا ایک پہلو ہو سکتا ہے، لیکن اسے صرف اسی ایک پہلو سے دیکھنا ہمارے خیال میں معاملے کی پیچیدگی سے نظریں چرانے کے ہم معنی ہوگا۔
یہ بات کہ اس معاملے میں مذہبی حلقوں میں ذہنی اور فکری سطح پر ایک الجھاؤ موجود ہے، اس کا احساس بعض ذمہ دار علماء کو بھی ہے۔ چنانچہ والد گرامی مولانا زاہد الراشدی لکھتے ہیں:
’’کچھ عرصہ سے ہمارے ہاں یہ روایت سی بن گئی ہے کہ ہم کسی اجتماعی مسئلے پر دینی اور شرعی حوالے سے ایک قدم اٹھا لیتے ہیں، فیصلہ کر لیتے ہیں، لیکن اس پر آزادانہ علمی بحث نہ ہونے کی وجہ سے اس فیصلے کی علمی توجیہ سامنے نہیں آتی اور دلائل کا پہلو اوجھل رہتا ہے جس سے کنفیوڑن پیدا ہوتی ہے اور فیصلہ ہو جانے اور اس پر عمل درآمد ہو جانے کے باوجود علمی دنیا میں وہ فیصلہ بدستور معلق رہتا ہے۔ ۔۔۔ قادیانیوں کے بارے میں ہم نے اجتماعی طور پر فقہی احکام کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ انھیں غیر مسلم اقلیت کے طور پر ملک میں رہنے کا حق دیا جائے گا اور ان کے جان ومال کے تحفظ کی حکومت ذمہ دار ہوگی۔ یہ فیصلہ جو تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے متفقہ طور پر کیا ہے اور ملک میں نافذ العمل ہے، ہمارے روایتی فقہی موقف سے ہٹ کر ہے۔ میں اس فیصلے کی مخالفت نہیں کر رہا، بلکہ اس کے حق میں ہوں اور اس کو قانونی اور دستوری درجہ دلوانے کے لیے عملی جدوجہد کرنے والوں میں شامل ہوں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی علمی توجیہ کیا ہے اور ایسا کرنا شرعی طور پر کیا حیثیت رکھتا ہے؟ ہمارے خیال میں اس پر علمی مباحثہ ضروری ہے اور نہ صرف علما و طلبہ بلکہ جدید تعلیم یافتہ طبقات کے سامنے بھی اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ تبدیلی کیوں آئی ہے اور اس کا شرعی جواز کیا ہے؟‘‘ (کلمہ حق، ماہنامہ الشریعہ، مئی ؍جون ۲۰۰۹)
غالباً اسی تناظر میں کچھ عرصہ قبل اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی یہ نکتہ زیر بحث آیا تھا کہ احمدیوں کی شرعی حیثیت کے مسئلے پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے، تاہم اس پر کونسل کے ارکان میں ایک تنازع پیدا ہو گیا اور غالباً یہ سوال سنجیدگی کے ساتھ زیر بحث نہیں لایا جا سکا۔ بہرحال یہ بات باعث اطمینان ہے کہ مذہبی مطالبات میں پائے جانے والے الجھاؤ اور عملی مضمرات کا اب فکری سطح پر ادراک کیا جا رہا ہے اور دینی سیاسی موضوعات پر لکھنے والے کئی راسخ العقیدہ اہل دانش کی تحریروں میں اس پر نظر ثانی کی ضرورت کو اجاگر کیا جانے لگا ہے۔ چنانچہ حالیہ بحث کے دوران میں ملک کے معروف صحافی اور دانش ور جناب عامر ہاشم خاکوانی نے اس موضوع پر سوشل میڈیا میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا جسے، بعض پہلوؤں سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود، بحیثیت مجموعی ایک متوازن اور معتدل موقف کہا جا سکتا ہے۔ عامر ہاشم خاکوانی لکھتے ہیں:
’’تین چار باتیں الگ الگ ہیں۔ پہلا یہ کہ قادیانی غیر مسلم ہیں چونکہ وہ ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے۔ یہ ایسا بنیادی نکتہ ہے جسے نہ ماننے والا دائرہ اسلام میں رہ ہی نہیں سکتا۔ اس لئے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کے حوالے سے کسی دوسری رائے کی گنجائش ہی نہیں۔
دوسرا یہ کہ پاکستانی آئین کے تحت قادیانی غیر مسلم قرار بھی پا چکے ہیں۔ یہ بھی واضح امر ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں۔ یہ طے شدہ امر ہے، اسے قطعی طور پر ری اوپن نہیں کرنا چاہیے۔ ہم قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی آئینی ترمیم میں ایک نقطے کی تبدیلی کے بھی حق میں نہیں۔ قانون توہین رسالت بھی اپنے اصول میں ایسی ہی حتمیت کا حامل ہے۔ اس کے پروسیجر میں کوئی تبدیلی صرف علمائے دین کی مشاورت سے ہوسکتی ہے، اس کا بہترین فورم اسلامی نظریاتی کونسل ہے۔ اکابر علما کے مشورے اور منظوری سے کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔
تیسرا معاملہ قادیانی کے ساتھ تعلق کا ہے۔ یہ ہر ایک کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے، کوئی داعیانہ تعلق بنانا چاہتا ہے اور بطور غیر مسلم ان تک دعوت پہنچانا چاہتا ہے، ان کے فکری مغالطے اور گمراہی کو دور کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کا حق حاصل ہے، اسے کسی مولوی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں (اللہ اور اس کا رسول اس کی نیت جانتا ہے، اسے اجر اپنی نیت اور عمل پر ملے گا، کسی مولوی صاحب کے سرٹیفکیٹ کی بنا پر نہیں)۔ کوئی فاصلہ رکھنا چاہتا ہے تو رکھے، یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے، مگر اسے اپنی رائے کو دوسروں پر تھوپنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
چوتھا معاملہ ہے قادیانیوں کے بطور غیر مسلم سرکاری ملازمتوں کا۔ آئینی طور پر وہ پاکستانی ہیں، دوسرے پاکستانیوں کی طرح ان کا مساوی حق ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا ممکن نہیں کہ کسی مذہب، نسل کی بنیاد پر کسی کو باقاعدہ قانون بنا کر روکا جائے۔ ایسا کرنا خطرناک بھی ہے کہ جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کی طرح اس کا بائیکاٹ ہوجائے گا، سماجی مقاطعہ۔ سرکاری اداروں میں ملازمتیں قادیانی بھی لے سکیں گے دوسروں کی طرح۔ ہاں جو اہم یا حساس محکمے ہیں، جہاں کسی قسم کا خطرہ ریاست کو محسوس ہوگا تو وہاں پر غیر تحریری، غیر رسمی طور پر ایسا کیا جاتا ہے۔
امریکی قانون کے تحت کسی مسلمان کو امریکی صدر بننے سے نہیں روکا جا سکتا یا سی آئی کا چیف بننے یا جج یا کسی اور اہم حساس محکمے میں ٹاپ پوزیشن لینے سے نہیں روکا جا سکتا۔ وہاں صرف یہ پابندی ہے کہ پیدائشی امریکی ہو۔ مسلمان بھی بن سکتا ہے اگر وہ پیدائشی امریکی ہو تو۔ لیکن کبھی کوئی مسلمان امریکی صدر بنے گا نہ سی آئی کا چیف یا کسی اور اہم حساس امریکی محکمے کی ٹاپ پوزیشن میں آ سکے گا۔ ایسا مگر غیر تحریری، غیر رسمی طور پر سلیقے سے کیا جاتا ہے۔ کوئی احمق امریکی ہی مطالبہ کرے گا کہ نہیں، مسلمان کے لئے باقاعدہ قانونی پابندی لگائی جائے۔ اس کی اس بات پر اس کا مذاق اڑایا جائے گا، کیونکہ ایسا ہوتا نہیں۔ یہ صرف پاکستان ہے جہاں ایسے غبی العقل لوگ موجود ہیں جو ایسے معاملات کی پیچیدگی اور حساسیت کو نہیں سمجھتے۔ جہاں جہاں روکا جانا مقصود ہے، بے فکر رہیں ، وہاں ایسا ہو رہا ہے۔ ایسا ہونے دیں، احمقانہ مطالبات اور تقریروں سے مسائل پیدا نہ کریں۔
نوٹ: یہ بھی یاد رکھیں کہ جس طرح ہر یہودی صہیونی نہیں، ہر ہندو بی جے پی والا نہیں، اسی طرح ضروری نہیں کہ ہر قادیانی پاکستان یا اسلام کے خلاف دن رات سازشیں کرنے میں لگا ہو۔ عالمی قادیانیت تحریک کے حوالے سے مجھے بھی تحفظات ہیں۔ کچھ لوگ ہوسکتے ہیں جنہیں پاکستان کھٹکتا ہو، مگر عام آدمی ہر جگہ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے چونکہ کسی خاص مذہب کے گھر میں پیدا ہو گئے، اس لیے وہ مذہب اختیار کر لیا۔ دعوت کا کام اچھے طریقے سے ہو تو ان شاء اللہ ایک بڑی تعداد حق کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ یہ گنجائش باقی رکھنی چاہیے۔‘‘
امید کرنی چاہیے کہ اہل فکر کی توجہ کے نتیجے میں اس طرح کے موضوعات پر عمومی بحث و مباحثہ کی راہ کھلے گی اور اس نوعیت کے حساس مسائل پر اجتماعی دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم بہتر مستقبل کی طرف پیش رفت کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۹)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۳۲) بل قالوا کا ترجمہ
بَلْ قَالُواْ أَضْغَاثُ أَحْلاَمٍ بَلِ افْتَرَاہُ بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ فَلْیَأْتِنَا بِآیَۃٍ کَمَا أُرْسِلَ الأَوَّلُون۔ (الانبیاء: 5)
اس آیت میں بَلْ کے بعد قَالُواْ آیا ہے، الفاظ کی ترتیب کے لحاظ سے ترجمہ ہوگا: بلکہ انہوں نے کہا۔
عام طور سے مترجمین نے یہی ترجمہ کیا ہے، لیکن ایک ترجمہ اس سے مختلف بھی ملتا ہے،مثالیں ملاحظہ ہوں:
’’اتنا ہی نہیں بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ یہ قرآن پراگندہ خوابوں کا مجموعہ ہے بلکہ اس نے از خود اسے گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے، ورنہ ہمارے سامنے یہ کوئی ایسی نشانی لاتے جیسے کہ اگلے پیغمبر بھیجے گئے تھے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔ (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر ہے جو اس) شاعر (کا نتیجہ طبع) ہے۔ تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے‘‘۔ (فتح محمدجالندھری)
وہ کہتے ہیں ’’بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں، بلکہ یہ اِس کی مَن گھڑت ہے، بلکہ یہ شخص شاعر ہے ورنہ یہ لائے کوئی نشانی جس طرح پرانے زمانے کے رسول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے‘‘۔(سید مودودی)
آخری ترجمہ محل نظر ہے، اگر اس طرح ہوتا کہ قالوا بل اضغاث احلام تب تو یہ ترجمہ درست ہوتا، لیکن آیت میں بل قالوا اضغاث احلام ہے، تفاسیر میں اس طرح کا قول ذکر کیا گیا ہے لیکن محققین نے اسے کمزور قرار دیا ہے۔
امام آلوسی لکھتے ہیں:
وجوز أن تکون الأولی من کلامھم وھی ابطالیۃ أیضا متعلقۃ بقولھم ھو سحر المدلول علیہ بأفتأتون السحر، ورد بأنہ انما یصح لو کان النظم الکریم قالوا بل الخ لیفید حکایۃ اضرابھم، وکونہ من القلب وأصلہ قالوا بل لا یخفی ما فیہ، وقد أجیب أیضا بأنہ اضراب فی قولھم المحکی بالقول المقدر قبل قولہ تعالی: ھَلْ ھذا الخ أو الذی تضمنہ النجوی وأعید القول للفاصل أو لکونہ غیر مصرح بہ ولا یخفی ما فیہ أیضا. (روح المعانی.)
قرآن میں کچھ دوسرے مقامات پر بھی یہ الفاظ آئے ہیں، وہاں سب نے ترتیب کے مطابق ترجمہ کیا ہے، جیسے:
بَلْ قَالُوا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُون۔ (المومنون: 81)
مگر یہ لوگ وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کے پیش رَو کہہ چکے ہیں (سید مودودی)
بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَی أُمَّۃٍ وَإِنَّا عَلَی آثَارِہِم مُّہْتَدُون۔ (الزخرف: 22)
نہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ (سید مودودی)
(۱۳۳) ان ھذہ امتکم امة واحدة کا ترجمہ
یہ جملہ قرآن مجید میں دو مقامات پر آیا ہے، اور اس کے دو طرح کے ترجمے ملتے ہیں، مثالیں ملاحظہ ہوں:
إِنَّ ہَذِہِ أُمَّتُکُمْ أُمَّۃً وَاحِدَۃً وَأَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُون۔ (الانبیاء: 92)
یہ تمہاری امت حقیقت میں ایک ہی امّت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو۔ (سید مودودی)
بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو میری عبادت کرو۔ (احمد رضا خان)
یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو۔ (فتح محمدجالندھری)
مذکورہ بالا ترجمے عربی ترکیب کے لحاظ سے محل نظر ہیں، جبکہ ذیل کے ترجمے عربی قاعدے کے مطابق ہیں:
یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے سب ایک دین پر اور میں ہوں رب تمہارا سو میری بندگی کرو۔ (شاہ عبدالقادر)
یہ ہے امت تمہاری امت ایک اور میں ہوں پروردگار تمہارا پس عبادت کرو میری۔ (شاہ رفیع الدین)
یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے، اور میں تم سب کا پروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو۔(محمدجوناگڑھی)
یہ لوگ تمہارے گروہ کے ہیں جو ایک ہی گروہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں پھر میری ہی عبادت کرو۔(احمد علی)
وَإِنَّ ہَذِہِ أُمَّتُکُمْ أُمَّۃً وَاحِدَۃً وَأَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُون۔ (المومنون: 52)
اور تحقیق یہ امت تمہاری امت ایک ہے اور میں ہوں پروردگار تمہارا پس ڈرو مجھ سے۔ (شاہ رفیع الدین)
اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس مجھی سے تم ڈرو۔(سید مودودی)
اور بیشک یہ تمہارا دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو مجھ سے ڈرو۔(احمد رضا خان)
مذکورہ بالا ترجمے عربی ترکیب کے لحاظ سے محل نظر ہیں، جبکہ ذیل کا ترجمہ عربی قاعدے کے مطابق ہیں:
اور یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے سب ایک دین پر اور میں ہوں تمہارا رب سو مجھ سے ڈرتے رہو۔ (شاہ عبدالقادر)
زیر نظر جملے میں ھذہ، ان کا اسم ہے اور امتکم خبر ہے، اس کے بعد امۃ واحدۃ حال ہے۔
علامہ ابن عاشور کے الفاظ ہیں:
وَ (اُمَّۃً واحِدَۃً) حَالٌ مِنْ اُمَّتکُمْ مُؤَکِّدَۃٌ لِمَا اَفَادَتہْ الاِشَارَۃُ الَّتی ھی الْعَامِلُ فی صَاحِبِ الحَالِ. (التحریر والتنویر)
علامہ آلوسی لکھتے ہیں:
وقولہ تعالی: اُمَّۃً واحِدَۃً نصب علی الحال من اُمَّۃً. ( روح المعانی)
جملے کی اس ترکیب کے لحاظ سے ترجمہ یوں ہوگا: بے شک یہ تمہاری امت ہے، ایک امت۔
لیکن بہت سے لوگوں نے ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ بے شک تمہاری یہ امت ایک امت ہے۔ یہ ترجمہ اس وقت درست ہوتا جبکہ ھذہ امتکم ان کا اسم ہو اور امۃ واحدۃ خبر ہو۔ جبکہ ایسا نہیں ہے امۃ واحدۃ منصوب ہے، وہ ان کی خبر نہیں بن سکتا ہے۔
ترجمہ کے اس فرق کا اثر یقیناً مفہوم پر بھی پڑتا ہے، نحوی ترکیب کے لحاظ سے جو درست ترجمہ ہے اس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ جس امت یا طریقہ کا تذکرہ ہوا ہے وہی تمہاری امت یا تمہارا طریقہ ہے، پھر مزید یہ وضاحت بھی کردی گئی کہ وہ ایک ہی امت یا طریقہ ہے۔ جبکہ دوسرے ترجمہ کے لحاظ سے امت کے بارے میں یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ ایک امت ہے، بلاشبہ پہلے ترجمہ میں جو معنویت ہے وہ دوسرے ترجمہ میں نہیں آتی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جب الفاظ اور قواعد کی پابندی کے ساتھ ترجمہ کیا جائے تبھی عبارت کا حقیقی مفہوم سامنے آتا ہے، ورنہ کچھ نہ کچھ کسر رہ جاتی ہے۔
(۱۳۴) وزع اور أوزع میں فرق
عربی لغات کے مطابق وزع کے معنی روکنے کے ہیں، اور أوزع کے معنی ترغیب دینے کے ہیں، فیروزابادی لکھتے ہیں:
وزَعتُہ، کوَضَعَ: کفَفتُہ، فاتَّزَعَ ھو: کَفَّ. وأوزَعَہُ بالشیءِ: أغراہُ۔ القاموس المحیط
والوازِعُ: الکَلبُ، والزاجِرُ، ومَن یُدَبِّرُ أُمورَ الجَیشِ، ویَرُدُّ مَن شَذَّ منھم۔ القاموس المحیط
قرآن مجید میں دو مقامات پر أوزعنی آیا ہے، جو أوزع سے فعل امر ہے، اور اس کا ترجمہ مترجمین نے عام طور سے توفیق دینا کیا ہے، البتہ کچھ ترجموں میں اس سے ہٹ کر ترجمہ کیا گیا ہے۔
(۱) فَتَبَسَّمَ ضَاحِکاً مِّن قَوْلِہَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِیْ أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلَی وَالِدَیَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحاً تَرْضَاہُ۔ (النمل:۱۹)
’’تو وہ اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے پروردگار! مجھے توفیق عطا فرما کہ جو احسان تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ان کا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’سلیمانؑ اس کی بات پر مسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا ’’اے میرے رب، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عمل صالح کروں جو تجھے پسند آئے‘‘ (سید مودودی)
’’پس وہ اس کی بات سے خوش ہوکر مسکرایا اور دعا کی اے میرے رب مجھے سنبھالے رکھ کہ میں بھی اس فضل کا شکر گزار رہوں جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمایا اور میں ایسے نیک کام کروں جو تجھے پسند ہوں‘‘ (امین احسن اصلاحی)
(۲) حَتَّی إِذَا بَلَغَ أَشُدَّہُ وَبَلَغَ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِیْ أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلَی وَالِدَیَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحاً تَرْضَاہ۔ (احقاف:۱۵)
’’یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ تو نے جو احسان مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں ان کا شکر گزار ہوں اور یہ کہ نیک عمل کروں جن کو تو پسند کرے‘‘ (فتح محمد جالندھری)
’’یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا تو اس نے کہا’’اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو‘‘(سید مودودی، یہاں ماضی کا ترجمہ مناسب نہیں ہے، چونکہ اذا آیا ہے اس لئے حال کا ترجمہ مناسب ہے جیسا کہ دیگر مترجمین نے کیا ہے)
’’یہاں تک کہ جب وہ پہنچ جاتا ہے اپنی پختگی کو اور پہنچ جاتا ہے چالیس سال کی عمر کو، وہ دعا کرتا ہے اے رب مجھے سنبھال کہ میں تیرے اس فضل کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمایا اور وہ نیک عمل کروں جو تجھے پسند ہیں‘‘ (امین احسن اصلاحی)
صاحب تدبر نے دونوں مقامات پر ’’مجھے سنبھال‘‘ ترجمہ کیا ہے، جبکہ صاحب تفہیم نے پہلے مقام پر ’’مجھے قابو میں رکھ‘‘ اور دوسرے مقام پر عام ترجمے کے مطابق ’’مجھے توفیق دے‘‘ ترجمہ کیا ہے، دونوں حضرات کی تشریحات سے لگتا ہے کہ انہوں نے أوزع کے بجائے وزع کے معنی کو ملحوظ رکھا ہے۔ جبکہ أوزع باب افعال سے ہے، اور اس میں سلب ماخذ کا مفہوم ہے، یعنی ایزاع کا معنی وزع کے برعکس ہے، وزع کے معنی روکنے کے ہیں تو أوزع کے معنی رکاوٹ دور کرنے اور آگے بڑھنے کی ترغیب دینے کے ہیں۔غرض یہ کہ دونوں مقامات پر قابو میں رکھنے اور سنبھالنے کے بجائے توفیق دینے کا ترجمہ درست ہوگا۔معنوی لحاظ سے بھی شکر ادا کرنے کے لئے قابو میں رکھنا کہنے کی مناسبت ظاہر نہیں ہوتی ہے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی یہاں (ترضاہ) کے ترجمہ کے حوالے سے ایک نکتہ کی طرف توجہ دلاتے ہیں وہ یہ کہ خوش ہونا اور راضی ہونا عمل کرنے والے سے متعلق ہوتا ہے، جب کہ پسند آنا یہ پسند ہونا یا پسند کرنا خود عمل سے متعلق ہوتا ہے، یہاں چونکہ عمل کے حوالے سے بات آئی ہے اور ضمیر عمل کی طرف لوٹ رہی ہے اس لئے پسند آنا یہ پسند ہونا یا پسند کرنامناسب ترجمہ ہے۔
(جاری)
دور جدید کا حدیثی ذخیرہ : ایک تعارفی جائزہ (۷)
مولانا سمیع اللہ سعدی
دسویں جہت: مناہجِ محدثین
دورِ جدید کے حدیثی ذخیرے کی ایک اہم جہت محدثین کے مناہج، اسالیب اور ان کے طرزِ تصنیف و تالیف کے تعارف و تجزیہ پر مشتمل ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل مباحث شامل ہوتے ہیں:
1۔محدثین کے مناہجِ تحمل روایت و ادائے روایت کیا تھے؟
2۔محدثین کا حفظ احادیث کا منہج کیا تھا؟
3۔روایات کی توثیق میں محدثین کے مناہج کیا تھے؟
4۔کتابت حدیث کے کون سے مناہج محدثین کے ہاں رائج تھے؟
5۔محدثین کے حلقہ دروس کا انداز کیا تھا؟
6۔محدثین کے تصنیفی مناہج و اسالیب کیا تھے؟
7۔راوی کی توثیق یا تضعیف میں محدثین کے کیا مناہج تھے؟
ان تمام موضوعات پر فرداً فرداً تفصیلی تصانیف منظر عام پر آئی ہیں ،اس کے علاوہ متونِ حدیث میں سے کسی بھی متن کا منہج ،اسلوب اور اس کی خصوصیات کا جائزہ بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ اہم متونِ حدیث میں سے تقریبا ہر کتاب کے منہج و اسلوب پر ضخیم کتب شائع ہوچکی ہیں ۔یوں منہج محدثین ایک مستقل فن بن گیا ہے جس میں عمومی و خصوصی دونوں انداز میں محدثین کے مناہج کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔اس سلسلے کی ایک مفصل کتاب "دراسات فی مناھج المحدثین، دراسۃ تحلیلیۃ لمناھج اشھر المحدثین من العھد النبوی الی وقتنا الحاضر‘‘ ہے جو محمود محمد احمد ہاشم کی تصنیف ہے،مکتب مہیب للطباعہ ،مصر سے چھپی ہے ۔اس کے علاوہ دو مصنفین عزت علی عطیہ، یحییٰ اسماعیل کی مشترکہ ضخیم تصنیف "اعلام المحدثین ومناھجھم فی الروایۃ والآداب والدرایۃ" ایک اہم کتاب ہے ،جو مکتبہ مدینہ منورہ مصر سے چھپی ہے ۔مناہج محدثین پر اہم کتب کی فہرست پیشِ خدمت ہے :
1۔ دراسات فی مناھج المحدثین، اسماعیل عبد الواحد مخلوف ،مصر
2۔ الواضح فی مناھج المحدثین، یاسر شمالی ،دار مکتبہ الحامد ،عمان
3۔ فی رحاب السنۃ،ا لکتب الصحاح الستہ، محمد بن محمد ابو شہبہ ،مجمع البحوث الاسلامیہ ،قاہرہ
4۔ ارشاد السالک الی مناھج السنن المخمسۃ وموطا مالک، ا نو ر عبد الفتاح العطافی ،دار ابوالفضل للطباعہ ،مصر
5۔ الصناعۃ الحدیثیۃ فی السنن الکبری للاما م البیھقی ، نجم عبد الرحمان خلف ،دار الوفاء،مصر
6۔ الامام مسلم ومنھجہ فی الصحیح ، محمد عبد الرحمان طوالبہ ،دار عمان ،عمان
7۔ منھج الامام البخاری فی تصحیح الاحادیث وتعلیلھا من خلال الجامع الصحیح، ابوبکر کافی ،دار بن حزم ،بیروت
8۔ منھج ابن ابی شبیہ فی المصنف، صالح عبد الوھاب القفی ،الفاروق الحدیثہ للطباعہ و النشر،قاہرہ
9۔ الامام الترمذی و منھجہ فی کتابہ الجامع، عداب محمو دالحمش ،دار الفتح ،عمان (3مجلدات)
10۔ الصناعۃ الحدیثیۃ فی کتاب شرح معانی الاثار لابی جعفر احمد بن محمد الطحاوی، خالد بن محمد الشرمان ،مکتبہ الرشد ،ریاض
گیارھویں جہت: ردود و مناقشات
دورِجدید میں حدیث و سنت کے حوالے سے مسلم مفکرین و علماء میں نت نئے نظریات اور جدید بیانیے سامنے آئے ہیں، جنہیں انکارِ حدیث تو نہیں کہا جاسکتا ،لیکن ان سب میں قدرِ مشترک سنت کے حوالے سے روایتی اسلوب سے الگ راہ اپنانے کی کوشش ہے۔ ان کوششوں کا مقصد عصر حاضر میں حدیث و سنت کو درپیش نئے چیلنجز کے جوابات دینا ہے، ان میں بعض اسالیب خالص رویتی علماء کی طرف سے ذخیرہ حدیث کی از سر نو تنقیح کی صورت میں سامنے آئے ہیں ۔یہ سب نظریات اور بیانیے تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ یوں سنت و حدیث کے حوالے سے تنقیدات و تنیقحات کا ایک وسیع مکتبہ وجود میں آچکا ہے۔ یاد رہے یہ ردود و مناقشات اور تعقبات ان تنقیدات کے علاوہ ہیں جو مستشرقین اور منکرینِ حدیث کی طرف سے حدیث پر وارد کیے گئے ہیں۔ ان کا ذکر اس سلسلے کی پہلی جہت دفاعِ حدیث میں ہوچکا ہے۔ یہاں ان ردود کا تذکرہ مقصود ہے جو حدیث و سنت کو حجت ماننے والوں کے درمیان حدیث و سنت کے مختلف پہلوؤں پر مختلف علمی آراء کی شکل میں سامنے آئے ہیں ۔ ان ردو د کے کچھ مرکزی محور ہیں ۔ذیل میں ردود و تعقبات کے اہم محاور کا ذکر کیا جاتا ہے :
پہلا محور
حدیث و سنت پر ردود کا ایک بڑا حصہ عصر حاضر کے معروف سلفی محدث ناصر الدین البانی اور ان کی تائیدو مخالفت میں لکھا جانے والا ذخیرہ ہے ۔ علامہ البانی نے احادیث و رواۃ اور کتب و متون کی صحت و ضعف پر نظر ثانی کی، اور اس پورے عمل میں متقدمین کے منہج، اسلوب اور ان کی آراء سے بڑے پیمانے پر اختلاف کیا۔ یوں از سر نو ضعیف و موضوع احادیث پر السلسلۃ الضعیفۃ اور صحیح احادیث پر السلسلۃ الصحیحۃ کے نام سے ضخیم موسوعات تیار کیے ۔ اس کے علاوہ صحاح ستہ میں سے سنن اربعہ کے صحیح و ضعیف دو الگ الگ نسخے تیار کیے۔ علامہ البانی اور ان کی تحقیقات پر اعتماد کرنے والے ایک مستقل مکتب کی صورت اختیار کر چکے ہیں ۔علامہ البانی کا یہ اسلوب زیادہ تر سلفی و اہل حدیث طبقے میں پروان چڑھا ۔ مکتبِ البانی کی موافقت و مخالفت پر اہم کتب کا ذکر کیا جاتا ہے :
1۔ علامہ البانی پر مفصل ردود لکھنے والوں میں مصر کے معروف شافعی عالم محمود سعید ممدوح قابل ذکر ہیں۔ موصوف نے چھ جلدوں پر مشتمل "التعریف باوھام من قسم السنن الی صحیح وضعیف" لکھی ہے ۔ یہ علامہ البانی پر اپنی نوعیت کی مفصل تنقید ہے جس میں علامہ البانی کی تصحیحات و تضعیفات کا تعقب کیا گیا ہے۔ یہ کتاب دار البحوث الاسلامیہ دبئی سے چھپی ہے ۔ اس کتاب کا جواب مکتب البانی کی طرف سے طارق بن عوض اللہ نے تین جلدوں میں "ردع الجانی المعتدی علی الالبانی" کے نام سے لکھا ہے ۔یہ کتاب دار المحجہ ابو ظہبی سے چھپی ہے ۔محمود سعید ممدوح نے "تنبیہ المسلم الی تعدی الالبانی علی صحیح مسلم"، "وصول التھانی باثبات سنیۃ السبحۃ والرد علی الالبانی" کے علاوہ سلفی مکتب کے مواقفِ حدیث کے رد میں گرانقدر کتب لکھی ہیں۔
2۔ علامہ البانی پر دوسری مفصل اور افراط پر مبنی تنقیدات معروف اردنی عالم حسن بن علی سقاف نے کی ہیں۔ موصوف وہابی و سلفی فکر کے رد میں غالی نظریات کے حامی ہیں۔ آپ نے علامہ البانی کی تصحیحات پر ایک مفصل کتاب "تناقضات الالبانی الواضحات فی ما وقع لہ فی تصحیح الاحادیث و تضعیفھا من اخطاء و غلطات" کے نام سے لکھی ہے ۔ یہ کتاب تین جلدوں میں دار الامام النووی اردن سے چھپی ہے ۔ اس کے علاوہ "قاموس شتائم الالبانی: الشماطیط فی بیان ما یھذی بہ الالبانی فی مقدماتہ من تخبطات وتخلیط" بھی علامہ البانی کے رد میں لکھی ہیں ۔ موصوف کے بعض نظریات سلفیت کے رد میں خود اہل سنت والجماعت کے منہج سے منحرف ہیں ۔
موصوف کے رد میں مکتب سلفیت کی طرف سے درجہ ذیل کتب لکھی گئی ہیں:
1۔ افتراآت السقاف الاثیم علی الالبانی شیخ المحدثین، خالد العنبری
2۔ الانوار الکاشفۃ لتناقضات الخساف الزائفۃ وکشف ما فیھا من الزیغ والتحریف والمجازفۃ، علی حسن حلبی ،دار الاصالہ، بیروت
3۔ الکشاف عن ضلالات حسن السقاف، سلیمان علوان ،دار المنار،مصر
4۔ الایقاف علی اباطیل قاموس شتائم السقاف، حسن حلبی ،دار الاصالہ ،بیروت
اس کے علاوہ بھی حسن سقاف اور وہابی و سلفی مکتب میں ردود و تعقبات لکھی گئی ہیں۔
3: علامہ البانی پر ایک اہم رد برصغیر سے معروف محدث و محقق حبیب الرحمان اعظمی رحمہ اللہ نے "الالبانی، شذوذہ و اخطاءہ" کے نام سے لکھا ہے ۔یہ کتاب اگرچہ مختصر ہے ،لیکن ہندوستانی مصنفین کی عمومی عادت کی طرح عمق و قوتِ تنقید کی حامل ہے ،اس لیے اس کے جواب میں مکتب سلفی کے دومشہور مصنفین کو کمر بستہ ہونا پڑا اور سلیم بن عید الہلالی و حسن حلبی نے دو جلدوں میں اس کتاب کا جواب "الرد العلمی علی حبیب الرحمان الاعظمی" کے نام سے لکھا جو المکتبہ الاسلامیہ عمان سے چھپا ہے۔
علامہ البانی پر اہم ردود و تعقبات کی فہرست پیش خدمت ہے :
1۔ التنبیھات علی رسالۃ الالبانی فی الصلاۃ، حمود بن عبد اللہ التوجری ،مطابع القصیم ،ریاض
2۔ تفنید بعض اباطیل ناصر الالبانی، احمد عبد الغفور عطار،دار ثقیف ،طائف
3۔ جزء فیہ الرد علی الالبانی، عبد اللہ بن محمد الصدیق الغماری ،دار الجنان ،بیروت
4۔ تنبیہ القاری لتقویۃ ما ضعفہ الالبانی، و تنبیہ القاری لتضعیف ما قواہ الالبانی ،عبد اللہ بن محمد الدرویش ،دار العلیان، بریدہ
5۔ نظرات فی السلسلۃ الصحیحۃ، مصطفی العدوی ، خالد الموذن،مکتبہ الطرفین ،طائف
6۔ حوار مع الشیخ الالبانی فی مناقشۃ لحدیث عرباض بن ساریہ ، حسان عبد المنان ،مکتبہ المنہج العلمی ،بیروت
7۔ الاعلام فیما خفی علی الامام، تعقبات حدیثیۃ علی الشیخ محمد ناصر الدین الالبانی، فہد بن عبد اللہ السنید ،مکتبہ السنہ ، قاہرہ
8۔ کشف المعلول مما سمی بسلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ، صلاح الدین بن احمد الادلبی
9۔ لقطات مما وھم فیہ الالبانی من تخریجات وتعلیقات، علی عبد الباسط فرید ،اختانون للنشر والتوزیع ،قاہرہ
10۔ النصیحۃ فی تھذیب السلسلۃ الصحیحۃ، عبد الفتاح محمود سرور ،مکتبہ السنہ ،قاہرہ
11۔ نظرات فی کتاب حجۃ النبی للالبانی، سعید بن عبد القادر ،دار طیبہ ،ریاض
12۔ بیان اوھام الالبانی فی تحقیقہ لکتاب فضل الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اسعد سالم تیم
13۔ تصحیح الاخطاء و اوہام لمحدث الشام، عمار المصری
14۔ التعقب المتوانی علی السلسلۃ الضعیفۃ والصحیحۃ للالبانی، ابو محمد الالفی
دوسرا محور
معروف مصری عالم اور کثیر کتب کے مصنف شیخ محمدالغزالی نے ایک کتاب "السنۃ النبویۃ بین اھل الفقہ واھل الحدیث" لکھی جس میں انہوں نے چودہ بڑے موضوعات کی احادیث پر نظر ثانی اور نئی تحقیق پیش کی۔ یہ کتاب بھی حدیثی ردود و مناقشات کا بڑا محور بنی رہی ۔ اس کتاب کی تائید و مخالفت میں متعدد کتب لکھی گئیں ۔ ذیل میں اس حوالے سے اہم کتب کی فہرست پیش کی جاتی ہے :
1۔ براء ۃ اھل الفقہ واھل الحدیث من اوھام محمد الغزالی، مصطفی سلامہ ،مکتبہ ابن حجر ،مکہ مکرمہ
2۔ وقفات مع کتاب السنۃ بین اھل الفقہ و اھل الحدیث ،سلمان بن فہد عودہ ،مکہ مکرمہ
3۔ نقد کتاب السنۃ النبویۃ بین اھل الفقہ واھل الحدیث للشیخ محمد الغزالی، جمال سلطان ،دار الصفا ،قاہرہ
4۔ کشف موقف الغزالی من السنۃ واھلھا ونقد بعض آراءہ، ربیع بن ہادی المدخلی ،مکتبہ ابن القیم ، مدینہ منورہ
5۔ الشیخ محمد الغزالی بین النقد العاتب و المدح الشامت، محمد جلال کشک ،مکتبہ التراث الاسلامی ،قاہرہ
6۔ الغزالی فی مجلس الانصاف، عائض بن عبد اللہ القرنی ،دار الرایہ ،ریاض
7۔ اعانۃ المتعالی لرد کید الغزالی، عبد الکریم بن صالح الحمید ،دار الرایہ ،ریاض
8۔ المعیار لعلم الغزالی فی کتابہ السنۃ النبویۃ، صالح بن عبد العزیز ال شیخ ،مکتبہ الحسن ،عمان
9۔ جنایۃ الشیخ محمد الغزالی علی الحدیث واھلہ، اشرف بن عبد المقصود ،مکتبہ الامام البخاری، مصر
10۔ دفع شبھات عن الشیخ محمد الغزالی، احمد حجازی السقا، مکتبہ الکلیات الازہریہ ،قاہرہ
11۔ الغزالی و السنۃ النبویۃ بین اھل الفقہ واھل الحدیث، نظرات وملاحظات، منذر ابو شعر، دار البشائر، دمشق
تیسرا محور
برصغیر میں حنفی و اہل حدیث حضرات کے درمیان حدیثی ردود او رتعقبات کا ایک وسیع ذخیرہ مرتب ہوا ہے جس کا ایک بڑا حصہ فریقین کے درمیان اختلافی مسائل کو حدیث کی روشنی میں واضح کرنا ہے ۔فاتحہ خلف الامام، آمین بالجہر، رفع یدین، مسح علی الخفین، وضع الید فی الصلاۃ، طلا ق ثلاثہ سمیت دیگر اہم مسائل پر فریقین نے ایک دوسرے کے جواب میں تفصیلی کتب لکھی ہیں۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ امامِ اہل سنت مولانا سر فراز خان صفدر صاحب نے فاتحہ خلف الامام کے مسئلے پر دو جلدوں پر مشتمل ایک ضخیم کتاب "احسن الکلام فی ترک القراء ۃ خلف الامام" لکھی، جس کا جواب معروف اہل حدیث عالم مولانا ارشاد الحق اثری نے "توضیح الکلام فی وجوب القراء ۃ خلف الامام " میں لکھا جو ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے ۔ ان جیسی کتب میں حدیث و اصول حدیث سے متعلق عمدہ مباحث و نکات ہوتے ہیں ۔ اس طرح کے مسائل پر بیسیوں کتب دونوں اطراف سے لکھی گئی ہیں ۔ اس جیسی کتب کے علاوہ اس محور میں درج ذیل کاوشیں قابل ذکر ہیں :
1۔علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ طبقہ احناف میں ایک وسیع النظر محدث شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے حنفیت کے استحکام اور مستدلا تِ حنفیہ پر بہترین تحقیقات کی ہیں۔ اہل حدیث مکتب کی طرف سے خصوصیت کے ساتھ آپ کی کتب پر مناقشات کیے گئے ہیں ،آپ کے درس بخاری پر مشتمل بخاری شریف کی عربی شرح "فیض الباری "پر دو اہل حدیث مصنفین حافظ محمد گوندلوی اور حافظ عبد المنان نو ر پوری نے "ارشاد القاری الی نقد فیض الباری "کے نام سے چا رجلدوں میں ایک مفصل تنقید لکھی ہے اور انصاف کی بات یہ ہے کہ بعض مقامات پر مضبوط گرفت کی ہے۔ نیز ان حضرات کا اسلوب بھی علمی و تحقیقی ہے۔ اسی طرح علامہ کشمیری رحمہ اللہ کے درس بخاری پر مشتمل اردو شرح "انوار الباری" پر ہندوستان کے معروف اہل حدیث عالم محمد رئیس ندوی نے "اللمحات الیٰ ما فی انوار الباری من الظلمات" کے نام سے چار جلدوں میں ایک تنقیدی کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب میں ندوی صاحب کا نقد،لہجہ اور اسلوب ایک محقق کی بجائے متشددانہ مناظر کا طرز لیے ہوئے ہے۔
2۔معروف حنفی عالم محمد ظہیر احسن نیموی نے مستدلاتِ حنفیہ پر مشتمل ایک کتاب "آثار السنن" کے نام سے لکھی جس کا جواب معروف اہل حدیث عالم عبد الرحمن مبارکپوری نے "ابکار المنن فی تنقید آثار السنن" کے نام سے دیا ۔ اس کا جواب الجواب علامہ نیموی کے صاحبزادے محمد عبد الرشید نے "القول الحسن فی الرد علیٰ ابکار المنن " کے نام سے لکھا۔
3۔ترمذی شریف کے مشہور اہل حدیث شارح عبد الرحمان مبارکپوری نے اپنی مفصل شرح "تحفۃ الاحوذی " میں جگہ جگہ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی تقریرِ ترمذی "العرف الشذی "پر نقد کیا ہے جس کا جواب علامہ کشمیری کے شاگرد حضرت مولانا یوسف بنوری رحمہ اللہ نے اپنی عمدہ شرح "معارف السنن" میں دیا ہے۔
4۔ حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فقہ کے جملہ ابواب میں حنفیہ کے مستدلات احادیث کو جمع کرنے کا ایک وسیع منصوبہ تیار کیا ۔ یہ منصوبہ علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے حکیم الامت کی سر پرستی میں اعلا ء السنن کے نام سے بیس جلدوں میں پورا کیا۔ اعلا ء السنن حنفی نقطہ نظر سے حدیثی ذخیرے کی ایک عمدہ کتاب ہے ۔ اس کتاب پر ایک مختصر نقد معروف اہل حدیث عالم مولانا ارشاد الحق اثری نے "اعلاء السنن فی المیزان " کے نام سے لکھا ہے۔
5۔علامہ ظفر احمد عثمانی نے اعلاء السنن کے دو ضخیم مقدمے لکھے ۔ اس میں ایک مقدمہ "قواعد فی علوم الحدیث " کے نام سے چھپا ہے جس میں حدیث کی صحت و ضعف اور رواۃ کی توثیق و تضعیف کے اصول فقہاء خاص طور پر حنفی نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر مرتب کیے۔ اس پر تنقیدی تبصرہ اہل حدیث عالم مولانا بدیع الدین راشدی نے "نقض قواعد فی علوم الحدیث"کے نام سے لکھا ہے۔
6۔عالم عرب میں حنفیت کے دفاع و استحکام کے حوالے سے شیخ زاہد الکوثری اور آپ کے رفقاء،تلامذہ و منتسبین کی کوششیں قابل قدر ہیں ،جبکہ اس کے بالمقابل سلفی حضرات نے جوابی ردود لکھی ہیں۔ ذیل میں اس حوالے (حدیثی حوالے )سے فریقین کی اہم کتب کی فہرست دی جاتی ہے :
1۔ النکت الطریفۃ فی التحدث عن ردود ابن ابی شیبۃ علی ابی حنیفۃ، شیخ زاہد الکوثری، المکتبہ الازہریہ ،قاہرہ
2۔ فقہ اھل العراق وحدیثھم، ایضاً
3۔ اثر الحدیث الشریف فی اختلاف الفقھاء، محمود عوامہ
4۔ بیان تلبیس المفتری محمد زاہد الکوثری، احمد بن محمد الصدیق الغماری ،دار الصمیعی ،ریاض
چوتھا محور
عالم اسلام کا جدت پسند طبقہ حدیث کے بارے میں خاص نقطہ نظر رکھتا ہے ۔ برصغیر میں متجددین کے سرخیل سر سید احمد خان ہوں یا عالم عرب کے مفتی محمد عبدہ کا مکتب فکر، مصری متجدد ادباء و مفکرین ہوں یا پاکستان میں ڈاکٹر فضل الرحمان، جاوید احمد غامدی، سب حضرات حدیث کے بارے میں الگ الگ مواقف رکھنے کے باوجود اس وصف میں مشترک ہیں کہ ان کے مواقف اسلاف کے نقطہ نظر (خواہ محدثین کا موقف ہو یا فقہاء کا )سے مختلف ہے۔ اس کے علاوہ بعض روایت پسند طبقات، جن کا جھکاؤ تفسیر و قرآنیات(جیسے مکتبِ فراہی ) کی طرف کچھ زیادہ رہا، حدیث کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بھی بعض حوالوں سے ایک الگ موقف شمار ہوتا ہے ۔ ان سب حضرات کے موقفِ حدیث پر ردود و مناقشات کا ایک وسیع ذخیرہ مرتب ہوچکا ہے ۔ ذیل میں اس حوالے سے اہم عربی و اردو کتب کی فہرست دی جاتی ہے :
1۔ موقف المدرسۃ العقلیۃ من السنۃ النبویۃ، الامین الصادق الامین ، جامعہ ام القری ،مکہ مکرمہ(مجلدین )
2۔ موقف المدرسۃ العقلیۃ من الحدیث النبوی، دراسۃ تطبیقیۃ علی تفسیر المنار ،شفیق شقیر ،المکتب الاسلامی، بیروت
3۔ ریاض الجنۃ فی الرد علی المدرسۃ العقلیۃ ومنکری السنۃ، سید بن حسین العفانی ،دار عفانی، قاہرہ
4۔ الرد القویم علی المجرم الاثیم، حمود بن وعبد اللہ التویجری
5۔ مع بعض الکتاب فی بیان حکم اعفاء اللحیۃ و خبر الآحاد، عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز ،دار الافتاء، ریاض
6۔ الشناعۃ علی من رد احادیث الشفاعۃ، عبد الکریم بن صالح ،ریاض
7۔ الاعتداء ات الاثیمۃ علی السنۃ النبویۃ القویمۃ، کریمہ احمد محمود،المجلس الاعلی للشون الاسلامیہ ، قاہرہ
8۔ انکارِ حدیث کا نیا رروپ ،(اصلاحی تدبر حدیث کا جائزہ) غازی عزیر مبارکپوری (مجلدین )
9۔ جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث ،تنقیدی جائزہ ،محمد اسماعیل سلفی
10۔ سید ابو الاعلیٰ کا مخصوص نظریہ حدیث ،عبد اللہ روپڑی
11۔ اصول و مبادی پر تحقیقی نظر ،ابو عمرو محمد یوسف
12۔ جاوید احمد غامدی اور انکار سنت ،مولانا محمد رفیق چودھری
13۔ نقد فراہی ،محمد رضی الاسلام ندوی
14۔ دورِ حاضر کے تجدد پسندوں کے افکار ،مولانا یوسف لدھیانوی
15۔ فکر غامدی کا تحقیقی جائزہ ،ڈاکٹر حافظ محمد زبیر
پانچواں محور
حدیثی ردود و مناقشات کا پانچواں محور حدیثی تراث میں اخطاء،اغلاط ،تصحیفات اور ان کتب کی مختلف اشاعتوں میں غلطیوں کی نشاندہی ہے۔ اس باب میں مخطوطات کے محققین نے ایک دوسرے پر تعقبات کیے ہیں۔ ذیل میں اس حوالے سے اہم کاوشوں کی فہرست دی جاتی ہے :
1۔ تنبیھات علیٰ تحریفات وتصحیفات فی کتاب مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ، عاصم بن عبد اللہ القریوتی ،دار ہجرہ، الریاض
2۔ التراجم الساقطۃ من الکامل فی معرفۃ ضعفاء المحدثین وعلل الحدیث لابن عدی، عبد المحسن الحسینی ،مکتبہ ابن تیمیہ ، قاہرہ
3۔ النقد لما وقع فی اسانید صحیح ابن خزیمۃ من التصحیف و السقط، عبد العزیز بن عبد الرحمان العثیم ،دار سلطان ،جدہ
4۔ تصحیح الاغلاط الکتابیۃ الواقعہ فی النسخ الطحاویۃ، محمد ایوب المظاہری ،المکتبہ الیحیویہ ، سہارنپور
5۔ نصوص ساقطۃ من طبعات اسماء الثقات لابن شاھین، سعد الہاشمی ،مکتبہ الدار ،مدینہ منورہ
6۔ التصحیفات والتحریفات الواقعۃ فی طبعۃ کتاب المعین فی طبقات المحدثین، عواد الخلف ،دار یلاف ،کویت
بارہویں جہت: فقہی مکاتب اور حدیث و سنت
معاصر سطح پر ائمہ اربعہ کے نظریہ سنت اور حدیث سے احکام کے اخذو ترک کے اصولوں پر قابل قدر کام ہوا ہے، خاص طور پر احناف چونکہ قدیم زمانے سے ترک حدیث کے الزام کا مورد رہے ہیں، اس لیے حنفیہ کے قواعد و اصول حدیث پر کافی کام ہوا ہے ۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کام مولانا عبد المجید ترکمانی کا لکھا ہوا مقالہ "دراسات فی اصول الحدیث علی منھج الحنفیۃ" ہے جو معروف محدث و محقق ڈاکٹر عبد الحلیم چشتی کی زیرِ سرپرستی لکھا گیا ہے۔ چھ سو صفحات کی ضخیم کتاب میں حنفیہ کے اصول الحدیث پر بڑی مفید و مفصل بحث کی گئی ہے، جبکہ اردو میں اس حوالے سے امام اہل سنت کے پوتے اور مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ کے قابل قدر صاحبزادے مولانا عمار خان ناصر صاحب کی کتاب "فقہائے احناف اور فہم حدیث،اصولی مباحث" قابل ذکر کتاب ہے۔ اس کتاب میں ان درایتی اصولوں کی وضاحت کی گئی ہے جو مکتب حنفی میں احادیث کے اخذ و ترک کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر صہیب عباس کی مفصل کتاب "منھج الاصولیین الحنفیۃ فی الاستدلال بالسنۃ النبویۃ" (مکتبہ الرشد ریاض)، کیلانی محمد خلیفہ کا مقالہ "منھج الحنفیۃ فی نقد الحدیث بین النظریۃ والتطبیق" (دار السلام للطباعۃ و النشر، قاہرہ) اور ادارہ تحقیقاتِ اسلامی (اسلام آباد ) کے محقق مبشر حسین صاحب کی کتاب "احادیثِ احکام اور فقہائے عراق "اہم کاوشیں ہیں ۔ ذیل میں اس حوالے سے چند اہم کتب کی فہرست دی جاتی ہے:
1۔ منھج الامام ابی حنیفۃ فی توثیق السنۃ، محمد امین الاسلام ،الجامعہ الاسلامیہ ،مدینہ منورہ
2۔ اصول الحدیث عند الامام ابی حنیفۃ، احمد یوسف ابو حلیبہ ،کلیہ اصول الدین ،غزہ (محقق مذکور نے اسی طرز پر اصول الحدیث عند الامام مالک ،اصول الحدیث عند الامام احمد مختصر مقالات لکھے ہیں ،جو مجلہ الجامعہ الاسلامیہ (مدینہ منورہ) میں چھپے ہیں )
3۔ اختلافات المحدثین والفقھاء فی الحکم علی الحدیث، عبد اللہ شعبان علی ،دار الحدیث ، قاہرہ
4۔ مختلف الحدیث بین المحدثین والاصولیین الفقھاء، دراسۃ حدیثیۃ اصولییۃ فقھیۃ تحلیلیۃ، اسامہ بن عبد اللہ خیاط ،دار الفضیلہ ،ریاض
5۔ علل الاصولیین فی رد متن الحدیث و الاعتذار عنہ، بلال فیصل البغدادی ،دار المحدثین ، قاہرہ
6۔ منھج الاستدلال بالسنۃ عند المالکیۃ، حسین حیان ،دار البحوث ،متحدہ عرب امارات
7۔ تقویۃ الحدیث الضعیف بین الفقھاء والمحدثین، محمد بن عمر باز مول
8۔ مباحث نقد متن خبر الواحد عند الاصولیین، عبد المعز حریز ،کلیۃ الشریعہ و الدراسات الاسلامیہ، جامعہ قطر
9۔ اثر اختلاف الاسانید والمتون فی اختلاف الفقھاء، ماہر یاسین فحل ،دار الکتب العلمیہ، بیروت
10۔ حدیث الآحاد عند الاصولیین، ابو عاصم البرکاتی ،دار الصفا و المروہ ،مصر
تیرہویں جہت: ایم فل و پی ایچ ڈی مقالات
دورِ جدید کے حدیثی ذخیرے کی ایک اہم جہت حدیث و علومِ حدیث پر مقالات (theses) پر مشتمل ہے۔ عالمِ اسلام کی مختلف جامعات نے حدیث و علومِ حدیث پر ہزاروں طلبا کو ایم اے،ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تفویض کی ہیں،ان تینوں ڈگریوں کے لیے مقالہ کا لکھنا ضروری ہے۔ یوں حدیث و علومِ حدیث کے بے شمار موضوعات پر عمدہ تحقیقی مقالات تیار ہوئے ہیں ۔ یہ مقالات عموماً درج ذیل انواع پر مشتمل ہوتے ہیں:
1۔کسی قدیم کتاب کی از سر نو تحقیق و تعلیق 2۔کسی محدث کی خدماتِ حدیث کا تذکرہ
3۔کسی کتاب کے منہج و اسلوب ، مباحث اور اس کی مختلف جہات کا جائزہ و تجزیہ
4۔مصادرِ حدیث و علوم حدیث کی تاریخ و ارتقاء 5۔کسی بھی دو کتب یا محدثین کا مقارنہ ،موازنہ او رتقابل
6۔کسی خطے یا صدی میں ہونے والے حدیثی ذخیرے کا تعارف اور اس کی تاریخ
7۔کسی بھی موضوع پر احادیث و روایات کی جمع و ترتیب
8۔کسی حدیث کے مختلف طرق اور کسی محدث کی مرویات کا محاکمہ و جائزہ
9۔علوم الحدیث کے مختلف فنون و انواع پر مفصل متنوع تحقیقات
10۔اہم کتب میں مذکور احادیث و روایات کی تخریج
11۔کسی کتاب کے رواۃ کی جرح و تعدیل کے اعتبار سے جائزہ
12۔حدیث پر مستشرقین و مغرب زدہ دانشوروں کے مناقشات و اعتراضات کے جوابات
13۔حدیث کی مختلف اقسام و انواع کی متونِ حدیث سے جمع و تدوین
14۔حدیث و علومِ حدیث پر مختلف اقسام و انواع کے فہارس کی تیاری
15۔کتابیات اور مختلف قسم کے معاجم و موسوعات کی تیاری
ان مقالات کی فہرستیں متعلقہ جامعات کی ویب سائٹس پر موجود ہیں، اس کے علاوہ فہارس و معاجمِ کتب سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ عربی میں اس کے لیے درج ذیل کتب اور آن لائن لائبریریز کی طرف رجوع کیا جائے :
1۔ دلیل مؤلفات الحدیث الشریف المطبوعۃ القدیمۃ والحدیثۃ، محی الدین عطیہ، صلاح الدین حفنی، محمد خیر رمضان، دار ابن حزم بیروت (مجلدین)
2۔ التصنیف فی السنۃ النبویۃ وعلومھا، خلدون الاحدب، موسسہ الریان ،بیروت(مجلدین)
3۔ المعجم المصنف لمولفات الحدیث الشریف، محمد خیر رمضان ،مکتبہ الرشد ،ریاض (3 مجلدات)
ان تین ویب سائٹس پر خصوصیت کے ساتھ مقالات و رسائل موجود ہیں:
1۔ملتقی اہل الحدیث
http://www.ahlalhdeeth.com/vb
2۔جامع الکتب المصورۃ
http://kt-b.com/?page_id2363806
3۔جامع البحوث العلمیہ
http://b7oth.com
جبکہ اردو میں ولی خان یونیورسٹی مردان کے پروفیسر ڈاکٹر سعید الرحمان کی حال ہی میں چھپی قابل قدر کاوش تحقیقاتِ اسلامیات (العلم پبلی کیشنز ،پشاور) اہم کتاب ہے جس میں پاکستان بھر کے جامعات میں علوم اسلامیہ کے مختلف گوشوں پر لکھے گئے اردو مقالات کی فہرست دی گئی ہے۔ اس کتاب میں ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب مقالات کی فہرست مرتب کی گئی ہے جس میں حدیث و علوم حدیث پر لکھے گئے مقالات بھی شامل ہیں۔
چودھویں جہت: جرائد و رسائل کے خاص نمبر اور کانفرنسز و سیمینارز
دورِ جدید کے حدیثی ذخیرے میں حدیث و علومِ حدیث پر تحقیقی مضامین (research articles) اہم حیثیت کے حامل ہیں ۔ ان مضامین میں کسی خاص موضوع پر اختصار کے ساتھ تحقیقی انداز میں بحث ہوتی ہے ۔ ان مضامین و مقالات کی تعداد بلا شبہ ہزاروں تعداد میں ہے۔ اس کے ساتھ حدیث و علوم حدیث پر رسائل کے خاص نمبر بھی قابلِ ذکر ہیں جن میں موضوع سے متعلق مختلف اہل علم کے تحقیقی مقالات یکجا ہوتے ہیں ۔ حدیث کے حوالے سے اردو رسائل کے اہم خاص نمبر کا ذکر کیا جاتا ہے :
1۔ ہفت روزہ الاعتصام (لاہور) حجیتِ حدیث نمبر (1956)
2۔ ماہنامہ الاحسن (کراچی) ختم بخاری نمبر ( رجب ،شعبان 1426ھ)
3۔ماہنامہ الصدیق (ملتان) کتابتِ حدیث نمبر ( جمادی الاولیٰ 1378ھ)
4۔ماہنامہ الصدیق (ملتان)عظمتِ حدیث نمبر (جمادی الثانیۃ 1378ھ )
5۔ماہنامہ محدث (لاہور) فتنہ انکارِ حدیث نمبر (اگست 2002)
6۔سہ ماہی فکر و نظر (اسلام آباد) برصغیر میں مطالعہ حدیث (2005)
اس کے علاوہ بعض رسائل میں خصوصیت کے ساتھ حدیثی مباحث ہوتے ہیں ۔ اس کی مثال خیر پور سے ڈاکٹر سید عزیز الرحمان صاحب کی زیرِ ادارت نکلنے والا سہ ماہی رسالہ "تحقیقاتِ حدیث "(جامعہ خیر العلوم خیر پور ٹامیوالی )ہے جس میں خصوصیت کے ساتھ حدیث و علوم حدیث پر تفصیلی مقالات کی اشاعت ہوتی ہے ۔
عمومی رسائل میں بھی حدیث و علوم حدیث کی مختلف جہات پر اہم مقالات شائع ہوتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان سے منظور شدہ بیس بڑے تحقیقی مجلات میں حدیث و علوم حدیث پر ایک محتاط اندازے کے مطابق ساڑھے چار سو کے قریب تحقیقی مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں سے بعض مضامین مستقل کتابچے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح برصغیر کے معروف تحقیقی مجلے ’’معارف‘‘ میں ایک صدی میں حدیث و علوم حدیث پر ۸۰ کے قریب تحقیقی مضامین شائع ہوئے ہیں۔ عالم عرب کی جامعات سے علوم اسلامیہ کے مختلف شعبہ جات کی طرف سے تحقیقی مجلات شائع ہوتے ہیں ،ان میں بھی حدیث و علوم حدیث پر اہم مواد شامل ہوتا ہے۔
اسی طرح حدیث و علوم حدیث کی مختلف جہات پر ورکشاپس و سیمینارز بھی دورِ جدید کے حدیثی ذخیرے کی ایک اہم جہت ہے۔ 2007 میں شیخ ابو الحسن علی ندوی سینٹر (انڈیا) کی طرف سے "ہندوستان اور علم حدیث " کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔ اس سیمینار کے مقالات اسی نام سے دو ضخیم جلدوں میں چھپے ہیں۔ ادارہ تحقیقات اسلامی (اسلام آباد ) کی طرف سے منعقدہ سیمینار "برصغیر میں مطالعہ حدیث (2003)" میں بھی اہم مقالات پیش کیے گئے۔
عالم عرب میں بھی حدیث و سنت پر اہم سیمینارز منعقد ہوتے رہتے ہیں ،ان میں سے اہم سیمینارز کی تفصیلات شبکۃ ضیاء للموتمرات و الدرسات (http:/diae.net//)ویب سائٹ پر دیکھی جاسکتی ہیں۔
پندرہویں جہت: ویب سائٹس اور سافٹ وئیرز
دورِ جدید میں احادیث کی کمپیوٹرائزیشن پر عمدہ کام ہوا ہے ۔ مفید سافٹ وئیرز کے ساتھ حدیثی تحقیقات پر مشتمل اہم ویب سائٹس بنائی گئی ہیں۔ ان ویب پیجز اور سافٹ وئیرز نے حدیث پر تحقیقی کام کو بہت حد تک آسان بنا دیا ہے۔ ذیل میں اس حوالے سے اہم سافٹ وئیرز اور ویب سائٹس کی نشاندہی کی جاتی ہے :
سافٹ وئیرز
1۔ جوامع الکلم
حدیث کی کمپیوٹرائزیشن پر دورِ جدید کا سب سے ممتاز کام جوامع الکلم سافٹ وئیر کی شکل میں ہوا ہے۔ اس سافٹ وئیر کے تعارف کے لیے مستقل مضمون درکار ہے ۔ ذیل میں اس کی اہم خصوصیات کا ذکر کیا جاتا ہے :
1۔یہ سافٹ وئیر تیس سال کی مدت میں ساڑھے تین سو محققین کی محنت کا نتیجہ ہے۔
2 : اس میں حدیث سے متعلق چودہ سو مصادر شامل ہیں جن میں ساڑھے پانچ سوکے قریب مخطوطات ہیں۔
3:سافٹ وئیر میں ستر ہزار راویوں کے مکمل حالات درج ہیں، کسی بھی راوی کے محض نام کی سرچنگ سے جملہ کوائف سامنے آ جاتے ہیں۔
4:سافٹ وئیرز میں جتنے متون حدیث ہیں، ان میں سے کسی بھی حدیث کی سند کے کسی بھی راوی پر محض کلک کرنے سے اس کے حالات سامنے آجاتے ہیں۔
5: حدیث کی سرچنگ صحت و ضعف کے اعتبار سے، قولی و فعلی ہونے کے اعتبار سے، قدسی و غیر قدسی کے اعتبار سے، رفع و وقف کے لحاظ سے، راوی کے اعتبار سے، صحابی کے اعتبار سے، موضوع کے اعتبار سے کی جا سکتی ہے۔
6:کسی بھی حدیث کی جملہ کتب حدیث سے تخریج ،رواۃ کی حیثیت ،حدیث کے شواہد و متابعات ،حدیث کی مرسل و موصول اسناد ،حدیث کے مختلف طرق و اسناد کے گرافس ، حدیث کے مکررات ،الغرض ایک حدیث پر کئی اعتبار سے تحقیق کی جاسکتی ہے۔
7:سافٹ وئیرز میں موجود اسناد کی تعداد سات لاکھ ہے۔
یہ سافٹ وئیر ،اس کا مکمل تعارف اور اس کو ڈاؤن لوڈ کر کے استعمال کرنے کا طریقہ اس لنک پر دستیاب ہے۔
http://gk.islamweb.net:8080
2۔ موسوعۃ الحدیث الشریف
یہ سافٹ وئیر حدیث کی نو کتب (صحاح ستہ موطا امام مالک مسند احمد و سنن دارمی ) کی روایات اور ان کتب کی اہم شروح پر مشتمل ہے ۔ اس سافٹ وئیر کا تازہ ترین ورژن اس لنک سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے :
http://www.islamspirit.com/islamspirit_ency_002.php
3۔ الموسوعۃ الذھبیۃ للحدیث النبوی وعلومہ
یہ سافٹ وئیر اردن کے معروف ادارے مرکز التراث لابحاث الحاسب الآلی نے بنایا ہے ،اس سافٹ وئیر میں چھ سو کے قریب مجلدات کا مواد شامل ہے ۔ سافٹ وئیر میں دو لاکھ کے قریب احادیث اور ڈیڑھ لاکھ کے قریب راویوں کا تذکرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ مصطلح الحدیث کی ایک سو اٹھائیس کتب بھی شامل ہیں۔ حدیث اور رواۃ کو تلاش کرنے کی متعدد سہولیات شامل کی گئی ہیں۔
4۔ المکتبۃ الالفیۃ للسنۃ النبویہ
یہ سافٹ وئیر بھی اسی ادارے کا تشکیل کردہ ہے جس میں ساڑھے تین ہزار جلدوں کا مواد شامل ہے۔
5۔ موسوعۃ التخریج و الاطراف الکبری
یہ سافٹ وئیر بھی اردن کے مذکورہ ادارے کا تشکیل کردہ ہے جس میں تین لاکھ حدیثی نصوص کی تخریج اصلی مصادر سے کی گئی ہے۔
6۔ موسوعۃ رواۃ الحدیث
معروف ویب سائٹ موقع الاسلام نے اسے تیار کیا ہے، اس میں تراجم و رجال کی تقریباً ۸۰ کتب کا مواد جمع کیا گیا ہے ،متنوع اسالیبِ تلاش کی سہولیات اس میں شامل ہے۔اس لنک سے ڈاون لوڈ کیا جاسکتا ہے :
http://www.islamspirit.com/islamspirit_ency_036.php
7۔ موسوعۃ الاجزاء الحدیثیۃ
یہ موسوعہ بھی روح الاسلام ویب سائٹ کا تیار کردہ ہے جس میں پانچ سو کے قریب مختلف موضوعات پر حدیثی اجزاء و رسائل کو جمع کیا گیا ہے ۔ اس کا ڈاؤن لوڈنگ لنک حسب ذیل ہے :
http://www.islamspirit.com/islamspirit_ency_028.php
8۔ موسوعۃ علوم الحدیث
اس موسوعہ کی تیاری بھی موقع روح الاسلام کے حصے میں آئی ہے ،اس میں علوم الحدیث پر دو سے زائد کتب کو اکٹھا کیا گیا ہے۔ لنک پیشِ خدمت ہے :
http://www.islamspirit.com/islamspirit_ency_019.php
9۔ موسوعۃ شروح الحدیث
اس سافٹ وئیر میں سو سے زائد شروح حدیث کو جمع کیا گیا ہے ،جس میں تلاش کی متنوع سہولیات بھی شامل ہیں۔
http://www.islamspirit.com/islamspirit_ency_004.php
10۔ ایزی قرآن و حدیث
اردو داں طبقے میں زیادہ معروف ہے ،اس میں علمائے برصغیر کے لکھے ہوئے قرآن پاک کے چھبیس اردو تراجم و تفاسیر، تیرہ انگلش تراجم و تفاسیر اور حدیث کی گیارہ بنیادی کتب (صحاح ستہ ،موطا ،مسند احمد ،مشکاۃ، سنن دارمی ،شمائل ترمذی ) کو عربی متن، اردو و انگلش تراجم اور موضوعاتی ترتیب کی اضافی خصوصیت کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔معروف ویب سائٹ kitabosunnat.com پر دستیاب ہے۔
ویب سائٹس
اردو اور عربی کی ہر اہم اسلامی ویب سائٹ پر حدیث و علوم حدیث سے متعلق وسیع مواد ہوتا ہے ،البتہ خصوصیت کے ساتھ علم حدیث کے لیے درج ذیل ویب سائٹس قابل ذکر ہیں :
1۔ جامع الحدیث
http://www.sonnaonline.com
جامع الحدیث، جوامع الکلم سافٹ وئیر کی طرز پر ایک آن لائن سرچ ایبل حدیثی لائبریری ہے جس میں تیس ہزار عنوانات کے تحت پانچ لاکھ احادیث کا مجموعہ ہے ، جو حدیث کے چار سو مصادر سے اخذ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں رواۃ حدیث کے احوال آن لائن سرچ اور اقوال جرح و تعدیل کے ساتھ دستیاب ہیں۔ نیز ہر راوی کی کتنی احادیث کس کس کتاب میں ہیں ، اس کی تفصیلات بھی درج ہیں۔الغرض سیکڑوں مراجع حدیث سے تلاش کی متنوع سہولیات کے ساتھ آن لائن استفادہ کے لیے جامع الحدیث سب سے بڑی ویب سائٹ ہے۔ لنک یہ ہے :
2۔ شبکۃ السنۃ و علومہا
http://www.alssunnah.org/ar
حدیث سے متعلق کتب، ویڈیوز، بیانات اور خبروں کی ایک اہم ویب سائٹ ہے۔
3۔ جامع السنۃ و شروحہا
http://hadithportal.com
اس ویب سائٹ پر حدیث کی جملہ اہم کتب اور ان کی شروح آن لائن دستیاب ہیں۔لنک یہ ہے:
4۔ موسوعۃ صحیح البخاری
http://www.bukhari-pedia.net
اس ویب سائٹ پر صحیح بخاری سے متعلقہ مواد دستیاب ہے۔ بخاری شریف کی شروح، حواشی، مختصرات، مستخرجات، رجال، مقدمات اور صحیح بخاری پر معاصر دراسات کا قابل قدر ذخیرہ جمع کیا گیا ہے۔
مصادر و مراجع
اس پورے سلسلے کے لیے درج ذیل مراجع سے استفادہ کیا گیا ہے:
عربی کتب
1۔ دلیل مولفات الحدیث الشریف المطبوعۃ، محی الدین عطیہ و آخرون ،دار ابن حزم ،بیروت
2۔ المعجم المصنف لمولفات الحدیث الشریف ،محمد خیر رمضان ،مکتبہ الرشد ،ریاض
3۔ التصنیف فی السنۃ النبویۃ وعلومھا، خلدو ن الاحدب ،موسسہ الریان ،بیروت
4۔ جھود مخلصۃ فی خدمۃ السنۃ المطھرۃ، عبد الرحمان عبد الجبار ،ادارۃ البحوث الاسلامیہ ،بنارس
5۔ جھود المعاصرین فی خدمۃ السنۃ المشرفۃ، محمد عبد اللہ اب وصعیلیک ،دار القلم ،دمشق
6۔ معجم ما طبع من کتب السنۃ، مصطفی عمار ،دار البخاری ،مدینہ منورہ
7۔ المدخل الی دراسۃ علوم الحدیث، سید عبد الماجد غوری
8۔ جھود محدثی شبہ القارۃ الھندیۃ فی خدمۃ کتب السنۃ المشھورۃ فی القرن الرابع العشر، سہیل حسن
اردو کتب
1۔قافلہ حدیث ،محمد اسحاق بھٹی
2۔برصغیر پاک و ہند میں علم حدیث ،عبد الرشید عراقی
3۔علم حدیث اور پاکستان میں اس کی خدمت ،ڈاکٹر سعد صدیقی
4۔علم حدیث میں براعظم پاک وہند کا حصہ ،ڈاکٹر محمد اسحاق
5۔مرآۃ التصانیف ،حافظ محمد عبد الستار قادری ،جامعہ نظامیہ لاہور
6۔پاک وہند میں علمائے اہل حدیث کی خدمات حدیث ،ارشاد الحق اثری ، فیصل آباد
7۔ہندوستان میں اہل حدیث کی علمی خدمات ،ابو یحییٰ امام خان نوشہروی ،مکتبہ نذیریہ
8۔اصول حدیث میں علمائے برصغیر کی خدمات ،تاج الدین ازہری (یہ اصلاً ایک ریسرچ آرٹیکل ہے )
9۔تذکرہ اکابر اہل سنت ،عبد الحکیم اشرف قادری
10۔برصغیر میں مطالعہ حدیث (اشاعت خصوصی فکر و نظر 2005)
11۔ماہانہ رسائل کے خصوصی شمارے، (بشکریہ ضیاء اللہ کھوکھر ، عبد المجید کھوکھر میموریل لائبریری، گوجرانوالہ)
ویب سائٹس
1۔ المکتبۃ الوقفیہ
http://waqfeya.com
2۔ملتقی اہل الحدیث
http://www.ahlalhdeeth.com/vb
3۔مکتبہ الالوکہ
http://majles.alukah.net
4۔مکتبۃ المشکاۃ
http://www.almeshkat.net/library
5۔جامع الکتب المصورہ
http://kt-b.com
6۔جامع الرسائل العلمیہ
http://b7oth.com
7۔مکتبہ صید الفوائد
http://www.saaid.net
8۔مدونہ محمد الترکی
http://m-alturki.blogspot.com
9۔اسلامک ریسرچ انڈیکس
http://iri.aiou.edu.pk/indexing
10۔دلیل السلطان للمواقع العربیہ
http://www.sultan.org/a
11۔کتاب و سنت
http://kitabosunnat.com
12۔مصورات عبد الرحمان الجندی
http://www.moswarat.com
13۔شبکۃ ضیاء للموتمرات
http://diae.net
14۔موقع روح الاسلام
http://www.islamspirit.com
15۔المکتبۃ الشاملہ الحدیثہ
https://al-maktaba.org
16۔البرامج المجانیہ
http://www.bramjfreee.com
17۔ ریختہ
https://www.rekhta.org
18۔الملتقی الفقہی
http://www.feqhweb.com/vb
19۔مسجد صلاح الدین
http://masjidsalahudin.com
20۔طوبی ریسرچ لائبریری
http://toobaa-elibrary.blogspot.com/p/blog-page.html
21۔شبکۃ الدفاع عن السنہ
http://www.dd-sunnah.net/forum
تصوف و سلوک اور ماضی قریب کے اجتہادات
سراج الدین امجد
دور حاضر میں تصوف و سلوک کی طرف شعوری رجحان اور عمومی ذوق خوش آئند ہے گو اس کی وجوہات گوناگوں ہیں۔ کچھ کے نزدیک تصوف انسان دوستی اور لبرل اقدار کا ہم نوا مذہب کا ایک جمالیاتی رخ ہے۔ کچھ لوگ اسے طالبانی خارجیت اور داعشی بربریت کا تریاق سمجھتے ہیں۔ کہیں روایتی تصوف کے علمبردار مشہور خانوادوں کے خوش فکر نوجوان نئے اسالیب میں اشغالِ تصوف کی ترویج کے لیے کوشاں ہیں تو کہیں تصوف فی الواقع روایت دینی کی پر کیف و جمال افروز فکری و نظری جولانگاہ کا حامل ہے۔ تاہم یہ المیہ بھی کچھ کم نہیں کہ بالعموم مروجہ سلوک میں چند رسوم کی بجاآوری ہی طرز ادا ٹھہری ہے یا پھر بعض اذہانِ رسا کی خوش اعتقادی پر مبنی حرف و صوت کی کارگزاری کشش کا سامان پیدا کر رہی ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں پروفیسر احمد رفیق اختر، سید سرفراز شاہ صاحب ، بابا جی عرفان الحق اورعبد اللہ بھٹی صاحب وغیرہ موخر الذکر اسلوبِ تصوف کی عمدہ مثالیں ہیں۔
دورِ جدید کے ذہن کے لیے، جو تشکیک و ارتیاب کے ایمان شکن مظاہر سے نبرد آزما ہے، لاریب انٹلکچول تصوف کی قد رو قیمت بھی کچھ کم نہیں ۔ تاہم چمنستانِ تصوف کے سنجیدہ طبع اور سلیم الفطرت ریزہ چینوں کو عجمی تصوف کی خرابیوں کو ہمہ وقت پیش نظر رکھنا چاہیے۔ نیز یہ بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ عملی تصوف فی الاصل تزکیہ نفس اور اصلاحِ باطن کا میدان ہے، باقی چیزیں ثانوی ہیں۔ اس باب میں اتباعِ شریعت اور استقامت ہی مدار نجات اور فوزِ عظیم ہے، لہٰذا آج بھی متبعِ سنت بزرگوں کی تعلیمات اور افکارِ عالیہ میں بڑا فیض ہے، لہٰذا اسی کی تلاش اور جستجو کرنی چاہیے۔ سردست موضوع سخن چونکہ بر صغیر پاک و ہند کے صوفیہ کرام کی اجتہادی کاوشوں کے ایک اجمالی جائزہ سے متعلق ہے، لہٰذا اسی تناظر میں بات کی جائے گی۔
امامِ ربانی حضرت مجدد الف ثانی ؒ تصوف و سلوک کی وضاحت میں مکتوب نمبر ۱۳ دفتر اول حصہ اول بنام شیخ نظام الدین تھانیسری (یہ بزرگ سلسلہ چشتیہ صابریہ کے بڑے مشائخ میں سے تھے جیساکہ حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ کے شجرہ سے ظاہر ہوتا ہے ) میں فرماتے ہیں : ’’تامعرفت اجمالی تفصیلی گردد واستدلال کشفی شود ‘‘، یعنی جن چیزوں کو اجمالاً جانتا ہے، ان کو تفصیلی جان لے اور جن باتوں کو بحث و استدلال سے سمجھتا ہے، ان کو کشف سے جان لے۔ تو گویا ان کے نزدیک یہ سلوک کا خلاصہ ہوا۔ ویسے بھی سلوک و احسان آیہ کریمہ ’’یزکیھم‘‘ کی تعبیر اور ’’حدیث احسان‘‘ کی تفصیل ہی ہے۔ تاہم اصل مسئلہ دور جدید میں اس کے حصول کا ہے۔سچ پوچھیے تو اس حوالے سے روایتی تصوف کے ہاں اب کچھ نہیں رہا ، الا ماشاء اللہ۔ فقط مجددانہ ایقان اور مجتہدانہ بصیرت کے حامل شیوخ ہی اس تشنہ کامی کا مداوا کرسکتے ہیں۔ اب اگر اس تناظر میں بات آگے بڑھائیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تصوف و سلوک میں اجتہادی کاوشیں بالعموم کم نظر آتی ہیں۔ گزشتہ دو تین صدیوں میں حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ اور حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ جیسی شخصیات ہی ملتی ہیں جنہوں نے مجتہدانہ بصیرت سے دامن تصوف کو مالامال کیا۔ اسی طرح ماضی قریب میں بھی چند شخصیات ہی ایسی نظر آتی ہیں جنہوں نے اچھوتے افکار اور اجتہادی آراء سے منتسبینِ تصوف کے لیے کشش کا بڑا سامان پیدا کیا۔
فی الحال اس حوالے سے بحث کو بیسویں صدی تک ہی محدود رکھنا چاہتا ہوں۔ دور آخر میں مشائخ دیوبند خصوصاً حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب (متوفی ۱۹۴۳ء) کا تصوف پر وقیع کام ہے۔امورِ تصوف و سلوک پر لکھنے کے علاوہ وہ سالہا سال خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون میں مسترشدین کی باقاعدہ تربیت کرتے رہے۔ یہ تربیت کس درجہ کی تھی، اس طرز و اسلوب اورنظم خانقاہ کی معرفت کے لیے مولانا عبد الماجد دریابادی کی کتاب "حکیم الامت" کا مطالعہ بصیرت افروز ہوگا۔ مزید تھانوی صاحب کی اپنی کتب مثلاً التکشف عن مہمات التصوف،بوادر النوادر، تجدید تصوف و سلوک ( مرتبہ عبد الباری ندوی) وغیرہ تصوف سے متعلق بہت سے شکوک و شبہات کے ازالہ کے لیے کافی ہیں۔ نیز ان کے سیکڑوں مواعظ بھی سالکین راہ کے لیے کم مفید نہیں۔ تھانوی صاحب چشتی صابری سلسلہ سے تعلق کے باوجود سلوک و احسان کے باب میں شریعت پر استقامت کو ہی اصل اور مقصود جانتے ہیں اور لطائف و واردات کو غیر مقصود سمجھتے ہیں جبکہ مجددی سلوک میں کشف و مشاہدہ کی بہر طور اپنی اہمیت ہے، بلکہ ان مشائخ کے نزدیک عبادات و طاعات کے ثمرہ کے طور پر حاصل ہونے والے احوال اور کیفیات ہی تو روحانی حالت کی صحیح تمیز اور کشوف کا باعث ہوا کرتی ہیں۔ سر دست تھانوی صاحب کی آراء پر تبصرہ یا محاکمہ مقصود نہیں بلکہ حالت باطنی اور واردات کی کسی درجہ میں ہی سہی، اہمیت دکھلانا پیش نظر ہے
اس حوالے سے بحث کو آگے بڑھایا جائے تو پچھلی صدی میں تھانوی صاحب کے علاوہ تین شخصیات کے ہاں اجتہادی رنگ نظر آتا ہے۔ ایک سلسلہ اویسیہ کے مولانا اللہ یار خان ؒ چکڑالوی ( فاضل مدرسہ امینیہ دہلی ) جنہوں نے تصوف پر اپنی وقیع تصنیف ’’ دلائل السلوک‘‘ میں کشف و مشاہدہ کی اہمیت اور روحی فیض کی افادیت پر کتاب و سنت اور اقوال فقہاء سے مربوط استدلال فراہم کرنے کی کوشش کی ہے اور باقاعدہ بیعت و تربیت سے بہت سے لوگوں کی راہنمائی کی۔ یوں پڑھے لکھے حلقوں میں سلوک و احسان کی طلب پیدا ہوئی اور بے شمار لوگوں کو ذاکر شاغل بنایا، اگرچہ بعد میں اس درجہ کا کام اور لوگ سامنے نہ آسکے جتنا شروع میں سمجھا گیا۔
دوسری شخصیت حضرت خواجہ محمد عمر بیر بلوی (متوفی ۱۹۶۸ ء) کی ہے۔ یہ پنجاب کے ضلع سرگودھا کی ایک مشہور نقشبندی مجددی خانقاہ بیر بل شریف کے سجادہ نشین تھے۔ آپ نے بھی مدرسہ امینیہ دہلی سے علوم دینیہ کی تکمیل کی۔ بعد میں خانقاہ بیر بل شریف کے سجادہ نشین بنے۔ منصب سجادگی اور حلقہ مریدین کے باوصف روحانی کمی کا خیال دامن گیر رہتا، تا آنکہ سلوک و احسان اپنے دور کے نہایت سریع التاثیر اور قوی النسبت نقشبندی بزرگ حضرت میاں شیر محمد شرقپوری سے سیکھا اور خلافت پائی۔ حضرت بیربلوی صاحبِ مشاہدہ ،وسیع المطالعہ اور بہت زیرک انسان تھے۔ ایک تو آپ نے مروجہ سلوک اور تفصیلی اسباق و مراقبات کے حوالے سے تقلیدی روش ترک کی، بلکہ تعلق باللہ کے لیے متقدمین کی روش پر تلاوت قرآن، احکام شریعت کی پابندی اور صحبت و معیتِ صادقہ سے باطنی رذائل کے دور کرنے پر زور دیا ہے۔ آپ کے افکار عالیہ ’’انقلاب الحقیقت‘‘، ’’قرآنی حقائق‘‘ اور دیگر کتب میں بکھرے پڑے ہیں تاہم نہ صرف مربوط سلوکی تربیتی نظام کے متقاضی ہیں بلکہ ایسی شخصیت کے متلاشی ہیں جو اپنے پیشرووں کے افکار اپنے مشاہدہ باطنی اور کشفی بصیرت سے مزید نکھار سکے اور آج کے مصروف انسان کے لیے سلوک و تربیت کا ایک جامع نظام وضع کر سکے۔
تیسری بڑی شخصیت سلسلہ قادریہ کے بزرگ حضرت فقیر نور محمد سروری قادری ( متوفی ۱۹۶۰ء) کی ہے جنہوں نے نہ صرف سلطان العارفین حضرت سلطان باہو کی تعلیمات کو از سر نو مرتب کر کے پیش کیا بلکہ اپنی معرکۃ الآرا تصنیف موسوم بہ ’’عرفان‘‘ میں دورِ حاضر کے معروف بلکہ مغربی دنیا تک میں مقبول روحیت و سِرّیت، سپرچولزم اورحاضراتِ ارواح کے تصورات کا بھی ناقدانہ جائزہ پیش کیا اور بتایا کہ کیسے عالم غرب ابھی ناسوت کی تنگنائیوں میں بھٹک رہا ہے۔ مزید یہ کہ آپ نے اولیا ء کرام کے مزارات سے حصولِ فیض کے لیے ’’دعوتِ قبور‘‘ ایسے بیش قیمت اور سریع التاثیر عمل کو بڑی صراحت سے پیش کیا۔ اصلاً یہ ایصالِ ثواب کی ہی ایک شکل تھی، لیکن سلطان باہو کی تعلیمات کی روشنی میں بڑی عمدگی سے اسے فیض قبور کا وسیلہ بنا دیا۔ اس حوالے سے حضرت کی فکر مولانا اللہ یار خان کی پیشرو اور نقشِ اولیں محسوس ہوتی ہے۔
آج کے دور میں دیوبندی حلقوں میں حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی کے مریدین اور سنیوں میں سیفی سلسلہ (مسترشدین اخوندزادہ پیر سیف الرحمن ارچی) کے لوگ سب کے سامنے ہیں۔تھوڑا بہت اثر بھی ہے، اتباع شریعت کا رنگ ڈھنگ بھی ہے اور انٹلیکچول تصوف کے منتسبین کی نسبت اتباعِ سنت اور شریعت غرا کی پیروی میں ممتاز ہیں، تاہم سلوک و احسان کا مطلوب انسان ابھی بھی نظر نہیں آتا۔ کچھ لوگوں نے چند انفرادی کاوشیں کی ہیں جیسے کچھ مشائخِ نقشبند یہ مجددیہ نے ذکر قلبی اور ذکر خفی کے برعکس ذکر جہر بھی شروع کیا لیکن نہ تو اس حوالے سے وجوہ ترجیح کی عمدہ تنقیح پیش کرسکے نہ ہی اپنے مسترشدین پر اس کے اثرات کا معروضی جائزہ لیا گیا۔ اسی طرح خود مجددی سلوک کے اسباق اور ان پر عمل پیرا لوگوں کے احوال دیکھ کر تو تعجب ہوتا ہے کہ یہ کیسا سلوک ہے کہ اسباق بھی طے ہیں، مراقبات بھی ہو چکے تاہم نفس کی شر انگیزیاں ہیں کہ جوں کی توں برقرار ہیں۔ ساری فکر دنیا کی ہے، آخرت ابھی تک ترجیح نہیں بن سکی۔
اس میں ذرا شک نہیں کہ دور حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کرسلوک پر چلانا ہی اصل ہمت کا کام ہے جو واقعتا کسی تجدیدی شان کے بزرگ کی کرشمہ سازیوں کا منتظر ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ سلوک و احسان کے تفصیلی اسباق و اشغال مخصوص صاحبان استعداد کے لیے ہی ہیں، ورنہ اکثریت کے لیے متقدمین کے طرز پر اخلاقی تربیت اور شریعت کے احکام پر کاربند ہونا ہی نجات کے لیے کافی ہوگا۔ یہی فکر علمائے دیوبند کے ہاں بھی ہے بلکہ مولانا منظور نعمانی جیسے جید عالم اور حضرت رائے پوری کے خلیفہ نے اپنے ایک خوش ذوق دوست کو کہا تھا: ’’مولانا ! عوام کی فلاح تو شیخ ابن تیمیہ کی پیروی میں ہے، گو خواص کی منفعت شیخ عبد الحق محدث دہلوی ایسے بزرگوں کی طرز میں ہو۔‘‘ نیز مولانا شاہ احمد رضا خاں فاضل بریلوی نے بھی ایک جگہ لکھا کہ’’انجام کار رستگاری کے واسطے آقاو مولا جنابِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرشد جاننا بس ہے ۔‘‘پس یہ نتیجہ اخذ کرنا بے جا نہ ہوگا کہ عوام کو مبادیاتِ شریعت میں خوب پختہ کیا جائے، پھر ان میں جو عمدہ ذوق کے لوگ ہوں اور سلوک و احسان کے لیے فطری ملکہ رکھتے ہوں، انہیں ذوقی مناسبت دیکھتے ہوئے کسی کامل شیخ سے تعلق استوار کرکے سلوک کو آگے بڑھانا چاہیے۔ جب تک کسی کو کامل شیخ نہیں ملتا توتزکیہ نفس کے لیے امام غزالی کی کتاب ’’کیمیائے سعادت‘‘ ایک راہنما اور راہبر سے کم نہیں ۔ یا پھر مکتوبات مجددی کا کوئی اچھا سا انتخاب دیکھ لیا جائے۔ اسی طرح شاہ ولی اللہ کی ’’ ہمعات‘‘، ’’الطاف القدس‘‘ اور ’’انفاس العارفین‘‘ بہت عمدہ ہیں۔نیز متذکر ہ بالا کتب مثلاً ’’ دلائل السلوک‘‘، ’’تجدید تصوف و سلوک‘‘، ’’ انقلاب الحقیقت‘‘ اور ’’عرفان‘‘ بھی قابل مطالعہ، مرشد روحانی کا عکس اور عملی سلو ک و تصوف کے لیے بڑی راہنما ہیں۔
’’پیغام پاکستان‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
۱۶ جنوری کو ایوانِ صدر اسلام آباد میں ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے اجراء کی تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی اور اکابرین امت کے ارشادات سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ کتاب ’’پیغام پاکستان‘‘ معروضی حالات میں اسلام، ریاست اور قوم کے حوالہ سے ایک اجتماعی قومی موقف کا اظہار ہے جو وقت کی اہم ضرورت تھا اور اس کے لیے جن اداروں، شخصیات اور حلقوں نے محنت کی ہے وہ تبریک و تشکر کے مستحق ہیں۔
ادارہ تحقیقاتِ اسلامی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے تیار کردہ تمام مکاتب فکر کے متفقہ ’’پیغامِ پاکستان‘‘ میں بنیادی اور اصولی باتیں تو وہی ہیں جن کا گزشتہ دو عشروں سے مسلسل اظہار کیا جا رہا ہے اور کم و بیش تمام طبقات اور حلقے ان پر متفق چلے آرہے ہیں۔ اس کا ذکر مذکورہ تقریب میں مولانا فضل الرحمان اور مولانا مفتی منیب الرحمان نے اپنے خطابات کے دوران تفصیل کے ساتھ کر دیا ہے کہ اسلامی ریاست کے خلاف عسکری محاذ آرائی، نفاذِ شریعت کے لیے مسلح جنگ، پرامن شہریوں کا قتل، دستور کی بالادستی کو چیلنج اور خودکش حملوں کے ناجائز ہونے کے بارے میں دینی حلقے اور ان کی قیادتیں اس افسوسناک عمل کے آغاز سے ہی لگاتار اپنے دوٹوک موقف کا اعلان کر رہی ہیں۔ تاہم اس کے باوجود وسیع تر دائرے میں اعلیٰ ترین سطح پر ریاستی اداروں کے اشتراکِ عمل کے ساتھ صدرِ اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ممنون حسین کی قیادت میں اس نئے اور اجتماعی اظہار نے اسے متفقہ قومی موقف کی حیثیت دے دی ہے اور آج کے قومی اور عالمی حالات میں اس کی اہمیت و افادیت کو دوچند کر دیا ہے جس سے دنیا کو پاکستانی قوم کی طرف سے ایک واضح اور دوٹوک پیغام ملا ہے۔
البتہ ’’پیغامِ پاکستان‘‘ میں بظاہر ایک نئی بات فرقہ واریت کے حوالہ سے ضرور سامنے آئی ہے کہ کسی فرد یا طبقہ کی تکفیر اور اسے دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے عمل کو ریاست و عدالت کے دائرہ اختیار میں محصور قرار دیا گیا ہے جو مختلف حلقوں کی وسیع تر باہمی تکفیری مہم اور اس میں مسلسل اضافے کے باعث ضروری ہوگیا تھا اور اس کا سنجیدہ حلقوں میں خیرمقدم کیا جائے گا۔ ویسے عملاً پہلے بھی ایسا ہی ہوا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بارے میں تمام مکاتب فکر کے اجماعی فیصلے اور فتوے کے عملی نفاذ کے لیے پارلیمنٹ اور عدالتِ عظمیٰ کو ذریعہ بنایا گیا تھا اور انہی کے فیصلوں کو اس حوالہ سے بنیادی اور کلیدی مقام حاصل ہے۔ جبکہ ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے ذریعے اس روایت کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ کسی طبقہ یا فرد کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے کے لیے پارلیمنٹ اور عدالتِ عظمیٰ ہی مجاز ادارے ہیں اور تکفیری رجحانات سے معاشرہ میں پھیلنے والی انارکی کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ ناگزیر ہے اور اسی سے فرقہ واریت کے عفریت کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔
’’پیغامِ پاکستان‘‘ کی تیاری اور ترتیب و تدوین کے دوران ہمیں کسی مرحلہ میں شریک ہونے کا موقع نہیں ملا، ورنہ اسے زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ایک دو تجویزیں ہمارے ذہن میں بھی تھیں جن کا اظہار اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ممکن ہے آئندہ کسی مرحلہ میں ان کی طرف توجہ مبذول ہو جائے۔
ایک یہ کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ کسی مسلم ریاست کی جائز اور مسلمہ حکومت ہی جہاد کا اعلان کرنے کی مجاز ہے اور اس کے بغیر کسی شخص یا گروہ کو اس کا حق حاصل نہیں ہے لیکن کسی بھی اجتماعی فتویٰ میں عام طور پر مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں یہ فتویٰ بار بار جاری کیے جانے اور درست ہونے کے باوجود اس سوال کے حوالہ سے تشنہ چلا آرہا ہے کہ اگر کسی مسلم ریاست میں غیر ملکی اور غیر مسلم طاقتوں کی مداخلت سے اس کا ریاستی ڈھانچہ اور حکومتی نظام ہی ’’ہیک‘‘ ہو جائے اور خود وہ حکومت غیر مسلم اور غیر ملکی مداخلت کے ہاتھوں کٹھ پتلی کی حیثیت اختیار کر لے تو پھر اس تسلط اور استعلاء کے خلاف مزاحمت اور جہاد کا اعلان کس کی ذمہ داری قرار پائے گا اور اس کی مجاز اتھارٹی کون سی ہوگی؟ مثلاً جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے دہلی کے مغل بادشاہ کو بے اختیار کر کے اسی کے نام پر مالیاتی، انتظامی اور عدالتی نظام کو اپنے کنٹرول میں لینے کا اعلان کیا تھا تو حکومتی اتھارٹی اس طرح ’’ہیک‘‘ ہو جانے پر حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے اس خطہ کو ’’دارالحرب‘‘ قرار دے کر جہاد کا اعلان کر دیا تھا اور اس اعلان کو دینی و علمی طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر اب خدانخواستہ ایسی صورتحال پیدا ہو جائے تو کسی کو مزاحمت اور جہاد کے اعلان کا اختیار حاصل ہوگا یا سارے معاملات کو ’’سرِ تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے‘‘ کہہ کر قبول کر لیا جائے گا؟
دوسری گزارش یہ ہے کہ نفاذِ شریعت کے لیے ہتھیار اٹھانے کو بجا طور پر شرعاً حرام قرار دینے کے ساتھ ساتھ شریعت کے نفاذ میں کوتاہی برتنے اور اسے نظرانداز کرتے چلے جانے والوں کے اس عمل کی شرعی حیثیت بھی اس ’’قومی فتوے‘‘ میں واضح ہونی چاہیے تھی۔ کیونکہ صرف اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ متعلقہ افراد اور اداروں کو نفاذ اسلام کے اقدامات کرنے چاہئیں بلکہ اس بات کا تعین بھی ضروری ہے کہ جو ادارے اور طبقات شرعی و دستوری دونوں حوالوں سے نفاذِ اسلام میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے ان کی حیثیت کیا ہے اور کیا ان پر بھی کسی فتوے کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں؟
مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، مولانا فضل الرحمان، مولانا مفتی منیب الرحمان، پروفیسر ساجد میر، مولانا عبد المالک، علامہ ریاض حسین نجفی اور دیگر اکابرین نے اپنے خطابات میں اس طرف توجہ دلائی ہے لیکن ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کا متن اس کے بارے میں خاموش ہے۔ اس کے ساتھ ہی مولانا عبد المالک کا یہ کہنا بھی قابل توجہ ہے کہ بغاوت کرنے والوں کے خلاف کاروائی اور آپریشن ضروری ہے مگر ان کو اپنے موقف سے رجوع کرنے اور محاذ آرائی سے دستبردار ہونے کا موقع بھی دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں حوالہ دیا ہے کہ جب حضرت ابوبکرؓ نے باغیوں کے خلاف کاروائی کے لیے فوجیں بھیجی تھیں تو پہلی ہدایت یہ تھی کہ انہیں اسلامی ریاست کے سامنے سپرانداز ہونے اور توبہ کرنے کی دعوت دیں، اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر پوری قوت کے ساتھ ان کے خلاف کاروائی کریں۔
بہرحال اب تک جو ہوا سو ہوا، کوئی بھی انسانی عمل کتنا ہی جامع اور مکمل ہو اس میں کوئی نہ کوئی کمی بہرحال رہ جاتی ہے اس لیے ان باتوں کو مستقبل پر چھوڑتے ہوئے ہم ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس کی مکمل حمایت و تائید کے ساتھ ہرممکن عمل و تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔
جنرل باجوہ اپنے آبائی شہر کے باسیوں کے درمیان
آرمی چیف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ اتوار کو گوجرانوالہ کینٹ میں اپنے آبائی شہر گکھڑ کے چند سرکردہ شہریوں کے ساتھ محفل جمائی۔ گکھڑ سے تعلق اور اس سے بڑھ کر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر? کا فرزند ہونے کے حوالہ سے مجھے بھی شریک محفل کیا گیا اور جنرل صاحب محترم نے عزت افزائی سے نوازا ، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ جنرل صاحب سے یہ میری پہلی ملاقات تھی اور ان کے بے ساختہ پن اور بے تکلفانہ انداز نے بہت متاثر کیا۔ انہوں نے بچپن کی بہت سی یادیں تازہ کیں اور گکھڑ کے پرانے بزرگوں کا محبت و احترام کے ساتھ ذکر کیا جس میں والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا عقیدت سے بھرپور تذکرہ بھی شامل ہے۔
محفل میں شریک کم و بیش سبھی احباب نے جنرل صاحب کی شخصیت و مقام کو اپنے شہر اور علاقہ کے لیے باعث افتخار قرار دیا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ انہوں نے اپنے آبائی شہر کے حضرات سے ملاقات اور علاقہ کے مسائل معلوم کرنے کے لیے اس نشست کا اہتمام کیا ہے۔ اس محفل کے توسط سے مجھے بھی بعض پرانے دوستوں اور بزرگوں سے ملاقات کا موقع مل گیا، مثلاً گکھڑ کے ایک پرانے بزرگ ریٹائرڈ کرنل نسیم صاحب بڑے تپاک سے ملے اور بتایا کہ انہوں نے میری والدہ مرحومہ و مغفورہ سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ایک دوست حارث منظور بٹ گرمجوشی سے ملے اور کہا کہ آپ سے تئیس سال بعد ملاقات ہو رہی ہے، اس سے قبل امریکہ کے شہر اٹلانٹک سٹی میں ملاقات ہوئی تھی وغیر ذلک۔ غرضیکہ یہ محفل جنرل باجوہ صاحب محترم سے ملاقات کے ساتھ ساتھ بعض پرانے دوستوں کی باہمی ملاقات کا ذریعہ بھی بن گئی۔
گکھڑ میں اسٹیڈیم کے قیام کی بات ہوئی تو جنرل صاحب نے بتایا کہ ایک بڑے اسٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ بن چکا ہے جس کا بہت جلد آغاز کیا جا رہا ہے۔ ٹریفک کے رش اور ہسپتال کی توسیع کے ساتھ ساتھ وزیرآباد کی کٹلری کی صنعت اور کار ڈیلر حضرات کے مسائل پر بھی گفتگو ہوئی اور جنرل صاحب نے مسائل کے حل کے لیے پوری توجہ کا وعدہ کیا۔ مجھے یہ انداز اچھا لگا کہ با اثر لوگ اگر اپنے اپنے علاقہ کے مسائل کے حل میں ترجیحات طے کرتے وقت عوام کی رائے بھی سن لیا کریں تو اس سے کام کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔ بعض قومی مسائل بھی زیربحث آئے۔ ایک دوست نے کرپشن کی طرف توجہ دلائی تو جنرل صاحب موصوف نے خوبصورت بات کہی کہ اس کا حل تو آپ لوگوں کے پاس ہے کہ آپ الیکشن میں کرپٹ لوگوں کو منتخب نہ کریں۔ ملک کی سیاسی صورتحال پر ایک دوست نے گفتگو کرنا چاہی تو جنرل صاحب نے کہا کہ وہ اس حوالہ سے صرف ایک ہی بات کریں گے کہ آپ حضرات اپنے نمائندوں کا صحیح انتخاب کریں کیونکہ نظام تو منتخب لوگوں نے ہی چلانا ہے، آپ جس طرح کے لوگ منتخب کر کے بھیجیں گے، ملکی نظام انہی کے مطابق چلے گا۔ جنرل صاحب نے یہ بھی کہا کہ اگر انتخابات کے موقع پر عوام کی ترجیحات میں برادری ازم، تھانہ کچہری اور گلی محلہ کے مسائل کی بجائے اہلیت و دیانت اور قومی سوچ و جذبہ کو اولیت حاصل ہو جائے تو صورتحال بدل سکتی ہے، لیکن اس کے لیے مسلسل انتخابات کا منعقد ہوتے رہنا ضروری ہے۔
جنرل باجوہ نے دہشت گردی کے خاتمہ اور مذہبی فرقہ واریت پر کنٹرول کی بات تفصیل کے ساتھ کی، انہوں نے کہا کہ تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھانا ہوگا کیونکہ ہمارے بیشتر مسائل کی وجہ تعلیم کی کمی اور تعلیمی نصاب کی یک رخی ہے۔ جن حضرات کے پاس دینی تعلیم ہے، وہ عصری تعلیم سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے ملکی نظام میں آگے نہیں بڑھ سکتے اور جو لوگ عصری تعلیم سے بہرہ ور ہیں، وہ دینی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت میں کمزور ہیں۔ ان دونوں کو اکٹھا کرنا ہوگا، دینی تعلیم کے ساتھ ضروری عصری تعلیم کو شامل کرنا ہوگا اور عصری تعلیم کے ساتھ ضروری دینی تعلیم کا اہتمام کرنا پڑے گا، اس کے بغیر ہم اپنے نظام کو صحیح نہیں کر سکیں گے۔ ہمیں دین کا علم بھی حاصل کرنا چاہیے اور جب ہم قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے ’’ذلک الکتاب لا ریب فیہ‘‘ پڑھتے ہیں تو ہمیں اس کا ترجمہ و مفہوم بھی معلوم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس سازش کو سمجھنا چاہیے کہ دنیا بھر میں مسلمان کو مسلمان سے لڑایا جا رہا ہے جس سے فائدہ صرف دشمن کو ہوتا ہے، اس سازش کو سمجھ کر اسے ناکام بنانے کی فکر کرنی چاہیے۔
اس موقع پر متعدد حضرات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں نے عرض کیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی سرگرمیوں اور رجحانات کو میں بڑی توجہ سے دیکھ رہا ہوں اور مجھے ان کی یہ بات اچھی لگی ہے کہ وہ ملکی اور قومی معاملات میں توازن اور اعتدال کے رخ کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بیلنس کی بات کرتے ہیں جس کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ مذہبی فرقہ واریت کے بارے میں جنرل صاحب کی تشویش اور بے چینی کو درست قرار دیتے ہوئے میں نے عرض کیا کہ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر فرقہ کے اعتدال پسند راہ نماؤں کی بات توجہ سے سنی جائے۔ ایسے لوگ ہر فرقہ میں موجود ہیں، کسی بھی فرقہ کے سب لوگ انتہا پسند اور شدت پسند نہیں ہوتے بلکہ اس قسم کے لوگ ہر مکتب فکر میں بہت کم ہوتے ہیں۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اعتدال و توازن کی بات کرنے والوں کو توجہ کے ساتھ سنا جائے اور انہیں فرقہ وارانہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کو کنٹرول کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔
گکھڑ کی باجوہ فیملی سے میں ایک عرصہ سے متعارف ہوں بلکہ میرا بچپن اور نوجوانی انہی کے ماحول میں گزرے ہیں مگر جنرل صاحب کے ساتھ یہ پہلی ملاقات تھی جو خوشگوار ماحول میں ہوئی، دعا ہے کہ انہوں نے ملک و قوم کے لیے جن اچھے خیالات و جذبات کا اظہار کیا ہے اللہ تعالیٰ انہیں ان کے مطابق تادیر ملک و قوم کی خدمت کرتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
حکیم مختار احمد الحسینی ؒ اور قاری محمد رزین نقشبندیؒ کا انتقال
گزشتہ دنوں حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمی قدس اللہ سرہ العزیز کے برادر خورد اور میرے پرانے بزرگ دوست مولانا حکیم مختار احمد الحسینی کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک دور میں متحرک فکری اور نظریاتی راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ان کے ساتھ میری پرجوش رفاقت رہی ہے۔ انہوں نے کچھ عرصہ جامعہ نصرۃ العلوم میں بھی تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا نام آج کے نوجوان علماء اور کارکنوں کے لیے اجنبی ہوگا مگر جن حضرات نے ۱۹۷۰ء کے انتخابات سے قبل اور بعد کے فکری اور نظریاتی معرکے اور محاذ آرائیاں دیکھی ہیں، وہ ان سے یقیناًناواقف نہیں ہیں۔ یہ ۱۹۶۷ء ، ۱۹۶۸ء کے لگ بھگ کا قصہ ہے کہ مولانا حکیم مختار احمد الحسینی نے اپنے برادر بزرگ مولانا حافظ خالد محمود کے ہمراہ لاہور میں ایک فکری اور نظریاتی مورچہ جمایا اور کافی عرصہ جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی کی باہمی معرکہ آرائی کا سرگرم کردار رہے۔
اس دور میں جماعت اسلامی کے ساتھ محاذ آرائی کے دو مورچے تھے۔ ایک یہ کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی بعض اعتقادی اور فقہی تعبیرات سے جمہور علماء اہل سنت کو اختلاف تھا اور دونوں طرف سے تنقید و جواب کا ماحول پوری شدت کے ساتھ گرم تھا جس میں حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ اور حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ پیش پیش تھے، جبکہ سیاسی و فکری تقسیم میں جماعت اسلامی اس وقت دائیں بازو کی جماعت شمار ہوتی تھی بلکہ دائیں بازو کی فکری قیادت کر رہی تھی۔ اس کے برعکس جمعیۃ علماء اسلام اپنے روایتی سامراج دشمن مزاج اور استعمار مخالف ایجنڈے کے باعث بائیں بازو کے قریب سمجھی جاتی تھی اور ڈاکٹر احمد حسین کمال کی فکری راہنمائی میں حکیم مختار احمد الحسینی اور دوسرے حضرات ’’عوامی فکری محاذ‘‘ کے نام سے اس کے لیے سرگرم تھے اور میں بھی اس وقت اس محاذ کا متحرک کردار تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ فکری محاذ آرائی ٹھنڈی پڑتی گئی حتیٰ کہ جہادِ افغانستان کے دوران دائیں بازو اور بائیں بازو کی یہ تقسیم ہی تحلیل ہو کر رہ گئی۔ اگر اس دور کی اس فکری اور نظریاتی معرکہ آرائی کی تاریخ مرتب کی جا سکے تو اس میں نئی نسل کے لیے راہنمائی کا بہت سامان موجود ہے۔ حکیم مختار احمد الحسینی اس نظریاتی اور فکری جنگ کا متحرک کردار تھے۔ میں نے ان کے فرزندان گرامی سے تعزیت کے دوران عرض کیا کہ اگر ان کے کاغذات اور یادداشتوں تک رسائی میسر آجائے تو اس حوالے سے کچھ خدمت میں بھی سر انجام دے سکتا ہوں۔
حکیم صاحب مرحوم کے ساتھ ہماری رشتہ داری بھی ہے کہ ان کے بھتیجے اور حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کے فرزند مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ میرے بہنوئی تھے اور ان کی جگہ اب جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے مہتمم مولانا قاری ابوبکر صدیق میرے عزیز بھانجے ہیں۔ جہلم میں برادرم مولانا قاری صہیب احمد اور عزیزان قاری ابوبکر صدیق، حافظ محمد عمر فاروق اور حافظ محمد عمیر سے تعزیت کے بعد قاری ابوبکر صدیق کے ہمراہ حکیم صاحب مرحوم کے فرزندان گرامی کے پاس حاضری ہوئی جو سوہاوہ سے چکوال جاتے ہوئے سرگ ڈھن میں حکیم صاحب کے ڈیرہ اور مطب سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان سے تعزیت و دعا کے ساتھ بہت سی پرانی یادیں تازہ کیں اور پھر ہم راولپنڈی روانہ ہوگئے۔
جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر میں جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے امیر مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمان سے ان کی والدہ محترمہ کی وفات پر تعزیت کی۔ ڈاکٹر صاحب کے والد محترم حضرت مولانا قاری سعید الرحمان جمعیۃ علماء اسلام کے بزرگ راہنماؤں میں سے تھے اور میرے محترم اور بزرگ دوست تھے۔ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے انہیں نقشبندی سلسلہ میں خلافت عطا کی تھی اور وہ ہمارے ساتھ پاکستان شریعت کونسل کی سرگرمیوں میں شریک رہتے تھے۔ اس موقع پر تحریک خدام اہل سنت پاکستان کے امیر حضرت مولانا قاضی ظہور الحسین اظہر بھی جامعہ اسلامیہ میں مولانا حافظ زاہد حسین رشیدی کے ہمراہ تشریف لے آئے اور ہم اس تعزیت و دعا میں اکٹھے شریک ہوئے۔ مولانا قاضی ظہور الحسین اظہر بھی میرے بزرگ ساتھیوں میں سے ہیں اور ہم نے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کئی سال اکٹھے گزارے ہیں۔
وہاں سے ہم حضرت مولانا قاری محمد زرین نقشبندیؒ کی تعزیت کے لیے ان کے گھر حاضر ہوئے جن کا چند روز قبل انتقال ہوا ہے۔ وہ مجاہد ہزارہ حضرت مولانا عبد الحکیم ہزاروی کے داماد تھے اور جامعہ فرقانیہ راولپنڈی میں طویل عرصہ ان کے ساتھ رفیق کار رہے ہیں، خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف سے تعلق تھا اور اپنی تعلیمی و انتظامی سرگرمیوں میں مگن ذاکر و شاغل بزرگ تھے۔ حضرت مولانا عبد الحکیم ہزاروی بھی ۱۹۷۰ء کے انتخابی معرکہ کا اہم عنوان رہے ہیں۔ وہ اپنے علاقہ کے سب سے بڑے خان اور سردار کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور ۱۹۷۳ء کے دستور کی تدوین اور ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں پارلیمانی محاذ پر انہوں نے سرگرم کردار ادا کیا۔ درخواستی گروپ اور ہزاروی گروپ میں جمعیۃ علماء اسلام کی تقسیم سے قبل وہ جمعیۃ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات تھے اور قومی اسمبلی کے بعد سینٹ کے ممبر بھی منتخب ہوئے تھے۔
اللہ تعالیٰ مرحومین کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
فقہاء اور مکتب فراہی کے تصورِ قطعی الدلالۃ کا فرق
عدنان اعجاز
محترم زاہد صدیق مغل صاحب کی مذکورہ بالا عنوان کی حامل تحریر نظر سے گزری (الشریعہ، اکتوبر ۲۰۱۶ء)۔ مکتب فراہی کے تصورِ قطعی الدلالہ کے فقہا کے تصور سے تقابل کے ذریعے زاہد صاحب نے اس میں یہ باور کرانے کی سعی فرمائی ہے کہ ’’فراہی و اصلاحی صاحبان کا نظریہ قطعی الدلالہ نہ صرف مبہم ہے بلکہ ظنی کی ایک قسم ہونے کے ساتھ ساتھ سبجیکٹو (subjective) بھی ہے۔‘‘ میری نظر میں ایسی تحاریر موضوع سے متعلق الجھنوں کو رفع کرنے کے لیے اچھی بنیاد فراہم کرتی ہیں، اس لیے ایسے مواقع ضائع نہیں ہونے دینے چاہئیں۔ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے دیے گئے اہم دلائل ان الفاظ میں بیان کیے جا سکتے ہیں:
1۔ فقہا چونکہ وضوح و خفا کے اعتبار سے آیات کو آٹھ مدارج میں تقسیم کرتے ہیں، اس لیے جن اقسام کو وہ قطعی الدلالۃ کہتے ہیں، وہ واقعی 'definite in meaning' ہوتی بھی ہیں، اور نتیجتاً وہ ان میں سے زیادہ واضح کے مفاہیم میں تاویل کرنے والوں پر گمراہی کا حکم بھی لگا سکتے ہیں اور لگاتے ہیں۔ جبکہ مکتب فراہی جب سب کو قطعی کہہ دیتا ہے تو ایک تو یہ واضح نہیں کرتا کہ ان مدارج میں سے کس درجے کا وضوح مراد لیتا ہے، اور اسی طرح یہ بھی بیان نہیں کرتا کہ اس قطعی مفہوم کے انکار کرنے والے کو وہ گمراہ کہے گا کہ نہیں، اور دونوں صورتوں میں کیوں کا جواب بھی نہیں دیتا۔
2۔ ان کے یہاں جس طرح لفظ قطعی کے معنی میں ابہام ہے، اسی طرح لفظ دلالت کے مفہوم میں بھی ہے۔ وہ یہ واضح نہیں کرتے کہ یہ قطعیت عبارۃ النص، دلالۃ النص، اشارۃ النص یا اقتضاء النص میں سے کس قسم کی ہے۔
3۔ مکتب فراہی جب کلام کو قطعی ماننے کے باوجود یہ کہتا ہے کہ ممکن ہے کہ اس کے معنی دو مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہوں تو پھر درحقیقت وہ قطعی ہی کو ظنی کر دیتا ہے، پس پورا تصورِ قطعیت ہی سبجیکٹو ہو جاتا ہے۔ جبکہ فقہا کا طریقہ کار کلام کو حتی الامکان آبجیکٹو (objective) قطعیت سے متصف دکھاتا ہے، کیونکہ انہیں حکم اخذ کرنے کے لیے جو عموم و استحکام درکار ہوتا ہے، وہ اسی طریقے سے حاصل ہو سکتا ہے۔
4۔ مکتب فراہی کے منتسبین کلام کو عنداللہ قطعی مانتے ہیں نہ کہ عندالناس۔ تو اس اعتبار سے تو یہ کوئی فرق ہی نہیں کیونکہ فقہاء بھی عندالناس ہی کی بات کرتے ہیں۔
5۔ پھر یہ بھی واضح نہیں کہ عندالناس سارا کلام ظنی ہے یا قطعیت کا کوئی دائرہ ہے؟ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ مفسر کے سمجھے ہوئے معنی کو ہم قطعی نہیں کہتے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کلام کے معنی سبجیکٹو ہیں، گویا عندالناس قطعیت کا کوئی دائرہ موجود نہیں۔
6۔ قرآن عنداللہ میزان اور فرقان ہے یا عندالناس؟ جب عندالناس معنی کو آپ قطعی نہیں مانتے تو پھر فرقان و میزان ہونے کا کیا مطلب؟
یہ اور اس سے ملتے جلتے سوالات ہمارے روایتی مذہبی علم سے متاثر و وابستہ اور اہل علم بھی کرتے ہیں، اس لیے ان سے تعرض عمومی اعتبار سے ہی مناسب رہے گا۔ ان کے جوابات ویسے تو بہت سادہ اور سیدھے ہیں، پر یہ سوالات کچھ ایسی بنیادی غلط فہمیوں سے پیدا ہوئے ہیں جن کی درستی اگر ایک دفعہ پہلے ہو گئی تو ان سوالات سے تعرض کا مختصر ترین راستہ بھی وا ہو جائے گا، اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے یہ بھی جان لیں گے کہ کیسے اس طرح کے ابہامات محض دو مختلف مباحث کو آپس میں گڈ مڈ کرنے سے پیدا ہو جاتے ہیں اور جو یہاں ہو گئے ہیں۔
تاہم، اس سے پہلے کہ میں نفس مسئلہ کی طرف بڑھوں، ایک اور نکتے کی طرف توجہ دلانا بھی شاید اہم ہے۔ اس نکتے کا بہترین بیان اداروں پر تحقیق کرنے والے محققین پیٹر ایم بلاؤ کے ریفرنس سے یوں نقل کرتے ہیں: ’’اداروں کے ممبران (رفتہ رفتہ) دنیا کو انہی مخصوص تصورات کی بنیاد پر دیکھنے لگتے ہیں جو ان اداروں کی لغت میں منعکس ہوتے ہیں۔ پس جو درجہ بندیاں اور تقسیم کی اسکیمیں اس ادارے میں مستعمل ہوتی ہیں، وہی حقیقی دِکھنے لگتی ہیں، اور اس ادارے کے ممبران کی نظر میں محض اصطلاحات کی بجائے دنیا کی صفات بن جاتی ہیں۔‘‘
میری نظر میں ہمارے فقہا کی طرف سے علم الفقہ میں ان کے زاویہ نظر سے الفاظ کی پیچیدگیوں کو حل کرنے کے لیے کی گئی درجہ بندیاں بھی اسی لیے ہمارے بعض اہل علم کے لیے اصطلاحات سے آگے بڑھ کر 'دنیا کی صفات' بن گئی ہیں۔
چند بنیادی باتیں
سب سے پہلی اور ضروری بات اس بحث کی تاریخ ہے جس کی طرف زاہد صاحب نے بھی اشارہ کیا ہے۔ اسلامی تاریخ میں سوفسطائی نظریات کی یلغار ہوئی اور عقلی مقدمات کے جواب میں ہمارے فقہا نے جب قرآن و حدیث سے استدلال پیش فرمایا تو ان کے جواب میں یہ کہا گیا کہ بھئی زبان تو ظنی الدلالہ ہوتی ہے، اس لیے عقلی برہانیات کے مقابل میں ان سے استدلال سرے سے درست ہی نہیں۔ اس مقدمے کو ہمارے بھی کچھ اہل علم نے قبول کر لیا۔ امام رازی اور کچھ دوسرے بزرگوں نے بھی جب اسی مقدمے کی تائید کی تو ہمارے جلیل القدر فقہا نے اس کا جواب یہ دیا کہ زبان بالکل متواترات پر مبنی اور قطعیت کا فائدہ دینے کے قابل ہوتی ہے، اس لیے یہ مقدمہ ہی درست نہیں۔ اس معاملے کو ابن قیم، شاہ اسمٰعیل شہید، التوضیح والتلویح کے مصنفین وغیرہ نے موضوعِ بحث بنایا اور یونانی فلسفے سے متاثر اس مقدمے کو منہدم کر دیا۔ چنانچہ ائمہ فقہ و حدیث ایک مسلمہ قاعدے کی حیثیت سے اس حقیقت کو بیان کرتے رہے کہ ’ماثبت بالکتاب قطعی موجب للعلم والعمل‘۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جہاں فقہا نے یہ بحث کی ہو گی، مثلاً ابن قیم یا شاہ اسمٰعیل وغیرہ نے، وہاں انہوں نے کلام کو قطعیت اور ظنیت کے اعتبار سے آٹھ مدارج میں تقسیم کر کے یہ بتایا ہو گا کہ کیسے بس جب محکم یا مفسر الفاظ آئیں، تبھی قطعیت حاصل ہو سکتی ہے؟ جی نہیں! ایسا کچھ بھی نہیں۔ حنفی ہوں یا سلفی ہوں، اس موضوع پر جب بحث ہوئی تو بس قطعی اور ظنی ہی پر ہوئی۔ یہ حضرات یقیناًان فقہی مدارجِ وضوح و خفا سے آگاہ ہوں گے، پر اس کلامی بحث کا آخر اس فقہی تقسیم سے تعلق کیا تھا جو وہ اسے اس میں گڈ مڈ کر دیتے!
اور دلچسپ بات دیکھیے۔ اس بحث میں جب قطعی اور ظنی کی تعریف ہمارے اصولیین نے فرمائی تو وہ کیا تھی؟ غامدی صاحب نے اس پر بڑی سیر حاصل بحث اپنے قطعی و ظنی کی سیریز کے مضامین میں باحوالہ کر دی ہے۔ مثلاً استاذ مخلوف نے’’الموافقات‘‘ پر اپنی تعلیقات میں قطعی کی تعریف کو یوں لکھا ہے:
یستعمل القطع فی دلالۃ الالفاظ فیاتی علی نوعین: اولھما الجزم الحاصل من النص القاطع، وھو ما لایتطرقہ احتمال اصلًا... ثانیھما العلم الحاصل من الدلیل الذی لم یقم بازاء احتمال یستند الی اصل یعتد بہ، و لایضرہ الاحتمالات المستندۃ الی وجوہ ضعیفۃ او نادرۃ (الموافقات، الشاطبی ۱/۳۱)
’’یہ لفظ جب دلالت الفاظ کے باب میں استعمال کیا جاتا ہے تو دو صورتوں کے لیے آتا ہے: ایک اس جزم کے لیے جو نص قطعی سے حاصل ہوتاہے، یعنی وہ نص جس میں سرے سے احتمال کی گنجایش نہ ہو... دوسرے اس علم کے لیے جو اس دلیل سے حاصل ہوتا ہے جس کے مقابل میں کوئی ایسا احتمال نہ ہو جس کی بنا قابل لحاظ سمجھی جائے۔ نادر اور کمزور وجوہ پر مبنی احتمالات اْس پر اثرانداز نہیں ہوتے۔‘‘
پھر اس کے بالکل مقابل اصولیین ظن کا لفظ شمار کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اِس میں احتمال کی نفی ممکن نہیں ہوتی، صرف ایک احتمال کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ پس مکتب فراہی جب اس بحث کے پس منظر میں یہ کہتا ہے کہ قرآن قطعی الدلالۃ ہی ہے، تو ظاہر سی بات ہے، وہ اوپر بیان کیے گئے انہی دو معانی میں سے ایک میں کہتا ہے، یعنی یا تو سرے سے اس میں احتمال ہی نہیں ہوتا، اور اگر ہو تو قابل لحاظ نہیں ہوتا، کیونکہ اسے غور و تفحص سے رفع کیا جا سکتا ہے۔
اس خلط مبحث کو مثال سے یوں سمجھیے کہ ہم آج کسی ایسے شخص سے بحث کر رہے ہوں جو یہ کہتا ہو کہ یار یہ مذاہب و ادیان تو بس لوگوں کی اپنی اختراعات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان میں یہ بھی جانا نہیں جا سکتا کہ ان کی اصلی صورت کیا تھی، اس میں کون سے وہ احکامات تھے جو ان کے بانیوں کے پیش نظر تھے اور کون سے وہ جو بعد کی صدیوں میں لوگوں نے ان میں اضافی داخل کر دیے، اور ہم اسے یہ بتا رہے ہوں کہ اسلام میں ایسا نہیں ہے بھائی۔ ہم تحقیق سے یہ قطعی طور پر جان لیتے ہیں کہ کون سا حکم ثابت ہے اور کون سا نہی، اور اسی اثنا میں ہماری فقہ سے واقف ایک شخص وہاں آ کر ہم سے پوچھے کہ بھئی ہماری فقہ میں واجب تو دراصل دلیل ظنی سے ثابت ہوتا ہے، اس میں آپ قطعیت کہاں سے تلاش کر لیتے ہیں ۔۔۔ تو بتائیے! کیا یہ سوال اس بحث سے متعلق ہو گا؟
ایک اور دلچسپ بات نوٹ کیجیے۔ ہمارے جلیل القدر فقہا نے یہ جو آٹھ مدارجِ وضوح و خفا کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اور زاہد صاحب نے بھی دیا ہے، ان میں تقسیم کی کس پہلو سے ہے؟ کیا وہ اسی متکلمین والی بحث میں اپنا حصہ ڈالنا چاہ رہے تھے؟ ارے نہیں! وہ اس پہلو سے بحث کر ہی نہیں رہے۔ وہ تو استنباطِ احکام کے لیے تقسیم فرما رہے تھے۔ انہیں اس مذکورہ بالا بحث سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اسی لیے انہوں نے کہیں یہ بھی نہیں کہا کہ ہم قرآنِ مجید کی آیات کی قطعی و ظنی تقسیم کرنے جارہے ہیں۔ وہ تو بس احکام اخذ کرنے کی غرض سے جو دقتیں انہیں مدعا تک رسائی میں پیش آتی ہیں، انہیں اپنی وضع کردہ اصطلاحات میں ایک معیاری طریقے سے بیان کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس کے برعکس، غامدی صاحب یا مکتب فراہی ان فقہاء کے زاویے سے بحث کر ہی نہیں رہے۔ انہوں نے کہاں یہ فرمایا ہے کہ ہم فقہا کے اِن آٹھ مدارج کے مقابل میں یہ دو مدارج دے رہے ہیں؟ ان کی بحث بھی بالکل ایک مختلف پہلو سے ہے، اور اسی پہلو سے ہے جس سے متکلمین سے بحث ہو رہی تھی۔ اس میں نہ مکتب فراہی پہلا ہے اور نہ ہی منفرد، اسی اسلاف کی بحث کو آگے بڑھا رہا ہے۔
بایں ہمہ ایک انتہائی بنیادی فرق اور دیکھیے۔ ہمارے فقہا جب استنباطِ احکام کے لیے وضوح و خفا میں تقسیم کرتے ہیں تو وہ دراصل 'الفاظ'کے مدارج طے کر رہے ہوتے ہیں، نہ کہ 'کلام' کے، جبکہ زبان کی قطعی و ظنی الدلالۃ والی بحث جن حضرات نے بھی تاریخ میں کی ہے، اور جو مکتب فراہی کر رہا ہے، وہ 'کلام' کی بحث ہے۔ الفاظ کی تحقیق کے حساب سے کوئی نئے مدارج دینا ان کے پیش نظر ہی نہیں۔ تاہم، اگر وہ الفاظ کی مشکلات کے زاویے سے بحث کریں تو یہ عین ممکن ہے کہ فقہا کے بیان کردہ بہت سے مدارج خود بھی اختیار کر لیں، یہ بھی ممکن ہے کہ اپنے پندرہ اور مدارج بھی اس میں شامل کر لیں، اور یہ بھی پوری طرح ممکن ہے کہ اس طرح کی کوئی تقسیم بھی اختیار نہ کریں، کیونکہ یہ محض فنی اصطلاحات ہیں، جو ایک خاص اپروچ کے باعث وضع کی گئی ہیں، نہ شرعی ہیں اور نہ ضروری۔ اور اس اپروچ کے علاوہ اور بھی اپروچیں کلام کو دیکھنے کی ہو سکتی ہیں جن سے اصطلاحات بھی یقیناًفرق ہو جائیں گی۔ لیکن ظاہر ہے، یہ بحث تو فی الحال انہوں نے کی نہیں۔
ایک آخری بات بھی دیکھیے۔ فقہا نے جو الفاظ کی یہ تقسیم کی ہے، یہ 'لغوی' اعتبار سے ایک 'initial'پوزیشن کے لحاظ سے ہے۔ اس لیے جب کلام میں رکھ کر کسی لفظ میں سے وہ احتمالات ختم کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو اسے قطعی کی کیٹیگری میں بھی لے آتے ہیں۔ پس اس بحث کو اگر مکتب فراہی کی تقسیم سے 'intersect' کرانا ہی ہو تو چاہے کسی لفظ کو فقہا 'initially' کسی بھی درجے میں پلیس کر رہے ہوں، مکتب فراہی زبان و بیان کے اصولوں اور کلام کے قرائن سے احتمالات ختم کر کے اس کی 'final' پوزیشن آپ کو قطعی کی کیٹگری میں لا کر ہی دکھائے گا۔ اس لیے جو مطالبہ ہونا چاہیے، وہ احتمالات کی نفی کا ہونا چاہیے۔ یہ ہر جگہ قطعی اور ظنی کی بحث کو بیچ میں لے آنا عجیب 'frustration' کا مظہر لگنا شروع ہو گیا ہے۔
ان نکات کا حاصل یہ کہ یہ دونوں بحثیں بہت مختلف ہیں۔ نہ تو براہِ مہربانی ان میں خلطِ مبحث پیدا کریں، اور نہ ہی ایک بحث کے قطعی و ظنی کو اٹھا کر دوسرے میں وضع کردہ اصطلاحات پر محمول کر کے وضاحت طلب کیجیے۔ آپ خود بھی شکوک میں مبتلا ہوں گے اور دوسروں کو بھی کریں گے۔ تاہم، اگر قرآن کے کسی مقام پر یہ بحث کرنی ہو کہ کلام کا منشا سمجھ نہیں آ پا رہا، یا محتمل الوجوہ ہو گیا ہے، یا یہ کہ زیادہ سے زیادہ بس کسی ایک احتمال کی ترجیح ممکن رہ گئی ہے، تو وہاں پر مکتب فراہی سے اگر ان کے اصولوں کے تحت کوئی گفتگو کرنی ہے تو کسی کلام (نہ کہ لفظ) کو ظنی قرار دینے کے لیے نقیض کا احتمال ثابت کیجیے، ورنہ اصولیین کے معیارات کے مطابق اس کلام کی تاویلات میں اس سے کمتر درجے کے اختلافات کسی طور قطعیت کو مانع نہیں قرار دیے جا سکتے۔
اب آئیے سوالات کی طرف اوپر دی گئی ترتیب کے لحاظ سے نکتہ بہ نکتہ:
1۔ تمہید سے یہ واضح ہو چکا ہو گا کہ مکتب فراہی کیوں فقہا کے سے مدارج اختیار نہیں کرتا۔ اس کے پیش نظر 'کلام' کی جو قطعیت ہے، وہ یا تو بادنیٰ تامل حاصل ہو جاتی ہے، یا غور و خوض سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی احتمالِ نقیض تھا بھی تو وہ کیوں ناقابلِ اعتنا تھا۔ تو جب پورا قرآن قطعی الدلالہ ہی ہے تو کسی رائے کو گمراہی کہنے کے لیے جو چیز درکار ہوتی ہے، وہ کسی خاص درجے کا وضوح نہیں بلکہ مضمون کی نوعیت ہوتی ہے۔ یعنی اگر کوئی غلط تاویل کسی عقیدہ و عمل کی ضلالت سے عبارت ہو گی، تبھی گمراہی قرار پا سکے گی۔ جیسے کوئی خاتم النبیین سے بہت بلند پائے کا نبی مراد لے گا یا فاقطعوا ایدیھما سے غربت کے نظام کا خاتمہ مراد لے گا وغیرہ، تو ہی اسے گمراہی سے تعبیر کیا جا سکے گا، اور خود غامدی صاحب نے بھی کیا اور لکھا ہے، نہ کہ اگر کوئی ملکہ بلقیس کے عرش کی تحویل کے متعلق کوئی مختلف رائے رکھے گا تو وہ رائے گمراہی قرار پائے گی۔ اس دوسری طرح کے معاملات میں 'درست' اور 'غلط' کی تقسیم تک محدود رہنا بھلا کیوں کفایت نہ کرے گا!
ویسے میں قارئین سے کہوں گا کہ کبھی اس رائے کے حاملین سے درخواست کیجیے گا کہ ان 'definite in meaning' آیات کی، یا مثلاً محکم الفاظ کی، پورے قرآن سے ایک فہرست مرتب کر دیں تا کہ قارئین یہ جان سکیں کہ اس تقسیم کے مطابق قرآنِ مجید جیسی ضخیم کتاب سے بس کتنی آیات اور کتنے الفاظ قطعی کی کیٹگری میں جگہ بنا پاتے ہیں اور کتنے ظنی۔ میرے خیال سے قارئین کو یہ جان کر خوشگوار حیرت ہو گی کہ شاید پورے قرآن سے بس اعداد کے نام، جیسے ثلاثہ اربعہ، یا لوگوں جگہوں وغیرہ کے نام کی قسم کے گنتی بھر الفاظ ہو ں گے جو اس موضوعہ معیار کے مطابق 'subjectivity' کے دائرے سے باہر، یعنی قطعی بن پائیں گے۔ پس فقہا کی ان تعبیرات کا کلام پر اطلاق واقعی اہمیت کا حامل ہوتا اگر ان کے نتیجے میں قرآنِ مجید کے اکثر حصے سے متعلق کوئی ایسی معنی خیز حدبندی ہو جاتی کہ ہم خود دیکھ لیتے کہ جس طرح ہم روزمرہ کلام کے اکثر حصے سے قطعیت کے عادی ہوتے ہیں، اسی طرح بس قرآن کے وہ کون سے چند مقامات ہیں جن کی قطعیت 'objective' نہیں ہو پائی۔ حالانکہ یہاں تو معاملہ بالکل برعکس ہے۔
2۔ تمہید کے بعد یہ اعتراض بھی غیر متعلق ہو جانا چاہیے۔ تاہم، انہی اصطلاحات میں رہتے ہوئے اگر سمجھانے کی کوشش کی جائے تو بھی بات بہت سادہ ہے۔ مکتب فراہی اصلاً دلالۃ النص ہی کے تعین پر اکتفا کرے گا، کیونکہ متکلم کا سیدھا سادہ منشا اخذ کرنا ہی وہ بنیادی چیز ہے جو قطعیت سے متعلق ہے۔ اس کے بعد اگر کسی مسئلے میں استنباط کی نوبت آئے تو پھر اضافی طور پر کسی نص کے اشارات و اقتضاء ات زیر بحث آ سکتے ہیں۔ اس طرح کے اعتراضات اس لیے بھی پیدا ہوتے ہیں کہ عموماً اس بنیادی پیراڈائم کے فرق کو اہل علم پوری طرح باور نہیں کرتے، یعنی یہ کہ مکتب فراہی اللہ کے کسی موضوع سے متعلق احکامات کو بس دین یا بالفاظِ دیگر پاکیزگی کے زاویے سے دیکھے گا، جبکہ ہمارے فقہا اس موضوع سے متعلق پورا قانون انہی احکامات سے اخذ کرنے کا قصد کرتے ہیں، اسی لیے مکتب فراہی میں دلالت تک محدود رہنا ہی عام ہے۔
3۔ مکتب فراہی مذکورہ امکان اس لیے مانتا ہے کہ وہ انسانوں میں غلطی کا امکان مانتا ہے، نہ کہ کلام میں احتمال کا، کہ قطعیت ہی سبجیکٹو ہو جائے۔ انسانوں میں سے غلطی کا امکان اگر ختم ہو جائے تو پھر یقیناًمکتب فراہی اس امکان سے بھی انکار کر دے گا۔یہ بالکل سادہ سی حقیقت کا اظہار ہے۔ پر آئیے اسے ایک اور زاویے سے بھی دیکھ لیتے ہیں۔
کوئی کلام جو بالکل چھوٹے بچوں کے لیے معصوم سے جملوں میں نہ ترتیب دیا گیا ہو، بڑوں کے لیے مرتب کیا گیا ہو، ادبی ذوق رکھنے والوں کو متاثر کرنا بھی اس کے مقاصد تشکیل میں سے ہو، زندگی کے اہم معاملات پر گویا ہو، اپنے فہم کے لیے قارئین سے غور و خوض کا طلبگار تو ہوتا ہی ہے۔ تو جب غور و خوض کسی کلام کے عوامل فہم میں سے ہو تو اس امکان کو بھلا کون رد کر سکتا ہے کہ کوئی شخص غور و تفکر کا حق نہیں بھی ادا کرے گا؟ یعنی یہ تو منطقی ہے کہ اگر کوئی قلت تدبر یا قلت فہم کا مظاہرہ کرے گا تو ممکن ہے، کلام کا مدعا متکلم کے منشا کے علاوہ کچھ اور متعین کرنے پر اکتفا کر بیٹھے۔ پر کیا ایسا کرنے سے کلام ظنی ہو جایا کرتا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ اس لیے یہ تو کوئی لائق التفات رائے نہیں۔ پر یہ قطعی ہی کو ظنی کر دینے والی بات پر ذرا مزید غور کر لیتے ہیں۔ یعنی اصول یہ سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جب بھی کبھی کسی حقیقت کے متعلق اگر سب لوگ ایک ہی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں تو بجائے اس کے کہ یہ دیکھا جائے کہ کیا جس محقق نے اختلاف کیا ہے، اس نے تحقیق کا حق ادا کیا ہے کہ نہیں، یہ اس بات کا اشاریہ شمار کر لینا چاہیے کہ حقیقت ہی دراصل قطعی نہیں؟ ما لکم کیف تحکمون! اگر کسی شے کے قطعی ہونے کے لیے سب محققین کا اتفاق ضروری ہوتا تو پھر نہ اللہ کا ایک ہونا قطعی ہے اور نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رسول اللہ ہونا۔ آپ کی کسی انتہائی سادہ لکھی ہوئی عبارت سے آپ کا اسکول میں پڑھنے والا بیٹا بیٹی غلط مدعا اخذ کر لے تو عبارت کا ظنی ہو جانا لازم؟انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر روز بحث ہو رہی ہوتی ہے کہ اس کا مدعا اِس نے ٹھیک سمجھا ہے یا اس نے۔ ایک وکیل پورے رسوخ سے ایک رائے کا حامی ہوتا ہے اور دوسرا دوسری۔ پر کوئی یہ نہیں کہتا کہ چونکہ دو وکیل مختلف رائے رکھ رہے ہیں، اس لیے لازماً قانون ہی ظنی الدلالۃ ہو گیا ہے۔ آہ! یہ اعزاز قرآنِ مجید ہی کے حصے میں آنا تھا۔
میرا ہمدردانہ مشورہ ہو گا کہ 'subjectivity' اور 'objectivity' طے کرنے کے لیے 'headcount' کا طریقہ ترک کر دیں، ورنہ دنیا میں کچھ بھی قطعی نہیں بچے گا۔ اور جو بچے گا وہ بس بے سود و بچگانہ ہی ہو گا۔ الغرض، کلام کے مدعا میں اختلاف کرنا تحقیق کا بھی نقص ہوتا ہے، نہ کہ ہمیشہ کلام کا۔
4۔ یہ عنداللہ اور عندالناس کی تقسیم بھی ناقابل فہم ہے، اور معلوم نہیں کی کس نے ہے۔ کم سے کم فراہی، اصلاحی اور غامدی صاحب نے تو نہیں۔ یہ تقسیم ہی مضحکہ خیز ہے۔ قطعیت، کلام کی صفت ہوتی ہے۔
5۔ پس یہ سوال بھی پھر نہیں رہتا، کیونکہ سارا ہی کلام قطعی ہے۔ تاہم، فہم قطعی نہیں ہوتا، یہ بھی بڑی سادہ حقیقت کا اظہار ہے۔ اس سے مراد صرف یہ ہے کہ چونکہ انسان کے فہم میں غلطی کا امکان بہر حال ماننا پڑتا ہے، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کسی محقق نے جو سمجھا ہے، وہ غلطی سے لازماً پاک ہی ہے۔ اس سے سبجیکٹوٹی پر استدلال کیسے درست ہو گیا؟ اگر غلطی کا امکان مان لینے سے موضوعیت آ جاتی ہے تو پھر دنیا کی ہر حقیقت سبجیکٹو ہی ہے۔ ایسا ظاہر ہے کہ نہیں ہے!
6۔ یہاں بھی وہی عندا للہ اور عندالناس کی مغالطہ انگیز اصطلاحات۔ تاہم، امید ہے کہ یہ واضح ہو چکا ہو گا کہ اس تقسیم کا مکتب فراہی سے کوئی تعلق نہیں۔ پس میزان اور فرقان اس کلامِ پاک کی اپنی صفات ہیں۔ اور اگر فہم میں غلطی کے امکان کو مان لینے سے اس کی یہ صفات مجروح ہوتی ہیں تو بتایا جائے کہ کیسے؟
اختتام سے پہلے میں ایک معصوم سا سوال کرنا چاہوں گا۔ یہ سوال یقیناًاور لوگوں کے ذہنوں میں بھی پیدا ہوتا ہو گا، اس لیے پوچھ رہا ہوں۔ چونکہ نقد کرنے والے حضرات اہل علم یہ رائے تو رکھتے نہیں کہ کلام بس ظنی الدلالۃ ہی ہو سکتا ہے۔ وہ تو یہ مانتے ہیں کہ کلام قطعی بھی ہوتا ہے اور ظنی بھی، اسی لیے قرآنِ مجید فرقانِ حمید کے متعلق مصر ہیں کہ اس کا کچھ حصہ قطعی ہے اور کچھ ظنی۔ اس لیے ان سے بس اب یہ سوال پوچھنا ہے کہ انہوں نے یہ جو انتہائی دلیری دکھا کر مالک ارض و سما کے کلام کو ظنی کہنے کی جرات کی ہے، وہ اس کی وجہ کیا بتاتے ہیں؟ کیونکہ منطقی اعتبار سے اس کی وجہ بس انہی میں سے ایک ہو سکتی ہے:
1۔ (معاذاللہ) اللہ تعالیٰ کو قطعی کلام کرنا نہیں آتا تھا، یا وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ کلام لوگوں کے لیے ظنی ہو جائے گا۔
2۔ انسانی زبان و بیان کی کمزوری کے سبب جس حصے کو اللہ تعالیٰ نے ظنی بنایا، وہ درحقیقت قطعی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔
3۔ اللہ تعالی نے ارادتاً کچھ حصے کو اس لیے ظنی رہنے دیا:
ا۔ تا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وضاحت کر کے اسے قطعی بنا سکیں۔
ب۔ تاکہ نبی بھی اسے ظنی چھوڑ جائیں اور امت کی آزمائش ہو سکے۔
ان میں سے جو نکتہ وہ اختیار کریں گے، پھر اس سے تعرض کر لیں گے۔ اور پہلا نکتہ محض منطقی طور پر درج کیا ہے، ظاہر ہے کوئی مؤمن تو یہ اعتقاد رکھ نہیں سکتا۔ پر مجھے نہ جانے کیوں لگتا ہے کہ سارے راستے ادھر ہی لیِڈ کرتے ہیں، بس لوگوں نے اس بارے غور نہیں کیا۔
جہاں تک مکتب فراہی کی بات ہے، ہم اپنے رب کے کلام کے متعلق یہ جسارت کبھی تصور نہیں کر سکتے کہ اس کے کسی حصے کو بھی ظنی کہہ بیٹھیں۔ ہم ہر نقص اور کمزوری بلاخوفِ تردید انسانوں کی ہی جانب تسلیم کرتے ہیں۔
مدرسہ ڈسکورسز کیا ہے؟
محمد عرفان ندیم
یہ آئیڈیا ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کا تھا اور اسے عملی جامہ ڈاکٹر ماہان مرزا نے پہنچایا ۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اور ڈاکٹر ماہان مرزا دونوں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں اور امریکی ریاست انڈیانا کی یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم سے منسلک ہیں۔
ڈاکٹر ابرہیم موسیٰ کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے۔ ان کے آبا ؤ اجداد انڈیا کے شہر گجرات سے ہجرت کر کے جنوبی افریقہ چلے گئے تھے۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کا بچپن جنوبی افریقہ ہی میں گزرا ۔یہ ہائی اسکول کے طالب علم تھے جب انہیں اسلامک اسٹڈیز کے مضمون میں دلچسپی پیدا ہوئی ۔ ایک دن کسی کلاس فیلو نے کلاس میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ اسلام ایک غلط اور جھوٹا مذہب ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا تجسس بڑھا تو یہ امام مسجد کے پاس پہنچ گئے ۔ یہاں تشفی نہ ہوئی تو پہلے تبلیغی جماعت اور پھر مختلف اسکالرز سے ملے، لیکن تشنگی ابھی باقی تھی۔ چنانچہ انہوں نے خود دینی علوم حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا ۔ یہ دینی علوم حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے دینی مدارس میں آنا چاہتے ،تھے لیکن گھروالوں کا اصرار تھا کہ انہیں انڈیا جانا چاہیے۔ چنانچہ یہ ندوۃ العلماء لکھنو پہنچ گئے ، یہاں کچھ عرصے تک تعلیم حاصل کی اور پھر دار العلوم دیوبند چلے گئے ۔ وہاں مختلف اساتذہ سے استفادہ کیااور قاری محمد طیب کی محفلوں میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی ۔ تقریباً چھ سال تک انہوں نے مدارس میں رہ کر رسمی دینی تعلیم حاصل کی،کچھ عرصہ کے لیے کراچی بھی تشریف لائے اور اس طرح ان کی دینی تعلیم کا ایک مرحلہ مکمل ہوا ۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد یہ دوبارہ جنوبی افریقہ چلے گئے ،یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا، جرنلز م میں ماسٹر کیا اور صحافت کو بطور پیشہ جائن کر لیا ۔کچھ عرصہ تک جنوبی افریقہ میں ہی صحافت کرتے رہے اور ساتھ پی ایچ ڈی بھی مکمل کر لی ۔ اس کے بعد یہ امریکہ منتقل ہوئے اور مختلف اداروں سے ہوتے ہوئے یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم پہنچ گئے ۔ یہ گزشتہ بیس سالوں سے امریکہ میں ہیں اور امریکہ میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسروں میں ان کا نام ٹاپ پر ہے ۔ یہ ان چند گنے چنے اسکالرز میں سے ہیں جو مغرب میں رہ کر اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کر رہے ہیں ۔ یہ امریکہ میں دینی مدارس کے وکیل سمجھے جاتے ہیں اور یہ مختلف فورمز پر دینی مدارس کا دفا ع کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ خود بھی اپنے آپ کو مدارس کا ایڈووکیٹ کہتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔
چونکہ یہ خود دینی مدارس سے گزر کر گئے ہیں، اس لیے انہوں نے 2015میں دینی مدارس کے حوالے سے ایک کتاب لکھی جس میں مدارس کے مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت اور افادیت پر بھی بات کی ۔ مغرب میں اس کتاب کو خوب پزیرائی ملی اور وہاں کے دانشوروں اور سول سوسائٹی کے دینی مدارس کے بارے میں جو تحفظات اور خدشات تھے، وہ کافی حد تک کم ہوئے ۔کچھ عرصہ پہلے انڈیا کے ڈاکٹر وارث مظہری نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا اور اب پاکستان میں یہ ترجمہ الشریعہ اکادمی اور اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کے اشتراک سے شائع ہوا ہے۔ 21 دسمبر کو اسلام آباد میں اس کتاب کی تقریب رونمائی تھی جس میں ڈاکٹر ابرہیم موسیٰ اور ڈاکٹر ماہان مرزا دونوں تشریف لائے تھے۔ یہ دونوں حضرات تین دن کے دورے پر پاکستان آئے تھے ، اسلام آباد میں تقریب رونمائی کے بعد مختلف یونیورسٹیز میں لیکچرز، سیمینارز اور پینل ڈسکشن ہوئی اور 24دسمبر کو یہ قطر کے لیے روانہ ہوگئے۔
ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کو مدرسہ ڈسکورس کا خیال کیسے آیا، اس کی طرف آنے سے پہلے میں ڈاکٹر ماہان مرزا کی طرف جانا چاہتا ہوں ۔
ڈاکٹر ماہان مرز ا کا تعلق اسلام آباد پاکستان سے ہے۔ یہ کافی عرصہ پہلے امریکہ منتقل ہو ئے ، بی ایس میکینکل انجینئرنگ میں کیا اور اس کے بعد یہ اسلامک اسٹڈیز کی طرف آ گئے۔ یہ ییل یونیورسٹی امریکہ سے پی ایچ ڈی ہیں ، کچھ عرصہ تک کیلی فورنیا کے زیتونہ کالج سے منسلک رہے اور آج کل یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم میں پروفیسر آف پریکٹس ہیں ۔ اس کے ساتھ یہ مدرسہ ڈسکورس کورس کے بھی ڈائریکٹر ہیں اور بڑی مہارت اور دانشمندی سے اس کو ر س کو چلا رہے ہیں ۔
ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ جس یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، بنیادی طور پر یہ کیتھولک یونیورسٹی ہے ۔ یہاں ڈاکٹر صاحب کا رابطہ جان ٹیمپلٹن فاؤنڈیشن سے ہوا۔ یہ فاؤنڈیشن سائنس اور مذہب کے باہمی تصادم اور مذہب اور سیکولرزم کے مسائل کو افہام وتفہیم سے حل کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو کچھ اسکالرشپس کی آفر ہوئی تو انہوں نے مدرسہ ڈسکورس کورس کا آئیڈیا پیش کر دیا۔ آئیڈیا یہ تھا کہ انڈیا کے مدارس کے وہ فارغ التحصیل طلباء جو گریجویٹ ہیں اور عربی اور انگلش پر مناسب عبور رکھتے ہیں، انہیں آن لائن کورس شروع کروایا جائے جس میں انہیں جدید علم الکلام کے حوالے سے مناسب تربیت دی جائے اور جدید سائنس نے مذہب کے حوالے سے جو چیلنجز اور سوالات کھڑے کیے ہیں، انہیں رسپانڈ کیا جائے ۔ مزید یہ کہ عقائد کے علاوہ فروعی مسائل میں امکانی حد تک ایسی تعبیر پیش کی جائے جو موجودہ زمانے میں قابل قبول ہو۔
ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اپنی مصروفیات کی بنا پر اس پرو جیکٹ کو وقت نہیں دے پائے، چنانچہ انہوں نے اپنے کولیگ ڈاکٹر ماہان مرزا کو ہائر کر لیا ۔ ڈاکٹر ماہان مرزا کا تعلق پاکستان سے تھا، لہٰذا انہوں نے پاکستانی اسٹوڈنٹس کو بھی اس کورس میں شا مل کرنے کا ارادہ کر لیا ۔ اس سال فروری 2017میں اس کورس کا پہلا سمسٹر شروع ہوا اور انڈیا اور پاکستان دونوں ملکوں سے ٹیسٹ اور انٹر ویو کے بعد پندرہ پندرہ اسٹوڈنٹس کو منتخب کیا گیا ۔ ہفتے میں ایک مقررہ دن پر کلاس ہوتی ہے۔ تمام اسٹوڈنٹس مقررہ وقت پر آن لائن ہو جاتے ہیں ، ٹیکسٹ کو پڑھا جاتا ہے ،ڈسکشن ہوتی ہے، سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور تشنہ سوالوں کے ساتھ کلاس ختم ہو جاتی ہے ۔ کلاس میں جو ٹیکسٹ پڑھنا ہوتا ہے، ایک ہفتہ پہلے اسٹوڈنٹس کو بھیج دیا جاتا ہے جسے وہ پڑھ کر کلاس میں شریک ہوتے ہیں۔ اسٹوڈنٹس کو مناسب لیپ ٹاپ اور نیٹ پیکچ بھی دیا گیا ہے تاکہ تعلیم کا یہ عمل کسی تعطل کے بغیر جاری رہے۔
انڈیا میں لیڈ فیکلٹی کے فرائض ڈاکٹر وارث مظہری صاحب سرانجام دے رہے ہیں۔ ٹیسٹ و انٹر ویو سے لے کر کورس کے بعض حصوں کی تدریس ان کی ذمہ داری ہے ۔ یہ دار العلوم دیوبندسے فارغ التحصیل ہیں اور ترجمان دار العلوم کے مدیر بھی رہ چکے ہیں، علی گڑھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہیں اور اسی یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ پاکستان میں یہ ذمہ داری الشریعہ کے مدیر حافظ عمار خان ناصر صاحب سرا نجام دے رہے ہیں۔
عمار خان ناصر نامور اسلامی اسکالر مولانا زاہد الراشدی کے صاحبزادے اور مولانا سرفرازخان صفدر کے پوتے ہیں۔ پاکستان کے علمی حلقوں خصوصاً روایتی مذہبی حلقوں میں اپنی بعض انفرادی آرا اور روایت سے ہٹ کر چلنے کی وجہ سے متنازع حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ روایتی مذہبی حلقہ ان کے دینی اور خاندانی پس منظر کی وجہ سے ان سے یہ توقع نہیں رکھتا، لہٰذا تحفظات اور خدشات کی وسیع خلیج جانبین میں حائل ہوگئی ہے۔مجھے ذاتی طور پر عمار خان صاحب کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا ہے، یونیورسٹی سطح پر ا ن سے تلمذ کی نسبت بھی رہی ہے۔ تحفظات کے باوجود میرا خیال ہے کہ ان کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ میرا ماننا یہ بھی ہے کہ محترم موصوف کو بھی معاملات کی نزاکت کا احساس ہونا چاہیے۔ ایک تو ان کا دینی و خاندانی پس منظراور دوسری طرف اگر وہ روایت کو روندنا چاہتے ہیں تو سر پر اپنے بڑوں اور بزرگوں کا سایہ بھی چاہیے۔ بڑوں کے زیر سایہ اور ان کو اعتماد میں لے کر جو کام کیا جائے گا، اس کے نتائج اور فوائد و ثمرات اس سے کہیں زیاد ہ اور دیر پا ہوں گے جو وہ انفرادی طور پر حاصل کر پا رہے ہیں۔
مدرسہ ڈسکورسز کیوں ضروری تھا اور اس کی اہمیت و افادیت کیا ہے؟ اس سے پہلے آپ یہ واقعہ سن لیں۔
یہ دونوں پی ایچ ڈی کی اسٹوڈنٹ تھیں اور امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں ۔ ان کا آبائی تعلق لاہور سے تھا اور ا ن دنوں یہ لاہور آئی ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک میرے دوست ناصر باجوہ کی صاحبزادی تھیں۔ ناصر باجوہ پاکستان میں انٹر نیشنل میڈیا کا بڑا نام ہیں، یہ وائس آف جرمنی سے وابستہ ہیں اور کئی پاکستانی چینلز میں بھی کام کر رہے ہیں۔ ایک دن ان کا فون آیا کہ میری بیٹی اور اس کی چند دوستوں کا ایک گروپ ہے ،یہ سب سائنس کی سٹوڈنٹس ہیں ، ان کے ذہن میں اسلام کے بارے میں چند سوالات ہیں اور وہ اپنے سوالات کلیئر کرنا چاہتی ہیں ۔
اس سلسلے میں انہیں کسی اسکالر کی تلاش تھی ، مولانا طارق جمیل صاحب سے رابطہ کیا گیا تو وہ ملک سے باہر تھے ۔ ایک دو اور مولانا حضرات سے بات ہوئی تو انہوں نے معذرت کر لی۔ بالآخر لاہور کی ایک یونیورسٹی کے اسلامیات کے پروفیسر سے بات ہو گئی۔ وہ گھر تشریف لائے، اسٹوڈنٹس نے سوالا ت شروع کر دیے۔ یہ پی ایچ ڈی لیول کی اسٹوڈنٹ تھیں۔ اس سے آپ ان کے سوالات کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ ان کے سوالات کچھ اس طرح کے تھے کہ ہم خدا کو کیوں مانیں جبکہ جدید سائنس یہ بات ثابت کر چکی ہے کہ کائنات کا نظام چند متعین قوانین کے تحت چل رہا ہے اور اس میں خدا کا کوئی کر دار نہیں۔ اگر مذہب کو ماننا ہی ہے تو دنیا میں مختلف مذاہب کیوں ہیں؟ ان سب مذاہب کو ملا کر ایک انٹر نیشنل مذہب کیوں تشکیل نہیں دیا جا سکتا؟ ہمیں عبادت کا حکم کیوں دیا گیا ہے، ہمارے نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے سے اللہ کو کیا فائدہ ہوتا ہے اور اگر ہم نہیں کرتے تو اللہ کو کیا نقصان ہے؟ اگر اللہ رحمان اور رحیم ہے تو اپنے بندوں کو جہنم میں کیوں ڈالے گا؟ اللہ نے قرآن میں زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے بارے میں جو حقائق بیان کیے ہیں، جدید سائنس نے انہیں غلط ثابت کر دیا ہے، ایسا کیوں کیا ؟ پروفیسر صاحب نے اپنے علم اور فہم کے مطابق جواب دینے کی کوشش کی، لیکن وہ ناکام رہے اور محفل ختم ہو گئی ۔
یہ ایک مثال ہے، ورنہ ہماری نوجوان نسل میں سے اکثر اس طرح کے سوالات سے دو چار ہیں اور ان سوالات نے ان کے ذہنوں میں طوفان برپا کر رکھا ہے ، یہ سوالات کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟ اس کی وجہ بڑی دلچسپ ہے ۔ دنیا کی گزشتہ تین چار سو سالہ تاریخ میں سیکڑوں نئے علوم و فنون متعارف ہوئے اور یہ سارے علوم مغرب نے متعارف کروائے ہیں۔ آج بھی مغربی یونیورسٹیوں میں پانچ پانچ سو ماسٹر ز ڈگری پروگرام چل رہے ہیں، جبکہ ہمارے یہاں کوئی یونیورسٹی بمشکل ہی سو پروگرام آفر کر رہی ہو گی۔ یہ سارے علوم وفنون نیچرل سائنسز اور سوشل سائنسز پر مشتمل ہیں اور یہ مغرب کے راستے سے ہم تک پہنچے ہیں۔ مغربی فکر کا خدا،کائنات ، سماج اور انسان کے بارے میں اپنا ایک نقطہ نظر ہے اور یہ سارے علوم اسی خاص نقطہ نظر اور تناظر میں پروان چڑھے ہیں۔ اب ہمارے نوجوان جب یہ علوم وفنون یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں تو اس کا ٹکراؤ ان کے ایمان اور عقیدے سے ہوتا ہے اور یہیں سے سوالات جنم لیتے ہیں۔ اب سوالات تو اٹھ رہے ہیں، لیکن انہیں رسپانڈ نہیں کیا جا رہا اوراس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے، اس کا شاید ہمیں ابھی احساس نہیں ہو پا رہا۔
یہ سوالات ماضی میں بھی تھے، لیکن تب صورتحال مختلف تھی۔ ایک تو ان سوالات کی نوعیت مختلف تھی، دوسرا انہیں رسپانڈ کرنے کے لیے پورا علم الکلام موجود تھا۔ علم الکلام کیا تھا اور یہ کیسے وجود میں آیا؟ یہ حقیقت بھی دلچسپ ہے۔ آسان لفظوں میں آپ علم الکلام کو فلسفے کی اسلامی شاخ کا نام دے سکتے ہیں۔ ابتدائی صدیوں میں دین اسلام جب جزیرۂ عرب سے نکل کر عجم میں پھیلا تو اس کا سامنا وہاں کے مقامی مذاہب اور فلسفوں سے ہوا۔ یہ دور یونانی فلسفے کے عروج کا دور تھا۔ایک طرف یونانی فلسفہ اور دوسری طرف ہندو متھا لوجی نے اسلام کے سامنے خدا، کائنات ،سماج اور انسان کے بارے میں بہت سارے سوالات کھڑے کر دیے تھے ۔ اس کے ساتھ مسلمانوں کے اندر بھی کچھ ایسے گروہ پیدا ہو گئے تھے جنہوں نے کائنات ، خدا ، قرآن ، معجزات ، بندے اور خدا کے تعلق اور مرتکب کبیرہ کے بارے میں بحث کا آغاز کر دیا تھا۔ یہ لوگ اہل سنت سے ہٹ کر ایک الگ روش پر چل نکلے اور معتزلہ کہلائے۔ اسلامی علمی روایت میں سب سے پہلے انہی لوگوں نے عقلیت کا نعرہ لگایا اور عقلی بنیادوں پر احکام و مسائل کی تشریح کرنے کی کوشش کی۔
ان سے پہلے فقہی مسائل میں بحث و مباحثہ ہوتا تھا، لیکن عقائد پر بات نہیں ہوتی تھی۔ انہوں نے عقائد پر بھی بات شروع کر دی اور یوں اہل سنت کو یونانی فلسفے ، ہندو متھالوجی کے ساتھ معتزلہ کی کلامی مباحث کا بھی جواب دینا پڑا۔ ان سارے چیلنجز اور سوالات کو رسپانڈ کرنے کے لیے جو علمی روایت قائم ہوئی، اسے علم الکلام کا نام دیا گیا اور اس فن کے ماہرین متکلمین کہلائے ۔ اہل سنت کی طرف سے اشاعرہ اور ماتریدیہ نے اس میدان کو سنبھالا اور اپنے وقت اور زمانے کے سوالات اور چیلنجز کو بہترین طریقے سے رسپانڈ کیا ۔
گزشتہ تین چار صدیوں سے مسلمانوں پر جو علمی و سیاسی زوال آیا، اس کے اثرات علم الکلام پر بھی پڑے ۔ اگرچہ برصغیر ، ایران اور مصر میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے طور پر علم الکلام کو زندہ رکھنے کی کوشش کی اور اپنے دور کے سوالات کا جواب دیا، لیکن یہ انفراد ی کوششیں ذیادہ دیر تک نہ چل سکیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جدید سائنس اور فلسفے نے سوالات کی نوعیت بدل ڈالی ہے۔ اکیسویں صدی میں جدید سائنس اپنی معراج پر کھڑی ہے، انسانی فہم وشعور ارتقاء کی منازل طے کرتا ہوا بہت آگے جا چکا ہے۔ جدید سائنس نے قدیم متھالوجی اور ایمان و عقیدے کے باب میں بہت سارے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور سوشل اور نیچرل سائنسز کے دائرے میں سوالات کا ایک طوفان ہے جو مسلسل بلند ہوتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے اور نوجوان نسل اس طوفان میں غرق ہو رہی ہے، لیکن اسے کہیں سے ریلیف نہیں مل رہا ۔
اس وقت جو سوالات پیدا ہو رہے ہیں، وہ دو طرح کے ہیں۔ ایک ، وہ سوالات جو غیر مسلموں کی طرف سے سامنے آ رہے ہیں۔ اس میں مستشرقین سے لے کر جدید سائنس اور جدید مغربی فکر و فلسفہ شامل ہیں۔ دوسرے، وہ سوالات جو خود مسلمانوں کے اپنے ذہنوں میں پرورش پا رہے ہیں اور ان کے ذہنوں میں الجھاؤ اور وسوسے پیدا کر رہے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک سائنس کا اسٹوڈنٹ یا ایک عام مسلمان جب ان سوالا ت کو لے کر اپنے محلے کی مسجدیا امام کے پاس جاتا ہے تو اسے تسلی بخش جواب نہیں ملتا اور اس کی تشنگی بر قرار رہتی ہے۔ ہمارے علماء ،قراء حضرات اور ائمہ مساجد کے ایمان و تقویٰ میں کو ئی شک نہیں۔ ان کی علمی پختگی ، دینی تصلب اور خشیت الٰہی میں کسی کو شبہ نہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان سوالات کا جواب نہیں دے پا رہے۔ ہمارے مدارس میں آج جو فلسفہ اور علم الکلام پڑھایا جا رہا ہے، وہ وہی ہے جو قدیم یونانی فلسفے اور معتزلہ کے سوالات کو رسپانڈ کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ بلاشبہ یہ اپنے دور کا بہترین علم الکلام تھا، لیکن آج اس سے کام نہیں چلے گا ۔ہمیںآگے بڑھ کر جدید سائنس، انسانی شعور کے ارتقاء، نئے علوم وفنون اور جدید مغربی فکر و فلسفے کو مد نظر رکھ کرنئی تھیا لوجی یا نیا علم الکلام ڈویلپ کرنا پڑے گا۔
ہم اس وقت اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق انسان نے اس زمین پر پہلا قدم دس ہزار سال پہلے رکھا تھا، ان میں سے پہلے پانچ ہزار سالوں کے بارے میں انسانی علم خاموش ہے ۔ اگر کچھ بیان کیا جاتا ہے تو وہ محض ظن و تخمین ہے ۔ آخری پانچ ہزار سالوں کی تاریخ کسی نہ کسی حد تک ہمارے پاس محفوظ حالت میں موجود ہے ۔ ان پانچ ہزار سالوں میں دنیا میں تقریباً بائیس نامور تہذیبوں نے جنم لیا ، اسلامی تہذیب بھی ان میں سے ایک ہے ۔ان میں سے ہر تہذیب ماقبل تہذیب سے اپنے تجربات ومشاہدات کی بنیاد پر ارتقاء اور فہم وشعور کی اگلی منزل پر کھڑی ہوتی تھی۔ اسلامی تہذیب نے انسانی فہم و شعور کوجومہمیز دی، پہلی تہذیبوں میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔شاید پہلی تمام تہذیبوں نے مل کرانسانی فہم و شعور کووہ عروج نہیں بخشا جواکیلے اسلامی تہذیب نے انسان کو عطا کیا۔
اسلامی تہذیب نے تسخیر کائنات کا نظریہ پیش کر کے آزادانہ غور فکر اور تجربات و مشاہدات کا راستہ ہموار کیا ۔ اس سے قبل جن چیزوں کو مقدس مان کر ان کی پوجا کی جاتی تھی، اسلامی تہذیب نے اس پر غور و فکر شروع کر دیا اور یہی عمل بعد میں جدید سائنس کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ ارتقاء اور انسانی فہم و شعور کوآگے بڑھنے سے روکا نہیں جا سکتا، لہٰذا ہمیںآگے بڑھ کر اس کا حل نکالنا پڑے گا۔ آج سے چودہ سو سال پہلے انسانی شعور جس جگہ پر کھڑا تھا، آج ترقی کرتا ہوا بہت آگے نکل چکا ہے۔ سائنس نے کائنات کے ان گنت راز افشاں کر دیے ہیں اور اکیسویں صدی کی مغربی تہذیب اور مغربی فکر و فلسفے نے آدھی دنیا فتح کر لی ہے۔ اب مسئلہ یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اسلامی شریعت جو اس وقت کے انسانی فہم کو بنیاد بنا کر نازل ہوئی تھی، موجودہ دور میں ان کی تفہیم کے حوالے سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ جدید علوم، جدید سائنس اورجدید مغربی فکر و فلسفہ ان کے بالکل مخالف پوزیشن پر کھڑا ہے اور ان پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے ۔ یہ حملے اس قدر شدید اور خطرناک ہیں کہ ہمارے بعض مسلمان بھائی ان کی زد میں آ کر ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ماضی میں یہ حملے یونانی فلسفے اور مقامی مذاہب اور متھالوجی کی طرف سے ہوتے تھے، لیکن ایک تو اسلامی تہذیب غالب تھی اور دوسرا انہیں رسپانڈ کرنے کے لیے پورا علم الکلام موجود تھا۔ لیکن آج ہمارا مسئلہ تھوڑا مختلف ہے ۔ ہمارے سامنے جو محاذ ہے، اس میں جدید علوم ، جدید سائنس اور جدید مغربی فکر مورچہ زن ہے لیکن ہم آج بھی یونانی فلسفے اور قدیم متھالوجی کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہیں ۔ اب یہ جو خلیج پیدا ہو رہا ہے، اس کا حل کیا ہے اور ہم اس خلیج کو کیسے پر کر سکتے ہیں؟ اس کے لیے ہمارے پاس دو آپشن ہیں ۔ ایک، ہم نیو تھیا لوجی یا علم الکلام کے نام سے ایک کورس ڈیزائن کریں اور اسے اپنی یونیورسٹیوں میں پڑھانا شروع کر دیں ۔ میرے خیال میں یہ آپشن ممکن نہیں کیونکہ نئے علم الکلام کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے قدیم کلامی مباحث اور دینی نصوص پر گہرا عبور ہونا ضروری ہے، اس کے لیے عربی سے مناسب حد تک واقفیت بھی لازمی شرط ہے اور ہمارا یونیورسٹی کا اسٹوڈنٹ ان تمام چیزوں سے ادنیٰ واقفیت بھی نہیں رکھتا ۔ اسے کلامی مباحث سے بھی واقفیت نہیں اور اسے عربی کے معرب اور مبنی کا بھی نہیں پتا، لہٰذا ہم یہ آپشن استعمال نہیں کر سکتے ۔ اگر کرتے بھی ہیں تو اس سے نتئج حاصل نہیں کر سکتے ۔
ہمارے پاس دوسرا آپشن دینی مدارس ہیں۔ دینی مدارس میں پہلے ہی علم الکلام کے نام سے ایک سبجیکٹ داخل نصاب ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ وہی علم الکلام ہے جو قدیم یونانی فلسفے، مقامی مذاہب اور معتزلہ کو رسپانڈ کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔جدید علوم وفنون، جدید سائنس اور جدید مغربی فکر و فلسفہ کیا کہہ رہے ہیں اور کون سے سوالات کھڑے کر رہے ہیں، اس حوالے سے مباحث اس میں شامل نہیں ۔ صرف تھوڑی سے ترمیم و اضافہ سے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ مدارس کے ذمہ داران ایک کمیٹی تشکیل دیں، یہ کمیٹی مسائل کا جائزہ لے ، اس کے لیے ایک کورس مرتب کرے اوراسے نصاب کا حصہ بنادے ۔ مدارس کے طلباء جو قدیم کلامی مباحث سے بھی واقف ہیں ، دینی نصوص پر بھی انہیں عبور حاصل ہے اور عربی سے بھی انہیں شناسائی ہے ،یہ طلباء محض تھوڑی سی محنت سے اس قابل ہو سکیں گے کہ اس خلیج کو پر کر سکیں ۔
اس سے بھی زیادہ بہتر صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ہمارے ہاں مدارس میں کئی قسم کے تخصصات چل رہے ہیں ،ان میں ایک تخصص جدید مغربی فکر و فلسفے کے نام سے شروع کر دیا جائے۔ اس میں ان طلباء کی ترجیح دی جائے جو درس نظامی کے ساتھ انگلش پر بھی مناسب حد تک عبور رکھتے ہوں تاکہ وہ اصل ماخذات سے اس فکر اور فلسفے کو سمجھ کر اس کو رسپانڈ کر سکیں ۔ یہ کام آج نہیں تو کل بہر حال ارباب مدارس کو کرنا ہو گا اور یہ ان کی دینی و ملی ذمہ داری ہے ۔
ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اور ڈاکٹر ماہان مرزانے مدرسہ ڈسکورس شروع کر کے فرض کفایہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہیں اس چیز کا احساس کیسے ہوا؟ اس کی وجہ ان کا وہ ماحول اور سوسائٹی ہے جس میں وہ رہ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر نئی چیز کو شک کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح کی فضا اس کورس کے بارے میں بھی کچھ حلقوں میں پائی جاتی ہے۔ میرے خیال میں ہمیں چیزوں کو وسیع تر تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ دار العلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء کے پڑھے ہوئے ہیں، لیکن اپنے بعض افکار کی وجہ سے مین اسٹریم میں قابل قبول نہیں۔ اس کی وجہ شاید ان کا وہ پس منظر اور تناظر ہے جس میں وہ رہ رہے ہیں۔ تناظر کے بدلنے سے دیکھنے کا زاویہ بھی بدل جاتا ہے۔ وہ مغرب میں جس سوسائٹی اور معاشرے میں رہ رہے ہیں، ان کی تفہیم اور ہماری تفہیم میں فرق کا آجانا ایک لازمی امر ہے اور ہمیں اس بات کو کھلے دل سے قبو ل کرنا چاہیے۔ ہاں، اگر یہ تفہیم بنیادی عقائد اور متعین نصوص کے باب میں ہوتو الگ بات ہے ۔
جہاں تک میں ڈاکٹر صاحب کو جانتا ہوں، ان کی نیت میں کوئی شک نہیں ، وہ خود مدارس کے پڑھے ہوئے ہیں اور ان کاماننا ہے کہ یہ خلیج صرف مدارس کے طلباء ہی پر کر سکتے ہیں، اس لیے انہوں نے مدارس کے طلباء سے ہی اس کورس کا آغاز کیا۔ البتہ کورس میں شریک بعض دوست شعوری یا غیر شعوری طور پر مدارس اور ارباب مدارس کے بارے میں غیر متوازن رویہ رکھتے ہیں۔ شاید یہ طرز عمل ٹھیک نہیں ۔ محض تنقیدبرائے تنقید کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی ، آپ مثبت سوچ اور مثبت رویے کے ساتھ اپنے حصے کا چراغ جلائیں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ آپ کو جس چیز کا احساس ہو چکا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ اس کا احساس ہمارے بڑوں کو بھی ہونا چاہئے تو احسن طریقے سے اپنی بات کو ان تک پہنچانے کی کوشش کریں، قطع نظر اس کے کہ کوئی آپ کی بات سنتا ہے یا نہیں۔کیونکہ ہر نئی بات کہنے والے کو اسی طرح کے طرز عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اور اگر آپ بجائے اپنی بات کو ان تک پہنچانے کے الٹا ان اداروں اور ان افراد پر تنقید شروع کر دیں گے تو اس سے بجائے فائدے کے الٹا نقصان ہو گا اور کورس کے منتظمین کے جو نیک مقاصد ہیں، وہ بھی ہدف تنقید بن جائیں گے اور اس ساری تگ و دو کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔اگر آپ یہ مثبت طرز عمل اختیار کرتے ہیں تو یہ تنقید برائے تنقید سے کہیں زیادہ سود مند ثابت ہو گا۔
مدرسہ ڈِسکورسز کا وِنٹر اِنٹنسو ۔ میرے تاثرات
سید مطیع الرحمٰن
مدرسہ ڈسکورسز کے پہلے سمسٹر کے بعد نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کی جانب سے حمد بن خلیفہ یونیورسٹی دوحہ (قطر) میں ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ورکشاپ 25 دسمبر تا 30 دسمبر 2017ء تک جاری رہی۔
قطر میں ایک پورا علاقہ ایجو کیشن سٹی کے نام سے موسوم ہے جہاں یونیورسٹیز ، کالجز ،لائبریریز قریب قریب واقع ہیں۔ حمد بن خلیفہ یونیورسٹی بھی اسی علاقے میں ہے۔ یہ یونیورسٹی 2007ء میں قائم کی گئی۔غالباً یہ وہی یونیورسٹی ہے جس کے نظام و نصاب کے لیے ڈاکٹر محمود احمد غازی کی خدمات لی گئی تھیں۔ہماری ورکشاپ کے دنوں میں یہاں تعطیلات تھیں۔ نہایت خوبصورت کلاس رومز ، اعلیٰ درجے کی سہولیات سے مزین آڈیٹوریم ، لائبریری،شاندار مسجد ، اور بہت ہی بااخلاق اور معاون عملہ موجود تھا۔
ورکشا پ کی ترتیب کچھ یوں تھی کہ پہلاڈیڑھ گھنٹے کا سیشن لیکچر پر مشتمل ہوتا۔ پھر پندرہ منٹ کی بریک کے بعد لیکچر کابقیہ حصہ اور سوال وجواب کی نشست ہوتی۔ اس کے بعد نماز اور دوپہر کا کھانا۔ دوپہر کے کھانے کے لئے بہترین ہوٹلز کا انتخاب کیا گیا، ڈشز اتنی ہوتیں کہ ہر کسی کو اس کی پسند کی ڈش مل جاتی۔ ہوٹل سے دوبارہ یونیورسٹی واپسی ہوتی، پھر ڈسکشن روم میں طلبہ کے چھ یا سات گروپ تشکیل دے دیے جاتے اور انہیں اس دن کے لیکچرکے بنیادی اور اہم نکات پر گفتگوکرنے اور سوالات تیار کرنے کا کام سونپاجاتا۔ اساتذہ اس گروپ ڈسکشن میں خود بھی طلبہ کے ساتھ بیٹھتے اور ان کی گفتگو کو سنتے۔ تما م طلبہ اپنے اپنے نکات، گروپ میں ڈسکس کرتے اور سوالات تیارکرتے جس کا جواب وہی استاذ دیتے جن کا اس دن لیکچر ہوتا۔ گروپس روزانہ کی بنیاد پر نئے بنائے جاتے تاکہ تمام طلبہ کا ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ و مباحثہ ہو سکے اور ایک دوسرے سے خیالات کا تبادلہ زیادہ مفید انداز میں ہو سکے۔ یہ سیشن بھی ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس ڈسکشن کے دوران میں مختلف طلبہ کی مختلف آراء نے ذہن کو کئی نئی وسعتوں سے روشناس کرایا اور کئی نئے زوایہ ہائے فکر سامنے آئے۔ اساتذہ باری باری تمام گروپس کے سوالات کے جوابات دیتے۔ اس کے بعد دو گھنٹے کے لیے ہوٹل میں آرام کے لیے لے جایا جاتا۔ شام کے بعد اگلے دن کے لیکچر کی تیاری کے لیے دیے گئے مواد کو پڑھنے اور اس پر غور خوض کاسیشن ہوتا۔ اساتذہ اس ٹاسک میں بھی طلبہ کی ہر طرح کی معاونت کرتے۔اس سیشن کے بعدرات کے کھانے کے لیے کوچ کیا جاتا اور اس کے بعد تقریباً رات آٹھ بجے آرام کے لیے ہوٹل پہنچ جاتے۔
علمی و فکری دنیا میں خلوص اور علمی دیانت دو نہایت جلیل القدر اقدار ہیں جن کے بغیر صراطِ مستقیم پر دو قدم بھی چلنا محال ہے۔ تمام اساتذہ میں ان اقدار کو بدرجہ اتم موجود پایا۔ ان کا ہاں روایت پر بھی گہری نظر موجود ہے اور جدید مباحث و نظریات پر بھی پوری بصیرت۔ یہی وجہ ہے کہ مدرسہ ڈسکور سز کے ایک سمسٹر کے بعد، اسلامی روایت کے بارے میں خود کو فکری طورپر اعتماد کی فضا میں محسوس کر رہا ہوں۔ ایمان کو شعوری اور فکری طور پر بھی قلب و ذہن میں جاگزیں ہوتا محسوس کر سکتا ہوں۔ اپنی روایت میں جب غزالی، ابن تیمیہ، ابن رشد، ابن حزم اوررازی جیسے عبقر یوں کی منتخب تحریریں نظر سے گزریں تو اسلامی روایت کو نہایت مضبوط فکری بنیادوں پر استوار پایا۔
ڈاکٹر ماہان مرزا جو اس پورے پروگرام کی جان ہیں، نہایت ہی زندہ دل ، خوش مزاج اور خوش دل انسان ہیں۔ پوری تندہی اور چستی سے ہر گام ہمارے ساتھ رہے۔ ہماری حس مزاح کو بھی گدگداتے رہے اور ہمیں ہوٹل ، یونیورسٹی اور دیگر مقررہ جگہوں پر وقت پر پہنچنے کا پابند بھی کرتے رہے۔ سیشنز کے اختتام پر بسوں کی طرف کوچ کرنے کے لیے ان کا نعرہ ’’اِلیَ البَسَّین‘‘ ابھی بھی میرے کانوں میں گونج رہا ہے۔ الوداعی ڈنر میں ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ نے سر ماہان کے لیے ایک جملے میں ہم سب کی دلی ترجمانی کردی: ?Who can do without Mahan۔ ہال دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا،پھر اس جملے پر سر ماہان کے ایک تبصرے نے پوری محفل کو کشت زعفران بنادیا۔
ایک نہایت قیمتی پہلو اس ورکشا پ کا یہ تھا کہ سیشن کے درمیان چائے اور کافی بریک میں،آڈیٹوریم سے ہوٹل تک ، ڈسکشن روم سے مسجد تک، یہاں تک کہ کھانے کے دوران میں بھی اساتذہ سے کسی بھی موضوع پر سوال کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔ اساتذہ نہایت توجہ سے سوال سنتے اور پوری تفصیل سے جواب دیتے۔ اچھے سوالات کو بعض دفعہ اساتذہ لیکچر یا ڈسکشن سیشن میں تمام طلبہ کے سامنے دہراتے،سراہتے اور اس کے جوابات کی مختلف جہتیں سامنے لاتے۔
میرے نزدیک اس پوری ورکشاپ میں جو مباحث بنیادی اہمیت کے حامل تھے، ان میں مرکزی بحث جدید لسانی مباحث کی تھی اور اسی کے تناظر میں دورِ جدید کی فکری تحدیات کو دیکھا گیا۔ گزشتہ نصف صدی سے ساختیات،پس ساختیات اور مابعد ساختیات کے نظریات و مباحث نے متن کی تفہیم کے نئے نئے زاویے اور نئی نئی جہات متعارف کروائی ہیں جس سے مذہبی متون کے لیے نئی تحدیات سامنے آئی ہیں۔ اس ضمن میں پروفیسر توشی ہیکو ازوتسو کی منتخب تحریر اور پروفیسر ابراہیم موسی کے مضامین زیر بحث آئے جن میں دینی متون کے حوالے سے روایت اور جدید لسانی زاویہ نظر کو بیا ن کیا گیا ہے۔ اسی طر ح سر عمار ناصر نے الفاظ کے حقیقی اور مجازی معانی اور ان کی تعیین کے اصول و قواعد پر سیر حاصل گفتگو فرمائی اور اس پہلو پر خوب روشنی ڈالی کہ زبان اور اہل زبان کے ہاں عمومی طورپر یہ اصول طے شدہ ہوتے ہیں کہ کس مقام پر لفظ کامجازی معنی مراد لیا جا سکتا ہے اور کہاں حقیقی۔ سر وارث مظہری نے بھی اسی پہلو کو زیرِ بحث لاتے ہوئے امام غزالی اورامام ابن تیمیہ کے اصولِ تاویل کو موضوعِ بنایا، خاص طور پر امام غزالی کی "اصول التاویل" کی روشنی میں اہل تاویل کے پانچ گروہوں اور ان کے اصولِ تاویل کا مطالعہ پیش فرمایا۔ اردن سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر رنا دجانی کے ہاں بھی الفاظِ قرآنی کی تاویل کا ایک اطلاق ڈاورن کے نظریہ ارتقا ء اور تخلیقِ آدم کے قرآنی بیانات کے ضمن میں سامنے آیا۔
اس ساری گفتگو سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ جدید علم اور قدیم متن کے مابین بنیادی مسائل میں اہم ترین مسئلہ متن کی تاویل کے امکانات اور اس کی حدود کا تعین کرنا ہے۔ تاویل کی حدود اور قرآنی الفاظ کے ممکنہ معانی اور اس معانی میں سے جدید دور کے تناظر میں چناؤ اور بقول پروفیسر توشی ہیکو ان الفاظ کے ساخت اور بناوٹ میں شامل اس دور کی ثقافت اور نظریہ کائنات کے بنیادی اجزا ء کا مطالعہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہی وہ بنیاد ی مسئلہ ہے جو اس پوری ورکشا پ کے علمی مکالمے کا محور بنا رہا۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے چند اہم باتیں اگر ملحوظ رکھی جائیں تو اس بحث کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے:
ایک بنیادی اصول یہ مدنظر رکھنا ہوگا کہ تاویل کے حوالے سے کوئی بھی ایک اصول ہر ہر آیت پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں مختلف آیات کو مختلف گر وپس میں تقسیم کیاجا ئے اور تمام گرو پس پر الگ اصولِ تطبیق لاگو کرنے کی کوشش کی جائے۔
الفاظ اور ان کے اندر معانی اور اس کی مختلف تعبیرات کے حوالے سے تمدن عر ب،عر ب کا نظریہ حیات و کائنات اور جاہلی شاعری کو مدنظر رکھا جائے۔ بہت سی آیاتِ قرآنی جن کی تفہیم آج محلِ نظر ہے، وہ عرب کے مشرکین کے ہاں بھی اعتراض کی وجہ نہیں بنیں۔
ہماری علمی میراث اور روایت میں موجود اس مسئلہ سے متعلق علمی و فکری مباحث کو خام مال کی طرح لے کر نئی عمارت کھڑی کی جائے۔نہ اپنی روایت سے بے اعتنائی کا رویہ درست ہے اور نہ ہی اسی کے گر د طواف کر نے کا۔ختمِ نبوت کو اقبال اپنے خطبات میں رحمتِ خداوندی قرار دیتے ہیں۔ تاویل کی وسعت کے حوالے سے ہمیں ختم نبوت کی حکمتوں کو سمجھنا ہوگا کہ آخر کیوں اللہ تعالیٰ نے ایک خاص وقت میں وحی کا سلسلہ ختم دیا اور چند ہزار فقروں تک محدود کر دیا۔
مذہبی متن اور انسانی ذہن کے مابین تعلق محض تعقلی نہیں، وجدانی بھی ہے۔ ان وجدانی دوائر و جہات کو بھی کھو جنے کی ضرورت ہے جس کے بارے میں واضح اشارے امام غزالی کے ہاں بھی ملتے ہیں۔
تاویل کرتے ہوئے قرآنی احکام کی بنیادی روح کو متاثر نہ کیا جائے۔ یہاں یہ بات بڑی اہم ہے کہ قرآنی احکام کی روح بڑی نمایاں اور ظاہرہے۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ آیاتِ قرآنیہ کی روح نہایت پوشیدہ اور کوئی چیستان ہو جس کی تفہیم جو ئے شیر لانے کے مترادف ہو، بلکہ اس کے علل و مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے متن کی شرح کی نئی جہات متعین کی جائیں۔
ورکشا پ کے اختتام پر الوداعی ڈنر کے موقع پر تمام اساتذہ نے باری باری اپنے خیالات کا اظہار فرمایا اور نہایت محبت بھرے جذباتی انداز میں طلبہ کو رخصت فرمایا۔اس موقع پر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کی آنکھوں میں مچلتے آنسو صاف دکھائی دے رہے تھے۔اللہ ان تمام اساتذہ کی مساعیِ جمیلہ و عظیمہ اور اخلاص کو قبول فرمائے۔
الشریعہ اکادمی میں اسلامی تاریخ پر کوئز مقابلہ
مولانا محفوظ الرحمٰن
تاریخ کا علم نسل انسانی کی بقا اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ تاریخ سے سابقہ اقوام کی سرگزشت معلوم ہوسکتی ہے۔ قرآن کریم نے بھی سابقہ اقوام کے قصوں کوبڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرکے آنے والے لوگوں کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ بنایا ہے۔ ہماری اسلامی تاریخ کا ایک تابناک دورتھاجس سے واقفیت اور اطلاع نئی نسل کو بہتر راستے پر گامزن کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ہماری تاریخ میں ایک دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کاہے جس کوسیرت طیبہ کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے بعدخلفاء راشدین کا دور ہے اور پھر خلافت بنوامیہ اورخلافت بنوعباس اور اس کے بعد خلافت عثمانیہ بڑے طمطراق والی خلافتیں گزری ہیں۔
سیرت وتاریخ کی اسی اہمیت کے پیش نظر الشریعہ اکادمی میں گزشتہ چند سال سے سیرت اور تاریخ کے موضوع پر کوئز مقابلے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ سیرت نبوی کے علاوہ خلفاء اربعہ، حضرت معاویہ، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرات حسنین کریمین کی زندگیوں پر مقابلے منعقد کیے جا چکے ہیں۔ امسال کوئز مقابلہ کے لیے خلافت بنوامیہ اور خلافت عباسیہ کا موضوع منتخب کیا گیا۔
مقابلے کا انعقاد دو مرحلوں میں کیا گیا جس میں شہر کے مختلف مدارس سے طلبہ نے شرکت کی۔ ہرٹیم تین تین شرکاء پرمشتمل تھی۔ مدرسہ ابوایوب انصاری کی ایک ٹیم جبکہ جامعہ حقانیہ، جامعہ مدینۃالعلم، جامعہ دارالعلوم گوجرانوالہ اور الشریعہ اکادمی سے دو دو ٹیمیں شریک ہوئیں۔ مقابلہ کاپہلاسیشن ۱۱ جنوری کو مکمل ہوا جس میں کامیاب ہوکر فائنل مرحلے میں پہنچنے والی آٹھ ٹیموں نے ۱۸ جنوری کو مقابلے کے آخری راؤنڈ میں حصہ لیا۔ مقابلہ ہر لحاظ سے دلچسپ رہا۔ طلبہ کی ان تھک جدوجہداورانتہائی لگن سے کی ہوئی تیاری قابل دادتھی جس میں ہرخلیفہ کی زندگی، کارنامے اور دیگر تاریخی امور زیر بحث لائے گئے۔
مقابلہ میں الشریعہ اکادمی کی ٹیموں نے اول اور سوم جبکہ جامعہ حقانیہ کے طلباء نے دوسری پوزیشن حاصل کرکے میدان جیتا۔ کانٹے دارمقابلہ میں سوالات کے جوابات اتنے بھرپورتھے کہ تقریباًتین دفعہ دو دو ٹیمیں برابر رہیں جن سے مزید سوالات کرکے ایک کوکامیاب قرار دیا جاتا رہا۔ سوالات تیار کرنے اور میزبانی کی ذمہ داری الشریعہ اکادمی کے استاذ مولاناعبدالغنی محمدی نے بخوبی سرانجام دی، جبکہ اکادمی کے دیگراساتذہ اورعملہ نے پروگرام کی کامیابی کے لیے بھرپور محنت کی۔
شرکاء کوقیمتی انعامات اورشیلڈز سے نوازاگیا۔ انعامات کی تقریب میں اول آنے والی ٹیم کو۹۰۰۰ روپے مع قیمتی کتب، دوم آنے والی ٹیم کو ۶۰۰۰ روپے مع قیمتی کتب اورسوم آنے والی ٹیم کو۴۵۰۰روپے مع قیمتی کتب دی گئیں۔ انعامات الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹرحضرت مولانا زاہدالراشدی دام مجدہ نے اپنے دست مبارک سے دیے۔ بعد ازاں مولانا زاہد الراشدی مدظلہ نے مختصر گفتگو فرمائی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ علماء کرام سب سے زیادہ فن تاریخ میں کمزور شمار ہوتے ہیں، چنانچہ فن تاریخ سے واقفیت کی غرض سے چندسالوں سے اس مقابلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ الحمد للہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ پورے ذوق سے جاری ہے۔ تاریخ کی اہمیت بیان کرنے کے بعد استاذمحترم مدظلہ نے طلبہ کو دعاؤں سے نوازا۔ طلبہ کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کے لیے شہر بھر کے مدارس سے اساتذہ کرام کی ایک بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجودتھی۔ اختتامی دعا جامعہ مدینۃ العلم کے بانی ومہتمم مولاناریاض جھنگوی صاحب نے کروائی اور یہ پررونق مجلس حاضرین کے عشائیے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔