دسمبر ۲۰۱۸ء

پاک بھارت تعلقات اور ہمارے ریاستی بیانیےمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۸)ڈاکٹر محی الدین غازی 
حضرت حاجی عبد الوہابؒ کا انتقالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
آسیہ بی بی کی رہائی : سپریم کورٹ کے فیصلے کی اخلاقی و شرعی حیثیتڈاکٹر محمد شہباز منج 
ہجرت رسول ﷺ کا بشریاتی مطالعہعاصم بخشی 

پاک بھارت تعلقات اور ہمارے ریاستی بیانیے

محمد عمار خان ناصر

گزشتہ دنوں ایک  ٹاک شو میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے معروف کرکٹر شاہد آفریدی کے بعض تبصروں پر  سوشل میڈیا میں بحث ومباحثہ کا بازار گرم رہا۔  شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ کشمیر  کو بھارت یا پاکستان میں سے کسی کا بھی حصہ بنانےکے بجائے خود کشمیریوں کے حوالے کر دینا چاہیے۔  انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان سے  اپنے موجودہ صوبے نہیں سنبھالے جا رہے تو ایک اور صوبے کے انتظام وانصرام سے وہ کیسے عہدہ برآ ہوگا۔ 
شاہد آفریدی پر تنقید  کرنے والوں کی طرف سے مختلف نکتے پیش کیے گئے۔ مثلا یہ کہ یہ ایک بڑا حساس اور ٹیکنیکل مہارت کا متقاضی موضوع تھا جس کا وہ اہل نہیں تھا۔ مزید یہ کہ ایک عوامی شخصیت ہونے کی وجہ سے اس کی گفتگو سے کشمیر کے حوالے سے  ہمارے ریاستی موقف پر زد پڑی ہے  اور بھارت میں  اس کا حوالہ دے کر  اس سے بھارتی موقف   کی تائید اخذ کی گئی ہے۔  ان میں سے پہلا اعتراض تو  بظاہر  زیادہ وزن نہیں رکھتا، کیونکہ شاہد آفریدی کسی سفارتی یا آئینی فورم پر بات نہیں کر رہے تھے اور نہ ریاست کے سرکاری  ترجمان کی حیثیت سے اظہار خیال کر رہے تھے۔ ٹی  وی ٹاک شو  ایک طرح کی چوپال ہی ہوتی ہے جس میں لوگ اپنے اپنے انفرادی خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔   جہاں تک دوسرے اعتراض کا تعلق ہے کہ اس گفتگو سے ہمارا قومی  یا ریاستی موقف کمزور ہوا ہے تو یہ ایک قابل توجہ بات ہے۔  البتہ ہمارے نزدیک اسے منفی انداز میں لینے کے بجائے  ریاستی اداروں کو ان تضادات کی طرف متوجہ ہونا  چاہیے جن کی وجہ سے ہمارے ریاستی  سیاسی بیانیے غیر مقبول ہو رہے ہیں اور ایک محب وطن عام آدمی میں ان کے متعلق اس طرح کے تاثرات پیدا ہو رہے ہیں۔ 
مثال کے طور پر  کشمیر کے، پاکستان کی شہ رگ ہونے اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان” کو ہمارے قومی بیانیے کی حیثیت حاصل ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر ہمارا موقف یہ ہوتا ہے کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ حق خود ارادیت کا تصور اپنے حقیقی مفہوم میں تینوں آپشنز کو متضمن ہے، یعنی  کشمیری چاہیں تو پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کر سکتے ہیں اور چاہیں تو خود مختار ریاست کی حیثیت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیریوں کے کوئی فیصلہ کرنے سے قبل پاکستان  کو یہ حق کیسے حاصل ہو جاتا  ہے کہ وہ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے دے؟  فرض کریں، آج کشمیریوں کی سیاسی لیڈر شپ کا عمومی اتفاق رائے اس پر ہو جائے کہ وہ حق خود ارادیت ملنے پر ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی حیثیت کو ترجیح دیں گے تو کیا ہماری طرف سے ان کی سیاسی واخلاقی حمایت اسی سرگرمی سے جاری رہے گی جتنی کہ اب تک رہی ہے؟ سادہ لفظوں میں سوال یہ ہے کہ ہم قومی طور پر کشمیریوں کے غم میں گھل رہے ہیں یا اسے  بھارت کے ساتھ سیاسی مخاصمت میں بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں؟
اس طرح کے سوالات صرف کشمیر کے حوالے سے نہیں ہیں، بلکہ فاٹا، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے حوالے سے بھی ریاستی پالیسیاں سخت تنقید کی زد میں ہیں اور اس  طرز فکر کو قومی مفاد یا سیکیورٹی خدشات کے مصنوعی سہاروں کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔ ہمارے ہاں وفاق گریز سیاسی رجحانات کے حوالے سے اسٹیلبشمنٹ کی حکمت عملی ، سیاسی دانش سے بالکل عاری رہی ہے۔ اس کو ایک ہی سادہ حل نظر آتا ہے کہ ایسی آوازوں کو اٹھنے ہی نہ دیا جائے تاکہ یہ لگے کہ ایسی کوئی آواز موجود ہی نہیں۔ اس کے مقابلے میں ریاست ہائے متحدہ امریکا کا سیاسی نظام بنانے والوں کی بصیرت کو دیکھیے جنھوں نے پچاس سے زیادہ ریاستوں کو پوری داخلی آزادی، حتی کہ فیڈریشن سے الگ ہونے تک کا آئینی اختیار دیتے ہوئے اس طرح وفاقی نظام کے ساتھ جوڑا ہوا ہے کہ کوئی ریاست جبر کے تحت نہیں بلکہ خود اپنے سیاسی واقتصادی مفاد کی وجہ سے الگ ہونے کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ وہاں مختلف ریاستوں میں فیڈریشن سے الگ ہونے کی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں، ریاست کی خارجہ پالیسی پر زوردار تنقیدیں ہوتی رہتی ہیں، طاقت پر قابض مافیاز کے گٹھ جوڑ کو منکشف کیا جاتا رہتا ہے، لیکن سسٹم کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوتا، کیونکہ وہ حب الوطنی جیسی مصنوعی اور فرضی بنیادوں پر کھڑا نہیں کیا گیا۔ فیڈریشن کودیرپا بنیادوں پر مستحکم رکھنے کا ایک ہی اصول ہے کہ اکائیوں کو فیصلہ سازی میں پوری طرح شریک کیا جائے، وسائل میں انھیں ان کا پورا حصہ دیا جائے اور جبر اور دھونس سے ان پر فیصلے مسلط کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ اگر اس کے لیے مشرقی پاکستان جیسے طور طریقے اختیار کیے گئے تو نتائج بھی اس سے مختلف نہیں ہوں گے۔ مشرقی اور مغربی، دونوں سرحدوں پر مخالف قوتوں کے اتحاد نے، جس کے لیے زمین ہموار کرنے میں خود ہماری ریاستی پالیسیوں کا بنیادی دخل ہے، پاکستان کے لیے بے حد نازک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے شکایات اور تنقیدات کا منہ بند کرنے کی نہیں، انھیں ہمیشہ سے زیادہ توجہ سے سننے اور ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔
اس صورت حال میں سرحد کے دونوں طرف کے اہل دانش  کو ایک سخت اخلاقی آزمائش کا سامنا ہے۔  چند ماہ قبل الجزیرہ کے ٹاک شو اپ فرنٹ میں بھارت کے معروف دانش ور اور مورخ ششی تھرور اور پاکستان کی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے مابین ایک مباحثے کا اہتمام کیا گیا۔  ششی تھرور کی گفتگو کا وہ حصہ انتہائی تکلیف دہ تھا جس میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو رد عمل کے اصول پر جواز مہیا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ششی تھرور کی شہرت برصغیر میں استعماری دور کے مطالعات کے ایک ماہر کی ہے اور یقینا انھوں نے اپنی تصانیف میں اٹھارہ سو ستاون کے بعد باغیوں کے خلاف انگریزی حکومت کے ظالمانہ اقدامات پر بھی گفتگو کی ہوگی۔ معلوم نہیں کہ آیا رد عمل کے اصول پر انھوں نے وہاں بھی استعماری جبر کو جواز فراہم کیا ہے یا نہیں۔ 
اسی نوعیت کی اخلاقی آزمائش کا سامنا سرحد کے اس پار کے اہل دانش کو بھی ہے۔ ہماری قطعی رائے ہے کہ فلسطین، کشمیر، اراکان، بلوچستان، گلگت بلتستان اور فاٹا جیسے مسائل، درجے کے فرق کے ساتھ، جدید سیاسی وریاستی نظام سے پیدا ہونے والی ایک ہی صورت حال کے مظاہر ہیں اور ان سب کے متعلق ایک ہی بنیادی اخلاقی موقف اختیار کرنا باضمیر اہل دانش کی ذمہ داری ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان کی حدود میں واقع مذکورہ خطوں کے سیاسی حقوق کی آواز بھی اٹھائی جائے۔ ہماری وابستگی حق اور انصاف  کے ساتھ ہونی چاہیے، نہ کہ کسی نام نہاد ’’قومی مفاد” کے ساتھ۔ اس وقت دونوں اطراف کے باضمیر اہل دانش کا امتحان یہی ہے کہ وہ ریاستی بیانیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے اخلاق اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انسانیت اور اخلاقیات، ریاستوں اور ان کے مفادات سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

ابن خلدون نے سائنس (یعنی طبیعی مظاہر کے قوانین کی دریافت) میں کسی ذہن کے بڑے یا چھوٹے ہونے کو شطرنج کی مثال سے واضح کیا ہے۔ شطرنج کے ایک کھلاڑی کا دوسرے کھلاڑی سے فرق اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک کسی بھی چال کے ان نتائج کو دیکھ پاتا ہے جو تین یا چار قدم تک ہو سکتے ہیں، جبکہ دوسرے کا ذہن ان نتائج کا تصور آٹھ یا دس قدم تک کر سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جس آدمی کا ذہن کسی بھی عمل کےزیادہ دور رس نتائج کو سمجھ سکتا ہے، اس کا فیصلہ اسباب کی دنیا میں اس سے بہتر ہوگا جو بس قریبی نتائج تک محدود رہتا ہے۔
یہ بات سیاست کے دائرے میں بھی درست ہے۔ ایک سیاسی لیڈر اور ایک سیاسی مدبر میں یہی فرق ہوتا ہے کہ سیاسی لیڈر فوری نوعیت کے معاملات کی طرف متوجہ رہتا ہے اور اقدامات کے قریبی نتائج واثرات پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھتا ہے، جبکہ سیاسی مدبر ایک بڑے کینوس پر صورت حال کو دیکھ رہا ہوتا ہے اور اپنے فیصلوں اور پالیسیوں کا تعین دور رس اثرات اور مضمرات کی روشنی میں کرتا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ کی بدقسمتی ہے کہ ہندوستان میں گاندھی اور نہرو جبکہ قائد اعظم اور پھر ایک حد تک بھٹو کے بعد بڑا سیاسی ذہن رکھنے والی قیادت ہمیں نہیں ملی، لیکن مآل کار خطے کو ان الجھنوں سے نکالنا شطرنج کے بڑے اور زیادہ ذہین کھلاڑیوں ہی کے لیے ممکن ہوگا جو دو چار چالوں میں مات کھانے کا حوصلہ رکھتے ہوں اور یہ سمجھ سکتے ہوں کہ اس طرح کی مات کھانا، کھیل کو جیتنے کے لیے ضروری ہے۔
برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے لے کر پاکستان کے قیام تک کے طویل تاریخی سفر میں مسلم ہندو تعلقات کے کئی اہم مرحلے طے ہوئے۔ عہد عثمانی سے لے کر محمد بن قاسم تک،یہاں آنے والے عرب حملہ آور عموماً‌ یہیں آباد ہو گئے اور مقامی آبادی کے ساتھ مخلوط ہو گئے۔ کافی عرصے کے بعد غوری اور غزنوی وغیرہ نے اپنی طاقت کے مراکز ہندوستان سے باہر رکھ کر یہاں حملے کرنے اور مال غنیمت جمع کرنے کی اسٹریٹجی اپنائی اور یوں اول وآخر اس خطے کی تاریخ کے لیے ’’اجنبی’’ بن گئے۔ سلطنت دہلی کے قیام کے بعد یہ اجنبیت تو دور ہوئی، لیکن مسلمان حکمرانوں نے حکمران اقلیت اور محکوم اکثریت کے مابین فاصلے قائم رکھے۔ مغلوں نے، خاص طور پر اکبر نے، ان فاصلوں کو کم سے کم کرنے کے لیے ایک قدم آگے بڑھایا، لیکن بحیثیت مجموعی، مسلمان مقتدر اقلیت کی نفسیات سے پوری طرح جان نہ چھڑا سکے۔ انگریزی دور اقتدار میں شاید پہلی مرتبہ مسلم راہ نماوں نے تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے محسوس کیا کہ اس خطے کی تقدیر ان دونوں قوموں کے باہمی تعلقات کو  ایک نئی بنیاد پر استوار کرنے سے وابستہ ہے، لیکن ظاہر ہے، وہ تاریخ کی تلخیوں کو محو نہیں کر سکتے تھے۔ قائد اعظم نے اس کا حل یہ سوچا (جو معروضی حالات کے علاوہ تاریخی تناظر میں مسلم نفسیات کے تقاضوں کا بھی ایک گہرا ادراک تھا) کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں خود مختار مسلم ریاستوں یا ریاست کا قیام تعلقات کو مثبت سیاسی رخ دینے  کے عمل کی ایک دیرپا اور مضبوط اساس فراہم کرے گا، جبکہ قوم پرست مسلمانوں  کا نقطہ نظر یہ تھا کہ تقسیم کے سنگین مضمرات ونتائج کا یہ خطہ متحمل نہیں اور متحدہ قومیت کی بنیاد پر ہندوستان کی ساری قوموں کا سیاسی لحاظ سے متحد رہنا نہ صرف ممکن بلکہ بہتر ہے۔  
اس استدلال کے اصولی وزن کو  مسلم لیگ کی قیادت بھی سمجھتی تھی، چنانچہ قائد اعظم کے سیاسی موقف میں لچک کے بہت نمایاں شواہد شروع سے آخر تک ملتے ہیں۔ ۱۹۲۷ء میں کانگریس کے ساتھ مفاہمت کے نتیجے میں انھوں نے ’’تجاویز دہلی‘‘ پیش کیں جس میں اب تک کے اپنے بنیادی مطالبے یعنی جداگانہ انتخابات سے دست برداری اختیار کر لی۔ پھر نہرو رپورٹ سامنے آنے کے بعد ابتداء اً تین ترامیم پیش کر کے مفاہمت چاہی تو اس میں بھی جداگانہ انتخابات کا مطالبہ شامل نہیں تھا۔ الگ وطن کا تصور اور مطالبہ سامنے آنے کے بعد سالہا سال تک قائد اعظم نے خود کو اس موقف سے بالکل الگ رکھا، حتی کہ ۱۹۴۰ء سے غالباً ایک آدھ سال قبل اقبال کے اس خیال کو ’’غیر عملی‘‘قرار دیا کہ ہندوستان کے شمال مغرب میں  ایک مسلم ریاست قائم ہونی چاہیے، اور سب سے آخر میں کابینہ مشن پلان سے اتفاق کر کے تو لچک اور مفاہمت کی آخری انتہا تک چلے گئے۔ تاہم مسلم لیگ کی سیاسی پوزیشن کے تعین میں یہ نکتہ زیادہ فیصلہ کن ثابت ہوا  کہ کانگریسی لیڈروں کا رویہ مدبرانہ اور صلح جویانہ نہیں، بلکہ مسلم لیگی قیادت کو نیچا دکھانے کا تھا۔ خود کانگریس میں شریک علماء اس پالیسی کو بحیثیت مجموعی خطے کے مفاد میں سمجھتے ہوئے بھی کانگریسی قیادت کے رویے سے شاکی تھے، جیسا کہ گاندھی وغیرہ کے نام رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے غیر مطبوعہ خطوط سے واضح ہے۔   
اس سب کے باوجود قائد اعظم کا سیاسی  ویژن یہ تھا کہ تقسیم صرف ہندو مسلم نزاعات کے ایک عملی حل کے لیے ہوگی، جبکہ ریاستی سطح پر دونوں ملک مشترک دفاع وغیرہ کے معاہدے کر کے سیاسی اعتبار سے متحد اوریک جان ہو سکیں گے اور یہ وہ نکتہ ہے جس میں ایک بڑے کینوس پر  ان کی سوچ اور قوم پرست مسلمان لیڈر شپ کی سیاسی فکر میں ایک  اشتراک پیدا ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قوم پرست قیادت نے اس خطے کی قوموں کے درمیان تعلقات کا جو نقشہ پیش کیا تھا، ’’متحدہ ہندوستان‘‘ اس کا صرف ایک جزو تھا جو ایک وقتی اور ہنگامی سیاسی سوال کا جواب تھا۔ اس محاذ پر اس تجویز کو قومی سطح پر پذیرائی نہیں ملی، لیکن اس محدود سوال سے ہٹ کر، تاریخی وتہذیبی تناظر میں قوم پرست قائدین نے  خطے کی تقدیر کے حوالے سے جو  سیاسی تصورات پیش کیے، وہ حقیقت پسندانہ تھے اور  وہی اس خطے کی ایک مثبت تقدیر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ۴۰ء کی دہائی میں وقتی سیاسی صورت حال سے متعلق عناصر کو الگ کر دیا جائے تو ابو الکلام، مولانا سندھی اور مولانا مدنی کی تحریریں آج بھی دونوں ملکوں کے سیاسی پالیسی سازوں کے لیے راہ نمائی کا ماخذ ہیں اور  موجودہ تناظر میں  ان کا ازسرنو سنجیدہ مطالعہ کیا جانا چاہیے۔
علاقائی امن اور ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات، اس خطے کی ضرورت ہیں۔ سیاست دانوں اور افواج اور انتہا پسند پریشر گروپس کی نہ سہی، عوام کی بہرحال ضرورت ہیں۔ انسانی قدریں بھی اسی کا تقاضا کرتی ہیں اور مسلمانوں کی مذہبی ودعوتی ذمہ داریاں بھی۔ تنازعات پرامن تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہوا کرتے ہیں، تاہم پر امن تعلقات کی طرف بڑھنے کو تنازعات کے پیشگی حل سے مشروط کرنا ایک غیر عملی سوچ ہے۔ تاریخ کا مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ اگر آپ کے پاس طاقت سے تنازع کو حل کرنے کا آپشن موجود نہیں تو پھر پہلے وہ سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں فریقین کے پاس سیاسی لین دین کی گنجائش اور لچک موجود ہو۔ پاکستان اور بھارت، طاقت کے راستے سے تنازعات کے حل کا آپشن بار بار آزما چکے ہیں اور اب یہ طریقہ واضح طور پر ’’نو آپشن” کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ مذاکرات اور سیاسی مکالمہ کے ذریعے سے حل تلاش کرنے کے لیے جس ماحول کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے موجودہ صورت حال میں وہ میسر نہیں۔ سو اس کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں کہ تنازعات کو اپنی جگہ تسلیم کرتے ہوئے وہ ماحول بنانے کی کوشش کی جائے جس میں خطے کی عمومی ذہنی فضا خود یہ تقاضا کرے کہ تنازعات کا تصفیہ کیا جائے (اور تقاضا نہ بھی کرے تو کم سے کم اس کی راہ میں حائل نہ ہو)۔ سازگار ماحول بنانے کے لیے ان دائروں میں باہمی تعلقات کو آگے بڑھانا ہوگا جس میں دونوں ملکوں کے مفادات مشترک ہیں۔ پون صدی سے جاری دائرے کے سفر سے اگر باہر نکلنا ہے تو یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہے۔ اس حوالے سے کسی بھی امید افزا پیش رفت کا خیر مقدم کرنا ہمارے نزدیک سیاسی فکر کی پختگی کی علامت ہے۔ 

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۸)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۵۱) بلاء کا ترجمہ

بلا یبلو، اور أبلی یبلی کابنیادی مطلب تو ہوتا ہے کسی کو آزمائش میں ڈالنا، صلہ اور باب فعل کے اختلاف سے آزمائش کی نوعیت بدلتی رہتی ہے، یہ آزمائش خیر سے بھی ہوتی ہے اور شر سے بھی ہوتی ہے۔فرمایا: (ونبلوکم بالشر والخیر)، یہیں سے اس کا ایک مطلب خیر سے نوازنا بھی ہے۔
ابن قتیبہ ادب الکاتب میں لکھتے ہیں:

بَلَوْتُہ أبلوہ '' بَلْواً '' إذا جرَّبتہ، وبَلاہ اللہ یَبْلوہ '' بَلاَءً '' إذا أصابہ بِبَلاءٍ، یقال: اللَّہمَّ لا تَبْلَنا إلا بالتي ھي أحسنُ، وأبلاہ اللہ یُبلیہ '' إبْلاءً حَسَناً '' إذا صنع بہ صنعاً جمیلاً، وقال زھیر: جَزَی اللہُ بالإحسانِ مَا فَعَلا بکمْ... فأَبْلاھُمَا خَیْرَ البَلاَءِ الَّذي یَبْلُو۔

قرآن مجید میں چھ مقامات پر لفظ بلاء آیا ہے، یہ چھ مقامات وہ ہیں جہاں کسی بڑی مصیبت یا آزمائش سے بچالیے جانے کا تذکرہ ہے۔ ان میں سے چار مقامات پر بنی اسرائیل کو فرعون اور آل فرعون کے ظلم سے نجات دلانے کے بعد اس کا ذکر ہے، اور ان چار میں سے تین مقامات کا تو بالکل ایک ہی مضمون ہے کہ آل فرعون سے نجات دی جو ان کے لڑکوں کو ذبح کردیتے تھے اور لڑکی کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ باقی ایک مقام پر ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے امتحان اور پھر اللہ کی طرف سے پروانہ کامیابی جاری ہونے کے بعد اس کا ذکرہے، اور ایک دوسرے مقام پر جنگ بدر میں اہل ایمان کی کامیابی کے بعد اس کا ذکر ہے۔ ان مقامات پر مترجمین کے مختلف ترجمے ملتے ہیں، بسا اوقات ایک ہی مترجم یکساں مقام پر الگ الگ ترجمہ کرتا ہے۔

 وَإِذْ نَجَّیْنَاکُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَسُومُونَکُمْ سُوَءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُونَ أَبْنَاء کُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَاء کُمْ وَفِیْ ذَلِکُم بَلاءٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ۔ (البقرۃ: 49)

یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے تم کو فرعونیوں کی غلامی سے نجات بخشی اُنہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا، تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی‘‘ (سید مودودی)
’’اور اس میں مدد ہوئی تمہارے رب کی بڑی ‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’اور بیچ اس کے آزمائش تھی پروردگار تمہارے سے بڑی ‘‘(شاہ رفیع الدین)
’’اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی بلا تھی (یا بڑا انعام‘‘( (احمد رضا خان
’’اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’اس نجات دینے میں تمہارے رب کی بڑی مہربانی تھی‘‘ (محمدجوناگڑھی)

وَإِذْ أَنجَیْنَاکُم مِّنْ آلِ فِرْعَونَ یَسُومُونَکُمْ سُوَءَ الْعَذَابِ یُقَتِّلُونَ أَبْنَاء کُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَاء کُمْ وَفِیْ ذَلِکُم بَلاء مِّن رَّبِّکُمْ عَظِیْم۔ (الاعراف: 141)

’’اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی‘‘(سید مودودی)
’’اوراس میں احسان ہے تمہارے رب کا بڑا‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’اور بیچ اس کے آزمائش تھی پروردگار تمہارے کی طرف سے بڑی‘‘ (شاہ رفیع الدین)
’’اور اس میں رب کا بڑا فضل ہوا‘‘(احمد رضا خان)
’’اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی بھاری آزمائش تھی‘‘ (محمدجونا گڑھی)
’’اور اس میں تمہارے رب کا بڑا احسان تھا ‘‘(احمد علی)

وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ اذْکُرُواْ نِعْمَۃَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ أَنجَاکُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَسُومُونَکُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَیُذَبِّحُونَ أَبْنَاء کُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَاء کُمْ وَفِیْ ذَلِکُم بَلاء مِّن رَّبِّکُمْ عَظِیْم۔ (ابراہیم: 6)

’’یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا ''اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ بچا رکھتے تھے اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی ‘‘ (سید مودودی)
’’اور اس میں مدد ہوئی تمہارے رب کی بڑی ‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’اور بیچ اس کے آزمائش تھی پروردگار تمھارے کی طرف سے بڑی ‘‘(شاہ رفیع الدین)
’’اور اس میں تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا‘‘ (احمد رضا خان)
’’اس میں تمہارے رب کی طرف سے تم پر بہت بڑی آزمائش تھی‘‘ (محمدجوناگڑھی)
اوپر کی تینوں آیتوں میں اگر بلاء کا ترجمہ آزمائش کریں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیٹوں کو ذبح کرنے کا عمل تو آل فرعون کی طرف سے تھا، پھر اسے اللہ اپنی طرف کیوں منسوب کرے گا، دوسری بات یہ ہے کہ اگر آل فرعون کا عمل اللہ کی طرف سے تھا، تو اس عمل سے نجات دینا اللہ کی نعمت کیسے شمار ہوگا۔ تیسری بات یہ ہے کہ تینوں آیتوں کا سیاق نعمت کا بیان ہے نہ کہ آزمائش کا بیان۔ خاص طور سے تیسری آیت تو صریح طور سے نعمت یاد دلانے کے مضمون پر مشتمل ہے۔ ان پہلووں کو سامنے رکھیں تو بلاء کا ترجمہ انعام زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔

فَلَمْ تَقْتُلُوہُمْ وَلَکِنَّ اللّہَ قَتَلَہُمْ وَمَا رَمَیْتَ إِذْ رَمَیْتَ وَلَکِنَّ اللّہَ رَمَی وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْہُ بَلاء حَسَناً إِنَّ اللّہَ سَمِیْعٌ عَلِیْم۔ (الانفال: 17)

’’پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا (اور مومنوں کے ہاتھ جو اِس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے، یقیناً اللہ سُننے والا اور جاننے والا ہے‘‘ (سید مودودی)
’’اور کیا چاہتا تھا ایمان والوں پر اپنی طرف سے خوب احسان‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’اور تو کہ آزمائش کرے ایمان والوں کو ساتھ نعمت کے اپنی طرف سے آزمائش نیک‘‘ (شاہ رفیع الدین)
’’اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھا انعام عطا فرمائے‘‘ (احمد رضا خان)
’’اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’اور تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے ان کی محنت کا خوب عوض دے‘‘ (محمدجوناگڑھی، یہاں محنت کا مفہوم نہیں ہے)
’’اور اپنی طرف سے اہل ایمان کے جوہر نمایاں کرے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’اور تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے ان کی محنت کا خوب عوض دے‘‘ (اشرف علی تھانوی، یہاں محنت کا مفہوم نہیں ہے)
أبلاہ اللہ بلاء حسنا تو بطور محاورہ اللہ کی طرف سے انعام واکرام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے بھی اکثر مترجمین نے یہاں اسی پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُہِیْنِ۔ مِن فِرْعَوْنَ إِنَّہُ کَانَ عَالِیْاً مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ۔ وَلَقَدِ اخْتَرْنَاہُمْ عَلَی عِلْمٍ عَلَی الْعَالَمِیْنَ۔ وَآتَیْنَاہُم مِّنَ الْآیَاتِ مَا فِیْہِ بَلَاء مُّبِیْنٌ۔ (الدخان: 30 ۔ 33)

’’اِس طرح بنی اسرائیل کو ہم نے سخت ذلت کے عذاب فرعون سے نجات دی جو حد سے گزر جانے والوں میں فی الواقع بڑے اونچے درجے کا آدمی تھا اور اُن کی حالت جانتے ہوئے، اُن کو دنیا کی دوسری قوموں پر ترجیح دی اور اُنہیں ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں صریح آزمائش تھی‘‘ (سید مودودی)
’’ہم نے انہیں وہ نشانیاں عطا فرمائیں جن میں صریح انعام تھا ‘‘(احمد رضا خان)
’’اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی ‘‘(محمدجوناگڑھی)
’’اور ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں کھلا ہوا انعام تھا‘‘ (امین احسن اصلاحی، اکثر جگہوں پر آنجناب نے آزمائش ترجمہ کیا ہے)
’’اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا‘‘ (اشرف علی تھانوی، اکثر مقامات پر آنجناب نے آزمائش اور امتحان کیا ہے)
اس مقام پر کئی مترجمین نے انعام ترجمہ کیا ہے، بلکہ بعض وہ لوگ جو ہر مقام پر آزمائش کا ترجمہ کرتے ہیں، انہوں نے یہاں انعام ترجمہ کیا ہے۔ آیت کا سیاق بھی یہاں بہت واضح دلالت کررہا ہے کہ بلاء کا ترجمہ انعام ہونا چاہئے۔

فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّہُ لِلْجَبِیْنِ۔ وَنَادَیْنَاہُ أَنْ یَا إِبْرَاہِیْمُ۔ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ۔ إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْبَلَاء الْمُبِیْنُ۔ (الصافات: 103 ۔ 106)

’’آخر کو جب اِن دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا اور ہم نے ندا دی کہ ''اے ابراہیم ؑ تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں یقیناًیہ ایک کھلی آزمائش تھی'' (سید مودودی)
’’بے شک یہی ہے صریح جانچنا ‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’تحقیق یہ بات وہی ہے آزمائش ظاہر‘‘ (شاہ رفیع الدین)
’’بیشک یہ روشن جانچ تھی‘‘ (احمد رضا خان)
’’درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا‘‘ (محمدجوناگڑھی)
سورہ دخان میں بہت سے لوگوں نے بلاء مبین کا ترجمہ صریح انعام کیا ہے، مگر اسی طرح کی تعبیر البلاء المبین کا ترجمہ یہاں سبھی لوگوں نے صریح آزمائش کیا ہے۔ حالانکہ سیاق یہاں بھی تقاضا کررہا ہے کہ انعام ترجمہ کیا جائے۔
مذکورہ بالا تمام مقامات پر ایک بات مشترک ہے کہ بلاء کا لفظ نجات مل جانے اور سرخ روئی حاصل ہوجانے کے بعد آیا ہے۔ جس سے یہ بات اور روشن ہوجاتی ہے کہ لفظ بلاء ان سبھی مقامات پر انعام اورنوازش کے معنی میں ہے۔
تراجم کا جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ تقریبا ہر مترجم نے اگر کہیں آزمائش ترجمہ کیا ہے تو اسی مترجم نے دوسرے مقام پر انعام ترجمہ کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں وہ کوئی ایک حتمی موقف نہیں رکھتے تھے۔
(جاری)

حضرت حاجی عبد الوہابؒ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت حاجی عبد الوہابؒ کی وفات کا صدمہ دنیا بھر میں محسوس کیا گیا اور اصحاب خیر و برکت میں سے ایک اور بزرگ ہم سے رخصت ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ حاجی صاحب محترم دعوت و تبلیغ کی محنت کے سینئر ترین بزرگ تھے جنہوں نے حضرت مولانا محمد الیاس دہلویؒ، حضرت مولانا محمد یوسف دہلویؒ، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا سہارنپوریؒ اور حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلویؒ جیسے بزرگوں کی معیت و رفاقت کی سعادت حاصل کی اور زندگی بھر اسی کام میں مصروف رہے۔ وہ حقیقی معنوں میں فنا فی التبلیغ تھے اور دعوت و تبلیغ کے تقاضوں، نزاکتوں اور اتار چڑھاؤ کو نہ صرف بخوبی سمجھتے تھے بلکہ کئی مشکل مراحل میں ان کی راہنمائی اور دعائیں مشکلات کے حل میں بروقت کام آ جاتی تھیں۔ دین یا دنیا کا کوئی کام اس قدر وسعت اور قبولیت حاصل کر لے تو اسی حساب سے مشکلات اور الجھنوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے جو کہ فطری بات ہے، البتہ حضرت حاجی صاحبؒ کی موجودگی ہمارے جیسے کارکنوں کے لیے اطمینان کا باعث ہوتی تھی کہ بات ایک حد سے آگے نہیں بڑھ پائے گی۔
حضرت عمر فاروقؓ نے ایک بار حضرت حذیفہ بن الیمانؓ سے پوچھا تھا کہ امت میں رونما ہونے والے اجتماعی فتنوں کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہو تو ہمیں بھی بتاؤ۔ حضرت حذیفہؓ نے بے ساختہ جواب دیا کہ آپ کے ہوتے ہوئے ایسے کسی فتنہ کا ہمیں ڈر نہیں ہے۔ مجھے آج کے حالات کے تناظر میں حضرت عمرؓ کے خلوص و دبدبہ کے اس پہلو کی ایک جھلک حضرت حاجی عبد الوہابؒ میں دکھائی دیتی تھی اس لیے جب حاجی صاحبؒ کی وفات کی خبر سنی تو جو دعائیں زبان پر جاری ہوئیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ بڑوں کے فوت ہو جانے پر جماعتوں، حلقوں اور اداروں میں جو مسائل کھڑے ہو جایا کرتے ہیں اللہ تعالٰی دعوت و تبلیغ کے اس عالمگیر عمل و محنت کو ان سے محفوظ رکھیں، آمین یا رب العالمین۔
میری ایک عرصہ سے حاجی صاحبؒ سے نیازمندی تھی اور ہمیشہ ان کی شفقتوں اور دعاؤں سے مستفید ہوتا تھا، اس کی ایک وجہ تو والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ ان کی عقیدت و محبت تھی جس کا مختلف مواقع پر عملی اظہار میں نے دیکھا ہے، ان کی وجہ سے مجھے بھی محبت سے نوازتے تھے۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ہمارے مخدوم حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کا شمار بھی جماعت کے بزرگوں میں ہوتا تھا اور مجھے ایک عشرہ سے زیادہ عرصہ تک مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ان کی خدمت کا شرف حاصل رہا ہے۔ وہ حاجی صاحب محترم کے ساتھیوں اور دوستوں میں سے تھے اور ان کے درمیان تعلق و محبت کے کئی مراحل کا میں شاہد ہوں۔
میرا ایک عرصہ سے تبلیغی جماعت کے ساتھ سال کے دوران ایک سہ روزہ لگانے کا معمول ہے اور یاد پڑتا ہے کہ شاید پہلا سہ روزہ میں نے ۱۹۶۳ء کے دوران گکھڑ کے قریب گاؤں کوٹ نورا میں لگایا تھا۔ ایک مرتبہ سہ روزہ کی تشکیل کے لیے رائے ونڈ حاضری ہوئی تو حضرت حاجی صاحبؒ نے ملاقات پر بے حد خوشی کا اظہار فرمایا اور جماعتی ساتھیوں سے کہا کہ اسے سہ روزہ کے لیے مرکز میں رکھو چنانچہ میں نے وہ دو تین روز مرکز میں ہی گزارے۔ کچھ عرصہ قبل گوجرانوالہ کے تبلیغی مرکز کی مسجد کے سنگ بنیاد کے لیے تشریف لائے تو میں بھی حاضر تھا، بہت خوش ہوئے اور دعاؤں سے نوازا۔ حاجی صاحب محترمؒ خود تو دعوت و تبلیغ ہی کے لیے وقف تھے اور ان کا ایک ایک لمحہ اسی کے لیے گزرتا تھا مگر ملک کی عمومی دینی صورتحال پر ان کی گہری نظر ہوتی تھی، وہ حالات کے اتار چڑھاؤ اور دینی جدوجہد کی ضروریات سے آگاہ رہتے تھے اور مشوروں سے نوازتے رہتے تھے۔ دینی مدارس کی حوصلہ افزائی اور علماء کرام کی قدردانی کا خاص ذوق رکھتے تھے اور وقتاً فوقتاً اس سلسلہ میں ساتھیوں کو ہدایات دیتے رہتے تھے۔
یہ اللہ تعالٰی کی بے نیازی اور حکمت کا ایک پہلو ہے کہ جس روز رائے ونڈ میں حضرت حاجی عبد الوہابؒ کے جنازہ اور تدفین کی تیاری ہو رہی تھی اسی روز ہمارے ایک ساتھی مولانا عبد الوہاب کا واہنڈو میں نکاح تھا۔ ان کے والد محترم بتاتے ہیں کہ وہ اپنی شادی سے قبل ہی تبلیغ سے وابستہ ہوگئے تھے جس کی برکت سے نہ صرف ان کا خاندان بلکہ رشتہ داروں کا پورا ماحول دینی اعمال کے دائرہ میں آگیا۔ انہوں نے اپنے ایک بیٹے کا نام حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ کے نام پر اور دوسرے بیٹے کا نام حاجی عبد الوہابؒ کے نام پر رکھا، جبکہ آٹھ بیٹوں کو دین کی تعلیم دلائی۔ مولوی عبد الوہاب جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل اور الشریعہ اکادمی میں درس نظامی کے استاذ ہیں، ان کا نکاح واہنڈو میں والد گرامیؒ کے ایک مرید خاص بھائی سردار صاحب کی بیٹی سے ہوا اور برادر عزیز مولانا عبد الحق خان بشیر نے نکاح پڑھایا۔ میں آج اس عجیب اتفاق کے بارے میں سوچ رہا ہوں کہ حضرت حاجی عبد الوہابؒ تو رات ہم سے رخصت ہوگئے مگر ان کے نام پر جس بچے کا نام رکھا گیا اور انہی کی دعوت و تلقین کے باعث جسے عالم دین بنایا گیا وہ عبد الوہاب آج نئی زندگی کا آغاز کر رہا ہے۔ اللہ تعالٰی حضرت حاجی صاحبؒ کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام سے نوازیں اور دعوت و تبلیغ کی عالمی محنت کو ان کے خلوص اور راہنمائی کے دائرے میں مسلسل ترقیات و ثمرات عطا فرمائیں، آمین ثم آمین۔

حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۳ نومبر منگل کو جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ میں حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی یاد میں تعزیتی سیمینار کا اہتمام تھا جس میں مولانا شہیدؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے علاوہ عمومی دینی جدوجہد کی صورتحال بھی گفتگو کا موضوع بنی اور کم و بیش اسی رائے کا اظہار کیا گیا جس کا گوجرانوالہ کے حوالہ سے سطور بالا میں ذکر ہوا ہے۔ اس تعزیتی سیمینار میں جمعیۃ علماء اسلام (س) سیالکوٹ کے امیر حافظ احمد مصدق قاسمی، جماعت اسلامی کے راہنما جناب عبد القدیر راہی اور اہل حدیث راہنما مفتی کفایت اللہ شاکر کے علاوہ راقم الحروف نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
بعد الحمد والصلٰوۃ۔ حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ اہل حق کے جری نمائندہ اور اکابر کی روایات کے امین تھے جن کی المناک شہادت سے ہر باشعور مسلمان دکھی اور غمزدہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نئی نسل کے لیے مولانا سمیع الحقؒ کی جدوجہد اور خدمات کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان علماء کرام اور دینی کارکن ان سے راہنمائی حاصل کر سکیں۔ اس محفل میں چند پہلوؤں کی طرف مختصرًا اشارہ کروں گا۔
اللہ تعالٰی مولانا سمیع الحق شہیدؒ کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور ان کے ورثاء و متوسلین کو ان کا مشن جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

آسیہ بی بی کی رہائی : سپریم کورٹ کے فیصلے کی اخلاقی و شرعی حیثیت

ڈاکٹر محمد شہباز منج

توہینِ رسالت کے مقدمے میں آسیہ  بی بی کیس میں  ملزمہ کو شک کا فائدہ دے کر رہا کرنے کے حوالے سے  سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے  کے نتیجے میں ایک دفعہ پھر سخت بحرانی و  ہیجانی کیفیت پیدا ہو ئی۔ متعدد مذہبی جماعتوں کی طرف سے  فیصلے کے خلاف شدید ردعمل آیا ہے۔ان کا عمومی موقف  یہ ہے کہ یہ فیصلہ  اسلام مخالف مغربی طاقتوں  کے دباؤ میں  آ کر کیا گیا ہے؛ یہ طاقتیں   اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کی توہین کے معاملے  کو لائیٹ سی چیز بنا دینے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، لہٰذا حضورﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ایسے فیصلےکے خلاف باہر نکل کر اہلِ اقتدار ،ملکی اداروں ،  عدالتوں اور مغربی طاقتوں کو باور کرایا جائے کہ اس طرح کے فیصلے اسلام دشمنی کا شاخسانہ ہیں اور اہلِ اسلام  ان کو کسی صورت قبول نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف  اس فیصلے کو درست سمجھنے والوں اور بہت سے ماہرینِ قانون و شریعت   کا موقف ہے کہ  عدالت نے میسر قرائن و شواہد کی روشنی میں درست    فیصلہ کیا؛ عدالت کے نزدیک   ملزمہ پر توہینِ رسالت   کا مقدمہ ثابت نہیں ہوا، لہذااسے سزاے موت دینے کا کوئی جواز نہیں۔ان سطور میں ہم اس طرح کے واقعات میں مغربی دباؤ سے متعلق مسلم رویے  کی وضاحت کے بعد یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں اسلامی اصولوں کا لحاظ رکھا گیا ہے یا نہیں؟ ججوں کا فیصلہ کسی دباؤ یا مفادات کے تحت سامنے آتا دکھائی دیتا ہے یہ عدل و انصاف کے شرعی اصولوں کی پاس داری کے تحت؟

مغرب کی اسلام دشمنی اور زیرِ نظر کیس میں  مسلمانوں سے مطلوب رویہ

مغرب اور اسلام کے نظریۂ حیات میں  فرق و تفاوت عیاں و بیاں ہے۔ اس فرق وتفاوت کے نتیجے میں  مغرب  اور اسلام دونوں میں  اپنے  اپنے تصورِ زندگی اور نظریات و تہذیب کے حوالے سے حساسیت بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے، جو تاریخی طور پر بھی اور لمحۂ موجود میں بھی  باہمی  تناؤ اور کشمکش    کی صورت میں  دیکھی جا سکتی ہے۔( مغرب اسلام  تاریخی مخالفت و مخاصمت  کےتناظر سے متعلق  تفصیلی بحث کا  یہاں موقع نہیں ۔اس حوالے سے راقم کے کئی مضامین شائع ہو چکے ہیں۔اس  موضوع سے دل چسپی رکھنے والے احباب کے لیے،میری کتاب"فکرِ استشراق اور عالم اسلام میں اس کا اثرو نفوذ" میں  بھی کافی مواد موجود ہے۔) جب بھی کوئی ایسا  نمایاں مسئلہ پیش آتا ہے ، جس کا کوئی  تعلق دونوں کی اس تاریخی و تہذیبی کشمکش سے بن رہا ہوتا ہے، تو فریقین آمنے سامنے آ جاتے  اور ایک دوسرے  کو نیچا دکھانے اور اپنی اپنی  برتری ثابت کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔مخاصمت اور تناؤ کی بنا پر غلط فہمیاں بڑھتی ہیں اورہر فریق یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دوسرا اس کے مفاد کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔
یہ بات درست مان لینے کے باوجود کہ مغربی طاقتیں اسلام اور مسلمانوں پر اپنا تہذیبی ، فکری اور سیاسی تسلط چاہتی ہیں،  نیز یہ کہ   یہودو نصاریٰ نے ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کی ہے؛ آج کا مغرب بھی مسلمانوں سے دشمنی و مخاصمت کے جذبات سے مملوہے (واضح رہے کہ میں نے خود اپنی مذکورہ بالا کتاب میں  ، مغرب اسلام تاریخی مخاصمت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مسلمانوں  اور اہلِ مغرب کے مواقف بیان کر نے کے ساتھ ساتھ  مسلمانوں کے  موقف کو موکد کیا ہے، اور یہودو نصاریٰ اور اہلِ مغرب کے موجودہ اسلام اور مسلم مخالف رویوں کو دلائل سے نمایاں کیا ہے)،مسلمانوں کواپنے مذہب سے  یہ اجازت حاصل نہیں ہو جاتی کہ  وہ کسی ایسے  شخص کے معاملے میں انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کر دیں ،جس سے مغرب کا مفاد وابستہ ہو یا وابستہ ہونے کا شک ہو۔قرآن کا بیان واضح ہے:
وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا ھوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ (المائدہ 5: 8)
کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس پر آمادہ نہ کرے کے انصاف نہ کرو، انصاف کرو، یہ تقوے سے قریب تر ہے۔
چناں چہ آسیہ مسیح کے کیس میں ، اسلام کے نقطۂ  نظر سے ، یہ دیکھے بغیر کہ کون  آسیہ کو بچانے کے درپے ہے؟  سب سے پہلے یہ دیکھنا پڑے گا کہ  مقدمہ فی الواقع کیا ہے؟اس حوالے سے اسلام اور شریعت و قانون کے تقاضے کیا ہیں؟ بہ الفاظِ دیگر  مغرب  کی اسلام سے دشمنی و مخاصمت اپنی جگہ لیکن آسیہ کیس  کو مسلمان  شریعت و قانون کے مطابق فیصل کرنے کے مذہبی لحاظ سے پابند ہیں۔

واقعے کا خلاصہ اور آسیہ کا بیان

سپریم کورٹ کے زیرِ نظر فیصلے کی اصولی ، اخلاقی اور شرعی حیثیت جانچنے کی بحث سے  قبل مقدمے کا تعارف ، شکایت گزار کے الزام اور اپیل گزار کے بیان  خلاصتاً سامنے رہنا ضروری ہیں۔لہٰذا ہم آگے بڑھنے سے پہلے واقعے کا خلاصہ اور آسیہ بی بی کا بیان  دیکھتے ہیں:
زیرنظر مقدمے کی ابتدا ا پولیس اسٹیشن ننکانہ صاحب میں ،ایف آئی آر نمبر326مورخہ 19-06-2009 کو زیردفعہ-C 295تعزیرات پاکستان مجریہ 1860ء کے تحت ہوئی۔یہ مقدمہ قاری محمد سلام (PW.1)، جو کہ مقامی مسجد کا امام ہے، کے ایما پر درج کیا گیا۔اپیل گزار مسماۃ آسیہ بی بی ، جو گاؤں کے عیسائی طبقے سے تعلق رکھتی ہے،  پر الزام لگایا گیا کہ  اس نے مورخہ 14-06-2009 کوکچھ دیگر مسلمان ساتھی خواتین کے سامنے  محمد ادریس (PW.1) کے کھیت سے، جو موضع اٹاں والی تھانہ ننکانہ صاحب کی حدود میں واقع ہے، فالسہ(بیری کی ایک قسم جسے گریویا ایشیا ٹیکا بھی کہا جاتاہے) چنتے ہوئے ، حضرت محمدﷺاور قرآن کریم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔(کریمینل اپیل نمبر (–L of 2015 39) ، مسماۃ آسیہ بی بی بنام ریاست پاکستان وغیرہ ،فیصلہ چیف  جسٹس میاں ثاقب نثار، پیرا نمبر16، تاییدی رائے جسٹس آصف سعید کھوسہ ، پیرا نمبر2) الزام یہ تھا کہ اپیل گزار نے کچھ ایسی باتیں کہیں جیسے (نعوذ باللہ) حضرت محمدﷺاپنی وفات سے قبل شدید علیل ہو کر بستر سے لگ گئے تھے اور آپﷺ کے ذہنِ مبارک اور کانِ مبارک میں کیڑے پیدا ہو گئے تھے، آپ ﷺنے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاسے نکاح اُن کی دولت کے حصول کے لیے کیا تھا اور دولت حاصل کر کے آپﷺ نے انھیں چھوڑ دیا تھا۔  الزام کے مطابق اُسی موقع پر اپیل گزار نے یہ الفاظ بھی کہے کہ قرآن کریم خدا کی  کتاب نہ ہے ،بلکہ خود ساختہ کتاب ہے۔(جسٹس آصف سعید کھوسہ ، پیرا نمبر2)  مذکورہ گواہان استغاثہ نے وقوعہ کے متعلق شکایت گزار قاری محمد سلام کو مطلع کیا، جس نے مورخہ19-06-2009کو اپیل گزار کو ایک عوامی اجتماع میں طلب کیا اور وقوعے کے متعلق معلومات حاصل کیں، جہاں پر اپیل گزار نے اپنے جرم کا اقرار کیا۔ اس کے بعد قاری محمد سلام نے پولیس کے پاس ایک درخواست دائر کی جس کی بنا پر مذکورہ ایف آئی آر کا اندراج ہوا۔( چیف  جسٹس، پیرا نمبر16)
فریقین کے فاضل وکلا کو سننے اور مقدمے کے ریکارڈ کو ان کی معاونت سے جائزہ لینے کے بعد میں نے مشاہدہ کیا کہ استغاثہ نے اپیل گزار کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے کے لئے سات گواہان کو پیش کیا۔ قاری محمد سلام /شکایت گزار ابتدائی اختیار سماعت کی عدالت کے روبرو بطور (PW.1) پیش ہوا اور اس نے وقوعہ کا تین خواتین کے ذریعے پتہ چلنے، مورخہ 09-06-2009 کو ایک عوامی اجتماع (جرگے) کے انعقاد اور اپیل گزار کے مبینہ طور پر اپنے گناہ کا اعتراف کرنے اور معافی کی درخواست گزار ہونے اور پھر اس کی جانب سے مورخہ 19-06-2009کو ایک ایف آئی آر درج کروانے کے متعلق بیان دیا۔ معافیہ بی بی (PW.2) نے وقوعہ مورخہ 14-06-2009 کو فالسے کے کھیت میں پیش آنے، اس کی جانب سے شکایت گزار کو وقوعہ کی اطلاع دینے، مورخہ 19-06-2009 کو عوامی اجتماع (جرگے) کے انعقاد، وہاں اپیل گزار کے مبینہ طور پر اقبالِ جرم کرنے اور معافی مانگنے کے متعلق بیان دیا۔ اسماء بی بی (PW.3) نے بھی تقریباً انھی حالات وواقعات کو دہرایا، جن کے متعلق بیان معافیہ بی بی (PW.2) نے دیا تھا۔ محمد افضل (PW.4) نے بھی قاری محمد سلام /شکایت گزار، معافیہ بی بی (PW.2) اور اسماء بی بی (PW.3) کی جانب سے اپیل گزار کے ہاتھوں مبینہ توہینِ رسالت کی اطلاع ملنے اور مورخہ 19-06-2009 کو عوامی اجتماع (جرگہ) کے انعقاد ، جہاں اپیل گزار نے مبینہ طور پر اپنے جرم کا اعتراف کیا اور معافی کی درخواست گزار ہوئی، کے متعلق بیان دیا۔ محمد رضوان سب انسپکٹر (PW.5) نے تھانے میں روایتی ایف آئی آر کا اندراج کیا۔ محمد امین بخاری (ایس پی) انویسٹی گیشن بطور گواہِ استغاثہ (PW.6) پیش ہوئے اور بیان دیا کہ مقدمے کی تفتیش انھوں نے کی ہے، محمد ارشد سب انسپکٹر (PW.7) اس مقدمے میں ابتدائی تفتیشی افسر تھا اور اس نے 19-06-2009 کو جاے وقوعہ کا دورہ کرنے، گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنے، اپیل گزار کو گرفتار کرنے، مجسٹریٹ سے اس کا عدالتی ریمانڈ کروانے اور اس کو جوڈیشل لاک اپ بھیجنے کے متعلق بیان دیا۔ مقدمے کے متعلق ابتدائی عدالت ِ سماعت میں کچھ دستاویزات بھی استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئیں۔ ابتدائی عدالت ِ سماعت نے محمد ادریس کو بطور عدالتی گواہ (CW.1) سمن بھیجا اور اس کا بیان ریکارڈ کیا، جس نے بیان کیا کہ وہ فالسے کے کھیت کا جہاں وقوعہ رو پذیر ہوا کا مالک ہے۔اس نے یہ بھی بتایا کہ اپیل گزار نے اس کے سامنے مورخہ 14-06-2009 کو اپنے جرم کا اعتراف کیا، اس نے شکایت گزار کو واقعہ کی اطلاع دینے، عوامی اجتماع (جرگے) کے 19-06-2009 کو انعقاد اور افسرِ تفتیش کے سامنے گناہ کے ارتکاب کے اقبال کے متلق بیان دیا۔ اپیل گزار نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اور اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ یہ مقدمہ اس کے خلاف کیوں  درج کیا گیا اور استغاثہ کے گواہان اس کے خلاف بیان کیوں دے رہے ہیں؟ یہ بیان دیا:" میں ایک شادی شدہ خاتون اور دو بچوں کی ماں ہوں میرا خاوند ایک غریب مزدور ہے ،میں محمد ادریس کے کھیتوں میں دیگر کئی خواتین کے ہمراہ روزانہ کی اجرت کے عوض فالسے چننے جایا کرتی تھی ،مبینہ وقوعہ کے روز میں دیگر کئی خواتین کے ہمراہ کھیتوں میں کام کررہی تھی  کہ مسماۃ معافیہ اور مسماۃ اسماء بی بی(گواہان استغاثہ) کے ساتھ پانی بھر کے لانے پر جھگڑا ہوگیا ،جو میں نے ان کو پیش کرنا چاہا، لیکن انھوں نے یہ کَہ کر منع کردیا چونکہ میں عیسائی ہوں اس لئے وہ کبھی بھی میرے ہاتھ سے پانی نہیں پئیں گی۔ اس بات پر میرے اور استغاثہ کی گواہان خواتین کے درمیان جھگڑا ہوا اور کچھ سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا، اور اس کے بعد استغاثہ کی گواہان قاری سلام / شکایت گزار تک اس کی بیوی کے ذریعے پہنچیں ، جو ان دونوں خواتین کو قرآن پڑھاتی تھی۔ ان استغاثہ کے گواہان نے قاری سلام سے مل کر سازش کے تحت میرے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ گھڑا۔ میں نے پولیس کو کہا کہ میں بائیبل پر حلف اٹھانے کو تیار ہوں کہ میں نے کبھی حضرت محمدﷺکے متعلق توہین آمیز الفاظ بیان نہیں کہے۔ میں قرآن اور اللہ کے پیغمبرﷺ کے لیے  دل میں عزت اور احترام رکھتی ہوں، لیکن چونکہ پولیس بھی شکایت گزار سے ملی ہوئی تھی اس لئے پولیس نے مجھے اس مقدمے میں غلط طور پر پھنسایا۔ استغاثہ کی گواہان سگی بہنیں ہیں اور اس مقدمے میں مجھے بدنیتی سے پھنسانے میں دلچسپی رکھتی ہیں، کیونکہ ان دونوں کو میرے ساتھ جھگڑے اور سخت الفاظ کے تبادلے کی وجہ سے بے عزتی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ قاری سلام / شکایت گزار بھی مقدمے میں اپنا مفاد رکھتا ہے ،کیونکہ یہ دونوں خواتین اس کی زوجہ سے قرآن پڑھتی رہی تھیں۔ میرے آباؤاجداد اس گاؤں میں قیامِ پاکستان سے رہائش پذیر ہیں، میں بھی تقریباً چالیس برس کی ہوں۔ وقوعے سے پہلے ہمارے خلاف کبھی بھی اس قسم کی کوئی شکایت نہیں کی گئی۔ میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں اور گاؤں میں رہتی ہوں ،لہٰذا اسلامی تعلیمات سے نابلد ہونے کی وجہ سے میں کیسے اللہ کے نبیﷺ اور الہامی کتاب یعنی قرآن پاک کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے بے ادبی کی مرتکب ہوسکتی ہوں! استغاثہ کا گواہ ادریس بھی ایسا گواہ ہے، جو مقدمے میں اپنا مفادرکھتا ہے۔ کیونکہ اس کا متذکرہ بالا خواتین سے قریبی تعلق ہے۔(جسٹس کھوسہ، پیرا نمبر7)

کیس کے مختلف پہلوؤں پر  بحث و نظر

اب ہم  فیصلےکے اہم نکات کواصول واخلاق اور شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ پہلے ہم ان پہلوؤں  کو لیتے ہیں ، جو ہمارے نزدیک  اصولاً، اخلاقاً اور شرعاً مضبوط بنیادیں رکھتے ہیں، بعد میں ہم ان ضمنی اور ذیلی پہلوؤں کی نشان دہی بھی کریں گے ، جو ہمارے  نزدیک کمزور ہیں،  آخر میں نتیجۂ بحث پیش کیا جائے گا:

مضبوط  اخلاقی و شرعی بنیادوں پر مبنی پہلو

جہان تک سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے  کے شرعی  وقانونی ضوابط کے موافق یا مخالف ہونے کا سوال  ہے، تو راقم نے اس فیصلے کے تفصیلی اور عمیق مطالعے سے یہ رائے قائم کی ہے کہ اس میں  بعض ضمنی و ذیلی کمزور پہلوؤں کو چھوڑ کر بحیثیتِ مجموعی اس میں  شرعی و قانونی ضوابط  کواصولی  طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے،  ان  اصول وضوابط  سے  انحراف  نظر نہیں آتا۔ اس دعوے کے دلائل میں فیصلے سے بہت سے نکات پیش کیے جا سکتے ہیں، لیکن یہاں ہم چند اہم نکات  پیش کرتے ہیں:

الزام  مدعی کو ثابت کرنا ہوتا ہے

یہ شریعتِ اسلامیہ کا مسلّمہ اصول ہے کہ جو شخص الزام لگائے اسے اپنے الزام کو ثابت بھی کرنا ہوتا ہے۔ اگر محض دعوے پر مدعا علیہ  کے خلاف فیصلہ دے دیا جائے تو معاشرتی نظم تباہ  ہو جائے گا، اور سوسائٹی میں نا انصافی کا دور دورہ ہوگا۔ نبی کریمﷺ کا ارشادِ مبارک ہے:
 لو يُعطی الناس بدعواہم ، لادّعَی ناسٌ دماءَ رجالٍ وأموالہم . ولكن اليمينَ علی المدّعَی عليہ (صحیح مسلم،حدیث  نمبر 1711)
اگر لوگوں کو محض ان کے دعوے کے مطابق دے دیا جائے تو لوگ لوگوں کے مال و خون  کے درپے ہو جائیں گے۔ لیکن قسم مدعا علیہ پر ہے۔
ایک دوسری جگہ یہی بات ان الفاظ  میں روایت ہوئی ہے:
عن ابن عباسٍ رضي اللہ عنہما: أن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم قال: لو يعطی الناس  بدعواھم لادعی رجالٌ أموال قومٍ ودماءہم، لكن البينۃ علی المدعی واليمين علی من أنكر (البیہقی،10/252؛البلوغ، 1408؛ الفتح۔5/283)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں پر دیا جانے لگے، تو کچھ لوگ لوگوں کے اموال اور خونوں پر دعوے کرنے لگیں، لیکن دلیل مدعی کے ذمے ہے اور قسم انکار کرنے والے پر۔
اس حدیث  کی دینی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ محدثین نے اس حدیث کو شرعی قواعد میں سے ایک عظیم قاعدہ  ،اسلامی اصولِ احکام  اوربابِ قضا کی اصل، اور جھگڑوں اور تنازعات میں  میں عظیم ترین مرجع قرار دیا ہے۔(دیکھیے :الفتوحات الربانیہ علی الاذکار النواویۃ ،7/349؛ شرح مسلم للنووی،4/12؛ شرح الاربعین لابن دقیق العید،99؛ الالمام باحادیث الاحکام،351۔) 
اب زیر نظر مقدمے کو دیکھیے ، جج صاحبان نے اس  شرعی و قانونی  ضابطے کو پورے طور پر پیش نظر رکھا ہے۔ پورے کیس میں ان کا  یہ احساس برابر دکھائی دیتا ہے کہ دعویٰ کسی کے خون پر ہے اور محض مدعی کے دعوے کی بنیاد پر  کوئی بے گناہ موت کے گھاٹ نہ اتر جائے۔فیصلے میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار لکھتے ہیں: 
It is a well settled principle of law that one who makes an assertion has to prove it. Thus, the onus rests on the prosecution to prove guilt of the accused beyond reasonable doubt throughout the trial. Presumption of innocence remains throughout the case until such time the prosecution on the evidence satisfies the Court beyond reasonable doubt that the accused is guilty of the offense alleged against him. There cannot be a fair trial, which is itself the primary purpose of criminal jurisprudence, if the judges have not been able to clearly elucidate the rudimentary concept of standard of proof that prosecution must meet in order to obtain a conviction. Two concepts i.e., “proof beyond reasonable doubt” and “presumption of innocence” are so closely linked together that the same must be presented as one unit. If the presumption of innocence is a golden thread to criminal jurisprudence, then proof beyond reasonable doubt is silver, and these two threads are forever intertwined in the fabric of criminal justice system…Where there is any doubt in the prosecution story, benefit should be given to the accused, which is quite consistent with the safe administration of criminal justice. Further, suspicion howsoever grave or strong can never be a proper substitute for the standard of proof required in a criminal case, i.e. beyond reasonable doubt. In the presence of enmity between the accused and the complainant/witnesses, usually a strict standard of proof is applied for determining the innocence or guilt of the accused.
یہ قانون کا ایک مسلّمہ اصول ہے کہ جو شخص کوئی کلیم کرتا ہے اس کو ثابت کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پس یہ استغاثہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تمام کارروائی میں ملزم کے ارتکابِ جرم کو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرے۔۔۔شفاف سماعتِ مقدمہ جو کہ از خود فوجداری اصولِ قانون کا بنیادی جُز ہے اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک منصفین خود واضح طور پر اُس معیار ثبوت کے بنیادی نظریے کی توجیہ نہ کریں گے، جس پر کار بند ہونا استغاثہ کے لئے سزا کے احکامات حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ دو نظریات یعنی "شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کرنا" اور "قیاسِ بے گناہی "ایک دوسرے سے اس قدر منسلک ہیں کہ ان کو ایک ہی سمجھا جا سکتاہے۔ اگر "قیاس بے گناہی " فوجداری اصول قانون کی طلائی کڑی(اصول) ہے ،تو "شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کرنا" نقرئی کڑی(اصول) ہے، اور یہ دونوں کڑیاں ہمیشہ سے ہی فوجداری نظام انصاف کے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ رہی ہیں… جہاں کہیں بھی استغاثہ کی کہانی میں کوئی جھول ہوتاہے اس کا فائدہ ملزم کو دیا جانا چاہیے جو کہ فوجداری انصاف کی محفوظ فراہمی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ مزید برآں شبہ جس قدر بھی مضبوط اور زیادہ ہو کسی طور پر بھی فوجداری مقدمے میں ضروری بارِ ثبوت کی جگہ نہیں لے سکتا۔ ملزم اور گواہان/شکایت گزار کے مابین عناد کی موجودگی میں عام طور پر گناہ یا بے گناہی کو ثابت کرنے کے اعلیٰ ترین معیارِ ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ (مسماۃ آسیہ بی بی بنام ریاست پاکستان وغیرہ ، فیصلہ میاں ثاقب نثار، چیف جسٹس، پیرانمبر 48)

ثبوتِ جرم اور گواہوں کی سچائی

اصولِ شریعت  وقانون کی رو سے ثبوت ِ جرم کے لیے  گواہوں کا سچا  ہونا ضروری ہے۔ گواہ کو چاہیے کہ جو واقعہ جس طرح پیش آیا ہو ، اسے فطری طریقۂ اظہار کے مطابق اسی طرح بیان کرے ، اس میں کسی چیز کو قصدا ًچھپانا جرم ہے ۔ قرآن  ِحکیم کا ارشاد ہے:
وَلَا تَكْتُمُوا الشَّہادَةَ ۚ وَمَن يَكْتُمْہا فَإِنَّہ آثِمٌ قَلْبُہ (البقرہ2: 283)
اور گواہی کو مت چھپاؤ، جو کوئی اسے چھپائے گا اس کا دل گنہگار ہو گا۔
  واضح رہے کہ گواہی دیتے ہوئے کسی واقعے کی تفصیل میں کمی بیشی اور چیز ہے ، لیکن کسی واقعے میں  خاص اہمیت کے حامل کسی جزئیے کو قصداً چھپانا بالکل دوسری چیز ہے۔جج کسی ایسے شخص کی گواہی پر شریعت و قانون کے نقطۂ نظر سے اعتبار نہیں کر سکتا،جو جان بوجھ کر واقعے سے متعلق خاص اہمیت کی بات کو جان بو جھ کر گول کرتا ہے، خصوصاً جب کہ  ایسے مشکوک گواہ کی گواہی پر کسی شخص کو موت کی سزا سنائی جانی ہو۔ آسیہ کیس میں گواہ خواتین  واضح طور پر ایک نہایت اہم متعلقہ واقعے  کو چھپانے کی مرتکب ہوئی ہیں۔ بنا بریں وہ متعلقہ معاملے میں  شرعی اعتبار سے قابلِ قبول گواہ کی شرط پر پورا نہیں اترتیں۔مذکورہ فیصلے میں فاضل جج صاحبان نےاس  بات کو بھی خصوصی اہمیت دی ہے۔ جسٹس آصف  سعید کھوسہ نے فیصلے پر اپنی تاییدی رائے کے پیرانمبر9 میں  لکھا ہے:
Muhammad Amin Bukhari, SP (Investigation) (PW6) as well as the owner of the relevant field of Falsa namely Muhammad Idrees (CW1) had categorically stated before the trial court that the derogatory words were uttered by the appellant when there was a religious discussion between the appellant and her Muslim co-workers in the field of Falsa after Mafia Bibi (PW2), Asma Bibi (PW3) and other Muslim co-workers had stated that they would not drink water from the hands of the appellant who was a Christian by faith. According to the said witnesses it was on the basis of the said stance of the appellant’s Muslim co-workers that a “quarrel” had taken place and during the said quarrel the appellant had uttered the derogatory words against the Holy Prophet Muhammad (Peace Be Upon Him) and the Holy Qur’an. This shows that, according to the prosecution itself, the appellant had uttered the derogatory words attributed to her after the appellant’s religion was insulted and her religious sensibilities had been injured by her Muslim co-workers including Mafia Bibi (PW2) and Asma Bibi (PW3). It is unfortunate that in the FIR lodged by Qari Muhammad Salaam complainant (PW1) and in their statements made before the police under section 161, Cr.P.C. no mention was made by Qari Muhammad Salaam complainant (PW1), Mafia Bibi (PW2) and Asma Bibi (PW3) regarding any such verbal exchange or quarrel. It is also disturbing to note that both Mafia Bibi (PW2) and Asma Bibi (PW3) had completely suppressed this factual aspect of the case in their examinations-in-chief before the trial court and when it was suggested to them by the defence during their cross examination they simply denied any such verbal exchange and the ensuing quarrel. It is, thus, obvious that both Mafia Bibi (PW2) and Asma Bibi (PW3) had no regard for the truth and they were capable of deposing falsely and also that the said semi-literate young sisters had a reason to level allegations against the appellant which could be untrue. 
سینئر افسرِ تفتیش محمد امین بخاری، سپرنٹنڈنٹ پولیس (انویسٹی گیشن) (PW6)نے، اور فالسے کے متعلقہ کھیت کے مالک محمد ادریس (CW1)نے واضح طور پر ابتدائی سماعت کی عدالت کے روبرو بیان دیا کہ اپیل گزار نے توہین آمیز الفاظ اپیل گزار اور اس کی مسلمان ساتھی خواتین ،جو اس کے ساتھ فالسے کے کھیت میں کام کرتی تھیں، کے مابین کسی مذہبی بحث کے دوران کہے، جب معافیہ بی بی (PW2)اور اسماء بی بی (PW3)اور دیگر مسلمان خواتین نے کہا کہ وہ اپیل گزار کے ہاتھ سے پانی نہیں پییں گی ،کیونکہ وہ عیسائی فرقے سے تعلق رکھتی ہے۔ان گواہان کے مطابق اپیل گزار کی مسلمان ساتھیوں کے اس موقف پراِن کے درمیان جھگڑا ہوا اور مذکورہ لڑائی کے دوران اپیل گزار نے حضرت محمدﷺ اور قرآن کریم کی شان میں گستاخانہ الفاظ کا استعمال کیا ۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ خود استغاثہ کے مطابق، اپیل گزار نے وہ الفاظ جن کا اُس پر الزام لگایا جا رہاہے ،اپنے مذہب کی توہین اور اپنی ساتھی خواتین بشمول معافیہ بی بی(PW2)اور اسماء بی بی (PW3)کی جانب سے اپنے مذہبی احساسات مجروح ہونے کے بعد کہے۔ بدقسمتی سے قاری محمد سلام/شکایت گزار (PW1) کی جانب سے ایف آئی آر کا اندراج کرواتے ہوئے اورضابطۂ فوجداری کی دفعہ 161کے تحت اپنابیان ریکارڈ کرواتے ہوئے قاری محمد سلام/شکایت گزار(PW1)، مسماۃ معافیہ بی بی (PW2)اور اسماء بی بی(PW3)نے کہیں بھی سخت جملوں کے تبادلے اور لڑائی کا تذکرہ نہیں کیا۔ یہ مشاہدہ بھی افسوسناک ہے کہ مسماۃ معافیہ بی بی (PW2) اور اسماء بی بی (PW3)نے مقدمے کے اس حقیقی عنصر کو ابتدائی عدالت سماعت کے روبرو دورانِ جرح مکمل طور پر چھپایا اور جب وکیلِ صفائی نے دوران جرح ان سے اس ضمن میں سوال تجویز کیا، تو انھوں نے کسی قسم کے سخت الفاظ کے تبادلے اور اس کے بعد میں ہونے والے جھگڑے سے انکار کیا۔ پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ دونوں خواتین معافیہ بی بی (PW2) اور اسماء بی بی (PW3) کو سچائی کا کوئی پاس نہیں اور وہ جھوٹا بیان دے سکتی ہیں اور ان دونوں نوجوان نیم خواندہ خواتین کے پاس اپیل گزار کے خلاف جھوٹا الزام عائد کرنے کی وجہ  موجودتھی۔ 
آسیہ اور اس کی مسلمان ساتھیوں معافیہ اور اسماء کے درمیان جھگڑا ہی تو اس سارے وقوعے کی بنیاد تھا، اس کے ذکر کیے بغیرواقعے کی حقیقی نوعیت کا کھلنا محال تھا، لیکن  معافیہ اور اسما نے  نہ صرف اس کا ذکر کرنے سے گریز کیا  بلکہ اس کا انکار کیا۔اب یا تووہ  خود جانتی تھیں کہ اس واقعے کے تذکرے سے ان کا کیس کمزور ہوگا، یہ  ان کے وکلا نے ان کو پڑھایا ہو گا کہ اس کے ذکر سے کیس کمزور ہوگا، لہذا تم نے اس کاذکر بھی نہیں کرنا اور اگر پوچھا جائے تو اس کا انکار بھی کرنا ہے! جو بھی صورت ہو  جج کے لیے شک کرنے کی معقول وجہ ہے کہ جن  خواتین نے اتنے اہم واقعے کو جان بوجھ کر چھپایا وہ  ملزمہ پر الزام کے حوالے سے بھی جھوٹ بول سکتی ہیں! خواتین تو رہیں ایک طرف خود شکایت گزار قاری صاحب نے بھی ایف آئی آر کا اندراج کرواتے ہوئے اورضابطۂ فوجداری کی دفعہ 161کے تحت اپنابیان ریکارڈ کرواتے ہوئے، متعلقہ خواتین کے درمیان کسی جھگڑے یا سخت جملوں کے تبادلے کا ذکر نہیں کیا۔ جس سے واضح ہے کہ ان تینوں لوگوں نے وقوعے کی ایک نہایت اہم کڑی کو چھپایا۔
جسٹس کھوسہ نے اپنی رائے کے پیرا نمبر 10 میں  فالسے کے کھیت کے مالک محمد امین کے بہ طور گواہ شامل ہونے کو بھی مشکوک قرار دیا ہے، اوراس کی بھی معقول وجہ ہے، اگر محمد امین کے سامنے فالسےکے کھیت میں  ملزمہ نے اعتراف جرم کر کے معافی مانگی تھی  تو یہ بھی نہایت  اہم واقعہ تھا، جس کو ذکر شکایت گزار قاری محمد سلام  اور معافیہ بی بی واسما بی بی کو اپنے بیانات میں کرنا چاہیے تھا، لیکن انھوں نے کہیں اس کا ذکر نہیں کیاکہ ملزمہ نے کھیت کے مالک کے سامنے بھی اقرارِ جرم کیا تھا۔ اس کا بیان ایف آئی آر کے اندراج کے 15 دن بعد اور وقوعے  کے20 دن بعد ایس پی انویسٹی گیشن  کے روبرو سامنے آتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ  اس کو اس کیس میں بعد ازاں شامل کیا گیا۔ 
گواہوں کی جانب سے جھگڑے کی بات چھپانے کو نمایاں کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں  لکھا ہے کہ  اسما بی بی (PW.3) نے پانی پلانے کے معاملے پر کسی  جھگڑے کا انکار کیا ، لیکن  کھیت کے مالک محمد ادریس (CW.1)نے اپنے بیانِ ابتدائی میں قبول کیا کہ اپیل گزار اور چشم دید گواہان کے مابین جھگڑا ہوا تھا۔(چیف جسٹس ، پیرانمبر47)
گواہوں کی گواہی کے حوالے سے جج صاحبان  کے شریعت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنے کے نظریے کی تایید فیصلے میں موجود اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ  اس ضمن میں انھوں نے ایک سے زیادہ مقامات  پر ان آیاتِ قرآنی کا حوالہ دیا ہے، جو مسلمانوں  کو جھوٹی گواہی سے احتراز  اور ہر صورت میں سچی گواہی  دینے کی تلقین کرتی  ہیں۔  مثلاً جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنی رائے کے پیرا نمبر 20 میں میں واضح کیا ہے کہ مقدمہ ہذا میں ہر واقعاتی زاویے کے متعلق استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ شہادتوں میں واضح اور یقینی تضادات، جن کا میں نے متذکرہ بالا سطور میں مشاہدہ کیا، سے یہ افسوس ناک اور ناقابلِ انکار تاثر قائم ہوتا ہے کہ ان تمام افراد جن کے ذمے شہادتیں اکٹھی کرنا اور تفتیش کرنے کا کام تھا، نے ملی بھگت سے یہ طے کیا ہوا تھا کہ وہ سچ نہیں بولیں گے، یا کم از کم مکمل سچائی کو باہر نہیں آنے دیں گے۔ یہ امر مساوی طور پر پریشان کن ہے کہ ذیلی عدالتیں متذکرہ تضادات اور خالصتاً جھوٹ پر دھیان دینے میں ناکام رہیں۔تمام متعلقہ افراد یقیناً اچھی طرح کام کرسکتے تھے، اگر انھوں نے اللہ تبارک تعالیٰ کے ان حکام پر جو قرآن کریم میں درج ہیں ،دھیان دیا ہوتا کہ "اے ایمان والو! خدا کے لئے انصاف کی گواہی دینے کے لئے کھڑے ہو جایا کرو ،اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیز گاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمھارے سب اعمال سے خبردار ہے۔" (سورۃ المائدہ آیت8) "اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لیے سچی گواہی دو خواہ (اس میں) تمھارا یا تمہارے ماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو۔ اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیرخواہ ہے، تو تم خواہش ِنفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔ اگر تم پیچیدہ شہادت دو گے یا (شہادت سے) بچنا چاہو گے تو (جان رکھو) خدا تمھارے سب کاموں سے واقف ہے۔ (سورۃ النساء آیت 135 )
جسٹس کھوسہ نے جرگہ اور عوامی اجتماع سے متعلق حقائق کے معاملے میں  بھی متعلقہ لوگوں کی  سچائی کو باریک بینی سے پرکھنے کی کوشش کی ہے۔پیرا نمبر 14میں ان کا کہنا ہے کہ مقدمہ ہذاکی ایک اور مبینہ پیش رفت عوامی اجتماع (جرگہ) کا انعقاد ہے جو 19-06-2009 کو منعقد ہوا ، جس میں اپیل گزار کو بلایا گیا اور بیانات کے مطابق اس نے وہاں اعتراف جرم کیا اور معافی کی خواست گار ہوئی۔ مجھے لگتا ہے کہ عوامی اجتماع (جرگہ) اور وہاں جو کچھ بھی ہوا کے متعلق استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ شہادت نہ صرف سوچی سمجھی بلکہ محض اختراع کو سانچے میں ڈھالنے کی کوشش ہے۔ مذکورہ عوامی اجتماع مورخہ 19-06-2009 کو دوپہر کے وقت منعقد ہوا اور اپیل گزار کے خلاف قاری محمد سلام / شکایت گزار (PW.1) کی جانب سے مبینہ توہین رسالت کے جرم کے متعلق ایف آئی آر مقامی تھانے میں اسی روز مورخہ 19-06-2009 کو شام 05:45 پر درج کی گئی ،لیکن یہ مشاہدہ انتہائی حیران کن ہے کہ ایف آئی آر میں عوامی اجتماع جو اسی دن ہوا اور اس اجتماع میں اپیل گزار کو بلانے اور اس کی جانب سے مجمع کے سامنے اقبال ِجرم کرنے اور معافی مانگنے کا تذکرہ نہیں۔ واقعہ کی تفصیل جو ایف آئی آر میں درج ہے، اس کے مطابق مورخہ 19-06-2009کو قاری محمد سلام شکایت گزار (PW.1)، محمد افضل (PW.4) اور مختار احمد نے اسماء بی بی (PW.3) وغیرہ کو بلایا اور جب اپیل گزار سے مورخہ 14-06-2009 کو وقوع پذیر واقعہ کے متعلق پوچھا تو اس نے اعتراف کیا اور معافی مانگی۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ابتدائی تفتیشی آفیسر محمد ارشد سب انسپکٹر (PW.7) نے اس ہی دن معافیہ بی بی (PW.2)، اسماء بی بی (PW.3) اور محمدافضل (PW.4) کے بیانات ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت ریکارڈ کیے، اور مذکورہ بیان میں یہ گواہان اس عوامی اجتماع کے انعقاد جو اسی دن ہوا تھا، اس اجتماع میں اپیل گزار کو پیش کرنے، اپیل گزار کی جانب سے اعتراف جرم کرنے اور معافی مانگنے کے متعلق کچھ بھی بتانے سے قاصر رہے۔ اس ضمن میں پیرا نمبر 17 میں جسٹس کھوسہ نے لکھا کہ شکایت گزار کی جرح کے دوران وکیلِ صفائی نے سوال تجویز کیا کہ اس نے درخواست (Exhibit-PA)مہدی حسن اے ایس آئی کو چندر کوٹ نہر کے پل پر دی تھانے میں نہیں، لیکن شکایت گزار نے مذکورہ تجویز سے مکمل طور پر انکار کیا اور قرار دیا کہ یہ تجویز کیا جانا کہ درخواست (Exhibit-PA)اس نے تھانے میں پیش نہیں کی تھی، سراسر غلط ہے۔ شکایت گزار نے یہاں جھوٹ بولا ہے کیونکہ مذکورہ درخواست (Exhibit-PA)کے آخر میں مہدی حسن اے ایس آئی نے اندراج کر رکھا تھا کہ شکایت گزار نے یہ درخواست اس کو 5بج کر 45منٹ پر مورخہ 19-06-2009 کو پل نہر چندر کوٹ پر دی۔ شکایت گزارکے اس جھوٹ کا بھانڈہ مہدی حسن اے ایس آئی پھوڑ سکتا تھا، لیکن اس کو نامعلوم وجوہات کی بناء پر استغاثہ کے روبرو پیش نہیں کیا۔یہ انتہائی عجیب اور عام حالات سے ہٹ کر ہے کہ قاری محمد سلام شکایت گزار (PW.1) جس نے یہ فوجداری مقدمہ شروع کیا کو یہ یاد نہیں کہ درخواست (Exhibit-PA)برائے اندراج ایف آئی آر کس نے تحریر کی اور اس کو یہ بھی پتہ نہیں کہ مذکورہ درخواست ایف آئی آر کے اندراج کے لئے کہاں اور کس کے روبرو پیش کی گئی۔ پس یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پردے کے پیچھے کچھ او رچل رہا تھا اور زیرِ نظر فوجداری مقدمے کو آگے بڑھانے والے عناصر کوئی اور تھے, جو کبھی سامنے نہیں آئے۔ اس کے علاوہ زیرِ نظر مقدمے میں ایف آئی آر قاری محمد سلام شکایت گزار (PW.1) نے درج کروائی جو مورخہ14-06-2009  کو فالسے کے کھیت میں وقوع پذیر ہونے والے واقعہ کے وقت وہاں موجود نہ تھا اور جس نے خود وہ توہین آمیز الفاظ نہیں سنے، جو اپیل گزار سے منسوب کئے گئے ہیں۔ اس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آرسے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ کس خاتون ساتھی سے مخاطب ہوتے ہوئے اپیل گزار نے توہین آمیز الفاظ کہے۔ اچھی خاصی تاخیر اور باقاعدہ غور و فکر اور صلاح  مشورہ کے بعد درج کی جانے والی ایف آئی آر اپنی ساکھ /اہمیت کھو دیتی ہے اور موجودہ مقدمے میں ایف آئی آر پانچ یوم کی بلاجواز تاخیر کے بعد درج ہوئی اور شکایت گزار نے خود قبول کیا کہ اس نے اور گاؤں کے لوگوں نے معاملے کے متعلق "تفتیش" ’"مشاورت" کی اور "معاملے کا گہرائی سے جائزہ لیا۔" پش شکایت گزار اور اس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر قابلِ اعتبار نہیں ہے۔

پولیس کا مشکوک کردار

شرعی ضابطے کی رو سے عدالت کے سامنے حقائق پیش کرنے والے اہل کاروں  کاسچا ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے ، جتنا گواہوں کا، اس لیے کہ وہ چاہیں تو گواہی میں کمی بیشی کر سکتے ہیں۔ فاضل جج صاحبان نے پولیس کے کردار کو بھی خوب خوب جانچا اور اس میں موجود بدیہی تضادات کی نشان دہی کی ہے۔ جسٹس کھوسہ کے پیرا نمبر 18 میں  کہا گیا ہے کہ مقدمہ ہٰذا میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد پولیس کی جانب سے کی گئی تفتیش میں بھی بہت سے عوامل سے مرضی کے مطابق صرفِ نظر کیا گیا۔ قاری محمد سلام (PW.1) نے ابتدائی عدالتِ سماعت کے روبرو قبول کیا کہ توہینِ رسالت کے جرم کے ارتکاب کے لیے ایف آئی آر کے اندراج کے لئے ڈسٹرکٹ کو آرڈنیشن آفیسر یا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے کوئی اجازت نہیں لی گئی۔ مقدمہ ہٰذا کی ابتدائی تحقیق و تفتیش پولیس کے سب انسپکٹر یعنی محمد ارشد سب انسپکٹر (PW.7) نے کی جو کہ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ -A 156 کی خلاف ورزی ہے ،جس کے مطابق اس طرح کے مقدمات کی تفتیش پولیس سپرنٹنڈنٹ سے کم درجےکا شخص نہیں کر سکتا۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد محمد ارشد سب انسپکٹر (PW.7) کو مقدمے کی تفتیش سونپی گئی اور وہی جائے وقوعہ پر پہنچا، گواہان کے بیانات ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 161کے تحت ریکارڈ کیے گئے، اور اپیل گزار کو اس ہی دن مورخہ 19-06-2009 کوگرفتار کیا۔ محمد امین بخاری، سپرنٹنڈنٹ پولیس (انوسٹی گیشن) ابتدائی عدالتِ سماعت کی عدالت کے روبرو بطور (PW.6) پیش ہوا اور اس نے بیان کیا کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس / ریجنل پولیس آفیسر رینج شیخوپورہ  کی جانب سے مقدمے کی تفتیش مورخہ24-06-2009 کواس کے سپرد کئے جانے کے بعد مقدمہ ہٰذا کی باقی تفتیش اس نے مکمل کی۔ (PW.6) کا بیان حقیقتاً غلط ہے کیونکہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس / ریجنل پولیس آفیسر رینج شیخوپورہ کا متعلقہ خط مورخہ26-06-2009 کو بھیجا گیا جو خود (PW.6)کے بیان سے واضح ہے۔مذکورہ آفیسر نے کبھی بھی جائے وقوعہ کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی گواہان کے بیانات خود ریکارڈ کیے۔ یہاں تک کہ حالات جن میں اپیل گزار کو گرفتار کیا گیا مقدمہ ہٰذا کے تناظر میں انتہائی مشکوک ہیں۔ محمد ارشد سب انسپکٹر (PW.7) نے ابتدائی عدالتِ سماعت کو بیان دیاکہ اس نے اپیل گزار کو مورخہ19-06-2009  کو اس کے گھر سے گرفتار کیا۔ محمد ادریس (CW.1) نے اس بابت تاہم ایک دوسری کہانی سنائی ،جس کے مطابق مذہبی رہنما جو عوامی اجتماع میں موجود تھے، نے اپیل گزار کو پولیس کے حوالے کیا اور اپیل گزار کو حاجی علی احمد کے ڈیرے سے گرفتار کیا گیا، جہاں عوامی اجتماع منعقد کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے بیانات کے اس تغیر کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے متعلقہ پولیس آفیسرکے کردار کو مشکوک ٹھرایا ہے ،جیسا کہ اس(PW.7)نے اپنی جرح کے دوران بیان دیا کہ ملزم کو اس نے دو ساتھی خواتین کانسٹیبل کی مدد سے جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں گرفتار کیا اور اسے جوڈیشل لاک اپ میں بھیج دیا۔ پھر جرح کے دوران یہ بیان کیا گیا کہ اس نے ملزمہ کو19-06-2009 کو اس کے گھر جو دیہات"اٹاں والی" میں واقع ہے، تقریباً شام کے چار پانچ بجے کے قریب گرفتار کیا تاہم بعدازاں ایک اور موقع پر اس نے کہا کہ وہ دیہات اٹاں والی تقریباً 7بجے کے قریب پہنچا اور وہاں ایک گھنٹے تک رکا۔(چیف جسٹس، پیرا نمبر 40) 

یہ  توہین ہمارے یہاں  کےعیسائیوں کے یہاں غیر مشاہد ہے

حقیقت یہ ہے کہ اس کیس کے مطالعے سے  قبل ہی   جب میں  ننکانہ کے گاؤں "اٹاں والی" کی آسیہ مسیح کو تصور میں لاتا تو  میرے دماغ  کی سکرین پر گوجرانوالہ میں واقعے اپنے  گاؤں"چانگانوالی"کی لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والی ،کھیتوں میں مزدوری کرنے والی، سادہ اور اَن پڑھ عیسائی خواتین اور اس مسیحی برادری   کے چہرے گھومنے لگتے، جو ہمارے گھر کے آس پاس اور بالکل سامنے رہتی آ رہی ہے۔(یہ سارے  لوگ اب تقریباً تلاشِ روزگار کے حوالے سے کراچی وغیرہ شہروں میں جا چکے ہیں ،ایک نوجوان جس کا نام لاذر مسیح اور جس کی بیوی کا نام ریٹا ہے، اب  بھی کی قدیم سادگی ،پسماندگی اور نا خواندگی کی ان یادوں کو تازہ رکھے ہوئے  ہے، اور گاؤں میں ہمارے گھر کے مقابل رہایش پذیر ہے۔) ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ ان کی کسی خاتون ، بڑھے بوڑھے  وغیرہ نے اسلام کے شعائر کی کبھی توہین کی ہو، یا حضورﷺ اور قرآن و اسلام کے بارے میں گستاخانہ الفاظ کہے ہوں، یا کسی مذہبی معاملے میں ان عیسائیوں اور مسلمانوں میں کوئی جھگڑا ہوا ہو ۔ان بے چاروں  کوتو اپنے مذہب کی انتہائی بنیادوں باتوں کا بھی علم نہیں  چہ جائیکہ انھیں حضور نبی اکرمﷺ، آپ کی ازواجِ مطہرات اور قرآن کے بارے میں کوئی علم ہو(خواہ اعتراض ہی کے لیے  ہو)۔ حد یہ ہے کہ یہ لوگ تو بہت سے سارے امور میں دانستہ یا نا دانستہ مسلمانوں کی تقلید کرتے ہیں۔ رسول اکرمﷺ اور قرآن سے مسلمانوں ہی کی طرح اظہارِ محبت  دانستہ یا دانستہ ان میں بھی ہم عام دیکھا کرتے تھے۔ان کی خواتین مرغے ذبح کرانے ہمارے پاس آتیں ۔ ان کا کوئی بزرگ فوت ہو جاتا تو وہ مسلمانوں ہی کی طرح قل ، دسویں چالیسویں کا اعلان کرتے۔ بابا عنایت مسیح ، جو ہم سے بہت پیار کرتا تھا، فوت ہوا تو گھر والوں نے مسلمانوں کی رسم کے مطابق گھر میں پُھوڑی بچھا لی۔دل چسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ایک حاجی صاحب اس  پُھوڑی پر فاتحہ کے لیے گئے اور بعض لوگوں کے  نشانۂ تنقید بنے کہ تم ایک غیر مسلم کے لیے دعاے مغفرت کرنے گئے تھے؟ ان بے چاروں نے کبھی اس پر بھی اعتراض نہیں کیا کہ مسلمان ان کے برتن کو کیوں ہاتھ نہیں لگاتے یا اپنے  برتن میں ان کو کیوں کھانا نہیں دیتے۔مجھے یاد ہے میری دادی   اور  امی صبح صبح دودھ رِڑکتیں اور بہت زیادہ لسی بناتیں  تو روازانہ سویرےسویرے گاؤں سے لسی لینے والی خواتین کا تانتنا بندھ جاتا، وہ مسلمان خواتیں کے برتن ہاتھ میں پکڑ کر چاٹی کے ساتھ لگا کر انھیں لسی انڈیل کر دیتیں ، لیکن لشمی سَین (لشمی نام کی عیسائی خاتون) اور سَیدو سَین وغیرہ  اپنے برتن دور ہی رکھ دیتیں اور میری دادی یا امی ان کا حصہ اپنے برتن میں ڈال کر ان کے برتن میں یوں انڈیلتیں کہ اپنا برتن سَین کے برتن سے ٹچ نہ کرے۔ ان بے چاریوں نے کبھی یہ اعتراض بھی نہ کیا کہ ہمیں یوں اچھوت اور قابلِ نفرت کیوں سمجھا جاتا ہے!  انھوں نے گویا تسلیم کر لیا ہوا تھا کہ مسلمانوں کے مقابلے میں ان کا سٹیٹس یہی ہے۔
اس سارے سینیریو میں، سچی بات یہ ہے کہ  مجھے وہ بات ہضم نہیں ہوتی تھی ،جو آسیہ مسیح کی طرف  منسوب کی جا رہی تھی۔میرے خیال میں وہ اپنے پس منظر او رحالات و ماحول کے لحاظ سے  توہین کے ایسے الفاظ نہیں بول سکتی تھی ، جو اس کی طرف منسوب کیے جا رہے تھے۔مقدمے ، سپریم کورٹ کے آسیہ کی رہائی سے متعلق فیصلے، اور  آسیہ کے اپنے بیان  کے مطالعے سے قبل میں سوچتا تھا کہ شاید ان میں میرے اس احساس کو بھی کہیں ایڈریس کیا گیا ہوگا یا نہیں ، لیکن مجھے خوش گوار حیرت ہوئی کہ یہ احساس آسیہ کے بیان اور سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان کے بیان میں بھی واضح طور پر موجود تھا۔ جسٹس کھوسہ  نے اس تناظر کو  آسیہ کے حق میں استعمال کیا اور آسیہ کے مذکورہ بالا بیان کو حوالہ دیتے ہوئے باور کرایا کہ مذہبی معاملے میں عام مسلمانوں کے ساتھ  آسیہ اور اس کے خاندان کے قیام پاکستان سے لے  کر غیر متنازعہ رویے کے تناظر میں اس پر لگائے گئے الزام میں شک کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔(دیکھیے : جسٹس کھوسہ، پیرا نمبر22)

دوسرے کے مذہب کی توہین بھی جرم ہے

اسلام کے نقطۂ نظر سے  دوسرے مذاہب اور ان کی محترم شخصیات کی توہین بھی بہت بڑا جرم ہے۔مسلمانوں کو  اس حوالے سے  ، اپنے دین کی تبلیغ اور دوسروں کے غلط اور باطل نقطۂ ہائے نظر کی تردید و تغلیط  کے معاملے میں بھی حکمت اور احتیاط کو ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ادْعُ إِلَی سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃ وَالْمَوْعِظَۃ الْحَسَنَۃ وَجَادِلْہم بِالَّتِي ھيَ أَحْسَنُ (النحل 16: 125)
اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ذریعے بلاؤ اور ان سے بہترین انداز سے مباحثہ کرو۔
اس ضمن میں اسلام نے دوسروں کے باطل معبودوں کو بھی گالیاں دینے سے منع کیا ہے کہ یوں جواب میں وہ تمھارے سچے معبود کو گالیاں  دیں گے اور فساد پھیلے گا:
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّہ فَيَسُبُّوا اللَّہ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ (الانعام6: 108)
جن کو یہ لوگ اللہ کے علاوہ پکارتے ہیں ، انھیں گالی مت دو، ورنہ وہ دشمنی کی بنا پر نادانی میں اللہ کو گالی دیں گے۔ 
لہذا توہین کے کیس میں اس پہلو کر ہر گز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ کہیں ملزم کے مذہب یا محترم شخصیات کی توہین کر کے اسے اشتعال تو نہیں دلایا گیا تھا! زیرِ نظر کیس میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ مسلمان خواتین نے آسیہ کو مذہبی حوالے سے مشتعل کیا ہو، جس کے جواب میں اس نے کوئی نا زیبا کلمہ کَہ دیا ہو، اس صورت میں سارے قضیے کی بنیادی وجہ وہ مسلم خواتین قرار پاتی ہیں ،جن  کی طرف سے قرآن کے اس فرمان کی خلاف ورزی کی گئی ہے کہ دوسروں کے مذہب اور معبود کی توہین نہ کرو، ورنہ نتیجہ تمھارے دین و مذہب کی توہین کی صورت میں برآمد ہوگا۔ زیرِ نظر فیصلے میں فاضل جج صاحبان نے اس تناظر کو بھی خوب خوب ملحوظ رکھا ہے اور اس ضمن میں اسلام کے متعلقہ اصولوں کا حوالہ بھی یا ہے۔ جسٹس کھوسہ نے پیرا نمبر 23 میں واضح کیا ہے کہ  محمد ادریس (CW.1) اور محمد امین بخاری ایس پی انوسٹی گیشن (PW.6) نے ابتدائی عدالتِ سماعت کے روبرو جو بیان دیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مبینہ توہین رسالت کا ارتکاب عیسائی اپیل گزار نے اپنی مسلمان ساتھی خواتین کے ہاتھوں اپنے مذہب کی توہین اور اپنے مذہبی جذبات مجروح ہونے کے بعد کیا ،کیونکہ وہ یسوح مسیح پر یقین رکھتی تھی اور حضرت عیسیٰ کی پیروکار تھی۔ قرآن کریم کے مطابق ایک مسلمان کا عقیدہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا، جب تک وہ نبی کریمﷺ کی ذات پاک اور اللہ کے دیگر پیغمبروں، جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام (ابن مریم) بھی شامل ہیں،  اور تمام الہامی کتب بشمول بائیبل (Bible) پر یقین نہ رکھے۔ اس تناظر میں اپیل گزار کےمذہب کی مسلمان ساتھی خواتین کی جانب سے توہین بھی مذہب کی توہین سے کم نہیں ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ جو تمام مخلوق کا خالق ہے، جانتا ہے کہ ایک انسان کے مذہب یا مذہبی جذبات کی توہین کرنا مشتعل کرنے کے مترادف ہے اور اس وجہ سے قرآن کریم میں حکم دیا گیا کہ:" جن  کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بے ادبی سے ،بے سمجھے برا(نہ)کَہ بیٹھیں۔"(سورۃ الانعام آیت108)۔اگر اپیل گزار کے خلاف لگائے گئے الزامات کو درست مان لیاجائے تب بھی اپیل گزار کا بیان کردہ عمل اس سے مختلف نہیں تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہ کی ہے۔

عیسائیوں سے حضورﷺ کے معاہدے کی خلاف ورزی

سپریم کورٹ کی جانب سے متعلقہ کیس میں اسلامی اصولوں کو سامنے رکھنے  کے حوالے سے ایک اور اہم مثال سیرت طیبہ سے حضورﷺ کے عیسائیوں سے کیے گئے معاہدے کا تذکرہ اور اس سے متعلقہ کیس میں شرعی رہنمائی  کا حصول بھی ہے۔پیرا نمبر  24 اور 25کے مطابق جسٹس کھوسہ کا کہنا ہے کہ استغاثہ کی جانب سے دی گئی شہادتوں میں موجود سنگین تضادات کے تناظر میں یہ یکساں طورپر معقول محسوس ہوتا ہے کہ اپیل گزار اور اس کی مسلم ساتھی خواتین کے مابین جائے وقوعہ پر ایک جھگڑا ہوا، جس میں اپیل گزارنے کسی قسم کے توہین آمیز الفاظ نہیں کہے۔مسلم خواتین نے جھگڑے کی اطلاع دیگر افراد کو دی ،جنھوں نے پانچ دن کےطویل عرصے اس پر غور وفکر اور منصوبہ بندی کی اور اپیل گزار کے خلاف توہین رسالتﷺ کا جھوٹا الزام لگانے کا فیصلہ کیا۔اگر ایسا تھا تو مقدمہ ہٰذا کی مسلمان گواہان نے ہمار ے پیارے نبیﷺ کے عیسائی مذہب کے پیروکاروں سے کیےگئے میثاق کی خلاف ورزی کی۔ جان اے مورو نے اپنی کتاب"پیغمبرِ اسلام حضرت محمدﷺ کے دنیا کے عیسائی مسلمانوں سے کئے گئے معاہدات"( شائع شدہ اینجلکیو پریس01/09/2013) میں ایسے بہت سے معاہدات، جو پیغمبر خدا حضرت محمدﷺ نے عیسائی مذہب کے پیروکاروں سے کیے، کا تذکرہ اور اندراج کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک معاہدہ جبل سینا کے راہبان سے حضرت محمدﷺ کا میثاق کہلاتا ہے۔ 628 ءہجری کے قریب سینٹ کیتھرین کےخانقاہ جو دنیا کی قدیم ترین خانقاہ ہے ،اور مصر کے جبل سینا کے دامن میں واقع ہے، کا ایک وفد نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور اپنے تحفظ کی درخواست کی جو منظور کرلی گئی اوران کوایک میثاق حقوق عطا کیاگیا۔ مذکورہ میثاقِ حقوق جس کو سینٹ کیتھرین سے عہد بھی کہاجاتا ہے، عربی زبان سے انگریزی زبان میں ڈاکٹر اے ظہور اورڈاکٹر زیڈ حق نے اس طرح ترجمہ کیا :"یہ محمدﷺابن عبداللہ کی جانب سے دور ونزدیک بسنے والے ان افرادجنھوں نے عیسائی مذہب اختیار کیا، کے لیے پیغام(معاہدے کی صورت) ہے کہ ہم ان کے ساتھ ہیں،میرے پیروکاران کا دفاع کریں گے کیونکہ عیسائی میرے شہری ہیں اور خدا کی قسم میں ہر اس عمل کے خلاف ہوں جو انھیں ناخوش کرے گا۔ ان پر کوئی پابندی نہیں، نہ ہی ان کے منصفین کو اپنے عہدوں سے ہٹایا جائے گا اور نہ ہی ان کے راہبان کو ان کی خانقاہوں سے الگ کیا جائے گا۔ کسی کو بھی ان کے گھروں کو تباہ کرنے ،نقصان پہنچانے اور وہاں سے کچھ اٹھاکر مسلمانوں کے گھر لے جانے کی اجازت نہ ہوگی۔ جو کوئی ان میں سے کچھ لے کر جائے گا وہ اللہ سے معاہدہ شکنی کرے گا ،اور اس کے پیغمبرﷺ کی  نافرمانی کرے گا ۔ در حقیقت وہ میرے دوست ہیں اور ہر وہ شخص جو ان سے نفرت کرتا ہے، سے تحفظ کے لئے ان کے ہمراہ میرا میثاق ہے ۔ کوئی بھی ان کو نقل مکانی پر مجبور نہیں کرے گا اور نہ ہی ان پر جنگ لڑنے کے لئے دباؤ ڈالے گا۔ مسلمان ان کے لئے لڑیں گے۔ اگر کوئی عیسائی خاتون کسی مسلمان سے شادی کرتی ہے تو ایسا اس (خاتون) کی مرضی کے بغیر نہیں ہونا چاہیے، اور اس کو عباد ت کے لئے چرچ جانے سے نہیں روکا جائے گا ۔ ان کے چرچ (عبادت گاہوں) کی عزت کی جائے گی۔ ان کو نہ تو کبھی عبادت گاہوں کی مرمت سے ر وکا جائے گا اور نہ ہی ان کے مقدس معاہدوں سے قوم(مسلمانان) میں سے کوئی بھی قیامت کے دن تک اس میثاق روگردانی  کرے گا۔"یہ عہد دائمی اور عالمگیر ہے اور محض سینٹ کیتھرین تک محدود نہیں ہے ۔ مذکورہ میثاق کے تحت پیغمبرِ خدا کی جانب سے دئیے گئے حقوق حتمی ہیں اور نبی کریم ﷺ نے قرار دیا ہے کہ تمام عیسائی آپﷺ ؐ کے رفقاء میں سے ہیں اور آپﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ ناروا سلوک کو اللہ کےمیثاق سے روگردانی قرار دیا ۔ یہ قابل ذکر ہے کہ مذکورہ میثاق میں عیسائیوں پر استحقاق کے حصول کے لئے کوئی شرط عائد نہیں کی گئی اور یہ ہی کافی ہے کہ وہ عیسائی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ان کو اپنے عقائد میں ردوبدل کی ضرورت نہیں ،نہ ہی کوئی قیمت ادا کرنی ہے اور نہ ہی ان پر کوئی ذمہ داری ہے ۔ یہ میثاق حقوق کے متعلق ہے بغیر فرائض کے یہ واضح طور پر حقِ جاییداد، آزادیِ مذہب، آزادیِ عمل اور شخصی حقوق کو تحفظ دیتا ہے ۔لیکن  بدقسمتی سے زیر نظر مقدمے میں ناموس رسالت کے مقدس نظریے کو استعمال کرتے ہو۔ پیغمبر خدا حضرت محمد ﷺ کے متذکرہ عہد کی پاسداری نہ کی گئی۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ فالسے کے کھیت میں ہونے والے جھگڑے کے بعد دروغ گوئی کی دعوتِ عام ہوئی اور شکایت کنندہ فریق، جس کی قیادت قاری محمد سلام شکایت گزار کررہا تھا نے قرآن کریم میں درج اللہ تبارک تعالیٰ کے درج  ان احکام کو فراموش کر دیا ،جو ہر انصاف  کرنے اور ہر حال میں سچی گواہی دینے کی تلقین کرتے ہیں، خواہ وہ گواہی اپنے یا اپنے رشتہ داروں ہی کے خلاف کیوں نہ ہو۔

ماوراے عدالت اقرار اور پھر اس پر معافی مانگنا بھی شک کو جنم دیتا ہے

ایک بات جس کو راقم الحروف نے کیس کے مطالعے کے دوران بار بار محسوس کیا  وہ   استغاثہ کا اس بات پر زور ہے کہ ملزمہ نے  فلاں جگہ مجمعے میں اور فلاں شخص کے روبرو جرم کا اقرار کیا اور معافی کی خواست گار ہوئی۔ملزمہ کہتی ہے کہ اقرار دباؤ سے کروایا گیا۔ لوگ اس میں دباؤ کے عنصر کا انکار کرتے ہیں، لیکن راقم کے نزدیک اس سے دباؤ ہی نہیں   لالچ کے ذریعے اقرار کا عنصر بھی نمایاں نظر آتا ہے۔اقرار کے ساتھ ساتھ ہر جگہ معافی کا خواست گار ہونا واضح کر رہا ہے کہ اس بے چاری کو لالچ دیا جا رہا تھا کہ اقرار کر کے معافی مانگ لو، قضیے سے چھوٹ جاؤ گی۔ اس میں شک تو جب نہ ہوتا جب وہ صرف اعترافِ جرم کرتی، لیکن وہ تو ساتھ ساتھ  معافی بھی مانگ رہی ہے۔ظاہر ہے اسے اعتراف کے بعد معافی مانگنے سے چھوٹنے کا لالچ دیا گیا ہے ۔اور ایسے سادہ لوگوں کا اس طرح کے ٹریپ میں آ جانا عام بات ہے۔اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہوگا کہ اس سے مقصد فی الواقع اسے  چھوڑنا نہیں پھنساناتھا۔آپس میں گویا  یہ طے تھا کہ یہ اقرار تو کرے،معافی کس نے دینی ہے!سچی بات یہ کہ یہ اقرار تبھی معتبر تھا، جب وہ معافی کے بغیر کرتی ۔ پھر جس طرح اسے سیکڑوں لوگو ں کے مجمع میں لایا گیا وہ اس کے اقرار کے ہیجانی کیفیت میں وجود میں آنے کو واضح کرتا ہے۔ 
معزز جج صاحبان نے اس مبینہ اقرار کے اس جھول کا بھی صحیح صحیح ادراک کیا ہے۔ فیصلے کے مطابق مبینہ ماورائے عدالت اقبالِ جرم آزادانہ نہ تھا بلکہ زبردستی اور دباؤ کے تحت حاصل کیا گیا تھا ،کیونکہ شکایت گزار نے اپیل گزار کو زبردستی عوامی مجمعے کے سامنے کھڑا کیا جوکہ اسے مارنے کے درپہ تھے۔ (چیف جسٹس ، پیرا نمبر 24 ) اپیل گزار کو سیکڑوں لوگوں کے مجمع میں لایا گیا، وہ اس وقت تنہا تھی۔ صورتِ حال ہیجان انگیز تھی اور ماحول خطرناک تھا۔ اپیل گزار نے اپنے آپ کو غیرمحفوظ اور خوف زدہ پایا اور مبینہ ماورائے عدالت بیان دے دیا۔ گو یہ بیان اپیل گزار کی جانب سے عوامی اجتماع کے روبرو دیا گیا ،لیکن اس کو رضاکارانہ طور پر دیا گیا بیان تصور نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس کو سزا، بطور خاص سزائے موت کی بنیاد گردانا جاسکتا ہے۔( چیف جسٹس، پیرا نمبر 44 )مزید براں قانونِ شہادت آرڈر مجریہ1984ء کے تحت ملزم کی جانب سے کیا گیا اقبال فوجداری کارروائی میں اس صورت میں غیرمتعلق ہوتا ہے ،جب عدالت کے علم میں یہ امر آئے کہ یہ اقبال ملزم سے کسی دھمکی، دباؤ یا فرد جرم کے متعلق کسی رعایت کے وعدے کے بعد حاصل کیا گیا ہے، یا کسی بااختیار شخص سے کارروائی کروانے کے لئے یا عدالت کی رائے قائم کرنے کے لئے تاکہ ملزم شخص کو یہ مناسب لگے کہ اعتراف کرنے کے بعد وہ اپنے خلاف جاری کارروائی میں کسی سنگین قسم کی مصیبت سے بچ جائے گا۔(چیف جسٹس، پیرا نمبر43)پھر  ماوراے عدالت اقرارِ جرم  کوئی معتبر شہادت بھی  نہیں ہوتی ۔عدالت نے مسلسل قرار دیا ہے کہ ماورائے عدالت اقبال جرم ضعیف قسم کی شہادت ہوتی ہے ،اور ایسے اقبالِ جرم پر انحصار کرتے ہوئے حد درجے احتیاط لازم ہے۔ چونکہ اس کو آسانی سے گھڑا جا سکتا ہے، اس لئے اسے ہمیشہ شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ عمومی طور پر قدرتی حالات و واقعات، انسانی رویوں، طرزِعمل اور ممکنات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماورائے عدالت اقبال کی قانونی اہمیت قدرے ناقص ہوتی ہے۔ اگر یہ اولین درجے پر سچ محسوس ہو، تو اس کو فرد جرم کی تائید کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جس کو دیگر ناقابلِ مواخذہ گواہی سے مزید تقویت ملتی ہو۔ اگر دیگر شہادتوں میں یہ خواص نہ ہوں تو اس پر توجہ نہیں دی جانی چاہیے۔ اس ضمن میں ان مقدمات کا حوالہ دیا جانا ضروری ہے۔ناصر جاوید بنام ریاست (SCMR 1144 2016)، عظیم خان اور دیگر بنام مجاہد خان اور دیگران (2016 SCMR 274)، عمران عرف ڈلی بنا ریاست (2015 SCMR 155)، حامد ندیم بنام ریاست (2011 SCMR 1233)، محمد اسلم بنام صابر حسین (2009 SCMR 985)، ساجد ممتاز اور دیگران بنام بشارت اور دیگران 2006 SCMR 231))، محمد اسلم بنام صابر حسین (2009 SCMR 985)، ضیاء الرحمن بنام ریاست (2008 SCMR 528) اور سرفراز خان بنام ریاست اور دو دیگران (1996 SCMR 188)۔(چیف جسٹس، پیرا نمر 42)

مبلغ یہاں  یوں کھیتوں میں کام نہیں کرتے!

مقدمے  میں  ،جسٹس کھوسہ ، پیرا نمبر 4میں، موجود استغاثے کو جو الزام راقم الحروف  کو کسی طرح ہضم نہیں ہو سکا  ، وہ ملزمہ کے مبلغہ  ہونے کا الزام ہے۔اس ملک میں ہمارے کتنے مولوی اور ان کی بیویاں کھیتوں میں کام کرتی ہیں؟ عیسائیوں کے ہاں تو اپنے پادریوں اور مبلغین کی اور زیادہ عزت کی جاتی اور ان کے معاش کا بندوبست کیا جاتا ہے۔میں اپنے گاؤں کے عیسائیوں کی مذہبی و معاشرتی حالت کا خاکہ اوپر پیش کر چکا ہوں، ہمارےگاؤں میں جو پادری صاحب آتے تھے وہ اچھے کھاتے پیتے تھے اور سوائے مذہبی تہواروں پرعیسائیوں کی مذہبی رسومات  کی ادائی میں رہنمائی کے وہ اور کوئی کام نہیں کرتے تھے۔آسیہ بی بی اگر عیسائی مذہب کی مبلغہ ہوتی تو کبھی بھی یوں کھیتوں میں مزدوری نہ کرتی پھرتی! 

کسی بے گناہ کو سزا نہ ہوجائے 

فیصلے میں اس شرعی و اخلاقی اصول کی پوری پوری پاس داری نظر آتی ہے کہ  کسی بے گناہ کو سزا نہ ہوجائے۔ شریعت کے مطابق قاضی یا حاکم کا غلطی سے ملزم کو بری کر دینا، غلطی سے سزا دینے سے بہتر ہے۔حضورﷺ کا فرمان ہے:
ادرؤا الْحُدُودَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنْ كَانَ لَہ مَخْرَجٌ فَخَلُّوا سَبِيلَہ فَإِنَّ الْإِمَامَ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَۃ (ترمذی،3570)
جہاں تک ممکن ہو مسلمانوں سے  حدود دفع کرو،اگر اس کے لیے کوئی راستہ ہو تو اس کی راہ چھوڑ دو، بلاشبہ امام کا معاف کرنے میں غطی کرنا ، اس سے بہتر ہے کہ سزا دینے میں غلطی کرے۔
اس حدیث پر مولانا احمد یار خاں نعیمی کا  ایک حاشیہ دیکھیے:" حاکم مقدمہ سننے کے بعد خطاءً ملزم کو سزا نہ دے ،اسے شک کی بنا پر چھوڑ دے حالانکہ وہ سزا کے لائق تھا، یہ اس سے بہتر ہے کہ بے قصور کو سزا دے دے ،کیونکہ سزا نہ دینے کی صورت میں اﷲ کی معافی کی امید ہے کہ مجرم توبہ کرکے نیک بن جائے مگر بے قصور کو سزا دینے میں ظلم بھی ہے اور آئندہ استغفار کی امید بھی نہیں، مثلًا محصن زانی کو حاکم کہے کہ شاید تو نے بوسہ لے لیا ہوگا یا چھو لیا ہوگا وغیرہ اور ملزم کہے جی ہاں میں نے یہی کیا تھا اور رجم سے بچ جائے ،تو اگرچہ رجم کے لائق تھا مگر حاکم گنہگار نہیں اور مجرم کے توبہ کی امید ہے، لیکن اگر اسے بغیر تحقیق رجم کردیا گیا اور واقعہ میں وہ رجم کے لائق نہ تھا تو اب تلافی کیسے ہوسکے گی، اب بھی حکومتیں قتل کی سزا میں بڑی تحقیق کرتی ہیں، کبھی شک کا فائدہ دے کر بری کردیتی ہیں،یہ ہی توجیہ قوی ہے۔(مرقات واشعہ) " (مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ،5/252-253)
حدود کو ٹالنے کے ضمن میں حضورﷺ کے مذکورہ بالا فرمان کے علاوہ بھی متعدد فرامین مروی ہیں ۔مثلاً ایک اور حدیث میں ہے:ادفعواالحدود ماوجدتم لھا مدفعاً (ابن ماجہ ، الحدود2545)" جہاں تک ہو سکے حدود کو ساقط کرو۔" یہ فرامین  اس حقیقت کو عیاں کر رہے ہیں کہ شریعت لوگوں کو سزا دینے میں نہیں ، بلکہ سزا سے بچانے میں دل چسپی رکھتی ہے۔ماعز اسلمی پر زنا کی حد جاری کرنے کے واقعہ  سے واضح ہے کہ  حضور ﷺ نے کوشش کی کہ وہ اپنی جرم کے اقرار سے مکر جائیں ، جب وہ کسی طرح نہ مکرے تو آپ نے حد جاری کی۔اسی طرح حد زنا کے اجرا سے متعلق ایک اور حدیث میں بیان ہوا ہے کہ  حضور ﷺ اقرار کرنے والے سے اپنا منہ پھیرتے رہے کہ وہ دور ہو جائے ، لیکن وہ بار بار سامنے آکر اقرار کرتا رہا، تو بالآخر آپﷺ نے حد لاگو کی۔
صحابہ کرام بھی اس حوالے سے واضح ذہن رکھتے تھے کہ شبہات کی بنا پر حد ود کو ٹالا جائے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ شبہات کی موجودگی میں حدود قائم کرنے کی نسبت میرے لیے یہ زیادہ بہتر ہے کہ شبہات کے بنا پر حدود کے نفاذ کو ساقط کردوں۔(احکام الحکام،4/ ۱۵۷) 
زیرِ نظر کیس میں جج صاحبان کی طرف سے   اس اسلامی و اخلاقی اصول کے مطابق مقدمے کی تحقیق کا واضح ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے خونِ ناحق کی شناعت کے حوالے سے  قرآنی ارشادات  کا حوالہ بھی دیا ہے۔مثلاً  چیف جسٹس صاحب نے پیرا نمبر14 میں  لکھا ہے کہ قرآن کریم بنی نوع انسان کے ساتھ محبت اور شفقت کا سلوک روا رکھتے ہوئے، آپس میں آمن و آشتی سے رہنے کا درس دیتا ہے۔ یہ کتاب اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ رہنمائی کے اصولوں کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے، جس کے ذریعے ہمیں علم کی دولت سے نوازا گیا، جوکہ حتمی کتاب ہے۔ اس میں کسی طور ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ قرآن کریم اللہ کے احکامات کا مخزن ہے ،جو زندگی گزارنے کے رہنما اصول مہیا کرتا ہے اور ہمیں نظریۂ  برداشت کی تعلیم دیتا ہے، لیکن یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جب تک کوئی آئین میں مروجہ شفاف طریقۂ  سماعت کے بعد گناہ گار ثابت نہیں ہو جاتا ہر شخص کو، بلاامتیاز ذات پات، مذہب و نسل کے، معصوم اور بے گناہ تصور کیا جائے گا۔ قرآن پاک میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ" اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق قتل کرے گا) یعنی بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے، یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے، اس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا ،اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا، اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر ﷺروشن دلیلیں لا چکے ہیں ،پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں۔ (المائدہ5 : 32)

توہین کے جھوٹے الزامات کی مثالیں موجود ہیں

بعض لوگ نادانی نے میں یہ کہتے پائے جاتے ہیں  کہ کوئی مسلمان کسی پر توہین کا جھوٹا الزام کیسے لگا سکتا ہے؟ لیکن یہ دعوی ٰ ظاہر ہے کہ بے دلیل ،ناقابلِ فہم  اور بعید از قیاس ہے۔یہ دعوی ٰ وہی کر سکتا ہے ، جس کو نہ تو  انسانوں کی نفسیات کا کوئی علم ہو، نہ پاکستانی سماج میں لوگوں کے  معاشرتی و سماجی تعصبات  سے آگاہی ہو اور نہ عدالتی فیصلوں اور نظائر سے واقفیت۔ عدالت نے آسیہ بی بی کیس میں  اس تصور کو بھی بہ دلائل وعدالتی نظائر  باطل ثابت کیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی کو بھی حضرت محمدﷺ کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی جرم کو سزا کے بغیر چھوڑا جا سکتا ہے۔ لیکن بعض اوقات کچھ مذموم مقاصد کے حصول کے لیے قانون کو انفرادی طور پر غلط طریقے سے استعمال کرتے ہوئے توہینِ رسالت کا جھوٹا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ حقائق کے مطابق1990ء سے تقریباً62افراد توہین رسالت کے الزام کی بناپر قانون کے مطابق اپنے مقدمے کی سماعت سے قبل ہی موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔ یہاں تک کہ نام ور شخصیات جنھوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ توہین رسالت کا قانون چند افراد کے ہاتھوں غلط استعمال ہو رہا ہے، خطرناک نتائج کا سامنا کر چکے ہیں۔ اس قانون کے غلط استعمال کی ایک حالیہ مثال مشعال خان کا قتل ہے، جو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کا طالب علم تھا ،جس کو اپریل2017ء میں یونیورسٹی کے احاطے میں ایک مشتعل ہجوم نے صرف اس الزام پر قتل کر دیا کہ اس نے کوئی توہین آمیز مواد آن لائن پوسٹ کیا ہے۔(چیف جسٹس ، پیرا نمبر 12)یہاں ایوب مسیح کے مقدمے کا حوالہ دیا جانا بھی مناسب ہے، جس پر توہین کا الزام اس کے ہمسائے محمد اکرم نے لگایا تھا۔ مبینہ وقوعہ14اکتوبر1996ء کو پیش آیا۔ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، لیکن گرفتاری کے باوجود علاقے میں عیسائیوں کے گھر جلا دیے گئے ،اور تمام عیسائی آبادی جو 14گھرانوں پر مشتمل تھی، کو گاؤں چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ ملزم ایوب کو سیشن کورٹ کے احاطے میں گولی مار کر زخمی کیا گیا ،اور بعدازاں جیل میں اس پر دوبارہ حملہ کیا گیا۔ مقدمے کی سماعت ختم ہونے پر ایوب کو مجرم قرار دے کر موت کی سزا سنائی گئی۔ عدالت عالیہ نے سزا کی توثیق کی، تاہم عدالت ہذا میں اپیل کی سماعت کے دوران یہ واضح ہوا کہ دراصل شکایت کنندہ اس  پلاٹ پر قبضہ کرنا چاہتا تھا، جس پر ایوب اور اس کا والد رہائش پذیر تھے، اور یوں ایوب کو مذکورہ مقدمے میں پھنسا کر وہ اس کے سات مرلے کے پلاٹ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا، لہٰذا مذکورہ اپیل عدالت ہذا نے منظور کر لی تھی اور سزا کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔(چیف جسٹس، پیرانمبر 13)
توہینِ رسالت کے بہت سے الزامات  میں حقیقت کی بجائے مفادات کی دخل اندازی کا اندازہ اس نوع کے الزامات و مقدمات کے اعداد و شمار سے متعلق مختلف اخباری رپورٹوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے، مثال کے طور 2 نومبر 2018ء کے روزنامہ جنگ راولپنڈی کے  پہلے صفحے پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 1986ء (جب قانون ِ توہینِ رسالت بنا)سے لے کر 2018ء تک توہینِ رسالت کے 1335 مقدمات درج کیے گئے، جس میں 633 مسلمانوں کے خلاف، 494 احمدیوں کے خلاف اور 21 ہندؤں کے خلاف  تھے، ان میں سے 62 افراد ماوراے عدالت مارے گئے۔

سب کو حضور ﷺ سے پیار ہے ، جج بھی ناموسِ رسالت کے پاسبان ہیں

یہ بات بہت ہی عجیب ہے کہ بعض لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ ان کے علاوہ سارے لوگ  خدا نخواستہ گستاخ ہیں ، یا حضورﷺ سے کم محبت رکھتے ہیں، حضورﷺ کی ذات تو وہ ذات ہے جس سے مسلمان تو کیا بے شمار غیر مسلم بھی والہانہ محبت رکھتے ہیں۔کنور مہندر سنگھ بیدی سحر  کا شعر ہے:
عشق ہو جائے کسی سے  کوئی چاراتو نہیں
صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں
میرا احساس ہے کہ کوئی مسلمان جج کیا کتنا بھی گیا گزرا ہو وہ توہینِ رسالت ثابت ہونے پر کسی ملزم کو بری نہیں کر سکتا، اس لیے کہ وہ بھی حضورﷺ سے ایسے ہی محبت رکھتا ہے ، جیسے کوئی دوسرا مسلمان ۔ اس کو بھی معلوم ہے  کہ حضور ﷺ سے سب سے بڑھ کر محبت کیے بغیر وہ مومن ہی نہیں رہ سکتے۔حضورﷺ کااحترام اور عزت وناموس  ججوں کو بھی اسی طرح عزیز ہے ، جس طرح کسی بھی دوسرے مسلمان کو۔اگرچہ کسی مسلمان جج  کی جانب سے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں، لیکن صورتِ حال کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے زیرِ نظر مقدمے کے  فاضل جج صاحبان نے اپنے فیصلے میں اس امر کا تذکرہ بہ طورِ خاص کیا ہے۔اور حضور ﷺ کے عزت و احترام اور آپ ﷺ کی محبت ، عظمت اور  عزت و احترام کے حوالے سے بہت سی آیات ِقرآنی کا حوالہ دیا  ہے۔چیف جسٹس نے فیصلے کے پیرا نمبر 3سے 8 تک مسلسل وہ آیات  درج کی ہیں جو حضورﷺ کی محبت کے جزوِ ایمان ہونے   اورآپ ﷺ کی  پیروی و اطاعت کی تعلیم پر مبنی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نےحفاظتِ ناموسِ رسالت کے ضمن میں ریاست اور مقتدر حلقوں کی  قومی  وبین الاقوامی  سطح پر کی جانے والی کوششوں کا تذکرہ بھی کیا ہے۔
چیف جسٹس صاحب نے پیرا نمبر 11 میں لکھا ہے:تمام عالم امت مسلمہ، حضرت محمدﷺ کی ذاتِ اقدس سے گہری عقیدت اور لگاؤرکھتی ہے، یہاں تک کہ اپنے والدین، اولاد اور اپنی زندگیوں سے زیادہ محبوب رکھتی ہے۔ کسی کو بھی حضرت محمدﷺ کی ناموس پر حرف لانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، نہ ہی توہین رسالت کے مرتکب شخص کو سزا دیے بغیر چھوڑا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ حکومت نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کوشش کی ہے کہ توہین رسالت کے واقعات میں کمی واقع ہو۔ مثال کے طور پر مارچ2009ء میں ہماری حکومت نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے روبرو جنیوا میں ایک قرارداد پیش کی، جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ کی توہین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف متصور کیا جائے، جس کے تحت اقوام عالم سے مذاہب کی توہین کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد مورخہ26-03-2009کو بے پناہ تحفظات کے باوجود منظور کر لیا گیا۔ یوں ہماری حکومت بین الاقوامی سطح پر آزادیِ اظہار کی بنیاد پر مذہب اور عقیدوں کی توہین کی کوششوں کی حدود متعین کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ عوامی رابطے کی ویب سائٹ "فیس بک" کو بند کر دیا گیا، کیونکہ اس نے ایک ایسا صفحہ ترتیب دیا اور اس کی تشہیر کی گئی جس کو "یوم خاکہ نویسی محمد (نوذباللہ) برائے خاص و عام" کا نام دیا گیا تھا۔یہ پابندی اس وقت اٹھا ئی گئی جب فیس بک انتظامیہ نے متذکرہ صفحہ تک رسائی ممنوع کر دی۔ جون2010ء میں تقریباً 17ویب سائٹوں کو اس بناپر بند کیا گیا کہ ان پر ایسا مواد موجود تھا ،جو مسلم امہ کی دل آزاری کا باعث اور توہین آمیز تھا۔ اس وقت سے مقتدر ادارے ان ویب سائٹوں پر موجود مواد کی نگرانی کر رہے ہیں، جن میں گوگل، یاہو، یوٹیوب، ایمزون، ایم ایس این، ہاٹ میل اور بنگ اور عوامی رابطے کی ویب سائٹس شامل ہیں، جوکہ بین الاقوامی سطح پر مستعمل ہیں اور عوام پر براہ راست اثرانداز ہوتی ہیں۔

شرعی سزا ریاست ہی کا اختیار ہے

شخصی یا نج کی سطح  پر سزا کا نفاذ غیر مہذب یا قبائلی  معاشروں کا رویہ رہا ہے، جہاں کوئی سیاسی  نظم  یا تنازعات کے حل کے لیے کوئی غیر جانب دار مجاز اتھارٹی موجود نہ ہوتی تھی۔ ایسے معاشروں میں ، ظاہر ہے کہ  مجرم پر سزا کے نفاذ میں انصاف کا رویہ اپنانا نا ممکن ہوتا تھا۔سزا مقتول یا متاثر شخص کے ورثا کی طاقت پر منحصر ہوتی تھی۔ طاقت نہ ہوتی تو مجرم آزاد پھرتا، کوئی اس کو پوچھ نہ سکتا۔ اور طاقت ہوتی تو جب تک متاثر فریق کا کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوتا، قاتل اور اس کے خاندان و قبیلے کو سزا دینے کا سلسلہ چلتا رہتا۔ا یک شخص کے قتل کے بدلے میں قبیلے کے قبیلے بھی مارے جا سکتے تھے۔ عرب قبائل میں ایک ایک قتل کے  انتقام میں صدیوں جنگیں رہنا اور  ان گنت لوگوں کا مارا جانا معروف و معلوم ہے۔ یہ حقیقت محتاجِ دلیل نہیں کہ متاثر شخص خود سزا دینے میں کبھی بھی انصاف ملحوظ نہیں رکھ سکتا۔ یہ فطری سی بات ہے ،اور انسانی نفسیات پر ذرا سا غور اس میں کوئی شبہ نہیں رہنے دیتا۔میرا بھائی یا بیٹا  مارا جائے تو میرا کلیجہ  مخالف کے سارے لوگوں کو قتل کر کے  بھی   ٹھنڈا نہ ہو گا۔ یعنی مظلوم بدلے کے وقت ہمیشہ ظالم بن جاتا ہے۔ذاتی و قبائلی سطح پر سزا اور بدلے کی صورت میں ظلم و نا انصافی سے احتراز کے عدم امکان  نے انسانوں کو قائل کیا کہ کوئی غیر جانب دار اتھارٹی ہونی چاہیے ، جو  متنازع معاملے میں غیر جانب دار رہ کر فیصلہ کر سکے، وہ مظلوم کی داد رسی بھی کرے، لیکن ظالم سے انتقام لینے میں بھی حد سے تجاوز نہ کرے۔ ریاست اور نظمِ اجتماعی  کا وجود بنیادی طور پر اسی تصورِ انصاف اور ظلم و عدوان سے بچاؤ کی انسانی خواہش کا نتیجہ ہے۔ حضورﷺ نے بھی نظمِ اجتماعی کے ذریعے اس ظلم و عدوان کے خاتمے کی کوشش کی ، جو قبل ازیں عرب سوسائٹی کو اپنے شکنجے میں جھکڑے ہوئے تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے عمل اور فرامین کے ذریعے اس امر کو یقینی بنانے میں کوئی دقیقہ فراگزاشت نہ کیا کہ کوئی بھی متاثر شخص کسی ملزم سے اپنے طور پر نمٹ سکتا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی حد یا شرعی سزا نافذ کر سکتا ہے۔ ایسا کرنے والا شریعت و قانون کی نظر میں اسی طرح مجرم ہے ، جیسے  وہ شخص جس کو یہ سزا دے رہا ہے۔ اس ضمن میں یہاں، زیرِ بحث حقیقت کو نمایاں کرتی چندروایات کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے:
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرب میں مسلمانوں کی حکومت سے قبل ہر شخص بدلہ خودلے  لیا کرتا تھا۔جب ہجرت مدینہ کے بعد  مسلم حکومت قائم ہو گی  تو اس نوع کی کارروائی ممنوع قرار پائی اور طے پایا کہ حکمران کے بغیر ہی بدلہ لینے ولا گناہ گار ہوگا۔ یہ رویت کچھ اس طرح ہے: 
عن ابن عباس في قولہ (فمن اعتدى عليكم فاعتدوا عليہ بمثل ما اعتدى عليكم) وقولہ (ولمن انتصر بعد ظلمہ فأولئك ما عليہم من سبيل) وقولہ (وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ) وقولہ (وجزاء سيئۃ سيئۃ مثلہا) فہذا ونحوہ نزل بمكۃ والمسلمون يومئذ قليل ليس لہم سلطان يقہر المشركين وكان المشركون يتعاطونہم بالشتم والأذى فامر اللہ المسلمين من يجازى منہم ان يجازوا بمثل الذي أتی إليہ أو يصبروا ويعفوا فہوا مثل فلما ھاجر رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم إلی المدينۃ وأعز اللہ سلطانہ أمر المسلمين ان ينتہوا في مظالمہم إلی سلطانہم ولا يعدو بعضہم علی بعض كأھل الجاھليۃ فقال (ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لوليہ سلطانا فلا يسرف في القتل انہ كان منصورا) يقول ينصره السلطان حتی ينصفہ  من ظالمہ ومن انتصر لنفسہ دون السلطان فھو عاص مسرف قد عمل بحميۃ الجاھليۃ ولم يرض بحكم اللہ (البیہقی، السنن الکبریٰ،8/108، رقم :16080) 
ماواراے عدالت  شخصی سطح پر سزا کے حوالے سے لوگ عام طور پر یہ استدلال پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ  اس طرح ملزم کے چھوٹ جانے کا امکان ہوتا ہے۔ لیکن  اگر اس دلیل کو  ماوراے عدالت  سزا کا جواز بنا لیا جائے تو عدالت  کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا، کیوں کہ متاثر فریق کو تو ہمیشہ (بہ طورِ خاص جب کسی معاملے میں اس کے جذبات کو زیادہ ٹھیس پہنچی ہو) یہ وہم لا حق ہوتا ہے کہ معلوم نہیں ملزم کو عدالت سے سزا ملے یا نہ  ملے! اور یہ حقیقت  بھی ہے کہ عدالت سے کسی نہ کسی طرح ملزم کے سزا سے بچ  جانے کا چانس ہر وقت موجود ہوتا ہے (بالخصوص ان مقدمات میں جس میں  ثبوتِ جرم پر ملزم کو موت کی سزا ملنا ہو، کہ اس میں شریعت اور قانون اس وقت تک سزا دینے کے حق میں نہیں ہیں ، جب تک ملزم کا جرم  اظہر من الشمس نہ ہو)۔بنا بریں  اس کی اجازت کسی طرح نہیں دی جا سکتی۔اور یہ کوئی انہونی یا نئی بات نہیں، مسلم تراث میں اس کا واضح اظہار  دکھائی دیتا ہے۔مثلاً ابن شہاب زہری سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کے قاتل پر قابو پا لے، تو اس خوف کے سبب، کہ حکمران تک پہنچنے  سے پہلے وہ کہیں اس کے ہاتھ سے نکل جائے، وہ قاتل کو خود قتل کر سکتا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا: سنت یہ چلی آرہی ہے کہ امام کے علاوہ کوئی  کسی کی جان نہ لے۔روایت کے الفاظ یہ ہیں: 
عن ابن شہاب أنہ قال في رجل قدر علی قاتل أخيہ أعليہ حرج فيما بينہ وبين اللہ ان خاف ان يفوتہ قبل ان يبلغ بہ إلی الامام ان ھو قتلہ قال ابن شہاب مضت السنۃ ان لا يغتصب فيقتل النفوس دون الامام، (البیہقی، السنن الکبری،8/107، رقم:16078)
مزید برآں اہلِ علم  کے یہاں یہ بات بھی مسلم ہے  کہ ملزموں کی  سزا کے معاملے میں شریعت کا خطاب ہی اہل ِ حل و عقد سے ہے نہ کہ عام لوگوں یا متاثر فریقوں سے۔صاحب احکام القرآن نے غلام اور آزاد پر سزا کے نفاذ سے متعلق  مجاز اتھارٹیز کے حوالے سے علما کا اختلاف ذکر کرنے کے بعد چوری کی سزا ( قطعِ ید) اور زنا کی سزا (سو کوڑے)سے متعلق آیات کا حوالہ دے کر ان میں اللہ تعالیٰ کے  اندازِ خطاب   کوہر نوع کے مجرموں کی  سزا کے لیے  فی الواقع حکمرانوں ہی کے مجاز اتھارٹی ہونے پر دلیل بناتے ہوئے لکھا ہے:
وقد علم من قرع سمعہ ہذا الخطاب من اہل العلم ان المخاطبین بذلک ہم الائمۃ دون عامۃ الناس فکان تقدیرہ فلیقطع الائمۃ والحکام ایدیہما ولیجلدہما الائمۃ والحکام  ولما  ثبت باتفاق الجمیع ان المامورین باقامۃ ہذہ الحدود علی الاحرار ہم الائمۃ ولم تفرق ھذہ الآیات بین المحدودین من الاحرار والعبید وجب ان یکون فیھم جمیعاً .(الجصاص ،احکام القرآن، تحقیق: محمدا لصادق قمحاوی ،5/131) 
اس خطاب کو جو بھی سنتا ہے، جان لیتا ہے کہ اس کے مخاطب عام لوگ نہیں ، امام اور حکمران ہیں ۔گویا تقدیرِ کلام یہ ہے کہ ان دونوں کے ہاتھ امام اور حکام کاٹیں اور امام اور حکام ان کو کوڑے لگائیں۔ اور جب سب کے نزدیک آزاد لوگوں پر آئمہ ہی کے ذریعے ان حدود کا نفاذ ثابت ہو گیا ،اور یہ آیات زیرِ نظر حوالے سے آزاد اور غلام میں کوئی فرق نہیں کرتیں ، تو لازم ہوا کہ سب کے لیے یہی حکم ہے (یعنی ہر ایک کو سزا حاکم ہی دے)۔
سو ماورائے عدالت سزا کا تصور نہ قانون کے مطابق ہے اور نہ شرعی اصولوں سے میل کھاتا ہے ۔ اگر اس کی اجازت دے دی جائے تو  معاشرہ جنگل کے قانون کا نقشہ پیش کرنے لگے۔توہینِ رسالت کے معاملے میں بھی یہ ریاست و عدالت ہی کا اختیار ہے کہ وہ جرم ثابت ہونے پر ملزم کو سزا دے۔ ہمارے وہ مذہبی حلقے جو توہین رسالت پر ماوراے عدالت قتل کو جائز سمجھتے ہیں، وہ شرعی تعلیمات کے ساتھ ساتھ  توہینِ رسالت پر سزاے موت سے متعلق قانون 295-C  کی بھی مخالفت کے مرتکب ہوتے ہیں ۔وہ اس طرح کہ  اگر ماورائے عدالت قتل جائز ہو جائے تو مذکورہ قانون کی ضرورت ہی نہیں رہتی ، جہاں کہیں توہین ہوئی   سننے دیکھنے والے  شخص نے ملزم کا قصہ پاک کردیا۔ اس طرح تو فوری انصاف مل جاتا ہے، قانون میں تو معاملہ لٹکتا بھی ہے اور ملزم کے شک سے فائدہ پا جانے کا امکان بھی ہوتا ہے۔لیکن اس کو کوئی بھی معقول شخص درست قرار نہیں دے سکتا کہ اس سے آئین و قانون کے تقاضوں کی پامالی  کے ساتھ ساتھ ، ملزم سے نا انصافی کے بھی قوی امکانات ہیں ۔ بنا بریں  شریعت کے اصولوں کے تحت صفائی پیش کیے یا عدالتی کاروائی سے گزارے بغیر نہ کسی کو مجرم ٹھرایا جا سکتا ہے اور نہ سزاے موت دی جا سکتی ہے۔ آدمی کی دینی حمیت  اور غیرت اس کے  ماوراے عدالت اقدام کی دلیل نہیں بن سکتی ، کیوں کہ  وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول  سے زیادہ غیرت مند نہیں ہو سکتا۔ جب اللہ  اور اس کا رسول ﷺبندے سے زیادہ غیر مند ہونے کے باوجودملزم کو دفاع کا موقع دیے بغیر سزا دینا نہیں چاہتے، تو کسی آدمی کے لیے یہ کیوں کر روا ہو سکتا ہے!اس حوالے سے اختصار کے پیش نظر  بخاری کی حسب ذیل روایت پر غور مفید رہے گا:
مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ حضرت  سعد بن عبادہ نے کہا کہ   میں اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھوں تو سیدھی تلوار کے وارسے اس کو قتل کر دوں(یعنی میری غیرت گوارا نہ کرے گی کہ چار گواہوں کی گواہی تک برداشت کروں) ۔ حضرت سعد کے یہ جذبات حضورﷺ تک پہنچے تو آپ نے فرمایا:
تعجبون من غیرۃ سعد واللہ لانا اغیر منہ واللہ اغیر منی ومن اجل غیرۃ اللہ حرم الفواحش ما ظہر منہا وما بطن ولا احد احب الیہ العذر من اللہ.(بخاری،کتاب التوحید ،حدیث:7483)
 تم سعدکی غیرت پر تعجب کرتے ہو! وااللہ! میں ان  سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے۔ اس نے اپنی غیرت ہی کی وجہ سے بے حیائی کے ظاہر و پوشیدہ امور سے منع کیا ہے، لیکن اللہ سے زیادہ کسی کو عذر خواہی پسند نہیں۔
اب دیکھیے حضورﷺ اچھی طرح  جانتے تھے کہ زیرِ بحث امر غیرت کا معاملہ ہے اور  اس طرح کے معاملے میں واقعی  آدمی کے جذبات نہایت شدید ہوتے ہیں! لیکن چونکہ اس پر خود سے سزا دینا شریعت کے منشا کے بھی  ہر گز موافق نہیں تھا، لہٰذا آپﷺ  نے  اس پر کوئی اور دلیل دینے کی بجائے  یہ فرما کر کہ  میں سعد سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے، اور اتنا غیرت مند کہ اس نے نہ صرف بے حیائی کے ظاہر کاموں سے منع کیا ہے بلکہ چھپے ہوئے کاموں سے بھی روکا ہے، اس بات کو انتہائی موکد کیا کہ  سب سے بڑھ کر صاحب ِغیرت  ہونے کے باوجود  اللہ کو یہی بات پسند ہے کہ ملزم کو اپنی بات کہے اوراپنا  کوئی عذر پیش کیے بغیر سزا نہ دی جائے۔ گویا واضح فرما گیا کہ   ملزم کتنا ہی قابلِ نفرت ہو، جذبات کتنے ہی شدید ہوں ! غصہ کتنا ہی زیادہ ہو! انتقام کی آگ کتنی ہی بھڑک رہی ہو!بے قابو نہیں ہونا! آپے سے باہر نہیں ہونا! ملزم کو بذریعہ  امام و حاکم ہی سزا دلوانی ہے! خود سزا نہیں دی جا سکتی۔جب اللہ اس قدر غیرت کے باوجود، جس کا تصور بھی تم نہیں کر سکتے، ملزم کو اپنی صفائی کا موقع دیے بغیر سزا نہیں دینا چاہتا، تو وہ کسی بندے کے لیے، جس کی غیرت اللہ کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی ،  اس  فعل کی کیسے اجازت دے سکتا ہے! ایک روایت میں  اسی تناظر میں واضح کیا گیا ہے کہ صورت حال کیسی ہی کیوں نہ ہو اللہ گواہوں اور شرعی طریقے  اور پروسیجرکے بغیر کسی کو سزا دینے کا اختیار ہر گز قبول نہیں کرتا۔ایک روایت کے مطابق:
عن الزھری:قال سال رجل النبیﷺفقال:رجل یجد مع امراتہ رجلا ایقتلہ؟ فقال النبی :لا الا بالبینۃ۔۔۔یابی اللہ الا بالبینۃ "(مصنف عبدالرزاق، 9/434، حدیث :17917)
حضرت زہری سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے  سوال کیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو دیکھے تو کیا اسے قتل کر ڈالے؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: نہیں ، گواہی کے بغیر نہیں ۔۔۔اللہ تعالیٰ کو گواہی کے بغیر سزا  دینے کا اختیار قبول نہیں ۔" 
غیر ت کی بنا پر اقدامِ قتل کے حوالے سے  حضرت سعد والی حدیث کے مضمون  ایسی   بہت سی روایات مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہیں ، سب میں یہ بات مشترک ہے کہ جب حضورﷺ سے سوال کیا گیا کہ آدمی  اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو دیکھ کر گواہ جمع کرنے تو نہیں نکل کھڑا ہو گا! اس کی غیرت کیسے یہ گوارا کر سکتی ہے کہ  وہ اسے چھوڑ دے! لیکن رسول اللہﷺ نے زور دے کر فرمایا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا، جس سے ثابت ہوتا کہ شریعت اور شارع کا منشا یہ ہے کہ قانون کو کسی صورت اپنے ہاتھ میں نہ لیا جائے۔محدثین وشارحین حدیث نے بھی ان روایات  کی شروح میں پورے اذعان کے ساتھ اس امر کی وضاحت کی ہے کہ شریعت کسی صورت   بھی قانون کو عام لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں دینا چاہتی۔موطا کے شارح امام ابن عبدالبر نے  "التمہید لما فی الموطا من المعانی والاسانید"  کے اکیسویں جز میں  "حدیث خامس لسہیل" کے تحت اس نوع کی متعدد احادیث و آثار کا ذکر کیا  ہے  اور  قال ابو عمر(ابن عبد البر) کے ذریعے وضاحت کی ہے کہ  یہ ممانعت انسانی جان کی حرمت کے پیش نظر کی گئی ہے کہ کہیں  لوگ سزا کا شرعی طریقہ اختیار کیے بغیر ہی لوگوں کے قتل  اورامام و حاکم کے دائرۂ اختیار میں مداخلت کا راستہ اختیار نہ کر لیں۔سہیل بن ابی صالح کی اپنے والد سے اور ان کی سعد بن عبادہ سے وہ روایت جس میں حضرت سعد کہتے ہیں: 
یارسول اللہ ! ارائیت لو رائیت رجلا مع امراتی لاترکہ حتی ادعوا اربعۃ من الشھداء؟ فقال رسول اللہ ﷺ :نعم، فقال  والذی انزل علیک الکتب اذا لاعجلتہ بالسیف! فقال رسول اللہﷺ:ان سعدا لغیور وانی لاغیر منہ وان اللہ لاغیر منا۔ (التمہید،21/255) 
یا رسول اللہ! اگر میں کسی شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھوں تو اسے چھوڑ دوں یہاں تک کہ چار گواہ لاؤں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جی ہاں! حضرت سعد نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے ، میں تو تلوار سے اس کا کام تمام کر دوں ، تو حضور نے فرمایا: سعد بے شبہ غیرت مند ہے ، لیکن میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ ہم سب سے زیادہ غیرت مند ہے۔
 نقل کر نے کے بعد امام ابن عبد البر نے  لکھا ہے: 
قال ابو عمر: یرید۔ واللہ اعلم۔ ان الغیرہ لا تبیح للغیور ما حرم علیہ ، وانہ یلزمہ مع غیرتہ ا لانقیاد لحکم اللہ  ورسولہ، وان لایتعدی حدودہ،فاللہ و رسولہ اغیر؛ولا خلاف۔(التمہید، 21/256)
ابو عمر(ابن عبد البر) کہتا ہے کہ غیرت غیرت مند کے لیے وہ چیزیں حلال نہیں کر دیتی ، جو اس پر حرام ہیں ۔ سو آدمی پر اپنی غیرت کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر سر تسلیم خم کرنا بھی ضروری ہے، اسے چاہیے کہ وہ اس کی حدوں کو نہ توڑے، اللہ اور اس کا رسول زیادہ غیور ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
اسی بحث میں  ایک دل چسپ امر یہ بھی ہے   کہ کسی  فعل  کے جائز یا ناجائز ہونے  سے متعلق فیصلہ کرنے کے لیے شریعت  میں اس بات کی بھی غیر معمولی اہمیت نمایاں ہوتی ہے کہ اس فعل کے نتائج کیا ہوں گے ! فرض کریں کسی خاص صورت حال میں   بادی النظر میں ایک فعل درست ہی معلوم ہوتا ہو، لیکن  اس سے  ایک غلط  روایت پڑ جانے کا اندیشہ تو وہ شرعاً ممنوع ہو گا۔ایک روایت میں ہے کہ غیرت کے مذکورہ تناظر سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے حضورﷺ نے یہ فرمانے کے لیے کہ اس معاملے میں تلوار ہی کی گواہی کافی ہے، ابھی صرف کفی  بالسیف شا ہی فرمایا تھا یعنی شاہداً    کا لفظ مکمل نہیں کیا تھا کہ فرمایا : نہیں ، یوں تونشے والے اور غیرت کے جذبے سے مغلوب لوگوں کے لیے روایت بن جائے گی۔روایت کے الفاظ ہیں: عن الحسن فی الرجل یجد مع امراتہ رجلاً؛قال : قال رسول اللہ ﷺ۔: کفی بالسیف شا۔یرید ان یقول شاھداً۔فلم یتم الکلمۃ۔قال: اذا تتابع فیہ السکران والغیران (التمہید،21/257؛ مصنف عبدالرزاق،17918)
اس طرح کے اور بہت سے شواہد احادیث و آثار سے پیش کیے جا سکتے ہیں ، جو اس  دعوے کے لیے نہایت قوی دلائل ہیں کہ شریعت اسلامیہ  گواہوں ، عدالتی کاروائی اور ملزم کو صفائی کا موقع دیے بغیر اورذاتی و نج کی سطح پر سزا دینے کا اختیار ہر گز  کسی کو نہیں دیتی ۔ اس کے نزدیک یہ  امام و حاکم اور عدالت ہی کا اختیار ہے کہ وہ اپنے پروسیجر کے تحت جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزا دے۔ (ملزمِ توہینِ  رسالت  کے ماوارے عدالت قتل  کے خلافِ شریعت ہونے سے متعلق راقم کا  ممتاز قادری کیس کے حوالے سے "الشریعہ" میں شائع شدہ مضمون بھی قابل ِ مطالعہ ہے۔)
 توہینِ رسالت کے مقدمات کے حوالے سے چونکہ ہمارے لوگ ان حقائق کو نظر انداز کر دیتے ہیں،  اس لیے ان کی طرف توجہ رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ زیرِ نظر فیصلے میں  معزز جج صاحبان نے اس پہلو کو  نظر انداز نہیں کیا اور لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ آئین اور قانون میں مروجہ احکام کے تحت یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ ملک میں توہین رسالت  کا کوئی واقعہ روپذیر نہ ہو۔ ایسے کسی جرم کے ارتکاب کی صورت میں صرف ریاست کو اختیار ہے کہ وہ قانون کی مشینری کو حرکت میں لائے اور ملزم کو بااختیار عدالت کے روبروپیش کر کے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔یہ افراد یا گروہ کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ کوئی جرم مذکورہ دفعہ کے تحت سرزد ہواہے کہ نہیں۔ یہ  عدالت کی ذمہ داری ہے کہ مقدمے کی مکمل سماعت اور مصدقہ شہادتوں کو پرکھنے کے بعد اس قسم کا فیصلہ کرے۔ کوئی اور متوازی اتھارٹی کسی بھی قسم کے حالات میں کسی فرد یا گروہ کو نہیں دی جا سکتی۔ اسی وجہ سے عدالت ہذا نے قرار دیا ہے کہ توہین کا ارتکاب انتہائی نازیبا اور غیراخلاقی عمل ہے اور عدم برداشت کو جنم دیتا ہے، لیکن دوسری طرف قابل سزا قرار دینے سے پہلے، توہین کے ارتکاب کے متعلق ایک جھوٹے الزام کو بھی پوری طرح سے پرکھا جانا ضروری ہے۔اگر ہمارا مذہب اسلام، توہین کے مرتکب شخص کے لئے سخت سزا تجویز کرتا ہے، تو اسلام اس شخص کے خلاف بھی اتنا ہی سخت ہے جو جرم کے ارتکاب کے متعلق جھوٹا الزام لگائے۔ لہٰذا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی معصوم شخص کو جھوٹے الزام کی بنا پر تفتیش اور سماعت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔(چیف جسٹس،پیرا نمبر 15)

عمر قید وغیرہ کا آپشن توہینِ رسالت کے قانون میں نہیں اس پر عمل ممکن نہ تھا

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ  مذکورہ کیس میں آسیہ بی بی کو اگر سزائے موت نہیں دی جا سکتی تھی ،تو عمر قیدیا اس طرح  کی کوئی اور  سزا سنا دی جاتی ۔ یہ رائے دینے والے کیس کی نزاکت کے پیش نظربظاہر نیک نیتی سے  ایک متبادل راستہ تجویز کر رہے ہیں کہ یوں لوگوں کے جذبات نہ بھڑکتے  اور پھانسی اور رہائی کی درمیانی راہ نکل آتی ۔ لیکن جج قانون سے ماورا اقدام تجویز نہیں کر سکتے ۔ اگر 295-C میں اس طرح کا آپشن ہوتا تو ہی  کوئی اور  سزا دی جا سکتی تھی، لیکن بد قسمتی سے یہ آپشن  ختم کرا دیا گیا تھا۔ ججوں نے اس حوالے سے اپنی  مجبوری  کا تذکرہ بھی اس فیصلے میں کیا ہے۔ان کے مطابق  295-Cمیں اصلاً سزائے موت یا عمر قید اورجرمانے  کی سزا رکھی گئی تھی۔ اس شق کی موثریت وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے مقدمہ محمد اسماعیل قریشی بنام پاکستان بذریعہ سیکرٹری قانون اور پارلیمانی امور (PLD 1991 FSC 10) میں جانچی گئی تھی، جہاں عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ دفعہ  اس حد تک اسلام کے بنیادی اصولوں سے منافی ہے کہ یہ عمر قید کی سزا بھی تجویز کرتی ہے، جو ایک طرح سے سزائے موت کے متبادل ہوتی ہے ،اور یہ قرار دیا گیا کہ توہینِ رسالت کی سزا موت ہی ہونی چاہیے۔ یہ بھی قرار دیا گیا کہ اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا صدر30 اپریل1991ء سے قبل قانون میں ترمیم نہیں کرتا تواس دفعہ کو مذکورہ فیصلے کی روشنی میں ترمیم شدہ تصور کیا جائے گا۔ اس ضمن میں ایک اپیل عدالت ِعظمیٰ کے شریعت اپیلٹ بنچ میں دائر کی گئی، جو عدم پیرویِ استغاثہ کی وجہ سے خارج ہو گئی۔(چیف جسٹس، پیرا نمبر10)اب اس معاملے میں دو سزائیں رہ گئی ہیں :سزاے موت اور جرمانہ۔ جرم ثابت ہونے پر عدالت دونوں سزائیں دینے کی پابند ہے۔جرم ثابت ہونے پر سزاے موت اور جرمانہ ہو گا،  اور ثابت نہ ہونے پر کسی کوئی سزا نہیں دی جا سکتی۔
اس حوالے سے ہماری گزارش ہے کہ اگر دینی حلقوں کے لوگ  یہ سمجھتے ہیں کی 295-Cمیں سزائے موت کے علاوہ  ، عمر قید اورجرمانے کا آپشن بھی ہونا چاہیے، تو اسے اس قانون میں ترمیم کروانی چاہیے۔ زیر نظر فیصلے کے نتیجے میں پیش آنے والی بحرانی کیفیت کو دیکھ کر ،تو سچ یہ ہے کہ  ایسی ترمیم ضروری معلوم ہوتی ہے۔

شک کا فائدہ نہ کہ باعزت بری

قانون کی زبان میں ایک "باعزت بری " کرنا ہوتا ہے اور ایک "شک کا فائدہ" دے کر بری کرنا۔ باعزت بری کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملزم بے گناہ ثابت ہوا،لیکن شک کا فائدہ دے کر بری کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے ملزم کے گناہ گار ہونے کے ثبوت  قانونی معیار کے مطابق مہیا نہیں ہو سکے اور جج کو اس بات کا یقین نہیں ہو سکا کہ ملزم واقعی گناہ گار ہے۔زیرِ نظر فیصلے میں ملزمہ کو بے گناہ  قرار نہیں دیا گیا، بلکہ شک کا فائدہ دے کر بری کیا گیا ہے۔چیف جسٹس صاحب نے  پیرا نمبر 41 میں لکھا ہے:
All these contradictions are sufficient to cast a shadow of doubt on the prosecution’s version of facts, which itself entitles the appellant to the right of benefit of the doubt. It is a well settled principle of law that for the accused to be afforded this right of the benefit of the doubt, it is not necessary that there should be many circumstances creating uncertainty. If a single circumstance creates reasonable doubt in a prudent mind about the apprehension of guilt of an accused, then he/she shall be entitled to such benefit not as a matter of grace and concession, but as of right. Reference in this regard may be made to the cases of Tariq Pervaiz Vs. The State (1995 SCMR 1345) and Ayub Criminal Appeal No.39-L of 2015 -: 29 :- Masih vs The State (PLD 2002 SC 1048). Thus, it is held that the appellant is entitled to the benefit of the doubt as a right.
یہ تمام متضاد بیانات استغاثہ کی جانب سے بتائے گئے حقائق کی صداقت پر شبہات پیدا کرتے ہیں ،جس سے اپیل گزار شک کے فائدے کی حق دار بن جاتی ہے۔ یہ قانون ایک مستند اصول ہے کہ کسی بھی شک کی صورت میں ملزم کو شک کا فائدہ دیا جانا چاہیے، جس سلسلے میں یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ بہت سے ایسے حالات ہوں جو بے یقینی پیدا کر رہے ہوں، بلکہ اگر کوئی ایک امر ایسا ہو جو عاقل دماغ میں ملزم کے جرم کے متعلق معقول شبہ پیدا کرتا ہو، تب بھی وہ اس کا فائدہ لینے کا حق دار ہو گا، کسی رعایت کی صورت میں نہیں بلکہ ایک حق کی صورت میں، اس ضمن میں مقدمات طارق پرویز بنام ریاست (  SCMR 1345 1995 )اور ایوب مسیح بنام ریاست (PLD 2002 SC 1048) کا حوالہ دینا مناسب ہو گا۔ پس یہ ثابت ہے کہ اپیل گزار شک کے فائدے  بہ طورِ حق حق دارہے۔
سوشل میڈیا پر بعض حضرات، بلکہ علما کی طرف سے فیصلے پر نقد کے ضمن میں کہا گیا  ہے کہ  ججوں نے آسیہ کو معصوم قرار دیا، اور اس پر یہ اعتراض جڑا  گیا ہے کہ معصوم تو انبیا ہوتے ہیں اور   ججوں کی حماقت دیکھیے کہ   وہ عام لوگوں بلکہ ایک عیسائی  عورت اور وہ بھی توہینِ رسالت کی ملزم کو معصوم قرار دے رہے ہیں۔ یہ دالائل سن کر انتہائی دکھ ہوا، ججوں اور فیصلے سے اختلاف اپنی جگہ  لیکن علمی و تحقیقی  دیانت اور اخلاقیات بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔جانے لوگ اپنے مخالف فریق پر نقد میں ان ساری اخلاقیات کو پامال کیوں کر جاتے ہیں ، جن کے علمبردار بن کر کھڑے ہوتے ہیں !
اب اس اعتراض کی حقیقت دیکھیے ، دو میں سے ایک بات لازمی ہے ، یہ توان حضرات کو قانونی و عدالتی اور کلامی و شرعی معصوم و بے گناہ میں فرق کا علم نہیں یا جان بوجھ کر اسے چھپا رہے ہیں! ججوں نے جہاں کہیں معصوم و بے گناہ کا لفظ استعمال کیا ہے  اس کا مطلب فقط کسی خاص کیس میں بے گناہ  ثابت ہونے والا شخص ہے ،یا وہ شخص جس پر کوئی الزام نہ ہو، یہ نہیں کہ وہ شرعی طور پر انبیا کی طرح معصوم ہے۔ ان  معنی میں جج خود بھی خود کو معصوم نہیں کہتےچہ جائیکہ کسی ملزم یا آسیہ بی بی کو معصوم کہیں۔ پھر انھوں نے جہاں کہیں یہ لفظ استعمال کیا ہے ، عمومی لحاظ سے کیا ہے، مثلاً چیف جسٹس نے ایک جگہ قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا:" جب تک کوئی آئین میں مروجہ شفاف طریقۂ سماعت کے بعد گناہ گار ثابت نہیں ہو جاتا ہر شخص کو، بلاامتیاز ذات پات، مذہب و نسل کے، معصوم اور بے گناہ تصور کیا جائے گا۔"(چیف جسٹس ، پیرا نمبر 14)اب اس سے یہ مطلب لینا کہ چیف جسٹس نے آسیہ کو معصوم قرار دیا اور  وہ بھی شرعی و کلامی معنی میں  یا  توانتہا درجے کی بد دیانتی ہے یا پھر حماقت۔

کمزور پہلو

گو، ہمارے نقطۂ نظر سے، زیرِ نظر فیصلہ مجموعی طور پر شرعی و اخلاقی لحاظ سے درست اور قابلِ تحسین ہے، تاہم فیصلے کو سٹڈی کرتے ہوئے راقم کو اس میں کچھ پہلو کمزور محسوس ہوئے ۔سومحققانہ دیانت داری کا تقاضا ہے کہ ان پہلوؤں  کو بیان کرنے کے ساتھ  ساتھ ،جو مجھے شرعی و اخلاقی اصولوں کے موافق لگے  ، ان پہلوؤں کو بھی نمایاں کروں جومجھے  کمزور دکھائی دیے۔ یہ نکات مختصرا درجِ ذیل ہیں:

آیف آئی آر میں تاخیر پر شک 

چیف جسٹس صاحب نے  ایف آئی آر میں  پانچ دن کی تاخیر کو بھی شک کا سبب قرار دیا ہے، حالانکہ متعلقہ لوگوں کے دیہاتی پس منظر، ہمارے یہاں کی پولیس کے عمومی رویے   اور مقدمے کی نوعیت کے تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے پانچ دن کی تاخیر مقدمے  کو کمزور نہیں کرتی ، خصوصاً جب کہ چیف جسٹس صاحب نے خود لکھا کہ  "شکایت گزار کے فاضل وکیل نے   عدالت ہٰذا کے مقدمات زربہادر بنام ریاست (1978SCMR136)اور شیراز اصغر بنام ریاست (1995SCMR 1369)کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ FIRکے اندراج میں ہونے والی تاخیر تمام مقدمات میں مہلک نہیں ہوتی ،کیونکہ یہ مصدقہ اور قابلِ اعتبار آنکھوں دیکھی اور واقعاتی شہادت کو ساکت یا ضائع نہیں کرتی۔"(چیف جسٹس، پیرا نمبر29) اور پھر شکایت گزار کے وکیل کی اس دلیل کو تسلیم بھی کیا کہ انھیں "مذکورہ دلیل سے کوئی اختلاف نہ ہے۔"( چیف جسٹس، پیرا نمبر29)۔ آیف آئی آر کی تاخیر میں کمزوری سے صرفِ نظر اس پہلو سے بھی ضروری تھا کہ پیرا نمبر23 کی رو سے چیف جسٹس صاحب نے  شکایت گزار کے فاضل وکیل کی  اس گزارش سے  سے صرف ِنظر کیا تھا کہ چونکہ اپیل گزار(آسیہ بی بی ) کی اپیل سپریم کورٹ میں گیارہ دن کی تاخیر سے ہو رہی ہے، لہٰذا اسے رد کیا جانا چاہیے۔اگر اپیل گزار کو رعایت دی گئی  اور اس کی طرف سے تاخیر کو نظر انداز کیا گیا، تو یہاں بھی ایف آئی آر کی تاخیر کو نظر انداز کرنا بنتا تھا۔ میری ناقص رائے میں  چیف جسٹس صاحب کو فیصلے کے حق میں اس تاخیر کے معاملے کو استعمال کرنے کی ضرورت نہ تھی۔

اجتماع  کے مقام اور اس میں  موجود افراد کی تعداد کے بیان میں تضاد

محترم چیف جسٹس نے  مقدمے کے جھول کا ذکر کرتے ہوئے   اس تضاد کو بھی موضوع بنایا ہے جو گواہان میں مجمعے  کے مقام اور اس میں موجود افراد کی تعداد کے حوالے سے تھا۔اس حوالے سے انھوں نے لکھا ہےکہ   اولاًجرح کے دوران معافیہ بی بی (PW.2) نے نے بتایا کہ عوامی اجتماع میں تقریباً 1000سے زائد لوگ موجود تھے، لیکن اس کے سابقہ بیان میں یہ نہیں بتایاگیا تھا۔ثانیاً جرح کے دوران اس نے کہاکہ عوامی اجتماع اس کے والد کے گھر پر ہوا تھا، جب کہ یہ بات بھی اُس کے سابقہ بیان کا حصہ نہ تھی۔ثالثاً دورانِ جرح اس نے بیان دیا کہ بہت سے علما عوامی اجتماع کاحصہ تھے، لیکن یہ بات بھی اس کے سابقہ بیان میں شامل نہ تھی۔ اسی طرح اسماء بی بی (PW.3)بھی اپنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے دیئے گئے بیان سے انحراف کرتی رہی۔  جرح کے دوران اس نے کہا  کہ عوامی اجتماع اُس کے پڑوسی رانا رزاق کے گھر میں ہوا، لیکن اس بات کا ذکر اُس کے سابقہ بیان میں نہ تھا۔ثانیاً جرح کے دوران اُس نے کہاکہ عوامی اجتماع میں 2000سے زائد لوگ شریک تھے، لیکن اس بات کا تذکرہ اس کے سابقہ بیان میں نہ تھا۔(دیکھیے ، چیف جسٹس، پیرا نمبر30)اسی نوع کے تضادات و اختلافات کا تذکرہ  چیف جسٹس صاحب نے پیرا نمبر 33 اور 34 میں بھی  مختلف حوالوں سے کیا ہے۔ 
ہمارے خیال میں مجمعے کے مقام اور اس میں موجود افراد کی تعداد میں اس نوع کا اختلاف عمومی طور فطری ہوتا ہے ، اسے  جھوٹ یا دھوکہ دہی پر مبنی  قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے کہ اس طرح کے ایشو پر مجمعے بے ہنگم جمع ہو جاتے ہیں ، اور ایک سے دوسرے گھر یا ڈیرے پر منتقل بھی ہوتے رہتے ہیں ۔گویا یہ ایک  نہیں کئی طرح کے ، کئی مواقع  اور کئی مقامات پر ہونے والے اجتماعات بن جاتے ہیں، لیکن ان کو ایک ہی اجتماع کے تناظر میں دیکھ لیا جاتا ہے، کیوں کہ وہ مقام و نوعیت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے نہایت متصل اور قرب کے حامل ہوتے ہیں۔ایسے اجتماعات میں متعین طور پر سارے افراد یا اہم  اورنمایاں افراد کے نام اور شناخت بتانابھی  ممکن نہیں  ہوتا۔مجمعے کی نفسیات کے تحت لوگ  خود بخود کھنچے چلے آتے ہیں، سوافراد کی تعداد کا بھی اندازہ ہی ہوتا ہے، متعین نمبرز کوئی بھی نہیں بتا سکتا۔اس طرح کے اجتماع میں مجمعے کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے  تعداد میں مبالغہ  فطری سی چیز ہے۔ یہ بتانے کے لیے  کہ  فلاں جگہ بہت سے لوگ جمع تھے، لوگ عموماً کَہ جاتے ہیں کہ سیکڑوں یا ہزاروں لوگ تھے ۔ چاہے لوگ  ڈیڑھ دوسو یا کم و بیش ہوں ۔ راقم کو اس ضمن میں دیہاتی پنچائیتوں اور  مقدمات کے ضمن میں لوگوں کے مختلف مقامات پر جمع ہو کر بات چیت کرنےاور  معاملے کی تَہ تک پہنچنے کے لیے  سوچ وبچار کرنے (جسے ہماری مقامی  دیہاتی زبان میں" گویڑ لگانا "کہا جاتا ہے)سے متعلق ذاتی تجربات ہیں۔ میرے نزدیک  دیہاتی پس منظر کے اس طرح کے  کسی مقدمے میں ایسا اختلاف و تضاد  اجتماع کے عدم وقوع کی دلیل نہیں بن سکتا۔ رہی بات ایک موقعے پر مجمعے کی تعداد کے تذکرے اور دوسرے موقعے پر اس کا عدم ذکر تو یہ بھی فطری ہو سکتا ہے، ممکن ہے ایک موقعے پر گواہ نے محسوس کیا ہو کہ  اس کا ذکر غیر ضروری ہے اور دوسرے موقعے  پر اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے اس کا تذکرہ کر دیا ہو۔

اجتماع  کے وقت اور دورانیے اور گرفتاری کے وقت  کے بیان میں تضاد

ایک دلیل اجتماع کے وقت اور دورانیے سے متعلق تضاد و اختلاف کی  دی گئی ہے، جس کے مطابق"(PW.2) نے کہاکہ یہ جمعہ کے روز بارہ بجے منعقد ہوا اور اس کا دورانیہ 15سے 20منٹ تک تھا۔ (PW.3) نے بیان دیا کہ عوامی اجتماع بارہ بجے دوپہر کومنعقد ہوا اور پندرہ منٹ تک جاری رہا۔ (PW.4) نے بیان دیا کہ گیارہ سے بارہ بجے دوپہر منعقد کیاگیا اور دو سے ڈھائی گھنٹے جاری رہا۔
کسی وقوعے کے وقت کے صحیح صحیح  بیان  میں تضاد  کے حوالے سے ایک اور دلیل ، جو اوپر ذکر ہو چکی ہے ، آسیہ بی بی کے گرفتار کرنے والے پولیس آفیسر سے متعلق ہے کہ ایک موقعے پر اس نے بیان دیا کہ اس نے ملزمہ کو "اٹاں والی" سے شام چاربجے کے قریب گرفتار کیا اور بعدازاں ایک اور موقع پر اس نے کہا کہ وہ دیہات اٹاں والی تقریباً 7بجے کے قریب پہنچا اور وہاں ایک گھنٹے تک رکا۔(چیف جسٹس، پیرا نمبر 40) 
 اجتماع کے وقت  ومقام اور ان میں موجود افراد اور گرفتاری کے وقت کے چار یا سات بجے شام ہونے سے متعلق تضاد والی دلیل، ہمارے خیال میں متذکرہ بالا پوائنٹ والی دلیل  سے بھی زیادہ کمزور ہے۔اجتماع  اور گرفتاری کے وقت اور دورانیے کے ضمن میں مذکورہ تضاد و اختلاف بالکل فطری ہے۔ ایسے موقعے پر لوگ  گھڑیاں سامنے رکھ کے نوٹ بک میں ٹائم نوٹ نہیں کر رہے ہوتے کہ  عین منٹ اور گھنٹے گن کر بتائیں!

آسیہ کے معنی  گناہ گار نہیں

جسٹس کھوسہ صاحب نے  اپنی رائے کے پیرا نمبر 25 میں میں لکھا ہے:
It is ironical that in the Arabic language the appellant’s name Asia means ‘sinful’ but in the circumstances of the present case she appears to be a person, in the words of Shakespeare’s King Leare, “more sinned against than sinning”.
یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ عربی زبان میں  آسیہ  کے معنی گناہ گار ہیں لیکن زیرِ نظر مقدمے میں اس کا کردار شیکسپیئر کے ناول کنگ لیئر( King Leare) کے الفاظ میں "گناہ کرنے سے زیادہ گناہ کا شکار" جیسا ہے۔
فیصلے کے آخر میں اس رومانوی  بیان کی کوئی ضروت نہ تھی  کہ خواہ مخواہ  شیکسپئیر کے ناول کا حوالہ دینے کے لیے  آسیہ کو عاصیہ بنا دیا جاتا، اس کو تو کوئی ستم ظریف الٹ بھی استعمال کر سکتا ہے کہ آسیہ  مولویوں سے زیادہ مضبوط ہے ، کہ اتنے کرائسز اور مخالفت کے باوجود مقدمہ جیت کر دکھانے میں کامیاب رہی۔(واضح رہے عاصیہ کے معنی گناہ گار ہیں اور آسیہ کے معنی  مضبوط)اس غلطی کے بارے میں  کھوسہ صاحب کی طرف سے یہ عذر پیش کیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے   انگریزی میں لکھے ہوئے نام آسیہ کو عاصیہ سمجھ لیا،لیکن ہم نے تو آج تک   اردو میں اس  کو آسیہ ہی دیکھا ہے۔جج صاحبان  کو کبھی کبھی اردو بھی دیکھ لینی چاہیے۔اور ہاں! چونکہ "تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں"،  ہم یہ بھی عرض کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ شیکسپئیر کی ٹریجڈی کے ہجےKing Leareنہیں King Learہیں۔

نتیجہ بحث

ہمارے نزدیک زیرِ نظر فیصلہ  بحیثیت مجموعی  ایک درست فیصلہ ہے، جو اخلاقی ، اصولی اور شرعی معیارات کے مطابق ہے۔ اس میں بعض کمزوریاں موجود ہیں، جن میں سے اہم کی ہم نے اوپر نشان دہی بھی کردی ہے، لیکن یہ کمزوریاں فیصلے کی مجموعی اور عمومی  کریڈیبلٹی کو متاثر نہیں کرتیں۔کمزوریوں کے ضمن میں جن نکات کی نشان دہی کی گئی  ہے،ان کو نکال بھی دیا جائے تو فیصلے کی ساکھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ہماری رائے میں ان چیزوں کو فیصلے میں فاضل جج صاحبان نے تاییدی شواہد کے طور  پر استعمال کیاہے ، فیصلہ بنیادی طور پر ان پر منحصر نہیں، اور ایسا ہونا مختلف مواقف کے اظہار میں عام مشاہد ہے۔اہل علم و تحقیق جب  کوئی مجموعی موقف اختیار کرتے ہیں  تو بعض اوقات  ان نکات کو بھی ذکر کر دیتے ہیں ، جو اگرچہ اتنے معیاری نہیں ہوتے  ،لیکن مجموعی موقف کے تاییدی دلائل کا مسالہ بن رہے ہوتے ہیں۔
متعلقہ ججوں سے جس کو جو بھی اختلاف ہو، راقم کو یہ فیصلہ ہر گز بد نیتی  یا کسی پریشر پر مبنی دکھائی نہیں دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پریشر ہی تو اس میں قبول نہیں کیا گیا، اس لیے کہ اس مقدمے میں باہر کا پریشر اندر کے پریشر کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔یہود ونصاریٰ یا امریکہ و یورپ کے  کی طرف سے ان کے  جس حشر کا مفروضہ گھڑا جا سکتا تھا ، وہ اس حشر کا عشر عشیر بھی نہیں  ہو سکتا تھا،جوتحریک لبیک اور ان کے ہم خیال دیگر احتجاجیوں کی طرف سے سامنے  دکھائی دے رہا تھا۔ ججوں کی نظر میں تھا  کہ جلاؤ گھراؤ کی ہولناک اور تباہ کن  ملک گیر تحریک کے ساتھ ساتھ  ان کی  اپنی جان بھی جا سکتی ہے۔ لیکن انھوں نے اس پریشر کو جھٹک کر وہی فیصلہ کیا، جسے دیانت داری سے درست سمجھا۔مجھے تو یوں لگتا ہے  کہ ججوں کا دھیان کسی پریشر کی بجائے  انصاف کو ہر حال میں یقینی بنانے سے متعلق  دنیاے قانون و انصاف  کے اس  معروف قول  کی طرف تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ انصاف ہونا چاہیے خواہ آسمان گر پڑے ( Let Justice be done though the heavens fall)۔اور سچی بات یہ ہے کہ یہ  فیصلہ  ان چند فیصلوں میں شمار کیا جا سکتا ہے، جن پر واقعتاً آسمان گرنے  کا خدشہ تھا۔

ہجرت رسول ﷺ کا بشریاتی مطالعہ

عاصم بخشی

(میاں انعام الرحمٰن کی کتاب ’’سفر ِجمال‘‘ پر ایک تبصرہ)

کیا اسلام کا ایک خالص معروضی مطالعہ ممکن ہے1؟ یعنی   ویسی ہی معروضیت جو مغربی درس گاہی نظام یعنی ’اکیڈمی‘ میں  یہودیت اور عیسائیت کا  وہ مطالعہ ممکن بناتی  ہے جس کی رو سے ان دونوں کی تعریف ایسے  ’مذاہب‘ کے طور پر کی جاتی ہے جن کے ماننے والے خود کو یہودی یا عیسائی کہتے ہیں۔درس گاہی تناظر کی اس  تنصیب   کے بعد  مذہب اور کلچر ایک ہی سکّے کے دو  رخ بن جاتے ہیں۔ یہودیت یا عیسائیت کے معنی کم وبیش یہودی  اور عیسائی ثقافت واقدار اور عقائد و اعمال کا مجموعہ ٹھہرتے ہیں۔ دوسری طرف روایتی  مطالعۂ اسلام  تاحال ’ریلیجن‘ اور’ کلچر‘ کی لاینحل  دبدھا کا شکار ہے۔ غیرمقامی روایتِ علم سے وارد ہونے والی ان دونوں     اصطلاحات کو من وعن تسلیم کرتے ہوئے انہیں سماجی محاورے میں خاطرخواہ جگہ  تودی جا چکی ہے، لیکن  ساتھ ہی ساتھ دینِ اسلام اور مسلم ثقافت کے درمیان  صحت و استناد کے سوال پرمسلسل کھینچا تانی جاری ہے۔ کھینچا تانی کا  اوّل میدان روایتی اسلام اور غیرمقلد  اور آزاد منش مصلح  و  متجددین  کے درمیان تعبیراتی کشمکش اور  زمانی ومکانی استناد پر اجارہ داری کی خواہش ہے۔دوم، متقابل روایتی مظاہر  کے درمیان  وہ  تعبیراتی کشمکش ہے جس میں  اپنے تئیں ماضی  کے ایک’ مستند‘ دور  سے سند لانا لازم مانا جاتا ہے۔یہ دونوں میدان مل کر عصری روایتی تناظر کی تشکیل کرتے ہیں۔ روایتی تناظر  کے برعکس بشریاتی  تناظر  اس سوال کو منفی کشمکش نہیں  بلکہ ایک ایسی   اضافیت پسند تکثیریت کے طور پر دیکھتا ہے جو   مطالعہ ٔ  اسلام  کی   نئی خاکہ بندیوں کے ذریعے  مکالمے اورفہم کے امکانات میں بڑھوتی کا باعث بنتی ہے۔
مطالعۂ اسلام کی مغربی علمی روایت میں پچھلی نصف صدی کے دوران اٹھایا جانے والا سب سے اہم سوال  یہی ہے کہ ’اسلام‘ نامی  اصطلاح کو  بشریاتی تناظر میں  پرکھنے کے کیا امکانات ہیں2؟یہ سوال   یوں پیدا ہوا کہ’ مذہب‘اور’ ثقافت‘  جیسی  سماجیاتی اصطلاحات کے برعکس ’اسلام‘ کی  اصطلاح بشریاتی تناظر کے قیام سے قبل نہ صرف  اپنا ایک محکم وجود رکھتی ہے بلکہ نوعِ انسانی کی کئی معاشروں  کو  ان کی یکساں شناخت بھی  عطا کرتی ہے۔اسلامی عقیدے  کے  مشمولات کا تعین کرنے والی  اہم ترین دستاویز  یعنی قرآن کریم نے نہ صرف اس اصطلاح کا من وعن استعمال کیا  بلکہ  اسے ایک نیم بشریاتی  تناظر میں نوعِ انسانی  کی  اس  معنویت پسندفطری حالت  سے بھی تعبیر کیا جس  کی رُو سے انفس و آفاق ، انسان کے اندر اور باہر موجود دونوں جہان ایک ہی واحد و یکتا ،  اول و آخر، حیّ و قیوم ذاتِ مطلق کے آگے ہمہ دم سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔ یہ سوال کہ’ کیا اسلام ایک مذہب ہے؟‘ ایک  نہایت پیچیدہ  بلکہ شاید  تاحال قریب قریب  ناممکن خاکہ بندی کو دعوت دیتا ہے۔ایک طرف تو   قرآن کریم اسلام  کو توحید پرست ابراہیمی روایت کے تسلسل کے طور پر متعارف کرواتا ہے لیکن دوسری طرف اسی ابراہیمی روایت کی دوسری ممیز شاخوں یعنی یہودیت اور عیسائیت  سے ایک امتیازی شناخت پر بھی اصرار کرتا ہے3۔جب تک ہم بشریاتی تناظر قائم نہیں کرتے یہ الجھن کچھ خاص نمایاں نہیں ہوتی لیکن  سماجیاتی میدان میں اترتے ہی  ہمارے سامنے باربار آن کھڑی ہوتی ہے۔
فی الحال مسئلہ درست سوالوں کی خاکہ بندی  یعنی  تصورِ اسلام کی بشریاتی وضاحت کا ہے۔ کلاسیکی اسلامی روایت سے جڑا ادب   اس خاکہ بندی  سے دامن بچا کر گزرتا ہے تو اسلام کو ’مذہب‘ کی بجائے ایک اور قرآنی اصطلاح ’دین‘ کی صورت میں متعارف کروا دیتا ہے جو رائج  بشریاتی  تناظر کے لیے  اتنی معنی خیز نہیں  بلکہ کافی حد تک  اجنبی ہے۔ یہ بھی ایک  حقیقت ہے کہ علم و ادب میں  رائج  لاطینی الاصل انگریزی اصطلاح  ’ریلیجن‘یعنی ’مذہب‘ سے قبل بھی  ابراہیمی  روایتوں سے منسلک انسان مختلف آفاقی  نظام ہائے اعتقادات سے خود کو منسلک کرتے  اور  ایک دوسرے کو اہلِ یہود، یسوع مسیح کے پیروکار،نصرانی  وغیرہ کی شناختوں سے جانتے تھے۔اسی طرح  ’کلچر‘ یعنی ’ثقافت‘ اور’سویلائزیشن‘یعنی’تہذیب‘ کی اصطلاحوں سے قبل بھی انسان کئی ثقافتی مظاہر سے منسلک تھا اور خود کو تہذیب یافتہ مہذب  مخلوق مانتا تھا۔ لیکن دراصل ان دونوں  اور اس قسم کی کچھ دوسری اصطلاحات نے علم و ادب کا وہ مخصوص تناظر قائم کیا جس میں  ’مذہب‘ یا’ثقافت‘نامی مقولات کے تحت نوعِ انسانی  کی وہ  تغیراتی خاکہ بندی  ممکن ہو سکی جس نے   انسانی سماج کو اس کی کلیت میں  سمجھنے  اور اس پرنفسیاتی، سیاسی اور معاشی اعتبارات سے بامعنی تبصرہ کرنے کے کئی منفرد امکانات پیدا کیے۔اسی مخصوص تناظر اور اس سے متعلقہ مقولات کو عرفِ خاص میں   بشریاتی ڈھانچہ  کہا جاتا ہے جوعلمِ بشریات کے اصولوں کے مطابق  فرد اور معاشرے کی خاکہ بندی ممکن بناتا ہے۔
 واقعہ یہ ہے کہ نوعِ انسانی  کے ایک چنیدہ بشرِ  واحد کے شعورو لاشعور پر  منطبق ہونے والی ملفوظ  ابراہیمی روایت   اور اس سے جڑی  نفسیاتی واردات کے طور پر اسلام  کا کوئی بھی  تعریفی خاکہ دراصل ایک  خالص بشریاتی واقعہ بن کر ابھرتا ہے۔ لفظ ’اسلام‘ کے تمام متنوع  اور متقابل و متطابق معنویاتی گروہ  اپنی تعریفات کے لیے  محمد رسول اللہ ﷺ کی قلبی واردات، ان  کی ثقافت و تہذیب سے جڑے تاریخی واقعات اور ان واقعات سے منسلک تعبیری و تشریحی مفروضوں کے محتاج ہیں جواسلامی روایت کے اساسی  متون یعنی قرآن و حدیث اور اولین معاشرتی مظاہر   کو محفوظ کرنے والے آثارواخبارکے ذریعے حاصل ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ چاہے روایتی ہوں یا تجدید پسند، اسلام کی تمام تر  تعریفات خود کو اضافی نہیں بلکہ معیاری گردانتی ہیں۔ یہ تعریفات جہاں خود ایک آفاقی کسوٹی پر پورا اترنے کا دعویٰ کرتی ہیں وہیں کچھ دوسری متقابل   تعریفات اور ان سے  جڑے اعمال کے مجموعوں کو غیرمعیاری بھی  مانتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلام کیا ہے کا سوال خود بخود   ایک معکوس سوال یعنی’ کیا اسلام نہیں ہے؟‘ کو بھی ابھارتا ہے۔چونکہ یہ تمام متقابل روایات  انسانی لاشعور وشعور میں اپنی محکم جگہ بنا کر مختلف ثقافتی مظاہر  کے ذریعے  مسلسل ترویج پاتی ہیں لہٰذا ان دونوں سوالوں  پر جوابی ردّعمل اور  پیش مفروضے خود بخود بشریاتی  تناظر میں نئی خاکہ بندیوں کو  دعوت دیتے ہیں۔
یہ وہ ناگزیر خاکہ ہے جسے توشہ دان میں رکھے بغیر’’سفرِ جمال‘‘4  پر کمر نہیں باندھی جا سکتی ۔’’سفرِ جمال‘‘ایک ایسی  منفرد ترین بشریاتی خاکہ بندی ہے جو روایتی اسلوبِ سیرت نگاری   سے علیحدہ ایک راہ نکالنے کے باعث اہلِ علم کے  علاوہ عام قارئین کو بھی بالعموم مذہبِ اسلام کے الہامی متون اور بالخصوص سیرت النبیﷺ کے  بشریاتی مطالعے کی دعوت دیتی ہے۔مطالعے کے غالب معنوی متغیرات دو مختلف  لیکن  ساتھ ہی ساتھ باہم گنجلک دھاروں    میں تقسیم ہیں ۔ سفروہجرت اور عزم ومزاحمت   کے یہ  دونوں  دھارے یوں تو  سیرتِ طیبہ کی ایک ہی لڑی میں پروئے ہیں لیکن تجزیے کی خاطر انہیں ایک دوسرے سے علیحدہ کرنا ضروری ہے۔پہلا دھارا واقعاتی ہے، دوسرا نفسیاتی، دونوں  کے ملاپ سے ایک اساطیری جہت تشکیل پاتی ہے۔میاں انعام الرحمٰن کا مرکزِموضوع ہجرت ہے۔لیکن ان کا حتمی پڑاؤ واقعۂ ہجرت کی تاریخی نہیں بلکہ  اس کی وہ اساطیری اہمیت  ہے جو اسلامی تہذیب  کے ہر گزرتے لمحۂ موجود کو مسلسل معنویت عطا کرتی ہے۔ پھریہ معنویت بھی عمومی سیرت نگاری کی طرح  حضورﷺ  کی ذات طیبہ  کی تمام تاریخی جہات  سے  ایک نفسیاتی تسکین یا سیاسی و سماجی عملی جدوجہد کے لیے  واقعاتی مال مسالے کے حصول تک محدود  نہیں  بلکہ  ایک ناگزیر اصولی خاکہ فراہم کرنے  سے عبارت ہے جو اپنے آخری درجے  میں اوجِ  ارتقائے حیات  یعنی اولین بشرِ کامل آدم  علیہ السلام سے  لے کرآخری انسانِ کامل یعنی  محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات  کو ایک ہی  تہذیبی کڑی میں پرو دیتی ہے۔
’’سفرِ جمال‘‘ کے  علمی پس منظر اور  تحقیقی  مفروضوں    کی خاطرخواہ  دریافت کی خاطراس موقع پر قارئین کے سامنے بشریاتی تناظر میں اسلام  کی تعریف کا ایک نہایت مختصر ساعمومی خاکہ رکھ دینا مناسب ہو گا۔اوپر ذکر کردہ پس منظر سے اتنا تو واضح ہے کہ  روایتی  تناظر  کے برعکس بشریاتی تناظر آفاق سے نفسِ انسانی  اور عملِ انسانی کی جانب عمودی اتار کی بجائے انسانی نفسیاتی  و اعمال   کے افقی پھیلاؤ کو اپنی  بحث کا  موضوع بناتا ہے۔ نظامِ عقائد اور مبادیات  دین کے الہامی  مباحث  انسانی ترجیحات کو متعین کرنے والے متغیرات کے طور پر  بحث میں لائے جاتے ہیں۔ یہاں الٰہیات و فقہ کے عظیم علمی  مسائل، نصوص  پر بحث ،  سند  اور اس کے اطلاق میں علتی  نسبتیں نہیں بلکہ  کسی بیمار شخص پر دم درود پڑھنے،   شادی بیاہ  یا قربانی کی  اسلامی ثقافتی رسومات اور آفاقی استناد و صحت کے  حصول کی خاطر فرد اور معاشرے کی نفسیات  بحث کا مرکز  ہیں۔ساٹھ کی دہائی سے قبل   روایتی تناظر کو قبول کرتے ہوئے مغرب میں   استشراقی  علمی روایت کے تحت ہی اسلام کا تجزیہ مروج رہا  ۔ تجزیاتی ڈھانچہ ایسا تھا کہ  ایک جانب تو تاریخیت5 اور دوسری جانب  بائبل   کے ضمن میں وضع کیے جانے والے تاریخی   انتقاد6 کے اصول و مبادیات کا اطلاق  قرآن و حدیث  پر بھی ہوتا رہا۔اوّل الذکر کو مقامی    ثقافت سے جنم لینے والے  نفسیاتی یا شعری الہام  اور آخر الذکر کو   تاریخی دستاویز  کے طورپر تجزیے کے سپرد کیا جاتا رہا۔اس تجزیاتی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی  ساٹھ کی دہائی میں  آئی جب  بین الثقافتی   مثلاً جاوا اور  مراکش کی مسلم ثقافتوں کے درمیان موازنے اور تقابل کے ذریعے ایک نئی روایت آغاز ہوا7۔تجزیے کے میدان میں یہ ایک لمبی جست تھی کیوں کہ  روایتی تناظر کے برعکس اسلام اب   معاشرتی رجحانات کا وہ نتھرا ہوا مجموعہ نہیں تھا جو  کل مظاہر کے مجموعے میں سے ثقافت کو منفی کر دینے کے بعد بقیہ بچتا ہے بلکہ ثقافت سے گنجلک کوئی  پیچیدہ   مظہری ملغوبہ تھا۔کم و بیش ڈیڑھ دہائی اسی سمت میں سفر جاری رہا۔ پھر   اسّی کی دہائی کے وسط میں   ایک نئے بشریاتی تناظر  کے  تصور پر  بحث کا آغاز ہوا جہاں  کسی بھی معاشرے میں مطالعۂ اسلام  کو ثقافت سے نمودار ہوتے ہوئے دیکھنے کی بجائے ان   طاقت ور شخصیتوں اور اداروں کو تجزیے کا بنیادی موضوع بنانے کی ترغیب دی گئی  جو اسلام کے سوال پر حتمی اختیار کا منبع ہیں8۔اس حقیقت کو بشریاتی تناظر میں زیادہ دلچسپ مان  لیاگیا کہ اختیارات کے یہ شخصی یا غیرشخصی مراکز  ہی دراصل فیصلہ کرتے ہیں  کہ  کیا اسلام ہے اور کیا نہیں اور نتیجتاً ایک ایسی استدلالی روایت کی تشکیل کرتے ہیں جسے معاشرے کی غالب اکثریت کا اعتماد  حاصل ہو جاتا ہے۔نوّے کی دہائی میں گلوبلازیشن اور بین الاقوامی مواصلاتی انقلاب  کے بعد ان دونوں بظاہر متضاد تجزیاتی ڈھانچوں نے مل کر ایک تیسرے بشریاتی پیراڈائم9 کو جنم دیا جس میں  سیاسی رجحانات اور طاقت واختیار کی کشمکش کو فیصلہ کن تجزیاتی اساس مانا گیا۔اب اولین ڈھانچے سے  توتاریخی یاداشت کا اصول لیا گیا اور دوسرے متبادل ڈھانچے سے  سیاسی و ثقافتی قوت  کے رجحانات کو اصولی تسلیم کیا گیا۔تیسری دنیا یعنی  جنوبی ایشیا اور  افریقہ کے مسلمانوں  کے یوروپی اسلام کے علمبرداروں سے علمی مراسم قائم ہوئے تو اسلام کے پسِ استعمار اور نوآبادیاتی  تنقید پر مبنی مطالعے بھی سامنے آئے۔اگلی تین دہائیاں انہی رجحانات کا تسلسل ہیں جو  مطالعۂ اسلام کی خاطر  قائم کیے گئے مفروضوں کو بشریاتی میدان میں  ثقافتی تجربہ گاہوں میں جانچنے کے بعد مختلف نتائج پر پہنچتی  ہیں10۔ 
بغور دیکھیے تو یہ لازماً ایک ایسا استخراجی ڈھانچہ ہے جہاں مطالعۂ اسلام  کا  نظریاتی تناظر پیش قیاس کرنے کے بعد ہی تھیوری سے  عملی تجزیے کی جانب پیش قدمی ممکن ہوتی ہے۔اس طرح مطالعۂ اسلام لازماً دو خانوں میں بٹ جاتا ہے جن میں سے ایک اسلام  تو خالص نظری  جب کہ  دوسرا اسلام  عملی یا تجزیاتی بن کر ابھرتا ہے۔اسلام کے ان دونوں مطالعات کو ایک  جوڑ کر ایک ساتھ پیچیدگی سے نمٹنا وہ چیلنج ہے جو اب اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کا  تیزی سے رائج ہوتا بشریاتی تناظر 11 ہے۔
اس پس منظر میں انعام الرحمٰن میاں کی کاوش   کو غالب مسلم ثقافت سے جنم لینے والی ایک ایسی جدید کاوش کہا جا سکتا ہے جو اختیاراتی  قوت کے مراکز یعنی  تعبیرات و تفاسیرِ قرآن اور’مستند‘  اخبار وآثار   سے کسی نہ کسی درجے میں جڑے رہنے کے باوجود ایک یکسر تازہ   منہجِ تحقیق  کے ساتھ مطالعۂ نو کی دعوت ہے۔ غالب مغربی بشریاتی تناظر  کی روایت سے یکسر باہر، یہ ایک  ایسی تجدیدی کوشش ہے جو استدلالی روایت  کی بازیافت پر کمر کستے ہوئے تجزیے کی خاطر کُل کو اجزاء میں تقسیم  بھی کرتی ہے اور اجزاء کو واپس  کُل میں ڈھالنے کی پیچیدگیوں سے تھک کر کارتیزی جزئیت کے آگے ہتھیار بھی نہیں ڈالتی ۔اگر بشریاتی تناظر میں ثقافت و  استناد  کے کسی نظریاتی کُل کو  میاں انعام الرحمٰن کا  پیش قیاسی  بدیہی مسلمہ مان لیا جائے تو اس تھیوری کی جانچ پڑتال کے لیے ان کا ’فیلڈ ورک‘ ہجرتِ رسولﷺ کا میدان اور اولین نبوی معاشرے کی نفسیات میں عزم و مزاحمت کے  رجحانات ہیں۔ 
یہ سمجھوتہ ضرور ہے کہ پابندیٔ اختصار اور اسلوبی تقاضوں کے باعث  ’’سفرِجمال‘‘ کا یکسر تازہ منہجِ تحقیق  بدقسمتی سے پس منظر میں رہتا ہے لیکن بہت سے  تازہ سوالات ضرور سامنے آتے ہیں۔شوقین محقق قاری کے لیے سیرتِ طیبہ سے متعلق یہ نئے سوالات پیاس کا شدید احساس ابھارتے ہیں۔غارحرا میں  نفسی ہجرت، صبر، عزم و استقلال  اور پھر اس عزم کےشخصی اظہار کا  ماضی کے جانب سفر کرتے ہوئے آدمؑ کے گم گشتہ عزم کی بازیافت بن جانا،  مستقبل میں آگے کو بڑھتے ہوئے ابدیت تک   نفسی ترغیبات کے خلاف  ڈٹ جانے کی یہ مکمل تصویر ایک ایسا اساطیری  منظرنامہ  ہےجو سیرتِ طیبہ اور  روایتی  مطالعۂ اسلام میں  ایک  تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں۔اگر میاں انعام الرحمٰن کے منہجِ تحقیق کو مزید توسیع دی جائے تو  ہجرت ہی کی طرح دوسرے  چھوٹے چھوٹے موضوعات کو بشریاتی فیلڈورک کے طور پر   تحقیقی مفروضوں کی جانچ پڑتال اور ردّ وقبول کے لیے  استعمال کیا جا سکتا ہے۔
’’سفرِ جمال‘‘ سے واپس لوٹ کر ہمیں یہ نئے سوالات اٹھانے کی بھی  ضرورت ہے کہ کیا  روایتی مسلم ذہن کو مطالعۂ اسلام کے دوران  مذہبی اساطیر کی واقعاتی حیثیت  پر غیرضروری حساسیت ترک نہیں کر دینی چاہیے؟  الہامی متون  پر واقعاتی  تناظر میں اس  حساس لغویت پسندی  کے باعث مطالعۂ اسلام کا   کوئی بھی  قاری  سفر کے اولین پڑاؤ ہی سے واقعے اور قدر کی ایک ایسی دوئی میں پھنس جاتا ہے جہاں واقعے کی اساطیری حیثیت دم توڑ دیتی ہے۔لیکن میاں انعام الرحمٰن کے ہاں ہمیں  متونِ اسلام میں ماقبل تاریخی واقعات  کی اساطیری حیثیت پر  یہ سادہ لوح  زمانی و مکانی سمجھوتہ نہیں ملتا۔ معلوم و معروف تاریخ میں ہجرتِ نبوی ﷺ ہو یا  ماقبل  تاریخ میں  پیش آیاواقعۂ آدم و ابلیس، موسیٰ علیہ السلام کی بھول چوک  کو جنم دیتی  نفسیاتی بے خبری ہو یا ہجرت کے مسئلے پر ایک جری طبیعت کے دیہاتی کا رسول اکرمﷺ سے  سخت سوال، ہمیں  ہرہر موقع پر  الہامی متون سے استدلالی روایت کے استخراج کے ساتھ ساتھ اساطیری استعارے   کی یاددہانی بھی ملتی ہے۔ذہن  کا یہی شعری منطقہ، الہامی متون اور اخباروآثار کی قرأت کا یہی نفسیاتی پہلو بدلنے سے کسی بھی  محقق قاری کے سامنے اطلاقی امکانات  کا ایک لامحدود میدان کھل جاتا ہے۔  
مذہبی بشریات کے  تحقیقی سیاق وسباق میں  میاں انعام الرحمٰن کی ندرتِ فکر اور جہانِ خیال کی وسعت  کا اندازہ  اس دو چارصفحات کے  نہایت  مختصر مضمون سے کیا جا سکتا ہے جو ’’ بعثتِ نبوی ﷺ کے عصری مکاشفے‘‘ کے عنوان سے ’’سفرِ جمال‘‘ کا اختتامی باب ہے۔یہاں ہمیں زرعی دور اور  ریگستانی ثقافت میں بعثتِ نبوی ﷺ کا واقعہ ، پدرسری  خاندانی نظام، زمین سے وابستگی اور آسمان سے شکستگی  جیسے وہ بشریاتی اشارے ملتے ہیں جو  اپنی گرہیں کھولے جانے کے لیے ایک مستقل مضمون کے محتاج ہیں۔اپنے طے شدہ اسلوب سے وفادار رہتے ہوئے میاں انعام الرحمٰن یہاں بھی  اپنے سوچے سمجھے نتائج پر اصرار نہیں کرتے بلکہ کسی منجھے ہوئے محقق کی طرح ان کا موضوع مزید بحث اور مکالمے کی راہ ہموار کرنے کے لیے  اپنے مفروضوں کو عیاں کرنا ہے تاکہ قاری انہیں آسانی سے ردّو قبول کر  سکے۔ میاں انعام الرحمٰن کے اشاروں سے تحریک پاتے ہوئے اگر ہم ان کے مفروضوں سے کلّی اتفاق کریں تو  سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا  ان اشاروں کے نتیجے میں مشرق و مغرب اور مغربی جدیدیت  بالمقابل دانشِ قدیم کی  جاری بحث کو ایک نئے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت تو نہیں؟ آخر بشریاتی کینوس پر اس  عظیم الشان واقعے کی کیا اہمیت ہے کہ ابراہیمی مذاہب کا آغاز  اور اختتام ہی لیونت  یعنی  مشرقی بحیرۂ روم کے علاقوں میں ہوا؟12  دوسری طرف اگر ہم فاضل مصنف کے اطلاقی نتائج سے ذرا اختلاف کریں تو  برصغیر پاک و ہند کو عصری معاشرت نہیں بلکہ بعثتِ  رسول ﷺ کے زمانے کے ہندچینی  فلسفۂ الٰہیات  و بشریات  کے تناظر میں دیکھنا غالباً  زیادہ معقول ہو گا۔دراصل مشرقِ بعید اور ہندچینی ثقافتوں میں  تو   مکتوبہ اعتقادات پر  مکمل اطاعت شعاری کے ساتھ ایمان لانے کے نفسیاتی رجحانات نہیں تھے، نہ ہی یہ اطاعت شعاری  نیکی اور فسق کی کسوٹی تھی۔ہماری آج کی بحث کے تناظر میں وہاں کا فطری مذہب کلچر  میں زیادہ گندھا ہوا تھا بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اسی سے پھوٹتا تھا۔ان حالات میں انسانی ’سائیکی‘ کس حد تک  ان ’جدید‘ مذاہب کے نظام ہائے اعتقادات  کو قبولیت بخش سکتی تھی جن کا ظہور اس زمانے میں مشرقِ قریب کی  جدید تہذیبوں سے ہوا؟13   کیا یہ جدیدیت سے اسی قسم کاذہنی و  نفسیاتی  بُعد نہیں جو آج خود کو روایتی کہنے والا مسلم ذہن محسوس کرتا ہے؟  بحث کا ایک علیحدہ  اور مستقل میدان  یہ بھی ہے کہ روایت کی عصری تعریف کیا ہے اور  زمانی و مکانی عوامل کے ساتھ جدیدیت کا نفوذ کیا کوئی ایسی قلبِ ماہیت ہے جس کا ٹھوس احساس بھی ممکن ہو؟
’’سفرِ جمال‘‘  کی بشریاتی خاکہ بندی  کا آخری اہم  مشاہدہ پانی ہے۔میاں انعام الرحمٰن نے اس جانب  چند اختتامی الفاظ میں آب زم زم کی اساطیری حیثیت اور ریگستانی معاشرت کی جانب اشا رے کیے ہیں۔ یہ دونوں اشارے کم از کم اس زاویے سے اہم ترین ہیں  کہ مطالعۂ  اسلام کے روایتی اہلِ علم  شاید تاحال اس موضوع کی خاطرخواہ اہمیت   کا اندازہ نہیں کر سکے14۔ پانی  کی کمی کا یہ  بظاہر سادہ سا نکتہ  اپنی توسیع کے ساتھ  بڑھتی ہوئی بین الاقوامی ماحولیاتی  حساسیت سے جڑا ہوا ہے۔ مذہبی تناظر میں توحیدپرست مذاہب   پر ساٹھ ہی کی دہائی سے یہ  تنقید کی جاتی رہی ہے کہ  جدید سرمایہ دارانہ نظام کے علم بردار ہونے کے باعث  وہ اس قدیم فسوں کاری میں خاتمے کا باعث بنے ہیں جہاں انسان نہ صرف خود کو بلکہ حقیقتِ مطلق کو بھی کائنات کا اٹوٹ انگ مانتا تھا۔اس تنقید کے مطابق توحیدپرست مذاہب نے شخصی خدا کے  تصور کے بعد اس اساطیری سحر کو توڑ دیا جو   زندگی، موت ، جنم ، کفن دفن، زرخیزی ، قحط اور دوسرے ان گنت مظاہر فطرت کو  سری کیفیت عطا کرتا تھا۔ عرشِ معلیٰ پر موجود شخصی خدا کے تصور نے   ایک طرف تو اس ہمہ اوستی   پر تنقید کی اور دوسری طرف علت و معلول  کے  ایک پیچیدہ  دائروی  نظام کو خطی نظام سے تبدیل کر دیا۔ یہ ایک ایسا خالص مذہبی تناظر ہے  جس میں انسان اور ماحول کے درمیان ایک لازمی دوئی کے باعث وہ عدم حساسیت پیدا ہوتی ہے جس کا سنگین انجام یہ عقیدہ ہےکہ زمینی  وسائل   کی شناخت ایک زندہ وجاوید حقیقت نہیں  بلکہ   انسانی استعمال کے لیے پیدا شدہ  ایک نظام کی ہے15۔  یہاں توحید پرست مذاہب دراصل سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہو کر  کچھ مخصوص حدودوقیود کی رعایت کے ساتھ سرمائے کی بڑھوتری اور انسانی ترقی کے ایک مخصوص نظریے کی مذہبی  تخلیقِ نو کرتے رہتے ہیں16۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس تناظر میں قارئین کو   فاضل مصنف  کے مفروضوں  سے لے کر نتائج تک کے سفرِ پر ازسرِ نو  ایک تفصیلی تنقیدی  نگاہ ڈالنے  کی ضرورت ہے تاکہ  ان کے دیے گئے اشارے سے ایک مضبوط اور قابلِ اطلاق تھیوری سامنے آ سکے۔ہماری    رائے میں کسی بھی  مذہبی روایت کو بشریاتی سیاق و سباق میں پرکھتے ہوئے عملی  رجحانات اور اعتقادات کے درمیان موجود نادیدہ کڑی کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کا اٹوٹ انگ ہیں۔یہ وہی نکتہ ہےجس کا ذکر ہم اسلام بطور ایک نظری موضوع اور اسلام بطور  ایک  مجموعۂ عقائدواعمال    و رجحانات کی ایسی  دوئی کے طور پر کر آئے ہیں جس پر حالیہ بشریاتی تناظر میں  کئی سوالیہ نشانات ہیں۔یہاں مسلم معاشروں کا مکمل فکری و عملی  کونیاتی کینوس تخلیق کرتے    لاشعوری    مال مسالے کو نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہیے جو  کسی بھی سماج کو تاریخ کے کسی خاص موڑ پر  بدیہی مفروضے یا ایسی اولین سچائیاں  بہم پہنچاتا ہے جن کے لیے استدلال کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔
امید ہے کہ فاضل مصنف اس بابرکت علمی منصوبے کو جاری رکھیں گے اور  ہمیں ان کی جانب سے قلب و  ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی  مزید تخلیقات میسر آئیں  گی جن کی مسلم معاشروں  کو اشد ضرورت ہے۔