اگست ۲۰۱۸ء

قرب قیامت میں غلبہ اسلام کی پیشین گوئی ۔ علامہ انور شاہ کشمیری کا نقطہ نظرمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۵)ڈاکٹر محی الدین غازی 
افغان طالبان کا موقف اور خادم الحرمین کی خواہشمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
پروفیسر فواد سیزگینؒڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
انسانی خدا ۔ مستقبل کی ایک مختصر تاریخسید راشد رشاد بخاری 
چند جدید عائلی مسائل ۔ فقہی تراث کا تجزیاتی مطالعہمولانا محمد رفیق شنواری 
توہین رسالت حدود سے متعلق ہے یا تعزیرات سے؟مولانا مفتی محمد اصغر 
نیپال ۔ چند مشاہدات اور تاثراتمولانا حافظ عبد الغنی محمدی 

قرب قیامت میں غلبہ اسلام کی پیشین گوئی ۔ علامہ انور شاہ کشمیری کا نقطہ نظر

محمد عمار خان ناصر

کتب حدیث میں سیدنا مسیح علیہ السلام کے نزول ثانی سے متعلق بعض روایا ت میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ جب وہ تشریف لائیں گے تو صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ کو موقوف کر دیں گے۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب نزول عیسی بن مریم علیہما السلام، رقم ۳۲۹۰) وہ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے اور ان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ اسلام کے علاوہ ساری ملتوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ (سنن ابی داود، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، رقم ۳۸۲۶)
شارحین حدیث نے عموماً‌ اس پیشین گوئی کی تشریح یہ کی ہے کہ نزول مسیح  کے موقع پر کفر کا خاتمہ اور اسلام کا بول بالا ہو جائے گا اور  اسلام کا غلبہ پوری دنیا پر قائم ہو جائے گا۔ تاہم ماضی قریب کے نامور محدث علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے اس رائے سے اختلاف ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روایات میں اس موقع پر اسلام کے غالب آنے کا جو ذکر ہوا ہے، اس سے مراد پوری روے زمین نہیں، بلکہ شام اور اس کے گرد ونواح کا مخصوص علاقہ ہے جہاں سیدنا مسیح  کا نزول ہوگا اور جو اس وقت اہل اسلام اور اہل کفر کے مابین کشمکش اور جنگ وجدال کا مرکز ہوگا۔ 
شاہ صاحب کی یہ رائے قرب قیامت سے متعلق قرآن وحدیث میں وارد مختلف پیشین گوئیوں کے مجموعی فہم پر مبنی ہے اور  انھوں نے نزول مسیح کے بعد غلبہ اسلام کی پیشگوئی کو تمام متعلقہ پیشگوئیوں کے  مجموعی تناظر میں  دیکھتے ہوئے ان کی مذکورہ تعبیر پیش کی ہے۔ ان پیشگوئیوں کے حوالے سے ان کے نقطہ نظر کی وضاحت ان کی تصانیف، خاص طور پر فیض الباری میں متفرق مقامات پر موجود ہے۔ ان سطور میں شاہ صاحب کی تحریروں کی روشنی میں اس کے بنیادی پہلووں کو مختصراً‌ واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
۱ ۔ علامہ انور شاہؒ کے نقطہ نظر  میں ایک بنیادی نکتہ اللہ تعالیٰ کی اس تکوینی سنت کا فہم اور ادراک ہے کہ وہ دنیا میں کسی بھی قوم کو ابدی طور پر غلبہ وسیادت عطا نہیں کرتا۔  اس کی طرف سے قوموں کے عروج وزوال کے ضابطے مقرر ہیں جن کے تحت  قوموں کو ایک مخصوص مدت تک اقتدار اور طاقت دے کر آزمایا جاتا ہے اور مدت مکمل ہونے پر اللہ کے قانون کے مطابق اقتدار ان سے لے کر کسی دوسری قوم کو دے دیا جاتا ہے۔ شاہ صاحب امت مسلمہ کے غلبہ اور اقتدار کو بھی اسی تکوینی سنت کے تحت دیکھتے ہیں، چنانچہ لکھتے ہیں:
“اس امت کے غلبے کا عرصہ، جیسا کہ شیخ اکبر، مجدد الف ثانی، شاہ عبد العزیز اور تفسیر مظہری کے مصنف قاضی ثناء اللہ نے کہا ہے، ایک ہزار سال تھا۔ اس کی تائید ابن ماجہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ ’’میری امت کو آدھا دن ملے گا۔ اگر اس کے بعد وہ مستقیم رہے تو دن کا باقی حصہ بھی مستقیم رہیں گے، ورنہ ہلاک ہونے والوں کی طرح ہلاک ہو جائیں گے۔’’ شارحین کا اتفاق ہے کہ یہاں دن سے مراد آخرت کا دن ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے کہ ’’بے شک تیرے رب کے ہاں ایک ان تمھارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔’’ تاریخ بھی اسی کی گواہی دیتی ہے کہ فتنہ تاتار کی صورت میں عظیم مصیبت ہم پر پانچ سو سال کے بعد نازل ہوئی جس سے دین کی عمارت متزلزل ہو کر رہ گئی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان پر ہم سے جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا کیا اور  ایک ہزار سال کی مدت پوری ہو گئی۔ اس مدت میں اسلام مشرق ومغرب میں دنیا کے سارے ادیان پر غالب تھا اور یہی زمانہ امت محمدیہ کے غلبے کا زمانہ تھا۔ اس کے بعد اللہ نے ہم پر اہل یورپ کو مسلط کر دیا  اور اب اسلام کے میناروں اور منبروں کا حال وہاں پہنچ چکا ہے جو تم دیکھ رہے ہو۔’’ (فیض الباری ج ۲، ص ۱۶۳)
۲ ۔ شاہ صاحب کے نقطہ نظر کی دوسری اہم بنیاد یاجوج وماجوج کے خروج سے متعلق پیشین گوئیوں کا ان کا مخصوص فہم ہے جس کے مطابق ان پیشین گوئیوں میں  کسی ایک متعین واقعے کا نہیں، بلکہ ایک طویل عرصے کو محیط سلسلہ واقعات کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ کہ تاریخ میں یاجوج وماجوج کے خروج کا آغاز کئی صدیاں پہلے ہو چکا ہے اور ہم اس وقت اسی دور میں جی رہے ہیں۔ 
قرآن مجید میں یاجوج وماجوج کے خروج کا ذکر دو مقامات پر کیا گیا ہے: ایک سورۃ الکہف میں ذو القرنین کے واقعے کے ضمن میں، جہاں کہا گیا ہے کہ یاجوج وماجوج کو ایک سد کے پیچھے محبوس کر دینے کے بعد ذو القرنین نے کہا کہ جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس بند کو ریزہ ریزہ کر دے گا۔ (سورۃ الکہف، آیت ۹۸) دوسرا مقام سورۃ الانبیاء کی آیت ۹۶ ہے جہاں یاجوج وماجوج کے خروج کو  قرب قیامت کی نشانی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
علامہ انور شاہ کہتے ہیں کہ  ان دونوں آیتوں میں یاجوج وماجوج کے خروج کے ابتدائی اور انتہائی مراحل کا ذکر ہے۔ پہلا مرحلہ سد ذو القرنین کے ٹوٹنے کا ہے جس کے بعد یاجوج وماجوج کے، اپنے علاقے سے باہر نکلنے کا  عمل شروع ہو جائے گا۔ سورۃ الکہف میں اسی کا ذکر ہے۔ پھر جب یاجوج وماجوج کے خروج کا یہ سلسلہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا دنیا کی تباہی اور فساد کے آخری مرحلے میں داخل ہوگا تو  وہ بالکل قیامت کا قریبی زمانہ ہوگا جس کا ذکر سورۃ الانبیاء میں کیا گیا ہے۔ (فیض الباری، ج ۴، ص ۳۵۸) گویا یاجوج وماجوج کے، دنیا کی قوموں پر تاخت وتاراج  کا واقعہ  صرف ایک مرتبہ نہیں، بلکہ بار بار رونما ہونا ہے اور یہ واقعات کے ایک پورے سلسلے کا بیان ہے جس کا آغاز ہو چکا ہے اور  جو قیامت کے بالکل قریبی زمانے میں اپنی حتمی صورت میں مکمل ہوگا۔ انھی میں سے ایک خروج سیدنا مسیح کے نزول کے بعد بھی ہوگا  اور یاجوج وماجوج کے اس گروہ کو احادیث کے مطابق سیدنا مسیح کی بددعا کی وجہ سے ہلاک کر دیا جائے گا۔ (فیض الباری ج ۴، ص ۱۹۷)
شاہ صاحب کا کہنا ہے کہ ترکی نسل، اہل روس اور اہل برطانیہ یاجوج ماجوج کی اولاد ہیں  اور  دنیا میں فساد اور تباہی پھیلانے کے لیے ان کے خروج کا آغاز منگولوں کے حملوں کی صورت میں ہو چکا ہے۔ شاہ صاحب  تیمور لنگ، چنگیز خان اور ہلاکو کی تباہ کاریوں کو (اور اسی طرح مغربی اقوام کی استعماری چیرہ دستیوں کو) اسی پیشین گوئی کا ایک مصداق قرار دیتے ہیں۔ (فیض الباری ج ۴، ص ۱۹۷)
جہاں تک قرآن مجید میں  مذکور اس ’’سد” کا تعلق ہے جو یاجوج وماجوج کو روکنے کے لیے ذو القرنین نے بنایا تھا تو اس کے بارے میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں  بیان ہوا ہے کہ یاجوج وماجوج اس “سد”کے پیچھے قید ہیں اور روزانہ اس کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ناکام رہتے ہیں، یہاں تک کہ قیامت کے قریب وہ آخر کار اسے توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور  وہی ان کے خروج کا زمانہ ہوگا۔ (ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم وخروج یاجوج وماجوج، رقم ۴۱۱۲) شاہ صاحب نے اس روایت کو بخاری کی صحیح روایت کے منافی قرار دیا ہے جس میں ذکر ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  اپنے زمانے میں بند کے، انگوٹھے اور انگلی کے حلقے کے برابر ٹوٹ جانے کی اطلاع دی۔ (بخاری، کتاب الفتن، باب یاجوج وماجوج، رقم ۶۷۵۳) مزید یہ کہ اس روایت کو علامہ ابن کثیر نے معلل قرار دیا ہے اور یہ رجحان ظاہر کیا ہے کہ یہ دراصل اسرائیلیات میں سے ہے جسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب الاحبار سے نقل کیا اور راویوں نے غلطی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا۔ (فیض الباری، ج ۴، ص ۳۵۵)
۳۔ شاہ صاحب کی زیر بحث رائے کی تیسری اہم بنیاد نزول مسیح سے متعلق احادیث کا سیاق وسباق اور ماحول ہے۔ ان احادیث میں مذکور تمام تفصیلات وجزئیات  پورے کرہ ارضی کا احاطہ نہیں کرتیں، بلکہ  ایک مخصوص زمینی خطے کی نشان دہی کرتی ہیں جن میں یہ واقعات رونما ہوں گے۔ شاہ صاحب اس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ ان روایات میں اسلام کے غلبے اور دیگر ادیان کے خاتمے کی جو بات ذکر کی گئی ہے، اس کا تعلق بھی  اسی مخصوص جغرافیائی  خطے سے ہے اور اسے پورے روئے زمین سے متعلق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ فرماتے ہیں:
“یہ جو زبانوں پر مشہور ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں دین پورے روئے زمین پر پھیل جائے گا، یہ بات احادیث میں بیان نہیں ہوئی۔ احادیث میں  صرف یہ کہا گیا ہے کہ وہ شرعی مسئلے کے طور پر یہودیت اور نصرانیت کو  (یعنی ان کے ماننے والوں کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کی) اجازت نہیں دیں گے۔ چنانچہ جو اسلام قبول کرے گا، وہ اپنی جان کو بچا لے گا اور جو انکار کرے گا، اسے قتل کر دیا جائے گا، اور یہ قانون ان علاقوں میں نافذ ہوگا جہاں اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام جہاد کریں گے۔ احادیث کا حاصل یہ ہے کہ آج تو تین ادیان جاری ہیں، لیکن جب عیسیٰ علیہ اللسام نازل ہوں گے تو صرف اسلام قبول کیا جائے گا اور اس وقت سارا دین اللہ ہی کا ہو جائے گا۔ چنانچہ یہ شرعی حکم کا بیان ہے نہ کہ خارج میں رونما ہونے والے کسی واقعہ کا (یعنی یہ پیشین گوئی نہیں ہے کہ عملاً‌ یہودیت اور نصرانیت کا خاتمہ ہو جائے گا)، اس لیے یہ ممکن ہے کہ (اس کے بعد بھی) کفر اور اہل کفر باقی رہیں، البتہ اگر عیسیٰ علیہ السلام ان تک پہنچ گئے تو وہ ان سے صرف دین اسلام قبول کریں گے، نہ کہ جزیہ، جیسا کہ آج کیا جاتا ہے۔ احادیث سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ یہ غلبہ جس کا وعدہ کیا گیا ہے، شام اور اس کے گرد ونواح کے علاقے میں ہوگا جہاں عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ یاجوج وماجوج کا فساد بھی اسی علاقے میں برپا ہوگا اور جزیرہ طبریہ بھی شام ہی کی طرف واقع ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ہمیں کسی حدیث میں یہ نہیں ملا کہ عیسیٰ علیہ السلام دجال کی طرح پوری زمین میں گھومیں گے، اس لیے ان کے لیے جس غلبے کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ صرف اسی علاقے میں ہوگا جہاں وہ نازل ہوں گے۔ باقی ساری دنیا کے حال کا ان میں کوئی ذکر نہیں اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کا کیا احوال ہوگا۔” (فیض الباری ج ۳، ص ۴۰۰)
ایک حدیث میں بیان ہوا  ہے کہ “قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تمہاری یہود کے ساتھ  جنگ نہ ہو، یہاں تک کہ وہ پتھر جس کے پیچھے یہودی ہوگا، پکارے گا کہ اے مسلمان، یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، اس کو قتل کر دو۔” (بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب قتال الیہود، رقم ۲۷۹۷)
علامہ انور شاہ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ یہاں انھی یہودیوں کا ذکر  ہے جن کے ساتھ جنگ کے لیے سیدنا مسیح علیہ السلام نازل ہوں گے، نہ کہ ساری دنیا کے یہودی، اور یہ وہ یہودی ہوں گے جو دجال کے پیروکار ہوں گے۔ (فیض الباری، ج ۴، ص ۱۹۷)
زیر بحث پیشین گوئی کی تفسیر میں شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے ہاں بھی یہی رجحان دکھائی دیتا ہے، چنانچہ انھوں نے لکھا ہے: 
”امام مہدی کی پیدائش اور آمد سے پہلے دنیا میں جو ظلم وجور ہوگا، اللہ کے فضل وکرم سے اقتدار میں آنے کے بعد زیر اثر علاقہ میں وہ عدل وانصاف قائم کریں گے اور نا انصافی کو نیست ونابود کر دیں گے۔” (ارشاد الشیعہ، ص ۱۹۵) 
”دجال لعین کے قتل کے بعد جس علاقہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اقتدار ہوگا، وہاں بغیر اسلام کے اورکوئی مذہب باقی نہ رہے گا۔” (ایضاً، ص ۲۰۱)
۴۔ مذکورہ قرائن وشواہد کے علاوہ بعض دیگر  نصوص سے بھی شاہ صاحب کی زیر بحث رائے کی تائید ہوتی ہے۔ مثال کے طو رپر صحیح مسلم میں مروی ہے کہ ایک موقع پر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی مجلس میں مستورد قرشی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا کہ "قیامت سے پہلے رومی لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔" (عہد نبوی کے عرف میں روم سے مراد سفید فام مغربی اقوام ہوتی تھیں)۔ عمرو بن العاص نے سنا تو چونکے اور پوچھا کہ ”دیکھو! کیا کہہ رہے ہو؟“ مستورد قرشی نے کہا کہ میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ عمرو بن العاص نے فرمایا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر ان رومیوں میں چار خصلتیں موجود ہوں گی (جن کی وجہ سے وہ دنیا کی باقی قوموں  پر غالب ہوں گے):
پہلی یہ کہ وہ فتنے اور آزمایش کے وقت دوسروں سے زیادہ تحمل او ربردباری کا مظاہرہ کریں گے۔
دوسری یہ کہ وہ مصیبت گزر جانے کے بعد سنبھلنے میں دوسرے لوگوں سے زیادہ تیز ہوں گے۔
تیسری یہ کہ وہ شکست کے بعد دوبارہ جلدی حملہ آور ہونے والے ہوں گے۔
چوتھی یہ کہ وہ اپنے یتیموں، مسکینوں اور کمزوروں کی دیکھ بھال میں بہترین لوگ ہوں گے۔ 
اور ان میں ایک پانچویں خصلت بھی ہوگی جو اچھی اور خوب ہوگی کہ وہ لوگوں کو حکمرانوں کے مظالم سے روکنے میں سب سے بڑھ کر ہوں گے۔ (مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب تقوم الساعۃ والروم اکثر الناس، رقم ۵۲۸۹)
مذکورہ تمام قرائن وشواہد بے حد قابل غور ہیں  اور ان سے قرب قیامت کے زمانے کی صورت حال پر مذہبی تناظر میں غور وفکر کے لیے کئی اہم زاویے سامنے آتے ہیں۔ 

اہل کتاب کے لٹریچر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر

قرآن مجید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اثبات میں ایک نمایاں دلیل یہ ذکر کی ہے کہ آپ کی بعثت کا ذکر تورات وانجیل میں موجود ہے اور اہل کتاب کے علماء آپ کی تشریف آوری سے نہ صرف واقف ہیں، بلکہ اس کے منتظر بھی تھے اور وہ آپ کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں۔  
قرآن مجید کے ان بیانات کے تناظر میں تورات وانجیل اور  انبیاء کے صحائف میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق پیشین گوئیوں کی نشان دہی اور  قرائن ودلائل کی روشنی میں آپ پر ان پیشین گوئیوں کا انطباق  ابتدا سے ہی مسلمان متکلمین کی دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔  اس ضمن میں علامہ دور متوسط میں ابن حزم اور امام ابن القیم  کی تحقیقات،جبکہ برصغیر میں برطانوی اقتدار کے دور میں  مولانا رحمت اللہ کیرانوی (اظہار الحق)، مولانا ابو منصور دہلوی (نوید جاوید)، مولانا شبلی نعمانی (سیرت النبی)،مولانا حمید الدین فراہی (من ہو الذبیح) اور مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی (میثاق النبیین) وغیرہ کی کاوشیں بطور خاص قابل ذکر ہیں۔  ماضی قریب میں مولانا بشیر احمد الحسینی  اور جناب عبد الستار غوری نے بائبل کی بعض پیشیین گوئیوں پر مفصل اور تحقیقی کتابیں لکھی ہیں، جبکہ مولانا عبد الماجد دریابادی، مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا سید ابو الاعلی ٰ مودودی کی تفاسیر میں بھی متعلقہ مقامات پر  قیمتی مواد ملتا ہے۔
راقم الحروف کو بائبل اور یہودیت ومسیحیت کے مطالعہ سے نوعمری سے ہی اشتغال رہا ہے۔ اس وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق پیشین گوئیوں پر لکھے جانے والے لٹریچر سے بھی دلچسپی رہی اور اب بھی ہے۔ میرا احساس یہ ہے کہ قرآن مجید میں تورات وانجیل کی جن پیشین گوئیوں کے حوالے سے یہود ونصاریٰ پر اتمام حجت کیا گیا، اس میں اصل موثر چیز اہل کتاب کے ہاں چلی آنے والی صدری روایات اور وہ انتظار تھا جو اس زمانے میں بہت عام تھا۔جہاں تک صحائف کے متن کا تعلق ہے تو کتاب استثناء کی پیشین گوئی کے علاوہ، جس میں بہت واضح قرائن ہیں، باقی پیشین گوئیاں ایسی صراحت کے ساتھ موجود نہیں یا نہیں رہنے دی گئیں کہ کسی رد وکد کے بغیر انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منطبق کیا جا سکے۔ اس ضمن میں متعلقہ بیانات کے تاریخی ولسانی تجزیے کے حوالے سے ہمارے مرحوم بزرگ عبد الستار غوری صاحب کی کاوشیں شاید اس ضمن کی latest research کی حیثیت رکھتی ہیں، لیکن ان کے مطالعہ کے بعد بھی میرا یہ تاثر قائم ہے۔ یوں موجودہ تناظر میں یہ ایک اکیڈمک یا مناظرانہ نوعیت کی بحث ہو سکتی ہے، لیکن دعوت یا اتمام حجت کے پہلو سے عموماً‌ اس کی کوئی خاص افادیت مجھے دکھائی نہیں دیتی۔
البتہ اسلامی ذخیرے میں اس موضوع سے متعلق چند مزید پہلووں کا ذکر ملتا ہے جس پر میرے خیال میں داد تحقیق دینے کا امکان اور ضرورت موجود ہے۔  ان میں سے ایک پہلو تو وہی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا، یعنی یہ کہ علمائے اہل کتاب سینہ بسینہ چلی آنے والی روایات کی روشنی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے منتظر تھے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کے ابتدائی اور متوسط عہد کے اہل علم کے ہاں اس بات کا ایک عمومی تذکرہ ملتا ہے کہ اہل کتاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا سچا نبی تو تسلیم کرتے ہیں، لیکن آپ کی بعثت کو اہل عرب کے لیے خاص قرار دے کو خود کو آپ پر ایمان لانے کا مکلف نہیں سمجھتے۔ ان دونوں حوالوں سے اہل کتاب، خاص طور پر یہود کے مذہبی لٹریچر میں  ایسے شواہد وبیانات کی نشان دہی  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اثبات کی ایک نہایت بنیادی تاریخی دلیل  کو مزید محکم اور مضبوط بنا سکتی ہے۔
حال ہی میں راقم الحروف کو ایک ویب سائٹ پر اس نوعیت کی بعض تحقیقات دیکھنے کا موقع ملا جن سے مذکورہ احساس کو مزید تقویت ملتی ہے۔  http://old-criticism.blogspot.com کے نام سے قائم ویب سائٹ میں ’’النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی التراث الیہودی’’ کے زیر عنوان چار اقساط میں ایک تحریر شائع کی گئی ہے جس میں یہود کے مذہبی ذخیرے سے اس مضمون کے بعض اہم شواہد کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ربی شمعون بن یوحائی کا شمار دوسری صدی عیسوی کے اکابر یہودی علماء میں سے ہوتا ہے۔ ان کی ولادت ۸٠ء میں جبکہ وفات ۱۶٠ء میں ہوئی۔ انھوں نے اپنی ایک تحریر میں دنیا کے خاتمے کے قریب رونما ہونے والے چند نمایاں واقعات کا ذکر کیا ہے اور اس ضمن میں لکھا ہے کہ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ وہ بنی اسماعیل میں ایک نبی مبعوث کرے اور اس سرزمین پر انھیں  غلبہ اور اقتدار عطا کرے۔ ربی شمعون نے اس حوالے سے یسعیاہ نبی اور زکریاہ نبی کے صحائف سے بھی استشہاد کیا ہے۔
اسی طرح گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی میں یمن کے ایک بڑے یہودی عالم نتنائیل الفیومی نے اپنے ایک رسالے میں لکھا ہے کہ اللہ تعالی ٰ جیسے تورات کے نازل کرنے سے پہلے مختلف قوموں میں انبیاء کو مبعوث کرتا رہا ہے، اسی طرح تورات کے نازل ہونے کے بعد بھی ایسے لوگوں میں نبی بھیج سکتا ہے جن کے پاس دین نہ ہو۔ اسی لیے اللہ تعالی ٰ نے اہل عرب میں، جن کی طرف سے اس سے پہلے کوئی نبی نہیں بھیجا گیا تھا، ان کی ضرورت کے پیش نظر محمد کو بھیجا  تاکہ وہ ان کی صحیح راستے کی طرف راہ نمائی کرے۔
مطالعہ مذاہب سے دلچسپی رکھنے والے محققین اس  حوالے سے یہودی تراث تک براہ راست رسائی اور استفادہ کی صلاحیت  پیدا کر سکیں تو ہمیں امید ہے کہ اس نوعیت کے بہت سے شواہد اور  بیانات جمع کیے جا سکتے ہیں۔ 

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۵)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۴۶) من دون اللہ کا ایک ترجمہ

لفظ ’’دون‘‘ عربی کے ان الفاظ میں سے ہے جن کے متعدد معانی ہوتے ہیں، اور سیاق وسباق کی روشنی میں مناسب ترین معنی اختیار کیا جاتا ہے۔ دون کا ایک معنی ’’سوا‘‘ ہوتا ہے، مندرجہ ذیل آیتوں میں مِن دُونِ اللّہ کاترجمہ کرتے ہوئے دون کا یہی معنی زیادہ تر مترجمین نے اختیار کیا ہے، البتہ  کچھ مترجمین نے ’’سوا‘‘ کے بجائے ’’چھوڑ کر‘‘ ترجمہ کیا۔ اول الذکر تعبیر زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں وسعت زیادہ ہے، اس میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو اللہ کو معبود مانتے ہیں، اور اللہ کے سوا دوسرے معبود بھی بناتے ہیں، اور وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو اللہ کو معبود نہیں مانتے اور اللہ کو چھوڑ کر دوسرے معبود بناتے ہیں۔ جبکہ دوسری تعبیر میں صرف وہی لوگ آتے ہیں جو اللہ کو معبود نہ مان کر دوسروں کو معبود مانتے ہیں۔ اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل آیتوں کے ترجموں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔دون کے اس استعمال کی قرآن مجید میں بہت زیادہ مثالیں ہیں، کچھ آیتیں ذیل میں ذکر کی گئی ہیں۔

(۱) قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَمْلِکُ لَکُمْ ضَرّاً وَلاَ نَفْعاً۔ (المائدۃ:76)

’’کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’ان سے کہیئے! کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان‘‘ (نجفی)
’’آپ ان سے کہئے کہ کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے لئے نفع اور نقصان کے مالک بھی نہیں ہیں‘‘(جوادی)
’’اِن سے کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا‘‘ (سید مودودی)

(۲) قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَنفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنَا۔ (الأنعام: 71)

’’کہو۔ کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’ان سے پو چھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان‘‘(سید مودودی)
’’آپ کہہ دیجئے کہ ہم خدا کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ فائدہ پہنچاسکتے ہیں اور نہ نقصان‘‘ (جوادی)
’’کہیے! کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان‘‘(نجفی)

(۳) وَالَّذِیْنَ یَدْعُونَ مِن دُونِ اللّہِ لاَ یَخْلُقُونَ شَیْْئاً وَہُمْ یُخْلَقُون۔ (النحل: 20)

’’اور جن لوگوں کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو نہیں بناسکتے‘‘(فتح محمدجالندھری)
’’اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں‘‘(سید مودودی)
’’اور اس کے علاوہ جنہیں یہ مشرکین پکارتے ہیں وہ خود ہی مخلوق ہیں‘‘(جوادی)
’’اور اللہ کو چھوڑ کر جن کو یہ (مشرک) لوگ پکارتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے‘‘ (نجفی)

(۴) وَیَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَمْلِکُ لَہُمْ رِزْقاً مِّنَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ شَیْْئاً۔ (النحل: 73)

’’اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور  زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے ‘‘(فتح محمدجالندھری، من کا ترجمہ ’’سے‘‘ ہونا چاہئے، یہاں من کا ترجمہ’’ میں‘‘ کردیا گیا ہے۔)
’’اور اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے‘‘(سید مودودی)
’’اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ آسمان و زمین میں کسی رزق کے مالک ہیں‘‘(جوادی)
’’اور یہ اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کی عبادت (پرستش) کرتے ہیں جو ان کو آسمان و زمین سے روزی پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے‘‘ (نجفی)

(۵) وَأَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّہِ۔ (مریم: 48)

’’اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں ‘‘(فتح محمدجالندھری)
’’میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور اُن ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں‘‘ (سید مودودی)
’’اور آپ کو آپ کے معبودوں سمیت چھوڑ کر الگ ہوجاؤں گا ‘‘(جوادی، اس میں من دون اللہ کا ترجمہ چھوٹ گیا ہے)
’’اور میں آپ لوگوں سے اور ان سے جنہیں آپ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں کنارہ کرتا ہوں‘‘ (نجفی)

(۶) وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّہِ آلِہَۃً لِّیَکُونُوا لَہُمْ عِزّا۔ (مریم: 81)

’’اور ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنالئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے (موجب عزت و) مدد ہوں‘‘(فتح محمدجالندھری)
’’اِن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں تاکہ وہ اِن کے پشتیبان ہوں‘‘ (سید مودودی)
’’اور ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر بہت سے خدا بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کیلئے عزت و قوت کا باعث ہوں‘‘ (نجفی)
’’اور ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے خدا اختیار کرلئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے باعث عزّت بنیں ‘‘(جوادی)

(۷) إِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ۔ (الانبیاء: 98)

’’تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’بے شک تم اور تمہارے وہ معبُود جنہیں تم پوجتے ہو، جہنّم کا ایندھن ہیں‘‘ (سید مودودی، یہاں بھی من دون اللہ کا ترجمہ چھوٹ گیا ہے)
’’بیشک تم اور وہ چیزیں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے جہنم کا ایندھن ہیں‘‘ (محمد حسین نجفی)
’’یاد رکھو کہ تم لوگ خود اور جن چیزوں کی تم پرستش کررہے ہو سب کو جہنمّ کا ایندھن بنایا جائے گا‘‘(جوادی)

(۸) إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّہِ لَن یَخْلُقُوا ذُبَاباً وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَہ۔ (الحج: 73)

’’جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں‘‘(جالندھری)
’’جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مِل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے‘‘(سید مودودی)
’’یہ لوگ جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر آواز دیتے ہو یہ سب مل بھی جائیں تو ایک مکھی نہیں پیدا کرسکتے ہیں ‘‘ (جوادی)
’’اللہ کو چھوڑ کر تم جن معبودوں کو پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے۔ اگرچہ وہ سب کے سب اس کام کے لئے اکٹھے ہو جائیں‘‘ (محمد حسین نجفی)

(۹) وَإِذْ قَالَ اللّہُ یَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِیْ وَأُمِّیَ إِلَہَیْْنِ مِن دُونِ اللّہِ۔ (المائدۃ: 116)

’’غرض جب (یہ احسانات یاد دلا کر) اللہ فرمائے گا کہ ''اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنا لو؟''(سید مودودی)
’’اور جب اللہ نے کہا کہ اے عیسٰی بن مریم کیا تم نے لوگوں سے یہ کہہ دیا ہے کہ اللہ کو چھوڑ کو مجھے اور میری ماں کو خدا مان لو ‘‘(جوادی)
’’وہ وقت یاد کرو جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے عیسیٰ بن مریم کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو‘‘ (نجفی)
آخر الذکر دونوں مترجمین نے یہاں بھی ’’چھوڑ کر‘‘ ترجمہ کیا ہے، جو عیسائیوں کی حد تک تو بالکل خلاف واقعہ ہے۔ عیسی علیہ السلام کے بعد عیسائیوں نے اللہ کو چھوڑ کر انہیں اور ان کی ماں کو معبود نہیں بنایا، بلکہ اللہ کے ساتھ ان دونوں کو عبادت میں شریک کیا۔ غالبا یہی وجہ ہے کہ صاحب تفہیم ایسے ہر مقام پر چھوڑ کر ترجمہ کرتے ہیں، لیکن اس مقام پر انہوں نے اپنے عام طریق سے ہٹ کر معروف ترجمہ اختیارکیا، صحیح بات یہ ہے کہ یہی ترجمہ ایسے باقی تمام مقامات پر بھی زیادہ مناسب ہے۔

(۱۴۷) من دون اللہ کا ایک اور ترجمہ

(۱) وَلَمْ تَکُن لَّہُ فِئۃٌ یَنصُرُونَہُ مِن دُونِ اللَّہِ وَمَا کَانَ مُنتَصِراً۔ (الکہف: 43)

’’نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی جتھا کہ اس کی مدد کرتا، اور نہ کر سکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ‘‘(سید مودودی)
’’(اس وقت) خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا ‘‘(فتح محمدجالندھری)
’’اس کی حمایت میں کوئی جماعت نہ اٹھی کہ اللہ سے اس کا کوئی بچاؤ کرتی اور نہ وہ خود ہی بدلہ لینے والا بن سکا ‘‘(محمدجوناگڑھی)
’’اب اس کے پاس کوئی ایسا گروہ بھی نہیں تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتا اور نہ ہی وہ غالب اور بدلہ لینے کے قابل تھا‘‘ (نجفی)

(۲) فَمَا کَانَ لَہُ مِن فِئَۃٍ یَنصُرُونَہُ مِن دُونِ اللَّہِ۔ (القصص: 81)

’’پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کو آتا‘‘ (سید مودودی)
’’تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی ‘‘(فتح محمدجالندھری)
’’اور نہ کوئی گروہ خدا کے علاوہ بچانے والا پیدا ہوا ‘‘(جوادی)
’’اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لیے تیار نہ ہوئی ‘‘ (محمدجوناگڑھی)
’’سو نہ اس کے حامیوں کی کوئی جماعت تھی جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتی ‘‘(نجفی)

(۳) مِمَّا خَطِیْئَاتِہِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَاراً فَلَمْ یَجِدُوا لَہُم مِّن دُونِ اللَّہِ أَنصَاراً۔ (نوح: 25)

’’(آخر) وہ اپنے گناہوں کے سبب پہلے غرقاب کردیئے گئے پھر آگ میں ڈال دیئے گئے۔ تو انہوں نے خدا کے سوا کسی کو اپنا مددگار نہ پایا‘‘(فتح محمدجالندھری، لفظ ’’پہلے ‘‘ زائد ہے ، آیت میں اس کے لئے کوئی لفظ نہیں ہے۔)
’’اپنی خطاؤں کی بنا پر ہی وہ غرق کیے گئے اور آگ میں جھونک دیے گئے، پھر انہوں نے اپنے لیے اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار نہ پایا‘‘ (سید مودودی)
’’اپنی کیسی خطاؤں پر ڈبوئے گئے پھر آگ میں داخل کیے گئے تو انہوں نے اللہ کے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پایا‘‘ (احمد رضا خان، لفظ ’’کیسے ‘‘ یہاں بے محل ہے)
’’یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے ڈبو دیئے گئے اور جہنم میں پہنچا دیئے گئے اور اللہ کے سوا اپنا کوئی مددگار انہوں نے نہ پایا‘‘ (محمدجوناگڑھی)
’’یہ سب اپنی غلطیوں کی بنا پر غرق کئے گئے ہیں اور پھر جہنمّ میں داخل کردیئے گئے ہیں اور خدا کے علاوہ انہیں کوئی مددگار نہیں ملا ہے‘‘ (جوادی)

(۴) أَمَّنْ ہَذَا الَّذِیْ ہُوَ جُندٌ لَّکُمْ یَنصُرُکُم مِّن دُونِ الرَّحْمَن۔ (الملک: 20)

’’بتاؤ، آخر وہ کونسا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمان کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکتا ہے‘‘ (سید مودودی)
’’بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’سوائے اللہ کے تمہارا وہ کون سا لشکر ہے جو تمہاری مدد کرسکے‘‘ (محمدجوناگڑھی)
درج بالا آیتوں کے ترجموں پر نظر ڈالیں تو چار طرح کے ترجمے سامنے آتے ہیں، ’’چھوڑ کر‘‘،’’علاوہ‘‘ ، ’’سوا‘‘ اور ’’مقابلے میں‘‘۔
بعض مترجمین جس طرح دوسرے مقامات پر سوا ترجمہ کرتے ہیں، یہاں بھی وہی ترجمہ کرتے ہیں، حالانکہ یہاں اس کا محل نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کسی اورنے مدد کی یا اللہ کے سوا کسی اور نے مدد نہیں کی، یہاں اللہ کے عذاب کا ذکر ہے، اللہ کی طرف سے مدد ہونے کی یا اللہ کے مددگار بننے کی بات نہیں ہے، ان آیتوں کا مدعا یہ ہے کہ اللہ کا عذاب آجانے پر اس عذاب سے بچانے والا اور اس عذاب کا مقابلہ کرنے والا کوئی مددگار نہیں ہوا۔
بعض مترجمین نے دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی ’’چھوڑ کر‘‘ ترجمہ کیا ہے، یہ ترجمہ بھی سیاق کے لحاظ سے موزوں نہیں ہے۔ اسی طرح ’’علاوہ‘‘ بھی برمحل نہیں ہے۔
مذکورہ تمام آیتوں میں دون کا ترجمہ کرنے کے لئے درست لفظ ’’مقابلے میں‘‘ یا اس کے ہم معنی الفاظ ہیں۔ کیونکہ ان آیتوں کا واضح مفہوم یہی ہے کہ اللہ کے عذاب کے مقابلے میں نہ وہ خود ڈٹ سکے، اور نہ کوئی ان کا مددگار ہوسکا۔
دیکھنے کی چیز یہ بھی ہے کہ بعض مترجمین ان یکساں اسلوب والی آیتوں کا الگ الگ ترجمہ کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان آیتوں کا ترجمہ کرتے وقت کسی ایک تعبیر کی طرف ان کا ذہن یکسو نہیں ہوسکا تھا، اور ان مختلف تعبیروں کے درمیان پایا جانے والا فرق ان کے سامنے کبھی رہا اور کبھی نہیں رہ سکا۔ 
(جاری)

افغان طالبان کا موقف اور خادم الحرمین کی خواہش

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۶ جولائی کے ایک قومی اخبار نے مکہ مکرمہ میں او آئی سی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی مسلم علماء کانفرنس اور دانشوروں کی حالیہ کانفرنس کے حوالہ سے خادم الحرمین شریفین شاہ سلیمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالیٰ کا ایک بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے افغانستان میں جلد از جلد امن کے قیام کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکومت اور طالبان سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالیں اور فرمایا ہے کہ افغانستان میں جلد از جلد امن کا قیام سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے۔ سعودی عرب کے محترم فرمانروا کے ارشادات کی روشنی میں ہم ان کی خدمت میں کچھ مؤدبانہ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔
عزت مآب شاہ سلیمان بن عبد العزیز عالم اسلام کی محترم ترین شخصیت ہیں اور ان کے نام کے ساتھ خادم الحرمین شریفین کا عنوان دیکھتے ہی ہر مسلمان کا سرِ نیاز خودبخود جھک جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ افغانستان میں امن کی خواہش ان سے زیادہ کسے ہو سکتی ہے یا کسے ہونی چاہیے؟ مگر ہم بڑے ادب و احترام کے ساتھ ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ازراہ کرم اس سلسلہ میں ’’امارت اسلامیہ افغانستان‘‘ کے موقف پر بھی ایک نظر ڈالنے کی زحمت فرمائی جائے تو مسئلہ کا حل جلد از جلد نکالنے میں سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔ 
افغان طالبان کا موقف یہ ہے کہ ان کی جنگ افغانستان کے کسی طبقہ سے نہیں بلکہ وہ امریکی اتحاد کی افغانستان میں داخل ہونے والی فوجوں کے خلاف اپنے وطن کی آزادی، خودمختاری اور اسلامی تشخص کے لیے اسی طرح لڑ رہے ہیں جس طرح انہوں نے سوویت یونین کے عسکری تسلط کے خلاف جنگ ’’جہاد افغانستان‘‘ کے عنوان سے لڑی تھی اور دنیا کے بہت سے دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب نے بھی انہیں سپورٹ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کابل کی موجودہ حکومت کا اپنا کوئی مستقل وجود نہیں ہے بلکہ وہ بیرونی عسکری قوت کے سہارے قائم ہے اور تمام تر عسکری و مالی امداد کے باوجود اسے افغانستان کے تیس فیصد رقبہ سے زیادہ پر کنٹرول حاصل نہیں ہے۔ اس لیے وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن کابل کی حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ وہ اصل فریق یعنی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کریں گے اور ان مذاکرات کی پہلی شرط افغانستان سے امریکی اتحاد کی فوجوں کا انخلا ہوگا۔
جبکہ دوسری طرف امریکی حکومت کا موقف اس حوالہ سے کیا ہے؟ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل چند باتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ اسی سال مارچ کے دوران افغانستان میں امریکی فوجوں کے سربراہ جنرل نیکلسن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ہم طالبان پر مذاکرات کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور اس کے لیے مختلف ممالک میں علماء کرام کی کانفرنسیں منعقد کرنے کا اہتمام کر رہے ہیں تاکہ طالبان پر مذہبی حوالہ سے بھی دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس کے بعد جون کے دوران امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے بھی امریکی سینٹ کی خارجہ امور سے متعلقہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے یہی بات کہی تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ طالبان میں ’’درست قیادت‘‘ کی شناخت کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جسے مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ جبکہ ابھی ماہ رواں کی ۹ تاریخ کو امریکی وزیرخارجہ نے کابل کے ہنگامی دورہ کے موقع پر یہ فرمایا ہے کہ امریکہ طالبان سے مذاکرات کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے لیکن طالبان امریکی انخلا کا انتظار چھوڑ دیں۔ 
اس تناظر میں مسلم حکمرانوں کو اپنے دباؤ کا رخ صرف طالبان کی طرف رکھنے کی بجائے دوسرے فریق یعنی امریکی اتحاد سے بھی بات کرنا ہوگی کہ وہ افغانستان سے فوجوں کے انخلا کے بارے میں ہٹ دھرمی چھوڑ کر اصل فریقین کے درمیان بامقصد اور باوقار مذاکرات کی صورت نکالے ورنہ خالی پانی بلوہتے رہنے سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ امریکہ بہادر کو یہ بات یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ اس نے ویتنام کی جنگ میں ۱۹۶۱ء سے ۱۹۷۵ء تک پینتالیس ہزار سے زیادہ امریکی شہریوں کی جانوں کی قربانی کے بعد وہاں کے جنگجوؤں ’’ویت کانگ‘‘ سے براہ راست مذاکرات فوجوں کے انخلا کی شرط پر ہی کیے تھے۔ اور فوجیں نکالنے کے بعد ۱۹۹۷ء میں ویتنام کو جنگی نقصانات کی تلافی کے لیے ۱۴۶ ملین ڈالر کی رقم بھی فراہم کی تھی۔ افغانستان کی یہ جنگ اس سے مختلف نہیں ہے اور اس کے لیے کوئی یکطرفہ الگ معیار قائم کر کے امن قائم نہیں کیا جا سکے گا۔
امریکی قیادت کو ایک اور بات بھی یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ غیر ملکی فوجوں کی موجودگی پر اصرار کے ماحول میں کیے جانے والے معاہدات دیرپا نہیں ہوتے جس کی واضح مثال اب سے ایک صدی قبل ترکی کے ساتھ طے پانے والا ’’معاہدہ لوزان‘‘ ہے جس میں ترکی سے (۱) خلافت کے خاتمہ (۲) شریعت کی منسوخی (۳) اور ترکی سے باہر خلافت کے زیر حکومت رہنے والے علاقوں سے دستبرداری کی شرائط غیر ملکی فوجوں کے زیر سایہ لکھوائی گئی تھیں۔ مگر ترک عوام نے اسے قبول نہ کرتے ہوئے صرف تین عشروں کے وقفہ سے اسلامی اقدار و روایات کی طرف واپسی کا سفر عدنان میندریس شہیدؒ کے دور میں شروع کر دیا تھا جو اب تک نہ صرف جاری ہے بلکہ مسلسل پیشرفت کر رہا ہے اور حالیہ صدارتی انتخابات کے بعد ترکی اس حوالہ سے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔ تاریخ کے طالب علم کے طور پر ہماری شروع سے یہ رائے رہی ہے کہ یہ معاہدہ جبری تھا اور ’’گن پوائنٹ‘‘ پر کرایا گیا تھا مگر اب ترکی کے صدر حافظ رجب طیب اردگان نے بھی گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ ’’معاہدہ لوزان‘‘ ترک قوم کی رائے لیے بغیر جبرًا مسلط کیا گیا تھا۔
ہم عزت مآب شاہ سلیمان بن عبد العزیز کی خدمت میں بصد ادب و احترام یہ گزارش کریں گے کہ وہ امریکہ بہادر سے بھی بات کریں اور عالم اسلام کے دیگر حکمرانوں کو ساتھ لے کر معروضی حقائق اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے افغانستان میں قیام امن کی طرف سنجیدہ پیشرفت کریں۔ ہم جیسے خدام ان کے لیے دعاگو ہوں گے اور جہاں تک ہمارے بس میں ہوا تعاون و خدمت سے بھی گریز نہیں کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ شاہ سلیمان مسلم دنیا کے لیے بزرگ باپ کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے ڈرتے ڈرتے ہم ان کی خدمت میں اپنی اس عرضداشت کے ساتھ ایک اور بات کا اضافہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ کیا اب ’’معاہدہ لوزان‘‘ کی طرح مشرق وسطیٰ میں مغربی طاقتوں کے ساتھ ایک صدی قبل کیے جانے والے دیگر معاہدات پر بھی نظرثانی کی ضرورت نہیں ہے؟ ہمارے خیال میں یہ امت کی اہم ترین ضرورت ہے مگر یہ درخواست ہم خادم الحرمین الشریفین کے سوا اور کس سے کر سکتے ہیں؟

پاکستان شریعت کونسل پنجاب   کی مجلس عاملہ کا اجلاس

پاکستان شریعت کونسل پنجاب کی صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس 18جولائی 2018 کو مسجد صدیقیہ سیٹلائٹ ٹاؤن گوجرانوالہ میں مولانا قاری جمیل الرحمن اختر کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ ااجلاس میں طے پایا کہ مولانا قاری جمیل الرحمن اختر اور مولانا مفتی محمد نعمان پسروری  مولانا عبدالمالک،  مولانا قاری عبیداللہ عمر اور  قاری محمد عثمان رمضان ان پر مشتمل وفد مختلف شہروں کا دورہ کرکے علماۓکرام امیدواروں اور ووٹروں کو توجہ دلانے کی کوشش کرے گا کہ الیکشن کے موقع پر ملک میں  نفاذِ اسلام، تحفظ ناموس رسالت،  تحفظ ختم نبوت، سودی نظام کے خاتمے  اور فحاشی کی روک تھام کے اجتماعی دینی تقاضوں کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے تاکہ انتخابات کو مستقبل کے لیے بہتر قیادت کے چناؤ کا ذریعہ بنایا جاسکے ۔
اجلاس میں ختم نبوت کے سلسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا اور نگران حکومت سے کہا گیا کہ وہ اس معاملے میں عوامی جذبات کے منافی کسی اقدام سے گریز کرے اور دستور کے تقاضوں کا احترام کرے ۔
اجلاس میں مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت کی :مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا قاری عبداللہ، مفتی محمد زرولی، مولانا فلم الفاروقی، مولانا محمود الرشید، مولانامحمدعثمان رمضان، مولانا مفتی محمد نعمان، مفتی غفران اللہ، مولانا قاری گلزار احمد آزاد، حافظ عبدالرحمن معاویہ، قاری نثار احمد۔

پروفیسر فواد سیزگینؒ

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

(گزشتہ دنوں عالم اسلام کے ممتاز محقق اور دانشور پروفیسر فواد سیزگین انتقال کر گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے مختصر حالات زندگی اور علمی خدمات کے تعارف پر مبنی یہ تحریر، جو ان کی حیات میں ماہنامہ ’’افکار ملی’’ دہلی میں شائع ہوئی تھی، مذکورہ مجلہ کے شکریے کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے۔)

بیسویں صدی مسلمانوں کے سیاسی و علمی عروج و زوال کی صدی رہی ہے۔ اس صدی کے پہلے نصف میں مسلمانانِ عالم جہاں علمی و تحقیقی اور سیاسی و معاشی زوال کی انتہا کو پہنچ رہے تھے، وہیں اس صدی کے نصف ثانی میں انہوں نے علمی و تحقیقی میدان میں عروج وارتقاء کی ایک دوسری داستان لکھی۔ چنانچہ جہاں بہت سارے مسلم ممالک نے استعمار کے چنگل سے نجات پائی، وہیں فکر و تحقیق کے میدان میں بہت سے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے علم و تحقیق، تصنیف وتالیف اور بحث و ریسرچ کی ان تابندہ روایات کو پھر سے زندہ کیاجو کبھی اسلاف کا طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھیں۔ ان بڑی اورعظیم محقق شخصیات میں ڈاکٹر محمد حمیداللہ(پیرس) کے علاوہ پروفیسرفوادسیزگین وغیرہ جیسی شخصیات بھی ہیں جن کو علوم اسلامیہ کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے پر فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اگلی سطور میں انہی ڈاکٹر فواد سیزگین (ترکی) کا مختصر تعارف کرانا مقصود ہے۔ البتہ ان کے گھریلو حالات راقم کو تلاش کے باوجود نہیں مل سکے۔ بڑی عنایت ہوگی اگر کوئی قاری اس سلسلے میں مزید معلومات فراہم کرسکے۔ فواد سیزگین (Fuat Sezgin) چوبیس اکتوبر1924ء کو ترکی کے مقام بطلس میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے علاقہ میں پانے کے بعد استنبول آگئے، جہاں انہوں نے جامعہ استنبول میں داخلہ لیا اور 1947ء میں اس کی فیکلٹی آف آرٹس سے گریجویشن کیا، یہیں سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور عربی زبان و ادبیات میں 1954ء میں اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا، جس کے نگراں جامعہ استنبول میں اسلامی علوم اور عربی ادبیات کے ماہر ایک جرمن مستشرق پروفیسرہیلمٹ رٹر (Hellmut Ritter) تھے۔ رٹر اپنے اس شاگرد پر بہت شفقت کرتے تھے۔ ان کے مشورے سے پی ایچ ڈی کے مقالہ کے لیے فواد سیزگین نے بخاری کے مصادرکا موضوع منتخب کیا۔ مصادر بخاری پر اپنے تحقیقی کام میں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ امام بخاریؒ نے مکتوبہ و مدونہ مصادر و مراجع پر اعتمادکیا ہے نہ کہ صرف زبانی روایات اور مراجع پر، جیسا کے مشہور عام ہے۔ پی ایچ ڈی کے بعد فواد سیزگین اسی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوگئے۔ ان سے قریبی زمانہ میں ایک اور مشہور جرمن مستشرق کارل بروکلمن نے عربی اور اسلامی ادبیات پر تاریخ آداب اللغۃ العربیہ کے نام سے ایک مبسوط کام کیا تھا۔ گرچہ کارل بروکلمن ترکی آتے جاتے رہتے تھے مگر معلوم ہوتا ہے کہ مشرقی اور مسلمان علما سے اُن کا کبھی انٹرایکشن یا تبادلہ خیال نہیں ہوا، کیونکہ ان کی کتاب یوں تو بہت تحقیقی، مستند اور جامع سمجھی جاتی ہے مگر اس میں صرف یورپی مصادر و مراجع سے کام لیا گیا ہے اور مسلمان علما کی کتابوں کا کوئی ذکر اذکار نہیں ہے۔ اس خلا کے باعث وہ ناتمام کتاب ہے اور اس خلاء کو پُر کرنے کی یورپی اسکالروں نے کئی کوششیں کی ہیں۔ چنانچہ 1950ء میں اس کتاب کی تکمیل اور کمیوںکی تلافی کا کام کئی محققین کی ایک ٹیم نے مل کرکیا اور اس منصوبے کو UNESCO نے فنڈ فراہم کیا۔ نیز برل پبلشنگ نے اس کی اشاعت کی ذمہ داری لی۔ اس طرح یہ کام پہلے سے بہتر تو ہوگیا مگر ابھی بہت کچھ اصلاح کی ضرورت باقی تھی۔ کارل بروکلمن کی اس کتاب کا مطالعہ بالاستیعاب جب فواد سیزگین نے کیا تو اس کے نقائص اُن پر اچھی طرح واضح ہوگئے اور انہوں نے تلافی مافات کے لیے کمرکس لی۔ ان کی مشہور عالم کتاب تاریخ التراث العربی (عربوںکی میراث علمی کی تاریخ) اسی طرح منصۂ شہود پر آئی۔ یہ کتابی سلسلہ ابھی جاری ہے، اس کی پندرہ جلدیں طبع ہوچکی ہیں اور دو پر وہ کام کررہے ہیں۔ پوری کتاب سترہ جلدوں میں آئے گی۔ 
فواد سیزگین مطالعہ وتحقیق کے آدمی ہیں اور اسی کے لیے وقف ہیں۔ اپنے استادوں میں انہوں نے پرفیسر رٹرکا اثر سب سے زیادہ قبول کیا ہے جنہوں نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ اگر ’’وہ واقعی اسکالر بننا چاہتے ہیں تو ان کو سترہ گھنٹے یومیہ پڑھنا چاہیے‘‘۔ انہوں نے استادکی اس بات کو گرہ سے باندھ لیا اورآج تک اس پر عمل پیرا ہیں اورآج بیاسی سال کی عمر میں بھی وہ چودہ گھنٹے کام کرتے ہیں۔ رٹرسے ملاقات کو وہ اپنی زندگی کا اہم موڑ مانتے ہیں اور اسے The time when I was born again (ایسا لمحہ جب میں دوبارہ پیدا ہوا) کہاکرتے ہیں۔ ایک دن انہوں نے رٹر سے معلوم کیاکہ کیا عربوں اور مسلمانوںکی تاریخ میں ریاضیات کے میدان میں کوئی بڑا نام نہیں ہے؟ رٹرکو حالانکہ یہی پڑھایا گیا تھا کہ مسلمان اورعرب ایک جاہل قوم ہیں اورانسانی تاریخ میں ان کا کوئی بڑا کارنامہ نہیں۔ مگر رٹر ایک منصف مزاج آدمی تھے، انہوں نے فواد سیزگین کو بتایاکہ ایک نہیں کئی بڑے نام ہیں۔ بس پھرکیا تھا، ان کے دل کو یہ بات لگ گئی اور انہوں نے اس موضوع پر مطالعہ وتحقیق شروع کردی، جس کا نتیجہ ان کی کتاب Natural Sciences in Islam ہے۔ یہ کتاب پانچ جلدوں میں ہے اور اس میں انہوں نے سائنسی علوم میں مسلمانوں اور عربوں کے کارناموں کو نہایت مستند مصادر و مراجع کی بنیاد پر بیان کیا ے۔ جرمنی میں مستقل قیام پذیر ہونے سے پہلے بھی ریسرچ و تحقیق کے لیے انہوں نے جرمنی کا سفر کیا تھا۔
فواد سیزگین ترکی کی جامعہ استنبول میں پڑھا رہے تھے کہ 27 مئی 1960ء کو ملک میں فوجی بغاوت ہوگئی اور نئی حکومت نے بغیر کسی سبب کے یونیورسٹی کے 147 پروفیسروں کو برخواست کردیا۔ اگرچہ ان کے دو چھوٹے بھائیوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا، مگر سیزگین نے اس کے باوجود یونیورسٹی میں اپنے فرائض انجام دینے جاری رکھے۔ ایک دن وہ صبح صبح یونیورسٹی جارہے تھے کہ ہاکر نے ان کو اخبار پکڑا دیا جس میں یہ خبر تھی کہ نئی حکومت نے یونیورسٹی کے 147پروفیسروںکو برخواست کردیا ہے۔ اس بارے میں وہ لکھتے ہیں: ’’میں ترکی چھوڑنا نہیں چاہتا تھا مگر اس کے علاوہ میرے پاس کوئی آپشن نہیں بچا تھا‘‘۔ وہ یہ خبر پڑھ کر سلیمانیہ لائبریری گئے اور وہاں بیٹھ کر امریکہ اور یورپ میں اپنے دوستوںکو خطوط لکھے کہ نئے حالات میں ترکی میں رہ کر ان کے لیے کام کرنا ممکن نہیں رہا، کیا وہ ان کو کوئی موقع دیں گے؟ ایک ماہ کے اندر اندر کئی جگہوں سے مثبت جواب آئے۔ انہوں نے جرمنی کی فرینکفرٹ یونیورسٹی جانا پسند کیا جہاں وہ اس سے پہلے بھی کئی بار جاچکے تھے۔ جس دن ان کو روانہ ہونا تھا اس کے بارے میں وہ بہت جذباتی ہوگئے، لکھتے ہیں: ’’ترکی سے اپنی روانگی کی شام میں ’’گلاتا برج کے قراقوے‘‘ (استنبول کا ساحلی علاقہ)کی جانب گیا۔ میں 15۔20منٹ تک ’’اوسکدار‘‘(استنبول کی ایک گنجان آباد میونسپلٹی) کو دیکھتا رہا۔ یہ رات بڑی خوبصورت تھی مگر میرے آنسو بہہ رہے تھے، میں ناراض نہیں مگر غم زدہ ضرورتھا۔‘‘
اس کے بعد وہ جرمنی چلے گئے اور1962ء سے فرینکفرٹ یونیورسٹی میں وزٹنگ لیکچرارکی حیثیت سے کام شروع کردیا۔1965ء میں انہوں نے عرب سائنس کی تاریخ پر پھر پی ایچ ڈی کی اور اسی سال اپنی وہ مشہورکتاب لکھنی شروع کی جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ یہ کتاب انہوں نے جرمن میں لکھی جس کا نام ہے: “Geschechte des arabischen shehrefttrms” اس کتاب کا موضوع اسلامی علوم کی تاریخ ہے جس کا انگریزی نام ہے :”History of Arabi-Islamic sciences and technology in the Islamic world” اردو میں اسے اسلامی عربی سائنسی وٹیکنالوجی کے علوم کی تاریخ کہیں گے۔ اس کا عربی ترجمہ ہوچکا ہے اور متداول ہے۔ اور اسی کی بنیاد پر ان کو فیصل ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس کی پہلی جلد میں عربی و اسلامی علوم ہیں جن میں مذہبی علوم بھی شامل ہیں۔ 1970ء میں اس کی دوسری جلد شائع ہوئی جس میں طبی علوم سے بحث کی گئی ہے۔1971میں تیسری جلدآئی جس میں علم کیمیا، کیمسٹری جیسے علوم ہیں، چوتھی جلد 1974ء میں آئی جس میں ریاضی ہندسہ اور ہیئت فلکیات، علم نجوم وغیرہ علوم کا ذکر ہے۔ 1978ء میں اس کی وہ جلد منظرعام پر آئی جس میں شاعری، عروض، نحو و صرف اور بلاغت اور دوسرے لغوی علوم کا تذکرہ ہے۔ یہ کتابی سلسلہ ابھی جاری ہے۔ اس کتاب کی اہمیت اور استناد کا مرتبہ یہ کہ پاکستان کے ایک بڑے اسکالر اور دانشور ڈاکٹر محمود احمد غازی نے کہا تھا کہ ’’یہ کتاب اس قابل ہے کہ اس کے براہِ راست مطالعہ کے لیے جرمن زبان سیکھ لی جائے۔‘‘ (ملاحظہ ہو، ماہنامہ الشریعہ کی خصوصی اشاعت بیاد ڈاکٹر محمود احمد غازی۔ جنوری فروری 2011ء)
پروفیسر فواد سیزگین اب دنیاکے ایک بڑے تحقیقی ادارے Institute of Historical Arab-Islamic Sciences at John wolfgang Goethe University Frankfurt Germany کے بانی و صدر ہیں اور اسی یونیورسٹی میں Natural Sciences میں پروفیسر آف ایمرٹس۔ یہ ادارہ عرب مسلم تاریخی کلچر پر ریسرچ و تحقیق کرتا ہے۔ سیزگین کہتے ہیں کہ مسلم سائنس کا دورِ عروج آٹھویں صدی عیسوی سے سولہوی صدی تک رہا ہے۔ یورپی اسکالر آج سیزگین کو Conqueror of a missing treasure (مخفی خزانہ کا فاتح) کہتے ہیں، کیونکہ انہوں نے مغرب کے قرون مظلمہ (یعنی اسلامی دور) کے تصور کو غلط ثابت کردیا ہے اور بتایا ہے کہ آج کی ترقی یافتہ سائنس دراصل مسلمانوں اور عربوں کی ہی ریسرچ و تحقیق کا ثمرہ ہے۔ اور قرون وسطیٰ کے جن ادوارکو مغرب والے تاریک دورکہتے رہے ہیں وہ اسلامی سائنس کا عہد ہے اور اس کو تاریک دور قرار دینا جہالت اور تعصب ہے۔ اب وہ ایک اورکتاب پر کام کررہے ہیں جو پانچ جلدوں میں ہوگی اور مسلم تاریخ کے مختلف گوشوں کا احاطہ کرے گی۔
پروفیسر سیزگین روانی سے عربی، ترکی، انگریزی اور جرمن بولتے ہیں، البتہ ان کی تحریری زبان جرمن ہے۔ آغاز میں وہ ترکی میں پڑھاتے تھے مگر جرمنی جانے کے بعد جلد ہی انہوں نے جرمن پر عبور حاصل کرلیا۔ انہوں نے اسلامی ٹیکنالوجی اور سائنس پر ایک میوزیم بھی بنایا ہے جس میں مسلم سائنس کے نادر نمونے، نقشے، خریطے، جدولیں اور سائنسی آلات و اصطرلاب وغیرہ جمع کیے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ جرمنی اور ترکی، نیز مغرب میں مختلف جگہوں پر مسلم سائنس کی نمائش بھی لگا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک ترکی مؤرخ زکی ولیدی طوغان کے ساتھ مل کر انہوں نے ترکی میں بھی Islamic Science Research Institute قائم کیا ہے۔ انہوں نے مسلم نقشہ نویسوں پر بھی کام کیا ہے اورساتویں صدی میں عرب اسلامی علوم اور ان کے یونانی مصادر پر بھی ان کی گہری نظر ہے اور اس موضوع پر وہ جرمن و ترکش میں سینکڑوں مقالات تحریرکرچکے ہیں۔
فواد سیزگین جرمنی کے معروف مجلہ Journal for the History of Arab-Islamic Sciencesکے ایڈیٹر بھی رہے ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق عرب سیاح اور ملاح 1420ء میں ہی امریکہ پہنچ چکے تھے۔ مختلف نقشوں اور جغرافیائی خریطوں اورآثار قدیمہ کے نمونوں کے مطالعہ سے انہوں نے یہ بات ثابت کی ہے۔ ان کو 1978ء میں علوم اسلامیہ کی خدمت کے سلسلے میں عالم اسلام کا باوقار انعام فیصل ایوارڈ دیاگیا۔ ان کے ساتھ ایوارڈ پانے والوں میں مولانا مودودیؒ بھی تھے جنہیں اسی سال اسلامی خدمات کے لیے یہ ایوارڈ دیا گیا تھا۔ فیصل ایوارڈ کے علاوہ ان کو جرمنی کا مشہور انعام The great medal for distinguished sciences of the federal republic of Germany بھی دیاگیا۔ وہ ترکی اکیڈمی برائے علوم، مجمع اللغۃ العربیہ، دمشق، قاہرہ اور بغدادکے ممبر ہیں، جن کا ممبر ہونا ایک اعزاز کی بات ہے۔ اس کے علاوہ اکیڈمی آف سائنس مراکش کے رکن ہیں۔ اس طرح پروفیسر فواد سیزگین اسلامی و عربی علوم کے میدان میں ایک منارۂ نور ہیں اور اسلاف کی علمی روایتوں کے امین، جن کے چراغ سے کتنے ہی چراغ جلیں گے اورجن کی تابانی سے کتنے ہی نقوش روشن ہوں گے۔ 

انسانی خدا ۔ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ

سید راشد رشاد بخاری

آج کل ایک بہت دلچسپ کتاب زیرمطالعہ ہے جو زمین پر زندگی کے بارے میں سوچنے کے کچھ نئے رخ سامنے لارہی ہے۔ اسرائیلی ماہر تاریخ و سماجیات یووال نوح ہراری کی کتاب ’ہومو ڈیوس کی کتاب (انسانی خدا ۔۔ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ) اپنی پہلی اشاعت کے بعد سے اب تک لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوئی ہے اور اس کی وجہ اس کتاب میں پیش کیے گئے انسانوں کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں غیر روایتی اور غیرمعمولی تصورات ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان خیالات کو پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ تو بالکل سامنے کی بات تھی، اس طرف ہمارا دھیان کیوں نہیں گیا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے2011 میں وہ ایک کتاب بعنوان ’سیپینز ۔۔۔ انسانوں کی مختصر تاریخ‘ لکھ چکے ہیں جسے اس دوسری کتاب کا مقدمہ کہا جاسکتا ہے۔ مستقبل کی ممکنہ تاریخ کے موضوع پر پیشین گوئی کرتی ہوئی دوسری کتاب کا آغاز اس سوال سے ہوتا ہے کہ اصل میں انسان کا مستقبل کا ایجنڈا ہے کیا؟
مصنف کا کہنا ہے کہ صدیوں سے تین بڑے مسائل انسان کے ایجنڈے میں سرفہرست رہے ہیں اور ان تینوں مسائل کا تعلق اس کی بقا سے ہے، یعنی قحط ، وبا اور جنگ۔ دوسرے لفظوں میں بھوک، بیماری اور آپس کا جنگ و جدل۔ یہ وہ تین آفات ہیں جو ہمیشہ سے لاکھوں کی تعداد میں انسانوں کا خاتمہ کرتی آئی ہیں۔ یہ وہ آفات ہیں جنہوں نے پورے پورے خطوں سے انسانی زندگی کا صفایا کیا ہے، انسانوں کی پوری نسلوں کو ملیا میٹ کیا ہے اور یہ مسائل ہمیشہ انسانیت کا سب سے بڑا چیلنج رہے ہیں۔ لیکن تیسرے ہزاریے کے آغاز تک انسان ان تینوں آفات پر قابو پانے میں کامیاب ہوچکا ہے اور اب وہ بقائے دوام کے ایجنڈے پر گامزن ہوچکا ہے۔ مثال کے طور پر تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے کہ اب لوگ بھوک سے زیادہ نہیں مرتے بلکہ زیادہ کھانے سے مر جاتے ہیں۔ زیادہ لوگ بیماریوں سے نہیں بلکہ بڑھاپے سے مرتے ہیں۔ اب لوگ جنگوں، دہشت گردوں اور مجرموں کے ہاتھوں مجموعی طور پر اتنے نہیں مرتے جتنے لوگ خود کشیاں کر کے مر جاتے ہیں۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں ایک عام انسان کو قحط ، وبا یا القاعدہ کے حملے میں مرنے سے زیادہ خطرہ یہ ہے کہ کہیں وہ میکڈونلڈ کے ریستوران میں بسیار خوری سے نہ مر جائے۔ اگرچہ اب بھی عالمی راہنماؤں اور ماہرین معیشت و سیاست کے ایجنڈوں کا غالب حصہ اقتصادی بحرانوں اور دنیا میں جاری جنگی تنازعات سے نمٹنا ہے لیکن تاریخ کے کائناتی پیمانے پر دیکھا جائے تو اب انسان اپنی نظریں اٹھا کر نئے افق تلاش کر سکتا ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ اب جب کہ ہم نے قحط ، وبا اور جنگ پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے تو ہماری اگلی منزل کیا ہوگی؟ اکیسویں صدی میں ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال کیا ہے؟ ایک ایسی دنیا میں جہاں صحت ، خوشحالی اور امن کی منزل حاصل کی جا چکی ہے۔(یا جب ہم اس منزل کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں ، جس کی تفصیل کسی آئندہ مضمون میں پیش کی جائے گی) تو کیا چیز ہے جو ہماری توجہ اور ذہانتوں کا امتحان لے گی؟ بائیو ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ہونے والی پیش رفت کے تناظر میں یہ سوال اور بھی اہم اور فوری جواب طلب ہے کہ ہم نے جو طاقت حاصل کر لی ہے اس کا ہم کریں گے کیا؟
سچی بات یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جو افراتفری ، مسابقت ، جنگی تنازعات ، غربت اور بھوک ہمیں نظر آتی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ دعویٰ کہ ہم نے قحط ، بیماری اور جنگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا ہے ایک بہت بڑی جسارت معلوم ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ دعویٰ بے وقوفی کی حد تک سادگی اور دنیا کو درپیش ان بڑے بڑے مسائل سے آنکھیں چرانے کے مترادف محسوس ہوگا۔ مطلب کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ابھی بھی دنیا میں اربوں لوگ روزانہ دو ڈالر سے کم پر یا اس سے بھی نیچے کی غربت کی سطح پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کیا اس سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ مثلاً افریقہ میں ایڈز کی وبا نے انسانوں کی زندگیوں کو بے انتہا تکلیف اور معدومیت کے خطرے سے دوچار کر رکھا ہے؟ کیا شام اور عراق میں ہونے والی جنگیں قصے کہانی کی بات ہے؟ دہشت گردی وہ آسیب ہے جس سے ہم انفرادی طور پر اپنے گھر، دفتر، سکول، مسجد ، بازار ہر جگہ خوف زدہ ہیں اور قومی اور عالمی سطح پر جس کے سدباب کی کوئی تدبیر عالمی طاقتوں اور انسانی مشاہیر کو نہیں سوجھ رہی اور دنیا کی ہر حکومت اس کے مقابلے کے لیے حکمت عملیاں اور موزوں پالیسیاں بنانے میں مصروف ہے اور پھر بھی ناکام ہے۔ کیا یہ ایک ایسی دیومالائی کہانی ہے جو ہم اپنی دادی اماں سے سنتے سنتے سو گئے ہیں اور پریوں کے ایک ایسے دیس میں پہنچ گئے ہیں جہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے اور حسن و لطافت کی دیویاں ہمیں پنکھا جھل رہی ہیں؟ کیا اس بات میں کوئی منطق ہے کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی انسانوں کی تذلیل ، اور ان کی جان ، مال، عزت و آبرو کو درپیش خطروں سے آنکھیں چراتے ہوئے قحط ، بیماری اور جنگ پر قابو پالینے کا دعویٰ کریں اور اپنی ان بے مثال انسانی کامیابیوں پر جشن منائیں؟
مصنف کا خیال ہے کہ ان سوالوں کا جواب موجود ہے لیکن اس کے لیے ہمیں اوائل اکیسویں صدی کی دنیا پر ایک گہری نظر ڈالنی ہوگی اور پھر ہم آنے والی دہائیوں میں انسانوں کے ممکنہ مستقبل کا جائزہ لے سکیں گے۔

کیا ہم نے قحط پر قابو پالیا ہے؟

صرف چند صدیاں قبل دنیا میں قحط ایک بہت بڑی آفت تھی۔1694میں فرانس کے شہر بیواس میں ایک فرانسیسی افسر نے اس وقت فرانس میں جاری قحط کے اثرات اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں لکھا کہ اس پورے ضلعے میں لاتعداد لوگ اتنے غریب ہیں جنہیں مسلسل بھوک نے لاغر اور ضرورتوں نے مرنے کے قریب پہنچا دیا ہے۔ ان کے پاس نہ کوئی کام ہے نہ وہ کوئی خوراک خریدنے کی سکت رکھتے ہیں۔ اپنی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اور شدید بھوک مٹانے کے لیے وہ بلیوں اور کوڑے کے ڈھیروں سے اٹھا کر مرے ہوئے گھوڑوں کا گندا گوشت کھا رہے ہیں۔  یا وہ پودوں کی سوکھی جڑیں ابال کرجسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔صرف ایک شہر میں نہیں پورے فرانس میں یہی صورت حال تھی۔ 1692 سے 1694 کے درمیان تقریبا اٹھائیس لاکھ فرانسیسی (پوری آبادی کا 15 فیصد) بھوک سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرگئے۔ اگلے سال 1695 میں ایسٹونیا میں قحط پڑ گیا اور آبادی کا پانچواں حصہ (25 فیصد) ہلاک ہوگیا۔ اس سے اگلے سال 1696 میں فن لینڈ کی باری آگئی جہاں ایک چوتھائی سے ایک تہائی لوگ قحط سے مر گئے۔ 1695 سے 1698 کے درمیاں سکاٹ لینڈ میں بدتریٍن قحط سے کچھ اضلاع میں بیس فیصد کے قریب لوگ ہلاک ہوئے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ ایک وقت کا کھانا چھوٹ جائے تو کیا محسوس ہوتا ہے، یا رمضان میں ایک دن کے روزے کے بعد شام تک کیا حالت ہوجاتی ہے۔ یا چند دن صرف سبزی کے سوپ پر گزارا کرنا پڑے تو طبیعیت پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔ لیکن اس بات کا اندازہ کرنا مشکل ہے کہ اگر کئی روز تک مسلسل کچھ کھانے کو نہ ملے اور یہ بھی پتہ نہ ہو کہ کھانے کا اگلا نوالہ کب تک دستیاب ہو سکے گا تو کیا حالت ہوتی ہے اور کس طرح جان لبوں پر آتی ہے۔ ہم سے پہلے گزرنے والی نسلوں کو اس کا اچھی طرح اندازہ تھا۔
گذشتہ سو سالوں میں ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی ہے اور اتنی معاشی اور سیاسی پیش رفت ہو چکی ہے کہ دنیا میں اس طرح کی قحط کی صورت حال پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے۔ ابھی بھی دنیا کے بعض خطوں میں وقتاً فوقتاً بھوک اور قحط جو تباہی لاتی ہے وہ استثنائی ہے اور اس کی وجہ کسی قدرتی آفت سے زیادہ انسانی سیاست ہے۔ اب جو قحط موجود ہیں وہ قدرتی نہیں بلکہ سیاسی ہیں۔ اگر شام، سوڈان اور صومالیہ میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ سیاستدان ایسا چاہتے ہیں۔
فرانس میں آج بھی غربت اور بھوک ہے۔ لاکھوں لوگ غذا کی کمی کا شکار ہیں جنہیں دو وقت کا مکمل کھانا ملنے کا یقین نہیں ہوتا۔ لیکن اب اکیسویں صدی کے فرانس میں اور 1694 کے فرانس میں بہت فرق ہے۔ اب لوگ اس وجہ سے نہیں مرتے کہ انہیں ہفتوں تک کچھ کھانے کو نہ ملا ہو۔ اور بھی کئی ممالک کی مثالیں موجود ہیں۔ آج کی عالمی طاقت اور سب سے زیادہ آبادی کے ملک چین کی مثال لے لیں۔ ہزار سالوں تک قحط نے زرد بادشاہتوں سے لے کر سرخ کمیونسٹوں تک چین کی ہرحکومت کا پیچھا کیا ہے۔ کچھ دہائیاں پہلے تک چین کا نام خوراک کی کمی کے مترادف تھا۔ 1958 میں چئرمین ماؤ زے تنگ نے چین میں صنعتی ترقی کے لیے ’دی گریٹ لیپ فارورڈ‘ کے نام سے پانچ سالہ منصوبہ بنایا تھا جس نے چینیوں کو پانچ ہزار خاندانوں کی چھوٹی آبادیوں یا کمیونیٹیوں میں تقسیم کر کے صنعتی ترقی کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگا دیا۔ نتیجے میں زراعت نظر انداز ہوگئی اور چین نے اگرچہ صنعتی پیداوار میں کسی حد تک لیکن غیر معیاری اضافہ کیا تو دوسری طرف فصلیں نہ ہونے کے باعث غذا کی شدید کمی کا شکار ہوگیا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق صرف 1960 کے ایک سال میں دو کروڑ سے زیادہ چینی بھوک، خوراک کی کمی اور اس سے متعلقہ بیماریوں سے مر گئے۔
1974میں پہلی ورلڈ فوڈ کانفرنس روم میں منعقد ہوئی تو دنیا کے سامنے خوراک کی کمی کے خوفناک منظر نامے پیش کیے گئے۔ پیشین گوئی کی گئی کہ چین کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ اپنے ایک ارب لوگوں کو خوراک مہیا کر سکے۔ ایک بڑی تباہی ان کی منتظر تھی۔ لیکن درحقیقت یہی وہ وقت تھا جب چین تاریخ کے سب سے بڑے اقتصادی معجزے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ 1974 کے بعد سے کروڑوں چینیوں کو غربت کے گہرے کنویں سے نکال لیا گیا ہے۔ اگرچے ابھی بھی یہاں کروڑوں لوگ خوراک کی کمی اور غربت کا شکار ہیں لیکن معلوم تاریخ میں پہلی بار چین کو قحط سے آزاد خطہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج بہت سے ملکوں میں بسیار خوری، بھوک اور قحط سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ اٹھارویں صدی میں فرانس کی آخری ملکہ نے فاقوں سے مرتے عوام کو سمجھایا تھا کہ اگر انہیں روٹی نہیں ملتی تو وہ کیک کھا لیا کریں۔ آج زیادہ تر غریب لوگوں نے ان کی اس نصیحت کو پلے باندھ رکھا ہے۔ آج جب بیورلے ہل پر رہنے والے دنیا کے امراء سلاد، چٹنی اور سوپ پر گزارہ کرتے ہیں، چھوٹی آبادیوں اور کچی بستیوں میں رہنے والے غریب کیک، برگر اور پزے اڑاتے پھرتے ہیں۔ 2014 میں 850 ملین لوگ دنیا میں خوراک کی کمی کا شکار تھے جبکہ ان کے مقابلے میں دو ارب سے زیادہ لوگ موٹاپے، یعنی وزن کی زیادتی کا شکار تھے۔ اندازہ ہے کہ 2030 تک دنیا کی آدھی آبادی موٹاپے کے آزار میں مبتلا ہوجائے گی۔ 2010 میں قحط اور غذا کی قلت سے لگ بھگ ایک ملین (دس لاکھ) لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ اسی سال موٹاپے سے مرنے والوں کی تعداد تین ملین (تیس لاکھ) تھی۔

وباؤں کا عذاب!

قحط کے بعد انسانوں کے دوسرے سب سے بڑا دشمن وبائی امراض تھے ،جو کسی ایک علاقے میں پھیلتے تو انسانوں کی نسلوں کی نسلیں تباہ کردیتے۔ وہ گنجان آباد شہر جہاں تاجروں اور سیاحوں کی بہتات ہو ،وہ اگر ایک طرف انسانی تہذیب و ثقافت کا مرکز بن جاتے تو دوسری طرف جان لیوا وبائی امراض کی آماج گاہ ہوتے۔ کسی وباء کا شکار ہوجانے کا خوف اکثر لوگوں کو رہتا۔ چودھویں صدی کی تیسری دہائی میں بلیک ڈیتھ کے نام سے مشہور ہونے والی وبا سے دنیا بھر میں کروڑوں لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ قریب بیس سال کے عرصے میں یہ وبا ایشیا سے یورپ، شمالی افریقہ سے لے کر بحرالکاہل کے ساحلوں تک پہنچ چکی تھی۔ اس وباء سے 75 ملین سے لے کر دو سو ملین (بیس کروڑ) لوگ تک ہلاک ہوگئے۔ انگلستان میں دس میں سے چار لوگ اس کا شکار ہوئےاور وہاں کی آبادی ساڑھے تین ملین سے کم ہو کر سوا دو ملین رہ گئی۔ فلورنس کے ایک لاکھ شہریوں میں سے پچاس ہزار مارے گئے۔ حکام اس کا حل ڈھونڈنے میں مکمل ناکام ہوچکے تھے اور بڑے بڑے دعائیہ اجتماعات میں خدا سے اس عذاب سے نجات کی دعائیں کی جاتیں۔
جدید دور کے آنے تک کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ معمولی مکھی، مچھر اور پانی کے ایک قطرے سے اتنی بڑی اور خوفناک بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ اس سے پہلے تک اسے وہ زیادہ سے زیادہ بری آب و ہوا کو ذمہ دار ٹھہراتے یا اس کا الزام جنوں، بھوتوں اور دیوتاؤں کی ناراضی کو دیتے، بلکہ ایسی وباؤں سے غیر مرئی مخلوقات پر ان کا ایمان اور پختہ ہوجاتا۔ پھر بلیک ڈیتھ ہی واحد وبا نہیں جو انسانوں پر عذاب بن کر نازل ہوئی۔
مارچ1520 میں کیوبا کے ساحل سے ایک سپینی بحری جہاز میکسیکو پہنچا اور اپنے ساتھ چیچک کے وائرس کے شکار ایک فوجی کو بھی لایا جسے کچھ معلوم نہیں تھا کہ اس کے جسم کے کروڑوں خلیوں میں سے کسی ایک میں ایک ایسا وائرس چھپا ہے جو کسی بڑے سے بڑے ہتھیار سے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ میکسیکو پہنچ کر چیچک نے اس کے پورے جسم کو ڈھانپ لیا۔ اسے جس مقامی خاندان کے گھر میں علاج کے لیے لے جایا گیا ،وہ بھی اس کا شکار ہوگیا اور پھر ان سے ان کے پڑوسی تک پہنچا اور یوں وہ پوری آبادی میں پھیل گیا۔ صرف دس دن میں آس پاس کی پوری آبادی قبرستان میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اور پھر گاؤں گاؤں، قریہ قریہ پھیلتی اس بیماری نے پورے میکسیکو اور اس کے باہر تک کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لوگوں میں اس کے ساتھ عجیب و غریب افواہیں اور ضعیف الاعتقادی پھیل گئی کہ بدی کے تین خدا راتوں کو مختلف علاقوں میں پرواز کرکے جاتے ہیں اور وہاں یہ عذاب نازل کردیتے ہیں۔ مختلف فرقوں کے پیروکار ایک دوسرے کے خداؤں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے۔ جادو ٹونے، عملیات اور عبادات پر زور دیا جاتا۔ لاشیں گلیوں اور سڑکوں پر بکھری ہوتیں اور کوئی انہیں دفنانے کی ہمت نہ کرتا۔ آخر حکام نے حکم دیا کہ آس پاس کے مکانوں کو ان لاشوں پر گرا دیا جائے۔ کچھ علاقوں میں نصف سے زیادہ آبادی اس کا شکار ہوئی۔ مارچ 1520میں جب یہ جہاز میکسیکو پہنچا تھا میکسیکو کی آبادی22 ملین تھی۔ دسمبر تک یہ آبادی کم ہو کر صرف14 ملین رہ گئی۔ چیچک تو صرف ایک وبا تھی لیکن اس کے بعد پے در پے بخار، خسرہ وغیرہ کئی اور وبائیں یہاں پھوٹیں اور1580 تک یہاں کی آبادی صرف دو ملین رہ چکی تھی۔
دو صدیوں بعد برطانوی سیاح کیپٹن جیمز کک جب18 جنوری 1778 کو ہوائی کے جزیرے پر پہنچا تو وہاں کی آبادی 5 لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ وہاں کے لوگ اس وقت تک یورپ اور امریکہ سے دور اپنے جزیرے پر الگ تھلگ رہتے تھے اور یورپی اور امریکی بیماریوں سے بھی ناواقف تھے۔ تاہم جب کیپٹن کک اور اس کے آدمی وہاں پہنچے تو اپنے ساتھ بخار، ٹی بی اور سوزاک جیسی بیماریاں بھی لائے۔ پھر مزید یورپی سیاحوں نے یہاں کا رخ کیا اور یہاں کے لوگوں کو ٹائیفائڈ اور چیچک سے متعارف کرا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1853 تک ہوائی کے جزیرے پر زندہ بچ جانے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے کم ہو کر ستر ہزار ہوگئی۔ بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں ایک اور جان لیوا وباء ’اسپینش فلو‘ کے نام سے پھیلی تھی۔ چند ماہ میں دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی یعنی قریب نصف ارب لوگ اس کے وائرس کا شکار ہوئے (بیمار ہوئے)۔ انڈیا کی پانچ فیصد آبادی (15 ملین لوگ) ہلاک ہوگئے۔ کسی جزیرے کے پندرہ فیصد، کسی کے بیس فیصد اور کسی کا پانچواں حصہ ختم ہوگیا۔ کل ملا کر ایک سال میں پچاس ملین سے ایک سو ملین تک لوگ اس وبا سے ہلاک ہوئے۔ یاد رہے کہ مقابلتاً1914 سے 1918 تک جاری رہنے والی پہلی جنگ عظیم میں چالیس ملین لوگ مارے گئے تھے۔
ان بڑی اور عالمی سطح پر تباہی پھیلانے والی وباؤں کے علاوہ بے شمار چھوٹی بڑی وبائیں مختلف علاقوں میں پھیلتی رہتیں جن سے لاکھوں لوگ ہر سال ہلاک ہوجاتے۔ گذشتہ صدی میں آبادی میں اضافے اور سفر کی سہولیات کی وجہ سے بھی وباؤں کا ایک سے دوسری جگہ جلدی سے پہنچ جانے کا خطرہ مزید بڑھ گیا۔ تاہم گذشتہ چند دہائیوں سے وباؤں کے اثرات اورپھیلنے کی رفتارمیں ڈرامائی کمی آچکی ہے۔ سب سے بڑھ کر بچوں کی اموات کی شرح اس وقت تاریخ میں سب سے کم ہے۔ اب یہ شرح دنیا میں پانچ فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے اور ترقی یافتہ ملکوں میں یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ معجزہ بیسویں صدی میں ہونے والی طبی دریافتوں، ویکسین، اینٹی بایوٹک، اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔
مثال کے طور پر1979میں عالمی ادارہ صحت نے چیچک کے خلاف جنگ جیت لینے کا اعلان کیا۔ یہ وہ پہلی خطرناک وبا تھی، جس کا زمین سے خاتمہ ممکن ہوا۔1967 تک بھی پندرہ ملین لوگ اس سے متاثر ہوئے تھے جن میں سے دو ملین ہلاک ہوگئے تھے۔ لیکن 2014میں چیچک کا کوئی ایک بھی مریض سامنے نہیں آیا۔ یہاں تک کہ عالمی ادارے نے لوگوں کو چیچک کی ویکسین لگانا بند کردی۔ ابھی بھی ہر چند سال بعد کوئی نئی وبا پھوٹتی ہے جیسے 2002 میں سارس،2005 مین برڈ فلو،2009 مین سوائن فلو، 2014 میں ایبولا۔ لیکن جدید میڈیکل سائنس نے یہی ممکن بنایا کہ ان وباؤں کو پہلے کی طرح بے قابو ہونے سے روکا جاسکا۔ حتی کہ ایڈز جیسے موذی مرض کے علاج کے سلسلے میں بھی قابل لحاظ پیش رفت ہوچکی ہے۔

کیا جنگوں کا خاتمہ ممکن ہے؟

ایک اچھی خبر یہ ہے کہ دنیا سے جنگوں کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ تاریخ کے تمام ادوار میں جنگ ایک لازمی اور امن ایک عارضی حقیقت تھی۔ بین الاقوامی تعلقات میں جنگل کا قانون رائج تھا، جس کے مطابق دو ملکوں کے درمیان حالت امن میں بھی جنگ کا آپشن ہمیشہ موجود رہتا تھا۔ مثلا 1913میں اگرچہ فرانس اور جرمنی میں امن تھا لیکن 1914 میں سب جانتے تھے کہ ان میں کسی بھی وقت جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ سیاستدانوں، جرنیلوں، تاجروں اور عام لوگوں کی طرف سے مستقبل کی کسی بھی منصوبہ بندی کا مطلب جنگ کی منصوبہ بندی تھا۔ پتھر کے زمانے سے انجن اور بھاپ کے زمانے تک، قطب شمالی سے صحارا تک زمین پر ہر شخص ہر وقت اس خدشے کا شکار رہتا تھا کہ نہ جانے کس وقت ان کا پڑوسی ملک ان پر حملہ کردے، ان کی فوج کو شکست دے دے اور ان کے لوگوں کا قتل عام کر کے ان کی زمین پر قبضہ جما لے۔
بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں جنگل کا یہ قانون اگرچہ ختم نہیں ہوسکا لیکن کمزور ضرور پڑ گیا۔ اکثر خطوں میں جنگ کا امکان کم ہوگیا۔ قدیم زرعی معاشروں میں پندرہ فیصد لوگ جنگوں اور انسانی کشت و خون سے ہلاک ہوتے تھے، بیسویں صدی میں انسانی تشدد اور جنگ سے مرنے والوں کی تعداد پانچ فیصد رہ گئی اور اکیسویں صدی کے آغاز میں صرف ایک فیصد لوگ جنگ و جدل کا نشانہ بنے۔2012 میں پوری دنیا میں مرنے والے لوگوں کی کل تعداد ۵۶ (چھپن) ملین تھی۔ ان میں سے چھ لاکھ بیس ہزار افراد انسانی تشدد سے ہلاک ہوئے جبکہ ایک لاکھ بیس ہزار لوگ جنگوں میں مارے گئے اور پانچ لاکھ لوگ جرائم کا شکار ہوئے۔ اس کے مقابلے میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد آٹھ لاکھ تھی اور پندرہ لاکھ لوگ ذیابیطس (شوگر) کی بیماری کے ہاتھوں جان سے گئے۔ اس وقت شوگر بارودی ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ہوچکی ہے۔
بہت سے لوگ اس لیے بھی جنگ کو ناقبل تصور سمجھنے لگے ہیں کہ نیوکلیر ہتھیاروں کے بعد یہ ایک اجتماعی خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے۔ اسی خوف نے طاقت ور قوموں کو تنازعات کے حل کے متبادل اور پرامن راستوں کی طرف مائل کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت مادی اشیا سے زیادہ علم کی بنیاد پر استوار ہورہی ہے۔ اس سے قبل دولت کمانے کے ذرائع مادی اثاثوں ،مثلا سونے کی کانوں، گندم کے کھیتوں اور تیل کے کنوؤں پر مبنی ہوتے تھے۔ آج دولت کے حصول کا بنیادی ذریعہ علم بن چکا ہے۔ آپ تیل کے کنویں پر جنگ کے ذریعے قبضہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اس طریقے سے علم حاصل نہیں کرسکتے۔ دولت اور وسائل کے حصول کے لیے علم بنیادی ذریعہ قرار پانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ جنگ کی منافع خیزی میں کمی آئی ہے۔ اب جنگیں انہی خطوں تک محدود ہورہی ہیں مثلاً مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا وغیرہ جہاں معیشت ابھی تک مادی وسائل کے پرانے ذریعوں پر انحصار کر رہی ہے۔ ایک مثال دیکھیے۔ موبائل فون اور لیپ ٹاپ وغیرہ کی مینوفیکچرنگ کے لیے کولٹن نامی سیاہی مائل دھات کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا میں کولٹن کے80 فیصد ذخائر کانگو میں ہیں۔ کانگو کے پڑوسی ملک روانڈا نے 1998 میں کولٹن دھات لوٹنے کے لیے کانگو پر حملہ کردیا۔ روانڈا نے اس لوٹی گئی کولٹن سے 240 ملین ڈالر سالانہ کمائے۔ روانڈا جیسے غریب ملک کے لیے یہ ایک بڑی رقم تھی۔ دوسری طرف چین کو اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا کہ وہ کیلیفورنیا کی سلیکان ویلی پر جنگ کے ذریعے قبضہ کرلیتا جو دنیا میں موبائل اور لیپ ٹاپ تیکنالوجی کا گڑھ ہے۔ اگر بالفرض وہ ایسا کربھی لیتا تو وہاں لوٹنے کے لیے کوئی مائنز نہیں تھیں۔ اس کے بجائے چین نے ایپل اور مائکروسافٹ جیسی وہاں کی بڑی بڑی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کر کے، ان کا سافٹ ویر خرید کر اور مینوفیکچرنگ کے ٹھیکوں سے اربوں ڈالر کما لیے۔ روانڈا نے کانگو کی کولٹن لوٹ کر جتنی رقم ایک سال میں بنائی چین نے اتنی رقم تعاون پر مبنی پرامن معیشت کے ذریعے ایک دن میں کمالی۔
مطلب یہ کہ لفظ “امن” کا ایک نیا مفہوم سامنے آیا ہے۔ پہلے زمانے میں امن کا مطلب تھا عارضی طور پر جنگ کا نہ ہونا۔ آج ہم اسے جنگ کے خدشے کو معدوم کرنے کے مترادف کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ 1913 میں جب لوگ کہتے تھے کہ فرانس اور جرمنی میں امن ہے تو ان کا مطلب ہوتا تھا کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان عارضی طور پر جنگ رکی ہوئی ہے۔ کسی کو کچھ خبر نہیں تھی کہ اگلے سال کیا ہونے والا ہے۔ جب آج ہم کہتے ہیں کہ فرانس اور جرمنی میں امن قائم ہے تو ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں آنے والے ممکنہ حالات میں ان دونوں کے درمیان جنگ کا کوئی امکان نہیں ہے۔یہ نیا حاصل ہونے والا امن محض کسی تخیل کی پیداوار نہیں ہے۔ طاقت کی بھوکی حکومتیں اور لالچی کارپوریشنیز بھی اب امن پر بھروسہ کرتی ہیں۔ جب مہنگی کاروں کی کمپنی مرسڈیز مشرقی یورپ میں اپنی کاروں کی فروخت کی حکمت عملی بناتی ہے تو وہ اس امکان کو مسترد کردیتی ہے کہ اب کبھی جرمنی پولینڈ پر حملہ کرسکتا ہے۔ جو کمپنی فلپائن سے کم اجرت لینے والے مزدور بلاتی ہے تو اس کو یہ خدشہ نہیں ہوتا کہ اگلے سال انڈونیشیا فلپائن پر چڑھ دوڑے گا۔ اب بجٹ اجلاس میں برازیل کا وزیر دفاع میز پر مکہ مار کر یہ مطالبہ نہیں کرسکتا کہ یوراگوئے کو فتح کرنے کے لیے انہیں پانچ ارب ڈالر دیے جائیں۔ یقینا ًابھی دنیا میں ایسے ممالک ہیں جہاں کے وزیر دفاع اور فوج کے جرنیل ایسے مطالبے کرتے ہیں، اور جہاں ابھی نیا امن حاصل نہیں ہوسکا، لیکن یہ اب استثنائی مثالیں ہیں۔
(بشکریہ  www.tajziat.com)

چند جدید عائلی مسائل ۔ فقہی تراث کا تجزیاتی مطالعہ

مولانا محمد رفیق شنواری

ہم نے مدرسہ ڈسکورسز کی کلاس میں  “جرم  زنا” کی ماہیت اور تعریف نیز بنیاد فراہم کرنے والے مفروضوں کا تجزیہ کرنا تھا جس کے لیے ڈاکٹر سعدیہ یعقوب صاحبہ نے امام سرخسی کی کتاب المبسوط کے کچھ صفحات (جلد نہم ص ۵۴-۵۵) کا انتخاب کیا تھا۔ پہلے ہم نے اس بنیادی سوال کا تعین کیا جس کا امام سرخسی ان صفحات میں جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیوں کہ تراث جس مقصد کے لیے پڑھائی جا رہی ہے ، اگر وہ مقصدی سوال سامنے نہ ہو تو سمجھنے کے جتن کا کیا معنی؟ اس کے بعد اس منتخب حصے کو کئی مناسب حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ یہ حصہ محض کئی مسائل کی تصویر اور تکییف پر مشتمل تھا ، جس سے ہمیں مسئلہ زیر بحث میں حنفی اور شافعی نقطہ ہائے نظر کا اس قدر دل چسپ تقابلی انداز میں پتہ چلا کہ اس اختلاف کے اسباب معلوم کرنے کا ایک فطری تجسس محسوس ہوا۔ اس کے بعد اگلا حصہ اسی اختلاف کے اسباب سمجھنے اور جزوی دلائل پر نظر ڈالنے کا تھا۔ اس کے بعد والا حصہ اس بحث کے لیے بنیادی کردار فراہم کرنے والے فقہی اصول یا بنیادی مفروضوں کی نشاندہی سے متعلق تھا۔ اور اخیر میں بنیادی اصول یا مفروضوں ، جن پر حنفی یا شافعی نقطہ نظر کھڑا ہے ، کی دریافت اور پھر ان پر قائم جزئیات کی regulation کے بعد اس بحث کے نئے مسائل پر انطباق اور توسیع کا کام تھا ، جس کے لیے اس نشست کا آخری حصہ مقرر تھا۔ اب ہم آتے ہیں ان تمام نشستوں میں سامنے آنے والی بحث کی تلخیص کی جانب ، جو اس طریقہ کار کا ایک عملی تجربہ رہا۔
۱۔ بنیادی سوال کا تعین: خاندانی نظام اور اس میں میاں بیوی کے حقوق اور ذمہ داریوں سے متعلق تحریکِ فیمینیزم کے نتیجے میں بعض فقہی احکام سےمتعلق تبدیلی یا عملی طور پر سستی اور ذہول کے رجحانات پیدا ہورہے ہیں۔ بالخصوص مغربی دنیا میں ، قدیم فقہ اور جدید مباحث کے تقابلی اور تنقیدی مطالعے کی روشنی میں ان رجحانات کا جائزہ لینا تھا ، کہ کس حد تک قابل قبول یا ناقابل قبول ہو سکتے ہیں اور ان کی بنیاد کیا ہوگی؟ اس مقصد کیلئے اولا میاں بیوی کے تعلقات کی بنیاد ، بالخصوص جنسی تعقات کی فقہی و قانونی ماہیت ،سمجھنا تھا۔ اسی طرح ان تعلقات کی Nature کا ادراک کرنے اورپورے عائلی نظام کے مزاج کی تفہیم کے بعد نئے مسائل پر غور و فکر کا عمل آسان ہو سکتا ہے۔ میاں بیوی کے جنسی تعلقات کی ماہیت کی تحقیق زیادہ جامعیت کے ساتھ سمجھنے میں امام سرخسی کی کتاب المبسوط کے حدود کے مسائل میں آنے والی ایک بحث ، جو جنسی تعلق کے اندر مرد عورت کے کردار کا تعین کرتی ہے ، سے ملتی تھی اس لئے اس حصے کو منتخب کیا گیا۔ اس دوران مرکزی توجہ قدیم فقہ میں بیوی کو ادا ہونے والے مہر  کے بدلے میں خاوند کو اس پر حاصل ہونے والے تصورِ” ملکیت” پر اور زنا کا جرم سرزد ہونے کے دوران عورت کی جانب سے مرد کو ملنے والے “تمکین” کے تصور پر رہی ، کہ ان کے مفاہیم اور اطلاقات کیا ہیں؟
۲۔ متعلقہ فقہی جزئیات کی تکییف: اس دوران توجہ سرخسی کی گفتگو کے ترجمے کے بجائے اس کے ذکر کردہ فروعی مسائل کو اصولی اور تقعیدی (قاعدہ کی شکل دینا) صورت دینے پر رہی۔ ایسے بنیادی مسائل کچھ یوں تھے:
1- اگر “اہلیت” رکھنے والا مرد “اہلیت” رکھنے والی خاتون کو زنا کے ارتکاب پر مجبور کرے ۔ تومرد کو سزا ہوگی ، اور عورت کو سزا نہیں
2- اگر “اہلیت” رکھنے والا مرد “اہلیت” نہ رکھنے والی خاتون کو زنا کے ارتکاب پر مجبور کرے ۔ مرد کو سزا ہوگی ، اور عورت کو سزا نہیں
3- اگر “غیر مکلف” مرد ” مکلف” عورت کو زنا پر مجبور کرے (مثلا پاگل مرد کسی خاتون سے زبردستی زنا کرے)۔ مرد و عورت دونوں کو سزا نہیں ہوگی۔
4- اگر “مکلف” خاتون کسی “غیر مکلف” مرد سے زنا کا ارتکاب کرے (مثلا بچے یا پاگل مرد سے) ۔ مرد کو سزا نہیں ہوگی اورعورت کو بھی مرد کے فعلِ زنا کے “نامکمل” ہونے کی وجہ سے سزا نہیں ہوگی۔
۳۔ فروعی مسائل کی تعلیل: یہاں فقہی مسائل میں بنیادی اور اصولی کردار ادا کرنے والی اصطلاحات پر توجہ رہی مثلا: اہلیت ، تملیک اور مرد کے فعل کا تام یا مکمل ہونا۔ حد کی سزا صرف مکلف پر ہی نافذ ہوگی۔ نیززنا کا جرم تب مستوجب حد ہوگا جب مرد کا فعل مکمل ہو۔ اس کے علاوہ خاتون پر تب حد جاری ہوگی جب اس کی جانب سے جرم زنا کے دورا ن تمکین بھی پائی جائےاور وہ خود مرد کو اپنا آپ اس عمل کیلئے پیش بھی کرے۔ اگر ایسا نہ ہو اور اس کے ساتھ یہ فعل زبردستی کیا جائے تو سمجھا جائے گا کہ اس خاتون کی جانب سے تمکین کا عنصر نہیں پایا گیا لہذا وہ مستوجبِ حد نہیں۔
پہلی صورت میں مرد کو سزا اس لئے ہو رہی ہے کہ اس کے اندر تکلیف یعنی شرعی احکام کی تنفیذ کیلئے “اہلیت” پائی جاتی ہے ، اور اس کی طرف سے جرمِ سزا کا صدور بھِی مکمل طور پر ہوا ہے۔ اور خاتون کو سزا اس لئے نہیں ہوگی کہ جرمِ سزا کو خاتون کے حق میں مستوجب حد قرار دینے کیلئے اس کی جانب سے “تمکین” یعنی مرد کیلئے خود کواس عمل ِ زنا کیلئے پیش کرنا ، بوجہ اکراہ نہیں پایا جاتا۔ مختصرا یہ کہ جرمِ زنا تب مستوجب حد ہوتا ہے جب دونوں مکلف بھِی ہو اور عورت کی جانب سے تمکین کا عنصر بھی پایا جائے۔ اور یہاں مرد میں اہلیت تو ہے مگر عورت کے اندر تمکین نہیں اس لئے مرد کو سزا ہوگی اورعورت کو نہیں۔
دوسری صورت میں مرد کو سزا ہوگی کیوں کہ وہ مکلف بھی ہے اور اور اس کا جرمِ زنا مکمل بھی ہے۔ مگر خاتون کو سزا نہیں ہوگی کیوں کہ اس کے اندر اہلیت نہیں پائی جاتی۔ خاتون کا غیر مکلف یا بچی ہونے کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فعلِ زنا کا محل نہیں لہذا مرد کا فعل تام/مکمل نہیں اور وہ بھی مستوجبِ سزا نہیں۔
تیسری صورت میں مرد کو اس لئے سزا نہیں ہوگی کہ وہ غیر مکلف ہے۔ اور عورت کو اس لئے سزا نہیں ہوگی کہ اس کی جانب سے تمکین کا عنصر نہیں پایا جاتا۔
آخری صورت میں مرد و عورت میں سے کسی کو سزا نہیں ہوگی۔ کیوں کہ مرد غیر مکلف ہے۔ اور عورت کو اس لئے سزا نہیں ہوگی کہ غیر مکلف ہونے کی بنیاد پر جب مرد کا فعلِ زنا نا مکمل ہوا تو اس کی اتباع میں خاتون کا فعل بھی نامکمل ہے اور نامکمل جرم پر حد جاری نہیں ہوتی۔
۴۔ متعلقہ اصولوں/مفروضات کی تفہیم و تشریح : یہاں چوتھا جزئیہ احناف اور شافعیہ کے درمیان مختلف فیہ ہےکہ شافعیہ کے یہاں خاتون کو سزا ہوگی۔ ان کے یہاں اصول یہ ہے کہ مرد و عورت دونوں کا فعل ایک دوسرے پر موقوف یا ایک کا فعل دوسرے کیلئے تابع نہیں۔ بلکہ ہر ایک کے فعل کو مستقل حیثیت سے دیکھا جائے گا ۔ یہاں عورت کا فعل اپنی تمام شرائط رکھتا ہے تو خاتون کو سزا ہوگی اگرچہ مرد پر غیر مکلف ہونے کی وجہ سے سزا کا نفاذ نہیں ہورہا۔ اس کے برعکس احناف کا اصول یہ ہے کہ زنا کے اندر عورت کو صرف “تمکین” کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاتی،بلکہ مرد کا “اہل” ہونا بھی ضروری ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ احناف کے یہاں زنا کے اندر مرد کا فعل اصل ہے اور خاتون محض اس فعل کا محل ہے ؛ لہذا اگر اصل یعنی مرد کو سزا نہیں ہو رہی تو عورت پر بھی حد نافذ نہیں ہوگی۔ جب کہ شافعیہ کے یہاں عورت کو سزا ہونے کی ایک بنیادی شرط یعنی “تمکین” پائی جاتی ہے توسزا ہوگی ۔ تیسری بات یہ کہ شافعیہ آیت قرآنیہ کاحوالہ دیتے ہیں کہ کہ جس میں مرد اور عورت کودونوں مستقل طور ہر زنا کرنے والا/ والی کہا گیا ہے۔ لہذا دونوں کا فعل مستقل اور ایک دوسرے کیلئے تابع نہیں۔ تو اس بنیاد پر جس کافعل اپنی تما شرائط کے ساتھ متحقق ہو تو اس کو سزاہوگی ، اگرچہ دوسرے کو کسی بھی شرط کے نہ ہونے کی وجہ سے سزا نہ ہو رہی ہو۔
بعض اہل علم نے قرآن کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے حنفی پوزیشن کو شافعی موقف کے مقابلے میں مرجوح قرار دیا ہے۔ مگر ہماری دانستِ ناتواں کے مطابق حنفی موقف دیگر مقامات میں اختیار کئے گئے موقف کے ساتھ ہم آہنگ اور متکامل ہے۔ عقدِ نکاح کے بعد میاں بیوی کو ایک دوسرے کے جسم پر حاصل ہونے ؎والے افعال کا جو جواز ثابت ہو جاتا ہے اس کی توجیہ حنفی فقہ کے اعتبار سے یہ ہے کہ مرد مہر کی ادائیگی کے بعد عورت کے جسم سے جنسی فوائد(استمتاع) کا بایں طور مالک ہوجاتا ہے کہ وہ فوائد یا استمتاع تب تک اسی مرد کیلئے خاص ہوں گے جب تک عقد نکاح قائم ہوں۔ جب کہ شافعیہ کے یہاں مہر کی ادائیگی کے بعد مرد عورت کے جسم کا مالک بن جاتا ہے۔ (اور شاید اسی لئے ان کے یہاں عقدِ نکاح لفظِ بیع کے ساتھ بھی منعقد ہو جاتا ہے)۔ اب جرمِ زنا کی تکییف کے وقت اختیار کئے گئے موقف اور یہاں کے موقف کا تقابل کیا جائے تو حنفی پوزیشن میں تکامل کا عنصر پایا جاتا ہے۔ کیوں کہ وہاں ان کا موقف یہ تھا کہ مرد کا فعل “اصل” ہے۔ تو “اصل” ہونے کا تقاضا یہی ہے کہ بوقتِ نکاح جائز تعلق کیلئے “مالک” بھِی بنے۔ تو جیسا کہ ملاحظہ کیا گیا کہ ایک ہی “تعلق” کی دو جائز و ناجائز صورتوں میں اختیار کئے جانے والے دونوں موقف میں ایک گونہ یکسانیت اور تکامل کا پہلو محسوس ہوتا ہے۔ جب کہ شافعیہ کے دونوں مسائل میں اختیار کئے گئے موقف میں اگرچہ تضاد محسوس نہیں ہوتا مگر ہم آہنگی یا تکامل کا عنصر بھی نہیں پایا جاتا۔ کیوں کہ زنا کے مسئلے میں ان کا کہنا ہے کہ مرد و عورت میں ہر دو کا فعل مستقل اور ایک دوسرے کے فعل پر موقوف یا تابع نہیں۔ مگر نکاح کے وقت مرد اس کا مالک بن جاتا ہے۔ اب اگر ایک جانب -ناجائز تعلق- میں ایک چیز از خود مستقل طور پر اپنا وجود اور احکام کے بنا کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تو اسی فعل کی جائز صورت یعنی نکاح کے وقت اس کو مملوک بنانے کا کیا فلسفہ ہوسکتا ہے۔ ہم دوبارہ عرض کریں کہ یہاں اس قسم کا تکامل قطعیت کے ساتھ ایک موقف کو درست اور دوسرے کو غلط قرار دینے کیلئے اگر بنیاد نہیں تو legal reasoning کیلئے ایک وجہ ترجیح ضرور ہو سکتی ہے۔
۵۔ جدید مسائل کی نشاندہی: پہلی بحث کے دوران حنفی و شافعی ہر دو مواقف کے کئی اور اصولوں کی بات بھِی آ گئی تھی ۔ مثلا احناف کا زنا کے اندر مرد کے فعل کواصل اور عورت کے فعل کو تابع قرار دے کر حد کے نفاذ کو مزید مشکل بنا دینے کی پوزیشن کی بنیاد اسی مفروضے پر ہے کہ احناف امکان کی حد تک حدود سزاؤں کے نفاذ کو روکنا چاہتے ہیں جس کی بنیاد اس مشہور کلیے پر ہے کہ “إدرءو الحدود بالشبهات”. اس پوری بحث کو کلاسیکی فقہ کی روشنی میں دیکھنے کے بعد ہمارے سامنے ایک سوال یہ آتا ہے کہ عورت پر بچے کو دودھ پلانا لازم نہیں ۔ مرد اس کیلئے باقاعدہ رقم کی ادائیگی کر کے کسی دایا کا بندوبست بھی کرسکتا ہے ، یا اگر بیوی رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کرے تب بھی درست ہے ۔ اس سے بظاہر یہی ذہن میں آتا ہے کہ عورت اپنے جسم کے کسی حصے کو بیچ سکتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح مہر کو وصول کر کے اپنے خاوند کو اپنے جسم سے اسمتاع کا مالک بنا دیا ۔ اب مغربی دنیا میں باقاعدہ Milk Banks بنے ہوئے ہیں جہاں خواتین اپنے سینوں سے دودھ نکال کر مختلف کمپنیوں کو بیچ دیتی ہیں اور وہ کمپنیاں آگے خریداروں کو بیچ دیتی ہیں۔ تو باقاعدہ ان کمپنیوں کا قیام شرعا کیسا ہے نیز رضاعت وغیرہ مسائل کے حوالے سے کیا ممکنہ اقدامات کئے جا سکتے ہیں؟ دوسرا سوال جو تحریک فیمینیزم اور مغربی دنیا سے زیادہ متعلق تھا جہاں خواتین کے حقوق کی خاطر کچھ شرعی و فقہی احکام سے رو گردانی کی جاتی ہے۔ کہ کلاسیکی فقہ میں جو مرد کے خاتون کے جسم یا اس کے جسم سے حاصل ہونے والے جنسی فوائد کا مالک بنتا ہے تو اس ملکیت کے تصور کی معنویت کیا ہے ، بالخصوص اس دنیا میں جہاں مرد اور عورت کی برابری کی بات نہایت زور و شور سے کی جاتی ہے ۔ کیا ہم ملکیت کے اس تصور کو کسی دوسرے مناسب اصطلاح سے تبدیل کر سکتے ہیں؟ یا یہ اصطلاح ناقابل تبدیلی ہے اور اصل ضرورت اس کی درست تفہیم و تشریح کی ہے۔ اس سوال پر کھل کر گفتگو کی گئی اور ہر شریکِ کورس کو مکمل اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا گیا۔

توہین رسالت حدود سے متعلق ہے یا تعزیرات سے؟

مولانا مفتی محمد اصغر

توہین رسالت  کا جرم حدود سے متعلق  ہے یا تعزیرات سے ؟ اس سوال کا جواب دینے سے قبل  حدود  اور تعزیرات  کی تعریف  معلوم  ہونی چاہیے کہ حدود  سے کیا مراد ہے اور تعزیرات  سے کیا مراد ہے ؟ فقہاء  کرام جب  لفظ حد کا استعمال کرتے ہیں تو اس کا مصداق کیا ہوتاہے ؟ اسی طرح   جب تعزیر  کا لفظ  بولا جاتا ہے تواس  کا مصداق کیا  ہوتاہے،۔ ان سب سوالوں کا جواب حد اور تعزیرکی تعریف معلوم ہونے سے بخوبی سمجھ آسکتاہے ۔
ملک العلماء علامہ   کاسانی ؒحد کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتےہیں  
عقوبۃ مقدرۃ واجبۃ حقا اللہ تعالي 1
ایسی مقررہ سزا جس کا نفاذ اللہ تعالی کے حق کے طور پر واجب ہے ۔
فقہ حنفی کے معروف محقق علامہ زین الدین  ابن نجیم  مصری حد کی تعریف  کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
الحد عقوبۃ مقدرۃ للہ، بيان لمعناہ شرعا فخرج التعزير لعدم التقدير 2
 حد وہ سزاہے  جو اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کردہ ہے یہ اس کے شرعی معنی  کی وضاحت  ہے پس  اس سے  تعزیر  نکل گئی   کیوں کہ  وہ اللہ تعالی  کی طرف سے  طے شدہ نہیں ہوتی  ۔
 ان عبارتوں سےیہ بات  واضح  ہوگئی  کہ حداس سزا  کو کہتے ہیں جو شارع  کی طرف سے  حق اللہ  کے طورپر  مقررشدہ ہو اور جو سزا شارع  کی طرف سے مقررشدہ نہ ہو وہ حد نہیں فقہاء اس کو تعزیر سے تعبیر کرتے ہیں ۔  چنانچہ علامہ   سرخسی حد اور تعزیر کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
الحد:اسم لعقوبۃ مقدرۃ  تجب  حقا للہ تعالي  ولہذا  لايسمي  بہ التعزير  لانہ غير  مقدر 3
حد اس سزا  کا نام ہے جو مقرر شدہ ہو اللہ تعالی   کے حق  کے طورپر واجب  ہو اس وجہ سے اسکو تعزیر  نہیں کہا جائے گا  کیوں کہ  وہ مقر رشدہ  سزا نہیں  ہوتی ۔
  کسی بھی سزا کے حد ہونے کے لئے  ضروری  ہے کہ وہ اللہ  تعالی  کی طرف سے  مقرر شدہ  ہو اور جو سزائیں  اللہ تعالی  کی طرف سے مقررشدہ  ہیں وہ یا تو قرآن  کریم  میں بیان ہوئی ہیں یا رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ میں۔ حد کی سزا کا ثبوت  قرآن کریم  یا حدیث رسول سے ضروری ہے لیکن تعزیری سزا کے لئے  اس کا ثبوت قرآن یا حدیث سے ضروری نہیں کیوں کہ  وہ شارع  کی طرف سے  مقرر شدہ  نہیں ہوتی۔   حد کی سزا کا تعلق حق اللہ سے ہے  اس لئے  حد کی سزا قیاس و رائے  سے نہیں بلکہ منجانب اللہ   نص کے ذریعے  سے مقرر شدہ  ہوتی  ہے جس میں  کمی وبیشی  کا اختیار  کسی بھی  ریاست  کے پاس نہیں ہوتا  چنانچہ  امام سرخسی  فرماتے ہیں ۔
الحد بالقيا س  لايثبت  4
’’حد قیاس  کے ذریعے  ثابت نہیں  ہوتی بلکہ  اس کے ثبوت کے لئے نص   صریح  کا پایا جانا ضروری  ہے ،،
حد کی  سزا شبہ سے بھی ساقط ہو جاتی ہے اور اس کے اثبات  کے لئے بھی  صرف  دو طریقے  ہی مقر  ہیں اس کے علاوہ  کسی تیسرے طریقے  سے اس جرم  کوثابت  نہیں کیا جاسکتا  مجرم  یا تو عدالت  کے روبرو  آزادانہ  اقرار جرم کرے  یا اس کے خلاف  شہادت  موجودہو ۔
چنانچہ علامہ کاسانی فرماتے ہیں۔
الحدود كلہا تظہر بالبينۃ والاقرار لكن عندا ستجماع شرائطہا 5
تمام حدود  گواہوں اور اقرار سے ثابت  ہوتي ہیں  لیکن  اسی وقت جب  اس کی تمام شرائط پوری  ہوں ۔
حد اور تعزیری سزا کے  بارے میں  ضروری گفتگو کے بعد اب ہم آتے ہیں توہین رسالت کی سزا  کی طرف کہ آیا وہ حد ہے یا تعزیری سزا ہے، اس سلسلہ میں جب قرآن کریم احادیث مبارکہ اور فقہاء کرام کے اقوال  کا مطالعہ کیا جاتاہے تو ہمارے  سامنےیہ  بات واضح  ہوجاتی  ہے کہ  توہین رسالت  کی سزا ایک اعتبار سے حدہے  جب کہ مجرم  توہین رسالت  کے ارتکاب  سے قبل مسلمان  ہو اور  اگر مجرم توہین رسالت کے ارتکاب سے پہلے ہی کافرہو تو پھر اس وقت یہ سزا ایک   تعزیرہے جس کو فقہاء سیاسۃ  سے بھی تعبیر کرتے ہیں ۔اب آئیے  اس اجمال  کی تفصیل کی طرف۔
اسلامی ریاست  میں اگر  کوئی مسلمان  شخص دیدہ  ودانستہ  نبی اقدس  ﷺپر سب وشتم  کرتاہے  اورپھر  اپنے اس فعل  پر ڈٹ جاتاہے ،توبہ نہیں کرتا تو اس کی سزا قتل ہے کیوں کہ توہین رسالت  کے ارتکاب سے وہ مرتد ہوگیا  ہے اور مرتد  اگر توبہ  نہ کرے  تو اس  کی سزا بھی  قتل ہے  ،اس لئے  شاتم رسول  اگر توبہ  نہ کرے تو اس  کی سزا بھی قتل ہے اور یہ سزا اسلامی  ریاست اپنے ملکی قانون کے مطابق  دے سکتی  ہے اسلامی ریاست  کے کسی فردکو یہ سزا  دینے کا اختیار  نہیں ہے ۔
فقہاء کرام  نے اسی صورت کے بارے میں قرا ر  دیا ہےکہ  شاتم رسول کی سزا  بطور حد قتل   ہے اور اس پر امت  کا اجماع  بھی نقل  کیاہے  ۔
چنانچہ قاضی عیاض مالکی  لکھتے ہیں:
أجمعت الأمۃ على قتل متنقصہ من المسلمين وسابہ" 6 
نبی اقدس  ﷺکی توہین  وتنقیص  کرنے والے  مسلمان  کے قتل  پر امت  کا اجماع  ہے۔
 علامہ شامی نے محمد بن سحنون   مالکی  کی عبارت  پیش  کی ہے  جس سے اس  مسئلہ پر امت  کا اجماع  بیان کیا گیا ہے  :
"أجمع العلماء على أن شاتم النبي صلى اللہ عليہ وسلم المتنقص لہ كافر والوعيد جار عليہ بعذاب اللہ لہ وحكمہ عند الأمۃ القتل ومن شك في كفرہ وعذابہ كفر". قال الخطابي: "لا أعلم أحدا من المسلمين اختلف في وجوب قتلہاذاکان مسلما 7  
علماء کا اس پر اجماع ہے کہ نبی اقدس ﷺ کی توہین وتنقیص   کرنے والا کافر  ہے اور اس پر  اللہ کے عذاب   کی وعید آئی ہے   امت کے ہاں اس کی سزا قتل ہے ،جو شخص  بھی اس کے کفر وعذاب  میں شک کرے وہ خود کافرہے  ابو سلیمان خطابی  فرماتے ہیں مسلمان  توہین رسالت  کے مرتکب  کے وجوب قتل پر  اہل اسلام  میں سے کسی کا  اختلاف  میرے علم میں نہیں ہے۔
اور اگر کوئی شخص وقتی طورپر  نادانستہ  توہین رسالت کا  مرتکب  ہوتاہے اوربعد میں توبہ کرلیتاہے تو اس کی سزا  کے بارے میں  فقہاء  کے درمیان  اختلاف  رائے  واقع ہواہے ، جمہور فقہاء کی رائے یہ ہےکہ  اس جرم کی سزا ہرحال میں یہ ہےکہ  مجرم  کو قتل  کردیا جائے  جب کہ  فقہاء  احناف   کی رائے  یہ ہےکہ  اس کی سزا  کو حکومت  وقت کی  صواب دید  پر چھوڑ دیا جائے ،اگر حکومت  وقت مناسب  سمجھے  تو اس کو  قتل کی سزا بھی  دے سکتی  ہے اور اگر مصلحت  قتل سے کم تر سزا  دینے میں  ہوتوموت سے کم تر تعزیری سزا پر اکتفاء  بھی کیا  جاسکتاہے  اصل مقصد  یہ ہےکہ  اسلامی  ریاست  میں پیغمبر  اسلام کی عزت وناموس  محفوظ  ہو اور  جو شخص  بھی آپ  کی ناموس  پر حملہ  کرنا چاہتاہے اس کو اس فعل سے باز رکھنے کے لئے جو سزا بھی  موثر ہو وہ نافذ کی جائے  تاکہ اس جرم کا خاتمہ ہو ۔
اس سلسلے میں جمہور فقہاء کی راے یہ ہے کہ توہین رسالت کے ارتکاب  سے لوگوں کو باز رکھنے  کے لئے قتل  سے کم تر سزا ناکافی  ہے اس سے  اس جرم کا خاتمہ نہیں ہوگا اس  لئے  قتل کی سزا  ضروری  ہے جب کہ فقہاء  واحناف  کا رجحان  یہ ہےکہ  عام حالات  میں اس جرم  پر قتل  کی سزا  کے بجائے  ایسی تعزیری سزا دینی چاہیے  کہ جو مجرم  کو آئندہ  اس جرم سے  باز رکھنے   میں موثر ہو  اور وہ کوئی بھی سزا  ہوسکتی ہے  حتی کہ قتل کی سزا بھی ہو سکتی  ہے ،بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزا  مثلاًسولی پر لٹکانابھی ہوسکتاہے۔
فقہاء کرام  کے مابین  اس امر میں تو اختلاف پایا جاتاہے  کہ توہین رسالت  کی سزا  قتل ہے  یا قتل  سے کم تر کوئی سزا  ہے ؟جس کی  تفصیل  بھی گزری  ہے لیکن اس امر میں  کوئی اختلاف  نہیں کہ یہ ایک تعزیر ی سزا  ہے جو بعض صورتوں میں قتل اور بعض صورتوں میں قتل سے کم تر سزا  کی صورت میں دی جاتی  ہے البتہ مشہور  یہ کردیا گیا ہےکہ  فقہاء  کے درمیا ن  یہ اختلاف  توہین رسالت  کی سزا کے حد ہونے یا نہ ہونے  میں ہے لیکن  اختلاف  کی یہ تعبیر  کسی طورپر بھی درست نہیں ۔
توہین رسالت  کی سزا  کے بارے میں فقہاء کے درمیان جو اختلاف  ہے عام طورپر  اس کی تعبیر  یوں کردی  جاتی ہے کہ جمہور  فقہاء  کے نزدیک  توہین رسالت  کی سزا حد یعنی  شریعت  کی طرف سے  مقر شدہ  سزاہے  اس کی تبدیلی  کا کسی  کوکوئی   اختیار نہیں اور فقہاء  احناف  کے نزدیک  یہ ایک تعزیری  اور صواب دید ی سزاہے جس کی  تبدیلی   کی گنجائش  بہرحال موجود ہے  ۔
فقہاء  کے اقوال  کا بغور مطالعہ  کیا جائے  تو یہ بات  واضح  ہوجاتی ہے کہ یہ تعبیر  بالکل  غلط  ہے بلکہ  فقہاء  کے اختلاف  کی نوعیت  کو نہ سمجھنے   کا نتیجہ  ہے  ۔
ہماری ناقص   رائے  یہ ہےکہ  توہین  رسالت  کی سزا  جمہور  صحابہ  وتابعین  فقہاء  کرام  اور تمام  محدثین  کے نزدیک   ایک تعزیری  سزاہے   یہی  وجہ  ہے توہین رسالت   کی سزا  میں صحابہ وتابعین  فقہاء  کے اقوال   مختلف  ہیں دور صحابہ  میں توہین رسالت  کی سزا  کے بارے میں اہل علم کے مابین   مشاورت  ہوتی  تھی ،  اس سزا   کے تعین   کے بارے میں   اجتہادات  کیے جاتے تھے اور پھر   اجتہادی   فیصلے   کی روشنی   میں توہین  رسالت  کے مجرموں  کو مختلف  سزائیں  جاری کی جاتی    تھیں، حالانکہ  جوسزا  شریعت  کی طرف سے  مقررشدہ  لازمی  سزا کے  طورپر  طے ہوتی  ہے اس میں  اہل علم  کا اختلاف  نہیں ہوتا اور نہ اس میں  اجتہاد کی گنجائش ہوتی ہے ۔
یہاں توہین رسالت  کی سزا کے بارےمیں فقہاء  کے درمیان  ہونے والے  اختلاف  کی صحیح   تعبیر   یہ ہے کہ جمہور  فقہاء  کے نزدیک  اس کی سزا  قتل  ہے ،قتل  سے کم سزا  دینا اس  قبیح  جرم کو روکنے میں غیر موثر ہے ،دور نبوی  اور دور صحابہ   وتابعین میں توہین رسالت کے مجرموں   کے ساتھ  روا رکھے  جانے والے  سلوک  اور شریعت کے عمومی مزاج کا تقاضا یہ ہےکہ  توہین رسالت  کے جرم کی شناعت  اور سنگینی  کو دیکھتے  ہوئے مجرم کو سزاے موت  دی جائے  ۔جب کہ  احناف  کے نزدیک   اس جرم پر   موت  کی  سزا کے ساتھ  ساتھ دیگر  متبادل   سزاؤں  کی    گنجائش   بھی  شرعی اصولوں  کے مطابق  موجود ہے   دور نبوی  میں توہین  رسالت کے مجرموں کے  ساتھ  جہاں آپ ﷺنے  قتل کے فیصلے فرمائے  وہیں  آپ نے  اس طرح  کے مجرموں  کو معاف  بھی کیا ۔ دور صحابہ  وتابعین  میں بھی  یہی صورت حال  ہمیں نظر آتی  ہے کہ توہین رسالت کے مجرموں  کوسزائے  موت سے بھی دو چار  کیا گیا اور موت سے کم  تر ہلکی  سزاؤں  پر اکتفاء  بھی کیا گیا ۔اس  سے شریعت  کا جو عمومی  مزاج ظاہر  ہوتاہے  وہ یہی  ہے کہ جرم  کی نوعیت  ،اس کے  اثرات  اور حالات  کو دیکھ  کرمجرم  کے ساتھ کاروائی  کی جائے ، اگر حالات کا تقاضا  مجرم کو سزائے موت دینے   کا ہوتو  سزائے  موت دی  جائے  اور اگر حالات  کا تقاضا   سزائے موت  سے کم تر  ہلکی سزا  دینے کا  ہو تو پھر  ہلکی سزا  پر اکتفاء کیا جائے، جن فقہاء  نے توہین رسالت کی سزا کو حد  تسلیم  کیاہے اس  کا مطلب  یہ نہیں کہ  یہ سزا  شریعت  کی طرف سے   مقرر شدہ  ہے اللہ اور  اس کے رسول  نے یہی سزا   متعین  کردی ہے اور اب اس میں  تغیر وتبدل  کی کوئی گنجائش  نہیں بلکہ  اس کا مطلب صرف اور صرف  یہ ہے کہ توہین رسالت  کے جرم کی سنگینی  اور آئیندہ  اس جرم  کی روک تھام کے لئے  یہی سزا ان کے نزدیک   موثر ہے  اور ان کے فہم کے مطابق شریعت کا  عمومی مزاج  بھی یہی ہے اس میں کسی فقیہ  کے فہم کا نتیجہ  دوسرے فقیہ  کے فہم  کے نتیجے  سے مختلف ہوسکتاہے  اس لئے  بعض دیگر   فقہاء   نے اس کو حد شرعی  تسلیم  کرنے سے انکار کیا ہے اور اس  کو ایک  تعزیر ی سزا  قرار دیا ہے جس میں تغیر وتبدل  کا ہرزمانے میں امکان  موجودرہاہے  یہی بات  مولانا  محمدعمار خان ناصر  نے اپنے مقالے   میں بیان  کی ہے ،چنانچہ  وہ لکھتے ہیں  :
’’ایک فقیہ  اور مجتہد  کا کسی  سزا کو اس لئے  لازم قرار دینا  کہ وہ شریعت  کی طرف سے مقرر  کی گئی ہے،بالکل اور بات ہے  اور اس کا کسی سزا پر اس لئے  اصرار کرنا کہ اس کے فہم    کے مطابق  عدل وانصاف  کے عمومی  تقاضوں  اور شرعی  وفقہی   اصولوں  کی رو سے وہی اس کی  قرار واقعی   سزا بنتی ہے  ایک بالکل  دوسری  بات ہے اور  اہل علم  ان دونوں  باتوں  کے فرق  کوبخوبی  سمجھتے  ہیں ، ائمہ  احناف  اور دوسرے  فقہاء    کے اختلاف  کا محور ی نکتہ  پہلی بات  نہیں ،  بلکہ دوسری بات ہے ، جمہور  فقہاء  کے استدلال  کا بغور جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہےکہ ان کے ہاں توہین رسالت پر سزائے موت کے باب میں روایات وآثار کا حوالہ دراصل قانونی نظائر کی حیثیت سے تائیدی طورپر دیاجاتاہے نہ کہ اس  سزا کو حد شرعی ثابت کرنےکے لئے  اصل ماخذ  کےطورپر   جمہور  فقہاء  کے موقف  کی اصل قانونی   اساس یہی نکتہ ہے جو  صاف بتاتاہے  کہ وہ اس سزاکو  استدلال  اور استنباط پر مبنی سمجھتے ہیں نہ کہ شریعت  کی طرف سے  مقر ر کردہ  کوئی حد۔’’ 8
اب آتے ہیں دلائل  کی طرف کہ آیا قرآن وحدیث ،ائمہ مجتہدین اور فقہاء کرام کے اقوال وآثار میں اس سزا کو حد  تسلیم  کیا گیا  ہے یا نہیں  ؟  اس سلسلے میں جب  ہم قرآن کریم  کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں  صاف طورپر  یہ بات ملتی ہے  کہ اللہ تعالی   نے اپنے پیغمبر حضرت محمد ﷺ  کی عزت وعظمت ،آپ کی تعظیم وتوقیر آپ کے حقوق  کی ادائیگی   ،آپ کے آداب و احترام  کی رعایت  اور آپ کو ادنی تکلیف  دینے سے اجتناب پر بہت  زیادہ  زور دیاہے  اورآپ کی شان میں توہین  وتنقیص  پر سزائے موت  کو حد شرعی  کے طورپر بیان نہیں کیا ،  جس سے اتنی  بات تو واضح  ہوئی کہ توہین  رسالت کی سزا قرآن  میں صراحتا بیان نہیں ہوئی البتہ  فقہائے  نے بعض آیات  سے استباطی طورپر  سزائے موت کو  توہین رسالت  کی حد شرعی قرار دیا ہے ۔
یہی حال  احادیث مبارکہ کا ہے نبی اقدس ﷺ کے دور میں توہین رسالت کے متعدد  واقعات پیش آئے جن میں   آپ ﷺنے مجرموں کے ساتھ    ایک جیسا سلوک نہیں فرمایا  ،کسی کو قتل  کرادیا ، کسی کومعاف کردیا  ،کسی کے  اسلام قبول کرنے  کو معافی  کی شرط قراردیا ،کعب بن اشرف  ،ابو رافع یہودی  کو آپ نے اپنے حکم سے قتل کرادیا  اور قتل کرنے والوں سے خوشی  کا  اظہار  بھی کیا ۔ عبد اللہ بن خطل  کا قتل ،  نابینا صحابی کا  گستاخ  لونڈی  کوقتل کرنا   اور عصماء بنت مروان کا قتل یہ چند  مثالیں  ہیں ،جن سے معلو م  ہوتاہے کہ  نبی اقدس ﷺنے اپنی توہین   کرنے والوں  کو قتل کرادیا  ، یا صحابہ  نے توہین رسالت  کے جرم  میں ان کو قتل  کردیا۔
اسی طرح توہین  رسالت کے کچھ واقعات  آپ  کی زندگی  میں ایسے بھی پیش آئے کہ آپ نے ان مجرموں  کوکیفر  کردار تک پہنچانے کی بجائے ان کو معاف  کردیا جن میں عبد اللہ  بن ابی سرح ،کعب بن زہیر  عکرمہ  بن ابی جہل  اور انس بن زنیم  الدئلی  اور رئیس المنافقین  عبد اللہ بن ابی شامل  ہیں ، ان مجرموں  نے آپ کی   توہین وتنقیص  کا ارتکاب  کیا عبد اللہ بن ابی کے علاوہ باقی سب  نے بعد میں  توبہ کی اور اسلام قبول کیا   آپ ﷺ نے ان کی توبہ  کو قبول کیا  اور معاف  کردیا ۔
ان روایات  وآثار سے توہین رسالت  کے مجرموں  کے ساتھ  آپ  کا ردعمل   مختلف  نظرآتاہے ،سخت سے سخت سزا   دینے کا بھی نمونہ  اور بالکل  معاف کردینے   کانمونہ بھی واضح طورپر نظر آرہا  ہے جس سے امت کے لئے ایک طرف  کے نمونے  کو توہین  رسالت کی حتمی  اور مقرر شدہ سزا  حد شرعی  کے طورپر  بیان کرنا اور دوسرے نمونے کوبالکل  نظر انداز   کرنا  کسی طورپر بھی درست  نہیں   امت  کے لئے نبی  محترم ﷺ  کے دونوں   نمونے  اپنے اپنے  زمانے  کے اعتبار سے قابل   حجت  اور قابل عمل  ہیں ۔
دور نبوی  ﷺ  کے بعد حضرا ت صحابہ   کرام  کے دور  میں بھی  نبی اقدس ﷺ کے یہ  دونوں  طرزعمل  جاری  رہے ہیں   صحابہ کرام کے دور  میں بھی  توہین  رسالت  کے متعدد  واقعات  پیش آئے  جن  میں حضرات  صحابہ کرام نے تمام مجرموں  کو ایک ہی سزا دینے کی  بجائے  جرم  کی نوعیت   معاشرے  پر پڑنے والے  اس کے اثرات ، اور مجرم کی حالت  وکیفیت  کو دیکھ کر  اس کی سزا کے لئے مختلف   فیصلے  فرمائے  اور مجرموں   کو مختلف   سزائیں  دیکر اس  جرم کا  خاتمہ  کیا ۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے  حضرت سیدنا  صدیق اکبر ؓ کے فیصلوں  کو بیان کیا جاتاہے۔ امام ابوداؤد  ؒنے اپنی  سنن  کے اندر یہ  روایت  بیان کی   ہے کہ حضرت  ابو برزہ  اسلمی  کی موجودگی    میں حضرت  ابو بکر صدیق  ؓ  کسی شخص  پر انتہائی  ناراض   ہوئے ، ابو برزہ  نے حضرت ابو بکر  سے اس  شخص کو قتل  کرنے کی اجازت  طلب کی تو آپ ؓ  نے فرمایا  : نبی اقدس  ﷺ  کےبعد کسی  کی بھی توہین پر قتل  کی سزا  جائزنہیں  اس  روایت  میں آپ  ؓ نے  نبی اقدس  کی توہین  کی سزا  موت بیان فرمائی  ہے تاہم  اس سزا  کی بنیاد  واساس  کیا ہے  ؟  اس سے سلسلہ  میں قاضی  علاوالدین  صاحب کنز العمال  نے حضرت ابوبکر  کی توضیح  کو ان الفاظ میں بیان  کیاہے :
ان حد الانبیاء لیس  یشبہ الحدود  فمن تعاطي   ذلك  من مسلم  فہو  مرتد  او معاہد  فہو محارب  غادر 9
’انبیاء  کی توہین  کی سزا  عام سزا ؤں کی طرح  نہیں ہے  اگر کوئی مسلمان  اس کا ارتکاب  کرتاہے  تو وہ مرتد  ہے اور اگر  کوئی غیر مسلم ذمی   اس کا ارتکاب  کرتاہے تووہ  محارب  اور بد عہد ہے ۔’’
اس طرح حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دور خلافت   میں یمامہ  کے والی   حضرت  مہاجربن  امیہ کا فیصلہ   ملاحظہ  فرمائیے   ،ان کی خدمت میں  ایک گانا گانے والی عورت  کوپیش کیا گیا  جس نے نبی  اقدس ؓ   کی شان  میں گستاخی   کی تھی ،جرم ثابت  ہونے پر  حضرت  مہاجر  نے اجتہاد  کرتے ہوئے  یہ فیصلہ  کیا  کہ اس کا ایک   ہاتھ اور دو  دانت نکلوا  دیے ،بعد میں  امیرالمؤمنین   حضرت ابو بکر صدیق  ؓ کو اطلاع   دی گئی  تو آپ  ؓ نے فرمایا   اگر مہاجر  نے اس خاتون  کو پہلے  سزا  نہ دی ہوتی    تو میں اس شاتم  کو قتل  کی سزا دینا ۔ امام ابن جریر طبری  نے یہ واقعہ  بیان کیا ہے۔ 10
اس واقعہ  سے واضح  ہورہاہے کہ دور صحابہ  میں توہین رسالت  کی سزا  شرعی  طورپر کوئی متعین  ومقرر شدہ  سزا نہیں  تھی بلکہ  اس سلسلہ  میں صحابہ   اپنے اپنے  اجتہاد  سےاس کی سزا  متعین  کرتے تھے  ظاہر  ہے  جو سزا  حد شرعی  کے طورپر   مقرر  ہو تو  اس میں اجتہاد نہیں ہوتا ۔اجتہاد  ہمیشہ غیر منصوص  مسائل میں ہوتاہے  پھر حضرت ابوبکر   ؓنے بھی  اس خاتون  کو قتل  کی سزا نہیں دی   ۔اگرتوہین   رسالت   کی سزا قتل  شریعت  کی طرف سے  مقرر شدہ حد شرعی     کے طورپر  طے ہوتی تو حضرت ابو بکر  صدیق  ضرور اس شاتمہ کو قتل  کی سزا  دیتے  اور شرعی حد اس پر نافذ   فرماتے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس کا فیصلہ  بھی یہی  ہے کہ توہین رسالت  کی سزا  کوئی متعین  ومقر ر شدہ نہیں ،بلکہ  مجرم  اور اس  کے جرم کو دیکھ کر اس کی سزا متعین  کی جا سکتی  ہے ۔ چنانچہ  زادالمعاد  میں ان کا اثر منقول ہے :
ايما مسلم  سب اللہ  ورسولہ   او سب  احدا من  الانبياء  وفقد   كذب برسول   اللہ   وہي ردۃ  يستاب  فان رجع   والا  قتل  وايما  معاہد عائد  فسب اللہ  او سب  احدا  من الانبياء اور جہد  لہ فقد  نقض  العہد  فاقتلوہ، 11
جو مسلمان بھی اللہ  اور اس کے  رسول   کو یا کسی  بھی نبی  کوبر ا بھلا کہے ،  وہ رسول  اللہ ﷺ   کی تکذیب    کرتا  اور ارتداد  کا ارتکاب  کرتاہے ،  اس سے  توبہ کے لئے   کہا جائے  گا  ، اگر وہ  رجوع  کرے تو ٹھیک  ورنہ  اسے قتل  کردیا جائے  اور جو غیر مسلم  معاہد عناد کا اظہار کرتے ہوے اللہ  یا اس کے کسی  نبی کو برا بھلا  کہے اورا  علانیہ  ایسا کرے  وہ اپنا عہد  توڑدیتاہے  ، اس لئے  اس کو قتل کردو۔
ان روایات سےمعلوم  ہوا کہ  دور صحابہ  میں توہین رسالت  کی سزا کوئی متعین  ومقر رشدہ نہیں تھی ، مسلمان  اگر توہین رسالت  کا ارتکاب   کرتا تھا  تو صحابہ   اسے  مرتد قرار دیتے تھے  اور اس پر ارتداد  کی سزا جاری  کرتے تھے  اور اگر کوئی غیر مسلم اس جرم  کا ارتکاب  کرتا تھا   تواس کو نقض  عہد کی وجہ  سے قتل  کی سزا  جاری کرتے  تھے ۔ یہ  اس  طرح کے  دیگر  کئی واقعات ہیں ، جن  سے معلوم  ہوتاہے  کہ صحابہ  کرام توہین رسالت  کی سزا  کو حد شرعی  نہیں سمجھتے  تھے  تب ہی   تو اس جرم  پر مختلف  سزائیں  جاری کرتے تھے  ۔
صحابہ  وتابعین  کے بعد فقہاء  اربعہ کے اقوال  وآثار  کا جائز ہ لیا جائے  تو یہ بات  واضح  ہوجاتی   ہے کہ ان  کے مابین   توہین  رسالت  کی سزا  کے بارے میں  تو اختلاف   موجود   ہےکہ    جمہور  فقہاء  کے نزدیک  توہین  رسالت  کی سزا  از روئے شرع قتل  ہے  جبکہ  فقہائے  احناف   کے نزدیک   جرم کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے   قتل سے کم تر  سزا بھی دی جا سکتی   ہے لیکن  اس سزا کی حیثیت   میں کوئی   اختلاف  نہیں ۔
فقہاء اربعہ  کی  امہات  کتب  کا جائزہ لیا جائے  تو یہ بات واضح ہوتی ہے  کہ تمام  فقہاء  کے نزدیک  اس سزا کی حیثیت  تعزیری  سزا کی ہے  ،صحابہ کی طرح فقہاء  اربعہ بھی  توہین رسالت کی  سزا کو حدشرعی  نہیں سمجھتے  تھے ۔
ہمارے اس دعوے کی دلیل  ان کا اپنی  کتابوں   میں توہین رسالت  کی سزا کوبطور حد شرعی  کے بیان نہ کرنا ہے ،کیوں کہ  عقل وقیاس  کا تقاضا   یہ ہےکہ جو سزائیں  حدود میں داخل ہیں   اور شریعت   کی طرف سے  مقررشدہ  ہیں جب کوئی فقیہ  اور عالم  ان سزاؤں   کو اپنی   کتاب  میں بیان  کرے یا شرعی  احکام  کا کوئی  مجموعہ   مرتب کرے  تو اس میں  ان سزاؤں  کا ذکر  کرنا ضروری  ہے اگر ان سزاؤں   میں  سے کسی سزا کا ذکر  نہیں کرتا  تو اس کا مطلب اس کے سوا  اور کیا ہو سکتاہے  کہ اس کے نزدیک  وہ سزا  حد شرعی  نہیں ،  اس لئے سزاؤں  کے حوالے سے شرعی  قانون کی تفصیل  وضاحت  بیان کرتے ہوئے  تعزیری  اور اجتہادی  واستنباطی  سزا تو نظر  انداز  کی جا سکتی  ہے لیکن  حد شرعی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا  ، اس منطقی  اور سادہ  سے اصول  کو پیش نظر رکھتے  ہوئے فقہاء  اربعہ  کی امہات کتب کا جائزہ لیا جائے  تو ہمارے  دعوےکی تصدیق  ہو جائے گی ۔

فقہ مالکی

 امام مالک ؒ نے اپنی کتاب  الموطاء میں توہین رسالت کی سزا کے بارے میں کوئی حدیث  ذکر نہیں کی  اسی  طرح المدونۃ الکبری میں بھی   اس سلسلہ میں کوئی حکم ذکر نہیں کیا  حالانکہ  المدونۃالکبری  میں بے شمار فقہی مسائل ذکر کیے گئے ہیں اس سے ثابت ہواکہ  امام ما لک  کے نزدیک  توہین رسالت کی سزا  حدود میں  شامل نہیں اگر ان کے نزدیک یہ سزا  حد میں داخل ہوتی تو وہ  ضرور  اس کو اپنی  کتابوں میں بیان کرتے ۔

فقہ شافعی

 امام شافعی ؒ   نے اپنی  کتاب الام  میں براہ راست  توہین رسالت کی سزا  بیان نہیں کی  تاہم  یہ ضرور  قرار دیا  ہے کہ اہل ذمہ کے ساتھ جب  کوئی معاہدہ  کیا جائے  تو یہ بات  ضرور شرط کے طورپر  طے کی جائے  کہ وہ نبی اقدس ﷺ اور شعائر اسلام کے بارےمیں کوئی  توہین آمیز  رویہ نہیں اپنائیں گے  ورنہ  ان کا عقد ذمہ توٹ جائیگا اور ان کی جان  ومال مباح قرار پائے گا۔
چنانچہ امام شافعی ؒ  لکھتے ہیں۔
 وعلي ان لايذكرو  رسول اللہ  _ الا بما  ہواہلہ  ولا يطعنوا  في دين الاسلام  ولا يعيبو  من حكمہ  شيا فان  فعلوا  فلا ذمۃ  لہم  12
اہل ذمہ  سے اس شرط پر معاہدہ  کیا جائے گا کہ وہ نبی  اقدس ﷺ کا تذکرہ اسی احترام سے لیں گے جس کے وہ اہل  ہیں اور دین اسلام  میں عیب جوئی اور طعنہ زنی نہیں کریں گے  پھر اگر انہوں  نے ایسا کیا تو ان  کے عقد  ذمہ کو توڑ دیا جاے گا۔
اور اگر  معاہدہ  کی شرائط  میں توہین رسالت نہ کرنے کی شرط طے نہ کی گئی ہو پھر  وہ اس کا ارتکاب کرلیں تو کیا ان کو قتل کی سزا جاری کی جائے گی یا نہیں ؟ اس مسئلہ میں فقہاء شافعیہ  کے مابین اختلاف پایا جاتاہے قول مشہور یہ ہےکہ  قتل کی سزا پھر بھی جاےگی  لیکن بعض فقہائے شافعیہ کے رائے  یہ ہےکہ  اس صورت میں قتل  کی سزا نہیں دی جائے گی  ۔ ابو اسحاق شیرازی    کا موقف     بھی یہی  ہے جو فقہ شافعی  کے نامور عالم ہیں 
اسی طرح  مشہور شافعی  امام عبد الوھاب شعرانی کا موقف کہ توہین  رسالت کی سزا  حد شرعی  نہیں بلکہ  ایک تعزیری سزاہے۔
قال العلماء  وفيہ دليل  علي ان من  توجہ عليہ تعزير  لحق اللہ  تعالي  جاز للامام تركہ 13
علماء نے فرمایا ہے کہ توہین رسالت کے یہ تمام  واقعات  اس بات پر دلیل ہیں کہ شاتم  رسول  کی سزا  تعزیری  سزاہے  جسے حالات کے پیش نظر  معاف  بھی کیا جاسکتاہے ۔

فقہ حنبلی

امام احمد بن حنبل  کے بیانات سے بھی یہی ثابت ہوتاہےکہ وہ توہین رسالت  کی سزا  کو حد شرعی نہیں سمجھتے بلکہ  اسے ایک اجتہادی  واستنباطی  سزا قرار دیتے ہیں ،چنانچہ  ان کے شاگرد حنبل کا بیان ہے۔
 سمعت  ابا عبد اللہ  یقول  كل من  نقض العہد واحدث  في الاسلام حدثا  مثل ہذا  رأيت  عليہ القتل  ليس علي ہذا  اعطوا العہد  والذمۃ  14
میں نے امام احمد بن حنبل  کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو ذمی  بھی معاہدہ  توڑ دے  اور اسلام  کے بارے میں اس طرح  کے کسی جرم کا مرتکب  ہو ، میری رائے  میں اس کی  سزا قتل ہے کیوں کہ  ان کے ساتھ معاہدہ  اس بات پر نہیں کیا گیا  تھا۔
امام احمد کے اس اثر سے  واضح طورپر سمجھ آرہا ہے  کہ وہ توہین رسالت کی سزا  کو حد شرعی  نہیں سمجھتے   بلکہ   ذمی کے لئے قتل کی سزا  کے اس لئے قائل ہیں کہ توہین رسالت کی  وجہ سے  ان سے جو معاہدہ طے تھا  اس کی خلاف ورزی کی گئی  ہے۔

فقہ حنفی

 امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا تو موقف ہی یہ ہےکہ توہین رسالت کی سزا حد شرعی  نہیں بلکہ سراسر  تعزیری  سزاہے  جس کی کوئی  حد مقرر  نہیں اس سلسلہ  میں فقہ حنفی  کے دو معتبر  حوالے پیش کیے جاتے ہیں۔
امام طحاوی  لکھتے ہیں:
ومن كان  ذلك منہ من الكفار  ذوي  العہود  لم يكن  بذلك  خارجا من عہدہ وامر ان لا يعاودہ  فان  عاودہ ادب عليہ  ولم يقتل  15
اگر کوئی اذمی غیر مسلم  توہین  رسالت کا مرتکب  ہوتو اس سے عقد ذمہ  نہیں ٹوٹے گا اس سے کہا جائے گا  کہ وہ  دوبارہ  ایسی غلطی  نہ کرے  پھر اگر ایسا کرے  تو اسے تعزیری  سزا دی جائے گی ،لیکن قتل نہیں  کیا جائے گا۔
علامہ ابن عابدین شامی  فرماتے ہیں۔
ان الساب  اذاكان  كافرا  لايقتل  عندنا  الا اذا  رآہ الامام  16
اگر توہین سالت کا ارتکاب  کرنے والا کافر  ذمی ہوتو  ہمارے نزدیک  اسے قتل نہیں  کیا جائے گا  البتہ امام اگر  اس   کا قتل مناسب سمجھے تو ایسا کرسکتاہے۔
فقہاء کرام کی آرا کے بعد  ائمہ  محدثین  کی آرا  کا جائزہ  پیش کیا جاتاہے۔
یہ بات  تو اہل علم جانتے ہیں کہ  فقہی مذاہب  کی تدوین  وترتیب   میں فقہاء  کا الگ منہج  ہے اور محدثین  عظام کا  بھی الگ منہج  فکر ہے  ،محدثین کے ہاں  احادیث  کی جمع وترتیب  میں الگ الگ رجحانات  ہیں ،ایک رجحان  احادیث سے  فقہی  احکام  کے استنباط واستخراج  کاہےجس کی ایک مستقل   علمی  روایت   محدثین   کے ہاں دور اول سے چلی آرہی ہے  اس کے اپنے  فوائد وخصائص  ہیں۔
محدثین  کا طریقہ ہےکہ وہ عام طورپر اپنے فقہی ذوق   اور رجحان  کی وضاحت  کسی بھی موضوع  سے متعلق احادیث  کے انتخاب  اور ان پرکوئی  عنوان  قائم کرنے کے ذریعے سے کرتے ہیں  ، باب کا عنوان اور اس میں درج  حدیث  سے پتہ چل جاتا ہےکہ  اس بارے میں  صاحب کتا ب  کا فقہی  مذہب کیا ہے ۔اس زاویہ  نگاہ سے  زیربحث  مسئلہ    توہین  رسالت  کی سزا حد شرعی  ہے یا تعزیری  ہے  ؟ میں  محدثین  کا ذوق  اور ان کا موقف  معلوم کیا جائے   تو صاف دکھائی  دیتاہے کہ وہ اس کو  حد شرعی  نہیں سمجھتے ، کیوں کہ اگر ان کے نزدیک  یہ سزا حد شرعی  ہے توپھر ان کے فقہی  ابواب پر مرتب ہونے والے مجموعہ ہائے  حدیث میں   یہ سزا بیان کیوں نہیں ہوئی ، باقی تمام  شرعی سزا  ئیں  جو حدود سے متعلقہ ہیں وہ بیان  کی گئی  ہیں اگر  توہین رسالت  کی سزا  بھی حدود  میں داخل  ہوتی  تو اسے   ان سزاؤں کے ساتھ  ضرور بیان  کیا جاتا ،لیکن  ایسا نہیں  ہوا۔
فقہی  ابواب  وعنوانات  کےتحت  مرتب ہونے والے  تمام متداول   کتابوں کو آپ دیکھ  لیں ان میں حدود تعزیرات  کے ابواب  بھی قائم  کیے گئے  ہیں لیکن  ان میں توہین  رسالت کی سزا  کا کوئی ذکرنہیں محدثین کے اس طرز  اور اسلوب  سے یہی واضح  ہوتا ہے کہ  تو ہین رسالت کی سزا ان کے نزدیک  حد شرعی  نہیں۔
اس موضوع پر  مولانا عمار خان ناصر   نے جو تحقیق  پیش کی ہے، اس کا اختصار  انہی کے شکریہ  کےساتھ یہاں  پیش کیا جاتاہے۔
احادیث کی کتابوں  میں صحاح ستہ کو  بڑا مقام حاصل  ہے اس لئےاس سلسلہ میں  اپنے جائزے کا آغاز  بھی صحاح ستہ  سے کیا جارہاہے  ۔صحاح ستہ   کی چھ  میں سے تین  کتابوں   صحیح مسلم ، سنن  ترمذی   اور سنن  ابن ماجہ  کے متعلقہ  ابواب  میں توہین رسالت  کی سزا سے  متعلق  نہ کوئی  حدیث ذکر کی گئی  ہے اور نہ ہی عنوان  قائم کیا گیا ہے۔
سنن نسائی  اور سنن ابو داؤد میں توہین  رسالت سے  متعلق  ابواب بھی قائم  کیے گئے  ہیں اور اس  کے تحت  احادیث  بھی ذکر کی گئ ہیں جن میں  ایسے مجرموں  کو قتل  کیے جانے  کا ذکر  ہے لیکن  اس سے قطعی  طورپر  یہ مفہوم نہیں ہوتا  کہ وہ  اس سزا کو شرعی  حد بھی  سمجھتے ہیں کیوں کہ  انہی کتابوں  میں دوسرے مقامات  پر بعض  دوسرے  جرائم  پر قتل  کی سزا  کا ذکر کیا گیا ہے جو یقینا تعزیرات  کے دائرے  میں آتی  ہیں مثلا  ہم جنس  پرستی  کی سزا قتل   یا سنگسار  بیان کی گئی ہے جسے کوئی بھی حدود میں شامل نہیں سمجھتا۔
صحیح بخاری  میں امام  بخاری ؒ  نے توہین رسالت  کی سزا  کے متعلق   بعض روایات    ذک رکی   ہیں مثلا  کتاب  المغازی   میں کعب  بن اشرف  اور ابورافع   کے قتل  کی روایات  منقول    ہیں   لیکن کتا ب  الجزیہ  اور کتا ب       الحدود  جہاں یہ  روایات  امام بخاری  کے اسلوب  کے مطابق  درج ہونی چاہیے  تھیں  وہاں ان  میں سے کوئی  واقعہ نقل نہیں کیا گیا  اور نہ اس سزا  کا کوئی  ذکر کیا گیا ہے۔
امام بخاری کے اس اسلوب اور طرز سے یہی معلو م ہوتاہے  کہ ان کے نزدیک  یہ سزا شرعی  حد نہیں  اس کی تائید  امام بخاری  کی ایک اور بات سے بھی  ہوتی   ہے وہ یہ ہے کہ امام  صاحب نے  کتاب  استتابۃ المرتدین  والمعاندین  وقتالھم  میں ایک باب  اس عنوان سے ذکر کیا  ہے: باب  اذا عرض الذمی   وغیرہ  بسب النبی  ﷺولم یصرح  (اگر کوئی ذمی   یا کوئی دوسرا  شخص  کنائے  کے انداز میں نبی اقدس ﷺ  کی توہین  کرے لیکن  صراحتا  نہ کرے )  کا عنوان  قائم کرکے یہ مشہور روایت  ذکر کی ہے  کہ ایک یہودی  نے نبی اقدس ﷺ  کو سلام کرتے ہوئے السام علیک  (تم پر موت آجائے )  کے الفاظ  کہے  تو صحابہ  نے کہاکہ کیا   ہم اسے قتل  نہ کردیں  ؟  آپ نے فرمایا  کہ نہیں بلکہ  جب اہل کتا ب  تمہیں  سلام کریں  تو تم صرف  وعلیکم  کہہ دیا کرو۔
امام بخاری  کے اس اسلوب  سےشارحین  بخاری   شریف نے  بھی یہی نتیجہ  اخذ کیا ہے  کہ امام  صاحب توہین رسالت کی سزا  کے سلسلہ میں حنفی  مذہب   کے زیادہ  قریب ہیں اور حنفی   مذہب   میں توہین  رسالت کی سزا  حدود میں داخل نہیں  ۔ چنانچہ  ابن  المنیر  لکھتے ہیں:
 كان البخاري  كان علي  مذہب  الكوفين  في ہذہ  المسالۃ وہوان الذمي  اذا سب  يعزر ولايقتل  17
گویا امام بخاری    اس مسئلے  میں اہل کوفہ  کے مذہب  پر ہیں  اور وہ یہ ہے کہ  اگر ذمی  توہین رسالت  کا ارتکاب کرے تو اسے تعزیری  سزا دی  جائے  گی اور قتل نہیں  کیا جائے۔
صحاح ستہ  کے علاوہ  دیگر  احادیث  کی کتابوں  کی صورت حال  بھی یہی  ہے امام ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب  المصنف  کی کتاب الحدود   اور کتاب السیر میں   توہین رسالت کی سزا  کے بارے میں   کوئی روایت  نقل نہیں کی   اگرچہ  بعض  دیگر  مواقع پر اس سلسلہ  کی ایک آدھ  روایت  ذکر کی ہے  جس میں ایک یہودی  عورت کو نبی  اقدس ﷺ کی توہین  کی وجہ سے قتل  کرنے کا ذکرہے  تاہم  اس سے یہ ثابت  نہیں ہوتا  کہ وہ اسے حد شرعی   سمجھتے  ہیں۔
اما م دارمی  نے بھی اپنی  سنن  کی کتاب الحدود  اور کتاب السیر  میں اس  سے متعلق کوئی روایت  ذکر نہیں کی  ہے۔
امام ابو عوانہ  نے اپنی   مسند کی کتاب  الحدود  اور کتاب  السیر   میں اس سے متعلق  کوئی حدیث  ذکر نہیں کی  امام ابن حبان   نے اپنی  صحیح  میں توہین رسالت  سے متعلق  نہ کوئی   عنوان قائم کیا ہے اور نہ  ہی کوئی  روایت   بیان کی  ہے   حالانکہ  ابن  خطل  وغیرہ  کے قتل کے واقعات  اس کتاب  میں دوسرے مقامات  پر منقول ہیں ،امام ابومحمد ابن الحارودنے احادیث احکام پر مشتمل  مجموعہ  المنتقی  میں اس سے متعلق  نہ کئی حدیث ذکر کی ہے اور نہ ہی  اس سے متعلق  کوئی حکم  بیان کیا ہے۔
 امام دار قطنی  نے اپنی سنن  میں کتاب الحدود  والدیات  میں  ابن عباس ؓ  کی روایت   اگرچہ نقل کی ہے  جس میں توہین  کرنے  والی ایک  عورت  کے قتل  کا واقعہ   بیان ہوا  ہے تاہم  اس سے یہ ثابت  نہیں ہوتا کہ  وہ اسے ردت  کی سزا  سمجھتے  ہیں یا حد شرعی   کی ،ظاہر  ان کے اسلوب  سےیہی مفہوم  ہوتاہے کہ وہ خاتون  مسلمان تھی  اور توہین کرنے کی وجہ سے مرتدہ ہوگئی  اور قتل  کی سزا  اسے ارتداد  کی وجہ سے  دی گئی   گویا  کہ امام  دارقطنی  نے صراحتا  غیر مسلم  کی سزا  اپنی کتاب  میں بیان نہیں کی۔
امام بیہقی  نے السنن الکبری  کی کتا ب الحدود  میں اس مسئلے  کا کوئی  ذکر نہیں کیا   البتہ  دوسرے  مقامات  پر توہین رسالت کی سزاکےواقعات    بیان کے ہیں  مثلا کتاب الجزیہ  کے ’’باب يشرط عليہم  ان لا يذكرو ا رسول اللہ الا  بماہوا ہلہ،، کے عنوان کے تحت  دوروایات  ذکرکی   ہیں ایک میں  توہین رسالت کی وجہ سے  ایک   یہودیہ عورت  کو قتل  کرنے کا ذکر ہے جب کہ  دوسری روایت  میں حضرت  غرفہ  بن حارث کندی  کا واقعہ  بیان ہواہے  کہ انہوں نے توہین رسالت کی بنیاد پر ایک نصرانی شخص  کی ناک توڑ دی تھی  اس واقعہ   سے صاف  پتہ  چلتا  ہےکہ توہین  کے مرتکب  نصرانی  کو قتل  نہیں کیا گیا  تھا بلکہ  صرف ناک توڑنے کی  سزا دی گئی  تھی  ۔امام بیہقی   کا اس روایت   کو یہاں  ذکرکرنا اس بات کی  دلیل ہےکہ  ان کے نزدیک  توہین رسالت  کی سزا  قتل  ضروری نہیں  بلکہ قتل  سے ہلکی سزا بھی دی جاسکتی  ہے اور یہ کہ قتل کی سزا  کوئی حد شرعی  نہیں۔ 
امام عبد الحق  الاشبیلی   نے صحیحین   کی احادیث کو  خاص انداز میں جمع  کیا ہے جس کا  نام ’’الجمع  بین الصحیحین‘‘ ہے اس کتاب  میں بھی توہین رسالت  کی سزا  یا اس سے متعلق   کوئی روایت  ذکر نہیں کی گئی۔
امام  زین الدین  عراقی   نے اپنی کتاب’’طرح التثریب  فی شرح التقریب  ،،میں  بھی   اس مسئلے  سے کوئی تعرض نہیں  کیا۔
ماضی قریب  کے عظیم محدث  علامہ احمد عبد الرحمان  الساعاتی  نے امام احمد بن حنبل  کی مرویات کو موضوعاتی   تبویب  کے اندازسے   الفتح  الربانی  کے نام سے مرتب کیا  ہے احادیث  کا بہت زیادہ   ذخیرہ  اس کتاب  میں مرتب  ہوگیاہے  لیکن اس میں توہین رسالت  کی سزاسے متعلق  کوئی روایت    بیان نہیں ہوئی  اور نہ اس سے متعلق کوئی حکم  بیان کیا گیا  ہے۔
مذکورہ  تفصیل سے اندازہ لگایا جاسکتاہے  کہ محدثین  کے ہاں بھی توہین  رسالت کا جرم  حدود سے  متعلق نہیں بلکہ تعزیرات سے متعلق ہے  اس حوالے سے فقہاء  احناف  صحابہ وتابعین  ائمہ  مجتہدین  اور محدثین  عظام کے موقف  میں کوئی   فرق نہیں  ۔قریب قریب  سب میں اتفاق  پایا جاتاہے ،کہ توہین رسالت  کاجرم  حدود سے متعلق  نہیں بلکہ  تعزیرات  سے متعلق ہے ۔

حوالہ جات

۱۔ بدائع الصنائع فی ترتیب  الشرائع ج۹ص۱۷۷
۲۔ البحرالرائق ج۵ص۲
۳۔ المبسوط ج۹،ص۳۶
۴۔  المبسوط ج۹ص۱۱۰
۵۔ بدائع الصنائع  ج۹ص۲۲۹
۶۔ الصارم المسلول   ص۳
۷۔   نفس المصدر ص۴
۸۔  براہین ص۴۵۶
۹۔  کنزالعمال کتاب الحدود ،ذیل الحدود ، رقم ۱۳۹۹۲
۱٠۔ نفس المصدر
۱۱۔ زادالمعاد فی ہدی  خیر العباد ،ج ۵ص۵۵
۱۲۔ کتاب االام ،ج۴ص۲۱۸
۱۳۔ کشف الغمہ ج۲ص۱۸۹
۱۴۔ الصارم المسلول ص۱۶
۱۵۔ مختصر الطحاوی ص۲۶۲
۱۶۔ تنبیہ الولاۃ والحکام ص ۳۸
۱۷۔ المتواری علی ابواب البخاری ج۱ص۳۴۶

نیپال ۔ چند مشاہدات اور تاثرات

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

نیپال میں دوسری مرتبہ تعلیمی سفر کا موقع ملا ۔ نوٹرے ڈیم یونیورسٹی  کے پروفیسر اور ندوۃ العلماء کے فاضل ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ  کی نگرانی میں شروع کیے گئے "مدرسہ ڈسکورسز "  میں پاکستان اور انڈیا سے  پچاس کے قریب لوگ شریک ہیں ۔ ان دونوں گروپوں کو  سمر اور ونٹر انٹینسو میں   تعلیمی ورکشاپ کے لیے اکٹھا کیا جاتاہے ۔ پچھلے سال سمر انٹینسونیپا ل  کے دار الحکومت کھٹمنڈو میں تھا، ونٹر انٹینسو قطر میں تھا  اور اس سال سمر انٹینسو  نیپال کے پہاڑی علاقے میں  ایک پرفضا  مقام پر ہے ۔ یہ علاقہ  دھلی خیل ہے  جو کہ کھٹمنڈو سے تقریبا تیس کلو میٹر دور پہاڑی مقام  ہے ۔ ان ورکشاپس میں مختلف ممالک سے ارباب عقل و دانش آتے ہیں اور شریک لوگوں سے  اپنے متعلقہ موضوعات  پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں ، گفتگو میں سوال و جواب اور افہام و تفہیم پر خاص زور دیاجاتاہے ۔ ان دوگروپوں کے ساتھ کچھ طلباء نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے بھی ہوتے ہیں اور اس سال کچھ طلباء افریقہ سے بھی ہیں جن میں بعض مدرسہ گریجوٹس ہیں اور بعض اسلامک اسٹڈیز یا سوشل سائنسز کے شعبہ سے متعلق ہیں ۔ یہ مختلف جگہوں اور بیک گراؤنڈ سے آئے ہوئے لوگ مختلف سنجیدہ ایشوز پر آپس میں ڈسکشن بھی کرتے ہیں جس کے لیے کچھ ٹائم تو باقاعدہ مختص کیا جاتا ہے جس میں کسی خاص موضوع پر گفتگو کی جاتی ہے اور نتائج فکر دیگر ساتھیوں سے شیئر کیے جاتے ہیں ۔ 
ان موضوعات میں   اکثر موجودہ ہونے والی اہم تبدیلیاں ، ان کے اثرات اور ان سے جنم لینے والے سوال ہوتے ہوتے ہیں ، جن پر مختلف مذاہب ، ذہنوں ، علاقوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ  جب گفتگو کرتے ہیں تو ایک ہی بات کے بہت سے پہلو سامنے آجاتے ہیں ۔ گروپوں میں بیٹھنے یا کمروں میں  رہائش  کے دوران اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ایک ہی علاقے اور پس منظر  کے لوگ اکٹھے نہ  ہوجائیں جس سے بجا طور پر دوسروں کو قریب سے ان کی زبانی سمجھنے کا موقع ملتاہے ۔ ایک ہفتہ یا دوہفتے اکٹھا رہنے سے  نئے تعلقات اور دوست بنتے ہیں اور دومختلف پس منظر رکھنے والوں کو باہم آشنائی ہوتی ہے اور ثقافتی ، تہذیبی ، مذہبی افکار  کا تبادلہ ہوتاہے ۔
نیپال جنوبی ایشیا میں پہاڑی ملک ہے جس کی شمالی سرحد پر چین اور باقی اطراف پر بھارت واقع ہے جبکہ اس کا کچھ حصہ جو کہ ستائیس کلو میٹر ہے بنگلہ دیش سے ملتاہے اوربھوٹان کو انڈیا کا کچھ حصہ اس سے جدا کر دیتاہے  ۔ سلسلہ کوہ ہمالیہ اس کے شمالی اور مغربی حصہ میں سے گزرتا ہے اور دنیا کا عظیم ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ اس کی سرحدوں میں پایا جاتا ہے ، جبکہ دنیا کی دیگر دس بڑی پہاڑی چوٹیاں   بھی یہاں ہیں ، اس کے علاوہ پہاڑوں ، وادیوں ، جھیلوں اور قدرتی خوبصورت مناظرکے بہت سے مقامات نیپال میں  ہیں لیکن اس کے ساتھ سمندر نہیں لگتا ہے جس کے لیے اس کو انڈیا کی ضرورت پڑتی ہے ۔ قدرتی حسین مناظر کے علاوہ نیپال میں بہت سے تاریخی مقامات ہیں  ۔ 2015ء میں آنے والے سخت زلزلے نے نیپال کو کئی طرح سے متاثر کیا ، اس زلزلے کی تباہی میں بہت سی تاریخی عمارتیں بھی آئیں تاہم اقوام متحدہ  کے ذیلی اداروں اور دنیا کی دیگر تنظیموں اور حکومتی کوششوں سے ان کو بحال کرنے کا کام بہت تیز ی سے جاری ہے ۔ 
ان تاریخی عمارتوں میں زیادہ شہرت کا باعث بدھوں کی محبت کے مراکز ہیں ۔ گو یہاں کا اکثریتی مذہب ہندومت ہے، تاہم بانی بدھ مت گوتم بدھ کی جائے پیدائش کی وجہ سے بدھوں کے ہاں اس ملک کو خاص اہمیت حاصل ہے   ، اس ملک میں ان کے اسٹوپا اور دیگرتاریخی چیزیں ہیں ۔ بدھ مت کے بڑے ترین اسٹوپوں میں سے ایک بودھا ناتھ یہاں واقع ہے ۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے سٹوپا میں شمار ہوتا ہے جہاں روزانہ ہزاروں اور سالانہ لاکھوں بدھسٹ اس کی زیارت اور طواف کے لیے آتے ہیں، لوگ ہاتھوں میں تسبیح لیے منتر پڑھتے ہوئے حسب توفیق (طاق عدد یعنی تین ، پانچ، سات، نو وغیرہ)طواف کرتے ہیں۔ تسبیح اور طواف کا تصور ہمارے ہاں بھی پایاجاتاہے    ۔ اس اسٹوپا میں بہت سے بیرل ہیں جن کو گھمانے سے خیر و برکت حاصل ہوتی ہےاورمنتروں کا ورد ہوتارہتاہے ۔ اس اسٹوپا کے اوپر دو آنکھیں بنی ہیں  جن کے بارے میں بدھوں کا خیال ہے کہ یہ رحمت اور حکمت کی آنکھیں ہیں ۔ اس کے اردگر د لوگوں کو عبادت کرتے ہوئے دیکھا جو کھڑے ہوتے ہیں اور سیدھا لیٹ جاتے ہیں اور پھر فورا کھڑے ہوجاتے ہیں ، یہاں بہت سے لوگ مستقلا مقیم ہوتے ہیں اور گیان دھیان میں مصروف رہتے  ہیں ، گیان دھیان کے تصورات اور ہمارے صوفیاء کے مراقبوں اور چلوں میں فرق کرنا بہت مشکل ہے ۔ یہاں چاروں طرف پانچ رنگوں پر مبنی دعائیے جھنڈے خیر و برکت کے لیے لگے ہوئے ہیں جس طرح کے ہمارے درباروں پر مختلف رنگوں کے جھنڈے لگے ہوتے ہیں ۔ان جھنڈوں  پر سنسکرت ، تبت اور دیگر زبانوں میں بدھ مذہب کے دعائیہ کلمات لکھے گئے ہیں۔ 
اس کے آس پاس میں بہت سے بدھسٹ موناسٹریز یعنی دینی مدارس قائم ہیں جہاں ایک دو میں خود جا کر ان کا طریقہ تعلیم  اور رہائشی لوگوں کو دیکھا، ان رہائشی لوگوں میں  جو کہ رہبانیت اختیارکیے ہوتے ہیں بہت سی زمانی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ۔ ایک دور تھا جب یہ پڑھتے نہیں تھے لیکن اب یہ ان جگہوں پر رہتے ہوئے عصرتی تعلیم حاصل کرتے ہیں ، ان کے پاس موبائل اور رابطہ دنیا کی دیگر تمام سہولیات پائی جاتی ہیں  ۔  اس کے علاوہ نیپال میں بے شمار مندر اور ہندو مت کی تاریخی عمارتیں بھی ہیں ۔ ایک اہم ہندو مندر پشو پتی ناتھ میں ہمیں جانے کا اتفاق ہوا وہاں دیگر رسومات کے ساتھ چتا " میت " کو جلتے ہوئے دیکھا ۔ میت کو جلتے ہوئے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اس میں  نہ صرف میت کی توہین ہے بلکہ تعفن اور بدبو سے زندہ لوگوں کو  بھی کافی پریشانی جھیلنی پڑتی ہے مزید برآں یہ بیماریوں  کا بھی باعث ہے ۔ اس مندر کے ساتھ ہی دریائے بھاگ متی بہتاہے جس میں چتا کی راکھ کو پھینک دیا جاتاہے  ۔ 
پشو پتی ناتھ مندر کے علاوہ ہمیں کالی جی کے مندر میں جانے کا اتفاق ہوا کالی جی کا تعلق ہندوؤں کے تباہی کے دیوتا شیوجی کے ساتھ ہے اس لیے کالی جی کو بھی تباہی کی دیوتا سمجھا جاتاہے ۔ ان کا مندر تقریبا ہزار سیڑھیاں چڑھنے کے بعد کافی بلندی پر واقع ہے اس بلندی سے دھلی خیل اور گردو نواح کے علاقوں کا نظارہ بہت خوبصورت نظر آتا ہے ۔ اس دربارمیں کالی جی کا مجسمہ نصب ہے ۔ اس دربار میں ایک سادھو سے ہماری ملاقات ہوئی جو کہ نارنجی کپڑے اوڑھے ہوئے تھا اس کے مخصوص اسٹائل کے ساتھ ہم نے اس کے ساتھ فوٹمیں بنوائیں ۔ سادھو جی دوسرے ممالک کی کرنسی جمع کرنے کے کافی شوقین تھے سو ہم نے بھی اپنے ملک کی کرنسی بطور یاد ان کو تھمادی ۔کالی جی کے مندرکے راستے میں بدھا کا ایک بہت بڑا مجسمہ نصب تھا جس میں ان کو گیان دھیان کے مخصوص انداز میں دکھا یا گیا تھا ہم نے بھی اس مخصوص انداز کو کاپی کرنے کی کوشش کی تاکہ کچھ گیان دھیان ہمیں بھی نصیب ہو سکے ۔ اس سفرمیں اہم کام یہ ہو ا کہ ہم نے جنگل کا راستہ اختیار کیا اور ساتھ میں جنگل کی سیر کرتے ہوئے اوپر جانے لگے لیکن  اچانک بارش شروع ہوگئی، نیپال میں بارشیں ویسے ہی زیادہ ہوتی ہیں اور پھر یہ خالص پہاڑی علاقہ تھا جہاں کسی بھی وقت بارش شروع ہوجاتی ہے اس لیے چھتری ساتھ رکھنا ضروری ہوتاہے ، چھتری ساتھ نہ رکھنے کی وجہ سے ہم نے ٹھنڈے موسم  ،  تیز بارش  اور جنگل میں ہو کے عالم کو خوب انجوائے کیا۔  
اس کے علاوہ ہم شیو جی کے مندر میں گئے جو کہ ہندؤوں کا تباہی کو دیوتا اور تین  بڑے خداؤں براہمہ ، وشنو اور شیوا میں سے ہے ۔ یہاں شیوجی کا دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ نصب ہے  جس کی بلندی 143 فٹ ہے  ہم نے اس مجسمہ کے سایہ میں اور دیگر اکابرین ہند کےساتھ فوٹمیں لیں ۔ اس کے علاوہ بھی کئی مندروں پر گئے ، مندروں اور درباروں کی دنیا میں کوئی خاص فرق نظر نہ آیا ۔ جس طرح درباروں میں کچھ دن مخصوص ہوتے ہیں ، کچھ اوقات مخصوص ہوتے ہیں لوگ وہاں روحانیت کی تسکین کے لیے جاتے ہیں ، کوئی دربار میں پیسے ڈال دیتا ہے اور کوئی لنگر تقسیم کر دیتاہے ۔ آنے والے کوکوئی نہیں روکتا باباجی سب کے مشترکہ ہوتے ہیں کوئی بھی وہاں رہے ، کھائے پیے ، لنگر، نیاز اور نذرانہ سبھی کا ہوتاہے ، کچھ یہی صورتحال یہاں مندروں میں تھی ۔ تیل کے دیے ، اگر بتیاں  جلانے والے ،  ان مندروں کے لیے جانور قربان کرنے والے اور لنگر ، نیاز تقسیم کرنے والے بے شمار تھے ۔ ماتھا ٹیکنا ، چومنا اور جھکنا یہ بھی مشترک سی چیز تھی ۔ ایک اور چیز جو مجھے درباروں اور مندروں میں مشترک نظرآئی ، ایک دربار میں ہم گئے تو وہاں بہت سے لوگوں نے اپنی ضروریات اور حاجتوں کو پورا کرنے کے لیے تالے لگائے ہوئے تھے ۔طریقہ یہ ہے لوگ کوئی منت مانگ کر  تالا باند ھ دیتے ہیں اور پوراہونے پر کھول دیتے ہیں ، یہی چیز ہمیں کالی جی اور دیگر بزرگوں کے مندروں میں بھی نظر آئی ۔ البتہ یہاں تالوں کے ساتھ گھنٹیاں باندھنے کا چلن بھی ہے ۔  ایک ہندو سے بات چیت پر معلوم ہوا کہ ہندو مت زیادہ خالص شکل میں نیپال میں پائی جاتی ہے ، ہندو مت کی زبان  سنسکرت ، رسم الخط اور دیگر رسوم انڈیا سے زیادہ مضبوطی سے یہاں رائج ہیں کیونکہ یہ ایسا  اکثریتی ہندو ملک ہے  کہ اس کی ستر سے اسی فیصد تک کی آبادی ہندو ہے اور یہاں مزاحم کوئی نہیں ہے جبکہ انڈیا میں دیگر مزاحم قوتوں کی وجہ سے سیکولرازم ہندومت پر غلبہ پاچکا ہے ۔
یہاں  بھی سیاسی طور پر ہندو مت کی بجائے اب سیکولرازم نافذ ہے ، 2008  وہ سال تھا جب سیکولر ازم کو نافذ کیا گیا ، اس کے علاوہ ان کی سیاست میں چینی رہنما  ماؤزے تنگ کے سوشلسٹ حامیوں نے ایک لمبہ عرصہ تک گوریلاجنگ کے بعد اب نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے ۔ سیکولرازم کے اثرات کافی گہرے ہیں یہاں کے لوگوں کے    طور طریقوں میں بھی کافی آزادی نظر آتی ہے ،خاص طور پر عورتیں بہت آزاد اور فعال نظرآتی ہیں لیکن اس کے باوجود اکثریتی آبادی کے ہندو ہونے کی وجہ سے ہندو رسومات ابھی تک معاشرے میں بہت پختہ ہیں ۔
 نیپال میں تقریبا  5فیصد مسلم بھی ہیں   ، یہاں تقریباً 600 سال پہلے  اسلام داخل ہو چکا تھا  ، اسلام کی آمد ہندوستان ، کشمیر اور تبت تین راستوں سے ہوئی ۔ شاید اسی وجہ سے اس ملک میں تین مختلف ثقافث کے مسلمان ملتے ہیں سب نیپالی مسلمان ہوکر بھی الگ الگ زبان ،  کھانے پہننے کا طریقہ سب الگ ہے ، سب کا مشغلہ الگ پایا جاتا ہے بسا اوقات یہ فرق تلخی کا سبب بنتا ہے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ صوفیاء کرام کے ہاتھوں یہاں اسلام پہنچا   یہاں اسلام کی کوششیں کرنے والے ایک بزرگ شاہ غیاث الدین کا مزار شاہی محل کے بالکل سامنے کچھ 100میٹر کے فاصلے پر پایا جانا ہے اور وہیں انہیں کی تاسیس کردہ کشمیری مسجد  بھی ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ہی نیپالی جامع مسجد بھی ہے ، برصغیر میں موجودہ مسلم مسالک کے تناظر میں کشمیر ی مسجد بریلوی مسلک جبکہ نیپالی مسجد دیوبندکے پاس ہے ۔ یہ دو مسجدیں اور مسالک جہاں اسلام کے تنوع کی تصویر ہیں وہاں ان کے آپسی اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان اقلیت میں ہونے کے باوجود بٹے ہوئے ہیں  ۔ ان دو نوں مسجدوں کے اختلافات وقتا فوقتا  ظاہر ہوتے رہتے ہیں ، عید کے چاند اور دیگر چیزوں پر ان دونوں مسجدوں کا کئی مرتبہ اختلاف ہو چکاہے ۔ یہاں دلچسپ چیز یہ دیکھنے میں آئی کہ کشمیر ی مسجد میں جو بزرگوں کے دربار ہیں ان کو خوب اہتمام سے آراستہ کیا گیا ہے جیسا کہ بریلوی مسلک کا ذوق ہے جبکہ نیپالی جامع مسجد کے ساتھ بیگم بھوپال کا مقبرہ ہے (یہ وہی بیگم ہیں جن کے لیے مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے عورت کی حکمرانی جائز قرارد ی تھی کیونکہ خاندان کا کوئی مرد  نہیں تھا ، مسلمانوں کی حکمرانی کے لیے ضروری تھا کہ ان کو حکمران بنایاجائے ، ان کی شادی بعد ازاں نواب صدیق حسن خان سے ہوئی تھی اور یہ نیپال میں مدفون ہیں ) جس میں کوئی آراستگی اور اہتمام نظر نہیں آتا ۔ اس  لیے میرے خیال میں مقبرے بریلوی مسلک کے پاس ہی ہونےچاہییں۔نیپال میں مسلمان زراعت یا چھوٹی چھوٹی دکانوں سے اپنی روزی روٹی حاصل کرتے ہیں ان کے اقتصادی حالات کمزور ہیں ۔
نیپال کی دفتری زبان نیپالی ہے مگر یہاں 26 زبانیں بولی جاتی ہیں اور تمام زبانیں قومی زبانیں سمجھی جاتی ہیں ۔ نیپالی کے علاوہ یہاں کی اکثر آبادی ہندی زبان کو بآسانی سمجھتی ہے اس کی  ایک وجہ تو نیپال اور انڈیا کے ہندؤوں کے باہم گہرے سماجی اور تجارتی تعلقات ہیں اور دوسری حیران کن وجہ یہ سامنے آئی کہ انڈین فلموں اور گانوں کی وجہ سے یہاں کے لوگ ان کی زبان کو بآسانی سمجھتے ہیں ۔ فلم ، ڈرامہ اور گانے اپنے کلچر کی اشاعت کا کس قدر بڑا ذریعہ ہو سکتے ہیں اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ ہندی اور اردو چونکہ بولنے میں ایک جیسی ہیں اس وجہ سے  نیپال کے لوگوں سے گفت و شنید بآسانی ہو جاتی ہے ۔زبان کے حوالے سے ایک اور حیران کن چیز یہ سامنے آئی کہ لوگوں کے غریب اور علاقے کے پسماندہ ہونے کے باوجود ان کی تعلیم اچھی انگریزی میں ہوتی ہے اور ان کی انگریزی لینگویج ہم سے بدرجہا بہتر ہے عام لوگ بھی ہلکی پھلکی انگریز بول لیتے ہیں ۔
نیپال  کا شمار غریب ملکوں میں ہوتاہے ، اس کو بھارت کی کالونی کہاجائے تو بے جانہ ہوگا تاہم انڈیا  کے ان کے پانی پر ڈیم بنانے اور ان کو سیلاب میں مبتلا کرنے کی وجہ سے تعلقات کچھ کشیدہ ہیں ، اس کشیدگی میں سوشلسٹ پارٹی اور چائنہ سے تعلقات کا بھی کردار ہے ۔ تاہم ابھی تک دونوں ملکوں کے بہت سے لوگ روزانہ کی بنیاد پر آتے جاتے ہیں ، ویزہ اور پاسپورٹ کی کوئی پابندی نہیں ہے  ، تجارتی روابط بھی بہت مضبوط ہیں ، بہت سی جگہوں پر فوج مشترکہ ہے ۔
نیپال کے لوگوں کی کچھ خوبیاں جو ذاتی مشاہدے سے سامنے آئیں وہ انتہائی اہم اور قابل تقلید ہیں ۔ نیپال کے لوگ اعلیٰ اخلاقیات کے حامل ہیں ۔ ان کی گفتگو کا انداز انتہائی دھیما ، شائستہ اور محبت سے بھرپورہے ۔ ہم نیپال کے دار الحکومت میں بھی رہے اور دور دراز گاؤں دھلی خیل بھی رہے  کہیں بھی لوگ باہم لڑتے ، گالم گلوچ کرتے یہاں تک کہ باہم اونچی یا غیر مہذب طریقے سے گفتگو کرتے بھی نہیں دیکھے ۔ ان لوگوں سے کوئی بھی بات پوچھیں اس کا نہایت اچھی طرح جواب دیں گے ، راستہ درست  اور فکر مندی سے بتائیں گے ، کسی چیز کے خرید نے میں  آپ کی درست رہنمائی کریں گے ۔ کوئی بات پوچھیں اس کا درست اور مکمل جواب دیتے ہیں ۔ غرض ان میں خوش خلقی کے ساتھ دیانتداری کا عنصر نمایاں دکھائی دیا ۔  ان کی ایک اور اہم خوبی جس کا ہم اپنے معاشرے میں بہت زیادہ فقدان پاتے ہیں ، یہ لوگ اضافی اور فالتوچیزیں جو کوڑا کرکٹ کے ضمن میں آتی ہیں ان کو سڑکوں ، روڈوں یا گلیوں میں نہیں پھینکتے ہیں ان چیزوں کے حوالے سے ان کا نظم  خاصہ اچھا نظر آیا ، ایک غریب ملک ہونے کی وجہ سے اس کی سڑکیں اور گلیاں اچھی طرح تعمیر شدہ نہیں ہیں ، بلکہ بعض کی حالت توا نتہائی خستہ ہے لیکن اس کے باوجود سڑکوں پر اضافی پھینکی ہوئی چیزیں نظر نہیں آتی ہیں ، پان کی تھوکیں ،  بچی ہوئی سگریٹ اور اس قسم کی چیزیں  سڑکوں پر بالکل نظر نہیں آتی ہیں ۔ ایسی چیزوں کے استعمال کے لیے بھی بار بنے ہونے ہوئے ہیں ، لوگ ان کو وہیں استعمال کرتے ہیں ، ان کا استعمال عام نہیں ہے ۔
ا ن لوگوں میں محنت کاجذبہ بہت زیادہ ہے ، یہ لوگ عام طور پر خوش نظر آتے ہیں ، محنت و مشقت سے کام کرنے کے باوجود ان کے ہاں اطمینان کی کیفیت ہے۔ محنت کے عمومی چلن کے باوجود ملک کا غریب ہونا سمجھ میں نہیں آتا شاید اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ دنیا میں آج ترقی صنعت ، مشینری اور ٹیکنالوجی سے ہوتی ہے ۔ بڑے بڑے ممالک جتنے بھی دیکھ  لیں وہ ان میں سے کسی ایک چیز میں امتیازی خصوصیت کے حامل ہوں گے ۔ ان کے مردوں کے ساتھ ان کی عورتیں بھی کاروبار زندگی میں پور ی طرح شریک ہیں   بلکہ یوں محسوس ہوتاہے کہ کاروبار حیات میں مرد کم اور عورتیں زیادہ ہیں کیونکہ دکانوں اور مارکیٹ میں جس قدر بھی ہمیں جانے کااتفاق ہوا ہمیں ہر جگہ عورتوں کی کثرت نظر آئی ۔لیکن ان کے مرد و عورت میں کشمکش نہیں ہے جس طرح کے ہمارے معاشرے میں یا دیگر روایت پسند  معاشروں میں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورتوں کے حوالے سے ہم بہت سی چیزوں میں کمپرومائز کے لیے تیار نہیں ہیں جبکہ جدید دنیا کے دل لبھانے والے نعروں نے عورت کو بہت سی سطحوں پر متاثر کیا ہے اس لیے ہمارے معاشرے میں کچھ  عورتیں جدید اقدار کو اپنانے کی کوشش میں ہیں جبکہ باقی اکثریت بھی کچھ عملی مسائل میں جو کہ عورتوں کے لیے مشکل کے باعث ہیں ان عورتوں  کی ہمنوا نظر آتی ہیں ۔ ہمارا  مذہبی روایتی طبقہ تو ان کے بالکل برعکس جانب کھڑا ہے  جبکہ اکثریت عملی مسائل کے حل کی چاہت رکھنے کے باوجود  مغربی معاشرتی اقدار کے بالکل بھی حامی نہیں ہیں ۔ اس لیے ایک تناؤ کی کیفیت ہے جبکہ ان معاشروں  نے یورپ کے نظام اور طرز فکر کو مکمل طور پر اپنالیا ہے   اور تمام لوگ ایک جہت میں سوچتے ہیں اس لیے ان کے ہاں تناؤ کی کیفیت ختم ہوچکی ہے ۔ ان لوگوں کا فیملی اسٹرکچر بھی مضوط ہے اور ہماری طرح ہی یہ لوگ فیملی میں ہی رہتے ہیں تاہم عورت  آزادی اور خود مختار ی میں مرد کی طرح ہے ۔ ایسے معاشروں کے عملی مسائل شایدمختلف ہوں، لیکن عورتوں کی ہراسمنٹ  کے کیسزکم  ہیں ۔ عورتوں کو دیکھتے رہنا اور گھر پہنچا کر آنا، یہ خرابیاں ان کے ہاں کم ہیں ۔  یہاں مرد و عورت اچھے  اور خوشگوار تعلقات  میں تعاون باہمی کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں ۔
نیپال میں امن اور شانتی وہ انتہائی اہم چیز ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاح اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ نیپال  کے خوبصورت پہاڑی علاقوں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاح یہاں نظر آتے ہیں ۔ امن و آشتی کایہ عالم ہے کہ اسکو ل و کالج اور کسی بھی سرکاری عمارت پر کوئی گارڈ نہیں ہے ۔ آپ جہاں چاہیں آئیں جائیں  کوئی بھی آپ سے کچھ نہیں پوچھے گا ۔ دہشتگردی سے ہٹ کر علاقائی طور پر بھی امن و امان ہے ، لڑائی جھگڑے وغیرہ نہیں دکھائی دیتے ۔
خلاصہ کلام یہ کہ ہمیں دوسروں کی خوبیوں سے سیکھنا چاہیے ، ملک کے غریب اور سہولیات کے فقدان کے باوجود ان لوگوں کی خوبیاں قابل تقلید ہیں۔