نصوص کے فہم اور تعبیر پر واقعاتی تناظر کے اثرات
محمد عمار خان ناصر
نص کی تعبیر میں جو چیزیں مفسر یا فقیہ کے فہم پر اثر انداز ہوتی ہیں، ان میں ایک اہم چیز وہ عملی صورت حال ہوتی ہے جس میں کھڑے ہو کر مفسر یا فقیہ نص پر غور کرتا اور مختلف تفسیری امکانات کا جائزہ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عملی حالات کے بدل جانے سے انھی نصوص کی تعبیر کے کچھ ایسے امکانات سامنے آتے ہیں جو سابق مفسرین کے پیش نظر نہیں تھے۔ گویا حکم کی تعبیر کے مختلف امکانات عملی حالات سے مجرد ہو کر صرف متن پر غور کرنے سے سامنے نہیں آتے، بلکہ حکم کو عملی صورت واقعہ کے ساتھ جوڑنے سے وہ اصل تناظر بنتا ہے جس میں مجتہد مختلف تعبیری امکانات کا جائزہ لیتا ہے اور پھر ان میں سے کسی امکان کو اجتہادی طور پر ترجیح دیتا ہے۔ اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ ایک واقعاتی تناظر میں حکم پر غور کرنے والے اور اس سے مختلف ایک دوسرے واقعاتی تناظر میں حکم پر غور کرنے والے مجتہدین کے سامنے تعبیراتی امکانات کا دائرہ مختلف ہو سکتا ہے۔
اس نکتے کو چند مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔
سیدنا عمر کے دور میں عراق کی فتح سے پہلے عمومی پریکٹس یہ تھی کہ مفتوحہ زمینوں کا ایک خمس بیت المال کے لیے رکھ کر باقی زمینیں قرآن مجید میں بیان ہونے والے مال غنیمت کے عام ضابطے کے تحت مجاہدین میں تقسیم کر دی جائیں۔ عراق فتح ہوا تو اسی اصول کے تحت فتح میں شریک صحابہ نے زمینوں کی تقسیم کا مطالبہ کیا، لیکن سیدنا عمر کے ذہن میں تردد پیدا ہو گیا جس کا عملی باعث نئی صورت حال تھی۔ سیدنا عمر کا خیال تھا کہ عراق کے بعد ایسی مزید زرخیز زمینیں مفتوح نہیں ہوں گی جن سے اتنی بڑی مقدار میں غلہ حاصل ہو سکے۔ اب اگر یہ زمینیں بھی انفرادی طور پر مجاہدین میں تقسیم کر دی گئیں تو ریاست کے پاس اجتماعی ضروریات کے بندوبست کے لیے مستقبل میں ذرائع باقی نہیں رہیں گے۔ چنانچہ انھوں نے اس پر طویل غور وفکر کیا، صحابہ سے مشاورت کی، اختلاف کرنے والے حضرات سے بحث ومباحثہ ہوا اور آخر عمومی اتفاق سے یہ طے پایا کہ یہ زمینیں تقسیم نہیں کی جائیں گی۔
یہاں دیکھیے، زمینوں کی تقسیم کے حکم کی تعبیر میں ایک نیا پہلو شامل کیا گیا کہ یہ مطلق اور حتمی حکم نہیں، بلکہ اس کا فیصلہ اجتماعی مصلحت کو پیش نظر رکھ کر کیا جائے گا۔ حکم کو اس قید سے مقید کرنے کا امکان پہلے دن سے موجود تھا، لیکن عملاً اس کی طرف مجتہدین کی توجہ تب مبذول ہوئی جب ایک خاص صورت حال نے مطلق حکم کے valid ہونے پر سوال کھڑا کر دیا۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ یہ تعبیر اجتہادی تھی جس سے اس وقت بھی اختلاف کیا گیا اور بعد میں امام شافعی نے بھی مفتوحہ زمینوں کی تقسیم کے باب میں قرآن کی بظاہر مطلق ہدایت ہی کو حکم شرعی قرار دینے پر اصرار کیا۔
اسی نوعیت کی ایک مثال جنگ میں مقتول دشمن سے چھینے گئے اسباب کو اس کے قاتل کا حق قرار دینے کی ہدایت ہے۔ عہد نبوی وعہد صحابہ میں جنگوں کے موقع پر عموماً یہی طریقہ اختیار کیا جاتا تھا کہ جنگ میں جو شخص جتنے دشمنوں کو مار کر ان کا اسباب چھین لے گا، وہ انفرادی طور پر اسی کا حق ہوگا، یعنی اسے اجتماعی مال غنیمت کا حصہ شمار نہیں کیا جائے گا۔ تاہم سیدنا عمر کے دور میں ایک جنگ میں حضرت خالد بن ولید کی سربراہی میں مسلمانوں نے ایک جنگ لڑی اور براء بن مالک نے ایک دشمن پر حملہ کر کے اس کو قتل کر دیا۔ اس کے سامان کی قیمت لگائی گئی تو وہ تیس ہزار تھی۔ سیدنا عمر کو اس کی اطلاع ملی تو انھوں نے فرمایا کہ اس سے قبل ہم سلب کو خمس میں شمار نہیں کرتے تھے، لیکن براء کا سلب قیمت میں بہت زیادہ ہے، اس لیے میرا ارادہ یہ ہے کہ میں اسے خمس میں شمار کروں۔ چنانچہ یہ سلب کو خمس میں شمار کرنے کا پہلا فیصلہ تھا جو اسلام میں کیا گیا۔
یہاں بھی دیکھیے، سلب کو قاتل کا حق قرار دینے کے حکم میں یہ قید لگانے کا امکان کہ اس کی قیمت بہت غیر معمولی نہیں ہونی چاہیے، فقہی طور پر پہلے بھی موجود تھا، لیکن اس کی طرف توجہ تب ہوئی جب عملاً ایک واقعہ پیش آ گیا جس میں اتنے قیمتی مال کو صرف قاتل کے سپرد کر دینے کا فیصلہ قابل اشکال محسوس ہوااور حکم کی ایسی تعبیر کی گئی جو بظاہر نئی اور مختلف تھی۔
اسی کی ایک مثال خلافت کے تاقیامت قریش میں محصور ہونے کا مسئلہ ہے۔ حضرت معاویہ، قریش کی خلافت سے متعلق احادیث کا مطلب یہ سمجھتے تھے کہ یہ سلسلہ قیامت تک قائم رہے گا، اس لیے کہ اس وقت کے حالات کے لحاظ سے ان کے ذہن میں مستقبل کی جو تصویر تھی، وہ انھیں اسی تعبیر کی صحت پر مطمئن کرتی تھی۔ چنانچہ انھوں نے ایسی روایات سن کر سخت ناراضی کا اظہار کیا جن میں قریش کے اقتدار کے خاتمے کی بات بیان کی گئی ہے۔ (صحیح بخاری)
چھٹی صدی ہجری سے پہلے کے فقہاء ومتکلمین بھی عموماً ’’الائمۃ من قریش‘‘ کی روایت کو ایک غیر مشروط شرعی فقہی حکم کا بیان قرار دیتے تھے اور اسے صرف فقہ نہیں، بلکہ علم کلام کے ایک امتیازی مسئلے کی حیثیت دی جاتی تھی اور خوارج کے ’’انحرافات‘‘ میں ایک بات یہ بھی شمار کی جاتی تھی کہ وہ خلافت کو قریش تک محدود نہیں مانتے تھے۔ تاہم جب عملاً قریش کے اقتدار کا خاتمہ ہو گیا تو شارحین کی توجہ ان احادیث کی تعبیر کے دوسرے امکانات کی طرف بھی مبذول ہوئی اور رفتہ رفتہ انھیں پیشین گوئی پر محمول کرنے اور بعض شرائط کے ساتھ مشروط سمجھنے کا رجحان عام ہوتا چلا گیا۔ یہ دوسرا امکان اصولی اور نظری طور پر پہلے بھی موجود تھا، لیکن مجتہدین کی توجہ پہلے امکان پر مرکوز رہی اور اس اختلاف نظر کی وجہ بدیہی طور پر واقعاتی تناظر کا فرق تھا۔
اب اسی نکتے کو دور جدید کے بعض اجتہادات کے حوالے سے دیکھیے:
علامہ انور شاہ کشمیریؒ سے پہلے سبھی شارحین سیدنا مسیح علیہ السلام کے نزول کے بعد غلبہ اسلام کی پیشین گوئی کو پوری دنیا سے متعلق قرار دیتے ہیں، لیکن شاہ صاحب نے ’’فیض الباری‘‘ میں اس سے شدید اختلاف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ایک خاص علاقے میں ہوگی اور اسلام کا غلبہ بھی اسی محدود خطے میں قائم ہوگا، نہ کہ ساری دنیا میں اسلام کا بول بالا ہو جائے گا۔ فہم کے اس اختلاف کی وجہ بھی بدیہی طور پر دنیا کے حالات میں تبدیلی کا وہ پہلو ہے جو قدیم شارحین کے سامنے نہیں تھا۔
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے ارتداد کی سزا سے متعلق کلاسیکی فقہی موقف کی تائید میں مفصل تحریر لکھی جو ’’مرتد کی سزا‘‘ کے عنوان سے شائع شدہ ہے۔ اس میں مولانا نے نہ صرف نقلی دلائل سے بلکہ جدید قانونی وسیاسی تصورات کی روشنی میں عقلی دلائل سے بھی اس سزا کا جواز اور معقولیت واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم مولانا کو اس سوال کا بھی سامنا ہے کہ دور جدید میں اسلامی تعلیم وتربیت کے نظام میں نقص اور کافرانہ تعلیم وتربیت کے اثرات کے تحت نئی نسلوں میں اسلام سے فکری انحراف کا میلان اس درجے میں پھیل چکا ہے کہ انھیں قانون ارتداد کے تحت جبراً دائرہ اسلام میں مقید رکھنے سے ’’اسلام کے نظام اجتماعی میں منافقین کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہو جائے گی جس سے ہر وقت ہر غداری کا خطرہ رہے گا۔‘‘ مولانا نے اس سوال کے تناظر میں قانون ارتداد میں ایک نئی قید کا اضافہ کیا ہے جو کلاسیکی فقہی تعبیر سے متجاوز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی ریاست کو ایسے عناصر سے بچنے کے لیے یہ کرنا ہوگا کہ وہ ایک خاص مدت مقرر کر دے جس میں ایسے تمام عناصر کو ریاست کی شہریت ترک کر دینے کا موقع دیا جائے اور اس کے بعد جو لوگ علیٰ وجہ البصیرت اسلامی ریاست میں سکونت پذیر ہونا پسند کریں، انھی پر سزائے ارتداد نافذ کی جائے۔ یہاں اس تعبیر کی معقولیت یا عملیت زیر بحث نہیں، صرف یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ حکم کی اس نئی تعبیر کا تعلق ان نئے حالات سے ہے جن سے آج کے مجتہدین کو واسطہ ہے اور وہ تقاضا کر رہے ہیں کہ کلاسیکی تعبیر کو بعینہ اختیار نہ کیا جائے، بلکہ اس میں ضروری شرائط وقیود کا اضافہ کیا جائے۔
اسی قانون کی نئی تعبیر سے متعلق دوسری مثال بھی مولانا مودودی کے ہاں ہی ملتی ہے۔ اس کا ماخذ مولانا کی براہ راست لکھی ہوئی کوئی تحریر نہیں، بلکہ مولانا مفتی محمود ؒ کی روایت ہے جو ان سے مفتی صاحب کے شاگرد اور ہمارے مرحوم استاذ مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی ؒ نے ’’فتاویٰ مفتی محمود‘‘ کی جلد پنجم کے مقدمے میں نقل کی ہے۔ اس کے مطابق مولانا نے پاکستان کے ضابطہ تعزیرات میں سزائے ارتداد کو شامل کرنے سے اختلاف فرمایا اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ اس سے غیر مسلم ممالک میں اسلام کی دعوت اور شیوع کے مواقع اور امکانات پر زد پڑے گی۔
یہاں دیکھیے، کسی شرعی حکم کو دینی مصالح کے تناظر میں دیکھنا اور ان کی روشنی میں اس کے نفاذ میں تحدیدات وقیود عائد کرنا اصولی طور پر ایک مسلمہ اجتہادی اصول ہے، لیکن ارتداد کی سزا کو اس تناظر میں دیکھنے اور قانون کی نئی تعبیر کا امکان عملاً اس نئی صورت حال کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جو دور جدید میں پائی جاتی ہے اور راسخ العقیدہ اہل اجتہاد کو متوجہ کرتی ہے کہ اسے اپنے تعبیراتی زاویہ نظر میں وزن دیں۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۴۱)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۳۹) باء کا ایک خاص استعمال
علمائے لغت کے قول کے مطابق حرف باء کم وبیش چودہ معنوں میں استعمال ہوتا ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک ان مفہوموں کے علاوہ قرآن مجید میں کچھ مقامات پر حرف باء مزید ایک خاص مفہوم میں استعمال ہوا ہے، ذیل میں مثالوں کے ذریعہ اسے واضح کیا جائے گا:
(۱) یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنثَی بِالأُنثَی۔ (البقرۃ: 178)
آیت کے اس ٹکڑے کا ترجمہ حسب ذیل کیا گیا ہے:
’’اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے‘‘(محمد جوناگڑھی)
’’ا ے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے، غلام قاتل ہو تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے، اور عورت اِس جرم کی مرتکب ہو تو اس عورت ہی سے قصاص لیا جائے ‘‘(سید مودودی)
’’اے ایمان والو، تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ، لو آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت‘‘(احمد رضا خان)
’’مومنو! تم کو مقتولوں کے باے میں قصاص (یعنی خون کے بدلے خون) کا حکم دیا جاتا ہے (اس طرح پر کہ) آزاد کے بدلے آزاد (مارا جائے) اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت‘‘(فتح محمدجالندھری)
عام طور سے ترجمہ کرنے والوں نے باء کا ترجمہ بدلہ کیا ہے، لیکن اس میں اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مقتول آزاد ہو اور قاتل غلام ہو تو آزاد کے بدلے آزاد کس طرح ہوگا، اگر مقتول عورت ہو اور قاتل مرد ہو تو عورت کے بدلے عورت کس طرح ہوگا؟ غرض اس طرح کے کئی اشکالات سامنے آتے ہیں۔
ان ترجموں کے مقابلے میں مولانا امانت اللہ اصلاحی کے ترجمہ پر غور فرمائیں:
’’تم پر مقتولین کے سلسلے میں برابری کرنا فرض کیا گیا ہے، آزاد کی حیثیت آزاد کی ہے، غلام کی حیثیت غلام کی ہے، اور عورت کی حیثیت عورت کی ہے‘‘۔
مطلب یہ ہوا کہ مقتول کی جواصولی حیثیت ہے، اس کے مطابق یکساں معاملہ کیا جائے ، اور اس میں کچھ بھی کمی بیشی نہیں کی جائے۔
آیت کے اس ترجمہ کی رو سے یہ آیت دیت کے سلسلے میں رہنمائی کرتی ہے، کہ ہر مقتول کی دیت اس کی اصولی حیثیت کے مطابق برابر ہونی چاہیے۔اس آیت میں تین طرح کے مقتولین کا ذکر ہے، جن کا خوں بہا الگ الگ ہوتا ہے۔کسی بھی اونچ نیچ کا ااعتبار کرکے ایسا کرنا جائز نہیں ہے کہ آزاد مقتول کی دیت غلام والی طے کردی جائے، یا غلام مقتول کے لیے آزاد والی دیت کا مطالبہ کیا جائے، یا مقتول عورت ہو اور مطالبہ مرد والی دیت کا کیا جائے۔اس طرح کی غیر اصولی اونچ نیچ سے دیت کا پورا نظام متأثر ہوگا، اور یہ کسی طرح انسانی معاشرے کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔برابری کے اصول کو برتنے میں ہی انسانوں کے لیے زندگی ہے۔
اس ترجمہ سے آیت کا بعد والا ٹکڑا (فمن عفي لہ من أخیہ شيء) اس پہلے والے ٹکڑے سے اچھی طرح مربوط ہوجاتا ہے، اوراس کی معنویت بھی اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے۔
مفسرین اور مترجمین عام طور سے قصاص سے مراد قتل کا بدلہ قتل لیتے ہیں، حالانکہ قصاص قرآن مجید میں ہر جگہ برابری کرنے کے مفہوم میں آیا ہے۔
(۲) الشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاص۔ (البقرۃ: 194)
’’ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا‘‘(سید مودودی)
’’ماہ حرام کے بدلے ماہ حرام اور ادب کے بدلے ادب ہے ‘‘(احمد رضا خان)
’’حرمت والے مہینے کا بدلہ حرمت والا مہینہ ہے اور سب قابلِ تعظیم باتوں کا بدلہ ہے ‘‘(احمد علی)
’’ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں کے بدلے ہیں اور حرمتیں ادلے بدلے کی ہیں ‘‘(محمدجوناگڑھی)
یہاں بھی ترجمہ کرنے والوں نے عام طور سے باء کا ترجمہ بدلہ کیا ہے، تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہونے کا کیا مطلب ہے، آیا یہ مطلب ہے کہ مشرکین کسی ماہ حرام کی بے حرمتی کرتے ہیں تو مسلمان بھی کسی ماہ حرام کی بے حرمتی کرسکتے ہیں؟ یہ مفہوم مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے، مشرکین اگر ماہ حرام کی بے حرمتی کرتے ہیں تو اس سے اہل ایمان کو کسی دوسرے ماہ حرام کی بے حرمتی کا جواز تو نہیں ملے گا۔ زیادہ سے زیادہ مشرکین کی زیادتی کا مقابلہ کرنے کی اجازت رہے گی۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں: ’’ماہ حرام کی حیثیت ماہ حرام کی ہے، اور تمام حرام چیزیں (سب کے لیے ) برابر ہیں‘‘۔ مطلب یہ ہوا کہ ماہ حرام اور دوسری تمام حرام چیزوں کی حرمت سب کے لیے یکساں ہے، ایسا نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں سے ان کی حرمت کی پاسداری کا مطالبہ کیا جائے اور مشرکین مکہ کو ان کی بے حرمتی کرنے کا جواز حاصل ہو۔ اس طرح جو مفہوم سامنے آتا ہے وہ عام مفہو م سے پیدا ہونے والے تمام اشکالات کو دور کردیتا ہے۔
(۳) وَکَتَبْنَا عَلَیْْہِمْ فِیْہَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْْنَ بِالْعَیْْنِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ۔ (المائدۃ: 45)
’’توراۃ میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ‘‘ (سید مودودی)
’’اور ہم نے توریت میں ان پر واجب کیا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے‘‘ (احمد رضا خان)
’’اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلہ ہے‘‘(فتح محمدجالندھری)
’’اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے‘‘(محمدجوناگڑھی)
یہاں بھی عام طور سے لوگوں نے باء کا مطلب بدلہ لیا ہے، اور اس کی وجہ سے بڑے اشکالات سامنے آتے ہیں۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی اس آیت کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں: اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا ہے کہ جان کی حیثیت جان کی ہے، اور آنکھ کی حیثیت آنکھ کی ہے، اور ناک کی حیثیت ناک کی ہے، اور کان کی حیثیت کان کی ہے، اور دانت کی حیثیت دانت کی ہے، اور تمام زخموں کے بدلے برابر برابر ہیں۔
اس ترجمہ کی رو سے یہ آیت بھی دیت کے سلسلے میں رہنمائی کرتی ہے۔ اس آیت سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ جو چیز تلف ہوئی ہے اسی چیز کی دیت واجب الادا ہوگی، اس میں کسی طرح کی نابرابری نہیں ہوگی۔
باء کے اس خاص استعمال کا تذکرہ ہمیں اہل لغت کے یہاں نہیں ملتا ہے، تاہم مندرجہ بالا آیتوں میں اس مفہوم کو اختیار کرنے سے آیت کا مفہوم بہت واضح ہوجاتا ہے، اور اس کو اختیار کرنے سے آیت میں کسی طرح کا اشکال نہیں رہ جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل روایت میں بھی باء کا یہی مفہوم لینا مناسب معلوم ہوتا ہے:
الْبِکْرُ بالبکر جلد ماءَۃ وتغریب عَام وَالثیب بِالثیب جلد ماءَۃ وَالرَّجم۔ (مشکاۃ المصابیح)
اس روایت کا مشہور ترجمہ تو یہ ہے کہ بکر بکر کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، اور ثیب ثیب کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور سنگسار کرنا ہے۔تاہم اس ترجمہ میں بعض بڑے اشکالات ہیں جیسے کہ اگر ثیب بکر کے ساتھ زنا کرے تو ان دونوں کی سزا کیا ہوگی۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک اس کا ترجمہ یوں ہوگا: بکر کو بکر والی سزا ملے گی، یعنی سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی، اور ثیب کو ثیب والی سزا ملے گی، سو کوڑے اور سنگسار کرنا۔
انما الأعمال بالنیات میں بھی باء اسی مفہوم کے لیے ہے، ترجمہ ہوگا کہ اعمال ویسے ہی ہوں گے جیسی نیت ہوگی۔
(۱۴۰) الی برائے ظرف
جس طرح لام کبھی خالص ظرف کا مفہوم بتانے کے لیے آتا ہے، جیسے:
فَکَیْْفَ إِذَا جَمَعْنَاہُمْ لِیَوْمٍ لاَّ رَیْْبَ فِیْہِ۔ (آل عمران: 25)
اسی طرح الی بھی کبھی خالص ظرف کا مفہوم بتانے کے لیے آتا ہے۔
مندرجہ ذیل آیتوں میں الی کا ترجمہ عام طور سے مترجمین نے ظرف کا کیا ہے، البتہ صاحب تدبر نے الی کا ترجمہ اس طرح کے مقامات پر غایت ہی کا کیا ہے:
(۱) لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ (النساء: 87)
’’وہ تم سب کو اُس قیامت کے دن جمع کرے گا ‘‘(سید مودودی)
’’وہ تم سب کو یقیناً قیامت کے دن جمع کرے گا ‘‘(محمد جوناگڑھی)
’’وہ ضرور تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن ‘‘(احمد رضا خان)
’’وہ تم سب کو قیامت کے دن کی طرف لے جاکر رہے گا‘‘ (امین احسن اصلاحی)
(۲) لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ (الأنعام: 12)
’’بیشک ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا‘‘ (احمد رضا خان)
’’قیامت کے روز وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا ‘‘(سید مودودی)
’’تم کو اللہ قیامت کے روز جمع کرے گا‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’وہ تم کو جمع کرکے ضرور لے جائے گا قیامت کے دن کی طرف‘‘ (امین احسن اصلاحی)
(۳) ثُمَّ یَجْمَعُکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ۔ (الجاثیۃ: 26)
’’پھر تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’پھر وہی تم کو اُس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں‘‘ (سید مودودی)
’’پھر تم سب کو اکٹھا کرے گا قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں‘‘ (احمد رضا خان)
’’پھر وہ تم کو روز قیامت تک، جس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے، تم کو جمع کرے گا ‘‘(امین احسن اصلاحی)
(۴) لَمَجْمُوعُونَ إِلَی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُومٍ۔ (الواقعۃ: 50)
’’ضرور اکٹھے کیے جائیں گے، ایک جانے ہوئے دن کی میعاد پر‘‘ (احمد رضا خان)
’’ایک دن ضرور جمع کیے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جا چکا ہے‘‘ (سید مودودی)
’’ضرور جمع کئے جائیں گے ایک مقرر دن کے وقت‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’سب جمع کئے جائیں گے، ایک معین دن کی مقررہ مدت تک‘‘ (امین احسن اصلاحی)
صاحب تدبر نے عام ترجموں سے ہٹ کر جو ترجمہ کیا ہے وہ کمزور معلوم ہوتا ہے۔ قیامت کے دن جمع کرنا ایک صاف اور واضح بات ہے، جبکہ قیامت کے دن تک جمع کرنے میں واضح طور پر تکلف دکھائی دیتا ہے۔
غرض جو مفہوم جَمَعْنَاہُمْ لِیَوْمٍ لاَّ رَیْْبَ فِیْہِ میں لام کا ہے وہی مفہوم یَجْمَعُکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِِ میں إِلَی کا ہے۔
(۵) ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَہُمْ لَإِلَی الْجَحِیْمِ۔ (الصافات: 68)
مذکورہ بالا مقامات کے برخلاف اس آیت میں عام طور سے لوگوں نے الی کا ترجمہ غایت کا کیا ہے:
پھر ان کو لے جانا آگ کے ڈھیر میں (شاہ عبد القادر)
پھر ان کی بازگشت ضرور بھڑکتی آگ کی طرف ہے (احمد رضا خان)
پھر ان کو دوزخ کی طرف لوٹایا جائے گا (فتح محمدجالندھری)
اور اس کے بعد ان کی واپسی اسی آتش دوزخ کی طرف ہوگی (سید مودودی)
مذکورہ بالا ترجموں سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ وہ لوگ زقوم کھانے کے لیے دوزخ سے باہر کہیں جائیں گے، اور پھر دوزخ کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ لیکن یہ مفہوم لینا درست نہیں ہے، کیونکہ زقوم کا درخت جہنم کے باہر نہیں بلکہ جہنم کے بیچوں بیچ ہوگا، جیسا کہ اسی سیاق میں اس آیت سے پہلے واضح طور سے بتایا گیا ہے، اس لیے یہ سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ وہ کھانے پینے کے لیے دوزخ یا جحیم سے باہر کہیں جائیں گے۔مولانا امانت اللہ اصلاحی کے نزدیک یہاں بھی الی برائے ظرف ہے، اور اس کے مطابق ترجمہ ہوگا: ’’پھر ان کا ٹھکانہ دوزخ ہوگی‘‘ یہ بھی واضح رہے کہ یہاں ثم (پھر) زمانی ترتیب کے لیے نہیں ہے بلکہ (مزید برآں ) کے مفہوم میں ہے۔
مندرجہ ذیل ترجمہ میں بھی غالبا اسی کا لحاظ کیا گیا ہے:’’پھر ان سب کا آخری انجام جہنم ہوگا ‘‘(جوادی)
(جاری)
قواعد فقہیہ: تعارف و حجیت
مفتی شاد محمد شاد
فقہ کی اساس ’’اصولِ فقہ‘‘پر ہے جس میں قرآن،سنت،اجماع اور قیاس سے متعلق اصولی مباحث ہوتے ہیں اور یہی فقہ کے دلائل ہیں۔فقہ سے متعلق ایک اور مفید اور دلچسپ علم ’’قواعد فقہیہ‘‘کا ہے جس کی طرف متقدمین فقہاء نے کافی توجہ دی ہے اور عصر حاضر میں اس موضوع پر خاصا کام ہوا ہے،خصوصا عرب دنیا میں اس پر بڑا ذخیرہ وجود میں آگیا ہے۔ زیرنظر مضمون میں قواعد فقہیہ کے مفہوم کے بعدان کی حجیت اور دائرہ کار سے متعلق فقہاء کی آرا کو بیان کرنا مقصود ہے۔
قواعد فقہیہ کا مفہوم
قاعدہ کا مادہ (ق ع د) ہے، جس کے بنیادی معنی ثبات و استقرار کے ہیں۔اس کی جمع قواعد آتی ہے اور لغت کی کتابوں میں اس کے معنی ’’اساس ‘‘اور’’ بنیا د‘‘ کے بھی ملتے ہیں۔(1)
قرآن مجید میں بھی قاعدہ کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ باری تعالیٰ کاارشاد ہے: وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاھِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ۔ (2)۔ ترجمہ:’’اور اس وقت کا تصور کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کی بنیادیں اْٹھارہے تھے۔‘‘ دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَاَتَی اللّٰہُ بُنْیَانَھُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ۔ (3)۔ترجمہ:’’ان سے پہلے بہت سے لوگ مکاریاں کرچکے ہیں، تواللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی۔‘‘
قاعدہ فقہیہ کی اصطلاحی تعریف میں علماء کے دو نقطہ ہائے نظر ہیں:
1۔بعض حضرات نے اس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: القاعدۃ ھی قضیۃ کلیۃ منطبقۃ علی جمیع جزئیاتھا۔ (4)۔ یعنی وہ کلی امر جو اپنی تمام جزئیات پر منطبق ہو۔
اگرچہ علامہ جرجانی کی یہ تعریف عام قاعدے کی ہے،قاعدہ فقہیہ کی تعریف نہیں ،لیکن بہت سے فقہاء نے قاعدہ فقہیہ کے سلسلے میں بھی یہی رائے اختیار کی ہے۔اس تعریف کی روشنی میں قواعدِ فقہ ’’کلیہ‘‘ ہوتے ہیں۔رہی بات استثناء ات کی تو اس سے قاعدہ کے کلی ہو نے پر اثر نہیں پڑتا، کیونکہ ہر اصل سے کچھ چیزیں مستثنیٰ ہوتی ہیں۔ جب ان کا تذکرہ ہو جا ئے تو بقیہ قاعدہ ’’کلیہ‘‘ اپنی جگہ برقرار رہ جا تا ہے،اور ان مستثنیات کے مجموعہ سے کوئی دوسرا ایسا قاعدہ یا کلیہ نہیں بن سکتا جو کہ اس قاعدے کے معارض بن سکے، لہٰذا قواعد فقہ کو ’’کلیات استقرائیہ‘‘ کہا جاسکتا ہے، جیسا کہ علامہ شاطبیؒ نے لکھا ہے کہ:
فکل ھذا غیر قادح فی اصل المشروعیۃ، لان الامر الکلی اذا ثبت کلیا فتخلف بعض الجزئیات عن مقتضی الکلی لا یخرجہ عن کونہ کلیا، وایضا فان الغالب الاکثری معتبر فی الشریعۃ اعتبار العام القطعی، لان المتخلفات الجزئیۃ لا ینتظم منھا کلی یعارض ھذا الکلی الثابت، ھذا شان الکلیات الاستقرائیۃ (5)
ترجمہ:’’تو یہ سب (مستثنیات) اصل مشروعیت کے لیے مضر نہیں ہیں،کیونکہ کسی امر کا کلی ہونا جب ثابت ہوجائے تو اس سے بعض جزئیات کا نکل جانا اس کے کلی ہونے کو ختم نہیں کرتا اور اس لیے بھی کہ غلبہ و اکثریت شریعت میں اسی طرح معتبر ہے جیسا کہ عام قطعی،کیونکہ مستثنیٰ جزئیات سے کوئی ایسا کلیہ نہیں بن سکتا جو ثابت شدہ کلی امر کے معارض بن سکے،کلیات استقرائیہ کی یہی شان ہوتی ہے۔‘‘
شیخ وہبہ الزحیلی ؒ نے یہی رائے اختیار کی ہے۔وہ لکھتے ہیں:
قد اخترنا التعریف الاول الذی یفید انطباق القاعدۃ علی جمیع الجزئیات، لان الاصل فیھا ان تکون کذلک، وان خروج بعض الفروع عنھا لا یضر ولا یوثر، وتکون استثناء من القاعدۃ، لان کل قاعدۃ او مبدا او اصل لہ استثناء، وھذا الاستثناء لا یغیر من حقیقۃ الاصل او المبدا (6)
ترجمہ:’’ہم نے پہلی تعریف کو اختیار کیا جو کہ اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ قاعدہ تمام جزئیات پر منطبق ہو،کیونکہ قاعدہ کے اندر اصل یہی ہے کہ وہ کلی ہو اور بعض فروعات کاقاعدہ سے خارج ہونا اس کے لیے مضر نہیں ہے،کیونکہ ہر قاعدے،بنیاد یا اصول کے لیے کچھ مستثنیات ہوتے ہیں، اس سے قاعدہ کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔‘‘
2۔دوسری طرف اکثر علماء نے قاعدہ کو اکثری قراردیتے ہوئے اس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے: حکم اکثری لا کلی ینطبق علی اکثر جزئیاتہ لتعرف احکامھا منہ۔ (7)۔ یعنی وہ اغلبی یا اکثری حکم جو اپنی اکثر جزئیات پر منطبق ہو،تاکہ اس کے ذریعہ اس کی جزئیات کا علم ہوسکے۔
اس تعریف کی رو سے قواعد ،کلیہ نہیں ہوتے،بلکہ ’’اکثریہ‘‘ ہو تے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کسی چیز کے مطرد یا کلی ہو نے کا مطلب یہی ہے کہ وہ استثناء ا ت سے خا لی ہو، ورنہ وہ کلی ومطرد نہیں رہے گا۔
شیخ مصطفی الزرقاء نے اسی دوسری رائے کوترجیح دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دراصل قواعد فقہیہ قیاس کا نتیجہ ہے،کہ جو مسائل ایک جیسے تھے، انہیں منضبط کرنے کے لیے عقلاً ایک مختصر سی جامع عبارت بنالی گئی۔اب یہ ممکن ہے کہ ان سے ’’استحسان‘‘ یا ’’جلب مصالح‘‘ یا ’’درء المفاسد‘‘ یا ’’دفعِ حرج‘‘ کی وجہ سے کچھ مسائل مستثنیٰ ہوں۔ اور واقعہ بھی یہی ہے کہ اکثر قواعد سے کچھ مسائل مستثنیٰ بھی ہیں،جنہیں فقہاء نے ذکر کیا ہے، لہٰذا قواعد فقہ کو ’’کلیات ‘‘ کہنا درست نہیں۔ آپ نے اپنے الفاظ میں قواعد کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے:
اصول فقھیۃ کلیۃ فی نصوص موجزۃ دستوریۃ تتضمن احکامھا تشریعیۃ عامۃ فی الحوادث التی تدخل تحت موضوعھا (8)
ترجمہ:’’فقہ کے وہ کلی اصول جنہیں مختصر قانونی عبارات میں مرتب کیا گیا ہو اور وہ ایسے قانونی اور عمومی احکام کو متضمن ہوں جو ان کے موضوع کے تحت آنے والے حوادث کے بارے میں ہوں۔‘‘
اس تعریف میں شیخ مصطفی الزرقاء نے ’’کلیہ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے ،جس کے بارے میں مولاناخالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے لکھا ہے کہ اس کے بجائے اگر ’’اکثریہ‘‘کی تعبیر اختیار کی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا،کیونکہ قواعد ’’کلی‘‘ نہیں ہوتے، ’’اکثری‘‘ہوتے ہیں،یعنی ہمیشہ ان کا اطلاق نہیں ہوتا،بعض صورتیں مستثنیٰ بھی ہوتی ہیں اور اکثر وبیشتر ان کا اطلاق ہوتا ہے۔(9)
لیکن اگر غور کیا جائے تو شیخ مصطفی الزرقاء کی مراد ’’کلیہ‘‘کے لفظ سے وہ نہیں ہے جو مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے سمجھا ہے،بلکہ اس سے بظاہر مراد ’’ایسے قواعد ہیں جو کسی اور قاعدے پر متفرع نہ ہو،بلکہ اس سے دوسرے قواعد مستخرج ہوں‘‘کیونکہ فقہا کی عبارات میں کئی جگہ ’’قواعدِکلیہ‘‘ کے لفظ سے یہی معنی مراد لیے گئے ہیں، جیسا کہ علامہ حمویؒ نے لکھا ہے :
ان المراد بالقواعد الکلیۃ القواعد التی لم تدخل قاعدۃ منھا تحت قاعدۃ اخری لا الکلیۃ بمعنی الصدق علی جمیع الافراد بحیث لا یخرج فرد (10)
ترجمہ:’’قواعد کلیہ سے وہ قواعد مراد ہیں جوکسی دوسرے قاعدے کے تحت داخل نہ ہوں۔کلیہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ تمام افراد پرس طرح صادق آئیکہ کوئی فرد اس سے خارج نہ ہو۔‘‘
دوسری وجہ یہ ہے کہ شیخ مصطفیٰ الزرقاء نے آگے خود تصریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: وھذہ القواعد ھی کما قلنا احکام اغلبیۃ غیر مطردۃ (11)۔ترجمہ:’’یہ قواعد احکام اکثریہ ہوتے ہیں، نہ کہ مطردہ و کلیہ۔‘‘
علامہ قرافی ؒ لکھتے ہیں کہ: ومعلوم ان اکثر قواعد الفقہ اغلبیۃ (12) ترجمہ:’’اور یہ بات معلوم ہے کہ اکثر فقہی قواعد اغلبی ہوتے ہیں۔‘‘ شیخ احمد بن عبد اللہ نے بھی قواعدِ فقہ کی دوسری تعریف(اغلبی)اختیار کی ہے۔ (13)
ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ نے اس مقام پر ایک اہم نکتہ ذکر کیا ہے کہ قواعدِ فقہ کے علاوہ دیگر علوم وفنون کے قواعد کلیہ ہوسکتے ہیں، لیکن فقہ کے قواعد ،کلی نہیں،بلکہ اغلبی ہوتے ہیں، لہٰذا جن حضرات نے پہلی تعریف اختیار کی ہے، اس کا اطلاق دیگر علوم پر درست ہے،جبکہ قواعد فقہ پر دوسری تعریف زیادہ منطبق ہوتی ہے۔آپ لکھتے ہیں:
’’اصطلاحی اعتبار سے فقہی اور قانونی قاعدہ دوسرے علوم وفنون سے ذرا مختلف مفہوم رکھتا ہے۔دوسرے علوم مثلاً نحو، طبیعیات،ریاضی وغیرہ میں قاعدہ سے مراد ایسا حکم یا اصول ہے جو اپنی تمام جزئیات پر منطبق ہوتا ہو،یعنی اس کا اطلاق اس کے ذیل میں آنے والی تمام فروعی صورتوں پر ہوتا ہو،مثلاً نحو کا قاعدہ ہے کہ فاعل مرفوع ہوتا ہے،مفعول منصوب ہوتا ہے۔اب یہ دونوں قواعد ہر قسم کے فاعل اور ہر قسم کے مفعول کو حاوی ہیں اور سب پر ان کا اطلاق یکساں طور پر ہوتا ہے۔کوئی مفعول یا فاعل ایسا نہیں ہے جو ان قواعد کے اطلاق سے باہر ہو۔یا مثلاً طبیعیات اور منطق کے قواعد ہیں کہ وہ ہر حال میں اپنی ذیلی شکلوں پر منطبق ہوتے ہیں۔
فقہی قواعد کا معاملہ ان سے ذرا مختلف ہے،ایک فقہی قاعدہ کا اطلاق اس کے ذیل میں آسکنے والے تمام حالات ومسائل پر نہیں ہوتا،بلکہ اس کی صرف بیشتر صورتوں پر ہوتا ہے اور بہت سی صورتیں بہرحال ایسی ہوتی ہیں جو اس قاعدہ کے اطلاق سے باہر رہتی ہیں۔‘‘(14)
قواعد فقہیہ اور اصول فقہ میں فرق
یہاں یہ نکتہ ذہن میں رہنا ضروری ہے کہ اصول فقہ اور قواعد فقہ میں فرق ہے۔دونوں میں سب سے اہم اور بنیادی فرق یہ ہے کہ اصول فقہ سے براہ راست احکام مستنبط نہیں ہو سکتے، بلکہ ان کی روشنی میں کسی نص سے استفادہ کرتے ہوئے حکم کا استنباط ممکن ہوتا ہے، جبکہ قواعد فقہیہ سے براہ راست حکم مستنبط کرنا ممکن ہوتا ہے۔ جیسے ’’الامر یدل علی الوجوب‘‘ یہ اصولِ فقہ کا ایک اصل ہے۔اس سے براہ راست حکم مستنبط نہیں ہو سکتا، لیکن کسی نص میں امر ہو، قرینہ صارفہ عن الوجوب نہ ہو جیسے: ’’اقیموا الصلاۃ‘‘، تب حکم مستنبط ہو سکے گا ، جبکہ ’’الیقین لا یزول بالشک‘‘ جو کہ ایک قاعدہ فقہیہ ہے، اس سے براہ راست حکم مستنبط کیا جاسکتا ہے کہ اگر طہارت کا یقین ہو اور حدث لاحق ہونے یا نجاست کا شک ہو توطہارت ہی برقرار رہے گی۔ شک کی وجہ سے حدث یا نجاست کا حکم صادر نہیں کیا جائے گا۔ (15)
قواعد فقہیہ کی حجیت
اب آتے ہیں اصل مقصودی بات کی طرف کہ کیا ’’قواعد فقہ ‘‘ کسی شرعی مسئلہ کے لیے دلیل بن سکتے ہیں؟ بالفاظ دیگر کیا ’’قواعد فقہ‘‘ کو بنیاد بناکرکسی مسئلہ کا حکم شرعی بتانا یا فتویٰ دینا درست ہے یا نہیں؟
اس سلسلے میں علماء کی عبارات سے مختلف آراء سامنے آئی ہیں،جن کوتین آراء کے ضمن میں بیان کیا جاسکتا ہے:
پہلی رائے:
علامہ ابن نجیم حنفیؒ ، علامہ شامیؒ ، علامہ ابن دقیق العیدؒ اور شیخ الجوینی کی رائے یہ ہے کہ قواعدِ فقہ سے استدلال کرنااور ان سے فتویٰ دینا جائز نہیں ہے،جس کی وجوہات درج ذیل ہیں:
1۔قواعد فقہ ’’کلیہ‘‘ نہیں ہوتے،بلکہ اغلبی اور اکثری ہوتے ہیں۔ان سے کئی مسائل مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ممکن ہے پیش آنے والا مسئلہ بظاہر قاعدہ کی تفریعات میں سے ہو،لیکن حقیقت میں وہ اس قاعدے سے مستثنیٰ ہو،اس لیے قواعد فقہ سے مسئلہ کا جواب نہیں دینا چاہیے۔ علامہ حمویؒ نے علامہ ابن نجیم ؒ کی کتاب ’’فوائد زینیہ‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے:
فی الفوائد الزینیۃ بانہ لا یجوز الفتوی بما تقتضیہ الضوابط لانھا لیست کلیۃ بل اغلبیۃ خصوصا وھی لم تثبت عن الامام بل استخرجھا المشایخ من کلامہ (16)
’’فوائد زینیہ میں لکھا ہے کہ ضوابط کے مقتضی کے مطابق فتویٰ دینا جائز نہیں ہے،کیونکہ یہ ’’کلیہ ‘‘ نہیں ہوتے،بلکہ اغلبی ہوتے ہیں اور قواعدوضوابط امام ابوحنیفہ سے ثابت نہیں ہیں، بلکہ انہیں بعد کے مشائخ نے امام صاحب کے کلام سے اخذ کیا ہے۔‘‘
2۔چونکہ بعض قواعد فقہ کسی نص شرعی کی طرف منسوب نہیں ہوتے، بلکہ استقراء ناقص کی طرف منسوب ہوتے ہیں، یعنی فقہی مسائل میں غور کرکے ایک جیسے مسائل کے لیے قاعدہ بنالیا جاتاہے ، تاکہ اس کے ذریعے ان متشابہ اور ایک جیسے مسائل کو یاد کرنا اور ذہن میں رکھنا آسان ہو۔ بعض قواعد کا وجود اجتہاد کا ثمرہ ہوتا ہے جو کہ خطاء کا احتمال رکھتا ہے، اس لیے محض ان قواعد کی روشنی میں کسی مسئلہ کا حکم بتلادینا ’’مجازفہ‘‘ یعنی تخمینہ کہلائے گا، جو کہ فتویٰ میں بے احتیاطی ہے اور احکامِ فقہیہ کے کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔
3۔قواعدِ فقہ، مسائل فقہ کا ثمرہ ہیں، اور کسی چیز کا ثمرہ اس کے لیے دلیل نہیں بن سکتا۔یعنی پہلے اصولِ فقہ کی روشنی میں قرآن و سنت سے مسائل فقہ کو مستنبط کیا گیا ہے۔مسائل فقہ کے وجود میں آنے کے بعد قواعدِ فقہ وجود میں آئے ہیں،اور یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ جو چیز خود کسی دوسری چیز کا ثمرہ ہو، وہ اس کے لیے دلیل بن سکے۔(17)
دوسری رائے:
امام قرافی، علامہ شاطبی اور شیخ ابن بشیر فرماتے ہیں کہ قواعد فقہ سے فتوی دینا جائز ہے اور مسائل فقہ کے لیے دلیل بن سکتے ہیں،ان کے دلائل یہ ہیں:
1۔قواعد فقہ’’کلیہ‘‘ ہوتے ہیں اور اپنی تمام فروعات پر منطبق ہوتے ہیں،بعض مستثنیات سے ان کے کلی ہونے پر فرق نہیں پڑتا،اس لیے یہ اپنی ہر فرع کے لیے دلیل بن سکتے ہیں۔
2۔قواعد فقہ کی حجیت اور ان کا استدلال کے قابل ہونا اَدلہ جزئیہ (نصوص)کے مجموعہ سے مستفاد ہے،کیونکہ ہر قاعدے پر کوئی نہ کوئی شرعی دلیل یاماخذ موجود ہے،اور جب ادلہ جزئیہ انفرادی طور پر استدلال کے قابل ہیں تو ان کے مجموعہ (جو قاعدہ کی شکل میں ظاہر ہوا ہے)میں بطریق اولیٰ استدلال کی صلاحیت ہوگی۔
3۔مجتہدین اور فقہاء کرام کے احوال سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے قواعد فقہ کا اعتبار کرکے ان پر اعتماد کیا ہے اورایسے کئی مقامات ہیں جہاں نص شرعی کے نہ ہونے کی صورت میں قواعد فقہ سے مسائل مستنبط کیے ہیں۔
تیسری رائے:
تیسری رائے وہ ہے جسے ’’مجلہ احکام عدلیہ‘‘ میں اختیار کیا گیا ہے کہ جب تک کسی قاعدہ فقہیہ پر قرآن و سنت کی کوئی نص موجود نہ ہو، اس وقت تک محض قواعد فقہ کو دلیل و بنیاد بناکر احکام مستنبط کرنا درست نہیں ہے،چنانچہ مجلہ احکام عدلیہ کی تقریر میں یہ لکھا ہے :
فحکام الشرع ما لم یقفوا علی نقل صریح لا یحکمون بمجرد الاستناد الی واحدۃ من ھذہ القواعد، الا ان لھا فائدۃ کلیۃ فی ضبط المسائل (18)
ترجمہ:’’حکامِ شرع کو جب تک کسی نقل صریح پر اطلاع حاصل نہ ہو، تب تک وہ محض ان قواعد میں سے کسی قاعدہ کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے،البتہ مسائل کے ضبط میں ان قواعد کا ایک بڑا فائدہ ہے۔‘‘
علامہ اتاسیؒ نے اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ قواعد فقہ کے خاص مدارک،مآخذ،علل،شروط،قیود اور مستثنیات ہوتی ہیں جو کہ ہر مقلد کے ذہن میں موجود نہیں ہوتی، اس لیے ممکن ہے کہ پیش آنے والا مسئلہ ان ہی میں سے کسی سبب کی وجہ سے قاعدہ سے خارج ہو، لہٰذا محض قواعد فقہ کی بنیاد پر فتوی نہیں دینا چاہیے۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں:
لکن ربما یعارض بعض فروع تلک القواعد اثر او ضرورۃ او قید او علۃ مؤثرۃ تخرجھا عن الاطراد، فتکون مستثناۃ من تلک القاعدۃ یتنور بھا المقلد ولا یتخذھا مدارا للفتوی والحکم، فلعل بعضا من حوادث الفتوی خرجت عن اطرادھا لقید زائد او لاحد الاسباب المتقدم ذکرھا (19)
ترجمہ:’’لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی روایت، ضرورت، قید یا کوئی علتِ مؤثرہ ان قواعد کی بعض فروعات کے معارض ہوتی ہے جو ان کو قواعد کے تحت داخل ہونے سے نکال دیتی ہے،تو وہ فروعات اس قاعدہ سے مستثنیٰ شمار ہوتی ہیں،(ان قواعد کا فائدہ یہ ہے کہ) مقلد ان کے ذریعے نور اور روشنی حاصل کرے اور ان کو فتویٰ اور حکم کے لیے مدار نہ بنائے،کیونکہ ممکن ہے کہ بعض جدید مسائل ایسے ہو ں جو کسی اضافی قید یا سابقہ اسباب میں سے کسی سبب کی وجہ سے قاعدہ کی تفریعات سے خارج ہوں۔‘‘
شیخ مصطفی الزرقاء لکھتے ہیں :
ولذلک کانت تلک القواعد الفقھیۃ قلما تخلو احداھا من مستثنیات فی فروع الاحکام التطبیقیۃ خارجۃ عنھا، اذ یری الفقھاء ان تلک الفروع المستثناۃ من القاعدۃ ھی الیق بالتخریج علی قاعدۃ اخری، او انھا تستدعی احکاما استحسانیۃ خاصۃ ۔۔۔ ومن ثم لم تسوغ المجلۃ ان یقتصر القضاۃ فی احکامھم علی الاستناد الی شیء من ھذہ القواعد الکلیۃ فقط دون نص آخر او عام یشمل بعمومہ الحادثۃ المقضی بھا، لان تلک القواعد الکلیۃ علی ما لھا من قیمۃ واعتبار ھی کثیرۃ المستثنیات، فھی دساتیر للتفقیہ لا نصوص للقضاء. (20)
ترجمہ:’’اور اسی وجہ سے بہت کم قواعد فقہیہ ایسے ہوں گے جومستثنیات سے خالی ہوں، کیونکہ فقہاء یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ وہ فرع یا جزئیہ ایک قاعدے سے مستثنیٰ ہو اور کسی اور قاعدے کے تحت آجائے،یا وہ مسئلہ استحسانی احکام میں سے ہو،اسی لیے مجلہ میں قضاۃ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تک کوئی صریح نقل یا ایسی نص نہ ہو جس کے عموم کے تحت مسئلہ آئے،اس وقت تک محض ان قواعد پر اعتماد نہ کیا جائے ،کیونکہ ان قواعد کی قدر وقیمت کے باوجود ان کے تحت کئی مستثنیات بھی ہوتے ہیں، لہٰذا یہ تفقہ کے لیے طریقہ و آئین تو ہے، لیکن قضاۃ کے لیے نصوص نہیں ہیں۔‘‘
اس قول کا حاصل یہ ہے کہ اگر کسی مسئلہ کے بارے میں قرآن وسنت کی کوئی نص موجود ہو تو ایسی صورت میں ان قواعد کو بطورِ دلیل ذکر کیا جاسکتا ہے،بلکہ بعض قواعد چونکہ براہ راست نصوص سے مستنبط ہیں ،جیسے: ’’الامور بمقاصدھا‘‘ اور ’’الخراج بالضمان‘‘ اس لیے مسئلہ کے استنباط میں محض ان جیسے قواعد کوذکر کرلینا بھی کافی ہوسکتا ہے، کیونکہ ان قواعد کو ذکر کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ اصل نص کو ذکر کردینا،تاہم ایسے قواعد بہت کم ہیں۔اور اگر قرآن و سنت کی کوئی نص موجود نہ ہو تو پھر یہ قواعد محض استیناس کا فائدہ دیں گے،کہ ایک دلیل کو دوسری دلیل پر ترجیح دینے یا کسی دلیل میں قوت اور مزید پختگی پیدا کرنے کے لیے ان قواعد کو ذکر کیا جاسکتا ہے ،لیکن محض قواعد ہی کی بنیاد پر فیصلہ نہ کیا جائے۔
ترجیح:
درج بالا تینوں اقوال میں سے تیسرا قول زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے،لیکن بندہ کی نظر میں اس میں تھوڑا اضافہ کرنا مناسب ہے۔وہ یہ کہ جب مفتی کے سامنے کوئی سوال آئے تو اس پر لازم ہوگا کہ پہلے قرآن وسنت میں اس کی دلیل اور کتبِ فقہ میں اس مسئلہ کا صریح جزئیہ تلاش کرے، اور محض چند کتابیں دیکھنے سے یہ ذمہ داری پوری نہ ہوگی، بلکہ خوب جستجو اور تلاش بسیار سے کام لینا ضروری ہے، جیسا کہ علامہ شامی نے لکھا ہے :
والغالب ان عدم وجدانہ النص لقلۃ اطلاعہ او عدم معرفتہ بموضع المسئلۃ المذکورۃ فیہ، اذ قل ما تقع حادثۃ الا ولھا ذکر فی کتب المذھب، اما بعینھا او بذکر قاعدۃ کلیۃ تشملھا (21)
ترجمہ:’’عموما کسی کو نص(یا صریح جزئیہ) نہ ملنے کی وجہ قلت اطلاع (کم تلاش) ہوتی ہے یا جس مقام پر وہ مسئلہ مذکور ہوتا ہے، اس کی معرفت نہیں ہوتی، کیونکہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی مسئلہ پیدا ہوجائے اور مذہب کی کتابوں میں اس کا ذکر نہ ہو، یا تو بعینہ وہ مسئلہ مذکور ہوتا ہے یا کوئی ایسا قاعدہ کلیہ ہوتا ہے جو اس مسئلہ کو بھی شامل ہوتا ہے۔‘‘
البتہ اگر مکمل کوشش کے باوجود کوئی صرح جزئیہ نہ ملے تو عموماً مفتی کو قواعد سے اس مسئلہ کا جواب نہیں دینا چاہیے، بلکہ سائل کو کسی دوسرے عالم اور مفتی کے حوالے کردے، تاہم اگر مفتی ایک متبحر عالم ہے اور فقہ، اصولِ فقہ اور قواعد فقہ پر مکمل عبور رکھتا ہے تو ایسی صورت میں وہ قواعد فقہ سے جواب دے سکتا ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسرے مفتی سے پوچھنے کا مشورہ بھی دینا چاہیے۔(22) یہی وجہ ہے کہ ہمارے اکابر کو جب تک کسی مسئلہ کے بارے میں صریح جزئیہ ملا ہے، انہوں نے قواعد سے جواب نہیں لکھا، تاہم صریح جزئیہ نہ ملنے کی صورت میں قواعد سے جواب لکھ کر یہ مشورہ بھی دیتے تھے اور دیتے ہیں کہ ’’جواب کا صریح جزئیہ نہیں ملا،اس لیے قواعد سے جواب لکھا گیا ہے،بہتر ہے کہ دوسرے علماء سے بھی جواب دریافت کرلیا جائے۔‘‘
مولانا شبیر احمد قاسمی صاحب امداد الفتاوی کی خصوصیات لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’(2)۔جس مسئلہ میں (حضرت تھانوی کو)کوئی صریح جزئیہ ہاتھ نہ آتا، وہاں اصول وقواعد سے مسئلہ کا جواب تحریر فرماتے تھے اور آخر میں عموماً اس پر تنبیہ فرماتے تھے کہ جواب اصول وقواعد سے لکھا گیا ہے،صریح جزئیہ فقہاء کے فتاوی میں نہیں ملا۔ اس لیے دوسرے علماء سے بھی مراجعت کرلی جائے اور وہ اختلاف فرمائیں تو مجھے بھی مطلع کردیا جائے۔‘‘(23)
ہمارے کئی اکابر نے یہی طریقہ اختیار فرمایا ہے۔چند مثالیں دیکھنے کے لیے ملاحظہ فرمائیں:امداد الفتاوی 2/423۔ 219۔ امداد الاحکام2/234 اور4/254۔ فتاویٰ محمودیہ 17/325۔ فتاویٰ عثمانی 2/375۔ 516۔ فتاوی حقانیہ 4/294۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی لکھتے ہیں:
’’ان(قواعدِ فقہ)کے بارے میں یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ قواعد کسی مستقل بالذات شرعی دلیل کی حیثیت نہیں رکھتے، یعنی یہ خود اپنی ذات میں ماخذ قانون نہیں ہیں کہ محض کسی قاعدہ کلیہ کی بنیاد پر کوئی قانون وضع کیا جا سکے، ماخذِ قانون صرف قرآن مجید اور سنت رسول ہیں،یا وہ اجماع اور اجتہاد وقیاس جو قرآن وسنت کی کسی سند کی بنیاد پر وقو ع پذیر ہوئے ہوں۔‘‘
آگے لکھتے ہیں:
’’لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ کبھی بھی کسی قاعدہ کلیہ سے کوئی استدلال کرنا یا کسی نئی پیش آمدہ صورت حال پر اس کو منطبق کرنا غلط ہے۔ قاعدہ کلیہ سے استدلال کرنا درست ہے اور کسی نئی صورت حال پر اس کو منطبق کرنا بھی درست ہے،لیکن اس فرق کے ساتھ کہ اس استدلال کو محض مجازاً ہی استدلال کہا جا سکے گا، اس لیے کہ یہ وہ استدلال نہیں ہے جو کسی شرعی دلیل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔اس استدلال کی حیثیت دراصل تفریع کی ہے۔‘‘(24)
عصر حاضر میں بھی قانون سازی کے وقت قواعد کلیہ سے راہنمائی لی جاتی ہے،چنانچہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دساتیر، 1956ء، 1962ء اور 1973 ء میں اس سے استفادہ کیا گیا ہے،اور 1973ء کے آئین میں آرٹیکل 29 تا 40 میں ’’حکمت عملی کے اصول‘‘ (Principles of Policy)کے تحت انہیں درج کیا گیا ہے۔ہماری عدالتیں بھی فیصلے کے وقت ان جیسے قواعد سے استفادہ کرتی ہیں۔
انگریزی قوانین میں بھی اس سلسلے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں کہ جب کوئی ایسا مسئلہ سامنے آجائے جس پرقانون موجود نہ ہو تو وہاں جج کیا کرے؟اس بارے ایک اہم رائے یہ بھی ہے کہ ایسی صورت میں جج موجود ہ قانون کے قواعد عامہ معلوم کرے اور ان کے ذریعے مقننہ کا عمومہ ارادہ طے کر کے اس کی روشنی میں فیصلہ کرے۔اسی کی طرف انگریزی کے اس مقولہ میں اشارہ ہے کہ:
If the law is inadequate, the maxim serves in its place.
یعنی قانون کی عدم موجودگی میں قواعد اور مقولے اس کی جگہ لیتے ہیں۔
یہاں یہ شبہ کیا جاسکتا ہے کہ جب قواعد فقہ کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے اور بذاتِ خود یہ کسی حکم کے لیے دلیل وماخذ نہیں بن سکتے تو پھر علماء نے اس علم کے لیے اتنی محنت اور تگ و دو کیوں کی؟اس کا جواب یہ ہے کہ یہ علم قانونی حیثیت سے زیادہ تعلیمی اہمیت کا حامل ہے،کیونکہ اس سے فقہ کی فہم اور شریعت اسلامیہ کے اسرار ورموز کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اس علم سے کثیر تعداد میں جزئیات یاد کرنے سے نجات مل جاتی ہے۔اس علم میں مہارت رکھنے والے فکری انتشار اور فقہی اختلافات سے بچ جاتے ہیں اور اسی علم سے مقاصد شریعت کا ادراک بھی حاصل ہوتا ہے، لہٰذا محض اس کی قانونی حیثیت کو سامنے رکھ کر اس علم سے بے اعتنائی برتنا کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔
حوالہ جات
(1) تاج العروس من جواہر القاموس 9/ 60
(2) البقرۃ: 127
(3) النحل: 26
(4) التعریفات ص: 219
(5) الموافقات للشاطبی 2/ 83
(6) القواعد الفقہیۃ وتطبیقاتہا فی المذاہب الاربعۃ 1/ 22
(7) غمز عیون البصائر 1/ 51
(8) المدخل الفقہی العام2/966
(9) فقہ اسلامی، تدوین وتعارف، ص:156
(10) غمز عیون البصائر 1/ 198
(11) المدخل الفقہی العام2/966
(12) الفروق للقرافی 1/ 58
(13) مقدمۃ التحقیق لکتاب القواعد للمقری 1 /107
(14) قواعد کلیہ اور ان کا آغاز وارتقاء، ص:11
(15) مقدمۃ فی قواعد الفقہ الکلیۃ، ص:7
(16) القواعد الکلیۃ والضوابط الفقہیۃ فی الشریعۃ الاسلامیۃ، ص:73
(17) ایضاً، ص:84
(18) مجلۃ الاحکام العدلیۃ، ص: 11
(19)شرح المجلۃ للاتاسی 1/12
(20)المدخل الفقہی العام 2/966،967
(21) شرح عقود رسم المفتی، ص:59
(22) المصباح فی رسم المفتی ومناہج الافتاء 2/224
(23) امداد الفتاوی جدید، مطول ومبوب 1/193
(24) قواعدِ کلیہ اور ان کا آغاز وارتقاء ،ص: 17
سماجی ارتقاء اور آسمانی تعلیمات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
انسانی سماج لمحہ بہ لمحہ تغیر پذیر ہے اور اس میں ہر پیش رفت کو ارتقا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ تغیر اور پیش رفت سوسائٹی کے مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر ہوتی ہے اس لیے ہر آنے والے دور کو پہلے سے بہتر قرار دے کر اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوجانے کو ضروری سمجھا جاتا ہے اور اسے نظرانداز کرنے کو قدامت پرستی اور معاشرتی جمود کا عنوان دے دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے آج کی مروجہ عالمی تہذیب و قوانین کو ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ کے عنوان سے انسانی سماج کی سب سے بہتر صورت اور آئیڈیل تہذیب کے ٹائٹل کے ساتھ پوری نسل انسانی کے لیے ناگزیر تصور کیا جاتا ہے اور دنیا کے تمام مذاہب اور تہذیبوں سے تقاضا کیا جا رہا ہے کہ وہ اسے قبول کر لیں اور اس کے ساتھ ایڈجسٹ ہو کر اپنے امتیازات اور الگ تشخصات سے دستبردار ہو جائیں۔ اس تصور بلکہ مقدمہ کا حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے چنانچہ اس سلسلہ میں ہم کچھ معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں۔
وقتاً فوقتاً مختلف قوموں اور علاقوں کی طرف حضرات انبیاء کرام مبعوث ہوتے رہے اور انہیں جس بھی معاشرہ اور سماج کا سامنا کرنا پڑا وہ اس وقت کا ارتقائی معاشرہ تھا جو سوسائٹی کے باہمی احساسات و جذبات اور مشاہدات و تجربات کا نتیجہ تھا۔ مگر انبیاء کرام نے اسے من و عن قبول کرنے کی بجائے اس کی بہت سی باتوں کی اپنے اپنے دور میں نفی کی اور ان میں اصلاحات کا پروگرام پیش کیا۔ یہ سلسلہ صرف اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان معاملات یعنی عقیدہ و عبادت تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں معاشرتی مسائل اور سماجی امور بھی شامل تھے۔
مثلاً حضرت شعیب علیہ السلام کا قرآن کریم نے تذکرہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ انہوں نے قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور توحید کا پیغام دینے کے ساتھ ساتھ اس وقت کے ایک اہم سماجی مسئلہ کی طرف بھی توجہ دلائی کہ تجارت میں بد دیانتی، ماپ تول میں کمی اور اشیائے صرف کے معیار میں نقصان سوسائٹی میں فساد کا باعث بنتا ہے اس لیے وہ اس سے باز آجائیں۔ جس کے جواب میں قوم نے ’’اَصَلاَتُکَ تَاْمُرُکَ‘‘ کہہ کر یہ طعنہ دیا کہ کیا تمہاری نمازیں تمہیں یہ باتیں سکھاتی ہیں جو تم ہم سے کر رہے ہو؟ گویا نماز اور عبادت کا معاشرتی معاملات کے ساتھ کوئی تعلق قومِ شعیب کے لیے بھی قابل قبول نہیں تھا۔
حضرت لوط علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے صرف عقیدہ و عبادت کی بات نہیں کی بلکہ اس وقت کی سب سے بڑی معاشرتی برائی ’’ہم جنس پرستی‘‘ کی مذمت کی اور ’’اِنَّکُمْ قَومٌ تَجْھَلُونَ‘‘ کہہ کر اسے جاہلیت کی علامت قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمہ کو اپنی جدوجہد کے اہداف میں شامل کیا۔
اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ فرعون کے دربار میں دعوتِ دین کے لیے کھڑے ہوئے تو ان کا پیغام توحید و عبادت کے ساتھ ساتھ اس دور کے مجموعی سماج کے حوالہ سے بھی تھا جس پر فرعون نے اپنی قوم سے کہا کہ یہ دونوں شخص جادوگر ہیں جو تمہیں تمہارے ملک و اقتدار سے محروم کرنے اور ’’وَیَذْھَبَا بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلیٰ‘‘ تمہاری آئیڈیل تہذیب کو ختم کرنے کے لیے آئے ہیں۔ چنانچہ فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسٰی کی دعوت کو سیاسی اور سماجی تبدیلی کا عنوان دے کر اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور پھر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئے۔
یہ تینوں قومیں ان پیغمبروں کی تشریف آوری سے قبل جس مقام پر کھڑی تھیں وہ اس دور کا سماجی ارتقا تھا، جہاں تک وہ اپنے مشاہدات و تجربات اور احساسات و جذبات کے ذریعے پہنچی تھیں اور وہی اس دور کا ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں نے اسے مسترد کر دیا اور اس کے خلاف مسلسل آواز اٹھائی حتیٰ کہ وہ قومیں ان کی بات قبول نہ کرنے کے جرم میں عذاب خداوندی سے دوچار ہوگئیں۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو انہیں شرک اور بت پرستی کے ساتھ ساتھ بہت سی سماجی قدروں اور معاشرتی روایات و رواجات کا بھی سامنا تھا۔ چنانچہ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تیئس سالہ جدوجہد میں صرف بت پرستی اور شرک کو ہدف نہیں بنایا بلکہ زنا، شراب، جوا، نسل پرستی، فحاشی، ناچ گانا، لسانی تفاخر اور دیگر بہت سی سماجی قدریں بھی ان کی جدوجہد کا ہدف تھیں جو ظاہر ہے کہ اس وقت تک کے سماجی ارتقا اور تہذیبی ترقی کی علامت تھیں۔ اور اگر آج کی اصطلاح میں بات کی جائے تو اس دور کا ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ وہی سماج اور سوسائٹی تھی جسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر آزما محنت کے ساتھ تبدیل کیا۔ جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت و محنت کا یہ امتیاز بھی تھا تاریخ انسانی کا حصہ ہے کہ آپ نے کسی قوم یا علاقے تک اپنی تگ و تاز کو محدود رکھنے کی بجائے ’’ایہا الناس‘‘ کہہ کر پوری نسل انسانی کو دعوت و محنت کی جولانگاہ بنایا جس کے نتیجے میں آپ کی لائی ہوئی سماجی تبدیلیاں صرف ایک صدی میں دنیا کے مختلف ممالک بلکہ بر اعظموں تک پھیل گئیں۔
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محنت سے بیسیوں سماجی قدریں تبدیل ہوئیں حتیٰ کہ بہت سے معاملات میں اللہ تعالیٰ کے آخری رسول نے سماج کے ارتقا کو مسترد کر کے معاملات کو ماضی کی طرف لوٹا دیا۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے یہودیوں نے زنا کا ایک مقدمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا تو وہ زنا کی سزا کے حوالہ سے توراۃ کے حکم میں لچک پیدا کر کے الگ ماحول بنا چکے تھے جس سے تورات کا قانون تغیرات سے گزر کر نئی شکل اختیار کر چکا تھا۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سماجی ارتقا کو مسترد کر کے توراۃ کے اصل حکم کو بحال کیا اور زنا کا ارتکاب کرنے والے یہودی جوڑے کو سنگسار کر دیا۔ اسی طرح ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب معاشرہ میں مرد اور عورت کے جنسی تعلق کی متعدد صورتیں رائج تھیں جنہیں سماجی طور پر جائز تسلیم کیا جاتا تھا، جو ظاہر ہے کہ سماجی ارتقا کی ہی علامت تھیں، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یکسر تبدیل کر دیا۔
چنانچہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام بالخصوص نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ مبارکہ یہ ہے کہ انسانی سماج کا ہر ارتقا قابل قبول نہیں ہے بلکہ جو سماجی ارتقا آسمانی تعلیمات اور خدائی احکام و قوانین سے متصادم ہو، اسے مسترد کرنا اور اس کے خلاف جدوجہد کرنا آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کا اصل تقاضا ہے۔
چند بزرگوں اور دوستوں کی یاد میں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
پرانے رفقاء میں سے کسی بزرگ یا دوست کی وفات ہوتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ جنازہ یا تعزیت کے لیے خود حاضری دوں اور معمولات کے دائرے میں ایک حد تک اس کی کوشش بھی کرتا ہوں مگر متنوع مصروفیات کے ہجوم میں صحت و عمر کے تقاضوں کے باعث ایسا کرنا عام طور پر بس میں نہیں رہتا۔ گزشتہ دنوں چند انتہائی محترم بزرگ اور دوست جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حضرت مولانا شفیق الرحمانؒ ہمارے پرانے بزرگوں میں سے تھے، ایبٹ آباد میں کیہال کے مقام پر مکی مسجد اور مدرسہ انوار العلوم میں مدت العمر تدریس و اہتمام کی خدمات سرانجام دیتے رہے، شہر کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب تھے اور خطیبِ ہزارہ کے لقب سے یاد کیے جاتے تھے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری اور شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان کے شاگرد تھے اور ان کی طرز پر ایک عرصہ تک ہر سال علماء و طلبہ کو دورہ تفسیر قرآن کریم پڑھاتے رہے اور جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ساتھ مختلف دینی جماعتوں اور تحریکات میں سرپرستی کے ساتھ متحرک عملی کردار ادا کرتے رہے۔ مجھے ان کی ہمیشہ سرپرستی اور شفقت حاصل رہی بلکہ ان کے ساتھ رشتہ داری بھی تھی کہ ان کے فرزند مولانا انیس الرحمان قریشی میرے خالو محترم مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی آف میر پور آزاد کشمیر کے داماد ہیں۔
مولانا عبد الوارث چنیوٹ کے بزرگ عالم دین تھے، دارالعلوم مدنیہ کے مہتمم اور بے باک خطیب تھے، سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کے سرگرم رفیق کار اور دست و بازو رہے، جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے، دینی حمیت کے پیکر تھے اور مختلف دینی تحریکات میں ان کا کردار نمایاں رہا۔ مولانا مرحوم میرے ساتھ دوستی اور بے تکلفی کا تعلق رکھتے تھے اور جماعتی و تحریکی امور میں ہماری ہر دور میں رفاقت رہی۔ ان کے شاگرد اور خوشہ چین علماء و طلبہ کی بڑی تعداد دینی کاموں میں مصروف ہے جو ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔
مولانا رشید احمد لدھیانوی جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے امیر رہے، لدھیانہ کے اس عظیم خاندان سے تعلق تھا جو جرات و عزیمت کے حوالہ سے برصغیر کے ممتاز خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ استقامت اور حق گوئی میں اپنے خاندان کی روایات کے امین تھے اور دینی تحریکات میں ہمیشہ سرگرم رہتے تھے۔ رحیم یار خان میں ان کے ہاں متعدد بار حاضری ہوئی اور جماعتی مجالس اور پروگراموں میں وقتاً فوقتاً ملاقات ہوتی رہتی تھی بلکہ دو سال قبل دیوبند کی شیخ الہند کانفرنس میں شرکت کے لیے جمعیۃ علماء ہند کی دعوت پر پاکستان سے مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں علماء کا جو قافلہ گیا اس میں ہم دونوں شریک تھے اور لدھیانہ میں ان کے ہمراہ ان کے خاندان کے بعض بزرگوں سے ملاقات میری زندگی کے یادگار لمحات میں سے ہے۔
مولانا احمد سعید ہزاروی گوجرانوالہ کے بزرگ علماء میں سے تھے جو پرانے دور کے علماء کرام کی آخری نشانی کے طور پر باقی رہ گئے تھے۔ ۱۹۶۲ء میں صدر ایوب خان مرحوم کے مارشل لاء کے خاتمہ پر جب جمعیۃ علماء اسلام دوبارہ متحرک ہوئی تو ضلع گوجرانوالہ میں اسے منظم کرنے میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحد کے ساتھ مولانا احمد سعید ہزاروی کا کردار نمایاں تھا۔ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کو جمعیۃ علماء اسلام کا ضلعی امیر منتخب کیا گیا تو ان کے ساتھ مولانا احمد سعید ہزاروی ضلعی سیکرٹری جنرل تھے اور کم و بیش ربع صدی تک دونوں بزرگوں کی یہ عملی رفاقت قائم رہی۔ حضرت مولانا قاضی شمس الدین کے تلامذہ میں سے تھے اور شہر کے محلہ آبادی حاکم رائے کی ایک مسجد کے خطیب و امام تھے۔ ساری زندگی وہیں گزار دی اور دینی خدمات میں مصروف رہے۔ حضرت مولانا مفتی عبد الواحد کے معتمد ترین ساتھی تھے حتیٰ کہ ان کی غیر موجودگی میں ان کے چھوٹے سے ذاتی کارخانے کا نظم بھی سنبھالتے تھے، حق گو اور جرات مند خطیب تھے، دینی تحریکات اور جماعتی کاموں میں ہمیشہ متحرک رہتے تھے۔
مولانا سید غلام کبریا شاہ بھی اسی قافلہ کے ایک فرد تھے۔ وہ میرے ابتدائی شاگردوں میں سے تھے، میں نے ۱۹۷۰ء کے دوران مدرسہ انوار العلوم ملحقہ مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں تدریس کا باقاعدہ آغاز کیا تو اس دور میں انہوں نے صرف و نحو کی ابتدائی کتابیں بالخصوص علم الصیغہ مجھ سے پڑھا۔ اس دور کی بعض یادوں کا وہ اکثر تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام میں کچھ عرصہ متحرک رہے پھر شہید عزیمت مولانا حق نواز جھنگوی کی رفاقت کے دائرہ میں شامل ہوگئے اور آخر وقت تک پوری استقامت اور صبر و حوصلہ کے ساتھ اسی دائرہ میں رہے۔ ایک دور میں سپاہ صحابہ کے صوبائی صدر بھی رہے۔ ضلعی انتظامیہ کے سامنے مسلکی اور جماعتی موقف اور معاملات کی جرات و بے باکی کے ساتھ ترجمانی کرتے تھے اور حکومتی دائروں میں ضلعی سطح پر ہماری نمائندگی کرنے والے چند متحرک اور حوصلہ مند ساتھیوں میں سے تھے۔ گوجرانوالہ کے قریب مرالی والا میں مسجد و مدرسہ بنا کر علاقہ کے لوگوں کی دینی و تعلیمی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ ایسے بے لوث، باشعور، سادہ اور ایثار پیشہ رفقاء اب ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ سب بزرگ اپنا اپنا وقت پورا کر کے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے ساتھ ہم سے رخصت ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اب ان کی یادیں باقی رہ گئی ہیں اور یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ یہ چند دوست ہی ہم سے رخصت نہیں ہوئے بلکہ ان کے ساتھ بہت سی قدریں اور روایات بھی نگاہوں سے اوجھل ہوتی جا رہی ہیں۔ گزشتہ روز ایک پرانے دوست نے حال پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ میرے بھائی اردگرد ہجوم تو بڑھ رہا ہے مگر اسی حساب سے تنہائی بھی بڑھتی جا رہی ہے کہ جن دوستوں، ماحول اور روایات و اقدار میں ہم نے زندگی گزاری ہے وہ قصہ ماضی بن گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کرتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور پسماندگان و متعلقین کو ان کی اچھی روایات جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ اور بھٹکل
مولانا عبد المتین منیری
بات تو کل ہی کی لگتی ہے ، لیکن اس پر بھی نصف صدی بیت چکی ہے۔ ۱۸؍نومبر ۱۹۶۷ء گورنمنٹ پرائمری بورڈ اسکول کے احاطہ میں منعقد ہونے والے بھٹکل کی تاریخ کے عظیم الشان مجمع سے خطاب کرتے ہوئے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی علیہ الرحمہ نے مسلمانان بھٹکل کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ :
’’اے بھٹکل کے باشندو ! اے نوائط قوم کے چشم و چراغ ! تمہارے بزرگ یہاں کے لوگوں کے پاس اسلام کا پیغام لے کر آئے ، وہ تو بتیس دانتوں میں ایک زبان کی حیثیت رکھتے تھے ، کوئی ان کا ساز وسامان نہیں تھا ، کوئی ان کا ساتھ دینے والا نہیں تھا ، اور ان کا کوئی دوست نہیں تھا ، لیکن ان کی باتوں کا وزن تھا ، اور تم ہو اتنی بڑی تمہاری تعداد ہے ، لیکن تمہارا کوئی وزن نہیں ہے ، تم یہاں قریب قریب پچاس فیصد ہو، یہاں تمہاری کتنی تعلیم گاہیں ہونی چاہیے تھیں، تمہارا یہاں تہذیب کا قلعہ ہونا چاہئے تھا، روشنی کا ایک مینا ر ہونا چاہئے تھا، وہ اس سے بھی زیادہ دور سے جو کہا جاتا ہے کہ یہاں ایک روشنی کا مینارہ ہے ، اللہ نے تم کو بہت دیا ہے ، میں نے تم کو کالیکٹ میں دیکھا ہے ، میں تم سے ناواقف نہیں ہوں ، میں نے تم کو مدراس میں دیکھا ہے ، اور میں نے تمہارے کولمبو کے بارے میں بھی سنا ہے ، اور ایسی ایک کاروباری قوم اور ملت کے مسائل کو حل کرکے نہ رکھ سکے ، کوئی عقل اس بات کو مان نہیں سکتی جو اتنا بڑا اس کا کوئی ملی مسئلہ ادھورا پڑا ہوا ہے ، کیا بات ہے ؟ کیا راز ہے ، اس کا ؟ ایک دن میں یہ مسئلہ حل ہو جانا چاہئے ، تمہارا نام یہاں ایک ضرب المثل ہونا چاہئے ، تمہاری قومی زبان نوائطی میں لٹریچر ہونا چاہئے ، واقعی جامعہ اسلامیہ ایک ایسا مرکزی ادارہ ہوتا جو دکن میں ایک بڑا ادارہ مانا جاتا ، تمہارے یہاں سے تم سارے دکن کو برابر غذا پہنچاتے ، مسلمانوں کے اداروں کو اور جگہ کے مسلمانوں کے اداروں کو تم سے غذا ملتی ۔‘‘
دیکھنے والوں کو آج بھی وہ منظر یا د ہے ، حضرت مولانا کی زبان مبارک سے تحریک اور جذبے سے بھرپور خطابت کا ایک دریا موجزن تھا اور سننے والے والوں کی آنکھوں سے سیل رواں جس سے بہتوں کے رخسار اور ڈاڑھیاں تر ہو رہے تھے۔ ایسا والہانہ منظر بھٹکل نے اس سے پہلے کاہے کو دیکھا ہوگا؟ یہ ایک تاریخ ساز لمحہ تھا ، شاید قبولیت دعا کا بھی۔
حضرت مولانا اس وقت پہلی بار بھٹکل تشریف لائے تھے ، اور ان کے استقبال کے لئے اولین مہتمم جامعہ اور استاد الجیل مولانا عبد الحمید ندوی علیہ فرش راہ بنے ہوئے تھے ، مولانا ندوی اپنے اس مہمان عزیز سے اس وقت سے متعارف تھے جب سات آٹھ سال کی عمر میں سایہ پدری آپ کے سر سے اٹھ گیا تھا ، پھر کچھ عمر بڑھی تو لکھنو یونیورسٹی میں حصول علم میں مصروف نظر آنے لگے، اس وقت وہ بغل میں کتابیں دبائے ندوے کی چہار دیواری میں اس وقت کے اساطین علم ، مولانا حلیم عطا، شیخ الحدیث مولانا حیدر حسن خان ٹونکی وغیرہ سے کسب فیض پانے آیا کرتے، طلبہ میں مرحوم ناظم ندوہ کے دریتیم کی حیثیت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ، ورنہ ایک خاموش الطبع اور سنجیدگی کی اس مورت کا میل جول دوسروں سے کم ہی تھا، اس وقت مولانا عبد الحمید ندوی جوان تھے آپ کا ندوے میں طوطی بولتا تھا ، جوشیلے مقرر ، تحریک خلافت کے ایک لیڈر کی حیثت سے آپ کا لکھنو و اطراف میں شہرہ تھا ، لیکن چالیس سال بعد عالم دوسرا ہی تھا ، مولانا عبد الحمید ندوی مرحوم دنیا جہاں سے تنہا ایک دور دراز بستی میں ناموری اور شہرت سے بلند ہوکر ایک دین کے قلعہ تعمیر میں مگن ایک گمنام زندگی گزاررہے تھے ،اتنے عرصہ بعد اپنے ایک خورد کو مقبولیت کی اس چوٹی پر دیکھیں ، جس سے فیض عام کے سوتے پھوٹ رہے ہوں تو آنکھیں شدت جذبات سے چھلک نہ اٹھیں، اور چہرہ تمتمانے نہ لگے توکیوں آخر کر؟ وہ بھی کس قدر جذباتی منظر تھا ، جب مولانا عبد الحمید ندوی اپنے سے کم سن مولانا علی میاں علیہ الرحمۃ سے گلے مل رہے تھے ، جذبات کا ایک ریلا بڑھ رہا تھا ۔ وہ لمحہ بھٹکل کی تاریخ میں یادگار بن گیا۔
اس وقت بھٹکل میں حضرت مولانا سے ربط و تعلق رکھنے والوں کی کمی نہیں تھی ، مولانا خواجہ بہاء الدین اکرمی مرحوم نے حضرت مولانا کی رفاقت میں آپ کے سرپرست بھائی ڈاکٹر عبد العلی حسنی مرحوم سے صحیح مسلم کا خصوصی درس مکمل کیا تھا،بانیان جامعہ میں سے جناب الحاج محی الدین منیری علیہ الرحمہ سے آپ کے گزشتہ پچیس سال سے مراسم تھے ، ۱۹۴۲ء میں منیری صاحب نے آپ کے ساتھ تبلیغی قافلے میں حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی علیہ الرحمہ کی بار گاہ میں حاضری دی تھی ، انجمن خدام النبی ممبئی سے وابستگی اور حاجیوں کی خدمت نے آخر الذکر سے غیر ملکی اسفار کے انتظامات ٹکٹ وغیرہ بنانے میں ضرورت پڑتی رہتی تھی ، بانی جامعہ ڈاکٹر علی ملپا مرحوم کے تو آپ سے نیازمندانہ مراسم کوئی پوشیدہ نہیں ۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ ممبئی سے بھٹکل کا سفر تین دن تین رات کا اور منگلور کا سفر پورے ایک دن کا ہوا کرتا تھا ،اور زندگی کے ایک ایسے مرحلہ میں جب حضرت مولانا بینائی سے محروم ہوگئے تھے ، اور لمحے لمحے کے لئے دوسروں کے دست نگر بن گئے تھے ، اس وقت معمول کی غذا ئیں بھی ایک مسئلہ بن گئی تھیں ، بھٹکل جیسے دور دراز قصبے میں جہاں لال بھبھوکا مرچیں روازنہ غذا کا جزء لاینفک ہو ا کرتی تھیں ،اور آپ کا یہ حال کہ مرچ کی بو بھی آنکھوں میں جلن پیدا کردے اور راتوں کی نیندیں اڑادے ، ایسی حالت میں اتنی لمبی مسافت طے کرکے اس عظیم شخصیت کا بھٹکل کی سرزمین پر قدم رنجہ ہونا جہاں عظیم قربانی اور مخلصانہ تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے ، وہیں اس بات کی بھی غماز ہے کہ یہ دعاؤں کی قبولیت کے لمحات تھے ، اس وقت خداوند قدوس سے قوم کے لئے جو بھی مانگا جاتا مل جاتا۔
جامعہ آباد میں آج جہاں عظیم الشان مسجد کھڑی ہے ، اس کے محراب کی سمت پر حضرت مولانا نے اپنے دست مبارک سے سنگ بنیاد رکھا تھا ، اس وقت جامعہ آباد صرف ایک خواب تھا ، ایک وادی غیر ذی زرع ، بستی سے دور ایک ویرانہ ، جہاں چرندوں پرندوں اور درندوں کا بسیرہ تھا، سانپ بچھو قدم قدم پر رینگتے نظر آتے تھے ، یہاں سے گزرنے والے آسیب اور جنات کے بھی شاکی تھے ، یہاں سے نوائط کالونی تک تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر کوئی آبادی نظر نہیں آتی تھی ، نہ ہی کوئی پختہ سڑک پائی جاتی تھی ، بس پگڈنڈیاں تھیں ، دور دور تک آدمی کی لمبائی سے بھی اونچی سوکھی گھاس نظر آتی تھی ،جنہیں چیر کرجانے والوں پر دور دور سے نگاہ نہیں پڑسکتی تھی، بس دور دور فاصلے پر اونچے اونچے پیپل کے درخت ایستادہ تھے، جہاں صبح و شام اڑوس پڑوس سے گزرنے والے مزدوراور مچھیرے سستانے کے لئے ٹہرا کرتے ۔ آج جب شہر کی طنابیں جامعہ آباد تک پھیل گئی ہیں ، کون ان باتوں پر یقین کرے گا؟ لیکن یہ وہی مبارک لمحہ تھا جب اس علاقہ کو حضرت مولانا نے جامعہ آباد کا نام دیا تھا اور بھٹکل نے ایک نئے دن کا سورج کو طلوع ہوتے دیکھا تھا، بہت ہی روشن اور تابناک ، یہاں کی تاریخ بدلنے والاسورج۔
حضرت مولانا پہلی مرتبہ جب بھٹکل تشریف لائے تھے ، وہ زمانہ مسلمانان ہند کے لئے مشکل ترین دور تھا ، پور ا ہندوستان فسادات کی لپیٹ میں جھلس رہا تھا ، جہاں جہاں مسلمانوں کی اقتصادی حالت اچھی تھی ، وہاں پر ان کی صنعتوں کو راکھ کی ڈھیر میں بدل دیا گیا تھا ، مسلمانوں کے قائم کردہ تعلیمی اداروں کا اقلیتی کردار چھینا جارہا تھا ، ان کی قومی زبان اردو کا دیس نکالا ہورہا تھا ، اور مسلمانوں کے تشخص کے لالے پڑ گئے تھا ، یہی دن تھے جب حضرت مولانا مسلمانان ہند کی رہنمائی اور ان میں عمل کی تحریک پیدا کرنے کے لئے دوسرے رفقاء کے ساتھ میدان میں کود پڑے تھے ، اس میں دو رائے نہیں کہ حضرت مولانا کا عظیم خطیبوں میں شمار ہو تا ہے ، لیکن جس طرح دل پر ٹھیس پڑنے پر ایک شاعر کا وجدان پھڑک اٹھتا ہے ، اور اس کے ذہن و قلب سے دلوں کو تڑپانے والے شعر پھوٹنے لگتے ہیں ، اسی طرح حضرت مولانا کی ۱۹۶۰ء کی دہائی میں ہوئی تقاریر کا جواب نہیں ، جس طرح آپ نے دلوں کو گرمایا ، ڈھارس دی اور ہمت بڑھائی ، اس کی مثالیں شاذو نادر ہی ملتی ہیں، اس کے بعد آپ کی بھٹکل کی سرزمین پر تینتیس سال تک تسلسل کے ساتھ تشریف آواری ہوتی رہی ، جن میں بہت ساری تقریریں بھی ہوتی رہیں ، لیکن جنہوں نے حضرت مولانا کو قریب سے سنا ہے ان کی یہ رائے وزن رکھتی ہے کہ حضرت مولانا کی اصل ماسٹر پیس تو (نشان منزل )وہی پہلی والی تقریر تھی جس کا کوئی ثانی نہیں ۔
دیکھئے اتفاقات بھی کتنے حسین ہوتے ہیں ، جامعہ آباد کی سرزمین قدم رنجہ رکھنے کے ٹھیک نصف صدی بعد حضرت مولانا کی دعوتی زندگی پر یہاں ادبی سیمینار منعقد ہورہا ہے ، اہل بھٹکل پر یہ ایک قرض تھا ،جس کی ادائیگی کا حق ادا کرنا ممکن نہیں ، کیادنیا میں کوئی ممتا کے دودھ کا بھی قرض ادا کرسکا ہے ، لیکن گلاب نہیں تو پنکھڑی ہی سہی ۔ اگر رو ز قیامت آپ کا سامنا ہو تو شرمندگی تو نہیں ہوگی ، اہل بھٹکل ،ارباب جامعہ، حضرت مولانا کے جانشین اور جامعہ کے روز اول سے خیرخواہ اور محسن ، اور موجودہ سرپرست جامعہ کے دل کی گہرائیوں سے ممنون احسان ہیں کہ دور حاضر کی جاری اصطلاحات گولڈن جوبلی وغیرہ کے تکلفات سے بلند ہوکر لاشعوری میں ایک یادگار موقعہ عنایت فرمایا کہ بھٹکل کی جو سرزمین حضرت مفکر اسلام کی توجہات کی ہمیشہ سرتاپا سپاس رہی ہے ، وہاں زمانہ بیتنے کے بعد اب بھی انہیں اسی طرح یاد کیا جائے جیسے پہلے روز سے کیا جارہا ہے۔ یہ احسان مندی اور تشکر کی علامت ہے جو خوش نصیب قوموں کے ماتھے ہی پر سجتی ہے ۔
آپ کی پہلی آمد کے بعد سے تین سال کے عرصہ تک جامعہ پر بڑی قیامت ٹوٹی ، اور یہ ادارہ ابتلاء کے دور سے گزرا ، ۱۹۷۱ء میں آپ کی دوسری بار یہاں آمد ہوئی ، پہلے سفر میں دئے گئے پیغام کی یاد دہانی کے لئے ، ا س وقت جامعہ گوائی منزل ، سوداگر بخار اور جامع مسجد سے ہوتا ہوا جامعہ آباد سے نصف مسافت پر بھٹکل کے وسط میں واقع شمس الدین سرکل پر جوکاکو منشن میں منتقل ہوچکا تھا ۔ پھر ۱۹۷۳ء میں وہ دن آیا جب سرپرستان و بانیان جامعہ کو ان کے خوابوں کی حقیقی تعبیر مل گئی ، آپ ہی کے مبارک ہاتھوں سے ایک چھوٹی سی مسجد اور چند کمروں کے پر مشتمل جامعہ آباد کا افتتاح ہوا ، اور اس وقت آپ نے ایک عالم باتدبیر مولانا شہباز اصلاحی علیہ الرحمۃ کو نئے دور کے جامعہ کا تعلیمی نظم و نسق سنبھالنے کے لئے پیش کردیا ، وہ دن ہے اور آج کا دن چاہے طوفان آئے یا باد وباراں ، آندھیاں اٹھیں یا مشکلات روڑے اٹکائیں ، جامعہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے ، اسکی کشتی لہروں کا مقابلہ کرتے ، بھنوروں سے بچ بچاتے ، سیل رواں میں آگے ہی بڑھتے جارہی ہے ، اس میں جہاں توفیق یزدی شامل رہی ، وہاں آپ کی اور دیگر اکابر کی توجہات اور دعائیں بھی شامل حال رہی ہیں ، ورنہ جامعہ کو قائم کرنے والے اور اسے چلانے والے عموما متوسط طبقہ کے افراد تھے ، اس کے بانیان اور ناظمین میں کوئی بھی معروف معنی میں سکہ بند مولوی اور فارغ التحصیل نہیں ہوئے تھے۔
حضرت مولانا کی جب پہلی مرتبہ بھٹکل آمد ہوئی تھی تو اس وقت اس ناچیز کی عمر پختہ نہیں ہوئی تھی، پانچویں پرائمری کا طالب علم اپنے بڑوں سے بزرگوں کا صرف نام یا تعریفیں ہی سن سکتا ہے ۔ ایک عشرے تک بالمشافہ دیکھنے اور استفادے کی کوئی صورت نہیں نکل سکی ، لیکن جامعہ میں اس زمانے میں مطالعہ اور کتابیں پڑھنے کا کچھ ایسا ماحول بن گیا تھا ، اور خاص طور پر ہمارے استاد مکرم اور جامعہ کے اولین طالب علم مولانا ملا اقبال ندوی صاحب اللہ ان کا سایہ تادیر قائم رکھے ، انہوں نے اسلامی فکر پر مبنی کتابوں سے وابستگی کا ایسا ذوق طلبہ میں پیدا کردیا تھا کہ پندرہ سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے بے سمجھے بوجھے ناول پڑھنے کی رفتار ہی سے سہی حضرت مولانا کی اس وقت تک کی زیادہ تر اردو کتابیں نظر سے گذر گئی تھیں۔ اس کچی عمر میں دل و دماغ پر آپ کی جن کتابوں نے اثرات مرتب کئے ان میں مولانا نور عظیم کی ترجمہ کردہ عربی تقاریر اور مضامین کا مجموعہ( عالم عربی کا المیہ) آج بھی نظروں کے سامنے گھوم رہا ہے ، واقعی عالم اسلام کے واقعات سے اس کتاب نے دلچسپی پیدا کی تھی، یہاں کی سیاسیات اور عرب قوم پرستی کے بارے میں اسی کتاب نے پہلے پہل متوجہ اور آئندہ پیش آنے والے واقعات و حوادث کی گہرائی تک پہنچنے کا فہم عطا کیا تھا۔
ستر کے اوائل میں حضرت کی تصانیف کے ذریعہ نصف ملاقات ہوتی رہی ، اس دوران مختلف ایام میں جنوبی ہند کے عظیم بزرگ مفکر اور عالم دین حضرت مولانا محمد صبغۃ اللہ بختیاری علیہ الرحمۃ سے کبھی ویلور میں کبھی مدراس میں ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوتا رہا ، اس زمانے کی ایک مجلس میں مولانا بختیاری کے سامنے حضرت مولانا کی تازہ تصنیف ارکان اربعہ رکھی ہوئی تھی ، بختیاری صاحب کہنے لگے کہ اس کتاب میں سیرت النبی ،حجۃ اللہ البالغہ ، زاد المعاد اور جمع الفوائد سے مواد مرتب کیا گیا ہے ، یہ کتابیں ہم نے بھی پڑھی ہیں ، لیکن اللہ تعالی نے ارکان اربعہ اور آپ کی دوسری تصانیف کو مقبولیت دی۔ یہ انسان کی محنت سے نہیں ہوا ہے ، توفیق خداوندی اسی کو کہتے ہیں ، ورنہ مفسر قرآن حضرت مولانا احمد علی لاہوری علیہ الرحمۃ کے یہاں حضرت مولانا میرے رفیق درس تھے ، مولانا لاہور ی کے دروس عام درسوں جیسے نہیں ہوا کرتے تھے ، بلکہ آپ کے دروس میں آنے سے قبل بہت محنت کرکے آنی پڑتی تھی ، مولانا اشاروں اور مختصرنکات میں تفسیر بیان کرتے تھے ، ان دروس میں منطق اور فلسفہ کی آمیز ش ہوتی تھی ، ہم جیسے دیوبند سے پڑھ کر آنے والوں کو مولانا کے درس سمجھنے میں دشواری نہیں ہوتی تھی ، لیکن چونکہ حضرت مولانا کا منطق و فلسفہ سے کوئی تعلق نہیں تھا تو انہیں ان دروس کو سمجھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی ، مولانا لاہوری کے یہاں ہمارا شمار زیرک طلبہ میں ہوتا تھا ، لیکن حضرت مولانا کا خاندانی پس منظر کچھ ایسا تھا کہ مولانا لاہوری کے یہاں آپ کے ساتھ بڑے احترام کا معاملہ ہوا کرتا تھا، اب دیکھئے مجھ جیسا ہونہار طالب علم اور اپنے وقت کا مقرر کتابوں کا پارکھ باقیات الصالحات ویلور کے ایک چھوٹے سے کمرے میں گمنام پڑا ہے ، اور حضرت مولانا کا چاردانگ عالم میں طوطی بول رہا ہے ، یہ انعام خداوندی ہے جسے چاہے نوازدے ۔
حضرت مولانا سے تسلی بخش انداز سے ملنے کا موقعہ ہمیں پہلی مرتبہ غالبا ۱۹۷۹ء کے اوائل میں ہوا ۔ اس وقت مخدومی حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی دامت برکاتہم کی آپ کے ساتھ پہلی مرتبہ بھٹکل آمد ہوئی تھی ، اس وقت میں جامعہ آباد میں تدریس سے میں وابستہ تھا، حضرت مولانا امریکہ سے آنکھوں کے کامیاب آپریشن کے بعد شفایاب ہوکر آئے تھے ، اور دس بارہ سال بعد کھلی آنکھوں سے دنیا کے مناظر سے لطف اندوز ہورہے تھے ، انہی دنوں ایران میں خمینی انقلاب کامیابی سے ہم کنار ہورہا تھا، اور جنرل محمد ضیاء الحق کے بھی یہ ابتدائی ایام تھے ، اور حضرت مولانا پڑوسی ملک ہوکر آئے تھے ، حضرت مولانا کی زبانی عالم اسلام کے واقعات و حوادث اور حقائق جاننے کا اس سے بہتر موقعہ کہاں مل سکتا تھا ، آپ سے ان موضوعات پر خوب استفادے کا موقعہ ملا ، انہی ایام میں کیریر گانڈنس پر ڈیل کارنیگی کی کتابیں میٹھے بول میں جادو ہے وغیرہ نظر سے گزری تھیں، ان کتابوں کو پڑھ کر بولنا یا تقریر کرنا تو کبھی نہیں آیا ، لیکن انٹرویو لینے کے لئے چند ایسے نکات مل گئے جنہیں ہم نے دو شخصیات پر آزمایا ، حضرت مولانا نے تو طالب علمانہ سوالات پر اس وقت دل کھول کر رکھ دیا اور دوسری مرتبہ پاکستان کے مولانا مفتی محمو علیہ الرحمہ نے پہلے ہی سوال میں ڈھیر کردیا، مفتی صاحب سیاسی جو ٹھہرے ۔ حضرت مولانا سے اسی سفر میں غیر مرتب انداز میں ارتجالاً اس ناچیز نے طالب علمانہ سوالات کی بھر مار کردی تھی اور آپ نے اس وقت بڑی تفصیل سے اپنی ذاتی علمی و مطالعاتی زندگی پر روشنی ڈالی تھی ، ان میں سے بہت سی باتیں بعد میں کہیں ہمارے مطالعے سے نہیں گزریں ۔ اسی مجلس میں اس ناچیز نے آپ سے آب بیتی لکھنے کی درخواست کی جرات کی تھی ، جس پر پہلے تو آپ نے فرمایا کہ پرانے چراغ کی بنیاد پر ان کے رفیق قاضی عدیل عباسی صاحب نے آپ کی ایک آب بیتی مرتب کی ہے ، اسی مجلس میں آپ نے اپنی مستقل آب بیتی لکھنے کا عندیہ دیا تھا جو کاروان زندگی کے عنوان سے ایک تاریخی و دعوتی دستاویز کی شکل میں بعد میں سامنے آئی ۔
آپ کو جامعہ اور بھٹکل سے بڑی محبت تھی ، بر صغیر میں عربوں کی آباد کردہ قدیم بستیوں میں وہ صر ف بھٹکل کے نوائط کو عربی خصوصیات کا حامل سمجھتے تھے ،وہ محبت اور تعلق میں وہ ہمیشہ ندوۃ العلماء کے بعد جامعہ اسلامیہ بھٹکل کو اہمیت دیتے تھے ، اور اس کا اظہار بھی کرتے تھے ، بھٹکل میں پہلی آمد پر آپ نے جامعہ کے لئے جن جذبات کا اظہار کیا تھا، ان میں آخری دم تک سر مو فرق نہیں آیا ، انہیں جامعہ کو درپیش ابتلاء اور امتحان کی گھڑیوں میں بڑی فکر لاحق ہوتی تھی ، اور اس کے لئے آپ کے ہاتھ بلند بہ دعاء ہوجایا کرتے تھے ۔ بھٹکل کو جب حاسدوں کی نظر لگتی ، اور یہاں کا امن و امان بگڑ جاتا تو آپ بلک اٹھتے ، بہت پریشان ہوتے ، اور اسے نظر بد سے بچانے کے لئے جملہ اسباب استعمال کرتے ، مولانا کی زندگی میں جب کبھی یہاں کی فضاوں میں مایوسی کے بادل چھا جاتے تو اور وسائل و اسباب سب ناکارہ نظر آتے تو آپ جیسے بزرگارن کی کی نظر کرم اورتوجہات سے یہ بادل چھٹے ہوئے صاف نظر آتے ۔
نو زائیدہ جامعۃ الصالحات کی عمارت کی تقریب افتتاح کے دوسرے روز مورخہ : ۳۰ ؍دسمبر ۱۹۸۰ء جامعہ آباد میں منعقدہ اعیان شہر اور اراکین مجلس شوری کے سامنے دل کھول کر جس انداز سے جامعہ سے اپنی محبت اور لگاؤ کاآپ نے اظہار کیا تھا ، اس میں اخلاص اور درد کے جذبات امنڈ رہے تھے ، ہماری ناقص رائے میں حضرت مولانا کی زبانی ایسے والہانہ جذبات کسی اورادارے یا جامعہ کے لئے نہیں سنے گئے ، آپ کے الفاظ تھے:
’’میں آپ سے اس جامعہ اسلامیہ سے متعلق کہوں گا کہ اسے اس درجہ تک پہنچائیں کہ عرب کے بڑے بڑے علماء اور ماہرین یہاں آئیں اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ یہ جامعہ اس درجہ تک پہنچ جائے گا اور میں زندہ رہا تو بڑے سے بڑے آدمی کو ان شاء اللہ یہاں لے آؤں گا اور آپ دیکھیں گے کہ کیسے شوق سے آتے ہیں، تو اس کو ترقی دیجیے۔ اور مجھے اس کا افسوس بھی ہے اور تعجب بھی ہے کہ میں شروع سے آرہا ہوں، سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شریک رہا ہوں ،جامعہ کو جہاں تک پہنچنا چاہئے تھا نہیں پہنچا،کیا اسباب ہیں ؟ میں زیادہ واقف بھی نہیں اورتفصیل میں جانا بھی مناسب نہیں سمجھتا،لیکن جامعہ کو اس وقت واقعی صحیح معنی میں اسم بامسمیٰ ہونا چاہئے تھاہر حیثیت سے ،ابھی تک یہ اس حیثیت کو نہیں پہنچا ،نہ عمارتوں کی حیثیت سے پہنچ سکا ،نہ معیار تعلیم کے لحاظ سے پہنچ سکا،میں چاہتا ہوں کہ اس قابل ہوجائے کہ اس کے ساتھ الحاق ہو،اور یہ ایک مرکزی مدرسہ بن جائے ،اس میں آپ کا فائدہ ہی فائدہ ہے اور آپ کی شہرت کا باعث ہے ۔‘‘
’’میں منیری صاحب سے کہوں گا کہ آپ اس ذمہ داری کو سنبھالیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو کام کا طریقہ سکھایا ہے، صلاحیت دی ہے، تمام ذمہ داروں سے کہوں گا کہ اس کام کو سنبھالیں اور اسکو ترقی دیں، میں اس سے قبل بھی جامعہ میں آیا ہوں، لیکن جامعہ میں کوئی ترقی نہیں ہوئی، وہی تین بڑے کمرے اور چار چھوٹے کمرے، اور ایک مسجد ، اتنے دن کے بعد آیا، وہی کمرے اس میں کوئی ترقی نہیں ، تعمیری ترقی بھی ہونی چاہئے۔‘‘
درد دل کے مالک اس اللہ والے کی تمنا ئیں پوری ہوئیں ، اس خطاب کے بعد جامعہ نے ایک اور کروٹ لی ، الحاج محی الدین منیری مرحوم کے دور میں تیز رفتاری سے اس نے ترقی کے مراحل طے کرنا شروع کیا ، اپنی زندگی ہی میں آپ نے سیرت ٹیپو سلطان کے رسم اجراء کی تقریب میں یہاں کے فرزند مولانا محمد الیاس ندوی کے تصنیفی کام سے خوش اور شادمان ہوئے ، اور آپ کی آنکھیں بند ہوتے ہیں آپ کے جانشین سرپرست جامعہ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتھم نے یہاں پر رابطہ ادب اسلامی کے ادب اطفال پر سیمینار منعقد کرکے آپ کے خواب کو تعبیر بخشی ، اور اب یہ تیسرا سیمینار ہے جس کا موضوع جامعہ اور بھٹکل کے عظیم محسن کی دعوتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے ۔
۱۹۸۰ء کے بعد حضرت مولانا سے بھٹکل اسفار میں تیز ی آگئی ، رحلت سے قبل جب آپ کو اطلاع ملی کہ یہاں کے کتب خانے میں علامہ رشید رضا کے مجلہ( المنار) کی پوری فائل موجود ہے ، تو فرمایا کہ اس مجلے میں اٹھارہ سال کی عمر میں اپنا تحریر کردہ پہلا عربی مضمون شائع ہوا تھا، لیکن اسے کبھی دیکھنے کا موقع نہ مل سکا ،ساٹھ سال بعد جب پہلی مرتبہ اسے یہاں پر دیکھا تو بہت خوش ہوئے ، دبی انٹرنیشنل قرآن ایوارڈ کے موقعہ پر ملاقات ہوئی تو ہمیں بڑی دعائیں دیں، اور جب ہم نے طلبہ و اساتذہ کی مطالعہ میں بے رغبتی اور کتب خانے کے علمی خزانوں کے جمود پر ہمت پست ہونے کا تذکرہ کیا تو فرمایا کہ کتب خانے آج کی نسلوں کے لئے نہیں ہوا کرتے ، یہ آئندہ نسلوں کے لئے ہوتے ہیں ۔ اور بڑی محبت سے تہجد کے وقت بلا کر اپنے سلسلے کی اجازت اسناد حدیث سے نوازا۔ دوبئی میں کوئی تین چار بار آپ کا آنا ہوا ، ہر مرتبہ صحبت کا شرف حاصل رہا ، اس ناچیز سے اپنے دو طرح کے تعلقات بھٹکل سے اور منیری صاحب سے تعلق کا تذکرہ بار بار کرتے رہے۔
منیری صاحب نے بھی علامہ شبیر احمد عثمانی اور علامہ سید سلیمان ندوی علیہم الرحمۃ سے آپ تک بیشتر برصغیر کے علماء و اکابر کو قریب سے دیکھا تھا، لیکن آپ کا جو والہانہ محبت اور تعلق حضرت مولانا سے تھا، اسے بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ، ایک مرتبہ ہم سے کہنے لگے کہ حضرت مولانا بار بار تکلیف کرکے بھٹکل آتے رہے لیکن کبھی آپ کی خدمت میں نذرانہ پیش کرنے کی ہمت نہیں ہوئی ، لیکن جامعہ آباد کے افتتاح کے موقعہ پر آپ تنہائی میں جاکر آپ کی خدمت میں پانچ ہزار روپئے جب پیش کئے تو حضرت مولانا کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا، کہنے لگے: چالیس سالہ تعلق کا یہ صلہ دے رہے ہو ؟ منیری صاحب کہنے لگے کہ میں آپ کے جلال سے تھر اگیا ، انگ انگ کانپ اٹھا ، مال و زر سے ایسی بے اعتنائی کا منظر کبھی دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ اور جب منیری صاحب نے آپ کے سامنے بیعت کے لئے دست طلب پیش کیا تو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں سفارشی خط کے ساتھ بھیج دیا۔ بھٹکل سے حضرت مولانا کو قریب سے دیکھنے والی اس نسل میں اب کوئی نہیں رہا ، یہی قانون قدرت ہے ، لیکن یہ کیا کم ہے کہ ان حضرات کے فیوض و برکات جاری و ساری ہیں، ان کی دعائیں اور توجہات اب بھی بلاؤں کو ٹالتی رہتی ہیں ، ورنہ ہمارا رویہ تو ایسا نہیں ہے ، خدا کرے ان کی جلائی ہوئی شمع تا قیامت روشنی بکھیر تی رہے ، یہ جہاں ان حضرات کے بلندی درجات کا باعث بنے ، وہیں آنے والی نسلوں کی مغفرت کا بھی ، آمین
زوالِ امت میں غزالی کا کردار: تاریخی حقائق کیا ہیں؟ (۱)
مولانا محمد عبد اللہ شارق
امام غزالی پر ایک اور اتہام
اپنے سابقہ مضمون "غزالی اور ابن رشد کا قضیہ" (الشریعہ، فروری ومارچ ۲۰۱۴ء) میں ہم نہایت تفصیل سے یہ عرض کرچکے ہیں کہ امام غزالی نے ایسا کچھ نہیں لکھا کہ جس سے انہیں علم، عقل اور سائنس وفلسفہ کی کاوشوں کا منکر قرار دیا جاسکے، بلکہ اس کے برعکس ان کے ہاں متواتر ایسی عبارات ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود ان لوگوں کے سخت مخالف ہیں جو اسلام کو فلسفہ وسائنس اور عقلی علوم کے تمام اجزاء اور شعبوں کا مخالف کہتے ہیں۔ ہم نے ایسی کئی عبارات وہاں نقل کی ہیں جن سے قاری بخوبی اندازہ کرسکتا ہے کہ امام غزالی کو تمدن دشمن قرار دینا، عقلی علوم کی تمام تر انسانی روایت کا مخالف باور کرانا یا مذہب اور سائنس کی ہم آہنگی کے خلاف سمجھنا ان کے مخالفین کا محض خیالی پلاؤ ہے اور غزالی پر ایسا الزام تو کم ازکم خود ان کے حریف ابن رشد نے بھی عائد نہیں کیا تھا۔
ہم اپنے محولہ بالا مضمون میں غزالی کی طرف منسوب مسخ شدہ موقف کی اصل حقیقت آشکار کرنے کے ساتھ ساتھ غزالی اور ابن رشد کے قضیہ کے اصل متعلقات پر بھی خود ان کی اپنی عبارات کی روشنی میں ہم ایک محاکمانہ نظر ڈال چکے ہیں جس سے نہ صرف قضیہ کی اصل صورتِ حال سامنے آتی ہے، بلکہ یہ بھی کہ ابن رشد، غزالی کے ساتھ اپنی آویزش میں کتنی سادہ پوزیشن پر کھڑے ہیں اور کس طرح انہوں نے در اصل غزالی کا جواب لکھ کر غزالی ہی کے مقدمہ کو مضبوط کیا ہے۔ غزالی کے موقف اور منہج کی علمی ومتونی تحقیق کا فریضہ ہم نے اس مضمون میں انجام دیا تھا اور یہاں ہمیں غزالی کے حوالہ سے ترقی پسندوں کے واویلے کے کچھ تاریخی پہلؤوں پر روشنی ڈالنی ہے۔
لبرلز کی زبان پر عموماً جب غزالی اور ابن رشد کا تقابلی تذکرہ آتا ہے تو غزالی کا نام اسلامیت کا حوالہ بن کر اور ابن رشد کا نام دینی انحراف کا حوالہ بن کر آتاہے۔ ابن رشد کے نام کو کسی اور نے نہیں، خود اس کے اپنے شیدائیوں نے اباحیت اور دینی انحراف کا استعارہ بنادیا ہے۔ اس کی ایک معمولی سی مثال عالم عرب میں جدیدیت کو فروغ دینے کے لیے سرگرم مؤسسۃ ابن رشد للفکر الحر (من اجل الحریۃ والدیمقراطیۃ وحقوق الانسان فی العالم العربی)ہے جس کی طرف سے ہر سال برلن (جرمنی) کی سالانہ تقریب میں عالم عرب کے اندر اباحیت اور جدیدیت کے لیے سرگرم کسی نمایاں شخصیت یا ادارہ کو جائزہ ابن رشد کے نام سے انعام سے نوازا جاتا رہا ہے جو اپنے حلقوں میں کافی باوقعت سمجھا جاتا ہے۔ اسی برلن میں ایک کنیسہ کے ساتھ قائم مسجد ابن رشد کو دیکھ لیجیے جہاں خاتون امامت کراتی ہے اور کسی نقاب بلکہ سر ڈھانپنے والی عورت کا داخلہ وہاں ممنوع ہے۔ الحاد وجدیدیت کے متاثرین ایسا نہیں کہ ابن رشد کے فرسودہ فلسفیانہ افکار سے اتفاق رکھتے ہوں اور اسی وجہ اس کی تعظیم کرتے ہوں، بلکہ جیسا کہ ایک سلفی عالم شیخ صالح المنجد نے لکھا ہے، اس کا سبب وحید اس کے دینی انحرافات ہیں۔ وہ اس کی کسی فکر سے نہیں، محض اس کے دینی انحراف سے متاثرہیں۔
شیخ صالح نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نہایت عمدہ انداز میں غزالی اور ابن رشد کے قضیہ پر وشنی ڈالی ہے، اس قضیہ کی بابت شیخ ابنِ تیمیہ کا قول نقل کیا ہے کہ کس طرح اس میں ابن رشد کم زور پوزیشن پر کھڑا ہوتا ہے اور حق اس میں عموماً غزالی ہی کے ساتھ ہوتا ہے، نیز اباحیت پسند لبرلز کے ہاں اس کی تعظیم کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے کہ ابن رشد باوجود اپنے فکری انحرافات کے عملی شریعت کی تعطیل میں اس حد تک پہنچا ہوا نہیں تھا جس حد تک اس کے شیدائی پہنچے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے فلسفیانہ افکار بھی عرصہ ہوا خود فلسفہ ہی کی دنیا میں اپنی علمی وقعت کھو چکے ہیں اور خود لبرلز بھی ان میں کوئی خاص کشش نہیں پاتے، لیکن اس کے باوجود اگر لبرلز نے ابن رشد کی تعظیم کو اپنا شعار بنایا ہوا ہے تو اس کا سبب وحید اس کے دینی انحرافات ہیں اور بس، خواہ وہ خود بھی اس کے افکار سے من وعن اتفاق نہ رکھتے ہوں۔ غزالی اور ابن رشد کے اس قضیہ میں در اصل ہمارا مقصود محض غزالی ہی کی وکالت نہیں، بلکہ اسلامیت کی وکالت کرنا اور اسی کا دفاع کرنامطلوب ہے۔
"ترقی پسندوں" کی طرف سے دانستہ یا نادانستہ طور پر نہ صرف یہ کہ غزالی کے موقف کو مسخ کرکے پیش کیا جاتا ہے، بلکہ ایک اور دعویٰ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ مسلم زوال کے ذمہ دار بھی غزالی ہیں اورفلسفہ پر ان کی تنقید سے ہی عالم اسلام پہلے علمی اور بعد ازاں سیاسی زوال کا شکار ہوگیا جس کا یہ تسلسل ہے کہ آج عالم اسلام کو ذلت کے یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ عالم اسلام غزالی کی بجائے ابن رشد کے ساتھ اپنا رشتہ استوارکرے، اس سے اس کے ایامِ بہار پھر سے لوٹ آئیں گے۔ عالم اسلام کے ان بہی خواہوں کے بقول آٹھویں تا بارھویں صدی عیسوی کا دور جو مسلمانوں کی علمی وعقلی ترقی کا دورِ عروج تھا، گیارہویں صدی عیسوی میں ہونے والی غزالی کی تنقید سے ہی زوال پذیر ہوگیا۔ مسلم معاشرہ میں علم وعقل اور فلسفہ وسائنس کے زوال کا آغاز شروع ہوا اور چونکہ سیاسی ومعاشرتی عروج واستحکام لازمی طور پر علمی وعقلی سرگرمیوں سے مشروط ہیں، اس لیے علمی وعقلی سرگرمیوں کے انحطاط کے ساتھ مسلمان کلی طور پر زوال وانحطاط کا شکار ہوتے چلے گئے۔ یوں گویا جب تک مسلم معاشرہ "تلقین غزالی" کا شکار نہیں ہوا تھا، تب تک وہ علمی وعقلی اعتبار سے بھی عہد عروج میں تھا اور اقوامِ عالم کی قیادت کے مقام پر بھی فائز تھا، بعد ازاں جب تلقین غزالی کو اس نے اپنے سینہ سے لگایا تو علمی وعقلی اعتبار سے انحطاط کا شکار ہوگیا اور دنیاوی وجاہت اور وقار سے بھی محروم ہوگیا۔
جسٹس امیر علی نے اپنی کتاب "روحِ اسلام" میں برابر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ
"غزالی سائنس کے تمام انکشافات کو اور ریاضی وہیئت کے تمام نتائج کو قبول کرتے تھے" ۔
اور یہ سچ ہے کہ غزالی کی کتابوں سے معمولی سی ممارست رکھنے والا کوئی شخص بھی انہیں اس کے برخلاف کسی ایسے مسخ شدہ موقف سے متہم نہیں کرسکتا جس میں تمام عقلی اور سائنسی علوم کو بیک جنبش مسترد کر دیا گیا ہو۔ نیز بقول امیر علی کے غزالی سلطان سنجر کے وزیر اور نظام الملک کے بیٹے فخر الملک کے نہایت قریبی دوستوں میں سے تھے اور بغداد کو انہوں نے تب ہی چھوڑا تھا کہ جب فخر الملک کو قتل کردیا گیا۔ جبکہ سلطان سنجر کے زمانہ میں علمی وعقلی سرگرمیاں اتنے عروج پر تھیں کہ انہیں مامون کے دور پر قیاس کیا جاتا ہے جس کی تاریخی تفصیل آئندہ سطور میں مذکور ہوگی، ان شاء اللہ!
تاہم یہی امیر علی چونکہ انگریزی لٹریچر کے خوشہ چین ہیں، خود اسلامی تاریخ کو بھی انگریزی تراجم کے ذریعہ سمجھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور انگریز مصنفین کے علمی رعب کا شکار ہیں، اس لیے وہ غزالی کے بارہ میں اعترافِ حقیقت کے باوجود خود کو غزالی کے بارہ میں مسخ شدہ موقف کے اثر سے محفوظ نہیں رکھ سکے اور اس کی رو میں بہتے ہوئے وہ یہ تک بھول گئے ہیں کہ کہیں وہ تضاد بیانی کا شکار تو نہیں ہو رہے۔ چنانچہ اسی "روحِ اسلام" کے اندر اعترافِ حقیقت کے باوجود بڑی سادگی کے ساتھ غزالی کے بارہ میں ایک انگریز کا ایسا اقتباس بھی بلانکیر نقل کرتے ہیں جو علمی وعقلی افلاس میں اپنی مثال آپ ہے۔ لکھا ہے کہ
"البیرونی کی انڈیکا کا مشہور ومعروف مترجم ڈاکٹر شاشو لکھتا ہے: اگر عربوں میں اشعری اور غزالی پیدا نہ ہوتے تو عرب قوم کا ہر فرد گلیلیو اور نیوٹن ہوتا۔"
ڈاکٹر شاشو کا یہ اقتباس ایک بار نقل کرنے کے بعد ان کا جی نہیں بھرا تو اسی کتاب میں چند ہی صفحات کے بعد ایک بار پھر یہی اقتباس نقل کرتے ہیں اور اسے نہایت عمدہ تبصرہ قرار دیتے ہوئے مزید اضافہ کرتے ہیں کہ
"یہ دونوں بزرگ سائنس اور فلسفہ کی مذمت کرکے اور اس پر زور دے کر کہ دینیات اور فقہ کے علاوہ کوئی علم قابلِ تحصیل نہیں، اسلامی دنیا کی ترقی کو مسدود کرنے میں سبقت لے گئے۔ ان کی مثال آج تک جہالت اور ذہنی جمود کے جواز میں پیش کی جاتی ہے۔"
کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ غزالی یا اشعری کے بارہ میں ایسے بے وقعت تبصرے کوئی ان کو واقعتا پڑھنے کے بعد کر رہا ہے؟ لیکن الحاد اور جدیدیت کے متاثرین کا المیہ یہ ہے کہ وہ اس رائے کو کئی دہائیوں سے بڑے طمطراق کے ساتھ دہرائے چلے جارہے ہیں جس کا سرے سے کوئی سر پیر نہیں اور جس کا کوئی ایک بھی ثبوت خود غزالی کی عبارات سے پیش نہیں کیا جاسکتا۔ کاش ہمارے روشن خیال مفکر انگریز مصنفین کے علمی رعب کے اثر سے آزاد ہوپاتے تو ان کے بعض انتہائی احمقانہ بیانات پر ناقدانہ نظر ڈالنے کے قابل ہوپاتے۔
غزالی کو مسلم زوال کا ذمہ دار ٹھہرانا ہماری نظر میں کم وبیش ایسا ہی ہے جیسے ایک امریکی فاضل کے بقول مسلمانوں کے زوال کا آغاز تب ہوا تھا جب انہوں نے پندرہویں صدی میں شراب کو چھوڑ کر قہوہ پینا شروع کردیا تھا یا ایک اور مغربی نابغہ کے بقول مسلمانوں کے افلاس کا سبب ان کا سود سے کنارہ کشی کرنا ہے۔ مسلمانوں کے یہ بہی خواہ بجا طور پر اس لائق ہیں کہ ان کے اس عقلی افلاس اور ذہنی دیوالیہ پن پر ان کے ساتھ تہہ دل سے اظہارِ افسوس اور اظہارِ ہم دردی کیا جائے۔ یقیناًخواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے اس لیے اگر کوئی خواب دیکھنا چاہتا ہے تو ہم اس کو روک نہیں سکتے، مگر ہم نہایت معذرت کے ساتھ عرض کریں گے کہ زوالِ امت کے بارہ میں واقعات کی یہ تمام تر نقشہ کشی ناقص اور ادھوری ہے۔ غزالی کو فلسفہ کے تمام اجزاء کا ناقد ٹھہرانے کی جو حقیقت ہے، وہ بالتفصیل بیان ہو چکی ہے۔اس لیے اگر مسلم معاشرہ مفید انسانی علوم کی تحقیق وترقی کے اعتبار سے کسی وقت انحطاط پذیر ہوا تو اس کے اسباب خواہ کچھ بھی رہے ہوں، مگر امام غزالی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا محض ایک من پسند خواب دیکھنے یا دکھانے کے مترادف ہے کیونکہ امام غزالی نے جب مفید انسانی علوم پر کوئی تنقید سرے سے کی ہی نہیں، الٹا ایسا کرنے والوں کو موردِ تنقید بنایا تو اس حوالہ سے مسلم معاشرہ میں پیدا ہونے والے انحطاط کو بہرحال ان کے سر ڈالنا بالکل بلاجواز اور خود فریبی کے مترادف ہے۔ جبکہ اگر تاریخی حقائق کو دیکھا جائے تو وہ بھی واقعات کی ایک بالکل الگ تصویر پیش کرتے ہیں اور غزالی کے رقیبوں اور حریفوں کے پروپیگنڈے کی کوئی تصدیق وہاں سے بھی نہیں ہوتی۔ ہم یہاں غزالی کے حوالہ سے یہی تاریخی حقائق آپ کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔
تاریخی حقائق کی رو سے اول تو آٹھ تا بارہویں صدی عیسوی کو مسلمانوں کے عروج کا قابلِ رشک دور قرار دینا ہی محل نظر ہے۔ بے شک وہ دور بعد کے ادوار سے تو بہتر تھا ہی اور یہ ہونا بھی تھا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق زمانہ جس قدر بعد کی طرف جائے گا، اس میں شر اور فساد بڑھتا ہی جائے گا۔ نیز یہ بھی سچ ہے کہ اس دور میں علمی وعقلی نوعیت کی سرگرمیاں مسلمانوں میں عروج پر تھیں۔ مگر محض اس بنیاد پر اس دور کو ہر اعتبار سے ایک قابلِ رشک دور قرار دینا درست نہیں ہے۔ نیز یہ تاثر دینا کہ جب آٹھویں تا بارہویں صدی عیسوی کے آخر میں مسلم معاشرہ علمی وعقلی سرگرمیوں کے اعتبار سے انحطاط کا شکار ہوا تو اس کے بعد ہی ان کی سیاسی تنزلی بھی شروع ہوئی، اس دور کی نہایت ادھوری تصویر ہے اور اس میں بہت سے تاریخی حقائق سے سہواً یا عمداً غماض کیا جاتا ہے۔
پھر غزالی کی سیرت کو پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ غزالی نے اگر عملی اعتبار سے مسلمانوں کے سیاسی عروج وزوال میں کوئی کردار ادا کیا بھی تھا تو وہ مسلم معاشرہ، سلطنت اور ریاست کے بقاء واستحکام اور ارتقاء پر منتج ہوا تھا، نہ کہ زوال وانحطاط پر۔ تاریخی حقائق کے مطابق مسلمانوں کے علمی وعقلی عروج کا زمانہ بعض دوسرے پہلوؤں کی وجہ سے صرف قابل رشک نہیں، بلکہ اس میں مسلمان اجتماعی سطح پر کچھ مسائل اور پریشانیوں کا سامنا بھی کر رہے تھے، امام غزالی نے ان امور کی اصلاح کے لیے حصہ ڈالا اور انہی کی برکت سے مسلمانوں کو تمدنی اور سیاسی سطح پر بھی اس کا بیش بہا فائدہ ہوا۔ اس حوالہ سے ہم نے چند دیگر حوالوں کے ساتھ ساتھ خاص طور پر اندلس کی تاریخ کے ایک دو اوراق کا انتخاب کیا ہے۔ میری مراد وہی اندلس ہے جو مسلمانوں کے علمی، عقلی اور سائنسی عروج کی تاریخ میں سب سے زیادہ قابل ذکر کہلاتا ہے اور مسلمانوں کی علمی وصنعتی سرگرمیوں کا عہد یادگار اس سے وابستہ ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں، مگر اس سے پہلے ایک نظر چند تمہیدی متعلقات پر ڈالتے ہیں۔
مسلم سلاطین کی "علم دوستی" کے قابل مذمت پہلو اور شعوبیتِ جدیدہ کے ردعمل میں ان سے برتا گیا اغماض
ایک خاص عہد، خصوصاً آٹھویں تا بارہویں صدی عیسوی کے مسلم سلاطین کی شہرہ آفاق علمی وعقلی سرگرمیوں کے بارہ میں ہم سب نے یقیناًکافی کچھ سن رکھا ہے، مگر کیا ہم جانتے ہیں کہ ان سرگرمیوں کے کچھ منفی پہلو بھی تھے، جو مسلم سلاطین کی طرف سے نظر انداز کیے گئے جن کی وجہ سے مسلمانوں کی مین اسٹریم اور صالح دینی قیادت کو ان سرگرمیوں پر تحفظات تھے اور مسلم مؤرخین نے بھی ان سرگرمیوں کو کچھ زیادہ تحسین آمیز انداز میں نقل نہیں کیا؟ اگر نہیں تو پھر آئیے جان لیجئے۔
نو آبادیاتی عہد کے پس وپیش زمانہ میں مغرب کے شعوبی ناقدین کی طرف سے اسلام اور اسلامی عرب پر یہ اعتراضات کیے گئے کہ وہ تمدن مخالف ہیں اور تہذیب وتمدن نے ان کی تاریخ میں کبھی بھی نشو ونما نہیں پائی۔ اس کے جواب میں اسی عہد کے اندر بعض مسلم قلم کار میدان میں آئے اور مختلف زبانوں میں ایک جوابی لٹریچر تیار کیا جس میں ثابت کیا گیا کہ اسلام اور اسلامی عرب پر شعوبیت کے جدید مغربی فرزندوں کا اعتراض درست نہیں ہے۔ اس جوابی رد عمل کے جوش میں ان قلم کاروں سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے اسلامی تاریخ کو تمدن دوستی کے مغربی مفہوم اور معیار پر منطبق کرنے کے لیے مواد تلاش کیا، اس سلسلہ میں انہیں سب سے زیادہ مواد انہی سلاطین کی تاریخ میں میسر آیا جن کی مخصوص علمی وعقلی سرگرمیوں پر خود انہی کے زمانہ میں مسلم معاشرہ کے اندر ایک طرح کا اضطراب پایا جاتا تھا۔ یوں ان کی سرگرمیوں کو مسلمانوں کی علم دوستی کا حوالہ بنادیا گیا۔
ہمیں جاننا چاہئے کہ مسلمانوں کی اصل تاریخ ہارون ومامون کے زمانہ سے شروع نہیں ہوتی اور نہ ہی غیر اقوام کے علوم وتجربات سے استفادہ کا سلسلہ اس دور میں شروع ہوا۔ ان کی تاریخ کا اصل قابل تقلید اور قابل رشک عہد وہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا عہد ہے۔ مسلمان اس عہد میں بھی غیر اقوام کے مفید تجربات اور عقلیات سے فائدہ اٹھاتے رہے، جس کی ایک سے زیادہ مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ بعد میں اموی اور خصوصا عباسی خلفاء بھی اگر غیر اقوام کے علوم وفنون سے استفادہ کرنے میں اس حد تک محدود رہتے تو یقیناًان کے اس کردار پر کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔ حادثہ یہ ہوا کہ بعد کے مسلم خلفاء نے کتاب پرستی کو خود ایک آرٹ بنالیا، غیر اقوام کی دیمک زدہ کتابوں کو اور اپنی موت آپ مرجانے والے فلسفوں کو سونا اور چاندی میں تول تول کر برآمد کرتے رہے، ان فلسفوں کے ساتھ اسلام کے تخیلاتی تقابلی مطالعے شروع کروائے اور اس سلسلہ میں حلال وحرام کی تمیز بھی بھول گئے۔ موسیقی، تصویر سازی اور طلسمیات جیسے خالص غیر اسلامی آرٹس بھی طب وطبابت کی طرح ان کی دلچسپی کا محور تھے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ سب اسلام کے تصورِ علم اور آدابِ علم سے سراسر انحراف تھا اور مسلمانوں کو اس کی قیمت چکانی پڑی۔
شعوبیت جدیدہ کے اعتراضات کا زور گھٹانے کے لیے ہمارے مصنفین نے جن سرگرمیوں کا سہارا لیا، کیا ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں میں شعوبیت قدیمہ نے در اصل انہی سرگرمیوں کے نتیجہ میں نشو ونما پائی تھی؟ شعوبیت ایک تحریک تھی جس کی ابتداء عربوں پر عجموں کو فضیلت دینے کے نکتہء نظر سے ہوئی تھی، مگر بعد ازاں اس نے عرب دشمنی اور فتنہ ارتداد کی شکل اختیار کرلی تھی، یہاں اس کی تفصیل میں جانے کا موقع تو نہیں، البتہ اتنا ضرور عرض کرنا ہے کہ مسلمانوں میں اس شعوبیت اور عرب دشمنی نے خصوصاً عباسی خلفاء کی "علم دوست" سرگرمیوں کے نتیجہ میں ہی راہ پائی تھی۔ جدید دور میں مغربی مصنفین کے ایک متعصب گروہ کی طرف سے عرب سرزمین، اس کی تہذیب وثقافت اور اس کی آب وہوا تک کو موردِ اعتراض بنانا در اصل اسی شعوبیت کا ہی دوسرا جنم تھا۔ اگر اب اس شعوبیت جدیدہ کے اعتراضات کا زور گھٹانے کے لیے انہی سرگرمیوں کا حوالہ پیش کیا جائے جو کسی دور میں مسلمانوں کے اندر شعوبیت قدیمہ کے نمو پانے کا سبب بنی تھیں تو یہ کتنی عجیب بات ہے!
چنانچہ ہمارے دور میں ان سلاطین کی علمی تابناکیوں کا غوغا اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک دور میں مسلمان بادشاہوں نے یونانی، فارسی اوررومی فلسفوں کو درآمد کرنے کے بعد مسلمانوں کی علمی وعقلی کاوشوں کو جو رخ دیا تھا اور ان سلاطین کی تہذیبی وتمدنی خدمات نے مسلم معاشرہ میں جو جو فساد اور انتشار پیدا کیا تھا، اس کے تناظر میں صالح مسلمانوں کی "مین اسٹریم" نے کبھی بھی اپنے سلاطین کی ان سرگرمیوں کو بنظر تحسین نہیں دیکھا، مسلم معاشرہ میں مرجعیت رکھنے والے علماء اور شرفاء ان کی اِن سرگرمیوں پر مضطرب تھے اور یہ تاثر صرف اس دور تک محدود نہیں رہا، ان سرگرمیوں کی تاریخ، ان کے دیر پا مضرات اور ان کے نتائج وقبائح کو دیکھتے ہوئے ہر دور میں دینی وابستگی رکھنے والے مسلمان اہل علم اور مسلم معاشرہ کا مجموعی تاثر اْس دور کے موروثی سلاطین کی اِن سرگرمیوں کے بارہ میں یہی رہا ہے۔ چنانچہ مامون جو ان سرگرمیوں میں سر نوشت کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے بارہ میں شیخ ابن تیمیہ کا ایک قول قابل ذکر ہے جس سے ان سرگرمیوں کے بارہ میں روایتی مذہبی حلقوں کے غم وغصہ کا کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے:
"میں نہیں سمجھتا کہ خدا تعالیٰ مامون سے غافل رہے گا،بلکہ ا س امت پر اس نے جو مصیبت نازل کی ہے، اس کا ضرور اس سے بدلہ لے گا۔"
ہمارے پرانے اسلامی لٹریچر میں ان سرگرمیوں کی شاید ہی کسی نے تحسین کی ہو، جبکہ جدید لٹریچر میں سے اگر اردو لٹریچر کو دیکھا جائے تو اس میں بھی بہرحال ایسے مصنفین ملتے ہیں جو ان سلاطین کی غیر صالح سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مولانا ابو الحسن علی ندوی کی کتاب "تاریخ دعوت وعزیمت" کی جلد اول اور دوم قابل ملاحظہ ہیں۔، جبکہ اردو کے عمومی لکھاریوں کی روش اس باب میں جو اب اس نہج سے ہٹی ہوئی نظر آتی ہے، اس کی ابتداء ہمارے ہاں خصوصاً علامہ شبلی کے ذریعہ سے ہوئی۔ علامہ شبلی نے مسلم سلاطین کے ان کاموں کو بلاتمیز کارناموں کی حیثیت سے اپنی تحریروں میں بیان کیا، یہ سلسلہ اگر جینوئن اور مفید علوم کے حوالہ سے ان کی خدمات کی حد تک محدود رہتا تو قابل فہم ہوتا، مگر جیسے ان سلاطین کی آزاد روی نے جاہلی آرٹس تک کی تمیز روا نہ رکھی، اسی طرح علامہ شبلی بھی ان کی سرگرمیوں کے نتائج وعواقب اور قبائح کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی ان سرگرمیوں کو بالعموم صرف کارناموں کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ سید مودودی اس پر تنقید کرتے ہوئے اور ان سرگرمیوں سے مسلم معاشرہ میں پیدا ہونے والے مفاسد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"یونان اور عجم کے فلسفہ اور علوم وآداب نے اس سوسائٹی میں راہ پائی جو اسلام کی طرف منسوب تھی اور اس لٹریچر کے اثر سے مسلمانوں میں "کلامیات" کی بحثیں شروع ہوگئیں، اعتزال کا مسلک نکلا، زندقہ اور الحاد پَر پرزے نکالنے لگا اور عقائد کی موشگافیوں نے نئے نئے فرقے پیدا کردیے۔ اسی پر بس نہیں، بلکہ رقص، موسیقی اور تصویر کشی جیسے خالص جاہلی آرٹ بھی از سرِ نو ان قوموں میں بار پانے لگے جن کو اسلام نے ان فتنوں سے بچا لیا تھا۔"
اس پر ایک حاشیہ قائم کرتے ہوئے مزید رقم طراز ہیں:
"مولانا شبلی اور جسٹس امیر علی جیسے لوگوں نے ان بادشاہوں کے ان کارناموں کو اسلامی تہذیب وتمدن کی خدمات میں شمار کیا ہے۔"
نیز شاہ معین الدین احمد ندوی جو خود شعوبیتِ جدیدہ کے بڑے ناقد ہیں، نے آج سے تقریبا ستر سال قبل بالکل صحیح لکھا تھا کہ
"اس زمانہ میں مغربی تہذیب اور اس کی مادی ترقیوں کا ایسا رعب چھایا ہوا ہے کہ اس کے ناقد بھی اس کے مادی مظاہر کے سامنے سپر ڈال دیتے ہیں اور یورپ کی تہذیب کو معیار اور اس کے تمدنی نظریوں کو مسلم مان کر اپنی تہذیب اور اپنے تمدنی نظریوں کو بھی اسی رنگ میں دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔"
جدید عرب دشمن شعوبیوں کا یہ اعتراض درست نہیں ہے کہ اسلام یا اسلامی عرب تمدن مخالف تھے اور نہ ہی ان کے جواب میں ہمیں عباسی خلفاء کی سرگرمیوں سے اپنی تاریخ کا آغاز کرنے کی کوئی ضرورت ہے۔ اسلام کی تعلیمات وہی ہیں جو کہ قرآن وحدیث میں مذکور ہیں۔ اگر ان میں کوئی بات تمدن اور علم دوستی کے خلاف دکھائی جاسکتی ہے تو ضرور دکھائی جائے۔ فرزندانِ اسلام ہمیشہ سے تمدن دوست رہے ہیں، مگر اس حوالہ سے ان کا نکتہ نظر اپنا تھا، تمدن دوستی کا مغربی معیار ان کے پیش نظر قطعاً نہیں تھا اور نہ ہی اس حوالہ سے ہمیں صفائی دینے کی کوئی ضرورت ہے۔ اہل مغرب کا چونکہ اس حوالہ سے بہرحال ایک اپنا معیار ہے اور وہ اسی کو بنیاد بنا کر اسلامی تاریخ پہ اعتراض کرتے رہے ہیں کہ یہ تمدن دوست نہیں ہے تو ردِ عمل میں آکر ان کا جواب دینے والوں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر خلافت راشدہ سے بعد کے خلفاء کی ان علم دوست سرگرمیوں کو بیان کیا ہے جو دراصل دینی اعتبار سے ان کی سستی وکاہلی کا نتیجہ تھیں، جنہیں مسلم معاشرہ کی مین اسٹریم نے کبھی بہ نظر تحسین نہیں دیکھا اور جن کا مسلم معاشرہ کو فائدہ سے زیادہ نقصان ہوا۔ ان کو بیان کرنے سے مقصود یہ تھا کہ مغرب کے تمدن دشمنی کے اعتراض کا زور گھٹایا جاسکے۔ ان حضرات کی حسن نیت اپنی جگہ، مگر رد عمل میں ہونے کی وجہ سے یہ حضرات بھول جاتے ہیں کہ قرونِ اولی کے مسلمان بعد کے "علم دوست" خلفاء سے بہرحال زیادہ قابل تقلید اور زیادہ قابل رشک ہیں۔
ان کی نظر میں تمدن دوستی کے کسی الحادی تصور سے زیادہ خود اپنا دین ومذہب عزیز تھا۔ اسی دین کی برکت سے تو وہ خاک سے اٹھ کر آسمان تک پہنچے تھے، قیصر وکسریٰ ان کے گھوڑوں کی دھول بن گئے تھے اور انہیں جو کچھ بھی ملا تھا، اسی دین کی برکت سے ملا تھا جسے وہ وعلم وتمدن دوستی کے کسی ایسے تصور پر قربان نہیں کرسکتے تھے جو غیر اسلامی تصورِ زندگی کی کوکھ سے نکلا ہو۔ بعد کے خلفاء بد قسمتی سے اس معیار کے نہ تھے۔ گو کہ وہ بھی اتنے گئے گذرے نہ تھے جتنے آج کے مسلمان حکم ران، مگر بہرحال علم دوستی اور کتاب پروری کے جوش میں وہ اسلامی آداب وتعلیمات میں تساہل کے مرتکب ضرور ہوئے۔ مغربی ناقدوں کا جواب دینے والے مسلم مصنفین سے نوآبادیاتی دور کے پس وپیش زمانہ میں یہ غلطی ہوتی رہی ہے کہ جس طرح مسلم خلفاء علم دوستی کے جوش میں حلال وحرام اور مفید وغیر مفید کی تقسیم تک کو بھول گئے تھے، اسی طرح ان مذکور الصدر مصنفین نے بھی علم دوستی اور تمدن دوستی کے مظاہر بیان کرتے ہوئے ان کی ان سب سرگرمیوں کو بطورِ کارنامہ پیش کیا ہے اور اس کے لیے بہت زور لگایا ہے کہ مسلم ریاستوں کے ماضی کو مغربی تصورات کے مطابق تمدن دوست اور علم پرور ثابت کیا جاسکے، قطع نظر اس سے کہ وہ سرگرمیاں حلال بھی تھیں یا نہیں اور قطع نظر اس سے کہ یہ سرگرمیاں مسلم ریاست کو سیاسی اور معاشرتی حوالہ سے کس طرح عدمِ استحکام کا شکار کر رہی تھیں۔
علم دوستی کی رو میں بہہ کر اپنے اس دین کے آداب اور تقاضوں کو بھول جانا جو ان کے لیے دنیا میں وجاہت اور وقار کا سبب بنا تھا یا صرف اس علم دوستی کو کامیابی کی شہ کلید سمجھ لینا ہی ان سلاطین کی غلطی تھی۔ ان سرگرمیوں کے مضرات اور ان کے تدارک کے لیے علماء کی مساعی کی ایک پوری تاریخ ہے۔ ان کی نظر میں ان سرگرمیوں میں اگر افادیت کا کوئی پہلو تھا بھی تو مضرت کے وہ پہلو جو نظر انداز کیے جارہے تھے، وہ ان کی افادیت سے کہیں زیادہ تھے۔
علمی و عقلی عروج کے عہد میں سیاسی انحطاط کے چند پہلو: آٹھ تا بارہویں صدی عیسوی کی اصل تصویر
اس دور کے خلفاء اور امراء میں بہت سی خوبیاں بھی موجود تھیں اور ان سے انکار ممکن نہیں، مگر کتاب پرستی کو اور جاہلی آرٹس کی سرپرستی کو ان کی مطلق خوبی نہیں مانا جاسکتا۔ علم دوستی ایک اچھی خصلت ہے، لیکن انحطاط کا مفہوم اگر یہ ہے کہ کوئی قوم سیاسی طور پر غیر مستحکم ہوجائے، معاشرتی طور پر اس میں انتشار وفساد ہو، فرقہ بندیاں ہوں، اس قوم کے آباء نے جن صفات کے عامل وداعی ہوکر دنیا میں عزت وعروج اور ترقی کی منازل طے کی تھیں، اس قوم کے اربابِ بست وکشاد ان صفات کو اپنانے میں غفلت وتکاسل برتنا شروع کر دیں اور ریاست اپنے عروج کی اصل حقیقت اور علت کو ہی بھول جائے تو پھر جان لیجئے کہ انحطاط کا یہ مفہوم مسلم امت میں غزالی سے بہت پہلے وارد ہوچکا تھا۔ جس دور کو مسلم علمی وعقلی عروج کا دور کہا جاتا ہے، وہ سیاسی اور معاشرتی اعتبار سیان کے لیے نہایت زبوں حالی کا دور تھا اور غزالی کے بارہ میں تاریخی حقائق یہ ہیں کہ انہوں نے در اصل اس زبوں حالی کے تدارک کے لیے اپنا حصہ ڈالا تھا۔
ہم دوبارہ کہیں گے کہ مسلم سلاطین کے علم دوست رویوں میں دینی آداب کو ملحوظِ خاطر نہ رکھنے کا جو تساہل برتا گیا، اس کی وجہ سے ایک تو وہ مسلمانوں کے لیے دینی اعتبار سے تشویش وخدشات کا باعث بن رہے تھے، دوسرا چونکہ صرف علم دوستی کا رویہ ریاست اور معاشرت کی تمام ضرورتوں کو پورا نہیں کرتا اس لیے علم دوستی کے باوصف جب دوسرے لوازمات میں سستی برتی گئی تو اس کا نقصان ریاست اور معاشرہ کو برداشت کرنا پڑا۔ چنانچہ ایک مسلمان کے لیے اول تو علم دوستی کا وہ مفہوم ہی قابل اعتبار نہیں جس میں اس کے دینی آداب اور تقاضوں کو نسیاً منسیاً کر دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ شہرہ آفاق علم پرور مسلم سلاطین کے علم دوستی کی رو میں بہہ کر دینی اعتبار سے مسلم معاشرہ کو انارکی کا شکار کردینے کی روش کو مسلمانوں کی مین اسٹریم نے کبھی بھی بنظر تحسین نہیں دیکھا، ان کی ان سرگرمیوں کو ان کی تمدن دوستی کے طور پر بلانکیر نقل کرنا ہمیں مسلمانوں کے اندر نوآبادیاتی عہد کے پس وپیش زمانہ سے قبل کہیں نظر نہیں آتا۔ دوسرا اس دور میں اگر فرض کر لیا جائے کہ مسلمان واقعی علمی، عقلی اور تمدنی اعتبار سے عروج پر تھے تو دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ بعینہ اسی دور میں وہ سیاسی اور معاشرتی اعتبار سے سخت ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی تھے۔
علم دوستی ایک اچھی خصلت ہے، مگر صرف اس ایک خصلت کی وجہ سے کسی فرد،معاشرہ یا ریاست کی تمام کم زوریوں سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی محض علم دوستی اور کتاب پروری کے رویہ کو کسی قوم کی تمام ضرورتوں کا کفیل قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ بڑی دلچسپ داستان ہے کہ مسلمانوں نے جب انحطاط کا سفر شروع کیا تھا تو نہ تو اس وقت تک غزالی پیدا ہوئے تھے اور نہ ہی اس وقت مسلم سلاطین کے "علم دوست" رویوں میں کچھ کمی آئی تھی، بلکہ علم دوستی کے جدید مفہوم کی رو سے تو وہ سلاطین اپنے سابقین سے کچھ زیادہ ہی علم دوست تھے اور یہ علم دوستی ان میں برابر ترقی کر رہی تھی۔ علم دوستی ایک اچھی خصلت ہے، مگر کسی قوم کو اپنی سیاسی ومعاشرتی بقاء واستحکام کے لیے کچھ اور چیزوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ محض لائبریریوں کا کتابوں سے آباد ہونا کسی قوم کی عزت اور وجاہت کی ضمانت فراہم نہیں کرتا اور نہ ہی محض علم دوستی کے جدید مفہوم کو عروج وزوال کا واحد قطعی سبب قرار دیا جاسکتا ہے۔ خصوصاً خدا کی منتخب قوم کے لیے تو کوئی بھی مادی پیمانہ عروج وزوال کا قطعاً کوئی معیار نہیں ہے اور نہ ہی تاریخ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ ہاں، اگر آداب کے ساتھ علم دوست رویے اختیار کیے جائیں اور صرف اسی پر اکتفاء نہ کرتے ہوئے معاشرتی وسیاسی استحکام کے باقی اسباب کو اختیار کیا جائے تو اس میں بہرحال شرعی اعتبار سے کوئی حرج بھی نہیں ہے۔
مسلم سلاطین کی شہرہ آفاق علم دوستیوں کا پس منظر سامنے آجانے کے بعد بہتر ہے کہ اب ایک نظر اس دور میں مسلمانوں کے معاشرتی وسیاسی استحکام پر بھی ڈال لی جائے۔ یہ محض ایک تخیل ہے کہ جب تک مسلمان علمی وعقلی سرگرمیوں میں مگن تھے جو آٹھویں تا بارہویں صدی عیسوی کا عہد ہے تو سیاسی ومعاشرتی اعتبار سے بہت مستحکم تھے۔ ذیل میں ہم اس سلسلہ کے چند حالات وواقعات آپ کے سامنے رکھتے ہیں اور حالات وواقعات کے تجزیہ کی یہ ساری سعی اصل علمی مراجع کی بجائے عمداً اردو لٹریچر کے بعض ان نام ور مصنفین کی تحریروں کی روشنی میں کریں گے جو گویا آٹھویں تا بارہویں صدی عیسوی کی علمی وعقلی سرگرمیوں کا گویا دورِ جدید کے مسلمانوں میں احیاء چاہتے ہیں، مسلمانوں کو اپنے اِس ماضی سے رشتہ استوار کرنے کی پر زور دعوت دیتے ہیں اور اس عہد کی علمی سرگرمیوں کے قابل مذمت پہلوؤں کی برملا مذمت سے اغماض برتتے ہیں۔ نیز اس سلسلہ میں رو بہ زوال ایک بڑی مسلم ریاست کو آخری دموں میں سقوط سے بچالے جانے کے سلسلہ میں امام غزالی کا جو ناقابل فراموش کردار تھا، اس پر ہم قدرے روشنی ڈالیں گے۔
مسلمانوں کے مفروضہ علمی عروج کے عہد میں سے چوتھی صدی ہجری(بمطابق دسویں یا گیارہویں صدی عیسوی) مسلمانوں کی تاریخ میں بالعموم سائنسی اعتبار سے سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے‘ مگر ٹھیک اسی دور میں مسلمانوں کا سیاسی استحکام کس قدر زوال کا شکار تھا‘ مولانا عبدالسلام ندوی اس کی صحیح تصویر آپ کے سامنے رکھتے ہیں:
’’چوتھی صدی میں مسلمانوں کا زوال انتہائی درجہ کو پہنچ گاط تھااور ہر جگہ طوائف الملوکی پھیل گئی تھی‘ لیکن اسی کے ساتھ مسلمانوں کی عقلی زندگی نہایت ترقی یافتہ ہوگئی تھی اور تمام دنیا کی قوموں کے علوم وفنون اسلامی تمدن کا جزو ہوگئے تھے۔‘‘
مولانا عبد السلام ندوی کی مذکورہ بالا عبارت میں کافی اجمال ہے، ہم اس کی کچھ تفصیل آپ کے سامنے رکھتے ہیں اور صرف چوتھی صدی ہجری کی بجائے مسلم علمی عروج کے پورے مزعومہ اسلامی عہد پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ نویں صدی عیسوی (تیسری صدی ہجری) کے وسط میں عباسی خلافت کا زوال شروع ہوگیا تھا، مرکز کی کم زوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف صوبوں میں کئی خود مختار ریاستیں (طاہریہ، سامانیہ، صفاریہ، بویہ اور طولونیہ وغیرہ) قائم ہوگئیں۔ طوائف الملوکی کے اس دور کی تین بڑی اور قابل ذکر حکومتیں یہ ہیں: سامانیہ، بنی بویہ اور خلافتِ فاطمیہ۔ بوعلی سینا بنی سامانیہ کے عہد میں اور ابن مسکویہ بنی بویہ کے عہد میں پیدا ہوا۔ پھر دسویں صدی عیسوی میں سامانی حکومت کے اندر زوال آیا تو اس کی قلم رو میں میں شامل علاقہ مزید تقسیم در تقسیم کا شکار ہوگیا اور یہاں کئی خود مختار ریاستیں قائم ہوگئیں۔نویں صدی عیسوی کے وسط میں مرکزی خلافت کے ضعف سے شروع ہونے والا طوائف الملوکی کا دور تقریباً دو سو سال یعنی گیارہویں صدی عیسوی کے وسط تک محیط ہے۔
سلجوقی سردار طغرل کے ہاتھوں گیارہویں صدی عیسوی کے نصف اول میں اس طوائف الملوکی اور ضعف وافتراق کا کافی حد تک خاتمہ ہوا اور مسلمانوں کی ایک مضبوط ریاست قائم ہوئی جو سلطنت سلجوقیہ کہلاتی ہے۔ امام غزالی اسی دور میں پیدا ہوئے۔ مگر یہ سلطنت بھی تقریباً پچاس سال کے اندر اندر یعنی گیارہویں صدی عیسوی ہی کے نصف اخیر میں زوال کا شکار ہوئی تو کئی خود مختار حکومتیں قائم ہوگئیں۔ مسلمانوں کے داخلی ضعف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دور میں صلیبی عالم اسلام پر حملہ آور ہوئے۔ گیارہویں صدی عیسوی کے اخیر میں وہ بیت المقدس پر قابض ہوگئے اور فلسطین کے بڑے حصہ پر ان کی حکومت قائم ہوگئی۔ بارہویں صدی عیسوی ان صلیبی حملہ آوروں کے ساتھ نبرد آزمائی میں گذری، سلجوقی سلاطین کا پروردہ عماد الدین زنگی، اس کا بیٹا نور الدین زنگی اور بعد ازاں اس کا جانشین صلاح الدین ایوبی یکے بعد دیگرے صلیبیوں کے ساتھ ٹکراتے رہے اور بارہویں صدی عیسوی کے اخیر میں بیت المقدس کی فتح اور واپسی کے بعد پورپ بھر میں غیظ وغضب کی آگ بھڑک اٹھی۔ تقریباً سارا یورپ ملک شام پر اپنی پوری قوت کے ساتھ آتش وآہن اگلنے لگا۔ تاہم پانچ برس کی تھکا دینے والی جنگ کے بعد 1192ء میں فریقین کے درمیان صلح ہوئی اور بیت المقدس سمیت مسلمانوں کے تمام علاقے مسلمانوں ہی کے پاس رہنے پر اتفاق ہوا۔
سلجوقی سلطنت سے جدا ہونے والے حصوں میں ایک بڑا نام خوارزم شاہی سلطنت کا ہے، بارہویں صدی عیسوی کے اختتام پر اس حصہ پر تاتاری مسیحی حملہ آور ہوئے جو بغداد تک عالم اسلام کو روندتے چلے گئے اور اسی کے بعد بغداد کے آخری برائے نام خلیفہ مستعصم باللہ کے ساتھ بغداد کی عباسی خلافت کا نام ختم ہوگیا۔ کتب خانوں کو جلادیا گیا اور بیت الحکمت جل کر راکھ ہوگیا۔ تاہم مسلمانوں کی افواج اور کتابوں سے شکست نہ کھانے والے یہ تاتاری مسلمانوں کے دین کے ایسے گرویدہ ہوئے کہ کعبہ کو صنم خانہ سے پاسباں مل گئے۔
یہ تھی مشرقی اسلامی دنیا کے علمی وعقلی عروج کے عہد میں مسلمانوں کے انحطاط وزوال کے اجمال کی تفصیل جس کی طرف مولانا عبد السلام ندوی نے اپنی عبارت میں اشارہ کیا ہے۔ ہمارا مدعا یہ نہیں کہ مسلمانوں کے لیے علم دوستی مضر چیز ہے۔ نہیں، بلکہ ہمارا مدعا یہ ہے کہ محض علم دوستی اور کتاب پروری کا رویہ کسی ریاست کی تمام ضرورتوں کی کفالت کے لیے کافی نہیں ہے، چنانچہ علمی عروج کے مزعومہ عہد میں مسلمان حکم رانوں کی تمام تر علمی دوستی کے باوجود مسلم ریاستیں انحطاط کا شکار تھیں، اس وجہ سے ہم ان ادوار کو ہر لحاظ سے قابل رشک نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس مفروضہ سے اتفاق کرتے ہیں کہ علمی عروج کے اس عہد میں مسلمان کی سیاست ترقی اور استحکام کے معیار پر پورا اترتی تھی۔ عرب میں عجمی فلسفہ کی بنیاد مستحکم بنیادوں پر رکھنے کے لیے مسلمانوں کو ابتدا ہی میں جو قیمت چکانا پڑی، وہ کوئی معمولی قیمت نہ تھی۔ شبلی کے الفاظ ہیں:
’’منصور ہی وہ پہلا شخص ہے جس نے عرب کے زور کوگھٹانے کے لیے عوما ں کا رسوخ بڑھایا اورتمام بڑے بڑے عہدے ان کے ہاتھ میں دیے‘ اگرچہ منصور کی یہ کارروائی پولیٹیکل حیثیت سے نہایت خراب تھی لیکن اس غلطی سے اتنا فائدہ ہوا کہ عرب میں فلسفہ کی بنارد قائم ہوئی اور آج مسلمانوں میں عقلی علوم کا جو کچھ رواج ہے، وہ اسی غلطی کی بدولت ہے۔‘‘
پھر کیا ہم جانتے ہیں کہ اسی فلسفہ کی بنیاد رکھے جانے بعد ہی خلافت عباسیہ کے عروج کے دور میں مسلمانوں میں شعوبیت (عرب دشمنی) اور الحاد وزندقہ کی تحریک پیدا ہوئی؟ سوال یہ ہے کہ جس فلسفہ کی بنیاد قائم کرنے اور اسے رواج دینے کے لیے ہمارا سیاسی استحکام داؤ پر لگا، ہمارے دین کے خلاف خود ہماری ہی غلطی کے بسبب ایک خواہ مخواہ کا انتشارکھڑا ہوا، ہم اس کو اپنی ترقی کیسے کہہ سکتے ہیں؟ ہمارا منصب تو یہ تھا کہ ہم لوگوں کو اللہ کے دین کے معاملہ میں تقدیس کی تلقین کرتے اور انہیں اس معاملہ میں طفلانہ اور غیر ذمہ دارانہ بحث بازی سے باز رہنے کی تلقین کرتے، مگر ہم خود ہی اس کام کے نقیب بن گئے۔
کہا جاتا ہے کہ تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کے حملہ کے بعد مسلمانوں کا علمی زوال شروع ہوا۔ کیا کوئی بتاسکتا ہے کہ عالم اسلام پر تاتاریوں کے حملہ کو جس چیز نے کامیاب بنایا تھا، کیا وہ تاتاریوں کا علمی و وفنی ترقی میں مسلمانوں سے فائق ہونا تھا؟ ظاہر ہے کہ نہیں، کیونکہ اس وقت عالم اسلام علمی وفنی ترقی کے اعتبار سے تاتاریوں سے کہیں آگے تھا اور عالم اسلام پر غلبہ پانے کے بعد دجلہ وفرات کو مسلمانوں کی کتابوں کی سیاہی سے جنہوں نے سیاہ کیا تھا، وہ تاتاری ہی تھے۔ نیز کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ تیرہویں صدی میں تاتاریوں کے حملہ کے بعد اگر عالم اسلام میں علمی زوال شروع ہوا جو اب تک ختم نہیں ہورہا تو کیا عالم اسلام کا سیاسی اور مجموعی زوال بھی اسی وقت شروع ہوگیا تھا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ تاتاریوں کے حملہ کے بعد ایک وقتی اور عارضی زوال کے باوجود مسلمان ڈوبے نہیں، بلکہ ڈوبنے کے بعد ایک بار پھر ابھرے اور زبردست شان کے ساتھ ابھرے۔ مسلمانوں کا عروج اس کے بعد بھی تقریباً پانچ سو سال تک باقی رہا۔ مسلمانوں کا عہد عروج کسی بھی قوم کے عہد عروج سے زیادہ یعنی ایک ہزار سال پر محیط ہے جو 1700ء تک باقی رہا۔ اس کے بعد اگر مسلمانوں کی مغلوبیت شروع ہوئی تو بے شک اس کے ظاہری اسباب سے ایک ان کا مادی علوم کنارہ کشی اختیار کرنا بھی ہے، لیکن صرف یہی ایک سبب نہیں۔ مادی اسباب ووسائل کے بل بوتے پر حاصل ہونے والا غلبہ انہیں دنیا کا چودھری تو بنا سکتا ہے، مگر اللہ کا محبوب نہیں۔ جبکہ اللہ کی ناراضگی کے ساتھ حاصل ہونے والا غلبہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔ دفاع کے مادی اسباب مہیا رکھنا مسلمانوں کے دینی فرائض میں شامل ہے۔ اگر مسلمانوں نے اس سے پہلو تہی کی تو علم دوستی کی رو میں بہہ کر باقی سب تقاضے بھول جانے کی طرح یہ بھی ان کی دینی غلطی ہی تھی، جبکہ راہِ اعتدال ان کے درمیان تھی۔ مگر موجودہ دور میں انہیں اگر عزت اپنے صحیح مفہوم میں چاہئے تو اس کے لیے انہیں اپنے ایمان واعمال اور اللہ کے ساتھ قلبی تعلق کی کم زوری پر بھی توجہ دینا ہوگی، ورنہ مادہ پرست قوموں کی طرح محض مادی اسباب ووسائل کے بل بوتے پر حاصل ہونے والی عزت کسی کام کی نہیں۔
مشرقی اسلامی دنیا کی کہانی کے بعد ہم اس سلسلہ میں یہاں پر بطورِ خاص اندلس پر بھی روشنی ڈالیں گے۔ اندلس کا دور مسلمانوں کی علمی وعقلی ترقی کا یادگار ترین زمانہ ہے۔ مسلمانوں کی علمی وعقلی عروج کی تاریخ کا تذکرہ جب بھی آئے گا تو سب سے پہلے اندلس، غرناطہ اور قرطبہ کا ذکر ہوگا، مسلم علمی وعقلی عروج کے حوالہ سے اس خطہ کو بہت یادگار اور عہد ساز سمجھا جاتا ہے، مگر کیا ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے پہلا سقوط بھی اندلس میں ہوا اور وہ عیسائی جو فاتح بن کر یہاں وارد ہوئے، وہ در اصل ان علوم اور کتابوں میں مسلمانوں کے شاگرد تھے؟ مسلمانوں کی تاریخ میں سائنسی اور علم پروری کے اعتبار سے سب سے زیادہ تاب ناک اور قابل رشک دور اندلس کا تھا۔ غزالی کی ضرب کے بعد جب فلسفہ کا منحرف دبستان مشرق میں راہی عدم ہوا تو ابن باجہ، ابن طفیل اور ابن رشد جیسے لوگ بھی اندلس ہی میں پیدا ہوئے تھے۔ اندلس کبھی عباسی خلافت کے زیر نگیں نہیں آسکا، بلکہ گیارہویں صدی عیسوی تک یہ امویوں کے پاس رہا۔ 1030ء تک یہاں قائم رہنے والا اموی خاندان کا دورِ حکومت سید قاسم محمود کے الفاظ میں:
’’اندلس کی تاریخ کا سب سے شان دار دور ہے اور اس دوران یہاں سائنسی ترقی پوری تیزی سے ہوئی اور کئی ممتاز سائنس دان پیدا ہوئے۔ ‘‘
مگر گیارہویں صدی عیسوی میں اموی خلافت کے سقوط کے بعد اسلامی اندلس طوائف الملوکی کا شکار ہوکر سات حصوں میں بٹ گیا۔ شبلی کے بقول چوتھی صدی ہجری (تقریباً دسویں یا گیارہویں صدی عیسوی جو اندلس میں اموی خلافت کے زوال کا آخری عہد ہے) میں عالم اسلام کا سب سے بڑا کتب خانہ اندلس کا تھا‘ جو اتنا بڑا تھا کہ ملک بھر کا ٹکسع اس کے مصارف کے لیے ناکافی تھا‘ سینکڑ وں گماشتے اطراف واکناف کے اضلاع میں اس کے لیے مقرر تھے کہ قدیم وجدید کتابیں بروقت فراہم کی جائیں‘ صرف اشعارو قصائد کی کتابیں اس میں اتنی تھیں کہ آٹھ سو اسی صفحات پر ان کی فہرست مشتمل تھی۔کتاب پروری کا یہ شوق اتنا عام تھا کہ صرف حکم ران نہیں‘ عام امراء بھی کتب خانے قائم کرتے تھے۔ قرطبہ میں اس کا عام دستور تھا اورامراء کے مابین اس کی بنیاد پر فخر ونمود ہوتی تھی۔ تفصیل شبلی کے مضمون "اسلامی کتب خانے" میں دیکھئے۔ لطف یہ ہوا کہ اموی خلافت کے سقوط کے بعد طوائف الملوکی کا شکار تمام چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے حکم ران بھی بلا کے علم دوست نکلے۔ سید قاسم محمود کے الفاظ میں:
’’علمی لحاظ سے ان حکومتوں نے بہت ترقی کی۔ بادشاہ بذاتِ خود حکمت ودانش اور علم وادب کا شغف رکھتے تھے۔ ‘‘
پھر یہ ہوا کہ طوائف الملوکی کا شکاراندلس محض ستر‘اسی سال کے اندر اندر ان علم دوست لیکن نااہل حکم رانوں کے ہاتھ سے بھی نکل کر دو حصے تو عیسائیوں کے پاس جاتا رہا، جبکہ باقی ماندہ حصہ سے باقاعدہ عیسائیوں کو جزیہ جاتا تھا۔ تاہم پھر اس حصہ میں تبدیلی کی ایک ہوا چلی، اس حصہ میں طوائف الملوکی کے دور کا خاتمہ ہوا، نہایت مضبوط حکومتیں قائم ہوئیں جنہوں نے صلیبیوں نے کے ساتھ آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کی۔ یوں یہ علاقہ جو گیارہویں صدی عیسوی میں ہی آخری دموں کے اندر پڑا تھا، مزید تقریباً ساڑھے تین سو سال تک کے لیے صلیبیوں کے ہاتھ لگنے سے بچ گیا اور ظاہری اسباب کے تحت گویا اس کا کلی سقوط 1492ء تک کے لیے مؤخر ہوگیا۔ حالات کی اس خوش کن اور غیر متوقع تبدیلی کے اسباب کیا تھے، آئیے غور کرتے ہیں۔
(جاری)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا نظریہ تخریج (۱)
ایک تنقیدی جائزہ
مولانا عبید اختر رحمانی
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (ولادت4/شوال 1114ہجری، وفات 29/محرم 1176 ہجری) کی ذات محتاج تعارف نہیں۔ آپ نے اصلاح وتجدید کا مشعل روشن کرکے برصغیر کے مسلمانوں کے دل میں ایمان وعمل کی نئی جوت جگائی۔ جب سلطنت مغلیہ کا آفتاب لب بام تھااور مسلمانوں کی پستی وانحطاط نوشتہ دیوار نظرآرہی تھی، ایسے نازک حالات میںآپ نے برصغیر کے مسلمانوں کومایوسی کے اندھیارے میں امید کی نئی کرن دکھائی اور یہاں کے مسلمانو ں کو قرآن وحدیث کے آب حیات وچشمہ زلال سے سیراب کیا ۔ جن اختلافی مسائل پر معرکے گرم تھے،ان میں عالمانہ اورغیرجانبدارانہ نقطہ نظرپیش کیا،فقہی تنگ نظری کو ختم کرکے تمام ائمہ فقہ کے احترام کی دعوت دی اوراپنے مسلک پر تنقیدی نگاہ ڈالنے اورمخالف کے نقطہ نظر پر غیرجانبداری سے غور کرنے کی تاکید کی۔
تنقیدی نگاہ کی ضرورت
یہ حقیقت ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے افکار وخیالات پر کام ہواہے،ان کی شخصیت پر کام ہواہے، ان کی تعریف وتوصیف پر مشتمل کتابیں لکھی گئی ہیں، ان کے قرآنی،حدیثی اورفقہی خیالات کو نقل کیاگیاہے ؛لیکن حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے افکار وآراء پر تنقیدی نظربہت کم کسی نے ڈالی ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ہندوستان برصغیرکی ان گنی چنی شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے پچھلوں کے افکار وخیالات پر تنقیدی نگاہ ڈالی ہے، روش عام کو قبول نہ کرکے اپنانیاراستہ نکالاہے،علم وتحقیق کی وادی میں آبلہ پائی کی ہے اور نشاندہی کی ہے کہ کس نے موتیوں سے دامن بھرے اورکس کے حصے میں خرف ریزے آئے۔ حضرت محدث دہلوی نے اہل علم کے لیے اجتہاد کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ اس کو ضروری قراردیتے ہوئے پچھلوں کے افکار وخیالات کا کتاب وسنت کی روشنی میں جائزہ لینے کی ترغیب دی ہے اورکسی حدتک اس پر خود بھی عمل کیاہے۔(۱)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے اس طرزعمل کی روشنی میں ہمارے لئے بھی ضروری ہوجاتاہے کہ ہم بھی ان کے افکار وخیالات کو علم وتحقیق کی میزان پر تولیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ان کا مقام بڑااوربلند ہے؛لیکن جب حضرت شاہ ولی اللہ اپنے سے بڑوں لوگوں کے افکار وخیالات پر علم وتحقیق کی روشنی میں تنقید کرسکتے ہیں تو یہ حق ان کے چھوٹوں کوبھی ملناچاہیے کہ وہ بھی اپنے علم وتحقیق کی روشنی میں ان کے افکار وخیالات کاجائزہ لیں؛کیونکہ تنقید اورتحقیق سے ہی کاروان علم رواں دواں ہے او رآسمان علم میں فکرونظر کے اختلاف اوراختلاف آرا کی ضیاپاشیوں سے ہی اجالاہے،مختصر
گلہائے رنگارنگ سے ہے زینت چمن
اے ذوق! اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
تنقید اورتحقیق سے ہی پچھلوں کی غلطیاں سامنے آتی ہیں اور اگلوں کے لیے محفوظ سفر کا راستہ تیار ہوتاہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جس شخصیت پر ہم قلم اٹھائیں، اس کا پورااحترام کریں، تنقید ہو،تنقیص نہ ہو،اپنی بات سلیقے سے کہی جائے، کہیں سے بھی ایسانہ لگے کہ مضمون نگار یا محقق نے زیر بحث شخصیت کے وقار کے خلاف کوئی بات کہی ہے،اگرکسی انتہائی غلط بات پر سخت الفاظ میں تنقید بھی کرنی ہو توبھی مناسب تعبیر کا خیال ضروری ہے کیونکہ بقول کلیم عاجزمرحوم
بات گرچہ بے سلیقہ ہوکلیم
بات کہنے کا سلیقہ چاہیے
اہل الرائے اوراہل الحدیث کا تعین
فقہی اختلاف اورتاریخ وتراجم پر لکھی گئی کسی بھی کتاب کو اٹھاکردیکھئے،اس میں دوطبقے ضرور ملیں گے، اہل الحدیث اوراہل الرائے، چاہے مسلک کا ذکر ہو ، یاشخصیات کا ،ہرجگہ آپ یہ لکھاپائیں گے کہ فلاں اہل حدیث میں سے تھا اورفلاں اہل الرائے میں سے تھا۔
رہایہ امر کہ اہل حدیث کون ہے اور اہل الرائے کون ہے؟ یہ بحث جتنی اہم تھی،عمومی طورپر اس سے اتنی ہی غفلت برتی گئی ہے اوراس کو اتنی ہی بے توجہی کے ساتھ نظراندازکیاگیاہے۔ ماضی کے بیشتر علماء اورمورخین نے عمومی طور پر اس بھاری پتھرکواٹھانے کے بجائے محض چوم کر چھوڑدیاہے اور اہل الرائے اوراہل الحدیث کی تقسیم اورمعیار کے ضمن میں کوئی فیصلہ کن بات کہنے سے قاصر رہے۔
دکتور عبدالمجید اس ضمن میں لکھتے ہیں:
واذا استثنینا قلیلا من المحققین الذین وقفوا عند ھذہ العبارۃ محاولین الرجوع بھا الی اصل اطلاقھا ومسمی اھلھا فان الکثرۃ الغالبۃ من المورخین کانوا یذکرونھا نقلا عمن سبقھم وتقلیدا لھم دون عنایۃ بمعرفۃ حقیقۃ ھذا الاطلاق ودون ادراک لعامل الزمن فی تطویرہ لھذا المصطلح بما یجعل اطلاقہ غیر متساو تماما فی عصرین مختلفین (الاتجاہات الفقہیۃ عند اصحاب الحدیث فی القرن الثالث الہجری، الناشر: مکتبۃ الخانجی، مصر. 1399 ھ ۔ 1979 م)
’’اوراگرہم ان تھوڑے سے محققین کو مستثنیٰ کردیں جنہوں نے اس عبارت پر ٹھہر کر غوروفکر کیا اور اس کے اطلاق کی اصل تک پہنچنے کی کوشش کی اور اس کے مصداق کو معلوم کرنے کی جدوجہد کی تو اکثریت ایسے مورخین کی ہے جواسے اپنے سے ماقبل کے مورخین سے ان کی تقلید کرتے ہوئے نقل کرتے ہیں، نہ وہ اس لفظ کے اطلاق کی معرفت رکھتے ہیں نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ اس لفظ میں زمانی اعتبار سے کیاتبدیلیاں اور تغیرات واقع ہوئی ہیں جس کی وجہ سے دو مختلف زمانوں میں اس کا اطلاق ایک دوسرے سے بالکل الگ ہو جاتا ہے۔‘‘
الملل والنحل کے مولف عبدالکریم الشہرستانی(متوفی548)نے سیدھی سادھی تقسیم یہ کی ہے کہ جو حجازی ہے، وہ اہل حدیث ہے اور جوعراقی ہے، وہ اہل الرائے ہے:
ثم المجتھدون من ائمۃ الامۃ محصورون فی صنفین لا یعدوان الی ثالث: اصحاب الحدیث، واصحاب الرای۔ اصحاب الحدیث: وھم اھل الحجاز133133 اصحاب الرای: وھم اھل العراق (الملل والنحل، مؤسسۃ الحلبی، 2/12)
’’اس امت کے مجتہدین کی دوقسم ہے، تیسری قسم نہیں ہے، اصحاب الحدیث اوراصحاب الرائے۔ اصحاب الحدیث، وہ حجاز والے ہیں اور اصحاب الرائے، وہ عراق والے ہیں۔
ان کی یہ رائے بتاتی ہے کہ اہل الرائے اوراہل الحدیث کااختلاف فکر ونظر کا نہیں، بلکہ مقام کا اختلاف ہے۔ جو حجاز کا ہوگا، وہ اہل الحدیث ،اورجو عراق(بغداد)سے ہے ، وہ اہل الرائے۔ یہ رائے بالبداہت غلط ہے، کیونکہ امام احمد بن حنبل اوربہت سے محدثین کا تعلق کوفہ، بصرہ اوربغداد سے ہے، لیکن وہ اہل الرائے قطعاًنہیں ہیں اورامام ربیعہ مدینہ کے ہیں، لیکن وہ ربیعۃ الرائے کے نام سے مشہور ہیں۔
بعض دیگر مصنفین جیسے ابن خلدون ودیگر نے اہل الرائے اور اہل الحدیث کی تقسیم اس طورپر کی کہ حنفی اہل الرائے ہیں اور بقیہ مالکی، حنبلی اور شافعی اہل الحدیث ہیں ،ابن خلدون لکھتے ہیں:
’’اور فقہ ان دوحصوں میں بٹ گیا،ایک طریقہ تو اہل الرائے والقیاس کا تھا جو اہل عراق تھے اورایک طریقہ اہل حدیث کا تھا،جو حجازی تھے۔ ہم اوپر بیان کرآئے ہیں کہ عراقیوں کے پاس حدیث کا ذخیرہ کم تھا، اس لئے انہوں نے کثرت سے قیاس کیے اوراس میں خوب ماہر ہوگئے ،اس لیے انہیں اہل الرائے کہاجانے لگا۔ اہل الرائے میں سب سے پیش پیش ابوحنیفہ ہیں،جن کا اورجن کے شاگردوں کا ایک مستقل مذہب ہے، اور حجازیوں کے امام مالک بن انس اوران کے بعد امام شافعی ہیں۔ علماء کی ایک جماعت نے قیاس کو نہیں مانا اور قیاس پر عمل کو غلط ٹھہرایا،یہ فرقہ ظاہریہ کاہے۔‘‘ (مقدمہ تاریخ ابن خلدون،2/283،ترجمہ مولاناراغب رحمانی،ناشرنفیس اکیڈمی،اردو بازار کراچی،طبع یازدہم 2001)
ابن خلدون اور اس تقسیم کے حامیوں نے یہ سوال تشنہ چھوڑدیاکہ شوافع ،حنابلہ اورمالکیہ اہل حدیث کیوں ہیں اور حنفیہ اہل الرائے کیوں ہیں؟ بعض مصنفین بشمول شہرستانی وغیرہ نے اس سوال کا تحقیقی جواب دینے کے بجائے ایک سطحی ساجواب دے دیاکہ ’’احناف کے یہاں قیاس بہت ہے اور وہ قیاس جلی کو اخبار آحاد پر مقدم کردیتے ہیں‘‘۔ (الملل والنحل، ۲/۱۲)
اولاًتوکثرت اورقلت ایک اضافی اورنسبتی امر ہے۔ امام احمد بن حنبل کے یہاں قیاس کم ہے اوراس کے مقابلہ میں امام شافعی اورامام مالک کے یہاں قیاس زیادہ ہے ،ایسے میں امام احمد کی نسبت سے شافعیہ اورمالکیہ کو اہل الرائے کہناچاہئے؛ لیکن ایسانہیں کہاجاتا۔ علاوہ ازیں قلت وکثرت کی بنیاد پرکسی علمی بحث کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔ دوسرے یہ الزام کہ ’’احناف خبر واحد پر قیاس جلی کو مقدم کردیتے ہیں‘‘ علم وتحقیق کی نگاہ میں غلط ہے کیونکہ محققین احناف بشمول امام کرخی ودیگر اس کی تغلیط کرچکے ہیں۔ یہ درحقیقت عیسیٰ بن ابان رحمہ اللہ کی رائے تھی (۲) جسے بعد میں کچھ دیگر متاخرین فقہاء احناف نے پسند کیا،لیکن یہ رائے نہ امام ابوحنیفہ کی تھی ،نہ صاحبین کی ،نہ امام زفر کی اورنہ متقدمین فقہائے احناف کی اوراس پر تفصیلی بحث کشف الاسرار کے مصنف علامہ علاء الدین البخاری نے کی ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: کشف الاسرار شرح اصول البزدوی (۲/۳۷۸)، دار الکتاب الاسلامی)
حضرت شاہ ولی اللہ اور اہل الحدیث واہل الرائے کی تعیین
اہل الرائے اور اہل الحدیث کے درمیان فرق وامتیاز پر بحث حضرت شاہ ولی اللہ نے بھی اپنی کئی تصنیفات میں کی ہے اور اہل حدیث واہل الرائے کے درمیان مرکزی اختلاف کیاہے،اس کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ بلامبالغہ یہ کہاجاسکتاہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ نے اس معاملہ پر نئے سرے سے غورکیا اور اہل الحدیث اور اہل الرائے کے درمیان جوہری فرق اور حد فاصل بیان کرنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ دیگرتمام متقدم مورخین وتراجم وتذکرہ نگاروں سے ممتاز ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اہل الرائے اور اہل الحدیث کے درمیان فرق پر مختلف کتابوں میں اظہار خیال کیاہے، اس میں سب سے زیادہ بنیادی حیثیت ان کی الانصاف فی بیان سبب الاختلاف کوحاصل ہے۔ پھر یہی بحث حجۃ اللہ البالغہ میں بھی موجود ہے، اس کے علاوہ مختصر انداز میں حضرت شاہ صاحب نے اہل الرائے اوراہل الحدیث کے درمیان فرق پرمسویٰ شرح مؤطا میں بھی بحث کی ہے۔ چونکہ حضرت شاہ صاحب کی اس موضوع پر مستقل اور جامع کتاب الانصاف فی بیان سبب الاختلاف ہے، لہٰذا اس بحث میں شاہ صاحب کے خیالات کے تعلق سے بنیادی طورپر اسی کتاب کے مندرجات سے ہم بحث کریں گے۔
اسباب اختلاف کے قطعی اوریقینی علم کا دعویٰ
الانصاف کے شروع میں حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ نے ایک عجیب وغریب دعویٰ فرمایاہے،حضرت محدث دہلوی لکھتے ہیں:
اما بعد فیقول الفقیر الی رحمۃ اللہ الکریم ولی اللہ بن عبد الرحیم اتم اللہ تعالیٰ علیھما نعمہ فی الاولی والاخری ان اللہ تعالیٰ القی فی قلبی وقتا من الاوقات میزانا اعرف بہ سبب کل اختلاف وقع فی الملۃ المحمدیۃ علی صاحبھا الصلوات والتسلیمات واعرف بہ ما ھو الحق عند اللہ وعند رسولہ ومکننی من ان ابین ذلک بیانا لا یبقی معہ شبھۃ ولا اشکال (الانصاف، تحقیق شیخ عبدالفتاح ابوغدہ ،مطبع دارالنفائس،1986)
’’بہرحال اللہ کریم کی رحمتوں کا محتاج ولی اللہ بن عبدالرحیم (اللہ دونوں کودنیا وآخرت کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے ) کہتاہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے میرے دل میں کسی وقت ایک ایسی میزان ڈال دی جس سے میں ملت محمدیہ کے ہرواقع شدہ اختلاف کو جانتاہوں اور یہ بھی جانتاہوں کہ اللہ اوراس کے رسول کے نزدیک حق کیاہے اور اللہ نے اس پر بھی مجھے قدرت دی ہے کہ اس میں ان اسباب اختلاف کو اسی طرح بیان کروں کہ کوئی شبہ اوراشکال باقی نہ رہے۔‘‘
حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کا یہ دعویٰ بڑاعجیب وغریب ہے۔ اسباب اختلاف پر علماء شروع سے ہی لکھتے چلے آرہے ہیں، لیکن کسی نے بھی اس طرح کا دعویٰ نہیں کیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ کے ممدوح علامہ ابن تیمیہ نے بھی ’’رفع الملام‘ ‘کے نام سے اس موضوع پر ایک بیش قیمت کتاب لکھی ہے؛ لیکن انہوں نے بھی اس کا دعویٰ نہیں کیا کہ میں ملت کے ہراختلاف سے واقف ہوں اور یہ بھی جانتاہوں کہ اس میں اللہ اوراس کے رسول کے نزدیک حق کیاہے۔ اس دعویٰ پر شیخ عبدالفتاح ابوغدہ، جنہوں نے الانصاف کواپنی تحقیق سے طبع فرمایاہے، نے بھی تنقید کی ہے،چنانچہ وہ حاشیہ میں لکھتے ہیں:
قول المولف133. واعرف بہ ماھو الحق عنداللہ وعند رسولہ، لایعول علیہ، فان علم ماھو الحق عنداللہ تعالیٰ وعند رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم لایمکن الجزم بہ لاحد (الانصاف، ص14)
’’مولف کا یہ کہنا کہ میں اللہ اوراس کے رسول کے نزدیک حق کیاہے، اس کو جانتاہوں، اس پر اعتماد نہیں کیاجاسکتا،کیونکہ اس چیز کاقطعی علم کہ اللہ اوراس کے رسول کے نزدیک حق کیاہے، اس کا دعویٰ کسی کے بھی حق میں نہیں کیاجاسکتا۔‘‘
ایک غلط خیال کی تردید
حضرت شاہ ولی اللہ اولاًاس غلط خیال کی تغلیط کرتے ہیں کہ یہاں صرف دوہی فرقے ہیں، ایک اہل الرائے اور دوسرے اہل الحدیث،اورتیسرا کوئی فرقہ نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہاں تیسرا فرقہ موجود ہے اور وہ ظاہریوں کی جماعت ہے:
ووجدت بعضھم یزعم ان ھناک فرقتین لا ثالث لھما، الظاھریۃ واھل الرای، وان کل من قاس واستنبط فھو من اھل الرای، کلا بل لیس المراد بالرای نفس الفھم والعقل فان ذلک لا ینفک من احد من العلماء، ولا الرای الذی لا یعتمد علی سنۃ اصلا فانہ لا ینتحلہ مسلم البتۃ، ولا القدرۃ علی الاستنباط والقیاس فان احمد واسحاق بل الشافعی ایضا لیسوا من اھل الرای بالاتفاق (الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف، ص 93)
’’بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ فقہائے اسلام کی صرف دوہی جماعتیں ہیں، تیسراکوئی فرقہ نہیں ہے، ایک ظاہری اور دوسرے اہل الرائے اورقیاس واستنباط سے کام لینے والے سبھی اہل الرائے ہیں ۔ ایسی بات ہرگز نہیں ہے۔ رائے سے مراد صرف سمجھ اورعقل نہیں ہے کیونکہ اس سے علمائے اسلام کا کوئی فرد بھی خالی نہیں ہے اور نہ ہی رائے سے مراد یہ ہے جس میں سنت پر بالکلیہ اعتماد ہی نہ ہو،کیونکہ اس کی جانب کوئی مسلمان کبھی نہیں جاسکتا،اور نہ استنباط وقیاس کی صلاحیت ہے کیونکہ امام احمد،امام اسحاق اورامام شافعی بالاتفاق اہل الرائے میں سے نہیں ہیں۔‘‘
میراخیال ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ اس طرح شہرستانی کے رائے کی تردید فرمارہے ہیں جس نے امت کے ائمہ مجتہدین کو دوقسم میں محصور کیاہے اورتیسری کسی قسم سے انکار کیاہے۔
عہد صحابہ اور اکابر تابعین کے اختلاف کی نوعیت
حضرت شاہ ولی اللہ اولاًدور صحابہ کا حال بیان کرتے ہیں کہ ان میں اجتہاد کا طریقہ کیاتھا؟ پھر یہ بتاتے ہیں کہ فروعی مسائل میں صحابہ کرام کے درمیان اختلاف کیوں ہوااوراس کی وجوہات کیاتھیں؟اس کے بعد وہ دور تابعین میں آتے ہیں اور اہل مدینہ اوراہل کوفہ یاعراق کے نمائندے سعید بن المسیب اور امام ابراہیم نخعی کے فقہی اجتہاد کے طریقہ پر گفتگو کرتے ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن المسیب اور ابراہیم نخعی دونوں ہی اپنے شہر کے متقدمین کبار تابعین اور صحابہ کرام کے فقہ وفتاویٰ کو اپنے لیے مشعل راہ مانتے تھے اور دیگر شہروں میں مقیم صحابہ کرام سے زیادہ لگاؤان کا اپنے شہر کے فقہاء صحابہ کرام سے تھا۔ جب صحابہ کرام وتابعین عظام میں کسی مسئلہ کے درمیان اختلاف ہوتا تو ہرایک عالم (مجتہد) کے نزدیک اپنے شہر کے علماء اورمشائخ کا قول زیادہ پسندیدہ ہوتا کیونکہ وہ اس سے زیادہ واقف تھے اور جن اصولوں کی رعایت پر یہ قول مبنی تھا، اس سے زیادہ باخبر تھے اور ان کو اپنے شہر کے علماء ومشائخ سے دلی لگاؤ تھا،چنانچہ حضرت عمرؓ، عثمانؓ، عائشہؓ، ابن عمرؓ ، ابن عباسؓ، زید بن ثابتؓ اوران کے شاگرد مثلاً سعید بن المسیب حضرت عمر کے فیصلوں اورحضرت ابوہریرہ کی روایتوں کے بڑے حافظ تھے،یامثلاً حضرت عروہ،سالم، عکرمہ،عطاء بن یسار، قاسم، عبیداللہ بن عبداللہ، زہری، یحییٰ بن سعید، زید بن اسلم اور ربیعہ وغیرہ حضرات کا مسلک اہل مدینہ کے لیے دیگر شہروں کے فقہاء کے مسلک سے زیادہ قابل قبول تھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اوراہل مدینہ کی فضیلت بیان کی ہے اور علاوہ ازیں یہ بات بھی ہے کہ مدینہ ہردور میں علماء اورفضلاء کا مسکن وماویٰ رہاہے۔ اسی باعث امام مالک اہل مدینہ کے عمل کو ایک دلیل کے طورپر تسلیم کرتے ہیں اور امام مالک کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ اہل مدینہ کے اجتماعی تعامل کو حجت مانتے ہیں۔ امام بخاری نے ایک باب باندھاہے، باب فی الاخذ بما اتفق علیہ الحرمان، یعنی جس بات پر اہل مکہ واہل مدینہ دونوں کا اتفاق ہو، اسی کو اختیار کرنے کا بیان۔
شاہ صاحب مزید لکھتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعودؓ اوران کے اصحاب کا مذہب،حضرت علی،شریح اور شعبی کے فیصلے اور ابراہیم نخعی کے فتاویٰ جات کوفہ والوں کی نظر میں دیگر شہروں کے فقہاء وعلماء کے اقوال کی بہ نسبت زیادہ قابل ترجیح ہیں، اسی باعث جب حضرت مسروق، حضرت زید بن ثابت کے قول کی طرف مسئلہ تشریک میں مائل ہوئے تو حضرت علقمہ نے ان سے کہا ’’کیا کوئی عبداللہ بن مسعود سے بھی زیادہ قابل وثوق ہے؟‘‘ حضرت مسروق نے جواب دیاکہ ایسی بات تونہیں ہے، لیکن میں نے زید بن ثابت اور اہل مدینہ کو تشریک(زمین بٹائی پر کاشت کے لیے دینا)پر عمل کرتے دیکھاہے۔
حاصل کلام یہ کہ کسی شہر کے فقہا اور مشائخ جس قول پر متفق ہو جاتے، اس پر یہ مجتہدین مضبوطی سے جم جاتے اور امام مالک کا یہ فرمان اسی قبیل سے ہے کہ جس سنت کے بارے میں اہل مدینہ میں اختلاف نہیں ہے، وہی ہمارے نزدیک قابل وثوق ہے۔ اوراگر شہر کے علماء ومشائخ میں کسی مسئلہ میں اختلاف ہوتا تو جورائے دلیل کے اعتبار سے قوی اور قابل ترجیح ہوتی،اس کو اپناتے۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ وہ غورکرتے کہ کس قول کی جانب علماء وفقہاء کی اکثریت ہے، کس قول کی بنیاد قیاس پر ہے اوراورکس قول کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے۔ امام مالک کا یہ قول بھی اسی قبیل سے ہے کہ ’’یہ جو میں نے سناہے، سب سے اچھی بات ہے‘‘۔ پھر جب یہ فقہاء اپنے شہر کے صحابہ وتابعین کے اقول وآثار میں پیش آمدہ مسئلہ کا حل نہ پاتے توان کے کلام اسے استنباط مسائل کرتے اوران کے اشارات ومقتضیات کی پوری تلاش کرتے۔ (الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف ص38)
اہل الرائے اور اہل الحدیث کے استنباط واجتہادکی نوعیت
اہل حدیث اوراہل الرائے کی تاریخ حضرت شاہ ولی اللہ تابعین عظام سے شروع کرتے ہیں۔ ایک جانب وہ سعید بن المسیب کو اہل حرمین کا نمائندہ بتاتے ہیں ،دوسری جانب وہ ابراہیم نخعی کو اہل کوفہ وعراق کا نمائندہ بتاتے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں کہ ایک گروہ تو ایساتھاجس کو ہر مسئلہ میں احادیث رسول کی تلاش وجستجو تھی، اس غرض سے وہ شہروں شہروں ملکوں ملکوں ملکوں مارے پھرتے رہے۔ جہاں کہیں بھی حدیث رسول یا آثار صحابہ کا سراغ پایا، وہاں جاکر اس حدیث کو حاصل کیا اور اس طرح ان کے پاس ہرمسئلہ کے جواب میں یاتو حدیث رسول یاقول صحابی یاتابعین عظام میں سے کسی ایک کا قول فراہم ہوگیااور احادیث وآثار کے وسیع ذخیرہ کی بنیاد پر انہوں نے اپنی فقہ کی تدوین احادیث وآثار پر رکھی۔ حضرت محدث دہلوی لکھتے ہیں:
’’حاصل کلام یہ کہ جب انہوں نے فقہ کو ان قواعد کے مطابق تیار کرلیا تو فقہی مسائل میں سے کوئی مسئلہ جس پر متقدمین علماء نے اپنی رائے دی ہو،اورجوان کے زمانہ میں واقع ہواہو،کوئی مسئلہ ایسانہ تھا جس میں انہوں نے حدیث مرفوع،متصل اورمرسل ،موقوف ،صحیح ،حسن اور اعتبار کے لیے صالح سند سے نہ پائی ہو، یاحضرت ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما یادیگر خلفائے راشدین اور شہروں کے قاضی اورفقہاء کا کوئی اثر نہ پایاہو یا انہوں نے ان احادیث وآثار کے عموم ،اشارہ یااقتضاء سے استنباط نہ کیا،تواس طورپر اللہ نے ان کے لیے سنت پر عمل کرنا آسان کردیا۔‘‘ (الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف، ص 54)
دوسرا گروہ وہ تھاجسے احادیث رسول بیان کرنے میں تو ڈرلگتاتھا لیکن وہ رائے سے جواب دینے اور فتوی کے اظہار میں ہچکچاتے نہیں تھے:
’’اوران کے بالمقابل مالک ،سفیان اوران کے بعدکے دور میں ایک ایساگروہ تھاجسے مسائل کے بیان کرنے اورفتویٰ دینے میں کوئی باک نہیں تھا اوران کا کہنایہ تھاکہ فقہ پر ہی دین کی بنیاد ہے، لہٰذا اس کی اشاعت ہونی چاہیے اور وہ لوگ رسول اللہ سے روایت کرنے اور کسی کی نسبت آپ کی جانب کرنے میں بڑے محتاط تھے۔ شعبی کہتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد والوں تک اکتفاء کرنا ہمیں زیادہ پسند ہے، کیونکہ اگرخدانخواستہ کچھ کمی بیشی ہوئی بھی تو صحابہ کے تعلق سے ہوگی اور ابراہیم کہتے ہیں کہ میں کہوں ’’عبداللہ نے کہا‘‘، ’’علقمہ نے کہا‘‘، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں کہوں کہ حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔ ‘‘ (الانصاف، ص 57)
حضرت محدث دہلویؒ آگے چل کر ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ چونکہ الحدیث کے بالمقابل حضرات(جس کو آگے چل کر حضرت شاہ ولی اللہ اہل الرائے سے یاد کریں گے، یہاں پر انہوں نے قوم سے یاد کیاہے)کو فتوی دینے اورمسئلہ کے استنباط میں گہری دلچسپی تھی ،احادیث کا سرمایہ ان کے پاس نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ احادیث وآثار پر مسائل کی بنیاد رکھ سکیں ،لہٰذا اس گروہ نے تخریج کی بنیاد پر مسائل کا استنباط کیا،چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’اس طرح سے(اہل الرائے) کے احادیث سے فقہ ومسائل کی ضرورت دوسرے طریقہ سے پوری ہوئی اور ایسااس لئے ہواکہ ان کے پاس احادیث وآثار کا اتناسرمایہ نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ ان اصول پر فقہ کا استنباط کرتے جن پر اہل الحدیث نے اپنے فقہ کی بنیاد رکھی ہے اور ان کا یہ مانناتھاکہ ان کے ائمہ تحقیق کے بلند مرتبہ کے حامل ہیں اور ان کے دل بھی اپنے مشائخ کی جانب زیادہ مائل تھے جیساکہ علقمہ نے کہا: کیاکوئی ان میں عبداللہ بن مسعود سے بھی زیادہ پختہ نظررکھتاہے اورامام ابوحنیفہ نے فرمایا: ابراہیم، سالم سے بڑے فقیہ ہیں اور اگرشرف صحبت کا لحاظ نہ ہوتا میں کہتاکہ علقمہ، ابن عمر سے بڑے فقیہ ہیں۔ اور ان کو ایسی ذہانت اور زور فہمی عطاہوئی تھی اوران کا ذہن ایک بات کی نظیر سے دوسری بات کی نظیر کی جانب بڑی تیزی سے منتقل ہوتاتھا۔ ان صلاحیتوں کے ذریعے وہ مسائل کا جواب اپنے مشائخ کے اقوال پر تخریج کرکے دیا کرتے تھے اور ہر ایک کے لیے اپنی خلقت کے لحاظ سے کام آسان ہو جایا کرتا ہے (ہر کسے رابہر کارے ساختند)۔ اس طرح فقہ کی تدوین تخریج کی بنیاد پر عمل میں آئی۔‘‘ (الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف ص57۔58)
تخریج کی وضاحت
اس کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ ہمیں بتاتے ہیں کہ تخریج کیاہے اور کس طرح کام میں لایاجاتاہے، چنانچہ وہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اس کی وضاحت یہ ہے کہ ہرایک اپنی جماعت کے ترجمان اور مشائخ کے اقوال کی سب سے زیادہ پرکھ رکھنے والے اور ترجیح میں صائب نظروالے کی کتاب یاد کرلے اور ہرمسئلہ میں غورکرے کہ حکم کی وجہ کیاہے توجب بھی کسی پیش آمدہ مسئلہ کے بارے میں سوال ہو یاکوئی ضرورت آن پڑے تواولاًاپنے مشائخ کے اقوال جو اس کو یاد ہیں، اس میں غورکرے ،اگراس میں جواب مل جائے توبہتر ورنہ ان کے کلام کے عموم کا جائزہ لے اور اسی عموم میں پیش آمدہ مسئلہ کو منطبق کرے یاان کے کلام میں کسی ضمنی اشارہ کا علم ہو تواس سے استنباط کرے اوربسااوقات کلا میں ایسے اشارات اور تقاضے ہوتے ہیں،جس سے مقصود کوسمجھاجاسکتاہے۔
بسااوقات تصریح کردہ مسئلہ کی کوئی نظیرموجود ہوتی ہے جس پر زیربحث مسئلہ کو محمول کیاجاتاہے اور بسااوقات وہ صریح حکم کی علت میں تخریج یاسبر (۳)(مماثلت)اورحذف (درگزر) کے ذریعہ غورکرتے ہیں اوراس کی علت کو غیرمصرح مسئلہ پر منطبق کرتے ہیں اور بسااوقات ایسابھی ہوتاہے ان کے ایک ہی مسئلہ میں دوقول ہوتے ہیں۔ اگران کو قیاس اقترانی (۴) یا قیاس شرطی (۵) کے طرز ترتیب دیاجائے تواس سے مسئلہ کا جواب معلوم ہوجاتاہے۔
کبھی تخریج اس طورپر ہوتی ہے کہ ان شیوخ کے اقوال میں کوئی بات مثال یااصل مسئلہ کی ایک قسم کے طورپر ہوتی ہے ؛لیکن تعریف کے لحاظ سے وہ جامع مانع نہیں ہوتی تووہ اس سلسلے میں اہل زبان کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس مسئلہ کی ذاتیات(خصوصیات )حاصل کرتے ہیں،جامع مانع کی تعریف ،مبہم کی نشاندہی اور مشکل کی تمیز بہم پہنچاتے ہیں۔
بسااوقات ایساہوتاہے کہ ان کے کلام میں دوپہلوؤں کا احتمال ہوتاہے تو وہ کسی ایک پہلو کو ترجیح دینے میں غوروفکر کرتے ہیں،کبھی دلائل ومسائل کے درمیان جو پردہ پڑاہے اس کی نقاب کشائی کرتے ہیں ،کبھی ایسابھی ہوتاہے کہ اصحاب تخریج اپنے ائمہ کے سکوت ،یافعل یااسی طرح کی کسی دوسری بات سے استدلال کرتے ہیں اوریہ سب (جوکچھ بیان ہوا)تخریج ہی ہے۔‘‘ (الانصاف، ص 61)
اہل الرائے سے مراد احناف ہیں
ماقبل میں آپ نے پڑھاکہ یہاں تین گروہ ہیں، اہل الرائے،اہل الحدیث اورظاہریہ، ظاہریہ سے پوری کتاب میں کوئی بحث نہیں کی گئی ، بحث صرف اہل الحدیث اوراہل الرائے سے ہے۔ حضرت شاہ صاحب جب بتاتے ہیں کہ اہل الحدیث کے بالمقابل ایک گروہ وہ تھا جو اپنے مشائخ کے اقوال میں تخریج کرکے پیش آمدہ مسئلہ کا جواب دیتاتھا تو یہ بات متعین ہوگئی تھی کہ وہ اہل الرائے کا ہی بیان کررہے ہیں کہ اہل الرائے کا کام تخریج کاہے؛ آگے چل کر حضرت شاہ ولی اللہ پوری صراحت اوروضاحت سے کہتے ہیں کہ اہل الرائے کاہی کام تخریج کاہے:
المراد من اھل الرای قوم توجھوا بعد المسائل المجمع علیھا بین المسلمین او بین جمھورھم الی التخریج علی اصل رجل من المتقدمین وکان اکثر امرھم حمل النظیر علی النظیر والرد الی اصل من الاصول دون تتبع الاحادیث والآثار (الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف، ص93)
’’اہل الرائے سے مراد ایساگروہ ہے جنہوں نے مسلمانوں میں متفق علیہ مسائل ایسے مسائل جن پر جمہور متفق تھے ،متقدمین میں سے کسی ایک شخص کی رائے پر تخریج کی اوران کے کام کا زیادہ حصہ نظیر پر نظیر کوحمل کرنا،یافروع کو اصول میں سے کسی اصل کی جانب لوٹانے کاتھا،احادیث اورآثار کی تلاش وجستجوکیے بغیر۔‘‘
اہل الحدیث اور اہل الرائے کے درمیان فرق تخریج کا ہے، یہ نظریہ شاہ ولی اللہ نے انصاف کے دیگر مقامات اور حجۃ اللہ البالغہ وغیرہ میں بھی دوہرایاہے۔ ایسابھی نہیں ہے کہ شاہ ولی اللہ کا یہ نظریہ تخریج بعد کے فقہاء احناف کے لیے ہو جس کو کہ اصحاب تخریج اور اصحاب المذاہب سے فقہ حنفی میں یاد کیاگیاہے، بلکہ حضرت شاہ ولی اللہ اس تخریج کااطلاق امام ابوحنیفہ پر بھی کرتے ہیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
وکان ابو حنیفۃ رضی اللہ عنہ الزمھم بمذھب ابراھیم واقرانہ لا یجاوزہ الا ما شاء اللہ وکان عظیم الشان فی التخریج علی مذھبہ دقیق النظر فی وجوہ التخریجات مقبلا علی الفروع اتم اقبال وان شئت ان تعلم حقیقۃ ما قلنا فلخص قول ابراھیم من کتاب الآثار لمحمد رحمہ اللہ وجامع عبد الرزاق ومصنف ابی بکر بن ابی شیبۃ ثم قایسہ بمذھبہ تجدہ لا یفارق تلک المحجۃ الا فی مواضع یسیرۃ وھو فی تلک الیسیرۃ ایضا لا یخرج عما ذھب الیہ فقھاء الکوفۃ (الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف، ص39)
’’امام ابوحنیفہ، حضرت ابراہیم نخعی اوران کے ہم عصروں کو مسلک کو سب سے زیادہ مضبوطی سے پکڑنے والے تھے،کبھی کبھار ہی اس سے تجاوز کرتے تھے،ابراہیم کے مذہب پر تخریج کرنے میں آپ کوبڑی مہارت تھی ،تخریجات کی مختلف صورتوں آپ نہایت باریک بیں تھے،فروعات میں پوری توجہ تھی۔ اگرتم میری باتوں کی حقیقت جانناچاہتے ہو تو ابراہیم نخعی کے اقوال کو کتاب الآثار سے منتخب کرواورجامع عبدالرزاق سے اورمصنف ابن ابی شیبہ سے،پھراس کا موازنہ امام ابوحنیفہ کے مذہب سے کرو،تم پاؤگے کہ وہ اس ڈگر سے بہت کم ہٹے ہیں اوراس تھوڑے میں بھی وہ دیگرفقہائے کوفہ کے اقوال سے باہر نہیں نکلے ہیں۔‘‘
یہی بات حضرت شاہ ولی اللہ نے صاحبین کے بارے میں بھی کہی ہے:
’’اوروہ دونوں یعنی ابویوسف اورمحمد بھی ہمیشہ بقدراستطاعت ابراہیم نخعی کے طریقہ پر گامزن رہے جیساکہ امام ابوحنیفہ کا شیوہ تھا۔ امام ابوحنیفہ سے صاحبین کا اختلاف دوامور میں تھا۔ یاتو امام ابوحنیفہ کی ابراہیم کے مذہب پر کوئی تخریج ہو جس سے یہ دونوں متفق نہ ہوں ،یاپھر ابراہیم اوران کے معاصرین کے ایک مسئلہ میں مختلف اقوال ہوں اوریہ دونوں اس میں امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کی ترجیح میں اختلاف کریں (یعنی امام ابوحنیفہ مختلف اقوال میں سے کسی ایک کو ترجیح دیں اوریہ دونوں کسی دوسرے کو)۔ ‘‘(الانصاف، ص 40)
اب تک کی بحث کا خلاصہ یہ ہے :
۱: امت میں اگرچہ تین گروہ ہیں لیکن زیر بحث کتاب میں دوہی گروہ سے بحث ہے، ایک اہل الحدیث اوردوسرا اہل الرائے۔
۲: اہل حدیث حضرات نے حدیث وآثار کی تلاش میں ملکوں اورشہروں کی خاک چھانی اور اس طرح ان کے پاس احادیث کابڑاذخیرہ ہوگیا اور ہرقسم کے مسئلہ کے جواب کے لیے ان کے پاس حدیث رسول، آثارصحابہ وتابعین عظام میں سے کوئی قول موجود رہا۔
۳: دوسرا گروہ ان کا تھاجو احادیث کی تلاش میں شہروں کی خاک نہیں چھان سکتے تھے،ان کے پاس احادیث کا سرمایہ کم تھا، مسائل کے جواب دینے میں انہوں کوئی جھجھک یاہچکچاہٹ نہیں تھی، انہوں نے اپنے مشائخ اوراساتذہ کے اقوال پر تخریج کرکے پیش آمدہ مسائل کا جواب دیا۔
۴: تخریج کرنے والا گروہ اہل الرائے کا تھا۔
۵: امام ابوحنیفہ اور صاحبین اہل الرائے ہیں۔
۶: ان کابھی کام یہی تھاکہ وہ ابراہیم اوران کے ہم عصرکوفی فقہاء کے اقوال پرتخریج کے پیش آمدہ مسائل کا جواب دیں۔
نظریہ تخریج پرتنقید کرنے والے ایک نگاہ میں
حضرت شاہ ولی اللہ کا نظریہ تخریج ایک نیانظریہ ہے۔ میرے علم کی حد تک ان سے قبل کسی بھی اہل علم نے اہل الرائے کا امتیازی وصف ’’تخریج ‘‘نہیں بتایاہے اورنہ ہی کسی نے یہ دعویٰ کیاہے کہ اہل الرای اوراہل الحدیث کے درمیان جوہری فرق تخریج کاہے۔ میرے علم ومطالعہ کی حد تک برصغیر کے کسی عالم نے نظریہ تخریج پرتنقید نہیں کی ہے، البتہ عرب علماء میں سے شیخ ابوزہرہ نے ابوحنیفۃ: حیاتہ وعصرہ وآراہ وفقھہ میں اورشیخ عبدالمجید محمود عبدالمجید نے الاتجاھات الفقھیۃ میں شاہ ولی اللہ دہلوی کے نظریہ تخریج پر تنقید کی ہے۔ ان دونوں کے علاوہ علامہ زاہد الکوثری (۶) نے بھی شاہ ولی اللہ پر تنقید کی ہے لیکن اس کی حیثیت نظریہ تخریج پر تنقید کی نہیں بلکہ عمومی نوعیت کی ہے اورحسب معمول سخت لفظوں میں تنقید کی ہے۔
حواشی
1۔ وصیت نامہ ،مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ،ص: ۵۲۷،یہ وصیت نامہ درحقیقت تفہیمات الٰہیہ کے آخر میں شامل ایک چھوٹا سا جزہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں:’’ اورفقہ کی جزئیات وتفریعات کو ہمیشہ کتاب وسنت کے روبرو پیش کریں،جوان کے موافق ہو، اسے قبول کریں اورجونہ ہو،اسے مسترد کردیں‘‘۔
2۔ حضرت عیسیٰ بن ابان کی رائے بھی مطلقاً یہ نہیں ہے کہ قیاس کے سامنے خبر واحد کو رد کردیاجائے بلکہ ان کی رائے تین چار شرطوں کے ساتھ مقید ہے۔ (دیکھیں سہ ماہی بحث ونظر کا شمارہ نمبر ۷/۱۷،جنوری تا مارچ، ص ۱۹ تا ۴۶)عملی لحاظ سے دیکھیں تو یہ اختلاف محض لفظی بن کر رہ جاتاہے ،عیسیٰ بن ابان کی شرائط یہ ہیں: 1:راوی فقہ اوراجتہاد میں معروف نہ ہو، 2:اس مفہوم کی تائید کرنے والی دیگر روایات نہ ہو، 3:صحابہ اورتابعین نے مذکورہ راوی کی دیگر روایات پر انکار کیا یاپھر زیر بحث خبر پر اعتراض کیاہو، 4:دیگر مجتہدین صحابہ کرام اورتابعین نے اس پرعمل نہ کیاہو۔(تفصیل کے لیے دیکھئے:الفصول فی الاصول ،امام جصاص رازی یاپھراصول السرخسی)
3۔ ایک صطلاحی لفظ ہے ،جس کا مطلب یہ ہے کہ اصل کے تمام اوصاف اس فرع پر منطبق کیاجائے ،جس کو اصل پر قیاس کیاجارہاہے اور اس وصف کو لے کر جواصل اورفرع میں مشترک ہے باقی سے صرف نظر کرلیاجائے تاکہ حکم کی علت متعین ہوجائے۔
4۔ قیاس اقترانی منطق کی اصطلاح میں اس قیاس کو کہتے ہیں جس کے مقدمات صغریٰ وکبریٰ میں نتیجہ یااس کی نقیض بعینہ موجود نہ ہو بلکہ دلیل سے نتیجہ برآمد ہوتاہو، یعنی وہ دلیل مشتمل برنتیجہ نہیں بلکہ مقترن بالنتیجہ ہو ،مثلاً عالم متغیر ہے اورہرمتغیر حادث ہے ،لہٰذا عالم حادث ہے ،یہ نتیجہ اس دلیل سے نکلتاہے۔
5۔ قیاس شرطی وہ ہے جس کے دونوں مقدمے شرطیہ ہوں یعنی جس میں کسی چیز کیلئے کسی دوسری چیز کے ثبوت یاعدم ثبوت کا حکم لگایاگیاہو،اس قیاس میں نتیجہ بعینہ موجود ہوتاہے مثلاًکوئی کہے کہ اگرتم جھوٹ بولے تو تم ذلیل ہوگے، لیکن جھوٹ نہ بولے تو ذلیل نہ ہوگے (یہ نتیجہ خود قیاس کے مقدمات یعنی صغریٰ وکبریٰ میں بعینہ موجود ہے،اسے شرطی اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں جملہ شرطیہ ہوتاہے۔ (فقہی اختلافات کی اصلیت ،ترجمہ الانصاف ،ص68)
6۔ شیخ زاہد الکوثری سلطنت عثمانیہ کے نائب شیخ الاسلام تھے،مصطفی کمال کے انقلاب کے بعد انہوں نے ترکی سے ہجرت کی اورمصر آکر بسے۔ علم کی گہرائی، گیرائی اوروسعت مطالعہ میں وہ علامہ کشمیری کے مثل تھے، اسی کے ساتھ نادر مخطوطات کے معلومات ،خوف خدا اورتدین میں بھی اپنی نظیر آپ تھے،جس کی مثال شیخ ابوزہرہ نے ان کے حوالہ سے اپنے تاثراتی مضمون میں پیش کیاہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے بڑے ناقد تھے۔ ان کی زندگی کا ایک وصف شیخ الاسلام ابن تیمیہ سے ملتاجلتاہے، ابن تیمیہ کے بارے میں ذہبی نے لکھاہے کہ علماء ان کے علم کے معترف تھے لیکن ان کی شدت اورسخت کلامی سے نالاں تھے، بعینہ یہی بات ان کے تعلق سے کہی جاسکتی ہے کہ ان کا علم وفضل اپنوں کو توچھوڑیے، مخالفین تک میں مسلم تھا۔ معلمی ،البانی جیسے انتہائی شدید مخالفین نے ان کی علمی عظمت کااعتراف کیاہے، مگر ان کی سخت کلامی کی وجہ سے بات بگڑتی چلی گئی اورتانیب الخطیب میں بعض ائمہ پر سخت کلامی کی وجہ سے ان کے خلاف مخالفت کا ایک طوفان برپاہوگیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کتنا سچا ہے کہ اللہ نرمی پرجو دیتاہے، وہ سختی پر نہیں دیتا۔
(جاری)
مکاتیب
ادارہ
مکرمی مولانا عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ امید ہے مزاج بخیریت ہوں گے ۔
آپکی کتاب’’فقہائے احناف اور فہم حدیث‘‘ پڑھ کر ناقابل بیان خوشی ہوئی۔ احادیث میں احناف کی بے شمار تاویلات دیکھ کر کبھی کبھار پریشانی ہوتی تھی، لیکن کتاب ہذا دیکھ کر دلی سکون حاصل ہوا۔ حنفیہ کی دقت علمی کا ایک اجمالی تعارف ہوا۔جزاکم اللہ فی الدارین ۔
اگر ایک بحث کی وضاحت فرمادیں توعین نوازش ہوگی: کتاب ہذا کے صفحہ ۴۰تا ۴۹صفحہ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ احناف کے ہاں اصول حدیث میں سے ہے کہ ’’حدیث ضعیف قیاس پر مقدم ہوگی ‘‘ جبکہ زیر مطالعہ کے کتاب کے ہی چند مواضع اس کے متعارض ہیں جہاں کہا گیا ہے کہ امام ابوحنیفہ صحیح حدیث کو ہی قبول کرتے تھے۔ مثلاً ص ۲۴ پر ہے: ’’اذا صح الحدیث فھو مذھبی‘‘ (امام ابوحنیفہ)۔ اسی طرح ص ۲۹ پر ہے : ’’کان ابو حنیفۃ یاخذ بما صح عندہ من احادیث‘‘۔ نیز چند دیگر کتب میں بھی ایسی تصریحات ہیں جو دلالت کرتی ہیں کہ یہ حنفیہ کا اصول نہیں ہے۔
مولانا عبدالحی لکھنویؒ لکھتے ہیں: ’’حدیث ضعیف سے استحباب چند شرائط سے ہوسکتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کس اصول کے تحت مندرج ہو۔(مستقل بالذات نہ ہو) نیز وہ کسی دلیل شرعی سے نہ ٹکرائے ‘‘۔ (الأجوبۃ الفاضلۃ صفحہ ۵۰طبع مکتب المطبوعات الاسلامیہ) گویا نیا حکم ثابت نہیں ہو سکتا ۔
اس بحث کے تحت صفحہ ۴۹پر عبد الفتاح ابو غدۃؒ لکھتے ہیں کہ اس بحث میں حدیث ضعیف کا استعمال متأخرین کی اصطلاح کے مطابق نہیں ہے بلکہ بعض اوقات متأخرین جس کو حسن کہتے ہیں، متقدمین اس کے لئے ضعیف کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ۔
مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں : ’’ان میں سب سے اہم شرط یہ ہے ،کہ وہ حدیث ضعیف سے کوئی نیا حکم ثابت نہیں کیا جائے گا ،حتی کہ استحباب بھی جزما ثابت نہیں ہوسکتا ۔ (’’فتاوی عثمانی ص۲۳۲ ،مکتبہ معارف القرآن)
مفتی رشید احمد لدھیانویؒ لکھتے ہیں : ’’مگر فضائل میں بھی عمل بالضعیف کے لیے یہ شرط ہے :کہ وہ کسی قاعدہ شرعیہ میں داخل ہو اور اس سے سنت نہ سمجھا جائے ۔ (’’احسن الفتاوی‘‘ص۵۱۳ایچ ایم سعید کمپنی)
چند حوالے پیش خدمت کیے گئے ہیں، اگرچہ بہت سی کتب میں یہ بحث مذکور ہے۔ باقی رہا یہ مسئلہ کہ یہ اصول بھی کتابوں میں ملتا ہے تو اس کی نفیس بحث ’’دراسات فی اصول الحدیث علی منھج الحنفیۃ‘‘ میں ملتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قول خاص طور پر درج ذیل چار حضرات سے نقل کیا جاتا ہے:
۱۔ امام ابن حزمؒ سے اس بارے میں دو قول منقول ہیں : ایک یہ کہ امام ابوحنیفہؒ کہتے ہیں کہ مرسل اور ضعیف حدیث قیاس سے اولیٰ ہے ۔ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ امام صاحب سے’’ظاہر الروایہ‘‘ میں جو نقل کیا گیا ہے، وہ اس کے خلاف ہے۔ مثلاً سفیان ثوری ؒ سے نقل کرتے ہیں : ’’اگر کتاب اللہ میں کسی عمل کی دلیل ملے تو اس پر عمل کرتا ہوں ، اگر اس میں نہ ہو تو سنت نبویہ اور’’ ثقہ لوگوں‘‘ سے منقول ’’صحیح آثار ‘‘ پر مسلک قائم کرتا ہوں ۔اگر اس میں نہ ملے تو صحابہؓ کے اقوال کی طرف رجو ع کرتا ہوں۔‘‘ نیز مقدمین میں سے کسی نے ان سے یہ نقل نہیں کیا ہے ۔
دوسرا قول یہ ہے کہ : احناف کا اس پر اجماع ہے کہ ابوحنیفہ ؒ کا مسلک ضعیف حدیث کے بارے میں یہ ہے کہ وہ قیاس پر مقدم ہوگی۔ لیکن ابن حزمؒ کا دعویٰ درست نہیں ہے کیونکہ احناف میں سے مقدمین کا اس پر اجماع ہے نہ متاخرین نے اس کو نقل کیا ہے ۔ ممکن ہے ابن حزم ؒ جن کے ہاں سب سے قبل یہ قاعدہ پایا جاتا ہے ،انہوں نے اس قاعدہ کو خود وضع کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حنفیہ کے کچھ مستدلات ان کے نزدیک ضعیف تھے جس سے ان کو یہ شبہہ ہوا ۔
۲۔ علامہ ابن تیمیہؒ ؒ کے قول کو حجت نہیں بنایا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے قول میں صراحتاً موجود ہے:
’’لاعتقاد صحتھما وان کان ائمۃ الحدیث حدیث لم یصححوھا‘‘
۳۔ علامہ ابن قیم ؒ نے یہ بات ابن حزمؒ سے نقل کی ہے، اس کی بحث گزر چکی ہے ۔
۴۔ ملاعلی قاریؒ نے بھی اس کو ذکر کیا ہے ۔ نیز ابن عابدین ؒ نے اور مولانا عبدالحئ لکھنویؒ نے بھی لکھا ہے۔ اسی طرح اس پر متاخرین کی تقریر و تشہیر بھی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان حضرات نے دفاعی مباحث میں نقل کیا ہے جس میں عام طور تسامح برتا جاتا ہے، جب کہ ان حضرات سے بھی دیگر مقامات اس کے برعکس منقول ہے۔ نیز اس کا ایک جواب علامہ ابن زکشیؒ نے بھی دیا ہے کہ ابن حزمؒ کے قول میں ضعیف سے مراد حسن ہے ۔
’’الاجوبۃ الفاضلۃ‘‘ میں صفحہ نمبر ۴۹ کے حاشیہ میں ابو غدہؒ لکھتے ہیں کہ اس حدیث ضعیف (متقدمین کی اصطلاح کے مطابق) پر تمام ائمہ نے قیاس کو مقدم کیا ہے۔ امام شافعیؒ نے جواز الصلاۃ بمکۃ فی وقت النہی کو قیاس پر مقدم کیا ہے۔ امام مالک ؒ تو حدیث مرسل، منقطع، بلاغات اور قول صحابی کوقیاس پر مقدم رکھتے ہیں۔ امام احمد ؒ بھی حدیث مرسل اور ضعیف کے بعد قیاس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ گویا یہ احناف کا خاصہ نہ رہا بلکہ سب کا یہ اصول ہے ۔
خلاصہ بحث یہ ہے کہ حنفیہ ضعیف حدیث کو قیاس پر مقدم تو کیا قابل استدلال بھی بمشکل مانتے ہیں، چنانچہ ان کی طرف اس اصول کی نسبت ٹھیک نہیں ہے۔ متاخرین کی اصطلاح میں ضعیف حدیث میں اگرچہ شبہ اتصال پایا جاتا ہے، لیکن اتصال نہ پائے جانے کی بنیاد پر مفاد اور نقصانات بھی زیادہ ہیں ۔ رسول اللہ کی طرف غلط نسبت پر جو سخت وعیدیں ہیں، حد تواتر کو پہنچتی ہیں ، نیز اس کو دین کا حصہ بنا دینا اس سے بھی زیادہ خطرناک امرہے۔
عبدالقادر عباسی
حویلیاں روڈ، ایبٹ آباد