ستمبر ۲۰۱۷ء

نصوص کی تحدید و تخصیص اور قرآن کی آفاقیتمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۴)ڈاکٹر محی الدین غازی 
سورہ یونس اور سورہ ہود کے مضامین : ایک تقابلڈاکٹر عرفان شہزاد 
دور جدید کا حدیثی ذخیرہ۔ ایک تعارفی جائزہ (۲)مولانا سمیع اللہ سعدی 
دینی مدرسہ میں استاد کا کردار (۲)مولانا محمد رفیق شنواری 
چینی زبان کی آمدمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دینی مدارس کا نصاب، جہاد افغانستان اور عسکریت پسندیمحمد عرفان ندیم 
مذہب اور سائنس کے موضوع پر ایک ورکشاپ ۔ چند تاثراتمحمد عثمان حیدر 

نصوص کی تحدید و تخصیص اور قرآن کی آفاقیت

محمد عمار خان ناصر

(ایک صاحب علم کے سوالات کے جواب میں لکھی گئی۔)

سوالات

نظم قرآن کا تصور اور تفسیر میں مخاطب کے تعین کا مسئلہ (اور اس کے ساتھ اتمام حجت کا قانون بھی) سامنے آنے کے بعد احکام کی تحدید وتعیین اور تعمیم کے مسئلے پر ذہن کافی الجھا ہوا ہے۔ رہ نمائی فرمائیں۔
اس سلسلے میں ہمارے پاس کون سے ایسے قطعی اصول ہیں جن کی رو سے ہم بعض احکام کو عہد رسالت کے ساتھ خاص اور بعض کو عمومی مانیں گے؟مولانا اصلاحی کے ہاں "تدبر قرآن" میں تخصیص کی وہ صورتیں نظر نہیں آتیں جو غامدی صاحب کے ہاں اور آپ کی کتاب "جہاد ایک مطالعہ" میں نظر آتی ہیں۔ آپ کی جہاد کی کتاب میں "خیر امت" کے خطاب کی بھی مجھے بظاہر ایسے لگتا ہے کہ صرف عہدِ صحابہ کے لیے ہے، جب کہ امت میں ہمیشہ اس اطلاق کو عمومی مان کر امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو اس امت کی ذمہ داری باور کیا گیا ہے۔ مولانا اصلاحی بھی ’’کذلک جعلناکم امۃ وسطا‘‘ کے تحت آیت کو ایک تو تاویل خاص کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور پھر اس سے عمومی طور پر امت محمدی کی ذمے داری پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ مولانا فراہی اور اصلاحی (جو ان اصولوں کے بانی اور مؤسس ہیں) کے مقابلے میں ان اصولوں کے استعمال میں زیادہ تخصیص کا پہلو نمایاں ہو رہا ہے۔ اس سے بسا اوقات یہ خدشہ سا دل میں اٹھتا ہے کہ یہ اطلاقات کی تخصیص اسلام کے تصورِ آفاقیت ہی کو محدود کر کے اسے ایک زمانی اور مکانی دین کے طور پر پیش نہ کرے۔
دوسری بات یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ اور ابن عاشور کا کہنا ہے کہ آیت جن معانی کو محتمل ہو، وہ اس سے مراد ہوں گے۔ یہ بات محض لغت کی اساس پر نہیں، بلکہ ابن عاشور نے اپنی تفسیر کے مقدمے کے آٹھویں باب میں اس مسئلے کو زیر بحث لایا ہے اور روایات اور آثارِ صحابہ کی رو سے ایسی کئی مثالیں دی ہیں کہ آیت کو سیاق وسباق کے بغیر عمومی طور پر دیکھا گیا ہے اور پھر فقہاء کے ہاں تو اس کی مثالیں بے شمار ہیں جہاں استنباطِ حکم کو لفظی دلالتوں سے اخذ کیا گیا ہے۔ شاید اسی بنیاد پر ہمارے اصولیین ، خصوصاً حنفیہ، نے دلالتِ معنی کی درجہ بندی پیش کی ہے۔اس کو اگر پیش نظر نہ رکھا جائے تو پھر قرآن ہرعہد میں کس طرح ہماری رہ نمائی کرے گا؟

جواب

میرے خیال میں پہلے سوال کے کسی جواب تک پہنچنے کے لیے درج ذیل نکات کو پیش نظر رکھنا مناسب ہوگا:
۱۔ کلام کے اولین مخاطب اور اس واقعاتی سیاق کی تعیین جس میں کلام کیا جا رہا ہے، اور اسی طرح ان معہودات ذہنیہ کا تعین جو متکلم اور کلام کے اولین مخاطب کے مابین پائے جاتے ہیں، کسی بھی کلام کی صحیح تفسیر کی ایک بنیادی شرط ہے۔ ہر کلام کچھ معہودات خارجیہ اور کچھ معہودات ذہنیہ پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے کوئی کلام ایسا نہیں ہو سکتا جو کسی آفاقی مخاطب کو فرض کر کے کیا جائے، یہاں تک کہ کلام الٰہی بھی نہیں۔ یہ خدا کے کلام کا نقص یا قدرت الٰہی کا عجز نہیں، بلکہ انسان کے ذہن کی ایک خلقی محدودیت سے پیدا ہونے والی ناگزیر ضرورت ہے جسے اس کے ساتھ کلام اور تخاطب میں کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
۲۔ یہ بھی بدیہی ہے کہ کلام کی مذکورہ تحدیدات اس کو مستلزم نہیں کہ کلام کی معنوی آفاقیت اس سے منتفی ہو جائے۔ انسانی ذہن عموماً آسانی کے ساتھ کلام کی اصل روح اور پیغام میں اور اس کے ان لوازم وعناصر میں جو اولین مخاطب اور اس کے معہودات ذہنیہ یا عادات بیانیہ سے متعلق ہوتے ہیں،امتیاز کر کے کلام کو مختلف ومتنوع سیاقات میں بامعنی اور relevant بنا لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 
۳۔ قرآن کے فہم کے معاملے میں مذکورہ دونوں پہلووں کا با معنی ہونا صدر اول کے اہل علم کے لیے بہت واضح تھا اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں اسباب النزول سے کافی اعتنا ملتا ہے اور وہ اس پہلو کو کلام کے مصداقات کی تعیین اور مشکلات کے حل کے لیے ایک بنیادی وسیلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، لیکن یہ چیز کلام الٰہی کی روح، پیغام اور تعلیمات کی آفاقیت کے حوالے سے ان کے ذہنوں میں کوئی سوال پیدا کرتی دکھائی نہیں دیتی۔
۴۔ بعد کے ادوار میں کلام الٰہی کی تفسیر میں ان دونوں پہلووں کے مابین توازن بعض پہلووں سے متاثر ہوا، خاص طور پر اسباب النزول سے استفادہ کا دائرہ تدریجاً محدود تر ہوتا چلا گیا اور ناگزیر ضرورت کے مقامات کے علاوہ عمومی طور پر کلام کی تفسیر اس مفروضے پر کی جانے لگی جیسے اس کا مخاطب کوئی آفاقی انسان ہے۔ رجحان کی اس تبدیلی کے اثرات ہدایت الٰہی کے بعض بنیادی مشمولات مثلاً عقائد، اخلاق، امثال وغیرہ کے فہم میں تو نمایاں نہیں ہوتے اور اس دائرے میں عموماً کوئی بنیادی الجھن اس کے علاوہ اہل تفسیر کو پیش نہیں آتی کہ بعض باتوں کا مصداق پوری طرح واضح نہیں ہو پاتا یا بلاغت کلام کے بعض پہلو نظر سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ تاہم قرآن کے بعض دوسرے اہم مضامین کے فہم اور تفسیر میں اس رجحان کی وجہ سے کئی الجھنیں اور پیچیدگیاں پیدا ہوئیں اور تفسیری منہج میں ایک نوع کا تضاد بھی رونما ہوا۔ 
۵۔ اس کی سب سے نمایاں مثال قرآن کے مخاطب اولین گروہوں سے متعلق اجزاء کی تفسیر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ان میں سے مشرکین مکہ اور منافقین چونکہ عملاً عہد رسالت کے بعد اپنی گروہی حیثیت میں ختم ہو گئے، اس لیے ان سے متعلق اجزاء کی تفسیر میں مفسرین مکمل طور پر عہد رسالت کے واقعاتی سیاق پر انحصار کرتے اور اسی کی روشنی میں کلام کے مصداقات اور اس کی اطلاقی حدود متعین کرتے نظر آتے ہیں، لیکن اہل ایمان کی جماعت اور یہود ونصاریٰ سے متعلق حصوں میں، اس کے برعکس، خطاب کی آفاقیت کا مفروضہ مفسرین کے انداز نظر پر غالب دکھائی دیتا ہے، حالانکہ اصول تفسیر کی رو سے ایک خاص واقعاتی صورت حال میں فریق کی حیثیت رکھنے والے سبھی گروہوں سے متعلق خطابات کی تفسیر ایک ہی منہج کے تحت ہونی چاہیے۔چنانچہ اگر مشرکین پر عذاب اور وعید اور ان کی داروگیر کے مضامین منکرین کے کچھ مخصوص گروہوں سے متعلق تھے تو فتح ونصرت، فضیلت ومنقبت اور ذمہ داری ومنصب کی وضاحت کے ضمن میں وارد بیانات بھی اہل ایمان کی اس مخصوص جماعت سے متعلق ہونے چاہییں جو اس معرکے کا دوسرا فریق تھی۔ (دونوں فریقوں کے بعض لوازم اور اوصاف جزوی طور پر بعد میں آنے والے گروہوں سے بھی متعلق ہو سکتے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ انھیں کلام کا براہ راست مصداق نہیں کہا جا سکتا۔ اس توسیعی انطباق کے الگ اصول ہیں جن کی طرف اگلے نکات میں اشارہ کیا جائے گا)۔
۶۔ اسی نوع کی الجھن احکام وقوانین کے باب میں پیش آئی۔ یہاں بھی فہم کلام کا درست منہج یہی تھا کہ اس کے اولین تخاطب کا ماحول پیش نظر رکھا جاتا، اس کی روشنی میں ہدایات کی براہ راست اطلاقی شکلوں اور مصداقات کو سمجھا جاتا، اور پھر بعد کے ادوار میں اس ذخیرہ ہدایات کی relevance کو اسی طرح متعین کیا جاتا جیسے عقائد واخلاق اور قصص وامثال، نیز اولین مخاطب گروہوں کے باب میں کیا گیا۔ شاطبی نے الموافقات میں کسی جگہ لکھا ہے کہ آج ہم جو قرآن میں مذکور احکام شرعیہ پر عمل کرتے ہیں تو یہ قیاس کے اصول پر کرتے ہیں۔مراد یہ ہے کہ قرآن ان احکام کو بیان کرتے ہوئے براہ راست ہمیں مخاطب نہیں کر رہا۔ اس کا اولین تخاطب انھی لوگوں سے ہے جن کے درمیان اس کا نزول ہوا۔ بعد کے لوگوں کے لیے ان احکام کا relevant ہونابراہ راست تخاطب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس بنیاد پر ہے کہ جس معاملے سے متعلق اولین مخاطبین کو کوئی ہدایت دی گئی تھی، بعد کے لوگوں کو بھی اسی سوال سے سابقہ پیش آ رہا ہے اور یوں اشتراک علت کی وجہ سے قرآن کی ہدایت ان کے لیے بھی واجب الاتباع ہے۔
۷۔ احکام وقوانین کے باب میں خطاب کو اپنی بنیادی نوعیت کے لحاظ سے عمومی وآفاقی فرض کرنے سے جو الجھنیں پیدا ہوئیں، ان کی نمایاں ترین مثال جہاد وقتال سے متعلق احکام ہیں۔ قرآن کے سیاق کی روشنی میں ان احکام کی framing کے حوالے سے راقم نے اپنی ایک تحریر میں جو کچھ لکھا تھا، اسے یہاں نقل کرنا چاہوں گا۔
’’بعض احکام اپنی علت کے لحاظ سے اصلاً واساساً خاص ہوتے ہیں اور ان میں دلیل کی ضرورت تخصیص کے لیے نہیں، بلکہ تعمیم کے لیے درکار ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال پیغمبر کا براہ راست مخاطب بننے والے گروہوں اور قوموں کا معاملہ ہے۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایمان کے معاملے میں جبر واکراہ کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ انسانوں کو ایمان یا کفر کا راستہ اختیار کرنے کی آزادی دی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد کسی انسان کو بھی دین وایمان کے معاملے میں کسی دوسرے انسان پر جبر کا حق حاصل نہیں۔ چنانچہ قرآن میں خود انبیا کی ذمہ داری کا دائرہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان کے ذمے بس حق بات کو واضح طریقے سے پہنچا دینا ہے اور اس سے آگے وہ کوئی اختیار نہیں رکھتے: ’فَذَکِّر اِنَّمَآ اَنتَ مْذَکِّر لَستَ عَلَیہِم بِمْصَیطِرٍ‘، البتہ قرآن نے اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے رسولوں کے ذریعے سے کسی قوم پر حق کو پوری طرح واضح کر دیتے ہیں اور اس کے باوجود وہ قوم ایمان نہیں لاتی تو اللہ تعالیٰ اس پر عذاب نازل کر کے اسے عبرت کا نمونہ بنا دیتے ہیں۔ یہ کسی انسان کا نہیں، بلکہ خدا کا فیصلہ ہوتا ہے جس کا وقت متعین کرنے کا اختیار کسی انسان، حتیٰ کہ خود پیغمبر کو حاصل نہیں ہوتا۔ 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جزیرۂ عرب میں مبعوث کیا گیا تو خدائی قانون کے یہ دونوں پہلو پوری طرح واضح کر دیے گئے۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ ’اِنَّمَا عَلَیکَ البَلٰغُ وَعَلَیَنا الحِسَابُ‘، یعنی خدا کا پیغام پہنچانا تو پیغمبر کی ذمہ داری ہے، جبکہ منکرین سے حساب لینا خدا کاکام ہے، البتہ سابقہ قوموں کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کے لیے عذاب کی صورت یہ تجویز کی گئی کہ اگر وہ ایمان نہ لائیں تو انھیں کسی آسمانی آفت کا نشانہ بنانے کے بجاے خود اہل ایمان کی تلواروں کے ذریعے سے جہنم رسید کیا جائے۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ اہل کفر کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی یہ جنگ دراصل خدا کا عذاب تھا۔ چنانچہ فرمایا: ’وَلَو یَشَآءُ اللّٰہُ لَانتَصَرَ مِنھُمْ وَلٰکِن لِّیَبْلُوَ بَعْضَکْم بِبَعْضٍ‘،یعنی اللہ چاہتا تو اپنے دین کا انکار کرنے پر ان کفار سے خود انتقام لے لیتا، لیکن اس نے اپنی خاص حکمت کے تحت اہل ایمان کو جانچنے کے لیے انھیں اہل کفر کے مقابلے میں معرکہ آرا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی بات ’قَاتِلُوھُمْ یُعَذِّبھُمُ اللّٰہُ بِاَیدِیکُمْ‘ کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے، یعنی تم ان کے خلاف قتال کرو، اس طرح اللہ تعالیٰ تمھارے ہاتھوں سے انھیں عذاب دینا چاہتے ہیں۔ اس جنگ کے آخری مرحلے میں مشرکین عرب کے لیے قتل کی سزا تجویز کی گئی، جبکہ اہل کتاب کے بارے میں کہا گیا کہ انھیں محکوم بنا کر ان پر جزیہ عائد کر دیا جائے جو اس دورمیں محکومی اور تحقیر وتذلیل کی ایک علامت تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی اہل کفر کے بارے میں فرمایا کہ ان میں سے جو ایمان لانے کے بعد دوبارہ اسلام کی طرف پلٹ جائے، اسے قتل کر دیا جائے۔ فقہائے صحابہ نے اسی پہلو سے ان کی جان کی حرمت کو مسلمانوں کے برابر تسلیم نہیں کیا اور یہ رائے قائم کی کہ مسلمان کو کافر کے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا اور یہ کہ کافر کی دیت بھی مسلمان کی دیت کے مساوی نہیں ہوگی۔ 
دین کے معاملے میں جبر واکراہ کو جائز تسلیم نہ کرنے اور منکرین حق کو دنیا میں سزا دینے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص قرار دینے کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اہل کفر کو قتل کرنے یا جزیہ عائد کر کے توہین وتحقیر کی سزا دینے کے اس معاملے کو انھی کفار سے متعلق مانا جائے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول کی طرف سے اجازت موجود ہے۔ اس تناظر میں جو قرآن سے باہر کسی تاریخی سیاق سے نہیں، بلکہ خود قرآن کے نصوص سے معلوم ہوتا ہے، ان احکام کے نفاذ اور اطلاق کے معاملے میں تحقیق طلب چیز یہ نہیں تھی کہ ان میں تخصیص یا استثنا کس دلیل کی بنیاد پر کی جائے، بلکہ یہ تھی کہ علت کی رو سے یہ تعمیم کے کس حد تک متحمل ہیں۔ چنانچہ سیدنا عمر نے اہل کتاب کے علاوہ مجوس پر جزیہ عائد کرنے کا فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جب تک ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں آ گیا۔ سیدنا عمر نے ہی اپنے دورمیں مرتد ہونے والے بعض افراد کو قتل کرنے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا اور ان کے لیے قید کی متبادل سزا تجویز کی۔ فقہائے احناف نے اسی بنیاد پر یہ راے قائم کی کہ مشرکین کو قتل کرنے کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست مخاطب بننے والے مشرکین عرب کے ساتھ خاص ہے اور اس کا اطلاق دنیا کے دوسرے مشرک گروہوں پر نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
گویا ہر حکم اولاً واصلاً ایک خاص دائرہ تخاطب میں دیا گیاجسے نظر انداز کر کے حکم کی درست framing نہیں ہو سکتی۔اس پورے سیاق کی روشنی میں حکم کی نوعیت متعین ہوگی اور اسی کی روشنی میں یہ طے ہوگا کہ کون سا حکم کتنا اولین دائرہ تخاطب تک محدود ہے اور کتنا اس سے باہر تعمیم کا متحمل ہے۔ حنفی فقہاء کے فہم نصوص کے منہج میں تو یہ چیز بہت نمایاں ہے۔ اسی کی بنیاد پر وہ مشرکین کے قتل عام اور مسجد حرام میں ان کے داخلے کی ممانعت کو اولین مخاطبین تک محدود مانتے ہیں۔ اسی طرح ان کے نزدیک مال غنیمت میں بیان کیا جانے والا ذوی القربیٰ کا حصہ عمومی نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کرنے والے اولین ذوی القربیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ جو فقہاء اشہر حرم کی حرمت کو ابدی نہیں مانتے، ان میں سے بھی بعض نے اس پابندی کی توجیہ اسی اصول کے تحت کی ہے۔ مال غنیمت کی تقسیم کے متعلق پورے حکم (یعنی خمس کو بیت المال میں جمع کرنے کے بعد باقی حصوں کو مجاہدین کا حق قرار دینے) کو بھی بعد میں امت کی فقہی دانش نے اپنی ظاہری صورت میں واجب الاتباع نہیں سمجھا اور اس کی توجیہ یہ کی گئی کہ اس وقت چونکہ جنگی اخراجات اور مجاہدین کی تنخواہ وغیرہ کی ذمہ داری نظم اجتماعی کے سپرد نہیں تھی، اس لیے مال غنیمت کو مجاہدین میں تقسیم کر دینے کی ہدایت دی گئی۔
۸۔ جہاں تک اس اشکال کا تعلق ہے کہ تحدید وتخصیص کے اس تصور سے قرآن یا اسلام کی آفاقیت مجروح ہونے کا خدشہ ہے تو میرے خیال میں اس کا تعلق علمی اصول کے غلط اور بے جواز استعمال سے ہے اور اس امکان سے کوئی بھی علمی اصول محفوظ نہیں۔ صحیح علمی رویہ، یہ ہے کہ فی نفسہ اصول کے درست اور محکم ہونے یا نہ ہونے پر غور کیا جائے۔ اگر کوئی علمی اصول فی نفسہ محکم ہے تو اس کے غلط اطلاق کے امکان سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ ایسی غلطیوں کی exclusion کے لیے خود نصوص اور اس کے بعد امت کی مجموعی علمی روایت کافی وشافی ہے۔ اگر ایسا کوئی اطلاق بالکل بے بنیاد ہوگا تو امت کا اجتماعی فہم اسے رد کر دے گا۔ اگر فی الواقع وزنی ہوگا تو اسے قبول کر لیا جائے گا، اور اگر معاملہ ذو الوجہین ہوگا تو اہل علم کے مابین ایک اختلافی بحث کی صورت اختیار کر لے گا جو کہ ہمیشہ سے ہوتا آ رہا ہے۔ اس کی حالیہ مثالوں میں زکوٰۃ کی شرح یا حدود شرعیہ کو غیر ابدی واجتہادی قرار دینے کا نقطہ نظر ہے جسے امت کے راسخ اہل علم نے درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ اس کے برخلاف جزیہ کے نفاذ اور دیت کی مقدار کو غیر آفاقی قرار دینے کے نقطہ ہائے نظر بھی اسی دور میں پیش کیے گئے جنھیں ان کے ٹھوس علمی استدلال کے پیش نظر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ 
میں اس حوالے سے جصاص کے نقطہ نظر کا قائل ہوں جن کا کہنا ہے کہ احکام شرعیہ میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن کے خلاف، شریعت کا وارد ہونا عقلاً جائز نہیں اور یہی دراصل ہدایت الٰہی کے محکمات اور اس کے بنیادی مشمولات ہیں، جبکہ کچھ ایسے ہیں کہ ان کے متعلق شریعت کا حکم مختلف عقلی امکانات میں سے کسی بھی امکان کے مطابق وارد ہو سکتا ہے۔اس دوسرے دائرے میں اصل فیصلہ کن چیز حکم الٰہی ہے اور چونکہ اصلاً ان کے متعلق شریعت کا حکم مختلف امکانی صورتوں میں سے کچھ بھی ہو سکتا تھا، اس لیے ان کے فہم میں بھی مجتہدین کے لیے پوری گنجائش ہے۔ اسی بنیاد پر جصاص ایسے امور میں کل مجتھد مصیب کے نقطہ نظر کے قائل ہیں۔ 
یہ گذارشات تو آپ کے پہلے سوال سے متعلق تھیں۔ دوسرے سوال سے متعلق یہ عرض ہے کہ قرآن کے الفاظ کو کسی ایسے مفہوم پر محمول کرنے کی مثالیں جس کی تائید سیاق وسباق سے نہیں ہوتی، یقیناًمرفوع روایات اور آثار صحابہ میں موجود ہیں اور ان کے فی نفسہ جواز پر مجھے کوئی اشکال نہیں۔ تاہم میرے فہم کے مطابق اس طرز تعبیر کی نوعیت تفسیر کی نہیں، بلکہ استشہاد کی ہے۔ اصل یہ ہے کہ کوئی بات اگر علمی وعقلی پہلو سے فی نفسہ درست ہو یا کم سے کم علم وعقل کی کسی واضح دلیل کے منافی نہ ہو تو کلام الٰہی کے ظاہری الفاظ کو توسعاً اور استشہاداً اس پر محمول کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے کلام کو اس مفہوم سے ہٹانے کے لیے جو سیاق وسباق سے واضح ہو رہا ہے، بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ کلام کی اصل مراد وہی ہوگی جو اس کے داخلی قرائن اور سیاق وسباق سے مفہوم ہے۔ اس سے زائد کوئی بات اگر روایات وآثار میں بیان ہوئی ہویا مفسر اور فقیہ کا ذہن اس کی طرف متوجہ ہو رہا ہو تو ثانوی درجے میں اس کے حق میں آیت سے استشہاد کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس سے قوی تر کوئی دلیل اس کے معارض نہ ہو۔ اسے ’الفال الحسن‘ کی قبیل سے سمجھا جا سکتا ہے۔اس نوع کی روایات وآثار کے متعلق علامہ انور شاہ کشمیری نے یہی بات لکھی ہے اور میرا طالب علمانہ فہم بھی اسی کی تائید کرتا ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۴)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۶) یولج کا ترجمہ

ایلاج کے معنی داخل کرنا ہوتا ہے، قرآن مجید میں رات اور دن کے حوالے سے یہ فعل پانچ آیتوں میں ذکر ہوا ہے۔ ان آیتوں کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔
ان پانچ آیتوں میں سے ایک آیت کا ترجمہ صاحب تفہیم القرآن نے داخل کرنے کے بجائے نکالنا کیا ہے، یہ ترجمہ درست نہیں ہے۔
پہلی بات کہ یہ ترجمہ آیت کے الفاظ کے خلاف ہے، ایلاج کے معنی داخل کرنا ہے نکالنا نہیں ہے۔
دوسری بات یہ کہ اس مفہوم کی تائید میں کوئی اور نظیر بھی نہیں ہے، قرآن مجید میں کہیں یہ نہیں آیا ہے کہ اللہ دن سے رات کو اور رات سے دن کو نکالتا ہے۔ صرف ایک مقام پر آیا ہے: وَآیَۃ لَّہُمْ اللَّیْْلُ نَسْلَخُ مِنْہُ النَّہَارَ فَإِذَا ہُم مُّظْلِمُونَ۔ (یس:۳۷) یہاں اندر سے نکالنے کی بات نہیں بلکہ سلخ یعنی رات کے اوپر سے دن کو کھینچ لینے کی بات ہے۔
تیسری ایک بات یہ بھی ہے کہ خود صاحب تفہیم نے باقی چار آیتوں کا ترجمہ دیگر مترجمین کی طرح داخل کرنا کیا ہے، جیسا کہ ذیل میں دیکھا جاسکتا ہے، اس لیے بلا تردد کہا جاسکتا ہے کہ پانچ میں سے اس ایک مقام پر ان سے ترجمہ کرتے ہوئے سہو ہوگیا ہے۔

(۱) ذَلِکَ بِأَنَّ اللّٰہَ یُولِجُ اللَّیْْلَ فِی النَّہَارِ وَیُولِجُ النَّہَارَ فِی اللَّیْْلِ وَأَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ۔ (الحج: ۶۱)

’’یہ اس لیے کہ رات سے دن اور دن سے رات نکالنے والا اللہ ہی ہے‘‘ (سید مودودی)
’’یہ سبب اس کے ہے کہ اللہ داخل کرتا ہے رات کو بیچ دن کے اور داخل کرتا ہے دن کو بیچ رات کے‘‘ (شاہ رفیع الدین)
’’یہ اس لیے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ رات کو ڈالتا ہے دن کے حصہ میں اور دن کو لاتا ہے رات کے حصہ میں‘‘ (احمد رضا خان)
’’یہ اس لیے کہ خدا رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے‘‘ (فتح محمد جالندھری)

(۲) تُولِجُ اللَّیْْلَ فِی الْنَّہَارِ وَتُولِجُ النَّہَارَ فِی اللَّیْْلِ۔ (آل عمران: ۲۷)

رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں (سید مودودی)

(۳) أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللّٰہَ یُولِجُ اللَّیْْلَ فِی النَّہَارِ وَیُولِجُ النَّہَارَ فِی اللَّیْْلِ۔ (لقمان:۲۹)

’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں؟‘‘ (سید مودودی)

(۴) یُولِجُ اللَّیْْلَ فِی النَّہَارِ وَیُولِجُ النَّہَارَ فِی اللَّیْْلِ۔ (فاطر: ۱۳)

’’وہ دن کے اندر رات کو اور رات کے اندر دن کو پروتا ہوا لے آتا ہے‘‘ (سید مودودی)

(۵) یُولِجُ اللَّیْْلَ فِی النَّہَارِ وَیُولِجُ النَّہَارَ فِی اللَّیْْل۔ (الحدید:۶)

’’وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے‘‘(سید مودودی)

(۱۱۷) باء برائے تجرید

جس طرح حرف من تجرید کے لیے آتا ہے اسی طرح حرف باء بھی تجرید کے لیے آتا ہے، امام لغت ابن جنی نے اس کی مثال دی ہے، لقیت بہ الاسد، وجاورت بہ البحر۔ (الخصائص ۲؍۴۷۷)
قرآن مجید کے بعض مقامات پر اگر تجرید کا اسلوب سامنے رہے تو مفہوم بہت واضح ہوکر سامنے آتا ہے، اور اس میں کوئی اشکال نہیں رہ جاتا۔ ذیل میں دو آیتوں پر گفتگو کی جائے جہاں باء کو برائے تجرید ماننا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

(۱) مُسْتَکْبِرِیْنَ بِہِ سَامِراً تَہْجُرُونَ۔ (المومنون: ۶۷)

اس آیت کا ترجمہ عام طور سے اس طرح کیا گیا ہے کہ مستکبرین اور تھجرون کا جو فاعل ہے، وہی سامرا کا فاعل بھی ہے یعنی رسول کی باتوں کا انکار کرنے والے۔ ذیل کے ترجمے ملاحظہ ہوں:
’’اپنے گھمنڈ میں اُس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے اپنی چوپالوں میں اُس پر باتیں چھانٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے‘‘ (سید مودودی)
’’خدمت حرم پر بڑائی مارتے ہو رات کو وہاں بیہودہ کہانیاں بکتے‘‘ (احمد رضا خان)
’’ان سے سرکشی کرتے، کہانیوں میں مشغول ہوتے اور بیہودہ بکواس کرتے تھے‘‘(فتح محمد جالندھری)
’’اکڑتے اینٹھتے افسانہ گوئی کرتے اسے چھوڑ دیتے تھے‘‘(محمد جوناگڑھی)
اس مفہوم کو مراد لینے پر ایک اشکال یہ سامنے آتا ہے کہ سامر واحد ہے، تو اس سے مراد جمع کیوں لیا جائے؟ 
مزید یہ کہ جب مستکبرین اور تھجرون جمع استعمال ہوئے ہیں تو درمیان میں سامرا واحد کیوں استعمال کیا گیا؟
مفسرین اس اشکال کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ان جوابوں میں تکلف پایا جاتا ہے۔
دوسرا اشکال یہ ہے کہ اگر سامر سے مراد منکرین رسول کو لیا جائے تو سامر کا مفہوم اس پورے سیاق میں کوئی خاص معنویت نہیں ادا کرتا۔ استکبار اور ھجر تو واضح طور پر مذموم رویے ہیں، اور منکرین سے ان کا تعلق بھی واضح ہے لیکن دونوں کے بیچ میں سمر یعنی قصہ گوئی کی مناسبت واضح نہیں ہوپاتی۔
اس کے علاوہ یہ مفہوم لینے کے بعد (بہ) میں ضمیر کا مرجع متعین کرنے میں بھی لوگوں کو دشواری پیش آتی ہے۔
اگر (بہ) میں باء کو تجرید کا مان لیں، اور ھاء ضمیر کو رسول کے لیے مان لیں جیسا کہ آگے کی آیتوں سے واضح ہوتا ہے، اور سامرا کو ھاء ضمیر سے حال مان لیں تو مفہوم بخوبی واضح ہوجاتا ہے اور تمام اشکالات دور ہوجاتے ہیں۔ اس توجیہ کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ رسول کا انکار کرنے والے گھمنڈ میں مبتلا ہیں، وہ رسول کی بات سننے کے بجائے یہ کہہ کر اس سے دور ہٹ جاتے ہیں کہ یہ تو محض قصہ گو اور بکواس کررہا ہے۔
آیت کا ترجمہ اس طرح ہوگا:
’’گھمنڈمیں اُس کو چھوڑ دیتے تھے، گویا وہ بکواس کررہا ہے‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
’’گھمنڈ کرتے ہوئے گویا کسی افسانہ گو کو چھوڑ رہے ہو‘‘ (امین احسن اصلاحی، یہ ترجمہ درست ہے،البتہ اس کی تفسیر میں بہ میں باء کو تجرید کا ماننے کے بجائے استہزاء کو محذوف مان کر باء کو اس سے متعلق مانا گیا ہے، ایک تو اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے، پھر لفظ تھجرون سے خود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ موقعہ مذاق اڑانے کا نہیں بلکہ اعراض کرنے کا ہے۔ مزید یہ کہ خود ترجمہ سے استہزاء کے مفہوم کا اظہار نہیں ہوتا ہے)
’’غرور میں آ کر اسے کہانی سمجھ کر چلے جایا کرتے تھے‘‘ (احمد علی، اس ترجمہ میں سامر کے لیے کہانی کا لفظ درست نہیں ہے، کہانی سنانے والے کے لیے سامر آتا ہے)
’’اس سے بڑائی کر کر ایک کہانی والے کو چھوڑ کر چلے گئے‘‘ (شاہ عبدالقادر، سامر کا ترجمہ درست ہے، البتہ بہ کو مستکبرین سے متعلق مانا ہے جو محل نظر ہے)
علامہ فراہی مفسرین کی معروف توجیہ ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

ولا یخلو من تکلف۔ والأولی من کل ذلک أن یکون (سامرا) مفعولا ل(تھجرون)۔ أی نکوصکم عن استماع آیاتی مستکبرین کان علی حالۃ کأنکم تترکون بفعلکم ھذا سامرا لا تعبأون بقولہ۔ والآیۃ التالیۃ تبین ذلک۔ ویقرب من ھذا التأویل أن یکون (بہ) متعلقا ب(سامرا)۔ وفی جعل الضمیر مذکرا دلالۃ علی أنھم لم یظنوا أنھا آیات اللہ، وانما ظنوھا قولا من السامر. فھذان تأویلان متقاربان۔ واللہ أعلم. (التعلیقات)

مولاناامانت اللہ اصلاحی اس اہم گفتگو پر یہ قیمتی اضافہ کرتے ہیں کہ یہاں باء برائے تجرید ہے۔اور ھاء کا مرجع رسول ہے۔

(۲) الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ الرَّحْمٰنُ فَاسْأَلْ بِہِ خَبِیْراً۔ (الفرقان: ۵۹)

’’وہ بڑی مہر والا ہے، سو پوچھ اس سے جو اس کی خبر رکھتا ہو‘‘ (شاہ عبد القادر)
’’وہ رحمان ہے پس اس کی شان باخبر سے پوچھو‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’رحمن، اس کی شان بس کسی جاننے والے سے پوچھو‘‘ (سید مودودی)
’’وہ بڑی مہر والا تو کسی جاننے والے سے اس کی تعریف پوچھ‘‘ (احمد رضا خان)
اس آیت کے ترجمے کی یہ چند مثالیں ہیں، عام طور سے لوگوں نے اسی طرح ترجمہ کیا ہے، جس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ اللہ کے بارے میں اس سے پوچھو جو اللہ سے باخبر ہو۔
اس مفہوم میں ایک اشکال یہ ہے کہ اللہ کے بارے میں خبیر ہونے کا دعویٰ کون کرسکتا ہے، اور کس کے بارے میں یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ وہ اللہ سے باخبر ہے۔ 
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر خبیر کا لفظ آیا ہے اور ہر جگہ اللہ کے لیے آیا ہے، کسی اور کے لیے یہ لفظ نہیں آیا ہے۔
مزید ایک بات یہ ہے کہ سأل بہ کے معنی ’’اس کے بارے میں پوچھنا‘‘عام استعمالات کے مطابق نہیں ہے۔عام استعمال کے مطابق سأل کے ساتھ جب ب آتا ہے تو مطالبہ کرنے کے معنی میں ہوتا ہے ، پوچھنے کے معنی میں نہیں ہوتا ہے۔ اور جب عن آتا ہے تو پوچھنے کے معنی میں آتا ہے۔ اور اگر کوئی صلہ نہیں ہو تو مانگنے کے معنی میں ہوتا ہے۔ 
اگر باء کو برائے تجرید مان لیں تو یہ سارے اشکالات دور ہوجاتے ہیں، اور ترجمہ اس طرح ہوتا ہے:
’’تم مانگو، اسے باخبر پاؤ گے‘‘ (امانت اللہ اصلاحی) 
اس توجیہ کے مطابق خبیر اللہ کی صفت قرار پاتی ہے جس طرح قرآن مجید میں باقی تمام مقامات پر خبیر کی صفت اللہ کے لئے آئی ہے، اور فاسأل کامفہوم یہاں اللہ سے مانگنا ہے، جو ہر چیز سے باخبر ہے۔ بہ میں باء تجرید کے لئے ہے اور ھاء کی ضمیر کا مرجع اللہ ہے۔
اس آیت کی توجیہ میں اہل نحو کو جو دشواریوں پیش آئی ہیں اس کا اندازہ ابن ہشام کی درج ذیل عبارت سے ہوسکتا ہے:

وَتَأَول البصریون (فاسأل بِہِ خَبِیرا) علیَ أن البَاء للسَّبَبِیَّۃ وَزَعَمُوا أنَّھَا لَا تکون بِمَعنی عَن أصلا وَفیہ بعد لِأَنہُ لَا یَقتَضِی قَولک سأَلت بِسَبَبہ أَن المَجرُور ھُوَالمسؤول عَنہُ۔ (مغنی اللبیب،ص:۱۴۲)

کوفی نحاۃ کے نزدیک باء عن کے معنی میں ہے، جب کہ بصری نحاۃ اسے عن کے معنی میں لینا درست نہیں سمجھتے اور برائے سبب قرار دیتے ہیں۔ ابن ہشام ان کی رائے کو بھی غیر موزوں قرار دیتے ہیں، ایسی صورت میں ان بعض نحویوں کی بات زیادہ مضبوط لگتی ہے جو اسے تجرید کے لیے مانتے ہیں، الباقولی لکھتے ہیں:

 (فَسْئَلْ بہِ خَبِیراً): أی اسأل اللہ خبیرا۔ (اعراب القرآن للباقولی)

(جاری)

سورہ یونس اور سورہ ہود کے مضامین : ایک تقابل

ڈاکٹر عرفان شہزاد

علامہ حمید الدین فراہی نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ قرآن مجید کی سورتیں جوڑا جوڑا ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بعض سورتوں کے جوڑا جوڑا ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً سورۃ البقرہ اور سورہ آل عمران، اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے بارے میں جنھیں معوذتین بھی کہا گیا ہے۔ اس نقطہ نظر سے جب قرآن کی سورتوں کا مطالعہ کیا گیا تو یہ نظریہ درست معلوم ہوتا ہے۔
اس تناظر میں سورہ یونس اور سورہ ہود کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ یہ مطالعہ کس حد تک درست ہے، اس میں مزید کیا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اور قرآن کی سورتوں کے بارے میں جوڑا جوڑا ہونے کا نظریہ کتنا صائب ہے، نیز، قرآن مجید کی تفہیم میں اس پر کیا اثر پڑتا ہے۔
مکتب فراہی کے مطابق قرآن مجید کی سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت دین کے مختلف مراحل کا بیان ہیں: کہیں پر قوم کے خاص لوگوں کو انذار کیا گیا ہے، جب کہ کہیں یہ انذار عام ہو گیا ہے، کہیں انذار کے سارے دلائل اور براہین آخری درجے مکمل ہو گئے ہیں اور مرحلہ اتمام حجت تک پہنچ گیا اور کہیں اس کے بعد ہجرت کا وقت آ گیا ہے، اور کہیں سب سے آخری مرحلہ آ جاتا ہے کہ اب منکرین کی تباہی اور مومنین کی کامیابی اور ان کے غلبے کا وقت آ گیا ہے۔ درج ذیل دونوں سورتیں، مرحلہ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔ یہ چیز ان کے مضامین سے عیاں ہے۔ اتمام حجت کا مطلب ہے کہ رسول، دین کی دعوت اپنے تمام دلائل، براہین، معجزات غرض تمام ممکنہ وسائل سے اس طرح مکمل کر دیتا ہے کہ مخاطبین کے پاس اس کی صداقت کو جھٹلانے کا کوئی عذر باقی نہیں رہتا، لیکن پھر بھی اگر وہ انکار پر مصر رہتے ہیں تو اس کی وجہ ان کی ضد، عناد اور تعصب ہوتا ہے۔
اب دونوں سورتوں کے تقابلی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے:
دونوں سورتیں الر کے حروف سے شروع ہوتی ہیں۔ حروف مقطعات کے بارے میں علامہ فراہی کے پیش کردہ نظریہ پر جناب عدنان اعجاز صاحب کی تحقیق کے مطابق، ا ل ر سے مراداللہ کی طرف سے نازل کردہ حکمت ہے۔ ان دونوں ہی سورتوں میں آغاز کلام میں بھی حکمت کی طرف اشارہ ہے: سورہ یونس میں کہا گیا ہے کہ یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں اور سورہ ہود میں کہا گیا ہے کہ یہ آیت خدائے حکیم کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔اسی لحاظ سے دونوں سورتوں کا مضمون بھی حکیمانہ پیغام کا حامل ہے۔ مخاطبین سے کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ رسولوں کے انذار اور اتمام حجت کے بعد دنیا میں جو حال ان کی قوموں کا ہوا اور اسی بنا پر آخرت میں جو انجام ان کا ہوگا،اس سے عبرت حاصل کرو اور خود کو دنیا اور آخرت کے اس خسران سے بچاؤ، اور رسول کی دعوت کی اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے، خود کو خدا کے انعام کا مستحق بناؤ۔ (عدنان اعجاز صاحب کے مضمون کے لیے دیکھیے، 'حروف مقطعات اور نظریہ فراہی کے اطلاقات، اشراق ،ستمبر اور اکتوبر' 2016)
علامہ فراہی کے نقطہ نظر سے ہٹ کر بھی، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حروف مقطعات، اپنی سورت کے مضامین کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ا ل ر کے یکساں نام کے لحاظ سیدیکھا جائے تو دونوں سورتوں کے مضامین بھی ایک جیسے ہیں، یعنی انذار و بشارت۔ انذار یعنی مخاطبین کو دین حق پر ایمان لانے کی دعوت دینا اور ان کے انکار پر عذاب کی دھمکی سنانا کہ وہ عذاب دنیا میں بھی آ جائے گا اور آخرت میں بھی پیش آئے گا، اور بشارت کا مطلب مومنین کو دنیا اور آخرت میں انعام کی بشارت دینا۔ اس انذار اور بشارت کے لیے دونوں سورتوں میں استدلال بھی یکساں ہے، یعنی انبیا کی تاریخ سے استدلال۔سورہ یونس میں البتہ آفاق اور انفس سے بھی دلائل لائے گیے ہیں۔
دونوں سورتوں کے آغاز ہی میں انذار اور بشارت ایک ساتھ مذکور ہوئے ہیں۔ سورہ یونس میں ہے:
اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَآ اِلٰی رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ، قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ (آیت 2)
کیا اِن لوگوں کو اِس پر حیرانی ہو گئی کہ ہم نے اِنھی میں سے ایک شخص پر وحی کی ہے کہ لوگوں کو خبردار کرو اور جو مان لیں، اْنھیں خوش خبری پہنچا دوکہ اْن کے لیے اْن کے پروردگار کے پاس بڑا مرتبہ ہے۔ (اِس حقیقت کو سمجھنے کے بجاے) اِن منکروں نے کہہ دیا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے۔
سورہ ہود میں ہے:
۱ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰہَ، اِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ (سورہ ہود، آیت 2)
کہ تم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ میں اْس کی طرف سے تمھیں خبردار کرنے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں۔
چنانچہ دونوں سورتوں میں یہ دونوں مضامین پوری سورہ میں ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ تاہم، دونوں سورتوں میں انذار کا مضمون غالب ہے، کیونکہ معاملہ اتمام حجت کی طرف جا رہا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سورہ یونس میں انذار عام سے اتمام حجت تک کے دو مراحل بیان ہوئے ہیں۔ یعنی پہلے مرحلے پر بات سمجھائی جا رہی ہے اور آخر میں جان بوجھ کر انکار پر مصر رہنے والوں کو عذاب کی دھمکی سنا دی گئی ہے۔سورہ یونس میں اتمام حجت ابھی ابتدائی طور پر ہوا ہے یعنی کچھ لوگوں پر اتمام حجت ہو گیا اور کچھ پر ابھی ہو رہا ہے، اس لیے انہیں بار بار سمجھایا جا رہا ہے۔ جب کہ سورہ ہود میں اتمام حجت اگلے مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ اس سورہ میں معاملہ سمجھانے سے زیادہ منکرین کے لیے دھمکی آمیز ہو گیا ہے۔ مثلاً دونوں سورتوں میں آسمان اور زمین کی تخلیق کے تذکرے کے بعد نتیجے کے بیان میں لب و لہجے کا فرق ملاحظہ کیجیے:
سورہ یونس:
اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ، مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْ بَعْدِ اِذْنِہٖ، ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ، اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ ۔ اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا، وَعْدَ اللّٰہِ حَقًا، اِنَّہٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ، وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ (آیت 3۔4)
’’(لوگو)، حقیقت یہ ہے کہ تمھارا پروردگار وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر معاملات کا نظم سنبھالے ہوئے اپنے عرش پر قائم ہو گیا۔ اْس کی اجازت کے بغیر کوئی (اْس کے حضور میں) سفارش کرنے والا نہیں ہے۔ تمھارا پروردگار وہی اللہ ہے، لہٰذا اْسی کی بندگی کرو۔ کیا تم سوچتے نہیں ہو؟ تم سب کو (ایک دن) اْسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہی خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا، اِس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اْنھوں نے نیک عمل کیے ہیں، اْن کو انصاف کے ساتھ (اْن کے عمل کا) بدلہ دے اور جنھوں نے انکار کر دیا ہے، اْن کے انکار کے بدلے اْن کے لیے کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہے۔‘‘
سورہ ہود:
وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً، وَلَءِنْ قُلْتَ اِنَّکُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ ۔ وَلَءِنْ اَخَّرْنَا عَنْھُمُ الْعَذَابَ اِلآی اُمَّۃٍ مَّعْدُوْدَۃٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُہٗ، اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْھِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْھُمْ وَحَاقَ بِھِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُ وْنَ (آیت 7۔8)
’’اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا ہے اور (تمھاری پیدایش سے پہلے) اس کا عرش پانی پر تھا ۔۔۔ اِس لیے (پیدا کیا ہے) کہ تم کو آزما کر دیکھے کہ تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ اب (اے پیغمبر)،اگر تم اِن سے کہتے ہو کہ (لوگو)، مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے تو یہ منکرین فوراً بول اٹھیں گے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ اور اگر کچھ مدت کے لیے ہم اِن سے عذاب کو ٹال دیں گے تو ضرور پوچھیں گے کہ اِسے کیا چیز روکے ہوئے ہے؟سنو، جس دن وہ اِن کے اوپر آ پڑے گا تو اِن سے پھیرا نہ جاسکے گا اور وہی چیز اِن کو آ گھیرے گی جس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔‘‘
یعنی سورہ یونس میں بات اصولی اعتبار سے کی گئی ہے کہ نیکو کار مومنوں کو اجر جب کہ منکرین کو سزا ملے گی، جب کہ سورہ ہود میں بات دھمکی آمیز ہو گئی ہے، ساتھ میں قیامت سے پہلے دنیاوی عذاب کی دھمکی بھی دے ڈالی گئی ہے۔ 
سورہ ہود میں چونکہ انذار پر زیادہ زور ہے، اسی مناسبت سے اس میں بشارت کا مضمون کم ہو گیا ہے۔
سورہ یونس کی آیت 47 میں دنیاوی عذاب آنے کا اصول بتایا گیا ہے کہ کسی قوم پر اگر رسول آ جائے تو ان کے مسلسل انکار کی صورت میں اس قوم کا فیصلہ دنیا میں ہی کر دیا جاتا ہے:
وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ، فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ (آیت 47)
’’(اس کا قانون یہی ہے کہ) ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب ان کا رسول آ جاتا ہے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔‘‘
سورہ یونس اور سورہ ہود میں اسی اصول کی تفصیل اور اطلاقات دکھائے گیے ہیں۔
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ سورہ یونس کے آغاز میں عذابِ آخرت کا ذکر پہلے ہے اور دنیاوی عذاب کا بعد میں جب کہ سورہ ہود میں دنیاوی عذاب کا ذکر آخرت کے عذاب سے پہلے کیا گیا ہے جب کہ سورہ ہود میں دنیاوی عذاب کا ذکرپہلے ہے اور آخرت کے عذاب کا بعد میں۔ مثلاً دیکھیے:
سورہ یونس:
اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا، وَعْدَ اللّٰہِ حَقًا، اِنَّہٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ، وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ (آیت 4)
’’تم سب کو (ایک دن) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہی خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا، اِس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اْنھوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کو انصاف کے ساتھ (ان کے عمل کا) بدلہ دے اور جنھوں نے انکار کر دیا ہے، ان کے انکار کے بدلے اْن کے لیے کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہے۔‘‘
سورہ ہود:
وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلآی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّیُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗ، وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیْرٍ (آیت 3)
’’اور یہ کہ تم اپنے پروردگار سے معافی چاہو، پھر اْس کی طرف رجوع کرو، وہ تمھیں ایک متعین مدت تک اچھی طرح بہرہ مند کرے گا اور ہر اْس شخص کو جو اْس کے فضل کا مستحق ہے، اپنے فضل سے نوازے گا۔ لیکن اگر منہ پھیرو گے تو میں تمھارے اوپر ایک بڑے ہول ناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔‘‘
چنانچہ اسی مناسبت سے سورہ یونس میں آگے جا کر بھی پہلے آخرت کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے، پھر اس آخرت کے عذاب کے نمونے کے طور پر دنیاوی عذاب کے چند نمونے بتائے گیے ہیں، جب کہ سورہ ہود میں دنیاوی عذاب کا ذکر کرنے کے بعد آخرت کے عذاب پر ان سے استدلال کیا گیا ہے۔ مثلاً دیکھیے سورہ ہود میں قوم عاد پر عذاب کا ذکر کرنے کے بعد قیامت کے عذاب کا ذکر یوں کیا گیا:
وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعَنَۃً وَّیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (آیت 60)
’’(آخر کار) اِس دنیا میں بھی اِن کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔‘‘
اسی طرح فرعو ن پر آنے والے دنیاوی عذاب کا ذکر کرنے کے بعد یہ کہا گیا:
یَقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَاَوْرَدَھُمُ النَّارَ، وَبِءْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ (آیت 98)
’’قیامت کے دن وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہو گا اور انھیں دوزخ میں لے جا اتارے گا۔ کیا ہی برا گھاٹ ہے جس پر وہ اتریں گے۔‘‘
پھر دنیاوی عذاب کے سار ے قصے سنا کر یہ کہا گیا:
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَۃِ، ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّہُ النَّاسُ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْھُوْدٌ (ہود، 103)
’’اِس میں یقیناًان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈریں۔ وہ ایک ایسا دن ہے جس کے لیے سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے اور وہ حاضری کا دن ہو ۔‘‘
سورہ یونس میں نوح علیہ السلام کے تذکرے کے بعد اور موسیٰ علیہ السلام کے تذکرے سے پہلے ان دونوں کے درمیان کے رسولوں کو اجمالًا ذکر کیا گیا ہے (آیت 74)، پھر اس اجمالی بیان میں آنے والے رسولوں کا تفصیلی تذکرہ سورہ ہود میں آ گیا ہے۔ اس طرح دونوں سورتیں مل کر انذار کی قرآنی تاریخ کی تکمیل کرتی ہے۔
سورہ یونس میں نوح علیہ السلام کا قصہ مختصر ہے اور موسیٰ علیہ السلام کا مفصل، جب کہ سورہ ہود میں نوح علیہ السلام کا قصہ مفصل ہے اور موسیٰ علیہ السلام کا بالکل مختصر ہے۔ اس طرح دونوں سورتیں مل کر ایک دوسرے کو مکمل کرتی ہیں۔
دونوں سورتوں میں نعمت اور نکبت کی حالتوں کے بارے میں انسان کے ناشکر گزار رویے کا ذکر ہے، لیکن دونوں میں ایک فرق ہے: سورہ یونس میں مصیبت کا بیان ہے کہ جب ناشکرے انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اٹھتے بیٹھے خدا کو پکارنے لگتا ہے، اور جب مصیبت دور ہو جاتی ہے تو خدا کو ایسے بھول جاتا ہے جیسا کبھی پکارا ہی نہ تھا:
وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِہٖٓ اَوْقَاعِدًا اَوْ قَآءِمًا، فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّ کَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَآ اِلٰی ضُرٍّ مَّسَّہٗ، کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (آیت 12) 
’’حقیقت یہ ہے کہ اِنھیں کوئی عذاب دکھا بھی دیا جائے تو ایمان نہ لائیں گے۔ اِس لیے کہ) انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے وہ ہم کو پکارتا ہے۔ پھر جب اس کی تکلیف ہم ٹال دیتے ہیں تو اِس طرح چل دیتا ہے گویا جو تکلیف اسے پہنچی، اس میں کبھی اْس نے ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔ حد سے گزرنے والوں کے لیے اْن کے اعمال اِسی طرح خوش نما بنا دیے گئے ہیں۔‘‘
جب کہ سورہ ہود میں اس ناشکر گزار رویے کو نعمت کے باب میں بیان کیا گیا ہے کہ جب ایسے انسان سے نعمت چھین لی جائے تو فورا مایوس ہو جاتا ہے:
وَلَءِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً ثُمَّ نَزَعْنٰھَا مِنْہُ اِنَّہٗ لَیَءُوْسٌکَفُوْرٌ (آیت 9)
’’انسان کا معاملہ یہ ہے کہ ہم اس کو اپنے کسی فضل سے نوازتے ہیں، پھر اس سے اسے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہو جاتا ہے اور نا شکری کرنے لگتا ہے۔‘‘
اور دوسرا یہ کہ اگر اسے مصیبت کے بعد نعمت ملتی ہے تو اترانے لگتا ہے لیکن خدا کا شکر گزار نہیں بنتا:
وَلَءِنْاَذَقْنٰہُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْہُ لَیَقُوْلَنَّ ذَھَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ، اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ (آیت 10)
’’اور اگر کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی تھی، ہم اسے نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے کہ میری مصیبتیں مجھ سے دور ہوئیں۔ (پھر) وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے والا بن جاتا ہے۔‘‘
دونوں سورتوں کی اس موضوع کی آیات کو ملا کر دیکھا جائے تو ناشکر گزاری کے اس انسانی رویے کی تصویر مکمل ہوتی ہے۔ گویا دونوں سورتوں کے یہ دونوں مقامات ایک دوسرے کا تکملہ ہیں۔
دونوں سورتوں میں قرآن کے بارے میں کفار کے رویے پر بات ہوئی ہے کہ وہ اسے من گھڑت قرار دے رہے تھے، اس پر دونوں سورتوں میں قرآن جیسا کلام لانے کا چیلنج دیا گیا ہے۔ سورہ یونس میں کہا گیا ہے کہ اگر تم قرآن کو من گھڑت سمجھتے ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر لے آؤ (آیت 38) جب کہ سورہ ھود میں کہا گیا ہے کہ اس جیسی دس سورتیں لے آؤ۔ (آیت 13)
دونوں سورتوں کے اس تقابلی مطالعہ سے عیاں ہوتا ہے کہ قرآنی سورتوں کے جوڑا جوڑا ہونے کا نظریہ درست ہے اور اس تناظر میں یہ قرآن فہمی کا ایک نیا دریچہ کھولتا ہے۔

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ۔ ایک تعارفی جائزہ (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

۳۔اصول حدیث کے مختلف موضوعات پر خصوصی تصنیفات

عصر حاضر تخصص و سپیشلائزیشن کا دور ہے، علوم و فنون کے شعبہ جات پر مستقل کام ہوا ہے ۔مصطلح الحدیث کی انواع پر بھی مستقل تصنیفات لکھی گئی ہیں۔ یہ تصنیفات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں ایک نوع سے متعلق تفصیلی مواد موجود ہوتا ہے اور اس کے جوانب و اطراف کا احاطہ ہوتا ہے۔ ذیل میں اس حوالے سے چند اہم کاوشیں ذکر کی جاتی ہیں۔ ان کتب کے تذکرے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ جدید دور میں انواع علوم الحدیث پر ہونے والے کام کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے ،بلکہ اصول حدیث کی اہم انواع سے متعلق بعض اہم اور تفصیلی کتب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ چھوٹے رسائل اور مختصر کتب سے صرف نظر کیا گیا ہے۔ نیز جن کتب کا انتخاب کیا گیا ہے ،وہ تفصیلی اور موضوع سے متعلق اہم مباحث پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ذکر کی گئی ہیں ،ان کے ذکر سے ان کتب کے مباحث سے کلی اتفاق مراد نہ لیا جائے۔
۱۔سعودی عرب کے معروف داعی و مصنف عائض بن عبد اللہ قرنی نے مبتدع کی روایت پر البدعۃ واثرھا فی الدرایۃ و الروایۃ کے نام سے ایک تفصیلی کتاب لکھی ہے ،جس میں بدعتی کی روایت ،حکم اور اس حوالے سے علما کے مذاہب بیان کئے ہیں۔
۲۔اسعد سالم تیم نے علم طبقات پر ایک ضخیم کتاب علم طبقات المحدثین: اھمیتہ وفوائدہ کے نام سے لکھی ہے ،جس میں علم طبقات کی تاریخ ،اہم کتب اور اس علم کی اہمیت پر تفصیلی مواد موجود ہے۔
۳۔علم جرح و تعدیل پر اہم کتب سامنے آئی ہیں۔ ان میں ڈاکٹر ضیاء الرحمان الاعظمی کی مفصل کتاب دراسات فی الجرح و التعدی،شیخ نور الدین عتر کی اصول الجرح والتعدیل،سید عبد الماجد غوری کی المدخل الی دراسہ علم الجرح والتعدیل اور شیخ محمد بن عبد العزیز کی ضوابط الجرح والتعدیل قابل ذکر ہیں۔
۴۔محمد بن طلعت نے معجم المختلطین کے نام سے ان رواۃ کو جمع کیا ہے جو آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوگئے تھے۔
۵۔سید کسروی حسن نے ھدی القاصد الی اصحا ب الحدیث الواحد کے نام سے سات جلدوں پر مفصل کتاب میں ان رواۃ کا تذکرہ کیا ہے ،جن سے صرف ایک حدیث مروی ہے۔
۶۔احمد محمد نور یوسف نے آداب الحدیث پر ایک ضخیم کتاب من ادب المحدثین فی التربیۃ والتعلیم کے نام سے لکھی ہے۔
۷۔عبد المجید بیرم نے الروایۃ بالمعنی فی الحدیث النبوی و اثرھا فی الفقہ الاسلامی کے نام سے روایت بالمعنی اور اس کے اثرات پر ایک ضخیم کتاب لکھی ہے ۔
۸۔عبد الکریم اسماعیل صباح نے حدیث صحیح اور اس کے مختلف مباحث پر ایک ضخیم کتاب الحدیث الصحیح و منھج علماء المسلمین فی التصحیح کے نام سے لکھی ہے جس میں حدیث صحیح سے متعلق اہم مباحث کا احاطہ کیا ہے۔
۹۔المرتضی زین احمد نے مناھج المحدثین فی تقویۃ الاحادیث الحسنۃ والضعیفۃ کے نام سے ایک اہم کتاب لکھی ہے ،جس میں حدیث کے شواہد ،متابعات اور حدیث کی تقویت کے دیگر طرق پر بحث کی ہے۔
۱۰۔معروف محقق عمرو بن عبد المنعم سلیم نے حدیث حسن پر الحسن بمجموع الطرق فی میزان الاحتجاج بین المتقدمین والمتاخرین کے نام سے ایک نفیس کتاب لکھی ہے۔
۱۱۔عبد الکریم بن عبد اللہ الخضیر نے حدیث ضعیف پر ایک مفصل کتاب الحدیث الضعیف و حکم الاحتجاج بہ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے، جس میں حدیث ضعیف کے مختلف مباحث پر نظر ڈالی ہے۔
۱۲۔محمد عزت حسین نے الحدیث الضعیف و انواعہ کے نام سے حدیث ضعیف پر ایک ضخیم کتاب لکھی ہے۔
۱۳۔ماہر منصور عبد الرزاق نے الحدیث الضعیف: اسبابہ و احکامہ کے نام سے ایک مفصل کتاب لکھی ہے ،جس میں حدیث ضعیف کے مختلف گوشے نمایاں کیے گئے ہیں۔
۱۴۔ڈاکٹر عمر بن حسن بن عثمان فلاتہ نے حدیث موضوع پر تین جلدوں پر مفصل کتاب الوضع فی الحدیث لکھی ہے۔ موضوع حدیث کے مباحث پر اگر اسے عصر حاضر کی سب سے تفصیلی کتاب کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ کتاب دراصل پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جس پر مقالہ نگار کو جامعہ ازہر سے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی۔
۱۵۔ معروف مصنف عمر سلیمان الاشقر نے حدیث موضوع کے مباحث پر ایک جامع کتاب الوضع فی الحدیث النبوی: تعریفہ، خطورتہ، اسبابہ وطرق الکشف عنہ کے نام سے لکھی ہے۔
۱۶۔عصام الدین بن سید الصبابطی نے احادیث قدسیہ پر تین جلدوں پر ایک ضخیم موسوعہ جامع الاحادیث القدسیۃ: موسوعۃ جامعۃ مشروحۃ ومحققۃ کے نام سے تیار کیا ہے۔ اس میں حدیث قدسی پر اہم مباحث کے ساتھ ساڑھے گیارہ سو احادیث قدسیہ کا ذکر کیا ہے۔
۱۷۔معروف مصنف محمد متولی الشعراوی نے الاحادیث القدسیۃ کے نام سے چھ جلدوں پر مشتمل ایک ضخیم کتاب لکھی ہے۔
۱۸۔شعبان محمد اسماعیل نے حدیث قدسیہ سے متعلق حدیثی و فقہی مباحث پر الاحادیث القدسیۃ ومنزلتھا فی التشریع لکھی ہے ،جس میں اس موضوع کے مختلف گوشوں پر نظر ڈالی ہے۔
۱۹۔عبد اللہ ابو سعود بدر نے المرفوع وصیغ الرفع کے نام سے حدیث مرفوع کے مباحث پر ایک مفصل کتاب لکھی ہے۔
۲۰۔طارق اسعد حلمی نے علم ورود الحدیث پر ایک عمدہ کتاب علم اسباب ورود الحدیث و تطبیقاتہ عند المحدثین و الاصولیین کے نام سے لکھی ہے۔ساڑھے پانچ سو صفحات کی اس کتاب میں ورود الحدیث سے متعلقہ مباحث کا عمدہ احاطہ کیا گیا ہے۔
۲۱۔مشکل الحدیث اور احادیث نبویہ میں ایسی احادیث جو متنوع سوالات اور اشکالات کا باعث ہیں ،ان کے جواب پر مبنی متعدد کتب سامنے آئی ہیں ،جن میں عبد اللہ بن علی النجدی کی مشکلات الاحادیث النبویۃ و بیانھا اور احمد رضوان کی مسائل فی تاویل الاحادیث قابل ذکر ہیں۔
۲۲۔علم مختلف الحدیث معاصر مصنفین کا خصوصی موضوع رہا ہے۔ ان میں خاص طور پر اسامہ عبد اللہ خیاط کی مختلف الحدیث وموقف النقاد والمحدثین منہ، نافذ حسین حماد کی مختلف الحدیث بین الفقھاء والمحدثین اور عبد المجید محمد اسماعیل السوسوہ کی ضخیم کتاب منھج التوفیق والترجیح بین مختلف الحدیث واثرہ فی الفقہ الاسلامی قابل ذکر ہیں۔
۲۳۔حدیث مرسل کی حجیت کا مسئلہ قدیم زمانے سے معرکۃ الآرا رہا ہے۔ معاصر سطح پر اس مسئلے کا بھی مختلف جوانب سے جائزہ لیا گیا ہے۔ ان کتب میں حفصہ بنت عبد العزیز کا دو جلدوں پر مشتمل ضخیم مقالہ الحدیث المرسل بین القبول و الرد، ابودور سید حامد کی الخبر المرسل عند الاصولیین: دراسۃ و تطبیق، علاء الدین حسن کی الاحتجاج بالمرسل واثرہ فی الفقہ الاسلامی اور فوزی محمد البتشتی کی ضخیم کتاب حجیۃ المرسل عند المحدثین والاصولیین والفقھاء قابل ذکر ہیں۔
۲۴۔تدلیس اور اس کی اقسام و احکام پر بھی اہم کتب لکھی گئیں ہیں۔ ان میں سید عبد الماجد غوری کی التدلیس والمدلسون: دراسۃ عامۃ، محمود عبد الوہاب عبد الحفیظ کی القول النفیس فی المقبول والمردود من التدلیس، صالح الجزائری کی التدلیس و احکامہ اور مسفر بن غرم اللہ الدمینی کی مفصل کتاب التدلیس فی الحدیث: حقیقتہ واقسامہ واحکامہ ومراتبہ والموصوفون بہ سر فہرست کتب ہیں۔
۲۵۔دور جدید میں خبر واحد کا مسئلہ بعض وجوہ سے اہمیت اختیار کرگیا ہے اور افراط و تفریط کا شکار ہوا ہے۔ اہل تجدد کے نزدیک خبر واحد سے دین کا کوئی نیا حکم اخذ نہیں کیا جاسکتا، جبکہ سلفی حضرات کے نزدیک خبر واحد سے عقائد کا بھی اثبات ہوسکتا ہے۔ اس لیے خبر واحد پر متعدد کتب لکھی گئی ہیں،ان کتب میں شیخ نور الدین عتر کی الاتجاھات العامۃ للاجتھاد ومکانۃ الحدیث الآحاد الصحیح فیھا اور ابو عبد الرحمان القاضی کی دو جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب خبر الواحد فی التشریع الاسلامی وحجیتہ قابل ذکر ہے۔
۲۶۔ علم علل الحدیث معاصر سطح پر خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے ،اور اس سلسلے میں مفید کتب سامنے آئی ہیں۔ ان میں شیخ نور الدین عتر کی لمحات موجزۃ فی اصول علل الحدیث، سید عبد الماجد غوری کی المیسر فی علم علل الحدیث، ہمام عبد الرحیم کی العلل فی الحدیث، حمزہ عبد اللہ الملیباری کی الحدیث المعلول: قواعد وضوابط، ماہر یاسین فحل کی اثر علل الحدیث فی اختلاف الفقھاء،علی بن عبد اللہ الصیاح کی جھود المحدثین فی بیان علل الحدیث اور مقبل بن ہادی الوادعی کی احادیث معلۃ ظاھرھا الصحۃ قابل ذکر کتب ہیں۔
۲۷۔احادیث پر حکم لگانے اور سند و متن پر نقد کے اصول و قواعد پر معاصر سطح پر قابل قدر کام ہوا ہے۔ ان میں معروف محقق ڈاکٹر محمد مصطفی الاعظمی کی منھج النقد عند المحدثین نشاتہ وتاریخہ، معروف مصنف مسفر غرم اللہ دمینی کی مقاییس نقد متون السنۃ،محمد طاہر الجوابی کی جھود المحدثین فی نقد متن الحدیث الشریف، محمد علی قاسم العمری کی دراسات فی منھج النقد عند المحدثین اور حسین الحاج حسن کی دو جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب نقد الحدیث فی علم الروایۃ وعلم الدرایۃ قابل ذکر کتب ہیں۔
۲۸۔عربی کی بہ نسبت اردو میں اصول حدیث پر خصوصی تصنیفات بہت کم ہیں،کیونکہ اردو میں طبع زاد کتب کی بجائے عربی کتب کے ترجمہ و تشریح کی روایت زیادہ ہے۔ طبع زاد کتب کا جو سرمایہ موجود ہے،وہ خصوصیت کی بجائے عمومیت کا رنگ لیے ہوئے ہے۔ اصول حدیث اور اس کی مختلف شاخوں پر معدودے چند کتب میں اصول حدیث اور علم حدیث کے تعارف پر ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کی محاضرات حدیث، ڈاکٹر تقی الدین ندوی کی فن اسماء الرجال، غازی عزیر مبارکپوری کی ضعیف احادیث کی معرفت اور ان کی شرعی حیثیت، ڈاکٹر سہیل حسن کی معجم اصطلاحات حدیث اور علم جرح و تعدیل،ڈاکٹر اقبال احمد اسحاق کی جرح و تعدیل،محمد ایوب رشیدی کی احناف حفاظ حدیث کی فن جرح و تعدیل میں خدمات ،محمد اکرم رحمانی کی حدیث موضوع اور ان کے مراجع،ڈاکٹر محمد اکرم ورک کی متون حدیث پر جدید ذہن کے اشکالات،ایک تحقیقی مطالعہ اور مولانا تقی امینی کی حدیث کا درایتی معیار قابل ذکر ہیں۔ اردو میں اصول حدیث پر خصوصی تصنیفات زیادہ تر ایم فل اور پی ایچ ڈی مقالات کی صورت میں ہیں جن کا ذکر مقالات کے عنوان کے تحت آئے گا۔

۴۔مصطلح الحدیث پر تطبیقی کام 

معاصر سطح پر اصول حدیث پر ہونے والے کام میں ایک جدت کا پہلو یہ آیا ہے کہ مصطلح الحدیث اور اس کے قواعد و ضوابط پر تطبیقی و تمرینی کتب لکھنے کا رواج پڑگیا ہے۔ اس طرز کی کتب میں اصول حدیث اور اس کی مختلف شاخوں کے لئے کتب حدیث و کتب رجال سے امثلہ و تمارین کا ذکر کیا جاتا ہے ،متنوع اسئلہ درج کی جاتی ہیں تاکہ مسائل اور اصول مثالوں سے ذہن نشیں ہو اور ان کی وضاحت ہوجائے۔جدید طرز کی یہ کتب بلا شبہ علم مصطلح الحدیث میں تجدیدی کارنامہ ہے،کیونکہ قدیم متون میں معدود ے چند مثالیں ہیں جنہیں بعد میں آنے والے ہر مصنف نے دہرایا ہے۔ اس سلسلے کی چند اہم کتب کی فہرست دی جارہی ہے :
۱۔ الواضح فی مصطلح الحدیث للمبتدئین مع اسئلۃ وتمارین للمناقشۃ، ابراہیم النعمہ ، دارالنفائس ،عمان 
۲۔ الجد الحثیث لتیسیر مسائل وفنون علم الحدیث بطریقۃ تطبیقیۃ وامثلۃ عملیۃ، ابراہیم محمود عبد الراضی ،دارالایمان ،اسکندریہ 
۳۔ علم مصطلح الحدیث التطبیقی، علی بن ابراہیم حشیش ،دار العقیدہ ،قاہرہ
۴۔ تحریر علوم الحدیث، شیخ عبد اللہ بن یوسف الجدیع
۵۔ المنھج الحدیث فی تسھیل علوم الحدیث، علی نایف بقاعی ،دارالبشائر ،بیروت 
۶۔ تیسیر و تخریج الاحادیث للمبتدئین، عمر وعبد المنعم سلیم ،دار عفان 
۷۔ تحریر علوم الحدیث، عمر عبد المنعم سلیم ،دار ابن قیم 
۸۔ المعلم فی معرفۃ علوم الحدیث وتطبیقاتہ العلمیۃ والعملیۃ، عمرو عبد المنعم سلیم ،دار ابن قیم 
۹۔ اربعون تدریبا فی نقد الاسانید والمتون، عمرو عبد المنعم سلیم 
۱۰۔ اصول التخریج ودراسۃ الاسانید، محمود طحان،دار القران الکریم ،بیروت 

چوتھی جہت :شروحات حدیث 

عصر حاضر کے حدیثی ذخیرے کا ایک بڑا حصہ کتب حدیث کی شروحات ، تعلیقات اور تراجم پر مشتمل ہے،ان میں زیادہ تر کتب ستہ اور موطا کی شروحات شامل ہیں ،یہ شروحات و تعلیقات مفصل بھی ہیں اور مختصر بھی ، بعض میں پوری کتاب کی اول تا آخر شرح کی گئی ہے جبکہ بعض شروحات کتاب کے مخصوص مقامات اور خاص حصوں کی تشریحات پر مشتمل ہیں۔ بعض کتاب پر متنوع دراسات و تحقیقات کی صورت میں ہیں ،جیسے اعلام کی تحقیق،الفاظ غریبہ کی تحقیق، کتاب کا متنوع پہلووں سے تجزیہ و تحلیل وغیرہ۔ اس عنوان کو درجہ ذیل چار ذیلی اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :
۱۔عربی شروحات و تعلیقات 
۲۔اردو شروحات 
۳۔درسی تقریرات و افادات 
۴۔کتب حدیث کے تراجم 

۱۔ عربی شروحات و تعلیقات 

عرب ممالک میں سلفیت کی لہر چلنے سے کتب حدیث خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گئیں اور صحاح ستہ سمیت حدیث کی دیگر کتب پر کما و کیفا دونوں اعتبار سے ممتاز کام ہوا ہے ،ذیل میں اہم کتب حدیث پر ہونے والے جدید کاموں کا ایک جائزہ لیا جاتا ہے :

۱۔صحیح بخاری

صحیح بخاری کی علمی حلقوں میں مقبولیت ایک مسلم امر ہے ،کتب حدیث میں بعض حوالوں سے ممتاز ہونے کی وجہ سے ہر دور میں اس پر ہونے والا کام بقیہ کتب کی بہ نسبت زیادہ رہا ہے ،دور جدید میں بھی صحیح بخاری پر متنوع دراسات و تحقیقات ہوئی ہیں۔ چند اہم کاموں کا تذکرہ کیا جاتا ہے :
۱۔صحیح بخاری پر جدید دور میں ہونے والا ممتاز کام نویں صدی ہجری کے معروف عالم ابن ملقن کی مفصل شرح التوضیح شرح الجامع الصحیح کی اشاعت و تحقیق ہے۔ قطر کی وزارت اوقاف نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور خالد الرباط اور جمعہ فتحی کی سربراہی میں بیس کے قریب محققین نے سات مخطوطات کے تقابل سے شرح ابن ملقن کی تحقیق کی اور صحیح بخاری کی یہ عظیم شرح چھتیس جلدوں میں منظر عام پر آگئی۔
۲۔صحیح بخاری کی جدید شروحات میں مفصل ترین شرح ترکی کے معروف عالم اور اٹھارویں صدی کے ممتاز محقق علامہ یوسف زادہ آفندی کی نجاح القاری فی شرح صحیح البخاری ہے، یہ شرح ابھی تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوسکی۔ چار ہزار لوحات پر مشتمل اس کا مفصل مخطوطہ اگر طبع ہوا تو ایک اندازے کے مطابق پچاس جلدوں میں منظر عام پر آئے گا۔ یہ مخطوطہ مکتبہ الاثار و امخطوطات ترکی میں محفوظ ہے ،اور معروف ویب سائٹ ملتقی اہل الحدیث پر بھی تیس جلدوں میں موجود ہے۔اس مخطوطہ کے بعض حصوں کی پی ایچ ڈی مقالات کی صورت میں تحقیق ہوئی ہے ،لیکن مکمل شرح ابھی تک محقق طباعت کی منتظر ہے۔
۳۔صحیح بخاری کے ابواب و تراجم پر مفصل کام شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ کے افادات ہیں ،جو آپ کے مختلف تلامذہ کی تحقیق کے ساتھ متعدد جلدوں میں چھپے ہیں ،ان افادات میں صحیح بخاری کے جملہ تراجم پر مفصل بحث شامل ہے ،صحیح بخاری کے ابواب و تراجم پر یہ اپنی نوعیت کی پہلی مفصل کاوش ہے۔
۴۔صحیح بخاری کی متعدد محققانہ طبعات منظر عام پر آئی ہیں ،ان میں سے دو طبعات بعض وجوہ سے اہم ہیں :
الف:صحیح بخاری کی صحیح ترین طباعت عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید کی نگرانی میں ہونے والی طبعہ امیریہ کی اشاعت ہے۔ سلطان عبد الحمید نے جید علما کی مجلس اس کام کے لئے تشکیل دی اور صحیح بخاری کے معروف ناسخ اور آٹھویں صدی ہجری کے معروف حنبلی عالم حافظ یونینی کے نسخے کو اصل قرار دیا اور دیگر نسخوں کے ساتھ تقابل و تصحیح بھی کی۔ یوں دو سال کی تحقیق کے ساتھ نو جلدوں میں یہ نسخہ شائع ہوا ،سلطان نے اشاعت سے پہلے جامعہ ازہر کے سولہ جید علما کی موجودگی میں اس کی خواندگی کروائی ،اس نسخہ کے حاشیے میں صحیح بخاری کے دیگر نساخ و رواۃ کے فروق کو بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تقریباً پندرہ سال پہلے بیروت کے معروف ادارے دار طوق النجاۃ نے اسی اشاعت کو دوبارہ شائع کیا۔
ب:ممتاز شامی محقق ڈاکٹر مصطفی دیب البغا کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ اشاعت متنوع خوبیوں کی حامل ہے ،اس میں محقق نے احادیث کی ترقیم ،مکرر احادیث کی نشاندہی اور مشکل الفاظ کی تحقیق سمیت متنوع اطراف سے تحقیق کی ہے۔صحیح بخاری کی یہ اشاعت علمی حلقوں میں مرکزیت کی حامل ہے ۔
۵۔صحیح بخاری میں موجود صحابہ کی مرویات مسانید کی ترتیب پر معروف محقق فواد عبد الباقی نے جمع کی ہیں ،یہ تحقیق جامع مسانید صحیح البخاری کے نام سے دار الحدیث قاہرہ سے چھ جلدوں میں چھپ چکی ہے۔
۶۔صحیح بخاری میں حدیث کی تلاش ایک مشکل مرحلہ ہے ،کیونکہ امام بخاری ادنی مناسبت سے حدیث کو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے کئی مقامات پر ذکر کرتے ہیں۔ اس مشکل کا حل سید عنبر عبد الرحیم نے ھدایۃ الباری الی ترتیب احادیث البخاری کی شکل میں نکالا ہے ،مصنف نے صحیح بخاری کی تمام احادیث کو حروف تہجی کی ترتیب سے جمع کیا ہے ،اور ہر حدیث کے ساتھ اصل کتاب کے باب اور راوی کا حوالہ دیا ہے۔ تین ضخیم جلدوں میں مطبعہ الاستقامہ قاہرہ سے چھپ چکا ہے۔
صحیح بخاری پر ہونے والے بعض اہم شروح و دراسات کی کی ایک فہرست دی جارہی ہے :
۱۔ الفجر الساطع علیٰ صحیح الجامع، محمد الفضیل بن الفاطمی ،مکتبہ الرشد ،بیروت (۱۷ مجلدات)
۲۔ عون الباری لحل ادلۃ البخاری، نواب صدیق حسن خان القنوجی ،دار الرشد ،شام (۵مجلدات)
۳۔ منار القاری شرح مختصر صحیح البخاری، حمزہ قاسم ،مکتبہ دارالبیان ،شام (۵مجلدات)
۴۔ ھدایۃ الساری الیٰ دراسۃ البخاری (مقدمہ صحیح بخاری)،مولنا امداد الحق السلہٹی ،دار الفکر الاسلامی، ڈھاکہ( مجلدین)
۵۔ روایات و نسخ الجامع الصحیح: دراسۃ وتحلیل، ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم ،دار امام الدعوہ، ریاض
۶۔ کوثر المعانی الدراری فی کشف خبایا صحیح البخاری، محمد الخضر الشنقیطی ،موسسہ الرسالہ ،بیروت (۴۱ مجلدات)
۷۔ المدلسین و مرویاتھم فی صحیح البخاری، فہمی احمد عبد الرحمان ،دار الکتب العلمیہ ، بیروت (مجلدین)
۸۔ شرح صحیح البخاری، محمد بن صالح العثیمین ،المکتبہ الاسلامیہ ،قاہرہ (۱۰ مجلدات)
۹۔ روایات الجامع الصحیح ونسخہ: دراسۃ نظریۃ تطبیقیۃ، جمعہ فتحی عبد الحلیم ،وزارہ الاوقاف ،قطر(مجلدین )
۱۰۔ منحۃ الملک الجلیل شرح محمد بن اسماعیل، عبد العزیز بن عبد اللہ الراجحی ،دار التوحید (۱۴ مجلدات)
۱۱۔ النظر الفسیح عند مضائق الانظار فی الجامع الصحیح، محمد طاہر بن عاشور ،الدار العربیہ، تیونس
۱۲۔ المنھل العذب الفرات فی شرح الاحادیث الامھات من صحیح البخاری، عبد العال احمد ،المکتبہ الازہریہ ،قاہرہ (۴مجلدات)
۱۳۔ معجم الامکنہ الواردہ ذکرہا فی صحیح البخاری، سعد بن عبد اللہ ،ادارہ الملک عبد العزیز، ریاض
۱۴۔ تیسیر صحیح البخاری، موسی شاہین لاشین ،مکتبہ الشروق ،قاہرہ (۳مجلدات)
۱۵۔ اتحاف القاری بمعرفہ جھود واعمال العلماء علی صحیح البخاری، محمد عصام عرار الحسینی، الیمامہ للطباعہ والنشر ،بیروت
۱۶۔ النور الساری من فیض صحیح الامام البخاری، حسن عدوی حمزاوی ،مطبعہ المصریہ ،قاہرہ (۵مجلدات)
۱۷۔ الحلل الابریزیۃ من التعلیقات البازیۃ علی صحیح البخاری، عبد العزیز عبد اللہ بن باز ،دار التدمیریہ (۴مجلدات)
۱۸۔ تحفہ القاری بحل مشکلات البخاری، مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ 
۱۹۔ نبراس الساری فی اطراف البخاری، محمد عبد العزیز محمد نور ،المطبع الکریمی ،لاہور
۲۰۔ فہارس البخاری، رضوان محمد رضوان ،دارلکتاب العربی،قاہرہ
۲۱۔ الکوثر الجاری فی حل مشکلات البخاری، محمد ابوالقاسم البنارسی 
۲۲۔ عون الباری لحل عویصات البخاری، شیخ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی 

۲۔صحیح مسلم

۱۔صحیح مسلم کی سب سے مفصل شرح معروف شافعی عالم ،مصنف اور حرم مکی کے معروف مدرس محمد امین بن عبد اللہ الھرری کی الکوکب الوہاج و الروض البہاج فی شرح صحیح مسلم بن الحجاج ہے ،یہ شرح چھبیس جلدوں میں دار طوق النجاۃ بیروت سے شائع ہوچکی ہے۔
۲۔ علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی معروف شرح فتح الملھم اور اس کا تکملہ جو شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کی تصنیف ہے ،کا شمار بلا شبہ جدید دور میں صحیح مسلم پر ہونے والے ممتاز کاموں میں ہوتاہے۔
۳۔ڈاکٹر محمد محمدی نورستانی نے المدخل الی صحیح الامام مسلم بن الحجاج کے نام سے ایک مفید کتاب لکھی ہے جس میں امام مسلم اور صحیح مسلم کا مکمل تعارف شامل ہے ،صحیح مسلم کے نسخے ،شروحات ،تحقیقات ،صحیح مسلم کے رواۃ کے طبقات اور امام مسلم کے منہج سمیت دیگر مباحث کا خوب استقصا کیا ہے۔یہ کتاب مکتب الشوون الفنیہ کویت سے شائع ہوئی ہے۔
۴۔صحیح مسلم کی متعدد طبعات منظر عام پر آئی ہیں ،ان میں سب سے معروف اور اہل علم کے درمیان متداول نسخہ معروف محقق فواد عبد الباقی کی تحقیق و تعلیق کا حامل نسخہ ہے جو دارالکتب العلمیہ بیروت سے چھپ چکا ہے۔اس کے علاوہ معروف محدث اور صحیح مسلم کے شارح موسی شاہین لاشین اور احمد عمر ہاشم کا محقق شدہ نسخہ ہے جو موسسہ عزالدین بیروت سے پانچ جلدوں میں شائع ہوا ہے۔
صحیح مسلم پر ہونے والی اہم تحقیقات و دراسات کی ایک فہرست پیش خدمت ہے :
۱۔ السراج الوھاج من کشف مطالب صحیح مسلم بن الحجاج، صدیق حسن خان القنوجی ،الشوون الدینیہ ،قطر (۱۱ مجلدات)
۲۔ فتح المنعم شرح صحیح مسلم، موسی شاہین لاشین، دار الشروق، بیروت (۱۰ مجلدات)
۳۔ منۃ المنعم فی شرح صحیح مسلم، صفی الرحمان مبارکپوری ،دارلسلام ،ریاض (۴مجلدات)
۴۔ قرۃ عین المحتاج فی شرح مقدمہ صحیح مسلم بن حجاج، محمد بن علی بن آدم الاثیوبی ،دار ابن جوزی ،سعودیہ (مجلدین)
۵۔ الامام مسلم ومنھجہ فی صحیحہ، محمد عبد الرحمان طوالبہ ،دار عمار ،عمان
۶۔ دراسات علمیۃ فی صحیح مسلم، علی حسن بن عبد الحمید ،دارالہجرہ ،ریاض
۷۔ روایات المدلسین فی صحیح مسلم،جمعھا وتخریجھا و الکلام علیھا، عواد حسین الخلف، دار البشائر الاسلامیہ ،بیروت
۸ ۔ عبقریۃ الامام مسلم فی ترتیب احادیث مسندہ الصحیح، دراسۃ تحلیلیۃ، حمزہ عبد اللہ الملیباری ،دار ابن حزم ،بیروت
۹۔ منھج الامام مسلم فی ترتیب کتابہ الصحیح ودحض شبھات حولہ، ربیع بن ہادی المدخلی ،مکتبہ الدار ،المدینہ المنورہ
۱۰۔ تنبیہ المسلم الی تعدی الالبانی علی صحیح مسلم،محمود سعید ممدوح ،مکتبہ الامام الشافعی، الریاض
۱۱۔ البحر المحیط الثجاج فی شرح صحیح الامام مسلم بن الحجاج، محمد بن علی بن آدم الاثیوبی، دار ابن جوزی ،سعودیہ (۲۴ مجلدات)
۱۲۔ شرح صحیح مسلم، محمد بن صالح العثیمین ،دار الرشد (۱۰ مجلدات)
۱۳۔ فھارس صحیح مسلم، محمد فواد عبد الباقی ،دار احیاء الکتب العربیہ ،قاہرہ

۳۔جامع ترمذی

۱۔جامع ترمذی کی سب سے مفصل معاصر شرح معروف اہل لحدیث عالم علامہ عبد الرحمان مبارکپوری رحمہ اللہ کی تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی ہے ،حل کتاب اور حدیثی مباحث میں بلا شبہ یہ شرح لا جواب ہے، مبارکپوری صاحب نے اس کے شروع میں ایک مفصل مقدمہ بھی لکھا ہے ،جو مستقل جلد میں شائع ہوا ہے۔ اس مقدمہ میں جامع ترمذی اور حدیث سے متعلقہ مباحث کا خوب استقصا کیا ہے۔یہ شرح بیروت سے دس جلدوں میں چھپ چکی ہے۔
۲۔محدث العصر حضرت مولانا یوسف بنوری رحمہ اللہ کی معارف السنن شرح جامع السنن عمدہ شرح ہے ،حضرت بنوری نے خاص طور پر اس شرح میں اپنے استاد اما م العصر حضرت انورشاہ کشمیری کے افادات کو جمع کر نے کی کی کوشش کی ہے ،یہ شرح کتاب الحج تک ہے ، اگر یہ شرح مکمل ہوتی تو بلاشبہ دور جدید میں جامع ترمذی کی مفصل اور جامع شروح میں شمار ہوتی۔
۳۔ معارف السنن کا تکملہ استاد محترم اور جامعہ امدادیہ کے نائب صدر حضرت مولانا زاہد صاحب دامت برکاتہم نے لکھنا شروع کیا ہے ،ابھی تک اس کی ایک ضخیم جلد منظر عام پر آئی ہے ،جو صرف کتاب الجنائز پر مشتمل ہے ،حدیث کی تشریح میں جدید مباحث کے حوالے سے ایک عمدہ کاوش ہے۔ اللہ کرے ،استاد محترم اس شرح کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔
۳۔امام ترمذی عموماً حدیث کے ذکر کرنے کے بعد اس کے متابعات و شواہد کی طرف اشارہ کرنے کے لئے وفی الباب کہہ کر ان صحابہ کا ذکر کرتے ہیں ،جن سے حدیث کے متابعات و شواہد مروی ہیں۔ وفی الباب کی احادیث کی تخریج پر معاصر سطح پر عمدہ کام ہوا ہے ،جن میں دو کتب قابل ذکر ہیں :
الف:حسن بن حیدر الوائلی کی چھ جلدوں پر مشتمل مفصل کتاب نزھۃ الالباب فی قول الترمذی وفی الباب جامع کتاب ہے ،یہ کتاب در ابن جوزی ریاض سے چھپی ہے۔
ب:ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ کی کتا ب کشف النقاب عما یقولہ الترمذی و فی الباب اس سلسلے کی ایک عمدہ کتاب ہے ،لیکن یہ کتاب نامکمل ہے ،پانچ جلدوں میں مجلس الدعوہ و التحقیق کراچی سے چھپی ہے۔
۴۔معروف سلفی محدث ناصر الدین البانی نے متعدد کتب حدیث پر صحت و ضعف کے اعتبار سے تحقیقات کی ہیں، علامہ البانی نے جامع ترمذی پر بھی اسی نوعیت کا کام کیا اور جامع ترمذی کو صحیح سنن لاترمذی اور ضعیف سنن الترمذی میں تقسیم کرکے جامع ترمذی کے صحیح و ضعیف احادیث پر مبنی دو الگ نسخے تیار کئے۔اگرچہ بہت سے اہل علم نے علامہ البانی کی اس تحقیق سے اختلاف کیا ہے ،لیکن علمی و حدیثی حوالے سے اس کام کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔
۵۔جامع ترمذی کی متعدد طبعات منظر عام پر آئی ہیں ،ان میں درجہ ذیل طبعات تحقیق کے حوالے سے اہم شمار ہوتی ہیں :
الف: جامع ترمذی بتحقیق شعیب الارناووط، موسسہ الرسالہ ،بیروت(۶مجلدات)
ب: جامع ترمذی بتحقیق بشار اعواد معروف، دار الغرب الاسلامی (۶مجلدات)
ج: جامع الترمذی بتحقیق احمد محمد شاکر، مکتبہ مصطفی البابی الحلبی (۵ مجلدات )
۶۔جامع ترمذی پر معاصر سطح کی سب سے مفصل تحقیق ،تعارف ، جامع ترمذی کے رواۃ اور امام ترمذی کے منہج پر تفصیلی بحث معروف شامی عالم ڈاکٹر عداب محمود الحمش نے کی ہے ،ڈاکٹر صاحب نے الامام الترمذی ومنھجہ فی کتابہ الجامع کے نام سے تین جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب لکھی ہے جو دراصل ان کا پی ایچ ڈی مقالہ ہے ،اس کتاب میں جامع ترمذی سے متعلق جملہ مباحث کا عمدہ استقصا کیا گیا ہے ،یہ کتاب دار الفتح للدراسات والنشر عمان سے چھپی ہے۔
جامع ترمذی پر ہو نے والی بعض اہم تحقیقات و دراسات کی ایک فہرست پیش کی جارہی ہے :
۱۔ فقہ الحدیث عند الائمہ السلف بروایہ الامام الترمذی، محمد بن احمد کنعان ،موسسہ المعارف، بیروت (مجلدین )
۲۔ فقہ الامام الترمذی فی سننہ و دراسۃ نقولہ للمذاھب، مازن عبد العزیز الحارثی ،جامعہ ام القری (مجلدین )
۳۔ الردود و التعقیب علی بعض الشارحین من المعاصرین لجامع الترمذی، عبد الرحمان بن یحییٰ المعلمی ،المکتبہ الملکیہ، مکہ مکرمہ
۴۔ حاشیۃ علیٰ جامع الترمذی، احمد علی سہارنپوری ،مطبعہ احمدیہ ،دہلی
۵۔ جامع الترمذی فی الدراسات المغربیۃ، روایۃ ودرایۃ، محمد حسین صقلی ،جامعہ محمد الخامس،رباط
۶۔ المدخل الی جامع الامام الترمذی، ڈاکٹر طاہر الازہر،مکتب الشوون الفنیہ ،کویت
۷۔ الامام الترمذی والموازنۃ بین جامعہ وبین الصحیحین، ڈاکٹر نور الدین عتر ،مطبعہ لجنہ التالیف 
۸۔ جائزۃ الاحوذی فی التعلیقات علی سنن الترمذی، ابی النصر ثناء اللہ المدنی ،ادارہ البحوث الاسلامیہ ،بنارس (۴ مجلدات)
۹۔ حسن صحیح فی جامع الترمذی دراسۃ و تطبیق، اعداد طلبہ قسم التخصص فی الحدیث دار العلوم دیوبند ،اکادیمیہ ،شیخ الہند ،دیوبند (مجلدین )
۱۰۔ تھذیب جامع الامام الترمذی، عبد اللہ التلیدی ،دار المعرفہ و الفکر ،بیروت(۳مجلدات)
۱۱۔ العطر الشذی فی حل الفاظ الترمذی، محمد منیر عبدہ الدمشقی 
(جاری ہے)

دینی مدرسہ میں استاد کا کردار (۲)

مولانا محمد رفیق شنواری

تعلیمی ماحول کی تشکیل میں استاد کا کردار

تعلیمی عمل کا ایک اساسی بلکہ اہم ترین رکن استاد ہے ۔ لیکن تعلیم کو فروغ دینے کے سلسلے میں استاد کے علاوہ تعلیمی وسائل کا بھی گہرا اثر ہوتا ہے ۔ تعلیم کے وسائل پورے اور بہتر ہوں تو استاد کو عمل تدریس میں لگن پیدا ہوگی ، اس طرح بہتر اور معیاری تدریس اپنے مثبت اور اچھے اثرات کے باعث عملِ تعلیم کو خوش گوار اور پرکشش بنا دیتی ہے۔ اس لیے تعلیمی ماحول کی تشکیل میں اولین ذمہ داری اداروں کے سربراہان یا مدارس کے مہتممین حضرات پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مدارس کے بادشاہ یا سلاطین بننے کے بجائے طلبہ اور بالخصوص مدرسین کے خدام بنیں۔ کیونکہ اگر وہ تدریس کے عمل میں حائل ہونے والی تمام رکاوٹوں کو دور کریں اور تدریس کے لیے امکانی حد تک تمام وسائل مہیا کریں تو ہر استاد محبت اور محنت کے ساتھ تعلیم و تربیت میں بھرپور کردار ادا کرے گا۔
تاہم تدریس کے وسائل خواہ جتنے بھی بہتر ہوجائیں، تعلیمی ماحول کی تشکیل میں کلیدی کردار استادہی کا ہے کیونکہ وسائل کے پورا ہونے کے بعد بھی تدریس کا عمل ازخود بہتر نہیں ہوسکتا بلکہ استاد کو اسے بہتر اور معیاری بنانا پڑے گا۔ اس سلسلے میں استاد اولاً اپنی یہ ذہن سازی کرے کہ عمل تدریس کو ایک فن کے طور پر تسلیم کرے جس میں تربیت اور تجربے کی روشنی میں بہتری لائی جاسکتی ہے ۔ اس کے بعد استاد ماہرین تعلیم کی تجاویز اور کہنہ مشق اساتذہ کی راہنمائی حاصل کریں۔ اپنے حقوق اور اپنی ذمہ داریاں پہچانیں، حقوق اور مراعات کے حصول پر توجہ کم دیں، اور اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زیادہ توجہ دیں۔ ہر وقت اپنا احتساب خود کریں۔ طلبہ کو اپنی اولاد کی طرح سمجھیں۔ ان کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اٹھانہ رکھیں اور عمل تدریس کو مؤثر بنانے کے لیے فکر مند رہیں۔ سوچنا چاہیے کہ اگر عمل تدریس معیاری ہے، اس سے اہداف و مقاصد کا حصول ہورہا ہے اور طلبہ مصلحین بن کر معاشرے میں جا رہے ہیں تو وہ معاشرے کے دیگر افراد کے لیے نمونہ اور آئیڈیل ثابت ہوں گے ، اور لوگ اپنی اولاد کو تعلیم کے لیے بھیجتے رہیں گے اور مدارس کے ساتھ ان کا تعلق مزید مضبوط ہوگا ۔

ہم نصابی سرگرمیوں کی اہمیت اور استاد کی رہنمائی

تعلیم و تربیت کا عمل مدرسے کی چار دیواری یا کمرۂ جماعت تک محدود و مقید نہیں کرنا چاہیے بلکہ طلبہ کی ذہنی، جسمانی، اخلاقی اور فکری تربیت کے لیے باقاعدہ نصاب سے ہٹ کر کچھ تفریحی ، ہم نصابی سرگرمیوں اور تربیت جسمانی کے عمل کو بھی بروئے کار لانا چاہیے ۔ کیونکہ نصابی تعلیم و تدریس کے ساتھ طلبہ کی طبعی ضرورتوں کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ طلبہ کی تربیت میں ان سرگرمیوں کو بھی بے حد اہمیت حاصل ہے ۔ اس تصور کو بالعموم مغرب سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن نبوی تعلم و تربیت کے تصورات کا اگر جائزہ لیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ آپؐ نے چودہ سو سال قبل بھی تعلیم کے اس پہلو پرکس قدر توجہ دی تھی۔ آپؐ نے جہاں بچوں اور نوجوانوں کو عقائد، اخلاق اور فنون کی تعلیم دی، وہیں ان کی جسمانی نشوونما اور ان کی تفریح کا بھی پورا پورا خیال رکھا۔ آپؐ نے جاہلیت کے ان تمام مشاغل کو جو اخلاقی اعتبار سے مفید ہوسکتے تھے یا ان کو تھوڑی بہت تبدیلی کے ذریعے مفید بنایا جاسکتا تھا، عموماً برقرار رکھا۔ مثلاً گھڑ دوڑ، کشتی، تیراندازی ، تیراکی، دوڑ کے مقابلے ، سیر و تفریح وغیرہ۔
تعلیم و تربیت کے نظام کو کتابوں تک محدود یا تعلیمی مراکز کے اندر مقید رکھنے کے بجائے خارجی دنیا کو سمجھنے کے لیے حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ یوں ہم نصابی سرگرمیوں کو صلاحیتوں کے اُجا گر کرنے اور جسم کو تندرست و توانا رکھنے کا وسیلہ بنایا جاسکتا ہے ۔ تاہم ان تمام سرگرمیوں کو مفید بنانے کے لیے اور ان میں ایک حسین ربط اور توازن برقرار رکھنے کے لیے استاد کی راہنمائی ضروری ہو گی۔ (۵) بہترین معاون نبوی تعلیم و تربیت کے اصول ہی بہترین معاون ہوسکتے ہیں۔چنانچہ ذیل کی سطور میں ان میں سے چند اہم اصولوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

حدود اللہ کی پابندی

طلبہ کو تفریحی، ادبی، کھیل کود یا ہم نصابی سرگرمی کے اُن تمام انواع سے دور رکھنا ضروری ہے جن میں حدود شرعیہ سے تجاوز کا خطرہ ہو۔ ہم نصابی سرگرمی کے بنیادی مقاصد سے کبھی بھی صرفِ نظر نہ کیا جائے۔ نبی کریم ا کا ارشاد مبارک ہے:
إن لکل ملک حمیً ألا إن حمی اللہ محارمہ 
ہر بادشاہ کے لیے ایک مخصوص چراگاہ ہوا کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چراگاہ محرمات ہیں۔(مسلم)

اسلامی ثقافت کا فروغ

طلبہ کو ان تمام ہم نصابی سرگرمیوں سے دور رکھنا چاہیے جو اپنا اسلامی تشخص کھو کر غیروں کی ثقافت کی آئینہ دار ہوں، یا ایسی سرگرمیاں جو اسلامی اقدار کو فروغ دینے کا ذریعہ نہ ہوں، یا وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کرنے اور دلوں کو مردہ بنانے والی ہوں۔ حدیث میں نبی اکر م ا کا ارشاد گرامی ہے:
کُلُّ شَيْءٍ لَیْسَ مِنْ ذِکْرِاللّٰہِ فَھُوَ سَھْوٌ أَوْ لَھْوٌ، إِلاَّ أَرْبَعَ خِصَالٍ: رَمْيُ الرَّجُلِ بَیْنَ الْغَرْضَیْنِ، وَتَادِیْبِہٖ فُرُسَہٌ، وَتَعَلُّمِہٖ السَّبَاحَۃَ، وَمَلَاعِبَتِہٖ اأھْلَہٌ 
ہر وہ چیز جس سے اللہ تعالیٰ کی یاد نہیں رہتی وہ لہو ہے یا درست نہیں ہے سوائے چار چیزوں کے، ۱۔دو نشانوں کے درمیان تیراندازی کرنا، ۲۔ گھوڑے کو جہاد کی غرض سے سدھانا، ۳۔ اپنی اہل کے ساتھ کھیل کود کرنا، ۴۔ اور تیراکی سیکھنا۔(السنن الکبری للبیہقی)

اخلاقی بگاڑ سے اجتناب

طلبہ کو کسی بھی ہم نصابی سرگرمی یا کھیل کود کی اجازت دینے میں ان کا علمی معیار، فکری بلندی اور اخلاقی تربیت مدنظر رکھنا چاہیے ۔ ایسے لہو و لعب سے اجتناب کرانا چاہیے جس سے اخلاقی بگاڑ کا خطرہ ہو یا حیا وعفت کے آنچل پر حرف آنے کا اندیشہ ہو۔ طلبہ کو ایسی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا چاہیے جن میں ان کے بہادری، حیاو عفت، صبر و استقامت، ضبط نفس، حسنِ تدبر، انتظام و انصرام کی صلاحیت، ٹیم ورک، ایثار، چھوٹوں پر شفقت، بڑوں کی تکریم، ہمدردی اور باہمی تعاون کو فروغ ملے۔

صلاحیتوں کا فروغ

طلبہ کو ایسی ہم نصابی سرگرمیوں کی طرف لے جانا چاہیے جہاں ان کو نصابی یا تعلیم کے عمل کی تھکاوٹ سے تفریح کا سامان ملے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی، ذہنی و فکری صلاحیتوں کو فروغ ملے اور ان میں تخلیقی استعداد پروان چڑھے اور مینجمنٹ اور تنظیمِ عمل کا سلیقہ سیکھنے کا موقع ملے۔

اعتدال

نبی کریم ا کی تعلیمات میں اعتدال ایک ایسا بہترین اصول ہے جس کو اگر کسی بھی عمل میں اپنایا جائے تو افراط کی ندامت اور یا تفریط کی حسرت کا موقع باقی نہیں رہتا۔ تعلیماتِ نبوی میں اس کو تعلیم و تربیت سے بڑھ کر زندگی کے ہر شعبے میں عام کردیا گیاہے ۔ چنانچہ ایک متعلقہ حدیث کے مطابق آپؐ کا ارشاد ہے:
خَیْرُالْاُمُوْرِ اأوْسَاطُھَا 
بہترین کام وہ ہیں جو اعتدال اور میانہ روی سے سرانجام دیے جائیں۔(السنن الکبری للبیہقی)
اس اصول کے پیش نظر اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ کے اوقات اور تمام مشاغل مناسب طریقہ سے تقسیم کریں۔ ہم نصابی سرگرمیوں پر ضرورت سے زیادہ توجہ نہ دی جائے کہ وہ بنیادی مقصد نہیں ہے، اور نہ تعلیمی اور نصابی عمل میں ہر وقت مشغول رکھا جائے ، کہ اس میں صلاحیتوں کے ضیاع کا خطرہ ہوتا ہے ایک حدیث میں وار دہے:
إِنَّ لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقّاً، وَلِرَبِّکَ عَلَیْکَ حَقّاً، وَلِضَیْفِکَ عَلَیْکَ حَقّاً، وَ إِنَّ لِاأھْلِکَ عَلَیْکَ حَقّاً
بے شک تم پر تمہارے نفس، تمہارے رب، تمہارے مہمان اور تمہاری بیوی کا حق ہے۔ پس ہر حقدار کو اس کا حق ادا کرو۔ (ترمذی)
ان تمام حقوق کی ادائیگی اعتدال کے اصول پر مبنی تقسیمِ عمل اور تقسیمِ کار ہی کی صورت میں ممکن ہے۔(۶)

مطالعے کا شوق بڑھانا

اساتذہ کے لیے ہمیشہ نہایت اہم سوال یہ رہا ہے کہ طلبہ میں مطالعے کا شوق کیسے پیدا کیا جائے؟ مشاہدہ ہے کہ طلبہ میں آج جہاں صلاحیت اور استعداد کی کمی شدت اختیار کرتی جارہی ہے وہاں مطالعے کا شوق اور بحث وتحقیق کا ذوق بھی کم ہوتا جارہا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اساتذہ کو ’’تعلیمی تحریک‘‘ کا فارمولا بروے کار لانا پڑے گا۔ ’’تحریک‘‘ کسی بھی انسان کی وہ اندرونی کیفیت ہے جو اس کے خیالات، احساسات اور افعال کی سمت متعین کرتی ہے۔ یہ چند اسباب و علل سے پیدا ہونے والی ایسی قوت ہے جو فرد کو مخصوص سرگرمی سے ثابت قدمی کے ساتھ وابستہ رکھ کر اس کی تکمیل تک مصروف رکھتی ہے۔ عبادت میں مخصوص الفاظ کہلوانے والی طاقت وہ اندرونی ’’تحریک‘‘ ہے، مخصوص سمت مثلاً مسجد کی طرف چلنے پر مجبور کرنے والی قوت وہ اندرونی ’’تحریک‘‘ ہے۔ چنانچہ ’’تعلیمی تحریک‘‘ سے مراد وہ اندرونی قوت ہے جو طالب علم کو استقلال و استقامت سے سیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ طالبِ علم کی اس اندرونی طاقت میں رکاوٹ ڈالنے والے اسباب تین ہیں۔ ذیل میں اختصار کے ساتھ ان کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔

(i) اُکتاہٹ یا لاتعلقی

مثلاً طالبِ علم کسی کتاب یا مخصوص فن پڑھنے سے اکتاجائے یا لاتعلق ہو جائے۔ یہی اکتاہٹ طالب علم کی اس اندرونی قوت کو جو اس کو اس کتاب کے پڑھنے یا اُس فن کو سیکھنے پر مجبور کر رہی تھی، متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں طالبِ علم اس کتاب یااُس مخصوص فن سے لاپروا ہو جاتا ہے۔
اس کا حل یہ ہے کہ طلبہ کے اندر تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی کو فروغ دیا جائے۔ تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی کو فروغ دینے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں۔

(ii) نااہلی کا احساس

کبھی کبھار طالبِ علم کو اچھے امتحانی نتائج نہ ملنے پر یا ایک دوبار مسلسل کوئی مسئلہ نہ سمجھنے پر یہ احساس تنگ کرنا شروع کردیتا ہے کہ میں تو نااہل ہوں اورمیں کبھی یہ کام نہیں کرسکتا اور نہ کبھی کر پاؤں گا۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ استاد ہر طالب علم کے اندر خود اعتمادی پیدا کرے اور اس کے دل و دماغ میں یہ بات بٹھائے کہ ’’میں یہ کام کرسکتا ہوں‘‘۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز پر خود کو یا سینئر طلبہ کو یا دیگر معروف شخصیات کو نمونے کے طور پر پیش کرے کہ اپنے ابتدائی عہد طالب علمی میں یہ بھی آپ ہی کی طرح تھے۔ مسلسل محنت کے بعد اس مقام پر پہنچے۔ اسی طرح طلبہ کو تعلیم کی طرف راغب کیا جائے۔ تھوڑے سے کام پر حوصلہ افزائی اور مزید ترقی کے لیے ترغیب و راہنمائی سے کام لے۔ امید ہے کہ اس طریقہ پڑھائی میں ان کی رغبت بڑھے گی۔

(iii) مایوسی

نااہلی کا احساس یا احساس کمتری کا اگر بر وقت تدارک نہ کیا جائے تو یہ طالب کو مایوسی کی طرف لے جاتا ہے جس کے بعد طالب علم پڑھائی ترک کرکے تعلم کے عمل سے دور بھاگنے کے راستے تلاش کررہا ہوتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ طالبِ علم کے اندر خوداعتمادی اور اطمینان پیدا کیا جائے اور استاد اس کو یہ یقین دلائے کہ اس کے اندر سیکھنے کی صلاحیت ہے تاہم مزید بہتری کے لیے بس اس میں ذرا نکھار پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر کلاس میں کچھ طلبہ سیکھنے کے عمل سے مایوسی کا شکار ہیں تو استاد عمدہ نمونے پیش کرنے اور ترغیب کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل کام کرے:
اولاً : ایسی کلاس کے اندر استاد تسلسل سے ایک ہی نوعیت کے مقابلوں کا انعقاد اور تقسیم انعامات کا سلسلہ ترک کرے کہ قابل طلبہ کے مسلسل جیتنے اور انعامات حاصل کرنے سے مایوسی کے شکار طلبہ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور ان کی مایوسی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ استاد کو اس پہلو پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ جو طلبہ کسی ایک مضمون میں یا کسی ایک پہلو سے پڑھائی میں کمزور ہیں تو وہ کسی دوسرے پہلو سے اپنے ہم جماعت ساتھیوں سے مقابلۃً بہتر بھی ہوں گے۔ یا ان کی کچھ پوشیدہ صلاحیتیں بھی ہوسکتی ہیں کہ انہیں اجاگر کیا جائے، اور ان کی دلچسپی کے میدان میں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تو ان کی مایوسی کی کیفیت دور ہوسکتی ہے۔
ثانیاً: استاد ایسی کلاس میں سیکھنے کے عمل میں باہمی تعاون پر زور دیں اور کمزور طلبہ کی یہ ذہن سازی کریں کہ قابل طلبہ سے تعاون حاصل کرنے میں کوئی عار نہیں اور نہ قابل طلبہ کے لیے اس میں کوئی فوقیت کی بات ہے۔ مختلف گروپوں میں طلبہ کو اس طریقہ پر تقسیم کریں کہ ہر گروپ میں استعداد والے طلبہ شامل ہو اسی طرح کلاس کے اندر باہمی تعاون کی فضا بنائیں۔
ثالثاً: کمزور طلبہ کے اوپر سے آمرانہ کنٹرول ختم کیا جائے اور انہیں ممکن حد تک اختیار دیا جائے کہ مثلاً آپ کو اس باب کے دس مسائل میں سے اب تک چار مسائل یاد ہیں۔ اگلے ٹیسٹ کے لیے کتنا وقت درکار ہے اور اس کے لیے کتنے مسائل کی تیاری کرسکتے ہیں۔ اسی طرح طالب علم کو عملِ تعلم میں مزید پیش رفت کے لیے تربیت اور راہنمائی کے تحت بااختیار بنائیں۔اس طریقے سے طالب علم اپنے اندر تعلم میں پیش رفت اور استمرار محسوس کرتا جائے گا، جس کے ساتھ ساتھ مایوسی کا عنصر بھی ختم ہوتا جائے گا۔

تعلیمی ادارے کے ساتھ وابستگی

بعض اوقات طالب علم اپنی ذات کی حد تک کتنا ہی بد ذوق اور پس ماندہ کیوں نہ ہو لیکن اس کی ناکامی کی ذمہ داری اس کے ادارے، ادارے کے سربراہ اور وہاں کے اساتذہ پر ڈالی جاتی ہے۔ شکایت کنند گان اس معاملے میں ایک حد تک حق بجانب بھی ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر طالبِ علم کی ذات اور فطرت میں شوق تعلم نہیں، تو اگرچہ اس فطرت کو یکسر تبدیل کرنا ایک نہایت مشکل اور بظاہر ناممکن عمل ہے لیکن اساتذہ اور متعلقہ ادارے کا سربراہ مل کر ادارے کے تعلیمی ماحول کے ذریعے سے کافی حدتک اُس طالبِ علم کی فطرت کو متأثر کر سکتے ہیں۔ کسی بھی وقت ایسی نا خوشگوار صورت حال سے بچنے کے لیے ایک طالبِ علم کے مثالی ہونے کی تمام تر ذمہ داریاں نہ تو استاد پر عائد ہوتی ہیں اور نہ سربراہ ادارہ یا تنہا مہتمم اس کا مسؤل ہو سکتا ہے۔ لیکن تمام اساتذہ اور مہتمم کو مل کر اجتماعی صورت اور بہتر ماحول اختیار کرنے کے لیے کچھ اقدامات ضرور کرنے ہوں گے، جن میں کچھ ذمہ داریاں مہتمم کے ذمہ آتی ہیں اور کچھ کے متعلق اساتذہ جواب دہ ہوتے ہیں۔
تدریس کے لیے درکار وسائل اور ضروریات کا فراہم کرنا تو بظاہر مہتم کا کام ہے لیکن استاد کی ذمہ داری بھی صرف کتاب کی تدریس یا کمرہ جماعت تک محدود نہیں بلکہ کمرۂ جماعت سے باہر اور نصابی کتاب کی تدریس سے بڑھ کر بھی عمل تعلیم جاری رہنا چاہیے۔ اسی طرح استاد کتاب پڑھانے کے علاوہ طلبہ کی عملی تربیت اور اصلاح بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ کیونکہ نبی کریمؐ کے طرزِ تعلیم پر اگر غور کیا جائے تو آپؐ صحابہ کرامؓ کی تعلیم صرف صفہ یا مسجد تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ مسجد سے باہر بھی سفر و حضر دونوں میں آپؐ کی تعلیم کا عمل جاری رہتا تھا ۔ اسی طرح آنحضرت ا قرآن کریم کی آیات کی تشریح پر اکتفا نہیں فرماتے تھے بلکہ احادیث کی بھی تعلیم دی گئی ہے اور اسی طرح آپؐ کی تعلیم کا عمل تو اتنا عام اور صحابہؓکی زندگیوں کے ہر شعبے میں اتنا زیادہ تھا کہ ان کو معمولی معمولی معاملات میں، حتیٰ کہ استنجا تک کے طریقہ کی تعلیم بھی دی گئی۔ لہٰذا اس اصول کے پیش نظر اساتذہ کا فرض ہے کہ ان کی تعلیم نصاب اور کمرہ جماعت سے بڑھ کر ہم نصابی سرگرمیوں اور طلبہ کی زندگی کے ہر شعبے تک عام ہو۔ہر استاد کے لیے یہ بھاری ذمہ داری اٹھانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ تمام اساتذہ اور مہتمم کے درمیان مضبوط وابستگی اور رابطہ کار ہو ۔سب مل کر ایک دوسرے کو طلبہ کی صورت حال کے بارے میں آگاہ کیا کریں۔ مناسب وقت کے بعد ان کا باہمی مشورہ ہو اس میں ہر استاد اپنی حاضری یقینی بنائیں۔ اور ادارے اور طلبہ کے انتظامی اور تعلیمی سب امور کا بنظرِ غائر جائزہ لے کر غور و فکر کرکے تیاری کے ساتھ آئیں ، نیز ادارے اور طلبہ کی ترقی کے لیے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے مثبت اور با معنی تجاویز پیش کریں۔ 
اگر تما م اساتذہ اور ادارے کے مہتمم کے درمیان باہمی تعاون اور مشوروں کا یہ رشتہ استوار نہ ہو اور مہتمم تعلیم کی تمام تر ذمہ داری استاد کا فرض سمجھتا رہے اور اساتذہ اپنے فرائض صرف کتاب کی تدریس اور کمرہ جماعت تک محدود تصور کرلیں اور ادارے کی انتظامی اور تعلیمی امور میں حصہ نہ لیں تو طلبہ کی اصلاح و تربیت اور تعلیم میں اعلیٰ کردار کے حامل ہونے کے خواب کا شرمندۂ تعبیر ہونا ناممکن نہیں تومشکل امر ضرور بن جائے گا۔

جدید وسائل و مسائل سے واقفیت

تعلیم کے جدید وسائل سے آگاہی

تعلیمی وسائل سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عملِ تعلیم میں حسن، جودت، بہتری اور عملِ تعلّم میں سہولت اور آسانی پیدا کرے۔ یعنی وہ چیز جس سے استاد کی تدریس معیاری ہوجائے اور جو طالب علم کوسبق پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی پیدا کرنے کا باعث ہو۔ یہ چیز استاد کے خطبات، تعبیرات وتمثیلات کے علاوہ دیگر مادی و حسی اشیا بھی ہو سکتی ہیں۔استاد کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو چیز وہ تعلیم و تدریس کے عمل میں طلبہ کو منتقل کررہا ہے طالب علم اس کوسمجھ لے اور ذہن میں بٹھائے اور اس دوران اس کو کوئی مشکل نہ ہو۔ استاد کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تدریس اور تعلیم ایک تسلسل کے ساتھ رواں تقریر اور خطبے کی شکل میں نہ ہو بلکہ اس میں تعبیر کا حسن بھی چاہیے ،کبھی مثالوں سے وضاحتیں بھی، اور بعض اوقات تختہ تحریر پر جدول سازی اور صورتوں کی بناوٹ بھی۔ اسی طرح بعض اوقات حسی اور مادی اشیاء کے ذریعے بھی وہ توضیحِ مزید کرسکتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے لیے ان سب سے چیزوں سے واقفیت ضروری ہے، کیونکہ ان سب کی بنیاد نبی کریم ا کی تعلیمات میں موجود ہے۔ مثالیں تو حدیثوں کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے اندر بھی پائی جاتی ہیں۔ نبی کریم ا نے یتیم کی کفالت کرنے والے کو جنت میں اپنے ساتھ ملنے والی قربت کو دو انگلیوں کی قربت سے سمجھا دیا تھا۔ عذاب قبر کے باعث پسلیوں کے آپس میں ایک دوسرے کے اندر تداخل کو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے تداخل کی صورت کے ذریعے سمجھا دیا تھا۔ اسی طرح اپنے اور قیامت کے درمیان قربت کو بھی دو انگلیوں کی قربت کے ذریعے سمجھایا ہے۔ اس کے علاوہ انسان کی مختصر زندگی ، لمبی امید یں اور موت کے نزدیک ہونے کو زمین پر ایک تصویر اور جدول سازی کے ذریعے سمجھایا ہے۔ایک موقع پر اس معنی کو تین کنکریوں کے ذریعے بھی سمجھایا ہے کہ دو کنکریوں کو قریب یکے بعد دیگرے رکھ دیا اور تیسری کو دور پھینکا، پھر فرمایا کہ یہ دو قریب کنکریاں انسان اور اس کی موت ہے جب کہ تیسری کنکری اس کی لمبی لمبی امیدیں ہیں۔ الغرض ذخیرہ احادیث کے اندر اسّی سے زائد ایسے مواقع ہیں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الفاظ کے علاوہ مختلف مثالوں، اشیاء یا اشکال کے ذریعے کوئی تصور یا بات سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ اتنی ٹھوس بنیادوں کے ہوتے ہوئے اور عصر حاضر کی تعلیمی ضروریات کے پیش نظر کسی بھی استاد کے لیے اُن عصری وسائل کا جاننا بہت ضروری ہے جو اس کے عمل تعلیم میں نکھار، حسن، اور جان پیدا کریں۔

عصری تعلیمی مباحث

علمی دنیا میں جب سے تدریس کو ایک فن کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، اس وقت سے اس کی تربیت کے عمل کو بھی دیگر فنون و علوم کی طرح ہی سمجھا گیا اور اس پر مختلف کتابیں لکھی گئیں اور جرائد و مجلات کا اجراء کیا گیا۔ اساتذہ کی تربیت و رہنمائی کے لیے تعلیمی کا نفرنسیں، سیمینارز اور کورسز کا انعقاد کیا گیا اور یوں اب تک تدریس بطور فن پر دنیا کی مختلف زبانوں میں خاصا لٹریچر جمع ہوگیا ہے جس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس میں دینی مدارس کے بعض علماء کا بھی حصہ ہے ان کی بھی اس موضوع سے متعلق کئی کتابیں دستیاب ہیں اور متعدد مجلات میں بھی دینی مدارس کے اساتذہ کے مقالات چھپتے رہتے ہیں۔ اس موضوع پر اس سرعت کے ساتھ اتنی وافر مقدار میں کام کا ہونا اور جاری رہنا اس بات کا غماز ہے کہ استاد کو اپنے تدریسی عمل میں مزید بہتری لانے اور نکھار پیدا کرنے کی ضرورت ہر لمحہ محسوس ہوتی رہی ہے۔ لہٰذا اساتذہ بالخصوص نو آموز اساتذہ کو بھی اس فن میں مہارت حاصل کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ معاشرے میں عمومی طور پر نئے نئے اسباب و وسائل کے سیلاب سے طلبہ کی نفسیات اور ان کی فطرتیں متأثر ہوتی جارہی ہیں۔ ماضی میں انہیں جس انداز سے کوئی بات سمجھائی جاسکتی تھی یا تربیت کے حوالے سے وہ اپنی کسی عادت کو بُرا خیال کرتے ہوئے اُسے تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس کر سکتے تھے شائد آج کے طلبہ کو اسی طریقے اور انداز سے وہ بات نہیں سمجھائی جاسکتی۔ آج اُس بات کو باور کرانے اور نوعمروں کے لیے قابلِ قبول بنانے کے لیے نئے ڈھنگ اور نئے طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ تعلیم و تدریس کو بطور فن تسلیم کریں اور پھر ماہرین فن کی تحریروں، مباحث، کتابوں اور تجربات سے آگاہی حاصل کریں اور ان معلومات کی روشنی میں اپنے طریقۂ تعلم و تربیت کو مؤثر بنائیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا کہ زندگی میں آسانیاں فراہم کرنے کے نئے نئے اسباب و وسائل کے عام ہوجانے سے طلبہ کی نفسیات اور مزاج پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ان اسباب اور وسائل میں روز بروز جدت بھی آتی رہتی ہے اور اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے جس کے نتیجے میں ان کی نفسیات اور فطرتیں بھی تنوع اور تغیر کا اثر لیتی رہتی ہیں۔ اس صورت حال میں عملِ تعلم اور تربیت میں ان کی عادات اور دلچسپیوں میں بھی تغیر واقع ہوگیا ہے۔ ماہرین تعلیم وقت کے ساتھ ساتھ اس پر لکھتے رہتے ہیں،سیمینار کراتے ہیں، اور کانفرنسوں اور تعلیمی محفلوں میں اساتذہ کو بلایا جاتا ہے تاکہ انہیں اس تغیر کا اندازہ ہو اور طبیعتوں اور عادتوں کے مختلف ہونے کا ادراک و شعور ہو جس کی روشنی میں وہ اپنی تدریس کے عمل میں مزید بہتری پیدا کرتے رہیں۔ اس بنیاد پر تمام اساتذہ کو اس موضوع پر تسلسل کے ساتھ جاری اس کام سے واقفیت رکھنا ضروری ہے جس کے لیے کانفرنسوں اور سیمینارز میں جانا اور اس موضوع پر لکھی جانے والی مختلف تحریروں اور رسالوں کا مطالعہ مفید ہوگا۔

مستقبل کی امکانی تبدیلیوں سے آگہی

اس سے پہلے ہم اس بات کو سمجھنے کی کوشش کر چکے ہیں کہ طرق تدریس یا عمل تعلیم و تربیت کے اسالیب و مناہج انگلیوں پر گنے جانے والے چند امور کا مجموعہ نہیں، کہ استاد ان کی ایک فہرست بنا کر اپنے پاس رکھ کر تدریس کے میدان میں اپنی تربیت مکمل سمجھیں، بلکہ عملِ تعلیم و تدریس کے اسالیب و مناہج وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تدریس کی اساس اور بنیاد جو تدریس کے مؤثر یا غیر مؤثر قرار دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے وہ طلبہ کی نفسیات، عادات، ذہنی سطح اور فکری طاقت ہے کہ تدریس اگر ان امور کے ساتھ ہم آہنگ ہے تو بلاشبہ عمل تدریس مفید ہے ورنہ دوسری صورت میں تدریس کی ناکامی میں بھی کوئی شک نہیں۔ طلبہ کی نفسیات اور ان کی عادتیں اور اسی طرح ان کی سوچ کی سطح اور طاقت و رفتار ان کی زندگی میں موجود حالات، واقعات اور تعیش کے اساب و وسائل سے کافی حد تک متأثر ہوتی ہیں۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ حالات اور واقعات مسلسل کروٹیں بدلتے رہتے ہیں۔ اسی طرح انسانی زندگی بہتر اور معیاری بنانے کے لیے اساب اور وسائل کی بھی فراوانی ہے جس میں جدّت کے ساتھ ساتھ اضافہ بھی ہوتا جارہا ہے۔ یہ سب امور اپنے طبعی تغیر کا طلبہ کی نفسیات اور عادتوں اور خیال و فکر پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ اس شدتِ اتصال اور تلازم کے باعث طلبہ کی عادتوں اور ان کی نفسیات کا متغیر ہوتے رہنا ایک فطری اور بدیہی امر ہے جس کے لیے اساتذہ کواپنی تدریس اور عملِ تعلیم و تربیت کے اسالیب اور مناہج کے اندر متوافق اور ہم آہنگ تغیر اور تبدیلی کرتے رہنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ جب ہم نے یہ جان لیا کہ عمل تعلیم و تربیت اور طرق تدریس مسلسل تغیر پذیر عمل ہے، ماضی میں ایک طرح تھا،حال میں اس کی نوعیت بدل چکی ہے اور مستقبل میں مزید تبدیلی کے امکانات ہیں؛ تو پھر ہمیں حال کی ضروریات اور ماضی کے تجربات کی روشنی میں مستقبل کے خدوخال کوسمجھنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔
اس سلسلے میں اساتذہ ذاتی طور پر بھی غور و فکر سے کام لیں کہ طلبہ کی نفسیات کس سمت جارہی ہے یا مدرسے کے اندر کسی خاص طالب علم کی صورتِ حال تعلم میں ابتری کی طرف جارہی ہے تو ایسی صورت میں فوراً تبدیلی کے لیے جبر کی راہ اختیار نہ کریں بلکہ اس طالب علم کی نفسیات اور اردگرد کے حالات وواقعات میں جھانکیں اور طالب علم کا مستقبل جاننے کی کوشش کریں۔ اگر یہ محسوس ہو کہ ابتری کی کیفیت معروضی اور وقتی ہے، طالب علم کچھ وقتی رکاوٹ کا سامنا کر رہا ہے تو استاد اس رکاوٹ کو دور کرے اور طالب علم کی ہمت افزائی اور حوصلہ افزائی کرے۔ لیکن اگر یہ محسوس ہو کہ طالب علم مختلف قسم کی رکاوٹوں کے حصار میں قید ہے اور ایسی صورت حال کی روک تھام اگر بروقت نہ کی گئی تو اس طالب علم کا مستقبل مستقل طور پر خطرے میں پڑنے کا اندیشہ ہے، تو پھر استاد کی حکمت عملی یکسر مختلف ہونی چاہیے۔ دیگر اساتذہ کی مشاورت اور اُن کا تعاون حاصل کیا جائے اور مستقبل میں ایسی صورتوں سے نمٹنے کے لیے مستقل تجاویز مرتب کی جائیں۔ دیگر تعلیمی اداروں میں بھی اگر ایسی ہی یا اس سے ملتی جلتی صورتِ حال میں سوچ بچار کا عمل کیا گیا ہو اور کچھ تجاویز مرتب کی گئی ہوں تو ان سے بھی استفادہ کیا جائے۔ نیز دیگر ماہرین امورِ تعلیم کی تحریروں، رپورٹوں اور ان کے تجربات سے بھی استفادہ ہو، اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ میں آنے والی عمومی تبدیلیوں اور حالات و واقعات پربھی گہری نظر ہو، ان کی رفتار کا اور جس رخ کی طرف یہ جارہے ہیں اس رخ کا ادراک و شعور ہو تو مستقبل میں رونما ہونے والے چیلنجز اور مقاصد و اہداف کا تعین آسان ہوجاتاہے۔ اہداف و مقاصد متعین ہوں، ضروریات اور تقاضوں کا ادراک ہو تو عمل تدریس کے راستے سے ان کا حصول آسان ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کے لیے اولاًتدریس کو ایک زندہ اور متحرک فن کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا، وقت اور حالات کا ادراک اورمختلف لوگوں کے تجربات سے استفادے کی ضرورت کا احساس ہونا چاہیے۔
اس کے بعد ہم مستقبل میں رونما والی تبدیلیوں کا ادراک و شعور بھی حاصل کرسکتے ہیں اورممکنہ ضروریات اور تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بر وقت مؤثر حکمت عملی بھی وضع کرنے کے قابل ہوں گے۔

حواشی

۵۔ ’’اسلامی نظامِ تعلیم‘‘ (ص ۶۹۲۔۳۰۸)۔
۶۔ ملاحظہ ہو، ’’اسلامی نظامِ تعلیم‘‘، ترتیب و ادارت ڈاکٹر ابراہیم خالد، طبع: پاکستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن، اسلام آباد (ص ۳۴۱۔۳۵۲)۔

چینی زبان کی آمد

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

چین آبادی کے لحاظ سے اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور ہمارا مخلص پڑوسی ہے جس نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ہمیں ہر مشکل میں چین کی دوستی اور اعتماد سے فائدہ ملا ہے۔ اور اب جبکہ چین سے گوادر تک سی پیک کا منصوبہ روز بروز آگے بڑھ رہا ہے اور چین کے ساتھ دوستانہ کے ساتھ ساتھ تجارتی تعلقات ایک نیا اور ہمہ گیر رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں، سرکاری اور پرائیویٹ دونوں دائروں میں اس ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے کہ ہمیں چینی زبان سے اس حد تک ضرور واقف ہونا چاہیے اور خاص طور پر نئی نسل کو اس سے متعارف کرانا چاہیے کہ مستقبل قریب میں ہم چینی تاجروں اور عوام کے ساتھ مختلف النوع تعلقات کے وسیع تناظر میں اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر پوری کر سکیں۔ چنانچہ چینی زبان کی تعلیم و تدریس کے لیے متعدد ادارے مختلف سطحوں پر مصروف عمل ہیں اور علماء کرام میں بھی چینی زبان سیکھنے کا ذوق پیدا ہو رہا ہے۔
دنیا کی زبانوں میں بولنے والوں کی تعداد کے حوالہ سے چینی زبان سب سے بڑی شمار کی جاتی ہے جبکہ اس کے بعد دوسری بڑی زبان اردو بتائی جاتی ہے، اور بین الاقوامی رابطوں کے موجودہ ماحول میں ان دونوں زبانوں کی اہمیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیے ان فاضل علماء کی اس سوچ کو بلاضرورت قرار نہیں دیا جا سکتا جو پاکستان کے دینی حلقوں میں چینی زبان کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں اور اس کے لیے محنت کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کا یہ خطہ طویل عرصہ سے مختلف زبانوں کی جولانگاہ چلا آرہا ہے اور ان میں کشمکش کے دائرے بھی ہر دور میں نمایاں رہے ہیں۔
ہمایوں بادشاہ نے ایران کے صفوی حکمرانوں کی مدد سے شیرشاہ سوری کے خاندان کو شکست دے کر مغل بادشاہت کو دوبارہ بحال کیا تو اس کی مدد کے لیے ایران سے آنے والے مددگاروں کے جلو میں ان کے افکار و نظریات کے ساتھ ساتھ فارسی زبان نے بھی یہاں جگہ بنا لی تھی۔ اور طویل عرصہ تک دفتری و عدالتی اور علمی زبان کے طور پر فارسی نے یہاں حکمرانی کی ہے۔ حتیٰ کہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی اور اس کے بعد تاج برطانیہ نے مغل حکمرانوں کے صدیوں پر محیط دورِ اقتدار کے خاتمہ پر برصغیر میں حکمرانی کی زمام ہاتھ میں لی تو یہاں ہر طرف فارسی کا دور دورہ تھا جسے دفتر و عدالت میں ختم کر کے انگریزی کو اس کی جگہ رائج کیا گیا۔ اور علم و حکومت کے دائروں میں صدیوں راج کرنے والی فارسی کو بالآخر اس محاورے سے دوچار ہونا پڑا کہ ’’پڑھیں فارسی اور بیچیں تیل‘‘ یعنی فارسی پڑھنے والوں کے لیے اس سرزمین پر تیل بیچنے کے سوا کوئی روزگار باقی نہیں رہا۔
برصغیر میں انگریزی آئی تو بدیشی، سامراجی اور مشکل زبان ہونے کی وجہ سے وہ دینی اور عوامی حلقوں میں قبولیت حاصل نہ کر سکی۔ اور تعلیم یافتہ حلقوں میں بھی صرف انگریزی کی اجارہ داری کو تسلیم نہ کرتے ہوئے ہندی او ر اردو میں محاذ آرائی کا بازار گرم ہوگیا۔ اگر اردو اور ہندی باہمی کشمکش سے بچ جاتیں تو ہمارے خیال میں شاید انگریزی زبان دفتری اور عدالتی ماحول میں اجارہ داری قائم نہ کر پاتی۔ لیکن اقتدار اور قوت کے ذریعہ انگریزی نے اپنا سکہ جما لیا۔ اس دور میں عام طور پر یہ تاثر بن گیا تھا کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے اور ہندی ہندوؤں کی زبان ہے، اس لیے مسلمانوں نے اردو کے تحفظ و فروغ کے لیے سر سید احمد خان کی قیادت میں منظم جدوجہد کی اور دوسری طرف ہندی کے رواج کے لیے بھی اسی طرح کی تحریک جاری رہی۔ اس فضا میں تقسیم ملک تقسیم ہوا تو پاکستان میں اردو کو اور ہندوستان میں ہندی کو قومی زبان درجہ دیا گیا، جبکہ دفتری زبان دونوں ملکوں میں زیادہ تر انگریزی ہی رہی۔ البتہ پاکستان میں اردو زبان کے فروغ اور اسے سرکاری و دفتری زبان کا درجہ دلانے کے لیے ارباب دانش مسلسل محنت کر رہے ہیں جسے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فیصلے کی حمایت بھی حاصل ہے۔
مختلف زبانوں کی باہمی کشمکش کا یہ پس منظر مختصراً اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اس دوڑ میں اب چینی زبان بھی شامل ہونے جا رہی ہے تو اسے اس کشمکش سے الگ نہیں رکھا جا سکے گا جو اس وقت پاکستان کے قومی ماحول میں اردو اور انگلش کے درمیان جاری ہے۔ اس لیے چینی زبان کے فروغ کی محنت کرنے والوں کو یہ صورتحال بہرحال سامنے رکھنا ہوگی۔ اس موضوع پر ہم نے سردست چند ابتدائی گزارشات کی ہیں جس کا مقصد اہل علم کو اس کے مختلف پہلوؤں کی طرف توجہ دلانا ہے اور اس ضرورت کا احساس اجاگر کرنا ہے کہ اس سلسلہ میں ہر سطح پر متنوع اور وسیع مکالمہ ضروری ہوگیا ہے جس کے لیے علمی، ادبی اور فکری اداروں کو ابھی سے متحرک ہو کر سنجیدہ بحث و مباحثہ کا اہتمام کرنا ہوگا۔ اس سلسلہ میں مکالمہ کا موجودہ تناظر یہ ہے کہ قومی سطح پر اردو اور انگریزی میں کشمکش عروج پر ہے، اس کے ساتھ دینی حلقوں میں عربی زبان کے تحفظ اور فروغ کا وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے اور چینی زبان اس ماحول میں داخل ہونے جا رہی ہے، جبکہ علاقائی زبانوں کے تحفظ اور بقا کا سوال بھی ملک کے ہر علاقے میں پوری سنجیدگی کے ساتھ موجود ہے۔
ہم آنے والے حالات اور تغیرات پر نظر رکھتے ہوئے چینی زبان کے ضرورت کے مطابق فروغ کے حق میں ہیں اور تعلیمی، تہذیبی اور ثقافتی حوالوں سے دینی حلقوں کی اس طرف توجہ کو بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ بات اس کے ساتھ پیش نظر ہے کہ چینی زبان کی اہمیت صرف تجارت کے ماحول تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دنیا کی ہر زبان کی طرح اس زبان کے ساتھ بھی اس کے تہذیبی اثرات اور ثقافتی لوازمات اس کے جلو میں کار فرما ہوں گے۔ چنانچہ ان سب کے درمیان توازن قائم کرنا ایک ناگزیر قومی تقاضے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جس کی نشاندہی اور حد بندی میں دینی حلقوں کا بھی بہت اہم کردار بنتا ہے، اور دینی حلقوں کی علمی و فکری قیادت کو اس ذمہ داری کا بروقت احساس کر لینا چاہیے۔

دینی مدارس کا نصاب، جہاد افغانستان اور عسکریت پسندی

محمد عرفان ندیم

سر سیداحمد خان کے بیٹے سیدمحمود احمد ہندوستان کے مشہور وکیل تھے۔ ان کی یاد داشت بڑی کمزور تھی۔ ایک دفعہ ایک مقدمے میں پیش ہوئے اور یہ یا دہی نہ رہا کہ وہ استغاثہ کے وکیل ہیں یا وکیل صفائی۔ انہوں نے موقع ملتے ہی وکیل صفائی کے دلائل دینا شروع کر دیے اور بڑی مہارت سے ملزم کی صفائی میں دلائل پیش کیے۔ موکل اور جج دونوں پریشان ہو گئے۔ موکل نے انہیں ایک چٹ پیش کی جس میں انہیں یاد کر وایا کہ آپ وکیل صفائی نہیں بلکہ استغاثہ کے وکیل ہیں۔ محمود احمد نے بڑے اطمینان سے چٹ پر نظر دوڑائی اور ذرہ بھر توقف کیے بغیر اسی جوش و خروش سے دوبارہ بولنا شروع کیا ’’می لارڈ ! یہ سب وہ دلائل تھے جو وکیل صفائی زیادہ سے زیادہ اس کیس کے حق میں دے سکتے تھے، مگر می لارڈ ! ان دلائل میں کوئی جان نہیں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے استغاثہ کے حق میں دلائل دینا شروع کیے اور اپنے ہی دلائل کو جھوٹا ثابت کر دکھایا ۔ جج سمیت تمام حاضرین دنگ رہ گئے اور سید محمود احمد کیس جیت گئے۔ 
اپنے موقف کے حق میں دلائل پیش کرنا اہل علم کے ہاں کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ ایک ہی بات کو قوت بیان کے ساتھ بیک وقت سچا اور جھوٹا ثابت کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ اصل کمال نہیں۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ آپ پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے مخالف کے نقطہ نظرکو بیان کریں۔ اس کے اصل موقف کو ٹھیک انداز میں پیش کریں اور اس پر ایسی باتوں کا الزام نہ دھریں جس کا اس کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہ ہو۔
ہمارے ہاں عسکریت پسندی اور جہادی بیانیے کے حوالے سے بحث ایک عرصے سے چل رہی ہے۔ پہلے پہل یہ بحث اخبارات تک محدود تھی،وہاں سے یہ ٹی و ی چینلز پر آئی اور اب اس کا مرکز سوشل میڈیا ہے۔ اس بحث کے حوالے سے ایک گروہ کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ عسکریت پسندی اور جہادی بیانیے کو فروغ دینے والے اصل عوامل جہاد افغانستا ن اور دینی مدارس ہیں۔ یہ موقف اس بنیاد پر قائم ہے کہ افغانستان میں جب روس نے چڑھائی کی تو ضیا ء الحق نے امریکہ کی فہمائش پر اس جنگ کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے پاکستان کی دینی جماعتوں اور دینی مدارس کو استعمال کیا۔اسی اور نوے کی دہائی میں پاکستان میں جہادی بیانیے کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور یہ وہ وقت تھا جب سرکاری سطح پر " جہاد" کی سرپرستی کی گئی اور ایسے عناصر کو خوب نوازا گیا اور انہیں سو سائٹی میں ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔ اس موقف کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ عسکریت پسندی اور جہادی بیانیے کے فروغ میں دوسرا اہم ترین عامل دینی مدارس ہیں اور دینی مدارس میں باقاعدہ اس نظریے اور بیانیے کو پڑھایا جاتا ہے۔دینی مدارس میں باقاعدہ جہاد کی تعلیم دی جاتی ہے اور جہاد کے حوالے سے قرآنی آیات، کتب احادیث ، فقہ اور معاصر اسلامی اسکالرز کے فکر کی روشنی میں طلباء کو باقاعدہ جہادکا درس دیا جاتا ہے۔ خصوصاً ضیاء الحق کے دور میں دینی مدارس کے طلباء نے باقاعدہ میدان جنگ میں جا کر جہاد میں حصہ لیا اور ایسے سینکڑوں نوجوان اس جنگ میں شہید ہوئے۔ یہ وہ بنیادی استدلال ہے جو اس موقف کے قائلین کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔ 
کچھ عرصہ پہلے الشریعہ کے صفحات پر ڈاکٹر عرفان شہزاد نے بھی اسی طرح کے موقف کا اظہار کیا اوربزعم خود حوالوں کے ساتھ اس موقف کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ جہاد افغانستان کے حوالے سے انہوں نے اس دور کی منظر کشی کرتے ہوئے یہ سین پیدا (create ) کرنے کی کوشش کی کہ کس طرح اس دور میں جہاد کی آواز بلند کی جاتی تھی، مجاہدین کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا تھا،مساجد میں اعلانات ہوتے تھے ،چندہ جمع کرنے کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جاتی تھی ، عوام خصوصاً نوجوانوں کو جہا د کا شوق اور رغبت دلائی جاتی تھی اور شہید ہونے والوں کو جنت کی بشارت دی جاتی تھی۔ محترم ڈاکٹر عرفان شہزاد کا کہنا ہے کہ آج بھی دینی مدارس عسکریت پسندی کے جہادی بیانیے کے فروغ میں پیش پیش ہیں اور آج بھی دینی مدارس میں باقاعدہ اس بیانیے کو پڑھایا جا رہا ہے۔ قرآن کی تفاسیر اور احادیث کی روشنی میں نوجوان طلباء کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور جہاد کے ساتھ ساتھ انہیں خلافت کے قیام کا بھی درس دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ فقہ اور معاصراسلامی فکر کی روشنی میں انہیں کفار کو نیست و نابود کرنے اور سارے عالم میں اسلامی نظام کے نفاذ کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔ ماضی میں دینی مدارس نے عسکریت پسندی کا جو بیج بویا تھا، آج پورا ملک اس کی فصل کاشت کر رہا ہے۔ الغرض یہ اور اس جیسے دیگر دلائل پیش کر کے محترم ڈاکٹر عرفان شہزاد نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ عسکریت پسندی کے جہادی بیانیے کے فروغ میں اصل کردار جہاد افغانستان اور دینی مدارس کا ہے، لیکن آج اہل مدارس عسکریت پسندی کے اس یتیم بچے کو گود لینے کے لیے تیار نہیں۔
جہاں تک بات ہے اس یتیم بچے کو گود میں لینے کی، اس کی طرف ہم بعد میں آئیں گے۔ پہلے ہم جہاد کی بنیادی اور اصولی حیثیت کو واضح کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔ شریعت کے احکام معلوم کرنے کے لیے ہمارے پاس سب سے بنیادی اور اہم ذریعہ قرآن کریم اور اس کے بعدصحیح حدیث ہے۔ نماز، زکوٰۃ، روزہ اورحج کی طرح جہاد کا حکم بھی اسلام میں بڑی صراحت ووضاحت سے بیان ہوا ہے۔ جہاد کا مسئلہ جتنا اہم ہے اتنا ہی صاف ،شفاف اور غیر مبہم بھی ہے۔ شاہ ولی اللہ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ تمام شریعتوں میں سب سے کامل شریعت وہ ہے جس میں جہاد کا حکم نازل ہوا ہو۔ قرآن پاک نے جس قدر تفصیل سے جہاد کے مسئلے کو بیان فرمایا، اتنی تفصیل کسی اور فریضے کی بیان نہیں فرمائی۔ قرآن میں جہاد فی سبیل اللہ کا صیغہ62 اور قتال کا صیغہ 97 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ سورہ توبہ اور انفال سمیت قرآن کی آٹھ سورتیں مکمل طور پر جہاد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بعض سورتوں کے تو نام ہی جہاد کے موضوع پر ہیں جیسے سورہ احزاب، سورہ محمد،سورۃ الفتح، سورۃ الصّف۔ مولانا احمد علی لاہوریؒ فرمایا کرتے تھے کہ قرآن کا موضوع ہی جہاد ہے۔ قران کی مختلف سورتوں میں آیات جہاد کی تعداد کچھ اس طرح ہے : سورہ بقرہ میں 35، آلِ عمران میں 26، النساء میں 24، المائدہ میں 2، الانفال مکمل سورہ، التوبہ مکمل سورہ، الحج میں 71، النور میں 4، الاحزاب میں 22، محمدمکمل سورہ، اکفتح مکمل سورہ، الحجرات میں 5، الحدید میں 4، المجادلہ میں 9، الحشر میں 17، الممتحنہ مکمل سورہ، الصف مکمل سورہ، المنافقون مکمل سورہ، التحریم میں 1، العادیات میں 8، اور النصر مکمل سورہ۔ 
اس کے علاوہ احادیث کی کتب میں محدثین کرام نے " کتاب السیر" کاایک باب باندھا ہے۔ سیر، سیرت کی جمع ہے لیکن اس میں جہاد کے متعلق احادیث ذکر کی گئی ہیں۔ اس کی وجہ علماء کرام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ چونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا غالب حصہ جہاد، غزوات و سرایا پر مشتمل ہے، اس لیے اس باب کا نام " کتاب السیر" رکھ دیا گیا۔ کتب احادیث میں جہاد کے بارے میں سینکڑوں احادیث اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم  ’’حَرِّضِ المُومِنِینَ عَلَی القِتَالِ‘‘ یعنی مسلمانوں کو جہاد کاشوق دلائیے ،کا حق ادا فرما دیا۔ جہاد کے بارے میں مسلمانوں کی عملی کوتاہیوں اور اسے ناپسند کرنے کی نفسیات کے پیش نظر قرآن نے واضح طور پر اعلان کر دیا تھا 
کْتِبَ عَلَیکُمُ القِتَالُ وَھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ، وَعَسٰی اَنْ تَکْرَھُوا شَیْءًا وَّھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ، وَعَسٰی اَنْ تُحِبُّوا شَیْءًا وَّھُوَ شَرٌّ لَّکُم، وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (البقرہ:216)
’’تم پرقتال فرض کیا گیا ہے اور وہ تم کو برا لگتا ہے، ممکن ہے کہ تم کسی بات کو برا سمجھو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور ممکن ہے، تم ایک کام کو اچھا سمجھو اور وہ تمہارے حق میں برا ہو اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں، تم نہیں جانتے۔‘‘
جہاد کے حوالے سے قرآن و حدیث میں مذکور ان تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم صرف جہاد کی فرضیت اور احکام بیان فرمانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہ ایک مسلمان کو مختلف پیرایوں میں جہاد کی ترغیب دے کر جہاد کے لیے کھڑا کرتا ہے، جہاد کے لیے تحریض کے الفاظ استعمال کر کے اسے گھر سے باہر نکالتا ہے اور پھر اُس کا ہاتھ تھام کر اُسے جہاد کے میدان میں لے جاتا ہے، مسلمانوں کی تسلی کے لیے پہلی امتوں کی مثالیں اور جہاد کے قصص بیان کر کے اُن کے جذبہ جہاد و شہادت کو بیدار کرتا ہے، ترک جہاد پر وعیدیں سناتا ہے، مشکلات پر اُس کو صبر اور ثابت قدمی کی تلقین کرتا ہے، جہاد کے احکام و فضائل سناتا ہے اور اجرو ثواب کے وعدے کرتا ہے۔مجاہد ین کے گھوڑوں کی قسمیں کھاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فرشتوں کے اُترنے کی بشارتیں سناتا ہے، جنگ کا طریقہ بیان کرتا ہے، دشمنوں کی چالیں اور حیلے بتا کر اُن سے خبردار کرتا ہے، مجاہدین اگرڈرجائیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور صحابہ کرام کے واقعات بیان کرکے اُس کے حوصلے بلند کرتا ہے اور ظاہری شکست پر اں ن کو تسلیاں دیتا ہے۔ 
اس ساری وضاحت کے ساتھ ضمناً یہ بات بھی سمجھ لی جائے کہ موجودہ دور میں اکثر اہل مدارس اور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اقدامی جہاد کا حکم نہیں دیا جا سکتا بلکہ مسلمانوں کے وہ خطے جہاں کفار کی طرف سے جنگ مسلط کی گئی ہے، انہیں اپنے دفاع کا مکمل حق ہے اور اس کے لیے وہ جو طریقہ بھی اپنائیں، ان کے حق میں جائز ہے۔ اور جہاں مسلمان اس قدر کمزور ہوں کہ اپنا دفاع بھی نہ کر سکیں، وہاں یہ فرض ان کے قریبی مسلمانوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کریں اور انہیں کفار کے شر سے محفوظ رکھیں۔ اسی اصول کے پیش نظر ہم دیکھتے ہیں کہ 1979 میں جب روسی فوجوں نے افغانستان پر چڑھائی کی تو پاکستانی مسلمانوں نے اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے افغانستان جا کر جہاد میں حصہ لیا۔اس جہاد میں حصہ لینے والے کون لوگ تھے؟ بلاشبہ یہ دینی مدارس کے طلباء اور پاکستان کے وہ نوجوان تھے جنہوں نے معاصر جہادی تنظیموں کے ساتھ وابستگی اختیار کی تھی اور اپنی مرضی اور شوق جہاد کی وجہ سے افغانستان گئے تھے۔ 
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی مسلمانوں کے لیے جہاد افغانستان میں حصہ لینے کی شرعی حیثیت کیا تھی؟ اس حوالے سے یہ اہم بات ذہن میں رہے کہ جہاد کے وجوب کے لیے امام کا ہونا ضروری ہے اور امام سے مراد وقت کا حکمران اور خلیفہ ہے۔ اب یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جہاد افغانستان اس وقت کی سیاسی اور عسکری قیادت کی نہ صرف مرضی سے ہوا بلکہ مجاہدین کو اس سیاسی و عسکری قیادت کی مکمل سرپرستی حاصل تھی ۔ یہ اعتراض کہ یہ جہاد امریکی شہ پر ہوا تھا اور اس کے پیچھے امریکی مفادات کار فرما تھے، یہ ایک الگ پہلو ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ امریکہ ہمیں اپنے مفادات کے تحت استعمال کر رہا تھا اور ہم اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ اس کے اپنے مقاصد تھے اور ہماری اپنی ترجیحات، اور قوموں اور ملکوں کے درمیان یہ سیاست ہمیشہ سے چلی آرہی ہے اور اس سے اس جہاد کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دوسری بات یہ کہ اگر اس جہاد کے پیچھے امریکی مفادات کار فرما تھے اور پاکستان استعمال ہو رہا تھا تو اس کا وبال حکمرانوں پر ہے نہ کہ ان مجاہدین اور جہادی تنظیموں پر جو میدان جنگ میں برسر پیکار تھیں کیونکہ رعایا اپنے امام اور حکمران کی پابند اور ماتحت ہوتی ہے، خواہ یہ پابندی مرضی سے ہو یا بادل نخواستہ۔ آسان لفظو ں میں ہم اسے یہ تعبیر دے سکتے ہیں کہ سیاسی و عسکری قیادت صرف بظاہر اور سیاسی مفادات کے تحت اس جنگ میں حصہ لے رہی تھی اور مجاہدین اور جہادی تنظیمیں مکمل اخلاص اور جہاد سمجھ کر اس جنگ میں حصہ لے رہے تھے۔ اب ان دونوں کی نیتوں کا فیصلہ اللہ کے ہاں محفوظ ہے۔ وہ جس کو چاہے نواز دے، جس کو چاہے اپنی پکڑ میں لے لے۔ 
اس بات کی وضاحت کے بعد کہ افغانستان کا جہاد شرعی و فقہی اصطلاح کے مطابق وقت کے امام اور خلیفہ کی اجازت بلکہ اس کی بھرپور سرپرستی سے ہوا، اس بات کی قطعا گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اس جہاد کو پرائیویٹ جہاد کا نام دیا جائے یا اس پر عسکریت پسندی کے لیبل چسپاں کیے جائیں۔ ایک ایسا جہاد جو شرعی اور فقہی اصطلاح کے مطابق وقت کے امام اور خلیفہ کی اجازت اور سرپرستی سے ہوا ، اگر وہ بھی جہاد نہیں تو آج کے دور میں جہاد کی اور کون سے صورت باقی رہ جاتی ہے؟ اور اگر یہ جہاد ہے اور یقیناًجہاد ہے تو پھر اس پر کسی قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ 
اب ہم آتے ہیں محترم عرفان شہزاد کے مضمون کی طرف ۔ انھوں نے اپنی بات کا آغاز انتہائی نامناسب الفاظ کے ساتھ کیا ہے، حالانکہ ان کے نام کے ساتھ لگے ہوئے ڈاکٹر کے سابقے سے اس طرح کے الفاظ کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کو ’’جہاد افغانستان‘‘ کی ترکیب قبول نہیں اور وہ اسے عسکریت پسندی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کا ماننا یہ ہے کہ افغانستان میں جو کچھ ہوا، وہ جہاد نہیں بلکہ عسکریت پسندی کی شروعات تھیں اور ہماری ہاں موجودہ عسکریت پسندی کی جو شکل پائی جاتی ہے، اس کے بیج افغانستان کی سرزمین پر بوئے گئے تھے۔ ان کے اس موقف کے پیچھے کوئی واضح دلائل نہیں بلکہ وہ خاص ذہنی سانچہ ہے جس میں ان کا ذہن ڈھل گیا اور اب انہیں ہر بات اسی خاص زاویہ کے تحت دیکھنی پڑتی ہے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی بھی استدلال خواہ کتنا ہی مضبوط ہو، وہ ان کے اس ذہنی سانچے کے مطابق فٹ نہیں بیٹھتا۔ کافی عرصہ پہلے ڈاکٹر عرفان شہزاد کے بارے میں فیس بک پر محترم ڈاکٹر طفیل ہاشمی کی وال پر ایک جملہ پڑھا تھا ، اس وقت سمجھ نہیں آیا، لیکن ان کی اس تحریر سے اس جملے کا مفہوم واضح ہو گیا۔ طفیل ہاشمی صاحب نے لکھا تھا کہ جس طرح کچھ لوگوں کا ذہن ایک خاص نکتے پر جا کر رک جاتا ہے، اسی طرح موصوف کی سوئی بھی ایک امام پر ہی اٹکی ہوئی ہے اور اس کے علاوہ انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اس لیے اگر میرے ہم نام کو ’’ جہاد افغانستان‘‘ کی ترکیب ہضم نہیں ہوئی اور انہوں نے اس کا جی بھر کر مذاق اڑایا تویہ کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ ان کا ذہنی سفر انہیں جس جگہ پر لے گیا ہے، وہاں شعائر اسلام کا مذاق اڑانا کوئی بری بات نہیں سمجھا جاتا۔ 
جہاد افغانستا ن کے دنوں میں جہادی تنظیموں کی طرف سے جس طرح جہاد کی ترغیب دی جاتی تھی(حالانکہ اس سے پہلے ثابت کیا جا چکا ہے کہ یہ جہاد باقاعدہ شرعی اور فقہی اصطلاح کے مطابق تھا)، اس کا تمسخر اڑاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں ’’ مساجد اور مدارس میں جہادی پروگرام منعقد کیے جاتے تھے، جہادی مقررین اپنی شعلہ بار تقاریر سے نوجوان طلبہ کے جذبات کو برانگیختہ کیا کرتے تھے، جہادیوں کے شانوں تک چھوڑے ہوئے لمبے بال، گھنی داڑھیاں، کسرتی جسم، فولادی ہاتھ اور ان ہاتھوں میں اسلحہ، طلبہ کے لیے ہیروازم جیسی کشش رکھتے تھے، جہادی تنظیموں کے چندے کی مہم ایسی شان سے چلائی جاتی تھی جیسے عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کے لیے چلائی تھی، جہادی تربیتی کیمپ لگائے جاتے تھے جن میں جذبہ جہاد سے سرشار نوجوانوں کی تربیت کی جاتی اور پھر محاذ پر بھیج دیا جاتا تھا۔ مدارس کی چھٹیوں میں طلبہ کو جہادی کیمپوں میں جانے کی ترغیب دی کی جاتی تھی، دارالعلوم کراچی سے لے کر خیر المدارس ملتان تک سب مدارس کے طلبہ جہادی کیمپوں میں آتے تھے۔‘‘
دیکھیں اس عبارت میں موصوف نے اپنا سارا زور اس بات کا تمسخر اڑانے پر صرف کیا ہے کہ نوجوانوں کو کس طرح جہاد کی ترغیب دی جاتی تھی، حالانکہ جہاد کی ترغیب کا حکم خود قرآن نے دیا ہے ، اللہ کے نبی خود میدان میں نکل کر جہاد کی ترغیب دیا کرتے تھے اور ان بیسیوں آیات اور سینکڑوں احادیث کا کیاکیا جائے جو جہاد کی ترغیب کے حوالے سے قرآن و سنت میں مذکور ہیں۔کیا انہیں بھی طعن و تشنیع کا مرکز بنا لیا جائے اور ان پر آرٹیکلز لکھے جائیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح میدان جنگ میں نکل کر اپنے صحابہ کو جہاد کی ترغیب دیا کرتے تھے؟ بات پھر وہی ہے کہ اصل مسئلہ اس ذہنی ساخت کا ہے جس میں موصوف کا ذہن ڈھل چکا ہے اور انہیں اس جراء ت پر آمادہ کر رہا ہے۔ 
اس کے بعد موصوف لکھتے ہیں ’’جمعہ و عیدین کی نمازوں میں افغانستان، فلسطین، کشمیر اور چیچنیا میں برسرپیکار مجاہدین کے غلبہ و نصرت کی دعائیں مانگی جاتی تھیں (دعاؤں کا تسلسل اب بھی جاری ہے)، جہادی نغمے اور ترانے جگہ جگہ اونچی آواز میں بجائے جاتے تھے۔‘‘ دیکھیں ان جملوں میں موصوف کے اندر کاتعصب کس طرح واضح ہو کر سامنے آ گیا ہے کہ انہیں امت مسلمہ کے حق میں ہونے والی دعائیں بھی ہضم نہیں ہوئیں۔ چلیں افغانستان کو چھوڑیں ، کیا فلسطین ، چیچنیا اور کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم نہیں ہو رہا اور کیا ان مسلمانوں کے حق میں دعا کرنا بھی جرم اور عسکریت پسندی ہے؟ کیا ان ملکوں کے مسلمان ظالم کے خلاف اگر ہتھیار اٹھا کر مزاحمت کر رہے ہیں تووہ بھی عسکریت پسند ہیں کہ ان کے حق میں دعا بھی نہیں کی جا سکتی؟ فیا للعجب! میں یہ سمجھنے سے قا صر ہوں کہ آخر موصوف کس قسم کے دین اور مذہب کے پیرو کار ہیں کہ دین محمدی تو ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتا۔ اس دین میں تو ایک مسلمان کی تکلیف کو پوری امت کا درد مانا گیا ہے اور موصوف کو یہاں دعا تک گوارا نہیں اور انہیں امت مسلمہ کے لیے دعا کرنے سے بھی چڑ ہے اور اس سے انہیں عسکریت پسندی کی بو آتی ہے۔ 
میں نے پہلے عرض کیا کہ اصل مسئلہ عسکریت پسندی نہیں بلکہ اصل خار جہاد اور جہادی تعلیمات سے ہے اور اس خار کے پیچھے وہ خاص ذہنی سانچہ کار فرما ہے جو اصل حقائق کو پرکھنے نہیں دیتا۔ کیونکہ یہ سانچہ ایک خاص فکر کے تحت وجود میں آیا ہے اور اس کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ کس طرح امت کے اجتماعی تعامل کو پس پشت ڈال کر ایک نیا، جدید اور ماڈرن اسلام پیش کیا جائے، خواہ اس کے لیے امت کے مسلمہ عقائد کا انکار ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ آپ موصوف کی مزید جراء ت دیکھیں، وہ کیا لکھتے ہیں :
’’انہیں (دینی مدارس کے طلبہ کو) یہ بتایا جاتا ہے کہ جس نے جہاد نہ کیا اور نہ اپنے آپ کو جہاد کے لیے تیار کیا، وہ منافقت کے درجے پر مرے گا۔ ان کا بیانیہ ایک شاعر کے الفاظ میں یہ ہوتا ہے:
نماز اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا، زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا‘‘
میں موصوف کی جراء ت پر انہیں داد دیتا ہوں، لیکن خدا گواہ ہے کہ مجھے ان کی اس جراء ت پر ڈر لگ رہا ہے۔ جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے کہ مدارس کے طلباء کو بتایا جاتا ہے کہ جس نے جہاد نہ کیا اور نہ اپنے آپ کو جہاد کے لیے تیار کیا، وہ منافقت کے درجے پر مرے گا، اگر میں غلط نہیں کہہ رہا تو یہ ایک حدیث کا مفہو م ہے اور موصوف ڈائریکٹ حدیث پر اعتراض کر رہے ہیں۔ ایک امتی ہونے کے ناتے ہمارا اس حدیث پر مکمل ایمان اور یقین ہے اور ہم اس پر عمل کواپنے لیے باعث سعادت سمجھتے ہیں۔ ہاں جہاد کی صورت اور نوعیت میں فرق ہو سکتا ہے۔اگر موصوف کو اس حدیث سے عسکریت پسندی کے بیانئے کی بو آتی ہے تو ہمارے پاس اس کا کوئی علاج نہیں بلکہ موصوف کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔
جہاں تک تعلق ہے دوسری بات کا جس میں موصوف نے ایک شعر پیش کر کے کہا ہے کہ دینی مدارس کے طلباء کا بیانیہ یہ شعر ہوتا ہے، میں آپ سے حلفیہ پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کا ایمان اس شعر کے مطابق نہیں؟ کیا اس شعر کا کسی بھی طرح سے عسکریت پسندی سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے ؟ دوسرے لفظوں میں کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بھی عسکریت پسندی ہے ؟ اگر یہ شعر عسکریت پسندی کا بیانیہ ہے تو اس شعر کے خالق مولانا ظفر علی خان سب سے بڑے عسکریت پسند ہیں ۔ مولانا ظفر علی خان کون ہیں؟ یہ بتانے کی البتہ ضرورت نہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اس ملک کی بنیاد رکھنے والے لوگ ہی عسکریت پسند تھے اور اس ملک کی بنیاد ہی عسکریت پسندی پر رکھی گئی۔ حیران ہوں کہ موصوف کس دین اورکس مذہب کے پیرو کار ہیں کہ جس میں نبی اکرم کی محبت بھی عسکریت پسندی کا عنوان بن جاتی ہے۔ اور اس شعر میں جو بات کہی گئی ہے، وہ سورہ احزاب کی اس آیت کا مفہوم ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نبی مومنین کی جانوں سے زیادہ ان پر حق رکھتے ہیں۔ اور یہ شعر اس حدیث کا مفہوم ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ کوئی مومن اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاوں۔ اب آپ ہی بتائیں کہ اگر مذکورہ شعر عسکریت پسندی کا بیانیہ ہے تو قرآن کی یہ آیت اور اور حدیث اس سے زیادہ شدت کے ساتھ عسکریت پسندی کا عنوان بن رہی ہیں، کیا ان کو قرآن و حدیث سے نکال دیا جائے؟
بعض اوقات ایک بات مکمل طور پر بدیہی اور واضح ہوتی ہے، لیکن مخاطب کا ذہن اسے اس لیے قبول نہیں کرتا کہ وہ اس کے مخصوص ذہنی سانچے کے مطابق فٹ نہیں بیٹھتی اور اسے ڈر ہوتا ہے کہ اگر اس نے اس بات کو قبول کر لیا تو وہ اس مخصوص ذہنی سانچے سے باہر نکل جائے گا اور اس سے اس کے مفادات پر زد پڑے گی۔اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک بات مکمل طور پر واضح اور غیر مبہم ہوتی ہے، لیکن مخاطب کسی خاص گروہ سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے اس بات کو قبول نہیں کرتا کیونکہ اس گروہ سے اس کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔اورکبھی خود کو ماڈرن اور جدت پسند ثابت کرنے کے لیے مسلمہ اور متفقہ مسائل پر چھیڑ خانی شروع کر دی جاتی ہے۔ بعض اوقات یہ جراء ت اس لیے کی جاتی ہے کہ مخاطب اپنے حالات اور زمانے سے اس قدر متاثر ہوجاتا ہے کہ صحیح اور غلط کی پہچان ہی کھو دیتا ہے۔ اس کی اپنی علمی پختگی، اپنے موقف پر ثابت قدمی اور اپنے عقائد و نظریات پر تصلب محض ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے عقائد و نظریات موسم کی طرح بدلتے رہتے ہیں، جہاں جدت پسندی کا کوئی نیا علمبردار اٹھا، یہ جمپ لگا کر فوراً اس کیمپ میں داخل ہوجاتے ہیں۔ ان کی اپنی حیثیت یہ ہوتی ہے کہ انہیں خود اپنے نظریات اور عقائد کی پہچان نہیں ہوتی کہ یہ کس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، یہ خود اپنے نظریات اور تفردات کے بارے میں تذبذب کا شکار ہوتے ہیں۔
میرے ہم نام کا پورا مضمون غلط تجزیے اور غلط حقائق پر مبنی ہے۔ وہ اپنے مخالف فریق کے موقف کو اپنی مرضی کا جامہ پہناتے ہیں اور اس کی ایسی تشریح کرتے ہیں جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ 
جہاد افغانستان کے بعد موصوف کا دوسرا دعویٰ یہ تھا کہ عسکریت پسندی کے جہادی بیانیے کے فروغ میں دوسرا اہم ترین عامل دینی مدارس اور ان میں پڑھایا جانے والا نصاب ہے۔ اس سے بھی پہلے وہ برصغیر کی قدیم جہادی تحریکوں اور خلافت کے قیام کے حوالے دیتے ہیں۔ پہلے وہ خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ خلافت کے قیام کا انکار کوئی عام مسلمان بھی نہیں کر سکتا، لیکن اس سے اگلی سطر پر وہ قیام خلافت کے لیے کی جانے والی کوششوں پرعسکریت پسندی کا لیبل چسپاں کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی یہ تحریر داخلی تضادات کا بہترین شاہکار ہے جس میں خود انہیں معلوم نہیں کہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں اور ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں ۔ بس اندر کا ایک تعصب ہے جس نے انہیں بے چین کر رکھا ہے اور انہیں خود معلوم نہیں کہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں اور ان کا اصل مدعا کیا ہے۔ سید احمد شہید کی تحریک جہاد کا حوالہ دیتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں ’’ اگرچہ کفار اور سرکشوں سے ہر زمانے اور ہر مقام میں جنگ کرنا لازم ،ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ اس زمانے میں کہ اہل کفر و طغیان کی سرکشی حد سے گزر چکی ہے، مظلوموں کی آہ و فریاد کا غلغلہ بلند ہے، شعارِ اسلام کی توہین ان کے ہاتھوں صاف نظر آ رہی ہے، اس بنا پر اب اقامت رکن دین، یعنی اہل شرک سے جہاد، عامہ مسلمین کے ذمے کہیں مؤکد اور واجب ہو گیا ہے۔‘‘ (ابو الحسن علی ندوی ، سیرتِ سید احمد شہید، جلد دوم، ص 388)
سید احمد شہید کی اس عبارت کا حوالہ دینے کے بعد موصوف اس پر تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ بیانیہ غلط ہے کہ اس میں ’’ہر حال اور ہر مقام‘‘ پر کفار سے جنگ کا داعیہ پایا جاتا ہے اور یہی بیانیہ موجودہ جہادی تنظیموں کا بنیادی ماخذ ہے۔ میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ اگرموصوف ذرا سی عقلمندی کا مظاہرہ کرتے اور اس بیانیے کو اس دور اور ان حالات کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے تو شاید انہیں بات کی پوری طرح تفہیم ہو جاتی لیکن چونکہ ان کا مقصد محض تنقید برائے تنقید ہے، اس لیے انہوں نے یہ زحمت کرنا گوارا نہ کیا۔ اس لحاظ سے تو موصوف ہمیں اسی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں جن کا موقف تھا کہ 1857 کی جنگ آزادی جہاد نہیں بلکہ غدر تھا اور مسلمانوں کو حکومت برطانیہ کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھانے چاہیے تھے۔ 
اس کے بعد موصوف کا اگلا استدلال دیکھیں ’’جو حکومت اور سیاست کے مردِ میدان تھے، وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اس لیے مجبوراً چند غریب و بے سروسامان کمر ہمت باندھ کر کھڑے ہو گئے اور محض اللہ کے دین کی خدمت کے لیے اپنے گھروں سے نکل آئے۔‘‘ (سیرتِ سید احمد شہید، جلد دوم، ص 389)
اس عبارت سے بھی میرے ہم نام کو عسکریت پسندی کے بیانیے کی بو آتی ہے اور وہ انہیں موجودہ حالات پر فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر اس عبارت کو ان حالات کے تناظر میں دیکھاجائے جب یہ عبارت لکھی گئی تھی تو کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔ مثلاً انیسویں صدی کے آغاز میں جب سید احمد شہید جہاد کی دعوت لے کر اٹھے تھے، اس وقت تک مغلیہ سلطنت محض دہلی کے لال قلعے تک محدود ہو کر رہ گئی تھی ، قلعے کے اندر بھی بادشاہ کی بات نہیں سنی جاتی تھی اور یہ محض برائے نام بادشاہت تھی، اصل حکومت انگریز سرکار کے پا س تھی۔ اب ان حالات میں اگر کوئی اللہ کا بندہ برصغیر کے مسلمانوں کی عظمت گزشتہ کی بحالی اور خلافت کے قیام کے لیے جد جہد کرتا ہے تو اس میں کیا برائی تھی؟ اس وقت کون سا امام یا خلیفہ موجود تھا جس کی طرف سے اعلان جہاد کا انتظار کیا جاتا؟ فرض کریں اگر آج پاکستان برطانیہ کے قبضے میں چلا جائے اور پورے ملک پر انگریز کا قبضہ ہو جائے تو آپ کیا کریں گے؟ کیا آپ اس لیے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں گے کہ جہاد کا حکم خلیفہ دے گا اور وہ موجود نہیں، لہٰذا ہم انگریزوں کی غلامی کو قبول کرلیں، یا آپ اپنے طور پر انگریزوں کو اس ملک سے نکالنے کے لیے جد وجہد کریں گے۔ سید احمد شہید نے بھی یہی کیا تھا کہ جب انہیں نظر آیا کہ مغلیہ سلطنت محض لال قلعے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے تو انہوں نے اپنے طور پر دفاعی جہاد کی ایک شکل پر عمل کرتے ہوئے یہ حکمت عملی اختیار کی۔ اگر موصوف کے دعوے کو سچ مان لیا جائے تو اس طرح تو برصغیر میں آزادی کے نام پر ہونے والی ہر جد وجہد عسکریت پسندی کا عنوان بن جائے گی۔ کیا آپ اپنی ساری تاریخ کو یہ عنوان دینے اور اس پر عسکریت پسندی کا لیبل چسپاں کرنے کے لیے تیار ہیں؟
موصوف کے دعوے کا دوسرا جز یہ تھا کہ عسکریت پسندی کے جہادی بیانیے کے فروغ میں دوسرا اہم ترین عامل دینی مدارس اور ان میں پڑھایا جانے والا نصاب ہے۔ موصوف نے دینی مدارس میں پڑھائی جانے والی مختلف کتب کے حوالے دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ عسکریت پسندی کا جہادی بیانیہ ان کتب سے ماخوذ ہے۔ میں پہلے موصوف کے وہ حوالے نقل کرتا ہوں جو انہیں نے اپنے مضمون میں پیش کیے ہیں :
’’کفار سے جنگ کرنا واجب ہے، خواہ وہ ہم سے جنگ کرنے میں ابتدا نہ کریں۔‘‘ 
’’جن لوگوں تک دین کی دعوت نہ پہنچی ہو، ان سے جنگ کرنا جائز نہیں، البتہ دعوت کے بعد جنگ کرنا جائز ہے۔ بہتر ہے کہ جس تک دعوت پہنچ چکی ہو، اسے بھی دعوت دی جائے، تاہم یہ واجب نہیں ہے۔ پھر اگر مخاطبین دعوت کا انکار کر دیں تو مسلمان اللہ کی مدد طلب کریں، ان منکرین پر جنگ مسلط کر دیں، ان پر منجنیقیں نصب کریں، آگ لگا دیں، ان پر پانی چھوڑ دیں، ان کے درخت کاٹ دیں، ان کے کھیت برباد کر دیں۔ ان منکرین پر تیر چلانے میں بھی کوئی حرج نہیں، چاہے وہاں مسلمان قیدی یا تاجر بھی ہوں، یا مسلمانوں کے بچوں یا مسلمان قیدیوں کو انہوں نے ڈھال بنایا ہوا ہو، مسلمان تیر چلانے سے ہاتھ مت روکیں، البتہ تیر چلاتے ہوئے کفار کو مارنے کی نیت کر لی جائے۔‘‘ (کتاب السیر، 52، مختصر القدوری)
قدوری کا یہ حوالہ نقل کرنے کے بعد موصوف اپنے فاسد خیالات کچھ اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ دیکھیں یہاں دینی مدارس کے طلباء کی ذہن سازی کی جا رہی ہے اور انہیں یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ وہ کفار پر حملہ کردیں، ان کی فصلوں کو تباہ کردیں، ان کے درخت کاٹ دیں ۔۔۔الخ۔پہلی بات یہ ہے کہ اگر موصوف کو صاحب قدوری کی یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تو قرآن تو اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ میں کہتا ہے کہ اگر کفار سے مڈ بھیڑ ہو جائے تو ان کی گردنیں اڑا دو اور ان کے پور پور پر ضرب لگاؤ۔ (سورہ انفال، 12)، اس کے علاوہ قرآن کی سینکڑوں آیات اور سینکڑوں احادیث جہاد کی ترغیب دیتی ہیں بلکہ ہاتھ پکڑ کر اسے میدان جنگ میں لا کر کھڑا کر دیتی ہیں، لہٰذا موصوف کو چاہیے کہ قرآن کی ان سینکڑوں آیا ت اور احادیث کو بھی عسکریت پسندی کے جہادی بیانیے کا بنیادی ماخذ قرار دے دیں اور پھر اس کا تمسخر اڑائیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ موصوف اگر ذرا سی بھی علمی دیانت کا مظاہرہ کرتے اور بات کو پورے سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرتے تو انہیں نظر آجاتا کہ صاحب قدوری یہاں اقدامی جہاد کی بات کر رہے ہیں اور اس دور میں مسلمان اقدامی جہاد کے قابل تھے، لہٰذا یہ عبارت اقدامی جہاد سے متعلق ہے۔ اور آج جب مدارس میں یہ عبارت پڑھائی جاتی ہے تو اس کی وضاحت کر دی جاتی ہے کہ یہ سب تعلیمات اقدامی جہاد سے متعلق ہیں۔اور یہ تعلیمات اس وقت قابل عمل ہوں گی جب مسلمان اس قابل ہوئے کہ وہ اقدامی جہاد کے لیے قدم بڑھا سکیں۔ میں اسے موصوف کی کم ظرفی سمجھوں کہ وہ عبارت کو اصل سیاق و سباق میں پیش کرنے کی بجائے اپنے مطلب کا جامہ پہنا رہے ہیں یا موصوف کی کم علمی کہ جنہیں عبارت کا اصل مفہوم سمجھ ہی نہیں آیا؟ موصوف جمع خاطر رکھیں کہ ان کی فرمائش پر دینی مدارس کے نصاب سے یہ عبارات نکالی نہیں جا سکتی۔
موصوف کا اگلا حوالہ دیکھیں : ’’قتال کی نصوص کے عموم کی رو سے کفار سے قتال واجب ہے، اگرچہ جنگ کی ابتدا ان کی طرف سے نہ ہو۔‘‘ (کتاب السیر، الہدایہ فی شرح بدایۃ المبتدی)
یہ عبارت پیش کرنے کے بعد بھی موصوف وہی پہلے والا اعتراض دہراتے ہیں لیکن یہاں بھی موصوف کی کم علمی اور کم ظرفی پر صرف ماتم ہی کیا جا سکتا ہے کہ یہاں بھی اقدامی جہاد کی بات ہو رہی ہے۔ 
آگے موصوف امام سرخسی کی کتاب المبسوط کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال جاری رکھوں جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں، جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنی جان اور مال بچا لیا، سوائے اسلام کے حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔‘‘
’’اگر صلح مسلمانوں کے حق میں بہتر نہ ہو تو صلح نہیں کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو تم ہی غالب رہنے والے ہو۔ نیز اس وجہ سے بھی صلح نہیں کرنی چاہیے کہ مشرکین سے جنگ کرنا فرض ہے اور بلا عذر فرض کو ترک کرنا جائز نہیں ہے۔‘‘ (باب صلح الملوک و الموادعۃ، المبسوط ج 10 ص 86)
دیکھیں امام سرخسی کی یہ عبارت بھی اقدامی جہاد سے متعلق ہے۔ امام سرخسی نے پہلے ایک حدیث اور بعد میں قرآن کی آیت پیش کی ہے اور ان دونوں عبارات سے صاف واضح ہے کہ یہ اقدامی جہاد سے متعلق ہیں لیکن موصوف کو قرآن کی اس آیت اور حدیث سے عسکریت پسندی کے بیانیے کی بو آتی ہے۔میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آیا موصوف کی علمی قابلیت ہی اتنی ہے کہ وہ اس صاف اور واضح بات کو نہیں سمجھ سکے یا اس میں موصوف کے کچھ ذاتی مفادات وابستہ ہیں جو انہیں اس تجاہل عارفانہ پر مجبور کر رہے ہیں۔ 
اس کے بعد موصوف اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں ’’ مدرسے کا ایک طالب علم جب فقہ کا یہ بیانیہ پڑھتا ہے اور دوسری طرف یہ دیکھتا ہے کہ مسلم حکومتیں غیر مسلم ریاستوں پر جنگ مسلط نہیں کرتیں اور نہ اس کا کوئی ارادہ ہی رکھتی ہیں، بلکہ الٹا بلا عذر ان کے ساتھ صلح کر کے جہاد کے فریضے کو ہی ترک کرنے کی مرتکب ہو چکی ہیں، تو وہ اس مثالی اسلامی خلافت کے قیام کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے، جس کا بیانیہ وہ فقہ میں پڑھتا ہے، یعنی ایسی خلافت جو آگے بڑھ کر اعلائے کلمۃ اللہ کا فریضہ سر انجام دے اور غلبہ حق کے لیے غیر مسلموں پر جنگ مسلط کر دے اور انہیں محکوم بنا لے۔‘‘
ویسے میرے ہم نام ہوائی باتیں چھوڑنے میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ پہلے اپنے ذہن میں کچھ چیزیں فرض کرتے ہیں، ذہن میں ایک خاکہ بناتے ہیں، پھر اس میں رنگ بھرنا شروع کر دیتے ہیں اور ان کی مفروضہ تصویر بن کر منصہ شہود پر آجاتی ہے۔ اس فن کا استعمال انہوں نے مذکورہ بالاعبارت میں خوب کیا ہے۔ موصوف کی مذکورہ بالا عبارت دوبارہ پڑھیں جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ایک مدرسے کا طالب علم جب یہ بیانیہ پڑھتا ہے تو ۔۔۔الخ۔ ڈاکٹر صاحب، آپ حوصلہ رکھیں، گزشتہ عرصے میں شدت پسندی اور عسکریت پسندی کے جتنے بھی واقعات رونما ہوئے ہیں، ان میں دینی مدرسے کا کوئی طالبعلم ملوث نہیں اور نہ مستقبل میں ایسا ہو گا۔ آپ نے جو نقشہ کھینچا ہے، یہ محض آپ کی ذہنی اختراع ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
اس کے بعد موصوف شاہ ولی اللہ اور مولانا مودودی کی جہادی تعلیمات کا تذکرہ کر کے اپنے تعصب کا اظہار کرتے ہیں۔ حیرت اس بات کی ہے کہ موصوف کس مکتبہ فکر کی جہادی تعبیر کو مانتے ہیں ،کم از کم انہیں اتنا تو واضح کرنا چاہیے تھا۔جہاں تک ان کے مضمون کا تعلق ہے، اس سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ وہ سرے سے جہاد کے ہی قائل نہیں یا انہیں جہاد سے خدا واسطے کا بیر ہے۔
اس کے بعد موصوف جمہوریت کے بارے میں اصحاب مدارس کے نقطہ نظر کے حوالے دیتے ہیں۔آپ پہلے وہ حوالے دیکھیں: 
قاری طیب قاسمی اپنی کتاب ’’فطری حکومت‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’یہ (جمہوریت) رب تعالیٰ کی صفت ملکیت میں بھی شرک ہے اور صفت علم میں بھی شرک ہے۔‘‘
احسن الفتاویٰ میں مفتی رشید احمد،ج 6 ص 26 میں لکھتے ہیں : ’’یہ تمام برگ و بار مغربی جمہوریت کے شجرہ خبیثہ کی پیداوار ہے۔ اسلام میں اس کافرانہ نظام کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘
مولانا یوسف لدھیانوی آپ کے مسائل اور ان کا حل، ج 8 ص 176 میں لکھتے ہیں: ’’جمہوریت کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریے کی ضد ہے (ظاہر ہے اسلام کی ضد کفر ہی ہے)۔‘‘
مولانا عاشق الٰہی بلند شہری، تفسیر انوار البیان ، ج 1 ص 518 میں لکھتے ہیں : ’’ان کی لائی ہوئی جمہوریت بالکل جاہلانہ جمہوریت ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
مولانا فضل محمد، اسلامی خلافت، ص 117 میں لکھتے ہیں: ’’اسلامی شرعی شوریٰ اور موجودہ جمہوریت کے درمیان اتنا فرق ہے جتنا آسمان اور زمین میں۔ وہ مغربی آزاد قوم کی افراتفری کا نام ہے جس کا شرعی شورائی نظام سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔‘‘
مولانا تقی عثمانی دور حاضر کے معتدل ترین علما میں سے ہیں، لکھتے ہیں: ’’جمہوریت میں عوام خود حاکم ہوتے ہیں، کسی الٰہی قانون کے پابند نہیں تو وہ خود فیصلہ کریں گے کیا چیز اچھی ہے یا بری۔ ۔۔۔جمہوریت سیکولرازم کے بغیر نہیں چل سکتی۔‘‘ (اسلام اور سیاسی نظریات، مولانا تقی عثمانی، ص 146)
پہلی بات یہ کہ موصوف نے جمہوریت کے حوالے سے احباب مدارس کی جو عبارات اور حوالے نقل کیے ہیں، ان کا تعلق مغربی جمہوریت سے ہے کہ مغرب میں جمہوریت نے جو گل کھلائے ہیں، ان کے پیش نظر اسلام میں اس تصور کی کوئی گنجائش نہیں۔ کیا موصوف کے علم میں نہیں کہ مغرب میں اس جمہوریت نے ہم جنس پرستی ، زنا کو قانونی درجہ دینے، والدین کو اولڈ ہومز میں بھیجنے ، والدین کو جیلوں میں بند کر وانے ، خاندانی نظام ختم کرنے اور اس جیسے دیگر قوانین کو صرف اس بنیاد پر قانون کا درجہ دے دیا کہ اس کو جمہوریت نے سپورٹ کیا تھا۔ اب جب ان علماء اور اصحاب مدارس کے سامنے یہ مسائل تھے اور یہ صرف اور صرف جمہوریت کا ثمر تھے تو آپ ایک سلیم الفطرت انسان سے اس تصور کو غلط قرار دینے کے سوا کیا توقع کر سکتے ہیں۔ مغربی جمہوریت کے بارے میں یہی بات تو قرآن نے بھی کہی ہے، ’’ان الحکم الا للہ‘‘  کہ اقتدار اعلیٰ صرف اللہ کے پاس ہے جبکہ جمہوریت کے تصور میں اقتدار اعلیٰ کا مالک عوام کو مانا جاتا ہے۔ جو بات قرآن کہتا ہے، ان اصحاب مدارس نے قرآن کی اسی بات کو مد نظر رکھ کر اس کے خلاف اپنی آرا ء کا اظہار کیا ہے ، اب موصوف کو چاہیے کہ قرآن کی اس آیت کو بھی جمہوریت کے خلاف چارج شیٹ کے طور پر پیش کردیں اور اس کا تمسخر اڑائیں۔ 
جہاں تک بات ہے اس جمہوریت کی جو پاکستان اور بعض دیگر اسلامی ممالک میں رائج ہے تو وقت کے ساتھ ساتھ اب اصحاب مدارس اس تصور جمہوریت کو قابل قبول قرار دیتے ہیں بایں طور کہ اس تصور جمہوریت میں اقتدار اعلیٰ اللہ کے پاس ہو گا اور اس جمہوریت کے نتیجے میں منتخب افراد قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں کریں گے۔ اگرچہ ابھی تک اس پر ٹھیک طرح سے عمل نہیں ہو رہا، لیکن بہر حال علماء اس تصور کی گنجائش کے قائل ہیں مگر ان شرائط و ضوابط کے ساتھ جو انہوں نے اس کے ساتھ عائد کیے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اقتدار اعلیٰ اللہ کے پاس ہونے کی صورت میں ایسا کوئی بھی قانون جو خلاف شریعت ہو گا اسے منظور نہیں کیا جائے گا اور ہم ممکنہ طور پور مغربی جمہوریت کے ان ثمرات سے محفوظ رہیں گے جن کا مظاہرہ ہم آئے روز دیکھتے ہیں۔ موصوف ان اہل مدارس سے کیا توقع کر رہے ہیں کہ مغربی تصور جمہوریت کی غلطیوں اور برائیوں کوکھلی آنکھوں دیکھنے اور جاننے کے باوجود اس کے حق میں فتویٰ دیں اور اس کے حق میں جلسے اور جلوس نکالیں۔ ایسا کام صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہیں نہ خدا کا ڈر ہو نہ احادیث رسول کا کوئی احترام۔ جنہیں اسلام کے سیدھے سادھے نظام میں بھی غلطیاں دکھائی دیں لیکن مغربی کا غیر انسانی اور غیر اخلاقی نظام انہیں آئیڈیل دکھائی دے یا جن کے پیش نظر ذاتی مفادات ہوں اور انہیں آخرت کی فکر نہ ہو۔ 
یہ حوالے اور عبارات نقل کرنے کے بعد موصوف نے انتہائی تعصبانہ تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے : ’’ اب جب طلبہ کو یہ بتایا جائے گا کہ جمہوریت غیر اسلامی نظام ہے تو وہ اس نظام حکومت اور آئین کے بارے میں جو موقف اپنائیں گے، وہ ظاہر ہے۔ علما تو اپنی دو عملی کے لیے گنجائش نکال لیتے ہیں یعنی ایک طرف وہ جمہوریت کو بھی غلط کہتے ہیں، لیکن آئین سے وفاداری کا اعلان بھی کرتے ہیں، لیکن ان کے سادہ مزاج طلبہ پوچھتے ہیں کہ کیا آئین بھی انسانوں نے جمہوریت کے اکثریتی رائے کے اصول پر نہیں بنایا ہے؟ کل اگر اکثریتی رائے سے اس میں غیر اسلامی شقیں ڈال دی جائیں یا پورے آئین کو ہی سیکولر بنا دیا جائے تو کیا جمہوری اصولوں پر اسے بھی مان لیا جائے گا؟ اگر نہیں، تو پھر آج اس کی حمایت کیوں کی جا رہی ہے؟ اس لیے نہ جمہوریت درست ہے نہ انسانوں کا بنایا ہوا آئین۔ یہ طلبہ اپنے اساتذہ کو ان کا ہی پڑھایا ہوا سبق سنانے لگتے ہیں اور اساتذہ کے پاس کوئی جواب بھی نہیں ہوتا۔‘‘
اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ان کے اس تعصبانہ تجزیے پر ماتم کرنے کے لیے عرب کے کسی جاہلی شاعر کو بلاتا اور اس سے درخواست کرتا کہ وہ اپنے پورے جلال و کمال کے ساتھ موصوف کی اس عبارت کا ماتم کرے۔ مدارس میں طلبہ کو جمہوریت کے اسی تصور سے روشناس کرایا جاتا ہے جس کا ذکر میں نے اوپر کیا، اس لیے موصوف کو چاہیے کہ اپنا ذہن کلیئر کر لیں اور اگر چاہیں تو کسی دن میرے ساتھ جا کر کسی مدرسے کا وزٹ کر لیں۔ اگر وہ سلیم الفطرت انسان ہیں اور ان میں بات کو سمجھنے کی صلاحیت ہے تو یقیناًوہ اپنی اس بات سے رجوع کر لیں گے۔ اور اس سے اگلی بات کہ علماء کو اپنی دوعملی کے لیے گنجائش مل جاتی ہے، یہ مقدمے کے پہلے قضیے پر موقوف ہے اور جب مقدمے کا پہلا قضیہ ہی غلط ہے تو اس سے برآ مد ہونے والا نتیجہ کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے۔ یعنی علماء پاکستان میں رائج جمہوریت کو( اس کی شرائط کے ساتھ ) غیر اسلامی نہیں مانتے اور نہ ہی اس کے خلاف فتوے دیتے ہیں تو اس سے اگلی بات کہ وہ طلبہ کو کچھ بتاتے ہیں خود کسی اورموقف کا اظہار کرتے ہیں، یہ بات کیسے ٹھیک ہو سکتی ہے۔ 
موصوف کی ان سطروں کو پڑھنے کے بعد مجھے گمان ہو نے لگا ہے کہ شاید موصوف ماضی کی الف لیلہ داستان کے قصہ گو رہے ہیں کہ جنہیں قصہ گوئی اور خود سے کہانیاں گھڑنے کا بہت شوق اور مہارت حاصل ہے۔ وہ کسی بھی راہ چلتے انسان کے متعلق کوئی بھی کہانی بآسانی گھڑ کر اس کے سر تھونپ سکتے ہیں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اہل مدارس نے عسکریت پسندی کے خلاف جوابی بیانیہ جار ی نہیں کیا تو موصوف کے علم میں ہونا چاہئے کہ جب سے یہ مسائل پیش آئے، علماء کی جانب سے حکومت کی غلط پالیسیوں پر مثبت تنقید کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں بڑا واضح موقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان میں مسلح جدوجہد ناجائز ہے ، قرآن و حدیث میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ یہی کاؤنٹر نیریٹو تھا جو علماء کے بس میں تھا کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے پر اپنی رائے کو واضح کریں۔ ار باب مدارس کا کام کسی چیز کا ابلاغ اور اس کو پہنچا دینا ہی تھا، کسی کو زبردستی اس پہ لانا ان کے اختیار میں تھا اور نہ ان کے لیے ایسا ممکن تھا۔ 
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بعض ارباب مدارس کو عسکریت پسندوں کے گروپوں تک رسائی تھی تو عسکریت پسند گروپوں نے اربا ب مدارس کی یہ بات مانی کیوں نہیں، یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس مسئلے کے پس پردہ جو محرکات ہیں، وہ مذہبی نہیں سیاسی یا کچھ اور ہیں۔ اور اب اس راز سے بھی پردہ اٹھ گیا ہے ، حال ہی میں خود کو رضا کارانہ طور پر پاک فوج کے حوالے کرنے والے ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان کے یہ انکشافات اس حوالے سے چشم کشا ہیں :
’’ہم اسلام کا نعرہ لگاتے تھے مگر اس پر عمل نہیں کرتے تھے، طالبان نے خاص طور پر اسلام کے نام پر نوجوان طبقے کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ ملایا، میں نے ان تنظیموں کے اندر رہ کر بہت کچھ دیکھا، یہ لوگوں کو اسلام کے نام پر ورغلا کر بھرتی کرتے تھے جبکہ یہ خود اس تعریف پر پورا نہیں اترتے تھے۔ ایسے لوگ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں اور نہ ہی کر سکتے ہیں۔شمالی وزیرستان میں آپریشن ہوا تو ہم سب افغانستان چلے گئے۔را نے ہر کارروائی کی قیمت ادا کی، جب ہم افغانستان پہنچے تو میں نے وہاں دیکھا کہ ٹی ٹی پی کے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ تعلقات بڑھنے لگے ہیں۔ را نے ٹی ٹی پی کو افغانستان میں مالی معاونت فراہم کی اور ٹی ٹی پی کو اہداف دیے اور پاکستان میں کی جانے والی ہر کارروائی کی قیمت بھی ادا کی۔ جب ٹی ٹی پی نے بھارت سے مدد لینی شروع کی تو میں نے عمر خالد خراسانی کو کہا کہ یہ تو ہم کفار کی مدد کر رہے ہیں، اس سے ہم اپنے لوگوں کو مروائیں گے جو کہ کفار کی خدمت ہو گی ،عمر خالد خراسانی کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں تخریب کاری کرنے کے لیے مجھے اسرائیل سے بھی مدد لینی پڑی تو میں لوں گا۔ ان تنظیموں نے مختلف کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں جو بھارتی خفیہ ایجنسی را سے روابط رکھتے ہیں۔ بھارت نے ان لوگوں کو"تذکرہ" دیا تھا۔ یہ تذکرہ افغانستان کے قومی شناختی کارڈ کی طرح استعمال ہوتا ہے اور اس کے بغیر سفر کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ان لوگوں کی تمام تر نقل و حمل کا عمل افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کو بھی ہوا کرتا تھا اور این ڈی ایس ہی ٹی ٹی پی کو پاکستان میں داخل ہونے کا راستہ فراہم کرتی تھی۔‘‘
کیا ان انکشافات کے بعد بھی موصوف عسکریت پسندی کا دوش ار باب مدارس کو دیں گے ؟ 
ویسے میں موصوف سے پوچھنا چاہوں گا کہ عسکریت پسندی کا یہی مسئلہ عراق، شام، لیبیا اور مصر میں بھی موجود ہے تو سوال یہ ہے کہ وہاں پر کون سے مدارس ہیں جن کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے یا جنہوں نے عسکریت پسندی کے بیانیے کو فروغ دیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب بین الاقوامی طاقتوں کا کھیل ہے، سامراجی طاقتیں دنیا کے نئے جغرافیے بنارہی ہیں، اسلامی ملکوں کو میدان جنگ بنا کر انہیں ڈی سٹیبلائز کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت پورا عالم اسلام اسی قسم کے حالات سے دوچار ہے، وگرنہ عسکریت پسندی سمیت اس وقت ہم جن مسائل کا شکار ہیں، ان کی مدت زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس سال ہے اور مدارس اس خطے میں سو ڈیڑھ سو سال سے موجود ہیں تو اس وقت سے یہ مسائل کیوں پیدا نہیں ہوئے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی مسئلے میں سامراجی طاقتوں کے مفادات شامل ہوجائیں تو وہاں صرف مقامی افراد کو گناہگار ڈکلیئر نہیں کیا جا سکتا۔ان مسائل کے پیچھے یقیناًبہت سے عناصر ہیں جن میں کچھ عالمی اور کچھ مقامی ہیں جن میں سے ایک عنصر مذہب کا بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ جن کے اس مسئلے سے مفادات وابستہ ہیں، انہوں نے جہاں اور بہت ساری چیزوں کو استعمال کیا، وہاں انہوں نے مذہب کو بھی استعمال کیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مذ ہب کو ہی آڑے ہاتھوں لے لیا جائے اور سارے الزام مذہب اور اہل مذ ہب کے سر تھوپ دیے جائیں۔ 
اس لیے ڈاکٹر عرفان شہزاد سے گزارش ہے کہ حالات کو ان کے اصل تناظر میں دیکھیں۔ تجزیہ کرتے وقت زمینی حقائق کو مد نظر رکھیں۔ اب ساری چیزیں واضح ہو چکی ہیں ، بار بار گڑے مردے اکھاڑنے اور لکیر کو پیٹتے رہنے سے اب کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ اس لیے اپنا اور قوم کا وقت ضائع نہ کریں۔ آگے بڑھیں اور پہلے سے طے شدہ امور اور بار بار ڈسکس ہونے والی بحثوں سے کنفیوڑن نہ پھیلائیں۔ بات اب آگے بڑھ چکی ہے ، دینی مدارس ان عسکریت پسند گروہوں سے اعلان براء ت کر چکے ہیں اور اس حوالے سے ان کا کردار واضح ہے۔ تفرقہ پھیلانے کی بجائے ایسی بحثوں کا آغاز کریں جن میں اجتماعی او رقومی مفاد کی بات کی گئی ہو۔ اور اگر اب بھی آپ کی سوئی اسی مقام پر اٹکی ہوئی ہے تو پھر آپ اپنا منجن بیچتے رہیں، یہ سمجھ کر کہ شاید آپ کی قسمت میں یہی لکھا ہے۔

مذہب اور سائنس کے موضوع پر ایک ورکشاپ ۔ چند تاثرات

محمد عثمان حیدر

راقم کو ۳ تا ۵ جولائی ۲۰۱۷ء، میرین ہوٹل گوجرانوالہ میں ایک سہ روزہ ورکشاپ میں شرکت کا موقع ملا جو الشریعہ اکادمی اور خوارزمی سائنس سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی تھی۔ ورکشاپ کا عنوان تھا: ’’مذہب اور سائنس: تنازعات کی وجوہات اور مفاہمت کی اساسیات‘‘۔
ورکشاپ میں معلم کی ذمہ داری ڈاکٹر باسط بلال کوشل صاحب نے انجام دی اور تین دن ان سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ ورکشاپ جس موضوع کے تحت منعقد کی گئی تھی، وہ دور حاضر میں بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سائنسی ایجادات اور ان کے فوائد نے سبھی طبقات کو اپنے اثر میں لے لیا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تقریباً سبھی شعبے اور قدریں اب اسی کے زیر اثر جانچی جا رہی ہیں۔ 
غورو فکر کا موجودہ عمل یا طرز انھی کے تشکیل کردہ ماحول میں پروان چڑھ رہا ہے اور یہ غور و فکر اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ترقی چوں کہ حسیات سے تعلق رکھتی ہے، دوسرے الفاظ میں مادہ سے متعلق، ہے، اس لیے دوسری اقدار ہوں یا اشیاء، وہ اسی پہلو سے جانچی جا رہی ہیں کہ آیا وہ ظاہری فوائد کی حامل ہیں یا نہیں ؟ اگر ظاہری فوائد جن کا باقاعدہ کوئی وجود ہو ، نہیں ہیں تو پھر اس کی ضرورت کیا ہے ؟
اس پوری سوچ کو واضح انداز میں یوں پیش کیا جاتا ہے کہ آیا دور حاضر میں جب ہر چیز عقلی دنیا سے نکل کر تجرباتی دنیا میں آگئی ہے اور اپنی افادیت ثابت کر چکی ہے تو کیا اب کسی آسمانی تعلیم کی ضرورت باقی بچتی ہے جو سراسر غیر مرئی ہے اور اصلاً اقدار کے تعین اور دنیوی و اخروی رویوں کی تہذیب کو موضوع بناتی ہے؟ کیا اس سائنسی ترقی کے دور میں بھی ہمیں کسی آسمانی کتاب سے اصول اخذ کرنے کی ضرورت ہے؟
اس سوال کا براہ راست ایسا جواب ہر گز نہیں دیا جاسکتا جو معاملہ کو فوری طور پر حل کردے اور اس میں پنہاں تہہ در تہہ گتھیوں کو سلجھا دے بلکہ اس سوال کو سمجھنے سے پہلے بہت سے مراحل ہیں جو ذہن میں موجود ہونا ضروری ہیں ۔
ڈاکٹر صاحب نے گفتگو کے آغاز میں ہی فرما دیا " سب سے پہلے ہم اس بات پر غور کریں گے کہ کسی ٹھوس منطقی بنیاد پر باہمی تنازع بنتا بھی ہے یا نہیں ؟ اگر ٹھوس بنیاد پر تنازع موجود ہوگا تو ہی ہم اس کی نوعیت ، دائرہ کار اور عملی حل پر غور کریں گے۔ انھوں نے فرمایا کہ ہمیں اس سوال کے جواب کے لیے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ تینوں بڑے گروہوں یعنی اہل مذہب، فلسفیوں اور سائنس دانوں کے ہاں غور وفکر کا موضوع کس چیز کو بنایا گیا ہے ؟ غور و فکر کی اساس کسے ٹھہرایا گیا ہے ؟ اور اس پورے عمل میں کیسا انداز فکر کار فرما ہے؟
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب کا موضوع روح ہے جس پر وحی کے ذریعے غورو فکر ہوتا ہے، سائنس کا موضوع جسم ہے جس پر حواس خمسہ کے ذریعے غور و فکر ہوتا ہے اور فلسفہ عقل کے ذریعے زندگی کے مسائل پر غور و فکر ہوتا ہے۔ تینوں گروہوں نے اپنے نصوص سے اپنے اصول وضع کیے اور پھر اس سے نتائج برآمد کیے اور انھیں نتائج کو قطعیت کا درجہ دے دیا۔ اب وہ کسی اور کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں، لہٰذا ہم صاف دیکھ سکتے ہیں کہ تنازع پوری شدومد کے ساتھ موجود ہے۔ اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ یہ تنازع آیا آج پیدا ہوا ہے یا ماضی میں بھی اس کی کوئی جھلک موجود ہے ؟ اس کے لیے ہمیں اپنی علمی روایت کا بنظر غائر جائزہ لینا پڑے گا اور اگر ہم اس عمل میں کامیاب ہوگئے تو بطریق احسن جان لیں گے کہ معاملہ نہیں بلکہ پرانا ہے ۔ البتہ اب معاملہ صرف علمی درس گاہوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ پورے عالم کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔
یہ مسئلہ پرانا چلا آرہا ہے، اس پر بطور استشہاد انھوں نے حاضرین کے سامنے قرون وسطیٰ کے نامور یہودی فلسفی اور عالم موسیٰ بن میمون کا ایک خط پیش کیا جس میں وہ اپنے شاگرد کوفرمارہے ہیں کہ" میں نے علوم عقلیہ کی بحثوں میں پہنچ کر یہ محسوس کیا کہ تمھیں وہ متوحش کر رہے ہیں اور تم گاہے اضطراب میں چلے جاتے ہو اور گاہے حیران و پریشان ہو جاتے ہو۔ میں کوشش کروں گا ان معاملات میں تمھاری درست رہ نمائی کر دوں اور ایسے اشارے کر دوں جو تمھیں مقصود تک پہنچا دیں۔‘‘
معاملہ کو مزید واضح کرنے کے لیے ڈاکٹر صاحب نے امام غزالی علیہ الرحمہ کی سرگزشت کا وہ حصہ پیش کیا جس میں وہ خود اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ ’’مجھ پر بھی ایک عرصہ ایسا بیتا کہ ذہن تشکیک میں مبتلا ہو گیا اور قلب میں اضطراب ہی اضطراب تھا۔‘‘ وہ ’’ خواب اور موجودہ دنیا کے حقائق ‘‘ کے عنوان کے تحت ایک الجھن کا ذکر کرتے ہیں جو انھیں اس زمانے میں لاحق ہوگئی تھی ۔ انھیں یہ بات کھٹکتی تھی کہ جیسے خواب کے حقائق بیداری عالم میں محض وہم اور خیال لاطائل کی کرشمہ سازی ہے، اسی طرح جس دنیا کو ہم عالم بیدار گردانتے ہیں، ہو سکتا ہے ، یہ بھی کسی دن ایک ایسا ہی جہان ثابت ہو جو محض وہم ہو اور اس کی حقیقت بھی محض ایک خواب جیسی ہی ہو ۔
امام غزالی فرماتے ہیں کہ ’’ جب اس طرح کے اندیشے دل میں ابھرے اور اس انداز کے جذبات شکوک و شبہات کا باعث بنے تو میں نے ہر چند چاہا کہ اس بیماری کا علاج کروں یہ نہ ہو سکا کیوں کہ اس بیماری کا علاج تو دلائل ہی سے ممکن ہے اور دلیل اسی پر موقوف ہے کہ اولیات سے مرکب ہو، مگر اولیات جب اعتبار کھو بیٹھے تو دلیل قائم کرنا اور ثبوت مہیا کرنا سخت دشوار ہو گیا، لہٰذا میں دو ماہ اس سو فسطائیہ تشکیک میں مبتلا رہا۔‘‘
یہ استشہاد بیان کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ یہ دونوں استشہاد اس بات پر گواہ ہیں کہ ماضی میں بھی یہ مسئلہ موجود تھا ۔ 
ورک شاپ میں مولانا عبد الماجد دریا آبادی کی سرگزشت الحاد کا خصوصی پر مطالعہ اور تجزیہ کیا گیا۔ مولانا ٹھیٹھ مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور ایسے علمی ماحول میں آنکھ کھولی تھی کہ 12،13 سال کہ عمر میں ہی آریوں ،مسیحیوں اور نیچریوں کے جواب میں لکھنے لگے تھے اور سولہ سال کی عمر تک کافی علمی پختگی پیدا ہو چکی تھی، لیکن کالج میں داخل ہوتے ہی دو کتابیں ہاتھ لگیں جو براہ راست مذہب کے موضوع پر نہیں تھیں اور نہ ہی ان کا تعلق ابطال اسلام یا ابطال مذہب سے تھا بلکہ ایک اصول معاشرت اور آداب معاشرت پر تھی اور دوسری آداب و محاضرہ کی تھی۔ لیکن ان دو کا اثر ہی یہ ہوا کہ خود فرماتے ہیں "لیجیے ! برسوں کی محنت اور تیاری کا قلعہ بات کی بات میں ڈھے گیا اور بغیر کسی آریہ سماجی یا کسی اور دشمن اسلام سے بحث و مناظرہ میں مغلوب ہوئے ذات رسالت سے اعتقاد بحیثیت رسول کیا معنی ،نہ بحیثیت ایک بزرگ یا اعلی انسان کے بھی دیکھتے دیکھتے دل سے مٹ گیا ! اسلام و ایمان کی دولت عظیم بات کہتے ارتداد کے خس و خاشاک میں تبدیل ہو گئی ۔‘‘
اس مقام پر ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ مولانا کی واپسی کی روداد بہت دلچسپ ہے۔ آدمی حیران ہوتا ہے کہ بظاہر خود جو ہدایت پر نہ تھے اور ابھی ظلمتوں میں ہی سرگرداں تھے، وہ ایک ایک کر کے معاون ثابت ہوتے ہیں اور بتدریج ان کے ایمان کا سفر مکمل ہو جاتا ہے ۔ وہ سب سے پہلے حکیم کنفیوشس کی تعلیمات سے متاثر ہوئے جس کے ڈانڈے کہیں نہ کہیں روحانیت سے جا ملتے تھے۔ ساتھ میں ایک اور کتاب کے ذریعے بدھ مت،جین مت اور تھیاسوفی سے بھی تعارف ہو گیا۔ بدھ مت چوں کہ نرے مجموعہ اوہام کا نام نہیں بلکہ اس کے اندر نفس بشری اور روح سے متعلق کچھ گہری حقیقتیں اور بصیرتیں بھی ہیں اور تھیا سوفی ہندو تصوف اور فلسفہ کی ہی ایک شکل ہے جس میں سارا زور روح پر ہے، اس لیے ان تعلیمات سے واقف کاری کا اثر یہ ہوا کہ مادیت ،لاادریت و تشکیک کی جو سر بفلک عمارت برسوں میں تعمیر ہوئی تھی، بتدریج منہدم ہوتی چلی گئی۔
ورک شاپ میں سائنس، فلسفہ اور مذہب کے تنازع کے حوالے سے بہت سے اہم نکات زیر بحث آئے اور شرکاء کی طرف سے سوال وجواب کا سلسلہ بھی ہوا۔ ایک نشست میں الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے خصوصی طور پر شرکت کی، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا محمد عمار خان ناصر تینوں دن مسلسل ورک شاپ میں شریک رہے۔ ورکشاپ کے انتظامی امور کی دیکھ بھال خوارزمی سائنس سوسائٹی کے رفقاء اور الشریعہ اکادمی کی ٹیم نے مل کر کی اور یوں ایک پرسکون اور علمی ماحول میں شرکاء کو ایک اہم موضوع پر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔