ظلم و جبر کے شکار مسلمان۔ حکمت عملی کیا ہو؟
محمد عمار خان ناصر
قومیت کا جدید سیاسی تصور مخصوص جغرافیائی خطوں میں بسنے والے انسانوں کے لیے اپنی سرزمین پر سیاسی خود مختاری کو ایک بنیادی حق قرار دیتا ہے اور بلاشبہ اس تصور نے دنیا میں قوموں اور ممالک کے مابین جارحیت پر مبنی تنازعات کے سدباب میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر سیاسی یا نظریاتی تصور کی طرح اس کی عملی تنفیذ بھی بالادست سیاسی قوتوں کے ارادے اور طاقت کی وساطت سے ہی ممکن ہوئی ہے اور جہاں یہ ارادہ مفقود ہے، وہاں اس تصورکی عملی تنفیذ بھی نہیں ہو سکی۔ بدقسمتی سے اس دوسری نوعیت کی صورت حال کا سامنا دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے مسلمانوں کو بھی ہے اور فلسطین، کشمیر اور برماکے روہنگیا مسلمانوں کے مسائل اس نوعیت کے عالمی تنازعات کی فہرست میں نمایاں ہیں۔
دور جدید کے سیاسی تغیرات کو گہرائی کے ساتھ نہ سمجھنے یا انھیں بطور ایک امر واقعہ قبول نہ کرنے کی وجہ سے مذکورہ تنازعات سے دلچسپی اور مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی رکھنے والے بعض عناصر میں حکمت عملی کے حوالے سے جو عمومی رجحان پیدا ہوا، وہ پر تشدد تصادم کا رجحان تھا اور اسے دور جدید سے ماقبل کے سیاسی تصورات یا کچھ مذہبی ہدایات کے تناظر میں ایک آئیڈیل حکمت عملی تصور کیا گیا۔ اس کی ابتدا پہلے مقامی سطح پر، پر تشدد تحریکوں کی صورت میں ہوئی اور پھر جب تجربے سے یہ واضح ہوا کہ اصل مقابلہ مقامی سیاسی طاقتوں سے نہیں، بلکہ پورے عالمی سیاسی نظام کے ساتھ ہے تو اسی جوش وجذبہ کے ساتھ محاذ جنگ کو براہ راست عالمی طاقتوں کی سرحدوں پر منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، اور یہ سبق سیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ جب مقامی سطح پر غالب نظام طاقت کے مقابلے میں یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہوئی تو پورے عالمی سیاسی نظام کے مقابلے میں کیونکر ہوگی، جبکہ معروضی حالات میں فیصلہ کن حیثیت سیاسی وعسکری طاقت ہی کو حاصل ہے۔
طاقت کے توازن کو نظر انداز کرنے کے علاوہ تشدد اور تصادم کی مذکورہ حکمت عملی کے نتیجے میں کئی اہم مذہبی واخلاقی اصول بھی مجروح ہوئے۔ مثال کے طور پر زیادہ تر مثالوں میں عسکری تصادم کے فیصلے کو قوم کی اجتماعی نمائندگی حاصل نہیں تھی، بلکہ چند گروہوں نے اپنے تئیں یہ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر کے اس کے نتائج کو پوری قوم پر مسلط کر دیا، حالانکہ اسلامی شریعت کی رو سے کسی علاقے میں مسلح مزاحمت کا حق چند افراد یا کسی ایک گروہ کا حق نہیں، بلکہ پوری قوم کا اجتماعی حق ہے اور ایسے کسی بھی اقدام کے جواز کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے قوم کی اجتماعی تائید اور پشت پناہی حاصل ہو اور قوم اس کے لازمی نتائج کا سامنا کرنے اور اس کے لیے درکار جانی ومالی قربانی دینے کے لیے تیار ہو۔ اگر قوم اپنی مجموعی حیثیت میں ایسے کسی فیصلے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو یا اس کے لیے آمادہ نہ ہو تو کسی گروہ کا ازخود کوئی فیصلہ کر کے اسے عملی نتائج کے اعتبار سے ساری قوم پر تھوپ دینا شرعاً واخلاقاً درست نہیں ہے۔ خاص طور پر اگر مقبوضہ علاقے کے مسلمان داخلی طو رپر اتحاد اور یک جہتی سے محروم اور باہم برسرپیکار ہوں تو دین وشریعت کا تقاضا یہ نہیں ہوگا کہ کوئی ایک گروہ اٹھ کر ازخود مسلح جدوجہد کا آغا زکر دے۔ دین اور عقل عام دونوں کا پہلا مطالبہ اس صورت میں یہ ہوگا کہ مسلمان باہمی اختلاف وعناد اور نزاعات کو ختم کر کے ایک متحد قوم کی شکل اختیار کریں اور اس کے بعد ’امرھم شوریٰ بینھم‘ کے اصول کے تحت حصول آزادی کے لیے کوئی ایسا لائحہ عمل اختیار کریں جو میسر حالات میں زیادہ قابل عمل، مفید اور نتیجہ خیز ہو اور اسے قوم کی اجتماعی تائید بھی حاصل ہو۔ محکوم قوم کی باہمی تقسیم وافتراق کی معروضی صورت حال کو نظر انداز کر کے کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ نہ تو مذکورہ شرعی واخلاقی اصول کے لحاظ سے درست ہوگا، نہ عملی طو رپر ایسی کسی کوشش کے مفید نتائج نکل سکتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ایسی صورت میں نصرت اور تائید کی توقع کی جا سکتی ہے۔ قرآن مجید نے سورۂ آل عمران کی آیت ۱۵۲ (حتی اذا فشلتم وتنازعتم فی الامر) اور سورۂ انفال کی آیت ۴۶ (لا تنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم) میں نصرت الٰہی کے اس اخلاقی اصول کی وضاحت کی ہے۔
ارد گرد کے ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کی طرف سے ان مسلح تحریکات میں شرکت اور ان کی نصرت وتعاون کا عمل بھی متعدد شرعی واخلاقی قباحتوں پر مشتمل تھا۔ قرآن مجید نے سورۂ انفال میں مظلوم مسلمانوں کی مدد کے ضمن میں یہ شرط عائد کی ہے کہ اس کے لیے مسلمانوں کی طرف سے کیے گئے کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ چنانچہ جب غزوۂ بدر کے زمانے میں سیدنا حذیفہ اور ان کے والد کو مشرکین نے مدینہ جانے سے روک دیا اور صرف اس شرط پر اجازت دی کہ وہ ان کے خلاف جنگ میں شریک نہیں ہوں گے تو مدینہ پہنچنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات کو جنگ میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی اور فرمایا کہ انھیں اپنے کیے ہوئے معاہدے کی پابندی کرنی چاہیے۔ اس وجہ سے یہ دین وشریعت کا ایک لازمی تقاضا ہے کہ جو لوگ اپنی انفرادی حیثیت میں مظلوم مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ لڑنا چاہتے ہوں، وہ یہ دیکھیں کہ وہ جس ملک کے شہری ہیں، آیا ریاست کی سطح پر اس کی طرف سے ایسا کوئی معاہدہ تو موجود نہیں جو اس کے شہریوں کو جنگ میں شریک ہونے سے روکتا ہو۔ اگر ایسا ہو تو پھر اس ملک کے کسی شہری کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس ملک کا شہری ہوتے ہوئے نظم اجتماعی کے فیصلوں سے ہٹ کر کوئی فیصلہ کرے۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہتا ہے تو اخلاقی اور شرعی طور پر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس ملک کی شہریت سے دست بردار ہو کر وہاں کی سکونت چھوڑ دے تاکہ اس کے کسی فعل کی ذمہ داری ریاست پر عائد نہ ہو۔ تاہم عسکری حکمت عملی میں اس اصول کی عموماً پاس داری نہیں کی گئی جس سے چند در چند اخلاقی اور قانونی پیچیدگیوں نے جنم لیا۔
اس پوری صورت حال میں سب سے اہم بات یہ سمجھنے کی ہے کہ کسی بھی دور میں سیاسی نوعیت کے تنازعات میں اس وقت کے غالب نظام طاقت اور رائج سیاسی تصورات سے باہر نکل کر کوئی اقدام کرنے یا ان کے ساتھ تصادم اختیار کرنے کا راستہ کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ یہ نظام طاقت اور سیاسی تصورات فی نفسہ منصفانہ ہیں یا نہیں یا نظریاتی بنیادوں پر کسی گروہ کے لیے قابل قبول ہیں یا نہیں، یہ ایک بالکل الگ بحث ہے جس کے ساتھ حکمت عملی کو نتھی نہیں کیا جا سکتا۔ حکمت عملی کا بنیادی اصول نتیجہ خیزی کے بہترین امکانات کو مد نظر رکھنا اور ان امکانات کو وقوع میں بدلنے کے بہترین وسائل کو بروئے کار لانا ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں دو متوازی حکمت عملیوں کی بحث میں ہاں عموماً مکی دور اور مدنی دور کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ دونوں نقطہ ہائے نظر کا اپنا اپنا استدلال اور حالات کے تجزیے کا اپنا اپنا پیراڈائم ہے۔ ہمارے خیال میں پون صدی کے تجربات اپنا وزن مکی دور والے استدلال کے پلڑے میں ڈالتے نظر آتے ہیں۔ تاہم، اہم بات یہ ہے کہ مکی دور کا تصور اس استدلال میں ادھورا ہے۔ اس کا مطلب عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ ظلم وجبر کو تقدیر الٰہی سمجھ کر خاموشی سے اسے برداشت کیا جائے اور دفاع اور تحفظ کے لیے نیک اعمال پر توجہ مرکوز کرنے اور دعا کرنے کے علاوہ کوئی اقدام عمل میں نہ لایا جائے، حالانکہ سیرت نبوی کے سرسری مطالعہ سے بھی یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی اس دور میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کی ہرگز نہیں تھی۔ اس دور میں بھی ظلم سے تحفظ اور مظلوموں کی نصرت کے لیے وہ تمام وسائل اور تدابیر استعمال کی گئیں جو اس صورت حال میں ممکن اور موثر تھیں۔ ان میں مظلوموں کے لیے سماج کے بااثر افراد (جو عموماً مشرکین تھے) کی امان اور پناہ حاصل کرنا اور ظلم کے خلاف اجتماعی اخلاقی ضمیر کو اپیل کرنا بہت اہم تدابیر تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی حکمت کے ساتھ عرب سماج کی اس اعلیٰ اخلاقی روایت سے پورا فائدہ اٹھایا۔ اس کے ساتھ مظلوم مسلمانوں کے لیے سکونت کے متبادل مقامات تلاش کرنا اور انھیں ہجرت پر آمادہ کرنا بھی مکی دور کی حکمت عملی میں بہت نمایاں ہے۔ حبشہ کی طرف دونوں ہجرتیں اسی حکمت عملی کے تحت وقوع پذیر ہوئیں۔
عالم اسلام کی مذہبی وسیاسی قیادت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایک طرف مختلف خطوں کے مظلوم مسلمانوں کی نہ صرف خیر خواہی اور دیانت داری کے ساتھ درست راہ نمائی کرے، اور دوسری طرف طاقت کے عالمی ایوانوں میں ان کا مقدمہ حکمت اور دانائی کے ساتھ پیش کرنے کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیادی ترجیحات کا حصہ بنائے۔ اس ضمن میں قرآن مجید کا یہ ارشاد ہر حال میں ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے: الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض وفساد کبیر (اگر تم مظلوموں کی مدد نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد رونما ہو جائے گا)۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۵)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۱۸) جنوب کا ترجمہ
جنوب، جنب کی جمع ہے، اس کے معنی پہلو کے ہیں، امام لغت فیروزآبادی لکھتے ہیں:
الجَنْبُ والجانِبُ والجَنَبَۃُ، مُحَرَّکَۃً: شِقّْ الاِنْسانِ وغیرہِ، ج: جْنْوبٌ وجوانِبُ وجَنَائِبُ. القاموس المحیط۔
عربی میں پیٹھ کے لیے ظھر اور پہلو کے لیے جنب آتا ہے، مذکورہ ذیل آیت میں دونوں الفاظ ایک ساتھ ذکر کیے گئے ہیں:
(۱) یَوْمَ یُحْمَی عَلَیْْہَا فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکْوَی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنوبُہُمْ وَظُہُورُہُمْ ہَذَا مَا کَنَزْتُمْ لأَنفُسِکُمْ فَذُوقُواْ مَا کُنتُمْ تَکْنِزُونَ۔ (التوبۃ: ۳۵)
’’ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو ‘‘(سید مودودی) تمام مترجمین نے یہاں جنوب کا ترجمہ پہلو یا کروٹ اور ظھور کا ترجمہ پیٹھ کیا ہے۔
اس آیت کے علاوہ دو اور مقامات پر جنوب کا لفظ آیا ہے، مذکورہ بالا آیت کی طرح وہاں بھی مترجمین نے عام طور سے پہلو اور کروٹ ترجمہ کیا ہے، تاہم صاحب تفہیم نے اوپر والی آیت میں جنوب کا ترجمہ پہلو کرنے کے باوجود ذیل کی دونوں آیتوں میں جنوب کا ترجمہ پیٹھیں کیا ہے، یہ ترجمہ درست نہیں ہے، تینوں مقامات پر جنوب کا ترجمہ پہلو ہی ہونا چاہئے۔
(۲) تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ خَوْفاً وَطَمَعاً وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُون۔ (السجدۃ: ۱۶)
’’اْن کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے اْنہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں‘‘ (سید مودودی)
’’ان کے پہلو بستروں سے کنارہ کش رہتے ہیں ‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’ان کے پہلو بستروں پر ٹکتے نہیں ہیں‘‘ (امانت اللہ اصلاحی، تتجافی کا صحیح مفہوم ٹکتے نہیں ہیں کہنے سے ادا ہوتا ہے)
آیت میں جنوبھم کا لفظ آیا ہے، ظھورھم کا لفظ نہیں آیا ہے، اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ عام طور سے انسان کروٹ لیٹتا ہے نہ کہ چت لیٹتا ہے۔
(۳) وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاہَا لَکُم مِّن شَعَائِرِ اللَّہِ لَکُمْ فِیْہَا خَیْْرٌ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ عَلَیْْہَا صَوَافَّ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُہَا فَکُلُوا مِنْہَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ کَذَلِکَ سَخَّرْنَاہَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون۔ (الحج: ۳۶)
’’اور (قربانی کے) اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے، تمہارے لیے اْن میں بھَلائی ہے، پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو، اور جب (قربانی کے بعد) ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں تو اْن میں سے خود بھی کھاؤ اور اْن کو بھی کھلاؤ جو قناعت کیے بیٹھے ہیں اور اْن کو بھی جو اپنی حاجت پیش کریں اِن جانوروں کو ہم نے اِس طرح تمہارے لیے مسخّر کیا ہے تاکہ تم شکریہ ادا کرو‘‘ (سید مودودی)
’’اور قربانی کے ڈیل دار جانور اور اونٹ اور گائے ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے کیے تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے تو ان پر اللہ کا نام لو ایک پاؤں بندھے تین پاؤں سے کھڑے پھر جب ان کی کروٹیں گرجائیں تو ان میں سے خود کھاؤ اور صبر سے بیٹھنے والے اور بھیک مانگنے والے کو کھلاؤ، ہم نے یونہی ان کو تمہارے بس میں دے دیا کہ تم احسان مانو‘‘ (احمد رضا خان)
’’اور قربانی کے اونٹ اور گائے (اور اسی طرح بھیڑ اور بکری کو بھی) ہم نے اللہ کے دین کی یادگار بنایا ہے ان جانوروں میں تمہارے اور بھی فائدے ہیں سو تم ان پر کھڑے کر کے (ذبح کرنے کے وقت) اللہ کا نام لیا کرو، پس جب وہ کسی کروٹ کے بھل گر پڑیں (اور ٹھنڈے ہوجائیں) تو تم خود بھی کھاؤ اور بے سوال اور سوالی محتاج کو بھی کھانے کو دو (اور) ہم نے ان جانوروں کو اس طرح تمہارے زیر حکم کردیا تاکہ تم (اس پر) اللہ اللہ تعالی کا شکر کرو‘‘ (اشرف علی تھانوی)
اس آیت میں ظھورھم کا لفظ نہیں آیا ہے، جنوبھم کا لفظ آیا ہے، اس کی وجہ بھی واضح ہے کہ قربانی کا جانور پہلو کے بل گرتا ہے نہ کہ پیٹھ کے بل۔جنوب کا ترجمہ پیٹھ درست نہیں ہے، جبکہ پہلو درست ترجمہ ہے۔
اس آیت میں دو اور لفظوں کی تحقیق میں اختلاف ہوا ہے، وہ الفاظ حسب ذیل ہیں:
البدن کے سلسلے میں مفسرین اور اہل لغت کے یہاں دو رائیں ملتی ہیں، ایک رائے یہ ہے کہ اس سے مراد اونٹ اور گائے دونوں ہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ اس سے مراد صرف اونٹ ہیں۔
ابن عطیہ نے دونوں رائیں ذکر کی ہیں:
البدن جمع بدنۃ وھی ما أشعر من ناقۃ أو بقرۃ، قالہ عطاء وغیرہ وسمیت بذلک لانھا تبدن أی تسمن، وقیل بل ھذا الاسم خاص بالابل. تفسیر ابن عطیۃ.
دوسری رائے مضبوط معلوم ہوتی ہے ، اس لئے کہ قربانی کا یہ طریقہ اونٹ کے لئے خاص ہے۔ گائے اور دوسرے جانوروں کی قربانی لٹا کر کی جاتی ہے، جب کہ اونٹ کی قربانی کھڑے کھڑے کی جاتی ہے، نحر کے بعد وہ اپنے پہلو کے بل گرتے ہیں۔
صواف کے سلسلے میں تین رائیں ہیں: بندھے ہوئے، کھڑے ہوئے، صف بستہ کھڑے ہوئے۔
صَوافَّ أی عَلَی نَحْرِھَا. قَالَ مُجَاھِد: مَعْقُولَۃ. وَقَالَ ابنُ عُمَرَ: قَائِمَۃ قَدْ صَفَّت أیدِیھَا بِالقُیُودِ. وَقَالَ ابنُ عیسَی: مُصْطَفَّۃٌ. البحر المحیط فی التفسیر۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے کے مطابق ’’کھڑے ہوئے‘‘ کرنا درست ہے۔ صف بستہ کے لئے جمع سالم آتی ہے، جبکہ صواف کے لفظ میں بندھے ہونے کا مفہوم شامل نہیں ہے۔
(۱۱۹) اشحۃ علی کا مفہوم
شح کا مطلب حریص ہونا ہے، کہ آدمی کو جو چیز حاصل ہو اسے بچا کر رکھنا چاہے، اور جو چیز حاصل نہیں ہو اسے حاصل کرنا چاہے۔
والشّْحّْ: البُخل وھوالحِرصُ. وھما یَتَشاحّان علی الأمر: لایُریدُ کلّْ واحدٍ منھما أن یفوتہ. (العین)
حریص علی الشیء اور شحیح علی الشیء دونوں میں علی کا ایک ہی استعمال ہوتا ہے، یعنی جس چیز کی حرص ہو اس پر علی داخل ہوتا ہے۔ مذکورہ ذیل آیت میں ایک بار اشحۃ علیکم آیا ہے، اور اسی آیت میں پھر اشحۃ علی الخیر بھی آیا ہے۔
أَشِحَّۃً عَلَیْْکُمْ فَإِذَا جَاء الْخَوْفُ رَأَیْْتَہُمْ یَنظُرُونَ إِلَیْْکَ تَدُورُ أَعْیُنُہُمْ کَالَّذِیْ یُغْشَی عَلَیْْہِ مِنَ الْمَوْتِ فَإِذَا ذَہَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوکُم بِأَلْسِنَۃٍ حِدَادٍ أَشِحَّۃً عَلَی الْخَیْْرِ۔ (الاحزاب: ۱۹)
جب ہم اردو تراجم کا جائزہ لیتے ہیں تو صورت حال یہ نظر آتی ہے کہ وہ اشحۃ علی الخیر کا ترجمہ تو ’’دولت کا حریص‘‘ ہونا کرتے ہیں، لیکن اشحۃ علیکم کا ترجمہ ’’تمہارے حریص‘‘ ہونا نہیں کرتے، عربی تفاسیر میں بھی اکثر تفسیروں کا حال یہی ہے۔ دراصل وہ أشحۃ علیکم کی تفسیر بخلاء علیکم سے کرتے ہیں، جب کہ أشحۃ علیکم، بخلاء بکم کا ہم معنی ہے۔آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ جب خطرہ سر پر ہوتا ہے توخود کو تمہارا خیرخواہ اور حریص ظاہر کرتے ہیں، اور جب خطرہ ٹل جاتاہے تو مال کے حریص بن جاتے ہیں۔پہلی حالت میں تم کو ھلم الینا کہتے ہیں، اور دوسری حالت میں تم کو اپنی تیز زبانوں کا نشانہ بناتے ہیں۔اس آیت میں أشحۃ علیکم کے مفہوم کی وضاحت گذشتہ آیت کے لفظ ھلم الیناسے ہورہی ہے۔ أشحۃ علیکم حال ہے ھلم الیناسے، یعنی تمہارے خیر خواہ بن کر تمہیں اپنی طرف بلاتے ہیں۔
اس وضاحت کے بعد چند اردو ترجمے ملاحظہ ہوں:
’’تمہاری مدد میں (پورے) بخیل ہیں، پھر جب خوف ودہشت کا موقعہ آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ آپ کی طرف نظریں جما دیتے ہیں اور ان کی انکھیں اس طرح گھومتی ہیں جیسے اس شخص کی جس پر موت کی غشی طاری ہو۔ پھر جب خوف جاتا رہتا ہے تو تم پر اپنی تیز زبانوں سے بڑی باتیں بناتے ہیں مال کے بڑے ہی حریص ہیں‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’تمہاری مدد میں گئی کرتے (کمی کرتے) ہیں پھر جب ڈر کا وقت آئے تم انہیں دیکھو گے تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں جیسے کسی پر موت چھائی ہو پھر جب ڈر کا وقت نکل جائے تمہیں طعنے دینے لگیں تیز زبانوں سے مال غنیمت کے لالچ میں‘‘ (احمد رضا خان)
’’(یہ اس لئے کہ) تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔ پھر جب ڈر (کا وقت) آئے تو تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں (اور) اْن کی آنکھیں (اسی طرح) پھر رہی ہیں جیسے کسی کو موت سے غشی آرہی ہو۔ پھر جب خوف جاتا رہے تو تیز زبانوں کے ساتھ تمہارے بارے میں زبان درازی کریں اور مال میں بخل کریں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’تم سے جان چراتے ہوئے، پس جب خطرہ پیش آجاتا تو تم ان کو دیکھتے کہ وہ تمھاری طرف اس طرح تاک رہے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی آنکھوں کی طرح گردش کررہی ہیں جس پر سکرات موت کی حالت طاری ہو، پھر جب خطرہ دور ہوجاتا تو وہ مال کی طمع میں تم سے بڑی تیز زبانی سے باتیں کرتے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، اس میں زمانہ ماضی کا ترجمہ کیا گیا ہے، اذا کے ترجمہ میں ماضی کا استعمال درست نہیں ہے)
’’جو تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں خطرے کا وقت آ جائے تو اس طرح دیدے پھرا پھرا کر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہو رہی ہو، مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لیے تمہارے استقبال کو آ جاتے ہیں‘‘ (سید مودودی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے:
’’تمہیں چاہنے والے بن کر، پس جب خطرہ پیش آجاتا ہے تو تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ تمھاری طرف اس طرح تاک رہے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی آنکھوں کی طرح گردش کررہی ہیں جس پر سکرات موت کی حالت طاری ہو، پھر جب خطرہ دور ہوجاتا ہے تو وہ مال کی طمع میں تم سے بڑی تیز زبانی سے باتیں کرتے ہیں‘‘۔ امام زمخشری نے اس آیت کا بالکل صحیح مفہوم بیان کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
اَشِحَّۃً عَلَیکُمْ فی وقت الحرب أضناء بکم، یترفرفون علیکم کما یفعل الرجل بالذاب عنہ المناضل دونہ عند الخوف یَنظُرُونَ اِلَیکَ فی تلک الحالۃ کما ینظر المغشی علیہ من معالجۃ سکرات الموت حذرا وخورا ولواذا بک، فاذا ذھب الخوف وحیزت الغنائم ووقعت القسمۃ: نقلوا ذلک الشحّ وتلک الضنۃ والرفرفۃ علیکم الی الخیر۔ وھو المال والغنیمۃ۔ ونسوا تلک الحالۃ الاولی، واجترء وا علیکم وضربوکم بالسنتھم وقالوا: وفروا قسمتنا فانا قد شاھدناکم وقاتلنا معکم، وبمکاننا غلبتم عدوّکم وبنا نصرتم علیہ. الکشاف۔
(۱۲۰) سلقوکم بألسنۃ کا مطلب
مذکورہ بالا آیت میں سلقوکم بألسنۃ حداد کا ترجمہ عام طور سے تیز زبانی، زبانی درازی اور طعنے دینا کیا گیا ہے۔ اہل لغت اور اہل تفسیر میں دو رائیں ہیں کہ اس کا مطلب زور زور سے بولنا ہے، یا تکلیف دہ باتیں کہنا ہے۔
وسَلَقَہ بِلِسَانہِ یَسلقہ سلقاً: أَسمعہ ما یکرہ فأکثر. وسَلَقۃ بِالکَلَامِ سَلقاً اِذا آذَاہُ، وَھُوَ شِدَّۃُ الْقَوْلِ بِاللِّسَانِ. وَفِی التَّنْزِیلِ: سَلَقُوکُمْ باَلْسِنَۃٍ حِدادٍ،
أی بالَغُوا فِیکُم بِالکَلَامِ وخاصَمُوکم فی الغَنِیمَۃِ أشَدَّ مخاصمۃٍ وأَبلَغَھا، أَشِحَّۃً عَلَی الخَیرِ، أی خَاطَبُوکُم أَشَدَّ مُخاطبۃ وھُمْ أشِحَّۃ عَلی المَالِ وَالغَنیمَۃِ، الفَرَّاءُ: سَلَقُوکُمْ بأَلسِنَۃٍ حِدادٍ مَعنَاہُ عَضّْوکم، یَقُولُ: آذَوکم بِالکَلَامِ فِی الاَمر باَلسِنۃ سَلِیطۃ ذَرِبَۃَ۔ لسان العرب
صاحب تفہیم نے سلقوکم کا ترجمہ استقبال کرنا کیا ہے، اور تفسیر میں بڑے تپاک سے استقبال کرنا لکھا ہے۔
انہیں یہ غلط فہمی غالبا تفسیر طبری کی ایک عبارت سے ہوئی ہے جس میں ابن عباس کے حوالے سے استقبلوکم کا لفظ روایت کیا گیا ہے۔ تفسیر طبری کی پوری عبارت دیکھیں تو یہ غلط فہمی دور ہوجاتی ہے، پوری عبارت اس طرح ہے:
وقال آخرون: بل ذلک سلقھم ایاھم بالأذی. ذکر ذلک عن ابن عباس: حدثنی علیّ، قال: ثنا ابوصالح، قال: ثنی معاویۃ، عن علیّ، عن ابن عباس قولہ: (سَلَقُوکُمْ بألسِنَۃٍ حِدادٍ) قال: استقبلوکم. تفسیر الطبری۔
ابن عباس سے مروی ایک دوسری عبارت سے ان کی مراد اور واضح ہوجاتی ہے، وہ اس طرح ہے:
وأخرج الطستی عَن ابن عَبَّاس رَضِی اللہ عَنہُمَا أَن نَافِع بن الأرزق قَالَ لہُ اَخبرنی عَن قَولہ عزَّوَجل (سلقوکم بألسنۃحداد) قَالَ الطعن بِاللِّسَانِ قَالَ وَھل تعرف العَرَب ذَلک قَالَ نعم أما سَمِعت الأَعشَی وھُوَ یَقُول فیھم الخطب والسماحۃ والنجدۃ فیھم والخاطب المسلاق. الدرالمنثور۔
عربی کا استقبال اردو کے استقبال یعنی خیر مقدم سے مختلف ہوتا ہے، اور اس کا مطلب سامنا کرنا ہوتا ہے، ابن عباس کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ وہ طعن گوئی کے ساتھ تمہارا سامنا کرتے ہیں۔یوں تو سلق کا مطلب سامنا کرنا بھی نہیں ہوتا ہے، سلق باللسان کا مطلب تکلیف دہ بات کہنا ہوتا ہے۔ ابن عباس کی منشا یہ ہے کہ وہ تمہارے سامنے زبان درازی کرتے ہیں۔
لغت کی رو سے سلق کا مطلب استقبال کرنا اور وہ بھی تپاک سے کرنا کسی صورت میں نہیں ہوسکتا ہے۔ صاحب تفہیم نے تفسیری حاشیے میں دوسرا مفہوم بھی ذکر کیا ہے، جو عام رائے کے مطابق ہے اور وہ صحیح مفہوم ہے۔
(جاری)
دور جدید کا حدیثی ذخیرہ۔ ایک تعارفی جائزہ (۳)
مولانا سمیع اللہ سعدی
۴۔ سنن ابی داود
۱۔سنن ابی داود کی اہم ترین شرح معروف مصری عالم محمود محمد خطاب سبکی مالکی کی المنھل العذب المورود شرح سنن ابی داود ہے ، دس ضخیم جلدوں میں مصر سے چھپی ہے، ترتیب کے اعتبار سے نفیس شرح ہے۔ مصنف ہر حدیث کے تحت شرح السند،معنی،فقہ اور آخر میں حدیث کی تخریج کے عنوانات باندھ کر حدیث کی تشریح و توضیح کرتے ہیں۔یہ شرح نامکمل تھی، اس کا تکملہ مصنف کے صاحبزادے امین محمود سبکی نے فتح الملک المعبود کے نام سے چار جلدوں میں لکھا ہے۔
۲۔سنن ابی داود کی دوسری اہم شرح مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ کی بذل المجھود فی حل ابی داود ہے ۔ کتاب اختصار و جامعیت کا عمدہ نمونہ ہے،یہ شرح شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ کے حواشی کے ساتھ بیس جلدوں میں دار الکتب العلمیہ سے چھپی ہے۔
۳۔ معروف اہلحدیث عالم مولانا شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ نے ابو داد شریف پر ایک مفصل شرح غایۃ المقصود اور ایک مختصر حاشیہ عون المعبود کے نام سے لکھا ہے۔ غایۃ المقصود نامکمل ہے، صرف تین جلدیں المجمع العلمی کراچی سے چھپی ہیں،جبکہ عون المعبود دار الکتب العلمیہ سے خالد عبد الفتاح شبل کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ نو جلدوں میں چھپ کر آئی ہے۔
۴۔ سنن ابی داود پر دور جدید میں ہونے والے کاموں میں سے اہم کام نویں صدی ہجری کے معروف شافعی عالم و صوفی ابن رسلان کی شرح ابن رسلان کی اشاعت ہے،یہ شرح تحقیق کے ساتھ دار الفلاح رباط سے بیس جلدوں میں چھپی ہے۔ابو داود شریف کی مفصل شروحات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔
۵۔ سنن ابی داود کی اہم طبعات منظر عام پر آئی ہیں ،ان میں درجہ ذیل طبعات تحقیق کے لحاظ سے اہم سمجھی جاتی ہیں:
۱۔سنن ابی داود ،تحقیق شعیب الارناووط و محمد کامل بللی ،دار الرسالہ العالمیہ ،دمشق (۷مجلدات)
۲۔ سنن ابی داود ،تحقیق محمد عوامہ ،موسسہ الریان ،بیروت(۵مجلدات)
۳۔سنن ابی داود مع احکام الالبانی ،مکتبہ المعارف ،ریاض (مجلد ضخیم)
۴۔ سنن ابی داود ،تحقیق عصام ہادی ،دار الصدیق السعودیہ (مجلد ضخیم)
۵۔سنن ابی داود ،تحقیق ابی تراب عادل ابن محمد ،ابی عمرو عماد الدین ،دار التاصیل ،قاہرہ (۸ مجلدات)
موخر الذکر تازہ ترین اشاعت ہے ،یہ دو سال پہلے شائع ہوئی ہے ، سنن بی داود کے اٹھارہ مخطوطات کی مدد سے یہ نسخہ تیار کیا گیا ہے ، شروع میں ساڑھے چار سو صفحات کا طویل مقدمہ بھی ہے جس میں سنن ابی داود سے متعلقہ مباحث کا خوب استقصا کیا گیا ہے۔
۶۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے کثیر التصانیف عالم اور مدینہ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل ڈاکٹر محمد محمدی نورستانی نے المدخل الی سنن الامام ابی داود السجستانی کے نام سے ایک مفصل کتاب لکھی ہے ،جس میں سنن ابی داود اور اس سے متعلقہ مباحث پر عمدہ روشنی ڈالی ہے ،یہ کتاب مکتب الشوون الفنیہ کویت سے چھپی ہے۔
۷۔سنن ابی داود پر معاصر سطح کی سب سے ممتاز اور انوکھی تحقیق معاصر مصری محقق ابو عمرو یاسر بن محمد فتحی نے کی ہے۔ مصنف نے سنن ابی داود کی مفصل تخریج کا کام شروع کیا ہے جس میں ہر حدیث کی تخریج، رواۃ پر مفصل کلام، حدیث سے متعلق محدثین کا کلام اور دیگر مباحث کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہ قابل قدر تحقیق فضل الرحیم الودود تخریج سنن ابی داود کے نام سے دس جلدوں میں دار ابن جوزی سے چھپی ہے۔ ان دس جلدوں میں سنن ابی داود کی صرف ایک ہزار احادیث پر کلام کیا گیا ہے۔ اگر یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچا تو ایک اندازے کے مطابق ساٹھ جلدوں میں منظر عام پر آئے گا۔اللہ تعالیٰ مولف کو اس کام کی تکمیل کی توفیق دے۔
۸۔جامع ترمذی کی طرح شیخ البانی نے سنن ابو داود کو بھی صحیح و ضعیف دو قسموں میں تقسیم کر کے اس کی روایات کی فرداً فرداً تحقیق کی ہے،یہ تحقیق صحیح سنن ابی داود اور ضعیف سنن ابی داود کے نام سے الگ الگ چھپی ہے۔
سنن ابی داود پر دور جدید میں ہونے والے اہم کاموں کی فہرست پیش خدمت ہے:
۱۔ افادۃ المقصود باختصار و شرح سنن ابی داود، شیخ مصطفی دیب البغا
۲۔ انجاز الوعود بزوائد ابی داود علی الکتب الخمسۃ، کسروی حسن،دار الکتب العلمیہ ،بیروت (مجلدین)
۳۔ تغلیق التعلیق علی سنن الامام ابی داود، علی بن ابراہیم عجین ،مکتب الرشد ،ریاض (۴مجلدات)
۴۔ ما سکت عنہ الامام ابوداود مما فی اسنادہ ضعف، الدکتور محمد بن ہادی المدخلی ،جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ
۵۔ مقولا ت ابی داود النقدیۃ فی کتابہ السنن،محمد سعید حوی ،الجامعہ الاردنیہ
۶۔ الامام ابو داود و مکانۃ کتابہ السنن، الدکتور تقی الدین الندوی ،مکتبہ الامدادیہ ،مکہ مکرمہ
۷۔ الامام ابو داود السجستانی و کتابہ السنن، شیخ عبد اللہ بن صالح البراک
۸۔ بذل المجھود فیما حکم علیہ ابن الجوزی بالوضع من سنن ابی داود، محمد زکی عبد المجید، دار الطباعہ ،قاہرہ
۹۔ حاشیۃ علیٰ سنن ابی داود، شیخ احمد علی سہارنپوری
۱۰۔ سنن ابی داود فی الدراسات المغربیۃ، روایۃ و درایۃ، ادریس الخرشفی ،جامعہ محمد الخامس،رباط
۱۱۔ عون الودود شرح سنن ابی داود، ابو الحسنات محمد بن عبداللہ الفنجانی ، اصح المطابع ،لکھنو(مجلدین )
۱۲۔ سکوت ابی داود فی سننہ ،مفہومہ و آثارہ، نہاد عبد الحلیم عبید
۱۳۔ زوائد سنن ابی داود علی الصحیحین والکلام علی علل بعض حدیثہ، عبد العزیز من مرزوق الطریفی ، مکتبہ الرشد، ریاض (مجلدین)
۵۔سنن نسائی
۱۔ سنن نسائی کی سب سے مفصل اور ضخیم شرح حرم مکی کے معروف مدرس و مصنف محمد بن علی بن آدم الاثیوبی نے لکھی ہے، یہ شرح ذخیرۃ العقبی فی شرح المجتبی کے نام سے دار المعراج ریاض سے چالیس جلدوں میں چھپی ہے۔
۲۔ شیخ البانی نے سنن نسائی کی احادیث پر بھی فرداً فرداً تحقیق کر کے صحیح سنن النسائی، ضعیف سنن النسائی دو الگ الگ نسخے تیار کیے۔ صحیح سنن النسائی تین جلدوں میں جبکہ ضعیف سنن نسائی ایک جلد میں مکتبہ المعارف ریاض سے چھپی ہے۔
۳۔معروف عالم سید بن کسروی حسن نے بقیہ کتب خمسہ پر سنن نسائی کے زوائد کو جمع کیا ہے ،یہ تحقیق اسعاد الرائی بافراد زوائد النسائی علی الکتب الخمسۃ کے نام سے دار الکتب العلمیہ بیروت سے دو جلدوں میں چھپی ہے۔
۴۔ سنن نسائی کی درجہ ذیل طبعات قابل ذکر ہیں :
۱۔ سنن نسائی بشرح السیوطی وحاشیہ السندی، تحقیق عبد الفتاح ابو غدہ، مکتب المطبوعات الاسلامیہ، حلب (۹ مجلدات)
۲۔سنن نسائی، تحقیق و اشراف صالح عبد العزیز ال شیخ ،دار السلام ،ریاض (مجلد ضخیم)
۳۔سنن نسائی، تحقیق بیت الا فکار الدولیہ ،ریاض(مجلد ضخیم )
۴۔ سنن نسائی باحکام الالبانی،تحقیق مشہور بن حسن ال سلیمان،مکتبہ المعارف ،ریاض (مجلد ضخیم)
۵۔ سنن نسائی ،طبع دار التاصیل ،قاہرہ (۹مجلدات)
موخر الذکر محقق ترین اشاعت ہے، دار التاصیل کا یہ نسخہ سنن نسائی کے آٹھ مخطوطات کو سامنے رکھ کر تیارکیاگیا ہے۔ دار التاصیل کے محققین کی ایک ٹیم نے یہ تحقیق کی ہے۔
۵۔ امام نسائی کی فقہی آرا ء اور ترجیحات پر حمید سید حسن علی نے الاتجاہ الفقھی للامام النسائی من خلال سننہ فی ضوء المذاھب کے نام سے ایک ضخیم مقالہ لکھا ہے جس میں تمام فقہی ابواب میں امام نسائی کی ترجیحات و مواقف پر بحث کی ہے ،یہ مقالہ دارالکلیہ قاہرہ سے چھپا ہے۔
۶۔ معروف مصنف ڈاکٹر محمد محمدی نورستانی نے امام نسائی اور سنن نسائی کے مفصل تعارف پر مشتمل المدخل الی سنن الامام النسائی کے نام سے ایک ضخیم کتاب لکھی ہے ،یہ کتاب مکتب الشون الفنیہ کویت سے چھپی ہے۔
سنن نسائی پر اہم دراسات و تحقیقات کی فہرست پیش خدمت ہے :
۱۔ الاحادیث التی اعلھا النسائی بالاختلاف علی الرواۃ فی کتابہ المجتبی جمعا و دراسۃ، عمر ایمان ابو بکر ،جامعہ الامام محمد بن سعود
۲۔ الا مام النسائی ومنھجہ فی السنن، الہادی روشو،جامعہ الزیتونیہ
۳۔ تقریب النائی من مراسیل النسائی، ابو عبد اللہ سیدکسروی حسن ،دار الکتب العلمیہ ،بیروت
۴۔ حاشیۃ علیٰ سنن النسائی، محمد بن عبد اللہ تھانوی
۵۔ زوائد الامام النسائی علی الکتب الاربعۃ: البخاری، مسلم، ابوداود، الترمذی، جمعا ودراسۃ، جامعہ القاہرہ (مجلدین)
۶۔ سنن الامام النسائی فی الدراسات المغربیہ :روایۃ و درایۃ، مریم بربور ،جامعہ محمد الخامس، الرباط
۷۔ شروق انوار المنن الکبری الالھیۃ بکشف اسرار السنن الصغری النسائیۃ، محمد المختار الشنقیطی، مطبعہ المدنی ،قاہرہ (۳ مجلدات)
۸۔ مختصر سنن النسائی ،مصطفی دیب البغا،الیمامہ للطباعہ و النشر،دمشق
۹۔ بذل الاحسان بتقریب سنن النسائی ابی عبد الرحمن، ابو اسحاق الحوینی الاثری،حجازی بن محمد ،مکتبہ التربیہ الاسلامیہ، قاہرہ (مجلدین )
۱۰۔ التعلیقات السلفیۃ علی سنن النسائی، عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ،مکتبہ سلفیہ ،لاہور (۵مجلدات)
۱۱۔ الرجال الذین تکلم فیھم النسائی بجرح او تعدیل، ڈاکٹر قاسم علی سعد ،جامعہ الامام محمد بن سعود (۵ مجلدات)
۱۲۔ الامام النسائی و کتابہ المجتبی، الدکتور عمر ایمان ابی بکر ،مکتبہ المعارف ،ریاض
۱۳۔ الرواۃ الذین ترجم لھم النسائی فی کتابہ الضعفاء والمتروکین واخرج لھم فی سننہ، الدکتور عواد الخلف،جامعہ الشارقہ
۱۴۔ التعریف بالامام النسائی والصناعۃ الحدیثیۃ فی کتابہ السنن، سعد بن ضیدان السبیعی، موقع صید الفوائد
۱۵۔ الکمتفی بحل المجتبی، احمد حسین بن داود پٹنی مظاہری ،مکتبہ الحرم ،گجرات (مجلد ضخیم )
۱۶۔ الامام النسائی ومنھجہ فی السنن، ثابت حسین مظلوم الخزرجی،جامعہ بغداد
۶۔سنن ابن ماجہ
۱۔ سنن ابن ماجہ کی مفصل شرح سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے معروف اہل حدیث عالم شیخ محمد علی جانباز رحمہ اللہ نے لکھی ہے،یہ شرح انجاز الحاجۃ شرح سنن ابن ماجہ کے نام سے دار النوادر بیروت سے نو جلدوں میں چھپی ہے۔
۲۔سنن ابن ماجہ کی ایک اور اہم شرح مراکش کے معروف عالم عبد الحفیظ کنون نے لکھی ہے،یہ شرح اتحاف ذوی التوشف والحاجہ الی قراء سنن ابن ماجہ کے نام سے موسوم ہے، وزارۃ الاوقاف المغربیہ مراکش سے بارہ جلدوں میں چھپی ہے۔
۳۔ سنن ابن ماجہ کی ایک متوسط و جامع شرح معروف محدث شیخ صفا عدوی نے لکھی ہے،یہ شرح دار الیقین بحرین سے اھداء الدیباج بشرح سنن ابن ماجہ کے نام سے پانچ جلدوں میں چھپی ہے۔
۴۔ سنن ابن ماجہ اور امام بن ماجہ کا مفصل تعارف معروف محدث علامہ عبد الرشید نعمانی صاحب نے اپنی کتاب ما تمس الیہ الحاجۃ لمن یطالع سنن ابن ماجہ کے نام سے لکھا ہے ،یہ ضخیم کتاب معروف محقق عبد الفتاح ابوغدہ کی تحقیق کے ساتھ الامام ابن ماجہ وکتابہ السنن کے نام سے مکتب المطبوعات الاسلامیہ حلب سے چھپی ہے۔یہ کتاب حدیث کی تاریخ و تدوین اور دیگر حدیثی مباحث کا عمدہ خزانہ ہے۔
۵۔ سنن ابن ماجہ کی درجہ ذیل طبعات اہم سمجھی جاتی ہیں :
۱۔سنن ابن ماجہ ،تحقیق بشار اعواد معروف ،دار الجیل ،بیروت (۵مجلدات)
۲۔سنن ابن ماجہ ،تحقیق شعیب الارناوط و رفقا ء ہ،الرسالہ العالمیہ ،بیروت(۵مجلدات)
۳۔سنن ابن ماجہ،تحقیق عصام موسی ہادی ، موسسہ الریان ،بیروت (مجلد ضخیم)
اس اشاعت میں سات مخطوطات کو سامنے رکھ کر تحقیق کی گئی ہے۔
۴۔سنن ابن ماجہ ،تحقیق فواد عبد الباقی ،دار احیا ء الکتب العربیہ ،قاہرہ (مجلدین )
یہ اشاعت عمومی طور پر متداول ہے۔
۵۔سنن ابن ماجہ ،تحقیق محمد مصطفی الاعظمی ،شکر الطباعہ السعودیہ ،ریاض (۴مجلدات)
۶۔سنن ابن ماجہ مع احکام الالبانی ،تحقیق مشہور بن حسن ال سلیمان ،مکتبہ المعارف ریاض (مجلد ضخیم )
۷۔سنن ابن ماجہ ،تحقیق بیت الافکار الدولیہ ،ریاض
۸۔سنن ابن ماجہ ،تحقیق شیخ خلیل مامون شیحا ،دار المعرفہ بیروت
۹۔سنن ابن ماجہ ،دار التاصیل ،قاہرہ (۴مجلدات)
موخر الذکر اشاعت دار التاصیل کے بیس محققین کی تحقیق و کاوش ہے ،شروع میں تقریباً دو سو صفحات کا مفصل مقدمہ ہے جس میں ابن ماجہ کے مخطوطات ، سابقہ طبعات میں اغلاط و اخطاء اور دیگر متعلقہ مباحث تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔
۶۔شیخ البانی نے سنن ابن ماجہ کی احادیث کو بھی فرداً فرداً تحقیق کی بھٹی سے گزارا اور صحیح سنن ابن ماجہ و ضعیف سنن ابن ماجہ دو نسخے تیار کئے ،صحیح سنن ابن ماجہ المکتب الاسلامی بیروت سے دو جلدوں اور ضعیف سنن ابن ماجہ اسی مکتبہ سے ایک جلد میں شائع ہوئی ہے۔
۷۔نور الدین بن عبد السلام مسعی نے امام ابن ماجہ اور سنن ابن ماجہ کا جامع تعارف المدخل الی سنن الامام ابن ماجہ کے نام سے لکھا ہے جس میں سنن ابن ماجہ سے متعلق اہم مباحث کو اختصار و جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے، ڈیڑ ھ سو صفحات کی یہ کتاب مکتب الشوون الفنیہ کویت سے شائع ہوئی ہے۔
سنن ابن ماجہ پر اہم دراسات و تحقیقات کی فہرست پیش خدمت ہے :
۱۔ اتمام الحاجۃ الی سنن ابن ماجہ، عبد اللہ الصالح ،دار المنار ،السعودیہ
۲۔ الامام ابن ماجہ وکتابہ المسند، دراسہ و تقویم ،محمد فقیر التمسمانی،جامعہ محمد الخامس رباط
۳۔ مختصر سنن ابن ماجہ، مصطفی دیب البغا ،الیمامہ للطباعہ والنشر،بیروت
۴۔ مسائل العقیدۃ فی سنن ابن ماجہ، طارق بن عبد الرحمان الحواس،جامعہ الامام محمد بن سعود (۳مجلدات)
۵۔ نور مصباح الزجاجۃ علی سنن ابن ماجہ، علی سلیمان المغربی ،مطبعہ الوہبی (مجلد ضخیم )
۶۔ الکواکب الوھاجۃ شرح سنن ابن ماجہ، محمد المنتقی الکشناوی ،دار العربیہ ،بیروت(مجلدین)
۷۔ مشارق الانوار الوھاجۃ ومطالع الاسرار البھاجۃ فی شرح سنن ابن ماجہ، محمد بن علی الاثیوبی، دار المغنی (۴مجلدات)
۸۔ احادیث العقیدۃ فی شرح سنن ابن ماجہ ،شرح و دراسۃ، شیخ صفا عدوی ،
۹۔ انجاح الحاجۃ شرح سنن ابن ماجہ، شیخ عبد الغنی مجددی ،مطبع حسین محمد ،دہلی
۱۰۔ مفتاح الحاجۃ بشرح سنن ابن ماجہ، محمد بن عبد اللہ العلوی ،اصح المطابع ،لکھنو
۱۱۔ المتروکون الذین لھم انفرد بھم ابن ماجہ، عبد اللہ مراد علی، جامعہ ام القری
۱۲۔ ابن ماجہ و سننہ، فواد عبد الباقی
۱۳۔ منھج الامام ابن ماجہ، حمادہ الرقی ،دار اطلس الخضرا ،ریاض
۱۴۔ التعلیق علی سنن ابن ماجہ، شیخ عبد العزیز الطریفی
۱۵۔ آراء الامام ابن ماجہ الاصولیۃ من خلال تراجم ابواب سننہ، الدکتور سعد بن ناصر الشسری
۷۔موطا امام مالک
موطا امام مالک اگرچہ جمہور کے نزدیک صحاح ستہ میں شامل نہیں ہے ،لیکن حدیث کی اولین تصنیفات میں شامل ہونے کی وجہ سے ہر دور میں محققین کی توجہ کا مرکز رہا ہے ۔ موطا امام مالک پر دور جدید میں حسب ذیل کام قابل ذکر ہیں:
۱۔موطا امام ملک کی مفصل شرح شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ نے اوجز المسالک کے نام سے لکھی ہے،اس کے شروع میں ایک طویل مقدمہ بھی شامل ہے ،جس میں امام مالک اور موطا کے تعارف پر عمدہ مواد موجود ہے ،یہ ضخیم شرح تقی الدین ندوی کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ دار القلم دمشق سے اٹھارہ جلدوں میں چھپی ہے ،موطا امام مالک پر کسی بھی حنفی کی یہ سب سے پہلی مفصل شرح ہے۔
۲۔ مراکش کے معروف عالم ڈاکٹر عز الدین معیار نے موطا کے متداول نسخے روایت یحییٰ مصمودی میں موجود اخطاء اوہام کا ایک جائزہ لیا ہے ،یہ ضخیم کتاب المطبعہ و الوراقہ مراکش سے اوھام واخطاء منسوبہ الی یحیی بن یحیی اللیثی فی روایتہ للموطا کے نام سے چھپی ہے۔
۳۔ شیخ البانی کے شاگرد اور معروف سلفی عالم سلیم بن عید الہلالی نے موطا کی آٹھ معروف روایات (یحییٰ اللیثی، القعنبی، الزہری، الحدثانی، ابن بکیر، ابن القاسم، ابن زیاد، محمد ابن الحسن الشیبانی )کو جمع کیا اور تحقیق، تخریج اور ان روایات میں اختلافات کی نشاندہی کی ،یہ قابل قدر کام الموطا برویاتہ الثمانیۃ، بزیاداتھا و زوائدھا و اختلاف الفاظھا کے نام سے مکتبہ الفرقان التجاریہ سے چار ضخیم جلدوں میں چھپا ہے۔
۴۔معروف مالکی فقیہ و مفسر شیخ طاہر بن عاشور نے موطا پر ایک مختصر لیکن مفید شرح لکھی ہے ،جس میں احادیث کی توضیح کے ساتھ الفاظ حدیث اور موطا کی روایات میں اختلافات کی نشاندہی کی ہے ،یہ جامع کام دار سحنون تیونس سے کشف المغطا من المعانی و الالفاظ الواقعۃ فی الموطا کے نام سے ایک ضخیم جلد میں چھپا ہے۔
۵۔ڈاکٹر طاہر الازہری نے موطا کے مفصل تعارف ، رواۃ،نسخ ،شروح اور دیگر متعلقہ مباحث پر ایک مفید کتاب لکھی ہے ،یہ کتاب المدخل الی موطا مالک بن انس کے نام سے مکتب الشوون الفنیہ کویت سے چھپی ہے۔
۶۔معروف مالکی عالم سید محمد علوی مالکی نے موطا پر قابل قدر کام کیا ہے ،محقق مذکور نے موطا پر درجہ ذیل کتب لکھی ہیں:
(۱) دراسات حول الموطا
(۲) انوار السالک الی روایات موطا امام مالک، دار الکتب العلمیہ ،بیروت
(۳) فضل الموطا و عنایۃ الامۃ الاسلامیہ بہ، مطبعۃ السعادۃ، قاہرہ
(۴) شبھات حول الموطا و ردھا
۷۔حسان عبد المنان نے موطا کی تیئیس روایات کو یکجا کر کے ان میں اختلافات و زوائد کی نشاندہی کی ہے ،یہ کتاب الموطا للاما م مالک بن انس تحقیق حسان عبد المنان کے نام سے بیت الافکار الدولیہ ریاض سے ایک ضخیم جلد میں چھپی ہے۔
۸۔ موطا کی درجہ ذیل طبعات تحقیق کے اعتبار سے اہم سمجھی جاتی ہیں:
(۱) الموطا (روایۃ اللیثی )تحقیق مصطفی اعظمی ،موسسہ زاید بن سلطان ،ابو ظہبی (۸ مجلدات)
(۲) الموطا(روایۃ اللیثی) تحقیق فواد عبد الباقی ،دار احیا التراث العربی ،بیروت (مجلدین)
(۳) الموطا (روایۃ ابی مصعب الزہری )تحقیق بشار عواد معروف و محمود خلیل،موسسہ الرسالہ ،بیروت(مجلدین )
(۴) الموطا (روایۃ اللیثی ) تحقیق بشار عواد معروف ،دار الغرب الاسلامی ،تیونس (مجلدین)
(۵) الموطا (روایۃ الشیبانی ) تحقیق تقی الدین ندوی ،دار القلم (۳ مجلدات)
(۶) الموطا (روایۃ القعنبی ) تحقیق عبد المجید ترکی ،دار الغرب الاسلامی ،تیونس (مجلد ضخیم)
(۷) الموطا (روایۃ ابن القاسم )تحقیق سید علوی المالکی ، المجمع الثقافی ،ابوظہبی
(۸) الموطا (روایۃ اللیثی و زیادات الزہری و الشیبانی )تحقیق کلال حسن علی ،موسسہ الرسالہ ،بیروت(مجلد ضخیم)
(۹) الموطا (روایۃ عبد اللہ بن وہب )تحقیق ،ہشام اسماعیل الصینی ،دار ابن جوزی ،دمام
(۱۰) الموطا (روایۃ اللیثی )تحقیق لجنۃ المحققین (دس محققین ) ،المجلسی العلمی الاعلی ،مراکش (مجلدین )
(۱۱) الموطا (روایۃ محمد بن الحسن الشیبانی )تحقیق ،عبد الوہاب عبد اللطیف ،وزارۃ الاوقاف ،قاہرہ
۹۔ موطا امام مالک اور مسند احمد بن حنبل کی صحاح ستہ پر زوائد کو صالح احمد شامی نے جمع کیا ہے ،یہ تحقیق زوائد الموطا والمسند علی الکتب الستۃ کے نام سے دار کنوز اشبیلیا سے تین جلدوں میں چھپی ہے۔
۱۰۔ احمد عبد اللہ فرہود نے موطا کے مشکل الفاظ کی لغوی تحقیق پر ایک مفید معجم تیار کیا ہے ،یہ معجم المضی فی شرح الموطا کے نام سے دار القلم حلب سے دو جلدوں میں چھپا ہے۔
۱۱۔ نذر حمدان نے موطا کے تعارف ،روایات ،نسخ ،منہج ،خصوصیات و دیگر متعلقہ مباحث پر ایک ضخیم کتاب لکھی ہے، یہ کتاب الموطآت للام مالک کے نام سے دار القلم دمشق سے چھپی ہے۔
موطا پر اہم تحقیقات و دراسات کی فہرست پیش خدمت ہے :
۱۔ اسالیب الانشاء والدلالۃ البلاغیۃ فی احادیث الموطا للامام مالک، محمد براہیم طیاش ، الجامعۃ الاسلامیہ ،مدینہ منورہ
۲۔ اسالیب الطلب فی الحدیث النبوی الشریف،دراسۃ لغویۃ بیانیۃ فی الموطا، محمد سعید عبد اللہ ،دار الثقافہ ،قاہرہ
۳۔ اسانید الحدیث النبوی فی ضوء نظم المعلومات المعاصرۃ،دراسۃ تطبیقیۃ بالحاسب الآلی علی موطا الامام مالک، کمال الدین عبد الغنی المرسی ،دار المعرفہ الجامعیہ ،قاہرہ (مجلدین)
۴۔ اضاء ۃ الحالک من الفاظ دلیل السالک الی موطا الامام مالک، محمد حبیب اللہ الشنقیطی، دار البشائر الا سلامیہ، بیروت
۵۔ اقرب المسالک الی موطا الامام مالک، محمد تہامی کنون ،وزارۃ الاوقاف،رباط
۶۔ قراآت فی مجتمع المدینہ المنورہ من خلال الموطا، محمد طاہر رزقی ،مکتبہ الرشد ،ریاض
۷۔ الموطا فی الدراسات المغربیۃ، روایۃ ودرایۃ، الحسن الہمساس الیوبی ،جامعہ محمد الخامس، رباط
۸۔ الموطا قیمتہ العلمیہ وروایاتہ، محمد حسن بن علوی المالکی
۹۔ یحییٰ بن یحییٰ اللیثی وروایتہ الموطا، محمد شرحبیلی ،دار الحدیث الحسنیہ ،رباط
۱۰۔ مقدمہ موطا الامام مالک، محمدعلی السنوسی الادریسی ،مطبعہ حجازی ،قاہرہ
۱۱۔ موسوعۃ شروح الموطا، تحقیق عبد اللہ الترکی ،دار ہجر
۱۲۔ الا مام مالک وعملہ بالحدیث من خلال کتابہ الموطا، محمد یحییٰ مبروک،دار ابن حزم
۱۳۔ زوائد الموطا علی الصحیحین، عبد السلام محمد العامر، دار الصمیعی
۱۴۔ صحیح و ضعیف الموطا، سلیم الہلالی ،دار ابن حزم (مجلدین)
۸۔دیگر کتب حدیث پر ہونے والا کام
صحاح ستہ و موطا کی بہ نسبت دیگر کتب حدیث پر ہونے والا کام کم ہے،اگرچہ متون حدیث میں سے تقریباً ہر ایک پر کام ہوا ہے ،ذیل میں دیگر متون حدیث پر ہونے والے کام کا ایک تعارفی جائزہ پیش کیا جاتا ہے :
۱۔مسند امام احمد بن حنبل پر معاصر سطح کا سب سے بڑا کام مسند کی جوامع و سنن کے مطابق تبویب ہے ،اس سلسلے میں سب سے پہلا کام احمد عبد الرحمان الساعاتی نے کیا،الساعاتی نے الفتح الربانی لترتیب مسند الامام احمد بن حنبل الشیبانی کے نام سے مسند کی جملہ احادیث کو ابواب کی ترتیب سے جمع کیا ،یہ قابل قدر تحقیق دار الشہاب قاہرہ سے بارہ ضخیم جلدوں میں چھپی ہے۔
۲۔ الساعاتی کے کام کو مزید منقح و مرتب انداز میں سعودی عرب کے معروف عالم عبد اللہ بن ابراہیم القرعاوی نے پیش کیا ،القرعاوی نے الفتح الربانی کی تہذیب و تنقیح کی،مکرر احادیث کو یکجا کیا ،ابواب و فصول کا اضافہ کیا ،یہ کام المحصل لمسند الامام احمد بن حنبل کے نام سے دار العاصمہ ریاض سے پچیس جلدوں میں چھپا ہے۔
۳۔ مسند احمد کی متعدد محقق طبعات منظر عام پر آئی ہیں ،جن میں درجہ ذیل قابل ذکر ہیں :
۱۔المسند ،تحقیق احمد محمد شاکر ،حمزہ احمد زین ،دار الحدیث قاہرہ (۲۰ مجلدات)
۲۔ المسند ،تحقیق شعیب الارناوط ،عادل مرشد،موسسہ الرسالہ ،بیروت (۵۰ مجلدات)
یہ تحقیق کے اعتبار سے سب سے اہم اشاعت ہے۔
۳۔المسند ،تحقیق محمد عبد القادر عطا ،دار الکتب العلمیہ ،بیروت (۱۲ مجلدات)
۴۔المسند ،تحقیق لجنۃ المحققین ،عالم الکتب ،بیروت (۸ مجلدات)
۵۔المسند ،تحقیق جمعیۃ المکنز الاسلامی باشراف الدکتور احمد معبد عبد الکریم، دار منہاج، جدہ (۱۵ مجلدات)
کتاب کی لجنۃ تحقیق کے بقول اس کی تحقیق میں سولہ سال لگے اور تینتیس مخطوطات کی مدد سے یہ نسخہ تیار کیا گیا۔یہ مسند احمد کی تازہ ترین طباعت ہے، ۲۰۱۱ میں دار منہاج جدہ سے چھپی ہے۔
۴۔ مسند احمد پر دور جدید کی ایک اہم کاوش بارہویں صدی ہجری کے معروف عالم ابو الحسن محمد بن عبد الہادی السندی کی لکھی ہوئی شرح کی اشاعت ہے ،یہ شرح شیخ نور الدین طالب کی تحقیق کے ساتھ دار النوادر سے سترہ جلدوں میں چھپی ہے۔
۵۔مسند احمد پر ایم فل و پی ایچ ڈی مقالات کی شکل میں عمدہ تحقیقات و دراسات ہوئی ہیں،جن میں مختلف موضوعات کی احادیث کی جمع و ترتیب ،معروف صحابہ کے مسانید کی تحقیق و توضیح وغیرہ شامل ہیں،ان مقالات کی فہرست کے لئے المعجم المصنف لمولفات الحدیث الشریف اور دلیل المولفات الحدیث المطبوعۃ کی طرف رجوع کیا جائے۔
۶۔محمد ضیاء الرحمن الاعظمی نے امام بیہقی کی السنن الصغری پر ایک تفصیلی شرح لکھی ہے ،یہ شرح المنۃ الکبری شرح و تخریج السنن الصغری کے نام سے مکتبۃ الرشد ریاض سے نو جلدوں میں چھپی ہے۔
۷۔مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ نے شرح معانی الاثار پر ایک مفصل شرح لکھی ہے ،اس شرح کی صرف چار جلدیں امانی الاحبار شرح معانی الآثار کے نام سے مکتبہ یحیویہ سہارنپور سے چھپی ہیں ،جبکہ باقی مخطوط کی شکل میں ہے۔ اس کے شروع میں ایک مفصل مقدمہ بھی شامل ہے ، جس میں امام طحاوی اور شرح معانی الاثار سے متعلق عمدہ مباحث ہیں۔
۸۔مسند دارمی کی تحقیق ،تشریح ،فہارس ،رجال کی تحقیق اور دیگر مباحث پر نبیل بن ہاشم الغمری نے قابل قدر تحقیق کی ہے ،مصنف نے سنن دارمی پر دو قابل قدر کتب لکھی ہیں ،ایک فتح المنان کے نام سے ،جس میں سنن دارمی کی شر ح وتوضیح ہے ،یہ کتاب دار البشائر الاسلامیہ بیروت سے دس جلدوں میں چھپی ہے ، دوسری اتمام الاھتمام بمسند ابی محمد بن بھرام الدارمی کے نام سے ہے،جس میں سنن دارمی کے اطراف ،رجال اور دیگر مباحث شامل ہیں ،یہ دار قرطبہ بیروت سے ایک ضخیم جلد میں چھپی ہے۔
۹۔مشکوۃ المصابیح پر شیخ الحدیث مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ نے التعلیق الصبیح علی مشکوۃ المصابیح کے نام سے عمدہ شرح لکھی ہے ،یہ شرح دار احیاء التراث العربی بیروت سے سات جلدوں میں چھپی ہے۔ دوسری مفصل شرح مولانا عبید اللہ بن محمد مبارکپوری نے مرعاۃ المفاتیح کے نام سے لکھی ہے، یہ شرح مکتبہ السلفیہ بنارس سے نو جلدوں میں چھپی ہے۔
۱۰۔ عالم عرب میں خاص طور پر ریاض الصالحین، اربعین نووی، عمدۃ الاحکام اور بلوغ المرام پر قابل قدر شروحات لکھی گئی ہیں۔ان کتب کی احادیث چونکہ زیادہ تر صحاح ستہ سے ماخو ذ ہیں، اس لئے ان کی شروحات کی الگ تفصیل درج کرنے کی ضرورت نہیں۔ نیز یہ کتب اصلی متون حدیث میں شمار نہیں ہوتیں،زیر نظر مضمون میں شروحات حدیث کے سلسلے میں زیاد ہ تر اساسی متونِ حدیث کی شروحات و دراسات ذکر کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
(جاری ہے)
ترکی کی وزارت برائے مذہبی امور اور دینی وقف کا موضوعاتی حدیث منصوبہ: مختصر تعارف
انعام الحق
اس تحریر میں صرف منصوبے اور کتاب کے تعار ف پر اکتفا کیا گیا ہے، تفصیلی نقد وتبصرہ ان شاء اللہ مستقبل میں پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس تعارف کے لیے تین مصادر سے استفادہ کیا گیا ہے:
۱) HIKEM ڈیٹا بیس کی ویب سائٹ: http://www.hikem.net/index.html
۲) مطبوعہ کتاب اور
۳) اس کی ویب سائٹ : http://hadislerleislam.diyanet.gov.tr
ترکی وزارت مذہبی امور ، اور دینی اوقاف کی جانب سے ۲۰۰۶ میں موضوعاتی حدیث منصوبے پر کام شروع کیا گیا، اور اس کی تکمیل ۲۰۱۳ء میں ہوئی۔ اس منصوبے کی مختصر روداد و تعارف قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔
شرح حدیث کے باب میں اپنی نوعیت کا یہ منفرد منصوبہ جس کو "موضوعاتی حدیث منصوبہ" نام دیا گیا، دراصل گیارہ سال قبل، ترکی حدیث کمیٹی کے پانچویں اجلاس منعقدہ ۲۲، ۲۳ جولائی ۲۰۰۶ میں پیش کی گئی ایک رائے کی عملی شکل ہے جس میں ترکی جامعات میں علوم حدیث سے منسلک پچاسی(85) اساتذہ کرام نے حصہ لیا، اور اس کی تکمیل میں چھ سال کا عرصہ صرف ہوا، جس کے نتیجے میں ترکی زبان میں ایک منفرد نوعیت کی کتاب " اسلام: احادیث کی روشنی میں/ شرح احادیث بذریعہ احادیث" سات جلدوں کی صورت میں ۲۰۱۳ میں قارئین کی خدمت میں پیش کی گئی۔
منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں مواد کی دستیابی کے لیے HIKEM کے نام سے ایک ویب سائٹ بھی بنائی گئی، یہ ویب سائٹ اب بھی کام کر رہی ہے۔ اس ویب سائٹ پر مکمل قرآن کریم ، صحیحین، موطا مالک، سنن اربعہ، سنن دارمی، مسند احمد بن حنبل، مصنف عبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند طیالسی، السنن الکبیر للبیہقی ، شمائل ترمذی،الادب المفرد، المعجم الکبیر للطبرانی، سنن الدارقطنی، مستدرک حاکم، معرفۃ السنن والاثار للبیہقی، انیس کتب حدیث کے مکمل متون کو جمع کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ مزید ۲۳۰ کتب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے جن میں تفاسیر، کتب حدیث، سیر اور مغازی کی کتب شامل ہیں۔ ۲۰۱۲ کے اعداد وشمار کے مطابق ویب سائٹ پر موجود ان متون کی تعداد دو لاکھ پانچ ہزار ہے، جن کو چار ہزار پانچ سو عناوین کے تحت جمع کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ویب سائٹ پر شرکا کا مختصر تعارف، مفید ڈاونلوڈز اور علوم الحدیث سے متعلق بعض کارآمد ویب سائٹوں کے لنک بھی موجود ہیں۔
منصوبے کا دوسرا اور مرکزی مرحلہ" اسلام : احادیث کی روشنی میں/ شرح احادیث بذریعہ احادیث" کے نام سے ایک عوامی نصاب کی تشکیل و طباعت تھی، جس کے مواد کی دستیابی کے لیے مذکورہ بالا ڈیٹا بیس تیار کیا گیا۔ کتاب میں مذکورہ بالا چار ہزار پانچ سو عناوین میں سے تین سو باون (352)مناسب ترین عناوین کو شامل کیا گیا ہے اور اس میں کتب احادیث کے عناوین کی پیروی کی گئی ہے۔ کتاب کی ترتیب کچھ یوں ہے:
استدعا، اکیڈمک کمیٹی ، اصطلاحات اور مخففات، پیش لفظ ،مقدمہ اور تمہید۔
اس کے بعد یہ آٹھ باب ہیں :۱۔ اللہ ، عالم،انسان اور دین ۲۔ علم ۳۔ ایمان ۴۔ عبادات ۵۔ اخلاق ۶۔ اجتماعی زندگی ۷۔ تاریخ اور تہذیب ۸۔ آخرت۔
اکیڈمک کمیٹی کے عنوان کے تحت ان تمام افراد کا مختصر تعارف ہے جن کا کتاب میں تحریری حصہ موجود ہے۔ کتاب کے پuS لفظ میں : کتاب کا مختصر تعارف، اس کی تصنیف کے ادوار کا جامع بیان ، اورموضوعات کے انتخاب وغیرہ کے حوالے سے کافی معلومات درج کی گئی ہیں۔ خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ترکی میں نشر ہونے والی شروحات حدیث میں سے کوئی بھی ایسی شرح نہیں ہے جو : مسجد میں جماعت اور گھر میں گھر والوں کے لیے ایک نصاب کی حیثیت سے پیش کی جا سکے۔ ترکی زبان میں احادیث کے مرتب کردہ مجموعہ جات میں ضعیف حتی موضوع روایات کا انبار جمع کیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جو مبارک تعلیمات اس امت کے لیے ہیں، ان کو اپنے معاشرے کی زبان میں خوبصورت اور سہل انداز میں بیان کیا جائے جس کا بیڑا اس منصوبے کی شکل میں اٹھایا گیا ہے۔
کتاب کے شروع میں سو سے زائد صفحات پر مشتمل ایک مقدمہ ہے جس میں اصطلاحات (نبوت، سنت، حدیث، وغیرہ )، تاریخ حدیث، حدیث و سنت کی تفہیم کے بنیادی اصول، فہم حدیث و سنت، اور موضوعاتی حدیث منصوبے کے بارے میں معلومات درج کی گئی ہیں۔ پہلے یونٹ سے قبل مختصر تمہید ہے جس میں استعاذہ، بسم اللہ، الحمد للہ، اور صلوۃ علی النبی کی فہم کے حوالے سے عمدہ تحریریں شامل کی گئی ہیں۔
ہر موضوع کی داخلی ترتیب کچھ یوں ہے: شروع میں موضوع کے حوالے سے ایک عمومی نوعیت کی حدیث مع ترجمہ لائی جاتی ہے جس کو سر لوح حدیث کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے بعد موضوع کے مختلف پہلووں کو شامل اوسطاً پانچ احادیث اور پھر ان کا ترجمہ ذکر کیا جاتا ہے۔ موضوع کے اس حصہ میں درج احادیث کی صحت اور جامعیت ہر دو کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس حصہ میں احادیث کی ان انیس کتب سے استفادہ کیا جاتا ہے جن کا تذکرہ اوپر کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد رواں متن کی صورت میں قرآن، حدیث، سیر کے حوالہ جات سے متعلقہ موضوع کی تشریح و تبیین ہوتی ہے۔ ہر موضوع کی تشریح کا آغاز قاری کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک مناسب واقعے سے ہوتا ہے۔ یہ واقعہ احادیث میں ذکر کردہ تفصیل، موقعہ محل، اور سبب ورود سے ماخوذ ہوتا ہے۔
تشریح پر مبنی یہ رواں متن اوسطاً تیس حوالہ جات کا ماحصل ہوتا ہے۔ متن کے الفاظ کی ایک حد: دو ہزار الفاظ سے ساڑھے تین ہزار الفاظ ہونے کے باعث طویل اقتباسات کو نقل کرنے کے بجائے ان کا خلاصہ اور مغز ذکر کیا جاتا ہے، تاکہ متن کی روانی برقرار رہے، اور طوالت بھی پیدا نہ ہو۔ ایسے میں صرف حوالہ دینے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔البتہ اس کتاب کی مطبوعہ صورت کے لیے مرتب کی گئی ویب سائٹ پر ہر حوالہ نمبر کے ساتھ لنک پر ماوس لے کر جانے سے متعلقہ اقتباس مع حوالہ سکرین پر ظاہر ہوجاتا ہے، جس سے استفادہ مزید سہل ، اور حوالے تک رسائی آسان ہوجاتی ہے۔
احادیث و موضوع کی تشریح کے لیے مذکورہ بالا کتب حدیث کے علاوہ جن کتب حدیث سے استفادہ کیا گیا ہے، وہ یہ ہیں : شعب الایمان للبیہقی، مسند الحمیدی، معجم الاوسط، معجم الصغیر للطبرانی، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، مسند ابی یعلی۔
کتاب میں قرآن ، اور احادیث کے کل حوالہ جات کی تعداد پچیس ہزار ایک سو سینتالیس ہے جبکہ مکررات نکالی جائیں تو تعداد نو ہزار سات سو بیاسی بنتی ہے۔تفسیر کی سترہ کتب سے ڈیڑھ سو، شروحات حدیث کی پچیس کتب سے دوسو ستائیس، اور تاریخ و سیر کی ۴۰ کتب سے آٹھ سو اڑسٹھ حوالہ جات سے استفادہ کیا گیا ہے۔
کتاب کی تحریر میں جن بنیادی اصولوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں: متن کتاب میں قرآن، سنت اور سیرت تینوں میں یکسانیت اور ہم آہنگی کی عکاسی، قرآن و سنت کی باہمی تکمیل، سنت کی داخلی باہمی تکمیل، احادیث کا ربط و ماحول، سبب ورود تک حتی الامکان رسائی، اور اسی روشنی میں تشکیل حدیث کے مراحل کا بیان، متون کی باہمی تکمیل کی کوشش، موجودہ زمانے کی زبا ن و ضروریات، مزاج اور حساسیت کو پیش نظر رکھنا، قرن اول کو موجودہ دور کی نظر سے دیکھنے سے اجتناب البتہ علوم جدیدہ سے استفادہ، لغوی مباحث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے استفادہ کرنے کی کوشش وغیرہ۔
چونکہ یہ ایک عوامی نصاب ہے اس وجہ سے تفسیر کے خالص علمی مباحث، حدیث کے رواۃ اور سند اور ان سے متعلقہ مباحث سے گفتگو نہیں کی گئی۔ فقہی احادیث کی تشریح میں فقہی مسائل سے بحث کرنے کے بجائے ان سے ماخوذ حکمتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ان تمام پہلووں کو دیکھ کر یہ رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ یہ ایک فکری اور تربیتی نصاب ہے۔
ابواب کے عناوین کے ساتھ ہی علیحدہ سے تشریحی نام بھی دیے گئے ہیں جو کافی دلچسپ ہیں جن میں چند ایک یہ ہیں:
۱۔ زمانہ : موجودات کی نبض، ۲۔ دنیا: آخرت کی کھیتی، ۳۔ سورج چاند اور تارے: آسمانوں کے چراغ
۴۔ہدایت: اسلام کا نورانی راستہ، ۵۔خواب: نیند کی دنیا، ۶۔نفس: اچھائی اور برائی کا میدان جنگ وغیرہ
مراحل: سب سے پہلے ویب سائٹ کا قیام، ویب سائٹ پر متون کی جمع و تدوین، کتاب کے لیے موضوعات کا انتخاب، تحاریر کے اصول و ضوابط کی ترتیب۔۔۔ اس کے بعد منتخب پچاسی اساتذہ کرام کو موضوعات فراہم کیے گئے جس پر انہوں نے مقالات جات تحریر کیے، جس کو اعلیٰ سطحی کمیٹی نے مواد اور اسلوب تحریر کے لیے مقرر کردہ قوانین کے مطابق پرکھا، اس کے بعد علمی چانچ کی گئی جس میں حوالہ جات کا مکمل طور پر جائزہ لیا گیا اور ان کااصل مراجع سے تقابل کیا گیا ، صحت حدیث کو متعلقہ اصولوں کی روشنی میں جانچا کیااور اس کی مطابق اصلاح کی گئی، اس کے بعد ادبی جانچ ہوئی جس میں زبان اور اسلوب تحریر کا جائزہ لیا گیا اور اصلاح کی گئی۔ اس کے بعد اعلیٰ سطحی کمیٹی نے از سر نو تحاریر کا مطالعہ کیا اور مکمل تشفی ہونے کے بعد طباعت کا کام شروع کیاگیا۔ مقالات جات اگرچہ مختلف لکھاریوں کی ہیں لیکن کتاب ایک اجتماعی تحریر کی صورت میں پیش کی گئی ہے۔ اس وقت کتاب میں کسی بھی تحریر کے ساتھ لکھاری کا نام نہیں ہے، اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کون سی تحریر کس کی ہے۔
دینی اور سماجی علوم میں اختلاف نکتہ نظر ایک بالکل عام سی بات ہے ، ایسے میں ترکی کی فکری سطح میں بھی اختلافات کا ہونا یقینی بات ہے۔ جملہ تحاریر کو ایک اجتماعی تحریر قرار دینے کی وجہ سے جہاں ایک طرف اچھائیاں سب کی سانجھی قرار پاتی ہیں، وہیں خامیاں بھی سانجھی بن جاتی ہیں، ایسے میں سب مصنفین اس قول، عقیدے اورفکر کے ذمہ دار قرار پاتے ہیں جن میں سے کسی ایک یا زیادہ کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں ہوتا، حتی وہ مصنف کی سوچ کے بالکل مخالف ہوتی ہے۔
اگرچہ کتاب ایک عام شہری کے ذہنی معیار کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے، لیکن اس کے اسلوب تحریر کی شستگی، انتخاب حدیث کی نزاکت، اور موضوعات سے وابستہ حکمتیں اور دروس اتنے اعلیٰ ہیں جن سے اہل علم اور داعیان اسلام کے لیے اس کتاب کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے۔ اس اعتبار سے یوں کہاں جاسکتا ہے کہ یہ کتاب اسلام کا جامع تعارف، ایک بے نظیر عوامی نصاب اور انمول علمی تحفہ ہے۔
فقاہت راوی کی شرط اور احناف کا موقف (۱)
مولانا عبید اختر رحمانی
تمہید
احناف پر مختلف قسم کے اعتراض کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک توہین صحابہ یاصحابہ کی تنقیص کا بھی اعتراض ہے اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ بعض فقہائے احناف نے حضرت ابوہرہ رضی اللہ عنہ کو فقہ میں غیر معروف یاغیرفقیہ کہاہے، اس سے انہوں نے یہ نتیجہ استخراج کرلیاکہ کسی صحابی کو غیرفقیہ کہنا ان کی توہین وتنقیص ہے؛ چونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی قدر کو بعض مستشرقین اورآزاد خیال افراد نے تنقید کا نشانہ بنایاہے، اس بناء پربعض حضرات اس طرح کا تاثرپیش کرنے لگے کہ ایسے تمام لوگ جنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پرطعن وتشنیع کیا ہے، ان کو یہ ہمت اورحوصلہ احناف سے ہی ملاہے، یاپھر احناف نے حضرت ابوہریرہ کو غیرفقیہ کہہ کر دشمنان دین کے مقصد کو پورا کیا ہے اور اس طرح پورے ذخیرہ احادیث کو مشتبہ بنادیاہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراضات کم علمی بلکہ لاعلمی اورجہالت کی پیداوار ہیں اوراحناف کے موقف کو صحیح طورپر نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ اگراحناف کے موقف کو صحیح طورپر سمجھاجاتاتوپھر یہ اعتراض نہ کیاجاتاکہ حضرت ابوہریرہ کو غیرفقیہ کہہ کر ان کی توہین کی گئی ہے یاغیرفقیہ کی روایت کو قبول نہ کرنے کی بات کہہ کر پورے ذخیرہ احادیث کو مشتبہ بنایا گیا ہے۔ چونکہ مسلکی طورپر احناف اور اورشوافع ہمیشہ مدمقابل رہے ہیں، لہٰذا بعض شوافع حضرات نے بھی احناف پر صحابہ کرام کی توہین وتنقیص کا الزام لگایا، اس کے جواب میں شیخ ابوالفضل کرمانی کہتے ہیں:
ذکر الشیخ ابو الفضل الکرمانی فی اشارات الاسرار ان بعض اصحاب الشافعی شنع علینا ونسب اصحابنا الی الطعن علی ابی ھریرۃ وامثالہ من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وکان ذلک منہ سلوکا للمعاندۃ (کشف الاسرار ۲/۳۸۳)
’’شیخ ابوالفضل الکرمانی نے اشارات الاسرار میں ذکر کیاہے کہ بعض شافعیہ نے ہم پر اس مسئلہ میں طعن وتشنیع کی اورہمارے ائمہ کو ابوہریرہ پر طعن سے اوراسی جیسی دوسری باتوں سے منسوب کیا،ان کاایساکرنا (علمی تحقیق نہیں بلکہ) بطور عناد تھا۔‘‘
بعض صحابہ کرام کے غیرفقیہ ہونے اور اس بناء پر ان کی روایات کو خلاف قیاس ہونے کی صورت میں روایت پر قیاس کو مقدم کرنے کی بات سب سے پہلے عیسیٰ بن ابان نے کہی تھی، لہٰذا ان کی ذات پر بھی مخالف صحابہ ہونے اورصحابہ کی توہین کاالزام لگایاگیا؛بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان پر بے بنیاد جھوٹے الزامات اورتہمتیں بھی لگائی گئیں ۔ امام جصاص رازی نے الفصول میں عیسیٰ بن ابان کا پرزور دفاع کیا ،چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
حکی بعض من لا یرجع الی دین ولا مروء ۃ ولا یخشی من البھت والکذب ان عیسی ابان رحمہ اللہ طعن فی ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ انہ روی عن علی بن ابی طالب کرم اللہ وجھہ انہ قال: سمعت النبی علیہ السلام یقول: انہ یخرج من امتی ثلاثون دجالا وانا اشھد ان ابا ھریرۃ منھم، وھذا کذب منہ علی عیسی رحمہ اللہ، ما قالہ عیسی ولا رواہ ولا نعلم احدا روی ذلک عن علی فی ابی ھریرۃ وانما اردنا بما ذکرنا ان نبین عن کذب ھذا القائل وبھتہ وقلۃ دینہ (الفصول فی الاصول ۳/۱۳۰)
’’بعض ایسے لوگوں نے کہ جن کے اندر نہ دینداری ہے اورنہ مروت اورنہ وہ کسی پر بہتان اورجھوٹاالزام لگانے سے بازرہتے ہیں، عیسیٰ بن ابان کے بارے میں نقل کیاہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر طعن کیاہے اوریہ روایت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے نقل کی ہے کہ’’ میں نے سناہے کہ میری امت میں تیس دجال ہوں گے اورمیں گواہی دیتاہوں کہ ان میں سے ایک ابوہریرہ ہے‘‘۔یہ حضرت عیسیٰ بن ابان پر گڑھاہواجھوٹ ہے۔ نہ عیسیٰ بن ابان نے یہ بات کہی اورنہ ایسی کوئی روایت کی ،اورنہ ہم جانتے ہی کہ کسی نے بھی اس مکذوب روایت کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نقل کیاہو ،ہماراارادہ اس کے ذکر سے صرف اتناہے کہ ہم اس جھوٹے اوردروغ گو شخص کاپول کھولیں ،اس کے بہتان کو نمایاں کریں اوربتائیں کہ وہ دین کے اعتبار سے کس کمتر حیثیت کاہے۔‘‘
حضرت امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کا موقف
حقیقت یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کا مسلک صاف سیدھا اورواضح رہاہے کہ اولاً کتاب اللہ سے استدلال کیا جائے، ثانیاً رسول پاک کے اقوال وفرمودات اوراعمال وتقریر کو دلیل بنایاجائے۔ ثالثاً اگرصحابہ کسی قول پرمتفق ہیں تواس متفق علیہ قول کو اختیار کیاجائے۔ رابعاً اگرصحابہ میں کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تواس کو لیاجائے جو زیادہ مدلل ہو۔ ہاں، اگربات تابعین جیسے مجاہد،سعید بن جبیر ،سعید بن المسیب اوردیگر کی ہوتوان کے اقوال کو امام ابوحنیفہ حجت نہیں مانتے۔اورکہتے ہیں جس طرح انہوں نے اجتہاد کیاہے اسی طرح ہمیں بھی اجتہاد کاحق حاصل ہے۔
یحیی بن الضریس یقول: شھدت الثوری واتاہ رجل فقال ما تنقم علی ابی حنیفۃ؟ قال: وما لہ؟ قال سمعتہ یقول: آخذ بکتاب اللہ، فما لم اجد فبسنۃ رسول اللہ والآثار الصحاح عنہ التی فشت فی ایدی الثقات عن الثقات، فان لم اجد فبقول اصحابہ آخذ بقول من شئت، واما اذا انتھی الامر الی ابراھیم والشعبی والحسن وعطاء فاجتھد کما اجتھدوا (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ ۱/۲۴)
’’یحییٰ بن الضریس کہتے ہیں کہ میں امام سفیان ثوری کی مجلس میں حاضر تھاکہ ایک شخص آیا،اوراس نے کہاکہ آپ کو امام ابوحنیفہ پر کیااعتراض ہے یاپھر کیوں نکتہ چینی کرتے ہیں؟ سفیان ثوری نے پوچھا،اس اعتراض کا مقصد کیا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا: میں نے ابوحنیفہ کو کہتے ہوئے سناہے کہ میں کسی مسئلہ میں اولاً کتاب اللہ سے دلیل حاصل کرتا ہوں، پھر اللہ کے رسول کی سنت اور ان آثار سے جو ثقات سے ثقات تک منتقل ہوکر ہم تک پہنچتی ہے۔ اگرکتاب اللہ اورسنت وآثاررسول میں دلیل نہ ملے تومیں صحابہ کرام میں سے کسی ایک کاقول لے لیتا ہوں۔ ہاں، جب معاملہ ابراہیم، شعبی،حسن،عطاء تک پہنچتاہے تومیں ان کا پابند نہیں رہتا بلکہ میں بھی اسی طرح اجتہاد کرتاہوں جیساان لوگوں نے کیاہے۔‘‘
اس اقتباس میں دیکھاجاسکتاہے کہ امام ابوحنیفہ نے اختصار کے ساتھ اپنااصولی منہج بیان کیاہے لیکن اس میں سنت وحدیث میں فقہ راوی کاکوئی ذکر موجود نہیں ہے۔علاوہ ازیں امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ سے کہیں بھی منقول نہیں ہے کہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ نے یہ کہاہو کہ فلاں صحابی چونکہ غیرفقیہ ہے اس لئے اس کی روایت قابل قبول نہیں ہے۔
ولم ینقل ھذا القول عن اصحابنا ایضا بل المنقول عنھم ان خبر الواحد مقدم علی القیاس ولم ینقل التفصیل (کشف الاسرار ۲/۳۸۳)
’’(ابوالحسن الکرخی کہتے ہیں)یہ قول(کہ خلاف قیاس کی صورت میں غیرفقیہ راوی کی روایت پر قیاس مقدم کیاجائے گا)ہمارے اصحاب سے منقول نہیں ہے بلکہ ان سے تویہ منقول ہے کہ خبرواحد قیاس پر مقدم ہوگی اوراس سلسلے میں کوئی تفصیل منقول نہیں ہے۔‘‘
علامہ ابن ہمام کی رائے
علامہ ابن ہمام اوران کے شارحین نے تو (التقریر والتحبیر علی تحریرالکمال ابن الھمام ۲/۲۹۸) میں صاف سیدھالکھاہے کہ امام ابوحنیفہ مطلقاً قیاس پرخبرواحد کو مقدم کرتے ہیں،چاہے خلاف قیاس ہونے کی صورت میں حدیث کا راوی فقیہ ہویاغیرفقیہ، اور اس مسئلے میں ان کو امام شافعی اورامام احمد بن حنبل کا ہم نواقراردیاہے۔
مسالۃ اذا تعارض خبر الواحد والقیاس بحیث لا جمع بینھما ممکن قدم الخبر مطلقا عند الاکثر منھم ابو حنیفۃ والشافعی واحمد (التقریر والتحبیر ۲/۲۹۸)
’’ مسئلہ:جب خبرواحد اورقیاس میں تعارض ہو کہ دونوں کے درمیان تطبیق کی کوئی صورت نہ نکل سکتی ہو تو اکثرائمہ کے نزدیک ہرحال میں خبر کو قیاس پر مقدم کیاجائے۔ ان ائمہ میں سے امام ابوحنیفہ،امام شافعی اورامام احمد بھی ہیں۔‘‘
فقیہ راوی کی روایت کو غیرفقیہ پر ترجیح
ہاں امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کایہ طریق کار ضرور تھاکہ وہ دوراویوں کی روایت میں اس کو اختیار کرتے تھے ،جس کا راوی فقیہ ہواور غیرفقیہ پر اس کو ترجیح دیتے؛لیکن یہ امام ابوحنیفہ کااختراع نہیں تھابلکہ محدثین کرام بھی اسی روش اورطرز کے قائل تھے،جیساکہ حازمی نے بھی کتاب الاعتبار می وجوہ ترجیحات میں سے اس کو ذکر کیاہے، وہ لکھتے ہیں:
الوجہ الثالث والعشرون: ان یکون رواۃ احد الحدیثین مع تساویھم فی الحفظ والاتقان فقھاء عارفین باجتناء الاحکام من مثمرات الالفاظ، فالاسترواح الی حدیث الفقھاء اولی، وحکی علی بن خشرم قال قال لنا وکیع ای الاسنادین احب الیکم، الاعمش عن ابی وائل عن عبد اللہ او سفیان عن منصور عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبد اللہ؟ فقلنا الاعمش عن ابی وائل عن عبد اللہ، فقال یا سبحان اللہ، الاعمش شیخ وابو وائل شیخ وسفیان فقیہ ومنصور فقیہ وابراھیم فقیہ وعلقمۃ فقیہ، وحدیث یتداولہ الفقھاء خیر من ان یتداولہ الشیوخ (الاعتبار فی الناسخ والمنسوخ من الآثار للحازمی، ص ۱۵)
’’تیئیسویں وجہ روایت کی ترجیح کی یہ ہے کہ حفظ اورضبط میں راوی برابر ہوں لیکن ایک روایت کا راوی فقیہ ہو، الفاظ سے احکام کے استنباط کا طریقہ جانتاہو تو فقیہ راوی کی روایت کواختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔ علی بن خشرم کہتے ہیں ہم سے وکیع نے کہا کہ تمہیں کون سی سند زیادہ محبوب ہے؟اعمش عن ابی وائل عن عبداللہ (اس میں حضرت عبداللہ تک صرف دوراوی ہیں)یاپھر سفیان عن منصور عن علقمہ عن عبداللہ ؟ اس پر ہم نے کہاکہ اعمش والی سند توفرمایا: سبحان اللہ! اعمش شیخ ہیں، ابووائل شیخ ہیں جب کہ اس کے بالمقابل سفیان فقیہ ہیں، منصور فقیہ ہیں، ابراہیم فقیہ ہیں، علقمہ فقیہ ہیں اورفقہاء کی سند والی حدیث شیوخ کی سند والی حدیث سے بہتر ہے۔‘‘
فقاہت راوی کی شرط تخریج کردہ ہے
ہاں یہ ضرور ہے کہ امام ابوحنیفہ نے احادیث کے ردوقبول میں بعض اصول کو اختیار کیاہے ،ان اصول کو دیکھ کر بعد کے اہل علم نے ان کے اجتہادات سے یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ جس راوی کی روایت قبول کی جائے اس کے لیے فقیہ ہونا ضروری ہے یانہیں، اوراگرغیرفقیہ کی روایت قیاس کے خلاف ہو توقیاس کو ترک کرکے حدیث پر عمل کیا جائے، یاغیرفقیہ راوی کی روایت کو ترک کرکے قیاس پر عمل کیاجائے،امام ابوحنیفہ کے بعد کے عہد میں اصول فقہ پر لکھنے والی جلیل القدر شخصیت امام کرخی کی ہے، امام کرخی امام طحاوی کے ہم عصر ہیں اور امام ابوالحسن الکرخی توصاف سیدھی یہ بات کہتے ہیں کہ راوی کی روایت قبول کرنے کے لیے فقاہت کوئی شرط نہیں ہے اورراوی فقیہ ہویانہ ہو، اس کی روایت بہرحال قبول کی جائے اوراس روایت کی موجودگی میں چاہے راوی غیرفقیہ ہو، قیاس کو ترک کردیاجائے گا۔چنانچہ امام کرخی اس تعلق سے وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’عیسیٰ بن ابان کا نظریہ ہمارے اصحاب سے منقول نہیں ہے، بلکہ ان سے یہ قول روایت کی گئی ہے کہ خبرواحد علی الاطلاق قیاس سے مقدم ہے۔اس ضمن میں کوئی تفصیل مذکور نہیں کہ راوی فقیہ ہے یاغیرفقیہ۔‘‘
اس کے بعد عیسیٰ بن ابان کے دلائل کامثلاً حدیث مصراۃ اورحدیث عرایا پر عمل نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’ہمارے اصحاب ان احادیث پر اس لئے عمل نہیں کرتے کہ یہ کتاب اللہ اورسنت مشہورہ کے خلاف ہیں نہ کہ اس لئے کہ راوی فقیہ نہیں۔ حدیث مصراۃ کتاب وسنت دونوں کے خلاف ہے جیساکہ قبل ازیں بیان ہوچکاہے۔ حدیث عریہ سنت مشہورہ کے خلاف ہے۔ راوی کا فقیہ نہ ہونا اس کا سبب نہیں اور وہ سنت مشہور ہے: التمر بالتمر مثل بمثل کیل بکیل۔ہم یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فقیہ نہیں تھے۔ آپ یقیناًایک بڑے فقیہ تھے اور آپ میں پوری طرح اسباب اجتہاد جمع تھے۔ صحابہ کے زمانہ میں آپ فتویٰ دیاکرتے تھے، حالانکہ اس زمانہ میں ایک مجتہد فقیہ کو ہی فتویٰ نویسی کا اہل سمجھاجاتاتھا۔ آپ رسول اکرم کے جلیل القدر صحابہ میں سے تھے۔ آپ نے ان کے حق میں دعائے خیرفرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاقبول فرمائی۔ آپ نے بڑانام پایااور آپ سے روایت کردہ احادیث کا بڑاچرچاہوا۔‘‘ (حیات امام ابوحنیفہ اردو ص ۵۰۲۔۵۰۳،بحوالہ کشف الاسرار ۲/۷۰۳)
اس نتیجہ سے بات صاف ہوگئی کہ امام ابوالحسن الکرخی جو فقہ حنفی کے ایک معتبر امام ہیں، وہ اپناااوراپنے اصحاب کے بارے میں یعنی ائمہ احناف کے بارے میں صاف سیدھے لفظوں میں یہ بات کہتے ہیں کہ ان سے راوی کی عدم فقاہت کے وقت قیاس کو خبر پر مقدم کرنے کی کوئی نص موجود نہیں ہے۔
امام عیسیٰ بن ابان کا موقف
ہاں امام عیسیٰ بن ابان سے اوران سے متاثردیگر کچھ فقہائے احناف نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ جب خبرواحد اورقیاس میں تعارض ہوگاتو راوی کی فقاہت کو دیکھاجائے گا۔بعض لوگ توکہتے ہیں کہ عیسیٰ بن ابان علیہ الرحمہ کایہ قول ایجادبندہ ہے، لیکن یہ کہنادرحقیقت لاعلمی اورجہالت ہے۔ ماقبل میں یہ بات کہی گئی ہے کہ امام ابوحنیفہ اوردیگر کبارائمہ احناف سے اس بارے میں کچھ بھی منقول نہیں ہے، نہ نفی میں اورنہ اثبات میں۔
عیسیٰ بن ابان نے یہ نظریہ تخریج کیاہے
امام عیسیٰ بن ابان علیہ الرحمہ نے جب امام ابوحنیفہ کے اجتہادات میں غورکیاتوبعض نظائر سے ان کو یہ لگاکہ امام ابوحنیفہ فقہ راوی کوشرط مانتے ہیں جب کہ خبرواحد قیاس کے خلاف ہو۔ توعیسیٰ بن ابان کایہ کہنادرحقیقت امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اجتہادات میں غوروفکر کے بعد ممکن ہوسکاہے۔یہ ان کی اپنی گڑھی ہوئی بات نہیں ہے۔یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے غوروفکر کے بعد جونتیجہ نکالا، وہ درست ہے یانہیں ہے۔لیکن اس کو عیسیٰ بن ابان کا اختراع کہناظلم ہے۔یہی وجہ ہے کہ امام جصاص رازی لکھتے ہیں:
قال ابوبکر رحمہ اللہ: قد حکیت جملۃ ما ذکرہ عیسی فی ھذا المعنی، وھو عندی مذھب اصحابنا وعلیہ تدل اصولھم (الفصول فی الاصول ۳/۱۲۲)
’’امام جصاص رازی کہتے ہیں کہ اس مفہوم کی بات کا کچھ حصہ جوعیسیٰ بن ابان نے ذکر کیاہے، اس کو میں نے نقل کیاہے اوروہ میرے نزدیک ائمہ احناف کا موقف ہے اوراسی پران کے اصول دلالت کرتے ہیں۔‘‘
عیسیٰ بن ابان کافقہ راوی میں کیاموقف ہے؟
باوجود اس قیل وقال کے عیسیٰ بن ابان سے بھی یہ بات مطلقاً مروی نہیں ہے کہ اگرراوی غیرفقیہ ہے تواس کی روایت ہرحال میں رد کردی جائے گی اوراس کی روایت کو کسی حال میں قبول نہیں کیاجائے۔ بلکہ اس کے لیے انہوں نے جو شروط اورقیود لگائے ہیں، اس کو دیکھنے کے بعد میراتوخیال یہی ہے کہ یہ صرف لفظی بحث رہ جاتی ہے۔ کیونکہ ان شروط وضوابط کے بعد کسی روایت کو محض اس لئے رد کردیناکہ اس کا راوی غیرفقیہ ہے، ناممکن سے رہ جاتاہے اورذخیرہ حدیث میں میرے علم کی حد تک ایسی روایت باوجود تلاش کے نہیں ملتی اوراگرہوگی بھی تومجھے امید ہے کہ محدثین کرام نے پہلے ہی اس پر سندی اعتبار سے جرح کررکھی ہوگی۔ ہذاماعندی واللہ اعلم بالصواب
ایک اہم بات کی طرف توجہ
(نوٹ)امام عیسیٰ بن ابان نے تعارض کے وقت غیرفقیہ راوی کی روایت رد کرنے کے لیے جن شرائط کا ذکر کیاہے، اس پر تفصیلی کلام کرنے سے پہلے ہم یہ واضح کردیناچاہتے ہیں کہ جن مصنفین نے، چاہے اصول الشاشی کے مصنف کی طرح قدیم ہو یاپھر ہمارے زمانے سے قریب تر ،اگران کی عبارت میں فقاہت کا ذکر مطلقاً ہے توبھی وہ ساری قیود اور شرائط جوامام عیسیٰ بن ابان نے خبر کے رد کے لیے ٹھہرائی ہیں، ان کو شامل ماناجائے، کیونکہ اکثرکتبِ اصولِ فقہ متون کے طورپرلکھی گئیں اورمتون میں اختصار ملحوظ ہوتا ہے۔ مثلاً اصول الشاشی کے مصنف لکھتے ہیں:
وَالقسم الثَّانِی من الروَاۃ ھم المعروفون بِالحِفظِ وَالعَدَالَۃ دون الِاجتَِھاد وَالفَتوَی کابی ھریرۃ وانس بن مَالک، فاِذا صحت رِوَایَۃ مثلھمَا عندک، فَاِن وَافق الخَبَر القیَاس فَلَا خَفَاء فِی لزوم العَمَل بِہ، وَاِن خَالفہ کَانَ العَمَل بالقیاس اولی (اصول الشاشی ۱/۲۷۵)
’’ راویوں کی دوسری قسم وہ ہے جو حفظ اورعدالت میں تو مشہور ہیں لیکن بطور مجتہد اورمفتی مشہور نہیں تھے جیسے حضرت ابوہریرہ اورانس بن مالک رضی اللہ عنہما،توجب ان کی روایت صحیح ہو تواگران کی روایت قیاس کے موافق ہو تواس پر عمل کیا جائے اور اگر قیاس کے مخالف ہو تو قیاس پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے۔‘‘
یہاں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اصول الشاشی کے مصنف نظام الدین ابوعلی احمد بن محمدبن اسحاق الشاشی (متوفی344) نے بغیر کسی شرط کے راوی کے فقیہ نہ ہونے کی صورت میں قیاس پر عمل کرنے کی بات کہی ہے۔اسی طرح کچھ دوسری کتابوں میں بھی یہ بات ہے لیکن یہ واضح رہے کہ یہ تمام کتابیں یاتومتون کے طورپر لکھی گئی ہیں لہذا اس میں شرائط کا ذکر نہیں کیاگیا۔یاپھر امام جصاص رازی کی کتاب جس میں انہوں نے عیسی بن ابان کی کتاب سے براہ راست نقل کیاہے ان کی رسائی نہ ہوسکی اس لئے وہ ان شرائط سے آگاہ نہ ہوسکے۔
اسی لئے ہم نے کوشش کی ہے کہ عیسی بن ابان علیہ الرحمہ کے خیالات خود ان کے اپنے الفاظ مین ذکر کردیے جائیں کیونکہ مصنف اپنے مقصد سے زیادہ واقف ہوتاہے۔ کوئی شخص اپنے مراد اورمطلب کو جس طرح واضح کرسکتاہے دوسرانہیں کرسکتا۔اورچونکہ متقدمین کی بات اس باب میں زیادہ لائق اعتماد ہے اس لئے ہم نے اولا امام جصاص رازی کی کتاب الاصول فی الفصول اورامام سرخسی علیہ الرحمہ کی کتاب اصول السرخسی کو اپنے بحث کی بنیاد بنایاہے۔
امام سرخسی کی وضاحت
چونکہ امام سرخسی بھی اس مسئلہ پر امام عیسی بن ابان کے ہم خیال ہیں؛ لہذا بہتر ہے کہ اولاامام سرخسی کی رائے نقل کی جائے،امام سرخسی لکھتے ہیں:
اعلم بان الرواۃ قسمان: معروف ومجھول، فالمعروف نوعان: من کان معروفا بالفقہ والرای فی الاجتھاد، ومن کان معروفا بالعدالۃ وحسن الضبط والحفظ ولکن قلیل الفقہ (اصول السرخسی ۱/۳۳۹)
’’ جان لو کہ راویوں کی دوقسمیں ہیں۔ معروف اورمجہول،پھر معروف کی دوقسمیں ایک تویہ کہ راوی فقہ اوراجتہاد میں مشہور ہودوسری قسم یہ ہے کہ عدالت اورضبط وحفظ میں تومشہور ہو لیکن فقہ مین اس کا حصہ تھوڑاہو۔‘‘
امام سرخسی معروف کی پہلی قسم پر کلام کرنے کے بعد اوراس میں خلفاء اربعہ اوردیگر ممتاز فقہائے صحابہ کرام کو گنوانے کے بعد لکھتے ہیں:
فاَما المَعروف بِالعَدَالَۃِ والضبط وَالحِفظ کابی ھریرَۃ وانس بن مَالک رَضِی اللہ عَنھمَا وَغیرھمَا مِمَّن اشتھر بالصحبۃ مَعَ رَسول اللہ صلی اللہ عَلَیہ وَسلم وَالسَّمَاع مِنہ مدَّۃ طَوِیلَۃ فِی الحَضَر وَالسّفر فَان اَبَا ھریرۃ مِمَّن لَا یشک احد فِی عَدَالَتہ وَطول صحبتہ مَعَ رَسول اللہ صلی اللہ عَلیہ وَسلم حَتَّی قَالَ لَہ (زر غبا تَزدَد حبا) وکذالک فِی حسن حفظہ وَضَبطہ۔ (اصول السرخسی ۱/۳۳۹)
’’ ایسے راوی جو عدالت اورضبط وحفظ میں مشہور ہیں جیسے کہ حضرت ابوہریرہ وانس بن مالک رضی اللہ عنہما جن کا رسول پاک کاصحابی ہونامشہور ہے اورانہوں نے رسول پاک سے ایک مدت تک ان کے اقوال وفرامین سنے سفر وحضر میں سنے بھی ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی عدالت اوررسول پاک کے ساتھ طویل وقت گزارنے میں کسی کو شک نہیں ہے یہاں تک کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہاایک دن ناغہ کرکے ملاکر تاکہ محبت زیادہ ہو،اسی طرح ان کے حافظہ اورباتوں کو یاد رکھنے کے بارے میں بھی کسی کو شک نہیں ہے۔‘‘
(جاری)
یکبارگی تین طلاقوں کے نفاذ کا مسئلہ
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
انڈیا میں سپریم کورٹ نے یکبارگی دی جانے والی تین طلاقوں کے بارے میں متبادل قانون سازی کی ہدایت کی ہے جس پر مختلف طبقات کی طرف سے ملا جلا ردعمل آیا۔ کچھ اہل علم نے اسے دین میں مداخلت قرار دیا جبکہ کچھ دوسرے حضرات نے مختلف فقہی آراء میں سے ایک رائے کو ترجیح دینے کا کورٹ کا جائز حق بتایا۔ بالعموم مسلم سماج میں مسائل کو فقہی مذاہب کی روشنی میں زیر بحث لایا جاتا ہے اور نظری طور پر فریق مخالف کے درست ہونے کے امکان کو ماننے کے باوجود عملاً ہر فریق صرف اپنے فقہی موقف کو ہی درست مانتا ہے۔ ہمارے سماج میں ایسا شاذ ہی ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کے حل کی تلاش میں واپس اصلی مآخذ تک رسائی اور ان سے استفادہ کا منہج اختیار کیا جائے۔ ہر فریق اپنے مکتب فکر کے متداول فتاوی کو ہی آخری سند کا درجہ دیتا ہے۔ تاہم درست علمی منہج یہ ہے کہ نئی مشکلات میں ہمیں واپس کتاب و سنت سے رجوع کر کے اپنی مشکلات کا قابل عمل حل تلاش کرنا چاہیے۔
طلاق کے حوالے سے اگر کتاب اللہ کی طرف رجوع کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کتاب اللہ نے نکاح و طلاق کے ادارے کی از سر نو تنظیم کی ہے۔ جہاں تک طلاق کا تعلق ہے تو :
طلاق کی ضرورت پیدا ہونے کی ابتدا میں ہی میاں بیوی کے درمیان اختلافی امور پر تبادلہ خیال، عارضی ترک تعلق، معمولی تنبیہ اور ان کوششوں کے کامیاب نہ ہونے کی صورت میں دونوں خاندانوں سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کے مدارج بیان کئے گئے۔ (النساء ۴: ۳۴، ۳۵) گویا طلاق کوئی ناگہانی آفت کی طرح نازل ہونے والی شے نہیں بلکہ طویل غور وخوض اور مشاورت کے بعد کیا جانے والا ایک آخری اور نا پسندیدہ اقدام ہے۔
طلاق دینے کا وقت طے کیا گیا کہ ایسے وقت میں طلاق دی جائے جب میاں بیوی ایک دوسرے کی طرف شدید رغبت کی کیفیت میں ہوں۔ (الطلاق ۶۵: ۱)
ایک وقت میں ایک ہی طلاق دی جائے۔ ضرورت ہو تو دوسری اور تیسری دی جا سکتی ہے۔
طلاق کی زیادہ سے زیادہ تعداد مقرر کر دی گئی۔
یکبارگی طلاقوں کی کوئی پروویژن نہیں رکھی گئی۔
آخری اور تیسری طلاق کے سوا ہر طلاق کے بعد مصالحت یا تجدید طلاق کی گنجائش دی گئی۔
خاتون کو خلع کی صورت میں حق طلاق دیا گیا۔ (البقرۃ ۲: ۲۲۹، ۲۳۰، ۲۳۱)
ایلاء اور ظہار کو طلاق کے دائرے سے نکال کر ان کے ایسے احکام دیے گئے جن کے باعث کسی خاتون سے ظلم ہونے کا امکان نہ رہے۔ (البقرۃ ۲: ۲۲۶۔ المجادلہ ۵۸: ۱ تا ۴)
قرآن حکیم میں یکبارگی دی گئی تین طلاقوں کے حوالے سے کوئی حکم نہیں ہے بلکہ یکے بعد دیگرے اور الگ الگ طہر میں طلاق دینے کا حکم یکبارگی تین طلاقوں کی اجازت نہیں دیتا۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو مختلف احادیث کی بنا پر مختلف فقہی مکاتب فکر الگ الگ موقف رکھتے ہیں۔ ایک فریق کے نزدیک یکبارگی کی تین طلاق تین ہو جاتی ہیں۔ دوسرے فریق کے نزدیک یکبارگی کی تین طلاق ایک ہی ہوتی ہے۔ تیسرے فریق کے مطابق یکبارگی کی تین طلاق سرے سے ایک بھی نہیں ہوتی۔
ہر فریق احادیث سے استدلال کرتا ہے اور دوسرے فریق کی مستدل احادیث کو ضعیف قرار دیتا ہے. اس صورت حال میں احادیث کی بنا پر کوئی قطعی فیصلہ کرنا آسان نہیں۔ البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں یکبارگی دی جانے والی تین طلاقوں کو تین قرار دے کر نافذ کر دیا تھا جسے بیشتر صحابہ کرام کی تائید حاصل تھی اور اہل سنت کے چاروں ائمہ نے اپنی اپنی فقہ میں اسی فیصلے کو برقرار رکھا اس لیے اسے زیادہ مستند قرار دیا جاتا ہے:
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دور خلافت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو سال تک تین طلاق ایک ہی شمار کی جاتی تھیں سو عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اس حکم میں جو انہیں مہلت دی گئی تھی، جلدی شروع کر دی ہے۔ پس اگر ہم تین ہی نافذ کردیں تو مناسب ہوگا چنانچہ انہوں نے تین طلاق ہی واقعہ ہو جانے کا حکم دے دیا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: ۱۴۷۲)
لیکن اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سابقہ طرز عمل میں تبدیلی کی ضرورت کیوں محسوس کی اور وہ کیا اسباب تھے جن کی بنا پر انہوں نے ایک گنجائش ختم کردی اور کیا اب بھی حالات و واقعات اسی فیصلہ کے متقاضی ہیں یا حالات و زمانے کی تبدیلی سے اس فیصلے میں تبدیلی کی گنجائش موجود ہے؟
آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کی مذہبی اور سماجی اساسیات کا جائزہ لیتے ہیں :
قرآن نے یکے بعد دیگرے طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ یکبارگی تین طلاق دے کر شوہر جرم کا ارتکاب کرتا ہے، اس لیے اسے اس کی سزا ملنا چاہیے تھی۔
عرب معاشرے میں اس وقت بھی اور آج بھی خواتین کو بھاری مقدار میں مہر دینے کا رواج تھا۔ قرآن نے ڈھیروں سونا چاندی دینے کا ذکر کیا، (النساء ۴:۲۰) اور حدیث میں مہر میں باغات دینے کا تذکرہ ملتا ہے:
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ثابت بن قیس سے کسی بری عادت یا دینداری کی وجہ سے ناراض نہیں ہوں، لیکن میں حالت اسلام میں ناشکری نہیں کرنا چاہتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کا باغ اس کو واپس کرنے کو تیار ہے ، اس نے کہا ہاں! آپ نے ثابت بن قیس سے فرمایا کہ اس کا باغ لے لو اور اس کو ایک طلاق دے دو۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث: ۵۲۷۳)
مہر کی ادائیگی اور اس پر عورت کا قطعی حق:
مہر نکاح کے وقت یا نکاح سے قبل ادا کر دیا جاتا تھا۔ بیوی مہر میں ملنے والی جائداد کی قطعی مالک ہوتی تھی اور شوہر یا کسی دوسرے فرد کا اس سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہوتا تھا۔ (النساء ۴: ۳۲) اگر بیوی کو طلاق ہو جاتی تو وہ اپنا مہر لے کر شوہر سے الگ ہو جاتی۔
طلاق کے بعد بچوں کی ذمہ داری:
اگر اس کے بچے ہوتے تو ان کی تمام تر ذمہ داری شوہر کی ہوتی، ان کے تمام اخراجات، تعلیم اور دیگر ضروریات شوہر نے پورے کرنے ہوتے۔ اگر چھوٹے بچے ہوتے جنہیں مطلقہ ماں پال رہی ہوتی تو نہ صرف ان کے اخراجات بلکہ ماں کی مصروفیات کی اجرت بھی شوہر کے ذمے تھی۔ (البقرۃ ۲: ۲۳۳)
عرب معاشرے میں مطلقہ اور بیوہ سے شادی کرنے کا عام رواج:
اس سماج میں مطلقہ یا بیوہ کے لیے دوبارہ شادی کرنا کوئی مسئلہ نہیں تھا، بلکہ ان کے لیے مواقع وسیع اور انتخاب کا تجربہ مستزاد ہوتا۔ یہ رواج اس قدر عام تھا کہ قرآن کو کہنا پڑا کہ ایسی خواتین سے عدت کے دوران عہد و پیمان نہ لے لیا کرو اور انہیں سکون سے عدت پوری کرنے دیا کرو۔ (البقرۃ ۲: ۲۳۵)
عرب معاشرے میں طلاق اور دوسری شادی کا بھار مرد پر پڑنا:
دوسری شادی پر عورت کو مزید بھاری بھر کم مہر ملتا جب کہ سابقہ شوہر کو نئی شادی کرنے کے لیے مزید مالی وسائل کی ضرورت ہوتی۔ یہی وجہ تھی کہ عرب سماج میں بیوہ یا مطلقہ خواتین خاصی مال دار ہوجایا کرتی تھیں۔
قرونِ اولیٰ میں تین طلاق کو نافذ کرنے کا نقصان کس فریق کو ہوتا؟
اس ساری صورت حال میں یکبارگی تین طلاق کو نافذ کرنے کا نقصان عورت کو نہیں بلکہ مرد کو تھا اور اکٹھے تین طلاق دینے کا جرم اسی نے کیا تھا، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ اسے اس جرم کی سزا ملنی چاہیے تاکہ لوگ یکبارگی تین طلاق دینے سے باز رہیں۔ اس فیصلے کے وقت ان کے الفاظ بھی یہی تھے کہ جس کام کو بہت غور و فکر کے بعد کرنا چاہیے تھا، اسے یک دم کرنے والے کو کیوں نہ سزا دی جائے۔ عرب سماج کے لیے تب بھی یہی فیصلہ قرین انصاف تھا اور آج بھی یہی فیصلہ معقول ہے لیکن ہمارے سماج میں صورت حال بالکل اس کے بر عکس ہے :
- بیوی کو یا تو نقد مہر دیا ہی نہیں جاتا اور اگر دیا جاتا ہے تو اس کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ اس سے ایک مہینے کے یوٹیلیٹی کے بلز تک ادا نہیں کئے جا سکتے۔
- خواتین اپنے مال پر آزادانہ تصرف کا اختیار نہیں رکھتیں۔
- کسی بھی شام بیوی کو مار پیٹ کر بچوں سمیت گھر سے باہر نکال دیا جاتا ہے اور بہت دفعہ اس پر نیلی چھتری کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوتا۔
- بچوں کی ذمہ داری باپ نہیں اٹھاتا۔
- ہمارے سماج میں جس لڑکی کی منگنی ٹوٹ جائے، اس کی شادی ہونا ناممکن ہو جاتا ہے۔ بیوہ یا مطلقہ کو کہاں شوہر مل سکتا ہے۔
اس سماجی تفاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے سماج میں طلاق کی صورت میں سزا مرد کو نہیں بیوی کو ملتی ہے۔
مزید یہ کہ جہالت، دین سے بے بہرہ ہونے اور اجڈ پن کی وجہ سے طلاق اچانک اور یکبارگی تین دے دی جاتی ہیں جو ایک خاندان، دو گھرانوں اور بچوں کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔ ایسے میں یکبارگی تین طلاق کو نافذ کرنا مجرم کو سزا دینا نہیں بلکہ مظلوم پر مزید ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ہماری رائے یہ ہے کہ حالات و زمانے کی تبدیلی کی رعایت کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے سماج میں یکبارگی دی جانے والی تین طلاق کو ایک قرار دیا جائے جیسا کہ عہد نبوی اور عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی دو سالوں میں یہی قانون تھا، نیز کئی ایک صحابہ کرام، تابعین اور ائمہ کرام کی بھی یہی رائے ہے۔ نیز اگر حکومت مختلف فقہی آراء میں سے کسی ایک رائے کو قانون کا درجہ دے دے تو وہ رائے مرجوح ہو، تب بھی فتوے اور فیصلے اسی کے مطابق کیے جائیں گے۔
یوں بھی نکاح و طلاق کے قوانین سول لا کا حصہ ہیں اور نصوص کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے حکومت کو سول لا میں تبدیلی کا اختیار ہوتا ہے۔
برما میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ کیا ہے؟
ڈاکٹر قبلہ ایاز
میانمار (برما) کے 12 لاکھ آبادی پر مشتمل روہنجیا مسلمانوں کا قضیہ عرصہ دراز سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں سامنے آتا رہتا ہے۔ کبھی اس کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور کہیں یہ عدم توجہی کا شکار بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے اور بہت سارے مسائل کی طرح اس مسئلے کو بھی سطحی اور جذباتی طریقے سے پیش کیا جاتا ہے اور مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ روہنجیا مسلمان میانمار (برما) میں بہت مشکل وقت گزار رہے ہیں اور میانمار کی آزادی کے بعد سے لے کر اب تک کی حکومتوں نے روہنجیا لوگوں کے مسئلے کو حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس پورے قضیے کا پیچیدہ ترین پہلو یہ ہے کہ آغاز جس مسئلے کا خالصتاً نسلی بنیادوں پر ہوا، اب اس نے مذہبی شکل اختیار کرلی ہے۔ اب یہ معاملہ روہنجیا کمیونٹی کے لئے میانمار کی شہریت کے حق کے حصول سے زیادہ وہاں کی ایک مسلمان اقلیت اور اکثریتی مذہب (بدھ مت) کے پیروکاروں کے درمیان مذہبی تصادم کا رخ اختیار کر گیا ہے۔ اس پہلو کی وجہ سے عالمی تناظر میں بھی یہ قضیہ انسانی حقوق کی فہرست سے نکل کر مذاہب کے درمیان کشمکش کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ چنانچہ اس صورتِ حال نے تنازع کے حل کی کوششوں کے پورے منظر نامے کو تبدیل کردیا ہے۔
روہنجیا مسلمان میانمار کے صوبے اراکان کے باشندے ہیں جس کی سرحد بنگلہ دیش کے ساتھ ملتی ہے۔ روہنجیا کے علاوہ یہاں راکھائن لوگ بھی رہتے ہیں جو بدھ مت کے پیروکار ہیں۔ تقریباً 20 لاکھ راکھائن اکثریتی آبادی ہے۔ بدقسمتی سے روہنجیا اور راکھائن کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ دونوں نسلی گروپوں کے درمیان تنازعے نے معاملے کو حد درجہ گھمبیر بنا دیا ہے۔ دونوں قبیلے غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا انحصار زراعت اور ماہی گیری پر ہے۔ ان کے درمیان معاشی رقابت بھی ہے جس کی وجہ سے مسئلے کی شدت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
روہنجیا مسلمانوں اور میانمار کی اکثریتی بدھ مت کے پیروکاروں کے درمیان نفرت اور غلط فہمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تحریک پاکستان کے عروج کے زمانے میں روہنجیا نے تحریک چلائی تھی کہ اراکان صوبے کو مجوزہ پاکستان کے مشرقی بازو (مشرقی پاکستان، اب بنگلہ دیش) کا حصہ بنایا جائے۔ اس تحریک نے مختلف موقعوں پر تشدد کا رنگ بھی اختیار کیا تھا۔
بدھ مت میں ترکِ دنیا پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ چنانچہ میانمار میں ہر شہر میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے مرد اور خواتین نظر آتے ہیں جو ازدواجی بندھنوں سے الگ رہ کر اپنے آپ کو عبادت کے لئے مخصوص کرچکے ہوتے ہیں اور کشکول ہاتھ میں لے کر لوگوں کے گھروں سے خوراک کا سامان حاصل کرتے ہیں۔ بال ترشواکر مخصوص نارنجی لباس میں ملبوس مرد عبادت گزار (بھکشو/ مونک) اور خواتین (تیشالین) سڑکوں پر قطار بنائے نظر آتے ہیں یہ میانمار کے شہروں کے عمومی مناظر ہیں۔ ترکِ دنیا کرنے والے ایسے افراد کی تعداد اس وقت تقریباً دس لاکھ (ایک ملین) بتائی جاتی ہے۔ بدھ مت میں اس مذہبی رحجان کی وجہ سے ان کے پیروکاروں کی آبادی میں کمی ایک لازمی امر ہے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے ہاں زیادہ بچے پیدا کرنے کو باعث ثواب سمجھا جاتا ہے۔ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی مذہبی رعایت کی وجہ سے ان کی آبادی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
میانمار میں کچھ ہندسے بھی خاصے متنازعہ ہیں اور انہوں نے مسلم بدھ کشمکش میں حیران کن کردار ادا کیا ہے۔ مسلمان عام طورپر اپنے گھروں یا دکانوں پر 786 لکھتے ہیں۔ کچھ نامعلوم وجوہات کی وجہ سے بدھ مت کے پیروکاروں کے ہاں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ 786 میں الگ الگ ہندسوں کو جمع کرکے 21 بنتا ہے۔ بدھ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا کوڈ لفظ ہے، جس کے اندر پیغام ہے کہ 21 ویں صدی میں میانمار کو مسلمانوں کا اکثریتی ملک بنانا ہے۔ چنانچہ اب 786 کا ہندسہ میانمار میں اس کی اکثریتی آبادی کے لئے ایک ڈراؤنا خواب بن گیا ہے۔ بدھ مت کے پیروکاروں نے اس کے مقابلے میں 969 کا ہندسہ عام کردیا، جو ان کے مطابق گوتم بدھ کے بتائے ہوئے اصولِ حیات کی تعداد اور ان کے ساتھ مذہبی وابستگی کا نمائندہ ہندسہ ہے۔
روہنجیا مسلمانوں کا اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ان کو فرزندان وطن (Sons of the Soil) نہیں سمجھتی۔ یہ مسئلہ اس وقت زیادہ گہرا ہوگیا ہے جب آئین میں ان کو شہریت کے حق سے محروم کردیا گیا۔ چنانچہ حکومت ان کو این آر سی (National Registration Card) دینے سے انکاری ہے اور اس کی بجائے ان کو ٹی آر سی (Temporary Registration Card) لینے پر مجبور کررہی ہے۔ این آر سی سے محرومی کا مطلب یہ ہے کہ روہنجیا کو مکمل شہری تسلیم نہیں کیا جاتا۔ علاوہ ازیں اس کے نتیجے میں یہ جائیداد اور ووٹ کے حق سے بھی محروم ہوں گے۔ حکومت ان سے کہتی ہے کہ وہ روہنجیا کے متبادل کے طورپر اپنے آپ کو چٹاگانگ کے بنگالیوں کے طورپر متعارف کرائیں۔
بلاشبہ روہنجیا ان سرکاری پابندیوں کی وجہ سے اپنے وجود کے حوالے سے ایک مشکل دوراہے پر کھڑے ہیں۔ موجودہ مسلم بدھ کشمکش سے بدھ مت کے پیروکاروں میں ان کے انتہا پسند مذہبی قائد موتک دیراتو کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ دیراتو کو بین الاقوامی جریدہ ٹائمز نے جولائی 2013 کے شمارہ میں اپنے ایک مضمون میں برما کے دہشت گرد کے نام سے موسوم کیا تھا (The Face of Buddhist Terror by Hannah Beech)اور سرورق پر اس کی تصویر شائع کی تھی۔ دیراتو کا مرکز میانمار کے ایک بڑے شہر منڈالے میں ہے، جہاں وہ بدھ مت کے ایک دینی ادارے میں استاد ہے۔ اس وقت اس کے ادارے میں 3000 سے زیادہ طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ ان کا ادارہ دماتیریا سجاسیہا دما سیریا کے نام سے ڈگری جاری کرتا ہے جسے سرکاری طورپر مذہبی علوم میں ایم اے کے برابر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اکتوبر 2013 میں مونک ویراتو کے ساتھ ان کے مذہبی ادارے کے دفتر میں ہمارے ایک بین الاقوامی وفد کی تفصیلی ملاقات ہوئی تھی۔ اس وفد میں انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل انگیجمنٹ (واشنگٹن) کے سربراہ ڈاکٹر کریس سائیبل کے علاوہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز (PIPS) کے ڈائریکٹر عامر رانا اور شیخ زاید اسلامک سنٹر کے پروفیسررشید احمد بھی شامل تھے۔ فلپائن اور سنگاپور کے مدنی معاشرے کے بعض مؤثر سربراہان بھی اس وفد کا حصہ تھے۔
موتک دیراتو کے دفترکے آس پاس دیواروں پر متعدد پوسٹر چسپاں تھے، جن پر مسلمانوں کے خلاف مقامی زبان میں اشتعال انگیز مواد تحریر تھا۔ ادارے کے ہزاروں نوجوان طالب علم بال ترشوائے نارنجی لباس میں ملبوس مصروف تعلیم تھے۔ ہمیں میانمار کے لوگوں پر بڑا افسوس ہو اکہ اگر نفرت اور باہمی کشمکش کے اس منظر نامے میں ان نوجوانوں کی اس طرح ذہنی تشکیل جاری رہی تو معلوم نہیں اس خوب صورت نسل کا کیا مستقبل بنے گا۔ مونگ ویراتو نے شکایت کی کہ مسلمانوں کے ایک عالم شعیب دین نے 1938 میں ایک کتاب میں لکھا کہ 21 ویں صدی میں میانمار میں مسلمان غالب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان آبادی بڑھا رہے ہیں اور ہمیں خطرہ ہے کہ وہ میانمار پر قابض ہوجائیں گے۔ اراکان کے تین شہر بوتی ٹانگ، میڈاؤ، اور پیتیڈ رنگ میں روہنجیا 98 فی صد ہیں اور ہمیں خطرہ ہے کہ وہ ان شہروں پر قبضہ کرکے اپنی اسلامی ریاست قائم کریں گے۔
ہمارے وفد نے انہیں بتایا کہ کسی کی خواہش کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کا عملی طورپر وقوع بھی یقینی ہو۔ میانمار بدھ اکثریت کا ملک ہے اور آپ کو اعتماد ہونا چاہئے کہ مفروضوں کی بنیاد پر ردعمل کے نتائج معکوس اور نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ہم نے انہیں بتایا کہ مسلمان مذہبی معاملات میں ہجری تقویم استعمال کرتے ہیں، اس لئے یہ ناممکن ہے کہ انہوں نے 21 ویں عیسوی صدی کے حوالے سے میانمار کے قبضے کی کوئی خفیہ منصوبہ بندی کی ہو۔ عملی حقائق بھی اس کے برعکس ہیں کیوں کہ اب تک مسلمانوں کی آبادی میں کوئی بڑا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ 786 کا ہندسہ ابتدائی ادوار میں مسلمانوں نے اس لئے استعمال کرنا شروع کیا تھا تاکہ کھانے پینے کے اشیاء کے حلال و حرام کی نشان دہی ہو۔ مونگ ویراتو کے ساتھ تفصیلی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ مسلسل اور بامقصد مکالمے کے ذریعے ان کے ردعمل کو کم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے مذہبی اور معاشرتی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے۔
اکتوبر 2013 میں دورۂ میانمار کے دوران ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صالح کے نام سے ایک روہنجیا مسلمان بنگلہ دیش سے اسلامی امارت اراکان کے خود ساختہ سربراہ کے طورپر کام کرتا ہے۔ علاوہ ازیں بدھ مت کے ایک فاضل عالم جو آکسفورڈ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر چکے تھے، نے یہ بھی بتایا کہ طالبان کے دور میں بامیان میں گوتم بدھ کے مجسمے کے ساتھ جو اہانت آمیز سلوک کیا گیا تھا، اس کی وجہ سے بدھ مت کے پیروکاروں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ میانمر کی صورت حال میں اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ ان متعدد عوامل نے میانمار میں اسلامو فوبیا (اسلام اور مسلمانوں سے خوف) کی کیفیت پیدا کی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ تنازعہ مزید سنجیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حل کی کوئی صورت فی الحال سامنے نہیں آرہی۔
خدشات و امکانات
میانمار کے روہنجیا مسلمانوں کی مشکلات کا مستقبل قریب میں کوئی آسان حل نظر نہیں آرہا۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ہاں تعلیم کی سخت کمی ہے اور وسیع النظر اور مستقبل بین قیادت کا فقدان ہے۔ چنانچہ جذباتی تقریروں اور نعروں کے ذریعے ان کو اشتعال دلایا جاتا ہے اور نتیجتاًراکھائن مخالفین اور ریاستی جبر کے اشتراک سے ان کے مصائب میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ روہنجیا بین الاقوامی طورپر مسلمہ لابنگ کے اصولوں سے استفادہ کریں اور اپنے ہمدردوں کی تعداد میں اضافہ کریں۔ اس وقت تو صورتِ حال یہ ہے کہ میانمار کے اندر خود غیر روہنجیامسلمان بھی ان کے حق میں آواز بلند نہیں کرتے۔ منڈالے میں مسلمانوں کا ایک گروپ پنتھے (Panthay) کے نام سے موجود ہے۔ ان کی آبادی 30 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان میں تعلیم بھی ہے اور یہ تجارت بھی کرتے ہیں۔ یہ چینی نسل کے مسلمان ہیں۔ ان کے پاس میانمار کی مکمل شہریت موجود ہے۔ ان کی مسجد کے ساتھ کانفرنس ہال بھی ہے۔ ان کے نمائندوں کے ساتھ ہمارا تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ روہنجیا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ شہریت کے حصول کے لئے اپنی جدوجہد کے طریقہ کار کو تبدیل کریں۔
میانمار میں موجودہ حکمرانوں کے متبادل کے طورپر عوام آنگ سانگ سوچی کی طرف دیکھ رہے ہیں اور وہ خاصی مقبول ہیں، لیکن وہ بھی روہنجیا کی حمایت میں ایک لفظ کہنے کے لئے تیار نہیں۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ایسا کرکے وہ اپنی عوامی حمایت میں کمی کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔ تبت کے بدھ رہنما (دلائی لامہ) نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ روہنجیا لوگوں کی مشکلات کم کرنے میں تعاون کریں۔
میانمار میں مونک ویراتو کے حامیوں اور پیروکاروں کی تعداد میں اضافے سے انکار ممکن نہیں، لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ میانمار کے عام لوگ بے حد نرم خو، پرامن اور تحمل مزاجی کی صفات سے مالا مال ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں ایسے بدھ مونک موجود ہیں جو ویراتو سے اتفاق نہیں کرتے اور میانمار کو ایک پرامن کثیرالنسلی اور کثیر المذہبی ملک کے طورپر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی قیادت ڈاکٹر آشین سیتاگو سیاگو کے ہاتھوں میں ہے۔ ڈاکٹر آشین کے پیروکاروں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے اور ان کے تعلیمی ادارے ملک کے کونے کونے میں موجود ہیں۔ روہنجیا کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹر آشین سیتاگو سیاگو کے ساتھ بہتر تعلقات کار قائم کریں اور ان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں۔
میانمار کے صدر مقام ینگون میں ایک غیرروہنجیا مسلمان یو یے یی لوین (UA Ye Lwin)مسلمانوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے درمیان بہتر تعلقات کار کے لئے بہت مفید کام کر رہے ہیں۔ وہ بین المذاہب مکالمے کے پلیٹ فارم سے خاصے فعال ہیں۔ ان کی کوششوں کی حمایت کی جانی چاہئے۔ ینگون کے بدھ حلقوں اور پالیسی سازوں میں ان کو بہت احترام حاصل ہے۔
میانمار میں 88 Generation Group ایک بہت مضبوط گروپ ہے۔ یہ ان سیاسی کارکنوں پر مشتمل ہے جنہوں نے 1988 میں فوجی حکمرانوں کے خلاف تحریک چلائی اور بے انتہا مظالم کا نشانہ بنے۔ اس گروپ کے قائدین کی جوانیاں میانمار میں قانون کی حکمرانی کی بحالی کی تحریک میں صرف ہوئیں اور وہ اب بھی ایک خوشحال معاشرے کی تشکیل کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔ روہنجیا لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس گروپ کا حصہ بنیں اور ان کی جدوجہد میں تعاون کرکے اپنے لئے مقام (space) پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
میانمار میں اکثریتی گروپ (برمن) کے رویّے سے غیرمطمئن گروپوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ان میں مونگ، کوکن، شان، چن، کائن اور کیچن خاص طورپر نمایاں ہیں۔ ان کو شکایت ہے کہ برمن اکثریتی گروپ دوسرے گروپوں کی ثقافت، تاریخ اور سیاسی جدوجہد کو نظر انداز کررہا ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں صرف برمن ہیروز کا ذکر کیا جاتا ہے جب کہ دوسرے نسلی گروہوں کو نمائندگی نہیں دی جاتی۔ ان گروپوں میں مسلمان اور مسیحی شامل ہیں۔ روہنجیا کو چاہیے کہ وہ ان گروپوں کے ساتھ قریبی تعلقات کار قائم کریں اور اپنے لئے سیاسی و معاشرتی ہمدردی کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کریں۔
میانمار کے سیاسی نظام میں فوج کو فیصلہ کن بالادستی حاصل ہے۔ فوج فی الحال اندرونی اور بیرونی دباؤ کے بارے میں بڑی حدتک غیر حساس ہے اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتی۔ تاہم چین واحد ملک ہے جو میانمار کی پالیسیوں پر صحیح معنوں میں اثرانداز ہوسکتا ہے۔ سفارتی کوششوں میں اس پہلو کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ چین کی کاشغر گوادر راہداری کے بارے میں تو ہم سب جانتے ہیں، لیکن چین کی ایک اور راہداری چین، برما، بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان بھی ہے۔ یہ راہداریاں مکمل ہوں تو یہ پورا خطہ ایک تجارتی زنجیر میں بندھ جائے گا۔ ان بڑے منصوبوں کی تکمیل کے لئے علاقائی امن کی شدید ضرورت ہے۔ چین کی خاموش سفارت کاری میں اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ روہنجیا کی قیادت کو اس صورتِ حال کا بہتر ادراک کرنا ہوگا۔ روہنجیا کی مکمل شہریت کا حق ہمیشہ کے لئے مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ وہ سینکڑوں سال سے میانمار میں آباد ہیں اور عالمی قوانین کے تحت ان کو شہریت کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لئے ان کو مؤثر اور صحیح لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔ اشتعال کے نتیجے میں تشدد اور ردّعمل کے ذریعے ان کے جائز مطالبے کو فائدہ کی بجائے نقصان ہوگا۔ حال ہی میں ہزاروں روہنجیا انسانی سمگلروں کے مکروہ کارروبار کا نشانہ بنے، جن میں کچھ مجبور اور بے کس بنگالی بھی شامل تھے۔ سینکڑوں کی تعداد میں روہنجیا اور بنگالی سمندر کی بے رحم موجوں کی نذر ہوگئے۔ روہنجیا کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ کوئی بھی ملک اب غیرقانونی مہاجرین کو پناہ دینے کے لئے تیار نہیں۔ سوشل میڈیا میں روہنجیا پر غیرانسانی مظالم کی جو تفصیلات سامنے آئیں، تحقیق پر معلوم ہوا کہ وہ مبالغہ آمیز اور غیر حقیقی تھیں۔ ینگون میں مسلمان سفارت خانوں نے ان کی تصدیق نہیں کی۔
روہنجیا کو ان کا حق مل کر رہے گا، لیکن اس کے لئے صحیح راستے کا انتخاب ضروری ہے کیوں کہ غلط راستے پر چل کر سینکڑوں سال کے سفر سے بھی منزل حاصل نہیں کی جا سکتی۔
(بشکریہ مجلہ ’’تجزیات‘‘، اسلام آباد)
مظلوم کی مدد کیجیے، لیکن کیسے؟
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
روہنگیا مظلوموں پر ظلم کے خلاف سوشل میڈیا پر بہت کچھ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امر خوش آئند ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے سوشل میڈیا کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے۔ تاہم کئی پہلووں سے تشنگی محسوس ہورہی ہے اور بعض پہلووں سے اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے ہی چند امور یہاں سنجیدہ غور و فکر کے لیے پیش کیے جاتے ہیں :
سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ روہنگیا کے بارے میں حقائق کا علم بہت کم لوگوں کو ہے۔ بالعموم ایک جذباتی فضا نظر آتی ہے جس کے زیر اثر ایک عمومی اتفاقِ رائے تو پایا جاتا ہے کہ ان پر شدید ترین مظالم ڈھائے جارہے ہیں لیکن حقائق اور اعداد و شمار کی بات کریں تو شاید ہی کہیں ان کا ذکر ہو۔
اس کا ایک نتیجہ مایوسی کی صورت میں نکلا ہے۔ اکثر پوسٹس میں اس طرح کے گلے شکوے نظر آتے ہیں کہ فلاں جگہ ظلم ہو تو پوری دنیا اٹھتی ہے لیکن مسلمانوں پر ہو تو کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ شاید یہ مایوسی بے جا بھی نہیں ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس 'کیوں' کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ٹھنڈے دل و دماغ سے سنجیدہ غور وفکر کی ضرورت ہے۔ جذباتی ردعمل اور نعروں سے اس مسئلے کا کوئی حل نہ پہلے نکلا ہے، نہ اب نکلنے کا کوئی امکان ہے۔
حقائق معلوم کیے بغیر جذباتی نعرے بلند کرنے کا ایک دوسرا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پہلے سے موجود سازشی نظریات کو مزید تقویت ملی ہے۔ کوئی عالمی استعمار، یا عالمی اسٹیبلشمنٹ کی بات کرتا ہے ، کوئی الکفر ملۃ واحدۃ کا استدلال پیش کررہا ہے ، کوئی میانمار کے ساتھ چین اور چین کے ساتھ پاکستان کے تعلق کی بنیاد پر ملکی اسٹیبلشمنٹ پر تبرا کررہا ہے ، لیکن مسئلے کا حل کوئی نہیں بتارہا۔
ان سازشی نظریات کو مزید تقویت بعض ایسی تصاویر اور ویڈیوز سے مل رہی ہے جن کی صحت مشتبہ ہے۔ فوٹو شاپ اور دیگر سوفٹ ویئرز کے ذریعے جو کرشمے پیش کیے جاتے ہیں ان کے بارے میں تو اب سکول جانے والے بچے بھی جانتے ہیں۔ نتیجتاً کئی لوگ ان تصاویر اور ویڈیوز کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں جن صحت مسلم ہے اور جن سے بجا طور پر ان مظالم کی شدت کا علم ہوتا ہے۔ ایسے میں پھر یہی ہوتا ہے کہ لوگ ان تصاویر اور ویڈیوز کے متعلق ایک طرح کی بے حسی یا لاتعلقی کا رویہ اپنا لیتے ہیں۔ اس لیے ایک گزارش یہ ہے کہ کسی بھی تصویر یا ویڈیو کو شیئر کرنے سے قبل اس کی صحت کے بارے میں ذرا تحقیق ضرور کیجیے تاکہ مظلوم کی مدد کرنے کے بجاے کہیں اس کے خلاف مزید ظلم کا باعث نہ بن جائیں۔
مایوسی اور سازشی نظریات کے ملغوبے سے ہی وہ ذہنی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو انسان کو انتہاپسندی اور عسکریت کی طرف دھکیلتی ہے۔ جب مفروضہ یہ ہو ہک نہ صرف یہ کہ سسٹم کام ہی نہیں کررہا بلکہ سسٹم ظالم کی مدد کررہا ہے اور اس کے ساتھ سازش میں شریک ہے تو پھر مظلوم کی مدد کے لیے سسٹم سے باہر ہی کوئی راستہ ڈھونڈا جاتا ہے اور اگر ہمت زیادہ ہو ، یا جذبہ شدید ہو ، تو پھر سسٹم کو ہی جڑ سے اکھاڑنے کا عزم کیا جاتا ہے۔
دوسری گزارش سوچنے سمجھنے والے دوستوں سے یہ ہے کہ روہنگیا کے مسئلے پر حقائق اکٹھے کرکے لوگوں کو آگاہ کریں کہ یہ مسئلہ ہے کیااور اس کا ممکن حل کیا ہے ؟ انھیں سمجھائیے کہ اس مسئلے کا پس منظر کیا ہے؟ اس وقت کیا ہورہا ہے؟ کیوں ہورہا ہے؟ اسے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ مسئلے کے فریق کون ہیں؟ ان کا الگ الگ موقف کیا ہے؟ ان مختلف فریقوں کے مختلف مواقف میں کم سے کم بنیادی انسانی سطح پر قدر مشترک کیا ہے جس کو بنیاد بنا کر مسئلے کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے؟ یہ ضرور سوچیے کہ "منصفانہ حل" کیا ہے؟ اس منصفانہ حل کو حاصل کرنے کی کوشش بھی ضرور کیجیے لیکن اس دوران میں "ممکن حل" کو نظرانداز نہ کریں۔ ایسا ممکن حل جسے وقتی طور پر ہی سہی قبول کرنے سے صورتِ حال کسی حد تک بہتر ہوسکتی ہے۔ یاد رکھیے کہ محض جذباتی نعرے بلند کرنے سے آپ مظلوم کی مدد نہیں کررہے بلکہ مزید ظلم کا باعث بن رہے ہیں۔
تیسری گزارش یہ ہے کہ ظالم اور مظلوم کی اس کشمکش میں مہاتما گوتم بدھ اور بدھ مت کو بخش دیجیے۔ کئی لوگوں کی وال پر اس طرح کے کمنٹس دیکھے کہ بدھ مت کو ہم امن کا مذہب سمجھتے تھے لیکن اب معلوم ہوا کہ بدھ مت کے پیروکار کتنے ظالم ہیں! اسی طرح کے استدلال کے ذریعے جب دہشت گردی کا تعلق اسلام کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو ہمارا رد عمل کیا ہوتا ہے اور ہم اس استدلال کا کیا جواب دیتے ہیں؟
چوتھی گزارش یہ ہے کہ عالمی استعمار یا سازشی عناصر کے خلاف نعرے بلند کرنے کے بجاے یہ سوچیے کہ ہم کیا ایسا کریں کہ ہماری حکومت اس معاملے میں مناسب اور مؤثر کردار ادا کرسکے؟ اس بات کی وضاحت کے لیے ایک واقعہ پیش کرنا مناسب ہوگا۔
میں ایل ایل بی کا طالب علم تھا۔ بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اس وقت واقعی بین الاقوامی بھی تھی اور اسلامی بھی۔ چنانچہ دنیا کے جس خطے میں بھی مسلمانوں پر تکلیف ہوتی تو یونی ورسٹی میں، بالخصوص کویت ہاسٹل میں، ضرور احتجاج ہوتا۔ کویت ہاسٹل کے رہائشی دنیا کے کونے کونے ہونے والے واقعات (حادثات زیادہ مناسب لفظ ہے) سے واقف ہوتے۔ انھی دنوں (1996ء کے لگ بھگ) ایک دن میں اپنے کمرے سے نکلا تو میرے کمرے کے باہر دیوار پر بڑا اسٹکر لگا ہوا تھا جس پر سرخ رنگ کا غلبہ تھا اور جلی حروف میں اس پر لکھا ہوا تھا: "امریکیو! جزیرۂ عرب سے نکل جاؤ۔"
مجھے تھوڑی حیرت تو ہوئی کہ میرا کمرہ تو جزیرۂ عرب نہیں ہے، نہ ہی میں امریکی ہوں، نہ ہی میرا کوئی روم میٹ امریکی ہے؛ ہاں ایک جنوبی افریقہ کا تھا اور ایک چین کا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے بہ آواز بلند کہا: "آپ کا کہنا مانتے ہوئے ہم نکل جاتے ہیں۔" اور اپنے کمرے سے نکل آیا!
اراکان کے مسلمان: بنگلہ دیش کا موقف
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت اور بے بسی آہستہ آہستہ عالمی رائے عامہ اور بین الاقوامی اداروں کی توجہ حاصل کر رہی ہے اور ان کی داد رسی و حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، امریکی اور برطانوی وزرائے خارجہ، ہیومن رائٹس واچ کمیشن، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں اور شخصیات کی زبانوں پر اب میانمار میں کٹنے جلنے والے مسلمانوں کے حق میں کلمہ خیر بلا جھجھک آنے لگا ہے۔ جبکہ ہمیں سب سے زیادہ اطمینان اس سلسلہ میں بنگلہ دیش کی پیش رفت سے حاصل ہوا ہے اس لیے کہ اس مسئلہ پر فطری طور ترتیب اور راستہ یہی بنتا ہے کہ بنگلہ دیش اسے اپنا مسئلہ سمجھ کر ڈیل کرے اور اس کی پشت پر پورا عالم اسلام سپورٹ کے لیے کھڑا ہو جائے۔
بنگلہ دیش حکومت کے حالیہ اقدامات اور پالیسی کا ذکر کرنے سے قبل 1978ء کے دوران اس مسئلہ پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے آرگن ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں 28 اپریل کو شائع ہونے والا ایک ادارتی شذرہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے جو راقم الحروف کا ہی تحریر کردہ ہے۔ اس سے روہنگیا مسلمانوں کے اس المیہ کی قدامت، سنگینی اور حساسیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
’’بعض اخباری اطلاعات کے مطابق برما میں مسلمانوں پر عرصہ حیات ایک بار پھر تنگ کر دیا گیا ہے اور انہیں وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رابطہ عالم اسلامی کے تین کونسلروں نے برمی حکومت کے نام ایک عرضداشت میں مطالبہ کیا ہے کہ برمی مسلمانوں کا قتل عام فورًا بند کیا جائے۔ ان کونسلروں کا کہنا ہے کہ برما کے صوبہ اراکان میں گزشتہ تیس برس سے مسلمانوں پر مسلسل مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور انہیں حج بیت اللہ کے لیے مکہ مکرمہ کا سفر کرنے حتیٰ کہ خود برما میں بھی آزادی کے ساتھ چلنے پھرنے کی اجازت نہیں ہے اور برمی مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد عملاً نظر بند ہو کر رہ گئی ہے۔
ان اطلاعات سے برما کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار کی جو عکاسی ہوتی ہے اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ برما میں مسلمان قوم کے وجود اور تشخص کو ختم کرنے کی ایک منظم کوشش کی جا رہی ہے اور یہ بات پورے عالم اسلام بالخصوص رابطہ عالم اسلامی، مؤتمر عالم اسلامی اور دیگر مسلم عالمی اداروں کی فوری اور مؤثر توجہ کی مستحق ہے۔رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے صرف تین کونسلروں کا برمی حکومت کو عرضداشت بھجوانا ایک مستحسن کارروائی ہونے کے باوجود ناکافی اقدام ہے اور ہم رابطہ عالم اسلامی کے راہنماؤں سے گزارش کریں گے کہ وہ اس سلسلہ میں مؤثر اور ٹھوس قدم اٹھائیں تاکہ برما کے مظلوم مسلمانوں کو وحشیانہ مظالم سے نجات دلائی جا سکے۔‘‘
عالمی مسلم اداروں کی خدمت میں یہ گزارش 1978ء کے دوران پیش کی گئی تھی مگر چار عشرے گزر جانے کے باوجود صورتحال میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی بلکہ اس دوران مسلمانوں کے قتل عام اور بے دخلی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ برما کے فوجی حکمران جنرل نیون کی فوجی حکومت نے اراکان کو روہنگیا مسلمانوں سے خالی کرانے کے لیے گیارہ باقاعدہ فوجی آپریشن کیے تھے جن میں ہزاروں افراد نے جام شہادت نوش کیا تھا اور لاکھوں لوگ ہجرت کر کے بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ بنگلہ دیش کی حکومت شروع سے ہی اس مسئلہ کے ساتھ منسلک ہے۔ 1978ء کے خوفناک آپریشن کے بعد برما کے فوجی حکمران جنرل نیون کے ساتھ بنگلہ دیشی حکومت نے ہی معاہدہ کر کے لاکھوں روہنگیا مہاجرین کی ان کے گھروں میں واپسی کی راہ ہموار کی تھی۔
اس پس منظر میں بنگلہ دیش حکومت کی طرف سے یہ اعلان خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اراکان سے بے دخل کیے جانے والے مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ دے رہی ہے اور ان کے لیے چودہ ہزار کے لگ بھگ پناہ گاہیں بنائی جا رہی ہیں لیکن اس کے نزدیک یہ اس مسئلہ کا صرف عارضی حل ہے جو انسانی ہمدردی کے حوالہ سے ناگزیر ہے، جبکہ اصل حل یہ ہے کہ اراکان سے مسلمانوں کی جبری بے دخلی کو رکوانے اور اب تک بے دخل کیے جانے والوں کو ان کے گھروں میں دوبارہ آباد کرانے کے لیے میانمار کی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے گزشتہ دنوں روہنگیا پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کا دورہ کر کے امدادی سامان تقسیم کیا اور اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اپنی پالیسی ان الفاظ میں بیان کی:
’’وزیراعظم حسینہ واجد نے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر میانمار (برما) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ میانمار بنگلہ دیش آنے والے اور یہاں پہلے سے موجود روہنگیا مسلمانوں کو واپس لے۔ ہم ان کی بحالی میں تعاون کریں گے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ میانمار کے حکمرانوں نے ایک مخصوص کمیونٹی پر اتنے مظالم کیوں ڈھائے ہیں جبکہ ان کا ملک مختلف کمیونیٹیز کے افراد پر مشتمل ہے۔ بنگلہ دیش طویل عرصہ سے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاج کر رہا ہے لیکن پھر بھی روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش روانہ کیا جا رہا ہے۔ خواتین کو ریپ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے ،رکھائن (اراکان) علاقے کے گھروں کو آگ لگائی جا رہی ہے۔ حسینہ واجد نے اس موقع پر بتایا کہ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ نے قرارداد منظور کی ہے کہ میانمار کی حکومت کو اپنے تمام شہریوں کو اپنے ملک واپس لے جانا چاہیے جس کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بھی میانمار حکومت پر ضابطے کے مطابق کاروائی کرنے اور انہیں واپس لینے پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور ہم بھی میانمار حکومت کے ساتھ اس کام میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جب تک وہ انہیں واپس لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہمیں انہیں پناہ دینی ہے تاکہ وہ خوراک اور ادویات حاصل کر سکیں۔ وہ انسان ہیں، ہم انہیں واپس نہیں دھکیل سکتے، ہم ایسا نہیں کر سکتے ہم بھی انسان ہیں۔‘‘
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے صورتحال کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا ہے جس پر عالمی راہنماؤں بالخصوص مسلم حکومتوں کو سنجیدہ توجہ دینی چاہیے۔ مظلوم او ربے بس مسلمانوں کو سنبھالنا اور انہیں امداد و تعاون فراہم کرنا دنیا بھر کے مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور ہمارے دینی فرائض میں شامل ہے۔ لیکن اراکان سے روہنگیا مسلمانوں کی جبری بے دخلی کو مسلسل قبول کرتے چلے جانا درست نہیں ہے اس لیے کہ برما کی حکومت اور دہشت گرد گروپوں کا اصل مقصد یہی نظر آتا ہے کہ وقتاً فوقتاً اس طرح کی کاروائیاں کر کے اراکان سے مسلمانوں کو وہاں سے کلی?ً بے دخل کر دیا جائے اور علاقہ خالی کروا لیا جائے۔ اس لیے ہمارے خیال میں بنگلہ دیش کے موقف پر سب کو توجہ دینی چاہیے اور بالخصوص عالمی مسلم اداروں اور حکومتوں کو اس سلسلہ میں بنگلہ دیش حکومت سے مکمل تعاون کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ رکوانے اور انہیں اپنے وطن میں دوبارہ آباد کرانے کے لیے منظم اور ٹھوس منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ اگر مسلم سربراہ کانفرنس اس حوالہ سے کوئی قابل عمل پروگرام اور روڈ میپ طے کرنے کا اہتمام کر سکے تو ہمارے خیال میں برمی حکومت کے لیے اسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہوگا۔
اسلامی ریاست کا خواب: کچھ جدید مباحث
عاصم بخشی
(طلال اسد کے اپنے والد کے ساتھ مکالمے کی روشنی میں)
میدانِ صحافت میں روایتی مذہب پسند دوستوں کی رائج تعریفات کے مطابق دایاں بازو مملکت خداداد کو ایک اسلامی فلاحی ریاست دیکھنا چاہتا ہے جبکہ بایاں بازو سیکولرازم کا پرچارک ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہاں ایک طرف سے اسلامی فلاحی ریاست کی تعریف پر سوال اٹھتے ہیں تو دوسری طرف سیکولرازم کی تعریف و تعبیر اور اطلاق پر سوالات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں جو حضرات کسی بھی نظریاتی گروہ کو ایک ٹھوس اکائی ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہیں درمیان میں ڈولتے رہنے کا نظریہ اپناتے ہوئے کچھ بنیادی اصولوں پر سمجھوتے کے لئے راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں، وہ اس میدانِ جنگ میں منمنانے کے سوا کر ہی کیا سکتے ہیں۔ ان منمنانے والی آوازوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مذہب کو بھی اپنی زندگی میں اہم اور دلچسپ حقیقت مانتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل بھی چاہتے ہیں جہاں مذہب کو اہمیت نہ دینے یا اپنی ذات تک محدود کرنے کا اصول اپنانے والا فرد بھی مساوی حقوق کے ساتھ ایک بامقصد اور فعال زندگی گزار سکے۔ اگر ایسی آوازوں کو بائیں بازو کی جانب دھکیل کر دیکھا جائے تو وہ مساوی حقوق اور مذہب و ریاست کی علیحدگی کے دعوے میں یقیناًسیکولرازم کے ہم نوا ہیں اور اگر دائیں بازو کی جانب دھکیلا جائے تو وہ سماج میں مذہب کی تمام آفاقی جہتوں سے استفادے کے لئے راہیں ہموار کرنے کے حامی ہیں۔
ہماری رائے میں ان روایتی مذہب پسند دوستوں کے عدم تحفظات اس لئے بے بنیاد ہیں کہ اسلامی فلاحی ریاست کی طرح سیکولرازم کے حق میں کھڑی آوازیں بھی متنوع ہیں اور اس سارے تنوع کو کسی ثنائی منطق کی رو سے علیحدہ کر کے دائیں اور بائیں جانب دھکیل دینا ہمارے سماجی منظر نامے اور اس میں ہوتے مثبت مکالمے کو مصنوعی قطبین پر وضع کرنے کی فاش غلطی ہے۔سمجھ سے باہر ہے کہ پہلے سے قائم شدہ مفروضوں پر اٹل اصرار کے بعد ان کے حق میں فکری اسلحہ جمع کرنے پر صلاحیتیں ضائع کرنا کہاں کی متانت و سنجیدگی اور روشن فکری ہے۔ اس کے برعکس ہمیں تو مکالمے کو اس طرح آگے بڑھانا چاہیے کہ تمام موجود آراء میں فکری ابہام اور پیش کئے جانے والے تجزیوں کے منطقی سقم دور ہو سکیں۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں دو قطبین فرض کر کے باہمی مناظرے نہیں بلکہ مخلوط فکری رویے رکھنے والا ایک سماج فرض کر کے باہمی مکالمے کی روایت کو فروغ دینا چاہئے۔ آخر یہ فرض کرنے میں کیا مانع ہے کہ ہم اپنی اپنی سرحدی چوکیاں چھوڑ کر ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں اور مثبت مکالمے کے ذریعے اپنی تجزیوں کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں اور اپنے فکری ابہام آشکار ہو جانے کی صورت میں ایک جرات قلبی کے ساتھ اپنی آراء سے رجوع کر سکتے ہیں؟ ہم میں سے کون ہے جس نے آج تک اپنی کسی رائے پر نظر ثانی نہیں کی؟ کون اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتا؟ مثال کے طور پر اگر تصوراتی بائیں بازو کے دوست قراردادِ مقاصد کو مساوی شہری حقوق کی راہ میں ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں تو اسلامی فلاحی ریاست کے دعویدار کیا کسی ایسی مذہبی تعبیر کی جانب پیش قدمی کر سکتے ہیں جہاں ایک عیسائی یا ہندو کو اپنے مذہبی عقائد کی ترویج و تبلیغ کی اجازت ہو، مذہبِ اسلام کے علاوہ باقی تمام مذاہب کی بنیادی اہمیت پر اتفاق کرتے ہوئے جامعات میں بین المذاہب مکالمے کی بنیاد ڈالی جا سکے، یا مختلف فرقوں کی باہمی تکرار سے بالاتر ہو کر کسی کاسموپولیٹن مدرسے کی جانب پیش قدمی کی جا سکے؟ اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر کیا مان لیا جائے کہ ہمارے دوستوں کے ذہن میں موجود اسلامی ریاست کے خدوخال ایک ایسی ریاست کے ہیں جو شہریوں میں ان کے مذہب کی بنیاد پر فرق کرنے کی قائل ہے اور ریاست میں موجود دوسرے مذہب اور اقلیتی فرقوں کو کسی ایسے مغربی ملک میں ہجرت کی کوشش جاری رکھنی چاہئے جہاں وہ نفسیاتی طور پر کوئی جبر محسوس نہ کریں؟
دائیں اور بائیں بازو کی تاریخی تعبیرات خواہ کچھ بھی ہوں، سرسری مطالعہ بھی یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت اسلامی فلاحی ریاست کے وکلاء کے ذہن میں یہ تمام سوالات مختلف شکلوں میں موجود تھے جن کے جوابات تاحال تشنہ ہیں۔ دائیں بازو کے لکھاریوں کو محمد اسد کی فکر سے رجوع کرنے کا مشورہ اس تناظر میں دیا جاتا ہے کہ وہ ان کی فکر میں سے کسی مناظرے کی تیاری کی طرح دلائل تلاش کریں۔ ہم ان لکھاریوں کا کام آسان کرنے کے لئے وہ سارے دلائل اس مشورے کے ساتھ پیش کئے دیتے ہیں کہ وہ اپنے تناظر کو کسی فکری جنگ جیتنے کے مقصد تک محدود کرنے کی بجائے محمد اسد کی فکر کا مطالعہ کھلے ذہن سے کریں، ضرورت پڑے تو ان سے اختلاف بھی کریں اور نئے مباحث کی روشنی میں اسی فکری روایت کا ارتقاء کریں جس کے امین محمد اسد اور علامہ اقبال جیسے مفکرین تھے۔محمد اسد کی کل فکر عقل، اسلامی روایت یعنی نقل اور انسانی ارادے کو ایک باہم اکائی میں پرونے کی جدوجہد سے عبارت تھی۔ وہ کوئی سیاست دان یا فلسفی نہیں بلکہ مذہبی مفکر تھے اور مذہب کے بارے میں ان کا بنیادی مفروضہ یہی تھا کہ الہامی روایت انسانی عقل کو اپنا مخاطب کرتی ہے اور محض کچھ مابعدالطبیعیاتی دعووں پر اصرار کی بجائے ایسے سوالات اٹھا دیتی ہے کہ انسانی وجدان انہیں اہم مانتے ہوئے جواب کی تلاش میں نہ صرف خود اسی روایت بلکہ نفس انسانی اور کائنات میں موجود مختلف حقائق کی جانب رجوع کرتا ہے۔
سیاست کے باب میں ان کے کتابچے ’’اسلامی مملکت و حکومت کے بنیادی اصول‘‘ میں عقل، نقل اور ارادے کی اس طلسماتی اکائی کی تلاش واضح ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ اپنے کتابچے کی ابتداء ہی میں وہ ہمیں سیکولرازم کی ایک تعریف فراہم کرنے کے بعد اس سوال سے بحث کرتے نظر آتے ہیں کہ آخر ایک سیکولر ریاست کیوں نہیں؟ ان کے نزدیک دورِ حاضر کی سیکولر ریاست میں ’’کوئی ایسا مستقل معیار موجود نہیں جس کی بناء پر حق و باطل اور نیک و بد کے درمیان فیصلہ کیا جا سکے ۔۔۔ معاصر مغربی سیاسی نظاموں جیسے اقتصادی آزادی، اشتمالیت (کمیونزم)، قومی اشتراکیت (نیشنل سوشلزم)، عمرانی جمہوریت وغیرہ میں کوئی بھی اس کشیدگی اور ابتری کو کسی ایسی چیز میں نہیں بدل سکا جو نظم سے مشابہ ہو۔ وجہ صرف یہ ہے کہ کسی نے بھی سیاسی اور عمرانی مسائل پر مستقل اخلاقی اصول کی روشنی میں غور کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس ان میں سے ہر نظام میں نیکی اور بدی کے تصور کی بنیاد اس طبقے یا اس طبقے، اس گروہ یا قوم کے مفروضہ مفاد پر ہے۔‘‘ (ترجمہ: مولانا غلام رسول مہر)
یاد رکھنا چاہئے کہ صرف یہی وہ واحد مفروضہ نہیں جس پر محمد اسد کا پورا اسلامی ریاستی ڈھانچہ کھڑا ہے بلکہ یہ ذکر کرنے کے بعد کہ کوئی مستقل اخلاقی اصول نہ ہونے کے باعث اخلاقی ضوابط کی قطعیت متاثر ہوتی ہے، وہ ہمیں اپنے دوسرے اہم ترین مفروضے سے آگاہ کرتے ہیں۔ یہ مفروضہ اصولِ راحت ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’کوئی قوم یا جماعت اس وقت تک راحت سے ہمکنار نہیں ہو سکتی جب تک اس میں حقیقی اتحاد موجود نہ ہو۔ کوئی قوم اس وقت تک متحد نہیں ہو سکتی جب تک نیک و بد کے متعلق اس کے اندر وسیع ہم آہنگی پیدا نہ ہو جائے۔ اس قسم کی ہم آہنگی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ قوم یا جماعت کسی دائمی اور مستقل اخلاقی قانون سے پیدا ہونے والے اخلاقی ضابطے پر متفق نہ ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ صرف مذہب اس قسم کا قانون فراہم کر سکتا ہے اور یہی قانون کسی گروہ کے اندر اس اخلاقی ضابطے پر اتفاق کی بنیاد بن سکتا ہے جو گروہ کے تمام افراد پر واجب و لازم ہو۔ ‘‘(ترجمہ: مولانا غلام رسول مہر)
یہ ہیں اس فکری اسلحے کے وہ دو اہم ستون جس کی طرف ہمارے کچھ صحافی دوست اپنے دائیں بازو کی لکھاریوں کی توجہ مبذول کروا رہے ہیں۔ ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ اگر آپ واقعی کسی اسلامی فلاحی ریاست میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اگلے دو تین سو سال تک مملکت خداداد پاکستان کے کسی قدیم آئینی مخطوطے پر قراردادِ مقاصد کی خشک سیاہی کو تبرک کے طور پر محفوظ رکھنا ہی آپ کا ہدف نہیں تو پھر بحیثیت مذہب پسند مفکرین آپ کے وقت کا بہتر مصرف اپنے تصوراتی فریق سے مجادلہ و مناظرہ کی تیاری کی بجائے جدید مباحث کی روشنی میں رائج مذہبی تعبیرات پر تنقید و تجزیہ ہونا چاہئے۔ محمد اسد ہوں یا اقبال، اپنے تئیں صرف کچھ ایسے اشارے فراہم کر گئے ہیں جو جدید مسلم سماج ا ور ریاست کی تشکیل میں ایک فکری پڑاؤ کا سا درجہ رکھتے ہیں کیوں کہ سماجی تشکیل کے سفر میں کبھی کوئی حتمی منزل نہیں آتی۔ نت نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ان کے حل کے لئے بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کئے بغیرفکری ارتقا بھی جاری رہتا ہے۔پھر اگر آپ دائیں بازو کے مجاہد ہیں اور آپ کی نگاہ میں آج کے دور میں محمد اسد کی فکری میراث کی اہمیت برقرار ہے تو کیوں نہ لگے ہاتھوں ان کے روشن فکر پسر طلال اسد کے کام پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے؟
یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ طلال اسد جدید لبرل نیشن اسٹیٹ اور سیکولرازم کے صف اول کے نقاد ہیں اور سیکولر ثقافت اور بشریات کے علوم میں ان کا تنقیدی کام چارلس ٹیلر کی طرح ایک ناگزیر حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم یہاں ان کے اپنے والد پر ایک طویل مضمون کے نصف آخر کا ترجمہ پیش کر تے ہیں تاکہ محمد اسد اور طلال اسد کے مابین اس مکالمے کے ذریعے اہم اسلامی ریاست کے اس خواب کو کل اور آج کے تنقیدی مباحث کی روشنی میں تجزیاتی عمل سے گزار سکیں۔ مضمون کے پہلے حصے میں انہوں نے اپنے والد کی حیات و فکر کا ایک مختصر احاطہ کیا ہے۔اقتباس طویل ہے اور محمد اسد کی فکر کی جانب تمام اشارے ذرا سی تگ و دو سے محولہ بالا کتابچے میں ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں۔ ہماری رائے میں یہ صرف بنیادی مباحث کا ایک خاکہ ہے جس کو پیش کئے جانے کے اور اس کی ناگزیر تفہیم کے بعد ہی تجزیہ و تنقید کا عمل مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔
طلال اسد لکھتے ہیں:
’’میرے والد کے لئے قانون اور اخلاقی ڈھانچے میں رتی برابر فرق نہیں، خاص طور پر مسلمانوں کے لئے جنہیں ارادہ خداوندی کے سامنے سر جھکا دینے کا حکم ہے۔ میرے والد کا ماننا تھا کہ مذہبی بنیادوں پر ایک ریاست کی تشکیل ضروری ہے کیوں کہ صرف ایک ریاست ہی قانونِ خداوندی کو وہ طاقت دے سکتی ہے جو اسے واقعتا ایک قانون بنائے اور قانونِ خداوندی ہی تمام مستند اخلاقیات اور مسرتوں کا منبع ہے۔ لیکن یہاں میں ذرا ٹھٹک کر ان سے یہ سوال پوچھتا ہوں: کیا غیرمسلموں کے لئے کسی اسلامی ریاست میں اخلاقی طور پر رہنا ممکن ہے؟ اگر ان کو ریاستی قانون کی اخلاقی طاقت کے آگے سرنگوں ہونے پر مجبور نہ کیا جائے تو ان پر اعتبار کر نے کی کیا حدود ہیں؟
اسلامی ریاست کے کئی طرفداروں کی طرح میرے والد کا بھی ماننا تھا کہ غیر مسلموں کی مکمل حفاظت ممکن بنانا تو ریاست کی ذمہ داری ہو گی، لیکن وہ اسلامی ریاست کے اہم عہدوں پر فائز نہیں کئے جا سکیں گے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ کوئی ناانصافی نہیں بلکہ اس کے برعکس اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ غیرمسلموں کو کسی ایسی ریاست کے ساتھ ’کامل وفاداری‘ (ان کے اپنے الفاظ) کے عہد میں باندھنا ناانصافی تصور کیا جاناچاہئے جس کا نظریہ ان کے نظریے سے مختلف ہو۔ بالفاظِ دیگر ریاست اہم عہدوں پر فائز افراد سے کامل وفاداری کا مطالبہ کرتی ہے اور پھر ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قومی قانون کے دائرہ کار میں ریاست کے باقی تمام شہریوں کو لائیں گے۔ چونکہ کسی اسلامی ریاست میں غیر مسلم یہ دہرا فریضہ سرانجام نہیں دے سکتے، لہٰذا اس حقیقت کا اقرار کرنا لازم ہے۔ اس سے زیادہ معقول بات او ر کیا ہو سکتی ہے؟
میں اپنا تبصرہ یوں پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے شہریوں سے حتمی وفاداری اور اتحاد کا یہ ریاستی مطالبہ کلی طور پر جدید ہے۔ تمام شہریوں کا سیاسی اتحاد اور ریاست سے غیرمشروط وفاداری کا مطالبہ ’نیشن اسٹیٹ‘ کے وہ اصول ہیں جو اپنے دشمنوں سے دفاع کی خاطر وضع کئے گئے ہیں، چاہے وہ دوسری دشمن ریاستیں ہوں یا اپنے ہاں کے غدار۔ یہ وہ اصول ہیں جو ماقبل جدید دور کی ریاستیں نہ تو طلب کر سکتی تھیں اور نہ ہی طلب کرنا چاہتی تھیں۔ ماقبل جدید دور کی شاہی ریاستوں کے لئے عام شہریوں کی بجائے شرفاء، جرنیلوں اور گورنروں کی وفاداری اہم تھی۔ چونکہ جدید ریاست کی اساسی علت اندرونی و بیرونی دشمنوں کا خوف ہے، لہٰذا وہ اتحاد کے مطالبے کے لئے طاقت کا استعمال کرتی ہے۔ جہاں کوئی بھی فرد یا شہری وفاداری کے اس معیار پر پورا نہیں اترتا، ریاست اس فرد کے شکوک و شبہات اور اختلافات سے قطع نظر اسے بزورِ طاقت وفاداری پر مجبور کرتی ہے۔ اس حالت میں دوسرے سیاسی سماج اس کے واقعی یا امکانی دشمن بن جاتے ہیں اور کوئی بھی ایسی ریاست جس کی بقا بالاترین اہمیت کی حامل ہو،اپنے دفاع کے لئے ہر ممکن اقدام کر گزرے گی۔
اب جدید ریاست کی ہر جہت بھی اتنی شاندار نہیں۔
جدید لبرل ریاست ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو ایک ہی وقت میں بہت سے مشترکہ مفادات کا حصول بھی ممکن بناتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہر ممکن ظلم و جبر کا منبع بھی ہے۔ حاکم اور محکوم ریاست سے علیحدہ کھڑے نظر آتے ہیں، وہ آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ریاست لافانی رہتی ہے۔ حکومتی ڈھانچہ ریاست کے اتحاد کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان شہریوں کی نمائندگی کرتا ہے جن کی وہ ریاست ہوتی ہے۔ شہریوں کو مخاطب کرتے وقت ریاست انہیں قائل کرنے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ قوانین کے ذریعے ’قومی مفاد‘ کو لاگو کرتی ہے اور ان تمام وسائل کی مالک ہوتی ہے جو نافرمانوں کی سرکوبی کرنے کے لئے درکار ہوتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اس قانون کی تقریباً لاانتہا تعبیرات کی جا سکتی ہیں لیکن لاگو کی جانے والی تعبیر ریاست کے عدالتی بازو کے حکم کے مطابق ہوتی ہے۔ یہاں کسی مخصوص تعبیر کا بطور قانون نفاذ ہی تشدد کی کسی بھی شکل کو جواز بخشتا ہے۔ ریاست کا تشدد پر اختیار اور نظم و ضبط قائم رکھنے والا مرکزی انتظامی ڈھانچہ اسے وہ طاقت مہیا کرتے ہیں جو کوئی شہری کسی بھی طور مجتمع کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔یہ سچ ہے کہ لبرل سیکولر ریاست اختلافِ رائے اور مشترکہ رائے عامہ کی ہمواری کا حق دیتی ہے، لیکن کوئی بھی ریاست (اپنے حکومتی ڈھانچے ) کے ذریعے اضطراب انگیز توہین کی اجازت نہیں دیتی کیوں کہ یہ اس کے مقدس وجود کے لئے ایک خطرہ ہوتا ہے۔
یہ بالکل حیران کن نہیں کہ کچھ مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ ریاست سے کامل وفاداری (اور جدید ریاست کامل غیر مشروط وفاداری کا مطالبہ کرتی ہے) اس حتمی وفاداری سے باہم متناقض ہے جو وہ صرف اور صرف خدا کو دینے کے مجاز ہیں۔ بہت سے دوسرے مسلمانوں کی طرح میرے والد بھی خدا کو اس کی مخلوق میں تلاش کرنے کو شرک سمجھتے تھے۔ اور جدید ریاست تو اس کی مخلوق کی تخلیق ہے۔ لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی مخلوق کی تخلیق سے حتمی وفاداری خود خدا سے وفاداری سے مقدم ٹھہرے؟ لہٰذا مجھ پر کبھی پوری طرح واضح نہیں ہو سکا کہ میرے والد نے کیسے اسلامی ریاست کو حتمی وفاداری طلب کرنے کا حق دیا، خاص طور پر اس وقت جب کلمہ شہادت، خدا اور اس کے رسول سے حتمی وفاداری کے علاوہ ارضی حکمرانوں اور ارضی تنظیموں کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔
کارل شمٹ کے ’مقتدر اعلیٰ‘ کے مشہور نظریے کے برعکس جو ایک سیاسی الٰہیات کی تشکیل کرتا ہے، سلف صالحین کی روایت میں تو ریاست کو کسی سیکولر الٰہیاتی تصور کے ذریعے جواز مہیا نہیں کیا جا سکتا۔یہ وہی علت قیاس ہے جو شمٹ کے مقتدر حکمران کے قانون میں استثناء متعین کرنے اور خدا کے قوانینِ فطرت میں دخل انداز ہو کر معجزے برپا کر دینے کی قابلیت کے درمیان ہے۔ اس اسلامی روایت میں خدا کو ایک آسمانی بطریق (جیسے جدید یوروپی روایت کے دورِ اول میں بادشاہوں کو ظلِ الٰہی کا حق دیا جاتا) یا کسی آسمانی عہد کے خالق (جیسے جدید سیاسی فکری تشکیل کے اوائل میں سماجی معاہدہ تھا)کے طور پرمتصور نہیں کیا جا سکتا۔ کلاسیکی اسلامی روایت میں ’مقتدرِ اعلیٰ‘ کے سیاسی نظریے کی غیرموجودگی ہی کا ایک جزو یہ بھی ہے کہ جدید ریاست اپنے شہریوں سے حتمی غیر مشروط وفاداری کا تقاضا نہیں کر سکتی۔ عصر حاضر میں اسلامی ریاست کے کئی طرفدار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ریاست خدا کے نام پر حتمی مقتدر اعلیٰ ہو سکتی ہے۔ لیکن چونکہ نص قرآنی سے ثابت ہے کہ پوری کائنات خدائی اقتدار کے تابع ہے، کوئی ریاست ایک سماجی معاہدہ ہوتے ہوئے کیوں کر یہ خاص حق رکھ سکتی ہے کہ اپنے شہریوں سے حتمی وفاداری کا تقاضا کرے؟ ظاہر ہے کہ جب کوئی ریاست ہی الٰہیاتی مقتدرِ اعلیٰ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی تو پھر کسی اسلامی ریاست کا نمائندہ کیوں کر ایسے کر سکتا ہے؟ ریاست یقیناًہماری عصر حاضر کی دنیا میں کئی ایسے افعال کے باعث ناگزیر ہو گی جو صرف وہی انجام دے سکتی ہے، اور اس حد تک بھی کہ وہ فعال اور منصفانہ طریقوں سے اپنے شہریوں کی تائید حاصل کرے بلکہ ان غیرملکیوں سے بھی جو اس کے علاقے میں رہ رہے ہو یا سفر میں ہوں۔ لیکن اسلامی روایت کی رو سے ریاست کوئی الٰہیاتی منصب نہیں اپنا سکتی کیوں کہ شمٹ کے استدلال کے برعکس، جو عیسائی تاریخ سے دلیل لاتا ہے، اسلامی ریاست خدا کے منہ سے بولنے پر اصرار نہیں کر سکتی۔ یہ مخلوق ہے، نہ کہ خالق۔
یہ کہا جاتا ہے کہ اسلامی ریاست کے غیرمسلم شہری اس سے حتمی طور پر وفادار نہیں ہو سکتے، جب کہ میرا استدلال ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ وفادار ہو سکتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ کسی اسلامی ریاست میں ایسی حتمی وفاداری کا تصور ہی مشکوک ہے۔ لیکن آخر اس کے علاوہ اور ایسا کیا ہے جو ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلم نہیں کر سکتے؟ میرے والد کا کہنا تھا کہ اسلامی ریاست میں تمام شہریوں بشمول غیرمسلموں کو کھلم کھلا اختلافِ رائے اور حکومت پر تنقید کا حق ہو گا۔ لیکن ایک اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری کس حد تک اس حکومت پر تنقید کر سکتے ہیں جو صحیح معنوں میں ان کی حکومت ہی نہیں؟ یہ صرف خوف کا نہیں بلکہ ان کے ریاست میں عمل دخل کا بھی معاملہ ہے۔ ایک جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اسلامی ریاست پر فرض ہے کہ وہ اپنے غیر مسلم شہریوں کی حفاظت کرے اور انہیں رائے اور ’عقیدے‘ کی اجازت دے۔لیکن ہر شہری کو یکساں تحفظ دینے کے معنی عوامی زندگی میں یکساں طور پر کردار ادا کرنے کے نہیں ہیں۔اسی لئے جب ہم کہتے ہیں کہ بالغوں پر بچوں کی حفاظت فرض ہے تو اس کے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بچے کو بڑوں کی طرح زندگی گزارنے کا حق دے دیا گیا ہے۔ کیا اسلامی ریاست میں غیرمسلموں کو بچوں جیسا تحفظ دیا جائے گا؟ یا ان کی کسی ایسی ریاست کی جانب ہجرت کے لئے حوصلہ افزائی کی جائے گی جہاں مسلمان اکثریت میں نہ ہوں؟ بات یہی ہے کہ ریاست ’ان‘ کی تو نہیں، کیوں کہ غیرمسلم شہری ہونے کے ناتے وہ حقیقت میں تو اس کی نمائندگی نہیں کر سکتے، بالکل اسی طرح جیسے اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی نمائندگی ایک یہودی ریاست نہیں کر سکتی، چاہے وہ مسلمان ہوں یا عیسائی۔
لہٰذا میں پورے احترام کے ساتھ اس معاملے پر اپنے والد سے اختلاف کرتا ہوں اور اپنے اختلاف کے لئے اسی حدیث مبارکہ کو پیش کرتا ہوں کہ ’’میری امت میں علماء کا اختلاف رحمت ہے‘‘، کیوں کہ ہم دونوں ہی اسلامی روایت کے عالم ہیں ،گو وہ یقیناًمجھ سے علم و فضل میں کہیں آگے تھے۔
لیکن میری رائے میں اس کے باوجود میرے والد کے ایک اسلامی ریاست کے لئے استدلال میں ایک ایسا اہم پہلو تھا جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: یہ سیاسی زندگی میں مذہب اور اخلاقیات کا عمل دخل ہے۔ اس کے لئے ہمیں سب سے پہلے ریاست اور سیاست میں امتیاز قائم کرنا ہو گا، جہاں اول الذکر کا تعلق طاقت کے استعمال اور وفاداری کے مطالبے (جہاں سے غداری کے خلاف قوانین کا استدلال کیا جاتا ہے) یعنی ناگزیر طور پر خوف سے ہے۔ یہ خارجی و داخلی تشدد کا خوف ہے۔ قانونی سزائیں اور جنگ مقتدر ریاست کے مرکزی افعال ہیں۔سب جانتے ہیں کہ ریاست کا یہ تصور تھامس ہوبس کا دیا ہوا ہے اور جدید ریاست کے بارے میں یوروپی روایت کا نکتہ آغاز ہے۔ دوسری طرف سیاست کے معنی مباحثے، جدوجہد اور مساوات کے حصول کے ہیں، کیوں کہ جو بھی میرے کسی دعوے سے اختلاف کرتا ہے، وہ دراصل میرے برابر ہونے کا دعویٰ ہی کرتا ہے۔ سیاست کے لئے ریاستی طاقت کے حصول کو مرکز و محور مان لینا ضروری نہیں۔ صرف اقتدارِ اعلیٰ کا تصور ہی یہ مطالبہ قائم کرتا ہے کہ سیاست کا مرکز و محور ریاست ہی ہو۔
کیا صرف مادی مفاد اور طاقت کا حصول ہی ارفع رہے گا یا اخلاقیات اور مذہب کو بھی عوامی زندگی میں کوئی جگہ مل سکے گی؟ یہاں تک کہ’’امربالمعروف‘‘ کا مشہور عقیدہ بھی کسی ریاست کو پیش قیاس نہیں کرتا اور ’’لااکراہ فی الدین‘‘ کا مطلب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ریاست کو مسلمانوں پر جبری عقیدے اور رسوم و قیود کے نفاذ کا حق مل گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تاریخِ اسلام میں حکمران اکثر اپنی حکومت کا یہی جواز پیش کرتے رہے ہیں کہ وہ اندر اور باہر اسلام کے دفاع کے قابل ہیں، لیکن تاریخ کی ہر چیز اس لئے تو تسلیم نہیں کر لی جاتی کہ وہ تاریخی ہوتی ہے۔ تاریخِ اسلام میں امر بالمعروف کو اکثر ریاست کی ذمہ داری مانا جانا خود بخود اس پر دلالت نہیں کرتا کہ مسلمانوں کے پکے مسلمان ہونے کے لئے آج بھی اس انتظامی معاملے کو ماننا ضروری ہے۔ اخلاقیات ریاست کا فعل بنے بغیر بھی سیاست کا حصہ رہ سکتی ہے۔
عصر حاضر کے لبرل سیاسی فلسفے میں ذاتی اور عوامی دائرے ایک دوسرے سے واضح طور پر ممیز ہیں (اس وقت بھی جب حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا)، بالکل اسی طرح جیسے قانون اور اخلاقیات میں ایک دوسرے سے فرق کیا جاتا ہے (حالانکہ اصل زندگی میں وہ ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں)۔ نتیجتاً سیاست کو اخلاقی تناظر میں ایک ایسا غیرجانبدار ضابطہ مانا جاتا ہے جو سیکولر ریاست کے ذریعے پابندیوں کے تابع کیا جاتا ہے اور مذہب کو خیال و عمل کا ایک ایسا میدان جہاں حتمی وابستگیاں اور اقدار ذاتی دائروں میں محدود ہوتی ہیں۔ اخلاقی اور مذہبی اقدار کو ان بنیادوں پر ریاستی انتظام سے باہر رکھا جاتا ہے۔ باہمی اختلافات عقلی استدلال کے ذریعے حل نہیں کیے جا سکتے اور ناقابل ضبط تشدد کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔ لہٰذا لبرل تھیوری اخلاقی اور مذہبی اقدار کو ذاتی اقلیم تک محدود کر دیتی ہے جہاں باارادہ شہریوں سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مذہبی عقائد کے مطابق اخلاقیات پر عمل پیرا رہیں۔ لیکن میں ان نقادوں کے ساتھ ہوں جو اس مفروضے کو چیلنج کرتے ہیں کہ ایک سیکولر ریاست امن کی ضامن ہے اور سیاست میں مذہبی مداخلت جنگ اور امن عامہ کے مسائل پیدا کرتی ہے۔
میرا ان سب لوگوں سے یہ سوال ہے جو ریاست کو عوام کی اخلاقیات میں دخل اندازی کا حق دینے میں تو متامل ہیں لیکن جو پھر بھی اس لبرل اصول سے اختلاف رکھتے ہیں کہ قومی سیاست میں مذہب اور اخلاقیات کو داخل نہ کیا جائے: کیا اخلاقیات اور مذہب کو عوامی زندگی میں اس طرح داخل کیا جا سکتا ہے کہ وہ اقتدار اعلیٰ کے تحت نہ ہوں، لہٰذا نہ تو ریاست کو قابو میں کر لیں اور نہ ہی اس میں حصے دار ہوں؟ میری رائے یہی ہے کہ یہ مسئلہ بھی جزوی طور پر میرے والد کے پیش نظر تھا۔اسلامی ریاست کے متعلق ان کے خیالات کی تہہ میں اخلاقیات سے ان کی دلچسپی ہی کارفرما تھی۔ لیکن میری رائے میں وہ سیاست اور ریاست میں فرق کے بارے میں اپنے خیالات ظاہر نہیں کر سکے۔
سیاست کو ’قومی مفادات‘ متعین کرنے سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اسے سماج میں ایسے فکری و عملی اقالیم کی تخلیق کو ممکن بنانا چاہیے جو مقتدر ریاست کے اختیار سے باہر ہوں اور ایسی اصولی وابستگیوں سے راہنمائی حاصل کرنی چاہئے جو ’قوم‘ کے تصور سے بالا ہوں۔ ان اقالیم میں موجود محکوم شہری نہ صرف ریاست سے فرار حاصل کر سکیں بلکہ اگر ضرورت پڑے تو مذہبی یا اخلاقی اصولوں کی روشنی میں اس کی نافرمانی اور سامنا بھی کر سکیں۔ یہ اصول ریاست کے سیاست پر اثرانداز ہونے کے اصرار کا انکار کرتا ہے۔
مذہب تاریخی اعتبار سے ہمیشہ اصولی طرزِ عمل کا ایک اہم منبع رہا ہے اور آج بھی ہے۔ لہٰذایہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے سیاسی اسلام کے امکانات ریاستی طاقت کے حصول اور ریاستی قانون کے اطلاق کی خواہشات میں نہیں بلکہ عوامی بحث وتمحیص اور تحریک و ترغیب میں ہیں، یعنی ایک ایسی جدو جہد جس کی راہنمائی وہ گہری وابستگیاں کر رہی ہوں جو نیشن اسٹیٹ کی حدود سے ماورا ہوں۔ اس تناظر میں سیاست کچھ پہلے سے متعین آراء کے مابین دنگل نہیں بلکہ ایک دریافت (دریافتِ نو) کا اقداری سلسلہ ہے۔ یہ ایک ایسی کشادگی اور خطرہ مول لینے کی تیاری کو پیش قیاس کرتی ہے جس کو جدید نیشن اسٹیٹ برداشت نہیں کر سکتی۔ میں اپنے والد کی اخلاقی بصیرت اور اس کے ریاست و سیاست سے تعلق کے بارے میں ایک ایسے بنیادی نکتے پر بات ختم کرتا ہوں جو مجھے خاص طور پر اہم محسوس ہوتا ہے۔
انہوں نے ایک سے زیادہ بار بہت جذباتی انداز میں میرے سامنے سورۃ التکاثر کی تلاوت کی: ’’الھاکم التکاثر حتی زرتم المقابر۔۔۔‘‘ وہ کہتے تھے کہ یہ آیات بے انتہا صارفیت (کنزیومرزم) اور حرص کی ملامت کرتی ہیں جس میں انسان (خاص طور پر ہمارے زمانے میں) پھنس چکا ہے۔ وہ آیات جو علم الیقین اور لترون الجحیم کی بات کرتی ہیں، ان کا مقصد ہمیں صرف آخرت کی سزا سے ڈرانا نہیں بلکہ اس جہنم سے بھی خبردار کرنا ہے جو اس دنیا میں ہے۔ میرے والد ان آیات سے یہ استدلال کرتے تھے کہ اگر ہم واضح طور پر حق کو دیکھ لیں تو ہمیں اپنی گروہی زندگی کی جہنمی جہت کا ادراک ہو جائے گا یعنی وہ نقصان جو ہم خود کو اور دوسروں کو پہنچاتے ہیں۔ یہ ان کے لئے ایک مرکزی اخلاقی نکتہ تھا اور یہ شاید ایک اسلامی سیاست کا نکتہ آغاز بھی ہے: مسلمانوں کے لئے یہ ایمان لانا ضروری ہے کہ حرص بطور ایک گروہی طرزِ حیات (یعنی زیادہ سے زیادہ کی خواہش) اور نمود ونمائش بطور ایک انفرادی طرزِ حیات (جہاں نفس انسانی اور صارفانہ انتخابات کے ڈرامائی مظاہر کو اخلاقی خودمختاری سے خلط ملط کر دیا جاتا ہے) نے مل جل کر لوگوں کو اس چیز سے دور کر دیا ہے جسے وہ ’خدا خوفی‘ یا ’تقویٰ‘ کہتے تھے، یعنی ہمارے ایک خاص طرح زندگی گزارنے کے معروضی نتائج کی آگہی (معاشروں میں بڑھتی ہوئی عسکریت، امیر اور غریب میں بڑھتے ہوئے فاصلے، ماحول کی تباہی وغیرہ)۔
تاہم یہ حقیقت ہمیشہ نظرانداز کر دی جاتی ہے کہ عصر حاضر میں ہمارے طرزِ حیات کی مرکزی شرطِ لازم ایک مخصوص قسم کی ریاست پر منحصر ہے جو نہ صرف حتمی وفاداری کا تقاضا کرتی ہے بلکہ صارفیت اور انفرادیت پسندی کو باقاعدگی سے بڑھاوا دیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں سیکولر لبرل ریاست ایک ایسی متناقضہ قدر کی پشت پناہی کرتی ہے جس کے مطابق مارکیٹ کی شکل میں ’آزادی‘ اور اس کے پھیلاؤ کو ممکن بنانے والے قوانین ، ہر لمحہ زندگیوں میں دخل انداز ہوتے ان باہمی سلامتی کے قوانین سے پوری طرح مطابق رہتے ہیں۔ لہٰذا ریاست ’آزادی‘ کے تحفظ کی خاطر اس پر قدغن لگاتی ہے۔ جہاں تک ریاست کی ایک نیو لبرل معیشت (مارکیٹ کے اصولوں کا پورے سماج پر اطلاق، ملکیت کی نج کاری، مفادات کی آزادانہ تقسیم، اور ایک بڑھتی ہوئی غیرمتوازن دنیا میں منافع کی بے قابو طلب) کی پشت پناہی کا سوال ہے، اسلامی سیاست ریاست کو کسی مخصوص’’ مذہبی‘‘ نظریے سے بدلنے کی بجائے اس کی حدوں سے باہر، بلکہ اس کے مخالف فکری اقالیم میں قدم رکھنے کی جستجو کر سکتی ہے۔ عالمگیر سرمایہ دارانہ رجحانات کے نام نہاد ’مقتدر‘ ریاست کے دائرہ کار پر بہت زیادہ اثرات ہیں، چاہے ریاست اسلامی ہو یا سیکولر۔ اس حالت میں اسلامی سیاست کی ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ وہ چنیدہ غیر اسلامی تحریکوں اور ایسی فکری روایات سے اتحاد قائم کرے جو ریاست کی قومی حدود کے اندر بھی ہوں اور باہر بھی۔
عدل و انصاف اور اخلاقی بنیادوں پر عوامی مفاد کا حصول حد سے بڑھے ہوئے ایسے مادی فوائد کے حصول سے متضاد ہے جن کی بنیاد یہ ہو کہ دوسروں کی دیکھا دیکھی اپنی ملکیت میں بڑھوتی کی جائے۔ یہ ایک ایسی پر امن سیاسی جدوجہد ہو گی جس کی بنیاد اس اصول پر ہو کہ موت کے خوف کے باوجود بھی اخلاقی اصولوں پر جمے رہنا لازم ہے۔ اس قسم کی سیاست لبرل ریاست کے سیکولر غیرجانبداری کے دعوے کو قبول نہیں کرے گی۔ اس تناظر میں سیاست لبرل جمہوری ریاست کے اقتدار اعلیٰ اور طاقت کی بجائے جمہوری اخلاقی روایت کی بنیادی قدر کے دفاع اور پھیلاؤ کی خواہش سے جنم لے گی۔
اس ’جمہوری اخلاقی روایت‘ اور ’حقیقی جمہوریت‘ میں کیا فرق ہے جس کے بارے میں آج کل بہت بات ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب یہاں مکمل طور پر تو نہیں دیا جا سکتا، لیکن ان کا فرق ظاہر کرنے کے لئے کچھ نکات ضرور پیش کئے جا سکتے ہیں: جب ہم جمہوری اخلاقی روایت کی بات کرتے ہیں تو اکثر ہماری مراد ایک باہمی مروت اور لحاظ کی ہوتی ہے، یعنی دوسروں پر محض حکم نہ چلانا بلکہ ان کی رائے کا احترام اور جذبہ ایثار۔ جمہوری اخلاقی روایت میں فرد کو ہر لمحہ اپنی متناہیت، زدپذیری اور بکھر جانے کا احساس ہوتا ہے۔ دوسروں کے کرب اور بکھراؤ کا منظر دردمندی کو دعوت دیتا ہے۔ یہاں اپنا کرب صرف مشکل میں ہونے کی علامت نہیں بلکہ درد و کرب کو عظمت بخشے بغیر ایک مثبت زندگی کی علامت بھی ہے۔ دوسری طرف جب ہم لبرل جمہوری ریاست کو دیکھتے ہیں تو اس کی شکل میں ہمیں حقوق کا ایک ایسا محافظ نظر آتا ہے جس کی توجہ کا مرکز گروہی شناخت ہے۔ یہاں ہمیں ایک ٹھوس اکائی، تمام شہریوں کے قانونی تحفظ اور ریاست کے بنیادی طور پر اصولِ تحفظ کے گرد گردش کرنے کا ادراک ہوتا ہے۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ریاست حاکموں اور محکوموں سے الگ کھڑا ایک ڈھانچہ ہے جو قومی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دے سکتی ہے اور اپنے قومی مفادات کے دفاع میں جنگ چھیڑ سکتی ہے۔ ایک عوام کی نمائندہ جمہوریت میں فرد، فطرت اور دوسرے افراد کے تشدد سے محفوظ رکھے جانے کی ایک شے ہے اور مقتدر اعلیٰ کا تشدد پر کلی اختیار مقاصد کی رسائی کا ایک طریقہ کار۔ نیشن اسٹیٹ تمام شہریوں کے خوف سے نمٹنے کے لئے انہیں تحفظ فراہم کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ’ریاست کے ارفع مقصد‘ کی خاطر قربانی کے ذریعے ایک قسم کی لافانیت بھی عطا کر تی ہے۔ یہاں فرد کی ذات کی قربانی ریاست کا وہ مطالبہ ہے جو وہ کسی فرد کے دوسروں کے لئے اخلاقی جذبہ ایثار کے اصول کے تحت نہیں بلکہ تمام شہریوں کی بالادست نمائندگی کے ذریعے کرتی ہے۔ میں دہراتا ہوں: یقیناًیہ جدید نیشن اسٹیٹ کا واحد فعل نہیں، ظاہر ہے کہ وہ امن عامہ اور قوانین کا نفاذ اور فلاح و بہبود (اکثر آخرالذکر کی نسبت اول الذکر زیادہ ہوتا ہے)بھی کرتی ہے، لیکن صرف ایک غیرمسلح جدوجہد ہی بطور ایک مذہبی و اخلاقی فعل (جہاد) کے، درست طور پر مشترکہ مفادات کے تحفظ کا بار اٹھا سکتی ہے اور عصر حاضر کی عالمگیر تباہیوں کا مقابلہ کر سکتی ہے، ایک ایسی جدوجہد جو موت کے خوف کے بغیر کی جائے، لیکن موت کے لئے نہ ہو۔
اس تناظر میں سیاست کوئی ایسا سماجی ضابطہ نہیں جس کا مقصد مشہور لبرل نظریہ ساز جان رالز کے مطابق ’’انصاف بطور حسن توازن‘‘ ہو۔ میری رائے میں ایک اسلامی سیاست کے ممکنہ مقاصد اپنے ہم سخنوں کو یہ دعوت دینے پر منحصر ہیں کہ وہ اپنی انفرادی اور گروہی زندگی کو بہتر اخلاقی سمت میں لے کر جائیں۔سیاسی ترغیب کا عمل اپنے سامعین میں کچھ مخصوص جذبات و احساسات کو پیش قیاس کرتا ہے اور اس شخص کے کردار کا عکس ہوتا ہے جو ترغیب و تبلیغ کی جستجو کر رہا ہے اور اس کا بھی جو واقعتا کہا، کیا اور دکھایا جا رہا ہوتا ہے۔ یہ جذبات و احساسات اور کردار کی خصوصیات مل جل کر فیصلہ کریں گی کہ ایک اسلامی سیاست کے ممکنہ امتیازی اہداف کیا ہیں۔ یہ ریاستی تعریف کے تناظر کی طرح کوئی سکڑی ہوئی ’’سیاست‘‘ نہیں اور نہ ہی اس کا تعلق محض کچھ قومی پالیسیاں وضع کرنے سے ہے جو شہریوں پر بطور قوانین نافذ کر دی جائیں۔ یہ کسی رسمی لفظی بحث تک بھی محدود نہیں۔ یہ سیاست تو غیرمسلموں اور مسلمانوں سے شائستہ تعلقات اور دوستی کے رشتوں کی تشکیل سے متعلق ہے، اس میں مکالمے و مباحثے کے ساتھ سماعت اور اس کے نتیجے میں اپنی رائے کی تبدیلی کی قابلیت بھی شامل ہے۔ یہ سیاست نام کے مسلمانوں اور نام کے غیرمسلموں دونوں کو اپنا مخاطب بناتی ہے اور انہیں دعوت دیتی ہے کہ وہ ایک حالت سے دوسری کی جانب تبدیلی ممکن بنائیں۔
اس سیاست کے بارے میں اولین اہم مشاہدہ اس کا، کارل شمٹ کی بااثر تعریف سے فرق ہے جو ’’دوست یا دشمن‘‘ والی ثنویت کے تناظر میں کی گئی ہے اور مقتدر ریاست کے تصور کے ساتھ مضبوطی سے منسلک ہے۔ مجھے یہ واضح محسوس ہوتا ہے کہ ایک اسلامی سیاست کا تصور ہماری توجہ ایک ایسی اسلامی ریاست کے پراجیکٹ سے دوسری جانب مبذول کرا دے گا جو اپنی ماہیت میں جدید ریاست سے کسی درجے میں مختلف نہیں۔ میرا یہ ماننا ہے کہ یہ تناظر بھی میرے والد کی حیات و افکار میں مضمر ہے۔ اسی لئے یہ بھی ان کی علمی میراث کا ایک اہم جزو ہے۔ یقیناًیہ ’اسلام اور مغرب کے درمیان مکالمے‘ کے تصور سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے جس کا آج کل بہت فیشن ہے۔ اس نام نہاد ’تہذیبی مکالمے‘ کی بنیاد دو مفروضوں پر ہے: (الف) کہ مسلمان یوروپی اقوام اور شمالی امریکیوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کریں کہ اسلام تشدد کا منبع نہیں اور (ب) مغربی اقوام اسلام کی تشکیل نو میں مدد کریں۔ یہ ایک بہت منکسر تصور ہے۔ یقیناًمسلمانوں کو دوسرے معاشروں اور روایات کی جانب توجہ کرنی چاہئے اور ان سے سیکھنا چاہئے، بالکل اسی طرح جیسے ہمیں امید ہے کہ مغربی اقوام بھی اسلامی فکر اور تجربے سے کچھ سیکھیں گی (حالانکہ ان میں سے بہت سے اس کی خواہش نہیں رکھتے)۔ جہاں تک تشکیلِ نو کی بات ہے تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اسلامی تشکیل نو کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا خود مذہب اسلام۔ ظاہر ہے کہ عصر حاضر میں بھی یہ سلسلہ جاری رہنا ضروری ہے۔ لیکن میرے ذہن میں اس تشکیل نو کی تاثیر جزوی طور پر عین اسی وقت مغرب میں ہونے والی تشکیل نو پر منحصر ہے۔ آخرکار ہم ایک باہم مربوط دنیا کے باسی ہیں۔‘‘ (ترجمہ : عاصم بخشی)
ہماری رائے میں طلال اسد اور ان کے والد کے درمیان یہ فکری مکالمہ کئی اعتبار سے چشم کشا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کچھ مزید ٹھوس سوالوں پر مشتمل ایک ایسا ہی فکری مکالمہ جاوید اقبال بھی اپنے والد کے ساتھ ایک خط میں کر چکے ہیں۔ پھرجہاں ایک جانب اس میں مولانا مودودی جیسوں کی’’تعبیر کی غلطی‘‘ پر مولانا وحید الدین خان کے نصف صدی قبل اٹھائے گئے اعتراضات کی خالص مذہبی بنیادوں پر بازگشت سنائی دیتی ہے، وہیں ریاست و سیاست کے مغربی فلسفوں میں ایک ناگزیر ارتقاء کی روایت کے بارے میں بھی معلوم ہوتا ہے۔ مغرب میں یہ وقت ایک سیکولر بشریات ( Secular Anthropology) کی فکری تشکیل کے اولین ادوار کے بعد اب ایک اسلامی بشریات (Islamic Anthropology ) کی تشکیل کا دور ہے، جہاں پسِ استعمار اٹھنے والے مباحث و نظریات کی روشنی میں نئے سوالات مرتب کئے جا رہے ہیں۔ اس زمانے میں ہمارے ہاں مباحثے کے غالب موضوعات اس قسم کے ہیں کہ کیا لبرل ازم کے معنی ’فحاشی و عریانی‘ اور مادر پدر آزادی کے ہیں اور کیا سیکولرازم کی بات کرنا سماج میں لادینیت کو فروغ دینے کے مترادف ہے؟ہمارے فکری بانجھ پن کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو گی کہ ہمیں اب تک سماجی مباحثے کے درست موضوع کے انتخاب کا مسئلہ درپیش ہے۔
ایسے میں اگرمذہب پسندوں کے ایک مخصوص طبقے کی تعریفوں کے مطابق بایاں بازو سیکولرازم کو بطور نظریہ اپنانے کی بات کرتا ہے تو شاید اس کے بنیادی معنی صرف جدید ریاست کی ایک مخصوص مغربی تعریف یعنی’’ لبرل جمہوریت‘‘ کو فرض کرتے ہوئے مساوی شہری حقوق اور ریاست کے کسی خدائی تعبیر کو اپنا کندھا فراہم نہ کرنے کا مطالبے سے زیادہ کچھ نہیں۔ جواب میں دائیں بازو کے دوستوں کے پاس مودودی صاحب وغیرہ جیسے بزرگوں کے اقتباسات کے علاوہ کچھ نہیں جو ان میں سے کچھ کے بقول دندان شکن استدلال کی معراج ہیں۔ مکالمے کا یہ اسلوب اگر نہایت مضحکہ خیز نہیں تو حیرت انگیز ضرور ہے جس پر کسی فکری دنگل کا سا گمان ہوتا ہے۔دائیں بازو کے کچھ دوست ایسے ہیں جو ہمارے سماج میں لبرل ازم اور سیکولرازم کی وکالت کو کسی ایسی قیامت کے برابر تصور کرتے ہیں جس کے بعد روئے زمین پر کوئی خدا کا نام لیوا نہ بچے گا اورگھر گھر اخلاقیات کا جنازہ نکل جائے گا۔ نتیجتاً ایک فکری جنگ کا سا ماحول پیدا ہوتا ہے جہاں ایک فریق فوراً خدا کا نام لیوا بن جاتا ہے اور دوسرے کو مذہب و اخلاقیات کے اصولوں سے منحرف گردانتا ہے۔
ایک ہی سماج میں اس قسم کی فکری جنگ و مناظرے سے کسی خیر کے برآمد ہونے کی رتی برابر امید نہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ سماج کو دوخانوں میں بانٹ کر فکری اسلحہ جمع کرنے اور اپنے فکری مخالفین کو دندان شکن جواب دینے کی بجائے، کچھ مشکل سوالوں پر سمجھوتہ کیا جائے ۔اگر ہمارے دائیں بازو کے دوست واقعی کسی ایسی فلاحی مملکت کی تشکیل میں دلچسپی رکھتے ہیں جس میں مذہب سے حاصل کئے گئے مستقل اخلاقی اصولوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہو تو پھر انہیں کم از کم اس اصرار سے ایک قدم پیچھے ہٹنا ہو گا کہ تمام مشکل سوالوں کے جواب ان کے پاس پہلے سے ہی موجود ہیں اور مسئلہ صرف گزرے ہوؤں کی کتابوں سے دلائل کی تلاش ہے۔