نومبر ۲۰۱۷ء

اہل کتاب سے متعلق اسلام کا زاویہ نظرمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۶)ڈاکٹر محی الدین غازی 
دور جدید کا حدیثی ذخیرہ ۔ ایک تعارفی جائزہ (۴)مولانا سمیع اللہ سعدی 
فقاہت راوی کی شرط اور احناف کا موقف (۲)مولانا عبید اختر رحمانی 
دینی مدارس، دہشت گردی اور عالمی پالیسی ساز طاقتیںڈاکٹر ابراہیم موسٰی 
جنرل باجوہ اور بلوچستانمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دینی مدارس کو درپیش آزمائشمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظ ختم نبوت سیمینارمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

اہل کتاب سے متعلق اسلام کا زاویہ نظر

محمد عمار خان ناصر

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ کو دنیا کی اقوام تک اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت اور اس کا پیغام پہنچانے کا جو منصب اور ذمہ داری سونپی گئی ہے، وہ دراصل اسی ذمہ داری کا ایک تسلسل ہے جو اس سے پہلے یہود یوں اور مسیحیوں کو دی گئی تھی، لیکن یہ دونوں گروہ رفتہ رفتہ راہ راست سے ہٹ گئے اور دین کی اصل اور حقیقی تعلیمات ان کے ہاتھوں بگاڑ کا شکار ہو گئیں۔
مذکورہ دونوں گروہوں سے متعلق قرآن مجید نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے، اس کے مختلف پہلو ہیں اور ان کو سامنے رکھا جائے تو مذہبی اختلافات کے حوالے سے توازن اور اعتدال کا ایک حسین نمونہ ہمارے سامنے آتا ہے جس کی ہمارے دین نے ہمیں تعلیم دی ہے۔ 
ان سطور میں ہم قرآن وسنت کی روشنی میں اس بات پر غور کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو اپنے پیش رو ان دونوں گروہوں کے متعلق کیا ہدایات دی ہیں اور ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ 

انبیاء اور صحف سماوی کی طرف نسبت 

سب سے پہلی بات تو ہمارے سامنے یہ آتی ہے کہ قرآن نے ان گروہوں کے ’’اہل الکتاب‘‘ کی تعبیر اختیار کی ہے جس کا مطلب ہے اللہ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان رکھنے والے لوگ۔ یہ بڑی اہم اور قابل غور بات ہے، کیونکہ قرآن مجید نے ان دونوں گروہوں پر جو بنیادی تنقید کی ہے، وہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے پیغمبروں اور آسمانی کتابوں کی حقیقی تعلیمات کو مسخ کر دیا ہے اور گمراہی اور انحراف کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود جب قرآن ان کے لیے ’’اہل الکتاب‘‘ کی تعبیر استعمال کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بگاڑ اور انحراف کے باوجود آسمانی کتابوں کی طرف ان کی اس نسبت کو اصولی طور پر تسلیم کرتا ہے۔
ان گروہوں کے لیے قرآن نے جو بعض دوسری تعبیریں استعمال کی ہیں، ان سے بھی یہی پہلو سامنے آتا ہے۔ مثال کے طو رپر سورۃ الحدید کی آیت ۲۷ میں نصاریٰ کا ذکر ’’الذین اتبعوہ‘‘ (جنھوں نے مسیح کی پیروی اختیار کی) کے الفاظ میں کیا گیا ہے۔ اسی طرح سورۂ آل عمران میں حضرت مسیح سے رفع آسمانی کے وقت ان سے جو وعدے کیے گئے، ان میں سے ایک وعدے کا ذکر ان الفاظ سے کیا گیا ہے کہ ’’میں تمھارے پیروکاروں (یعنی نصاریٰ) کو قیامت تک منکروں (یعنی یہود) پر غالب رکھوں گا۔‘‘ (آیت ۵۵) اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مسیح علیہ السلام کی تعلیم سے انحراف کی نشان دہی کرتے ہوئے بھی نصاریٰ کی اس نسبت کو اصولاً قبول کرتا ہے کہ وہ مسیح علیہ السلام کے پیروکار ہیں۔ 
قرآن مجید کے بیان کے مطابق قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ مسیحیوں کے اس عقیدے کی بابت اپنے پیغمبر حضرت مسیح علیہ السلام سے بازپرس فرمائیں گے تو حضرت مسیح اس مشرکانہ عقیدے سے تو صاف صاف براء ت کا اعلان کریں گے، لیکن اپنی پیروی کا دعویٰ کرنے والی امت سے لاتعلقی ظاہر نہیں کریں گے، بلکہ بڑے ہی لطیف انداز میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی امت کی مغفرت کی درخواست پیش کریں گے۔ سورۂ مائدہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا مسیح کی درخواست یوں نقل فرمائی ہے:
مَا قُلْتُ لَھُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِیْ بِہِ أَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ، وَکُنتُ عَلَیْْھمْ شَھیْداً مَّا دُمْتُ فِیْھمْ، فَلَمَّا تَوَفَّیْْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْْھِمْ، وَأَنتَ عَلَی کُلِّ شَیْْءٍ شَھِیْدٌ، إِن تُعَذِّبْھُمْ فَإِنَّھُمْ عِبَادُکَ، وَإِن تَغْفِرْ لَھُمْ فَإِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (آیت ۱۱۶، ۱۱۷)
’’میں نے تو ان سے وہی بات کہی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا، یہ کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی۔ اور جب تک میں ان میں رہا، ان پر نگران رہا، لیکن جب تو نے مجھے اپنے پاس بلا لیا تو پھر تو ہی ان پر نگران تھا اور تو تو ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ اگر تو انھیں عذاب دے تو (تیرا اختیار ہے)، یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انھیں معاف کر دے تو (کون تجھے پوچھنے والا ہے)، بے شک تو تو غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘ 

مشرکین اور اہل کتاب میں فرق 

قرآن مجید نے اہل کتاب میں سے نصاریٰ کے اس عقیدے کی پرزور تردید فرمائی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام معاذ اللہ الوہیت میں شریک تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُو إِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ، وَقَالَ الْمَسِیْحُ یَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ، إِنَّہُ مَن یُشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ، وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنصَارٍ (المائدہ، آیت ۷۲)
’’یقیناًکفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے، حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل، اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی۔ بے شک جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، اس پر اللہ نے جنت کو حرام قرار دیا ہے اور ظالموں کو (قیامت کے روز) کوئی مددگار نہیں ہوں گے۔‘‘ 
حقیقت کے لحاظ سے نصاریٰ کا یہ عقیدہ شرک ہی ہے، لیکن اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہی دوسری جگہ عقیدۂ توحید کو مسلمانوں اور اہل کتاب کے مابین ایک متفقہ اور مشترکہ اساس بھی قرار دیا ہے۔ چنانچہ سورۂ آل عمران میں فرمایا:
قُلْ یَا أَھْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلَی کَلَمَۃٍ سَوَاءٍ بَیْْنَنَا وَبَیْْنَکُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّٰہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْْئاً وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّٰہِ، فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْھَدُواْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (سورۂ آل عمران، آیت ۶۴)
’’کہہ دو کہ اے اہل کتاب، آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے مابین مشترک ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کچھ لوگ اللہ کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں کو رب نہ بنا لیں۔ پھر اگر یہ پھر جائیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو اللہ کے فرماں بردار ہیں۔‘‘ 
غور کیا جائے تو قرآن مجید کا یہ اسلوب دو بڑے اہم نکات کی طرف ہماری راہ نمائی کرتا ہے:
اس سے ایک بات تو یہ واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ اہل کتاب، خاص طور پر نصاریٰ مشرکانہ عقائد اختیار کیے ہوئے تھے، لیکن چونکہ وہ اصولاً توحید کے قائل اور علم بردار تھے اور اپنے ان عقائد کو شرک سمجھتے ہوئے اقراری طو رپر ’’مشرک‘‘ نہیں تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں ’’مشرکین‘‘ سے الگ شمار کرتے ہوئے ’’توحید‘‘ کو ان کے اور مسلمانوں کے مابین ایک مشترک نکتہ تسلیم فرمایا ہے۔
قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ سے دوسرا انتہائی اہم نکتہ یہ واضح ہوتا ہے کہ دعوت دین کے میدان میں داعی کی اصل توجہ اس پر ہونی چاہیے کہ وہ اپنے اور مدعوکے مابین مشترک طور پر مسلمہ نکات کو تلاش کرے اور انھیں اپنی دعوت کی بنیاد بنائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشترک اساسات کے بغیر دعوت کے عمل کو آگے بڑھانا ممکن نہیں ہوتا۔ اگر فریقین کے مابین کوئی بھی نکتہ اشتراک نہ ہو تو گفتگو، مکالمہ اور دعوت کا عمل شروع ہی نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ قرآن نے یہاں ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ مخاطب اگر کسی اصول کو لفظی طور پر مان رہا ہو، جبکہ عمل کے لحاظ سے اس کی نفی کر رہا ہو تو اس کے دعوے کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر گفتگو کی بنیاد رکھی جائے اور اسے سمجھانے کی کوشش کی جائے کہ تم جس بات کو اصولاً تسلیم کرتے ہو، تمھارے فلاں اور فلاں نظریات واعمال اس کی نفی کر تے ہیں۔
یہاں یہ بات سمجھنا بڑا اہم ہے کہ قرآن نے اہل کتاب کے، توحید سے ٹکرانے والے عقائد اور رویوں کو یہاں الزامی انداز میں بیان نہیں کیا اور یوں نہیں کہا کہ تم تو غیر اللہ کی عبادت بھی کرتے ہو، اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہراتے ہو اور انسانوں کو اپنا رب بھی بناتے ہو، اس لیے تمھارے دعوائے توحید کی کیا وقعت ہے؟ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے مثبت پہلو سے بات کی ہے اور عقیدۂ توحید میں مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان اصولی اشتراک کو بنیاد بنا کر انھیں یہ دعوت دی ہے کہ آؤ، اس عقیدے کو لفظاً ومعناً اور اس کی حقیقی روح کے مطابق تمام تر لوازم کے ساتھ اختیار کر لیں۔
قرآن مجید نے اہل کتاب کے، اصولی طور پر عقیدۂ توحید کو ماننے کا لحاظ شرعی احکام کے دائرے میں بھی کیا ہے اور اس ضمن میں مشرکین اور اہل کتاب کے لیے الگ الگ احکام مقرر فرمائے ہیں۔ چنانچہ اسلامی شریعت میں کسی مشرک کے ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت کھانا حرام ہے اور کسی مشرک مرد یا عورت کے ساتھ نکاح کرنا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں رکھا گیا، لیکن اس کے برخلاف اہل کتاب کے متعلق یہ اجازت دی گئی ہے کہ ان کے ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت بھی کھایا جا سکتا ہے اور ان کی پاک دامن عورتوں سے مسلمان مرد نکاح بھی کر سکتے ہیں۔ (سورۂ مائدہ، آیت ۵)

اہل کتاب کے ساتھ مذہبی رواداری 

اہل کتاب کے ساتھ دین ابراہیمی کی اساسی تعلیمات میں اشتراک نیز دعوت دین کی حکمت کے ان اصولوں کے تحت ہم دیکھتے ہیں کہ عہد نبوی اور عہد صحابہ وتابعین میں ہمیں اہل کتاب کے ساتھ ہمدردی و تعلق خاطر اور رواداری و احترام کی بڑی عمدہ اور غیر معمولی مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً دیکھیے:
مکی عہد نبوت میں جب روم کے مسیحیوں اور فارس کے مجوسیوں کے مابین جنگ میں رومیوں کو شکست ہوئی تو مسلمان بہت غمگین ہوئے۔ رومیوں کے ساتھ اس ہمدردی کو قرآن مجید نے بنظر استحسان دیکھا اور سورۃ الروم کی ابتدائی آیات میں مسلمانوں کی تسلی کے لیے یہ وعدہ فرمایا کہ عنقریب رومیوں کو ایرانیوں پر غلبہ حاصل ہوگا اور اس دن مسلمانوں کو خوشی حاصل ہوگی۔ 
روایات میں منقول ہے کہ اس موقع پر مشرکین مکہ اور مسلمان نے گویا دو کیمپوں کی صورت اختیار کر لی اور مشرکین نے اہل فارس کو اپنے بھائی قرار دے کر اس فتح پر خوشی منائی،جبکہ مسلمانوں نے ان کے مقابلے میں اہل کتاب کو اپنے بھائی کہہ کر ان کی شکست پر اظہار غم کیا۔ تفسیر طبری میں عکرمہ سے روایت ہے:
’’مشرکین نے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ بھی اہل کتاب ہو اور نصاریٰ بھی اہل کتاب ہیں، جبکہ ہم امی ہیں اور ہمارے بھائی یعنی اہل فارس تمھارے اہل کتاب بھائیوں پر غالب آ گئے ہیں۔ اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نکل کر کفار کے پاس گئے اور کہا کہ کیا تم اپنے بھائیوں کے ہمارے بھائیوں پر غالب آنے پر خوش ہو رہے ہو؟ خوش مت ہو، اللہ تمھاری آنکھوں کو ٹھنڈک عطا نہیں کرے گا۔ بخدا، اہل روم اہل فارس پر غالب آ کر رہیں گے۔‘‘ (تفسیر طبری، تفسیر سورۃ الروم، آیت ۲)
سورۃ الحج میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے بنائے جانے والے گھروں میں مسجدوں کے ساتھ ساتھ اہل کتاب کی قائم کردہ عبادت گاہوں کا بھی ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ وہ جگہیں ہیں جن میں اللہ کو کثرت سے یاد کیا جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُم بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیْھَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْراً (آیت ۴۰)
’’اور اگر اللہ نے انسانوں (کے فتنہ وفساد) کو دوسرے انسانوں کے ذریعے سے دفع کرنے کا قانون نہ بنایا ہوتا تو راہب خانوں، کلیساؤں، گرجوں اور مسجدوں تک کو گرا دیا جاتا جن میں اللہ کو کثرت سے یاد کیا جاتا ہے۔‘‘
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو یہاں یہودی بڑی تعداد میں آباد تھے۔ ان کی تالیف قلب کی خاطر اور انھیں اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے سولہ سترہ ماہ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان کعبہ کے بجائے اہل کتاب کے قبلہ یعنی بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث ۴۱)
فرعون کی غلامی سے بنی اسرائیل کے نجات پانے کی خوشی میں مدینہ منورہ کے یہود محرم کی دس تاریخ کو روزہ رکھا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موافقت میں عاشورا کا روزہ رکھنا شروع کر دیا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا اور فرمایا کہ ’’میں موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان سے زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، حدیث ۳۱۶۸)
ایک انصاری نے یہ جملہ زبان سے ادا کرنے پر ایک یہودی کو تھپڑ مار دیا کہ: ’’اس اللہ کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت عطا کی ہے‘‘ اور کہا کہ تم موسیٰ علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل قرار دیتے ہو؟ یہودی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس کی شکایت سن کر انصاری سے شدید ناراض ہوئے اور یہود کے مذہبی جذبات کی رعایت سے صحابہ کو اس بات سے منع فرما دیا کہ وہ ان کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام سے افضل قرار دیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الخصومات، حدیث ۲۲۸۰)
۹ ہجری میں نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے انھیں مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔ جب عصر کی نماز کا وقت آیا اور انھوں نے نماز پڑھنی چاہی تو صحابہ نے ان کو روک دیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انھیں نماز پڑھنے دو۔ چنانچہ انھوں نے مسجد نبوی ہی میں مشرق کی سمت میں اپنے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۴/۱۰۸)
ایک موقع پر آپ اپنے صحابہ کے ساتھ راستے میں کسی جگہ تشریف فرما تھے۔ ایک شخص کا جنازہ وہاں سے گزرا تو آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے تو آپ نے فرمایا: ’’کیا وہ انسان نہیں ہے؟‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الجنائز، حدیث ۱۳۱۲)
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ جن معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے کوئی واضح ہدایت نہیں ملی ہوتی تھی، ان میں آپ اہل کتاب کے قوانین اور طریقوں کے مطابق فیصلہ کرنا پسند فرماتے تھے۔ اسی طرح اہل کتاب کی تالیف قلب کی غرض سے آپ نے وضع قطع سے متعلق امور میں بھی مشرکین کے مقابلے میں اہل کتاب کے طریقے کی موافقت کو پسند فرمایا۔ (صحیح بخاری، کتاب اللباس، رقم ۵۵۷۳)
حضرت عمر کے عہد خلافت میں جب بیت المقدس فتح ہوا تو شہر کا دورہ کرتے ہوئے آپ نے کلیسائے مریم کے قریب نماز ادا کی۔ اس موقع پر انھیں تھوکنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو انھوں نے اپنے کپڑے میں تھوکا۔ آپ سے کہا گیا کہ آپ اسی گرجے میں ہی تھوک دیتے، کیونکہ یہاں تو اللہ کے ساتھ شرک کیا جاتا ہے۔ سیدنا عمر نے جواب میں فرمایا کہ اگر یہاں اللہ کے ساتھ شرک کیا جاتا ہے تو کثرت سے اللہ کو یاد بھی تو کیا جاتا ہے۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ترجمہ ابو شعیب، ۷/ ۲۱۲)
عہد صحابہ میں ہمیں اس کی مثالیں ملتی ہیں کہ اگر کسی مسلمان کا کوئی یہودی یا مسیحی عزیز وفات پا جاتا تو صحابہ اس کے جنازے کے ساتھ جاتے اور تجہیز وتکفین میں شریک ہوتے تھے۔ چنانچہ جلیل القدر تابعی شعبی بیان کرتے ہیں کہ حارث بن ابی ربیعہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا جو مسیحی تھیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس کے جنازہ میں شریک ہوئے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجنائز، رقم ۱۱۹۶۴)
اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان نے جب اپنے دور میں سیدنا سلیمان علیہ السلام کی تعمیر کردہ مسجد (ہیکل سلیمانی) میں موجود مقدس کے اوپر گنبد (قبۃ الصخرہ) کی تعمیر کا فیصلہ کیا تو اس کے انتظام وانصرام میں یہودیوں کو بھی شریک کیا اور مذہبی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہودیوں کو یہاں بطور مجاور خدمت انجام دینے کا موقع فراہم کیا۔ پندرہویں صدی کے عرب مورخ قاضی القضاۃ مجیر الدین الحنبلی (۱۴۹۶ء) نے اپنی کتاب میں اس کی حسب ذیل تفصیل نقل کی ہے:
’’مسجد اقصیٰ کے لیے دس یہودی خادم مقرر کیے گئے جن سے جزیہ نہیں لیا جاتا تھا۔ اگلی نسلوں میں ان کی تعداد بڑھ کر بیس ہو گئی۔ ان کے ذمے گرمی سردی کے موسم اور زیارت کے ایام میں مسجد اور اس کے ارد گرد طہارت خانوں کے کوڑا کرکٹ کو صاف کرنا تھا۔ اسی طرح دس مسیحی خاندانوں کو نسل در نسل مسجد اقصیٰ کی خدمت کے لیے مقرر کیا گیا۔ یہ مسجد کے لیے چٹائیاں تیار کرنے کے علاوہ ان چٹائیوں اور اس نالی کی صفائی کرتے تھے جس سے گزر کر پانی حوضوں تک آتا تھا۔ دیگر کاموں کے علاوہ پانی کے حوضوں کی صفائی بھی انھی کے ذمے تھی۔ مسجد کے یہودی خادموں کی ایک جماعت شیشے کے چراغ، پیالے اور فانوس وغیرہ تیار کرتی تھی اور ان سے جزیہ نہیں لیا جاتا تھا۔ اسی طرح وہ خادم بھی جزیہ سے مستثنیٰ تھے جنھیں چراغوں کی بتیوں کی دیکھ بھال پر مامور کیا گیا تھا۔ ان کو یہ ذمہ داری عبد الملک کے زمانے سے لے کر ہمیشہ کے لیے نسل در نسل سونپ دی گئی تھی۔‘‘ (’’الانس الجلیل بتاریخ القدس والخلیل‘‘ ص ۲۸۱)
فقہا تصریح کرتے ہیں کہ اہل کتاب اگر مسجد اقصیٰ کے لیے مال وقف کرنا چاہیں تو ان کی مذہبی وابستگی کے تناظر میں ایسا کرنا درست ہوگا اور ان کا وقف کیا ہوا مال قبول کیا جائے گا۔ ابن الہمام ’’فتح القدیر‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’اگر ذمی مسجد اقصیٰ کے لیے مال وقف کرے تو جائز ہے ، کیونکہ یہ ان کے نزدیک بھی کار ثواب ہے اور ہمارے نزدیک بھی۔‘‘ (فتح القدیر، کتاب الشرکہ، ۶/۲۰۱)

اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ ومجادلہ 

قرآن مجید نے ایک عام اصول کے طور پر اس کی تلقین کی ہے کہ دوسرے مذہبی گروہوں کے ساتھ بحث ومباحثہ کرتے ہوئے اور ان کی غلطی کو واضح کرتے ہوئے شائستہ اور حکیمانہ اسلوب اختیار کیا جائے اور کسی کے جذبات کو مجروح کرنے سے گریز کرتے ہوئے ہمدردی اور خیر خواہی سے اسے صحیح بات سمجھانے کی کوشش کی جائے۔ سورۃ النحل میں فرمایا:
اُدْعُ إِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُم بِالَّتِیْ ھِیَ أَحْسَنُ، إِنَّ رَبَّکَ ھُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِیْلِہِ وَھُوَ أَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ (آیت ۱۲۵)
’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعے سے بلاؤ اور ان لوگوں کے ساتھ ایسے طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو۔ بے شک رب خوب جانتا ہے ان کو جو اس کی راہ سے بھٹک گئے اور خوب جانتا ہے ان کو بھی جو ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ 
قرآن مجید نے یہی حکیمانہ ہدایت اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ کے حوالے سے بھی بطور خاص بیان کی ہے۔ چنانچہ سورۃ العنکبوت میں ارشاد ہے:
وَلَا تُجَادِلُوا أَھْلَ الْکِتَابِ إِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ أَحْسَنُ، إِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوا مِنْھُمْ، وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِیْ أُنزِلَ إِلَیْْنَا وَأُنزِلَ إِلَیْْکُمْ، وَإِلَھُنَا وَإِلَھُکُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ (آیت ۴۶)
’’اور اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ نہ کرو مگر اسی طریقے سے جو سب سے اچھا ہو۔ ہاں، ان میں سے جو لوگ ظالم ہیں (ان کے ساتھ بحث کی ضرورت نہیں)۔ اور یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اس پر بھی جو ہماری طرف اور تمھاری طرف اتارا گیا اور ہمارا اور تمھارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔‘‘
سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے احکام الٰہی کے حوالے سے یہود کے مبنی بر خیانت رویے کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ اسی طرز عمل کے حامل ہیں اور ان کی خیانت کی مثالیں مسلسل تمھارے سامنے آتی رہیں گی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہود کے عیب کھولنے اور ان کی خیانتوں کو زیادہ موضوع نہ بنایا جائے، بلکہ درگزر سے کام لیا جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلاَ تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَیَ خَآءِنَۃٍ مِّنْہُمْ إِلاَّ قَلِیْلاً مِّنْہُمُ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاصْفَحْ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (آیت ۱۳)
’’اور تم مسلسل ان کی خیانتوں پر مطلع ہوتے رہو گے، ان میں سے تھوڑے ہی لوگ ہیں جو اس سے پاک ہوں۔ سو ان کو معاف کرتے رہو اور درگزر کرو۔ بے شک اللہ اچھا برتاؤ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘

اہل کتاب کے ساتھ دوستی یا دشمنی؟

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرۂ عرب میں قرآن کی دعوت پیش کی تو اس کا رد عمل مشرکین اور اہل کتاب کے مختلف گروہوں کی طرف سے مختلف انداز میں سامنے آیا۔ بعض نے کھلم کھلا دشمنی کا طریقہ اختیار کیا، بعض نے اہل اسلام کے ساتھ ہمدردی اور مشکل حالات میں ان کی مدد کا رویہ اپنایا، جبکہ بہت سے گروہوں نے غیر جانب دار رہنے کو ترجیح دی۔ 
اسلام کا اصول یہ ہے کہ وہ غیر مسلموں کو علی الاطلاق اسلام یا مسلمانوں کا دشمن قرار نہیں دیتا، بلکہ کسی بھی گروہ کے ساتھ تعلقا ت کی نوعیت کا فیصلہ خود اس گروہ کے رویے کی روشنی میں کرتا ہے۔ اس اصول کی روشنی میں قرآن مجید میں مختلف گروہوں کے اختیار کردہ رویے کے مطابق ان کے ساتھ تعلقات رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ چنانچہ مشرکین عرب کے جو گروہ اسلام اور مسلمانوں کا وجود برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور موقع ملنے پر انھیں نابود کر دینے کے خواب دیکھ رہے تھے، ان کے ساتھ کوئی ہمدردی یا تعلق خاطر رکھنے کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے منافی قرار دیا اور ان کے لیے محبت اور دوستی کے جذبات ظاہر کرنے والے مسلمانوں کو سخت تنبیہ فرمائی۔ اس کے برخلاف جو گروہ اسلام کی دعوت کو قبول نہ کرتے ہوئے بھی مسلمانوں کی جان ومال یا ان کے مذہب کے دشمن نہیں بنے، ان کے ساتھ مصالحانہ تعلقات اور اچھے برتاؤ کی تلقین کی گئی۔ سورۂ ممتحنہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
لَا یَنْھَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُم مِّنْ دِیَارِکُمْ أَن تَبَرُّوھُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْْھِمْ، إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ، إِنَّمَا یَنْھَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ قَاتَلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَأَخْرَجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ وَظَاھَرُوا عَلَی إِخْرَاجِکُمْ أَن تَوَلَّوْھُمْ، وَمَن یَتَوَلَّھُمْ فَأُوْلَءِکَ ھُمُ الظَّالِمُونَ (آیت ۸، ۹)
’’اللہ تعالیٰ تمھیں اس سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ لڑائی نہیں کی اور نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہے، تم ان کے ساتھ حسن سلوک کرو اور انصاف سے کام لو۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں کے ساتھ دوستی بڑھانے سے منع کرتا ہے جنھوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ جنگ کی اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا اور تمھارے نکالنے پر ایک دوسرے کی مدد کی۔ اور جو ایسے لوگوں سے دوستی رکھیں، وہی ظالم ہیں۔‘‘
مشرکین کی طرح اہل کتاب کے بیشتر گروہ بھی جزیرۂ عرب میں ایک نئے دین کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، خاص طو رپر ایسا دین جو ان کے غلط عقائد کی تردید اور احکام الٰہی سے ان کے انحرافات پر تنقید کرتا ہو۔ قرآن نے ان کے اسی رویے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ’’یہود ونصاریٰ تم سے اس وقت تک ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی اختیار نہ کر لو۔‘‘ (البقرہ، آیت ۱۲۰) اپنے اسی رویے کی وجہ سے ان گروہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کو اپنا وتیرہ بنا لیا اور انھیں نقصان پہنچانے اور کمزور کرنے کی ہر ممکن سعی میں مصروف ہو گئے۔ ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو ایسے گروہوں سے چوکنا رہنے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ بعض کمزور مسلمانوں نے ان گروہوں کے اثر ورسوخ سے مرعوب ہو کر یا بعض دوسرے اسباب کے تحت ان کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانا چاہیں تو قرآن نے سخت الفاظ میں انھیں متنبہ کیا اور فرمایا کہ اسلام او رمسلمانوں کے اجتماعی مفاد کے برعکس ان گروہوں سے دوستیاں بنانے والوں کا شمار اللہ کے نزدیک انھی میں ہوتا ہے اور ایسے لوگ یقیناًظالم ہیں۔ (سورۃ المائدہ، آیت ۵۱) 
تاہم عہد نبوی میں ہمیں ایسے اہل کتاب بھی ملتے ہیں جنھوں نے اسلام اور مسلمانوں کے متعلق ہمدردانہ اور دوستانہ طرز عمل اختیار کیا، بلکہ نازک مواقع پر مسلمانوں کی مدد بھی کی۔ اس حوالے سے سب سے نمایاں مثال حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی ہے جس نے کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آ کر حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مظلوم مسلمانوں کو اپنے ملک میں نہ صرف پناہ فراہم کی، بلکہ مشرکین کے مطالبے کے باوجود ان مسلمانوں کو ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً مکہ سے ہجرت کر کے جانے والے بہت سے مسلمان کئی سال تک امن وعافیت کے ساتھ حبشہ کی سرزمین میں مقیم رہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی تناظر میں صحابہ کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ آپ کے بعد جب مسلمان ارد گرد کے ممالک کو فتح کرنے کے لیے نکلیں تو اہل حبشہ جب تک مسلمانوں کے خلاف جنگ میں پہل نہ کریں، ان کے خلاف جنگ نہ کی جائے۔ (سنن ابی داود، کتاب الملاحم، حدیث ۴۳۰۲)
قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور کے اہل کتاب میں کچھ گروہ ایسے بھی تھے جو دیانت داری اور خدا خوفی جیسے اوصاف سے متصف تھے اور مذہبی تعلیمات کے اشتراک کی وجہ سے اسلام او رمسلمانوں کے ساتھ تعلق خاطر بھی محسوس کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایسے گروہوں کا ذکر تحسین کے انداز میں کیا ہے۔ چنانچہ سورۂ مائدہ میں مسلمانوں کے بارے میں رویے کے حوالے سے یہود اور نصاریٰ کا تقابل کرتے ہوئے فرمایا:
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُوا الْیَھُودَ وَالَّذِیْنَ أَشْرَکُوا، وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَھُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوَا إِنَّا نَصَارَی، ذَلِکَ بِأَنَّ مِنْھُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُھْبَاناً وَأَنَّھُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ (آیت ۸۲)
’’تم لوگوں میں اہل ایمان کے لیے دشمنی میں سب سے بڑھ کر یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے، جبکہ اہل ایمان کے لیے سب سے زیادہ قلبی محبت رکھنے والا ان کو پاؤ گے جنھوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں علماء اور عبادت گزار لوگ ہوتے ہیں اور یہ کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ 
مفسر زمخشریؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے نرم رویے اور مسلمانوں کے ساتھ تعلق خاطر کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ ان میں علماء اور عبادت گزار لوگ ہوتے ہیں اور وہ ایسی قوم ہیں جن میں تواضع اور عجز ہوتا ہے اور تکبر سے پاک ہوتے ہیں، جبکہ یہودیوں کی حالت اس کے برعکس ہے۔ اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ علم کا حصول، یہاں تک کہ مسیحی علماء کا حصول علم، سب سے زیادہ نفع بخش اور خیر کی طرف راہ نمائی کرنے والا اور کامیابی کے راستے کی طرف لے جانے والا عمل ہے۔ یہی معاملہ آخرت کی فکر اور انجام کو یاد رکھنے کا ہے، چاہے وہ کسی راہب میں ہو۔ اسی طرح تکبر سے پاک ہونا ہے، چاہے یہ صفت کسی نصرانی میں ہو۔‘‘ ( الکشاف، )
خاص طور پر حضرت مسیح کے پیروکاروں میں نرم دلی اور ہمدردی کا جو وصف پایا جاتا ہے، اس کا قرآن مجید نے اچھے الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ مثلاً سورۃ الحدید میں فرمایا کہ ’’ہم نے مسیح کی پیروی کرنے والوں کے دلوں میں نرم دلی اور رحمت رکھ دی۔‘‘ (آیت ۲۷)
سورہ آل عمران میں جہاں مالی خیانت کے معاملے میں بعض یہودیوں کے طرز عمل کو بے نقاب کیا گیا ہے، وہاں ان میں سے دیانت دار لوگوں کا ذکر بھی ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ ’’اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس تم خزانے کا ایک ڈھیر بھی امانت رکھو تو وہ تمھیں پورا پورا واپس کر دیں گے۔‘‘ (آیت ۷۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گذشتہ سطور میں قرآن وحدیث کی روشنی میں اہل کتاب کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق اور برتاؤ کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اہل کتاب کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور ان تک اسلام کا پیغام پہنچانے میں ان تعلیمات اور اصولوں کا پورا پورا لحاظ رکھیں اور اللہ، اللہ کے پیغمبروں، آسمانی صحائف اور یوم آخرت پر ایمان کو ایک قیمتی اور مشترک اساس تصور کرتے ہوئے معاشرتی سطح پر اہل کتاب کے ساتھ رواداری اور حسن سلوک کا خصوصی برتاؤ کریں۔ خاص طور پر مسلم معاشروں میں اہل کتاب کی عبادت گاہوں اور ان کے مذہبی جذبات کے احترام کو یقینی بنائیں اور اختلافی امور پر بحث ومباحثہ کی نوبت آئے تو تہذیب و شائستگی اور حکمت وموعظہ حسنہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی غلطی کو ان پر واضح کرنے کی کوشش کی جائے۔ 
اللہ تعالیٰ ہم سب کو راہ ہدایت پر قائم رکھے۔ آمین

شدت پسندی کا مقابلہ اور ریاستی ترجیحات

۶ ستمبر کی اخباری اطلاعات کے مطابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے وائس چانسلر جامعہ کراچی کو ایک خط لکھا ہے جس میں یونیورسٹی طلبہ کا ریکارڈ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو دینے اور طلبہ کو داخلے کے وقت مقامی پولیس اسٹیشن سے حاصل کردہ کیرکٹر سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی تجویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس فیصلے سے طلبہ میں بے چینی اور خوف پھیلے گا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ دونوں ادارے ریاست کے سخت ادارے ہیں اور ان اداروں سے طلبہ کے رابطے کے باعث طلبہ میں خوف اور بے چینی بڑھے گی۔ چیئرمین سینٹ نے تجویز کیا ہے کہ نوجوانوں میں انتہا پسندی اور تشدد کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جانے چاہئیں اور اس سلسلے میں طلبہ یونینز کی بحالی اور ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ سے (انتہا پسندانہ رجحانات کے مقابلے میں) ایک مختلف موقف جنم لے گا۔ 
ہمارے نزدیک چیئرمین سینیٹ نے ایک اہم اور نازک معاملے میں بر وقت توجہ دلا کر اپنے منصب کے ساتھ وابستہ ذمہ داریوں کے احساس کا ثبوت دیا ہے اور اس حوالے سے ان کی جرات قابل داد ہے، تاہم یہ ایک جزوی اور وقتی مسئلہ نہیں، بلکہ بنیادی آئینی حقوق کا مسئلہ ہے۔ ملک پہلے ہی ’’سیکیورٹی اسٹیٹ‘‘ کے بااعزاز لقب سے ملقب اور گم شدہ افراد (missing persons) جیسے سنگین آئینی وانسانی مسئلے سے نبرد آزما ہے، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عنوان سے اس صورت حال کی سنگینی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں وضع کی جانے والی پالیسیوں کو قومی فورمز پر ہر جگہ زیر بحث لائے جانے کی ضرورت ہے، اس سے پہلے کہ سیکیورٹی اداروں کا جبر اور خوف ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ 

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۶)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۲۱) یستعتبون کا ترجمہ

قرآن مجید میں لفظ یستعتبون تین مقامات پر آیا ہے، اور ایک مقام پر یستعتبوا آیا ہے۔ مختلف ترجموں کو سامنے رکھنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کو اس سلسلے میں کسی ایک مفہوم پر اطمینان نہیں تھا، اس لیے ایک ہی مترجم کے یہاں ایک ہی لفظ کے مختلف مقامات پر مختلف ترجمے ملتے ہیں۔
عربی لغات دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ استعتب کے لفظ میں وسعت ہے۔ اس لفظ کا مطلب فیروزآبادی یوں بیان کرتے ہیں: 

استَعتَبَہ: أعطاہ العُتبی،کأَعتَبہ، وطَلَبَ الیہ العُتبَی، ضِدٌّ. القاموس المحیط.

اس لفظ کا ایک مفہوم یہ ہے کہ کسی سے کسی کی ناراضگی دور کرنے کو کہا جائے، ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ کوئی کسی سے راضی ہوجائے، اور ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ کوئی کسی سے اس کی ناراضگی دور کرنے کا موقع مانگے۔
اس تیسرے مفہوم کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: وَلَا بَعدَ الموتِ مِن مُستَعتَبٍ؛ یعنی مرنے کے بعد ناراضگی دور کرنے کا موقع نہیں رہے گا۔ علامہ ابن منظور اس حدیث کی بہت مناسب تشریح کرتے ہیں:

أی لَیسَ بَعدَ المَوتِ مِنِ استِرضاءٍ ، لأَن الأَعمال بَطَلَت، وانقَضَت زَمانُھا، وَمَا بَعدَ الموت دارُ جزاءٍ لَا دارُ عَمَلٍ. لسان العرب۔

جہاں لفظ کے مفہوم میں وسعت ہو وہاں موقع ومحل کے لحاظ سے مناسب مفہوم کی تعیین ضروری ہوتی ہے۔
تینوں آیتوں میں ’’لا یستعتبون‘‘ کا بعض لوگ ترجمہ کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان سے توبہ واستغفار کا اور رب کو راضی کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ مفہوم قیامت کے حالات سے مطابقت نہیں رکھتا ہے، کسی عمل کا مطالبہ اس سے کیا جاتا ہے جو وہ عمل کر نہیں رہا ہو، مجرموں کا حال تو یہ ہوگا کہ قیامت برپا ہوتے ہی معافی مانگنے میں لگ جائیں گے، اور چلا چلا کر توبہ واستغفار کریں گے، ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہنا کہ ان سے توبہ واستغفار کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا، مناسب حال معلوم نہیں ہوتا ہے۔
بعض لوگ ترجمہ کرتے ہیں کہ وہ منائے نہیں جائیں گے، یہ بھی مناسب حال ترجمہ نہیں ہے، کیونکہ وہاں سوال مجرموں کو منائے جانے کا ہوگا ہی نہیں، سوال تو خود مجرموں کے سامنے ہوگا کہ وہ رب کو کیسے منائیں۔
بعض لوگ ترجمہ کرتے ہیں کہ ان کی معافی یا معذرت قبول نہیں کی جائے گی، اس مفہوم میں کمزوری یہ ہے کہ استعتب، عتبی سے نکلا ہے، جس کا مطلب محض معافی اور معذرت نہیں بلکہ منانا اور راضی کرنا ہے۔ اس میں پچھلی غلطیوں کی تلافی کرنا اور خوش کرنے والے عمل کرنا شامل ہے۔
قیامت کے دن اور عذاب کی حالت کو سامنے رکھیں تو مناسب حال مفہوم یہ سامنے آتا ہے کہ مجرمین بار بار درخواست کریں گے کہ انہیں ایک بار اللہ کی ناراضگی دور کرنے کا موقعہ دیا جائے، لیکن انہیں ایسا کوئی موقعہ نہیں دیا جائے گا۔
اس وضاحت کے بعد مندرجہ ذیل ترجمے ملاحظہ فرمائیں:

(۱) وَیَوْمَ نَبْعَثُ مِن کُلِّ أُمَّۃٍ شَہِیْداً ثُمَّ لاَ یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ کَفَرُواْ وَلاَ ہُمْ یُسْتَعْتَبُون۔ (النحل: 84)

’’اور (خیال کرو اس دن کا) جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ اٹھائیں گے، پھر جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا نہ ان کو عذر پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے یہ فرمائش ہوگی کہ وہ خدا کو راضی کریں‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’(اِنہیں کچھ ہوش بھی ہے کہ اُس روز کیا بنے گی) جبکہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے، پھر کافروں کو نہ حجتیں پیش کرنے کا موقع دیا جائیگا نہ ان سے توبہ و استغفار ہی کا مطالبہ کیا جائے گا‘‘ (سید مودودی)
’’’’اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ کھڑا کریں گے پھر کافروں کو نہ اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے توبہ کرنے کو کہا جائے گا ‘‘(محمدجوناگڑھی)
’’اور جس دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اٹھا کر کھڑا کریں گے پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی ان سے اللہ کو راضی کرنے کی فرمائش کی جائے گی‘‘(محمد حسین نجفی)
’’اور جس دن ہم اٹھائیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ پھر کافروں کو نہ اجازت ہو نہ وہ منائے جائیں‘‘(احمد رضا خان)
’’اور جس دن ہم ہر اْمت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ اْن کے عذر قبول کئے جائیں گے‘‘ (فتح محمدجالندھری)
مولانا امانت اللہ اصلاحی متعلقہ حصے کا ترجمہ کرتے ہیں:’’ اور نہ انہیں ناراضگی دور کرنے کا موقعہ دیا جائے گا‘‘۔

(۲) فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا مَعْذِرَتُہُمْ وَلَا ہُمْ یُسْتَعْتَبُون۔ (الروم: 57)

’’پس اس دن ان لوگوں کو ان کی معذرت کچھ نفع نہ دے گی جنھوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہوگا اور نہ ان سے یہ چاہا جائے گا کہ وہ خدا کو راضی کریں ‘‘(امین احسن اصلاحی) 
’’پس وہ دن ہو گا جس میں ظالموں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور نہ ان سے معافی مانگنے کے لیے کہا جائے گا ‘‘(سید مودودی)
’’تو اس دن ظالموں کو نفع نہ دے گی ان کی معذرت اور نہ ان سے کوئی راضی کرنا مانگے ‘‘(احمد رضا خان)
’’پس اس دن ظالموں کو ان کا عذر بہانہ کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان سے توبہ اور عمل طلب کیا جائے گا‘‘(محمدجوناگڑھی)
’’سو اس دن ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہیں دے گی اور نہ ہی ان سے (توبہ کرکے) خدا کو راضی کرنے کیلئے کہا جائے گا‘‘(محمد حسین نجفی)
’’تو اس روز ظالم لوگوں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ اْن سے توبہ قبول کی جائے گی‘‘ (فتح محمدجالندھری)
مولانا امانت اللہ اصلاحی متعلقہ حصے کا ترجمہ کرتے ہیں: ’’اور نہ انہیں ناراضگی دور کرنے کا موقعہ دیا جائے گا‘‘۔

(۳) ذَلِکُم بِأَنَّکُمُ اتَّخَذْتُمْ آیَاتِ اللّٰہِ ہُزُواً وَغَرَّتْکُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُونَ مِنْہَا وَلَا ہُمْ یُسْتَعْتَبُونَ۔ (الجاثیۃ: 35)

’’یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق بنا لیا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا لہٰذا آج نہ یہ لوگ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے کہا جائے گا کہ معافی مانگ کر اپنے رب کو راضی کرو" (سید مودودی)
’’یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کا ٹھٹھا (مذاق) بنایا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں فریب دیا تو آج نہ وہ آگ سے نکالے جائیں اور نہ ان سے کوئی منانا چاہے ‘‘(احمد رضا خان)
’’یہ اس لیے ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی ہنسی اڑائی تھی اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا، پس آج کے دن نہ تو یہ (دوزخ) سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے عذر و معذرت قبول کیا جائے گا‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’یہ اس لئے کہ تم نے خدا کی آیتوں کو مخول بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’یہ اس وجہ سے کہ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈالے رکھا۔ پس آج نہ تو وہ اس سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کو معذرت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’یہ سب اس لئے ہے کہ تم نے آیات الہٰی کا مذاق بنایا تھا اور تمہیں زندگانی دنیا نے دھوکے میں رکھا تھا تو آج یہ لوگ عذاب سے باہرنہیں نکالے جائیں گے اور انہیں معافی مانگنے کا موقع بھی نہیں دیا جائے گا ‘‘(جوادی)
’’یہ اس لئے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کامذاق اڑایا تھا اوردنیاوی زندگی نے تمہیں دھوکہ میں مبتلا کیا۔ پس وہ آج نہ تو اس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کو معذرت (خدا کو راضی) کرنے کاموقع دیا جائے گا‘‘(محمد حسین نجفی)
آخر الذکر تینوں ترجموں میں یہ مفہوم اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں موقع نہیں جائے گا، جو درست ہے۔ البتہ معافی اور معذرت کی بجائے راضی کرنے کا مفہوم زیادہ درست ہے۔

(۴) فَإِن یَصْبِرُوا فَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ وَإِن یَسْتَعْتِبُوا فَمَا ہُم مِّنَ الْمُعْتَبِیْن۔ (فصلت: 24)

’’پس اگر وہ صبر کریں تو دوزخ ہی ان کا ٹھکانا ہے اور اگر وہ معافی مانگیں گے تو ان کو معافی نہیں ملے گی‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’اب اگر یہ صبر کریں گے تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور اگر توبہ کریں گے تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی‘‘ (جالندھری)
’’اس حالت میں وہ صبر کریں (یا نہ کریں) آگ ہی ان کا ٹھکانا ہو گی، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے تو کوئی موقع انہیں نہ دیا جائے گا‘‘ (سید مودودی)
مذکورہ بالا ترجموں میں آخر الذکر ترجمہ زیادہ درست ہے۔ البتہ رجوع کے بجائے راضی کرنے کا مفہوم زیادہ مناسب ہے۔

(۱۲۲) قِطَعًا مِنَ اللَّیلِ مُظلِمًا کا ترجمہ

وَالَّذِیْنَ کَسَبُواْ السَّیِّئَاتِ جَزَاء سَیِّئَۃٍ بِمِثْلِہَا وَتَرْہَقُہُمْ ذِلَّۃٌ مَّا لَہُم مِّنَ اللّٰہِ مِنْ عَاصِمٍ کَأَنَّمَا أُغْشِیَتْ وُجُوہُہُمْ قِطَعاً مِّنَ اللَّیْْلِ مُظْلِماً أُوْلَئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُونَ۔ (یونس: 27)

مذکورہ بالا آیت میں قطعا من اللیل کے بعد مظلما آیا ہے، عام طور سے مظلما کو اللیل کا حال قرار دیا گیا ہے، اور اسی کے لحاظ سے ترجمہ بھی کیا گیا ہے، یعنی تاریک رات کے ٹکڑے۔ بعض لوگوں نے مظلما کو قطعا کی صفت قرار دیا ہے، اس دوسری توجیہ پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ قطعا جمع ہے، اس کی صفت کو مذکر کی بجائے مونث یعنی مظلما کی بجائے مظلمۃ ہونا چاہئے تھا، اس اشکال کا جواب بھی دیا گیا ہے جو تکلف سے بھر پور ہے۔ اس دوسری توجیہ کے مطابق جملے کا مطلب ہوتا ہے رات کے تاریک ٹکڑے۔ لغت کے عام قاعدے کے مطابق پہلی توجیہ درست ہے۔ عام طور سے مترجمین نے اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے، البتہ صاحب تفہیم نے دوسرا ترجمہ کیا ہے۔
’’اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں ان کی بْرائی جیسی ہے ویسا ہی وہ بدلہ پائیں گے، ذلّت ان پر مسلّط ہو گی، کوئی اللہ سے ان کو بچانے والا نہ ہو گا، ان کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہوئی ہو گی جیسے رات کے سیاہ پردے ان پر پڑے ہوئے ہوں، وہ دوزخ کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ (سید مودودی)
جیسا کہ اوپر وضاحت کی گئی کہ مظلما (تاریک) کا لفظ رات کے سلسلے میں آیا ہے نہ کہ ٹکڑوں کے سلسلے میں، اس لئے رات کے سیاہ پردے درست ترجمہ نہیں ہے سیاہ رات کے ٹکڑے درست ترجمہ ہے۔
اسی سے ملتی جلتی ایک غلطی مذکورہ ذیل ترجمے میں بھی نظر آتی ہے:
’’جیسے ڈھانک دیا ہے ان کے مونھ پر ایک اندھیرا ٹکڑا رات کا ‘‘(شاہ عبدالقادر)
یہاں ترجمہ میں ٹکڑا واحد ہے، جب کہ آیت میں قطع جمع کا صیغہ ہے، احساس ہوتا ہے کہ شاہ عبدالقادر کو قرأت کے سلسلے میں اشتباہ ہوگیا، اور انہوں نے غلطی سے دوسری قرأت کا ترجمہ یہاں کردیا۔ اس امر کی مزید تفصیل یہ ہے کہ قطع میں اگر ط پر فتحہ (زبر) ہو تو جمع کے معنی میں ہوتا ہے، اور اگر ط پر سکون (جزم) ہو تو واحد کے معنی میں ہوتا ہے، آیت کی ایک قرأت سکون کی بھی ہے، اس کے لحاظ سے مظلما اس کی صفت بھی بن سکتا ہے، اور اس قرأت کے لحاظ سے شاہ عبدالقادر کا ترجمہ درست بھی ہوجائے گا، لیکن جو قرأت ہمارے اور خود ان کے سامنے رہی ہے، اس کے لحاظ سے یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے۔

کَأَنَّمَا أُغْشِیَتْ وُجُوہُہُمْ قِطَعاً مِّنَ اللَّیْْلِ مُظْلِماً ۔

کے بعض درست ترجمے بھی ملاحظہ ہوں:
’’گویا کہ اڑھائے گئے ہیں مونھ ان کے ٹکڑے رات اندھیری کے‘‘ (شاہ رفیع الدین)
’’گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت کے پرت لپیٹ دئے گئے ہیں ‘‘(اشرف علی تھانوی)
’’گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے چڑھا دیے ہیں‘‘.(احمد رضا خان)

(۱۲۳) فَزَیَّلنَا بَینھُم کا ترجمہ

عربی لغات کے مطابق زیّل کا مطلب ہوتا ہے ایک دوسرے سے الگ کرنا، اور ایک دوسرے سے جدا کرنا۔
اسی سے فعل لازم تزیّل ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے ایک دوسرے سے الگ اور جدا ہوجانا۔ قرآن مجید میں دونوں الفاظ استعمال ہوئے ہیں،تزیّل کا مطلب سب لوگوں نے الگ ہونا کیا ہے، جیسا کہ مذکورہ ترجمہ سے ظاہر ہے:

وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوہُمْ أَن تَطَؤُوہُمْ فَتُصِیْبَکُم مِّنْہُم مَّعَرَّۃٌ بِغَیْْرِ عِلْمٍ لِیُدْخِلَ اللّٰہُ فِیْ رَحْمَتِہِ مَن یَشَاءُ لَوْ تَزَیَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ کَفَرُوا مِنْہُمْ عَذَاباً أَلِیْماً۔ (الفتح: 25)

’’ اگر (مکہ میں) ایسے مومن مرد و عورت موجود نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے، اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم انہیں پامال کر دو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا (تو جنگ نہ روکی جاتی روکی وہ اس لیے گئی) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کر لے وہ مومن الگ ہو گئے ہوتے تو (اہل مکہ میں سے) جو کافر تھے ان کو ہم ضرور سخت سزا دیتے‘‘ (سید مودودی)
البتہ زیّل کے ترجمے میں صاحب تفہیم نے ایک الگ راہ نکالنے کی کوشش کی ہے، مذکورہ ذیل آیت کا ترجمہ ملاحظہ ہو:

وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ مَکَانَکُمْ أَنتُمْ وَشُرَکَآؤُکُمْ فَزَیَّلْنَا بَیْْنَہُمْ وَقَالَ شُرَکَآؤُہُم مَّا کُنتُمْ إِیَّانَا تَعْبُدُونَ۔ (یونس: 28)

’’جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ (اپنی عدالت میں) اکٹھا کریں گے، پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھیر جاؤ تم بھی اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی، پھر ہم ان کے درمیان سے اجنبیّت کا پردہ ہٹا دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے‘‘(سید مودودی)
صاحب تفہیم اپنے اس ترجمہ کی تشریح میں لکھتے ہیں: اس کا مفہوم بعض مفسرین نے یہ لیا ہے کہ ہم ان کا باہمی ربط وتعلق توڑ دیں گے تاکہ کسی تعلق کی بنا پر وہ ایک دوسرے کا لحاظ نہ کریں، لیکن یہ معنی عربی محاورے کے مطابق نہیں ہیں۔ محاورہ عرب کی رو سے اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے درمیان تمیز پیدا کردیں گے۔ یا ان کو ایک دوسرے سے ممیز کردیں گے، اس معنی کو ادا کرنے کے لئے ہم نے یہ طرز بیان اختیار کیا ہے کہ ’’ان کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹادیں گے‘‘۔ یعنی مشرکین اور ان کے معبود آمنے سامنے کھڑے ہوں گے اور دونوں گروہوں کی امتیازی حیثیت ایک دوسرے پر واضح ہوگی۔ (تفہیم القرآن)
عربی محاورے کے حوالے سے یہاں جو بات کہی گئی ہے وہ درست نہیں ہے، فزیلنا بینھم کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین اور ان کے معبود الگ الگ کردئے جائیں گے، یہ تو ممکن ہے کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوں، لیکن اجنبیت کا پردہ ہٹادینا اس جملے کا مطلب نہیں ہے۔ یوں بھی شرک کرنے والوں کو تو پہلے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کن چیزوں کو معبود بنا رکھا ہے، ان کے لئے ان کے معبود اجنبی تو ہوتے نہیں ہیں۔ صحیح ترجمہ وہی ہے جو عام مترجمین نے کیا ہے، اور جس پر دلیل سورہ فتح والی مذکورہ بالا آیت کا ترجمہ بھی ہے۔ وہاں خود صاحب تفہیم نے الگ الگ ہوجانا ترجمہ کیا ہے۔
فزیلنا بینھم کے بعض دوسرے ترجمے یوں ہیں:
’’پس قسم قسم کردی ہم نے درمیان ان کے‘‘ (شاہ رفیع الدین)
’’پھر توڑادیں گے آپس میں ان کو‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’تو ہم انہیں مسلمانوں سے جدا کردیں گے‘‘ (احمد رضا خان، آیت میں نہ مسلمانوں کا ذکر ہے، اور نہ تفسیر میں اس کا کوئی محل بنتا ہے)
’’تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’پھر ہم ان (عابدین ومعبودین) کے آپس میں پھوٹ ڈالیں گے ‘‘(اشرف علی تھانوی)
(جاری)

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ ۔ ایک تعارفی جائزہ (۴)

مولانا سمیع اللہ سعدی

۲۔ اردو تراجم، شروحات وتعلقات اور درسی افادات وتقریرات

برصغیر میں کتب حدیث پر ہونے والا کام زیادہ تر اردو تراجم وشروحات(عربی شروحات کا بیان پچھلی قسط میں ہوچکا ہے ) اور درسی افادات و تقریرات پر مشتمل ہے ،ان میں درسی افادات و تقریرات زیادہ تعداد میں ہیں ،کیونکہ صحاح ستہ، موطا م امام مالک ،موطا امام محمد اور مشکوۃ المصابیح مدارس دینیہ کے نصاب میں داخل ہیں ،اس لئے ہونہار تلامذہ شیوخ الحدیث کی درسی تقاریر کو منضبط کرتے ہیں ،اور اسے مرتب کر کے افادہ عام کی خاطر شائع کرتے ہیں ۔
برصغیر میں کتب حدیث پر ہونے والے کاموں کا ایک جائزہ لیا جاتا ہے۔

۱۔ اردو تراجم و شروحات 

کتب حدیث کے تراجم میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ تراجم میں معروف علماء کے تراجم کا ذکر کیا گیا ہے جو اپنے اپنے حلقوں میں مستند مانے جاتے ہیں۔ حالیہ سالوں میں مختلف مکتبات نے کتب حدیث کے تراجم شائع کیے ہیں جو مختلف مترجمین (اکثر غیر معروف حضرات) نے کیے ہیں۔ اس مجموعے میں ان تازہ تراجم کی کثرت کی وجہ سے ذکر نہیں کیا گیا۔ ان تراجم کے لیے کراچی، لاہور، پشاور کے معروف مطابع اور ہندوستان کے ناشرین کی شائع کردہ فہرستیں ملاحظہ کی جائیں۔ نیز شروح میں ان کا ذکر کیا گیا ہے جو باقاعدہ تالیف کے قبیل سے ہیں، درسی افادات وتقریرات کا ذر مستقل عنوان کے تحت آئے گا۔
۱۔کتب حدیث کے اردو تراجم کے سلسلے میں معروف اہل حدیث عالم مولانا وحید الزمان رحمہ اللہ کا نام سنہری حروف سے لکھنے کے لائق ہے ،موصوف نے متعدد امہات حدیث کا ترجمہ کیا اور جگہ جگہ مفید حواشی بھی تحریر کیے۔ آپ کے تحریر کردہ تراجم یہ ہیں :
۱۔تیسیر الباری ترجمہ صحیح بخاری 
۲۔المعلم ترجمہ صحیح مسلم
۳۔جائزہ الشعوذی ترجمہ جامع ترمذی (اس کی تالیف میں ان کے بھائی بھی ساتھ شریک رہے )
۴۔روض الربی من ترجمہ المجتبی
۵۔الہدی المحمود ترجمہ سنن ابی داود
۶۔رفع العجاجہ عن ترجمہ سنن ابن ماجہ 
۷۔کشف المغطا عن الموطا
۲۔اردو تراجم کے سلسلے میں دوسرا بڑا نام مولنا اشفاق الرحمان کاندھلوی اور ان کے صاحبزادگان کا ہے ،اس خاندان نے درجہ ذیل کتب حدیث کے تراجم کیے ہیں:
۱۔ترجمہ جامع ترمذی ،مولنا حامد الرحمن صدیقی 
۲۔ترجمہ نسائی شریف ،مولنا حبیب الرحمن صدیقی 
۳۔ترجمہ ابن ماجہ ،مولنا حبیب الرحمن صدیقی
۴۔ترجمہ صحیح مسلم ،مولنا عابد الرحمن صدیقی
۳۔معروف بریلوی عالم مولنا عبد الحکیم شاہ جہاں پوری نے بھی تراجم حدیث کے سلسلے میں اہم خدمات سر انجام دی ہیں۔ آپ نے صحیح بخاری ،سنن ابی داود ،سنن ابن ماجہ اور مشکوۃ المصابیح کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔
۳۔شروحات حدیث کے سلسلے میں معروف بریلوی عالم مولانا غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ کی خدمات قابل ذکر ہیں۔ آپ نے مسلم شریف کی سات جلدوں میں ایک ضخیم شرح لکھی ہے جو اردو میں اب تک مسلم کی مفصل ترین شرح شمار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ نعمۃ الباری فی شرح البخاری کے نام سے چودہ جلدوں میں بخاری شریف کی عمدہ شرح لکھی ہے۔
۴۔اردو شروحات میں میاں نذیر حسین دہلوی کے شاگرد مولانا ابو الحسن سیالکوٹی کی فیض الباری ترجمہ و شرح صحیح بخاری ایک اہم شرح ہے ۔یہ مفصل شرح دس ضخیم جلدوں میں شائع ہوچکی ہے۔
۵۔بخاری شریف کی اردو میں سب سے مفصل شرح لکھنے کا اعزاز شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ کے افادات پر مبنی کشف الباری شرح صحیح بخاری کو حاصل ہے ۔یہ شرح حضرت شیخ کے اجل تلامذہ کی تدوین و تالیف کا نتیجہ ہے اور بائیس ضخیم جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔
۶۔اردو شروحات میں ایک اہم شرح شاہ اسحاق صاحب کے شاگرد رشید نواب قطب الدین خان کی مشکوہ شریف پر لکھی ہوئی شرح ’’مظاہر حق‘‘ ہے ،یہ عمدہ شرح پانچ ضخیم جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔
۷۔معروف اہل حدیث عالم مولانا ابو القاسم سیف بنارسی نے صحیح بخاری پر متنوع اعتراضات کے جواب میں متعدد کتب لکھیں ۔ ان کتب کا مجموعہ دفاع صحیح بخاری کے نام سے ایک ہزار صفحات کی ضخیم جلد میں شائع ہوا ہے۔ ان میں بعض مقامات پر اگرچہ سلفی شدت موجود ہے ،لیکن بخاری شریف کے دفاع میں فی الجملہ ایک اچھی اور قابل قدر کاوش ہے۔
کتب حدیث پر اردو تراجم و شروح کی ایک فہرست پیش خدمت ہے :

۱۔بخاری شریف کے اردو تراجم و شروحات:

۱۔نصرۃ الباری ترجمہ صحیح بخاری، ،مولانا عبد الاول غزنوی 
۲۔ترجمہ و شرح بخاری، مولانا محمد داود راز 
۳۔مشارق الانوار شرح صحیحین و موطا ، مولانا عبد الحق بہاولپوری (۱۴ مجلدات)
۴۔ترجمہ صحیح بخاری ،مولانا عبد التواب ملتانی 
۵۔ترجمہ صحیح بخاری ،مرزا حیرت دہلوی 
۶۔ترجمہ و شرح بخاری ،امیر علی لکھنوی 
۷۔فضل الباری ترجمہ صحیح بخاری ،،مولانا فضل حق دلاوری 
۸۔منح الباری ترجمہ صحیح بخاری ،محمد حسین بٹالوی 
۹۔نزہۃ الباری ترجمہ صحیح بخاری،شریف الحق امجدی 
۱۰۔نصرۃ الباری و شرح صحیح بخاری ،،مولانا عبد الستار دہلوی
۱۱۔فیوض الباری ترجمہ و شرح صحیح بخاری ،،مولانا سید محمود رضوی (۷مجلدات)
۱۲۔تسہیل القاری شرح صحیح بخاری، ،مولانا وحید الزمان 
۱۳۔الاسوہ ترجمہ و شرح صحیح بخاری،،مولانا حنیف ندوی (نامکمل)
۱۴۔فضل الباری شرح ثلاثیات البخاری،شمس الحق ڈیانوی
۱۵۔انعام المنعم الباری بشرح ثلاثیات البخاری،مولانا عبدالصبورملتانی
۱۶۔شرح تراجم بخاری، ،مولانا محمود حسن دیو بندی
۱۷۔انعام الباری فی شرح اشعار البخاری ،مولانا عاشق الہی
۱۸۔نصر الباری شرح البخاری، ،مولانا محمد عثمان غنی صاحب 
۱۹۔تفہیم الباری ترجمہ صحیح بخاری، ،مولانا ظہور الباری اعظمی 
۲۰۔ترجمہ بخاری شریف مع حواشی ،مولانا سبحان محمود و دیگر رفقاء،دار الاشاعت (اس ترجمہ پر مفید و مختصر حواشی استاد محترم مفتی محمد عبد اللہ صاحب( استاد الحدیث جامعہ دار القرآن فیصل آباد) نے تحریر کئے ہیں )
۲۱۔غنیۃ القاری ترجمہ ثلاثیات بخاری، مولانا صدیق حسن خان 
۲۲۔تفہیم البخاری شرح بخاری،مولانا غلام رسول رضوی 
۲۳۔منہاج البخاری ،علامہ معراج الاسلام 
۲۴۔الخیرالجاری شرح بخاری،مولانا صوفی سرور
۲۵۔بشیر القاری شرح صحیح بخاری ،مولانا غلام جیلانی 
۲۶۔توفیق الباری شرح صحیح بخاری ،عبد الکبیر محسن(۱۲ جلدیں)
۲۷۔فتوحات جہانگیری شرح صحیح بخاری ،علامہ محی الدین جہانگیر (۷جلدیں)
۲۸۔انعام الباری شرح بخاری ،شیخ محمد امین چاٹگامی

۲۔صحیح مسلم کے اردو تراجم وشروحات:

۱۔ترجمہ وشرح صحیح مسلم،مولانا محمد داود راز (نامکمل)
۲۔ترجمہ صحیح مسلم،مولانا عبدالعزیز صمدانی (جلداول )
۳۔انعام المنعم بترجمہ صحیح مسلم، مولانا عبدالاول غزنوی
۴۔ترجمہ وتشریح صحیح مسلم،مولانا عبدالعزیزعلوی
۵۔المعلم ترجمہ صحیح مسلم،مولانا وحید الزمان 
۶۔تجرید مسلم اردو ترجمہ مسلم،محمدمالک کاندھلوی،ملک دین محمد اینڈ سنز لاہور (مجلدان)
۷۔ترجمہ صحیح مسلم،مولاناعابد الرحمان صدیقی،ادارہ اسلامیات ،لاہور (اس ترجمہ پر مختصر و مفید حواشی استاد محترم مفتی محمد عبد اللہ صاحب نے تحریر کیے ہیں)
۸۔تحفۃ المنعم ترجمہ و شرح صحیح مسلم ،،مولانا فضل محمد یوسف زئی ،مکتبہ اویس القرنی ،کراچی (۳مجلدات)
۹۔کشف الملہم ترجمہ و شرح مقدمہ صحیح مسلم ،مولانا عبد السلام بستوی
۱۰۔تفہیم المسلم ترجمہ و شرح صحیح مسلم ،مولانا زکریا اقبال 
۱۱۔شرح صحیح مسلم ،مولانا عبد القیوم حقانی (۵ جلدیں، بقیہ زیر تکمیل )
۲۱۔انعامات المنعم لطالبات المسلم ،مولانا محبوب احمد 
مقدمہ مسلم کی شروح:
۱۔عمدۃالمفہم فی حل مقدمۃ مسلم ،محمدطاہررحیمی۔
۲۔فیض المنعم شرح مقدمۃ مسلم،شیخ سعید احمد پالن پوری
۳۔نعمۃ المنعم شرح مقدمۃ مسلم،شیخ نعمت اللہ اعظمی
۴۔ایضاح المسلم شرح مقدمۃ مسلم،شیخ محمدغانم دیوبندی
۵۔فیض الملہم شرح مقدمۃ مسلم، شیخ اسلام الحق کوپاگنجی۔
۶۔نصرۃ المنعم شرح مقدمۃ مسلم،شیخ عثمان غنی

۳۔سنن نسائی کے اردو تراجم و شروح:

۱۔روضۃ الربی من ترجمۃ المجتبی، ،مولانا وحید الزمان 
۲۔ترجمہ سنن نسائی،مولانا دوست محمد شاکر،حامداینڈکمپنی،لاہور (۳مجلدات)
۳۔ ترجمہ سنن نسائی ،،مولانا خورشید حسن قاسمی استاد دار العلوم دیوبند
۴۔ترجمہ سنن نسائی ،،مولانا خلیل الرحمان ،زمزم پبلشرز
۵۔ترجمہ سنن نسائی ،،مولانا حبیب الرحمان صدیقی 

۴۔جامع ترمذی کے اردو تراجم و شروحات:

۱۔جائزۃ الشعوذی ترجمہ جامع ترمذی، مولانا وحید الزمان
۲۔ترجمہ جامع ترمذی، مولانا فضل حق دلاوری
۳۔ترجمہ جامع ترمذی،مولانا بدیع الزمان حیدرآبادی
۴۔ترجمہ وتشریح جامع ترمذی،مولانا عبدالعزیز علوی
۵۔شرح جامع ترمذی،شیخ فضل احمد انصاری
۶۔شرح جامع ترمذی،شیخ وجیہ الزمان لکھنوی
۷۔ترجمہ جامع ترمذی،مولانا صدیق ہزاروی
۸۔ترجمہ جامع ترمذی ،مولانا فضل احمد ،دار الاشاعت
۹۔ترجمہ جامع ترمذی ،مولانا حامد الرحمان صدیقی
۱۰۔الدرس الشذی شرح جامع ترمذی ،مولانا صوفی سرور 
۱۱۔روضۃ الاحوذی شرح ترمذی ثانی،محمد حسین صدیقی

۵۔سنن ابی داود کے اردو ترجم و شروحات:

۱۔ الہدی المحمود ترجمہ سنن ابی داود، مولانا وحید الزمان
۲۔ فلاح وبہبود ترجمہ سنن ابی داود، محمد حنیف گنگوہی
۳۔ترجمہ سنن ابی داود ،مولانا عبد الحکیم شاہ جہاں پوری 
۴۔ترجمہ سنن ابی داود ،،مولانا خورشید حسن قاسمی 
۵۔فضل المعبود ترجمہ و شرح سنن ابی داود ،،مولانا منظور احمد صاحب 

۶۔سنن ابن ماجہ کے اردو تراجم و شروح:

۱۔ رفع العجاجہ عن سنن ابن ماجہ، مولانا وحید الزمان
۲۔ رفع الحاجہ فی ترجمۃ سنن ابن ماجہ، مولانا عبد السلام بستوی
۳۔ ترجمہ سنن ابن ماجہ، مولانا بدیع الزمان حیدر آبادی
۴۔ ترجمہ وحواشی سنن ابن ماجہ، مولانا یحییٰ گوندلوی
۵۔ترجمہ سنن ابن ماجہ ،،مولانا حبیب الرحمان صدیقی 
۶۔ترجمہ سنن ابن ماجہ ،مولانا عبد الحکیم شاہ جہاں پوری 

۷۔ مشکوۃ المصابیح کے تراجم وشروح:

۱۔ترجمہ مشکوٰۃ مع حواشی، مولانا عبد الاول غزنوی
۲۔ترجمہ وشرح مشکوٰۃ، مولانا عبد التواب ملتانی
۳۔ترجمہ وحواشی،،مولانا اسماعیل سلفی
۴۔انوار المصابیح ترجمہ وشرح مشکوٰۃ المصابیح، مولانا عبد السلام بستوی
۵۔سطعات التلقیح بترجمہ مع فوائد مشکوٰۃ المصابیح، مولانا محمد صادق خلیل
۶۔مظہرالنکات شرح مشکوۃ،محدث عبداللہ روپڑی
۷۔ترجمہ مشکوۃ،،مولانا ابو الحسن سیالکوٹی
۸۔مرآۃ المناجیح اردو ترجمہ وشرح مشکوۃ المصابیح، مفتی احمد یار خان نعیمی
۹۔اردوترجمہ وفوائدمشکوٰۃ المصابیح، مولانا شیخ الحدیث محمد رفیق الاثری
۱۰۔اردوترجمہ مشکوٰۃ، مولانا محمد یونس گوہر
۱۱۔الملتقات علیٰ ترجمۃ المشکوٰۃ، شیخ محی الدین قصوری
۱۲۔طریق النجاۃ ترجمۃ الصحاح من المشکوٰۃ،مولانامحمدابراہیم آروی

دیگر کتب حدیث:

۱۔ترجمہ مسند امام احمد بن حنبل ،محمد بن عبد اللہ ہزاروی 
۲۔ترجمہ و توضیح مسند ،عبد الستار حماد (زیر تکمیل )
۳۔ترجمہ مسند دارمی ،شیخ عبد الرشید حنیف 
۴۔فیض الستار فی ترجمہ کتاب الاثار، ،مولانا ابو الحسن سیالکوٹی
۵۔المصطفی ترجمہ المنتقی لابن جارود ،عبد الحمید اٹاوی
۶۔الروض البسام ترجمہ بلوغ المرام ،نواب صدیق حسن خان(بلوغ المرام پر اہل حدیث مکتب فکر کی طرف سے فارسی ،عربی اور اردو تینوں زبانوں میں کافی کام ہوچکا ہے )
۷۔ترجمہ نیل الاوطار،،مولانا محمد داود رحمانی
۸۔ترجمہ عمد الاحکام ،،مولانا حافظ محمد اسحاق
۹۔ترجمہ صحیح ابن خزیمہ ،حافظ محمد ادریس
۱۰۔ ترجمہ موطا امام مالک ،حافظ زبیر علی زئی 
۱۱۔المختار اردو شرح کتاب الاثار ،ڈاکٹر حبیب اللہ مختار

۲۔درسی افادات و تقریرات 

برصغیر پاک وہند میں متون حدیث پر ہونے والے کام کا ایک بڑا حصہ درسی افادات پر مشتمل ہے ، معروف شیوخ الحدیث کی درسی تقاریر ان کے تلامذہ کی ترتیب و تدوین کے ساتھ چھپ چکی ہیں ،ان درسی افادات میں بڑی عمدہ ابحاث ہوتی ہیں۔ ذیل میں اس سلسلے کی اہم کاوشوں کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے :
۱۔صحیحین:
۱۔صحیح بخاری کی عربی میں مرتب شدہ درسی تقاریر میں حضرت انور شا ہ کشمیری رحمہ اللہ کے دروس پر مشتمل فیض الباری اہم ترین شرح ہے،آپ کے شاگرد رشید مولانا بدر عالم میرٹھی نے اسے مرتب کیا ،یہ شرح عرب و عجم میں معروف ہے ۔دوسری اہم تقریر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کے درسی افادات کا مجموعہ لامع الدراری فی شرح البخاری ہے ،یہ شرح مولانا یحییٰ کاندھلوی رحمہ اللہ نے دوران درس لکھی ہے ،جسے آپ کے با کمال صاحبزادے شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ نے اپنے قابل قدر حواشی کے ساتھ مرتب کر کے شائع کروایا۔اس کا مقدمہ حدیثی مباحث کا عمدہ خزانہ ہے۔
۲۔اردو میں صحیح بخاری کی درسی افادات پر مبنی شروح میں سے اہم شرح حضرت انور شاہ رحمہ اللہ کی درسی تقاریر پر مشتمل انوار الباری شرح صحیح بخاری(۱۹ ؍اجزاء) ہے جو ان کے شاگرد احمد رضا بجنوری نے مرتب کی ہے ،بے جا طوالت کے باوجود عمدہ مباحث پر مشتمل ہے ۔اس کے علاوہ مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب کے دروس کا مجموعہ فضل الباری، شیخ فخر الدین مراد آبادی کی ایضاح البخاری (دس جلدیں)، مولانا سعید احمد پالن پوری کی تحفہ القاری (گیارہ جلدیں) اور شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی مدظلہ کی انعام الباری (۷ جلدیں ) اہم شروح میں شمار ہوتی ہیں۔
۳۔صحیح مسلم کی اہم درسی تقاریر میں مولانا رشید احمد گنگوہی کی تقریر ہے ،جو مولانا یحییٰ کاندھلوی رحمہ اللہ نے قلمبند کی ہے ۔یہ تقریر شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ کے وقیع حواشی کے ساتھ الحل المفہم لصحیح مسلم کے نام سے دو جلدوں میں چھپی ہے۔
صحیحین کی اہم درسی تقاریر کی فہرست پیش خدمت ہے :
۱۔الخیر الساری ،مجموعہ افادات ،مولانا صدیق احمد باندوی(۵جلدیں )
۲۔تقریر بخاری شریف، مجموعہ افادات ،شیخ الحدیث ،مولانا زکریا (۵جلدیں)
۳۔تشریحات بخاری ،مجموعہ افادات حضرت گنگوہی و شیخ الحدیث (۷جلدیں)
۴۔دروس بخاری ،مجموعہ افادات ،مولانا حسین احمد مد نی 
۵۔فضل الباری فی فقہ البخاری ،مجموعہ افادات مولانا انور شاہ کشمیری (عربی ۵ مجلدات)
۶۔ارشاد القاری الی صحیح بخاری ،مجموعہ افادات مفتی رشید احمد 
۷۔درس بخاری،مجموعہ افادات مفتی نظام الدین شامزئی 
۸۔نفع المسلم شرح صحیح مسلم ،مجموعہ افادات ،مولانا اکرام علی بھاگلپوری
۹۔درس مسلم ،مجموعہ افادات مفتی محمد رفیع عثمانی 
۲۔جامع ترمذی:
۱۔جامع ترمذی کی عربی میں مرتب شدہ درسی افادات میں سے حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کی درسی تقریرالکوکب الدری علی جامع الترمذی اور حضرت انورشاہ صاحب رحمہ اللہ کی درسی تقریر العرف الشذی شرح سنن ترمذی الترمذی اہم شروح میں شمار ہوتی ہیں۔
۲۔اردو میں جامع ترمذی کی متعدد درسی شروحات و تقاریر چھپی ہیں۔ ان میں درسی حوالے سے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی رحمہ اللہ کے افادات پر مشتمل ’’درس ترمذی‘‘ اور ’’تقریر ترمذی‘‘ زیادہ متداول اور مشہور ہے۔
جامع ترمذی کی اہم درسی تقاریر و شروح کی فہرست پیش خدمت ہے :
۱۔تقریر ترمذی ،افادات: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی
۲۔الورد الشذی علی جامع ترمذی ،افادات: شیخ الہند مولانا محمود الحسن
۳۔تشریحات ترمذی، ،مولانا کمال الدین المسترشد (۷ جلدیں )
۴۔تقریر ترمذی ،مجموعہ افادات ،مولانا حسین احمد مدنی 
۵۔الخیر الجاری شرح جامع ترمذی ،افادات :شیخ الحدیث مولانا عبد الرحمان مینوی 
۶۔الورد الطری علی جامع الترمذی ،افادات :مولانا یاسین صابر 
۷۔دروس ترمذی ،افادات :مولانا رئیس الدین شیخ الحدیث مظاہر العلوم
۸۔حقائق السنن شرح جامع السنن ،افادات :مولانا عبد الحق اکوڑہ خٹک
۹۔انعامات رحمانی شرح ترمذی ثانی ،مولانا محبوب احمد صاحب
۱۰۔مجمع البحرین فی جمع الافادات عن الاستاذین ،افادات: مفتی نظام الدین شامزئی ومولانا زیب صاحب 
۱۱۔معارف ترمذی ،مفتی طارق مسعود 
۱۲۔ریاض السنن ،افادات :مولانا موسیٰ خان روحانی بازی 
شمائل ترمذی کی شروح:
۱۔خصائل نبوی شرح شمائل ترمذی ،شیخ الحدیث مولانا زکریا 
۲۔شرح شمائل ترمذی، ،مولانا عبد القیوم حقانی 
۳۔زبدۃ الشمائل شرح شمائل، مولانا الیاس گھمن 
۴۔ شرح الوصائل فی شرح الشمائل، شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ
۵۔انوار غوثیہ شرح شمائل نبویہ ،محمد امیر شاہ گیلانی 
۶۔شرح شمائل ترمذی، مولانا صوفی عبدا لحمید سواتی 

۳۔سنن ثلاثہ ابو داود ،نسائی و ابن ماجہ:

۱۔سنن ابی داود کی درسی تقاریر میں شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ کے شاگرد رشید اور مظاہر العلوم سہارنپور کے استاد الحدیث مولانا محمد عاقل صاحب کی الدر المنضود علی سنن ابی داود قابل ذکر ہے ،یہ درسی شرح چھ ضخیم جلدوں میں چھپی ہے۔
۲۔ مولانا ریاست علی بجنوری کے افادات پر مشتمل شرح مصباح الزجاجہ شرح ابن ماجہ بھی اہم درسی شروح میں سے ہیں۔
۳۔ مولانا محبوب احمد صاحب کی انعام المعبود لطالبات سنن ابی داود اور مولانا صوفی سرور صاحب کی خیر المعبود بھی اہم درسی شروح شمار ہوتی ہیں۔
۴۔ مولانا اخترحسین بہاولپوری نے موطین ،نسائی و ابن ماجہ کی درسی شرح احسان الہی کے نام سے لکھی ہے ،یہ ایک ضخیم جلد میں چھپی ہے جس میں مذکورہ چار کتب کے درسی مقامات کی توضیح و شرح کی گئی ہے۔اس کے علاوہ استاد محترم مولانا خلیل الرحمان صاحب (استاد جامعہ دار القرآن فیصل آباد) کی درسی تقریر خیر الحاجہ شرح سنن ابن ماجہ بھی قابل ذکر ہے۔

۴۔مشکوۃ المصابیح و طحاوی:

۱۔بخاری و ترمذی کے بعد مشکوۃ المصابیح پاک وہند کے مدرسین کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے ،اس لئے مشکوۃ کی متعدد درسی شروحات و افادات منظر عام پر آئی ہیں ،ان میں شیخ الحدیث ،مولانا زکریا رحمہ اللہ کے افادات پر مبنی التقریر الرفیع (عربی )قابل ذکر ہے جو آپ کے شاگرد رشید مولانا شاہد سہارنپوری نے مرتب کی ہے۔
۲۔ مشکوۃ کی اردو تقاریر میں مولانا فضل احمد یوسف زئی کی تشریح وتوضیحات (۸جلدیں) جو ان کے استاد مولانا فضل احمد سواتی صاحب کے درسی افادات پر مشتمل ہے) اور جامعہ خیر المدارس کے استاد الحدیث مولانا شبیر الحق کشمیری کے افادات پر مبنی خیر المفاتیح (۶ جلدیں) مفصل درسی شروح میں شمار ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ جامعہ امدادیہ کے بانی شیخ الحدیث،مولانا نذیر احمد صاحب کی درسی تقاریر پر مشتمل شرح اشرف التوضیح بھی مشکوۃ کی متداول شروح میں سے ہیں، اس کی پہلی دو جلدیں حضرت شیخ الحدیث صاحب اور آخری دو جلدیں آپ کے صاحبزادے مفتی محمد زاہد صاحب مدظلہم کے افادات پر مبنی ہے ،موخر الذکر جلدوں میں جدید مسائل پر عمدہ ابحاث شامل ہیں۔
مشکوۃ و طحاوی کی اہم درسی تقاریر و شروح کی فہرست پیش خدمت ہے :
۱۔اسعد المفاتیح ،افادات :مولانا عبد الغنی جاجروی (۲جلدیں )
۲۔درس مشکوۃ، افادات :شیخ الحدیث مولانا محمد اسحاق (۳جلدیں )
۳۔ضیا ء الصبیح ،افادات :مولانا فضل احمد سواتی 
۴۔تہذیب الطحاوی، مولانا شمس الحق 
۵۔ایضاح الطحاوی، مولانا شبیر الحق قاسمی 
۶۔تلخیص الطحاوی، مولانا عبد الباسط چلاسی 

چند ملاحظات

۱۔برصغیر میں متون حدیث پر ہونے والے کام کا ایک مختصرخاکہ پیش کیا گیا۔ اس خاکے سے بادی النظر میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ برصغیر کے تین بڑے مکاتب فکر اہلحدیث، مکتب دیوبند اور مکتب بریلی میں سے مکتب اہل حدیث میں متو ن حدیث کے تراجم کا رجحان زیادہ رہا ہے اور مکتب دیوبند میں درسی افادات و تقریرات مرتب کرنے کی شرح زیادہ رہی ہے، جبکہ مکتب بریلی دونوں حوالوں سے نسبتاً کم تصنیفات کی حامل ہے۔ اس کے لیے علامہ عبدالحکیم شرف قادری کی ضخیم کتاب" تذکرہ اکابر اہل سنت "کا بالاستیعاب جائز لیا گیا جس میں مصنف نے مکتب بریلی کے تقریباً ایک سو اسی اکابرین کا مع ان کی تصانیف کے تذکرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بریلی مکتب فکر کی کتب پر مشتمل ڈائریکٹری مرآۃ التصانیف سے بھی مدد لی گئی۔ تاہم مکتب بریلی میں متون حدیث پر قابل قدر کام کرنے کے حوالے سے علامہ غلام رسول سعیدی ،مفتی احمد یا ر خان نعیمی ،غلام رسول رضوی جیسے چند بڑے نام موجود ہیں۔
۲۔ تینوں مکاتب فکر کے حوالے سے ایک یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مکتب اہل حدیث نے اپنے اکابرین کی خدمات حدیث کو محفوظ کرنے کے حوالے سے خاصا کام کیا ہے ،چنانچہ معروف مورخ مولانا اسحاق بھٹی کی دبستان حدیث، عبد الرشید عرقی کی برصغیر میں علم حدیث ،مولانا ابو یحییٰ نوشہروی کی علمائے اہل حدیث کی علمی خدمات اور مولانا ارشاد الحق اثری کی پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث کی خدمات حدیث برصغیر میں مکتب اہل حدیث کی حدیثی خدمات پر مشتمل قابل ذکر کتب ہیں۔جبکہ مکتب دیوبند اور مکتب بریلی میں اس حوالے سے منظم کام نہیں ہوا ہے۔ مکتب دیوبند میں حدیث کے حوالے سے چند بڑے نام جیسے حضرت گنگوہی ،حضرت شیخ الہند ،حضرت انورشاہ کشمیری ،حضرت حسین احمد مدنی ،مولانا شبیر احمد عثمانی،مولانا ظفر احمد عثمانی اور کچھ دیگر حضرات کی خدمات حدیث پر مواد موجود ہے اور مکتب بریلی میں زیادہ تر مواد اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب کی خدمات حدیث پر مشتمل ہے ۔دونوں مکاتب میں بحیثیت مکتب خدمات حدیث کو بیان کرنے پر کوئی مفصل کتاب (میر ی معلومات کی حد تک )موجود نہیں ہے۔اس لئے ان دونوں مکاتب کو صرف اپنے چند اکابرین پر توجہ دینے کی بجائے اپنے اپنے مکاتب میں حدیث پر ہونے مکمل کام کی مفصل دستاویز تیار کرنی چاہیے ۔
۳۔اس سلسلے کی پچھلی اقساط میں کتب کے بیان کرنے کے ساتھ ناشر کے ذکر کرنے کی کوشش کی گئی تھی ،جبکہ اس قسط میں صرف کتب اور ان کے مصنفین کے ناموں پر اکتفا کیا گیا ،جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہاں ناشر کی بجائے مصنف کے نام سے کتاب کی شہرت زیادہ ہوتی ہے اور کتاب کو طلب کرنے کے لئے بھی مصنف کا نام عمومی طور پر کافی ہوتا ہے ،نیز ایک کتاب کو متعدد ناشرین نے چھاپا ہوتا ہے ،جس کی وجہ سے کسی ایک ناشر کو ترجیح دینے کی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آئی ، شاید یہی وجہ ہے کہ علمائے برصغیر کی خدمات حدیث پر جتنا مواد ہے ،اس میں بھی ناشر کو بیان کرنے کا خاص اہتمام نہیں کیا گیا ہے۔
۴۔عالم عرب میں علم حدیث پر ہونے والے کام پر مفصل معاجم تیار ہوئی ہیں ،جب کہ برصغیر کے حدیثی ذخیرے پر چند مختصر کتب و مضامین کے علاوہ کوئی تفصیلی کام نہیں ہوا ہے ،اس لئے تحقیق کرنے والے اداروں سے درخواست ہے کہ بلا امتیاز مسلک و مشرب بحیثیت مجموعی برصغیر میں علم حدیث کے ذخیرے کے تعارف پر توجہ دیں اور مفصل معاجم و فہارس تیار کریں ،تاکہ اگلی نسلیں اسلاف کے قابل قدر ذخیرے سے واقف رہیں۔ڈاکٹر سعد صدیقی صاحب کی کتاب ’’علم حدیث اور پاکستان میں اس کی اشاعت‘‘ ایک اچھی کاوش ہے ،اسی طرز پر مفصل معاجم تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
۵۔ برصغیر میں متون حدیث پر ہونے والے کام کے بیان میں مسلک و مشرب سے قطع نظر کوشش کی گئی ہے کہ امہات حدیث کے اردو تراجم و شروح کا ذکر ہوجائے اور حتی الا مکان کوشش رہی کہ تینوں مکاتب میں ہونے والے قابل ذکر کام کا تذکرہ ہوجائے ،لیکن اس کا دعویٰ نہیں کہ سارے اہم کام اس سلسلے میں ذکرہوئے ہیں ،اس لئے کوئی اہم کام رہ گیا ہو تو قارئین سے درخواست ہے کہ مقالہ نگار کو مطلع فرمائیں تاکہ اس سلسلے پر نظر ثانی کے وقت وہ اضافہ جات شامل ہوسکیں۔
۶۔ عالم عرب میں متون حدیث پر متنوع قسم کی تحقیقات و دراسات ہوئی ہیں (جن کا ذکر اس سلسلے کی پچھلی دو اقساط میں ہوا ہے )جبکہ برصغیر میں تراجم و شروح سے سلسلہ آگے نہیں بڑھا ،اس لئے یہاں کے علمی حلقوں کو کتب حدیث پر تحقیقات و دراسات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے جن میں متون حدیث کی محققانہ اشاعت ،سابقہ طبعات میں اغلاط و اخطاء کی نشاندہی ، حدیث پر جدید فکری نظاموں کے پیدا کردہ متنوع اشکالات و اعتراضات کے جوابات،کتب حدیث کے مناہج ،حدیث کی کمپیوٹرائزیشن ،حدیث کے فقہی مطالعے کے ساتھ سماجی ،معاشی، تربیتی، ادبی پہلو سے مطالعہ اور اردو میں علم حدیث کی مفصل تاریخ و تعارف جیسے مباحث پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

فقاہت راوی کی شرط اور احناف کا موقف (۲)

مولانا عبید اختر رحمانی

فقہ راوی کی شرط کی بنیاد کیا ہے؟

رہ گئی یہ بات کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو قلیل الفقہ کیوں کہاگیاہے۔اوران کی روایت کیوں مطلقاً قابل قبول نہیں ہے تواس کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام سرخسی کہتے ہیں۔
مع ھذا قد اشتھر من الصحابۃ رضی اللہ عنھم ومن بعدھم معارضۃ بعض روایاتہ بالقیاس، ھذا ابن عباس رضی اللہ عنھما لما سمعہ یروی ’’توضؤوا مما مستہ النار‘‘ قال: ارایت لو توضات بماء سخن اکنت تتوضا منہ؟ ارایت لو ادھن اھلک بھن فادھنت بہ شاربک اکنت تتوضا منہ؟ فقد رد خبرہ بالقیاس حتی روی ان ابا ھریرۃ قال لہ: یا ابن اخی، اذا اتاک الحدیث فلا تضرب لہ الامثال، ولا یقال انما ردہ باعتبار نص آخر عندہ، وھو ما روی ان النبی علیہ السلام اتی بکتف مؤربۃ فاکلھا وصلی ولم یتوضا لانہ لو کان عندہ نص لما تکلم بالقیاس ولا اعرض عن اقوی الحجتین او کان سبیلہ ان یطلب التاریخ بینھما لیعرف الناسخ من المنسوخ، او ان یخصص اللحم من ذلک الخبر بھذا الحدیث، فحیث اشتغل بالقیاس وھو معروف بالفقہ والرای من بین الصحابۃ علی وجہ لا یبلغ درجۃ ابی ھریرۃ فی الفقہ درجتہ عرفنا انہ استخار التامل فی روایتہ اذا کان مخالفا للقیاس، ولما سمعہ یروی ’’من حمل الجنازۃ فلیتوضا‘‘ قال: ایلزمنا الوضوء فی حمل عیدان یابسۃ؟ ولما سمعت عائشۃ رضی اللہ عنھا ان ابا ھریرۃ یروی ان ولد الزنا شر الثلاثۃ قالت: کیف یصح ھذا وقد قال اللہ تعالیٰ ’’ولا تزر وازرۃ وزر اخری‘‘ (المصدر السابق)
’’ باوجود اس کے کہ حضرت ابوہریرہ شرف صحابیت میں مشہور ہیں حضورپاک کے ساتھ سفر وحضر میں طویل وقت گزاراہے،صحابہ کرام اوربعد کے لوگوں نے ان کی روایتوں کا قیاس کے ساتھ معارضہ کیاہے۔یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہیں۔ جب انہوں نے سناکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جس چیز کو آگ نے چھولیاہے اس کو استعمال کرنے کے بعد وضو کرو توانہوں نے کہا کہ اگرمیں گرم پانی سے وضو کروں تو کیامیں پھر سے وضو کروں؟ اس کے علاوہ دیکھئے اگرآپ کی بیوی کو کوئی تیل ہدیہ کرے اوروہ یہ تیل آپ کی مونچھوں کو لگادیں توکیاآپ اس سے وضو کریں گے؟ خلاصہ کلام کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کی روایت کو قیا س سے رد کردیا۔ اس پر ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ نہ نے کہا: اے بھتیجے، جب تم سے کوئی حدیث بیان کی جائے تواس کے لیے مثالیں نہ بیان کرو۔اس مثال پر کوئی یہ نہ کہے کہ حضرت ابن عباس نے اس کو دوسری حدیث سے رد کیاہے اوروہ حدیث یہ ہے کہ حضورپاک کے ساتھ دستی کا گوشت لایاگیاتواس کو کھایا اوروضو نہیں کیا، کیونکہ اگران کے پاس نص ہوتاتووہ قیاس سے کام نہ لیتے اور دو حجتوں میں سے زیادہ مضبوط حجت سے اعراض نہ کرتے یاپھر وہ یہ کرتے کہ دوحدیثوں کی تاریخ معلوم کرتے تاکہ ناسخ اورمنسوخ کو جان سکیں یااس حدیث سے گوشت کو خاص قراردیں، لیکن یہ سب نہ کرکے جب انہوں نے قیاس سے کام لیا۔ اور حضرات صحابہ کے درمیان حضرت ابن عباس فقہ وافتاء میں جتنے مشہور تھے، اس مقام تک حضرت ابوہریرہ نہیں پہنچتے ہیں۔ تواس سے ہم نے یہ بات جان لیاکہ انہوں نے روایت سننے کے بعد جب کہ وہ قیاس کے خلاف تھا، غوروفکر سے کام لیا۔اسی طرح حضرت ابن عباس نے جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے سناکہ جو کوئی جنازہ کو کاندھادے تو وہ وضو کرے، اس پر انہوں نے کہاکہ کیاخشک لکڑیوں کو ڈھونے سے بھی ہم پر وضو لازم ہوگا؟ اسی طرح جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے سناکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ زناسے پیداہونے والا بچہ تینوں میں سب سے برا ہے توانہوں نے کہا: یہ کیسے درست ہوسکتاہے، جب کہ اللہ کاارشاد ہے کہ کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘
اس کے علاوہ امام سرخسی اس کو بھی ذکر کرتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کثرت حدیث سے سختی سے منع کیاتھا اورتنبیہ کی تھی بلکہ خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی اعتراف ملتاہے کہ اگراس دور میں ہم نے حدیث کثرت سے بیان کی ہوتی تو ہم کو عمر کے درے کا خوف تھا۔ اس کے علاوہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر کثرت سے حدیث بیان کرنے پر انکار کیاہے۔علاوہ ازیں خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بھی اس کا اعتراف تھاکہ ان کی جانب سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے کثرت سے احادیث بیان کرنے پر لوگ متعجب ہیں۔ اس پر انہوں نے وضاحت بیان کی کہ میں چونکہ کسی اورمشغلہ میں الجھاہوانہیں تھا جب کہ مہاجرین کو تجارت اورانصار کو کھیتی باڑی کا مشغلہ رہتاتھااورمیں ہروقت حضورپاک کے ساتھ چمٹارہتاتھا۔اسی بنا پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں مجھ کو زیادہ یاد ہیں۔(المصدرالسابق)

حضرت ابوہریرہ پر حضرت عائشہ کے استدراکات

واضح رہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے اس کے علاوہ بھی استدراکات ہیں جس میں انہوں نے ان پر اعتراض کیاہے اورجواب میں کوئی حدیث نہیں بیان کی ہے بلکہ کبھی توقیاس سے کام لیاہے اورکبھی عمومات قرآن سے کام لیاہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے استدراکات کا دائرہ صرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک نہیں بلکہ اس کے علاوہ دیگر صحابہ کرام پر بھی ہواہے جس کو زرکشی نے’’الاجابۃ لایراد ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ‘‘ میں جمع کردیاہے۔ اس سے بھی فی الجملہ امام سرخسی اورامام عیسیٰ بن ابان کے قول کی تائید ہوتی ہے۔
فقہ راوی کے ساتھ دیگر شرائط:
یہ سب بیان کرنے کے بعد امام سرخسی کہتے ہیں:
فلمکان مَا اشتھر من السّلف فی ھذا البَاب قلنَا: مَا وَافق القیاس من رِوَایتہ فھو معمول بہ، وما خالف القیاس فان تلقتہ الامۃ بالقبول فھو معمول بہ، والا فالقیاس الصحیح شرعا مقدم علی روایتہ فی ما ینسد باب الرای فیہ (اصول السرخسی 1/341)
’’اسی وجہ سے جو ہم نے ماقبل میں بیان کی ہے کہ سلف نے حضرت ابوہریرہ کی بعض روایات پر انکار کیاہے۔ ہم نے کہاکہ ان کی جوروایتیں قیاس کے موافق ہوں گی اس پر عمل کیاجائے گا اورجوروایتیں خلاف قیاس ہوں گی تواگرخلاف قیاس روایت ایسی ہے جس کو امت نے قبول کرلیاہے تواس پر عمل کیاجائے، ورنہ قیاس صحیح جو شریعت کے موافق ہو،ان کی ایسی روایت پر مقدم کیاجائے جوبالکلیہ قیاس اوررائے کے خلاف ہو اوراس میں قیاس اوررائے کی کوئی بھی گنجائش نہ رہ گئی ہو۔‘‘
امام سرخسی کے قول کا مطلب یہ ہے کہ کسی بات کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں،ایک چیز ایک لحاظ سے خلاف قیاس ہوتی ہے اوردوسرے لحاظ سے موافق قیاس ، توحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کوئی ایسی روایت جس پر امت نے عمل نہ کیا، صرف ایک پہلو سے نہیں بلکہ ہرپہلو سے خلاف قیاس ہوتواس وقت قیاس کو ان کی حدیث پر مقدم کیاجائے گا۔
امام سرخسی نے غیرفقیہ صحابی کی روایت کو خلاف قیاس ہونے کی صورت میں رد کرنے کیلئے چارشرطیں بیان کی ہیں:
اگر یہ تمام شرطیں پائی جائیں تب اس وقت قیاس کو مقدم کیاجائے گا۔ (ہم آگے چل کر اس پر بھی بات کریں گے کہ قیاس سے کون ساقیاس مراد ہے)۔

عدل وضبط کے بعد فقہ کی شرط کیوں؟

ایک سوال پھر پیداہوتاہے کہ جب وہ عادل ہیں اورجوسنتے ہیں وہ یاد رکھتے ہیں توپھر آپ ان کی روایت کو مطلقاً قبول کیوں نہیں کرتے۔خلاف قیاس اورموافق قیاس کے پھیر میں کیوں پڑتے ہیں؟ کیوں اس کے لئے کچھ الگ شرائط اورضوابط بناتے ہیں؟ اس کا جواب دیتے ہوئے امام سرخسی علیہ الرحمہ کہتے ہیں:
ولکن نقل الخبر بالمعنی کان مستفیضا فیھم، والوقوف علی کل معنی ارادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکلامہ امر عظیم، فقد اوتی جوامع الکلم علی ما قال: اوتیت جوامع الکلم واختصر لی اختصارا، ومعلوم ان الناقل بالمعنی لا ینقل الا بقدر ما فھمہ من العبارۃ، وعند قصور فھم السامع ربما یذھب علیہ بعض المراد، وھذا القصور لا یشکل عند المقابلۃ بما ھو فقہ (لفظ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فلتوھم ھذا القصور قلنا: اذا انسد باب الرای فی ما روی وتحققت الضرورۃ بکونہ مخالفا للقیاس الصحیح فلا بد من ترکہ، لان کون القیاس الصحیح حجۃ ثابت بالکتاب والسنۃ والاجماع، فما خالف القیاس الصحیح من کل وجہ فھو فی المعنی مخالف للکتاب والسنۃ المشھورۃ والاجماع (اصول السرخسی 1/341)
’’بات یہ ہے کہ حدیث کو لفظ کے بجائے معنی کے ساتھ روایت کرناحضرات صحابہ کرام میں جاری وساری تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد میں کیاکیامراد لیاہے اس کااحاطہ کرنا مشکل اوربڑاکام ہے کیونکہ ان کو جوامع الکلم (بات مختصر لیکن مختصر بات میں معنی کی ایک دنیا فروزاں ہو)دیاگیاتھااوریہ سب کو معلوم ہے کہ جب بات کو معنی کے ساتھ نقل کیاجائے توآدمی اپنے عقل اورفہم کے اعتبار سے ہی نقل کرتاہے اور کبھی کبھی ایسابھی ہوتاہے کہ سننے والے کو سمجھنے میں غلطی ہوتی اورمطلب کا بعض پہلو اس سے اوجھل ہوتا ہے۔ اور یہ بات تب ظاہرہوتی ہے جب روایات کا مقابلہ کیاجائے اس کی روایت سے جس نے اس کو بہتر طور پر سمجھا ہے۔ اسی بنا پر کہ بعض دفعہ مطلب اورمراد کے کچھ پہلو وہم کی بنیاد پر یاکسی اوروجہ سے چھوٹ جاتے ہیں، جب کوئی ایسی روایت سامنے آئے جس سے قیاس ورائے کا ہرپہلوختم ہوجائے اور یہ بات بالبداہت ثابت ہوجائے کہ مذکورہ روایت خلاف قیاس ہے توایسی صورت میں روایت کو ترک کردیاجائے گا، کیونکہ قیاس صحیح کا حجت اوردلیل ہوناکتاب اللہ،سنت رسول اللہ ،اوراجماع سے ثابت ہے۔توجب کوئی روایت ہرپہلو سے خلاف قیاس ہو توگویا وہ کتاب اللہ، سنت مشہور اورجماع کے خلاف ہے۔‘‘
امام سرخسی نے جوبات کہی ہے،وہ امام عیسیٰ بن ابان سے ہی مستفاد ہے۔ عیسیٰ بن ابان علیہ الرحمہ نے اپنی بات تفصیل سے کہی ہے اوراپنی رائے کودلائل سے بیان کیاہے اس کے علاوہ انہوں نے راوی کی عدم فقاہت کے سبب قیاس کیخلاف اس کی روایت کورد کرنے میں مزید شرائط بیان کیے ہیں۔یہ افسوس کی بات ہے کہ امام عیسیٰ بن ابان کی کوئی کتاب ہم تک نہیں پہنچ سکی یاتاحال نہیں پہنچی ہے،بہرحال اس مسئلہ پر ان کے خیالات کا بڑاحصہ امام جصاص رازی نے اپنی تالیف الفصول فی الاصول میں نقل کردیاہے، لہٰذا اس بارے میں امام عیسیٰ بن ابا ن کی رائے ہم ان کے الفاظ میں اوران کے عہد سے بہت قریب امام جصاص رازی کے الفاظ میں نقل کرتے ہیں۔

عیسیٰ بن ابان کا موقف

امام عیسیٰ بن ابانؒ خلاف قیاس ہونے کی صورت میں راوی کے فقیہ ہونے کے قائل ہیں اورغیرفقیہ کی مثال میں انہوں نے حضرت ابوہریرہ کانام پیش کیاہے۔حضرت ابوہریرہ کا نام اس لئے پیش کیاہے کہ انہوں نے دیکھاکہ متعدد صحابہ کرام نے ان کی روایت غوروفکر کے بعد لی ہیںیاان پر قیاس کے ذریعہ اعتراض کیاہے۔اس کے علاوہ انہوں نے دیکھاکہ ان پر امام ابراہیم نخعی نے بھی اعتراض کیاہے۔امام نخعی کہتے ہیں کہ لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بعض حدیث پر عمل کرتے اوربعض پر نہ کرتے۔ ایک دوسرے موقع سے امام ابراہیم نخعی زیادہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ لوگ یعنی تابعین کرام ان کی وہ روایتیں جو جنت وجہنم کے تعلق سے ہوتیں اس کو تولیتے اورجواس کے علاوہ ہوتیں اس کو نہ لیتے۔(الفصول فی الاصول3/127)

ابراہیم نخعی کا قول

امام نخعی کا یہ قول ثابت شدہ ہے، اس کو مشہور محدث ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں(67/3600) بھی ذکر کیاہے اورحافظ ذہبی نے سیراعلام النبلاء میں بھی ذکر کیاہے۔ابن عساکر نے اس مفہوم کی متعدد روایتیں ذکر کی ہیں۔ امام اعمش سے مروی ہے:
وکان ابو صالح یحدثنا عن ابی ھریرۃ قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)، فکنت آتی ابراھیم فاحدثہ بھا، فلما اکثرت علیہ قال لی ما کانوا یاخذون بکل حدیث ابی ھریرۃ۔
’’ابوصالح ہم سے حضرت ابوہریرہ کے واسطے سے حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول پاک نے فرمایا،رسول پاک نے فرمایا ،میں ابراہیم کے پاس آتااوران سے وہ حدیث بیان کرتا(امام اعمش کا ہی قول ہے کہ ابراہیم حدیث کے پرکھنے والے تھے الفاظ ہیں(کان ابراھیم صیرفیا فی الحدیث) جب میں ایسازیادہ کرنے لگایعنی حضرت ابوہریرہ کی احادیث ان کو زیادہ سنانے لگاتوانہوں نے مجھ سے کہا،ماقبل کے لوگ یعنی حضرات صحابہ وتابعین عظام حضرت ابوہریرہ کی تمام احادیث پر عمل نہیں کرتے تھے۔‘‘
سفیان عن منصور عن ابراھیم قال: ما کانوا یاخذون من حدیث ابی ھریرۃ الا ما کان من حدیث جنۃ او نار
’’ ابراہیم نخعی کہتے ہیں حضرات صحابہ وتابعین عظام حضرت ابوہریرہ کی وہی احادیث قبول کرتے تھے جس میں جنت اورجہنم کا ذکر ہوتا(حلال وحرام کے متعلق ان کی احادیث قبول نہ کرتے۔)‘‘
عن الاعمش قال: کان ابراھیم صیرفیا فی الحدیث، فکنت اذا سمعت من احد من اصحابہ اتیتہ بہ فاعرضہ علیہ، فحدثتہ ذات یوم بحدیث من حدیث ابی صالح عن ابی ھریرۃ فقال ابراھیم: کانوا یترکون شیئا من قولہ
اس کا مفاد بھی وہی ہے ماقبل میں ذکر کیاجاچکاہے۔ بس اتنا اضافہ ہے کہ ماقبل کے لوگ ان کے اقوال میں سے کچھ چھوڑ بھی دیاکرتے تھے۔
حافظ ذہبی سیراعلام النبلاء میں نقل کرتے ہیں:
شریک عن مغیرۃ عن ابراھیم قال: کان اصحابنا یدعون من حدیث ابی ھریرۃ (2/608)
’’ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب یعنی فقہائے کوفہ حضرت ابوہریرہ کی حدیث کو یاحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی احادیث میں سے کچھ کو چھوڑدیتے تھے۔‘‘
من حدیث ابی ھریرۃ میں دوبات ہوسکتی ہے۔ یا تو من کو تبعیضیہ ماناجائے یعنی یہ بعض افراد کوبتانے کے لیے ہے یاپھر من کو زائد ماناجائے۔ اگر من کو زائد ماناجائے تو ترجمہ ہوگا کہ حضرت ابوہریرہ کی حدیث کو مطلقاً رد کردیاکرتے تھے۔ اور اگرتبعیض کے معنی میں لایاجائے تومعنی ہوگا کہ بعض احادیث کو رد کرتے تھے۔میری رائے میں من یہاں حدیث کے بعض جزء پر دلالت کرنے کے لیے ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ کتاب العلل میں امام احمد بن حنبل کے واسطہ سے یہ روایت مذکور ہے جس میں واضح ہوجاتاہے کہ یہاں پر من تبعیض کے لیے ہے، زائد نہیں ہے:
حدثنا ابو اسامۃ عن الاعمش قال: کان ابراھیم صیرفیا فی الحدیث اجیۂ بالحدیث، قال: فکتب مما اخذتہ عن ابی صالح عن ابی ھریرۃ، قال: کانوا یترکون اشیاء من احادیث ابی ھریرۃ (کتاب العلل لاحمد، ص 140)
ان اقوال کو حافظ ذہبی نے بھی سیراعلام النبلاء میں ذکر کیاہے اور پھر رد کیاہے۔حافظ ذہبی یہ قول اوردوسرے اقوال امام ابراہیم نخعی سے نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:
قلت: ھذا لا شیء، بل احتج المسلمون قدیما وحدیثا بحدیثہ لحفظہ وجلالتہ واتقانہ وفقھہ، وناھیک ان مثل ابن عباس یتادب معہ ویقول: افت یا ابا ھریرۃ (سیر اعلام النبلاء 1/41)
’’ میں کہتاہوں ،یہ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ مسلمان ہمیشہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی احادث سیا ستدلال کرتے چلے آئے ہیں اوران کے حفظ،جلالت قدر ،پختگی اورفقہ کے قائل رہے ہیں۔ ان کی فقاہت کے لیے اتنا کافی ہے کہ حضرت ابن عباس جیسافقیہ ان کے ساتھ ادب کا معاملہ کرتاتھااورکہتاتھااے ابوہریرہ فتویٰ دیجئے۔‘‘

عیسیٰ بن ابان کے دلائل

بہرحال اس وقت ہماراموضوع حضرت ابوہریرہ رضی اللہ کی فقاہت نہیں بلکہ امام عیسی بن ابان ہے۔ لہٰذا پھر سے اصل بحث کی جانب رخ کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ کوفقہ وفتویٰ میں غیرمعروف کہنے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت خلاف قیاس ہونے کی صورت میں مطلقاً رد کردی جائے گی بلکہ اس کے لیے کچھ شرائط ہیں ،کچھ ضوابط ہیں۔
امام عیسیٰ بن ابان کہتے ہیں:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی عدالت اورحفظ وضبط میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن یہ بات ہے کہ ان کا فقہی مقام ومرتبہ وہ نہیں تھا جودیگر فقہ واجتہاد میں معروف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کاتھا۔ علاوہ ازیں بعض صحابہ کرام نے ان کی روایت کو قیاس کے ذریعہ رد کیاہے، جیسے حضرت عباس سے جب یہ بات کہی گئی کہ آگ کو مس کی ہوئی چیز استعمال کرنے سے وضو کرو تواس کا رد انہوں نے قیاس کے ذریعہ کیا۔ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیاکہ زناسے پیدا ہونے والا بچہ تینوں میں سے براہے (ماں باپ کے بعد)توحضرت عائشہ نے فرمایاکہ اگربات ایسی ہی ہے توپھر بدکاری کے الزام میں قابل حد حاملہ عورت کو بچہ جننے کی مہلت کیوں دی جاتی ہے؟ اس موقع سے حضرت عائشہ نے کوئی دوسری روایت نہ پیش کرکے قرآن کی آیت لاتزر وازرۃ وزر اخری کے عموم سے استدلال کیا۔ اسی طرح روایت میں آتاہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نیایک پاؤں میں موزہ پہن کر چلنے سے ممانعت کی روایت کی توحضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے اس کو تسلیم نہیں کیا۔
اس کے علاوہ عیسیٰ بن ابان دوسرے نظائر پیش کرتے ہیں جہاں صحابہ کرام نے ان کی کثرت روایت پر انکار کیااورتعجب کیا اورحضرت عائشہ نے توٹوکابھی کہ رسول پاک تمہاری طرح جلدی جلدی بات نہیں کرتے تھے ،وہ تواتنے ٹھہر کر بیان کرتے تھے کہ کوئی ان کی باتوں کو شمار کرناچاہے توشمار کرلے۔(الفصول فی الاصول 3/128)
یہ سب مثالیں عیسیٰ بن ابان سے نقل کرنے کے بعد امام جصاص رازی عیسی بن ابان رحمہ اللہ کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
قال ابوبکر رحمہ اللہ: جعل عیسی رحمہ اللہ ما ظھر من مقابلۃ السلف لحدیث ابی ھریرۃ بقیاس الاصول وتثبیتھم فیہ علۃ لجواز مقابلۃ روایاتہ بالقیاس، فما وافق القیاس منھا قبلہ وما خالفہ لم یقبلہ، الا ان یکون خبرا قبلہ الصحابۃ فیتبعون فیہ (الفصول فی الاصول3/129)
’’امام جصاص رازی کہتے ہیں سلف سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کاقیاس کے اصول سے معارضہ کرنے اوراس میں مزید غوروفکر نے اس پر آمادہ کیاکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کا قیاس سے مقابلہ کیاجائے توان کی جوروایت قیاس کے موافق ہوئی ،اسے انہوں نے قبول کرلیااورجوروایت قیاس کے خلاف ہوئی، اسے قبول نہیں کیا۔ہاں، اگر ان کی کسی خلاف قیاس خبر کو صحابہ وتابعین نے قبول کیاہے تواس کو قبول کیاجائے گا۔‘‘

غیرفقیہ راوی کی روایت کو رد کرنے کے لیے مزید شرائط

عیسیٰ بن ابان کے نزدیک کسی روایت کے خلاف قیاس ہونے کی صورت میں رد کے لیے حسب ذیل شرائط وضوابط ہیں:
یقبل من حدیث ابی ھریرۃ ما لم یردہ القیاس ولم یخالف نظائرہ من السنۃ المعروفۃ الا ان یکون شیء من ذلک قبلہ الصحابۃ والتابعون ولم یردوہ (الفصول فی الاصول 3/127)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں سے وہ حدیث قبول کی جائے گی جو قیاس کے خلاف نہ ہواوراس حدیث کے خلاف اس کی نظیر دوسری مشہور احادیث نہ ہوں۔ہاں اگران سب کے باوجود ایسی روایت کو صحابہ اورتابعین نے قبول کیاہوگاتوخلاف قیاس ہونے کے باوجود اس روایت کو قبول کیاجائے۔‘‘
ایک دوسرے مقام پر عیسی بن ابان کہتے ہیں:
ویقبل من حدیث ابی ھریرۃ ما لم یتم وھمہ فیہ لانہ کان عدلا (المصدرالسابق)
’’ اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث قبول کی جائے گی جس کے بارے میں مکمل طورپر پتہ چلے کہ ان کو وہم لاحق نہیں ہواہے، کیونکہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ وہ عادل تھے۔ ‘‘
اگریہ تمام شرائط پائی جائیں گی، تب جاکر ایسی روایت خلاف قیاس ہونے کی وجہ سے رد کردی جائے گی:
ان چارشرائط کے اجتماع کے بعد ہی کسی روایت کو محض اس لئے رد کردیاجائے گاکہ وہ خلاف قیاس ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عیسیٰ بن ابان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فقہ میں غیرمعروف یاغیرفقیہ مانتے ہیں ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے شرف صحابیت کا پوراخیال رکھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ان کے عدل اورحفظ وضبط میں کوئی شبہ نہیں ہے اور فقاہت کے ہونے نہ ہونے سے کسی کے عدل وحفظ میں کوئی کمی نہیں آتی۔
بل الذی ذکر عیسی فی کتاب المشھور ھو ما قدمنا ذکرہ، مع تقدیمہ القول فی مواضع من کتبہ بانہ عدل مقبول القول والروایۃ، غیر متھم بالتقول علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا ان الوھم والغلط لکل بنی آدم منہ نصیب، فمن اظھر من السلف تثبتا فی روایۃ تثبتنا فیھا واعتبرناھا بما وصفنا (الفصول فی الاصول 3/130)
’’ بلکہ عیسیٰ بن ابان نے اپنی مشہور کتاب(کتاب الحجج)میں جوکچھ کہاہے وہ وہی ہے جو ہم نے ماقبل میں ذکر کیاہے(کہ حضرت ابوہریرہ عادل اورحفظ وضبط میں ممتاز ہیں)یہ بات انہوں نے اپنی مختلف کتابوں میں متعد د مقام پر کہی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ عادل ہیں، قول اورروایت میں مقبول ہیں۔ رسول پاک پر جھوٹی بات گڑھنے والے نہیں ہیں۔ ہاں یہ ہے کہ وہم اورغلطی بنی آدم کا خاصہ ہے توان کی جن روایتوں پر سلف نے انکار کیاہے اورتثبت سے کام لیاہے ،ہم بھی انہی اسلاف کے نقش قدم پر چلیں گے۔‘‘

ایک اعتراض کا جواب

اب یہاں پر ایک اعتراض ہوسکتاہے۔وہ اعتراض یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ سے منقول ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رسول اللہ سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتاہے۔ بات یہ ہے کہ میں مسکین آدمی تھا، ہمیشہ رسول پاک سے چمٹارہتاتھا۔ انصار کو اپنے مشاغل تھے اورمہاجرین کو بازاروں کی مشغولیت رہتی تھی۔ اورمیں ایک مرتبہ رسول پاک کی مجلس میں حاضر تھا اور وہ فرمارہے تھے کہ کون اپنی چادر پھیلائے گا تاکہ میں اپنی بات پوری کرلوں، پھر وہ اس کو لے لے تووہ کوئی ایسی بات نہ بھولے جومجھ سے سناہو۔تومیں نے اپنے اوپرپڑی چادر کو بچھایا، یہاں تک کہ نبی پاک نے اپنی بات پوری کرلی، پھر میں نے چادر کو لیا تو اس کے بعد میں کچھ بھی نہیں بھولا۔ حضرت ابوہریرہ نے حضورپاک کی باتوں کو یاد رکھاتھااوراس کی گواہی نبی پاک نے بھی دی ہے، اسی لئے ان کی روایتیں دوسروں سے زیادہ ہیں تواس کو ان پر وجہ طعن اوروہم کی بنیاد نہیں بناناچاہئے۔ (الفصول فی الاصول3/130)
اس کا جواب دیتے ہوئے امام جصاص رازی کہتے ہیں کہ اگرایسی ہی بات ہوتی کہ حضرت ابوہریرہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی بات نہ بھولنے والے ہوتے توان کی روایت کو تمام صحابہ کرام کی روایت پر مطلقاً ترجیح دی جاتی، کیونکہ تمام صحابہ کرام پر بہرحال بھول چوک اوروہم ونسیاں کا خطرہ برقرارتھا سوائے حضرت ابوہریرہ کے ؛لیکن ہم صحابہ کرام اورتابعین عظام کے حالات کاجب مطالعہ کرتے ہیں توپاتے ہیں کہ بات یہ نہیں تھی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایتوں کو اکابرصحابہ پر کبھی ترجیح نہیں دی ؛ بلکہ بسااوقات ایسابھی ہواہے کہ ان کی روایتوں کا معارضہ کیاگیاہے، خود ان پر رد کیاگیاہے۔حضرت عباس نے رد کیا،حضرت عائشہ نے رد کیا،ابراہیم نخعی نے رد کیا ،اس سے پتہ چلتاہے کہ بات وہ نہیں ہے جو معترض سمجھاہے، بلکہ یہ ہے کہ نہ بھولنے کی بات صرف اورصرف اس ایک مجلس کی تھی جس میں یہ واقعہ پیش آیا ،نہ کہ پوری زندگی پر محیط اورکسی بھی بات کے نہ بھولنے کی ضمانت۔
امام جصاص رازی لکھتے ہیں:
اما قولہ: انھم یزعمون ان ابا ھریرۃ یکثر الحدیث عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فانہ یدل علی انھم قد کانوا انکروا کثرۃ روایتہ، واما حفظہ لما کان سمعہ حتی لا ینسی منہ شیئا فانہ لو کان کذلک لکانت ھذہ فضیلۃ لہ قد اختص بھا وفاز بحظھا من سائر الصحابۃ، ولو کانت ھذہ لعرفوا ذلک منہ واشتھر عندھم امرہ حتی کان لا یخفی علی احد منھم منزلتہ، ولرجعت الصحابۃ الیہ فی روایتہ، ولقدموھا علی روایات غیرہ لامتناع جواز النسیان علیہ وجوازہ علی غیرہ، ولکان ھذا التشریف والتفضیل الذی اختص بہ متوارثا فی اعقابہ کما خص جعفر بان لہ جناحین فی الجنۃ وخص حنظلۃ بان الملائکۃ غسلتہ (الفصول فی الاصول 3/131)
’’بہرحال حضرت ابوہریرہ کا یہ قول کہ "لوگ یہ گمان کرتے ہیں"یہ خود بتارہاہے کہ ان کے ہم عصروں نے ان کی کثرت روایت کو عجیب بات سمجھاہے۔یہ کہناکہ ان کاحافظہ ایساہوگیاہے کہ پھر وہ کچھ نہیں بھولتے تھے تواگرایساہی ہوتا تویہ ان کی خاص فضیلت ہوتی جس میں وہ دیگر تمام صحابہ کرام سے ممتاز ہوتے اوراس کی شہرت ہوتی یہاں تک کہ سبھی اس کو جان لیتے اورصحابہ کرام کے درمیان جب کوئی اختلاف ہوتاتووہ حضرت ابوہریرہ کی جانب رجوع کرتے اوران کی روایات کو دیگرتمام کی روایات پر ترجیح دیتے کیونکہ وہ نسیان اوربھول چوک سے بری ہوگئے تھے۔اوران کی یہ فضیلت خاص کاذکر ہردور میں جاری رہتا اورلوگوں میں شہرہ ہوتا جیساکہ حضرت جعفر ذوالجناحین کے لقب سے مشہور ہیں اورحضرت حنظلہ کو غسیل الملائکہ کہا جاتا ہے۔‘‘
فلما وجدنا امرہ عند الصحابۃ بضد ذلک لانھم انکروا کثرۃ روایتہ علمنا ان ما روی فی انہ لا ینسی شیئا سمعہ غلط، وکیف یکون کذلک وقد روی عنہ حدیث رواہ عن النبی علیہ السلام وھو قولہ فی ما اخبر: ’’لا عدوی ولا طیرۃ‘‘، ثم روی: ’’لا یوردن ممرض علی مصح‘‘، فقیل لہ: قد رویت لنا عن النبی علیہ السلام قبل ذلک لا عدی ولا طیرۃ فقال: ما رویتہ (المصدر السابق)
’’لیکن جائزہ کے بعد معاملہ برعکس ملتاہے کیونکہ متعدد صحابہ کرام نے ان کی کثرت روایت پر انکار کیاہے۔اس سے ہم نے جان لیاکہ یہ بات کہ وہ کچھ نہیں بھولیں گے غلط ہے اور ایساکیسے ہوسکتاہے جب کہ ان سے ہی منقول ہے کہ انہوں نے لاعدوی ولاطیرۃ کی حدیث نقل کی، پھر یہ حدیث نقل کی: لایوردن ممرض۔پھر جب لوگوں نے کہاکہ آپ نے توپہلے ایسی حدیث بیان کی تھی توکہاکہ نہیں، میں نے ایسی کوئی حدیث بیان نہیں کی ۔‘‘
اس کے بعد امام جصاص رازی یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے لیے نہ بھولنے کی دعا صرف ایک مجلس سے متعلق تھی۔(الفصول فی الاصول3/131)
امام جصاص رازی کی یہ تاویل کوئی بے جا اوردورازکار تاویل نہیں ہے کیونکہ اسی حدیث کے متعدد دیگر طرق میں اس کا ذکر موجود ہے کہ بات صرف اسی ایک مجلس کی تھی۔ہم بحث کو زیادہ نہ پھیلاتے ہوئے صرف بخاری اورنسائی کی روایت پیش کرتے ہیں جس میں تصریح ہے کہ اس ایک خاص مجلس کی بات نہ بھولنے کے بارے میں حضورپاک نے فرمایاتھا:
وقد قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی حدیث یحدثہ انہ لن یبسط احد ثوبہ حتی اقضی مقالتی ھذہ ثم یجمع الیہ ثوبہ الا وعی ما اقول، فبسطت نمرۃ علی حتی اذا قضی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقالتہ جمعتھا الی صدری، فما نسیت من مقالۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تلک من شیء (صحیح البخاری، الناشر: دار طوق النجاۃ3/52،رقم الحدیث:2047)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،میری بات مکمل ہونے تک جو کوئی اپنے کپڑے کو پھیلائے رکھے اور بات ختم ہونے پر اسے سمیٹ لے تو جوکچھ میں نے کہاہے اسے یاد رہے گا۔یہ سن کر میں نے اپنی چادر بچھائی ،جب رسول پاک نے اپنی بات مکمل فرمالی تو میں نے اس کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگالیا ،اس کے بعد رسول پاک کی وہ بات میں کبھی نہیں بھولا۔‘‘
یہی روایت نسائی 5/372،رقم الحدیث:5835،ابن حنبل فی مسندہ ج 2/ ص 240 حدیث رقم: 7274 اور حلیۃ الاولیاء 1/381 وغیرہ میں بھی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جن حضرات نے یہ موقف اختیار کیاہے کہ غیرفقیہ صحابہ کرام کی روایت خلاف قیاس ہونے کی صورت میں رد کردی جائے گی۔انہوں نے اسے مطلقاً قابل رد نہیں کہاہے بلکہ اس کے لیے کچھ دیگر شرائط اورضوابط کابھی لحاظ رکھا ہے۔ امام عیسیٰ بن ابان اورامام سرخسی سے مستفاد اصولوں کو ہم ترتیب وار پیش کرتے ہیں اور سبھی کی مختصر تشریح بھی کردیتے ہیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو:
1: وہ روایت صرف اسی ایک غیرفقیہ راوی کے واسطے سے منقول ہو۔
مثلاً ایک روایت صرف حضرت ابوہریرہ ہی سے مروی ہے۔وہ حضرات جن کے نزدیک فقاہت راوی بھی ایک شرط ہے۔ اگرغیرفقیہ راوی کی روایت کے ساتھ دوسرے صحابی کی روایت مل جائے تواس وقت یہ روایت خبرواحد نہ رہ کر مشہور ہوجائے گی اورایسی روایت کو قیاس پر مطلقاً مقدم کردیاجائے گا
2: ثانیاً امت نے اس پر عمل نہ کیاہو۔ اگرفقہاء اورمجتہدین نے اس سے استدلال کیاہے اوراس روایت پر عمل کیاہے توبھی روایت قیاس پر مقدم ہوگی۔
3: صحابہ کرام اورتابعین عظام نے اس پرنکیر کیاہو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جن احادیث پر حضرت صحابہ کرام نے اعتراض کیاہے، اس کی وجہ سے وہ حدیث اب اس لائق ہوگئی ہے کہ ایک مجتہد اس مین غوروفکر کرے اورغوروفکر کے بعداس کو قبول کرنے اورقبول نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔
4: اس مفہوم کی دوسری روایات اس کی تائید نہ کرتی ہوں۔
اس میں اورشرط نمبر 1 میں باریک سافرق ہے کہ اگرکسی دوسری روایت کے عموم سے یامفہوم سے بھی غیرفقیہ راوی کی روایت کی تائید ہوتی تو اس روایت کو قیاس پر مقدم کردیاجائے گا۔
5: کتاب وسنت کے دوسرے نظائر اس مروی حدیث کے خلاف ہوں۔
مثلاً حدیث مصراۃ کو ہی لیتے ہیں۔اب دوسری مشہور اورمقبول احادیث کا جومفہوم اورعموم ہے،وہ اس حدیث کے خلاف ہے۔ مثلاً الخراج بالضمان یاپھر اس مفہوم کی احادیث کہ سامان اورقیمت میں توازن ہوناچاہئے۔
6: ہرپہلوسے خلاف قیاس ہو، قیاس اوررائے کی ا س میں کوئی گنجائش نہ ہو۔ 
فقہ میں قیاس کی دوبنیادی قسمیں ہیں: قیاس جلی اورقیاس خفی۔ اس کے علاوہ ایک مسئلہ صرف ایک پہلو ہی اپنے اندر نہیں رکھتا بلکہ متعدد پہلواپنے اندر رکھتاہے،خلاف قیاس ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ قیاس ہرپہلو سے خلاف قیاس ہو۔کسی بھی پہلو سے اس حدیث کا موافق قیاس ہونا ثابت نہ ہو۔
7: قیاس عقلی نہیں بلکہ قیاس شرعی کے خلاف ہو۔
قیاس کی دوقسمیں ہیں: قیاس عقلی اورقیاس شرعی۔ قیاس عقلی تو عقل سے اندازہ لگاناہے یہ دنیاوی چیزوں کے بارے میں ہوتاہے۔فلاں چیز ایسی ہے اور وہی خصوصیات فلاں چیز میں ہے تو وہ بھی ایسی ہی ہوگی یاہونی چاہئے، جبکہ قیاس شرعی کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک مسئلہ ایک مجتہد کے سامنے آتاہے تو وہ دیکھتاہے کہ آیا یہ حکم کتاب اللہ میں ہے۔ اگرہے توٹھیک ،نہیں ہے توسنت رسول میں دیکھتاہے۔ اگروہاں بھی نہیں ہے توحضرات صحابہ کرام اورماقبل کے مجتہدین کا متفقہ قول تلاش کرتاہے۔ اگرنہیں ملتاتووہ دیکھتاہے کہ اس مسئلہ کی بنیادی علت کیاہے۔پھر اس علت کو دیکھنا شروع کرتاہے کہ قرآن کریم کی آیتوں، فرامین رسول پاک اوراجماع صحابہ وتابعین میں میں سے کسی میں یہ علت پائی جا رہی ہے یانہیں۔ اگرپائی جارہی ہے تو وہ اس علت کو اس مسئلہ کی بنیاد بناکروہی حکم اس مسئلہ میں بھی جاری کرتاہے۔ اس کوقیاس شرعی کہتے ہیں کیونکہ یہ صرف کتاب اللہ ،سنت رسول اوراجماع پر ہی ہوتاہے۔

خبر پر قیاس کے مقدم کرنے کے لیے کیساقیاس معتبر ہے؟

قیاس شرعی میں بھی کچھ اقسام ہیں اور یہ اقسام علت کے اعتبار سے ہیں کہ قیاس کے لیے جس علت کو بنیاد بنایا گیا ہے، اس علت کی خود پوزیشن کیاہے۔ کبھی علت منصوص ہوتی اوردلیل پر قطعی ہوتی ہے۔ کبھی علت منصوص ہوتی ہے اور دلالت پر ظنی ہوتی ہے، لیکن یہ علت جو منصوص اورظنی ہے، یہ اس خبر پر جس کے خلاف ہے، راجح ہوتی ہے۔ کبھی منصوص علت ظنی ہوتی ہے اور خبر کے مقابلے میں مرجوح ہوتی ہے۔کبھی ایساہوتاہے کہ دلیل کی قوت کے لحاظ سے منصوص علت اور خبر دونوں ہی برابرہوتے ہیں، ان حالات میں کہ اگر قیاس کی علت منصوص ہواوردلالت پر قطعی ہوتو پھر وہ خبرواحد پر مقدم ہوگی۔ اگرقیاس کی علت منصوص ہواورظنی ہو، لیکن دوسری وجوہات سے وہ خبرواحد پر رجحان رکھتی ہوتواس وقت بھی وہ خبرواحد پر مقدم ہوگی۔ اگرقیاس کی علت منصوص اورظنی ہے اورخبرواحد بھی ظنی ہے اوردلیل کی قوت کے لحاظ سے دونوں برابر ہیں توایسے وقت میں مجتہد اس میں اجتہاد کرے گااوراس کا جس جانب رجحان ہو، اس کو مقدم کرے گا۔ اگرقیاس کی علت منصوص ہونے کے باوجود خبرواحد کے مقابلے میں مرجوح ہے توخبرواحد کو مقدم کیاجائے گا۔
علامہ ابن ہمام تحریر میں اوران کے شارح لکھتے ہیں:
(ان کان) ثبوت العلۃ (بقاطع) لان النص علی العلۃ کالنص علی حکمھا فحینئذ القیاس قطعی والخبر ظنی والقطعی مقدم قطعا، (فان لم یقطع) بشیء (سوی الاصل) ای بحکمہ (وجب الاجتھاد فی الترجیح) فیقدم ما یرجح اذ فیہ تعارض ظنین: النص الدال علی العلۃ وخبر الواحد، ویدخل فی ھذا ما اذا کانت العلۃ منصوصا علیھا بظنی، وما اذا کانت مستنبطۃ (والا) ان انتفی کلا ھذین (فالخبر) مقدم علی القیاس لاستواءھما فی الظن، وترجح الخبر علی النص الدال علی العلۃ بانہ یدل علی الحکم بدون واسطۃ، بخلاف النص الدال علی العلۃ فانہ انما یدل علی الحکم بواسطۃ العلۃ (التقریر والتحبیر علی تحریر الکمال ابن الھمام 2/299)
’’اگرعلت کا ثبوت قطعی ہو کیونکہ علت کی نص ویسی ہی ہوتی ہے جیسے نص کسی حکم پر ہوتی ہے توایسی حالت میں علت کے قطعی ہونے کی صورت میں قیاس قطعی ہوگا اورخبرظنی ہوگی توقیاس کو خبرپرمقدم کیاجائے گا۔ اوراگرقطعی نہ ہو اوراصل کے اعتبار سے دونوں برابر ہوں تواس وقت ترجیح کے لیے اجتہاد کیاجائے گا۔ اور اس کو مقدم کیاجائے گا جو راجح ہو کیونکہ یہاں پر دوظن میں تعارض ہے۔ ایک خبرواحد اورایک قیاس کی منصوص علت۔ علت کے منصوص ہونے میں شامل ہے کہ وہ براہ راست نص سے ثابت ہو یانص سے مستنبط کیا گیا ہو۔ اگریہ دونوں صورتیں نہ ہوں یعنی نہ علت قطعی ہو اورنہ منصوص اورظنی ہوتو خبرواحد کو مقدم کیاجائے گا۔‘‘
علامہ ابن ہمام ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ خبرواحد کو آپ ظنی مانتے ہیں اورقیاس بھی ظنی ہے تو پھر آپ قیاس اورخبرواحد کے تعارض کی صورت مین مذکورہ دوبالاشرط کیوں لگارہے ہیں کہ ایساایساہوگاتو قیاس مقدم ہوگا اور ایسانہیں ہوگاتو خبرمقدم ہوگی۔ اصول کا تقاضا تویہ ہوناچاہئے تھاکہ جب دونوں ظنی ہیں توچاہے قیاس کی علت منصوص ہویانہ ہو قطعی ہو یانہ ہو، ہرحال میں وجہ ترجیح دیکھی جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ قیاس میں کسی حکم کااثبات علت کے واسطے سے ہوتاہے اورخبرواحدمیں اسی حکم کااثبات بغیر علت کے اوربراہ راست ہوتاہے، لہٰذا جب ایک جانب صرف قیاس اوردوسری جانب خبرواحد ہوتوخبرواحد کو مقدم کیاجائے گا۔
8: خبر سے حلال وحرام کی بات کا اثبات ہورہاہے۔ اگرصرف استحباب ،سنت یاافضل وغیرافضل کی بات ہو توبھی قیاس پر خبرواحد کو مقدم کیاجائے گا خواہ راوی فقیہ ہویاغیرفقیہ، چنانچہ امام جصاص رازی لکھتے ہیں:
انما قصد عیسی رحمہ اللہ فی ما ذکرہ الی بیان حکم الاخبار الواردۃ فی الحظر او الایجاب او فی الاباحۃ ما قد ثبت حظرہ بالاصول التی ذکرھا او حظر ما ثبت اباحتہ مما کان ھذا وصفہ، فحکمہ جار علی المنھاج الذی ذکرنا فی القبول او الرد۔ واما الاخبار الواردۃ فی تبقیۃ الشیء علی اباحۃ الاصل او نفی حکم لم یکن واجبا فی الاصل او فی استحباب فعل او تفضیل بعض القرب علی بعض، فان ھذا عندنا خارج عن الاعتبار الذی قدمنا، وذلک لانہ لیس علی النبی علیہ السلام بیان کل شیء مباح ولا توقیف الناس علیہ بنص یذکرہ، بل جائز لہ ترک الناس فیہ علی ما کان علیہ حال الشیء من الاباحۃ قبل ورود الشرع، وکذلک لیس علیہ تبیین منازل القرب ومراتبھا بعد اقامۃ الدلالۃ لنا علی کونھا قربا، کما انہ لیس علیہ ان یبین لنا مقادیر ثواب الاعمال (الفصول فی الاصول 3/122)
’’ عیسیٰ بن ابان علیہ الرحمہ نے احادیث کے قبول وعدم قبول کا ماقبل میں جو معیار بتایاہے، وہ ان احادیث کے لیے ہے جوکسی چیز کو حرام کرتی یاحلال کرتی ہیں یاکسی چیز کو فرض وواجب کرتی ہیں۔جواحادیث ایسی ہوں گی تواس کو اسی معیار پر پرکھاجائے جس کو ہم نے ذکر کیاہے۔باقی رہ گئی وہ حدیثیں جو کسی چیز کو اصل پر باقی رکھتی ہیں یعنی وہ پہلے بھی حلال تھی اورحدیث میں بھی اس کی حلت کا ذکر ہے یاکسی چیز سے منع کیاگیاہے جو پہلے بھی واجب نہیں تھی یاکسی فعل کے استحباب کے بارے میں یابعض اعمال کو بعض پر فضیلت دینے کے بارے میں تو وہ ہماری بحث سے خارج ہے یعنی ایسی حادیث پر ان شرائط کا اطلاق نہیں ہوگا۔ا س کی وجہ یہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمہ داری نہی ہے کہ وہ تمام مباحات کو بتائیں اورنہ یہ کہ تمام لوگوں کو اس کے بارے میں نص کے ذریعہ باخبرکرائیں، بلکہ ان کے لیے جائز ہے کہ لوگوں کو اس حال پر چھوڑ دیں جس پر وہ شریعت کے نزول سے پہلے تھے۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بھی ضروری نہیں کہ بعض اعمال کے درجات اورمراتب کے بارے میں بتائیں جب کہ آپ نے اس کے عبادت ہونے کو بیان کردیاہو جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعمال کے ثواب کے درجات کا بتاناضروری نہیں ہے۔‘‘

خلاصہ کلام

فقاہت راوی کی شرط اور قیاس کے خبر واحد پر مقدم ہونے کانظریہ ائمہ احناف سے منقول نہیں،یہ عیسیٰ بن ابان کا تخریج کردہ نظریہ ہے اور بعد کے بعض فقہاء نے اس معاملے میں ان کی پیروی کی ہے، عیسیٰ بن ابان کا یہ نظریہ بھی مطلقاً نہیں ہے، بلکہ وہ راوی کے فقیہ نہ ہونے کی صورت میں خبر واحد پرقیاس کو مقدم کرنے کے لیے چند شرائط وضوابط کالحاظ کرتے ہیں اور ان شرائط وضوابط کے لحاظ اورخیال کے بعد فقاہت راوی کی شرط کے ماننے والے اورنہ ماننے والے عملی طورسے ایک ہی صف میں ہوجاتے ہیں۔

دینی مدارس، دہشت گردی اور عالمی پالیسی ساز طاقتیں

ڈاکٹر ابراہیم موسٰی

اردو ترجمہ: ڈاکٹر وارث مظہری
(مصنف کی کتاب ?What is a Madarasa کی ایک فصل)

اکثر پالیسی ساز افراد اور ادارے جو فیصلے کرتے ہیں وہ یا تو ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں پر مبنی ہوتے ہیں یا پھر انٹیلی جنس کی گمراہ کن رپورٹوں پر۔ مسلمانوں کی مذہبی زندگی میں مدارس کا کردار کیا ہے، اگر مجھے اس کی تشریح و وضاحت کا موقع دیا جائے اور مجھے صدر امریکہ، امریکی کانگریس کے ارکان اور دنیا کی کسی بھی حکومت کو مدارس کے تعلق سے مشورہ دینا ہو تو میں اپنی کتاب ’’دینی مدارس:عصری معنویت اورجدید تقاضے‘‘ کا ایک نسخہ اس مکتوب کے ساتھ انھیں ارسال کرنا چاہوں گا:
محترم صدر امریکہ اور امریکی کانگریس کے معزز ارکان!
تصور کیجیے کہ جنوبی ایشیا میں تعینات امریکی فوج پر یا خدانخواستہ امریکہ کے مرکزی مقام پر ایک ایسا دہشت گردانہ حملہ، جس کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی ہو، کامیاب ہوجائے، تو کیا امریکہ اس کے ردِ عمل میں آکر افغانستان اور پاکستان (افغان۔پاک سرحدی علاقے) میں قائم مدارس کی اینٹ سے اینٹ بجادے گا؟ یا مدارس کی عمارتوں پر ڈرون حملے کرے گا؟ یہ منظر نامہ یقینی طور پر امکان کے دائرے میں ہے۔ ماضی کے مشاہدات گواہ ہیں کہ امریکہ کو جب کبھی شکست کا زخم لگا تو اس کے اندمال کے لیے امریکی سیاسی قیادت نے کسی نہ کسی کو قربانی کا بکرا بنانے کو آسان اور ضروری سمجھا۔ چناں چہ Bay of Pigsکی مہم کی ناکامی کے بعد ویتنام کو اور گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد عراق پر حملے کے ذریعہ امریکہ نے اپنی جھینپ مٹانے کی کوشش کی۔ بنا بریں افغان پاک سرحدی علاقے میں ڈرون بموں کے ذریعہ کیے جانے والے ایک پرشور حملے کے امکان کو کاملاً مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے بھی کہ کم درجے کے ڈرون حملے وہاں پہلے سے ہی جاری ہیں۔
بدقسمتی سے انٹیلی جنس کے ذرائع اور گھاگ قسم کے ماہرین نے اپنی شطارت و مہارت کے ساتھ جنوبی ایشیا کے مدارس کی یہ تصویر کشی کی کہ وہ نہ صرف امریکہ کے ازلی دشمن ہیں بلکہ وہ مغرب اور پوری متمدن دنیا کے بدترین دشمن ہیں۔ بغیر کسی ثبوت و شہادت کے متعدد کالم نگاروں اور صحافیوں نے مدارس اور دہشت گردی کے مابین رابطہ پیدا کرنے کے عمل کے ذریعہ اپنی جیبیں بھرنے کی کوشش کی۔
مجھے امید ہے کہ کوئی بھی حادثاتی منظر نامہ وہائٹ ہاؤس، قانون سازوں اور امریکی عوام کو اس بات پر مائل نہیں کرے گا کہ وہ اس طرح مدارس کو اپنے حملوں کا نشانہ بنانے کی راہ اختیار کریں۔ میری کتاب ’’دینی مدارس:عصری معنویت اورجدید تقاضے‘‘ یقینی طور پر آپ کو اصل حقائق سے مطلع کرے گی۔ لیکن اسی کے ساتھ آپ کو ڈونالڈ رمس فیلڈ اور حتی کہ کولن پاویل جیسے سنجیدہ و بردبار سیاست دانوں کے اقوال کو بھی نظر انداز کرنا پڑے گا جنھوں نے مدارس کی شبیہ کو نہایت ہیبت ناک اور لرزہ خیز بنادیا۔ آپ کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ ان دونوں افراد نے جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ میں عراق پر جنگ مسلط کرنے کے فیصلے میں اور پھر جنگ کے دوران فاش غلطیاں کیں۔
اس میں شک نہیں کہ طالبان نے مدارس اور علما کی شبیہ کو خراب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ طالبان وابستگانِ مدارس کا محض ایک طبقہ یا گروہ ہے۔ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی اکثریت مدارس کو دینی علوم کی دانش گاہ کی شکل میں دیکھتی ہے، نہ کہ دہشت گردی کے مراکز کی شکل میں۔ وہ مدارس کے ساتھ تعاون کرتی ہے کیوں کہ وہ بجا طور پر یہ سمجھتی ہے کہ وہ مسلم سماج کی خدمات میں مصروف ہیں۔ عام طور پر مسلمان مدارس کو امریکی اور یورپی باشندوں کی طرح سے خطرے کی علامت تصور نہیں کرتے۔
اب امریکی انتظامیہ کے لیے وہ وقت آگیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر پھیلے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ تعامل کے بارے میں اپنے موقف کو درست کرے۔ مسلم معاشروں کے خلاف ثقافتی جنگ چھیڑ دینامسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس سے صورت حال مزید سنگین ہوگی۔ افغانستان اور عراق پر امریکی حملوں نے عالمی سطح پر مسلم اقوام کے اعتماد کو زبردست ٹھیس پہنچائی ہے۔ اور اس زمرے میں متوسط اور اعلیٰ دونوں طبقات شامل ہیں۔ مسلمان خاص طور پر نوجوان مسلم طبقے کا احساس ہے کہ بین الاقوامی برادری نے اسے جیسے اچھوت سمجھ لیا ہے، جس کے ساتھ اس کے مذہب کی بنیاد پر تفریق و امتیاز برتا جارہا ہے۔ اب مسلم مخالف احساسات نے اسلام فوبیا کی شکل اختیار کرلی ہے۔
مدارس کے ساتھ معاندانہ برتاؤ امریکہ کی پبلک ڈپلومیسی کی ایک تاریخی ناکامی ہوگی۔ اس نوع کے برتاؤ سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے ساتھ تعلقات مزید بد سے بدتر ہوجائیں گے اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مسلمانوں، خاص طور پر یورپ، شمالی امریکہ اور افریقہ میں مقیم مسلمانوں پر اس کے بدترین اثرات مرتب ہوں گے۔
مسلم ممالک کے اعلیٰ طبقات سے تعلق رکھنے والے سیکولر افراد یا فوج سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی باتوں کو محض ان کے ذاتی مفادات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ یہ اعلیٰ طبقے کے افراد دو رخی باتیں کہنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں اگر وہ مدارس سے متعلق زبان کھولتے ہیں تو ان کا موقف یہ ہوتا ہے کہ مدارس اور اہل مدارس دنیا سے منقطع اور دقیانوسیت کے شکار ہیں، جب کہ خود اپنے متعلقہ ممالک میں وہ اہل مدارس یا راسخ العقیدہ طبقے کی خوشامد و چاپلوسی میں لگے رہتے ہیں۔ دوسرے درجے کے وسیلۂ معلومات پر انحصار نہ کرتے ہوئے وقت کا تقاضا ہے کہ یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ مدارس سے تعلق رکھنے والے امریکہ کے مخالف یہ کون لوگ ہیں؟ ان سے متعلق مکمل معلومات بہم پہنچائی جائے اور ثقافتوں کے درمیان پیدا شدہ خلیج کو کم کرنے کے لیے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔
ایک فیصلہ ساز کی حیثیت سے آپ کو اچھی طرح یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مسلم معاشروں میں مدارس اور علما کی اہمیت اور ان کاکردار کیا ہے؟ علما مذہبی تعلیم یافتہ افراد کا وہ طبقہ ہے، جو مسلم سماج کی خدمت کو حرزِ جان بنائے ہوئے ہے۔ علما کا یہ طبقہ مدارس کے فضلا پر مشتمل ہوتا ہے جن کی تربیت اسی طرح ہوتی ہے جس طرح امریکہ یا بعض دوسرے ممالک کے مذہبی اسکولوں میں عیسائی مذہبی علما کی تربیت کی جاتی ہے۔ آپ غور کرسکتے ہیں کہ اگر ملک ’’الف‘‘ ملک ’’ب‘‘ کے مذہبی طبقے کو اس وجہ سے اپنی جنگ کا نشانہ بنائے کہ اس کے مذہبی طبقے کے بعض لوگ تخریب کارانہ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہیں تو اس نوع کی حرکت کے نتیجے میں اس مذہب سے تعلق رکھنے والا مذہبی طبقہ عالمی سطح پر الگ تھلگ ہوکر رہ جائے گا۔ امریکہ نے افغان پاک سرحدی علاقے میں فوجی اور ثقافتی سطح پر جو جنگی مہم چھیڑ رکھی ہے، اس کے نتیجے میں ایسے ہی مظاہر سامنے آرہے ہیں۔
مسلم آبادی کے لحاظ سے جنوبی ایشیا کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں مسلمانوں کی کل آبادی کا تخمینہ 489ملین ہے۔ یہ آبادی تین ممالک 151 ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں بکھری ہوئی ہے۔ اندازہ ہے کہ 2030تک جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی تعداد بڑھ کر 679ملین ہوجائے گی۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ ظاہر ہے مذہبی طبقے میں وسعت آئے گی۔ یہ بات آپ کے ذہن نشین رہنی چاہیے کہ کروڑوں افراد پر مشتمل مسلم آبادی علما سے وابستہ ہے اور روز مرہ کی زندگی میں ان کی پیروی کرتی ہے۔ دنیا میں چوبیس گھنٹوں میں پانچ وقت وہ انھی علما کے پیچھے نماز اداکرتی ہے۔ وہ ان کے جمعہ اور عید کے خطبات سنتی ہے۔ اخلاقی و شرعی امور و معاملات میں وہ انھی سے رجوع کرتی ہے۔ مصائب و حوادث کی گھڑی میں وہ ان سے دعاؤں کے لیے التماس کرتی ہے۔ تجہیز و تکفین میں یہ علما ہی ہیں، جنھیں لوگ پیش پیش رکھتے ہیں۔ اسی طرح مسلم عوام کو خانگی زندگی کے معاملات 151 نکاح و طلاق، آمدنی کے صحیح استعمال اور وراثت سے لے کر عالمی سیاست کے معاملات تک میں علما کی رہنمائی شامل ہوتی ہے۔ انتخابات اور سیاسی اجتماعات میں بھی علما پیچھے نہیں رہتے۔ ٹیلی ویژن، ریڈیو، انٹرنیٹ نیز اپنی تحریروں اور کتابوں کے ذریعے وہ دور دراز اور مختلف النوع علاقوں: باندونگ (انڈونیشیا) بالٹی مور (امریکہ) کیشاگار (چین) اور کیپ ٹاؤن (جنوبی افریقہ) کے عوام کی بہت بڑی تعداد کو اپنا مخاطب بنالیتے ہیں۔
ملیشیا یا ’’مالی‘‘ کے ایک عالم ،یا بسا اوقات ایک عالمہ، نے خواہ قاہرہ میں تعلیم حاصل کی ہو، تاہم وہ جنوبی ایشیا کے کسی مدرسے کے فاضل کے کائناتی نظریے سے بخوبی واقفیت رکھتا / رکھتی ہے۔ اس کے برعکس کو بھی اسی پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ مدارس اور علما اپنا عالمی نیٹ ورک رکھتے ہیں اور ایک مشترکہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ یہ مشترکہ زبان فقہ اور دینیات کی زبان ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بہت سے مسلمان علما کے بارے میں یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ اُن کے اندرمطلوبہ تفقہ اور دینی بصیرت کی کمی ہے جس کے نتیجے میں نکاح و طلاق، جنسی معاملات اور خانگی زندگی کے تعلق سے ان کے بہت سے تصورات و نظریات حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے اور جو معاصر حساس ذہنیتوں کو زک پہنچاتے ہیں، تاہم یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ علما میں روشن فکر اور تاریک الخیال دونوں طرح کے افراد شامل ہیں۔
بعض علما اپنی عوامی مقبولیت میں کسی ’’راک اسٹار‘‘ سے کم نہیں۔ شیخ یوسف القرضاوی کا شمار انھی میں ہوتا ہے جن کا تعلق اصلاً مصر سے ہے، لیکن وہ قطر میں مقیم ہیں۔ یہ ان علما میں سے ایک ہیں جن کے افکار و نظریات، ان کے خطبات و مواعظ کے حوالے سے عالم اسلام کے ہزاروں ریڈیو اسٹیشن اور ٹی وی چینلوں سے نشر کیے جاتے ہیں۔(1) ہاں! یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ان علما میں سے سب کے سب امریکہ یا مغرب کے تئیں دوستانہ ذہنی تعلق نہیں رکھتے۔ اسی وجہ سے ان علما کے ساتھ مکالمے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اس مکالمے کے فکر و احساس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کانگریس کے ارکان، وہائٹ ہاؤس اور غیر ملکی حکومتوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے مشیر کاروں میں سے ان لوگوں کے مشوروں کو خاطر میں نہ لائیں جو اس قسم کے مکالمے کی اہمیت کے منکر ہیں اور جرأت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان لوگوں کو اس کام میں لگائیں جو اس کی حقیقت اور فائدوں سے واقف ہیں۔
یہاں اس حقیقت کا تذکرہ کرنا بجا ہوگا کہ مسلم ممالک کے ارباب حل وعقد کا وطیرہ علما سے متعلق یہ ہے کہ وہ انھیں ’’داخلی جلاوطنی‘‘ کاشکار بناکر رکھتے ہیں۔ انھیں علما کی ضرورت اس وقت محسوس ہوتی ہے اور وہ اس وقت ان کی طرف نظر التفات کرتے ہیں جب انھیں انتخابات میں ووٹوں کی فکر ستاتی ہے یا جب کوئی بڑا عالمی بحران سامنے آتا ہے۔ ایسے میں ان علما کو عوامی حلقے میں لایا جاتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ ووٹوں کی کاشت کی جاسکے یا عوامی جذبات کو دبایا جاسکے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیاسی نظام تزلزل کا شکار ہے، علما اس معاشرے کے تشویش ناک پہلوؤں سے واقفیت کا ثبوت دیتے ہیں۔(2) 2008میں امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگی مہم میں پاکستانی فوج کی شرکت کو انھوں نے ’’دھوکے‘‘ اور’’ شرمناکی‘‘ سے تعبیر کیا تھا۔ علما کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اعلیٰ طبقہ اسراف پسند، بدعنوان اور عدالت کی حیثیت کو کم کرنے میں اپنی کوششوں میں بے حیائی کا ارتکاب کرنے والا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر پاکستان کی محبت میں سرشار لوگ علما کے حلقوں کی طرف سے دئے گئے بیانات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ علما ایک طرف مغرب کے اسلامی معاشرے پر پڑنے والے اثرات کی مذمت کرتے ہیں، دوسری طرف وہ مذہبی انتہا پسندی کی اشاعت کے راستے میں روک کا کام کرتے ہیں۔ 
علما کی نگاہ میں تعلیم ثقافت کا میدان کارزار ہے۔ وہ لارڈ میکالے کا ذکر نہایت ناپسندیدگی کے ساتھ کرتے ہیں کہ اس نے کہا تھا کہ ہمیں ایک ایسے طبقے کو وجود میں لانا چاہیے جو اپنے خون کے اعتبار سے ہندوستانی لیکن اپنے اسلوب فکر اور رجحان کے لحاظ سے انگریز ہو۔(3) علماسمجھتے ہیں کہ اگر سیکولر تعلیم پر کوئی بندش نہ ہوتو وہ ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس سے مسلمانوں کی مذہبی شناخت محفوظ نہیں رہتی۔ اس سے اس بات کا خدشہ ہے کہ مستقبل کی اسلامی نسل یورپ اور امریکہ کی ذہنی غلامی میں مبتلا ہوجائے۔ حال میں کیے گئے ایک مطالعے کی روشنی میں یوسف قرضاوی جیسا عالم بھی یہ تصور رکھتا ہے کہ گلوبلائزیشن کا مقصد پس پردہ دنیا میں مغربی تہذیب کی اشاعت اور بالادستی کا قیام ہے۔(4) مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگوں کی نگاہ میں یوسف قرضاوی کی شخصیت اشتباہ کے دائرے میں ہے، لیکن جہاں تک مسلمانوں کا معا ملہ ہے تو وہ انھیں ایک راسخ العقیدہ عالم و مفکر تصور کرتے ہیں۔ البتہ وہ اسی کے ساتھ یہ خیال بھی رکھتے ہیں کہ ان کے یہاں کسی حد تک آزاد خیالی یا تجدد کی روش پائی جاتی ہے۔
بعض مسلم جماعتوں، جن میں طالبان سرفہرست ہیں، نے مغربی خصوصاً خواتین کی تعلیم کے تعلق سے انتہا پسندانہ نقطۂ نظر اختیار کیا۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ طالبان کا معاملہ استثنائی ہے، ان کے خیالات کو مسلمانوں کی وسیع تعداد مسترد کرتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں لڑکیوں کے مدارس اور ریگولر اسکولوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ مزید برآں، مدارس سے تعلق رکھنے والے اصحابِ علم ودانش کی اکثریت اس نقطۂ نظر کی حامل ہے کہ اس حدتک جس حد تک سیکولر تعلیم ان کے طریق زندگی اور اخلاق و اقدار کو متاثر نہیں کرتی؛ مسلمان اس سے فائدے حاصل کرسکتے ہیں۔
مدارس اور علما جس دینیات کو پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ ایک ذرا آپ اس کو نگاہ میں رکھیں تو اس سے حقیقت کو سمجھنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔ توحید یا ایک خدا میں یقین رکھنا مسلمانوں کے ایمان کی اساس ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف خاتم الانبیا ہی نہیں بلکہ افضل الانبیا بھی ہیں۔ صدیوں قبل پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اصحاب نے شرک و کفر کے خلاف جنگیں لڑیں۔ ظلم و بے انصافی کے خلاف جہاد کیا اور انسانیت کی عظمت کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ علما کے مطابق، دین کی روح اور اس کا جوہر پیغمبر اسلام کے نمونۂ زندگی کے مطابق، زندگی گزارنا ہے۔ پیغمبر محمد کی زندگی کے ماڈل اور دوسری شخصیات 151 شری رام، حضرت عیسیٰ اور گوتم بدھ151 کی زندگی کے ماڈل میں فرق پایا جاتا ہے۔ اسلام میں پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رول کے صحیح ادراک کے لیے مسلمانوں کی عبادات اور مذہبی اعمال کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ چنانچہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے ساتھ حساسیت کے ساتھ تعامل بین ثقافتی مکالمے اور مذہبی رواداری و قیام امن کی کوششوں کو کامیابی کے ساتھ ہم کنار کرنے کے لیے ضروری ہے۔
مدارس قدیم فقہی مکاتب کی تقلید کا دم بھرتے ہیں اور اس حوالے سے معاصر دنیا کے سماجی تقاضوں کے تحت اپنے دینیاتی (theological) نقطۂ نظر میں تبدیلی بھی لاتے رہتے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں اس عمل میں ان پر قدامت پرستی کی ذہنیت غالب رہتی ہے اور وہ اس کو تعمیری ومثبت انداز میں انجام نہیں دے پاتے۔ یہی حال اسلامی قانون یا شریعت پر عمل کا ہے۔ اس تعلق سے علما کی مختلف جماعتیں لچک یا شدت پسندی پر مبنی رویہ رکھتی ہیں۔ یعنی اس حوالے سے علما کے یہاں یکساں کے بجائے متنوع رویہ پایا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر تمام علما و اہل مدارس اپنے پیروکاروں کی اس بات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے کہ وہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ کی مسخ کاری کے واقعات پر مشتعل ہوں۔ اکثر بین مسلکی کشمکش کی صورتحال اور تنگ ذہن رکھنے والے چھوٹے درجے کے مولویوں کا یہ شیوہ ہوتا ہے کہ وہ اس سے قطع نظر کہ ایسے معاملات میں شریعت کا حکم کیا ہے، لٹھ لے کر میدان میں کود پڑتے ہیں۔ تقریباً ایک صدی پیشتر علمائے دیوبند کے سرخیل مولانا محمود حسن نے گستاخی رسول کے واقعات پر مسلمانوں کے آتش زیر پا ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی حرکتیں مسلمان رسول کی محبت میں نہیں بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ اس سے ان کی انا کو چوٹ لگتی ہے۔
جنوبی ایشیا کے اکثر مسلمانوں کی مذہبی قیادت مغرب اور مغربی اقدار کو اسلامی تہذیب و اقدار کے لیے خطرہ تصور کرتی ہے۔ مدارس کو وہ مغربیت کے مقابلے میں ڈھال تصور کرتی ہے۔(5) جس طرح اٹھارویں صدی میں مدارس کے نیٹ ورک نے استعماری منصوبوں کو ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا، اسی طرح آج مدارس مغرب کی نئی استعماری ترک تازیوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے ثقافتی قلعے کی حفاظت پر کمر بستہ ہیں۔ ایک معتدل فکر ونظر رکھنے والے عالم لکھتے ہیں: ’’مدارس اسلام کے بقائے حیات کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘(6) ایک دوسری شخصیت کی نظر میں مدارس ’’پاور ہاؤس‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں جس سے مسلمانوں کی اجتماعی وثقافتی شناخت باقی ہے۔ مسلم معاشرے کی مذہبی واخلاقی اقدار انھی کی رہین منت ہیں۔(7) سردجنگ کے خاتمے کے بعد مدارس کے علما برملا یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اب مغربی طاقتوں کا اصل حریف اسلام رہ گیا ہے۔(8)
یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ اہلِ مدارس دنیا کے سیاسی حالات سے واقف نہیں ہیں۔ بین الاقوامی خبروں اور تجزیوں پر ان کی نگاہیں رہتی ہیں اور امریکہ جس انداز میں خود کو عالمی سطح پر پیش کرتا رہتا ہے، وہ اس سے طیش میں آتے اور بل کھاتے رہتے ہیں۔ ان کے جذبات و احساسات کو جو چیز ٹھیس پہنچاتی اور برانگیختہ کرتی ہے، وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا کردار، عراق و افغانستان پر امریکہ کی طرف سے جنگ کو مسلط کرنا اور فلسطینیوں کے ساتھ انصاف نہ کیا جانا ہے۔
عالمی سطح پر سیاسی طاقتوں کے درمیان عدم توازن کی جو کیفیت پیدا ہوگئی ہے، اس نے بہت سی مرضیاتی نفسیات کو پروان چڑھنے کا موقع دیا ہے۔ افغان پاک سرحدی علاقے کے بہت سے مذہبی علوم کے حاملین کا مزاج بدقسمتی سے تخریب کاری کی صفت رکھتا ہے۔
آپ کو اس بات کے لیے ذہنی طور پر آمادہ رہنا چاہیے کہ افغان پاک سرحدی علاقے اور عالم اسلام کے دوسرے حصوں میں مذہب، ثقافت اور سیاست کا ایک بڑا الجھا ہوا اورپیچیدہ منظر نامہ سامنے آنے والا ہے۔ یہ بات بھی آپ کے ذہن میں رہنی چاہیے کہ مذہبی رنگ میں رنگا ہوا تشدد جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال کی ابتری سے تعلق رکھتا ہے۔ پاکستان میں عدمِ استحکام کی صورتِ حال میں اصلاً کشمیر کے مسئلے کو دخل ہے۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان میں ایک ایسی مستحکم اور شمولیت پسند حکومت وجود میں آپائے گی جو علاقے میں امن و سلامتی کی صورتِ حال کو یقینی بناسکے؟علاحدگی پسند تحریکات اور نسل پسندی کا نظریہ رکھنے والے عناصر اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مذہب کی طاقت کو استعمال کرتے ہیں۔ اس بنا پر یہ موضوع گہری تحقیق و مکالمے کا متقاضی ہے۔
اب میں چند ایسے امور کی نشان دہی کرنا چاہوں گا، جن سے پالیسی سازوں کے لیے احتراز لازمی ہے، تاکہ مسلم راسخ العقیدگی کے ساتھ مکالمہ کامیابی سے ہم کنار ہوسکے۔ مسلمانوں کے ساتھ تمام تر تعلقات پر پانی پھیردینے کے لیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ راسخ العقیدہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کی جائے اور مدارس کے نصاب، اقدار اور طرزِ حیات کے بارے میں کوئی چیز اُن پر مسلط کرنے کی کوشش کی جائے۔ مدارس کی قبیح اور پر ہیبت شبیہ سازی کا مطلب ہے: مسلمانوں کے مذہبی و ثقافتی اقدار وادارات کو مسترد کردینا جسے مسلم حلقوں میں شدت کے ساتھ مسترد کردیا جاتا ہے۔ لوگوں سے مدارس کی حمایت و اعانت سے دست کش ہوجانے کی بات کہنے کا مطلب ہے، مسلمانوں کی مذہبی و ثقافتی ترجیحات کو خود سے طے کرنا۔
راسخ العقیدہ مسلم طبقے کے ساتھ مکالمے کی پہلی شرط یہ ہے کہ جنو بی ایشیا اور دوسرے مسلم خطوں میں ڈرون حملوں کے سلسلے کو بند کردیا جائے۔ مبینہ دہشت گردوں کو ملکی قانون کو خاطر میں لائے بغیر ہدف بنانا نہایت خطرناک ہے اور اس کا نتیجہ معصوم اور بے گناہوں کے قتل و ہلاکت کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ مزید برآں اس طرح کی کاروائیاں امریکہ کی معتبریت کو نقصان پہنچاتی ہیں اورحقوق انسانی کے تئیں اس کے التزام عہد کی اہمیت کو کم کردیتی ہیں۔
علم وشعور کے ساتھ مکالمہ ہی اصل مسئلے کا حل ہے، بالکل اسی طرح جس طرح اعتماد سازی کا عمل مسئلے کے حل میں بنیادی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکی و یورپی قیادت کو اس خطے کے مستقبل کے ساتھ تعامل کرنے میں متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ سب سے چیلنج آمیز مسئلہ یہ ہے کہ ایسی جماعتوں کے ساتھ جن کا کائناتی نظریہ مغرب سے مختلف ہے، کس طرح باہمی احترام کے ماحول میں گفتگو کی جائے؟ کیا یورپ و امریکہ کسی ایسی دنیا کا تصور کرسکتے ہیں جہاں مضبوطی کے ساتھ تکثیری اقدار پائے جاتے ہوں؟ بامعنی گفتگو کی اساس اقدار پر باہم متفق نہ ہونا ہے۔ مدارس کے ساتھ مکالمے کے عمل سے اختلاف کو برداشت کرنے کا ہنر آئے گا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں نے یہ بات محسوس کی کہ اہل مدارس صرف یہ چاہتے ہیں کہ انھیں چھیڑا نہ جائے۔ وہ اسلام کے مطابق نیکی و پارسائی کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور دانش وری کے روایتی سلسلے کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں جو ان کے مذہبی ایقان کو استحکام عطا کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ انھیں یہ برداشت نہیں کہ کوئی دوسرا ان کے طرزِ حیات کو تبدیل کردے۔ ایک شخص کو دوسرے کے طرزِ حیات میں تبدیلی کا مسئلہ گیارہ ستمبر کے بعد کی دنیا میں امریکیوں کے لیے نامانوس نہیں رہ گیا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں بکھرے ہوئے لوگوں کی سوچ یہی ہے کہ دوسرے لوگ ان کے اپنے اسلوبِ حیات کا احترام کریں۔
ان شرائط کی تکمیل کا تقاضا ہے کہ اس تعلق سے امریکی سیاسی قیادت کی ذہنیت میں تبدیلی آئے کہ دوسری اقوام، ثقافتوں اور اقدار کے ساتھ کس طرح تعامل کیا جائے؟ بغیر اس بنیادی تبدیلی کے آگے کی راہ نہایت دشوار گزار ہوگی۔ آج کی گلوبلائزیشن کی دنیا کا ماحول اپنے اندر بہت زیادہ نزاکت رکھتا ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ سے ہواؤں میں در آنے والی آلودگی سے لے کر بین الاقوامی تعلقات، سفارت کاری، جنگ اور انسانی تعلقات تک یہ ساری چیزیں علم پر مبنی شعور و حساسیت کی متقاضی ہیں۔ یعنی یہ ادراک کرنا کہ ہماری بقا دوسروں کی بقا و ارتقا میں ہے نہ کہ انھیں ہلاک وتباہ کرنے میں۔ اصل نقطۂ آغاز اس اصول پر عمارت کی تعمیر ہے کہ دوسروں کی تہذیب و ثقافت بھی اتنی ہی قابل قدر ہے جتنی کہ اپنی۔ اس طرح کے بقائے باہم کو یقینی بنانے کے لیے مغرب کے لیے اصل آزمائش کی بات یہ ہے کہ طبقۂ علما کے ساتھ اس کے تعلقات بہتر اور نارمل ہوں۔
مخلص:
ابراہیم موسیٰ
پروفیسر اسلامک اسٹڈیز
کروک انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل پیس اسٹڈیز،
یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم،انڈیانا،امریکہ

حواشی

(1) یوسف قرضاوی کو ان کو استشہادی حملوں کے جواز کے نظریے کی وجہ سے برطانیہ اور امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ کچھ دنوں قبل قرضاوی کے صاحبزادے نے سابق مصری صدر محمد مرسی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی اپنے والد کی کوششوں کی مخالفت کی دیکھئے: ’’اسامہ عبدالرحمن القرضاوی إلی أبیہ یوسف القرضاوی‘‘ ۔
(2) The News, "Ulema Open Their Heart to MPs on Terror."
(3) Macaulay's Minute on Indian Education, 
http://www/english.ucsb. edu/faculty/rraley/research/english/macaulay.html
(4) Zaman, Modern Islamic Thought, 156-57.
(5) عثمانی (تقی) : ہمارا نظام تعلیم، 77، مظہری (وارث) ’’فضلائے مدارس۔۔۔‘‘ 199-206، منصوری، محمد عیسیٰ ’’مغرب‘‘105-9
(6) مظہری(وارث): ’’فضلائے مدارس‘‘ ، 199
(7) مصباحی،یسن اختر: قرآن اور جہاد، 63
(8) منصوری،: ’’مغرب‘‘108

جنرل باجوہ اور بلوچستان

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے پونے دو سو کے لگ بھگ طلبہ کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں تلقین کی ہے کہ وہ مختلف بیرونی ایجنسیوں اور اداروں کی طرف سے پاکستان کے بارے میں کیے جانے والے منفی پراپیگنڈا سے متاثر نہ ہوں اور وطن عزیز کی سلامتی و استحکام اور فلاح و ترقی کے لیے تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے اور وہ بلوچستان کے شہریوں اور نوجوانوں سے محبت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک بہت سے ادارے اور ایجنسیاں بلوچستان کے حوالہ سے مخالفانہ پروپیگنڈا کر کے وطن عزیز پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں جس کا جواب ہمیں متحد اور منظم ہو کر دینا ہوگا۔
محترم باجوہ صاحب کے یہ ارشادات حرف بہ حرف درست ہونے کے ساتھ ساتھ برموقع بھی ہیں کہ بلوچستان کے حوالہ سے پاکستان کے خلاف بیرونی سرگرمیوں میں تیزی آرہی ہے اور سوئٹزرلینڈ میں اس سلسلہ میں آویزاں کیے جانے والے بینروں کے علاوہ بھارتی دانشوروں کا ایک حلقہ اپنی حکومت پر زور دے رہا ہے کہ وہ بلوچستان میں نام نہاد آزادی کی تحریک کو سپورٹ کرے جیسا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے چند دن قبل ایک تقریر میں اس کا ذکر بھی کیا ہے۔ گزشتہ روز یوٹیوب پر ایک ڈاکومنٹری دیکھنے کا موقع ملا جس میں کسی بھارتی تجزیہ نگار نے سی پیک منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اس سے مبینہ طور پر بھارت کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کیا ہے اور اس کا حل یہ تجویز کیا ہے کہ بھارت بلوچستان کا کارڈ استعمال کرے اور وہاں آزادی کے نام سے اٹھائی جانے والی آواز کو مضبوط کرے۔ بھارتی حکومت کو دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جن سوالات اور الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے جواب میں بھی وہ بلوچستان کا حوالہ دیتے ہیں، حالانکہ بلوچستان دیگر علاقوں کی طرح ’’قانونِ آزادی ہند 1947ء ‘‘ کے تحت پاکستان میں شامل ہوا تھا اور کشمیر نے بھی اسی قانون کے تحت پاکستان میں شامل ہونا تھا لیکن بھارت نے کشمیری عوام کی خواہشات کے علی الرغم اس پر بزورِ طاقت قبضہ جما لیا جبکہ اس قبضہ کو طوالت دینے میں عالمی قوتوں کے مفادات آج تک کارفرما ہیں۔
سی پیک منصوبے سے کس کس کو فائدہ ہوگا اور کون کون نقصان میں رہے گا یہ ایک الگ موضوع ہے اور اس سے خطہ میں طاقت و معیشت کا توازن کن تبدیلیوں سے دوچار ہوگا یہ بھی ایک مستقل گفتگو کا متقاضی ہے۔ لیکن سرِدست اتنی بات واضح ہے کہ یہ عظیم معاشی منصوبہ چونکہ پاکستان سے تعلق رکھتا ہے اور اس سے پاکستان کی بے پناہ ترقی کے واضح امکانات دکھائی دے رہے ہیں اس لیے یہ پاکستان کے روایتی حریف بھارت کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سی طاقتوں کو کھٹک رہا ہے۔ اور یہ ظاہر و پوشیدہ قوتیں اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچنے سے خدانخواستہ روکنے کے لیے اپنے اپنے دائروں میں سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جن کا منظر دن بدن واضح ہوتا جا رہا ہے۔
سی پیک میں مرکزی کردار بلوچستان اور اس کی بندرگاہ گوادر کا ہے اس لیے ظاہر ہے کہ منفی سرگرمیوں کا سب سے بڑا ہدف بھی وہی ہوگا۔ بلوچستان میں آزادی کی محدود اور مصنوعی تحریک ان سرگرمیوں کا ایک اہم دائرہ ہے اور بلوچستان کو قیام پاکستان کے بعد سے ہی اس قسم کی منفی سرگرمیوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے: ایک دور میں بلوچ اور پختون قوموں کے درمیان غلط فہمیاں بڑھانے اور انہیں منفی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی مہم چلتی رہی۔ پھر بلوچوں کو قومیت کے حوالہ سے آزادی اور خودمختاری کا خواب دکھلا کر اسے آگے بڑھانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ ایک موقع پر کوئٹہ میں پنجابی اور غیر پنجابی کا سوال بھی ابھارا گیا، جبکہ ہزارہ قوم کے معاملہ میں باہمی قتل و قتال کو بھی اس منظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن ان میں سے کوئی کارڈ بھی کامیابی کے ساتھ نہیں کھیلا جا سکا اور اس قسم کی ہر مہم میں اس کے منصوبہ کاروں کو منہ کی کھانی پڑی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام پاکستان سے محبت رکھتے ہیں اور پاکستانی کہلانا ہی پسند کرتے ہیں۔ لیکن ایک وجہ اور بھی ہے کہ 1970ء کے انتخابات میں اور اس کے بعد کم و بیش ہر الیکشن کے موقع پر جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کی ایک اہم سیاسی اور عوامی قوت کے طور پر سامنے آتی رہی ہے جو حوصلہ مند اور محب وطن علماء کی قیادت سے بہرہ ور ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کو ایک مضبوط و مستحکم اسلامی ریاست کے طور پر ترقی دینے کی خواہش مند ہے اور بلوچستان کے تمام علاقوں اور قومیتوں میں یکساں اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ اگر کوئی منصف مزاج تجزیہ نگار خالصتاً سیاسی اور سماجی نقطہ نظر سے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک کی صورتحال کا جائزہ لے تو اس کے لیے یہ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہوگا کہ بلوچستان میں خدانخواستہ علیحدگی یا تقسیم کی کسی بھی تحریک کے مقابلہ میں سب سے مضبوط رکاوٹ یہی دینی و سیاسی قوت ثابت ہوئی ہے اور آئندہ بھی ان شاء اللہ تعالیٰ ایسا ہی ہوگا۔
اس لیے آرمی چیف محترم کے ارشادات و جذبات کی تائید کرتے ہوئے ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ بلوچستان کے حوالہ سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف بین الاقوامی طور پر منظم کی جانے والی سازشوں سے نمٹنے کے لیے جہاں ان اقدامات کی ضرورت ہے جو فوج سمیت ریاستی ادارے اس وقت کر رہے ہیں، وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ مختلف قومیتوں کے حامل بلوچستان کے شہریوں کے درمیان عقیدہ و دین کے رشتہ کو اور زیادہ مضبوط کیا جائے اور دینی وحدت کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے۔ کیونکہ یہی وہ وحدت اور رشتہ ہے جو کسی بھی منفی تحریک کا راستہ روکنے کے لیے سب سے زیادہ مؤثر رکاوٹ بن سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی محترم جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایک اور گزارش بھی کرنا چاہتا ہوں۔وہ یہ کہ بیرون ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف بہت سے دیگر مورچے بھی مصروف عمل ہیں جنہیں مختلف بیرونی ایجنسیاں اور ادارے سپورٹ کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک مورچہ قادیانیوں کا ہے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کے متفقہ دستوری فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے دستور و قانون پر عملدرآمد کا بائیکاٹ کر کے بلکہ اسے چیلنج کر کے اس کے خلاف بین الاقوامی فورموں پر مورچہ لگائے ہوئے ہیں جس سے ریاست کی ’’دستوری رٹ‘‘ سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے جبکہ ریاست کی رٹ قائم کرنا اور دستور کی بالادستی کا احترام کروانا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اس مسئلہ پر ہم نے مسلح افواج سمیت تمام ریاستی اداروں کی ہمیشہ حمایت کی ہے حتیٰ کہ ’’اسلامی شریعت‘‘ کے نام پر ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو بھی ہماری دوٹوک مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ چنانچہ اسلامی شریعت کے نام سے ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف اگر کاروائی ہو سکتی ہے، جو کہ حکومت کا دستوری و قانونی حق ہے، تو عقیدہ? ختم نبوت سے انکار کے نام پر دستور کی بالادستی کو چیلنج کرنے اور اس کے لیے بین الاقوامی فورموں پر پاکستان کے خلاف مسلسل ’’مورچہ بندی‘‘ کا عمل بھی فوج سمیت تمام ریاستی اداروں کی توجہ کا مستحق ہے۔
ان گزارشات کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سالمیت و استحکام اور فلاح و ترقی کے لیے آری چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے جذبات و احساسات اور اقدامات کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے ہم ان کی کامیابی کے لیے بارگاہِ ایزدی میں خلوص دل کے ساتھ دعا گو ہیں، آمین یا رب العالمین۔

دینی مدارس کو درپیش آزمائش

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اس سال عید الاضحی کے موقع پر قربانی کی کھالوں کے حوالہ سے دینی مدارس کے ساتھ جو طرزِ عمل اختیار کیا گیا وہ غیر متوقع نہیں تھا۔ اور کافی عرصہ سے سرکاری پالیسیوں کا رخ اسی طرف نظر آرہا تھا کہ دینی مدارس کی میڈیا پر مسلسل کردار کشی کے ساتھ ساتھ ان کے ذرائع آمدن پر قدغنیں لگا کر ان کی ’’سپلائی لائن‘‘ کاٹ دی جائے تاکہ دینی مدارس کے موجودہ معاشرتی کردار کو محدود کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ امریکی تھنک ٹینک ’’رینڈ کارپوریشن‘‘ کی رپورٹ کے بعد اس بات میں کوئی ابہام باقی نہیں رہ گیا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے مسلم معاشرہ میں دینی علوم کے تحفظ و فروغ کا مسلسل اور مؤثر کردار ادا کرنے والے دینی مدارس کا یہ پرائیویٹ نظام کون سے طبقات اور عناصر کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے اور کون سی قوتیں اور لابیاں ان مدارس کی تعلیمی و فکری جدوجہد کو اپنے اہداف و مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے انہیں غیر مؤثر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن ’’شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار‘‘ کا ذوق و مزاج رکھنے والے عناصر نے ’’پنڈ کاھلی‘‘ کا جو منظر پیش کیا ہے وہ نہ صرف حیران کن ہے بلکہ دن بدن مضحکہ خیز بھی ہوتا جا رہا ہے۔
گزشتہ کئی سالوں سے قربانی کی کھالوں کو دینی مدارس کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ تصور کرتے ہوئے اسے محدود کرنے کے لیے دو طرفہ عمل دھیرے دھیرے جاری تھا۔ ایک طرف کھالوں کی قیمت کو منصوبہ بندی کے ساتھ گراتے چلے جانے کی حکمت عملی اختیار کی گئی جبکہ دوسری طرف دینی مدارس کو اس بات کا پابند کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لیے باقاعدہ اجازت حاصل کریں، اور اس طرح اس مقصد کے لیے ڈپٹی کمشنر کے اجازت نامے کو بالآخر ضروری قرار دے دیا گیا۔
اس سال عید الاضحی سے کافی روز قبل جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف سے ملاقات کر کے ان سے اس مسئلہ پر بات کی تو انہیں یقین دلایا گیا کہ درخواست دینے والے مدارس کو اجازت دے دی جائے گی۔ چنانچہ وفاق المدارس کی طرف سے مدارس کو ہدایات جاری کر دی گئیں کہ وہ ڈپٹی کمشنر کو درخواست دے کر اجازت حاصل کرلیں۔ لیکن جب یہ درخواستیں دی گئیں تو انہیں عید الاضحیٰ سے دو روز قبل تک ٹال مٹول میں رکھا گیا اور عین وقت پر بہت سے مدارس کو اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اور پھر کہا گیا کہ اپیل کی جائے تو اپیل پر اجازت مل جائے گی۔
دینی مدارس کے ساتھ یہ رویہ صرف قربانی کی کھالوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اخباری اطلاعات کے مطابق پنجاب کی حکومت ’’چیریٹی ایکٹ‘‘ کے نام سے جو مجوزہ قانون لا رہی ہے، اس میں دینی مدارس کو اس بات کا پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ زکوٰۃ و صدقات بھی سرکاری منظوری کے بغیر وصول نہیں کر سکیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ و صدقات کے معاملہ میں بھی دینی مدارس اور سرکاری اداروں کے درمیان ’’آنکھ مچولی‘‘ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے بلکہ ہمارے خیال میں اس سال قربانی کی کھالوں کے بارے میں اس قدر سختی کا معاملہ مجوزہ چیریٹی ایکٹ کی کامیابی کے امکان کا جائزہ لینے کے لیے بطور ’’ٹیسٹ کیس‘‘ کیا گیا ہے تاکہ اس کے نتائج کی روشنی میں پابندیوں کا نیا جال بچھایا جا سکے۔
اس پس منظر میں متعلقہ حلقوں سے مختصراً چند گزارشات پیش کرنے کو جی چاہ رہا ہے۔
’’رینڈ کارپوریشن‘‘ کی رپورٹ مرتب کرنے والوں اور اس پر اپنی پالیسیوں کی بنیاد رکھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ یہ بات صحیح طور پر سمجھے ہیں کہ مغرب کے استعماری ایجنڈے اور مادر پدر آزاد ثقافت کے فروغ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جنوبی ایشیا کے یہ دینی مدارس ہیں۔ ہمیں اپنے اس کردار کا اعتراف اور اس پر فخر ہے۔ اور ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ تمام تر رکاوٹوں اور مخالفتوں کے باوجود دینی مدارس کا یہ معاشرتی، تعلیمی اور تہذیبی کردار بہرصورت جاری رہے گا اور مغربی فکر و فلسفہ کو بالآخر اسی کے آگے سرنڈر ہونا پڑے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
مسلمان حکمرانوں اور افسران سے گزارش ہے کہ اگر وہ اس علمی، فکری اور تہذیبی جنگ کا ادراک نہیں رکھتے تو اس کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لیں، مطالعہ کریں اور اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ لیکن اگر وہ جان بوجھ کر ایسا کر رہے ہیں تو اپنے مستقبل کے بارے میں ضرور سوچ لیں کہ وہ تنخواہ و مراعات کے چند سال گزار لینے کے بعد دنیا و آخرت میں کون سے کیمپ میں شمار ہونا پسند کریں گے۔
دینی مدارس کے وفاقوں اور ان کی قیادتوں سے گزارش ہے کہ وہ مجموعی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے اپنی حکمت عملی اور ترجیحات کا ازسرنو تعین کریں، لیپاپوتی کے ماحول سے نکلیں اور ان معامالت میں اپنے پیش رو بزرگوں کی حکمت عملی اور طرز عمل کا احیاء کرتے ہوئے دوٹوک لائحہ عمل اختیار کریں۔
دینی مدارس کے منتظمین، اساتذہ اور طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اس سے زیادہ مشکل اور پریشان کن حالات کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار رکھیں۔ ہمارے خیال میں سہولتوں میں اپنی حدود کا لحاظ نہ رکھنے کی روش ہمیں راس نہیں آئی اور پھر سے سادگی، قناعت، جفاکشی اور توکل کے اب سے نصف صدی قبل کے ماحول میں واپس جانا شاید ہمارے لیے ضروری ہوگیا ہے، فافہم وتدبر۔
معاونین اور بہی خواہوں سے گزارش ہے کہ حالات ان کے سامنے ہیں اور بدلتی ہوئی صورتحال ان سے مخفی نہیں ہے۔ مدارس محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ چل رہے ہیں جبکہ آپ جیسے معاونین اور ہمدردوں کو اللہ تعالیٰ نے اس فضل و کرم میں ذریعہ کے طور پر قبول کر رکھا ہے جو کہ بہت بڑی سعادت اور خوش بختی کی بات ہے۔ آپ حضرات کو سب سے زیادہ محتاط رہنا ہوگا کہ زمانے کی چالیں، مخالفین کی تدبیریں اور میڈیا کی کردارکش سرگرمیاں کہیں آپ کو اس مقام سے پھسلا نہ دیں۔ اسباب کی دنیا میں مدارس کے ساتھ تعاون جاری رکھنا، انہیں ضروریات فراہم کرتے رہنا، اور منفی حیلوں کے ذریعے انہیں پہنچائے جانے والے نقصانات کی تلافی کرنا آپ حضرات کی دینی ذمہ داریوں میں سے ہے جس کا اللہ تعالیٰ کے ہاں بے پناہ اجر و ثواب ہے۔ اس لیے اپنے تعاون اور توجہات کو مسلسل جاری رکھیں اور اس میں کوئی کمی نہ آنے دیں۔
اللہ اللہ کرنے والے بزرگوں اور راتوں کو نماز و دعا کے لیے جاگنے والے اہل اللہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنی پرخلوص دعاؤں میں مزید اضافہ کریں کہ ہمارا اصل ہتھیار اور اساس یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا اپنا کام صحیح طور پر کرنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظ ختم نبوت سیمینار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

23 ستمبر کو اپنے آبائی شہر گکھڑ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے زیراہتمام منعقدہ ’تحفظ ختم نبوت سیمینار‘‘ میں حاضری زندگی کا ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی گکھڑ کے صدر میاں راشد طفیل کے والد گرامی میاں محمد طفیل مرحوم مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیری کے حلقہ احباب میں شامل اور تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد میں ان کے سرگرم معاون تھے۔ جبکہ میاں محمد طفیل مرحوم کے بڑے بھائی میاں فاضل رشیدی مرحوم پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں شمار ہوتے تھے اور ایک عرصہ تک پیپلز پارٹی گوجرانوالہ کے چیئرمین رہے ہیں۔ اور ان کے والد محترم ماسٹر کرم دین مرحوم میرے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ابتدائی ساتھیوں میں سے تھے۔ اس حوالہ سے یہ خاندان پاکستان پیپلز پارٹی میں متحرک ہونے کے ساتھ ساتھ دینی معاملات میں شروع سے ہمارا معاون چلا آرہا ہے۔
میاں راشد طفیل نے چند روز قبل مجھے بتایا کہ وہ گکھڑ میں تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں سیمینار منعقد کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں تو بے حد خوشی ہوئی اور حاضری کا وعدہ کر لیا۔ وہاں حاضر ہو کر پتہ چلا کہ یہ کوئی رسمی سا پروگرام نہیں بلکہ باقاعدہ ’’کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس‘‘ تھی جو ایک بڑے شادی ہال میں منعقد ہوئی جس میں پورے علاقہ سے مختلف مذہبی مکاتب فکر اور سیاسی جماعتوں کے راہنما و کارکن بڑی تعداد میں شریک تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی اور ضلعی قیادت بھی موجود تھی، پارٹی کے صوبائی صدر جناب قمر الزمان کائرہ مہمان خصوصی تھے اور ان کے علاوہ جناب تنویر اشرف کائرہ، میاں اظہر حسن ڈار، چودھری محمد اشرف سندھو، راؤ اکرام علی خان اور دیگر پارٹی راہنما بھی شریک محفل تھے۔ مختلف مکاتب فکر کے راہنماؤں میں مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا پروفیسر عبد الرحمن جامی، مولانا قاری محمود اختر عابد، مولانا فہیم الرحمان، قاری خالد محمود اور دیگر حضرات نے خطاب کیا۔
میں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی اور ضلعی قیادت کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانی مسئلہ کے حل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور دیگر راہنماؤں کے کردار کا قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان کو دستوری طور پر اسلامی ریاست کا درجہ دینے اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ختم نبوت کے مسئلہ کو حل کرنے میں بھٹو مرحوم اور ان کی پارٹی کا کردار بہت اہم ہے جو تاریخ کا حصہ ہے۔ اور صرف ایک بار نہیں بلکہ دوسری بار پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہی پورے دستور پر نظر ثانی کے دوران ان فیصلوں کا تحفظ کر کے اور انہیں بعینہ برقرار رکھ کر پاکستان کے اسلامی تشخص کے تسلسل اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ نے پوری قوم کی طرف سے اس موقف کی جو تجدید کی تھی، اس کا سہرا بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے سر ہے۔
مگر آج قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان قومی فیصلوں کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ قادیانیوں نے ان فیصلوں کو آج تک تسلیم نہیں کیا بلکہ بین الاقوامی فورمز پر وہ ان دستوری اور جمہوری فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے ان خلاف مورچہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ دستور پاکستان کی اسلامی اساس اور دفعات کو بھی مختلف دائروں میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔ اس لیے ہم پاکستان پیپلز پارٹی سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان اہم قومی، جمہوری اور دستوری فیصلوں کے تحفظ کے لیے بھی سرگرم کردار ادا کرے گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر جناب قمر الزمان کائرہ نے اس حوالہ سے پرمغز اور بامقصد گفتگو کی جس سے مجھے یہ اطمینان ہوا کہ پارٹی میں ایسے حضرات موجود اور مؤثر ہیں جو ان مسائل کا ادراک رکھتے ہیں اور انہیں حل کرنے کا عزم بھی رکھتے ہیں۔ کائرہ صاحب نے ملکی و عالمی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ ہمیں ایک ملت اور قوم کے طور پر وطن عزیز اور عالم اسلام کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا اور گروہی و فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر ہو کر قومی جذبہ کے ساتھ ملی وحدت اور قومی سلامتی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دستور پاکستان کے اسلامی تشخص اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے قانون کے خلاف مختلف حلقوں میں جاری منفی سرگرمیوں سے آگاہ ہیں اور قوم کے ان تاریخی فیصلوں کی پاسداری کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے دیگر راہنماؤں نے بھی اپنے خطابات میں اسی قسم کے جذبات پیش کیے اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ گکھڑ کی پیپلز پارٹی نے ایک اہم دینی و قومی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے اس مشترکہ سیمینار کا اہتمام کیا ہے۔ سیمینار میں پاکستان مسلم لیگ (ن) گکھڑ کے صدر اور بلدیہ گکھڑ کے چیئرمین میر مظہر بشیر نے علالت کے باعث اپنے نمائندہ کے ذریعے سیمینار کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا اور اس اہم سیمینار کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔