مئی ۲۰۱۷ء

اقلیتوں کے حقوق کے لیے علماء و فقہاء کا عملی کردارمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۰)ڈاکٹر محی الدین غازی 
اختلاف رائے اور رواداری ۔ اکابرین امت کے اسوہ کی روشنی میںمولانا محمود خارانی 
جمعیۃ علماء اسلام کا صد سالہ عالمی اجتماعمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مذہبی قوتوں کے باہمی اختلافات اور درست طرز عملمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
امام عیسیٰ بن ابانؒ : حیات و خدمات (۱)مولانا عبید اختر رحمانی 
جہادی بیانیے کی تشکیل میں روایتی مذہبی فکر کا کردارڈاکٹر عرفان شہزاد 
علامہ اقبال اور شدت پسندی کا بیانیہ: ان کی جہادی اور سیاسی فکر کی روشنی میںمولانا سید متین احمد شاہ 
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں پہلا عالمی اسلامی مفاہمتی اجلاسڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 

اقلیتوں کے حقوق کے لیے علماء و فقہاء کا عملی کردار

محمد عمار خان ناصر

مذاہب عالم کی تعلیمات میں آزادئ مذہب کا اصول اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی تعلیم جس قدر وضاحت اور تاکید کے ساتھ اسلام میں ملتی ہے، کسی دوسری جگہ شاید نہیں ملتی۔ مسلم فقہاء نے اسی تعلیم کی روشنی میں غیر مسلم اقلیتوں کے شہری ومذہبی حقوق کے تحفظ سے متعلق نہایت واضح قانونی اور اخلاقی ضابطے مرتب کیے ہیں اور اسلامی تاریخ میں ایسی روشن مثالیں بکثرت ملتی ہیں جب علماء وفقہاء نے اللہ کے پیغمبر کی وراثت اور نیابت کا حق ادا کرتے ہوئے اقلیتی گروہوں پر کی جانے والی کسی بھی قسم کی زیادتی کے خلاف کلمہ حق بلند کیا اور زیادتی کی تلافی کے لیے حتی الوسع کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔
اس حوالے سے تاریخ کے چند معروف اور مستند واقعات پر ایک نظر ڈالنا مناسب ہوگا:
۱۔ اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اپنے عہد حکومت میں مسیحیوں کا گرجا ان سے چھین کر اسے زبردستی دمشق کی جامع مسجد کا حصہ بنا دیا۔ تاہم جب عمر بن عبد العزیز کا دور حکومت آیا اور مسیحیوں نے ان کے سامنے یہ معاملہ دوبارہ اٹھایا تو انھوں نے حکم دیا کہ مسجد کا وہ حصہ جو گرجے کی جگہ پر بنا ہوا ہے، ڈھا دیا جائے اور یہ جگہ دوبارہ مسیحیوں کے تصرف میں دے دی جائے۔ اس موقع پر مسلمانوں نے مسیحیوں کے ساتھ مذاکرات کیے اور انھیں اس پر آمادہ کر لیا کہ وہ غوطہ کے تمام گرجے لے لیں اور اس کے بدلے میں دمشق کی جامع مسجد میں شامل اس حصے سے دست بردار ہو جائیں۔ چنانچہ مسیحیوں نے اپنی رضامندی سے یہ پیش کش قبول کر لی جس پر عمر بن عبد العزیز نے اپنا حکم واپس لے لیا۔ (بلاذری، فتوح البلدان ص ۱۳۲)
۲۔ اسی طرح خلیفہ ہادی کے زمانے میں مصر کے گورنر علی بن سلیمان نے کچھ گرجوں کو منہدم کرا دیا۔ کچھ ہی عرصے کے بعد جب ہارون الرشید کا دور حکومت آیا اور مصر کی گورنری موسیٰ بن عیسیٰ کے سپرد کی گئی تو موسیٰ نے گرجوں کے انہدام کا مسئلہ علماء کے سامنے پیش کیا۔ علماء نے مسیحیوں کے حق میں فتویٰ دیا اور زبردستی گرجے منہدم کرنے کو ناجائز قرار دیا۔ چنانچہ حکومت نے اپنے خرچ پر ان منہدم شدہ گرجوں کو دوبارہ تعمیر کروایا اور انھیں مسیحیوں کے حوالے کر دیا۔ (الخطط المقریزیہ ۲/۵۱۱ بحوالہ رسائل شبلی ص ۷۰)
۳۔ عباسی دور کے معروف فقیہ قاضی ابو یوسف نے خلیفہ ہارون الرشید کی فرمائش پر امور سلطنت سے متعلق شرعی احکام ان کے لیے مرتب کیے تو اس میں خلیفہ کو یہ نصیحت بھی کی کہ
وقد ینبغی یا امیر المومنین ایدک اللہ ان تتقدم فی الرفق باہل ذمۃ نبیک وابن عمک محمد صلی اللہ علیہ وسلم والتفقد لہم حتی لا یظلموا ولا یؤذوا ولا یکلفوا فوق طاقتہم ولا یؤخذ شیء من اموالہم الا بحق یجب علیہم (الخراج، ص ۱۲۴)
’’اے امیر المومنین، اللہ آپ کی تائید ونصرت فرمائے، یہ مناسب ہوگا کہ آپ ان لوگوں کے ساتھ جنھیں آپ کے نبی اور آپ کے چچازاد بھائی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے (جان ومال اور مذہب کی حفاظت کا) ذمہ دیا، حد درجہ نرمی سے کام لیں اور ان کی خبر گیری کرتے رہیں تاکہ ان پر نہ تو ظلم کیا جا سکے نہ انھیں اذیت پہنچائی جائے، نہ ان پر ان کی طاقت سے بڑھ کر کوئی بوجھ ڈالا جائے اور ان کے مال سے کسی واجب حق کے علاوہ کوئی چیز وصول کی جائے۔‘‘
۴۔ شام اور حجاز کی سرحد پر عیسائیوں کا ایک مشہور طاقت ور قبیلہ بنو تغلب تھا جس کے ساتھ حضرت عمر نے جان ومال کے تحفظ پر ایک پرامن معاہدہ کیا تھا۔ ہارون الرشید اپنی سیاسی مصلحت کی بنا پر اس کو توڑ دینا چاہتا تھا۔ ایک دن دربار میں جبکہ امام محمد بھی وہاں موجود تھے، ہارون الرشید آیا اور امام محمد کو تخلیہ میں بلا کر لے گیا اور کہا کہ میں بنو تغلب کے عیسائیوں کا معاہدہ ختم کر کے انھیں قتل کرا دینا چاہتا ہوں۔ امام محمد نے فرمایا کہ حضرت عمر نے انھیں امان دی ہے، اس لیے معاہدہ توڑنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ حضرت عمر نے انھیں اس شرط پر امان دی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا بپتسمہ نہیں کریں گے (یعنی انھیں عیسائی بنانے کی رسم نہیں ادا کریں گے)۔ امام محمد نے کہا کہ بپتسمہ کے باوجود حضرت عمر نے ان سے معاہدۂ امن برقرار رکھا تھا۔ اس پر ہارون الرشید نے کہا کہ حضرت عمر کو ان سے جنگ کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ امام محمد نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو اس کے بعد حضرت عثمان اور حضرت علی کو ان سے جنگ کرنی چاہیے تھی، حالانکہ ان لوگوں نے ان سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے بلا شرط ان کو امان دی تھی۔ جب ہارون سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو ان کو دربار سے نکلوا دیا مگر وہ معاہدہ نہ توڑ سکا۔ (بحوالہ ’’اسلام کے بین الاقوامی اصول وتصورات‘‘ از مولانا مجیب اللہ ندوی)
۵۔ ولید بن یزید نے قبرص کے مسیحیوں کو اس خدشے سے وہاں سے جلا وطن کر دیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف رومی حکومت کی مدد کریں گے۔ مورخین بتاتے ہیں کہ اس فیصلے کو مسلمانوں نے بہت برا سمجھا اور فقہاء نے اس کو سخت نا انصافی قرار دیا۔ چنانچہ ولید کے بعد اس کا بیٹا یزید بن الولید حکمران بنا تو اس نے جلا وطن کیے جانے والے لوگوں کو دوبارہ قبرص میں آبا د کر دیا اور اس فیصلے کو مسلمانوں نے عدل وانصاف تصور کرتے ہوئے اس کی بہت تحسین کی۔ (بلاذری، فتوح البلدان، ص ۱۵۶)
۶۔ سیدنا معاویہ کے دور مسلمانوں اور جزیرہ قبرص کے باشندوں کے مابین اس بات پر صلح کا معاہدہ ہوا کہ وہ مسلمانوں اور سلطنت روم، دونوں کے ساتھ تعلقات رکھیں گے اور دونوں کو سالانہ خراج ادا کرتے رہیں گے۔ عبد الملک بن صالح کے زمانے میں قبرص کے کچھ لوگوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو عبد الملک نے اسے علی الاطلاق نقض معاہدہ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف جنگ کا ارادہ کیا۔ تاہم اس نے اس سلسلے میں شرعی پہلو سے وقت کے نامور فقہا سے رائے طلب کی جن میں لیث بن سعد، مالک بن انس، سفیان بن عیینہ، موسیٰ بن اعین، اسماعیل بن عیاش، یحییٰ بن حمزہ، ابو اسحاق فزاری اور مخلد بن حسین شامل تھے۔ ان میں سے سفیان بن عیینہ اور لیث بن سعد نے عبد الملک کی رائے سے اتفاق کیا، لیکن اکثریت کی رائے اس سے مختلف تھی۔ انھوں نے خلیفہ کو ان کے خلاف جنگ کرنے سے منع کیا اور کہا کہ چند لوگوں کی طرف سے خلاف ورزی کرنے پر سب لوگوں کو معاہدہ توڑنے کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ (ابو عبید، کتاب الاموال، ص ۲۶۸)
۷۔ امام اوزاعی کے زمانے میں جبل لبنان میں مقیم مسیحیوں میں سے کچھ لوگوں نے بعبلبک کے افسر محصولات سے کسی شکایت کی بنا پر بغاوت کر دی۔ مسلمان حاکم صالح بن علی بن عبد اللہ نے ان میں سے شر پسند عناصر کی سرکوبی کے بعد آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچنے کے لیے اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو، جن کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا، وہاں سے جلا وطن کر دیا۔ (بلاذری، فتح البلدان، ص ۱۶۹) اس پر امام اوزاعی نے اسے تفصیلی خط لکھا جس کا کچھ حصہ امام ابوعبید نے اپنی کتاب ’’الاموال‘‘ میں نقل کیا ہے۔ امام صاحب نے فرمایا:
’’جبل لبنان کے جن اہل ذمہ کو جلا وطن کیا گیاہے، ان کے بغاوت کرنے پر ساری جماعت متفق نہیں تھی، اس لیے ان میں سے ایک گروہ کو (جس نے بغاوت کی) قتل کرو اور باقی لوگوں کو ان کی بستیوں کی طرف واپس بھیج دو۔ کچھ افراد کے عمل کی پاداش میں سارے گروہ کو کیونکر پکڑا جا سکتا اور انھیں ان کے گھر بار اور اموال سے بے دخل کیا جا سکتا ہے؟ .... یہ لوگ غلام نہیں ہیں کہ تمھیں ان کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کی آزادی حاصل ہو۔ وہ آزاد اہل ذمہ ہیں (جو بہت سے قانونی حقوق اور ذمہ داریوں میں ہمارے برابر ہیں، مثلاً) ان میں سے کوئی شادی شدہ فرد زنا کرے تو اسے رجم کیا جاتا ہے اور ان کی جن عورتوں سے ہمارے مردوں نے نکاح کیا ہے، وہ دنوں کی تقسیم اور طلاق وعدت میں ہماری عورتوں کے ساتھ برابر کی شریک ہوتی ہیں۔‘‘ (ابوعبید، کتاب الاموال، ص ۲۶۳، ۲۶۴)
۸۔ آٹھویں صدی کے عظیم مجدد اور مجاہد امام ابن تیمیہ کے زمانے میں جب تاتاریوں نے دمشق پر حملہ کر کے بہت سے مسلمانوں اور ان کے ساتھ دمشق میں مقیم یہودیوں اور مسیحیوں کو قیدی بنا لیا تو امام صاحب علما کا ایک وفد لے کر تاتاریوں کے امیر لشکر سے ملے اور اس سے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ تاتاری امیر نے ان کے مطالبے پر مسلمان قیدیوں کو تو چھوڑ دیا، لیکن یہودی اور مسیحی قیدیوں کو رہا نہیں کیا۔ ا س پر امام صاحب نے اس سے کہا کہ :
’’تمھیں ان تمام یہودیوں اور مسیحیوں کو جو ہمارے اہل ذمہ ہیں اور تمھارے قبضے میں ہیں، چھوڑنا ہوگا۔ ہم تمہارے پاس اپنا کوئی قیدی نہیں چھوڑیں گے، خواہ وہ مسلمان ہو یا اہل ذمہ میں سے۔ اہل ذمہ کے وہی حقوق ہیں جو ہمارے ہیں اور ان کے فرائض بھی وہی ہیں جو ہمارے ہیں۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ ۲۸/۶۱۷، ۶۱۸)
چنانچہ تاتاری امیر کو یہودی اور مسیحی قیدیوں کو بھی رہا کرنا پڑا۔
۹۔ بعض مسلم حکمرانوں نے بیت المقدس کی زیارت کے لیے جانے والے اہل ذمہ پر ایک خاص ٹیکس عائد کیا تو فقہا نے صراحتاً اس کے عدم جواز کا فتویٰ دیا۔ معروف حنفی فقیہ علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:
’’بیت المقدس کی زیارت کے لیے مسیحیوں سے جو ٹیکس لیا جاتا ہے، وہ حرام ہے۔ یہ بات خیر الدین الرملی نے کہی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کل عمال جو حربی یا ذمی سے جزیہ کے علاوہ رقم لیتے ہیں تاکہ اسے بیت المقدس کی زیارت کرنے دیں، وہ حرام ہے۔‘‘ (رد المحتار، ۲/۳۱۳۔ ۴/۱۶۹)
۱۰۔ ماضی قریب میں ہمیں اسی کردار کا ایک نمونہ انیسویں صدی میں الجزائر کے جلیل القدر عالم اور مجاہد امیر عبدالقادر الجزائری کے ہاں دکھائی دیتا ہے جنھوں نے ۱۸۶۰ء میں دمشق میں ہونے والے مسلم مسیحی فسادات کے موقع پر اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنے جاں نثار ساتھیوں کی مدد سے ہزاروں بے گناہ مسیحیوں کو مسلمانوں کے مشتعل ہجوم سے بچانے کے لیے نہایت ذمہ دارانہ کردار ادا کیا تھا۔ 
الجزائری کے معاصر اور وسطی ایشیا کے عظیم مجاہد امام شامل نے اس واقعے میں الجزائری کے کردار کی تحسین اور مسلمانوں کے عمومی طرز عمل کی پرزور الفاظ میں مذمت کی تھی: 
’’میں ان حکام کی کور چشمی پر بھونچکا رہ گیا جنھوں نے ایسی زیادتیاں کیں اور اپنے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث فراموش کردی کہ: ’’جس کسی نے بھی اپنے زیر امان رہنے والے کے ساتھ ناانصافی کی، جس کسی نے بھی اس کے خلاف کوئی غلط حرکت کی یا اس کی مرضی کے بغیر اس سے کوئی چیز لی، وہ جان لے کہ روز محشر میں خود اس کے خلاف مدعی بنوں گا۔‘‘ (جان کائزر، امیر عبد القادر الجزائری: سچے جہاد کی ایک داستان (اردو ترجمہ)، ص ۴۲۷)

اگر مذہبی معاشرہ یہی ہے تو ہمیں سیکولرزم کی ضرورت ہے

مشال خان کے دل دوز واقعے کی کچھ تفصیلات سوشل میڈیا پر دیکھیں، لیکن ویڈیو دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ گزشتہ دنوں ایک مجلس میں جناب افراسیاب خٹک، ڈاکٹر قبلہ ایاز، وسعت اللہ خان اور حسن خان (خیبر ٹی وی) جیسے باخبر حضرات کی زبانی صورت حال کے جو پہلو معلوم ہوئے، ان کی روشنی میں، واقعہ یہ ہے کہ اس قوم کی اجتماعی اخلاقی پستی بالکل ننگی ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔ چند پہلو ملاحظہ ہوں:
یہ تو اب سب کو معلوم ہے کہ یہ قتل مشتعل طلبہ کے کسی ہجوم نے heat of the moment کے زیر اثر نہیں کیا، بلکہ اس میں یونیورسٹی کے اساتذہ، انتظامیہ اور اس سے بھی بڑھ کر مقامی پولیس ملوث ہے اور باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے یہ اقدام کیا گیا۔ یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ توہین مذہب کا الزام بے بنیاد تھا۔ قتل کے اصل محرک کے متعلق بعض واقفان حال کی رائے یہ ہے کہ مشال خان متعلقہ یونیورسٹی کے نظام، تعلیم کے معیار، اساتذہ وانتظامی عملہ کی تقرری میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی اقربا نوازی کا ناقد تھا اور انتظامیہ واساتذہ اس کے سوالوں کا جواب دینے سے خود کو عاجز پاتی تھی، چنانچہ اس سے نمٹنے کے لیے توہین مذہب کے الزام کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔
واقعے کے بعد میڈیا کی طرف سے خیبر پختون خوا کی ذمہ دار سیاسی قیادت سے (جس میں نہ صرف مذہبی بلکہ سیکولر سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں) تبصرے کے لیے رجوع کیا گیا تو سب کا ابتدائی رد عمل، تبصرے سے اعراض کا تھا بلکہ بعض نے رابطہ کرنے والے رپورٹر کو بھی یہ ناصحانہ مشورہ دیا کہ بہتر ہے، آپ اس معاملے سے دور رہیں۔ وزیر اعلیٰ کو اس کی مذمت پر آمادہ ہونے میں بارہ گھنٹے لگے، جبکہ جناب وزیر اعظم کو (اطلاعات کے مطابق) کوئی تین دن کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ملک میں اس قسم کا کوئی واقعہ ہوا ہے۔
میڈیا پر واقعہ کی اطلاع آنے کے ساتھ ہی مذہبی سیاسی جماعتوں کی طرف سے فوری طور پر اس قسم کی بے محل بیان بازی شروع کر دی گئی کہ توہین مذہب کے قانون میں کوئی تبدیلی قبول نہیں کی جائے گی، جو دراصل دوسری طرف کے دباؤ کو تحلیل کرنے اور واقعے کی سنگینی کو ہلکا بنانے کا ایک آزمودہ طریقہ ہے۔ مزید یہ کہ مقامی طور پر تمام مذہبی جماعتوں نے ایک مشترکہ فورم تشکیل دیا اور انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ مشال کے قاتلوں نے چونکہ مذہب کی محبت میں یہ اقدام کیا ہے، اس لیے ان کے خلاف قانونی کارروائی نہ کی جائے۔
اور اب واقعے کی ناقابل بیان وحشت ناکی کے تناظر میں رائے عامہ کے دباؤ کے تحت بظاہر انتظامی وقانونی کارروائی تو کی جا رہی ہے، لیکن چونکہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نیز مقامی پولیس کی سطح پر ملوث تمام افراد ایسے ہیں جنھیں کسی نہ کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کی پشت پناہی میسر ہے، اس لیے درون خانہ تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کی ترجیح یہی ہے کہ ان افراد کو کیفر کردار تک پہنچنے سے بچایا جائے۔
وسعت اللہ خان نے کہا کہ اس سارے معاملے میں امید کا ایک ہی پہلو سامنے آیا ہے، اور وہ یہ کہ جب قتل کے بعد مشال خان کے گاؤں کی مساجد میں مولوی حضرات نے یہ اعلان کروا دیا کہ مقتول کی نماز جنازہ پڑھنا حرام ہے تو مقتول کے والد کے چند دوستوں نے، جن کا تعلق اس گاؤں سے نہیں تھا، یہ طے کیا کہ جنازہ ہر حال میں پڑھا جائے گا اور اس کے لیے وہ اپنے گاؤں سے جنازہ پڑھنے کے لیے افراد کو لے کر آئے اور ان کی جرات اور حوصلے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ نماز جنازہ پڑھی گئی، بلکہ لوگوں کو اصل حقیقت حال سے باخبر کرنے کی راہ بھی ہموار ہوئی، ورنہ شاید پہلے مرحلے پر ہی یہ بات ہمیشہ کے لیے طے ہو جاتی کہ مقتول واقعی توہین مذہب کا مرتکب تھا اور یہ کہ اسے قتل کرنے والوں نے، ایسے ہر واقعے کی طرح، مذہبی حمیت میں یہ کار خیر انجام دیا ہے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، اس نوعیت کا ہر واقعہ ہماری اجتماعی اخلاقی صورت حال کے حوالے سے آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہوتا ہے، لیکن اس واقعے نے تو اتمام حجت میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی۔ اس کا سب سے افسوس ناک پہلو، ہمارے معاشرے میں پست اخلاقیات اور غیر انسانی بلکہ حیوانی رویوں کے ساتھ نام نہاد مذہبی جذبات کا مل جانا اور مذہب کے نام پر سیاسی مفادات کے کھیل کو مقبولیت کا حاصل ہو جانا ہے۔ ہمیں سیکولر ریاست اور سیکولر معاشرے سے اصولی اور نظریاتی طور پر شدید اختلاف ہے، لیکن اگر ’’مذہبی معاشرے‘‘ کا نقشہ یہی ہے تو خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں اب سیکولرزم کی ضرورت ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۰)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۱) علقۃ اور مضغۃ کا ترجمہ

قرآن مجید میں علق کا لفظ ایک بار اور علقۃ کا لفظ متعدد بار آیا ہے، دونوں کا مطلب ایک ہے، اور وہ ہے جما ہوا خون، راغب اصفہانی لکھتے ہیں: والعَلَقُ: الدّم الجامد ومنہ: العَلَقَۃُ التی یکون منھا الولد.المفردات۔ علقہ کی اردو تعبیر کے لیے مترجمین نے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں، جیسے، جنین، لوتھڑا، خون کا لوتھڑا، خون کی پھٹک، خون کی پھٹکی، خون کا تھکا۔ علقہ کے لیے جنین کا لفظ کسی طرح مناسب نہیں ہے، کیونکہ جنین کا عمومی اطلاق عربی میں بھی اور اردو میں بھی پیٹ کے بچے پر ہوتا ہے، خواہ وہ کسی بھی مرحلے میں ہو، جبکہ اردو میں وہ مضغہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، راغب اصفہانی کے الفاظ میں، ’’والجنین: الولد مادام فی بطن أمہ‘‘. المفردات. اردو کی مستند لغت فرہنگ آصفیہ میں ہے: ’’جنین: مضغہ ، لوتھڑا‘‘۔
علقہ کے لیے لوتھڑا بھی مناسب لفظ نہیں ہے، کیونکہ اردو میں لوتھڑا گوشت کے لیے استعمال ہوتا ہے، جمے ہوئے خون کے لیے استعمال نہیں ہوتا ہے۔ فرہنگ آصفیہ میں ہے: لوتھڑا: گوشت کا بڑا ٹکڑا جس میں ہڈی نہ ہو، مضغہ، گوشت پارہ، پارچہ، مچا۔ خون کا لوتھڑا بھی مناسب لفظ نہیں ہے، کیونکہ لوتھڑا گوشت کا ہوتا ہے، جمے ہوئے خون کو لوتھڑا نہیں کہتے۔ خون کی پھٹک یا پھٹکی سے علقہ کا مفہوم کسی قدر ادا ہوجاتا ہے، فرہنگ آصفیہ میں ہے: ’’پھٹکی: گٹھلی، گرہ، گانٹھ، کسی خشک چیز کے گھولنے سے جو گٹھلیاں پڑ جاتی ہیں‘‘۔
بعض مترجمین نے جما ہوا خون ترجمہ کیا ہے، یہ لفظی ترجمہ ہے۔
مضغۃ کا لفظ گوشت کی بوٹی کے لیے آتا ہے، زمخشری لکھتے ہیں: والمضغۃ: اللحمۃالصغیرۃ قدر مایمضغ۔ مضغۃ کا ترجمہ بعض لوگوں نے لوتھڑا کیا ہے اور بعض لوگوں نے بوٹی کیا ہے، لوتھڑا چونکہ گوشت کے بڑے ٹکڑے کو کہتے ہیں، اس لحاظ سے بوٹی کا لفظ زیادہ مناسب ہے۔غرض یہ کہ دونوں الفاظ کے لئے ایسے اردو متبادل کی جستجو ہونی چاہئے جو ان الفاظ کاواقعی مفہوم ادا کرتے ہوں۔ اس پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل ترجموں کا جائزہ مفید ہوگا :

(۱) یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِن کُنتُمْ فِیْ رَیْْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَغَیْْرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمْ۔ (الحج:۵)

’’لوگو اگر تم کو دھوکہ ہوا ہے جی اٹھنے میں تو ہم نے تم کو بنایا مٹی سے پھر بوند سے پھر پھٹکی سے پھر بوٹی سے نقشہ بنے اور بن نقشہ بنے، اس واسطے کہ تم کو کھول کر سنادیں‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’لوگو، اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی۔ یہ ہم اس لیے بتارہے ہیں تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں‘‘ (سید مودودی)
’’اے لوگو، اگر تمہیں قیامت کے دن جینے میں کچھ شک ہو تو یہ غور کرو کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا مٹی سے پھر پانی کی بوند سے پھر خون کی پھٹک سے پھر گوشت کی بوٹی سے نقشہ بنی اور بے بنی، تاکہ ہم تمہارے لیے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں‘‘(احمد رضا خان)
’’اے لوگو، اگر تم دوبارہ جی اٹھنے کے باب میں شبہ میں ہو تو دیکھو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر منی کے ایک قطرے سے، پھر ایک جنین سے، پھر ایک لوتھڑے سے، کوئی کامل ہوتا ہے اور کوئی ناقص، ایسا ہم نے اس لیے کیا تاکہ تم پر (اپنی قدرت وحکمت) اچھی طرح واضح کریں‘‘ (امین احسن اصلاحی، اس میں علقہ کے لیے جنین کا لفظ مناسب نہیں) 
اس آیت میں لنبین لکم کا مفہوم عام طور سے یہ لیا گیا ہے کہ اللہ تعالی تخلیق کے ان مراحل سے یا ان کے تذکرے سے اپنی قدرت وحکمت کو واضح کرتا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے مطابق اس کا اصل مفہوم تو یہ ہے کہ جنین مخلقۃ اور غیر مخلقۃ اس لیے ہوتا ہے تاکہ انسانوں پر حقیقت واضح ہوجائے، یعنی غیر مخلقۃ جنین کے ساقط ہوجانے سے انسانوں پر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ تخلیق کے کتنے مرحلوں سے جنین کا گزر ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا تو اس وقت کے انسانوں کو ان مراحل کا علم بھی نہیں ہوتا۔البتہ اس کا ضمنی فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے یہ واضح ہوجائے کہ ان سب مراحل میں اللہ کی قدرت کام کررہی ہوتی ہے، اس کے بغیر یہ سب کچھ نہیں ہوسکتا تھا، ہر مرحلہ میں اللہ کی مشیت کار فرما ہوتی ہے۔
اس آیت میں مترجمین نے عام طور سے (من ) کا ترجمہ ’’سے‘‘ کیا ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ ترجمہ اس طرح ہونا چاہئے: ’’پھروہ پھٹکی بنا، پھروہ بوٹی بنا‘‘ ۔

(۲) ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَاماً فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْماً ثُمَّ أَنشَأْنَاہُ خَلْقاً آخَرَ فَتَبَارَکَ اللَّہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْن۔ (المؤمنون: ۱۴)

’’پھر بنائی اس بوند سے پھٹکی پھر بنائی اس پھٹکی سے بوٹی پھر بنائی اس بوٹی سے ہڈیاں، پھر پہنایا ان ہڈیوں پر گوشت پھر اٹھا کھڑا کیا اس کو ایک نئی صورت میں۔ (شاہ عبدالقادر)
پھر ہم نے پانی کی بوند کو ایک جنین کی شکل دی، پھر جنین کو گوشت کا لوتھڑا بنایا، پس لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں، پھر ہڈیوں کو گوشت کا جامہ پہنایا، پھر اس کو ایک بالکل ہی مختلف مخلوق میں متشکل کردیا‘‘ (امین احسن اصلاحی، اس ترجمہ میں علقہ کا ترجمہ جنین کیا گیا ہے، جو درست نہیں ہے، مزید یہ کہ فخلقنا المضغۃ عظاما کا ترجمہ کیا گیا پس لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں۔ الفاظ کی رو سے بھی اور امر واقع کے لحاظ سے بھی ترجمہ ہوگا پھر بوٹی کو ہڈیاں بنایا۔)
’’پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کردیا۔ پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کردیا‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی، پھر لوتھڑے کو بوٹی بنا دیا، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا۔(سید مودودی)
پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں پھر ان ہڈیوں پر گوشت پہنایا، پھر اسے اور صورت میں اٹھان دی‘‘ (احمد رضا خان)
’’پھر نطفے کا لوتھڑا بنایا۔ پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت (پوست) چڑھایا۔ پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا‘‘ (فتح محمد جالندھری)

(۳) ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ۔ (غافر: ۶۷)

’’وہی ہے جس نے بنایا تم کو خاک سے پھر پانی کی بوند سے پھر لہو کی پھٹکی سے‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا مٹی سے، پھر نطفے سے، پھر خون کی ایک پھٹکی سے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے‘‘(سید مودودی)
’’وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے بنایا پھر پانی کی بوند سے پھر خون کی پھٹک سے‘‘ (احمد رضا خان)
اس آیت میں مترجمین نے عام طور سے تینوں جگہ (من ) کا ترجمہ ’’سے‘‘ کیا ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ تیسرے من کا ترجمہ اس طرح ہونا چاہئے: ’’پھروہ پھٹکی بنا‘‘ ۔

(۴) ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً۔ (القیامۃ: ۳۸)

’’پھر تھا لہو کی پھٹکی‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’پھر وہ بنا خون کی ایک پھٹکی‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’پھر خون کی پھٹک ہوا‘‘ (احمد رضا خان)
’’پھر وہ ایک لوتھڑا بنا‘‘ (سید مودودی)

(۵) خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ (العلق: ۲)

’’بنایا آدمی لہو کی پھٹکی سے‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’جس نے پیدا کیا انسان کو خون کے تھکے سے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا‘‘ (اشرف علی تھانوی)
(جاری)

اختلاف رائے اور رواداری ۔ اکابرین امت کے اسوہ کی روشنی میں

مولانا محمود خارانی

علم و تحقیق کے سفر میں اختلاف رائے ایک ناگزیر امر ہے جو تحقیق و جستجو کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، مسائل و مباحث کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں، تحقیق طلب امور کے نئے گوشے وا ہوتے ہیں، فکر و نظر کے نئے زاویے کھل جاتے ہیں۔ مگر اس اختلاف رائے میں ان سلف صالحین اور اکابرین امت کا درخشاں طرز واسلوب اختیار کرنے کی شدید ضرورت ہے جن کے منہج و طرز فکر سے وابستگی دینی طبقے میں ایک لازمی امر کے طور پر متعارف ہے۔ یہ بجا طور پر آج کے پرفتن دور میں ایک محتاط اور قابل تحسین حکمت عملی ہے۔ دینی طبقہ کے "اکابر سے وابستگی" کے اس رجحان کے پیش نظر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سلف صالحین اور اکابر علماء کے ’’اختلاف رائے اور رواداری‘‘ کے چند اصول و آداب اور ان کے منہج و اسلوب کے کچھ نمونے سامنے لائے جائیں تاکہ موجودہ دور میں باہمی علمی و سیاسی اختلافات کے موقع پر نقوش اکابر کے مطابق ہم اپنے طرز فکر و عمل میں تبدیلی لاسکیں۔

امامت و اقتدا کے معاملے میں رواداری

موجودہ دور میں دینی طبقے کے اختلاف رائے کا سب سے پہلا اثر "امامت" پر پڑتا ہے۔ معمولی نوعیت کے فقہی اختلافات میں بھی ایک دوسرے کی امامت میں نماز کی شرعی گنجائش ختم سمجھی جاتی ہے، حالانکہ اکابر امت نے عبادات میں بعض فروعی اختلافات کی بنیاد پر مسلکی تنوع کو کبھی بھی رکاوٹ نہیں سمجھا اور اس اختلاف مسلک کو امامت کے جواز و عدم جواز کا معیار نہیں بنایا۔
علامہ طحطاوی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ قاضی ابو عاصم عامری ایک حنفی عالم تھے۔ ایک مرتبہ وہ مشہور شافعی عالم علامہ قفال رحمہ اللہ کی مسجد میں مغرب کی نماز پڑھنے گئے۔ شافعی مسلک میں تکبیر کہتے وقت شہادتین یعنی ’’اشھد ان لا الہ الا اللہ‘‘ اور ’’اشھد ان محمدا رسول اللہ‘‘ اور ’’حی علی الصلوۃ، حی علی الفلاح‘‘ صرف ایک ایک مرتبہ کہے جاتے ہیں اور حنفی مسلک میں دو دو مرتبہ۔ علامہ قفال شافعی نے قاضی ابو عاصم حنفی کو مسجد میں دیکھا تو ان کے احترام کی وجہ سے مؤذن کو حکم دیا کہ آج تم تکبیر کے یہ کلمات دو مرتبہ کہنا۔ اس کے بعد انہوں نے قاضی ابو عاصم حنفی سے نماز پڑھانے کو کہا تو قاضی صاحب نے نماز پڑھاتے وقت سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ بلند آواز سے پڑھی اور نماز کے کئی دوسرے افعال بھی شافعی مسلک کے مطابق ادا کیے۔ (تراشے ص 90. مولانا مفتی محمد تقی عثمانی)
یہی حال اکابر دیوبند کا تھا، چنانچہ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ کپڑے کے وہ باریک موزے جو ثخین نہ ہوں، لیکن ان کے تلے پر چمڑا چڑھا ہوا ہو،جنہیں فقہاء رقیق منعل کہتے ہیں، ان پر مسح کے جواز میں فقہائے حنفیہ کا کچھ اختلاف رہا ہے۔ اس مسئلہ میں مفتی اعظم مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کا فتویٰ یہ تھا کہ ان پر مسح جائز نہیں، لیکن شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کا رجحان جواز کی طرف تھا۔ اس مسئلہ پر دونوں کی زبانی گفتگو کئی بار ہوئی، لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ ایک دن حضرت مدنی نے حضرت مفتی اعظم سے کہا کہ اس مسئلہ کی تحقیق کے لیے میں کچھ وقت فارغ کرکے دارالافتاء میں آؤں گا۔ چنانچہ ایک دن حضرت مدنی تشریف لائے اور کتابوں کی مراجعت کرکے گفتگو ہوتی رہی۔ حضرت مدنی نے اپنے دلائل بیان فرمائے اور مفتی اعظم نے اپنے دلائل پیش کئے، یہاں تک کہ یہ گفتگو تین دن تک چلی اور آخر میں حضرت مدنی نے مفتی صاحب سے فرمایا کہ: ’’بات آپ کی بھی بے وزن نہیں ہے، لیکن میرا اس پر شرح صدر نہیں ہوتا اور آپ کو میرے دلائل پر اطمینان نہیں ہور ہا، اس لیے آپ اپنے موقف پر رہیں اور میں اپنے موقف پر۔‘‘
حضرت مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد حضرت مدنی رحمہ اللہ میرے بہنوئی مولانا نبیہ حسن صاحب کے مکان پر تشریف لائے۔ میں بھی حاضر تھا۔ حضرت اس وقت ایسے ہی موزے (رقیق منعل) پہنے ہوئے تھے۔ مغرب کی نماز کا وقت ہوا تو حضرت مدنی نے ان موزوں پر مسح فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ: ’’ مفتی صاحب! آپ کے نزدیک تو یہ مسح درست نہیں ہوا اس لیے میرے پیچھے آپ کی نماز بھی نہ ہوگی۔ اب آپ ہی امامت فرمائیں ۔‘‘ حضرت کے ارشاد پر میں نے بھی بلاتکلف خود امامت کی۔
حضرت مفتی صاحب یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ ان حضرات نے اختلاف کرنے کا طریقہ بھی اپنے عمل سے سکھایا ہے۔ (البلاغ مفتی اعظم نمبر 288/1 )

اختلاف کے باوجود باہمی محبت و عقیدت

علمی اختلافات کے علاوہ شدید ترین سیاسی اختلاف رائے کے مواقع پر بھی اکابر نے اپنی باہمی محبت و عقیدت میں ذرہ برابر کمی نہ آنے دی۔ ربط و تعلق کا والہانہ انداز حسب معمول برقرار رکھ کر ہمارے لئے قابل تقلید نمونے چھوڑ گئے۔
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ حضرت مدنی کو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے سیاسی مسلک سے اختلاف تھا، لیکن ان کے قلب میں نہ صرف حضرت تھانوی کی قدر و منزلت کم نہ تھی بلکہ وہ حضرت تھانوی کے ساتھ اپنے بڑوں جیسا معاملہ ہی فرماتے تھے۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ عین اس زمانے میں جب کہ حضرت تھانوی اور حضرت مدنی کا سیاسی اختلاف الم نشرح ہوچکا تھا، ایک مرتبہ حضرت مدنی نے دیوبند کے بعض اساتذہ سے کہا کہ ’’ عرصہ ہوا ہمارا تھانہ بھون جانا نہیں ہوا اور حضرت تھانوی کی زیارت کو دل چاہتا ہے"‘‘ چنانچہ حضرت مدنی اور دارالعلوم دیوبند کے بعض دوسرے اساتذہ تھانہ بھون کے لیے روانہ ہوئے۔ اتفاق سے گاڑی رات گئے تھانہ بھون پہنچی اور یہ حضرات ایسے وقت خانقاہ کے دروازے پر پہنچے کہ خانقاہ بند ہوچکی تھی۔ ان حضرات کو یہ معلوم تھا کہ خانقاہ کا نظام الاوقات مقرر ہے، اس لیے نہ اس نظام کی خلاف ورزی مناسب سمجھی اور نہ حضرت تھانوی کو رات گئے تکلیف دینا پسند کیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مدنی کو بڑا جفاکش اور مجاہدانہ زندگی کا عادی بنایا تھا، چنانچہ آپ اپنے ساتھیوں سمیت خانقاہ کے دروازے کے سامنے چبوترے ہی پر لیٹ کر سوگئے۔
حضرت تھانوی فجر کی اذان کے وقت جب اپنے مکان سے خانقاہ کی طرف تشریف لائے تو دیکھا کہ کچھ لوگ باہر چبوترے پر لیٹے ہیں۔ اندھیرے میں صورتیں نظر نہ آئیں۔ چوکیدار سے پوچھا تو اس نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ قریب پہنچ کر دیکھا تو حضرت مدنی اور حضرت مولانا اعزاز علی صاحب جیسے حضرات تھے۔ حضرت تھانوی نے اچانک انہیں دیکھا تو مسرور بھی ہوئے اور اس بات کا صدمہ بھی ہوا کہ یہاں پہنچ کر اس حالت میں انہوں نے رات گزاری۔ چنانچہ ان سے کہ : ’’حضرت ! آپ یہاں کیوں سو گئے؟ ‘‘ ۔ حضرت مدنی نے فرمایا کہ: ’’ ہمیں معلوم تھا کہ آپ کے یہاں ہر چیز کا نظم مقرر ہے، خانقاہ اپنے مخصوص وقت پر بند ہوجاتی ہے اور پھر نہیں کھلتی۔‘‘ حضرت تھانوی نے فرمایا کہ: ’’خانقاہ کا تو نظم بلاشبہ یہی ہے، لیکن غریب خانہ تو حاضر تھا اور اس پر تو آپ جیسے حضرات کے لیے کوئی پابندی نہ تھی۔‘‘ حضرت مدنی نے فرمایا کہ: ’’ ہم نے رات گئے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔‘‘
غرض اس طرح یہ حضرات تھانہ بھون گئے اور ایک دو روز رہ کر واپس تشریف لے آئے۔ (ایضا 287/1)

اکابر کی وسعت ظرفی

تاریخ اسلام کے ہر دور میں یہ قابل فخر روایت موجود رہی ہے کہ اکابر نے اپنے اصاغر کے اختلاف رائے کا خندہ پیشانی سے خیر مقدم کیا ہے۔ اگر ضرورت محسوس کی تو قوی دلائل اور شستہ و متین اسلوب میں علمی مکالمہ سے کام لیا، مگر اصاغر کو دیوار سے لگانا یا انہیں دینی حلقوں میں مطعون ٹھہرانا ان کی سیرت میں بالکل ناپید طرز عمل تھا۔ ماضی قریب میں بھی یہ شاندار علمی روایت بڑی آب و تاب کے ساتھ موجود تھی۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ (وفات 16,17 رجب 1362ھ/19,20 جولائی 1943ء کی درمیانی رات) فرماتے ہیں کہ مولوی محمد رشید مرحوم جنہوں نے مجھ سے پڑھا تھا، بڑے حق گو لیکن اس کے ساتھ بڑے باادب تھے۔ ایک بار میں مسجد میں بیٹھا تھا۔ وہاں ریزگاری کی ضرورت پڑی۔ ایک صاحب کے پاس موجود تھی، ان کو روپیہ دے کر میں نے ریزگاری لے لی۔ مولوی بھی اس وقت موجود تھے، وہ آگے بڑھے اور مجھ سے پوچھا کہ یہ معاملہ کیا بیع میں تو داخل نہیں۔ مجھے فوراً تنبہ ہوا، میں نے کہا کہ خیال نہیں رہا، یہ معاملہ واقعی بیع میں داخل ہے جو مسجد میں جائز نہیں۔ پھر میں نے ان صاحب کو جن سے معاملہ ہوا تھا، ریزگاری واپس کرکے کہا کہ میں اب اس معاملہ کو فسخ کرتا ہوں۔ پھر میں نے کہا کہ مسجد سے باہر چلو، وہاں پھر اس معاملہ کو ازسرنو کریں گے۔ چنانچہ مسجد سے باہر آکر اور روپیہ دے کر میں نے ان سے ریزگاری لے لی۔ مولوی رشید مرحوم کی اس بات سے میرا جی بڑا خوش ہوا، کیونکہ ظاہر کرنا تو ضروری ہی تھا، لیکن انہوں نے نہایت ادب سے ظاہر کیا۔ یہ پوچھا کہ کیا یہ بیع میں تو داخل نہیں؟ (آپ بیتی 272/2. شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ)
ایک بار حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ، حضرت حاجی صاحب کی خدمت میں مکہ معظمہ میں حاضر ہوئے۔ حضرت حاجی صاحب کے پاس مولود کا بلاوا آیا۔ حضرت نے مولانا سے پوچھا: مولوی صاحب چلو گے؟ مولانا نے فرمایا کہ: ’’نا، حضرت میں نہیں جاتا، کیونکہ میں ہندوستان میں لوگوں کو منع کیا کرتا ہوں۔ اگر میں یہاں شریک ہوگیا تو وہاں کے لوگ کہیں گے، وہاں بھلے شریک ہوگئے تھے۔‘‘ حاجی صاحب نے بجائے برا ماننے کے مولانا کے اس انکار کی بہت تحسین فرمائی اور فرمایا کہ ’’میں تمہارے جانے سے اتنا خوش نہ ہوتا جتنا تمہارے نہ جانے سے خوش ہوں۔‘‘ حضرت تھانوی فرماتے ہیں کہ اب دیکھئے، پیر سے زیادہ کون محبوب و معظم ہوگا، مگر دین کی حفاظت ان کے اتباع سے بھی زیادہ ضروری ہے، اس لیے دونوں کے ظاہری تعارض کے وقت اسی کو ترجیح دی۔ واقعی حفاظت دین بڑی نازک خدمت ہے۔ سارے پہلوؤں پر نظر رکھنی پڑتی ہے کہ نہ چھوٹوں کو نقصان پہنچے نہ بڑوں کے ساتھ جو عقیدت ہونی چاہیے، اس میں فرق آئے۔ (ایضا 265/2.)

ذہنی اذیت رسانی سے اجتناب

بسا اوقات اختلاف رائے کے نتیجے میں فریقین بے احتیاطی سے اپنے قول و فعل کے ذریعے ایک دوسرے کی ذہنی کوفت کا سبب بنتے ہیں جسے بدقسمتی سے بعض حلقوں کی طرف سے دینی مصلحت کا تقاضا بھی قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ اکابرین امت نے اپنے اختلافات کے عروج میں بھی فریق مخالف کو نیچا دکھانے کے ہر اس عمل سے نہایت سختی سے اجتناب کیا جو اس کے لیے ذہنی اذیت کا ذریعہ بنتا تھا۔
تحریک خلافت کے معاملے میں حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ اور آپ کے مایہ ناز شاگرد حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے درمیان رائے کا جو اختلاف تھا، وہ معروف و مشہور ہے,حضرت تھانوی رحمہ اللہ اس قسم کی تحریکات کو چونکہ مسلمانوں کے لیے مفید نہ سمجھتے تھے، اس لیے اس سے علیحدہ رہے، لیکن استاد اور شاگرد دونوں کو اپنے اپنے موقف پر پوری طرح ثابت قدم ہونے کے باوجود اس بات کا پورا یقین تھا کہ یہ رائے کا دیانت دارانہ اختلاف ہے۔ چنانچہ ایک مرتبہ تحریک کے بعض کارکنوں نے تھانہ بھون میں جلسہ کرنے کا ارادہ کیا اور حضرت شیخ الہند کے سامنے یہ تجویز ذکر کی گئی تو حضرت نے سختی سے انکار کیا اور فرمایا کہ: ’’ یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔ اگر میں تھانہ بھون میں جلسہ کروں گا تو مولوی اشرف علی کے لیے بڑی تکلیف کا سامان ہوگا۔ ان کو یہ بھی گوارا نہ ہوگا کہ میں تھانہ بھون میں کوئی خطاب کروں اور وہ اس میں موجود نہ ہوں۔ اگر شرکت کریں گے تو یہ ان کے دیانت دارانہ موقف کے خلاف ہوگا، اس لیے یہ کام نہیں کروں گا۔‘‘
چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت تحریک کے سلسلہ میں ہندوستان کے مختلف خطوں میں تشریف لے گئے، لیکن تھانہ بھون میں جلسہ نہیں کیا۔ (البلاغ مفتی اعظم نمبر 231/1)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اکابر کے نقش قدم کے مطابق اخلاص و دیانت کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.

جمعیۃ علماء اسلام کا صد سالہ عالمی اجتماع

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جمعیۃ علماء اسلام کے ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ میں شرکت کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی اور راقم الحروف کو مولانا فضل الرحمان نے زبانی طور پر یہ کہہ کر دعوت دی تھی کہ آپ حضرات مہمان نہیں بلکہ میزبان ہیں اس لیے ہم دعوت نامہ اور انٹری کارڈ وغیرہ کے تکلف میں نہیں پڑے اور شریک ہونے کا پروگرام بنا لیا۔ چنانچہ مولانا عبدالرؤف ملک، جناب صلاح الدین فاروقی، مولانا احمد علی فاروقی، حافظ شفقت اللہ اور راقم الحروف کانفرنس میں حاضر ہوئے، پنڈال تک پہنچے، اس سے آگے جانے کے لیے ہم سے پاس طلب کیا گیا جو ہمارے پاس نہیں تھا اس لیے وہیں ایک کونے میں بیٹھ کر ہم نے مولانا فضل الرحمان، حافظ حسین احمد، مولانا عطاء الرحمان اور مولانا عبد اللہ کے خطابات سنے اور عصر کی نماز کا وقفہ ہونے پر واپس آگئے۔
کانفرنس میں ملک بھر سے علماء کرام، جماعتی کارکنوں، مختلف مکاتب فکر کے دینی و سیاسی راہنماؤں اور عوام کی وسیع پیمانے پر بھرپور شرکت دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ ملک بھر سے لوگوں کی حاضری، مختلف مذاہب و مسالک کی نمائندگی اور سیاسی جماعتوں کے متعدد راہنماؤں کی شرکت کے باعث ایک بھرپور ’’قومی کانفرنس‘‘ کی صورت اختیار کیے ہوئے تھی جبکہ مختلف ممالک سے علماء کرام کی جماعتوں کے وفود کی تشریف آوری نے اسے فی الواقع ’’عالمی اجتماع‘‘ بنا دیا تھا۔ البتہ مولانا سمیع الحق کی کمی شدت کے ساتھ محسوس ہوئی کہ ان کے پڑوس میں منعقد ہونے والے اس عظیم دینی و قومی اجتماع میں ان کے شریک ہونے سے بلاشبہ کانفرنس کی عظمت و افادیت اور مقصدیت میں اضافہ ہوتا، بہرحال
رموز مملکت خویش خسرواں دانند
ہمارے خیال میں کانفرنس کا بنیادی مقصد حریت قومی اور نفاذ اسلام کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی کی قیادت میں اب سے ایک سو سال قبل اس جدوجہد کے طریق کار میں اساسی تبدیلی اور اس کا رخ عسکریت کے محاذ سے عدم تشدد پر مبنی پر امن سیاسی جدوجہد کی طرف موڑ دینے کے تاریخی فیصلے کے ساتھ تجدید عزم اور اس کے تسلسل کو جاری رکھنے کا اعلان تھا جس میں جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت کامیاب رہی ہے اور ہم اس پر جمعیۃ کے قائدین او رکارکنوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
حضرت شیخ الہند کی قیادت میں جمہور علماء ہند نے ایک صدی قبل اپنی جدوجہد کو صرف عسکریت کے محاذ سے پر امن سیاسی تحریک میں تبدیل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا بلکہ اس کے ساتھ اور بہت سی اہم باتیں اس تاریخی فیصلے کا حصہ تھیں۔ مثلاً یہ کہ اپنی جدوجہد کو دینی حلقوں تک محدود رکھنے کی بجائے انہوں نے جدید تعلیم یافتہ حضرات اور سیاسی کارکنوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا تھا جس کے نتیجے میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا ظفر علی خان، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، چودھری افضل حق، شیخ حسام الدین اور ماسٹر تاج الدین انصاری جیسے قد آور سیاسی راہنما تحریک کو میسر آئے تھے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ غیر مسلم باشندگان وطن بھی تحریک آزادی حتٰی کہ تحریک خلافت کا حصہ بنے تھے۔ یہ حضرت شیخ الہند کی فہراست و بصیرت اور ان کی ہمہ گیر شخصیت کا اظہار تھا کہ تحریک خلافت کو مہاتما گاندھی کی سربراہی میں غیر مسلم سیاسی کارکنوں کی ہر جگہ بڑی کھیپ مل گئی تھی۔ جبکہ اس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ شیخ الہند کی جدوجہد اور فکری راہنمائی کی روشنی میں جمعیۃ علماء ہند اور مجلس احرار اسلام جیسی دو بڑی جماعتیں جب پورے برصغیر میں متحرک ہوئیں تو ان کی قیادت میں صرف دیوبندی مسلک کے بزرگ شامل نہیں تھے بلکہ دوسرے مذہبی مکاتب فکر مثلاً بریلوی، اہل حدیث، شیعہ اور جدید تعلیم یافتہ طبقوں کی سرکردہ شخصیات بھی اس قیادت کا متحرک حصہ تھیں۔
ہمارے خیال میں شیخ الہند کی راہنمائی میں اب سے ایک صدی قبل کے دینی راہنماؤں نے آزادی و خودمختاری اور نفاذِ اسلام کے دو بنیادی اہداف کے لیے تحریک کا جو نیا رخ طے کیا تھا، اس کی بنیاد میں (۱) عدم تشدد پر مبنی پر امن سیاسی جدوجہد (۲) غیر مسلم باشندگان وطن کی اس تحریک میں شرکت (۳) جدید تعلیم یافتہ حضرات کو اس کی قیادت کے لیے آگے لانا (۴) اور تمام مذہبی مکاتب فکر کو اس تحریک کا عملی حصہ بنانا شامل تھا۔
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے حالیہ ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کو دیکھ کر یہ اطمینان بخش اندازہ ہوتا ہے کہ دینی جدوجہد کے یہ اہداف اور دائرے نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوئے۔ تحریک شیخ الہند کے میرے جیسے نظریاتی اور شعوری کارکن کے اطمینان اور خوشی کے لیے اتنی بات ہی کافی ہے اور اسی جذبہ و احساس کے ساتھ ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کے منتظمین کو اس بامقصد پیش رفت پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کر رہا ہوں۔

مذہبی قوتوں کے باہمی اختلافات اور درست طرز عمل

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز نے پہلی صدی ہجری کے خاتمہ پر خلافت سنبھالی تھی، اس سے قبل حضرات صحابہ کرام کے درمیان جمل اور صفین کی جنگیں ہو چکی تھیں اور صلح کے باوجود نفسیاتی طور پر اس ماحول کے اثرات کسی نہ کسی حد تک باقی تھے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کا تعلق بنو امیہ سے تھا اور وہ اموی خلافت کے تسلسل میں ہی برسراقتدار آئے تھے جبکہ بنو امیہ مذکورہ بالا جنگوں میں واضح فریق رہے ہیں۔ اس پس منظر میں حضرت عمر بن عبد العزیز سے ان دو جنگوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بہت خوبصورت جواب دیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کو اس خونریزی میں ملوث ہونے سے محفوظ رکھا ہے تو ہم اپنی زبانوں کو بھی ان جھگڑوں میں ملوث ہونے سے بچائیں گے۔
ہمارے بزرگ یعنی اکابر علماء دیوبند قیام پاکستان سے قبل اس کی حمایت یا مخالفت کے حوالہ سے دو گروہوں میں بٹ گئے تھے، باہمی سیاسی محاذ آرائی پوری شدت کے ساتھ ہوئی تھی اور اس کے اثرات خاصے عرصے تک محسوس کیے جاتے رہے۔ مگر جب دونوں گروہ کے علماء کی اکثریت ملک میں نفاذ اسلام کے لیے ایک نکتہ پر آگئی اور اس اتحاد کا کئی مواقع پر عملی مظاہرہ بھی ہوگیا تو اب پچھلی باتوں کو دوبارہ کرید کر نئی نسل کو کنفیوڑ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس لیے مجھ سے اگر کوئی اس حوالہ سے سوال کرتا ہے تو کوفت ہوتی ہے، اکثر ٹال دیتا ہوں اور کبھی حسب موقع ڈانٹ بھی دیا کرتا ہوں۔ اس لیے کہ دونوں طرف ہمارے بزرگ تھے، اگرچہ رائے کا اختلاف تھا اور اپنے وقت پر محاذ آرائی بھی ہوئی تھی مگر وقت گزر گیا ہے اور یہ محاذ آرائی جنگ جمل اور جنگ صفین کی طرح تاریخ کی نذر ہوگئی ہے۔ اب ہمارے لیے حضرت عمر بن عبد العزیز کا مذکورہ بالا تاریخی جملہ ہی راہنمائی فراہم کرتا ہے کہ جب ہم براہ راست اس محاذ آرائی کا حصہ نہیں تھے تو اب زبان و قلم کے ذریعہ اس کا بالواسطہ حصہ کیوں بنیں؟ میں نے دونوں طرف کے بعض کونوں سے ماضی کی تلخیوں کی راکھ سے ہلکا ہلکا دھواں اٹھتے دیکھا ہے اس لیے یہ عرض کرنے کی ضرورت محسوس کر رہا ہوں۔
دوسرا یہ کہ میرے طالب علمی کے دور کی بات ہے میں مدرسہ نصرۃ العلوم کا طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ جمعیۃ علماء اسلام کا متحرک کارکن بھی تھا۔ اس دور میں مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ایک بار مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں تشریف لائے تو حضرت مولانا مفتی عبد الواحد نے شہر کے کچھ علماء کرام کو جمع کر لیا جن سے مولانا ہزاروی نے خطاب کیا۔ انہوں نے ایک بات بہت زور دے کر فرمائی کہ آپ میں بہت سے دوستوں نے حضرت مدنی، حضرت امیر شریعت، حضرت مولانا احمد علی لاہوری اور دوسرے بزرگوں کو دیکھا ہے اور ان کے ساتھ کام کیا ہے۔ اب آپ کا خیال ہوگا کہ ان جیسے مزید بزرگ سامنے آئیں گے تو ہم ان کی قیادت میں کام کریں گے۔ وہ سب چلے گئے ہیں ان میں سے کوئی نہیں آئے گا اور اب آپ حضرات کو ہمارے جیسے لوگ ہی ملیں گے اس لیے ان کا انتظار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم جیسے لوگوں سے ہی کام لے رہا ہے اس لیے آپ بھی ہمارے ساتھ گزارہ کریں اور کام کے لیے میدان میں نکلیں۔ یہ وقت گزر گیا تو پھر ہم جیسے بھی نہیں ملیں گے۔ حضرت مولانا ہزاروی کی یہ باتیں یاد آتی ہیں تو بہت سی الجھنیں ذہن سے خود بخود محو ہوتی چلی جاتی ہیں اور آج کے کارکنوں سے یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ وقت ضائع نہ کریں، جو موجود ہیں ان کو غنیمت سمجھیں اور دینی جدوجہد کے حوالہ سے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ ضرور کریں۔ بہتر کی تلاش بہت اچھی چیز ہے لیکن بہتر کے انتظار میں موجود کو گنوا بیٹھنا بھی کوئی عقلمندی کی بات نہیں ہے۔
جبکہ تیسری بات یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بہت سے دوستوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ سب لوگ متحد ہوں گے تو ہم کام کریں گے۔ اہل حق کا اتحاد بہت مبارک چیز ہے لیکن دینی جدوجہد تو اپنے اپنے دائرہ میں بھی کی جا سکتی ہے بلکہ آج کی تکنیک یہ ہے کہ ایک کام کو مختلف زاویوں اور حوالہ سے کیا جائے تو وہ زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ سیکولر حلقوں اور این جی اوز کو دیکھ لیں کہ وہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں حلقوں میں تقسیم ہیں اور اپنا اپنا کام کیے جا رہی ہیں۔ ایک ہی ایجنڈے کے لیے بیسیوں الگ الگ این جی اوز متحرک نظر آتی ہیں، البتہ ان کے درمیان انڈراسٹینڈنگ اور رابطہ موجود رہتا ہے اور بوقت ضرورت ایک دوسرے سے تعاون بھی کرتی ہیں۔ آپ پاکستان میں سیکولر ایجنڈے پر کام کرنے والی این جی اوز کو شمار کرنا چاہیں تو ان کی فہرست سینکڑوں میں نہیں ہزاروں میں بنے گی جبکہ ان کا کام اور اس کے اثرات دیکھیں تو سر چکرانے لگتا ہے۔ عسکری جنگوں میں بھی صف بندی کی ترتیب قصہ پارینہ بن چکی ہے، یہ جنگیں اب الگ الگ مورچوں اور مراکز میں بیٹھ کر لڑی جاتی ہیں، البتہ ان میں پیش قدمی اور کامیابی کا انحصار باہمی ربط و تعاون اور اعتماد و مفاہمت پر ہوتا ہے۔
میں خود دینی جماعتوں کے اتحاد کے لیے ہر وقت اور ہر سطح پر کوشاں رہتا ہوں مگر اسے کام کرنے کی شرط قرار دینا دانشمندی کی بات نہیں ہے۔ ہم اگر موجود دائروں میں رہتے ہوئے اپنا اپنا کام کریں، ایک دوسرے کی مخالفت نہ کریں، باہمی مفاہمت و تعاون کی فضا قائم کر لیں اور مشترکہ ملی و قومی مقاصد پر متفقہ موقف سامنے لا کر اس کے لیے کام کرتے رہیں تو اس کے اثرات بھی کمزور نہیں ہوں گے۔ البتہ اس کے ساتھ ساتھ اتحاد کی کوشش بھی جاری رہے گی کہ بہرحال اتحاد میں برکت ہوتی ہے۔

امام عیسیٰ بن ابانؒ : حیات و خدمات (۱)

مولانا عبید اختر رحمانی

نام ونسب

نام عیسیٰ، والد کانام ابان اورداداکانام صدقہ ہے۔ پورانسب نامہ یہ ہے: عیسیٰ بن ابان بن صدقہ بن عدی بن مرادنشاہ۔کنیت ابوموسیٰ ہے۔( الفہرست لابن الندیم ۱/۲۵۵، دار المعرفۃ بیروت،لبنان)
کنیت کے سلسلہ میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تقریباًسارے ترجمہ نگاروں نے جن میں قاضی وکیع،قاضی صیمری، خطیب بغدادی، ابن جوزی ،حافظ ذہبی ،حافظ عبدالقادر قرشی،حافظ قاسم بن قطلوبغا وغیرہ شامل ہیں، سبھی نے آپ کی کنیت ابوموسیٰ ذکر کی ہے، محض حافظ ابن حجر نے آپ کی کنیت ابومحمد ذکر کی ہے(لسان المیزان ۶/۲۵۶) اورکسی بھی تذکرہ نگار نے اس کی بھی صراحت نہیں کی ہے کہ آپ کی دوکنیت تھی ،ہرایک نے آپ کی محض ایک ہی کنیت ’ابوموسی‘کا ذکر کیاہے،بادی النظر میں ایسامحسوس ہوتاہے کہ شاید اس بارے میں حافظ ابن حجر سے کسی قسم کاذہول ہواہے۔
عیسیٰ بن ابان کے خاندان کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں چلتاکہ ان کے بیٹے بیٹیاں کتنے تھے،اوردیگر رشتہ دار کون کون تھے۔ ایسا صرف عیسیٰ بن ابان کے ساتھ نہیں بلکہ دیگر اکابرین کے ساتھ بھی ہوا ہے، عیسیٰ بن ابان کے حالات کی تلاش وتحقیق کے بعد ان کے دورشتہ داروں کا پتہ چلتاہے۔ 
(۱) ابوحمزہ بغدادی: آپ کانام محمد،والد کانام ابراہیم اور کنیت ابوحمزہ ہے، آپ کا شمار کبارصوفیاء میں ہوتاہے، آپ نے اپنے عہد کے جلیل القدر محدثین سے علم حاصل کیاتھا ،علم قراء ت بالخصوص ابوعمرو کی قرات میں آپ ممتاز مقام کے مالک تھے،دنیا جہان کا سفر کیاتھا، آپ کا حلقہ ارادت ومحبت کافی وسیع تھا، ایک جانب جہاں آپ جنید بغدادی ،سری سقطی اوربشرحافی جیسے اکابر صوفیاء کے ہم نشیں تھے تو دوسری جانب امام احمد بن حنبل کے مجلس کے بھی حاضرباش تھے اوربعض مسائل میں امام احمد بن حنبل بھی آپ کی رائے دریافت کرتے تھے۔ تذکرہ نگاروں میں سے بعض نے آپ کو عیسیٰ بن ابان کا’ مولی‘قراردیاہے ،جب کہ بعض نے آپ کو عیسیٰ بن ابان کی اولاد میں شمار کیا ہے۔ اس بارے میں شاید قول فیصل ابن الاعرابی کا قول ہے ،وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کے بارے میں عیسیٰ بن ابان کی اولاد سے دریافت کیاتو انہوں نے اعتراف کیاکہ آپ کا سلسلہ نسب عیسیٰ بن ابان سے ہی ملتاہے۔(سیر اعلام النبلاء، ۱۳/۱۶۵، تاریخ دمشق ۵۱/۲۵۲،ترجمہ نمبر ۶۰۶۲) آپ کا انتقال ۲۷۰ہجری مطابق ۸۸۳ء میں ہوا۔ (الاعلام للزرکلی ۵/۲۹۴)
(۲) نائل بن نجیح:نام اورکنیت ابوسہل ہے۔ نائل بن نجیح کو متعدد تذکرہ نگاروں نے عیسیٰ بن ابان کا ماموں قراردیاہے، لیکن مجھ کو اس وجہ سے توقف تھاکہ عیسیٰ بن ابان کے نام سے ایک اور راوی ہیں جورقاشی ہیں۔ بظاہربصرہ کا ہونے کی وجہ سے زیادہ احتمال یہی تھا کہ نائل عیسیٰ بن ابان حنفی کے ہی ماموں ہیں، لیکن کہیں اور اس کی وضاحت نہیں مل رہی تھی۔ تفتیش کے بعد یہ بات ملی کہ حافظ ابن کثیر نے وضاحت کی ہے کہ نائل بن نجیح ،ابوسہل بصری اورجن کو بغدادی بھی کہاجاتاہے، عیسیٰ بن ابان القاضی کے ماموں ہیں۔ قاضی کی وضاحت سے اس کی تعیین ہوگئی کہ نائل بن نجیح صاحب تذکرہ عیسیٰ بن ابان کے ہی ماموں ہیں۔ (التکمیل فی الجرح والتعدیل ومعرفۃ الثقات والضعفاء والمجاھیل ۱/۳۳۰)

اساتذہ ومشائخ

آپ نے ابتدائی زندگی میں کس سے تعلیم حاصل کی اورکن شیوخ واساتذہ سے علم حاصل کیا،اس بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ صرف اتناتذکرہ ملتاہے کہ ابتداء میں اصحاب حدیث میں تھے اورانہی کے مسلک پر عمل پیرا تھے، بعد میں امام محمد سے رابطہ میں آنے پر حنفی فکر وفقہ سے متاثرہوکر حنفی ہوگئے:
ومنھم ابو موسی عیسی بن ابان بن صدقۃ، وکان من اصحاب الحدیث، ثم غلب علیہ الرای (طبقات الفقہاء لابی اسحاق الشیرازی صفحہ50 ، من مکتبہ مشکاۃ)
’’اور ان میں سے (فقہاء حنفیہ)ایک عیسیٰ بن ابان بن صدقہ بھی ہیں۔ وہ اصحاب حدیث میں تھے، پھر ان پرفقہ غالب آگئی۔‘‘
علم حدیث کی تحصیل انہوں نے اپنے عہد کے جلیل القدر محدثین سے کی۔ حافظ ذہبی اس بارے میں لکھتے ہیں:
وحدّث عن ھشیم واسماعیل بن جعفر ویحییٰ بن زائدۃ (تاریخ الاسلام للذہبی 16/ 312)
’’ہشیم، اسماعیل بن جعفر اوریحییٰ بن ابی زائدہ سے انہوں نے روایت کی ہے۔‘‘
امام عیسیٰ بن ابان کس طرح محدثین کی صف سے نکل کراہل فقہ کی جماعت میں شامل ہوئے، اس تعلق سے ایک دلچسپ واقعہ خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد میں عیسیٰ بن ابان کے ترجمہ میں محمد بن سماعہ سے نقل کیاہے:
عیسیٰ بن ابان ہمارے ساتھ اسی مسجد میں نماز پڑھاکرتے تھے جس میں امام محمد بن حسن الشیبانی نماز پڑھتے تھے اورفقہ کی تدریس کے لیے بیٹھاکرتے تھے۔میں (محمد بن سماعہ)عیسیٰ بن ابان کو محمد بن حسن الشیبانی کی مجلس فقہ میں شرکت کے لیے بلاتا رہتا تھا، لیکن وہ کہتے تھے کہ یہ وہ لوگ ہیں جواحادیث کی مخالفت کرتے ہیں۔ (ھولاء قوم یخالفون الحدیث)۔ عیسیٰ بن ابان کو خاصی احادیث یاد تھیں۔ ایک دن ایساہوا کہ فجر کی نماز ہم نے ساتھ پڑھی۔ اس کے بعد میں نے عیسیٰ بن ابان کو اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ امام محمد بن حسن کی مجلس فقہ نہ لگ گئی۔ پھر میں ان کے قریب ہوا اور کہا، یہ آپ کے بھانجے ہیں، یہ ذہین ہیں اوران کو حدیث کی معرفت بھی ہے۔ میں ان کو جب بھی آپ کی مجلس فقہ میں شرکت کی دعوت دیتاہوں تویہ کہتے ہیں کہ آپ حضرات حدیث کی مخالفت کرتے ہیں۔ امام محمد ان کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے میرے بیٹے، تم نے کس بنا پر یہ خیال کیاکہ ہم حدیث کی مخالف کرتے ہیں؟ (یعنی ہمارے کون سے ایسے مسائل اورفتاوی ہیں جس میں حدیث کی مخالفت کی جاتی ہے؟)پھراسی کے ساتھ امام محمد نے نصیحت بھی فرمائی: لا تشھد علینا حتی تسمع منا، ہمارے بارے میں کوئی رائے تب تک قائم مت کرو جب تک ہماراموقف نہ سن لو۔
عیسیٰ بن ابان نے امام محمد سے حدیث کے پچیس ابواب کے متعلق سوال کیا (جن کے بارے میں ان کو شبہ تھا کہ ائمہ احناف کے مسائل اس کے خلاف ہیں)۔ امام محمد نے ان تمام پچیس ابواب حدیث کے متعلق جواب دیا اوران احادیث میں سے جومنسوخ تھیں، اس کو بتایااوراس پر دلائل اورشواہد پیش کیے۔ عیسیٰ بن ابان نے باہر نکلنے کے بعد مجھ سے کہاکہ میرے اورروشنی کے درمیان ایک پردہ حائل تھاجو اٹھ گیا۔ میر انہیں خیال کہ اللہ کی زمین میں اس جیسا (صاحب فضل وکمال) کوئی دوسرابھی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے امام محمد کی شاگردی اختیار کی۔ (تاریخ بغداد، جلد12، صفحہ480، تحقیق دکتوربشارعواد معروف، مطبع دارالغرب الاسلامی)
نوٹ:اس سند کے ایک راوی احمد بن مغلس الحمانی ہیں جن کی محدثین نے تضعیف اورتکذیب کی ہے، لیکن تاریخی شخصیات اورروایات کے بارے میں وہی شدت پسندی برقراررکھنا جو کہ حدیث کے بارے میں ہے،ایک غلط خیال اورنظریہ ہے۔ یہ بات تقریباً ان کے بیشترترجمہ نگاران نے بیان کی ہے کہ وہ اصحاب حدیث میں سے تھے، بعد میں انہوں نے فقہ کی جانب رخ کیا۔ خطیب بغدادی کا بیان کردہ واقعہ ہمیں صرف یہ بتاتاہے کہ محدثین کی جماعت میں سے نکل کر فقہاء کی جماعت میں وہ کیسے داخل ہوگئے، اس کاپس منظرکیاتھا اور بس۔ ظاہر ہے کہ اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے اس واقعہ کو قبول نہ کیاجائے۔ آخر کوئی تو وجہ ہوگی جس کی وجہ سے امام عیسیٰ بن ابان محدثین کی صف سے نکل کر فقہاء کی صف میں اوربطور خاص فقہائے احناف کی صف میں شامل ہوئے ،جن کے خلاف ایک عام پروپگنڈہ کیا گیا تھا کہ وہ رائے کو حدیث پرترجیح دیتے ہیں اورحدیث کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسی پس منظر اوروجہ کو احمد بن مغلس الحمانی نے بیان کیاہے اوراس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کی وجہ سے اس واقعے کو قبول نہ کیا جائے۔

امام محمد سے تحصیل فقہ 

حافظ ذہبی نے بھی سیر اعلام النبلاء میں اس کی وضاحت کی ہے کہ امام عیسیٰ بن ابان نے امام محمد سے تحصیل فقہ کیا تھا۔ چنانچہ وہ سیر اعلام النبلاء (جلد10،صفحہ 440)میں لکھتے ہیں: فقیہ العراق، تلمیذ محمد ابن الحسن، کہ وہ عراق کے فقیہ اورامام محمد کے شاگرد تھے۔حافظ ابن حجر لسان المیزان میں لکھتے ہیں: وتفقہ علیہ یعنی عیسیٰ بن ابان کے فقہ میں خصوصی استاذ محمد بن الحسن ہیں۔(لسان المیزان ۶/۲۵۶)
عیسیٰ بن ابان نے کتنی مدت تک امام محمد سے تحصیل علم کیا؟ ابن ندیم نے الفہرست میں ذکر کیاہے کہ انہوں نے امام محمدرحمۃ اللہ علیہ سے بہت کم مدت تک تحصیل علم کیا: ویقال انہ قلیل الاخذ عن محمد بن الحسن۔ (الفہرست لابن الندیم ۱/۲۵۴) یہی بات وکیع نے بھی اخبارالقضاۃ میں لکھی ہے کہ ان کا امام محمد سے تحریری طورپر استفادہ کا تعلق کم رہا: ان عیسی بن ابان قلیل الکتاب عَن مْحَمَّد بن الحَسَن (اخبارالقضاۃ ۲/۱۷۱) 
الجواہرالمضیءۃ فی طبقات الحنفیۃ میں اس مدت کی تفصیل بیان کی گئی ہے کہ وہ مدت چھ مہینے کی تھی، چنانچہ صاحب طبقات الحنفیہ ابن ابی الوفاء ذکرکرتے ہیں: تفقہ علی محمد بن الحسن، قیل انہ لزمہ ستۃ اشھر۔ (الجواہر المضیءۃ فی طبقات الحنفیہ ص 272،مکتبہ مشکاۃ)
لیکن مشکل یہ ہے کہ دونوں جگہ یعنی ابن ندیم کی الفہرست اورالجواہرالمضیءۃ میں اس قول کو "قیل" سے نقل کیاگیاہے جوکہ کمزور اقوال کے نقل کے لیے خاص ہے،جب کہ دوسری جانب ان کے ترجمہ نگاروں نے ان کے فقہ کے اساتذہ میں امام محمد کاخاص طورسے نام لیاہے۔ اس سے اس قیاس کی تائید ہوتی ہے کہ امام عیسیٰ بن ابان کی امام محمد کی شاگردی کی مدت خاصی طویل ہوگی، چھ مہینے کی مختصر مدت نہیں ہوگی۔ مشہور حنفی فقیہ قاضی صیمری امام طحاوی کے واسطہ سے ابوخازم سے نقل کرتے ہیں:
انما لزم عیسی بن ابان محمد بن الحسن ستۃ اشھر، ثم کان یکاتبہ الی الرقۃ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ، ۱/۱۴۷، ابو عبد اللہ الصیمری الحنفی المتوفی ۴۳۶ھ، عالم الکتب بیروت)
’’ابوخازم کہتے ہیں کہ عیسی بن ابان نے امام محمد سے چھ مہینے براہ راست استفادہ کیا، بعد میں جب امام محمدکو ہارون رشید اپنے ساتھ رقہ لے گیا تو عیسیٰ بن ابان نے امام محمد سے خط وکتابت کے ذریعہ استفادہ کیا۔‘‘
صیمری کی نقل کردہ روایت تسلیم کرنے سے یہ تومعلوم ہوتاہے کہ عیسیٰ بن ابان، امام محمد کے ’’رقہ ‘‘چلے جانے کے بعد بھی خط وکتابت کے ذریعہ مستفید ہوتے رہے۔ ابن ابی العوام کی تصنیف ’فضائل ابی حنیفہ‘ سے معلوم ہوتاہے کہ امام محمد سے براہ راست استفادہ کی مدت گیارہ مہینے تھی، چنانچہ وہ ابوخازم سے ہی روایت نقل کرتے ہیں کہ :
قال لی عبد الرحمن بن نابل: ما جالس عیسی بن ابان محمد بن الحسن الا احد عشر شھرا، وتوفی عیسی بن ابان سنۃ عشرین ومائتین (فضائل ابی حنیفۃ واخبارہ ومناقبہ، ۱/۳۴۰، الناشر: المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ)
’’مجھ سے عبدالرحمن بن نابل نے کہا: عیسیٰ بن ابان کے امام محمد سے استفادہ کی کل مدت گیارہ مہینے ہے اور عیسیٰ بن ابان کاانتقال ۲۲۰ ہجری میں ہوا۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ ماقبل میں جوکچھ عرض کیاگیا،یہ تمام ہی باتیں تحقیق کے معیارپر پوری نہیں اترتی ہیں۔ امام محمد کا رقہ جاناان کے انتقال سے کئی برس قبل کا واقعہ ہے۔ آپ رقہ میں کتنی مدت رہے،اس کے بارے میں بروکلمان نے لکھاہے کہ کئی سال رہے،پھر رقہ کی قضاء سے آپ کو معزول کردیاگیا۔ اس درمیان آپ بغداد میں رہے، پھر قاضی القضاۃ بنائے گئے اورپھر ہارون رشید کے ساتھ’ رَے ‘گئے تھے کہ وہیں انتقال ہوگیا۔(تفصیل کے لیے دیکھئے :امام محمد بن الحسن شیبانی اوران کی فقہی خدمات ص:۳۱۱ تا۵۲۱)اس سے واضح ہے کہ عیسیٰ بن ابان نے آپ سے کئی سال تک استفادہ کیاہے،کیوں کہ رقہ کا واقعہ امام محمد کی وفات سے کئی سال قبل کا ہے اور یہ بالکل غیرفطری ہے کہ رقہ میں جب تک امام محمد رہیں تو عیسیٰ بن ابان ان سے خط وکتابت کے ذریعہ استفادہ کریں، لیکن جب امام محمد معزول ہوکر بغداد میں تشریف فرماہوں تو عیسیٰ بن ابان استفادہ نہ کریں اورجب رَے چلے جائیں تو وہاں جاکر استفادہ نہ کریں۔ ماقبل میں جتنے اقوال امام محمد سے استفادہ کے سلسلے میں گزرے ہیں، ان کے بارے میں ہماراخیال یہ ہے کہ یہ ابتداء کی مدت بتائی جارہی ہے کہ عیسیٰ بن ابان کو ابتداء میں کس قدر استفادہ کا براہ راست موقع ملا۔
امام محمد علیہ الرحمہ سے طویل استفادہ کا ہی فیض تھاکہ عیسیٰ بن ابان کی امام محمد کے اقوال وعلوم پر گہری نگاہ تھی۔ جو بات دوسروں کو بھی معلوم نہیں ہوتی تھی، وہ عیسیٰ بن ابان کے علم میں ہوتی تھی،چنانچہ ایک واقعہ میں انہوں نے وراثت کے مسئلہ میں نواسوں اورپوتوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فیصلہ صادر کیا توبعض فقہائے احناف نے ان پر ائمہ احناف کے قول سے باہر نکلنے کر فیصلہ کرنے کی بات کہی۔ عیسیٰ بن ابان نے کہا:میں نے جو فیصلہ کیاہے، وہ امام محمد کا بھی قول ہے۔ اس کو بکار بن قتیبہ،ہلال بن یحییٰ اورامام محمد کے دوسرے شاگرد جان نہ سکے، لیکن ابوخازم نے اعتراف کیاکہ یہ امام محمد بن حسن کا ہی قول ہے اور عیسیٰ بن ابان سچ کہتے ہیں۔ (اخبار ابی حنیفۃ۱/۱۵۲)
امام عیسیٰ بن ابان نے امام ابویوسف سے کوئی استفادہ کیایانہیں کیا، اس بارے میں عیسیٰ بن ابان کے تمام سوانح نگار خاموش ہیں۔ قاضی وکیع لکھتے ہیں: ولم یخبرنی انسان انہ رآہ عند ابی یوسف (اخبار القضاۃ۲/۱۷۱) ’’مجھے کسی بھی شخص نے یہ نہیں بتایاکہ اس نے عیسیٰ بن ابان کو ابویوسف کے پاس دیکھاہے‘‘۔ اس سے انداز ہوتاہے کہ عیسیٰ بن ابان نے امام ابویوسف سے استفادہ نہیں کیا۔ امام ابویوسف سے استفادہ نہ کرنے کی وجہ شاید یہ ہوگی کہ امام محمد کے انتقال سے کئی برس قبل امام ابویوسف کا انتقال ہوچکاتھا، یعنی جس وقت وہ امام محمد سے وابستہ ہوئے، اس سے پہلے امام ابویوسف کاانتقال ہوچکاتھا اورجب امام ابویوسف باحیات تھے، ان سے اس مسلکی اورگروہی اختلاف کی بناء پر استفادہ نہیں کیاہوگا۔

تلامذہ

مختلف ذمہ داریوں بالخصوص کارِ قضا کی نازک فریضہ کی ادائیگی کے ساتھ عیسیٰ بن ابان نے درس وتدریس کا فریضہ بھی انجام دیا۔ عیسیٰ بن ابان کی بہتر تعلیم وتربیت کا نتیجہ تھاکہ آپ کے شاگرد آگے چل کر آسمان علم وفضل کے آفتاب وماہتاب ہوئے۔ عیسیٰ بن ابان کے چند ممتاز شاگردوں کا یہاں ذکر کیاجاتاہے۔
ہلال بن یحییٰ الرائے (000 ۔ 245 ھ 236 000 ۔ 859 م): آپ کاشمار فقہ حنفی کے ممتاز ترین فقہاء میں ہوتا ہے۔ بصرہ کے قاضی رہے۔ آپ عیسیٰ بن ابان کے شاگرد ہیں، اور آپ نے ہی اولاًعلم شروط وسجلات میں تصنیف کی۔
ابوخازم ( 000 ۔ 292 ھ 236 000 ۔ 905 م) : آپ کا نام عبدالحمید اوروالد کانام عبدالعزیز ہے، ابوخازم کنیت ہے۔ آپ بصرہ کے رہنے والے تھے، شام، کوفہ، کرخ، بغداد وغیرہ میں آپ نے قضاکی ذمہ داریاں انجام دیں۔ علم وعمل اور زہد وورع میں آپ کا مقام بہت بلند ہے۔ امام طحاوی آپ کے شاگرد ہیں۔
بکاربن قتیبہ (182 ۔ 270 ھ 236 798 ۔ 884 م): آپ کے علمی کمال بالخصوص فقہ وحدیث کی جامعیت پرمحدثین کااتفاق ہے۔ ۲۴۶ھ میں آپ مصر کے قاضی بنے ،لیکن ابن طولون کے ایک حکم کی تعمیل اپنی اصول پرستی کی بناپر نہ کرسکنے کی وجہ سے قید کردیے گئے۔ قید میں بھی حدیث وفقہ کا درس جاری رہا، لوگ مسائل پوچھنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ امام طحاوی آپ کے خاص شاگرد ہیں۔ دوران قید ہی آپ کا انتقال ہوا، رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ (الاعلام للزرکلی۲/۶۱)
حسن بن سلام السواق: آپ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملتی ہیں۔ آپ نے اپنے دور کے جلیل القدر محدثین سے حدیث کا علم حاصل کیا، آپ حدیث کے معتبر راوی ہیں۔ حافظ ذہبی نے آپ کو الامام، الثقۃ، المحدث کے گراں قدر الفاظ سے یاد کیاہے۔ ۷۷۲ھ میں آپ کا انتقال ہوا۔ (سیراعلام النبلاء)

صورت وسیرت اور ذہانت وفطانت

امام عیسیٰ بن ابان کو اللہ تعالیٰ نے حسن صورت کے ساتھ ساتھ حسن سیرت سے بھی نوازا تھا۔ آپ بڑے حسین وجمیل تھے۔ ابن سماعہ جوان کے رفیق بھی تھے، وہ کہتے ہیں: کان عیسی حسن الوجہ (الجواہر المضیءۃ فی طبقات الحنفیہ) عیسی بن ابان خوبصورت شخص تھے۔ آپ صرف حسین ہی نہیں تھے بلکہ عفیف بھی تھے۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو حسن صورت کے ساتھ حسن سیرت سے بھی پورے طورپر متصف تھے۔ابن ندیم الفہرست میں لکھتے ہیں ’’وہ پاک دامن شخص تھے‘‘۔ وکان عیسی شیخا عفیفا۔ (الفہرست لابن الندیم)
ابوحازم جواپنے دور کے انتہائی نامورقاضی وفقیہ تھے، ان کا قول ہے کہ میں نے اہل بصرہ کے نوجوانوں میں عیسیٰ بن ابان اور بشربن الولید سے زیادہ ذہین کسی کو نہیں دیکھا۔ اس سے پتہ چلتاہے کہ وہ ابتداء سے ہی بہت ذہین وفطین تھے۔ حافظ ذہبی نے بھی ان کے ترجمہ میں ایک جگہ ان کو وکان معدودا من الاذکیاء کے الفاظ سے یاد کیاہے یعنی وہ منتخب ترین ذہین لوگوں میں سے ایک تھے۔(تاریخ الاسلام للذہبی۔ جلد16، صفحہ 312) حافظ ذہبی نے ہی دوسری جگہ ان کوذکاء مفرط(وفور ذہانت)سے متصف کیاہے۔ (سیراعلام النبلاء 10/440)

فقہ وحدیث میں مقام ومرتبہ

عیسیٰ بن ابان کا دور علم حدیث وفقہ کا زریں دور ہے۔ آپ نے اپنے عہد کے مشہور اورجلیل القدر محدثین سے حدیث کا علم حاصل کیاتھا اورخاصی بڑی عمر تک آپ کا تعلق محدثین کے گروہ کے ساتھ تھا،اورامام محمد سے رابطہ سے قبل آپ کی دلچسپی کا محور فقط علم حدیث ہی تھا۔ آپ کو اللہ نے جس ذہانت وفطانت سے نوازاتھا، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آپ کا علم حدیث میں بھی ممتاز مقام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ا بن سماعہ جیسے مشہورمحدث اورفقیہ کا آپ کا متعلق تاثرہے: وکان عیسیٰ حسن الحفظ للحدیث (اخبارابی حنیفۃ واصحابہ ۱/۱۳۲)عیسیٰ بن ابان حدیث کو اچھی طرح یاد رکھنے والے تھے۔ ابن سماعہ نے جب عیسیٰ بن ابان کاامام محمد سے تعارف کرایاتو یہ کہا: ھذا ابن اخیک ابان بن صدقۃ الکاتب، ومعہ ذکاء ومعرفۃ بالحدیث (اخبارابی حنیفۃ واصحابہ ۱/۱۳۲) یہ آپ کے بھتیجے ابان بن صدقہ ہیں،یہ ذہین ہیں اور علم حدیث سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ پھر اسی واقعہ میں یہ بھی اعتراف ہے کہ امام محمد سے انہوں نے حدیث کے پچیس ابواب کے متعلق اپنے اشکالات دوہرائے جس سے پتہ چلتاہے کہ ان کو علم حدیث میں کتنا ممتاز مقام حاصل تھا۔ اگریہ سب اعتراف نہ بھی ہوتا ،تب بھی ان کی کتاب الحجج الصغیر کا جو خلاصہ امام جصاص رازی نے ’’الفصول فی الاصول‘‘ میں پیش کیاہے، اس کو پڑھنے سے اندازہ ہوتاہے کہ آپ کا علم حدیث میں مقام کتنا بلند اور حدیث وآثار سے اصول وفروع کے استنباط میں آپ کو کتنی مہارت اور کتنا رسوخ تھا۔ احادیث وآثار سے آپ نے احناف کے اصول فقہ پر جودادتحقیق دی ہے، اس کو دیکھ کر بے ساختہ یہ کہنا پڑتاہے کہ امام شافعی کے بعد اصول فقہ پر اس طرح سے مجتہدانہ کلام کی نظیر نہیں ملتی۔
امام محمد کی شاگردی میں آکر ان کی خفتہ صلاحیتوں کو جلاملی اورجلد ہی انہوں نے فقہ میں درک اورمہارت حاصل کرلی اور رفتہ رفتہ فقہ کے فن شریف میں اتنی مہارت پہنچائی کہ اس دور کے اور بعد کے اجلہ علماء فقہ میں آپ کی معرفت تامہ اوررسوخ کامل کے معترف ہوگئے۔ بلکہ بعض اجلہ علماء نے توان کی تعریف میں یہاں تک کہہ دیاکہ بصرہ میں ابتداء اسلام سے لے کرعیسیٰ بن ابان کے قاضی ہونے تک ان سے زیادہ بڑافقیہ بصرہ میں قاضی نہیں ہوا۔

جلیل القدر علماء کے اعترافات

امام طحاوی فرماتے ہیں کہ میں نے بکار بن قتیبہ کو کہتے سنا، وہ ہلال بن یحییٰ کا قول نقل کررہے تھے کہ اپنے دور میں مسلمانوں میں عیسیٰ بن ابان سے فقاہت میں بڑھاہوا قاضی کوئی اورنہیں ہے۔ "قال الطحاوی سمعت بکار بن قتیبۃ یقول سمعت ھلال بن یحیی یقول ما فی الاسلام قاض افقہ منہ یعنی عیسی بن ابان فی وقتہ۔ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ ۱/۱۵۰) جب کہ قاضی بکار بن قتیبہ خود کہتے ہیں: "قال الطحاوی وسمعت بکار بن قتیبۃ یقول کنا لنا قاضیان لا مثل لھما، اسماعیل بن حماد وعیسی بن ابان"۔ امام طحاوی کہتے ہیں کہ میں بکار بن قتیبہ سے سناہے کہ ہمارے (فقہاء حنفیہ)دوقاضی ایسے ہیں جن کی کوئی مثال نہیں، ایک اسماعیل بن حماد اوردوسرے عیسی بن ابان۔(الجواہر المضئیۃ ۱/۴۰۱) خود حافظ ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں ان کے فضل وکمال کااعتراف ’’فقیہ العراق‘‘ کے الفاظ سے کیاہے۔ (سیر اعلام النبلاء ۱۰/۴۴۰)اورتاریخ اسلام میں نام کے ساتھ ’’الفقیہ‘‘ کا لاحقہ لگایاہے۔ (تاریخ الاسلام ۵/۶۵۱)
مشہور شافعی عالم ابواسحاق الشیرازی نے طبقات الفقہاء میں ان کو احناف کاممتاز فقیہ تسلیم کیاہے۔حافظ عبدالقادر القرشی نے ’’الامام الکبیر‘‘ کے گراں قدر لقب سے متصف کیاہے (الجواہرالمضئیۃ ۱/۴۰۱) تو حافظ قاسم بن قطلوبغا نے ’’احد الائمۃ الاعلام‘‘ کا گراں قدر لقب تحریر کیاہے۔(تاج التراجم ۱/۲۲۷)اوراسی کے ساتھ ان کے ’’وسعت علم‘‘ کا بھی اعتراف کیاہے۔ (مصدرسابق) مشہور حنفی مورخ ابوالمحاسن یوسف بن تغری بردی لکھتے ہیں: وکان مع کرمہ من اعیان الفقھاء (النجوم الزاہرۃ فی ملوک مصر والقاہرۃ ۲/۲۳۶) سخاوت کے ساتھ ساتھ آپ ممتاز فقہاء میں سے ایک تھے۔ مشہور حنفی امام وعلامہ زاہد الکوثری آپ کے علم وفضل کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: حاصل کلام یہ کہ عیسیٰ بن ابان علم فقہ کے پہاڑ تھے جس کی بلندی اور عظمت کے سامنے سب سرجھکانے لگے۔ (سیرت امام محمدبن الحسن الشیبانی ص۷۰۲)

قضاء 

قضاء کی ذمہ داری بہت بھاری اورگرانقدر ذمہ داری ہے۔ اس میں مسائل واحکام کی واقفیت کے ساتھ ساتھ مردم شناسی اور لوگوں کے مزاج سے واقفیت، بیدار مغزی اورکسی کی ظاہری صورت سے متاثرنہ ہونے کی شرطیں شامل ہیں۔ عیسیٰ بن ابان ان اوصاف سے متصف تھے، لہٰذا ان کی انہی خوبیوں کودیکھتے ہوئے عباسی خلافت میں مامون الرشید کے دور میں قاضی القضاۃ یحییٰ بن اکثم نے ان کو مامون کے ساتھ ’’فم الصلح‘‘ جاتے وقت عسکرمہدی میں اپنانائب بنایا اور پھرواپسی پر ان کو مستقل طورپر بصرہ کا قاضی بنا دیا۔ خطیب بغدادی نے بیان کیا ہے کہ ان کو211 ہجری میں اسماعیل بن حماد کی معزولی کے بعد بصرہ کاقاضی بنایا گیا تھا اور انتقال تک وہ بصرہ کے قاضی رہے۔ اس زمانہ میں بصرہ علمی لحاظ سے عالم اسلام کے گنے چنے شہروں میں شمار ہوتاتھا، ایسے میں ان کوبصرہ کاقاضی بنانایہ بتاتاہے کہ قاضی یحییٰ بن اکثم ان کے علم وفضل سے کتنے متاثر تھے۔
قضاکے باب میں ان کی خاص صفت یہ تھی کہ وہ اپنے حکموں کا اجراء اورفیصلوں کانفاذ بہت جلد کرایاکرتے تھے۔ چنانچہ ابن ندیم ان کی اس خصوصیت کاذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: کان فقیھا سریع الانفاذ للحکم، وہ فقیہ تھے اورحکم کو جلد نافذ کرتے تھے۔ (الفہرست لابن الندیم) یہی بات قاضی وکیع نے بھی لکھی ہے: وکان عیسی سھلا فقیھا سریع الانفاذ للاحکام (اخبارالقضاۃ ۲/۱۷۰) عیسیٰ نرم رو، فقیہ تھے اوراپنے احکام جلد جاری کرایا کرتے تھے۔ قاضی وکیع نے لکھاہے کہ بسااوقات وہ فیصلوں کے اجراء میں اس تیزی سے کام لیتے تھے جس سے بعض حضرات کوشبہ ہوتاتھاکہ احکام کا اتنا اتیز اجرا ونفاذ قاضیوں کے لیے مناسب بھی ہے یانہیں۔
قضاکے باب میں آپ کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ جب تک آپ کو اپنے زیر بحث معاملہ کے فیصلہ پرپورا اطمینان نہ ہوجاتا، فیصلہ صادر نہ کرتے، چاہے اس میں کتنی ہی تاخیر کیوں نہ ہوجائے اور اگر کوئی اصرار کرتا تو صاف فرما دیتے کہ قاضی کو تمہارے مسئلہ کے بارے میں علم نہیں ہے۔ اگرتم چاہو تو انتظار کرو یاپھر چاہو تو کسی دوسرے کے پاس جاؤ۔ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ ۱/۱۵۰)
(جاری)

جہادی بیانیے کی تشکیل میں روایتی مذہبی فکر کا کردار

ڈاکٹر عرفان شہزاد

آج مذہبی عسکریت پسندی کے لا وارث بچے کو کوئی اپنے نام سے منسوب کرنے کو تیار نہیں، لیکن ایک ایسا بھی وقت گزرا ہے کہ جب اسے گود لینے کے لیے اہل مدارس میں مسابقت برپاتھی۔
یہ 80 اور 90 کی دہائی کی بات ہے جب صدر ضیاء الحق کے زیر سرپرستی جہادی بیانیہ قوم کا نصب العین بنایا جا رہا تھا۔ مساجد اورمدارس میں جہادی پروگرام منعقد کیے جاتے تھے، جہادی مقررین اپنی شعلہ بار تقاریر سے نوجوان طلبہ کے جذبات کو برانگیختہ کر دیا کرتے تھے، طلبہ کومحاذ پر جانے کی بجائے مدرسے میں آرام سے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا خلافِ غیرت لگنے لگتا تھا،جہادیوں کے شانوں تک چھوڑے ہوئے لمبے بال، گھنی داڑھیاں، کسرتی جسم، فولادی ہاتھ اور ان ہاتھوں میں اسلحہ،طلبہ کے لیے ہیروازم جیسی کشش رکھتے تھے، جہادی تنظیموں کے چندے کی مہم ایسی شان سے چلائی جاتی تھی جیسے عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کے لیے چلائی تھی، لیاقت باغ راولپنڈی میں جہادی کرتبوں کا مظاہرہ ہوتا تھا، جہادی کمانڈر ایسے پروٹوکول سے جلوس نکالتے تھے کہ محسوس ہوتا کہ قرونِ اولیٰ کے مجاہدین واپس زندہ ہو کر آ گئے ہیں، جہادی تربیتی کیمپ لگائے جاتے تھے جن میں جذبہ جہاد سے سرشار نوجوانوں کی تربیت کی جاتی اور پھرمحاذ پر بھیج دیاجاتا تھا۔ مدارس کی چھٹیوں میں طلبہ کو جہادی کیمپوں میں جانے کی ترغیب دی کی جاتی تھی، دارالعلوم کراچی سے لے کر خیر المدارس ملتان تک سب مدارس کے طلبہ جہادی کیمپوں میں آتے تھے۔شہید ہوتے مجاہدین کی سمعی Audio کیسٹیں سنائی جاتیں جن میں وہ شہادت سے پہلے آخری گولیاں چلاتے ہوئے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہوتے کہ خدا کی قسم انہیں جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔
جمعہ و عیدین کی نمازوں میں افغانستان، فلسطین، کشمیر اور چیچنیا میں برسرپیکار مجاہدین کے غلبہ و نصرت کی دعائیں مانگی جاتی تھیں (دعاؤں کا تسلسل اب بھی جاری ہے)، جہادی نغمے اور ترانے جگہ جگہ اونچی آواز میں بجائے جاتے تھے اور مولوی حضرات 'سبیلنا سبیلنا الجھاد الجھاد' کے نعرے لگایا کرتے تھے۔ بیچ بیچ میں کسی عالم کا اختلاف بھی سننے کو ملتا تھا، لیکن اسے گمراہی اور بزدلی کے طعنے دے کر خاموش کرا دیا جاتا، یا نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔
یہیں سے یہ بیانیہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پہنچا۔ مولانا مودودی کا لٹریچر پہلے سے وہاں موجود تھا، حاکمیت اسلام کا نعرہ پورے آہنگ سے بلند کیا گیا تھا۔ ریاست اور علما کو کوئی نیا لٹریچر تخلیق کرنے کی زحمت بھی کرنا نہیں پڑی تھی۔ جماعت اسلامی کے نظریات کو میدان عمل میسر آ گیا۔انہوں نے بھی دامے درمے سخنے اپنے نوجوانوں کے خون کے نذرانے پیش کرنے کے لیے اپنی الگ عسکری تنظیم بنا لی۔
اس دور میں بھی البتہ، ہر فرقے اور ہر تنظیم نے دینی مفاد کے اشتراک کے باوجود مسلکی غیرت پر سمجھوتہ کرنا گوارا نہ کیا۔ جہاد جیسی نازک سرگرمی کے لیے بھی کسی ایک لیڈر شپ کی ماتحتی کی 'ہتک'کا تحمل نہ کیا جا سکا، اپنے اپنے مسلک کے جہادی کمانڈروں کی قیادت میں ہی جہاد کرنے کو ترجیح دی گئی۔ مسلک سے وفاداری کی اس سے بہترین مثال اور کیا ہوگی کہ جس دین کی خاطر شہادت جیسی کٹھن منزل قبول کر لی گئی، اس کے لیے مسلکی تفریق سے بلند ہونا گوارا نہ کیا گیا۔ یوں مجاہدین کے مختلف دھڑے ایک دوسرے کے رقیب بھی بنے رہتے، ایک دوسرے کے خلاف پراپیگنڈا بھی کرتے رہتے، ایک دوسرے کے کمانڈر بھی توڑتے رہتے، زیادہ سے زیادہ مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگیں بھی کھینچتے رہتے اور خدا کی راہ میں اپنے اپنے نوجوانوں کی جانیں بھی باقاعدگی سے پیش کرتے رہتے تھے۔
یہ دور 90 کی دہائی کے آخر تک زندہ تھا، تا آں کہ جنرل مشرف نے اسی امریکہ کے ہی کہنے پراس پر روک لگا دی جس امریکہ کے کہنے پر جنرل ضیانے اس کی آبیاری کی تھی۔ جنرل ضیا نے صرف کھاد اور پانی مہیا کیا تھا،بیج اور پودے مدارس کے فکر و نصاب میں پہلے سے موجود تھے۔ (شواہد آگے پیش کیے گئے ہیں)
جب سے ریاست نے اس بیانیے کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچا ہے، مولوی حضرات نے اس سے ایسے لاتعلقی کا اعلان کر رکھا ہے جیسے مفتی حنیف قریشی نے ایفی ڈیوٹ لکھ کر ممتاز قادری سے برات کا اعلان کر دیا تھا، حالانکہ اسی کی تقریر سن کر ہی ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کے قتل کا انتہائی قدم اٹھایا تھا، قادری کی گرفتاری کے بعد، اس کی رہائی کی مہم بھی مفتی موصوف نے چلائی تھی، اور پھر اس کی پھانسی کے بعد اس کے دفنانے کے وقت بھی وہ آگے آگے تھے۔ یہی کچھ اس جہادی بیانیے کے ساتھ اب مدارس کے علما حضرات فرما رہے ہیں۔
ان حالات سے نا واقف لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شدت پسندی کا یہ عفریت غربت، جہالت اور ناانصافی سے نکلا ہے۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔جس وقت یہ بیانیہ کچے اذہان میں انڈیلا جاتا ہے، اس وقت ان نوجوانوں کی غالب اکثریت کو سماجی ناانصافی اور عدم مساوات جیسی باتوں کا مکمل ادراک بھی نہیں ہوتا، وہ ابھی زندگی کے عملی میدان میں اترے ہی نہیں ہوتے کہ ان مسائل کا پورا احساس انہیں ہو، وہ تو یہ سن کر جان دینے اور جانیں لینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں کہ ان کے دین نے مسلمانوں پر ایک عالمی خلافت کا قیام فرض قرار دیا ہے، اگروہ اس کی جد و جہد نہیں کریں گے تو گناہ گار ہوں گے، خدا کے ہاں جواب دہ ہوں گے، انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ جس نے جہاد نہ کیا اور نہ اپنے آپ کو جہاد کے لیے تیار کیا، وہ منافقت کے ایک شعبے پر مرے گا۔ ان کا بیانیہ ایک شاعر کے الفاظ میں یہ ہوتا ہے:
نماز اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا، زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
جہادی بیانیہ اگر غربت، جہالت اور ناانصافی کی وجہ سے پروان چڑھا ہوتا تو ان عسکریت پسندوں میں زیادہ بڑا طبقہ ملک کے غریبوں اور جاہلوں کا ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کا غریب اور پسا ہوا طبقہ تمام تر ناانصافیوں کے باوجود اپنے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے میں لگا ہوا ہے۔ کبھی انفرادی طور پر ان کے ہاں بھی جارحیت کے واقعات ہو جاتے ہیں، لیکن بحیثیت طبقہ یہ لوگ بے بسی کے ہاتھوں پر امن زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جب کہ جہادی تحریکوں کے افراد کسی نہ کسی مدرسے، یا فکری تنظیم سے وابستگی رکھتے ہیں۔ ایسا بھی ہے کہ جہادی تحریکوں میں کچھ لوگ ذاتی رنجش یا خفگیوں کے باعث شامل ہوتے ہیں لیکن ایسا لوگ بہت کم ہیں۔ ان تحریکوں کی اصل جان اور اصل نمائندے وہی لوگ ہیں جو فکری پس منظر رکھتے ہیں۔ اور اسی بنا پر جہاد کی مشکل زندگی اور اختیاری موت کو خوشی خوشی گلے لگا لیتے ہیں۔
اس بیانیے کے متاثر نوجوانوں کا جائزہ لے کر دیکھیے۔ ان میں مدارس کے غریب خاندانوں کے بچے ہی نہیں ہوتے، خوشحال گھرانوں کے، یونیورسٹیوں کے بلکہ امریکہ اور یورپ جیسے ممالک میں پلنے بڑھنے والے نوجوان سب شامل ہیں۔ یہ غلبہ اسلام کا رومانوی تخیل ہے جو دینی فریضہ کے طور پر جب سامنے آتا ہے تو اس میں اتنی اپیل ہوتی ہے کہ ان کا ایمان انہیں مجبور کر دیتا ہے کہ خدا کے اس سیاسی ایجنڈے کے لیے وہ سب کچھ کر گزریں جو ممکن ہو سکتا ہے۔
آپ کسی بھی جہادی تنظیم کا لڑیچر دیکھ لیجیے، ان کا استدلال ملاحظہ کیجیے کہ آیا وہ سماجی ناانصافی اور کفار کی بربریت کو اپنا بنیادی استدلال بناتے ہیں یا اس سارے عمل کو دینی فریضہ قرار دے کر نوجوانوں کو اس طرف بلاتے ہیں۔ غیر مسلم قوتوں کا مسلمانوں پر ظلم و ستم ایک اضافی چیز ہے جس نے ان کے نزدیک معاملہ کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اگر نہ بھی ہوتا تو بھی مسلمانوں پر فرض ہے کہ ایک عالمی خلافت کے قیام اور غیر مسلموں کو محکوم بنانے کے لیے جہاد کا معرکہ برپا کریں۔
مدارس میں یہ جہادی بیانیہ پڑھایا، سکھایاجاتا ہے، اس حقیقت سے انکار ایسا ہی ہے جیسے نصف النہار میں سورج کی موجودگی کا انکار کر دیا جائے۔ رزم و بزم میں یہ معرکہ آج بھی ان کے نصاب و فکر کی بدولت زندہ ہے۔ طالبان ہوں یا داعش، سب یہیں سے پھوٹ رہے ہیں۔لیکن اہل مدارس نے چونکہ بڑی ہمت سیاس حقیقت کو جھٹلانے کی روش اختیار کی ہے، اس لیے ہمیں اس کے شواہد، انہیں کے لٹریچر اور نصاب سے پیش کرنا پڑ رہے ہیں:
خلافت کا قیام واجب ہے۔ یہ بدیہی طور پر تسلیم شدہ بات ہے،جس کا انکار اہل مدارس تو کیا کوئی عام مسلمان بھی کرتا نظر نہیں آئے گا۔اس کے لیے شواہد پیش کرنا غیر ضروری ہوگا۔ آگے چلتے ہیں۔
اس خلافت کے قیام کے لیے جدو جہد فرض ہے۔ یہ جد و جہد اہل حل و عقد اگر نہیں کرتے تو اہل علم کے ذمے واجب ہے کہ وہ برپا کریں۔ اس بیانیے کی مثالیں بہت ہیں، لیکن میں پہلے سید احمد شہید کی عبارات نقل کرتا ہوں، ان کی عبارات نقل کرنا اس لیے بھی مناسب ہے کہ یہ معلوم ہے کہ ان کے دور میں کسی 'ریاست' نے انہیں اس کام پر نہیں لگایا تھا۔ بلکہ 'نصوص' سے استدلال سے بننے والا بیانیہ ہی ان کی جہادی تحریک کا محرک تھا۔ آج کے جہادی بیانیے کا استدلال بھی یہی ہے۔ یہ درست ہے کہ سکھوں کے مبینہ مظالم سید صاحب کی تحریک کا ایک فوری محرک بنے، لیکن سید صاحب کی تحریروں سے پوری طرح واضح ہے کہ ان کے نزدیک سکھ حکومت کا خاتمہ ان کی منزل کا محض ایک سنگ میل تھا، جہاد کے داعیات سید صاحب میں پہلے سے موجود تھے۔ سید صاحب کی تحریک آج کی جہادی تحریکات کو علمی اور اخلاقی جواز بھی مہیا کرتے ہیں اور ہمت و حوصلہ بھی۔
سید صاحب فرماتے ہیں:
i ۔ ’’اگرچہ کفار اور سرکشوں سے ہر زمانے اور ہر مقام میں جنگ کرنا لازم ہے، لیکن خصوصیت کے ساتھ اس زمانے میں کہ اہل کفر و طغیان کی سرکشی حد سے گزر چکی ہے، مظلوموں کی آہ و فریاد کا غلغلہ بلند ہے، شعارِ اسلام کی توہین ان کے ہاتھوں صاف نظر آ رہی ہے، اس بنا پر اب اقامت رکن دین، یعنی اہل شرک سے جہاد، عامہ مسلمین کے ذمے کہیں مؤکد اور واجب ہو گیا ہے۔‘‘ (ابو الحسن علی ندوی ، سیرتِ سید احمد شہید، جلد دوم،طبع نہم، لکھنؤ، مجلسِ تحقیق و نشریاتِ اسلام، ص 388)
اس عبارت کے پہلے جملے سے واضح ہے کہ کفار سے 'ہر حال' اور 'ہر مقام' پر جنگ کرنا سید صاحب دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ یہ وہی فقہی موقف ہے جس کے مطابق کفار سے جنگ کی اصل علت کفر قرار دی گئی ہے۔ یعنی محض اسلام قبول کرنے سے انکار غیر مسلموں پر جنگ مسلط کرنے کی کافی وجہ ہے۔ نیز لفظ 'عامۃ المسلمین' سے صاف ظاہر ہے کہ سید صاحب پرائیویٹ جہاد کے جواز کے قائل ہیں اور اسے "مؤکد" سمجھتے ہیں۔ آپ کی تحریک تھی ہی پرائیویٹ جہاد۔ اس پرائیویٹ جہاد کے لیے مزید جواز مہیا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ii۔ ’’جو حکومت اور سیاست کے مردِ میدان تھے، وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اس لیے مجبورًا چند غریب و بے سروسامان کمر ہمت باندھ کر کھڑے ہو گئے اور محض اللہ کے دین کی خدمت کے لیے اپنے گھروں سے نکل آئے۔‘‘ (سیرتِ سید احمد شہید، جلد دوم،ص 389)
اپنے وسیع تر ایجنڈے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
iii۔ ’’اس کے بعد میں اپنے مجاہدین کے ساتھ ہندوستان کا رخ کروں گا تاکہ اسے کفر وشرک سے پاک کیا جائے۔‘‘ (سیرتِ سید احمد شہید، جلد دوم، ص 410)
کیا آج کے جہادی بیانیے کے علم بردار اس سے مختلف کوئی بات کہتے ہیں؟
اب یہاں مدارس میں پڑھائے جانے والے نصاب کی چند نمائندہ کتب کے اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جو اس جہادی بیانیے کی تشکیل کا سبب ہیں۔
مختصر القدوری، درس نظامی میں ابتدائی درجے کی فقہ کی کتاب ہے، یعنی جب طالب علم ابھی Teen ager ہوتا ہے۔ اس میں لکھا ہے:
i۔ وقتال الکفار واجب وان لم یبدؤونا (مختصر القدوری، کتاب السیر، ص 52)
’’کفار سے جنگ کرنا واجب ہے، خواہ وہ ہم سے جنگ کرنے میں ابتدا نہ کریں۔‘‘
ii۔ خلافت یا اسلامی حکومت کس کے خلاف اقدامی جنگ یعنی جنگ میں پہل کرنا جائز سمجھتی ہے؟ صاحب قدوری لکھتے ہیں کہ جو لوگ دعوتِ اسلامکا انکار کر دیں، ان سے جنگ کی جائے گی:
ولا یجوز ان یقاتل من لم تبلغہ دعوۃ الاسلام الا بعد ان یدعوھم، ویستحب ان یدعو من بلغتہ الدعوۃ ولا یجب ذلک، وان ابوا استعانوا باللہ تعالی علیھم وحاربوھم ونصبوا علیھم المجانیق وحرقوھم وارسلوا علیھم الماء وقطعوا اشجارھم وافسدوا زروعھم، ولا باس برمیھم وان کان فیھم مسلم اسیر او تاجر، وان تترسوا بصبیان المسلمین او بالاساری لم یکفواعن رمیھم ویقصدون بالرمی الکفار (مختصر القدوری، کتاب السیر، ص 52)
’’جن لوگوں تک دین کی دعوت نہ پہنچی ہو ان سے جنگ کرنا جائز نہیں، البتہ دعوت کے بعد جنگ کرنا جائز ہے۔ بہتر ہے کہ جس تک دعوت پہنچ چکی ہو اسے بھیدعوت دی جائے،تاہم یہ واجب نہیں ہے۔ پھر اگر مخاطبین دعوت کا انکار کر دیں تو مسلمان اللہ کی مدد طلب کریں، ان منکرین پر جنگ مسلط کر دیں، ان پر منجنیقیں نصب کریں، آگ لگا دیں، ان پر پانی چھوڑ دیں، ان کے درخت کاٹ دیں، ان کے کھیت برباد کر دیں۔ ان منکرین پر تیر چلانے میں بھی کوئی حرج نہیں،چاہے وہاں مسلمان قیدی یا تاجر بھی ہوں، یا مسلمانوں کے بچوں یا مسلمان قیدیوں کو انہوں نے ڈھال بنایا ہوا ہو، مسلمان تیر چلانے سے ہاتھ مت روکیں، البتہ تیر چلاتے ہوئے کفار کو مارنے کی نیت کر لی جائے۔‘‘
iii۔ ہدایہ درس نظامی کے آخری سالوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ اس میں لکھا ہے:
وقتال الکفار واجب وان لم یبدء وا للعمومات (الہدایہ فی شرح البدایۃ، کتاب السیر)
’’قتال کی نصوص کے عموم کی رو سے کفار سے قتال واجب ہے، اگرچہ جنگ کی ابتدا ان کی طرف سے نہ ہو۔‘‘
امام سرخسی کی المبسوط اعلیٰ درجوں میں تحقیقی مراحل میں پڑھی دیکھی جاتی ہے اور فقہ حنفی کی نمائندہ کتاب ہے۔ اس میں ہے:
i۔ الشرک فھو اعظم ما یکون من الجھل والعناد لما فیہ انکار الحق من غیر تاویل، فعلی کل مؤمن ان ینھی عنہ بما یقدر علیہ (المبسوط، کتاب السیر)
’’شرک کی شناعت جہالت اور عناد سے پیدا ہونے والی برائیوں میں سب سے بڑھ کر ہے، اس لیے کہ اس میں بلا تاویل انکارِ حق پایا جاتا ہے، چنانچہ ہر مسلمان پر بقدر استطاعت اس کا روکنا فرض ہے۔‘‘
یعنی صرف تبلیغ نہیں بلکہ بقدر استطاعت اسے روکنا بھی فرض ہے، اب جس کی جتنی استطاعت ہو۔ یہ مشرکین کے خلاف مستقل جنگ perpetual war کا بیانیہ ہے۔
ii۔ امام سرخسی مزید لکھتے ہیں:
وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ فاذا قالوھا فقد عصموا منی دماء ھم واموالھم الا بحقھا وحسابھم علی اللہ‘‘، فاستقر الامر علی فرضیۃ الجھاد مع المشرکین وھو فرض قائم الی قیام الساعۃ، قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ’’الجھاد ماض منذ بعثنی اللہ تعالیٰ الی ان یقاتل آخر عصابۃ من امتی الدجال‘‘
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال جاری رکھوں جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں، جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنی جان اور مال بچا لیا، سوائے اسلام کے حق ہے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ مشرکین کے ساتھ جہاد کا فرض ہونا یہاں طے ہو جاتا ہے، اور یہ فرض قیامت تک قائم رہے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ’’جہاد جاری رہے گا میری بعثت سے لے کر میری امت کے اس آخری گروہ تک جو دجال سے جنگ کرے گا۔‘‘
یعنی مشرک اقوام سے محض اس لیے قیامت تک جنگ جاری رکھی جائے گی کہ وہ مشرک ہیں۔
iii۔ مبسوط کی درج ذیل عبارت بہت دلچسپ ہے:
وقال ابن عباس رضی اللہ عنھما: ’’ما قاتل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قوما حتی دعاھم الی الاسلام‘‘ وھذا لانھم لا یدرون علی ماذا یقاتلون، فربما یظنون انھم لصوص قصدوا اموالھم
’’ابن عباس فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم سے اس وقت تک جنگ نہیں کرتے تھے جب تک انھیں اسلام کی دعوت نہ دیتے تھے، یہ اس لیے کہ اگر دعوت دیے بغیر قتال کیا جائے گا تو ان کفار کو معلوم نہ ہوگا کہ مسلمان ان سے کیوں لڑ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ یہ سمجھیں کہ یہ لٹیرے ہیں جن کا مقصد ان کا مال لوٹنا ہے۔‘‘
اس عبارت کا کیا مطلب ہے؟ یہ کہ جنگ کا آغاز کفار کی طرف سے کسی صورت میں نہیں ہوا، کفار کو معلوم ہی نہیں کہ ان پر جنگ کیوں مسلط کی جا رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جنگ سے پہلے انہیں بتایا جائے کہ ہم تم سے جنگ کیوں کرنے آئے ہیں۔
دور جدید میں بعض اہل علم نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اسلامی حکومت کی طرف سے کفار و مشرکین کے خلاف جنگ کی علت احناف کی جمہورفقہی روایت کے مطابق محاربہ یعنی جارحیت یا فتنہ و فساد ہے نہ کہ محض کفر۔ یعنی جب جنگ میں غیر مسلموں کی طرف سے پہل ہو تو لڑنا چاہیے، ورنہ نہیں۔ اگر ایسا ہے تویہ کیا ہے جو پڑھایا جا رہا ہے؟ فقہ حنفی کے سرخیل، امام سرخسی کی اس عبارت سے نکلنے والے موقف کی کیا تاویل ممکن ہے؟امام کی اس بات کی مزید وضاحت کے لیے مبسوط کی درج ذیل عبارت دیکھیے:
وان لم تکن الموادعۃ خیرا للمسلمین فلا ینبغی ان یوادعھم لقولہ تعالی ’’فلا تھنوا وتدعوا الی السلم وانتم الاعلون‘‘، ولان قتال المشرکین فرض وترک ما ھو الفرض من غیر عذر لا یجوز (المبسوط، باب صلح الملوک والموادعۃ، ج ۱۰، ص ۸۶)
’’اگر صلح مسلمانوں کے حق میں بہتر نہ ہو، تو صلح نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ’’پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو تم ہی غالب رہنے والے ہو‘‘، نیز اس وجہ سے بھی صلح نہیں کرنی چاہیے کہ مشرکین سے جنگ کرنا فرض ہے اور بلا عذر فرض کو ترک کرنا جائز نہیں ہے۔‘‘
یعنی غیر مسلموں سے صلح کی وجہ کوئی مجبوری ہو تو ہو، محض جنگ سے رکنا صلح کی وجہ نہیں ہونی چاہیے، ایسا کرنا جائز نہیں کیونکہ مشرکین سے جنگ کرنا فرض ہے۔
غیر مسلموں سے جنگ کی وجہ محض ان کا کفر ہے یا ان کی طرف سے فتنہ و فساد؟ اس میں حنبلی اور شافعی فقہا بالکل یکسو ہیں کہ غیر مسلموں کا کفر ہی ان کے ساتھ جنگ کرنے کا سبب ہے۔ جب کہ بعض حنفی فقہا غیر مسلموں سے جنگ کے دونوں اسباب گنواتے ہیں یعنی کفر اور جارحیت دونوں وجوہات کی بنا پر ان سے جنگ کی جائے گی۔ یوں وہ ایک الجھاؤ پیدا کر دیتے ہیں جس کی نشاندہی مولانا عمار خان ناصر نے، اپنے مضمون، ’’قتال کی علت: حنفی فقہا کا نقطہ نظر‘‘ میں بیان کی ہے، لکھتے ہیں:
’’اگر قتال کی علت فتنہ وفساد ہے تو ایسے کفار کے خلاف قتال کا اقدام کرنا کیونکر جائز ہے جو اہل اسلام کے خلاف فتنہ وفساد کا ارتکاب نہیں کرتے؟ اور کفار کی طرف سے کسی جارحیت کی ابتدا کے بغیر ان کے خلاف قتال کرنے کو نہ صرف مشروع بلکہ فرض کفایہ کیونکر قرار دیا گیا ہے؟ مزید یہ کہ کفار کے فساد سے بچنے کے لیے ان کو مسلمانوں کا محکوم بنانا کیوں ضروری ہے اور اگر ان کی طرف سے معاہدے کی پابندی کا اطمینان ہو تو ان کی سیاسی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے صلح کی گنجایش کیوں نہیں؟‘‘
مزید لکھتے ہیں:
’’کسی کافر کو اس کے کفر کی سزا اس دنیا میں دینے کا اختیار مسلمانوں کے پاس نہیں ہے تو قتال کے ذریعے سے اہل کفر کو مغلوب کر کے ان پر ’جزیہ‘ عائد کرنا، جو احناف کی تصریح کے مطابق ان کے کفر پر عقوبت اور سزا کی حیثیت رکھتا ہے، کس اصول پر روا ہے؟‘‘
مدرسے کا ایک طالب علم جب فقہ کا یہ بیانیہ پڑھتا ہے اور دوسری طرف یہ دیکھتا ہے کہ مسلم حکومتیں غیر مسلم ریاستوں پر جنگ مسلط نہیں کرتیں اور نہ اس کا کوئی ارادہ ہی رکھتی ہیں، بلکہ الٹا بلا عذر ان کے ساتھ صلح کر کے جہاد کے فریضے کو ہی ترک کرنے کی مرتکب ہو چکی ہیں تو وہ اس مثالی اسلامی خلافت کے قیام کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے جس کا بیانیہ وہ فقہ میں پڑھتا ہے، یعنی ایسی خلافت جو آگے بڑھ کر اعلائے کلمۃ اللہ کا فریضہ سر انجام دے اور غلبہ حق کے لیے غیر مسلموں پر جنگ مسلط کر دے اور انہیں محکوم بنا لے۔
شاہ ولی اللہ اور مولانا مودودی علم کی دنیا کے وہ دو جلیل القدر علما ہیں جن کی فکر نے ہر مکتب فکر کو متاثر کیا ہے، ان کے اثرات عالمگیر ہیں۔ جہادی بیانیے کی تشکیل میں ان کے گہرے اثرات ہیں۔ ان کے افکار کا خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے:
شاہ ولی اللہ اپنی کتاب، حجۃ اللہ البالغہ، میں جہاد کا مقصد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
i۔ اعلم ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعث بالخلافۃ العامۃ، وغلبۃ دینہ علی سائر الادیان لا یتحقق الا بالجھاد واعداد آلاتہ، فاذا ترکوا الجھاد واتبعوا اذناب البقر احاط بھم الذل وغلب علیھم اھل سائر الادیان ( حجۃ اللہ البالغۃ، محقق سید سابق، بیروت، دارالجیل، 2005، جلد دوم، ص 268)
’’معلوم ہونا چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خلافت عامہ کے ساتھ بھیجا گیا تھا۔ دین کا غلبہ دیگر تمام ادیان پر جہاد اور اس کے آلات و وسائل کی تیاری کے بغیر ممکن نہیں۔ تو جب لوگ جہاد چھوڑ دیں گے، اپنے مال مویشیوں میں لگ جائیں گے تو ذلت ان کو گھیر لے گی اور دیگر ادیان والے ان پر غالب آ جائیں گے۔‘‘
مزید فرماتے ہیں:
ii۔ ویقاتل اھل الکتاب والمجوس حتی یسلموا او یعطوا الجزیۃ عن ید وھم صاغرون (حجۃ اللہ البالغہ، ص 271)
’’مسلمانوں کا حکمران اہل کتاب اور مجوس سے لڑتا رہے یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائیں یا وہ اپنے ہاتھوں سے ذلت کے ساتھ جزیہ ادا کریں۔‘‘
نیز یہ بھی کہ:
iii۔ وبالثالثۃ زوال شوکۃ الکفار وظھور شوکۃ المسلمین، وقد بعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم لھذہ المصالح (حجۃ اللہ البالغہ، ص 270)
’’اور تیسرے حال(یعنی اہل کتاب سے ذلت کے ساتھ جزیہ وصول کیا جائے) سے یہ مصلحت حاصل ہوتی ہے کہ کفار کی شان و شوکت کا زوال ہوتا ہے اور مسلمانوں کی شان و شوکت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھی مصالح کے لیے مبعوث فرمائے گئے تھے۔‘‘
iv۔ شاہ صاحب،مسلم حکمران کے لیے یہ لازم قرار دیتے ہیں کہ وہ غیر مسلم قوتوں کے خلاف ہر حال میں جنگ کرے، اور صلح بامر مجبوری کرے یعنی جب جنگ کی مطلوبہ طاقت نہ ہو۔ یعنی کہ اگر طاقت ہو صلح نہیں کی جائے گی:
ویصالحھم بمال وبغیر مال فان المسلمین ربما یضعفون عن مقاتلۃ الکفار فیحتاجون الی الصلح، وربما یحتاجون الی المال یتقوون بہ او الی ان یامنوا من شر قوم فیجاھدوا آخرین (حجۃ اللہ البالغہ، ص 271)
’’مسلم حکمران،غیر مسلم حکومتو ں سے مال کے ساتھ یا بغیر مال کے صلح کر سکتا ہے۔ یہ اس لیے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلمان کفار سے لڑنے میں کمزور ہوتے ہیں، اس لیے انہیں صلح کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، یا کبھی انہیں مال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ قوت حاصل کر سکیں، یا صلح کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ ایک قوم کے شر سے محفوظ ہو کر وہ دوسری قوم سے جہاد کر سکیں۔‘‘
v۔ شاہ ولی اللہ جبر و اکراہ کے ذریعے انسانوں کو دین حق پر ایمان لانے اور انکار کرنے والوں کو اسی بنا پر قتل کرنے کے حق میں ہیں۔ شاہ صاحب کے نزدیک ایسا کرنا انسانوں کی بھلائی اور خدا کی رحمت کا تقاضا ہے۔ فرماتے ہیں:
ان کثیرا من الناس یغلب علیھم الشھوات الدنیۃ والاخلاق السبعیۃ ووساوس الشیطان فی حب الریاسات، ویلصق بقلوبھم رسوم آباءھم، فلا یسمعون تلک الفوائد ولا یذعنون لما یامر بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولا یتاملون فی حسنۃ، فلیست الرحمۃ فی حق اولئک ان یقتصر علی اثبات الحجۃ علیھم، بل الرحمۃ فی حقھم ان یقھروا لیدخل الایمان علیھم علی رغم انفھم بمنزلۃ ایجاد الدواء المر، ولا قھر الا بقتل من لہ منھم نکایۃ شدیدۃ وتمنع قوی، او تفریق منعتھم وسلب اموالھم حتی یصیروا لا یقدرون علی شیء، فعند ذلک یدخل اتباعھم وذراریھم فی الایمان برغبۃ وطوع، وربما اسرھم وقھرھم یودی الی ایمانھم، والی ھذا اشار النبی صلی اللہ علیہ وسلم حیث قال ’’عجب اللہ من قوم یدخلون الجنۃ فی السلاسل‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ، ص 263)
’’بہت سے لوگوں پرگھٹیا خواہشات، درندگی والی صفات اور ملک سے محبت کے شیطانی خیالات غالب آ جاتے ہیں، ان کے آبا و اجداد کی رسمیں ان کے دلوں میں رچ بس جاتی ہیں، اس لیے ایمان لانے کے فوائد ان کی سمجھ میں نہیں آتے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو جو حکم دیتے ہیں، وہ اس کی تابع داری نہیں کرتے، نہ وہ اسلام کی خوبیوں میں غور کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ مہربانی یہ نہیں ہے کہ ان پر حجت قائم کر کے ان کو چھوڑ دیا جائے، ان کے ساتھ مہربانی یہ ہے ان کی مرضی کے خلاف ان کو ایمان لانے پر مجبور کیا جائے، دوا کا کڑوا گھونٹ زبردستی ان کو پلایا جائے۔ یہی ان کے حق میں مفید ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو ان میں سخت گیر اور طاقت ور ہیں، ان کو تہ تیغ کر دیا جائے، یا ان کا شیرازہ منتشر کر دیا جائے، اور ان کے اموال چھین لیے جائیں، تاکہ ان کی طاقت ٹوٹ جائے اور وہ بے بس ہو کر رہ جائیں۔ جب ان کی رکاوٹ ہٹ جائے گی تو ان کے متبعین اور آل اولاد ایمان کی طرف مائل ہوں گے، اور اطاعت قبول کریں گے۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو جہاد میں گرفتار و مغلوب ہو کر آتے ہیں، اسلام سے بہرہ ور ہو جاتے ہیں۔ ایک حدیث میں جہاد کی اس مصلحت کی طرف اشارہ آیا ہے۔ ارشاد فرمایا: ’’ایسے لوگوں پر اللہ کو تعجب ہو گا جو جنت میں بیڑیوں سمیت داخل ہوں گے۔‘‘
شاہ ولی اللہ کے مشہور شارح، محمد الغزالی ، شاہ صاحب کے ان افکار کا خلاصہ یوں لکھتے ہیں:
"Explaining this distinctive ideological feature of the Islamic state, Shah Wali Allah points out that the "supremacy of the Religion of Islam over all other religions was inconceivable without contemplating among the Muslims a khalifah, who can put those who might transgress the ideological frontiers, and commit acts which have been prohibited by their Religion or omit their obligations under it, into open disrepute". Further, he should be able to subdue the followers of all other religions and receive Jizyah from them, while they submit to the supremacy of the Shari'ah. For, in his view, without establishing the supremacy of Islam over other religions and creeds, no preference of the Muslim community over non-Muslims could be visibly demonstrated." (The Sociopolitical Thoughts of Shah Wali Ullah, Institute of Islamic Thought, Islmababd, 2001, pg, 98)
’’شاہ ولی اللہ، اسلامی ریاست کے نمایاں نظریاتی خدو خال بیان کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ اسلام کا غلبہ دیگر ادیان پر مسلمانوں کے درمیان ایک خلیفہ کی موجودگی کے بغیر ممکن نہیں، ایساخلیفہ جو نظریاتی سرحدوں کو پامال کرنے والوں، اسلام کے ممنوعات کی خلاف ورزی کرنے والوں، یا اس کے لاگو کردہ واجبات سے پہلو تہی کرنے والوں کو عاجز کر سکے۔ مزید یہ کہ وہ دیگر تمام ادیان کے پیروکاروں کو مطیع کر سکے اور ان سے جزیہ وصول کر سکے اس حال میں کہ وہ اسلامی شریعت کی بالادستی کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ یہ سب اس لیے کہ شاہ صاحب کے مطابق، دیگر ادیان پر اسلام کی برتری قائم کیے بغیر غیر مسلمانوں پرمسلمانوں کی برتری واضح طور پر ثابت نہیں ہوسکتی۔‘‘
مولانا مودودی کے سیاسی اسلام کے بیانیے کے بارے میں معلوم ہے کہ مولانا نے اسلام اور ریاست کو مترادف قرار دیا، اسلام کا مقصد حاکمیت الٰہیہ کا قیام بتایا اور اس کے لیے استدلال کی پوری عمارت کھڑی کی۔ انہوں نے غیر اسلامی نظام کو طاغوت قرار دیا جس کے تحت مسلمانوں کا راضی ہو کر رہنا خلاف اسلام قرار دیا اور مسلمانوں پر لازم قرار دیا کہ وہ جہاں بھی ہوں، اسلام کے سیاسی غلبہ کی جہد و جہد کریں، یہ دینی فریضہ ہے جس کا ترک خدا سے بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں:
i۔ ’’مسلمان اپنے اپنے ایمان کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے جب تک وہ اسلامی معاشرہ اور اسلامی حکومت قائم نہ کر لیں۔ خدا کے قانون کی بالا دستی قائم کیے بغیر بحیثیت مسلمان زندگی نہیں گزار سکتے ۔۔۔ انبیا اسی لیے مبعوث کیے گیے تھے کہ خدا کی حاکمیت کا نظام قائم کریں۔‘‘ (اسلامی ریاست ص 59)
ii۔ ’’وہ (اسلام) اس بات کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ قوانین تمدن، جن پر اسٹیٹ کا نظام قائم ہوتا ہے، خدا کے سوا کسی اور کے بنائے ہوئے ہوں، اور خدا کی زمین پر اس کے باغی اس کو نافذ کریں، اور مسلمان ان کے تابع ہو کر رہیں ۔۔۔ اسلام یہ تقاضا کرتا کہ مسلمان آگے بڑھ کر نظام زندگی پر قبضہ کریں۔‘‘ (اسلامی ریاست ص 67)
iii۔ ’’اسلام کا اپنے مخصوص نظام زندگی کی طرف دعوت دینا عین اپنی فطرت میں اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ دوسرے نظامات کو ہٹا کر ان کی جگہ اپنے نظام کی اقامت کا مطالبہ کرے اور اس مقصد کے لیے اپنے پیروؤں کو جد وجہد کی ان تمام صورتوں کو اختیار کرنے کا حکم دے جن سے یہ مقصد حاصل ہوا کرتا ہے۔‘‘ (اسلامی ریاست، ص 66)
iv۔ مولانا مودودی درج ذیل آیت سے مسلمانوں کی عالمگیر سیادت کا استدلال کرتے ہیں:
اَلَّذِینَ اِنْ مَّکَّنَّاھُمْ فِی الاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَآتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ، وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الاُمُورِ (سورۃ الحج، 22:41)
’’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
یعنی مولانا مودودی منکر کے دائرے میں کفر و شرک اور بدی کے تمام مظاہر کو شامل کرتے ہیں اور پھر آخری درجے میں طاقت سے ان کو مٹانے کا حکم اس آیت سے مستنبط کرتے ہیں۔ پھر قرآن مجید میں جہاں جہاں 'الارض' یعنی زمین پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے کا ذکر آیا ہے، اس سے وہ پورا کرہ ارض مراد لیتے ہیں۔ (ملخص)۔ (الجہاد فی الاسلام، 91۔92)
مولانا مودودی سے ہی متاثر ہو کر سید قطب نے معالم الطریق لکھی جس نے عالمی سطح پر خصوصا عرب جہادی تحریکوں میں اسی جہادی بیانیے کو مزید ترویج دی۔
اب جمہوریت کے بارے میں،روایتی بیانیہ کے حاملین اہل علم کا موقف جان لیجیے:
i۔ قاری طیب قاسمی اپنی کتاب "فطری حکومت"، میں لکھتے ہیں:
"یہ (جمہوریت) رب تعالیٰ کی صفت ملکیت میں بھی شرک ہے اور صفت علم میں بھی شرک ہے۔"
ii۔ احسن الفتاویٰ (ج 6 ص 26) میں مفتی رشید احمد لکھتے ہیں :
’’یہ تمام برگ و بار مغربی جمہوریت کے شجرہ خبیثہ کی پیداوار ہے۔ اسلام میں اس کافرانہ نظام کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘
iii۔ مولانا یوسف لدھیانوی ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ (ج 8 ص 176) میں لکھتے ہیں:
’’جمہوریت کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریے کی ضد ہے (ظاہر ہے اسلام کی ضد کفر ہی ہے)۔‘‘
iv۔ مولانا عاشق الٰہی بلند شہری، تفسیر انوار البیان (ج 1 ص 518) میں لکھتے ہیں :
’’ان کی لائی ہوئی جمہوریت بالکل جاہلانہ جمہوریت ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
v۔ مولانا فضل محمد، اسلامی خلافت (ص 117) میں لکھتے ہیں:
’’اسلامی شرعی شوریٰ او رموجودہ جمہوریت کے درمیان اتنا فرق ہے جتنا آسمان او رزمین میں ، وہ مغربی آزاد قوم کی افراتفری کا نام ہے۔ جس کا شرعی شورائی نظام سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔‘‘
vi۔ مولانا تقی عثمانی دور حاضر کے معتدل ترین علما میں سے ہیں، لکھتے ہیں:
’’جمہوریت میں عوام خود حاکم ہوتے ہیں، کسی الہی قانون کے پابند نہیں تو وہ خود فیصلہ کریں گے کیا چیز اچھی ہے یا بری ۔۔۔ ’’جمہوریت سیکولرازم کے بغیر نہیں چل سکتی۔‘‘ (اسلام اور سیاسی نظریات، مولانا تقی عثمانی، ص 146)
اب جب طلبہ کو یہ بتایا جائے گا کہ جمہوریت غیر اسلامی نظام ہے تو وہ اس نظام حکومت اور آئین کے بارے میں جو موقف اپنائیں گے، وہ ظاہر ہے۔ علما تو اپنی دو عملی کے لیے گنجائش نکال لیتے ہیں یعنی ایک طرف وہ جمہوریت کو بھی غلط کہتے ہیں، لیکن آئین سے وفاداری کا اعلان بھی کرتے ہیں، لیکن ان کے سادہ مزاج طلبہ پوچھتے ہیں کہ کیا آئین بھی انسانوں نے جمہوریت کی اکثریتی رائے کے اصول پر نہیں بنایا ہے؟ کل اگر اکثریتی رائے سے اس میں غیر اسلامی شقیں ڈال دی جائیں یا پورے آئین کو ہی سیکولر بنا دیا جائے تو کیا جمہوری اصولوں پر اسے بھی مان لیا جائے گا؟اگر نہیں تو پھر آج اس کی حمایت کیوں کی جا رہی ہے؟اس لیے نہ جمہوریت درست ہے نہ انسانوں کا بنایا ہوا آئین۔ یہ طلبہ اپنے اساتذہ کو ان کا ہی پڑھایا ہوا سبق سنانے لگتے ہیں اور اساتذہ کے پاس کوئی جواب بھی نہیں ہوتا۔ ذیل میں مدرسہ کے ہی ایک طالب علم، طالبان کے جہادی کمانڈر مولانا عصمت اللہ معاویہ کے ایک طویل خط کا آخری پیرا نقل کیا جاتا ہے، جو انہوں نے علما کو مخاطب کر کے لکھا تھا:
’’ان بنیادی نکات کے بعد آپ سے عرض کروں گا ۔۔۔.. جائیے، جید علمائے کرام سے جاکر پوچھئے کہ اسلامی خلافت کے احیا اور نفاذ کی محنت ہم پر واجب ہے کہ نہیں۔ میں سرکاری وردباری صاحب جبہ و دستار کی نہیں، علمائے حق کی بات کررہا ہوں۔ شریعت کا نفاذ، خلافت کا احیا واجب ہے ۔۔۔. علمائے امت کا اس پر اجماع ہے ۔۔۔. بلکہ خلافت کے احیا کے وجوب کو تو اہل سنت کے عقیدے کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے بغیر اسلام اور اہل اسلام کا شیرازہ ہی بکھر جاتا ہے، یہی سچ ہے ۔۔۔. تو پھر دیر کس بات کی، ڈر کس بات کا، خوف و اندیشہ کس چیز کا؟ اٹھو! اب اسلام کے رستے کی رکاوٹیں بیلٹ سے نہیں بلٹ سے دور کر دو۔ یہ ہڑتالیں، یہ ریفرنڈم، یہ دھرنے، یہ جلوس سب جمہوری ایجاد ہیں۔ اس سے امت کے حقیقی اثاثوں کی تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ تم اپنوں کے سر پھوڑو ، اپنوں کی دوکانیں توڑو، املاک کو تباہ کرو، اپنے گلے پھاڑو۔ پولیس، فوج تمہیں ماریں، تم انہیں مارو، یہ سب تماشہ ہے ۔۔۔.. بہکاوا ہے ۔۔۔۔۔۔ بس بند ہو جانی چاہئیں یہ سب فضول مشقتیں ۔۔۔.. آئیے بسم اللہ کیجئے۔ اپنے مجاہد بھائیوں کے ساتھ مل کر جامعہ حفصہ کی شہیدہ بہنوں کے خوابوں کی تعبیر کے لیے، لال مسجد کے شہید بھائیوں کی امنگوں اور تمناؤں کو عملی روپ دینے کے لیے، شریعت یا شہادت کے حسین نعرے کو لے کر آگے بڑھو ۔۔۔.. بڑھو کہ جنت ہے منتظر ۔۔۔.. حورو ملائکہ ہیں صف بہ صف ۔۔۔... توڑ دو غلامی کی زنجیریں، چھوڑ دو طاغوتی تدبیریں، پاک شریعت پاک رستے سے ہی آئے گی ۔۔۔.. جب سینوں کا پاک خون پائے گی !!!‘‘ (نوائے افغان جہاد 2013)
یہ بیانیہ درست ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر کہنا یہ ہے کہ اہل مدارس کو یہ ذمہ داری قبول کرنا ہوگی کہ جہادی بیانیہ ان کے نصاب و روایتی فقہ و فکر سے پروان چڑھا ہے اور اب بھی ان سے ہی غذا پاتا ہے۔ اصولی طور پر وہ اور جہادی بیانیے کے علم برادر ایک ہی صفحے پر ہیں۔اختلاف صرف حکمت عملی میں کیا جاتا ہے۔ اس مسئلے کو جب تک اس کی بنیاد سے نہیں دیکھا جائے گا، اس کا کوئی قابل عمل اور موثر حل پیش نہیں کیا جا سکتا۔ آپ شاخیں کاٹتے رہیں گے اور درخت نئے نئے برگ و بار پیدا کرتا رہے گا۔ یہ بیانیہ اگر درست ہے تو علی الاعلان بتایا جائے کہ ایسا ہی ہے۔ اگر اس میں غلطی ہوئی ہے تو برملا اس کا اظہار کیا جائے۔ اب محض مذمتیں کر کے آپ اس سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔

علامہ اقبال اور شدت پسندی کا بیانیہ: ان کی جہادی اور سیاسی فکر کی روشنی میں

مولانا سید متین احمد شاہ

جس طرح اردو کے مایہ ناز شاعر مولانا الطاف حسین حالی پر ’’ابتر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے‘‘ کی مشق کی گئی، اسی طرح علامہ اقبال پر بھی اعتراضات کا سلسلہ دراز ہوا جو ان کی زندگی ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ یہ اعتراضات شخصی بھی ہیں، ان کے کلام کے شعری، لسانی اور عروضی پہلوؤں سے متعلق بھی، فکر کی تشکیل اور اس کے اجزا سے متعلق بھی اور دیگر مختلف جہات پر بھی۔ ان اعتراضات میں بہت سے وقیع اور صائب ہیں، جب کہ بعض اعتراضات سوے فہم، بعض قلت فہم، بعض مخصوص ذہنی سانچوں اور بعض حسد اور عناد کے سبب ہیں۔ 1910ء میں اقبال کے سفرِ حیدرآباد میں اردو کے نامور محقق اور غالب شناس سید علی حیدر نظم طباطبائی نے ان کی اردو زبان کی ’’عجمیت‘‘ پر بعض تحفظات کا اظہار کیا۔ 1913ء میں ’’زمانہ‘‘ (کانپور) اور دیگر جرائد میں نقاد لکھنوی کے اعتراضات سامنے آئے، 1935ء میں اقبال کی زندگی ہی میں حافظ آباد کے برکت علی گوشہ نشین نامی ایک شیعہ مصنف نے ’’مکائدِ اقبال‘‘ نامی کتاب لکھی۔ اسی طرح سیماب اکبر آبادی، نواب جعفر علی خان اثر لکھنوی اور دیگر لوگوں کے سوالات کا سلسلہ چل نکلا اور جہات بدل کر ہنوز جاری ہے۔
جہاں تک زبان وبیاں کا تعلق ہے، یہ ایک ایسا میدان ہے جس میں فاضل سے فاضل شخص کی زبان پر بھی اعتراضات ہوئے ہیں، کیوں کہ کلام میں بہتری کی گنجائش کا کوئی کنارہ شاید نہیں ہے، یہاں تک کہ اس کا وہ اکمل ترین درجہ آ جاتا ہے،جسے کلامِ خداوندی کہا جاتا ہے اور جس کے ساتھ تصورِا عجاز متعلق ہے۔مرزا غالب کو شہنشاہِ سخن کہا جاتا ہے، لیکن استاد سید اولاد حسین شاداں بلگرامی اور دیگر لوگوں نے ان کے کلام میں عروض وقوافی اور زبان کے کئی عیوب شمار کیے ہیں۔یہی معاملہ اقبال کا بھی ہے کہ ان کے کلام پر مختلف پہلوؤں سے اعتراضات کیے گئے ہیں، جن میں بہت سے درست بھی ہیں اور بہت سے غلط بھی۔ زیر نظر تحریر میں موجودہ فضا کے اعتبار سے ایک اعتراض ، اس کے حوالے سے خود اقبال کی اپنی تصریحات اور نامور شارحین اقبال کی وضاحت کا ایک جائزہ پیش کرنا مقصود ہے۔
موجودہ دور کی بڑی شخصیات میں ہندوستان کے مولانا وحید الدین خان کا نام معروف ہے۔ دین کی تعبیر کے حوالے سے ان کا مخصوص نقطہ نظر ہے جو ’’اسلام کے انقلابی تصور‘‘ یا ’’دین کی سیاسی تعبیر‘‘ کے ردعمل اور نقد کی صورت میں وجود میں آیا ہے۔مولانا وحید الدین خان عام طور پر مسلم دنیا کی بڑی بڑی شخصیات (بشمول ’’سیاسی اسلام‘‘ اور ماضی سے متعلق) پر یہ اعتراض مختلف جگہوں پر قلم بند کرتے ہیں کہ انھوں نے مسلمانوں کو بے فائدہ ٹکراؤ پر لگایا اور اس طرح جہاد کی تعبیر کو وہ تعذیبِ مذہبی (Persecution Religious ) کی علت کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں کہ یہ ماضی کا جبر تھا جس کے استیصال کے لیے جہاد مشروع ہوا اور چونکہ بعد کے ادوار میں یہ مسئلہ نہیں رہا، اس لیے مسلم رہ نما اس بدلتی صورتِ حال کو نہ سمجھ سکے اور مسلمانوں کو بے فائدہ ٹکراؤ پر لگائے رکھا۔ مولانا کی فکر میں پائے جانے والے کئی قابل قدر اجزا کے باوجود ان کا یہ تصور (دیگر اور تصورات کی طرح)درست نہیں ہے اور اس سے تاریخ اسلام کی بھی ایک عجیب تصویر سامنے آتی ہے؛ بلکہ مولانا کے اس تصورِ جہاد اور فکر کے مجموعی نتیجے کے بارے میں راقم کا تاثر یہ ہے کہ اپنے مزاج اور مقاصد میں سے یہ تقریباً وہی چیز ہے جس پر علامہ اقبال نے ’’اسرارِ خودی‘‘ کے پہلے ایڈیشن میں حافظِ شیراز کی شاعری کے حوالے سے ’’ہوشیار از حافظِ صہبا گسار‘‘ کہ کر تنقید کی تھی جس پر خواجہ حسن نظامی نے اخبارات میں ایک شور برپا کر دیا تھا۔اقبال کا مقصود صرف اتنا تھا کہ زوال کے دور کے لٹریچر نے مسلمانوں کے قواے عملیہ کو جس طرح سرد کیا ہے، حافظ کا پیغام اس حوالے سے ایک افیون کی حیثیت رکھتا ہے۔
مولانا وحید الدین خان اس سلسلے میں اقبال پر کافی سخت نقد کرتے ہیں کہ اقبال مسلمانوں کو ٹکراؤاور شدت پسندی کی راہ دکھانے والے آدمی ہیں اور اس وقت مسلمانوں میں جو جگہ جگہ عسکری کارروائیاں جاری ہیں، اس کے پیچھے فکر اقبال کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہی اعتراض کہیں دبے لفظوں میں اور کہیں صراحتاً ہمارے لبرل دانش ور( جیسے ڈاکٹر مبارک علی) دہراتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض Neo-Religious Liberals حلقوں میں بھی اس اعتراض کی صداے بازگشت سننے کو ملتی رہتی ہے۔
ماضی میں اقبال پر یہ اعتراض دو حلقوں کی طرف سے سامنے آیا: ایک مستشرقین اور دوسرے اردو ادب میں ترقی پسند ادب کی تحریک کے افراد کی طرف سے۔مستشرقین یا مغربی مصنفین تین طرح کے ہیں جنھوں نے کلام وفکر اقبال سے اعتنا کیا ہے: شعری یا نثری تحریروں کے مترجمین، شعر وفکر کے ناقدین اور کتابوں کے مبصرین اور وہ جنھوں نے اقبال کے کلام کے اجزا کو اپنے انتخابی مجموعوں میں شامل کیا۔پروفیسر اے آر نکلسن نے 1919ء میں ’’اسرارِ خودی‘‘ (1915ء ) کو انگریزی میں ڈھالااور اس پر مقدمہ بھی تحریر کیا جو اقبال کے انگریزی دنیا اور یورپ میں تعارف کا سبب بنا۔ ’’اسرارِ خودی‘‘ کی اشاعت پر ڈاکٹر سید عبداللہ کے بقول پہلے اپنے ملک میں خواجہ حسن نظامی، محمد دین فوق کشمیری اور رسالہ ’’صوفی‘‘ منڈی بہاؤالدین کے مقالہ نگاروں نے اور پھر یورپ کے علمی حلقوں نے بحث ونظر کا بازار گرم کیا۔ ڈاکٹر سید عبداللہ کہتے ہیں :
’’جہاں اقبال کے مقامی نقادوں کا مرکزی نکتہ بحث ،تصوف کی حمایت و مخالفت، وحدت الوجود والشہود کی تردید وتائید اور خودی وبیخودی کی تحقیق تھی، وہاں مغرب کے ان نقادوں نے مغربی ماحول اور مغربی ذہن کے مطابق اقبال کے فلسفہ خودی پر جرح کرتے ہوئے اسے احیائے اسلام کی ایک سعی قرار دیتے ہوئے یورپ کو آنے والے خطرے سے ڈرایا جو اسرارِ خودی کی حکمت سے (ان کی راے میں) پیدا ہو سکتا ہے۔‘‘ (ڈاکٹر سید عبداللہ، ’’اقبال کے غیر مسلم مداح اور نقاد‘‘ مشمولہ ’’اقبالیات کی مختلف جہتیں‘‘، مرتبہ یونس جاوید، ص 2)
مغربی نقادوں میں دو نے اقبال کے افکار پر ’’اسرارِ خودی‘‘ کا ترجمہ سامنے آنے کے بعد تنقید کی:پروفیسر ڈکنسن اور ایم فارسٹر؛ اقبال نے مترجم پروفیسر نکلسن کو خط لکھا جس میں ان تینوں کے نکات پر تنقید کی۔ (ان تنقیدوں اور اقبال کے خط کے اردو تراجم دارالمصنفین اعظم گڑھ کے معروف جریدے" معارف" کے شماروں جون، ستمبر اور اکتوبر 1921ء میں شائع ہوئے۔)ن کلسن نے لکھا:
’’اقبال مذہب کے بارے میں بہت پرجوش ہے۔وہ ایک نئے حرم کی تعمیر میں مصروف ہے۔اس نئی بستی سے مراد ایک عالم گیر مذہبی ریاست ہے جس میں دنیا بھر کے مسلمان نسل ووطن کی قید سے بے نیازایک ہو جائیں گے۔وہ جس ریاست کی بات کرتا ہے، اس میں دین کی بادشاہت ہو گی۔میکیاولی کی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘‘
ڈکنسن کے اعتراضات میں یہ بنیادی بات تھی کہ اقبال جہاد کی بات کرتا ہے، اس لیے اسے اس تصورِ پیکارسے خوف محسوس ہوتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ اقبال مسلمانوں کو اسلحہ کے زور سے متحد کرنا چاہتا ہے، وہ ایک خونیں ستارہ ہے، امن کا ستارہ نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ :
’’مشرق اگر مسلح ہو گیا تو ممکن ہے کہ مغرب کو تسخیر کر ڈالے، لیکن کیا اس سے وہ فساد وہلاکت کی قوت کو بھی مسخر کر لے گا؟نہیں؛ بلکہ قدیم خون ریزیاں رہ رہ کر برابر ابھرتی رہیں گی اور ساری دنیا کو مبتلائے مصائب رکھیں گی۔ بس اس کے سوا کوئی اور نتیجہ نہیں، کیا اقبال کا یہی اختتامی پیغام ہے۔؟‘‘ (مرجع مذکور، ص 5)
دوسرے جس حلقے کی طرف سے اقبال پر شدت پسندی کے پرچارک کا اعتراض ہوا، وہ ترقی پسند ادیبوں کا حلقہ ہے۔ ترقی پسند تحریک میں ڈاکٹر اخترحسین راے پوری کا مقالہ ’’ادب اور زندگی‘‘ اکتوبر 1934ء میں ہندی میں اور جولائی 1935ء میں اردو میں شائع ہوا(ڈاکٹرا نور سدید، اردو ادب کی تحریکیں، ص 436) اور یہ وہ مقالہ ہے جواس تحریک کی ’بائبل‘ ثابت ہوا۔پروفیسر آل احمد سرور اس مقالے کا ایک اقتباس نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اقبال فاشسطیت کا ترجمان ہے اور یہ حقیقت زمانہ حال کی جدید سرمایہ داری کے سوائے کچھ نہیں۔ تاریخ اسلام کا ماضی اقبال کو بہت شاندار معلوم ہوتا ہے، اس کا خیال ہے کہ مسلمانوں کا دورِ فتوحات اسلام کے عروج کی دلیل ہے اور ان کا زوال یہ بتاتا ہے کہ مسلمان اسلام سے منحرف ہو رہے ہیں، حالانکہ یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ اسلام کی ابتدائی فتوحات عرب ملوکیت کی فتوحات نہیں تھیں اور تاریخ کے کسی دور میں بھی اسلامی تصورِ زندگی پر عمل بھی ہوا تھا۔بہرحال وطنیت کا مخالف ہوتے ہوئے بھی اقبال قومیت کا اسی طرح قائل ہے جس طرح مسولینی۔اگر فرق ہے تو اتنا کہ ایک کے نزدیک قوم کا مفہوم نسلی ہے اور دوسرے کے نزدیک مذہبی۔ فاشسٹوں کی طرح وہ بھی جمہور کوحقیر سمجھتا ہے۔فاشزم کا ہمنوا ہو کر وہ اشتراکیت اور ملوکیت دونوں کی مخالفت کرتا ہے۔ ملوکیت وسرمایہ داری کا وہ اس حد تک دشمن ہے جس تک متوسط طبقہ کا آدمی ہو سکتا ہے۔ اقبال مزدوروں کی حکومت کو چنداں پسند نہیں کرتا۔ وہ اسلامی فاشسٹ ہے۔‘‘ (آل احمد سرور، اقبال اور ان کا فلسفہ ، ص 91، 92)
کچھ اسی قسم کے اعتراضات مجنوں گورکھ پوری کی طرف سے سامنے آئے۔ (اے ایم خالد، "اقبال کا خصوصی مطالعہ"(ایم اے اردو ادب سیریز)، ص310 )
مذکورہ سطور سے یہ واضح ہوا کہ مستشرقین، ترقی پسند ادیبوں اور ہمارے ہاں کے Liberals اور Neo-Religious Liberals کے نزدیک اقبال دہشت پسندی کی تعلیم دیتا ہے، اس کے ہاں مرنا مارنا اور ٹکراؤ اصل فلسفہ ہے، وہ صرف "برہم زن" کے اصول کو جانتا ہے، وغیرہ؛ تاہم جب علامہ اقبال کی جملہ نثری تحریروں کی طرف رجوع کیا جائے تو اس اعتراض کا بڑی حد تک ازالہ ہو جاتا ہے اور فکر اقبال سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ اقبال نے اسلام کو ایک پرامن مذہب کے طور پر پیش کیا ہے اور ان پر یہ اعتراض ان کی فکر کی جملہ جہات سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اس اعتراض کا ایک بڑا منشا علامہ اقبال کی سیاسی فکرکی جملہ جہات کو نظر انداز کرنا بھی ہے جو ان کی نثری تحریروں میں جگہ جگہ پھیلی ہوئی ہے۔اقبال کو بحیثیت کل دیکھنے کا مسئلہ آج تک کے اقبال شناسوں میں ایک کافی مشکل علمی مسئلے کے حیثیت سے موجود ہے اور خود اقبال کے الفاظ میں اس "مجموعہ اضداد" کی کڑیوں میں ایک "نظم"تلاش کرنا اقبال کی صحیح تفہیم کا ایک بنیادی پتھر ہے۔ اقبال کی سیاسی فکر کے بارے میں غلط فہمیوں کے حوالے سے ماضی قریب کے معروف دانش ور اور مصنف جناب مظہر الدین صدیقی نے بجا طور پر لکھا ہے:
Iqbal's political philosophy has been grossly misinterpreted. By some, he has been held us as the champion of Fascist dictatorship, others have tried to discover in his writings leanings towards Communism. Very few have tried to view as a whole the political ideas of Iqbal which lie scattered in his writings and therefrom to build up a consistent political theory which might fit in with the general framework of his philosophical ideas. It is often overlooked by the critics as well as the admirers of Iqbal that a man's political ideas cannot be isolated from the general system of his thought, because both spring from the depth of his personality, which is a unified whole. (Mazheruddin Siddiqi, Concept of Muslim Culture in Iqbal, 69)
’’اقبال کی سیاسی فکر کی بری طرح غلط انداز میں وضاحت کی گئی ہے۔بعض نے اسے فاشزم کی ڈکٹیٹرشپ کے رہ نماکے طور پر پیش کیا، جب کہ بعض نے اس کی تحریروں میں کمیونزم کی طرف جھکاؤ رکھنے والا باور کیا۔ بہت تھوڑے لوگوں نے اقبال کے سیاسی تصورات کو ان کی منتشر تحریروں کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی ہے، تاکہ ایک ایسا مربوط سیاسی نظریہ کشید کیا جا سکے جو اقبال کے فلسفیانہ افکار کے عمومی فریم سے لگا کھاتا ہو۔ اقبال کے مادحین اور ناقدین ، دونوں ہی سے یہ بات عام طور پر نظر انداز ہوئی ہے کہ انسان کے سیاسی افکار اس کی فکر کے عمومی نظام سے جدا نہیں کیے جا سکتے، کیوں کہ دونوں ہی اس کی شخصیت کے مربوط کل کی گہرائیوں سے پھوٹتے ہیں۔ ‘‘
یہاں اقبال کی اپنی تحریروں اور اقبالیات کے ماہرین کی آرا کی روشنی میں اقبال کی مذکورہ بالا شناخت کا تنقیدی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ 
ڈکنسن کے مذکورہ بالا اعتراض کا جائزہ لیتے ہوئے اقبال نے لکھا:
’’میں جس شے کا قائل ہوں، وہ روحانی قوت ہے نہ کہ جسمانی طاقت۔بے شبہہ جب کسی قوم کو جہاد کی دعوت دی جائے تو اس صدا پر لبیک کہنا میرے عقیدے میں اس کا فرض ہونا چاہیے، لیکن جوع الارض (تسخیر ممالک) کے لیے جنگ وجدل کرنا میں نے حرام قرار دیا ہے۔‘‘
چناں چہ "اسرارِ خودی" میں ایک جگہ عنوان اسی طرح باندھا ہے: ’’دربیان ایں کہ مقصد حیاِ ت مسلم اعلاے کلمۃ اللہ است وجہاد اگر محرکِ او جوع الارض باشد، درمذہب اسلام حرام است‘‘؛اقبال کے عربی ترجمان شیخ عبدالوہاب عزام نے اس کا عربی ترجمہ خوب صورت الفاظ میں کیا ہے جو مقصودکو عمدہ طور پر واضح کرتا ہے یعنی: "مقصد حیاۃ المسلم اعلاء کلمۃ اللہ، والجھاد للاستیلاء علی الارض حرام"(عبدالوہاب عزام، محمد اقبال سیرتہ وفلسفتہ وشعرہ، 86) یعنی مسلمان کی زندگی کا مقصد اللہ کا کلمہ بلند کرنا ہے اور زمین پر محض غلبہ پانے کی خاطر جہاد کرنا حرام ہے۔اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے توواضح ہے کہ اہل مغرب نے آج تک دنیا میں جو فساد مچایا ہے، وہ" جوع الارض"کے مرض کی وجہ سے برپا کیا ہے۔کہیں اقوام کے وسائل کی لوٹ، کہیں توسیعی عزائم ، کہیں حقیقی یا مفروضہ دشمن کو پامال کرنا، لیکن ان کا اعتراض صرف اسلام اور مسلم شخصیات پر ہے :
اپنے عیبوں کی کہاں آپ کو کچھ پروا ہے
غلط الزام بھی اوروں پہ لگا رکھا ہے
یہی فرماتے رہے تیغ سے پھیلا اسلام
یہ نہ ارشاد ہوا توپ سے کیا پھیلا ہے!
اسی طرح اقبال نے کشمکش کے تصور پر لکھا: ’’میں کش مکش کا جو مفہوم لیتا ہوں، وہ اصلاً اخلاقی ہے نہ کہ سیاسی، درآں حالیکہ نطشے کے پیش نظر غالباً اس کا صرف سیاسی مفہوم تھا۔۔۔ میں نے جنگ وتنازع کی صورت جس مفہوم میں تسلیم کی ہے، وہ اصلاً اخلاقی ہی ہے۔ ڈکنسن نے افسوس کہ میری تعلیم مردانگی وسختی کے اس پہلو کو نظر انداز کر دیا ہے۔‘‘
اسی طرح اقبال نے ڈکنسن کے مخصوص استشراقی پس منظر پر نقد کرتے ہوئے لکھا: ’’میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کو ایک خون ریز مذہب سمجھنے کا جو متعصبانہ خیال یورپ میں قدیم سے چلا آتا ہے، وہ ڈکنسن صاحب کے سر پر بھی سوار ہے۔ حالاں کہ واقعہ یہ ہے کہ یہ صرف مسلمان، بلکہ کافہ انام اسلامی عقیدے کی رو سے آسمانی بادشاہت میں داخل ہونے کے لائق ہے، بشرطیکہ نسل وقوم کے اصنام کو توڑ دیا جائے اور ایک دوسرے کی خودی یا انا کو تسلیم کیا جائے۔‘‘ (ڈاکٹر سید عبداللہ، حوالہ سابق، ص 8، 9)
ڈاکٹر سید عبداللہ نے اقبال کے بارے میں مغربی مصنفین میں سے پروفیسر آربری کی آرا نقل کی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال کے پیغام کو جن مستشرقین نے سنجیدگی سے دیکھا، ان کی رائے کس طرح ڈکنسن کی رائے سے مختلف ہے۔آربری نے لکھا:
’’یورپ صدیوں سے اسلام کے ساتھ نا انصافی کر رہا ہے،ان معنوں میں کہ اسلامی تہذیب وتمدن کے واضح کارناموں کو نظرانداز کرتارہا، کیوں کہ یورپ کے فضلا علمی طریقہ کار اپنانے کے بجائے مذہبی عصبیتوں میں پھنسے رہے۔۔۔اس لیے اگر اقبال نے اپنی نظم ونثر میں یہ دعویٰ کیا کہ یورپ انسانی ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے تو حقیقت یہ ہے کہ یہ یورپ کے فضلاے سابق کے تعصبات کا قدرتی ردعمل ہے۔۔۔اب جب کہ تعصبات کے بادل آہستہ آہستہ چھٹتے جا رہے ہیں، یورپ کو واقعی یہ سوچنا چاہیے کہ اس نے مشرق سے کیا کیا لیا اور اب بھی تہذیب کی ترقی کے لیے مشرق سے کیا کچھ لے سکتا ہے۔ اسی صورت میں تعمیرِ انسانیت کے مقصد میں وسیع تر اشتراکِ عمل ہو سکتا ہے۔‘‘
علامہ اقبال کے کلام کی علامات میں "شاہین" کی علامت بہت اہم ہے۔ اقبال کا شاہین غیرت و خودداری ، فقر واستغنا، خدامستی، بلند پروازی، خلوت پسندی، تیز نگاہی، سخت کوشی، آزادی، تجسس اور قوت وتوانائی کا سمبل ہے۔ اقبال کی علامتوں کے حوالے سے ڈاکٹر سجاد باقر رضوی کا یہ کہنا بہت برمحل ہے کہ "اقبال کے کلام کی روشنی میں جب ہم ان علامتوں کو سمجھتے ہیں تو ایک طرف تو اپنے شعور میں اضافہ کرتے ہیں اور روحانی زندگی کی تنظیم کرتے ہیں اور یہی علامتیں جن کے ساتھ ہماری جذباتی وابستگی ہے اور جو ہمارے لاشعور کا خارجی انعکاس ہیں، ہمارے طرزِ احساس کی تشکیل کرتی ہیں۔"(خالد اقبال یاسر، جدید تحریکات اور اقبال، ص 332، بحوالہ سجاد باقر رضوی، علامہ اقبال اور عرضِ حال ص 13) 
اقبال نے شاہین کی علامت مردِ کامل کی ترجمانی کے لیے پیش کی ہے جس سے مراد انبیاء علیہم السلام، حضراتِ صحابہ اور اولیاے امت ہیں۔اس کے مقابلے میں اقبال نے کرگس کی علامت لائی ہے جو گھٹیا درجے کی نفسانی خواہشات ، فروتر مقاصد ، فطرت کی پستی اور دوں نہاد مزاج کا استعارہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں اقبال کا شاہین ،قرآن کا "نفس مطمئنہ" اور کرگس، "نفسِ امارہ" ہے۔ تاہم اقبال کے بارے میں شدت پسندی کا بیانیہ کشید کرنے میں سب سے زیادہ اس اصطلاح سے غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے۔اسے مسولینی کی فکر اور نیٹشے کے سپر مین کی علامت قرار دیا گیا، جہاں جبر وقہر اور تسلط ہے۔جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، اس طرح کے اعتراضات زیادہ تر ترقی پسند ادیبوں نے کیے۔ فکر اقبال کے سلسلے میں ایک معتبر نام عزیز احمد(مصنف ، "اقبال ۔ نئی تشکیل") کا ہے۔انھوں نے ان امور پر نقد کرتے ہوئے لکھا: ’’[اقبال کا شاہین] بلند پروازی اور خیر کی طاقت کا رمز ہے، جبر کا نہیں۔طاقت اس لیے ضروری ہے کہ اس سے انسان مظلوم نہیں بن سکتا۔‘‘ عزیز احمد مزید کہتے ہیں کہ اقبال نے دوسرے مذاہب کے حقوق پامال کرنے کی ہدایت کبھی نہیں کی، صرف اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے طاقت جمع کرنے کی تلقین ضرور کی ہے۔
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کے بعض دیگر مقالات کے براہِ راست اقتباسات بھی درج کیے جائیں جو ان کی سیاسی فکر پر روشنی ڈالتے ہیں؛ کیوں کہ علامہ کے کلام میں ’’خلافت‘‘ کا لفظ دیکھتے ہی غلط فہمیوں کا ایک سلسلہ جنم لے لیتا ہے اور اس اصطلاح کو اقبال کے پورے فکری نظام میں رکھ کر دیکھنے کے بجائے جزوی تفہیم کے نتیجے میں غیرصحیح نتائج اخذ کرلیے جاتے ہیں۔
اقبالیات میں ایک مستقل ذیلی صنف "اقبال دشمنی" کو اقبالیات کے نامور محقق جناب ڈاکٹر ایوب صابر نے ایک پورے پراجیکٹ کے طور پر پانچ کتابوں میں مکمل کیا ہے۔ ’’اقبال کی فکری تشکیل ۔ اعتراضات اور تاویلات کا جائزہ‘‘ نامی کتاب میں انھوں نے ’’کیا اقبال جارحیت پسند ہیں؟‘‘ کے عنوان کے تحت زیر نظر تحریر کے مقصد پر گفت گو کی ہے، تاہم انھوں نے اقبال کی نثری تحریروں کا بھرپور جائزہ نہیں لیا جو کہ ضروری تھا، کیوں کہ اقبال کے تصورِ سیاست کی ناقص تفہیم کے ساتھ لوگ تصورِ جارجیت کو جوڑتے ہیں۔یہاں اقبال کی نثری تحریروں کے مختلف اقتباسات دیے جا رہے ہیں۔ راقم کے پیش نظر سید عبدالواحد معینی کے مرتب کردہ ’’مقالاتِ اقبال‘‘ ،پروفیسر ڈاکٹر محمد ریاض کے مرتب کردہ ’’افکارِ اقبال‘‘ اور لطیف احمد شیروانی کی مرتب کردہ Speeches, Writings & Statements of Iqbal ہیں جن میں اقبال کی Original تحریریں درج ہیں۔ ’’افکارِ اقبال‘‘ میں ایک مقالہ ہے ’’اسلام کا اخلاقی اور سیاسی نقطہ نظر‘‘؛ یہ اصل میں ترجمہ ہے اقبال کے ایک مقالے "Islam as a Moral and Political Ideal" کا جو شیروانی کی مذکورہ بالا کتاب کا حصہ ہے؛اس میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’قرآن مجید نے دفاعی جنگ لڑنے کی اجازت دی ہے، لیکن منکروں اور کافروں کے خلاف جارحانہ جنگ لڑنے کا عقیدہ اسلام کی مقدس کتاب کی رو سے بالکل ناجائز ہے۔۔تمام جنگیں جو پیغمبر اسلام کے زمانہ حیات میں لڑی گئیں، دفاعی تھیں۔۔دفاعی جنگوں میں بھی پیغمبر اسلام نے مفتوح پر وحشیانہ ظلم کرنے سے منع کیا ہے۔میں ذیل میں آپ کے وہ رقت انگیز کلمات درج کرتا ہوں جو آپ نے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے اس وقت ادا کیے جب وہ جنگ کے لیے جا رہے تھے۔ ‘‘
نبی پاک کے اس فرمان کے اقتباس میں بچوں، عورتوں ، غیر مقاتلین (Non-Combatants) وغیرہ سے جنگ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ آگے اقبال لکھتے ہیں :
’’تاریخ اسلام ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام کی توسیع واشاعت بطور مذہب کسی صورت میں بھی اس کے پیرؤوں کے سیاسی اقتدار سے مربوط نہیں۔ اسلام کی سب سے بڑی روحانی فتوحات ہمارے سیاسی زوال اورانحطاط کے زمانے میں عمل میں آئیں۔‘‘
مزید لکھتے ہیں:
’’صداقت تو یہ ہے کہ اسلام لازمی طور پر امن کا مذہب ہے۔سیاسی، اجتماعی اور معاشرتی خلل کی تمام صورتوں کو قرآنِ مجید نے غیرمصالحت پسندانہ اصطلاحات میں مسترد کیا ہے۔‘‘
آیاتِ قرآنی نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’ان آیات سے پتا چلتا ہے کہ قرآنِ مجید نے کتنی سختی کے ساتھ کھلے انداز میں سیاسی ، اجتماعی اور معاشرتی بدنظمیوں کی تمام صورتوں کی مذمت کی ہے۔ ‘‘
نیز لکھتے ہیں:
’’اسلام کا مطمح نظر ہر قیمت پر اجتماعی اور معاشرتی امن وامان کوحاصل کرنا ہے۔معاشرے میں سخت اور شدید قسم کے تمام طریقوں کی بڑی روشن اور واضح زبان میں مذمت کی گئی ہے۔‘‘
اس کے بعد انھوں نے وہ احادیث نقل کی ہیں جن میں امیر اگر ایک حبشی غلام بھی ہے توا س کی اطاعت کا حکم ہے، ان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ہم میں سے وہ لوگ جو اس بات کو اپنا شعار بناتے ہیں کہ سیاسی عقائد میں مسلمانوں کی ہیئت عمومی سے اختلاف کریں تو ان کو چاہیے کہ اس حدیث کو بڑے غور اور بڑی احتیاط سے پڑھیں اور اگر ان کے دل میں پیغمبر اسلام کے الفاظ کے لیے کوئی احترام ہے تو یہ ان کا فرض ہے کہ سیاسی رائے کے اظہار میں خود کو اس گھٹیا روش سے باز رکھیں۔‘‘
آگے لکھتے ہیں :
’’قومیت ہی اسلامی اصول کی خارجی علامت ہے۔یہی وہ اصول ہے جو اسلام میں انفرادی آزادی کو محدود کرتا ہے، ورنہ اسلام کے آئین کی رو سے ہرفرد مطلقاً آزاد ہے۔ ایسی قوم کے لیے حکومت کی بہترین صورت جمہوریت ہے جس کا نقطہ نظر یہ ہے کہ انسان کو قابل عمل حد تک آزادی دی جائے تاکہ وہ اپنی فطرت کے تمام امکانات کی نشوونما کر سکے۔‘‘
آگے اقبال نے اسلام کے سیاسی ڈھانچے پر گفتگو کی ہے جس میں اقتدارِ اعلیٰ میں اللہ کے قانون کی حاکمیت، قوم کے تمام افراد میں مساوات ، فرقہ پرستی کی مذمت، مسلکی جھگڑوں پر تنقید اور وحدت کی دعوت دی گئی ہے۔ (ملاحظہ ہو، علامہ اقبال، "افکارِ اقبال"، مرتبہ پروفیسر ڈاکٹر محمد ریاض، ص 27 150 52) 
اقبال کے اس مضمون میں اسلام کے تصورِ جہاد میں دفاعی جہاد کا موقف اپنایا گیاہے جو ایک خاص فضا میں برصغیر میں بعض افراد کے ہاں سامنے آیا جیسے سید امیر علی، چراغ علی،علامہ شبلی نعمانی وغیرہ؛ تاہم یہ موقف محل نظر ہے جس پر نقد کا یہاں موقع نہیں، لیکن اس کے علی الرغم اقبال کا یہ مضمون نہایت واضح طور پر ایسے خطوط دیتا ہے جن کی رو سے آج کی شدت پسند تحریکوں کے لیے اقبال کے ہاں کوئی جگہ نہیں۔ یہاں یہ دلچسپ تقابل پیش نظر رکھنا مناسب ہے کہ مولانا وحید الدین خان بھی صدرِ اول کے غزوات وسرایا کے بارے میں اقدامی کے بجائے دفاعی ہونے کے نقطہ نظر کے قائل ہیں اور اقبال بھی؛ لیکن وہ اقبال کے بارے میں موجودہ حالات کے لحاظ سے ایک بالکل دوسرے اور غیردرست نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ اس طرح کے امور ہراس شخص کو پیش آئے ہیں، جنھوں نے اقبال کی فکر کے کسی ایک جز کو سامنے رکھ کر کوئی نتیجہ اخذ کیا ہے۔ ممکن ہے مولانا کے پیش نظر یہ بات ہو کہ چوں کہ تقسیم برصغیر کے معاملے میں اقبال تقسیم کی پالیسی پر عمل پیرا تھے، اس لیے ضرور ہے کہ ان کی فکر بس "تقسیم" ہی سکھاتی ہے، حالاں کہ وہ اس وقت کے تناظر میں ایک خاص فیصلہ تھا جسے مسلمانانِ برصغیر نے اختیار کیا جس کے پس منظر، وجوہ اور جواز میں ان حضرات کا تصور کچھ کم زور اساسات پر استوار نہیں تھا۔ یہاں اس بحث میں جانے کا موقع نہیں۔ 
اسلام میں خلیفہ کے تصور کے ذیل میں اسلام کے شورائی مزاج کے روح کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا ہے:
"The Caliph is not necessary the high-priest of Islam; he is not the representative of God on earth. He is fallible like other men and is subject like every Muslim to impersonal authority of the same law... In fact the idea of personal authority is quite contrary to the spirit of Islam." (Sherwani, Speeches, Writings & Statements of Iqbal, 142.)
’’خلیفہ اسلام میں کوئی پوپ نہیں ہوتا، وہ زمین پر خدائی ترجمان نہیں ہوتا۔ وہ ویسا ہی غیرمعصوم ہوتا ہے جیسے دیگر لوگ اسی قانون کے غیرشخصی اقتدار کے تابع ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شخصی اختیار کا تصور مکمل طور پر اسلام کی روح کے منافی ہے۔‘‘
’’مقالاتِ اقبال‘‘ (مرتبہ عبدالواحد معینی) میں ایک مضمون ’’خلافت اسلامیہ 150 عرب جاہلیت اور طریق انتخابِ رئیس‘‘ ہے جواس باب میں اقبال کی فکر کی توضیح میں بہت اہم ہے؛ اقبال کہتے ہیں:
’’اسلام ابتدا ہی سے اس اصول کو تسلیم کر چکا تھا کہ فی الواقع اور عملاً سیاسی حکومت کی کفیل وامین ملت اسلامیہ ہے کہ کوئی فردِ واحد؛ ہاں جو عمل انتخاب کنندگان اس معاملہ میں کرتے ہیں، اس کے معنی صرف یہی ہیں کہ وہ اپنے متحدانہ وآزادانہ عملِ انتخاب سے اس سیاسی حکومت کو ایک ایسی مختصر ومعتبر شخصیت میں ودیعت کر دیتے ہیں جس کو وہ اس امانت کا اہل تصور کرتے ہیں۔ یوں کہو کہ تمام ملت کا ضمیر اجتماعی اس ایک فرد یا شخصیت منفردہ کے وجود میں عمل پیرا ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقتاً اور صحیح معنوں میں فرد تمام کی تمام قوم کا نمائندہ کہلا سکتا ہے، لیکن ایسے فرد کا مسند حکومت پر متمکن ہونا شریعت کے نزدیک اسے کسی برتری یا ترجیح کا مستحق ہرگز نہیں بناتا۔شریعتِ حقہ کی نگاہ میں اس کی شخصی وذاتی حیثیت بالکل وہی رہے گی جو ایک عام دوسرے مسلمان کی ہے۔اس کوان افراد پر ، جن کا وہ نمائندہ ہے، سوائے اس حکومت کے جو شرعاً آئین کے نافذ کرنے کی غرض سے اسے حاصل ہے اور کوئی اختیار و اقتدار نہ ہوگا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب اسلام میں مسئلہ "قانون سازی" کی بنیاد شریعت کے تصریحی احکام کے بعد تمام تر اتحاد و اتفاق و آرائے جمہور ملت کے بنیادی اصول پر قائم ہے۔ ‘‘ 
مزید لکھتے ہیں:
’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خود اپنے فرزند کو خلافت کی امیدواری سے مستثنیٰ رکھنا کس قدر روشن اور جلی ثبوت ہے اس الم نشرح حقیقت کا کہ اس زمانے تک عرب کے سیاسی دل ودماغ کو روایتی بادشاہت کے خیال سے قطعاً بعد اور مغائرت تھی۔‘‘
’’جمہوریہ اسلامیہ کی بنا شریعت حقہ کے نزدیک ایک مطلق اور آزاد مساوات پر قائم ہے۔شریعت کے نزدیک کوئی گروہ، کوئی ملک، کوئی زمین فائق ومرجح نہیں۔ اسلام میں کوئی مذہبی پیشوائی یا مشیخت نہیں۔ ذات پات یا نسل ووطن کا امتیاز نہیں۔۔۔اسلام کا سیاسی منتہا یہ ہے کہ تمام نسلوں اور قوموں کے آزادانہ اتحاد واختلاط سے ایک نئی جامع فضائل وکمالات قوم پیدا کی جائے۔ ‘‘
اسی مضمون میں اقبال نے خلیفہ اسلام کے اوصاف شمار کرنے کے بعد عالم اسلام میں، ابن خلدون کے تصورِتعددِ خلفا کے نظریے کی حمایت کی ہے اور نظیر کے طور پر حضرت معاویہ اور حضرت علی کی خلافتوں کو پیش کیا ہے۔ اقبال کے تصورِ خلافت کو سمجھنے کے لیے یہ مضمون نہایت اہم ہے جو لبرل ازم اور معاصر شدت پسندانہ رویوں کے مابین منہجِ اعتدال کا حامل ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: علامہ محمد اقبال، "مقالاتِ اقبال"، مرتب سید عبدالواحد معینی، ص 123۔ 153)
فکر اقبال کے اس نثری پہلو کا نقش اولین راقم نے سب سے پہلے جناب ڈاکٹر معین الدین عقیل کی کتاب ’’اقبال اور جدید دنیائے اسلام: مسائل ، افکار اور تحریکات‘‘ میں پڑھا تو احساس ہوا کہ اقبال کی فکر اس پہلو سے ہمارے یہاں بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہے۔پھر براہ راست ان کی نثری تحریروں کو دیکھا تو یہ تصورِ مزید مستحکم ہوا۔ اس کے بعد ایک دوست کی وساطت سے معاصر ماہر اقبالیات جناب خرم علی شفیق نے اپنی مختصر کتاب ’’اسلامی سیاسی نظریہ علامہ اقبال کی فکر کی روشنی میں ‘‘ حاصل ہوئی تو اس کے نقوش مکمل طور پر نکھر کر سامنے آئے جس سے واضح ہوا کہ اقبال اسلامی حکومت سے کوئی جبر اور تسلط پر مبنی کسی سیاسی نظریے کا تصور پیش نہیں کرتے ہیں، بلکہ اس میں شریعت کے قانون کی بالادستی کے ساتھ جدید جمہوری تصورات کے صالح اجزا کو بھی پورے طور پر پیش نظر رکھا گیا ہے؛ یوں یہ تصور ایک خوب صورت اور متوازن تصورِ سیاسی کی شکل میں سامنے آتا ہے جس میں دینی روح اور تمدنی ارتقا دونوں کی پاس داری ملتی ہے جو اس وقت ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔
اقبال ایک طرف اگر اقتدار اعلیٰ میں شریعت کی بالادستی کے قائل ہیں تو دوسری طرف پارلیمنٹ کو حق اجتہاد تفویض کرنے کے قائل ہیں، لیکن ساتھ وہ خلیفہ کے اوصاف بھی تفصیل سے ذکر کرتے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکم ران کو دینی لحاظ سے کن اوصاف سے متصف ہونا ضروری ہے۔ 
ہمارے یہاں ایک طرف اسلا م کے نام پر پرتشدد تحریکوں کا بیانیہ ہے جو بزورِ شمشیر اسلام کو لوگوں کے لیے قابل قبول بنانا چاہتی ہیں، تو دوسری طرف سیکولر اور لبرل ذہن کا جو مغرب سے مرعوب، کسی مجاہدہ نفسانی سے گریزاں اور ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ کےHedonistic فلسفے پر عمل پیرا ہے۔محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے بیانیے میں اگرچہ اربابِ حکومت کی کچھ دینی ذمے داریاں بھی شمار کی گئی ہیں، لیکن عملی طور پر قانون سازی کے عمل میں قرآن وسنت کی بالادستی کو ختم کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں یہ بڑی حد تک دوسری قسم کے بیانیے کے لیے سازگار ہو گیا ہے۔ اس میں آج تک کی علما اور مخلصین ملت کی پرامن دینی جمہوری مساعی پر پانی پھر جاتا ہے۔ اس لیے جدید جمہوری اداروں کو ایک وجودی حقیقت کے طور پر باقی رکھتے ہوئے اسلام کے تصورِ خلافت کی Values کی جو آئیڈیالوجی اقبال کے ہاں ہے، اس کو اپنانا اور اپنے پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ 
اقبال کا یہ تصور منہجِ اعتدال معلوم ہوتا ہے جس میں اسلام کے تصورِ سیاست اور جدید تمدنی ارتقا کے تقاضوں کی پاس داری موجود ہے، نیز پاکستان کے تناظر میں یہ اوپر مذکورہ علما اور مخلصینِ ملت کی مساعی کے بھی موافق ہے۔مذکورہ بالا توضیحات سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اقبال جہاں ’’جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘ جیسی باتیں اپنی شاعری میں کرتے ہیں تو ان کا حقیقی محل اور مفہوم کیا ہوتا ہے اور یہ کہ کس طرح یہ بات شدت پسندی بیانیے کی حمایت نہیں کرتی۔ یہ بات ظاہر ہے فکر اقبال کو بحیثیت مجموعی پیشِ نظر رکھنے سے سامنے آتی ہے، ورنہ جزوی امور پر توجہ مرکوز رکھنا بہت غلط نتائج اخذ کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ واللہ اعلم!

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں پہلا عالمی اسلامی مفاہمتی اجلاس

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مسلمانان عالم کی دھماکہ خیز صورت حال، باہمی چپقلش اورداخلی نزاعوں کے عالم میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے دنیابھرکے مسلمانوں کے لیے مصالحت اورکلمہ کی بنیادپر وحدت کی آواز مسلسل بلند کی جارہی ہے۔ اس مقصد سے ۳۔۴ اپریل 2017 کو یونیورسٹی کے مرکز برائے فروغ تعلیم و ثقافت مسلمانان ہندکی طرف سے پہلاعالمی اسلامی مفاہمتی اجلاس ہوا۔ مذکورہ مرکز کے صدراوربرج کورس کے ڈائرکٹر پروفیسر راشدشاز، جواِس کانفرنس کے داعی اورروح رواں تھے،نے کانفرنس کے انعقادسے قبل اس کی غرض وغایت پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے ایک پریس بیان میں بتایاتھاکہ اس مفاہمتی کانفرنس کاتصوریہ ہے کہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ جب تک دنیابھرکے مسلمانوں کے مختلف دھڑے ایک مشترکہ جدوجہدکا ڈول نہیں ڈالتے، ہمارے لیے اقوام عالم کی قیادت کا حصول توکجا، خود اپنی بقا و وجود کو باقی رکھنا ممکن نہ ہوگا۔
ڈاکٹرشاز نے اپنے بیان میں کہاتھاکہ ہم نے اس سے قبل بھی دوکانفرنسیں کیں جن میں متعدد ممالک سے امت مسلمہ کے متفکر اور دردمند افراد علی گڑھ پہنچے اورسب کا مشترکہ خیال تھاکہ ایک نئی صبح کا آغاز پرانی ترکیبوں سے نہیں ہوسکتا۔ان کا احساس تھاکہ جب تک امت میں نفرت پر مبنی فتوے بازی ،شرانگیزتحریروں وتقریروں پر لگام نہیں لگائی جاتی، تب تک مسلمانوں میں کسی حقیقی اتحادکا قیام ممکن نہیں۔ڈاکٹرشازکااحساس تھاکہ اس پیغام کوزیادہ بڑے پیمانہ پر مسلمانوں تک پہنچانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ امت مسلمہ کے تمام فرقے اورمکاتب فکرباہمی افہام وتفہیم کے لیے مسلسل ایک دوسرے سے ملتے رہیں۔چنانچہ۳ ،۴،اپریل کوہونے والی یہ عالمی کانفرنس اسی سلسلہ کی ایک پیش رفت تھی جس میں نہ صرف امت کے تمام گروہوں کے لیے باہمی ارتباط کا ایک موقع فراہم کیاگیابلکہ مستقبل کے لیے بھی ایک مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل کی کوشش کی گئی۔
اس دوروزہ اجلاس میں جن امورپر غورکیاگیا وہ یوں ہیں:
۱۔مسلمان،اہل کتاب اورشبہ اہل کتاب :مستقبل کا منظرنامہ 
۲۔ایک نئے علی گڑھ کی صورت گری :کیاایک دوسری علی گڑھ تحریک برپاکرنے کا وقت آگیاہے ؟
۳۔دینی مدارس میں سائنسی علوم کا مستقبل :ایک نئے قرطبہ ماڈل کا احیاء 
۴ہندوستان میں مسلم پرسنل لاء :ایک نئے لائحہ عمل کی تلاش 
۵۔مفاہمتی اجلاس:اہم پالیسی اعلانات
اس کانفرنس میں ایک خاص سیشن برج کورس کے سابق فارغین اورموجودہ بیچ کے نوجوان علماء وعالمات کے لیے رکھاگیاتھاجس میں انہوں نے مذکورہ بالاچاروں عناوین اوران سے متعلقہ مختلف ذیلی مباحث پرامت مسلمہ کے مستقبل کے سلسلہ میں اپناوژن پیش کیا۔یادرہے کہ برج کورس گزشتہ چارسالوں سے ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے مدارس اسلامیہ کے طلبہ کویک سالہ پروگرام کے تحت جدیدعلوم کی تعلیم وتربیت دیتاہے ،جس کے بعدیہ طلبہ یونیورسٹی مین اسٹریم میں جانے کے لائق ہوجاتے ہیں۔اس نئے تعلیمی تجربہ کوملک وبیرون ملک میں خاصاسراہاجا رہاہے ۔اس کانفرنس کا انعقادبھی انہیں نوجوان طلباء کے فورم ’’انجمن علماء اسلام ‘‘کے پلیٹ فارم سے کیاگیاتھا۔
اس عالمی مصالحتی کانفرنس میں ملیشیا، ترکی وجاپان کے اسکالروں کے علاوہ ہندوستان کے ممتازعلما ودانشوران،ملی رہنماؤں، سماجی کارکنان،صحافیوں اورکالم نگاروں نے شرکت کی اوردودن تک کھلے طورپر اپنے خیالات کے اظہار اور بحث ومباحثہ کے ذریعہ نہایت علمی اورخوشگوارومتحرک ماحول بنائے رکھا۔واضح رہے کہ مذکورہ مرکزاس سے قبل بھی ملک وملت کے لیے حساس اورگرم موضوعات پر دوعالمی کانفرنسیں کرچکاہے۔اس کے پروگراموں کوشعوری طورپر اس طرح ترتیب دیاجاتاہے کہ رسمی طورپر صرف پیپرزکی خواندگی نہ ہوبلکہ مشارکین بھرپورتیاری کے ساتھ آئیں،اپنے مقالا ت تحریر کریں مگر کانفرنس میں اپناpresentation نہایت اختصارکے ساتھ کریں تاکہ ہرموضوع پر زیادہ سے زیادہ بحث ومباحثہ ہواورمشارکین نیز کانفرنس کے عام شرکاء کھل کراپنے خیالات کا اظہارکرسکیں۔یوں ایک نئی علمی طرح بھی علی گڑھ میں ڈالی جارہی ہے۔ 
کانفرنس کے افتتاحی جلسہ میں مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلرجناب لیفٹیننٹ ضمیراالدین شاہ نے ہندوستانی مسلمانوں کو ملک کی موجودہ صورت حال میں، جہاں کہ مرکزاورملک کی اکثربڑی ریاستوں میں ہندواحیائی قوتیں برسراقتدار آچکی ہیں، حوصلہ دیتے ہوئے کہاکہ ہم ہندوستان میں ہم وطنوں سے مل جل کر رہیں گے لیکن اپنا مذہب اور تہذیب کو برقرار رکھیں گے۔ اسی طرح کانفرنس کے داعی اورمرکزکز برائے فروغ تعلیم مسلمانان ہند اوربرج کورس کے ڈائرکٹرپروفیسرراشدشاز نے امت مسلمہ کے تابناک ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ :جب مسلمان ایک امت تھے تو دنیا کا کوئی بڑا فیصلہ ہمارے بغیر نہیں ہوتا تھا۔ 
افتتاحی سیشن میں مرکز کے سینئر فیلو ڈاکٹر محمد زکی کرمانی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ جب کہ دوسری قومیں چاند ستاروں پر کمندیں ڈال رہی ہیں، ہم ابھی تین طلاقوں میں ہی الجھے بیٹھے ہیں۔ حیدر آباد سے آنے والی سماجی کارکن ڈاکٹر لبنیٰ ثروت کاکہناتھا ہم عورتوں کوتومسجدمیں جانے کی اجازت ہی نہیں مگرجولوگ جاتے ہیں، ان کوبھی کوئی پیغام نہیں مل پاتاہے کیونکہ وہ مسجد میں جاتے ہیں جہاں خطبہ اس زبان میں دیا جاتا ہے جسے لوگ سمجھتے نہیں، آخرہمارے فکراور تھیولوجی میں یہ جمودکیوں ہے؟ ڈاکٹر لبنیٰ نے سوال کیا کہ آج دنیا کو یا اپنے ملک کو ہم کیا پیغام دے رہے ہیں؟انھوں نے کہا کہ دنیا میں ماحولیات ، معاشیات،حقوق انسانی اورعام انسانوں کودرپیش مسائل پر بحث ومباحثہ میں ہم کہاں ہیں؟ برج کور س کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کوثر فاطمہ نے مسلم خواتین کے حوالے سے قرآن واسوۂ رسول کی روشنی میں صحیح پوزیشن واضح کی اور مسلمانوں کی عملی صورت حال کا شکوہ کیا۔ انہوں نے سوا ل کیا کہ خواتین کو ناقص العقل قرار دینے والے کیا حضرت عائشہؓ و خدیجہؓ کو بھی ناقص العقل قرار دینے کی جرأت کریں گے؟
علماء کی عالمی انجمن(قطر) کے نمائندہ اورملی شخصیت ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے عرب ممالک میں مسلکی تشدد اور شام وعراق کی تباہ کن خانہ جنگی اورانتہاپسندانہ جنون کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے بڑے اطمینان کی بات ہے کہ عالم اسلام میں مصالحت کی یہ آواز ہندوستان سے اٹھ رہی ہے کہ ماضی میں بھی مسلمانان ہند امت مسلمہ کے حساس مسائل اورایشوزپر جرأت وحمیت کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں ۔انہوں نے یہ تجویزبھی پیش کی کہ ایک مجلسِ حکماء (Council of Elders (کی تشکیل کی جائے جومسلم حکمرانوں اورارباب حل وعقدکوصلاح ومشورے دے۔ 
جاپان کی مسلم ایسوسی ایشن میں نوجوانوں کے شعبہ کے ڈائرکٹر اورعالمی ادارہ برائے فکراسلامی واشنگٹن کے رکن ڈاکٹر احمد شیوزکی یوکی نے مشورہ دیا کہ دوسرے معاشروں کے مقابلے میں مسلم اقلیتوں کے لیے زیادہ ضروری ہے کہ اکثریتی قوموں کے ساتھ پر امن رہنے کے طریقے سیکھیں۔ شیعہ تھیولوجی کے چیئرمین پروفیسر سید علی محمد نقوی نے امت مسلمہ کو درپیش چیلنجوں کے مقابلے کے لیے چار اصول پیش کیے : دوسرے مسلک ومکتب فکرکوبرداشت کرنا ، تکفیر کا انکار ، بہتان طرازی سے پرہیز اوردوسروں کی اہانت ودل آزاری سے اجتنا ب۔
اسلامی فقہ اکیڈمی (انڈیا)کے سیکریٹری مولانا امین عثمانی ندوی نے فرمایا کہ برج کورس سے مدارس کے طلبہ کو غیر معمولی فائدہ ہورہا ہے ۔ انھوں نے تاریخی طورپر اسلام میں اصلاح حال کے لیے تغییر ، تجدیداور تفکیر کے پراسس پر روشنی ڈالی اورماضی کی اس تابناک روایت کے احیاء کے لیے عقل کے استعمال پر زور دیا۔ 
جماعت اسلامی ہند کی مرکزی شوری کے رکن مجتبیٰ فاروق نے بڑے دردسے کہاکہ ہندوستان میں یوپی کے حالیہ انتخابات میں مسلمانوں کی بری گت بن گئی ہے جبکہ اسی یوپی میں دیوبند بھی ہے، مسلم یونیورسٹی بھی، ندوۃ اور اشرفیہ بھی ، لیکن ہماری بصیرت جیسے کہیں کھوگئی ہے ۔ افتتاحی سیشن سے خاتو ن سماجی ایکٹیوسٹ سائرہ شاہ حلیم نے اپنے خطاب میں مشورہ دیا کہ ہمیں اکثریتی سماج کے لوگوں کو اپنے گھر بلانا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ ان سے میل جول بڑھایا جائے۔ہمیں چاہیے کہ اکثرتی سماج کوسمجھیں اس کے بعد ہی ہم امید کرسکتے ہیں کہ وہ بھی ہمیں سمجھیں گے۔ 
مرکزی جمعیت اہل حدیث کے صدر مولانا اصغرعلی امام سلفی نے فرمایاکہ یہ مفاہمتی اجلاس وقت کی ضرورت ہے۔ آج خوارج کی فکرکی پھرسے تجدیدہورہی ہے جواسلام اورمسلمانوں کے لیے شدیدنقصانات کا باعث بن رہی ہے، اس کا مقابلہ کیاجاناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ یہ مفاہمتی اجلاس صحیح معنی میں تبھی کامیا ب ہوگا جب ہم سب لوگ عملاً اس اجلاس کے روح رواں اور داعی راشد شاز صاحب کا ان کے ملی کاموں میں ساتھ دیں گے۔
مرکز برائے فروغ تعلیم مسلمانان ہند کے ڈائریکٹر پروفیسر راشد شاز نے اپنے خطاب میں مسلمانان عالم کی ناگفتہ بہ صورت حال کا مختصراًجائزہ لیااوراس تجویز کا کہ علی گڑھ سے ایک عالمی سطح کی مجلس حکماکی تشکیل کی جائے اور اس کی ابتداء اسی کانفرنس سے ہو،خیرمقدم کیااوراس بارے میں اپنے پورے تعاون کایقین دلایا۔ وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ نے اپنے صدارتی خطے میں لوگوں کو اس بات پر ابھارا کہ اب فرقہ بندی کی دیواریں گرادی جائیں اور مدارس میں دنیاوی علوم بھی داخل کیے جائیں۔ انھوں نے طلباء اور طالبات کو نصیحت کی کہ صبح کے وقت کا صحیح استعمال کریں۔ مزیدبرآں برج کورس نے طلباء وطالبات کے مابین’’برج کورس میں میراعلمی سفر‘‘کے موضوع پر مضمون نگاری کا ایک مقابلہ کرایا تھا جس کے انعام یافتگان کو وائس چانسلر صاحب کے بدست انعامات کی تقسیم بھی کانفرنس کے پہلے سیشن میں عمل میں آئی۔ نیز وئس چانسلرصاحب کی خدمت میں سپاس نامہ بھی طلبۂ برج کورس نے پیش کیا۔
افتتاحی اجلاس کے بعدپہلے اوردوسرے دن اس کانفرنس کے اہم ترین موضوعات پر ورکنگ پیپرزپیش کیے گئے جن پر مشارکین نے گفتگواوربحث ومباحثہ کیا۔ دونوں دن مختلف سیشنوں میں اسکالرز اور مقررین نے ان موضوعات کا احاطہ کیا۔ مدارس میں سائنسی علوم کے مستقبل کے موضوع پربولتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ خاتون نے کہا کہ علم اسماء بعض مفسرین کے نزدیک خواص اشیاء کا نام ہے۔ اس سے استنباط کیاجاسکتاہے کہ ہمارانظام تعلیم ایسا ہوناچاہیے جس میں دینی و عصری علوم کا امتزاج ہو۔انہوں نے اقبال کا یہ شعرپڑھا: 
جوعالم ایجادمیں ہے صاحب ایجاد
ہردورمیں کرتاہے طواف اس کا زمانہ 
ڈاکٹر محمد عامر نے رائے دی کہ سائنس کے بارے میں زیادہ تر علماء یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس سے خدا بیزاری پیدا ہوتی ہے ، حالانکہ مطلقاًیہ بات درست نہیں ہے۔انیسویں صدی کی سائنس میں یہ رعونت پائی جاتی تھی مگراب سائنسی فکرخودخداکے وجودکوتسلیم کررہی ہے۔ مرکز برائے فروغ تعلیم مسلمانان ہندکے سینئر فیلواور سائنٹسٹ ڈاکٹرمحمد زکی کرمانی نے اپنے تعلیمی وسائنسی تجربات کی روشنی میں یہ رائے دی کہ ملک میں رائج آٹھویں درجہ کا جدید سائنسی نصاب مدارس میں داخل کیا جانا چاہیے اور اسی طرح مغربی تہذہب اورمغربی سائنسی فکر کا ابتدائی تعارف بھی کرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ مدارس کا جوآزادانہ نظام ہے، اس میں ایک مثبت پہلویہ ہے کہ وہ اس امکان کوروشن کرتاہے کہ گورنمنٹ کے سیکولرتعلیمی سسٹم کے پہلوبہ پہلوایک دوسراآزادانہ نظام بھی چل سکتاہے ۔ مدرسہ سراج العلوم سنبھل کے مہتمم مولانا محمد میاں قاسمی نے فرمایا کہ مدارس دراصل خود رروجنگل ہیں ان کا کوئی متحدہ سسٹم نہیں ہے۔ انھوں نے اہل مدارس سے سوال کیا کہ قرآن پاک میں تقریباً سولہ سو آیات ایسی ہیں جن میں کائنات کی نشانیوں کو بتایا گیا ہے اور سائنس کو جانے بغیر ان آیات کو کیسے سمجھا جاسکتا ہے۔ 
پروفیسر راشد شاز نے مغربی نظام تعلیم کے بعض امریکی ناقدین کے حوالہ سے یونیورسٹیوں اورکالجوں میںآئے تحقیقی اوراکیڈمک انحطاط پر روشنی ڈالتے ہوئے اس پر زور دیا کہ مدرسہ سسٹم اور یونیورسٹی سسٹم دونوں میں بعض اچھائیاں اور بعض خرابیاں ہیں۔اس لیے دونوں کی خرابیوں سے بچتے ہوئے اوردونوں کی اچھائیوں کو جمع کرتے ہوئے ایک نیا تعلیمی ماڈل ترتیب دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہمارایہ پراناخواب ہے اوراب اس کوتعبیردینے کا وقت آن پہنچاہے۔
رٹائربینکرجناب نفاست یارخاں نے کہاکہ مسلمانان ہندکوسرسیدکے ماڈل کواختیارکرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں کو خیربادکہتے ہوئے صرف تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ دینی تعلیم کے ساتھ مدارس میں شروع ہی سے انگریزی پڑھائیں۔ ڈاکٹرمحمدآصف خاں نے عالم اسلام کی دوسری مشہوراورقدیم یونیورسٹی جامعۃ القرووین کا تعارف پیش کیااوراس کی بانیہ فاطمہ الفہریہ کی حیات اورکارناموں پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹرشفیق الرحمان نے مدارس کے مختلف ٹرینڈز کا جائزہ پیش کیااوربتایاکہ مدارس کے تعلیمی دورانیہ میںیکسانیت نہیں جس سے عا لمیت وفضیلت کی سندوں میں بھی ٹیکنیکل پیچیدگیاں ہیں۔جولوگ مدارس سے یونیوسٹیوں میں آتے ہیں، ان کے لیے بڑے مسائل پیداہوجاتے ہیں۔اسی طرح انہوں نے حیرت ظاہرکی کہ گلی محلوں میں چھوٹے چھوٹے مدرسوں کوبھی اہل مدارس عموماً جامعہ بولتے ہیں جبکہ جامعہ کا اطلاق موجودہ دورمیں یونیورسٹی پرہوتاہے۔ کالم نگارڈاکٹرسلیم خاں نے ذریعہ تعلیم کے طورپر مادری زبان کی افادیت پرروشنی ڈالی اوردنیاکی ترقی یافتہ اقوام جرمن،فرنچ،جاپانی اورچینیوں کے حوالہ سے بتایاکہ مادری زبان میں پڑھنے سے تصورات زیادہ کلیرہوتے ہیں۔
مسلم پرسنل لاوالے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبندکے ایک بزرگ فاضل مولاناکبیرالدین فوزان قاسمی نے اپنی یہ تحقیق پیش کی کہ نکاح وطلاق اصلاً تعبدی نہیں، سماجی مسائل ہیں، اس لیے مسلمانوں کوطلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں بہت زیادہ حساسیت برتنے کی ضرورت نہیں اوران کوایسامعقول موقف اپناناچاہیے جس سے برادران وطن میں ہماری غلط شبیہ نہ بنے۔ مولانا اصغرعلی امام سلفی نے ملک کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے پس منظرمیں مسلم عائلی مسائل کے تحفظ پر زوردیالیکن انہوں نے کہاکہ اس کے لیے عوامی مہم چلانے سے منفی تاثر جاتا ہے، اس لیے اس سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔
ایڈیٹرملی گزٹ ڈاکٹرظفرالاسلام خاں نے بتایاکہ ہندوستان میں رائج مسلم پرسنل لاء دراصل انگریزوں کا نافذکردہ مسلم لاء ہے اوریہ مسلمانوں کی نااہلی ہے کہ وہ ابھی تک اپنے عائلی قوانین کا جامع مجموعہ مرتب کرکے اسے انگریزی میںCoded اندازمیں پیش نہیں کرسکے ۔جوکوششیں کی گئی ہیں، وہ بہت ناقص ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ کے ضمن میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے داخل کردہ حلف نامہ کوبھی نقائص سے پربتایااورمسلمانوں کواپنے کیس کو غلط طورپر ہینڈلنگ کرنے کے نتائجِ بدسے آگاہ کیا۔مولاناامین عثمانی ندوی نے اس سیشن کی صدرات کرتے ہوئے مسلم پرسنل لااوراس کوپیش کردہ خطرات وچیلنجوں کا ذکرکیا۔انہوں نے مفتی استنبول کے ایک فتوے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ ترکی میں فقہ حنفی رائج ہے، لیکن وہاں کے علما نے اس میں حالات کے مطابق ترمیم کی ہے اورطلاق ثلاثہ (یک بارگی )کوایک ہی طلاق کے حکم میں رکھاہے۔ 
کانفرنس کے تیسرے سیشن میں اہل کتاب سے تعلقات کے سلسلے میں ڈاکٹر محمد محب الحق نے اس خیال کا اظہارکیا کہ کیتھولک عیسائیوں کی جانب سے مسلمانوں کو مذاکرات کی جو دعوت دی جاتی رہی ہے، اس کو ہمیں ویلکم کرنا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بین المذاہب مذاکرات مسلم یونیوسٹی کی بنیاد میں شامل ہے کیونکہ سرسید احمد خاں انٹرفیتھ ڈائیلاگ کے بانی ہیں۔انہوں نے بائبل کی تفسیراوررسالہ طعام اہل کتاب لکھ کرگویااہل کتاب سے مکالمہ کی ابتداکی تھی۔ مولانا محمد میاں قاسمی نے اس سلسلہ میں رائے دی کہ اس کام کے لیے ہمیں انسانوں کی خدمت کرنی چاہیے اور اللہ کے تصور پر ہم تمام انسانوں کو جمع کرسکتے ہیں۔جیساکہ قرآن کریم کاکہناہے کہ: تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم ان لانعبد الا اللہ۔ مترجم قرآن جناب سکندراحمدکمال نے ان الذین فرقوا دینہم وکانوا شیعاً کی روشنی میں تمام مسالک اورمکاتب فکرکواپنے رویوں کا احتساب کرنے کی دعوت دی۔نوجوان اسکالریاسرمحمودفلاحی نے قرآن اوراسوۂ رسول اورتاریخ میں امت مسلمہ کے اہل کتاب کے ساتھ مجموعی تعامل کوپیش کیااورموجودہ دورمیں اہل کتاب سے مسلمانوں کے عمومی نفرت کے رویہ کاناقدانہ جائزہ لیا۔اردوکے سینئرصحافی عالم نقوی نے طلبہ وطالبات پر زوردیاکہ وہ اپنے مسائل کا حل قرآن کی روشنی میں تلاش کریں اوربراہ راست قرآ ن سے اکتساب فیض کریں۔
مرکز کے سینئر فیلو ڈاکٹر عبدالرؤف نے کہا کہ ہمارے ملک میں ماحولیا ت کے موضوع پر چار ہزار تنظیمیں کام کررہی ہیں،ہم کہیں نظر نہیں آتے، کم از کم ان کے ساتھ شامل تو ہوں۔ کلکتہ کے سماجی ایکٹوسٹ کاشف حسن کا کہناتھاکہ ہم مسلمانوں کواب مسلمہ امہ جیسی اصطلاحوں سے باہرنکل کروسیع انسانیت کے پس منظرمیں کام کرناچاہیے ،ملک میں اس وقت نیشنل از م پر جوبحث جاری ہے اس میں ہمیں سرگرم حصہ لیناچاہیے ۔انہوں نے بیوروکریسی میں مسلمانوں کی عدم موجودگی پر بھی بھی افسوس ظاہرکیا۔شیعہ تھیولوجی کے ڈین پروفیسر سید علی محمد نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ بین المذاہب مذاکرات کا نظریہ ڈیولپ کیا جائے اور ہم سب کومشترک انسانی مقاصد کے لیے کا م کریں۔دوسری علی گڑھ تحریک کے سلسلے میں ڈاکٹرزکی کرمانی صاحب نے یہ تبصرہ کیا کہ علی گڑھ تحریک سے کوئی بڑا مفکر اور بڑا سائنٹسٹ اور اسکالر پیدا نہیں ہوا۔ اس لیے نئی سرسید تحریک میں ہمیں اس جہت کو بھی شامل کرنا چاہیے۔مذکورہ مرکزکے ریسرچ ایسوسی ایٹ ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی نے سرسیداحمدخان کی مذہبی فکرکا مختصر تعارف کرایااوراس پر افسوس کا اظہارکیاکہ ان کے مذہبی فکرکواب تک تحقیقی وناقدانہ مطالعہ کاموضوع ہی نہیں بنایاگیااوراس کوکبھی منظرعام پر ہی نہیں آنے دیاگیا۔ 
اس دوروزہ کانفرنس کے شرکا جوش وولوے کے ساتھ پرعز م دکھائی دیے کہ کانفرنس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے وہ اپنی اپنی سطح پر فوری طور پر متحرک ہوں گے اور مرکز برائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ہند کانفرنس کے منظور کردہ چاروں نکات پر عمل درامد کے لیے فی الفور اقدامات کرے گا۔ اختتامی سیشن میں یہ بات کانفرنس کے شرکاء نے منظورکی کہ جدید وقدیم کے جامع نئے تعلیمی منصوبے کے احیاء کے لیے المدرسہ یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔یوں عالمی سطح کی اپنی نوعیت کی دوسری High Profileکانفرنس اس علامیہ کے ساتھ ختم ہوئی کہ مرکز برائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ہند کے تحت ایک مجلس حکماء بنائی جائے گی۔ (۲)
ایک نئے تعلیمی منصوبے کی نمائندہ المدرسہ یونیورسٹی کے لیے ایک نئے تعلیمی ماڈل (قرطبہ ماڈل)کی تیاری کی جائے گی۔ (۳) علی گڑھ تحریک کو ازسر نو پوری جامعیت کے ساتھ زندہ کیا جائے گا جس میں سرسید کی مذہبی فکر بھی منظر عام پر آئے۔(۴)اس کانفرنس کا احساس ہے کہ طلاق ثلاثہ کے بارے میں مسلمانوں کی نمائندگی صحیح طورپر نہیں ہورہی ہے۔ اس کی اصلاح ودرستگی کے لیے بھی مرکز برائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ہندمثبت اندازمیں کام کرے گا ۔یہ اعلان بھی کیا گیا کہ انجمن علماء اسلام طلبا ء کے مابین ایک نیا مقابلہ کرائے گی جس کی انعامی رقم دولاکھ کردی گئی ہے۔ 
اس بین الاقوامی کانفرنس کے لیے جاپان، ملیشیااور ترکی کے ممتازا سلامی اسکالروں نے مقالات لکھے اوربعض نے شرکت بھی کی۔ نیز ہندوستان کے کونے کونے سے علماء ، دانشور ، سماجی ایکٹیوسٹ اور دردمندافرادنے حصہ لیا۔ پوری دنیا میں مسلمان جس مسلکی ، گروہی، اور فرقہ وارانہ کشاکش کا شکار ہیں، اس میں اس کانفرنس نے مسلمانان عالم کو ایک مصالحت کا پیغام دیا اورشرکاء دینی وملی جذبہ سے سرشارہوکراورمختلف میدانوں میں نئے سرے سے سرگرم ہونے کاعزم لے کرلوٹے۔توقع کی جاتی ہے کہ مسلمانان عالم کے درمیان مصالحت کے لیے علی گڑھ سے لگائی جانے والی یہ دردمندانہ صدارائگاں نہ جائے گی اورایک انقلابی پہل ثابت ہوگی۔