مسلمانوں کے خلاف جنگ میں غیر مسلموں کی معاونت ۔ تکفیری مکتب فکر کے ایک اہم استدلال کا تنقیدی جائزہ
محمد عمار خان ناصر
موجودہ مسلم حکمرانوں کی تکفیر کرنے والے گروہوں کی طرف سے ایک اہم دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ ان حکمرانوں نے بہت سی ایسی لڑائیوں میں کفار کے حلیف کا کردار ادا کیا ہے جو انھوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف شروع کی ہیں اور اسلامی شریعت کی رو سے یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کا مرتکب کافر اور مرتد قرار پاتا ہے۔
یہ نقطہ نظر ہمارے ہاں سب سے پہلے غالباً انگریزی دور اقتدار میں جنگ عظیم اول کے موقع پر اس وقت پیش کیا گیا جب برطانوی فوج میں شامل مسلمانوں کے لیے ترکی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا سوال سامنے آیا۔ تحریک خلافت کے قائدین نے اس پر ایک سخت مذہبی موقف اختیار کیا اور مولانا ابو الکلام آزاد نے اس کی شرعی حیثیت واضح کرتے ہوئے لکھا کہ:
’’تیسری صورت قتل مسلم کی یہ ہے کہ کوئی مسلمان کافروں کے ساتھ ہو کر ان کی فتح ونصرت کے لیے مسلمانوں سے لڑے یا لڑائی میں ان کی اعانت کرے اور جب مسلمانوں اور غیر مسلموں میں جنگ ہو رہی ہو تو وہ غیر مسلموں کا ساتھ دے۔ یہ صورت اس جرم کے کفر وعدوان کی انتہائی صورت ہے اور ایمان کی موت اور اسلام کے نابود ہو جانے کی ایک ایسی اشد حالت ہے جس سے زیادہ کفر وکافری کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کے وہ سارے گناہ، ساری معصیتیں، ساری ناپاکیاں، ہر طرح اور ہر قسم کی نافرمانیاں جو ایک مسلمان اس دنیا میں کر سکتا ہے یا ان کا وقوع دھیان میں آ سکتا ہے، سب اس کے آگے ہیچ ہیں۔ جو مسلمان ایسے فعل کا مرتکب ہو، وہ قطعاً کافر ہے اور بد ترین قسم کا کافر ہے۔ اس کی حالت کو قتل مسلم کی پہلی صورت پر قیاس کرنا درست نہ ہوگا۔ اس نے صرف قتل مسلم ہی کا ارتکاب نہیں کیا ہے، بلکہ اسلام کے برخلاف دشمنان حق کی اعانت ونصرت کی ہے اور یہ بالاتفاق وبالاجماع کفر صریح وقطعی مخرج عن الملۃ ہے۔ جب شریعت ایسی حالت میں غیر مسلموں کے ساتھ کسی طرح کا علاقہ محبت رکھنا بھی جائز نہیں رکھتی تو پھر صریح اعانت فی الحرب اور حمل سلاح علی المسلم کے بعد کیونکر ایمان واسلام باقی رہ سکتا ہے؟‘‘ (مسئلہ خلافت، ص ۹۷، مکتبہ جمال لاہور، ۲۰۰۶ء)
مولانا سید حسین احمد مدنی نے بھی اس موقف کی تائید کی، چنانچہ مولانا آزاد کا مذکورہ اقتباس ان کی ’’تقریر ترمذی‘‘ میں باللفظ مولانا مدنی کے موقف کے طور پر نقل کیا گیا ہے۔ معاصرتکفیری گروہوں کی طرف سے بالعموم اپنے موقف کے حق میں اسی اقتباس کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
یہ معاملہ شرعی نقطہ نظر سے تفصیل طلب ہے۔ اس ضمن میں بنیادی اور فیصلہ کن نکتے دو ہیں: ایک یہ کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی باہمی جنگ میں لڑائی کا اصل باعث کیا ہے اور اس سے کس مقصد کا حصول کفار کے پیش نظر ہے؟ اور دوسرا یہ کہ غیر مسلموں کا ساتھ دینے والے مسلمان، کس محرک کے تحت اس جنگ میں کفار کے ساتھ شریک ہو رہے ہیں؟ اگر وجہ قتال نفس اسلام ہے، یعنی کفار صرف اس لیے مسلمانوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور انھیں اسلام سے برگشتہ کرنا یا اسلام کو مٹا دینا اس جنگ کا مقصد ہے، جبکہ جنگ میں غیر مسلموں کا ساتھ دینے والے مسلمانوں کا محرک بھی اسلام کو زک پہنچانا ہے تو بلاشبہ یہ کفر ہے، اس لیے کہ کوئی مسلمان حالت ایمان میں یہ طرز عمل اختیار نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر لڑائی کی وجہ عام دنیاوی مفادات کا تصادم ہے اور کفار، مسلمانوں کے کسی علاقے پر قبضہ کرنے یا ان کی دولت ہتھیانے یا ان پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے ان پر حملہ آور ہوتے ہیں جبکہ اس جنگ میں کچھ دوسرے مسلمان بھی کچھ دنیوی مفادات کے حصول کے لیے، کفار کے ساتھ شریک جنگ ہونے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو اس عمل کو فی نفسہ کفر نہیں کہا جا سکتا، اگرچہ اس کا مذموم اور قابل اجتناب ہونا واضح ہے۔ گویا لڑائی کا واقعاتی تناظر اور جنگ میں شریک ہونے والے مسلمانوں کی نیت اور ارادہ یہ طے کریں گے کہ ان کے اس عمل کی حیثیت کیا متعین کی جائے۔ اگر لڑائی کفر اور اسلام کے تناظر میں لڑی جا رہی ہے اور لڑائی میں شریک ہونے والے بھی اسی نیت سے لڑ رہے ہیں کہ اسلام بطور دین کمزور جبکہ کفر اس پر غالب ہو جائے تو بلاشبہ یہ عمل کفر وارتداد کے ہم معنی ہے، لیکن کفار اور مسلمانوں کے مابین ہر جنگ کو نہ تو کفر واسلام کی جنگ کہا جا سکتا ہے اور نہ یہ قرار دینا ممکن ہے کہ کسی دنیوی مفاد کے تناظر میں، جنگ میں کفار کا ساتھ دینے والے مسلمان فی نفسہ اسلام ہی کے دشمن ہیں اور ان میں اور کھلے کافروں میں کوئی فرق ہی باقی نہیں رہا۔
اس حوالے سے فقہاء کا بیان کردہ یہ بنیادی اصول پیش نظر رہنا چاہیے کہ اگر مسلمان کا کوئی قول یا عمل ایک سے زیادہ احتمال رکھتا ہو اور ان میں سے بعض احتمال اس کی تکفیر کا تقاضا کرتے ہیں جبکہ کچھ احتمال اسے تکفیر سے بچاتے ہوں تو اس کی نیت اور ارادہ فیصلہ کن ہوگا۔ اگر اس نے اس عمل کا ارتکاب ایسی نیت سے کیا ہو جو کفر کو مستلزم ہے تو اس کی تکفیر کی جائے گی، جبکہ اس کے برعکس صورت میں تکفیر سے گریز کیا جائے گا۔ فقہ حنفی کی معروف کتاب ’’المحیط البرہانی‘‘ میں ہے:
یجب ان یعلم انہ اذا کان فی المسئلۃ وجوھا توجب التکفیر ووجھا واحدا یمنع التکفیر فعلی المفتی ان یمیل الی الوجہ الذی یمنع التکفیر تحسینا للظن بالمسلم، ثم ان کان نیۃ العامل الوجہ الذی یمنع التکفیر فھو مسلم، وان کانت نیتہ الوجہ الذی یوجب التکفیر لا ینفعہ فتوی المفتی ویومر بالتوبۃ والرجوع عن ذلک وبتجدید النکاح بینہ وبین امراتہ (المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی، ج ۵، ص ۵۵۰)
’’یہ جاننا لازم ہے کہ اگر کسی مسئلے میں ایک سے زیادہ احتمالات تکفیر کا تقاضا کرتے ہوں جبکہ صرف ایک احتمال تکفیر سے مانع ہو تو مفتی پر لازم ہے کہ وہ مسلمان کے ساتھ حسن ظن سے کام لیتے ہوئے اسی احتمال کو اختیار کرے جو تکفیرسے مانع ہے۔ پھر اگر اس عمل کا ارتکاب کرنے والے کی نیت وہی احتمال ہو جو تکفیر سے مانع ہے تو وہ مسلمان شمار ہوگا، لیکن اگر خود اس کی نیت وہ احتمال ہو جو تکفیر کا موجب ہے تو ایسی صورت میں اسے مفتی کا فتویٰ کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اسے کہا جائے گا کہ وہ توبہ کر کے اس عمل سے رجوع کرے اور اپنی بیوی کے ساتھ نکاح کی تجدید کرے۔‘‘
’’المحیط البرہانی‘‘ میں اس اصول کے انطباق کی ایک عمدہ مثال بھی نقل کی گئی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:
المسلمون اذا اخذوا اسیرا وخافوا ان یسلم فکغموہ ای سدوا فمہ بشیء حتی لا یسلم او ضربوہ حتی یشتغل بالضرب فلا یسلم فقد اساء وا فی ذلک، ولم یقل فقد کفروا ۔۔۔ وذکر شیخ الاسلام رحمہ اللہ فی شرح السیر ان الرضا بکفر الغیر انما یکون کفرا اذا کان یستجیز الکفر ویستحسنہ، اما اذا کان لا یستجیزہ ولا یستحسنہ ولکن احب الموت او القتل علی الکفر لمن کان شریرا موذیا بطبعہ حتی ینتقم اللہ منہ فھذا لا یکون کفرا (المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی، ج ۵، ص ۵۵۱)
’’مسلمان اگر (جنگ میں) کسی قیدی کو گرفتار کریں اور اس ڈر سے کہ کہیں وہ (زبان سے) اسلام کا اقرار نہ کر لے، اس کے منہ کو کسی چیز سے بند کر دیں یا اسے مارنا شروع کر دیں تاکہ وہ مار سے بد حواس ہو جائے اور قبول اسلام کا اعلان نہ کر پائے تو ایسا کرنے والوں نے غلط کام کیا، لیکن اس سے وہ کافر نہیں ہو جائیں گے۔ شیخ الاسلام نے شرح السیر میں واضح کیا ہے کہ دوسرے کے کفر پر راضی ہونا صرف اس صورت میں کفر ہے جب ایسا کرنے والے کفر کو اچھا اور جائز سمجھتا ہو۔ لیکن اگر وہ کفر کو نہ تو جائز سمجھتا ہو اور نہ اسے پسند کرتا ہو، بلکہ صرف یہ چاہتا ہو کہ ایک شریر اور طبعاً موذی کافر، کفر پر ہی مرے یا اسے قتل کر دیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ اس سے (ان اذیتوں کا جو اس نے مسلمانوں کودیں) انتقام لے تو اس نیت سے ایسا کرنے والا کافر نہیں ہوگا۔‘‘
مذکورہ مثال میں دیکھیے، کچھ مسلمان ایک کافر کو کلمہ پڑھنے سے روکنا چاہتے ہیں جس کا مطلب بظاہر یہ بنتا ہے کہ وہ اس کو کافر ہی رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے اسلام قبول کرنے پر راضی نہیں۔ اب ظاہر کے اعتبار سے کسی کے کفر پر راضی ہونا اور اسے قبول اسلام سے روکنا کفر ہے، لیکن فقہاء یہ قرار دے رہے ہیں کہ یہاں چونکہ اسلام سے روکنے والوں کی نیت فی نفسہ کفر کو پسند کرنا اور اسے جائز سمجھنا نہیں، بلکہ وہ اس نیت سے ایسا کر رہے ہیں کہ ایک موذی اور شرپسند دشمن اللہ کے انتقام سے بچنے نہ پائے، اس لیے ان کے اس عمل کو ان کی نیت کا اعتبار کرتے ہوئے کفر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہی اصول زیر بحث سوال کے حوالے سے بھی پیش نظر رہے تو صاف واضح ہوگا کہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کفار کا ساتھ دینے والے مسلمانوں کو صرف اسی صورت میں کافر قرار دیا جا سکتا ہے جب وہ فی نفسہ کفر کو اسلام کے مقابلے میں پسند کرتے ہوں اور اسلام پر کفر کو غالب کرنے کی نیت اور ارادے سے جنگ میں کفار کا ساتھ دے رہے ہوں۔ اگر ان کا محرک اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہو تو فقہی اصول کے لحاظ سے انھیں محض مسلمانوں اور کفار کی لڑائی میں کفار کا ساتھ دینے کی بنا پر کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مذکورہ اصولی نکتے کے علاوہ فقہی ذخیرے میں متعدد ایسے نظائر موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہائے اسلام مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کفار کے ساتھ شرکت کو مطلقاً یعنی ہر حال میں کفر قرار نہیں دیتے، بلکہ ایسا کرنے والے مسلمانوں کومسلمان ہی شمار کرتے ہیں اور اس سے بھی آگے بڑھ کر بعض حالات میں اس کی باقاعدہ اجازت دیتے ہیں۔ یہاں چند اہم نظائر کا مطالعہ مفید ہوگا:
۱۔ فقہاء کے مابین اس بات میں اختلاف ہے کہ اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ حکومت کے خلاف بغاوت کر دے تو اس کے خلاف جنگ میں کفار سے مدد لی جا سکتی ہے یا نہیں؟ ایک گروہ کے نزدیک ایسا کرنا درست نہیں، کیونکہ اس سے کفار کو مسلمانوں پر مسلط کرنا لازم آتا ہے جو کہ شریعت کی نظر میں ناپسندیدہ ہے۔ (یہاں یہ بات بطور خاص ذہن میں رہے کہ ممانعت کرنے والے فقہاء نے اس کی دلیل یہ نہیں بیان کی کہ ایسا کرنا فی نفسہ کفر ہے)۔ اس کے برخلاف امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا موقف یہ ہے کہ مسلمانوں باغیوں کے خلاف جنگ میں اہل حرب یا اہل ذمہ سے بھی مدد لی جا سکتی ہے، بشرطیکہ لشکر کی کمان اہل اسلام کے ہاتھ میں ہو اور وہ جنگ کی ترجیحات طے کرنے میں آزاد ہوں۔ سرخسی لکھتے ہیں:
ولا باس بان یستعین اھل العدل بقوم من اھل البغی واھل الذمۃ علی الخوارج اذا کان حکم اھل العدل ظاھرا (المبسوط ۱۰/ ۱۳۴)
’’اس میں کوئی حرج نہیں کہ مسلمان حکومت، خوارج کے خلاف جنگ میں باغیوں کے کسی گروہ یا اہل ذمہ کی مدد حاصل کریں، بشرطیکہ مسلمان حکومت کا فیصلہ غالب ہو۔‘‘
۲۔ یہ اس صورت میں ہے جب مسلمان حکومت، باغیوں کے خلاف کفار کی مدد لینے پر مجبور نہ ہو۔ اگر صورت حال ایسی پیدا ہو جائے کہ باغیوں کا زور توڑنے کے لیے مدد لینا ناگزیر ہو جائے تو یہاں دلچسپ صورت حال پید اہو جاتی ہے۔ فقہائے احناف تو اپنے اصول کے مطابق اس صورت میں باغیوں کے خلاف کفار کی مدد لینے کو جائز قرار نہیں دیتے، چنانچہ سرخسی لکھتے ہیں:
وان ظھر اھل البغی علی اھل العدل حتی الجاوھم الی دار الشرک فلا یحل لھم ان یقاتلوا مع المشرکین اھل البغی، لان حکم اھل الشرک ظاھر علیھم ولا یحل لھم ان یستعینوا باھل الشرک علی اھل البغی من المسلمین اذا کان حکم اھل الشرک ھو الظاھر (المبسوط ۱۰/ ۱۳۴)
’’اگر باغی حکومت کے مقابلے میں غالب آ جائیں اور انھیں اہل شرک کے علاقے کی طرف دھکیل دیں تو اس حالت میں حکومت کے لیے جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف جنگ کرے، کیونکہ اہل شرک کا اقتدار غالب ہے جبکہ ایسی صورت میں مسلمانوں کے لیے حلال نہیں کہ وہ مسلمان باغیوں کے خلاف اہل شرک کی مدد حاصل کریں۔‘‘
لیکن فقہا کا دوسرا گروہ جو عام حالات میں باغیوں کے خلاف کفار کی مدد لینے کو ناجائز کہتا ہے، ان میں سے بعض اہل علم مذکورہ صورت حال میں مجبوری کے تحت کفار کی مدد لینے کی اجازت دیتے ہیں، چنانچہ علامہ ابن حزم تصریح کرتے ہیں کہ باغیوں کے خلاف کفار سے مدد لینے کی ممانعت اس صورت میں ہے جب مسلمان خود باغیوں کے خلاف لڑنے کی قدرت رکھتے ہوں۔ اگر حکومت اتنی کمزور ہو جائے کہ کفار کی مدد لیے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو پھر اہل حرب یا اہل ذمہ کا سہارا لے کر اور ان کی مدد سے باغیوں کے خلاف جنگ کرنا جائز ہے، بشرطیکہ جن کفار سے وہ مدد لے رہے ہیں، ان کی طرف سے یہ خدشہ نہ ہو کہ وہ کسی مسلمان یا ذمی کی جان ومال کو نقصان پہنچائیں گے۔ لکھتے ہیں:
ھذا عندنا ما دام فی اھل العدل منعۃ، فان اشرفوا علی الھلکۃ واضطروا ولم تکن لھم حیلۃ فلا باس بان یلجؤا الی اھل الحرب وان یمتنعوا باھل الذمۃ، ما ایقنوا انھم فی استنصارھم لو یوذون مسلما ولا ذمیا فی دم او مال او حرمۃ مما یحل (المحلی، ۱۱/ ۳۵۵)
’’ہمارے نزدیک یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب حکومت اپنے دفاع پر قادر ہو۔ اگر مسلمان ہلاکت کے قریب پہنچ جائیں اور حالت اضطرار سے دوچار ہو جائیں اور کوئی چارہ باقی نہ رہے تو پھر (باغیوں کے خلاف) اہل حرب کا سہارا لینے میں یا اہل ذمہ کے ساتھ مل کر دفاع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ، بشرطیکہ انھیں یہ یقین ہو کہ ان سے مدد لینے کے نتیجے میں وہ وہ کسی مسلمان یا ذمی کی جان ومال یا کسی حرمت پر دست درازی نہیں کریں گے۔‘‘
فقہ شافعی کی کتاب ’’الاقناع‘‘ میں ہے:
ولا یستعان علیھم بکافر لانہ یحرم تسلیطہ علی المسلم الا لضرورۃ (۲/۵۴۹)
’’مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں کسی کافر سے مدد نہ لی جائے، کیونکہ انھیں مسلمانوں پر مسلط کرنا حرام ہے، الا یہ کہ مجبوری ہو۔‘‘
’’مغنی المحتاج‘‘ میں ہے:
فی التتمۃ صرح بجواز الاستعانۃ بہ ای الکافر عند الضرورۃ وقال الاذرعی وغیرہ انہ المتجہ (۵/۴۰۷)
’’تتمہ میں ضرورت اور مجبوری کے تحت کفار سے (مسلمانوں کے خلاف) مدد لینے کے جواز کی تصریح کی گئی ہے۔ اذرعی اور دوسرے اہل علم نے کہا کہ یہی بات درست ہے۔‘‘
یہی بات فقہ حنبلی کی کتاب شرح منتہی الارادات (۳/۳۹۰) میں بھی کہی گئی ہے۔
۳۔ فقہاء اس کی بھی تصریح کرتے ہیں کہ اگر مسلمان باغی، حکومت کے خلاف جنگ میں کفار سے مدد لیں تو ایسا کرنے سے باغی، کافر نہیں ہو جائیں گے۔ چنانچہ امام شافعی لکھتے ہیں:
ولو استعان اھل البغی باھل الحرب علی قتال اھل العدل وقد کان اھل العدل وادعوا اھل الحرب فانہ حلال لاھل العدل قتال اھل الحرب وسبیھم ۔۔۔ وقد قیل: لو استعان اھل البغی بقوم من اھل الذمۃ علی قتال المسلمین لم یکن ھذا نقضا للعھد لانھم مع طائفۃ من المسلمین (الام ۴/ ۲۳۴)
’’اگر باغی، حکومت کے خلاف جنگ میں اہل حرب کی مدد حاصل کریں ، جبکہ ان اہل حرب کے ساتھ اس سے پہلے حکومت نے صلح کا معاہدہ کر رکھا ہو تو اب نئی صورت حال میں حکومت کے لیے ان اہل حرب کے ساتھ جنگ کرنا اور انھیں قیدی بنانا جائز ہو جائے گا۔ ۔۔۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ اگر باغی، مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں اہل ذمہ کی مدد حاصل کریں تو ایسا کرنے والے اہل ذمہ کا معاہدہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ وہ (مسلمانوں کے خلاف) مسلمانوں ہی کے ایک گروہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔
یہی بات ابن قدامہ نے المغنی (ج ۹، مسئلہ ۷۰۸۱) میں اور امام نووی نے روضۃ الطالبین (۷/۲۸۰، ۲۸۱) میں لکھی ہے۔
امام سرخسی نے شرح السیر الکبیر کی ایک مستقل فصل میں اس صورت حال کے فقہی احکام پر بحث کی ہے جب مسلمانوں کا کوئی باغی گروہ اہل حرب کے ساتھ مل کر مسلم ریاست کے خلاف جنگ کرے۔ سرخسی نے اس کی مختلف صورتیں بیان کی ہیں، مثلاً یہ کہ اہل حرب، خوارج کی کمان میں مسلمانوں کے ساتھ لڑیں یا یہ کہ خوارج، اہل حرب کی کمان میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کریں یا یہ کہ دونوں کی کمان اپنی اپنی ہو اور وہ مختلف محاذوں سے مسلمانوں کے خلاف حملہ آور ہوں۔ اس ساری بحث کے فقہی احکام اس نکتے پر مبنی ہیں کہ خوارج ایسا کرنے کے باوجود مسلمان ہی شمار ہوں گے اور ان پر مسلمانوں ہی کے احکام جاری ہوں گے۔ کہیں بھی سرخسی نے اشارۃً بھی کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے یہ مترشح ہوتا ہو کہ وہ اس عمل کو، خاص طور پر اہل حرب کی کمان میں مسلمانوں کے خلاف لڑنے کو کفر وارتداد کے ہم معنی سمجھتے اور اس کے نتیجے میں خوارج کو ان مخصوص رعایتوں سے محروم تصور کرتے ہیں جو انھیں بطورمسلمان حاصل ہیں:
ولو سال الخوارج من اھل الحرب ان یعینوھم علی اھل العدل فقالوا لا نعینکم الا ان یکون الامیر منا ویکون حکمنا ھو الجاری ففعلوا ذلک ثم ظھر علیھم اھل العدل فاھل الحرب واموالھم فیء، اما اذاکانت الخوارج لم یومنوھم فالجواب ظاھر لانھم اھل حرب لاامان لھم، واما اذا کانوا امنوھم حتی خرجوا فلانھم نقضوا ذلک الامان حین قاتلوا اھل العدل لمنعتھم وتحت رایتھم بخلاف ما تقدم فھناک انما قاتلوا تحت رایۃ الخوارج وکان حکم الخوارج ھو الجاری فلم یکن ذلک نقضا لامانھم (شرح السبیر الکبیر، باب النفل من اسلاب الخوارج واہل الحرب یقاتلون معہم بامان او بغیر امان، ص ۲۷۲)
’’اگر خوارج، اہل حرب سے اہل عدل کے خلاف مدد کا مطالبہ کریں اور اہل حرب اس کے لیے یہ شرط عائد کریں کہ امیر لشکر ہم میں سے ہوگا اور ہمارے فیصلے جاری ہوں گے اور خوارج یہ شرط قبول کر لیں تو اس کے بعد اگر اہل عدل، جنگ میں غالب آ جائیں تو اہل حرب اور ان کے اموال کا حکم مال فے کا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر تو خوارج نے ان کو امان نہ دی ہو تو پھر تو جواب ظاہر ہے کہ یہ لوگ اہل حرب ہیں جنھیں امان حاصل نہیں تھی۔ اور اگر خوارج نے ان کو امان دی ہو اور اس کے تحت وہ (اپنے علاقے سے) نکلے ہوں تو جب انھوں نے اپنے لشکر کی حفاظت میں اور اپنی کمان کے تحت اہل عدل کے خلاف جنگ شروع کی تو خود ہی اس امان کو باطل کر دیا، بخلاف سابقہ صورت کے کہ وہاں انھوں نے خوارج کی کمان میں لڑائی کی تھی اور خوارج کا حکم ان پر غالب تھا، اس لیے اس صورت میں ان کر لڑنا، ان کی امان کو باطل کرنے والا نہیں تھا۔‘‘
دیکھ لیجیے، اس بحث میں بھی فقہاء، مسلمان حکومت کے خلاف کفار کی مدد سے جنگ کرنے والے باغیوں کو کافر قرار نہیں دیتے، بلکہ انھیں مسلمان شمار کرتے ہوئے ہی ان کے احکام بیان کرتے ہیں۔
ابن حزم کی رائے یہ ہے کہ اگر کمان مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو یا مسلمان اور کفار اپنے الگ الگ لشکروں میں دوسرے مسلمانوں کے خلاف مل کر لڑائی کریں تو ایسا کرنا بہت بڑا فسق تو ہے، لیکن انھیں کافر نہیں کہا جا سکتا۔ لکھتے ہیں:
واما من حملتہ الحمیۃ من اہل الثغر من المسلمین فاستعان بالمشرکین الحربیین واطلق ایدیہم علی قتل من خالفہ من المسلمین او علی اخذ اموالہم او سبیلہم فان کانت یدہ ہی الغالبۃ وکان الکفار لہ کاتباع فہو ہالک فی غایۃ الفسوق ولا یکون بذلک کافرا لانہ لم یات شیئا اوجب بہ علیہ کفرا قرآن او اجماع ۔۔۔۔۔۔ فان کانا متساویین لا یجری حکم احدہما علی الآخر فما نراہ بذلک کافرا (المحلی ۱۱؍۲۰۰، ۲۰۱)
’’سرحدوں پر رہنے والے مسلمانوں میں سے اگر کچھ لوگ (مسلمان حکومت سے) ناراض ہو کر حربی مشرکین سے ان کے خلاف مدد حاصل کریں اور اپنے مخالف مسلمانوں کو قتل کرنے یا ان کے اموال لوٹنے میں مشرکین کا ساتھ دیں تو اگر تو ان مسلمانوں کو غالب حیثیت حاصل ہو اور کفار ان کے بالتبع ہوں تو ایسے لوگ انتہائی درجے کے فاسق ہیں، لیکن اس سے وہ کافر نہیں ہو جائیں گے، کیونکہ انھوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کو قرآن یا اجماع نے مستوجب کفر قرار دیا ہو۔ اسی طرح اگر مسلمانوں اور کافروں کو برابر کی حیثیت حاصل ہو اور کوئی بھی دوسرے پر بالادست حیثیت نہ رکھتا ہو تو بھی کافروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے مسلمان، کافر نہیں ہوں گے۔‘‘
علامہ ابن حزم نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ اگر مسلمانوں کا کوئی محارب گروہ اہل حرب کے ساتھ مل کر مسلمان باغیوں کا مال لوٹنے کے لیے ان پر حملہ کرے تو اس کے باوجود وہ مسلمان ہی رہے گا، البتہ دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ان حملہ آوروں کے خلاف باغی مسلمانوں کا دفاع کریں۔ لکھتے ہیں:
ولو ترک اھل الحرب من الکفار واھل المحاربۃ من المسلمین علی قوم من اھل البغی ففرض علی جمیع اھل الاسلام وعلی الامام عون اھل البغی وانقاذھم من اھل الکفر ومن اھل الحرب لان اھل البغی مسلمون ۔۔۔ واما اھل المحاربۃ من المسلمین فانھم یریدون ظلم اھل البغی فی اخذ اموالھم والمنع من الظلم واجب (المحلی ۱۱/ ۳۶۱)
’’اگر اہل حرب کفار اور مسلمانوں میں سے کچھ محاربین، باغیوں پر حملہ کریں تو تمام اہل اسلام اور مسلمان حکمران پر لازم ہے کہ وہ باغیوں کی مدد کریں اور انھیں اہل کفر اور محاربین سے بچائیں کیونکہ یہ باغی مسلمان ہیں۔ جہاں تک (کفار کے ساتھ مل کر حملہ کرنے والے) مسلمان محاربین کا تعلق ہے تو (ان سے لڑنا اس لیے ضروری ہے کہ) وہ باغیوں کے مال چھین کران پر ظلم کرنا چاہتے ہیں اور ظلم سے روکنا واجب ہے۔‘‘
۴۔ مذکورہ نظائر کا تعلق اس صورت سے ہے جب مسلمانوں (حکومت یا باغیوں) کے خلاف جنگ کا بنیادی فریق خود مسلمان ہوں اور کفار کو اس جنگ میں ایک مددگار فریق کے طور پر شریک کیا جائے۔ اگر صورت حال اس کے برعکس ہو، یعنی مسلمانوں کے خلاف جنگ کا اصل فریق کفار ہوں اور کچھ مسلمان ان کے ساتھ جنگ میں شریک ہوں تو فقہاء کے ہاں اس کے حکم کے متعلق قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔ علامہ ابن حزم اس کے قائل ہیں کہ اگر مسلمانوں کے خلاف لڑائی کی کمان کفار کے ہاتھ میں ہو تو ان کے ساتھ مل کر لڑنا مسلمانوں کے لیے مستوجب کفر عمل ہے۔
لکھتے ہیں:
وان کان حکم الکفار جاریا علیہ فہو بذلک کافر علی ما ذکرنا (المحلی ۱۱؍۲۰۰، ۲۰۱)
’’اگر کفار کا حکم ان پر غالب ہو تو ان کی کمان میں مسلمانوں کے خلاف لڑنے والا کافر ہو جائے گا۔‘‘
تاہم یہ ابن حزم کا انفرادی نقطہ نظر ہے۔ جمہور فقہاء کی تصریحات کے مطابق مسلمانوں کے، کفار کی کمان میں دوسرے مسلمانوں کے خلاف لڑنے یا اپنی کمان میں ان سے مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں مدد لینے سے معاملے کی شرعی حیثیت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا اور ایسے مسلمان اس عمل کے بعد بھی مسلمان ہی تصور کیے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے چند تصریحات درج ذیل ہیں:
امام سرخسی نے لکھا ہے کہ اگر کسی مرتد کا مسلمان غلام کفار کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک ہو اور گرفتار ہو جائے تو اسے مسلمان ہونے کی وجہ سے قیدی نہیں بنایا جائے گا بلکہ آزاد کر دیا جائے گا:
ان کان خرج لیقاتل المسلمین فظھروا علیہ فان کان مسلما فھو حر لانہ مراغم لمولاہ ولو کان ذمیا فھو فیء لمن اخذہ لان قتالہ المسلمین نقض منہ للعھد (شرح السیر الکبیر ج ۵ ص ۲۰۸)
’’اگر مرتد کا غلام مسلمانوں کے ساتھ جنگ کے لیے دار الحرب سے نکلا ہو اور پھر مسلمان اسے پکڑ لیں تو اگر وہ مسلمان ہو تو اسے آزاد کر دیا جائے گا کیونکہ وہ اپنے آقا کی مرضی کے برخلاف آیا ہے، اور اگر وہ غلام ذمی ہو تو جو لوگ اسے گرفتار کریں گے، وہ ان کی ملکیت بن جائے گا کیونکہ ذمی کا، مسلمانوں کے ساتھ قتال کرنا معاہدہ کو توڑ دیتا ہے۔‘‘
یہاں واضح طور پر کفار کی طرف سے شریک جنگ ہونے والے مسلمان اور غیر مسلم غلام میں فرق کیا جا رہا ہے اور محض جنگ میں شریک ہونے کی بنا پر مسلمان غلام کو کافر اور مرتد شمار نہیں کیا جا رہا۔
امام سرخسی لکھتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ کفار کے لشکر میں شامل ہو کر مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرے تو مسلمانوں کے لیے بھی ان کو جواباً قتل کرنا جائز ہے، لیکن اس کے باوجود ان کا شمار مسلمانوں میں ہی ہوگا:
ولو لقوا فی صف المشرکین قوما من المسلمین معھم الاسلحۃ فلا یدرون امکرھون علی ذلک ام غیر مکرھین فانی احب لھم الا یعجلوا فی قتالھم حتی یسالوھم ان قدروا علی ذلک، وان لم یقدروا فلیکفوا عنھم حتی یروھم یقاتلون احدا منھم فحینئذ لا باس بقتالھم وقتلھم، لان موافقتھم فی الدین تمنعھم من محاربۃ المسلمین وھذا منھم معلوم للمسلمین۔ فما لم یتبین خلافہ لا یحل لھم ان یقتلوھم وبمجرد وقوفھم فی صف المشرکین لا یتبین خلاف ذلک، لان ذلک محتمل وقد یکون عن اکراہ وقد یکون عن طوع، فالکف عن قتالھم احسن حتی یتبین منھم القتال، فحینئذ لا باس بقتالھم لان مباشرۃ القتال فی منعۃ المشرکین مبیح لدمھم وان کانوا مسلمین، الا تری ان اھل البعی یقاتلون دفعا لقتالھم وان کانوا مسلمین (شرح السیر الکبیر ۴ /۲۰۶، ۲۰۷)
’’اگر مسلمان، مشرکین کی صفوں میں کچھ مسلمانوں کو دیکھیں جن کے پاس ہتھیار ہوں تو اب یہ معلوم نہیں کہ وہ مجبوراً آئے ہیں یا اپنے اختیار سے، اس لیے مجھے یہ پسند ہے کہ اگر وہ ایسا کر سکیں تو جب تک ان سے دریافت نہ کر لیں، ان کے خلاف لڑنے میں جلدی نہ کریں۔ اور اگر ان سے دریافت نہ کر سکتے ہوں تو بھی ان کے خلاف اقدام نہ کریں جب تک کہ انھیں اپنے خلاف لڑتا ہوا نہ دیکھ لیں۔ اس صورت میں ان سے لڑنے اور انھیں قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (پہلے مرحلے پر انھیں قتل کرنا) اس لیے درست نہیں کہ ان کا مسلمان ہونا انھیں مسلمانوں ہی کے خلاف لڑنے سے روکتا ہے اور یہ بات مسلمانوں کو معلوم ہے، اس لیے جب تک معاملے کا اس کے برخلاف ہونا بالکل واضح نہ ہو جائے، ان کے محض مشرکوں کی صف میں کھڑے ہونے کی وجہ سے انھیں قتل کرنا جائز نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ جبراً لائے گئے ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنی مرضی سے آئے ہوں۔ اس لیے جب تک وہ صاف طور پر لڑائی میں شریک نہ ہو جائیں، ان کے خلاف جنگ سے گریز کرنا ہی اچھا ہے۔ البتہ دوسری صورت میں ان کے خلاف لڑنے میں کوئی مضائقہ نہیں، کیونکہ مشرکین کی کمان میں (مسلمانوں کے خلاف) جنگ کرنا ان کے خون کو مباح کر دیتا ہے، اگرچہ وہ مسلمان ہی ہیں۔ دیکھتے نہیں کہ باغیوں کی لڑائی کے سد باب کے لیے ان کے خلاف جنگ کی جاتی ہے، حالانکہ وہ مسلمان ہوتے ہیں۔‘‘
یہ تو اس ضمن میں کلاسیکی فقہی ذخیرے کی تصریحات تھیں۔ علمائے اسلام کے زاویہ نظر میں اس کی تائید وتوثیق کی مثال ہمیں ماضی قریب کی بعض بحثوں میں بھی ملتی ہے۔ چنانچہ بیسویں صدی کے نصف اول میں جب برصغیر سے انگریزی اقتدار کے خاتمے کے لیے سیاسی جدوجہد کی جا رہی تھی تو یہاں کے مذہبی سیاسی قائدین کی اکثریت کا رجحان متحدہ قومیت کے تصور کے تحت ایک ایسی آزاد جمہوری ریاست کے قیام کی طرف تھا جس میں مسلمانوں، ہندوؤں اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو یکساں سیاسی وشہری حقوق حاصل ہوں۔ اس ضمن میں ان حضرات کے سامنے ایک اہم سوال یہ آیا کہ اگر کسی وقت ہندوستان اور کسی بیرونی مسلمان حکومت کے مابین جنگ کی نوبت آ جائے تو ہندوستان کے مسلمانوں کا شرعی موقف کیا ہوگا یا کیا ہونا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں ممتاز ترین اہل علم نے دوٹوک انداز میں یہ بات واضح کی کہ ہندوستان کے مسلمان ایسی صورت میں کسی بھی غیر ملکی طاقت کے خلاف، چاہے وہ مسلمانوں ہی کی کیوں نہ ہو، ہندوستان کا دفاع کرنے کے پابند ہوں گے اور یہ نہ صرف ان کا وطنی وقومی فریضہ بلکہ ان کی شرعی واخلاقی ذمہ داری بھی ہوگی۔
اس ضمن کی چند اہم تصریحات یہاں نقل کی جا رہی ہیں۔
علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ نے جمعیۃ علمائے ہند کے اجلاس منعقدہ پشاور (۱۹۲۷ء) میں خطبہ صدارت ارشاد فرماتے ہوئے کہا کہ:
’’اگر آج مسلمانوں کو اکثریت کی تعدی کے خطرے سے محفوظ کر دیا جائے تو وہ ہندوستان کی طرف سے ایسی ہی مدافعانہ طاقت ثابت ہوں گے جس طرح اپنے وطن کی کوئی مدافعت کرتا ہے۔ یہ خطرہ کہ آزادی کے وقت اگر کسی مسلمان حکومت نے ہندوستان پرحملہ کر دیا تو مسلمانوں کا رویہ کیا ہوگا؟ نہایت پست خیالی ہے اور اس کا نہایت سیدھا اور صاف جواب یہ ہے کہ اگر مسلمان اپنے ہمسایوں کی طرف سے کسی معاہدے کی وجہ سے مطمئن ہوں گے اور ہمسایوں کی زیادتیوں کا شکار نہ ہوں گے تو ان کا رویہ اس وقت وہی ہوگا جو کسی شخص کا اس کے گھر پر حملے کرنے کی حالت میں ہوتا ہے، اگرچہ حملہ آور اس کا ہم قوم اور ہم مذہب ہی ہو۔‘‘ (بحوالہ ’’ہند پاکستان کی تحریک آزادی اور علمائے حق کا سیاسی موقف‘‘، از مولانا سعید احمد اکبر آبادی، جمعیۃ پبلی کیشنز لاہور، جنوری ۲۰۰۷ء، ص ۹۷)
مولانا سعید احمد اکبر آبادی نے اس موضوع پر علامہ انور شاہ کشمیری کے مختلف بیانات اور تصریحات کا حاصل ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ:
’’ازروئے معاہدہ مسلمانوں پر اس ملک کی، جو خود ان کا بھی وطن ہے، خیر خواہی اور اس کی حفاظت ومدافعت ایسی ہی واجب اور ضروری ہوگی جیسی کہ ہندوؤں پر ہے، چاہے وہ حملہ آور کوئی بیرونی مسلم طاقت ہی ہو اور یہ سب کچھ محض ڈپلومیسی نہیں بلکہ ازروئے شرع واحکام دین مسلمانوں کو کرنا ہوگا۔‘‘ (’’ہند پاکستان کی تحریک آزادی اور علمائے حق کا سیاسی موقف‘‘، ص ۱۰۳)
مولانا عبید اللہ سندھی لکھتے ہیں:
’’اگر کوئی بیرونی طاقت ہندوستان پر حملہ آور ہو تو خواہ وہ مسلمان کیوں نہ ہو، ہم اس کا پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی مسلمان طاقت کا بھی یہ حق نہیں ہے کہ ہماری موجودگی میں وہ اسلام کے نام پر ہندوستان کی سرزمین کو پامال کرنے کی کوشش کرے۔ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ کیا ہمیں اپنے وطن میں حکومت قائم کرنے کا حق نہیں ہے؟ اس میں شک نہیں کہ بیرونی مسلم ممالک کو اپنی حکومتوں کو مستحکم اور منظم کرنے کا حق حاصل ہے، مگر ہم ان کے اس حق کو ہرگز قبول نہیں کر سکتے کہ وہ ہندوستان پر حملہ کر کے اسے فتح کرنے کی کوشش کریں۔ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم ہندوستان میں ہندوستانی حکومت قائم کریں۔‘‘ (خطبات ص ۱۹۶)
تقسیم ہند کی بحث کے تناظر میں بھی یہی سوال اٹھایا گیا تو مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے اس کے جواب میں لکھا:
’’عموماً پاکستان کے حامیوں کی جانب سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ہندوستان کی خارجی پالیسی میں اس کی کیا گارنٹی ہوگی کہ جنگ وصلح اور دیگر معاہدات میں مسلمان حکومتوں کے ساتھ مسلمانان ہند کے اتحاد اسلامی کا لحاظ رکھا جائے گا؟ سو اس کے متعلق بھی کانسٹی ٹیوشن بناتے وقت طے کیا جا سکتا ہے اور اس سے متعلق تفصیلات کو تسلیم کرایا جا سکتا ہے۔ اور میرے خیال میں یہ مسئلہ ایسا پیچیدہ بھی نہیں ہے، خصوصاً جبکہ ہندوستان کی حکومت اس اصول پر قائم کی جائے گی کہ وہ استعمارانہ ہو اس میں خود کسی پر بھی جارحانہ حملہ نہیں کرے گی۔ ہاں، اس سلسلہ میں اگر کوئی پیچیدگی پیش آ سکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ دنیا کی مختلف حکومتوں کی باہمی جنگ میں اگر جمہوریت کی حمایت میں ہندوستان کو ایسی حکومت کا ساتھ دینا پڑے جس کے برعکس کوئی مسلمان حکومت کسی سرمایہ پرست، جمہوریت کے مخالف، یورپین یا کسی ایشیائی حکومت کے ساتھ ہو تو اس صورت میں مسلمانان ہند کیا رویہ اختیار کریں گے؟ تو ظاہر ہے کہ جب ہم ہندوستان میں صاحب حکومت ہوں گے تو جس طرح ہمارا فرض ہے کہ مسلمان حکومتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ضروری سمجھیں، اسی طرح اس مسلمان حکومت کا بھی یہی فرض ہوگا اور اگر وہ خدا نخواستہ اس فرض کو قصداً نظر انداز کر دے تو مسلمانان ہند بھی مجبور ہوں گے کہ اپنے ملک اور خود اپنی حفاظت کے لیے جو صورت مناسب سمجھیں، اختیار کریں۔ جس طرح آج ترکی، ایران، افغانستان، عراق، شام او رمصر میں ہو رہا ہے اور اگر یہ بات بھی دل میں کھٹکتی ہو تو ترکی اور دوسری مسلمان حکومتوں کے حالات کو پیش نظر رکھ کر اور جذبات سے الگ ہو کر بعینہ اس پوزیشن کو اس حالت میں بھی سوچیے اور حل کیجیے کہ جب پاکستان کو اپنی حفاظت کے لیے کسی دوسری مسلمان حکومت کے خلاف جنگ آزما ہونا پڑ جائے اور جو حل آپ اس کے لیے تجویز فرمائیں، وہی حل وحدت ہند کی صورت میں بھی اختیار کرنے کی تجویز فرمائیں۔‘‘ (’’پاکستان پر ایک نظر‘‘، نئی زندگی الہ آباد، خاص (پاکستان) نمبر، ۱۹۴۶ء، جلد ۶، شمارہ ۱، کتاب دوئم، ص ۴۵)
اس بحث سے واضح ہے کہ مختلف جنگوں میں مسلمانوں کے خلاف غیر مسلم قوتوں کا ساتھ دینے کی بنیاد پر مطلقاً تکفیر کا موقف ایک انتہائی غیر محتاط اور علمی وشرعی لحاظ سے بے بنیاد موقف ہے۔ نہ تو شرعی نصوص میں ایسی کوئی تصریح موجود ہے اور نہ فقہاء نے ایسا مطلق اور کلی نوعیت کا کوئی شرعی حکم بیان کیا ہے۔ اس موقف میں کفر واسلام کی جنگ اور مسلمانوں اور کفار کی باہمی جنگ کو ایک ہی شمار کرتے ہوئے سنگین نوعیت کا خلط مبحث پیدا کیا گیا ہے اور اس اہم نکتے کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ دنیا میں مختلف گروہوں کے مابین جنگ کے اسباب مذہبی اختلاف سے ہٹ کر بھی کئی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ کسی بھی جنگ میں محض ایک فریق کے مسلمان اور دوسرے فریق کے کافر ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ جنگ، مذہبی تناظر میں، کفر اور اسلام کی جنگ بھی ہو جس میں ایک طرف یا دوسری طرف فریق بننے کو ایمان یا کفر کا معیار قرار دیا جا سکے۔ ہذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۸)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۰۸) القاء کا ترجمہ
القاء کا مطلب ڈالنا اور رکھنا ہوتا ہے، پھینکنا اس لفظ کی صحیح ترجمانی نہیں کرتا ہے، بعض لوگوں نے جگہ جگہ اس لفظ کا ترجمہ پھینکنا کیا ہے، کہیں کہیں اس سے مفہوم میں فرق نہیں پڑتا، لیکن کہیں تو اس ترجمہ سے مفہوم میں واضح طور پر خرابی آجاتی ہے۔
ہم پہلے وہ آیتیں ذکر کرتے ہیں جہاں القاء کا ترجمہ پھینکنا ہوہی نہیں سکتا ہے، اس لئے کسی نے یہ ترجمہ نہیں کیا ہے، خاص طور سے سید مودودی نے بھی نہیں، جو کہ اکثر جگہ القاء کا ترجمہ پھینکنا کرتے ہیں:
(۱) وَأَلْقَی فِی الأَرْضِ رَوَاسِیَ۔ (النحل:۱۵)
’’اس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں‘‘ (سید مودودی)
’’اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے ‘‘(احمد رضا خان)
(۲) وَأَلْقَی فِی الْأَرْضِ رَوَاسِیَ۔ (لقمان: ۱۰)
’’اس نے زمین میں پہاڑ جمادئے ‘‘(سید مودودی)
(۳) فَلَوْلَا أُلْقِیَ عَلَیْْہِ أَسْوِرَۃٌ مِّن ذَہَبٍ۔ (الزخرف: ۵۳)
’’کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے‘‘ (سید مودودی)
اس کے بعد ہم وہ آیتیں ذکر کرتے ہیں، جہاں القاء کا ترجمہ پھینکنا کرنے سے مفہوم میں بظاہر کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی، گوکہ لفظ کی رعایت سے یہاں بھی پھینکنے کے بجائے ڈالنا ترجمہ کرنا زیادہ بہتر ہے:
(۱) فَأَلْقَی عَصَاہُ فَإِذَا ہِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْن۔ (الاعراف: ۱۰۷)
’’موسی نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اڑدہا تھا‘‘ (سید مودودی)
’’موسیٰ نے اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دی تو وہ اسی وقت صریح اڑدھا (ہوگیا) ‘‘(فتح محمد جالندھری)
(۲) قَالُوا یَا مُوسَی إِمَّا أَن تُلْقِیَ وَإِمَّا أَن نَّکُونَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ۔ قَالَ أَلْقُوْا فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْہَبُوہُمْ وَجَاءُ وا بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ۔ وَأَوْحَیْْنَا إِلَی مُوسَی أَنْ أَلْقِ عَصَاکَ فَإِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَأْفِکُون۔ (الاعراف:۱۱۵۔ ۱۱۷)
’’پھر انہوں نے موسی سے کہا ’’تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں؟ موسی نے جواب دیا تم ہی پھینکو۔ انہوں نے جو اپنے انچھر پھینکے تو نگاہوں کو مسحور اور دلوں کو خوف زدہ کردیا اور بڑا ہی زبردست جادو بنالائے۔ ہم نے موسی کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا عصا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا‘‘ (سید مودودی)
’’(جب فریقین روزِ مقررہ پر جمع ہوئے تو) جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم (جادو کی چیز) ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں. (موسیٰ نے) کہا تم ہی ڈالو۔ جب انہوں نے (جادو کی چیزیں) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (یعنی نظربندی کردی) اور (لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا. (اس وقت) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو۔ وہ فوراً (سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو (ایک ایک کرکے) نگل جائے گی‘‘(فتح محمدجالندھری)
دوسرے ترجمہ سے لگتا ہے کہ فَإِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَأْفِکُون اس جملے کا جزء ہے جو حضرت موسی سے کہا گیا، جب کہ یہ ایک مستقل جملہ ہے ، جیسا کہ پہلے ترجمہ میں ہے، کہ ’’اس کا عصا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا‘‘ البتہ اس دوسرے ترجمہ کی خامی یہ ہے کہ تلقف جو کہ فعل مضارع ہے اس کا ترجمہ ماضی سے کیا گیا، اس کے بجائے اس کا ترجمہ حال یہ ماضی مستمر سے ہوگا، یعنی نگلتا جارہا ہے، یا نگلتا جارہا تھا۔ نہ کہ مستقبل سے کیا جائے گا جیسا کہ پہلے ترجمہ میں کیا گیا)
(۳) فَلَمَّا جَاء السَّحَرَۃُ قَالَ لَہُم مُّوسَی أَلْقُوا مَا أَنتُم مُّلْقُونَ۔ فَلَمَّا أَلْقَوا قَالَ مُوسَی مَا جِءْتُم بِہِ السِّحْر۔ (یونس: ۸۰،۸۱)
’’جب جادو گر آگئے تو موسی نے ان سے کہا جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے پھینکو۔ پھر جب انہوں نے اپنے انچھر پھینک دیے، تو موسی نے کہا یہ جو کچھ تم نے پھینکا ہے یہ جادو ہے‘‘ (سید مودودی)
’’پھر جب آئے جادوگرکہا ان کو موسی نے ڈالو جو تم ڈالتے ہو پھر جب انہوں نے ڈالا موسی بولا کہ جو تم لائے ہو سو جادو ہے‘‘ (شاہ عبدالقادر)
(۴) وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یَا مُوسَی۔ قَالَ ہِیَ عَصَایَ أَتَوَکَّأُ عَلَیْْہَا وَأَہُشُّ بِہَا عَلَی غَنَمِیْ وَلِیَ فِیْہَا مَآرِبُ أُخْرَی۔ قَالَ أَلْقِہَا یَا مُوسَی۔ فَأَلْقَاہَا فَإِذَا ہِیَ حَیَّۃٌ تَسْعَی۔ (طہ: ۱۷ ۔۲۰)
’’اور اے موسی یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟ موسی نے جواب دیا یہ میری لاٹھی ہے، اس پر ٹیک لگاکر چلتا ہوں، اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں ۔ فرمایا پھینک دے اس کو موسی۔ اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دوڑرہا تھا۔ (سید مودودی، اس پر ٹیک لگاکر چلتا ہوں ‘‘ کے بجائے کہنا چاہئے ’’اس کا سہارا لیتا ہوں‘‘ کیونکہ الفاظ میں صرف ٹیکنے کی بات ہے چلنے کی بات نہیں ہے، سہارا لینے کی ضرورت کھڑے رہنے کے لئے بھی ہوسکتی ہے، اور بھی کام ہوسکتے ہیں، جیسا کہ بعد میں ذکر ہے)
’’اور یہ کیا ہے تیرے داہنے ہاتھ میں اے موسی ۔ بولایہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیکتا ہوں اور پتے جھاڑتا ہوں اس سے اپنی بکریوں پر اور میرے اس میں کتے کام ہیں۔ اور فرمایا ڈال دے اس کو اے موسی۔ تو اس کو ڈال دیا پھر تب ہی وہ سانپ ہے دوڑتا ۔ (شاہ عبدالقادر، دونوں ترجموں میں ایک توجہ طلب بات یہ ہے کہ غَنَمِی کا ترجمہ بکریوں کے بجائے بھیڑ بکریوں کرنا چاہئے)
(۵) قَالُوا یَا مُوسَی إِمَّا أَن تُلْقِیَ وَإِمَّا أَن نَّکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَی۔ قَالَ بَلْ أَلْقُوا فَإِذَا حِبَالُہُمْ وَعِصِیُّہُمْ یُخَیَّلُ إِلَیْْہِ مِن سِحْرِہِمْ أَنَّہَا تَسْعَی۔ فَأَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہِ خِیْفَۃً مُّوسَی۔ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّکَ أَنتَ الْأَعْلَی۔ وَأَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِکَ۔ (طہ:۶۵ ۔۶۹)
’’جادوگر بولے موسی تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں؟۔ موسی نے کہا نہیں تم ہی پھینکو۔ یکایک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے موسی کو دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں، اور موسی اپنے دل میں ڈر گیا۔ ہم نے کہا مت ڈرو، تو ہی غالب رہے گا۔ پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے‘‘ (سید مودودی)
’’بولے اے موسی یا تو ڈال اور یا ہم ہوں پہلے ڈالنے والے۔ کہا نہیں تم ڈالو۔ پھر تب ہی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں اس کے خیال میں آئیں ان کے جادو سے کہ دوڑتے ہیں۔ پھر پانے لگا اپنے جی میں ڈر موسی۔ ہم نے کہا تو نہ ڈر ، مقرر توہی رہے گا اوپر۔ اور ڈال جو تیرے داہنے میں ہے‘‘ (شاہ عبدالقادر)
(۶) قَالَ لَہُم مُّوسَی أَلْقُوا مَا أَنتُم مُّلْقُون۔ فَأَلْقَوْا حِبَالَہُمْ وَعِصِیَّہُمْ وَقَالُوا بِعِزَّۃِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ۔ فَأَلْقَی مُوسَی عَصَاہُ فَإِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَأْفِکُون۔ (الشعراء: ۴۳ ۔۴۵)
’’موسی نے کہا پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے۔ انہوں نے فورا اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے۔ پھر موسی نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جارہا تھا‘‘ (سید مودودی)
’’کہا ان کو موسی نے ڈالو جو تم ڈالنے آئے ہو۔ پھر ڈالیں انہوں نے اپنی رسیاں اوراپنی لاٹھیاں اور بولے فرعون کے اقبال سے ہم ہی زبر رہے۔ پھر ڈالا موسی نے اپنا عصا پھر تبھی وہ نگلنے لگا جو سانگ انہوں نے بنایا تھا‘‘(شاہ عبدالقادر)
(۷) إِذَا أُلْقُوا فِیْہَا سَمِعُوا لَہَا شَہِیْقاً وَہِیَ تَفُورُ۔ تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْْظِ کُلَّمَا أُلْقِیَ فِیْہَا فَوْجٌ سَأَلَہُمْ خَزَنَتُہَا أَلَمْ یَأْتِکُمْ نَذِیْرٌ۔ (الملک: ۷،۸)
’’جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دہاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے۔ اور وہ جوش کھارہی ہوگی، شدت غضب سے پھٹی جاتی ہوگی۔ ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا، اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا‘‘ (سید مودودی)
’’جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے اس کا دہاڑنا سنیں گے اور وہ جوش مارتی ہوگی۔ معلوم ہوگا کہ غصہ سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ جب جب ان کی کوئی بھیڑ اس میں جھونکی جائے گی اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے کیا تمھارے پاس (اس دن سے) کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟‘‘ (امین احسن اصلاحی)
مذکورہ بالا مقامات وہ ہیں جہاں القاء کا ترجمہ پھینکنا کرنے سے مفہوم میں کوئی واضح خرابی پیدا نہیں ہوتی ہے، گو کہ لفظ کی رعایت نہیں ہوپاتی ہے۔
اب آخر میں ہم وہ مقامات ذکر کریں گے، جہاں القاء کا ترجمہ پھینکنا کرنے سے مفہوم میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ جبکہ ڈالنا ترجمہ کرنے سے کسی طرح کی خرابی پیدا نہیں ہوتی ہے، اور مفہوم اچھی طرح اور اچھے پیرائے میں واضح ہوجاتا ہے:
(۱) وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَی إِلَی قَوْمِہِ غَضْبَانَ أَسِفاً قَالَ بِءْسَمَا خَلَفْتُمُونِیْ مِن بَعْدِیَ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّکُمْ وَأَلْقَی الألْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِیْہِ یَجُرُّہُ إِلَیْْہِ۔ (الاعراف: ۱۵۰)
’’اور جب موسی رنج اور غصہ سے بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف لوٹا، بولا تم نے میرے پیچھے میری بہت بری جانشینی کی۔ کیا تم نے خدا کے حکم سے پہلے ہی جلد بازی کردی؟ اور اس نے تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اس کو اپنی طرف گھسیٹنے لگا‘‘(امین احسن اصلاحی)
ألْـقَی الألْوَاح کے کچھ اور ترجمے بھی ذکر کئے جاتے ہیں:
’’اور تختیاں پھینک دیں‘‘ (سید مودودی)
’’اور ڈال دیں وہ تختیاں ‘‘(شاہ رفیع الدین)
’’اور ڈال دیں وہ تختیاں‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’اور (جلدی سے) تختیاں ایک طرف رکھیں ‘‘(اشرف علی تھانوی)
’’اور جلدی سے تختیاں ایک طرف رکھیں ‘‘(محمد جوناگڑھی)
’’اور تختیاں ڈال دیں ‘‘(احمد رضا خان)
یہاں تختیاں پھینک دینے کا ترجمہ بالکل درست نہیں ہے، کسی کی حرکت پر غصہ آجانے پر بھی ایک نبی تختیاں ایک طرف رکھ کر اپنے غصہ کا اظہار کرے یہ تو درست ہے، لیکن تختیاں پھینک دینے کا کوئی جواز نہیں نکلتا ہے، یہ ترجمہ بے محل بھی ہے، اور نامناسب بھی ہے۔ تختیاں رکھ دیں یا ڈال دیں کہیں تو یہ قباحت دور ہوجاتی ہے۔
(۲) أَنِ اقْذِفِیْہِ فِی التَّابُوتِ فَاقْذِفِیْہِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِہِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَأْخُذْہُ عَدُوٌّ لِّیْ وَعَدُوٌّ لَّہُ وَأَلْقَیْْتُ عَلَیْْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ۔ (طہ:۳۹)
’’کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے، دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اٹھالے گا۔ میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی‘‘ (سید مودودی، القاء پھینکنے کے لئے نہیں آتا ہے، اور نہ ہی طاری کرنے کے لئے آتا ہے، تجھ پر محبت طاری کرنے کا مفہوم ہوگا کہ تو محبت کرے، نہ کہ تجھ سے محبت کی جانے لگے، اور یہاں یہ مراد نہیں ہے، بلکہ یہ مراد ہے کہ تجھ سے محبت کی جانے لگے، ترجمہ ہوگا: اور اپنی طرف سے تیری محبت ڈال دی)
’’کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دے تو دریا اسے کنارے پر ڈالے کہ اسے وہ اٹھالے جو میرا دشمن اور اس کا دشمن اور میں نے تجھ پر اپنی طرف کی محبت ڈالی ‘‘(احمد رضا خان)
’’کہ تو اسے صندوق میں بند کرکے دریا میں چھوڑ دے، پس دریا اسے کنارے لا ڈالے گا اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا اور میں نے اپنی طرف کی خاص محبت ومقبولیت تجھ پر ڈال دی‘‘(محمد جوناگڑھی)
’’(وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا لے گا۔ اور (موسیٰ) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی ہے ‘‘(فتح محمد جالندھری)
اس آیت میں اس کا محل نہیں ہے کہ سمندر صندوق کو ساحل پر پھینک دے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت اختیار کرنا مراد نہیں ہے جس سے بچے کو اذیت پہنچ سکتی ہو، یا اس سے بے اعتنائی کا اظہار ہوتا ہو۔ اس آیت میں رکھنا اور ڈالنا ہی مراد ہے نہ کہ پھینک دینا۔ آخری جملے وَأَلْقَیْْتُ عَلَیْْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّی کا مفہوم یہ نہیں ہے آپ اللہ کے محبوب بن گئے، وہ تو آپ تھے ہی، اور نہ یہ ہے کہ آپ لوگوں سے محبت کرنے لگے، بلکہ یہاں مراد یہ ہے کہ اللہ نے اپنی طرف سے لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دی۔ آپ اللہ کے محبوب تو تھے ہی، اللہ نے آپ کو لوگوں کا محبوب بھی بنادیا۔اور اس وقت فرعون کے دربار میں اور ملک کے اس ماحول میں بحفاظت نشوونما کے لئے یہ بہت ضروری انتظام تھا۔
(۳) اذْہَب بِّکِتَابِیْ ہَذَا فَأَلْقِہْ إِلَیْْہِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْہُمْ فَانظُرْ مَاذَا یَرْجِعُونَ۔ (النمل:۲۸)
’’میرے اس خط کو لے جاکر انہیں دے دے پھر ان کے پاس سے ہٹ آ، اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں‘‘ (محمد جونا گڑھی)
’’یہ میرا خط لے جا اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ‘‘(فتح محمدجالندھری)
’’میرا یہ خط لے اور اسے ان لوگوں کی طرف ڈال دے، پھر الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں‘‘ (سید مودودی)
(۴) قَالَتْ یَا أَیُّہَا المَلَأُ إِنِّیْ أُلْقِیَ إِلَیَّ کِتَابٌ کَرِیْمٌ۔ (النمل: ۲۹)
’’ملکہ بولی اے اہل دربار، میری طرف ایک بڑا اہم خط پھینکا گیا ہے‘‘ (سید مودودی)
’’وہ کہنے لگی اے سردارو میری طرف ایک باوقعت خط ڈالا گیا ہے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’ملکہ نے کہا کہ دربار والو! میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے‘‘ (فتح محمدجالندھری)
مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں پھینکنے کا ترجمہ کسی طرح مناسب حال نہیں ہے، نہ تو پرندہ خط پھینکتا ہے، اور نہ باوقعت اور کریم خط کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ میری طرف پھینکا گیا۔
(۵) قَالُوا مَا أَخْلَفْنَا مَوْعِدَکَ بِمَلْکِنَا وَلَکِنَّا حُمِّلْنَا أَوْزَاراً مِّن زِیْنَۃِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنَاہَا فَکَذَلِکَ أَلْقَی السَّامِرِی۔ (طہ:۸۷)
’’انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ سے کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزی اپنی مرضی سے نہیں کی۔ بلکہ قوم کے زیورات کا بوجھ جو ہمارے حوالہ کیا گیا تھا ہم نے اس کو پھینک دیا اور اس طرح سامری نے ڈھال کر پیش کردیا‘‘ (امین احسن اصلاحی، یہاں لفظ ’’موعد‘‘ وعدہ وعہد کے لئے نہیں ہے، بلکہ طے کردہ وقت اور جگہ کے لئے ہے، کہ جس وقت جس جگہ پہونچنے کے لئے کہا گیا تھا وہاں نہیں پہونچے )
’’بولے ہم نے خلاف نہیں کیا تیرا وعدہ اپنے اختیار سے ولیکن اٹھالئے ہم نے بوجھ گہنے سے اس قوم کے گہنے کے سو ہم نے وہ پھینک دئیے پھر یہ نقشہ ڈالا سامری نے‘‘ (شاہ عبد القادر)
’’وہ کہنے لگے ہم نے جو آپ سے وعدہ کیا تھا اس کو اپنے اختیار سے خلاف نہیں کیا ولیکن قوم (قبط) کے زیور میں سے ہم پر بوجھ لد رہا تھا سو ہم نے اس کو (سامری کے کہنے سے آگ میں) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے (بھی) ڈال دیا‘‘(اشرف علی تھانوی)
’’انہوں نے جواب دیا ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے تھے اور ہم نے بس ان کو پھینک دیا تھا۔ پھر اسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا‘‘ (سید مودودی)
’’وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے اس کو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا‘‘ (فتح محمد جالندھری)
اس آیت میں فَکَذَلِکَ أَلْقَی السَّامِرِیُّ کے مختلف مطلب لئے گئے ہیں، مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ سامری نے کچھ نہیں ڈالا، اور یہاں اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ کیا وہ سامری کے سجھانے پر کیا، وہ ترجمہ کرتے ہیں:
’’انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ کے مقرر کئے ہوئے وقت کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی۔ بلکہ قوم کے زیورات کا بوجھ جو ہمارے حوالہ کیا گیا تھا ہم نے اس کو ڈال دیا اور اس طرح سامری نے سجھایا ‘‘(امانت اللہ اصلاحی)
(۱۰۹) ألقی ساجدا کا ترجمہ
قرآن مجید میں جادوگروں کے سجدے میں جانے کا تذکرہ تین مقامات پر ہے، تینوں جگہ اس مفہوم کے لیے ألقي فعل مجہول کے صیغے میں استعمال ہوا ہے۔ مفسرین کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جادوگر تو اپنی مرضی سے سجدے میں گئے تھے، پھر یہ فعل اور یہ صیغہ کیوں استعمال ہوا؟ اس کی مختلف توجیہیں بھی ملتی ہیں، ترجمہ کرنے والوں میں سے بعض لوگوں نے سب جگہ ڈالے گئے ترجمہ کیا، بعض لوگوں نے تینوں جگہ گرگئے ترجمہ کیا، جبکہ بعض لوگوں نے کہیں یہ ترجمہ کیا اور کہیں وہ ترجمہ کیا۔
(۱) وَأُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سَاجِدِیْنَ۔ (الاعراف: ۱۲۰)
’’اور ڈالے گئے جادو گر سجدے میں‘‘ (شاہ رفیع الدین)
’’اور ڈالے گئے ساحر سجدے میں ‘‘(شاہ عبد القادر)
’’اور جادوگر سجدے میں گرادئے گئے ‘‘(احمد رضا خان)
’’اور وہ جو ساحر تھے سجدہ میں گرگئے ‘‘(اشرف علی تھانوی)
’’اور وہ جو ساحر تھے سجدہ میں گرگئے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرادیا‘‘ (سید مودودی)
’’اور ساحر سجدے میں گرپڑے ‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’(یہ کیفیت دیکھ کر) جادوگر سجدے میں گر پڑے‘‘ (فتح محمدجالندھری)
(۲) فَأُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّداً۔ (طہ:۷۰)
’’پس ڈالے گئے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے‘‘(شاہ رفیع الدین)
’’پھر گرپڑے جادوگر سجدہ میں ‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’تو سب جادوگر سجدے میں گرادئے گئے ‘‘(احمد رضا خان)
’’سو جادوگر سجدہ میں گرگئے‘‘ (اشرف علی تھانوی)
’’اب تو تمام جادوگر سجدے میں گرپڑے‘‘(محمد جوناگڑھی)
’’تو جادوگر سجدے میں گرپڑے ‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’آخر کو یہی ہوا کہ سارے جادوگر سجدے میں گرادئے گئے ‘‘(سید مودودی)
’’(القصہ یوں ہی ہوا) تو جادوگر سجدے میں گر پڑے ‘‘(فتح محمدجالندھری)
(۳) فَأُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سَاجِدِیْن۔ (الشعراء: ۴۶)
’’پس ڈالے گئے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے‘‘ (شاہ رفیع الدین)
’’پھر اوندھے گرے جادوگر سجدے میں‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’اب سجدے میں گرے جادوگر ‘‘(احمد رضا خان)
’’یہ دیکھتے ہی جادوگر بے اختیار سجدے میں گرگئے ‘‘(محمد جوناگڑھی)
’’تو ساحر بے تحاشا سجدے میں گرپڑے‘‘ (امین احسن اصلاحی، بے تحاشا کا محل نہیں ہے)
’’اس پر سارے جادوگر بے اختیار سجدے میں گرپڑے‘‘ (سید مودودی)
’’تب جادوگر سجدے میں گر پڑے‘‘(فتح محمدجالندھری)
عربی زبان کے لحاظ سے مناسب اور اردو محاورے کے لحاظ سے فصیح ترجمہ گرادئے جانے کا نہیں بلکہ گرپڑنے کا ہوگا۔ صورت واقعہ بھی اسی پر دلالت کرتی ہے، جن لوگوں نے گرادئے جانے کا ترجمہ کیا ہے، انہوں نے یہ دیکھا کہ فعل مجہول استعمال ہوا ہے، لیکن یہ ایک اسلوب ہے، اس کا ترجمہ معروف لازم ہی کا ہوگا، دراصل ألقي یہاں ویسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح توفي مجہول استعمال ہوتا ہے، تاج العروس میں ہے تُوفِّیَ فلانٌ: اِذا ماتَ.توفي کا ترجمہ یہ نہیں کیا جاتا کہ اس کو وفات دی گئی، بلکہ یہ ہوتا کہ اس نے وفات پائی۔ تینوں آیتوں کا مناسب ترجمہ ہے جادوگر سجدے میں گرپڑے۔ اس اسلوب کی اور بھی مثالیں مل سکتی ہیں۔
علامہ ابن عاشور نے توجیہ یہ کی ہے کہ یہ تعبیر بے اختیارتیزی سے گرپڑنے کے لئے استعمال ہوتی ہے، اور چونکہ انہوں نے خود اپنے آپ کو سجدے میں گرایا تھا، اس لیے ألقي مجہول استعمال ہوا۔
والاِلْقاءُ: مستعملٌ فی سُرعۃِ الھُویِّ الی الأرضِ، أی: لمْ یتمالکوا أن سجدوا بدون تریث ولا ترددٍ۔ وبُنِیَ فعلُ الالقاءِ للمجھولِ لظھور الفاعلِ، وھو أنفسُھم، والتقدیرُ: وألقوا أنفسھم علی الأرض۔ (التحریر والتنویر: ۹؍۵۲)
(جاری)
استاذ القراء حضرت قاری محمد انور قدس اللہ سرہ العزیز
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ۱۴؍ فروری کو منعقد ہونے والی پندرہ روزہ فکری نشست میں مولانا زاہد الراشدی نے استاذ القراء حضرت قاری محمد انور صاحبؒ کے بارے میں گفتگو کی جو مولانا زاہد الراشدی کے حفظ کے استاذ تھے اور ابھی پچھلے دنوں ان کا مدینہ منورہ میں انتقال ہوا ہے۔ اس نشست میں ان کے حوالے سے کچھ یادداشتیں بیان کی گئیں اور آخر میں ان کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن کریم کی تلاوت اور دعا کی گئی۔)
بعدالحمدوالصلوٰۃ !
استاذالحفاظ، استاذا لقراء حضرت قاری محمدانور صاحبؒ کا چند روز پہلے مدینہ منورہ میں انتقال ہو گیا ہے ۔آپ ؒ میرے حفظ کے استاذتھے اور صرف میرے ہی نہیں بلکہ ہمارے پورے خاندان کے استاذ تھے۔ ہم سب بھائی بہنیں ان کے شاگردہیں۔الحمدللہ نو بھائیوں نے اورتین بہنوں نے حفظ کیا ہے۔ ایک بڑی بہن کے سواباقی سب کے استاذ وہی تھے، جبکہ گکھڑ میں اور گکھڑ کے ارد گرد سیکڑوں حفاظ کے استاذ تھے۔ گکھڑسے افریقہ کے ایک ملک میں تشریف لے گئے، وہاں بھی بیسیوں حفاظ کے استاذ ہیں۔ پھر مدینہ منورہ میں تقریباًپینتیس سال انہوں نے قرآن پاک پڑھایا ہے۔ وہاں بھی سیکڑوں حفاظ نے ان سے قرآن کریم حفظ کیا ہے۔ آج کی تقریب میں ان کے حوالے سے کچھ باتیں عرض کروں گا۔
ان کے تعارف کے لیے دو تین باتوں کاتذکرہ ضروری ہے۔گکھڑمیں حضرت والدمحترم مولانامحمدسرفرازخان صفدرؒ ۱۹۴۳ء میں آئے تھے۔ ۴۱،۴۲ء میں دارالعلوم دیوبندمیں دورۂ حدیث کیا تھا اور ۱۹۴۳ء میں گکھڑ بوہڑ والی مسجد میں بطورامام وخطیب کے تشریف لائے تھے اور ۲۰۰۹ء میں ان کا انتقال ہوا۔ ساراعرصہ انہوں نے گکھڑ میں گزارا ۔جب تک صحت نے اجازت دی، وفات سے سات آٹھ سال پہلے تک، تو پانچوں نمازیں خود پڑھاتے تھے،صبح درس بھی دیتے تھے، جمعہ بھی پڑھاتے تھے ۔وہاں درس نظامی کامدرسہ تو تھا جس میں حضرت والدصاحبؒ جب سے آئے تھے، پڑھارہے تھے ۔ملک کے مختلف حصوں سے علماء آتے تھے ،وہاں رہتے تھے، پڑھتے تھے، لیکن حفظ کاکوئی باضابطہ مدرسہ نہیں تھا۔ حفظ کاباضابطہ مدرسہ تقریباً ۱۹۵۷ء میں بنا ہے۔ اس کاپس منظر یہ ہے کہ راہوالی سے گکھڑ جاتے ہوئے رستہ میں ایک گتہ فیکٹری ہوتی تھی۔ اب تووہ ختم ہوچکی ہے، لیکن بلڈنگ وغیرہ موجود ہے۔ اس کے ساتھ سیٹھی کالونی ہے۔ یہ گتہ فیکٹری کسی زمانے میں پاکستان کی بڑی گتہ فیکٹری ہوتی تھی۔ ایک مردان میں تھی، دوسری یہ تھی۔ اس کے مالک سیٹھی محمدیوسف صاحب ؒ نومسلم باپ کے بیٹے تھے۔ سیالکوٹ روڈ پر ایک قصبہ ہے ترگڑی، وہاں کے رہنے والے تھے ۔ان کے والد ہندو سے مسلمان ہوئے تھے۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ حضرت مولانااحمدعلی لاہوری ؒ کے والدجلال کے تھے۔ ہمارے ایک اور بزرگ گزرے ہیں باوا جی عبدالحق ، ؒ یہ تلونڈی کھجور والی کے تھے۔ تلونڈی کھجور والی،جلال اورترگڑی، یہ تینوں قریب قریب علاقے ہیں، دو دوتین تین میل کافاصلہ ہے۔ یہ تینوں حضرات ایک ہی دورمیں مسلمان ہوئے تھے۔ حضرت لاہوریؒ کے والد سکھ سے مسلمان ہوئے تھے، باواجی عبدالحق ؒ ہندو پنڈت سے مسلمان ہوئے تھے اورسیٹھی صاحب کے والد ہندو سے مسلمان ہوئے تھے۔ سیٹھی محمدیوسف صاحبؒ کے والد صاحب کو قرآن پاک سے بڑالگاؤ تھا، اپنے بیٹے کو بھی انہوں نے قرآن پاک کی طرف توجہ دلائی ۔
سیٹھی محمدیوسف صاحب گتہ فیکٹری کے مالک تھے اوراپنے زمانے میں ضلع گوجرانوالہ کے چند امیرترین لوگوں میں سے تھے ۔ذوق قرآن پاک کی خدمت کاتھا۔ ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ مدرسے بنائے جائیں۔ اس زمانے میں حفظ اورتجوید کے مدارس اکا دکا کہیں ہوتے تھے۔ ملتان ،کراچی،چنیوٹ سائڈ پر جہاں حضرت قاری رحیم بخش صاحبؒ اورحضرت قاری فتح محمدصاحبؒ کے کچھ شاگرد تھے،ہمارے اس علاقے میں حفظ کاکوئی مدرسہ نہیں تھا ۔سیٹھی محمدیوسف صاحب کاطریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ ان کے ساتھ ایک قاری صاحب ہوتے تھے، مولاناقاری عبدالحفیظ صاحبؒ ۔ اکوڑہ خٹک کے ساتھ شیدوشریف ایک جگہ ہے، یہ و ہاں کے تھے ۔سیٹھی صاحب قاری صاحب کو مختلف علاقوں میں لے کرجاتے ، مجمع کے سامنے قاری صاحب کوقرآن سنانے کاکہتے۔ قاری صاحب تلاوت کرتے ۔قاری صاحب قرآن پاک اچھا پڑھتے تھے پھر سیٹھی صاحب لوگوں کو کہتے ایسے ہی تم بھی پڑھا کرو ۔لوگ کہتے، ہم ایسے کس طرح پڑھیں؟ سیٹھی صاحب کہتے کہ اس کا بندوبست کرو، میں بھی حصہ ڈالتا ہوں۔یہاں کوئی مدرسہ بناؤ ،قاری صاحب رکھو، میں بھی حصہ ڈالتا ہوں۔ یہ ان کا طریقہ تھا۔
اب بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ غالباً ۵۶ یا ۵۷ء کی بات ہے۔ میں اس وقت آٹھ نوسال کاتھا۔ سیٹھی صاحب ہماری مسجد میں تشریف لائے۔ جمعے کے دن حضرت والدصاحب ؒ سے کہا کہ خطبے سے پہلے مجھے پانچ سات منٹ دیں گے ؟انہوں نے کہا، ٹھیک ہے ۔سیٹھی صاحب نے قاری صاحب سے کہا، تلاوت کریں ۔انہوں نے مختصر سی تلاوت فرمائی۔ پھر سیٹھی صاحب نے کھڑے ہوکر دوتین منٹ بات فرمائی کہ قرآن پاک اچھے طریقے سے پڑھانا چاہیے، صحیح پڑھنا چاہیے،یاد کرنا چاہیے۔ جیسے قاری صاحب نے پڑھا ہے، تم بھی کوئی شوق پیداکرو اورکہاکہ جیسا قاری صاحب نے صحیح تلفظ کے ساتھ قرآن پڑھا ہے، مولوی صاحب (مراد والدگرامیؒ )کے علاوہ یہاں کے مقامی لوگوں میں سے اگر کوئی اسی طرح ایک رکوع پڑھ کرسنادے تو پچاس روپے انعام دوں گا۔ اس زمانے کے پچاس روپے آج کے پانچ ہزار تھے۔ ایک بزرگ مہاجر تھے حافظ احمدحسن صاحبؒ (زاہداقبال خوشنویس کے والد)۔ انہوں نے کہا: میں سناتا ہوں۔ کہا:سنائیں ۔جب سنا چکے تو سیٹھی صاحب نے کہا، آپ مقامی نہیں ہیں ۔کہا: جی میں مقامی تو نہیں ہوں، مہاجر ہوں۔ سیٹھی صاحب نے کہا: میں نے مقامی حضرات سے کہا تھا۔ یہ کہہ کرسیٹھی صاحب نے ایک شوق پیدا کیا۔ فرمایا: ایسا کرو کہ کسی قاری صاحب کابندوبست کرو۔ قاری صاحب کو جو تنخواہ دو گے، آدھی تنخواہ میں دیاکروں گا۔ اسی پرفیصلہ ہوگیا کہ اب قاری صاحب رکھیں گے اور قرآن پاک حفظ ناظرہ کی کلاس شروع ہوگئی۔اس فیصلے کے تحت ہمارے پہلے استاذِ محترم قاری اعزازالحق صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ تھے جو امروہہ کے مہاجر تھے۔ ان کومقررکیا گیا۔ میں پہلی کلاس کا طالب علم تھا،مجھے اسکول سے اٹھاکر مدرسے میں ڈال دیاگیا۔ تب میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ چوتھی جماعت پڑھی تھی، امتحان نہیں دیا تھا ۔ گیارہ بارہ لڑکوں کی کلاس تھی۔ ہمیں قرآن پاک حفظ شروع کروادیا گیا۔ ناظرہ میں نے پہلے والدہ مرحومہ سے اوروالد صاحبؒ سے پڑھا ہوا تھا۔بات میں نے قاری صاحبؒ کی کرنی ہے، لیکن سیٹھی صاحب کا تعارف ضروری ہے۔ سیٹھی صاحب سارے ملک میں ایسا ہی کرتے تھے۔ فیکٹری کماتی تھی ،وہ خرچ کرتے تھے۔ اسی طرح ترغیب دلا کرمدرسہ بنواتے تھے، کہیں تجوید کا،کہیں حفظ کا۔ کہیں آدھی تنخواہ دیتے ،کہیں تیسراحصہ اور کہیں تو پوری تنخواہ خوددیتے تھے کہ تم قاری صاحب کورکھو ،تنخواہ میں دوں گا۔
ان کی گتہ فیکٹری کاایک مستقل شعبہ تھا، شعبہ تعلیم القرآن۔ اس شعبہ کے انچارج محمدحسین صاحب مرحوم تھے۔ایک مرتبہ شاید ۱۹۶۵ء کی بات ہے، میں نے ان سے پوچھا کہ ملک کے کتنے مدرسے ہیں جن کی سیٹھی صاحب اس طرح مدد کرتے ہیں؟ انہوں نے سیکڑوں میں تعداد بتائی جن کی سیٹھی صاحب اس طرح معاونت اور نگرانی کرتے ہیں ۔ پھرآہستہ آہستہ مدرسے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے اورسیٹھی صاحب کامقصد بھی یہی ہوتا تھاکہ میں ان کو سہارا دوں، یہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں۔ جب وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجاتے تو آپ پیچھے ہٹ جاتے کہ میراکام یہی تھا ۔سیٹھی صاحب مرحوم نے افریقہ میں اورسعودی عرب میں بھی بہت سے مدرسے بنوائے ہیں۔ہمارے استاذِمحترم قاری محمد انور صاحبؒ کویہ گکھڑ سے افریقہ لے گئے تھے، قاری صاحبؒ چند سال وہاں پڑھاتے رہے ۔
سیٹھی صاحب ؒ کے اللہ پاک درجات بلند فرمائیں، اللہ پاک جس سے کام لینا چاہیں ۔یہ بات شایدآپ کی سمجھ میں نہ آئے کہ سعودی عرب میں حفظ کاکوئی مدرسہ نہیں تھا اورتراویح میں قرآن مجید سننے سنانے کا سوائے حرمین کے کہیں رواج نہیں تھا۔ سعودی عرب میں حفظ کا پہلا مدرسہ حرمِ مکہ میں سیٹھی صاحب نے قائم کیا تھاجس کے پہلے طالب علم امامِ کعبہ شیخ عبداللہ بن السبیلؒ تھے جو بعد میں امام الحرمین بنے۔ حرمین شریفین کے حفظ کے پہلے استاذ زندہ ہیں، قاری خلیل احمدصاحب۔اب معذورہیں، آزادکشمیر کے ہیں۔ قاری خلیل احمدصاحب کاایک بیٹاحرمین کے ائمہ میں شامل ہے جن کانام غالباً محمد ہے۔ سیٹھی صاحب نے مدرسے بنوانے شروع کیے ۔جب تعدادخاصی بڑھ گئی توسعودیہ والوں کو خیال آیا کہ باہر کے آدمی خرچہ کر کے مدرسے بنوارہے ہیں۔ پیسے تو ہمارے پاس بہت ہیں، ہم خود یہ کام کیوں نہ کریں۔ اس طرح ان کوخیال آیااورانہوں نے نظام سنبھال لیا، لیکن آغازسیٹھی صاحب نے کیااورکئی سال تک کئی مدارس کاخرچہ یہاں سے بھجواتے رہے۔ ائمہ حرمین میں الشیخ حذیفی اورالشیخ السدیس بھی پاکستانی قاری صاحبان کے شاگردہیں اور قاری انور صاحبؒ کے تو وہاں سیکڑوں شاگردہیں۔ یہ وہاں کے ائمہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے پاکستانی قاریوں سے پڑھا ہے۔اس وقت بھی وہاں حضرت قاری بشیراحمدصاحب ملتانی ہیں، مدینہ منورہ میں عشاء کے بعدبیٹھتے ہیں اوربڑے بڑے لوگ ان کے پاس آکراپنا تلفظ صحیح کرتے ہیں۔
یہ ہمارے گکھڑ کے مدرسے کاپس منظر تھا، لیکن اتفاق کی بات تھی اوریہ ہمارے ہاں ہوتا ہے کہ مزاج نہیں ملتے۔ ہم نے قرآن پا ک شروع توکردیا، لیکن کوئی قاری صاحب یہاں ٹکتے نہیں تھے یا محلے والے ٹکنے دیتے نہیں تھے۔ دونوں باتیں ہوتی ہیں، یاتو قاری صاحب کاا پناموڈ ٹکنے کانہیں ہوتا یا وہ ٹکنا چاہتا ہے، لیکن محلے والے ٹکنے نہیں دیتے۔ یہی سلسلہ چلتا رہا ۔ایک قاری صاحب آئے، وہ چلے گئے۔ دوسرے آگئے ،وہ چلے گئے۔ اسی طرح کئی قاری صاحبان ہمارے تبدیل ہوئے اورمسئلہ یہ تھا کہ جو قاری صاحب آتے، وہ نئے سرے سے شروع کرواتے کہ تم نے صحیح نہیں پڑھاہوا ،تمہاراتلفظ صحیح نہیں ،تمہارالہجہ صحیح نہیں ہے۔ ہم اسی الجھن میں تھے کہ کریں کیا ؟ہر پانچ چھ مہینے کے بعد نئے قاری صاحب آجاتے ہیں۔ بالآخراللہ پاک نے ہمیں حضرت قاری محمدانور صاحب ؒ عطا فرمائے۔ لاہور میں حفظ اور تجویدکا مدرسہ تجویدالقرآن سب سے قدیمی مدرسہ ہے۔ حضرت قاری فضل کریم صاحبؒ اورقاری محمدحسن شاہ صاحب ؒ ،قاری محمدظریف صاحب کامدرسہ تھا۔ ان سے حضرت والدصاحب ؒ نے کہا کہ کوئی اچھا ساقاری دو ،ہم نے مدرسہ چلانا ہے۔ حضرت قاری محمدانور صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رہنے والے تھے، ابتدائی تعلیم انہوں نے دارالعلوم ربانیہ میں حاصل کی تھی۔ حفظ مکمل کیا تجویدالقرآن لاہور میں، تجوید قاری محمدحسن شاہ صاحب ؒ سے پڑھی تواس تعلق سے قاری محمدانور صاحبؒ یہاں تشریف لائے۔ یہ پھر ٹک کر بیٹھے، ایسے ٹک کر بیٹھے کہ الحمدللہ ہرطرف حافظ ہی حافظ ہوگئے۔
آپؒ بڑے اچھے استاذتھے۔ میں نے پھر ان سے حفظ کرنا شروع کیا۔ آپؒ بڑی شفقت فرماتے تھے ،اورڈنڈا بھی خوب چلاتے تھے۔ یہ تو ہوتا ہی ہے۔ویسے آج کا ماحو ل بدل گیا ہے، ورنہ ڈنڈا ہی انسان کو سیدھا رکھتاہے، لیکن زیادہ بھی نہ مارا جائے، ہلکی پھلکی مار میں کوئی حرج نہیں۔ ہم نے توخیر والد صاحبؒ سے بھی بہت ڈنڈے کھائے ہیں اورقاری صاحبؒ سے بھی بہت ڈنڈے کھائے ہیں ۔میں اس پرطلبہ کواپنا قصہ سنایا کرتا ہوں کہ ایک دفعہ ایساہوا کہ مجھے سبق یاد نہیں تھا، قاری صاحبؒ نے میرے دائیں ہاتھ پر پانچ ڈنڈے ٹکاکر مارے جو اَب تک مجھے یادہیں۔ میں آخر صاحبزادہ تھا، منہ بسورااوراٹھ کر گھر چلاگیا ۔والدہ مرحومہ اللہ پاک غریق رحمت کریں۔ وہ بھی گھر میں بچیوں کو ناظرہ اورحفظ پڑھاتی تھیں، اگرچہ خود حافظ نہیں تھیں ۔میں نے ایک دفعہ ان سے پوچھا کہ اماں جی آپ سے کتنی بچیوں نے حفظ کیا ہے؟کہنے لگیں تیئس بچیوں نے۔ حالانکہ خود حافظ نہیں تھیں، نیم معروف پڑھتی تھیں۔ اس زمانے میں یہی ہوتا تھا۔ گھرمیں روزانہ ان کامدرسہ ہوتا تھااوروہ پڑھاتی تھیں۔ انہوں نے بھی ڈنڈا رکھاہواتھا۔ میں قاری صاحبؒ سے مار کھاکر گھر آگیا۔ والدہ مرحومہ نے دیکھا کہ سبق کے وقت میں یہ گھر پھررہا ہے۔ مجھے بلاکر پوچھا۔ میں نے منہ بسور کر جواب دیا :قاری صاحب نے مارا ہے ۔میرے ذہن میں تھا کہ ماں مجھے سینے سے لگائے گی ، دلاسہ دے گی اورقاری صاحب کودوچارسنائے گی کہ قاری کون ہوتاہے میرے بچے کومارنے والا ۔مجھ سے پوچھا:اچھا بیٹے! کیوں ماراتھا؟ میں نے کہا: سبق یادنہیں تھا۔ کس چیز سے مارا تھا ؟میں نے کہا :ڈنڈے سے۔کتنے ؟ پانچ ۔کہاں مارا ؟ دائیں ہاتھ پر۔ والدہ مرحومہ نے اپناڈنڈاپکڑااور میرے بائیں ہاتھ پر چھ ڈنڈے مارے اور کہا، چلوپہنچو مدرسے۔
اس وقت مجھے بہت غصہ آیا اورآنابھی تھا، لیکن آج اماں جان کودعائیں دیتا ہوں کہ اگراس وقت میری ماں مجھے سینے سے لگاکر سہارادے دیتی اورگھر میں بٹھالیتی تو ہم آج یہ کچھ نہ ہوتے جوہیں۔ پتہ نہیں کدھر کدھر پھرتے ، کیا ہوتا اور کہاں ہوتا۔میں کہتا ہوں کہ سارا کمال ان چھ ڈنڈوں کاہے۔ ایمانداری کی بات ہے، بزرگوں کی دعائیں اور ماں کے ہاتھ سے کھائے ہوئے ڈنڈے یہی دوچیزیں کام آگئیں، ورنہ میراکانٹا بدل چکاہوتا اور گاڑی کا کانٹا ہی بدلنا ہوتا کہ وہ اِدھر سے اُدھر ہوجاتی ہے۔قاری صاحب ؒ مارتے بھی تھے، لیکن اگر کبھی سمجھتے کہ زیادہ مار لیا ہے تو بلا کر چائے بھی پلاتے تھے۔ ایک دن مجھے ڈنڈے زیادہ لگ گئے تو میں پریشان بیٹھا تھا کہ قاری صاحب نے مارا بہت ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد چائے منگوائی ،مجھے بلایا اوئے مولوی! ادھر آ (مجھے مولوی ہی کہتے تھے)،چائے پی لے۔میں حیران کہ ابھی مار رہے تھے اوراب چائے پلا رہے ہیں ۔مجھ سے فرمایا: بیٹا !ہم مارتے ہیں تو کسی وجہ سے مارتے ہیں۔یہ ان کاانداز تھا۔ میں قاری صاحب سے حفظ کرتا رہا۔ میراحفظ ۲۰؍اکتوبر ۱۹۶۰ ء کو مکمل ہوا۔ قاری صاحبؒ مجھ پر بہت مہربان تھے۔ بڑی شفقت فرماتے تھے۔ قاری صاحبؒ نے دوتین سال اپنے ساتھ مجھے قرآن کریم کادورکروایا ہے۔ آپ گکھڑ کی مسجد میں قرآن مجید سنایا کرتے تھے،میں ان کاسامع ہوتا تھا ۔پھراپنی نگرانی میں پہلا مصلیٰ سنانے کے لئے مجھے بھیجا ۔میں نے پہلا مصلیٰ بدوکے گوسائیاں کینٹ میں سنایا تھا۔
گکھڑ ہی کی دو باتیں اور ذکر کرتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ استاذ، استاذ ہوتا ہے اور جس طالب علم پر استاد کی نظر ہو، اسے کیمیا بنادیتا ہے۔ مجھے تقریر کرنابھی حضرت قاری صاحبؒ نے سکھایاہے، ورنہ قاری صاحب ؒ کاتقریر سے کیا تعلق ؟قاری صاحب ؒ نے ہمیں حفظ کے دوران تجویدکا رسالہ زینۃالقرآن سبقاًسبقاًپڑھایا اور مجھے کھڑاکر کے کہتے، اوئے مولوی! کیا سبق پڑھا ہے؟ بیان کرو ۔مجھ سے تقریر کرواتے تھے ۔ گکھڑ میں کبھی کبھی مولانا قاری سیدحسن شاہ صاحبؒ تشریف لایا کرتے تھے۔ آپؒ قاری بھی بہت اچھے تھے اورخطیب بھی بہت اچھے تھے ۔ قاری محمدانور صاحبؒ کبھی جلسہ کرواتے تو شاہ صاحب ؒ کو بلاتے تھے ۔مجھے کچھ جملے رٹا کر،کچھ چیزیں یاد کرا کر پہلے کھڑا کردیتے کہ تقریر کرو۔ کبھی لکھ کر دیتے، میں یاد کرتا اور پھر مجمع کے سامنے تقریرکے اندازمیں بیان کرتا۔
ایک واقعہ میں عموماً سنایا کرتا ہوں کہ روڈ پر جلسہ تھا، شاہ صاحبؒ کی تقریر تھی، ان سے پہلے قاری صاحبؒ نے مجھے تقریر کرنے کے لئے کھڑا کردیا ۔میں مائیک پر کھڑا ہوا اوربازو چڑھاکر قادیانیوں کے خلاف تقریر کرنا شروع کردی اور مرزاقادیانی کو پنجابی میں دوچار گالیاں دیں کہ مرزابے ایمان ،مرزایہ، مرزا وہ ۔دوچارجوسنائیں تو والد صاحبؒ نے پیچھے گردن سے مجھے پکڑا اور پیچھے بٹھا دیا۔ خود مائیک پر آکر ارشاد فرمایا :بچہ ہے ،جذبات میں غلط باتیں کرگیا ہے ،میں معافی مانگتا ہوں ۔حالانکہ میں نے جو کچھ کہا تھا، مرزا کو کہا تھا۔ میں کہا کرتا ہوں کہ ہم آج کل مائیک پر کھڑے ہوکر کیا کچھ نہیں کہتے؟ میں اپنی بات کیا کرتا ہوں کہ میری تربیت اس ماحول میں ہوئی ہے، اس لیے میری زبان سے سخت لفظ کی کسی شدید ترین مخالف کے لیے بھی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ الحمدللہ !میں آج اپنے کسی شدید ترین مخالف کانام بھی لیتا ہوں تو احترام کے ساتھ لیتا ہوں۔ خیر، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ جو بولنے اور تقریر کرنے کی صلاحیت اور ذوق ہے، اس کی ابتدا بھی حضرت قاری صاحب ؒ نے کی تھی ۔
ایک اور واقعہ حضرت قاری صاحبؒ کا ذکرکرناچاہتا ہوں۔ ۱۹۷۷ء میں تحریک نظامِ مصطفی چلی جو بہت بڑی تحریک تھی۔ گکھڑ میں حکومت کے خلاف تحریک نظامِ مصطفی کا جلوس تھا۔ ایک فورس ہوتی تھی، فیڈرل سیکورٹی فورس (ایف ایس ایف کہلاتی تھی) جلوسوں کوکچلنے کے لئے۔حضرت والدصاحبؒ نے قیادت کرنی تھی ،گورنمنٹ نے پابندی لگادی کہ جلوس نہیں نکالیں گے، لیکن جمعہ کے بعد والدصاحبؒ کی قیادت میں لوگ جلوس کے لئے جمع ہوگئے کہ جلوس نکالیں گے۔ جلوس جب آگے بڑھا تو فورس کے کمانڈر نے ایک لکیر کھینچ دی اور چاروں طرف سپاہی کھڑے کردیے اورکہا کہ جو اس لکیر کوعبور کرے گا، اسے گولی ماردیں گے ۔اس زمانے میں ایسے ہوتا تھا۔ اب بغیروارننگ کے مارتے ہیں، اس وقت وارننگ دے کر مارتے تھے ۔اس کایہ اعلان سن کر سناٹا چھاگیا کہ یہ کیا ہوا اورچاروں طرف سپاہی گنیں نشانہ پرلیے ہوئے کھڑے تھے کہ کون لکیر عبور کرتاہے اور پھر کیا ہوتا ہے۔ اُدھر فورس کھڑی ہے، اِدھر یہ ہیں ۔حضرت والدصاحبؒ اوروالد گرامی کے ساتھ دو آدمی اورایک حضرت قاری محمد انور صاحبؒ اور ایک گکھڑ کے حاجی سیدڈارتھے، یہ تین آدمی جلوس کی قیادت کر رہے تھے۔ آگے بڑھے اورکلمہ شہادت پڑھتے ہوئے لکیر عبور کرگئے اوروالد صاحبؒ نے ایک جملہ کہا کہ مسنون عمر پوری کر چکا ہوں، اگر اب شہادت مل جائے تو بڑی سعادت کی بات ہے۔ کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے لکیر عبور کرگئے،سب سناٹے میں آگئے ،کسی کو کچھ کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔یہ بھی قاری صاحبؒ کے بڑے کارناموں میں سے ایک ہے کہ انہوں نے اس طرح اپنی جان کی پروا کیے بغیر ساتھ نبھایا۔
حضرت قاری صاحبؒ جب مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو میں کبھی کبھی جایا کرتا تھا۔ بہت واقعات ہیں، دو تین عرض کرتا ہوں۔
پہلی دفعہ ۱۹۸۴ء میں جب میں مدینہ منورہ گیا توآپؒ وہاں پڑھاتے تھے۔ میں نے آپ ؒ کواطلاع دی تھی کہ میں فلاں وقت آرہا ہوں۔ میرازندگی میں مدینہ منورہ جانے کا پہلا موقع تھا۔ راستے کا پتہ نہیں تھا، اس لئے جووقت بتایا تھا، اس سے دو تین گھنٹے لیٹ پہنچا ۔قاری صاحبؒ میرے بتائے ہوئے وقت پر آئے، اڈے پر ڈیڑھ، دو گھنٹے تلاش کرتے رہے۔ میں نہ ملا توپریشان واپس چلے گئے ۔میں مدینہ منورہ دیرسے پہنچا ۔وہاں عصر سے مغرب تک کلاس ہوتی ہے ،وہ عصر اول وقت میں پڑھتے ہیں، جیسے ہمارے ہاں اہل حدیث حضرات پڑھتے ہیں۔ عصراور مغرب کے درمیان خاصا وقت ہوتا ہے۔ میں نے عصر کی نماز پڑھی اورتلاش کرتے کرتے قاری صاحبؒ کی کلاس تک پہنچ گیا ۔مجھے جونہی دور سے دیکھا تو بے ساختہ فرمایا:اوئے مولوی !کان پکڑ لے۔میں نے بیگ نیچے رکھا اورمرغا بن گیا ۔آپؒ اٹھ کر آئے اور کہا :ارے میں نے یہ تو نہیں کہا تھا ۔ میں نے عرض کیا یہ نہیں کہا تھا تواور کیا کہا تھا ؟ فرمایا :اللہ کے بندے! میں دو گھنٹے پریشان رہا ،تمہیں ڈھونڈتا رہا، تم نہیں ملے تو میں واپس آگیا۔ میں نے معذرت کی کہ مجھے راستے کاعلم نہیں تھا، اس لئے دیر ہوگئی ۔سچی بات ہے حضرت قاری صاحبؒ کووہاں پڑھاتے دیکھ کر بہت خوشی ہوتی تھی کہ میرے استاذِمحترم ہیں اورمدینہ منورہ میں بیٹھے پڑھا رہے ہیں ۔فجرکی نمازکے بعد مسجد نبوی کے برآمدے میں بیٹھ کر طلبہ کی منزلیں سنا کرتے تھے اور میں قریب کسی ستون کی اوٹ میں کھڑا دیکھتا اورخوش ہوتارہتاکہ کیا خوش نصیبی ہے کہ مسجد نبوی کے برآمدے میں بیٹھے شاگردوں کی منزلیں سن رہے ہیں۔ بڑی خوشی ہوتی تھی اور بڑا رشک آتا تھا۔ میں اپنااعزازسمجھتا کہ میرے استاذِ محترم ہیں اور یہاں بیٹھے پڑھا رہے ہیں۔
میراہرسال، دو سال بعدوہاں چکر لگ ہی جاتا ہے۔ میں ان کے پاس جاتا ،ملتا، کچھ دیر ان کے پاس ٹھہرتا ۔کوئی ساتھی ملتا تو میں اسے تعارف کرواتا کہ یہ میرے استاد محترم ہیں۔ ایک دن کہنے لگے : اس طرح نہ کہا کرو ۔میں نے کہا: کیوں؟ فرمایا :مجھے شرم آتی ہے۔ میں نے بے تکلفی میں کہا :مجھے شرم نہیں آتی،آپ کوکیوں آتی ہے ۔میں تو ایسے ہی کہوں گا، کیاآپ مجھے ڈنڈے نہیں مارتے رہے؟ مجھے وہ ڈنڈے یادہیں۔ ان کی ڈاڑھی دیر سے سفید ہوئی ہے ۔ایک دور وہ بھی گزرا ہے کہ میری ڈاڑھی سفید تھی، ان کی کالی تھی ۔میں یہ کہتا کہ یہ میرے استاذ ہیں تو لوگ حیران ہوتے کہ یہ کیا کہہ رہا ہے ۔ میراجب بھی مدینہ منورہ جانا ہوتا توان کااصرار ہوتا تھا کہ میرے پاس ٹھہرو ۔ہمارا ان کے ساتھ محبت وعقیدت کاگہراتعلق تھا اور ان کابھی صرف میرے ساتھ ہی نہیں، ہمارے پورے خاندان کے ساتھ شفقت کاتعلق تھا۔ ہمارے خاندان کاکوئی آدمی عمرے یاحج پر جاتا تو قاری صاحبؒ کی حالت دیکھنے کے قابل ہوتی تھی۔ بہت خوش ہوتے کہ مولوی صاحبؒ کے بچے آئے ہیں، بیٹے آئے ہیں، بھانجے آئے ہیں اوربڑی خدمت اور بڑااعزاز فرماتے تھے۔ ایک دفعہ میں گیا تو بتایا نہیں اور قاری ریاض انصاری صاحب کے بیٹے حافظ محمد یحییٰ ابوبکر فاضل نصرۃالعلوم کے پاس ٹھہر گیا۔مغرب اور عشاء کے درمیان مسجد نبوی میں حضرت قاری صاحبؒ کی چھتری متعین ہوتی تھی۔ پہلی صف کی دوسری چھتری کے ساتھ بیٹھاکرتے تھے ۔قاری صاحبؒ سے جاکر ملا۔ انہوں نے پوچھا :کب آئے ہو؟ میں نے بتایا: کل آیا تھا۔کہاں ٹھہرے ہوئے ہیں؟ میں نے کہا: ابوبکر کے پاس ۔ فرمایا:سامان اٹھاکرگھر آجاؤ۔ابوبکر کو کہا :چلو جاؤ، مولوی کاسامان اٹھا کرابھی یہاں لے آؤ۔اس شفقت اور عنایت کا برتاؤ فرماتے تھے۔
ہمارے ہاں الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ میں ایک دفعہ تشریف لائے۔ آخر عمر میں بیمار ہوگئے تھے ۔میں نے پروگرام بنایا کہ ان کے اس علاقے میں بہت سے شاگرد ہیں تو قاری صاحبؒ کے جو شاگرد میرے علم میں تھے، ان کو یہاں اکٹھا کیا، ایک نشست کی اور قاری صاحبؒ کو دعوت دی۔ قاری صاحبؒ تشریف لائے اوربہت زیادہ خوش ہوئے کہ یہ تو تم نے بڑا کام کردیا ،میں کس کس کے پاس جاتا،کس کس سے ملتا۔تم نے اکثر شاگردوں سے اکٹھے ملاقات کروا دی ۔
پچھلے سال سعودی حکومت کی دعوت پر میراحج پر جانا ہوا۔ وہ پروٹوکول کاحج تھا۔ مدینہ منورہ میں ہم تین چار دن ٹھہرے تھے ۔شام کو میں حسبِ معمول ملنے کے لیے گیا تو قاری صاحب مسجد میں نہیں آرہے تھے،معذور تھے۔ ان کے گھر گیااورملاقات کی۔ان سے مل کر ،تھوڑی دیربیٹھ کر واپس اپنے ساتھیوں کے پاس آگیا۔ دوسرے دن برادرم محمداشفاق (یہ ان کے بیٹے ہیں ،ہمارے بھائی ہیں) کا فون آگیا کہ ابوجی آپ سے ملنے کے لیے آنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مولوی کو ملنے ہوٹل میں جانا ہے ۔ میں نے کہا :کیوں ،وہ کیوں آئیں،میں خود حاضرخدمت ہوں گا ۔یہ غلطی نہ کرناکہ قاری صاحب مجھے ملنے میرے پاس آئیں،میں خود حاضر ہو ں گا ۔ شام کو پھر میں آپؒ کے گھر گیا اور ملاقات کی۔ آپ ؒ بڑی محبت، عزت کرتے تھے، بڑی شفقت سے نوازتے تھے ۔
آپؒ کافی عرصے سے وہاں رہ رہے تھے کچھ عرصہ پہلے ایک الجھن پیدا ہوگئی کہ سعودیہ نے کچھ ایسے قوانین نافذ کیے کہ لگتا تھا کہ شایدان کو واپس آنا پڑے گا کہ وہاں کی شہریت نہیں تھی۔ سعودیہ والے شہریت نہیں دیتے ۔ میں ان کے پاس گیا تو کہنے لگے کہ سعودیہ والے اب شاید نکال دیں گے، میں تو یہاں دفن ہونے کی نیت سے آیا ہوں۔ دعاکرومیرے لئے۔میں نے کہا: اللہ پاک مہربانی فرمائیں گے، نیتوں کو اور نیتوں کے خلوص کواللہ پاک جانتے ہیں ۔اس سال میں وہاں نہیں جاسکا ۔استاذِمحترمؒ حج کے موقع پرساتھیوں سے پوچھتے رہے کہ مولوی نہیں آیا،کیوں نہیں آیا؟ مجھے بھی حسرت رہی کہ پچھلے سال ہی ملاقات ہوئی تھی ۔جی چاہتا تھا کہ کوئی موقع مل جائے اورملاقات کا کوئی وسیلہ بن جائے ۔سچی بات ہے کہ میں تو ان کے بارے میں کہا کرتا تھا کہ میرا دعاؤں کا خزانہ مسجد نبوی میں بیٹھاہواہے اتنی زیادہ دعائیں دیتے تھے کہ ان کے چلے جانے کے بعد میں دعاؤں کے کنکشن سے محروم ہو گیا ہوں اورجب کبھی روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دیتے تو میری طرف سے سلام کہتے اور بے شمار دعائیں دیتے تھے۔
پچھلے دنوں ہمارے لیے دو تین صدمے اکٹھے ہی آگئے۔ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحبؒ کا انتقال ہوا، ابھی ان کا جنازہ بھی نہیں ہوا تھا کہ مدینہ منورہ سے فون آگیا کہ حضرت قاری صاحبؒ فوت ہوگئے ہیں۔ ابھی اسی صدمے میں تھے کہ تیسری خبرآگئی کہ حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی ؒ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ یہ دو دن میں تین ایسی خبریں سن کر میری عجیب کیفیت تھی کہ یا اللہ کیا کریں۔بہت صدمہ تھا اپنے بزرگوں کی جدائی کا۔ سچی بات ہے کہ باپ ہی کی طرح تھے،باپ ہی کی جگہ تھے۔ بہرحال اللہ پاک ان کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے اور ہمیں ان کے صدقہ جاریہ کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
اقلیتوں سے متعلق مسلمانوں کے فکری تحدیات
ڈاکٹر محمد ریاض محمود
(شعبہ علوم اسلامیہ، گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ۳۰، ۳۱ دسمبر ۲۰۱۶ء کو ’’معاصر مسلم معاشروں کو درپیش فکری تحدیات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ قومی کانفرنس کے لیے لکھا گیا۔)
اسلام روحانی اورمادی اعتبارسے ایساانسان دوست دین ہے جس میں تمام طبقات کے لئے امن،محبت، ترقی، خوشحالی، رواداری اوراحترام کی ہدایات ملتی ہیں۔(۱) یوں اسلامی فکروفلسفہ سے وابستہ کسی بھی سیاسی،معاشی یاسماجی نظام میں ظلم، تعصب،جانبداری، حق تلفی یاکسی قسم کے امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں۔اسی اعلیٰ ظرفی اور شانداربصیرت کی کرشمہ سازی تھی کہ مختلف ادوارمیں قائم ہونے والی مختلف علاقوں کی مسلم حکومتوں نے غیرمسلم اقلیتوں کو بڑی فراخ دلی کے ساتھ نہ صرف یہ کہ برداشت کیا بلکہ ان کی سیاسی حیثیت اور نسلی شناخت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں مختلف شعبہ ہائے حیات میں بھرپور کردار ادا کرنے کا موقع دیا۔مختلف مذاہب کے حاملین سے عدل اورمساوات کی بنیاد پرمعاملات کوطے کیاگیا،مذہبی اختلافات کو ہوادینے کے بجائے تحمل،ایثاراوربات چیت کے ذریعے مسائل کوحل کرنے کی راہ ہموارکی گئی،عقائدکے اختلاف کی وجہ سے گالی اوربلاتحقیق الزام تراشی کوناپسندکیا گیا۔(۲)حل تنازعات کے لیے مثبت رویے اپنانے کی تعلیم دی گئی۔(۳) مسلم فکرپران تعلیمات کااثریہ ہوا کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی گئی، ان کی تعلیم وتربیت کوترجیحی بنیادوں پراہمیت دی گئی،ان کواپنے مذہبی وسماجی تہوارمنانے میں آزادی فراہم کی گئی اورانہیں عبادت گاہیں تعمیرکرنیکی اجازت دی گئی۔غیرمسلموں کے ساتھ مسلمانوں کی رواداری اوراُن کے حسن سلوک کی تصدیق وتحسین معروف مستشرقین نے بھی کی ہے۔سرولیم میورکے الفاظ کامفہوم ملاحظہ ہو:
’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بشپوں، پادریوں اور راہبوں کویہ تحریردی کہ اُن کے گرجاگھروں اورخانقاہوں کی ہر چیز ویسے ہی برقرار رہے گی۔ کوئی بشپ اپنے عہدہ،کوئی راہب اپنی خانقاہ اورکوئی پادری اپنے منصب سے معزول نہیں کیا جائے گا۔ اُن کے ا ختیارات وحقوق میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے گی نیزجبروتعدی سے کام نہیں لیا جائے گا۔‘‘ (۴)
معروف ہندومحقق ونقادشری سندرلال جی کے الفاظ اس طرح ہیں:
’’حکمران کی حیثیت سے محمدصاحب نے غیرمسلموں کویہاں تک کہ بت پرستوں کوبھی اپنی ریاست کے اندررہتے ہوئے اپنے مذہبی مراسم اداکرنے کی پوری پوری آزادی بخشی اوراُن کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرناہرمسلمان کافریضہ قراردیا۔لااکراہ فی الدین مدنی آیت ہے اورمحمدصاحب کی پوری زندگی اس آیت کی جیتی جاگتی تصویرہے‘‘۔ (۵)
ساری اسلامی تاریخ مسلمانوں کے غیرمسلموں کے ساتھ حسن سلوک کے شواہدپرمشتمل ہے خصوصاً برصغیرمیں سلاطین دہلی اورمغل حکمرانوں کامذہبی رواداری کوفروغ دینے کے ضمن میں کردارنہایت شاندار اور قابل فخر ہے۔ (۶) یہ مثالی صورتِ حال اُس وقت قائم نہ رہ سکی جب بعض انتہاپسندعناصرنے مذہبی اختلافات کی بنیادپرتشدداورتوہین آمیز رویوں کواختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔ایسے غیرذمہ دارانہ اورناعاقبت اندیش رویوں کاہی نتیجہ ہے کہ آج ایسی فضا پیدا ہو گئی ہے کہ جس میں نہ صرف یہ کہ مذہبی اقلیتیں خوف وہراس کاشکار ہو کر رہ گئی ہیں بلکہ مسلمانوں میں موجودبہت سے سنجیدہ حلقے بھی اس پرافسوس،پریشانی،حیرت اورتشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ شدت پسندی پرمبنی اس ہلاکت خیز بیان نے مسلم اُمہ کوابہام اورفکری انتشار سے دوچار کردیاہے،اسلامی ریاست کی نوعیت وحیثیت کی تشریح و توضیح پر اختلافات سامنے آئے ،(۷) قوم اسلامی ریاست، مسلم ریاست،دینی ریاست،قومی ریاست اورجدیدریاست کی لفظی موشگافیوں میں پھنس کررہ گئی ہے،(۸) بعض علماء نے اس ضمن میں قدیم فقہی اصطلاحات کااستعمال کیا ہے، اُنہوں نے دار الاسلام اور دارالحرب کی تقسیم کرکے جدیدسیاسی، عالمی اورجغرافیائی حقائق اوراِن کے پس منظر کو نظرانداز کردیا ہے۔(۹) جہاد جو ایک مقدس فریضہ ہے اس کی عصری تعبیرات نے قوم کونظریاتی طورپرپریشانی اورابہام میں مبتلا کر دیا ہے، اب قوم کااس معاملے پر متفقہ موقف سامنے آنامحال نظرآرہاہے۔(۱۰)
مسلم ریاستوں کے غیرمسلم باشندگان اہل ذِمہ،اہل صلح،معاہدین اور محاربین کی اصطلاحات کے الجھاؤ میں اپنا وجود تلاش کررہے ہیں،اُن کی وفاداریوں پربلاوجہ شک کیاجارہاہے،بعض حلقہ یہ تاثردینے کی کوشش میں ہیں کہ اِن غیرمسلموں کے مغربی طاقتوں سے خفیہ روابط ہیں اوروہ مسلمانوں کے زیر انتظام علاقوں اور ممالک کے خلاف کسی بین الاقوامی منصوبہ بندی اورسازش کاحصہ ہیں۔بعض طبقات ایک عجیب قسم کی نفسیاتی کیفیت میں مبتلاہیں جس کے مطابق حقیقی دشمن پرقابونہ پانے کی صورت میں کسی امکانی یافرضی دشمن کوہدف بنا کر ذہنی تسکین حاصل کی جاتی ہے،چونکہ دورِ حاضر میں ترقی یافتہ مغربی ممالک کے خلاف کسی قسم کاقدم اُٹھانامسلم حکومتوں اورتشددپریقین رکھنے والے بعض مسلم طبقات کے بس کی بات نہیں،اس لئے وہ اپنے ممالک میں موجودکمزوراوربے بَس اقلیتوں کوہدف بناتے اوراپنا غصہ نکالتے ہیں۔
ایک مخصوص مذہبی طبقہ اپنے آپ کوبرصغیرکے نوآبادیاتی دورمیں رواج پانے والی مختلف المذاہب مناظرانہ کشمکش کا آج بھی حصہ سمجھتاہے،(۱۱) دیگر مذاہب کے علمی مصادرسے کسی بھی درجے میں اخذ واستفادہ کونامناسب خیال کیا جاتا ہے۔ توہین رسالت جوکسی بھی مذہب میں ایک ناپسندیدہ اورقابل مذمت فعل ہے(۱۲) خصوصاً مسلمان اس حوالے سے اپنی ایک شانداراورغیرت مندانہ تاریخ رکھتے ہیں، اس تصور کوضد،انااورناسمجھی کی بھینٹ چڑھادیاگیاہے۔ دنیا کے ا یک بڑے حصے پراسلام کے فروغ کا واحد ذریعہ تبلیغ، دعوت،حسن اخلاق اورتصوف رہا ہے، مگرآج نوبت یہ آگئی ہے کہ غیرمسلموں کے قبولِ اسلام پرسوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں ایسی قانون سازی کی جارہی ہے کہ ایک مخصوص عمر تک کوئی شخص اپنامذہب تبدیل نہ کر سکے۔
مذہبی اقلیتیں سیاسی میدان میں اپنی شناخت کوکس طرح قائم رکھیں،اِن کاقانون سازاداروں میں پہنچنے کا طریقہ کار کیا ہو،؟ اِن معاملات پرعجیب ابہام پایاجاتاہے،اقلیتوں کے طریقہ انتخاب میں باربارتبدیلیاں کی جا رہی ہیں، کبھی وہ براہِ راست اپنے ہم مذہبوں کیے ووٹ لے کرمنتخب ہوتے ہیں اورکبھی وہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے رحم وکرم پرہوتے ہیں کیونکہ اُنہیں بالواسطہ طورپرمنتخب ہوناہوتاہے،سیاسی جماعتیں اپنے غیرمسلم نمائندوں کی فہرست ترجیحی بنیادوں پر ترتیب دیتی ہیں جن کے مطابق حاصل کردہ کل ووٹوں کے تناسب سے یہ نمائندے اسمبلی کی رکنیت حاصل کرتے ہیں۔اقلیتوں میں موجودسیاسی بصیرت کے بہت سے حاملین اس سرگرمی کوالیکشن کے بجائے سلیکشن خیال کرتے ہیں۔ (۱۳)یوں اقلیتیں تسلسل کے ساتھ تجربات کی زد میں ہیں، کبھی انہیں ایک ووٹ کاحق دیاجاتاہے اورکبھی دُہرے ووٹ کا۔(۱۴)علاوہ ازیں قانون سازی کے مختلف مراحل میں اقلیتوں کونظراندازکئے جانے کی شکایات بھی عام ہیں، مذہبی میدان میں یہ ایک اہم سوال ہے کہ اقلیتوں سے متعلق قانون سازی کرتے وقت مسلمانوں کی رائے کوکس حدتک دخل حاصل ہے اور خود اقلیتوں کی رائے کو کتنی اہمیت دی جائے،آج تک کوئی اصول اورضابطہ اس ضمن میں طے نہیں کیاجاسکا۔یہ امربھی ایک سوالیہ نشان ہے کہ مذہبی اقلیتوں کی مقدس کتب اوراُن کی تاریخ کوتعلیمی نصاب کاحصہ بنایاجائے یااس سے گریز کیا جائے۔
مسلم اُمہ اقلیتوں سے متعلق فکری طورپردوطبقات میں تقسیم ہے،ایک طبقہ قدامت پسندجب کہ دوسراروشن خیال ہے۔ مسلمانوں کی یہ داخلی فرقہ بندی کسی ایک مؤقف پرامت مسلمہ کوجمع نہیں ہو نے دیتی۔یہ سوال وضاحت طلب ہے کہ پاکستان میں شریعت اسلامیہ غالب ہے یاملکی وغیرملکی قوانین کی پاسداری کی جائے گی۔ علاوہ ازیں اقلیتوں سے متعلق مختلف علمی موضوعات پرگفتگوکے بارے میں بہت سے ذہنی الجھاؤ موجود ہیں مثلاً علمی میدان میں اختلاف کرنے کی حدود کیا ہیں؟ کون کس معاملہ میں کتنا اختلاف کرسکتا ہے اور کیوں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات کے لیے برداشت کی بڑی قوت درکارہے۔مسلم امہ فکری اورنظریاتی طورپر اسی نوعیت کے بہت سے سوالات، ابہامات اورعلمی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ اس پس منظرمیں یہ سوال بڑااہم ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے بارے میں معاملات کوطے کرتے وقت کیاحکمت عملی اختیارکی جائے۔اسلامی ریاست، جہاد، دہشت گردی،توہین رسالت، قبولِ اسلام کی حدودوشرائط،حق اختلاف، اقلیتوں کی مذہبی شناخت اوراُن کاحق تبلیغ مذہب،مختلف قومیتوں کاوجوداوراستحکام،اقلیتوں کاقانون سازی میں کرداراورمختلف المذاہب طلبہ کے لیے نصابِ تعلیم ایسے معاملات ہیں جن پردرست اوریک سومسلم فکرکیاہے اوراس کے تقاضوں کو کس طرح روبہ عمل لایا جا سکتا ہے۔ (۱۵) ایسے ہی علمی وفکری اورنظریاتی سوالات کے جوابات تلاش کرنے اور اس ضمن میں درپیش چیلنجز کو سمجھنے اوراُن کی حساسیت کااندازہ کر نے کے لئے موضوعِ تحقیق کے طور پر ’’اقلیتوں سے متعلق مسلمانوں کودرپیش فکری تحدیات‘‘ کا انتخاب کیاگیاہے۔ذیل میں اُن فکری چیلنجز کا تجزیہ پیش کیاجاتاہے جومسلمانوں کواقلیتوں سے متعلق درپیش ہیں۔
۱۔ مذہبی تکثیریت کی اہمیت وحساسیت کاعدم احساس
تنوع کائنات کاحسن اورقدرت کی تخلیق کاایک بنیادی اصول ہے،انسانی زندگی میں موجودرنگارنگی کا شعوراوراس کی حکمتوں کی تفہیم خدا شناسی میں معاون ہے۔آسمانوں اورزمین کوپیداکرنا،انسانوں کے درمیان زبانوں اوررنگوں کے مختلف ہونے کوقرآن مجیدنے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں قرار دیاہے۔(۱۶) شکل وصورت اوررنگ ونسل کی انفرادیت کے باعث انسانوں کے درمیان میلانات،جذبات،رجحانات،خیالات اور ترجیحات کااختلاف ہے۔یہ اختلاف قدرت الٰہی کا کرشمہ اورایک اہم معاشرتی ضرورت ہے۔اس تنوع اور رنگارنگی کی حکمتوں سے واقف ہونامعاشرتی اورمذہبی میدان میں نہایت مفیدہے۔دنیامیں مختلف المذاہب لوگ رہتے ہیں ان کی مذہبی ونسلی شناخت کااحترام،ان کے حقوق اوران کی ترجیحات کاعلم خوش گوارمعاشرت کاایک لازمی تقاضاہے۔کثیرالعقائدیامذہبی تکثیریت پرمبنی معاشرے کس طرح بقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرتے ہیں، اس حقیقت کاادراک مذہب سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔پاکستان مذہبی،نسلی،لسانی، جغرافیائی،معاشی اورسماجی تنوع کاحامل ملک ہے۔اس تنوع کو ایک فلاحی اورصحت مندمعاشرے کی بنیادرکھناتھی، لیکن فہم اورتربیت کے فقدان نے ایساممکن نہ ہونے دیا۔ علم وفکر اور شعور وآگہی کے اسی زوال نے پاکستان کواپنے حقیقی مسائل کے حل سے دوررکھا۔مذہبی تکثیریت کی نوعیت، اہمیت، فوائد اور محاسن کاعدم شعورہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جوکسی قوم کواقلیتوں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کوقومی دھارے میں شامل کرنے سے روکے رکھتاہے۔مختلف المذاہب لوگوں کاباہم مل جل کررہنا، اعتدال وتوازن کے رویوں کوجنم دیتاہے۔اوراگرلوگ دیگر افراد معاشرہ کی اہمیت سے ہی آگاہ نہ ہوں توانواع واقسام کے تضادات اورعدم برداشت کے رویے پاتے ہیں۔اس پس منظرمیں مذہبی تکثیریت کے مختلف پہلوؤں کافہم نہایت ضروری ہے۔کثیرالعقائدمعاشر ے علمی وفکری اعتبارسے بڑے زرخیز واقع ہوتے ہیں۔اس زرخیزی کامشاہدہ وتجربہ مسلمانوں نے عباسی اوراُندلسی ادوارِ حکومت میں خوب کیا،ان مثالی ادوار میں مسلم 150غیرمسلم تعلقات اس حدتک خوشگوارتھے کہ اعلیٰ ترین سطح کی تعلیم وتحقیق کیلئے قائم کئے گئے اداروں کی سربراہی کئی مرتبہ غیرمسلم ماہرین علم وفن کوسونپی گئی۔دورِجدیدمیں مسلم معاشروں کویہ چیلنج درپیش ہے کہ مذہبی وثقافتی تنوع کی اہمیت کااحساس رکھنے والوں کی تعدادبہت کم ہے۔تنوع ایک قوت ہے،اسے دبانے کے بجائے قبولیت سے نوازا جائے اوردوسروں کوجگہ بنانے کاموقع فراہم کیاجائے۔
۲۔اقلیتوں کے حقوق سے متعلق احساسِ ذمہ داری کافقدان
مذہبی،سماجی اورسیاسی اعتبارسے اقلیتوں کاوجودکسی بھی ملک کیلئے ایک اہم اورحساس معاملہ ہے۔کسی بھی ملک کی آزادی، ترقی اوراستحکام کااندازہ اس امرسے لگایاجاتاہے کہ اس میں بسنے والی اقلیتیں،کتنی مطمئن اورخوشحال ہیں،انہیں کس حدتک قومی دھار ے میں شامل کیاگیاہے(۱۷)، ان کے تعلیمی ادارے کتنے بااختیار اور مؤثرہیں، ریاست کے ساتھ اُن کی وابستگی کی گہرائی کتنی ہے اوراُن کے حقوق کی ادائیگی کیلئے اکثریتی آبادی کیانقطہ نظررکھتی ہے ؟نیزاس نقطہ نظرکاعملی اظہار اُن میں کس درجے تک پایاجاتاہے؟یہ تمام سوالات ساری پاکستانی قوم سے تقاضاکرتے ہیں کہ اقلیتوں سے متعلق نہایت مثبت اورحوصلہ افزا رویہ رکھاجائے لیکن مقامِ افسوس ہے کہ اس ضمن میں کوئی قابل ذکرکارنامہ منظر عام پرنہیں آیا بلکہ احساسِ ذمہ داری کے فقدان نے منصوبہ سازوں کی منفی کارکردگی سے پردہ اٹھادیاہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم آج تک بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح کی ۱؍۱اگست ۱۹۴۷ ء کی اُس تقریرکی مبہم تشریحات میں پھنسے ہو ئے ہیں جس میں اُنہوں نے پاکستان کی غیرمسلم اقلیتوں کویہ یقین دلایاتھاکہ اُن کے مذہبی وسیاسی حقوق پوری طرح محفوظ ہوں گے اور ریاست پاکستان اس ضمن میں کوئی جانب دارانہ رویہ اختیارنہیں کرے گی۔(۱۸)اس پس منظرمیں یہ امر نہایت ضروری ہے کہ اقلیتوں کے وجودکودلی طورپرنہ صرف یہ کہ تسلیم کیاجائے بلکہ اُن کی خوشحالی وترقی کیلئے شعوری کوششیں کی جائیں۔
۳۔ اسلامی ریاست اوراقلیتوں کی حیثیت کے بار ے میں ابہامات
فکری میدان میں مسلم امہ کوآج جن چیلنجزکاسامناہے اُن میں اسلامی ریاست کاوجوداور اُس کی نوعیت وتشکیل بڑے نمایاں ہیں۔آج تک یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان اسلامی ریاست ہے،مسلم ریاست ہے،قومی ریاست ہے، اسلامی جمہوریہ ہے یادارالاسلام ہے۔(۱۹)اسی طرح اس ملک میں رہنے والے غیرمسلم فقہ اسلامی کی رُو سے کس حیثیت اور درجے کے مالک ہیں،اہل کتاب اورغیر اہل کتاب کی بحث اس ضمن میں نمایاں اہمیت کی حامل ہے،(۲۰)علاوہ ازیں معاہدین، اہل ذِمہ،اہل صلح اورمحاربین ایسی فقہی اصطلاحات کی مددسے اُن کی قانونی حیثیت کاتعین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ (۲۱) علم وفکراورفہم ودانش کے میدان میں یہ عجیب وغریب الجھاؤقوم کواقلیتوں کے بار ے میں یک رُخ ہونے سے روکے رکھتے ہیں۔
۴۔جہادسے متعلق نامناسب تعبیرات وتاویلات
جہادکی حیثیت اوراس کے مقاصدوطریقہ ہائے کارکواسلام میں کیااہمیت حاصل ہے، یہ وہ بنیادی سوال ہے جو اہل مغرب مسلمانوں سے تکرارکیساتھ کرتے آئے ہیں۔کیونکہ مسلمانوں کی طرف سے جہادسے متعلق مختلف الجہات تشریحات منظرعام پر آچکی ہیں۔ان تعبیرات و تشریحات نے علمی دنیا کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے لیے کام کرنیوالی تنظیموں کو بھی ایک عجیب اُلجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔ عصر حاضر میں ’’جہاد‘‘ ایک حساس موضوع قرارپایاہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کی وسعت وقبولیت کاسہرا دعوت وتبلیغ کے ساتھ ساتھ جہادی سرگرمیوں کے سر ہے۔اس مخصوص تاریخی ونظریاتی پس منظرمیں جہادنہ صرف یہ کہ اجروثواب کے حصول کا باعث ہے بلکہ اقوام عالم کیساتھ مسلمانوں کے تعلقات کی نوعیت کا تعین بھی کرتاہے۔مخمصہ یہ ہے کہ عصر حاضرمیں تصورِجہادکی مختلف تعبیرات سامنے آئی ہیں۔ایک حلقہ اسے ’’امربالمعروف ونہی عن المنکر‘‘ کا فریضہ سمجھتے ہوئے کفارکودعوت اسلام کی جانب راغب کرتاہے اورکفاراس دعوت کوقبول نہ کریں تواُن کے خلاف جہادی سرگرمیوں کاآغازکر کے اُنہیں اپنازیرنگیں بنالیناچاہتاہے۔ایک دوسراحلقہ جہادکومحض مسلمانوں کے دفاع اور غیرمسلموں کے ظلم کے خاتمے کی ایک تدبیرقراردیتاہے۔سیدمودودی ؒ نے اس تصورکوپوری دنیا پر اسلام کی سیاسی حاکمیت قائم کر نے سے تعبیرکیاہے۔ (۲۲) ان کی رائے میں اسلام شخصی اعتقادمیں توکفروشرک کو گوارا کرتا ہے، لیکن کسی ایسے نظامِ حکومت کاوجوداسے قبول نہیں جس میں خدائی قانون کے علاوہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کو نافذ کیا گیا ہو۔ (۲۳)
مولاناامین احسن اصلاحی کاموقف ہے کہ اللہ تعالیٰ باطل نظام کے انتشارکوبھی اُس وقت تک پسند نہیں کرتاجب تک اس بات کاامکان نہ ہو کہ جولوگ اس باطل نظام کودرہم برہم کررہے ہیں وہ اس کی جگہ پرکوئی نظامِ حق بھی قائم کرسکیں گے۔ انارکی اور بے نظمی کی حالت ایک غیرفطری حالت ہے بلکہ انسانی فطرت سے اس قدرپیچیدہ کہ تعمیر انسانیت کے لیے زہر قاتل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی ایسی جماعت کوجنگ چھیڑنے کااختیارنہیں دیاہے جوبالکل مبہم اورمجہول ہو، جس کی اطاعت ووفاداری کاامتحان نہ ہواہو،جس کے افراد منتشر اورپراگندہ ہوں،جوکسی قائم نظام کوتودرہم برہم کرسکتے ہوں، لیکن اس بات کاکوئی ثبوت اُنہوں نے بہم نہ پہنچایاہوکہ وہ کسی انتشارکومجتمع بھی کرسکتے ہیں۔(۲۴)
یعنی وہ جہادوقتال کے عمل کواتنی زیادہ پابندیوں کے ساتھ مشروط کرتے ہیں کہ جن کااہتمام کرنا،فی نفسہٖ ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے۔ان مختلف تعبیرات نے جہادکے نام پرکام کرنے والی مختلف تنظیموں کو جہادکے نت نئے مفاہیم اور اسالیب اختیار کرنے کی گنجائش فراہم کردی ہے۔یہ غیرمحدودگنجائش اقلیتوں سے متعلق مسلم طرزِ فکرکوبعض اوقات منفی طور پر متاثر کرتی ہے۔ مسلم ممالک میں بعض مسلمان تنظیموں کی طرف سے اقلیتوں کے ساتھ روارکھے جانے والے نامناسب سلوک کو اسی پس منظرمیں سمجھنے اوراس کاحل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
۵۔قانون توہین رسالت کے استعمال پراقلیتوں کے تحفظات
مقدس ہستیوں،مقدس کتب خصوصاً انبیاء ورُسل سے متعلق نازیباکلمات واندازکسی بھی معاشر ے میں برداشت نہیں کئے جاتے مگر پاکستان میں ایک مخصوص قانون نے اس ساری صورتِ حال کواقلیتوں سے وابستہ کر دیا ہے۔ اقلیتیں اس قانون کے حوالے سے شدیدعدم تحفظ کاشکار ہیں،اس قانون سازی کاپس منظریہ ہے کہ برصغیرکی انگریزحکومت نے اس ضمن میں کچھ اقدامات کئے۔کسی مذہب کی عبادت گاہ کونقصان پہنچانایااس کے تقدس کوکسی بھی طریقے سے پامال کرنا، 1860ء کے قانون کی دفعہ 295کے تحت قابلِ تعزیرجرم قرارپایا، قیامِ پاکستان کے بعداسی قانون میں کئی ترامیم کی گئیں۔ ان ترامیم میں مذہبی شعائر،قرآن مجید اور انبیاء ورسل کی توہین پربھی سزاؤں کااعلان کیاگیا۔نظریاتی پس منظراپنی جگہ پر، عمل کے میدان میں اس قانون کاشکاراقلیتیں ہی ہوتی آئی ہیں۔اس حقیقت کاایک افسوسناک پہلویہ ہے کہ جن پرتوہین مذہب یا توہین رسالت کاالزام لگتا ہے، اُن پرعدالت میں جاکرجرم ثابت کرنے کے بجائے حملے کئے جاتے ہیں اور انہیں ماورائے عدالت قتل کردیاجاتاہے۔اس پرتشدداورخوفناک ماحول کے پیشِ نظرجج اوروکلاء ایسے مقدمات کی سماعت اور کاروائی کوآگے بڑھانے سے قصداً گریزکرتے ہیں۔ اس قتل وغارت میں ملوث انتہاپسند ذہنیت رکھنے والے لوگ کسی قانونی کاروائی سے محفوظ رہتے ہیں۔مذہبی اقلیتوں کاتاثریہ ہے کہ اصولی ونظریاتی طورپراگریہ قانون درست بھی ہے تو اس کے عمل درآمدمیں بہت سی ناانصافیاں موجود ہیں۔ (۲۵) اِن حالات میں عدالتیں دباؤمیں کام پرمجبورہیں اورذرائع ابلاغ اپنی غیرجانب داریت کوقائم رکھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔افسوس کامقام یہ ہے کہ اس خطرناک اورگمبھیر صورتِ حال کی اصلاح کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش ابھی تک منظر عام پرنہیں آئی ہے۔کسی بھی مہذب معاشرے میں بلاتحقیق وتفتیش کسی شخص کو کسی جرم کا مرتکب قراردینا،قطعاً ظلم اورناقابل برداشت فعل ہے۔اس رویے کی تائیدوحمایت مسلم تاریخ ومصادر سے بھی نہیں ہوتی ہے۔اقلیتوں سے متعلق اس فکری چیلنج کوسمجھے اور اس پرمناسب فیصلہ سازی کئے بغیرامن، خوشحالی اور فراہمی انصاف کے کسی دعوے کی تصدیق وتائید نہیں ہوسکتی۔
۶۔تبدیلی مذہب سے متعلق حالیہ قانون سازی
اقلیتوں کی طرف سے یہ شکایات اکثرموصول ہوئی ہیں کہ اُن کی لڑکیوں کوزبردستی مسلمان بناکرشادیاں کرلی جاتی ہیں، نیزاُن کے نا بالغ بچوں کے مذہب بھی تبدیل کئے جاتے ہیں۔(۲۶) اگریہ سب کچھ درست ہے تونہایت قابل افسوس ہے، اس ظالمانہ اورغیراسلامی روش کاسدباب مسلم اُمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اسی پس منظرمیں گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی نے اقلیتوں کے حقوق کے عنوان سے ایک بل منظورکیاہے جس کے مطابق کسی غیرمسلم کے اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے اسلام لانے پرپابندی عائدکردی گئی ہے اوراسے قابل تعزیر جرم قراردیاگیاہے۔اس بل کی منظوری حقائق کومسخ کرنے کی کوشش ہے ا وریہ ساری کاروائی عدل کے تقاضوں کے خلاف ہے۔امر مسلمہ ہے کہ اسلام میں کسی کوزبردستی مسلمان بناناقطعاً جائز نہیں اورایسی کسی کوشش کو روکنابھی درست ہے جس میں کسی شخص پرتبدیلی مذہب کے لیے دباؤ ڈالا جائے، لیکن دوسری طرف اپنی مرضی سے ا سلام لانے پرپابندی لگاکرکسی کو دوسرے مذہب پرباقی ر ہنے کے لئے مجبورکرنا بھی بدترین زیادتی ہے۔ اگرکوئی نابالغ بچہ مسلمان ہوناچاہے تواُسے ر وکنابنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ اس قابل اعتراض قانون کومنسوخ کیاجا ئے، البتہ اگرتبدیلی مذہب کے لیے کسی زبردستی یا جبر کا ارتکاب کیاجائے تو اس کے مرتکب افرادیااداروں کے خلاف موثرکاروائی ضرورکی جائے۔
۷۔ آئینی تضادات
اقلیتوں کے حقوق اوراُن کے سماجی رُتبہ کابراہ راست تعلق آئین اورقانون سے ہے۔بہت سے ایسے قانونی اور سماجی معاملات ہیں جن کے بارے میں آئین میں تضادات ہیں۔آئین ایک طرف شریعت کی پاسداری کی ضمانت دیتاہے تودوسری طرف بین الاقوامی اداروں کے بیان کردہ انسانی حقوق کی ادائیگی کایقین دلاتاہے۔ دلچسپ اورقابل غورنکتہ یہ ہے کہ شریعت کے کئی امورایسے ہیں جوکہ مختلف اداروں کے بیان کردہ انسانی حقوق سے مختلف بلکہ متصادم ہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم نظریاتی واصولی طورپرایسی چیزیں طے کرلیں کہ کہاں شریعت پرعمل ہوگااورکہاں بین الاقوامی قوانین پر۔ یہ فیصلہ ہوناچاہئے کہ موجودہ بین الاقوامی قانون کی حیثیت کیاہے،کیونکہ تمام مسلم ممالک نے مختلف بین الاقوامی معاہدات کوتسلیم کررکھاہے اورانہوں نے بین الاقوامی عرف کی پابندی کی یقین دہانی کرارکھی ہے۔اس پس منظرمیں بین اقوامی معاملات میں چنداصولوں کو قانونی طورپر مسلمات کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، (۲۷) یوں جب تک معاصربین الاقوامی قانون کی حجیت یاعدمِ حجیت کا فیصلہ نہ کر لیا جائے، اُس وقت تک اقلیتوں کے بار ے میں واضح حکمت عملی کاتعین کرنا ایک نہایت مشکل معاملہ ہے۔
۸۔ دورِ جدیدکے مسلمات سے عدم واقفیت
اقلیتوں سے متعلق عدم برداشت کے رویوں کے بہت سے نفسیاتی وجذباتی اسباب بھی ہیں، بعض لوگ جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں اورتحقیق وتنقیدکوبالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی دینی ترجیحات کاتعین کرتے ہیں۔ وہ ایسے قدیم لٹریچرکی بنیادپررائے قائم کرتے ہیں جوکہ دورِ جدیدمیں اپنی حیثیت گنواچکاہے۔ زمانے کے تغیرات نے مسلمات کوبدل کررکھ دیا ہے، اس علمی وفکری اورسماجی ارتقاء کوسمجھے بغیرمعاملات دنیاکی تفہیم ناممکن نہیں توازحدمشکل ضرورہے۔افسوس کامقام یہ ہے کہ ہم آج تک مذہبی اقلیتوں کے بار ے میں ذمی، معاہد، اہل صلح،محارب اورمفتوح ایسی مخصوص فقہی اصطلاحات کے معانی ومفاہیم کے تعین میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اقلیتوں سے متعلق غوروفکرکرتے ہوئے ہمیں تغیرپذیرعالمی حالات کی نوعیت وحساسیت کو سمجھناہوگا۔عالمی اداروں اوران کے چارٹرز کو نظر انداز کر کے ہمیں کیامشکلات پیش آسکتی ہیں، اُن پربھی نظرکرنے کی اشدضرورت ہے۔
۹۔اقلیتوں سے متعلق امورمیں غیرتحقیقی رویے
اقلیتوں کے لیے مسائل پیداکرنے میں اکثریتی آبادی کے جذباتی اورغیرتحقیقی رویوں کوبڑادخل حاصل ہے۔ مذہبی اشتعال پیداکرنے والے اکثر واقعات کی تحقیق وتفتیش جب بھی کی گئی تومعلوم ہواکہ اصل مسئلہ وہ نہیں جس کاشہرہ تھا۔ توہین رسالت اورقرآن مجیدکونذرِ آتش کرنے کے بہت سے واقعات کی حقیقت یہ ہے کہ ان کے پس منظرمیں ذاتی انتقام، غصہ اورتعصب کارفرماتھا۔(۲۸) اقلیتوں سے متعلق امورمیں غیرتحقیقی رویوں کو اختیار کرنا ایک ایسا مذہبی وسماجی مسئلہ ہے جس کے اثرات پاکستان مسلسل بھگت رہاہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ بحیثیت قوم تمام معاشرتی طبقات کو عدل، مساوات اورتحقیق کاپابندکیاجائے۔
۱۰۔علمی مکالمات کافقدان
قومی وبین الاقوامی مسائل کے حل میں علمی مکالمہ کاکردارانتہائی اہمیت کاحامل ہوتاہے، مذہبی اقلیتوں کے مسائل کیا ہیں؟ ان کے اسباب ومحرکات کیاہیں؟مذہبی اقلیتوں کے مسائل حل کرنے میں کون سے عوامل وعناصرموثر ہوسکتے ہیں؟ اس ضمن میں مذہب ہماری کیارہنمائی کرتاہے؟یہ وہ سوالات ہیں جن کاجواب ایک موثرعلمی مکالمہ ہی فراہم کرسکتاہے۔ کیونکہ مکالمہ دوطرفہ عمل ہے جس میں مسئلہ کے تمام پہلوؤں پربحث ہوتی ہے۔ مکالمہ سے گریز، ضد، اشتعال اورغیرسنجیدگی کی علامت ہے۔مکالمے کی عدم موجودگی کامطلب یہ ہوتاہے کہ افرادواقوام نے اپنے تمام مسائل حل کرلئے ہیں یاپھریہ کہ تمام طبقات کی علمی صلاحیتیں کمزورپڑگئی ہیں۔ اس علمی کمزوری کافائدہ مخصوص مفاداتی طبقات اٹھاتے ہیں۔یہ طبقات تشدد اور عدم برداشت کی راہ ہموارکرتے ہیں اورمعاشرے میں شکست وریخت کاباعث بنتے ہیں۔مذہبی اقلیتوں کے وجود، ان کے تشخص اور اُن کے سیاسی ومذہبی حقوق پربات چیت سے گریزکرنا،پاکستانی مسلمانوں کیلئے ایک اہم نفسیاتی اور فکری چیلنج ہے۔علمائے کرام،اہل دانش، پالیسی سازشخصیات اورعام لوگوں کواس چیلنج کی حساسیت کااحساس کرتے ہوئے اقلیتوں کے سماجی،علمی،سیاسی اورمذہبی معاملات میں گنجائش اوروسعت کا پہلوتلاش کرناہوگاجوکہ مؤثرمکالمہ کے بغیر ممکن نہیں۔
۱۱۔اپنے دائرہ اختیارسے تجاوزکرنے کے رجحانات
اقلیتوں سے عدم رواداری کاایک اہم سبب یہ ہے کہ لوگ اپنے دائرہ اختیار سے لاعلم ہیں،وہ ہرچیزکو انفرادی اور ذاتی حیثیت میں اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگراس کوشش میں وہ ناکام ہوجائیں تو انتہائی اقدام کرنے سے گریزنہیں کرتے،اس بات کی فکرکم ہی ہوتی ہے کہ یہ عمل یاردعمل میرے دا ئرہ اختیارمیں بھی ہے یا نہیں۔ توہین رسالت اور قرآنی اوراق جلانے کے ردعمل میں جتنے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، اُن میں کبھی کسی نے یہ نہیں خیال کیاکہ ان واقعات پرردعمل دینااس کے دائرہ اختیارسے باہرہے نیزوہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اس عمل کا جواب دہ نہیں ہے۔اگرعدالتی نظام کومضبوط بنایاجائے اوراس نظام پر اعتمادکیاجائے توریاست ایسے واقعات سے زیادہ بہترطورپرنمٹ سکتی ہے۔ریاستی نظام کی تمام ترکمزوریوں کے باوجودکسی فردکویہ حق نہیں دیاجاسکتاکہ وہ قانون کواپنے ہاتھ میں لے اورکسی قسم کی مذہبی اشتعال انگیزی کاباعث بنے۔
۱۲۔اختلافِ رائے کے اصول وآداب کی عدمِ تفہیم
مختلف معاملات میں افرادِمعاشرہ کامختلف نقطہ ہائے نظرکاحامل ہوناایک فطری امر ہے۔تمام لوگوں کی علمی وفکری اور ذہنی وجسمانی صلاحیتیں ایک جیسی نہیں ہوسکتیں کیونکہ ان کی معلومات،مشاہدات اورتجربات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگر اختلافِ رائے کے اظہار کے لیے مناسب مواقع فراہم نہ کئے جائیں تویہ اختلاف اپنی حدودسے تجاوزکرجاتاہے جس کے منفی اور برے نتائج بھگتناپڑتے ہیں۔اختلافِ رائے کا مقصد بلاوجہ اپنی رائے پراصرارنہیں ہے بلکہ دستیاب وسائل کی روشنی میں ٹھوس ثبوت کی بنیادپراپنی رائے خوبصورت اندازمیں دوسرے کے سامنے پیش کرناہے۔اگر دوسروں کے پاس بہتر ثبوت اوردلائل موجودہوں توان کو سناجائے اور انہیں اپنی رائے پرقائم رہنے کاحق دیاجائے۔اختلافِ رائے کے اصول وآداب کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔اختلافِ رائے کی صورت میں تحقیقی رویوں کوفروغ دیاجائے،مخالف اوراس کی رائے کااحترام کیا جائے اوریہ تسلیم کیاجائے کہ غلطی کاامکان ہر وقت موجود رہتاہے۔ ان اصول وآداب کوسمجھنااورانہیں استعمال کرناکثیرالمذاہب معاشروں کے افراد کیلئے بہت ضروری ہے۔مسلم امہ کا ایک المیہ عہد حاضرمیں یہ ہے کہ اختلافِ رائے کے معنی ومفہوم پرتوجہ نہیں دی جاتی نیزاس کے آداب و شرائط کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ یہ رجحان مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی ادائیگی اور اس ضمن میں مناسب ذہن سازی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
۱۳۔متوازن نصابِ تعلیم
تعلیمی نصاب کسی قوم کی نظریاتی اساس کے تحفظ کاضامن ہوتاہے،اسے متوازن ومعتدل اورمختلف معاشرتی طبقات کے لیے یکساں طورپر قابل قبول ہوناچاہئے۔نصاب میں کسی مذہب کی توہین ایک نامناسب بات ہے،اکثریتی آبادی کے مذہبی فلسفہ کوہی اگرنصاب قرارپاناہے تومتحدہ ہندوستان میں ’’بندے ماترم‘‘ کے گیت پرمسلمانوں نے جواحتجاج کیا تھا، اس کی کیاحیثیت رہ جاتی ہے؟ہندواکثریت میں تھے،مسلمانوں نیاکثریت کیاس طرزِعمل کوکیوں قبول نہیں کیا تھا؟ یقیناً اس سوال کا جواب صرف یہ ہے کہ ہرطالب علم کاحق ہے کہ اسے برابری کے اصول پرتعلیم وتربیت کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ جو عقائدو افکاراس کے مذہب سے مناسبت نہ رکھیں، اُسے اُنہیں پڑھنے پرمجبورنہ کیاجائے۔یہ ہمارافکری تضاد ہوگا کہ ہم غیرمسلم بچوں کو اسلام پڑھنے کاپابندکریں اورجہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، وہاں دیگرمذاہب کی تدریس پر احتجاج کریں اور ناراضگی کااظہارکریں۔ معقولیت اسی میں ہے کہ اکثریت اپنی رائے دوسروں پرٹھو نسنے سے گریز کرے۔
۱۴۔تنازعات کے خاتمے میں غیرسنجیدگی کامظاہرہ
ایک ہی ماحول ومعاشرہ میں مختلف العقائدلوگوں کی موجودگی سے کسی نہ کسی تنازعہ یا تناؤکاپیداہوجانافطری امر ہے لیکن اربابِ فکرودانش افراداوراقوام کے د رمیان تنازعات کوسنجیدگی کے ساتھ ختم کر نے کے لیے پرعزم ہوں تومعاشرہ مذہبی ہم آہنگی کی بہترین تصویرپیش کرسکتاہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ مختلف اوقات میں پیش آنے وا لے نامناسب سلوک کے نتیجے میں جوتنازعات سامنے آیا ان کے حل کر نے میں بہت زیادہ سنجیدگی دیکھنے میں نہیں آئی۔قومی سطح پراس احساس کی بیداری اشدضروری ہے کہ اگرکسی معاملہ میں کوئی مذہبی اختلاف اشتعال کی شکل اختیار کرنے لگے توفوراًایسے اقدامات کئے جائیں جن سے ماحول پرامن منزل کی طرف بڑھ سکے۔ حل تنازعات کے ضمن میں اختیارکی جانیوالی غیرسنجیدگی کی روش اقلیتوں سے متعلق امورمیں مایوسی کی فضا کوپیداکرتی ہے۔زندہ اوربیدارمغزقوم کی حیثیت سے ہمیں اقلیتوں سے متعلق تنازعات کوحل کرنے کیلئے مستقل بنیادوں پرمنصوبہ بندی کرناہوگی کیونکہ ان تنازعات پرعدمِ توجہ کے نتیجے میں معاشرہ تشدد، ضد، خوف،احساسِ کمتری اور اجتماعیت سے دوری ایسے منفی رجحانات کاشکارہورہاہے۔ تنازعات کاعلم جدید سماجی علوم میں بڑی اہمیت اختیارکرچکاہے(۲۹)،اس شعبہ علم سے بھرپوراستفادہ عصر حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے۔
اقلیتوں کی حیثیت کوتسلیم کرنے اوراُنہیں حقوق عطاکرنے کے ضمن میں مسلم اُمہ کوعصر جدیدمیں جن چیلنجز کا سامنا ہے، اُن کامناسب اورشریعت اسلامیہ کی حدودکے اندررہتے ہوئے حل تلاش کرناازحدضروری ہے۔مسلم اُمہ کودرپیش فکری چیلنجزکی تفہیم کویقینی بنانے کے لیے دینی مدارس اورعصری تعلیمی اداروں میں ہم آہنگی پیداکرنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ان اداروں میں تحقیقی مقالات، سیمینارز، کانفرنسوں اور کلاس روم لیکچرزکے ذریعے اقلیتوں سے متعلق شعور کو بیدار کیا جائے۔ نیزسماجی وسیاسی ڈھانچے کومعتدل ومتوازن بنانے کے لئے ہرقسم کے تعصب کوبالائے طاق رکھا جائے۔ اس ضمن میں نہایت ضروری ہے کہ نصابِ تعلیم میں اقلیتوں اورمذہبی تکثیریت سے متعلق مختلف مباحث کوشامل کیاجائے، اس ضمن میں مختلف مذاہب کی تعلیمات سے مدد لی جائے اور ان کے نمائندوں کومختلف نصابی کمیٹیوں میں نمائندگی دی جائے۔ اقلیتوں سے متعلق شعورکی بیداری میں ذرائع ابلاغ کوبھی استعمال کیاجائے۔ علاوہ ازیں اختلاف اورتنقیدکی اخلاقیات کی پابندی کوہرطبقہ فکرمیں رواج دیا جائے۔مذہبی اشتعال انگیزی کوریاستی اداروں کے ذریعے کنٹرول کیاجائے اور اس ضمن میں کسی بھی طبقہ کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے۔اقلیتوں سے متعلق معاملات میں عدل، احتیاط اور تحقیق سے کام لیا جائے، نیز کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے۔پاکستان میں اقلیتوں کی حیثیت اوراُن کے حقوق کی ادائیگی سے متعلق عالمی سطح پر پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے۔اسلام کے سیاسی نظام کی وضاحت میں اعتدال وتوازن سے کام لیاجائے۔
اسلامی ریاست، اقلیتوں، جہاد اور توہین رسالت ایسے حساس موضوعات پرغیرذمہ دارانہ تبصرہ سے گریز کیا جائے۔ پاکستان میں موجودمذہبی اقلیتوں کواہل مغرب کاہم خیال اورہم نواسمجھنے کے بجائے محبِ وطن شہری تصور کیا جائے، اگرکسی معاملے میں کوئی تنازعہ سامنے آئے تواختلافِ رائے کے اصول وآداب کوملحوظِ خاطررکھاجائے نیز اُس مسئلہ کوحل کرنے کی غیر جانبدارانہ اورموثر کوششیں کی جائیں۔
حواشی وحوالہ جات
۱۔سیدصباح الدین عبدالرحمن، اسلام میں مذہبی رواداری،دارالشعور،۷۳۔مزنگ روڈ، بُک سٹریٹ، لاہور، ۲۰۱۰ء، ص: ۱تا۷۱
۲۔الانعام۶:۸۰۱
۳۔النحل۵۲۱:۶۱
4- William Muir, The Life of Mahomet, Smith Elder & Company, London, 1958, P:158
۵۔شری سندرلال جی،آنحضرت کی زندگی،ششماہی وشال،کلکتہ،بھارت،نومبر۱۹۳۳ء،ص:۵۱۴
۶۔ملاحظ ہو:سیدصباح الدین عبدالرحمٰن،ہندوستان کے عہدِ ماضی میں مسلمان حکمرانوں کی مذہبی رواداری، دارالمصنفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، یوپی،۲۰۰۹ء،مجلدات:۳
۷۔سیدمحمدمیاں،پاکستان گورنمنٹ کی اسلامی حیثیت،ماہنامہ برہان،دہلی،جون۱۹۵۰ء،مشمولہ،برصغیرپاک وہندکی شرعی حیثیت از ابوسلمان شاہجہانپوری،ڈاکٹر، مجلس یادگارِ شیخ الاسلام، قاری منزل، پاکستان چوک، کراچی، ۱۹۹۳ء، ص:۹۱۱ تا ۳۲۱، نیز ملاحظہ ہو:مجتبیٰ محمدراٹھور، جہاد، جنگ اور دہشت گردی، نیریٹوز پرائیویٹ لمیٹڈ، پوسٹ بکس نمبر: ۲۱۱۰، اسلام آباد، جون۲۰۱۲ء، ص: ۹۰تا۹۱
۸۔ابوسلمان شاہجہانپوری،ڈاکٹر،برصغیرپاک وہندکی شرعی حیثیت، ص:۹۳تا۹۷
۹۔محمدمشتاق احمد،جہاد،مزاحمت اوربغاوت،الشریعہ اکادمی،گوجرانوالہ،جون۲۰۱۲ء،ص:۸۳تا۱۴۸
۱۰۔محمدشہبازمنج،ڈاکٹر،مباح الدم اور ’’جہادیوں‘‘ کا بیانیہ، ماہنامہ الشریعہ،گوجرانوالہ، ستمبر۲۰۱۶ء،ص:۳۰تا۳۵
۱۱۔ڈاکٹرمحمدریاض محمود(راقم)،برصغیرمیں مسلم۔مسیحی مناظرانہ ادب(۱۸۵۷ ء تا۱۹۴۷ء): تحقیقی وتنقیدی جائزہ، مقالہ برائے پی ایچ ڈی علومِ اسلامیہ،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی،اسلام آباد،سیشن:۲۰۰۸ء تا۲۰۱۰ء،ص: ۹۲ تا ۱۰۵
۱۲۔سیف الحق چکیسری،اسلام کاتصورِجہاداورالقاعدہ،شعیب سنز،مینگورہ،سوات،۲۰۱۰ء،ص:۵۶۵تا۵۷۲
۱۳۔طارق کرسٹوفرقیصر،کتابچہ:صُلح کُل،سلسلہ:۲۱فلیٹ نمبر:۸،آربی۔I،عوامی کمپلیکس،گارڈن ٹاؤن، لاہور، ص: ۱۔۲
۱۴۔ نذیرناجی،اب دھاندلی نہیں ہوگی،روزنامہ نوائے یوقت،اسلام آباد،۴مارچ۱۹۹۶ء،مشمولہ پاکستان کی پہچان: جے سالک، اہل بصیرت کی نظر میں، تدوین، جبارمرزا، شہریارپبلی کیشنز، پوسٹ بکس نمبر:۱۶۹۲،جی پی او، اسلام آباد، ۷مئی ۲۰۰۶ء، ص:۲۰۶
۱۵۔خورشیدندیم،صدارتی خطبہ،سماجی ہم آہنگی،رواداری اورتعلیم:پاکستان کی جامعات کے اساتذہ کے ساتھ نشستوں کی روداد، مرتبین: سجاد اظہر، احمداعجاز، پاکستان انسٹی ٹوٹ فارپیس سٹڈیز، جولائی ۲۰۱۶ء، ص:۴۵تا۴۸، نیز ملاحظہ ہو: شہزاداقبال شام، ڈاکٹر، دساتیرپاکستان کی اسلامی دفعات۔ایک تجزیاتی مطالعہ، شریعہ اکیڈمی،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام، آباد، ۲۰۱۱ء، ص: ۲۹۱ تا ۲۲۲
۱۷۔ الروم۲۲:۳۰
۱۷۔ جنیدقیصر،پاکستانی اقلیتوں کانوحہ،فکشن ہاؤس،۱۳مزنگ روڈ،لاہور،۲۰۰۷ء،ص:۳۱تا۵۱
۱۸۔محمدعمارخان ناصر، بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال وجواب، ماہنامہ الشریعہ،گوجرانوالہ، جلد:۲۷، شمارہ:۱، جنوری۲۰۱۶ء، ص: ۲۵
۱۹۔جاوید احمدغامدی،ریاست اورحکومت،ماہنامہ اشراق، لاہور، جلد:۲۷، شمارہ:۴، اپریل۲۰۱۵ء، ص:۱۷تا۲۰، نیز ملاحظہ ہو: محمد عمارخان ناصر، ریاست،معاشرہ اورمذہبی طبقات،ماہنامہ الشریعۃ، گوجرانوالہ، جلد:۲۴، شمارہ:۳، مارچ ۲۳۱۰ء، ص:۱۸تا۲۳
۲۰۔ ابوسلمان شاہجہانپوری،ڈاکٹر،برصغیرپاک وہندکی شرعی حیثیت،ص:۹۹تا۱۰۳
۲۱۔محموداحمدغازی، ڈاکٹر،اسلام کاقانون بین الممالک،شریعہ اکیڈمی،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی،اسلام آباد، ۲۰۰۷ء، ص: ۲۱۷ تا ۳۱۳، نیزملاحظہ ہو:محمدعمارخان ناصر،بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال وجواب، ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ، جلد: ۲۷، شمارہ:۱، جنوری ۲۰۱۶ء، ص:۲۲تا۲۵
۲۲۔سیف الحق چکیسری،اسلام کاتصورِجہاداورالقاعدہ،ص:۱۱۳تا۱۱۴
۲۳۔محمدعمارخان ناصر،جہاد:ایک مطالعہ،المورد،لاہور،۲۰۱۰ء،ص:۱تا۱۰
۲۴۔ سیف الحق چکیسری،اسلام کاتصورِجہاداورالقاعدہ،ص:۱۱۵تا۱۱۹
۲۵۔ رازشتہ سیتھنا، پاکستان میں اقلیتوں کی حالت زار،سہ ماہی تجزیات،اسلام آباد،شمارہ:۷۳،اپریل 150 جون ۲۰۱۵ء، ص: ۹۰۔۹۱
۲۶۔ روزنامہ جنگ،لاہور،۲۶نومبر۲۰۱۵ء،پاکستانی سینٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس، ص:۱،۵
۲۷۔محمدمشتاق احمد،جہاد،مزاحمت اوربغاوت،ص:۱۴۹تا۱۷۵
۲۸۔ اداریہ، ماہنامہ ہم سخن انٹرنیشنل،لاہور،جولائی۲۰۱۳ء،جلد:۱۷،شمارہ:۵،ص:۴تا۵
۲۹۔ محمدحسین، حل تنازعات کے طریقے سیرتِ نبوی کی روشنی میں، ماہنامہ الشریعہ،گوجرانوالہ، جلد:۲۷، شمارہ:۳، مارچ ۲۰۱۶ء، ص: ۲۲تا۲۷
ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ
1970ء کا آغاز ہوا تو میں میٹرک سے فارغ ہو چکا تھا۔ ابھی کالج میں داخلہ نہیں لیا تھا۔ ہر سو سیاست ہی سیاست ہی تھی۔پیپلز پارٹی کی کامیابیوں کے ڈنکے بج رہے تھے۔جماعت اسلامی کے لوگ ابھی تک انتخابی شکست کے صدمے سے باہر نہیں نکل سکے تھے۔مسلم لیگ بھی شکستہ دیوار کی مانند گرچکی تھی۔اخبارات میں صرف شیخ مجیب الرحمان، ذوالفقار علی بھٹو اور انہیں ڈیرہ اسماعیل خاں میں شکست دینے والے مفتی محمود کے تذکرے اور ان پر تبصرے شائع ہوتے۔ جمعیۃ علماء اسلام والے خوش تھے کہ ناقابل تسخیر بھٹو کو مفتی محمودنے ڈیرہ اسماعیل خاں میں انتخابی شکست سے دوچار کیا ہے۔گوجرانوالہ میں جناب زاہد الراشدی جمعیۃ کے پلیٹ فارم سے ایک بڑا نام تھا۔ہم اس سفر میں ان کے رفیق بھی رہے پھر وقت کے ساتھ ساتھ جب ان کی شہرت اور علمی مقام ومرتبہ ملکی سطح تک پہنچا تو پہلے ایک حد تک اورپھر مکمل طور پر سیاست سے کنارہ کش ہوکر علمی مشاغل میں مصروف ہوگئے اپنے والد مولانا سرفراز خاں صفدر اور چچا صوفی عبدالحمید سواتی سے ورثے میں علم وفضل خوب حاصل کیا۔آج کل "الشریعہ"کے نام سے ایک رسالہ جاری کرتے ہیں۔ اس ماہنامہ کی خوبی یہ ہے کہ پچاس کے لگ بھگ صفحات جو آپ ایک نظر میں نہیں پڑھ سکتے ان کا مختصر نچوڑ وہ ٹائٹل کے صفحے پر کچھ اس طرح بکھیر دیتے ہیں کہ ایک بار ہی میں پڑھنے والا اسے محسوس کئے یا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔آج میں نے ماہنامہ "الشریعہ"کے ٹائیٹل اکٹھے کرکے فکرونظر کے تانوں بانوں کو جوڑ کرکالم مکمل کیا ہے۔لگ بھگ گذشتہ پانچ سالوں کے یہ چھوٹے چھوٹے فکر پارے کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں:
(1) دورحاضر میں داعیان اسلام نہ صرف اپنے مخاطبین کی زبان اور محاورے سے ناواقف ہیں۔بلکہ اس فکری پس منظر سے بھی نابلد ہیں جس میں آج کی نئی نسل کی ذہنی تشکیل ہورہی ہے اور یہی چیز ان کی دعوت کے غیر موثر ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔دور حاضر میں وارثان منبرو محراب پر اصحاب کہف کی مثال صادق آتی ہے ۔جن کی زبان اور سکہ دونوں ہی لوگوں کے لئے اجنبی تھے۔(آراء وافکار۔از ڈاکٹر محمد اکرم ورک شعبہ علوم اسلامیہ ۔گورنمنٹ ڈگری کالج پیپلز کالونی گوجرانوالہ مارچ 2009ء )
(2) ہمارے ارباب علم ودانش حضرات کے لیے یہ بات سوچنے اور ہمارے نوجوانوں ایک طبقے کو سمجھانے کی ہے کہ کب تک ہم دنیا بھر کے تنازعات کو اپنے ہاں درآمد کرتے رہیں گے۔ہمارے لئے یہ لمحہ ء فکریہ ہے کہ بے تحاشہ درآمد کی اس پالیسی نے ہمارے ملک کو کس حد تک پہنچا دیا ہے۔ (حالات وواقعات از مولانا مفتی محمد زاہد۔ شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ امدادیہ۔فیصل آبادنومبر2011)
(3) فرقہ واریت اور تفریق کے نتیجے میں مطلع ابرآلود اور فضاء مکدر ہوجاتی ہے ۔اس کو اسلام کی بہت بڑی خدمت تصور کیاجاتا ہے ۔یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ اگر کوئی مقرر مخالف فرقے کے لئے نرمی سے کام لے یا تہذیب کے دائرے میں رہ کر تقریر کرے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اچھی تقریر نہیں کی اور دوبارہ اسے بلانے سے توبہ کرلی جاتی ہے (آراء وافکار۔از محمدبدر عالم ۔اپریل 2014)
(4) یہ جو بہت زیادہ تقریریں سننا ہے یہ بھی ہمارے عمل کی حس کو بہت حدتک دبادیتا ہے۔اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہفتے میں ایک ہی دن وعظ ونصیحت فرماتے تھے۔جب ہم ہروقت باتیں سنتے اور کرتے رہتے ہیں تو ہماری حس مردہ ہوجاتی ہے اور ہم بے پرواہ ہوجاتے ہیں کہ یہ باتیں تو ہم ہر وقت سنتے رہتے ہیں۔ (حالات وواقعات از مولانا مفتی محمد زاہد اپریل 2013ء)
(5) خلیق ابراہیم سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ " شاہ صاحب تین چار بار ہمارے ہاں آئے۔وہ بڑی دلچسپ باتیں کرتے تھے۔ہندوستانی مسلمانوں کے قومی مزاج کی بات ہورہی تھی کہنے لگے ۔اس سے زیادہ جذباتی قوم دنیا کے پردے پر نہیں ہوگی۔اس کے دین نے اسے اعتدال اور حقیقت پسندی کا رستہ دکھایا ہے۔ اور رسول کریم کا ارشاد ہے کہ دین میں غلو نہ کرو۔مگر ہندوستان کی مسلمان قوم نے دین کو مشعل راہ بنانے کی بجائے اسے اپنے اعصاب پر سوار کرلیا ہے۔اس کے جذبات میں کنکری ڈالوتولہریں پیدا نہیں ہوتیں بلکہ ایک دم ابال آجاتا ہے۔ (حالات وواقعات از مولانا مفتی محمد زاہد ۔جون 2013)
(6) جہاد کی حقیقی روح یہ ہے کہ جہاد کو ذاتی اقتدار یادولت یا اثرورسوخ کے حصول کا ذریعہ نہ بنایا جائے ۔یہ ایک فریضہ ہے جو مسلمانوں کو مخصوص حالات میں ایک ذمہ داری کے طور پر ادا کرنا ہوتا ہے۔اگر اس میں دولت واقتدار کی خواہش شامل ہوجائے تو اللہ کی نظر میں وہ جدوجہد اپنی روح کے لحاظ سے بے وقعت قرار پاتی ہے "(حالات وواقعات از ۔محمد عمار خان ناصر مارچ2014)
(7) جس طرح شریعت رحمی رشتہ داروں سے حسن سلوک کی مسلسل تلقین کے باوجود ان سے مشترکہ خاندانی نظام کا تمدنی تقاضہ نہیں کرتی اسی طرح مسلمانوں کو اخوت ومحبت واتحاد کی تلقین کے باوجودعالمگیر متحدہ سلطنت کا تقاضہ بھی نہیں کرتی۔
(8 ) دینی مزاج رکھنے والے کروڑوں متشرع تاجروں اور دکانداروں کی موجودگی کے باوجود ملاوٹ ناجائزمنافع خوری ،ذخیرہ اندوزی وعدہ خلافی اور ٹیکس چوری اس طبقے میں از حد نمایاں ہے ۔خوراک تو خوراک ہے ادویات اور معصوم بچوں کا دودھ بھی ملاوٹ سے پاک نہیں ہے (حالات واقعات از ۔محمد اظہار الحق ستمبر2015)
(9) تکفیر وقتال کی روش اور نفسیات کی تازہ لہرنے عالم اسلام کے بہت سے حساس علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس سے عالمی اسلام دشمن قوتوں نے فائدہ اٹھانے کی ایسی منظم منصوبہ بندی کررکھی ہے کہ ملت اسلامیہ کی اجتماعی دانش کرب واضطراب کی شدت سے تلملا کررہ گئی ہے۔(کلمہ حق از مولانا زاہد الراشدی ۔مارچ2015)
(9) دہشت گردی کے واقعات جتنے بڑھتے چلے جائیں گے ان سے مغرب کے جسم پر خراش تک نہیں آئے گی بلکہ ان کی طرف ہمارا رویہ بدلنے لگے گا اور ہم ان کی اخلاقی برتری کے قائل ہونے لگیں گے۔اس سے ان کے پھیلاؤ کا راستہ اور زیادہ ہموار ہوجائے گا (آراء وافکار احمد جاوید /اے ۔اے سیدمارچ 2016)
DNA کے بارے میں چشم کشا حقائق
مولانا مفتی منیب الرحمن
گزشتہ سال اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان نے قرار دیا کہ DNA کی فارنزک لیبارٹری رپورٹ کو حدِّزنا جاری کرنے کے لیے حتمی اور قطعی شہادت (Absolute Evidence)کے طورپر تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے عینی شہادت(Eye Witness)کا مطلوبہ شرعی معیار لازمی ہے،ا لبتہ اسے ظنّی شہادت ،قرائن کی شہادت اور تائیدی شہادت کے طورپر لیا جا سکتا ہے اور عینی شہادت کی عدم دستیابی کی صورت میں عدالت مطمئن ہو تو تعزیر۱ًسزا دے سکتی ہے۔ اس پر ہمارے آزاد الیکٹرانک میڈیا، لبرل عناصر نے کہرام مچا دیا، ان میں حقوق نسواں اور حقوق انسانی کے نام پر تنظیمیں چلانے والی NGOsاور دیگر فعال عناصرسب شامل ہیں۔چونکہ مغربی ممالک کی اقدارکے پرچارک ان طبقات کو زنا بالرضا (Adultery)پرکوئی اعتراض نہیں ہے، اس لیے ان کا اصرار ہے کہ زنا بالجبر (Rape)کے ثبوت کے لیے DNAکا لیبارٹری ٹیسٹ اگر مثبت آجائے تواسے حتمی اور قطعی شہادت قرار دے کر اس جرم کے مرتکب پر سزائے موت جاری کردی جائے۔
میں 12تا30جنوری امریکہ کے دورے پرتھا اور مختلف ریاستوں میں دوستوں نے دینی پروگرام ترتیب دے رکھے تھے، نیو جرسی اسٹیٹ سے جماعت اہل سنت نارتھ امریکا کے رہنماعلامہ مقصود احمد قادری یہ پروگرام ترتیب دیتے ہیں، ا ن میں ایک پروگرام ٹینیسی اسٹیٹ کے شہر نیو جانسن سٹی میں جناب ڈاکٹر شہرام ملک کے مکان پر ہوتاہے، جو دین دار،علم دوست اور مہمان نواز شخص ہیں۔ یہ ڈاکٹر صاحبان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات کا ایک حلقہ احباب ہے جو کافی دور دور سے سفر کرکے یکجا ہوتے ہیں۔چونکہ تعلیم وتعلّم ہمارا مشن ہے، اس لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات کے ساتھ مجلس کا انعقاداورتبادلۂ خیال بے حد مفید ثابت ہوتاہے، ان میں کئی احباب میاں بیوی دونوں ڈاکٹرہوتے ہیں۔ ممتاز عالمی شہرت یافتہ آئی سرجن جناب ڈاکٹرخالد اعوان اس حلقۂ احباب کا نقطۂ اتصال ہیں۔ ڈاکٹرصاحب کا قرآن وحدیث کا وسیع مطالعہ، یادداشت اور استدلال قابل رشک ہے۔ وہ راسخ العقیدہ ہیں، محض روایتی اور نسلی مسلمان نہیں ہیں کہ مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے اور وراثت میں اسلام کی نعمت بھی مل گئی، بلکہ اُس خوش نصیب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے اسلام کو پڑھا،سمجھا اور شعوری طورپر قبول کیا اورعمل بھی کیا۔ ان کے اپنے شعبۂ طب Opthalmology میں ان کے 250سے زیادہ ریسرچ پیپرز معتبر عالمی طبی جرائدمیں طبع ہو چکے ہیں۔امراضِ چشم کے علاج کے حوالے سے ان کی ایک تحقیق ’’Awan Syndrome‘‘کے عنوان سے ان کے نام سے منسوب ہے اور بلاشبہ یہ ایک بڑااعزازہے، اسی طرح لیزر ٹیکنالوجی سے جو آنکھوں کا علاج ہوتاہے، ان میں سے بھی ایک خاص’’ لیزر‘‘کے موجد چونکہ ڈاکٹرخالد اعوان ہیں،ا س لیے یہ بھی ان کے نام سے منسوب ہے۔ امریکا اور دیارِمغرب میں مقیم قابل فخر کارنامے انجام دینے والے ایسے پاکستانیوں کو قومی اعزازکے لیے منتخب کیا جاناچاہیے اورامریکا میں مقیم پاکستانی صحافیوں کو ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔
میں ایک عرصے سے متلاشی تھا کہ آیا امریکا اور یورپی ممالک میں DNAٹیسٹ کی مثبت رپورٹ کو ایسے جرائم کے ثبوت کے لیے، جن کی سزا موت ہے، قطعی اور حتمی شہادت کے طورپرتسلیم کیاجاتا ہے یا اسے زیادہ سے زیادہ ہمارے فقہائے کرام کے اقوال کے مطابق ایک ظنّی اور مشتبہ شہادت یا تائیدی شہادت کے طورپر ہی لیا جا سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے عہد مبارک میں مختلف مواقع پر قرائن کی شہادت کواپنے قیاس کی بنیاد بھی بنایا اور اسے تائیدی شہادت کے طور پر استعمال بھی فرمایا،لیکن اسے کسی بھی وقوعے کے بارے میں قطعی اور حتمی شہادت کا درجہ نہیں دیا کہ اس کی بنا پر شرعی حد جاری کی جاسکتی ہے،ذیل میں ہم اس کی مثالیں پیش کر رہے ہیں:
ابورافع سَلَّام بن ابوالحُقَیق ایک مشہور دشمنِ رسول تھا،وہ آپ کو ایذاپہنچاتا تھا ۔آپ ﷺ نے عبداللہ بن عَتِیْک کی قیادت میں انصار کے پانچ افراد کو اُسے قتل کرنے کے لیے بھیجا ۔عبداللہ بن اُنَیس بیان کرتے ہیں کہ ہم نے واپس آکررسول ا للہ ﷺ کو اُس کے قتل کی خبر دی۔ہم میں اختلاف پیدا ہوا کہ وہ شخص کس کی ضرب سے قتل ہوا ہے ،کیونکہ ہم میں سے ہر ایک اس اِعزاز کا دعوے دار تھا،پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ سب اپنی تلواریں لے آؤ‘‘،چنانچہ ہم اپنی اپنی تلواریں لے آئے۔آپ ﷺ نے سب تلواروں کو دیکھا اور عبداللہ بن اُنَیس کی تلوار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:’’وہ اِس تلوار سے قتل ہوا ہے ،کیونکہ مجھے اس پر خوراک کے ذرّات نظر آرہے ہیں،( سیرتِ ابن ہشام، ج:2،ص:275،روایت کا خلاصہ)‘‘۔
آپ ﷺ کے اس ارشادکامطلب یہ تھا کہ عبداللہ بن اُنیس کی تلوار ابن ابوالحُقیق کے بد ن میں زیادہ گہرائی یعنی معدے تک گئی ہے اوراس کا ثبوت یہ ہے کہ اس پر لگے ہوئے خون کے دھبوں میں خوراک کے ذرات کی آمیزش نظر آتی ہے۔ لہٰذا معلوم ہواکہ ان کا وار زیادہ گہرائی تک گیااور جان لیواثابت ہوا۔ یہ فراستِ نبوت کا فیضان تھا کہ آپ ﷺنے قرائن کی شہادت (Circumstantial Evidence)کا اعتبار کیا اور اسے کسی وقوعے کے ثبوت کے لیے تائیدی شہادت اور قرینے کے طورپراستعمال فرمایا۔
حدیث پاک میں ہے:’’ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یارسول اللہ!(صلی اللہ علیک وسلم)، میرے ہاں ایک سیاہ فام بیٹے نے جنم لیا ہے (غالباً وہ شخص سفید رنگ کا تھا اور اس بنا پر اُسے اپنے بیٹے کے نسب کے بارے میں شبہ لاحق ہوا)،آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ ،اُس نے جواب دیا: جی ہاں !، آپ نے پوچھا: اُن کے رنگ کیسے ہیں ؟، اُس نے عرض کی: سرخ۔ آپ نے فرمایا: کیا اُن میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے ؟ ، اُس نے عرض کی: جی ہاں !، آپ ﷺ نے فرمایا: تووہ (یعنی سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ)کہاں سے آگیا ؟، اُس نے عرض کی: شاید(اُس کے نسبی آباء میں سے) کسی کی رگ نے اُسے کھینچ لیا ہو ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: شاید تمہارے بیٹے کو بھی (تمہارے آباء کی )کسی رگ نے کھینچ لیا ہو، (بخاری: 5305)‘‘۔ یہاں رسول اللہ ﷺ نے قیاس کو صحیح نسب کے لیے تائید کے طور پراستعمال فرمایا۔ اس کومندرجہ ذیل حدیث سے مزید تقویت ملتی ہے:
علی بن ابی رباح اپنی سند کے ساتھ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں :رسول اللہ ﷺ نے اُن سے پوچھا: تمہارے ہاں کیا پیدا ہوا؟، اُس نے جواب دیا:میرے ہاں جو بھی پیدا ہوگا بیٹاہوگا یا بیٹی ،آپ ﷺ نے پوچھا: وہ بچہ (صورت میں )کس سے مشابہ ہوگا؟، اُس نے عرض کی: یارسول اللہ!(صلی اللہ علیک وسلم)، یقینااپنے باپ یا ماں میں سے کسی کے مشابہ ہوگا ، آپ ﷺ نے فرمایا: ذرا رکو، اس طرح نہ کہو، (بات یہ ہے کہ )جب نطفہ ماں کے رحم میں قرار پاتا ہے ،تو اللہ تعالیٰ (اپنی قدرت سے )اُس کے اورآدم علیہ السلام کے درمیان تمام رشتوں(یعنی اُن کی صورتوں) کو حاضر فرمادیتا ہے (اور وہ اُن میں سے کسی سے مشابہت اختیار کرلیتا ہے) پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں پڑھا: ’’وہ جس صورت میں چاہتا ہے ،تمہارے وجود کی تشکیل فرمادیتا ہے ،(المعجم الکبیر للطبرانی: 4624)‘‘۔اس کی مزید تائید اس حدیث پاک سے ہوتی ہے:
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ بہت خوش تھے ۔آپ ﷺ نے فرمایا: (عائشہ!)تمہیں معلوم ہے کیا ہوا؟،مُجَزِّز مُدْلِجی میرے پاس داخل ہوا ،اُس نے دو اشخاص (زید بن حارثہ اور اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہما)کو چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے اس طرح دیکھا کہ اُن کے سر(اور بدن کا بالائی حصہ) ڈھکا ہواتھااور پاؤں کھلے تھے۔اُس نے کہا:یہ پاؤں ایک دوسرے سے ہیں (یعنی یہ دونوں اشخاص آپس میں باپ بیٹا ہیں) ، (صحیح بخاری:6771)‘‘۔ حضرت اسامہ بن زیدکا نسب اپنے باپ زید بن حارثہ سے ثابت تھا ،لیکن باپ بیٹے کے رنگ میں تفاوُت کی وجہ سے کسی منافق نے اُن کے نسب پر طعن کیا تھا ،تو رسول اللہ ﷺ نے قیافے کے ماہر مُجَزِّزمُدلِجی کے اس مشاہدے کو تائیدی شہادت کے طور پر لیا اور خوشی کا اظہار فرمایا کہ ایک غیر جانبدار ماہرشخص نے ان دونوں کے حقیقی باپ بیٹا ہونے کی تصدیق کردی۔
اب جاکر سائنس اورجدید علم نے اس کی توثیق کی ہے ۔چنانچہ اب فارنزک لیبارٹری کی مثبت رپورٹ اور وڈیو ریکارڈنگ یعنی مُتحرک تصاویر کو کسی جرم کے ثبوت کے لیے ایک حدتک قبول کیاجارہاہے ۔لیکن کسی سنگین نوعیت کے جرم ،جس کی قانون اور شریعت میں سزا موت مقرر ہے،کے ثبوت کے لیے ڈی این اے کی مثبت لیبارٹری رپورٹ اور ویڈیو ریکارڈنگ کو،خواہ وہ کتنی ہی معیاری ہو ، واحد حتمی اور قطعی ثبوت مان کر سزائے موت کا فیصلہ نہیں دیاجاسکتا ۔یعنی محض اس مثبت فارنزک رپورٹ کی بناپر شریعت کی مقرر کی ہوئی ’’حَدِّ زنا‘‘جاری نہیں کی جاسکتی ،کیونکہ اس میں ملاوٹ اورکسی چیز کی آمیزش کا امکان موجود ہے ۔اسی طرح وڈیو ریکارڈنگ اور متحرک تصاویر میں بھی ایڈٹنگ کے امکان کو کلی طورپر مستردنہیں کیاجاسکتا ۔یہ تو ہمارے ہاں روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ ٹیلیویژن کوریج کرنے والے اپنے کسی من پسند سیاسی رہنما یا پارٹی کے جلسے کو بڑا کرکے دکھاتے ہیں اور ناپسندیدہ لیڈر یا پارٹی کے اُتنے ہی یا اُس سے بھی بڑے اجتماع کو چھوٹا کرکے دکھاتے ہیں،اِسے ہمارے مُحاورے میں کیمرے یا ہاتھ کا کمال کہتے ہیں ۔یعنی ذاتی پسند وناپسند ، ترغیب وتحریص ،دباؤ اور تعصُّب کی بناپر حقائق وواقعات میں تغیروتبدل یا کمی بیشی یا مؤثر یا غیر مؤثر بناکر پیش کرنا ممکن ہے ۔اسی طرح تمام تر دیانت اورنیک نیتی کے باوجود بشری خطا کے امکان کو بھی کلی طورپر رَد نہیں کیاجاسکتا ۔یہ ضروری نہیں کہ ہر کیس میں ایساہو ،لیکن خطا کا امکان قطعیت کی نفی کے لیے کافی ہے ۔ہمارے ہاں میڈیکولیگل رپورٹ اور میّت کے پوسٹ مارٹم میں ردّوبدل کے شواہد بہت ہیں۔
الغرض ان اسباب کی بناپر ڈی این اے کی مثبت رپورٹ یا فارنزک شواہد ظنّی اور مشتبہ (Doubtful)قرار پاسکتے ہیں ،قطعی ہرگز نہیں ہوسکتے ،جبکہ حد زناجاری کرنے یا قتل کی سزا نافذ کرنے کے لیے ثبوت کا قطعی اورلاریب ہونا ضروری ہے اوروہ مطلوبہ عینی شہادت ہی سے ممکن ہے۔خون کے دھبے ،بندوق کی گولیاں اورانسانی دانت سے کاٹنا اسی زمرے میں آتاہے ،تاہم ان شواہد کی بناپر جج یا قاضی اگر مطمئن ہو توتعزیر کے طورپر سزادے سکتاہے اوراس سے کسی کو اختلاف نہیں ہے ۔امریکہ کے حالیہ سفر میں ڈاکٹر خالد اعوان صاحب نے امریکہ اور جرمنی کی عدالتوں اور تفتیشی اداروں کے حوالے سے ڈی این اے رپورٹ کے غیر یقینی ہونے کے بارے میں وہاں کے اخبارات کے حوالوں سے ہمیں یہ شواہد فراہم کیے،جوہمارے لبرل عناصر کے لیے یقیناًحجت ہوں گے:
امریکہ کے نہایت مشہور ایتھلیٹ اوجے سمپسن پر اپنی بیوی اوراس کے آشنا کے دُہرے قتل کاالزام تھا ،وکیل صفائی نے موقف اختیار کیاکہ ڈی این اے کے حاصل کیے ہوئے نمونے میں لیبارٹری میں کسی آمیزش کے امکان کو رَد نہیں کیاجاسکتا ۔اسی طرح 2009ء میں ایک واضح ابہام رپورٹ کیاگیا ۔اس کی رُو سے محض ڈی این اے کی مثبت رپورٹ پر اس حد تک انحصار کو شک کی نظر سے دیکھاگیا کہ اسے قطعی شہادت مان کر مجرم پر سزائے موت نافذ کردی جائے۔
پندرہ سال تک جرمنی کی ایک اسٹیٹ کی پولیس ایک عادی قاتلہ خاتون کو شدت سے تلاش کرتی رہی،جس کی ڈی این اے کے مثبت شواہد چالیس جرائم کے وقوعوں میں پائے گئے ،ان میں سے چھ قتل کے جرائم تھے۔ 2007ء میں انہوں نے متبادل امکانات پر غور شروع کیا،پھر مارچ 2009ء میں اسٹیٹ منسٹر نے اعلان کیا کہ کیس کو حل کرلیاگیا ہے،وہ یہ کہ جس فیکٹری سے نمونہ لینے کے لیے روئی کا پھایا لیاجارہاتھا،وہاں ایک خاتون ورکر کی لاپرواہی سے آمیزش (Contamination) ہورہی تھی ،(Kingport Times-News,Monday, May11 ,2009)‘‘۔
اسی طرح Amanda knoxنامی ایک امریکی خاتون کو اٹلی میں اپنے ساتھ کمرے میں رہنے والی دوسری خاتون کو قتل کرنے کے الزام میں 25سال کی سزا سنائی گئی ۔اس پر الزام ثابت کرنے کے لیے ڈی این اے لیبارٹری رپورٹ کو بطور ثبوت پیش کیاگیا ۔تقریباً ایک سال بعد اس فیصلے کو چیلنج کردیاگیا اورامریکہ کے ایک اخبار میں رپورٹ شائع ہوئی :’’ Amanda knox- Romeکوایک فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی ۔ ایک غیرجانبدار فارنزک رپورٹ نے بتایا کہ اس امریکی طالب علم اوراس کی ساتھی کے مقدمے میں جو ڈی این اے رپورٹ بطورشہادت استعمال کی گئی ،وہ قابل اعتماد نہیں تھی اوراس میں آمیزش تھی۔اس رپورٹ سے معلوم ہواکہ پہلے ٹرائل میں جوڈی این اے ٹیسٹ استعمال کیاگیا ،وہ بین الاقوامی معیار سے کم تر درجے کاتھا اوراس کے سبب اَمنڈا ناکس کی سزا کو ختم کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں،(Bristol Herald Courier,Thursday,June 30,2011)‘‘۔پس شرعی حد جاری کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کو حتمی اور قطعی ثبوت ماننے والوں کواس رپورٹ کا مطالعہ ضرورکرنا چاہیے ۔
اسی طرح امریکی ریاست ٹیکساس میں فوجداری عدالتِ مُرافعہ نے16جولائی کوClifton Williamsکی سزائے موت کو نفاذ سے محض چند گھنٹے قبل ملتوی کردیا ،کیونکہ استغاثہ کے وکلاء نے یہ موقف اختیار کیاکہ Williamsنامی ایک اور سیاہ فام شخص کے ڈین این اے پروفائل سے اس کے مشابہ ہونے کا امکان ہے اوراس امکان کاتناسب ایک کے مقابلے میں 43 Sextilion ہے ،یعنی 43کے آگے اکیس صفر لگانے سے جو عدد بنتا ہے، اس کے برابر ہے یااسے ایک بہ نسبت 43بلین ٹریلین سے تعبیر کرسکتے ہیں ۔ٹیکساس کی انتظامیہ نے حال ہی میں ایف بی آئی کے تیارکردہ ڈیٹابیس پر انحصارکر کے نتیجہ اخذکیاکہ ایک اورسیاہ فام ولیم نامی شخص کے ڈی این اے پروفائل سے اس نمونے کے ملنے کے امکانات One in 40 Billions Trillionہیں ، (Kingsport Times-News,Monday,August 10,2015)‘‘۔
ہمارے ہاں بعض لوگ قتل یا آبروریزی کے مقدمات ( یعنی ایسے جرائم جن کی سزا موت یا عمر قید ہے) میں صرف ڈی این اے کی مثبت لیبارٹری رپورٹ کو حتمی اور قطعی شہادت کے طور پر قبول کرنے پر مُصر ہیں اوراِسے حتمی اورقطعی ثبوت نہ ماننے والوں کو دقیانوسی فکر کا حامل قرار دیتے ہیں۔ایسے تمام لبرل حضرات سے گزارش ہے کہ وہ آبروریزی کے مقدمات میں ڈی این اے کی شہادت کو قطعی ثبوت نہ ماننے کی بابت Univercity of Michigans Innocene Clinicکے 56سالہ کارل ونسن کے مقدمے کا مطالعہ کریں، جسے جبری آبروریزی کے مقدمے میں25سال کی جیل گزارنے کے بعد اس بناپر رہاکردیاگیا کہ جج ایزن براؤن نے کہا:’’عدالت سائنسی شواہد کی بجائے عینی شہادت پر انحصار کرے گی،(Kingport Times-News,Monday,July16,2011)‘‘۔
الغرض ڈی این اے ٹیسٹ کی مثبت رپورٹ کے قطعی ثبوت نہ ہونے کے بارے میں امریکہ اور مغربی ممالک کی عدالتیں یک آواز نہیں ہیں ، بعض اسے حتمی اور قطعی ثبوت مانتے ہیں اور بعض عدالتوں اور ایف بی آئی نے اسے تسلیم نہیں کیا۔اسی حقیقت کو علمِ نبوت نے چند الفاظ میں بیان فرمادیا:’’جس قدر ہوسکے مسلمانوں سے حدود کو ساقط کردو،(سنن ترمذی:1424)‘‘۔امام ابن ماجہ نے اپنی سُنَن میں باب باندھا:’’مومن کی پردہ پوشی اور حدود کو شبہات کے سبب دور کرنے کا بیان‘‘ ۔ امید ہے میری یہ عاجزانہ کاوش ان شاء اللہ جج صاحبان، مفتیانِ کرام ،وکلاء حضرات اورقانون کے طلبہ کے لیے مفید ثابت ہوگی۔
دیو بند و بریلی : اختلافات سے مشترکات تک
سراج الدین امجد
امت مسلمہ آج جن گونا گوں مسائل کا شکار ہے ان میں ایک فرقہ واریت بھی ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر اس کی تباہ کاریوں پر نگاہ دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کے دور میں یہ الحاد اور بے دینی سے بھی بڑا فتنہ اور عفریت ہے۔ آج اگر ملت اسلامیہ کا بدن لہو لہان ہے تو جہاں اغیار کی ریشہ دوانیاں ہیں، وہیں اپنوں کی کارستانیاں بھی کم نہیں۔ کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ آج شرق سے غرب تک جہاں بھی مسلمان پس رہے ہیں، وہاں عالمی سامراج کے ناپاک عزائم کے ساتھ ساتھ اندرونی خلفشار اور باہمی تنازعات کی شر انگیزی بھی کارفرما ہے۔ گویا خارجی محاذ پر اگر کفر و الحاد کی فتنہ سامانیاں ہیں تو داخلی محاذ پر تکفیری ذہنیت اور فرقہ واریت کی شر انگیزیاں۔یہ مسائل اس وقت مزید گھمبیر اور اندوہناک معلوم ہوتے ہیں جب بین المذاہب تو کجا، خود اہل سنت کے مکاتبِ فکر کے اندربھی مسلکانہ شدت پسندی اور تفسیق و تضلیل کا بازار گرم ہو۔ اگر کہیں باہمی رواداری ،یگانگت، اتحاد او ریکجہتی کی فضا قائم کرنے کی کوشش بھی کی جائے تو جلد ہی دیرینہ تعصبات کی زہر ناکی اور قلبی منافرت عود کر آئے۔ اور امن و آشتی اور مسلکانہ رواداری کے سارے دعوے کھو کھلے محسوس ہو نے لگیں۔ تو کیا اس دیرینہ بیماری کا علاج اور تدارک کا ساماں ہی نہ کیا جائے؟ نہیں، قطعاً نہیں بلکہ زیادہ قوت، یکسوئی اور تن دہی کے ساتھ اس کی زہر ناکیوں کو بجھانے کی ضرورت ہے۔اس خطے میں جس طرح آج سنی مکتبہ فکر کے دو بڑے گروہ یعنی دیوبند اور بریلی آپس میں دست و گریباں ہیں، اس پر ہر درد مند دل افسردہ اور پریشاں ہے۔
اس باہمی آویزش کی کچھ وجوہ ہیں۔تاہم اس کے حل کی کوئی کوشش اس تمام صورتِ حال کے معروضی جائزہ اور غیر متعصبانہ تفہیم کے بغیر شاید ممکن نہ ہو۔جو لوگ فطرت انسانی میں کارفرما گوناگوں نفسیاتی مہیجات اور تعصبات کا تجزیہ کرتے رہتے ہیں، وہ اس بات کی بر ملا تائید کریں گے کہ باہمی نفرت و کدورت کم علمی، بے جا تعصبات، ناگوار انانیت اور معاملات کا درست تجزیہ نہ ہونے سے ہی پھیلتی ہے۔پھر دینی اور مذہبی معاملات میں چونکہ اپنے موقف پر اصرار کو تصلب، للٰہیت اور پرہیزگاری کا لبادہ اوڑا دیا جاتا ہے، لہٰذا معروضی تناظر اور بے لاگ تبصرہ و تحقیق کی نوبت آتی ہے نہ خیال گزرتا ہے۔ اور یوں فکر و نظر کا اختلاف بھیانک مسلکانہ پیکار کا روپ دھار لیتا ہے۔اس مضموں میں دیوبند اور بریلی کی علمی اور فکری آویزش کے پس منظر کا تعارف بھی ہے، طرفین کی جانب سے ایک دوسرے کے رد و خلاف کی وجوہات کا تذکرہ بھی۔ نیز ہر ایک کے جدا ذوقی رنگ اور طرزِفکر کا بیان بھی۔ آخر میں طرفین کے معتدل فکر علماء کا اجمالی تعارف اور مشترکات کا بیان، تاکہ آنے والے دنوں میں جداگانہ مسلکانہ تشخص کے باوجوددونوں طبقات میں باہمی رواداری اور حسن ظن کی خوشبو بکھرتی رہے۔
دیوبندی بریلوی مناقشہ: بحث مباحثہ سے مناظرہ بازی تک
علماء اہل سنت کے درمیان شرک و بدعت کے مسائل ہوں یا تقدیسِ الوہیت اور عظمتِ رسالت سے متعلقہ ابحاث، یہ تو دیوبند اور بریلی کے مدارس کے قیام سے بھی بہت پہلے کی ہیں۔ مسئلہ امتناعِ نظیر کے حوالے سے شاہ اسماعیل صاحب دہلوی اورعلامہ فضلِ حق خیرآبادی کے درمیان بحث مباحثہ تو مشہور و معروف ہے۔ خاص دیو بندی وغیر دیوبندی (بریلوی ) تنازعہ کے تناظر میں بھی دیکھنا ہو تو ساری بحث اثر ابن عباس کے حوالے سے مولانا احسن نانوتوی کی کتاب سے شروع ہوئی۔ اس کی تائید میں مولانا قاسم نانوتوی نے ۲۲۹۰ھ /۱۸۷۲ء میں تحذیر الناس لکھی۔ اس پر اہل سنت کے حلقوں میں خوب شور اٹھا۔اور ہندوستان بھر میں علماء نے مخالفت کی۔ بلکہ خود مولانا تھانوی نے کہا ہے کہ جب مولانا نانوتوی نے تحذیر لکھی تو ہندوستان بھر میں کسی نے موافقت نہ کی سوائے مولانا عبد الحئی لکھنوی کے ( دیکھیے الافاضات الیومیہ ، جلد چہارم )۔ یہ الگ بات کہ مولانا لکھنوی نے بھی بعد میں رسالہ ’’ابطالِ اغلاطِ قاسمیہ (۱۳۰۰ھ/۱۸۸۳ء )‘‘ کی تائید کر کے پہلے موقف سے رجوع کر لیا۔یہ رسالہ بھی کسی بریلوی عالم کی کاوش نہ تھی۔ بلکہ شروع میں مخالفت دیگر سنی علماء کی طرف سے سامنے آئی۔اور وہیں سے بات آگے بڑھی۔
اسی طرح اس دورمیں ایک اور تصنیف جو بعد میں علماء دیوبند اور سنی علماء کے مابین وجہ بحث بنی ، وہ " انوار ساطعہ" ہے جس کے مصنف مولانا عبد السمیع رامپوری تو حاجی امداداللہ مہاجر مکی کے خلیفہ تھے۔ کوئی بریلوی نسبت نہ تھی۔ بلکہ یہ کتاب آپ نے ۲۰۳۱ھ میں لکھی، جبکہ دارالعلوم منظرِ الاسلام بریلی کا قیام ۱۳۲۲ھ/۱۹۰۴ء میں عمل میں آیا۔ اس کے ردّ میں براہین قاطعہ ۱۳۰۴ھ میں آئی۔ان موضوعات پر پہلا بڑا مناظرہ علامہ غلام دستگیر قصوری (خلیفہ حضرت مولانا محی الدین قصوری جو معروف نقشبندی مجددی شیخ یعنی شاہ غلام علی دہلوی کے خلیفہ تھے ) اور مولاناخلیل احمد سہارنپوری کے درمیان بہاولپور میں ۱۳۰۶ھ میں ہوا۔ مولانا قصوری کی زندگی بھر مولانا احمد رضا خاں بریلوی ( م ۱۳۴۰ ھ/۱۹۲۱ء)سے ملاقات تک ثابت نہیں، چہ جائیکہ انہیں بریلوی کہا جائے۔ بلکہ زمانی لحاظ سے بھی انہیں مولاناکے والد، مولانا نقی علی خان کا معاصر کہنا زیادہ درست ہو گا۔ گویا علماء دیوبند کے مقابل علمی بحث اور مناظرہ بازی سنیوں میں جن دو بڑی قد آور شخصیات نے شروع کی، دونوں کا بریلویت سے کوئی تعلق نہیں ، یعنی ایک ان کے اپنے شیخ حضرت مہاجر مکی کے خلیفہ مولانا عبد السمیع رامپوری اور دوسرے علامہ قصوری۔
گویا یہ عقائد و معمولات کا اختلاف اور مناظرے مولانا احمد رضا بریلوی کے فتاویٰ سے بھی دو دہائیاں پہلے کے ہیں۔ تاہم یہ درست ہے کہ حسام الحرمین (۱۹۰۶ء) نے دیوبندی بریلوی تنازع کو بہت اجاگر کیا اور طرفین کے رویوں میں شدت آنے لگی۔ تاہم دیوبندی بریلوی تنازع کو سمجھنے کے لیے اس کا تاریخی پس منظر سمجھنا ناگزیرہے اور اس کے لیے دو کتب کا مطالعہ از حد ضروری ہے اور جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، یہ دونوں کتابیں کسی بریلوی عالم کی نہیں۔ ایک حاجی امداداللہ مہاجر مکی کے خلیفہ اجل کی ہے۔ میری مراد ’انوار ساطعہ‘ از علامہ عبد السمیع رامپوری (م۱۳۱۸ھ/۱۹۰۰ء) سے ہے، جبکہ دوسری معرکہ آراء تصنیف ’ تقدیس الوکیل‘ علامہ غلام دستگیر قصوری نقشبندی (م ۱۳۱۵ھ/۱۸۹۷ء) کی ہے جو خواجہ غلام محی الدین قصوری نقشبندی مجددی (خلیفہ شاہ غلام علی دہلوی) کے خلیفہ اور شاگرد تھے۔ لہٰذا ان اکابر کی کتب کا مطالعہ بڑی حد تک اس علمی و فکری پس منظر کو واضح کردیتا ہے۔ ان دو کے علاوہ اکابر دیوبند کے پیر و مرشد سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (م ۱۳۱۷ھ/۱۸۹۹ ء ) کا رسالہ " فیصلہ ہفت مسئلہ " ( شائع شدہ ۱۳۱۲ ھ) بھی لائق مطالعہ ہے جو دراصل انوار ساطعہ اور براہین قاطعہ کی مباحث کے بعد خود ان کے نامی گرامی خلفاء میں باعث تفریق و تشویق مسائل کا حل ڈھونڈنے کی ایک اہم کاوش تھی۔
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ علماء دیوبند کی مویدہ’ براہین قاطعہ ‘ کے مقابل ’انوار ساطعہ‘ کو بریلوی علماء کی بجائے استاذ الکل مولانا لطف اللہ علی گڑھی (م ۱۳۳۴ھ۔ سید ابوالحسن علی ندوی نے انہیں استاذ الکل لکھا ہے) ،مولانا عبد الحق حقانی صاحب تفسیر حقانی(م ۱۳۳۵ ھ) ،مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی ( م ۱۳۰۸ھ)، ادیب الہند مولانا فیض الحسن سہارنپوری( م ۱۳۰۴ھ)، مفتی ارشاد حسین رامپوری مجددی ( م ۱۳۱۱ھ)، مولانا مفتی عبد المجید فرنگی محلی لکھنوی (م ۱۳۴۰ھ ) اور مولانا وکیل احمد حنفی سکندر پوری ( م ۱۳۲۲ھ/ ۱۹۰۴ء ۔ شاگرد خاص علامہ ابو الحسنات عبد الحئی لکھنوی) ایسے اجلہ علماء کی تائید حاصل تھی۔لطف کی بات یہ ہے کہ ان میں ایک بھی بریلوی یا بدایونی علماء کا شاگرد نہیں۔
گویا اہل سنت کے ما بین مباحث میں اختلاف بریلی کے کسی عالم کی فکر کا شاخسانہ نہیں بلکہ علماء دیوبند کے کچھ تفردات اور زعم توحید میں شان رسالت کے حوالے سے تنقیص و سوء ادب پر مشتمل کچھ افکار تھے جس کی گرفت پہلے اور لوگوں نے کی۔ہاں حسام الحرمین (۱۳۲۵ھ/ ۱۹۰۶ء ) کے فتاویٰ سے بڑے پیمانے پر ردِّ دیوبند کا غلغلہ بلند ہوا۔ یہ بات بھی درست ہے کہ حسام کی تائید جہاں بہت سے علماء اہل سنت نے کی۔(کم و بیش ۲۷۰ کے قریب علماء کی فہرست الصوارم الہندیہ میں مولانا حشمت علی لکھنوی نے دی ہے۔یہ کتاب ۱۳۴۵ھ/ ۱۹۲۶ء میں طبع ہوئی) وہاں کئی اکابر مثلاً حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی، حضرت شاہ ابو لخیر دہلوی ( شاگرد شاہ عبد الغنی مجددی )، خواجہ حسن جان سرہندی ( شاگرد شیخ احمد بن زینی دحلان مکی و شیخ رحمۃ اللہ مہاجر مکی ) ،شیخ الاسلام مولانا انواراللہ فاروقی ، مولانا عبد الباری فرنگی محلی ،مولانا مشتاق احمد چشتی انبیٹھوی اور علامہ معین الدین اجمیری ایسے علماء نے اگرچہ عبارات کو غلط، گستاخانہ اور کفریہ کہا تاہم تکفیر سے کفِّ لسان رکھا اور اسی کو احوط جانا۔گو یہ وضاحت اپنی جگہ اہم ہے کہ حسام الحرمین کے فتاویٰ تکفیر کی حمایت نہ کرنے کے باوجودیہ اکابر علماء و مشائخ معتقدات و معمولات میں مولانا بریلوی سے کلی موافقت رکھتے ہیں۔اور دیوبندی عقائد کے ہمنوا نہیں۔ فاضل بریلوی کے فتویٰ تکفیر کی عدم تائید کو دیوبندی عقائد و نظریات کی موافقت سے تعبیر کرنا صریحاًغلط اور دورازکار تاویل کی قبیل سے ہے۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ دیوبند کے عمومی حلقے تو کجا ان کے بڑے بڑے علماء بھی ان شخصیات سے متعارف نہیں۔ حالانکہ دیوبندی مورخین نے اپنے مکتب فکر کے تمام فضلاء و رجال کار کے سوانحی خاکے بڑی دقت نظرسے قلمبند کیے ہیں۔ اگر کہیں اشتراک فکر ہوتا تو حلقہ دیوبند میں ان کا بھی بھرپور تعارف ہوتا۔
رد بریلویت کی وجوہات اور پس منظر
اس ساری بحث میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آج جس طرح بریلوی عقائد کو شرک و بدعت سے آلودہ قرار دیا جا رہا ہے اور مولانا احمد رضا کو ایک فرقہ کا بانی، تو کیا فی الواقع ایسا ہی ہے؟ نہیں بلکہ تاریخی حقائق کچھ اور ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ فاضل بریلوی نے تو علماء دیوبند کے خلاف فتوے دیے تاہم اکابرین دیوبند کی طرف سے کوئی فتویٰ ان کے( عقائد و معمولات کے ) خلاف نہ تھا۔ بلکہ تاریخی حقیقت ہے کہ جب علامہ انور شاہ کشمیری سے مناظرہ بہالپور کے دوران پوچھا گیا کہ آپ تو بریلوی علماء کی تکفیر کرتے ہیں تو انہوں نے باقاعدہ بیان قلمبند کروایا کہ وہ کسی صورت بریلویوں کی تکفیر نہیں کرتے۔ یہ عدالتی بیان ۰۵۳۱ھ کے لگ بھگ ہے جب فاضلِ بریلوی کے وصال (۱۳۴۰ھ) کو بھی دس گیارہ سال ہو چکے تھے۔ اسکی وجہ یہی ہے کہ چند فروعی مسائل کے علاوہ تو کسی بات پر شرک و کفر کے فتویٰ کا مطلب اپنے اکابرین کو متہمّ کرنے کے مترادف تھا کیو نکہ ارواح ثلاثہ ، سوانح قاسمی اور اشرف السوانح جیسی کتب میں درج واقعات کسی طور بھی مروجہ سنی عقائد و معمولات سے ہٹ کر نہیں تھے۔ہاں یہ درست ہے کہ حلقہ دیوبند میں بریلویوں کے خلاف شدت فاضل بریلوی کے تکفیری فتویٰ سے شروع ہوئی تاہم رد بریلویت پر جم کر کام فاضل بریلوی کی وفات کے بھی ۲۵، ۳۰ سال بعد ہوا۔ اس میں دو شخصیات کا کردار اہم ہے۔ ہندوستانی علماء میں مولانا منظور نعمانی چونکہ مناظرانہ ذوق اور طبیعت رکھتے تھے تو وہ کھل کر لکھنے لگے اور مناظرے کیے، اگرچہ آخری عمر میں انہوں نے معارف الحدیث ایسے علمی کاموں کی طرف توجہ دی۔ دوسری شخصیت مولانا سرفراز صفدر کی ہے۔
پاکستان میں بریلوی مکتبہ فکر کے خلاف اصل نفرت اور آواز مولانا حسین علی ( واں بھچراں / تفسیر بلغۃ الحیران والے) کے ہاں سے اٹھی۔ ان کے شاگردوں نے اس میں کافی جوش دکھایا جس میں سر فہرست مولانا غلام اللہ خان، مولانا سرفراز صفدر اور مولانا ضیاء القاسمی وغیرہ تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس انداز فکر کا معروضی تجزیہ نہیں کیا گیا۔ ایک تو مو لانا حسین علی صاحب بڑی متشدد اور تیز طبیعت کے آدمی تھے۔ اگرچہ خاندان نقشبندیہ مجددیہ موسیٰ زئی شریف کے مجاز تھے، تاہم صوفیاء کی روش کے برعکس مناظرہ جو طبیعت پائی تھی، لہٰذا مشائخ و صوفیاء بالخصوص چشتیہ نظامیہ ( پاکستان میں کثرت ہے) سے بڑی کد تھی۔ اس دور میں پنجاب کے تمام بڑے علماء یا علمی گھرانے خانقاہ سیال شریف سے وابستہ تھے۔ ان چشتی مزاج علماء کے ساتھ جو کہ بریلوی نہ تھے، مولانا حسین علی کی نوک جھوک لگی رہتی۔ اندازہ کریں کہ حضرت پیر مہر علی شاہ گو لڑوی جیسے بزرگ صوفی اور عالم سے بھی موصوف مناظرہ کرنے سے باز نہ آئے۔ تو یہ وہ ذہن تھا جس نے سنی مشائخ اور علماء ( پنجاب کے زیادہ علماء دار العلوم نعمانیہ لاہور کے فاضل تھے اور خیر آبادی منہج رکھتے، گو بگوی خاندان میں حدیث کا ذوق زیادہ تھا) کے خلاف ذہن سازی کی۔ مولانا بھچرانوی کے شاگردوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بعد میں دیوبندیوں میں مماتی فکر بھی اسی مولانا حسین علی کی فکر کا شاخسانہ تھی۔
مولانا حسین علی کی متشدد طبیعت کا شاہ عبد القادر رائے پوری علیہ الرحمۃ جیسے بزرگوں کو بڑا احساس تھا۔ ( حضرت کے ’ملفوظات ‘ مرتبہ از مولانا محمد انوری اور ’حیات طیبہ‘ از صاحبزادہ محمد حسین انصاری تمیمی للّہی دیکھیے) بلکہ خودمولانا حسین علی کے پیر بھائی اور بانی خانقاہ سراجیہ، مولانا ابو السعد احمد خان علیہ الرحمۃ ( جن کے علو مقام کے مولانا انورشاہ کشمیری اور علامہ شبیر احمد عثمانی جیسے بزرگ قائل تھے۔ دیکھیے کتاب " تحفہ سعدیہ ") کو اس تکفیری اورمتشدد طبیعت سے بڑی نفرت تھی۔ ( دیکھیں 'حیات صدریہ'۔سوانح قاضی صدرالدین نقشبندی ) اب چونکہ پچاس / ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کے سنی علماء میں سے علماء دیوبند کے ساتھ بحث مباحثہ کے لیے جو علماء اٹھے وہ زیادہ تر بریلوی اور مرادآبادی سلسلہ کے لوگ تھے، لہٰذا فتویٰ بریلویوں پر لگنا شروع ہوا۔حالانکہ خود سنی حلقوں میں فاضل بریلوی کی کتب کا تعارف اور پڑھنے کا ذوق کہیں بعد میں شروع ہوا، بلکہ بیشتر سنی علماء دیوبندیوں کی فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کے خلاف سخت کلامی سے ہی متاثر ہو کر ادھر متوجہ ہوئے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ فاضل بریلوی پر جن دو شخصیات نے پاکستان میں سب سے پہلے علمی اور تحقیقی انداز میں کام کیا، وہ دونوں بریلوی نہ تھے نہ بریلوی علماء کے شاگرد۔ میری مراد ڈاکٹر مسعود احمد نقشبندی اور حکیم محمد موسیٰ امرتسری سے ہے۔جیسے پہلے عرض کیا ہے، پنجاب کے سنی علماء کا تعارف بریلویوں سے زیادہ نہ تھا۔ یہاں تو علامہ فضل حق رامپوری ( م ۱۹۴۰ء)، علامہ غلام محمد گھوٹویؒ (م ۱۹۴۰ء)، علامہ معین الدین اجمیری ( م ۱۹۴۰ء )، مولانا مہر محمد اچھروی (م ۱۹۵۴ء) اور مولانا یار محمد بندیالوی ( م ۱۹۴۷ء)، قاضی محمد دین بدھوی (م ۱۹۶۴ء) اور علامہ غلام محمود پپلانوی( م ۱۹۴۸ء) وغیرہ کے شاگرد زیادہ تھے اور یہ سب سنی تھے۔ بریلویوں سے کوئی بھی براہ راست نہ پڑھا تھا۔تاہم جب مولانا حسین علی اور ان کے شاگردوں نے ان علماء کے شاگردوں سے مناظرے شروع کیے تو سارے غیر دیوبندی اب بریلویوں کی چھتری تلے جمع ہونا شروع ہو گئے جن میں مختفو مراکز علمی ( رامپور، فرنگی محل،لکھنو، کانپور، خیرآباد، دارالعلوم نعمانیہ لاہور، بدایوں اور بریلی کے) کے وابستگان تھے۔
اس پس منظر میں یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ بریلوی عقائد و معمولات کے بڑے حصے کو انیسویں اور بیسویں صدی کے علماء اہل سنت کے بڑے طبقے کی تائید رہی ہے۔ رہاحسام الحرمین کے بعد کے ادوار میں دیوبندی بریلوی شدید منافرت اور دونوں کے اندازو مزاج میں واضح فرق جس میں تطبیق کی کوئی صورت آج دینی مزاج کے لوگوں کے لیے ہضم کرنا مشکل ہے تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ علماء دیوبند نے علمی و تحقیقی اور درس و تدریس پر توجہ دی اور دینی مدارس کے فروغ اور دعوتی کام کی وجہ سے عوام کے بڑے طبقے کو متاثر کیا۔ یوں شعوری طور پر دینی ذوق رکھنے والے لوگ ان کے پاس آتے گئے۔ دوسری طرف بریلوی علماء مولانا حشمت علی لکھنوی ، مولانا اجمل سنبھلی وغیرہ ہندوستان جبکہ پاکستان میں مولانا سردار احمد فیصل آبادی، مولانا عمر اچھروی اور مولانا ابوالبرکات وغیرہ نے اور ان کے شاگردوں نے "رد دیوبندیت" کو ہی موضوع بنایااور ٹھوس علمی کام نہ کرسکے۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ جدید موضوعات تو کجا، روایتی خرافات و رسومات کے آگے بھی بند نہ باندھا جا سکا۔ مزید نقصان یہ ہوا کہ فاضل بریلوی ،جنہوں نے رد بدعات میں بہت کام کیا تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمعصر مشائخ و علماء میں رد بدعات کے حوالے سے شاید ہی کسی نے اتنا کام کیا ہو ،کی اصل فکراور اصلاحی تعلیمات دب گئیں اور نیم خواندہ بریلوی مولوی نورو بشر کے موضوعات پر ہی تقریریں کرکے سنیت کا تعارف کروانے لگے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ فاضل بریلوی کی اصلاحی تعلیمات کے فروغ میں رکاوٹ میں اہم کردار یہاں کے چشتی نظامی، چشتی صابری اور سہروردی اور قادری مشائخ کی خانقاہوں اور گدیوں کا بھی رہا۔ انہوں نے ان پڑھ مریدوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک طرف تو دیوبندیوں کے خلاف ان کے حسام الحرمین کے فتاویٰ کو خوب اچھالا لیکن فاضل بریلوی کی اصل تعلیمات خاص کر رد بدعات کو سامنے ہی نہ آنے دیا۔ یوں علمی کم مائیگی، وعظ پسندی اور جہال کی خرافات و بدعات کوگویا بریلویت کے مترادف سمجھاجانے لگا۔
ماضی قریب میں بہت سارے اہل علم اپنے آپ کو اس رد دیوبندیت کی شدت پسند بریلویت سے نہیں جوڑتے۔ متاخرین میں شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی، مولانا محمد عالم آسی امرتسری ، پیر کرم شاہ الازہری، خواجہ غلام سدید الدین مرولوی، مولانا محمد ذاکر بانی جامعہ محمدی شریف جھنگ، شاہ ابوالحسن زید فاروقی، شاہ وجیہ الدین احمد خاں رامپوری ، خواجہ محمد عمر بیر بلوی، قاضی صدر الدین نقشبندی ، علامہ حافظ ایوب دہلوی ، علامہ جمال میاں فرنگی محلی، سید محمد ہاشم فاضل شمسی، علامہ حکیم محمود احمد برکاتی، پروفیسر مولانا شاہ منتخب الحق ، ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری، محدث دکن شاہ عبد اللہ قادری ، ڈاکٹر پیر محمد حسن، مولانا سعید احمد مجددی،علامہ علی احمد سندھیلوی اور سید نصیر الدین نصیر گیلانی ایسے کئی جید علماء و مشائخ نے خیر آبادی ،فرنگی محلی اور خانوادہ اللٰہی سے منسوب سنیت کو ہی فروغ دیا ہے۔ ذرا دیکھیے، ذیل کے الفاظ میں کس درد مندی اور اخلاص کے ساتھ ایک بڑے سنی عالم نے اس طرف توجہ دلائی ہے:
’’دین کے اصولی مسائل میں دونوں متفق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توحید ذاتی اور صفاتی، حضور نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بسا اوقات رسالت اور ختم نبوت، قرآن کریم، قیامت اور دیگر ضروریات دین میں کلی موافقت ہے۔ لیکن طرزتحریر میں بیاحتیاطی اور انداز تقریر میں بے اعتدالی کے باعث غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اور باہمی سوءِ ظن ان غلطیوں کو بھیانک شکل دے دیتا ہے۔ اگر تقریرو تحریر میں احتیاط و اعتدال کا مسلک اختیار کیا جائے اور اس بد ظنی کا قلع قمع کر دیا جائے تو اکثر و بیشتر مسائل میں اختلاف ختم ہو جائے۔ اور اگر چند امور میں اختلاف باقی رہ بھی جائے تو اس کی نوعیت ایسی نہیں ہوگی کہ دونوں فریق عصر حاضر کے سارے تقاضوں سے چشم پوشی کیے آستینیں چڑھائے، لٹھ لیے ایک دوسرے کی تکفیر میں عمریں برباد کرتے رہیں۔‘‘
یہ آراء معروف سنی عالم اور صوفی حضرت پیر کرم شاہ صاحب الازہری کی ہیں جس کا اظہار ٹھیک پچاس برس قبل تفسیر ضیاء القرآن کے مقدمہ میں کیا۔ اس میں شک نہیں کہ باہمی تکفیر و تفسیق کے اس دور میں اس جرات مندانہ موقف اور امت کے اجتماعی مسائل کے لیے دلسوزی اور دردمندی کے جذبہ رفیعہ سے پیر صاحب اتحاد بین المسالک کی کوششوں میں اپنے معاصرین سے سبقت لے گئے۔ بعد کے ادوار میں مجاہد ملت مولانا عبد الستار خان نیازی ایسے بزرگوں نے عملی کوششیں بھی کیں جو بوجوہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکیں۔ تاہم اس کا سنی حلقوں بڑا فائدہ یہ ہوا کہ فہیم و ذی شعور عناصر مذہبی مسائل میں ٹھیٹھ بریلویت اور دیوبندیت کی بجائے اہل سنت کی پرانی معتدل روش کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔پیر کرم شاہ سے کم وبیش بیس سال بعد ہندوستان میں رامپور ،جو دیوبند و بریلی کے مدارس دینیہ سے پہلے کا مشہور دبستان علمی ہے ، کے ایک نہایت قابل فرزند مولانا وجیہ الدین احمد خاں رامپوری نے "مسلک ارباب حق" لکھ کر یہاں احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ سر انجام دیا اور طرفین کی درست باتوں کی تائید اور غلط عقائد و نظریات کا علمی رد کیا، وہیں اتحاد بین المسالک کی دعوت بھی دی۔ اس کتاب کی ثقاہت اور اہل علم و فضل کے ہاں وقعت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ معروف محقق و دانشور پروفیسر نثاراحمد فاروقی ( صدر شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی) نے پیش لفظ لکھا۔ وہ لکھتے ہیں:
’’حضرت مولانا شاہ وجیہ الدین احمد خاں علیہ الرحمۃ نے دیوبندی اور بریلوی دونوں مدرسہ ہائے فکر کے بارے میں متوازن اور معتدل رائے کا اظہار کیا ہے۔ اور عام مسلمانوں کیلئے جو دین کی بنیادی کتابوں سے براہ راست اور گہری واقفیت نہیں رکھتے، یہی مسلک اعتدال مناسب ہے۔ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ علمائے دیوبند کے بعض اکابر سے لغزشیں ہوئی ہیں۰ مولانا المولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی نے ان لغزشوں پر مدلل نکتہ چینیاں کی ہیں اور وقت نکتہ چینی وہ اکابر موجود تھے۔ لیکن اپنے اقوال کی تفسیریں اور تعبیریں انہوں نے بیان کی ہیں، قول سے رجوع نہیں کیا۔ کاش یہ دیوبندی اکابر اپنے اقوال سے رجوع کر لیتے تو آج ہندوستان کا بہت بڑا اختلاف مٹ جاتا ۔ لیکن نہ اکابر نے رجوع کیا نہ اصاغر نے لغزش کا اقرا ر کیا۔نتیجے میں دیوبندی بریلوی محاذ قائم ہو گیا۔ دوسری طرف بریلوی علماء کے بارے میں حضرت خطیب اعظم فرماتے ہیں کہ حضرات علمائے بریلی نے سخت تشدد اختیار کیا اور لغزشوں کے کرنے والوں کو ہی فقط کافر نہیں کہا بلکہ ان کے کفر میں جو شک کرے، اس کو بھی کافر کہا ہے ۔ اس غلو آمیز عموم سے ہندوستان میں کوئی بھی مسلمان نہیں رہ سکتا ‘‘۔
سچی بات ہے کہ آج غیر جانبدار اور تحقیقی ذوق کے علماء اور مفکرین کی ضرورت ہے تاکہ ایک طرف عوامی مزاج کے لیے خاطر خواہ طریقے سے دینی تربیت کا اہتمام ہو سکے۔اس کے لیے بریلوی فکر کی اہمیت سے انکار نہیں۔نیز سلاسل تصوف اور بزرگوں کے عقائد و معمولات سے وابستہ افر اد بھی ان سنی بریلویوں سے ہی قربت محسوس کرتے ہیں اور انہی سے ذوقی مناسبت کی وجہ سے فیض اٹھا سکتے ہیں جبکہ دوسری طرف وہ طبقات جو شرک و بدعت کے حوالے سے شاہ اسمٰعیل دہلوی اور ان کے اَتباع کی سی حساسیت رکھتے ہیں، علماء دیوبند کی دینی راہنمائی میں شرک و بدعت کے حوالے سے محتاط روی کو حرزِ جان بنا سکتے ہیں۔ جیسے بریلوی علماء کے لیے رد دیوبند سے بڑھ کر رد بدعات اور احیائے دین پر کام کرنا زیادہ ضروری ہے، وہاں پر دیوبندی علماء کوبھی اس فکر سے نکلنا ہو گا کہ امت کے ایک بڑے طبقہ کے معمولات گویا شرک سے آلودہ ہیں۔نیز انہیں اپنے آپ کو یزیدی فکر کے فروغ اور خارجیت جدیدہ کے دست و بازو بننے سے رکنا ہوگا تاکہ دیوبندی بریلوی مسالک صحیح معنوں میں ذوقی چیز ہی رہیں نہ کہ تکفیر و تضلیل سے اپنا شیرازہ بکھیرتے رہیں۔ مسلک ذوقی ترجیح کی حد تک توشاید قابل قبول ہو، لیکن اسے امت میں تشتت و افتراق کی دستاویز کسی صورت نہیں بننے دیا جا سکتا۔
ذوقی رنگ اور متنوع اسالیب
دیوبند سے مراد مدرسہ دیوبند اور ان کے ہم خیال مدارس اور علمی خانوادے ہیں جبکہ غیر دیوبند اب سارا بریلوی کہلایا جانے لگا ہے۔ اگرچہ بریلوی کی اصطلاح دیوبندی اور وہابی مورخین نے طعنہ آمیزی کے طور پر استعمال کی تاہم اب اسکو دیوبندی بریلی عقائد و معمولات کے عمومی تناظر میں دیکھا جا نے لگا ہے۔ بریلی اور دیگر سنی خانوادہائے علمی کے مقابلے میں دیوبند دعوتِ دین، علمی وتحقیقی کام ،شروح کتب احادیث ودرسیات ، مدارس دینیہ کے قیام اور اتباع سنت میں محتاط روی کی بنا پر خاص مقام کا حامل ہے۔دوسری طرف بریلوی یا غیر دیوبندی ( فرنگی محل، رامپور، خیر آباد، بدایوں اور بریلی علمی گھرانے) امت کے بڑے طبقے کے ساتھ خیر خواہی ، دینی اقدار کے تحفظ کے لیے ترغیب کو ترہیب پر ترجیح دینا، علماء ہند مثلاً شیخ عبد الحق محدث دہلوی، شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ایسے بزرگوں کی آراء کو دیگر علماء پر فوقیت ، اثبات عقائد و توضیحِ احکامِ فروعی میں معقولات پر زور جبکہ منقولات پر کم توجہ ، صوفیہ کے عقائد و معمولات کی شرعی توجیہ اور ان کے بظاہر غیر محتاط اعمال کی مؤدبانہ حسن تاویل ، مزاجاً خانقاہی نظام سے تمسک و وابستگی کو اہمیت دینا ، ’کثرت عمل ‘کی بجائے ’حسن عمل ‘ پر نگاہ ، علمی و تحقیقی کام کی بجائے صدقہ و خیرات اور عوام الناس کے عرف کی رعایت کرتے ہوئے رسوم و رواج میں شراکت وغیرہ وغیرہ بہت سے اعمال ایسے ہیں جو اس طبقے کی پہچان ہیں۔
طرفین میں معتد ل فکر کے علماء
بریلوی ذہن کے لیے علماء دیو بند میں مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا مناظر احسن گیلانی ، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا ادریس کاندھلوی ، مفتی محمد حسن امرتسری ، مولانا عبد الرشید نعمانی، مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی، مفتی تقی عثمانی وغیرہ اور شاہ عبد القادر رائے پوری، مولانا سید زوار حسین شاہ صاحب نقشبندی، ابو السعد مولانا احمد خان، حضرت مولانا اللہ یار خان اور خواجہ خان محمد جیسے مشائخ میں کشش کا بڑا سامان ہے۔ اسی طرح دیوبندی ذہن کے لیے شیخ الاسلام علامہ انواراللہ فاروقی ، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی،علامہ مشتاق احمد چشتی انبیٹھوی، حضرت خواجہ حسن جان سرہندی ، مولانا نور احمد پسروری ثم امرتسری ،حضرت میاں شیر محمد شرقپوری ، خواجہ محمد عمر بیر بلوی ، شیخ الجامعہ علامہ غلام محمد گھوٹوی ، پروفیسر نور بخش توکلی، پیر کرم شاہ الازہری، مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا شاہ ابو الحسن زید فاروقی الازہری ، محدث دکن سید عبد اللہ قادری ، مولانا شاہ وجیہ الدین ا حمد خاں رامپوری، مولانا سعید احمد مجددی، محدث عصر علامہ غلام رسول سعیدی، علامہ سید فاروق القادری، مفتی محمد خان قادری اورقاضی عبد الدائم دائم ایسے علماء اور مشائخ کے ہاں کشش کے کئی پہلو ہیں۔اللہ پاک ہمیں دونوں مکاتب فکر کے علماء و مشائخ کے نوادرات علمی اور اسالیب طریقت سے بہرہ مند فرمائے اورہمیں مسالک سے بڑھ کر دین سے محبت نصیب فرمائے۔آمین