جون ۲۰۱۷ء

امام ابو حنیفہ کی اجتہادی فکر سے چند راہنما اصولمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۱)ڈاکٹر محی الدین غازی 
رؤیت ہلال کا مسئلہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
امام عیسیٰ بن ابانؒ : حیات و خدمات (۲)مولانا عبید اختر رحمانی 
بین الاقوامی عدالت انصاف کا فیصلہ: ایک قانونی تجزیہڈاکٹر محمد مشتاق احمد 
قرآنِ مجید اور اسیرانِ جنگعدنان اعجاز 
مباحث فطرت و اخلاق: بحث کیا ہے؟محمد زاہد صدیق مغل 
سانحہ مستونگ کے شہداءمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مکاتیبادارہ 

امام ابو حنیفہ کی اجتہادی فکر سے چند راہنما اصول

محمد عمار خان ناصر

(۱۹ جنوری ۲۰۱۷ء کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ فکر اسلامی کے زیر اہتمام ’’خطبات اسلام آباد‘‘ کے زیر عنوان لیکچر سیریز میں کی گئی گفتگو کے بنیادی نکات۔)
۱۔ اجتہاد کا بنیادی مقصد زندگی اور اس کے معاملات کو قرآن وسنت کے مقرر کردہ حدود میں اور ان کی منشا کے مطابق استوار کرنا ہے۔ اس ضمن میں شارع کے منشا کو عملی حالات پر منطبق کرنے اور بدلتے ہوئے حالات اور ارتقا پذیر انسانی سماج کا رشتہ قرآن وسنت کی ہدایت کے ساتھ قائم رکھنے کا وظیفہ بنیادی طور پر انسانی فہم ہی انجام دیتا ہے اور ایک طرف قرآن وسنت کی منشا اور دوسری طرف پیش آمدہ مخصوص صورت حال یا مسئلے کی نوعیت کو سمجھنے اور ان دونوں کے باہمی تعلق کو متعین کر کے ایک مخصوص قانونی حکم لاگو کرنے کی اسی علمی وفکری کاوش کو اصطلاح میں ’اجتہاد‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
۲۔ دوسری صدی ہجری میں امت میں جو مختلف فقہی مکاتب فکر وجود میں آئے، ان میں سے بعض تو علمی وتحقیقی طور پر کتابی بحثوں تک محدود رہ گئے، جبکہ بعض کو بعد کے ادوار میں بہت سے علمی، سیاسی اور سماجی عوامل کے تحت امت میں قبول عام حاصل ہوا اور عالم اسلام کے مختلف حصوں میں ان میں سے کسی نہ کسی فقہی مکتب فکر کو عمومی سطح پر پذیرائی بخشی گئی۔ امت میں وسیع پیمانے پر قبول عام حاصل کرنے والے ان فقہی مکاتب فکر میں فقہ حنفی سب سے نمایاں ہے جسے نہ صرف علمی سطح پر امت کے بہت سے نامور اہل علم اور فقہا ومحدثین کی وابستگی میسر ہوئی، بلکہ اسلامی تاریخ کی تین عظیم سلطنتوں یعنی خلافت عباسیہ، خلافت عثمانیہ اور برصغیر میں مغل سلطنت کی سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہوئی۔ 
۳۔ علامہ محمد اقبال نے ’’تشکیل جدید الہیات اسلامیہ‘‘ کے چھٹے خطبے میں اجتہاد کے مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے احادیث سے متعلق امام ابوحنیفہ کے زاویہ نگاہ کا ذکر تے ہوئے لکھا ہے:
’’شاید اسی نقطہ نظر سے امام ابوحنیفہ نے، جو اسلام کے عالمگیر کردار کے بارے میں گہری بصیرت رکھتے تھے، عملی طور پر ان احادیث کو استعمال نہ کیا۔ انھوں نے استحسان، یعنی فقیہانہ ترجیح کے اصول کو متعارف کرایا جو قانونی فکر میں حقیقی یا اصلی صورت حال کے محتاط مطالعے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ یہ حقیقت ان محرکات پر مزید روشنی ڈالتی ہے جنھوں نے اسلامی فقہ کے اس ماخذ (یعنی احادیث) کے بارے میں امام ابوحنیفہ کے رویے کا تعین کیا۔‘‘ (’’تجدید فکریات اسلام‘‘، ترجمہ: ڈاکٹر وحید عشرت، اقبال اکادمی، پاکستان، طبع اول، ۲۰۰۲ء، ص ۲۰۴، ۲۰۵)
۴۔ اقبال کے مذکورہ بیان کا ایک حصہ تو امام ابوحنیفہ کے نقطہ نظر کی درست ترجمانی نہیں کرتا، یعنی یہ کہ امام ابوحنیفہ نے عملی طور پر اپنے اجتہادات میں احادیث کو استعمال نہیں کیا، اس لیے کہ احادیث وآثار کی اہمیت کے ضمن میں امام ابوحنیفہ اور دیگر ائمہ مجتہدین کے نقطہ نظرمیں اصولی طور پرکوئی فرق نہیں اور امام ابوحنیفہ بھی روایات وآثار کو اجتہاد واستنباط کا بنیادی ماخذ تسلیم کرتے ہیں، چنانچہ امام ابوحنیفہ کے براہ راست تلامذہ کی تصنیف کردہ کتب میں استدلال واستنباط کی اصل بنیاداحادیث وآثار ہی پررکھی گئی ہے۔ تاہم اقبال کا یہ تجزیہ بہت اہم ہے کہ امام ابوحنیفہ اسلامی قانون کے عالمگیر کردار (Universal Character) کے بارے میں گہری بصیرت رکھتے تھے اور یہ کہ نصوص یعنی آیات واحادیث کے ساتھ ساتھ حقیقی یا واقعی صورت حال (جس میں قانون کا عملی اطلاق کیا جانا ہے) کے گہرے اور محتاط مطالعے کو بھی حنفی منہج اجتہاد میں بہت بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ 
۵۔ اسلامی قانون کے عالمگیر کردار یعنی اس کی آفاقیت کو محفوظ اور برقرار رکھنے یا دوسرے لفظوں میں ہر طرح کی صورت حال میں اس کی عملی معنویت (relevance) کو قائم رکھنے کے لیے امام ابوحنیفہ نے احادیث کی تعبیر وتشریح اور ان سے استنباطِ احکام کا ایک بہت واضح اور منضبط علمی وعقلی منہج اختیار کیا جس کی اہم خصوصیات کو ان نکات کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:
الف۔ امام ابوحنیفہ احادیث کے ظاہری مفہوم تک محدود رہنے کے بجائے ان کی تعبیر وتشریح میں کتاب وسنت کے دیگر نصوص اور شریعت کے مجموعی مزاج ونظام سے بھی استفادہ کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل منشا ومراد کی تعیین کے لیے متنوع علمی وعقلی اصولوں کو بروئے کار لاتے ہیں۔وہ ایک طرف حدیث کے ظاہری الفاظ اور ان کی دلالتوں کو مد نظر رکھتے ہیں اور دوسری طرف ان علمی وعقلی قرائن کو بھی پورا وزن دیتے ہیں جو متعلقہ نص سے ہٹ کر دیگر خارجی دلائل پر غور کرنے سے ان کے سامنے آتے ہیں اور جنھیں ان کی اہمیت کے باعث حکم کا محل اور اس کا دائرۂ اطلاق متعین کرتے ہوئے نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ 
ب۔ کسی بھی حکم کے اطلاق اور نفاذ یا دوسرے لفظوں میں اس کی بنیاد پر عملی قانون سازی کے لیے دیگر عقلی واخلاقی اصولوں اور عملی مصالح کی روشنی میں بہت سی قیود و شرائط کا اضافہ اور مختلف صورتوں میں حکم کے اطلاق ونفاذ کی نوعیت میں فرق کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ دین کے کسی حکم یا اصول کے تحت کسی دوسرے حکم کی تخصیص کرنے، استثنائی صورتوں پر عمومی حکم کا اطلاق نہ کرنے، مقاصد ومصالح اور عملی حالات کی رعایت سے کسی مباح کو واجب یا سد ذریعہ کے طور پر ممنوع قرار دینے، کسی اخلاقی ذمہ داری کو قانونی پابندی میں تبدیل کرنے، کسی اختیار کے سوء استعمال کو روکنے کے لیے اس پر قدغن لگانے اور اس نوعیت کی دیگر تحدیدات وتصرفات کی مثالیں احادیث، آثار صحابہ اور ائمۂ مجتہدین کی فقہی آرا میں موجود ہیں اور امام ابوحنیفہ نے بھی اپنے اجتہادات میں اس اصول سے بکثرت فائدہ اٹھایا ہے۔ 
ج۔ احادیث نبویہ کی تعبیر وتشریح میں فقہائے احناف نے جن علمی وعقلی اصولوں کو ملحوظ رکھا ہے، ان میں سے ایک نہایت اہم اصول یہ ہے کہ ان احکامات میں جن کی پابندی آپ نے بطور دین امت پر لازم فرمائی اور ان ہدایات میں جن کی بنیاد وقتی نوعیت کی انتظامی مصلحتوں پر ہے، فرق ملحوظ رکھا جائے۔ پہلی صورت میں آپ کے احکام کی اتباع لازم ہے اور اس میں کسی فرد بشر کو تبدیلی کا کوئی اختیار نہیں، لیکن جن معاملات سے متعلق قرآن میں کوئی متعین حکم نہیں دیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سنت کی حیثیت سے کسی عمل یا طریقے کو جاری نہیں فرمایا، وہاں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے یا نافذ کردہ فیصلے کو مختلف امکانی طریقوں میں سے ایک طریقہ سمجھنے اور ان کے علاوہ دیگر مختلف امکانات کا راستہ کھلا رکھنے کی پوری گنجایش رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ریاست مدینہ کے حاکم تھے اور آپ نے بہت سے فیصلے، اپنی اس حیثیت میں، اس وقت کے انتظامی مصالح کو سامنے رکھتے ہوئے کیے۔ چونکہ اس طرح کے مصالح ہر زمانے کے لیے حتمی طور پر ایک جیسے نہیں ہوتے، اس لیے احناف ایسے فیصلوں پر ہر حال میں عمل کرنے کو لازم نہیں سمجھتے بلکہ ان میں اصل فیصلہ کن حیثیت حاکم وقت کی صواب دید کو قرار دیتے ہیں۔ 
د۔ فقہائے احناف کے منہج ا جتہاد کی نہایت بنیادی خصوصیت اور سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ احادیث میں وارد ہدایات کو شریعت کے عمومی ضابطے کا درجہ دینے میں ازحد احتیاط سے کام لیتے ہیں اور متنوع علمی وعقلی اصولوں کی روشنی میں مختلف پہلوؤں سے بہت باریک بینی سے کسی بھی حکم پر غور کرنے کے بعد یہ طے کرتے ہیں کہ آیا شارع کو اس کی پابندی ہر طرح کی صورت حال میں مطلوب ہے یا اس نے وہ حکم کسی مخصوص تناظر میں بیان کیا ہے جو اپنی شرائط وقیود کے لحاظ سے عمومی قانون سازی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ چنانچہ احکام شرعیہ کے استنباط کے ضمن میں احناف نے اس پہلو پر بطور خاص توجہ دی ہے کہ کسی بھی معاملے میں شریعت کے اصل اور عمومی حکم کی حیثیت اسی بات کو دی جائے جو دین کے عام مزاج، اصول عامہ اور قواعد کلیہ سے مناسبت رکھتی ہو اور اگر کسی حدیث میں اس سے مختلف کوئی بات منقول ہو تو اس کی بنیاد پر قواعد کلیہ کو ترک کر دینے کے بجائے خود ان روایات کی کوئی مناسب توجیہ کی جائے جس سے اپنے خاص محل میں وہ بھی قابل فہم بن جائیں اور شریعت کے عمومی اصول بھی مجروح نہ ہوں۔ 
۶۔ امام ابوحنیفہ کی اجتہادی فکر کا مطالعہ اس حوالے سے بھی بہت اہم ہے کہ وہ اور ان کے تلامذہ اپنے دور میں جو تہذیبی تبدیلی دیکھ رہے تھے،اس کو انھوں نے اپنے نظام فکر میں کیسے جگہ دی۔ جو عوامل ان کے نظام فکر پر اثر انداز ہوئے، وہ سارے نظری قسم کے نہیں تھے، بلکہ وہ معاشرتی تبدیلیوں اور بدلتے ہوئے حالات و ضروریات پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے اور ان کے ہاں اس بات کا بھی بہت گہرا ادراک ملتا ہے کہ غیر مسلم معاشرے جو اپنا اپنا پس منظر لے کر اسلام میں آ رہے تھے، ان پر اسلامی قانون کے نفاذ میں کیا عملی پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں۔ ائمہ احناف کے بہت سے اجتہادات کا اگر اس تناظر میں دوبارہ مطالعہ کیا جائے تو عصر حاضر کے اعتبار سے اس میں بڑی روشنی اور راہنمائی کا سامان مل سکتا ہے۔ 

جمہوری اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی شرعی حیثیت

کسی طبقے کو معاشرے میں کیا حیثیت حاصل ہے اور اس کے شہری وسیاسی حقوق کیا ہیں، اس کے تعین میں مجموعی معاشرتی رویوں کے ساتھ ساتھ آئینی وقانونی تصورات کو بھی بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ مسلم اکثریتی معاشروں میں بسنے والی غیر مسلم آبادی کے متعلق کلاسیکی اسلامی تصور یہ تھا کہ وہ ’’اہل ذمہ‘‘ ہیں جن کی حیثیت ایسے شہریوں کی ہے جن کی جان ومال اور مذہب کو ازروئے معاہدہ تحفظ حاصل ہے، لیکن وہ شہری وسیاسی حقوق میں اکثریت کے برابر شمار نہیں ہوتی۔ جدید جمہوری ریاستوں میں شہریت کا تصور اس سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں شہریوں میں ایسی کوئی تفریق نہیں کی جا سکتی اور نتیجتاً سیاسی وقانونی حقوق میں کسی مذہبی امتیاز کے بغیر تمام شہری یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔
اس حوالے سے ہماری سیاسی قیادت کے تصورات تو روز اول سے واضح رہے ہیں، جیسا کہ قائد اعظم اور دیگر سیاسی قائدین کے بیانات وتصریحات سے عیاں ہے۔ البتہ مذہبی سیاسی قائدین اور خاص طور پر مذہبی علماء کو اس تغیر کو سمجھنے اور اسے قبول کرنے میں وقت لگا ہے اور شاید مزید لگے گا۔ دوسرے بہت سے امور کی طرح، اس معاملے میں بھی مولانا مودودی ہمارے ہاں کے شاید پہلے مذہبی مفکر تھے جنھوں نے اجتہادی بصیرت سے کام لیتے ہوئے اس تغیر کو باقاعدہ علمی توجیہ کا موضوع بنایا اور یہ واضح کیا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کی حیثیت اہل ذمہ کی نہیں ہے، اس لیے ان پر کلاسیکی فقہی احکام کے مطابق جزیہ وغیرہ عائد نہیں کیا جا سکتا۔ اہم بات یہ ہے کہ مولانا نے صرف حکم بیان کرنے پر اکتفا نہیں کی، بلکہ اصل سوال کو بھی موضوع بنایا ہے، یعنی یہ کہ کلاسیکی فقہ میں بیان کیا جانے والا حکم آج کس بنیاد پر قابل اطلاق نہیں ہے۔ یہ سوال وجواب ’’رسائل ومسائل‘‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ (اس ضمن میں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ مسئلہ جہاد کی طرح اسلامی ریاست سے متعلق دیگر اہم سوالات کے حوالے سے مولانا کی فکر میں ارتقا پایا جاتا ہے۔ غیر مسلم شہریوں کے قانونی اسٹیٹس سے متعلق بھی مولانا کے زاویہ نظر میں یہ ارتقا موجود ہے۔)
تاہم روایتی مذہبی علماء کے ہاں معاملات کو قدیم فقہی پیرا ڈائم میں ہی دیکھنے کا رجحان غالب رہا ہے اور ان کی تحریروں اور فتاویٰ جات میں انھی قدیم اصطلاحات وتصورات کی روشنی میں صورت حال کو دیکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر اسراراحمد صاحب مرحوم کے ہاں بھی ’’نظریاتی ریاست‘‘ کا وہی تصور ملتا ہے جس میں اقلیتیں بہرحال دوسرے درجے کی شہری ہوں گی۔ تحریک طالبان وغیرہ گروہوں کا تصور ریاست بھی یہی ہے۔ بہت سے معاصر اہل علم بھی، جو بنیادی طور پر پاکستانی آئین کو پوائنٹ آف ریفرنس کے طور پر قبول کرتے ہیں، اقلیتوں کے حقوق اور آزادیوں کی عملی تفصیلات کے لیے کلاسیکی فقہ سے ہی رجوع کرتے اور فقہی تصریحات کو جمہوری ریاست کے باشندوں پر منطبق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس تناظر میں، ہمارے خیال میں، مفتی منیب الرحمن صاحب کا اپنے ایک حالیہ کالم میں یہ ارشاد ایک اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ ’’ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ ہماری قانونی و سیاسی اصطلاحات اور روز مرہ محاورے میں لفظ اقلیت کے استعمال کو ترک کر دیا جائے اور تمام غیر مسلموں کو مساوی درجے کا پاکستانی تسلیم کیا جائے۔‘‘ یہ جمہوری قومی ریاست کے تصور کا ایک ناگزیر تقاضا ہے اور ایک مستند روایتی عالم دین کے قلم سے یہ بات پڑھ کر امید بندھتی ہے کہ روایتی مذہبی فکر اور معاصر تاریخی سیاق کے مابین فاصلہ کچھ کچھ سمٹ رہا ہے۔ بس روایتی اہل علم سے ہماری گزارش یہ ہوگی کہ وہ اپنے موجودہ موقف کو کلاسیکی فقہی موقف کے ساتھ گڈمڈ نہ کریں اور نہ اسے اس کا تسلسل دکھانے کی غیر علمی روش اختیار کریں۔ انھیں یہ حقیقت واضح طور پر تسلیم کرنی چاہیے کہ ’’دار الاسلام‘‘ کا روایتی فقہی تصور اور جدید جمہوری مسلم ریاست کا تصور، ہم معنی نہیں ہیں اور دونوں کے درمیان بنیادی فروق پائے جاتے ہیں۔ اس کی روشنی میں انھیں اپنی فقہی واجتہادی بصیرت کو اس سوال کا علمی جواب طے کرنے میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے کہ علمی وفقہی روایت سے وابستہ ہوتے ہوئے معاصر تغیرات کو قبول کرنے کی گنجائش کیسے پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک علمی قرض ہے جو پاکستان میں ’’جمہوری اسلامی ریاست‘‘ کو مذہبی جواز فراہم کرنے والے تمام اہل علم کے ذمے ہے اور اسی میں ان ابہامات کا ازالہ بھی پوشیدہ ہے جو تحریک طالبان جیسے گروہوں کی فکری گمراہی کے بہت بڑی حد تک ذمہ دار ہیں۔

فکری مباحثہ: جارحیت اور پسپائی میں توازن کی ضرورت

رد عمل کا شکار ہو کر فکری وکلامی مخالفین کو کلی طور پر discredit کرنے (یعنی ناقابل اعتماد ثابت کرنے) کی کوشش کرنا ایک عام انسانی کمزوری ہے۔ مخلص، نیک اور متقی لوگ بھی اس سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔ ہماری علمی تاریخ میں اس کا ایک مظہر محدثین کا رویہ ہے جو امام احمد بن حنبل پر ہونے والے تشدد پر بحیثیت جماعت رد عمل کا شکار ہو گئے اور خلق قرآن کے مسئلے میں معتزلہ سے محض لفظی یا جزوی مشابہت رکھنے والے حضرات کو بھی discredit کرنے کا طریقہ اختیار کر لیا (جس کی مشہور ترین مثال امام بخاری کا اپنے استاذ امام ذہلی کی طرف سے discredit کیا جانا ہے)، حالانکہ یہ حضرات راویان حدیث کی جرح وتعدیل کی نہایت نازک ذمہ داری انجام دے رہے تھے جہاں لاگ، تعصب اور ذاتی وگروہی رنجشوں کی دینی واخلاقی طور پر کوئی گنجائش نہیں بنتی۔ (یہ مسئلہ محدثین کی مجموعی نفسیات پر کس طرح اثر انداز ہوا اور جرح وتعدیل جیسے انتہائی ذمہ داری کے کام کو اس نے کیسے منفی طور پر متاثر کیا، اس کی تفصیلات ماضی قریب کے معروف عرب محدث الشیخ عبد الفتاح ابو غدۃ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’مسالۃ خلق القرآن واثرھا فی صفوف وکتب الجرح والتعدیل‘ میں بیان کی ہیں)۔ ہمارے اپنے ماحول میں اس کی ایک مثال مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ اور جماعت اسلامی ہیں۔ مولانا کی مذہبی فکر تمام تر، روایتی مذہبی تعبیرات کی تنقید پر مبنی تھی جس پر انھیں روایتی مذہبی حلقوں کی طرف سے شدید ترین الفاظ میں discredit کیے جانے کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ رد عمل سامنے آنا ناگزیر تھا، کیونکہ اقتدار میں کسی نئے اسٹیک ہولڈر کی شرکت کسی بھی طبقے کے لیے آسانی سے قابل قبول نہیں ہوتی۔ 
اس صورت حال میں جماعت کی عمومی اور سوچی سمجھی پالیسی یہ رہی ہے کہ اس کے جواب میں پبلک میں کسی مخالفانہ مہم کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے جو اس لحاظ سے قابل تحسین ہے کہ مسلمان معاشرے کسی مزید گروہ بندی کی آزمائش کے متحمل نہیں ہیں، اور پہلے سے موجود تقسیمات نے ہی معاشرتی وحدت کو پارہ پارہ کر رکھا ہے۔ البتہ مولانا کے بعد جماعت، بحیثیت جماعت اس تجدیدی مذہبی فکر سے بھی بتدریج دست بردار ہوتی چلی گئی جو مولانا مودودی کا اصل کارنامہ تھا (اور یہاں تحسین سے مقصود ہرگز اس فکر کے تمام تر یا بنیادی نتائج سے اتفاق نہیں ہے)، اس لیے کہ روایتی مذہبی فکر کی تنقید اور اصل مصادر سے دین کو سمجھنے کی روایت کا احیاء اس امت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ جماعت کو، یا کسی بھی ایسے نئے حلقہ فکر کو، جارحیت اور پسپائی کے مابین توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جارحیت بایں معنی کہ مذہبی فکر کی تنقید کو اس طرح عوامی بحث ومباحثہ کا موضوع بنایا جائے کہ ایک نئی گروہی تقسیم پیدا ہو جائے، اور پسپائی یوں کہ سرے سے فکری جدلیاتی عمل میں کوئی حصہ ڈالنے سے ہی دست برداری اختیار کر لی جائے۔

قومی امراض اور ان کی ظاہری علامتیں

درد، پھنسی پھوڑے اور خارش وغیرہ اصل مرض نہیں، بلکہ مرض کی علامات ہوتی ہیں اور علامتیں اس لحاظ سے نعمت ہوتی ہیں کہ وہ مرض کی موجودگی اور اس کی تشخیص میں مدد دیتی ہیں۔ پچھلے سالوں میں ہمارے قومی امراض کا ظہور جن علامات کی صورت میں ہوا ہے، ان پر ہاہا کار مچانے کے بجائے اصل مرض کو سمجھنے میں ان سے مدد لینی چاہیے۔ یہ ’’علامات’’ ہماری راہ نمائی کرتی ہیں کہ:
۱۔ ’’فرقہ واریت‘‘ صرف مذہبی طبقوں کا نہیں، بلا استثناء تمام طبقوں کا مسئلہ ہے۔
۲۔ انتہا پسندی اور عدم برداشت صرف مذہبی تعلیمی اداروں کے ساتھ خاص نہیں، جدید اور اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے بھی اس کی آماج گاہ ہیں۔
۳۔ ریاست کی رٹ کو بزور بازو چیلنج کرنا اور اس کی کمزوریوں کا تماشا دکھانا صرف ’’باغیوں‘‘ کا نہیں، قومی دھارے میں شامل سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا بھی من پسند مشغلہ ہے۔
۴۔ انصاف، مساوات اور میرٹ کو دیوانے کا خواب سمجھنا پورے معاشرے کی اساسی قدر ہے۔
۵۔ بحث ومباحثہ اور جمہوری جدوجہد کے لیے level playing field پر یقین نہ ہونا اور معیارات کا تعین اپنے طبقے کی پوزیشن اور مفاد کے لحاظ سے کرنا کسی گروہ کا ’’خاصہ‘‘ نہیں، بلکہ قومی ’’عرض عام‘‘ ہے۔
۶۔ سماج کی تعمیر اور قوم کی اخلاقی تربیت کسی بھی ’’قیادت‘‘ کی ترجیح نہیں، ساری قیادتیں صرف حصول اقتدار کی خواہش رکھتی ہیں اور اقتدار ہی کو قومی فلاح کا واحد ذریعہ باور کرانے پر متفق ہیں۔
۷۔ قوم کے بگاڑ میں دوسرے طبقوں کی ذمہ داری کو اونچے آہنگ سے بیان کرنا جبکہ اپنے طبقے کی نا اہلی کے ذکر کو پرائیویسی میں خلل انداز ہونے کے مترادف سمجھنا ایک مشترکہ مائنڈ سیٹ ہے۔
علامتیں چلا چلا کر مرض کا پتہ بتا رہی ہیں، اور سننے والے کانوں کی توجہ مانگتی ہیں۔ لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ علامتیں دیکھ کر مایوس ہونے کی نہیں، بلکہ مرض کی سنگینی کا ادراک اور اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنے کی ضرورت ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۱)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۲) تاب علی کا مفہوم

تاب کے معنی لوٹنے کے ہوتے ہیں، قرآن مجید میں بندوں کے لیے تاب کا فعل الی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اللہ کی طرف رجوع اور انابت کرنا، اس وسیع مفہوم میں توبہ کرنا اور معافی مانگنا بھی شامل ہے، لیکن لفظ کا اصل مفہوم اس سے وسیع تر ہے۔
اللہ کے لیے تاب کا فعل علی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے مہربان ہونا نظر کرم فرمانا۔ اس وسیع مفہوم میں توبہ کی توفیق دینا اور توبہ قبول کرلینا اور معاف کردینا بھی شامل ہے، لیکن اصل مفہوم اس سے وسیع تر ہے۔
فیروزآبادی کے الفاظ میں:وتابَ اللہ علیہ: وفَّقَہ للتَّوبۃِ، أو رجَعَ بہ من التَّشدِید الی التَّخفیفِ، أو رَجَعَ علیہ بِفَضْلِہِ وقبولہ۔القاموس المحیط (ص: 62) سورہ توبہ میں بیان ہوا ہے:ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْ لِیَتُوبُواْ۔اس سے اچھی طرح تاب علی کا مفہوم واضح ہوتا ہے، یعنی اس لفظ کے مفہوم میں نہ صرف توبہ قبول کرنا بلکہ مہربانی کرنا اور توبہ کی توفیق دینا بھی آتا ہے۔
مختلف تراجم قرآن کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تاب علی کے مفہوم کی یہ وسعت عام طور سے مترجمین کے سامنے بھی رہی ہے اور بعض نے اکثر جگہ اور بعض نے کچھ جگہوں پر لفظ کے اس مفہوم کو ادا بھی کیا ہے تاہم بعض ایسے مقامات جہاں معاف کرنے کے بجائے مہربان ہونا ہی مناسب ترجمہ ہوسکتا تھا، وہاں بعض مترجمین نے معاف کرنا ترجمہ کیا ہے، ایسے بعض مقامات کا ہم یہاں بطور مثال تذکرہ کریں گے:

(۱) عَلِمَ أَن لَّن تُحْصُوہُ فَتَابَ عَلَیْْکُمْ فَاقْرَؤُوا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ۔ (المزمل: ۲۰)

’’اس نے جانا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر عنایت کی نظر کی، تو قرآن میں سے جتنا میسر ہوسکے پڑھ لیا کرو‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’ اسے معلوم ہے کہ اے مسلمانو! تم سے رات کا شمار نہ ہوسکے گا تو اس نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی‘‘(احمد رضا خان)
’’اْسے معلوم ہے کہ تم لوگ اوقات کا ٹھیک شمار نہیں کر سکتے، لہٰذا اس نے تم پر مہربانی فرمائی‘‘ (سید مودودی)
’’اس نے جانا کہ تم اس کو پورا نہ کرسکو گے تو تم پر معافی بھیجی (شاہ عبدالقادر)

(۲) وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ إِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُواْ إِلَی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُواْ أَنفُسَکُمْ ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ عِندَ بَارِئِکُمْ فَتَابَ عَلَیْْکُمْ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ (البقرۃ: ۵۴)

’’اور جب کہا موسی نے اپنی قوم کو اے قوم تم نے نقصان کیا اپنا یہ بچھڑا بنالیکر، اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف اور مارڈالو اپنی اپنی جان، یہ بہتر ہے تم کو اپنے خالق کے پاس، پھر متوجہ ہوا تم پر برحق وہی ہے معاف کرنے والا مہربان‘‘ (شاہ عبدالقادر)

(۳) وَحَسِبُواْ أَلاَّ تَکُونَ فِتْنَۃٌ فَعَمُواْ وَصَمُّواْ ثُمَّ تَابَ اللّہُ عَلَیْْہِمْ ثُمَّ عَمُواْ وَصَمُّواْ کَثِیْرٌ مِّنْہُمْ وَاللّہُ بَصِیْرٌ بِمَا یَعْمَلُون۔ (المائدۃ:۷۱)

’’اور انھوں نے گمان کیا کہ کوئی پکڑ نہیں ہوگی، پس اندھے اور بہرے بن گئے، پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی، پھر ان میں سے بہت سے اندھے بہرے بن گئے، اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ یہ کررہے ہیں‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونما نہ ہوگا، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے پھر اللہ نے اُنہیں معاف کیا تو اُن میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے اللہ اُن کی یہ سب حرکات دیکھتا رہا ہے‘‘(سید مودودی)
’’اور اس گمان میں ہیں کہ کوئی سزا نہ ہوگی تو اندھے اور بہرے ہوگئے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی پھر ان میں بہتیرے اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے‘‘(احمد رضا خان)
’’اور سمجھ بیٹھے کہ کوئی پکڑ نہ ہوگی، پس اندھے بہرے بن بیٹھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر اندھے بہرے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو بخوبی دیکھنے والا ہے ‘‘(محمد جوناگڑھی)

(۴) لَقَد تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِیْنَ وَالأَنصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِن بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوبُ فَرِیْقٍ مِّنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْ إِنَّہُ بِہِمْ رَؤُوفٌ رَّحِیْمٌ۔ وَعَلَی الثَّلاَثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُواْ حَتَّی إِذَا ضَاقَتْ عَلَیْْہِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْْہِمْ أَنفُسُہُمْ وَظَنُّواْ أَن لاَّ مَلْجَأَ مِنَ اللّٰہِ إِلاَّ إِلَیْْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْ لِیَتُوبُواْ إِنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ (التوبۃ:۱۱۷،۱۱۸)

’’اللہ نے معاف کر دیا نبیؐ کو اور ان مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبیؐ کا ساتھ دیا اگر چہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہو چکے تھے (مگر جب انہوں نے اس کجی کا اتباع نہ کیا بلکہ نبیؐ کا ساتھ ہی دیا تو) اللہ نے انہیں معاف کردیا، بے شک اُس کا معاملہ اِن لوگوں کے ساتھ شفقت و مہربانی کا ہے۔ اور اُن تینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کر دیا گیا تھا جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں، یقیناًوہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے‘‘ (سید مودودی، تاب علی کا ترجمہ دونوں طرح سے کیا ہے جبکہ دونوں جگہ مہربانی کرنے کا محل ہے)
’’بیشک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوئیں ان غیب کی خبریں بتانے والے اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں کچھ لوگوں کے دل پھر جائیں پھر ان پر رحمت سے متوجہ ہوا بیشک وہ ان پر نہایت مہربان رحم والا ہے، اور ان تین پر جو موقوف رکھے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین اتنی وسیع ہوکر ان پر تنگ ہوگئی اور ہو اپنی جان سے تنگ آئے اور انہیں یقین ہوا کہ اللہ سے پناہ نہیں مگر اسی کے پاس، پھر ان کی توبہ قبول کی کہ تائب رہیں، بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے‘‘ (احمد رضا خان، تاب علی کا ترجمہ دونوں طرح سے کیا ہے، جبکہ دونوں جگہ مہربانی کرنے کا محل ہے)
’’اللہ نے نبی اور مہاجرین وانصار پر رحمت کی نظر کی جنھوں نے نبی کا ساتھ تنگی کے وقت میں دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہوچکے تھے، پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی۔ بے شک وہ ان پر نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ اور ان تینوں پر بھی رحمت کی نگاہ کی جن کا معاملہ اٹھا رکھا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین، اپنی وسعتوں کے باوجود، ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں ضیق میں پڑ گئیں اور انھوں نے اندازہ کرلیا کہ خدا سے، خدا کے سوا، کہیں مفر نہیں۔ پھر اللہ نے ان پر عنایت کی نظر کی تاکہ وہ توبہ کریں۔ بے شک اللہ ہی ہے جو توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی، یہاں دونوں جگہ تاب علی کا ترجمہ مناسب ہے)
’’اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر توجہ فرمائی اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا، اس کے بعد کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل ہو چلا تھا۔ پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے.اور تین شخصوں کے حال پر بھی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگ ہونے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اس کے کہ اسی کی طرف رجوع کیا جائے پھر ان کے حال پر توجہ فرمائی تاکہ وہ آئندہ بھی توبہ کرسکیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا رحم والا ہے‘‘(محمدجوناگڑھی)

(۵) أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا بَیْْنَ یَدَیْْ نَجْوَاکُمْ صَدَقَاتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللّٰہُ عَلَیْْکُمْ فَأَقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَآتُوا الزَّکَاۃَ وَأَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُولَہُ۔ (المجادلۃ:۱۳)

’’کیا تم اس بات سے اندیشہ ناک ہوئے کہ اپنی رازدارانہ باتوں سے پہلے صدقے پیش کرو۔ پس جب تم نے یہ نہیں کیا اور اللہ نے تم پر رحم فرمایا تو نماز کا اہتمام کرو اور زکوۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے؟ اچھا، اگر تم ایسا نہ کرو اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کر دیا تو نماز قائم کرتے رہو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو‘‘ (سید مودودی، اس ترجمہ میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ یہاں محل مہربانی کرنے کا ہے نہ کہ معاف کرنے کا، اور ’’اس سے معاف کردیا‘‘ تو اس لفظ کے مفہوم میں آہی نہیں سکتا، کیونکہ کسی کو معاف کرنے کے لئے تو تاب علی آتا ہے، لیکن کسی کو کسی کام سے معاف کرنے کے لئے یہ لفظ نہیں آتا ہے، اسی طرح اذ لم تفعلوا کا ترجمہ ماضی کا ہونا چاہئے، نہ کہ مستقبل کا جیسا کہ یہاں کیا گیا ہے، دوسرے مترجمین نے اس کا ترجمہ ماضی کا کیا ہے اور وہی درست ہے)
’’کیا تم اس سے کہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے؟ پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو۔‘‘(فتح محمد جالندھری)
’’کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے سے ڈر گئے؟ پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا تو اب (بخوبی) نمازوں کو قائم رکھو زکوٰۃ دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو۔‘‘ (محمد جوناگڑھی)

(۶) یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَیَہْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ وَیَتُوبَ عَلَیْْکُمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ وَاللّٰہُ یُرِیْدُ أَن یَتُوبَ عَلَیْْکُمْ وَیُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُونَ الشَّہَوَاتِ أَن تَمِیْلُواْ مَیْْلاً عَظِیْماً۔ (النساء :۲۶و۲۷)

’’اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ تم پر (اپنی آیتیں) واضح کردے اور تمہیں ان لوگوں کے طریقے کی ہدایت بخشے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، اور تم پر رحمت کی نگاہ کرے۔ اور اللہ علم والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم پر رحمت کی نگاہ کرے اور وہ لوگ جو اپنی شہوات کی پیروی کررہے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ تم پر راہ حق سے بالکل ہی بھٹک کر رہ جاؤ‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اُن طریقوں کو واضح کرے اور اْنہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی۔ ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ‘‘ (سید مودودی)
’’خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔ اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو‘‘ (فتح محمدجالندھری)
’’اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے خوب کھول کر بیان کرے اور تمہیں تم سے پہلے کے (نیک) لوگوں کی راہ پر چلائے اور تمہاری توبہ قبول کرے، اور اللہ تعالیٰ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے اور جو لوگ خواہشات کے پیرو ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم اس سے بہت دور ہٹ جاؤ‘‘ (محمد جوناگڑھی)

(۷) لِیُعَذِّبَ اللّٰہُ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکَاتِ وَیَتُوبَ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوراً رَّحِیْماً۔ (الاحزاب: ۷۳)

’’اِس بار امانت کو اٹھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں، اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے اور مومن مَردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے، اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے ‘‘(سید مودودی)
’’(یہ اس لیے) کہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں عورتوں اور مشرک مردوں عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں عورتوں کی توبہ قبول فرمائے، اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے والا اور مہربان ہے‘‘(محمد جوناگڑھی)
’’تاکہ اللہ منافقین ومنافقات اور مشرکین ومشرکات کو سزا دے اور مومنین ومومنات کو اپنی رحمت سے نوازے۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور خدا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے‘‘ (فتح محمدجالندھری)

(۸) رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْْنِ لَکَ وَمِن ذُرِّیَّتِنَا أُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ (البقرۃ: ۱۲۸)

’’اے ہمارے رب ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری ذریت میں سے تو اپنی ایک فرمانبردار امت اٹھا اور ہمیں ہمارے عبادت کے طریقے بتا اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’اور ہم کو معاف کر تو ہی ہے اصل معاف کرنے والا مہربان‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘ (سید مودودی)
’’اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم وکرم کرنے والا ہے‘‘ (محمدجوناگڑھی)
’’ اور ہمارے حال پر (رحم کے ساتھ) توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے‘‘(فتح محمدجالندھری)
’’اور ہمارے حال پر توجہ رکھئے اور فی الحقیقت آپ ہی ہیں توجہ فرمانے والے مہربانی کرنے والے‘‘ (مولانا تھانوی)

(۱۱۳) توبۃ من اللہ

فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ تَوْبَۃً مِّنَ اللّٰہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْماً حَکِیْماً۔ (النساء :۹۲)

اس آیت میں (تَوْبَۃً مِّنَ اللّہِ) کا ترجمہ مختلف طرح سے کیا گیا ہے:
’’یہ اللہ کی طرف سے ٹھہرائی ہوئی توبہ ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’اللہ تعالی سے بخشوانے کے لئے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’یہ اللہ کے یہاں اس کی توبہ ہے‘‘ (احمد رضا خان)
’’یہ اس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے‘‘ (سید مودودی)
ان تمام ترجموں کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ توبہ کو تاب الی یعنی توبہ کرنے کے معنی میں لیا گیاہے، اور اسی وجہ سے لفظ من کے مفہوم کی ادائیگی میں بھی مترجمین کو دشواری پیش آئی ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے کے مطابق یہاں توبہ تاب علی یعنی مہربانی کرنے کے مفہوم میں ہے، ترجمہ ہوگا ’’یہ اللہ کی طرف سے مہربانی ہے‘‘ جملہ کی تفصیل اس طرح ہوگی: (تَوْبَۃ مِّنَ اللّٰہِ علی عبادہ) مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے قتل خطا کے سلسلے میں جو کچھ رہنمائی فرمائی ہے وہ اللہ کی طرف سے بندوں پراس کی مہربانی ہے۔اس طرح لفظ من کے مفہوم کی ادائیگی احسن طریقے سے ہوجاتی ہے، اور جملہ کا مفہوم بھی پوری آیت سے بخوبی ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔
(جاری)

رؤیت ہلال کا مسئلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(ڈاکٹر محمد مشتاق احمدکی کتاب ’’رویت ہلال: قانونی وفقہی تجزیہ‘‘ کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا۔)

نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔ 
رؤیت ہلال کا مسئلہ ہمارے ہاں طویل عرصہ سے بحث ومباحثہ اور اختلاف وتنازعہ کا موضوع چلا آ رہا ہے اور مختلف کوششوں کے باوجود ابھی تک کوئی تسلی بخش اجتماعی صورت بن نہیں پا رہی۔ اکابر علماء کرام کی مساعی سے حکومتی سطح پر مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی قائم ہوئی تو امید ہو گئی تھی کہ اب یہ مسئلہ مستقل طور پر طے پا جائے گا، مگر ملک کے بیشتر حصوں میں اجتماعیت کا ماحول قائم ہو جانے کے باوجود بعض علاقوں میں انفرادیت کی صورتیں ابھی تک موجود ہیں اور میڈیا کی وسعت، پالیسی اور مزاج کے باعث قومی اجتماعیت کی وہ صورت نہیں بن رہی جس کی مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے وجود میں آنے کے بعد توقع ہو گئی تھی۔
اس کے اسباب کسی حد تک فقہی اور شرعی ہونے کے ساتھ بڑی حد تک سیاسی اور معاشرتی بھی ہیں کہ حکومت اور دینی حلقوں کے درمیان شرعی معاملات میں اعتماد کی وہ فضا وجود میں نہیں آ سکی جو اس قسم کے معاملات میں حکومتی احکام کی عمل داری قائم کرنے کے لیے ازحد ضروری ہے۔ ایک اسلامی یا کم از کم مسلم ریاست میں بہت سے معاملات میں حکومت ہی اتھارٹی ہوتی ہے جس کی فقہاء کرام نے مختلف معاملات میں صراحت کی ہے، لیکن اس اتھارٹی کے عملی اظہار کے لیے باہمی اعتماد کی فضا ناگزیر ہوتی ہے۔ بیرونی استعمار کے تسلط سے قبل مسلم ریاستوں میں سیاسی اور گروہی اختلافات وتنازعات کے باوجود یہ اعتماد پایا جاتا تھا کہ حکومت خود جیسی بھی ہو، شرعی معاملات میں گڑبڑ نہیں کرے گی اور علماء کرام کے مشورہ سے ہی شرعی مسائل کو طے کرے گی، حتیٰ کہ اکبر بادشاہ کے ’’دین الٰہی‘‘ کے عروج کے دور میں بھی عام لوگوں کے شرعی معاملات ان کے قاضیوں کے ذریعہ ہی طے کیے جاتے رہے ہیں۔ یہ اعتماد بیرونی استعمار کے تسلط کے زمانے میں قائم نہیں رہا جس کا تسلسل آزادی کے بعد کے دور میں بھی جاری ہے اور اسی وجہ سے اس قسم کی بہت سی معاشرتی الجھنیں موجود ہیں جن میں سے ایک رؤیت ہلال کا مسئلہ بھی ہے۔ اکابر علماء کرام کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ایسے معاملات میں اجتماعیت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جائے اور تفرقہ وانتشار سے قوم کو ہر ممکن حد تک بچایا جائے، چنانچہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کا قیام اکابر علماء کرام کی توجہ اور مساعی کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا اور کسی حد تک مرکزیت واجتماعیت کی صورت سامنے آ گئی تھی۔ 
خود میرا مشاہدہ ہے کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے باضابطہ قیام سے پہلے گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد کو علاقہ میں وہی پوزیشن حاصل تھی جو پشاور کی مسجد قاسم علی خان کو اس سلسلہ میں حاصل چلی آ رہی ہے۔ حضرت مولانا مفتی عبد الواحد رحمہ اللہ تعالیٰ کا شمار ملکی سطح پر اکابر علماء کرام میں ہوتا تھا اور وہ میرے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے استاذِ محترم تھے۔ انھیں پورے علاقہ میں مرکزیت ومرجعیت حاصل تھی۔ چاند دیکھنے کے لیے مرکزی جامع مسجد میں اس رات شہر کے بڑے بڑے علماء کرام جمع ہوتے تھے۔ رات گئے تک شہادتوں کا انتظار رہتا تھا اور بسا اوقات سحری کے وقت فیصلہ ہوا کرتا تھا۔ ارد گرد کے علماء کرام جامع مسجد کے فیصلے کے انتظار میں ہوتے تھے۔ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بار بار پوچھتے تھے کہ جامع مسجد گوجرانوالہ میں کیا اعلان ہوا ہے؟ لیکن جب مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی بن گئی اور اس نے کام شروع کر دیا تو جامع مسجد کی چاند رات کی رونقیں آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی گئیں۔ ایسے ہی ایک موقع پر خود میں نے حضرت مفتی صاحبؒ سے پوچھا کہ رؤیت ہلال کا فیصلہ کرنے کے لیے علماء کرام کو بلانا ہے؟ تو انھوں نے فرمایا، کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جو فیصلہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کرے گی، ہم اس پر عمل کریں گے۔ 
مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی اگرچہ اس سلسلہ میں مجاز اتھارٹی ہے، مگر اس کے فیصلوں اور طرز عمل سے علمی بنیاد پر اختلاف کی گنجائش ہر دور میں موجود رہی ہے جس کا اظہار مرکز گریز حلقوں کی طرف سے مسلسل ہوتا آ رہا ہے اور بحث ومکالمہ کے مختلف پہلو اس حوالے سے سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس پس منظر میں اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ کوئی صاحب علم اس مسئلہ کے تمام متعلقہ پہلوؤں کا فقہی اور علمی بنیاد پر جائزہ لے کر اس کے مجموعی تناظر کو سامنے لائیں تاکہ اس سلسلہ میں کوئی رائے آسانی کے ساتھ قائم کی جا سکے۔ بہت سے اصحاب علم نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے اور ان کی کاوشیں مسئلہ کو سمجھنے میں یقیناًمددگار ہیں، لیکن بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ قانون کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں کہ انھوں نے زیادہ وسیع تناظر میں اس مسئلہ کا جائزہ لیا ہے اور اس کی فقہی وفنی ضروریات کا احاطہ کرنے کے ساتھ معاشرتی ماحول اور قانونی صورت حال کو بھی سامنے رکھا ہے۔
وہ ایک مسلمہ علمی خاندان کے فرد ہیں، دینی اور عصری علوم پر یکساں نظر رکھتے ہیں، قانونی پیچیدگیوں اور موشگافیوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور معاشرتی ماحول کے تقاضوں سے بھی اچھی طرح باخبر ہیں۔ چنانچہ ان کی اس علمی کاوش میں ان کی یہ تمام خصوصیات جھلک رہی ہیں۔ انھوں نے جس عرق ریزی کے ساتھ اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے، وہ لائق تحسین ہے اور اس کے حل کے لیے جو تجاویز پیش کی ہیں، وہ معروضی حالات میں بہت مناسب بلکہ ضروری ہیں اور ہم صرف ایک گذارش کے ساتھ ان کی تمام تجاویز کی تائید کرتے ہیں کہ مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے ریاستی اداروں، عوام اور دینی حلقوں کے درمیان باہمی اعتماد کی ایسی فضا کا قائم کرنا بھی ضروری ہے جو شرعی معاملات میں حکومتی اقدامات کی عمل داری کو یقینی بنا سکے۔
دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت محترم ڈاکٹر پروفیسر مشتاق احمد صاحب کی اس علمی محنت کو اس مسئلہ کے حل کے لیے موثر ذریعہ بنائیں اور انھیں دنیا وآخرت میں قبولیت ورضا سے بہرہ ور فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

امام عیسیٰ بن ابانؒ : حیات و خدمات (۲)

مولانا عبید اختر رحمانی

جودوسخا

آپ نے مالدار گھرانے میں آنکھیں کھولی تھیں،یہی وجہ ہے کہ آپ کی پوری زندگی مالداروں کی سی گزری اوراس مالداری کے ساتھ اللہ نے آپ کی فطرت میں سخاوت کا مادہ بدرجہ اتم رکھاتھا۔ بسااوقات ایسا بھی ہوا کہ قرضدار قرض ادانہ کرسکا اورقرض خواہ قرضدار کو جیل میں بند کرانے کے لیے لایا اور آپ نے قرض خواہ کو اس کی رقم اپنی جیب سے اداکردی۔
خطیب بغدادی نے تاریخ بغدادمیں یہ واقعہ نقل کیاہے کہ ایک شخص نے ان کی عدالت میں محمد بن عبادالمہلبی پر چارسو دینار کادعویٰ کیا۔ عیسیٰ بن ابان نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے مقروض ہونے کااعتراف کیا، اس شخص نے قاضی عیسیٰ ابن ابان سے کہاکہ آپ اس کو میرے حق کی وجہ سے قید کردیجئے۔ عیسیٰ بن ابان نے کہاکہ تمہاراحق اس پر واجب ہے؛ لیکن ان کو قید کرنا مناسب نہیں ہے ، اورجہاں تک بات تمہارے چار سو دینارکی ہے تو وہ میں تمہیں اپنے جانب سے ان کے بدلے میں دے دیتاہوں۔(تاریخ بغداد 480/11)
خطیب بغدادی نے تاریخ بغدادمیں قاضی ابوحازم سے نقل کیاہے کہ عیسیٰ بن ابان بہت سخی شخص تھے اوران کا قول تھا کہ اگرمیرے پاس کسی ایسے شخص کو لایاگیاجواپنے مال میں اسی قدرسخاوت سے کام لیتاہے جس قدر سخاوت سے میں لیتاہوں تومیں اس کوسزادوں گایااس کو اپنے مال میں تصرف سے روک دوں گا۔(تاریخ بغداد جلد12)حافظ ذہبی بھی سیراعلام النبلاء میں ان کی اس خصوصیت کاذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں: وفیہ سخاء وجود زائد (تاریخ الاسلام 16؍320)

حساب اورفلکیات میں مہارت

فقہائے احناف کاامام محمد کے دور سے ایک خاص وصف یہ رہاہے جس میں وہ دیگر مسالک کے فقہاء سے ممتاز رہے ہیں کہ ان کو علم حساب سے بڑی اچھی اورگہری واقفیت رہی ہے۔امام محمد کو حساب کے فن میں گہرا رسوخ تھا اورانہوں نے حساب دانی کے اس فن کو اصول سے فروع کی تفریع میں بطور خاص استعمال کیا۔ دکتور دسوقی اس ضمن میں لکھتے ہیں:
’’امام محمد جس طرح عربی زبان میں امام تھے،اسی طرح حساب میں بھی آگے تھے، اصول سے فروع اخذکرنے میں ماہر تھے۔ قاری کے لیے آپ کی کتاب الاصل یاالجامع الکبیر کا مطالعہ کرلینا یہ جاننے کے لیے کافی ہوگا کہ امام محمد کو مسائل پیش کرنے اوران کے احکام بیان کرنے میں گہری مہارت حاصل تھی۔ آپ کوحسابی حصوں اوران کی مقداروں پرعلمی قدرت تھی۔‘‘ (امام محمدبن الحسن الشیبانی اوران کی فقہی خدمات، ص ۶۸۱)
امام محمد کی فقہی تفریعات کی انہی باریکیوں اور دقائق سے امام احمد بن حنبل نے بھی فائدہ اٹھایا،چنانچہ جب ان سے ابراہیم حربی نے سوال کیاکہ یہ باریک اور دقیق مسائل آپ نے کہاں سے حاصل کیے، توانہوں نے امام محمد کی خدمات کا پورا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا: امام محمد کی کتابوں سے۔ (مناقب الامام ابی حنیفۃ وصاحبیہ، ص ۶۸)
امام محمدسے حساب کا یہ فن ان کے شاگردوں نے بھی سیکھا اوراس میں کمال پیداکیا، چنانچہ عیسیٰ بن ابان کے تذکرہ میں متعدد ان کے معاصرین اورشاگردوں نے اعتراف کیاکہ آپ کو حساب کے فن میں کامل دستگاہ تھی اورنہ صرف حساب کے فن میں بلکہ آپ کو فلکیات میں بھی مہارت حاصل تھی، چنانچہ اسی اعتبار سے آپ اپنے کام کو ترتیب دیا کرتے تھے۔ آپ کے شاگرد ہلال الرائے کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن ابان نے جعفر بن سلیمان کے لیے دستاویزات لکھیں جن میں وراثت کے احکام اور وراثت کی تقسیم کا پورا حساب تھا اوراس کے ساتھ ایسے قواعد وضوابط بھی بیان کیے تھے جن کی ضرورت مفتی اور قاضی دونوں کو پڑتی ہے ،ہلال کہتے ہیں :خدا کی قسم اگر وہ اتنی تفصیل سے یہ سب نہ لکھتے تو مجھے بڑی پریشانی ہوتی۔ (اخبار القضاۃ، ۲؍۲۷۱)
عباس بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے مسجد والوں اورپڑوسیوں کو کہتے سناکہ عیسیٰ بن ابان نے قضا میں ایک نئی چیز ایجاد کی ہے اور وہ فلکیات کے علم سے کام لینا۔ اس کے بعد انہوں نے تفصیل بتائی ہے کہ وہ فلکیات کے علم سے واقفیت کا کس طرح مفید استعمال کرتے تھے۔ (اخبار القضاۃ، ۲؍۲۷۱)

تصنیفات و تالیفات

قضاء کی ذمہ داریوں اوردرس وتدریس کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ انہوں نے تصنیف وتالیف کی خدمات بھی انجام دی ہیں،اوربطورخاص اصول فقہ میں گرانقدر اضافہ کیاہے۔ان کے تقریباًتمام ہی ترجمہ نگاروں نے ان کے نام کے ساتھ ’’صاحب التصانیف‘‘کااضافہ کیاہے،جس سے پتہ چلتاہے کہ وہ تصنیف کے لحاظ سے بہت مشہور تھے اوران کی تصانیف کی خاصی تعداد رہی ہوگی۔ اصول فقہ کے مختلف موضوعات پر انہوں نے مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ مختلف مصنفین جنہوں نے ان کی تصنیفات کا فہرست دی ہے، ہم اس کا ذکر کرتے ہیں۔
1: کتاب الحجۃ
2: کتاب خبر الواحد
3: کتاب الجامع 
4: کتاب اثبات القیاس 
5: کتاب اجتہاد الرای (الفہرست لابن الندیم)
امام جصاص رازی درج ذیل کتاب کا اضافہ کیاہے:
6: الحجج الصغیر (الفصول فی الاصول ۱/ ۱۵۶)
صاحب ہدیۃ العارفین نے درج ذیل کتابوں کا اضافہ کیاہے۔
7: الحجۃ الصغیرۃ فی الحدیث (اس کاپتہ نہیں چلاکہ آیا یہ وہی الحجج الصغیر ہے جس کا تذکرہ جصاص رازی نے کیاہے یاپھر الگ سے کوئی اورکتاب ہے)۔
8: کتاب الجامع فی الفقہ
9: کتاب الحج.
10: کتاب الشہادات.
10: کتاب العلل.
11: فی الفقہ۔
(ہدیۃ العارفین، اسماء المولفین وآثار المصنفین، ۱/ ۸۰۶، دار احیاء التراث العربی بیروت)
گیارہویں نمبرپر موجود کتاب کانام معجم المولفین میں ’’العلل فی الفقہ‘‘ ہے اور شاید یہی زیادہ صحیح بھی ہے۔ (۸؍۸۱،مکتبۃ المثنی ،بیروت)
12: الحجج الکبیر فی الرد علی الشافعی القدیم: اس کتاب کا تذکرہ علامہ زاہدالکوثری نے کیاہے۔اس کے علاوہ علامہ لکھتے ہیں کہ عیسیٰ بن ابان نے ایک کتاب حدیث قبول کرنے کی شروط کے سلسلہ میں مریسی اور شافعی کے رد میں بھی لکھی۔ عیسیٰ بن ابان نے اپنی کتابوں میں وہی اصول بیان کیے امام محمد سے جن کی تعلیم انہوں نے حاصل کی تھی۔ (’’سیرت امام محمد بن الحسن الشیبانی‘‘ ،اردو ترجمہ بلوغ الامانی فی سیرت الامام محمد بن الحسن الشیبانی،ص ۲۰۷)
کتابوں کے نام سے اندازہ ہوتاہے کہ انہوں نے اپنے دور میں محدثین اوراہل فقہ کے درمیان جن مسائل میں شدید اختلافات تھے، ان پر قلم اٹھایاہے۔مثلاً بعض شدت پسند ظاہری محدثین کا موقف تھاکہ قیاس کرناصحیح نہیں اوروہ شرعی دلیل نہیں ہے، اس کی تردید میں کتاب اثبات القیاس لکھی گئی ہوگی۔ اسی طرح اس زمانے میں محدثین جہاں ایک طرف خبرواحد کو قطعی اوریقینی دلیل مانتے تھے، دوسری جانب معتزلہ اوردیگرگمراہ فرقے خبرواحد کی اہمیت کم کررہے تھے، ایسے عالم میں انہوں نے خبرواحدپر قلم اٹھایااوراحناف کا موقف سامنے رکھا۔

الحجج الصغیر

عیسیٰ بن ابان کی دیگر کتابوں کی طرح یہ کتاب بھی ناپید ہے لیکن خوش قسمتی سے اب امام جصاص رازی کی ’’الفصول فی الاصول‘‘طبع ہوکر آگئی ہے، اس کے مطالعہ سے ایسامحسوس ہوتاہے کہ گویا امام جصاص کی یہ کتاب الحجج الصغیر کی شرح یااس کا بہتر خلاصہ ہے۔تقریباً تمام مباحث میں انہوں نے الحجج الصغیر سے استفادہ کیاہے اور ایک دومقامات کو چھوڑکر ہرجگہ وہ عیسیٰ بن ابان کے ہی موقف کے حامل نظر آتے ہیں۔ گویااس کتاب کے واسطہ سے براہ راست نہ سہی؛ لیکن بہت قریب سے ہم عیسیٰ بن ابان کے نظریات وخیالات سے واقف ہوسکتے ہیں۔ صاحب کشف الظنون حاجی خلیفہ اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:
وحجج عیسی بن ابان ادق علماً، واحسن ترتیبا من کتاب المزنی (کشف الظنون ۱/۲۳۶، مکتبۃ المثنی،بغداد)
’’اورعیسی بن ابان کی حجج (شاید الصغیر مراد ہو) علم کی باریکی اور ترتیب کے حسن کے لحاظ سے مزنی کی دونوں کتابوں سے بہتر ہے۔‘‘
اسی کتاب میں عیسیٰ بن ابان نے اپناوہ مشہور نظریہ دہرایاہے جس کی بنیاد پر احناف آج تک مخالفین کے طعن وتشنیع کے شکار ہیں کہ حضرت ابوہریرہ فقیہ نہیں تھے اور ان کی وہ روایت جو قیاس کے خلاف ہوگی، رد کردی جائے۔ راقم الحروف نے اس پر ایک طویل مضمون لکھاہے، جس میں عیسیٰ بن ابان اور بعد کے علماء جنہوں نے عیسیٰ بن ابان کی رائے اختیار کی ہے، ان کے حوالوں سے بتایاہے کہ عیسیٰ بن ابان کی یہ رائے مطلق نہیں ہے بلکہ تین یاچارشرطوں کے ساتھ مقید ہے اوراگران شرائط کالحاظ وخیال رکھاجائے توپھر عیسیٰ بن ابان اوردوسروں کے نظریہ میں اختلاف حقیقی نہیں بلکہ محض لفظی بن کر رہ جاتاہے۔

کتاب الحجج کی تصنیف

اس کی تصنیف کا ایک دلچسپ پس منظر ہے۔ وہ یہ کہ مامون الرشید کے قریبی رشتہ دار عیسیٰ بن ہارون ہاشمی نے کچھ احادیث جمع کیں اوران کومامون الرشید کے سامنے پیش کیا اورکہاکہ احناف جو آپ کے دربار میں اعلیٰ مناصب اورعہدوں پر مامور ہیں ،ان کا عمل اورمسلک وموقف ان احادیث کے خلاف ہے اوریہ وہ حدیثیں جس کو ہم دونوں نے اپنے عہد تعلیم میں محدثین کرام سے سناہے۔ یہ بات سن کر عیسیٰ بن ابان نے اپنے دربار کے حنفی علماء کو اس کا جواب لکھنے کے لیے کہا؛لیکن انہوں نے جوکچھ لکھا وہ مامون کو پسند نہ آیا۔ یہ دیکھ کرعیسیٰ بن ابان نے کتاب الحجج تصنیف کی جس میں انہوں بتایاکہ کسی روایت کو قبول کرنے اورنہ کرنے کا معیار کیاہوناچاہیے اوراس میں انہوں نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے مسلک کے دلائل بھی بیان کئے۔ جب مامون الرشید نے یہ کتاب پڑھی توبہت متاثرہوااوربے ساختہ کہنے لگا:
حسدوا الفتی اذ لم ینالوا سعیہ 
فالنّاس اعداء لہ وخصوم
کضرائر الحسناء قلن لوجھھا
حسداً وبغیا انہ لذمیم
’’کسی بھی باصلاحیت آدمی کا جب مقابلہ نہیں کیاجاسکتاتولوگ اس سے حسد کرنے لگتے ہیں اوراس کے دشمن بن جاتے ہیں جیساکہ خوبصورت عورت کی سوتنیں محض جلن میں کہتی ہیں کہ وہ تو بدصورت ہے۔‘‘ (بحوالہ تاج التراجم227/ تاریخ الاسلام للذہبی 16؍320)
اس واقعہ کو سب سے ز یادہ تفصیل کے ساتھ صیمری نے اخبارابی حنیفۃ واصحابہ میں بیان کیا ہے۔ (۱/۱۴۷)
تصنیفات کے باب میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عیسیٰ بن ابان نے ایک کتاب بطور خاص امام شافعی کے رد میں لکھی تھی۔ (یہ شاید وہی کتاب ہے جس کا نام شیخ زاہد الکوثری نے الحجج الکبیر فی الرد علی الشافعی القدیم لکھا ہے)۔ اس کتاب کے بارے میں تاریخ بغداد کی روایت کے مطابق داؤد ظاہری اور اخبارالقضاۃ کے مصنف قاضی کا الزام ہے کہ انہوں نے اس کتاب کی تصنیف میں سفیان بن سحبان سے احادیث کے سلسلے میں مدد لی تھی۔ (یہ سفیان بن سحبان حنفی ہیں اورامام محمد کے شاگرد ہیں۔ (تاج التراجم لابن قطلوبغا ۱؍۱۷۱) قاضی وکیع لکھتے ہیں کہ ’’مجھ سے کہاگیاہے کہ وہ احادیث جو عیسیٰ بن ابان نے امام شافعی کے رد میں اپنی کتاب میں لکھی ہیں، سفیان بن سحبان کی کتاب سے ماخوذ ہیں‘‘۔ (اخبارالقضاۃ لوکیع:۲؍۱۷۱) اور داؤد ظاہری سے جب عیسیٰ بن ابان کی کتاب کا جواب دینے کے لیے کہاگیاتوانہوں نے کہاکہ عیسیٰ بن ابان کی اس کتاب کی تصنیف میں ابن سختان نے مدد کی ہے۔ (تاریخ بغداد ۶/۲۱،دارالکتب العلمیہ)
(تاریخ بغداد میں ’ابن سختان‘ ہی لکھا ہے، لیکن صحیح ابن سحبان ہے جیساکہ الفہرست لابن الندیم اور تاج التراجم لابن قطلوبغا میں ہے۔)
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عیسیٰ بن ابان پر اس سلسلے میں ابن سحبان سے مدد لینے کا الزام ایک غلط الزام ہے اوراس کی تردید خود عیسیٰ بن ابان نے کی ہے۔ ایسامحسوس ہوتاہے کہ ان کی زندگی میں ہی یہ چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ ان کی فلاں تصنیف ابن سحبان کی اعانت کا نتیجہ ہے۔ کسی نے جاکر پوچھ لیاتوانہوں نے بات واضح کردی اوریہ بات بھی واضح ہوگئی کہ وہ کون سی کتاب ہے:
قال ابو خازم: فسمعت الصریفینی شعیب بن ایوب یقول: قلت لعیسی ابن ابان: ھل اعانک علی کتابک ھذا احد؟ قال: لا، غیر انہ کنت اضع المسالۃ واناظر فیھا سفیان بن سختیان. (فضائل ابی حنیفۃ واخبارہ ومناقبہ ۱/۳۶۰، الناشر: المکتبۃ الامدادیۃ، مکۃ المکرمۃ)
’’ابوخازم کہتے ہیں ،میں نے شعیب بن ایوب کو یہ کہتے سناکہ میں نے عیسیٰ بن ابان سے پوچھاکہ اس کتاب (کتاب الحجج)کی تصنیف میں کیا کسی نے آپ کی مدد کی ہے؟ فرمایاکہ نہیں،ہاں اتنی سی بات تھی کہ میں اولاً مسئلہ کو لکھ لیتاتھا، پھر اس کے بعد اس بارے میں سفیان بن سختیان سے مناظرہ کرتاتھا۔‘‘

عیسیٰ بن ابان کے ناقدین

ہرصاحب تصنیف جو مجتہدانہ فکر ونظر کا مالک ہو، ہرمسئلہ میں جمہور کے ساتھ نہیں چلتا بلکہ بسااوقات وہ اپنی راہ الگ بناتاہے۔ بقول غالب ’’ہرکہ شد صاحب نظر دین بزرگاں خوش نکرد‘‘ امام عیسیٰ بن ابان کے بھی بعض نظریات وخیالات ایسے ہیں جن سے جمہور اتفاق نہیں کرتے اور جن پر ان کے معاصرین اوربعد والوں نے تنقید کی ہے۔ان پر جن لوگوں نے تنقید کی ہے، ان کا مختصر جائزہ پیش خدمت ہے۔

امام طحاوی

آپ کے سوانح نگاروں نے آپ کی تصنیفات کے ضمن مین ایک کتاب کا ذکرکیاہے جس کا نام ’خطا الکتب‘ ہے، اس میں شاید ایک باب یاکوئی خاص فصل عیسیٰ بن ابان کے رد میں ہے۔ (الجواہر المضئیۃ فی طبقات الحنفیۃ ۱؍۱۰۴)

ابن سیریج

مشہور شافعی فقیہ ہیں، ان کے حالات میں ترجمہ نگاروں نے لکھاہے کہ انہوں نے ایک کتاب عیسیٰ بن ابان کی فقہی آراء کے رد میں لکھی ہے۔ (موسوعۃ اقوال ابی الحسن الدارقطنی فی رجال الحدیث وعللہ،۱؍۷۶،عالم الکتب للنشر والتوزیع)

اسماعیل بن علی بن اسحاق

آپ نے بھی ایک کتاب عیسیٰ بن ابان کے رد میں لکھی ہے،جس کا نام ہے ’’النقض علی مسالۃ عیسیٰ بن ابان فی الاجتھاد‘‘۔مصنف کا تعلق شیعہ سے فرقہ سے ہے۔(لسان المیزان۱؍۴۲۴) کتاب کے نام سے ایسامحسوس ہوتاہے کہ عیسیٰ بن ابان علیہ الرحمہ کی جو کتاب الاجتھاد فی الرای ہے، یہ کتاب اسی کی تردید میں لکھی گئی ہے۔

خلق قرآن کے موقف کاالزام اور حقیقت

امام عیسیٰ بن ابان پر سب سے بڑااورسنگین الزام خلق قرآن کے عقیدہ کے حامل ہونے کا ہے۔ یہ الزام مشہور شافعی محدث حافظ ابن حجرنے لگایاہے (اگرچہ حافظ ابن حجر سے پہلے بھی کچھ لوگوں نے خلق قرآن کے موقف کا الزام لگایاہے لیکن انہوں نے قیل کے ساتھ یہ بات کہی ہے یادیگرصیغہ تمریض کے ساتھ)۔ حافظ ابن حجر کے تعلق سے متعدد احناف کو شکایت رہی ہے کہ وہ احناف کے ترجمہ میں اس فیاضی اور دریادلی کا مظاہرہ نہیں کرتے جو شوافع کے ساتھ برتتے ہیں۔ ان شکوہ وشکایات سے قطع نظر خلق قرآن یادوسری کسی بھی جرح کے ثبوت کے لیے کچھ پیمانے ہیں۔ پہلا پیمانہ یہ ہے کہ جو امام جرح وتعدیل کسی راوی پر کوئی جرح کررہاہے، اس علم جرح وتعدیل کے ماہر تک صحیح سند سے یہ جرح ثابت ہو۔ دوسراپیمانہ یامعیار یہ ہے کہ یہ جرح بادلیل ہو۔ تیسرا معیار یہ ہے کہ جس پر الزام لگایا جا رہا ہے، اس کا موقف اسی کے الفاظ میں ثابت ہو۔
سب سے پہلے یہ الزام تاریخ بغداد میں خطیب بغداد نے لگایاہے۔چنانچہ لکھتے ہیں:
ویْحکی عن عیسی انہ کان یذھب الی القول بخلق القران (تاریخ بغداد جلد12صفحہ 482)
’’عیسیٰ بن ابان سے نقل کیاجاتاہے کہ وہ خلق قرآن کا عقیدہ رکھتے تھے۔‘‘
یہی بات حافظ ذہبی نے بھی تاریخ الاسلام میں دہرائی ہے:
ویحکی عنہ القول بخلق القرآن، اجارنا اللہ، وھو معدود من الاذکیاء (تاریخ الاسلام للذہبی ،صفحہ 312،جلد16)
’’ان سے خلق قران کا قول نقل کیاگیاہے، اللہ ہمیں اس سے بچائے،اور وہ ذہین ترین لوگوں میں سے ایک تھے۔‘‘
یہی بات ابن جوزی نے بھی کہی ہے:
ویذکر عنہ انہ کان یذھب الی القول بخلق القرآن. (المنتظم فی تاریخ الامم والملوک، ۱۱/ ۶۷، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
’’اوران کے بارے میں ذکر کیاجاتاہے کہ ان کا موقف خلق قرآن کا تھا۔‘‘
واضح رہے کہ خطیب بغدادی نے جس سند سے اس حدیث کو روایت کیاہے، اس میں بعض مجہول اور بعض ضعیف راوی ہیں جس کی وجہ سے یہ سند اس قابل نہیں کہ اس کی وجہ سے کسی پر خلق قرآن کا سنگین الزام عائد کیا جائے۔ علاوہ ازیں خطیب نے اس روایت کو نقل کرنے کے باوجود خلق قرآن کے الزام کو صیغہ تمریض کے ساتھ بیان کیاہے۔ اگریہ سند ان کے نزدیک صحیح ہوتی تو وہ اس کو ضرور بالضرور جزم اورقطعیت کے ساتھ نقل کرتے اوریہی بات حافظ ذہبی کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے جن کے رجال کی معرفت اور علم جرح وتعدیل میں گہرائی وگیرائی پر اتفاق ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ دو مورخ یعنی خطیب بغدادی اورحافظ ذہبی اس قول کو تمریض کے صیغہ کے ساتھ نقل کرتے ہیں جواس بات کی نشاندہی ہے کہ ان کا خلق قرآن کے عقیدہ کا حامل ہونا کمزور بات ہے،کوئی پکی بات نہیں ہے،چنانچہ خود حافظ ذہبی نے جب سیر اعلام النبلاء میں ان کا ترجمہ نقل کیا تو عقیدہ خلق قرآن کے حامل ہونے کی بات نقل نہیں کی، کیونکہ وہ پکی بات نہ تھی۔ (سیراعلام النبلاء للذہبی10؍441) اگرخلق قرآن کے عقیدہ کی بات پکی ہوتی توکیایہ مناسب تھاکہ حافظ ذہبی اس کا یہاں ذکر نہ کرتے ؟ ضرورکرتے جیساکہ سیراعلام النبلاء میں انہوں نے خلق قرآن کے عقیدہ کے دیگر حاملین کا ذکر کیاہے۔ پھر دیکھئے حافظ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کا صرف ایک سطری جملہ لکھتے ہیں اور اس میں بھی خلق قرآن کے عقیدہ کا کوئی تذکرہ نہیں کرتے، بلکہ صاف صاف یہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے ان کی توثیق یاتضعیف کی ہے:
عیسی بن ابان، الفقیہ صاحب محمد بن الحسن ما علمت احدا ضعفہ ولاوثقہ (میزان الاعتدال : ج5، ص 374)
خلق قرآن کاعقیدہ کا حامل ہونابجائے خود ایک جرح ہے اوراس کے حاملین مجروح رواۃ میں شمارہوتے ہیں اورکسی کے مجروح یاضعیف راوی ہونے کے لیے اس کاخلق قرآن کے عقیدہ کا حامل ہونابھی کافی ہے، اس کے باوجود حافظ ذہبی صاف صاف کہہ رہے کہ ماعلمت احدا ضعفہ ولاوثقہ۔ کیایہ اس کی بالواسطہ صراحت نہیں ہے کہ عیسیٰ بن ابان کی جانب خلق قرآن کا جوعقیدہ منسوب کیاگیاہے ،وہ غلط اوربے بنیاد اورانتہائی کمزور ولچربات ہے؟
ان سب کے برخلاف حافظ ابن حجر لسان المیزان میں لکھتے ہیں کہ عیسیٰ بن ابان نہ صرف خلق قرآن کے قائل تھے بلکہ وہ اس کے داعی بھی تھے۔(لسان المیزان :ابن حجر: 4؍390)
حافظ ابن حجر کے علاوہ کسی بھی دوسرے ترجمہ نگارنے، جس میں شوافع اوراحناف سبھی شامل ہیں، عیسیٰ بن ابان پر خلق قرآن کے عقیدہ کا الزام نہیں لگایاہے، چاہے وہ مشہور شافعی فقیہ ابواسحاق شیرازی صاحب طبقات الفقہاء ہوں، حافظ عبدالقادر قرشی ہوں، یا حافظ قاسم بن قطلوبغاہوں۔
اس تفصیل سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ خلق قرآن کا الزام لگانے کے سلسلے میں حافظ ابن حجر منفرد ہیں اور انہوں نے اپنے دعویٰ کی بھی کوئی دلیل بیان نہیں کی ہے،اور دعویٰ کی جب تک کوئی دلیل نہ ہو ،اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ حافظ ابن حجر نے خلق قرآن کی بات ضرور نقل کی ہے اوراس کاداعی بھی بتایاہے، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایاکہ ان کے سامنے ایسی کون سی نئی بات اورنئی دلیل تھی کہ جو چیز خطیب بغدادی اور ذہبی کے یہاں صیغہ تمریض کے ساتھ اداکی جا رہی تھی ، وہ یہاں آکر صیغہ جزم میں بدل گئی ،اورجس میں وہ محض ایک عقیدہ کے حامل نظر آتے ہیں ،وہ یہاں آکر داعی میں بدل جاتے ہیں۔ جتنے ماخذ اس وقت تک ہمارے سامنے ہیں، اس میں سے کسی سے بھی حافظ ابن حجر کے قول کی تائید نہیں ہوتی۔
علم جرح وتعدیل کی رو سے بھی حافظ ابن حجر کی یہ بات اس لیے غیرمعتبر ہے کہ حافظ ابن حجر عیسیٰ بن ابان کے معاصر نہیں، بہت بعد کے ہیں۔ لازماً ان کی یہ بات کسی اور واسطہ اورسند سے منقول ہونی چاہیے، اورسند یاکسی معاصر شخصیت کی شہادت کا اہتمام خود حافظ ابن حجر نے نہیں کیاہے، اس لیے کہاجاسکتاہے کہ علم جرح وتعدیل کی رو سے ان کی یہ بات ناقابل قبول ہے۔
اگرکوئی یہ کہے کہ لسان المیزان میں حافظ ابن حجر کے ذہبی پر بہت سارے تعقبات اوراضافے ہیں، اس میں سے ایک یہ بھی ہے، تو اس کے جواب میں ہم عرض کریں گے کہ جہاں بھی حافظ ابن حجر نے ذہبی کے کسی قول پر اعتراض کیا ہے، باحوالہ کیاہے،محض اپنے قول کے طورپر ذکر نہیں کیاہے۔ جن لوگوں کواصرار ہے کہ وہ خلق قرآن کے عقیدہ کے حامل اورداعی تھے توانہیں چاہیے کہ وہ ان کی معاصرکسی شخصیت کا کوئی قول یاکوئی سند پیش کریں۔
دوسری بات یہ ہے کہ خلق قرآن کے الزام کی حقیقت پر غورکرنے کے لیے چند باتیں ذہن میں رکھنی ضروری ہے۔ ایک تویہ کہ یہ عقیدہ خلق قرآن ایک مبہم لفظ ہے۔ محض کسی کا یہ کہہ دینا کہ فلاں خلق قرآن کا قائل تھا،کافی نہیں ہے۔ یہ واضح ہوناچاہیے کہ وہ کن الفاظ میں خلق قرآن کا قائل تھا، ورنہ تو خلق قرآن کا الزام یا دیگر سنگین الزامات مشہور محدثین پر بھی لگے ہیں،لیکن جب ان کے ہی الفاظ میں ان کے موقف کو جاناگیاتو حقیقت واضح ہوگئی۔
اس کی واضح مثال خود امام بخاری کا واقعہ ہے۔ جب امام ذہلی سے وابستہ ایک شخص نے امام بخاری سے اس مسئلہ میں پوچھاتوانہوں نے اس مسئلہ کی حقیقت کوصاف اورواضح کرتے ہوئے کہاتھاکہ جس قرآن کی تلاوت ہم کرتے ہیں، وہ افعال مخلوق ہونے کے لحاظ سے مخلوق ہے، ورنہ قرآن کلام اللہ ہونے کے لحاظ سے غیر مخلوق ہے۔ان کے الفاظ ہیں: القران کلام اللہ غیرمخلوق، وافعال العباد مخلوقۃ والامتحان بدعۃ (ہدی الساری ص 494) اگر خلق قرآن کے سلسلے میں ہمارے سامنے امام بخاری کی عبارت نہ ہو، محض ذہلی کا بیان اور ابوحاتم وابوزرعہ کی تنقید ہو توکوئی بھی امام بخاری کو خلق قرآن کے عقیدہ کا قائل قراردے دے گا۔
دوسری بات یہ بھی ہے کہ خلق قرآن کے معاملہ میں امام احمد بن حنبل کی آزمائش کے بعد امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ اور دیگر محدثین انتہائی شدید ذکی الحس ہوگئے اوراس تعلق سے اگرکوئی ان کے الفاظ سے ہٹ کر کچھ کہتاتو وہ اسے برداشت نہ کرتے اور فوراً اس کے متروک اورضعیف ہونے یاخلق قرآن کے قائل ہونے کی بات کہہ دیتے تھے۔ تفصیل کے لیے شیخ عبدالفتاح ابوغدہ کی تصنیف لطیف وقیم "مسالۃ خلق القرآن واثرھا فی صفوف الرواۃ والمحدثین وکتب الجرح والتعدیل" کی جانب رجوع کریں۔اس میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے اور حوالوں کے ساتھ بتایاہے کہ آگے چل کر اس مسئلہ میں محدثین کے درمیان کس قدر غلو ہو گیا تھا۔

انتقال

امام عیسیٰ بن ابان تادم واپسیں بصرہ کے قاضی رہے، آپ کو معزول کرنے کی بعض حضرات نے کوشش کی لیکن قاضی القضاۃ یحییٰ بن اکثم اور ابن ابی دواد تک کو آپ کو معزول کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ 
محمد بن عبداللہ کلبی کہتے ہیں کہ میں انتقال کے وقت ان کے پاس موجود تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہاکہ ذرا میرے مال ودولت کا شمار تو کردو۔ میں نے گنا تو بہت زیادہ مال نکلا۔ پھر انہوں نے فرمایاکہ اب مجھ پر جو قرضے ہیں، ان کو جوڑ کر بتاؤکہ کل قرضہ کتنا ہے؟ جب میں نے ان کے قرضوں کو جوڑا توپایاکہ یہ ان کی کل مالیت کے قریب ہے۔ اس پر عیسیٰ بن ابان کہنے لگے،اسلاف کہاکرتے تھے کہ زندگی مال داروں کی سی جیو اور موت فقیروں کی سی ہونی چاہیے۔ (اخبارابی حنیفۃ واصحابہ ۱؍۱۴۹)
بالآخر وہ گھڑی آہی گئی جس سے ہرایک کو دوچار ہونا ہے، اورجونہ ٹل سکتی ہے، نہ آگے پیچھے ہوسکتی ہے۔ ماہ صفر کی ابتدائی تاریخ اور سنہ ۲۲۱ ہجری میں علم کا یہ آفتاب غروب ہوگیا۔
امام عیسی بن ابان کاانتقال کب ہوا؟ اس بارے میں مورخین کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض نے220ہجری قرار دیا ہے جب کہ بعض نے 221ہجری بتایاہے۔ لیکن 221کاقول زیادہ معتبر ہے ،کیونکہ خلیفہ بن خیاط جن کا انتقال عیسیٰ بن ابان کے محض ۱۹، ۲۰ سال بعد ہوا ہے، انہوں نے عیسیٰ بن ابان کی تاریخ وفات ۲۲۱ ہجری ہی بتائی ہے۔ علاوہ ازیں خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد میں سند کے ساتھ نقل کیاہے کہ ماہ صفر کی ابتداء 221 ہجری میں ان کاانتقال ہوگیا۔ اسی طرح حافظ ذہبی نے بھی تاریخ الاسلام اور سیر اعلام النبلاء میں تاریخ وفات 221ہجری ہی ذکر کی ہے اورحافظ ذہبی چونکہ انتقال کی تاریخ وغیرہ بتانے میں کافی محتاط ہیں اوراس سلسلے میں بہت احتیاط اورتحقیق سے کام لیتے ہیں، لہٰذا ان مورخین کی بات زیادہ معتبر ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کا فیصلہ: ایک قانونی تجزیہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اس فیصلے پر کئی پہلوؤں سے مباحثہ جاری ہے لیکن قانونی تجزیہ کم ہی کہیں نظر آیا ہے، حالانکہ اصل میں یہ مسئلہ قانونی ہے۔ اس مضمون میں کوشش کی جائے گی کہ اس فیصلے کے متعلق اہم قانونی مسائل کی مختصر توضیح کی جائے۔ 

بین الاقوامی عدالت انصاف (International Court of Justice/ICJ) کیا ہے؟ 

سب سے پہلے اس عدالت کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ اس عدالت کے متعلق چند حقائق یہ ہیں : 
1۔ یہ عدالت اقوامِ متحدہ کی تنظیم کی ایک شاخ ہے اور اس عدالت کا ضابطہ (Statute) اقوامِ متحدہ کے منشور (Charter) کا حصہ ہے۔ اس لیے جو ریاستیں اقوامِ متحدہ کے منشور پر دستخط کرکے اس کی رکنیت حاصل کرلیتی ہیں ، وہ اس عدالت کے ضابطے کی بھی پابند ہوجاتی ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس عدالت کو ان ریاستوں پر لازمی اختیارِ سماعت حاصل ہوجاتا ہے۔ اختیارِ سماعت کے مسئلے پر آگے بحث آرہی ہے۔ یہاں مطلب صرف اتنا ہے کہ یہ ریاستیں اس عدالت میں مقدمہ لاسکتی ہیں۔ جو ریاستیں اقوامِ متحدہ کی رکن نہیں ہیں ، وہ اس عدالت میں مقدمہ لانے کے لیے الگ طریقِ کار اختیار کرسکتی ہیں۔ 
2۔ اس عدالت سے قبل اسی نوعیت کی ایک اور بین الاقوامی عدالت موجود تھی جس کا نام "بین الاقوامی انصاف کی مستقل عدالت" (Permanent Court of International Justice/PCIJ) تھا۔ یہ تنظیم مجلس اقوام (League of Nations) کے تحت بنی تھی۔ مجلسِ اقوام کی جگہ بعد میں اقوامِ متحدہ کی تنظیم نے لی اور بین الاقوامی انصاف کی مستقل عدالت کی جگہ بین الاقوامی عدالت انصاف نے حاصل کی۔ 
3۔ بین الاقوامی عدالتِ انصاف ریاستوں کے درمیان قانونی تنازعات کا تصفیہ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں کرتی ہے۔ یہاں دو باتوں پر نظر رہے۔ ایک یہ کہ تنازعے کا قانونی ہونا ضروری ہے ؛ سیاسی مسائل عدالت میں نہیں لائے جاسکتے۔ دوسری یہ کہ عدالت ان تنازعات کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں کرتی ہے۔ یہ "بین الاقوامی قانون "کہاں پایا جاتا ہے؟ اس کے لیے عدالت کے ضابطے کی دفعہ 38 میں قرار دیا گیا ہے کہ عدالت تین بنیادی مصادر کا رخ کرے گی : بین الاقوامی معاہدات ، بین الاقوامی تعامل اور قانون کے قواعدِ عامہ جنھیں مہذب اقوام نے تسلیم کیا ہو۔ 
4۔ یہ عدالت اقوامِ متحدہ کی ذیلی شاخوں کے قانونی سوالات کے جواب بھی دے سکتی ہے۔ اسے Advisory Jurisdiction کہتے ہیں۔ اس کی ایک مثال مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قابض طاقت اسرائیل کی جانب سے دیوار کی تعمیر کے قانونی نتائج کے متعلق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سوال ہے جس پر عدالت نے 2003ء میں تفصیلی فیصلہ سنایا۔ 
5۔ عدالت تنازعے کے فریقوں پر لازمی اختیارِ سماعت نہیں رکھتی بلکہ تبھی تنازعے کا قانونی حل بتاتی ہے جب تنازعے کی فریق تمام ریاستیں عدالت سے تصفیہ کرنے پر رضامند ہوں۔ بہ الفاظِ دیگر ، عدالت ثالث (Arbitrator)کی طرح تبھی فیصلہ کرسکتی ہے جب تنازعے کے تمام فریق اس سے فیصلہ کرانا چاہیں۔ تاہم یہ عدالت مخصوص قانونی مفہوم میں ثالث نہیں بلکہ عدالت ہی ہے۔ ثالث کے لیے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ کسی مخصوص قانون کی رو سے فیصلہ کرے جبکہ یہ عدالت فیصلہ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں کرتی ہے۔ البتہ تنازعے کے فریق چاہیں تو اوپر مذکور تین بنیادی مصادر کے علاوہ بعض دیگر مصادر یا قواعد کو بھی عدالت مد نظر رکھ سکتی ہے۔ 
6۔ بعض ریاستوں نے پہلے ہی سے ایک اعلان (declaration)جاری کیا ہوتا ہے جس کی رو سے اس نے اس عدالت کا اختیارِ سماعت تسلیم کیا ہوتا ہے ایسی صورت میں اس ریاست کے خلاف دوسری ریاست اس عدالت میں آسکتی ہے۔ امریکا نے ایسا ہی ایک اعلان پہلے ہی سے عدالت کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس وجہ سے نکاراگووا نے امریکا کے خلاف اس عدالت میں مقدمہ قائم کیا کیونکہ امریکا نے نکاراگووا میں حکومت کے خلاف باغیوں (Contras)کی مدد اور تربیت کا سلسلہ شروع کررکھا تھا۔ عدالت نے اس تنازعے میں ابتدائی مراحل طے بھی کرلیے لیکن بعد میں مزید کارروائی اس وجہ سے نہیں ہوسکی کہ امریکا نے اپنا اعلان واپس لے لیا تھا اور اس کے بعد عدالت کے پاس اختیارِ سماعت باقی نہیں رہا تھا۔ پاکستان نے بھی ایسا ہی ایک اعلان 1960ء میں جاری کیا تھا۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ 29 مارچ 2017ء کو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے پاکستان کی جانب سے نیا اعلان عدالت میں جمع کرایا جس کی رو سے اس اختیارِ سماعت پر کئی اہم قیود لگائی گئی ہیں۔ ان قیود میں ایک قید یہ ہے کہ تنازعہ پاکستان کی سلامتی کے امور سے متعلق نہ ہو۔ 

بین الاقوامی عدالت انصاف کیا نہیں ہے؟ 

یہ بتانا بھی ضروری ہے کیونکہ اس عدالت کے متعلق کئی غلط فہمیاں غلط مفروضات کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں۔ 
1۔ یہ فوج داری عدالت نہیں ہے۔ یہاں افراد کے خلاف فوج داری مقدمات قائم نہیں کیے جاسکتے۔ نہ ہی فوج داری مقدمات کا تصفیہ کیا جاتا ہے۔ بہ الفاظِ دیگر ، نہ یہ کسی ملزم کا جرم ثابت ہونے پر اسے سزا سناتی ہے ، نہ ہی اس کے بے گناہ ثابت ہونے پر اسے رہا کرنے کا حکم جاری کرتی ہے۔ ان مقاصد کے لیے ایک الگ مستقل عدالت موجود ہے جس کا نام ہے : بین الاقوامی فوج داری عدالت (International Criminal Court/ICC)۔ تاہم پاکستان اور بھارت دونوں میں کسی نے بھی ابھی تک آئی سی سی کے منشور کی توثیق نہیں کی ہے۔ اس لیے وہاں کسی فرد کے خلاف مقدمہ پاکستان یا بھارت کی جانب سے قائم نہیں کیا جاسکتا۔ 
2۔ یہ دنیا کی اعلیٰ ترین عدالت (Apex Court) نہیں ہے۔ کئی لوگوں نے یہ فرض کیا ہوا ہے کہ کلبھوشن یادو کے خلاف پاکستان میں فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف بھارت اس عدالت میں گیا ہے اور اب گویا یہ عدالت اس فوجی عدالت کے فیصلے کو اسی طرح کالعدم کرسکتی ہے جیسے ہائی کورٹ ماتحت عدالت کا ، یا سپریم کورٹ کسی ہائی کورٹ کا ، فیصلہ ختم کرلیتی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ ہر ریاست کا اپنا عدالتی نظام ہے جو اس ریاست کے ملکی قانون کے مطابق چلتا ہے۔ یہ عدالت اقوامِ متحدہ کی عدالت ہے جو بین الاقوامی قانون پر فیصلے کرتی ہے۔ ملکی عدالتوں کا ، بشمول فوجی عدالتوں کے ، دائرہ کار اور اس عدالت کا دائرہ کار ایک دوسرے سے یکسر الگ ہے۔ 

بین الاقوامی عدالت انصاف کا ایک اہم اصول 

1۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس عدالت نے بارہا جس اصول کا بڑی شد و مد سے ذکر کیا ہے اور ہمیشہ اس کی پابندی کی کوشش کی ہے وہ ہے ریاست کی خودمختاری (sovereignty)۔ اسی اصول پر یہ کسی ریاست کو کسی مقدمے میں عدالت کے سامنے پیش ہونے پر مجبور نہیں کرسکتی جب تک وہ ریاست خود اس عدالت کا اختیارِ سماعت تسلیم نہ کرے۔ اسی طرح یہ کسی ریاست پر زبردستی اپنا فیصلہ نافذ نہیں کرسکتی بلکہ اس ریاست سے توقع رکھتی ہے کہ وہ اس فیصلے کو نافذ کرلے گی۔ البتہ اس فیصلے کے بعد عالمی دباو میں یقیناً اضافہ ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات ریاست وہ فیصلہ ماننے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ 
2۔ ریاستی خودمختاری ماننے کا ہی ایک نتیجہ یہ ہے کہ اگر اس عدالت نے یہ فیصلہ کر بھی لیا کہ کسی ریاست کی عدالت کا فیصلہ کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر مبنی ہے تو یہ عدالت خود اس مقدمے کا فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ اس ریاست سے کہتی ہے کہ وہ اپنی ریاستی عدالت کے فیصلے پر نظرثانی کروائے۔ 

بھارت کے دعوے کی بنیاد : ویانا معاہدہ براے قونصلر تعلقات 1963ء 

اب ہم اس سوال کا جائزہ لیں گے کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں بھارت نے پاکستان کے خلاف مقدمہ کس بنیاد پر قائم کیا ہے ؟ بہ الفاظِ دیگر، بھارت کا شکوہ کیا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی قانون کے کس اصول کی خلاف ورزی کی ہے؟ 
1۔ قونصلر کو تقریباً وہی حیثیت اور مراعات حاصل ہوتی ہیں جو سفیر کو حاصل ہوتی ہیں۔ البتہ سفیر بنیادی طور پر حکومتی تعلقات اور بڑے معاملات کو دیکھتے ہیں جبکہ قونصلر کا کام اپنے ان شہریوں کے حقوق کی دیکھ بھال ہوتی ہے جو دوسری ریاستوں میں گئے ہوں، بالخصوص جن کو کسی الزام میں حراست میں لیا گیا ہو۔ قونصلر سے متعلق امور کے بارے میں بین الاقوامی قانون مدون شکل میں 1963 کے معاہدہ ویانا (Vienna Convention on Consular Relations/VCCR) میں پایا جاتا ہے اور اس معاہدے میں ان زیرِ حراست لوگوں تک قونصلر رسائی کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے اس معاہدے کی توثیق کی ہوئی ہے اور یوں ایک دوسرے کے قونصلروں کے لیے یہ حیثیت بنیادی طور پر تسلیم کی ہوئی ہے۔ بھارت کا تقاضا مسلسل یہی رہا ہے کہ پاکستان اسے کلبھوشن یادو تک قونصلر رسائی دے۔ 
2۔ تاہم اس سے متوازی ایک حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی حق کی طرح یہ حق لا محدود نہیں ہے بلکہ اس پر بعض قیود اور حدود موجود ہیں جو بین الاقوامی تعامل سے بخوبی واضح ہیں۔ سب سے اہم قید اس ضمن میں یہ ہے کہ اگر حراست میں لینے والی ریاست کسی مخصوص قیدی تک قونصلر رسائی کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے تو وہ یہ رسائی دینے سے انکار کرسکتی ہے۔ ماضی میں کئی دفعہ پاکستان اور بھارت دونوں نے ، اور کئی دوسری ریاستوں نے بھی ، کئی قیدیوں تک قونصلر رسائی سے اس بنیاد پر انکار کیا ہے۔ اب بھی پاکستان نے اسی بنیاد پر کلبھوشن یادو تک قونصلر رسائی دینے سے انکار کیا ہے۔ 
3۔ اس ضمن میں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ 2008ء میں پاکستان اور بھارت نے ایک باہمی سمجھوتے کے ذریعے قونصلر رسائی کے معاملے کو منضبط بھی کیا ہے اور اس میں دونوں ریاستوں نے قومی سلامتی کو خطرے کی بنیاد پر قونصلر رسائی سے انکار کا حق ایک دوسرے کے لیے تسلیم کیا ہوا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ بعد میں کیے جانے والے اس دو طرفہ (bilateral)سمجھوتے کی بنیاد پر کیا 1963ء کے کثیر الملکی (multilateral)بین الاقوامی معاہدے میں مذکور حق کو محدود کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ 
4۔ اس آخری سوال کے جواب کے لیے بین الاقوامی قانون میں دو اہم دستاویزات کا جائزہ لینا پڑے گا۔ ایک تو خود 1963ء کے معاہدۂ ویانا کے ساتھ اضافہ شدہ "اختیاری ملحق" (Optional Protocol) ہے۔ اس ملحق میں طے کیا گیا ہے کہ ویانا معاہدے کی تعبیر و تشریح کے متعلق تنازعات کا تصفیہ بین الاقوامی عدالت انصاف کرے گی۔ چونکہ پاکستان اور بھارت دونوں نے اس ملحق کی توثیق کی ہے ، اس لیے اگر پاکستان نے اوپر مذکور اعلان کے ذریعے اس عدالت کا اختیارِ سماعت تسلیم نہ بھی کیا ہوتا تب بھی اس ملحق کی توثیق کی وجہ سے بھارت پاکستان کے خلاف مقدمہ اس عدالت میں لے جاسکتا تھا۔ دوسری اہم دستاویز 1969ء کا ویانا معاہدہ براے قانونِ معاہدات (Vienna Convention on the Law of Treaties/VCLT) ہے جس میں معاہدات کی تعبیر و تشریح کے متعلق بنیادی قواعد و ضوابط دیے گئے ہیں۔ عدالت لازماً اس معاہدے کو بھی مدنظر رکھے گی ، بالخصوص جبکہ پاکستان اور بھارت دونوں نے اس معاہدے کی توثیق کی ہوئی ہے۔ 
5۔ پس عدالت میں بھارت کے دعوے کی بنیاد یہ ہے کہ کلبھوشن تک قونصلر رسائی سے انکار کی وجہ سے پاکستان نے 1963ء کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستان کا جوابِ دعوی اس بنیاد پر قائم ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے تناظر میں یہ رسائی نہیں دی جاسکتی تھی اور انکار کا یہ حق بین الاقوامی تعامل میں بھی موجود ہے اور دونوں ریاستوں نے باہمی سمجھوتے کے ذریعے ایک دوسرے کے لیے یہ حق تسلیم بھی کیا ہے۔ عدالت اصلاً اسی سوال کا جواب تلاش کرے گی کہ کیا قونصلر رسائی سے انکار کرکے پاکستان نے 1963ء کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ، یا بین الاقوامی تعامل اور دوطرفہ سمجھوتے کی وجہ سے قونصلر رسائی دینے سے انکار کرنے میں پاکستان حق بجانب تھا ؟ 

عدالت کا حکم نامہ 

اب ہم آتے ہیں بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے حکم نامے کی طرف۔ 
1۔ کسی بھی عدالت کے سامنے سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ اسے اختیارِ سماعت حاصل ہے یا نہیں؟ اختیارِ سماعت کا باقاعدہ تعین تفصیلی بحث چاہتا ہے اور اس میں سب سے ضروری امر یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسرے فریق کی بات بھی سنی جائے جو اختیارِ سماعت سے انکاری ہو۔ تاہم بعض اوقات معاملہ فوری اور سنگین نوعیت کا ہوتا ہے جس کی بنا پر عدالت کو کچھ ابتدائی نوعیت کے ایسے احکامات جاری کرنے پڑتے ہیں جن کی بنا پر اس معاملے کی سنگینی کو مزید شدت اختیار کرنے سے روکا جاسکے۔ چونکہ عدالت کا مفروضہ اختیارِ سماعت کے حق میں ہوتا ہے اس لیے اگر معاملہ فوری اور سنگین نوعیت کا ہو جس میں اگر عدالت نے فوری احکامات جاری نہ کیے تو ناقابلِ تلافی نقصان ہونے کا قوی خدشہ ہوتا ہے، اس لیے ایسے معاملے میں عدالت اختیارِ سماعت فرض کرتے ہوئے کچھ اشد ضروری احکام جاری کرلیتی ہے۔ 
2۔ یہاں چونکہ معاملہ ایک شخص کی زندگی اور موت کا تھا اور ایک فریق کا کہنا یہ تھا کہ اس شخص تک قونصلر رسائی نہ دے کر پاکستان نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہ کی ہوتی تو اسے سزاے موت نہ ہوپاتی کیونکہ اس صورت میں اس کا بہتر دفاع ممکن ہوجاتا ؛ اب بھی اگر اسے قونصلر رسائی دی جائے تو اسے بہتر دفاع کا موقع مل سکتا ہے؛ اور اس کی سزاے کسی بھی وقت نافذ کی جاسکتی ہے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی عدالت ہوتی تو وہ اختیارِ سماعت کے لیے کوئی بھی ظنی دلیل قبول کرتے ہوئے ، بلکہ اختیارِ سماعت فرض کرتے ہوئے ، حکم امتناعی جاری کرتی۔ یہی کام اس عدالت نے کیا۔ 
3۔ تاہم یہ کہانی کا اختتام نہیں ہے بلکہ ابھی اس کہانی میں کئی موڑ آنے والے ہیں۔ عدالت نے صرف "بظاہر اختیارِ سماعت " کی موجودگی فرض کی ہوئی ہے۔ ابھی اس کے حق میں اور اس کے خلاف تفصیلی دلائل دینے کا مرحلہ آئے گا۔ پہلا اہم موڑ پاکستان کی جانب سے اختیارِ سماعت پر باقاعدہ تفصیلی اور تحریری (و زبانی) اعتراضات اٹھانے کا ہوگا۔ 
3۔ اس موڑ پر پاکستان کے حق میں سب سے اہم دلیل 29 مارچ 2017ء کا وہ اعلان ہوگا جس کے ذریعے اس نے اپنے 1960ء کے اعلان کو بہت حد تک محدود کردیا ہے اور بالخصوص قومی سلامتی سے متعلق امور پر پاکستان عدالت کے اختیارِ سماعت کا منکر ہوسکتا ہے۔ اس انکار کے بعد عدالت پاکستان کو مقدمے میں مزید حصہ لینے پر مجبور نہیں کرسکے گی۔ اوپر امریکا کی مثال دی گئی جس نے مقدمے کے آغاز اور ابتدائی سماعت کے بعد اپنا اعلان واپس لیا تھا اور مقدمہ آگے نہیں چل سکا تھا۔ یہاں تو پاکستان نے بہت ہی ذہانت اور کمال کی سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت کے ابتدائی حکم سے بھی ڈیڑھ مہینہ قبل اس اعلان کے ذریعے قومی سلامتی کے امور کو اس عدالت کے اختیارِ سماعت سے مستثنیٰ کردیا ہے۔ 
4۔ پاکستان کی دوسری اہم دلیل 2008ء کا وہ باہمی سمجھوتا ہوگا جس کے ذریعے دونوں ممالک نے قومی سلامتی سے متعلق امور میں زیر حراست افراد تک قونصلر رسائی سے انکار کا حق ایک دوسرے کے لیے تسلیم کیا ہوا ہے۔ بھارت اس کے خلاف یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ سمجھوتا 1963ء کے ویانا معاہدے کے خلاف ہونے کی وجہ سے کالعدم ہے کیونکہ یہ معاہدہ نو سال سے مؤثر ہے اور دونوں ریاستوں نے باہمی رضامندی سے بغیر جبر و اکراہ کے اسے تسلیم کیا ہوا ہے۔ اس سے زیادہ اہم دلیل یہ ہے کہ ریاست کے اقتدارِ اعلی اور قومی سلامتی کے تحفظ کو بنیاد بنا کر قونصلر رسائی سے انکار کی روایت پاکستان ، بھارت اور دنیا کی کئی ریاستوں نے مختلف مواقع پر اپنائی ہوئی ہے۔ یہ روایت 1963ء کے معاہدے سے پہلے سے جاری تھی اور اب تک چل رہی ہے۔ بہ الفاظِ دیگر اس استثنا کو بین الاقوامی تعامل نے تسلیم کیا ہوا ہے۔ 
5۔ اس سمجھوتے کے اثر سے بچنے کے لیے بھارت زیادہ سے زیادہ یہ دلیل دے سکتا ہے کہ چونکہ یہ معاہدہ اقوامِ متحدہ کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہے ، اس لیے اپنے منشور کی رو سے عدالت اسے مد نظر نہیں رکھ سکتی۔ یہ دلیل اہم ہے اور اس کے جواب میں پاکستان کو فوراً سے پیش تر اس سمجھوتے کو اقوامِ متحدہ کے پاس رجسٹرڈ کرنا چاہیے۔ اگر پاکستان نے ایسا کیا تو اس پر یہ اعتراض نہیں اٹھایا جاسکے گا کہ اس نے مقدمہ شروع ہونے کے بعد یہ سمجھوتا رجسٹرڈ کرایا ہے کیونکہ بین الاقوامی قانون میں اس کی اجازت موجود ہے اور عدالت نے پہلے بھی یہ بات تسلیم کی ہوئی ہے۔ 

کلبھوشن کی اہمیت اور پاکستان کا بہترین اقدام 

اب ذرا ایک نظر اس سوال پر بھی ڈالیے کہ کلبھوشن تک قونصلر رسائی بھارت کے لیے اتنی اہم کیوں ہوگئی ہے کہ وہ اس کے لیے بین الاقوامی عدالت انصاف تک بھی پہنچ گیا ہے اور پاکستان اس معاملے میں کیوں اس حد تک ڈٹ گیا ہے کہ اس نے قونصلر رسائی نہیں دی یہاں تک کہ معاملہ عدالت تک جاپہنچا؟ 
1۔ اس سوال کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ پاکستان میں جاری فساد میں کلبھوشن کا بہت ہی اہم کردار رہا ہے۔ وہ محض ایک عام جاسوس نہیں تھا۔ اس نے جاسوسوں، ایجنٹوں اور دہشت گردوں کا پورا نیٹ ورک پھیلایا ہوا تھا۔ اس کے اعترافات دنیا کے سامنے لانے سے قبل پاکستانی ایجنسیوں نے اس سارے نیٹ ورک کی تمام تفصیلات ممکن حد تک حاصل کی ہوں گی اور اب اسی بنیاد پر جوابی کارروائی (counter-intelligence بھی اور counter-terrorismبھی ) شروع ہوچکی ہوگی۔ یہ بہت بڑا کھیل ہے جس میں پاکستان کو بہت بڑا فائدہ حاصل ہوا ہے۔ اب اس شخص تک قونصلر رسائی دے کر پاکستان کسی صورت یہ فائدہ کھونا نہیں چاہتا کیونکہ اس صورت میں پورا امکان ہے کہ بھارت کو معلوم ہوجائے کہ کلبھوشن نے کہاں تک اور کیا کچھ بتایا ہے ؟ اس لیے یہ معاملہ کلبھوشن کی جان بچانے کا نہیں بلکہ اس کے نیٹ ورک کو ممکن حد تک بچانے کا ہے۔ 
2۔ بھارت نے عدالت سے دیگر امور کے علاوہ کلبھوشن کی رہائی کے احکامات جاری کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مبتدی طالب علم بھی جانتے ہیں کہ عدالت کے پاس ایسا حکم جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ یہ دراصل اس خاص قسم کی ذہنیت کی علامت ہے جس میں مبتلا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کو ' موت کے لیے پکڑوگے تو وہ بخار پر راضی ہوجائیں گے '۔ بھارت کا خیال یہ ہے کہ یہ اور اسی نوعیت کے دیگر مطالبات کرکے وہ پاکستان پر دباؤ ڈال سکے گا اور پاکستان کم سے کم ، یعنی قونصلر رسائی ، پر راضی ہو ہی جائے گا۔ 
3۔ یہ ظاہر ہے کہ بھارت کی خام خیالی ہے۔ پاکستان نے اب تک اپنے کارڈ نہایت ہوشیاری سے کھیلے ہیں اور وہ اس دھوکے میں بالکل نہیں آیا ، نہ ہی آئندہ اس کا کوئی امکان ہے۔ پاکستان کا اب تک کا سب بہترین کارڈ 29 مارچ 2017ء کا وہ ترمیمی اعلان ہے جس کے ذریعے اس نے 1960ء کے اعلان کو مقید اور محدود کردیا ہے اور اب پاکستان کے پاس یہ واضح اور صاف آپشن موجود ہے کہ وہ قومی سلامتی کے امور میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے اختیارِ سماعت سے انکار کردے۔ اس اقدام پر پاکستان کے تمام پالیسی ساز اور بالخصوص اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مندوب ڈداکٹر ملیحہ لودھی پوری قوم کے شکریے کی مستحق ہیں۔ 

پس نوشت

میرے احباب اور قارئین جانتے ہیں کہ میں میاں محمد نواز شریف صاحب کی حکومت کے سخت ترین ناقدین میں سے ہوں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مختلف عوامل اور اسباب کی وجہ سے میں فوج کے طرزِ عمل پر بھی سخت نکتہ چینی کرتا آیا ہوں۔ تاہم یہ معاملہ ایسا ہے جس میں سول اور ملٹری دونوں جانب سے بہترین کارکردگی سامنے آئی ہے اور اس بنا پر دونوں داد کے مستحق ہیں۔ اگر 2008ء کے سمجھوتے کو بھی جلد از جلد اقوامِ متحدہ کے پاس رجسٹرڈ کرالیا جائے تو اس مقدمے میں پاکستان مضبوط ترین پوزیشن پر آجائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 

قرآنِ مجید اور اسیرانِ جنگ

عدنان اعجاز

سورہ محمد (۷۴) (۱) کی آیت ۴ میں اللہ تعالیٰ کے وہ جنگی احکامات مذکور ہیں جو ہجرتِ مدینہ کے مختصراً بعدکفار مکہ سے باقاعدہ آغازِ جنگ کے موقع پر مسلمانوں کو دیے گئے۔ ان میں جنگی قیدیوں سے متعلق ایک اہم قانون بھی بیان ہوا ہے۔ آیت کے الفاظ چونکہ جنگ میں پکڑے جانے والے قیدیوں کے حوالے سے مسلمانوں کے اختیار کو دو ایسی صورتوں میں محصور کر دیتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے طرزِ عمل سے بظاہر محصور دکھائی نہیں دیتے، اس لیے ہمارے فقہا کے لیے یہ آیت ہمیشہ 'مسئلے کا حصہ' (part of the problem) اور محل تاویلات رہی ہے۔ آیت کا وہ حصہ جو موضوع سے متعلق ہے، یہ ہے:
فَاِذَا لَقِیتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَاب، حَتّٰی اِذَا اَثْخَنْتُمُوھُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ، فَاِمَّا مَنًّام بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاءً حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَھَا۔
ترجمہ تفسیر عثمانی: ’’سو جب تم مقابل ہو منکروں کے تو مارو گردنیں یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو ان کو تو مضبوط باندھ لو قید پھر یا احسان کیجیو اور یا معاوضہ لیجیو جب تک کہ رکھ دے لڑائی اپنے ہتھیار۔‘‘
ترجمہ تدبر قرآن: ’’پس جب ان کافروں سے تمہارے مقابلہ کی نوبت آئے تو ان کی گردنیں اڑاؤ۔ یہاں تک کہ جب ان کو اچھی طرح چور کر دو تو ان کو مضبوط باندھ لو پھر یا تو احسان کر کے چھوڑنا ہے یا فدیہ لے کریہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔‘‘
ترجمہ تفہیم القرآن: ’’پس جب ان کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو، اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے) احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کر لو، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔‘‘
ترجمہ البیان (غامدی): ’’سو، (ایمان والو)، جب اِن منکروں سے تمھارے مقابلے کی نوبت آئے تو بے دریغ گردنیں مارنی ہیں، یہاں تک کہ جب تم اِن کو اچھی طرح کچل دو، تب قیدی بنا کرمضبوط باندھو۔پھر جب باندھ لو تو اْس کے بعد احسان کرکے چھوڑ دینا ہے یا فدیہ لے کر۔ (اِن کے ساتھ تمھارا یہی معاملہ رہنا چاہیے)، یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔‘‘
یہ مختلف تراجم تقابل کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ بظاہر تراجم کتنے ہم آہنگ ہیں، جو ظاہر ہے کہ آیت کے غیر مبہم ہونے ہی کی دلیل ہے، مگر واقعہ یہ ہے کہ ان مماثل تراجم کے باوجود ان حضرات کے فقہی نتائج مختلف ہیں۔ ان میں سب سے اہم اختلاف اس امر پر ہوا ہے کہ خط کشیدہ میں جو حکم قیدیوں کے متعلق دیا گیا ہے، وہ فی الواقع مسلمانوں کے اختیار کو انہی مذکورہ دو صورتوں یعنی "فدیہ لے کر رہا کرنے" یا "احسان کے طور پر رہا کرنے" میں محدود کر دیتا ہے یا اس کے علاوہ اور صورتیں مثلاً غلام یا ذمی بنا لینا اور قتل کر دینا وغیرہ بھی دائرۂ جواز میں شامل رہتی ہیں۔ یہ سوال شاید آیت کے الفاظ سے باور کرنا مشکل ہو، کہ وہ تو بہت واضح ہیں، تاہم یہ پوری شدت سے تب پیدا ہو جاتا ہے جب قرآن کے دوسرے مقامات، احادیث، سیرت رسول اور تاریخ پر نظر ڈالی جائے۔ان مصادر میں ایسے احکامات و واقعات مذکور ہیں جن کے تحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے جنگی قیدیوں کو غلام اور مفتوحہ مکینوں کو ذمی بھی بنایا، اگرچہ قتل کرنے کی صرف چند مثالیں موجود ہیں۔ پھر مزید یہ کہ اگر واقعی پہلی صورت مراد ہے تو پھر اس آیت کی رو سے جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کی اجازت ختم کر دی گئی جس کا منطقی اور لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہیے تھا کہ غلامی کا ہی خاتمہ ہو جاتا، فوراً نہیں تو تدریجاً۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دَور میں ایسا ہوا، نہ صحابہ کے دَور میں اور نہ ہی اس کے بعد کبھی۔ اسلاف میں سے کسی ایک فقیہ نے بھی اِس یا کسی اور آیت کے تحت غلام بنانے کو مطلقاً کبھی ناجائز نہیں سمجھا۔
چنانچہ آیت کے حکم اور واقعات کے مابین اس تضاد کو حل کرنے کے لیے ہمارے مفسرین نے وہی طریقہ اختیار کیا جو اس طرح کے دوسرے مواقع پر وہ اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ ایک اجمالی نیز مستحق تفسیر تو تقریباً بے لاگ ہی بیان کر دیتے ہیں مگر نتائج و احکامات کے لیے وہ فقہائے اسلاف کی آراء نقل کر دیتے ہیں، اس حال میں کہ ان دونوں کے مابین تطبیق کو بہت اہمیت نہیں دیتے۔ پس کوئی قدیم و جدید تفسیر اٹھا لیجیے، آپ کو اسی آیت کے ذیل میں ابن عمر، مجاہد، قتادہ، ابو حنیفہ و شافعی وغیرہم کی آراء مل جائیں گی کہ کون قتل کو جائز سمجھتا تھا، کون غلامی و جزیہ کو بھی، کون اس آیت کو منسوخ مانتا تھا اور کون نزولِ عیسیٰ تک اسے قابل عمل۔تاہم اگر کوئی طالب علم آیت کے الفاظ کو ہی کشتی نتائج کے بادبانوں میں ہوا کا واحد ذریعہ دیکھنا چاہے تو سوائے تدبر قرآن اور البیان کے تشفی نہیں ہو پاتی۔ہر چند یہ بالترتیب استاذ اور شاگرد کی تفاسیر ہیں، اور یہ دونوں حضرات قرآن ہی کے الفاظ کو مجرد کر کے احکامات کی تخریج کے قائل ہیں، مگر ان دونوں کے نتائج بھی باہم دگر مختلف ہی ہیں۔
اصلاحی صاحب نے یہاں "احسان یا فدیہ" تک حدبندی کو قیدیوں کے باب میں بیانِ قانون ماننے ہی سے انکار کیا ہے، اور حکم کومحض الفاظِ آیت کی بجائے فحوائے کلام سے اخذ کرتے ہوئے خط کشیدہ کے حصر کو"باعزت آزاد کرنے " کے مقابلے میں ایک طرح کی تاکید قرار دیا ہے۔ اس لیے وہ خط کشیدہ کے ٹکڑے کو حصر مانتے ہوئے بھی قتل و غلامی اور دوسری صورتوں کے لیے مانع نہیں سمجھتے۔ اس طرزِ تفسیر کی تفصیل تدبر قرآن یا عمار خان ناصر صاحب کی توضیح میں دیکھی جا سکتی ہے(۲)۔ میں اس تفسیر کو درست نہیں سمجھتا، بلکہ میرا دعویٰ یہ ہے کہ کسی بھی طالب علم کو یہ تفسیر مصنوعی معلوم پڑتی ہے۔
اس کے مقابل میں غامدی صاحب نے نہ صرف یہ کہ حصر کو قانونی حصر ہی سمجھا ہے بلکہ اصلاحی صاحب کے موقف پر تفصیلی تنقید کرتے ہوئے فحوائے کلام کی بھی ایسی توضیح کر دی ہے کہ میرے جیسے قرآن کے طالب علموں کے لیے تو کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔ یہ تفسیر انتہائی سادگی اور دیانتداری سے کلام کا رخ بھی متعین کر دیتی، سارے نتائج بھی بے لاگ برآمد کر کے سامنے رکھ دیتی ہے اور کسی خارج کی احتیاج بھی باقی نہیں رہنے دیتی۔ چنانچہ اس میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ اس آیت کے تحت مسلمانوں کے اختیار کو دو ہی مذکورہ صورتوں تک محدود کر دیا گیا 150 یعنی جنگی قیدیوں کو یا تو احسان کے طور پر رہا کر دینا ہے اور یا فدیہ لے کر۔ اِس کے بعد صرف وہی مستثنیا ت باقی رہ گئے جو علم و عقل کے مسلمات کی رو سے ہر قانون، ہر قاعدے اور ہر حکم میں اس کی ابتدا ہی سے مضمر ہوتے ہیں۔ یعنی مثال کے طور پر، سنگین جرائم کے کسی مرتکب کے ساتھ اس کے جرائم کی بنا پر اِس سے ہٹ کر کوئی معاملہ کیا جائے۔ اِس سے، ظاہرہے کہ قیدیوں کے بارے میں اِس عام قانون پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔(۳) اس پر مزیداس حکم کے منطقی نتیجے کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "یہ حکم اگرچہ مشرکین عرب کے حوالے سے بیان ہوا ہے، لیکن ہر لحاظ سے عام ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قیدی بنا لینے کے بعد جب رسول کے منکرین سے احسان یا فدیے کے سوا کوئی معاملہ نہیں کیا جا سکتا تو دوسروں سے بدرجہ اولیٰ نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ قرآن کا یہی حکم ہے جس نے قیدیوں کو غلام بنانے کا رواج ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اور اِس طرح غلامی کی جڑ کاٹ دی۔" 
ما سوا اس آخری نتیجے کے150 کہ جس کو میں درست نہیں سمجھتا151 آیت کی باقی تفسیر ہر اعتبار سے صحیح، صاف و بلاپیچیدگی (straightforward)، الفاظ سے آخری حد تک دیانتداری ( translational fidelity) کی حامل اور کلام اللہ کے کمال و جامعیت پر دال ہے۔اس کو پڑھ کر دیکھ لیجیے 150 کوئی دوسری تفسیر قابل اعتنا نہیں رہتی۔ تاہم151 اور یہ تو نتیجہ معلومہ ( foregone conclusion) ہے151 اس تفسیر کے نتیجے میں تاریخ اور تمام مخالف روایات کو نظرانداز کرنا یا ان کی تاویل کرنا ضروری ٹھہر جاتا ہے۔چنانچہ غامدی صاحب اپنے مضمون "قرآن اور اسیرانِ جنگ" میں ایک دو مشہور واقعات کی مختلف روایات کے مابین تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "اِس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ تاریخی واقعات کے سمجھنے میں اِن روایتوں پر کہاں تک اعتماد کیا جا سکتا ہے۔جن لوگوں نے دقت نظر کے ساتھ اِن کا مطالعہ کیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ راویوں کا فہم، ان کاذہنی اور سماجی پس منظر اور ان کے دانستہ یا نادانستہ تصرفات بات کو کیا سے کیا بنا دیتے ہیں۔ دین کے طالب علموں کے لیے ہمارا مشورہ یہ ہے کہ روایتوں سے قرآن کو سمجھنے کے بجاے اْنھیں خود روایتوں کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔" 
میری رائے غامدی صاحب کی تفسیر کے اکثر حصے کو درست ماننے کے باوجود مجموعی اعتبار سے قدرے مختلف ہے، پس یہاں سے آگے میں اپنی رائے کے دلائل تحریر کروں گا۔ اس کے لیے ہم اس آیت اور اس کی حامل سورہ کے وسیع تر موقع و محل کا مشاہدہ کریں گے، پھر آیت کے اندرونی قرائن کا تجزیہ کرکے نتائج برآمد کریں گے۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ یہ نتائج اور روایات کیسے باہم موافق قرار پائیں گی۔اس رائے کے اجزا آپ کو اسلاف کے یہاں مل جائیں گے، پر کلی اعتبار سے یہ منفرد ہے، اس لیے علیحدہ تفصیل سے بیان کرنا ضروری ہے۔ مزید، ان میں سے بعض دلائل کو سمجھنے کے لیے کچھ عسکری ذوق بھی درکار ہو گا مگر میں کوشش کروں گا کہ وہ تفہیم میں حائل نہ ہونے پائے۔

سورہ کا موقع و محل

سورہ محمد، سب جانتے ہیں کہ سورۂ قتال ہے۔ یہ ہجرتِ مدینہ کے بعد کفارِ مکہ سے کسی باقاعدہ جنگ میں مڈبھیڑ سے پہلے مسلمانوں کو اس کے لیے تیار کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔ اس جنگ کے ضوابط بھی اسی لیے موقع کی مناسبت سے بیان ہو گئے ہیں۔ یہ جنگ کب تک جاری رہے گی اور اس کا ہدف کیا ہے، یہ بھی اجمال سے بیان کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد نازل ہونے والی سورہ یعنی سورہ انفال میں اس اجمال کی تفصیل بھی کر دی گئی ہے۔یہ اصل میں ان چار سورتوں میں سے ایک ہے جن کے مجموعی مطالعے اور انضمام کے بعد ان تدریجی جنگی احکامات کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن ہو پاتا ہے۔اس لیے آئیے ان کی نشاندہی بھی کر لیتے ہیں۔
یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ قرآن پاک میں سورتیں جوڑا جوڑا آئی ہیں۔ پس یہاں سورہ محمد اور سورہ فتح جوڑا ہیں۔ موضوعی اعتبار سے اسی سلسلے کا دوسرا جوڑا سورہ انفال اور سورہ توبہ ہیں۔ سورہ محمد جنگوں کے آغاز سے متصلاً پہلے اور سورہ فتح جنگوں کے اختتام (۴)سے متصلاً پہلے نازل ہوئی۔ سورہ انفال جنگوں کے آغاز کے متصلاً بعد (۵)اور سورہ توبہ اختتام کے متصلاً بعد (۶)نازل ہوئی۔ ان کو اگر موضوعی اور زمانی ترتیب میں رکھ کر دیکھا جائے تو ان کی ترتیب محمد، انفال، فتح اور پھر توبہ قرار پاتی ہے۔(۷) اس لیے ان کو میں یہاں سے آگے بالترتیب پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی سورت سے تعبیر کروں گا۔ ان سورتوں میں اگرچہ ضمنی طور پر ’’اور‘‘ دشمنوں کا ذکر بھی ہے تاہم کوئی بھی مدبر طالب علم یہ باور کر سکتا ہے کہ ان سب سورتوں میں ایک ہی مرکزی دشمن ہے جس کو ان سورتوں میں اصلی ہدف بنایا گیا ہے۔ ہم ان سورتوں میں تدریجی احکامات کا مطالعہ ایک ترتیب سے کرتے ہیں تا کہ وہ دشمن نکھر کر سامنے آ جائے۔
1۔ پہلی سورہ میں بتایا گیا کہ اِن کافروں سے جب کبھی بھی مڈبھیڑ ہو تو چونکہ حق کے انکار کی وجہ سے یہ خدا کے انتقام کے مستحق ہو چکے ہیں، انہیں ہمیشہ بے دریغ قتل کرنا ہے، اور صرف خوب خونریزی کے بعد قیدی بنائے جا سکتے ہیں۔ لیکن اگر قیدی بنا لیے گئے تو پھر انہیں یا تو احساناً آزاد کر دینا ہے اور یا پھر فدیہ لے کر۔ اور انہیں صلح کی پیشکش بھی نہیں کرنی۔ پھر ایک دن آئے گا کہ یہ جنگ ہی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی اور اس کے ساتھ یہ احکامات بھی۔
2۔ دوسری سورہ میں بتایا گیا کہ اب چونکہ انہیں ایک بڑی شکست دے دی گئی ہے، اس لیے اب اگر یہ اپنی طرف سے صلح کی پیشکش کریں تو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم اگر یہ جنگ پر ہی مصر رہیں تو جنگ تو اب اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس سرزمین میں صرف اللہ کا دین نہیں رہ جاتا اور کسی شخص کے لیے اسے اختیار کرنا مشکل نہیں رہتا۔ اور جو قیدی بنا لیے گئے تھے، ان پر احساناً یا فدیہ لے کر چھوڑتے ہوئے یہ بات بھی واضح کر دی گئی کہ ان کے لیے ہدایت کا امکان اب بھی باقی ہے۔
3۔ تیسری سورہ میں فتح کی خوشخبری سنا دی گئی اور بتا دیا گیا کہ ان کی جانب سے پیش کی گئی صلح کی پیشکش قبول کر لی گئی، اگرچہ اگر وہ جنگ ہی پر اصرار کرتے تو مکہ ابھی اسی وقت فتح ہو جاتا۔ جو مسلمان اس اہم موقع پر پیچھے رہ گئے تھے، ان پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا اور بتا دیا گیا کہ اب اِن مسلمانوں کو بھی بس ایک موقع اور دیا جائے گا؛ اگر اس پر بھی اِنہوں نے بیٹھ رہنے کا فیصلہ کیا تو پھر اِنہیں بھی مستحق عذاب سمجھا جائے گا۔
4۔ چوتھی سورہ میں الفتح کے مل جانے کے بعد بتا دیا گیا کہ اب ان سب کفار کو (کچھ مہلت کے بعد جس میں وہ اسلام کو جان سکتے ہیں) قتل کر دیا جائے گا، الّا یہ کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ یعنی اِن کے باب میں نہ احسان، نہ غلامی، نہ معاہد، نہ ذمی، کوئی بھی صورت اختیار نہیں کی جا سکتی؛ اب اِن پر اسلام نہ لانے کی صورت میں اللہ کی سنت کے عین مطابق مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب آئے گا اور اِن کا استیصال کر دیا جائے گا۔
پس وہ مرکزی دشمن کون تھا؟ اگر آپ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ ’’مشرکین عرب‘‘ تھے تو آپ کا جواب صرف پچیس فی صد صحیح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ گروہ ’’کفارِ مکہ‘‘ تھا۔ پہلی تین سورتوں تک یہ بالکل معین رہے۔ ہاں چوتھی سورت میں پہنچ کر اس دائرے کو وسیع کر کے تمام مشرکین عرب تک پھیلا دیا گیا۔ 
اس کو سہل ترین زاویے سے ہی دیکھ لینے سے یہ بات واضح ہو جائے گی۔ پہلی سورہ میں فرمایا گیا کہ ان کی طرف صلح کا ہاتھ نہیں بڑھایا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے پہنچنے کے بعد اس حکم کے نزول سے پہلے اور بعد میں یہودی قبائل سے بھی صلح کے معاہدے کیے اور غیر یہودی قبائل سے بھی۔نہیں کیا تو بس مشرکین مکہ ہی سے۔ دوسری سورہ میں صلح کی پیشکش اگر دوسری جانب سے ہو تو اسے قبول کرنے کی اجازت کا اضافہ کر دیا گیا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ مشرکین مکہ ہی کی طرف صریح اشارہ تھا۔ تیسری میں اس صلح پر تبصرہ جو اِنہی مشرکین سے ہوئی اور چوتھی میں ہر طرح کی صلح کے معاہدے کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا۔ 
دشمن کی تعیین سے اصل میں بتانا یہ مقصود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگیں اگرچہ کثیر رخی تھیں مگر اس کی متنوع لڑیوں میں سے ایک لڑی وہ تھی جو مرکزی اور باقیوں سے مختلف اور اہم تر تھی۔ باقی لڑیاں اس کے ارد گرد اور ضمنی نوعیت کی تھیں۔ اس کے متعلق نہ صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اصلاً عرب کی حکمرانی کی جنگ تھی بلکہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ پہلے معرکے سے ہی ان لوگوں کے خلاف تھی جن پر اتمام حجت ہو چکا تھا۔ پس اس جنگ کے بارے میں دیے گئے احکامات نہ صرف تدریجی تھے بلکہ باعتبارِ مفعول اور وقت دونوں اعتبارات سے ہی خاص اور محدود تھے۔ ان احکامات کا اور کسی گروہ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا اور انہیں عام نہیں کیا جا سکتا۔
اس کو اچھے طریقے سے سمجھنے کے لیے آئیے، آیت کا تجزیہ کرتے ہیں۔

آیت کا تجزیہ

یہ سورہ کی چوتھی آیت ہے۔ پہلی چار آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کر دیا کہ یہ کفارِ مکہ اور متبعین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے فیصلوں کے عین مطابق اب دو ممیز گروہ بن گئے ہیں۔ ایک کفار: جنہوں نے جانتے بوجھتے اللہ کی ہدایت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اس لیے اب اللہ کے بدلہ لینے کے مستحق ہو چکے ہیں۔ اور دوسرے مؤمنین: جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی ہدایت پر ایمان لے آئے ہیں۔ پس اللہ اب ان کفار سے بدلہ لینے کے لیے ان مؤمنین کو اپنے آلے اور جارحے کے طور پر استعمال کرے گا۔ 
یہاں اگرچہ خطاب 'الَّذِینَ کَفَرْوا' کے عام الفاظ سے کیا گیا ہے مگر موقعِ کلام سے مشار الیہ بالکل واضح ہے۔ عام الفاظ سے اشارہ اس لیے کیا گیا ہے کہ جس وقت یہ سورہ نازل ہو رہی ہے، کفار کا لفظ انہی مشرکین مکہ پر صادق آ سکتا تھا۔ پورے عرب میں یہی وہ لوگ تھے جن کے بیچ رہ کر کم و بیش 13 برس تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انذار کیا تھا اور انہی کے متعلق یہ کہا جا سکتا تھا کہ انہوں نے جانتے بوجھتے انکار کیا ہے۔ اور کوئی گروہ150خواہ وہ یہودی ہوں یا باقی عرب کے مشرکین 150ابھی تک مخاطب دعوت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان سب سے صلح کے معاہدے کر لیے گئے یا کوشش کی گئی۔ پس کسی اور کو کافر کہہ کر اللہ کے بدلے کا مستحق گرداننا قبل از قت اور منطقی اعتبار سے ناقابل فہم ہوتا۔ 
اب آئیے آیت پر۔ میں صرف اس آیت کی تحدید سے متعلق وضاحت کرنے پر اکتفا کروں گا کہ باقی تفسیر کے لیے غامدی صاحب کی البیان کی مراجعت کر لی جائے۔ 
اس میں پہلا حکم گردنیں مارتے چلے جانا ہے یہاں تک کہ 'اثخان' کا حق ادا ہو جائے؛ صرف تب قیدی بنائے جا سکتے ہیں۔ پس اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ اس سے کیا مراد ہے ورنہ ان مخصوص احکامات کی حکمت اور قیود واضح نہ ہو پائیں گی۔
اثخان کہتے ہیں ’’الاثخان فی الشیء المبالغۃ فیہ والاکثار منہ‘‘،(۸) کسی کام میں مبالغے اور کثرت کو۔ بالفاظِ دیگر کسی معاملے میں حد اعتدال سے بڑھ کر کام کرنے کو اثخان سے تعبیر کریں گے۔ اسی لیے ہمارے مفسرین نے اسے ٹھیک اچھی طرح کچل دینے، خوب خونریزی کر دینے وغیرہ سے تعبیر کیاہے۔ پر اس کی بالفعل صورت کیا ہو گی اس پر کما حقہ غور نہیں کیا، حالانکہ دوسری سورہ میں اسی کام کو کما حقہ کرنے سے پہلے قیدی بنا لینے پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر برہمی کا اظہار فرمایا۔(۹)
جنگ کا معروف طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی دشمن ہتھیار پھینک کر خود کو قیدی کے طور پر پیش کر دے تو اس سے جنگ نہیں کی جائے گی بلکہ اسے قیدی بنا لیا جائے گا۔ اس اثخان کے حکم سے گویا عرف کی نفی کر دی گئی۔ اثخان کا تقاضا یہ ہے کہ اس وقت تک جب تک دشمن کے اکثر لوگوں کو مار نہ دیا گیا ہو، قیدی بنانے کا عمل شروع نہیں کیا جائے گا۔ یعنی کوئی دشمن چاہے ہتھیار پھینک دے، اسے قتل کر دیا جائے گا الّا یہ کہ جنگ میں وہ موقع آ جائے کہ یہ تسلی ہو جائے کہ دشمن کا اکثر حصہ تہ تیغ کر دیا گیا ہے۔ اس کو سادہ الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ معروف طریقے میں قیدی بننے کا اختیار اسیر کے اپنے پاس ہے۔ اس جنگ میں اس اختیار کو آسر یعنی قیدی بنانے والے کے ہاتھ میں دے دیا گیا اور یہ شرط لگا دی گئی کہ اس اختیار کا استعمال وہ صرف اثخان کے بعد کر سکتا ہے، خواہ کتنے ہی دشمن کسی بھی وقت قیدی بننے کے لیے تیار کیوں نہ ہوں۔ سارے دشمنوں کو بلاتفریق دورانِ جنگ ہی قتل کر دیا جائے تو بھی اس حکم سے انحراف شمار نہیں ہو گا۔
اس حکم سے آپ ہی واضح ہے کہ یہ جنگ صرف جیتنے کے لیے نہیں لڑی جا رہی تھی بلکہ سزا کے لیے لڑی جا رہی تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ خلافِ عرف حکم زیادتی پر محمول ہو سکتا تھا۔ چنانچہ یہ واضح ہے کہ اس حکم کا مصداق صرف ایسا گروہ ہو سکتا ہے جو اللہ کی نظر میں سزا کا حقدار ہو چکا تھا۔مسلمانوں کی عام جنگوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، اور اگر تعلق جوڑا جائے گا تو صاف حکم کے سبب الوجود ( raison d'234tre) کے خلاف ہو گا۔
اس میں دوسرا حکم پکڑے جانے والے قیدیوں کو لازماً رہا کر دینا ہے: یا احسان کے طور پر اور یا فدیہ لے کر۔ یہ ہے وہ اچانک 'خدائی رحمدلی' جو بظاہر بڑی 'فی غیر محلہ' ( out of place) معلوم پڑتی ہے، جس کی وجہ سے یہ پوری طرح سمجھ میں نہیں آتی۔ اسی لیے ہمارے اکثر اسلاف نے اس کی متفرق تاویلات کی ہیں۔ کسی بھی قاری کو صاف محسوس ہو جاتا ہے کہ کلام کا زور جس رخ پر ذہن کو آپ سے آپ منتقل کر رہا تھا، اس میں اچانک اتنا بڑا اور بظاہر غیر مستحق احسان قطعاً خلافِ توقع اور بظاہر ناقابلِ توجیہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گروہ کے متعلق اللہ کی پوری سکیم قاری کے پیش نظر نہیں۔
یہ وہ گروہ تھا جس کے متعلق بلا تفریق قتل عام کی تاریخ طے ہو چکی تھی۔ اللہ کی سنت کے مطابق ان میں سے کسی کافر کو بھی زندہ رہنے کی مہلت اب بس چند سال تھی جس کے بعد ان سب کو علی الاطلاق قتل کر دیا جانا تھا۔ پس جو لوگ اس مخصوص جنگ میں قسمت سے زندہ بچ گئے، ان کو ہدایت پانے کا ایک موقع اور دے دیے جانے کا فیصلہ کہ آخرکار تو ان کے قتل کا فیصلہ آیا ہی چاہتا تھا150 ایک بڑا پر حکمت فیصلہ تھا۔ لہٰذا ہدایت کے اس آخری موقعے کو مزید میٹھا کرنے اور ان کے مؤلفۃ القلوب کے ذریعے ایمان لے آنے کی ترغیب مزید کے لیے اِن پر احسان کر کے انہیں رہا کر دینے کا حکم دے دیا گیا۔ پھر اس احسان سے یہ امید بھی کی جا سکتی تھی کہ ایسے ممنونِ احسان دوبارہ جنگ کے لیے نہ آئیں گے۔ قتل کی سزا کے مستحقین کے لیے غلامی یا قید وغیرہ کی سزاؤں کا اضافہ بے وجہ اور خلافِ حق ہوتا۔ انہیں اپنے آخری ایام آزاد لوگوں کی حیثیت سے اپنا اپنا فیصلہ کر لینے کی خاطر بسر کرنے کی اجازت دیا جانا ہر طرح سے سمجھ میں آتا ہے۔
پس یہ کوئی مجرد اور مطلق خدائی رحم نہیں تھا جو ان لوگوں پر کیا جا رہا تھا۔ یہ اصل میں سزائے موت سے پہلے مہلت مزید تھی۔ اسی لیے آیت میں ہی اس مہلت کے اختتام کی تاریخ بھی مضمر کر دی گئی۔
اس حکم کا آخری حصہ150 یعنی حتی تضع الحرب اوزارھا (یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے)150 وہ تھا جسے آج کل کی قانونی زبان میں 'Sunset Clause' یعنی بند الانقضاء (یا ذیلی شزجوال) سے تعبیر کیا جاتا ہے؛ یعنی وہ وقت یا واقعہ جس کے بعد یہ حکم آپ سے آپ ختم متصور ہو گا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ جو 'اثخان' اور 'اطلاق'151 یعنی 'خونریزی' اور 'رہائی'151 کے غیر معمولی احکامات دیے جا رہے تھے، یہ بس وقتی تھے جو اس وقت منسوخ تصور کیے جائیں گے جب جنگ اپنے ہتھیار اتار دے گی۔ یہ الفاظ چونکہ پورے حکم کے آخر میں آئے ہیں، اس لیے حکم کا کوئی حصہ اس کے اثر سے باہر نہیں سمجھا جا سکتا؛ کہ خونریزی پر تو اس کا اطلاق کیا جائے مگر رہائی پر نہ کیا جائے۔ 
’’جنگ اپنے ہتھیار اتار دے گی‘‘ سے مراد کیا ہے؟ عربی کی اس تعبیر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جنگ پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گی اور جنگ کی کوئی وجہ باقی نہیں رہے گی۔ اس کا اطلاق کسی باقاعدہ جنگ کے دورانیے میں وقتاً فوقتاً لڑے جانے والے معرکوں کے درمیان کسی عارضی نوعیت کے التوا یا معاہدۂ التوا پر نہیں ہو سکتا۔ جس دشمن سے جنگ لڑی جا رہی ہو اس کے خلاف مکمل فتح یا شکست یا پھر وجوہِ جنگ کے بنیاد میں ختم ہو جانے پر ہی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس کا مصداق کیا تھا، اس کی تعیین میں بہت اختلاف رہا ہے۔ کچھ اسلاف کے نزدیک اس سے مراد شرک کا خاتمہ تھا۔ کچھ کے نزدیک مشرکین کی قوت (شوکت) کا خاتمہ تھا۔ کچھ کے نزدیک نزولِ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام تک کا دورانیہ اس کی مراد تھا، کیونکہ وہی ایک ایسا سنگِ میل تھا جس کے بعد دنیا سے جنگ ختم ہو جانا ممکن تھا۔ 
میرے نزدیک یہاں 'الحرب' کا 'ال' عہد کے لیے ہے اور اس قطعے کا واضح مصداق فتح مکہ تھا۔ یعنی 'یہاں تک کہ یہ جنگ اپنے ہتھیار اتار دے' سے مراد یہی جنگ تھی جو عرب کی قانونی حکمرانی کے لیے کفارِ مکہ سے لڑی جا رہی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس نوعیت کی تقیید فرماتے ہیں تو اس کا مصداق بالکل واضح اور متعین ہوتا ہے۔ فتح مکہ سے چونکہ عرب کی حکمرانی قانوناً ( de jure) مسلمانوں کو حاصل ہو گئی، پس باقی سب عرب قبائل کے لیے اسے قبول کرنا لازم ٹھہر گیا اور انہوں نے بحیثیت مجموعی اسے بالفعل تسلیم بھی کر لیا۔ چنانچہ اسلاف میں سے جن نے اس ذیلی جملے کو شرک سے متعلق مانا ہے، میری رائے ان کی رائے کے قریب قریب ہے۔
تاہم یہاں جو بات اہم ترین ہے اور جس پر اصل میں توجہ مبذول کرنا مقصود تھا، وہ اس حکم کی وقتی حدبندی ہے جو 'حتی تضع الحرب اوزارھا' سے مثل آفتاب واضح ہے۔ اس قطع حکم نے اس پورے حکم کو بلا ریب موقت (limited by time) بنا دیا ہے۔ چنانچہ ان مخصوص احکامات کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک وقت زوال، حکم کی پیدائش ہی سے مقرر و بیان کر دیا جانا ان احکامات کی تعمیم میں سب سے پہلے حائل ہے۔
مندرجہ بالا بحث کا حاصل یہ ہے کہ سورہ محمد کی یہ آیت دو اعتبارات سے خاص تھی۔ ایک، یہ مخصوص گروہ یعنی مشرکینِ مکہ کے لیے خاص تھی جو اس سورہ کے قرائن سے بالکل واضح ہے۔ اور دو، ان کے باب میں بھی یہ ایک خاص وقت تک مؤثر تھی اور یہ وقت فتح مکہ کے بعد پورا ہو گیا۔ ان کی حکمت یہ تھی کہ اس گروہ پر اتمامِ حجت کے اور ارادۂ قتلِ رسول و انہدام الاسلام کے بعد اب اللہ کی سزا نافذ ہونی تھی۔ اس لیے اگر جتھہ بندی کر کے آتے تو ان کی خوب خونریزی ہونی چاہیے تھی۔ اور ان میں سے جو خونریزی کے بعد ہاتھ لگ جائیں تو ان کے لیے بھی سزائے موت کی تاریخ چونکہ طے تھی، اس لیے انہیں اس وقت تک کچھ مہلت مزید دے دی جائے تا کہ یہ امید کی جا سکے کہ یہ ایمان لے آئیں گے یا کم از کم لڑنے کے لیے دوبارہ آنے سے شرمائیں گے۔ یہ جنگ کے متعلق احکامات نہیں بلکہ دشمن کے متعلق احکامات ہیں۔ ان سے کسی نوعیت کے عام جنگی احکامات برآمد کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی قائل کے پیش نظر۔یہ سب باتیں خود کلام ہی سے واضح ہیں۔اگر ایسا کرنا پیش نظر ہوتا تو جب تک یہ جنگ ہتھیار اتار دے کی قید تو کبھی نہ لگائی جاتی۔اس لیے محترم غامدی صاحب نے جو ان احکامات کی تعمیم کی ہے یا ان سے غلامی کے متعلق کوئی عام حکمِ امتناع کا استنباط، میری نظر میں وہ درست نہیں۔
اس سے پہلے کہ اس حکم کے منطقی نتائج کا مطالعہ ہم تاریخ کے موازنے سے بھی کر لیں، جنگی قیدیوں سے متعلق 'معروف' کا تذکرہ یہاں مفید معلوم پڑتا ہے۔
1۔ جنگ میں پکڑے جانے والے قیدیوں کے متعلق منصفانہ اور معروف طریقہ یہی ہے کہ انہیں قتل نہیں کیا جائے گا۔ یہ کوئی اسلامی نہیں بلکہ غلامی یا مقتولین کی لاشوں کی واپسی کی طرح ایک اجتماعی اور تاریخی فیصلہ اور آدابِ جنگ کا ایک قاعدہ تھا۔ اگرچہ جنگ میں قیدی اس طرح بھی پکڑے جاتے ہیں کہ دشمن کسی وار یا غیر متوقع حملے کے نتیجے میں غیر مسلح ہو گیا ہو، تاہم اس کی اغلب نوعیت یہی ہوتی ہے کہ مقاتل کسی وجہ سے ایسے گھر گیا ہو کہ لڑائی جاری رکھنے کی صورت میں اس کا مر جانا یقینی ہو۔ پس اپنی جان بخشی کے عوض وہ خود کو قتل سے کم تر ہر طرح کی ذلت پر پیش کرنے کے ارادے سے ہتھیار ڈال کر قیدی بن جائے۔ تاہم وہ کس حال میں پکڑے گئے ہیں، ان کا انجام اس پر بھی معلق ہوتا تھا۔ یعنی اگر وہ لڑتے لڑتے فقط مقہور ہو جانے کے نتیجے میں قیدی بن گئے ہیں تو انہیں بعد میں قتل کی گنجائش باقی رہتی تھی۔ پر اگر وہ دوسرے طریقے سے قیدی بن گئے ہوں اور اکثر ایسا ہی ہوتا تھا تو پھر ایسے اشخاص کے اس فعل کا پاس رکھتے ہوئے انہیں قتل سے خلاصی دے دی جاتی تھی۔ یہ ایک طرح کا 'اتفاقِ اشراف' ( Gentleman's agreement) ہے جو ماضی میں کوئی قانونی نوعیت تو نہیں رکھتا تھا، پر ایک رواج اور نامذکور منطقی سمجھوتے کی حیثیت رکھتا تھا۔پس اس معاملے میں ذلت کی کوئی صورت خلافِ حق متصور نہیں ہوتی مگر قتل قابل کراہت اور اس مسلمہ سمجھوتے کی خلاف ورزی شمار ہوتا ہے۔ الّا یہ کہ قیدی صرف جنگ کا مجرم نہ ہو بلکہ اس سے بڑے کسی جرم کا ارتکاب بھی اس نے کر رکھا ہو، جیسے بغاوت یا فتنہ انگیزی وغیرہ۔ہمارے مذہبی فکر میں اس ضابطے کو اسلام سے مستخرج بتانے کی کوشش کی جاتی ہے جو صحیح نہیں۔ اسلام میں پہلے سے موجود اس اخلاقی ضابطے کی فقط پاسداری کی جاتی ہے۔
2۔ ذلت کی مختلف صورتوں میں سے ایک غلامی بھی تھی۔ زمانہ قدیم کی جنگوں میں اگر قیدیوں کی کوئی جماعت ہاتھ آ جائے تو انہیں قید رکھنا یا تو ممکن نہیں ہوتا تھا اور یا موزوں۔ جن علاقوں میں کوئی باقاعدہ قید خانوں کا نظام نہیں ہوتا تھا یا اس مقصد کی خاطر طویل مدت کے لیے معاشی وسائل کی کمی ، تو قیدیوں کو حکومت کی سطح پر سنبھالنا ممکن نہیں ہوتا تھا۔ اور جن علاقوں میں یہ ممکن ہو بھی تو موزوں اس لیے نہیں ہوتا تھا کہ یا تو ان قیدیوں کو اکٹھا رکھنا ان کی کسی فتنہ انگیزی کی کوشش کو ممکن بنائے رکھتا تھا اور یا پھر جنگ میں لڑنے والوں کے لیے ان سے فائدہ اٹھانا ان کا زیادہ فائدہ مند تصرف سمجھا جاتا تھا۔ان وجوہات کے باعث غلامی بالکل عام اور ایک ناگزیر نتیجہ تھی اور ایک طرح کے انتظامی مسئلے کا قابل عمل حل۔
3۔ قیدیوں کے لیے قتل سے کم تر کسی نوعیت کی سزا تو ایک معقول اور لازمی تقاضا تھی۔ پر اگر مخالفین نے بھی اس طرف کے کچھ قیدی پکڑ رکھے ہوں یا فوج کو مال و متاع کی حاجت ہو تو فدیے کا طریقہ بھی بالکل منطقی طور پر رائج رہا ہے۔ مزید اگر مفتوحین کے ساتھ کسی نوعیت کے سالانہ تاوان پر معاہدہ ہو جائے تو یہ بھی حالات کے اعتبار سے ایک قابلِ عمل طریقہ ہوا کرتا تھا۔ الغرض ایسے بہت سے طریقے رائج رہے ہیں پر اب چونکہ جنیوا کنونشن (Geneva Convention) کے نتیجے میں سب دستخط کنندہ کچھ عالمی قواعد کے پابند ہو گئے ہیں، جو یقیناًایک بہت اعلیٰ چیز ہے، اس لیے اب سب قدیم طریقے ناقابل عمل ہو گئے ہیں۔
4۔ تاہم ماضی میں قیدیوں کے بارے میں کوئی یک طرفہ رحمدلی کا رواج ناممکن تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس طرح کی کوئی رحمدلی دشمن کے لیے ترغیب اور شے دینے کے مترادف ہوتی کہ آؤ ہم پر حملہ کرو اور اگر حملے میں کامیاب نہ ہو پاؤ اور پکڑے جاؤ تو تسلی رکھو، ہمارے لیے تمہیں واپس کرنا لازمی ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس نوعیت کا کوئی ابدی فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کر دیا ہے تو اس پر مجھے تو بہت حیرانی ہوتی ہے۔ یعنی کوئی ایک طرف کے قیدیوں کے ساتھ جو مرضی کرتا پھرے، دوسری طرف اگر قیدی پکڑ لے تو رہا کرنے کے پابند؟ اگر یہ حملے کی پیشکش اور ترغیب نہیں تو اور کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ سے ایسی کسی نامعقولیت کی توقع میرے لیے ناممکن ہے۔
اب آئیے اس آیت کے نتائج تاریخی واقعات کے تقابل سے جانچتے ہیں:
1۔ یہ احکامات مشرکین مکہ سے متعلق تھے۔ پس تاریخی روایات کا مطالعہ کریں تو کہیں کوئی معاملہ اس سے ہٹ کر نظر نہیں آتا۔ جنگ بدر اور اس سے پہلے کے سریے میں پکڑے جانے والے سب قیدیوں کو احساناً یا فدیہ لے کر رہا کر دیا گیا۔ ایک دو سرداروں کو قتل کیا گیا پر وہ اصلاً فتنہ انگیزی کی سزا تھی۔ اس طرح کے استثنائی قتل باقی جنگوں میں بھی کیے گئے مگر یہ وہ لوگ تھے جن کے بارے میں علیٰ لسانِ داود کے طرز پر علی لسانِ محمد ان کے متعلق پہلے ہی فیصلہ سنایا جا چکا تھا۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کچھ حملہ آور ان میں سے پکڑ لیے گئے تو انہیں بھی احساناً رہا کر دیا گیا۔الغرض ان کے متعلق ان احکامات کی سختی سے پیروی کی گئی۔
2۔ جب یہ احکامات مشرکینِ مکہ تک محدود تھے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ یہود و نصاریٰ اس کے اثر سے باہر رہیں۔ یعنی چاہے کوئی مشرکین مکہ تک اس گھیرے کو تنگ سمجھے نہ سمجھے، اہل کتاب کے منفرد تشخص اور قرآنی احکامات میں ہمیشہ ایک علیحدہ اکائی کی حیثیت سے ان کے بارے میں قانون سازی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ ان کے متعلق اللہ کی اسکیم شروع ہی سے نہ صرف مختلف الشکل ( Structurally different) تھی بلکہ مختلف الطور (Out of phase) بھی تھی۔اِدھر اتمامِ حجت کی تکمیل ہو چکی تھی اور اْدھرابھی دعوت کا آغاز ہوا تھا۔ اِدھر ہر طرح کی صلح منع اور ادھر صلح ہی سے آغاز۔ وھکَذَا دَوَالَیک۔ ہر سورہ میں اترنے والے تدریجی احکامات میں بھی ان کی شناخت ہمیشہ علیحدہ سے کی گئی۔یہاں تک کہ جب آخری فیصلہ چوتھی سورہ میں آیا تو وہاں بھی اِن کے وجود کو علیحدہ تسلیم کرتے ہوئے علیحدہ احکامات ہی دیے گئے اور قتل کے بجائے محکومی کی سزا سنا دی گئی۔ اس لیے اس بات میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ وہ اس آیت کی حدود سے باہر تھے اور رہے بھی۔ پس یہود کے بارے میں تاریخ میں بھی یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ نہ تو کبھی ان کے خلاف اثخان کی نوبت آئی (۱۰)اور نہ ہی کبھی جنگ کے زمانی عرف سے ہٹ کر کسی اور امر کو ان کے معاملے میں فیصلہ سازی کے لیے استعمال کیا گیا۔ نصاریٰ سے بھی جب بالفعل مڈبھیڑ ہوئی تو جلیل القدر صحابہ نے کبھی ایسے احکامات نہیں دیے اور معاملات نہیں کیے جن سے یہ شک بھی گزرتا ہو کہ وہ اس حکم کو ان پر مؤثر مانتے تھے۔
3۔ تیسرا گروہ مشرکین عرب باستثناء مشرکین مکہ تھا۔یہ گروہ بھی اس آیت کی مار کے علاقے سے باہر تھا۔ ان کے بارے میں نہ یہ کہا جا سکتا تھا کہ انہوں نے جانتے بوجھتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا دیا تھا اور نہ ہی یہ ابھی اسلام کے خلاف برسر پیکار تھے۔ ہاں مگر چونکہ اس گروہ کے متعلق اسکیم شکل کے اعتبار سے تو وہی تھی جو مشرکین مکہ کے متعلق تھی، صرف مختلف الطور تھی، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو ان پر بھی اس حکم کا اطلاق کر دیتے؛ پر ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے احکامات کی پوری روح کا خیال کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا۔ اس سورہ کے نزول کے بعد اگر ان سے کبھی مقابلہ ہوا بھی تو ان پر کبھی ان احکامات کا اجرا نہیں کیا گیا۔ پھر مکہ فتح ہو گیا اور یہ احکامات آپ سے آپ منسوخ۔ تاہم آخری حکم جو چوتھی سورہ میں نازل ہوا جس کے تحت سب مشرکین کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک دیا گیا، فتح مکہ کے بعد اور اس آخری حکم سے پہلے اگر کسی مشرک قبیلے سے جنگ ہوئی بھی تو ان پر ان منسوخ احکامات کی بنا پر سلوک نہیں کیا گیا۔ بلکہ جنگ کا عرف ہی کارفرما رہا، جیسے مثلاً غزوہ حنین وغیرہ۔
4۔ چوتھا گروہ عرب سے باہر کی قوموں کا تھا۔ یہ چاہے یہود و نصاریٰ تھے اور چاہے شرک و متفرق ادیان کے ماننے والے، ان کے متعلق اگر کبھی اشتباہ ہوا بھی تو ٹھیک قیاس کرتے ہوئے ان پر جنگ کے عرف کا ہی اطلاق کیا گیا۔پس زمانے کی مناسبت سے سارے معروف آپشنز قابل عمل سمجھے گئے۔

اختتامیہ

میری رائے کے مطابق سورہ محمد کی چوتھی آیت چونکہ باعتبارِ مفعول اور باعتبارِ وقت دونوں اعتبارات سے خاص ہے اس لیے اس کی تعمیم نہیں ہو سکتی۔ ان کی تخصیص نہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین تک تھی بلکہ اس میں سے بھی ایک مخصوص گروہ کے لیے تھی۔ اور پھر یہ موقت بھی تھے جس کا بیان ’’یہاں تک کہ یہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے‘‘ میں ہوا ہے۔ اس کی تعمیم کرنا دراصل اس اسکیم کو نظر انداز کر دینے کے مترادف ہے جو اتمامِ حجت کے لیے تدریجی نوعیت لیے ہوئے تھی اور جو قرآنی قرآئن ہی سے نہیں بلکہ اسی سورہ اور آیت کے درو بست سے بھی بالکل واضح ہے۔ ہذا ما عندی والعلم عند اللہ

حواشی

۱۔ سورہ کا ایک اور نام سورۂ قتال بھی ہے۔
2.https://ammarnasir.wordpress.com/2016/04/30/اسیران۔جنگ۔کو۔غلام۔بنانے۔کا۔جواز/; http://ibcurdu.com/news/24492; 
۳۔ البیان، دیکھیے آیت 4 سورہ محمد۔ یہ آن لائن بھی یہاں دیکھا جا سکتا ہے:
http://www.javedahmadghamidi.com/quran/albayaan/127/P1
۴۔ یعنی الفتح جو ظاہر ہے کہ فتح مکہ ہے۔
۵۔ یعنی غزوۂ بدر کے فوراً بعد
۶۔ اگرچہ اس سورہ کی کچھ آیات اس الفتح سے پہلے بھی نازل ہوئیں ہیں، تاہم اس کا اکثر حصہ بعد کا ہی ہے۔
۷۔ اس سلسلے میں اگرچہ کچھ سورتوں کا اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے جیسے آلِ عمران کا کچھ حصہ اور سورۃ الاحزاب وغیرہ، مگر جو نکتہ میں سمجھانا چاہتا ہوں اس کے لیے یہ چار سورتیں کفایت کریں گی۔
۸۔ لسان العرب، دیکھیے ثخن۔
۹۔ سورۃ الانفال 8:67۔
۱۰۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ یہود نے کبھی کھلے میدان میں آ کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا ہی نہیں۔ تاہم جو معاملات اْن کے ساتھ مختلف فتوحات کے بعد کیے گئے ان سے یہ بات واضح ہے کہ انہیں بجا طور پر اس آیت کے تحت نہیں دیکھا گیا۔

مباحث فطرت و اخلاق: بحث کیا ہے؟

محمد زاہد صدیق مغل

"فطرت بطور ماخذ" کی بحث میں فطرت کے ماخذ ہونے کا انکار کرنے والے گروہ پر نقد کرتے ہوئے مختلف احباب غیر متعلق و غلط فہمیوں پر مبنی استدلال پیش کرتے ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اختصار کے ساتھ ان کی وضاحت کردی جائے تاکہ نفس موضوع و بحث واضح ہوسکے اور کم از کم گفتگو تو اصل مدعے پر ہوا کرے۔

پہلی غلطی

اس ضمن میں پہلی غلطی یہ سوال ہوتا ہے: تو کیا آپ اسلام کو دین فطرت نہیں مانتے، یہ بات تو نصوص کے خلاف ہے؟ پھر چند نصوص پیش کرکے یہ ثابت کرنا شروع کردیا جاتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے انسان کی ایک فطرت بنائی ہے وغیرہ۔

تبصرہ

یہ سوال اور یہ استدلال ہی زیر بحث گفتگو میں غیر متعلق ہے کیونکہ بحث یہ نہیں کہ آیا انسان کی کوئی فطرت ہے یا نہیں، نیز کیا اللہ تعالیٰ کے احکامات انسانی فطرت کے مطابق ہیں۔ ہم نہ تو اس کے منکر ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا ہے اور نہ ہی تبلیغ و دعوت دین کو ریشنلائز کرنے کے لیے فطرت کی دلیل کو اپیل کرنے کی اہمیت کے انکاری ہیں کہ آپ آیات سے یہ امور ثابت کریں۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اسلام دین فطرت ہے، شارع کا ہر حکم انسانی فطرت ہی کی آواز ہے، اسی بنیاد پر ہم ایک غیر مسلم و ملحد کو خطاب کرتے ہیں کہ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب۔ نیز شارع کی بات اصلاً "تذکیر" (عہد الست کی یاد دہانی ہی) ہے۔ اس پہلو سے فطرت (سلیمہ) ایک آئینے کی طرح ہے جو جس قدر خالص ہوگا، حقیقت اعلیٰ اور اس کے تقاضوں کی طرف اسی قدر مضبوط رجحان رکھتی ہوگا۔ اسلامی تاریخ میں صوفیاء کا پورا نظام اسی مقصد کے لئے تھا کہ نفس انسانی کو ظلمات سے پاک کرکے اسے اصل حالت (معرفت رب) پر لایا جائے۔ اس تناظر میں جو کچھ آیات پیش کی جاتی ہیں ان کا حاصل یہی کچھ ہے اور معاملے کے اس پہلو سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ اسلام محض کوئی کلامی و قانونی کتاب تھوڑی ہے، یہ دعوتی و تبلیغی اپیل کو بھی شامل ہے۔
لیکن یہ اس معاملے کا صرف دعوتی و تبلیغی پہلو ہے۔ جب اس سکے کو ایک منطقی و متکلم گھما کر یوں پیش کرتا ہے کہ "اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسانی فطرت گویا الگ سے ایک ماخذ ہے جسے خیر و شر کے معاملے میں وحی کے بغیر معلوم کرکے بھی اس سے راہنمائی لی جاسکتی ہے" تو اب یہ سوال کلامی و قانونی بن جاتا ہے کہ شارع کے حکم کی قانونی بنیاد کیا ہے، نیز اگر فطرت و عقل رہھنمائی کے لئے کافی ہیں تو پھر شارع کی ضرورت و مقام کیا ہے؟
سکے کو پلٹنے کے بعد اب متعلقہ سوال یہ نہیں رہتا کہ "کیا انسان کی کوئی فطرت ہے یا نہیں" بلکہ یہ بنتا ہے کہ "ماقبل وحی" جس انسانی فطرت کو ماخذ خیر و شر مانا جارہا ہے، وہ کیا ہے؟ نیز اس کا تعین کیسے ہوتا ہے؟ اس بحث میں نصوص اصولاً لائق استدلال نہیں رہتیں کیونکہ یہ بحث ماقبل نصوص حالت کے بارے میں ہے نہ کہ مابعد نصوص۔ اگر فطرت ماخذ ہے تو اس کے مشمولات کا تعین نصوص سے نہیں بلکہ از خود انسانی فطرت کے کسی مطالعے پر مبنی ہوگا۔ لہٰذا جو حضرات اس بحث میں نصوص پیش کرتے ہیں، وہ ایک اصولی غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یہ بحث "فطرت کے مجرد وجود" کے انکار کی نہیں کہ جسے ثابت کرنے کے لئے آپ آیات پیش کررہے ہیں بلکہ بحث "بدون وحی اس کے مافیہ و مشمولات کے تعین" کی رہی ہے۔ یہاں نصوص سے کام لینا ایک منطقی تضاد ہے کیونکہ ماخذ ماخوذ نہیں ہوتا، یعنی اس کے مشمولات (content) کا تعین کسی دوسرے ماخذ سے نہیں کیا جاتا۔

دوسری غلطی

متعلقہ بحث کے تعین میں دوسری اہم ترین غلطی فطرت کے دو مختلف معنی کو گڈ مڈ کردینا ہوتا ہے، ایک "فطرت بطور صلاحیت" اور دوسرا فطرت "بطور قدر(ماخذ خیر)"۔ چنانچہ عموماً یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ دیکھئے جناب حیا وغیرہ تو فطری چیزیں ہیں، ہر کوئی محسوس کرتا ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ فطرت ماخذ ہے۔

تبصرہ

یہاں فطرت کے دونوں معنی کا فرق سمجھنا لازم ہے۔
1) فطرت بمعنی صلاحیت nature as potential))۔ اس معنی کے لحاظ سے فطرت کا مطلب "انسان کے لئے کیا کرنا ممکن ہے؟" ہوتا ہے۔ یعنی انسان کے اندر کس امر و عمل کی صلاحیت ہے اور کس کی نہیں۔ اس لحاظ سے جو اس کی صلاحیت ہوگی، وہ اس کے لئے فطری بھی ہوگا۔ فطرت بطور صلاحیت کے لحاظ سے سچ اور جھوٹ بولنا، محبت و نفرت کرنا، حرص، حسد، غضب، بغض، صبر، غنا، ایثار، توکل، رحم وغیرہ انسان کے لئے سب کچھ "یکساں طور پر" فطری ہے، ان معنی میں کہ انسان کے لئے یہ سب "کرنا ممکن ہے"۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جب میں حرص، حسد، شہوت یا غضب سے مغلوب ہوتا ہوں تو کچھ ایسا کرتا ہوں جو میرے لئے غیر فطری (بمعنی ناممکن) ہو۔ اس کے برعکس مثلا پانی میں سانس لینا انسان کے لئے غیر فطری ہے (کم از کم اب تک)، ان معنی میں کہ انسان ایسا نہیں کرسکتا۔ چنانچہ فطرت کو جب صلاحیت (what is possible) کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے تو اسے positive conception of nature ( مثبت تصور فطرت) کہتے ہیں۔
2) فطرت بمعنی خیر، عدل یا معیاری نفسانی کیفیت (nature as normal behavior)۔ اس معنی کے اعتبار سے فطرت کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ "امکانی طور پر انسان جو کرسکتا ہے اس میں سے معیاری طور پر مطلوب طرز عمل کیا ہے؟" اب فطرت پوٹنشل نہیں بلکہ اس پوٹنشل کے جائز اظہار کا نام پوتا ہے، یعنی یہ کہ "کیا کرنا جائز (عدل) ہے اور کیا نہیں؟" فطرت کو جب اس معنی میں استعمال کیا جاتا ہے تو اسے normative conception of nature (اخلاقی تصور فطرت) کہتے ہیں۔
چنانچہ جب فطرت کو خیر و شر کے ماخذ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو وہاں فطرت پہلے نہیں بلکہ دوسرے معنی میں بولا جا رہا ہوتا ہے۔ یعنی اس گفتگو میں متعلقہ سوال یہ نہیں ہوتا کہ "انسان کے لئے بطور صلاحیت کیا کرنا ممکن (فطری) ہے؟" بلکہ یہ ہوتا ہے کہ "انسان کے لئے کونسا طرز عمل اختیار کرنا جائز و معیاری (فطری) ہے؟" جب فطرت کو خیر و شر کا ماخذ قرار دیا جاتا ہے، تو دراصل دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ "انسان کے لئے کیا جائز ہے اور کیا نہیں، اس کا جواب نفس کی کسی معلوم معیاری کیفیت سے جاننا ممکن ہے"۔ دوسرے لفظوں میں "فطرت بطور آزاد ماخذ" کا مطلب "معیاری انسانی کیفیات کے علم" کا ایسا دعوی ہے جو کسی دوسرے ذریعہ علم سے ماخوذ نہیں۔
اب اگر "حیا" کے جذبے کی مثال لی جائے تو "بطور صلاحیت" اس کا معنی کسی ایسے جذبے کے وجود کا نام ہے جس کی بنیاد پر انسان کسی شے کے اظہار سے بچنے کا داعیہ محسوس کرتا ہے۔ اس اعتبار سے حیا "آنکھ سے دیکھ سکنے جیسی صلاحیت" ہی طرح ایک شے ہے جو کسی امر کے خیر و شر ہونے کا معیار بننے لائق نہیں۔ یعنی جیسے دیکھ سکنے کی صلاحیت "کیا دیکھنا ہے اور کیا نہیں" کی بحث میں دلیل نہیں ہے اسی طرح حیا جیسے جذبے کے تحت کسی شے کے اظہار سے بچنے کا داعیہ محسوس کرنا "کس شے کو برا سمجھنا ہے یا نہیں" میں کوئی دلیل نہیں۔
خوب یاد رکھنا چاہیے کہ what is possible اور what is normal دو الگ سوالات ہیں۔ ہاں اگر یہ "مفروضہ" مان لیا جائے کہ "جو کچھ ممکن ہے وہ جائز ہے" تو اب یہ بذات خود ایک "اخلاقی تصور فطرت" بن جاتا ہے۔ یہاں خلط مبحث یہ ہوتا ہے کہ فطرت کو ماخذ قرار دینے والے حضرات یہ ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں کہ "حیا محسوس کرنا ایک فطری (بمعنی صلاحیت) چیز ہے" جبکہ اس کا تو کوئی انکار ہی نہیں کررہا ہوتا کہ یہ انسان کی ایک صلاحیت ہے۔ اصل گفتگو اس "صلاحیت کا وجود ثابت کرنے" کی نہیں بلکہ اس "موجود صلاحیت کو معیار ثابت کرنے" کی ہوتی ہے مگر اسے سمجھے بغیر محض وجود صلاحیت کے غیر متعلق دلائل دئیے جارہے ہوتے ہیں۔ پس اس فرق کو ملحوظ رکھنا لازم ہے۔

تیسری غلطی

اس ضمن میں تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ فطرت کو ماخذ خیر و شر نہ ماننے والوں کی بنیادی دلیل یہ فرض کرلینا ہے کہ "چونکہ تعیین فطرت میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہوجاتا ہے، لہٰذا اسے ماخذ نہیں مانا جا سکتا"۔ پھر یہ حضرات اس دلیل کو از خود چند مثالوں سے رد کرتے ہیں (کہ مثلاً خوبصورتی کی تعریف پر اگرچہ اختلاف ہے مگر اس کا یہ معنی نہیں کہ خوبصورت کا وجود نہیں یا اس کا تعین ممکن نہیں وغیرہ۔ بعض لوگ تو اس بحث میں "تعریف کی مشکلات" میں پھنس کر رہ گئے)۔

تبصرہ

یہاں یہ نشاندہی کرنا مقصود ہے کہ فطرت کی تعیین کی متعلقہ بحث (کہ "بدون وحی فطرت بطور قدر" کا تعین کیسے ہوتا ہے) میں اصل نکتہ "اختلاف ہوجانے کا مسئلہ نہیں" بلکہ "ابتدائی صورت (starting point)" اور اس کے "قابل اعتبار" ہونے کا ہے۔ یعنی یہاں اصل سوالات یہ ہیں کہ
1) کس کی فطرت" اصل ہونے کا اعتبار ہوگا، فرد کی یا گروہ کی؟ یعنی جس کی فطرت کو معیار مانا جارہا ہے آیا وہ ایک قبل از معاشرہ بطور اکیلا فرد وجود ہے یا کسی معاشرے میں بسنے والا ایک تاریخی فرد؟
2) اگر اکیلے فرد کی تو جس کی فطرت کو معیار مانا جارہا ہے وہ ابوبکر، زید، ایڈم سمتھ، مارکس، رالز، عبداللہ وغیرہم میں سے کس کی فطرت ہے؟
3) پھر اگر وہ اکیلا فرد ہی ہے تو اس کے مشمولات فطرت کا تعین کن اصولوں کے تحت ہوتا ہے؟ اس کے متعدد جواب ہوسکتے ہیں۔ مثلاً
الف) ہر فرد خود اپنے نفس میں جھانک کر طے کرلے کہ کیا فطری ہے اور کیا غیر فطری۔ ظاہر ہے یہ جواب غلط ہے کیونکہ یہاں جتنے منہ اتنی باتیں والا معاملہ ہوگا اور ہر کوئی اپنی ہی عادات، اطوار، رجحانات و میلانات کو ہی فطری قرار دے گا (نیز ان میں سے ہو شخص ایک "تاریخی فرد" ہی ہوگا)۔
ب) ایک مخصوص فرد یہ طے کرے۔ یہاں اس "مخصوص" کے تعین کا سوال کھڑا ہوگا
ج) انبیاء و صلحاء کی فطرت معیار ہوگی۔ لیکن صورت میں ماخذ شرع ہوئی نہ کہ مجرد فرد
4) اگر وہ اکیلا فرد ہی ہے تو اس کی "حالت اصلی" کی بابت معلومات وحی سے ماسواء کس ذریعہ علم سے میسر آئیں؟ ایسا انسان کب اور کہاں پایا گیا؟ کیا اس انسانی حالت پر بسنے والے کسی انسان کا کوئی معتبر تاریخی ریکارڈ موجود ہے کہ جسے دیکھ کر یہ بتایا جاسکے کہ "فلاں فلاں عمل کا اچھا یا برا سمجھنا حالت اصلی کا تقاضا ہے"؟
5) اگر وہ انسان معاشرے کے اندر بسنے والا ایک تاریخی فرد ہے تو اختلاف تاریخ و معاشرتی عوامل نے کیا اس کی فطرت کو حالت اصلی پر چھوڑا ہوگا؟ ایسے انسان میں کیا کچھ اصل ہے اور کیا کچھ مسخ ہوچکا، اس کا فیصلہ کون اور کس بنیاد پر کررہا ہے؟ ہر فرد کی تاریخ یہ ہے کہ وہ چند معین نظریات و میلانات رکھنے والے ماں باپ کے یہاں پیدا ہوتا ہے، اپنے ارد گرد چند معین نظریات و میلانات رکھنے والے معاشرے میں تربیت پاتا ہے، چند معین نظریات و میلانات رکھنے والے تعلیمی نظام میں علم حاصل کرکے "اپنے شعور" کو تعمیر کرتا ہے۔ تو ایسی صورت میں آخر یہ تاریخی فرد کیسے اس سوال کے جواب کا حوالہ بن سکتا ہے کہ "حالت اصلی کا تقاضا کیا ہے؟" کیا اس تمام سوشل کنڈیشننگ کے بعد کسی بھی فرد یا گروہ کے میلانات کا "سٹینڈرڈ" (حالت اصلی) پر برقرار ہونے کا دعوی کیا جاسکتا ہے؟ کیا ماخذ کا سٹینڈرڈ ہونا ضروری نہیں؟ 
یہ ہیں چند حقیقی سوالات جن کا کوئی واضح جواب دئیے بغیر فطرت کو ماخذ کہنا صرف ایک ہوائی بات ہے جس کی بنا پر اپنے نکتہ نظر میں ایک داعیانہ اپیل تو پیدا کی جاسکتی ہے مگر قانونی مسائل حل نہیں کئے جاسکتے

چوتھی غلطی

چوتھی غلطی "فطرت کو ماخذ ثابت کرنے" کا یہ غلط استدلال ہے کہ نصوص بھی خیر و شر کے چند معیاری بدیہی یا فطری تصورات ہی کے تناظر میں انسان سے خطاب کرتی ہیں۔ اس ضمن میں ایک دلیل یہ ہے کہ مثلاً جب شارع کہتا ہے کہ "زنا کے قریب مت جاؤ کہ بے شک یہ کھلی ہوئی فحاشی ہے" (لاتقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ) تو یہ بات کہنے سے قبل قران نے فحاشی کی تفصیل تو نہیں بتا رکھی تھی کہ جس کے بعد پھر زنا کو بالتخصیص ذکر کرکے فحاشی کہا، بلکہ معاملہ یوں ہے کہ فحش کا یہ تصور پہلے سے مخاطب کی فطرت میں ہی موجود تھا اور اسی کی بنیاد پر اسے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ عمل فحاشی ہے، بصورت دیگر کلام ممکن نہیں۔اس دلیل کا حاصل یہ ہے کہ فحاشی وغیرہ الگ سے متعین اخلاقی قدریں ہیں نیز وہ شارع کا کلام نازل ہونے سے قبل بھی شارع اور بندے کے مابین مشترک تھیں اور انہی کی بنیاد پر شارع نے بندے سے کلام کیا۔ پس ثابت ہوا کہ فطرت و نفس انسانی میں اخلاقی تصورات کے چند معیاری مفاہیم ماننا لازم ہے۔

تبصرہ

اس ضمن میں پہلی اصولی بات یہ سمجھنی چاہئے کہ مثلا فحاشی ایک شرعی اصطلاح ہے جس کا تعین تمام متعلقہ نصوص کو مد نظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص فحاشی کے نام پر جو کچھ کہتا پھرے مسلمان اسے محض کسی کے ایسا کہنے کی بنا پر قبول نہیں کرلیتے بلکہ کسی عمل سے متعلق فحاشی کے دعوے کو نصوص اور ان کے مقاصد و مضمرات پر تولا جاتا ہے۔ اگر آپ پاکستان کے مختلف صوبوں کے دیہاتوں کا چکرلگا آئیں تو آپ کو فحاشی کے عجیب و غریب فرسودہ قسم کے تصورات ملیں گے اور اگر جدید تعلیمی اداروں اور میڈیا ھاؤسز کا چکر لگا آئیں تو اسی فحاشی کے جاہلیت پر مبنی تصورات ملیں گے جبکہ یہ سب اپنے تصورات کو فطری ہی سمجھتے ہیں۔ الغرض فحاشی شرع سے ڈیفائن ہوتی ہے، فحاشی کا ایسا تصور جو نصوص اور اس کے مضمرات سے ہم آہنگ نہ ہو، وہ غیر معتبر ہے۔ یہ اصولی بات اگر مد نظر رہے تو شارع کے اس کلام کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں رہتی۔ پس اس اعتبار سے شارع کا قول "انہ کان فاحشۃ" فحاشی کے کسی معیاری فطری تصور پر متفرع نہیں بلکہ اس عمل کے فحش ہونے کی دلیل و بیان ہے۔
اس بات کو دوسرے پہلو سے یوں سمجھئے کہ شارع کسی مجرد فرد سے مخاطب نہیں ہوتا رہا بلکہ ایک ایسے تاریخی انسان سے مخاطب ہوا جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی۔ اس تاریخی انسان کے پاس انبیاء کی حق تعلیمات اور نفس انسانی کے اپنی طرف سے وضع کردہ ملغوبے کی بنا پر فحاشی کے بہت سے تصورات موجود تھے۔ تو جب شارع نے اس انسان کو خطاب کرکے کہا کہ "انہ کان فاحشۃ" تو حوالہ وہی برحق تصورات تھے جس سے وہ تاریخی طور پر واقف اور قائل رہے تھے۔ الغرض یہ پورا استدلال "ایک مجرد فطری فرد" کے تناظر میں وضع کیا گیا ہے، جبکہ شارع کے اس کلام کے بامعنی ہونے کے لئے "مجرد فطری فرد" نہیں بلکہ "تاریخی فرد" کا تناظر درکار ہے۔ اگر زنا یا ننگ پن جیسے افعال کو کسی ایسے شخص کے سامنے فحش قرار دے کر پیش کیا جائے جو تاریخی طور پر کسی ایسی تاریخ اور معاشرت سے تعلق رکھتا ہو جہاں ان اعمال کو فحش ہی نہ سمجھا جاتا ہو اور اس بنا پر وہ فرد بھی یہی رائے رکھتا ہو تو ظاہر ہے اس کے لئے اس آیت کا کوئی معنی نہیں ہوگا۔ پس یاد رکھنا چاہئے کہ انسان ایک تاریخی وجود ہے نہ کہ مجرد۔ اگر یہ تناظر درست کرلیا جائے تو بہت سے اشکالات پیدا ہی نہ ہوں۔

پانچویں غلطی

فطرت بطور ماخذ کو ثابت کرنے کے لئے اسی نوع کی ایک مزید دلیل مشہور فلسفی کانٹ کی طرز کا ایک استدلال پیش کیا ہے۔ کانٹ کا کہنا تھا کہ (سائنسی) علم نہ تو اکیلے تجربے سے تخلیق ہوتا ہے اور نہ ہی مجرد عقل سے، بلکہ علم عقل کی ساخت (جنہیں وہ عقل کی کیٹیگریز کہتا ہے) اور تجربے کی ماہیت سے ملکر کر بنتا ہے۔ اگر عقل کے اندر ساخت فرض نہ کی جائے تو تجربے سے جو ڈیٹا آتا ہے، اس سے کوئی بامعنی بات معلوم ہونا ممکن نہیں۔ الغرض کائنات کے بارے میں جو ڈیٹا حواس کے ذریعے موصول ہوتا ہے، عقل کی ساخت اسے بامعنی تعلقات میں ڈھال دیتی ہے۔چنانچہ اسی طرز پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ انسان کو مخاطب کرنے والی وحی ایک بیرونی ہدایت کی طرح ہے، جب تک اس خطاب کو وصول کرنے والے انسان کے اندر اس خیر کا وجود نہ مانا جائے جس کی پیروی کرنے کا وحی اسے حکم دیتی ہے، اس وقت تک یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان اس خطاب کو سمجھے اور اس کی پیروی کرے؟ اگر انسان میں خیر و شر کا کوئی فطری ادراک موجود نہیں تو انسان خدا کے بتائے ہوئے خیر و شر کو پہچانتا کس بنیاد پر ہے؟ سمجھنے کی خاطر یوں مثال لیں کہ اگر خدا کا کلام کسی مشین پر یا کسی جانور پر پڑھا جائے تو وہ محض اس کلام کے پڑھے جانے کی بنا پر نہ تو اس کلام کو سمجھ سکتاہے اور نہ ہی مکلف ہوجائے گا کیونکہ وہ اپنے اندر اخلاقی تصورات کی عدم موجودگی کی وجہ سے اسے سمجھ ہی نہیں سکتا۔ گویا کانٹ کی دلیل کی طرز پر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وحی سے خیروشر معلوم ہونے کے لئے ابتداءً یہ ماننا لازم ہے کہ نفس انسانی میں خیروشر کا ادراک موجود ہے، خیروشر کا یہی انسانی ادراک وحی کو معنی دیتا ہے۔
حاصل دلیل یہ کہ اگر انسان کو خدا کے حکم کا مکلف ماننا ہے تو یہ ماننا ضروری ہے کہ انسان ایک اخلاقی وجود (normative being) ہے، اس کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ خداداد صلاحیت کی بنا پر خیر و شر کا فیصلہ کرسکے۔ اس دلیل سے وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ "انسان کو مکلف اور قابل مواخذہ ٹھہرانے کی آخری بنیاد یہی فطری علم ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو سرے سے انسان کو مکلف اور اخلاقی لحاظ سے کسی بھی حکم کا پابند بنانا ہی ممکن نہیں۔ جن علمائے کلام نے علم فطرت کی اہمیت کی نفی کرتے ہوئے، محض ’’حکم شرع‘‘ کو بنائے تکلیف قرار دیا ہے، انھوں نے اس سوال پر شاید غور نہیں کیا کہ ’’حکم شرع‘‘ کی پابندی کو انسان پر لازم کرنا بھی اصل میں انسانی فطرت میں موجود کسی اخلاقی تصور کے بغیر ممکن نہیں۔"

تبصرہ

اس دلیل میں چنداں مسائل ہیں، سردست دو مسائل اہم تر ہیں۔ اس پوری دلیل کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو ایک اخلاقی وجود ماننا لازم ہے، یعنی یہ کہ خیروشر کے (کچھ نہ کچھ) تصورات بہرحال انسان کے پاس موجود ہیں۔ لیکن یہ دلیل اصل نکتے کو ایڈریس نہیں کرتی کیونکہ اصل بحث یہ نہیں کہ "آیا انسان کوئی اخلاقی وجود ہے یا نہیں" (اس کا تو ہم نے انکار کیا ہی نہیں کہ جسے ثابت کرنے کے لئے دلیل لانے کی ضرورت ہو۔ ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ انسان good essentially ہے اور گناہ، یعنی اپنے رب کی بات کی مخالفت، اس کی فطرت کے خلاف ہے) بلکہ یہ ہے کہ "اس اخلاقی وجود کی تفصیلات (content) کیا ہیں" نیز "کیا بدون وحی ان تفصیلات کو جان لینا ممکن ہے؟" چنانچہ یہ دلیل اصل مسئلے کو حل کرنے میں مددگار نہیں۔ اس دلیل میں یہ بعینہ وہی مسئلہ ہے جو غامدی صاحب کی دلیل میں بھی موجود ہے، یعنی "تعیین فطرت" کے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے "وجود فطرت" کی دلیل دینا اور اسی کی طرف غلط فہمی نمبر ایک میں اشارہ کیا گیا تھا۔ المختصر "وجود فطرت" کا لزوم "تفصیلات فطرت" جان سکنے کو مستلزم نہیں، اس دوسرے مقدمے کے لئے مستقل دلیل درکار ہے جو اس پورے استدلال میں موجود نہیں۔
پھر دیکھئے، کانٹ جب یہ کہتا ہے کہ علم درحقیقت عقل (اندرون) اور تجربے (بیرون) سے مل کر بنتا ہے تو وہ اپنے تئیں تجربے سے ماوراء رہتے ہوئے عقل کی ساخت متعین کرتا ہے (جسے وہ "عقل کی کیٹیگریز" کہتا ہے)۔ لہٰذا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ خیروشر کی تعیین میں جس فطری ساخت کو آپ اصل قاضی بنانا چاہتے ہیں اس کی ساخت یا کنٹنٹ کیا ہے؟ جس طرح کانٹ "بیرونی تجربے سے ماوراء رہتے ہوئے" عقل کی اندرونی ساخت کی تفصیلات بتاتا ہے، کیا بعینہ "بیرونی وحی سے ماوراء رہتے ہوئے" فطرت کی اندرونی تفصیلات متعین کرنا ممکن ہے؟ چنانچہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں direction of reading کیا ہے، یعنی آپ کس کی روشنی میں کس کو متعین کررہے ہیں؟ اگر یہاں معاملہ یہ ہے کہ انسان کے اندرونی اخلاقی وجود کی تفصیلات بالاخر آپ وحی میں بیان کردہ تفصیلات ہی سے اخذ کرتے ہیں (جیسا کہ آپ کے استدلال میں پیش کردہ تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے)۔ نیز انسانی فطرت سے متعلق ہر دعوے کو آپ بالاخر وحی کی بنیاد پر ہی جانچتے ہیں (ان معنی میں کہ اگر کوئی شخص فطرت کی بنیاد پر کوئی ایسا دعوی کرے جو وحی میں بیان کردہ حکم سے متصادم ہو تو آپ ایسے دعوے کو رد کردیتے ہیں) تو یہ اس بات کا اقرار ہے کہ تفصیلات خیر و شر کا ماخذ فطرت نہیں وحی ہے۔ 

چھٹی غلطی

آخر یہ مان لینے سے کیا مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ وحی سے ماقبل بھی خیر و شر کی تعیین کا ایک قابل اعتبار ماخذ موجود ہے۔ نیز یہ کہ انسان کو اصلا عقل و فطرت کی راہنمائی ہی کے تحت زندگی بسر کرنا ہے البتہ جہاں کہیں انسانی فطرت دھوکہ کھا سکتی تھی یا جس معاملے میں عقل کے پاس فیصلے کی کوئی واضح بنیاد نہ تھی، ان معاملات میں وحی کے ذریعے انسان کی راہنمائی کردی گئی؟ یہ تو ایک معقول بات ہے۔ 

تبصرہ

غلط فہمی نمبر ایک پر تبصرے میں واضح کیا گیا کہ سکے کو گھما نے کے بعد جب یہ کہاجاتا ہے کہ " انسانی فطرت گویا الگ سے ایک ماخذ ہے جسے خیر و شر کے معاملے میں وحی کے بغیر معلوم کرکے بھی اس سے راہنمائی لی جاسکتی ہے" تو اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شارع کے حکم کی قانونی بنیاد کیا ہے نیز اگر فطرت وغیرہ اصولاً راہنمائی کے لئے کافی ہیں تو پھر شارع کی ضرورت و مقام کیا ہے؟اب اس موقع پر چند جوابات ممکن ہیں: 
الف) تعیین قدر میں شارع کی حیثیت بنیادی ہے، فطرت شارع کے حکم سے الگ کوئی شے نہیں، نہ ہی اسکے بغیر اسے جاننا ممکن ہے
ب) فطرت ہی بنیادی چیز ہے اور عقل وغیرہ کے ذریعے اسے پہچاننا ممکن ہے۔ اس صورت میں شارع کی ضرورت محض اضافی و facilitating نوعیت کی ہوئی، یعنی عام لوگوں کو تو اس کی ضرورت ہے مگر فلاسفہ کو اس کی ضرورت نہیں (یہ بعض معتزلہ وغیرہ نے سمجھا)
ج) اس معاملے میں معلوم اصول فطرت بنیادی چیز ہیں اور شارع کی حیثیت ان معنی میں ایک تتمے (appendix) کی ہے کہ جہاں کہیں فطرت ٹھوکر کھا سکتی تھی ان مقامات پر حکم نازل کردیا گیا۔ یہ پوزیشن چند جدید مفکرین (مثلاً غامدی صاحب) نے اپنائی
اب اس موقع پر جائز طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس تمام تر ذہنی مشق اور کیٹیگرائزیشن سے عملی طور پر کیا فرق پڑتا ہے؟ تو اس تمام تر بحث کا تعلق اس عملی سوال سے ہے کہ شارع میری زندگی کے کس قدر شعبے و حصے سے متعلق ہے؟
۔ پہلی صورت میں جواب یہ بنتا ہے کہ میں اپنی زندگی کے ہر حصے میں شارع ہی کے حکم کا پابند ہوں۔
۔ دوسری صورت میں شارع کے حکم کی کسی بھی دائرے میں ضرورت نہیں رہتی، اصولاً ہر معاملے میں مشمولات عقل و فطرت (وہ جو بھی ہوں) ہی کی طرف دیکھا جائے گا (عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ فلاسفہ و سوشل سائنٹسٹ کی طرف دیکھا جائے کیونکہ اصول فطرت و عقل کی تنقیح انہی کا شعبہ ہے۔
۔ تیسری صورت میں شارع کا حکم ایک محدود سے دائرے میں مجھے خطاب کرتا ہے، اس دائرے سے باہر پھر دوسری صورت پلٹ آتی ہے
پہلی صورت ہر قسم کی سیکولرائزیشن کا امکان ختم کردیتی ہے کیونکہ یہاں ہر حکم کا ریفرنس پوائنٹ بہرحال شارع کا قول ہوگا (فقہاء نے شرع کو اسی طرز پر دیکھا ہے)۔ دوسری صورت مکمل سیکولرائزیشن کی ہے کہ جہاں شارع کو کلیتاً فارغ (suspend) کردیا جاتاہے، جبکہ تیسری صورت ایک قسم کی "دینی سیکولرائزیشن" کا جواز پیدا کرتی ہے، یعنی شرع کو چند محدود سے معاملات میں محدود کرکے باقی سارا میدان عقل و فطرت کے ہاتھ کھلا چھوڑ دیا جائے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ یہ خلا پھر حاضر و موجود علمیت (سوشل سائنسز) سے پر کیا جائے۔ اس قسم کی دینی سیکولرازم یورپ میں City of Man and City of God کے نام پر طویل عرصے تک پائی گئی۔
جملہ معترضہ کے طور پر یہ یہاں بات ذہن نشین کرانا لازم ہے کہ فقہاء و غامدی صاحب کے تصور اجتہاد میں بنیادی نوعیت کا فرق ہے۔ فقہاء نے عقل و فطرت جیسے مبہم الفاظ استعمال کرنے کے بجائے عقلی طرق استنباط (قیاس، استحسان وغیرہ) و نص کی دلالات کو اخذ احکام کی بنیاد بنایا ہے اور پھر ہر عقلی طریقہ استنباط و دلالت کی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے اخذ کردہ حکم کو کلاسیفائی کیا ہے۔ یہ ایک منظم طریقہ کار ہے۔ اس کے مقابلے میں غامدی صاحب اجتہاد کا دائرہ کار عقل و فطرت سے راہنمائی لینے کو قرار دیتے ہیں۔ غامدی صاحب کا یہ تصور دین و اجتہاد ایک قسم کی "دینی سیکولرائزیشن" کا جواز پیداکرتا ہے، یعنی شرع کو چند محدود سے معاملات میں محدود کرکے باقی میدان کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے اور پھر سوائے عقل و فطرت جیسے مبہم الفاظ کے یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہاں معاملات پر حکم کس بنیاد پر لگایا جائے گا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ یہ خلا پھر حاضر و موجود علمیت (سوشل سائنسز) سے پر کیا جائے۔ 
مسئلہ خیر و شر کے بارے میں اشاعرہ و ماتریدیہ کے مابین بحث صرف نظریاتی ہے جبکہ اشاعرہ و معتزلہ کے مابین بحث اصلی، حقیقی و عملی ہے۔ ایسا اس لئے کہ عملی سوال یہ ہے کہ "مجھے عمل کس شے پر کرنا ہے، اس شے پر جو خدا نے نازل کیا یا وہ جسے میں خود خیر سمجھ رہا ہوں؟" چنانچہ اشاعرہ و ماتریدیہ دونوں کا اتفاق ہے کہ عملی تکلیف خدا کے کلام ہی کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ نتیجتاً یہ دونوں پوزیشن ہر قسم کی سیکولرائزیشن کے امکان کو ختم کردیتی ہیں کیونکہ عمل کے لئے خدا کے حکم کا ریفرنس معلوم کرنا ہوگا۔ اس تصور سے شریعت و اجتہاد کا بالکل الگ تصور برآمد ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں معتزلہ کے یہاں عملی تکلیف کی بنیاد ازخود عقل کے ذریعے معلوم کردہ اشیاء کا ذاتی خیر و شر ہے، خدا کا حکم صرف ایک اضافی چیز ہے۔ یہ پوزیشن شرع کو redundant قرار دے کر پوری عملی زندگی کو سیکولرائز کرنے کا جواز پیدا کرتی ہے، اسی لئے اہل سنت کے دونوں گروہوں اشاعرہ و ماتریدیہ نے اس کی مخالفت کی۔

آخری بات

نبی یعنی خدا سے مسلسل تعلق "ثانوی" نہیں "بنیادی" ضرورت ہے
بنیادی مدعا یہ ہے کہ مسئلہ خیر و شر کی تعیین میں وحی کی حیثیت ثانوی نہیں بلکہ بنیادی ہے۔ اس مسئلے میں وحی کوئی "اختتامی نوٹ" نہیں کہ جس سے قبل بہت کچھ معلوم و طے ہوچکا ہو بلکہ وہ "لازمی ابتدائیہ" ہے جس کے بنا آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ یہ ہے نبی کا اصل مقام اور یہ مقام صرف اسی کو سزا وار ہے۔مسئلہ خیر و شر کی تعیین میں وحی "ثانوی" نہیں بلکہ "بنیادی" طور پر اپنا کردار ادا کرتی ہے، یعنی یہاں معاملہ ایسا نہیں ہے کہ خیر و شر کے بہت سے مسائل فطرت و عقل ازخود اپنے دریافت کردہ اصولوں کی بنا پر حل کرسکتی ہے اور صرف اس کی ناکامی کے مقامات میں وحی کی ضرورت پڑتی ہے۔ نہیں، بلکہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ خیر و شر کی تعیین کے اس دائرے میں وحی کی راہنمائی کے بغیر عقل کوئی اصولی حکم دریافت نہیں کرسکتی، بلکہ یوں کہا جانا چاہیے کہ عقل میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ اس معاملے میں کوئی حکم لگا سکے۔
فطرت، عقل اور وحی کے مابین تعامل کو سمجھنے کے ضمن میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ پہلا انسان نبی (صاحب وحی) تھا نہ کہ محض کوئی "فطری وجود"۔ چنانچہ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے ہی ہمیں فطرت، عقل اور وحی کے تعامل کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے کہ "پہلا انسان نبی تھا"۔ یعنی ایسا نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فطرت و عقل دے کر ایک مخلوق زمین پر بھیج دی اور جب خیر و شر کے مسائل میں وہ غلطیاں کرتے تو ان کی اصلاح کے لیے نبی بھیج دیا۔ نہیں، بلکہ یہاں تاریخی حقیقت یوں ہے کہ خیروشر سے متعلق دنیا کے سب سے پہلے انسان کو بذریعہ وحی حقائق بتائے گئے اور پھر نبیوں کا یہ سلسلہ بغیر کسی وقفے کے مسلسل چلتا رھا۔ گویا ڈاکٹر مشتاق صاحب کے الفاظ میں "پہلے ہی دن سے کچھ کام ممنوع اور ناپسندیدہ ٹھہرے اور کچھ ضروری اور پسندیدہ اور ایسا 'وحی کی روشنی میں' ہوا"۔
پھر عقل کے دائرہ کار اور حیثیت پر گفتگو کرتے ہوئے یہ تنقیح لازم ہے کہ عقل کو کس معنی میں استعمال کیا جارہا ہے، یعنی "عقل بطور کسی مقصد کو حاصل کرنے کی صلاحیت" (جسے آلاتی عقل instrumental reasoning کہتے ہیں) اور یا "عقل بطور خیر و شر یعنی مقاصد اور انکی ترتیب متعین کرنے کی صلاحیت" (جسے substantive reasoning کہتے ہیں)۔ چنانچہ عقل کے اندر یہ صلاحیت تو ہے کہ وہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کا طریقہ بتائے مگر یہ صلاحیت نہیں کہ مقاصد اور ان کی ترتیب بھی متعین کرلے۔ نبی کا تعلق مقاصد (خیر و شر) اور ان کی ترتیب کو متعین کرنے سے ہے، اس دائرے میں عقل کسی کام کی نہیں۔ اس دائرے میں عقل لازماً اپنے سے بیرون کسی ذریعے ہی سے رہنمائی لیتی ہے، چاہے وہ ذریعہ وحی ہو، ماضی سے چلی آنے والی روایات ہوں اور یا خود نفس کی خواہشات۔
پس اگر عقل کے اس درائرہ کار کو اچھی طرح متعین کرلیا جائے، جسے امام غزالی نے بڑی ہی جانفشانی سے سمجھایا ، تو وحی کی اصل و بنیادی ضرورت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ بصورت دیگر نبی بطور اضافی شے یا تتمہ ایک ثانونی معاملہ بن کر رہ جاتا ہے۔ پس سمجھ رکھنا چاہیے کہ نبی ، یعنی خدا سے مسلسل تعلق،انسان کی بنیادی و مستقل (permanent and essential) ضرورت ہے، ثانوی و اضافی (facilitating and contingent) نہیں۔

سانحہ مستونگ کے شہداء

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اضاخیل پشاور کے ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کے بعد سے اس بات کا خدشہ اور خطرہ مسلسل محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوگا۔ صد سالہ اجتماع کی بھرپور کامیابی اور اس میں دیے جانے والے واضح پیغام نے دنیا کو ایک بار پھر بتا دیا ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کا قافلہ دینی و قومی تحریکات کے لیے عدم تشدد پر مبنی پر امن جدوجہد کی پالیسی پر نہ صرف قائم ہے بلکہ آئندہ کے لیے اس نے اس کا تسلسل قائم رکھنے کا عزم نو بھی کر لیا ہے۔ اس لیے خیال تھا کہ تشدد کو اوڑھنا بچھونا بنانے والوں کے لیے اس کو ہضم کرنا مشکل ہوگا اور وہ اپنے غصے کا کہیں نہ کہیں اظہار ضرور کریں گے۔ پاکستان میں نفاذِ شریعت کے لیے ہتھیار اٹھانے اور دستور و ریاست کو چیلنج کرنے کی روش اختیار کرنے والوں سے ابتداء میں ہی یہ کہہ دیا گیا تھا کہ پاکستان دستوری طور پر ایک اسلامی ریاست ہے اس لیے اس ملک کی حدود کے اندر کسی بھی دینی یا قومی مقصد کے لیے پر امن جدوجہد کا راستہ ترک کرنے اور ہتھیار اٹھانے کی شرعاً اجازت نہیں ہے اور ملک کے جمہور علماء کرام کا متفقہ موقف یہی ہے۔ لیکن اسے خوف یا مصلحت پر محمول کر کے اسے تبدیل کرانے کی مختلف حوالوں سے کوششیں ہوتی رہیں۔ خود میں نے جب ایک ٹی وی چینل پر ایک سوال کے جواب میں کچھ عرصہ قبل یہ کہا کہ پاکستان کی حدود میں نفاذِ شریعت یا کسی بھی دینی و قومی مقصد کے لیے ہتھیار اٹھانا درست نہیں ہے تو مجھے یہ پیغام دیا کہ خوف اور مصلحت سے بے نیاز ہو کر حق کی حمایت کریں۔ میں نے اس کے جواب میں دوٹوک عرض کیا کہ بحمد اللہ تعالیٰ زندگی میں کبھی خوف، لالچ یا مصلحت کی بنیاد پر کوئی موقف طے نہیں کیا اور اب بھی اسی بات کو درست کہہ رہا ہوں جسے پورے شرح صدر کے ساتھ شرعاً درست اور ضروری سمجھتا ہوں۔
اس دوران پاکستان کے جمہور علماء کے اجماعی موقف کے دوٹوک اظہار کی وجہ سے حضرت مولانا حسن جان، حضرت مولانا معراج الدین، حضرت مولانا نور محمد اور ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی جیسی قیمتی جانیں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئیں جبکہ مولانا فضل الرحمان ایک سے زائد بار وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بات مزید پختہ ہوتی چلی گئی کہ موقف وہی حق ہے جو پاکستان کے جمہور علماء نے اختیار کیا ہے اور جس کا اظہار اضاخیل کے عالمی اجتماع میں ایک بار پھر کر دیا گیا ہے۔
کافی عرصہ قبل جب ان باتوں کی ابھی شروعات تھیں، راقم الحروف نے چند تحریروں میں یہ عرض کیا تھا کہ اب عالمی استعمار اور اسلام دشمن قوتوں کی حکمت عملی یہ ہوگی کہ جہاں جہاں بھی نفاذِ شریعت کی جدوجہد کی فضا موجود ہے وہاں اشتعال انگیز کارروائیوں کے ذریعہ جذباتی عناصر کو سامنے لایا جائے اور ریاستی قوتوں کے ساتھ ٹکرا کر انہیں ختم کر دینے کی راہ ہموار کی جائے۔ اس موقع پر میں نے یہ مثال بھی ایسے عناصر کے سامنے رکھی تھی کہ حضرت خالد بن ولید کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کارنامے پر ’’سیف اللہ‘‘ کا خطاب دیا تھا وہ کسی فوج کو شکست دینے یا کسی علاقے پر قبضہ کر لینے کا نہیں تھا بلکہ ایک لاکھ افراد پر مشتمل لشکر میں پھنسے ہوئے تین ہزار مسلمانوں کو وہاں سے نکال کر بحفاظت مدینہ منورہ واپس لے آنے کا تھا۔ حتی کہ ان واپس آنے والوں کو مدینہ منورہ کے بہت سے حضرات کی طرف سے ’’انتم الفرارون‘‘ (تم بھگوڑے ہو) کا طعنہ بھی دیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا تم بھگوڑے نہیں ہو بلکہ ’’کرارون‘‘ دوبارہ حملہ کرنے والے ہو۔
مگر جذباتیت اور سطحیت کے ماحول نے کسی کو ان باتوں پر سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا اور اس نے بتدریج دنیائے اسلام کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہم نے تو اس وقت یہ بات پاکستان کے تناظر میں عرض کی تھی مگر جب تشدد اور دہشت گردی کی اس نفسیات کا دائرہ مشرق وسطیٰ کے بہت سے ممالک میں پھیلنا شروع ہوا تو آہستہ آہستہ یہ بات واضح ہوتی چلی گئی کہ یہ سارا کھیل ’’یار لوگوں‘‘ کا رچایا ہوا تھا کہ جذباتی نوجوانوں کو اشتعال دلا کر سامنے لاؤ اور انہی کی ریاستی قوتوں کے ذریعہ ان کو کچل ڈالو۔ اور اب تو یہ جال اس قدر وسیع اور پیچیدہ ہو چکا ہے کہ اگر کچھ لوگ اس سے نکلنا چاہیں تو ان کے لیے اس کا کوئی راستہ موجود نہیں رہا۔
اس پس منظر میں مولانا عبد الغفور حیدری کے قافلے پر اس وحشیانہ اور بزدلانہ حملہ کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ مولانا عبد الغفور حیدری ملک کی اعلیٰ ترین قیادت میں اہل دین کی نمائندگی جس تدبر، حوصلہ اور شرافت کے ساتھ کر رہے ہیں، وہ ملک و قوم اور حکومت و ریاست کے ساتھ دینی حلقوں کی بے لچک کمٹمنٹ اور ایثار و قربانی کی علامت ہے اور خصوصاً جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے لیے اعزاز و افتخار کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ سانحہ جہاں مولانا حسن جان، مولانا نور محمد، مولانا معراج الدین اور ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی کی جانوں کا نذرانہ وصول کرنے والوں اور مولانا فضل الرحمان اور مولانا عبد الغفور حیدری کو وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنانے والوں کے لیے پیغام ہے کہ اس طرح کی اوچھی حرکتوں سے اہل حق کو ان کے موقف سے ہٹایا نہیں جا سکتا وہاں اس میں ایک پیغام ان حلقوں کے لیے بھی ہے جنہوں نے ان قربانیوں کے باوجود میڈیا اور لابنگ کے تمام ذرائع ابلاغ اہل دین کی کردار کشی، مدارس کے خلاف منفی مہم اور سوسائٹی کو دینی روایات و اقدار سے بے گانہ کرنے کے لیے مسلسل وقف کر رکھے ہیں۔ اور اس پیغام کو کم از کم الفاظ میں اس طرح تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ ’’شرم تم کومگر نہیں آتی‘‘
اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند سے بلند فرمائیں، زخمیوں کو صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازیں اور مولانا عبد الغفور حیدری کو صحت و عافیت کے ساتھ قومی قیادت میں اپنا کردار ادا کرتے رہنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
محترم مدیر الشریعہ زیدمجدکم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
خداکرے مزاج گرامی بعافیت ہو!
مئی کے شمارہ میں ڈاکٹرعرفان شہزاد کا مضمون بعنوان ’’جہادی بیانئے کی تشکیل میں روایتی مذہبی فکر کا کردار ‘‘پڑھنے کا موقع ملا، پڑھ کر یہی لگاکہ ڈاکٹر صاحب نے تحقیق کے نام پر ایک طرفہ مضمون لکھاہے ،یعنی ان کے ذہن ومزاج نے پہلے ہی طے کرلیاہے کہ مدارس اورنصاب کو عسکریت پسندی کا ذمہ دارٹھہراناہے تواسی لحاظ سے ثبوت وشواہد اکٹھے کئے۔ 
انہوں نے جس منطق سے مدارس کے نصاب کو موردالزا م ٹھہرایاہے، بعینہ اسی منطق سے قرآن وحدیث پر بھی یہ الزامات عائد کئے جاسکتے ہیں اور مختلف لوگ عائد کرتے ہی رہتے ہیں، کبھی یہ بات چلتی ہے کہ قرآن کی آیات جہاد نکال دی جائیں ،کبھی یہ موقف سامنے آتاہے کہ قرآن مسلمانوں کو غیرمسلموں سے بہتر تعلقات کے لیے روکتاہے ،تو کبھی یہ کہاجاتاہے کہ پوری دنیا میں شدت پسندی اور بم دھماکوں کے لیے قرآن ذمہ دارہے،ڈاکٹر صاحب اورایسے لوگوں کے موقف میں اصولی طورپر کوئی فرق نہیں ،بس اتنا ہے کہ انہوں نے براہ راست قرآن وحدیث کو موردالزام ٹھہرایا اور ڈاکٹر صاحب نے کرم کرتے ہوئے مدارس اوران کے نصاب پر نزلہ گرایا،کیاڈاکٹر شہزاد صاحب کے لیے یہ مناسب نہ تھاکہ وہ مدارس اوردیگر شخصیات کو بیچ میں لانے کے بجائے ڈائرکٹ قرآن وحدیث کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھہراتے؟ آخر کو جہاد کا حکم قرآن میں ہے، تکرار کے ساتھ ہے، واضح الفاظ میں ہے، حدیث میں اس کے فضائل ومناقب بے شمار ہیں،جہاد سے جی چرانے والوں کے لیے وعیدیں ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے مختلف کتابوں سے جہاد کے حکم پر مشتمل تحریریں تو پیش کرکے اپناموقف ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مدارس اوراس کا نصاب جہادو عسکریت پسندی کے ذمہ دار ہیں ؛لیکن ان کی تحقیق کی خیانت اس سے واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے ان تمام نصوص سے۔ جو فقہ وحدیث کی کتاب میں جہاد کی شرائط کے لیے مندرج ہیں۔ بالکلیہ صرف نظرکرلیاہے، جس شخص نے بھی کتب حدیث وفقہ اور قرآن کریم کی آیات جہاد کی تفسیریں پڑھی ہیں،وہ بخوبی جانتاہے کہ جہاد کی کچھ شرائط ہیں، کچھ پابندیاں ہیں، کچھ حدود وآداب ہیں، ان کی رعایت کے بغیر اگرکوئی جہاد کانام لے کر کسی قسم کی کارروائی کرتاہے تو وہ خود ملزم ہے نہ فقہ کی کوئی کتاب اورنہ کوئی مدرسہ،لیکن ڈاکٹرصاحب کی تحقیق دیکھ کر ایک مزاحیہ مصرعہ یاد آرہاہے۔
ہم طرفدارہیں غالب کے سخن فہم نہیں
یہ ایک عجیب وغریب طرز عمل ہے جوایک تسلسل سے جاری ہے اوردانشور حضرات ہروقت اس کی جگالی کرتے رہتے ہیں کہ معاشرے میں برائی بڑھ گئی ،علماء ذمہ دارہیں، ان کو اس کے حل کیلئے کوشش کرنی چاہئے،شدت پسندی بڑھ گئی ہے، علمائکو کوشش کرنی چاہئے،عسکریت پسندی بڑھ گئی ہے علماء اس کیلئے ذمہ دارہیں،معیشت کی حالت خستہ ہے تو علماء کا دقیانوسی سوچ کہ سود حرام ہے،اس کے لیے ذمہ دار ہے،غرضیکہ ہر مسئلہ کی جڑان کو مولوی اورعلماء میں نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ہر مسئلہ کا حل علماء کی ذمہ داری ہے تو یہ پروفیسر،ڈاکٹر اوردانشور حضرات کس مرض کی دوا ہیں؟ کیاان کی زندگی کا مقصد پیٹ سے شروع ہوکر پیٹ پر ختم ہوجاتاہے؟کیا ان کی معاشرہ اورسماج کے حوالے سے کوئی ذمہ داری نہیں ہے؟اگرایسانہیں ہے تو وہ اپنے بھائی بندوں کو اس جانب متوجہ کیوں نہیں کرتے،کیاان کی ارشاد ونصیحت کا ساراپٹارہ مولویوں کے لیے مخصوص ہے؟
ایک عالم کی ہمارے معاشرے میں کیا حیثیت ہے؟اس سے ہرصاحب نگاہ ونظرواقف ہے،کچھ چند اور الاماشاء اللہ مثالیں چھوڑ کر علماء کی اکثریت کس مپرسی کا شکار ہے،قلیل تنخواہیں، کام کا بارگراں، فرصت کے لمحات نہایت کم ،اس کے بالمقابل ہمارے ڈاکٹر پروفیسر اوردانشور کہلانے والوں کاجائزہ لیجئے، تنخواہیں بھاری بھرکم ،کام کم،تعطیلات کی طویل فہرست،ہرقسم کی فارغ البالی اور ہرقسم کے وسائل سے لیس ،اس سب پرہرقسم کے معاشرتی اورسماجی مسائل کی ذمہ داری علماء کی ہے،دانشور حضرات بالکل فارغ البال ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ جو دانشور حضرات علماء کو مسائل کا ذمہ دار ٹھہراکر اس سے مسائل کے حل کی کوشش کے لیے فرمان جاری کرتے ہیں، وہ مولویوں کی بات کتنی مانتے ہیں؟مولوی کہتاہے کہ مذہب پر عمل کرو ،وہ کہتے ہیں کہ مذہب پرائیویٹ معاملہ ہے،مولوی کہتاہے کہ سود مت لو، وہ کہتے ہیں کہ سود معیشت کے لیے ضروری ہے،مولوی کہے گاکہ فحاشی وعریانیت ختم کی جائے ،وہ کہتے ہیں کہ یہ انسانی حقوق کی بات ہے ،ہرشخص کو اختیار ہے کہ وہ جتنا جسم دکھانا چاہے دکھائے، مولوی کہے گاکہ شرعی قوانین ملک میں نافذ کئے جائیں،وہ کہتے ہیں کہ وہ چودہ سوسال پرانی بات ہو چکی، مولوی کہے گاکہ ظاہری وضع قطع دینداروں کاسابناؤ، وہ کہتے ہیں کہ اسلام دل میں ہوتاہے،ڈاڑھی میں نہیں۔ غرضیکہ دانشور حضرات کا قبلہ مولویوں سے ایک سو اسی ڈگری الٹ ہوتاہے۔
پھربھی ان کو یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں
آپ پہلے مولویوں کی بات مانئے ،پھر مولویوں سے اس کا شکوہ کیجئے کہ وہ مسائل کے حل کے لیے قدم نہیں اٹھاتے۔ یہ طرفہ تماشابھی خوب ہے کہ مولویوں کی بات بھی نہیں مانتے اورمولویوں سے مسائل کے حل کے لیے کوشش کرنے کے لیے بھی کہاجائے۔
یہ عرض کرنابھی ضروری ہے کہ اس تحریرکے محرک ڈاکٹر شہزاد صاحب ضرور ہیں؛ لیکن تنہامخاطب نہیں ،اورمولاناعمار ناصر صاحب کا بھی شکریہ کہ انہوں نے میرے مضمون کو اپنے موقر رسالہ میں شائع کیا۔
عبیداختررحمانی
المعہد العالی الاسلامی،حیدر آباد
(۲)
مکرمی جناب۔۔۔۔۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
علم حدیث کے ایک اہم مسئلے کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا ہے؛علم حدیث میں"حدیث" کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟
علم حدیث میں"حدیث" دو شرائط سے مشروط "اصطلاح" ہے، ان میں سے کوئی ایک شرط نہ ہو تو وہ "حدیث" نہیں ہوتی ہے۔ اولاً،متعین راوی کا قول ہو۔ ثانیاً ، وہ راوی اپنے اس قول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا قول، عمل اور تقریر بیان کرے۔ وہ خبر، حکم اور عمل "حدیث" نہیں ہے جو مذکورہ بالا دونوں شرائط میں سے کسی ایک شرط سے خالی ہو۔
علم حدیث کا موضوع "حدیث" ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و عمل علم حدیث کا موضوع ہے اور نہ متعین راوی کا ہر بیان اس علم کا موضوع ہے۔ وہ قول رسول "حدیث" نہیں ہے جس کا متعین راوی نہیں ہے اور متعین راوی کا وہ قول "حدیث" نہیں ہے جس میں رسول اللہ کا قول و عمل بیان نہیں ہے۔ ائمہ حدیث جب لفظ "حدیث" بطور اصطلاح استعمال کرتے ہیں یا علم حدیث کے موضوع کے طور پر بولتے ہیں تو ان کے پیش نظر "قول رسول" نہیں ہوتا، ان کی مراد متعین راوی کا وہ قول ہوتا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و عمل بیان ہو۔
مابعد کے تذکرہ نگاروں اور تذکرہ خوانوں نے بغیر سوچے سمجھے "حدیث" کو قول رسول اور "قول رسول" کو حدیث کہنا اور ماننا شروع کر دیا۔ ان کا کام علم حدیث کی مصطلحات رٹنے اور ان کی تعریف یاد کرنے کے سوا کچھ نہیں رہا ہے۔ وہ علم حدیث کے عالم تھے اور نہ اس عظیم الشان علم سے کوئی ذہنی مناسبت رکھتے تھے۔ نا اہل اخلاف کی نا اہلی نے ایک عظیم الشان علم اور علما کی بے مثال محنت نہ فقط ضائع کر دی، الٹا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اسے فرد جرم بنا دیا۔
والسلام علی من اتبع الہدی۔
ڈاکٹر خضریٰسین
C / 111o / جے ماڈل ٹاون لاہور