جولائی ۲۰۱۷ء

فہم قرآن کے چند اخلاقی اور لسانی اصولمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۲)ڈاکٹر محی الدین غازی 
مشرق وسطیٰ میں ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کے دور کا آغازمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
انقلابِ ایران کی متنازعہ ترجیحاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
تقسیم مسلسل سے گزرتی پاکستانی قوممحمد حسین 
دیوبندی بریلوی اختلافات : سراج الدین امجد صاحب کے تجزیے پر ایک نظر (۱)کاشف اقبال نقشبندی 
فطرت بطور معیار کی بحثڈاکٹر عرفان شہزاد 
مشال خان کا واقعہ، الشریعہ اور سیکولرزممحمد عرفان ندیم 
مکاتیبادارہ 
علم کلام، فلسفہ تاریخ اور دور جدید کی فکری تحدیات ۔ مدرسہ ڈسکورسز کے تحت تربیتی ورکشاپ کی رودادڈاکٹر حافظ محمد رشید 

فہم قرآن کے چند اخلاقی اور لسانی اصول

محمد عمار خان ناصر

(فہم قرآن کے اصول ومبادی سے متعلق ایک لیکچر سیریز میں کی گئی گفتگو۔)

قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہوئے، اس کی آیات کی تفسیر وتوضیح کرتے ہوئے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی منشا اور مدعا متعین کرتے ہوئے کچھ اصول ہیں جو قرآن مجید کے ہر طالب علم کے سامنے رہنے چاہییں اور ان کی پابندی اس بات کی ضمانت دے گی کہ انسان اللہ کی مراد کے زیادہ قریب پہنچنے کے قابل ہو جائے گا۔ ان میں سے کچھ اصول علمی نوعیت کے ہیں اور کچھ اخلاقی اصول ہیں۔ ان کو ملحوظ رکھنے سے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ انسان ہر جگہ ہر معاملے میں کسی بھی قسم کی غلطی کا شکار نہیں ہوگا، ا س لیے کہ بہرحال اللہ کی کتاب کو سمجھنا اور اس کی تفسیر وتوضیح کرنا، اس میں انسانی فہم کا حصہ اور اس کا کردار بہت زیادہ ہے اور انسان کا فہم کبھی کمال کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ لیکن بہرحال کچھ اصول ہیں جن کی پابندی سے آدمی یہ اطمینان حاصل کر سکتا ہے کہ وہ قرآن کی تعلیم اور اس کے خاص پیغام کا جو core ہے، کم سے کم اس سے محروم نہیں رہے گا۔ اسی طرح مختلف مقامات پر جہاں ایک سے زیادہ احتمالات ممکن ہیں اور جہاں ایک سے زیادہ تعبیرات اور تشریحات پیش کی جا سکتی ہیں، ان میں آدمی صحت کے قریب تر پہنچ جائے گا۔ اگر ان اصولوں کی دیانت داری کے ساتھ، اور اہلیت کے ساتھ پابندی کی جائے تو اس بات کا اطمینان بڑی حد تک حاصل کیا جا سکتا ہے۔
سب سے بنیادی اخلاقی اصول جس کی رعایت نہ صرف اللہ کی کتاب کے معاملے میں، بلکہ دنیا کی کسی بھی کتاب کے معاملے میں ، کسی بھی متکلم کے کلام کو پڑھنے کے معاملے میں ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ آپ پوری دیانت داری سے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کہنے والے کا جو اپنا مدعا او ر منشا ہے، اس کی جو اپنی مراد ہے، وہ کیا ہے، نہ یہ کہ آپ کے ذہن میں جو پہلے سے موجود خیالات ہیں، رجحانات ہیں، کچھ پسندیدہ یا ناپسندیدہ باتیں ہیں، ان کو لے کر ان کی تائید یا تصویب کے لیے یا ان کی تردید تلاش کرنے کے لیے آپ کسی بھی کتاب کی طرف رجوع کریں۔ یہ انسان کی فطرت میں، اس کی طبیعت میں جو خامیاں رکھ دی گئی ہیں، ان میں سے ایک بڑی خامی ہے کہ اپنے ذہنی رجحانات اور اپنے پسندیدہ خیالات سے مختلف خیالات پر پر غور کرنا یا ان کو ہمدردی سے سمجھنے کی کوشش کرنا، یہ انسان کے لیے بالعموم ممکن نہیں ہوتا، خاص طور پر جب معاملہ ایک مذہبی کتاب کا ہو جس میں خاص طور پر اس کو ماننے والے، اس پر ایمان رکھنے والے یہ بنیادی مسلمہ لے کر اس کی طرف جائیں گے کہ یہ کتاب جو کچھ کہے گی، ہمیں اس کو ماننا ہوگا، جس طرف بھی ہماری راہ نمائی کرے گی، ہمیں اس کو قبول کرنا ہوگا۔ تو جہاں یہ حساسیت بھی موجود ہو، وہاں اپنے آپ کو بالکل خالی الذہن کر کے اور تعصبات سے اور ذہنی رجحانات سے بالکل پاک کر کے اس کتاب کے سامنے سرنڈر کر دینا، یہ رویہ انسان کے لیے زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ 
اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جتنی غلط تاویلات مذہبی کتابوں کے معاملے میں پیش آتی ہیں، اس کا شاید عشر عشیر دوسری کتابوں کے معاملے میں پیش نہیں آتا۔ دوسری کتابوں کے ساتھ کوئی تقدس کا جذبہ وابستہ نہیں ہوتا، ان کے سامنے سر اطاعت خم کرنے کا کوئی تصور وابستہ نہیں ہوتا۔ مذہبی کتابوں کے ساتھ یہ تصورات بھی وابستہ ہوتے ہیں، لوگوں کے دینی جذبات بھی وابستہ ہوتے ہیں، اور اس سے آپ جو بات بھی اخذ کرتے ہیں، وہ گویا آپ کی کہی ہوئی بات کی تائید بھی فراہم کرتی ہے، اور دوسروں سے اس کے ساتھ موافقت اور اس کی قبولیت کا مطالبہ کرنے کے لیے بھی آپ کو بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس طرح کی بہت سی چیزیں اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس لیے مذہبی کتابوں کی تاریخ میں یہ چیز بہت زیادہ مسئلہ بنتی ہے۔ کتاب اللہ کو خالص نیت کے ساتھ اور اللہ کی منشا ومراد تک پہنچنے کے جذبے کے ساتھ پڑھنا، یہ خاصا مشکل کام ہے۔ انسان فطرتاً اپنے جذبات کا اور احساسات کا اسیر ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ جب کچھ تعصبات وابستہ ہو جائیں، کچھ ذہنی رجحانات اور کچھ پسند ناپسند کے مسائل اس کے ذہن میں جگہ بنا لیں تو پھر وہ انھی کو لے کر اللہ کی کتاب کی طرف آتا ہے اور بجائے اس کے کہ معروضی انداز میں اس کی کوشش کرے کہ اللہ کی کتاب کی مراد تک پہنچے، انسان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اپنے پسندیدہ خیالات کی تصویب اس کو وہاں سے ملے اور اپنے ناپسندیدہ خیالات کی تردید اس کے الفاظ میں وہ پڑھ لے۔
تو پہلی جو بنیادی چیز ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی اس کتاب کو پڑھے تو خالی الذہن ہو کر، تعصب سے پاک ہو کر اور صحیح خالص نیت کے ساتھ اللہ کی مرادکو سمجھنے کی نیت سے پڑھے۔ اس نیت سے پڑھے گا تو اس میں اللہ کی تائید وتوفیق بھی شامل ہوگی۔ اگر یہ نیت نہیں ہوگی تو پھر عین ممکن ہے کہ آدمی اس کتاب کو پڑھے، اس کی تلاوت کرے، اس پر غور کرے، تدبر بھی کرے، لیکن اس سے جو کچھ اس کو حاصل ہو، وہ سوائے اس کے کچھ نہ ہو کہ اپنی ہی خواہشات کو اللہ کی کتاب کے الفاظ میں پڑھ لے اور اپنے تعصبات کو اس میں منتقل کر کے دوبارہ اس سے اخذ کر لے۔ 
قرآن مجید نے بھی یہ بات اپنے بارے میں ایک اور پس منظر میں بیان کی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ: یُضِلُّ بِہِ کَثِیرًا وَّیَھْدِی بِہِ کَثِیرًا۔ یعنی اس کتاب سے ہدایت پانے کے لیے آدمی کی نیت کا خالص ہونا یہ بنیادی شرط ہے۔ خالص نیت کے بغیر بہت سے لوگ اس کی طرف رجوع کریں گے۔ ان میں سے ایک گروہ وہ تھا جو نزول قرآن کے زمانے میں موجود تھا۔ اب بھی اس کی باقیات یقیناًہیں جو اصل میں اس کتاب کو ہدایت حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اس میں مین میکھ نکالنے، ، اس کے مطالب پر اعتراضات اٹھانے اور لوگوں کو اس کے بارے میں شکوک وشبہات میں ڈالنے کے جذبے سے اس کی طرف آتے ہیں اور اس میں سے ایسی باتیں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جن کو وہ اس مقصد کے لیے استعمال کر سکیں۔ چونکہ یہاں جذبہ حصول ہدایت کا نہیں ہے، نیت خالص نہیں ہے، قرآن مجید نے ان کے بارے میں تبصرہ کیا ہے کہ جو لوگ اس نیت سے اس کتاب کو پڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعے سے ان کو گمراہی میں مبتلا کر دیں گے۔ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کے ذریعے سے اللہ لوگوں کو ہدایت بھی دیتا ہے اور اسی کے ذریعے سے لوگوں کو گمراہ بھی کرتا ہے۔ مدار صدق نیت پر ہے۔ سچی نیت سے لوگ آئیں گے تو انھیں ہدایت ملے گی اور بری نیت سے آئیں گے تو اسی کتاب کو پڑھ کر بجائے اس کے کہ ہدایت حاصل کریں، وہ اپنی گمراہی میں پختہ ہو جائیں گے۔ یہ پہلا اخلاقی اصول ہے۔
دوسرا اخلاقی اصول جس کی پابندی قرآن کے پڑھنے والے ہر شخص کو قبول کرنا لازم ہے، یہ ہے کہ اگر کہیں اس کو قرآن کے مطالب اور اس کی تعلیمات کے سمجھنے میں اشتباہ پیش آ گیا ہے، آیات میں ٹکراؤ نظر آ رہا ہے، بات اپنے صحیح محل میں نہیں لگ رہی، ا س کا صحیح مصداق جو عقل وفطرت کو مطمئن کر دے، وہ واضح نہیں ہو رہا تو یقیناًوہ غور جاری رکھے گا، وہ بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرے گا، لیکن یہ اصول بھی اس کو سامنے رکھنا چاہیے کہ ایسی چیزوں میں بعض دفعہ توکیل وتفویض کا اصول اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس بات کے درپے ہو جانے کے بجائے اور جیسا تیسا، کوئی بھی ایک مفہوم ضرور طے کرنے کے بجائے یہ ذہنی رویہ اپنائے کہ کتاب اللہ کے سارے معانی اور سارے مطالب پر حاوی ہونا یہ ہر شخص کے لیے نہ ضروری ہے اور نہ اس کا امکان ہے۔ وَفَوقَ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیمٌ۔ مجھے جتنا علم اور جتنی سمجھ اللہ نے دی ہے، اس کے لحاظ سے اگر میں نہیں سمجھ پا رہا تو کچھ دوسرے لوگ ہوں گے جن کے پاس اس کا ہوگا۔ گویا بہت سی جگہوں پر بات کے درپے ہونے یا اس سے کوئی نہ کوئی مطلب لازمی طور پر اخذ کر کے اس کو ایک قطعی اور حتمی مفہوم سمجھ لینے کے بجائے توکیل کا اصول اختیار کرنا پڑے گا۔ اس کی تعلیم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو دی ہے۔ جہاں پر کوئی بات سمجھ میں نہ آئے، کوئی اشکال ہو تو وہاں پر مجادلہ میں یا بحث میں الجھنے کے بجائے یا اس کی تہہ تک ضرور پہنچنے کے بجائے بہتر یہ ہے کہ آپ توکیل کریں۔ جو باتیں بالکل واضح سمجھ میں آ رہی ہیں، ان پر توجہ رکھیں۔ جو بات سمجھ میں نہیں آ رہی، اس پر غور جاری رکھیں، اس کے متعلق اہل علم سے سوال کریں، لیکن اس کے بارے میں آدمی کی ذہنی پوزیشن یہ ہونی چاہیے کہ بھئی، بہت سی چیزیں ہوں گی جو میرے علم کی سطح سے بلند ہیں، جن کی حقیقت کو میں نہیں سمجھ سکتا۔ میرے علم میں اگر نہیں ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ فکلوہ الی عالمہ۔ اس کو اس کے عالم کے سپرد کر دو جس کو اللہ نے اس کو سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ وہ یقیناًجانتا ہوگا، اگرچہ میری سمجھ میں یہ نہیں آ رہی۔ 
یہ بات خاص طو رپر ایک عام آدمی کے لیے بڑی اہم ہے جو علمی طو رپر قرآن کی تشریح وتفسیر کے جو لوازم ہیں، اس سے متعلق جو علوم وفنون ہیں، اس کی جو ایک پوری علمی روایت ہے، علمی سطح پر اس کو سمجھنے کی اس طرح سے اہلیت نہیں رکھتا۔ وہ جب ایک سادہ انسانی سطح پر تذکیر کے لیے، ہدایت کے لیے، اصلاح کے لیے، اپنے آپ کو خدا کے ساتھ جوڑنے کے لیے، خدا کا قرب حاصل کرنے کے لیے اس کتاب کو پڑھتا ہے تو اس کو بہت سے مقامات پر مدعا سمجھنے میں اشتباہ پیش آ سکتا ہے۔ ایسے اشتباہات بھی پیش آ سکتے ہیں، ایسے سوالات بھی پیش آ سکتے ہیں جن کو وہ اپنے محدود علم کی حد تک حل کرنے پر قادر نہ ہو۔ اس کو بعض جگہ آیات ایک دوسرے سے ٹکراتی ہوئی نظر آئیں گی۔ بعض جگہ پر کوئی ایسی بات بیان ہوتی ہوئی نظر آئے گی جس کو انسان کی سادہ عقل قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ بہت سے شکوک وشبہات بھی پیدا ہوں گے۔ ایسے موقع پر ایک صاحب علم جو اس طرح کی چیزوں کو tackle کرنے کے علمی وسائل سے آراستہ ہے، اس کو علمی وسائل حاصل ہیں، وہ تو ایک علمی طریقے سے، ایک علمی منہج کی پیروی کرتے ہوئے ان کو حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس سے بھی غلطی ہو سکتی ہے، لیکن اگر وہ علمی اصولوں کی پیروی کرے گا، اخلاقی اصولوں کی پیروی کرے گا تو وہ نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہوتا ہے کہ علمی سوالات سے یا علمی اشکالات سے نبرد آزما ہو۔ تاہم ایک عام آدمی کے لیے اس طرح کی الجھنوں کا سامنا کرنا شاید تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔ بہرحال عام آدمی ہو یا ایک صاحب علم ہو، یہ اصول اس کو ہر جگہ ملحوظ رکھنا ہے۔ 

زبان میں حقیقت ومجاز کے اسالیب

اس کے بعد کچھ چیزیں ہیں جو علمی نوعیت کی ہیں جن کا تعلق کتاب اللہ کی زبان سے اور کسی بھی کلام کی تشریح وتفسیر کے اصولوں سے ہے۔ متکلم کے لسانی اسالیب، کلام کا سیاق، ایک ہی متکلم کے مختلف بیانات کو سامنے رکھ کر اس کا مدعا طے کرنا اور اس طرح کی چیزیں ہیں جو کلام کی تفسیر کے علمی اصول ہیں اور وہ معلوم ومعروف ہیں۔ بحث کی تکمیل کے لحاظ سے یہاں اس پہلو کا کچھ ذکر کر لیتے ہیں۔
ایک بات جس پر قرآن مجید کے سب مفسرین، تمام اہل علم اصولی طور پر متفق ہیں، وہ یہ ہے کہ دنیا کی جو بھی زبان ہوگی، اس میں دونوں طرح کے اسالیب موجود ہیں۔ ایک اسلوب جس کو ہم حقیقت کا اسلوب کہتے ہیں، یعنی جس میں لفظ یا لفظوں کا مجموعہ یعنی جملہ اپنے انھی معنوں میں بولا اور استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے مراد بھی اس کے وہی معنی ہیں جو اس کے اپنے اصل اور حقیقی معنی ہیں جن کے لیے ان لفظوں کو زبان میں وضع کیا گیا۔ اسی طرح ایک دوسرا اسلوب ہے جس کو مجاز کا، استعارے اور تمثیل کا اسلوب کہتے ہیں، جس میں لفظ براہ راست اپنے اصلی معنی میں نہیں، بلکہ ایسے اسلوب میں استعمال ہوتا ہے جو سننے والے کو بالواسطہ متکلم کی مراد تک پہنچاتا ہے۔ متکلم ایک صورت کو کسی دوسری صورت کی طرف توجہ دلانے کے لیے مستعار لے لیتا ہے۔ لفظ کا حقیقی معنی چھوڑ کر اس کو کسی دوسرے، ایسے معنی کی طرف لے جاتا ہے جو اس سے وابستہ ہے، اس سے جڑا ہوا ہے اور مجازاً اس کا وہ مفہوم مراد لے لیتا ہے۔ زبان میں یہ دونوں طرح کے اسالیب موجود ہوتے ہیں۔ حقیقت کا اسلوب بھی ہوتا ہے، مجاز کا اسلوب بھی ہوتا ہے اور یہ ضرور ی ہے کہ آپ ان میں سے ہر اسلوب کو اپنے اپنے محل میں صحیح طور پر ملحوظ رکھیں۔
اس حوالے سے جو علم اصول اور علم تفسیر کے ماہرین اس کے مختلف قواعد بھی وضع کرتے ہیں اور ان سب کا حاصل یہ ہے کہ آپ یہ اصول سامنے رکھیں کہ زبان میں کہیں حقیقت کا اسلوب ہوگا، کہیں مجاز کا اسلوب ہوگا اور ہر اسلوب کے ساتھ کچھ قرائن اور لوازم ہوں گے۔ جہاں آپ کو حقیقت کے اسلوب کو ملحوظ رکھتے ہوئے کلام کا مفہوم سمجھنا ہے، اس کا اپنا محل ہے، اور اپنے قرائن اور اسالیب ہیں۔ جہاں متکلم نے مجاز کا اسلوب استعمال کیا ہوگا، اس کا کوئی محل ہوگا، اس کے کچھ قرائن اور کچھ اسالیب ہوں گے۔ تو ان دونوں اصولوں کو اپنے اپنے محل میں رکھنا، یہ علمی اصولوں میں سے ایک بڑا بنیادی اصول ہے۔ زبان کا عام اسلوب تو یہی ہے کہ لفظ جس مفہوم کے لیے وضع کیا گیا ہے، جب وہ بولا جائے تو وہی مراد لینا چاہیے۔ ہاں، جب کلام کے اندر یا ماحول کے اندر ایسے قرائن موجود ہوں یا متکلم اور سامع کے مابین جو ایک عہد ذہنی ہے، invisible communication کا جو ایک رشتہ ہے، اس میں ایسے قرائن ہوں جو یہ بتا رہے ہوں کہ متکلم دراصل ان الفاظ سے وہ لفظی مفہوم مراد نہیں لینا چاہ رہا جو عام طور پر اس کا ہوتا ہے تو پھر آپ اس کے مجازی مفہوم کی طرف shiftکریں گے، پھر آپ انتقال کریں گے۔ یہ قرائن کہیں بھی ہو سکتے ہیں، کلام میں بھی ہو سکتے ہیں، ماحول میں بھی ہو سکتے ہیں، متکلم اور مخاطب کے درمیان ان کے ذہن میں بھی ہو سکتے ہیں۔ خاص طورپر گفتگو کے کچھ مقامات اور کچھ دائرے ایسے ہوتے ہیں کہ وہاں پر زبان کا عرف اور متکلم کا اسلوب یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ اس دائرے میں وہ استعمال ہی مجازی اسلوب کرتا ہے۔ تو یہ دونوں اسلوب، انھیں بڑی دقت نظر سے اور علمی طور پر خوب غور کرکے ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ کہاں متکلم اپنے حقیقت کے اسلوب کو اختیار کر رہا ہے او رکہاں مجاز کے اسلوب کو اختیار کر رہا ہے۔
اس کی ایک مثال سامنے رکھیں۔ لفظ کا اپنا حقیقی معنی مراد ہونا چاہیے، اس کی مثالیں تو بے شمار ہیں۔ مثلاً قرآن مجید کہتا ہے: وَاِذْ قَالَ اِبْرَاھِیمُ لِاَبِیْہِ آزَرَ۔ ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا۔ یہاں بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ جس سے مکالمہ ہوا، وہ ان کا باپ نہیں تھا، بلکہ ان کا چچا تھا۔ تاہم کلام میں اس کا کوئی قرینہ نہیں۔ کوئی وجہ ایسی دکھائی نہیں دیتی کہ اب کے لفظ کو مجازی مفہوم میں لیا جائے اور باپ کے بجائے باپ کے درجے کا کوئی دوسرا رشتہ دار مراد لیا جائے۔ جب قرآن نے اب کہا ہے، یہاں بھی کہا ہے اور دوسری جگہوں پر بھی جہاں ابراہیم علیہ السلام کا اپنے ایک بزرگ سے مکالمہ نقل ہوا ہے، وہاں بھی لفظ اب ہی استعمال ہوا ہے تو لفظ کو اس کی حقیقت میں لینا چاہیے، یعنی یہ ان کا حقیقی باپ تھا جس سے ابراہیم کا یہ مکالمہ ہوا۔ اگرچہ یہ قرآن کی تعلیم کے لحاظ سے یہ کوئی بہت اہم بات نہیں ہے ، کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے کہ یہ ابراہیم کا باپ تھا یا چچا تھا۔ چچا ہو یا باپ ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن مثال کے لیے میں یہ بات عرض کی ہے۔ یہاں پر جو اہل علم مجازی مفہوم مراد لیتے ہیں، ان کے سامنے یہ سوال رکھا جا سکتا ہے کہ اس کا کیا قرینہ ہے اس کا؟ کیوں لفظ اب کو اس کے حقیقی مفہوم کے بجائے مجازی مفہوم میں لیا جا رہا ہے؟
اسی اصول کو آپ تھوڑا سا پھیلائیں تو دور جدید میں ہمارے ہاں اور دوسرے مسلم معاشروں میں بھی جو تفسیر کا ایک پورا اسکول وجود میں آیا، اس کی غلطی بھی واضح ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ قرآن نے انسانیت کی تخلیق کے حوالے سے آدم اور ابلیس کے دو لفظ استعمال کر کے بعض واقعات بیان کیے ہیں۔ ان میں ملائکہ کا ذکر بھی آیا ہے۔ اسی طرح قرآن بعض دوسرے مقامات پر جن اور جنہ کے نام سے بھی ایک مخلوق کا ذکر کرتا ہے۔ اب اس واقعے میں آدم کا ذکر ہو رہا ہے، ابلیس کا ذکر ہو رہا ہے، دونوں کے درمیان گفتگو کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے ایک آزمائش کے عمل سے گزرنے کا، ایک جگہ پر رکھے جانے کا، بہکائے جانے او رپھر وہاں سے ہٹا دیے جانے کا ایک پورا واقعہ بیان ہوا ہے۔ دور جدید میں ایک منہج فکر ایسا پیدا ہوا جو اس طرح کے واقعات کو، خاص طور پر آدم کی شخصیت اور ابلیس کی شخصیت کو اور اس پورے واقعے کو تمثیل کے اسلوب میں دیکھتا ہے۔ یعنی آدم سے مراد کوئی شخصیت نہیں ہے جس طرح ہم عام طور پر سمجھتے ہیں۔ ابلیس سے مراد بھی کوئی شخصیت نہیں ہے۔ اور یہ جو واقعہ ہوا، یہ حقیقی معنوں میں پیش آنے والے کسی واقعے کا بیان نہیں۔ یہ ایک تمثیلی اسلوب ہے۔ آدم سے مراد خیر کی اور بھلائی کی صلاحیت ہے جو انسان کے اندر موجود ہے، اور ابلیس سے مراد شر کی طرف رجحان رکھنے والی وہ طبیعت ہے جو انسان میں پائی جاتی ہے۔ اور یہ جو واقعہ ہے، وہ اصل میں انسان کی شخصیت میں خیر اور شر کے مابین کشمکش کا ایک تمثیلی بیان ہے۔ یہ ایک مثال ہے۔ اسی اسلوب پر وہ قرآن مجید میں اس طرح کے دوسرے بہت سے واقعات کی بھی توضیح کرتے ہیں۔
یہاں پر علمی طو رپر جو اعتراض بنتا ہے او رجو علمی اصول پامال ہوتا ہوا نظر آتا ہے، وہ یہی ہے کہ قرآن جس طرح اس واقعے کو بیان کر رہا ہے، ا س میں آخر ایسے کون سے قرائن ہیں جو اس کو حقیقت پر محمول کرنے کے بجائے اس کو تمثیل کا رنگ دینے کا جواز فراہم کرتے ہیں؟ جس اسلوب میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے، اگر تو یہ بتایا جا سکے کہ حقیقی واقعے کے بیان کا اسلوب یہ نہیں ہوتا، کوئی اور ہوتا ہے تو وہ سامنے لایا جائے۔ یعنی قرآن اگر ایک واقعتا ایک حقیقی واقعے ہی کو بیان کرنا چاہتا تو اس کے لیے کون سا اسلوب ہوتا جو اس سے مختلف ہوتا؟ اس لیے کہ یہ اگر تمثیل کا اسلوب ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت کے لیے کوئی اور اسلوب ہوگا۔ زبان کے جتنے معروف اسالیب ہیں اور کلام کو سادہ طور پرسمجھنے کے لیے ہر جگہ ہم جس طریقے کی پیروی کرتے ہیں، اس کے لحاظ سے کہیں یہ تاثر نہیں ملتا کہ یہ کوئی تمثیل بیان ہو رہی ہے۔ قرآن نے اس کو کسی ایک جگہ بیان نہیں کیا۔ مختلف مقامات پر بیان کیا ہے اور تفصیلات کی کمی بیشی اور فرق کے ساتھ بیان کیا ہے۔ کہیں یہ تاثر کلام کے اندر نہیں ملتاکہ اس کو ایک حقیقی واقعے کے بیان کے بجائے اس اسلوب کی مثال فرض کیا جائے جسے ادب کی زبان میں allegorical styleکہتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کوئی علاماتی مواد مستعار لیں اور اس کی مدد سے کسی معنوی حقیقت کی یا کسی ذہنی تصور کی تفہیم کرنا چاہیں۔ یہاں کلام کے اندر اس کے کوئی قرائن نہیں پائے جاتے۔ 
تو جس اصول کی طرف ہم توجہ دلا رہے ہیں، اس کا لفظ کی حد تک بھی اطلاق ہوگا اور ایک پورے واقعے پر بھی اس کا انطباق ہوگا کہ جب تک ہمیں قوی قرائن اور دلائل نہ ملیں جس کی بنیاد پر ہم کہہ سکیں کہ یہاں تمثیل کا اسلوب ہے اور استعارے اور مجاز کا اسلوب ہے، تب تک اس کو کلام کو ظاہر کے لحاظ سے اس کے حقیقی مفہوم میں ہی رکھنا چاہیے۔
اسی اصول کا انطباق حقیقت کے مقابل، مجاز کے اسلوب کے دائرے میں بھی ہوگا۔ ہم جانتے ہیں کہ کچھ دائرے ایسے ہوتے ہیں جہاں قرائن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ متکلم استعارہ کا اسلوب استعمال کر رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی اچھی مثال ہے جہاں قرآن نے صفات باری تعالیٰ کا اور اس کے مختلف افعال کا ذکر کیا ہے۔ یہ بات قرآن مجید سے بطور اصول واضح ہے، ا س نے بتا دیا ہے کہ خدا کی ذات انسان کے ادراک اور اس کے دائرۂ حواس سے ماورا ہے۔ اس کی ذات تک انسان کا ذہن اور اس کی جو حسی ادراک کی صلاحیت ہے، وہ نہیں پہنچ سکتی اور وہ انسان کے ہر تصور سے ماورا ایک ذات ہے۔ لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْءٌ، اس ذات جیسی کوئی شے ہے ہی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے بار ے میں بھی اور عالم غیب سے تعلق رکھنے والے دوسرے بہت سے امور کے بار ے میں بھی انسان کے سامنے جو باتیں بیان کی جائیں گی، وہ بنیادی طور پر تمثیل اور کسی حد تک تشبیہ کے اصول کو استعمال کرتے ہوئے کی جائیں گی۔ ان سے آدمی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ جیسے اپنی زبان میں ہم ان کا تصو رکر سکتے ہیں، وہ حقیقت میں بھی ایسے ہی ہیں۔ یہ تقریب ذہن کا اصول ہوتا ہے، کیونکہ انسان کے اپنے ذہن میں مشاہدات سے اخذ کردہ جو مواد ہے، اس سے مدد لیے بغیر کسی غیر محسوس یا غیر مشاہد چیز کا تصور کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ تو خداکی ذات ہو یا قیامت کا ذکر ہو یا جنت کا ذکر ہو یا ماورائے مشاہدہ جو عالم ہے، اس کے جو بھی حقائق بیان ہوں گے، وہ اسی اصول پر ہوں گے کہ اس کا ایسے اسلوب میں ذکر کیا جائے جو انسان کے لیے بڑی حد تک قابل فہم ہو اور وہ اس کا کسی نہ کسی درجے میں ایک تصور قائم کر سکے۔ 
اسی اصول پر اللہ تعالیٰ کی ذات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ بات قرآن سے واضح ہے کہ اللہ ایک صاحب ارادہ، صاحب شعور، صاحب اقتدار اور صاحب حکمت ہستی ہے۔ وہ کوئی اندھی بہری force نہیں ہے جو کسی سائنسی طاقت کے طریقے پر کام کرتی ہے۔ وہ باقاعدہ ایک ہستی ہے، لیکن اس ہستی کے تعارف کے لیے، اس کے افعال کے بیان کے لیے قرآن مجید بہت سے الفاظ وکلمات ایسے استعمال کرتا ہے جن میں تشبیہ کا ایک پہلو پایا جاتا ہے۔ مثلاً خدا کے عرش پر مستوی ہونے کا بیان ہے، خدا کے ہاتھ کا ذکر ہے۔ احادیث میں آپ کو اس کی کچھ مزید تفصیلات ملیں گی۔ مثلاً خدا ہر رات عرش سے نیچے اتر کر آسمان دنیا پر آ جاتا ہے۔ قیامت کے دن جب جہنم کا پیٹ بھرنا مقصود ہوگا اور وہ ایندھن سے نہیں بھرے گا تو خدا اپنا پاؤں اس کے اندر رکھے گا اور پھر جہنم کہے گی کہ بس بس، میرا پیٹ بھر گیا۔ تو قرآن نے خدا کی ذات کے بارے میں جو یہ بنیادی بات بیان کر دی ، اس کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ جب اللہ کے ہاتھ کا ذکر ہوگا یا اس کے عرش پر مستوی ہونے کا ذکر ہوگا تو وہ حقیقت کے لحاظ سے نہیں ہے۔ ایسا نہیں کہ جیسے میں کرسی پر بیٹھا ہوں، ایسے ہی خدا بھی عرش پر بیٹھا ہے۔ اسی لیے سلف نے اس کے لیے یہ اصول بیان کیا کہ یقیناًخدا ان ساری صفات کے ساتھ موصوف ہے، لیکن اس کا بیٹھنا، اس کا اترنا ، چڑھنا، اس کا متوجہ ہونا یہ ویسے ہے جیسے اس کی ذات اور اس کی شان کے لائق ہے۔ اس کو ہم انسانی اٹھنے بیٹھنے اور انسانی اعضاء پر قیاس نہیں کر سکتے۔
اس معاملے میں بھی آپ دیکھیں گے کہ علم کلام میں ایک پورا اسکول آف تھاٹ ہے جس نے اس اصول کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے بعض انتہا پسندانہ کلامی تعبیرات اختیار کر لی ہیں اور اس کا اصرار ہے کہ جیسے یہ باتیں بیان ہوئی ہیں، ان کو ایسے ہی باللفظ ماننا چاہیے۔ ان کا استدلال اس اصول کے غلط انطباق پر مبنی ہے کہ لفظ کا حقیقی معنی مراد ہونا چاہیے۔ اگر خدا کے ہاتھ کا ذکر ہے تو وہ ایسا ہی ہاتھ ہے جیسے میرا ہاتھ ہے۔ یعنی اس انتہا تک بعض کلامی اسکول پہنچ گئے۔ بنیادی غلطی یہ ہے کہ اس اصول کو نہیں سمجھا گیا کہ زبان میں دونوں طرح کے اسالیب موجود ہیں۔ حقیقت کا بھی موجود ہے، استعارے کا بھی موجود ہے۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کون سا محل اور کون سا دائرہ کس قسم کے اسلوب کے لیے موزوں ہے۔ عالم غیب سے متعلق امور کو بیان کرنے کے لیے قرآن مجید نے ہماری اس طرف راہ نمائی کی ہے کہ جب یہ چیزیں انسان کے سامنے بیان کی جاتی ہیں تو وہ حقیقت کے اسلوب میں نہیں ہوتیں۔ ان میں مجاز اور استعارے کا اسلوب ہوتا ہے او رمقصود یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے تصورات کی حد تک جس حد تک ممکن ہو، ان چیزوں کو اپنے ذہن کی گرفت میں لے آئے اور ایک عمومی سا تصور ان کا قائم کر سکے۔ ایسی چیزوں میں حقیقت کے اسلوب پر اصرار کرنا، یہ اس اصول کو پامال کرنے کا نتیجہ ہوگا۔

سوالات

سوال: خالی الذہن ہونے سے کیا مراد ہے؟ انسان اپنے علمی پس منظر سے جدا ہو کر کیسے کسی نئی چیز کو دیکھ سکتا ہے؟
جواب: خالی الذہن ہونے سے یہ یقیناًمراد نہیں ہے کہ آدمی ایک صاف سلیٹ لے کر آئے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ خالی الذہن ہونے سے مراد یہ ہے کہ آدمی کوئی تعصب لے کر یا یہ ارادہ لے کر نہ آئے کہ مجھے ایک خاص مفہوم کی تلاش کرنی ہے۔ یہ چیز اخلاقی طو رپر قابل اعتراض بن جاتی ہے کہ آپ اپنے خیال کو یا اپنی مراد کو کہیں سے حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کی تائید دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آدمی جب ایک خاص ذہن لے کر آتا ہے کہ اس طرح کی بات مجھے ملنی چاہیے تو پھر اس کو الفاظ میں جہاں بھی تھوڑی سی گنجائش نظر آتی ہے اس بات پر منطبق کرنے کی تو وہ ان ساری باتوں کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ وہاں متکلم کا مدعا کیا ہے، ا س کی منشا کیا ہے، سیاق سباق میں کیا بات چلی رہی ہے، کس محل میں کیا بات ہو رہی ہے، اور بس اگر ایک جملہ اس کے مطلب پر لفظی لحاظ سے منطبق ہو سکتا ہے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ مجھے قرآن کی نص مل گئی۔ جو بات میں سوچ رہا تھا، قرآن نے بھی اس کی تائید کر دی۔ تو خالی الذہن سے مراد یہ ہے کہ ایسا رویہ نہ ہو۔ باقی آدمی کا اپنا جو ایک علمی وفکری پس منظر ہے، اس سے آدمی یقیناًپوری طرح اوپر اٹھ نہیں سکتا۔ اس کے لیے آدمی کو بعض دفعہ ایک سفر بھی کرنا پڑتا ہے، ایک ریاضت بھی کرنی پڑتی ہے۔ جو چیز اخلاقی طو رپر قابل اعتراض ہے، وہ یہی ہے کہ آپ پہلے سے ایک خاص مراد، ایک منشا طے کر کے آئیں کہ اس طرح کی چیزیں مجھے تلاش کرنی ہیں۔
سوال: ہم کس طرح طے کریں گے کہ یہ حقیقت ہے یا استعارہ ہے؟
جواب: اس کے اصول تو زبان میں کم وبیش طے ہوتے ہیں۔ یہ کوئی قرآن کے ساتھ خاص نہیں یا دینیات کا کوئی علم نہیں۔ زبان کیا ہے، اس کے معانی ومطالب کیسے طے کرنے ہیں، اس کا انسان کو ایک فطری علم دیا گیا ہے، اس کی روشنی میں یہ باتیں طے ہوتی ہیں۔ قرآن کے لیے کوئی الگ اصول نہیں ہے۔ یہ جانے پہچانے اصول ہیں۔ دنیا کی ہر زبان میں ان کی پابندی کی جاتی ہے۔ انطباق میں بعض جگہ یقیناًفرق ہو جائے گا، لیکن بنیادی جو اصول ہیں، وہ ہر زبان میں معلوم ومعروف ہیں اور ان کی پیروی کی جاتی ہے۔
سوال: فرشتے، ملائکہ اور شیاطین، جب ہم نے ان کو دیکھا نہیں تو ان کے وجود کو کس طرح مان سکتے ہیں؟
جواب: ان کے وجود کو ماننا اس لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا ماخذ جس کے بارے میں ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ سچی بات ہمیں بتاتا ہے، اس نے ہمیں اطلاع دی ہے۔ اگر قرآن یا حدیث نے ہمیں ان کے متعلق نہ بتایا ہوتا تو ان کی حیثیت بھی ان بے شمار مخلوقات کی طرح ہوتی جو ہمارے علم میں نہیں اور جن کو جاننا یا ماننا ہمارے لیے کوئی اہمیت بھی نہیں رکھتا۔ یقیناًاور بھی بہت سی مخلوقات ہوں گی، لیکن ان کے بارے میں قرآن میں ذکر آ گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ان کا انسانی زندگی کے ساتھ اور انسانی معاملات کے ساتھ کیا رشتہ ہے۔ توقرآن کے یا پیغمبر کے بیان کی بنیاد پر ہم ان کو مانتے ہیں۔ یہ ہمارا قرآن اور رسول اللہ پر ایمان کا ایک تقاضا بن جاتا ہے۔
سوال: قرآن کے سمجھنے کے اصول کون وضع کرے گا؟
جواب: وہی لوگ جو قرآن کا علم رکھتے ہیں، قرآن پر غور کرتے ہیں۔ جیسے دنیا بھر میں ہر علم سے متعلق، ا س کے علمی مباحث اور اصول وہی لوگ وضع کرتے ہیں جو اس پر کام کرتے ہیں، اس پر غور وفکر کرتے ہیں، اس کی اہلیت پیدا کرتے ہیں، اسی طرح قرآن کے معاملے میں بھی کریں گے۔
سوال: قصہ آدم حقیقی اسلوب میں بیان ہوا ہے اور جنت اور دوزخ کا تذکرہ تمثیلی اسلوب میں ہوا ہے، یہ تفریق کس بنیادی اصول سے ہوگی؟
جواب: بنیادی اصول تو میں نے عرض کیا کہ جنت اور دوزخ کا تعلق اس عالم سے ہے جو ہمارے لیے قابل مشاہدہ نہیں اور اس عالم سے ملتی جلتی کوئی چیز جو حقیقت کے لحاظ سے اس کے مماثل ہو، وہ ہماری اس دنیا میں موجود نہیں۔ اس لیے اس کے بار ے ہمیں یہی تصور کرنا ہوگا۔ قرآن جگہ جگہ اس کی نشان دہی کرتا ہے۔ قرآن اپنی تصریحات سے بھی اور قرائن واسالیب سے بھی اس کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ جنت حقیقت میں کیا ہوگی، اس کے جو پھل ہیں، وہ نعمتیں، وہ سکون، وہ لذت جو انسان کو وہاں حاصل ہوگی، اس کا اس دنیا میں جو سکون، لذت، نعمت، ذائقے ہیں، ان کے ساتھ کوئی حقیقی مماثلت نہیں ہے، لیکن ہمیں دنیا میں ان چیزوں کا جو کچھ ادراک اور احساس حاصل ہے، اس پر قیاس کرتے ہوئے ہم ایک حد تک ان کا تصور کر سکتے ہیں۔ حقیقت میں وہ لطف کیا ہوگا، حقیقت میں وہ نعمت کیا ہوگی، حقیقت میں وہ سکون قلب کیا ہوگا، اور جن نعمتوں کا اور جن باغات کا اور جن دوسری چیزوں کا ہمیں بتایا گیا ہے، ان کا حقیقت میں وہاں کیا رنگ ہوگا؟ یہاں ان کا محض ایک تصور کر سکتے ہیں۔ حقیقت وہاں جا کر معلوم ہوگی، کیونکہ وہ بنیادی طور پر ایک ایسی دنیا سے متعلق بات ہے جو ہمارے مشاہدے میں بھی نہیں اور جو چیزیں ہمارے مشاہدے میں ہیں، ان میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو حقیقت کے لحاظ سے اس کی ترجمانی کر سکے۔
آدم کا جو قصہ ہے، وہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ ہم نے آدم کو نہیں دیکھا، لیکن آدم ایک انسان تھے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم ماضی کے واقعات بیان کریں۔ ہم نے تو ان کو نہیں دیکھا، لیکن ہم ان کو سمجھ سکتے ہیں، اس لیے کہ ہم انسان آج بھی انسان ہیں۔ انسان کی زندگی کے جو احوال ہیں، وہ وہی ہیں جو ان کے ہیں۔ تو ہم اپنے احوال سے، اپنے مشاہدۂ انسان سے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جو واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس میں حقیقت کے لحاظ سے کیا ہوا ہوگا۔ آدم بھی ایک انسان تھے۔ ان کو جو واقعات اور احوال پیش آئے، وہ بالکل اسی طرح مادی زندگی کے احوال ہیں جو ہمارے لیے قابل فہم بھی ہیں اور قابل ادراک بھی ہیں۔ تو اس کو ایک تمثیل قرار دینے کی یا ایک استعاراتی اور مجازی اسلوب میں بیان کردہ واقعہ فرض کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۲)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۴) مِلَّۃَ إِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفاً کا ترجمہ

قرآن مجید میں حنیفا کا لفظ دس بار آیا ہے، اس کے علاوہ حنیف کی جمع حنفاء کا بھی دو مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ پانچ مقامات پر مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً آیا ہے، ان پانچوں مقامات پر ترجمہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھتا ہے کہ حنیفا اگر نحوی ترکیب کے لحاظ سے حال ہے تو اس کا ذوالحال کیا ہے، یعنی وہ کس کا حال ہے؟، کیونکہ اس کی وجہ سے ترجمہ مختلف ہوسکتا ہے۔ ہم پہلے ان مقامات کے مختلف ترجمے پیش کریں گے، اور اس کے بعد ان ترجموں کے متعلق اپنا جائزہ پیش کریں گے۔

(۱) وَقَالُواْ کُونُواْ ہُوداً أَوْ نَصَارَی تَہْتَدُواْ قُلْ بَلْ مِلَّۃَ إِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ (البقرۃ: ۱۳۵)

’’یہودی کہتے ہیں: یہودی ہو تو راہ راست پاؤ گے عیسائی کہتے ہیں: عیسائی ہو، تو ہدایت ملے گی اِن سے کہو: ’’نہیں، بلکہ سب کو چھوڑ کر ابراہیمؑ کا طریقہ اور ابراہیمؑ مشرکو ں میں سے نہ تھا‘‘۔ (سید مودودی)
’’یہ (یہودی و نصرانی ) لوگ کہتے ہیں کہ تم لوگ یہودی ہوجاؤ یا نصرانی ہوجاؤ تم بھی راہ پر پڑ جاؤ گے، آپ کہہ دیجئے کہ ہم تو ملت ابراہیمی (یعنی اسلام) پر رہیں گے جس میں کجی کا نام نہیں اور ابراہیم علیہ السلام مشرک بھی نہ تھے‘‘ (اشرف علی تھانوی)
’’اور کتابی بولے یہودی یا نصرانی ہوجاؤ راہ پاؤگے تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیمؑ کا دین لیتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرکوں سے نہ تھے 150 (احمد رضا خان)
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی ہو جاؤ تو سیدھے رستے پر لگ جاؤ۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو، (نہیں) بلکہ (ہم) دین ابراہیم (اختیار کیے ہوئے ہیں) جو ایک خدا کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے‘‘(فتح محمد جالندھری)
’’یہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔ تم کہو بلکہ صحیح راہ پر ملت ابراہیمی والے ہیں، اور ابراہیم خالص اللہ کے پرستار تھے اور مشرک نہ تھے‘‘(جوناگڑھی)

(۲) قُلْ صَدَقَ اللّٰہُ فَاتَّبِعُواْ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْن۔ (آل عمران: ۹۵)

’’کہو، اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے، تم کو یکسو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقہ کی پیروی کرنی چاہیے، اور ابراہیمؑ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا‘‘(سید مودودی)
’’آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے سچ کہہ دیا سو تم ملت ابراہیم کا اتباع کرو جس میں ذرا کجی نہیں اور وہ مشرک نہ تھے‘‘ (اشرف علی تھانوی)
’’کہہ دو کہ خدا نے سچ فرمادیا پس دین ابراہیم کی پیروی کرو جو سب سے بے تعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے‘‘ (فتح محمد جالندھری)

(۳) وَمَنْ أَحْسَنُ دِیْناً مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْہَہُ للہ وَہُوَ مُحْسِنٌ واتَّبَعَ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَاتَّخَذَ اللّٰہُ إِبْرَاہِیْمَ خَلِیْلاً۔ (النساء : ۱۲۵)

’’اُس شخص سے بہتر اور کس کا طریق زندگی ہوسکتا ہے جس نے اللہ کے آگے سر تسلیم خم کر دیا اور اپنا رویہ نیک رکھا اور یکسو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقے کی پیروی کی، اُس ابراہیمؑ کے طریقے کی جسے اللہ نے اپنا دوست بنا لیا تھا‘‘(سید مودودی)
’’اور اس شخص سے زیادہ اچھا کس کا دین ہوگا جو کہ اپنا رخ اللہ کی طرف جھکادے اور وہ مخلص بھی ہو۔ اور وہ ملت ابراہیم کا اتباع کرے جس میں کجی کا نام نہیں، اور اللہ تعالی نے ابراہیم کو اپنا خاص دوست بنایا تھا‘‘(اشرف علی تھانوی)
’’باعتبار دین کے اس سے اچھا کون ہے؟ جو اپنے کو اللہ کے تابع کر دے اور ہو بھی نیکو کار، ساتھ ہی یکسوئی والے ابراہیم کے دین کی پیروی کر رہا ہو اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دوست بنا لیا ہے‘‘ (محمد جوناگڑھی)

(۴) قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ (الانعام: ۱۶۱)

’’اے محمدؐ! کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیمؑ کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اُس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا‘‘ (سید مودودی)
’’آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا رستہ بتلادیا ہے کہ وہ ایک دین ہے مستحکم طریقہ ہے ابراہیم کا جس میں ذرا کجی نہیں اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے‘‘(اشرف علی تھانوی)

(۵) ثُمَّ أَوْحَیْْنَا إِلَیْْکَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْن۔ (النحل: ۱۲۳)

’’پھر ہم نے تمہاری طرف یہ وحی بھیجی کہ یک سو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا‘‘(سید مودودی)
’’پھر ہم نے تمہیں وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی کرو جو ہر باطل سے الگ تھا اور مشرک نہ تھا‘‘(احمد رضا خان)
’’پھر ہم نے آپ کے پاس وحی بھیجی کہ آپ ابراہیم کے طریقہ پر جو کہ بالکل ایک طرف کے ہورہے تھے چلئے اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے‘‘(اشرف علی تھانوی)

(۶) مَا کَانَ إِبْرَاہِیْمُ یَہُودِیّاً وَلاَ نَصْرَانِیّاً وَلَکِن کَانَ حَنِیْفاً مُّسْلِماً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْن۔ (آل عمران: ۶۷)

’’ابراہیم نہ یہودی تھا نہ عیسائی، بلکہ وہ ایک مسلم یکسو تھا اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا‘‘(سید مودودی)

(۷) إِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیْفاً وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِکِیْن۔ (الانعام: ۷۹)

’’میں نے تویکسو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں‘‘(سید مودودی)

(۸) وَأَنْ أَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفاً وَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ (یونس: ۱۰۵)

’’اور مجھ سے فرمایا گیا ہے کہ تو یکسو ہو کر اپنے آپ کو ٹھیک ٹھیک اِس دین پر قائم کر دے، اور ہرگز ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہو‘‘(سید مودودی)
’’اور یہ کہ اپنے آپ کو اس دین (مذکور توحید خالص) کی طرف اس طرح متوجہ رکھنا کہ اور سب طریقوں سے علیحدہ ہوجاؤ‘‘(اشرف علی تھانوی)

(۹) إِنَّ إِبْرَاہِیْمَ کَانَ أُمَّۃً قَانِتاً لِلّٰہِ حَنِیْفاً وَلَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْن۔ (النحل: ۱۲۰)

’’واقعہ یہ ہے کہ ابراہیم اپنی ذات سے ایک پوری امت تھا، اللہ کا مطیع فرمان اور یک سو وہ کبھی مشرک نہ تھا‘‘(سید مودودی)

(۱۰) فَأَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفاً ۔ (الروم: ۳۰)

’’پس (اے نبیؐ، اور نبیؐ کے پیروؤں) یک سو ہو کر اپنا رُخ اِس دین کی سمت میں جما دو‘‘(سید مودودی)
’’سو تم یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف رکھو‘‘(اشرف علی تھانوی)

(۱۱) وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَاءَ۔ (البینۃ:۵)

’’اور اُن کو اِس کے سوا کوئی علم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، بالکل یکسو ہو کر‘‘(سید مودودی)
مذکورہ بالا آیتوں اور ان کے مختلف ترجموں کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں اور خاص طور سے جب ہم مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً کے ترجموں پر غور کرتے ہیں، تو صورت حال کچھ اس طرح سامنے آتی ہے۔
عام طور سے مترجمین نے حنیفا کو ابراھیم سے حال مان کر ترجمہ کیا ہے، ’’ابراہیم جو یکسو تھا‘‘۔بہت کم اردو مترجمین نے کوئی دوسری راہ اختیار کی ہے۔ عام ترجمے سے ہٹ کر ترجمہ کرنے والے دو نام خاص طور سے سامنے آتے ہیں:
مولانا تھانوی نے حنیفا کو ملۃ کا حال بنایا ہے، ’’ابراہیم کا طریقہ جس میں کوئی کجی نہیں ہے‘‘۔
مولانا مودودی نے مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً کا ترجمہ کرتے ہوئے حنیفا کو نہ ملۃ کا حال بنایا ہے، اور نہ ابراھیم کا حال بنایا ہے، بلکہ اس سے پہلے مذکور ضمیر کا حال بناکر ترجمہ کیا ہے ’’یکسو ہو کر پیروی کرو ابراہیم کے طریقے کی‘‘۔
اس طرح گویا تین طرح کے مفہوم سامنے آتے ہیں، ابراہیم حنیف تھے، ابراہیم کا طریقہ حنیف تھا، اور ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرنے والے کو حنیف ہونا ہے۔ 
تینوں میں سے کون سا ترجمہ زیادہ بہتر ہے، اس پر گفتگو سے پہلے یہ اشارہ بھی مفید ہوگا کہ مولانا تھانوی نے مذکورہ پانچوں مقامات میں سے سورہ نحل والی آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے عام مترجمین کی راہ اختیار کرلی۔ جبکہ مولانا مودودی نے پانچوں مقامات میں سے سورہ انعام والی آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے عام مترجمین والا ترجمہ کردیا۔
مولانا تھانوی کے مطابق مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً میں حنیفا کو ملۃ کا حال بنانے سے ایک اشکال تو یہ سامنے آتا ہے کہ قرآن مجید میں ابراہیم کو تو صریح طور سے حنیف کہا گیا ہے، إِنَّ إِبْرَاہِیْمَ کَانَ أُمَّۃً قَانِتاً لِلّٰہِ حَنِیْفاً، اسی طرح کہیں پر ان لوگوں کو بھی صریح طور سے حنفاء کہا گیا ہے جنہیں دین پر چلنے کی ہدایت دی گئی، وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَاءَ، لیکن کہیں دین کے لیے یا ابراہیم کے طریقے کے لیے صریح طور سے حنیف کی صفت کا استعمال نہیں ہوا ہے۔ ایسی صورت میں قرآن کی تفسیر قرآن سے کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں احتمال پایا جاتا ہو وہاں اس صورت کو اختیار کیا جائے جس کی صریح اور قطعی نظیر قرآن مجید میں موجود ہو، یعنی زیر نظر مقامات پر حنیف کو ملۃ کے بجائے ابراہیم کی صفت قرار دیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ملۃ مونث ہے اور حنیفا مذکر ہے، اس لیے ملۃ اور ابراہیم یعنی مذکر اور مونث جب دونوں موجود ہوں، اور دونوں میں ذو الحال بننے کا احتمال پایا جاتا ہو وہاں پہلے درجے میں حنیفا کو مذکر یعنی ابراہیم کا حال بنانا چاہیے۔
مولانا مودودی کے ترجمہ کے مطابق پہلے مذکور ضمیر کو ذوالحال بنانے کی صورت میں ایک اشکال یہ سامنے آتا ہے کہ سورہ آل عمران والی آیت میں فاتبعوا آیا ہے، یعنی اس فعل میں فاعل ضمیر واحد نہیں بلکہ ضمیر جمع ہے، ایسی صورت میں اگر وہ ضمیر ذوالحال ہوتی تو حنیفا کی جگہ حنفاء ہوتا جیسا کہ قرآن مجید میں دوسرے دو مقامات پر جمع ذوالحال کے لیے حنفاء آیا ہے۔غالبا مولانا مودودی کا ذہن اس طرف نہیں جاسکا اور انہوں نے غلطی سے اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے فاتبعوا میں موجود جمع کی ضمیر کو حنیفا کا ذوالحال بنادیا۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ جمہور مترجمین نے حنیفا کو ابراھیم کا حال مانا ہے، یہی بات زیادہ مناسب ہے ، اس رائے کے حق میں قرآنی استعمالات کی ایک زبردست دلیل حنیفا کے بعد وما کان من المشرکین والا جملہ ہے، وہ اس طرح کہ اوپر مذکور دوسری جن آیتوں میں ابراہیم کا ذکر نہیں ہے اور حنیفا کا لفظ آیا ہے، وہاں حنیفا کے ذو الحال کی رعایت سے حنیفا کے بعد والا جملہ آیا ہے، جیسے ولا تکونن من المشرکین اور وما أنا من المشرکین۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جہاں وما کان من المشرکین آیا ہے، وہاں حنیفا کا ذو الحال وہی ہے جس کی ضمیر وما کان کا اسم ہے، یعنی ابراہیم۔ غرض حنیفا کے بعد والے جملے میں جس کا ذکر ہے، اسی کو حنیفا کا ذوالحال ہونا چاہیے۔
مذکورہ بالا سورہ روم والی آیت میں زمخشری کا خیال ہے کہ حنیفا کو الدین کا حال بنایا جاسکتا ہے، لیکن اس کی تردید سورہ بینہ والی آیت سے ہوتی ہے جہاں حنفاء آیا ہے جو یقینی طور پر الدین کا حال نہیں ہے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ مولانا تھانوی جو دوسرے مقامات پر حنیفا کو ملۃ کا حال بناتے ہیں، وہ بھی سورہ روم والی آیت میں حنیفا کو الدین کا حال نہیں بناتے، اس سے بھی اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفا والی آیتوں میں حنیفا کو ملۃ کا حال نہیں بلکہ ابراہیم کا حال ہونا چاہیے۔
غرض تمام قرآنی نظائر اور استعمالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جمہور مترجمین نے جو ترجمہ کیا ہے، وہی قرآنی استعمالات کے زیادہ موافق ہے۔ 
(جاری)

مشرق وسطیٰ میں ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کے دور کا آغاز

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سرحدوں میں نئی تبدیلیوں کی بات کافی عرصہ سے چل رہی ہے۔ سابق امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کی یادداشتوں میں بھی اس منصوبے کا ذکر موجود ہے جس میں عراق کو تین حصوں میں تقسیم کر دینے کا پروگرام تھا (۱) سنی عراق (۲) شیعہ عراق (۳) کرد عراق۔ اسی طرح شام اور سعودی عرب کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی باتیں مختلف اوقات میں سامنے آتی رہی ہیں۔ عراق اور شام کے مسلح سنی گروپوں سے تشکیل پانے والی ’’داعش‘‘ کے بہت سے منفی کاموں کے ساتھ ایک مثبت پہلو بھی محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے سامنے آنے سے عراق اور شام کی مختلف ملکوں میں تقسیم کے منصوبے میں وقتی رکاوٹ آگئی ہے۔ اگر داعش قتل و قتال اور تکفیر کے خوارج کے ایجنڈے پر نہ چلی جاتی اور ’’دام ہمرنگ زمین‘‘ طرز کی بین الاقوامی سازشوں کے جال میں نہ پھنستی تو اس کا یہ مثبت پہلو زیادہ نمایاں ہوتا اور صورتحال یہ نہ ہوتی جو اب نظر آرہی ہے۔ مگر تقدیر کے فیصلوں کے سامنے کس کا بس چلتا ہے؟
یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس نئی منصوبہ بندی کا ہوم ورک کسی حد تک مکمل ہو چکا ہے کہ ٹرمپ صاحب اسے لے کر آگے چل پڑے ہیں اور انہوں نے اپنے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ جبکہ جرمن وزیر خارجہ کے بقول اب سے شروع ہونے والا دور ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کا دور ہوگا جس کی شروعات ’’اسلامی سربراہ کانفرنس‘‘ سے ہوئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے نہ صرف اس سے سرپرستانہ خطاب کیا ہے بلکہ جاتے ہوئے سعودی عرب اور قطر کے غیر متوقع تنازعہ کا تحفہ بھی دے گئے ہیں۔ ان کے رخصت ہوتے ہی سعودی عرب سمیت چھ عرب ممالک نے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں اور ٹرمپ صاحب نے اس تنازعہ کو حل کرانے کے لیے ’’ثالثی‘‘ کی پیشکش بھی فرما دی ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے درمیان اس تنازعہ کی بنیاد کیا ہے؟ اس کے بارے میں مختلف باتیں کہی جا رہی ہیں۔ ایک عرب تبصرہ نگار ڈاکٹر ہدی نجات کا کہنا ہے کہ اصل بات لین دین کی ہے کہ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب سے پانچ سو ملین ڈالر کی جو رقم ہتھیاروں کی فروخت کے حوالہ سے وصول کی ہے اس میں اصل تقاضہ پندرہ سو ملین ڈالر کا تھا مگر ادائیگی پانچ سو ملین ڈالر کی ہوئی ہے جو مبینہ سمجھوتے کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر تینوں کو ادا کرنا تھی۔ ڈاکٹر نجات کے بقول اس میں قطر نے اپنے حصہ کی رقم ادا نہیں کی جو تنازعہ کی وجہ بنی ہے۔ اور ان کے مضمون میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب قطر اور امریکہ کے درمیان اندرون خانہ گفتگو چل رہی ہے جس سے یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ قطر قسطوں میں یہ رقم ادا کرے گا۔
ممکن ہے تنازعہ کی اصل وجہ یہی ہو مگر تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر میرے ذہن میں یہ بات کھٹک رہی ہے کہ ایک صدی قبل مشرق وسطیٰ میں اس وقت کی بڑی عالمی قوت برطانیہ نے مختلف خطوں میں بعض خاندانوں کے نسل در نسل حق اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے ان سے جو الگ الگ معاہدات کیے تھے، شاید قطر اس معاہدہ کی حدود کی پابندی نہیں کر رہا جس کی تھوڑی سی جھلک قطری وزیر خارجہ کے ایک حالیہ بیان میں دکھائی دیتی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ہمیں خودمختاری کی سزا دی جا رہی ہے۔
ویسے یہ ریسرچ کا ایک مستقل اور دلچسپ موضوع ہے کہ گزشتہ صدی کے آغاز میں مشرق وسطیٰ کے بعض خطوں میں چند خاندانوں کا نسل در نسل اقتدار کا حق تسلیم کرتے ہوئے برطانیہ عظمیٰ نے ان سے مختلف معاہدات کیے تھے جن کی پاسداری اب برطانیہ کی جگہ امریکہ نے سنبھال رکھی ہے، وہ سب کے سب معاہدات تاریخ کے میسر ریکارڈ میں موجود ہیں، کوئی صاحبِ ذوق ان معاہدات اور اب تک ان پر عملدرآمد کو تحقیق کا موضع بنا سکیں تو یہ امت کی ایک بہت بڑی خدمت ہوگی۔
البتہ سعودی وزیرخارجہ جناب عادل الجبیر نے ایک بیان میں اس کی جو وجہ ظاہر فرمائی ہے وہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ قطر کو اخوان المسلمون اور حماس کے ساتھ تعاون پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ حالانکہ اخوان المسلمون عرب دنیا کی ایک اسلام پسند تنظیم ہے جو معاشرے میں اسلامی احکام و قوانین کی عملداری کے لیے ایک عرصہ سے محنت کر رہی ہے، اس نے کبھی ہتھیار نہیں اٹھائے بلکہ پر امن عوامی جدوجہد کو ہی اپنا طریقِ کار بنایا ہے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ رائے عامہ اور ووٹ کے ذریعے اقتدار تک رسائی حاصل کرنے کے باوجود اس کے راہنما جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔ ان کی بعض آراء اور طریق کار کے بعض پہلوؤوں سے اختلاف کی گنجائش ہے لیکن ان سے اس درجہ کا اختلاف کہ معاملہ ان کے خلاف محاذ آرائی تک جا پہنچے اور اس کی بنیاد پر مقاطعہ کی نوبت آجائے، نہ شرعاً درست ہے اور نہ ہی حکمت و تدبر کا تقاضہ ہے۔ جبکہ حماس تو آزادی فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والوں اور مسلسل قربانیاں دینے والوں کی تنظیم ہے، انہیں دہشت گردوں کے زمرے میں شمار کرنا خود آزادی فلسطین کے موقف کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
داعش کی حد تک تو یہ طرز عمل ٹھیک تھا جو اختیار کیا گیا ہے اس لیے کہ انہوں نے بلاجواز ہتھیار اٹھا رکھے ہیں اور قتل و قتال او رتکفیر کے فتنہ کی آبیاری کر رہے ہیں لیکن رائے عامہ اور ووٹ کے ذریعہ جدوجہد کرنے والی اخوان المسلمون کو ان کے ساتھ شمار کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر ہتھیار اٹھا کر جدوجہد کرنے والے بھی غلط ہیں اور عدم تشدد کے اصول پر چلتے ہوئے پر امن جدوجہد کرنے والے بھی غلط ہیں تو پھر نفاذِ اسلام کی محنت اور نظامِ کفر کے خاتمہ کے لیے محنت کا کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟ یوں لگتا ہے کہ سعودی عرب کی اسلامی مرکزیت کو نفاذِ اسلام کی پر امن جدوجہد کا راستہ روکنے کے لیے آڑ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سعودی حکومت حرمین شریفین کی خدمت کے حوالے سے دنیائے اسلام میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے لیکن اخوان المسلمون اور حماس کے بارے میں اس کی نئی پوزیشن ناقابل فہم ہے، اس معاملہ میں سعودی حکومت کو اپنے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی ورنہ ملت اسلامیہ خصوصاً عالم عرب میں ایک نئے خلفشار کا راستہ روکنا مشکل ہو جائے گا۔

انقلابِ ایران کی متنازعہ ترجیحات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایران کے معروف اپوزیشن گروپ ’’قومی مزاحمتی کونسل‘‘ کی چیئرپرسن مریم رجاوی نے گزشتہ دنوں سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی اسلامی امریکی سربراہی کانفرنس کے فیصلوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ لاہور کے ایک روزنامہ میں 6 جون 2017ء کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق مریم رجاوی نے پیرس میں اپنی پارٹی کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جنگوں اور دہشت گردی کا ماخذ ایران کو قرار دینے کا اعلان حقیقت ہے اور ایران میں ولایت فقیہ پر مبنی سیاسی نظام ہی خطے میں بد امنی اور دیگر تمام مسائل کی جڑ ہے۔
مریم رجاوی کا تعلق مسعود رجاوی کے خاندان سے بتایا جاتا ہے جو شاہ ایران کے دور میں بائیں بازو کی سیاسی جماعت ’’تودہ پارٹی‘‘ کے لیڈر تھے اور شاہِ ایران کے خلاف انقلاب کی جدوجہد کا حصہ تھے۔ بادشاہت کے خلاف انقلاب کی عوامی جدوجہد میں ایران کے مذہبی راہنماؤں کے ساتھ کمیونسٹ اور نیشنلسٹ عناصر بھی شریک تھے مگر کامیابی کے بعد مذہبی راہنماؤں کی قوت کار، نظم و ضبط ، منصوبہ بندی اور بے پناہ عوامی حمایت کے باعث باقی عناصر بتدریج پیچھے ہٹتے چلے گئے اور مذہبی قیادت نے انقلاب کا تمام تر نظم نہ صرف اپنے ہاتھ میں لے لیا بلکہ وہ اب تک اسے کامیابی کے ساتھ چلا بھی رہے ہیں جو ان کے نظریات اور پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود بہرحال ان کا کریڈٹ بنتا ہے۔ ہمارے ہاں دراصل معاملات کو صرف ایک رخ سے دیکھنے کا مزاج اس قدر پختہ ہوگیا ہے کہ اس سے مختلف زاویہ سے صورتحال کا جائزہ لینا ’’شجرِ ممنوعہ‘‘ کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے، ورنہ عقائد و نظریات سے ہٹ کر عوامی انقلاب لانے، اسے کنٹرول کرنے اور کامیابی و تسلسل کے ساتھ اسے جاری رکھنے میں ایرانی مذہبی قیادت کی اب تک کی حکمت عملی اور طریق کار کی اسٹڈی کی ضرورت ہے۔ مگر ہم محض جذباتی نعروں اور مطالبوں والی قوم ہیں اور اس سے زیادہ کوئی ذمہ داری لینے کے لیے ہم تیار نہیں ہوتے۔
مریم رجاوی اور ان کی قومی مزاحمت کونسل کا ایجنڈا کیا ہے اور ان کے حالیہ نظریات و افکار کا دائرہ کیا ہے، ہم سرِدست نہ اس سے پوری طرح آگاہ ہیں اور نہ ہی ان سے دلچسپی کا کوئی فوری داعیہ ہمارے سامنے ہے۔ البتہ انہوں نے مشرقِ وسطٰی کی تازہ صورتحال کے بارے میں اسلامی امریکی کانفرنس کے فیصلوں کی حمایت کرتے ہوئے جو مذکورہ بالا دو جملے کہے ہیں ان کے بار ے میں ہم کچھ عرض کرنا چاہیں گے۔
ایک یہ کہ ان کے نزدیک ایران میں ولایت فقیہ پر مبنی سیاسی نظام خطے میں بد امنی اور دیگر تمام مسائل کی جڑ ہے اور دوسرا ان کے خیال میں ایران کو خطے میں موجودہ جنگوں اور دہشت گردوں کا ماخذ قرار دینا درست ہے۔ مریم رجاوی اگرچہ پیرس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور اپنے خاندانی ماضی کے باعث بائیں بازو کے خیالات کی حامل سمجھی جاتی ہیں لیکن بہرحال وہ ایرانی ہیں، سیاسی راہنما ہیں اور ایرانی قوم کے ایک حصے کی نمائندگی کرتی ہیں اس لیے ان کی اس بات کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس کا جائزہ لینا معاملات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔
’’ولایت فقیہ پر مبنی سیاسی نظام‘‘ سے مراد یہ ہے کہ ایرانی دستور میں اثنا عشری شیعہ مذہب کے عقائد کو دستور و قانون کی بنیاد بنایا گیا ہے جس کے مطابق بارہ اماموں میں سے آخری بزرگ جو ’’امام غائب‘‘ اور ’’ولی عصر‘‘ کے خطاب سے یاد کیے جاتے ہیں، چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں اس لیے حاکمیت اعلیٰ کا حق وہی رکھتے ہیں اور ایرانی دستور میں انہی کی حاکمیت کو عملاً نافذ کرنے کا نظم وضع کیا گیا ہے۔ امام غائب کے ظاہر ہونے تک کا زمانہ ’’غیبوبت‘‘ کا زمان کہلاتا ہے اور اس دوران ان تک براہ راست رسائی بھی میسر نہیں ہے، اس لیے ان کی نیابت کے لیے اپنے وقت کے سب سے بڑے اور ممتاز فقیہ کو ان کا قائم مقام چنا جاتا ہے جس کے لیے ایرانی دستور میں باقاعدہ طریق کار اور شرائط طے ہیں۔ اس دستوری طریق کار کے مطابق جو صاحب اس منصب کے لیے چن لیے جاتے ہیں انہیں ’’ولایت فقیہ‘‘ کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے او روہ امام غائب کے نمائندہ کے طور پر ان کے اختیارات استعمال کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ انہیں حکومت، صدر، پارلیمنٹ اور عدالتِ عظمٰی سمیت کسی بھی ادارے کے کسی بھی فیصلے کو ’’ویٹو‘‘ کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے اور ان کے کسی فیصلے کو کہیں بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ وقت میں یہ حیثیت جناب آیت اللہ خامنہ ای کو حاصل ہے۔
’’ولایت فقیہ‘‘ کا یہ شخصی اختیار ’’پاپائے روم‘‘ کے ان اختیارات کے مشابہ لگتا ہے جو انہیں یورپ کے بادشاہی دور میں حکومتوں کے مذہبی سرپرست کے طور پر حاصل تھا اور شاید مریم رجاوی بھی ولایت فقیہ کے اسی پہلو پر تنقید کر رہی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل مجھ سے ایک مجلس میں کسی دوست نے سوال کیا کہ سعودی عرب کا نظام شخصی بادشاہت پر قائم ہے، کیا آپ اس کی حمایت کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں بادشاہت کی کسی بھی شکل کو اسلامی نہیں سمجھتا اور نہ اس کی حمایت کرتا ہوں لیکن مجھے شخصی اختیارات کے حوالہ سے بادشاہت او رولایت فقیہ میں بھی کوئی فرق نظر نہیں آتا کہ عملی نتیجہ دونوں کا ایک ہی ہے۔
جہاں تک خطے میں جنگوں اور دہشت گردی کے فروغ میں ایران کے مبینہ کردار کی بات ہے اس کا بھی گہری سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور ہمارے خیال میں سب سے زیادہ یہ ضرورت خود ایران کی ہے کہ وہ انقلابِ ایران کے بعد سے اب تک کی صورتحال کا ازسرِنو جائزہ لے اور دیکھے کہ موجودہ حالات کے پس منظر میں اس کی پالیسیاں اور طرزِ عمل کہاں کہاں اور کس کس انداز میں جھلک رہا ہے۔ ہم اس سے قبل یہ بات متعدد بار لکھ چکے ہیں کہ اگر انقلابِ ایران کو مذہب دشمنی اور سیکولرازم کے عالمی تسلط کے اس دور میں ایک کامیاب مذہبی انقلاب کے دائرے میں محدود رکھا جاتا اور اسے ایک مسلکی انقلاب کے طور پر اردگرد کے دیگر ممالک میں برآمد کرنے کی پالیسی اختیار نہ کی جاتی تو آج صورتحال یقیناً بہت مختلف ہوتی۔
ایک کامیاب مذہبی انقلاب کے طور پر ہم بھی انقلابِ ایران کا خیرمقدم کرنے والوں میں شامل تھے اور ہم نے یہ توقع وابستہ کر لی تھی کہ ایران کا کامیاب اور بھرپور مذہبی انقلاب عالم اسلام کی ان مذہبی قوتوں اور تحریکوں کا معاون بنے گا جو اپنے اپنے ممالک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے محنت کر رہی ہیں۔ لیکن یہ توقع غلط ثابت ہوئی حتیٰ کہ خود ہمارے ہاں پاکستان میں اسلامی تحریکوں کو سپورٹ کرنے کی بجائے ’’فقہ جعفریہ‘‘ کے نفاذ کی تحریک کے عنوان سے پریشان کن مسائل کھڑے کر دیے گئے۔ جبکہ دیگر مسلم ممالک بالخصوص مشرقِ وسطٰی میں بھی مسلکی ہم نواؤں کو منظم و متحرک بلکہ مسلح اور مورچہ بند کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی جیسا کہ عراق، شام، کویت، سعودی عرب، لبنان اور یمن وغیرہ کی صورتحال سے واضح ہے۔ یہاں تک کہ اردن کے فرمانروا شاہ عبد اللہ کو ایک موقع پر یہ کہنا پڑا کہ ’’ہم اس خطے کے سنی شیعہ ہلال کے حصار میں ہیں‘‘۔ جبکہ اس حصار کو آج سعودی عرب کے گرد کھلی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایران عراق جنگ سے لے کر یمن اور شام کے موجودہ بحران تک حالات و واقعات کا جو تسلسل ہمارے کربناک ملی المیوں کی نشاندہی کر رہا ہے اس میں یقیناً عالمی استعمار کا کردار سب سے زیادہ شرمناک او رخوفناک ہے لیکن اس سے ہم اس کے علاوہ اور کیا توقع کر سکتے ہیں؟ ہم خطے میں سنی و شیعہ کے باہمی تصادم کے حق میں نہیں ہیں بلکہ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ اس حوالہ سے اب تک جو ہو چکا ہے اسے کسی طرح ’’ریورس گیئر‘‘ لگے کیونکہ اس کا فائدہ اسرائیل اور اس کے سرپرست عالمی استعمار کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ لیکن ایرانی راہنما مریم رجاوی کی طرح ہمارے خیال میں بھی ماضی اور مستقبل دونوں حوالوں سے اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کا کوئی راستہ ضرور نکالے ورنہ خطرہ ہے کہ خطہ کے امن کے ساتھ ایران کا مذہبی انقلاب بھی اس انتشار کی زد میں آئے گا۔

تقسیم مسلسل سے گزرتی پاکستانی قوم

محمد حسین

برصغیر کی گزشتہ چند دہائیوں کو دیکھ لیا جائے تو تقسیم کا عمل ہمیں قدم قدم پر پہلے سے زیادہ پرتشدد اور پرتعصب نظر آتا ہے۔ مسلم سلطنتوں کی داخلی خلفشار اور کمزوریوں کے باعث ایسٹ انڈیا کمپنی سے شکست ہوئی جس کے خاتمے اور برطانوی نوآبادیاتی نظام کے زمام حکومت سنبھالنے کے بعد تقسیم کا عمل پھر سے شروع ہوا۔ پہلے ہندوستانی و برطانوی بنے، اور ہندو مسلم مل کر برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی جدو جہد کی۔ پھر ہندوستانی بلاک ہندو مسلم میں تقسیم ہو گیا۔ مسلمان بھی دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک متحدہ ہندوستان کے حق میں تھا اور دوسرا مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے حق میں۔ مسلمانوں کے دوسرے طبقے نے ہندو اکثریتی سماج میں بطور اقلیت مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور اپنی آزادی و خودمختاری کے لیے تحریک چلائی جس کے نتیجے میں ہندوستان کو چھوڑ کر جانے والے برطانوی سامراج نے اس خطے کو آبادی کے تناسب سے دو حصوں میں تقسیم کر کے دو الگ آزاد مملکتیں پاکستان اور بھارت بننے کے فارمولے پر اسے اپنی غلامی سے آزاد کر دیا۔
تقسیم ہند کے عمل میں پاکستان اور انڈیا کے مابین تقسیم کے طے شدہ فارمولے پر کشمیر کا فیصلہ نہیں کیا جا سکا جس کے باعث پاکستان اور انڈیا اپنی تقسیم اور تاریخ انسانی کی سب سے بڑی انسانی مہاجرت کے تکلیف دہ انسانی بحران سے باہر آنے سے پہلے ہی باہمی رقابت پر اتر آئے اور یہ رقابت برسوں کے سفر کو لمحوں میں طے کر جنگ میں بدل گئی۔ اور تقسیم کی دو دہائیاں بھی نہ گزری تھیں کہ آپس میں جنگ چھڑ گئی۔ اب دونوں طرف ایسے جنگی مزاج پر مبنی سماج کی پرورش کا آغاز ہو گیا کہ دونوں ملکوں کے انسانی، قدرتی اور قومی وسائل کا رخ انہی جنگوں کی طرف مڑ گیا اور یہیں اٹک گیا جو ہنوز پھنسا ہوا ہے۔ نہ کشمیر کا فیصلہ ہوتا ہے اور نہ جنگی مزاج کا کوئی خاتمہ بالخیر۔ شاید اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ تقسیم ہندوستان کی تیسری دہائی کی ابتداء میں دوسری جنگ چھڑی۔ اس جنگ کی کوکھ سے ایک الگ آزاد مملکت بنگلہ دیش نے جنم لیا جو اس سے پہلے مشرقی پاکستان کہلاتا تھا۔
سابقہ مغربی پاکستان اور سن اکہتر کے بعد کا موجودہ پاکستان چار صوبوں، اسلام آباد کے وفاقی علاقے، فاٹا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان یعنی مجموعی طور پر آٹھ یونٹوں پر مشتمل ہے۔ بعض یونٹوں کو آئینی اور سیاسی حقوق کے لحاظ سے اور بعض کو معاشی اور انتظامی حقوق اور خودمختاری کے اعتبار سے مختلف طر ح کی شکایتیں ہیں۔ 1973 میں ملک کا پہلا متفقہ جمہوری دستور منظور ہوا جس کے مطابق پاکستان کو دستوری طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان بنایا گیا۔ اگرچہ پاکستان کو ایک وفاق کے تحت متحد کیا گیا مگر اس کے باوجود داخلی تناؤ اور تقسیم مزید گہری ہونے لگی۔ اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں کے مابین اقتدار کی رسی کشی کے علاوہ سماجی سطح پر کراچی میں سندھی مہاجر، بلوچستان میں بلوچ ہزارہ، پشتون ، پنجاب میں پنجابی اور سرائیکی اور پوٹھوہاری، خیبر پختونخوا میں پختون و ہزارہ، گلگت بلتستان میں گلگتی بلتی، شین اور یشکن میں لسانی و نسلی تناؤ کے واقعات وقتا فوقتا سامنے آنے لگے۔ 
مذہبی تقسیم کی لہر چلی تو پہلے مسلم غیر مسلم، پھر مسلمانوں میں شیعہ سنی، پھر سنیوں میں مقلد و غیر مقلد، مقلد بھی دیوبندی و بریلوی، دیوبندی آگے حیاتی مماتی میں تقسیم، پھر معتدل و شدت پسند۔ بریلوی مسلک سواد اعظم ہونے نہ ہونے کی بابت درجن بھر ذیلی تنظیموں میں تقسیم در تقسیم کا شکار ہوتا گیا۔ اسی طرح شیعوں میں اثنا عشری و اسماعیلی کی تقسیم پختہ ہونے لگی۔ اثناعشری آگے بڑھ کر علماء و ذاکرین کے پیروکاروں میں تقسیم ہو گئے۔ علما کے پیرکاروں کی مزید تقسیم انقلابی وغیر انقلابی میں نظر آنے لگی، جبکہ ذاکرین میں بعض غالی اور بعض مقصر قرار پائے۔۔ ابھی ہر طرف یہ تقسیم مزید جاری ہے۔ ہر طرف پھل پھول رہی ہے۔ 
سیاسی بنیادوں پر دائیں اور بائیں بازو، جو مزید تقسیم ہو کر مذہبی و غیر مذہبی، آگے بڑھ کر مذہبی جماعتوں میں ہر ایک مسلک کا الگ برانڈ سامنے آتا ہے۔ آپ کو ہر مسلک کی کم و بیش تین تین درجن مذہبی سیاسی جماعتیں نظر آئیں گی جن کی اندرونی رقابتیں بہت پیچیدہ ہوتی ہیں۔ ان جماعتوں کے پرسان حال بھی مسلکی خطوط پر زیادہ تر بیرونی ممالک ہیں۔ کچھ سعودی عرب کی آغوش میں بیٹھ کر پاکستان میں رقصاں ہیں تو کچھ تہران کو عالم مشرق کا جنیوا دیکھنے کے لیے بے تاب۔ بعض کو ترکی مسیحا نظر آتا ہے۔کچھ ایسے بھی ہیں جو خلیجی ممالک کے دست شفقت کے بابرکت سایہ تلے رہنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ غیر مذہبی جماعتیں لبرل اور نظریاتی میں تقسیم ہیں۔ بعض امریکہ کو مثالیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو بعض یورپ کو۔ کچھ ایسے بھی ہیں جنھوں نے چین سے امیدیں جوڑ رکھی ہیں، کچھ سہمے ہوئے مزاج کے ساتھ بھارت کی طرف دیکھتے ہیں۔ الغرض کہیں ریاست نے دوستی اور دشمنی کی لکیریں کھینچ کر لوگوں کو انہی پر لگا دیا تو کہیں تہذہبی برتری و سیاسی نفوذ اور کہیں پر خطیر رقم ہی قوت جاذبہ بنی ہوئی ہے۔
سماجی حیثیت کے اعتبار سے ہماری قوم جاگیردار، سردار، سیاسی و عسکری اشرافیہ، سرمایہ دار، بالائی متوسط طبقہ، متوسط متوسطہ طبقہ، زیرین متوسطہ طبقہ، سفید پوش، غریب، افلاس زدہ کے خانوں میں بٹ گئی ہے۔ بد قسمتی سے ریاستی ادارے، مراعات اور وسائل لوگوں کی ضروریات اور استحقاق اور محنت کے حساب سے تقسیم نہیں ہوتے بلکہ قوت بازو کے حساب سے لوٹے جاتے ہیں۔ 
تقسیم کا رخ جب تعلیمی اداروں کی طرف بڑھا تو پہلے برطانوی و ہندوستانی، پھر انگریزی اور اسلامی، پھر انگریزی تقسیم ہو کر پبلک و پرائیوٹ سیکٹر، پھر لوگوں کی سماجی حیثیت کے لحاظ سے اشرافیہ سے لے کر غربت زدہ لوگوں کے لیے پبلک اور پرائیویٹ دونوں سیکٹرز میں الگ الگ تعلیمی نظام بنتا گیا۔مذہبی تعلیم مسالک کی تقسیم کے حساب سے تقسیم در تقسیم ہوتی گئی۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ یہ تقسیم اب پاکستان سے دیگر دنیا میں برآمد بھی ہو رہی ہے۔ پاکستان کا داخلی مذہبی اور سیاسی تناؤ مغربی ، خلیجی اور دیگر ممالک میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی میں بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ 
رقابت پر مبنی تقسیم کے اس تسلسل کا انکار کرنے والے وہی ہو سکتے ہیں جن کو آرام دہ کرسیوں اور بستروں سے باہر نکل کر دیکھنا نصیب نہیں ہوا، ’’سب کچھ ٹھیک ہے سر‘‘ سے زیادہ سنا نہیں۔ ورنہ گزشتہ سات دہائیوں میں بھوک، افلاس، قتل و غارت اور باہمی انتشار اس سماجی تفریق، سیاسی تناؤ اور مذہبی منافرت کی گواہی کے لیے کافی ہے۔
خطے کی صورت حال اور عالمی طاقتوں کے تزویراتی مفادات کے ٹکراؤ نے تناؤ کو مزید شدید کر دیا۔ چنانچہ سات دہائیوں سے انڈیا کے ساتھ تناؤ، گزشتہ چار دہائیوں میں افغانستان میں یکے بعد دیگرے روس اور امریکہ کی مداخلت کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والے حالات اور اس میں پاکستان کا کردار ایسا عنصر ہے جس نے اس مداخلت کے پرتشدد لہر کو پاکستان کی طرف موڑ دیا۔ اس ریاستی ٹاسک کے لیے پرائیویٹ طبقات میں سے کچھ زیادہ کاریگر ثابت ہوئے تو کچھ کم۔ یوں داخلی تقسیم کو اس ہمسایگی کی تپش نے مزید گرم کر دیا۔ چین کے اقتصادی قوت کے طور پر ابھرنے کے باعث عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات کی سرد و گرم جنگ کے لیے پاکستان اہم ترین میدان قرار پایا۔ پھر عالمگیریت کے جدید دور میں سراٹھانے والی عالمی دہشت گردی نے جلتی پر تیل کا کام کر دیا ہے۔ اب یہ مختلف الجہات تناؤ گمراہ (unguided) میزائل کی طرح بن گیا ہے جس کے بارے میں پتہ نہیں ہوتا کہ کب کس طرف جائے گا اور کہاں جا کر پھٹے یا گرے گا۔ یوں تقسیم پھل پھول کر آگ و خون کے کھیل میں بدل گئی۔ اس خون وآگ اور منافرت کے کھیل کے باعث نہ عبادت گاہ کا تقدس باقی رہا اور نہ ہی درسگاہ کا تحفظ۔ انسان ایسے کٹنے اور جھلسنے لگے جس کا منظر دیکھ کر آنکھوں کی روشنی چلی جائے اور جس کی دردناک چیخیں سن کر کان کے پردے پھٹ جائیں۔
سماجی مسائل تنازعات کے اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان کے ظاہری اور فوری اسباب کون سے ہیں۔ ظاہری اسباب تیل کے کنوئیں پر چنگاری کی طرح بہت چھوٹے اور محدود ہوتے ہیں۔ لیکن وہی چھوٹی سی چنگاری پورے کنوئیں کو جلا کر راکھ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جبکہ خفیہ، دیرپا اور مختلف الجہات اسباب اس تیل کے کنوئیں یا پکتے ہوئے لاوے کی مانند ہوتے ہیں جس کی گہرائی، حجم، پھیلاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے لیکن زمین کے اوپر بظاہر کچھ نظر نہیں آرہا ہوتا۔ اس کی جڑیں اور رگیں دور دور تک اور گہرائی تک پہنچ چکی ہوتی ہیں۔ اس طرح حادثہ یک دم نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پس منظر میں مختلف ثقافتی تناؤ، اقتصادی نا انصافیاں، سیاسی اقتدار و اختیار میں عدم مساوات، سماجی تفاوت، معاشی مفادات کا ٹکراؤ، نسلی تعصبات، اخلاقی کمزوریاں، نفسیاتی عوامل وغیرہ جیسے گہرے زخم اور شکایتیں ہوتی ہیں۔ کوئی بھی ابھرتا ہوا یا سلگتا ہوا تنازع یا مسئلہ اس وقت مثبت نتائج کی طرف بڑھنا شروع ہو جاتا ہے جب مسئلے کی موجودگی کو تسلیم کیا جائے کہ یہ واقعتا کچھ ایسی عدم موافقت ہے۔ اس اعتراف میں جتنی دیر لگتی ہے، مسئلہ اتنا ہی پیچیدہ تر ہوتا جاتا ہے اور وہ تیزی سے تخریبی نتائج کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ اور زیادہ متاثرہ طبقے کے لیے اعتراف کی یہ تاخیر، شکایتوں کے سننے، ان کے ازالہ کرنے میں ہونے والی دیر نیز سماجی انصاف کی فراہمی میں سست رفتاری بہت کار گر ثابت ہوتی ہیں۔ متاثرہ طبقات کے غم و غصے میں مزید شدت اور حدت بڑھ جاتی ہے۔ 
گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری تشدد، قتل و غارت ، دہشت گردی اور دیگر سماجی نا انصافیوں کے باعث پیدا ہونے والے سماجی تعصبات کے سوچ ورویوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اب قومی مجموعی مزاج اور سماج مختلف طرح کے نفسیاتی عوارض اور منفی سماجی رجحانات میں مبتلا ہو گیا ہے جس سے قوم مجموعی پیداروی صلاحیت، فکری پختگی، اخلاقی بلندی اور تہذیبی برتری کے میدان میں پیچھے رہ گئی ہے۔ 
یہ درست ہے کہ ہمارے قومی شعور اور پاکستانیت اور اداروں کے استحکام کی وجہ سے اتنی تقسیمات کے باوجود وطن عزیز مشرق وسطیٰ کی قسم کی بڑی خانہ جنگی کی طرف نہیں بڑھا۔ مختلف قدرتی آفات اور بحرانوں کے دوران بھی قومی یکجہتی کا مظاہرہ دیکھا گیا ہے۔ بہت سے قومی دارے بھی قومی یگانگت کو محفوظ رکھنے اور پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم تعصبات کے پکتے ہوئے لاووں کو یکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں لسانی و نسلی اور علاقائی تعصبات کے بہت سے ساختیاتی و ثقافتی اسباب بھی ہیں، بعض شخصی واقعات کی بنیاد پر جن کا انکار کرنا ناممکن ہے۔ اقتدار میں یکساں طور پر یونٹوں (اکائیوں علاقوں اور صوبوں) کی عدم شمولیت، قومی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، مراعات و اختیارات میں عدم توازن، جمہوری اور ارتقائی عمل کے تسلسل میں تعطل اور داخلہ وخارجہ پالیسی میں عارضی سیاسی مفادات کے تحت وسیع تر اور دیرپا قومی مفاد کو نظر انداز رکھنے، دور اندیش، مستعد، دیانت دار اور متحرک قیادت کی عدم دستیابی نے پاکستان میں تقسیم کے عمل کو مزید آگے بڑھایا اور باہمی تعاون و ترقی، سماجی انصاف کی فراہمی، قانون کی بالادستی اور جان و مال اور دیگر بنیادی حقوق کے تحفظ کے عمل کو یکسر متاثر کر دیا ہے۔ تقسیم، تفریق اور برتری کی نفسیات پر مبنی سیاسی نظریہ ’’تقسیم مسلسل‘‘ کو ہی جنم دیتا ہے۔ تقسیم کے عمل کو جب تک باہمی تعاون سے بدل نہیں دیا جاتا، طاقت کے زور پر اسے دبایا نہیں جا سکتا۔
باہمی تعاون ، تعمیر و ترقی پر مبنی سیاسی نظریہ کی ایک ’’عملی مثال‘‘ مذہبی، لسانی، نسلی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے باہمی تفاوت، تناؤ اور اختلافات کے باوجود تقریباً اٹھائیس ممالک پر مبنی یورپی یونین دیکھ لیجیے۔ یہ ممالک تقسیم اور غلبے کی نفسیات کے تحت دو عالمی جنگوں میں حصہ لینے اور متعدد دیگر جنگیں لڑنے اور کروڑوں لوگوں کو مروانے اور بے پناہ معاشی نقصانات اٹھانے کے بعد اس نتیجے تک پہنچ گئے کہ کسی قیمت پر بھی اپنے خطے میں جنگ نہیں لڑنی۔ انہوں نے باہم تہیہ کر رکھا ہے کہ جنگ کو نہ صرف اپنی اپنی سرزمینوں سے بلکہ پورے براعظم یورپ سے دور ہی رکھنا ہے اور اس معاملے میں سب نے یکساں باہمی تعاون کرنا ہے۔ان کے آپس میں بہت سے اختلافات و تنازعات موجود ہیں، مختلف ملکوں میں مذاہب اور مسالک مختلف ہیں، زبانوں، نسلوں، معاشی مفادات، سیاسی تعلقات پر تناؤ موجود ہے لیکن وہ ایسے تناؤ اور تنازعات کو باہمی نفرت، رقابت اور تعصبات میں بدلنے نہیں دیتے تاکہ باہمی پرتشدد خانہ جنگی اور اس سے جڑے دیگر جرائم کا سامنا نہ کرنا پڑے جن کا خمیازہ پہلے وہ بھگت چکے ہیں اور دنیا کے دیگر حصوں میں وہ مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ان کا استحکام، ترقی اور بہتر طرز حکمرانی شاید اسی میں مضمر ہے کہ انہوں نے ایک بنیادی اصول پر مکمل اتفاق کر لیا ہے کہ تشدد اور منافرت کو سماجی قبولیت اور سیاسی چھتری نہ دینے میں وہ پرعزم اور یکسو رہیں، جبکہ عددی لحاظ سے دوگنا تقریباً ساٹھ ممالک پر مبنی ’’امت واحدہ‘‘ عالمی طاقتوں کے مفادات کے حصول کی راہ ہموار کرنے میں ایک دوسرے کے خلاف لڑنے کی خاطر جنگجوؤں کی صف بندی اور اسلحہ کی جمع بندی میں مصروف ہے۔

دیوبندی بریلوی اختلافات : سراج الدین امجد صاحب کے تجزیے پر ایک نظر (۱)

کاشف اقبال نقشبندی

نظری آراء کا اختلاف نہ مضر ہے نہ اس کو مٹانے کی ضرورت ہے، نہ مٹایا جاسکتا ہے۔اختلاف رائے نہ وحدت اسلامی کے منافی ہے نہ کسی کے لیے مضر، اختلاف رائے ایک طبعی امر ہے جس سے نہ کبھی انسانوں کا گروہ خالی رہا نہ رہ سکتا ہے۔ یہ اختلاف خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں بھی ہوتا رہا اور خلفاء راشدین اورعام صحابہ کرامؓ کے عہد میں امور انتظامیہ کے علاوہ نئے نئے حوادث اور شرعی مسائل جن کا قرآن و حدیث میں صراحتاً ذکر نہ تھا ، ان کے استخراج میں جب انہیں اپنی رائے اور قیاس سے کام لینا پڑاتو ان میں اختلاف رائے ہوا جس کا ہونا عقل و دیانت کی بنا پر ناگزیر ہے۔اسی طرح بعد میں تابعین عظام کا عمل بھی ہر ایک اہل علم کے سامنے ہے؛ لیکن صحابہ وتابعین کے اس پورے خیر القرون میں اس کے بعد ائمہ مجتہدین اور ان کے پیروؤں میں کہیں ایک واقعہ ایسا سننے میں نہیں آیا کہ ایک دوسرے کو گمراہ یافاسق کہتے ہوں یاکوئی مخالف فرقہ اور گروہ سمجھ کر ایک دوسرے کی اقتدا کرنے سے روکتے ہوں یا ان اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کے خلاف جنگ و جدل یا سب وشتم ، توہین و استہزا کا بازار گرم کرتے ہوں؛بلکہ ان مقدس زمانوں میں ایسا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔
اما م ابن عبدالبر قرطبی اپنی کتاب ’’جامع بیان العلم‘‘ میں سلف کے باہمی اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں :
’’ہمیشہ اہل فتاوی فتویٰ دیتے رہے ۔ ایک شخص غیر منصوص مسائل میں ایک چیز کو حلال قرار دیتا ہے اور دوسرا اسے حرام قرار دیتا ہے، مگر نہ حرام کہنے والا یہ سمجھتا ہے کہ جس نے حلال ہونے کا فتویٰ دیا، وہ ہلاک اور گمراہ ہوگیا نہ حلا ل کہنے والا یہ سمجھتا ہے‘‘ (وحدت امت از مفتی محمد شفیع)
ہندوستان میں بھی انگریز کے برسر اقتدار آنے سے پہلے علماء کا آپس میں بعض مسائل و معمولات میں اختلاف ہونے کے باوجودایک دوسرے کے لیے احترام کا جذبہ غالب تھا۔
’’دیوبند و بریلی اختلافات سے مشترکات تک ‘‘ کے موضوع پر ایک مضمون الشریعہ نامی ویب سائٹ پر نظر سے گزرا ۔ صاحب مضمون کی فرقہ واریت اور مسلکانہ رنجشوں اور کدورتوں کی تلافی کے لیے لکھی جانے والی تمہید نے متاثر کیا۔لیکن پورا مضمون پڑھ کر افسوس ہوا کہ عنوان اور تمہید تو اس قدر خوبصورت لیکن اندر سے مضمون سراسر بریلوی مکتب فکر کی ترجمانی۔
آنے والی سطور میں ہم غیر جانب دارانہ طریق سے دیوبندی اور بریلوی مکتب فکر کے نزاع اور صاحب مضمون کی بریلوی مکتب فکر کی ترجمانی کا جائزہ لیں گے۔

دیوبندی بریلوی مناقشہ :بحث مباحثہ سے مناظرہ تک‘‘ پر ایک نظر

بعض حضرات اور شاید صاحب مضمون بھی ناواقفیت کی وجہ سے خیال کرتے ہیں کہ مروجہ میلاد شریف، عرس، قیام ، قوالی، فاتحہ ، نذرونیاز وغیرہ یا دسواں، بیسواں، چالیسواں، برسی وغیرہ کے بدعت یا غیر بدعت ہونے میں دیوبندی مکتب فکر اور بریلوی مکتب فکرکے علماء میں جو اختلاف ہے یہی ان دونوں مکاتب فکر کے اختلاف کی بنیاد ہے۔ لیکن ایسا سمجھنا درست نہیں ہے کیونکہ ان مسائل میں اختلا ف کا تذکرہ اس وقت سے ہے جب بریلوی یا دیوبندی لفظ کسی خاص مسلک کا ترجمان بنا تھا نہ عا م لوگ ان ناموں سے آشنا تھے۔ شاہ محمد اسحاق دہلویؒ کی کتاب ’’ماءۃ مسائل‘‘ میں مندرجہ بالا مسائل کی تفصیل موجود ہے جو دیوبندی اور بریلوی مکتب فکر کے مدارس کے قیام سے پہلے کی کتاب ہے۔علاوہ ازیں ان مسائل کی یا ان جیسے دیگر مسائل کی حیثیت کسی بھی فریق کے ہاں ایسی نہیں ہے کہ ان کے تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے کسی مسلما ن کو کافر اور خارج از اسلام کہا جاسکے۔
جہاں تک مضمون نگار نے مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اور مولانا فضل حق خیر آبادی کے اختلاف کا ذکر کیا ہے تومولانا شاہ اسماعیل شہید دہلویؒ اور مولانا خیر آبادی کے درمیان مسئلہ امکان نظیر وغیرہ پر اختلاف تھا ۔ یہ اختلاف خالصتاًعلمی اختلاف تھا۔ دراصل شاہ اسماعیل دہلوی نے’’ تقویۃ الایمان‘‘ میں عموم قدرت باری تعالی کے تحت یہ لکھا کہ ’’اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم کن سے چاہے تو لاکھوں ، کروڑوں نبی ولی جن و فرشتے جبرئیل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پیدا کرڈالے ‘‘اس پر مولانا فضل حق خیر آبادی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام صفات کاملہ میں مثل اور نظیر محال ہے ۔ یہاں ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں؛ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اور مولانا فضل حق خیرآبادی کے درمیان اتنی بات متفق علیہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مثل نہ موجود ہے اور نہ ہوسکتا ہے، اختلاف اس پر تھا کہ نظیر کیوں نہیں ہوسکتی؟ علامہ فضل حق خیر آبادی کے نزدیک ممتنع بالذات ہے اور مثل مذکور مستلزم کذب باری ہے جب کہ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی صاحب اس کا جواب دیتے ہوئے بیان فرماتے ہیں:
’’اس مقام پر اس قدرثابت کرنا مقصود ہے کہ مثل مذکورقدرت الہیہ کے تحت داخل ہے مثل مذکورکا وقوع ثابت کرنا مقصود نہیں۔‘‘ (رسالہ یک روزی ص۱۳۸) 
آگے لکھتے ہیں:
’’ ہاں البتہ مثل مذکورکے وقوع کا قول کرنا کذب باری کو جائز ماننا ہے معاذاللہ من ذالک ، رہا مثل مذکور کے امکان کا قول کرنا پس وہ کذب باری کے امکان کو مستلزم نہیں‘‘(یک روزی ص ۱۴۴)
آپ دیکھ رہے ہیں ساری بحث امکان نظیر کی ہے وقوع یا اثبات نظیرکو مولانا شہید بھی صحیح نہیں سمجھتے۔رہی بات یہ کہ کیا مولانا شہید سے پہلے بھی کسی نے اس قسم کی مثال دی ہے تو اس ضمن میں تفسیر رازی سے امام رازی کا قول پیش کرتا ہوں۔ امام رازیؒ قرآن پاک کی آیت: ’’وَلَو شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِی کُلِّ قَرْیَۃٍ نَّذِیرًا‘‘ (سورۃ الفرقان: ۵۱) کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’آیت دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قدرت رکھتا ہے اس بات پر کے ہر بستی کے اندر ایک رسول ایک نذیر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) جیسا پیدا کردے‘‘۔
بتاےئے کیا فرق ہے، اما م رازی ؒ اور شاہ اسماعیل دہلوی ؒ کی’’ تقویۃ الایمان‘‘ والی مثال میں؟
اس کے علاوہ ایک غیر جانب دار شہادت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مولانا فضل حق خیر آبادی نے شاہ اسماعیل دہلوی شہید کے خلاف اپنے موقف سے رجوع کر لیا تھا۔ (دیکھیں ’’امیرا لروایات‘‘ روایت امیر شاہ خان عن مفتی عنایت اللہ مرحوم)
مولانا فضل حق خیر آبادی جب مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے مخالف تھے تو مولانا خیرآبادی کے شاگرد مولانا سراج الدین لکھنوی اس مسئلہ میں شاہ اسماعیل دہلوی کے ساتھ تھے اپنے استاد کے ساتھ نہ تھے۔ اس سے مولانا خیر آبادی کے اختلاف کا وزن آسانی سے معلوم ہوسکتا ہے ۔ مولانا سراج الدین نے اس مسئلہ میں مولانا خیر آبادی کے خلاف ایک رسالہ بھی لکھا جس کانام تھا’’امکان نظیر النبی صلی اللہ علیہ وسلم و امتناعہ‘‘دیکھیے مورخ الہند مولانا عبدالحئی لکھنوی کی کتاب ’’نزہۃ الخواطر‘‘ (ج ؍۷ )
اس کے علاوہ مولانا حیدر علی رام پوری جو کہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ کے شاگرد رشید تھے نے بھی مولانا فضل حق خیر آبادی کے رد میں متعدد رسائل لکھے۔
مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے بارے میں بدلے موقف کی تائید مولانا فضل حق خیر آبادی کے صاحبزادے مولانا عبدالحق خیرآبادی کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے ۔مولانا احمد رضاخان بریلوی کی مولانا عبدالحق خیر آبادی سے جو گفتگو ہوئی، اسے ہم المیزان کے’’ احمد رضانمبر‘‘ سے نقل کرتے ہیں:
’’(مولانا عبدالحق خیر آبادی صاحب نے مولانا احمد رضاخان بریلوی سے) پوچھابریلی میں آپ کا کیا شغل ہے؟ فرمایا تدریس و تصنیف اور افتاء۔ پوچھا کس فن میں تصنیف کرتے ہو؟ اعلی حضرت نے فرمایا جس مسئلہ دینیہ میں ضرورت دیکھی اور رد وہابیہ میں۔علامہ نے فرمایا، آپ بھی رد وہابیت کرتے ہیں ،ایک وہ ہمارا بدایونی خبطی ہے کہ ہر وقت اس خبط میں مبتلا رہتا ہے‘‘ (ص ۳۳۲)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا شاہ اسماعیل کے بارے خیرآبادی حضرات کا وہ موقف نہ تھا جو بدایونیوں اور بریلی کے حضرات کا تھا۔ اور وہ اس اختلاف کی شدت کو محض خبط کے علاوہ اور کچھ نہ تصور کرتے تھے۔
مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی مرحوم کی تحقیق میں مولانا خیرآبادی اورمولانا شاہ اسماعیل شہید میں جو بھی اختلاف تھا وہ محض اجتہادی تھا،ہدایت و ضلالت کا اختلاف نہ تھا۔پیر صاحب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظیر کے متعلق سوال کیاگیا تو آپ نے یوں جواب دیا:
’’اس مقام پر امکان یا امتناع نظیرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنا مافی الضمیرظاہر کرنا مقصود ہے نہ تصویب یا تغلیظ کسی فریقین کی اسماعیلیہ و خیر آبادیہ میں سے شکراللہ تعالی سعیہم ۔راقم سطور دونوں کو ماجورو ثواب جانتاہے۔‘‘ (فتاوی مہریہ ص۱۱)
حکیم محمود احمد برکاتی صاحب جن کی تعریف بریلوی مکتب فکر کے مولانا عبدالحکیم شرف قادری صاحب نے بھی کی ہے ۔ (آپ فطری طور پر خیرآبادی خانوادہ سے گہری عقیدت و محبت رکھتے تھے اور وقتا فوقتا اکابر خیر آبادی کی خدمات پر علمی اور تحقیقی کام کرتے ہیں )لکھتے ہیں۔
’’مگر اس کے باوجود انہوں نے(یعنی شاہ اسماعیل شہید نے)جہاد کیا اور خداکی راہ میں جان دے دی یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان کے افکارامتناع نظیر، امکان کذب ، شفاعت وغیرہ متعددہ سے ہمیں اختلاف ہے ۔ہمارے بزرگوں نے انہیں بروقت ٹوکااور برحق ٹوکامگر مجاہدو شہید ہونے سے انکار کی جرأت ہم میں نہیں ہے، دل کانپتا ہے۔‘‘ (مولانا حکیم سید برکات احمد، سیرت اور علوم، ص۲۸۱،۲۸۲)۔
جہاں تک دیوبندی بریلوی اختلاف کو سمجھنے کے لیے صاحب مضمون نے مولانا قاسم نانوتوی مرحوم کی ’’تحذیر الناس‘‘ کا ذکر کیا ہے تو یہ اختلاف بھی دیوبندی بریلوی اختلاف کی بنیا د قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ مولانا قاسم نانوتوی نے اثر ابن عباسؓ کی تشریح و توضیح کی ، چونکہ اثر ٹھیک تھا تو ایسا مضمون و مفہوم بیان فرمایا کہ جس سے عقیدہ ختم نبوت بھی دلائل سے بیان ہوگیا اور روایت کا بھی صحیح مطلب بیان کرکے رد ہونے سے بچایا۔دوسرا یہ کہ علماء کی آراء میں اختلاف ہوجاناکوئی عجیب بات نہیں ہے ۔ مولانا عبدالحئی لکھنوی باوجود اثر ابن عباسؓ کی تشریح و توضیح میں اختلاف کے تادم زیست مولانا قاسم نانوتوی کے ساتھ اخوت و محبت کے ساتھ پیش آتے رہے جیسا کہ’’ عمدۃ الرعایہ‘‘ کے مقدمہ سے معلوم ہوتا ہے۔باقی مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا عبدالحئی لکھنوی کا اس اثر کے حوالے سے تقریبا اتفاق ہے اورمولانا عبدالحئی لکھنوی نے اثر ابن عباسؓ کی تصحیح پر باقاعدہ ایک رسالہ ’’زجر الناس علی انکاراثرابن عباس ضی اللہ تعالیٰ عنہ‘‘ لکھااور اس روایت کے مضمون کودرست سمجھا۔جب کہ بریلوی مکتب فکر کے ممتاز علماء محض’’ اثر ابن عباس‘‘ کے مضمون کو درست سمجھنے والے کو ختم نبوت کا منکر سمجھتے ہیں۔(دیکھیے عبارات اکابر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ص ۶۰ ) ۔ باقی مولانا اشرف علی تھانوی کے کہنے کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہندوستان کے اہل علم حضرات نے مولانا قاسم نانوتوی کے اس نقطہ سے دلائل کی بنیاد پر اعتراض کیامگر اس نقطہ کو بنیاد بنا کر تکفیر کسی نے نہیں کی۔

انوار ساطعہ

اسی طرح مضمون نگار نے ’’انوار ساطعہ‘‘ کو دیوبندی بریلوی اختلاف کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔ ’’ انوار ساطعہ‘‘ کے بارے میں بتاتا چلوں کہ انوار ساطعہ مولانا عبدالسمیع رامپوری نے ۱۳۰۲ھ (الشریعہ ویب سائٹ کے مضمون پرکتاب کا سن طباعت کتابت کی غلطی سے ۲۰۳۱ھ لکھا ہے) میں’’ انوار ساطعہ دربیان مولود فاتحہ‘‘ لکھی جس کے جواب میں مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے۱۳۰۴ھ میں ’’براہینِ قاطعہ علی ظلام انوار ساطعہ‘‘ لکھی۔ صاحب مضمون نے انوار ساطعہ پر معاصرین علماء کی تقاریظ اور براہین قاطعہ پر کسی تقریظ کے نہ ہونے سے شاید یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ انوار ساطعہ میں موجود نظریات و معمولات تو اہل السنۃوالجماعۃ کے مصدقہ ہیں جب کہ براہین قاطعہ میں موجود عقائد و معمولات خود ان علماء کے تراشیدہ ہیں ۔ اول تو براہین قاطعہ تقاریظ کے لیے دیگر ہم عصر علماء کو پیش ہی نہیں کی گئی دوم انوار ساطعہ میں جن مسائل کو اختلافی بتایا گیاہے ہندوستان کے اکابر علماء اس پر اپنی رائے پہلے سے ہی دے چکے تھے۔ ذیل میں بریلوی دیوبندی مسلکی نسبتوں سے پہلے کے اکابر علماء کے معمولات و عقائد کا ذکر کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔ 

حضرت مجدد الف ثانیؒ (۹۷۱ ؍ ۱۰۳۴ ھ)

’’ہرگاہ ہر محدث بدعت است و ہربدعت ضلالت،پس معنی حسن در بدعت چہ بود‘‘
ترجمہ .......’’جب ہر نئی بات بدعت ہے،اور ہر بدعت گمراہی ہے پس بدعت میں حسن وخوبی کے کیا معنی؟‘‘
حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کا یہ قول آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔حق جو باطل کے پردوں میں مستور ہوگیا تھا آپ نے مجددانہ عزیمت سے اور مجاہدانہ جدو جہد سے اسے اصلی صورت اور اصلی شان میں دنیا کے سامنے رکھ دیا۔ عاجز کے نزدیک ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’’بدعت حسنہ ‘‘ کی پردہ دری ہے ۔آپ سے اس دور میں کہ جب دیوبندی بریلوی مدارس قائم نہیں ہوئے تھے اور’’ انوار ساطعہ دربیان مولود و فاتحہ‘‘ اور’’ براہین قاطعہ‘‘ جیسی کتب بھی معرض وجود میں نہیں آئیں تھیں مولودخوانی سے متعلق پوچھا گیا کہ ’’خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنا اور نعت و منقبت کے قصائد(خوش الحانی کے ساتھ) پڑھنے میں کیا مضائقہ ہے؟۔ 
حضرت امام ربانی ؒ اس کا انتہائی بصیرت آمیز جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
’’میرے مخدوم ! فقیر کے دل میں آتا ہے کہ جب تک اس دروازہ کو مطلق طور پر بند نہ کریں گے اس وقت تک ابوالہواس باز نہیں آئیں گے اگر تھوڑا سا بھی جائز کریں گے تو بہت تک پہنچ جائے گا مشہور مقولہ ہے تھوڑا زیادہ کی طرف لے جاتا ہے۔‘‘ (مکتوبات امام ربانی دفتر سوم ،مکتوب نمبر ۷۲)
ملاحظہ فرمائیں کہ امام ربانی تو ایسی محفل میلاد کو جس میں قرآن خوانی اور نعت خوانی ہو کبھی جائز نہیں سمجھتے ۔بعینہ ایسے ہی مفہوم کا سوال جب علماء دیوبند میں سے مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب سے پوچھا گیا توآپ کا جواب بھی یہی تھا جو امام ربانی مجددالف ثانی کے مکتوب میں درج ہے کہ اس زمانہ میں ایسی مجلس مولود جس میں کوئی خلاف شرع امور نہ ہوں، درست نہیں۔

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ

اما م ربانی مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کے زمانہ میں ہی ایک اور عظیم شخصیت حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تھی۔آپ نے عقائد اہل سنت اور معمولات اہل سنت کوصحیح شکل میں رکھنے کے لیے جو کاوشیں کی وہ قابل تحسین ہیں۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ ایک جگہ لکھتے ہیں’’باجماعت نفل ادا کرنا مکروہ ہے ‘‘(ماثبت بالسنہ)حضرت شیخ جماعت کے ساتھ نوافل ادا کرنے کو مکروہ فرما رہے ہیں جب کہ بریلوی مکتب فکر کے حضرات کے معمولات میں سے ہے کہ خصوصاً ۲۷؍ رمضان اور ۱۵؍ شعبان کی راتوں میں نوافل کی جماعت ہوتی ہے اور ا سکے لیے باقاعدہ اعلانات کیے جاتے ہیں۔اسی طرح نماز کے بعد مصافحہ کرنے کو حضرت شیخ بدعت کہتے ہیں۔ (اشعۃ اللمعات ج ۴ ص ۲۴) حضرت شیخ قبروں پرقبوں کے جواز کے بھی قائل نہیں ہیں۔ (شرح سفر السعادۃص ۳۴۹)اسی طرح میت کے کفن پر کچھ بھی لکھنے کو ناجائز فرماتے تھے۔ (مکتوبات شیخ: مکتوب نمبر۶۴)
قارئین کرام! یہ وہ معمولات ہیں جو بریلوی مکتب فکر کے لوگوں میں بڑی شدومدسے رائج ہیں اور ان کے خلاف کرنے والوں کو بریلوی مکتب فکر کے حضرات وہابی یا اہل سنت سے خارج قراردیتے ہیں۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ

حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کی وفا ت کے ۸۰؍ سال بعد اور عالمگیر بادشاہ کی وفات سے چار سال پہلے اما م الہند شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نواح دہلی میں پیدا ہوئے۔شرک و بدعات اور ہندوانہ چلن جو حضرت مجدد ،شیخ عبدالحق اور سلطان عالمگیرؒ کی جدوجہد سے مٹنے لگے تھے ، سلطان عالمگیر کی وفات کے بعد پھر سر اٹھانے لگے۔ نام نہاد فقرا اورصوفیہ فقر کی بساط بچھا کر سادہ لوح مسلمانوں کے مال اور ایمان پر ڈاکہ ڈالنے لگے۔حجر پرستی کی جگہ قبر پرستی نے لے لی۔ 
ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’اور سب سے بڑی بدعت جو لوگوں نے اختراع کی وہ قبورکے بارے میں ہے اور ان قبروں کوانہوں نے عید بنا رکھا ہے‘‘(تفہیمات الٰہیہ ج ۲ص۶۴) 
ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
’’جو اجمیر میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی یا سالار مسعود غازی کے مزار پر اس لیے گیا کہ وہاں اپنے لیے دعا کرے گا اور وہاں ضرور دعا قبول ہوگی تو اس نے بڑا گناہ کیااور یہ ایسے ہے جیسے کو ئی بتوں کو پوجے یا لات وعزیٰ کو پکارے۔‘‘ (ایضاًص ۴۵)
ان عبارات سے معلوم ہوا کہ اس وقت بھی ایسے لو گ پورے پھیلاؤکے ساتھ موجود تھے جس طرح کے نظریات کے حامل لوگ شہرِ خرافات میں آج موجود ہیں۔
علم غیب کے متعلق لکھتے ہیں:
’’پھر جان لیجیے کہ لازم ہے کہ انبیاء علیہم السلام سے واجب الوجودجل مجدہ کی صفات کی نفی کی جائے جیسے علم غیب اور عالم کی تخلیق وغیرہ اور ان امور کی کمی ہرگز ان کی شان میں کمی نہیں کرتی‘‘ (ایضاً ص ۲۴)
شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ :
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے صاحبزادے اور جانشین شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں:
’’شرک وکفر کی باتوں میں سے ہے کہ ائمہ و اولیاء کا رتبہ انبیاء علیہم السلام کے برابر جاننا،انبیاء علیہم السلام کے لیے لوازم الوہیت جیسے علم غیب کا عقیدہ رکھنا،ہر ایک کی پکار ہر ایک جگہ سے سن لینا تمام مقدورات پر ان کی قدرت(مختار کل)ماننا۔‘‘ (تفسیر عزیزی ج۱،ص ۵۲) 
شاہ صاحب محدث دہلوی زیارات قبور کے لیے کوئی دن مقرر کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’زیارا ت قبور کے لیے کوئی دن مقرر کرنا بدعت ہے‘‘ (فتاوی عزیزی)

قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ

قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جنہیں بیہقی وقت کہتے تھے، لکھتے ہیں: اولیاء کی قبور پر جواونچی عمارتیں بناتے ہیں اور چراغاں کرتے ہیں اور اس قسم کے جتنے کام کرتے ہیں سب حرام یا مکروہ (تحریمی) ہیں۔ (مالابد منہ ص ۸۶) 
دسواں، چالیسواں ،برسی کے متعلق وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’میرے مرنے کے بعد دنیوی رسمیں مثلاًدسواں اور بیسواں اور چالیسواں اور ششماہی اور سالانہ برسی عر س کچھ بھی نہ کریں‘‘(مالابدمنہ ص ۱۶۱)
شاہ محمداسحاق محدث دہلوی ؒ لکھتے ہیں:
’’میت کے دفن کرنے کے بعد قبرپر اذان مکروہ ہے اس لیے کہ احادیث سے اس کا ہونا معلوم نہیں ہوتا۔‘‘ (ماءۃ مسائل،ص۶۴)
ملاحظہ فرمائیں کہ دیوبندی مکتب فکر کے علماء نے براہین قاطعہ میں کوئی نئے معمولات یا عقائدمتعارف نہیں کروائے تھے بلکہ وہی عقائد و معمولات جوہندوستان میں سلف و خلف سے چلتے آرہے تھے، بیان کیے۔

ہندوستان کے اکابر علماء کے معمولات و عقائد سے کس نے اختلاف کیا؟

حضرت مجدد الف ثانیؒ کی تجدیدی فکر اور اما م الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور ان کے جانشینوں کی علمی سوچ سے سب سے پہلے مولانا فضل رسول بدایونی (۱۲۱۳ھ ،۱۲۸۹ھ)نے اختلاف کیا۔ انگریز دور میں سرکار کے ملازم تھے۔ مشہور مؤرخ پرفیسر ایوب قادری صاحب لکھتے ہیں:
’’مولوی فضل رسول بدایونی حکومت انگریزی کی ملازمت میں اول مفتی عدالت اور پھر کلکٹر میں رشتہ دار رہے۔‘‘ (تذکرہ علماء ہند ص ۳۸۲،۳۸۱))
مولانا فضل رسول بدایونی کی اکثر تصانیف انگریز ملازمین کی اعانت سے چھپتی تھیں۔ پروفیسر محمد ایوب قادری بریلوی صاحب لکھتے ہیں:
’’مولوی فضل رسول بدایونی کی تصانیف کی طباعت کے سلسلہ میں ایک بات خاص طور پر نوٹ کی کہ ان کی اکثر تصانیف کسی نہ کسی سرکاری ملازم کی اعانت سے شائع ہوئیں ۔‘‘ (جنگ آزادی 1857ء ص۶۳)
مولانا پہلے شخص ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے اقتدار علمی پر حملہ کیا ۔حضرت شاہ اسماعیل ؒ اور حضرت شاہ محمد اسحق دہلویؒ تو ایک طرف آ پ نے مجدد الف ثانیؒ اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار ونظریات سے بھی اختلاف کیا۔ مشہور غیرمقلدمؤرخ محمد اسحاق بھٹی صاحب نے جو مولانا کے متعلق لکھا ہے، وہ کافی حدتک درست لکھا ہے اور مولانا فضل رسول بدایونی کی کتب اس پر صادق آتی ہیں۔لکھتے ہیں:
’’مولانا فضل رسول بدایونی بہت بڑے فقیہ اور مجادلہ و مناظرہ میں مشہور تھے۔ اپنے مسلک اور نقطۂ نظر میں سخت متعصب تھے۔ علماء سے مخاصمت اور بحث و جدل میں تیز تھے۔ مولانا اسماعیل شہید کی تکفیر کرتے تھے اور انہوں نے جو بدعات و رسومات کی تردید کی ہے، اسے غلط قرار دیتے تھے۔ بعض مسائل کی وضاحت کے سلسلے میں حضرت مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کو بھی ہدف تنقید بنا لیتے اور اس ضمن میں بہت آگے نکل جاتے۔‘‘ (فقہائے پاک و ہند تیرہویں صدی ہجری، جلد سوم )
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کے بارے ’’بوارق محمدیہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’شاہ ولی اللہ دہلوی کی ان کتابوں پر مطلع ہوئے تو ان کی(یعنی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی) کی کتابوں کلمات فرقہ ظاہریوں(وہابی، نجدیوں)نے بہت دخل پایا۔اگرچہ دوسری جگہ اس کے خلاف بھی پایا جاتا ہے‘‘ (شوارق صمدیہ ترجمہ بوارق محمدیہ ص ۶۰) ۔
مولانا فضل رسول بدایونی کے خلاف شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے شاگردمولانا سراج احمد سہسوانی نے رسالہ ’’سراج الایمان‘‘ لکھا۔
مولانا احمد رضاخان بریلوی اما م ربانی مجدد الف ثانی کے بارے میں لکھتے ہیں۔
’’کوئی مجددی ان کے قول(یعنی مجدد الف ثانی کے قول)سے استدلال کرے تو وہ جانے۔ ہم تو ایسے شخص کے غلام ہیں جس نے جو بتا یا وحی سے بتایاخدا کے فرمانے سے کہا۔‘‘ (ملفوظات اعلی حضرت حصہ ۳ ص ۷۰) 
مفتی احمد یار خان نعیمی بریلوی مکتب فکر میں جنہیں حکیم الامت جانا جاتا ہے، لکھتے ہیں:
’’حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب و قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ بیشک بزرگ ہستیاں ہیں؛ لیکن یہ حضرات مجتہد نہیں تاکہ کراہت تحریمی و حرمت فقط ان کے قول سے ثابت ہو، اس کے لیے مستقل دلیل شرعی کی ضرورت ہے‘‘ (جاء الحق ص ۲۹۴)
مولانا محمد عمر اچھروی مولانا احمد رضاخان بریلوی کے شاگردمولانا محمد حسین صاحب کے ہاں زیر تعلیم رہے ۔ تذکرہ اکابر اہل سنت میں مولف مولانا عبدالحکیم شرف قادری صاحب( جن کے بارے میں بریلوی مکتب فکر کے مفتی اعظم پاکستان جناب مفتی منیب الرحمان صاحب چئیر مین روئیت ہلال کمیٹی لکھتے ہیں کہ بریلوی مسلک میں یہ حجت و سند کا درجہ رکھتے ہیں) انہیں اپنے اکابر میں شمارکرتے ہیں مولانا عمر اچھروی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’جب (حرمین شرفین سے)واپس پہنچے تو حالت دگرگوں ہوچکی تھی۔ اور اپنے والد ماجد کا عطیہ ولایت بھی کھو بیٹھے تھے حتی کہ والد ماجد کے سلجھے ہوئے مریدین نے جب ہتک آمیز کلمات بزرگوں کی شان میں سنے تو دست افسوس ملتے ملتے علیحدہ ہوگئے۔محمد بن عبدالوہاب کے عقیدہ کی چند کتابیں بلاغ المبین وغیرہ انبیاء و اولیاء کی توہین میں شائع کیں............دہلی میں شور برپا ہوگیا شاہ ولی اللہ وہابی ہوچکاہے۔ چنانچہ حیات طیبہ کے ص ۱۲؍ پر درج ہے کہ تما م علماء اسلام نے متفقہ طور پر فتوی کفر صادر کئے تو شاہ صاحب کا جدی و علمی وقار ہباء منثورا ہوگیا۔‘‘ (مقیاس حنفیت ص ۵۷۶)
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور شاہ رفیع الدین محدث دہلوی کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ان دو حضرات نے ابھی اپنے دادا کے حنفی مذہب کو پسند فرمایا۔ لیکن آبی اثر ضرور ہوتا ہے کچھ نہ کچھ شاہ ولی اللہ صاحب کا معمولی سا رنگ چڑھا۔‘‘ (ایضاً ص ۵۷۷)
قریب قریب یہی کچھ مولانا شاہ تراب الحق قادری صاحب کے اہتمام سے لکھی جانے والی کتاب ’’مکمل تاریخ وہابیہ‘‘ ص ۷۲ تا۷۹ پر بھی درج ہے۔ ممبئی سے المیزان کا احمد رضا نمبر چھپا تھا جس میں مولانا سید عبدالکریم علی ہاشمی یوں رقم طراز ہیں:
’’اس مذہب کے آخری اما م ابن عبدالوہاب جس نے یہ طریقہ اپنے شیخ طریقت شیخ محمد حیات سندھی سے لیاہے اور اس نے مدینے کے ۲۷ استادوں سے لیا ہے شیخ احمد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بھی ان ہی محدثین میں سے پانچ اصحاب حدیث سے حدیث سند حاصل کی ہے چنانچہ سب سے پہلے آپ مدینہ سے وہابی مذہب ہندوستان لے کر آئے۔‘‘ (المیزان کا امام احمدرضانمبرص ۶۱۰)
مولوی غلام مہر علی چشتیاں مولف ’’دیوبندی مذہب‘‘ لکھتے ہیں:
شاہ ولی اللہ نے ہگا، شاہ عبدالعزیز نے اس پر مٹی ڈالی مگر اسماعیل نے اسے ننگا کرکے سارے ملک کو متعفن کردیا۔‘‘ (عصمۃالنبی ص ۷،۸) 
اس پورے پس منظر سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ ہندوستان میں دیوبندی مکتب فکر سے پہلے کے علماء و اکابرین سے عقائد و معمولات میں اختلاف کرنے والے حضرات بریلوی مکتب فکر سے ہیں اختلاف کا جو تخم مولانا فضل رسول بدایونی نے بویا تھا، وہ احمد رضاخان ، مفتی احمد یار نعیمی، مولانا عمر اچھروی ، شاہ تراب الحق قادری اور مولانا غلام مہر علی چشتی کی صورت میں تناور درخت بن چکا ہے۔مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اور مولانا فضل حق خیر آبادی کا اختلاف تو بعد کی بات ہے۔

مقرظین انوار ساطعہ

اب آتے ہیں انوار ساطعہ پرتقاریظ لکھنے والے علماء کی طرف توانوار ساطعہ پر تقاریظ لکھنے والے علماء باوجود بعض معمولات میں اجتہادی و فکری رائے کے اختلاف کے دیوبندی مکتب فکر کے علماء کی تکفیر و تفسیق نہیں کرتے تھے بلکہ باہمی عقیدت و احترام کے ساتھ تعلقات قائم تھے بلکہ بعض نے تو مولانا احمد رضاخان کی تکفیری کاوشوں کی حوصلہ شکنی کی۔ بعض علماء نے انوار ساطعہ کی بعض جزیات سے اپنی کتب میں اختلاف بھی کیا۔ذیل میں اس ضمن میں چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
۱۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ جو مولانا عبدالسمیع رامپوری کے پیرو مرشد ہیں، ’’ضیاء القلوب ‘‘میں مولانا رشید احمد گنگوہی کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’جوشخص مجھ سے عقیدت رکھے، و ہ مولوی رشیداحمد صاحب سلمہ سے اور مولوی محمد قاسم صاحب سلمہ کو میری جگہ بلکہ مجھ سے بلندمرتبہ سمجھے، اگرچہ ظاہر میں معاملہ اس کے برعکس ہے کہ میں ان کی جگہ پر ہوں اور وہ میری جگہ پراور ان کی صحبت کو غنیمت سمجھے کہ ان کے ایسے لوگ زمانے میں نہیں پائے جاتے اور ان کی برکت خدمت سے فیض حاصل کرے۔‘‘ (ضیاء القلوب ص ۷۲)
۲۔مولانا لطف اللہ علی گڑھی ؒ آپ علما ء دیوبند اور بانیان ندوۃ العلماء کو آخری زندگی تک مسلمان اور اہل سنت والجماعت سمجھتے تھے۔ آپ کے تلامذہ میں مولانا عبدالحق حقانی صاحب تفسیر حقانی اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی جیسی برگزیدہ ہستیاں شامل ہیں۔ مولانا کے بارے میں احمد رضاخان اور ان کے ہمنواؤں نے یہ تاثر دیا کہ مولانا لطف اللہ علی گڑھیؒ بھی ندوۃ العلماء کے خلا ف ہیں اورانہوں نے ندوۃ کے خلاف فتویٰ پر دستخط کیے ہیں جس کی بعد میں مولانا لطف اللہ علی گڑھیؒ نے تردید کی ۔مولانا احمد رضاخان کو مولانا لطف اللہ علی گڑھیؒ نے ایک مفصل خط تحریر کیا جس میں مولانا احمد رضاخان کوشغل تکفیر سے منع کرتے ہوئے فرمایا:
’’ ذرا غور فرمائیے!ہماری سختی اور تشدد نے ہمارے اہل سنت والجماعت کواور بالخصوص احناف کوکیسے سخت صدمہ پہنچایاہے.......افسوس صد افسوس! ہمیں اپنے پاک مذہب کی ذلت پر ذرا نظر نہیں ہوتی ، مولانا(احمد رضاضان بریلوی) ذرا خداکے لیے غور کیجیے اور دشمنان دین کو ہم پر اور ہمارے پاک مذہب پر ہنسنے کا موقع نہ دیجیے‘‘۔
اس مراسلت کاکوئی نتیجہ نہ نکلابلکہ مخالفت کی آنچ تیز ہوگئی۔ندوۃ العلماء کے لیے ندوۃ الجہلاء کالفظ وضع کیا گیا۔ ۔۔۔ ندوۃ کے بعض علماء کی تکفیر بھی کی گئی ۔ اس جنگ میں مولانا احمد رضاخان، مولاناعبدالقادر بدایونی اور مولانانذیراحمد خان رامپوری شامل تھے (سیرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ ص۱۷۱،۱۷۲) 
۳۔ مولانا فیض الحسن سہارنپوری صاحب کے بارے میں تذکرہ علماء اہل سنت وجماعت لاہورمولف پیر زادہ اقبال احمد فاروقی میں ہے مولانانے عنوان باندھاہے:
’’مولانا قاسم سے دل لگی :مولانا قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند اور مولانا فیض الحسن سہارنپوری دونوں میں گونہ ایسے تعلقات تھے کہ باہم مزاح و ظرافت کی گفتگو کبھی کبھی ہوجایا کرتی تھی۔ (ص ۱۸۵) 
آگے اس ضمن میں ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ الغرض یہ کہ اختلاف کی شدت اس طرز کی نہیں تھی کہ جس طرز کی بنیاد مولانا احمد رضاخان نے ڈالی ،تفصیل آگے آرہی ہے ۔
۴۔مفتی ارشاد حسین رام پوری صاحب سے کسی نے سوال کیاکہ ’’انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیائے کرام کو سوائے قبر کے حاضرو ناظر جان کر پکارنا بطو راستمدادیا بایں نظر کہ وہ سنتے ہیں جس جگہ ان کو پکارے جائز ہے یا نہیں۔ آپ نے جواب دیا:
’’حاظر اور ناظر اور ہر جگہ ہروقت سننے والا جان کر کسی کو سوا اللہ تعالی کے پکارنا جائز نہیں‘‘ (فتاوی ارشادیہ ص۱۶۷)
معلوم ہوا کہ بعض معمولات میں فکری و رائے کے اختلاف کے باوجود اعتقادی اختلاف نہ تھا۔
(جاری)

فطرت بطور معیار کی بحث

ڈاکٹر عرفان شہزاد

فطرت سے مراد انسانوں میں پائے جانے والے وہ عمومی پیدایشی رجحانات ہیں، جو انسانی شعور کو حق و باطل، خیر و شر، اور طیبات و خبائث میں تمیز کی صلاحیت عطا کرتے ہیں۔ وحی کی عمارت انہیں بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔
فطرتِ انسانی ان اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، اس بحث کو ہم تین سطح پر دیکھتے ہیں: عقیدہ، اخلاق اور قانون۔ یہ واضح رہے کہ قانون کی بنیاد بھی پر اخلاق ہی پر ہوتی ہےِ، اس لیے اصلاً یہ بحث کہ فطرتِ انسانی اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، عقیدہ اور اخلاق سے ہی متعلق ہے۔
فطرت میں پائی جانے والی یہ وہ بنیادی رہنمائی ہے جس کا تجربہ و مشاہدہ ہر انسان کرتا ہے۔ تاہم، اس شعوری رہنمائی کے اطلاق میں کبھی مغالطہ بھی لاحق ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں بحث کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور درست نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے مغالطے، لیکن، بہت کم پیش آتے ہیں۔ ان کم تر پیش پیش آنے والے مغالطوں کی وجہ سے اس حقیقت کا انکار کرنا کہ فطرت، ایمان و عقیدہ، خیر و شر، اور طیبات و خبائث کے لیے معیار نہیں بن سکتی، ایک بدیہی حقیقت کا انکار ہے۔ جس طرح فقہی اطلاقات میں انسانی فہم کے مختلف درجات اور نصوص اور اصول کے اطلاقات میں خطا کے احتمال کے باوجود انسانی فہم پر ہی بھروسہ کرنا پڑتا ہے، اسی طرح بعض اوقات درست فطرتی پوزیشن کی تعیین میں در آنے والے احتمالات کے باوجود فطرت کا معیار ہونا متاثر نہیں ہو سکتا۔ 
ساری انسانیت ان تمام اقدار کے معیارات طے کرنے میں فطرت کی ودیعت کردہ اسی بنیادی رہنمائی پر عمل کرتی ہے۔ تاہم،بعض مقامات پر فطرت اس رہنمائی سے قاصر رہ جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جب وحی کی ضرورت پڑتی ہے، یا اس بحث کی ضرورت پڑتی ہے کہ درست فطری پوزیشن کیا ہے۔ ہر علم و فن میں ایسا ہوتا ہے کہ جس چیز کو معیار تسلیم کیا جاتا ہے، اس کے اطلاق میں بعض اوقات اختلاف بھی رونما ہوتا ہے۔ آئین و قانون کی بحث میں ہر جگہ اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس اختلاف کی وجہ سے البتہ، بنیاد کا انکار نہیں کر دیا جاتا۔
ہمارے فاضل احباب نے فطرت کو 'قبل از وحی فطرت' اور 'بعد از وحی فطرت' میں تقسیم کیا ہے اور اصرار کیا ہے کہ معیار اگر ہے تو بعد از وحی فطرت ہی بن سکتی ہے، اس صورت میں جب کہ پوائنٹ آف ریفرینس شارع کو بنایا گیا ہو۔ تاہم، اپنے اس اصول کی خلاف ورزی البتہ انہیں پہلے ہی قدم پر کرنا پڑی جب انہوں نے قبل از وحی فطرت کوایمان و عقیدے کے معاملے نہ صرف بطور صلاحیت تسلیم کیا، بلکہ میں اسے معیار بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ دین و ایمان کی دعوت و تبلیغ کے لیے فطرت کا معیار ہونا ضروری ہے، ورنہ کسی کو خدا کے وجود اور توحید کی دعوت اس بنا پر دی ہی نہیں جا سکتی ہے کہ خدا کے وجود اور توحید کا ماننا حق ہے اور اس کا انکار اور شرک کرنا باطل ہے۔ توحید و شرک کے لیے معیار فطرت نہ ہو تو دین و ایمان کی دعوت کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے۔
یہاں ظاہر ہے کہ فطرت سے مراد قبل از وحی فطرت ہی ہے جو حق و باطل کا معیار تسلیم کی گئی ہے۔تاہم، اخلاق و قانون میں وہ قبل از وحی فطرت کو بطور معیار تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ قبل از وحی فطرت کو اگر ایمان و عقیدہ کے لیے معیار تسلیم کر لیا گیا ہے تو اخلاق و قانون کے لیے اسے معیار تسلیم نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟ فطرت کی تعیین اور تعریف کی جن مشکلات اور ابہامات کی بنا پر اخلاق اور قانون کے لیے فطرت کو معیار ماننے سے انکار کیا جاتا ہے، وہ غور کیجیے تو عقیدے کے باب میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ انسان نے اخلاق اور قانون سے زیادہ عقیدہ کے میدان میں اپنی توحیدی فطرت سے انحراف کیا ہے۔ دنیا میں قتل، جھوٹ اور چوری کو درست اور جائز قرار دینے والا کوئی ایک بھی صحیح الدماغ انسان نہیں ملے گا۔ قانون میں بھی انسان اپنی فطرت سے بہت کم منحرف ہوا ہے، خیر و شر، عدل و انصاف کے تعین میں اس نے بہت ہی کم خطا کی ہے، لیکن سب سے زیادہ انحراف انسان سے اگر سرزد ہوا ہے تو وہ عقیدے میں ہوا ہے۔ دنیا میں توحید پرستوں کے مقابلے میں غیر توحیدی عقائد کے حامل افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ اس کے باوجود فطرت کو بطور معیار ماننے سے انکار کرنے والے بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ عقیدے کے باب میں انسانی کی اصلی فطرت توحید پر ایمان لانا ہے، اور یہی حق و باطل کا معیار قرار پاتی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں یہ اس لیے تسلیم کرنا پڑا ہے کہ اس بارے میں قرآن و حدیث میں چند بیانات آ گئے ہیں۔ قرآن میں عہد الست کا ذکر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ روایت، جس میں خبر دی گئی ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین یعنی اس کا ماحول اس کو یہودی، نصرانی اور مجوسی وغیرہ بنا دیتا ہے۔ 
غور کیجیے کہ عقیدے کے باب میں قرآن و حدیث میں آنے والے بیانات، فطرت کا محض ذکر کر رہے ہیں،فطرت کی تعیین تو وہ بھی نہیں کرتے۔ پھر کس بنیاد پر عقیدہ و ایمان میں فطرت کو معیار تسلیم کر لیا گیا ہے؟
وحی کی رہنمائی سے ہٹ کر بھی بشریات و دینیات کے محققین، مثلا کیرن آرمسڑانگ اور دیگر بہت سے، بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہر دور اور ہر جگہ کے انسان کا پہلا عقیدہ توحید ہی تھا، شرک اور الحاد بعد کے انحرافات ہیں۔ یہ قبل از وحی فطرت کی شہادتیں ہیں۔
ہمارا مشاہدہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ بچے فطرت کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی وہ ذرا شعور سنبھالتے ہیں تو خالق کے بارے میں سوال کرنے لگتے ہیں۔ یعنی اقرار خداوندی ان کے شعور میں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ وہ یہ نہیں پوچھتے کہ یہ سب کیسے بن گیا، وہ یہ پوچھتے ہیں کہ یہ سب کس نے بنایا۔ نیز، وہ چاند سورج سے لے کر اپنی تخلیق تک ہر مخلوق کے لیے صرف ایک خالق کو تصور کر کے سوال پوچھ رہے ہوتے ہیں۔ یعنی وہ یہ پوچھتے ہیں کہ کس نے یہ سب بنایا، نہ کہ کس کس نے یہ سب بنایا۔ بچوں کے سوالوں میں ان کے الفاظ کے چناؤ پر غور کیجیے۔ 
بہرحال مدعا یہ ہے کہ فطرت کو ایمان و عقیدہ کے باب میں معیار ماننے کے نتیجے میں بھی تعریف اور تعیین کے انہیں منطقی اور فلسفیانہ ابہامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اخلاق و قانون میں فطرت کو معیار ماننے کے خلاف پیش کیے جاتے ہیں۔ تس پر بھی اگر فطرت عقیدے کے لیے معیار بن سکتی ہے تو اخلاق و قانون کے لیے کیوں نہیں بن سکتی؟
مسئلہ در حقیقت یہ نہیں کہ فطرت معیار ہے یا نہیں، فطرت کو معیار مانے بنا آپ دو قدم نہیں چل سکتے۔ بحث اصل میں یہ ہونی چاہیے کہ فطرت کی تعیین کے پیمانے کیا ہونے چاہییں۔ اس پر بحث کرنے کی بجائے یہ حل پیش کر دیا گیا ہے کہ جہاں وحی خاموش ہے یا اجمالی حکم دے دیا گیا ہے جیسے طیبات اور خبائث اور فحاشی کی تعیین وغیرہ تو وہاں قبل از وحی نہیں، بلکہ بعد از وحی ماحول میں وحی کی رہنمائی میں تربیت پانے والے علم و فہم کو یہ منصب عطا کیا جائے کہ وہ وحی کو بنیاد پر بنا کر ان اجمالی اور غیر منصوص مسائل میں خیر و شر اور عدل و ظلم کے معیار طے کرے اور ان کی بنا پر قانون سازی بھی کرے۔
اس میں کوئی حرج نہیں ہے ایسا کر لیا جائے، لیکن مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہوتا۔ وحی کی روشنی میں تربیت پانے والے اذہان بھی خیر و شر، عدل و انصاف اور طیبات و خبائث کی تعیین میں ہر بار درست نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے؛ بلکہ ایسا بھی ہوا ہے کہ ان اذہان کی اکثریت جس مسئلے پر متفق ہوئی، وہ بعد میں خلافِ فطرت ثابت ہوا اور پھرفطرت کے دباؤ پر انہیں اپنا موقف تبدیل کرنا پڑا۔ وحی کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا لینے سے بھی انسانی عقل و فہم کی آمیزش، معاملہ کو پھر اسی جگہ پہنچا دیتی ہے جہاں سے مسئلہ شروع ہوا تھا۔ 
مثال کے طور پر فقہ حنفی نے مفقود الخبر (گم شدہ) شخص کی جائیداد کی تقسیم اور اس کی بیوی کے لیے تنسیخ نکاح سے پہلے انتظار کی مدت مفقود الخبر کی ودلادت سے70 سے 120 سال تک مقرر کی تھی، یعنی جب تک کسی شخص کے زندہ رہنے کا امکان ہو۔ اس فتوے کے خلافِ فطرت ہونے میں کس کو شبہ ہو سکتا ہے؟ لیکن شارع کو پوائنٹ آف ریفرینس بنا کر فقہا کا یہ فتویٰ برسوں کار فرما رہا تا آں کہ جنگ عظیم میں جب ہندوستانی مسلمان سپاہی برطانیہ کے پرچم تلے معمولی اجرت پر مختلف بین الاقوامی محاذوں پر داد شجاعت دیتے ہوئے بڑی تعداد میں مفقود الخبر ہونے لگے، اور ان کی خواتین کو معلوم ہوا کہ دوسری شادی کے لیے انہیں شوہر کی طبعی عمر یعنی کم از کم 70 برس تک انتظار کرنا ہوگا، نیز فقہ حنفی میں تنسیخ نکاح میں موجود دیگر سختیوں کی وجہ سے، مسلم خواتین نیاسلام سے ارتداد اختیار کرنا شروع کر دیا تاکہ وہ نکاحِ ثانی کر سکیں۔ اس پر اس وقت کے بیدار مغز علما کو احساس ہوا کہ تنسیخ نکاح کے بارے میں یہ فتاوی اگرچہ فقہ کی فنی اور منطقی بنیادوں پر شارع کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا کر ثابت تو کیے جا سکتے ہیں، لیکن یہ ہیں خلافِ فطرت، چنانچہ انہوں نے اسی فطرت کی پیروی میں ان میں ترامیم کر کے ایسی خاتون کے لیے شوہر کے انتظار کی مدت کم کر کے چار سال مقرر کر دی۔
اب یہاں دیکھیے، اس مسئلے کے درست یا غلط ہونے کے لیے معیار کوئی فقہی بنیاد نہیں بنی، فنی و منطقی لحاظ سے مسئلہ درست تھا۔ اس کے نا درست ہونے کے لیے معیار پھر وہی فطرت بنی ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ کوئی دلیل، کوئی مقدمہ قائم کرنے سے پہلے انسانی فطرت نے یہ فتویٰ دے دیا کہ یہ درست نہیں ہو سکتا، اس کو درست کرنے کے لیے دلیل بعد میں تلاش کی گئی۔ اور یہ فطرت وہی عام فطرت ہے جو قبل از وحی بھی یہ رہنمائی دینے سے قاصر نہیں ہے۔فقہ میں ایسے غیر فطری فتاوی کی طویل فہرست گنوائی جا سکتی ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ فطرت کو بطور معیار تسلیم کرنے سے انکار کرنے کے بعد بھی عین اسی لمحے اس کا اقرار بھی ہر لمحہ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ اس لیے اصولی بات یہی ہے کہ نہ صرف عقیدے بلکہ اخلاق اور قانون کی بنیاد بھی فطرت ہے۔
یہ دعویٰ کہیں نہیں کیا گیا کہ فطرت مکمل رہنمائی کرتی ہے۔ ایسا ہوتا تو وحی کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ہمیشہ یہ کہا گیا ہے کہ دین کے احکامات فطرت کے مطابق ہوتے ہیں اور اسی بنیاد پر ہم ان معاملات اور اطلاقات میں جہاں وحی خاموش ہوتی ہے، فطرت کے مطابق اخلاق و قانون کے معاملات بھی طے کرتے ہیں۔فطرت سے کی جانے والی تعیین میں بھی غلطی کا امکان اسی طرح موجود ہوتا ہے جیسے بعد از وحی، شارع کو پوائنٹ آف ریفرینس بنانے کے بعد فقہا کے درمیان کسی چیز کے خیر و شر یا مبنی بر عدل ہونے، یا حلال و حرام کی تعیین میں ہوتا ہے۔ اس معاملے میں درست طرز عمل، درست تر نتیجے تک پہنچنے کا کوشش کرنا ہوتا ہے نہ کہ سرے سے بنیاد ہی کا انکار کرنا۔
فطرت کی تعیین کی بحث ریاضیاتی اور منطقی اصولوں پر نہیں ہو سکتی۔ یہ معاشرتی علوم کی طرح ہے، جہاں درست سے درست تر کا سفر جاری رہتا ہے۔ جیسے عمرانیات اور دینیات کے ماہرین آج اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ کہ انسان اصلا موحد تھا، مشرک بعد میں ہوا۔ درست تر کی کھوج، یہی خدا کی آزمایش ہے جس کے لیے اس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔
چند اختلافی امور میں فطرت کی تعیین کا مسئلہ فہم کے امکانات کا دائرہ ہے۔ اس معاملے میں ایک سے زائد آرا ہو سکتی ہیں۔ ہمارے نزدیک جن علاقوں اور قوموں میں وحی کا سلسلہ تا دیر جاری رہا، یعنی وہ فطرت کے ساتھ وحی کی رہنمائی سے بھی مسلسل مستفید ہوتی رہیں، اور فطرت سے انحرافات پر وحی کی صورت میں ان پرمسلسل تنقید بھی ہوتی رہی، اور وہ وحی سے اثر سے قائم ہونے والی تہذہب میں پرورش پاتی رہیں، ان کی فطرت بہت حد تک معیاری ہوتی ہے۔ یہاں یہ نہ کہا جائے کہ یہ معیار بھی وحی کی روشنی میں یہ طے ہوا ہے اس لیے معیار تو وحی ہوئی، نہیں، بلکہ وحی نے اس فطرت کی حفاظت ایک حد تک کیے رکھی، اس لیے ان کی فطرت معیاری ہوئی۔ یہ بھی درست ہے کہ وحی کی رہنمائی اور اس کی تنقید کے ماحول میں پرورش پانے والا انسان اور معاشرہ انسان کی اصلی فطرت کو زیادہ محفوظ رکھنے کا امکان رکھتا ہے، لیکن یہ کہنا غلط ہوگا کہ اس کے بغیر انسان کی اصلی محفوظ فطرت نہیں پائی جاتی یا اس کی تعیین کرنا ناممکن ہے۔
اصول میں فطرت کو معیار تسلیم کر لینے کے بعد بعض اوقات اس کے اطلاقات میں ہونے والے اختلاف کے حل کے لیے ہم وہی طرز عمل اختیار کریں گے جیسے عقیدے کے باب میں کرتے ہیں کہ باوجود بیشتر انسانوں کے غلط عقائد میں ملوث ہو جانے کے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ قبل از وحی فطرت، اقرار خدا اور اقرار توحید پر مبنی ہے، اور وہی معیار ہے، غلط عقائد کے جمگھٹے میں ہم اس فطرت سلیم کو کھوجتے ہیں، تعیین کرتے ہیں، اور اس کے لیے عقلی اور فکری بنیادیں فراہم کرتے ہیں، اسی طرح، لیکن اس سے بہت کم تگ و دو ہمیں کرنا پڑتی ہے جب اخلاق اور قانون میں فطرت سلیم کی تعیین میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ جس طرح فقہا کے درمیان اختلاف ہو جاتا ہے تو ہم دلائل کی بنیاد پر کوئی رائے اختیار کرتے ہیں، یہاں بھی ہم ایسا ہی کریں گے۔ اس میں ہم وحی، وحی کے اثر سے قائم ہونے والی تہذیب اور اجتماعی شعور سب سے مدد لیں گے۔ لیکن ایسے اختلافی مقامات، اتفاقی مقامات کی نسبت کہیں کم پیش آتے ہیں۔

مشال خان کا واقعہ، الشریعہ اور سیکولرزم

محمد عرفان ندیم

ہمارے سیکولر احباب کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ مذہب کو اپنے نقطہ نظر کے مطابق دیکھتے ہیں ،مذہب کے حوالے سے ان کی سوچ ان کی مخصوص دانش کے تابع ہوتی ہے اور ان کی یہ دانش صرف تاریخی اسلام تک محدود ہے ، وہ یہ تو دیکھتے ہیں کہ تاریخی تناظر میں اسلام نے کیا کیا غلطیاں کی ہیں لیکن اسلام بذات خود اپنا تعارف کیا کرواتا ہے اور قرآن و سنت میں اسلام کا جو تعارف کروایا گیا ہے اس تک ان احباب کی پہنچ نہیں ہوتی اور یہ مسلمانوں کی غلطیوں کی بھی اسلام کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔ سر دست ہم مشال خان کے واقعے کو لیتے ہیں ، مشال کا قتل بلاشبہ ہماری ا جتماعی بے حسی اور ہماری اجتماعی اخلاقیات کا جنازہ تھا جسے مسلمانوں کے ایک گروہ نے سر انجام دے کر ہمارے اخلاقی دیوالیہ پن پر مہر تصدیق ثبت کر دی ۔ لیکن میرا ماننا یہ ہے کہ ہمیں اس واقعے پر تجزیہ کرنے سے پہلے چند باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے تھا۔ در اصل ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں یہ ایک اوسط درجے کا معاشرہ ہے اور ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اوسط درجے کے معاشروں میں شعور، آراء کا اختلاف اور نئی بات کہنے والوں کے لیے اسپیس بہت کم ہوتی ہے ، ایسے معاشرو ں میں نئی روایات، نئی فکر اور نئی بات کے لیے اسپیس بدتریج بنتی ہے۔ معاشرے کا اجتماعی فہم اور شعور چونکہ اس جگہ پر نہیں ہوتا اس لیے کوئی بھی نئی بات خواہ وہ کتنے ہی مضبوط استدلال کے ساتھ کیوں نہ کہی جائے وہ معاشرے کے اجتماعی فہم اور شعور سے بالا تر ہوتی ہے اور اس پر مزاحمت ایک لازمی امر ہے ۔ ارسطو اور سقراط سے لے کے گلیلیو اور نیوٹن تک پوری انسانی تاریخ اس پر شاہد عدل ہے ۔ 
مشال خان کا قتل بھی اسی اوسط درجے کے معاشرے کا ایک فعل اور اقدام تھا، لہٰذا ہمیں اس کا تجزیہ کرتے وقت معاشرے کی نفسیات، اس کے اجتماعی فہم اور معاشرے کے سیاق سباق کو لازمی طور پر ذہن میں رکھنا چاہیے ۔ بجائے اس کے کہ ہم لٹھ لے کر مذہب کے پیچھے پڑ جائیں، ہمیں ان زمینی حقائق کو نظر ا نداز نہیں کر نا چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ امر بطور خاص ذہن میں رہے کہ افراد اور اقوام کی طرح معاشروں کا شعور بھی بتدریج کمال کو پہنچتا ہے۔ مغربی معاشرے ،جنہیں ہمارے ہاں آئیڈیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ، سینکڑوں سال کا سفر طے کر کے اپنے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا اجتماعی فہم اور شعور اس قابل نہیں کہ انہیں بطور مثال پیش کیا جا سکے۔، ہمارے معاشرے کی تو عمر ہی ابھی ستر سال ہے اس لیے مشال خان سمیت دیگر مذہبی اور سیاسی معاملات میں تجزیہ کرتے وقت معاشرے کی ان بنیادی نفسیات اور عوامل کو ذہن میں رکھنا انتہائی ضروری ہے ۔ ان عوامل کو مدنظر رکھے بغیر جو بھی تجزیہ پیش کیا جائے گا وہ ناقص اور ادھورا ہو گا۔ 
مشال خان کے واقعے پر ہمارے اکثر احباب، دانشوروں اور کالم نگاروں نے جو تجزے اور تبصرے پیش کیے ہیں میرے ناقص فہم کے مطابق ان میں مذہب کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیااور اصل عوامل کو نظر انداز کر کے سارا ملبہ مذہب اور اسلام پر گرا دیا گیا ہے ۔ میں یہاں سب اخبارات، رسائل اور ویب سائٹس کا حوالہ تو نہیں دے سکتا البتہ الشریعہ کے حوالے سے ہی اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کروں گا ۔ مشال خان کے حوالے سے الشریعہ کے مدیر محترم عمار خان ناصر کی یہ تحریر پہلے ’’ ہم سب ‘‘ ویب سائٹ پر شائع ہوئی اور بعد میں مدیر محترم نے اسے الشریعہ کے اداریے کے طور پر شائع کر دیا ۔ الشریعہ جیسے موقر رسالے میں اس تحریر کا بطور ادارتی نوٹ چھپنا اور محترم عمار خان ناصر کے نام سے چھپنا کہ جو بذات خود صاحب علم اور مضبوط استدلال کے مالک ہیں کم از کم میرے لیے حیران کن تھا ۔ مدیر محترم نے اپنی تحریر کا عنوان یہ رکھا ہے ’’ اگر مذہبی معاشرہ یہی ہے تو ہمیں سیکولرزم کی ضرورت ہے ‘‘اور تحریر کے آخر میں لکھتے ہیں ’’ہمیں سیکولر ریاست اور سیکولر معاشرے سے اصولی اور نظریاتی طور پر شدید اختلاف ہے لیکن اگر ’’ مذہبی معاشرے‘‘کا نقشہ یہی ہے تو خدا کو حاضر ناظر جان کر کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں اب سیکولرزم کی ضرورت ہے ‘‘ ۔ 
میرے ناقص فہم کے مطابق یہ استدلال کئی پہلوؤ ں سے ناقص اور کمزور ہے۔ سب سے پہلے اس تحریر کا عنوان ہی غلط ہے اور استدلال کی غلطی عنوان سے ہی واضح ہے ۔ مثلاً موصوف نے اس واقعے کا سارا ملبہ ’’ مذہبی معاشرے ‘‘ پر گرا دیا ہے کہ اگر مذہبی معاشرہ یہی ہے تو ہمیں سیکولرزم کی ضرورت ہے ، دوسرے لفظوں میں وہ اس سارے واقعے کا ذمہ دار مذہب کو سمجھتے ہیں کہ مذہب کی وجہ سے یا مذہب کے نا م پر یہ سب کچھ ہوا ، میرا ماننا یہ ہے کہ یہاں وہ جس معاشرے کو مذہبی معاشرہ کہہ رہے ہیں وہ سرے سے مذہبی معاشرہ ہے ہی نہیں بلکہ موزوں ترین لفظوں میں آپ اسے uncivilized (غیر مہذب ) معاشرہ کہہ سکتے ہیں ۔ یعنی یہ کام ایک ایسے معاشرے اور اس میں رہنے والے افراد نے کیا ہے جنہوں نے مذہب کوٹھیک طرح سمجھا ہی نہیں ، جو اخلاقی طور پر پستی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں اور داخلی طور پر وہ تہذیب سے ناآشنا ہیں ۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر یہ معاشرہ مذہبی ہوتا تو مشال کے ساتھ ایسا کبھی نہ ہوتا کیونکہ مذہب تو احترام انسانیت سکھاتا ہے اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے ۔
اس استدلال کا دوسرا کمزور پہلو یہ ہے کہ اس میں سیکولر معاشرے کو ایک آئیڈیل معاشرے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے ، سوال یہ ہے کہ کیا سیکولر معاشروں میں اس طرح کے جرائم نہیں ہوتے ؟ وسیع تر تناظر میں د یکھیں تو پچھلی ایک صدی میں سیکولر معاشروں نے جن کروڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے مذہبی معاشروں میں تو اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ پھر ماضی قریب میں سیکولر معاشروں نے جو روش اپنائے رکھی کیا وہ واضح نہیں ۔ افغانستا ن سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے مخالفین کی لاشوں کی بے حرمتی ، مروا الشربینی کی بھری عدالت میں شہادت، عافیہ صدیقی پر ہونے والا ظلم ، عراق و افغانستان میں نہتے نوجوانوں کا قتل اور ان کی لاشوں پر بول و براز اوراس کے علاوہ انسانیت کی تذلیل و تحقیرکے ایسے بیسیوں واقعات ، سمجھنے سے قاصر ہوں کہ سیکولر معاشرے کے کس پہلو کو اسلامی معاشرے کے لیے آئیڈیل قرار دیا گیا ہے ۔ 
اس استدلال کا تیسرا کمزور پہلو یہ ہے کہ اس میں چند مسلمانوں کی غلطی کا سارا ملبہ مذہب اور اسلام پر ڈال دیا گیا ہے ۔ مشال خان کا قتل چند مسلمان جو کہ اخلاقی طور پر کمزور تھے ،یہ ان کا فعل تھا اور اس پر ان کی مذمت کرنی چاہیے اور میری معلومات کی حدتک ، سب اہل مذہب نے اس کی مذمت کی بھی ہے لیکن مدیر محترم یہاں تھوڑا سا پھسل گئے ہیں اور انہوں نے ان چند افراد کو تو کچھ نہیں کہا بلکہ الٹا مذہب اور مذہبی معاشرے کوہی نشانے پر رکھ لیا ۔ ہونا تو یہ چایئے تھا کہ وہ معاشرے کی پست اخلاقیات کا نوحہ پڑھتے ، ان افراد پر تنقید کرتے اور ان کی بہتری کے لیے کوئی تجویز دیتے انہوں نے مذہب پر ہی طبع آزمائی شروع کر دی۔ انہوں نے اپنے تجزیے میں ان افراد کے اجتماعی شعور ، معاشرے کے ارتقائی مراحل اور سیاق و سباق کو یکسر نظر انداز کر دیا اور مشال کے قتل کا سارا ملبہ مذہب پر گرا دیا۔ 
آپ ان کی یہ عبارت دیکھیں ’’ یہ بھی اب واضح ہو چکا ہے کہ توہین مذہب کا الزام بے بنیاد تھا ۔قتل کے اصل محرک کے متعلق بعض واقفان حال کی رائے یہ ہے کہ مشال خان متعلقہ یونیورسٹی کے نظام ،تعلیم کے معیار، اساتذہ اور انتظامی عملہ کی تقرری میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی اقرباء نوازی کا ناقد تھااور انتظامیہ و اساتذہ اس کے سوالوں کا جواب دینے سے خود کو عاجز پاتی تھی،چانچہ اس سے نمٹنے کے لیے توہین مذہب کے الزام کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا‘‘دیکھیں اس عبار ت میں وہ خود اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ قتل کے اصل محرکات کچھ اور ہیں اور مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا ،لیکن حیرت ہے کہ اس اقرار کے باوجود وہ مذہب کو کٹہرے میں لا کر کھڑا کر رہے ہیں ۔ ایک طرف وہ خود اس بات کے داعی ہیں کہ اس سارے واقعے میں مذہب مظلوم ہے اور اسے استعمال کیا گیا اور دوسرے طرف مذہب کو ہی اپنی تحریر میں آڑے ہاتھوں لینا شروع کر دیتے ہیں ، کیا ان کی یہ تحریر داخلی تضاد کا ملغوبہ نہیں ؟یہاں مدیر محترم نے وہی غلطی کی ہے اور اسی اعتراض کو دہرا یا ہے جو ہمار ے اکثر سیکو لر احباب کرتے ہیں۔
ہمارے سیکولر احباب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مذہب کو اپنے مخصوص ذہنی سانچے اور مخصوص زاویہ فکر کے تحت ہی دیکھتے ہیں، چونکہ مذہب کی اپنی ایک تعبیر اور اپنا ایک مزاج ہے اور وہ کسی انسانی ذہن کی تخلیق نہیں اس لیے ہمارے سیکولر احباب اسے سمجھنے میں غلطی کر جاتے ہیں ۔ دوسری اہم بات یہ کہ ہمارے ان سیکولر احباب کا فہم اسلام صرف ثانوی مصادر تک محدود ہوتا ہے اور وہ اسلام کو اس کے اصل مصادر قرآن وسنت سے سمجھنے سے عاری ہوتے ہیں ، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ معاصر دنیا میں اسلام کے نام پر، کچھ گروہوں کی طرف سے اسلام کی جو غلط تشریخ کی جا رہی ہوتی ہے اسی کو اسلام سمجھ بیٹھتے ہیں اور پھر ان چند گروہوں کی غلط تشریحات کی نشاندہی اور ان کی مذمت کی بجائے اصل اسلام کو ہی تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں ۔ اس سے اگلا قدم یہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی انفرادی واجتماعی غلطیوں کو اسلام کے سر تھونپ دیتے ہیں اور تاریخی طور پر اسلام کی تفہیم و تبیین میں لوگوں نے جو غلطیاں کی ہیں وہ بھی مذہب کے کھاتے میں ڈال کر کہتے ہیں کہ دیکھو یہ ہے اسلام ۔یہ ہے اسلام جو لوگوں کے گلے کاٹنے کی دعوت دیتا ہے یا جو عوامی مقامات پر تباہی پھیلانے میں ملوث ہے ۔ موصوف نے بھی یہی کیا ہے کہ چند بد تہذیب اور اخلاقی طور پر پست مسلمانوں کی غلطی کو اسلام کے کھاتے میں ڈال کر کہتے ہیں کہ اگر یہ اسلام ہے تو ہمیں سیکولرزم کی ضرورت ہے ، کیا موصوف اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں گے کہ انہوں نے ا سلام کی یہی تشریح پڑھی ہے اور کیا وہ اسی اسلام سے واقف ہیں ؟اور اگر جواب نفی میں ہے اور یقیناًنفی میں ہے تو وہ چند مسلمانوں کی غلطی کی سزا اسلام کو کیوں دے رہے ہیں ؟ حیرت ہے کہ مدیر محترم تو اسلام کا کافی گہرا فہم رکھتے ہیں اور ان کی زندگی اسلامی فقہ وشریعت اور اجتہادی مسائل کے بارے میں غور و فکر سے مزین ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں نے اتنی سطحی بات کیسے کر دی اور اسے اپنے ادارے کی پالیسی کے طور پر اداریے میں کیسے شائع کر دیا ۔ 
خیر ہمارے سیکولر احباب جنہیں اسلامی فقہ و شریعت سے براہ راست استفادے کا دور سے بھی تعلق نہیں اور وہ صرف ماضی وحال میں اسلامی کی تفہیم و تبیین کے ضمن میں کی جانے والی غلطیوں اور تاریخی اسلام کی بنیاد پر اسلام پر اعتراضات کرتے ہیں، ان سے عرض ہے کہ اصل مذہب اور اسلام وہ نہیں جس کو وہ جانتے ہیں بلکہ اصل مذہب اور اسلام وہ ہے جو قرآن وسنت میں مذکور ہے اور جسے اللہ اور اس کے رسول نے بیان کیا اور خلفاء راشدین نے اسے نافذ کے کے دکھایا تھا۔ نہ کہ وہ مذہب کہ جس کی ہردور کی طرح، مشال خان کے واقعے میں مسلمانوں کے ایک خاص گروہ نے تعبیر پیش کی ہے۔ ہم جس ہذہب کی بات کرتے ہیں اورجس کے نفاذ کی بات کرتے ہیں، ہم اسے دنیا و آخرت میں نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں اوراگر ہم نے اسے اپنی زندگیوں سے دیس نکالا دیا ،جیسا کہ ہمارے سیکولر احباب چاہتے ہیں تو ہم دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑ جائیں گے اور ہماری دنیا و آخرت تباہ ہو جائے گی ۔ اور اگر کوئی فرد ٹھیک طرح اسے اپنی زندگی میں نافذ کر لے تو اس کا تزکیہ ہو جاتا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہو جاتا ہے ۔ اور اگر اس مذہب کو معاشرتی سطح پر اپنایا جائے تو ہمارا یہ وحشیانہ پن کہ جس کا مظاہر ہ ہم ہر دوسرے روز دیکھتے ہیں، مکمل طور پر ختم ہو جائے۔
ہمارے سیکولر احباب مسلمانوں کے صرف خارجی اعمال کو بنیاد بنا کر اصل موقف اور اصل بات سے پھر جاتے ہیں اور سرے سے مذہب ہی کی اہمیت کا انکار کر دیتے ہیں ۔ ہمارا ماننا یہ ہے کہ ماضی کی تاریخ کے مختلف ادوار میں اسلام کی غلط تشریح اور اس پر عمل کی صورت میں جو غلطیاں مسلمانوں نے کی ہیں یا کر رہے ہیں اس کا بوجھ اسلام پر نہیں بلکہ اس کے ذمہ دار وہ مسلمان ہیں جو یہ غلط تعبیر پیش کر رہے ہیں ۔ آج داعش، طالبان اور جناب جاوید احمد غامدی اسلام کی جو تعبیر و تشریح پیش کر رہے ہیں، اس کا وبال اسلام پر نہیں اور نہ اسلام ان سب کا ذمہ دار ہے ۔ مسلمانوں کی غلطیوں کا ملبہ اسلام پر ڈالنے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ایک مجمع میں جائے جہاں چند طاقتور مسلمان کمزور مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہوں اور یہ بھی ظالموں کے ساتھ شامل ہو کر ان کا دست و بازو بن جائے اور اگر لوگ پکڑ کر اسے پوچھیں کہ تم کیا کر رہے ہو تووہ کہے کہ ہمارا اسلام کہتا ہے کہ ہمیں مسلمانو ں کی مدد کر نی چاہئے اور آپ لٹھ لے کر اسلام کے پیچھے پڑ جائیں ، حالانکہ اس میں اسلام کا کوئی قصور اور غلطی نہیں بلکہ اس بندے کا اپنا فہم ناقص ہے کہ وہ یہ موٹی سی بات نہیں سمجھ سکا کہ مدد سے مراد مظلوم مسلمانوں کی مدکرنا ہے نہ کہ ظالم کی ۔ 
مذہب اسلام اپنی ذات میں بالکل سچا، واضح اور دو ٹوک ہے اور وہ خود ہر ایسی غلط روش کی سخت مذمت کرتا ہے جس کی نسبت ہمارے سیکولر احباب اور مدیر محترم نے اس کی طرف کی ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ احباب یہاں یہ سوال اٹھائیں کہ آج کل اصل اسلام صرف کتابوں تک محدود ہے اور مسلمانوں کی عملی روایت قطعا اس سے مختلف ہے یا یہ کہ یہ صرف ایک آئیڈیل صورت ہے اور مسلمانوں کی عملی روایت میں کہیں اس کا وجود نہیں ملتا ۔ گویا ان احباب کا کہنا یہ ہے کہ جب اسلام اپنا تعارف کروائے یا ہم اس کے نفاذ کی بات کریں تو اس کو اصل ماخذات سے پیش نہ کریں ، اللہ اور اس کے رسول کے بیان کردہ اسلام کی بات نہ کریں بلکہ ہم اس اسلام کا تعارف کروائیں جس کی نمائندگی خارجیوں ،حجاج اور اکبر نے کی ہے یا جس کی نمائندگی، طالبان ، داعش اور جاوید احمد غامدی کر رہے ہیں ، فیا للعجب۔ ہم اس اسلام کو تعارف کے طور پر کیسے پیش کر سکتے ہیں جس کا اصل اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں اور جسے تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمانوں نے اپنے غلط نظریات کے طور پر معاشرے میں رائج کر دیا ہے ۔ ہم اس اسلام کی تشہیر کیوں کریں اور اس کی طرف دعوت کیوں دیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول نے نازل ہی نہیں کیا بلکہ وہ چند مسلمانوں کی اپنی ناقص فہم کا شاخسانہ ہے۔ 
اور جہاں تک یہ بات ہے کہ ہم جس اسلام کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے نفاذ کی بات کرتے ہیں وہ ایک آئیڈیل صورت ہے تو عرض ہے کہ دنیا میں ہر انسان جب کسی نظریے کی دعوت دیتا ہے یا اس کے نفاذ کی بات کرتا ہے تو اس کی آئیڈیل صورت کو ہی سامنے رکھتا ہے اور اسی کی طرف بلاتا ہے ۔ انسانی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی انسان کسی نظریے کی دعوت دے اور اس کی بدترین صورت اپنے مخاطب کے سامنے رکھے اور دعوت کے عمل کے دوران اس بدترین صورت کو پیش کرے ۔ذرا آپ بتائیں جب آپ سیکولرزم اور جمہوریت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اس کے نفاذ کی بات کرتے ہیں اور اس کے لیے دلائل کے انبار لگا تے ہیں تو کیا آپ اسی آئیڈیل صورت کو سامنے نہیں رکھتے؟ کیا آپ نے کبھی وہ تصویر بھی سامنے رکھی جو ان دونوں اداروں نے پچھلی ایک صدی میں دنیا کے منظر نامے پر پینٹ کی ہے؟ اسی طرح سوشلزم اور کیپٹل ازم کا تصور جب دنیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا تو ان کی آئیڈیل صورت ہی دنیا کے سامنے نہیں پیش کی گئی تھی؟ تو پھر اسلام پر یہ اعتراض کیوں کہ اس کی اصل تصویر چھوڑ کر آئیڈیل صورت پیش کی جاتی ہے۔ پھر یہ بات عقل اور حکمت کے بھی خلاف ہے کہ آپ جس چیز کی طرف دعوت دیں، اس کی ناقص تفہیم، اس کی کم تر صورت اور بد ترین تصویر اپنے مخاطب کے سامنے رکھیں اور پھر اس سے یہ امید رکھیں کہ وہ آپ کی بات نہ صرف سنے گا بلکہ دل وجان سے من وعن اسے قبول بھی کر لے گا۔ 
یہ ہیں وہ ا صل حقائق جو سیکولر احباب اسلام کے خلاف چارج شیٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یہی بات مدیر محترم نے مشال خان کے واقعے پر اپنے ادارتی نوٹ کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ہمیں کسی بھی واقعے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر تجزیہ کرنے سے قبل زمینی حقائق، سماجی نفسیات اور معاشرتی سیاق و سباق کو کسی صور ت نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور میڈیا سے متاثر ہونے کی بجائے اصل حقائق او ر موزوں استدلال کو اپنے تجزیے اور تبصرے کی بنیاد بنانا چاہئے۔ بسا اوقات ایک چیز بدیہی طور پر بالکل واضح اور غیر مبہم ہوتی ہے، لیکن مخاطب اسے اس لیے قبول نہیں کرتا کہ وہ اس کے مخصوص ذہنی سانچے کے مطابق فٹ نہیں بیٹھتی اور اس کا ذہن اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ وہ ذہن اپنے مخصوص ماحول اور اپنے فہم کی بنیاد پر ایک مخصوص ڈھانچہ تیار کر لیتا ہے اور کوئی بھی استدلال خواہ کتنا ہی مضبوط اور محکم کیوں نہ ہو، وہ اسے قبول نہیں کرتا۔ ہمارے سیکولر دوست بھی چونکہ اکیسویں صدی کے مخصوص ماحول، تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمانوں کی طرف سے اسلام کی تفہیم و تبیین کے ضمن میں کی جانے والی غلطیوں اور سیکولر معاشروں کی مادی ترقی کو دیکھ کر ان کے ذہن کا ایک مخصوص سانچہ بن چکا ہے، اب آپ انہیں قرآن کی آیتیں پڑھ کر سنائیں یا احادیث سے استدلال کریں، یہ کبھی نہیں مانیں گے اور ان کا کوا ہمیشہ سفید رہے گا۔

مکاتیب

ادارہ

آپ کے مجلے میں اردو تراجم قرآن کے سلسلے میں قسط وار ایک جائزہ شائع ہورہا ہے، جس میں مترجمین کی خدمات اور ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے ان سے قرآن کے تراجم میں بعض جگہوں پر بشری تقاضوں سے جو تسامح اور غلطیاں سرزد ہوئی ہیں ان کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے صحیح ترجمے سے باخبر کیا گیا ہے۔ مترجمین میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ ، شیخ سعدیؒ ، شاہ عبدالقادرؒ ، شاہ رفیع الدینؒ ، محمد جوناگذھیؒ ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا احمد رضا خاں بریلویؒ وغیرہ کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اور غلطیوں کی نشاندہی کے سلسلے میں قرآنی نظائر اور علمی دلائل سے کام لیا گیا ہے۔ 
یہ عظیم خدمت مولانا حافظ محمد امانت اللہ اصلاحی صاحب کے افادات اور رہنمائی کی روشنی میں ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب انجام دے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ قرآن اور قرآنی علم کی ایک عظیم خدمت ہے جس سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بحمداللہ ہندوپاک دونوں جگہوں پر اس جائزے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس جائزے کے کام کو باحسن طریق انجام دینے کی توفیق عطافرمائے اور قارئین کو اس سے مستفید ہونے کا شرف عنایت کرے۔ 
حافظ امانت اللہ صاحب کی یہ خدمت غیرمعمولی، وقیع اور معتبر ہے۔ موصوف کے علم اور قرآنی فہم کے سلسلے میں بھلے ہی عام لوگوں کو علم نہ ہو، لیکن ۱۹۶۲ء یا ۱۹۶۳ء کی بات ہوگی جب ایک واقعے نے مجھے چونکا دیا، جبکہ ایک بزرگ عالم دین نے جن کا اپنا خاص موضوع بھی قرآن تھا، برملا حافظ امانت اللہ صاحب کے قرآنی فہم اور تفقہ پر اعتماد ظاہر کیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ رام پور کے قیام کے دوران جب میں قرآن مجید کا ہندی میں ترجمہ کررہا تھا، اس وقت مجھے قرآن مجید کے مشکل مقامات کو سمجھنے کی فکر ہوتی تھی۔ حالانکہ مولانا عبدالحئی صاحب کا کہنا تھا کہ پریشان ہونے کی ضرورت ہے اور نہ اتنی گہری تحقیق میں پڑنے کی ضرورت ہے، بس یہ ہے کہ جو عام ترجمے قرآن مجید کے ملتے ہیں ان میں سے کسی نہ کسی کی تائید حاصل ہونی چاہیے۔ 
قرآن مجید کے کچھ مشکل مقامات کو سمجھنے کے لیے میں مولانا صدرالدین اصلاحی صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ بہت خوشی کے ساتھ میری طرف متوجہ ہوئے اور قرآن کے مطالب اور مفہوم کو سمجھاتے رہے۔ اس سلسلے میں وہ امام راغب اصفہانی وغیرہ کی طرف بھی رجوع کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ قرآن کے ایک مقام کے بارے میں انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ بہت مشکل مقام ہے اس کے لیے حافظ امانت اللہ صاحب سے ملو، ہمیں امید ہے کہ وہ مسئلہ کو حل کردیں گے، ان کا علم تازہ ہے۔ حالانکہ مولانا کے لیے کچھ نہ کچھ مفہوم بتاکر مجھ کو مطمئن کردینا مشکل نہیں تھا، لیکن یہ انہوں نے اپنی ذمہ داری سمجھی کہ طالب علم کو جہاں تک ممکن ہو، حقیقی رہنمائی ملنی چاہیے۔ مولاناکے اس طرز عمل سے دوباتیں کھل کر سامنے آتی ہیں، ایک یہ کہ اپنے سے کم عمر عالم کے علم، سمجھ اور تفقہ کا برملا اعتراف کرنا، یہ مولانا کی وسیع القلبی کی دلیل ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مولانا صدرالدین اصلاحی صاحبؒ جو خود قرآن پر گہری نظر رکھتے تھے اورقرآن ان کا خاص موضوع تھا، وہ مولانا حافظ امانت اللہ اصلاحی صاحب کے علم اور ان کی گہری سمجھ کا نہ صرف یہ کہ دل سے اعتراف کرتے تھے، بلکہ اس کا کھل کر اظہار بھی فرمایا۔ 
مولانا محمد فاروق خان
(مترجم قرآن مجید بزبان ہندی واردو)

علم کلام، فلسفہ تاریخ اور دور جدید کی فکری تحدیات ۔ مدرسہ ڈسکورسز کے تحت تربیتی ورکشاپ کی روداد

ڈاکٹر حافظ محمد رشید

گزشتہ جنوری میں پاکستان اور انڈیا میں، نوٹرے ڈیم یونیورسٹی، انڈیانا امریکہ کے ذیلی ادارے the Kroc Institute for International Peace Studies کے زیر اہتمام درس نظامی کے فضلاء کے لیے ’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے عنوان سے ایک آن لائن تربیتی کورس کا آغاز کیا گیا جس میں تقریباً پندرہ فضلاء انڈیا سے اور اتنے ہی پاکستان سے شریک ہیں۔ ہفتہ میں دو دن آن لائن کلاس ہوتی ہے ، کورس کا مقصد درس نظامی کے فضلاء کو تہذیب و تمدن کے تبدیل شدہ ماحول اور جدید سائنسی نظریات و سائنسی ترقی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سوالات سے روشناس کروانا اور علمی طور پر ان سوالات کا سامنا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ کورس کے سرپرست ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ ہیں جو آج کل یونیورسٹی آف نوٹریڈیم کے مختلف اداروں the Kroc Institute for International Peace Studies, the Department of History اور the Keough School of Global Affairs میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے، کیپ ٹاؤن یونیورسٹی سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے اسلامیات اور عربی کی تعلیم بھی حاصل کی۔ ڈاکٹر ماہان مرزا صاحب اس کورس کے کوآرڈینیٹر ہونے کے ساتھ انسٹرکٹر کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر ماہان مرزا کا آبائی تعلق پاکستان سے ہے۔ انہوں نے پہلے یونیورسٹی آف ٹیکساس، آسٹن سے میکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ پھر مذہبی تعلیم کی طرف رجوع کیا اور Yale University سے مذہبیات میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم مکمل کی۔ انڈیا سے ڈاکٹر وارث مظہری صاحب اس کورس کی Lead faculty ہیں۔ ڈاکٹر وارث مظہری نے دار العلوم دیوبند سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ ، انڈیا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی۔ پاکستان میں مولانا عمار خان ناصر اس کورس میں Lead faculty کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ 
کورس کے پہلے سمسٹر کے اختتام پر 5 تا 11 اپریل 2017 ایک ntensive workshop منعقد ہوئی۔ ڈاکٹر ماہان مرزا صاحب امریکہ سے تشریف لائے۔ پہلے تین دن انہوں نے انڈیا میں گزارے اور وہاں کے شرکاء کے ساتھ مختلف موضوعات پر نشستیں ہوئی جن میں پاکستان کے شرکاء آن لائن شریک رہے۔ تین دن کے بعد شرکاء کے لیے ایک Study Tripکا انتظام کیا گیا تھا۔ انڈیا کے شرکاء نے اس ٹرپ کے دوران دہلی میں مولانا وحید الدین خان اور علی گڑھ میں ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی سے ملاقات کی اور مختلف علمی و تاریخی مقامات کا دورہ کیا، جبکہ پاکستان کے شرکاء نے 8 اور 9 اپریل کو اسلام آباد کا دو روزہ مطالعاتی دورہ کیا۔ 
8 اپریل کو شرکاء نے الندوہ لائبریری ، مری روڈ چھتر میں ادارے کے سربراہ مفتی سعید خان صاحب سے ملاقات کی اور ان کی راہنمائی میں لائبریری کے مختلف شعبہ جات ملاحظہ کیے۔ اسی دن شام کے وقت ایک مقامی ہوٹل میں ڈاکٹر ادریس آزاد (پروفیسر آف فزکس، انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد) اور ڈاکٹر محمد زاہد مغل (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ معاشیات، نسٹ اسلام آباد) کے ساتھ نشست کا اہتمام تھا جس میں اس موضوع پر بھرپور گفتگو کی گئی کہ فزکس کے میدان میں جدید سائنسی تصورات کیا ہیں، نیز یہ کہ ان تصورات سے مذہب کے متعلق پیدا ہونے والے سوالات کیا ہیں اور ان کا کس طرح سامنا کیا جا سکتا ہے۔ اس مجلس میں ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب بطور صدر مجلس شریک ہوئے اور اختتامی گفتگو کے ساتھ دعا بھی انہوں نے ہی کروائی۔
9 اپریل کو دس بجے دن ایک مقامی ہوٹل میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز (PIPS) کے زیر اہتمام کورس کے شرکاء کے لیے مختلف سائنس دانوں کے ساتھ نشست کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں PIPS کے نمائندہ محمد اسماعیل خان، سینئر کالم نگار اشفاق سلیم مرزا اور معروف دانشور اور قائد اعظم یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اے ایچ نیر شریک تھے۔ اسی دوران ڈاکٹر ماہان مرزا بھی انڈیا سے پاکستان پہنچ چکے تھے جو اس نشست میں ہمارے ساتھ شریک ہو گئے۔ اس مجلس میں پروفیسر اے ایچ نیر کے ساتھ ان کے ایک کولیگ ڈاکٹر رضوان بھی تشریف لائے تھے جنہوں نے جدید فزکس کے بنیادی ڈھانچے پر عمدہ گفتگو کی۔ اس نشست کا موضوع بھی جدید سائنسی تصورات کی وجہ سے مذہب کو درپیش چیلنجز ،تھا لیکن اس سے ہٹ کر بھی بہت سے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے ان موضوعات پر کھل کر گفتگو کی اور ماہرین نے طلبہ کے سوالات کو خندہ پیشانی سے سنا اور کھلے دل سے ان کے جوابات دینے کی کوشش کی۔ 
Intensive کے اختتام پر یہ قافلہ گوجرانوالہ واپس روانہ ہوا۔ ڈاکٹر ماہان مرزا بھی ساتھ ہی گوجرانوالہ تشریف لے آئے اور اگلے دو دن ان کی سرپرستی میں الشریعہ اکادمی میں ورکشاپ کی مختلف نشستیں منعقد کی گئیں جس میں انڈیا کے شرکاء بھی آن لائن شریک ہوئے۔ انڈیا میں ہونے والی نشستوں میں ڈاکٹر وارث مظہری نے "امام غزالی کا فلسفہ علم" پر گفتگو کی، جبکہ ڈاکٹر الطاف احمد اعظمی نے "علم الکلام کے اساسی مباحث" پر اور ڈاکٹر راما کرشنا نے " concept of regional "history and universal history پر روشنی ڈالی۔ ورکشاپ کے سارے سیشنز میں ڈاکٹر ماہان مرزا نے فلسفے کے ابتدائی تعارف پر لکھنے جانے والے جوسٹین گارڈر کے مشہور ناول "Sofie's world" کے مختلف حصوں کا خلاصہ بیان کیا۔ یہ ناول شرکاء کورس کو ورکشاپ سے پہلے مہیا کر دیا گیا تھا تاکہ وہ اس کا مطالعہ کر کے ورکشاپ میں شریک ہوں۔ پاکستان سے مولانا عمارخان ناصر نے علامہ ابن خلدون کے فلسفہ تاریخ پر بات کی۔ اختتامی نشست سے استاذ گرامی مولانا زاہد الراشدی نے مختصر خطاب کیا اور مذہب اور سائنس کے عنوان سے پر مغز گفتگو کی۔ انھی کی دعا پر اس ورکشاپ کا اختتام ہوا۔ 
ورکشاپ میں ہونے والی کچھ گفتگوؤں کا خلاصہ ہم یہاں پر پیش کر دیتے ہیں۔ 
ورکشاپ میں مولانا عمارخان ناصر نے "مقدمہ ابن خلدون اور فلسفہ تاریخ" کے موضوع پر گفتگو کی۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
ابن خلدون سے ہم لوگ واقف ہی ہیں اور ان کو فلسفہ تاریخ کے بانی کے طور پر جانتے ہیں۔ ابن خلدون کے حوالے سے تین چار حوالوں سے گفتگو ہو گی۔ 
ان میں ایک بات تو یہ ہے کہ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ کی بالکل ابتدا میں تاریخی واقعات کو جانچنے کے جو معیارات قائم کیے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ محدثانہ معیار پر روایت کو جانچنے کے معیارات کے ساتھ اس روایت یا واقعہ کے متن کو کچھ عقلی و معاشرتی معیارات پر بھی جانچنے کی ضرورت ہے ۔اگر واقعہ عقلاً اور عادۃ ممکن نہیں تو راویوں کی جرح و تعدیل کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس اصول کے تحت ایک تو ابن خلدون نے بہت سی تاریخی روایات کو پرکھا ہے، لیکن اس کے ساتھ انہوں نے کچھ ایسی روایات پر بھی نقد کیا ہے اور سوالات اٹھائے ہیں جو احادیث کی کتابوں میں مستند ذرائع سے روایت ہوئی ہیں۔ ان میں ایک روایت حضرت آدم علیہ السلام کے قد کے بارے میں ہے کہ ان کے قد کی لمبائی ساٹھ ذراع تھی ، پھر آہستہ آہستہ نسل آدم کا قد کم ہوتا گیا اور اب تک کم ہورہا ہے۔ یہ روایت محدثین کے معیار کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے، اور صحیح بخاری میں آئی ہے۔ انہوں نے اس روایت پر یہ سوال اٹھایا کہ ہمارے پاس جو تاریخی ریکارڈ موجود ہے جو کئی ہزار سال پہلے تک کا ہے، اس میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انسانوں کا قد اس قدر لمبا تھا۔ 
اسی طرح ظہور مہدی کی روایات پر انہوں نے سوالات اٹھائے۔ انہوں نے ان روایات پر محدثانہ اسلوب میں بھی نقد کیا ہے، لیکن اصل ان کا نقد تاریخی اعتبار سے ہے۔ مثلاً ان کا کہنا ہے کہ اس دور میں جبکہ قریش کی سیاسی عصبیت ختم ہو چکی ہے، کوئی ایک شخص آ کر کیسے اپنے شخصی بل بوتے پر ان کے اقتدار کو دوبارہ قائم کر دے گا؟ یہ تاریخ اور سیاست کے اساسی قواعد کے خلاف ہے۔ اسی طرح غالباً ابن خلدون نے یہ بھی محسوس کیا کہ جس دور میں یہ روایات زیادہ مشہور ہوئی ہیں، اس وقت کچھ سیاسی عوامل تھے اور کچھ گروہوں کی سیاسی ضرورت تھی جو اس طرح کے تصور کا محرک بنی۔ اس ماحول کے زیر اثر یہ روایتیں بنائی گئیں یا ان کی نسبت کی گئی۔ بہرحال یہ ابن خلدون کے تنقیدی منہج کا اہم نکتہ ہے کہ انھوں نے روایات کو پرکھنے کا جو درایتی معیار قائم کیا، وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محدثانہ ذرائع سے آنے والی روایات پر نقد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں جو مذہبی ذہن کے لیے ایک حساس معاملہ بن جاتا ہے۔
دوسرا پہلو ان کا مشہور نظریہ عصبیت ہے، کہ سیاسی طاقتیں کیسے اقتدار حاصل کرتی ہیں ، کیسے ان کا اقتدار قائم رہتا ہے اور کیسے اور کب وہ زوال کا شکار ہوتا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے عصبیت کی تھیوری پیش کی۔ اس تصور کو اسلامی تاریخ پر جب ابن خلدون نے منطبق کیا ہے تو کئی اہم تاریخی تغیرات کی تعبیر میں دوسرے مؤرخین سے ان کی رائے کافی مختلف ہو گئی ہے۔ مثلاً وہ روایات جو قریش کی حکمرانی کے بارے میں آئی ہیں، ان کی روشنی میں کافی عرصہ تک یہ مذہبی اور کلامی بحث چلتی رہی ہے کہ مذہبی طور پر قریش ہی خلافت کے حق دار ہیں۔ کئی صدیوں تک یہ بات ایک مذہبی تصور کے طور پر مقبول رہی۔ لیکن ابن خلدون نے اس کے بارے میں یہ کہا ہے کہ یہ کوئی مذہبی ہدایت نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے وہی عصبیت کا اصول کام کر رہا تھا۔ ابن خلدون لکھتے ہیں کہ قریش کو قبائل مضر میں غالب حیثیت حاصل تھی اور عرب کے سارے قبائل ان کی اس حیثیت کا اعتراف کرتے تھے۔ چنانچہ اگر قریش کے علاوہ اقتدار کسی کے سپرد کیا جاتا تو یقینی طور پر اہل عرب ان کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرتے اور قریش کے علاوہ دوسرے قبائل مضر انھیں اپنی اطاعت پر مجبور نہ کر سکتے۔ یوں اجتماعیت ختم ہو جاتی، حالانکہ شریعت مسلمانوں میں اتفاق اور وحدت پیدا کرنا چاہتی تھی۔ اس کے برعکس اقتدار قریش کے سپرد کیے جانے کی صورت میں وہ لوگوں کو اپنی اطاعت پر آمادہ کر سکتے اور اپنے سامنے جھکا سکتے تھے، اس لیے ان کے مقابلے میں کسی کے اختلاف کا بھی خدشہ نہیں تھا۔ گویا اقتدار کے لیے قریشی ہونے کی شرط اس بنیاد پر عائد کی گئی کہ وہ مضبوط عصبیت کے مالک تھے تاکہ ان کے ذریعے سے ملت کو مجتمع اور قوت کو متحد رکھا جا سکے۔ قریش کے متحد ہونے سے مضر کے سارے قبائل متحد ہو جاتے اور ان کے سامنے تمام اہل عرب جھک جاتے اور پھر اہل عجم بھی احکام دین کے تابع ہو جاتے جیسا کہ اسلامی فتوحات کے زمانے میں ہوا اور اس کے بعد اموی اور عباسی خلافت کے زمانے میں یہ صورت حال برقرار رہی، تا آنکہ رفتہ رفتہ عرب عصبیت کمزور ہوتی گئی اور خلافت کا معاملہ کمزور پڑ گیا۔ ابن خلدون کہتے ہیں کہ شریعت کی نظر میں اصل اصول کی حیثیت ’’عصبیت‘‘ کو حاصل ہے جو ہمیشہ کے لیے ہے اور اس کی روشنی میں جس زمانے میں جس گروہ کو بھی عصبیت حاصل ہو جائے، وہ حکومت واقتدار کا حق دار ہوگا۔ 
اسی طرح ابن خلدون نے ایک عنوان یہ قائم کیا ہے: "انتقال الخلافۃ الی الملک" کہ کیسے خلافت ملوکیت میں منتقل ہوئی۔ یہ بھی ہماری روایت کی ایک بڑی اہم بحث ہے۔ عموماً اہل اسنت اور خصوصاً اہل شیعہ کی یہ رائے ہے کہ ملوکیت کی طرف اس کو منتقل کرنے کا عمل حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں شروع ہوا ، اور یہ عمل ٹھیک نہیں تھا۔ پھر اس کی مختلف توجیہات کی جاتی ہیں۔ یہاں پر بھی ابن خلدون اس واقعے کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں اور عصبیت کے نظریے کو بنیاد بناتے ہوئے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل کی Justification بھی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امیر معاویہ خاندان امیہ سے باہر اقتدار کو منتقل کرنے کی کوشش کرتے تو اسے اموی عصبیت قبول نہ کرتی اور امت دوبارہ تشتت وافتراق کا شکار ہو جاتی۔ ابن خلدون کا موقف اس حوالے سے بھی کافی مختلف ہے کہ خلافت و ملوکیت میں کوئی بہت جوہری فرق ہے۔ ابن خلدون کے نزدیک ان میں کوئی جوہری فرق نہیں ہے۔ وہ اس کو غیر اہم اور ظاہری فرق سمجھتے ہیں۔
تیسرا پہلو ان کا نظریہ عروج و زوال ہے جو ایک حوالے سے نظریہ عصبیت ہی کی توسیع ہے۔ ابن خلدون کا خیال ہے کہ جب تک کسی گروہ کو مطلوبہ عصبیت حاصل رہتی ہے، اس وقت تک اس کا عروج قائم رہتا ہے اور جب یہ عصبیت کمزور اور ڈھیلی ہونا شروع ہو جاتی ہے تو اس کا اقتدار ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔یہی بحث ایک بڑے اہم تاریخی سوال کی شکل اختیار کر لیتی ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کی اساس کیا ہے؟ ابن خلدون کے زمانے میں بحیثیت مجموعی پوری امت مسلمہ زوال کا شکار نہیں ہوئی تھی ۔اس لیے ان کے ہاں یہ بحث تو ملتی ہے کہ اسلامی ممالک کے اندر کیسے مختلف خاندان اور گروہ عروج حاصل کر رہے ہیں اور زوال کا شکار ہو رہے ہیں، اقتدار میں آ رہے ہیں یا اقتدار سے ہٹائے جا رہے ہیں، لیکن بحیثیت مجموری پوری امت مسلمہ کے عروج و زوال پر کیا اصول لاگو ہوتے ہیں ، یہ بحث نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے اپنے تناظر میں جو اصولی بحثیں کی ہیں، وہ اصولی طور پر یہاں بھی لاگو ہوتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ کسی بھی قوم کو اقتدار ہمیشہ کے لیے نہیں ملتا ، ہر قوم ایک خاص وقت کے لیے ہی اقتدار میں آتی ہے۔ پھر ایک دوسری قوم اٹھتی ہے اور اس کو ہٹا کر اقتدار میں آ جاتی ہے، اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ابن خلدون کے دور میں شاید اس کے آثار نہیں تھے کہ وہ اس اصول کو بحیثیت امت مسلمانوں پر لاگو کر کے دکھا سکتے۔ تاہم بعد میں آنے والے مفکرین نے اس اصول کو مسلمان امت پر منطبق کر کے عروج و زوال کی تعبیر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ابن خلدون کے ساتھ کچھ اور مفکرین مثلاً شاہ ولی اللہ، علامہ انور شاہ کاشمیری وغیرہ کو ملا کر اس پر غوروفکر اور گفتگو کریں، کیونکہ ان مفکرین کو یہ موقع ملا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو عروج کے بعد زوال کے مرحلے سے بھی ہم کنار ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ 
آخری بات یہ کہ ابن خلدون کے بعض عمرانی افکار کا شاہ ولی اللہ کے عمرانی افکار کے ساتھ تقابل کرنے کی ضرورت ہے۔ شاہ ولی اللہ بھی ہماری تاریخ کے بہت اہم مفکرہیں اور انسانی اجتماعیات کو دیکھنے کی بڑی عمدہ اپروچ رکھتے ہیں۔ ان دونوں مفکرین کے مابین کچھ اتفاقات بھی پائے جاتے ہیں اور اختلافات بھی۔ ان دونوں کو ملا کر مطالعہ کرنے سے تاریخ اور عمرانیات کے بہت اہم پہلو واضح ہو سکتے ہیں۔ 
ڈاکٹر وارث مظہری صاحب نے امام غزالی کے فلسفہ علم پر گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ:
میرا موضوع امام غزالی اور ان کے نظریات ہے۔ میں دو حوالوں سے بات کروں گا، "امام غزالی اور علم الکلام" اور "امام غزالی کا تصور علم"۔ علم الکلام کے حوالے سے امام غزالی کا نقطہ نظر کہیں مثبت لگتا ہے اورکہیں منفی۔کہیں وہ متکلمین کی تعریف کرتے ہیں اور کہیں ان کی مذمت بیان کرتے ہیں۔ اپنی کتاب المستصفیٰ میں علم الکلام کو وہ کلی علم قرار دیتے ہیں اور باقی علوم کو جزئی۔ اس طرح علم الکلام کے حوالے سے امام غزالی کے بارے میں مفکرین کی آرا میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ امام غزالی علم الکلام کو پسند نہیں کرتے اور اس کے سخت ناقد ہیں اور کچھ اس کے برعکس رائے رکھتے ہیں۔ علماء متقدمین میں سے کئی افراد میں یہ رویہ پایا جاتا ہے کہ کسی علمی نکتے پر ان کی رائے ایک دور میں ایک رہی ہے اور کچھ عرصہ کے بعد دوسری ۔ تو کیا امام غزالی کے ہاں بھی یہی رویہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اہل علم کی آراء ان کے بارے میں مختلف ہوئیں؟ امام غزالی یہ بھی کہتے ہیں کہ علم الکلام کے مباحث کو دیکھنا ، پڑھنا اور سیکھنا بسا اوقات واجب عینی ہو جاتا ہے ، یعنی پہلے کلام میں غوروفکر کرنا بدعت تھا لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہی بدعت واجب عینی بن گیا۔
دیگر علوم کے بارے میں بھی ان کا یہی رویہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ایک جگہ پر ان کی عبارت ہے "ادلۃ القرآن مثل الغذاء ینتفع بھا کل انسان وادلۃ المتکلمین مثل الدواء ینتفع بھا آحاد الناس ویستضر بھا الاکثرون" یہ عبارت ان کی کتاب "الجام العوام" کی ہے۔ ایک جگہ پر "القرآن" کی جگہ الفقہ ہے۔ اسی طرح انہوں نے "احیاء العلوم" میں جہاں مختلف علوم کی درجہ بندی ہے، وہاں علم فقہ کا درجہ بہت کم کردیا ہے۔ علم فقہ پر بات کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ علم الفقہ ایک دنیاوی علم ہے ، اور پھر اس کی لمبی چوڑی توجیہات بیان کی ہیں کہ یہ دنیاوی علم کیوں ہے۔ یہ بھی کہا ہے کہ فقہاء علماء الدنیا ہیں ، علماء الآخرۃ نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دراصل فقہ کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب خصومات و جھگڑے ہوں ، لوگوں کا شریعت سے تعلق بہت کمزور ہو گیا ہو، سماج اپنی صحیح بنیادوں پر نہ چل رہا ہو، اس میں اخلاقی زوال سا آ گیا ہو۔ پھر ایسی جگہ عدالتیں قائم ہوتی ہیں اور فقہاء کو احکامات و مسائل کو ترتیب دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر سماج اپنی صحیح ڈگر پر چل رہا ہو اور یہ خرابیاں نہ ہوں تو پھر فقہ کی ضرورت نہیں پڑے گی اور فقہاء معطل محض ہو کر رہ جائیں گے۔ 
اب یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی چیز ایک وقت میں بدعت ہو اور دوسرے وقت میں واجب عینی بن جائے، یہ کیسے ہوتا ہے ؟ اور اس اصول کو ہم کہاں کہاں استعمال کر سکتے ہیں ؟ ہم برصغیر کی تاریخ میں دیکھیں تو اس کے کئی مظاہر نظر آتے ہیں ، مثلاً انگلش سیکھنا کسی وقت حرام ہوا کرتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے ، اب یہ تحول مکانی کیسے ہوتا ہے ؟ اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کن چیزوں کو ہم نے ممنوعات کے خانے میں ڈال رکھا ہے۔ اور ان میں کتنی چیزوں کو مستقبل میں ممنوعات سے نکال کر واجبات یا مباحات کے خانے میں ڈالنا پڑے گا؟
اسی طرح غزالی کے ہاں یہ بحث بھی ملتی ہے کہ نصوص کی سطح پر ہر چیز کا ایک ظاہر ہوتا ہے اور ایک باطن۔ غزالی کے ہاں اس ظاہر و باطن کی مذمت بھی ملتی ہے اور حمایت بھی۔ اب یہ سوال ہے کہ کس حد تک ان کے ظاہر کی پیروی کی جائے اورکس حد تک ان کے باطن کی؟ 
پروفیسر ادریس آزاد (پروفیسر آف فزکس، انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد) نے بڑی آسان زبان اور عمدہ اسلوب میں جدید فزکس کے اہم مباحث شرکاء کے سامنے رکھے۔ ان کا لیکچر بہت اہم تھا، ان کے لیکچر کے اہم پوائنٹس حسب ذیل ہیں:
جدید فزکس کا دور 1905 سے شروع ہوا جب آئن سٹائن نے theory of special relativity پیش کی۔ جدید فزکس میں تین بڑے بریک تھرو آئے۔ پہلا theory of special relativity ، دوسرا theory of general relativity ، تیسرا Quantum۔ اس کے بعد 1967 سے 2017 فزکس میں تھیوریز تو بہت آئیں لیکن قوانین یا لاز کوئی نہیں آئے۔ جدید فزکس کا یہ سارا عمل 1905 سے 1930 تک مکمل ہو گیا اور یہی ابھی تک چھایا ہوا ہے۔
جدید فزکس کی وجہ سے پہلے سے موجودٹائم اور سپیس کا تصور تبدیل ہوا اور Time Dilation کا تصور آیا ، اسی کے ساتھ متحرک اشیاء کے لیے contraction length کا تصور آیا ۔ یہ تصورات سیاروں کے فاصلے، خلاء میں سفر اور مستقبل یا ماضی میں سفر کرنے کے تصور میں بہت اہم ہیں۔
آئن سٹائن نے سائنسی تعریفات میں بڑی تبدیلی پیدا کی، تقریباً ہر چیز کی نئی تعریف کی گئی۔ کسی بھی چیز کی جو تعریف نیوٹن کے دور میں تھی، وہ اب تبدیل ہو گئی ہے۔ اگرچہ نصاب میں آج بھی امریکہ سمیت ہر جگہ اسکولوں میں نیوٹن والی تعریف ہی پڑھائی جا رہی ہے۔ مثلاً پہلے یہ تصور تھا کہ کشش ثقل چیزوں کو نیچے سے کھینچ رہی ہے، لیکن آئن سٹائن کے آنے سے یہ تصور بدل گیا۔ اب یہ تصور ہے کہ gravity چیزوں کو نیچے سے کھینچنے کا نام نہیں بلکہ اوپر سے نیچے کی طرف دھکیلنے کا نام ہے۔
ڈاکٹر زاہد صدیق مغل صاحب کا موضوع "مذہب کے لیے سائنس کی وجہ سے پیدا ہونے والے چیلنجز اور ان کا سامنا کرنے کا طریقہ" تھا۔ انہوں نے کہا کہ سائنس کے بارے میں ہمارے کچھ غلط تصورات ہیں جو سائنس کا لفظ سننے کے ساتھ ہی ہمارے ذہن میں آتے ہیں۔ مثلاً سائنس سے ہمارے ذہن میں مشینوں کا تصور آتا ہے جیسے فریج ، گاڑی وغیرہ۔ سائنس ان چیزوں کا نام نہیں ہے بلکہ یہ تو سائنس کے حاصلات ہیں۔ دوسری چیز ہم سمجھتے ہیں کہ شاید سائنس کسی specific method of knowing کا نام ہے اور وہ تجرباتی طریقہ کار ہے۔ یہ تصور کسی حد تک ٹھیک بھی ہے، لیکن پورا درست نہیں۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ It is more than that۔ اس میں الہایاتی تصورات بھی ہیں ، تجربات بھی ہیں اور دیگر معاشرتی چیزیں بھی موجود ہیں ، کیوں کہ یہ سائنس کا سارا عمل انسان کرتا ہے اور انسان کے ہر عمل کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔ سائنس بھی ایک سوشل پراسس ہے، اس کا بھی ایک مقصد ہے۔ اور ہمارے نزدیک سائنس کا مقصد اس کائنات پر انسانی ارادے کا تسلط قائم کرنا ہے۔ اس کو سرمایہ دارانہ معاشی نظام سے ہٹا کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ جو بھی عمل سائنس کی فیلڈ میں ہو رہا ہے، اس پر سرمایہ لگ رہا ہے اور کچھ لوگ یا ممالک یہ سرمایہ فراہم بھی کر رہے ہیں، اس لیے ہمارے نزدیک سائنس کا مقصد اس وقت اس سرمایہ دار یا سرمایہ دارانہ نظام میں موجود قوتوں کے ارادے کو اس کائنات میں مسلط کرنا ہے۔ سائنس کے تقریباً ہر مظہر میں یہی فکر کارفرما ہے۔ مثلاً موسمیات کی ساری ریسرچ اس لیے نہیں ہو رہی کہ یہ پتہ چلایا جائے کہ اللہ تعالیٰ کیسے بارش برساتا ہے۔ یہ ساری ریسرچ اس لیے ہے کہ بارش جہاں ہم چاہتے ہیں، وہاں بارش ہو۔اسی طرح دیگر سائنسی تحقیقات میں بھی ہے۔ انسان یہ چاہتا ہے کہ سائنس کے ذریعے میں دنیا کو جنت بنا لوں، یعنی اس میں جو میں چاہتا ہوں، وہ ہو جائے۔ اب اس ماحول میں حلال و حرام کے سارے مباحث ، ساری حد بندیاں اور قیدیں بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔ یہ اصل چیلنج ہے۔کائنات کی تسخیر کا محرک انسانی فلاح کا تصور ہونا چاہیے نہ کہ انسانی ارادے کا تسلط اور سرمایہ دارانہ سوچ۔
مولانا زاہد الراشدی نے اپنی اختتامی گفتگومیں کہا کہ:
اسلام کی ابتدائی صدیوں میں جب اسلامی سلطنت پھیلی تو کئی قسم کے فلسفوں سے مسلمانوں کا واسطہ پڑا ، ان میں یونانی فلسفہ تھا ، ایرانی فلسفہ تھا ، ہندو فلسفہ وغیرہ۔ ان سب فلسفوں میں سب سے ممتاز یونانی فلسفہ تھا۔ ان سب فلسفوں کا اپنا اپنا پس منظر تھا ، اپنی اپنی تعبیرات تھیں۔اس سے مسائل پیدا ہونا شروع ہوئے اور علم الکلام وجود میں آیا۔ ابتدائی طور پر علم الکلام کی مذمت کی گئی اور یہ کہا گیا کہ اس میں نفع سے نقصان زیادہ ہے، اس لیے اس میں نہ پڑو۔ بلکہ یہاں تک تاریخ میں ہے کہ امام ابو یوسف کے دور تک یہ بحث رہی ہے کہ متکلم کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے۔ یہ اس لیے تھا کہ ان لوگوں کو اپنے لیے علم الکلام کی ضرورت نہیں تھی۔ علم الکلام کی ضرورت مباحثے اور مکالمے کے لیے پیش آئی ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ نے اس کی حد بندی کی ہے کہ عقائد کی کی تعبیر و تشریح میں اگر الجھن پیش آئی ہے تو اس کے لیے، عقائد کے اثبات کے لیے اور جو اعتراضات ہیں، ان کو دور کرنے کے لیے علم الکلام کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کے لیے پھر ہماری پوری تاریخ ہے، ابوالحسن اشعری ہیں ، ابو منصور ماتریدی ہیں، غزالی ہیں ، ابن رشد وغیرہ ہیں۔ برصغیر میں ہمیں دو فلسفوں کا سامنا تھا۔ ایک ہندو فلسفہ اور دوسرا ایرانی فلسفہ جس کو ہمایوں ایران سے واپسی پر اپنے ساتھ لایا ہے۔ان فلسفوں کے تناظر میں جو مسائل پیدا ہوئے، ان کا سامنا یہاں کے علماء نے کیا ہے جن میں مرکز کی حیثیت حضرت مجدد الف ثانی کو حاصل ہے۔ پھر شاہ ولی اللہ ہیں۔ 
اس وقت فکر و فلسفہ میں ایک نئی تبدیلی آئی ہے اور بڑی بنیادی تبدیلی ہے جس نے پوری دنیا کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔یہ مغربی فکر و فلسفہ ہے جس کو ہیومنزم کا فلسفہ کہا جاتا ہے ، انسانیت کا فلسفہ کہا جاتا ہے۔ اس کا زیادہ تعلق عقلیات سے نہیں ہے، سماجیات سے ہے۔اس تبدیلی کی ایک وجہ یہ بنی کہ معقولات میں پہلے سائنس اور فلسفہ اکٹھے تھے۔ اس دور میں سائنس کا دائرہ الگ ہو گیا اور فلسفہ کا دائرہ الگ ہو گیا۔ فلسفہ عقلی بحثوں تک محدود ہو گیا اور سائنس مشاہدات، محسوسات اور تجربات پر آ گئی۔ اس کے علاوہ مغرب میں جبر کے خلاف جو بغاوت ہوئی ہے، خواہ وہ چرچ کا جبر ہو، بادشاہت کا جبر ہو یا جاگیرداری کا، اس سے دو بغاوتیں اکٹھی ہو گئیں۔ سائنس نے فلسفہ سے بغاوت کر دی اور سماج نے مذہب سے بغاوت کر دی۔ ان دونوں بغاوتوں کا بنیادی ماخذ تو مغرب ہی ہے اور یہ اسی کا فلسفہ ہے لیکن جب مغرب کو غلبہ حاصل ہوا ہے تو پھر مغرب کو یہ شوق ہوا کہ یہ فلسفہ ہم تک نہیں رہنا چاہیے، دوسروں تک بھی جانا چاہیے۔ اسی تناظر میں مستشرقین نے علمی وفکری جنگ کا آغاز کیا۔ اسی کے ساتھ ہمارے سیاسی نظام خلافت کے خاتمے کو بھی مغرب نے ضروری سمجھا کیوں کہ "خلافت" کا ادارہ پوری اقدار سمیت اس فلسفے کے پھیلاؤ میں بڑی رکاوٹ تھا۔ اس کے لیے انہوں نے معاشی، عسکری، معاشرتی، مواصلاتی غرض ہر قسم کے ذریعہ کو استعمال کیا ، اور اس غلبہ کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ تازہ دم تھے اور ہم تھک چکے تھے۔ 
اس غلبے کے کئی پہلوؤں میں سے ایک تہذیبی پہلو ہے کہ مغرب نے اپنے پس منظر میں پیدا ہونے والے فلسفہ کو ہم پر مسلط کرنا شروع کیا۔ یہ بالکل ایسا ہی ماحول تھا جیسا کہ اتباع تابعین کے زمانے میں یونانی فلسفہ کے در آنے کی وجہ سے پیدا ہو گیا تھا یا برصغیرمیں ہندو فلسفہ کا سامنا ہونے کی وجہ سے پیدا ہو گیا تھا ، لیکن اس دفعہ بدقسمتی سے ہمارا رویہ ماضی سے مختلف تھا ۔ ماضی میں ہم نے ان مسائل کو face کیا ہے، ان کا سامنا کیا ہے ، اب ہم بالکل تحفظ پر آگئے ہیں اور بچاؤ کرتے کرتے اپنے گھروں کی چار دیواری کے اندر بند ہوگئے اور اب وہاں بھی ہم محفوظ نہیں ہیں۔ہم نے سیاسی مغلوبیت کو اپنے اوپر طاری کر لیا اور آگے بڑھنا ، سامنا کرنا ، اقدام کرنا ہمارے ایجنڈے سے بالکل نکل گیا اور صورتحال ہنوز اسی طرح ہیں۔ ہمیں مغربی فکر و فلسفہ کا بطور فلسفہ سامنا کرنا چاہیے۔
ہمارے ہاں ایک بڑا مغالطہ یہ ہے کہ ہم کلام یا عقائد کی نئی تشریح کو نئے عقائد بنانا یا گھڑنا کے مترادف سمجھتے ہیں۔ یہ مطلب ہر گز نہیں کہ نئے عقائد بنائے جائیں بلکہ عقائد کی عصر حاضر کی نفسیات کے مطابق تعبیر کرنا ہے۔خدا خدا ہی رہے گا ، رسول رسول ہی رہے گا ، قیامت قیامت ہی رہے گی ، ختم نبوت ختم نبوت ہی رہے گی۔لیکن آج کی نسل کو اس کی نفسیات اور ماحول کے مطابق یہ باتیں سمجھنانے کی بہر حال ضرورت ہے جس کی طرف ہم اجتماعی طور پر نہیں آ رہے۔ اقبال نے تو یہ بات فقہ کے دائرے میں کی تھی، یعنی دین کے علماء اور سماج کے علماء۔وہ فقہ کی تشکیل نو کے داعی تھے ، یہ انفرادی و اجتماعی طور پرکسی نہ کسی حد تک ہو رہی ہے۔ لیکن کلام و عقائد کے باب میں شاید کوئی کوشش ہو رہی ہو، لیکن کوئی قابل ذکر نہیں۔
میں نے اپنے دو تین بزرگوں کو یہ تجویز دی تھی کہ ہم "شرح العقائد" پڑھاتے ہیں جو کہ یونانی فلسفے کے تناظر میں ہے ۔ اس کی کوئی جلد ثانی لکھے جو مغربی فلسفہ کے تناظر میں ہو۔ ضرورت سب محسوس کرتے ہیں۔ اللہ کرے کہ کوئی لکھے۔ یہ وہی کام ہے جو اقبال فقہ میں کروانا چاہتے تھے۔ اس کے لیے دو طبقے مل جائیں جو قدیم و جدید کے حامل ہوں یا ایک طبقہ جو ان دونوں کا حامل ہو، وہ یہ کام کر لے ، اس کام کی ضرورت بہر حال ہے۔ایک ہی طبقہ ہو تو بہتر ہے جس کی ہمارے قدیم کلامی مباحث پر بہت گہری نظر ہو اور اس کے ساتھ مغربی فلسفہ کو اس کے پورے پس منظر اور اثرات سمیت سمجھتا ہو۔ 
دوسرا موضوع مذہب اور سائنس ہے ، میں اب تک یہ نہیں سمجھ پایا کہ ہم نے مذہب اور سائنس کو کیسے آمنے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سائنس نے ترقی شروع کی ہے تو اس کا سامنا مسیحیت سے ہوا اور مسیحیت نے سائنس کے مقابل محاذ کھڑا کر دیا، سزائیں دیں ، فتوے لگائے کہ یہ مباحث کائنات کے نظام میں دخل دینا ہے وغیرہ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گلیلیو کو سزا دی گئی اور تین سو سال کے بعد پوپ بینیڈکٹ نے اس پر معافی مانگی ہے۔ 
قرآن پاک تو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن نے جہاں علم کی بات کی ہے جیسے پہلی وحی میں فرمایا : عَلَّمَ الاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ، اس میں اتنا عموم ہے کہ اس کو کسی دائرے میں بند نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں، مقصدیت کے اعتبار سے ایک فرق قرآن بیان کرتاہے جس کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ سورہ آل عمران کے آخر میں "اُولُوا الاَلْبَابِ" کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ عقل والے وہ ہیں جو اللہ پاک کو یاد کرتے رہتے ہیں اور زمین و آسمان کی تخلیق پر غوروفکر کرتے رہتے ہیں۔ ہماری آج کی سائنس کا یہ المیہ ہے کہ یہ تجربات بھی کرتی ہے ، مشاہدات بھی کرتی ہے ، یہ دیکھتی ہے کہ "یہ کیا ہے ؟" اور "اس سے فائدہ کیسے اٹھایا جا سکتا ہے ؟" لیکن " یہ کیوں ہے؟" یہ ہماری سائنس کے موضوع میں شامل ہی نہیں ہے۔ لیکن قرآن کہتا ہے: رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا۔ مقصدیت کا تعین بھی ضروری ہے۔ قرآن ایک اور جگہ پر کہتا ہے : سَنُرِیھِمْ آیَاتِنَا فیِ الآفَاق وَفِی اَنْفُسِھِمْ۔ یہ سب جنرل اور میڈیکل سائنس ہے، لیکن اس کے بعد کہا : حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ، تاکہ اللہ کی حقانیت تمہارے سامنے واضح ہو۔ یہاں بھی مقصدیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سائنس کا آغاز الحاد سے ہوا تھا لیکن سائنس کا نتیجہ اللہ کی آیات کی تصدیق ہے۔
اور ایک فرق جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا، علم نافع اور علم ضار کا۔ اسلام کا سارا فلسفہ علم اسی پر مبنی ہے۔ علم بذات خود علم ہوتا ہے ، اس کا استعمال اس کو نافع یا ضار بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ سے کہ سائنس کے بارے میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ اس کا استعمال غلط ہو رہا ہے۔ مثلاً چارلس اس پر بہت بات کرتا ہے کہ سائنس کو تم انسانیت کے نفع کے لیے استعمال کر رہے ہو یا نقصان کے لیے ؟ اس پر وہ سائنس دانوں کو بہت کچھ کہتا ہے اور ٹھیک کہتا ہے۔ حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی فرمایا کرتے تھے کہ مغرب نے علم میں بہت ترقی کی ہے، لیکن علم کے استعمال کا طریقہ نہیں سیکھا، علم کے استعمال کی اخلاقیات و دائرے نہیں سیکھے۔ خلاصہ یہ کہ سائنس مذہب کے مخالف نہیں ہے اور میرے نزدیک تو بالکل نہیں ہے بلکہ قرآن پاک خود سائنس کی دعوت دیتا ہے ، غوروفکر کی دعوت دیتا ہے مقصد کے اعتبار سے۔ دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ سائنس کا انسانیت کو کیا فائدہ ہے اور فائدہ بھی صرف دنیا کا نہیں بلکہ آخرت کے فائدہ کو بھی ایجنڈے میں شامل کرنا ہو گا ، تبھی اس کا غلط استعمال کنٹرول میں آ سکتا ہے۔
اس پوری ورکشاپ میں مذہب اور سائنس کے حوالے سے جو اہم نکات زیر بحث آئے، وہ حسب ذیل ہیں:
1۔ ہمارے ذہنوں میں پہلے ٹائم اور سپیس کا تصور نہایت محدود تھا۔ ہم ٹائم اسی کو سمجھ رہے تھے جو ہمیں روز مرہ زندگی میں سمجھ آ رہا ہے، جو گزر رہا ہے اور کبھی واپس نہیں آئے گا ، ہمیں بس اس گزرے ہوئے وقت کا حساب دینا ہے لیکن اس ورکشاپ کی وساطت سے اس تصور میں تبدیلی آئی اوریہ پتہ چلاکہ ٹائم ایک relativeچیز ہے۔ جس کو ہم ٹائم سمجھ رہے ہیں، وہ ایک اضافی تصور ہے۔ اگر خلا میں چلے جائیں تو اس کو ماپنے کا معیار بدل بھی سکتا ہے۔
2۔ ہمارے ذہن میں ایک تصور یہ تھا کہ سائنس کے مذہب کے خلاف ہونے میں مختلف اطراف سے جبر کا عمل دخل ہے، مثلاً کلیسا کی طرف سے مذہبی جبر وغیرہ۔لیکن ورکشاپ میں زیر بحث آنے والے نکات سے یہ معلوم ہوا کہ یہ اختلاف کسی چیز کا ردعمل نہیں بلکہ سائنس کی nature کا حصہ ہے۔ جیسے جیسے کائنات کی دریافت ہو رہی ہے، ویسے ہی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ اس سے پہلے مذہب کا رویہ بہت سی چیزوں پر سوال نہ اٹھانے کا تھا، لیکن سائنس ان چیزوں پر بھی سوال کھڑے کر رہی ہے۔ اسلوب میں تبدیلی آئی ہے اور مذہب کے بیانیے کے مقابل ایک پورا بیانیہ کھڑا ہو گیا ہے، اس لیے سائنس اور مذہب میں اختلاف کی نوعیت محض ردعمل کی نہیں ہے بلکہ کچھ بہت Original سوالات ہیں جو کسی جبر کا نتیجہ نہیں ہیں۔ جہاں تک مختلف سطح پر ہونے والے جبر کا تعلق ہے تو اس نے سائنس اور سائنس دانوں کے رویے میں یہ چیز شامل کر دی ہے کہ وہ مذہب کے پیرایے میں آنے والی کسی بھی چیز کو بڑی عجلت میں رد کر دیں اور اس عجلت میں بسا اوقات وہ تحقیق وجانچ کے اپنے ہی قائم کردہ معیارات کو بھی استعمال کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اس سے وہی رویہ جو ابتداء میں اہل مذہب نے سائنس کے لیے اختیار کیا تھا، اب سائنسدان مذہب و اہل مذہب کے لیے اختیار کر رہے ہیں۔
3۔ مذہب میں ذرائع علم میں عقل کو ثانوی حیثیت حاصل ہے ، اول درجہ وحی کا ہے۔ اگرچہ عقل عملی طور پر سب ذرائع سے فائق ہی نظر آتی ہے، لیکن جن ایک مرتبہ عقلی بنیاد پر وحی کو تسلیم کر لیا جائے تو بہت سے امور میں خصوصاً مابعد الطبیعاتی امور میں عقل کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے۔ سائنس میں وحی کی کوئی حیثیت نہیں۔ عقل اور تجربہ ومشاہدہ ہی اتھارٹی ہے۔ عقل کبھی بھی معطل نہیں ہوتی۔ مذہب میں جہاں وحی کی بات آ جائے، وہاں عقل کو چھوڑنے اور سوال نہ کرنے کی بات مانی جاتی ہے اور کئی جگہوں پر سوچ بچار کو بڑھانے پر بھی پابندی لگ جاتی ہے۔لیکن سائنس میں اس کائنات، طبیعات یا مابعد الطبیعات کا کوئی بھی پہلو ایسا نہیں جس کو سوال سے استثناء حاصل ہو اور اس پر غورو فکر کرنے اور اس کو زیر بحث لانے کی ممانعت ہو۔ 
4۔ سائنس جو کلیات یا مسلمات بناتی ہے، ان کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ان کی بنیاد تجربہ پر ہے اور بار بار کے تجربہ سے ایک جیسے نتائج کے حصول نے سائنس کو ایک قسم کا اعتماد فراہم کر دیا ہے جس میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس کے قائم کردہ مقدمات یا کلیات بھی اسی حساب سے مضبوط ہوتے جا رہے ہیں، لیکن مذہب کو گزشتہ دو تین صدیوں سے اس چیلنج کا سامنا ہے کہ اس کے مقدمات سائنسی یا عقلی کسوٹی پر یا تو ثابت نہیں ہو پا رہے یا اہل مذہب اس کو ثابت نہیں کر پا رہے۔ اس لیے مذہب و اہل مذہب کا مورال گرتا جا رہا ہے اور سائنس کی طرف توجہ بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن اس سے انسانی زندگی میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ انسانی زندگی کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جن کا جواب سائنس کے پاس نہیں یا اگر جواب ہے بھی تو وہ انتہائی بودا اور غیر تسلی بخش ہے۔ ان پہلوؤں میں جذباتی تسکین، بہت سے نفسیاتی گوشے، دعا و التجا کا جذبہ، برتر ہستی کا فطری تصور، خالق کا خیال اور مقصدیت وغیرہ اہم ہیں۔ مذہبی تصورات بہر حال انسانی جذبات و احساسات کی تسکین و تسلی کا شاید ابھی تک واحد ذریعہ ہیں، مثلاً موت کے بعد کی زندگی میں جزا و سزا کا تصور اور اس کے نتائج، دعا ، التجا ، حصول مدد و مناجات وغیرہ۔ 
دوسرا یہ کہ مذہب کے بنائے ہوئے مسلمات Questionable نہیں ہیں۔ مذہب بہت سی چیزوں کو صرف مان لینے کی ہدایت ہی نہیں کرتا، اس پر سوال نہ کرنے کی تلقین بھی کرتا ہے۔ جبکہ سائنس کے کلیات پرہر وقت سوال ہو سکتا ہے۔ یہ Questionable ہیں اور کوئی بھی دلائل کے ساتھ ان پر نہ صرف اعتراض کر سکتا ہے بلکہ ان کو جھٹلا کر کوئی نیا نظریہ بھی دے سکتا ہے۔ یہ بھی ایک بنیادی فرق ہے۔
5۔ اہل مذہب اور اہل سائنس کے درمیان مسائل کا سب سے بڑا سبب ان کے بیچ کا بعد و دوری ہے۔ بہت سے نظریات کے بارے میں اہل مذہب بات کرتے ہیں کہ سائنس اور سائنسدان یہ کہتے ہیں، لیکن ان کے اصل تناظر کا ان کو کچھ پتہ نہیں، محض سنی سنائی اور سطحی باتوں کی بنیاد پر تاثرات کی عمارت تعمیر کر لی گئی ہے۔ یہی حال سائنسدانوں کا ہے کہ وہ اہل مذہب سے دور بیٹھ کر ان کے خیالات کو اپنے ذہن میں کچھ معنی دے کر ان سے بدظن ہو جاتے ہیں۔اس کا احساس اے ایچ نیر، پروفیسر اشفاق سلیم مرزا اور ڈاکٹر رضوان صاحبان کے ساتھ نشست میں بھی ہوا۔ جناب اے ایچ نیر نے دوران گفتگو یہ سوال کیا کہ آپ لوگ یہ بتائیں کہ اجتہاد کیا ہوتا ہے اور اس کا دائرہ کار اور حدود کیا ہیں ؟ اس سوال سے پہلے انہوں نے کائنات میں مختلف دریافتوں کے بعد پیدا ہونے والے سوالات کا تذکرہ کیا اور ان کے بارے میں پوچھا کہ کیا ان کے بارے میں اجتہاد ہو سکتا ہے ؟؟ اس پر مولانا عمار خان ناصر نے اسلامی شریعت میں اجتہاد کی حیثیت کو بڑی عمدگی سے واضح کیا، لیکن وہاں لوگوں کی Body language یہ بتا رہی تھی کہ وہ اجتہاد کے اس دائرے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے اپنے ذہن میں اجتہاد کا مفہوم اور دائرہ کار اس مفہوم اور دائرہ کار سے مختلف ہے جو کہ ہمارے اسلامی لٹریچر میں حقیقتاً ہے۔ 
ایک اہم بات یہ بھی ہے جس کا اظہار ڈاکٹر رضوان صاحب نے کیا کہ اہل مذہب کی طرف سے ہمیں اس رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ان سائنسدانوں کو کیا پتہ ہے، یہ تو بے وقوف لوگ ہیں اور اپنی عقل کے گھوڑے دوڑا کر اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہل مذہب کم از کم ہمیں بے وقوف تو نہ کہیں اور نہ سمجھیں۔
6۔ سائنس کے حوالے سے مختلف لوگوں کی گفتگو سننے سے یہ تاثر بھی ذہن میں آیا کہ کائنات کی تخلیق کی وضاحت میں سائنس کے پیراڈائم میں بھی بہت سے گوشے ایسے ہیں جن کی سائنس دان کوئی تسلی بخش توضیح نہیں کر سکتے اور ان کے مفروضات اس کی توجیہ نہیں کر پاتے، مثلاً روشنی کے Particle like behavior اور Wave like behaviorمیں weirdness کا مشاہدہ۔ گویا کائنات اور فطری عوامل کے بہت سے گوشے ایسے ہیں جن کی کوئی قابل قبول تعبیر عقلی حوالے سے ابھی تک ممکن نہیں۔ 
7۔ مذہب کے نمائندگان کی طرف سے سائنس کے نمائندوں سے یہ دریافت کیا گیا کہ سائنس کے نظریات کون سا اٹل ہیں۔ یہ بھی بدلتے رہتے ہیں۔ آج ایک نظریہ ہے تو کل کوئی نئی تحقیق اس کو رد کر کے دوسرا نظریہ پیش کر دے گی۔ پھر ان پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے ؟ اس کی وضاحت میں اے ایچ نیر اور ڈاکٹررضوان صاحب نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ سائنس کا کوئی نیا نظریہ آنے سے پرانے نظریہ کی بالکلیہ نفی ہو جاتی ہے بلکہ نئے نظریہ کے باوجود بہت سی چیزوں کی وضاحت پرانے نظریات سے ہی ہوتی ہے ، اکثر اوقات نئے نظریات کچھ gaps کو پر کرنے کے کام آتے ہیں۔ پرانے نظریات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں اور ان کی اہمیت بھی مخصوص دائروں میں مسلم رہتی ہے۔
ورکشاپ میں ہر لیکچر کے بعد انڈیا و پاکستان کے شرکاء کو بحث ومباحثہ کا موقع دیا جاتا تھا جس میں وہ لیکچر کے مندرجات پر کھل کر گفتگو کرتے اور اپنے سوالات مقررین کے سامنے رکھتے۔ مقررین سوالات کو سن کر اہم اور بنیادی سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کرتے۔ آخری دن کورس کے شرکاء کے لیے لازم کیا گیا کہ وہ اپنے دلچسپی کے کسی موضوع پر presentation پیش کریں اور پوری ورکشاپ کے بارے میں اپنے تاثرات کورس کی ویب سائٹ پر قائم Discussion forum پر ڈال دیں تاکہ تمام شرکاء ایک دوسرے کی آراء سے استفادہ کر سکیں۔