جنوری ۲۰۱۷ء

دینی مدارس اور غیر حکومتی تنظیموں کے باہمی روابطمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۶)ڈاکٹر محی الدین غازی 
حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کی وفاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
جنید جمشیدؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اسلام کا دستوری قانون اور سیاسی نظام ۔ برعظیم پاکستان و ہند کے فتاویٰ کا تجزیاتی مطالعہ (۲)ڈاکٹر محمد ارشد 
’’علوم اسلامیہ میں تحقیق: عصری تناظر‘‘ / مجلس یادگار شیخ الاسلام کے زیر اہتمام مولانا سندھیؒ پر سیمینارڈاکٹر حافظ محمد رشید 
فرزند جھنگویؒ اور جمعیۃ علماء اسلاممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مولانا مسرور نواز کی کامیابی کے متوقع مثبت اثراتمحمد عمار خان ناصر 
الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام اسوۂ حسنہ سیمینارحافظ محمد شفقت اللہ 

دینی مدارس اور غیر حکومتی تنظیموں کے باہمی روابط

محمد عمار خان ناصر

دینی مدارس اور غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کے باہمی روابط کا معاملہ ان دنوں اعلیٰ سطحی دیوبندی قیادت کے ہاں زیر بحث ہے اور ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کے گذشتہ شمارے میں صدر وفاق مولانا سلیم اللہ خان نے جبکہ ماہنامہ ’’البلاغ‘‘ کے حالیہ اداریے میں مولانا عزیز الرحمن نے اس ضمن میں اپنے خدشات وتحفظات کی تفصیلی وضاحت کی ہے۔ بحث کا فوری تناظر دو واقعات ہیں۔ ایک یہ کہ ایک دینی جامعہ میں کسی غیر ملکی تنظیم کے اشتراک سے ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں مبینہ طور پر کچھ ایسی باتیں کہی گئیں جن سے دینی قیادت کے مسلمہ اعتقادی موقف پر زد پڑتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اسلام آباد کی ایک غیر حکومتی تنظیم، ادارہ برائے امن وتعلیم (PEF) کی جانب سے، جس کے ساتھ گذشتہ کئی سال سے اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان (ITMP) کی قیادت کا قریبی رابطہ ہے اور وہ مختلف سطحوں پر دینی مدارس کے اساتذہ وطلبہ کے لیے تربیتی ورک شاپس بھی منعقد کر رہی ہے، مرتب کردہ ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں پاکستان کے تعلیمی اداروں میں رائج نصابی کتب کا اس حوالے سے تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے کہ ان میں مذہبی منافرت کو فروغ دینے والا مواد کس قدر اور کہاں کہاں پایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں ایسے موادکی نشان دہی کے ساتھ ساتھ نصاب کی اصلاح کے لیے کچھ سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں جن میں سے، مثال کے طور پر، ایک قابل اعتراض سفارش یہ ہے کہ نصابی کتابوں میں اسلام کو واحد سچے مذہب کی حیثیت سے پیش نہ کیا جائے۔
دینی مدارس کے تشخص اور کردار کی حفاظت کے حوالے سے دیوبندی قیادت کی حساسیت بدیہی طور پر قابل فہم ہے اور اگر کوئی ایسی پیش رفت ہو رہی ہے یا ہوئی ہے جس سے اس تشخص پر زد آنے کا خطرہ ہے تو اس پر قیادت کا فکر مند ہونا بالکل فطری ہے۔ بظاہر مذکورہ دونوں واقعات میں فریق ثانی کی طرف سے بھی اپنی پوزیشن کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔ چنانچہ یہ کہا گیا ہے کہ متعلقہ دینی ادارے میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کوئی ایسی بات سرے سے کہی نہیں گئی جو موجب اعتراض ہو (اور بظاہر یہی لگتا ہے کہ قیادت کے تحفظات کسی خاص نکتے کے حوالے سے نہیں، بلکہ فی نفسہ مدرسے کی چار دیواری میں کسی این جی او کے اشتراک سے اجلاس منعقد کرنے پر ہیں)، جبکہ ادارہ برائے امن وتعلیم کی جانب سے ایک تفصیلی وضاحت سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہے جس کے مطابق قابل اعتراضات سفارشات اس رپورٹ کا حصہ نہیں تھے جو ادارہ برائے امن وتعلیم نے مرتب کی تھی اور یہ کہ اس میں ان نکات کا اضافہ بعد میں اس بین الاقوامی ادارے نے اپنی طرف سے کیا ہے جس کے لیے مذکورہ رپورٹ کا مواد جمع کیا گیا تھا۔ مذکورہ وضاحت کے مطابق، PEF کی طرف سے اس پر متعلقہ ادارے سے احتجاج بھی کیا گیا ہے جس کے بعد اس ادارے نے معذرت کرتے ہوئے اپنی ویب سائٹ سے یہ رپورٹ ہٹا دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ دونوں وضاحتیں ناظرین کے سامنے ہیں اور ان کو وزن دینے یا نہ دینے کا معاملہ بہرحال کسی بھی شخص کی اپنی رائے اور صواب دید پر منحصر ہے۔
اس فوری اور وقتی واقعاتی تناظر سے ہٹ کر، زیر نظر سطور میں ہمارے پیش نظر اس معاملے کے چند مستقل اور بنیادی پہلوؤں پر اپنی معروضات پیش کرنا ہے۔ 
صورت حال یہ ہے کہ نائن الیون کے واقعے نے پوری دنیا اور خاص طور پر مسلم معاشروں میں واقعاتی وفکری سطح پر جو شدید اضطراب پیدا کیا، اس نے دین کی تعبیر اور دور جدید میں اہل دین کے معاشرتی کردار کے حوالے سے درجنوں سوالات کھڑے کر دیے جن سے سنجیدہ اعتنا خود دینی قیادت کی ذمہ داری بنتی تھی، لیکن ہم نے دیکھا کہ حالات کے دباؤ کے تحت وقتاً فوقتاً سیاسی نوعیت کے بعض بیانات جاری کرنے کے علاوہ درپیش فکری سوالات پر سنجیدہ غور وفکر کی کوئی تحریک دینی قیادت نے اپنے ماحول میں پیدا نہیں کی۔ جمہوریت اور اسلام کا باہمی تعلق، جہاد اور دہشت گردی، خلافت کا تصور اور قومی ریاستیں، مذہبی ومسلکی فرقہ واریت، نجی سطح پر جہادی سرگرمیوں کی تنظیم، مسلم معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق ومسائل، مسلم ریاستوں کے خلاف خروج، مسلمان طبقات کی گروہی واجتماعی تکفیر، مذہبی رواداری، بین المذاہب مکالمہ، دینی مدارس کا نصاب ونظام، قیام امن اور سماجی ہم آہنگی، خواتین کے حقوق ومسائل، توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال، غیر ذمہ دارانہ فتوے بازی کا رجحان، مذہبی مزاج میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کا نفوذ، معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین مکالمہ اور میل جیل، عسکری تحریکوں کا پیش کردہ مذہبی بیانیہ ۔۔ یہ وہ سب موضوعات ہیں جو پچھلے پندرہ سال کے عرصے میں سماج میں ہر سطح پر زیر بحث ہیں، لیکن چند استثنائی مثالوں کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس پورے عرصے میں دینی قیادت نے خود اپنے فورمز پر اور اپنے ماحول میں ان موضوعات کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع بنانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی۔ 
دینی قیادت کی فکری اور معاشرتی ترجیحات کے محدود اور یک رخا ہونے اور دینی ذمہ داری کے نہایت اہم دائروں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے وہ خلا پیدا ہوتا ہے جس کو کچھ دوسرے فورم، ادارے اور تنظیمیں آگے بڑھ کر پر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ چنانچہ گزشتہ عرصے میں، مذکورہ موضوعات پر سوچ بچار اور غور وخوض کی جو بھی کاوشیں ہوئی ہیں، ان کا محرک اصلاً دینی قیادت نہیں، بلکہ معاشرے کے کچھ دوسرے ادارے ہیں جو اس حوالے سے فکرمندی ظاہر کرتے ہوئے طبقہ علماء کو متوجہ کرنے اور اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کوئی ایسا نمائندہ فورم موجود نہیں جہاں درپیش فکری وعملی سوالات پر سنجیدہ غور وخوض کیا جاتا ہو اور اس کا قیام دینی قیادت کی دلچسپی سے یا اس کی تحریک پر عمل میں آیا ہو۔ ملی مجلس شرعی اور اس جیسے بعض دوسرے فورمز کے کار پردازان، دینی قیادت کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ایسے سب فورمز دینی قیادت کے دائرے سے باہر کھڑے چند حضرات نے اس ضرورت کا احساس کر کے قائم کیے ہیں کہ بہت سے غور طلب مسائل موجود ہیں جن میں مذہبی ودینی موقف کا سامنے لایا جانا وقت کی ضرورت ہے۔ 
اس سلسلے میں گزشتہ چند سال میں درپیش فکری سوالات اور دینی قیادت کی متوقع ذمہ داری اور کردار کے حوالے سے نمایاں علمی وفکری سرگرمیوں کا ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ منظر سامنے آتا ہے:
دینی مدارس کے فضلاء، اساتذہ اور ائمہ وخطباء کے لیے مختلف سطحوں اور دائروں میں ایسے تربیتی پروگراموں کا انعقاد جن کا مقصد ان کو علمی وفکری ضروریات کا احساس دلانا، ان کے فکری افق کو وسیع کرنا، ان کے اور دوسرے معاشرتی طبقات کے مابین فاصلوں کو کم کرنا اور فضلائے مدارس کو نئے تعلیمی مواقع اور امکانات سے متعارف کروانا ہو، نہ صرف معاشرے کی بلکہ خود دینی مدارس کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے بھی ہمیں بنیادی طور پر وہی ادارے سرگرم نظر آتے ہیں جن کا مدارس کے روایتی دائرے سے تعلق نہیں۔ اس ضمن میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ذیلی اداروں: دعوہ اکیڈمی، شریعہ اکیڈمی، اقبال مرکز برائے تحقیق ومکالمہ کے علاوہ بعض قومی جامعات کے شعبہ ہائے علوم اسلامیہ اور کچھ غیر حکومتی تنظیموں مثلاً انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز، ادارہ برائے امن وتعلیم اور پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔
اس کے بالمقابل اس سارے عرصے میں مختلف دینی اداروں کے نمائندہ مذہبی جرائد کی فائل اٹھا کر دیکھ لیجیے، آپ کو پوری دنیا میں اسلام کے خلاف ہونے والی ہر سازش اور مسلمانوں پر ہونے والے ہر ظلم کا ذکر ملے گا، لیکن جو سوالات مذہبی قیادت سے کسی جواب یا کردار کا تقاضا کرتے ہیں، ان کا بھولے سے بھی کوئی ذکر نظر نہیں آئے گا۔ مذہبی قیادت کا ذہنی رویہ، یہ ہے کہ چند سال قبل جب انٹر نیشنل ریڈ کراس کمیٹی کے زیر اہتمام بین الاقوامی قانون انسانیت اور اسلامی قوانین کے موضوع پر ایک علمی مجلس میں، جس میں شرکاء کی غالب تعداد علماء اور اسلامی قانون کے اساتذہ کی تھی، راقم نے بعض روایتی فقہی تعبیرات پر کچھ سوالات غور وفکر کے لیے پیش کیے تو صدر مجلس جناب مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے اپنے صدارتی کلمات میں اس پر باقاعدہ رد عمل ظاہر فرمایا اور کہا کہ اس طرح کے سوالات صرف اکابر علماء کی کسی محدود مجلس میں زیر غور لائے جا سکتے ہیں، اس طرح کھلی مجالس میں (یعنی دینی اداروں کی مستند چار دیواری سے باہر) ان پر گفتگو کرنا درست نہیں۔ اسی طرح چند ماہ قبل جب یہ اطلاع کسی ذریعے سے سوشل میڈیا پر پہنچ گئی کہ جامعہ دار العلوم کراچی کی تحریک پر یہ مسئلہ چند بڑے مراکز افتاء کے زیر غور ہے کہ کیا قربانی کے وجوب کے لیے فقہی نصاب کی تعیین میں چاندی کے بجائے سونے کو معیار قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں تو دار العلوم کے ذمہ داران نے اس پر ایک گونہ ناراضی کا اظہار کیا گیا کہ اہل افتاء کے کسی نتیجے تک پہنچ جانے سے پہلے اس بحث کی اطلاع عوام تک کیوں پہنچائی گئی۔ گویا یہ ایک علمی وفقہی مسئلہ نہیں بلکہ کوئی پر از خطر سیاسی قضیہ تھا جسے بیک ڈور ڈپلومیسی کے طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے پر جناب مولانا محمد تقی عثمانی صاحب نے اپنے درس حدیث میں ایک سوال کے جواب میں ایسی بات ارشاد فرمائی جس سے سلمان تاثیر کے قتل کا ناجائز ہونا ثابت ہوتا ہے تو اس کی اطلاع سوشل میڈیا پر آ جانے پر بھی دار العلوم کے متعلقین نے خفگی کا اظہار کیا اور یہ کہا گیا کہ یہ بات میڈیا پر تشہیر کے لیے نہیں، صرف درس گاہ کے ماحول کو مد نظر رکھ کر کہی گئی تھی۔
دینی قیادت کا یہی ذہنی رویہ ہے جس کے زیر اثر وہ ماحول کے دباؤ کے تحت سیاسی ضرورتوں کی حد تک بالائی سطح پر تو بعض ایسے اقدامات کر لیتی ہیں جن سے مسلکی رواداری کا اظہار ہوتا ہو، لیکن اس چیز کو خود اپنی ترجیحات میں کوئی جگہ دینے یا اپنے داخلی ماحول میں ان موضوعات پر غور وفکر کو فروغ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ مثلاً مختلف مکاتب فکر سے وابستہ تعلیمی وفاقوں کی قیادت بالائی سطح پر تو اتحاد واشتراک اور مسلکی رواداری کا اظہار کرتی ہے اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے عنوان سے پانچوں وفاقوں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم بھی قائم کیا گیا ہے، لیکن رواداری، باہمی میل ملاپ اور مکالمہ کا ماحول زیریں سطح پر پیدا کرنے میں دینی قائدین نے اب تک کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ دینی قائدین خود تو ایک دوسرے کے ساتھ شخصی اور دوستانہ روابط بھی رکھیں اور تحفظ ودفاع کے مشترکہ مقصد کے لیے مل جل کر جدوجہد کرنے کا طریقہ بھی اختیار کریں، لیکن خود ان دینی اداروں کی چار دیواری کے اندر بین المسالک مکالمہ اور تبادلہ خیال کی گنجائش روا نہ رکھی جائے؟ اگر قائدین مل بیٹھ کر اپنے اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے تبادلہ خیال کر سکتے ہیں اور سوسائٹی کے سامنے مسلکی رواداری کا پیغام پیش کرنے کو درست سمجھتے ہیں تو نچلی سطح پر مدارس کے اساتذہ وطلبہ کے لیے اسی قسم کا ماحول شجر ممنوع کیوں ہے؟ 
ہمارے نزدیک اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دینی قیادت اپنے حلقوں کا ایک روادارانہ چہرہ معاشرے کے سامنے پیش کرنے کو محض ایک عملی مجبوری یا ضرورت سمجھتی ہے اور اس درجے میں ان کے Constituent حلقے بھی ان کے مل بیٹھنے اور دنیا کے سامنے ایک مثبت تصویر پیش کرنے کو گوارا کر لیتے ہیں، لیکن اپنی داخلی نفسیات کے لحاظ سے ان سب حلقوں میں مسلکی اور گروہی سوچ بے حد پختہ ہے اور دوسرے مسالک کے لوگوں کے ساتھ اختلاط یا کھلے ماحول میں گفتگو اور مکالمہ کو مسلکی پختگی کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ 
اسی ذہنی رویے کا اظہار ہم اس پہلو سے بھی دیکھتے ہیں کہ دینی قیادت مختلف سماجی موضوعات (مثلاً خواتین کے حقوق، اقلیتوں کو درپیش مسائل، مذہبی رواداری، مکالمہ بین المذاہب وغیرہ) پر دوسرے اداروں اور تنظیموں کی طرف سے منعقد کردہ پروگراموں میں تو شریک ہوتی ہے اور اپنے زاویہ نظر سے ان مسائل پر اسلامی نقطہ نظر بھی پیش کرتی ہے، تاہم ایسے موضوعات پر خود اپنے اداروں میں سوچ بچار کو فروغ دینے یا کسی مکالماتی مجلس کے انعقاد میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں کرتی، بلکہ یہ مسائل چونکہ عموماً معاشرے کے لبرل حلقوں کی طرف سے اٹھائے جاتے ہیں، اس لیے مدارس کے ماحول میں ان عنوانات پر زیادہ گفتگو کو بھی شک وشبہے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر یہ مسائل واقعتا غور طلب ہیں اور ان میں کوئی کردار ادا کرنا دینی طبقے کی ذمہ داری بنتا ہے اور اس حوالے سے کسی دوسرے فورم کی طرف سے منعقدہ مجالس میں مختلف الخیال حضرات بلکہ دوسرے مذاہب کی نمائندگی کرنے والے قائدین کے ساتھ شرکت میں بھی کوئی مضائقہ نہیں تو ایسی کوئی مجلس کسی دینی مدرسے کے حدود میں کیوں منعقد نہیں ہو سکتی؟ 
مثلاً ناروے کی ایک تنظیم ورلڈ کونسل آف ریلیجنز کے اشتراک سے ۲۰۰۴ء میں اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں ایک بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں مذہبی رواداری کے اظہار کے لیے ہال میں آویزاں بینرز پر قرآن مجید کے ساتھ ساتھ بائبل کی آیات بھی درج تھیں اور جہاں تک یاد پڑتا ہے، نشست کے آغاز میں قرآن مجید کے علاوہ بائبل کی آیات کی بھی تلاوت کی گئی تھی۔ اس مجلس میں پورے ملک سے نہ صرف دینی مدارس کے علماء وطلبہ کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی، بلکہ مولانا سلیم اللہ خان اور مولانا محمد تقی عثمانی سمیت اعلیٰ ترین دیوبندی قیادت نے بھی شرکت کی۔ (اس پر ایک مختصر تبصرہ برادرم میاں انعام الرحمن کے قلم سے الشریعہ کے اکتوبر ۲۰۰۴ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا)۔ سوال یہ ہے کہ اگر مذہبی رواداری کے اظہار کا یہ انداز درست اور وقت کی ضرورت ہے اور اس میں دینی قیادت کی شرکت ایک مثبت پیغام کا درجہ رکھتی ہے تو یہی نیک کام انھی التزامات کے ساتھ کسی دینی ادارے کی چار دیواری کے اندر کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ 
آپ تجزیہ کر لیجیے، فرق کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں نکلے گی کہ دینی قیادت اس طرح کے معاملات کو اپنی اصولی ذمہ داری یا سماجی ضرورت کے نقطہ نظر سے نہیں، بلکہ صرف سیاسی مصلحت کے نقطہ نظر سے دیکھتی ہے جس کا تقاضا دوسری جگہوں پر جا کر میٹھی میٹھی باتیں کر دینا تو بنتا ہے، لیکن اپنے گھر میں دوسروں کو بلا کر ان کی کڑوی کڑوی باتیں سننا اور اپنے اساتذہ وطلبہ کے ذہنوں میں سوالات کی پیدائش کا خطرہ مول لینا ہرگز نہیں بنتا، کیونکہ انھیں ارادتاً ایک محدود فکری ماحول میں قید رکھنا دینی قیادت کی بنیادی ترجیح ہے۔
مدارس اور این جی اوز کے باہمی روابط کا مختلف پہلوؤں سے ایک معروضی جائزہ لینا بہت اہم ہے اور اس ضمن میں غیر مستحسن فکری اثرات (اگر کوئی ہوں) کے علاوہ اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ان روابط کے ساتھ وابستہ بعض مادی مفادات دینی طبقوں اور خاص طور پر ان کی نمائندہ قیادت پر کس طرح کے اثرات مرتب کر رہے ہیں، لیکن ہمارے نزدیک اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس کے داخلی ماحول میں معاشرے کے زندہ فکری وعملی مسائل پر غور وخوض اور دوسرے معاشرتی طبقات کے ساتھ مکالمہ اور تعامل کی فضا قائم کی جائے اور اس خلا کو پر کیا جائے جسے اس وقت دوسرے علمی وفکری ادارے یا بعض غیر حکومتی تنظیمیں پر کر رہی ہیں۔ جب تک دینی قیادت خود اس ضرورت کا ادراک اور اس کی تکمیل کا اہتمام نہیں کرتی، اس وقت تک ہمارے زاویہ نظر سے یہ ادارے اور تنظیمیں، طریق کار اور ترجیحات کے بہت سے پہلوؤں سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود، ایک اہم معاشرتی ضرورت کو پورا کر رہی ہیں اور ان کی سرگرمیوں کا تنقیدی واصلاحی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ان کے کام کے مفید اور مثبت پہلوؤں کا بھی پورا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ ان تنظیموں کی سرگرمیوں کے اگر کچھ مبینہ خطرات ومضرات ہیں تو اس پر ان کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے یہ ضروری ہے کہ دینی قیادت خود درپیش فکری سوالات پر مشاورت اور مکالمہ ومباحثہ کا اہتمام کرے۔ ظاہر ہے کہ جہاں خلا ہوگا، وہاں اس کو پر کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی طبقہ آگے بھی بڑھے گا۔ اگر دینی قیادت حقیقی مفہوم میں اور کھلے ذہن کے ساتھ اس ضرورت کی تکمیل کے لیے آمادہ ہو جائے تو کسی اور سے شکایت کا موقع ہی پیدا نہیں ہوگا۔ 

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۶)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۰۵) من نفس واحدۃ کا ترجمہ

من نفس واحدۃ کی تعبیر قرآن مجید میں چارآیتوں میں آئی ہے،ان میں سے تین آیتوں میں منھا زوجھا کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ عربی تفاسیر میں خلقکم من نفس واحدۃ کا عام طور سے ایک ہی مفہوم ملتا ہے، یعنی ’’ایک جان سے پیدا کیا‘‘ اور خلق منھا زوجھا کے دو مفہوم ملتے ہیں ’’اس سے اس کے جوڑے کو بنایا‘‘ اور اس کی جنس سے اس کے جوڑے کو بنایا‘‘ اردو تراجم میں شاہ عبد القادر کے ترجمہ کو لوگوں نے عام طور سے اختیار کیا ہے جس میں ’’ایک جان سے پیدا کیا‘‘ اور ’’اس سے اس کے جوڑے کو بنایا‘‘ ترجمہ کیا گیا ہے۔ البتہ دوسرے جملے کے ترجمہ میں بعض لوگوں نے دوسری رائے بھی اختیار کی ہے۔ ذیل میں درج ترجموں سے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے: 

(۱) یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْراً وَنِسَاءً ا۔ (النساء:۱)

’’اے لوگو ڈرتے رہو اپنے رب سے جس نے بنایا تم کو ایک جان سے اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا اور بکھیرے ان دونوں سے بہت مرد اور عورتیں۔ (شاہ عبدالقادر)
اے لوگو اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلادیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مردوعورت دنیا میں پھیلادیئے‘‘۔ (سید مودودی)

(۲) ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ إِلَیْْہَا فَلَمَّا تَغَشَّاہَا حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِیْفاً فَمَرَّتْ بِہِ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللّہَ رَبَّہُمَا لَءِنْ آتَیْْتَنَا صَالِحاً لَّنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ۔فَلَمَّا آتَاہُمَا صَالِحاً جَعَلاَ لَہُ شُرَکَاء فِیْمَا آتَاہُمَا فَتَعَالَی اللّہُ عَمَّا یُشْرِکُونَ۔ (الاعراف: ۱۸۹۔۱۹۰)

’’وہی ہے جس نے تم کو بنایا ایک جان سے اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا کہ اس پاس آرام پکڑے پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانکا حمل رہا ہلکا سا حمل پھر چلتی گئی اس کے ساتھ پھر جب بوجھل ہوئی دونوں نے پکارا اللہ اپنے رب کو اگر تو ہم کو بخشے چنگا بھلا تو ہم تیرا شکر کریں پھر جب دیا ان کو چنگا بھلا ٹھیرانے لگے اس کے شریک اس کی بخشی چیز میں‘‘۔ (شاہ عبد القادر)
’’وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک ہی جان سے اور اسی سے پیدا کیا اس کا جوڑا کہ وہ اس سے تسکین پائے۔ تو جب وہ اس کو چھالیتا ہے تو وہ اٹھالیتی ہے ایک ہلکا سا حمل، پھر وہ اس کو لیے (کچھ وقت گزارتی ہے) تو جب بوجھل ہوتی ہے دونوں اللہ، اپنے رب، سے دعا کرتے ہیں اگر تونے ہمیں تندرست اولاد بخشی، ہم تیرے شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔ تو جب اللہ ان کو تندرست اولاد دے دیتا ہے تو اس کی بخشی ہوئی چیز میں وہ اس کے لیے دوسرے شریک ٹھہراتے ہیں‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی اس بخشش وعنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھیرانے لگے۔‘‘(سید مودودی، اس ترجمہ میں ’’دونوں نے مل کر‘‘ کے بجائے ’’دونوں نے‘‘ ہونا چاہئے۔ ’’مل کر‘‘ زائد ہے)

(۳) خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَأَنزَلَ لَکُم مِّنْ الْأَنْعَامِ ثَمَانِیَۃَ أَزْوَاجٍ یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُونِ أُمَّہَاتِکُمْ خَلْقاً مِن بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ۔ (الزمر:۶)

’’بنایا تم کو ایک جی سے پھر بنایا اسی سے اس کا جوڑا اور اتارے تمہارے واسطے چوپاؤں سے آٹھ نرومادہ بناتا ہے تم کو ماں کے پیٹ میں طرح پر طرح بنانا تین اندھیروں کے بیچ‘‘۔(شاہ عبد القادر)
’’اسی نے پیدا کیا تم کو ایک ہی جان سے، پھر پیدا کیا اسی کی جنس سے اس کا جوڑا اور تمہارے لیے (نرومادہ) چوپایوں کی آٹھ قسمیں اتاریں۔ وہ تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے۔ ایک خلقت کے بعد دوسری خلقت میں، تین تاریکیوں کے اندر۔‘‘ (امین احسن اصلاحی، اس ترجمہ میں ایک غلطی یہ بھی ہے کہ آٹھ قسمیں ترجمہ کیا ہے، درست ترجمہ ہے: آٹھ جوڑیاں۔ یعنی چار قسموں کی آٹھ جوڑیاں، جس کی تفصیل سورہ أنعام میں ہے)
’’اسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر وہی ہے جس نے اس جان سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نرومادہ پیدا کیے۔ وہ تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے۔ ‘‘(سید مودودی)

(۴) وَہُوَ الَّذِیَ أَنشَأَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَفْقَہُونَ۔ (الأنعام :۹۸) 

’’اور وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک ہی جان سے۔ پھر ہر (ایک کے لئے) ایک مستقر اور ایک مدفن ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
مستودع کا ترجمہ مدفن کیا ہے۔ مستقر کا مطلب عارضی قیام گاہ اور مستودع کا مطلب آخری قیام گاہ ہے، اس لئے مدفن ترجمہ کرنا مناسب نہیں ہے۔
مذکورہ بالا ترجموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ صاحب تدبر نے پہلے اور تیسرے مقام پر منھا کا ترجمہ ’’اس کی جنس سے‘‘ کیا، جبکہ دوسرے مقام پر ’’اسی سے‘‘ کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صاحب تفہیم نے اس کے برعکس پہلے اور تیسرے مقام پر ’’اس جان سے‘‘ اور دوسرے مقام پر ’’اسی کی جنس سے‘‘ ترجمہ کیا۔ غرض یہ کہ جنس والا ترجمہ دونوں کے پیش نظر رہا لیکن دونوں متعلقہ تینوں مقامات پر اس کا یکساں التزام نہیں کرسکے۔
ان آیتوں میں جب ہم خلقکم من نفس واحدۃ کا ترجمہ کرتے ہیں ’’اس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا‘‘ تو بہت سارے اشکالات پیدا ہوتے ہیں، خواہ منھا زوجھا کا ترجمہ دونوں میں سے کوئی بھی کیا جائے۔ ان اشکالات کو تفسیروں میں تفصیل سے ذکر بھی کیا گیا ہے، اور ان کا جواب دینے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ تفسیر المنار میں اس مشہور مفہوم پر وارد ہونے والے اشکالات کو تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد ایک دوسرے مفہوم تک پہونچنے کی کوشش ملتی ہے جو اشکالات سے خالی ہو۔
ایک اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے زوج بنایا یا پہلے ذریت پیدا کی؟ کیونکہ آیتوں کے مذکورہ مفہوم کے لحاظ سے تو یہ نکل رہا ہے کہ پہلے ذریت بنائی پھر زوج بنایا۔
ایک دوسرا اشکال یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم کا ذکر متعدد مقامات پر کیا ہے لیکن کہیں یہ نہیں ذکر کیا کہ تم سب کی تخلیق آدم اور حوا سے ہوتی ہے۔ آدم اور حوا کی ذریت ہونا ایک بات ہے اور آدم اور حوا سے انسانوں کی تخلیق کرنا ایک دوسری بات ہے، اور اس دوسری بات کے لیے ہمیں کوئی دلیل نہیں ملتی ہے۔ صراحت صرف اس کی ملتی ہے کہ انسان کو مٹی ’’طین‘‘ سے پیدا کیا گیا یا اس کی تخلیق پانی ’’ماء‘‘ سے کی گئی۔ لیکن کوئی اپنے ماں باپ سے تخلیق کیا گیا ہو ، یہ بات کہیں نہیں ملتی ہے۔ قرآن مجید میں نہ آدم وحوا کی تخلیق کے سیاق میں یہ کہا گیا کہ انسانوں کی تخلیق آدم وحوا یا ذکر اور انثی سے ہوئی ہے، اور نہ ہی انسانوں کی تخلیق کے سیاق میں یہ بات کہی گئی۔
خاص طور سے سورہ اعراف والی متعلقہ آیتوں میں عام مفہوم لینے سے ان آیتوں کی تفسیر بے حد مشکل ہوجاتی ہے، یا تو تفسیر تکلف سے دوچار ہوتی ہے، یا یہ ماننا پڑتا ہے کہ آدم وحوا شرک کے مرتکب ہوگئے تھے۔ ضعیف تفسیری روایتوں سے اس دوسرے مفہوم کی تائید بھی مل جاتی ہے، حالانکہ سیاق کلام کی رو سے وہ مفہوم ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا ہے۔اس آیت میں مشہور مفہوم لینے کی صورت میں کتنی دشواریاں پیش آتی ہیں اس کا اندازہ تفسیر رازی کا متعلقہ مقام پڑھ کر ہوسکتا ہے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی ان چاروں مقامات پر ایک مختلف ترجمہ تجویز کرتے ہیں جس سے وہ سارے اشکالات بھی دور ہوجاتے ہیں جن کا ذکر تفاسیر میں ملتا ہے اور وہ اشکالات بھی جو ان آیتوں پر تدبر کرنے والے کے ذہن میں آتے ہیں۔ ان کی رائے کے مطابق خلقکم من نفس واحدۃ میں ’’من‘‘ تجرید کا ہے، یعنی خلقکم فی صورۃ نفس واحدۃ یا خلقکم نفسا واحدۃ اور اس کا ترجمہ ہوگا ’’اس نے تم کو ایک جان کی صورت میں (یعنی تن تنہا) پیدا کیا‘‘ اور خلق منھا کا زوجھا کا ترجمہ ہوگا ’’اور اس کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا‘‘ گویا ہر انسان تنہا پیدا کیا گیا، اور ہر انسان کا جوڑا اسی کی جنس سے بنایا گیا۔ ہر انسان تن تنہا پیدا کیا گیا، اس مفہوم کی تائید قرآن مجید کی دوسری آیتوں سے بھی ہوتی ہے، جیسے: 

وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ۔ (الانعام:۹۴) 

ترجمہ: ’’اور بالآخر تم آئے ہمارے پاس اکیلے اکیلے جیسا کہ ہم نے تم کو اول بار پیدا کیا‘‘ اور: 

ذَرْنِیْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیْداً۔ (المدثر:۱۱) 

ترجمہ: ’’چھوڑ مجھ کو اور اس کو جس کو میں نے پیدا کیا اکیلا‘‘۔
اسی طرح خلق منھا زوجھا کا ترجمہ ان کے نزدیک اس طرح ہے: ’’اور اس کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا‘‘ یعنی ہر انسان کو تنہا پیدا کیا ، اور اس کا جوڑا اسی کی جنس سے بنایا۔ اسی مفہوم کی تائید قرآن مجید سے بھی ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں یہ کہیں نہیں ہے، کہ نسل انسانی کی خاتون اول کو مرد اول سے تخلیق کیا گیا ہے۔ لیکن ایسی آیتیں موجود ہیں جو صراحت کے ساتھ یہ بتاتی ہیں کہ ہر انسان کے جوڑے کو اس کی جنس سے بنایا، انسان سے مراد صرف مرد نہیں بلکہ مرد بھی ہے اور عورت بھی ہے، یعنی دونوں ایک ہی جنس سے بنائے گئے۔ ذیل کی دو آیتیں ملاحظہ ہوں:

(۱) وَمِنْ آیَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً۔ (الروم ۲۱)

’’ واز نشانہائے خدا آن است کیا بیا فرید برائے شما از جنس شما زنان را ‘‘(شاہ ولی اللہ، اس ترجمہ میں أزواج کا ترجمہ زنان محل نظر ہے، کیونکہ مردوں کے أزواج عورتیں ہیں اور عورتوں کے أزواج مرد ہیں)
’’اور اس کی نشاینوں سے یہ کہ بنادئے تم کو تمہاری قسم سے جوڑے‘‘ (شاہ عبدالقادر)

(۲) فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَعَلَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً۔ (الشوری ۱۱)

’’آفرینندہ آسمانہا وزمین است پیدا کرد برائے شما از جنس شما زنان را ‘‘(شاہ ولی اللہ)
’’وہ آسمان وزمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لئے تمہارے جنس کے جوڑے بنائے‘‘ (اشرف علی تھانوی)
ان دونوں آیتوں کا اسلوب وہی ہے جو خلق منھا زوجھا کا ہے۔ لیکن ان دونوں آیتوں کا ترجمہ عام طور سے یہی کیا جاتا ہے کہ تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے بنائے، چونکہ یہاں جمع کا صیغہ ہے، اور عام انسانوں سے خطاب ہے، اس لئے یہ مفہوم نہیں لیا جاسکتا کہ حوا کو آدم سے تخلیق کیا گیا، اور یہ مفہوم تو کوئی نہیں لے گا کہ ہر عورت کو اس کے شوہر کے جسم سے تخلیق کیا گیا، لہذا یہ مفہوم لینا ضروری ہوگا کہ انسانوں کے جوڑے انسانوں کی جنس سے بنائے گئے۔ دراصل یہی مفہوم مذکورہ بالا ان تمام آیتوں کا بھی ہے جہاں نفس اور زوج جمع کے بجائے واحد آئے ہیں، فرق بس یہ ہے کہ یہاں انسانوں کی پوری جماعت سے ایک ساتھ خطاب ہے، اور وہاں انسانوں کی جماعت کے ہر فرد سے فردا فرداخطاب ہے۔
اس تفصیل کی روشنی میں اس مبحث کی ابتدا میں مذکور چاروں آیتوں کا ترجمہ بالترتیب اس طرح ہوگا:
(۱) ’’اے لوگو اپنے اس رب کی نافرمانی سے بچو جس نے تم کو تن تنہا پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کی جوڑی پیدا کی اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلادیں۔‘‘
(۲) ’’وہی ہے جس نے تم کو تن تنہا پیدا کیا اور اسی جنس سے اس کی جوڑی بنائی کہ وہ اس سے تسکین پائے۔ تو جب وہ اس پر چھاگیا تو اس نے اٹھالیا ایک ہلکا سا حمل، پھر وہ اس کو لیے پھری جب بوجھل ہوگئی دونوں نے اللہ، اپنے رب، سے دعا کی اگر تونے ہمیں تندرست اولاد بخشی، ہم تیرے شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔ تو جب اللہ نے ان کو تندرست اولاد دے دی تو اس کی بخشی ہوئی چیز میں وہ اس کے لیے دوسرے شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ برتر ہے ان کے شرک سے جو یہ مانتے ہیں‘‘۔
(۳) ’’اس نے پیدا کیا تم کو تن تنہا، پھر پیدا کیا اسی کی جنس سے اس کی جوڑی اور تمہارے لیے (نرومادہ) چوپایوں کی آٹھ جوڑیاں اتاریں۔ وہ تمھیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل کرتا ہے، تین تاریکیوں کے اندر۔‘‘
(۴) ’’اور وہی ہے جس نے تم کو تن تنہا پیدا کیا ۔ پھر ہر ( ایک کے لئے ) ایک عارضی قیام گاہ اورآخری قیام گاہ ہے‘‘
ا س مفہوم کو اختیار کرنے کے بعد پھر یہ بات بے وزن ہوجاتی ہے، کہ عورت کی تخلیق مرد سے کی گئی، اور تخلیق کے پہلو سے عورت مرد کا ضمیمہ ہے۔بلکہ درست بات یہ ہے کہ جس طرح مرد مستقل طور پر ایک نفس واحدۃ کے طور پر تخلیق کیا گیا ہے اسی طرح عورت بھی مستقل طور ایک نفس واحدۃ کے طورپر تخلیق کی گئی، اور جس طرح مرد عورت کا زوج ہے، اسی طرح عورت مرد کا زوج ہے، دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں، اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

(۱۰۶) من ذکر وأنثی کا ترجمہ

من نفس واحدۃ کے ترجمہ سے متعلق ایک اور بحث یہ ہے کہ ذیل کی آیت میں إِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَی کا ترجمہ کیا ہوگا؟:

یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوباً وَقَبَاءِلَ لِتَعَارَفُوا۔ (الحجرات: ۱۳)

عام طور سے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ہم نے تم کو ایک ہی نر اور ناری سے پیدا کیا، جیسا کہ ذیل کے ترجموں میں ہے:
’’اے آدمیو ہم نے بنایا تم کو ایک نر اور ایک مادہ سے اور رکھیں تمہاری ذاتیں اور گوتیں تا آپس کی پہچان ہو‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’تحقیق ہم نے پیدا کیا تم کو ایک مرد سے اور عورت سے اور کیا ہے ہم نے تم کو کنبے اور قبیلے تو کہ ایک دوسرے کو پہچانو‘‘ (شاہ رفیع الدین)
’’اے لوگو ہم نے تم کو ایک ہی نر اور ناری سے پیدا کیا ہے اور تم کو کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے کہ تم باہم دگر تعارف حاصل کرو‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو‘‘۔ (سید مودودی، اس میں ’’پھر‘‘ زائد ہے)
تاہم مولانا امانت اللہ اصلاحی کو اس ترجمہ سے اتفاق نہیں ہے، ان کے مطابق قرآن مجید میں یہ بات تو ایک سے زائد مقامات پر کہی گئی ہے کہ نطفہ سے نر اور مادہ کی تخلیق کی گئی، لیکن یہ صراحت کہیں نہیں ملتی ہے کہ نر اور مادہ سے انسان کی تخلیق کی گئی۔ وجہ یہی ہے کہ انسان نر اور ناری کے توسط سے توتخلیق پاتا ہے، لیکن اس کی تخلیق نر اور ناری سے نہیں ہوتی ہے۔ ہر انسان ایک منفرد تخلیق ہے، وہ کسی دوسرے انسان یا دو انسانوں سے تخلیق نہیں کیا گیا ہے۔ ان کی رائے ہے کہ من ذکر وأنثی میں ’’من‘‘ بیانیہ ہے، مفہوم یہ ہوگا کہ مرد وعورت سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ان کے نزدیک اس آیت میں من ذکر وأنثی کا وہی ترجمہ کیا جائے گا جو ذیل کی آیت میں من ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی کا ہے:

فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ أَنِّیْ لاَ أُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنکُم مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی۔ (آل عمران ۱۹۵)

ترجمہ:’’ تو اُن کے رب نے اُن کو دعا قبول کر لی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو، مرد ہو یا عورت، ضائع نہیں کرتا‘‘ 
یوں زیر نظر آیت کا ترجمہ ہوگا:’’اے لوگو ہم نے تم کو پیدا کیا وہ نر ہو یا ناری، اور تم کو قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے کہ تم باہم دگر تعارف حاصل کرو۔‘‘
اس مفہوم کی تائید درج ذیل آیات سے بھی ہوتی ہے، 

وَأَنَّہُ خَلَقَ الزَّوْجَیْْنِ الذَّکَرَ وَالْأُنثَی۔ (النجم:۴۵) 

ترجمہ:’’اور یہ کہ وہ ہے جس نے جوڑے کے دونوں فرد ، نر اور ناری، پیدا کئے‘‘ 

فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْْنِ الذَّکَرَ وَالْأُنثَی۔ (القیامۃ: ۳۹) 

ترجمہ:’’پھر بنایا اس سے جوڑا، نر اور مادہ‘‘ 

وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْأُنثَی۔ (اللیل: ۳) 

ترجمہ:’’اور شاہد ہے نر ومادہ کی آفرینش‘‘۔
مذکورہ بالا ترجموں میں ایک بات اور توجہ طلب ہے کہ بعض لوگوں نے شعوبا کا ترجمہ ’’کنبے‘‘ کیا ہے، یہ درست نہیں ہے۔ شعوبا کا ترجمہ ’’قومیں‘‘ ہوگا، شعب قبیلے سے بڑا ہوتا ہے جبکہ کنبہ جب قبیلہ کے ساتھ بولا جاتا ہے تو کنبہ قبیلہ سے چھوٹا ہوتا ہے۔
(جاری)

حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کی وفات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانیؒ گزشتہ ماہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق تونسہ شریف کے قریب لتڑی جنوبی سے تھا لیکن ان کی زندگی کا بیشتر حصہ گوجرانوالہ میں گزرا۔ وہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ابتدائی فضلاء میں سے تھے جب نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ تھے۔ بخاری شریف انہوں نے حضرت قاضی صاحبؒ سے پڑھی جبکہ دورۂ حدیث کے دیگر اسباق حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ، حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ ، اور حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ سے پڑھے۔ حضرات شیخینؒ اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے تھے اور ایک عرصہ تک نصرۃ العلوم کے دارالافتاء کے سربراہ رہے۔ ان کا شمار ملک کے معروف مفتیان کرام میں ہوتا تھا اور حضرت مولانا عبد الواحدؒ کی وفات کے بعد گوجرانوالہ کے علماء کرام اور اہل دین کا فتویٰ کے بارے میں عام طور پر رجوع انہی کی طرف رہتا تھا۔ 1975ء میں جب جمعیۃ علمائے اسلام کے تحت لوگوں کے تنازعات شریعت کے مطابق نمٹانے کے لیے پرائیویٹ سطح پر شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا گیا تو وہ ضلع گوجرانوالہ کے نائب قاضی مقرر کیے گئے جبکہ ضلعی قاضی مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ تھے۔ کتاب اور تحقیق سے گہرا تعلق تھا، وہ میرے دورۂ حدیث سے فارغ ہو جانے کے بعد مدرسہ نصرۃ العلوم میں استاذ اور مفتی کے طور پر تشریف لائے جبکہ ہمارے دور میں استاذ محترم حضرت مولانا مفتی جمال احمد بنویؒ یہ ذمہ داری سر انجام دیتے تھے۔ 
مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانیؒ کے ساتھ زندگی بھر میرا ربط و تعلق رہا۔ ہمارے درمیان عام طور پر مختلف دینی مسائل کی تحقیق اور نادر کتابوں کے حوالہ سے گفتگو چلتی رہتی تھی۔ نوشہرہ سانسی کی مسجد توحیدی میں امامت و خطابت کے ساتھ ان کی رہائش تھی اور اسی علاقہ میں جامعہ فتاح العلوم کے نام سے ایک درسگاہ بھی انہوں نے قائم کر رکھی تھی جس میں اپنی صحت کے زمانہ میں افتاء کا کورس کراتے تھے۔ بہت سے فاضل علماء کرام نے ان سے استفادہ کیا اور فقہ و افتاء کی تربیت حاصل کی۔ جب بھی ملاقات ہوتی کسی نایاب کتاب یا کسی مسئلہ پر نئی تحقیق پر بات چیت ہوتی، کوئی نئی کتاب ان کے علم میں آتی یا مجھے معلوم ہوتی تو باہمی معلومات کا تبادلہ ہو جاتا اور مسائل پر گفتگو ہوتی۔ ملاقات میں زیادہ دیر ہو جاتی تو پیغام بھیجتے تھے کہ کسی روز آکر مل جاؤ، میں جاتا اور ان کی مسجد میں کسی نماز کے بعد درس دیتا، پھر کچھ دیر نشست رہتی، وہ مجھے کوئی کتاب ہدیہ کے طور پر مرحمت فرما دیتے۔ الشریعہ اکادمی میں بہت دفعہ تشریف لائے اور دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھتے۔ 
جمعہ سے قبل گیارہ بجے جامعہ فتاح العلوم کے قریب کھلے میدان میں ان کی نمازہ جنازہ برادر عزیز مولانا عبد القدوس قارن حفظہ اللہ تعالیٰ کی امامت میں ادا کی گئی جس میں حضرت مولانا فضل الرحمن درخواستی، حضرت مولانا سید جاوید حسین شاہ، اور حضرت مولانا محب النبی بھی شریک تھے جبکہ شہر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی بڑی تعداد نے جنازہ میں شرکت کی اور اس کے بعد ان کی میت تونسہ شریف روانہ کر دی گئی۔ 
حضرت مفتی صاحب مرحوم کے اساتذہ میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ بھی شامل تھے جن کا ذکر وہ اکثر کیا کرتے تھے جبکہ مولانا فضل الرحمانؒ مولانا مفتی محمد عیسیٰ خانؒ کے شاگرد ہیں اور انہوں نے صرف و نحو کی ابتدئی تعلیم ان سے حاصل کی ہے۔ مولانا مفتی عیسیٰ خانؒ مسائل کی تحقیق و تجزیہ کا ذوق رکھتے تھے اور مسئلہ کی تمام جزئیات تک رسائی کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ وسیع المطالعہ بزرگ تھے، نادر کتابوں اور نئی نئی تحقیقات کے حوالہ سے ان کے ساتھ میری اکثر گفتگو رہتی تھی۔ کوئی نئی تحقیق سامنے آتی تو مجھے ضرور آگاہ کرتے اور رائے بھی طلب کرتے تھے۔ حضرت مولانا عبد العزیز پرھارویؒ کی کچھ تصانیف میں نے طالب علمی کے دور میں دیکھ رکھی تھیں لیکن ان کے علوم و معارف اور فیوض و کمالات سے زیادہ تر واقفیت حضرت مفتی صاحبؒ کے ذریعہ ہوئی جو حضرت مرحوم کی تحقیقات اور نادر رسائل کی جستجو میں رہتے تھے اور مجھ سمیت بہت سے دوستوں کو اس سے باخبر رکھتے تھے۔ 
بعض فقہی مسائل میں وہ اپنی مستقل رائے رکھتے تھے اور اس کا بلاجھجھک اظہار بھی کرتے تھے لیکن دوسروں کی رائے کا احترام ان کے ہاں پوری طرح پایا جاتا تھا۔ وہ سنجیدہ اہل علم کی طرح اختلاف کرتے تھے مگر مخالفت کے ماحول سے گریز کرتے تھے۔ اپنے اساتذہ میں مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا اکثر ذکر کرتے تھے اور ان کے علمی نکات بیان کیا کرتے تھے۔ افتاء و تدریس کی عمومی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ دورۂ تفسیر قرآن بھی ان کا خاص ذوق تھا۔ دارالعلوم مدنیہ رسول پارک لاہور میں حضرت مولانا محب النبی کے مدرسہ میں انہوں نے کئی سال تک مسلسل دورۂ تفسیر پڑھایا۔ قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کا یہ ذوق انہوں نے شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ سے پایا تھا اور اپنے ان تین اساتذہ کے علمی نکات سے اپنے طلبہ کو بڑے ذوق کے ساتھ آگاہ کرتے تھے۔ 
مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانیؒ کے حوالہ سے میں ایک ذاتی واقعہ بھی ریکارڈ پر لانا چاہوں گا کہ ۱۹۹۰ء کے دوران میں نے اپنے معاشی حالات و مشکلات سے تنگ آکر ترک وطن کا فیصلہ کر لیا تھا۔ لندن میں میرا آنا جانا تو رہتا ہی تھا، میں نے اس دوران لندن جا کر وہیں رہنے کا فیصلہ کر لیا اور ساؤتھال کی ابوبکر مسجد کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ گوجرانوالہ کے بہت سے دوستوں سے میں نے کہہ دیا کہ اب میں یہاں شاید واپس نہ آسکوں گا۔ حضرت والد محترم قدس اللہ سرہ العزیز سے بھی اجازت لے لی تھی، وہ میرے حالات اور مجبوریوں سے آگاہ تھے، اس لیے انہوں نے خاموش سی اجازت دے دی تھی۔ میں لندن گیا تو کم و بیش چھ ماہ تک وہاں قیام کیا، جبکہ مستقل قیام کی تیاریاں کر رہا تھا کہ حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانیؒ کا ایک درد بھرا خط موصول ہوا جس کا لہجہ یہ تھا کہ اتنا بڑا مرکز (مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ) کس کے حوالے کر کے چلے گئے ہو؟ اس مرکز کی رونقوں اور آبادی کو اب کون بحال کرے گا؟ اس لہجے میں کم و بیش دو صفحے کے تفصیلی خط نے مجھے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے لیے مجبور کر دیا اور چند روز کے تردد کے بعد بالآخر میں واپس آگیا۔ اس کے بعد کم و بیش بیس سال تک مسلسل لندن جاتا رہا ہوں، مگر وہاں مستقل رہنے کا خیال پھر کبھی نہیں آیا جس کے پیچھے مفتی صاحب مرحوم کے اس خلوص اور سوز کا یقیناًبڑا حصہ ہے۔ 
مفتی صاحب مرحوم کی وفات سے چند روز قبل ان کے فرزند مولانا حافظ احمد اللہ گورمانی نے فون پر کہا کہ اباجی یاد کر رہے ہیں، میں نے ڈائری دیکھ کر چند روز کے بعد حاضری کا وعدہ کر لیا کہ مغرب آپ کے پاس پڑھوں گا، درس بھی دوں گا اور حضرت مفتی صاحب کی زیارت بھی کروں گا۔ مگر اس سے کچھ دن قبل ہی حضرت مفتی صاحبؒ ہم سب کو سوگوار چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مفتی صاحب مرحوم کے فرزندان گرامی مولانا حافظ امداد اللہ (فاضل نصرۃ العلوم)، مولانا پروفیسر حافظ عنایت اللہ، مولانا حافظ احمد اللہ اور دیگر اہل خاندان نے مدرسہ کے اہتمام کے لیے مفتی صاحب کے بڑے فرزند مولانا حافظ امداد اللہ پر اتفاق کر لیا ہے جو ایک اچھا فیصلہ ہے اور شہر کے سرکردہ علماء کرام نے اس کی تائید کی ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحبؒ کو جنت الفردوس میں جگہ دیں اور ان کے بیٹوں، اہل خاندان، اور تلامذہ و رفقاء کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ 

جنید جمشیدؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جنید جمشیدؒ اپنے دوستوں اور ماحول سے رخصت ہو کر اللہ رب العزت کے حضور پیش ہو چکے ہیں مگر ان کی یاد اور تذکرہ کسی نہ کسی حوالہ سے مسلسل چل رہا ہے۔ طیارہ کے حادثہ میں جاں بحق ہونے والے شہداء کا غم قومی سطح پر منایا گیا ہے، وہ سب ہمارا قیمتی سرمایہ تھے اور ان سب کے لیے پوری قوم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاگو ہے کہ اللہ رب العزت ان کے ساتھ کرم کا معاملہ فرمائیں اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ 
جنید جمشید مرحوم کی جدائی کا غم جس طرح ہر طبقہ اور ہر سطح پر محسوس کیا گیا ہے اس کا رنگ ہی جدا ہے۔ دراصل یہ جنید جمشید نامی ایک شخص کو خراج عقیدت نہیں ہے بلکہ اس کردار اور طرز عمل کی پذیرائی ہے جس کے باعث جنید جمشید نے لاکھوں مداحوں کے دلوں میں گھر کر لیا تھا۔ اس کردار اور طرز عمل کو مختصر الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ عیش و عشرت ترک کر کے اپنے خالق و مالک کی طرف رجوع، اس رجوع کے لیے خود آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی دعوت دینے اور مخلوقِ خدا کو خدا کے دروازے پر واپس لانے کا عمل ہے۔ انسان کی فطرتِ سلیمہ یہ ہے کہ وہ دنیا کی عیش و عشرت میں جس قدر بھی آگے بڑھ جائے اس کے دل کے اندر کہیں نہ کہیں وہ تار موجود ہوتا ہے جسے اگر بروقت اور سلیقے سے چھیڑ دیا جائے تو انسان کا ضمیر بیدار ہوتا ہے اور اسے اپنے خالق و مالک کی طرف واپس لوٹنے کے لیے آمادہ کر لیتا ہے۔ 
جنید جمشیدؒ نے ایک مقبول گلوکار سے دین کے ایک فکرمند داعی کے مقام کی طرف جو سفر کیا اسے دیکھ کر امت کے عظیم علمی و روحانی بزرگ حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جو اتباع تابعین کے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ حضرت امام بخاریؒ کے استاذ گرامی اور حضرت امام ابوحنیفہؒ کے مایۂ ناز شاگرد تھے اور علمی دنیا میں انہیں ’’امیر المومنین فی الحدیث‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں تاریخ کے صفحات یہ بتاتے ہیں کہ نوجوانی کے دور میں وہ موسیقی اور ناچ گانے کی محفلوں کے دلدادہ تھے، ان کے شب و روز اپنے جیسے دوستوں کے ہمراہ اسی قسم کی سرگرمیوں میں گزرتے تھے، اور بے تکلف دوستوں کا یہ طائفہ اکثر اوقات ناچ گانے کے ماحول میں مگن رہتا تھا۔ عبد اللہ بن مبارکؒ بتاتے ہیں کہ ایک روز کسی باغ میں اسی طرح کی محفل بپا تھی اور وہ دوستوں کے ساتھ خاصی دیر تک ان مشاغل میں مگن رہنے کے بعد سو گئے۔ خواب میں انہوں نے دیکھا کہ باغ کے ایک درخت پر خوبصورت سی چڑیا بیٹھی ہے اور مترنم آواز میں قرآن کریم کی یہ آیت پڑھ رہی ہے: الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ کہ کیا ابھی ایمان والوں پر وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے نازل کردہ احکام کی طرف جھک جائیں؟ جب ان کی آنکھ کھلی تو ان کی زبان پر اس جملہ کا تکرار تھا کہ وہ وقت آگیا ہے، وہ وقت آگیا ہے۔ 
اس پر حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دین اور علم دین کی طرف آگئے۔ اور پھر انہوں نے علم، روحانیت اور جہاد کے محاذوں پر وہ خدمات سرانجام دیں کہ انہیں اتباع تابعین کے پورے طبقے کا امام کہا جاتا ہے اور ’’امیر المومنین فی الحدیث‘‘ کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام سفیان ثوریؒ کی مجلس اختیار کی اور علم حدیث کے بڑے ائمہ میں شما رہونے لگے۔ رقص و سرود کی محفلوں کا رسیا شخص علم حدیث کے ماحول میں ایسا گم ہوا کہ ایک دن کسی دوست نے پوچھ لیا کہ آپ اس تنہائی سے بور نہیں ہوتے؟ جواب دیا کہ میں تنہا کب ہوتا ہوں، میں تو ہر وقت جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے ماحول میں ہوتا ہوں اور میری گفتگو حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، حضرت انس بن مالکؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ جیسے بزرگوں سے ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔ 
حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ کا دور تو بہت پرانا ہے ہم نے حال ہی میں حق کی طرف رجوع کرنے والی ایک اور شخصیت کو دیکھا ہے جسے دنیا ’’یوسف اسلام‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ وہ پاپ سنگر تھے اور موسیقی کی دنیا میں بڑا نام رکھتے تھے مگر جونہی اسلام قبول کیا ذہن و قلب کا رخ دین کی خدمت اور دعوت کے میدان کی طرف پھر گیا۔ میری ان سے پہلی ملاقات ڈیوزبری برطانیہ کے تبلیغی مرکز میں ایک بڑے تبلیغی اجتماع کے دوران ہوئی تھی۔ جبکہ بعد میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا مفتی محمد عیسیٰ منصوری کے ہمراہ میں نے لندن میں یوسف کے اسلامک سکول کا وزٹ بھی کیا ۔ وہ دین کی دعوت اور تعلیم دونوں میدانوں میں مسلسل سرگرم عمل رہتے ہیں اور برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کی نئی نسل کو دین اور دینی اقدار کے ساتھ وابستہ رکھنا ان کا سب سے بڑا مشن بن گیا ہے۔ 
جنید جمشید اسی صف کے لوگوں میں سے تھے، جب زندگی کا رخ بدلا تو حمد و نعت کے ساتھ ساتھ دعوتِ دین کی محنت ان کا اوڑھنا بچھونا بن گئی، حتی کہ اپنے آخری سفر میں چترال کے تبلیغی مرکز میں اسی خدمت کو سرانجام دینے کے بعد وہ اس طیارے پر سوار ہوگئے جو ان کے لیے اپنے رب کی بارگاہ میں حضوری کا پروانہ ثابت ہوا۔ جنید جمشید کی جدائی پر وسیع پیمانے پر محسوس کیا جانے والا یہ غم دراصل ہمارے اس قومی اور معاشرتی جذبہ و احساس کا عکاس ہے کہ اپنے اللہ کی طرف رجوع، عیش و عشرت کے ماحول سے واپسی، اور آخرت کی تیاری کے لیے ہر مسلمان کے دل میں تڑپ کسی نہ کسی درجہ میں ضرور موجود ہے جسے بے ثبات دنیا کی رنگا رنگ آسائشوں نے گھیر رکھا ہے۔ اسے صرف صحیح راہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، یہ کام اگر سلیقے سے کیا جا سکے تو جنید جمشید کا غم محسوس کرنے والے لاکھوں افراد خود بھی جنید جمشید بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ طیارے کے حادثہ کے تمام شہداء کو جنید جمشید شہید سمیت جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں اور ان کے پسماندگان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

اسلام کا دستوری قانون اور سیاسی نظام ۔ برعظیم پاکستان و ہند کے فتاویٰ کا تجزیاتی مطالعہ (۲)

ڈاکٹر محمد ارشد

(۶) عورت کی سربراہی

وہ واحد دستوری مسئلہ جس کی بابت اہل سنت کے تینوں مکاتبِ فکر (دیوبندی، اہلحدیث اور بریلوی) کے مفتیان کرام کے فتاویٰ کثرت سے دستیاب ہیں وہ مسئلہ عورت کی حکمرانی کا ہے۔ اس امر پر تینوں مکاتب فکر کے ہاں ایک طرح کا اجماع پایا جاتا ہے کہ عورت کی حکمرانی جائز نہیں اور اسلامی مملکت ؍حکومت کے سربراہ کا مرد از روئے شریعت مسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے تدین، صلاحیت اور اصابت رائے پر جمہور یا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔ اسلامی مملکت میں سربراہی کے منصب کی ذمہ داریاں کسی خاتوں کو سونپی نہیں جا سکتیں۔ لہٰذا کسی اسلامی حکومت میں عورت کو سربراہ بنانا ہرگز جائز نہیں اور اگر کہیں ایسا ہو جائے تو مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جلد از جلد سربراہی کی تبدیلی کے لیے ممکنہ کوششوں کو بروئے کار لائیں(۲۶)۔ 
عورت کی حکمرانی کے عدم جواز میں مفتی محمد اشرف القادری نے بھی تفصیلی دلائل بیان کیے ہیں۔ ان کی رائے میں اسلام میں عورت سربراہ مملکت بوجوہ ذیل نہیں ہو سکتی:
۱: اسلام میں سربراہ مملکت کے تقرر سے دو باتیں مقصود ہوتی ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ اسلام میں سربراہ مملکت کی دو اہم ترین ذمہ داریاں ہوتی ہیں: اول اعلائے دین و تنفیذ و اشاعت شریعت؛ دوم سیاست مدن یعنی انتظام و دفاع مملکت و فلاح و نجاح رعیت۔اور ظاہر ہے کہ یہ کٹھن ذمہ داریاں ، اعلیٰ ذہنی و جسمانی صلاحیتوں مثلا جسمانی قوت و علمی وسعت، کمالِ عقل و بصیرت، حسنِ تدبیر و جودتِ عزم و حزم، معاملہ فہمی و اصابتِ رائے جذبات پر قابو اور خود اعتمادی، مصائب میں صبر و استقامت، شدائد میں جوانمردی و ثابت قدمی وا ستقلال اور کمال شجاعت کے بغیر قطعاً پوری نہیں کی جا سکتیں۔اور یہ بھی ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ان خداداد خوبیوں اور خلقی و قدرتی صلاحیتوں میں بلا شبہ مرد فطری طور پر عورت سے بڑھ کر اور اس کے مقابلے میں عورت ان صفات سے کمتر موصوف ہے۔ لہٰذا حکومت و سربراہی مملکت کا بار گراں عورت کے کمزور کاندھوں پہ ڈال دینا خلاف فطرت و ناانصافی ہے۔ ہاں اسلام کی نگاہ میں ان عظیم اور کٹھن ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہوناصرف اور صرف مرد ہی کا منصب ہے اور یہی فطرت و انصاف کا تقاضاہے(۲۷)۔ 
اہل حدیث عالم مفتی محمد عبیداللہ خان عفیف کی رائے میں: ’’عورت امامت کی اہل ہے (عورتوں کی جماعت کے لیے) مگر حکمرانی ناجائز ہے‘‘ (۲۸)۔ 
ان فتاویٰ میں قطعی اور واضح طور پر اس امر کی صراحت کی گئی ہے کہ عورت امامت کبریٰ یعنی امارت عامہ کی اہل نہیں۔البتہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ منصب قضا پر بھی فائزہ ہو سکتی ہے کہ نہیں؟ اس سلسلے میں مفتی محمود (۱۹۱۹۔۱۹۸۰ء) کی رائے یہ ہے کہ ’’ ضروری طور پر بعض مسائل میں حدود و قصاص کے علاوہ اگر اس کو حکم (ثالث) بنایا جائے تو گنجائش ہے، اور اس میں بھی کامیابی مشکل ہے، لیکن کسی ملک کی تمام ذمہ داریوں کو اس کے حوالے کر دینا خلافِ عقل و نقل ہے‘‘۔ (۲۹)

(۷) طریق انتخابِ امیر/ سربراہ مملکت و حکومت

جیسا کہ سطورِ بالا میں مغربی جمہوریت اور اسلام کے سیاسی نظام کے مابین جوہری فرق کے بیان میں مفتی رشید احمد کی رائے نقل کی جا چکی ہے کہ اسلام کے نظام سیاست میں سربراہ مملکت ؍حکومت کے انتخاب و تقرر کے ضمن میں مملکت کے تمام شہریوں کو حق رائے دہی حاصل نہیں ہے بلکہ یہ حق صرف اور صرف اہل حل و عقد کو حاصل ہے۔ مفتی رشید احمد کی اس رائے کی تائید حافظ عبداللہ روپڑی کے فتویٰ سے بھی ہوتی ہے۔ حافظ عبداللہ روپڑی کی رائے میں بھی رائے عامہ کو اسلام کے سیاسی نظام میں کوئی اہمیت حاصل نہیں، بلکہ اصل اہمیت اہل حل و عقد کی رائے کو ہے۔ چنانچہ اسلامی مملکت ؍ حکومت کے سربراہ کا انتخاب و تقرر رائے عامہ سے نہیں بلکہ اہل حل وعقد کی رائے کے ذریعے ہو گا : 
’’انتخاب مجلس شوریٰ کے ارکان حل و عقد کرتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت علی کو جب باغیوں نے امیر بنانا چاہا تو فرمایا یہ تمہارا کام نہیں بلکہ مہاجرین وانصار کا کام ہے، جس کو وہ امیر بنائیں گئے وہ امیر ہو گا۔ مجموعی ووٹنگ اور رائے عامہ کوئی چیز نہیں۔ موقعہ محل کے لحاظ سے جس طرح انتخاب ہو جائے کر لینا چاہیے۔ جیسے ابو بکر صدیق کا انتخاب ہوا‘‘ (۳۰)۔ 
مفتی رشید احمد کی رائے میں’’ عوام پر یہ فرض ہے کہ انتخاب امیر کا مسئلہ خود طے کرنے کی بجائے ایسے اہل حل و عقد کے سپرد کریں جن میں انتخاب کی اہلیت ہو۔نصوص شرعیہ کے علاوہ عقل کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ انتخاب امیر ہر کس و ناکس کا کام نہیں بلکہ اس کے لیے عقل کی ضرورت ہے اور علم دین و تقویٰ کے بغیر عقل کامل نہیں ہو سکتی‘‘ (۳۱)۔ 
سربراہ مملکت ؍ حکومت کے انتخاب کے طریق کے بارے میں مفتیان کرام نے بالعموم قرونِ وسطیٰ کے سیاسی مفکرین کی آراء کو من و عن قبول کر لیا ہے۔ اور اس کا مطلق خیال نہیں رکھا کہ دور جدید کے ایک غیر قبائلی معاشرے میں جدید ریاستی نظاموں کے تجربات سے اخذو استفادہ کرتے ہوئے انتخاب سربراہِ مملکت کے کون کون سے جائز طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ مفتی رشید احمد کی رائے میں اسلام میں انتخاب امیر کے تین طریقے ہیں:
۱ : بیعت اہل و عقد ، کما وقع لسیدنا ابی بکر ۔
۲ : استخلاف، خلیفۂ وقت چند اہل حل و عقد سے مشورہ کر کے کسی کے بارے میں وصیت کر دے کہ میرے بعد یہ خلیفہ ہوگا، جیساکہ حضرت ابو بکر نے حضرت عثمان، عبدالرحمن بن عوف،سعید بن زید، اسید بن حضیر اور مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم کو منتخب فرمایا (۳۲) ۔
استخلاف ابو بکر کی تفصیل مذکور سے ثابت ہوا کہ بذریعۂ استخلاف انعقاد خلافت کے لیے تین شرائط ہیں:
(ا) خلیفۂ اول میں خلافت کی سب شرائط موجود ہوں؛ (ب) خلیفہ ثانی بھی سب شروط خلافت کا مستجمع ہو؛ (ج)خلیفہ اول نے خلیفہ ثانی کے انتخاب میں اہل حل و عقد سے مشورہ کیا ہو۔
۳: شوریٰ، خلیفۂ وقت چند اہل حل و عقد کی شوریٰ متعین کر کے یہ وصیت کر دے کہ میرے بعد یہ لوگ اتفاق رائے سے اپنے میں سے کسی ایک کو خلیفہ منتخب کریں، جیسا کہ حضرت عمر نے چھ رکنی مجلس متعین فرمائی، اس کے ذریعے حضرت عثمان کا انتخاب عمل میں آیا (۳۳)۔ 
مفتی رشید احمد کی رائے میں اگرچہ خلافت راشدہ کے سیاسی نظائر سے انتخاب امیر کے یہی تین طریقے ثابت ہیں، البتہ انعقادِ خلافت کا ایک جوتھا طریقہ استیلاء و تغلب کا بھی ہے، یعنی خلیفہ وقت کی موت کے بعد کوئی شخص جبراً و قہراً مسلط ہو جائے۔ مفتی رشید احمد کے نزدیک ایسے شخص کی خلافت منعقد ہو جائے گی، اس لیے اس کی اطاعت واجب ہے۔ مفتی رشید کے نزدیک استیلاء و تغلب کے ذریعے انعقادِ خلافت کی بھی دو قسمیں ہیں:
۱) یہ شخص شروط خلافت کا مستجمع ہو اور لوگوں کو صلح و حسن تد بیر سے مائل کرے، کوئی ناجائز اقدام نہ کرے۔ یہ قسم جائز ہے، حضرت معاویہ کی خلافت اسی طرح منعقد ہو ئی تھی۔
۲) اس شخص میں شروط خلافت نہ ہوں، اور اپنے مخالفین کو قتال اور دوسرے ناجائز حربوں سے تابع کر لے، یہ جائز نہیں، ایسا شخص فاسق اور سخت گنہگار ہے، مگر اس کے باوجود اس کے تسلط کے بعد اس کی اطاعت واجب ہے، بشرطیکہ اس کا حکم خلافِ شرع نہ ہو، اس کی مخالفت اور اسے معزول کرنے کی کوشش جائز نہیں(۳۴)۔ 
مفتی رشید احمد کے اس فتوے کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے انعقادِ خلافت (خلیفہ کے انتخاب و تقرر) میں متقدمین مسلم سیاسی مفکرین میں سے الماوردی اور متاخرین میں سے شاہ ولی اللہ دہلوی کے نقطۂ نظر کو پورے طور سے اختیار کر لیا ہے (۳۵)۔ 
اہلحدیث علماء نے بالعموم انتخاب امیر مملکت کے طریق سے متعلق اس نقطۂ نظر سے اختلاف کیا ہے۔ مولانا محمد اسماعیل سلفی کی رائے میں’’ قرون خیر میں انتخابات کی مختلف صورتیں سامنے آئی ہیں لیکن آئینی طور پر انتخاب کو نہ ان چار صورتوں میں حصر کیا گیا ہے اور نہ کسی ایک ہی کو پسند کیا گیا ہے بلکہ کوشش کی گئی ہے کہ کوئی ایسا آدمی اس بوجھ کو اٹھائے جومساکین کو اونچا کر سکے اور خود مساکین کی سی زندگی بسر کرے‘‘(۳۶) ۔ایک دوسرے اہل حدیث عالم ابومحمد حافظ عبدالستار الحمادکی رائے میں بھی سربراہ مملکت کے انتخاب کے لیے اسلام نے کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کیا ہے۔ جدید مغربی دنیا میں انتخابات کے جو طریقے رائج ہیں اسلام کے سیاسی نظام میں اس کی گنجائش موجود ہے ۔چنانچہ وہ سربراہ مملکت کے منصب کے لیے اہل فرد کے انتخاب و تقرر کے لیے جدید طریق انتخابات (الیکشن) کو جائز قرار دیتے ہیں۔ان کی رائے میں ’’ واضح رہے کہ موجودہ الیکشن جمہوریت کی پیداوار ہیں، اسلام میں اس کی گنجائش موجود ہے کیوں کہ اس میں سربراہ مملکت کے انتخاب کے لیے کوئی لگا بندہ قاعدہ مقرر نہیں ہے بلکہ حالات وظروف کے پیش نظر اسلام میں اس کی گنجائش ہو سکتی ہے‘‘ (۳۷)۔ تاہم ایک تیسرے سلفی عالم حافظ عبدالمنان نور پوری موجودہ جمہوریت وطریق انتخابات کو بدعت تصور کرتے ہیں کیونکہ ان کی رائے میں یہ سب قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ ان کی رائے میں ’’رائج جمہوریت و الیکشن کتاب و سنت سے ثابت نہیں۔ ۔ ۔ مروجہ الیکشن کتاب و سنت سے ثابت نہیں‘‘ (۳۸)۔ 

(۸) سربراہِ مملکت / حکومت کی مدت انتخاب

زیرِ بحث مجموعہ ہائے فتاویٰ کے مطالعہ سے یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ مفتیان کرام سربراہِ مملکت ؍حکومت کے انتخاب و تقرر کے لیے کسی معینہ مدت کو غیر ضروری تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مدت انتخاب سے زیادہ اہمیت اس منصب کے لیے منتخب ہونے والے فر د میں پائے جانے والے اوصاف کو حاصل ہے۔ اگر منصب سربراہی پر فائز ہونے والا شخص مطلوبہ شرائط پر کماحقہ پورا اترتا ہو تو اس کے عہدے کی میعاد مقرر کرنا نا مناسب ہو گا۔ چنانچہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی رائے میں: 
’’انتخاب ہر پانچ سال بعد کرانا کوئی شرعی فرض نہیں، لیکن حکمران میں کوئی بھی ایسی خرابی نہ پائی جائے جو اس کی معزولی کا تقاضا کرتی ہو تو اس کو بدلنا بھی جائز نہیں۔ دراصل اسلام کا نظریہ اس بارے میں یہ ہے کہ وہ حکومت تبدیل کرنے کے مسئلہ کو اہمیت دینے کے بجائے منتخب ہونے والے حکمران کی صفاتِ اہلیت کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اسلامی ذوق سے قریب تر بات یہ ہے کہ قوم کے اہل رائے حضرات صدر یا امیر کاچناؤ کریں اور پھر وہ اہل الرائے کے مشورے سے اپنے معاونین و رفقاء کو خود منتخب کرے‘‘ ۔ (۳۹)

(۹) مجلس شوریٰ /مجلس اہل حل و عقد کی تشکیل

مجلس شوریٰ ؍مجلس اہل حل و عقد نیز اس کے ارکان کی اہلیت کے شرائط و اوصاف نیز مجلس شوریٰ ؍مجلس اہل حل و عقد کی تشکیل و تقرر کے بارے میں فتاویٰ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مفتیان کرام ارکان شوریٰ(اہل حل و عقد) کے لیے چند معینہ شرائط و اوصاف کو تو ناگزیر خیال کرتے ہیں البتہ شوریٰ کو ایک ادارے کی شکل میں منظم کرنے نیز ارکان شوریٰ کے انتخاب کے لیے کسی نوع کے استصواب رائے کو غیر ضروری خیال کرتے ہیں۔ وہ ارکان شوریٰ کے انتخاب کو رئیسِ مملکت ؍حکومت کا صوابدیدی اختیار تصور کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ مجلس شوریٰ کے ارکان کی تعداد کی تعیین کو بھی غیر ضروری خیال کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ان کی رائے میں ارکان شوریٰ کی اہلیت کے شرائط و اوصاف کو انتہائی اہمیت حاصل ہے، البتہ بقیہ امور چنداں اہمیت نہیں رکھتے۔ اس سلسلے میں مفتی رشید احمد اور مفتی محمد شفیع کے فتاویٰ کو بطورمثال پیش کیا جا سکتا ہے (۴۰)۔ مفتی محمد شفیع ارکانِ شوریٰ کے انتخاب کو امیر مملکت کی ذاتی رائے پر منحصر خیال کرتے ہیں۔ ان کی رائے میں’’ ارکان مجلس شوریٰ کا انتخاب بھی اسلامی سیاست میں اس طوفان بے تمیزی کے ساتھ نہیں ہوتا جو موجودہ جمہوریت کا طغرائے امتیاز ہے اور جس کی بدولت تمام ملک جنگ و جدل بغض و عناد کی آماجگاہ بنا ہوا ہے بلکہ یہ انتخاب عموماً امیر خود اپنی رائے سے کرتا ہے‘‘ (۴۱)۔ 

(۱۰)  اصول مشورہ ۔ مشورہ کا فیصلہ کثرت رائے پر ہے یا امیر مجلس کی رائے پر

امور مملکت و حکومت کے باب میں مجلس شوریٰ ؍ مجلس اہل حل و عقد کے مشورہ کے ردو قبول میں سربراہ مملکت؍حکومت کے اختیارات کیا ہیں اور ان اختیارات کے استعمال کی حدود کیا ہیں؟ جدید مغربی نظام سیاست میں امور مملکت میں فیصلہ سازی کا معاملہ ہو یا مہمات امور میں قانون سازی کا عمل ہو ، ان سب امور میں مقننہ کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ ان اداروں میں بحث مباحثہ کے بعد اصول اکثریت (اکثریت کی رائے) کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں۔ جبکہ مذکورہ مجموعہ ہائے فتاویٰ کے مؤلفین کی آرا سے یہ آشکارا ہوتا ہے کہ ’’ مشورہ میں اگر اختلاف رائے پیش آئے تو فیصلہ کثرت رائے کے سپرد نہیں، بلکہ امیر کی رائے پر ہے اور اس کو اختیار ہے کہ اقلیت کو اکثریت پر ترجیح دے دے‘‘ (۴۲)۔ گویا سربراہ مملکت ؍حکومت ہر معاملے میں مجلس شوریٰ کے ارکان کی اکثریت کی رائے کو ویٹو کر کے تنہا اپنی رائے کے موافق فیصلہ کرسکتاہے۔ اس ضمن میں مفتی محمد شفیع قرآن حکیم کی آیت: وشاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ سے استدلال کرتے ہیں۔ ان کی رائے میں قرآن عزیز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ کا حکم فرمانے کے بعد: فاذا عزمت فتوکل علی اللہ (پھر جب آپ عزم کریں تو اللہ تعالیٰ پر توکل کریں)، بصیغہ واحد حاضر فرما کر اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مشورہ کے بعد کسی جانب کو ترجیح دے کر اس کا عزم کرنا فقط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے پر ہوگا۔ خود آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے بہت سے معاملات اس کے شاہد ہیں‘‘ (۴۳)۔ اس مسئلے میں مفتی محمد شفیع کی تفصیلی رائے ملاحظہ ہو:
’’ اصولی طور پر اس بحث میں بھی ہمیں سب سے پہلے قرآن عزیز کو حکم بنانا چاہیے اور اسی کے فیصلہ کو محکم اور مختتم فیصلہ سمجھنا چاہیے۔ مشورہ کے متعلق قرآن عزیز کی سب سے زیادہ مشہور آیت یہ ہے: وشاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ( آپ (معاملات میں ) صحابہ اور مسلمانوں سے مشورہ لیجیے اور جب پختہ ارادہ کریں تو اللہ تعالیٰ پر توکل کیجیے)۔ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا یا ہے کہ اہم معاملات میں (جن میں صریح وحی نہ آئی ہو) صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا کریں لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ مشورہ کے بعد جب آپ کسی ایک جانب کا عزم فرمائیں تو اس میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد کریں، اپنی رائے یا مشورہ پر بھروسہ نہ کریں۔ جس سے صاف معلوم ہوا کہ مشورہ کے بعد کسی ایک جانب کو ترجیح دینا اور اس کا عزم کرنا یہ فقط امیر مجلس کی رائے پر موقوف ہے۔ اور اگر مشورہ کا فیصلہ کثرت رائے کے سپرد ہوتا تو مناسب تھا کہ عزم کے لیے بھی جمع کا صیغہ استعمال کر کے یوں فرمایا جاتا: ’’فاذا عزموا‘‘ (یعنی جب صحابہ کسی کام کا عزم کریں)‘‘ (۴۴)۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا موقف بھی اسی رائے کے مماثل ہے۔ ان کی رائے میں بھی ’’حکومت کا سربراہ اہل مشورہ سے مشورہ لینے کا پابند ہے مگر کثرت رائے پر عمل کرنے کا پابند نہیں، بلکہ قوتِ دلیل پر عمل کرنے کا پابند ہے‘‘ (۴۵)۔ حافظ عبداللہ روپڑی بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔ ان کی رائے میں بھی مجلس شوریٰ کی حیثیت صرف یہی ہے کہ مشورہ طلب امور میں رائے پیش کردے اور بس۔ اس کی رائے حاکمہ(سربراہ مملکت؍حکومت )کے لیے واجب التعمیل ہر گز نہیں۔ حافظ عبداللہ روپڑی کی رائے ملاحظہ ہو:
’’ مجلس شوریٰ کی حیثیت صرف مشورہ کی ہوتی ہے مختلف آرائیں ہو جائیں تو فیصلہ امیر کرتا ہے خواہ قلت کی طرف کرے یا کثرت کی طرف اور مجلس شوریٰ کے ممبر اہلِ حل و عقد ہوتے ہیں جس معاملہ میں مشورہ کرنا ہو اس معاملہ میں جو مہارت رکھتے ہوں ان سے امیر مشورہ لے تعداد کوئی مقرر نہیں ۔ چنانچہ حضرت عمر نے ملک شام کو جانے کے موقع پر پہلے مہاجرین سے مشورہ لیا پھر انصار سے مشورہ کیا پھر پرانے مہاجرین سے مشورہ لیا۔ معاملہ یہ تھا کہ راستے میں خبر پہنچی کہ شام میں طاعون ہے اس حالت میں جانا چاہیے یا واپس ہو جانا چاہیے۔ حضرت عمر نے اس پر فیصلہ دے دیا‘‘۔ (۴۶)
اسلامی مملکت میں مجلس شوریٰ کے کردار اور اس کے اختیارات سے متعلق اس معروف نقطۂ نظر کے بر خلاف مولانا محمد اسماعیل سلفی کے نزدیک مشورہ کے ردو قبول میں امیرِ مملکت کا اختیار کوئی امر منصوص ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک ایسا دستوری مسئلہ ہے جسے ہر دور میں ارباب فکر کی صواب دید کے مطابق طے ہونا چاہیے ۔۔ مولانا محمداسماعیل سلفی کی رائے میں:
’’مشورہ کے ردو قبول میں امام کے اختیارات کیا ہیں اور ان اختیارات کے استعمال کی حدود کیا ہیں یہ ایک دستوری مسئلہ ہے جسے ہر دور میں ارباب فکر کی صوابدید کے مطابق طے ہونا چاہیے۔ نصوص میں نہ اس کی تصریح ہے اور نہ ہی ایسی چیزیں نصوص میں آنا ضروری ہیں۔ البتہ ایسے واقعات ضرور ملتے ہیں جہاں امیر نے شورٰی کو مسترد کر دیا۔ یہ دستوری مسائل ہر دور اور ہر ملک کے دانش مندوں کی رائے سے طے ہونے چاہئیں‘‘۔ (۴۷)

(۱۱) امیر کا مجلس شوریٰ کے سامنے جواب دہ ہونا 

مجلس شوریٰ کے کردار اور اختیارات کے سلسلے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کا امیر مجلس شوریٰ کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے یا نہیں؟ علمائے برصغیر میں سے صرف حافظ عبداللہ روپڑی نے اس مسئلہ سے تعرض کیا ہے اور وہ بھی انتہائی اختصار کے ساتھ۔ ان کے رائے میں امیر مملکت’’ اگر بے انصافی کرے تو جواب دہ ہوتا ہے‘‘ (۴۸)۔ 

(۱۲) ووٹ اور ووٹر (حق رائے دہی اور رائے دہندگان)

امیر مملکت ؍سربراہِ حکومت کے انتخاب کے علاوہ دیگر انتخابی عہدوں(مجالس قانون ساز، کونسل وغیرہ) کے لیے ووٹ کے صحیح استعمال کو علماء و مفتیان کرام نے بڑی اہمیت دی ہے۔ علماء نے ووٹ کو ایک امانت قرار دیا ہے اور اسے صر ف اور صرف دیانت و امانت، عدل و قسط اور تقویٰ جیسی صفات سے متصف اور اچھے سیرت و کردار کے حامل امیدواروں کے حق میں استعمال کرنے نیز اس سلسلہ میں کسی بھی ترغیب و ترہیب ، لالچ، طمع اور رشوت سے اجتناب کو شرعی فریضہ قرار دیا ہے۔ ووٹ کی شرعی حیثیت کے بارے میں مفتی کفایت اللہ دہلوی(۴۹) ، مفتی محمد شفیع اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے تفصیل سے اظہار رائے کیا ہے۔ مفتی محمد شفیع کی رائے میں کسی امیدوارِ ممبری کو ووٹ دینے کی از روئے قرآن و حدیث چند حیثیتیں ہیں۔ایک حیثیت شہادت کی ہے کہ ووٹر جس شخص کو اپنا ووٹ دے رہا ہے اس کے متعلق اس کی شہادت دے رہا ہے کہ یہ شخص اس کام کی قابلیت بھی رکھتا ہے اور دیانت و امانت بھی۔ اور اگر واقع میں ا س شخص کے اندر یہ صفات نہیں ہیں، اور ووٹر یہ جانتے ہوئے اس کو ووٹ دیتا ہے تو وہ ایک جھوٹی شہادت ہے ، جو سخت کبیرہ گناہ اور وبال دنیا و آخرت ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کا ذبہ کو شرک کے ساتھ کبائر بلکہ اکبر کبائرمیں شمار فرمایا ہے ۔ جس حلقہ میں چند امیدوار کھڑے ہوں اور ووٹر کو یہ معلوم ہے کہ قابلیت اور دیانت کے اعتبار سے فلاں فلاں آدمی قابلِ ترجیح ہے، تو اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو ووٹ دینا اس اکبر کبائر میں اپنے آپ کو مبتلا کرنا ہے۔ اب ووٹ دینے والا اپنی آخرت اور انجام کو دیکھ کر ووٹ دے، محض رسمی مروت یا کسی طمع و خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو اس وبال میں مبتلا نہ کرے ۔ ووٹ کی ایک شرعی حیثیت وکالت کی ہے کہ ووٹ دینے والا اس امیدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے۔ لیکن اگر یہ وکالت اس کے کسی شخصی حق کے متعلق ہوتی ، اوراس کا نفع نقصان صرف اس کی ذات کو پہنچتا تو اس کا یہ خود ذمہ دار ہوتا، مگر یہاں ایسا نہیں کیونکہ یہ وکالت ایسے حقوق کے متعلق ہے جن میں اس کے ساتھ پوری قوم شریک ہے۔ اس لیے اگر کسی نااہل کو اپنی نمائندگی کے لئے ووٹ دے کر کامیاب بنایا تو پوری قوم کے حقوق کو پامال کرنے کا گناہ بھی اس کی گردن پر رہا۔ اگر امید وار بے دین و نااہل اور ظالم ہے تو اس کو ووٹ دینا سخت گناہ ہے، کیونکہ ووٹ دینا ایک امانت ہے، امانت کو جو اس کا اہل ہو اس کے حوالے کیا جائے (۵۰)۔
ان فتاویٰ میں امیدواروں کی طرف سے ووٹوں کے حصول کے لیے ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرنے، ووٹروں کو دنیوی لالچ دینے، اسی طرح کسی امیدوار کا رقم لے کر دوسرے امیدوار کے حق میں دست بردار ہونے کو صریحاً ناجائز اور حرام قرار دیا گیا ہے۔ووٹروں کا ووٹ کے معاوضہ میں اپنی ذات کے لیے روپیہ لینا رشوت اور ناجائز بتایا گیا ہے (۵۱)۔ دیوبند مکتب فکر کے مفتیان کرام امیدواروں کے مسلک و عقیدہ کو بھی بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ چنانچہ ان کے نزدیک ’’شیعہ کو ووٹ دینا سخت گناہ ہے۔ جس شخص کے مرزائی ہونے کے شواہد موجود ہوں، اس کو ووٹ دینا قطعاً جائز نہیں۔ ووٹروں پر لازم ہے کہ مرزائی کے بجائے کسی مسلمان کو منتخب کیا جائے‘‘ (۵۲)۔ 
اس موضوع پر فتاویٰ کا خلاصہ یہ کہ انتخابات میں ووٹ کی شرعی حیثیت کم از کم ایک شہادت کی ہے جس کا چھپانا بھی حرام ہے اور اس میں جھوٹ بولنا بھی حرام ، اس پر کو ئی معاوضہ لینا بھی حرام، اس کو محض ایک سیاسی ہار جیت اور دنیا کا کھیل سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے۔ ووٹر جس امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، شرعاً وہ اس کے بارے میں اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریے اور علم اور عمل اور دیانت داری کی رو سے اس کام کا اہل اور دوسرے امیدواروں سے بہتر ہے، جس کام اور منصب کے لیے یہ انتخابات ہو رہے ہیں (۵۳)۔ 

(۱۳) عورت کا حق ووٹ (حق رائے دہی)

پاکستان و ہند کے مجموعہ ہائے فتاویٰ میں اس موضوع پر بہت ہی کم فتاویٰ ملتے ہیں۔ البتہ مفتی محمو د نے ، جو پاکستان کی انتخابی سیاست میں طویل عرصے تک سرگرم عمل رہے، اپنے ایک فتویٰ میں اس پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ان کی رائے میں دینی و ملی مصالح کا اگر تقاضا ہو تو عورت کو حق رائے دہی تفویض کیا جا سکتا اور وہ اپنے اس حق کو استعمال کر سکتی ہے۔ ’’عورتوں کا ووٹ بنانا جائز ہے، ضروری نہیں۔ اور اگر دینی مفاد کے پیشِ نظر ہو تو وہ اپنا ووٹ بے پردگی سے بچتے ہوئے استعمال کر سکتی ہے۔ اور اگر کوئی اہم دینی مصلحت پیش نظر نہ ہو تو عورتوں کے لیے ووٹ کا استعمال کرنا قباحت سے خالی نہیں‘‘۔ (۵۴)

(۱۴) ووٹر کی اہلیت کے شرائط

ووٹ کی اہمیت کے پیش نظر علماء نے ووٹرکی اہلیت کے شرائط بھی مقرر کیے ہیں۔ ان کی رائے میں ووٹر کیے لیے ضروری ہے کہ وہ کھوٹے اور کھرے، نیک اور بد میں تمیز کا شعور رکھتا ہو تاکہ نیک اور صالح نیز اہل اور فرض شناس افراد قیادت کے منصب کے لیے منتخب ہوں۔ اہل حدیث عالم مفتی عبدالستار الحماد کی رائے میں جس طرح ’’ سربراہ مملکت کے لیے ضروری ہے کہ وہ کبائر سے گریزاں اور اس کا ماضی داغ دار نہ ہو، اسی طرح ووٹر کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ صاحب شعور اور کھرے کھوٹے کی تمیز کر سکتا ہو۔ کسی کو نمائندہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے متعلق اس قدر لیاقت ، معاملات کو سلجھانے اور اختلافات کو نمٹانے کی صلاحیت رکھنے کی گواہی دینا ہے۔ اس لیے گواہی دینے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اچھے برے کے درمیان تمیز کر سکتا ہو اور امیدوار کے کردار کو اچھی طرح جانتا ہو اگر ان باتوں کا خیال نہ رکھا گیا تو فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق جب معاملات کی بھاگ ڈور نالائقوں کے سپرد کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرنا‘‘۔ (۵۵)

(۱۵) اسلامی مملکت میں شہریوں کے حقوق

ا) مسلم شہریوں کے حقوق : برعظیم پاکستان و ہند کے مجموعہ ہائے فتاویٰ میں شہریوں کے حقوق کے متعلق فتاویٰ کالمعدوم ہیں۔ صرف مفتی محمد شفیع نے اپنے کتا بچہ دستور قرآنی میں، جو اب ان کے مجموعہ فتاویٰ جواھر الفقہ میں شامل ہے، شہریوں کے حق آزادی و حریت پر بھی مختصرا کلام کیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے قیام پاکستان کے چند سال بعد ہی ۱۹۵۱ء میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے نفاذ اورحکومت کی طرف سے قومی سلامتی کے نام پر شہریوں کی پکڑ دھکڑ اور قید و بند کی سزاؤں کو غیر شرعی قرار دیا۔ مفتی محمد شفیع نے اپنے ایک فتوے میں حکومت کی طرف سے شہریوں کی آزادی سلب کرنے کے بارے میں برملا طور پر کہا: 
’’حکومت کا فرض ہے کہ کسی باشندۂ ملک کی جائز آزادی کو سلب نہ کرے جب تک اس پر کوئی جرم ثابت نہ ہو اور اس کو صفائی کا موقع نہ دیا جائے، اس لیے مروجہ سیفٹی ایکٹ اصول اسلام کیخلاف ہے۔ ظاہر ہے کہ بلا اثبات جرم کسی شخص کو سزا دینا یا قید کرنا عدل و انصاف کے خلاف ہے اور قرآن مجید کی بیشمار آیات عدل و انصاف کی تاکید کے لیے نازل ہوئی ہیں ۔۔۔ محض پولیس کی رپورٹ پر کسی کو قید نہیں کیا جا سکتا جب تک اس پر باقاعدہ عدالت میں ثقہ اور قابل اعتماد شہادتوں سے جرم ثابت نہ کر دیا جائے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ ملزم کو حراست میں نہ لیا جائے اور اس کو بھاگ جانے کا موقع دیا جائے بلکہ حاصل یہ ہے کہ حراست میں لینے کے بعد اس کے جرم کی تحقیقات کر کے کسی باقاعدہ عدالت کے سامنے اس کا جرم ثابت کرنے سے پہلے اس کو کسی معینہ مدت کے لیے قید نہیں کیا جا سکتا، تا تحقیقات حراست میں رکھنا اس کے منافی نہیں‘‘۔ (۵۶)
ب) غیر مسلموں کے حقوق : زیر بحث فتاویٰ کے مطالعہ سے یہ امر بھی بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ علماء نے بلحاظ شہریتی حیثیت اور حقوق کے ا سلامی مملکت کے مسلم اور غیر مسلم شہریوں میں فرق و امتیاز قائم رکھا ہے۔ ان فتاویٰ کی رو سے بہت سے معاملات میں غیر مسلموں کا درجہ مسلمان شہریوں کے مقابلے میں کم تر ہوگا ، ان کو حکومت کی کلیدی اسامیوں پر تعینات نہیں کیا جائے گا، قضا اور افتاء کا کام ان کے سپرد نہیں کیا جائے گا (۵۷)۔ 
مفتیانِ کرام کی رائے میں اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کو ان کی جان ، مال اورآبرو کے تحفظ و سلامتی کا ویسا ہی حق حاصل ہوگا جیسا کہ مملکت کے مسلم شہریوں کو حاصل ہے۔ اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ غیر مسلم باشندگان ملک کی جان، مال، آبرو کی اسی طرح حفاظت کریں جس طرح مسلمان کی کی جاتی ہے(۵۸)۔ البتہ سیاسی اور مذہبی معاملات میں غیر مسلم شہریوں کو کھلے مقامات پر تبلیغی اجتماعات منعقد کرنے اور کفر و شرک کی تبلیغ کی اجازت حاصل نہ ہوگی۔ اسی طرح مملکت کے غیر مسلم شہریوں کو نہ صرف یہ کہ نئی عبادت گاہیں بھی تعمیر کرنے کی اجازت نہ ہوگی ۔ وہ پرانی عبادت گاہیں کی مرمت تو کرسکتے ہیں البتہ قدیم عمارت پر اضافہ نہیں کر سکتے۔ اس باب میں مولانا ظفر احمد عثمانی نے یہ رائے ظاہر کی ہے:
’’دارالاسلام میں غیر مسلموں کو تبلیغی اجتماع کی اجازت نہیں: دارالاسلام میں غیر مسلمین اپنے گھروں یا عبادت گاہوں میں مذہبی تبلیغ کر سکتے ہیں، کھلے مقامات پر انہیں تبلیغی اجتماع کی اجازت نہیں دی جا سکتی، حتیٰ کہ وہ اپنی مذہبی کتاب بھی بلند آواز سے نہیں پڑھ سکتے ۔۔۔ غیر مسلمین کو دارالاسلام میں نئی عبادت گاہیں تعمیر کرنے کی اجازت نہیں، پرانی عبادت گاہیں باقی رکھ سکتے ہیں، ان کی مرمت بھی کر سکتے ہیں، مگر قدیم عمارت پر اضافہ نہیں کر سکتے، اسی طرح ان کا کوئی شہر فتح ہونے کے وقت اس میں اگر کوئی عبادت گاہ ویران تھی تو اسے از سرِ نو آباد کرنے کی اجازت نہیں۔‘‘ (۵۹)
مولانا ظفر احمد عثمانی کی اس رائے کو مکمل طور سے مفتی رشید احمد نے احسن الفتاویٰ میں اختیار کیا ہے۔ (۶۰) اہل حدیث مفتی محمد عبیداللہ خان عفیف کی رائے میں بھی اسلامی مملکت کی ’’ذمی رعایا (ہندو، عیسائی اور قادیانی)نیا عبادت خانہ تعمیر نہیں کر سکتی‘‘ (۶۱)۔ 

اختتامیہ

اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام سے متعلق برعظیم پاکستان و ہند کے علماء کے مذکورہ فتاویٰ کے جائزہ سے یہ امر الم نشرح ہو جاتا ہے کہ ان( علماء و مفتیان کرام ) کا سیاسی تفکر عمیق طور سے مسلم کلاسیکی قانونی و سیاسی فکر میں رچا بسا ہوا ہے۔ دستوری و سیاسی مسائل خصوصاًخلیفہ؍ امیر؍رئیس مملکت کی اہلیت کے شرائط، اس کے انتخاب و تقرر کے طریق کار، مجلس شوریٰ کی تشکیل ، اور اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی حیثیت اور حقوق وغیرہ امور میں گزشتہ صدیوں میں علماء و فقہا نے جو آراء پیش کی تھیں، ان فتاویٰ میں ان آراء کو کامل طور سے اختیار کر لیا گیا ہے (۶۲)۔ بالفاظ دیگر ان فتاویٰ میں تقلیدی رجحان کامل طور سے کار فرما ہے ، اجتہاد ی آرا سے گریز کیا گیا ہے۔ فن مملکت داری (statecraft) میں معاصر اقوام کے تجربات و اختراعات کے بارے میں یہ فتاویٰ بالعموم خاموش ہیں۔ ان فتاویٰ میں اسلامی دستور اور سیاسی نظام کے بعض اہم مسائل کے بارے میں بیان کی گئی آراپاکستان میں ایک حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کے داعی و علمبرداروں (خصوصاً سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی اور علامہ محمد اسد، جنہوں نے اسلامی دستور اور سیاسی نظام کے خدوخال کی تنقیح کا قابل ذکر کام انجام دیا) کے آرا سے بھی مختلف نظر آتی ہیں (۶۳)۔ علمائے اہل سنت کے مجموعہ ہائے فتاویٰ کے جائزہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امیر مملکت کے انتخاب و تقرر کے معاملہ میں جمہور مسلمانوں کی رائے کو بالکل اہمیت نہیں دیتے۔ وہ امور مملکت بالخصوص سربراہ مملکت و حکومت اور مجلس شوریٰ کے ارکان کے انتخاب میں جمہور مسلمین کی رضا مندی اور رائے کے حصول کا کوئی قابل عمل میکینزم تجویز ہی نہیں کرتے۔
علماء حکومت کے مروجہ نظاموں میں سے صدارتی طرزِ حکومت کو اسلام کے مزاج اور اصول سے قریب تر گردانتے ہیں،کیونکہ ان کی نظر میں حکم و فیصلہ کی ذمہ داری خلیفہ ؍ امیر مملکت پر ڈالی گئی ہے جو صرف صدارتی طرزِ حکومت ہی میں ممکن ہو سکتی ہے، جب کہ پارلیمانی طرز حکومت میں امیر مملکت پر ایسی کوئی ذمہ دار ی عائد نہیں ہوتی۔ مزید براں وہ شوریٰ کو ایک غیر متعین ادارہ سمجھتے ہیں، وہ مجلس شوریٰ کے مدت انتخاب (tenure) کے بارے میں با لکل خاموش ہیں۔
ان فتاویٰ میں سربراہ مملکت و حکومت کے لیے مجلس شوریٰ کے ارکان کے انتخا ب و تقرر نیز فیصلہ سازی کے عمل میں شوریٰ کی اکثریتی رائے کے ردو قبول میں ویٹو کا اختیارتسلیم کیا گیا ہے۔ یہ فتاویٰ رئیس مملکت کو مطلق العنان اختیارات سونپ دیتے ہیں۔دستوری و سیاسی مسائل پر ان فتاویٰ میں اسلامی مملکت کے مسلم اور غیر مسلم شہریوں کی حیثیت اور ان کے حقوق میں واضح فرق و امتیاز قائم کیا گیا ہے۔ چنانچہ ان فتاویٰ کی رو سے اسلامی ریاست میں غیر مسلم قومیں جزیہ ادا کریں گی اور مذہبی حقوق نیز سیاسی و انتظامی معاملات میں ان کا درجہ مسلمان شہریوں سے کم تر ہوگا (۶۴)۔ ان فتاویٰ کے جائزہ سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ علماء جدید دور کی اسلامی مملکت کے دستور اور اس کے اداروں کی تشکیل و تنظیم (Statecraft) کے باب میں معاصر نظاموں کے تجربات سے اخذو استفادے سے بے اعتنائی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

حوالہ جات و حواشی

۲۶) دیکھیے: مولانا مفتی محمود، فتاویٰ مفتی محمود (لاہور: جمعےۃ پبلی کیشنز، ۲۰۰۸ء)، جلد ۱۱، ص۳۷۴۔۳۷۵؛ مفتی محمد رفیع عثمانی و مولانا سلیم اللہ، ’’عورت کی حکمرانی :اکابر علماء کا فیصلہ‘‘، مشمولہ مفتی رشید احمد، احسن الفتاویٰ، جلد ۶، ص ۱۸۲۔ اس مفصل فتویٰ کے متن کے لیے دیکھیے: احسن الفتاویٰ، جلد۶، ص ۱۴۹۔۱۸۲؛ ’’عورت کی ولایت بالاجماع جائز نہیں‘‘، احسن الفتاویٰ، جلد ۶، ص ۱۸۳۔۱۹۲۔
۲۷) مفتی محمد اشرف القادری، امارۃ المرأۃ : عورت کی حکمرانی کے مسئلہ پر محققانہ شرعی فتویٰ (نیک آباد، گجرات: اہلسنت اکیڈمی ، جون۱۹۸۸ء)، ص ۳۔۵۔ عورت کی حکمرانی کے بارے میں جدید الخیال اہل قلم کے نقطۂ نظر کے بارے میں ملاحظہ ہو: مشیر الحق، ’’عورت کی حکمرانی: ایک اسلامی نقطۂ نظر‘‘، صحیفہ (لاہور)، شمارہ اپریل، جون ۱۹۸۹ء، ص ۱۔۱۲ ۔
۲۸) مفتی محمد عبیداللہ خان عفیف، فتاویٰٰ محمدیہ: منہج سلف صالحین کے مطابق (مرتبہ: ابوالحسن مبشر احمد ربانی) (لاہور: مکتبۂ قدوسیہ، ۲۰۱۰ء)، ص ۴۱۴۔۴۱۷۔مزید دیکھیے: حافظ صلاح الدین یوسف، عورت کی سربراہی کا مسئلہ اور شبہات ومغالطات کا ایک جائزہ (لاہور: دارالدعوۃ السلفیہ، ۱۴۱۰ھ؍۱۹۹۰ء)؛ علامہ محمد اشرف سیالوی، اسلام اور عورت کی حکمرانی (لاہور:عالمی دعوتِ اسلامیہ، ۱۹۹۶ء)۔
۲۹) مفتی محمود، فتاویٰ مفتی محمود، جلد ۱۱، ص ۴۷۵۔
۳۰) حافظ عبداللہ روپڑی، فتاویٰ اہل حدیث (تحقیق و تدوین: محمد صدیق بن عبد العزیز) ( سرگودھا: ادارۂ احیاء السنۃ النبوےۃ، س۔ ن)، جلد ۳، ص ۴۰۲۔۴۰۳۔ حافظ عبداللہ روپڑی نے اپنی ایک دوسری کتاب مرزائیت اور اسلام میں بھی اس موضوع پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا ہے۔
۳۱) مفتی رشید احمد، احسن الفتاویٰ، جلد ۶، ص ۱۴۴۔
۳۲) ایضاً ، جلد ۶، ص ۱۴۵۔
۳۳) ایضاً ، ص ۱۴۵۔۱۴۶۔
۳۴) ایضاً ، جلد۶، ص۱۴۵۔۱۴۷۔
۳۵) انتخاب امام کے طریق کار کے بارے میں شاہ ولی اللہ کے آراء کے بارے میں ملاحظہ ہو: ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء (مترجمہ: مولانا عبدالشکور فاروقی و مولانا اشتیاق احمد ) (کراچی: قدیمی کتب خانہ، س۔ ن۔)، جلد ۱، ص ۱۷۔۲۶، ۳۳۔۳۵، ۵۳۱۔۵۳۶۔ خلیفہ کے انتخاب و تقرر کے طریق کارخصوصاً امارۃ الاستیلاء کے بارے میں شاہ ولی اللہ کے خیالات و آراء کے جائزہ کے لیے ملاحظہ ہو: عبیداللہ فہد، ’’شاہ ولی اللہ کے سیاسی افکار‘‘، مشمولہ محمد ےٰسین مظہر صدیقی (مرتب)، حجۃ اللہ البالغہ: ایک تجزیاتی مطالعہ ( علی گڑھ: شاہ ولی اللہ ریسرچ سیل، مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، ۲۰۰۲ء)، ص۲۱۹۔۲۲۸۔
۳۶) مولانا محمد اسماعیل سلفی،’’ افتتاحیہ‘‘، فتاویٰ ثنائیہ، جلد۲ ،ص ۵۸۵۔
۳۷) ابو محمد حافظ عبدالستار الحماد، فتاویٰ اصحاب الحدیث، جلد دوم، ص ۴۵۸۔ ۴۵۹۔
۳۸) حافظ عبدالمنان نور پوری، قرآن و حدیث کی روشنی میں احکام و مسائل، جلد ۲، ص۶۹۲۔۶۹۳۔
۳۹) محمد یوسف لدھیانوی، آپ کے مسائل اور اُن کا حل جلد ۸، ص ۲۰۲۔
۴۰) مفتی رشید احمد، احسن الفتاویٰ، ص ۱۴۳۔ 
۴۱) مفتی محمد شفیع، جواہر الفقہ، جلد پنجم، ص ۴۶۷۔مولانا محمد ادریس کاندھلوی اور مولانا احمد رضا خان بریلوی کے خلیفہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی دونوں کی رائے میں شوریٰ کے تقرر و انتخاب کا اختیار امیر مملکت کو حاصل ہے۔ مؤخرالذکر کی رائے میں جماعت شوریٰ امیر کے ماتحت ہوگی۔ دیکھیے: محمد ادریس کاندھلوی، دستورِ اسلام مع نظام اسلام (لاہور: مکتبۂ عثمانیہ، س۔ ن؍ لاہور: تعلیمی پریس، ۱۹۶۸ء)، ص ۵۳۔۵۸ ؛ سید غلام معین الدین نعیمی، حیات صدر الافاضل: حضرت مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کے حالات زندگی (لاہور: فرید بک سٹال، ۲۰۰۰ء)، ص ۱۹۴۔۱۹۵۔
۴۲) مفتی محمد شفیع، جواہر الفقہ، کتاب الحظر والاباحۃ، جلد پنجم، ص ۴۶۱۔
۴۳) ایضاً ، جلد ۵ ، ص ۴۶۱۔
۴۴) ایضاً ، جلد ۵،ص ۴۶۸۔۴۶۹۔
۴۵) مولانا محمدیوسف لدھیانوی، آپ کے مسائل اور ان کا حل ، جلد۸، ص ۲۰۲۔ متعدد علمائے دیوبند نے شوریٰ کے ردو قبول کے بارے میں امیر مملکت کے اختیارات کے متعلق اسی نقطۂ نظر کو اپنایا ہے۔ دیکھیے: مولانا محمد تقی عثمانی، حکیم الامت کے سیاسی افکار (کراچی: مکتبۂ دارالعلوم، ۱۴۱۳ھ)، ص۳۱۔۳۶؛ مولانا حبیب الرحمٰن عثمانی و مولانا مفتی محمد شفیع، اسلام میں مشورہ کی اہمیت ( لاہور: ادارۂ اسلامیات، ۱۹۷۶ء)، ص ۱۵۲۔۱۵۳؛ مولانا محمد مسیح اللہ خان شروانی، اہتمام وشوریٰ (کراچی: زمزم پبلشرز، ۲۰۰۳ء)، ۲۶، ۴۷۔۴۸؛ مصنف؍مرتب (نا معلوم)، شوریٰ ہیئتِ حاکمہ نہیں: علمائے دیوبند کی واضح تصریحات (جلال آباد ، ضلع مظفر نگر: شعبۂ نشر و اشاعت، مدرسۂ مفتاح العلوم، س۔ ن)۔
۴۶) عبداللہ روپڑی،فتاویٰ اہل حدیث، جلد ۳، ص ۴۰۲۔
۴۷) مولانا محمد اسماعیل سلفی،’’ افتتاحیہ‘‘، مشمولہ فتاویٰ ثنائیہ، کتاب الامارۃ، ص ۵۸۹۔مولانا ریاست علی بجنوری نے بھی علماء کی اکثریتی رائے سے مختلف موقف ظاہر کیا ہے۔ان کی رائے میں شوریٰ کی اکثریتی رائے سربراہ مملکت کے لیے واجب التعمیل ہے۔ وہ مجلس شوریٰ کی حاکمہ؍تنفیذیہ پربالادستی کے نظریے کے علمبردار نظر آتے ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: مولانا ریاست علی بجنوری، شوریٰ کی شرعی حیثیت (لاہور: مکتبۂ لاہور ، ۱۹۹۶ء)۔
۴۸) حافظ عبداللہ روپڑی، فتاویٰ اہل حدیث، جلد ۳، ص ۴۰۲۔
۴۹) دیکھیے مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی، کفایت المفتی (جامع مؤلف: حفیظ الرحمٰن واصف) (دہلی: مطبع نعمانی، ۱۳۹۷ھ؍ ۱۹۷۷ء)، جلد ۹: کتاب السیاسیات، فصل ہفتم، ص ۲۹۴۔۳۸۱۔ 
۵۰) مفتی محمد شفیع، جواھر الفقہ، جلد ۵، ص۵۳۲۔۵۳۴؛ مولانا مفتی محمود، فتاویٰ مفتی محمود، جلد ۱۱، ص ۳۶۷۔۳۶۸، ۳۸۰۔
۵۱) مفتی محمود، فتاویٰ مفتی محمود، جلد ۱۱، ص ۳۸۰۔
۵۲) ایضاً ، جلد ۱۱، ص ۳۶۶۔۳۶۷، ۳۶۹،۳۷۰، ۳۷۵۔۳۷۷، ۳۸۰۔
۵۳) مفتی محمد شفیع، جواہر الفقہ، جلد ۵، ص ۵۳۵۔
۵۴) مولانا مفتی محمود، فتاویٰ مفتی محمود، جلد۱۱، ص۳۶۹۔
۵۵) ابو محمد حافظ عبدالستار الحماد، فتاویٰ اصحاب الحدیث (لاہور: مکتبہ اسلامیہ، ۷۰۰۲ء)، ص ۴۵۸۔ ۴۵۹۔ 
۵۶) مفتی محمد شفیع، جواھر الفقہ، جلد ۵، ص ۴۸۶۔۴۸۸۔
۵۷) مفتی محمود، فتاویٰ مفتی محمود، جلد ۱۱، ص ۳۱۳ ۔
۵۸) مفتی محمد شفیع، جواھر الفقہ، جلد ۵، ص ۴۹۰۔
۵۹) مولانا ظفر احمد العثمانی، اعلاء السنن (کراچی: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ، ۱۴۱۵ھ) ، جلد ۱۲، ص ۵۱۵۔۵۱۷۔
۶۰) مفتی رشید احمد، احسن الفتاویٰ، جلد ۶، ص ۱۸۔۱۹۔ 
۶۱) مفتی محمد عبیداللہ خان عفیف، فتاویٰ محمدیہ، ص ۸۶۶۔۸۶۸۔
۶۲) مسلم کلاسیکی سیاسی افکار کے جائزہ کے لیے ملاحظہ ہو:رشید احمد، مسلمانوں کے سیاسی افکار (لاہور: ادارۂ ثقافت اسلامیہ، ۱۹۹۹ء)؛ص ۱۔۱۵۰۔ مزید دیکھیے:
E. I. J. Rosenthal, Political Thought in Medieval Islam (Cambridge: Cambridge University Press, 1958; Antony Black, The History of Islamic Political Thought: From the Prophet (PBUH) to the Present (Karachi: Oxford University Press, 2001).
۶۳) تفصیل کے لیے دیکھیے: سید ابوالاعلیٰ مودودی، اسلامی ریاست (مرتبہ: خورشید احمد) (لاہور: اسلامک پبلی کیشنز ،۲۰۰۰ء)؛ مولانا امین احسن اصلاحی، اسلامی ریاست (لاہور: دارالتذکیر، ۲۰۰۲ء)۔ مزید دیکھیے:
 Muhammad Asad, The Principles of State and Government in Islam (Berkeley, CA: University of California Press, 1961).
۶۴) اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق کے بارے میں لبرل اور آزادی روی پر مبنی نقطۂ نظر کے بارے میں ملاحظہ ہو:
Fahmi Huweidi, "Non-Musliims in Muslim Society", in Abdelwahab(ed.), Rethinking Islam and Modernity: Essays in Honour of Fathi Osman (Leicester: The Islamic Foundation, 2001/1422 A. H.), pp. 84-91.
(بشکریہ مجلہ ’’الاضواء‘‘، شیخ زاید اسلامک سنٹر، جامعہ پنجاب، لاہور)

’’علوم اسلامیہ میں تحقیق: عصری تناظر‘‘ / مجلس یادگار شیخ الاسلام کے زیر اہتمام مولانا سندھیؒ پر سیمینار

ڈاکٹر حافظ محمد رشید

(اقبال مرکز برائے تحقیق ومکالمہ اور الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام دو روزہ ورکشاپ کی روداد۔)

الشریعہ اکادمی میں 5، 6 دسمبر 2016ء کو اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ کے اشتراک سے ایک دو روزہ قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان تھا : علوم اسلامیہ میں تحقیق: عصری تناظر ۔ اس ورکشاپ کا مقصد نوجوان محققین کو مختلف سطحوں پر علوم اسلامیہ میں ہونے والے تحقیقی کام کی جہات اور معاصر رجحانات سے روشناس کرانا تھا۔ ورکشاپ میں متنوع موضوعات پر گفتگو ہوئی اور مقررین نے جہاں ملک میں تحقیق اور تحقیقی اداروں کی موجودہ صورتحال پر بات کی، وہیں تحقیق کے ضروری اور نئے میدانوں کی طرف بھی توجہ دلائی تاکہ طلبہ تحقیق اپنی تحقیقی سمت کا درست انداز سے تعین کر سکیں۔ شرکاء میں مدارس کے مدرسین ، کالج اور یونیورسٹی کا اساتذہ اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ شامل تھے جنہوں نے دو دن ہونے والی گفتگو کو بڑے غور اور انہماک سے سنا۔ 

مولانا محمد عمار خان ناصر

مولانا محمد عمار خان ناصر نے ابتدائی کلمات میں کہا کہ:
علوم اسلامیہ میں تحقیق ایک ایسا دائرہ ہے جس میں حسن اتفاق سے اور کئی عوامل کے اشتراک سے شاید پہلی مرتبہ یہ موقع و امکان پیدا ہو رہا ہے کہ روایتی دینی تعلیم کے اداروں سے فیض یاب ہونے والوں اور جدید عصری تعلیمی ادارو ں میں اسلامیات پر غورو فکر اور تحقیق کی روایت سے استفادہ کرنے والوں کے آپس میں اختلاط و اشتراک اور تبادلہ خیالات کا موقع پیدا ہو رہا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسی تناظر میں جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں میں وقتاً فوقتاً ایسی تقریبات اور نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں دونوں رَووں (streams) سے تعلق رکھنے والے لوگ شریک ہوں اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں ۔ یہ نشست بنیادی طور پر انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ذیلی ادارہ اقبال مرکز برائے تحقیق و مطالعہ کا ترتیب دیا ہوا پروگرام ہے اور ہمیں ان سے تعاون کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ اس کے شرکاء دینی مدارس، کالجز اور یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے وہ احباب ہیں جو یا تو وہاں کے اساتذہ ہیں اور یا پھر ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامات میں زیر تعلیم ہیں اور تحقیق کر رہے ہیں۔ مقررین میں جن حضرات کو دعوت دی گئی ہے، وہ بھی انھی اداروں سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار اور کہنہ مشق افراد ہیں ۔میں آج کی نشست میں اپنے مہمانان گرامی اور شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جس مقصد کے لیے ہم ان نشستوں کا انعقاد کر رہے ہیں، وہ کامیابی کے ساتھ حاصل ہو گا ان شاء اللہ۔
اس کے بعد IRDکے اسسٹنٹ دائریکٹر جناب محمد اسماعیل صاحب نے خیر مقدمی کلمات کہے اور اپنے ادارے اور اس کی سرگرمیوں کا مختصر تعارف کروایا۔
ورکشاپ میں دیگر مقررین کی طرف سے پیش کی جانے والی گفتگو کا خلاصہ حسب ذیل ہے :

ڈاکٹر تنویر احمد

ڈاکٹر تنویر احمد (اسسٹنٹ پروفیسر ادارہ تحقیقات اسلامی ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد) نے ’’علوم اسلامیہ کے اہم انگریزی تحقیقی جرائد کا تعارف‘‘ کے عنوان پر گفتگو کی اور کہا:
سب سے پہلے میں شکر گزار ہوں ادارہ اقبال مرکز برائے تحقیق و مکالمہ اور الشریعہ اکادمی کا کہ انہوں نے ہمیں یہ موقع عطا کیا کہ ہم علوم اسلامیہ میں تحقیق پر اپنے خیالات کا اظہار کریں کہ وہ کیسے کرنی ہے اور اس کی بنیادی معلومات کیا ہیں۔ میں آپ کو ان تحقیقی مجلات کا تعارف کرواؤں گا جن کی حیثیت انگریزی میں ہونے والی تحقیق کے حوالے سے اہم اوربنیادی ماخذ کی ہے۔ اس سے اہم بات یہ ہے کہ جو مضامین ان مجلات میں چھپتے ہیں، وہ کس طرح ہمارے ہاں اردو دنیا میں چھپنے والے مجلات کے مضامین سے مختلف ہیں اور ان سے سیکھنے کی چیزیں کیا ہیں۔ 
انگریزی دنیا میں یونیورسٹی کی سطح پر ہونے والی Academicتحقیق کا ظہور تین صورتوں میں ہوتا ہے۔ پی ایچ ڈی کی سطح پر لکھے جانے والے تحقیق مجلات کی شکل میں، مختلف پروجیکٹس کی صورت میں جو کتابی شکل میں شائع ہوتے ہیں، اور انھیں آکسفورڈ اور کیمبرج جیسی پبلشنگ کمپنیز چھاپتی ہیں ۔ یہ کمپنیز جو کتابیں چھاپتی ہیں، ان کا دنیا بھر میں ایک خاص مقام ہوتا ہے۔ اور تیسری قسم آرٹیکلز یا بحوث ہیں جو تحقیقی مجلات میں چھپتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم آرٹیکلز ہی ہوتے ہیں جو کسی علمی طور پر مضبوط مجلے میں چھپیں، کیونکہ ان میں تحقیق و جستجو کے معیارات کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔ کوئی بھی مقالہ اس وقت تک شائع نہیں کیا جاتا جب تک کہ دو یا تین لوگ اس کا peer review نہ کریں۔ ریویو کرنے والوں کے پاس لکھنے والوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہوتیں، وہ آزادی سے اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس کی ایڈیٹنگ کے لیے پور اعملہ ہوتا ہے جو اس کی نوک پلک سنوارتا ہے اور نقائص کو دور کرتا ہے۔
اسی سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کوئی مجلہ کس طرح استنادی حیثیت حاصل کرتا ہے، اس کی بین الاقوامی رینکنگ کیسے بنتی ہے؟ اس کا ایک معیار تو یہ ہے کہ اس میں چھپے ہوئے مقالات کتنی دفعہ بطور مصدر حوالے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ اس کو جانچنے کا ایک پورا سسٹم ہے جسے citation system کہا جاتا ہے۔ مثلاً ایک مقالہ لکھا گیا ہے، وہ دیکھیں گے کہ اس موضوع پر لکھے جانے والے مقالات میں اس کا حوالہ کتنی مرتبہ آیا ہے۔ اس سے اس کا impact factor بڑھتا ہے اور اسی سے اس کی رینکنگ طے ہوتی ہے۔ 
پچھلے تین چار سال سے ایک مجلے کی ادارت میرے پاس ہے، اس لیے میں تجربے کی بنیاد پر کچھ چیزیں یہاں شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ جب آپ کوئی مقالہ لکھتے ہیں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ ایک رپورٹ اورریسرچ پیپر کا فرق باقی رہے۔ رپورٹ کہتے ہیں کہ کسی چیز کے بارے میں آپ نے کچھ حقائق جمع کیے، ان میں آپ نے حک و اضافہ کیا اور ان کو ترتیب دے دیا۔ یہ بہت اچھی معلومات تو ہو سکتی ہیں، لیکن کوئی ریسرچ پیپر نہیں ہو سکتا۔ ریسرچ participation ہے، recordingنہیں ہے۔ اسی طرح کسی کتاب کا خلاصہ یا کسی بڑے مقالے کا خلاصہ بھی research paper نہیں ہوتا۔ وہsummary ہوتی ہے ۔اسی طرح ہمارے ہاں ایک رواج ترتیب کا بھی ہے۔ لوگ آیات، احادیث اور اقتباسات کو ترتیب دے دیتے ہیں اور بہت خوبصورتی سے ترتیب دیتے ہیں، لیکن سوال وہی ہوتا ہے کہ اس میں آپ کی اپنی بات کیا ہے ؟ یہ ایک بہت عمدہ چیز تو ہو سکتی ہے، لیکن ریسرچ پیپر نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اکثر اوقات مضامین میں ایسے جملے لکھے جاتے ہیں ، کہ ’’اس پر تو اتفاق ہوتا آیا ہے‘‘، ’’ یہ چیز سب کے ہاں متفق ہے‘‘ ، ’’ اس چیز میں تو دو رائے ہو ہی نہیں سکتیں‘‘، حالانکہ اس میں دو رائے ہوتی ہیں۔ اس طرح کے بے دلیل جملے اگر لکھے ہوں تو بھی ہم اس کو ریسرچ پیپر نہیں سمجھتے۔ اچھا ریسرچ پیپر لکھنے کے لیے اس کو سیکھنا پڑتا ہے کہ کیسے اچھا ریسرچ پیپر لکھا جائے، اس کے لیے آسان اور عملی طریقہ یہ ہے کہ ابتدا میں آپ کسی اچھی کتاب کا ریویو لکھیں۔ اس سے آپ کو ریسرچ سیکھنے میں بہت مدد ملے گی ۔
ڈاکٹر تنویر احمد نے انگریزی دنیا کے قدیم و جدید اور بہت اہم مجلات کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ انگریزی دنیا میں اسلامیات کا وہ تصور نہیں ہے جو ہمارے ہاں ہے۔ ان کے ہاں Islamic Studies میں قرآن و حدیث تو ہے ہی، اس کے ساتھ مسلم سوسائٹی اور اس کے مسائل بھی آتے ہیں، مسلم ممالک کے قوانین بھی آتے ہیں خواہ وہ اسلامی ہوں یا سیکولر۔ وہاں کا تاریخی پس منظر اور معاشی و معاشرتی حالات و نظریات بھی اسی میں شامل سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً دہشت گردی کا مسئلہ اس وقت ان کے ہاں بڑا اہم سمجھ کر پڑھا اور پڑھایا جا رہا ہے۔ اسی طرح مختلف ممالک میں اقلیتیں اور ان کے حقوق، خواہ وہ غیر مسلم اقلیتیں ہوں یا مسلم اقلیتیں، ان پر بھی اسلامیات کے عنوان سے ہی گفتگو ہوتی ہے ۔

مولانا سید متین احمد شاہ

مولانا سید متین احمد شاہ (نائب مدیر مجلہ ’’فکر ونظر‘‘، ادارۂ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد) نے ’’ عصری یونیورسٹیز میں عمرانی علوم اور تصور تحقیق‘‘ کے عنوان پر گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ:
مجلات تو پوری دنیا میں کثیر تعداد میں شائع ہو رہے ہیں، ان میں سے سب کا تعارف کروانا تو ممکن نہیں ، انتخاب ہی کیا جا سکتا ہے ، اس لیے میں کچھ منتخب مجلات کا تعارف آپ حضرات کے سامنے پیش کروں گا۔ ان کو میں نے موضوعاتی طرز پر تیار کیا ہے۔ سب سے پہلے علوم اسلامیہ میں برصغیر کے کچھ تحقیقی مجلات ہیں، پھر ایچ ای سی سے منظور شدہ اردو اور عربی کے کچھ مجلات ہیں۔ مخصوص تخصصات میں کون کون سے تحقیقی مجلات معاون ہو سکتے ہیں، ان میں قرآنیات سے لے کر تبصرہ کتب تک معاون مجلات شامل ہیں ۔
تحقیق کے بارے میں آپ پڑھتے ہیں کہ یہ دو قسم کی ہوتی ہے، مکینیکل ریسرچ اور اوریجنل ریسرچ۔ اوریجنل ریسرچ کو ہی حقیقی ریسرچ کہا جا تا ہے۔ یہ علم کو پیدا کرنے کا عمل ہوتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم ہے کہ دنیا میں ایسے وجود نادر ہی ہوتے ہیں جو علم کو نئے سرے سے پیدا کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی فرد کسی حوالے سے اپنی تحقیق پیش کرتا ہے تو وہ تحقیق آرٹیکلز کی شکل میں ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر تہذیبوں کے تصادم کی اصطلاح ہم بہت سنتے ہیں جو سموئیل پی ہنٹنگن کی طرف یہ منسوب ہے۔ اس فکر کو اس نے ابتدائی طور پر پچیس تیس صفحات کے آرٹیکل کی شکل میں پیش کیا تھا ۔ اسی طرح آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت جس نے نیوٹن کی سائنس کو گرا کر نئے سائنسی نظریہ کو وجود دیا، یہ بھی ابتدا میں ایک تحقیقی آرٹیکل کی شکل میں ہی پیش کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں یک موضوعاتی مقالات کو مدون کر کے شائع کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور اسی کے اثر سے عربی و اردو دنیا میں اس رجحان کو تقویت مل رہی ہے۔ کتابوں میں بہت سی باتیں تکرار محض کی قبیل سے ہوتی ہیں۔ نپولین کا وظیفہ پڑھنا لکھنا تھا، وہ اپنے پاس بہت سی کتابیں جمع کر لیتا اور جلد ہی ان کو فارغ کر کے واپس کر دیتا۔ کسی نے پوچھا کہ آپ اتنی جلدی کیسے ان کو پڑھ لیتے ہیں؟ تو اس نے کہا کہ ان کتابوں کے بنیادی نظریات میں نے کسی دوسری جگہ پڑھے ہوتے ہیں، اس لیے ان کو دوبارہ پڑھنا تحصیل حاصل ہوتا ہے، اس لیے میں جلدی ان کو اپنی نظر سے گزار لیتا ہوں۔ گویا کتاب کا پیٹ بھرنے کے لیے بہت سی دہرائی ہوئی باتیں اس میں شامل کر دی جاتی ہیں، لیکن ریسرچ آرٹیکل میں آپ کو یہ چیز نہیں ملے گی۔ اگر واقعی کسی خلاق ذہن نے آرٹیکل لکھا ہے تو آپ کو شروع سے آخر تک اس میں ایسے نظریات اور خیالات ملیں گے جو اس سے پہلے سامنے نہیں آئے ہوتے۔ یہ ریسرچ آرٹیکلز کی بڑی غیر معمولی قدر و قیمت ہے جس کی وجہ سے بڑے محققین مقالات اور کتابوں کو پڑھنے کی بجائے ریسرچ آرٹیکلز کو پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں تاکہ ریسرچ سیکھنے میں معاونت ہو سکے اور اس کی بہترین صورت مجموعہ ہائے مقالات ہیں جو علمی دنیا میں مرتب ہو رہے ہیں۔ 
ہماری علمی دنیا میں بھی اس کی بہت اہمیت ہے۔ شنید ہے کہ ایچ ای سی نے اب یہ لازم کر دیا ہے کہ آپ کا پی ایچ ڈی کا مقالہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسی موضوع سے متعلق آپ کے دو آرٹیکلز کسی ایسے مجلے میں چھپے ہوئے نہ ہوں جس کو ایچ ای سی اپنے ہاں معتبر تسلیم کرتا ہے۔ اسی لیے مجلات اپنی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر بہت قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ عطاء الحق قاسمی کے بیٹے ہیں، علی عثمان قاسمی۔ ان کی ایک کتاب Questioning the athority of the past کے نام سے آکسفورڈ سے چھپی ہے۔ اس کے مقدمے میں انہوں نے لکھا ہے کہ گوجرانوالہ کے ایک صاحب ہیں، ان کے پاس انیسویں صدی سے لے کر آج تک کے تمام مجلات کا ذخیرہ محفوظ ہے اور اس نے مجھے اپنی تحقیق میں غیر معمولی مدد فراہم کی ہے۔ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس ذخیرے میں کیا کچھ محفوظ اور چھپا ہوا ہو گا جس کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹیز میں بھی اس کی طرف توجہ ہو رہی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے دار المصنفین کے مجلہ معارف میں 1916ء سے لے کر آج تک تحریک استشراق پر جتنے بھی مقالات چھپے ہیں، ان کومحض موضوعاتی ترتیب سے مرتب کیا ہے اور اس پر پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ اسی طرح بعض یونیورسٹیز ان مجلات کی اشاریہ سازی پر بھی ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جاری کرتی ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے برصغیر کے قدیم و جدید علمی مجلات کا بہت اچھا تعارف کروایاجس کی پوری پریزینٹیشن ان سے بذریعہ ای میل حاصل کی جا سکتی ہے۔ اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے ایچ ای سی سے منظور شدہ مجلات کے حوالے سے بڑی عمدہ معلومات فراہم کیں جو ریسرچ کے ان طلبہ کے لیے انتہائی مفید ہیں جو اپنی تحقیقات ایچ ای سی سے منظورشدہ مجلات میں چھپوانا چاہتے ہیں۔ مثلاً انہوں نے بتایا کہ ایچ ای سی نے مجلات کی درجہ بندی کی ہوئی ہے۔ اردو اور عربی میں چھپنے والے مجلات میں سے کوئی بھی ابھی تکY کیٹگری سے اوپر نہیں جا سکا۔ فکر و نظر کے حوالے سے کوشش ہو رہی ہے کہ وہ Xکیٹیگری میں چلاجائے۔ طلبہ تحقیق کو چاہیے کہ اپنے مضامین Y کیٹگری میں شامل مجلات میں اشاعت کے لیے بھیجیں کیونکہ Zکیٹگری میں شامل مجلات کی وہ اہمیت نہیں سمجھی جاتی اور ہو سکتا ہے کہ اس درجہ کو ختم ہی کر دیا جائے۔

مولانا مفتی محمد زاہد

مولانا مفتی محمد زاہد (شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ امدادیہ ، فیصل آباد) کی گفتگو کا عنوان ’’علوم اسلامیہ میں تحقیق، توجہ طلب پہلو ‘‘ تھا۔ انھوں نے کہا کہ:
اس سے پہلے دو حضرات کی گفتگو سے تحقیق کے نئے پہلو اور تحقیق کے نمونے کہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں بڑی اچھی راہنمائی حاصل ہوئی۔ اس گفتگو کے دوران جو چیز مجھے محسوس ہوئی، وہ یہ کہ ہو سکتا ہے کہ انگریزی زبان میں کوئی بہت اچھی تحقیق چھپی ہو، لیکن میرے جیسے لوگ جن کی انگریزی اتنی اچھی نہیں ہے، وہ اس سے واقف نہ ہوں۔ اسی طرح یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عربی میں کوئی اچھی تحقیق چھپی ہو، لیکن کچھ لوگ عربی چیزوں کا زیادہ مطالعہ نہ کرتے ہوں۔ یہی معاملہ اردو کا بھی ہے۔ مجھے ان تازہ چیزوں کے ترجمے کی کوئی مضبوط روایت نظر نہیں آتی۔ اگر کوئی ادارہ ان چیزوں کے معیاری ترجمے کی ذمہ داری بھی اپنے ذمہ لے لے تو ان تحقیقات کا فائدہ اور دائرہ کافی وسیع ہو جائے گا۔ سید متین شاہ صاحب کی گفتگو سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ برصغیر میں علمی تحقیق کی روایت کتنی زندہ، کس قدر تازہ ، بھر پور اور کس درجے اپ ڈیٹ رہی ہے اور اس میں علماء کا کتنا سر گرم کردار رہا ہے ۔ ان مجلات کی فہرست پر ایک نظر ڈالنے سے ہی اس کا پتہ چل جاتا ہے۔
ایچ ای سی کی بات آئی تو پتہ چلا کہ بعض مجلات بہت معیاری ہیں، لیکن ایچ ای سی کی لسٹ میں نہیں ہیں یا وہاں سے Approvedنہیں ہیں ۔ایچ ای سی کو یہ تجویز جانی چاہیے کہ کچھ مجلات تو ایسے ہیں جو ایچ ای سی سے اس حوالے سے خود رابطہ کرتے ہیں کہ ان کو اس فہرست میں شامل کیا جائے یا ان کی کیٹگری بڑھائی جائے، لیکن بہت سے مجلات ایسے ہیں جو اس کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے، مثلاً بین الاقوامی مجلات اس کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے لیکن وہ بہت معیاری ہوں گے۔ انڈیا کے کچھ مجلات کی مثال دی جا سکتی ہے۔ تو جس طرح ادارے اور مجلات اپنے آپ کو ایچ ای سی کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ایچ ای سی ان کو اپنی فہرست میں شامل کر لیتا ہے، اسی طرح ایچ ای سی کو خود بھی یہ چیزیں ڈھونڈنی چاہییں اور مارکیٹ میں جا کر دیکھنا چاہیے کہ کون کون سی چیزیں اور مجلات ہیں جو ان کے معیار پر پورا اترتے ہیں، لیکن انہوں نے اپنے آپ کو پیش نہیں کیا۔ ان کو بھی وہ اپنی فہرست میں لائیں، اس سے تحقیقی دنیا کا بھی فائدہ ہو گا اور ملازمت کی دنیا کے لوگوں کو بھی اس میں بہت ساری آسانیاں مل جائیں گی۔
میرا موضوع علوم اسلامیہ کے وہ دائرے ہیں جن میں تحقیق کی ضرورت ہے اور ان میں تحقیق ہو سکتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایم فل کے طلبہ میں سے چند ایک ہی ایسے ہوتے ہیں جن سے ہم بہت ہی اوریجنل ریسرچ کی توقع کر سکتے ہیں۔ اکثر کم عمری اور ناقص تجربہ کی بنیاد پر محض معلومات اکٹھی کرنے یا مواد جمع کرنے کا کام ہی کر سکتے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کو اگر ہم کسی طرح منظم کر لیں اور پروجیکٹس کی شکل میں ان سے مواد جمع کرنے کا کوئی ایسا کام کروا لیں جو کسی اچھے تحقیقی کام کی بنیاد بن سکے تو یہ بہت مفید ہو گا۔ مثلاً امام ابوبکر الجصاص ؒ فقہائے احناف میں بہت بڑا نام ہیں۔ وہ بہت بڑے فقیہ اور اصولی ہیں لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ وہ بہت بڑے محدث بھی ہیں۔ وہ اپنی کتابوں میں اپنی سند کے ساتھ احادیث ذکر کرتے ہیں۔ اب مسند الجصاص کے نام سے کوئی یونیورسٹی ایک پروجیکٹ لے لے اور ان کی سند سے ساری احادیث جمع کر لی جائیں۔ لیکن اس ساری جمع بندی میں پیش نظر اس سے اگلا مرحلہ ہو، یعنی یہ دیکھنا ہو کہ اس صدی کے محدثین احناف کس طرح حدیث لے رہے تھے اور حدیث سے استدلال اور اس کے رد و قبول میں ان کا انداز کیا تھا۔ جب یہ مقصد پہلے سے پیش نظر ہو گا تو پھر جمع مواد کا منہج میں بھی یہ طالب علم کے ذمے ہو گا کہ اس حدیث کی سند اور اس سے استدلال کا تھوڑا سا خلاصہ بھی اس کے ساتھ ذکر کرے ۔ اس طرح یہ کوئی اتنا اوریجنل کام تو نہیں ہو گا، لیکن ایک اچھے تحقیقی کام کی بنیاد فراہم کر دے گا ۔ 
اس طرح کا ایک کام مجمع الزوائد کے رجال پر کسی یونیورسٹی نے کروایا ہے ، میرے علم میں نہیں کہ یہ کس نوعیت اور درجے کا کام ہے، لیکن اگر اس کو اسی طرز پر کروایا جائے کہ اس کام سے ان کے حدیث پر حکم لگانے کے اصول مستنبط ہو سکیں تو یہ بہت مفید ہوگا، جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں محدث متساہل ہیں، فلاں متشدد ہیں وغیرہ۔ اس سے ہمیں بحیثیت مجموعی جمع مواد کی بنیاد پر حدیث پر حکم لگانے میں مدد ملے گی۔ اس سلسلے میں کمپیوٹر سائنس کے ماہرین کی صلاحیت سے بھی استفادہ کی راہیں تلاش کرنی چاہییں کہ وہ حدیث کے اس علم میں ہماری کس حد تک مدد کر سکتے ہیں، اور اگر ان سے مدد لینی ہے تو ہمیں ابتدا ہی سے اس کام کا منہج یہ رکھنا چاہیے کہ اس کے لیے سہولت ہو۔ وہ ہمیں بتا سکتا ہے کہ آپ اس کام کو اس طرز پر کریں گے تو زیادہ مفید اور کمپیوٹنگ میں زیادہ آسان ہو گا۔ اسی طرح کا کام اسی دور کے دیگر محدثین کے حوالے سے کیا جا سکتا ہے جو حدیث پر حکم لگاتے ہیں۔ ان پر اسی طرز کا کام کر کے ہم اس دور کے حدیث پر حکم لگانے کے مناہج کو جاننے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
ہمارے ہاں یہ تاثر ہے اور ایک حد تک درست ہے کہ اسلامی دور کی ابتدائی چار پانچ صدیاں تو علمی عروج کی صدیاں ہیں، تخلیق علم کی صدیاں ہیں، تحقیق و جستجو کا دور ہیں، لیکن اس کے بعد کا زمانہ جمود اور تکرار کا زمانہ ہے ،Repeatition ہے، ان میں کوئی نیا کام نہیں ہو سکا ۔ یہ تاثر ایک حد تک درست ہے اور اس کی وجوہات بھی ہیں کہ ضرورت باقی نہیں رہی تھی کیونکہ زندگی ایک جگہ پر رک گئی تھی تو اس کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ تحقیق نے بھی رکنا تھا۔ آپ شروحات دیکھ لیں، ان میں ایک ہی جیسی عبارتیں ہوتی ہیں اور ایک ہی طرح سے نقل ہو رہی ہوتی ہیں۔اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہے کہ اسلامی دور کے قرون وسطیٰ اس طرح علمی عروج اور حرکت کا دور نہیں تھا۔ لیکن انھی ادوار کے اندر ہی بہت سے ایسے مفکر بھی پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے نئی چیزیں پیش کی ہیں جن میں سے کچھ بہت مشہور ہوئے، جیسے ابن تیمیہ ؒ کی مثال دی جا سکتی ہے ۔ ان ادوار میں بھی اس تلاش کی ضرورت ہے کہ کس کس نے کون کون سی نئی چیزیں متعارف کروائی ہیں ۔ آپ ان ادوار کو صدیوں میں تقسیم کر لیں یا مرحلوں میں تقسیم کر لیں، ان ادوار میں ہماری تراث میں آرٹیکلز کے مترادف رسائل کے عنوان سے بہت سی چیزیں ملتی ہیں اور اس دور کے مفکرین کی اصل فکر بھی انہیں رسائل میں مل سکتی ہیں۔ اس ضمن میں رسائل ابن نجیم، رسائل ابن عابدین ہیں، رسائل عبد الحئی لکھنوی ہیں وغیرہ ۔ اس کام کے لیے بھی بہت اوریجنل تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔
تیسری چیز جس سے اسلامی معاشرے کو فرار نہیں ہو سکتا، وہ دو چیزیں ہیں ۔ ایک فتویٰ کا شعبہ اور دوسرا دینی مقتدائیت کا شعبہ۔ اگر لوگ چاہیں بھی تو ان سے چھٹکارہ نہیں پا سکتے۔ ان کو بہتر بنانے کی بھی گنجائش موجود ہے۔ ہمارے ہاں فقہ کی کتابوں میں کتاب الحظر و الاباحۃ کا باب ہوتا ہے، کتاب الکراہیۃ ہوتا ہے، اس کے بہت سے مسائل کا تعلق ہماری روز مرہ کی سماجی زندگی کے ساتھ ہوتا ہے، مثلاً حجاب کا مسئلہ اور مرد و زن کے اختلاط کا مسئلہ ہے، انفرادی طور پر ان پر بہت کام ہو سکتا ہے ۔میں جو چیز عرض کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں اوامر و نواہی تھے کہ یہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا، درجہ بندی نہیں تھی ۔اور ابتدا میں صحابہ کرامؓ کے سامنے بس یہ ہوتا تھا کہ اللہ اور رسول نے کہہ دیا کرنا ہے تو بس کرنا ہے اور اللہ و رسول نے کہہ دیا کہ نہیں کرنا تو نہیں کرنا ۔لیکن جب زندگی آگے بڑھی تو یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ کسی کام کے بارے میں شریعت کہتی ہے کہ کرنا ہے، لیکن معاشرے میں بہت سے لوگ نہیں کریں گے اور کچھ کاموں کے بارے میں ہدایت ہے کہ وہ نہیں کرنے، لیکن سماج میں بہت سے لوگ ہوں گے جن کو یہ کرنا پڑے گا۔ اب یہاں آ کر احکام کی درجہ بندی کی گئی کہ یہ فرض ہے، یہ واجب ہے، یہ سنت ہے، یہ مستحب ہے وغیرہ۔ یہ درجہ بندی تو نفس حکم کے اعتبار سے کی گئی، لیکن یہاں مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ نے ’’مقدمہ تدوین فقہ‘‘ میں مخاطبین کے اعتبار سے درجہ بندی کی بات کی ہے جسے وہ فقہ العامۃ اور فقہ الخاصۃ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ ان مسائل پر ہمیں کچھ دائرے کھینچنے ہوں گے کہ یہ گرین ہے، یہ وائٹ ہے، یہ گرے ہے ، یہ بلیک ہے اور یہ ریڈ ہے۔ امام احمد ابن حنبل ؒ کے پاس ایک آدمی آیا اور ایک مسئلہ دریافت کیا۔کوئی ایسا حلال و حرام کا مسئلہ نہیں تھا ، انہوں نے پوچھا کہ کس نے بھیجا ہے ؟ اگر بشر حافی نے بھیجا ہے تو اس کو جا کر بتا دو کہ یہ حرام ہے۔ یہ مخاطب کے اعتبار سے انہوں نے درجہ بندی کی۔ ایک صاحب نے ایک عالم سے پوچھا کہ آپ فلاں یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں، وہاں تو مخلوط تعلیم ہوتی ہے، وہاں آپ نظر کی حفاظت کیسے کرتے ہوں گے؟ یہ تو ممکن ہی نہیں۔ تو میں نے ان سے کہا کہ آپ نے کبھی اپنے علماء سے پوچھا کہ آپ اسمبلی میں جاتے ہیں، بلکہ خواتین کو بھی منتخب کراتے ہیں ، وہاں بھی تو مخلوط ماحول ہوتا ہے بلکہ پچھلی حکومت میں تو میڈم سپیکر سامنے بیٹھی ہوتی تھیں، اور اس کو میڈم اسپیکر کہہ کر مخاطب بھی کرتے تھے۔ اب ایسا ہوتا تو ہے، اب یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کے لیے گرین لائن سے نیچے آنا مناسب نہ ہو اور ایک کو اس کے مخصوص حالات کے پیش نظر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تم نے ریڈ لائن میں نہیں آنا، اس سے پیچھے تم رہ سکتے ہو۔ ہماری سماجی زندگی کے اس طرح کے مسائل میں از سر نو غور وفکر اور دائرہ بندی کرنا بھی ایک میدان ہے جس میں کام کی ضرورت ہے جو ہماری بہت ساری عملی الجھنوں کو دور کرے گا اور خاص طور پر اہل فتویٰ اور دینی مقتدا حضرات اس سے استفادہ کر سکیں گے ۔

ڈاکٹر سمیع اللہ فراز

ڈاکٹر سمیع اللہ فراز (خطیب ڈی ایچ اے لاہور) نے ’’اسلامی تحریکات : مغربی زاویہ نگاہ ‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی جس کا خلاصہ یہ ہے:
آج کی یہ ورکشاپ طلبہ تحقیق کو اسلا می تحقیق کے مختلف تناظر اور پہلوؤں سے روشناس کرانے اور ان کے ذہنی کینوس کو وسیع کرنے کی کوشش ہے۔ میں اپنے موضوع پر چار حوالوں سے مختصراً گفتگو کروں گا۔
پہلی چیز کہ اسلامی تحریک کسے کہتے ہیں اور جس کو ہم مغرب کہتے ہیں، اس سے کیا مراد ہے؟
دوسری چیز یہ کہ اسلامی تحریکوں کے ساتھ عسکریت پسندی، تشدد پسندی کے جو ٹائٹل جڑ چکے ہیں، اس کے اسباب کیا ہیں؟
تیسری چیز یہ کہ اسلامی تحریکوں کے حوالے سے مغربی دانش کے دیکھنے، سوچنے اور پالیسی بنانے کا انداز کیا ہے؟
چوتھا یہ کہ طلبہ تحقیق کے لیے اس حوالے سے کون سے پہلو قابل توجہ ہیں؟ 
اس ذہنی وسعت کے دور میں مغرب سے مراد وہ لوگ یا وہ دانش ہے جو غیر مسلم دانش کہلاتی ہے۔ مغرب کو کسی جغرافیائی حد بندی میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً اسرائیل مشرق وسطیٰ کا ملک ہے، جغرافیائی طور پر مغرب میں نہیں ہے، لیکن اس سے اٹھنے والے فکر کو بھی ہم مغربی فکر سے تعبیر کرتے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ مغرب کے لفظ کو انگریزی میں west ہی لکھیں گے، لیکن اس سے مراد امریکہ، برطانیہ یا کینیڈا وغیرہ نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد غیر مسلم دانش ہے۔ اس دانش میں شدت پسند دانش بھی ملے گی اور معتدل دانش بھی۔ 
مغربی دانش میں ہر لڑنے والا اور ہر کوشش کرنے والا گروہ تحریک نہیں کہلاتا۔ مغرب کے ہاں اسلامی تحریک وہ تحریک کہلائی گی جو مسلم معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہو، اس کے وجود کا سبب کوئی مقامی مسئلہ نہ ہو بلکہ اس کی تشکیل کا مقصد اسلامی احیاء ہو، اور اس تحریک سے وابستہ لوگ دعوت اسلامی کے طریق سے منسلک ہوں، یعنی اگر اس تحریک کے مقاصد میں اسلامی قانون کو نافذ کرنا ہے تو اس کو اسلامی تحریک کہا جا سکتا ہے، وگرنہ نہیں ۔اس طرح اسلام کے اوائل کی قابل ذکر تحریکیں یہ ہو سکتی ہیں: حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت کی تحریک، خوارج، مختار ثقفی کی تحریک، عباسی انقلاب اور اسماعیلی اور فاطمی تحریکات وغیرہ۔ گزشتہ تین سو سال میں مسلم دنیا میں جو تحریکات اٹھیں اور جن کے مطالعہ سے مغرب نے اپنی پالیسیوں کو ترتیب دیا ، ہم ان پر بات کریں گے۔ ان میں محمد بن عبد الوہاب کی تحریک تھی جو عرب علاقوں میں اٹھی اور اسی کے زیر اثر 1932ء میں سعودی عرب وجود میں آیا۔ اسی طرح ہندوستان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تحریک، سید احمد شہید ؒ کی جہاد موومنٹ،افریقہ کی سنوسی موومنٹ، ایران کا شیعہ انقلاب ۔ ان تحریکات کو وہ اہمیت دیتے ہیں اور ان کا مطالعہ کر کے آئندہ کی پالیسیوں کو ترتیب دیتے ہیں۔
ان تحریکوں کا مزاج وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہا ۔ خاص طور پر ایشیا میں، مثلاً برصغیر میں پہلے پہل صوفیا کی تحریک مؤثر رہی، پھر شاہ ولی اللہ کے دور میں تعلیمی و علمی تحریک بن گئی اور تیسرے مرحلے میں یہ انقلاب پسندی کا روپ دھار لیتی ہے، جس کا مظہر سید احمد شہید کی تحریک ہے۔ اور چوتھے مرحلے میں یہ سیاسی پس منظر اور سیاسی فکر کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔عرب علاقوں کی تین تحریکوں کو مغرب اہمیت دیتا ہے۔ پہلی محمد بن عبد الوہاب کی تحریک جو اس وقت سلفی تحریک کی شکل میں موجود ہے۔ دوسری تحریک اخوان المسلمون ہے جس کی فکر سے ہم آہنگ جماعت اسلامی اور روسی ریاستوں میں حزب التحریر ہے۔ اسی فکر کی حامل مسلح تحریکوں میں حماس کا نام سب سے نمایاں ہے ۔ تیسری تحریک شیعہ انقلاب ہے۔ لبنان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں موجود شیعہ مسلح تحریکوں کو وہ انقلاب ایران سے ہی متعلق سمجھتے ہیں ۔
ڈاکٹر سمیع اللہ فراز نے اسلامی تحریکوں میں روایت پسندی سے شدت پسندی کے ارتقا کو بیان کرتے ہوئے ان مختلف اصطلاحات پر بات کی جو مغرب میں اسلامی تحریکوں کے حوالے سے مستعمل و متداو ل ہیں۔ مثلاً روایت پسندی (Traditionalism)، بنیاد پرستی (Fundametalism)، انتہا پسندی (Extremism)، انقلاب پسندی (Radicalism)وغیرہ ۔ اور جو لفظ کثرت سے استعمال ہوا، وہ انقلاب پسندی یا Radicalism ہے ۔مغرب کے نزدیک Radicals وہ لوگ ہیں جو مغرب کی بالا دستی کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں اور کسی بھی درجے میں مغرب کے نظریات کو اپنے ہاں جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ۔اسلامی تحریکوں کے حوالے سے ریسرچ کا ایک موضوع یہ ہو سکتا ہے کہ روایت پسند اسلامی تحریکوں میں شدت پسندی در آنے کے داخلی و خارجی اسباب کیا ہیں ۔ 
اسلامی تحریکوں سے متعلق مغربی طرز مطالعہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغرب کسی بھی تحریک کا مطالعہ کرنے کے لیے تقسیمی طریقہ کار اپناتے ہیں۔ تحریک کوتاریخی ، فکری اور اس کے اہداف کے حوالے سے مختلف ادوار میں تقسیم کرتے ہیں اور ہر دور کو اس کے پس منظر میں رکھ کر مطالعہ کرتے اور نتائج اخذ کرتے ہیں۔ ان کے ہاں تین بڑی کلاسیفی کیشنز نظر آتی ہیں جن کو مغربی دانش میں قبول عام حاصل ہوا ہے۔ پہلی ہرئیر ڈیک میجا کی، دوسری برنارڈ لیوس کی اور تیسری رینڈ کارپوریشن کی۔ رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ میں مذہبی تقسیم کی گئی ہے جو اس وقت عملی طور پر ان کے ہاں ہر پالیسی کی بنیاد ہے۔ دوسری تقسیم سیاسی ہے ، جو ہرئیر ڈیک میجا اور برنارڈ لیوس نے کی ہے۔ مغرب کے اس تقسیمی طرز مطالعہ پر مستقل حوالے سے تحقیقی کام ہو سکتا ہے۔ اسی طرح برنارڈ لیوس کی کتابیں اور آرٹیکلز بھی تحقیق کا موضوع ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح ایک شخص جان لوئس اسپوزیٹو ہے جو کہ اسلامی تحریکوں کے حوالوں سے ایک معتدل نام ہے۔ وہ کہتا ہے کہ موجودہ مسلح تحریکیں اسلام کی نمائندہ نہیں ہیں، اسلام کی نمائندگی اس کے اوائل دور کی تحریکیں کرتی ہیں اور انھی کو اسلام کا موقف سمجھنے کے لیے مطالعہ کرنا چاہیے۔اس کے نظریات پر بھی کام ہو سکتا ہے ۔اسی طرح مغربی فکر کے نقائص کی نشاندہی بھی تحقیق کا موضوع ہو سکتا ہے۔ اسی طرح تحریکات کا ہدف ریاست ہو یا معاشرہ ، یہ بھی تحقیق کا موضوع ہے ۔ اسی طرح ایک اہم موضوع اسلامی تحریکات کا فکری تقارب ہے ۔ یہ لفظ علامہ یوسف القرضاوی نے استعمال کیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں وحدت کا لفظ استعما ل نہیں کرتا اور نہ یہ کہتا ہوں کہ ساری دنیا کی اسلامی تحریکیں ایک ہو جائیں۔ یہ فطری و جغرافیائی لحاظ سے ناممکن ہے، لیکن فکری اعتبار سے یہ قریب تو ہو سکتی ہیں ۔ اس بات پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ اس فکری تقارب کا فقدان کیوں ہے اور اس کے اثرات کیا مرتب ہو رہے ہیں ۔

جناب آصف افتخار

جناب آصف افتخار (LUMSیونیورسٹی ، لاہور) کی گفتگو کا عنوان تھا ’’مغرب میں مطالعہ اسلام ، معاصر تناظر اور موضوعات ‘‘۔ انھوں نے کہا کہ:
میں نے آٹھ سال اس ماحول میں گزارے ہیں جس کو آپ مغرب کہتے ہیں اور بہت سے ان بڑے اساتذہ سے براہ راست پڑھنے کا موقع ملا جن کا ڈاکٹر سمیع اللہ فراز صاحب نے تذکرہ کیا اور شاید اسی لیے عمار ناصر صاحب نے مناسب سمجھا کہ میں اس موضوع پر گفتگو کروں ۔ عام طورپر ان موضوعات پر لوگ کتابی مطالعہ کی بنیاد پر بات کرتے ہیں۔ وہ بھی ٹھیک ہے، لیکن میں کیونکہ ایک عرصہ ان لوگوں کے درمیان رہا ہوں اور ان سے براہ راست پڑھنے اور گفتگو کرنے کا موقع ملا ہے، اس لیے میں اسی تناظر میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ بزنس کی زبان میں ایک ٹرم ہوتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو کتاب میں نہیں لکھا ہوتا، وہ بھی بڑا اہم ہوتاہے اور اس کو بھی شیئر کرنا ضروری ہے۔ کرنے کو تو کافی باتیں ہیں لیکن میں چند باتیں کروں گا۔ ایک تو مغرب کا تقسیمی مطالعہ کا طریقہ کار ہے۔ بنیادی باتیں سمیع اللہ فراز صاحب نے کردی ہیں، میں ان پر کچھ اضافے اور کچھ مؤدبانہ اختلافات کروں گا ۔دوسرا ان کا منہج تحقیق کیسے ہم سے مختلف ہے اور اس کے استعمال سے تحقیق میں کیسے جوہری فرق پیدا ہوتا ہے۔اور تیسری اور آخری بات، وہ چیزیں جو مجسم نہیں ہوتیں لیکن ان کا اثر ہوتا ہے ، جیسے تحقیق کے پیچھے جو روح ہے ، جو مقصد اور پلاننگ ہے ، وہ کیا ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کے درمیان رہنے اور تھوڑا سا فارمل مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مغربی فکر کوئی حجر واحد نہیں ہے جو ہر رخ اور ہر سمت سے ایک جیسا ہو، بلکہ اس کو ایک فکر کہنا بھی مناسب نہیں۔ یہ ایک مغالطہ ہے۔ بہت سے منتشر افکار ہیں جن میں اختلافات بھی ہیں اور تضادات بھی ہیں ۔ جو چیز ان کو ایک پلیٹ پر جمع کردیتی ہے، وہ تصورات ہیں جو حقیقی بھی ہوتے ہیں اور مصنوعی بھی اور محض تصورات ہی نہیں ہوتے، کچھ مفادات بھی ہوتے ہیں۔ اس مجموعے کے ظاہر کو ہم مغربی فکر کہہ دیتے ہیں۔یورپ بالکل ایک الگ دنیا ہے، اس کے اندر جرمن فکر بالکل الگ ہے، فرانسیسی فکر بالکل اور ہے، برطانیہ جس کو انگلش فلاسفی کہا جاتا ہے، وہ اور زاویہ سے چیزوں کو دیکھتی ہے۔ امریکہ میں خاص طور پر Pragmatism کے بعد جو دور آیا، اس کے اپنے Focal points ہیں ، ان میں کچھ مشترک عناصر بھی ہیں۔ میری یہ خوش نصیبی تھی کہ میں نے کینیڈا میں وقت گزارا۔ یہ ایک پل ہے یورپی اور امریکی فلسفے کے درمیان، اس پر انگلش افکار کا بڑا اثر ہے۔ افکار میں اسی لیے کہہ رہا ہوں اور دانستہ اس کے لیے صیغہ واحد استعمال نہیں کرنا چاہ رہا تاکہ وہاں کے تمام تر تنوع اور اختلافات سمیت ذہن میں تصور آئے کہ وہ ایک فکر نہیں ہے۔اس طرح کینیڈا میں آپ کو دونوں traditions کا بہت اچھا امتزاج مل جاتا ہے ۔ جن مشترک اقدار و مفادات پر وہ اکٹھے ہوتے ہیں، ان میں سے ایک قدر کہ جس کو وہ خود ایک قدر کہتے اور مانتے ہیں اور جس کے بارے میں ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ ہمارے ہاں نہیں ہے ، وہ Freedom of thought اور freedom of expression یعنی سوچ اور اظہار کی آزادی ہے ، جس کو وہ ایک انفرادی و امتیازی چیز سمجھتے ہیں اور جس پر جمع ہو جاتے ہیں۔
مغرب کی تقسیم ان کے ہاں تھوڑی سی مختلف ہے۔ وہ اس کو Hellenic culture اور Semitic Culture کہتے ہیں۔ یعنی یونانی اور رومی تہذیب سے جو چیزیں آئی ہیں، وہ مغرب ہیں اور prophetic cultureیعنی بنی اسماعیل و بنی اسرائیل سے جو چیزیں آئی ہیں، وہ مشرق ہیں۔اس اعتبار سے وہ جس چیز کو اپنا ورثہ legacyکہتے ہیں، وہ سوچ اور اظہار کی آزادی ہے۔
دوسری اہم بات ان کی وہ تقسیم ہے جو وہ ہمارے حوالے سے کرتے ہیں۔ ان کا اپنے بارے میں یہ زعم ہے اور ہمارا بھی ان کے بارے میں یہی خیال ہے کہ ان کے اصول تحقیق اور مناہج ہم سے بہتر ہیں، زیادہ دقت نظر سے تجزیاتی انداز میں وہ چیزوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ یہ بات تحقیق کے طلبہ کے ذہن میں رہنی چاہیے کہ ان کے ہاں اس بات کا کوئی ٹھوس تصور نہیں ہے کہ جو Traditionalist ہے، وہ Modernist نہیں ہوسکتا اور نہ صرف یہ تصور ٹھوس شکل میں نہیں ہے بلکہ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ ان کے ہاں خلط مبحث بھی بہت ہوتا ہے۔ جو سیاسی تقسیم ہوتی ہے جیسے کہ رینڈ رپورٹ کی تقسیم، اس کو علمی حلقوں میں رد کر دیا جاتا ہے، اس کو مضحکہ خیز سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً Extremistکا لفظ Academia میں نہیں بولا جاتا۔ جب آپ یونیورسٹیز میں جاتے ہیں تو تقسیم میں بہت زیادہ complexity پائی جاتی ہے ۔اس لیے صحافیانہ لٹریچر کو Academic literatureسے جدا رکھنا چاہیے ۔ان کے ہاں Typology مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ مثلاً کسی چیز میں ان کی دلچسپی ماہیئت و نوعیت یا اس کی ظاہری حالت کے اعتبار سے نہیں ہوگی ، بلکہ ان کی دلچسپی اپسٹمالوجی سے ہے کہ یہ بندہ سوچتا کیسے ہے ۔ مثلا مجھے وہ مجھے کہتے ہیں کہ آپ جینز پہنتے ہیں، لیکن آپ بڑے fundamentalist ہیں۔ گویا ان کی دلچسپی سوچ و فکر سے ہوتی ہے، ظاہری ہیئت سے نہیں۔ خاص طور پر جو چیز ان کے ہاں بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے، وہ ہے hermeneutics، چیزوں کو دیکھا کیسے جاتا ہے ، ان کی تعبیر و تشریح کیسے کی جاتی ہے۔ مثلاً تاج محل کو ایک آدمی دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ یہ محبت کی علامت ہے، اور دوسرا کہتا ہے کہ :
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
کس چیز نے ان کو ایک ہی شے کے بارے میں مختلف کر دیا ، یہ بات ان کے ہاں انتہائی اہم ہے۔ ان کے ہاں یہ بات اہم ہے کہ ان میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو ان تصورات کو آخری اور حتمی مانتے ہیں جو روایت میں موجود ہیں، اصول کے حوالے سے ہوں یا فتاویٰ کے حوالے سے۔ اور وہ ان کی Truth valueکو چیلنج کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر ہم اپنی اصطلاح میں بات کریں تو اس کا مطلب بنے گا کہ روایت میں موجود اجماع کو جو چیلنج نہیں کرتا، وہ ان کے ہاں Traditionalist ہے۔ اسی سے آپ Modernism کو سمجھ لیں۔ ان کے ہاں جو Academiaکے لوگ ہیں، وہ بڑی اچھی طرح جانتے ہیں کہ Modernism کا bent ان کے ہاں جدید پڑھے لکھے لوگوں کے ذریعے سے بہت کم درجے میں آیا ہے، یہ مدارس کے ان فضلاء کی کاوشوں سے زیادہ آیا ہے جن کو آپ عام اصطلاح میں Traditionalist کہہ دیں گے۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر فضل الرحمن شکاگو یونیورسٹی والے جن کے شاگردوں سے پڑھنے کا مجھے موقع ملا ، وہ اپنی methodology پر جس کو ڈبل ہرمنیوٹکس کہتے ہیں، بہت بات کرتے ہیں اور جب وہ اس منہج کی ابتدا کرتے ہیں تو شاہ ولی اللہ ؒ کی الفوز الکبیر سے کرتے ہیں ۔وہ Historical cotextualisation کے لیے شاہ عبد العزیز ؒ کے دار الحرب اور دار الکفر کے متعلق دیے جانے والے فتاویٰ کو استعمال کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے ان کے ہاں ابو الاعلیٰ مودودی ؒ اتنے ہی Modernistہیں جتنے کہ ڈاکٹر فضل الرحمن ہیں حالانکہ ان کے درمیان کئی حوالوں سے اختلافات رہے ہیں ۔ان کے ہاں یہ لوگ نیا اسلام لے کر آئے ہیں۔
تیسری اہم چیزان کا منہج تحقیق ہے، اس حوالے سے بھی ان کے ہاں مختلف طریقہ ہائے کار ہیں، کوئی ایک طریقہ نہیں ہے۔ کچھ چیزیں سائنسی طریقہ کار سے لی گئی ہیں، عمرانی علوم میں انہوں نے بہت کام کیا ، اس کو انہوں نے شامل کیا ہوا ہے ، یہ سروے وغیرہ ان کے ہاں کم تر سائنس ہے، کیوں کہ ان پر سوالات بہت زیادہ ہوتے ہیں کہ یہ سروے کیسے کیا، کن سے کیا، کس علاقے میں کیا وغیرہ ۔ ان کے ہاں جو منہج ہے، وہ مواد جمع کرنا ، اس کا آزادانہ تجزیہ کرنا، rethinking، پھر اسے باہر نکل کر دوبارہ out of the boxسوچنا ، یہ ان کا طریقہ ہے۔ اسی طریقے سے ان کے ہاں Modernism آیا ، پھر Post Modernismآیا۔ان کے اس منہج کا اثر ان لوگوں پر بھی ہوا جو مغرب میں جا کر پڑھتے ہیں اور پھر ان کے طریقہ کار سے اپنی چیزوں کو دیکھتے ہیں ، جیسے علی شریعتی، ڈاکٹر فضل الرحمن وغیرہ۔ان چیزوں نے ہمارے لوگوں کو بہت متاثر کیا اور اب مدارس کے وہ لوگ بھی اس کو استعمال کر رہے ہیں جو یونیورسٹیز میں ایم فل اور پی ایچ ڈی میں پڑھ رہے ہیں۔ وہ بھی اب انھی کی اصطلاحات بول رہے ہیں اور ان کے طریقہ کار کے مطابق چیزوں کی وضاحت کرنا چاہ رہے ہیں۔ اس میں کچھ خدشات بھی ہیں کہ اس Freethinking کو کس حد تک جانے دیا جائے اور اس کے کیا اثرات نکلیں گے ۔ کچھ اثرات نکل بھی رہے ہیں جیسے Feminismوغیرہ ۔ 
میں اپنے طالب علموں کو یہ بات کہا کرتا ہوں کہ میرے مشہور و معروف استاد ہیں وائل حلاق، انہوں نے ایک بات بالکل ٹھیک لکھی ہے کہ ایسے لوگوں کا اثر ابھی بھی مدارس کے علماء کے مقابلے میں مسلم دنیا میں بہت کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کی علمی credibilityاور ان کے طور طریقہ کی credibility مسلم معاشروں میں مدارس کے پرانے علماء کی علمی و عملی وثاقت کا مقابلہ نہیں کر سکی اور میرا ذاتی خیال ہے کہ کر بھی نہیں سکے گی۔صرف زبان اور فلسفہ کی کچھ رکاوٹیں ہیں ، وگرنہ واقعی یہ لوگ اس میدان میں ان علماء کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے ۔اگر کوئی بھی تبدیلی آئی ہے جس کی مغرب کے مسلم و غیر مسلم سکالرز بھی تعریف کرتے ہیں، وہ بھی مدارس کے اندر سے ہی آئی ہے۔ان کے نزدیک بھی مسلم معاشروں میں حقیقی Modernismمدارس کے علماء نے زیادہ create کیا ہے اور ان کی credibility بھی ان سے زیادہ ہے جو باہر سے آئے تھے۔
اس سارے علمی رعب کے حوالے سے آخری بات بہت اہم ہے۔ وہاں علم کا مقصد اور خاص طور پر دینی علوم کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ آپ کو خدا سے متعارف کروائے اور اس کے قریب کرے۔ وہاں علم طاقت کے لیے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ ان کا Bentہے ۔ ان کا مسئلہ حق نہیں ہے، ان کا مسئلہ Truthہے تاکہ ان کو طاقت حاصل ہو۔ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں علم کا مقصد خدا کا تقرب ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں برصغیر میں درس نظامی کے بانی ملا نظام الدین ؒ کے طلبہ پر یہ پابندی ہوتی تھی کہ وہ ہفتے میں پانچ گھنٹے شیخ عبد الرزاق بانسوی ؒ کے ساتھ گزاریں جو بالکل ان پڑھ آدمی تھے، جس طرح سید احمد ؒ پڑھ نہیں سکتے تھے ۔طلبہ کو ان کے پاس بیٹھانا تعلق باللہ کے لیے تھا۔ علم برائے طاقت کا اثر اب مغرب سے ہمارے ہاں بھی آ رہا ہے اور کئی وجوہات کی بنا پر ہمارے طالب علم کے لیے بھی پر کشش بن رہا ہے۔میں یہ کہا کرتا ہوں کہ ہمیں ان سے بہت کچھ لینا ہے ، منہج تحقیق وغیرہ ، کیونکہ الحکمۃ ضالۃ المؤمن۔لیکن مدرسہ میں اپنی فنون میں مہارت کی بنیاد اور تعلق باللہ والی بنیاد کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔یہ دونوں چیزیں ان کے ہاں نہیں پائی جاتیں اور یہی ہمارا سرمایہ ہیں ۔ 
اس کے بعد آصف افتخار صاحب کے ساتھ سوال و جواب کی بہت عمدہ نشست ہوئی جس میں مغرب کے حوالے سے بہت سے تفصیل طلب امور زیر بحث آئے اور بہت سی الجھنیں دور ہوئی ۔ 

مولانا سمیع اللہ سعدی

مولانا سمیع اللہ سعدی (سابق مدرس جامعہ فریدیہ ، اسلام آباد) نے ’’اسلامی علوم میں تحقیق کی اہم جہات اور اس کے ذرائع ‘‘ پر گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ:
میرے موضوع کے دو جز ہیں۔ ایک، علوم اسلامیہ میں تحقیق کی جہات اور دوسرا، اس کے ذرائع۔ ذرائع کو آپ لوازمات تحقیق بھی کہہ سکتے ہیں۔ پہلے میں ذرائع تحقیق ذکر کروں گا۔ 
اس حوالے سے پہلی چیز علوم اسلامیہ کے قدیم ذخیرہ کی اشاریہ سازی اور اس کی مفصل تاریخ کی ترتیب ہے۔ یہ معاجم کی شکل میں ہوں یا زمانی، موضوعاتی یا حروف تہجی کی ترتیب سے۔ اس کی ایک مثال ڈاکٹر مظہر یاسین صدیقی صاحب کی کتاب ’’ مصادرسیرت‘‘ ہے ۔ اس طرز پر قدیم ذخیرہ کی اشاریہ سازی یا معاجم تیار ہونے چاہییں۔ اسی طرح تاریخ میں ہر علم کا ارتقا بھی ہمارے پیش نظر ہو۔ دوسری چیز اس علم میں ہونے والے کام کی درجہ بندی ہے۔آج کے دور کا دور زوال ہونا ایک حقیقت ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسی دور میں امت نے بڑے بڑے عبقری علماء پیدا کیے ہیں، ان کے کام کی درجہ بندی ہونی چاہیے ۔ تیسری چیز مخطوطات کی اشاعت ہے۔ بیروت کے ایک محقق ڈاکٹر یوسف المراشلی نے اپنی کتاب ’’اصول البحث العلمی وتحقیق المخطوطات‘‘ میں لکھا ہے کہ اس وقت بھی یورپ اور امریکہ کی لائبریریوں میں ایک لاکھ سے زیادہ اسلامی مخطوطات اشاعت کے منتظر پڑے ہوئے ہیں ۔ ان کی یہ کتاب 2003ء میں شائع ہوئی ہے۔ انہوں نے ترکی کی سات لائبریریوں کے مخطوطات کی تعداد ستر ہزار لکھی ہے۔ 
چوتھی چیز لائبریریز کا قیام ہے ، اس سے معاشرے میں تحقیق کا ذہن بنتا ہے اور تحقیق پروان پاتی ہے۔ پانچویں بات تخصصات کا رواج ہے ۔ اس حوالے سے معاصر جامعات میں کام ہوا ہے، لیکن مدارس میں ابھی تک بہت گنجائش باقی ہے ۔ ہمارے حلقے میں ابھی تک جب تخصص کا لفظ آتا ہے تو اس سے مراد تخصص فی الافتاء مراد لیا جاتا ہے ۔ یہ ایک المیہ ہے، مختلف میادین میں تخصصات کا رواج ہونا چاہیے ۔ چھٹی چیز جو ضروری ہے، وہ نصاب کی تدوین نو ہے۔ ہمارے ہاں مدارس اور یونیورسٹیز میں پڑھایا جانے والا اسلامیات کا نصاب طلبہ میں علم کی بنیادی صلاحیت پیدا کرنے سے قاصر ہے اور بنیادی صلاحیت کے بغیر تحقیق ممکن نہیں، اس لیے نصاب کی تدوین نو بھی انتہائی ضروری ہے۔ ساتویں چیز قدیم ذخیرہ کی تسہیل اور کمپیوٹرائزیشن ہے۔ قدیم ذخیرہ کی جدید اشاعت کا کام بہت حد تک ہو چکا ہے لیکن معاصر زبان و بیان کے اعتبار سے اس کی تسہیلات بھی انتہائی ضروری ہیں۔
جہات کے ضمن میں پہلی چیز علوم اسلامیہ کی تطہیر و تنقیح ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہر علم میں بہت ساری ایسی چیزیں شامل ہو چکی ہیں جو اس علم کا حصہ نہیں ہیں۔ ان چیزوں سے علم کی تطہیر یا تنقیح کرنا اس علم سے حقیقی استفادے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔دوسری جہت علوم اسلامیہ کی تشکیل جدید، یعنی عصر حاضر کے اسلوب اور چیلنجز کے مطابق ان میں حک و اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دو علموں میں تجدید کی اشد ضرورت ہے۔ ایک علم الکلام، آج کے سوالات و حالات کے تناظر میں علم الکلام کی تجدید بہت ضروری ہے اور جب ہم اس حوالے سے اس کو دیکھیں گے تو علم الکلام ماضی سے بالکل مختلف شکل میں سامنے آئے گا ، کیوں کہ یہ ایک دفاعی علم ہے۔ جیسے سوالات ہوں گے، ویسے ہی اس کی صورت گری ہو جائے گی ۔دوسرا علم الفقہ ہے ۔اس میں جب ہم عصر حاضر کے حوالے سے غور و فکر کریں گے تو ہمیں امت کو آسانی بھی فراہم کرنی ہو گی اور اس کو اباحیت سے بھی بچانا ہو گا۔یہ ایک پل صراط ہے ، اور محقق کی ذمہ داری ہے کہ وہ تیسیر اور اباحیت کے درمیان رہتے ہوئے جدید مسائل کا حل تلاش کر کے امت کی صحیح راہنمائی کرے ۔تیسری جہت علوم اسلامیہ کا دفاع ہے ۔ اس پر گزشتہ دو تین صدیوں میں مستشرقین کے جوابات کے ضمن میں بہت کام ہوا ہے ، اس لیے یہ ایک پائمال موضوع ہے۔ چوتھی جہت اسلامی و مغربی علوم کا تقابلی مطالعہ ہے ۔ اسلامی اور مغربی علوم میں رد و قبول کا تعلق، تطبیق و ترجیح کا تعلق وغیرہ ، ان پر بات کرنے کی ضرورت ہے ۔پانچویں جہت اسلامی علوم کے مخفی گوشوں کی توضیح ہے ۔ ہر علم میں بہت سارے گوشے مخفی ہوتے ہیں جو مرور زمانے کے ساتھ بقدر ضرورت واضح ہوتے جاتے ہیں، ان گوشوں کو واضح کرنا بہت ضروری ہے ۔اس ضمن میں ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی صاحب کے کام کو دیکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشی زندگی، عرب کے پیشوں اور رسم و رواج پر بات کی ہے جس سے سیرت کے بہت سے پہلو واضح ہوئے ہیں جو پہلے واضح نہیں تھے۔ اسی طرح دیگر علوم میں بھی کئی گوشے ابھی تک مخفی ہیں، ان کی توضیح کی ضرورت ہے ۔

مولانا حافظ محمد بلال فاروقی

مولانا حافظ محمد بلال فاروقی (لیکچرار یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب، لاہور) نے ’’استعمار کے خلاف مزاحمت : امیر عبد القادر الجزائری بطور مثالی نمونہ‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ اٹھارویں صدی میں فرانس نے الجزائر پر مختلف وجوہات کی بنا پر حملہ کیااور وہاں اپنی حکومت قائم کی۔ اس وقت الجزائر کی کوئی باقاعدہ فوج نہیں تھی، اس لیے قبائل نے مزاحمت کی ابتدا کی۔ امیر عبد القادر الجزائری کے والد ایک قبیلے کے سربراہ تھے۔ مختلف قبائل مل کر ان کے پاس آئے او ران سے جہاد کی قیادت سنبھالنے کی درخواست کی ۔ کبر سنی کی وجہ سے انہوں نے خود تو قیادت کی ذمہ داری نہ لی، لیکن اپنے بیٹے امیر عبد القادر کو پیش کیا جن پر اتفاق ہوا اور قبائل نے فرانس کے خلاف گوریلا مزاحمت شروع کر دی۔ الجزائری نے فوج کو منظم کیا، اسلحہ سازی کے کارخانے لگائے اور وہاں کام کرنے کے لیے جرمنی، ہسپانیہ اور دیگر ممالک سے ماہرین بلوائے۔ فوج کے لیے قوانین مرتب کیے جو آج بھی طبع شدہ مل جاتے ہیں۔ یہ گوریلا جنگ تھی کیوں کہ ان کی فوج کا اور فرانس کی فوج کے تناسب میں بہت فرق تھا۔ یہ دشمن پر حملہ کرتے اور چھپ جاتے تھے۔ اسی وجہ سے جوابی حملوں سے حفاظت کے لیے الجزائری نے اپنے زیر نگیں قبائل کو ایک متحرک شہر کی صورت میں منظم کیا جو خیموں پر مشتمل ہوتا تھا اور مسلسل نقل مکانی کرتا رہتا تھا۔ انہوں نے دیگر ممالک سے معاہدات بھی کیے اور اپنے مختصر عرصہ جدوجہد میں خود کو فرانس سے الجزائر کے دو تہائی حصے کا حاکم تسلیم کروا لیا۔ اپنی جدوجہد کے لیے سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے اس وقت کی ہر قابل ذکر طاقت سے رابطہ کیا اور بات چیت کی۔انہوں نے ایک مجلس شوریٰ قائم کی جو حکومت کے ہر قسم کے معاملات کا فیصلہ کرتی تھی۔ عدلیہ کا محکمہ قائم کیا۔ تعلیمی نظام پر بہت زیادہ توجہ دی، مساجد کے ساتھ مکاتب قائم کیے، اپنے ملک میں دو بڑی یونیورسٹیز بنائیں اور اپنے تیس طلبہ کو وظائف دے کر فرانس میں بھیجا تاکہ وہ وہاں تعلیم حاصل کر سکیں اور پھر ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے۔
امیر عبد القادر نے انسانی کی جان کی اہمیت وحفاظت کو اپنے طرز جدوجہد میں بنیادی اہمیت دی۔ انہوں اپنے فوجیوں کی جان بچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ جب بھی موقع ملا، معاہدات کے ذریعے لڑائی روکنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنی فوج میں یہ اعلان کر رکھا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی فرانسیسی فوجی کو زندہ پکڑ کر لائے گا تو اس کو زیادہ انعام دیا جائے گا۔اسلامی جنگی اخلاقیات پر عمل کے اعتبار سے ان کا کردار بہت روشن ہے۔ جنگی قیدیوں کے بارے میں انہوں نے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ قیدی کو جس کے پاس رکھا جائے، اگر اس کی قیدی کوئی شکایت کرے گا تو اس کا روزینہ بھی بند کر دیا جائے گا اور اس کو ملنے والے انعاما ت بھی واپس لے لیے جائیں گے۔ان کے معاصر غیر مسلم افراد اور حکومتوں کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات تھے ۔ ان کی ریاست میں غیر مسلموں کو دوسرے درجے کا شہری نہیں سمجھا جاتا تھا، بلکہ امیر کے کئی سفیر غیر مسلم تھے ۔اسی طرح مذاکرات میں بھی وہ کسی نہ کسی غیر مسلم کو شریک رکھتے تھے ۔

حافظ محمد سلیمان اسدی

حافظ محمد سلیمان اسدی (لیکچرار، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ اسلامیہ کالج ، گوجرانوالہ) کی گفتگو کا عنوان ’’فقہائے احناف کے حدیث کے رد و قبول کے معیارات ‘‘ تھا۔ انھوں نے کہا کہ:
روایات کی تحقیق کے حوالے سے قرآن کریم کی تعلیمات بالکل واضح ہیں۔ اسی طرح احادیث میں بھی تحقیق روایت کے بارے میں واضح تعلیمات دی گئی ہیں، جیسے حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت علیؓ یمن سے اونٹ لینے گئے۔ جب واپس آئے تو گھر میں دیکھا کہ حضرت فاطمہؓ نے احرام کھولا ہوا ہے، جبکہ دوسرے افراد نے ابھی احرام نہیں کھولا تھا۔ حضرت علیؓ کو کچھ ناگواری محسوس ہوئی تو حضرت فاطمہؓ نے ان کو بتایا کہ میرے والد گرامی نے اسی طرح حکم دیا ہے۔ حضرت علیؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے توآپ نے حضرت فاطمہؓ کی بات کی توثیق کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی تردد پیش آتا تو صحابہ کرامؓ براہ راست حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تصدیق کر لیتے اور یہ بات ان کے لیے اطمینان کا باعث ہوتی اور تشفی ہو جاتی ۔اسی طرح حضرت ابو موسی ٰ اشعری ؒ ، حضرت عمرؓ کے بلانے پر ان کے گھر گئے اور اجازت نہ ملنے پر واپس آگئے تو حضرت عمرؓ نے اس بات کی ان سے دلیل بھی مانگی اور اس دلیل کے بارے میں گواہ بھی مانگے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد دو علاقے صحابہ کرامؓ کے علمی مراکز تھے، مدینہ منورہ اور عراق میں کوفہ۔ مستقبل میں انھ دو مراکز سے مسلمانوں کی علمی راہنمائی ہوتی رہی۔ اسی سے فقہاء کے دو گروہ بنے ، اہل حجاز اور اہل عراق۔ اہل عراق کو بعد میں فقہائے احناف کا نام دیا گیا ۔ان کے احادیث کو رد و قبول کرنے کے معیارات میں سے ایک معیار یہ تھا کہ وہ روایت نقل کرنے والے صحابہ کرامؓ کے درجات کا خیال رکھتے تھے، یعنی صحابہ کرامؓ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طول صحبت، یا کبر سنی یا فہم فراست اور رتبے میں بلندی کو ملحوظ رکھتے تھے اور درجہ صحابیت میں اعلیٰ فرد کی روایات کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ قابل اعتماد سمجھتے تھے۔

مولانا محمد عمار خان ناصر

مولانا محمد عمار خان ناصر (ڈپٹی ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی ، گوجرانوالہ) نے ’’فکری وتہذیبی سوالات اور اسلامی تحقیق کا باہمی ربط ‘‘ کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا:
جامعات میں جب تحقیق ہوتی ہے تو دو طرح کے رجحانات کے درمیان کشمکش ہوتی ہے۔ ایک رجحان یہ ہوتا ہے کہ تحقیق کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جائے جو ہماری رویات اور تراث سے متعلق ہوں۔ کسی کتاب پر، کسی علمی شخصیت پر یا کسی علم و فن کے کسی پہلو پر تحقیق کی جائے۔ جبکہ اسلامیات کے علاوہ یونیورسٹی کے دیگر شعبہ جات کے افراد کا خیال یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسا موضوع لیا جائے جو عصر جدید سے متعلق ہو ، موجودہ دور کا کوئی مسئلہ ہو جس کا حل تلاش کیا جائے، آج کے کسی سوال کا جواب ہو ۔ کوئی ایسا موضوع ہو جس کا موجودہ زمانے میں معاشرے کو کوئی فائدہ ہو۔ ان دونوں رجحانات کے ملاپ اور امتزاج سے ہی ایسی تحقیق وجود میں آ سکتی ہے جس کا ہماری روایت کے ساتھ بھی تعلق ہو اور موجودہ دور کے سوالات کا جواب بھی دے سکتی ہو۔
مختصر وقت میں کچھ ایسے عنوانات ذکر کروں گا جن سے ایک نمونہ ہمارے سامنے آئے گا کہ کیسے ہم اپنے روایتی ذخیرے سے بھی ایسے موضوعات نکال سکتے ہیں جن کا مطالعہ ہمیں اپنی روایت کی گہرائیوں کو سمجھنے اور ان تک رسائی میں بھی مدد دے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے آج کے فکری تناظر کے ساتھ بھی متعلق ہو ۔ ایسے ہی موضوعات کو تدریجی طور پر رواج دینے کی ضرورت ہے ۔
آج ہم جس ماحول میں، جس دنیا میں کھڑے ہیں، ظاہر بات ہے کہ وہ آج سے ڈیڑھ، دو سو سال کے ماحول سے مختلف ہے۔ آج کی سیاسی صورتحال بھی مختلف ہے، تہذیبی صورت حال بھی مختلف ہے۔ آج کے دور کے علمی و عقلی سوالات بھی ان سوالات سے مختلف ہیں جو آج سے دو سو سال پہلے لوگوں کے سامنے تھے۔مسلمان معاشروں کی اندرونی توڑ پھوڑ کی جو صورتحال آج ہے، وہ دو سو سال پہلے نہیں تھی ۔اس طرح ہر دور اپنے تناظر بھی بدلتا ہے، حالات بھی بدلتا ہے اور اسی کی مناسبت سے موضوعات کی نوعیت و اہمیت بھی بدلتی ہے ۔ جو عنوانات میں ذکر کرنے والا ہوں، ان میں سے کچھ عنوانات ہم نے گفٹ یونیورسٹی میں طلبہ کو دیے بھی ہیں اور کچھ میرے ذہن میں ہیں۔ ان کو ذکر کرنے کا مقصد اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ ہماری روایت کے جو نظری اور کتابی قسم کے موضوعات ہیں، ان کی بھی بڑی اہمیت ہے اور ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ایسے موضوعات کو بھی پوری اہمیت دینی چاہیے جن میں دونوں پہلو شامل ہوں۔ روایت کا مطالعہ بھی ہو اور معاصر تناظر کے سوالات بھی ان میں شامل ہوں۔
ابھی ہمارے دو دوستوں نے اپنے مقالات کا خلاصہ پیش کیا ہے، ان میں آپ یہ دونوں پہلو دیکھ سکتے ہیں۔ روایات کے رد و قبول کے حنفی معیارات، یہ بالکل ایک روایتی سا موضوع ہے جس میں اب بھی تحقیق کی کافی گنجائش ہے۔ امیر عبد القادر الجزائری والا موضوع دوسرے دائرے کی چیز ہے۔ اس میں تاریخ کا مطالعہ بھی ہے اور اس سے آج کے دور کی جدوجہد میں کچھ اہم چیزیں ہم سیکھ سکتے ہیں۔ 
ایک عنوان ہم نے ایک طالب علم کو دیا ہے، تکفیر کے مسئلہ میں امام غزالی ؒ کا نقطہ نظر۔ اس سوال سے بہت ابتدا میں مسلمان اہل علم کو سابقہ پیش آ گیا تھا کہ اسلام کے دائرے میں میں مختلف ایسے افراد اور گروہ بھی شامل ہو رہے ہیں جو دنیا کی بعض دوسری فکری اور مذہبی روایتوں کے زیر اثر خالص اسلامی عقائد ونظریات کے حامل نہیں، بلکہ ان سے منحرف ہیں۔ سوال یہ تھا کہ ہم کس مقام پر یہ فیصلہ کر یں گے کہ یہ فرد یا گروہ اسلام کے دائرے کے اندر نہیں رہا اور اب یہ اسلام کے دائرے سے باہر چلا گیا ہے۔ امام غزالی ؒ تقریباً پانچ سو سال کی علمی روایت کے وارث ہوئے اور انہوں نے ایک رسالے میں اس بحث کا مفصل محاکمہ پیش کیا ہے۔ یوں اس مطالعے میں تکفیر کے حوالے سے روایتی ذخیرے کی بھی تفہیم ہوگی اور آج مسلمان معاشروں کو بھی درپیش اسی سوال پر غور کرنے کی مختلف جہتیں سامنے آئیں گی۔
تکثیری معاشرہ آج کی ایک مقبول اصطلاح ہے، یعنی ایسا معاشرہ جس میں مختلف اور متنوع ثقافتیں اور تہذیبیں رہ رہے ہوں، ان سب کو قبولیت بھی حاصل ہو اور ان سب کے لیے مواقع بھی یکساں موجود ہوں۔ ابتدائی اسلامی تاریخ میں جب فتوحات کا زمانہ آیا اور اسلامی سلطنت پھیلی تو صحابہ کرامؓ کو بھی اسی طرح کے معاشروں سے واسطہ پیش آیا تھا۔ اب اگر اس دور کی تاریخ کا اس زاویے سے مطالعہ کیا جائے تو اس سے یہ راہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے کہ آج کے تکثیری معاشرے کے چیلنجز کا ہم کس طرح سامنا کریں۔
اسی طرح سیرت نبوی سے متعلق ہمارے مصادر ومآخذ میں مدنی دور کا مطالعہ زیادہ وسعت و گہرائی سے کیا جاتا ہے، اس کا زیادہ مواد ملتا ہے، جبکہ مکی دور کا مطالعہ اس طرح وسعت کے ساتھ نہیں کیا جا تا، حالانکہ اس کی بھی بڑی اہمیت ہے، خود مطالعہ سیرت کے حوالے سے بھی اور اس پہلو سے بھی کہ آج مسلمانوں کو مختلف علاقوں میں کئی طرح کے حالات کا سامنا ہے اور ان میں سے بعض حالات میں مکی دور کا اسوہ زیادہ راہنمائی دیتا ہے۔ اس پر ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی صاحب نے کچھ کام کیا بھی ہے اور ایک اچھی کتاب لکھی ہے، لیکن اب بھی کئی پہلو ایسے ہیں جن پر تحقیق کی ضرورت ہے۔
امام ذہبیؒ کی ایک کتاب ہے ’’سیر اعلام النبلاء‘‘، یہ بظاہر رجال و تذکرہ کی کتاب ہے، لیکن اس میں خوبی یہ ہے کہ انہوں نے کلامی تقسیمات سے اٹھ کر تمام مسالک و گروہوں کی شخصیات کا ذکر کیا ہے اور جس شخصیت کا علم و فضل کے لحاظ سے جو حق بنتا ہے، اس کا بھی اعتراف کیا ہے۔ اس کے ، ساتھ ساتھ مسلمانوں کے آپس کے اختلافات کے حوالے سے بھی بہت اہم چیزیں بیان کی ہیں، تاریخی واقعات کے انداز میں بھی اور اپنے تبصروں کی صورت میں بھی ۔ہمارے ایک طالب علم اس پر کام کر رہے ہیں کہ ہم اس پورے مواد کا مطالعہ کریں اور اس سے یہ سمجھیں کہ ہر طرح کے اختلاف کے باوجود اسلامی معاشرے میں تنوع، قبولیت اور رواداری کی کیا روایت رہی ہے۔
اسلامی تہذیب کی دوسری تہذیبوں سے اخذ و استفادہ کی کیا نوعیت رہی ہے، اس میں رد و قبول اور اخذ و استفادہ کے کیا معیارات مقرر کیے گئے، کس طرح کی چیزیں لے کر ان کو اپنے نظام میں ڈھالا گیا، اور کس طرح کی چیزیں قبول نہیں کی گئیں، اس موضوع کا بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ روایت و تاریخ کا مطالعہ بھی ہو گا اور آج ہمیں پھر اسی صورتحال کا سامنا ہے۔ ہمیں دوسرے نظام ہائے فکر اور تہذیبوں سے واسطہ ہے، اس میں بھی راہنمائی ملے گی۔
ایک اور موضوع بھی بہت اہم ہے اور میں اس میں خاصی دلچسپی محسوس کرتا ہوں، وہ یہ کہ حنفی فقہی فکر آج کئی حوالوں سے از سر نو مطالعہ کا موضوع بن رہی ہے۔ مثال کے طور پر اس حوالے سے اس کا مطالعہ بہت اہم ہو گا کہ امام ابو حنیفہ ؒ اور ان کے تلامذہ اپنے دور میں جو تہذیبی تبدیلی دیکھ رہے تھے،اس کو انھوں نے اپنے نظام فکر میں کیسے جگہ دی۔ ان کے ہاں جو اصول ان کے نظام فکر پر اثر انداز ہوئے، وہ سارے نظری قسم کے نہیں تھے۔ وہ معاشرتی تبدیلیوں کو ، بدلتے ہوئے حالات و ضروریات کو دیکھ رہے تھے اور نئے نئے معاشرے جو اپنا اپنا پس منظر لے کر اسلام میں آ رہے تھے، ان پر اسلامی قانون کے نفاذ میں جو پیچیدگیاں تھیں، اس کا بھی بہت گہرا ادراک ان کے ہاں ملتا ہے۔ اس حوالے سے اگر ان کے اجتہادات کا دوبارہ مطالعہ کریں تو عصر حاضر کے اعتبار سے ہمیں بڑی روشنی اور راہنمائی ملے گی۔ 
ایک موضوع یہ ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ میں سیاسی و حکومتی معاہدات اور ان کے تہذیبی اثرات کا جائزہ لیا جائے۔ اسلامی تہذیب ایک اخلاقی تصور رکھتی تھی جس میں معاہدات کی پاسداری بڑی اہم اخلاقی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔ اسلامی سلطنت کے پھیلنے میں ان اخلاقی اصولوں کا بڑا غیر معمولی اثر ہے۔ ہمارے دور عروج میں دنیا میں عمومی تاثر یہ تھا کہ مسلمان جب معاہدہ کرتے ہیں تو اس کی پاسداری کرتے ہیں۔ اس پہلو کا بھی تاریخی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
ایک دلچسپ عنوان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تاتاری جب اسلامی ممالک پر حملہ آور ہوئے اور آخر کار انہوں نے اسلام قبول کر لیااور اسلام کے سپاہی بن گئے تو یہ transformation کیسے ہوئی؟ وہ کیا عوامل تھے اور مسلمانوں نے کیا حکمت عملی اپنائی کہ اسلام کو مٹانے والے، اسلام کا حصہ بن گئے۔

ڈاکٹر عبد اللہ صالح صاحب

ڈاکٹر عبد اللہ صالح صاحب ( ایسوسی ایٹ پروفیسر، شیخ زاید اسلامک سنٹر ، جامعہ پنجاب ، لاہور) نے ’’علو م اسلامیہ میں تحقیق: چیلنجز اور امکانات ‘‘ کے عنوان پر گفتگو کی۔ انھوں نے کہا:
مجھے یہاں آ کر سب سے پہلے تو اس بات کی خوشی ہے کہ کوئی ایسا فورم، کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو علوم اسلامیہ کے بارے میں سو چ بچار اور غورو فکر کرتے ہیں، مسائل پر گفتگو کرتے ہیں اور ان کا حل تلاش کرتے ہیں ۔یہ فورم اور ایسے لوگ آج کے دور میں غنیمت ہیں۔جہاں تک علوم اسلامیہ میں تحقیق ہے، اس حوالے سے نہ ہی کوئی خوش فہمی ہے کہ ہم کسی آئیڈیل پوزیشن پر کھڑے ہیں اور نہ ہی کوئی مایوسی کی بات ہے کہ ہم سر پکڑ کر بیٹھ جائیں کہ ہمارے ادارے اور محققین کوئی تحقیقی کام نہیں کر رہے۔علوم اسلامیہ میں اگر سو مقالات لکھے جاتے ہیں ان میں سے پانچ بھی اگر کام کے نکل آئیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا سفر جاری ہے اور ہم جمود کا شکار نہیں ہیں۔پاکستان میں ہندوستان سے مختلف اسکالرز اور علماء آتے رہتے ہیں۔ میں جہاں بھی موقع ملے، ان سے یہ سوال ضرور پوچھتا ہوں کہ ہمارے ہاں اور آپ کے ہاں ہونے والی تحقیق میں کیا فرق ہے؟یہ سوال میں نے علامہ نور الحسن راشد کاندھلوی، ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی اور ڈاکٹر ابو سفیان اصلاحی صاحب سے کیا جو پچھلے دنوں تشریف لائے ہوئے تھی اور الحمد للہ انہوں نے پاکستان کے حوالے سے مایوسی کا اظہار نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بات بجا ہے کہ ہمارے ہاں کوئی سیاسی مسائل نہیں ہیں، لیکن پاکستان میں بھی تحقیقی کام ہو رہا ہے ، ادارے بھی کر رہے ہیں اور افراد بھی۔یہی علماء اکثر اوقات پی ایچ ڈی کے مقالات کے ممتحن بھی ہوتے ہیں اور بہت سے مقالات کے بارے میں ان کی رائے ہوتی ہے کہ یہ معیاری ہیں، اس لیے ان کو شائع کیا جائے ۔اس سے ایک گونہ اطمینان ہوتا ہے کہ ہم بالکل اندھیرے میں نہیں بیٹھے، کچھ نہ کچھ کام ہو رہا ہے اور ہم آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
تحقیق کے ضمن میں ایک اچھی پیش رفت پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز کا قیام بھی ہے۔ پہلے صرف پبلک سیکٹر یونیورسٹیز اعلیٰ تحقیق کرواتی تھیں اور اس میں داخلہ بہت کم لوگوں کو ملا کرتا تھا۔ اب پرائیویٹ یونیورسٹیز کی وجہ سے طلبہ کے لیے اعلیٰ تحقیق کے زیادہ مواقع ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ ٹھیک ہے کہ طلبہ کی اکثر تعداد ان مفادات کے حصول کے لیے آتی ہے جو ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری کی وجہ سے حاصل ہوتے ہیں، لیکن بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جو محض علمی پیاس بجھانے اور پڑھنے کے لیے آتے ہیں۔ان پرائیویٹ یونیورسٹیز میں پیسہ کمانے کے لیے پیدا ہونے والا ایک رجحان کوئی اچھا اور مثالی رجحان نہیں ہے۔ اب یہ یونیورسٹیز طلبہ کو یہ آپشن بھی دیتی ہیں کہ وہ مقالہ لکھنے کی بجائے اگر اضافہ کورس پڑھ لیں تو ان کو ڈگری جاری کر دی جائے گی۔ علوم اسلامیہ میں تحقیق کے حوالے سے یہ کوئی اچھا رجحان نہیں ہے ۔ایم فل کی ڈگری ریسرچ اور تحقیق کی ڈگری ہے، اس لیے اس میں طالب علم کے لیے مقالہ لکھنا لازمی ہونا چاہیے۔
یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم کے لیے آنے والے دو قسم کے طلبہ ہوتے ہیں۔ ایک درس نظامی پڑھے ہوئے مدارس کے فضلاء اور دوسرے عام عصری اداروں کے ذریعے ایم اے کی ڈگری کے حاملین ۔ ان میں مدارس کے فضلاء کو بنیادی ماخذسے براہ راست استفادے کی صلاحیت کے پیش نظر سبقت حاصل ہوتی ہے اور یہی اس نظام کے اصل شناور ہیں، لیکن ان کو عصری علوم اور معاصر زبانوں سے تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ 
جامعات میں ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ تحقیق کے لیے موضوعات کون دے۔ جامعات میں کوشش یہ ہوتی ہے کہ موضوع طالب علم خود دے، کیوں کہ وہی تحقیق مؤثر ہوتی ہے جو طالب علم کے اندر سے نکلے اور وہ خود اس کا انتخاب کرے۔ لیکن اکثر طلبہ ایسا نہیں کرسکتے، اس کی مختلف وجوہات ہیں ۔ ایک وجہ تو ہمارے ادارے ہیں کہ انہوں نے کوئی ترجیحات متعین نہیں کی ہوتی قومی یا بین الاقوامی طور پر کہ جس پر ہمیں تحقیق کرنے کی اور راہنمائی کی ضرورت ہے ۔ اس وجہ سے موضوع تلاش کرنا پڑتا ہے اور ظاہری طور پر موضوعات کی کمی کا سامنا نظر آتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کام کرنے والوں کے لیے موضوعات کی کمی نہیں ہوتی۔ یہ موضوعات کا قحط وہیں نظر آتا ہے جہاں استاد و طالب علم میں مطالعہ کی کمی اور نقص ہوتا ہے ۔اب کتنے ایسے اساتذہ ہیں جو اچھے مقالات لکھتے ہیں، اچھی کتابیں لکھتے ہیں اور مختلف میدانوں میں اپنے مطالعہ کو وسعت دینے کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ بہت سے موضوعات جامعات میں اس لیے بھی نہیں دیے جاتے کہ اس موضوع پر تحقیق کروانے والے اساتذہ ہی نہیں ملتے، اس لیے دانستہ ایسا موضوع طالب علم کو نہیں دیا جاتا۔
ایک سوال تحقیق کی نوعیت کا ہے۔ ہماری زیادہ تر تحقیق کتابی قسم کی ہو رہی ہے جو لائبریریوں میں ہی پڑی رہ جاتی ہے۔ تحقیق ایسی ہونی چاہیے جو معاشرے، قومی و بین الاقوامی مسائل اور متحرک زندگی کے ساتھ تعلق بھی رکھتی ہو۔ جامعات میں دینی مدارس کے جو فضلاء آ رہے ہیں، وہ بنیادی مہارتوں کے اعتبار سے تو بہت اچھے ہوتے ہیں لیکن ان کی تقریباً ساری توجہ عبارتی موشگافیوں اور عبارت کی ترکیب وغیرہ کی طرف ہوتی ہے۔ مثلاً اگر ان کو ہدایہ کی کوئی عبارت دی جائے تو وہ اس کی ترکیب تو بہت اچھی کر دیں گے، لیکن اگر ان سے یہ پوچھا جائے کہ اس عبارت میں جو لکھا ہے، اس کے بارے میں دیگر علماء کا کیا موقف ہے، امام شافعی ؒ ، امام مالک ؒ وغیرہ کا تو وہ کچھ نہیں بتا پاتے، حتیٰ کہ جس کتاب کو انہوں نے بالاستیعاب پڑھا اور سمجھا ہوتا ہے، بسا اوقات وہ اس کے مصنف کا نام اور اس کے حالات سے بھی ناواقف ہوتے ہیں۔ یہ میرا تقریباً پندرہ سال کا تجربہ ہے۔ دینی اداروں کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اس کمی کو ختم کیا جاسکے۔اسی طرح ان کا نصوص کا مطالعہ تو بہت اچھا ہوتا ہے، لیکن حالات حاضرہ سے اکثر اوقات وہ بالکل نابلد ہوتے ہیں۔ اگر ان سے پوچھ لیا جائے کہ اس وقت فلسطین کا یا عراق کا کیا مسئلہ ہے تو وہ نہیں بتا سکتے۔
ایک پہلو یہ بھی ہے کہ علوم اسلامیہ کے حوالے سے تو ان کی صورتحال کسی حد تک قابل اطمینان ہوتی ہے، لیکن دیگر علوم مثلاً سوشل سائنسز کے حوالے سے وہ کچھ نہیں جانتے ہوتے۔ اس بات کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ علوم اسلامیہ کو سیاسیات کے نئے رجحانات، اقتصادیات کے نئے پہلوؤں اور اسی طرح دیگر معاشرتی علوم کے ساتھ Interlinkکیا جائے ۔ اسی لیے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ درسیات یا کتابی علوم سے متعلق ہی ان کو کام دیا جائے ۔ اگر مدارس کے فضلاء ان چیزوں پر کچھ توجہ مرکوز کر لیں تو ان کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ ہمارا ماضی اس بات پر گواہ ہے اور ابھی بھی مدارس کے فضلاء جو ان باتوں کا خیال رکھتے ہیں، ان کی تحقیق میں جو گہرائی ہوتی ہے، وہ مروجہ جامعات کے فاضلین کی تحقیق سے کئی حوالوں سے زیادہ ہوتی ہے۔
ہمارے ملک میں ایسے ادارے کی اشد ضرورت ہے جو مستقبل کے حالات و امکانات کے حوالے سے ملک میں ہونے والی تحقیق کی سمت متعین کر ے۔ ایچ ای سی نے کچھ اصول تو دیے ہیں لیکن اس کے ساتھ کچھ ایسے اقداما ت بھی کیے ہیں جس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تحقیق کا معیار بلند ہونے کی بجائے مزید گر گیا ہے ۔ اس چیز کی بھی ضرورت ہے کہ ملک میں یونیورسٹیز کے اندر اصول تحقیق اور معیار تحقیق میں یکسانیت ہو۔ اس وقت ہر یونیورسٹی کا اپنا اپنا معیار اور اصول تحقیق ہیں، اسی وجہ سے تکرار تو عام ہو گیا ہے حالانکہ اب ITکے شعبہ میں ترقی کی وجہ سے وسائل بھی آ گئے ہیں کہ کسی موضوع پر دیکھا جائے کہ آیا کسی یونیورسٹی نے اس پر پہلے کام تو نہیں کروا دیا، لیکن عام طور پر اس بات کا اہتمام نہیں کیا جاتا اور اگر کیا بھی جاتا ہے تو بہت سرسری سا ہوتا ہے۔یہ چند معروضات ہیں جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا زاہد الراشدی

مولانا زاہد الراشدی (ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ) نے اختتامی کلمات میں کہا کہ:
میں آپ سب حضرات کا اور بالخصوص ڈاکٹر عبد اللہ صالح صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ تشریف لائے اور اچھے موضوعات پر اچھی محفل دو دن جمتی رہی۔ میں اس بات پر بھی اطمینا ن کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ الشریعہ اکادمی کا جن عزائم اور جن مقاصد کے تحت ہم نے آغاز کیا تھا، الحمد للہ مجھے وہ مقاصد اب پورے ہوتے نظر آ رہے ہیں اور یہ نظم اصل ٹریک پر چڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے الحمد للہ۔ میرے ذہن میں ایک خواب تھا جو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے پورا فرما رہے ہیں۔ اس کے ساتھ میں حصہ ڈالنے کے لیے ایک بات عرض کرنا چاہوں گا ۔ ڈاکٹر صاحب نے جن چیزوں کا ذکر کیا ہے، ان میں سے اکثر خدشات میرے ذہن میں بھی ہیں۔ موجودہ صورتحال کے حوالے سے ایک بات میں بھی کہنا چاہتا ہوں۔
پچھلے دنوں وزارت مذہبی امور نے ایک قومی علماء ومشائخ کونسل بنائی جس کا میں بھی ممبر ہوں۔ اس کونسل نے ایک قومی نصاب کمیٹی برائے دینی مدارس تشکیل دی ہے جس کی دو تین میٹنگز ہو چکی ہیں۔ میں نے ایک میٹنگ میں سوال کیاکہ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم قومی سطح پر تعلیم کی عمومی صورتحال کا جائزہ لے کے ایک رپورٹ پیش کر دیں کہ اس وقت ملک میں تعلیم کی کیا صورتحال ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں، ہم نے صرف یہ دیکھنا ہے کہ دینی مدارس کے نصاب سے فرقہ وارانہ مواد کیسے خارج کرنا ہے۔ آپ اپنے کام سے کام رکھیں اور اس پر فوکس کریں۔ یہ ضمناً ایک بات ہے۔
میں تحقیق کے نتائج کے حوالے سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تحقیق کر چکنے کے بعداس کے نتائج کو پیش کرتے ہوئے ماحول کا لحاظ کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ معاشرے پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ بخاری کی روایت ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا۔ آپ نے حضرت عائشہؓ کو ایک روز بتایا کہ مجھے پتہ چل گیا ہے، فرشتوں نے بتایا ہے کہ مجھ پر جادو ہوا ہے، فلاں چیز پر کیا گیا ہے اور فلاں نے کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تحقیق کی، وہ کنواں بھی مل گیا جہاں جادو کیا گیا تھا، وہ چیز بھی برآمد ہو گئی اور جس نے کیا تھا، اس کا بھی پتہ چل گیا ۔آج کی اصطلاح میں یہ کہیں کہ کیس بھی ثابت ہو گیا اور آلہ واردات بھی مل گیا۔ اس سب کچھ کے بعد حضرت عائشہؓ نے فرمایا: ھلا نشرتہ؟ یارسول اللہ ! مسجد میں جا کر اعلان فرمائیں، آپ نے اعلان کیوں نہیں کیا ؟ یہ بات دو چار بندوں تک ہی محدود کیوں ہے ؟آپ نے جواب دیا کہ اللہ نے مجھے بتا دیا ہے اور میرا مسئلہ حل ہو گیا ہے، اب میں لوگوں میں شر کیوں پیدا کروں؟
اس واقعے سے میں اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ تحقیق کرنا تو ٹھیک ہے، لیکن کیا ہر تحقیق کا نشر کرنا بھی ضروری ہے؟ یا اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے، مثبت ہوں گے یا منفی ؟ میرے خیال میں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
ایک بات میں ڈاکٹر صاحب کی تائید میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ہاں ہر ادارہ ایڈ ہاک ازم پر چل رہا ہے، جامعات بھی، ادارے بھی ، اور افراد بھی ۔ ہمیں چاہیے کہ قومی پالیسی طے کریں، تقسیم کار کریں اور سمت طے کریں ۔ جو کام ہو رہا ہے، اگر یہی کام پلاننگ کے تحت ہو تو اس کی افادیت دو گنا نہیں بلکہ کئی گنا بڑھ جائے گی ۔ 
ورکشاپ کے اختتام پر مقررین کو اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ او رالشریعہ اکادمی کی طرف سے شیلڈز دی گئی اور شرکاء کو شرکت کی اسناد پیش کی گئیں ۔
آئی آر ڈی کے احباب (محمد اسماعیل صاحب، محمد فرقان اور محمد یونس قاسمی) کے ساتھ الشریعہ اکادمی کی ٹیم (مولانا محمد عثمان، حافظ محمد رشید، مولانا محمد طبیب، مولانا محمد عبد اللہ راتھر، مولانا عبد الوہاب، حافظ شفقت اللہ) نے مل جل کر اس دو روزہ ورکشاپ کے انتظامات کیے اور بحمد اللہ حسن وخوبی سے دو دنوں میں تین نشستوں کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔

مجلس یادگار شیخ الاسلام کے زیر اہتمام مولانا سندھیؒ پر سیمینار

گزشتہ نومبر کے دوران میں لاہور کی قدیمی دینی درسگاہ جامعہ مدنیہ ، کریم پارک میں "مجلس یادگار شیخ الاسلام " کے زیر اہتمام مولانا عبید اللہ سندھی کی شخصیت اور افکار کے حوالے سے ایک سیمینار منعقد کیاگیا۔ عشاء کی نماز کے بعد سیمینار کا تلاوت قرآن کریم سے باقاعدہ آغاز ہوا ۔ 
پہلا مقالہ پروفیسر امجد علی شاکر کا تھا۔ انہوں نے "مولانا عبید اللہ سندھی بطور صوفی " کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا اور قبول اسلام کے بعد ان کی مختلف بزرگوں اور مختلف خانقاہوں کے ساتھ وابستگی کو تفصیل سے بیان کیا ۔ ان کے مقالے کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ حضرت سندھی نے علم حاصل کرنے سے پہلے تصوف کے مراحل طے کیے۔ انہوں نے حضرت سندھی کا ایک واقعہ سنایا کہ کیسے انہوں نے دہلی کا ایک سفر بغیر زاد راہ کے کیا اور کیسے اللہ تعالیٰ نے دوران سفر ان کی دستگیری فرمائی۔ انہوں نے اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت سندھی اپنی ذاتی زندگی میں تیسرے گروہ کے صحابہ کرام کے مزاج کے حامل تھے جو اس بات کے قائل تھے کہ اگلے دن کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں، اس لیے سونے سے پہلے تمام مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے تھے۔ (پروگرام کے بعد ہماری اس حوالے سے گفتگو ہوئی تو ایک دوست نے کہا کہ یہ واقعہ حضرت سندھی کی مجموعی فکر سے میل نہیں کھاتا۔ کیونکہ حضرت سندھی اپنے نصائح میں متعلقین کو نہ صرف معاشی ذرائع اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہیں بلکہ معاشی طور پر تفوق کے حصول کے داعی ہیں اور اس کو اس زمانے میں اسلام کی سر بلندی کا ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔) بہر حال مجموعی طورپر انہوں نے حضرت سندھی کے سفر تصوف و علم کو بہت عمدگی سے بیان کیا۔ 
دوسرا خطاب استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی کا تھا ۔ استاد گرامی نے فرمایا کہ ہمارے ہاں یہ عمومی مزاج بنتا جا رہا ہے کہ اکابر میں سے کسی بزرگ کے بارے میں بات کرتے ہیں تو وہ گفتگو چند باتوں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ کوئی بھی بڑا شخص جب مسائل پر اظہار خیال کرتا ہے یا ان کے لیے عملی کوشش کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ دو چار باتیں ایسی ضرور ہوتی ہیں جن میں انفرادیت ہوتی ہے اور وہ عام روٹین اور روایت سے ہٹ کر ہوتی ہیں۔ ایسی باتیں ناقدین کے ہاں تو موضوع بحث بنتی ہی ہیں مگر ہم نوا حلقے بھی انہی کے دفاع میں مصروف ہو جاتے ہیں اور پھر اس شخصیت کے بارے میں سارا تذکرہ انہی باتوں کے گرد گھومتا رہتا ہے جس سے شخصیت کے مثبت ارشادات و اعمال نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ ایسے طرز عمل سے بہت سی بڑی شخصیات اعتراضات و جوابات کے گرد ہی گھوم کر رہ جاتی ہیں۔ چنانچہ ہمیں اپنے بزرگوں سے صحیح استفادہ کے لیے اس نفسیات اور مزاج کے ماحول سے نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اکابر کی زندگیوں کے ان پہلوؤں کو سامنے لانا چاہیے جن کا تعلق امت کی اجتماعی راہنمائی سے ہے اور جن سے نئی نسل کو اس کی تربیت و اصلاح کے لیے آگاہ کرنا زیادہ ضروری ہے۔ 
اس کے بعد استاد گرامی نے حضرت سندھی کے حوالے سے تحقیقی کام کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کیا۔ (ان کی گفتگو کا خلاصہ ’الشریعہ‘ کے گزشتہ شمارے میں شائع کیا جا چکا ہے)۔ آخر میں کہا کہ آج کے علماء کرام اور دانش وروں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ تہذیبوں کے تصادم اور ثقافتوں کے اس ٹکراؤ کو سمجھنے کی کوشش کریں، آج کے عصر کا ادراک حاصل کریں، اور اس سولائزیشن وار میں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں امت مسلمہ بلکہ نوع انسانی کی راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیں جس کے لیے ولی اللہی فکر و فلسفہ کی روشنی آج بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ میرے نزدیک آج کی نسل کے لیے مولانا عبید اللہ سندھی کا پیغام یہی ہے۔ 
استاد گرامی کے خطاب کے بعدسینیٹر حافظ حمداللہ کا خطاب تھا، لیکن بعض وجوہ کی بنا پر اس میں شرکت نہ ہو سکی۔ ان کے بعد قاری تنویر احمد شریفی صاحب نے گفتگو کی، لیکن وقت کی قلت کے باعث انہوں نے انڈیا سے مولانا ارشد مدنی صاحب کا بیان پڑھ کر سنانے پر اکتفا کی۔
ان کے بعد شیخ ابوبکر صاحب نے گفتگو کی اور مولانا سندھی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بطریق احسن نمایاں کیا اور اس بات پر زور دیا کہ حضرت سندھی کے اصل افکار ان کے وطن واپسی کے بعد کے ہیں، اس لیے ان کو زیادہ اہمیت کے ساتھ بحث و تحقیق کا موضوع ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں جس عبید اللہ سندھی کو پڑھ کر شعوری طور پر مسلمان ہوا ہوں، وہ ہجرت کے بعد کے عبید اللہ سندھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید دور میں جو اشکالات پیدا ہو رہے ہیں، ان کے جوابات اور تسلی بخش جوابات تلاش کرنے کے لیے ہمیں حضرت سندھی کو پڑھنا پڑے گا۔ انہوں نے آج سے 75 سال پہلے جن خیالات کا اظہار کیا تھا، وہ آج بھی اسی طرح تازہ ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے عصر حاضر کا کوئی دانش ور اپنے دور کی الجھی ہوئی گتھیاں سلجھا رہا ہے۔ اس کی ایک مثال ان کے وہ نصائح ہیں جو انہوں نے مولانا عبید اللہ انور کو ان کے دورہ حدیث کے سال کی تھیں ۔
جس سال مولانا عبید اللہ سندھی وطن پہنچے، وہ سال مولانا عبید اللہ انور کا دورہ حدیث کا سال تھا۔ مولانا عبید اللہ انور ان سے ملنے گئے تو انہوں نے جو نصائح فرمائے، ان میں سے چند کچھ اس طرح ہیں: فرمایا کہ تمہیں چاہیے کہ حضرت مدنی سے لطیفہ قلبی سیکھو، یعنی ذکر اللہ سیکھو۔ اس کے ساتھ انگریزی زبان سیکھو اور اسے سیکھنے میں ڈائریکٹ میتھڈ استعمال کرو۔ جب تم کوئی کام کرنے لگو تو اس کو عقل و خرد کے ترازو میں تولو، اور جب کسی کام کا فیصلہ کر لو تو اس وقت تک ڈٹے رہو جب تک تمہیں اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ اب تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہ جو تم نے گھروندے بنا رکھے ہیں، وہ نہیں بچیں گے ، یعنی زمانے کی رفتار کا ساتھ نہیں دے سکیں گے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔
ان کے خطاب کے بعد وقت کی کمی کی وجہ سے مولانا عبد الوحید اشرفی کو ان کے اصرار پر ایک منٹ کے لیے گفتگو کا وقت دیا گیا جس میں انہوں نے حضرت سندھی پر ہونے والے اعتراضات کے صحیح تناظر کو واضح کرنے کی کوشش کی ، لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے وہ اپنی بات مکمل نہ کر سکے۔ 
آخر میں ڈاکٹر اویس شاہد صاحب، جو کہ صدر مجلس بھی تھے، کی دعا پر سیمینار کا اختتام ہوا۔ 
مولانا عبید اللہ سندھی پر سیمینار کا انعقاد ایسا مبارک کام ہے کہ ساری کمزوریوں کے باوجود یہ کاوش انتہائی مستحسن ہے۔ اس سیمینار کو مولانا عبید اللہ سندھی اور ان کی فکر کی طرف توجہ کا آغاز کہا جا سکتا ہے جس کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے، لیکن عصر حاضر میں سیمینار کے عنوان سے منعقد کیے جانے والے پروگرامات کے کچھ لوازمات ہیں جو ایسے پروگرامات کو بارآور کرنے میں انتہائی معاون ہوتے ہیں ، مثلاً عام جلسے اور سیمینار میں فرق ہونا چاہیے۔ سیمینار میں شرکاء کی زیادہ تعدا دنہ بھی شریک ہو تو کوئی مضائقہ نہیں، تعداد کی بجائے معیار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سیمینار میں سوال و جواب کی نشست بات کی درست تفہیم کے لیے انتہائی ضروری ہے، اس کے بغیر اس کا کما حقہ فائدہ وصول نہیں کیا جا سکتا۔ سیمینار کا ایک اور لوازمہ غیر رسمی نشستیں ہوتی ہیں جس میں شرکاء ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں اور زیر بحث موضوع پر بے لاگ تبصرے اور خیالات کا اظہار کرتے ہیں جس سے موضوع کے پوشیدہ پہلو بھی سامنے آجاتے ہیں اور مستقبل میں اس حوالے سے کام کی راہیں واضح ہوتی ہیں۔ سیمینار میں صدر مجلس کی ذمہ داری محض بیٹھ کر سننا ہی نہیں ہوتا بلکہ مقررین کی گفتگو کے کمزور پہلوؤں کی نشاندہی اور مضبوط پہلوؤں کی تحسین بھی ان کے فرائض میں شامل ہوتا ہے تاکہ اگر کسی بات سے سامعین میں کوئی غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو اس کو دور کیا جا سکے اور مقصود پر توجہ مرکوز رکھنے کی تاکید کی جا سکے۔ وقت کی پابندی آج کل کے پروگرامات کا خاصہ سمجھی جاتی ہے، اس کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔
بہر حال حضرت سندھی کے حوالے سے اس سیمینار کے انعقاد پر مجلس یاد گار شیخ الاسلام پاکستان کے ذمہ داران ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔ دعا ہے کہ اس موضوع پر یہ سیمینار بارش کے پہلے قطرے کی حیثیت حاصل کر لے اور حضرت سندھی کی فکر کے فروغ کا سبب بنے۔

فرزند جھنگویؒ اور جمعیۃ علماء اسلام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا مسرور نواز جھنگوی کی الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی اور اس کے بعد جمعیۃ علماء اسلام میں شمولیت کا اعلان دونوں اچھی اور حوصلہ افزا خبریں ہیں جن پر دینی حلقوں میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور جھنگ کی صورتحال میں اس تبدیلی کا خیرمقدم کیاجا رہا ہے۔ ہمارے جذبات بھی اس حوالہ سے یہی ہیں اور ہم اپنے عزیز محترم مولانا مسرور نواز کو مبارک باد دیتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ 
موصوف کے ساتھ کوئی ملاقات تو یاد نہیں ہے مگر ان کے والد محترم حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کے ساتھ ایک عرصہ تک ملاقاتیں اور دینی جدوجہد میں رفاقت رہی ہے۔ ہم دونوں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سرگرم حضرات میں سے تھے اور مختلف مراحل میں باہمی مشاورت اور رفاقت کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات کے بعد جمعیۃ علماء اسلام درخواستی گروپ اور فضل الرحمن گروپ میں تقسیم ہوئی تو ہم دونوں بھی اس تقسیم کا شکار ہوئے۔ میں درخواستی گروپ کا فعال کردار تھا اور وہ فضل الرحمن گروپ میں متحرک تھے۔ دونوں ورکر تھے اور سیاسی بیانات کے علاوہ پبلک اجتماعات کے خطابات دونوں کا میدان کارزار تھا اس لیے آپس میں نوک جھونک بھی چلتی رہتی تھی۔ لیکن باہمی ملاقاتیں، مشاورت اور مختلف معاملات میں تعاون کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔ 
مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ نے جھنگ کی وڈیرہ سیاست کے خلاف محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ اہل سنت کے عقائد و مفادات کے تحفظ کا مورچہ سنبھالا تو ان کے موقف سے اصولی اتفاق رکھتے ہوئے بوقت ضرورت ان کو سپورٹ کرنے کی سعادت مجھے بھی حاصل ہوتی رہی۔ البتہ ان کے طریق کار سے خود کو کبھی متفق نہیں پا سکا اور اس کے اظہار میں بھی کبھی مجھے حجاب نہیں رہا۔ ان کے ساتھ میں نے بارہا اس سلسلہ میں گفتگو کی حتیٰ کہ ان کی شہادت کے روز اس سانحہ سے ایک گھنٹہ قبل بھی فون پر ان سے اسی حوالہ سے میری گفتگو ہوئی تھی جو ان کے ساتھ میری آخری گفتگو ثابت ہوئی۔ وہ سپاہ صحابہؓ کے نام سے نئی تنظیم قائم کرتے ہوئے بھی جمعیۃ علماء اسلام فضل الرحمن گروپ کے صوبائی نائب امیر تھے لیکن دھیرے دھیرے وہ جمعیۃ علماء اسلام میں غیر متحرک ہوتے ہوئے اپنی قائم کردہ تنظیم کے لیے ہی وقف ہو کر رہ گئے۔ انہوں نے دفاع صحابہؓ کے لیے ملک بھر کے ہزاروں نوجوانوں کو اپنے ذوق کے مطابق منظم کیا، پرجوش اور متحرک کیا، جذبہ و قربانی کی ایک نئی تاریخ رقم کی اور پھر اسی مشن کے لیے اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کر دیا۔ 
مولانا جھنگویؒ کی شہادت کے بعد کیا ہوا اور کیا ہوتا رہا، میں اس مرحلہ میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ میں نے یہ ساری تمہید اس لیے باندھی ہے کہ ان کے فرزند مولانا مسرور نواز جھنگوی نے جمعیۃ علماء اسلام میں شمولیت کا اعلان کیا ہے تو کوئی نئی بات نہیں کی بلکہ اپنے پرانے گھر میں ہی واپسی کی ہے۔ جبکہ جمعیۃ کے امیر مولانا فضل الرحمن نے بھی اپنے بھتیجے کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ کر بڑے پن کا ثبوت دیا ہے۔ 
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا اصل میدان ملک میں نفاذ اسلام ہے۔ البتہ ایک دور میں جمعیۃ مسلکی معاملات بالخصوص سنی شیعہ کشمکش سے اس قدر لاتعلق نہیں ہوتی تھی جتنی اس وقت بظاہر دکھائی دے رہی ہے۔ بلکہ ان امور میں متعلقہ حلقوں کو سپورٹ کرنے کے ساتھ ساتھ جمعیۃ کا اپنا بھی ایک موقف اور کردار ہوتا تھا اور وہ مسلکی محاذ کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے حلقوں کے درمیان کوآرڈی نیشن اور سرپرستی کا فریضہ سرانجام دیا کرتی تھی۔ یہ پہلو جوں جوں دھیما پڑتا گیا مسلکی مسائل پر محنت کرنے والی جماعتیں خودمختار اور آزاد ہوتی چلی گئیں جس سے مسلکی حلقوں میں باہمی عدم تعاون بلکہ خلفشار کا ماحول پیدا ہوگیا۔ میرے خیال میں آج بھی اگر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان اجتماعی دینی و ملی معاملات کے حوالہ سے تمام مذہبی مکاتب فکر کے درمیان جبکہ مسلکی مسائل کے حوالہ سے متعلقہ جماعتوں کے درمیان حقیقی اور عملی کوارڈینیٹر کا کردار سنبھال لے تو ملک بھر کے دینی حلقوں میں دن بدن بڑھتے چلے جانے والے خلفشار کی سنگینی کو کم کیا جا سکتا ہے۔ 
اہل سنت کے حقوق و مفادات اور صحابہ کرامؓ کی عظمت و مقام کے تحفظ کا محاذ ان میں سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے، اس لیے کہ اس دائرہ میں مستقبل کے خدشات و خطرات کی فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے اور مشرق وسطیٰ کے وسعت پذیر تغیرات پاکستان کی صورتحال پر براہ راست اثر انداز ہوتے دکھائی دینے لگے ہیں۔ میرے خیال میں یہ محاذ پہلے بھی جوش و خروش سے زیادہ حکمت و تدبر کا متقاضی تھا اور اب تو اس میں کوئی مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے حکمت و تدبر اور دانش و حوصلہ ہی واحد ذریعہ اور آپشن باقی رہ گیا ہے۔ اس پس منظر میں مولانا مسرور نواز جھنگوی کی اپنے پرانے گھر میں واپسی خوش آئند ہے اور یہ بات مزید خوش کن ہے کہ اس سارے عمل کو مولانا محمد احمد لدھیانوی کی سرپرستی حاصل ہے۔ 
ملک بھر میں مختلف دینی محاذوں پر کام کرنے والے دیوبندی علماء کرام اور کارکن اصل میں جمعیۃ علماء اسلام ہی کا اثاثہ ہیں جنہیں اپنا حقیقی اور قیمتی اثاثہ سمجھنے کے ساتھ ساتھ دو طرفہ اعتماد اور تعلقات کار بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ یہ ضروری ہے کہ حضرت مولانا فضل الرحمن اور حضرت مولانا سمیع الحق مل بیٹھ کر اس کا راستہ نکالیں۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان اگلے سال اپریل کے دوران صد سالہ تقریبات کا انعقاد کرنے جا رہی ہے، اگر اس سے قبل اس سلسلہ میں کوئی مشترکہ حکمت عملی اور روڈ میپ طے کیا جا سکے تو نہ صرف تقریبات کا لطف دوبالا ہو جائے گا بلکہ علماء اور کارکنوں کو بہت حوصلہ ملے گا۔ اس سے بین الاقوامی اور ملکی سطح پر دین اور دینی حلقوں کے خلاف مصروف عمل سیکولر قوتوں کو مؤثر پیغام جائے گا اور علماء حق کا یہ قافلہ نئے عزم اور حوصلہ کے ساتھ اگلی صدی کے سفر کا آغاز کر سکے گا۔ 
دلی دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمارے عزیز بھتیجے مولانا مسرور نواز جھنگوی کو اس کارِ خیر کا نقطۂ آغاز بنا دیں اور اہل حق کو آج کے تقاضوں اور ضروریات کے ادراک کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

مولانا مسرور نواز کی کامیابی کے متوقع مثبت اثرات

محمد عمار خان ناصر

(جھنگ کی صوبائی نشست پر مولانا مسرور نواز کی کامیابی کے حوالے سے سوشل میڈیا کے لیے لکھی گئی مختصر تحریر) 
سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ یہ کامیابی ایک بہت بڑے حلقے کو، جو صحیح یا غلط وجوہ سے گزشتہ تین دہائیوں سے حکومتی وسیاسی پالیسیوں سے نالاں تھا اور بڑی حد تک مین اسٹریم کی مذہبی جدوجہد سے کٹ چکا تھا، دوبارہ اس میں واپس لانے اور جمہوری طرز جدوجہد پر اس کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حکومت نے بھی یقیناًایسے عناصر کو اکاموڈیٹ کرنے کی پالیسی اپنائی ہے جو ہر لحاظ سے درست اور دانش مندانہ ہے۔ ناراض عناصر کو مین اسٹریم میں واپس لانا اور انھیں سیاسی space دینا، نہ کہ انھیں دور سے دور تر کرتے چلے جانا، ہی مدبرانہ سیاسی حکمت عملی ہے۔ انتہا پسندانہ رجحانات کو اعتدال پر لانے کا واقعاتی دنیا میں یہی ایک طریقہ ہے۔
دوسری بات یہ کہ اس کامیابی پر پورے دیوبندی حلقے میں بحیثیت مجموعی خوشی محسوس کی گئی ہے اور اس تقسیم کو، جو سپاہ صحابہ کے ظہور کے بعد جمعیت علماء اسلام اور سپاہ صحابہ کے مابین پیدا ہوئی اور رفتہ رفتہ شدید منافرت تک جا پہنچی، کم کرنے میں بھی یقیناًمدد ملی ہے اور مزید مل سکتی ہے۔ جمعیت کا رویہ اور طرز فکر پہلے بھی روادارانہ رہا ہے اور اس کامیابی میں جمعیت کی تائید کا بھی حصہ ہے۔ اس لیے توقع کی جانی چاہیے کہ باہمی منافرت کی فضا میں مزید کمی آئے گی اور ترجیحات کے اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور مشترکہ امور میں تعاون کی فضا دوبارہ قائم ہو سکے گی۔
بعض اطلاعات کے مطابق اس کامیابی میں جھنگ کے بعض شیعہ ووٹرز نے بھی مولانا مسرور نواز کی تائید کی ہے، اس بنیاد پر کہ ان کا تعلق کسی جاگیردار خاندان سے نہیں، بلکہ عوامی طبقات سے ہے۔ یہ بھی ایک بہت اہم پہلو ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اگر سپاہ صحابہ جھنگ میں خود کو ایک حقیقی عوامی جماعت کی حیثیت سے منظم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو نہ صرف سیاسی لحاظ سے بلکہ شیعہ اور سنی کی مذہبی تفریق کو کم کرنے کے لحاظ سے بھی اس کے دور رس اثرات ہوں گے۔

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام اسوۂ حسنہ سیمینار

حافظ محمد شفقت اللہ

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ۷دسمبر ۲۰۱۶ء کو اسوۂ حسنہ کے عنوان سے ایک سیمینارمنعقد کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹرعبدالماجد حمید المشرقی صاحب نے فرمائی۔ خصوصی خطاب کے لئے فاضل نوجوان مولانا شاہ نواز فاروقی صاحب مدعو کیے گئے۔سیمینار کا آغازاستاذ القراء قاری سعید احمد صاحب کی تلاوت سے ہوا ۔بعد ازاں الشریعہ اکادمی کے طالب علم عبدالرحمن نے نعت رسول مقبولؐ پیش کی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے رہنما جناب احمد حسین زید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں برے نتائج سے بچنے کے لئے زندگی کے تمام شعبوں میں تمام معاملات کواسوۂ حسنہ کے مطابق چلانا ہوگا۔انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کوڈاکٹر عبد السلام کے نام سے منسوب کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ جو شخص امریکہ میں بیٹھ کر کہتا ہے کہ میں ایک ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پسند نہیں کرتا، ایسے شخص کو اعزاز سے نوازنا افسوس ناک ہے۔
راقم الحروف (حافظ شفقت اللہ) نے چند معروضات پیش کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی و کامرانی تعلیماتِ نبویؐ، اسوۂ حسنہ سے ہی وابستہ ہے۔ اسوۂ حسنہ سے ہٹ کر اگر کوئی کسی دوسرے راستے کا انتخاب کرے گا تو وہ گمراہی کی پاتال میں جا گرے گا۔
مولانا شاہ نواز فاروقی صاحب نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بنیادی طور پر دو پہلو ہیں: (۱)کمالاتِ نبوی اور (۲)تعلیماتِ نبوی۔ کمالات آپ کی خصوصیات کہلائے اور تعلیمات آپؐ کا اسوۂ کہلائے۔ 
آپ ؐ کے کمالات کے بارے میں علامہ انور شاہ کشمیری ؒ اپنی زندگی کی آخری کتاب خاتم النبیین میں لکھتے ہیں کہ جس طرح روشنی کے تمام مراتب کی سورج پر انتہا ہے، ایسے ہی کمالات کے بھی تمام مراتب کی آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر انتہا ہے۔ آپ کی ذات کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ آپ کی نبوت وجوداً اول ہے، ظہوراً آخر ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وجود میں تقدیم باعثِ افضلیت ہے اور ظہور میں تاخیرباعث افضلیت ہے۔
مولانا فاروقی نے کہا کہ سیرت النبیؐ کے دوسرے پہلو کی چار خصوصیات ہیں:
(۱) آپؐ کی تعلیمات کامل و مکمل محفوظ ہیں۔ جوفیضانِ نبوت آپ کے در سے چلا، اس کو اصحابِ پیغمبرؓ نے اور جو گھر سے چلا، اس کو ازواجِ پیغمبر نے امت تک منتقل کرکے عظیم احسان کیا ہے۔
(۲) آپ کی تعلیمات جامع ہیں جو زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود کوئی متجددایسا کوئی مسئلہ نہیں پیش کر سکا جس کا حل چودہ سو سال پہلے آپؐ نے اپنی تعلیمات میں نہ پیش کیا ہو۔
(۳) اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی تعلیمات کو کاملیت عطا فرمائی۔ نبی کی تعلیمات کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو مخفی ہو حتیٰ کہ آپؐ نے ازدواجی زندگی کا نازک ترین مرحلہ بھی امت سے مخفی نہیں رکھا ۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ کوئی نبی کا نام لیواخفا کی وجہ سے کشکولِ گدائی لے کر غیر کے دروازے پر نہ چلا جائے۔
(۴) آپ کی تعلیمات کو عملیت بھی عطا فرمائی۔ آپ کی شریعت میں قول ہی نہیں فعل بھی ہے، قال ہی نہیں حال بھی ہے،علم ہی نہیں عمل بھی ہے،تھیوری ہی نہیں پریکٹیکل بھی ہے۔
ہماری عملی زندگی کا تعلق کمالاتِ نبوی سے نہیں تعلیماتِ نبوی سے ہے۔ تعلیماتِ نبوی ہی کو علماء نے اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر عبدالماجد حمید المشرقی صاحب نے صدارتی کلمات کہتے ہوئے سامعین کی فرمائش پر اپنی انگریزی میں کہی ہوئی نعت: if you want to go to Madeena, let us go to Madeena اردو ترجمے کے ساتھ سماعتوں کی نذر کی۔ دوسری نعت (اب میری نگاہوں کا خوب یہ قرینہ ہے،بس اس طرف یہ اٹھتی ہیں جس طرف مدینہ ہے) کے دوران ڈاکٹر صاحب کے فی البدیہہ اشعار نے سامعین کو مزید محظوظ کیا۔
حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے دعائیہ کلمات کے ساتھ اس تقریب کا اختتام ہوا۔