دسمبر ۲۰۱۷ء

رشتہ نکاح میں عورت کا اختیار اور معاشرتی رویےمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۷)ڈاکٹر محی الدین غازی 
دور جدید کا حدیثی ذخیرہ ۔ ایک تعارفی جائزہ (۵)مولانا سمیع اللہ سعدی 
تعبیر قانون کے چند اہم مباحثڈاکٹر محمد مشتاق احمد 
مسئلہ ختم نبوت: حالیہ بحران کے چند اہم پہلومولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
جنوبی ایشیا کے دینی مدارس، عالمی تناظر میںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
سرسید اور ان کے روایت پسند مخالفینمحمد ابوبکر 
ظلماتِ وقت میں علم و آگہی کے چراغ (۱)پروفیسر غلام رسول عدیم 
دینی مدارس میں عصری تعلیم کے تجربات و نتائجمولانا حافظ عبد الغنی محمدی 

رشتہ نکاح میں عورت کا اختیار اور معاشرتی رویے

محمد عمار خان ناصر

اسلامی تصور معاشرت کی رو سے نکاح ایسا رشتہ ہے جو مرد اور عورت کی آزادانہ مرضی اور فیصلے سے قائم ہوتا ہے اور اس کے قائم رہنے کا جواز اور افادیت اسی وقت تک ہے جب تک دونوں فریق قلبی انشراح اور خوش دلی کے ساتھ اس کوقائم رکھنے پر راضی ہوں۔ کسی وجہ سے ناچاقی پیدا ہونے کی صورت میں قرآن مجید نے ہدایت کی ہے کہ دونوں خاندانوں کے ذمہ دار حضرات مل کر معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں اور موافقت کے امکانات تلاش کریں۔ (النساء، آیت ۳۵) تاہم اگر یہ واضح ہو جائے کہ رشتہ نکاح سے متعلق حدود اللہ کو قائم رکھنا میاں بیوی کے لیے ممکن نہیں تو قرآن نے ہدایت کی ہے کہ ایسی صورت میں اگر طلاق لینے کے لیے بیوی کو شوہر کے کیے ہوئے مالی اخراجات کی تلافی کے لیے کچھ رقم بھی دینی پڑے تو اس میں کوئی مضایقہ نہیں۔ (البقرۃ، آیت ۲۲۹) دوسری جگہ قرآن نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر علیحدگی کے فیصلے میں ہی بہتری نظر آ رہی ہو تو فریقین کو مستقبل کے متعلق بے جا خدشات میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی وسعت اور حکمت سے دونوں کے لیے مناسب بندوبست کر دے گا۔ (النساء ، آیت ۱۳۰)
قرآن کی ان تعلیمات کی روشنی میں ہمارے ہاں کئی طرح کے معاشرتی رویے اصلاح کے متقاضی ہیں۔سب سے پہلے تو رشتے کے انتخاب میں خاتون کی پسند اور مرضی کو بنیادی اہمیت دینے کو ابھی تک ہمارے ہاں معاشرتی قدر کی حیثیت حاصل نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے عموماً جاگیردارانہ سماج کے بنائے ہوئے رویے اور روایات مستحکم ہیں۔ پھر اگر رشتہ نکاح میں کوئی رخنہ پیدا ہوجائے اور میاں بیوی کے لیے نباہ کرنا مشکل ہوجائے تو بھی ایک انسانی مسئلے کے طور پر دیکھتے ہوئے فریقین کو خوش اسلوبی سے علیحدگی کا موقع دینے کے بجائے دونوں خاندانوں کا پورا زور اور دباو اس پر مرکوز ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہونے دیا جائے۔ خاص طور پر اگر رشتہ خاندان اور برادری کے اندر قائم ہوا ہو تو دونوں خاندانوں کے باہمی تعلقات کے جڑنے یا ٹوٹنے کو اس ایک رشتے کے ساتھ نتھی کر دیا جاتا ہے۔ تیسرے نمبر پر اگر خاتون علیحدگی کے بعد واپس ماں باپ یا بھائیوں کے گھر آ جائے تو اسے ایک غیر ضروری پر گلے پڑ جانے والی ذمہ داری تصور کیا جاتا اور اسی کے مطابق مطلقہ کے ساتھ برتاو اختیار کیا جاتا ہے۔
یہ تینوں رویے دینی واخلاقی لحاظ سے غلط اور قابل اصلاح ہیں۔
خاتون کی رضامندی کے بغیر اس کا نکاح کرنے کے متعلق ہم جانتے ہیں کہ ایسا نکاح اگر جبراً کیا جائے تو وہ قانوناً منعقد ہی نہیں ہوتا یا عورت کی درخواست پر عدالت اسے فی الفور کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ عموماً اس ضمن میں والدین معاشرتی دباو سے کام لیتے ہوئے بچیوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کے فیصلے کو ان کا حق سمجھتے ہوئے قبول کر لیں، ورنہ ان کی طرف سے معمول کے تعلقات اور حسن معاشرت کی امید نہ رکھیں۔ یہ دباؤ عموماً موثر ثابت ہوتا ہے اور بے شمار خواتین اپنی زندگی کے ایک نہایت بنیادی حق سے اس دباؤ کے تحت دست بردار ہو جاتی ہیں۔
اسی رویے کا اظہار نکاح کے بعد علیحدگی کے امکان کے حوالے سے بھی کیا جاتا ہے اور خواتین کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کے لیے کسی بھی طرح کی جائز یا ناجائز صورت حال سے سمجھوتا کیے اور کسی بھی طرح کی زیادتی یا نا انصافی کو قبول کیے بغیر کوئی چارہ نہیں، اور یہ کہ علیحدگی کی صورت میں خود خاتون کا خاندان اس فیصلے میں اس کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا۔
قرآن مجید نے اہل خاندان کے اس رویے کو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کے منافی قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر ایک دفعہ طلاق ہو جانے کے بعد میاں بیوی دوبارہ گھر بسانے پر باہم رضامند ہوں تو عورت کے اہل خانہ کو اس میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ (البقرۃ، آیت ۲۳۲) ظاہر ہے کہ اس اخلاقی اصول کا اطلاق خاتون کی طرف سے علیحدگی کے فیصلے پر بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ اصلاح وسازگاری کی بساط بھر کوششوں کے باوجود اگر خاتون رشتے کو قائم نہ رکھنا چاہتی ہو تو خاندان کی طرف سے اس پر بے جا دباو ڈالا جانا ایک غیر اخلاقی اور غیر شرعی رویہ ہے۔
مطلقہ خواتین کے ضروری اخراجات کو بوجھ اور اپنی ذمہ داری کے دائرے سے خارج تصور کرنا بھی اسلام کی اخلاقی تعلیمات کی رو سے ایک ناروا انداز فکر ہے۔ سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ اے سراقہ، کیا میں تمھیں سب سے افضل صدقہ کے متعلق نہ بتاوں؟ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ، ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا کہ تمھاری وہ بیٹی جو (شوہر کی وفات یا طلاق کے بعد) واپس تمھارے پاس آ جائے اور تمھارے علاوہ اس کا کوئی کمانے والا نہ ہو۔ (ابن ماجہ، حدیث ۳۶۹۰)
اس ضمن میں صحیح اخلاقی رویے کی عکاسی درج ذیل دومثالوں سے ہوتی ہے:
چند سال قبل ایک دوست نے اپنی ہمشیرہ کے متعلق مشورہ طلب کیا جو اپنے سسرال میں ناروا سلوک کا شکار تھی، لیکن تمام تر مشقت اور تذلیل اس لیے گوارا کر رہی تھی کہ والدین کے وفات پا جانے کے بعد اسے دوبارہ بھائیوں پر بوجھ نہ بننا پڑے۔ دوست نے کہا کہ ہمشیرہ کی طرف سے علیحدگی کی خواہش یا مطالبہ ظاہر نہیں کیا گیا، لیکن صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کی وجہ صرف یہ خوف ہے، سو ایسی صورت میں انھیں کیا کرنا چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کو ایک بھائی کی حیثیت سے انھیں مکمل اخلاقی حمایت دینی چاہیے اور یہ اعتماد دلانا چاہیے کہ اگر ان کے لیے اپنی عزت نفس اور عرفی حقوق کے ساتھ اس رشتے کو قائم رکھنا ممکن نہیں تو اس فیصلے میں آپ پوری طرح ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔انھوں نے ایسا ہی کیا اور مجھے یقین ہے کہ یہ فیصلہ ان کے اور ان کی ہمشیرہ کے لیے کہیں بہتر ثابت ہوا ہوگا۔
میں اپنے جوار میں ایک کنبے کو جانتا ہوں جس کے سربراہ کے، نشے کا عادی ہونے کی وجہ سے کھانے کمانے کی ساری ذمہ داری گھر کی خواتین پر ہے۔ ماں اور اس کی جوان بیٹیاں سارا دن لوگوں کے گھروں کا کام کاج کر کے اپنی ضروریات کا بندوبست کرتی ہیں۔ ایک بیٹی شادی کے بعد شدید علالت کا شکاراور اپنے ماں باپ ہی کے گھر میں زیر علاج ہے۔ اس کا شوہر تقاضا کرتا ہے کہ وہ واپس آ کر اس کے ساتھ رہے اور گھریلو ذمہ داریاں سنبھالے، لیکن یہ غریب خواتین اسے واپس نہیں بھیج رہیں کہ ان کی بچی کو خود دیکھ بھال اور تیمار داری کی ضرورت ہے جو اسے شوہر کے گھر میں میسر نہیں ہوگی۔
یہ دونوں مثالیں اسلام کی اخلاقی تعلیمات کا درست نمونہ ہیں اور معاشرے کی دینی واخلاقی تربیت کے ذمہ دار طبقوں کو اس طرح کے اچھے نمونے لوگوں کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

تاریخ اور روایت کی معروضی تعبیر 

تاریخ کا مطالعہ اور تعبیر معروضی نہیں ہو سکتی، یہ ایک پیش پا افتادہ حقیقت ہے۔ یہی بات روایت کے مطالعہ کے بارے میں درست ہے، کیونکہ وہ بھی تاریخ ہی کی ایک جہت ہے۔ ہم تاریخ کا مطالعہ اپنے حال کو ایک تناظر دینے اور اپنے موجودہ مواقف کو جواز فراہم کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ، ول ڈیوراں کے بقول، تاریخ سے ہر نقطہ خیال کے حق میں یا اس کے خلاف یکساں طور پر استدلال کشید کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ کا عمومی مطالعہ کرنے والا ایک مورخ نسبتاً زیادہ غیر جانب دار ہو سکتا ہے، لیکن فکری، نظریاتی، سیاسی اور مذہبی بحثوں میں استعمال کی جانے والی تاریخی تعبیرات ہمیشہ اور بلا استثناء مذکورہ حقیقت کا مظہر ہوتی ہیں۔
اس کے دو مضمرات اہم ہیں۔
ایک یہ کہ کسی بھی بحث میں تاریخ کی (اور اسی طرح روایت کی) جو تعبیر پیش کی جا رہی ہو، اس کو سمجھنے کے لیے پیش کردہ تاریخی استدلال کی اہمیت ثانوی اور پیش کرنے والے کے موجودہ موقف کی اور ان نتائج واثرات کی اہمیت بنیادی ہوتی ہے جو اس تعبیر سے حال میں حاصل کرنا مقصود ہے۔ چونکہ حاملین تعبیر کا موجودہ موقف اور مطلوبہ نتائج یہ طے کرتے ہیں کہ وہ تاریخ کو کس طرح دیکھیں، اس لیے ان کے استدلال کو سمجھنے اور اس کا تجزیہ کرنے والوں کے لیے بھی اس نکتے کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے سے منفک کرنا زیر بحث تعبیر اور استدلال کی تفہیم کو اس کے ایک بنیادی عنصر سے محروم کر دیتا ہے۔
دوسرا یہ کہ تاریخی تعبیر جس موقف کی تائید میں پیش کی جا رہی ہے، اس موقف کی قدر پیمائی اصلاً ان دلائل کی روشنی میں کی جانی چاہیے جو وہ وضع موجود میں اپنے حق میں رکھتا ہے یا پیش کر سکتا ہے۔ فیصلہ کن حیثیت انھی دلائل کو حاصل ہوگی، جبکہ ان کے ساتھ ضمنی موید کے طور پر تاریخی تعبیر پر مبنی استدلالات کو بھی وزن دیا جا سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ تاریخی تعبیرات پر بہت زیادہ انحصار کرنے والے مواقف وہ ہوں گے جو وضع موجود سے اپنے حق میں زیادہ قائل کن دلائل پیش نہیں کر سکتے۔ چونکہ کسی بھی موقف کو ایک واقعاتی وعملی تناظر درکار ہوتا ہے، اس لیے اس نقصان کی تلافی کی غرض سے تاریخ کی طرف رجوع کیا جاتا اور ایک بڑی حد تک فرضی تناظر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم جیسا کہ واضح کیا گیا ہے، ایسی کسی بھی بحث میں تاریخ کی تعبیر کو متعین رخ دینے والی اصل چیز وہ پوزیشن ہوتی ہے جو حال میں اختیار کی گئی ہے اور اپنی بنیادی توضیح کا تقاضا وضع موجود میں ہی کرتی ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۷)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۲۴) لأول الحشر کا ترجمہ

یہ لفظ قرآن مجید میں مندرجہ ذیل ایک مقام پر آیا ہے:

ہُوَ الَّذِیْ أَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ مِن دِیَارِہِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ۔ (الحشر: 2)

مفسرین ومترجمین کو اس کا مفہوم متعین کرنے میں الجھن پیش آئی ہے، اس کا اندازہ مندرجہ ذیل ترجمے دیکھ کر کیا جاسکتا ہے:
’’وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو پہلے ہی حملے میں اْن کے گھروں سے نکال باہر کیا‘‘ (سید مودودی،’’پہلے ہی حملے‘‘ اس وقت درست ہوتا جب اول حشر یا الحشر الاول ہوتا، اس کی بجائے ’’حملہ کے آغاز ہی میں‘‘ درست ترجمہ ہوسکتا ہے)
’’وہی ہے جس نے ان کافر کتابیوں کو ان کے گھروں سے نکالا ان کے پہلے حشر کے لیے‘‘ (احمد رضا خان، ’’پہلے حشر‘‘ اول الحشر کا ترجمہ نہیں ہوگا)
’’وہی ہے جس نے اہلِ کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلا لشکر جمع کرنے کے وقت نکال دیا ‘‘(احمد علی، ’’پہلا لشکر‘‘ اس وقت درست ہوتا جب الحشر الاول ہوتا)
’’وہی ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں اہل کتاب میں سے کفر کیا، ان کے گھروں سے حشر اول کے لیے‘‘ (امین احسن اصلاحی، لام کو برائے تعلیل ماننے سے ترجمہ کمزور ہوگیا، اول الحشر کا ترجمہ ’’حشر اول‘‘ یعنی موصوف وصفت والا ترجمہ کرنا بھی غلط ہے)
’’وہی ہے جس نے (ان) کفار اہل کتاب (یعنی بنی نظیر) کو ان کے گھروں سے پہلی ہی بار اکٹھا کرکے نکال دیا ‘‘(اشرف علی تھانوی، یہ ترجمہ لغت کے اعتبار سے درست نہیں ہے)
مذکورہ بالا ترجموں میں کچھ لوگوں نے لام کو برائے تعلیل مانا ہے، جس سے انہیں صحیح ترجمے تک پہونچنے میں دشواری ہوئی ہے، یہاں لام کو تعلیل کے بجائے ظرف و توقیت کے لئے مان لیں تو مفہوم تک پہونچنا آسان ہوجاتا ہے۔
ایک دوسری غلطی یہ ہوئی کہ اول الحشر جو مضاف اور مضاف الیہ ہے، اس کا ترجمہ انہوں نے موصوف وصفت والا کیا ہے، یعنی پہلا حشر۔ اس مفہوم کے لیے یا تو الحشر الاول ہوتا، یا پھر مضاف اور مضاف الیہ ہوتا مگر اول حشر (حشر نکرہ) ہوتا۔ اول الحشر والی ترکیب کا مفہوم ہے حشر کے آغاز میں۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ لاول الحشر میں لام ظرف کے لیے ہے نہ کہ تعلیل کے لیے، اور اول الحشر کا مطلب ہے لشکر کا جماوڑا ہوتے ہی۔اس کے مطابق ترجمہ ہوگا: ’’وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو لشکر کا جماوڑا ہوتے ہی اْن کے گھروں سے نکال باہر کیا‘‘
مطلب یہ ہوا کہ ان کے ساتھ جنگ لڑنے کی نوبت ہی نہیں آئی، جیسے ہی وہ جنگ لڑنے کے لیے جمع ہوئے، اللہ نے انہیں نکال دئے جانے کا فیصلہ نافذ کردیا۔ اس مفہوم کو اختیار کرنے سے کلام کی معنویت بہت بڑھ جاتی ہے، اللہ کی قدرت کا بھرپور مشاہدہ ہوتا ہے کہ انہوں نے حملہ کرنے کے لیے لشکر جمع کیا مگر اللہ نے جماوڑے کی ابتدا ہی میں ان کے دلوں میں ہیبت ڈال کر انہیں نکلنے پر مجبور کردیا۔ اس سے اللہ کے فیصلے کے سامنے اللہ کے دشمنوں کی بے بسی کا بھرپور اظہار ہوتا ہے، اور الفاظ کا پورا پورا حق بھی ادا ہوجاتا ہے۔ 

(۱۲۵) قعید کا ترجمہ

قعید کا لفظ قرآن مجید میں ایک جگہ مندرجہ ذیل آیت میں آیا ہے:

إِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیَانِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ۔ (ق: 17)

قعید، قعد سے مشتق ہے، قاعد بھی اسی سے مشتق ہے، قاعد کا لفظ قرآن مجید میں کئی جگہ آیا ہے، اور ہر جگہ اس کا مفہوم ’’بیٹھا ہوا‘‘ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا قاعد اور قعید کے مفہوم میں کوئی فرق ہے، اردو تراجم کو دیکھیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ عام طور سے لوگوں نے قعید کا ترجمہ ’’بیٹھے‘‘ کیا ہے۔
’’(اور ہمارے اس براہ راست علم کے علاوہ) دو کاتب اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہر چیز ثبت کر رہے ہیں‘‘(سید مودودی)
’’اور جب اس سے لیتے ہیں دو لینے والے ایک داہنے بیٹھا اور ایک بائیں‘‘(احمد رضا خان)
’’جب کہ ضبط کرنے والے دائیں اوربائیں بیٹھے ہوئے ضبط کرتے جاتے ہیں‘‘ (احمد علی)
’’جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، لکھ لیتے ہیں‘‘(فتح محمدجالندھری)
’’جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے ‘‘(محمد جوناگڑھی)
’’(دھیان رکھو) جبکہ دو اخذ کرنے والے اخذ کرتے رہتے ہیں، ایک دائیں بیٹھا اور دوسرا بائیں بیٹھا ‘‘(امین احسن اصلاحی)
لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ قاعد کے بجائے قعید کیوں کہا، اور کیا فرشتوں کے لیے بھی بیٹھنے کا لفظ استعمال ہوتا ہے؟
عربی لغات اور تفاسیر دیکھیں تو قعید کے مختلف مفہوم سامنے آتے ہیں، البتہ علامہ ابن عاشور نے اس لفظ کا بہت مناسب مفہوم ذکر کیا ہے، 

وَالقَعید مُستَعاَارٌ لِلمُلَازِمِ الَّذِی لَا یَنفَکُّ عَنہُ کَمَا أَطلَقُوا القَعیدَ عَلَی الحَافِظِ لِأَنَّہ یُلَازِمُ الشّیء َ المُوکَّلَ بِحِفظہ۔ (التحریروالتنویر : 26/ 302) 

دوسری جگہ مزید وضاحت کرتے ہیں:

وَالقعُود کِنَایَۃٌ عَنِ المُلَازَمَۃِ،کَمَا فِی قَول النَّابِغَۃِ: قْعْودًا لَدَی أَبیَاتِھِم یَثمِدُونَھُمْ ... رَمی اللّہُ فِی تِلکَ الأکُفِّ الکَوَانِعِ اَی مُلَازِمِینَ أبیاتا لغَیرھمْ یرد الجُلُوسَ، اِذْ قَد یَکُونُونَ یَسأَلُونَ وَاقِفِینَ، وَمَاشِینَ، وَوَجہُ الکِنَایۃِ ھُوَأَنَّ مُلَازَمَۃَ المَکَانِ تَستَلزِمُ الاِعیَاءَ مِنَ الوُقُوفِ عِندَہُ، فیَقعُدُ المُلَازِمُ طَلَبًا لِلرَّاحَۃِ، وَمِن ثَمَّ أُطلِقَ عَلَی المُستَجِیرِ اسمُ القَعِیدِ، وَمِن اِطلَاقِ القَعیدِ عَلَی المُلَازِمِ قَولُہُ تَعَالَی: إِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیَانِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ۔ (ق: 17) أی مُلَازِمٍ اِذِ المَلَکُ لاَ یُوصَفُ بِقُعُودٍ وَلَاقِیامٍ. (التحریروالتنویر: 8/47)

ابن عاشور کی توجیہ کے مطابق ترجمہ ہوگا’’ ہر وقت ساتھ لگے ہوئے‘‘۔
علامہ ابوحیان نے بھی ایک رائے یہ ذکر کی ہے کہ قاعد کے مقابلے میں قعید میں مبالغہ پایا جاتا ہے، جس طرح عالم کے مقابلہ میں علیم میں مبالغہ ہے۔ 

وأنْ یکونَ عَدلٌ مِنْ فَاعِلٍ اِلی فَعِیلٍ لِلمُبَالَغَۃِ،کَعَلِیمٍ. (البحرالمحیط فی التفسیر: 9/ 534)

ایک بات تو یہ ہے کہ فاعل کے مقابلے میں فعیل میں مبالغہ ہوتا ہے، دوسری بات یہ بھی ہے کہ فعیل میں دوام واستمرار کا مفہوم بھی نمایاں طور سے پایا جاتا ہے، اس کے پیش نظر ابن عاشور کی رائے وزنی ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی قعید کا ترجمہ بیٹھے ہوئے کے بجائے ڈٹے ہوئے کرتے ہیں:
’’عین اس وقت جبکہ دو وصول کرنے والے وصول کرتے رہتے ہیں، ایک دائیں اور ایک بائیں ڈٹے ہوئے‘‘

(۱۲۶) اخذ عزیز مقتدر کا ترجمہ

آیت کے مندرجہ ذیل ٹکڑے میں فَأَخَذْنَاہُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِر کا ترجمہ توجہ طلب ہے:

کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا کُلِّہَا فَأَخَذْنَاہُمْ أَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ۔ (القمر: 42)

مترجمین نے اس کا ترجمہ مختلف طرح سے کیا ہے:
’’انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو اس طرح پکڑ لیا جس طرح ایک قوی اور غالب شخص پکڑ لیتا ہے‘‘(فتح محمد جالندھری)
’’مگر انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا آخر کو ہم نے انہیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قدرت والا پکڑتا ہے‘‘(سید مودودی)
’’انہوں نے ہماری تمام نشانیاں جھٹلائیں پس ہم نے انہیں بڑے غالب قوی پکڑنے والے کی طرح پکڑ لیا‘‘(محمد جوناگڑھی)
مذکورہ بالا ترجموں میں ایک کمزوری ہے، ان ترجموں سے لگتا ہے کہ اللہ کے علاوہ بھی کوئی عزیز اور مقتدر ہے جو پکڑتا ہے، اور گویا اللہ اس کی طرح پکڑتا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی اور نہ عزیز (زبردست) ہے اور نہ مقتدر (قدرت والا) ہے، کہ جس کی پکڑ سے اللہ کی پکڑ کو تشبیہ دی جائے۔ درست بات یہ ہے کہ یہاں اللہ کی پکڑ کی صفت اور نوعیت بیان کی گئی ہے کہ اس نے پکڑا زبردست اور قدرت والے کی پکڑ۔ ایک ضعف اور کمزوری والے کی پکڑ ہوتی ہے، جس سے چھوٹ جانے کا امکان رہتا ہے، اور ایک عزیز اور مقتدر کی پکڑہوتی ہے کہ جس سے چھوٹنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ مندرجہ ذیل ترجمہ اس مفہوم کو صحیح طور سے ادا کررہا ہے:
’’جھٹلایا انہوں نے نشانیوں ہماری کوسب کو پس پکڑا ہم نے ان کو پکڑنا غالب قدرت والے کا‘‘ (شاہ رفیع الدین)
ذیل میں درج دوسرے مزید ترجموں میں مذکورہ بالا کمزوری تو نہیں ہے، البتہ عزیز مقتدر کے الفاظ کی مکمل اور صحیح ترجمانی نہیں ہو پارہی ہے:
’’انہوں نے ہماری سب نشانیوں کو جھٹلایا پھر ہم نے انہیں بڑی زبردست پکڑ سے پکڑا‘‘(احمد علی، عزیز اور مقتدر پکڑ کی صفت نہیں پکڑنے والے کی صفت ہے)
’’جھٹلائیں ہماری نشانیاں ساری پھر پکڑی ہم نے ان کو پکڑ زبردست کی قابو میں لے کر‘‘ (شاہ عبدالقادر، مقتدر کا ترجمہ ’’قابو میں لے کر‘‘ درست نہیں ہے)
’’سو ہم نے ان کو زبردست قدرت کا پکڑنا پکڑا‘‘ (اشرف علی تھانوی، عزیز مقتدر کا ترجمہ ’’زبردست قدرت‘‘ کیا ہے جو درست نہیں ہے)

(۱۲۷) تواصی کا ترجمہ

تواصوا کا لفظ قرآن مجید میں تین مقامات پر آیا ہے، سورہ بلد اور سورہ عصر میں جملہ خبریہ ہے جب کہ سورہ ذاریات میں جملہ استفہامیہ ہے۔ اول الذکر دونوں مقامات پر سب نے ملتا جلتا ترجمہ کیا ہے، اور کوئی قابل ذکر اختلاف نظر نہیں آتا ہے۔البتہ مذکورہ ذیل تیسرے مقام پر ترجمے مختلف طرح سے ہوئے ہیں۔ 

أَتَوَاصَوْا بِہِ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ۔ (الذاریات: 53)

’’کیا ایک دوسرے کو نصیحت کرتے آئے ہیں ساتھ اس کے، بلکہ وہ ایک قوم ہیں سرکش ‘‘(شاہ رفیع الدین) 
’’کیایہ اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے گئے ہیں‘‘(محمد جوناگڑھی)
’’کیا یہ کہ ایک دوسرے کو اسی بات کی وصیت کرتے آئے ہیں بلکہ یہ شریر لوگ ہیں‘‘(فتح محمد جالندھری)
’’کیا آپس میں ایک دوسرے کو یہ بات کہہ مرے ہیں بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں‘‘ (احمد رضا خان)
’’کیا ایک دوسرے سے یہی کہ مرے تھے نہیں بلکہ وہ خود ہی سرکش ہیں ‘‘(احمد علی)
’’کیا یہی کہہ مرے ایک دوسرے کو، کوئی نہیں، پر یہ لوگ شریر ہیں‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’کیا اِن سب نے آپس میں اِس پر کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے؟ نہیں، بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں ‘‘(سید مودودی)
پہلے تینوں ترجموں میں ایک دوسرے کو نصیحت کرنے کی بات ہے، اس کے بعد کے تینوں ترجموں میں ایک دوسرے کو کہہ مرنے کی بات ہے، اور آخری ترجمے میں سمجھوتہ کرنے کی بات ہے۔
اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ تواصی میں مرنے کا مفہوم شامل نہیں ہے، سورہ بلد اور سورہ عصر میں تواصوا آیا ہے اور مرنے کے مفہوم کے بغیر آیا ہے۔ اس لیے ’’کہہ مرے‘‘ ترجمہ کرنا محل نظر ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ آخر الذکر ترجمہ میں تواصوا کا ترجمہ ’’سمجھوتہ کرنا‘‘ کیا گیا ہے، لغت کے لحاظ سے یہ درست نہیں ہے، تواصی کا مطلب ایک دوسرے کو نصیحت کرنا ہے، سمجھوتہ کرنا اس لفظ کے مفہوم میں شامل نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ صاحب تفہیم کو بعض مفسرین کے تفسیری بیان سے غلط فہمی ہوگئی۔

(۱۲۸) سرر مصفوفۃ کا ترجمہ

مندرجہ ذیل آیت کا ترجمہ ملاحظہ کریں:

مُتَّکِئِیْنَ عَلَی سُرُرٍ مَّصْفُوفَۃٍ۔ (الطور: 20)

’’تختوں پر تکیہ لگائے جو قطار لگا کر بچھے ہیں‘‘(احمد رضا خان)
’’تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے جو قطاروں میں بچھے ہوئے ہیں‘‘(احمد علی)
’’تختوں پر جو برابر برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے‘‘(فتح محمد جالندھری)
’’برابر بچھے ہوئے شاندار تختے پر تکیے لگائے ہوئے‘‘(محمد جوناگڑھی)
’’وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے‘‘(سید مودودی)
آخر الذکر ترجمے میں ’’آمنے سامنے‘‘ اضافہ ہے، مصفوفۃ صف سے ہے اور اس کا مطلب ’ ’قطار میں بچھے ہوئے ‘‘ہوتا ہے، لگتا ہے مترجم کے ذہن میں مُتَّکِئِیْنَ عَلَیْْہَا مُتَقَابِلِیْن۔ (الواقعۃ: 16) والی آیت تھی، جس کی وجہ سے ترجمہ میں وہ اضافہ ہوگیا۔
(جاری)

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ ۔ ایک تعارفی جائزہ (۵)

مولانا سمیع اللہ سعدی

پانچویں جہت : اعجازِحدیث 

معاصر سطح پر حدیث کے حوالے سے اعجازِ حدیث یا اعجازِ سنت کی نئی اصطلاح رائج ہوئی ہے۔ اعجاز کی اصطلاح متقدمین کے ہاں عموماً قرآن پاک کے ساتھ خاص تھی۔ عصر حاضر میں قرآن پاک کے اعجاز اور اس کی وجوہ پر قابل قدر کام ہوچکا ہے، اسی کام کو بعض حضرات نے حدیث نبوی کی طرف متعدی کیا، اور اعجاز کی جن وجوہ کا بیان اعجاز قرآن کے ضمن میں ہوتا تھا، انہی کو حدیث پر منطبق کیا جانے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ احادیث مبارکہ جو بلفظہا ثابت ہیں،بلا شبہ بلاغت و فصاحت کے اعلیٰ معیار پر ہیں، لیکن کلام رسول (جو اگرچہ وحی غیر متلو پر مبنی ہے )کو قرآن پا ک کی طرح معجز قرار دینا بالکل نئی روش ہے۔ اعجاز کی اصطلاح کو حدیث پر لاگو کرنا علمی اعتبار سے کتنا درست ہے،یہ ایک مستقل بحث ہے جسے سر دست چھوڑتے ہیں۔ ذیل میں ہم اعجاز حدیث پر ہونے والے کاموں کا ایک جائزہ لیتے ہیں :

۱۔حدیث کا لغوی و ادبی اعجاز 

کلام نبوی کے مختلف اسالیب، ان اسالیب میں مستور بلاغی نکات اور اس کے ادبی پہلووں پر کافی زیادہ کام ہوچکا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے توانا آواز معروف ادیب مصطفی صادق رافعی کی ہے ،جنہوں نے اعجاز القرآن الکریم و البلاغۃ النبویہ لکھ کر کلام نبوی کے ادبی اسالیب پر دل نشین گفتگو کی۔ اس کے علاوہ معروف عالم عبد الرحمان حبنکہ نے ایک ضخیم کتاب روائع من اقوال الرسول: دراسات لغویۃ فکریۃ وادبیۃ کے نا م سے لکھی جو دار القلم دمشق سے شائع ہوئی ہے۔ معروف ادیب محمد بن لطفی الصباغ نے التصویر الفنی فی الحدیث النبوی کے نام سے ایک مفصل کتاب لکھی ہے جس میں حدیث نبویہ کے مختلف اسالیب پر گفتگو کی ہے۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر یہ کتب قابل ذکر ہیں :
۱۔ الحدیث النبوی الشریف من الوجھۃ البلاغیۃ، کمال عزالدین ،دار اقرا ،بیروت
۲۔ الاعجاز فی البیان النبوی، عبد الباسط احمد علی حمودہ،قاہرہ
۳۔ البیان النبوی، محمد البیومی ،دار الوفا ،قاہرہ
۴۔ من کنوز السنۃ: دراسۃ ادبیۃ و لغویۃ من الحدیث الشریف، محمد علی صابونی، دار القلم، دمشق
۵۔ فنون ادبیۃ فی البیان النبوی، متولی محمد الباسطی ،مصر
۶۔ من بلاغۃ الحدیث النبوی، محمد احمد سحلول، دار الاصالہ ،قاہرہ (مجلدین)
۷۔ الخصائص الفنیۃ فی الادب النبوی، محمد بن سعد الدبل،مکتبہ العیبکان ،ریاض
۸۔ الروائع و البدائع فی البیان النبوی، محمد نعمان الدین ندوی ،دار الشہاب، بیروت
۹۔ الصورۃ الفنیہ فی الحدیث النبوی، احمد زکریا یاسوف،دار المکتبی ،دمشق
۱۰۔ دراسۃ ادبیۃ لاحادیث نبویۃ مختارۃ، کامل سلامہ الدقس،دار الشروق ،جدہ
۱۱۔ الملامح الفنیۃ فی الحدیث النبوی، نور الدین عتر،دار المکتبی ،دمشق
۱۲۔ البیان النبوی: مدخل و نصوص، عدنان زرزور،دار الفتح دمشق
۱۳۔ من بلاغۃ الحدیث الشریف، عبد الفتاح لاشین ،مکتبات عکاظ ،جدہ

۲۔حدیث کا سائنسی اعجاز 

عصر حاضر میں قرآن پاک کے سائنسی پہلو پر کافی کام ہوا ہے، قرآنی آیاتِ کونیہ میں بیان شدہ حقائق کو جدید سائنس کی روشنی میں ثابت کرنے کے حوالے سے ایک ضخیم مکتبہ وجود میں آیا ہے ،اس کو اعجازِ علمی کا نام دیا گیا ہے۔ اعجازِ علمی کے اس دائرے میں احادیث کو بھی شامل کیا گیا اور احادیث میں بیان شدہ کائناتی حقائق کو جدید سائنس کی کسوٹی پر پرکھنے کی قابل قدر کوششیں ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے معروف مصری ڈاکٹر احمد شوقی ابراہیم کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔ موصوف نے چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل موسوعۃ الاعجاز العلمی فی الحدیث النبوی کے نام سے لکھی ہیں۔ اس کے علاوہ مصری محقق زغلول نجار نے بھی اس میدان میں اہم خدمات سر انجام دی ہیں۔ آپ نے الاعجاز العلمی فی السنۃ النبویۃ کے نام سے تین ضخیم جلدیں لکھی ہیں۔ اس موضوع پر لکھی گئی اہم کتب کی فہرست پیش خدمت ہے :
۱۔ موسوعۃ الاعجاز العلمی فی القرآن و السنۃ، محمد راتب نابلسی ،دار المکتبی ،دمشق
۲۔ موسوعۃ الاعجاز العلمی فی القرآن الکریم والسنۃ المطھرۃ، یوسف الحاج احمد ،مکتبہ ابن حجر، دمشق
۳۔ الاعجاز العلمی فی السنۃ النبویۃ ونبوءات تتحقق، محمد حسن قندیل ،مکتبہ بستان المعرفہ ،مصر
۴۔ موسوعۃ الاعجاز العلمی فی الحدیث النبوی الشریف، عبد الرحیم ماردینی ،دار المحبہ، دمشق
۵۔ الاعجاز العلمی فی السنۃ النبویۃ، صالح احمد رضا ،مکتبہ العبیکان ،ریاض
۶۔ الاعجاز العلمی فی السنۃ النبویۃ، رزق عامر حسن ،مطبعہ رشوان ،مصر
۷۔ صور لاعجاز العلمی فی السنۃ النبویۃ، عبد الحمید محمود طہماز،دار القلم ،دمشق
۸۔ حقائق العلم فی القرآن والسنۃ، غازی عنایہ ،دار الکتب العلمیہ۔،بیروت
۹۔ الاعجاز العلمی فی الاسلام : السنۃ النبویۃ، محمد کامل عبد الصمد،الدار المصریہ ،قاہرہ
۱۰۔ السنۃ و العلم الحدیث، عبد الرزاق نوفل،مطبوعات الشعب ،قاہرہ
۱۱۔ دلائل النبوۃ المحمدیۃ فی ضوء المعارف الحدیثۃ مصحوبۃ بتوجھات وطرائف ھامۃ، محمود مہدی الاستانبولی، مکتبہ المعلا، کویت
۱۲۔ من اعجاز السنۃ المشرفۃ، محمد فواد شاکر ،خاص ،مصر
۱۳۔ وجوہ متنوعۃ من الاعجاز العلمی فی القرآن والسنۃ، عبد البدیع حمزہ زللی ،مطابع دار البلاد، جدہ

۳۔حدیث کا طبی اعجاز 

طب نبوی قدیم زمانے سے اہل علم کا موضوع رہا ہے۔ معاصر سطح پر جدید طب کی روشنی میں طبی احادیث و روایات پر کام ہوا ہے، اسے اعجاز حدیث کی باقاعدہ ایک قسم قرار دیا گیا اور طب نبوی کو جدید طبی حقائق پر پرکھ کر اس سے دلائل نبوت اخذ کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں معروف شامی طبیب حسان شمسی پاشا نے قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ آپ نے طب نبوی پر ایک درجن کے قریب کتب لکھی ہیں جن میں الطب النبوی بین العلم والاعجاز: قبسات من الطب النبوی والادلۃ العلمیۃ الحدیثۃ اور الشفاء بالحبۃ السودا ء بین الاعجاز النبوی والطب الحدیث قابل ذکر ہیں۔اس کے علاوہ محمود ناظم نسیمی نے الطب النبوی والعلم الحدیث کے نام سے ایک ضخیم کتاب لکھی ہے جو موسسۃ الرسالہ بیروت سے تین جلدوں میں چھپی ہے۔ عبد اللہ عبد الرازق السعید نے بھی اس حوالے سے اہم کتب لکھی ہیں، آپ نے من الاعجاز الطبی فی الاحادیث النبویۃ الشریفۃ کے نام سے کتب کا ایک سلسلہ شروع کیا جس میں مختلف احادیثِ طب پر بحث کی ہے۔ اس سلسلے کی اب تک چھ کتب منظر عام پر آئی ہیں۔اعجاز طبی پر اہم کتب کی فہرست پیش خدمت ہے :
۱۔ معجزات فی الطب للنبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، محمد سعید البوطی ،بیروت
۲۔ السنۃ النبویہ و الطب الحدیث، صادق عبد الرضا ،دار المورخ ،بیروت
۳۔ اعجاز الطب النبوی، السید عبد الحکیم عبد اللہ ،دار الافاق،قاہرہ
۴۔ الاعجاز الطبی فی السنۃ النبویۃ، کمال المویل ،دار ابن کثیر ،دمشق
۵۔ الاعجاز الطبی فی الکتاب و السنۃ، حسن یاسین عبد القادر ،مکتبہ وہبہ ،قاہرہ
۶۔ الاعجاز الطبی فی القرآن و السنۃ، محمد داود الجزائری ،دار الہلال ،بیروت
۷۔ اعجاز الطب النبوی، السید الجمیلی ،دار ابن زیدون ،بیروت
۸۔ العدوی بین الطب و حدیث المصطفی، محمد علی البار ،دا ر الشروق،جدہ
۹۔ الابداعات الطبیۃ لرسول الانسانیۃ، مختار سالم ،موسسہ المعارف ،بیروت
۰۱۔ الحقائق الطبیۃ فی الاسلام، عبد الرزاق اشرف کیلانی ،مکتبہ الرسالہ ،عمان
۱۱۔ الطب النبوی فی ضوء العلم الحدیث، غیاث حسن احمد ،دار المعاجم ،دمشق
طب نبوی پر اردو میں بھی کافی کام ہوا ہے، (جس میں اکثر غیر معیاری ہے)۔ اس حوالے سے ڈاکٹر خالد غزنوی کی ’’طب نبوی اور جدید سائنس‘‘، ’’دل کی بیماریاں اور علاج نبوی‘‘، ’’امراض جلد اور علاج نبوی‘‘، حکیم طارق محمود چغتائی کی ’’سنت نبوی اور جدید سائنس‘‘، ڈاکٹر امجد حسن علی اور آپ کے رفقاء کی مشترکہ کتاب ’’حجامہ، علاج بھی سنت بھی‘‘، ڈاکٹر اقتدار فاروقی کی ’’طب نبوی اور نباتات‘‘، نگہت ہاشمی کی ’’طب نبوی‘‘، حکیم محمد اسلم کی ’’فیضانِ طب نبوی‘‘ قابل ذکر ہیں۔

۴۔حدیث کا فکری ،ثقافتی، تربیتی اور اقتصادی پہلو

حدیث پاک کے اعجاز کے ضمن میں احادیث کے فکری ،ثقافتی، تربیتی اور اقتصادی پہلوؤں پر بھی کافی کام ہوا ہے۔ یہ کام خصوصیت سے عالم عرب میں ہوا ہے،چنانچہ محققہ خدیجہ النبراوی نے ایک ضخیم کتاب موسوعۃ اصول الفکر السیاسی والاجتماعی والاقتصادی من نبع السنۃ الشریفۃ وھدی الخلفاء الراشدین کے نام سے لکھی ہے ۔یہ مفصل کتاب پانچ جلدوں اور ساڑھے چودہ ہزار احادیث و آثار پر مشتمل ہے۔ یہ قابل قدر کتاب دار السلام قاہرہ سے شائع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ عبد الجواد سید بکر نے فلسفۃ التر بیۃ الاسلامیۃ فی الحدیث النبوی کے نام سے ایک ضخیم کتاب لکھی ہے جو دار الفکر العربی قاہرہ سے چھپی ہے۔ احادیث کے اقتصادی مطالعہ پر محمد بن عبد اللہ الشبانی نے المختار من احادیث المصطفی علیہ الصلوۃ والسلام فی التنظیم الاقتصادی و المالی و الاجتماعی کے نام سے لکھی ہے ۔یہ کتاب دو جلدوں میں دار عالم الکتب ریاض سے چھپی ہے۔ احادیث کے ثقافتی و فکری پہلووں پر معروف ادیب محمد بن لطفی الصباغ نے الحیاۃ الاجتماعیۃ فی ضوء السنۃ (دار المثل، ریاض)عماد الدین خلیل اور حسن احمد الرزو کی مشترکہ ضخیم تصنیف دلیل التاریخ و الحضارۃ الاسلامیۃ فی الاحادیث النبویۃ (دار الرازی ،عمان)اور عبد اللہ شعبان علی کی السنۃ ودورھا فی الحفاظ علی الوحدۃ الفکریہ للامۃ (المکتب العلمی، مصر) قابل ذکر ہیں۔ ان موضوعات پر اہم کتب کی فہرست پیش خدمت ہے :
۱۔ بعض قضایا التربیۃ فی السنۃ النبویۃ، احمد محمود عبد المطلب،دار محسن، مصر
۲۔ وصایا الرسول للاطفال، مجدی فتحی السید، دار الصحابہ، مصر (مجلدین)
۳۔ اسس التر بیۃ الاسلامیۃ فی السنۃ النبویۃ، عبد الحمید الصید الزنتانی، الدار العربیہ للکتاب، لیبیا
۴۔ الرسول المعلم و اسالیبہ فی التعلیم، عبد الفتاح ابو غدہ ،مکتب المطبوعات الاسلامیہ ،حلب
۵۔ دراسات تربویۃ فی الاحادیث النبویۃ، محمد لقمان الاعظمی ،مکتبۃ العبیکان،ریاض
۶۔ تربیۃ الاطفال فی ضوء القرآن والسنۃ، یوسف بدیوی ،محمد قاروط،دار المکتبی ،دمشق(مجلدین)
۷۔ الکشاف الاقتصادی للاحادیث النبویۃ الشریفۃ، محیی الدین عطیہ ،دار البحوث العلمیہ، کویت
۸۔ المال: ملکیتہ واستثمارہ وانفاقہ، دراسۃ موضوعیۃ فی الاحادیث النبویۃ الشریفۃ، محمد رافت سعید،مکتبۃ المدارس ،قطر
۹۔ النصوص الاقتصادیۃ فی القرآن و السنۃ، منذر قحف،مرکز النشر العلمی ،جدہ
۱۰۔ الانشطۃ المصرفیۃ وکمالھا فی السنۃ النبویۃ، حسن صالح عنانی ،المعہد الدولی للبنوک ،قبرص
۱۱۔ المنھج النبوی والتغییر الحضاری، برغوث عبد العزیز بن مبارک،وزارۃ الاوقاف والشوون الاسلامیہ، قطر
۱۲۔ ثلاثون حدیثا لتنظیم حضارۃ الاسلام الاجتماعیۃ، محمد فریز منفیخی ،الدار العلمیہ ،دمشق
۱۳۔ الوصیۃ النبویۃ للامۃ الاسلامیہ فی حجۃ الوداع، فاروق حمادہ ،دار القلم ،دمشق
۱۴۔ فی ظلال السنہ، قراء ۃ فکریۃ ادبیۃ تستشرف الفقہ الحضاری للسنۃ النبویۃ فی مختلف جوانب الحیاۃ الانسانیۃ والقضایا الاستراتیجیۃ، محمد رافت زنجیر، دار التوفیق، دمشق
۱۵۔ نظرات فی خطبۃ الوداع، صلاح احمد ابو زید السید ،مطبعۃ الشروق ،مصر

چھٹی جہت :موسوعات و معاجم

علم حدیث کے جدید ذخیرے کا ایک بڑا حصہ موسوعات و معاجم کی شکل میں ہے۔ مختلف قسم کے موسوعات و معاجم منظر عام پر آئے ہیں، ان موسوعات و معاجم کی درج ذیل قسمیں بنتی ہیں:

۱۔موسوعات الحدیث بحسب الموضوع

موسوعات کی پہلی قسم وہ کتب ہیں جن میں ایک یا ایک سے زیادہ موضوعات سے متعلق احادیث کا استقصاء کیا گیا ہو، خواہ مستقل تصنیف کی شکل میں ہو یا کئی کتبِ حدیث کی جمع و تالیف پر مشتمل ہو۔ اس سلسلے میں متعدد کاوشیں ہوئی ہیں۔ محقق بشار معروف نے اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ مل کر صحاح ستہ سمیت مزید چھ کتب کی روایات کو مسانید اور موضوعات کی ترتیب پر جمع کیا ۔یہ قابل قدر کاوش المسند الجامع کے نام سے دار الجیل کویت سے بائیس جلدوں میں چھپی ہے ۔ عبد الملک بن بکر قاضی نے مختلف موضوعات کی احادیث کو جمع کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا ،یہ سلسلہ موسوعۃ الحدیث النبوی کے نام سے سعودی عرب سے آٹھ جلدوں میں چھپا ہے۔ منصور علی ناصف نے صحاح ستہ کی احادیث کو التاج الجامع للاصول فی احادیث الرسول کے نام سے جمع کیا ہے۔یہ کتاب پانچ جلدوں میں مطبعہ عیسی البابی قاہرہ سے چھپی ہے ۔ سید کسروی حسن نے صحابہ کے آثار کو جمع کرنے کا بیڑا اٹھایا ،یہ قابل قدر کاوش موسوعۃ آثار الصحابۃ کے نا م سے دار الکتب العلمیہ بیروت سے تین جلدوں میں چھپی ہے۔ عباس احمد صقر اور احمد عبد الجواد نے علامہ سیوطی کی جامع صغیر،جامع کبیر اور اس کے زوائد کو جمع کیا ،یہ کتاب جامع الاحادیث کے نام سے دار الفکر بیروت سے اکیس جلدوں میں چھپی ہے ۔
اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر مشتمل احادیث کی جمع و تدوین پر کثیر کتب منظر عام پر آئی ہیں ،ذیل میں اہم موضوعات سے متعلق چند جوامع کا ذکر کیا جاتا ہے :

ایمانیات و عقائد 

ایمان اور اس کے شعبہ جات ،اسماء و صفات اور معاد سے متعلق مروی احادیث کے مجموعے پر مشتمل کثیر تعداد میں کتب لکھی گئی ہیں ،ان میں سے اکثر ایم فل و پی ایچ ڈی مقالات کی شکل میں ہیں ۔ذیل میں اس حوالے سے مستقل تصانیف کی ایک فہرست پیش کی جاتی ہے :
۱۔ دعائم الایمان فی ضوء السنۃ، محمد علی فرحات ،دار الطباعہ ،قاہرہ
۲۔ المختار من الاحادیث الشریفۃ، الایمان و العلم ،محمود حامد نبراوی ،قاہرہ (مجلدین)
۳۔ الجامع الصحیح فی القدر، مقبل بن ہادی الوداعی ،مکتبہ ابن تیمیہ ،قاہرہ
۴۔ الصحیح المسند فی عذاب القبر و نعیمہ، عکاشہ عبد المنان الطیبی ،مکتبہ التراث الاسلامی ،قاہرہ
۵۔ الصحیح من النفخ فی الصور، علی بن داود، دار الصحابہ ،طنطا مصر
۶۔ القیامۃ، مشاھدھا وعظاتھا فی السنۃ النبویۃ، محمد ادیب صالح ،المکتب الاسلامی ،بیروت (۳ مجلدات)
۷۔ موسوعۃ الاحادیث الصحیحۃ فی الجنۃ واحوال اھلھا فی الدنیا والآخرۃ، عصام الدین بن غلام حسین، موسسۃ الکتب الثقافیہ ،بیروت 
۸۔ مشاھد القیامۃ فی الحدیث النبوی، احمد محمد عبد اللہ العلی ،دار الوفا ء،مصر

عبادات و اذکار 

عبادات سے متعلقہ احادیث کی جمع و ترتیب پر مشتمل کتب کی تعداد سب سے زیادہ ہیں۔ ان میں وضو،نماز،روزہ، زکوۃ اور حج سے متعلقہ احادیث و روایات کی جمع و ترتیب شامل ہے ،خاص طور پر فقہی مسائل کے لئے احادیث سے دلائل جمع کرنے کی مباحثانہ روش کی وجہ سے اس نوع کی تصانیف کافی تعداد میں ہیں۔ ذیل میں اس حوالے سے چند تصانیف کی ایک فہرست پیش کی جاتی ہے :
۱۔ وضوء الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، عبد العزیز الشناوی ،مکتب للاعلام العربی ،مصر
۲۔ احادیث مختارۃ من کتاب الطھارۃ، اسماعیل عبدالواحد مخلوف، قاہرہ
۳۔ اتحاف الانام باحادیث الاحکام فی العبادات، محمود عبد اللہ العکازی، قاہرہ
۴۔ الجامع فی احادیث العبادات ،عبد السلام علوش، دار ابن حزم ،بیروت(۳مجلدات)
۵۔ المشکاۃ من احادیث الطہارۃ و الصلاۃ، احمد ابراہیم قاسم ،دار الطباعہ المحمدیہ ،قاہرہ
۶۔ جامع الاحادیث الصحیحۃ فی الصیام و القیام و الاعتکاف، حمدی حامد صبح، دار ابن حزم، بیروت
۷۔ الجواہر المنتقاۃ فی احادیث الزکوۃ، حسین عبد الحمید الترکی ،مصر
۸۔ تیسیر الاطلاع علی اخبار حجۃ الوداع، نافذ حسین حماد،دار الوفاء
۹۔ احادیث الصیام کما روتھا الصحاح وامھات المسانید والمعاجم للسنۃ الشریفۃ، عبد المجید ہاشم حسینی ،الہیءۃ العامۃ للشون المطابع،قاہرہ
۱۰۔ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کما رواھا عنہ جابر، محمد ناصر الدین البانی ،المکتب الاسلامی، بیروت
۱۱۔ الصحیح المسند من اذکار الیوم و اللیلۃ، مصطفی العدوی ، مکتبہ التوعیہ ،قاہرہ
بطور نمونہ صرف چند کتب کا ذکر کیا، ورنہ نماز کے طریقے، رفع یدین، فاتحہ خلف الامام، ہاتھ باندھنے کا مقام، عیدین و جنائز، مسح علی الجوربین، مفسدات صوم، زکوۃ اور حج و عمرہ سمیت جملہ اختلافی مسائل میں احادیث کی جمع و ترتیب پر مشتمل ایک ضخیم مکتبہ وجود میں آیا ہے۔ برصغیر میں اہل حدیث اور حنفی مکتب جبکہ عالم عرب میں سلفی اور حنفی وشافعی و مالکی مکاتب کے درمیان مناظروں و مباحثوں کی وجہ سے ہر مکتب نے اپنے مواقف کے لیے احادیث کی صورت میں فقہی مستدلات پر مشتمل کثیر کتب لکھی ہیں۔

نکاح وطلاق

۱۔ الصحیح المسند من احکام النکاح ، مصطفی العدوی ،مکتبہ ابن تیمیہ ،قاہرہ
۲۔ المرویات الواردۃ فی احکام الصبیان فی الکتب الستۃ وموطا الامام مالک ومسند احمد ومسند الدارمی، عبد اللہ بن مساعد الزہرانی ،دار ابن عفان ،قاہرہ (مجلدین)
۳۔ المنہاج فی احادیث الزواج، ایمن محمود مہدی ،مطبعہ الایمان
۴۔ الزواج وآداب الزفاف فی ضوء السنۃ المشرفۃ، انور علی عاشور ،مکتبہ الاعتصام ،قاہرہ
۵۔ منھج السنۃ فی الزواج ، محمد الاحمدی ابو النور، دار السلام ،قاہرہ
۶۔ احادیث الرضاع، سعد المرصفی ،موسسہ الریان ،بیروت
۷۔ احکام المولود فی السنۃ المطھرۃ، سالم علی راشد ،محمد خلیفہ الرباح ،المکتب الاسلامی بیروت
برصغیر میں خاص طور پر طلاق ثلاثہ کے موضوع پر احادیث و آثار پر مشتمل کتب اہل حدیث اور حنفی دو نوں مکاتب کی طرف سے لکھی گئی ہیں۔بوجہ شہرت و کثرت فرداً فرداً ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

۲۔معاملات و بیوع 

معاملات کی احادیث و روایات کی جمع و ترتیب پر مشتمل متعدد کتب منظر عام پر آئی ہیں ،چند اہم کتب کی فہرست پیش خدمت ہے :
۱۔ المختار من احادیث المعاملات، ہشام ابراہیم فرج ،خاص ،قاہرہ
۲۔ الاحادیث الواردۃ فی البیوع المنھی عنھا، سلیمان بن صالح الثنیان ،عمادۃ البحث العلمی ،مدینہ منورہ (مجلدین )
۳۔ تحریم الربا فی السنۃ، السید نشات ابراہیم، دار الطباعہ للہدی ،مصر
۴۔ جنی الثمرات من احادیث البیوع و المعاملات، ابراہیم عبد الفتاح حلیبہ،خاص ،مصر
۵۔ الجامع لاحادیث البیوع، سامی بن محمد الخلیل، دار ابن جوزی ،دمام
۶۔ احکام السنۃ النبویۃ فی المعاملات المالیۃ، عبد الرحمان الرفاعی، قاہرہ
۷۔ احادیث الاحتکار، حجیتھا واثرھا فی الفقہ الاسلامی، عبد الرزاق خلیفہ الشایجی ،عبد الروف محمد الکمالی ،دار ابن حزم، بیروت
۸۔ احادیث البیوع فی الکتب الستۃ، تخریجا ودراسۃ، محمد شکور بن محمود الحاجی،جامعہ القرآن الکریم، ام درمان (سوڈان )

فتن و اشراط الساعۃ

۱۔ اتحاف الجماعۃ بما جا ء فی الفتن والملاحم واشراط الساعۃ، حمود بن عبد اللہ التویجری، ریاض (مجلدین)
۲۔ الاحتجاج بالاثر علی من انکر المھدی المنتظر، حمود بن عبد اللہ التویجری ،مکتبہ دار العلیان، سعودی
۳۔ الاحادیث الواردۃ فی المھدی فی میزان الجرح والتعدیل، عبد العلیم عبد العظیم البستوی، دار ابن حزم ،بیروت (مجلدین )
۴۔ قصۃ المسیح الدجال ونزول عیسی علیہ السلام، محمد ناصر الدین البانی ،المکبتہ الاسلامیہ، عمان 
۵۔ المھدی المنتظر فی روایات اھل السنہ والشیعۃ الامامیۃ، عداب محمود الحمش،دار الفتح، عمان
۶۔ اشراط الساعۃ فی مسند الامام احمد وزوائد الصحیحین، خالد بن ناصر الغامدی ،دار ابن حزم، بیروت (مجلدین )
۷۔ صحیح اشراط الساعۃ، مصطفی ابو النصر الشلبی، مکتبہ السوادی ،جدہ
۸۔ الصحیح المسند من احادیث الفتن و الملاحم و اشراط الساعۃ، مصطفی العدوی ،دار لہجرہ، ریاض
۹۔ اخبا ر الدجال و ابن صیاد، مصطفی العدوی، دار السنہ ،السعودیہ 
۱۰۔ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح، محمد انور شا ہ الکاشمیری ،مکتب المطبوعات الاسلامیہ ،حلب
۱۱۔ مختارات من احادیث الفتن، محمد بن عبد اللہ الشبانی ،سعودی
برصغیر میں خاص طور پر قادیانی فتنے کی وجہ سے احادیث مہدی اور نزول عیسیٰ علیہ السلام پر کافی کام ہوا ہے ،ان رسائل و کتب کی تفصیل مولانا اللہ وسایا صاحب کی مرتب کردہ دستاویز ’’احتساب قادیانیت‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

فضائل و مناقب

۱۔ الاحادیث النبویۃ فی فضل الامۃ العربیۃ، فہد الحاج خضر عباس ،بغداد
۲۔ الصحیح المسند من فضائل اھل بیت النبوۃ، ام شعیب الوداعیہ ،دار الاثار ،صنعا ء
۳۔ الصحیح من فضائل الساعات والایام والشھور وما ابتدع منھا، عمر و عبد المنعم،دار الصحابہ للتراث، طنطا
۴۔ علیؓ فی الاحادیث النبویۃ، السید محمد ابراہیم الموحد،موسسہ الوفا ، بیروت
۵۔ مناقب امھات المومنین فی السنۃ النبویۃ، محمد بن سلیمان الربیش ،جامعہ الامام محمد بن سعود ،مکہ مکرمہ (مجلدین )
۶۔ موسوعۃ فضائل السور و آیات القرآن، محمد بن رزق بن طرہونی ،دار بن قیم ،السعودیہ(مجلدین )
۷۔ الاحادیث الواردۃ فی فضائل الصحابۃ فی الکتب التسعۃ ومسند البزار وابی یعلی والمعاجم الثلاثۃ للطبرانی ، سعود بن عید الصاعدی ،الجامعہ الاسلامیہ مدینہ منورہ (۲۱ مجلدات)
۸۔ الصحیح المسند من فضائل الصحابۃ، مصطفی العدوی ،دار الہجرہ ،صنعا
۹۔ فضائل المدینۃ المنورۃ، خلیل ابراہیم ملا خاطر ،دار القبلہ، جدہ (۳ مجلدات)
۱۰۔ فضائل مکۃ الواردۃ فی السنۃ، محمد بن عبد اللہ الغبان ،دار ابن الجوزی ،السعودیہ (مجلدین)
۱۱۔ السمو الی العنان بذکر صحیح فضائل البلدان، احمد بن سلیمان بن ایوب ،الفاروق الحدیثہ للطباعہ و النشر، قاہرہ
۱۲۔ فضائل الحجر الاسود ومقام ابراھیم، سائد بکداش ،دار البشائر االاسلامیہ ،بیروت

سیرت و شمائل و معجزات 

موجودہ صدی کو عمومی طور پر علوم سیرت میں تجدید کی صدی کہا جاتا ہے ،سیرت پر جو متنوع کام ہوئے ہیں ،ان میں ایک جہت (ہمارے موضوع سے متعلق )صحیح احادیث کی روشنی میں سیرت مرتب کرنے کی کاوشیں ہیں ،اس کے علاوہ سیرت کے بعض گوشوں جیسے شمائل ،غزوات ،معجزات ،مشہور واقعات وغیرہ کی روایات کی جمع و تدوین کی قابل قدر کوششیں ہیں ،ذیل میں بطور نمونہ چند جوامع کا ذکر کیا جاتا ہے :
۱۔ مرویات غزوۃ بدر، احمد محمد العلیمی ،مکتبہ طیبہ ،مدینہ منورہ 
۲۔ الذھب المسبوک فی تحقیق روایات غزوۃ تبوک، عبد القادر حبیب اللہ السندی ،مکتبہ العلا، کویت
۳۔ مرویات غزوۃ حدیبیۃ، حافظ بن احمد الحکمی ،مدینہ منورہ
۴۔ احادیث الھجرۃ ، سلیمان بن علی السعود ،مرکز الدراسات الاسلامیہ ،برطانیہ
۵۔ السیرۃ النبویہ کما جاء ت فی الاحادیث النبویۃ الصحیحۃ، محمد الصویانی ،موسسہ الریان، بیروت (۳ مجلدات)
۶۔ مرویات غزوۃ بنی المصطلق، ابراہیم بن ابراہیم القریبی ،مرکز البحث العلمی ،مدینہ منورہ
۷۔ مرویات غزوہ حنین وحصار الطائف، ابراہیم بن ابراہیم القریبی ،مرکز البحث العلمی، مدینہ منورہ (مجلدین )
۸۔ الصحیح المسند من دلائل النبوۃ، مقبل بن ہادی الوداعی ،دار الارقم ،کویت
۹۔ الاسراء و المعراج وذکر احادیثھما وتخریجھا وبیان صحیحھا من سقیمھا، محمد ناصر الدین البانی ،المکتبہ الاسلامیہ ،عمان
۱۰۔ خطبۃ الفتح الاعظم، فاروق حمادہ ،دار البیضاء
۱۱۔ الصحیح من معجزات المصطفی علیہ السلام، خیر الدین وانلی، دار ابن حزم بیروت
۱۲۔ دلائل نبوتہ علیہ السلام فی ضوء السنۃ، احمد محمود شیمی، دار الکتب العلمیہ، بیروت
۱۳۔ وصف الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کانک تراہ ، ر بیع عبد الروف الزواوی ،دار الثقافہ ،قطر
۱۴۔ جامع الروایات فی تحقیق نبوء ات النبی صلی اللہ علیہ وسلم، محمود نصار ،دار الکتب العلمیہ۔بیروت
۱۵۔ ضحک النبی و تبسمہ ومزاحہ، رضوان اللہ ریاضی ،دار الکتاب و السنہ ،لاہور

اخلاق وآداب و رقاق 

۱۔ الرقائق من کتب الحدیث الستۃ، سعید اللحام ،دار الفکر ،بیروت
۲۔ الاخلاق الاسلامیۃ فی ضوء السنۃ النبویۃ، یحییٰ ظاہر جمعہ محمد ،مطبعہ دار الہلا ل ،اسیوط
۳۔ کنز الاخلاق لاھل الافاق، عبد الرحمان خان کلیانی، مراد آباد
۴۔ من کنوز السنۃ فی الاخلاق والسلوک والاسرۃ، رجا ء طہ محمد احمد، مصر
۵۔ الاحادیث المختارۃ فی الاخلاق والاداب، عبد اللہ بن محمد صدیق غماری ،مکتبہ قاہرہ ،قاہرہ
۶۔ وصایا الرسول ونمط وارشاد، توحید، سلوک، اخلاق، محمد ادریس،دار االحکمہ ،دمشق
۷۔ بشری المتقین وانذار الفاسقین بکلام سید المرسلین، صالح بن احمد الخریصی،المطبعہ السلفیہ ،قاہرہ
۸۔ الاخلاق فی ضوء السنۃ، شعبان المرسی الدقرہ ،دار ر بیع ،طنطا
۹۔ فتح الوھاب من احادیث البر والصلۃ والاداب، ماہر منصور عبد الرزاق ،مصر
۱۰۔ احکام وآداب من السنۃ النبویۃ المطھرۃ، صالح یوسف معتوق ،دار البشائر الاسلامیہ ،بیروت
آداب وا خلاق اور اس کے مختلف شعبہ جات پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر کثرت سے مقالات لکھے گئے ہیں جن میں فرداً فرداً جملہ معاشرتی و سماجی آداب، رہن سہن اور اخلاق کی احادیث کو جمع کیا گیا ہے۔

تفسیر و تاویل 

تفسیری احادیث و روایات کی جمع و تدوین پر قابل قدر کاوشیں منظر عام پر آئی ہیں، دار طیبہ ریاض سے محققین کی ایک جماعت کی مشترکہ تصنیف جامع التفسیر من کتب الاحادیث چھپی ہے ،جس میں صحاح ستہ اور مسند احمد سے تفسیری روایات کو جمع کیا گیا ہے۔یہ موسوعہ چار ضخیم جلدوں میں چھپا ہے۔ اس کے علاوہ حکمت بن بشیر یاسین نے صحیح تفسیری روایات کو موسوعۃ الصحیح المسبور من التفسیر بالماثور کے نام سے جمع کیا ۔یہ کتاب دار الماثر مدینہ منورہ سے چار جلدوں میں چھپی ہے۔ اس کے علاوہ قرآنیا ت سے متعلقہ احادیث پر درج ذیل کام ہوئے ہیں :
۱۔ صحیح الحدیث النبوی ومواضع تفسیرہ لفاتحہ الکتاب، محمد العفیفی ،دار البحوث العلمیہ ، کویت
۲۔ الصحیح المسند من التفسیر النبوی للقرآن الکریم، السید ابراہیم بن ابی عمہ، دار الصحابہ للتراث، مصر
۳۔ الاحادیث والاثار الواردہ فی فضائل سور القرآن الکریم، دراسۃ ونقد، ابراہیم علی عیسی، دا السلام، قاہرہ
۴۔ صحیح التفسیر النبوی من الکتب الستۃ، یوسف عمر مبیض ،موسسہ علوم القرآن،بیروت
۵۔ صحیح اسباب النزول، ابراہیم محمد العلی ،دار القلم ،دمشق
۶۔ موسوعۃ علمیۃ محققۃ فی اسباب نزول آی القرآن الکریم، سلیم بن عید الہلالی ،محمد بن موسی ال نصر،دار ابن الجوزی، سعودیہ (۳مجلدات)
۷۔ الکواکب الدریہ فی ما ورد فی انزال القرآن علی سبعۃ احرف من الاحادیث النبویۃ، محمد الحداد المالکی الازہری، قاہرہ
۸۔ ماذا قال الرسول الکریم عن سور القرآن الکریم، بہجت عبد الواحد الشخیلی ،دار الفکر ،عمان
۹۔ من صحیح التفسیر النبوی للقرآن الکریم، خالد عبد الرحمان ،دار ثابت ،قاہرہ
۱۰۔ الماثور من تفسیر الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، ابو عمرو نادی بن محمود حسن الازہری ،قاہرہ 

سیر و احکام سلطانیہ 

۱۔ الجہاد فی السنۃ النبویۃ، انور عبد الفتاح العطافی ،دار الطباعہ المحمدیہ ،قاہرہ
۲۔ صفات المجاھدین کما وردت فی الکتب الستۃ، عدنان محمود الکحلوت،جامعہ ام درمان 
۳۔ احادیث الامامۃ ،روایۃ و درایۃ، فہد بن عبد العزیز العامر ،جامعہ الامام محمد بن سعود ،ریاض (مجلدین)
۴۔ الخلافۃ فی الاسلام وما ورد فیھا من السنۃ، یوسف بن محمد الصدیق ،جامعہ الامام ،ریاض
۵۔ احادیث الامراء المسندۃ، صالح بن سلیمان البقعاوی، دار المعراج، الریاض
۶۔ سبیل الرشاد من احادیث الجھاد، ابراہیم عبد الفتاح حلیبہ ،مصر
اہم اور بڑے موضوعات سے متعلق احادیث کی جمع و تدوین پر مشتمل تصانیف کا ایک خاکہ پیش کیا گیا، ورنہ ان موضوعات کی ذیلی اقسام و انواع کو اگر دیکھا جائے تو موضوعات کہیں زیادہ بن جاتے ہیں ،ان جملہ موضوعات کی احادیث کو ایک لڑی میں پرویا گیاہے، چنانچہ آج کسی بھی موضوع پر اگر روایات وآثار کا جائزہ لینا ہو تو ایسی کتاب ضرور مل جائے گی جس میں اس موضوع کی جملہ احادیث مذکور ہوں،یہ کتب تحقیق میں کافی ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں، نیز یہ کتب دو رجدید کے مزاج و مذاق سے بھی ہم آہنگ ہیں ،کیونکہ دور حاضر تخصص و اسپیشلائزیشن کا دور ہے، جامعیت کی بہ نسبت خصوصیت بازارِ علم میں زیادہ قیمتی و قابل توجہ ہے۔

۲۔ موسوعات الحدیث بحسب الانواع 

موسوعاتِ حدیث کی دوسری قسم ان موسوعات کی ہیں جن میں حدیث کی انواع و اقسام کے اعتبار سے احادیث کو جمع کیا گیا ہو۔صحت و ضعف کے اعتبار سے، رفع و وقف کے اعتبار سے، وصل و قطع کے اعتبار سے، الغرض حدیث کی جملہ اقسام کو الگ الگ موسوعات و معاجم کی شکل میں جمع کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ معروف کاوشیں مشہور محدث ناصر الدین البانی کی کتب ہیں۔ آپ نے ایک کام تو یہ کیا کہ اہم متونِ حدیث کی صحیح و ضعیف روایات کو الگ الگ جمع کیا، سنن اربعہ (ترمذی، ابو داود، نسائی، ابن ماجہ)سمیت الترغیب وال ترہیب، الادب المفرد اور امام سیوطی کی الجامع الصغیر میں سے ہر ایک کے صحیح و ضعیف احادیث پر مبنی دودونسخے مرتب کیے۔ دوسرا کام یہ کیا کہ صحیح احادیث پر مشتمل ایک موسوعہ سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ کے نام سے لکھا جو سات جلدو ں میں مکتبہ المعارف سے چھپا ہے۔ اس کے علاوہ ضعیف و موضوع احادیث پر مشتمل سلسلہ الاحادیث الموضوعۃ والضعیفۃ کے نام سے ایک ضخیم موسوعہ تیار کیا ہے جو چودہ ضخیم جلدوں میں چھپا ہے۔ احادیث کی تصحیح و تضعیف میں علامہ البانی کی تحقیق سے بہت سے حضرات نے اختلاف کیا ہے،لیکن اختلاف کے باوجود ان موسوعات کی فی الجملہ افادیت کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ محقق علی حسن علی حلبی نے اپنے دو ساتھیوں سمیت موسوعۃ الاحادیث والاثار الضعیفۃ والموضوعۃ کے نام سے تیار کیا ہے ،یہ موسوعہ مکتبہ المعارف ریاض سے پندرہ جلدوں میں چھپا ہے۔ صحیح احادیث کو جمع کرنے کے حوالے سے معروف ہندوستانی محدث ڈاکٹر ضیاء الرحمان اعظمی نے قابل قدر تحقیق کی ہے۔ آپ نے الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل کے نام سے ایک ضخیم کتاب لکھی ہے جس میں تمام متون حدیث سے صحیح السند احادیث کو جمع کیا۔ یہ تحقیق دار السلام ریاض سے بارہ جلدوں میں چھپی ہے۔ ذیل میں اہم انواع حدیث سے متعلق موسوعات و معاجم کی ایک فہرست پیش کی جاتی ہے :

احادیث قدسیہ:

۱۔ الاحادیث القدسیۃ، لجنۃ القرآن و الحدیث فی المجلس الاعلی للشون الاسلامیہ ،قاہرہ (مجلدین)
۲۔ جامع الاحادیث القدسیۃ، عصام الدین بن سید الصبابطی ،دار الریان للتراث ،قاہرہ(۳مجلدات)
۳۔ الاحادیث القدسیۃ الضعیفۃ والموضوعۃ، احمد بن احمد العیسوی، دار الصحابہ للتراث، مصر
۴۔ الصحیح المسند من الاحادیث القدسیۃ، مصطفی العدوی ،دار الصحابہ للتراث، مصر
۵۔ معجم الاحادیث القدسیۃ الصحیحۃ، کمال بن بسیونی،موسسہ الکتب الثقافیہ ،بیروت 
۶۔ الاحادیث القدسیۃ، محمد متولی الشعراوی ،دار الروضہ ،قاہرہ(۶مجلدات)
۷۔ الجامع فی الاحادیث القدسیۃ، جمال عبد الغنی مدغمش،دار الاسراء،عمان
۸۔ موسوعۃ الاحادیث القدسیۃ الصحیحۃ والضعیفۃ، یوسف الحاج احمد ،مکتبہ ابن حجر دمشق

احادیث مشہورہ ومتواترہ:

متواتر و مشہور حدیث پر مبنی متعدد موسوعات لکھی گئیں ہیں ،اس سلسلے کی اہم کتب کی فہرست پیش خدمت ہیں :
۱۔ عیون الآثار فیما تواتر من الاحادیث والآثار، محمد ناصر الکتانی ،الدار البیضاء 
۲۔ نظم المتناثر من الاحادیث المتواتر، محمد بن جعفر الکتانی ،دار الکتب السلفیہ ،مصر
۳۔ معجم الاحادیث المشتھرۃ، محمد رضوان الدایہ ،دار الفکر ،دمشق
۴۔ احادیث مردودہ مشتھرۃ علیٰ السنۃ الناس، سعید بن صالح الرقیب ،دار القاسم ،ریاض
۵۔ احادیث مقبولۃ مشتھرۃ علی السنۃ الناس، سعید بن صالح الرقیب ،دار القاسم،ریاض

احادیث صحیحہ و ضعیفہ:

۱۔ الصحیح المسند مما لیس فی الصحیحین، مقبل بن ہادی الوداعی ،دار ابن حزم، بیروت (مجلدین)
۲۔ الجامع الصحیح فیما کان علی شرط الشیخین او احدھما و لم یخرجاہ، یوسف بن جودہ الداودی ،دار قباء،قاہرہ (مجلدین)
۳۔ النافلۃ فی الاحادیث الضعیفۃ والباطلۃ، ابو اسحاق الحوینی ،حجازی بن محمد ،دار الصحابہ ،مصر (مجلدین)
۴۔ المجموع فی الضعیف و المنکر و الموضوع، سمیر البحر، دار البیان، دمشق(۳ مجلدات)
۵۔ المنتقی من الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ علی المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، یوسف الحاج احمد ،دار الفارابی ،دمشق
۶۔ صون الشرع الحنیف ببیان الموضوع والضعیف، عمرو بن عبد المنعم سلیم،مکتبہ الضیاء، مصر(مجلدین)

احادیث موضوعہ:

۱۔ تحذیر المسلمین من الاحادیث الموضوعۃ علی سید المرسلین، محمد بشیر الظافر الازہری، مطبعہ جریدہ ،قاہرہ
۲۔ المغیر علی الاحادیث الموضوعۃ فی الجامع الصغیر، احمد بن محمد الصدیق الغماری ،دار الرائد العربی، بیروت
۳۔ الآثار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ، عبد الحی لکھنوی ،دار الکتب العلمیہ۔،بیروت
۴۔ الاحادیث الموضوعۃ، عباس احمد صقر، احمد عبد الجواد،دار الاشراق،بیروت
۵۔ جمع الاحادیث الموضوعۃ المتفق علیھا والمختلف فیھا علی ترتیب حروف المعجم، عدنان عبد الرحمان بن محمد بارلادی 
۶۔ النخبۃ البھیۃ فی الاحادیث الموضوعۃ علی خیر البریۃ، محمد الامیر الکبیر ، المکتب الاسلامی، بیروت
۷۔ اللولو المرصوع فیما قیل لہ لا اصل لہ او باصلہ الموضوع، محمد بن خلیل مشیشی ،المطبعہ البارونیہ ،قاہرہ
(جاری ہے)

تعبیر قانون کے چند اہم مباحث

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

(16 نومبر 2017ء کو اس موضوع پر فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا کے طلبہ کے ساتھ کی گئی گفتگو مناسب حذف و اضافے کے ساتھ پیش خدمت ہے۔ )

پہلا سوال: تعبیر قانون کی ضرورت کیوں؟ 

ایک عام آدمی یہ سوچتا ہے کہ مقننہ نے قانون میں سب کچھ واضح طور پر پیش کردیا ہے تو اس کے بعد "تعبیر قانون" یا قانون کا مفہوم متعین کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ وہ سوچتا ہے کہ جج کا کام صرف یہ ہے کہ مقننہ کے وضع کردہ قانون کی مقدمے میں موجود حقائق پر تطبیق کردے۔ کاش یہ معاملہ اتنا سیدھا سادہ ہوتا! 

جہاں قانون بظاہر خاموش ہو 

پہلی بات یہ ہے کہ اگرچہ مقننہ اپنے طور پر پوری کوشش کرتی ہے کہ موجودہ حالات اور آئندہ پیش آنے والے ممکنہ واقعات سے متعلق ایک جامع قانون بناکر پیش کردے، لیکن عملاً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ بسا اوقات ایسے نئے مسائل سامنے آجاتے ہیں جن کے متعلق قانون سازی کے وقت سوچا بھی نہیں گیا ہوتا۔ ایسے حالات میں جب جج کے سامنے ، جس نے مقدمے کے کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ کرنا ہے ، کیا آپشن ہیں؟ 
ایک آپشن یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت سے یہ کہہ کر انکار کردے کہ 'قانون اس معاملے پر خاموش ہے'۔ (بہ الفاظِ دیگر، غامدی صاحب کی اپروچ اختیار کرتے ہوئے قرار دے کہ یہ معاملہ قانون کا موضوع ہی نہیں ہے !) 
دوسرا آپشن یہ ہوسکتا ہے (جو پہلے آپشن ہی کی ایک دوسری صورت ہے) کہ معاملہ مقننہ کی طرف واپس بھیج کر اسے کہے کہ اس موضوع پر قانون سازی کرے۔ 
تیسرا آپشن یہ ہوسکتا ہے کہ وہ سامنے موجود قانون کی رو سے مقدمے کا فیصلہ کسی ایک فریق کے حق میں کرے۔ 
واضح رہے کہ پہلی دو صورتوں میں بھی جب وہ مقدمہ خارج کرتا ہے اور نتیجتاً مقدمے کا فیصلہ مدعی کے بجاے مدعا علیہ کے حق میں کرتا ہے تو وہ اصلاً یہ قرار دیتا ہے کہ قانون مدعا علیہ کے حق میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ 'قانون خاموش ہے' کا آپشن جج کے پاس ہوتا ہی نہیں ہے کیونکہ عملاً صورت حال یہ ہوتی ہے کہ جج کے سامنے جب مقدمہ آیا تو اسے لازماً کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
اب آئیے تیسرے آپشن کی طرف ، یعنی سامنے موجود قانون کی رو سے مقدمے کا فیصلہ۔ 
یہاں الجھن یہ پیش آتی ہے کہ جن صورتوں کا قانون میں ذکر ہوتا ہے ، مقدمے میں ان کے بجائے کوئی اور صورت ہوتی ہے۔ اس نئی صورت پر قانون کا اطلاق کیسے کیا جائے ؟ ایسے مقدمات کو اصولِ قانون کی اصطلاح میں Hard Cases، یعنی مشکل مقدمات، کہا جاتا ہے۔ ان مقدمات میں جب 'بظاہر' قانون 'خاموش' معلوم ہوتا ہے ، مقدمے کا فیصلہ کیسے کیا جائے؟ 
اصولِ قانون کے ایک مکتب فکر Legal Positivism کا موقف یہ ہے کہ ایسے مقدمات میں جج اپنی قانونی صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے نیا قانون وضع کرتا ہے اور یوں گویا وہ مقننہ کے نائب کا کردار ادا کرتے ہوئے ان خلاؤں کو پر کرتا ہے جو مقننہ سے رہ گئے تھے۔ اس موقف پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر جج آج قانون وضع کرتا ہے تو اس قانون کا اطلاق وہ اس مقدمے پر کیسے کرتا ہے جو اس قانون کے وضع کیے جانے سے قبل دائر کیا گیا تھا؟ قانون کا مؤثر بہ ماضی ہونا اخلاقی لحاظ سے معیوب امر سمجھا جاتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس مکتب فکر کے نزدیک اخلاقی ضوابط کا قانون پر اطلاق نہیں ہوتا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے نزدیک قانون قانون ہوتا ہے ، خواہ وہ اخلاقی لحاظ سے اچھا ہو یا برا ! 
اصولِ قانون کے ایک دوسرا مکتبِ فکر Naturalism کا موقف یہ ہے کہ وضعی قانون میں تو خلا پایا جاتا ہے، لیکن قانونِ فطرت ایک جامع قانون ہے اور وہی اصل قانون ہے ؛ اس لیے جج کو چاہیے کہ قانونِ فطرت کے اصول معلوم کرکے سامنے موجود مقدمے کا فیصلہ کرلے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عملاً یہ مکتب فکر بھی جج کو discretion دیتا ہے لیکن نظری طور پر فرق یہ ہے کہ Positivists کے نزدیک جج نیا قانون وضع کرتا ہے جبکہ Naturalists کے نزدیک جج پہلے سے موجود قانون دریافت کرتا ہے۔ یوں Naturalists پر وہ اخلاقی سوال نہیں اٹھتا جو Positivists پر قائم ہوتا ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ 'قانونِ فطرت' ہے کیا اور یہ کیسے دریافت کیا جاتا ہے؟ 
مایہ ناز امریکی فلسفیِ قانون رونالڈ ڈوورکن کا موقف یہ ہے کہ جج کے پاس discretion نہیں ہوتی ، یہاں تک کہ جنھیں Hard Cases کہا جاتا ہے، ان میں بھی جج قانون کے اصولوں کا پابند ہوتا ہے۔ اس لیے جج نہ ہی نیا قانون بناتا ہے ، نہ ہی کسی موہوم قانونِ فطرت کے اصول دریافت کرتا ہے، بلکہ جج پر لازم یہ ہوتا ہے کہ اپنے سامنے موجود قانون کے قواعد عامہ معلوم کرکے ان کی روشنی میں مقننہ کا عمومی ارادہ (general intention of the legislature)متعین کرے اور پھر اس کی روشنی میں مقدمے کا فیصلہ کرے۔ (یہ اپروچ حنفی فقہائے کرام کے طریق کار سے بہت زیادہ قریب ہے اور اسی اپروچ کو امام جوینی اور امام غزالی کے بعد شافعی مکتب فکر نے بھی قبول کرلیا اور بعد میں دیگر مذاہبِ فقہ نے بھی اسے کسی حد تک اپنالیا۔ ) 

جہاں قانون خاموش نہ ہو

یہاں تک تو اس صورت حال پر بحث ہوئی جس میں قانون بظاہر خاموش ہو۔ تاہم 'تعبیر قانون' کی ضرورت وہاں بھی پیش آتی ہے جہاں قانون خاموش نہیں ہوتا۔ 
یہاں پہلی بحث تو الفاظ کی دلالت کی آجاتی ہے۔ مقننہ کی کوشش ہوتی ہے کہ قانون سازی میں ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں تو اپنی دلالت میں واضح ہوں۔ تاہم مختلف امور کی بنا پر لفظ کی دلالت میں کئی امکانات موجود ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ ۔ جیسا کہ مایہ ناز فلسفیِ قانون ایچ ایل اے ہارٹ نے واضح کیا ہے ۔ وہ الفاظ بھی جنھیں 'قطعی الدلالہ' سمجھا جاتا ہے، ظنیت کے کئی پہلو رکھتے ہیں اور ان مختلف پہلووں میں جج کو کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ 
مثال کے طور پر اگر کسی قانون میں یہ قرار دیا جائے کہ اس کا اطلاق 'گاڑیوں' (vehicles) پر ہوگا تو یہ تو بات واضح ہوگی کہ اس کا اطلاق کار اور جیپ پر ہوگا، لیکن کیا اس کا اطلاق بائیسکل ، بچوں کی ٹرائیسکل ، گدھاگاڑی یا تانگے پر بھی ہوگا؟ ان صورتوں میں جج کو قانون کے اندر اور باہر بہت سے عوامل کا جائزہ لینے کے بعد یہ متعین کرنا پڑے گا کہ مقننہ ان چیزوں پر بھی قانون کا اطلاق کرنا چاہتی تھی یا نہیں؟ 
الفاظ کی دلالت کے علاوہ اور بھی کئی امور ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر الفاظ قانون کی جس دفعہ میں وارد ہوئے ہوں، اس دفعہ کا دیگر دفعات کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ایک جانب کسی لفظ کی اپنی مخصوص دلالت ہوتی ہے اور دوسری طرف قانون کی اس مخصوص دفعہ کا اس قانون میں ایک مخصوص مقام ہوتا ہے۔ کیا جج لفظ کی مخصوص 'قطعی' دلالت کو دیکھے گا یا اس قانون کو ایک مکمل وجود (organic whole)قرار دے کر پورے قانون کے کلی تصور کی روشنی میں اس لفظ پر قیود و حدود عائد کرے گا؟ لفظ بظاہر عام ہوتا ہے لیکن قانون میں اس کا مخصوص مقام اسے خاص کردیتا ہے۔ لفظ بظاہر مطلق ہوتا ہے، لیکن قانون میں اس کا مخصوص سیاق اسے مقید کردیتا ہے۔ پھر بات صرف اس ایک قانون کی نہیں ہوتی، بلکہ یہ قانون بھی پورے قانونی نظام کا ایک جزو ہوتا ہے اور اسی لیے جج کو اس ایک قانون کے اس ایک لفظ کے مفہوم کے تعین کے لیے دوسرے قوانین کا بھی جائزہ لینا پڑتا ہے اور پورے قانونی نظام میں اس مخصوص قانون کا مقام بھی متعین کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ہی وہ اس مخصوص قانون میں وارد شدہ کسی مخصوص لفظ کا صحیح قانونی مفہوم متعین کرسکتا ہے۔ 

دوسرا سوال: تعبیر قانون کون کرے؟ 

اب جبکہ تعبیر قانون کی ضرورت واضح ہوگئی ہے تو اگلا سوال یہ ہے کہ تعبیر قانون کا اختیار کسے ہے؟ 

اختیارات کی تقسیم کا نظریہ 

مونٹیسکو نے یہ نظریہ دیا تھا کہ اختیارات کا ارتکاز کرپشن اور ظلم کا باعث بنتا ہے اور اس لیے سیاسی اختیارات کی تقسیم ضروری ہے۔ اس نے حکومت کی تین شاخیں ذکر کرکے ان کو الگ الگ تین طرح کے اختیارات دینے کی بات کی: مقننہ قانون وضع کرے، عدلیہ اس قانون کی تعبیر و تشریح کرے ؛ اور انتظامیہ اس قانون کی تنفیذ کرے۔ 
نظری طور پر اس نے قرار دیا کہ یہ تینوں شاخیں ایک دوسرے سے الگ ہوں، لیکن عملاً جب اس نظریے کو ریاست ہاے متحدہ امریکا کے دستور میں برتنے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ اس دستور میں قرار دیا گیا کہ سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی صدر کا اختیار ہے، حالانکہ وہ انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے۔ نیز ان ججز کی تعیناتی کی منظوری سینیٹ دیتی ہے حالانکہ سینیٹ کانگرس کا ، یعنی مقننہ کا ، جزو ہے۔ پھر صدر انتظامی سربراہ ہونے کے باوجود جو انتظامی احکامات ( executive orders)جاری کرتا ہے، وہ قانون ہی کی حیثیت سے نافذ ہوتے ہیں ، جب تک عدلیہ انھیں دستور سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار نہ دے۔ اسی طرح قانون سازی کا اختیار کانگرس کے لیے مان لیا گیا، لیکن سپریم کورٹ کا یہ اختیار مان لیا گیا کہ کانگرس کے وضع کردہ قانون کو دستور سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار دے۔ 
یوں اختیارات کی علیحدگی ( separation of powers) کے ساتھ اس کا بھی بندوبست کیا گیا کہ حکومت کی یہ تینوں شاخیں ایک دوسرے پر نظر رکھ توازن قائم کرنے کی کوشش کریں۔ اسے system of checks and balances کہا گیا۔ بعض اوقات یہ نظام توازن قائم کرنے کے بجائے تینوں شاخوں کے درمیان تصادم کی طرف بھی لے جاتا ہے۔ (ٹرمپ نے کچھ عرصہ قبل امیگریشن کے حوالے سے آرڈر جاری کیا جسے ایک فیڈرل جج نے کالعدم قرار دیا اور پھر ابتدائی جارحانہ ردرعمل کے باوجود ٹرمپ کو نیا آرڈر جاری کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ) 
برطانیہ میں بھی اصولی طور پر تو یہ مانا گیا ہے کہ قانون کی تعبیر کا اختیار عدلیہ کے پاس ہے، لیکن وہاں عدلیہ نسبتاً مختلف حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہاں اس کا بنیادی کام "مقننہ کے ارادے کا تعین (determining the intention of the legislature) ہے اور اس کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ مقننہ کے وضع کردہ کسی قانون کو کالعدم قرار دے۔ البتہ یورپی یونین میں شمولیت اور بالخصوص یورپی معاہدہ براے حقوقِ انسانی کی توثیق کے بعد معاملہ تھوڑا مختلف ہوگیا کیونکہ برطانیہ نے خود پر لازم کردیا کہ وہ اپنے اس معاہدے کا نفاذ یقینی بنائے۔ چنانچہ اس معاہدے کے بعد برطانوی پارلیمنٹ نے حقوقِ انسانی کا قانون (Human Rights Act) منظور کیا جس کے تحت یہ اصول طے پایا کہ اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچے کہ کوئی برطانوی قانون اس معاہدے سے متصادم ہے تو وہ اس کے بارے میں سرٹیفیکیٹ دے اور معاملہ پارلیمنٹ کی طرف بھیج دے جو مناسب سمجھے تو قانون میں تبدیلی کرلے گی۔ گویا عدالتیں قانون کو کالعدم تو قرار نہیں دے سکتیں، لیکن مخصوص حالات میں پارلیمنٹ کو کسی قانون پر نظر ثانی کے لیے کہہ سکتی ہے۔ (یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے 150Brexit150 کے بعد صورت حال کیا ہوگی ؟ یہ سوال بہت دلچسپ ہے لیکن سردست اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ ) 
عدلیہ کے پاس مقننہ کے وضع کردہ قانون کو کالعدم قرار دینے کا اختیار کہاں سے آیا؟ اس پر ذرا تفصیل سے بحث کی ضرورت ہے۔ 

وفاقی ریاست میں دستور اور سپریم کورٹ کی حیثیت 

برطانوی دستور کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ بالادستی پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ اس مفروضے کے پیچھے ایک لمبی کہانی ہے جس پر بحث کا موقع نہیں ہے لیکن مختصراً اتنا بتادینا کافی ہے کہ ابتدا میں بادشاہ کو مطلق اختیارات حاصل تھے جو صدیوں کے قانونی ارتقا کے نتیجے میں پارلیمنٹ کو منتقل ہوگئے جس کے بعد پارلیمنٹ کو مطلق اختیارات کا حامل مانا گیا۔ 
امریکا نے جب برطانیہ سے آزادی حاصل کی تو ابتدا میں چند ریاستوں نے ایک 'نیم وفاقی' (confederation) طرز کی ترتیب اپنائی جس میں ہر ریاست کو خودمختاری حاصل تھی، لیکن چند اہم امور، بالخصوص دفاع، میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ بندھی ہوئی تھیں۔ اس نظام کے پیچھے اصل مقصد برطانیہ عظمیٰ کی طاقت کا مقابلہ کرنا تھا۔ چند سالوں میں معلوم ہوا کہ یہ نظام قابل عمل اور مقصد کے حصول کے لیے مفید نہیں ہے۔ چنانچہ اسے 'وفاقی' ریاست (federal state) میں تبدیل کیا گیا۔ اس نئی ریاست کی تشکیل میں ایک جانب الگ الگ ریاستوں کی اندرونی خودمختاری کو بھی مناسب اور ممکن حد تک محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی اور دوسری طرف ان ریاستوں کے اجتماع سے وجود میں آنے والی 'وفاقی ریاست' کو دفاع اور دیگر متعلقہ امور کے لیے مناسب اختیارات بھی دیے گئے۔ ان دوطرفہ مصالح کے تحفظ کے لیے ان ریاستوں نے آپس میں باقاعدہ تحریری معاہدہ کرکے اپنی آزادی پر کچھ قدغن قبول کیے اور 'وفاق' کے لیے کچھ اختیارات مان لیے۔ اس تحریری معاہدے کو 'دستور' (Constitution) کہا گیا۔ 
اس دستور/تحریری معاہدے کے ذریعے وفاق اور اس کی 'اکائیوں '( federating units)کے درمیان قانون سازی کے اختیارات تقسیم کیے گئے اور پھر حکومت کی تین شاخوں 150 مقننہ ، عدلیہ اور انتظامیہ 150 کے اختیارات الگ کیے گئے۔ یوں امریکی دستور کی دو بنیادی خصوصیات یہ قرار پائیں: 
وفاق اور اکائیوں کے درمیان قانون سازی کے اختیارات کی تقسیم (distribution of legislative powers)؛ اور
حکومت کی شاخوں کی الگ حیثیت (separation of powers)۔ 
نیز اس نظام میں بالادستی مقننہ کے بجاے اس تحریری معاہدے ، یعنی دستور ، کے لیے تسلیم کی گئی جس کے نتیجے میں یہ وفاقی ریاست وجود میں آئی۔ یہ امریکی دستور کی سب سے اہم خصوصیت قرار پائی جس نے اسے برطانوی نظام سے ممیز کیا ، یعنی پارلیمنٹ کی بالادستی کے بجاے دستور کی بالادستی۔ 
اس دستور کی تعبیر و تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے لیے مان لیا گیا۔ اسی تعبیر و تشریح کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر مقننہ یا انتظامیہ دستور میں مقررہ حدود سے تجاوز کرکے کوئی قانون بنائے ، یا کوئی انتظامی حکم جاری کرے، تو اس قانون یا حکم کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی کیونکہ وہ حدود سے متجاوز ( ultra vires)ہونے کی وجہ سے غیر دستوری ہوگا۔ یوں سپریم کورٹ کو "دستور کے محافظ" (Custodian of the Constitution)کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ اس حیثیت سے سپریم کورٹ کو مقننہ اور انتظامیہ کے افعال پر "عدالتی نظر ثانی" (Judicial Review)کا حق مل گیا۔ اس حق کو استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ ، یا ریاستی اکائی کی سطح پر فیڈرل کورٹ ، کسی قانون یا انتظامی حکم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ 
پاکستان کے قانونی نظام میں صورت حال کیا ہے؟ اس پر الگ بحث کی ضرورت ہے۔ 

تیسرا سوال: پاکستان کے قانونی نظام میں تعبیر قانون کیسے کی جائے؟ 

نصابی کتب میں پاکستان کے قانونی نظام کی تاریخ ایسٹ انڈیا کمپنی کے چارٹر سے شروع کی جاتی ہے اور پھر مختلف قانونی دستاویزات سے ہوتے ہوئے بالآخر بات 1857ء کی جنگ تک آجاتی ہے جس کے بعد ہندوستان کو برطانیہ کی سلطنت میں شامل قرار دیا گیا اور اسے "برطانوی ہند"کہا جانے لگا۔ اس کے بعد انگریز حکومت کے دور میں نافذ کردہ مختلف قوانین کا ذکر کیا جاتا ہے جن کے ذریعے ایک طویل عرصے میں حکومتی اختیارات ٹکڑوں ٹکڑوں میں ہندوستان کے لوگوں کو منتقل کیے گئے۔ اس ساری کہانی میں یہ نہیں بتایا جاتا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی جب ہندوستان آئی تو یہاں کا نظامِ حکومت کس دستور پر قائم تھا اور اس کو کیسے بتدریج ختم کیا گیا۔ یہ ایک الگ کہانی ہے۔ بہرحال ہم انگریز دور پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ 

پاکستانی قانونی نظام کی مخصوص حیثیت 

انگریز دور میں خصوصاً ذکر کیا جاتا ہے 1909ء کے 'منٹو 150مارلے ریفارمز' کا اور پھر 1919ء کے 'قانونِ حکومتِ ہند' کا۔ اس مؤخر الذکر قانون کی رو سے ہندوستان میں 'صوبوں' کی سطح پر 'دوہری حکومت' (Diarchy) قائم کی گئی جس میں ایک طرف انگریز گورنر اور اس کی مجلس مشاورت ہوتی تھی اور دوسری طرف وزیر اعلی اور اس کی کابینہ ہوتی تھی۔ 'قانونِ حکومت ہند 1935ء ' کے ذریعے اس نظام کو صوبوں سے تو ختم کیا گیا لیکن اسے 'وفاق'کی سطح پر نافذ کیا گیا۔ 1935ء کے اس قانون کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس نے ہندوستان کو 'وفاقی ریاست' بنا دیا اور صوبوں اور 'شاہی ریاستوں' ( princely states)کو اس کے اجزا اور اکائیاں مان لیا گیا۔ اس قانون کے تحت ہندوستان میں ایک 'وفاقی عدالت' ( Federal Court)بھی بنادی گئی۔ نیز مختلف علاقوں میں قائم ہائی کورٹس اور چیف کورٹس کو اس فیڈرل کورٹ کے ماتحت لایاگیا۔ 1947ء کے 'قانونِ آزادیِ ہند' کے ذریعے اسی 1935ء کے قانون کو نئی ریاستوں ، بھارت اور پاکستان، کا عبوری دستور بنادیا گیا۔ یوں پاکستان ابتدا سے ہی 'وفاقی ریاست ' ہے۔ 
پاکستان کی دستور سازی اسمبلی نے 1949ء میں ایک اہم دستاویز منظور کی جسے 'قراردادِ مقاصد' کہتے ہیں۔ اس قرارداد کے ذریعے پاکستان کے دستور کے عمومی خدوخال واضح کیے گئے۔ دیگر امور کے علاوہ یہ بات بھی اس قرارداد میں کہی گئی کہ پاکستان کا دستوری نظام وفاقی ہوگا۔ یہی بات 1956ء کے دستور میں دہرائی گئی ؛ پھر ریاست کی وفاقیت کو 1962ء کے دستور نے بھی برقرار رکھا اور 1973ء کے دستور نے بھی۔ 1956ء کے دستور کے بعد سے 'فیڈرل کورٹ' کو 'سپریم کورٹ' اور 'چیف کورٹ' کو 'ہائی کورٹ' کہا جانے لگا۔ 
بہرحال پاکستان چونکہ وفاقی ریاست ہے ، اس لیے یہاں بھی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مقننہ (پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی) کے وضع کردہ قانون کو اس بنیاد پر کالعدم قرار دے کہ مقننہ نے اپنے دستوری حدود سے تجاوز کیا ہے۔ اس لیے پاکستان میں 'پارلیمنٹ کی بالادستی' کا نعرہ قانونی لحاظ سے بالکل ہی غلط ہے۔ وفاقی ریاست ہونے کی وجہ سے پاکستان میں پارلیمنٹ نہیں ، بلکہ دستور بالادست ہے اور سپریم کورٹ کو دستور کے محافظ کی حیثیت حاصل ہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ برطانوی نظام کی حد تک قابل قبول ہے، لیکن وفاقی ریاست میں یہ بات نہیں مانی جاسکتی۔ پاکستان میں رائج زیادہ تر قوانین چونکہ برطانوی ہند سے وراثت میں ملے ہیں، اس لیے ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ پورے خلوص سے اس غلط فہمی میں مبتلا ہوں کہ برطانیہ کی طرح یہاں بھی بالادستی پارلیمنٹ کو حاصل ہے، لیکن یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ پاکستان کا دستور برطانیہ کے بجاے امریکا کے دستور کے قریب ہے کیونکہ برطانیہ وحدانی ریاست (unitary state)ہے جبکہ امریکا وفاقی ریاست ہے۔ 
پھر پاکستان صرف وفاقی ریاست ہی نہیں ہے بلکہ 'اسلامی جمہوریہ' بھی ہے۔ ملک کے دستور کی رو سے ملک کا نام 'اسلامی جمہوریہ پاکستان' ہے؛ یہاں کا 'ریاستی مذہب' اسلام ہے ؛ یہاں اللہ تعالیٰ کے لیے اقتدارِ اعلی تسلیم کیا گیا ہے اور مانا گیا ہے کہ تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود کے اندر استعمال کیے جائیں گے ؛ یہ بھی مانا گیا ہے کہ یہاں کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جائے گا جو اسلام سے متصادم ہو ؛ نیز موجودہ تمام قوانین سے وہ امور ختم کیے جائیں گے جو اسلام سے متصادم ہوں۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی عدالت 'وفاقی شرعی عدالت' بھی قائم کی گئی ہے جسے یہ اختیار حاصل ہے کہ معدودے چند قوانین کے سوا دیگر تمام قوانین کا جائزہ لے کر ان کی ان دفعات کو کالعدم قرار دے جو اسلام سے متصادم ہوں۔ 
پس پاکستان کے قانونی نظام میں کسی قانون کی تعبیر کرتے ہوئے تین بنیادی امور عدالت کے سامنے مد نظر رہتے ہیں ، یا رہنے چاہئیں : 
ایک یہ کہ یہ بیش تر قوانین برطانوی ہند کا ورثہ ہیں اور ان کی تعبیر و تشریح کے لیے انگریزی کامن لا کے تصورات کا فہم ضروری ہے ؛ 
دوسرا یہ کہ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں مقننہ اور انتظامیہ کے افعال پر نظرثانی اور ان کی دستوری حیثیت کا اختیار ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کو حاصل ہے ؛ اور 
تیسرا یہ کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جہاں تمام قوانین 150 جی ہاں ، تمام قوانین 150 کی ایسی تعبیر ضروری ہے جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔ 
اس آخری نکتے کی مزید توضیح ضروری ہے۔ 

چوتھا سوال: "اسلامی جمہوریہ" میں تعبیر قانون کیسے کی جائے؟ 

انگریزوں نے جب ہندوستان کے مختلف علاقوں پر اپنا قبضہ مستحکم کرنا شروع کیا تو اس کے ساتھ انھوں نے عدالتی اور قانونی نظام پر بھی بتدریج قبضہ کرلیا۔ البتہ انھوں نے 'شخصی امور' میں عدم مداخلت کو ہی بہتر پالیسی سمجھا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے ان امورمیں بھی مداخلت شروع کی اور مسلمان قاضی کے بجاے انگریز جج کو عدالتوں میں بٹھادیا، البتہ اس کی مدد کے لیے مفتی ہوتے تھے۔ پھر انھوں نے ہدایہ اور عالمگیری کے منتخب ابواب کا انگریزی میں ترجمہ کروایا تو مفتی بھی غیر ضروری ٹھہرے۔ اب ہوتا یہ تھا کہ مسلمانوں کے خانگی امور کا تصفیہ انگریز جج ہدایہ یا عالمگیری کے انگریزی ترجمے کی مدد سے کرتا اور اسلامی قانون کی تعبیر و تشریح کے لیے انگریزی قانون کے اصول استعمال کرتا۔ نتیجتاً جو قانون عدالتی نظائر کی صورت میں وجود میں آیا اسے 'اینگلو۔محمڈن لا' کہا جانے لگا۔ یہی اینگلو۔محمڈن لا اب بھی ہماری عدالتوں کے لیے بنیادی ماخذ ہے جس کی روشنی میں وہ عائلی امور کے مسائل کا تصفیہ کرتے ہیں۔ 
آزادی حاصل کرنے کے بعد معاملہ اس کے برعکس ہونا چاہیے تھا۔ اب ہمارے سامنے انگریزوں کے چھوڑے ہوئے بے شمار قوانین تھے جن کی تعبیر و تشریح 'اسلامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں ' ہونی چاہیے تھی۔ تاہم ہماری عدالتیں بدستور انگریزی کامن لا کے مفروضات پر عمل کرتی رہیں۔ قراردادِ مقاصد 1949ء کی منظوری کے بعد یہ سلسلہ رک جانا چاہیے تھا کیونکہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے لیے اقتدارِ اعلی تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان کرلیا۔ 1956ء، 1962ء اور 1973ء کے دساتیر میں ہم نے باقاعدہ اعلان کیا کہ پاکستان کے تمام قوانین کو اسلامی احکام سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ تاہم بدقسمتی سے آج تک یہ کام باقاعدہ طور پر شروع بھی نہیں کیا جاسکا۔ 
1991ء میں 'قانونِ نفاذِ شریعت' کی دفعہ 4 کے تحت قرار دیا گیا کہ پاکستان میں تمام قوانین کی تعبیر و تشریح 'قرآن و سنت میں مذکور اسلامی احکام' کی روشنی میں کی جائے گی۔ یہ بھی قرار دیا گیا کہ اگر کسی قانون کی دو تعبیرات ممکن ہوں تو وہ تعبیر اپنائی جائے گی جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔ اس قانون کے بعد تمام عدالتوں کی قانونی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہر قانون کی تعبیر اسلامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں کریں۔ تاہم وکلا بھی کبھی عدالت سے یہ نہیں کہتے کہ اس قانون پر عمل کریں ، نہ ہی عدالتوں نے اس قانون پر عمل کی طرف توجہ دی ہے۔ 
اس عمومی قانون کے علاوہ کئی قوانین میں خصوصی طور پر لازم کیا گیا ہے کہ اس قانون کی تعبیر و تشریح اسلامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں کی جائے گی، لیکن اس کے باوجود عدالتیں اس طرف متوجہ نہیں ہوتیں۔ ایک اہم مثال قصاص و دیت کا قانون ہے جو اس وقت مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کے باب 16 میں مذکور ہے۔ اس قانون کی دفعہ 338 150 ایف میں تصریح کی گئی ہے کہ اس باب کے احکام اور دیگر متعلقہ احکام کی تعبیر و تشریح اسلامی احکام کے مطابق کی جائے گی لیکن اس کے باوجود عدالتیں اس سے پہلو تہی کرتی ہیں۔ 
عام طور پر ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے سامنے جب اس طرح کا مسئلہ آجاتا ہے تو ہمارے فاضل جج یہ کہہ کر جان چھڑاتے ہیں کہ کسی قانون کے اسلامی احکام سے تصادم یا عدم تصادم کا فیصلہ کرنا وفاقی شرعی عدالت کا اختیار ہے اور یہ معاملہ وہاں اٹھایا جانا چاہیے۔ یہ محض ایک عذرِ لنگ ہے کیونکہ سوال کسی قانون کے اسلامی احکام کے ساتھ تصادم (repugnancy) کا نہیں بلکہ اس قانون کی تعبیر (interpretation) کا ہے۔ یقیناًاسلامی احکام کے ساتھ تصادم یا عدم تصادم کا فیصلہ کرنا وفاقی شرعی عدالت کا کام ہے لیکن جہاں تک اسلامی قانون کی روشنی میں قانون کی تعبیر کا تعلق ہے تو یہ سپریم کورٹ وہائی کورٹس سمیت تمام عدالتوں کی قانونی ذمہ داری ہے۔

مسئلہ ختم نبوت: حالیہ بحران کے چند اہم پہلو

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ملک کے انتخابی قوانین میں ترامیم کا بل پاس ہونے پر اس میں ختم نبوت سے متعلق مختلف دستوری و قانونی شقوں کے متاثر ہونے کی بحث چھڑی اور قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ دینی حلقوں اور سوشل میڈیا میں بھی خاصی گرما گرمی کا ماحول پیدا ہوگیا تو حکومت نے عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامہ کو سابقہ پوزیشن میں بحال کرنے کا بل اسمبلی میں پاس کر لیا۔ مگر دفعہ ۷ بی اور ۷ سی کے بارے میں مطالبہ جاری ہے اور حکومتی حلقے یقین دلا رہے ہیں کہ ان کو بھی عوامی مطالبہ کے مطابق صحیح پوزیشن میں لایا جائے گا۔ اس حوالہ سے اپنے احساسات کو تین چار حوالوں سے عرض کروں گا:
ایک یہ کہ حلف نامہ کی عبارت میں ردوبدل طویل پارلیمانی پراسیس سے گزر کر ہوا اور اس دوران ایک آدھ دفعہ توجہ دلانے کے علاوہ کسی کو اندازہ نہیں ہوا کہ یہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے صحیح کہا ہے کہ یہ ہم سب کی اجتماعی غفلت سے ہوا ہے، مگر یہ بات بہرحال توجہ طلب ہے کہ یہ سب کچھ آخر کیوں ہوا ہے اور ہمارے پارلیمانی ماحول میں حساس قومی و دینی معاملات کے حوالہ سے اس قدر بے پروائی کیوں پائی جاتی ہے۔ یہ تمام دینی جماعتوں اور پارلیمانی حلقوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
دوسری بات اس سے زیادہ سنگین ہے کہ شق ۷ بی اور ۷ سی کے بارے میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ انتخابی قوانین کے حالیہ ترمیمی بل کے موقع پر نہیں بلکہ اس سے قبل ۲۰۰۲ء کے دوران جنرل پرویز مشرف کی نافذ کردہ ترامیم سے متاثر ہوئی تھیں اور گزشتہ پندرہ سال سے اسی کیفیت میں چلی آرہی ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ صرف لمحہ فکریہ نہیں بلکہ المیہ ہے کہ قادیانی مسئلہ کے حوالہ سے ان قانونی شقوں میں رد و بدل کا معاملہ پندرہ سال تک مسلسل ابہام میں رہا ہے اور ملک کی دینی، سیاسی اور پارلیمانی جماعتوں میں سے کسی کو احساس نہیں ہوا کہ یہ کیا کچھ ہوگیا ہے۔ میں خود تحریک ختم نبوت کے شعوری کارکنوں میں شمار ہوتا ہوں، لیکن میرے پاس اس حیرت اور افسوس کا کوئی جواب نہیں ہے کہ مسئلہ ختم نبوت کے ساتھ اس سنگین واردات کا مجھے بھی علم نہیں ہو سکا۔ فیا اسفاہ و یا ویلاہ۔
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیرقانون کے ان ریمارکس نے سب کو پریشان کر دیا کہ قادیانی ہماری طرح نمازیں پڑھتے ہیں اور دیگر مذہبی معاملات میں بھی ہم جیسے ہیں، صرف ایک ختم نبوت کے عقیدہ کا فرق ہے۔ ہم صوبائی وزیرقانون کو جتنا بھی کوس لیں کم ہے، لیکن اس کے ساتھ اس معاملہ میں ہمیں اپنی کوتاہی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ آج کے جدید تعلیم یافتہ ماحول کے عمومی تاثرات و محسوسات کم و بیش اسی طرح کے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیت کے بارے میں عوامی آگاہی اور بیداری کا وہ ماحول قائم رکھنے میں کامیاب نہیں رہے جو ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء اور ۱۹۴۸ء کی تحریکات تک دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ دیگر قومی شعبوں میں بھی موجود تھا اور میرا خیال ہے کہ اس میں ہم سب قصور وار ہیں۔
جبکہ چوتھی بات اس مسئلہ کے حوالہ سے ان حلقوں کے بارے میں کرنا چاہتا ہوں جو ۱۹۷۴ء کے بعد سے مسلسل مسئلہ ختم نبوت کے دستوری اور قانونی معاملات کو سبوتاڑ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ بین الاقوامی ادارے ہوں، عالمی سیکولر لابیاں ہوں یا ملک کے اندر قادیانیت نواز حلقے ہوں، جب یہ ان کے علم میں ہے اور انہیں اس بات کا پوری طرح اندازہ ہے کہ وہ اس مسئلہ پر پاکستان کی رائے عامہ، سول سوسائٹی اور منتخب اداروں میں سے کسی کا کھلے بندوں سامنا نہیں کر سکتے اور ہر بار انہیں درپردہ سازشوں کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے تو وہ پاکستانی قوم کے اجتماعی فیصلے کو تسلیم کرنے اور زمینی حقائق کا اعتراف کر لینے سے مسلسل کیوں انکاری ہیں؟ یہ انصاف، جمہوریت، اصول پرستی اور حقیقت پسندی کی کون سی قسم ہے کہ پاکستانی قوم نے اجتماعی طور پر ایک فیصلہ کیا ہے اور وہ اس پر قائم رہنا چاہتی ہے تو اسے اس سے ہٹانے کے لیے دباؤ، سازش اور درپردہ کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اپنے اجماعی عقیدہ اور موقف سے ہٹنے پر بلاوجہ مجبور کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ ان بین الاقوامی اور اندرون ملک حلقوں کو ان کی اس غلط روی بلکہ دھاندلی کا احساس دلانے کی ضرورت ہے۔

جنوبی ایشیا کے دینی مدارس، عالمی تناظر میں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(نوٹرے ڈیم یونیورسٹی، انڈیانا، امریکہ میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر، ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کی کتاب ?What is a Madrasa کے اردو ترجمہ ’’دینی مدارس: عصری معنویت اور جدید تقاضے‘‘ (از قلم: ڈاکٹر وارث مظہری) کے لیے لکھا گیا پیش لفظ۔)

جنوبی ایشیا کے دینی مدارس اس وقت علمی دنیا میں مختلف سطحوں پر گفتگو ومباحثہ کا اہم موضوع ہیں اور ان کے تعلیمی ومعاشرتی کردار کے مثبت ومنفی پہلوؤں پر بحث وتمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ آج کے تعلیمی وتہذیبی ماحول میں ان دینی مدارس کی ڈیڑھ سو سالہ جدوجہد کے اثرات مثبت اور منفی دونوں حوالوں سے بتدریج واضح ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی افادیت وضرورت کے ساتھ ساتھ مضرات ونقصانات پر بھی بات چیت چل رہی ہے۔ خود ان دینی مدارس کے ارباب حل وعقد بھی کچھ عرصہ سے اس بحث ومباحثہ میں شریک ہیں اور اپنے دفاع کے ساتھ ساتھ نظام کو بہتر بنانے اور اس کی افادیت کو بڑھانے کے لیے ان کی طرف سے تجاویز واقدامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
دینی مدارس کی افادیت وضرورت اور اثرات وثمرات کا سب سے بڑا پہلو یہ سامنے آیا ہے جو ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلم معاشرہ میں قرآن وسنت کے علوم وروایت اور مسلمانوں کی تہذیبی اقدار کی حفاظت میں گذشتہ ڈیڑھ صدی کے دوران انھوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ان کی صبر آزما جدوجہد کے باعث اسلامی علوم ماضی کا حصہ بننے اور آثار قدیمہ میں شامل ہونے سے نہ صرف محفوظ رہے ہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور فعال نظام کی صورت میں آج کے تعلیمی نظام کا باقاعدہ حصہ ہیں، جبکہ فکری محدودیت، مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کے فروغ کو بھی غلط یا صحیح ان مدارس کے کھاتے میں ہی ڈالا جا رہا ہے اور تہذیبی وفکری کشمکش کے اس دور میں یہی دائرہ سب سے زیادہ موضوع بحث ہے۔
اس تناظر میں بہت سے ارباب دانش اس کوشش میں ہیں کہ بحث ومباحثہ کے اس ماحول کو معروضی صورت حال، زمینی حقائق اور اوریجنل معلومات سے آگاہ کرنے کا اہتمام کیا جائے تاکہ وقت اور تاریخ کو صحیح نتائج تک پہنچنے میں سہولت حاصل ہو اور یہ کسی بھی مباحثہ ومکالمہ کے لیے سب سے زیادہ ضروری اور مفید ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ صاحب نے دینی مدارس میں ایک عرصہ گزار کر ان کے اندرونی ماحول کو دیکھا بلکہ بھگتا ہے جبکہ مغربی دنیا کے تعلیمی اداروں میں بیٹھ کر ان مدارس کے بارے میں دنیا کے تاثرات ومشاہدات کا جائزہ لیا ہے جسے انھوں نے زیر نظر کتاب کی صورت میں پیش کر کے اپنی شہادت ریکارڈ کرائی ہے۔ وہ اس کاوش پر تاریخ وسماج کے میرے جیسے طالب علموں کے شکریہ کے مستحق ہیں اور میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس محنت کو قبول فرماتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مقصدیت سے نوازیں اور اس موضوع کے طلبہ کے لیے راہ نمائی کا موثر ذریعہ بنائیں۔ آمین یا رب العالمین

سرسید اور ان کے روایت پسند مخالفین

محمد ابوبکر

عالمی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں گذشتہ دنوں سرسید احمد خان کے حوالے سے ایک سیمینار وقوع پذیر ہوا۔ ایک سیشن کا کلیدی خطبہ جناب احمد جاوید نے دیا۔ میں دلی خواہش کے باوجود اس تقریب میں شریک نہ ہو سکا۔بعد ازاں فیس بک پر احمد جاوید صاحب کے خطاب کے حوالے سے بحث چھڑ گئی۔ خورشید ندیم نے ایک کالم میں اس خطاب کا خلاصہ پیش کیا۔جاوید صاحب کی شخصی تواضع اور شائستگی کے برملا اعتراف کے باوجودخورشید ندیم ان کے پیش کردہ معروضات سے غیر مطمئن نظر آئے، اگرچہ انہوں نے اس پرکوئی تجزیہ پیش نہ کیا۔اظہار الحق صاحب نے دو کالمز میں اس تقریب کو موضوع بنایا، لیکن جذباتیت میں بہہ گئے جس سے موضوع تشنہ رہا۔ محمد دین جوہر صاحب نے ایک جوابی کالم میں جاوید صاحب کے خطبے کی تفہیم پیش کی اورسرسید پربھی گفتگو فرمائی۔ ان بزرگان سے ہمارا نیاز مندی کا رشتہ ہے اور یہی رشتہ کچھ زیادہ شدت کے ساتھ سرسید کی ذات سے بھی ہے۔ یہ تحریر اسی باہمی مناسبت کا اظہارہے جس میں نیاز مندی بھی ہے اور ناز آفرینی بھی۔
سرسید ہماری جدید تاریخ کا نقطہ آغاز ہیں اور ان کی اس حیثیت سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ سرسید کی شخصی عظمت اور ان کے کار نمایاں کی تاریخی اہمیت سے انکار ان کے مخالفین کے بس میں بھی نہیں ہے۔سرسید کے تمام ناقدین انہیں ہندوستان میں جدید تہذیب کا نقیب قرار دیتے ہیں۔ سرسید اور جدید تہذیب کا باہمی رشتہ ایک پیچیدہ موضوع ہیاورسرسید کے تمام مخالفین اس مخصوص مسئلہ پر رائے قائم کرنے کے بعد ہی آگے بڑھتے ہیں۔ چنانچہ ملائیت نے سرسید کو جدید تہذیب کا پٹھو اور ایجنٹ قرار دیا جبکہ اہل روایت کے نفیس طبقے نے سرسید کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے اپنے اعتراض کو مختلف شکل میں پیش کیا۔ ان حضرات کے نزدیک سرسید اپنی قوم کے حقیقی خیرخواہ تھے اور یہ جان چکے تھے کہ اب جدید تہذیب کو اپنائے بغیر گزارہ ممکن نہیں۔ گویا سرسید کی نیت پر شک ممکن نہیں ہرچند ان کی عملی تدبیر قوم کے حق میں مضر ثابت ہوئی۔ سرسید کے ان روایت پسند مخالفین کا ایک مکمل تناظر موجود ہے جو اکبر آلہ آبادی ، حسن عسکری اور سلیم احمد سے ہوتا ہوا احمد جاوید اور جوہر صاحب تک آتا ہے۔ہمارا مکالمہ اسی روایت کی مجموعی فکر کے ساتھ ہے۔ 
ملائیت اور روایت پسندی میں اہم فرق موجود ہیں جن میں ایک بنیادی یہ ہے کہ ملائیت جس جگہ ’’خالص اسلام‘‘ کا لفظ استعمال کرتی ہے، روایت پسند وہاں ’’ تہذیب اور تہذیبی فعالیت‘‘ جیسے ا لفاظ استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ ملائیت کے نزدیک ہند میں مسلمانوں کا زوال اس لیے ہوا کیونکہ ان کا اسلام خالص نہیں رہا تھا جبکہ روایت پسند احباب کا خیال ہے کہ ’’ ہند اسلامی تہذیبی فعالیت‘‘ میں وہ جان باقی نہ رہی تھی۔ بہرحال دونوں مکاتب کے نزدیک یہ سیاسی زوال نہایت اہم واقعہ تھا اور اس نکتے پر ہم ان سے اتفاق کرتے ہیں۔ لیکن دونوں مکاتب کے نزدیک یہ واقعہ یکایک ہو گیا تھا۔ اسے عظیم تہذیبی انقطاع کا واقعہ بھی کہا جاتا ہے۔ ملائیت اور روایت پسندی کے دونوں مکاتب تاریخ کو تصور کے تابع سمجھتے ہیں اور مادی حالات میں تسلسل اور تغیر کو ثانوی اہمیت دیتے ہیں۔ اس یکایک عظیم واقعے کے بعد ملائیت اور روایت نے اس کا حل بھی اسی مجرد اور تصوارتی انداز میں پیش کیا۔ ہمارے نزدیک اس حل کی مثال آفت پڑنے پر ختم خواجگان پڑھانے جیسی ہے۔ ہندوستان میں جدیدیت کے ورود اور سرسید کے حوالے سے روایت پسندوں کی پوزیشن واضح ہے۔ وہ سرسید کی بنیادی خدمات کا انکار کرنے کے باوجود روایتاً ان کی عزت کرتے ہیں اور اس روایت کے دل سے قائل ہیں۔
سرسید اور جدید و قدیم کا یہ جھگڑا اپنی مکمل صورت میں 1857 کے ہنگامے اور ہند پر مسلمانوں کے سیاسی غلبے کے اختتام کے بعد کی صورتحال سے شروع ہوتا ہے۔ ہندوستان کئی بار فتح ہوا تھا اور ہر بار حاکم بدل جاتے تھے لیکن انگریزوں کی فتوحات کے بعد ہندوستان کی تہذیب کو بھی براہ راست چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جو اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ اس سے پہلے ترک ، منگول اور افغان مسلم فاتحین سمیت تمام غیر ملکی حاکم بننے کے بعد برصغیر کی تہذیب کا حصہ بن جاتے تھے۔یہ تہذیب کئی ہزار سالوں سے جامد اور محفوظ چلی آرہی تھی۔ جدید دور میں دخانی جہاز رانی کی وجہ سے تجارت کے سمندری راستے کھلے۔ یورپی تاجر بن کر آئے لیکن حاکم بن گئے۔ انگریز ان میں سب سے کامیاب رہے اور پورے ہند کے حکمران بن گئے۔ ریل گاڑی اور ٹیلی گراف جیسی ایجادات نے برصغیر کو ایک وحدت میں پرو دیا۔ وسیع و عریض نہری نظام نے مرکزیت کا یہ تصور اور بھی مضبوط کیا۔ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار پریس متعارف ہوا اور وافر پیمانے پر کتابوں کی اشاعت شروع ہوئی۔ اس سے نہ صرف ہندوستان میں شامل دوردراز کے علاقے اور اقوام آپس میں مل گئے بلکہ خود ہندوستان باقی دنیا سے بھی منسلک ہوگیا۔ اس تمام عمل میں ہندوستان کی وہ مخصوص تنہائی ختم ہوگئی جس کی وجہ سے اس کی اندرونی تہذیب صدیوں سے جامد اور محفوظ چلی آرہی تھی۔
اس سے پہلے ہندوستان ایک خود کفیل اور خود مرتکز کلیت تھا۔ ایک چھوٹے سے گاؤں سے لے کر سلطنت تک امور زندگی کی طے شدہ شکلیں اور انتظام موجود تھے۔روزگار اور پیشے ذات پات پر مبنی تھے جس سے معاشرتی طبقات وجود میں آتے تھے۔ ان طبقات کی حدود شروع سے واضح اور طے شدہ تھیں۔سلطنت اور مذہب کا باہمی رشتہ بھی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ایک جیسا ہی چلتا آرہا تھا۔ گاؤں سے لے کر سلطنت تک کے انتظام میں مذہب کی ایک مخصوص جگہ متعین تھی۔ انگریزوں سے پہلے ہزار سال تک مختلف مسلم اقوام نے یہاں حکومت کی لیکن وہ سب برصغیر کی تہذیب کا حصہ بنتے گئے اور کاروبار زندگی اسی طرح چلتا رہا۔ انگریز کی آمد سے یہ سلسلہ ٹوٹ گیا کیونکہ وہ ایک جدید نظام کے نمائندے تھے۔انگریزوں کو ہندوستان فتح کرنے میں زیادہ وقت اور مشکل نہیں ہوئی۔ ان کے لیے فتح سے زیادہ انتظام چلانا مشکل تھا۔ اسی انتظام کا بنیادی مقصد تو بلاشبہ یہی تھا کہ ہندوستان پر قبضہ برقرار رکھتے ہوئے بطور حاکم اس ملک سے زیادہ سے زیادہ نفع کمایا جائے۔ لیکن زیادہ نفع کیسے کمایا جائے یہ بنیادی سوال تھا۔ اولین طور انہوں نے زیادہ سے زیادہ لوٹنا چاہا۔ اس کوشش میں قحط بنگال جیسے واقعات سامنے آئے تو انگریزوں کو پتہ چلا کہ کسان سے مالیہ تب ہی لیا جا سکتا ہے اگر اسے کاشت کے لیے زمین اور پانی کی سہولیات دی جائیں۔ ہندوستان کے وسیع علاقوں سے خام مال اکٹھا کیا جانا بھی ضروری تھا اور انتظام کے لیے فوج کے نقل و رسد کے ذرائع بھی لازم تھے۔ ریل نے یہ دونوں مقاصد پورے کیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ برصغیر میں صنعت کا دروازہ بھی کھول دیا اور پھر ریل بنانے کے کارخانے بھی لگنے لگے۔
برطانوی دارالعوام میں 1857 کے ہنگامے پر بحث شروع ہوئی تو کارل مارکس مہمانوں کی گیلری میں بیٹھ کر کارروائی نوٹ کرتا رہتا۔ انہی نوٹس سے بعد ازاں اس نے ہندوستان پر ایک مقالہ تحریر کیا جس میں ہندوستان کی تاریخ و تہذیب ، انگریزوں کی حکومت اور استعماری پالیسی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مارکس کے خیال میں استعمار کے مقاصد کا منفی اور مثبت پہلو موجود ہوتا ہے۔ منفی اور تخریبی پہلو وہ لوٹ کھسوٹ ہے جو انگریز استعمار نے ہندوستان میں کی۔ مثبت اور تعمیری پہلو سے مراد ہندوستان کے مادی حالات میں وہ بنیادی تبدیلیاں تھیں جو ہرچند منفی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کی گئیں لیکن ان سے وہ نتائج پیدا ہوئے جس سے خود ہندوستان جدید دور میں داخل ہوگیا۔ مارکس اس حوالے سے نہایت پرامید تھا کہ ریل ، ٹیلی گراف ، پریس ، نہری نظام ، جدید تعلیم ، صنعت سازی اور مرکزی حکومت جیسے عوامل کی بنیاد پر جلد ہی ہندوستان میں وہ مقامی طبقہ پیدا ہوجائے گا جو سیاسی آزادی بھی حاصل کر لے گا۔ روایت پسند حضرات استعمار کے صرف منفی پہلو تک محدود رہتے ہیں اور اس تاریخی تحرک کو نہیں سمجھتے جو جدیدیت کے بطن میں موجود ہے جس کے نتیجے میں یہ اپنی ضد میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
تاریخی تبدیلی کے اس اصول کو خاطر میں نہ لانے کی وجہ سے ہی روایت پسند جدیدیت کو مجرد انداز میں دیکھتے ہیں اور اس پر سراسر منفی ہونے کا لیبل لگا دیتے ہیں۔ سرسید چونکہ استعمار کے تخریبی پہلو کے اندر ایک نیا راستہ دیکھ رہے تھے لہٰذا انہوں نے دریا میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے برعکس روایت پسند صرف ساحل پر بیٹھ کر رزم خیر و شر ملاحظہ کرتے ہیں اور فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ اور ایسا نہیں ہے کہ یہ حضرات کسی انجانے میں تغیر اور روانی کو بھول بیٹھے ہوں بلکہ ان کے یہاں سکون کی طرف رجحان شعوری طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ جس ریل کو کارل مارکس ہندوستان میں جدید صنعت کی بنیاد قرار دیتا ہے اسی ریل کی تعریف کرنے پر عسکری اور سلیم احمد غالب اور سرسید کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔ روایت پسند اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہاں تک کہتے ہیں کہ مشرق اور مغرب میں کسی قسم کا کوئی تعامل ہو ہی نہیں سکتا اور مغرب سے کوئی لین دین نہیں رکھنا چاہیے۔
اردو روایت میں اس مشرق سے مراد اسلامی مشرق یا ہند اسلامی تہذیب ہے۔ چنانچہ ہمیں صرف ہند اسلامی تہذیب کی طرف رجعت اختیار کرنی چاہیے۔ تہذیب کو محفوظ رکھنے کی غرض سے اجتہاد کو ناپسند کیا جاتا ہے اور تقلید کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔تہذیبی روایت کو خالص رکھنے اور اس کی نمائندگی کرنے کے لیے ایک خاص طبقے کو منتخب کیا جاتا ہے جو تہذیبی رکھ رکھاؤ کا امین ہوتا ہے۔ اپنی انتہائی صورت میں یہ رجحان آرتھوڈوکسی کی طرف لے جاتا ہے جہاں سلیم احمد جیسا شخص بھی ذات پات کے معاشرتی ڈھانچے کا جواز پیش کرتا نظر آتا ہے۔ جدیدیت کے اسی محدود اور مجرد جائزے کی وجہ سے روایت پسندوں کی جدیدیت کی ہرشے میں برائی نظر آتی ہے۔ جدید علوم کی بات ہو تو الحاد کے خطرے کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ جدید نظام سیاست کی بات ہو تو سیکولر ازم اور پارلیمانی جمہوریت کو پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا۔
سرسید پر یہ الزام لگایا جا تا ہے کہ انہوں نے مقامی لوگوں کو وحشی قرار دیا اور ہند اسلامی تہذیب کو کمتر قرار دیا نیز یہ کہ سرسید نے استعمار کے مقابلے میں ’’ Other‘‘ کی تشکیل نہیں کی یا سرسید نے یورپی تہذیب کی نقالی کرتے ہوئے صرف ظاہری اجزا کو قبول کیا۔ ایسا تب ہی سمجھا جا سکتا ہے اگر جدیدیت کا محدود اور منفی پہلو ہی سامنے رکھا جائے۔ سرسید نے ہندوستانی تہذیب کے جس پہلو کو وحشی قرار دیا وہ صدیوں سے اپنی شکل پر منجمد حالت میں موجود تھا اور اس شکست کا براہ راست ذمہ دار تھا جو ہندوستان کو انگریزوں سے اٹھانا پڑی۔ ہندوستان ایک پکے ہوئے پھل کی طرح ہر فاتح کی جھولی میں گرنے کو تیار رہتا تھا۔ مارکس نے اسی نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ کتنی عجیب بات ہے کہ ہندوستان پر برطانوی تسلط کو قائم رکھنے کے لیے مقامی وسائل سے ہی ایک مقامی فوج قائم کی گئی ہے جو اپنے ملک کو غلام بنائے رکھنے کی ذمہ دار ہے۔ تہذیب کا یہ جامد حصہ جسم کا وہ عضو تھا جسے کاٹ دینا مناسب تھا۔ انگریزی استعمار وہی نشتر تھا جس کے بغیر برصغیر کا جامد معاشرہ جدید تاریخ میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔
سرسید اس عظمت کے گھمنڈ میں نہ آئے جو قصہ ماضی بن چکی تھی۔ آپ نے جدید کے ساتھ قدم رکھا اور اس میں شان خلاقی کا پورا لحاظ رکھا۔ سرسید کی تعلیمی تجاویز و تدابیر سے وہ مسلم طبقہ پیدا ہوا جو سرکاری نوکری کا اہل تھا۔ اس طبقے کے تاریخی کردار کے باعث مسلمان دو قومی نظریے تک پہنچتے ہوئے ایک علیحدہ وطن بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ سرسید کی جدیدیت کا مکمل رد کرنے کے باوجود روایت پسند احباب دو قومی نظریہ پر مکمل حق جتاتے ہیں۔ ہمیں اس معجز آرائی کی کچھ سمجھ نہیں آتی۔
کہا جاتا ہے کہ سرسید کی تعلیمی تجاویز دراصل لارڈ میکالے کی پالیسی کا تسلسل تھیں۔ لارڈ میکالے کی شخصیت بذات خود بہت اہم ہے اور ایک علیحدہ مضمون کی متقاضی ہے۔ ڈاکٹر ساجد علی اس حوالے سے دو مضامین تحریر کر چکے ہیں۔ میکالے وہ شخص ہے جس کی مخالفت میں سوشلسٹ اور جماعت اسلامی ایک صف میں آکھڑے ہوتے ہیں۔ میکالے سے منسوب وہ مشہور اقتباس جس میں پورے ہندوستان کی سیر کرنے کے بعد اسے وحشی قرار دینا شامل ہے تاریخی طور پر درست نہیں ہے۔ ایسا کوئی اقتباس میکالے سے سند کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔
میکالے کی ایک تقریر ضرور موجود ہے جس میں وہ ہندوستان کے تعلیمی نظام پر رائے دیتا نظر آتا ہے۔ میکالے کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ کمپنی نے ہندوستانیوں میں شرح تعلیم بلند کرنے کے لیے جو فنڈ مقرر کیا ہے اس سے جدید علوم کی اشاعت کی جائے کیونکہ قدیم علوم ایک تو جدید دنیا میں کارگر نہیں ہیں دوسرا یہ کہ قدیم علوم کے طالب علموں کو ہم وظیفہ دیکر پڑھاتے تو ہیں لیکن ان کے کرنے کو کوئی نوکری موجود نہیں ہوتی کیونکہ سنسکرت اور عربی میں موجود سائنس ، طب ، فلکیات وغیرہ اب کہیں استعمال نہیں ہوتیں۔ اس کا خیال تھا کہ برصغیر میں جدید علوم انگریزی میں پڑھائے جائیں تاکہ یہاں وہ طبقہ پیداہوسکے جو ان جدید علوم کو مقامی زبانوں میں منتقل کرسکے تاکہ باقی عوام کی تعلیم ممکن ہو۔ اس حوالے وہ پندرہویں صدی کے برطانیہ اور انیسویں صدی کے روس کی مثال دیتا ہے جسے ترقی کرنے کے لیے ایک عبوری وقت میں غیرملکی زبانوں کا آسرا لینا پڑا۔ میکالے کے خیال میں ہندوستان میں بھی اب انگریزی کو پڑھانا ضروری ہوگا تاکہ یہ معاشرہ جدید دور میں داخل ہوسکے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ احباب اسلام کے غلبے کے بعد عربی زبان کے غلبے پر بات نہیں کرتے لیکن انگریزوں کے غلبے کے بعد انگریزی زبان پر اعتراض کرتے ہیں۔ میکالے نے دلچسپ اعداد و شمار بھی پیش کیے ہیں کہ کیسے عربی اور سنسکرت کی ہزاروں کتابیں سرکاری خرچے پر چھاپی گئیں لیکن کوئی خریدتا نہیں ہے جبکہ ہندوستان میں ہی انگریزی کا قاعدہ دھڑا دھڑ بک رہا ہے اور مقامی لوگ خود سے خرید رہے ہیں۔ میکالے کی تعلیمی پالیسی سے ہندوستان میں جدید علوم انگریزی میں پڑھائے جانے لگے۔ فزکس ، بیالوجی ، طب اور فلکیات سمیت جدید علوم کے ادارے قائم ہوئے۔ اس نے وہ ہنرمند پیدا ہوئے جو جدید نظریات سے واقف تھے۔ انہی حضرات نے بعد ازاں نے سیاسی آزادی کی جدوجہد چلائی۔ میکالے پر اعتراض کرتے ہوئے اس کا متبادل نہیں بتایا جاتا اور بتایا جانا ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے برصغیر میں مرکزی سطح پر کوئی منظم تعلیمی نظام موجود ہی نہیں تھا۔ ہندو اور مسلمان اپنی مذہبی علوم کو روایتی انداز سے مندروں اور مسجدوں ، مدرسوں میں پڑھاتے تھے۔ میکالے کے چیلنج کا جواب بھی نو آبادیاتی پس منظر میں دیا جاتا ہے حالانکہ نوآبادیاتی تناظر اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک استعمار اور جدیدیت کو متحرک انداز میں منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں سمیت سامنے نہ رکھا جائے۔
اس حوالے سے یہ کہنا بھی درست نہیں کہ سرسید نے جو اینٹی تھیسس استعمال کیا، وہ بیرونی تھا۔ اندرونی اور بیرونی کے یہ تعینات دور جدید سے پہلے بامعنی تھے، لیکن اب نہیں۔ جدید دور ایک بڑا نظام ہے جو ہرغیر کو اپنے اندر سمو لیتا ہے اور یوں اس کی نفی بھی اس کے بطن سے برآمد ہوتی ہے۔ مارکسیت ، وجودیت اور مابعدجدیدیت اسی طرح جدیدیت کی نفی خود جدیدیت کی اندرونی حرکیات سے نکالتے ہیں۔ روایت پسندی چونکہ جدیدیت کا محدود پہلو سامنے رکھتی ہے لہذا اس کا منشا رہتا ہے کہ منفی جدیدیت کے مقابلے کے لیے اپنے ماضی کی مثبت روایت سامنے لائی جائے۔ یہ ایک بنیادی غلطی ہے۔ دور جدید کو اسی وجہ سے دور جدید کہاجاتا ہے کہ اس کی نفی بھی اسی کے اندر موجود ہے اور من و تو کے قدیم تعینات اب باقی نہیں رہے۔ سرسید نے ماضی پرستی کی بجائے جدیدیت کے تضاد کو پہچان لیا اور اس پرخطر راستے پر سورما کے انداز میں چلے۔
سر سید اپنی جدت پسندی کے باوجود وضع قطع اور اظہار میں روایتی شخص تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جانتے تھے کہ ان کے تجویز کردہ جدید علوم کے بعد الحاد پھیلے گا، لہٰذا انہوں نے خود سے ہی ایک جدید علم الکلام کی بنیاد بھی ڈالی۔ ہمارے خیال میں جدید علم الکلام کی ضرورت خود ان علوم کے ’’آغاز‘‘ کی ضرورت تھی نہ کہ ان علوم کے ’’نتیجے‘‘ سے نمٹنے کی کوشش۔ سنسکرت اور عربی پر مشتمل مقامی علوم اور ان سے پیدا ہوئے روایتی شعور کی سطح ابھی ان علوم کے آغاز سے بھی خوفزدہ تھی اور علوم تو کیا، انگریزی زبان تک سے خائف تھی۔ سرسید کے علم الکلام کا ایک بڑا حصہ عملی معاملات سے متعلق تھا جن کی وجہ علوم نہیں بلکہ انتظامی مسائل تھے۔ مثلاً اہل کتاب کے ساتھ مل کر کھانا پینا یا ان سے تعلق رکھنے جیسے معاملات۔ سرسید کا علم الکلام بالفرض اگر الحاد کو روکنے کی نیت سے ہی تھا تو اس حقیقت کو مان لینا زیادہ بہتر ہے کہ ہمارا روایتی فہم دین جدید علم اور جدید ذہن کے ساتھ چلنے کا اہل ہی نہیں ہے اور ہمیں اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ یہ نتیجے اس بات سے زیادہ بہتر ہے کہ جدید علوم اور سرسید کی تجویز کو ہی سرے سے رد کر دیا جائے۔ ہر چند سرسید اس جہت سے روایتی شخص تھے، لیکن روایت پسند انہیں سمجھ نہیں سکے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ سرسید کے بعد کے جدیدیت پسند دیکھ کر روایت پسند زیادہ جھنجھلا گئے۔ میری مراد ترقی پسند تحریک ہے۔
یہاں مارکس کا سوال دوہرانے کی ضرورت ہے۔ آپ ایک سرمایہ دار سے آخر کیا امید رکھتے ہیں ؟ سرمایہ دار زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتا ہے کہ اپنے منافع کے لالچ میں وہ مادی حالات پیدا کردے جن کی ترویج سے ایک دن عوام بھی سیاسی آزادی پا جائیں۔ لیکن یہ کام سرمایہ دار کا سردرد نہیں ہے کہ وہ عوام کے انبوہ عظیم کو خود سے اٹھا کر بلند کردے۔ یہ کام عوام کو خود کرنا پڑتا ہے۔ روایت پسند اس سوال کے ساتھ وہ خدائی قانون بھی شامل کرلیں کہ خدا بھی ایک قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود بدلنے پر راضی نہ ہو۔ پھر آخر سرسید کی جدت پسندی اور تغیر شناسی پر کیا اعتراض بچتا ہے؟ اگر استعماری سرمایہ دار کی کمزوریوں ( مادی حالات میں تبدیلی ) اور طاقت ( علوم و فنون ) دونوں سے استفادہ منع ہے تو پھر محکوم قوم کو صرف خدائی مدد کا انتظار ہی کرنا چائیے۔ روایت پسندی دراصل اسی انتظار کی مصروفیت کا دوسرا نام ہے۔ اس انتظار کے دوران ماضی کو مثالی صورتوں میں یاد رکھنے کی سرگرمی اختیار کی جاتی ہے اور کسی ایسے اوتار کا انتظار کیا جاتا ہے جو پیکار اور تضاد کے اس دور میں نازل ہو اور تمام ناپسندیدہ چیزوں کا خاتمہ کردے۔
روایت پسندی کی جدید شکل کو ایک اور تضاد کا سامنا بھی درپیش ہے۔ روایت پسندی کی عالمی تحریک مغرب اور جدیدیت سے مقابلہ کرتے ہوئے ہندو مت کی تہذیبی روایت کو بطور مثال پیش کرتی رہی۔ تاہم یہ تحریک اپنی مجموعی صورت میں جمع ادیان کی قائل ہے جس میں تمام مذاہب چھوٹے بڑے اختلافات کے باوجود بطور ذریعہ حقیقت کی طرف لے جانے میں یکساں مفید سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم اردو روایت پسندی ایک خاص اعتبار سے ’’ ہند اسلامی تہذیب‘‘ کی رومانویت میں مبتلا رہنے کے بعد روایتی اسلامی سیاست میں بھی بنیاد پرستی اور شدت کا شکار ہوچکی ہے۔ جمع ادیان اور سیاسی اسلام کی روایتی شکل کا آپس میں کوئی تال میل نہیں ہے۔ روایت پسندی سیکولر ازم کی مخالفت سے سیاسی میدان میں جمع ادیان سے پیچھے ہٹ چکی ہے لیکن جدیدیت کے مقابلے میں ایک تہذیبی روایت کو فرض کرتے ہوئے جمع ادیان اور روایت کے وسیع تر تناظر میں تمام مذہبی مظاہر سے استفادہ کیا جاتا ہے۔
(بشکریہ https://www.mukaalma.com)

ظلماتِ وقت میں علم و آگہی کے چراغ (۱)

پروفیسر غلام رسول عدیم

(زیرِ نظر مقالہ، جو گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ کے ادبی مجلہ ’’مہک‘‘ کی خصوصی اشاعت کے لیے لکھا گیا، دو خصوصیات سے زیادہ قابلِ التفات ہے:
(۱) یہ کم وبیش ۳۰ برس پہلے کا لکھا ہوا ہے۔ ان مدارس دینیہ کے ماضی کی جھلک جھمک، قارئین کو ماضی کے دریچوں میں جھانکنے کا موقع فراہم کرے گی اور ان کے ماضی و حال کا یوں بہتر موازنہ کر سکیں گے۔ 
(۲) راقم ہر جگہ جا کر رُو در رُو مدرسے کی انتظامیہ اور اساتذہ کرام سے مستفید ہوا۔ یوں یہ تحریر محض سماعی اور بالواسطہ معلومات کا نہیں، شفاہی اور Direct Approachکا درجہ رکھتی ہے۔) (عدیم ؔ )

تعلیم وہ عظیم کام ہے جس پر خداکے سب سے زیادہ برگزیدہ بندے مامور ہوئے۔ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر جناب خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء اس منصبِ جلیل پر فائز رہے ہیں اور تعلیم وہ اعلیٰ کام ہے جس کے ذریعے رسولانِ برحق کے سچے فرمانبرداروں نے ہر دور میں نورِ نبوت سے فیضیاب ہو کر اپنی زندگیوں کو منور کیا۔ فضیلت علم کے باب میں سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات میں خاصا وقیع مواد موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسانی زندگی مختلف خانوں میں بٹتی گئی تو تعلیم وتعلم کا عمل بھی الگ الگ خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ۔ ایک طرف دنیوی علوم کی مہارت ایک ناگزیر ضرورت خیال کی گئی تو دوسری طرف دینی علوم کا بھی برابر چرچا رہا۔ 
ہمارے عظیم مفکرین نے تقسیمِ علوم میں بڑی دانش و بینش سے کام لے کر معاشرے میں توازن اور ہم آہنگی کی راہیں تلاش کیں ۔ مثال کے طور پر امام غزالیؒ نے علم کی جو تقسیم کی ہے وہ یوں ہے۔ 
علم کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں۔ علوم محمودہ اور علوم مذمومہ ۔ علوم محمودہ میں کچھ فرضِ عین ہیں اور کچھ فرضِ کفایہ ۔ فرضِ عین میں اصول( علوم حدیث)، فروع(علومِ فقہ)، مقدمات ( صرف ، نحو، بیان و معانی اور ادب) ، اور قرات وتفسیر ۔ علومِ مذمومہ : اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ (۱) جن سے دوسروں کو ضرر پہنچے جیسے سحر و طلسمات۔ (۲) جس کے دونوں پہلو ہوں مگر مضرت کا پہلو غالب ہو جیسے علم نجوم جو انسانی طبائع پر موثر مانا گیا ہے۔ (۳) اسرارِ الہیہ ، عوام کو اس سے تعرض بہتر ہے کہ وہ انبیاء و خواص ،اولیاء کا کام ہے۔ 
اسلام میں تعلیم کا مقصد اسلامی نظریہ حیات سے مطابقت، اعانت اور ان تمام عناصر کی نمود ہے جن سے اس دنیا کی زندگی متوازن رہے اور اگلی زندگی میں فوز وفلاح کے دروازے وا ہوں۔ 
قرنِ اول میں تحصیل علم اور ابلاغ ایک مذہبی فریضہ تھا اگرچہ کتابوں کی کمی تھی تاہم علم سینہ بسینہ آئندہ نسلوں کو منتقل ہوتا رہا ۔ اموی دور میں خالص دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم کی طرف بھی خاصی توجہ دی جانے لگی۔ خالد بن یزید کا نام اس ضمن میں امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔ عباسی دور آیا تو فرمانروایانِ بنوعباس کی خصوصی توجہ سے قرآن وحدیث اور فقہ کے علوم باقاعدہ شکل میں مدون ہو گئے۔ ساتھ ہی کیمیا ، نباتات، ارضیات ، ہیئت ، طب ، جراحت وغیرہ میں ماہرانہ کارنامے انجام دیے گئے۔
اسلامی سلطنت کی حدود تو اموی دور ہی میں چین سے اندلس تک پھیل چکی تھیں۔ اب اس عظیم مملکت کے کئی حصے سیاسی طور پر خود مختار ہو گئے مگر مسجد کی مرکزی حیثیت اپنی جگہ قائم رہی۔ 
یہی مساجد تھیں جن سے اسلامی فکر وعمل کے تابناک نگینے ڈھلتے اور چار دانگ عالم کو منور کرتے تھے اور برصغیر نے تو صدیوں مسجد ومکتب کو اپنی معاشرتی زندگی کا محور بنائے رکھا۔ ڈبلیو ،ڈبلیو کیش اپنی کتاب ’’عیسائیت اور اسلام‘‘ میں لکھتا ہے : اسلام کی قوت کا راز تلوار اورعساکر سے زیادہ اس کی مساجد و مکاتب میں پنہاں تھا ۔ مستعد خان ساقی صاحب ’’مآثر عالمگیری ‘‘ میں رقمطراز ہیں:’’ درجمیع بلاد و قصبات ایں کشور وسیع فضلاء مدرساں رابہ وظائف لائقہ از روزانہ و املاک موظف برائے طلبِ علم وجوہ معیشت در خور حالت و استعداد او مقرر فرمودند‘‘۔ڈاکٹر لائٹنز ’’ دیسی مدارس کی تاریخ‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ پنجاب میں کم وبیش ۲۸۸۷۹ گاؤں ہیں ۔ ہر گاؤں میں مسجد ہے جو مکتب کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے۔ برطانوی شہنشاہت کے ساتھ وہ مدارس ختم ہو گئے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں انگریزی عملداری کے دوران میں تعلیم و تعلم کے کام میں دو عملی آ گئی۔ مغربی تہذیب کے زیرِ اثر دینی علوم کو بے کار خیال کیا جانے لگا۔ سرکاری اعانت سے چلنے والے ادارے حکومتی کل پرزے اور کھوکھلے مگر تجدد پسند ذہن تیار کرنے لگے۔ دینی علوم کی تحصیل کو مشغلہ بیکاراں سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا۔ سالہا سال سے چلنے والے یہ مدارس ایک طرف تو سرکاری اعانت سے محروم رہے ، دوسرے ان کا نصاب جدید عصری تقاضوں سے کچھ فاصلے پر رہ گیا۔ تاہم دینی اقدار کے پاسباں اوراسلاف کے تبحر علمی سے فیضیاب لوگ اس متاعِ بے بہا کو معاشرے میں لٹاتے رہے اور مفت لٹاتے رہے۔ خیر القرون کی درخشندہ روایات کے یہ محافظ آج بھی برصغیر کے کونے کونے میں موجود ہیں ۔ ہمارا موضوعِ سخن انہی خدامست بزرگوں اور ان کے اداروں کا تذکرہ ہے جس سے تہذیب جدید کے دلدادوں کو معلوم ہو جائے کہ بغیر حکومتی اعانت کے توکل بخدا محض خلوص کے بل پر کس قدر علمی وتعلیمی کام ہو رہا ہے ۔ سردست زیرِ نظر مجلہ ’مہک‘ کے خصوصی شمارے کی رعایت میں صرف ضلع گوجرانوالہ کے اہم دینی وتعلیمی اداروں کا ذکر مطلوب ہے۔ 
گوجرانوالہ ایک مردم خیز خطہ ہے ۔ اپنی اقتصادی ، زرعی اور صنعتی خصوصیات کی بنا پر پنجاب کے اعضائے رئیسہ میں سے ایک ہے۔ مگر یہ بات بھی فراموش کرنے کے قابل نہیں کہ اس مشینی دور اور اقتصادی ترقی کے زمانے میں بھی ہوس و زر کے باوجود ضلع گوجرانوالہ دینی مدارس کا ایک روح پرور نظارہ پیش کرتا ہے۔ بازاروں کی ہاؤ میں، دفاتر کی گہما گہمی ، فرائض سے کوتاہی اور حقوق کے لیے دوڑدھوپ ، کارخانوں کی دھواں اگلتی آلودہ فضا ،حکومتی تعلیمی اداروں کی ادھ کچری تعلیم اور کچہریوں کے تکدر آلود احاطوں سے نکل کر مدارس دینیہ کے قناعت بخش ، پرسکون اور تسکین افزا فضا میں چلے آئیے۔ بقول غالب ؔ آپ پر واضح ہو جائے گا ۔
از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئینہ
طوطی کوشش جہت سے مقابل ہے آئینہ 
آپ باور کریں یا نہ کریں سچی بات یہ ہے کہ اکبر الہ آبادی بڑے پتے کی بات کہہ گیا تھا۔ 
کالج و اسکول و یونیورسٹی 
قوم بے چاری اسی پر مرمٹی 
جب ان مقدس فضاؤں میں قال اللہ و قال الرسول ﷺکی دلکش صدائیں گونجتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے گویا آسمانوں سے قطار اندر قطار فرشتے اتر رہے ہیں۔ رسوخ فی العلم کے دھارے بہ رہے ہیں پھر ان خدامستوں کی قناعت کا یہ عالم ہے کہ ظاہری اسباب پر نظر ہی نہیں رکھتے۔ 
؂ قناعت بھی بہار بے خزاں ہے
بس ایک اور صرف ایک ہی دھن کہ توحید الٰہی کا پرچم اونچا رہے اور سرور کائنات ﷺ کا اسوہ زندہ رہے۔ اس بات سے غرض نہیں کہ ان جانفشانیوں کا نتیجہ کیا ہو گا۔ ۔
آس کھیتی کے پنپنے کی انہیں ہو یا نہ ہو
ہیں اسے پانی دئے جاتے کسانوں کی طرح
یہاں یہ ہنگامے ہیں نہ احتجاج ، نہ ہلڑبازی نہ شورہ پشتیاں ، نہ شوخ چشمیاں نہ نگاہوں کی بے باکیاں ، ظاہری شستہ روی نہیں تو اندرون تیرہ وقار بھی تو نہیں ۔ جب کہ بقول اقبال عصر حاضر انہیں تحفوں سے عبارت ہے۔ 
یہی زمانہ حاضر کی کائنات ہے کیا 
دماغ روشن و دل تیرہ و نگاہ بے باک

مدرسہ انوار العلوم ( شہر کا قدیم ترین مدرسہ)

یہ مدرسہ گوجرانوالہ کے تاریخی باغ شیرانوالہ کے عقب میں مرکزی جامع مسجد سے ملحق ہے۔ ۱۹۲۲ء میں اس وقت خطیبِ شہر اور اجل عالم دین مولانا عبدالعزیز کی کوششوں سے مدرسے کا انتظام انجمن اہل السنت والجماعت گوجرانوالہ کے سپرد تھا۔ مولانا سید انور شاہ کشمیری کو تاسیس مدرسہ کے لیے خصوصی دعوت پر دیوبند سے بلایا گیا ۔ انہی کے نام کی مناسبت سے مدرسہ کا نام ’ انوار العلوم ‘ قرار پایا۔ مولانا عبدالعزیز قبل ازیں گورنمنٹ اسکول گوجرانوالہ میں مدرس کے فرائض بھی انجام دیتے تھے مگر بعد میں مکمل طور پر مدرسے سے وابستہ ہو گئے۔ وہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی اورمولانا سید انور شاہ کشمیری کے خاص تلامذہ میں سے تھے۔ ان کی عربی تصانیف: نبراس الساری علیٰ اطراف البخاری، نصب الرایہ للزیلعی پر حاشیہ اور طحاوی شریف پر تخریج اس بات کی گواہی ہیں کہ وہ بجا طور پر محدثِ پنجاب کہلانے کے مستحق تھے۔ 
۱۹۴۰ء میں ایک احاطہ خرید کر باقاعدہ مدرسے کی عمارت بنائی گئی ۔ اس وقت کمروں کی مجموعی تعداد بارہ ہے۔ درس نظامی کی موقوف علیہ تک تعلیم ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک دورہ حدیث بھی ہوتا تھا مگر اب نہیں۔ مختلف درجوں میں ۵۰ کے قریب بیرونی طلبہ تعلیم پا رہے ہیں ۔ اخراجات کا مجموعی تخمینہ ایک لاکھ روپے سالانہ ہے ۔ مدرسین میں مولانا قاضی حمیداللہ صدر مدرس ہیں جو منقولات کے ساتھ معقولات میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کے فارغ التحصیل ہیں۔ 
مولانا عبدالمتین زاہد الراشدی ملک کے نامور محقق شیخ الحدیث مولانا سرفراز صفدر کے خلف الرشید ہیں اور فاضل نصرۃ العلوم ہیں۔ وہ مرحوم مفتی عبدالواحد کے زمانے ہی سے مسجد کے خطیب تھے۔ وہ درس و تدریس کے علاوہ ملکی سیاست میں ایک معروف شخصیت ہیں۔ ان کے علاوہ مولانا سید عبدالمالک فاضل نصرۃ العلوم اور مولانا حق نواز فاضل نصرۃ العلوم بھی مدرسے میں فرائض تدریس انجام دیتے ہیں۔ ناظم مدرسہ حافظ عبدالقدوس کشمیری ہیں ۔ شعبہ حفظ وناظرہ میں قاری عبدالصمد مصروفِ کار ہیں۔ پرانے مدرسین میں مولانا عبدالقدیر ، مولانا نور محمد، مولانا محمد شکیل، مولانا محمد چراغ، مولاناقاضی شمس الدین اور مولانا عبدالواحد کے نام قابل ذکر ہیں۔ مدرسے کے ہزاروں ممتاز فاضلین میں درج ذیل اصحاب خاصے معروف ہیں: 
۱۔ مولانا محمد سرفراز خان صفدر ، شیخ الحدیث و صدر مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
۲۔ مولانا صوفی عبدالحمید سواتی، مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
۳۔ مولانا قاضی عصمت اللہ ، مہتمم و صدر مدرس مدرسہ محمدیہ قلعہ دیدار سنگھ
۴۔ مولانا عبدالرحمن جامی، سابق خطیب شاہی مسجد لاہور
۵۔ مولانا مفتی عبدالمتین ، سابق قاضی ضلع پونچھ
۶۔ مفتی جعفر حسین مجتہد ( پاکستان میں شیعہ مکتب فکر کے امام اور سابق مہتمم جامعہ جعفریہ) 
۷۔ مفتی بشیر حسین ، ( بریلوی مکتب فکر کے مشہور عالم دین)
مدرسے کا مسلک حنفی دیوبندی ہے۔ دارالافتاء میں رجسٹر اور نقل کا انتظام نہیں۔ 

مدرسہ حنفیہ رضویہ سراج العلوم 

محلہ اسلام آباد گوجرانوالہ میں زینت المساجد سے ملحق گوجرانوالہ کی ایک اہم دینی درسگاہ ہے۔ مہتمم مولانا ابوداود محمد صادق ہیں۔ مولانا موصوف جامعہ رضویہ مظہر الاسلام فیصل آباد کے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ ایک جید عالم دین ، ایک اعلیٰ درجے کے مصنف اور فصیح اللسان مقرر ہیں۔ مدرسے میں ان کی ذات گرامی محو ر و مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ برہان صادق، پیغام صادق، نورانی حقائق ، روحانی حقائق کے علاوہ دیگر بہت سی کتب ان کی تصنیفی کاوشوں کی شاہکار ہیں۔ ماہنامہ ’ رضائے مصطفی‘ ان کی زندہ اور شگفتہ تحریروں کا حسین مرقع ہے۔
یہ مدرسہ مسلک حنفی بریلوی کی گوجرانوالہ میں اولین اور سب سے بڑی درسگاہ ہے جس کا انتظام انجمن خدام الصوفیہ کے سپرد ہے۔ مدرسے کا نام امام ابوحنیفہ ، مولانا احمد رضاخاں بریلوی اور شاہ سراج الحق گورداسپوری کے اسمائے گرامی کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔ مولانا ابوداود محمد صادق کے استاد اور پیر ومرشد مولانا سردار محمد لائل پوری نے ۱۹۵۵ء میں افتتاح فرمایا۔ مدرسے کا نصاب درس نظامی پر مشتمل ہے تاہم مثنوی مولائے روم بھی سبقاً سبقاً پڑھائی جاتی ہے۔ افتاء کا انتظام ہے ، مولانا موصوف خود ہی یہ خدمت انجام دیتے ہیں۔ مدرسہ دو عمارتوں پر مشتمل ہے۔ طلبہ کے قیام وطعام کاعمدہ بندوبست ہے۔
فاضلین میں مولانا سعید احمد مجددی، مولانا خالدحسن مجددی، مولانا سید مراتب علی شاہ، مولانا محمد اکرم رضوی ، مولانا سید شبیر حسین حافظ آبادی ، مولانا صداقت علی حنفی اور مولانا فیض القادری کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔ اس وقت ڈیڑھ سو طالب علم زیر تعلیم ہیں ، جن میں ۸۰ طلبہ مستقل طور پر مدرسہ میں رہائش پذیر ہیں۔ مدرسے کا کتب خانہ دینی کتب کا نہایت عمدہ ذخیرہ ہے۔ مدرسے کے ابتدائی مدرسین میں مولانا محمد احسان الحق اور مولانا عبداللطیف کے نام سرفہرست ہیں۔ مدرسے کا تبلیغی شعبہ نہایت فعال ہے۔ پچھلے ۲۵ برس سے ماہنامہ ’ رضائے مصطفی‘ بریلوی مکتب فکر کی ترجمانی کا فرض انجام دے رہا ہے۔ مدرسے کی ایک شاخ حافظ آباد روڈ پر کلر آبادی میں بھی ہے ۔ مدرسے میں شعبہ حفظ وناظرہ بھی موجود ہے۔ اس وقت پانچ مدرسین فرائض تدریس انجام دے رہے ہیں۔ 
اس ادارے کے بانی مولانا ابوداود محمد صادق ہیں۔ ۱۹۲۹ء بمقام کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق اعوانوں کے ایک معزز خاندان سے ہے۔ آپ کے والد کانام شاہ محمد ہے۔ قرآن مجید ناظرہ اور پرائمری تک اردو تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ کے علوم عربیہ کے منتخب نصاب درس نظامی کی کتب جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف، مدرسہ نقشبندیہ علی پور شریف اور جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں پڑھیں۔ ۱۵؍ شعبان المعظم ۱۳۶۹ھ کو سندِ فراغت حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا محمد شریف کوٹلوی ، مولانا حاجی عبدالغنی، قاری یوسف علی بریلوی، مولانا محمد آل حسن سنبھلی، مولانا عبدالرشید جھنگوی اور مولانا سردار احمد فیصل آبادی کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
مولانا محمد صادق نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد سے کیا۔ ایک سال بعد گوجرانوالہ چلے آئے اور جامع مسجد زینت المساجد میں خطابت کے فرائض انجام دینے لگے۔ اہل دل جذباتِ شوق لیے آپ کے خطاب سے خوشہ چینی کرنے لگے ۔ آج تک آپ اسی جامعہ مسجد میں خطابت کی ذمہ داریوں سے عہد برآ ہو رہے ہیں ۔ ان دنوں آپ کے ہم مسلک علماء کسی معیاری دینی درسگاہ کے قیام کے لیے کوشاں تھے ۔ آپ نے اس خلا کو پر کرنے کے لیے جامعہ حنفیہ رضویہ سراج العلوم کے نام سے دینی ادارہ قائم کیا ۔ جس کی تفصیلات اس مضمون میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔
آپ نظریہ پاکستان کے فدائی عاشق ناموسِ رسالت اور محبِ وطن عالم دین ہیں۔ آپ نے اپنی تقاریر اور خطبات میں ہمیشہ اسلام اور وطنِ عزیز سے غیر متزلزل وابستگی کا درس دیاہے۔ آپ سنت رسول ﷺپر سختی سے کاربند ہیں اوراپنے متعلقین ، تلامذہ اور عقیدت مندوں کو بھی عشق رسول ﷺ کے تقاضوں کی بجاآوری کی خاطر تعلیمات مصطفوی پر دل و جان سے عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ آپ مولانا سردار احمد فیصل آبادی کے شاگرد رشید ہونے کے علاوہ انہی سے بیعت بھی تھے۔ انہوں نے آپ کو خلافت بھی عطا فرمائی۔ آپ نے رشد وہدایت کے ایمان افروز سلسلے کی بدولت بہت سے گم گشتگانِ منزل کی راہنمائی فرماتے ہوئے انہیں صراطِ مستقیم پر گامزن کیا ہے۔ آپ تبلیغ اسلام کے شیدائی اور ترویجِ اقدار اسلامی کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ اصلاح معاشرہ اور انسدادِ رسوم باطلہ کے سلسلہ میں آپ کی تقاریر ہمیشہ موثر ثابت ہوئی ہیں ۔ آپ کے پر تاثیر مواعظ عوام کے دلوں پر اثر کرتے اور انہیں گدازِ ایمانی سے آشنا کرتے ہیں۔ 
آپ معروف خطیب ، مبلغ اور استاد ہی نہیں بلکہ صاحبِ قلم بھی ہیں۔ آپ کی سرپرستی میں ماہنامہ ’ رضائے مصطفی‘ تبلیغِ دین کے سلسلہ میں شاندار کردار ادا کر رہاہے۔ آپ نے متعدد تصانیف کے علاوہ مختلف تبلیغی اور علمی موضوعات پر درجنوں تبلیغی اشتہارات بھی تحریر فرمائے ہیں جو ایک لاکھ سے زائد تعداد میں شائع ہو چکے ہیں۔ قرطاس وقلم کے سلسلے میں آپ کی یہ تبلیغی کاوشیں بلاشبہ لائق ستائش ہیں۔ آپ کے بہت سے تلامذہ مذہبی و دینی حلقوں میں نام پیدا کر چکے ہیں جن میں مولانا سید مراتب علی شاہ، مولانا محمد اکرم رضوی، مولانا محمد صدیق، مولانا محمد شریف، مولانا سید شبیر حسین حافظ آبادی، مولانا صداقت علی فیضی اور مولانا فیض القادری خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ مولانا محمد صادق کی زندگی کا محور یہ شعر ہے:
تمنا ہے کہ اس دنیا میں کوئی کام کر جائیں
اگر کچھ ہو سکے تو خدمتِ اسلام کر جائیں 
( کوائف ماخوذ از تعارف علمائے اہل سنت : مرتبہ مولانا محمد صدیق ہزاروی) 

مدرسہ اشرف العلوم

باغبانپورہ حافظ آباد روڈ پر جامع مسجد اشرفیہ سے ملحق شہر کی اہم دینی درسگاہ ہے۔ مدرسے کا مسلک حنفی دیوبندی ہے۔ مدرسے کا انتظام ایک مجلس متنظمہ کے ماتحت مہتمم مدرسہ محمد نعیم اللہ کی ذاتی نگرانی میں ہے۔ ناظم مدرسہ حافظ محمد معین ہیں۔ 
۱۔مولانامحمود حسن ، صدر مدرس فاضل جامعہ اشرفیہ 
۲۔ مولانا محمد ہاشم ، فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم 
۳۔ مولانا خلیل احمد ، فاضل نصرۃ العلوم 
۴۔ مولانا عبدالخالق، فاضل جامعہ اشرفیہ 
۵۔ مولانا قاری عبدالصمد ، فاضل جامعہ اشرفیہ 
۱۹۵۲ء میں مولانا مفتی محمد حسن ( جامعہ اشرفیہ لاہور) خلیفہ مجاز مولانا اشرف علی تھانوی کی سرپرستی میں مولانا محمد خلیل کی زیر نگرانی مدرسے کا اجراء ہوا۔ ابتداءً مسجد شیخاں گوجرانوالہ میں تدریس کا کام شروع ہوا بعدازاں یہ درسگاہ مسجد عبداللہ خونی میں منتقل ہوئی۔ امتدادِ وقت کے ساتھ ساتھ توسیع مدرسہ کے لیے مختلف مقامات زیر غور آئے۔ ایک تجویز سول لائنز میں منتقل کرنے کی تھی مگر کثرت رائے سے بعد میں مدرسہ اپنی موجودہ جگہ پر باغبانپورہ میں شروع کیا گیا۔ بانی مدرسہ مفتی محمد خلیل کو مفتی محمد حسن سے شرفِ بیعت حاصل تھا اورمفتی محمد حسن برصغیر کے نامور فقیہ مولانا اشرف علی تھانوی سے بیعت تھے۔ انہی کے نام پر مدرسے کا نام اشرف العلوم رکھا گیا ۔ مدرسے کا نصاب درس نظامی ہے، مگر یہاں دورۂ حدیث نہیں ہوتا۔ زیادہ زور حفظ وناظرہ اور تجوید وقرات پر دیا جاتا ہے۔ یہ اقامتی ادارہ ہے ۔ طلبہ کودیگر مراعات کے ساتھ ۵ روپے ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔ طلبہ کی مجموعی تعداد ۱۲۲ ہے۔
مدرسے نے اہم سیاسی خدمات بھی انجام دی ہیں ۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں مرحوم مفتی محمد خلیل گرفتار ہوئے۔ ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی میں اہم خدمات انجام دیں۔ جس میں مفتی صاحب اور مولانا محمد نعیم مضرو ب بھی ہوئے۔
اہم فاضلین یہ ہیں: ۱۔ مولانا عبدالحکیم ( گلگت اسمبلی کے سابق رکن)، ۲۔ مولانا عبدالقیوم ( سکردو)۔
مدرسہ وفاق المدارس سے منسلک ہے۔ مدرسہ کے ارباب بست وکشاد درس نظامی میں اصلاح کے نہیں ترمیم کے قائل ہیں۔ دارالافتاء تو ہے مگر رجسٹر کا انتظام نہیں ۔ مدرسے کا کتب خانہ نہایت وقیع ہے جس میں چند نایاب قلمی نسخے بھی ہیں ۔

جامعہ اسلامیہ چاہ شاہاں والا

آبادی حاکم رائے چاہ شاہاں والا حافظ آباد روڈ کے قریب گنجان آبادی میں مسلک اہل حدیث کی ایک شاندار درسگاہ ہے۔ مدرسے کا انتظام ایک مجلس منتظمہ چلاتی ہے۔ ۱۳۷۰ھ بمطابق ۱۹۵۰ء میں شیخ الجامعہ حافظ محمد گوندلوی نے جامعہ کی بنیاد رکھی۔ اس وقت ایک کمرہ ، دو استاد اور ۱۰ طلبہ تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اگرچہ کمروں میں اضافہ ہو چکا ہے ، ایک ہال بھی ہے مگر تعلیمی افادیت کے مقابلے میں جگہ قلیل ہے ۔ مستقل طلبہ کی تعداد ۷۵ ہے ۔ دارالاقامہ میں ۵۶ طلبہ رہائش پذیر ہیں۔ حفظ وناظرہ اور تجوید کا نہایت مناسب انتظام ہے۔ جامعہ کی لائبریری میں کل ۳۵۰۰ کتابیں ہیں جن میں چند قلمی نسخے بھی ہیں۔
جامعہ کے سرپرست حافظ محمد گوندلوی ہیں۔ مہتمم اور صدر مدرس کے فرائض مولانا ابوالبرکات احمد مدراسی انجام دیتے ہیں جو فاضل دارالکتاب والسنہ دہلی ، فاضل مدرسۃ العالیہ مدراس، فاضل افضل العلماء مدراس یونیورسٹی ہیں۔ 
حافظ محمد گوندلوی جو آغاز کار میں مدارس عربیہ کے فارغ التحصیل علماء کو درس اعظم کے نام سے درس دیتے تھے، اب پیرانہ سالی کے باوجود گاہ گاہ بحیثیتِ سرپرست اپنے فیوض سے نوازتے رہتے ہیں۔ حافظ صاحب دورِ حاضر کے عظیم محدثین میں سے ہیں۔ آپ سلف صالحین کی زہد پرور زندگی کا نمونہ اور علمائے اسلام کی عظیم نشانی مسلک اہل حدیث کے ممتاز عالم دین ہیں۔عصرِ حاضر میں کم بلکہ کم لوگ ایسے ہیں جن کی نگاہ علوم الحدیث کی ان گہرائیوں تک جاتی ہے جہاں تک موصوف کی نگاہ دور رس پہنچی ہے۔ آپ کا مولد گوجرانوالہ کے مضافات میں موضع گوندانوالہ ہے۔ تاریخ پیدائش قطعی طورپر تو معلوم نہیں ہو سکی۔ قرائن وشواہد سے ۱۸۸۵ء کے لگ بھگ ہے۔ 
تعلیم کے سلسلے میں پہلے مرحلے میں آپ امرتسر تشریف لے گئے ، وہاں صرف ، نحو ،منطق جیسے علوم مولوی محمد حسین ہزاروی سے پڑھے اور علوم حدیث کے لیے مولانا عبدالجبار غزنوی ( والد مولانا داود غزنوی) اور مولانا عبدالاول کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ یہ سلسلہ تعلیم کوئی ۵ سال تک رہا۔
بعد ازاں طبیہ کالج سے طب میں اول آئے ، یہیں مولوی عبدالرزاق سے منطق بھی پڑھی اور ۱۹۱۹ء میں فارغ التحصیل ہوئے ۔ واپسی پر گوندانوالہ میں مدرسہ نصرۃ العلوم قائم کر کے تدریس کا آغاز کیا۔ جن جن اداروں میں آپ فرائض تدریس انجام دیتے رہے، ان کے نام یہ ہیں: مسجد رحمانی دہلی، مدرسہ اوڈانوالہ ضلع فیصل آباد، جامعہ محمدیہ چوک نیائیں گوجرانوالہ ، جامعہ سلفیہ فیصل آباد، جامعہ اسلامیہ شاہانوالہ ، اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ ، جامعہ محمدیہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ ۔ 
علامہ موصوف برصغیر کے نامور اساتذہ حدیث میں سے ہیں۔ ان کے بے شمار تلامذہ میں مولانا عبیداللہ مبارک پوری ( صاحب مرعاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح) ، مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی، مولانا محمد اسماعیل سلفی ، حافظ عبدالجبار بڈھی مالوی، حافظ محمد اسحاق مدرس تقویۃ الاسلام لاہور، مولانا محمد عمر اچھروی، مولانا مفتی محمد بشیر گوجرانوالہ اور علامہ احسان الٰہی ظہیر شامل ہیں۔ 
آپ نے تین مختلف سندوں سے علم حدیث کی تحصیل کی ۔ ایک واسطہ تو حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی تک پہنچتا ہے ، دوسرے دو واسطے قاضی شوکانی صاحب نیل الاوطار تک جاتے ہیں۔
آپ نے عربی اور اردو میں بلند پایہ علمی کتابیں لکھی ہیں۔ عربی کتابوں کے نام یہ ہیں۔ زبدۃ البیان فی حقیقۃ الایمان، تحفۃ الاخوان(عقائد) ، بغیۃ الفحول( فقہ)، شرح مشکوۃ ( نامکمل و غیر مطبوعہ )۔ اردو کتابیں یہ ہیں: اثبات التوحید فی ابطال التثلیث ( پادری عبدالحق کی کتاب کا رد) ،ختم نبوت، تنقید المسائل، الاصلاح( ۴ حصے) ، ابداء الثواب۔التحقیق الراسخ۔
مولانا کم و بیش ۱۰۰ سال کے پیٹے میں ہیں ۔ بوجہ سالمندی اور ضعف پیری تو ایک فطری امر ہے اور بڑھاپے کے آثار وعوارض سے بھی مفر نہیں تاہم طبیعت میں شگفتگی اور مزاج میں حد درجہ کی سادگی ہے۔ 
علم کا کوہِ گراں اور قرآن وحدیث پر ماہرانہ دسترس رکھنے والا یہ عربیت کا بحر بے کنار ہر طرح کے کھوکھلے پن سے یکسر عاری ہے ۔ نہ تکلف نہ تصنع نہ شملہ بمقدار علم ، نہ جھوٹا علمی رعب، انکسار کا پیکر مگر وقار کی تصویر ۔ مدینہ منورہ میں رات کو اس کے درس بخاری میں شیوخ حرم بیٹھتے تو دراز دامن ہو کر بیٹھتے ۔ یہ فصیح عربی میں گھنٹوں بخاری کا درس دیتا اور اہلِ زبان انگشت بدنداں رہ جاتے ۔ زبان حال سے پکار اٹھتے۔ 
؂ ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں ہے
کسی کو مسلک کا اختلاف ہوتو ہو مگر اہل علم میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو ان کی علمی سطوت کا معترف نہ ہو۔ ان کی صحبت میں بیٹھ کر یوں لگتا ہے کہ تفقہ فی الدین اور رسوخ فی العلم کا ہمالہ ہے جس کی بلندیوں کو دیکھتے ہی بڑے بڑوں کو پگڑی سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ 
اس ادارے کے شیخ الحدیث مولانا ابوالبرکات احمد مدراسی ، مدراس کے مشہور قصبہ چمناڈ (chemnad) میں مولانا محمد اسماعیل کے ہاں ۱۹۲۶ء کو تولد ہوئے۔ آپ کا خاندان اگرچہ زراعت کے پیشہ سے متعلق تھا مگر اپنے علم وتقویٰ کی بنا پر پورے علاقہ میں خاص شہرہ رکھتا تھا۔ آپ کے جد امجد مولانا محمد صاحب اور ماموں مولانا محمد زکریا صاحب کا جید علماء میں شمار ہوتا تھا ۔ آپ کی والدہ علوم قرآن کی ماہرہ تھیں اور خواتین کے لیے حلقہ ارشاد وتدریس قائم کر رکھا تھا۔ 
آپ انگریزی طرز کے اسکول میں مڈل تک رسمی تعلیم کے بعد علوم دینیہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ المدرسۃ العالیہ چمناڈ یعنی عربک کالج سے عربی درسیات اور علوم متداولہ کی تکمیل کی۔ غیر منقسم ہندوستان المدرسۃ العالیہ چمناڈ شافعی مسلک کی درسیات کا عظیم ترین مرکز تھا۔ 
تفسیر وحدیث ، منطق وفلسفہ اور تاریخ میں آپ کے استاد محمد ابوالصلاح تھے جو اپنے دور کے وحید العصر عالم تھے۔ صرف ونحو ، بلاغت اور عربی ادب کی تکمیل مولانا محمد عباس جیسے بلندپایہ عالم سے کی۔ فقہ و اصول فقہ میں مہارت کے لیے علامہ محمد کانن گاڈی کے خوان علم سے استفادہ کیا۔ اس کے بعد حنفی مسلک کے عدیم النظیر استاد مہر محمد سے حنفی فقہ ، علم الکلام ، منطق وفلسفہ کے اسباق پڑھے۔ فقہ احناف ، منطق و فلسفہ اور علم الکلام میں مہارت تامہ حاصل کی۔ 
؂ تمتع زہر گوشہ یافتم 
فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک سال تک مدرسۃ العالیہ چمناڈ میں تدریس کے فرائض انجام دیے ۔ اس کے بعد جامعہ الازہر قاہرہ میں عربی زبان پر تحریر و تکلم کی مکمل استعداد کے لیے رختِ سفر باندھا ۔ پاسپورٹ وغیرہ کے مراحل طے ہوجانے کے بعد آپ بمبئی پہنچے مگر اس دوران میں الازہر کے طلبہ نے شاہِ فاروق کے خلاف اخوان کی حمایت میں تحریک کا اعلان کیا تو الازہر کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا۔اس طرح الازہر کے علمی گہوارہ میں تحصیل علم کی آرزو تشنہ تکمیل رہی۔ چند ماہ بعد پاکستان معرض وجود میںآیا تو وطن مالوف جانے پر دشواری ہوئی۔ آپ نے پاکستان ہجرت کی اور ماموں کانجن اوڈاں والا کے معروف علمی مدرسہ میں وارد ہوئے۔ چند ماہ تک تدریس کے فرائض انجام دیے ۔ اس اثنا میں گوجرانوالہ میں مولانا محمد گوندلوی کے رسوخ فی العلم اور درس حدیث کی شہرت سن کر گوجرانوالہ میں منتقل ہوگئے اور حافظ محمد گوندلوی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ ان سے اصولِ تفسیر ، اصول حدیث ، علوم القرآن ، علوم الحدیث ، فلسفہ اور اسرار الشریعۃ میں استفادہ کے بعد سند فراغت حاصل کی۔ 
حضرت مولانا محمد گوندلوی الجامعۃ الاسلامیہ چاہ شاہاں والا میں مہتم اعلیٰ اور صدر مدرس تھے۔ آپ نے ۱۹۵۰ء میں درس نظامی اور علوم اسلامیہ کے محنتی طلبہ کی تدریس کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور حافظ محمد گوندلوی کے مدینہ منورہ لے جانے اور پھر گوشہ نشین ہوجانے کے بعد آپ اس معروف علمی ادارہ کے سربراہ اور صدر مدرس مقرر ہوئے اور تادمِ تحریر یہ ذمہ داریاں خوش ا سلوبی سے انجام دے رہے ہیں۔ 
مولانا ابوالبرکات احمد الجامعۃ الاسلامیہ کے دارالافتاء کے صدر مفتی ہیں اور گذشتہ ۲۵ سال کے دوران میں ہزاروں فتاوی صادر کر چکے ہیں۔ مولانا ابوالبرکات احمد علم وعمل کی ایک جامع اور زندہ تصویر ہیں۔ نامور اور صاحبِ بصیرت عالم ہونے کے ساتھ آپ زاہد مرتاض حد درجہ متوکل انسان ہیں۔ زہد وقناعت ، فقر و غنا ، انکسار و تواضع ، ایثار وعلم ، متانت و ثقاہت اور خوش خلقی اور شرینی گفتار میں آپ فی الواقعہ اس زمانے میں آیۃ من آیات اللہ کا مصداق ہیں۔ آپ اپنے کردار و اوصاف میں سلف صالحین کا چلتا پھرتا پیکر ہیں۔ (سوانحی خاکہ پروفیسر بشیر احمد تمنا نے فراہم کیا) 

جامعہ محمدیہ 

جی ٹی روڈ پر سرفراز کالونی سے شہر گوجرانوالہ کی جانب شاہراہ کے مغربی جانب مسلک اہل حدیث کی عظیم درسگاہ ہے۔ ابتدا میں درسگاہ مدرسہ محمدیہ کے نام سے چوک نیائیں کے قریب تھی۔ بانی مولانا محمد اسماعیل سلفی تھے جنہوں نے ۱۹۲۱ء میں اس کی بنیاد رکھی۔ مولانا حافظ محمد گوندلوی نے روزِ اول ہی سے فرائض تدریس سنبھالے اور آج تک جامعہ سے وابستہ ہیں۔ صرف وہ وقفہ مستثنیٰ ہے جس میں کچھ دیر کے لیے وہ تدریس حدیث کے لیے فیصل آباد اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ 
۱۹۶۸ء میں مولانا سلفی کی وفات پر مدرسے کا بار انصرام مولانا عبداللہ کے کندھوں پر آ گیا۔ جامعہ کی عمارت وسیع رقبہ پر ہے جس میں ایک مسجد بھی ہے ۔ اقامت کے لیے ۳۵ کمرے ہیں۔ ۲۵ نچلی منزل میں اور ۱۰ بالائی منزل پر ۔ ۸ تدریسی کمرے ہیں ۔ کھیل کود کے لیے ایک وسیع گراؤنڈ بھی ہے۔ آغاز سال میں ۱۵۰ طلبہ ہوتے ہیں اور آخر میں عموماً ۱۲۵ طلبہ کامیاب ہوتے ہیں۔ دورہ تفسیر وحدیث میں ۱۰ طلبہ ہوتے ہیں۔ 
جامعہ کا نصاب تو درس نظامی ہی ہے مگر ادب و انشاء اورا نگریزی زبان کی تدریس پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ تفسیر ، حدیث، فلسفہ اسلامی، فرائض ، ہیئت ، بلاغت وغیرہ کے ساتھ ساتھ تاریخ ، ادب عربی، انٹر میڈیٹ تک کی انگریزی بھی پڑھائی جاتی ہے۔ 
اساتذہ : صدر مدرس مولانا محمد عبداللہ، حافظ عبدالمنان ، مولانا عبدالحمید، مولانا محمد اعظم ، مولانا حافظ محمد الیاس، مولانا حافظ محمد یحییٰ ، مولانا رحمت اللہ ، مولانا قاری سیف اللہ۔ 
اکثر اساتذہ اسی جامعہ کے فارغ التحصیل ہیں۔ جامعہ میں دارالافتاء تو ہے مگر رجسٹر نہیں۔ مدرسے کاسیاسی مسلک تحریکوں سے علیحدگی اختیار کرنا ہے۔ طلبہ کی جمعیت بھی ہے ۔ ۸ سالوں پر محیط تدریسی پروگرام میں درس نظامی کس حد تک حک واضافے کے ساتھ رائج ہے تاہم فقہی مسالک کا اختلاف اور ان پر نقد ونظر جامعہ کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ کتب خانے میں ایک ہزار سے زیادہ علمی کتابیں ہیں۔ 
فاضلین میں اہم ترین کے اسمائے گرامی ہیں:
مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی، مولانا محمدحنیف ( رکن ادارہ ثقافت اسلامیہ ) ، مولانا حافظ محمد عبداللہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد، مولانا امام خاں نوشہروی ، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا عبدالمجید سوہدری ( مدیر مجلہ اہل حدیث)، مولانا معین الدین لکھوی، ( امیر جمعیت اہل حدیث پاکستان)، مولانا محمد عبداللہ ( موجودہ صدر مدرس) ، پروفیسر محمد ( پروفیسر سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور)، قاری احم دین ( معہد علمی مکہ مکرمہ) ، مولانا محموداحمد میرپوری ( انگلستان) ۔
مولانا سلفی ایک بلند پایہ عالم تھے۔ ان کی کتابوں میں ذیل کے علمی کارنامے ان کے مرتبہ علمی کے شاہد عادل ہیں:
اثبات التوحید فی ابطا ل التثلیث( پادری عبدالحق کی کتاب کا رد) ،،سنت خیر الانام، درسہ وتر بیک سلام، ارشاد القاری الیٰ نقد کتاب فیض الباری، باعانت مولانا عبدالمنان، تحریک آزادی فکر، رسول اکرم ﷺ کی نماز، حجیت حدیث، ترجمہ مشکوۃ المصابیح نصف اول، سبعہ معلقہ کی شرح۔ 
جہاں تک جامعہ کے مہتمم مولانا محمد عبداللہ کا تعلق ہے، وہ فی الواقع علم وعمل کی چلتی پھرتی تصویر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت لالہ وگل کی حنا بندی بھی خود کرتی ہے اور گلستان کے نکھار و وقار کا سامان بھی۔ اسی طرح علمی اور دینی افق درخشندہ ستاروں سے کبھی محروم نہیں رہا۔ پھلنا ، پھولنا اور پھیلنا شاخ ہاشمی کا مقدر ہے اور ملتِ بیضا کی عظمت و رفعت ہماری تاریخ کی ایک درخشاں روایت بھی ہے اور روشن حقیقت بھی۔ گوجرانوالہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے فطرت کی طرف سے بہترین دینی دماغ عطا ہوئے۔ انہی میں مولانا محمد عبداللہ کا شمار ہوتا ہے جو مولانا محمد اسماعیل سلفی کے بعد دین حق کی تبلیغ واشاعت میں پوری تندہی سے مصروف عمل ہیں۔ 
آپ ۱۹۲۰ء کو چک نمبر ۱۶ شاخ جنوبی تحصیل بھلوال ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ۱۹۳۴ء میں مدرسہ محمدیہ چوک نیائیں گوجرانوالہ میں داخل ہوئے۔ یہیں مولانا محمد اسماعیل سلفی اور مولانا حافظ محمد گوندلوی سے قرآن وحدیث کی تعلیم حاصل کی اور درس نظامی کی تکمیل کی۔ اسی تعلیم کے دوران میں، آپ نے ۱۹۳۸ء میں پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ ۱۹۴۲ء میں مولوی فاضل کیا اور شہر کی مختلف مساجد میں درس و خطابت کا سلسلہ جاری کیا اور ساتھ ہی جامعہ محمد یہ میں بطور مدرس کام کرتے رہے۔ ۱۹۶۰ء میں علماء اکیڈمی کوئٹہ سے سپیشل کورس پاس کیا۔ بعد ازاں اخوان اہل حدیث کے نام سے ایک تنظیم اور جامعہ شرعیہ کے نام سے ایک دینی ادارہ قائم کیا ۔ یہی ادارہ بعدازاں جی ٹی روڈ پر منتقل ہوا۔ بعد میں اخوان اہل حدیث کو جمعیت اہل حدیث میں جامعہ شرعیہ کو جامعہ محمدیہ میں مدغم کر دیا گیا اور مولانا سلفی کی وفات کے بعد مرکزی جامع مسجد میں خطیب مقرر ہوئے۔ 
آپ کی زیرنگرانی جامعہ محمدیہ اپنی روایتی شان کے ساتھ رواں دواں ہے ۔ رسالہ الاسلام، مجلس علماء اہل حدیث اور اسلامی دارالمطالعہ آپ ہی کی فکرِ رسا کے شاہکار ہیں۔ علم وعرفان کے اس چشمہ صافی سے سیراب ہونے والوں کی صحیح تعداد کا تو اندازہ نہیں مگر چند نام در ج ذیل ہیں:
حافظ عبدالغفور جہلمی، مولانا خالد گرجاکھی، پروفیسر قاضی مقبول احمد ، مولانا بشیر الرحمن، مولاناعبدالرحمن الواصل، مولانا حافظ عبدالمنان ، مولانا محمد یوسف ضیا، مولانا محمد مدنی، مولانا عطاء الرحمن شیخوپوری، مولانا عبدالقیوم سیالکوٹی، علامہ فضل الٰہی ( ریاض یونیورسٹی)، مولانا حبیب الرحمن یزدانی، مولانا حافظ محمد قاسم ، مولانا محمد رفیق دین پوری۔ 
(معلومات جناب پروفیسر حافظ محمد ارشد کی وساطت سے ملیں) 

جامعہ عربیہ

آغاز کار میں کھیالی گیٹ گوجرانوالہ کی مسجد آرائیاں میں مدرسہ عربیہ کے نام سے ۱۹۳۶ء میں مدرسہ جاری ہوا۔ خان بہادر مولانا امام الدین نے مدرسہ کی بنیاد رکھی ۔ مہتمم چودھری نیاز علی تھے اور صدر مدرس مولانا محمد چراغ ( فاضل دارالعلوم دیوبند)۔ مولانا موصوف مولانا انور شاہ کشمیری کے خاص تلامذہ میں سے تھے۔ ان کی شرح جامع ترمذی ’العرف الشذی‘ دنیائے علم ودانش میں خاص شہرت کی حامل ہے۔ عرصہ دراز تک اس مختصر سی عمارت میں تشنگانِ علم افغانستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک سے علم کی پیاس بجھانے کے لیے آتے رہے۔ مولانا ہمیشہ اس فکر میں رہتے کہ علماء کی ایک ایسی جماعت تیار ہوجولا دینی طاقتوں اور الحادی نظریات کا مقابلہ کر سکے ۔ اس مقصد کے لیے در س نظامی کی عام ڈگر سے ہٹ کر نصاب میں اہم اور بنیادی تبدیلیاں کیں جہاں ایک طرف تو عصری تقاضوں سے ہم آہنگی پر زور دیا جاتا ہے، دوسرے ادب وا نشاء کو نصاب کا ایک اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ۲۵ جمادی الثانیہ ۱۳۸۷ھ بمطابق یکم اکتوبر ۱۹۴۶ء کو پاکستان کی شاہراہ پر گوجرانوالہ شہر کے جنوب میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ کے ہاتھوں جامعہ کا سنگ بنیاد رکھوایا۔ 
دعوت وارشاد کے سلسلے میں مولانا موصوف نہایت قابل ہیں۔ ہزارہا لائق اور فاضل تلامذہ تیار کیے۔ برصغیر کے مختلف مقامات کے دورے کر کے شرک وبدعت ، قادیانیت ، عیسائیت اور فتنہ انکارِ حدیث کے خلاف نتیجہ خیز کام کیا۔ آج بھی جامعہ کے فضلاء کے پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، انگلستان، یوگنڈا، موریشس میں تعلیم اور تبلیغ اسلام میں منہمک ہیں۔ شیخ الجامعہ نے فرنگی دور میں آزادی وطن کی تحریک میں بارہا قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ ادب وانشاء کے میدان میں ہفت روزہ ’’ گلدستہ ‘‘ اور ہفت روزہ ’’ صوت الجامعہ ‘‘ طلبہ کے مضامین سے طلبہ ہی کی ادارت میں ترتیب پاتے ہیں جن میں دینی، سیاسی، معاشرتی اور علمی موضوعات پر عام فہم اور شگفتہ تحریریں پیش کی جاتی ہیں۔ جمعیت طلبہ کے نام سے ایک انجمن بھی قائم ہے۔ 
۱۹۴۷ء سے پنجاب یونیورسٹی لاہور اور ثانوی تعلیمی بورڈ کے امتحانات مولوی ، مولوی عالم، مولوی فاضل کی تدریس کا بندوبست کر دیا گیا ہے۔ جامعہ کا دارالکتب نہایت شاندار ہے جس میں سراجی اور شریفیہ شرح سراج جیسی بلند پایہ کتابوں کے قلمی نسخے بھی موجود ہیں۔ گوجرانوالہ کے نامور عالم دین اور محقق مرحوم پروفیسر عبدالحمید صدیقی کی گراں مایہ کتب کا ذخیرہ بھی اسی دارالکتب کی زینت ہے۔ اولاً مولانا حافظ مفتی محمد خلیل ( یہ اشرف العلوم والے مفتی صاحب نہیں) افتاء کی خدمت انجام دیتے رہے۔ 
جامعہ کے نصابِ تدریس میں علوم القرآن، علوم الحدیث، فقہ، افتاء، مذاکرہ عربی ادب، فلسفہ وکلام، ادیان و فرق ، فلسفہ تاریخ ، انگریزی زبان اور طب یونانی شامل ہیں۔ شعبہ حفظ وتجوید بھی قابل قدر ہے۔ 
جامعہ کی انتظامیہ حسبِ ذیل ہے: مولانا محمد چراغ (مہتمم) ، مولانا حافظ محمد انور ( ناظم اعلی)، مولانا حافظ نذیر احمد ( ناظم مالیات)، مولانا محمد عارف (ناظم تعلیمات)، مولانا سید عبدالخالق شاہ گیلانی، ( نائب ناظم اعلیٰ) ۔
فاضلین کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے جن میں چند ایک کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔:
مولانا عبدالخالق طارق( پرنسپل اسلامک انسٹی ٹیوٹ جنجا ،(یوگنڈا)،مولانا منور حسین شاہ مشہدی صدر پیغام اسلام ٹرسٹ ( انگلینڈ)، مولانا محمد حیات (فاتح قادیاں) مولانا منظور احمد چنیوٹی ،( مہتمم جامعہ عربیہ چنیوٹ)، مولانا مفتی جعفر حسین ( سابق پرنسپل جامعہ جعفریہ)، مولانا محمد زکریا ( مہتمم مدرسہ انوارالعلوم کراچی)، مولانا حافظ محمد انور ( مدرسہ باب الاسلام کراچی)، قاضی عصمت اللہ ( مہتمم مدرسہ محمدیہ قلعہ دیدار سنگھ)، مولانا قاضی عبداللطیف ( قاضی حکومت آزاد کشمیر) ، مولانا غازی شاہ نصرۃ العلوم، مولانا عبدالشکور ( کامونکے) 
مدرسہ کا میزانیہ ۴ لاکھ ہے ۔ تعمیر کا خرچ اس کے علاوہ ہے۔ وفاق المدارس سے الحاق نہیں۔ مسلک میں راہِ اعتدال کو مناسب سمجھا گیا ہے۔ 

مولانا محمد چراغ ؒ 

مولانا محمد چراغ ، کاموضع دھکڑ تحصیل کھاریاں، ضلع گجرات مولد ومنشاء ہے۔آپ کا خانوادہ مدتوں سے دور و نزدیک تک علم و آگہی کا منارِ نور رہاہے۔ 
اس گوہر شب چراغ نے ۱۴جمادی اخری ۱۳۱۴ھ حافظ کرم دین بن غلام رسول کے گھر میں آنکھ کھولی۔ حافظ صاحب موصوف ایک فرشتہ صفت انسان تھے اور کاشتکاری ذریعہ معاش تھا۔ انہیں مولانا رشید احمد گنگوہی سے والہانہ عقیدت تھی۔ فارسی زبان کا نہایت ستھرا ذوق رکھتے تھے۔ مثنوی رومی اور دیوانِ حافظ جیسی کتابیں عموماً پاس رہتیں۔
بچپن ہی سے حضرت مولانا محمد چراغ پر اپنے والد گرامی کے تدین وتقویٰ کا رنگ گہرا تھا۔ گھر پر ہی ختم قرآن کے بعد آپ اپنے بڑے بھائی سراج الدین کے پاس لاہور چلے آئے۔ اس دوران میں مدرسہ نعمانیہ میں تحصیلِ علم کرتے رہے ۔ فارسی اپنے برادر بزرگ سراج الدین اور مولانا محمد عالم آسی ( صاحب الکاویۃ علی الغاویۃ) سے پڑھی ۔ انہی سے خوشنویسی بھی سیکھی۔ چار پانچ برس لاہور میں رہنے کے بعد موضع گنجہ تحصیل کھاریاں میں مولانا سلطان احمد گنجوی کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ علم صرف کی تکمیل کی ۔ علم نحو شرح ملا جامی تک اور علم منطق شرح تہذیب تک پڑھا۔ 

سفرِ دیوبند و سہارنپور

علمی تشنگی دور کرنے کے لیے آپ نے سفر دیوبند اختیار کیا مگر بوجوہ وہاں دل نہ لگا تو آپ عازم سہارنپور ہو گئے۔ مدرسہ مظاہر العلوم میں حضرت مولانا محمد الیاس ( بانی تبلیغی جماعت) اور مولانا عبدالرحمن سے شرفِ تلمذ رہا۔ یہیں مولانا خلیل احمد ( صاحب بذل المجہود) کی زیارت بھی ہوئی۔ 

مراجعت

مظاہر العلوم سہارنپور میں مختصر قیام کے بعد واپس وطن تشریف لے آئے اور حضرت ولی اللہ کی خدمت میں دندہ شاہ بلاول ضلع کیمبل پور میں رہنے لگے۔ حضرت مولانا ولی اللہ اپنے دور کے اجل عالم دین تھے۔ تین سال تک علومِ متداولہ سے بہرہ یاب ہونے کے بعد پھر دارالعلوم دیوبند کا ارادہ کیا۔ 

دارالعلوم دیوبند میں داخلہ

دندہ شاہ بلاول سے فارغ ہو کر دیوبند پہنچے تو شیخ الادب والفقہ مولانا اعزاز علی نے میبذی میں داخلے کا امتحان لیا اور آپ کو دورۂ حدیث میں شرکت کی اجازت مل گئی۔ 
آپ کے اساتذہ کرام میں وہ عظیم نام ہیں جن پر زمانہ ناز کرتا اور دنیائے علم و دانش مفتخر ہے۔

بخاری وترمذی

حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری ۔ مسلم شریف: مولانا محمد احمد والد گرامی قاری محمد طیب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند۔ سنن ابو داود: مولانا سید اصغر حسین شاہ ۔ سنن ابن ماجہ: مولانا رسول خاں ( جو بعد میں جامعہ اشرفیہ لاہور میں بھی حدیث پڑھاتے رہے )۔ سنن نسائی: مولانا شبیر احمد عثمانی۔ موطین ( موطاامام مالک اور موطاامام محمد): مفتی عزیز الرحمن برادر مولانا شبیر احمد عثمانی۔ 
یوں تو آپ نے ہر گوشے سے تمتع کیا اور ہر خرمن سے خوشہ چینی کی مگر خصوصیت کے ساتھ اپنے وقت کے نہایت جید عالم حدیث مولانا انور شاہ کشمیری سے جی بھر کر فیض اٹھایا۔ آپ ان کی تقریر بخاری کو عربی میں منتقل کرتے جاتے جس کا غیر مطبوعہ نسخہ آج بھی موصوف کے پاس محفوظ ہے۔ اس کا نام آپ نے’’ الشیخ الجاری الی جنۃ البخاری ‘‘ تجویز فرمایا ہے۔ بعدازاں اپنے شیخ کی تقریر ترمذی کو بھی عربی میں منتقل کر دیا۔ 
مولانا کا کہنا ہے کہ اس سال حضرت شاہ صاحب سے کوئی گہرا اور خصوصی تعارف نہیں ہوا تھا ۔ بس اتنا ہے کہ میں اور مولانا مظفر جہلمی حضرت شاہ صاحب کے سامنے بیٹھا کرتے ۔ ایک بار میں نے حضرت کے سامنے ترمذی کی عبارت پڑھی ۔ میری زبان چونکہ انتہائی تیز تھی ، اس لیے عبارت بھی تیز تیز پڑھی۔ حضرت نے فرمایا بھائیں( بھائی) اگر تم نماز بھی اس طرح پڑھتے ہو تو تمہاری نماز بھی صحیح نہ ہوگی اور نہ تمہارے ساتھ بیٹھنے والے کی(اشارہ تھا مولوی مظفر جہلمی کی طرف)۔دورہ حدیث کے اختتام کے قریب ایک عراقی شیخ عبدالغفور موصلی نے حضرت سے بخاری وترمذی کی کاپی دیکھی تو بخاری کی کاپی نقل کرنے کی درخواست کی ۔ حضرت نے از رہ دلداری تقریر نقل کر دی۔ 

العرف الشذی

آپ دورہ حدیث کے بعد واپس گھر آ گئے ۔ سالانہ تعطیلات میں اتفاقاً شیخ موصلی سے حضرت شاہ صاحب نے تقریر بخاری دیکھی ، انہوں نے کہا یہ شیخ سراج فنجابی( شیخ چراغ پنجابی) سے نقل کروائی ہے۔ اس پر حضرت شاہ صاحب متاثر ہوئے اور فرمایا اچھا میں تو نہیں سمجھتا تھا کہ اس زمانے میں بھی کچھ لوگ ذی سواد ہوتے ہیں۔ 
انہی دنوں مولانا مظفر جہلمی کی وساطت سے مولانا کو دیوبند بلوایا اور ترمذی کی پوری تقریر نوٹ کروائی۔ آپ نے دو نسخے تحریر کیے ۔ ایک حضرت شاہ صاحب کے لیے اور دوسرا اپنے لیے۔ حضرت شاہ صاحب نے اپنے نسخے میں کچھ حک واضافہ فرمایا جو بعد میں دوسرے ایڈیشن میں شامل اشاعت کر لیا گیا۔ 
تیسرے سال حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت شیخ الہند رہا ہو کر تشریف لا رہے ہیں، یہاں رہ کر ان کی تقریر لکھو۔ آپ وہیں ٹھہر گئے، مگر دوبارہ سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے حضرت شیخ الہند ترمذی نہ پڑھا سکے ( یہ ان کی زندگی کا آخری سال تھا)۔

تدریس

بعدازاں حضرت شاہ صاحب نے آپ کو میرٹھ میں بطور مدرس مقرر فرمایا۔ ایک سال تدریس کے بعد پنجاب لوٹ آئے۔ جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور اور مدرسہ انوارالعلوم شیرانوالہ گوجرانوالہ کے علاوہ کئی دوسری جگہوں پر علم ودانش کے چراغ جلائے۔ اس کے بعد ۱۹۳۱ء میں مسجد آرائیاں گوجرانوالہ میں مدرسہ عربیہ کی بنیاد رکھی ۔ یہاں بھی علم دین کے پروانے ٹوٹ پڑے تو یکم اکتوبر ۱۹۶۷ء کو جامعہ عربیہ ( موجودہ مقام) پر آغاز کار کیا گیا۔ تادمِ تحریر حضرت شیخ الحدیث مدظلہ العالی چراغ ہدایت سے قریب وبعید کو منور کر رہے ہیں۔ 

تصانیف

(۱) الشیخ الجاری الی جنۃ البخاری، (۲) العرف الشذی ( عالم اسلام میں معرکے کی شرح ترمذی)، (۳) رد مرزائیت کے بارے میں غیر مطبوعہ مواد ،(۴) رد عیسائیت پر مطبوعہ و غیر مطبوعہ تحریریں۔
(جاری)

دینی مدارس میں عصری تعلیم کے تجربات و نتائج

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

۱۴ نومبر ۲۰۱۷ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ اور اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ اسلام آباد کے اشتراک سے مغل محل گوجرانوالہ میں ’’مدارس دینیہ میں عصری تعلیم کے تجربات و نتائج‘‘ کے عنوان پر ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا جس میں پچاس کے قریب دینی مدارس کے سینئر اساتذہ اور منتظمین نے شرکت کی، جبکہ الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد اور دار العلوم کبیر والا کے استاذ الحدیث مولانا مفتی حامد حسن نے مختلف سیشنز کی صدارت کی۔ نقابت کے فرائض الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے جوائنٹ سیکرٹری حافظ محمد رشید اور اقبال انسٹی ٹیوٹ کے نمائندہ مولانا محمد یونس قاسمی نے انجام دیے۔ 
موضوع کی مناسبت سے راقم نے بعض نکات جو تحریری طور پر منتظمین کو پیش کیے گئے، حسب ذیل ہیں: 
  1. ہم کوئی بھی کام مجبوری کے حالات میں کرتے ہیں، سر سے پانی گزرنے سے قبل ہم منصوبہ بندی سے کسی بھی چیز کو اختیار نہیں کرتے۔ عصری تعلیم کا معاملہ بھی کچھ اسی طرح ہے۔ ہم آج تک عصری تعلیم کے حوالے سے مختلف تجربات سے گزر رہے ہیں، کوئی حتمی منصوبہ بندی ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قیام پاکستا ن کے بعد ہم منصوبہ بندی سے کوئی جامع تعلیمی نظام وضع کرتے جس میں ہمارے فضلا ء دین، دنیا اور معیشت و مذہب دو نوں کو جمع کر سکتے، لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔ آج سے دس ، پندرہ سال قبل مجبوری کی حالت میں بعض مدارس نے دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کے تجربات کیے اور پھر رفتہ رفتہ ان کو دیگر مدارس بھی اختیار کرتے گئے اور اب ہم اس نظام تعلیم کو ہی اب ہم اپنا مستقل سمجھ بیٹھے ہیں اور اس میں ہی مزید پیوند کار ی کرتے جا رہے ہیں۔ میرے خیال میں اس طرح نظام چلانا بہت مشکل ہے۔ دونوں تعلیموں کے تقاضے بیک وقت نباہنا خاصا مشکل ہے۔ 
  2. اصل میں ہم کس قسم کے فضلاء پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ اس حوالے سے کوئی منظم سوچ نہیں ہے۔جن مدارس میں عصری تعلیم ہے اور جن میں نہیں ہے، دونوں میں مقاصد کا کوئی واضح شعور نہیں ہے۔ فضلاء سے اگر نماز روزہ کے مسائل بتانے کا کام ہی لینا ہے تو کم از کم دنیا کی قیادت و سیادت کے خواب نہیں دیکھنے چاہییں۔ 
  3. وہ مدارس جن میں مشتر ک نظام تعلیم نہیں ہے، ان میں طلبہ کو ملک اور معاشرہ کے متعلق بنیادی چیزیں بھی نہیں پڑھائی جاتیں، حالانکہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کی حیثیت سے ان چیزوں کا جاننا انتہائی ضروری ہے۔ پھر ان مدارس میں اگر کوئی طالب علم ذاتی شوق کے تحت فارغ اوقات میں خود سے عصری تعلیم حاصل کرنا چاہتاہو تو اس کو نہ صرف اجازت نہیں دی جاتی بلکہ مختلف اداروں میں کتابیں ضبط اور داخلہ کینسل کرنے کے قوانین بھی موجود ہیں۔ میرے خیال میں جو طلبہ خود سے ذاتی وقت میں ایسا کرنا چاہتے ہوں، ان کوصرف اس دلیل سے کہ ’’کھاتے مدرسے کا ہیں، تعلیم دوسری پڑھتے ہیں‘‘ روک دینا قوم کی امانت میں عظیم خیانت کا ارتکاب ہے۔ ان میں بہت سے طلبہ ایسے ہیں جنہوں نے اس طرح تعلیم حاصل کی اور پھر اچھے عہدوں پر فائز ہو کر پابندیاں عائد کر نے والوں کے لیے باعث فخر بن گئے۔
  4. مدارس میں عصری تعلیم دینے والے عام طور پر پوری طرح ماہر نہیں ہوتے۔ انگریزی کو عربی یا پنجابی میں پڑھا رہے ہوتے ہیں۔ مدارس میں عصری تعلیم کے لیے نہ صرف ماہر اساتذہ کا ہونا ضروری ہے، بلکہ اسکو ل و کالج والا ما حول جو کہ عصری تعلیم کے لیے ضروری ہے، وہ بھی ہونا چاہیے۔ مزید برآں مدارس میں عصری تعلیم دینے والوں کے ذہن میں عام طور ایک فرض کفایہ کی ادائیگی مقصود ہوتی ہے۔ ان کو نہ عصری تعلیم کی اہمیت کا پتہ ہوتا ہے اور نہ یہ اندازہ ہوتاہے کہ طلبہ کے مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ وہ اچھے گریڈ میں ڈگر ی حاصل کریں۔ اس لیے وہ طلبہ کو عصری تعلیم دینے کے باوجوو مطلوبہ مقام تک پہنچانے میں ان کی مدد نہیں کر رہے ہوتے۔ 
  5. عام طور پر مدارس میں طلبہ کو صرف میٹر ک، ایف اے کی تعلیم دی جاتی ہے اور ان طلبہ کی عصری تعلیم کی بنیاد مضبوط نہیں ہوتی۔ طلبہ کو ابتدائی اور اختتامی تعلیم نہ دینے کی وجہ سے طلبہ کی ابتداء ا ، بنیاد اور اختتام ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتے ہیں۔ 
  6. وہ طلبہ جو آگے کسی وجہ سے پڑھائی نہ جاری رکھ سکیں، اور مدرسے کی ڈگری ان کو آٹھ سال سے قبل کوئی فائدہ نہ دے، وہ اسکول کی چھوٹی موٹی ڈگریوں کی بنیاد پر کہیں ملازمت کے قابل ہو جاتے ہیں۔ 
  7. ہم طلبہ کو مخصو ص عصری تعلیم دیتے ہیں جوکہ صرف مخصوص اداروں میں ہی کام آسکتی ہے۔ اگر ان اداروں میں دین دار لوگوں کی ضرورت ہم محسوس کرتے ہیں تو دیگر اداروں میں بھی اتنی ہی ضرورت ہے۔ 
  8. ہم طلبہ کو عصری تعلیم دیتے وقت مسلکی ذہن بناتے ہیں اوریہ سمجھاتے ہیں کہ آپ نے اس تعلیم کے ذریعے مسلک کے تحفظ و اشاعت کی جنگ لڑنی ہے، جبکہ ہمارا مقصود علم کے میدان میں پیشرفت کی راہوں کو کھولنا ہونا چاہیے۔ ہمارا مقصود اسلام کے آفاقی پیغام کو لوگوں کی زبان و فہم کے مطابق ان تک پہنچانا ہونا چاہیے۔ ہمیں طلبہ کی ان تحقیقات تک رسائی کرانی چاہیے جو کہ دنیا میں کی جا رہی ہیں۔ ہمیں مسالک کی جنگ سے نکل کر مذہب اور اس کے دفاع اور اس کو لاحق خطرات کی پر مر کوز کرنی ہوگی۔ 
  9. ہمیں قوم کے وسیع تر مفاد کے لیے مدارس کی طرز پر فری اسکو ل، کالج اور یونیورسٹیز کھولنی چاہییں جن کو مدارس کی طرز پر اصحاب خیر کے تعاون سے چلایا جائے اور قوم کو باکردار اور باصلاحیت افراد مہیا کیے جا سکیں۔