اگست ۲۰۱۷ء

قرآن مجید اور نفس انسانی کا تزکیہمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۳)ڈاکٹر محی الدین غازی 
دور جدید کا حدیثی ذخیرہ، ایک تعارفی جائزہ (۱)مولانا سمیع اللہ سعدی 
دینی مدرسہ میں استاد کا کردار (۱)مولانا محمد رفیق شنواری 
دستور سازی، سوشل کنٹریکٹ اور اسلاممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دیوبندی بریلوی اختلافات : سراج الدین امجد صاحب کے تجزیے پر ایک نظر (۲)کاشف اقبال نقشبندی 

قرآن مجید اور نفس انسانی کا تزکیہ

محمد عمار خان ناصر

(فہم قرآن کے اصول ومبادی سے متعلق ایک لیکچر سیریز میں کی گئی گفتگو۔)

قرآن کریم نے انسانی نفس کو اور اس کی پیچیدگیوں اور مسائل کو کیسے بیان کیا ہے؟ نفس انسانی کے میلانات کی صحیح رخ پر تشکیل ہو اور وہ غلط راستے سے محفوظ ہو کر راہ راست پر آسکے، اس کے لیے ہمیں قرآن پاک سے کیا رہنمائی ملتی ہے؟ یہ آج کی گفتگو کا عنوان ہے۔ 
اگر قرآن کریم کی ساری تعلیم کو نفس انسانی کے حوالے سے ہم ملخص کرنا چاہیں تو دو تین نکات کی صورت میں اس کوبیان کیا جا سکتا ہے۔ پورے قرآن کی تعلیم کا خلاصہ کیا ہے؟ ایک تو اس کائنات سے متعلق اور اس کائنات کے مالک سے متعلق اور بطور ایک مخلوق کے خود انسان سے متعلق کچھ ایسے حقائق کی یاد دہانی اور تذکیر جن کو جاننا اور ماننا اور ان کے مطابق عمل کرنا انسان کی نجات کے لیے ضروری ہے۔ الحمد سے لے کر الناس تک آپ قرآن کے سارے مطالب کا خلاصہ نکالیں تو بنیادی نکتہ یہی ہوگا۔ انسان کو یہ بتایا جائے، اس کو یہ رہ نمائی فراہم کی جائے کہ اس دنیا اور اس کائنات سے متعلق اور خود انسان سے متعلق وہ کون سے بنیادی حقائق ہیں جن کی صحیح معرفت انسان کی نجات کے لیے، اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ حقائق جو بیان کیے گئے، ان کا مخاطب نفس انسانی ہے۔ یہ حقائق جس کو سمجھانے کے لیے بیان کیے گئے ہیں، وہ انسان یعنی نفس انسانی ہے۔ اس لیے کہ انسان اصل میں تو اس جسم کا نام نہیں ہے، اصل میں تو انسان وہ نفس ہے جس کے اندر معرفت کی، حقائق کو جاننے کی، ان کو قبول کرنے کی یا نہ کرنے کی استعداد رکھی گئی ہے۔ یہ جسم تو اس نفس کو اس دنیا میں سہولت فراہم کرنے کے لیے یا اس دنیا میں کچھ ذمہ داریاں انجام دلوانے کے لیے اس کو دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے قرآن کا بنیادی مخاطب نفس انسانی ہے۔ جتنے بھی حقائق قرآن نے بیان کیے ہیں، وہ اس نفس انسانی کے لیے بیان کیے ہیں۔ کوئی اور ان کا مخاطب نہیں ہے۔ 
دوسرا نکتہ، اگر آپ قرآن کی ساری تعلیم کو ملخص کریں تو یہ ہوگا کہ قرآن کریم میں نفس انسانی کو مخاطب کرتے ہوئے صرف حقائق بیان کرنے پر اکتفا نہیں کی گئی بلکہ ایسا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، ایسے دلائل و شواہد اور ایسی آیات بیان کی گئی ہیں جن سے نفس انسانی ان حقائق کو جاننے اور ان کو قبول کرنے کی طرف راغب ہو، آمادہ ہو۔ چنانچہ قرآن میں آپ کو طرح طرح کے دلائل ملیں گے، طرح طرح کی آیات ملیں گی، جو انسان کے سامنے اس لیے رکھے گئے ہیں کہ وہ ان حقائق کی طرف متوجہ ہو اور ان کو ماننے اور قبول کرنے کی طرف راغب ہو۔ قرآن نے صرف یہ نہیں بتا دیا کہ اس کائنات کا خالق ایک ہے بلکہ اس نے اس کے ساتھ بے شمار شواہد، بے شمار توجہ دلانے والی چیزیں بھی انسان کے سامنے رکھی ہیں تاکہ انسان اس حقیقت کو جاننے اور ماننے کے لیے راغب ہو اور زیادہ آسانی کے ساتھ، زیادہ آمادگی کے ساتھ ان کو قبول کرے۔ 
اور تیسری چیز یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن میں نفس انسانی کا ایسا تجزیہ بھی پیش کیا ہے کہ انسان کو قبول حق سے روکنے کے جو اسباب بن جاتے ہیں، جو موانع اس میں حائل ہو جاتے ہیں اور نفس انسانی کو ان حقائق تک پہنچنے سے اور ان کو قبول کرنے سے روک دیتے ہیں، قرآن مجید نے ان موانع کا، ان پیچیدگیوں کا، ان گرہوں کا بھی پورا تجزیہ پیش کیا ہے۔ یعنی وہ کیا اسباب ہیں کہ ایک حقیقت اپنی جگہ ثابت اور برحق ہے، اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنے والے دلائل اور آیات اور شواہد ہر طرف بکھرے ہوئے پڑے ہیں، لیکن انسان پھر بھی اس حقیقت کی طرف متوجہ نہیں ہو رہا یا اس کو قبول نہیں کر رہا؟ اس کامطلب یہ ہے کہ قرآن کے پیغام کا جو receiver ہے، اس کا مخاطب ہے، اس کے اندر کچھ خرابیاں اور کچھ موانع ہیں۔ تو قرآن کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی یہ بہت بڑی عنایت اور اس کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے اس پوری بحث کو مکمل کرتے ہوئے اس تیسرے پہلو پر بھی بطور خاص توجہ مبذول کی ہے کہ انسان اگر حق قبول نہیں کرتا یا حق کے مطابق اپنے آپ کو نہیں ڈھالتا یا راہ راست کے موجود ہوتے ہوئے اس سے بھٹک جاتا ہے تو خود اس کے نفس کے اندر وہ کون سی خرابیاں اور کون سے عوارض اور کمزوریاں ہیں جو اس کا سبب بنتی ہیں۔ اگر انسان ان پر متنبہ ہو جائے، اپنی کمزوریوں کو سمجھ لے اور ان کمزوریوں کا مداوا کر لے تو وہ گمراہ ہونے سے، بھٹکنے سے، جادہ حق سے منحرف ہونے سے بچ جائے گا۔ میری طالب علمانہ رائے کے مطابق اگر ہم قرآن کی تعلیم کو اور اس کے پورے پیغام کو نفس انسانی کے حوالے سے سمجھنا چاہیں اور اس کا خلاصہ نکالنا چاہیں تو وہ یہ تین باتیں ہیں۔ 
وہ حقائق جن کو جاننا اور ماننا انسانی نفس کے لیے ضروری ہے دین کی تمام تعلیم، اخلاق اور شریعت کی سب باتیں ان تین نکات کے اندر آجاتی ہیں۔ یعنی، کچھ کائناتی حقائق کا تعارف قرآن کا مقصد اور موضوع ہے۔ دوسرا یہ کہ انسان ان حقائق کو جانے اور مانے لیکن تحکماً نہیں، زبردستی اور حکم کے تحت نہیں بلکہ اس کے سامنے ایسے شواہد ہوں، ایسی چیزیں ہوں جو اس کو قائل اور آمادہ کریں کہ وہ ان حقائق کو اپنے شعور کا حصہ بنائے۔ قرآن میں آپ کو جگہ جگہ جتنی آیات، جتنے شواہد تاریخ سے، کائنات سے، انسان کے نفس سے ملیں گے، وہ اصل میں اس لیے ہیں کہ نفس انسانی ان حقائق کی طرف متوجہ ہو، ان آیات اور شواہد پر غور کرے۔ اور تیسری چیز جو آپ کو قرآن میں ملے گی، وہ یہ ہوگی کہ قرآن اس پر بھی تبصرہ کرتا ہے اور اس پر اپنا ایک تجزیہ پیش کرتا ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود کہ اللہ نے حق کو واضح کرنے کا پورا اہتمام کیا ہے، رسول بھیجے، انسانی فطرت میں وہ چیزیں الہام کیں، انسان کے اردگرد پوری کائنات میں وہ شواہد اور دلائل بکھیر دیے، لیکن اس کے باوجود اگر انسان متوجہ نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نفس میں کچھ پیچیدگیاں ہیں، کچھ ایسے عوارض اور موانع ہیں جو اس کو روک دیتے ہیں۔ قرآن نے ان عوارض اور موانع کا ذکر کیا ہے کہ وہ کون سے عوارض ہیں، نفس کی وہ کون سی خرابیاں اور کمزوریاں ہیں جو اس کو ہدایت کی طرف متوجہ ہونے سے روک دیتی ہیں۔ 
اب اس بنیادی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کے اہم پہلوؤں پر قرآن کی روشنی میں بات کریں گے۔ 
پہلی چیز جو قرآن کریم نے بیان کی ہے، وہ یہ کہ اس نے حقائق، حق اور حق کی معرفت اور دوسری طرف نفس انسانی، ان دونوں کا باہمی تعلق واضح کیا ہے۔ نفس انسانی مکلف ہے کچھ حقائق کی معرفت کا اور ان حقائق کو بیان کرنا، ان کی وضاحت کرنا اللہ کے پیغمبروں کا اور اللہ کی کتابوں کا وظیفہ ہے۔ حق کی معرفت اور انسانی نفس یا انسانی فطرت، ان کا باہمی تعلق جو قرآن نے بیان کیا ہے، وہ بہت اہم ہے۔ قرآن کی پوری تعلیم کا اور پیغام کا بنیادی نکتہ ہے۔ اللہ کے پیغمبر یا اللہ کی کتابیں آکر انسان اسے کہتی ہیں کہ خدا کو مانو اور اس کو وحدہ لا شریک تسلیم کرو۔ یہ حقیقت جانو کہ یہ دنیا آزمائش کے لیے بنی ہے اور تم یہاں آزمائش کے لیے بھیجے گئے ہو۔ یہ وقتی مرحلہ ہے، اس کے بعد تمہیں موت آئے گی، پھر تمہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا اور اس وقت تمہیں اپنے عمل کا حساب دینا ہوگا۔ اس کو مانو اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو تشکیل دو۔ اس کے ساتھ انسان کی آزادئ عمل پر کچھ پابندیاں لگائی جاتی ہیں کہ یہ کرنا روا ہے اور یہ ناروا ہے، یہ جائز ہے اور یہ ناجائز ہے، یہ درست ہے اور یہ غلط ہے۔ 
قرآن یہ کہتا ہے کہ یہ سب باتیں جو انسان کو بتائی جاتی ہیں، ان باتوں کی ایک بنیادی معرفت اور ان کو قبول کرنے کی ایک بنیادی استعداد اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی میں رکھی ہوئی ہے۔ اس کی تخلیق کے وقت سے، اس دنیا میں آنے سے پہلے انسان کے نفس کی اور اس کی فطرت کی ایسی تشکیل اللہ نے کی ہے کہ وہ تمام حقائق جن کی اس دنیا میں آنے کے بعد اس کو یاد دہانی کروائی جاتی ہے، انسان ان ان کی بڑی بنیادی معرفت اپنی فطرت میں ساتھ لے کر آتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم اپنی ساری تعلیم کو جو عنوان دیتا ہے، وہ ’’یاد دہانی‘‘ ہے : ھٰذَا ذِکْر، اِنَّ ھٰذِہِ تَذْکِرَۃ، اِنَّ فِی ذَلِکَ لَذِکْرٰیٰ۔ اس کا مطلب ہوتا ہے ایسی چیز یاد کروانا جو انسان بھول چکا ہے۔ ایسی چیز جس سے وہ غافل ہو چکا ہے، اس کی طرف اس کو توجہ دلانا۔ تو انبیاء کوئی ایسا مطالبہ یا کوئی ایسی بات انسان کے سامنے نہیں رکھتے جس کی معرفت کی استعداد یا جس کو قبول کرنے کی استعداد بنیادی طور پر انسان کی فطرت میں نہ ہو۔ عہد الست ہمیں اسی حقیقت پر متوجہ کرتا ہے۔ اس دنیا میں آنے سے پہلے اللہ نے انسان سے یہ عہد لے لیا تھا کہ میرا اور تمہارا خالق اور مخلوق کا اور رب اور عبد کا تعلق ہے۔ اس کے تم ماننے والے ہو، معترف ہو۔ اچھائی اور نیکی اور اس کے مقابلے میں بدی اور برائی، اس کا فرق بھی انسانی فطرت میں رکھ دیا گیا۔ وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا، فَاَلْھَمَھَا فُجُورَھَا وَتَقوٰھَا۔سو نفس انسانی کا اور ان حقائق کا باہمی تعلق یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ انسان قیامت کے دن اللہ سے یہ نہیں کہہ سکے گا کہ تیرے پیغمبر یا تیری بھیجی ہوئی کتابیں دنیا میں ہمیں کچھ باتیں سناتے تھے، لیکن وہ بڑی اجنبی سی باتیں تھیں۔ ہمارا دل، دماغ، عقل ان کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں تھے۔ ہماری فطرت ان سے وحشت محسوس کرتی تھی، یہ عذر انسان اللہ کے سامنے نہیں پیش کر سکیں گے۔ قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ جو لوگ اس دنیا میں اللہ کے پیغمبروں اور اس کی کتابوں کی طرف سے ملنے والی رہنمائی کو قبول نہیں کرتے، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کی تعلیم اور اس کے دلائل اور آیات میں کوئی نقص ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان کے نفس میں جو عوارض تھے، جو موانع تھے، ان میں سے کچھ عوارض روبہ عمل ہو جاتے ہیں جو اس کو ادھر متوجہ ہونے سے روک دیتے ہیں۔ 
اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایک دوسری بات بھی بہت اہمیت اور بہت زور کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ جب آدمی کے سامنے حق بات آئے، اس کا دل اس کو قبول کرنے کی طرف راغب ہو، دل سے وہ جانے اور مانے کہ یہ حق ہے اور اس کے بعد وہ اس کو قبول نہ کرے، اس کے بعد اس کی ناقدری کرے تو ایک وہ وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سزا کے طور پر انسان کے نفس کو قبول حق کی صلاحیت سے ہی محروم کر دیتے ہیں۔ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ اٰمَنُوا ثُمَّ کَفَرُوا فَطُبِعَ عَلیٰ قُلُوبِھِمْ۔ حق واضح ہوا، اس کے دلائل انسان کے سامنے آئے، فطرت نے اس کے حق میں گواہی دی، نفس اس کو قبول کرنے کی طرف مائل ہوا، لیکن کچھ عارضی مفادات، کچھ تعصبات رکاوٹ بن گئے۔ انسان نے حق واضح ہونے کے بعد ان سے اعراض کیا، قبول نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ مہلت دیتے ہوئے ایک آدھ دفعہ مزید موقع دیتے ہیں۔ جب انسان بار بار اس اندر رکھی ہوئی ہدایت کی ناقدری کرتا ہے، اپنے ضمیر کے ساتھ خیانت کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ بطور سزا ایک وقت میں وہ استعداد ہی چھین لیتے ہیں، اسے ختم کر دیتے ہیں۔ پھر وہ قانون لاگو ہوتا ہے : خَتَمَ اللّٰہُ عَلیٰ قُلُوبِھِمْ وَعَلیٰ سَمْعِھِمْ وَعَلیٰ اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ۔ اب پیغمبر جتنی مرتبہ چاہے انذار کرے، اب اللہ نے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اب ان کے اندر حق جا ہی نہیں سکتا۔ 
تو یہ دونوں باتیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ انسان کے نفس میں اور فطرت انسانی میں اس دعوت کو قبول کرنے کی طرف ایک بنیادی رغبت اور میلان اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ جب اللہ کے پیغمبر، اس کی کتابیں، یا اس کے نیک بندے دعوت دیتے ہیں تو انسان فطری طور پر اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ بعض دفعہ کچھ عوارض و موانع رکاوٹ بھی بن جاتے ہیں، لیکن اب اس کے لحاظ سے انسانوں میں فیصلہ قیامت کے دن کیا جائے گا کہ کون ہیں جنہوں نے اپنی فطرت کے ساتھ وفاداری کی اور حق کی طرف راغب ہوئے اور اس کو قبول کیا۔ کون ہیں جنہوں نے اس کے ساتھ خیانت کی، حق کے ساتھ وفاداری نہیں کی اور دوسرے راستے کی طرف چل دیے۔ 
ہم نے قرآن مجید کی روشنی میں یہ سمجھا کہ انسان نفس میں اللہ نے تقویٰ بھی رکھا ہے اور فجور بھی رکھا ہے۔ انسان کے نفس میں وہ صلاحیت بھی رکھی ہے جو اس کو حق کے قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہے اور کچھ ایسی خامیاں اور کمزوریاں بھی اس کی فطرت کا حصہ ہیں کہ جو اس میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ ان موانع اور ان عوارض کی پوری ایک فہرست ہے جو انسان کی فطرت کا حصہ ہیں۔ کسی انسان میں ایک رکاوٹ ظہور پذیر ہوتی ہے، تو دوسرے انسان میں دوسری رکاوٹ رو بہ عمل ہوتی ہے۔ ایک گروہ میں نفس کی ایک بیماری زیادہ غالب آجاتی ہے، تو کسی دوسرے گروہ میں نفس کی دوسری بیماری زیادہ غالب آجاتی ہے۔ اور یہ جو نفس کی کمزوریاں ہیں، یہ دنیا میں انسانوں کو، افراد کو بھی اور مختلف گروہوں کو بھی، یا تو حق کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتیں یا حق ملنے کے بعد اور حق کو پا لینے کے بعد اس سے بہک جانے یا اس سے بھٹک جانے کا سبب بن جاتی ہیں۔ قرآن مجید میں ان سب عوارض اور موانع پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چند جو بہت نمایاں عوارض ہیں، ان کا ایک مختصر تذکرہ کر لیتے ہیں۔ 
سب سے بڑی چیز جو اللہ نے نمایاں کی ہے، وہ ہے کبر، تکبر، اپنی بڑائی کا ایسا احساس جو انسان کو حق قبول کرنے سے روک دے۔ کبر، نفس کی ایسی کیفیت ہوتی ہے کہ جس میں انسان کو کوئی بات قبول کرتے ہوئے اپنی خفت کا احساس ہوتا ہے۔ نفس یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ بات مان لینے سے میرا جو بڑائی کا تصور ہے یا لوگوں کی نظروں میں جو میرا بڑائی کا احساس ہے، وہ کم ہو جائے گا۔ نفس کی یہ کیفیت اس کو اس بات کی طرف متوجہ ہونے سے یا پہچان لینے کے بعد اس کو قبول کرنے سے روک دیتی ہے۔ تکبر نفس کی وہ کیفیت ہے جس کو قرآن مجید نے سب سے زیادہ نمایاں کیا ہے۔ شیطان کا واقعہ بار بار بیان ہوا ہے، اس میں سب سے نمایاں حقیقت یہی ہے۔ شیطان کا بھی نفس ہے جیسے انسان کا نفس ہے۔ شیطان کو جو انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے، بلکہ اس کائنات میں اللہ کا سب سے بڑا مخالف ہے، اس کی گمراہی کی اور اس کے بھٹکنے کی بڑی وجہ کیا تھی؟ نفس کے اندر یہ احساس کہ خدا مجھے کہہ رہا ہے کہ آدم کے سامنے سجدہ کرو، یہ تو میری شان سے فروتر ہے۔ یہی مرض اللہ تعالیٰ نے یہود کے اندر نمایاں کیا ہے۔ یہود جن کا قرآن مجید میں سب سے زیادہ تفصیلی تذکرہ ہوا ہے، ان کے اندر بھی یہ مرض سب سے زیادہ قوی اور نمایاں تھا۔ ان کے لیے یہ بات توہین کے ہم معنی تھی کہ بنی اسرائیل سے اللہ نے نبوت لے کر بنی اسماعیل کو دے دی۔ پڑھے لکھے اہل کتاب سے لے کر امیوں کو دے دی۔ ان کے تکبر نے، ان کے احساس برتری نے اس طرف آنے سے روک دیا۔ باقی بھی جتنے انبیاء کی قوموں کا اللہ نے ذکر کیا ہے، آپ دیکھیں گے کہ بڑی نمایاں بیماری ان کی یہی کبر تھا۔ انھوں نے پیغمبروں سے کہا کہ تم غریب آدمی ہو، ہم مالدار لوگ ہیں۔ اللہ کو پیغمبری اور نبوت کے لیے کیا یہی ملا تھا : لَولاَ نُزِّلَ ھٰذَا القُرْاٰنُ عَلیٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَینِ عَظِیمٍ۔ مکہ اور طائف کے کسی سردار پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا۔ تو کبر انسانی نفس کی وہ بیماری ہے کہ حق سامنے ہوگا، روز روشن کی طرح واضح ہوگا اور اندھے کو بھی دکھائی دے رہا ہوگا، لیکن جو گروہ یا فرد اس بیماری میں مبتلا ہوگا، وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھے گا، وہ سنتے ہوئے نہیں سنے گا، اس کی عقل پر پردے پڑ جائیں گے۔ اس لیے کہ نفس نے قبول حق کی جو استعداد تھی، اس کے اوپر تکبر کا پردہ ڈال دیا ہے۔ 
دوسری چیز جس کو قرآن نے بیان کیا ہے، وہ حسد ہے۔ یہ تکبر کے ساتھ کچھ ملتی بھی ہے، لیکن اس سے کچھ مختلف پہلو بھی رکھتی ہے۔ حسد میں بھی تکبر ایک بہت بڑا نمایاں عنصر ہوتا ہے۔ حسد میں یہ چیز شامل ہوتی ہے کہ یہ چیز اصل میں تو مجھے ملنی چاہیے تھی۔ مجھے نہیں ملی اور اسے کیوں مل گئی ہے۔ تو حسد کی کیفیت انسان کے لیے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ 
ایک اور بڑی اہم چیز جو تکبر سے ہی پھوٹتی ہے، اس سے پیدا ہوتی ہے، اس کو قرآن نے بَغیًا بَیْنَھُمْ کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔ انسانوں میں، افراد کے درمیان بھی اور گروہوں کے مابین بھی مسابقت ہوتی ہے، اس بات کی کہ انہیں دوسروں پر برتری حاصل ہو۔ وہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ عزت، سرفرازی سے بہرہ ور ہوں۔ یہ جو چیز ہے، یہ لوگوں کو اس پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر سرکشی کریں، ایک دوسرے پر زیادتی کریں، اور یہ چیز جب دین کے معاملے میں آجاتی ہے تو پھر فرقہ بندی اور گروہ بندی پیدا ہوتی ہے جس کا سب سے زیادہ شکار بنی اسرائیل ہوئے۔ قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ بغیًا بینھم کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے غیر شعوری طور پر حق کی اطاعت قبول کرنے کی بجائے اپنے اپنے گروہی احساس تفاخر کو زیادہ اہمیت دی۔ ایک دوسرے کے مقابلے میں برتری جتانے کے لیے ایسی ایسی چیزیں، ایسے ایسے مسائل، ایسے ایسے مباحث ایجاد کیے اور ان کی بنیاد پر مجادلوں اور مباحثوں کا طریقہ اختیار کیا اور اس کے نتیجے میں پوری امت گروہوں کے اندر تقسیم ہوگئی۔ تو بَغیًا بَیْنَھُمْ یہ انسانی نفس کی ایک اور بڑی بیماری ہے۔ 
ایک چیز جو قرآن نے خاص طور پر نصاریٰ کے حوالے سے نمایاں کی، وہ ہے غلو۔ غلو کا مطلب ہے کسی چیز کو اس کے درجے اور اس کی حیثیت سے بہت زیادہ بڑھا کر پیش کرنا یا تصور کرنا۔ جتنے بھی انحرافات اور جتنی بھی گمراہیاں دین و مذہب کے معاملے میں انسانوں نے اختیار کی ہیں، قرآن ان کی اصل نفس انسانی کے اندر پائی جانے والی کسی بیماری کو قرار دیتا ہے۔ جو بھی گمراہی پیدا ہوئی، اس کا منبع نفس انسانی کی خرابی ہے۔ یا وہ بَغیًا بَیْنَھُمْ ہوگا یا وہ تکبر کا احساس ہوگا یا وہ اور اس طرح کی کوئی چیز ہوگی۔ اس کا منبع اور اس کا سرا نفس انسانی کے کسی انحراف یا اس کے بگاڑ کے ساتھ جا ملے گا۔نصاریٰ میں جو گمراہی پیدا ہوئی، اور انھوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں جو عقائد اختیار کیے ہیں ، اس کا منبع غلو ہے۔ غلو نفس انسانی کی ایک کمزوری ہے کہ جب اس کو کسی چیز سے محبت اور عقیدت ہو، تو وہ چاہتا ہے کہ اس کے درجے کو، اس کے مقام کو اس سے زیادہ بڑھا کر دکھائے، اس سے زیادہ بلند کر کے دکھائے جتنا کہ وہ ہے۔ نصاریٰ کو اسی کیفیت نفسانی کے تحت یہ بات حضرت مسیح کی شان سے فروتر محسوس ہوئی کہ لگا کہ ہم بھی اللہ کے بندے ہیں اور حضرت مسیح بھی اللہ کے بندے ہی ہیں۔ نہیں، ان کا درجہ تو زیادہ ہونا چاہیے۔ یعنی اگر ہمارے جیسے انسان ہوں تو یہ ان کی شان سے کمتر بات ہوگی۔ ان کی اس عقیدت کا یا عقیدت میں افراط کا جو نتیجہ نکلا، وہ یہ تھا کہ یہ انسان اچھے نہیں لگتے۔ ان کا الوہیت کے درجے میں کہیں کوئی مقام ہونا چاہیے۔ تو انہوں نے الوہیتِ مسیح کا عقیدہ اختیار کر لیا۔ قرآن ان کو مخاطب کر کے کہتا ہے: لاَ تَغْلُوا فِی دِینِکُمْ۔ محبت، عقیدت، اللہ کے بندوں کا احترام، ان کو جو اعزاز، شرف اللہ نے دیا ہے، اس کا اعتراف، یہ تو عین دین اور دین کی روح ہے، لیکن جب وہ عقیدت اور تعظیم حد سے آگے بڑھے گی تو غلو ہوگا۔ تو پیغمبر کو آپ اللہ کی الوہیت میں شریک کریں گے، اس ذات کو جس کی بیٹی بیٹا کچھ بھی نہیں ہے، ماں باپ کے رشتوں میں باندھیں گے اور یوں انسان کی قدر بڑھاتے بڑھاتے خدا کی عظمت اور کبریائی کو مجروح کر دیں گے۔ تَعَالَی اللّٰہُ عَمَّا یَقُولُ الظَّالِمُونَ عُلُوًّا کَبِیْرًا۔
اسی طریقے سے کئی اور موانع اور امراض ہیں جو انسانوں میں بہت عام ہیں۔ قرآن بھی ان کا جگہ جگہ ذکر کرتا ہے۔ مثلاً حب دنیا، حب شہوات، حب عاجلہ، یہ سب ایک ہی چیز کے مختلف عنوان ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو: کَلاَّ بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَۃَ، جو فوری اور نقد کچھ فائدہ یا کچھ آسائش ملی ہوئی ہے، اس سے محبت کرتے ہو۔ زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوَاتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیْنَ ۔۔۔۔ عنوان مختلف ہیں، حقیقت ایک ہی ہے کہ انسان کو جو چیز فوری اور نقد یہاں پر ملی ہوئی ہے، اس کی کشش اتنی ہے، اس کی محبت میں انسان اتنا گرفتار ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے لیے اصل فائدے کو، ابدی فائدے کو قربان کرنے پر تیار ہو جاتا ہے کہ یہ ہاتھ سے نہ جائے۔ یہ جو ملا ہوا ہے، یہ ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ اور اگر اس کے لیے اس کے سامنے یہ مطالبہ رکھا جائے کہ بھئی اس کو چھوڑنا یا اس کی قربانی دینا تو اللہ کا تقاضا ہے تو وہ اس تقاضے سے جان چھڑانے کے لیے حق کا انکار کرنے پر بھی آمادہ ہو جاتا ہے۔ یہود کے جو امراض قرآن نے نمایاں کیے، ان میں ایک بہت بڑا مرض یہ بھی ہے کہ دنیا کی محبت، مال کی محبت، سیادت اور قیادت کی محبت، یہ ایسے ان کے اندر سرایت کیے ہوئے ہے کہ وہ اس کی قربانی دے کر اللہ کے رسول کی اطاعت اختیار نہیں کر، سکتے اس لیے کہ اس کے بعد مذہبی سیادت سے محروم ہونا پڑے گا۔ اور جو مذہب اور اعزاز ان کا سمجھا جا رہا تھا، اس میں انہیں دوسری صف میں آنا پڑے گا۔ کیونکہ نئی امت جو اللہ نے کھڑی کی ہے وہ تو بنی اسرائیل نہیں بلکہ بنی اسماعیل ہے۔ بنیاد دنیا کی محبت ہے اور دنیا کی محبت میں وہ ساری چیزیں یہود کے رویے میں ظاہر ہوئیں جن کا ذکر ہوا۔ 
قرآن نفس انسانی پر تبصرہ کرتے ہوئے اس طرح کے بہت سے امراض کو، اور مختلف موانع کو نمایاں کرتا ہے۔ اگر آپ ایک فہرست بنائیں تو کافی وسیع بن جائے گی۔ میں نے اختصار کے ساتھ چند پہلو آپ کے سامنے رکھے ہیں۔ 
اس ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ انسان اگر حق کا انکار کرتا ہے یا حق ملنے کے بعد اس سے منحرف ہوتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ انسانی نفس کے اندر آنے والی کوئی آلائش یا نفس کا کوئی بگاڑ یا نفس کی کوئی بے اعتدالی ہوتی ہے جس سے مغلوب ہو کر انسان نے حق کا راستہ چھوڑ دیا اور وہ راستہ اختیار کر لیا جو اس خاص کیفیت میں نفس کو زیادہ پسند ہے۔ اس کیفیت سے اگر انسان کو الگ کر دیا جائے، وہ کیفیت اگر دور کر دی جائے تو وہی نفس قبول حق کے لیے تیار ہو جائے گا۔ یہ جو آلائشیں ہیں، جو امراض اور عوارض ہیں، یہ چند در چند ہیں، ان کی شکلیں مختلف ہیں۔ قرآن مجید کی ایک بڑی عنایت ہدایت کے پہلو سے یہ ہے کہ اس نے انسانی نفس کا بھی ایک گہرا اور حقیقی تجزیہ ہمارے سامنے رکھا ہے کہ اگر انسان اس پر غور کر کے اس سے رہنمائی لے تو وہ گمراہیوں سے اور ضلالتوں سے بچ سکتا ہے۔ 
ایک اور پہلو اس ضمن میں یہ ہے کہ قرآن جب انسانی نفس کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتا ہے تو نفس کو ترغیب دینے کے لیے، اس کو راغب کرنے کے لیے وہ کئی اسالیب اختیار کرتا ہے۔ ایک طرف وہ ان موانع پر روشنی ڈالتا ہے جو انسان کے نفس کو حق کی طرف متوجہ ہونے سے روک دیتے ہیں، اور دوسری طرف وہ انسانی نفس کی کچھ خصوصیات کو اور انسانی نفس کے جو کچھ امتیازات ہیں، ان کو استعمال کرتے ہوئے ان کو اپنی دعوت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ 
مثلاً یہ دیکھیں کہ انسان کا نفس جب کسی چیز کی طرف متوجہ ہوگا یا اس کی طرف راغب ہوگا تو بنیادی طور پر اپنی کچھ رغبتوں اور اپنی کچھ ضرورتوں کی بنیاد پر ہوگا۔ نفس انسانی بنیادی طور پر احتیاج سے عبارت ہے۔ انسان اس دنیا میں محتاج ہے۔ انسان کی پوری نفسیات کا اگر آپ تجزیہ کریں تو وہ اصل میں کچھ احتیاجات سے اور کچھ رغبات اور خواہشات سے عبارت ہے۔ انسان کو اِس چیز کی خواہش ہے، اُس چیز کی ضرورت ہے۔ پوری انسانی شخصیت، پوری انسانی نفسیات رغبتوں، احتیاجات اور خواہشات سے عبارت ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا ہی ایسا ہے کہ وہ محتاج اور مخلوق ہے۔ غیر محتاج تو صرف خدا کی ذات ہے۔ ایک محتاج مخلوق اپنی احتیاجات کے لحاظ سے بہت سی چیزوں کی طرف حاجت یا رغبت محسوس کرتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانی نفس کی ان خصوصیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے جب اسے دین کی دعوت پیش کی ہے، ہدایت کا راستہ دکھایا ہے تو اس دعوت اور اس تعلیم کو بھی انسان کی فطری رغبات کے ساتھ جوڑا ہے، نتھی کیا ہے۔ اور آپ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کو طمع دی ہے، اس کو لالچ دیا ہے کہ اگر تم یہ راستہ اختیار کر لو گے تو اس کے نتیجے میں وہ تمہیں ساری چیزیں ملیں گی جن کی طرف تمہیں فطری طور پر رغبت ہے۔ 
منکرین مذہب اور ملحدین جو یہ کہتے ہیں کہ مذہب، خدا اور وحی، یہ چیزیں انسان کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں، وہ اس بات کو مذہب کے خلاف اپنا مقدمہ دائر کرتے ہوئے بطور دلیل بھی پیش کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مذہب کیا ہے؟ وہ انسان کی کمزور نفسیات کو تسکین دینے کا ایک حیلہ ہے۔ انسان کی اس دنیا میں بے شمار خواہشات پوری نہیں ہوتیں، انسان کی بے شمار رغبات ہیں جن کا اس دنیا میں پورے ہونے کا کوئی وسیلہ نہیں تو مذہب نے بڑی چالاکی سے انسان کو کہا کہ ہمارے پاس آجاؤ، ہم تمہاری تمناؤں کی تسکین کا بندوبست کر دیں گے۔ یہاں ہماری باتیں مان لو، مرنے کے بعد تمہاری یہ ساری خواہشیں پوری ہو جائیں گی۔ ہمیشہ کی زندگی چاہیے تو ہم دلوائیں گے۔ اگر بڑے بڑے محلات چاہییں تو ان کی ضمانت ہمارے پاس ہے۔ خوبصورت بیویاں اور عورتیں اور حوریں چاہییں تو ہماری طرف آجاؤ۔ تو یہ مذہب کے خلاف ایک مقدمہ بھی قائم کیا جاتا ہے کہ مذہب کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے۔ اصل میں انسان کی نفسیات میں جو کچھ خلا اور کمزوریاں ہیں جن کی وہ تسکین چاہتا ہے تو مذہبی لوگوں نے بڑی ہشیاری اور چالاکی سے ان ساری نفسیاتی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر ایک پورا تصور بنا دیا اور اس کے بدلے میں وہ انسان کو خرید لیتے ہیں۔ وہ اس کو تسلی اور تسکین دیتے ہیں اور ایک تصوراتی اور تخیلاتی دنیا کا تصور اس کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر اس دنیا میں انسان کو اپنا غلام بنا لیتے ہیں کہ جو پابندیاں، جو قاعدے، جو ضابطے ہم بنائیں، وہ یہاں مانو، یہاں ہمارے غلام بنو، تو مرنے کے بعد تمہاری جتنی بھی خواہشات ہیں وہ، ہم پوری کر دیں گے۔ تو یہ مذہب پر ملحدین کا ایک اعتراض بھی ہے۔
بہرحال قرآن مجید انسان کو دعوت دیتے ہوئے ترغیب و ترہیب کے یہ طریقے استعمال کرتا ہے۔ جب وہ دعوت ہے دیتا ہے اللہ کے پیغمبروں کی اطاعت قبول کرنے کی، دین کو قبول کرنے کی تو سب سے بڑی ترغیب کیا بیان کرتاہے؟ جنت۔ جنت کیا ہے؟ انسان کی تمام خواہشات کا مجموعہ۔ اور ترہیب سے جب کام لیتا ہے تو کس چیز سے ڈراتا ہے؟ جہنم سے۔ جہنم کیا ہے؟ ان تمام چیزوں کا مجموعہ جن سے انسان نفرت کرتا ہے، جن سے دور ہونا چاہتا ہے۔ تو قرآن انسان کو دعوت دیتے ہوئے، نفس انسانی کو راغب کرتے ہوئے ترغیب و ترہیب کے یہ طریقے بھی استعمال کرتا ہے۔ ابدی راحتیں، ابدی نعمتیں، کبھی نہ ختم ہونے والی آسائشیں ، انسان کو اِن کی خواہش ہے، انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے۔ تو قرآن ان کے سامنے یہ تصور پیش کرتا ہے کہ یہ دعوت قبول کرو تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تمہیں مرنے کے بعد جو نئی زندگی دے گا، اس میں یہ سب راحتیں عطا کرے گا۔ 
ایک اور چیز جو آپ کو قرآن میں ترغیب کے پہلو سے بہت نمایاں ملے گی، وہ یہ ہے کہ قرآن کئی جگہ پر یہ کہتا ہے کہ یہ چیز، یہ ذمہ داری، یہ پابندی جو تمہیں بتائی گئی ہے، اس کو قبول کرو، اس کو اختیار کرو، یہ طریقہ اختیار کرو، اس لیے کہ یہ ان لوگوں کے شایان ہے جن کو دوسروں پر فضیلت حاصل ہے۔ تمہیں اللہ نے اگر فضل اور برتری دی ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس کو اختیار کرو۔ اب دیکھیں، نفسیاتی تجزیہ آپ کریں تو انسان کے اندر اپنی برتری یا اپنی فضیلت کا احساس ایک فطری چیز ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ کچھ نہ کچھ چیزوں میں وہ دوسروں سے برتر سمجھا جائے یا اس کو فضیلت حاصل ہو۔ یہ انسان کا فطری، نفسیاتی احساس ہے۔ قرآن مجید اس احساس کی کلی نفی نہیں کرتا۔ وہاں نفی کرتا ہے جہاں اس کے نتیجے میں کوئی غلط عمل ہو رہا ہو۔ نفی کرنے کے بجائے قرآن اسی برتری اور فضیلت کے احساس کو مثبت مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے کہ تمہیں اللہ نے جو برتری دی ہے، اس کے مطابق رویہ اپناؤ۔ مثلاً دیکھیں، میاں بیوی کے باہمی حقوق وفرائض ہیں۔ میاں بیوی میں جب کوئی کشاکش ہو، نزاع ہو، کوئی لڑائی جھگڑا ہو تو قرآن مردوں سے کہتا ہے کہ تمہیں اللہ نے ایک درجہ زیادہ دیا ہے، اس درجے اور فضیلت کا تقاضا ہے کہ تمہارا برتاؤ زیادہ فراخدلی پر مبنی ہو۔ تمہارا برتاؤ زیادہ وسعت ظرفی پر مبنی ہو۔ وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ۔ اگر ایسی صورت ہے کہ آدھا مہر دینا واجب ہے تو دونوں طریقے ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عورت اپنا حق چھوڑ دے کہ میں نہیں لیتی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مرد آدھا دینے کی بجائے پورا ہی دے دے۔ قرآن اس موقع پر یہ فرماتا ہے : وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ کہ یہ قربانی مردوں کو دینی چاہیے۔ آدھا بنتا ہے، لیکن پورا دے دو، کیونکہ تمہیں اللہ نے اس رشتے میں زیادہ درجہ دیا ہے۔ ویسے بھی مرد کو عورتوں پر کچھ فضیلتیں دی گئی ہیں تو برتاؤ کرتے ہوئے اس کا لحاظ کرنا چاہیے۔ اس سے قرآن کے اسلوب دعوت کا جو پہلو نمایاں ہوتا ہے ، اور یہ بڑا قیمتی اور کارآمد اصول ہے، کہ جہاں افراد کو یا گروہوں کو دوسروں کے مقابلے میں کوئی امتیاز حاصل ہو یا کسی چیز میں کوئی برتری حاصل ہو تو آپ اس برتری کو اچھے اور مثبت مقصد کے لیے موثر طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ 
انسان کے اندر جو فطری جذبات اللہ نے رکھے ہیں، دوسرے انسانوں کے ساتھ محبت ومودت کے، رشتہ داری کے، ماں باپ کے ساتھ ترحم کے، اور احترام کے، آپ دیکھیں گے کہ خاندانی معاملات سے متعلق جو شریعت ہے، اس میں اللہ تعالیٰ جگہ جگہ احکام دیتے ہوئے، ہدایات دیتے ہوئے اس فطری جذبے کو ابھاریں گے، اس کو تحریک دیں گے۔ یتیموں کے حقوق کا خیال کرو، اس لیے کہ اللہ نے تمہارے مابین رشتہ داریاں بنائی ہوئی ہیں اور وہ مقدس ہیں اور قابل احترام ہیں: وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِی تَسَآءَ لُونَ بِہِ وَالاَرْحَامَ۔ رشتے اللہ کے بنائے ہوئے ہیں، ان کا تقدس ملحوظ رکھو، حقوق کی پاسداری کرو، ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، بڑھاپے میں ان کی سختی اور تلخی کو گوارا کرو۔ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیْرًا۔ تو یہ جو انسان کے اندر دوسرے انسانوں کے لیے، خاص طور پر اپنے ماں باپ کے لیے، بہن بھائیوں کے لیے، اقرباء کے لیے فطری جذبات ہیں، قرآن دعوت دیتے ہوئے، احکام دیتے ہوئے، پابندیاں عائد کرتے ہوئے انسان کو راغب کرنے کے لیے ان جذبات سے بھی کام لیتا ہے۔ آپ اپنی زندگی میں اس کا مشاہدہ کریں۔ ہو سکتا ہے کبھی دو بھائیوں میں ایسا سخت جھگڑا ہو کہ انصاف کے اصول پر یا قانون ضابطے کے تحت صلح کا کوئی امکان ہی نہ ہو، لیکن کوئی اللہ کا بندہ، کوئی حکیم آدمی اگر ان کے رشتے کی جو نزاکت ہے، ذرا اس کی طرف متوجہ کر کے انہیں یاد دلوائے کہ تمہارا رشتہ آپس میں کیا ہے۔، تو آپ دیکھیں گے کہ رشتہ داری کا احساس اجاگر ہوا، دل تھوڑے نرم ہوئے اور لوگ بڑے سے بڑا حق بھی چھوڑ دینے پر آمادہ ہوگئے۔ تو قرآن کا سکھایا ہوا یہ اسلوب ہے۔
مدح، ثنا، اچھی تعریف انسان کو مرغوب ہے اور پسند ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ قرآن جگہ جگہ جہاں اعمال خیر کی دعوت دیتا ہے، اعمال خیر کی طرف متوجہ کرتا ہے تو اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحِسِنِینَ، اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمَتَّقِینَ، اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الصَّابِرِیْنَ کے الفاظ میں ایسے لوگوں کی تعریف بیان کرتا ہے۔ خدا کی ابدی رضا کا حصول، اسی طرح عزت و سرفرازی کا حصول، دنیا میں اچھ رتبہ ملنا، یہ فرد کو بھی پسند ہے اور گروہوں کو بھی پسند ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ جب قرآن کریم اہل ایمان کو مشکل حالات میں ثابت قدمی کی تلقین کرتا ہے تو ان کو کہتا ہے کہ اس مرحلے کا ثابت قدمی کے ساتھ سامنا کرو۔ یسے موقع پر وہ صرف نصیحتیں نہیں کرتا بلکہ اس کے بعد انسان کو ملنے والے جو فوائد ہیں، ان کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس مرحلے سے ثابت قدمی سے گزر جاؤ تو آئندہ تمہارے لیے عزت و سرفرازی ہے۔ حکومت اور اقتدار ملے گا، آج تم مغلوب ہو تو کل غالب ہو جاؤ گے، آج تم پست ہو تو کل عزیز اور سرفراز ہو جاؤ گے۔ 
میں نے یہ چند چیزیں مثال کے طور پر ذکر کیں کہ نفس انسانی کو متوجہ کرنے کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کی جو فطری احتیاجات، ضروریات، اور خواہشات ہیں، جو جائز ہیں اور اللہ کی رکھی ہوئی ہیں، ان کو بھی اپیل کرتا ہے۔ انسان کو ترغیب دینے کے لیے ان احساسات وجذبات سے بھی کام لیتا ہے۔ میں نے بطور مثال چند باتیں ذکر کیں۔ قرآن مجید میں آپ دیکھیں گے تو بے شمار پہلو آپ کے سامنے آئیں گے۔
جو نکتہ ابھی عرض کیا گیا، اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جیسے قرآن قبول حق پر مرتب ہونے والے فوائد کا ذکر کرتا ہے، چاہے اس دنیا میں ہوں یا آخرت میں، اسی طرح قبول نہ کرنے کی صورت میں جو نقصانات آنے والے ہیں، قرآن ان کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ جہنم اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ اگر یہ نہیں کرو گے تو کتنے دن جی لو گے؟ اس کے بعد ہمیشہ کی آگ اور دوزخ ہے، اور اس دنیا میں بھی ضرر اور نقصان وابستہ ہے۔ قبول حق سے اعراض پر انسان کو اس دنیا میں بھی جو خسارہ اور نقصان ہونے والا ہے، قرآن اس بھی اس کو جگہ جگہ نمایاں کرتا ہے۔ 
آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ کے زمانے میں اہل ایمان کو ایمان اور عمل صالح کے تقاضے پورے کرنے کے لیے جو ایک بڑی آزمائش درپیش تھی، وہ یہ تھی کہ اسلام کے آنے سے پہلے ان کے مختلف مذہبی گروہوں کے ساتھ بڑے قریبی تعلقات اور روابط قائم تھے۔ مشرکین کے ساتھ، یہود و نصاریٰ کے ساتھ، مدینہ کے منافقین کے ساتھ ان کی دوستیاں تھیں۔ اب اس نئی صورت حال میں ایمان یہ تقاضا کر رہا تھا کہ مسلمان ان تعلقات کو ختم کریں، ان تعلقات پر نظر ثانی کریں اور معاشرتی وگروہی تعلقات کو ایک نئی بنیاد پر استوار کریں۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ تھا کہ قرآن کی کئی سورتیں آپ کو اس موضوع پر ملیں گی۔ کہیں منافقین کا مسئلہ زیر بحث ہے، کہیں یہود و نصاریٰ زیر بحث ہیں، کہیں مشرکین زیر بحث ہیں۔ قرآن بتا رہا ہے، سمجھا رہا ہے، آمادہ کر رہا ہے کہ ان کے ساتھ دوستیاں قائم نہ کرو، یہ ایمان کے منافی ہے، عمل صالح کے منافی ہے۔ اب یہاں آپ دیکھیں گے کہ قرآن اس بات کو جہاں خدا کے ایک مطالبے کے طور پر بیان کر رہا ہے، وہاں اہل ایمان کو اس طرح بھی متنبہ کرتا ہے کہ دیکھو، تمہیں ان کی دوستی کا شوق چڑھا ہوا ہے، لیکن یہ تمہارے دوست نہیں ہیں۔ ان کو جب موقع ملے گا، تمہیں نقصان پہنچائیں گے۔ لاَ یَألُونَکُمْ خَبَالًا، وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ اور بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں، تمہارے دوست نہیں ہیں۔ اِنَّ مِنْ اَزْوَاجکُمْ وَاَولَادِکُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ۔ تم جنہیں دوست اور رشتہ دار سمجھتے ہو، حقیقت میں تمہارے دشمن ثابت ہوں گے۔ تو یہ بھی اسی نکتے کا ایک پہلو ہے جو میں نے عرض کیا کہ قرآن جب انسان کو دعوت دیتا ہے تو ترغیب و ترہیب میں ان سب چیزوں سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے، ان سے کام لیتا ہے جو انسان کو اور نفس انسانی کو کسی راستے پر لانے کے لیے یا کسی راستے سے دور ہٹانے کے لیے موثر اور مددگار ہو سکتی ہیں۔
قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک طالب علم کے طور پر ایک نکتہ یہ بھی آپ کے سامنے ہونا چاہیے کہ نفس انسانی کو دو الگ الگ سطحوں پر عوارض لاحق ہوتے ہیں اور قرآن ان دونوں کو موضوع بناتا ہےؒ نفس انسانی کے تزکیہ یعنی اس کو پاک صاف بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک تو اس کی حق کی معرفت اور اس کو قبول کرنے کی استعداد زنگ آلود نہ ہو اور دوسرا یہ کہ حق کی معرفت کے بعد اپنے عمل کو اس کے مطابق ڈھالنے کے لیے بھی وہ پوری طرح تیار ہو۔ تزکیہ نفس یہی ہے کہ انسان صحیح حقائق کو جانے اور جاننے کے بعد اپنے عمل کو، اپنے رویے کو، اپنی روز مرہ زندگی کو، اپنے معاملات کو اس کے مطابق ڈھال لے۔ صرف ایمان لے آنا کافی نہیں، عمل صالح بھی ضروری ہے۔ جو انسان یہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں ، وہ کامیاب ہیں۔ اب نفس انسانی کو ان دونوں سطحوں پر عوارض سے واسطہ پیش آتا ہے۔ یا تو نفس پر آلائشوں کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ انسان قبول حق سے ہی محروم رہ جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن نے اپنی تعلیم کا اور اپنی گفتگو کا ایک بہت بڑا حصہ ایسے لوگوں پر مرکوز کیا ہے جن کے لیے نفسانی خواہشات یا نفسانی آلائشیں سرے سے حق کی معرفت میں ہی رکاوٹ بن جاتی ہیں، قبول حق کے لیے ہی مانع بن جاتی ہیں۔ اس کے بعد جو دوسری بڑی آزمائش نفس انسانی کو درپیش ہوتی ہے، وہ یہ کہ حق کو شعوری طور پر قبول تو کر لیتا ہے، لیکن ایمان لے آنے کے بعد عمل صالح اختیار کرنے میں بھی انہی تمام عوارض کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہو جاتا ہے۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی کلام کا اور اپنی تعلیم کا ایک بہت بڑا حصہ اس دوسرے گروہ کے لیے بھی خاص کیا ہے جو ایمان لے آئیں اور فرمانبرداری قبول کر لیں۔ تزکیہ نفس کا ایک امتحان ان کو بھی درپیش ہے۔ اب زندگی کو منشائے خداوندی کے مطابق ڈھالنے کے لیے انہیں مزید کچھ قربانیاں دینی ہیں، کچھ پابندیاں اختیار کرنی ہیں اور اس میں جو نفسانی مشکلات ہیں، جو نفس کے عوارض ہیں، ان سے نبرد آزما ہونا ہے۔ ان کے لیے بھی تزکیہ نفس کا ایک پورا نصاب اور ایک پورا ضابطہ اللہ نے قرآن میں بیان کیا ہے۔ 
اس کا سب سے بڑا حصہ وہ ہے جس کو ہم ’’شریعت‘‘ کہتے ہیں۔ شریعت ساری کی ساری انسان کے نفس کا تزکیہ ہے۔ وہ اگر عبادات کی صورت میں ہے تو انسان کے نفس کا تزکیہ کرتی ہے۔ وہ اگر خاندانی معاملات کی صورت میں ہے تو وہاں انسان کے نفس کا تزکیہ کرتی ہے۔ وہ اگر تجارت، معیشت اور مالی معاملات سے متعلق ہے تو وہاں انسان کا تزکیہ کرتی ہے۔ وہ اگر معاشرے میں عدل، انصاف اور اس طرح کے معاملات سے متعلق ہے تو وہاں انسان کا تزکیہ کرتی ہے۔ اس لیے کہ ساری شریعت دراصل آپ کے سامنے وہ طریقہ رکھ رہی ہے جس کو اختیار کرنا اچھے اور اعلیٰ اخلاقی اصولوں کا تقاضا ہے، اور جن کو انسان اپنی کسی نفسانی خواہش کے زیر اثر پامال کردیتا ہے۔ بیوی سے بدسلوکی، بچوں سے بدسلوکی، ماں باپ سے بدسلوکی، یا ماں باپ کی حق تلفی، یہ ساری چیزیں کیوں وقوع پذیر ہوں گی؟ کیونکہ انسان کا نفس عدل پر، انصاف پر اور حقوق کی ادائیگی پر آمادہ نہیں ہوگا۔ معاملات میں کمی بیش کیوں ہوتی ہے؟ جب مال کی محبت میں انسان دوسرے کی حق تلفی کرے گا، دوسرے کا حق چھینے گا، دھوکہ دے گا، خیانت کرے گا۔ تو شریعت آکر پوری ضابطہ بندی کرتی ہے اور ساتھ ساتھ انسان کو متوجہ کرتی جاتی ہے کہ اگر تم اللہ کی نظر میں پسندیدہ انسان بننا چاہتے ہو، اچھے اور با اخلاق انسان بننا چاہتے ہو تو اس لائحہ عمل کی پابندی کرو۔ اسی طرح عبادات کے متعلق ہم جانتے ہی ہیں کہ نماز کیسے انسان کا تزکیہ کرتی ہے، زکوٰۃ انسان کے مال کو پاکیزہ بناتی ہے، روزہ کیسے انسان کی خواہشات کو اور ان کا جو بے قابو ہونا ہے، کیسے اس کو اعتدال کے اندر لاتا ہے۔ تو شریعت تمام دائروں میں انسان کی تہذیب نفس کا، اس کے تزکیہ نفس کا ایک بہت بڑا اور بنیادی ذریعہ ہے۔ 
نفس انسانی کے تزکیے کا ایک اور پہلو بھی اللہ نے قرآن میں واضح کیا ہے جس کا بندوبست اللہ نے تکوینی طور پر کیا ہوا ہے، اور وہ ہے انسانی زندگی میں مصائب ، آزمائشوں اور مشکلات کا آنا۔ یہ انسان کے تزکیے کا ایک مستقل ذریعہ ہے جو اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ شریعت کی پابندی کرنے یا نہ کرنے میں تو ہم مختار ہیں۔ ہم چاہتے ہیں تو توڑ بھی دیتے ہیں، چاہتے ہیں تو پامال بھی کر دیتے ہیں، لیکن ایک تزکیہ ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ہی انسان کا کرتے رہتے ہیں، اور وہ ہے انسان کو زندگی کے مختلف مراحل میں، مختلف آزمائشوں سے دوچار کرنا، مشکلات سے دوچار کرنا، اور ان میں سے گزار کر انسان کے مزاج، اس کی طبیعت اور اس کے نفس کی کچھ ناہمواریوں کو دور کرنا۔ یہ گویا انسان کی تربیت کا ایک عمل ہے۔ آسائش میں انسان تربیت نہیں پاتا۔ مشکل میں، تکلیف میں، رنج میں تربیت پاتا ہے اور اسے کچھ حقائق کا ادراک ہوتا ہے۔ نفس کی جو بعض منہ زو رخواہشات ہوتی ہیں، مشکل میں، رنج میں اور مصیبت میں ان پر قابو پانا انسان سیکھتا ہے۔ تو یہ جو آزمائش اور مشکل ہے، یہ بھی انسان کے تزکیے کا ایک وسیلہ اور ذریعہ ہے، بشرطیکہ انسان اس سے سیکھنے والا ہو۔ انسان اگر آزمائش اور مشکلات سے سیکھنے والا ہو، ان کی حکمت پر اس کی نظر ہو تو بجائے خود انسان کے نفس کی تربیت کا یہ بہت بڑا ذریعہ ہے۔ وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الاَمْوَالِ وَالاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ۔ ہر طرح کی آزمائش انسان پر آتی ہے، اور یہ اس طرح کی چیز ہے کہ اس سے اللہ کے نبی بھی مستثنیٰ نہیں، بلکہ حدیث کے مطابق تو جو اللہ کے زیادہ مقرب ہوتے ہیں، ان کے لیے آزمائش کا نصاب بھی زیادہ سخت ہوتا ہے، مشکلات بھی زیادہ آتی ہیں۔ 
خلاصہ ان سب باتوں کا وہی ہے جو میں نے شروع میں آپ کے سامنے رکھا کہ قرآن کی ساری تعلیم، قرآن کی ساری گفتگو انسانی نفس کے گرد گھومتی ہے، اس لیے کہ قرآن کا مخاطب نفس انسانی ہے۔ قرآن کا پیغام، اس کی تعلیم یا اس کا مقصد یہ ہے کہ نفس انسانی کو ان حقائق کی یاد دہانی کرائی جائے جن کو ماننا اس کی نجات کے لیے ضروری ہے، اور نہ صرف ان حقائق کو اس کے سامنے رکھا جائے بلکہ ان حقائق کو ماننے کی طرف اس کو آمادہ اور راغب کیا جائے، بڑی حکمت اور محبت سے اس کو قائل اور متوجہ کیا جائے کہ وہ اس راستے پر آ جائے۔ تاہم انسان کے نفس کی کچھ کمزوریاں ایسی ہیں جو اس کو اس راستے پر آنے سے روک دیتی ہیں۔ تو قرآن مجید اپنی تعلیم میں ان حقائق کی تذکیر کے ساتھ ساتھ وہ آیات و شواہد بھی جمع کرتا جاتا ہے جن پر غور کر کے انسان اس طرف متوجہ ہو سکتا ہے اور ان موانع کی بھی نشاندہی اور ان پر تبصرہ کرتا جاتا ہے۔ انسان کو گویا آئینہ دکھاتا جاتا ہے کہ اس آئینے میں اپنی کمزوریاں بھی دیکھ لو۔ یہ بڑا موثر طریقہ ہے۔ جدید نفسیات میں بھی آپ دیکھیں، جو نفسیاتی عوارض ہوتے ہیں، نفسیاتی بیماریاں ہوتی ہیں، ان کے علاج کا سب سے موثر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ماہر نفسیات اور معالج مسلسل عمل کے ذریعے سے خود انسان کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ اپنی اس بیماری یا کمزوری پر متوجہ ہو، اس کی علامتوں اور اس کے ساتھ وابستہ جو چیزیں ہیں، ان پر نظر رکھے اور اپنی قوت ارادی سے ان کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائے۔ جدید طریقہ علاج میں بھی یہ بڑی اہم چیز ہے۔ قرآن مجیدنے ہمیں وہی چیز روحانی واعتقادی امراض کے علاج کے لیے فراہم کر دی۔ ہم اگر اپنی اصلاح چاہتے ہیں، اپنے آپ کو آلائشوں سے بچانا چاہتے ہیں تو قرآن وہ ایک ایک مرض، وہ ایک ایک عارضہ، وہ ایک ایک مانع جو انسان کو مختلف راستوں سے بہکا دیتا ہے، بھٹکا دیتا ہے، اس کو پوری طرح واضح کر کے آئینہ ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ اگر انسان اس سے سیکھنا چاہے تو اس سے زیادہ موثر چیز نہیں ہو سکتی۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۳)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۵) مُلک کا ترجمہ

عربی میں مُلک کا مشہور معنی بادشاہت، اقتدار اور حکمرانی ہے، امام لغت جوہری کے الفاظ میں: والاسم المُلکُ، والموضع مَمْلکَۃ۔
اردو میں ملک کا مشہور معنی دیس اور سلطنت ہے، عربی کے لفظ ملک کا اردو میں بھی ملک ترجمہ کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے، بلکہ بادشاہت ، اقتدار اور حکمرانی جیسی تعبیر مناسب معلوم ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں ملک کا لفظ متعدد مقامات پر آیا ہے، اور اکثر وبیشتر مقامات پر اس کا ترجمہ بادشاہی اور حکمرانی کیا گیا ہے، لیکن بعض مقامات پر بہت سارے مترجمین نے ملک کا ترجمہ ملک کیا ہے۔ مشہور ومعروف استعمالات کا لحاظ کیا جائے تو ہر مقام پر ملک کا ترجمہ اقتدار، بادشاہی اور حکمرانی زیادہ مناسب ہے۔
ذیل میں ایسی کچھ آیتیں ذکر کی جاتی ہیں جہاں بعض مترجمین نے ملک کا ترجمہ ملک کیا ہے:

(۱) قُلِ اللّٰہُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِیْ الْمُلْکَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْکَ مِمَّن تَشَاءُ- (آل عمران: ۲۶)

’’کہہ یا اللہ مالک ملک کے، دیتا ہے تو ملک جس کو چاہے اور چھین لیتا ہے ملک جس سے چاہے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)
’’تو کہہ یا اللہ مالک سلطنت کے تو سلطنت دیوے جس کو چاہے اور چھین لیتا ہو ملک جس سے چاہے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’آپ اللہ تعالیٰ سے یوں کہئے کہ اے اللہ مالک تمام ملک کے آپ مالک جس کو چاہیں دے دیتے ہیں اور جس سے چاہیں ملک لے لیتے ہیں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’کہو خدایا، ملک کے مالک، تو جسے چاہے، حکومت دے اور جس سے چاہے، چھین لے‘‘۔ (سید مودودی)
’یوں عرض کر، اے اللہ ملک کے مالک، تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’آپ کہہ دیجئے اے اللہ، اے تمام جہان کے مالک، تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’کہو کہ اے خدا (اے) بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخشے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’دعا کرو اے اللہ، بادشاہی کے مالک، توہی جس کو چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے بادشاہی چھینے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
زیر نظر آیت میں تین بار ملک کا لفظ آیا ہے، بعض لوگوں نے پہلے لفظ کا ترجمہ ملک کیا ہے اور بعض نے تینوں کا ترجمہ ملک کیا ہے۔ آخری دونوں ترجمے زیادہ مناسب ہیں، ان میں تینوں مقامات پر بادشاہی ترجمہ کیا گیا ہے۔
شیخ سعدی اور شاہ ولی اللہ نے بھی اپنے فارسی ترجموں میں تینوں جگہ بادشاہی ترجمہ کیا ہے۔

(۲) وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ إِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوتَ مَلِکاً، قَالُوا أَنَّی یَکُونُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ، قَالَ إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفَاہُ عَلَیْْکُمْ وَزَادَہُ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ، وَاللّٰہُ یُؤْتِیْ مُلْکَہُ مَن یَّشَاءُ۔ (البقرۃ: ۲۴۷)

’’اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا بیشک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے بولے اسے ہم پر بادشاہی کیونکر ہوگی اور ہم اس سے زیادہ سلطنت کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی فرمایا اسے اللہ نے تم پر چن لیا اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی اور اللہ اپنا ملک جسے چاہے دے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اُن کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے یہ سن کر وہ بولے : "ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حقدار ہو گیا؟ اُس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں وہ تو کوئی بڑا ما ل دار آدمی نہیں ہے" نبی نے جواب دیا: ’’اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی و جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا دیا ہے تو کہنے لگے بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیادہ حقدار بادشاہت کے ہم ہیں، اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی۔ نبی نے فرمایا سنو، اللہ تعالیٰ نے اسی کو تم پر برگزیدہ کیا ہے اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے بات یہ ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنا ملک دے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہے، بادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نے اس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لیے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’اور ان کے نبی نے ان کو بتایا کہ بے شک اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو امیر مقرر کردیا ہے۔ وہ بولے کہ بھلا اس کی امارت ہمارے اوپر کیسے ہوسکتی ہے جب کہ اس سے زیادہ حق دار ہم اس امارت کے ہیں اور اسے تو مال کی وسعت بھی حاصل نہیں ہے؟ نبی نے کہا اللہ نے تمہاری سرداری کے لیے اسی کو چنا اور اس کو علم اور جسم دونوں میں کشادگی عطا فرمائی ہے، اللہ اپنی طرف سے جسے چاہے اقتدار بخشے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
زیر نظر آیت میں بھی ملک کا لفظ تین بار آیا ہے، آخری دونوں ترجموں میں تینوں جگہ ملک کا ترجمہ بادشاہی کیا گیا ہے، اور یہی مناسب ترجمہ ہے۔ جبکہ زیادہ تر لوگوں نے تیسری جگہ ملک کا ترجمہ ملک کیا ہے، ذیل کے کچھ اور ترجموں میں بھی یہی ترجمہ کیا گیا ہے۔
’’اور اللہ دیتا ہے ملک اپنا جس کو چاہتا ہے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)
اللہ تعالی اپنا ملک جس کو چاہیں دیں۔ (اشرف علی تھانوی)
شیخ سعدی اور شاہ ولی اللہ نے اپنے فارسی ترجموں میں تینوں جگہ بادشاہی ترجمہ کیا ہے۔

(۳) لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ۔ (التغابن: ۱)

’’اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اسی کی سلطنت ہے اور وہی تعریف کے لائق ہے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
شیخ سعدی، شاہ ولی اللہ اور شاہ رفیع الدین وغیرہ نے پادشاہی ترجمہ کیا ہے۔

(۴) ذَلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ۔ (فاطر: ۱۳)

’’وہی تمہارا پروردگار ہے اسی کے اختیار میں سارا ملک ہے ‘‘(جوادی)
’’جس کی یہ شان ہے تمہارا پروردگار ہے اس کی سلطنت ہے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
شیخ سعدی، شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین وغیرہ نے پادشاہی ترجمہ کیا ہے۔

ذَلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ۔ (الزمر: ۶)

’’وہی اللہ تمہارا پروردگار ہے اسی کے قبضہ میں ملک ہے‘‘۔ (جوادی)
’’یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی سلطنت ہے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
شیخ سعدی، شاہ ولی اللہ اور شاہ رفیع الدین وغیرہ نے پادشاہی ترجمہ کیا ہے۔

(۵) فَقَدْ آتَیْْنَا آلَ إِبْرَاہِیْمَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَآتَیْْنَاہُم مُّلْکاً عَظِیْماً۔ (النساء: ۵۴)

’’پس تحقیق دی ہم نے اولاد ابراہیم کی کو کتاب اور حکمت اور دی ہم نے ان کو بادشاہی بڑی‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)
’’تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انھیں بڑا ملک دیا‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’تو انہیں معلوم ہو کہ ہم نے تو ابراہیمؑ کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا‘‘۔ (سید مودودی)
اردو میں شاہ رفیع الدین نے ’’بادشاہی بڑی‘‘ اور فارسی میں شاہ ولی اللہ دہلوی اور شیخ سعدی نے ’’بادشاہی بزرگ‘‘ ترجمہ کیا ہے۔

(۶) وَإِذَا رَأَیْْتَ ثَمَّ رَأَیْْتَ نَعِیْماً وَمُلْکاً کَبِیْراً۔ (الانسان: ۲۰)

’’اور جب دیکھے گا تو اس جگہ دیکھے گا تو نعمت اور بادشاہی بڑی‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)
وہاں جدھر بھی تم نگاہ ڈالو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت کا سر و سامان تمہیں نظر آئے گا۔ (سید مودودی)
’’اور جہاں دیکھو گے وہیں عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی دیکھو گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اور وہاں جدھر بھی نظر ڈالو گے وہیں آرام وآسائش اور عظیم بادشاہی کے سازوسامان دیکھو گے‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی)
یہاں شیخ سعدی نے ’’ملکے بزرگ ‘‘ اور شاہ ولی اللہ نے ’’بادشاہی بزرگ‘‘ ترجمہ کیا ہے۔
بعض مترجمین نے مختلف مقامات پر مُلک کا ترجمہ سلطنت بھی کیا ہے، سلطنت کے لفظ میں وسعت ہے، اس لیے ملک کے لیے سلطنت کا ترجمہ بھی مناسب ہوسکتا ہے، اگر یہ بات واضح ہورہی ہو کہ اس سے مراد ملک ومملکت نہیں بلکہ بادشاہی اور اقتدار ہے۔
مذکورہ بالا آیتوں کے انگریزی ترجموں میں لفظ ملک کے لیے مندرجہ ذیل تعبیریں ملتی ہیں: authority, power, sovereignty, kingship
تحقیق طلب بات یہ ہے کہ کیا عربی کے لفظ ملک کا انگریزی ترجمہ Kingdom ہوسکتا ہے؟ بعض انگریزی تراجم قرآن میں ایسے کئی مقامات پر ملک کا ترجمہ Kingdom بھی کیا گیا ہے۔
(جاری)

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ، ایک تعارفی جائزہ (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

حدیث اسلامی شریعت کا دوسرا اساسی ماخذ ہے۔ حدیث اور اس کے متعلقات پر پہلی صد ی ہجری سے لے کر آج تک بلا تعطل کام جاری ہے اور بلا شبہ امت کے بہترین دماغوں نے علم حدیث کے بے شمار پہلووں پر کام کیا ہے۔ علم حدیث کی تاریخ میں دور جدید بعض وجوہ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے ،کیونکہ امت مسلمہ کے دور زوال میں علم حدیث مسلم اور غیر مسلم مفکرین کی توجہ کا خصوصی مرکز رہا ہے۔ اس مرکزیت کے متعدد اسباب ہیں جنہیں بیان کرنے کے لیے مستقل مضمون درکار ہے ۔اس مضمون میں ہم دور جدید میں علم حدیث پر ہونے والے متنوع کام کا ایک تعارفی جائزہ لیں گے۔ تعارفی جائزے سے پہلے موضوع سے متعلق چند تمہیدی باتیں پیش خدمت ہیں :
۱۔ اس مقالے میں دور جدید میں علم حدیث پر ہونے والے کام کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اس پر بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ دور جدید سے کیا مراد ہے؟اور اس کی زمانی تحدید کیا ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم امت کا دور زوال اور مغرب کی بیداری کا زمانہ عمومی طور پر دور جدید کہلاتا ہے۔ اس کا اوائل مارٹن لوتھر کی تحریک اصلاح ہے ،جس نے آگے چل کر جدیدیت اور اس کے ذیلی فلسفوں کی شکل اختیار کر لی اور بیسیویں صدی کے نصف آخر سے مابعد جدیدیت میں ڈھل چکی ہے۔ اس کو اگر زمانی تحدید کی صورت میں بیان کیا جائے تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ تقریباً آخری تین صدیاں دور جدید کہلاتی ہیں۔
۲۔دور جدید میں علم حدیث پر ہونے والے کام کی متنوع درجہ بندی کی جاسکتی ہے :
(الف) امت مسلمہ کے مختلف مکاتب ،جماعتوں اور فرقوں نے علم حدیث پر جو کام کیا ہے ،ہر مکتب فکر کا کام الگ الگ بیان کیا جائے۔
(ب) عالم اسلام میں ہر ملک میں جو کام ہوا ہے ،اسے ممالک و امصار کی ترتیب سے بیان کیا جائے۔
(ج) دور جدید کے کام کو زمانی ترتیب سے بیان کیا جائے۔
(د) دور جدید کے کام کو الف بائی ترتیب سے موسوعاتی شکل میں بیان کیا جائے۔
(ر) دور جدید کے کام کو اہم جہات میں تقسیم کر کے بیان کیا جائے ،اور جدید حدیثی ذخیرہ جن پہلووں اور جوانب پر مشتمل ہے ،ان جہات کے اعتبار سے بیان کیا جائے۔
۳۔کچھ وجوہ سے موخر الذکر ترتیب کو ترجیح دی گئی ہے، اس لیے جدید ذخیرے کو جہات و جوانب میں تقسیم کر کے بیان کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بات پیش نظر رہے کہ مقصود جدید ذخیرے کا احاطہ و استقصا کرنا نہیں ہے،بلکہ بنیادی مقصدیہ ہے کہ علم حدیث پر ہونے والے کام کی اہم جہات اور ان جہات کی بعض نمائندہ کتب سامنے آجائے۔
۴۔ مقصود چونکہ جہات کی نشاندہی ہے،اس لئے ہر ہر کتاب کا تفصیلی تعارف پیش نہیں کیا گیا ،بلکہ بقدر ضرورت بعض اہم کتب پر تبصرہ کیا گیا ہے۔
۵۔ اس تعارفی جائزے میں بنیادی طور پر اردو اور عربی میں علم حدیث پر ہونے والے کام کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ طوالت کے پیش نظر دیگر السنہ خصوصاً یورپی اورعالم اسلام کی مختلف قومی وعلاقائی زبانوں میں علم حدیث پر ہونے والے کام کو شامل نہیں کیا گیا ہے ،البتہ جن کتب کا اردو یا عربی میں ترجمہ ہوگیا ہے ،اسے بھی تعارفی جائزے کا حصہ بنایا گیا ہے۔نیز تمام جہات کی نشاندہی کے بعد دیگر زبانوں میں ہونے والے کام کی نشاندہی کی چنداں ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ بھی انہی جہات میں سے کسی نہ کسی جہت سے متعلق ہے۔
دور جدید میں علم حدیث پر ہونے والے کام کی اہم جہات یہ ہیں:
۱۔ دفاع حدیث
۲۔ تاریخ حدیث
۳۔ علوم الحدیث

پہلی جہت: دفاع حدیث 

دور جدید میں اسلام پر جو متنوع فکری حملے ہوئے ،ان میں حدیث و سنت کی حجیت اور تشریعی حیثیت میں تشکیک سر فہرست ہے۔ان تشکیکات کا آغاز مستشرقین کی تحریروں سے ہوا اور عالم اسلام کے جدید تعلیم یافتہ اور مغرب کی فکری، علمی اور سائنسی بالا دستی سے مرعوب طبقے تک پہنچ گیا، اور بالآخر عالم اسلام کے بعض اہم مفکرین بھی اس کے لپیٹ میں آگئے اور یوں حدیث و سنت پر تشکیکی گفتگو اہم ترین مباحث میں شامل ہوگئی۔ حدیث و سنت پر جملہ اعتراضات کی اگر ہم درجہ بندی کریں تو تین بڑے دائرے سامنے آتے ہیں : 
۱۔ حدیث و سنت کی تدوین میں تشکیک کہ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صدیوں بعد مدون ہوئیں، اس لیے موجودہ ذخیرہ ناقابل اعتبار ہے۔
۲۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو چیلنج کرنا کہ آپ علیہ السلام کے اقوال و افعال بعد والوں کے لیے قرآن کی طرح حجت نہیں ہیں،بلکہ یہ اسی زمانے کے لوگوں کے لیے تھے۔
۳۔ حدیث و سنت پر مختلف قسم کے اعتراضات جیسے کثیر الروایہ صحابہ کی کردار کشی،فقہی احادیث کی وضعیت کا پروپیگنڈا،محدثین پر مختلف قسم کے اعتراضات وغیرہ
اس لیے دفاع حدیث میں جو لٹریچر سامنے آیا وہ بھی بنیادی طور پر تین قسموں پر مشتمل تھا :

۱۔حدیث کی تاریخ تدوین و کتابت

۲۔حجیت سنت اور آپ علیہ السلام کی تشریعی حیثیت 
۳۔ شبہات متنوعہ اور ا ن کا رد 
اب ہم ان تینوں جہات سے متعلق مواد کا مختصر تعارفی جائزہ لیتے ہیں :

۱۔ حدیث کی تاریخ تدوین و کتابت

حدیث کی تاریخ تدوین و کتابت پر عالم اسلام میں وسیع پیمانے پر کام ہوا اور مسلم مفکرین نے بڑے ٹھوس اور ناقابل تردید دلائل سے اس بات کو ثابت کیا کہ احادیث کے متعدد مجموعے زمانہ نبوت میں ہی تیار ہوئے تھے۔ پھردور صحابہ وتا بعین میں اس پر مزید کام ہوا اور مصادر حدیث کے مدونین نے انہی صحائف و مجموعوں کو سامنے رکھ کر ا پنی کتب تیار کیں۔ اس سلسلے کے چند اہم کا ملاحظہ ہوں :
۱۔ عربی میں اس پر سب سے تفصیلی اور ٹھوس کام ڈاکٹر مصطفی اعظمی کا پی ایچ ڈی مقالہ ہے جس پر کیمبرج یونیورسٹی سے انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی۔یہ مقالہ Studies in Early Hadith Literature کے نام سے انگریزی زبان میں تھا ،جسے بعد میں مصنف نے خود دراسات فی الحدیث النبوی و تاریخ تدوینہ کے نام سے عربی میں منتقل کیا۔
۲۔ دوسری کتاب ڈاکٹر امتیاز احمد کا ضخیم مقالہ دلائل التوثیق المبکر للسنۃ و الحدیث ہے۔ یہ بھی اصلاً پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے ،اور انگریزی زبان میں لکھا گیا، جسے بعد میں عربی میں منتقل کیا گیا۔ ان دو کتب کو اگر اس موضوع پر سب سے بہترین کتب کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔
۲۔ اردو میں اس پر سب سے جامع کام مولانا مناظر احسن گیلانی کی ضخیم کتاب تدوین حدیث ہے جسے اگر اس موضوع پر حرف آخر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
۳۔مذکورہ بالا کتب کے علاوہ بے شمار کام اس موضوع پر سامنے آئے ہیں۔ ذیل میں عربی اور پھر اردو کی اہم کتب کی ایک فہرست پیش کی جاتی ہے :
۱۔ السنۃ قبل التدوین از عجاج الخطیب ،مکتبہ وہبہ قاہرہ 
۲۔ بحوث فی تاریخ السنہ المشرفۃ از ڈاکٹر ضیا العمری، مطبعۃ الارشاد بغداد 
۳۔ مباحث فی تدوین السنۃ المطھرۃ ازعطیہ الجبوری ،المطبعۃ العربیہ الحدیثہ قاہرہ 
۴۔ عبد اللہ بن عمر و بن العاص و الصحیفۃ الصادقۃ از محمد سیف الدین علیش، الہیءۃ المصریہ العامہ للکتاب قاہرہ 
۵۔ صحائف الصحابۃ وتدوین السنۃ النبویہ المشرفۃ از احمد عبد الرحمان الصویان قاہرہ 
۶۔ السنۃ فی عصر النبوۃ از الاحمدی عبد الفتاح خلیل قاہرہ 
۷۔ السنۃ بعد عصر النبوۃ للمصنف المذکور
۸۔ صحیفتا عمر و بن شعیب و بھز بن حکیم عند المحدثین و الفقھاء ازمحمد علی بن الصدیق، وزارۃ الشوون الاسلامیہ و الاوقاف 
۹۔ الصحابۃ وجھودھم فی خدمۃ الحدیث النبوی از محمد نوح دار الوفا مصر 
۱۰۔ مشکلۃ تدوین الحدیث فی العھد النبوی از حسن شا بندر، دار العلم و التحقیق بیروت 
۱۱۔ منھجیۃ تدوین السنۃ وجمع الاناجیل: دراسۃ مقارنۃ ازعزیہ علی طہ مصر 
۱۲۔ السنۃ النبویۃ فی عصر الرسول و الصحابۃ از سعید مصطفی عسکر مصر
۱۳۔ وحی السنۃ الی نبی الامۃ،مراحل حفظ السنۃ النبویۃ از عبد الرحمان الرافعی مصر 
۱۴۔ کتابۃ الحدیث النبوی و جمعہ و تدوینہ از کمال الدین المرسی دار المعرفہ مصر
۱۵۔ تاریخ التدوین السنہ و شبھات المستشرقین از حاکم العبیسا ن المطیری، مجلس النشر العلمی کویت 
۱۶۔ السنۃ النبویہ و علومھا از احمد عمر ہاشم قاہرہ

اردو کتب

۱۔تاریخ تدوین حدیث از ڈاکٹر محمد زبیر صدیقی 
۲۔تاریخ تدوین حدیث از مولانا ہدایت اللہ ندوی 
۳۔تاریخ حفاظت حدیث و اصول حدیث از ڈاکٹر فضل احمد
۴۔حدیث کی تدوین عہد صحابہ و تابعین از حکیم عبد الشکور
۵۔حفاظت و حجیت حدیث از مولانا محمد فہیم عثمانی 
۶۔صحیفہ ہمام بن منبہ، ترجمہ و تشریح از ڈاکٹر حمید اللہ ،اس کا مبسو ط مقدمہ تاریخ تدوین حدیث پر انتہائی قیمتی مباحث پر مشتمل ہے۔
۷۔کتابت حدیث ازمولانا منت اللہ رحمانی 
۸۔کتابت حدیث عہد نبوی میں از مولانا سید ابو بکر غزنوی
۹۔کتابت حدیث عہد رسالت و عہد صحابہ میں از مفتی رفیع عثمانی 
۱۰۔علم حدیث اور اس کا ارتقا از قاری روح اللہ المدنی
۱۱۔روایت و وتدوین حدیث در عہد بنی امیہ از رضیہ سلطانہ (پی ایچ ڈی مقالہ پنجاب یو نیورسٹی )
۱۲۔تاریخ حدیث از ڈاکٹر غلام جیلانی برق
۱۳۔حفاظت حدیث از ڈاکٹر خالد علوی 
۱۴۔عہد بنو امیہ میں محدثین کی خدمات، فنی فکری اور تاریخی مطالعہ از عبدالغفاربخاری
۱۵۔تاریخ تدوین حدیث از مولانا عبد الرشید نعمانی 
۱۶۔تدوین حدیث کے اسالیب ومناہج آغازِ اسلام سے ۵۷ھ تک از عبد الحمید عباسی 
۱۷۔تدوین حدیث از اطہر بن جعفر 

۲۔حجیت حدیث اور پیغمبر علیہ السلام کی تشریعی حیثیت 

منکرین حدیث کا دوسرا بڑا ہدف نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت تھی، کہ احادیث آپ علیہ السلام کے ذاتی اقوال وآرا ہیں،جو نہ تو وحی پر مبنی ہیں اور نہ قرآن کی رو سے اس کو ماننا لازم ہے، اور وحی الٰہی صرف اور صرف قرآن کی شکل میں ہے۔ مسلم مفکرین نے اس نکتہ پر بڑی تفصیل سے بحث کی اور آپ علیہ السلام کی تشریعی حیثیت کو دلائل نقلیہ و عقلیہ سے ثابت کیا۔ اس پہلو پر درجہ ذیل کام ہوئے ہیں :
۱۔عربی میں اس پر سب سے جاندار کام ڈاکٹر مصطفی السباعی کی ضخیم کتاب السنۃ و مکانتھا فی التشریع الاسلامی ہے جس میں مصنف نے تفصیل سے اس پہلو پر کلام کیا ہے اور اس حوالے سے ہونے والے تمام اہم اشکالات کا جواب دیا ہے ۔ 
۲۔معروف مصری عالم اور جامعہ ازہر کے پروفیسر ڈاکٹر عبد الغنی عبد الخالق کی مفصل کتاب حجیۃ السنۃ دوسرا اہم ترین کام ہے۔ یہ دنوں کتب اپنی اہمیت اور موضوع پر حرف آخر ہونے کی وجہ سے اردو میں بھی ڈھل چکے ہیں۔
۳۔اردو میں بے شمار کا م سامنے آئے ہیں، بالخصوص مولانا مودودی کی ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘،نعیم صدیقی کی ’’رسول اور سنت رسول‘‘،پیر کرم شاہ الازہری کی ’’سنت خیر الانام‘‘،مولانا محمد ادریس کاندھلوی کی ’’حجیت حدیث‘‘، مولانا فضل احمد غزنوی کی دو جلدوں پر مشتمل کتاب ’’صحیح مقام حدیث‘‘، مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی ’’نصرۃ الحدیث‘‘، شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب ’’حجیت حدیث‘‘ اور ڈاکٹر مظہر یاسین صدیقی کی کتاب ’’وحی حدیث‘‘ سر فہرست ہیں۔
اس موضوع پر عربی و اردو کی اہم کتب کی فہرست ذیل میں دی جارہی ہے :

عربی کتب

۱۔ السنۃ النبویہ و مکانتھا فی ضوء القرآن الکریم از ڈاکٹر حبیب اللہ مختار 
۲۔ حجیۃ السنہ و وتاریخھا از حسین شواط
۳۔ السنۃ النبویۃ و مکانتھا فی التشریع از عباس دار القومیہ قاہرہ متولی حمادہ 
۴۔ حفظ اللہ السنۃ از احمد بن فارس السلوم، دار البشائر الاسلامیہ بیروت
۵۔ السنۃ النبویۃ جمعا و تدوینا، ازمحمد صالح الغرسی، موسسہ الریان بیروت
۶۔ السنۃ حجۃ علی جمیع الامۃ از محمد بکار زکریا، دا ر البشائر الاسلامیہ بیروت
۷۔ السنۃ النبویۃ المطہرۃ مبینۃ للقران و مثبتۃ للاحکام از محمد بکر اسماعیل، دار النھضہ بیروت
۸۔ مکانۃ السنۃ فی التشریع الاسلامی از ڈاکٹر سلمان سلفی، دار الوعی 
۹۔ حجیۃ السنۃ النبویۃ و دور الاصولیین فی الدفاع عنھا از عبد الحی عزت قاہرہ
۱۰۔ الدرر البھیۃ فی بیان حجیۃ السنۃ النبویۃ ومکانتھا فی الاسلام از عبد الواحد خمیس قاہرہ
۱۱۔ السنۃ النبویۃ المطھرۃ قسم من الوحی الالھی المنزل از محمد علی الصابونی ، رابطۃ العالم الاسلامی مکہ 
۱۲۔ التلازم بین الکتاب و السنۃ من خلال الکتب الستۃ از صالح بن سلیمان البقعاوی، دار المعراج ریاض
۱۳۔ السنۃ النبویۃ وبیا نھا للقرآن الکریم از محمد احمد حسین، دار خضر بیروت 
۱۴۔ مکانۃ السنۃ فی الاسلام از محمد محمد ابو زہو، دار الکتاب بیروت
۱۵۔ السنۃ المطہرۃ و التحدیات از نور الدین عتر، دار الفلاح شام 
۱۶۔ السنۃ مع القرآن از سید احمد رمضان، دار الطباعہ قاہرہ
۱۷۔ الرسول و سنتہ التشریعیۃ از عبد الحلیم محمود، مجمع البحوث الاسلامیہ قاہرہ
۱۸۔ الحدیث حجۃ بنفسہ فی العقائد والاحکام از ناصر الدین الالبانی 
۱۹۔ السنۃ النبویۃ: حجیتھا و تدوینھا از عبد الماجد غوری 

ا ردو کتب

۱۔اسلام میں سنت کا مقام از مولانا عبد الغفار حسن 
۲۔بصائر السنہ (دو جلد) از مولانا محمد امین الحق 
۳۔حجیت حدیث از مولانا محمد اسماعیل سلفی 
۴۔حجیت حدیث از مولانا بدر عالم میرٹھی (ترجمان السنہ سے انتخاب ہے )
۵۔حدیث اور قرآن از ابو الاعلیٰ مودودی
۶۔حدیث رسول کا قرآنی معیار از مولانا قاری محمد طیب 
۷۔سنت کا تشریعی مقام از مولانا محمد ادریس میرٹھی
۸۔سنت رسول کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟ از عاصم الحداد
۹۔شوق حدیث از مولانا محمد سرفراز خان صفدر
۱۰۔ضرب حدیث از حکیم محمد صادق سیالکوٹی 
۱۱۔ضرورت حدیث از قاضی زاہد الحسینی 
۱۲۔علم حدیث از مولانا اشفاق الرحمان کاندھلوی 
۱۳۔عظمت حدیث از مولانا عبد الغفار حسن
۱۴۔فہم حدیث از حافظ عبد القیوم ندوی 
۱۵۔مطالعہ حدیث از مولنا حنیف ندوی 
۱۶۔مقام حدیث از مشتاق احمد چشتی 

۳۔ شبہات متنوعہ اور اس کا رد

مستشرقین اور منکرین حدیث نے حدیث کو مشکوک بنانے اور اس کے ا نکار کی فضا ہموار کرنے کے لیے متعدد دلائل کا سہارا لیا اور حدیث کی ثقاہت پر متنوع پہلوووں سے حملہ کیا ۔حجیت حدیث کے لٹریچر کا تیسرا بڑا دائرہ ان اشکالات واعتراضات کا جواب ہے،اس سلسلے میں درجہ ذیل اہم کام سامنے آئے ہیں:
۱۔عرب دنیا میں حدیث کے ا نکار کی سب سے توانا آواز معروف مصری مفکر ڈاکٹر ابوریہ نے اٹھائی، جس نے اضواء علی السنۃ المحمدیۃ لکھ کر حدیث پر مستشرقین کے اعتراضات کو نئے انداز سے دہرایا اور خاص طور پرحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ہدف تنقید بنایا۔ اس کے علاوہ ذخیرہ احادیث کو سیاسی ،اعتقادی ،فقہی اور صدر اول کے دیگر اختلافات کا نتیجہ بتانے کی کوشش کی،کتب حدیث سے لے کر جرح و تعدیل تک مختلف پہلوؤں سے حدیث پر اعتراضات کیے۔ ابو ریہ کی کتاب نے علمی حلقوں میں اضطراب کی نئی لہر پیدا کی اور عالم عرب سے ابو ریہ کی کتاب کے متعدد جوابات لکھے گئے،جن میں عبد الرزاق حمزہ کی ظلمات ابی ریۃ امام اضواء السنۃ المحمدیۃ، عبد الرحمان المعلمی کی الانوار الکاشفۃ لما فی کتاب اضواء السنۃ من الزلل والتضلیل والمجازفۃ، عجاج الخطیب کی ابو ہریرہ راویۃ الاسلام، علی احمد سالوس کی قصۃ الھجوم علی السنۃ، محمد ابو شہبہ کی دفاع عن السنۃ اہم کتب ہیں۔
۲۔ برصغیر میں انکار حدیث کو باقاعدہ ایک منہج کے طور پر پروان چڑھانے کے سرخیل غلام احمد پرویز ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے بھی حدیث پر متعدد پہلوؤں سے اعتراض کیا، اگرچہ بعد میں وہ انکار حدیث سے تائب ہوگئے۔ ہر دو حضرات کے کے اشکالات و اعتراضات کے جواب میں عبد الرحمان کیلانی کی ضخیم کتاب ’’آئینہ پرویزیت‘‘، حافظ محمد گوندلوی کی دو جلدوں پر مشتمل کتاب ’’دوام حدیث‘‘،مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کی ’’انکار حدیث کے نتائج‘‘، جناب مسعود احمد صاحب کی ’’برہان المسلمین‘‘ اور ’’تفہیم اسلام‘‘،محمد خالص راز کی ’’خالص اسلام بجواب دو اسلام‘‘، مولانا عبد الروف رحمانی کی ’’صیانۃ الحدیث‘‘، علامہ ایوب دہلوی کی ’’فتنہ انکار حدیث‘‘ اور افتخار احمد بلخی کی ’’انکار حدیث کا پس منظر اور پیش منظر‘‘ اہم کتب ہیں۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر درجہ ذیل کتب اہم ہیں :

عربی کتب

۱۔ ابو ھریرۃ وعاء العلم از ہاشم عقلیل عزوز دار ارلقبلہ جدہ 
۲۔ السنۃ النبویۃ فی کتابات اعداء الاسلام: مناقشتھا والرد علیھا از عماد سید الشربینی، دار الیقین مصر
۳۔ دفع الشبھات عن السنۃ النبویۃ ازعبد المھدی عبد القادر، قاہرہ
۴۔ شبھات وشطحات منکری السنۃ از ابو اسلام احمد عبد اللہ، المرکز الاسلامی قاہرہ 
۵۔ الشبہات الثلاثون المثارۃ لانکار السنۃ النبویۃ ،عرض وتفنید و نقض از عبد العظیم ابراہیم، مکتبہ وہبہ قاہرہ
۶۔ السنۃ النبویۃ ومطاعن المبتدعین فیھا از مکی شامی، دار عمان اردن
۷۔ موقف المستشرقین من السنۃ از امامہ الحبال، دار الفیحا دمشق
۸۔ المستشرقون و الحدیث النبوی از محمد بہاء الدین، دار النفائس دمشق
۹۔ البرھان فی تبرءۃ ابی ھریرۃ من البھتان ازعبد اللہ بن عبد العزیز، دار النصر قاہرہ
۱۰۔ موقف المدرسۃ العقلیۃ الحدیثۃ من الحدیث النبوی ازشفیق بن عبد اللہ، المکتب الاسلامی بیروت
۱۱۔ موقف المدرسۃ العقلیۃ من السنۃ النبویۃ از الامین الصادق، مکتبہ الرشد ریاض
۱۲۔ رد شبہ المنکرین لحجیۃ السنۃ از حمدی صبح، دار النہضہ قاہرہ
۱۳۔ زوابع فی السنۃ قدیما وحدیثا از صلاح الدین مقبول احمد، دار عالم الکتب ریاض
۱۴۔ دفاع عن السنۃ النبویۃ الشریفۃ از عزیہ علی طہ، دار القلم کویت
۱۵۔ القرآنیون وشبھاتھم حول السنۃ از منشی الٰہی بخش، مکتبہ الصدیق طائف
۱۶۔ اھتمام المحدثین بنقد الحدیث سندا و متنا ودحض مزاعم المستشرقین واتباعھم از لقمان السلفی، الریاض 
۱۷۔ السنۃ المفتری علیھا از سالم علی البھنساوی، دار البحوث العلمیہ کویت
۱۸۔ دفاع عن ابی ھریرۃ از عبد المنعم صالح، دارالشروق بیروت
۱۹۔ منکرو السنۃ فی میزان العقل والشرع از محمد نعیم ساعی، مکتبہ ام القری قاہرہ

اردو کتب

۱۔ احادیث بخاری و مسلم کو مذہبی داستانیں بنانے کی ناکام کوشش از مولانا ارشاد الحق اثری
۲۔انکار حدیث ایک فتنہ ایک سازش از محمد فرمان
۳۔انکار حدیث حق یا باطل از صفی الرحمان الاعظمی
۴۔برق اسلام بجواب طلوع اسلام از مولانا شرف الدین دہلوی 
۵۔پرویز نے کیا سوچا؟ از ڈاکٹر سبطین لکھنوی 
۶۔دلیل الفرقان بجواب اہل الاسلام از مولانا ثنا اللہ امرتسری 
۷۔صحیح قرآنی فیصلے از مولانا فضل احمد غزنوی
۸۔فتنہ انکار حدیث از مفتی ولی حسن خان ٹونکی 
۹۔فتنہ انکار حدیث اور اس کا پس منظر از مولانا عاشق الٰہی
۱۰۔فتنہ پرویزو حقیقت حدیث از منشی عبد الرحمان خان 
۱۱۔قرآنی خرافات بجوا ب پرویزی خرافات از منور حسین سیف الاسلام دہلوی 
۱۲۔قول فیصل از ماہر القادری 
۱۳۔مسئلہ انکار حدیث کا تاریخی و تنقیدی جائزہ از ڈاکٹر فضل احمد 
۱۴۔منکرین حدیث کے مغالطے از جسٹس ملک غلام علی 
۱۵۔نصرۃ الباری فی بیان صحۃ البخاری از مولانا عبد الروف جھنڈا نگری
۱۶۔نصرۃ القرآن از مولانا عبد لحمید ارشد

دوسری جہت: تاریخ حدیث و محدثین

دور جدید میں علم حدیث کی مفصل ،مرحلہ وار اور مرتب تاریخ پر قابل قدر کتب سامنے آئی ہیں۔ ان تاریخی کتب کو تین دائروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :
۱۔ علم حدیث کی عمومی تاریخ 
۲۔علم حدیث کی خصوصی تاریخ 
۳۔ائمہ حدیث کی سوانحات

۱۔ علم حدیث کی عمومی تاریخ 

عمومی تاریخ سے مراد علم حدیث کی ابتدا سے لے کر دور حاضر تک کی تاریخ ہے،جس میں دور تدوین سے لے کر دور جدید تک حدیث، اصول حدیث اور اس کے مختلف پہلووں پر ہونے والے کام کا تعارف ہو ۔ اس حوالے سے درج ذیل کام سامنے آئے ہیں :
۱۔علم حدیث کی مفصل تاریخ پر محمد محمد ابوزھو کی الحدیث و المحدثون اہم کتاب ہے ،جس میں علم حدیث کی تاریخ کو سات ادوار میں تقسیم کر کے ان ادوار کے حدیثی ذخیرے کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ معروف ہندوستانی محقق عبد الماجد غوری کی ضخیم کتاب مصادر الحدیث و مراجعہ دراسۃ و تعارف، ڈاکٹر محمد المختار کی مفصل کتاب تاریخ علوم الحدیث فی المشرق و المغرب اور عبد العزیز الخولی کی کتاب تاریخ فنون الحدیث بھی تاریخ حدیث کی اہم کتب میں سے ہیں۔
۲۔اصول حدیث کی جامع تاریخ معروف ہندوستانی محقق اور علم حدیث کے حوالے سے عصر حاضر کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر نور الدین عتر کے شاگرد علامہ عبد لماجد غوری کی ضخیم کتاب موسوعۃ علوم الحدیث و فنونہ کا طویل مقدمہ اور علم مصطلح الحدیث نشاتہ ،تطورہ و تکاملہ ہے۔ ہر دو کتب میں مولف نے دور تدوین سے لے کر عصر حاضر تک علم مصطلح الحدیث کی مفصل تاریخ بیان کی ہے اور برصغیر میں علو م الحدیث پر ہونے والے کام کابھی تفصیل سے تعارفی جائزہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ معروف سعودی محقق شیخ حاتم بن عارف کی کتاب المنھج المقترح لفھم المصطلح ایک اچھی کاوش ہے ،جس میں علم مصطلح الحدیث کا ارتقائی جائزہ لیا گیا ہے۔
۳۔ اردو میں علم حدیث کی تاریخ کے حوالے سے ڈاکٹر محمد ابو زھو کی کتاب کا ترجمہ ’’تاریخ حدیث و محدثین‘‘ ہے جو غلام احمد حریری نے کیاہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر اقبال احمد بسکوری کی کتاب تاریخ تحفظ سنت اور خدما ت محدثین‘‘ اور قاضی عبد الصمد صارم کی ضخیم کتاب ’’حسنات الاخبار المعروف تاریخ الحدیث‘‘ اہم کتب ہیں۔
۴۔اصول حدیث کی تاریخ پر اردو میں سب سے مفصل اور جامع کتاب عبد لماجد غوری اور سید احمد زکریا غوری کی مشترکہ کتاب ’’علوم الحدیث، تعارف و تاریخ‘‘ ہے۔ علم مصطلح الحدیث کی تاریخ پر اگر اسے اردو میں سب سے ممتاز کام کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر عبد الروف ظفر صاحب کی مفصل کتاب ’’علوم الحدیث فنی ،فکری اور تاریخی مطالعہ‘‘ میں بھی اصول حدیث کی تاریخ پر عمدہ مواد موجود ہے۔
ان کتب کے علاوہ اردو و عربی میں تاریخ حدیث و مصطلح الحدیث پر اہم کتب کی فہرست ذیل میں دی جارہی ہے:

عربی کتب

۱۔ السنۃ عبر العصور از طالب عبد الرحمان، دیوان المطبوعات الجزائر
۲۔ لمحات من تاریخ السنۃ و علوم الحدیث از عبد الفتاح ابو غدہ
۳۔ مصادر السنۃ ومناھج مصنفیھا از حاتم بن عارف العونی 
۴۔ بحوث فی تاریخ السنۃ المشرفۃ از ڈاکٹر اکرم العمری
۵۔ الحدیث النبوی،مصطلحاتہ، بلاغتہ وکتبہ از الدکتور محمد الصباغ 
۶۔ تاریخ السنۃ النبویۃ از عبد المہدی بن عبد القادر، قاہرہ
۷۔ تاملات منھجیۃ فی تاریخ السنۃ واصول الحدیث از موسی ابراہیم، قطر 
۸۔ تاریخ السنۃ وبیا ن حالھا فی جمع عصورھا از عبد العزیز نور، القاہرہ
۹۔ تاریخ الحدیث و مناھج المحدثین از محمود سالم عبیدات، دار المناہج عمان
۱۰۔ علوم السنہ و علوم الحدیث، دراسۃ تاریخیۃ از عبد اللطیف عامر، مکتبہ وہبیہ قاہرہ
۱۱۔ لمحات فی اصول الحدیث از محمد ادیب صالح، المکتب الاسلامی بیروت
۱۲۔ اصول الحدیث: علومہ ومصطلحہ از عجاج الخطیب 
۱۳۔ علم الرجال: نشاتہ و تطورہ از محمد بن مطر الزہرانی، دارالہجرہ ریاض
۱۴۔ علم الرجال: تعریفہ و کتبہ از عبد الماجد غوری
۱۵۔ الحدیث النبوی: تاریخہ و علومہ و مصطلحہ از محمد عمر الحاجی دار الحافظ دمشق

اردو کتب

۱۔تاریخ حدیث از غلام جیلانی برق
۲۔تاریخ حدیث و اصول حدیث ڈاکٹر مصطفی طاہر
۳۔ابحیثیتِ فن، اصولِ حدیث کا ارتقائی وتحقیقی مطالعہ از ارشاد علی، کلیہ معارف اسلامیہ کراچی یونیورسٹی 

۲۔علم حدیث کی خصوصی تاریخ 

خصوصی تاریخ سے مراد کسی خاص صدی، ملک یا طبقے کی خدمات حدیث کی تاریخ ہے۔ یہ چونکہ وسیع الاطراف موضوع ہے، اس لیے اس کا احاطہ تو نہیں کیا جاسکتا،البتہ چند اہم کاوشوں کی نشاندہی کی جاتی ہے :
۱۔خصوصی تاریخ میں خاص طور پر علم حدیث پر ہونے والے جدید تصنیفات کا تعارفی مواد زیادہ ہے ،اس حوالے سے ڈاکٹر خلدون احدب کی دو جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب التصنیف فی السنۃ النبویۃ وعلومھا قابل ذکر ہے ،جس میں مصنف نے ۱۳۵۱ھ سے لے کر ۱۴۲۵ھ تک علم حدیث پر ہونے والے کاموں کی فہرست دی ہے۔اس کے علاوہ محمد عبد اللہ صعیلیک کی جھود المعاصرین فی خدمۃ السنۃ المشرفۃ، فاروق حمادہ کی تطور دراسات السنۃ النبویۃ و نھضتھا المعاصرۃ وآفاقھا قابل ذکر کتب ہیں۔
۲۔ ہندوستان میں علم حدیث کی تاریخ کے حوالے سے عبد الرحمان عبد الجبار الفریوائی کی کتاب جھود مخلصۃ فی خدمۃ السنۃ المطھرۃ اہم کتاب ہے ،جس میں فتح ہند سے لے کر دور جدید تک علم حدیث کی جامع و مختصر تاریخ بیان کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر سہیل حسن کی جھود محدثی شبہ القارۃ الھندیۃ فی خدمۃ الکتب المسندۃ المشھورۃ فی القرن الرابع عشر الھجری، ڈاکٹر تقی الدین ندوی کی اعلام المحدثین فی الھند، ڈاکٹر عبد الماجد غوری کی اعلام المحدثین فی الھند فی القرن الرابع عشر الھجری وآثارھم فی الحدیث وعلومہ اور مساھمۃ علماء الھند فی الحدیث النبوی فی القرنین الرابع والخامس عشر الھجریین: دراسۃ استقرائیۃ نقدیۃ، خالدہ ریحانہ کا پی ایچ ڈی کا مقالہ تطور علم الحدیث فی الھند اور ڈاکٹر ولی اللہ کا پی ایچ ڈی مقالہ علماء الحدیث فی بلاد الھند وجھودھم فی الحدیث فی القرن الثالث عشر والرابع عشر الھجریین اہم کتب ہیں۔
۳۔ اردو میں اس حوالے سے قاضی اطہر مبارک پوری کی ’’ہندوستان میں علم حدیث کی اشاعت‘‘، مولانا ارشاد الحق اثری کی ’’پاک وہند میں علمائے ہل الحدیث کی خدمات حدیث‘‘، ڈاکٹرمحمداسحاق کی ’’علم حدیث میں پاک وہند کا حصہ‘‘ (یہ کتاب اصلاً انگریز میں لکھی گئی ہے)، ڈاکٹر سعد صدیقی کی ’’علم حدیث اور پاکستان میں اس کی خدمت‘‘، عبد الرشید عراقی کی ’’برصغیر پاک وہند میں علم حدیث‘‘ اہم کتب ہیں۔
۴۔ عورتوں کی علم حدیث میں خدمات اور اس کی مفصل تاریخ پر معاصر سطح پر قابل قدر کتب لکھی گئی ہیں۔ آما ل حسین کی دور المراۃ فی خدمۃ الحدیث فی القرون الثلاثۃ الاولی، محمد بن عزوز کی صفحات مشرقۃ من عنایۃ المراۃ بصحیح البخاری، صالح یوسف کی جہود المراۃ فی روایۃ الحدیث فی القرن الثامن الھجری، عبد العزیز الاہل کی طبقات النساء المحدثات اور مشہور حسن آل سلمان کی عنایۃ النساء بالحدیث النبوی اہم کتب ہیں۔
۵۔خاص خطوں اور مخصوص ادوار میں اہل علم کی خدمات حدیث اور ذخیرہ حدیث کی تاریخ پر مشتمل کتب سامنے آئی ہیں، جیسے مصطفی بیسونی کی ضخیم کتاب مدرسۃ الحدیث فی مصر،حسین شواط کی قابل قدر کتاب مدرسۃ الحدیث فی القیروان من الفتح الاسلامی الی منتصف القرن الخامس الھجری، مصطفی الاعظمی کی المحدثون من الیمامۃ الی ۲۵۰ھ، امین القضاۃ کی مدرسۃ الحدیث فی البصرۃ حتی القرن الثالث الھجری، عبد اللہ الحمیری کی الحدیث و المحدثون فی الیمن فی عصر الصحابۃ، محمد بن عزوز کی مدرسۃ الحدیث فی بلاد الشام خلال القرن الثامن الھجری، یوسف الکتان کی مدرسۃ الامام البخاری فی المغرب اور عبد الہادی احمد الحسین کی مظاھر النھضۃ الحدیثیۃ فی عھد یعقوب المنصور الموحدی جیسی کتب ہیں۔ اس طرز پر دنیا کے مختلف خطوں اور اسلامی تاریخ کے اہم ادوار کے ذخیرہ حدیث کی تاریخ لکھی گئی ہے ۔ اس طرز کی تاریخی کتب عام طور پر جامعات کی سطح پر پی ایچ ڈی و ایم فل مقالات کی شکل میں سامنے آئی ہیں۔

۳۔ ائمہ حدیث کی سوانح 

علم حدیث کی تاریخ کا تیسرا دائرہ نامور محدثین کی سوانح اور ان کی خدمات حدیث پر مشتمل کتب ہیں۔ صحاح ستہ سے لے کر دیگر محدثین اور رواۃ کی مفصل سوانح لکھی گئی ہیں ،جن میں صاحب سوانح کے مفصل حالات ،اساتذہ ،کتاب حدیث ،منہج اور اس کی کتاب کی خصوصیات کا تذکرہ شامل ہے۔چند کتب کے نام پیش خدمت ہیں :
۱۔ ابو جعفر الطحاوی و اثرہ فی الحدیث از عبد المجید محمود، الہیءۃ المصریہ قاہرہ
۲۔ الحافظ الخطیب البغدادی و اثرہ فی علوم الحدیث از محمود طحان، دار القرآن الکریم بیروت
۳۔ معمر بن راشد الصنعانی: مصادرہ و منھجہ واثرہ فی روایۃ الحدیث از محمد رافت سعید، عالم الکتب ریاض 
۴۔ الامام الزہری و اثرہ فی السنۃ از حارث سلیمان الضاری، مکتبہ البسام عراق
۵۔ الحافظ ابن حجر العسقلانی، امیر المومنین فی الحدیث از عبد الستار شیخ، دار القلم دمشق
۶۔ الامام النووی و اثرہ فی الحدیث و علومہ از احمد عبد العزیز الحداد، دار البشائر الاسلامیہ بیروت
۷۔ مکانۃ الامام ابی حنیفہ فی الحدیث از عبد الرشید النعمانی، مکتب المطبوعات الاسلامیہ حلب 
۸۔ الا مام البخاری فقیہ المحدثین ومحدث الفقھاء: سیرتہ، صحیحہ، فقھہ از نزار بن عبد الکریم جامعہ ام القری مکہ 
۹۔ الامام البخاری سید الحفاظ و المحدثین از تقی الدین ندوی، دار القلم دمشق
۱۰۔ ابو داود الامام الحافظ الفقیہ از تقی الدین ندوی، دار القلم دمشق
۱۱۔ الامام مسلم بن الحجاج صاحب المسند الصحیح و محدث الاسلام الکبیر از مشہور حسن ال سلیمان، دار لقلم دمشق
۱۲۔ ائمۃ الحدیث الشریف البخاری ،مسلم ،ابو داود ،الترمذی، النسائی ،ابن ماجہ از محمد علی قطب دار القلم بیروت (مزید التصنیف فی السنۃ النبویہ ص ۲۳۸ تا ۲۴۰)
۱۳۔ امام ابو حنیفہ امام الائمہ فی الحدیث از طاہر القادری 
۱۴۔ امام دار قطنی از مولانا ارشاد الحق اثری
۱۵۔سیرہ البخاری از مولانا عبد السلام مبارکپوری 
۱۶۔مشہور محدثین کرام از رفیق بلند شہری 

تیسری جہت: علوم الحدیث 

مصطلح الحدیث پر معاصر سطح پر متنوع کام ہوا ہے اور بلا شبہ کمیت و کیفیت میں قابل قدر اور قابل ذکر تصانیف لکھی گئی ہیں۔ علم اصول حدیث پر ہو نے والے جدید کام کو چار جہات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :
۱۔علم اصول حدیث کی جدید ترتیب و تدوین 
۲۔ متون قدیمہ کی تشریح و توضیح 
۳۔اصول حدیث کے مختلف موضوعات پر خصوصی تصنیفات
۴۔مصطلح الحدیث پر تطبیقی کام 

۱۔ علم اصول حدیث کی جدید ترتیب و تدوین 

دور جدید میں علو م اسلامیہ کی تجدید اور نئے طرز پر ترتیب و تدوین کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں ،اور ہر علم و فن میں اس حوالے سے متعدد کاوشیں منظر عام پر آئی ہیں۔ اصو ل حدیث کے مباحث کی ترتیب جدید اور تہذیب وتنقیح پر بھی معاصر سطح پر قابل قدر کام ہوا ہے ۔چند اہم کاوشو ں کی نشان دہی کی جاتی ہے :
۱۔ معروف شامی عالم ڈاکٹر نور الدین عتر کی کتاب منہج النقد فی علوم الحدیث بلا شبہ مصطلح الحدیث کی ترتیب جدید کی نمائندہ کتا ب ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے اصول حدیث کے جملہ مباحث کو اولاً بڑے دائروں میں تقسیم کر کے پھر ہر ایک دائرے کی ذیلی شاخیں اور فروعات نکالی ہیں ،اس طرح سے مکمل علم کو ایک مرتب و مربوط شکل دی ہے۔
۲۔معروف مصری محقق ڈاکٹر محمد محمد السماحی نے اصول حدیث کو بسط و تفصیل کے ساتھ موسوعاتی شکل میں بیان کرنے کے لیے کئی جلدوں پر مشتمل مفصل کتاب المنہج الحدیث فی علو م الحدیث لکھی ہے جس میں تفصیل کے ساتھ مصطلح الحدیث کو بیان کیا ہے۔
۳۔ شیخ الاسلام مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب کی کتاب قواعد فی علوم الحدیث، مصطلح الحدیث کی کتب میں بیا ن کردہ قواعد و اصول کی تنقیح و تہذیب کے اعتبار سے ایک تجدیدی کاوش ہے۔ یہ کتاب در اصل اعلاء السنن کا طویل مقدمہ ہے جس میں مصنف نے خاص طور پر فقہا کے طرز پر قواعد حدیث کو بیان کیا ہے اور حدیث کے قبول و رد میں فقہا و محدثین کے مناہج کے فرق کو واضح کیا ہے۔
ان کے علاوہ اس موضوع پر بے شمار کام سامنے آئے ہیں ،اور اصول حدیث پر جدید ترتیب ،تسہیل اور تدوین کے ساتھ مختصر و ضخیم کتب لکھی گئیں ہیں۔ چند اہم کتب کی فہرست دی جاتی ہے :
۱۔ قواعد التحدیث من فنون مصطلح الحدیث از جمال الدین القاسمی، موسسہ الرسالہ بیروت 
۲۔ المصباح فی اصول الحدیث از سید قاسم الترکی ،مکتبہ الزمان المدینہ المنورہ 
۳۔ توجیہ النظر الی اصول الاثر از شیخ طاہر الجزائری، مکتب المطبوعات حلب
۴۔ الوسیط فی علوم الحدیث از ڈاکٹر محمد ابو شہبہ، دار المعرفہ جدہ 
۵۔ علوم الحدیث و مصطلحہ از ڈاکٹر صبحی صالح، دار العلم بیروت
۶۔ لمحات فی اصول الحدیث از محمد ادیب صالح، دار العلم بیروت 
۷۔ تیسیر مصطلح الحدیث از محمود الطحان 
۸۔ الایضاح فی علوم الحدیث و الاصطلاح از مصطفی سعید الخن و الدکتور سید اللحام، دار الکلم الطیب دمشق
۹۔ تحریر علوم الحدیث از عبد اللہ بن یوسف الجدیع، دار الریان بیروت
۱۰۔ المنہاج الحدیث فی علوم الحدیث از الدکتور شرف القضاۃ، الاکادیمیون للنشر و التوزیع عمان 
۱۱۔ المنہج الحدیث فی تسہیل علوم الحدیث از الدکتور علی نائف البقاعی، دار البشائر الاسلامیہ بیروت (موسوعہ علوم احدیث و فنونہ از عبد الماجد غوری ۸۶ تا ۲۸)
۱۲۔ الموجز فی علوم الحدیث از محمد علی احمدین، قاہرہ
۱۳۔ الاسلوب الحدیث فی علوم الحدیث از محمد امین، قاہرہ
۱۴۔ تبسیط علوم الحدیث وادب الروایۃ از محمد نجیب المطیعی، مطبعہ حسان قاہرہ
۱۵۔ علوم الحدیث از عبد الکریم زیدان و عبد القہار داود عبد اللہ، مکتبہ جامعہ بغداد
۱۶۔ منھج التحدیث فی علوم الحدیث از رجب ابراہیم صقر، دار الطباعہ قاہرہ
۱۷۔ النھج الحدیث فی مختصر علوم الحدیث از علی محمد نصر، رابطہ العالم الاسلامی مکہ مکرمہ 
۱۸۔ المختصر الوجیز فی علوم الحدیث از محمد عجاج الخطیب، موسسہ الرسالہ بیروت
۱۹۔ اصول الحدیث النبوی، علومہ ومقاییسہ از عبد المجید ہاشم، دار الشروق قاہرہ
۲۰۔ قواعد مصطلح الحدیث از محمود عمر ہاشم قاہرہ 
۲۱۔ النھج المعتبر فی مصطلح اھل الاثر از عبد الموجود عبد اللطیف، دار الطباعہ قاہرہ
۲۲۔ علوم السنۃ وعلوم الحدیث، دراسۃ تاریخیۃ حدیثیۃ اصولیۃ از عبد اللطیف محمد عامر، مکتبہ وہبہ قاہرہ
۲۳۔ مھمات علوم الحدیث از ابراہیم آل کلیب ،دار الوراق ریاض
۲۴۔ قطف الثمر من علم الاثر از محمد احمد سالم قاہرہ 
۲۵۔ المنھل الحدیث فی علوم الحدیث از تو فیق احمد سالمان قاہرہ 

اردو کتب

۱۔ التحدیث فی علوم الحدیث از ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر 
۲۔ علوم الحدیث مطالعہ و تعارف از رفیق احمد سلفی 
۳۔علوم الحدیث ایک تعارف از مبشر نذیر
۴۔علوم حدیث رسول از ڈاکٹر رانا محمد اسحاق
۵۔ آسان اصول حدیث از خالد سیف اللہ رحمانی 
۶۔علوم الحدیث مصطلحات و علوم از ڈاکٹر خالد علوی 
۷۔فوائد جامعہ بر عجالہ نافعہ از ڈاکٹر عبد الحلیم چشتی

۲۔ متون اصول حدیث کی تشریح و توضیح 

مصطلح الحدیث پر دور جدید میں ہونے والے کام کا بڑا حصہ اصول حدیث کی بنیادی کتب کی تشریح ،تو ضیح اور ان پر تعلیقات ہیں۔اس سلسلے میں مصطلح الحدیث کی جملہ بنیادی کتب پر شروحات لکھی گئی ہیں ، الرامہرمزی کی المحدث الفاصل، حاکم نیسابوری کی معرفہ علوم الحدیث ،خطیب بغدادی کی کفایہ ،قاضی عیاض کی الالماع،ابن الصلاح کا مقدمہ، ابن کثیر کی اختصار علوم الحدیث ،ابن دقیق العید کی الاقتراح ،علامہ ذہبی کی الموقظہ ،جرجانی کی المختصر حافظ الدنیا حافظ ابن حجر کی نخبہ ،عراقی کی الفیہ اور علامہ سیوطی کی تدریب الراوی سمیت اصول حدیث کی جملہ بنیادی کتب، متون و منظومات کی شروحات و تعلیقات منظر عام پر آئی ہیں،چند اہم کاوشو ں کی فہرست دی جارہی ہے :
۱۔ شرح اختصار علوم الحدیث از احمد محمد شاکر، دار العاصمہ ریاض
۲۔ تسھیل شرح نخبۃ الفکر از محمد انور البدخشانی، ادارۃ القرآن کراتشی
۳۔ تقریب التدریب از صلاح محمد عویضہ، دار الکتب العلمیہ بیروت
۴۔ السعی الحثیث الی شرح اختصار علوم الحدیث از عبد العزیز بن الصغیر دخان، موسسہ الرسالہ بیروت
۵۔ اسعاف ذوی الوطر بشرح نظم الدرر فی علم الاثر للسیوطی از محمد بن علی الاثیوبی، مکتبہ ابن تیمیہ جدہ
۶۔ شرح البیقونیہ فی مصطلح الحدیث از محمد بن صالح عثیمین، مکتبہ السنہ قاہرہ
۷۔ ظفر الامانی بشرح مختصر السید شریف الجرجانی از عبد الحی اللکنوی، دار الکتب العلمیہ بیروت
۸۔ المنھل الروی من تقریب النووی از سعید مصطفی الخن دار الملاح دمشق
۹۔ کفایۃ الحفظۃ شرح المقدمۃ الموقظۃ از سلیم بن عید الھلالی
۱۰۔ شرح نزھۃ النظر از محمد بن صالح العثمین، مکتبہ السنہ، قاہرہ
۱۱۔ منحۃ المغیث شرح الفیۃ الحدیث از مولانا محمد ادریس کاندھلوی 
(جاری)

دینی مدرسہ میں استاد کا کردار (۱)

مولانا محمد رفیق شنواری

اپنے اہل خانہ کے بعد طالب علم جس شخصیت سے زیادہ متا ثر ہوتا ہے، وہ اس کا استاد ہے۔ طالب علم اپنے استاد سے تہذیبی اقدار اور اخلاقیات کے وہ اسالیب سیکھتا ہے جو اس کی زندگی کا رُخ بدل دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ استاد کی ’’شخصیت‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ آسان لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’شخصیت‘‘ سے مراد اس کا رویہ اور ظاہری تصویر مثلاً لباس، چال ڈھال، لب و لہجہ اور برتاؤ ہے۔ ’’مثالی‘‘ کا سابقہ ساتھ لگا کر استاد یعنی ’’مثالی استادکی شخصیت‘‘ کے مفہوم میں چند دیگر امور بھی شامل ہوتے ہیں۔ استاد کی شخصیت تب کامل ہوگی جب اعلیٰ اخلاق، حسین ظاہر ی تصویر کے ساتھ تدریسی عمل میں اخلاصِ نیت، ذاتی شوق و دلچسپی اور تدریسی عمل کے ذریعے طالبِ علم کی اصلاح و تربیت کا اور اسی طرح مثالی طلبہ کے ذریعے پورے معاشرے کی تعمیر کا جذبہ شامل ہو۔ دینی مدارس کے اساتذہ کرام کے لیے اپنی شخصیت میں نکھار ، حسن اور شائستگی پیدا کرنے کے لیے بہترین نمونہ تو سیرت طیبہ ہی ہے، اس کے بعد اسلاف کی عظیم تاریخ ہے ۔ جس میں شخصیت کی تکمیل و تحسین کا پورا سامان موجود ہے۔ عصر حاضر کے تناظر میں بات کی جائے تو واضح رہنا چاہیے کہ استاد کا کام طالب علم کو محض چند اسباق یا کتب پڑھا دینا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل کام اپنے طلبہ میں علم کا شوق پیدا کرنا، مزید جاننے کی لگن پیدا کرنا اور تحقیق و جستجو کے لیے ان کی استعداد میں اضافہ کرنا ہے۔

استاد کا ظاہر

استاد جتنی دلکش اور اچھی شخصیت کا مالک ہوتا ہے اس کا اتنا ہی اچھا اور مثبت اثر طالب علم پر پڑتا ہے ۔ طالب علم اپنی شخصیت کی تعمیر میں اس کا اتباع کرتا ہے اور حصول علم میں اس کی زبان سے ادا ہونے والے ایک ایک لفظ پر خصوصیت کے ساتھ توجہ دیتا ہے ۔استاد کا ظاہر کافی وسیع مفہوم رکھتا ہے جس پر مسلمان اہل علم، بالخصوص محدثین کے قدیم ادوار ہی کی تحریر یں موجود ہیں۔ جو عام طور پر ’’سامع و متکلم‘‘ یعنی حدیث لینے والے طالب علم اور حدیث بیان کرنے والے استادکے لیے آداب کے عنوان سے معروف ہیں۔ بطور مثال یہاں چند آداب کا ذکر غیر ضروری نہ ہوگا۔

استاد کا جذبِ دروں

ایک استاد مثالی تب کہلاتا ہے جب اس کے عمل تدریس میں ضروری مثالی عوامل و محرکات موجود ہوں۔ مثلاً : نیت کا اخلاص، علمی رسوخ، معاشرے کی تعمیر کا جذبہ وغیرہ۔

خالص نیت

یہ ایک نہایت تاکیدی امر ہے کہ تعلیم و تدریس کا عمل ریا سے خالی ہو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم ا سے نقل کرتے ہیں کہ قیامت کے دن عالم کو اللہ تعالیٰ طلب فرمائیں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ میں نے تجھے علم دیا تھا تونے اس کا کیا حق ادا کیا؟ وہ کہے گا یا رب میں نے آپ کی رضا کے لیے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھا یا تاکہ آپ راضی ہو جائیں، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جھوٹ بولتا ہے اور فرشتے بھی اُسے کہیں گے کہ تو جھوٹ بولتا ہے ، تونے اس لیے سیکھا اور سکھایا تاکہ تو بڑا عالم کہلائے، سو تجھے دنیا میں وہ کہا جاچکا اور پڑھنے پڑھانے سے جو غرض تھی وہ پوری ہوگئی، پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیں گے اور وہ اس کو جہنم کی آگ میں اوندھے منہ پھینک دیں گے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث سناتے ہوئے تین بار غش کھا کھا کر گرے تھے اور پانی کے چھینٹے ڈال کر آپؓ کی طبیعت کو بحال کیا گیا تھا۔(الترغیب و الترہیب)

اپنے مضمون اور اس کی تدریس کے ساتھ شوق اور دلچسپی

کسی بھی استاد کو اپنا عملِ تدریس مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مضمون اور تخصّص کے ساتھ گہری دلچسپی اور شوق رکھتا ہو۔ کیونکہ شوق اور جذبہ وہ بنیادی چیز ہے جس کی بنیاد پر ایک انسان کوئی بھی کام بے لوث ہو کر احساس ذمہ داری کے ساتھ کرسکتا ہے۔ 

معاشرے کی تعمیر کا جذبہ

کوئی بھی عمل تدریس اس وقت تک مفید اور موثر نہیں ہوسکتا جب تک اس کے پیچھے قومی تعمیر نو کا جذبہ نہ ہو۔ استاد کی ذمہ داری صرف اس حد تک نہیں کہ وہ درس گاہ میں آئے، پڑھائے اور بس۔ بلکہ اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ تدریس کے ذریعے معاشرے میں مصلحین پیدا کرے۔ تدریس کے لیے ضروری ہے کہ استاد کے اندر خود معاشرے کی تعمیر کا جذبہ ہو، معاشرے کی کمزوریوں اور تقاضوں اور ضروریات کا ادراک ہو۔ وہ انہی کی روشنی میں اہداف کا تعین کرے اور پھر اس کے مطابق اپنی تدریس کی طرف متوجہ ہو۔

سیرت طیبہ اور اسلاف سے مثالیں

جیساکہ اوپر ذکر ہوا، مدارسِ دینیہ میں تدریسی عمل کو مؤثر بنانے کے لیے بہترین نمونہ سیرت طیبہ اور اپنے اسلاف کی تاریخ ہے ۔ استاد کے سامنے اپنے لیے ضابطہ اخلاق کے تعین کا مسئلہ ہو، یا رویے اور برتاؤ کے اصول درکار ہوں، یا تدریس کے لیے آداب و قواعد وضع کرنے کا معاملہ ہو، تدریسی عمل کے تمام پہلوؤ ں کی بنیادیں سیرت طیبہ اور قدیم مسلمان اہل علم و فکر کے یہاں ملتی ہیں۔ اس لیے دینی مدارس کے استاد کے لیے بالخصوص اور اسلامی نظام تعلیم کے ہر استاد کے لیے بالعموم سیرت طیبہ اور تاریخ اسلام کی اہمیت کبھی بھی کم نہیں ہوسکتی۔ یہ حقیقت بھی ذہنوں میں مستحضر رہے کہ زمانے کے ’’عرف‘‘ بدل جانے اور نئی ایجادات اور مفید انسانی تجربات کو اختیار کرنے سے تدریس کی دنیا میں جو انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں، دینی مدرسے کا استاد اس سے اجنبی نہ رہے، بلکہ اَلْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ (حکمت مومن کی گم شدہ متاع ہے۔ ترمذی) کے مصداق نئے مفید طریقوں کو اختیار کرنے کو سیرت پر عمل کا تقاضا ہی سمجھے۔
نبی کریم ا کا ارشاد گرامی ہے کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے (تخریج الاحیاء) ۔ آپؐ کی عمر کا آخری تیئس سالہ عہدِ نبوت مکمل تعلیم و تربیت میں گزرا ہے۔ وہ ایسے معلم تھے جن کی تعلیم و تربیت نے اس مختصر مدت میں نہ صرف پورے جزیرہ عرب کی کایا پلٹ کر رکھ دی بلکہ پوری دنیا کے لیے رشد وہدایت کی وہ ابدی قندیلیں بھی روشن کردیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کو عدل و انصاف، امن و سکون اور عافیت و اطمینان کی راہ دکھاتی رہیں گی۔ یہ آپؐ کی تعلیم و تربیت کا حیرت انگیز کرشمہ تھا کہ تیئس سال کی مختصر مدت میں صحرائے عرب کے جنگجو قبائلی جو علم و معرفت اور تہذیب و تمدن سے بالکل کورے تھے، وہ پوری دنیا میں علم و حکمت اور تہذیب و شائستگی کے چراغ روشن کرنے لگے ۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت کا جو سو فیصدکامیاب نتیجہ دنیا نے دیکھا ہے ، تاریخ انسانیت کے کسی اور معلم کے یہاں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آج کا استاد ذرا غور تو کرے کہ آنحضرت ا کی تعلیم و تربیت کی وہ کیا بنیادی خصوصیات تھیں جنہوں نے دنیا بھر میں یہ حیرت انگیز انقلاب برپا کردیا! (۲)

تدریسی اور فنی مہارتیں

اپنے مضمون پر مکمل عبور

علم وفن کو دوسروں کی طرف منتقل کرنے بلکہ پورے تعلیمی عمل کی کامیابی اور مؤثر حکمت عملی کا انحصار اس پر ہے کہ استاد اعلیٰ استعداد کا مالک ہو اور خود نفسِ مضمون پر عبور رکھتا ہو۔ چنانچہ استاد کا فرض ہے کہ وہ اپنی صلاحیت اور استعداد کو مسلسل مزید جلا بخشے ، اس میں پختگی پیدا کر ے، اپنے مضمون اور شعبۂ علم میں جدید تحقیقات اور نئے علمی کام سے باخبر رہے، کیونکہ آج دنیا میں علم ایک تیز رفتار چشمے کی طرح پھوٹ رہا ہے، جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے یہ پھیلتا چلا جاتاہے ۔آج مسلسل مطالعہ ایک معلم کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کھیتوں اور باغوں کے لیے پانی ۔اس سلسلے میں غفلت برتنے سے علمی پیش رفت رُک جاتی ہے ، سوچیں محدود ہوجاتی ہیں، حال کا اطمینان غارت اور مستقبل کا یقین متزلزل ہوجاتا ہے۔ علم بڑا غیور واقع ہوا ہے۔ اگر اُسے ذوق و شوق ، محنت، قلبی لگاؤ اور رضا کار انہ محنت و مشقت کے جذبے کے بغیر محض مطلب برآری اور کسب معاش کے لیے پڑھا اور پڑھا یا جائے تو اس کی حقیقی روح پر دسترس ممکن نہیں رہتی ۔مشہور عربی کہاوت ہے: اَلْعِلْمُ لَایُعْطِیْکَ بَعْضَہٌ حَتّٰی تُعْطِیْہِ کُلَّکَ (اپنی جان و مال پوری کی پوری علم کے حصول کے لیے استعمال کی جائے تب تھوڑا سال علم حاصل ہو تا ہے ) ۔ مضمون پر دسترس نہ ہوتو معلم علم و فضلیت کے لاکھ لبادے اوڑھے علمی بدذوقی کے داغ نہیں چھپتے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زمین سے ابلنے والا چشمہ اتنی ہی قوت اور رفتار سے ابلتا ہے جتنا زمین کی سطح کے نیچے پانی کا دباؤ ہوتا ہے ۔ اگر ایک معلم علمی لحاظ سے تہی دامن ہے ، دین و دانش کی بنیادی قدروں سے محروم ہے ، اسے صحیح اسلامی عقائد و اعمال، اخلاق و کردار اور تاریخ کا علم نہیں تو وہ کسی بھی صورت اپنے شاگرد کے قلب و نظر میں گیرائی اور گہرائی پیدا نہیں کرسکتا۔ اسلامی نقطۂ نظر سے ایک اچھا معلم ایک اچھے معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں خود بھی اپنے اندر حصول علم کا ذوق و شوق پیدا کرنا چاہیے، اور یہی ذوق اپنے متعلمین کے اندر پیدا کرنے کا متمنی ہونا چاہیے۔ اپنے مضمون پر مکمل دسترس اور اس کی گہرائیوں تک رسائی جہدو کاوش، محنت و سعی اور طلب و جستجو کی متقاضی ہے۔
دینی مدارس میں پڑھائے جانے والے تمام علوم۔ تفسیر و اصولِ تفسیر، حدیث و اصولِ حدیث، فقہ و اصول فقہ، عربی ادب ۔ پر دنیا بھر میں کام ہورہا ہے ۔ مختلف علوم میں مختلف زاویوں سے بحث و تحقیق کا عمل جاری ہے۔ ہر علم کے نئے پہلوؤں اور جدید مسائل پر عصری مباحث کے ساتھ ساتھ قدیم کتب کا ذخیرہ بھی ایڈیٹنگ، فہرست سازی اور اصولِ تحقیق پر پورا اترنے والے جدید معیارات کے ساتھ آراستہ کیا جا رہا ہے۔ دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے بھی ان تمام کاوشوں اور محنتوں سے باخبر رہنا ضروری ہے جس کا فائدہ علم میں اضافہ، اس میں وسعت اور گہرائی اور رسوخ حاصل کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ فائدہ بھی ہے کہ اگر اسلامی علوم میں غلطی سے یا بدنیتی کی بنا ء پر کوئی خلاف حقیقت دخیل سازی اور پیوندکاری کا ارتکاب کرے تو اس کا ادراک بھی ہوگا اور بروقت اس کا راستہ روکنے کے لیے موقع بھی میسر ہوگا۔

طلبہ کی نفسیات سے آگہی

معیاری تدریس کے لیے یہ بات بھی انتہائی ضروری ہے کہ تدریس بچے کی نفسیات کے مطابق ہو۔ اگر تعلیمی عمل میں طلبہ کی نفسیات کا لحاظ نہ رکھا جائے تو طلبہ کا تعلیم سے متنفر اور بیزار ہونے کا خدشہ رہتا ہے اور ان کی صلاحتیں نکھر کرسامنے نہیں آسکتیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ کلاس میں موجود طلبہ کی فطرت، ضرورت اور صلاحیت کے مطابق تدریسی تقاضوں کو پورا کیا جائے ان کی کسی طور پر حوصلہ شکنی نہ کی جائے ۔ ان کے اندر موجود صلاحیت کی صحیح طور پر راہنمائی کی جائے ۔ پیا ر اور محبت سے ان کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرکے ان کی صلاحیتوں کو مزید جلا مل سکتی ہے ۔
استاد کے لیے تمام طلبہ کی نفسیات کا لحاظ رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ طالب علم عمر، علاقہ، ماحول، کلچر اور خاندان وغیرہ کئی پہلوؤں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان اعتبارات کی بنیاد پر اختلاف کے نتیجے میں ان کے احساسات، جذبات، خیالات اور تقاضوں میں بھی بڑا اختلاف موجود ہوتا ہے۔ اس لیے ان سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا جہاں مشکل ہے وہاں یہ صحیح بھی نہیں ہے۔ اس لیے استاد کو تعلیم و تربیت دونوں میں طلبہ کی نفسیات کا خیال رکھنا ہوگا۔
تربیت کے پہلو سے اگر دیکھا جائے تو ہر انسان کے عمل سے پہلے اس کا ارادہ ہوتا ہے۔ ارادے سے پہلے خیالات اور خیالات پیدا ہونے کے اسباب ہوتے ہیں۔ ترتیب یوں ہو گی: (۱)اسباب، (۲) خیالات، (۳) ارادے، (۴) اعمال، (۵) اور پھر ان اعمال پر مرتب ہونے والے نتائج۔
تعلیم و تربیت کے پہلو سے استاد کو سب سے پہلے شاگردوں کے خیالات کو جنم دینے والے عوامل اور اسباب پر نظر کرنی چاہیے۔ اسباب میں سب سے پہلا طالب علم کی فطرت ہے۔ استاد کے لیے طلبہ کی فطرت کو بالکل بدل دینا تو ممکن نہیں لیکن محنت کے ساتھ اس فطرت کو سنوارا ضرور جاسکتا ہے۔ دوسرا اہم پہلو طلبہ کے ’’مادی مزاج‘‘ سے آگہی ہے۔ جس پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں کھانا پینا اور مختلف لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا شامل ہیں۔ حلال اور کم کھانے اور صالح لوگوں کی صحبت کا اثر اچھا ہوتا ہے ۔ استاد کو ان عوامل پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ تیسرا سبب بعض اتفافات ہوتے ہیں جو اچھے یا بُرے خیالات کا سبب بن جاتے ہیں۔ مثلاً کوئی گناہ کا عادی اتفاقاً کسی نیک مجلس یا اصلاحی موقع پر پہنچ گیا تو فوراً خیال بدل گیا اور گناہ سے تائب ہوگیا۔
تربیت کے پہلو کے ساتھ ساتھ تعلیم کے دوران بھی استاد کو طلبہ کی نفسیات جاننا ضروری ہے۔ تعلیم کی دو صورتیں ہیں: انفرادی اور اجتماعی۔ انفرادی تعلیم کی مثال حفظِ قرآن ہے۔ اس صورت میں استاد کو چاہیے کہ طالب علم کی ذہنی سطح اور شوق معلوم کرکے اس کے مطابق حفظ کرائیں۔ تعلیم کی دوسری صورت اجتماعی تعلیم ہے ۔ جس کا عمومی رواج ہے، یعنی ایک کلاس میں مختلف طلبہ ایک استاد سے ایک وقت میں ایک ہی کتاب پڑھتے ہیں، جبکہ کلاس میں شریک طالب علم عمر، ذاتی شوق اور اپنی فطری صلاحیت کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ استاد کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ و ہ کتاب کی تدریس اس طریقہ سے کرے کہ تمام طلبہ اس کو اپنی صلاحیت کے برابر پائیں، کوئی طالبِ علم اسے اپنی سمجھ سے بالاتر محسوس نہ کرے۔ استاد کو چاہیے کہ اپنی پوری کلاس کی نفسیات جان کر تدریس کا فریضہ ادا کرے۔ تدریسی مہارت کے ساتھ جب نفسیاتی مہارت بھی ہوتو پوری جماعت کی تعلیمی ترقی آسان اور بہتر ہوجاتی ہے۔ استاد کی ذمہ داری ہے کہ تدریس کے ساتھ طلبہ کی راہنمائی بھی کریں، مثلاً:مطالعہ کا وقت اور طریقہ بتلائیں، کسی خاص متعلقہ مفید کتا ب کی نشاندہی کریں، طالب کو احساس کمتری سے بچائیں اور خود اعتماد بنائیں۔(۳)

ابلاغ کی صلاحیت

عمل تعلم تمام تعلیمی سرگرمیوں کا مرکزی نکتہ ہے ۔ تعلم ہی کو مؤثر اور جاندار بنانے کے لیے تعلیمی مقاصد طے کیے جاتے ہیں، نصاب مرتب کیا جاتا ہے ، ماہرین اساتذہ کا تقرر کیا جاتا ہے وغیرہ۔ وہ جگہ جہاں طالب علم تعلّم کی شعوری کوششوں کا اصل ہدف ہوتا ہے، کمرۂ جماعت ہے اور در اصل کمرۂ جماعت میں معلم اور متعلم کے درمیان وقوع پذیر ہونے والا ابلاغ تعلّم کی جان ہے ۔ اس عمل ابلاغ کا مقصد معلم اور متعلم کی معلومات اور احساسات میں شراکت پیدا کرنا ہے ۔اس کا براہِ راست اثر متعلم کی ذات پر ہوتا ہے اور یہ اثر سطحی اور وقتی نہیں ہوتا بلکہ اس کا نقش ہمیشہ کے لیے ثبت ہوجاتا ہے ۔ کمرہ جماعت کے اندر استاد اور شاگرد کے تعامل کے نتیجے میں طالب علم کی شخصیت کی پوری عمارت تعمیر ہوتی ہے اور اسی طرح یہ تعامل طالب علم کی ذہنی نشو و نما پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ ’’ابلاغ‘‘ کئی عناصر رکھتا ہے اور وہ سب باہم مل کر ایک مخصوص تسلسل کے ساتھ ابلاغ کا عمل مکمل کرتے ہیں۔

مبدائے پیغام

کمرہ جماعت میں ابلاغ عموماً استاد کی طرف سے شروع کیا جاتا ہے ، عمل ابلاغ کی ابتدا دماغ میں کسی خیال کے آنے سے ہوتی ہے ۔ پس استاد کو متعلقہ مضمون کے بارے میں اپنے افکار و خیالات میں وسعت، گہرائی و گیرائی، جامعیت اور رسوخ پیدا کرنا چاہیے جس کا ایک بہترین طریقہ مسلسل مطالعہ ہے ۔

پیغام کو معانی پہنانے کا عمل

پیغام کو معانی پہنانے کا عمل، ذہن میں موجود خیالات و افکار کو الفاظ یا جسمانی حرکات و سکنات اور یا چہرے کے اتار چڑھاؤ میں بدلنے کا عمل ہے جس کو ’’تعبیر‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ کمرہ جماعت میں استاد کی مہارت کا یہ بہت بڑا امتحان ہے کہ وہ اپنے پیغام کو عام فہم انداز میں طلبہ تک منتقل کرے۔ اس کے لیے استاد کے پاس اپنے طلبہ کی ذہنی سطح کے بارے میں بھی معلومات ہونی چاہییں۔ نبی اکرم صلی اللہ علہ وسلم کا ایک فرمان بھی اس طرف ہماری راہنمائی کرتا ہے: حَدِّثُوْا النَّاسَ بِمَا یَعْرِفُوْن (لوگوں سے ان کی عقل و فہم کے مطابق بات کیا کرو)۔ (بخاری)
اس لیے استاد کو چاہیے کہ اپنی تعبیر آسان انداز میں اور سادہ لفظوں میں پیش کریں تا کہ طلبہ سہولت کے ساتھ سمجھ سکیں۔

پیغام کا ذریعہ

پیغام کو لفظی یا غیر لفظی صورت میں پیغام وصول کرنے والے تک پہنچانے کے لیے کسی نہ کسی ذریعے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ ذریعہ سمعی یا بصری ہوسکتا ہے ۔ لفظی ابلاغ میں استاد کی تقریر طلبہ تک پہنچتی ہے ، جبکہ غیر لفظی ابلاغ میں آنکھوں کے اشارے ، ہاتھوں کی جنبش، چہرے کا اتار چڑھاؤ اور جسمانی حرکات ہوتی ہیں۔اس کا دارومدار استاد کی شخصیت پر ہوتا ہے۔ استاد کو خوش خلقی اور نرم خوئی کے ساتھ اپنی شخصیت میں سنجیدگی اور متانت برقرار رکھنی چاہیے ۔ 

پیغام میں مداخلت

ابلاغ میں عموماً کسی نہ کسی طرف سے مداخلت ہورہی ہوتی ہے جس کا نتیجہ ابلاغ میں رکاوٹ کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ مداخلت یا رکاوٹ فرد کے اندر سے بھی ہوسکتی ہے، مثلاً تھکاوٹ، بیماری وغیرہ اور باہر سے بھی مثلاً کمرۂ جماعت میں شور پہنچ رہا ہے، طلبہ آپس میں غیرضروری گفتگو میں مشغول ہیں یا تختہ تحریر پر غیر ضروری مواد لکھا ہوا ہے جس کا سبق سے کوئی تعلق نہیں۔ آج کل موبائل بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ استاد جب بھی محسوس کرے کہ ان میں سے کسی قسم کی مداخلت ہورہی ہے تو اُسے اس کا تدارک کرنا چاہیے۔

پیغام کی ترسیل

کمرۂ جماعت کے اندر ابلاغ کا عمل جاری رہتا ہے۔ استاد اپنی استعداد کے مطابق پیغام رسانی کررہا ہوتا ہے اور طلبہ اپنی اپنی بساط کے مطابق اس کو وصول کررہے ہوتے ہیں۔ اس عمل ابلاغ کے اندر جو الفاظ یا اشارے مل رہے ہوتے ہیں ہر طالب علم اُنہیں اپنی فطری صلاحیت کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔استاد کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے شاگردوں تک جو پیغام پہنچانا چاہتا ہے، وہ درست طور پر ان تک پہنچ سکے۔

جدید و سائل تعلیم کا استعمال

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں تعلیم دینے کے عمل پر نظر ڈالی جائے تو اس میں خطبات، تمثیلات، زمین پر بنائے گئے اشارات اور متعدد دیگر اشیاء کے استعمال کا ذکر ملتا ہے ۔ ان سب سے مقصود جناب نبی کریم ا کے پیشِ نظر یہ تھا کہ امت ان ارشادات کو آسانی کے ساتھ اور اچھی طرح سمجھ سکے۔ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ’’تعلیمی سنتیں‘‘ امت کے اساتذہ کے تعلیمی و تربیتی عمل میں مشعل راہ ہیں۔ہر استاد کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کون سا طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے سے اس کے طلبہ اچھی طرح سبق سمجھیں اور تعلیم کے عمل میں ان کے ذوق و شوق میں اضافہ ہو۔ اساتذہ کو اُن تمام وسائل اور مواد پر غور کرنا چاہیے جو تدریسی عمل میں جدّت اور بہتری پیدا کرے اور ان کی تعلیمی و تدریسی سرگرمی کو اعلیٰ معیار کی طرف لے کر جائے۔ ان وسائل سے واقفیت ابتدائی درجہ ہے، اس سے بڑھ کر انہیں مفید اور موثر طریقے سے استعمال کرنے کا سلیقہ بھی آنا چاہیے ۔ قرآن کریم کی تحفیظ و تجوید کے دوران میں اگر استاد کمپیوٹر، موبائل فون یا سی ڈی سے مدد لیں اورطلبہ کو سنوائیں اور پھر طلبہ کو ان معروف قراء کی طرح تجوید کے قواعد کے التزام اور لب ولہجہ کے ساتھ ترتیل کی مشق کرائیں تو طلبہ کی حفظ اور قرآن خوانی کی صلاحیت میں خاطر خواہ بہتری پیدا کی جاسکتی ہے ۔ کئی مدارس میں یہ طریقہ آزمودہ ہے جس کی افادیت اور تاثیر واضح ہے۔اسی طرح عربی زبان کی تعلیم میں اگر انگریزی زبان کی تعلیم کا مروجہ طریقہ اختیار کیا جائے، مختصر جملوں پر مشتمل چھوٹی چھوٹی کہانیاں طلبہ کو ویڈیو کے ذریعے سکھائی جائیں، جس میں سکرین پر آواز کے ساتھ ساتھ وہی بولے جانے والے الفاظ تحریر شدہ بھی دکھائے جاتے ہیں۔ ان ویڈیوز کو دیکھ کر طالبِ علم صحیح اور درست لہجوں کو سیکھ سکتا ہے۔ نیز وہ یہ بھی جان سکتا ہے کہ اہلِ زبان خوشی، رنج، تعجب یا غصے کی حالت میں اپنے جذبات کا اظہار کن اشاروں یا چہرے کے تأثرات کے ساتھ کرتے ہیں۔ انگریزی زبان کی تعلیم میں یہ طریقہ رائج ہے جو مفید اور موثر ہونے کی وجہ سے مقبول بھی ہے۔ اہل مدارس کو بھی عربی زبان کی تعلیم کے لیے یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اور ماہرینِ لسانیات نے عربی کی تعلیم کے لیے جو بھی ایسی ویڈیوز وغیرہ بنائی ہوئی ہیں ان سے استفادہ کرنا چاہیے۔

دینی مدارس میں باہمی تعلقات

عربی کہاوت ہے ’’اَلْمُعَاصَرَۃُ اَصْلُ الْمَنَافَرَۃُ‘‘ یعنی ( ہم زمانہ ہونا باہمی نفرت کی جڑ ہے)۔ ماضی کی شخصیات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے میں کوئی مشکل محسوس نہیں ہوتی، بلکہ اچھے لفظوں میں ان کے تذکرے آسان ہوتے ہیں۔ تاہم کسی معاصر کو قبول کرنا اور ایک بڑے مقام پر اس کو تسلیم کرنے میں کافی مشکل ہوتی ہے۔ اس لیے آپس میں مباحثے اور علمی نوک جھونک بھی رہتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ماضی کے ایک بزرگ عالمِ دین جب ایک معاصر عالم سے مناظرہ ہار گئے تو شدتِ غم سے نڈھال ہو کر انتقال کر گئے، واللہ اعلم ۔معاصرانہ چشمک کی مثالوں سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ ایسی مثالیں ہمیں اپنے ارد گرد بھی نظر آجاتی ہیں، جو بہرحال اچھی مثالیں نہیں ہیں۔ غور کیا جائے تو اس کیفیت کی بنیاد دل میں پیدا ہونے والی حسد کی بیماری ہے، جس کی پیدائش تو غیرفطری نہیں ہے، لیکن اس کی افزائش انسان خود کرتا ہے۔ یاد رہے کہ حسد کی کیفیات کو دل سے نکال پھینکنا ہی تقویٰ کا اعلیٰ مقام ہے۔ تاہم یہ بھی یاد رہے کہ شریعت کی رو سے فقط اس فطری حسد پرکوئی مؤاخذہ نہیں، لیکن اس فطری حسد کی بنیاد پر ایک دوسرے کی غیبت کرنا، کسی بھی اعتبار سے کسی کی شخصیت کو مجروح کرنا یا کسی کے متعلق بے جا تبصروں اور تذکروں میں اس کی توہین کی حد تک پہنچنا وغیرہ یہ سب امور مستوجبِ گناہ ہیں اور اس کا طلبہ پر منفی اثر پڑنا ایک ناگزیر نتیجہ ہے۔ مثبت سوچ کا زاویۂ نظر یہ ہے کہ جب تمام دینی تعلیمی اداروں کا اور ایک ادارے کے اندر موجود تمام اساتذہ کا مقصد ایک ہی ہے اور وہ سب مل کر ایک ہی ہدف کی طرف پیش رفت کر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اصل فریضہ بھی ان سب کا ایک ہی ہے۔ تو مشترک کام میں جو بھی شریک جتنا زیادہ کام کرے دیگر شرکاء کو خوش ہونا چاہیے اور اس کام کو کرنے والے رفیق کا رکی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ اس کی محنت کی وجہ سے ان سب کا کام آسان ہو جاتا ہے اور اس طرح ان کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ قرآن و سنت نے ویسے بھی ایک دوسرے کی غیبت اورایک دوسرے کی بے جا تنقیص سے بصراحت منع کیا ہے۔ اگر اساتذہ ایک دوسرے کا احترام کریں، ان کا آپس میں حوصلہ افزائی اور مساعدت و معاونت کا جذبہ ہو تو طلبہ کے ذہن و قلب پر بھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور وہ بھی تمام اساتذہ کا یکساں طور پر احترام کریں گے۔ اس باہمی احترام اور تعاون کی مدد سے تعلیم و تربیت کا عمل مؤثر اور صحیح سمت میں جاری رہے گا۔

طلبہ کے ساتھ شفقت کا برتاؤ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ تو سراسر تعلیم و تربیت سے عبارت ہے جو بے پناہ خصوصیات کی حامل ہونے میں اپنی نظیر آپ ہے۔ ان میں ایک خصو صیت جس نے شاید ان نبوی تعلیم و تربیت میں معجزانہ تاثیر رکھی وہ آپ ا کی شفقت و رحم دلی، دل سوزی اور خیر خواہی اور نرم خوئی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم نے آپؐ کی اس خصوصیت کا ذکر فرما کر اسے آپؐ کی کامیابی کا بہت بڑا سبب قرار دیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْکُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ۔
پس یہ اللہ کی رحمت ہی تھی جس کی بنا ء پر آپؐ لوگوں کے لیے نرم خو ہو گئے اور اگر درشت مزاج و سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپؐ کے پاس سے منتشر ہوجاتے۔ (آل عمران:۱۵۹)
سیرت کا طالب علم بخوبی جانتا ہے کہ آپؐ کو کس قدر اذیتیں پہنچائی گئیں، آپؐپر مصائب و آلام کے پہاڑ توڑنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جاتی تھی لیکن آپؐ ان لوگوں پر غضب ناک ہونے کے بجائے ان پر ترس کھاتے تھے۔ اور آپؐ کو ہر وقت یہ فکر دامن گیر رہتی تھی کہ وہ کیا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے حق بات ان کے دل میں اتر جائے اور یہ ہدایت کے راستے پر آجائیں۔(۴)
نبوی تعلیم و تربیت کی خصوصیت اگر آج کے مدرسین و معلمین اپنے سامنے اصول کے طور پر رکھیں اور ہر طالب علم کے ساتھ اپنی اولاد کی طرح مشفقانہ رویہ رکھیں، کتاب کی تدریس سے بڑھ کر ان کے دکھ درد میں شریک اور ہر لمحے ان کی فلاح و بہبود کے لیے فکر مند ہوں تو تدریس و تعلیم کا یہ عمل محض ایک وقتی مشغلہ نہیں رہے گا بلکہ طلبہ کی علمی و فکری ترقی، ان کی صلاحیتوں میں نکھار اور ان کی شخصیت میں حسن و جاذ بیت پیدا کرے گا۔ مشاہدہ ہے کہ طلبہ نرم خو اور مشفق استاد سے زیادہ قربت محسوس کرتے ہیں۔ شخصیت عالمانہ ہوتو طلبہ اُس کی اداؤں کو اپناتے ہیں اور اس استاد کے اثرات جلدی ان پر ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ استاد اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ طالبِ علم سے لغزش صادر ہونے پر تنبیہ بھی کریں لیکن ایسے کسی بھی موقع پر زیادہ غیظ و غضب اور ڈانٹ ڈپٹ سے اپنے مشتعل جذبات کی تسکین نہ کریں بلکہ تنبیہ میں بھی طالبِ علم کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں اور آئندہ کے لیے اس کے حق میں اس قسم کے لغرشوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگیں۔

طالب علم کی رہنمائی کے لیے ہمہ وقت تیار

طلبہ کی تعلیم و تربیت کے معاملے میں استاد کی ذمہ داری محض کمرۂ جماعت تک محدود نہیں بلکہ درسی امور کے علاوہ ان کے شب و روز کے معمولات پربھی نظر رکھنی چاہیے ۔ طلبہ جب گھر بار چھوڑ کر مدرسے میں آکر مسافر بنتے ہیں تو استاد کی ذمہ داریوں میں تدریسی ذمہ داری کے ساتھ تربیتی ذمہ داری بھی لازماً شامل ہوجاتی ہے کیونکہ ان دونوں کے درمیان پڑھنے اور پڑھانے والے سے بڑھ کر باپ اور بیٹے کا روحانی رشتہ بھی قائم ہوتا ہے۔ اس مقدس رشتے کے ناطے استاد پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ طالبِ علم کی زندگی کے ہر شعبے میں اس کے قول و فعل اور نقل و حرکت کی خبر لیں اور اس طرح وہ ہمہ وقت طلبہ کی تربیت اور رہنمائی کے عمل میں مصروف ہوں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر اگر غور کیا جائے تو آپؐ اس قسم کے معلم نہ تھے کہ محض کوئی کتاب پڑھا کر یا درس دے کر فارغ بیٹھتے ہوں اور یہ سمجھتے ہوں کہ میں نے اپنا فریضہ ادا کردیا بلکہ اس کے بجائے آپؐ اپنے زیر تربیت افراد کی زندگی کے ایک ایک شعبے کے بارے میں متوجہ رہتے تھے ۔ ان کے ہر دکھ درد اور غمی خوشی میں حصہ لیتے اور اس کے ساتھ ہر لمحے ان کی فلاح و بہبود کے لیے فکر مند رہتے تھے ۔ آپؐ کے اس وصف کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوْل’‘ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْز’‘ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْص’‘ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وْف’‘ رَّحِیْم’‘
بلاشبہ تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک ایسا رسول آیا ہے جس پر تمہاری تکلیف گراں گزرتی ہے اور جو تمہاری بھلائی کی لیے بے حد حریص ہے اور مسلمانوں پر بے حد مہربان ہے۔ (سورۃ التوبہ:۱۲۸)

حواشی

۱۔ اس موضوع پر تفصیلی مصادر کی طرف مراجعت کی جائے تو دیگر آداب کا ذکر بھی ملتا ہے مثلاً خطیب بغدادی کی معروف کتاب الجامع لأخلاق الراوی و آداب السامع دو جلدوں میں، اور ابن جماعہ الکنانی کی تذکرۃ السامع و المتکلم فی آداب العالم و المتعلم اور ابن عبد البر کی جامع بیان العلم وفضلہ وغیرہ۔ ثانی الذکر کتاب کا اردو ترجمہ بھی دستیاب ہے۔
۲۔ مزید مطالعہ کے لیے دیکھیے: محمد حنیف عبدالمجید، ’’مثالی استاد‘‘، (ص ۱۷۔۱۸)
۳۔ مزید مطالعہ کے لیے دیکھیے، ’’رہنمائے معلمین‘‘، مولانا مفتی ذاکر حسن نعمانی، حذف و اضافے اور ترمیم کے ساتھ۔
۴۔ مزید مطالعے کے لیے دیکھیے، ’’مثالی استاد‘‘ (ص ۱۸۔۱۹، بحوالہ ’ہمارا تعلیمی نظام‘)۔
(جاری)

دستور سازی، سوشل کنٹریکٹ اور اسلام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نفاذِ اسلام کے فکری مسائل میں دستور سازی، قانون سازی اور معاہدہ عمرانی (سوشل کنٹریکٹ) کی اصطلاحات علمی و فکری حلقوں میں مسلسل زیربحث ہیں اور ان کے حوالہ سے مختلف افکار و نظریات سامنے آرہے ہیں۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کی صورت میں اسلامی احکام و قوانین کا وسیع ترین ذخیرہ موجود ہے اس لیے کسی قسم کی دستور سازی، قانون سازی اور عمرانی معاہدات کی ضرورت نہیں ہے۔ اور چونکہ ایک اسلامی ریاست قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کی ہدایات کے مطابق مملکت و حکومت کا نظام چلانے کی پابند ہے اس لیے مزید قانون سازی محض تکلف ہے۔ جبکہ دوسری طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ جب سے قومی ریاستوں کا دور چلا ہے تب سے کسی بھی ریاست کے لیے دستور سازی اور قانون سازی ایک ناگزیر امر کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور ریاست کے شہریوں کے درمیان معاشرت کے بنیادی اصولوں پر اتفاق رائے کے اظہار کے لیے سوشل معاہدہ اس کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
معاہدہ عمرانی سے مراد یہ ہے کہ ایک ملک کے شہری کچھ بنیادی اصولوں اور اخلاقیات پر اتفاق کر لیں تاکہ ان کے مطابق ان کے ملک کا سیاسی، مالیاتی، انتظامی، عدالتی اور معاشرتی نظم چلایا جا سکے۔ ان اصولوں کی روشنی میں حکومت چلانے کے لیے جو اصول و ضوابط طے پاتے ہیں وہ دستور کہلاتے ہیں اور دستور کے عملی اطلاق و تنفیذ کے لیے جو قوانین و ضوابط تشکیل دیے جاتے ہیں انہیں قانون سازی کے دائرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ’قراردادِ مقاصد‘‘ کو ’’معاہدہ عمرانی‘‘ کی حیثیت حاصل ہے جس کی بنیاد پر دستورِ پاکستان ترتیب پایا ہے۔ اور دستور کی روشنی میں قومی اور صوبائی اسمبلیاں اس پر عملدرآمد کے لیے قانون سازی کرتی ہیں۔
قراردادِ مقاصد تین بنیادی اصولوں پر مشتمل ہے:
  1. حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے۔
  2. حکمرانی کا حق عوام کے منتخب نمائندوں کو ہے۔
  3. حکومت اور پارلیمنٹ اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے پابند ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ وہ حضرات جو ان اصولوں سے اتفاق نہیں رکھتے اور دستور و نظام کو اللہ تعالیٰ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور وحی الٰہی کے حوالہ سے خالی دیکھنا چاہتے ہیں، ان کی طرف سے یہ مطالبہ وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہتا ہے کہ نئے عمرانی معاہدہ کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کی دیگر بہت سی قومی ریاستوں کی طرح پاکستان کے دستور و قانون کو بھی آسمانی تعلیمات کے دائرے سے الگ کیا جا سکے۔ یا اگر قرآن و سنت کا تذکرہ ضروری ہو تو اس کی حیثیت برطانیہ کی بادشاہت کی طرح محض علامتی سی ہو اور آسمانی تعلیمات کا ملک کے دستور و قانون اور نظام و معاشرت میں کوئی عملی کردار باقی نہ رہے۔
ایک دور تھا جب دنیا میں حکومت و قانون کی دو بنیادیں ہوتی تھیں:
حضرات انبیاء کرام کی حکومت عام طور پر دعوت و اصلاح کی محنت کے ذریعہ قائم ہوتی تھی جیسا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ پر طاقت کے زور سے قبضہ نہیں کیا تھا بلکہ دعوت و اصلاح کے ساتھ ساتھ یثرب کے دو بڑے قبائل اوس اور خزرج کے ساتھ کم و بیش تین سال کے طویل مذاکرات کے بعد ان کی حکومت تشکیل پائی تھی۔ جبکہ خلافت کا آغاز بھی طاقت کے بل پر نہیں ہوا تھا کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق نے حکومت جنگ کے ذریعہ حاصل نہیں کی تھی بلکہ امت کی اجتماعی صوابدید حضرت ابوبکر کے حق حکمرانی کی اساس بنی تھی۔ اس لیے میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ اسلامی ریاست و حکومت کی اصل بنیاد طاقت و قوت نہیں بلکہ دعوت و اصلاح اور مکالمہ و مذاکرہ ہے۔ اور اس ذریعہ سے وجود میں آنے والی ریاست و حکومت ہی ایک مثالی اور آئیڈیل اسلامی حکومت کہلا سکتی ہے۔
چنانچہ قرآن و سنت کی بالادستی سے ہٹ کر کسی نئے عمرانی معاہدہ کی تو اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن کیا قرآن و سنت کی بالادستی پر ایمان رکھتے ہوئے ان کی روشنی میں کی جانے والی قانون سازی کا بھی کوئی جواز نہیں ہے؟ ہمارے خیال میں اس بات سے اتفاق ممکن نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ قانون سازی قرآن و سنت کے احکام سے انحراف نہیں بلکہ انہی احکام و قوانین کے نظام و ترویج کی عملی صورتیں پیدا کرنے کے لیے کی جاتی ہے کیونکہ حالات کے تغیر کے ساتھ ساتھ ہر زمانہ میں ان عملی صورتوں پر نظر ثانی کی ضرورت سامنے آتی رہتی ہے جسے نظر انداز کردینا ممکن نہیں ہوتا۔ صحابہ کرام کی جماعت اور ان کا زمانہ اس حوالہ سے ہمارے لیے مثالی حیثیت رکھتا ہے اس لیے کہ حضرات خلفاء راشدین اور ان کے ساتھ حضرت امیر معاویہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر نے اپنے اپنے دورِ خلافت میں احکام شرعیہ پر عملدرآمد کے لیے اپنے ماتحتوں کو جو ہدایات جاری کیں وہ کم و بیش سبھی حدیث و تاریخ کے ذخیرہ میں محفوظ ہیں۔ انہیں اگر ترتیب کے ساتھ جمع کر لیا جائے تو دورِ صحابہ کی قانون سازی کا ایک مسلسل عمل ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ ان میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے نفاذ کی عملی صورتیں خلفاء کرام نے متعین فرمائیں اور اسی کو قانون سازی کہا جاتا ہے۔ ان میں وہ بیسیوں فیصلے بھی موجود ہیں جو اجتماعی مشاورت کے ساتھ طے پائے اور اگر ان مشاورتی مجالس کو قانون سازی کی مجالس سے تعبیر کر دیا جائے تو یہ کوئی خلافِ واقعہ بات نہیں ہوگی۔
پھر امام ابوحنیفہ نے تو اس قانون سازی کو مستقل فقہی عمل کی حیثیت دے دی تھی۔ ان کی فقہی مجلس میں باہمی مشاورت و مذاکرہ کے ذریعہ جو قوانین مرتب کیے گئے وہ ایک لاکھ کے لگ بھگ بتائے جاتے ہیں اور وہ صدیوں تک خلافت عباسیہ، خلافت عثمانیہ اور مغل سلطنت میں نافذ العمل رہے۔ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کی ایک علمی مجلس میں اس منظم اور مرتب قانون سازی کا میں نے ذکر کیا تو ایک فاضل دوست نے کہا کہ یہ پرائیویٹ عمل تھا جسے قبولیت عامہ حاصل ہوگئی جبکہ سرکاری سطح پر اس طرح کا کوئی باضابطہ کام اس دور میں نہیں ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ یہ مغالطہ ہے کیونکہ سرکاری سطح پر بھی اسی دور میں یہ کام ہوگیا تھا۔ نامور عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے چیف جسٹس قاضی ابویوسف سے فرمائش کر کے اسلام کے مالیاتی قوانین مرتب کروائے تھے جو نافذ العمل رہے، اور یہ مجموعہ قوانین ’’کتاب الخراج‘‘ کے نام سے اب بھی ہر بڑے دینی ادارہ کی لائبریری میں موجود ہے۔ اس سلسلہ میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ امام ابویوسف کی اس کتاب کا نام ’’الخراج‘‘ ہے او رکہنے کو یہ مالیاتی قوانین کا مجموعہ ہے جو عباسی دور میں باقاعدہ نافذ العمل تھا۔ لیکن اس میں صرف مالیاتی قوانین نہیں ہیں بلکہ
میں کتاب پر نظر ڈالتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ وہ دور اگرچہ آج کی طرح کی منظم دستور سازی کا زمانہ نہیں تھا لیکن اگر کسی فرد یا جماعت کو دستور سازی کا کام سونپا جاتا تو وہ بھی کم و بیش وہی کچھ کرتا جو امام ابویوسف نے کیا ہے۔ اس لیے قرآن و سنت کے اصول و ضوابط کی روشنی میں احکام شرعیہ کو عملی قوانین کی شکل دینا، نہ صرف ان پر عملدرآمد کا تقاضا ہے بلکہ صحابہ کرام، خلفاء راشدین، اور فقہاء عظام کی علمی خدمات کا تسلسل بھی ہے جس کی افادیت و ضرورت سے کسی دور میں صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں ہے۔

دیوبندی بریلوی اختلافات : سراج الدین امجد صاحب کے تجزیے پر ایک نظر (۲)

کاشف اقبال نقشبندی

تقدیس الوکیل پر ایک نظر

صاحب مضمون نے جس دوسری کتاب کا ذکر کیا ہے اور جس کے پڑھنے کی قارئین کو تلقین کی ہے، وہ ہے’’ تقدیس الوکیل‘‘۔ کتاب کے متعلق کچھ لکھنے سے قبل اس کے پس منظر کا جاننااشد ضروی ہے۔ 
بہاولپور میں نواب آف بہاولپور نے جامعہ عباسیہ کے نام سے ایک مدرسہ قائم کررکھا تھا۔ نواب صاحب آف بہاولپور خواجہ غلام فریدؒ چاچڑاں شریف والے کے مرید تھے۔نواب صاحب نے خواجہ ؒ صاحب کو مشورہ دیاتھا کہ صدر مدرس دیوبند سے منگوائیں ۔ یہاں سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ علمی حلقوں میں آج کی طرح اس وقت بھی دیوبند ہی کانام چلتا تھا۔ چنانچہ مولانا خلیل احمد سہارنپوری شارح ابو داؤدجامعہ عباسیہ تشریف لائے۔آپ کے یہاں آنے سے علمی زندگی میں بہار آگئی۔ علاقہ کے بعض علماء حسد کی آگ میں جلنے لگے اور نواب صاحب آف بہاولپورکو اس پہلو سے بدگمان کیا کہ آپ کی علمائے دیوبند سے وابستگی آپ کو انگریز حکومت کے ہاں مشکوک بنا دے گی اور ہمارے سیاسی و سماجی مفادات خطرے میں پڑ جائیں گے ، آپ ان سے ہر طریق سے بچیں۔
مولانا غلام دستگیر قصوری کے ایک شاگردمولانا زمان شاہ ہمدانی بہاولپور رہتے تھے۔ آپ مولانا خلیل احمد سہارنپوری کے بھی شاگرد تھے اور ان سے اکتساب علم کیا تھا۔ مولانا غلام دستگیر قصوری جب کبھی بہاولپور جاتے تو مولانا سید زمان شاہ کے ہاں قیام فرماتے، سو ان کی ذات اس جہت سے مجمع البحرین بنی ہوئی تھی۔ تاہم یہ صحیح ہے کہ آپ پر ریاست کے سیاسی تقاضوں کا خاصا اثر تھا۔ ریاست میں مولانا خلیل احمد سہارنپوری کے خلاف ایک طوفان اٹھا اور ہر طرح سے کوشش کی گئی کہ جس طرح بن پڑے مولانا یہاں سے ہندوستان واپس چلے جائیں ۔ بات چلتے چلتے مناظرہ تک پہنچی۔مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب سے اجازت بھی لے لی۔
حضرت خواجہ غلام فرید ؒ صاحب کی سرپرستی میں مناظرہ شروع ہوا۔ مولانا غلام دستگیر صاحب خود منا ظر نہ بنے، آپ نے اپنی طرف سے تلیری(ضلع مظفر گڑھ ) کے مولانا سلطان محمود صاحب کو کھڑا کیا۔ امکان کذب کا موضوع زیر بحث آیا کہ مولانا خلیل احمد سہارنپوری کے عقیدہ سے ذات باری تعالیٰ کی توہین لازم آتی ہے۔ علماء تو جانتے ہیں کہ لزوم اور التزام میں کیا فرق ہے۔ کسی عبارت سے کسی عبارت کا لازم آنا اور بات ہے، اور قائل کی طرف سے اس معنی کا التزام امردیگر ہے۔ جب تک قائل اس جہت کا التزام نہ کرے، اس کا عقیدہ نہیں کہا جاسکتا۔ بہر حال مولانا غلام دستگیر صاحب اس لزوم کے مدعی قرار پائے اور مولانا سلطان محمود مناظر قرار پائے۔
مناظرہ کے بعد کس کا پلہ بھای رہااور کس کا کمزور؟ یہاں اس کی تفصیل کا موقع نہیں۔ مناظرہ کے بعد خواجہ غلام فرید صاحب کا مولانا خلیل احمد صاحب کو اپنے ساتھ لے جانا اور اپنی مہمانی میں رکھنا اور نواب صاحب کا انہیں بصد عزت و احترام واپس بھیجنا، اصل صورت حال کی خبر دے رہا ہے۔خواجہ غلام فرید نے مولانا سہارنپوری کی کتاب ’’ہدایۃ رشید‘‘ پر جو تقریظ لکھی ہے، اس سے بھی مولانا خلیل احمد صاحب سے خواجہ صاحب کی عقیدت کا پتہ چلتا ہے۔
مناظرہ کی فتح شکست کی اصل صورت حال کا اندازہ مولانا سید زمان شاہ ہمدانی جو مولانا غلام دستگیر قصوری کے بھی شاگرد تھے، کے ایک خط سے ہوتا ہے ۔ یہ خط فارسی میں ہے اور تین پائی(ایک پیسہ) کے پوسٹ کارڈ(جس پر ملکہ وکٹوریہ کی تصویر والی ٹکٹ ہے) پر لکھا ہوا ہے۔ یہ قصور کے حضرت مولانا سید محمد عبدالحق شاہ صاحب کے نام ہے۔موصوف مولانا سید زمان شاہ ہمدانی کے بہنوئی تھے اور خالہ زاد بھائی بھی۔مولانا سید عبدالحق صاحب مولانا غلام دستگیر صاحب کے شاگرد بھی تھے اور اس مناظرہ کی اصل صحیح صورت حال جاننا چاہتے تھے۔ یہاں خط کا ترجمہ ہدیہ قائین کیا جاتا ہے:
’’وہ جو آپ نے انجام مباحثہ کی اصل حقیقت کے بارے میں پوچھا ہے، زمانے کی دگرگونی کے باعث میرے لیے یہ تکلیف مالایطاق ہے، تاہم جناب کے حکم کو مقدم سمجھتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ عالمان باانصاف کی نظر میں سہارنپوری مولوی کا غلبہ تامہ رہااور کسی قسم کی ان میں کمزوری نہ رہی، بلکہ یہ بات ممکنات میں سے نہ رہی کہ دوسرافریق غالب آسکے، مگر چونکہ یہاں کے کچھ لوگوں کو مولانا سہارنپوری سے ذاتی عداوت ہوگئی ہے، اس لیے وہ مولاناکو ناحق اور بے موجب شکست کا الزام دینے لگے اور آپ کی ایذا رسانی کے درپے ہوئے۔ لیکن الحق یعلوولایعلی کے مطابق دشمنوں کے برے ارادے پورے نہ ہونے پائے اور اللہ عزاسمہ نے مولانا سہارنپوری کو حفظ وشان اور عافیت سے وطن واپس پہنچایا۔ اس تحریر کو قسم اور حلف سے موکد تصور کریں اور ساری بات کومولانا غلام دستگیرصاحب سے پوری طرح مخفی رکھیں اور اس سلسلہ میں تاکید مزید عرض ہے اور خبر دینے والے تمام لاگوں سے اسے چھپائے رکھیں، بلکہ پڑھنے کے بعد اسے پھاڑ دیں۔‘‘
دستخط سید محمد زمان شاہ
یہ اصلی خط حضرت مولانا سید مبارک علی شاہ ہمدانی کے پاس محفوظ تھاجوآپ کے صاحبزادہ مولانا محمد طیب ہمدانی نے مکہ مکرمہ میں شیخ الحدیث مولانا زکریا ؒ کو دیا۔
مولانا غلام دستگیر قصوری نے مناظرہ بہاولپور کے بعد’’ تقدیس الوکیل عن توہین الرشید والخلیل‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس میں آپ کا زور کلام لزوم سے آگے نہیں چلتا، التزام تو ایک بڑی بات ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی کا فتوی ’’فتاوی رشیدیہ‘‘ میں موجود ہے جو اس بیجا الزام کی کھلے بندوں تردید کررہا ۔ہے(مطالعہ بریلویت ج ۳، از علامہ خالد محمودمانچسٹروی)
تقدیس الوکیل کی کارروائی خانہ ساز تھی، اس کا اندازہ’’ تذکرۃ الخلیل‘‘ ص ۱۴۵ کی اس روایت سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ مولانا عاشق الہی میرٹھی صاحب لکھتے ہیں:
’’یہ بلفظہ مناظرہ جس طرح تحریر ہوا تھا، اس لیے ہم نہیں لکھ سکے کہ جو مناظرہ مولوی عبدالمالک صاحب لکھتے تھے، ہم نے اس کی نقل لینے کی درخواست بخدمت جناب میر ابراہیم علی صاحب، جناب سید غلام مرتضی شاہ صاحب کی تھی اور انہوں نے ہم کو اس کی نقل کی اجازت دے دی تھی اور وہ کاغذات سرکاری طور پر بتوسط جناب مرزاجنڈوڈہ خان صاحب، جناب میا ں صاحب کی خدمت میں محفوظ رکھے تھے اور جناب سید غلام مرتضی شاہ صاحب نے فرمایا تھا کہ کل صبح کو کسی کو بھیج دینا نقل کر کے لے جائے گا۔ دوسرے روز مولانا خود مع چند طلبہ دولت خانہ بخدمت جناب شاہ صاحب گئے اور نقل کے لیے کہا۔ جناب شاہ صاحب نے براہ مہربانی اسی وقت آدمی کو بھیج کر میاں صاحب کے ایک خلیفہ کو بلایا اور کاغذات مناظرہ کے لانے کے واسطے حکم کیا۔ چنانچہ وہ گیا اور واپس آکر یہ جواب لایا کہ جناب میاں صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس کاغذات نہیں ہیں۔ خلیل احمد کا آدمی لکھتا تھا، اسی کے پاس ہو ں گے۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ آیا واقعی میاں یہ میاں صاحب کا ہی جواب ہے بلکہ کچھ عجیب نہیں، یہ بیچ میں حضرت غلام دستگیر ہی کی کاروائی ہے‘‘....الخ
مناظرہ کی بلفظہ تحریر نہ دینے میں خدا جانے کو ن سے عوامل کار فرماتھے ، لیکن اگر اس مناظرہ کی بلفظہ تحریر فریقین کو مل جاتی تو اس سے فریقین کے موقف کا بہتر طور پر اندازہ کیا جاسکتا تھا۔
خواجہ غلام فرید ؒ جن کی سرپرستی میں مناظرہ ہوا تھا، کا مناظرہ کے بعد بھی علماء دیوبند کے بارے میں عقیدت و محبت قائم رکھنا ایک عام قار ی کو’’ تقدیس الوکیل ‘‘کا مطالعہ ضرور الجھن میں ڈال دیتا ہے ۔ خواجہ غلام فرید ؒ کی دیوبندی مکتب فکر کے علماء سے محبت و عقیدت کے حوالے سے ان کے ملفوظات ’’اشارات فریدی ‘‘کا مطالعہ اس ضمن میں کافی مفید رہے گا۔ایک حوالہ اس ضمن میں پیش کیے دیتا ہوں۔اشارات فریدی کے مقدمہ میںیوں لکھا ہے :
’’ تمام اکابر دیوبند میں سے مولانا رشید احمد گنگوہی زیادہ سخت مطبع تھے۔ آپ کا درجہ اس قدر بلند ہے کہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی ہجرت کے بعدان کے تمام مریدین اور خلفاء ہندوستان میں سرپرست اور سربراہ مولانا رشید احمد گنگوہی مانے جاتے ہیں۔ آپ پر شریعت کے معاملہ میں سخت احتیاط کا پہلو غالب تھا‘‘ (اشارات فریدی ص ۱۷۳)
آگے ایک اور مقام پر خواجہ صاحب کے حوالے سے لکھا ہے: 
مولانا رشید احمد گنگوہی بھی حاجی صاحب کے مرید اور خلیفہ اکبر ہیں ۔ ان کے اور خلفاء بھی بہت ہیں چنانچہ مولوی محمد قاسم صاحبؒ اور مولوی محمد یعقوب صاحب وغیر ہم.....اگرچہ دارلعلوم کے بانی مبانی مولانا محمد قاسم نانوری مشہور ہیں لیکن دراصل یہ دارلعلوم حضرت حاجی امداد اللہ قدس سرہ کے حکم پرجاری ہوا۔‘‘ (اشارات فریدی ص ۳۵۲)
حاشیہ پر لکھا ہے:
’’حضرت خواجہ صاحب کے اس ملفوظہ سے ثابت ہواکہ مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا محمد قاسم نانوتوی وغیرہم علمائے دیوبند صحیح معنوں میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے خلیفہ اور اہل طریقت تھے حالانکہ بعض صوفی حضرات ان کو غلط فہمی سے وہابی کہتے تھے۔‘‘ (ایضاً)
دیوبند مکتب فکرکے اکابرین علماء کی اپنے ہم عصر غیر دیوبندی علماء کے ساتھ محبت و عقیدت کے حوالے سے ’’علماء دیوبند معاصرین کی نظر میں‘‘ اور شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور کی کتاب ’’اکابرین علماء دیوبند کیا تھے‘‘ کا مطالعہ کافی مفید رہے گا۔

حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ کے جواب میں

دیوبندی، بریلوی اختلاف کی اصل وجہ اگر دیکھی جائے تو مولانا احمد رضاخان بریلوی کا وہ تکفیری فتوی ہے جو حسام الحرمین کے نام سے چھپا ۔بریلوی مکتب فکر کے تمام بڑے علماء دیوبندی بریلوی اختلاف کو حسام الحرمین میں درج علماء دیوبند کی عبارات ہی کو گردانتے ہیں۔صاحب مضمون کو بھی اقرار ہے کہ طرفین کے علماء(دیوبندی و بریلی) کا اختلاف اور اس میں انتہائی شدت حسام الحرمین کے منظر عام پر آنے کے بعد ہوئی۔
مولانا احمد رضاخان صاحب بریلوی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انتہائی متشدد تھے اورمخالفین کے بارے میں انتہائی سخت زبان استعما ل کرتے تھے۔چنانچہ مولانا نعیم الدین مرادآبادی جو آپ کے شاگرد خاص تھے اور انہوں نے ہی مولانا احمد رضاخان کے ترجمہ ’’کنزالایمان‘‘ کا حاشیہ بھی لکھا جو’’ خزائن العرفان‘‘ کے نام سے مشہور ہے، مولانا احمد رضاخان صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے:
’’حضور! آپ کی کتابوں میں وہابیوں دیوبندیوں اور غیر مقلدوں کے عقائد باطلہ کا رد ایسے سخت الفاظ میں ہوا کرتا ہے کہ آج کل جو تہذیب کے مدعی ہیں، وہ چند سطریں دیکھنے کے بعد ہی حضور کی کتابوں کو پھینک دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان میں تو گالیاں بھری ہیں۔‘‘ (سوانح امام احمد رضاص ۱۳۱ بحوالہ فیضان اعلی حضرت ص ۲۷۵)
مولانا احمد رضاخان بریلوی کے بارے میں ممتا زبریلوی علماء کی کتب پڑھیں تو ایک بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا احمد رضاخان بریلوی کا مزاج حددرجہ اختلافی تھا۔ مفتی سید شجاعت علی قادری کی تصریح سے جو حقائق شرح صحیح مسلم و دقائق تبیان القرآن میں ہے، اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ؛چنانچہ لکھتے ہیں:
’’حقیقت یہ ہے کہ مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے علمی ذخائر میں یہ تلاش کرناکچھ مشکل نہیں کہ آپ نے کس سے اختلاف نہ کیابلکہ اصل دقت طلب کام یہ ہے کہ وہ کون سا فقیہ ہے جس سے مولانا نے بالکل اختلاف نہ کیا ہو۔ اگر ایسا کوئی شخص نکل آئے تو یہ ایک بڑی تحقیق ہوگی۔‘‘ (ص ۱۷۰) 
آگے ایک اور مقام پر ہے:
’’مجدد برحق امام احمد رضانے اکابر صحابہ اور ائمہ مجتہدین(امام اعظم ، امام مالک اور امام احمد بن حنبل) رضی اللہ تعالی علیہم اجمعین کے موقف سے اختلاف فرمایا ہے‘‘ (ص ۱۷۳)
یہ حقیقت ہے کہ دیوبندی و بریلی اختلاف کی اصل بنیاد احمد رضاخان کی حسام الحرمین بنی ۔مولانا احمد رضاخان بریلوی کے ایک معتقد و سوانح نگارقاری احمد پیلی بھیتی ’’سوانح اعلیٰ حضرت‘‘ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
’’۱۲۹۷ ھ میں مولانا شاہ احمد رضاخان نے قلم اٹھایا، کثرت سے کتابیں لکھیں، فتوے صادر کیے ، حرمین شریفین کے سفر میں مشاہیر علماء حرمین سے علماء دیوبندکے خلاف تصدیقات حاصل کیں جن کو حسام الحرمین کے نام سے کتابی صورت میں شائع کیا۔ مولانا احمد رضاخان بریلوی پچاس سال مسلسل اسی جدوجہد میں منہمک رہے یہاں تک کے مستقل دو مکتبہ فکرقائم ہوگئے، بریلوی اور دیوبندی۔دونوں جماعتوں علماء اور عوام کے درمیان تخالف وتصادم کا یہ سلسلہ آج بھی بند نہیں ہوا ہے‘‘ (سوانح اعلیٰ حضرت، ص ۸)
ایک غیر جانبدار شخص جب اس عبارت کو پڑھتا ہے تو یہ ضرور سوچتا ہے کہ تفریق بین المسلمین آخر اتنا بڑا کارنامہ کیوں تھا کہ اس پر زندگی کے پچاس سال لگا دیے جائیں؟ مولانا احمد رضاخان بریلوی نے۱۹۰۲ء ؁ میں پہلی بار اپنی کتاب ’’المعتمد المستند‘‘ شائع کی جس میں پہلی دفعہ علماء دیوبند کی تکفیر کی علماء دیوبند جن میں مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور مولانا اشرف علی تھانوی کی بعض عبارات کو ہدف تنقید بنا کر تکفیر کی گئی۔ رسالہ چونکہ عربی میں تھا تو عوامی سطح پر اسے زیادہ پذیرائی نہ مل سکی۔ علماء دیوبند کی طرف سے بھی اس کو اہمیت نہ دی گئی کیونکہ اس سے پہلے مولانا احمد رضاخان بریلوی ندوۃ العلماء کے خلاف بھی کافی کچھ سخت لکھ چکے تھے۔ جیسا کہ ماقبل میں سیرت مولانا محمد علی مونگیری کے حوالہ سے لکھا جاچکا ہے کہ مولانا احمد رضاخان نے ندوہ کے بعض علماء کی تکفیر بھی کی تھی۔علماء دیوبند نے اس تکفیری مہم کو اسی کے قبیل سے سمجھا؛تا ہم بعض علماء نے اس کاجواب دینا شروع کیا اور وعظ و تقاریر میں علی الاعلان کہا جانے لگا کہ مولانا احمد رضاخان بریلوی کا ہم پر بہتان و افتراء ہے، ہمارے عقیدے ہرگز ایسے نہیں۔
مولانا احمد رضا خان بریلوی نے۱۹۰۵ ء ؁ میں ایک منظم فتویٰ مرتب کیاجن میں علماء دیوبند کی بعض نامکمل عبارتوں کو نقل کرکے حجاز مقد س کا سفر کیا۔مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے علماء و مفتیان کرام سے مولانا احمد رضاخان بریلوی نے کہا کہ ’’ہندوستان میں اسلام پر بڑا سخت وقت آگیا ہے۔ مسلمانوں میں سے ہی بعض ایسے کافرانہ عقائد رکھنے والے پیدا ہوگئے ہیں جن کا عام مسلمانوں پر اثر پڑرہا ہے۔ ہم غرباء اس فتنہ کی روک تھام کررہے ہیں، مگر اس میں ہم کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے کیونکہ آپ حضرات مکہ و مدینہ کے رہنے والے ہیں تو دینی رہنمائی میں ہمیں آپ پر پورا اعتماد ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس فتوی پر آپ کی مہریں ہندوستان کے عام مسلمانوں کوکفرو بددینی کے سلاب سے روک سکتی ہیں وگرنہ یہ فتنہ اتنا شدید ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا ایمان پر قائم رہنا مشکل ہے۔المدد!المدد! اے لشکر محمدی کے شہسوارو!۔ (ملخصاً حسام الحرمین تمہید)گویا ہندوستانی مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت اس فتوی پر علماء حرمین کے دستخطوں اور مہروں پر مشروط تھی ۔
مولانا احمد رضاخان بریلوی نے تمہید میں فرقہ مرزائیہ وغیرہ کا ذکر بھی کیا جس سے عام تاثر یہ ملا کہ یہ فرقہ اسماعیلیہ (شاہ اسماعیل دیلوی کی طرف منسوب) اور فرقہ قاسمیہ (مولانا قاسم نانوتوی کی طرف منسوب)وغیرہ جدیدفرقہ بمثل مرزائیہ کے ہیں، چونکہ ان دنوں مرزائی فتنہ بام عروج پر تھا۔ مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے بہت سے نیک دل علماء نے مولانا احمد رضاخان بریلوی کی ان باتوں کو واقعہ سمجھا اور اس فتوی پر تصدیقیں لکھ دیں، بعض علماء نے احتیاط فرمائی اور اپنی بات مشروط کردی کہ اگر واقعی ان علماء کی طرف جو عقائد منسوب کیے ہیں اور ان میں ہیں تو یہ علماء کافر ہیں۔مولانا احمد رضاخان بریلوی نے مولانا قاسم نانوتوی پر انکار ختم نبوت اور مولانا رشید احمد گنگوہی پرتکذیب رب العز ت اور مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور مولانا اشرف علی تھانوی پر تنقیص و اہانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا الزام لگا کرتکفیر کی ۔
ہندوستان میں ایک شور برپا ہوگیا کہ ہندوستان کے ان علماء کرام کے متعلق مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے علماء و مفتیان کرام نے بھی کفر کا فتوی دیا ہے اور جو ان کے کفر میں شک کرے گا، وہ بھی کافر۔علماء حرمین کی تصدیقات نے ہندوستان کے سادہ لوح مسلمانوں کو بھی اس فتوی سے متاثر کیا۔اب جب علماء دیوبند نے دیکھا کہ سادہ لوح مسلمان حرمین کے علماء کے نام سے متاثر ہورہے ہیں تو ان حضرات نے اصل حقیقت کا اظہار ضروری سمجھا۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور مولانا اشرف علی تھانوی اس وقت بقیدحیات تھے، جب کہ مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی وفات پاچکے تھے۔ان دو حضرات نے اسی زمانے میں اپنے بیانات دے کر اپنی طرف منسوب کفریہ عقائد سے براء ت ظاہر کی اور صاف لکھا کہ’’ حسام الحرمین‘‘ میں جو عقائد ہماری طرف منسوب کیے گئے ہیں، وہ محض افتراء ہے، ان بزرگوں کے یہ بیانات اس دور کے رسائل’’السحاب المدار اور قطع الوتین ‘‘وغیرہ میں چھپ گئے تھے۔ مولانا تھانوی نے تو ایک مستقل رسالہ ’’بسط البنان ‘‘ شائع کیا۔
مولانا قسم نانوتوی پر انکار ختم نبوت کا الزام لگایا گیا،’’ تحذیر الناس‘‘ کی عبارت جو تین مختلف مقامات سے لی گئی ان کو ایک مستقل عبارت بنایا گیا۔ یہی نہیں بلکہ ان تین مختلف فقروں کی ترتیب بھی بدل دی گئی یعنی تین فقرے جن میں ایک فقرہ صفحہ۳ کا ، ایک فقرہ ۱۴ کا ور ایک سفحہ ۲۸ کا تھا، ان کو ایسے کیا کہ صفحہ ۱۴ والے فقرے کو پہلے لکھا اور پھر صفحہ ۲۸ والے فقرے کو، صفحہ نمبر ۳ والے فقرے کو سب سے آخر میں لکھا۔اور صفحات کا نمبر تو درکنار ، فقروں کے درمیان امتیازی خط (ڈیش) تک نہ دیا گیا جس سے پڑھنے والا یہی سمجھنے پر مجبور ہو کہ یہ ایک مستقل عبارت ہے۔مولانا احمد رضاخان کی ترتیب بدلنے کایہ اثر ہوا کہ’’ تحذیر الناس‘‘ کے تینوں فقرے جو اپنے مفہوم میں واضح تھے اور جن کو علیحدہ علیحدہ اپنی جگہ دیکھنے پر انکار ختم نبوت کا وہم بھی نہیں ہوتا تھا، اس طرح عبارات کی ترتیب بدلنے سے انکار ختم نبوت کا مفہوم معلوم ہونے لگا۔ تکفیر جیسے مسئلہ میں اس بے احتیاطی پر مولانا احمد رضاخان بریلوی کے متعلق ہر گز یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتاکہ ان سے لاعلمی یا ناسمجھی کی وجہ سے ہوابلکہ مولاا حمد رضاخان بریلوی نے دانستہ طور پر ایسا کیا جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ مولانا احمد رضاخان بریلوی نے تکفیر کے مسئلہ پر شرعی احتیاط کو ہر گز ملحوظ نہیں رکھا۔بہرحال یہ حقیقت بالکل ظاہر ہے کہ بعض اوقات کلام میں معمولی سی تحریف کردینے سے یا اس کی ترتیب الٹ دینے سے مضمون بدل جاتا ہے اور اس میں آسمان زمین کا فرق ہو جاتا ہے۔
مولانا قاسم نانوتوی کی تحذیر الناس اور دیگر تصنیفات کا مطالعہ کریں تو مولانااحمد رضاخا ن بریلوی کا یہ دعویٰ کہ مولانا نانوتوی ختم نبوت زمانی کے منکر ہیں، باطل ہوجاتا ہے ۔ یہاں ایک حوالہ پیر کرم شاہ الازہری کا پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں جو انہوں نے ’’تحذیر الناس میری نظر میں‘‘ مولانا نانوتوی کے متعلق لکھا ہے:
’’یہ کہنا درست نہیں سمجھتا کہ کہ مولانا ناتوی عقیدہ ختم نبوت کے منکر تھے کیونکہ یہ اقتباسات بطور عبارۃ النص اور اشارۃ النص اس امر پر بلا شبہ دلالت کرتے ہیں کہ مولانا ختم نبوت زمانی کو ضروریات دین سے یقین کرتے تھے اور اس کے دلائل کوقطعی اور متواتر سمجھتے تھے۔ انہوں نے اس بات کوصراحۃً ذکر کیا ہے کہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ختم نبوت زمانی کا منکر ہے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘ (تحذیر الناس میری نظر میں ص ۵۸)
مولانا رشید احمد گنگوہی پر تکذیب رب العزت کا الزام لگایا اور کہا کہ ان کا فتوی مع مہر خود مولانا احمد رضاخان بریلوی نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جس میں ہے کہ ایسا شخص جو خدا کو بالفعل جھوٹا مانے تو ایسے شخص کو کافر تو درکنار، فاسق بھی نہ کہو۔مولانا احمد رضاخان بریلوی نے حسام الحرمین میں مولانا رشید احمد گنگوہی کی طرف منسوب کرکے جس فتوے کا ذکرکیا ہے، اس کی کوئی اصل نہیں اور فتاوی رشیدیہ میں اس کے برعکس ہے۔چنانچہ ۱۳۲۳ھ ؁ میں مولانا سید مرتضی حسن چاند پوری نے مولانا احمد رضاخان کے ایک عقیدت مندمیاں جی عبدالرحمن کے ایک رسالہ میں اس فتوی کا ذکر دیکھا تو اسی وقت مولانا رشید احمد گنگوہی کی خدمت میں گنگوہ عریضہ لکھا کہ مولانا اس مضمون کے فتوے کی نسبت کی جارہی ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ تو جواب آیا کہ 
’’یہ سراسر افتراء اور بہتان ہے ۔بھلا میں ایسے کیسے لکھ سکتا ہوں؟‘‘
مولانا رشید احمد گنگوہی کے اس جواب کا ذکر مولانا سید مرتضی حسن چاند پوری نے اپنے متعدد رسائل ’’اسحاب المدار‘‘ اور’’ تزکیۃ الخواطر‘‘ وغیرہ میں کیا جو مولانا احمد رضاخان صاحب کی زندگی میں ا ن تک پہنچائے گئے۔
ادھر جب حرمین کے علماء کو یہ معلوم ہوا کہ ہندوستان میں جن علماء کے کفر کی تصدیقیں کروائی ہیں، وہ حضرات اور ان کے متبعین ان عقائد سے براء ت کا اظہار کررہے ہیں اور مولانا احمد رضاخان بریلوی نے اس ضمن میں غلط بیانی سے کام لیا ہے تو ایسی صورت حال میں عرب کے علماء نے دیوبند مکتب فکر کے علماء سے رجوع کرکے معاملہ کی تحقیق کرنا ضروری سمجھا۔ ان حضرات نے ۲۶؍ سوالات مرتب کیے اور علماء دیوبند سے ان کا جواب چاہا۔ یہ سب سوالات علماء دیوبند کے عقائد اور ان کے مسلک و مشرب کے متعلق تھے۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے ان کا مفصل و مدلل جواب تحریر فرمایا جس پر اس دور کے جماعت دیوبند کے قریباً سب ہی اکابرو مشاہیر نے تصدیقات لکھیں اورحرمین شریفین کے علما ء اور ان کے علاوہ مصر و شام کے ممالک کے اہل فتاوی کے پاس وہ جواب بھیجا گیا جس پر ان علماء نے تصدیق و تائید فرمائی کہ یہی عقیدے جو علماء دیوبند نے تحریر فرمائے ہیں، اہل السنۃ والجماعۃ کے عقیدے ہیں اور ان میں کوئی عقیدہ بھی اہل سنت کے خلاف نہیں۔یہ سارے سوالات وجوابات اور حرمین شریفین اور دوسرے ممالک کے لگ بھگ ۴۶؍ علماء کی تصدیقات اسی زمانہ میں جب کہ حسام الحرمین کو شائع ہوئے، کچھ زیادہ دن نہیں ہوئے تھے، ایک ضخیم رسالہ کی صورت میں ’’التصدیقات لدفع التلبیسات ‘‘کے نا م سے شائع ہوگئی تھیں۔واقعہ یہ ہے کہ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مولانا احمد رضاخان بریلوی اور ان کے متبعین ’’حسام الحرمین‘‘ میں موجود فتوی سے باز آتے؛ لیکن ایک غیر جانبدار شخص یہ سو چنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آیا وہ کون سے عوامل کارفرما تھے کہ علماء دیوبند کی طرف سے اتنی واضح وضاحت آنے کے باوجود دوسری طرف سے تکفیری مہم میں بال برابر بھی فر ق نہ آیا؟
مولانا حشمت علی خان پیلی بھیتی کی’’ الصوام الہندیہ‘‘ کے جواب میں مولانا حشمت علی کی ہی تکفیری سرگرمیوں کے طفیل دیوبندی مکتب فکر کے مولانا عبدالرؤف جگن پوری کی طرف سے ایک استفتاء ہندوستان بھر کے علماء کے سامنے پیش کیا گیا کہ مولانا حشمت علی پیلی بھیتی کے نزدیک مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی، مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور شاہ اسماعیل دہلوی معاذاللہ کافر ہیں تو جواب طلب امر یہ ہے کہ کیا واقعی بقول مولانا حشمت علی پیلی بھیتی کے حضرات اکابر علماء دیوبند کافر ہیں؟ جواب میں ہندوستان بھر کے تمام بڑے بڑے دینی مراکز کے تقریباً ۶۱۶ علماء نے علماء دیوبند کے بارے میں لکھا کہ علما ء دیوبند مسلمان اور مسلمانوں کے پیشوا ہیں۔ان تمام علماء کے ناموں کی فہرست مولانا عبدالرؤف جگن پوری نے ’’براء ت الابرار عن مکائد الاشرار‘‘ نامی کتاب میں شائع کی جو کہ ۱۹۳۴ء  میں طبع ہوئی۔
صاحب مضمون نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی، علامہ معین الدین اجمیری اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے متعلق یہ لکھا کہ یہ حضرات علماء دیوبند کی عبارات کو غلط ،گستاخانہ اور کفریہ تو سمجھتے تھے، لیکن علماء دیوبند کو کافر کہنے سے زبان کو روکے رکھا تھا۔ افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اس ضمن میں صاحب مضمون نے صحیح معنی میں بریلوی ہونے کا حق ادا کیا ہے کیونکہ ان حضرات کا موقف بالکل اس کے برعکس ہے جیسا کہ ان کی کتب اور ان کے شاگردں کی کتب سے ان کے بارے میں معلوم ہوتا ہے، چنانچہ بریلوی مکتب فکر کے ممتاز علماء کے استاذ جناب مولانا عطا ء محمد بندیولوی گولڑوی ’’سیف العطاء ‘‘ نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ پیر مہر علی شاہ گولڑی علماء دیوبندکی تکفیر نہیں کرتے تھے۔ مولانا عبدالباری فرنگی محلی لکھتے ہیں ’’ہمارے اکابر نے اعیان دیوبند کی تکفیر نہیں کی ، اس واسطے جو حقوق اہل اسلام کے ہیں، ان سے ان کو کبھی محروم نہ رکھا‘‘ (الطاری الداری حصہ اول ص ۱۶)۔ جبکہ مولانا معین الدین اجمیری مرحو م معمولات میں مولانا احمد رضاخان بریلوی سے حد درجہ اختلاف رکھتے تھے، اس کا اندازہ مولانا معین الدین اجمیری کی ’’تجلیات انوارالمعین‘‘ کے مطالعہ سے بخوبی ہوتا ہے۔ یہ کتاب خاص مولانا احمد رضاخان بریلوی کو مخاطب کرکے لکھی گئی ہے۔ دوسری بات یہ کہ مولانا معین الدین اجمیری کے سامنے جب علماء دیوبند کی تکفیر کا سوال آیا تو آپ نے علماء دیوبند کے متعلق فرمایا کہ
’ یہ حضرات مسلمان اور مسلمانوں کے پیشوا ہیں‘‘ (مولانا حکیم سید برکات احمد، سیرت اور علوم )
مذکورہ بالا مشائخ کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ حضرات علماء دیوبند کی بعض عبارات کو گستاخانہ ہی مانتے تھے لیکن تکفیر سے کف لسان کرتے تھے، صاحب مضمون کی حد درجہ غلط بیانی ہے ۔

رد بریلویت کی وجوہات اور پس منظر پر ایک نظر

سارے پس منظر سے ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ مولانا احمد رضاخان بریلوی نے تکفیر جیسے مسئلہ پر جس شرعی احتیاط کو ملحوظ رکھناتھا، وہ نہ رکھا اوراپنی عمر کے پچاس سال ہندوستان کے احناف کو دو گروہوں میں تقسیم کرنے پر برباد کر دیے۔ صاحب مضمون نے دیوبندی مکتب فکرکے متعلق یہ لکھا کہ علماء دیوبند کی طرف سے کوئی فتوی عقائد میں یا معمولات میں مولانا احمد رضاخان بریلوی کے خلاف نہیں شائع ہو،اگر ہوا بھی تو فاضل بریلوی کی وفات کے ۲۵، ۳۰ سال بعد ؛حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ دیوبند مکتب فکر کی طرف سے مولانا سید مرتضی حسن چاند پوری کے رسائل ہی کا مطالعہ کرلیا جائے تو اس کذب کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ مولانا سید حسین احمد مدنی نے مولانا احمد رضاخان بریلوی کی زندگی میں ہی ’’الشہاب الثاقب علی المسترق الکاذب‘‘ لکھی۔ مولانا سید مرتضی حسن چاند پوری نے متعدد رسائل فاضل بریلوی کی حیات میں لکھے اور مناظروں کا چیلنج دیا ۔ فاضل بریلوی کے اصرار کہ مناظرہ کے لیے مدمقابل مولانا سید مرتضی حسن چاند پوری کی بجائے مولانا اشرف علی تھانوی اگر تقریری مناظرہ کریں گے تو وہ مناظرہ کریں گے، کے جواب میں مولانا اشرف علی تھانوی جیسے معتدل مزاج شخصیت نے بریلوی دیوبندی قضیہ کے حل کے لیے مولانا احمد رضاخان بریلوی کی اس رائے کو منظور کرلیا اور تقریری مناظرہ کے لیے رضامندی کی تحریر بھی دے دی۔ لیکن افسوس! مولانا احمد رضاخان بریلوی کی مناظرہ سے پہلو تہی کی وجہ سے یہ مناظرہ منعقد نہ ہوسکا۔ اس پورے واقعہ کی روداد ’’ القاصمتہ الظہرفی بلند شہر‘‘ نامی رسالہ میں اسی زمانہ میں چھپ گئی تھی۔
مولانا انور شاہ کشمیری کے متعلق مضمون نگار نے یہ لکھا ہے کہ انہوں نے مقدمہ بہاولپور میں بریلوی حضرات کے متعلق اپنے بیان میں لکھا کہ وہ کسی صورت بریلویوں کی تکفیر نہیں کرتے تو مولانا انور شاہ کشمیری کے اس بیان کا مقصد جو سمجھ میں آتا ہے، وہ یہ تھا کہ بریلوی عوام کی وہ تکفیر نہیں کرتے کیونکہ خاص علم غیب کے رد کے عنوان پر تومولانا کا اپنا رسالہ ’’سہم الغیب فی کبد اہل الریب‘‘ موجود ہے۔ (یہ بھی یاد رہے کہ مقدمہ بہاولپو میں شیخ الجامعہ غلام محمد گھوٹوی، خلیفہ مجاز جناب پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے قادیانیوں کے مقابل علماء بریلویہ کی بجائے علماء دیوبند کے چوٹی کے علماء کو مدعوکیا جن میں علامہ انور شاہ کشمیری ، مفتی محمد شفیع اور مولانا سید مرتضی حسن چاند پوری وغیرہ شامل تھے)۔
اس کے علاو بریلوی مکتب فکر کی کتب کی بعض عبارات، مثلاً مولانا احمد رضاخان بریلوی کی وصیت جو کہ وصایا شریف کے نام سے چھپی تھی، میں مولانا حسنین رضاخان کی عبارت اور سید ایوب علی رضوی(سید ایوب علی رضوی بریلوی مولانا احمد رضاخان بریلوی کے خلفاء میں سے تھے ) کی نغمتہ الروح کی بعض عبارات پر ہندوستان بھر سے ۳۹۰ ؍کے لگ بھگ علماء نے کفر کا فتویٰ جاری کیا تھا ۔ مولانا عبدالرؤف جگن پوری صاحب نے ان ناموں کی فہرست ’’خنجر ایمانی بر حلقوم رضاخانی‘‘ کے نام سے شائع کی تھی۔ہاں البتہ دیوبندی بریلوی نزاع کو ختم کرنے کی دوسری اور بڑی کاوش۱۳۵۴ھ ؁ میں فاضل بریلوی کی وفات کے بعدمولانا منظور نعمانی نے کی۔ مولانا منظور نعمانی اور مولانا حشمت علی خان خلیفہ مولانا احمد رضاخان بریلوی کے درمیان عبارات کے موضوع پر لاہور میں مناظرہ ہونا طے پایا تھا جس کے لیے علامہ اقبال ؒ ،پروفیسر علامہ اصغر علی روحی اور شیخ صادق حسن امرتسری حکَم طے پائے تھے۔افسوس دیوبندی، بریلوی نزاع کے خاتمے کی یہ کاوش بھی رائیگاں گئی۔مکمل تفصیل مولانا منظور نعمانی کے رسالہ ’’فیصلہ کن مناظرہ‘‘ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے)
پاکستان میں بریلوی مکتب فکر کی صحیح نمائندگی مفتی احمد یار خان نعیمی اور مولانا محمد عمر اچھروی نے کی۔ ان دو حضرات نے بریلوی مکتب فکر میں رائج باطل عقائد ومعمولات اور خرافات کو دلائل سے مزین کیا۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ مفتی احمد یار نعیمی کی جاء الحق اور مولانا محمد عمر اچھروی کی مقیاس حنفیت نے بریلوی مذہب کو مدون کیا۔ مولانا سرفراز خان صفدر کی جملہ کتب ان دو کتب جا ء الحق اور مقیاس حنفیت میں درج مسائل کو بنیاد بنا کر ہی لکھی گئی ہیں۔ اس سے ایک بات اور بھی معلوم ہوئی کہ قیام پاکستان کے بعد ان دو حضرات کی کتب ہی دیوبندی، بریلوی نزاع (جو تقسیم کے وقت کہیں دب چکا تھا) کو اجاگر کرنے کا باعث بنی۔جواباً علماء دیوبند کی طرف سے مولانا غلام اللہ خان اور مولانا سرفراز خان صفدر کی صورت میں رد عمل آنا فطری تھا۔
صاحب مضمون نے مولانا حسین علی واں بھچراں کے متعلق یہ لکھا کہ انہوں نے اور بعد میں ان کے شاگردوں نے پاکستان میں دیوبندی، بریلوی اختلاف کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور یہ بھی کہ مولاناحسین علی واں بھچراں، پیر مہر علی شاہ جیسے صوفی مست بزرگ کو مناظرہ کا چیلنج دیتے رہے۔ اس کے جواب میں عرض ہے کہ مولانا حسین علی واں بھچراں اور پیر مہر علی شاہ کے درمیان علمی مسائل پر بحث کو دیوبندی ، بریلوی نزاع پر قیاس نہیں کیا جاسکتااور مولانا غلام محمد گھوٹوی اس سارے واقعہ میں آپ کے ساتھ تھے اور مولانا حسین علی واں بھچراں سے بات کرنے کے لیے پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے آپ ہی کو منتخب کیا تھا، لیکن اس کے باوجود جب مولانا غلام محمد گھوٹوی سے علماء دیوبند کے اکابر اربعہ کے کفرو ایمان کے متعلق پوچھا گیا تو آپ (مولانا غلام محمد گھوٹوی) نے فرمایا کہ
’’یہ اکابر علماء دیوبند ہرگز کافر نہیں، بلکہ بڑے اولیاء اللہ ہیں‘‘ (براء ۃ الابرار ص۹۸)
پھر مقدمہ بہاولپور میں شہادت دینے کے لیے دیوبند کے فاضلین کا انتخاب بھی اس تاثر کو غلط ثابت کرتا ہے کہ خانقاہ گولڑہ شریف سے وابستہ حضرات کاعلماء دیوبند سے اختلاف مولانا احمد ضاخان بریلوی اور ان کے متبعین کے طرز کا تھا۔ مولانا حسین علی واں بھچروی کے متعلق یہ کہنا کہ ’مماتی فکر آنجناب کی فکر کا شاخسانہ تھی ‘قطعاً درست نہیں جس کا جواب مولانا بھچروی ہی کے شاگرد مولانا سرفراز خان صفدر نے تفصیلاًاپنی کتاب’’ سماع موتی‘‘ میں دے دیا ہے۔
دوسری بات یہ کہ پیر مہر علی شاہ صاب مرحوم علم غیب کے متعلق نظریہ میں علماء دیوبند کے ساتھ ہیں ۔ اعلاء کلمتہ اللہ میں پیر صاحب لکھتے ہیں کہ جس خبر کی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسم خبر دیتے ہیں، وہ وحی،کشف، الہام کے ذریعہ سے دیتے ہیں اور یہ علم غیب نہیں(مخلصاً)۔ دوسرا ایک جگہ مرزا قادیانی کے اس قول کا کہ قیامت سات ہزار سال سے پہلے نہیں آسکتی، کا رد کرتے ہوئے ان نصوص کے منافی قرار دیا جن میں ہے کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اب دیکھا جائے تو فاضل بریلوی اور اس کے متبعین کا عقیدہ یہی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وقوع قیامت کا کہ کب آئے گی، اس کا بھی علم تھا۔
صاحب مضمون نے لکھا ہے کہ پاکستان میں فاضل بریلوی پر تحقیقی انداز میں سب سے پہلے ڈاکٹر مسعود نقشبندی اور حکیم محمد موسیٰ امرتسری نے کام کیا۔ جب کہ ہم ماقبل میں یہ لکھ آئے ہیں کہ فاضل بریلوی کی فکری ، نظریاتی اور اعتقادی سوچ کوپاکستان میں سے پہلے مولانا عمر اچھروی اور مفتی احمد یار خان نعیمی کتابی شکل میں مدون کرچکے تھے اور اسی کے رد عمل کے طور پرمولانا سرفراز خان صفدر جیسی شخصیات نے ہندوستان کے اکابر علماء کی تعلیمات کے تحفظ کے لیے علمی اندازمیں قلم اٹھایا۔مولانا عمر اچھروی اور مفتی احمد یار خان نعیمی کے متعلق ہم ماقبل میں لکھ چکے ہیں کہ ہندوستان کے اکابرعلماء سے ان حضرات نے اختلاف کیا۔
پنجاب کے دیگر مشائخ کے موقف کا ہم اگر باغور جائزہ لیں تو پیر مہر علی شاہ مرحوم سمیت پنجاب کے بڑے علمی گھرانے خانقاہ سیال شریف سے منسلک تھے۔مولانا ذاکر صاحب بانی جامعہ محمدی شریف جھنگ (جن کا تذکرہ خیر صاحب مضمون نے بھی کیا ہے) خواجہ ضیاء الدین سیالوی مرحوم جو کہ خواجہ قمرالدین سیالوی کے والد تھے، کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب خواجہ صاحب دیوبند تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کہ ’’یہاں آکر میں نے اصلی حنفیت دیکھی ہے‘‘ (ملاحظہ کیجیے ہوالمعظم اور جامعہ محمدی کا مجلہ الجامعہ ستمبر۱۹..) معلوم ہوا کہ ہنددوستان میں اصل حنفیت کے علمبردار دیوبندی مکتب فکر کے علماء تھے۔ خانقاہ سیال شریف کے ہی خواجہ قمرالدین سیالوی کا مولانا قاسم نانوتوی کے متعلق یہ کہنا کہ میں ان کو اعلیٰ درجہ کا مسلمان مانتا ہوں (ملاحظہ کیجیے ڈھول کی آواز ) اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ فاضل بریلوی کے فتوی حسام الحرمین کی خانقاہ سیال شریف والوں کے ہاں کتنی قدرو قیمت تھی۔ اس کے علاوہ خانقاہ شرقپور شریف، خانقاہ جلال پور شریف ، خانقاہ سراجیاں وغیرہما کے مشائخ نے بھی احمد رضاخان بریلوی کی تکفیری مہم کا ساتھ نہ دیا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو مطالعہ بریلویت جلد۱)
اس سارے پس منظر میں یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ دیوبندی معمولات و عقائد کو دیوبندی بریلوی نزا ع سے پہلے اور بعد کے علماء کی تائید حاصل تھی اور پنجاب کے مشائخ کا بعض جزئیات میں علماء دیوبند سے اختلاف کے باوجود آپس میں باہمی محبت و پیار کا تعلق قائم تھا ۔

عددی اکثریت

بریلویت کا مدار مولانا احمد رضاخان بریلوی کی اصولی نسبت پر ہے۔پس جو لوگ بعض معمولات میں مولانا احمد رضاخان کے ہم نوا ہوں، لیکن دوسرے فرقوں کو مسلمان جانتے ہوں تو ایسے لوگ بریلوی نہیں۔ کیوں کہ بریلوی مکتب فکر کے علماء نے جو بریلوی سنی ہونے کا معیا ررکھا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ عقائد و نظریا ت میں فاضل بریلوی کا ہم نوا ہو۔ اگر کوئی شخص فاضل بریلوی کے عقائد ونظریات سے اتفاق نہیں کرتا تو ایسا شخص بریلوی مکتب فکر کے علماء کے نزدیک مسلمان نہیں جیسا کہ ان کی معتبر کتابوں الصوارم الہندیہ، فتاوی صدرالافاضل وغیرہ میں درج ہے۔ یوں کہہ لیں کہ ایک بریلوی وہ ہے جو’’ حسام الحرمین‘‘ کے فتوی کو مانتا ہو، اور موجودہ حرمین کے علماء کو مسلمان نہ جانتا ہو۔ اس معیار کو مدنظر رکھیں تو بہت سے لوگ معمولات میں توشاید بریلوی مکتب فکر کے ہم نوا ہوں، لیکن نظریات میں یکسر اختلاف کرتے ہیں۔ مشائخ و عوام میں سے وہ جو دیوبندی مکتب فکر کے علماء کی تکفیرنہیں کرتے، احمد رضاخان بریلوی کے ہم نوا نہیں ہیں۔ جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اماموں کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہیں، ہرگز بریلوی نہیں۔
مثال کے طور پر مولوی حشمت علی پیلی بھیتی صاحب الصوارم الہندیہ کا سید محمدکچھوچھوی پر فتوی تکفیر محض اس بنا پر تھا کہ انہوں نے جمعہ کی نماز ایک دیوبندی امام کی اقتداء میں پڑھی تھی۔ یہ فتوی بعد میں انہوں نے ’ ’ ستر باادب سوالات‘‘ نام کے رسالہ میں چھاپ کر تقسیم کیا ۔ دوسری مثال جسٹس پیر کر م شاہ الازہری ہیں جنہوں نے ایک مکتوب میں دیوبندی مکتب فکر کے مولانا قاسم نانوتوی کی تحذیر الناس کی تعریف کی تھی۔جواباً بریلوی مکتب فکرکے بہت سے علماء کی جانب سے آپ کی تکفیراور رد میں کتابیں لکھی گئیں، جیسا کہ’’ علمی محاسبہ اور جسٹس کرم شاہ کا تنقیدی جائز ہ‘‘ وغیرہ کتابیں قابل ذکر ہیں۔تیسری مثال مفتی خلیل احمد خان صاحب برکاتی کی ہے۔آپ نے علماء دیوبند کے بارے اپنے تکفیری موقف سے رجوع کیا اور ایک کتاب بنام ’’انکشاف حق‘‘ لکھی جس میں مولانا احمد رضاخان بریلوی کے تکفیری فتوی پر عالمانہ و فاضلانہ بحث کی۔ کتاب ہی کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ محض احمد رضاخان کے تکفیری موقف سے رجوع کی بابت جماعت بریلویہ کی طرف سے ان پرکیسے کفر کے فتوے صادر کیے گئے۔
اس سارے پس منظر سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بریلوی صرف وہی لوگ ہیں جو مولانا احمد رضاخان سے اپنی نسبت جوڑتے ہیں اور فتوی تکفیر میں مولانا کے ہم نوا ہیں۔ اب جتنے بھی علماء کے نام صاحب مضمون نے اپنے مضمون میں لکھے ہیں جیسا کہ مفتی مظہر اللہ شاہ دہلوی ، پیر کرم شاہ الازہری ، مولانا سلطان محمود پپلانوالی ،مولانا غلام محمد گھوٹوی، مولانا محمد ذاکر بانی جامعہ محمدیہ جھنگ، علامہ حکیم محمود احمد برکاتی، خواجہ محمد عمر بیر بلوی ، پیر سید نصیرالدین گولڑوی ، وغیر ہ اور مشائخ میں سے پیر مہر علی شاہ گولڑوی وغیرہم، ان کو اس معیار پرپرکھ لیں؛ اگر وہ حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ کے علماء دیوبند کے متعلق تکفیری فتوی سے متفق ہیں تو بریلوی ہیں، وگرنہ انہیں بریلوی فکر کا تو کجا حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ کے فتوی کی رو سے مسلمان بھی نہیں کہا جاسکتا جس کا ادراک ہر صاحب ذی روح کے علاوہ صاحب مضمون کو بھی ہے اور اس ضمن میں وہ مولانا شاہ وجیہ الدین کا ایک اقتباس بھی اپنے مضمون میں نقل کرتے ہیں جس کے آخر کی سطر میں یہی لکھا ہے۔

دیوبندی بریلوی نزاع کیسے ختم ہو؟

حسام الحرمین کے جواب میں لکھی جانے والی کتاب ’’المہندعلی المفند‘‘جسے مولانا عبدالستار خان نیازی مفید کتاب لکھتے ہیں۔ (دیکھیے اتحاد بین المسلمین ص ۱۰۶ ) اسی کتاب میں ایک ااور جگہ لکھتے ہیں کہ
’’المہند کی اشاعت کے بعد تمام غلط فہمیاں دور ہوجاتی ہیں اور موافقت کی راہ کھل جاتی ہے۔‘‘ (ایضاً) 
مولانا عبدالستار خان نیازی کی طرح دیگر بریلوی علماء بھی اس قسم کی جرأت کا مظاہرہ کریں تو اہل سنت کے دو دھڑوں کو قریب آنے میں مدد ملے گی ۔ اس کے علاوہ نزاعی معاملات کو مجدد الف ثانیؒ ، شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ کے افکارو نظریات کی روشنی میں حل کریں ۔
ہم نے اختصار کے ساتھ دیوبندی بریلوی نزاع کے موضوع پر لکھے جانے والے مضمون کی بعض خامیوں پرحقیقت پسندانہ تبصرہ کیا ہے اور بعض ایسے عوامل جن کا صاحب مضمون نے دانستہ یا نادانستہ طور پر تذکرہ نہیں کیا، یا کیا بھی تو حقائق سے چشم پوشی کرکے، ہم نے اس مضمون میں مناسب الفاظ میں تذکرہ کردیا ہے ۔ صاحب مضمون نگار جناب سراج الدین امجد کی طرف سے اس پرمزید کچھ لکھاگیا تو ان شاء اللہ اس پر ہم مزیدکچھ عرض کردیں گے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ دونوں مکاتب فکر کے علماء کے درمیان محبت و اخوت کی وہ فضا پھر سے قائم کردے جو مولانا احمد رضاخان بریلوی سے پہلے تھی۔ آمین!