دینی مدارس میں عقلی علوم کی تعلیم
محمد عمار خان ناصر
برصغیر میں اکبری عہد میں ملا فتح اللہ شیرازی کے زیراثر معقولات کی تعلیم کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس نے مقامی تعلیمی روایت پر گہرا اثر ڈالا، چنانچہ اس کے قریبی زمانے میں ملا قطب الدین اور ملا نظام الدین نے ’’درس نظامی‘‘ مرتب کیا تو اس میں یونانی فلسفہ، یونانی منطق اور علم الکلام کے علاوہ ریاضی اور ہیئت کے مضامین بطور خاص نصاب کا حصہ بنائے گئے۔ پورے نصاب پر معقولی رنگ بے حد غالب تھا اور معقولات کے عنوان سے کم وبیش ہر شعبہ علم میں ایسی اعلیٰ سطحی کتابیں شامل کی گئیں جن پر یونانی منطق کی اصطلاحات میں مباحث کی تنقیح کا رنگ کا غالب تھا۔ اس رجحان کے خلاف، شاہ ولی اللہ کی فکری مساعی کے زیر اثر، اصلاح نصاب کی ایک عمومی لہر پیدا ہوئی جس میں منطق وفلسفہ کے مضامین کی فی نفسہ اہمیت نیز ان کی تدریس کے لیے دقیق اور غامض متون کی افادیت پر سوالات اٹھائے گئے اور نتیجتاً نقلی علوم، بالخصوص ترجمہ وتفسیر، حدیث اور زبان وادب سے متعلق تدریسی مواد کا تناسب بڑھتا چلا گیا۔ نصاب میں مختلف مراحل پر ہونے والی تدریجی اصلاحات کے نتیجے میں موجودہ نصاب تعلیم میں معقولی علوم کا تناسب بہت کم ہو چکا ہے اور منطق، فلسفہ اور کلام کے مضامین سے متعلق نصاب سکڑتا ہوا چند مختصر کتابوں تک محدود ہو گیا ہے۔
اصلاح نصاب کی یہ تحریک اس زاویے سے یقیناًمفید اور ضروری تھی کہ تشحیذ اذہان کے لیے دقیق اور غامض متون کے حل کی لفظی مشقیں دراصل نفس مضمون اور اس کے مباحث کی تفہیم کی قیمت پر ہوتی ہیں اور عبارتوں کو حل کر لینا ہی ساری تدریسی ریاضت کا منتہائے مقصود بن جاتا ہے۔ مزید یہ کہ کلی طور پر متن پر مبنی طریقہ تدریس میں پڑھنے والوں کا جو ذہنی سانچہ اور اس ذہنی سانچے میں کسی علم کا جو مجموعی تصور بنتا ہے، وہ بڑی حد تک جامد اور بے لچک ہو جاتا ہے جس میں فکری جدلیات اور کسی بھی علم کے دائرے میں فکر انسانی کے ارتقاء اور تغیرات کو سمجھنے کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ تاہم ان خامیوں کے تناظر میں اصلاح نصاب کا جو رجحان پیدا ہوا، اس کا نتیجہ سرے سے عقلی علوم اور عقلی مباحث ہی کو نظر انداز کر دینے کی صورت میں نکلا، حالانکہ اصل ضرورت اس چیز کی تھی کہ طریقہ تدریس کو متوازن بنایا جائے اور دور قدیم کے عقلی مباحث کی جگہ ان علوم ومباحث کو شامل نصاب کیا جائے جو آج کی فکری دنیا میں زیر بحث ہیں اور فکر وذہن کے سانچے بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسی طرح کسی خاص علم کے زیر عنوان چند مخصو ص متون یا نظریات پڑھا دینے کے بجائے یہ ضروری ہے کہ اس علم کے مجموعی ارتقائی سفر اور اس دائرے کے مختلف فکری رجحانات سے طلبہ کو روشناس کرایا جائے۔ مثال کے طور پر درس نظامی میں فلسفہ کے مباحث کی تعلیم وسیع تر تناظر میں دیے جانے کے بجائے ان چند مخصوص کتابوں مثلاً ہدایۃ الحکمۃ، میبذی، الشمس البازغہ اور ملا صدرا وغیرہ کا انتخاب کیا گیا جو اس دور میں مختلف وجوہ سے ایرانی درس گاہوں میں زیادہ مقبول تھیں۔ ان کتابوں کے مضامین یونانی فلسفے کے ان مباحث کے گرد گھومتے ہیں جن سے عباسی دور میں یونانی علوم کے عربی زبان میں ترجمہ کی وساطت سے مسلمان واقف ہوئے۔ ان چند مخصوص کتابوں پر انحصار اور فلسفے کی بنیادی ماہیت اور اس کی عمومی تاریخ سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے دینی مدارس کے اساتذہ وطلبہ کے ذہنوں میں عموماً فلسفہ کا جو تصور پایا جاتا ہے، وہ کچھ یوں ہے کہ فلاسفہ یا حکماء نام کی کوئی ایک جماعت ہے جس کے کچھ مخصوص ومتعین نظریات ہیں جو ان کے ہاں عقائد کا درجہ رکھتے ہیں اور ان نظریات کو ’’فلسفہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
فلسفہ کا یہ تصور، ظاہر ہے کہ بے حد ناقص ہے، کیونکہ فلسفہ چند متعین اور طے شدہ نظریات کا نہیں، بلکہ عقلی بنیادوں پر غور وفکر کی ایک مسلسل روایت کا نام ہے جس میں بے شمار مختلف ومتنوع بلکہ متضاد رجحانات ہمیشہ موجود رہے ہیں۔ خود مسلمانوں کی فکری روایت اس تنوع اور تغیر وارتقا کی ایک رنگا رنگ داستان ہے۔ عرب ابتداءً ا یقیناًاس طرح کی عقلی بحثوں سے یونانی علوم کے ترجمہ کی وساطت سے واقف ہوئے تھے، لیکن اس کے بعد ان تصورات ونظریات کی تنقیح، تشریح وتوضیح اور تردید واثبات کی ایک مستقل علمی روایت قائم ہو گئی جس میں اگر ایک طرف یونانی فلسفے کے ان تصورات کو اسلامی عقائد کے مطابق ڈھالنے اور انھیں اسلامی عقائد کی عقلی تفہیم کے لیے استعمال کرنے کا رجحان سامنے آیا تو دوسری طرف اس کے برعکس فلسفہ یونان کے اساسی تصورات پر نقد ومحاکمہ کا فکری رجحان بھی پیدا ہوا، چنانچہ دور متوسط میں غزالی اور بعد ازاں ابن تیمیہ وغیرہ نے یونانی منطق وفلسفہ پر جان دار تنقیدیں کیں اور ان عقلی معیارات کو چیلنج کیا جن کی بنیاد پر فلاسفہ کے خلافِ اسلام نظریات کی تائید کی کوشش کی جا رہی تھی۔
یونانیوں سے ورثے میں ملنے والے تصورات ومباحث کے علاوہ مسلمانوں میں ایسے جلیل القدر اہل فکر بھی پیدا ہوئے جنھوں نے نئے اور طبع زاد مباحث پر داد فکر دی اور مابعد الطبیعیات کے علاوہ انسانی نفسیات، علم اخلاق، عمرانیات، سیاسیات اور فلسفہ تاریخ جیسے موضوعات پر اپنے نتائج فکر پیش کیے۔ ان میں الکندی، الفارابی، ابن سینا، ابن باجہ، ابن طفیل، ابن رشد، ابن خلدون اور نصیر الدین طوسی وغیرہ کے نام نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ عقل اور شریعت کے باہمی تعلق جیسے دقیق سوالات پر علم کلام اور اصول فقہ میں معرکہ آرا بحثیں اٹھائی گئیں اور اس حوالے سے مختلف فکری رجحانات معتزلہ، اشاعرہ اور ماتریدیہ وغیرہ مکاتب فکر کی صورت میں مجسم ہو کر سامنے آئے۔ مسلم صوفیہ نے اہم ترین فلسفیانہ مباحث کے حوالے سے ایک مستقل روایت کی بنیاد ڈالی جس کا بنیادی ماخذ کشف وعرفان اور روحانی سیر ومشاہدہ تھے۔
ان معروضات کا حاصل یہ ہے کہ دینی علوم کے نصاب میں عقلیات کو دوبارہ مناسب اہمیت دینے اور منتہی طلبہ کو کلاسیکی عقلی روایت کے ساتھ ساتھ معاصر فکری و فلسفیانہ بحثوں سے متعارف کروانے کی طرف سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۹)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۱۰) ولد اور ابن میں فرق کی رعایت
عربی زبان میں جب ولدکا لفظ آتا ہے تو اس میں بیٹا اور بیٹی دونوں اور ان کی اولاد شامل ہوتے ہیں، یہ مفرد کے لیے بھی آتا ہے اور جمع کے لیے بھی۔ جبکہ ابن کے مفہوم میں صرف نرینہ اولاد یعنی بیٹا ہوتا ہے، علامہ ابوھلال عسکری (چوتھی صدی ہجری) اپنی شہرہ آفاق کتاب الفروق اللغویۃ میں لکھتے ہیں: یقال الابن للذکر والولد للذکر والأنثی۔ قرآن مجید میں دونوں الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جہاں ولد استعمال ہوا ہے وہاں اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے اولاد ترجمہ کرنا چاہیے، اور جہاں ابن یا ابن کی جمع بنین یا أبناء استعمال کی گئی ہے، وہاں بیٹا اور بیٹے ترجمہ کرنا چاہیے، دونوں الفاظ یعنی ولد اور ابن کے استعمال کے مواقع پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں ولد استعمال ہوا ہے وہاں مفہوم کے لحاظ سے بھی مطلق اولاد ہی کا محل ہے خواہ وہ نرینہ ہو یا نہ ہو، اور جہاں ابن یا بنین استعمال ہوا ہے وہاں مفہوم بھی نرینہ اولاد کے خصوصی تذکرے کا تقاضا کررہا ہے۔ مگر اکثر مترجمین قرآن سے اس فرق کی رعایت ہر جگہ نہیں ہوسکی، ذیل کی مثالوں سے صورت حال واضح ہوجاتی ہے:
ولد کا ترجمہ
(۱) قَالَتْ رَبِّ أَنَّی یَکُونُ لِیْ وَلَدٌ وَلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ۔ (آل عمران: ۴۷)
’’وہ بولی کہ اے پروردگار میرے کس طرح لڑکا ہوگا جبکہ کسی مرد نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’بولی اے رب کہاں سے ہوگا مجکو لڑکا اور نہ مجہکو ہاتھ لگایا کسی آدمی نے ‘‘(شاہ عبد القادر)
اس آیت میں ولد آیا ہے، اس کا ترجمہ لڑکا کرنے کے بجائے اولاد کرنا چاہیے۔ یہاں بشارت ابن کی تھی، لیکن اظہار تعجب میں ولد کا ذکر ہے، کیونکہ مطلق اولاد ہونے پر تعجب ہوا قطع نظر کہ وہ لڑکا ہوگا یا لڑکی۔
(۲) إِنَّمَا اللّٰہُ إِلَہٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَہُ أَن یَکُونَ لَہُ وَلَدٌ۔ (النساء: ۱۷۱)
’’اللہ تو بس ایک خدا ہے۔ وہ بالاتر ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو‘‘ (سید مودودی)
’’سو ایک معبود ہے اس لائق نہیں کہ اس کے اولاد ہو‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’سوائے اس کے نہیں کہ اللہ معبود اکیلا ہے پاکی ہے اس کو کہ ہو واسطے اس کے اولاد‘‘ (شاہ رفیع الدین)
(۳) وَجَعَلُوا لِلّٰہِ شُرَکَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ وَخَرَقُوا لَہُ بَنِیْنَ وَبَنَاتٍ بِغَیْْرِ عِلْمٍ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یَصِفُونَ۔ بَدِیْعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ أَنَّی یَکُونُ لَہُ وَلَدٌ وَلَمْ تَکُن لَّہُ صَاحِبَۃٌ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْْءٍ وہُوَ بِکُلِّ شَیْْءٍ عَلِیْمٌ۔ (الانعام: ۱۰۰،۱۰۱)
’’اس پر بھی لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھیرادیا، حالانکہ وہ ان کا خالق ہے، اور بے جانے بوجھے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تصنیف کردیں، حالانکہ وہ پاک اور بالاتر ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں، وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ کوئی اس کی شریک زندگی ہی نہیں ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے‘‘ (سید مودودی)
’’کہاں سے ہو اس کے بیٹا‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’کیونکر ہو واسطے اس کے اولاد‘‘ (شاہ رفیع الدین)
دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ یہاں پہلی آیت میں صراحت ہے بنین وبنات کی، پھر دوسری آیت میں مشرکوں کی اسی بات کی تردید کرتے ہوئے ولد لفظ لایا گیا، جو عام ہے اور اس میں بنین اور بنات دونوں شا مل ہوتے ہیں۔ غرض ولد کا بیٹا ترجمہ کرنا درست نہیں ہوگا، اولاد ترجمہ کرنا درست ہے۔
(۴) مَا کَانَ لِلّٰہِ أَن یَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَہُ۔ (مریم: ۳۵)
’’اللہ کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ذات ہے‘‘ (سید مودودی، مناسب ترجمہ ہوگا’’اللہ کے شایان شان نہیں ہے‘‘)
’’اللہ ایسا نہیں کہ رکھے کوئی اولاد وہ پاک ذات ہے‘‘ (شاہ عبدالقادر)
(۵) مَا اتَّخَذَ اللّٰہُ مِن وَلَدٍ (المؤمنون: ۹۱)
’’اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے‘‘ (سید مودودی)
’’اللہ نے کوئی بیٹا نہیں کیا‘‘ (شاہ عبدالقادر)
(۶) قُلْ إِن کَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِیْن۔ (الزخرف: ۸۱)
’’ان سے کہو اگر واقعی رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا‘‘ (سید مودودی)
(۷) وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَداً سُبْحَانَہُ۔ (البقرۃ: ۱۱۶)
’’اور کہتے ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے، اس کی شان ان باتوں سے ارفع ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی، مناسب ترجمہ ہوگا’’نے اولاد بنارکھی ہے‘‘)
’’اور کہتے ہیں اللہ رکھتا ہے اولاد وہ سب سے نرالا ‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’ان کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے اللہ پاک ہے ان باتوں سے ‘‘(سید مودودی)
(۸) وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً۔ (الاسراء:۱۱۱)
’’اور کہہ سرا ہے اللہ کو جس نے نہیں رکھی اولاد‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’اور کہو تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا‘‘ (سید مودودی)
(۹) وَیُنذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَداً۔ (الکہف:۴)
’’اور ان لوگوں کو ڈرادے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے‘‘ (سید مودودی، ’’ڈرادے کے‘‘ بجائے’’ خبردار کرے ‘‘مناسب ترجمہ ہوگا)
’’اور ڈر سنادے ان کو جو کہتے ہیں اللہ رکھتا ہے اولاد‘‘ (شاہ عبدالقادر)
(۱۰) وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَداً۔ (مریم: ۸۸)
’’وہ کہتے ہیں کہ رحمان نے کسی کو بیٹا بنایا ہے ‘‘(سید مودودی)
’’اور لوگ کہتے ہیں رحمن رکھتا ہے اولاد ‘‘(شاہ عبدالقادر)
(۱۱) أَن دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَداً۔ (مریم: ۹۱)
’’کہ لوگوں نے رحمان کے لیے اولاد ہونے کا دعوی کیا ‘‘(سید مودودی)
(۱۲) وَمَا یَنبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ أَن یَتَّخِذَ وَلَداً۔ (مریم:۹۲)
’’رحمان کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے‘‘ (سید مودودی)
’’اور نہیں بن آتا رحمن کو کہ رکھے اولاد‘‘(شاہ عبدالقادر)
(۱۳) وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَداً سُبْحَانَہُ۔ (الانبیاء: ۲۶)
’’یہ کہتے ہیں رحمان اولاد رکھتا ہے، سبحان اللہ‘‘ (سید مودودی)
’’اور کہتے ہیں رحمن نے کرلیا کوئی بیٹا وہ اس لائق نہیں ‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’اور کہا انہوں نے کہ پکڑی ہے رحمن نے اولاد پاک ہے وہ ‘‘(شاہ رفیع الدین)
(۱۴) وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً۔ (الفرقان: ۲)
’’جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ‘‘(سید مودودی)
’’اور نہ پکڑی اولاد ‘‘(شاہ رفیع الدین)
’’اور نہیں پکڑا اس نے بیٹا‘‘ (شاہ عبدالقادر)
(۱۵) لَوْ أَرَادَ اللّٰہُ أَنْ یَتَّخِذَ وَلَداً لَّاصْطَفَی مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَاءُ سُبْحَانَہُ۔ (الزمر: ۴)
’’اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا برگزیدہ کرلیتا، پاک ہے وہ اس سے ‘‘(سید مودودی)
’’اگر اللہ چاہتا کہ اولاد کرلے تو چن لیتا اپنی خلق میں جو چاہتا وہ پاک ہے ‘‘(شاہ عبدالقادر)
(۱۶) وَأَنَّہُ تَعَالَی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَلَا وَلَداً۔ (الجن: ۳)
’’اور یہ کہ اونچی ہے شان ہمارے رب کی نہیں رکھی اس نے جورو نہ بیٹا‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت اعلیٰ وارفع ہے، اس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا‘‘ (سید مودودی)
’’اور یہ کہ بہت بلند ہے عزت پروردگار ہمارے کی، نہیں پکڑی اس نے بی بی اور نہ اولاد ‘‘(شاہ رفیع الدین)
مذکورہ بالا تمام آیتوں میں ولد کا ترجمہ لڑکا یا بیٹا کرنے کے بجائے اولاد کرنا درست ہے۔
بَنِیْنَ کا ترجمہ
(۱) وَجَعَلَ لَکُم مِّنْ أَزْوَاجِکُم بَنِیْنَ وَحَفَدَۃً۔ (النحل: ۷۲)
’’اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لئے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کئے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’ان نیویوں سے تمہیں بیٹے پوتے عطا کئے‘‘(سید مودودی)
(۲) الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِیْنَۃُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا۔ (الکہف:۴۶)
’’مال وپسران آرائش زندگانی دنیا را‘‘ (شیخ سعدی)
’’مال وفرزندان آرائش زندگانی دنیا است‘‘ (شاہ ولی اللہ)
’’مال واولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں ‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’مال واولاد تو دنیا کی ہی زینت ہے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’مال واولاد حیات دنیا کی ایک رونق ہے‘‘ (اشرف علی تھانوی)
’’یہ مال اور یہ اولاد محض دنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے‘‘(سید مودودی)
’’مال اور بیٹے رونق ہیں دنیا کے جیتے‘‘ (شاہ عبدالقادر)
(۳) وَأَمْدَدْنَاکُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِیْنَ۔ (الاسراء:۶)
’’اور تمہاری مال واولاد سے مدد کی ‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’اور مال واولاد سے تمہاری مدد کی‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی ‘‘(سید مودودی)
’’اور زور دیا تم کو مالوں سے اور بیٹوں سے ‘‘(شاہ عبدالقادر)
(۴) أَیَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّہُم بِہِ مِن مَّالٍ وَبَنِیْنَ۔ (المؤمنون: ۵۵)
’’کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کے مال واولاد میں اضافہ کررہے ہیں‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’کیا یہ (یوں) سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم جو بھی ان کے مال واولاد بڑھارہے ہیں‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’کیا خیال رکھتے ہیں کہ یہ جو ہم ان کو دئے جاتے ہیں مال اور اولاد ‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’کیا گمان کرتے ہیں یہ کہ جو کچھ مدد دیتے ہیں ہم ان کو ساتھ اس کے مال سے اور بیٹوں سے‘‘ (شاہ رفیع الدین)
(۵) أَمَدَّکُم بِأَنْعَامٍ وَبَنِیْنَ۔ (الشعراء: ۱۳۳)
’’اس نے تمھاری مدد کی چوپایوں اور اولاد سے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’اس نے تمہاری مدد کی مال اور اولاد سے ‘‘(محمد جونا گڑھی)
’’تمہیں جانور دئے، اولادیں دیں‘‘ (سید مودودی)
’’پہنچائے تم کو چوپائے اور بیٹے ‘‘(شاہ عبدالقادر)
یہاں ایک بات اور واضح رہے کہ مذکورہ بالا کچھ آیتوں میں امداد کی تعبیر استعمال ہوئی ہے، اس کا صحیح ترجمہ عطا کرنا ہے، نہ کہ مدد کرنا یا اضافہ کرنا۔اس موضوع پر تفصیلی گفتگو اس لفظ کے تحت ہوئی ہے۔
(۶) أَن کَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِیْنَ۔ (القلم: ۱۴)
’’یہ کردار اس وجہ سے ہوا کہ وہ مال واولاد والا ہے ‘‘(امین احسن اصلاحی، ’’یہ کردار اس وجہ سے ہوا‘‘ کے بجائے مناسب ترجمہ ہوگا ’’اس وجہ سے کہ‘‘ یعنی یہ علت ہے اس رویہ کی جس کا ذکر آگے آرہا ہے نہ کہ اس کردار کی جس کا ذکر پہلے ہوا )
’’اس بنا پر کہ وہ بہت مال واولاد رکھتا ہے ‘‘(سید مودودی)
’’اس سے کہ رکھتا ہے مال اور بیٹے ‘‘(شاہ عبدالقادر)
(۷) وَیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِیْنَ۔ (نوح: ۱۲)
’’اور مال واولاد سے تمہیں فروغ بخشے گا ‘‘(امین احسن اصلاحی، مناسب ترجمہ ہوگا: ’’اور مال اور بیٹوں سے تمہیں نوازے گا‘‘)
’’تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا ‘‘(سید مودودی)
’’اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں برکت دے گا‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’اور بڑھنے دے گا تم کو مال اور بیٹوں سے ‘‘(شاہ عبدالقادر)
(۸) وَبَنِیْنَ شُہُوداً۔ (المدثر: ۱۳)
’’اور بیٹے حاضر ہونے والے‘‘ (شاہ رفیع الدین)
’’اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دئے‘‘ (سید مودودی)
(۹) زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِیْنَ۔ (آل عمران: ۱۴)
’’لوگوں کے لئے مرغوبات نفس عورتیں، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے، مویشی اور زرعی زمینیں بڑی خوش آئند بنادی گئی ہیں ‘‘(سید مودودی)
’’رجھایا ہے لوگوں کو مزوں کی محبت پر عورتیں اور بیٹے ‘‘(شاہ عبدالقادر)
مذکورہ بالا تمام آیتوں میں بنین کا ترجمہ اولاد کرنے کے بجائے بیٹے کرنا درست ہے۔
غور کرنے کی بات ہے کہ وہ بہت سی آیتیں جن میں لفظ ولد آیا ہے، دراصل وہاں قرآن مجید نے کافروں کے اس جھوٹے دعوے کی تردید کی ہے ، جو وہ کیا کرتے تھے کہ اللہ نے اپنے لیے اولاد اختیار کی ہے، یہاں اصل مسئلہ اولاد اختیار کرنے کا ہے، خواہ وہ نرینہ اولاد ہو یا غیر نرینہ اولاد ہو۔ ویسے بھی منسوب کرنے والوں نے اللہ کی طرف دونوں طرح کی اولاد کو منسوب کیا، چنانچہ اللہ کی طرف سے تردیدکے لیے وہ لفظ اختیار کیا گیا جس سے بیک وقت دونوں باتوں کی تردید ہوجائے۔اس کی بہت واضح مثال اوپر مذکور سورہ انعام کی آیت نمبر ۱۰۰ اور ۱۰۱ ہیں، جہاں پہلے بنین اور بنات کے الفاظ آئے اور پھر انہیں ولد کہہ کر ایک لفظ میں بیان کردیا۔
دوسری طرف تنہا بنین کا لفظ زیادہ تر اس پس منظر میں آیا ہے کہ لوگ نرینہ اولاد کو باعث قوت اور سامان شان وشوکت سمجھتے ہیں، اور اس پر اتراتے ہیں جبکہ یہ سب اللہ کی نوازش ہے۔ غرض جس سیاق میں بنین کا لفظ آیا ہے، وہ سیاق اسی خاص لفظ کا مقتضی ہے۔ دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ ایسے بیشتر مقامات پر بنین کا لفظ مال یا اس کے ہم معنی لفظ کے ساتھ آیا ہے۔
اس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ ترجمہ میں اس فرق کی رعایت بہت ضروری ہے جس فرق کا اہتمام خود قرآن مجید میں بہت خاص طریقے سے کیا گیا ہے۔
(جاری)
اسلامی دنیا میں عقلی علوم کا زوال ۔ عہد زریں اور عہد تاریک کا افسانہ
پروفیسر اسد احمد
ترجمہ: عاطف حسین
(پروفیسر اسد کیو احمد یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے سے منسلک ہیں۔ پیش جدیدی مسلم معاشروں کی سماجی اور فکری تاریخ ان کی تحقیق کے خاص میدان ہیں۔ یہ تحریر اکتوبر 2013ء کی ہے۔ مترجم)
کوئی دو ماہ قبل مجھے امیریکن اسلامک کانگریس نامی ایک این جی او کی طرف اسلام اور سائنس کے موضوع پر ایک مباحثے میں شمولیت کی دعوت ملی۔ مجھے بتایا گیا کہ اس میں میرے ساتھ ایک پاکستانی عوامی اسپیکر بھی شرکت کریں گے (یہ اسپیکر پروفیسر ہودبھائی تھے۔ مترجم) جو اسلامی فکر کی تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور مسلم دنیا میں سائنس اور دوسرے عقلی علوم کی اشاعت و ترویج کے لیے کوشاں ہیں۔ مجھے اس مباحثے میں فوری طور پر دلچسپی محسوس ہوئی کیونکہ ماقبل جدید (800۔1900ء) مسلم دنیا میں عقلی علوم جیسے کہ فلسفہ،منطق اور فلکیات وغیرہ کی تاریخ میرے مطالعے کا خصوصی موضوع ہے۔
کئی سالوں سے میں آہستہ آہستہ مگر بڑی محنت سے مسلم عقلی علوم کے متعلق مباحث کی مختلف تہوں کو پلٹ رہا ہوں تاکہ مسلم دنیا میں سائنس کی تاریخ کے متعلق ایک ذمہ دارانہ بیانیہ تشکیل دے سکوں۔ مجھے اپنے کام اور پوری دنیا میں انفرادی حیثیتوں اور ٹیموں کی شکل میں اسی علمی مشغلے میں مصروف اپنے ساتھیوں کے کام سے ماضی کو سمجھنے میں بہت مدد ملی ہے۔ اگرچہ ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، لیکن اب تک اپنی دریافتوں کے نتیجے میں ہم سب متفقہ طور پر ایک عرصے سے درست تسلیم کی جانے والی مسلم عہد زریں اور اس کے بعد مسلم دنیا میں علومِ عقلی کے زوال کی کہانی کو مسترد کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
چونکہ اب تک اس موضوع پر کچھ اہم کام ہوچکا ہے، اس لیے میں نے عام لوگوں کے ساتھ اب تک ہونے والی تحقیقات کے نتائج پہنچانے کے موقعے کا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اس مباحثے میرے ساتھ شریک دوست کو پہلے بولنے کا موقع ملا اور انہوں اپنی گفتگو کا آغاز ایک ایسی بات سے کیا جس سے مجھے مکمل اتفاق ہے۔ وہ یہ کہ فی زمانہ مسلم دنیا میں سائنس اور باقی عقلی علوم کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور اسے جلد از جلد بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہ عمدہ آغاز تھا لیکن اس کے بعد انہوں نے اس صورتِ حال کے جو اسباب گنوائے، وہ محل نظر تھے۔ کچھ دلچسپ ذاتی تجربات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے فرمایا کہ اس صورت حالات کی تاریخی وجوہات مسلم عہدزریں کے اختتام اور تاریک دور کے آغاز میں، جس میں مسلم روایت پرستی کو عروج حاصل ہوا، تلاش کی جانی چاہیے۔
ان کی بیان کی ہوئی کہانی کے مطابق سنی ماہر الہٰیات غزالی کے حملوں کے نتیجے میں مسلم دنیا میں علوم عقلی زوال آشنا ہوگئے۔ فلسفیوں پر برا وقت آیا اور ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے، فطری مظاہر کی توجیہ معجزوں سے کی جانے لگی، اجرام فلکی کی حرکت کے ذمہ دار فرشتے قرار دیے گئے اور اس طرح مسلمان سائنسی ترقی کے قابل ہی نہ رہے کیونکہ انہوں نے سببیت کا ہی انکار کردیا تھا۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ اس تناظر میں یہ بالکل بھی تعجب خیز نہیں ہے کہ اس کے بعد مسلمانوں نے علم کی دنیا میں مزید کوئی ترقی نہیں کی۔ اور آج جو ہم صورتِ حالات دیکھ رہے ہیں، یہ اسی کا نتیجہ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ عقل دشمنی کی اسی صدیوں پرانی روایت کا تسلسل ہے۔
تاہم یہ سب ایسے نہیں ہوا۔ سب سے پہلے تو یہ کہ تہافت الفلاسفہ میں غزالی کا نشانہ عقل یا فلسفہ تھے ہی نہیں۔ غزالی کا اعتراض جیسا کہ انہوں نے ایک سے زائد ابتدائیوں اور پھر پوری کتاب میں باربار واضح کیا ہے، اسلامی عقائد کے متعلق بحثوں میں ناقص منطق سے استدلال کرنے والے مابعد الطبیعیاتی مفکروں پر ہے۔ غزالی نے بڑی صراحت سے لکھا ہے کہ عقائد کے علاوہ دوسرے معاملات یعنی ایسی چیزیں جو سائنسی نوعیت کی ہیں، ان میں فلاسفہ سے نہیں جھگڑنا چاہیے۔ وہ (غزالی) تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر کسی چیز کی سائنسی توجیہ اور حدیث میں تعارض ہو تو زیادہ بہتر رویہ یہ ہے کہ حدیث کو ضعیف قرار دے کر رد کردیا جائے۔ اسی طرح اگر الہامی متن اور سائنسی طور پر ثابت شدہ کسی چیز کے درمیان تعارض واقع ہوجائے تو متن کے استعاراتی معنی مراد لیے جائیں گے۔ درحقیقت یہ بات بالکل واضح ہے کہ غزالی عقل کو روایت پر ترجیح دیتے ہیں۔ فقہی معاملات میں انہوں نے اندھی تقلید پر شدید تنقید کرتے ہوئے عقل کو ہی نقلی علوم کی بنیاد قراردیا ہے۔
غزالی کے بعد بھی مسلم دنیا میں عقل کے متعلق یہ رویہ جاری رہا۔ اس روایت کو زندہ رکھنے والے بے شمار مفکروں میں سے نصیرالدین طوسی (وفات 1274 ) ، قطب الدین شیرازی (وفات 1311)، عضدالدین ایجی (وفات 1355)، سید شریف جرجانی (وفات 1413) اور محب اللہ بہاری (وفات 1707) کے نام فوری طور پر ذہن میں آتے ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز تک فلکیات سے مابعد الطبیعات تک مختلف علوم میں مسلم علماء کا موقف بالعموم یہی رہا کہ عقل ہی وہ سائنسی تمثیلات مہیا کرتی ہے جن سے کائنات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم ریاضیاتی اور منطقی طور پر درست ہونے کے بعد باوجود یہ طے کرنا کئی دفعہ ممکن نہیں ہوتا کہ ان میں کونسی تمثیل دوسروں سے برتر ہے۔ بالفاظ دیگر مسلم علماء نے سائنس کے بارے میں بعینہ وہی رویہ اختیار کیا جو ڈیوڈ ہیوم کے بعد مغربی دنیا میں اختیار کیا گیا۔ اتفاق سے ہیوم ہی وہ شخص ہے جس نے سببیت اور استقرائی منطق کے مابعد الطبیعاتی پہلووں کے متعلق بہت اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ درحقیقت غزالی کے بعد کے دور میں متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں علماء نے بڑی صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ سائنسی تحقیق عقائد کے لیے بالکل مضر نہیں ہے۔
مبادا کہ قارئین کو ان علماء کی اہمیت کے بارے میں کوئی شک ہو، میں بیان کرتا چلوں کہ جن علماء کا میں ذکر کررہا ہوں، وہ کوئی ایرے غیرے نہیں بلکہ تفسیر، حدیث، فلکیات، طب اور ریاضی جیسے علوم پر دسترس رکھنے والے غیر معمولی لوگ تھے جو پیچیدہ پیش جدیدی معاشرے میں ایک سے زائد کردار نبھا رہے تھے۔ یہ کوئی ایسی حیرانی کی بات نہیں کیوں کہ بیسویں صدی کے آغاز تک مدرسے کے نصاب میں نقلی علوم کے مقابلے میں عقلی علوم کے متعلق زیادہ کتابیں شامل ہوتی تھیں۔ درحقیقت اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ الہامی متون کے درست اور ذمہ دارانہ مطالعے کے قابل بننے کے لیے پہلے عالم کو منطق و خطابت، حتیٰ کہ طب جیسے علوم میں مہارت پیدا کرنی چاہیے۔ گویا اس طرح سے ہماری تحقیق کے بالکل آغاز میں ہی واضح ہوگیا ہے کہ عقل و وحی، عقلیت پسند و روایت پسند، عہدزریں و عہد تار اور فلسفی و ملا جیسی سادہ و سطحی ثنائیات کو سرے سے ترک کردینا چاہیے۔ اور اسلامی تناظر میں "آرتھوڈوکسی’’، "کلیرک "اور "سیمینری’’ جیسی اصطلاحات کا استعمال تو ہے ہی بالکل بے جا اور غلط۔۔
تو پھر ہمارا یہ حال کیسے ہوا؟ اور اس کے متعلق کسی تحقیق کی آخر کیا ضرورت ہے؟ میں دوسرے سوال سے شروع کروں گا کیوں کہ اس کا جواب آسان ہے۔ اگر تو روشن خیال اور لبرل دانشوروں کی طرف سے بار بار دہرایا جانے والا بیانیہ جو میرے ساتھ مباحثے میں شریک میرے دوست نے بھی پیش کیا، درست ہے، یعنی یہ کہ اسلامی دنیا میں عقلی علوم کی موجودہ حالت زار عقل کے متعلق مین اسٹریم اسلام کے رویے کا براہ راست نتیجہ ہے تو پھر میں تو مسلمانوں کو یہی مشورہ دوں گا کہ وہ اپنا مذہب چھوڑدیں۔ کیونکہ میرے خیال میں جو مذہب عقل جیسی بنیادی ترین ذہنی استعداد کا انکارکرتا اور اسے دباتا ہو، وہ سچا مذہب نہیں ہوسکتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عہدزریں اور زوال کے بیانیے کا فوری نتیجہ بالکل وہی ہے جو اسلامو فوبیا میں مبتلا لوگوں کا موقف بھی ہے یعنی یہ کہ مسلمانوں کو اپنا مذہب ترک کر دینا چاہیے۔ یہ لوگ ہمیں باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مین اسٹریم روایت پرستانہ اسلام کی وجہ سے 900 سال سے علوم عقلی اسلامی دنیا میں اجنبی ہیں۔ تو یہ مذہب ہے ہی غلط اور اسے اب ناپید ہوجانا چاہیے۔ اب اسے ستم ظریفی کہیے کہ اس بیانیے سے کچھ اسلام پسند گروہوں جیسی ہی شدت پسندی پیدا ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک بھی اسلام کی ابتدائی صدیوں کا دور مثالی تھا جس کی طرف وہ لوٹ کرجانا چاہتے ہیں۔ رہے ہم جیسے لوگ تو وہ معقولیت کی تلاش میں ان دونوں انتہاؤں کے درمیان پس رہے ہیں۔
یہ مقبول بیانیہ انتہائی خطرناک تو ہے، لیکن خوش قسمتی سے یہ بالکل ہی غیر علمی اور بودا بھی ہے اور علوم عقلی کے متعلق اسلامی دنیا میں تخلیق کردہ قلمی نسخوں کے بحر ذخار میں سے محض چند قطرے دیکھنے کے بعد ہی مغربی علمی حلقوں میں اب کوئی بھی اب اس بیانیے پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ تو پھر آخر اسلامی دنیا میں علوم عقلی کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا؟ سچ تو یہ ہے کہ ابھی ہم پورے یقین کے ساتھ کوئی جواب دینے کے قابل نہیں ہوئے، لیکن میں اپنی تحقیق کے دوران کئی ایسے عوامل کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہوا ہوں جو اسلامی دنیا میں فلسفے، فلکیات اور طب جیسے علوم کے زوال کا باعث بنے ہیں۔ میں ان میں سے چند ایک کا یہاں ذکر کرتا ہوں، لیکن مکمل تصویر کے لیے ہمیں ابھی مزید تحقیق کا انتظار کرنا ہوگا۔
ایک وجہ تو یہ رہی کہ انیسویں صدی کے وسط میں علو م عقلی میں تربیت یافتہ علماء کو شاہی سرپرستی میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے پہلے ایسے علماء مختلف درباروں سے قاضیوں، شاعروں، تحصیل داروں، سفارت کاروں ، طبیبوں اور نقشہ نویسوں کی حیثیت سے منسلک ہوتے تھے اور یہیں سے ا ن کی سرپرستی ہوتی تھی۔ تاہم برطانوی راج کے عروج کے نتیجے میں جب ایسے دربار ختم ہونے شروع ہوئے تو ایسے علماء بھی سرپرستی سے محروم ہوگئے۔ اس سے پیدا ہونے والے خلا کو بین العلاقائی مصلحین کے گروہوں سے تعلق رکھنے والے عوامی مبلغوں نے پر کرنا شروع کردیا جن کی تربیت بالکل ہی الگ ڈھنگ پر ہوئی تھی۔
جنوبی ایشیا کی حد تک علوم عقلی کے زوال کی ایک اور وجہ اردو کو مسلمانوں کے ہاں ادب کی بنیادی زبان کا درجہ حاصل ہوجانا بھی تھی۔ عقلی علوم کے متعلق قریب قریب کل تصانیف عربی ( اور کچھ فارسی میں ) تھیں۔ ان زبانوں (عربی اور فارسی) میں عقلی علوم کی لمبی تاریخ کے دوران وجود میں آنے والا فنی اصطلاحات کا ایک پورا ذخیرہ موجود تھا، لیکن ان زبانوں کے متروک ہوجانے اور ان سے اردو میں ترجمے کی کسی منظم کوشش کی عدم موجودگی میں اس ذخیرے کے ضیاع کے نتیجے میں علومِ عقلی کا معیار بڑی حد تک گر گیا۔
اسی طرح ، اگرچہ یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے ، لیکن علوم عقلی کے زوال میں کچھ کردار شاید پرنٹنگ ٹیکنالوجی میں ترقی نے بھی ادا کیا ہو۔ مسلم علماء مخطوطات پر ہاتھ سے حاشیے اور تشریحات لکھنے کے عادی تھے۔ اس طرح ہر شعبہ علم میں ایک ایسی داخلی جدلی روایت وجو د میں آئی جو اس شعبہ علم کی ترقی کی براہِ راست ذمہ دار تھی۔ تاہم پرنٹنگ ٹیکنالوجی کی آمد کے باعث صورتِ حالات بدل گئی۔ اب نہ قلمی نسخے رہے اور نہ ان پر لکھے ہوئے حاشیے۔ اس طرح کسی موضوع پر تاریخی مباحث سے براہ اکتساب کی روایت بھی دم توڑ گئی۔ درحقیقت (مین اسٹریم اسلام کی عقل دشمنی کے بجائے) ان چند ایک عوامل کے ساتھ اور بے شمار سماجی، سیاسی، ثقافتی، ادارہ جاتی اور ٹیکنالوجیکل عوامل دراصل آج مسلم دنیا میں علوم عقلی کی زبوں حالی کے ذمہ دار معلوم ہوتے ہیں۔ اور اگر یہ تشخیص درست ہو یعنی یہ کہ مین اسٹریم ‘روایتی’ اسلام عقل کا دشمن نہیں ہے تو پھر اس زبوں حالی کا حل بھی کہیں اور تلاش کرنا پڑے گا۔ میں یہ قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس پر غور و فکر کریں کہ وہ حل کیا ہوسکتے ہیں اور ان کو کیسے روبعمل لایا جاسکتا ہے۔
اب میں آخر میں کچھ روشنی اس چیز پر ڈالنا چاہتا ہوں کہ نام نہاد عہد تاریک کے دوران ہونے والے کام کے وسیع ذخائر کو نظر انداز کرتے ہوئے عہد زریں و عہِ تاریک کا بیانیہ پیدا ہی کیونکر ہوا، کیوں یہ اب بھی مقبول ہے اور شاید آگے بھی باوجود ہمارے جیسے لوگوں کی کوششوں کے مقبول ہی رہے گا۔ اس کو جس خوبصورتی سے کولمبیا یونیورسٹی کے جنوبی ایشیائی مطالعات کے اروند رگوناتھ پروفیسر شیلڈن پولاک نے واضح کیا ہے، میں اس سے بہتر طور پر نہیں کرسکتا۔ پروفیسر صاحب ہندوستانی دانش کی تاریخ پر ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
"سائنس اور اسکالر شپ کے متعلق ، خصوصاً دور جدید کے ابتدائی دنوں میں مختلف علوم کی تاریخ کے متعلق گہری تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے۔ مخطوطات کی لائبریریوں کی لائبریاں یوں ہی پڑی ہیں جن کو کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ایسا کیوں ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اب ان مخطوطات کو پڑھنے کی صلاحیت رکھنے والے لوگ ہی کم ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے علماء کی کمی جدیدیت اور نوآبادی نظام کے بدترین نتائج میں سے ایک ہے، اگرچہ اس بارے میں بات بہت کم کی جاتی ہے۔ لیکن اس کی اس کے علاوہ اور وجوہات بھی ہیں جن میں سے ایک مستشرقین کا یہ رومانوی نظریہ بھی ہے کہ کسی بھی ہندوستانی مصنوع، کتاب یا خیال کی اہمیت و وقعت اس کی قدامت سے طے ہوتی ہے۔ اسی طرح نوآبادیاتی دور کا یہ بیانیہ بھی، جس کو برطانوی سامراجی منصوبے کے تحت شروع کیے جانے والے ‘مہذب بنانے‘ اور ‘جدید بنانے‘ کے پراجیکٹ میں بنیادی حیثیت حاصل تھی، کہ ہندوستانی تہذیب 1800ء سے پہلے ہی زوال آشنا ہوچکی تھی اس صورتِ حالات کا ذمہ دار ہے۔ اس کا ایک مظہر وہ تحقیر اور بے اعتنائی ہے جس کے ساتھ’دیسی ‘ علماء نے اپنے سامراجی آقاؤں کی طرح عظیم ہندی لٹریچر کو ٹھکرایا ہے۔‘‘
یہ بیانیہ نوآبادیاتی استشراقی افسانے کے طور پر شروع ہوا جو اب ایک طرح کے نواستشراقی مظہر کے طور پر اپنے ماضی سے کٹ جانے والے لوگوں میں رائج ہوگیا ہے۔ اس تناظر میں میرے خیال میں اب مسلمانوں کے پاس صرف دو ہی انتخابات ہیں۔ یا تو وہ یہی استشراقی راگ الاپتے ہوئے اپنی بیماری کی غلط تشخیص کرتے اور اس طاقتور افسانے کے زورپر شدت پسندی کی پرورش کرتے رہیں یا پھر وہ اپنی زبانوں کو ازسر نو زندہ کریں، ایسے تاریخ دان پیدا کریں جو اصل مصادر میں غواصی کرسکیں ، ایسے فلسفی پیدا کریں جو سطحی ثنائیات سے آگے بڑھ کر مہارت اور خلوص کے ساتھ ان مباحث کو آگے بڑھا سکیں۔ اگر ایسا ہو سکے تو تبھی شاید مسلمان تاریخ کے نام پر سنی ہوئی کہانیوں کو ازسر نو لکھنے اور اپنے پیچیدہ مسائل کے حل دریافت کرنے میں کامیاب ہوپائیں گے۔
(بشکریہ http://daanish.pk/2582)
علمِ سماجیات : دعوت نامے کی باز طلبی؟
پیٹر برجر
ترجمہ: عاصم بخشی
زندگی کے اس موڑ پر ایک ماہر سماجیات کے طور میرے تشخص میں ایسا کچھ خاص داؤ پر نہیں لگا ہوا۔ اگر علمی تخصص کی بابت پوچھا جائے تو میں خود کو ماہر سماجیات ہی کہوں گا، لیکن اِس تخصیص کا اِس سے کچھ خاص لینا دینا نہیں جو میں کرتا ہوں یا خود کو سمجھتا ہوں۔ میں اِس علمی دائرے سے منسلک محققین کے کام پر سرسری توجہ ہی دیتا ہوں اور یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ وہ بھی میرے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں۔ یہ صورتِ حال کچھ ایسی بری بھی نہیں۔لیکن مجھے کبھی کبھار یاد آتا ہے کہ میں اپنی پرجوش جوانی میں دوسروں کو کافی جذباتی انداز میں اپنی تحریروں (جو خوش قسمتی سے آج بھی اشاعت میں ہیں) اور تدریس سے علم سماجیات کی دعوت دیتاتھا۔ کیا مجھے اپنے اس عمل پر پشیمان ہونا چاہئے؟ کیا مجھے متانت سے دعوت کے منسوخ ہونے کا اعلان کر دینا چاہئے تاکہ ایک دیوالیہ ادارے کا رخ کرتے مزید معصوم طلباء کی گمراہی کا الزام مجھ پر نہ لگے؟ میرا خیال ہے کہ ان دونوں سوالوں کا جواب ایک شکستہ دل سی ’’نہیں‘‘ ہے۔ ’’نہیں‘‘ کیوں کہ میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ و ہ علم سماجیات جس کی میں نے کبھی وکالت کی تھی آج بھی اتنا ہی مستند ہے ، اور’’ شکستہ دل‘‘ کیوں کہ خود کو ماہر سماجیات کہنے والے بہت سے لوگ واقعتا یہ نہیں کر رہے۔ کیا ان حالات کے بدلنے کا کوئی امکان ہے؟ شاید نہیں جس کی محکم سماجیاتی وجوہات ہیں۔تاہم اس سے پہلے کہ علاج کے امکانات کا جائزہ لیا جائے، واضح تشخیص ضروری ہے۔
یہ تو ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ ایک عظیم اور تیزرفتار تبدیلیوں کا دور ہے۔ یہ محض اس وسیع قلب ماہیت کا ایک سرعت پذیر دور ہے جو پہلے یورپ اور پھر تیز رفتاری سے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا جدیدیت کا بہاؤ تھا۔یہ یاد دہانی چشم کشا ہے کہ علم سماجیات اس عظیم بہاؤ کے کسی نہ کسی حد تک فہم اور اس پر ممکنہ طور پر قابو پانے کی کوشش کے نتیجے میں وضع ہوا۔ یہ صورتِ حال واضح طور پر ان تین ملکوں میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں واضح طور پر علم سماجیات کے تین ممیز روایتی دھارے ظہور میں آئے، یعنی فرانس، جرمنی اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ۔ جدیدیت کا فہم بلکہ شاید اس کو قابو میں لینے کی خواہش! کیا ہی رعب دار تجویز ہے! لہٰذا اس میں حیرا نی کی کوئی بات نہیں کہ اولین سماجی گرو قابل رشک ذہنی اور زیادہ تر مثالوں میں انفرادی صلاحیتیں رکھنے والے اہل علم تھے۔ کئی علمی نسلوں بعد آنے والے متاخرین سے اسی قسم کی قابل موازنہ خصوصیات کی توقع خام خیالی ہو گی۔ لیکن کم از کم فکری رویوں میں ایک مخصوص تسلسل کی توقع تو کی جا سکتی ہے، یعنی ماہیت نہیں تو کم از کم ایک قسم کا جوہری تسلسل ہی سہی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ منظر نامہ ایسا ہی ہے۔اپنے کلاسیکی دور یعنی تقریباً ۱۸۹۰ سے ۱۹۳۰ کے درمیان علمِ سماجیات نے زمانے کے ’’عظیم سوالوں‘‘ سے تعلق رکھا، لیکن آج یہ زیادہ تر ان سوالوں سے کتراتا نظر آتا ہے اور جب نہیں کتراتا تو انہیں بہت مجرد انداز میں موضوع بناتا ہے۔
کلاسیکی ماہرین سماجیات اپنی خواہشات و تعصبات سے اوپر اٹھ کر سماجی منظرنامے پر ایک معروضی نظر ڈالنے میں بہت محتاط تھے(جس کی تعریف میکس ویبر نے اپنے بدنامِ زمانہ تصور ’’آزاد قدری‘‘ سے کی)، جب کہ آج ماہرین سماجیات کی ایک بڑی تعداد بہت فخر سے اپنی غیر معروضیت یعنی حزبی فرقہ واریت کا اعلان کرتی ہے۔ ایک زمانے میں امریکہ میں علم سماجیات ٹھوس تجربیت پسندی کی فضا پیدا کرنے پر مائل تھا جسے لوئس ورتھ نے ’’تحقیق سے اپنے ہاتھ میلے کرنے‘‘ سے تشبیہ دی اور جسے ایک سماجیاتی قوتِ شامہ بھی کہا جا سکتا ہے۔آج زیادہ تر ماہرین سماجیات اپنی تحقیق کی مجرد عفونت ربا خاصیت پر فخر کرتے ہیں جو نظری معاشیات کے ماڈل وضع کرنے جیسی ہے۔تعجب ہوتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے کبھی کسی جیتے جاگتے انسان کا انٹرویو لیا یا کسی سماجی تقریب میں ذوق و شوق سے شرکت بھی کی۔
کہاں کیا غلط ہوا؟ اور کیا اب بھی یہ صورتِ حال سدھارنے کے لئے کچھ کیا جا سکتا ہے؟ میں اعتماد سے کوئی مستند تشخیص یا علاج پیش کرنے سے قاصر ہوں۔ نہ ہی یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ اس تمام عرصے میں علم سماجیات کو لاحق عارضوں سے خود بھی محفوظ رہ سکاہوں۔لیکن کامل تشخیص نہ سہی، میں ایک امید افزا علاج کی اپنی سی کوشش ضرور کروں گا تاکہ کم از کم بیماری کی علامتوں کا کچھ بیان ممکن ہو سکے۔ اور میں یہ کام چار ایسی اہم واقعاتی تبدیلیوں کے تناظر میں کروں گا جو دوسری جنگ عظیم کے بعد رونما ہوئیں۔ ان میں سے ہر ایک تبدیلی نے اگر تمام نہیں تو زیادہ تر ماہرین سماجیات کو حیران کر کے رکھ دیا۔ یہی نہیں بلکہ ان تبدیلیوں کے واضح طور پر منصہ شہود پرآنے کے بعد ماہرین سماجیات کسی سماجیاتی تناظر میں ان کے فہم او ربیان سے قاصر رہے۔ ان تبدیلیوں کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے سماجیاتی تھیوری کی ان کے ادراک یا پیشین گوئی میں ناکامی اسی بات کی علامت ہے کہ کوئی نہ کوئی اہم بگاڑ ضرور واقع ہوا ہے۔
پہلی مثال:
۱۹۶۰ کے اواخر اور ۷۰ کے اوائل میں اہم مغربی صنعتی معاشروں میں ایک ثقافتی اور سیاسی زلزلہ برپا ہوا۔ سب کچھ بہت اچانک تھا۔ رسمی سماجیات کی عینک سے دیکھا جائے تو یہاں ایک عاجز کر دینے والا سوال سامنے آیا: کیسے ممکن ہے کہ روئے زمین پر بلکہ پوری تاریخ میں سب سے زیادہ خوش حال افراد اسی سماج کے خلاف تشدد پر آمادہ ہوں جس نے انہیں خوش حال کیا؟ اگر ہم امریکی سماجیات کی جانب دیکھیں تو اس وقت بھی آج کل کی طرح کئی کالجوں کے نصاب میں یہی قضیہ پڑھایا جاتا تھا کہ لوگ خوش حالی کے ساتھ زیادہ قدامت پسند ہو جاتے ہیں۔ یہ قضیہ شاید مذکورہ بالا واقعے تک بہت مستند ہو۔ لیکن اس سیاسی و ثقافتی زلزلے کے بعد یقیناًدرست نہیں رہا اور آج بھی نہیں ہے۔ اس کے برعکس سیاست و ثقافت دونوں میں ’’ترقی پسند‘‘ تحریکیں سماجی طور پر خوش حال بالا مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہیں یعنی نیا بایاں بازو، سیاست نو کے دھارے، جنگ مخالف، حقوقِ نسواں ، ماحولیات اور سبز نظریات کی تحریکیں وغیرہ۔ دوسری طرف، چاہے ان کے روحِ رواں رانلڈ ریگن، مارگریٹ تھیچر یا ہیلمٹ کوہل ہوں، نئی قدامت پسند تحریکوں نے خود کو زیریں مڈل کلاس اور محنت کش طبقات کے ایسے دھارے سے منسلک کیا جو ساتھ ہی ساتھ ایک چارو ناچار پرانی قدامت پسند اسٹیبلشمنٹ کو بھی گھسیٹ رہا تھا۔ امریکہ میں (اسی قسم کے ردعمل برطانیہ اور اس وقت کے مغربی جرمنی میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں) پرانی طرز کے مضافاتی کلب رپبلی کنز نے اپنی ناک پر ہاتھ رکھتے ہوئے غیر ترقی یافتہ علاقوں کے اناجیلی مبلغین، ثقافتی غضب سے بھرے ہوئے مقامی لوگوں، اسقاطِ حمل کے مخالفین اور کئی دوسرے نام نہاد سماجی طبقات سے مصافحہ کیا۔ دوسری طرف مڈل کلاس کے انتہا پسند مفکرین نے اگر ثقافتی نہیں تو سیاسی طور پر خود کو اپنی نظریاتی وابستگی سے منسلک’’محنت کش عوام‘‘ کے ساتھ نہیں بلکہ نچلے ترین طبقات کے نام نہاد نمائندوں اور دوسرے حاشیائی طبقات کے ساتھ کھڑا پایا۔
مجھے آج بھی بروکلن کے مضافات کا ایک منظر بخوبی یاد ہے جہاں ہم ساٹھ کی دہائی کے وسط سے ستر کے اواخر تک رہے۔ یہ علاقہ تیزی سے اشرافیہ میں تبدیل ہو رہا تھا (ہم اس تبدیلی کا حصہ تھے) یعنی ایک مقامی محنت کش طبقہ ایک پیشہ ور بالا مڈل کلاس میں ڈھل رہا تھا۔ گلی میں تقریباً ہر گھر میں اس زمانے کی سیاسی سنجیدہ روی کے مطابق امن کے اشتہار چسپاں تھے جیسے ’’امریکہ ، ویت نام سے باہر‘‘، ’’جنگ نہیں محبت‘‘، ’’وہیل مچھلیوں کو بچاؤ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ صرف ایک استثناء تھا: ایک گھر نے اس قسم کے پیغام لگا رکھے تھے کہ ’’ ویت نام میں فوجیوں کی ہمت بندھاؤ‘‘، ’’اپنی مقامی پولیس کا ساتھ دو‘‘ اور ’’بندوقوں کا نہیں کمیونسٹوں کا اندراج کرو‘‘۔ اس گھر میں ایک عمر رسیدہ معذور اور رنڈوا پرانا فوجی رہتا تھا۔ ایک دن اس آدمی کو بے دخل کر دیا گیا۔ سپاہی آئے اور ا س کا سامان گلی میں رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد اسے بھی اپنی وہیل چیئر پر بٹھا کر ایک امریکی فوجی ٹوپی پہنے گلی میں چھوڑ دیا گیا۔ اس کے کچھ دوست اسے ساتھ لے گئے اور پھر اس کا سامان بھی کسی گاڑی میں کہیں چلا گیا۔ اگلے ہی ہفتے اس گھر میں کچھ نئے لوگ آ گئے۔ فوراً کھڑکیوں میں امن کے پیغامات لگا دیے گئے۔
آج کا رائج نظریہ یہ ہے کہ’’ساٹھ کی دہائی کا آخر‘‘ تاریخِ رفتہ ہے جو بس یادِ ایام کی بازگشت کے طور پر واپس لوٹ آیا ہے۔یہ صریحاً ایک غلط تعبیر ہے:ساٹھ کی دہائی کا آخر محو نہیں ہوا بلکہ سیاسی اور ثقافتی دونوں طریقوں سے ایک اداراتی صورت میں ڈھل گیا ہے۔ اس تبدیلی کی کسی حد تک ایک نیم مؤثر سماجیاتی وضاحت وہ نام نہاد ’’نئی طبقاتی تھیوری ‘‘ تھی جو ستر کی دہائی میں ایک مختصر سے عرصے کے لئے منظر عام پر آئی اور اس کے بعد سے تقریباً فراموش کر دی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وضاحت بائیں اوردائیں بازو کی دونوں تعبیرات رکھتی ہے جو بالترتیب ایلون گولڈنر اور ارونگ کرسٹول نے پیش کیں۔ دونوں تعبیرات ہی کلی طور پر حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں اور ترقی یافتہ صنعتی معاشروں کے لیے طبقاتی سماجیاتی تھیوری کی تشکیل نو ایک کٹھن چیلنج ہے۔ لیکن یہاں میرے پیش نظر یہ مسئلہ نہیں۔ہمارا سوال یہ ہے کہ ماہرین سماجیات کس طرح اتنے عظیم مظہر کے ادراک سے بے خبر رہے؟ شاید کسی حد تک یہ جانے مانے روایتی سماجیاتی مناہج کو تبدیل کرنے کی جھجک ہے۔
بائیں بازو کے سماجیاتی مفکرین نے خاطر خواہ ناکامی سے کوشش کی کہ اس سماجی مظہر کو’’مڈل کلاس کی پرولتاریت‘‘ جیسے مارکسی مقولات میں سکیڑ دیا جائے۔ ہمارے کچھ ’’بورژوا‘‘ ہم عصروں نے ’’منصبی سیاست‘‘ کے بارے میں کچھ بڑبڑانے کی کوشش کی۔لیکن شاید سب سے بہتر تعبیر یہی ہے کہ زیادہ تر سماجی مفکرین خود بھی اسی مظہر کا ایک حصہ تھے۔ اس زمانے میں اس پیشے کو اپنانے والی نسل جو آج تدریسی وابستگی کی ایک عمر گزار چکی ہے، سینوں پر امن کے چمکتے تمغے چپکائے پھر رہی تھی۔ ان کے لئے یہ حق و باطل کی جنگ تھی اور آج بھی ہے، گو اب سیاسی سنجیدہ روی کی علامات کسی حد تک جگہ بدل چکی ہیں۔ چاہے وہ پیشہ ور ماہرین سماجیات ہی کیوں نہ ہوں، لوگ اپنی وابستگیوں کی سماجیاتی وضاحتیں قبول کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ باالفاظِ دیگر، اس تبدیلی کے ادراک کی حد تک علم سماجیات کی ناکامی کی وجہ نظریاتی اندھیارے ہیں۔
دوسری مثال:
آج کی دنیا میں ایک بنیادی پیش رفت جاپان اورمشرقی ایشیا کے دوسرے ممالک کی تیز رفتار معاشی سبقت ہے۔ یہ محض نہایت تیزرفتاری سے برپا ہونے والا ایک عظیم معاشی معجزہ نہیں بلکہ غیر مغربی سماجی سیاق و سباق میں کامیاب جدیدیت کا وہ پہلا واقعہ ہے جو ماہرین سماجیات کے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث ہونا چاہیے۔ میں کچھ عرصے سے یہی استدلال پیش کر رہا ہوں کہ یہ سرمایہ دارانہ جدیدیت کا دوسرا واقعہ ہے جو یقیناًفی نفسہ اپنے اندر بہت سے دلچسپی کے سامان تو رکھتا ہی ہے لیکن جدید سماج کے نظری تناظر میں مزید اہمیت رکھتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیجئے کہ جاپان خود اپنی خاطر نہیں بلکہ ہماری خاطر ہی فہم کا تقاضا کرتا ہے۔یہ بھی بالکل غیر متوقع واقعہ تھا۔ پچاس کی دہائی میں جب جدیدیت کی تھیوری تشکیل پا رہی تھی، اگر اس کے وکلاء سے یہ سوال کیا جاتا کہ معاشی ترقی کے اعتبار سے کون سا ایشیائی ملک سب سے زیادہ کامیابی کا احتمال رکھتا ہے تو گمان یہی ہے کہ جواب فلپائن ہوتا جو کہ اب اس خطے کے سرمایہ دارانہ حصے میں واحد معاشی حادثہ ہے۔ اس زمانے میں ہونے والی ایک کانفرنس میں، جسے آج کچھ مندوبین ذرا اضطراب سے یاد کرتے ہیں، ایک وسیع اتفاق ظاہر کیا گیا کہ کنفیوشی مذہب کوریائی اور چینی سماج کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آج اس ثقافتی ورثے کو مشرقی ایشیائی معاشی کامیابی کی ایک علت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
جدیدیت کی تھیوری ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں متزلزل ہو گئی تھی جب اسے عمومی طورتحقیر کی نیت سے مغربی سامراج کا نظریہ کہا جاتا تھا۔ اس عرصے میں بائیں بازو کے ماہرین سماجیات نام نہاد نظریہ انحصاریت کو وضع کرنے میں مصروف تھے جس کی رو سے سرمایہ داریت ناگزیر طور پر پسماندگی کے تسلسل کو بڑھاوا دیتی ہے، ظاہر ہے کہ جس کا حل اشتراکیت ہے۔ یہاں تجربے اورنظریے میں ایک اوٹ پٹانگ سی ہم عصری پائی جاتی ہے۔ عین اس وقت جب سرمایہ دارانہ مشرقی ایشیا ایک عظیم معاشی ترقی اور خوشحالی کے دور سے گزر رہا تھا اور ہندچین تا جزائر غرب الہندتمام اشتراکی معاشرے ایک مایوس کن ٹھہراؤ میں دھنس رہے تھے ، زیادہ سے زیادہ ماہرین سماجیات ایک ایسے نظریے کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے جس کے مطابق حالات الٹ ہونے چاہئے تھے۔ مزاحیہ ترین تقریب جس میں کچھ سال قبل شریک ہونے کا اتفاق ہوا، زمانہ جدید کے ایک عظیم معاشی معجزے تائیوان میں ہونے والی ایک کانفرنس تھی۔کانفرنس تائیوان کے بارے میں تھی یعنی اسے کیسے سمجھا جائے۔ نامعلوم وجوہات کی بناء پر مدعو کئے جانے والے زیادہ تر امریکی اہل علم ایسے انحصاریت پسند مفکرین تھے جو اس سے قبل لاطینی امریکہ میں سرگرمِ عمل رہ چکے تھے۔ وہ پوری دلیری سے تائیوان کے واقعات کو اپنے نظرئیے میں گھسیڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کانفرنس کی سب سے بڑی نظری کامیابی ’’منحصر ترقی‘‘ کا ایک تصور تھا جو قیاساً تائیوان کی صورت حال کی وضاحت کر تاتھا۔یہ بات تو خیر قابل فہم ہے کہ اس سے قبل لاطینی امریکہ سے باہر کی دنیا کے بارے میں نا تجربہ کار نومارکسیوں نے شاید اسے معقول مان لیا ہو، لیکن ان سر ہلاتے تائیوانی سماجی سائنسدانوں کو کیا کہا جائے جن کے سامنے dependencia کا مستشرقی ترجمہ پیش کیا جا رہا تھا۔ ایک ممکنہ وضاحت یہ ہے: جہاں انحصاریت پسندی کا نظریہ عالمی معاشیات کے تناظر میں بری طرح رد کیا جا چکا ہے، وہاں شاید عالمی ثقافت کے تناظر میں اس کی کوئی پیش گویانہ قدر وقیمت باقی ہو، آخر ’’دنیائے اولیٰ ‘‘ کے مفکرین کے پاس اعلیٰ و ارفع وسائل اور سرپرستیاں ہوتے ہوئے کم ترقی یافتہ ملکوں میں ان کا ایک ’’نمائندہ طبقہ‘‘ وجود میں آ ہی جاتا ہے۔
سچ پوچھیے تو میرا دوسرا دعویٰ ہر گز دعویٰ اول جیسا نہیں کیوں یہاں ماہرینِ سماجیات کی جانب سے مسئلے کو سمجھنے کی قرار واقعی کوشش کی گئی ہے گو وہ اس کی پیشین گوئی میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ مذکورہ بالا مابعد کنفیوشیائی مفروضہ پہلے پہل ماہرین سماجیات کی جانب سے ہی وضع کئے جانے کے بعد خطے اور خطے سے باہر کے ماہرین سماجیات کے درمیان خاطر خواہ علمی مباحث کا موضوع رہا ہے۔ بایاں بازو تو ظاہر ہے اپنی نظریاتی وجوہات کے باعث اس بحث میں شریک نہیں ہوا، لیکن بائیں بازو سے تعلق نہ رکھنے والے ماہرین سماجیات بھی اس میں کچھ خاص حصہ لیتے نظر نہیں آئے سوائے ان کے جو خطے کے معاملات پر تخصیص رکھتے ہیں۔ ایک اور اہم کام نئی غیر مغربی جدیدیت سے حاصل شدہ بصیرت کی بنیاد پر میکس ویبر سے ٹیلکوٹ پارسنز تک پہنچتے جدید سماج کے تصور میں تبدیلی ہے۔
یہ یقیناًایک بہت ’’عظیم سوال‘‘ ہے۔ لیکن یہ ان لوگوں کے مزاج کے موافق نہیں جن کا تناظر شدید قوم یا نسل پرستانہ ہو اور وہ ایسے ضوابط سے منسلک ہوں جو ’’عظیم سوالات‘‘ سے سروکار نہیں رکھتے۔آج کلاسیکی قسم کے علم سماجیات کی ضرورت ہے جس کی بنیادیں تاریخ کے علم میں ہوں ، جو اپنے ضابطوں میں لچک رکھتا ہو اور ایک ایسی وسیع المشرب روح رکھتا ہو جو ہمہ وقت انسانی زندگی کے مظاہر کے بارے میں متجسس رہے۔ ظاہر ہے اس قسم کے ماہرین سماجیات تو ذرا مشکل ہی سے ملتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ پیشہ ورانہ تربیت اور صلے کا نظام چالاکی سے ( چاہے غیر ارادی ہی سہی) اس طرح وضع کیا گیا ہے کہ اس قسم کے ماہرین نہ ابھر سکیں۔
تیسری مثال:
ایک اور تھیوری جو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پختہ معلوم ہوتی تھی، سیکولرائزیشن کی تھیوری تھی۔ مختصراً دیکھا جائے، اس کے مطابق جدیدیت اپنے ساتھ انسانی زندگی میں سماجی اداروں اور انفرادی شعور کی دونوں تہوں پر مذہب کا تنزل لاتی ہے۔ مغربی فکر میں اس تصور کی تاریخ طویل ہے جو کم از کم زیادہ دور نہیں تو اٹھارہویں صدی کی تنویری(یا روشن خیالی ) تحریک تک ضرور جاتی ہے۔ لیکن اگر مکمل غیرجانبدار ہو کر دیکھا جائے تو اسے مذہبی سماجیات بالخصوص یورپ کے ماہرین کی تحقیقی کاوشوں سے ہی قوت ملی۔ خام قومی پیداوار میں بڑھوتری اور خداؤں کے تنزل کے درمیان متوقع مطابقتوں کی کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیادوں پر تعمیر کی گئی جدیدیت اپنے ساتھ ایک ایسی حددرجے معقولی سوچ لائی جس کے نزدیک دنیا کی غیرمعقولی مذہبی تعبیرات فی زمانہ نامعتبر ٹھہری تھیں۔
مذہب کی غیرمعقولیت کے اس قابل اعتراض مفروضے سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ذرا آگے بڑھئے جو یقیناًتنویری فلسفے پر قائم ہے۔ گمان غالب ہے کہ یہ تھیوری تجرباتی شواہد پر قائم کی گئی تھی، لہٰذا اس کی تردید بھی تجرباتی بنیادوں پر ممکن تھی۔ سن ستر کے اواخر تک بہت شدت سے اس کی تردید کی جا چکی تھی۔ لیکن پھر یہ معلوم ہوا کہ اس تھیوری میں شروع دن سے ہی کچھ خاص تجرباتی مواد نہیں تھا۔ یہ درست تھی اور آج بھی درست ہے، لیکن دنیا کے صرف ایک خطے یعنی یورپ کے لئے، اس کے علاوہ کچھ بکھرے ہوئے خطے جیسے کیوبک جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سیکولرائزیشن کے ایک حیران کن دور سے گزرا، اور اس کے علاوہ ہر جگہ پھیلا ہوا مغربی تعلیم یافتہ مفکرین کا ایک چھوٹا سا طبقہ۔باقی تمام دنیا اسی جوش و جذبے کے ساتھ مذہبی ہے جیسے کبھی بھی تھی اور غالباً بیسویں صدی کے اوائل سے تو زیادہ ہی ہے۔
ستر کی دہائی کے اواخر میں پیش آنے والے دو واقعات اس حقیقت کو عوام کے سامنے لائے۔ امریکہ میں تو پچاس کی دہائی کے الموسوم مذہبی احیاء اور ساٹھ کی دہائی کی برعکس ثقافت (counter culture) نے اس تھیوری پر اعتراضات کھڑے کر دیے،گو مذہبی سماجیات کے ماہرین اول الذکر کو مبہم طور پر مذہبی اور آخر الذکر کو ضمنی طور پر مذہبی گردانتے رہے۔ جس واقعے نے اس تھیوری کو بالکل ناقابل دفاع کر دیا، وہ ا ناجیلی جوش و جذبے کا احیاء تھا جو پہلے پہل جمی کارٹر کی امیدواری اور کچھ عرصہ بعد’’اخلاقی برتری ‘‘ کے غوغے اوراسی قسم کے دوسرے طبقات کے ظہور سے سامنے آیا۔ اچانک یہ ظاہر ہوا کہ فکری ماحول میں نمایاں نہ ہونے کے باوجود امریکی سماج میں لاکھوں حیاتِ نو یافتہ عیسائی ہیں جو خطر انگیز طور پر بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں جب کہ کلیسا کے مرکزی دھارے ایک گہرے آبادیاتی تنزل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ مذہبی جوش و جذبے کے اس مظہر نے ایک مزید بنیادی حقیقت پر روشنی ڈالی: امریکہ اور یورپ مذہبی خدوخال میں ہی تو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
امریکہ سے باہر جسے واقعے نے جدیدیت کو سیکولرائزیشن سے جوڑنے والی تھیوری کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ، وہ ایرانی انقلاب تھا۔ ایک بار پھر ایک ایسا عظیم واقعہ رونما ہوا جو نظری طور پر خارج از امکان تھا۔اس وقت سے دنیا میں قسم قسم کے مذہبی احیاء رونما ہو رہے ہیں۔ نوروایتی یا بنیاد پرست اور پروٹسٹنٹ مذہبیت اور اسلام عالمی منظر نامے پر منعقد ہونے والے دو بڑے کھیل ہیں، لیکن دنیا میں تقریباً ہر مذہبی روایت نے کم و بیش اسی قسم کی حیاتِ نو کی تحریکیں برپا کی ہیں۔ اور رنگا رنگ سماجیاتی مفکرین مسلسل ورطہ حیرت میں ہیں۔
میرا ایران کا واحد دورہ اس واقعے اسے دو سال قبل تھا۔ ظاہر ہے کہ بنیادی طور پر دانشوروں سے ہی ملاقاتیں رہیں جن میں سے زیادہ تر شاہ کی حکومت سے دل سے نالاں تھے اور اس کے جانے کے منتظر تھے۔ کسی کو توقع نہیں تھی کہ یہ سب کچھ اسلامی سرپرستی میں ہو گا۔ نہ ہی کہیں خمینی کا نام تک سنائی دیا۔تقریباً اسی وقت جب میں ایران کے دورے پر تھا، بریجٹ برجر دروس کے سلسلے میں ترکی میں تھیں، ایک ایسی جگہ جہاں وہ پہلے کبھی نہیں گئی تھیں اور نہ ہی وہاں کی زبان سے واقف تھیں۔ استنبول میں انہیں کئی گاڑیوں اور گلی کی مساجد کی دیواروں پر سبز جھنڈے لگے نظر آئے جو ان کے خیال میں کسی اسلامی تہوار کی مذہبی علامتیں تھی۔ جب انہوں نے اس مشاہدے میں اپنے ترک میزبانوں کو شریک کیا تو وہ بہت حیران ہوئے۔ یا تو انہوں نے یہی اصرار کیا کہ انہیں کوئی غلطی لگی ہے کہ آج کل کوئی مذہبی تہوار وغیرہ منعقد ہو رہا ہے یا پھر یہ کوئی غیر اہم سا چھوٹا موٹا مظاہرہ ہو گا۔یہ تمام سماجیاتی سائنسدان جو زیادہ تر سیکولر دانشور تھے، ایک بار پھر اپنی آنکھوں کے سامنے موجود حقیقت کو دیکھنے میں ناکام رہے کیوں کہ اس کے ظہور کی کوئی توقع نہیں تھی۔
ماہرین سماجیات کو عصر حاضر کی دنیا کے شدید مذہبی رجحان سے مطابقت پیدا کرنے میں کافی مشکل پیش آئی ہے۔ چاہے سیاسی تناظر میں بایاں بازو ہو یا نہیں، مذہب کی مد میں یہ نظریاتی مغالطوں میں گرفتار رہتے ہیں اور پھر یہی رجحان ہوتا ہے کہ ایک ایسے سماجی مظہر کی فوراً کوئی وضاحت پیش کر دی جائے جس کی وضاحت ممکن ہی نہیں۔ لیکن نظریاتی وابستگی کے علاوہ تنگ نظری بھی اہم عوامل میں سے ایک ہے۔ ماہرین سماجیات حقیقی سیکولر ماحول یعنی علمی درسگاہوں اور پیشہ ورانہ علمی صنعت سے متعلقہ دوسرے اداروں کے باسی ہوتے ہیں ، لہٰذا یوں لگتا ہے کہ وہ سماجی علوم میں غیر تربیت یافتہ لوگوں کی طرح ہی اس عمومی غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ دنیا پر اپنی ننھی سی نکڑ سے نظر ڈال کر ایک عمومی سماجی منظرنامہ تشکیل دیا جائے۔
آخر میں چوتھی مثال:
یہ سوویت سلطنت کے ڈھیر ہو جانے کا عظیم واقعہ تھا اور کم از کم فی الحال یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ عالمی منظرنامے پر بطور ایک حقیقت اور بطور ایک تصور بھی اشتراکیت کا ڈھیر ہو جانا ہے۔ اس عظیم تاریخی واقعے کی شروعات تک ابھی ماضی قریب ہی کی بات ہیں اور نتائج اب تک نہایت سرعت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ لہٰذا کسی کو بھی اس کی وضاحت کے لئے کوئی معقول تھیوری پیش نہ کرنے کا دوش دینا ناانصافی ہو گی۔ ماہرین سماجیات کو علیحدہ کر کے موردِ الزام ٹھہرانا بھی اتنی ہی بڑی ناانصافی ہو گی کیوں کہ تقریباً کسی نے بھی اس کی توقع نہیں کی تھی (بشمول سند یافتہ ماہرین سماجیات کے جتھوں کے) اور ہر کوئی کسی بھی معقول نظری ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے اس کے فہم کی مشکل سے نبرد آزما ہو رہا ہے۔پھر بھی یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ماہرینِ سماجیات ،یہاں تک کہ و ہ بھی جو اس خطے کے معاملات پر متعلقہ مہارت رکھتے ہیں، اس واقعے کی پیشین گوئی میں کسی سے بھی بہتر نہیں تھے اور نہ ہی اب اس کے فہم میں کسی سے افضل ہیں۔ تعجب ہے کہ آنے والے سالوں میں وہ کیا کریں گے۔
بائیں بازو والے بھی اس نظریاتی طبقے میں موجود دوسروں کے ساتھ یقیناًاس عمومی ابہام (اسے ایک ’’گیانی عدم رسمیت ‘‘ کیوں نہ کہہ لیں؟) میں شریک ہیں۔ بائیں بازو سے متعلق ان دانشوروں کو چھوڑ دیجئے جن کے خیال میں سوویت یونین اور اس کے نقال کسی اخلاقی فضیلت کے حامل تجربے میں مشغول تھے۔غلطیاں وغیرہ تو ہوئیں، لیکن یہ مفروضہ تو قائم تھا کہ ایک ناقص اشتراکیت بھی کم از کم سرمایہ دارانہ نظام سے زیادہ امید رکھتی ہے جو ان کے دعوے کے مطابق لاعلاج طور پر گلا سڑا ہواہے۔ لیکن بائیں بازو کے وہ لوگ بھی جو بہت عرصہ قبل سوویت تجربے سے وابستہ تمام امیدیں ترک کر بیٹھے تھے، مسلسل افق پر اس ’’حقیقی اشتراکیت‘‘ کی تلاش کر رہے تھے جو کسی نہ کسی وقت نمودار ہونی ہی تھی کیوں کہ یہ منطقِ تاریخ کی مشیت ہے۔ یہ صرف قلبی جھکاؤ کی بات نہیں تھی بلکہ یہ ذہن تھا جو اپنے بنیادی ادراکی مفروضوں میں بائیں جانب تھا۔ اور سب سے بنیادی تو یہی مفروضہ تھا کہ تاریخ کا سفر سرمایہ دارانہ نظام سے اشتراکیت کی جانب ہوا ہے۔ اب اشتراکیت سے سرمایہ دارانہ نظام کی جانب تبدیلی سے کیسے نمٹا جائے؟آج کل بائیں بازو کے مجلے یورپ اور دوسرے علاقوں میں پچھلے چند سال میں ہونے والی پیش رفت کی درد انگیز تعبیرات سے بھرے پڑے ہیں جن کی کثیر تعداد سامنے موجود منظرنامے کی تردید کی کوششوں سے عبارت ہے۔ مجھے بھرپور توقع ہے کہ ماہرین سماجیات نظریہ انحصاریت کے کہنہ مشق دستوں کی دلیر کمان میں اس سرگرمی میں پورے ذوق و شوق سے شریک ہوں گے۔ کیوں نہ ہم ایسے کسی اور زبردست تصور مثلاً ’’خود مختار پسماندگی‘‘ کی جانب پیش قدمی کریں جو کسی نہ کسی طرح تھیوری کو مشکل سے نکال لے؟
سوویت یونین کا بکھراؤ اور اشتراکیت کا عالمی بحران جدیدیت کے سماجیاتی فہم کے لئے ایک عظیم چیلنج ہے۔ پھر یہ صرف بائیں بازو کے ماہرینِ سماجیات نہیں جو اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں ، یعنی وہ جو ان واقعات کی اپنے بائیں جانب جھکاؤ رکھنے والے رفقاء کی بہ نسبت کچھ زیادہ پیشین گوئی نہ کر سکے۔ جس چیز کی ضرور ت ہے، وہ ایک ایسی فکر نو ہے جو جدید سماج میں معاشی، سیاسی اور سماجی اداروں کے بیچ تعلقات کو ازسر نو دریافت کرے۔ مجھے ایک پرانی کہاوت یاد آتی ہے جو آس پاس کی خوش مزاج دکانوں پر آج بھی لکھی نظر آ جاتی ہے، ’’اگر آپ کسی اور چیز کے قابل نہیں تو کم از کم ایک بری مثال کے طور پر تو پھر بھی کارآمد ہیں۔‘‘ سماجیاتی نظریہ بندی کے لئے ’’بری‘‘ مثالیں اتنی ہی مفید ہیں جتنی ’’اچھی‘‘۔ زیادہ دلچسپ سوال یہ نہیں کہ ’’وہ ‘‘ کیوں بکھر گئے بلکہ یہ ہے کہ ’’ہم‘‘ کیوں نہیں بکھرے۔ یہ ایک بنیادی نظری نکتہ ہے جس سے زیادہ تر سماجیاتی نظریہ بندی نے مسلسل صرفِ نظر کیا ہے۔ ’’مسئلہ‘‘ سماجی بدنظمی نہیں بلکہ سماجی نظم ہے، یعنی شادی نہ کہ طلاق، قانون کی پاسداری نہ کہ جرم، نسلی ہم آہنگی نہ کہ نسلی فساد وغیرہ۔ہم کسی شک و شبہ کے بغیر یہ فرض کر سکتے ہیں کہ جان رومین کی کارآمد عبارت ’’مشترکہ انسانی نمونہ‘‘ بے ایمانی ، تشدد اور نفرت ہے۔ انسانی فطرت کے ان مظاہر کو وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں سوائے شاید ماہرین حیوانیات کے۔ وضاحت کی ضرورت ان صورتوں میں ہے جن میں معاشرے حیرت انگیز طور پر ان فطری میلانات پر قابو پاتے ہیں اور انہیں مہذب کرتے ہیں۔
یہ مثالیں علم سماجیات کی کن بیماریوں کو ظاہر کرتی ہیں؟ چار علامات کی جانب اشار ہ ممکن ہے: تنگ نظری، فکری ناتوانی، عقلیت پسندی اور نظریاتی وابستگی۔ان میں سے ہر ایک معذور کر دینے والی ہے۔ ان کا مجموعہ ہلاکت خیز ہے۔ اگر عظیم کلاسیکی ماہرین سماجیات کے کام پر نظر ڈالی جائی جن میں میکس ویبر اور ایملی ڈرک ہائیم سرِ فہرست ہیں تو ویزلے کا مقولہ ذہن میں آ جاتا ہے کہ ’’دنیا میر اکلیسائی حلقہ ہے۔‘‘ کم ہی ماہرینِ سماجیات آ ج یہ دعویٰ کر سکتے ہیں اور جو کرتے بھی ہیں، و ہ شرمناک طور پر تاریخی سطحیت سے دوچار نظر آتے ہیں۔
زیر نظر معاملہ نفیس قسم کی کسی مخصوص وسیع المشربیت کی حمایت میں جانبداری سے کہیں بڑا ہے۔ اپنے سماج سے باہر ایک قدم نکالے بغیر ایک اعلیٰ ماہر طبیعات بننا ممکن ہے، لیکن میں جانتا ہوں کہ ماہر سماجیات کے لئے ایسا ممکن نہیں۔ اور اس کی وجہ بہت ساد ہ ہے۔ جدیدیت آج دنیا میں ایک عظیم تبدیلی لانے والی قوت ہے، لیکن یہ ہر جگہ جاری و ساری کوئی ایک سا میکانی ضابطہ نہیں۔ یہ مختلف شکلیں بدلتا ہے اور مختلف ردعمل پر اکساتا ہے۔ اسی لیے علم سماجیات یعنی ایک ایسی نوعِ علم جو جدیدیت کے فہم کے لئے بہترین ہے، بہرصورت تقابلی ہونی چاہیے۔
یہ یقیناًویبر کی بنیادی بصیرتوں میں سے ایک ہے اور آج بھی ہمیشہ کی طرح اتنی ہی معنی خیز۔ لہٰذا ماہرین سماجیات کو مغرب کو سمجھنے کے لئے جاپان پر نظر ڈالنی چاہئے، سرمایہ داریت کے فہم کے لئے اشتراکیت پر غور کرنا چاہئے، بھارت کو دیکھنا چاہئے اگر برازیل کو سمجھنا ہو، وغیرہ وغیرہ۔ سماجیات میں تنگ نظری کسی ثقافتی کمزوری سے کہیں زیادہ ہے، یہ تو ادراک کی معذوریوں کا باعث ہے۔ یہ کسی بھی ماہر سماجیات کی تربیت کا لازمی حصہ ہونا چاہئے کہ وہ ایک ایسے سماج کے بارے میں تفصیلی علم حاصل کرے جو اس سے حد درجہ مختلف ہو، ایک ایسی مہم جوئی جو یقیناًکئی طالبعلموں کو ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتی ہے: یعنی بدیسی زبانوں کا سیکھنا۔
فکری ناتوانی بھی تنگ نظر ی ہی کا ایک پھل ہے، لیکن سماجیات کی حد تک زیادہ اہم جڑ علمی ضوابط سے تعلق رکھتی ہے۔اس علمی میدان میں اس عارضے کی جڑیں کم از کم پچاس کی دہائی تک جاتی ہیں۔ طبعی علوم کی نقالی کرنے کی ایک بے کار اور نظری طور پر بے سمت کوشش میں ماہرین سماجیات نے تحقیق کے نت نئے اور پہلے سے زیادہ نفیس مقداری طریقے وضع کیے۔اس میں فی نفسہ تو کچھ غلط نہیں کیوں کہ آخر علمِ سماجیات کئی ایسے سوالوں سے متعلق ہے جن کے لئے سروے قسم کی تحقیق ناگزیر ہے اور مقداری طریقے جتنے بہتر ہوں گے، دریافت شدہ نتائج اتنے ہی معتبر ہوں گے۔ لیکن تمام سماجیاتی سوالات کے لئے یہ طریقہ موزوں نہیں اور کئی مسائل اس سے بہت مختلف تحلیلی تجزیے مانگتے ہیں۔ سائنسی بااصولیت کو مقداریت تک محدود کر کے سماجیات کا دائرہ اکثر بس ان سکڑے ہوئے موضوعات تک محدود کر دیا گیا جو مقداری طریقوں کے لئے موزوں ہیں۔ نتیجے میں پیدا ہونے والی فکری ناتوانی پر کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے۔
ایک سائنس کے طور پر علم سماجیات عقلی استدلال ہی کی ایک کوشش ہے۔ لیکن یہ اس مفروضے سے بہت مختلف ہے کہ سماجی فعالیت عقلی استدلال کی راہنمائی میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔ کلاسیکی سماجیات میں یہ بات اچھی طرح سمجھی جا چکی تھی، شاید سب سے زیادہ ڈرامائی انداز سے ول فریڈو پریٹو کے ہاں جو ریاضیاتی رجحان رکھنے والا ایک ایسا ماہر معاشیات تھا جو سماجیات کی جانب اپنی اسی دریافت کے باعث آیا کہ زیادہ تر انسانی افعال اس کے مطابق غیرمنطقی تھے۔ افسوس ہے کہ علم معاشیات نے تو اس بصیرت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور homo oeconomicus کے ایک شدید عقلی ماڈل کے تحت کام کرنے کو ترجیح دی۔ نتیجتاً حرکی پیشین گوئیوں کا تو ذکر ہی کیا، وہ تو بار بار معاشی منڈی کے فہم میں بھی ناکام ہوتی رہی۔
ماہرین سماجیات کی ایک بڑی تعداد معاشیات کی نقالی کرتے ہوئے ’’مبنی بر عقل فعالیت کے منہج‘‘ پر مبنی نظری نمونوں کو اپنی علمیات سے مطابقت دینے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ ہم اعتماد سے پیشین گوئی کر سکتے ہیں کہ اس رجحان کے فکری نتائج کافی حد تک معاشیات ہی سے ملتے جلتے ہوں گے۔ جی ہاں، سماجیات ایک عقلی علم ہے جس طرح ہر ایک تجرباتی علم ہے۔ لیکن اسے اپنی عقلیت کو دنیا کی عقلیت سمجھ لینے کی ہلاکت خیز غلطی نہیں کرنی چاہئے۔
یہ تنقیدیں کسی حد تک سی رائٹ ملز کی کتاب ’’سماجیاتی تخیل‘‘ سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ملز نے ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں علم سماجیات کو اپنی لپیٹ میں لے لینے والے نظریاتی طوفان کے بعد لکھا۔ ہم نہیں جان سکتے کہ اگر ملز ہمارے دور میں ہوتا تو کیا کرتا۔ نہ ہی ہم یہ جانتے ہیں کہ اس کے اتنے سارے قارئین خاص طور پر وہ جو اس کی تنقیدوں سے بہت متاثر ہوئے تھے، کیا کرتے۔ وہ مارکسی اور نیم مارکسی مفروضوں سے تشکیل پاتی ایک ایسی نظریاتی سراسیمگی کے عالم میں تھے جو سماجیات کی تمام بیماریوں کا علاج تجویز کرتی محسوس ہوتی تھی۔ اس نے ایک ایسا نظری رجحان پیش کیا جو یقیناً’’عظیم سوالوں‘‘ سے متعلق تھا ، یہ سب کچھ ایک بین الاقوامی تناظر (نظامِ عالم سے کم کوئی بات نہیں کی گئی) میں پیش کیا گیا، یہاں مقداری طریقوں کی طرف بہت زیادہ جھکاؤ نہیں تھا اور آخری بات یہ کہ خود کو پوری طرح سائنسی مانتے ہوئے یہاں یہ بھی فرض کر لیا گیا کہ اپنے علاوہ تقریباً ہر کوئی ’’شعورِ باطل‘‘ لئے اِدھر اْدھر ڈگمگا رہا ہے۔
بدقسمتی سے ’’عظیم سوالوں‘‘ کے جواب غلط ثابت ہوئے اور دنیا نے تھیوری کے مطابق عمل کرنے سے انکار کر دیا۔ مارکسزم کے خاتمے کا دعویٰ تو خیر قبل از وقت ہو گا ہی، یہاں تو کتنے ہی ایسے نیم مارکسی نظریات ہیں جو کامیابی سے کل مارکسی روایت سے مکمل طور پر کٹ کر ایک علیحدہ دھارا تشکیل دے چکے ہیں۔ ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں علم سماجیات کو نظریاتی لبادہ اوڑھانے کا بدترین نتیجہ یہ غیرمتزلزل اعتقاد ہے کہ معروضیت اور ’’اقداری آزادی‘‘ ناممکنات میں سے ہیں اور ماہرین سماجیات کو یہ جانتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ پر کسی نظریے کے وکلا کے طورپر اظہارِ رائے کرنا چاہیے۔
یہ سوچ صرف بائیں بازو تک محدود نہیں۔ علم سماجیات کے کلاسیکی دور کی طریقیاتی جھڑپوں، خاص طو ر پر جرمنی میں یہ دائیں بازو کے مفکرین ہی تھے جو پوری قوت کے ساتھ اس محاذ پر کھڑے تھے۔معروضیت کے ’’باطل آدرش‘‘ کا تریاق ’’جرمن سائنس‘‘ تھی اور سائنس کا سب سے شاندار مقدمہ جس شخصیت نے لڑا، وہ کوئی اور نہیں بلکہ مرحوم ڈاکٹر گوئبلز تھے :’’حق وہی ہے جو جرمن عوام کا مفاد ہے۔‘‘
جوں جوں امریکی فکر ی منظرنامے پر بایاں بازو تنزل کی جانب گامزن رہے گا، اور بالفرض اگر ایسا ہے تو دوسرے نظریات بھی یہی سوچ اپناتے نظر آئیں گے۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جو سائنس کو پروپیگنڈے میں بدل دیتی ہے اور جہاں جہاں اسے اپنایا جاتا ہے، وہاں یہ سائنس کے خاتمے کی علامت بن جاتی ہے۔ امریکی سماجی علوم میں تحریکِ نسواں اور تکثیری ثقافت کے علمبردار اس سوچ کے سب سے بڑے نمائندہ ہیں لیکن ہم توقع کر سکتے ہیں کہ اوروں کا ظہور بھی ہو گا۔ ان میں سے کچھ دائیں بازو کے بھی ہو سکتے ہیں۔
علم سماجیات کی حالت کی تشخیص کے لئے اسے علیحدگی میں نہیں دیکھنا چاہئے۔ اس کی علامات وہ ہیں جو عمومی طور پر ہی فکری منظرنامے کا حصہ ہیں۔ دوسرے سماجی علوم بھی کچھ خاص اچھی حالت میں نہیں۔ زیادہ تر معیشت دان اپنے عقلیت پسند مفروضوں کے قیدی ہیں اور ماہرین سیاسیات کا جمِ غفیر بھی جیسے تیسے آخر کار اسی کھائی میں گرتا نظر آتا ہے۔ ماہرین بشریات شاید سماجی علوم کی کسی بھی شاخ سے زیادہ نظریاتی وابستگیاں رکھتے ہیں اور تاریخ اور بقیہ سماجی علوم کسی بھی ایسے نظریاتی فیشن کے آگے ڈھیر ہوتے محسوس ہوتے ہیں جو عام طور پر ائیر فرانس کے ذریعے بحر اوقیانوس پر سے اڑتا ہوا یہاں آن پہنچے، ہر ایک اپنے سے پہلے والے کی نسبت زیادہ ابہام پسند اور فکری سفاک۔
شاید ماہرین سماجیات سے اس سے بہتر کی امید لگانا بہت بڑی توقع باندھنا ہے۔ لیکن ماہرین سماجیات کا ایک مخصوص مسئلہ ایسا ہی ہے جو(ممکنہ طور پرماہرین بشریات کے استثنا کے ساتھ) اور کسی بھی سماجی علم میں نہیں پایا جاتا۔ علم سماجیات ایک نوعِ علم سے کہیں زیادہ ایک زاویہ نگاہ یعنی ایک تناظر ہے اور اگر یہ تناظر ناکام ہو جائے تو کچھ باقی نہیں بچتا۔ لہٰذا معیشت کا مطالعہ ہو یا سیاسی نظام یا ساموئی قوم کے جنسی ملا پ کے میلانات ، ممکنہ تناظر متعدد اور مختلف ہوتے ہیں جن میں سے ایک علم سماجیات ہے۔ زیادہ تر سماجی علوم کے فکری آلات میں سماجیاتی تناظر بہت کامیابی سے داخل ہوا ہے۔ شاید ہی کوئی تاریخ دان ہوگا جس نے کسی نہ کسی طرح اپنے کام میں سماجیاتی تناظر کو جگہ نہ دی ہو۔ سماجی علوم کے بہت سے دوسرے اہل علم کے برعکس ماہرین سماجیات کسی مخصوص تجرباتی منطقے کو اپنا قرار نہیں دے سکتے۔ زیادہ تر ان کے پاس پیش کرنے کے لئے اپنا تناظر ہی ہوتا ہے۔ مذکورہ بالا روگ دراصل اسی تناظر کو توڑ پھوڑ کر علمِ سماجیات کو متروک کر دیتا ہے۔
یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ یہ منسوخی کوئی بڑا فکری حادثہ نہیں کیوں کہ جو علم سماجیات نے اپنی اصل میں پیش کرنا تھا، اس میں سے بہت کچھ تو دوسرے علوم میں سما چکا ہے۔ لیکن جب ان علوم پر نظر ڈالی جائے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ انہیں اس سماجیاتی دوا کی اچھی خاصی ضرورت ہے جو اس نوعِ علم کی کلاسیکی صورت تھی اور سماجیاتی روایاتِ علم کے وہ بچے کھچے ٹکڑے نہیں جنہیں اب اکٹھا کر لیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں سماجیات کے ممکنہ زوال پر خوش نہ ہونے کی اچھی خاصی فکری وجوہات موجود ہیں۔
لیکن کیا قسمت کا پانسہ پلٹ سکتا ہے؟ میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ بیماری کی جڑیں اب بہت گہری ہو چکی ہیں۔ واپسی کے لئے کچھ شرائط تجویز کی جا سکتی ہیں۔ دیکھا جائے تو اوپر دیے گئے مشاہدات پہلے ہی ضروری خدوخال سامنے رکھ چکے ہیں: ہم ایک ایسے علمِ سماجیات کی بات کر رہے ہیں جو کلاسیکی دور کے عظیم سوالوں کی جانب لوٹ جائے، ایک ایسا علم سماجیات جو وسیع المشرب اور طریقیاتی لچک رکھتا ہو، اور پرزور بلکہ پرتشدد طور پر نظریاتی جبر کے خلاف ہو۔ لیکن ایسی واپسی کے لئے اداراتی مطالبات کیا ہوں گے؟ ظاہر ہے یہ کام کانفرنسوں، منشوروں اور اسی قسم کی دوسری فرار آمادہ سرگرمیوں سے تو نہیں ہو سکتا۔ اس نوعِ علم کا احیاء تو شاید بڑی جامعات میں (چاہے پچھتاتے ہوئے ہی سہی) ایک یا ایک سے زیادہ ایسے درسی منصوبوں سے ہی ممکن ہے جن میں ماہرین سماجیات تربیت یافتہ ہیں۔ مزید برآں یہ سارا کام ایسے نوجوان لوگوں کے ذریعے ہونا چاہیے جن کے آگے دو یا دو سے زیادہ دہائیوں کی پیشہ ورانہ زندگی باقی ہو، کیوں کہ اس میں اتنا وقت لگنا تو لازمی ہے۔ کیا اس کا احتمال ہے؟ شاید نہیں۔ لیکن کلاسیکی علم سماجیات کی ایک بنیادی بصیرت یہی ہے کہ انسانی افعال حیران کن ہوتے ہیں۔
مختلف نظام ہائے قوانین کے اصولوں میں تلفیق : چند اہم سوالات
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
(کسی ایک فقہی مذہب کی پابندی اور مختلف مذاہب کے مابین تلفیق کے حوالے سے فیس بک پر ہونے والی بحث کے تناظر میں لکھی گئی توضیحات۔)
پہلی گزارش یہ ہے کہ میرے استاد محترم نیازی صاحب اور مجھے تلفیق پر جو اعتراض ہے، وہ اس بات پر نہیں ہے کہ مختلف مذاہب سے آرا کیوں اکٹھی کی جارہی ہیں؟ ہمارا اعتراض یہ ہے کہ آرا اکٹھی کی جارہی ہیں یہ فکر کیے بغیر کہ ان آرا کے پیچھے جو اصول کارفرما ہیں، وہ آپس میں ہم آہنگ ہیں بھی یا نہیں؟ اگر اصولی ہم آہنگی یقینی بنائی جائے اور اصولی تضادات دور کیے جائیں ، تو بے شک آرا اکٹھی کرکے نئی رائے قائم کی جائے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ہماری تحقیق یہ ہے کہ فقہائے کرام نے مذاہب کی تشکیل اسی طرح کی ہے۔ امام محمد ، مثال کے طور پر ، امام ابوحنیفہ کے شاگرد رہے ، پھر امام ابویوسف کے شاگرد رہے، پھر امام مالک اور امام اوزاعی سے استفادہ کیا ، اور پھر انھوں نے علیٰ وجہ البصیرت ایک موقف اختیار کیا۔
آرا کے تنوع میں "مذہب" کی حیثیت کسی ایک رائے کو ہی حاصل ہوتی ہے
جو اصول امام محمد نے اپنائے اور ان کی روشنی میں فقہی جزئیات مرتب کیں، وہی بعد کے فقہائے کرام کے لیے فقہ حنفی ہو گئی۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ خود امام محمد کی کتب میں بسا اوقات آپ کو ایک سے زائد آرا مل جاتی ہیں۔ ایسے میں "حنفی مذہب" کیا ہے اور اس کا تعین کیسے کیا جائے؟ میں یہ بحث نہیں کروں گا کہ کئی آرا میں کسی ایک رائے کا تعین کیوں ضروری ہے؟ ضرورت تو اس لیے مسلم ہے کہ خود امام محمد نے ہی الجامع الصغیر اور السیر الصغیر میں یہی کوشش کی کہ صرف "مذہب" ہی متعین کرکے دکھایا جائے۔ امام محمد کے بعد امام طحاوی اور امام کرخی نے "مختصر" لکھ کر اس کام میں مزید حصہ ڈالا۔ امام جصاص نے مختصر الکرخی کی شرح کرکے توضیح کا سلسلہ آگے بڑھایا۔ دوسری طرف ان فقہی جزئیات سے اصولوں کی تخریج کا کام بھی ان بزرگوں نے کیا۔ امام سرخسی کو اللہ تعالیٰ نے یہ شرف بخشا کہ انھوں نے اصولوں کی تدوین کا کام بھی پورا کیا اور فقہی جزئیات کی شرح بھی اس انداز سے کی کہ ان کی المبسوط ہی مذہب کی نمائندہ کتاب بن گئی۔ یہاں تک کہ فقہائے کرام نے تصریح کی کہ مذہب کے تعین کے لیے لا یعول الا علیہ ؛ بلکہ یہاں تک کہا کہ لا یعمل بما یخالفہ۔ (دیکھیے علامہ شامی کی شرح عقود رسم المفتی۔ )
بعد میں خواہ امام کاسانی ہوں یا امام مرغینانی ، دونوں نے المبسوط پر بہت زیادہ انحصار کیا۔ امام مرغینانی نے مختصر القدوری اور الجامع الصغیر کو اکٹھا کرکے بدایۃ المبتدی کا متن تشکیل دیا اور یہی متن آئندہ کے تمام فقہائے کرام کے لیے حنفی مذہب کا مستند ترین متن بن گیا۔ خود امام مرغینانی نے اس متن کی جو مختصر تشریح کی اور اسے ہدایہ کا نام دیا ، وہ شرح حنفی مذہب کا بنیادی ماخذ بن گیا۔بعد کی تمام شروح ، حواشی بلکہ متون بھی اسی ہدایہ سے ماخوذ اور ان پر تکیہ کیے ہوئے ہیں بلکہ ان کے رطب و یابس کی تمییز کے لیے بھی ہدایہ ہی معیار قرار پائی۔
عصر حاضر میں مسئلہ یہ ہوا کہ ہدایہ پڑھتے پڑھاتے ہوئے متن اور شرح میں فرق کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ ہدایہ میں بھی تو دو دو ، تین تین اور بعض اوقات زیادہ آرا پائی جاتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ پائی جاتی ہیں۔ اس سے کون انکار کرسکتا ہے؟ لیکن جسے "حنفی مذہب" کہا جاتا ہے، وہ ان کئی آرا میں صرف ایک رائے ہی ہے 150 وہی جو بدایۃ المبتدی کے متن میں ہے۔
یہاں میں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ بعض اوقات حالات کے تبدیل ہونے سے فتویٰ تبدیل بھی ہوسکتا ہے اور مذہب کے مشائخ مذہب کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فتوی تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔البتہ یہ ضرور یاد دلاؤں گا کہ جب حالات کی تبدیلی کے بعد فتوی تبدیل ہوجائے تو ہی تبدیل شدہ فتوی ہی اب "مذہب" بن جاتا ہے اور وہ پہلے سے موجود کئی آرا میں کوئی "ایک رائے "ہوتی ہے۔ مزارعت و مساقات ، وقف، زنا میں سلطان کے بجائے کسی اور شخص کی جانب سے اکراہ، تعلیم قرآن پر اجرت ، یہ اور اس طرح کے اور کئی مسائل یہاں مثال کے طور پر پیش کیے جاسکتے ہیں۔ ان میں میرے جیسے کسی ناپختہ فکر والے شخص کی رائے یہ ہوسکتی ہے کہ مزارعت و مساقات اور وقف کے باب میں امام ابوحنیفہ کی رائے لی جائے لیکن جہاں تک مذہب کا تعلق ہے تو ان مسائل میں وہ صاحبین ہی کی رائے ہے اور یہ رائے تب تک مذہب کی حیثیت سے رائج رہے گی جب تک مذہب کے مشائخ اسے ترک کرکے امام کی رائے پر فتوی دینا شروع نہ کردیں۔ یہ ایک لمبا پروسس ہے اور ایک دو دن یا چند سالوں میں نہیں ہونے والا۔ مذہب کی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ فتوی تبدیل ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے اور کسی اور رائے کو مذہب بننے میں کتنی محنت لگتی ہے۔
تنقید کا شوق رکھنے والے احباب فوراً ہی لپک کر ، یا شاید لہک کر ، کہہ دیں گے کہ یہ جمود کی علامت ہے ! یہ تقلید جامد ہے ! وغیرہ وغیرہ۔ ایسا نہیں ہے، حضور! کسی نے بھی مذہب کے خلاف رائے کے حق میں دلیل دینے سے نہیں روکا ، نہ ہی مذہب کے خلاف رائے کو دبانے کی کسی نے کوشش کی ہے۔ یہ ایک شورائی اور 'لبرل' قسم کی مشق ہے۔ آپ کو جو رائے مناسب لگتی ہے اس کے حق میں دلائل اکٹھے کیجیے ؛ دوسروں کو قائل کرنے کی کوشش کیجیے ؛ لیکن دوسروں پر اپنی رائے مسلط نہ کریں ؛ دوسروں کے لیے بھی یہ حق مانیے کہ وہ جس رائے کو مناسب سمجھتے ہیں اس کے حق میں دلائل دیں اور آپ کو اور دوسروں کو قائل کرنے کی کوشش کریں ؛ اس طریقے سے بالآخر ہوسکتا ہے کہ جس رائے کو آپ بہتر سمجھتے ہیں اسی کو قبولیت عامہ حاصل ہوجائے اور اسی پر مذہب کا فتوی ہوجائے۔ یہ رہی ایک بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ کسی بھی مذہب کے مشائخ جب مذہب کے اندر موجود کئی آرا میں کسی ایک رائے کو مذہب قرار دیتے ہیں تو یہ کوئی الل ٹپ بات نہیں ہوتی ؛ بلکہ مذہب کے تمام اصولوں اور ان کی آپس میں ہم آہنگی اور تعامل کو دیکھ کر ہی وہ ایسا کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسا کرتے ہوئے وہ عملی حالات کے تقاضوں کو بھی لازماً مد نظر رکھتے ہیں۔ یہاں سے ہم واپس اصولی مسئلے کی طرف لوٹتے ہیں۔
مسئلہ اصولی ہے
جی ہاں۔ مسئلہ اصولی ہے ، نہ کہ فقہی۔ اس لیے قواعد فقہیہ کی طرف جانے کے بجائے قواعد اصولیہ کی طرف رجوع ضروری ہے۔ پہلے تو ذرا امام شاطبی کی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ "اصول فقہ قطعی ہیں۔"وہ یہ کیوں کہتے ہیں؟ میں وضاحت کرنے کے بجائے مثال کے ذریعے سوال "داغنے" کو ترجیح دیتا ہوں۔ چنانچہ ایک سوال ملاحظہ کیجیے۔ ایک فقیہ نے جب مان لیا کہ مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا جائے گا تو کیا وہ اس اصول کو کسی وقت چھوڑ سکتا ہے؟ امام شاطبی نے جو کچھ کہا ہے اس کی روشنی میں تو یہ ناجائز ہوگا۔ اگر مثال کے طور پر جناب غامدی صاحب ایک جگہ یہ کہیں کہ سنت صرف عملی شے کو کہتے ہیں اور دوسری جگہ کہیں کسی قول کو بھی سنت کہہ دیں ، تو ان کے ناقدین کیا کہیں گے؟ گویا امام شاطبی کی بات کہ اصول قطعی ہیں ، ہر شخص نے مانی ہے۔
چلیں آپ نے ایک اصول اپنا لیا تو اب اس کی پابندی آپ پر لازم ہوگئی ، الا یہ کہ آپ وہ اصول ترک کردیں۔ لیکن جب ترک کردیں تو اس صورت میں کسی جگہ بھی آپ اس اصول کا اطلاق نہیں کرسکیں گے۔ ہاں، ایک گنجایش ہوسکتی ہے۔ وہ یہ کہ ایک جگہ آپ ایک اصول مان رہے ہیں اور دوسری جگہ اسے ترک کررہے ہیں تو دونوں مسائل میں فارق واضح کریں۔ (اسے اصول قانون کی اصطلاح میں distinguishing کہتے ہیں۔ ) گویا یہاں بھی اطلاق یا ترک کا فیصلہ کسی اصول پر ہی ہوتا ہے۔
آگے بڑھیں اور اب مختلف اصولوں کے تعلق پر غور کریں۔ حنفی اصول یہ ہے کہ مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا جائے گا (جب تک چند مخصوص شرائط پوری نہ ہوں)؛ شافعیہ کا موقف اس کے برعکس ہے۔ اسی طرح حنفی اصول یہ کہ عام کی دلالت قطعی ہے ؛ شافعیہ اسے ظنی مانتے ہیں۔ اب کیا یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص ایک اصول حنفی لے ( کہ مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا جائے گا) اور دوسرا شافعی ( کہ عام کی دلالت ظنی ہے)؟ اس سوال کا جواب اثبات میں تبھی ہوسکتا ہے جب دونوں اصولوں کے درمیان ہم آہنگی ہو ، ورنہ نہیں۔ اس کی وضاحت نیچے دی جارہی ہے۔
کیا تلفیق کبھی صحیح بھی ہوسکتی ہے؟
اب ہم ا س مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے۔
ایک فقہی مذہب دراصل اسلامی قانون کے متعلق ایک مخصوص تصور رکھتا ہے ؛ اس کے نزدیک اس مخصوص تصورِ قانون کے مطابق قانون اخذ کرنے کے لیے کچھ مخصوص مصادر اور کچھ مخصوص طرقِ استدلال و استنباط ہوتے ہیں ؛ اور اس مقصد کے لیے اس کے وضع کردہ یا قبول کردہ تمام اصول باہم ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ اس پورے "فکری نظام" میں اچانک ہی باہر سے کوئی اصول کیسے داخل کیا جاسکتا ہے جب تک پہلے سے موجود اصولوں کے ساتھ اس "اجنبی" اصول کی ہم آہنگی یقینی نہ بنائی جائے؟ فقیہ کا کام ہی یہی ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ یہ اصول اس نظام میں چل سکتا ہے یا نہیں؟ یا اگر اسے قبول کرنا ہے تو کن شرائط کے ساتھ قبول کیا جاسکتا ہے؟ یا اس میں کیا تبدیلیاں لائی جائیں جن کے بعد یہ قابلِ قبول ہوسکے گا؟
امام غزالی نے جب "مصلحت مرسلہ" کو ، یعنی اس مصلحت کو جس کے شرعاً قابلِ قبول ہونے کے لیے کوئی مخصوص دلیل جزئی نہ ملے ، قبول کرنے کے لیے درج ذیل تین شرائط لگائیں تو یہی ان کا مقصود تھا :
1۔ یہ کہ وہ کسی نص کے خلاف نہ ہو (جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اس مخصوص فقہی مذہب کے اصولِ تعبیر کی رو سے نص کا جو مفہوم بنتا ہو اس کے خلاف نہ ہو ) ؛
2۔ یہ کہ وہ "تصرفاتِ شرع" کے خلاف نہ ہو (جس کا آسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ اس مخصوص فقہی مذہب نے اسلامی شریعت کے جو قواعد عامہ متعین کیے ہیں ان کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو ) ؛ اور
3۔ یہ کہ وہ "غریب" نہ ہو ( یعنی اس مخصوص فقہی مذہب کے تصورِ قانون میں وہ بالکل ہی اجنبی نہ ہو بلکہ اس سے ملتا جلتا کوئی تصور ، کوئی قاعدہ ، کوئی ضابطہ ملتا ہو )۔
یہ تین شرائط اسی compatibility کو یقینی بنانے کے لیے ہیں۔
تلفیق کے جواز و عدم جواز پر معاصراہل علم کی بحث میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس بحث میں ہم آہنگی یقینی بنانے والی یہ بات بالکل ہی نظرانداز کردی گئی ہے۔ ہمارا موقف اس سلسلے میں یہ ہے کہ تلفیق اگر یہ ہم آہنگی یقینی بنانے کے بعد کی جائے تو صحیح ہے ، ورنہ غلط ہے۔
قرآن وسنت کی نصوص سے اسلامی قانون کے استنباط و استخراج کے لحاظ سے فقہی احکام کو ہم تین مراتب میں تقسیم کرتے ہیں :
1۔ وہ احکام جو نصوص کی تعبیر و تشریح ، اصول فقہ کی اصطلاح میں "بیان"، کے ذریعے اخذ کیے گئے ہیں؛
2۔ وہ احکام جو اس پہلے مرتبے میں موجود احکام کی علت پر غور کرکے "قیاس" کے ذریعے اخذ کیے گئے ہیں؛ اور
3۔ وہ احکام جو پہلے دو مراتب میں موجود احکام کے مقاصد اور حکمتوں پر غور کرنے کے بعد ، یعنی "مقاصدِ شریعت" پر غور کرنے کے بعد ، اخذ کیے گئے ہیں۔
پہلے مرتبے میں موجود احکام میں تلفیق کی گنجایش کم سے کم ہے اور تیسرے مرتبے کے احکام میں تلفیق کی گنجایش زیادہ سے زیادہ ہے لیکن کسی بھی جگہ تلفیق صرف اسی صورت میں صحیح قرار پائے گی جب پہلے ان اصولوں کے درمیان ہم آہنگی یقینی بنائی جائے جن پر ان احکام کا دارومدار ہے۔
فقہی احکام کا جو یہ تیسرا مرتبہ ہے ، یعنی جہاں مقاصدِ شریعت پر غور کرکے احکام اخذ کیے جاتے ہیں ، یہاں مختلف مذاہب فقہ کے درمیان بہت حد تک پہلے ہی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ یہ وہ حصہ ہے جسے فقہائے کرام "سیاسہ شرعیہ" کے عنوان سے ذکر کرتے ہیں۔ سیاسہ شرعیہ اور مقاصد شریعت کے باہمی تعلق پر بعد کے فقہائے کرام کے کام کو اگر چھوڑ بھی دیں اور صرف امام دبوسی کی "تقویم الادلہ "میں متعلقہ مباحث دیکھ لیے جائیں تو اس بات کی پوری وضاحت مل جائے گی۔
امام محمد نے دوسرے مذاہب کے اصول کیسے استعمال کیے؟
اب ان مسائل پر غور کریں جہاں امام محمد نے محدود پیمانے پر دیگر مذاہب کے اصول استعمال کیے ہیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ سیر کے بیش تر احکام ، اور بالخصوص وہ احکام جو "السیر الکبیر" میں مذکور ہیں ، سیاسہ شرعیہ کے دائرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے وہاں پہلے ہی تلفیق کی گنجایش تھی۔
دوسری بات جو زیادہ اہم ہے یہ ہے کہ امام محمد نے جو دوسرے اصول یہاں قبول کیے ہیں ان میں کچھ ایسے ہیں جو پہلے بھی حنفی مذہب کی رو سے مقبول ہیں۔ مثال کے طور پر مسلمانوں نے کسی کو امان دی ، یا کسی سے امان لی ، تو امان کے الفاظ میں وہ مفہوم مخالفہ کو معتبر قرار دیتے ہیں تو یہ حنفی مذہب کی رو سے بھی صحیح ہے کیونکہ مفہوم مخالفہ کو وہ صرف شرعی نصوص کی تعبیر میں معتبر نہیں مانتے اور وہاں بھی چند شرائط پوری ہوں تو اس کے بعد معتبر مانتے ہیں۔ دیگر اصول جو انھوں نے استعمال کیے ہیں وہاں امام سرخسی نے ہر جگہ واضح کیا ہے کہ حنفی مذہب کی رو سے وہ کیسے قابل قبول "بنائے گئے "ہیں۔ اس کا آسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ انھوں نے ہم آہنگی یقینی بنائی۔
تیسری بات ان دونوں سے زیادہ اہم ہے اور وہ یہ کہ ایسے مسائل میں امام محمد کی رائے اور حنفی "مذہب" ہمیشہ ایک نہیں ہیں اگرچہ السیر الکبیر کا شمار "ظاہر الروایہ" میں ہوتا ہے۔ یقین نہیں آتا تو ذرا ان مسائل پر امام سرخسی کی شرح ، امام کاسانی کا موقف اور بدای? المبتدی کا متن دیکھ لیجیے۔
کیا یہ Positivism ہے؟
میرے لیے عمار بھائی کا یہ کمنٹ نہایت حیران کن تھا کہ جو موقف ہم پیش کررہے ہیں وہ positivism سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ موقف positivism سے ایک سو اسی درجے مختلف ہے۔
ایک تو positivism کا تو یہ کہنا ہے کہ قانون بس وہی ہے جو ریاست نے ، یا کسی انسانی نظام نے ، باقاعدہ طور پر وضع کرکے دیا اور اس کا اخلاقیات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ کم از کم اس لحاظ سے تو عمار بھائی ہمارے موقف کو positivism قرار نہیں دے رہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ مقننہ /شارع کی جانب سے دیے گئے قانون میں جہاں خلا پایا جائے ، جس معاملے میں "حکم" نہ ملے، وہاں positivism جج کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ اپنی قانونی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسا حکم "وضع" کردے جو اسے اس مسئلے میں مناسب محسوس ہوتا ہو۔ میں نے کئی دفعہ وضاحت کی ہے اور آج پھر تصریح کرتا ہوں کہ ہم جج کے لیے ایسے کسی اختیار کے قائل نہیں ہیں۔ یہی تو ہمارے موقف اور جناب غامدی صاحب کے موقف میں بنیادی فرق ہے۔
غامدی صاحب اس کے قائل ہیں کہ "جہاں شریعت خاموش ہو "وہاں انسانوں کو "عقل و فطرت" کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ براہ کرم اس موقف کو فوراً ہی positivism نہ قرار دیں۔ درحقیقت یہ naturalism ہے کیونکہ naturalists کا یہی موقف ہے کہ قانونِ فطرت میں تمام مسائل کے لیے حکم موجود ہے اور انسان اسے عقل کے ذریعے معلوم کرسکتے ہیں ، اگر وہ معلوم کرنا چاہیں۔ اس موقف اور positivism میں بظاہر یکسانیت ہے لیکن دراصل دونوں میں جوہری فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ positivism کی رو سے ایسے مقام پر جج قانون "وضع" کرتا ہے جبکہ naturalism کی رو سے وہ قانون "دریافت" کرتا ہے۔
ہمارے نزدیک یہ دونوں موقف صحیح نہیں ہیں۔ ہمارے موقف کی رو سے حنفی اصول سے قریب ترین موقف مغربی فلاسفہ قانون میں کسی کا اگر ہے تو وہ رونالڈ ڈوورکن ( Ronald Dworkin) کا ہے جس نے تفصیل سے دکھایا ہے کہ جہاں آپ قرار دیتے ہیں کہ قانون خاموش ہے ، وہاں بھی قانون خاموش نہیں ہوتا ؛ نہ ہی جج وہاں قانون وضع کرتا ہے ، نہ ہی وہ "قانونِ فطرت" اپنی "عقل" کے ذریعے "دریافت" کرکے اس پر فیصلہ سناتا ہے ؛بلکہ ایسے مواقع پر جج قانون کے قواعدِ عامہ general principles of law) کی روشنی میں فیصلہ سناتا ہے۔ ان قواعدِ عامہ کے لیے جج کو دکھانا پڑتا ہے کہ قانون کی مختلف جزئیات کے پیچھے کون سا قاعدہ کارفرما ہے جس کا اطلاق یہاں بھی ہوتا ہے جہاں بظاہر آپ کو کوئی دلیل جزئی نہیں مل رہی۔
کیا ہم کسی ایک منہج کو لے کر باقی مناہج کی نفی کرتے ہیں؟
کہنے دیجیے کہ ہمارے موقف کے متعلق یہ اعتراض بھی قلت تدبر کا نتیجہ ہے۔ ہم بالکل بھی اس کے قائل نہیں ہیں کہ اسلامی قانون کے اصول اور قواعد کا ارتقا امام سرخسی پر آکر رک گیا ہے ؛ نہ ہی ہم وقت کا پہیہ واپس گھمانا چاہتے ہیں۔
اس کے برعکس ہم اس کے قائل ہیں کہ ظاہر الروایہ پر مستند ترین شرح امام سرخسی کی ہے اور حنفی فقہائے کرام کے اصولوں کی بہترین وضاحت امام سرخسی نے کی ہے۔ امام سرخسی کے بیان کردہ کسی اصول کی مزید بہتر تہذیب ، تعبیر یا توضیح اگر کی جاسکتی ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ امام سرخسی سے قبل کے فقہائے احناف کے کام ، بالخصوص امام محمد کی کتب ، سے جزئیات بیان کرکے بتایا جائے کہ کون سا جزئیہ امام سرخسی کے بیان کردہ اصول کے خلاف جاتا ہے اور اس اصول میں کیا تبدیلی کی جائے کہ وہ اس جزئیے پر بھی محیط ہوجائے اور باقی جزئیات بھی اس کے اطلاق سے نہ نکلیں؟ یہ بالکل وہی طریقہ ہے جس پر امام سرخسی مثال کے طور پر امام کرخی یا امام عیسی بن ابان یا متقدمین فقہائے کرام میں کسی اور کے بیان کردہ اصول کی تصحیح کرتے ہیں۔
جیسا کہ اس مضمون کی ابتدا میں ذکر کیا گیا ، امام سرخسی کے لیے یہ مقام ہم نے "تخلیق" نہیں کیا بلکہ حنفی مذہب کے مشائخ نے ان کے لیے بالاتفاق یہ حیثیت تسلیم کی ہے۔
مزید برآں ، ہم اس کے بھی قائل ہیں کہ جدید مسائل کے حل کے لیے حنفی مذہب کے ان اصولوں کی روشنی میں نئے اصول بھی وضع کیے جاسکتے ہیں؛ دیگر مذاہبِ فقہ سے بھی اصول لیے جاسکتے ہیں ، بالخصوص سیاسہ شرعیہ کے میدان میں ؛ اور دیگر نظام ہائے قوانین سے بھی اصول لیے جاسکتے ہیں ؛ لیکن اس سب کچھ میں بس یہ لحاظ رکھنا لازمی ہوگا کہ وہ نیا اصول جو آپ وضع کریں ، کسی اور فقہی مذہب سے لیں ، یا کسی اور نظامِ قانون سے لیں، وہ اصول پہلے سے موجود اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو ؛ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس اصول میں کچھ ایسی تبدیلیاں کرنی ہوں گی جن کے بعد وہ ان اصولوں سے ہم آہنگ ہوجائے ؛ اگر یہ بھی ممکن نہیں تو پھر وہ اصول قبول نہیں کیا جاسکتا۔
ہذا ما عندی ، و العلم عند اللہ۔
قومی بیانیہ اور اہل مدارس
مولانا مفتی منیب الرحمن
بیانیہ یا Narrative ہماری سیاست و صحافت کی نئی اصطلاح ہے جو اکیسویں صدی میں متعارف ہوئی، اس سے پہلے شاید کہیں اس کا ذکر آیا ہو، لیکن ہمارے مطالعے میں نہیں آیا۔ البتہ ایک نئے ’’عمرانی معاہدے‘‘ (Social Contract) کی بات کی جاتی رہی ہے، حالانکہ کسی ملک کا دستور ہی اس کا عمرانی معاہدہ ہوتا ہے اور پاکستان کا دستور اتفاقِ رائے سے 14 اگست 1973ء کو نافذ ہوا اور اْس کے بعد سے اب تک اس میں 22 ترامیم ہوچکی ہیں۔ اٹھارھویں ترمیم نے اِسے فیڈریشن سے کنفیڈریشن کی طرف سرکا دیا ہے۔
7 ستمبر 2015ء کو وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں قومی بیانیہ ترتیب دینے کے لیے ایک مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی تھی: مفتی منیب الرحمن، مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا قاضی نیاز حسین نقوی، مولانا یاسین ظفر اور مولانا عبدالمالک۔
میں نے بنیادی مسودہ ترتیب دیا، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری شریک کار تھے، پھر اسے پانچوں تنظیمات کے اکابر کے پاس بھیجا، انہوں نے اس کا مطالعہ کیا، بعض نے کچھ ترامیم تجویز کیں، کچھ حذف و اضافہ کیا اور پھر میں نے حتمی مسودہ 22 اکتوبر 2015ء کو کوآرڈی نیٹر نیکٹا جناب احسان غنی کو ارسال کیا کہ وہ متعلقہ اہل اقتدار کو اِسے دکھا دیں اور اگر وہ اس میں کوئی ردّوبدل چاہیں تو اس کی نشان دہی کردیں۔ میں نے اِسے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جناب جنرل رضوان اختر کو بھی ارسال کیا کہ اگر اس میں وہ اپنا کوئی حصہ ڈالنا چاہیں یا کوئی اضافہ مطلوب ہو تو مطلع کریں، ہم باہمی مشاورت سے اسے حتمی شکل دیں گے۔ اس دوران میڈیا پر وقتاً فوقتاً بیانیہ کا ذکر آتا رہا، لیکن سرکار کی طرف سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت وقت کے لیے آئے دن کوئی نیا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے یا کوئی نئی افتاد نازل ہوجاتی ہے، انہیں ان چیزوں پر غور کی فرصت ہی نہیں ملتی اور نہ ہی وہ اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ چونکہ ہمارے میڈیا کے کرم فرما حضرات کا ہدف مدارس اور اہل مدارس ہوتے ہیں، اس لیے وہ مشقِ ستم فرماتے رہتے ہیں۔ ان پر نہ کوئی ذمے داری عائد ہوتی ہے، نہ ان کے لیے حب الوطنی کا کوئی معیار ہے، نہ ہی ملکی سلامتی کے حوالے سے ان پر کوئی قید و بند عائد کی جاسکتی ہے، اْن کی زبان کی کاٹ سے ویسے ہی اہل اقتدار لرزاں و ترساں رہتے ہیں، خواہ وہ اقتدار میں ہوں یا اقتدار کی آرزو میں بیٹھے ہوں۔ سو ایک کمزور طبقہ مدارس و اہلِ مدارس کا رہ جاتا ہے جس پر مشقِ ناز کی جائے اور یہ بھی ان کی خواہش رہتی ہے کہ سب کو ایک لاٹھی سے ہانکا جائے اور جتنا ہوسکے ان کی مشکیں کَسی جائیں۔ لہٰذا ہم نے اپنے تناظر میں یہ بیانیہ ترتیب دیا۔ دو تین ماہ قبل بیانیہ ترتیب دینے کے لیے اہلِ عقل و دانش کی کوئی مجلس ترتیب دی گئی اور ظاہر ہے کہ بنیادی قرطاسِ عمل اِسی عاجز کا ترتیب دیا ہوا تھا، بیرونِ ملک سفر کی وجہ سے میں خود اِن دانائے روزگار اشخاص کی دانش سے مستفید نہ ہوسکا اور محروم رہا۔
البتہ طیور کی زبانی جو اڑتی سی خبر ملی، وہ یہ تھی کہ نفاذِ شریعت کے مطالبے کا بیانیے سے تعلق نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ایسی کوئی ہوا اسے لگنی چاہیے۔ ہمیں حیرت ہے کہ جمہوریت کے نام پر کوئی بھی مطالبہ کیا جا سکتا ہے، لیکن نفاذِ شریعت کا مطالبہ کرنے کی جمہوریت میں بھی اجازت نہیں ہے، سو جمہوریت اور جمہوری اَقدار کس چڑیا کا نام ہے، یہ بھی ہمیں معلوم نہیں ہے۔ ویسے تو اسرائیل میں بھی مذہبی جماعتیں سیاسی دوڑ میں شامل ہیں، جرمنی میں کرسچین ڈیموکریٹس کے نام سے جماعت قائم ہے اور اِن سے اْن کے نظام کو خطرہ لاحق نہیں ہوتا، مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نفاذِ شریعت کا مطالبہ کرنے سے ریاست کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔
ہمارا مرتبہ بیانیہ درج ذیل ہے:
ہمارے وطن عزیز میں گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے داخلی طور پر تخریب وفساد، دہشت گردی اور خروج و بغاوت کی صورتِ حال ہے اور اس کے بار ے میں دینی لحاظ سے لوگوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے ابہامات اور اشکالات وارد ہو رہے ہیں۔ بعض حضرات یہ تاثر دیتے رہتے ہیں کہ اس ذہنی نہاد کے پیچھے مذہبی محرکات کارِفرما ہیں اور انھیں دینی مدارس و جامعات سے بھی کسی نہ کسی سطح پر تائید یا ترغیب ملتی رہی ہے۔ لہٰذا ہماری دینی اور ملی ذمہ داری ہے کہ اس کے ازالے اور حقیقت حال کی وضاحت کے لیے اپنا شرعی مؤقف واضح کریں اور اسی بنا پر ہم نے اسے قومی بیانیے کا عنوان دیا ہے، پس ہمارا موقف حسب ذیل ہے:
(1) اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، جس کے دستور کا آغاز اس قومی و ملی میثاق سے ہوتا ہے: ’’اللہ تبارک وتعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہے، وہ ایک مقدس امانت ہے‘‘۔ نیز دستور میں اس بات کا اقرار بھی موجود ہے کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا۔ اگرچہ دستور کے ان حصوں پر کماحقہ عمل کرنے میں شدید کوتاہی رہی ہے، لیکن یہ بے عملی ہے اور اس کوتاہی کی بنا پر ملک کی اسلامی حیثیت اور اسلامی اساس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اس کی بنا پر ملک، حکومت وقت یا فوج کو غیر مسلم قرار دینے اور ان کے خلاف مسلح کارروائی کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔
(2) پاکستان کے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نفاذِ شریعت کی پرامن جدوجہد کرنا ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے، یہ پاکستان کے دستور کا تقاضا بھی ہے اور اس کی دستور میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ ہماری رائے میں ہمارے بہت سے ملکی اور ملّی مسائل کا سبب اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد سے روگردانی ہے۔ حکومت اس حوالے سے پیش رفت کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ شریعت اپیلٹ بینچ کو فعال بنائے اور اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کی سفارشات پر مبنی قانون سازی کرے، جو کہ دستوری تقاضا ہے۔ نفاذِ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، حرام قطعی ہیں، شریعت کی رو سے ممنوع ہیں اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں۔ یہ ریاست، ملک و قوم اور وطن کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہیں، عدمِ استحکام سے دوچار کر رہی ہیں، تقسیم در تقسیم اور تفرقے کا باعث بن رہی ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسلام دشمن اور ملک دشمن قوتوں کو پہنچ رہا ہے۔ لہٰذا ریاست نے ان کو کچلنے کے لیے ضربِ عضب کے نام سے جو آپریشن شروع کر رکھا ہے اور قومی اتفاقِ رائے سے جو لائحہ عمل تشکیل دیا ہے، ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اب ہماری مسلّح افواج نے ایک نئی مہم شروع کی ہے، جس کا عنوان ہے: ’’رَد الفَسَاد‘‘، ہم اس کی بھی حمایت کرتے ہیں۔
(3) اکیسویں آئینی ترمیم میں جس طرح دہشت گردی کو ’’مذہب و مسلک کے نام پر ہونے والی دہشت گردی‘‘ کے ساتھ خاص کر دیا گیا ہے، اس کے بارے میں ہمارے تحفظات ہیں۔ دہشت گردی اور ملک کے اندر داخلی فساد کی باقی تمام صورتوں کو یکسر نظرانداز کر دینا مذہب کے بارے میں نظریاتی تعصب کا آئینہ دار ہے، اور اس امتیازی سلوک کا فوری تدارک ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم ریاست اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس سے ملک میں قیامِ امن کے لیے ہمارے عزم میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا۔ دہشت گردی کی تازہ لہر کے بعد بھی معلوم ہوا ہے کہ ہماری لبرل جماعتیں مذہب اور اہلِ مذہب کو ہدفِ خاص بنانے کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو آمادہ نہیں ہیں، اوراِسی لیے تیئسویں ترمیم پر اتفاق رائے نہیں ہو پا رہا، اگرچہ اس اختلاف کا سبب دراصل ان کی ایک دوسرے سے شکایات، گلے شکوے اور کچھ خدشات ہیں۔
(4) تمام مسالک کے نمائندہ علماء نے 2004ء میں اتفاقِ رائے سے شرعی داائل کی روشنی میں قتل ناحق کے عنوان سے خود کش حملوں کے حرامِ قطعی ہونے کا جو فتویٰ جاری کیا تھا، ہم اس کی مکمل تائید و حمایت کرتے ہیں۔ نیز لسانی علاقائیت اور قومیت کے نام پر جو مسلح گروہ ریاست کے خلاف مصروفِ عمل ہیں، یہ بھی قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا سبب ہیں اور شریعت کی رو سے یہ بھی ممنوع ہے، لہٰذا ضربِ عضب کا دائرہ ان سب تک وسیع کیا جائے۔
(5) مسلمانوں میں مسالک و مکاتبِ فکر قرونِ اولیٰ سے چلے آرہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں۔ ان میں دلیل و استدلال کی بنیاد پر فقہی اور نظریاتی ابحاث ہمارے دینی اور اسلامی علمی سرمائے کا حصہ ہیں اور رہیں گی۔ لیکن یہ تعلیم و تحقیق کے موضوعات ہیں اور ان کا اصل مقام درس گاہ ہے۔ اِن کو پبلک یا میڈیا میں زیرِ بحث لانا بھی انتشارپیدا کرنے اور وحدتِ ملی کو نقصان پہنچانے کا سبب ہے۔ اِن کو انتظامی اور انضباطی اقدامات سے کنٹرول کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا کے لیے ضابطہ اخلاق یا قانون بنا کر اسے سختی سے نافذ کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے وہ کوئی تعزیری اقدام بھی تجویز کر سکتی ہے۔
(6) فرقہ وارانہ نفرت انگیزی، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت اور آئین و قانون کی رو سے ناجائز ہے اور یہ ایک قومی اور ملی جرم ہے۔
(7) تعلیمی اداروں کا، خواہ وہ دینی تعلیم کے ادارے ہوں یا عصری تعلیم کے، ہر قسم کی عسکریت اور نفرت انگیزی پر مبنی تعلیم یا تربیت سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی فرد یا ادارہ اس میں ملوث ہے، تو اس کے خلاف ثبوت و شواہد کے ساتھ کارروائی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
(8) دینی مدارس پر مبہم اور غیر واضح الزامات لگانے کا سلسلہ ختم ہوناچاہیے۔ دینی مدارس کی پانچوں تنظیمات حکومت کو لکھ کر دے چکی ہیں کہ اگر اس کے پاس ثبوت و شواہد ہیں کہ بعض مدارس عسکریت، دہشت گردی یا کسی بھی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث ہیں، تو ان کی فہرست جاری کی جائے۔ وہ خود نتائج کا سامنا کریں یا اپنا دفاع کریں، ہم ان کا دفاع نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کی حمایت کریں گے۔
(9) ہم بلا استثنا تمام دینی مدارس میں کسی منفی سرگرمی کی مطلقاً نفی نہیں کر سکتے، ہماری نظر میں انتہا پسندانہ سوچ اور شدت پسندی کومحض دینی مدارس سے جوڑنا غیرمنصفانہ سوچ کا مظہر ہے۔ گزشتہ عشرے سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایسے شواہد سا منے آئے ہیں کہ یہ روش جدید عصری تعلیمی اداروں اور دیگر اداروں میں بھی فروغ پا رہی ہے، اس کے نتیجے میں مغرب کے پر تعیش ماحول سے نکل کر لوگ وزیرستان آئے، القاعدہ اور داعش سے ملے، جبکہ یہ جدید تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ پس تناسب سے قطعِ نظر یہ فکر ہر جگہ کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ سو یہ فکری نہاد جہاں کہیں بھی ہو، ہماری دشمن ہے۔ یہ لوگ دینی مدارس یا جدید تعلیمی اداروں یا کسی بھی ادارے سے متعلق ہوں، ہمارے نزدیک کسی رو رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
(10) دینی مدارس کی پانچوں تنظیمات اس بات کا عہد کرتی ہیں کہ دینی تعلیم کھلے ماحول میں ہونی چاہیے اور طلبہ و طالبات پر کسی قسم کا جسمانی یا نظریاتی تشدد یا جبر روا نہیں ہے۔ الحمدللہ ہمارے دینی مدارس کا ماحول کھلا ہے اور اس میں عوام بلا روک ٹوک آسکتے ہیں اور کوئی چیز مخفی نہیں ہے، یہ ادارے ملکی قانون کے تحت قائم ہیں اور ملکی قانون کے پابند ہیں اور رہیں گے۔
(11) ہر مکتب فکر اور مسلک کو مثبت انداز میں اپنے عقائد اور فقہی نظریات کی دعوت و تبلیغ کی شریعت اور قانون کی رو سے اجازت ہے، لیکن اہانت آمیز اور نفرت انگیزی پر مبنی اندازِ بیان کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح صراحت، کنایہ، تعریض، توریہ اور ایہام کسی بھی صورت میں انبیائے کرام ورسل عظام علیہم السلام، اہل بیتِ اطہار و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور شعائر اسلام کی اہانت کے حوالے سے ضابطہ فوجداری کے آرٹیکل 295 کی تمام دفعات کو لفظاً اور معناً نافذ کیا جائے، اور اگر اس قانون کا کہیں غلط استعمال ہوا ہے، تو اس کے اِزالے کی احسن تدبیر کی جاسکتی ہے۔ فرقہ وارانہ محاذ آرائی کے سد باب کی یہی ایک قابلِ عمل صورت ہے۔
(12) عالم دین اور مفتی کا منصبی فریضہ ہے کہ کلماتِ کفر کو کفر قرار دے اور سائل کو شرعی حکم بتائے، البتہ کسی شخص کے بارے میں فیصلہ صادر کرنا کہ آیا اس نے کفر کا ارتکاب کیا ہے یا کلمہ کفر کہا ہے، یہ قضا ہے اور عدالت کا کام ہے۔ مفتی کا کام صرف شرعی حکم بتانا ہے، اس سے آگے ریاست و حکومت اور عدالت کا دائرہ اختیار ہے۔ اسی لیے ہمارے فقہائے کرام نے ’’لزومِ کفر‘‘ اور ’’التزام کفر‘‘ کے فرق کو واضح کیا ہے۔
(13) اس وقت پاکستان میں جدید تعلیم ایک انتہائی منفعت بخش صنعت بن چکی ہے۔ پلے گروپ اور نرسری سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک پرائیویٹ تعلیمی ادارے ناقابل یقین حد تک غیر معمولی فیسیں وصول کر رہے ہیں۔ اعلیٰ معیاری تعلیم قابلِ فروخت جنس بن چکی ہے اور مالی لحاظ سے کمزور طبقات کی پہنچ سے دور ہے، اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں طبقاتی تقسیم کو مستقل حیثیت حاصل ہے، کیونکہ پبلک سیکٹر میں تعلیم کا معیار انتہائی حد تک پست ہے۔ ہمیں تعلیم کے پرائیویٹ سیکٹر میں ہونے پر اعتراض نہیں ہے، اعتراض یہ ہے کہ تعلیم کو صنعت کے بجائے سماجی خدمت کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ ایک قومی کمیشن قائم کیا جائے جو پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں کے لیے’’نہ نفع نہ نقصان‘‘ یا مناسب منفعت کی بنیاد پر فیسوں کا تعین کرے اور انہیں اس بات کا پابند کرے کہ وہ کم از کم پچیس فیصد نادار طلبہ کو میرٹ پر منتخب کر کے مفت تعلیم دیں۔ عصری تعلیم کے پرائیویٹ اداروں میں کئی قسم کی درآمد کی ہوئی نصابی کتب پڑھائی جا رہی ہیں اور ان کا نظامِ امتحان بھی بیرونِ ملک اداروں سے وابستہ ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کے نصاب پر مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان میں تعلیم پانے والی ہماری نئی نسل اسلامی اور پاکستانی ذہن کی حامل ہو اور سب سے آئیڈیل بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح اسکول گریجوایشن کی سطح تک یکساں نصابِ تعلیم اور نظامِ امتحان رائج ہو۔
(14) پاکستان میں رہنے والے پابند آئین و قانون تمام غیرمسلم شہریوں کو جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ اور ملکی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے وہی تمام شہری حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ ہم حقوقِ انسانی کی مکمل پاسداری کا عہد کرتے ہیں۔ اِسی طرح پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو اپنی عبادت گاہوں میں اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔
(15) اسلام خواتین کو احترام عطا کرتا ہے اور ان کے حقوق کی پاسداری کرتا ہے۔ اسلام کے قانونِ وراثت میں خواتین کے حقوق مقرر ہیں۔ ان کو جاگیرداری، سرمایہ داری اور قبائلی رسوم پر مبنی سماجی روایات کی بنیاد پر وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں اخلاقی اور معاشرتی دباؤ ڈال کر وراثت سے دست برداری حاصل کی جاتی ہے۔ قرآن سے شادی کا تصور بھی وراثت سے محروم کرنے کی غیر شرعی رسم ہے۔ وراثت کا استحقاق محض دست برداری سے ختم نہیں ہوتا، قرآن و سنت کی رو سے تقسیمِ وراثت شریعت کا لازمی قانون ہے۔ شریعت کی رو سے اگر کوئی وارث اپنا حصہ رضا و رغبت سے اور کسی جبر و اکراہ کے بغیر کسی کو دینا چاہے، تو بھی محض دست برداری کافی نہیں ہے۔ جائیداد مالکانہ طور پر اس کے نام پر منتقل کرنا اور اسے اْس پر قبضہ دینا لازمی ہے، اس کے بعد ہی وہ مالکانہ حیثیت سے تصرف کرسکتا ہے۔ عورتوں پر تشدد کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں عورتوں کے حقوق کی پاسداری پر نہایت تاکید کے ساتھ متوجہ فرمایا ہے۔ خواتین کی جبری شادی ہمارے دیہی اور جاگیردارانہ سماج کی ایک خلافِ شرع روایت ہے، اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اسے قانون کی طاقت سے روکے۔ اسلام عورت کے حق رائے دہی پر بھی کوئی قدغن نہیں لگاتا اور نہ ہی عورتوں کے تعلیم حاصل کرنے پر کوئی پابندی ہے، اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ شرعی حدود کی پابندی کی جائے۔
ہم نے دینی مدارس و جامعات کی رجسٹریشن کا میکنزم بھی بنا کر دیا، تمام ضروری کوائف ومعلومات اس میں شامل کی گئیں اور تفصیلی کوائف کے لیے اصل کیفیت نامہ کے ساتھ ضمنی فارم مرتب کر کے دیے۔ اسی طرح ڈیٹا فارم بھی مرتب کر کے دیا اور طے پایا کہ پہلے سے قائم سوسائٹی ایکٹ یا ٹرسٹ ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ مدارس کو قانونی تصور کیا جائے گا، اور ان سے دوبارہ رجسٹریشن کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ یہی اصول سابق صدر جناب جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت کے ساتھ طے پایا تھا اور اْن کے دور میں اس پر عمل رہا۔ یہ بھی طے پایا کہ پہلے سے رجسٹرڈ مدارس اور نئی رجسٹریشن حاصل کرنے والے مدارس سالانہ ڈیٹا بھی فراہم کریں گے اوراس کے لیے وفاقی وزارتِ مذہبی امور یا وزارتِ تعلیم میں ایک سیل قائم کیا جائے گا یا صوبے اس ذمہ داری کو انجام دیں گے۔ ہماری معلومات کے مطابق ہمارے تیارے کیے گئے اس مسودہ قانون کی صوبوں سے منظوری بھی لی گئی، لیکن پھر اس پر قانون سازی نہ ہوسکی۔
ماضی قریب میں صوبہ سندھ کی اسمبلی نے ایک متنازعہ بل بنایا، لیکن وہ اب تک معرضِ التوا میں ہے، کیونکہ صوبائی وزیرِ اعلیٰ جنابِ سید مراد علی شاہ متعدد وعدوں کے باوجود اتفاقِ رائے کے لیے اب تک کوئی اجلاس منعقد نہیں کرسکے اور حکومت کے اِسی شعار کی وجہ سے ’’تبدیلی مذہب ‘‘ کا قانون جو دراصل ’’قانونِ امتناعِ قبولِ اسلام ‘‘ ہے، صوبائی اسمبلی سے پاس ہونے کے باوجود قانون نہ بن سکا اور اس کے بارے میں بھی اتفاقِ رائے کے لیے جنابِ آصف علی زرداری کے وعدے اور ہدایت کے باوجود کوئی اجلاس منعقد نہ ہوسکا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو ملامت کرنے میں لگی رہتی ہیں، لیکن ہمیں سنجیدگی کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہی اور سب پنجابی محاورے کے مطابق ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
(بشکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘)
جوابی بیانیہ اور قومی بیانیہ ۔ ایک تقابلی جائزہ
عدنان اعجاز
حال ہی میں وزیر اعظم کی جانب سے 'جوابی بیانیے' کے تجدید مطالبہ کے نتیجے میں چھڑنے والی بحث کے استقصا سے پتہ چلا کہ مفتی منیب الرحمن صاحب کی جانب سے ایک 'قومی بیانیہ' 2015 میں ہی تیار ہو چکا تھا۔ بنیادی ڈھانچہ اگرچہ مفتی صاحب ہی کا تھا تاہم ان کی روداد کے مطابق تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علما کی جانب سے حذف و اضافے کی تضمیم و توثیق کے بعد متفقہ مسودہ متعلقہ وفاقی اداروں کو ارسال بھی کر دیا گیا تھا۔ ہماری بدقسمتی کہ یہ اہم ترین پیشرفت شاید گمنامی اور شاید کوتاہ بینی سے اب تک علم میں نہ آسکی تھی۔ خیر اب چونکہ یہ مسودہ جس کا بے چینی سے انتظار تھا، جسے مسلمانوں اور خصوصاً پاکستانیوں کو درپیش مہلک عالمگیر نظریاتی وباؤں کے لیے نسخہ کیمیا بننا تھا، جب نمودار ہو چکا تو اب یہ ایک دیانتدارانہ علمی تجزیے کا متقاضی ہے۔
2015 ہی کے آغاز میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کا مسودہ ’’اسلام اور ریاست۔ ایک جوابی بیانیہ‘‘ اس سے پہلے ہی شائع ہو چکا تھا۔ چنانچہ اب جبکہ یہ دونوں بیانیے 150 یعنی علما کا قومی بیانیہ اور غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ150منظر عام پرآ چکے، ان دونوں کا تقابل و تجزیہ آسان بھی ہو گیا ہے اور ضروری بھی، تاکہ یہ پرکھا جا سکے کہ کون سے وہ نظریات ہیں جو اب اس منتشر قافلے کی شیرازہ بندی کے لیے بانگ درا بننے کے اہل ہیں۔
یہ بات محتاجِ بیان نہیں کہ حکومت یا اہل علم و دانش جس بیانیے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اس کے موضوعات و مندرجات کی نوعیت کیا ہونی چاہیے۔ کیونکہ یہ تو آپ سے ہویدا ہے کہ ان کی مراد ان بنیادی مذہبی نظریات 150 جن کا پرچار دہشتگرد اور انتہا پسند کرتے ہیں 150 کے جواب میں ایسے نئے یا درست دینی نظریات ہیں جو قوم اور امت کی سمت و احوال میں بہتری کی طرف گامزن کرنے کا موجب بنیں۔ بہر حال اس بات کا بیان یہاں کر دینا مناسب معلوم پڑا۔
تجزیے کے لیے آئیے پہلے مفتی منیب صاحب کے قومی بیانیے کا ایک طائرانہ جائزہ لیتے ہیں، کہ غامدی صاحب کے جوابی بیانے پر تو بعض پہلوؤں سے بہت کلام (ہرچند ناکافی) اب تک ہو چکا ہے، اور پھر یہ دیکھتے ہیں کہ جس تناظر میں اور جن امراض کے علاج کے لیے یہ لکھے گئے ہیں، یہ دونوں بیانیے کس حد تک ان کی رگِ معدن معین اور ان کی تشخیص کر پائے ہیں، اور کس تشخیص کے نتیجے میں قافلے کے رخ میں درستگی کے لیے کس قدر راہنمائی مل پائے گی۔
خلاصہ قومی بیانیہ
مفتی صاحب نے مملکت پاکستان کی اسلامی اساسوں کی نشاندہی کے بعد موجودہ ملکی قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کا مطالبہ دہرایا اور نفاذِ شریعت کی جدوجہد کا ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہونے کی یاددہانی بھی کرائی۔ تاہم انہوں نے یہ واضح فرمایا کہ نفاذِ شریعت کی یہ جدوجہد پرامن ہونی چاہیے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، حرامِ قطعی ہیں، شریعت کی رو سے ممنوع ہیں اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ریاست ان متشدد تحریکوں کو کچلنے کے لیے جو فوجی آپریشن کر رہی ہے، علما ان کی مکمل حمایت کرتے ہیں، باوجود اس کے کہ علما کو اکیسویں آئینی ترمیم پر جس میں دہشت گردی کو ’’مذہب و مسلک کے نام پر ہونے والی دہشت گردی‘‘ کے ساتھ خاص کر دیا، تحفظات تھے۔ انہوں نے خودکش حملوں کے حرامِ قطعی ہونے کا اعادہ بھی فرمایا اورضربِ عضب کا دائرہ لسانی، علاقائی اور قومیت کے نام پر مصروفِ عمل مسلح گروہوں تک وسیع کرنے کا مطالبہ کیا۔ فرقہ واریت کی بنیاد پر نفرت انگیزی اور مسلح تصادم کو ناجائز و جرم قرار دیتے ہوئے انہیں مسالک و مکاتبِ فکر سے ممیز کیا،اور مؤخرالذکر کو تعلیم و تحقیق کے موضوعات ہونے کی وجہ سے اسلامی علمی سرمائے کا حصہ بتلایا۔ اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ میڈیا کے لیے ایک ضابطہ اخلاق بنا کر انہیں ان موضوعات پر گفتگو کے لیے قانونی حدود کا پابند کیا جائے تا کہ انتشار نہ پھیلے۔
پھر مفتی صاحب نے بالعموم درسگاہوں کے حوالے سے حکومت کو ذمہ داری کا احساس دلایا کہ اگر کہیں بھی عسکریت یا نفرت انگیزی کی تعلیم دی جارہی ہو تو اس کے خلاف اقدام کیا جائے۔ جہاں تک مدرسوں کا معاملہ ہے، مفتی صاحب نے اْن کا دفاع کیا، ہر قسم کی حکومتی آڈٹ کی پیشکش کی اور شکوہ کیا کہ ان پر بے جا الزامات بند ہونے چاہییں۔ انہوں نے دعوت و تبلیغ اور اظہارِ رائے کی آزادی کی توثیق کرتے ہوئے آرٹیکل 295 کا حوالہ دے کر اس آزادی کو قانون کے دائرے میں رکھنے کی تاکید فرمائی۔ مفتی صاحب نے صریح الفاظ میں واضح کیا کہ مفتیان اور علما کا اختیار کفر کو کفر کہنے اور سائل کو شرعی حکم بتانے تک محدود ہے۔ کسی شخص پر اس کے اطلاق اور اس کے کفر و اسلام کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف حکومت و عدالت کو ہے۔ پھر دنیاوی تعلیم کے پرائیویٹ اداروں کے لیے کچھ اصلاحات تجویز فرمائیں۔ مفتی صاحب نے یہ نکتہ بھی واضح فرمایا کہ علما غیر مسلم شہریوں کے انسانی، شہری اور مذہبی حقوق کی توثیق اور ان کے تحفظ کی پاسداری کا عہد کرتے ہیں۔ آخری نکتے میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے اْن کی وراثت، تعلیم، شادی اور حق رائے دہی جیسے حقوق کی پاسداری کی تاکید کی اور حکومت کو قانون کی طاقت سے ان کی رکھوالی کی نصیحت فرمائی۔
قومی بیانیے کا طائرانہ جائزہ
سب سے پہلے مفتی منیب الرحمن صاحب مع مساعد علما شکریے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے حکومت و عوام کی معاونت کی خاطر یہ مفصل بیانیہ مرحمت فرمایا۔ اْن کی یہ کاوش قابلِ ستائش و توصیف ہے۔ پھر جس دو ٹوک، بلااستثنا اور بے لاگ انداز میں محارب گروہوں کی قتل و غارت گری کو حرام لکھا ہے، یہ بھی لائق تحسین ہے۔
اب آئیے اس کے تجزیے کی طرف۔
اس بیانیے کا سب سے پہلا اور اہم ترین پہلویہ سامنے آتا ہے کہ علما کی رائے میں روایتی مذہبی فکر یا اس پر مبنی مروّجہ مذہبی بیانیہ اور اس دور کے مفسدین کے نظریات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ یعنی وہ اس کے قائل ہیں کہ مروّجہ مذہبی بیانیے میں کوئی شے ایسی نہیں جو اِنتہاپسندی یا دہشتگردی کا باعث بن رہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ایسے مذہبی نظریے یا استدلال سے تعارض جو متشدد تحریکیں اپنی تائید میں اکثر پیش کرتی رہتی ہیں، اس بیانیے میں سرے سے جگہ ہی نہ بنا سکا۔ ہاں، مفسدین کے اعمال کی مذمت انہوں نے دہرائی ہے،تاہم شاید ہی کوئی حلقہ دانش یا مکتب فکر ایسا ہو جس نے اس کی مذمت بارہا نہ دہرائی ہو؛ الغرض تحصیل حاصل۔ شاید اسی لیے انہوں نے اس کا نام مذہبی بیانیہ کے بجائے قومی بیانیہ رکھا ہے۔ چنانچہ یہ واضح ہوا کہ علما کے نزدیک محارب گروہوں کے مذہبی بیانیے کا کوئی پہلو لائقِ تنقیح نہیں۔ اہل علم و دانش کے لیے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں پھر کچھ مانع نہیں کہ اِن محارب گروہوں کے نظریات و اہداف کی تو علما توثیق کرتے ہیں، فقط طریقہ کار سے اختلاف ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ بنیادی نظریات پر بحث یا ان کی وضاحت کے بجائے یہ بیانیہ مختلف شعبہ ہائے ریاست و حکومت سے متعلق مجوزہ اصلاحات پر مرتکز نظر آتا ہے۔ پس اپنے مقصد کے اعتبار سے یہ بیانیہ کم اور مسودۂ انتظامی اصلاحات زیادہ معلوم پڑتا ہے۔ باوجود اس کے، حکومت کو تجویز کردہ اِن گراں قدر اصلاحات پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ یہ خیر کا باعث بہر حال بن سکتی ہیں۔ جیسے مثلاً فتووں کے لزومی و التزامی تخصیص کے باب میں کسی مفتی کی حدود کا تعین اور حکومت و عدالت کے اختیارات کی توضیح موجب اصلاح تجویز ہے۔
تیسرا پہلو یہ ہے کہ یہ بیانیہ بین السّطور اور مبہم الفاظ میں اِن باغی گروہوں کے تولد و وجود کی اصل ذمہ داری حکومت پر ڈالتا ہے، اور اس کا سبب شریعت کے نفاذ سےْ وگردانی یا کوتاہی کو قرار دیتا ہے۔ اسی لیے اس بیانیے کی مجوزہ اصلاحِ اقدامات کابشکل کبیر رخ حکومت کی طرف ہے اور متشدد گروہوں کی جانب نسبتاً کہیں کم۔
چوتھا پہلو یہ ہے کہ یہ بیانیہ باغی گروہوں کے ظالمانہ اعمال کی مذمت و تحریم تو کرتا ہے، پر اس کے لیے بھی کوئی دینی استدلال فراہم نہیں کرتا۔ بیانیے کا مقصد ہر کوئی جانتا ہے کہ فقط یہ تو نہیں تھا کہ مفسدین کی لفظاً مذمت کر دی جائے، یا حرام کو حرام اور حلال کو محض حلال کہہ دیا جائے، بلکہ یہ تھا کہ ایسے مذہبی استدلال، خواہ اجمال سے ہی سہی، پیش کیے جائیں جن سے ان کے فاسد نظریات 150 جو ان کے مہلک افعال کا سر چشمہ ہیں 150 کی تصحیح اور سادہ لوح عوام اور مخلص مسلمانوں کی رہنمائی ممکن ہو سکے۔ جیسے مثلاً پہلے ہی نکتے میں قرآن و سنت کے مطابق قوانین بنانے میں 'کوتاہی' کے نتیجے میں حکومت یا فوج کو غیر مسلم قرار دینے اور ان کے خلاف مسلح کارروائی کی ممانعت تو لکھی، پر اِس کے لیے کوئی شرعی جواز فراہم نہیں کیا؛ باوجود اس کے کہ یہ 'کوتاہی' کا دعوی سراسر ایک موضوعی رائے ہے جسے کوئی دوسرا 'سرکشی' پر محمول کر کے ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون کے زمرے میں لے آسکتا ہے، اور جبکہ باغی گروہ اس استدلال کا سہارا ہر حملے کے فوراً بعد نشر کیے جانے والے بیانات میں بہ تکرار لیتے بھی نظر آتے ہیں۔ پس کسی قسم کے دینی استدلال سے خالی یہ بیانیہ علمی طور سے کمزوری کا مظہر نظر آتا ہے۔
پانچواں اور آخری اہم پہلو یہ ہے کہ بیانیہ تحریر و پیش کرنے والے قابل صد احترام مفتی صاحب کا تعلق جس مسلک سے ہے، سب اہلِ علم جانتے ہیں کہ اِس مسلک کے عقائد و نظریات اور پیروکار 150 ایک تحفظ ناموسِ رسالت کے زمرے کے کچھ متجاوز اقدامات کے ماسوا 150کبھی دہشت گردی کے واقعات میں ملوث و منسوب نہیں پائے گئے۔ یہ تو چند اور مسالک ہیں جس کے کچھ متبعین اس ناسور سے گھائل ہوئے اور ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ چنانچہ اِن کے قلم سے تسوید خیالات سے مخاصمین کی اصلاح کی امید کچھ اتنی ہی ہے جتنی اس خط سے ہونی چاہیے جو پوپ (pope) نے تعددِ ازواج کی مذمت پر مبنی مورمنوں (Mormons) کے نام ارسال کیا ہو۔ اگرچہ مفتی صاحب نے دوسرے مسالک کے پیشواؤں اور ان کے نمائندوں کے موثق و ہم نوا ہونے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم فدوی کو یہ خوف ہے کہ کہیں غائبانہ توثیق اس اہم معاملے میں ناکافی نہ سمجھی جائے۔ پس انہیں ببانگ دہل اس کی تائید میں سامنے آنا ہو گا۔
اب آئیے، ان نکات کے ذیل میں دونوں بیانیوں کی تشخیص کی موزونیت ماپتے ہیں جن کو مخاصمین مذہبی بیانیے کی حیثیت سے اپنائے ہوئے ہیں اور وقتاً فوقتاً پوری قوت و چیلنج کے ساتھ ان کی نمائش بھی کرتے رہتے ہیں۔ نظریات کی یہ تالیف ظاہر ہے کہ میرا انتخاب ہے اور اس میں حذف و اضافہ ممکن، تاہم مجھے اپنی تحقیق کے جامع ہونے پر اعتماد ہے۔
دہشت گردوں کا بیانیہ
نکتہ 1: اسلام کا نظام فقط خلافت ہے جو یہ تقاضاکرتا ہے کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کی ایک ہی سلطنت اور ان کا ایک ہی خلیفہ ہونا چاہیے۔ ہر مسلمان پر اس کے قیام کی جدوجہد کرنا واجب ہے۔ موجودہ دَور کی متفرق ریاستوں کے عوام اور اِن کے حکمران اس حکم کی صریح خلاف ورزی کر کے، اور خلافت کے مقابل میں جمہوریت جیسے کفریہ نظام کو اپنا کے، شدید گنہگار ہو رہے ہیں۔ پس جو کوئی اس ’’ایک اسلامی خلافت‘‘ کے قیام میں حائل ہو رہا ہو یا اس گناہ پر مطمئن ہو، وہ گمراہ، بعض صورتوں میں فاسق اور بعض میں کافر اور حلال الدم بھی ہو جاتا ہے۔ ہمارے سب جارحانہ اقدامات اسی تناظر میں ہیں۔
نکتہ 2: تمام مسلمان ایک قوم ہیں۔ اسلام میں قومیت کی بنیاد صرف ہمارا مذہب ہی ہو سکتا ہے۔ موجودہ دَور کی ریاستیں چونکہ مذہب کے علاوہ دوسرے مشترکات 150 جیسے زبان، رنگ، نسل، علاقہ وغیرہ 150 کی بنیاد پر بنی ہیں، اس لیے حرام ہیں، اور اِن سرحدوں کا مٹا دینا دین کا تقاضا۔ویسے بھی سرحدوں کی یہ لکیریں کافروں کی کھینچی ہوئی ہیں، اس لیے باطل منذ البدایۃ (void ab initio) اور ناقابل قبول ہیں۔ لہٰذا اللہ کی زمین کو اِن ناجائز و بدعی سرحدوں سے پاک کر دینا یا کم از کم اس کی جدو جہد کرنا ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔جو مسلمان یہ نہیں کر رہے، وہ شدید گنہگار ہیں۔
نکتہ 3: کفر و شرک کو دنیا میں رہنے کی اجازت تو دی جا سکتی ہے، پر کسی خطہ ارض پر حکومت کرنے کی نہیں۔ یہ زمین جس طرح صرف خدائے واحد کی ملک ہے، اسی طرح یہاں امر (حکومت) کا اختیار بھی صرف اسی کو ہے۔ پس مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ پوری زمین کو خدائے واحد کی حکمرانی میں لانے کے لیے ہر لمحہ کافر و مشرک اقوام سے برسرِ پیکار رہیں، اور اس مقصد کے حصول کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے مثال پکڑتے ہوئے دعوت، تبلیغ، مجادلہ اور جارحانہ اقدامات سب اپنائے جا سکتے ہیں۔ ایک دِن تو ایسا آنے ہی والا ہے جب پوری زمین پر صرف اسلام کا بول بالا ہو گا، پر اِس دن کو لانے کی جدو جہد کرنا ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے۔
نکتہ 4: اسلام کی رو سے کافر کی جان کو فی الحقیقۃ کوئی حرمت حاصل نہیں۔ ہاں، اگر انہیں کسی مسلمان یا معاہد قوم یا ان کے اربابِ اقتدار نے امان دے رکھی ہو تو ایک طرح کی عارضی حرمت اِن کے باب میں بھی قائم ہو جاتی ہے۔ تاہم، چونکہ کوئی ایسی اسلامی حکومت نہ تو پاکستان میں اور نہ ہی دوسرے اسلامی ممالک میں قائم ہے جو اسلامی حکومت کہلانے کی لائق یا اہل ہو تو اس سبب سے اِن کی دی ہوئی امان بھی باطل و ناکارہ ہے۔ پس کہیں بھی غیر مسلموں کی بے دریغ گردن زنی کرنا دینی اعتبار سے بالفعل جائز ہے۔
نکتہ 5: ارتداد کی سزا اسلام میں موت ہے۔ یہ سزا دینے کا اصل اختیار اور ذمہ داری حکومت ہی کے پاس ہے۔ پر جب نہ تو حکومت خود ہی اسلامی کہلانے کی اہل ہو اور/یا اس سزا کے اطلاق میں ناکامی یا عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہو، تو مخلص مسلمانوں کی یہ ذمہ داری بن جاتی ہے کہ اللہ کی اس حد کی پاسداری و نفاذ کریں۔ اس سبب سے وہ فرقے جو اپنے بعض عقائد (جیسے اسلاف سے شرکیہ عقیدت، تحقیر صحابہ وغیرہ)، یا افعال (جیسے ہجو رسول، مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کی اعانت وغیرہ)کے باعث مرتد ہو چکے ہیں، اْن کی گردن زنی جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہو جاتی ہے۔
نکتہ 6: نفاذِشریعت کی جدوجہد ہر مسلمان پر دینی فریضہ ہے۔ پاکستان تو بنا ہی اسلام کے نام پر تھا۔ پس جو حکمران اور معاون حکومتی ادارے، یہاں تک کہ ان کی معاونت کرنے یا ان کے ساتھ اس انحراف میں تسامح برتنے والے علما، جو کوئی بھی پاکستان یا دنیا کے کسی اور مسلم ملک میں نفاذِ شریعت (جس میں نماز، زکوٰۃ، حدود، داڑھی، پردہ، آلاتِ موسیقی کی ممانعت، غیر مسلموں کی اذلّ شہریت اور ان سے جزیہ کی وصولی جیسے اسلامی قوانین اور شعائر کی پابندی شامل ہے) سے انحراف یا پس وپیشی سے کام لے رہا ہے وہ اللہ کا مجرم ہے اور سورہ مائدہ کی آیات 44، 45 اور 47 کے تحت سرکش و کافر ہو چکا ہے۔
نکتہ 7: جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے۔ یہ اصلاً دین اسلام کو تمام دنیا پر نافذ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے (کلمۃ اللہ ھی العلیا)۔ پھر مزید اِس وقت جو صورتحال مسلم ممالک پر غیر مسلم عالمی قوتوں کے ہاتھوں حملوں اور قبضوں کے باعث درپیش ہے، یہ بھی اِن حربیوں کے خلاف قتال اور 'ہلکے ہو یا بوجھل، اللہ کی راہ میں نکلو' کا تقاضا کرتی ہے۔پس ہر سالم عقل و بدن مسلمان کی یہ دینی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف غیر مسلم قوتوں کے ہر ہر معاون (فوجی، حکمران، ریاستی اداروں، جنگ پر گرمانے والے لکھاریوں حتی کہ ٹیکس کے ذریعے بالواسطہ معاونت کرنے والے عوام) کے خلاف ہر جلی و خفی طریقے سے جنگ کریں بلکہ جو مسلمان افراد یا ممالک بھی معاونت علی الاثم کے اس جرم میں ان کے شریک کار ہیں، اِن سب کو بھی غیر مسلموں میں سے ہی شمار کر تے ہوئے اِن کی بھی بیخ کنی سر انجام دیں، اور فقط نام کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان سے کوئیْ و رعایت نہ برتیں۔ یہی آیت ومن یتولھم منکم فانہ منھم کا تقاضا ہے۔
یہ ہے وہ بیانیہ اور بالعموم وہ بنیادی نظریات جن کے دہشت گرد قائل ہیں اور جن کی اشاعت و تبلیغ ان کی جانب سے بارہا ہو چکی ہے۔ اور کوئی محقق بھی بشکل مستقل ذاتی طور پر یہ باور کر سکتا ہے کہ دہشت گردوں کے ہر ظالمانہ فعل کا اصولی کھرا انہی نکات میں سے کسی ایک تک پہنچتا ہے۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ علماء اور غامدی صاحب کے پیش کردہ بیانیے اِن سے کس طور پر تعارض کرتے ہیں۔
تعارض
نکتہ 1: جوابی بیانیہ کا نکتہ نمبر 2 خلافت کے نظریے کو اپنی بنیاد سے ہدف بنا کر یہ واضح کرتا ہے کہ نہ تو خلافت دین اسلام کی کوئی اصطلاح ہے اور نہ ہی اس کا کسی عالمگیر سطح پر قیام مسلمانوں سے کوئی دینی تقاضا۔ خلافت کا اصطلاح بننا اور اس کے لوازمات کا شمار بعد کے ادوار میں ہوا۔ اوّلین ماخذوں میں حکم تھا تو فقط اتنا کہ اگر کسی قطعہ ارض میں حکومت مسلمانوں کے پاس آ جائے تو ان کی ذمہ داری ہے کہ اللہ کے احکامات کی پاسداری کریں، انصاف سے معاملات چلائیں، اور اپنے پورے نظام کو باہمی مشاورت پر استوار کریں۔ اسی طرح نکتہ نمبر 8 جمہوریت کو گناہ تو کجا باہمی مشاورت اور منشائے الٰہی کی ایک مجسم اور قابل عمل موجودہ صورت بتاتا ہے اور اس کے لیے دلائل بھی فراہم کرتا ہے۔ پھر اِن دونوں نکات کی مزید وضاحت اور علما کے اعتراضات کے جوابات کے لیے دو پورے مضامین بھی اس جوابی بیانیے کے ضمیمہ کے طور پر فراہم کرتا ہے۔ الغرض یہ بیانیہ دہشت گردوں کے نظریے کی بنیاد ہی کا استیصال کر دیتا ہے۔ پس مسلمانوں کا مجرم یا گنہگار ہونا تو درکنار، ان کے دورِ حاضر کی ریاست و جمہوریت کا وفادار بن کے رہنے کو ہی عین مطلوبِ اسلام ثابت کرتا ہے۔
قومی بیانیہ: قومی بیانیہ اس نکتے سے تعرض ہی نہیں کرتا۔
نکتہ 2: جوابی بیانیہ کا نکتہ نمبر 3 پورے ارتکاز سے اس خیال کی تردید کرتا ہے کہ مسلمانوں کا متفرق اقوام میں بٹ جانا دین کے کسی حکم یا ہدایت کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام کی تعلیم فقط یہ ہے کہ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں، ایک دوسرے کے ہمدرد اور مددگار ہیں، ایک جسم کی مانند ہیں۔ چنانچہ چاہے وہ ایک سلطنت کے باسی ہوں اور چاہے سینکڑوں، چاہے مشرق میں رہتے ہوں اور چاہے مغرب میں، ان کا ایک دوسرے کو بھائی سمجھنے میں اور دکھ درد میں شریک ہونے میں کوئی شے مانع نہیں۔ اسی طرح وطن اور ملک کا قیام جس طرح مذہب کے اشتراک کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے، اسی طرح دوسرے مشترک خصائص جیسے رنگ، نسل، زبان، جغرافیہ کی بنیاد پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگر قرآن و حدیث میں اس کے بر عکس کوئی حکم ہے تو پیش کیا جائے۔
قومی بیانیہ: اس اہم نظریے پر بھی یہ بیانیہ سکوت اختیار کیے ہوئے ہے۔
نکتہ 3: جوابی بیانیے کا کوئی نکتہ براہِ راست اس نظریے کو موضوع نہیں بناتا۔ تاہم، اس سے تعارض کے لیے اصل بنیادی مقدمہ وہی ہے جسے جوابی بیانیے کے نکتہ نمبر 5 اور 6 پیش کرتے ہیں۔ یعنی اسلام کی رو سے یہ باور کرایا جائے کہ اگرچہ کفر و شرک ابدی جرائم ہیں مگر اِن جرائم کو اختیار کرنے کی اللہ نے اس زندگی میں ہر کسی کو کھلی اجازت دے رکھی ہے۔ اس دنیا کی حد تک یہ قابل دست اندازی جرائم سرے سے ہیں ہی نہیں۔ کافر و مشرک یہاں فقط مخاطب دعوت ہیں۔ ان جرائم پر محاسبہ صرف آخرت میں اللہ خود کرے گا۔ اور اگر دنیا میں مثال بنانے کے لیے اللہ نے اس پر محاسبہ کیا بھی ہے تو ایک پورا نظام اس کے لیے وضع فرما کر قرآن میں تفصیل سے بیان کر دیا ہے، جس کے تحت یہ دروازہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔پس جس طرح ان کفار و مشرکین کو دنیا میں اپنے مذاہب پر قائم رہنے کی پوری آزادی ہے، اسی طرح حکومت بنانے کی بھی پوری اجازت ہے۔ اور رہی بات اسلام ان تک پہنچانے کی تو اس مقصد کے لیے صرف دعوت و تبلیغ کا رویہ اپنایا جا سکتا ہے۔ جہاد و قتال دینی اعتبار سے صرف اور صرف ظلم و عدوان، جسے شرعی اصطلاح میں فتنہ سے تعبیر کیا جاتا ہے، کے خلاف جائز و روا ہے۔تاہم، یہ تبصرہ ضروری ہے کہ جوابی بیانیہ اس نظریے سے پورے ارتکاز اور شد و مد سے تعارض کرنے اور استدلال کو سینگوں سے پکڑنے میں کچھ ناقص دِکھتا ہے۔
قومی بیانیہ: اس نظریے سے تعارض بھی قومی بیانیے میں جگہ نہ بنا سکا۔
نکتہ 4: جوابی بیانیے کا نکتہ نمبر 5 اس نظریے سے بھی مماسی تعارض اس طرح کرتا ہے کہ جب کفر و شرک وغیرہ ایسے جرائم ہی نہیں جو اس دنیا میں قابل دست اندازی و سزا ہوں تو پھر کفارو مشرکین کی جان کی حرمت اس طرح کے اٹکل پچوؤں سے حلال کرنا سراسر زیادتی اور اللہ کے دین کے ساتھ مذاق ہے۔ تاہم یہاں بھی جوابی بیانیہ انسانی جان کی مطلق حرمت پر مبنی کسی دلیل کے ذریعے جو اس فاسد نظریے کا استیصال کر دیتی، براہِ راست تعارض میں کمزور ہے۔
قومی بیانیہ: قومی بیانیے نے اس نکتے کو کسی حد تک براہِ راست اور کسی حد تک مماسی موضوع بنایا ہے، اور نکتہ نمبر 1 میں بتا یا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ اگر اسلام کے نفاذ میں ان سے کوتاہی ہو رہی ہے تو یہ بے عملی ہے اور اس کوتاہی کی وجہ سے سے ملک کی اسلامی حیثیت اور اسلامی اساس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اس کی بنا پر ملک، حکومت وقت یا فوج کو غیر مسلم قرار دینے اور ان کے خلاف مسلح کارروائی کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ پس اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اِن کی دی ہوئی امان پوری طرح سالم اور قائم ہے۔ پھر نکتہ 14 میں غیر مسلموں کے کچھ حقوق کے تحفظ اور مذہب پر عمل کرنے کے پورے حق کی توثیق فرمائی۔ تاہم کافر کی جان کو فی الحقیقت حرمت حاصل نہ ہونے جیسے سنگین نظریے سے کسی قسم کا کوئی تعارض یہاں بھی مفقود ہے۔
نکتہ 5: جوابی بیانیہ کا نکتہ نمبر 4 اور 5 اس نظریے کو مرکز پارہ بنا کر پوری طرح نابود کر دیتے ہیں۔ یہ نکات یہ بات واضح کرتے ہیں کہ اوّل تو کفر و شرک کی طرح ارتداد بھی اس دنیا کی حد تک قابل سزا جرم ہی نہیں۔ اِس کا محاسبہ بھی موضوعِ آخرت ہے۔ اور دوم، یہ حق اللہ نے کسی انسان کو دیا ہی نہیں کہ وہ دوسروں کے کفر و اسلام کا فیصلہ کر سکیں، کجا کہ اس پر سزا کا موقع آئے۔ جو مسلمان اپنے اقرار سے مسلمان ہوں مگر کچھ گمراہ عقائد یا اعمال اپنائے ہوئے ہوں تو ان کے متعلق علما کی ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ ان کو علمی انداز میں ان کی غلطی کا احساس دلایا جائے اور بس۔ اور رہا اللہ کے حدود کا نفاذ تو نکتہ نمبر 9 اور 10 یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ اجتماعی احکامات اربابِ حل و عقد ہی سے متعلق اور وہی ان کے مخاطب ہیں۔ اسی لیے اگر وہ کسی ثابت شدہ حد (نہ کہ ارتداد کی سزا جس کا حد ہونا ہی ان کے مطابق بے بنیاد ہے) کے نفاذ میں بھی کوتاہی یا سرکشی کریں تو کسی کو یہ حق نہیں کہ جتھہ بندی کر کے خود حدود کا نفاذ شروع کر دیں۔
قومی بیانیہ: ارتداد جیسے اہم موضوع سے بھی کوئی اصولی تعارض نہیں کیا گیا۔ ہاں ارتداد کے اطلاق میں نکتہ نمبر 1 اور 12 کے ذیل میں یہ بات البتہ واضح کی گئی ہے کہ نہ تو حکومت پاکستان کو مرتد کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی فرد یا ادارے پر اس کا اطلاق عدالت کے سوا کوئی کر سکتا ہے۔ تاہم، اپنے دعوے کے ثبوت میں کوئی شرعی دلیل مرحمت نہیں فرمائی۔ بایں ہمہ، اس طرزِ گفتگو سے انہوں نے اس تاثر کو قوت بخشی ہے کہ کسی کو مرتد قرار دینا مذہبی اعتبار سے بر حق ہے اور اس کی سزا موت ہی ہے، مگر اس کا طریقہ کار وہ نہیں ہے جو مفسدین اپنائے ہوئے ہیں۔
نکتہ 6: جوابی بیانیہ شاید اس نفاذِ شریعت کے نظریے پر سب سے زیادہ تفصیل سے کلام کرتا ہے اور اس کے نکات9 اور 10 مختلف جہتوں سے اس کی مفصل وضاحت کرتے ہیں۔ یہ نکات بتاتے ہیں کہ نفاذِ شریعت کی اصطلاح ہی مغالطہ انگیز ہے، اِس لیے کہ اِس سے یہ تاثر پیدا ا ہوتا ہے کہ اسلام میں حکومت کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ شریعت کے تمام احکام ریاست کی طاقت سے لوگوں پر نافذ کر دے، دراں حالیکہ قرآن و حدیث میںیہ حق کسی حکومت کے لیے بھی ثابت نہیں ہے۔ اس لیے اسے شریعت پر عمل کی دعوت کہنا چاہیے۔پھر مزید یہ بیانیہ تفصیل کے طور پر پورے تعین اور تحدید کے ساتھ ایک فہرست بنا کر بتا تا ہے کہ وہ کون سے انفرادی اور اجتماعی دینی احکامات ہیں جن کے نفاذ کا اختیار اسلام کی رو سے حکومت کو حاصل ہے اور جن کے نفاذ کا مطالبہ وعظ، نصیحت اور انذار کے ذریعے حکمرانوں سے عوام کر سکتے ہیں۔ پھر اس پر ایک مزید توضیحی مضمون 'قانون کی بنیاد'کے عنوان سے بھی مرحمت فرمایا جو اس سلسلے میں اساسی اشکالات رفع کرتا ہے۔ میری رائے میں اس نظریے سے تعارض جوابی بیانیے کا ذروۂ سنام ہے۔
قومی بیانیہ نفاذِ شریعت کی تعبیر یا تفصیل کے متعلق خاموش ہے، البتہ علما کی جانب سے نفاذِ شریعت کا مطالبہ حکومت سے اس بیانیے میں بھی دہرایا گیا ہے، اس تخصیص کے ساتھ کہ اس نفاذ کی جدوجہد صرف پر امن طریقوں ہی سے ممکن ہے۔ اور جو طاقت کا استعمال وہ کر رہے ہیں اور اس کے نام پر قتل و غارت گری مفسدین نے مچا رکھی ہے، وہ قطعی حرام ہے۔تاہم، حسب معمول کوئی شرعی دلیل اس حرمت پر بھی غیر مذکور ہے۔
نکتہ 7: جوابی بیانیہ کے نکات 6 اور 7 جہاد کے اس طرح کے نظریات کے تفصیلی ردّ پر مشتمل ہیں اور باحسن و خوبی اس کی انجام دہی کرتے ہیں۔ یہ بیانیہ بتاتا ہے کہ جہاد فقط ظلم و عدوان کے خلاف ممکن ہے۔ یہ صرف مقاتلین (combatants) کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔ اس کے دوران اخلاقیات ہمیشہ مقدم ہیں۔ اور جہاں تک اختیار کا تعلق ہے تو قرآن و حدیث میں جہاد کا اختیار صرف نظم اجتماعی کو حاصل ہے۔ وہی اِن احکامات کے مخاطب ہیں۔ اس لیے کوئی فرد یا گروہ جہاد کے فیصلے کا ذاتی اختیار رکھتاہی نہیں۔ البتہ مسلمانوں کا غیر مسلم اقوام کو مسلمان اقوام کے خلاف معاونت مہیا کرنے کی صورت میں یہ بیانیہ امکان، جواز، عدم جوازوغیرہ جیسے موضوعات پر بحث کے معاملے میں کچھ تشنہ رہ گیا ہے۔میرے نزدیک یہ ایک بڑی تشنگی ہے۔
قومی بیانیہ: جہاد کے موضوع سے بھی کوئی قابل ذکر تعارض اس بیانیے میں نہیں۔ نکتہ نمبر 4 اور 6 میں خود کش حملوں کی حرمت کی تکرار اور فرقہ وارانہ مسلح تصادم کو ناجائز و جرم لکھا ہے۔ پر یہ اس نظریہ جہاد کے چند اطلاقات سے تعارض سے زیادہ کچھ نہیں۔
اختتامیہ
دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے جو بیانیہ نظریات ہر غیر جانبدار محقق کے مطابق مولد فساد ہیں، ان کے مقابل میں ایک ایسے بیانیے کی ضرورت تھی جو ان فاسد نظریات کے متعلق دین اسلام کے صحیح نظریات مدلل انداز میں پیش کر کے مفسدین، امت مسلمہ اور غیر مسلم اقوام کے سامنے اسلام کے بے داغ نظریات پیش کر دیں، اور امت مسلمہ کو وہ فکری ہتھیار مہیا کریں جن کی ترویج و اشاعت سے مفسدین کو متواتر بہم پہنچنے والی انسانی کمک تھم سکے اور اس جاری و صاری مذہب کے نام پر فساد کا خاتمہ ممکن ہو۔
غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ تقریباً ان سارے ہی نظریات سے تعارض کرتا اور بڑے پر مغز انداز میں ان کی غلطی واضح کرتا اور ان کی فری بنیادیں منہدم کرتا ہے۔ اور امت مسلمہ اور ان کی حکومتوں کو وہ دلائل فراہم کرتا ہے جن کی بنیاد پر وہ اپنے قافلے کو دشت ہلاکت سے شاہراہِ ہدایت پر لا سکتے ہیں۔ اس میں اگرچہ بہتری کی گنجائش موجود ہے، پر بنیادی مسودے کی حیثیت سے یہ پوری طرح جامع ہے۔
اس کے مقابل میں قومی بیانیے کے متعلق حیرانی سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس نے تقریباً ان سارے ہی نظریات کو نظرانداز کر دیا ہے جو صرف یہی نہیں کہ محققین فساد کی رگِ معدن بتا رہے ہیں، بلکہ مفسدین خود بھی پورے خلوص و یقین سے اس کا اقرار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اِن نظریات سے دامن بچا کر علما نے 'تقوٰی' کا مظاہرہ کیا ہے یا 'تقیہ' کا، پر یہ معلوم ہے کہ یہ موقع اِن دونوں کا نہیں تھا۔ اس سے تو یہ تاثر ناقابل تجاہل ہو جائے گا کہ علما چاہے طریقہ کار کی درستگی پر کچھ نصیحتیں کررہے ہیں، پر مفسدین کے بنیادی نظریات کی خاموش توثیق کرتے ہیں۔
بہر حال اب یہ دو بیانیے عیاں ہو چکے۔ اب حکومت کو چاہیے کہ اپنی سرپرستی اور حفاظت میں بحث و مباحثہ کا ماحول اور فورم مہیا کرے، تاکہ ان بیانیوں کی بحث کے نتائج سے وہ اپنے لیے ایک حتمی بیانیہ تسوید کر سکے۔ یہ صرف چند لفظوں کی جنگ نہیں، مسلمانوں کے بقا کی جنگ ہے۔ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس معاملے میں اضمحلال، عدم دلچسپی یا تاخیر سے حکومت اللہ کے سامنے مجرم قرار پا رہی ہے۔
یہ یاد رہے کہ مذہب اس فساد کے سکے کا مگر ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ سیاست ہے۔ ہمیں اپنی داخلی و خارجہ پالیسی پر بھی نظر ثانی کرنی ہے اور اس کے لیے بھی ایک ایسے بیانیے کی ضرورت ہے جو ہمیں عالمی قوتوں کی طاقت سے مجبور ہو کر بھی اندرونی یا بیرونی کسی ایسی پالیسی کا حصہ نہ بننے دے جو پاکستان کے شہریوں کو مذہب سے لاتعلق ہونے یا اس کا غلط استعمال کرنے یا اخلاقی ضوابط کو طاقِ نسیاں کے سپرد کرنے پر مجبور کرے۔ کسی اصولی اخلاقی وجہ سے نہیں تو کم از کم اس کے مہلک نتائج سے ہی کچھ سبق سیکھ کر ہمیں اپنی پیمانہ بندی کرنی ہے۔
وزیراعظم اور ’’متبادل بیانیہ‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ دنوں جامعہ نعیمیہ لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دینی حلقوں کی طرف سے ’’متبادل بیانیہ‘‘ کی جس ضرورت کا ذکر کیا ہے اس کے بارے میں مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ارباب فکر و دانش اپنے اپنے نقطہ? نظر کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کی یہ تقریر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ براہ راست سننے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ انہوں نے موجودہ عالمی اور قومی تناظر میں جس ضرورت کا اظہار کیا ہے وہ یقیناً موجود ہے لیکن ’’بیانیہ‘‘ کی اصطلاح اور ’’متبادل‘‘ کی شرط کے باعث جو تاثر پیدا ہوگیا ہے وہ کنفیوڑن کا باعث بن رہا ہے، ورنہ یہ بات زیادہ سیدھے اور سادہ انداز میں بھی کی جا سکتی تھی۔
ہمارے نزدیک وزیراعظم کی تقریر کا مجموعی اور عمومی مفہوم یہ بنتا ہے کہ دہشت گردی کے مبینہ جواز کے لیے اسلامی تعلیمات کا جس طرح غلط طور پر حوالہ دیا جا رہا ہے، علماء کرام کو اس کا جواب دینا چاہیے، ملک کے امن و استحکام کے لیے دینی تعلیمات کو مثبت انداز میں وضاحت کے ساتھ سامنے لانا چاہیے اور معاشرہ کی فرقہ وارانہ تقسیم کو ختم کرنے کے لیے دینی مدارس کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ ان باتوں سے کسی بھی مکتب فکر کے سنجیدہ حضرات کو اختلاف نہیں ہو سکتا لیکن ’’نئے قومی بیانیہ‘‘ کی اصطلاح کچھ عرصہ سے جس فکری تناظر میں عام کی جا رہی ہے اس کے پس منظر میں وزیراعظم کی زبان سے ’’متبادل دینی بیانیہ‘‘ کے جملہ نے ذہنوں میں سوالات کی ایک نئی لائن کھڑی کر دی ہے جو ہمارے خیال میں شاید وزیراعظم کے مقاصد میں شامل نہیں ہوگی۔ لیکن اب چونکہ یہ سوالات سامنے آگئے ہیں اور انہیں مختلف حوالوں سے دہرایا جا رہا ہے اس لیے اس کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنے کی ضرور ت ہم بھی محسوس کر رہے ہیں۔
’’قومی بیانیہ‘‘ سے مراد اگر ملک و قوم کی بنیادی پالیسی اور ریاستی تشخص کے بارے میں ’’قوم کی متفقہ رائے‘‘ ہے تو یہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی ’’قرارداد مقاصد‘‘ کے عنوان سے طے شدہ ہے جو ملک کے ہر دستور میں شامل رہی ہے اور موجودہ دستور کا بھی باقاعدہ حصہ ہے۔ حتیٰ کہ چند برس پہلے جب پارلیمنٹ نے پورے دستور پر نظر ثانی کی تھی تو قرارداد مقاصد کو متفقہ طور پر دستور کے باضابطہ حصہ کے طور پر برقرار رکھا گیا تھا جو اس کی پوری قوم کی طرف سے از سر نو توثیق اور تجدید کے مترادف ہے۔ اس لیے ملک کے نظریاتی تشخص اور اس کے نظام و قوانین کی اسلامی بنیادوں کو ’’ری اوپن‘‘ کرنے کی کوئی بھی بات دستور سے انحراف کی بات ہوگی جو ملک کی دستوری وحدت اور معاشرتی استحکام کو ایک ایسے خلفشار کا شکار بنا سکتی ہے جسے سمیٹنا عالمی قوتوں کی مسلسل اور ہمہ نوع مداخلت کے موجودہ ماحول میں شاید کسی کے بس میں نہ رہے۔ اس لیے ملک کے نظریاتی تشخص کے حوالہ سے کسی نئے قومی بیانیہ کا نعرہ اپنے اندر فکری اور تہذیبی خلفشار بلکہ تصادم کے جن خطرات کو سموئے ہوئے ہے ان سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں اور نہ ہی ملک و قوم کو فکری طالع آزماؤں کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
لیکن اگر ’’قومی بیانیہ‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ معاشرہ کی فرقہ وارانہ تقسیم اور دہشت گردی کے لیے دینی تعلیمات کا غلط اور مسلسل حوالہ دیے جانے کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اس دلدل سے قوم کو نجات دلانے کے لیے علمی اور عملی جدوجہد کی جائے تو یہ بلاشبہ آج کی سب سے بڑی قومی ضرورت ہے، لیکن محسوس ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں اب تک کی جانے والی اجتماعی کوششیں وزیراعظم کے سامنے نہیں ہیں، مثلاً
1951ء میں تمام مکاتب فکر کے 31 اکابر علماء کرام نے 22 متفقہ دستوری نکات قوم کے سامنے رکھے تھے جو دینی حلقوں کی طرف سے پیش کیا جانے والے ’’قومی بیانیہ‘‘ ہی تھا۔ جبکہ 2013ء4 میں تمام مذہبی مکاتب فکر کے سرکردہ علماء4 کرام کے مشترکہ علمی فورم ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ نے مختلف مکاتب فکر کے 57 اکابر علماء کرام کو ازسرنو جمع کر کے 15 وضاحتی نکات کے اضافہ کے ساتھ ان 22 نکات کی ازسرنو توثیق کرائی تھی جس کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ملک میں نفاذِ اسلام ضروری ہے مگر اس کے لیے مسلح جدوجہد اور ہتھیار اٹھانے کا طریق کار شرعاً درست نہیں ہے، اور اسلامی قوانین و نظام کا صحیح نفاذ پرامن قانونی جدوجہد کے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے۔
جب امریکی تھنک ٹینک ’’رینڈ کارپوریشن‘‘ کی طرف سے دیوبندی مکتب فکر کو موجودہ دہشت گردی کا پشت پناہ قرار دیا گیا تو اپریل 2010ء میں دیوبندی مکتب فکر کے تمام حلقوں اور مراکز کی قیادتوں نے جامعہ اشرفیہ لاہور میں جمع ہو کر متفقہ طور پر اس دہشت گردی سے برا?ت کا اعلان کیا اور نفاذِ اسلام کے لیے ہتھیار اٹھانے کو شریعت کے منافی قرار دیا جسے رینڈ کارپوریشن اور اس کے ہمنوا اب تک قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ستمبر 2015ء کے دوران وزیراعظم ہاؤس میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کے اجلاس میں طے کیا گیا کہ دہشت گردی سے براء ت کے بارے میں اجتماعی موقف کا ایک بار پھر اظہار کیا جائے تو مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی منیب الرحمان، مولانا عبد المالک، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا محمد یاسین ظفر اور مولانا قاضی نیاز حسین نقوی پر مشتمل کمیٹی نے وقت کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ’’متفقہ قومی بیانیہ‘‘ مرتب کر کے وزیراعظم ہاؤس کو بھجوایا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے صرف اس لیے ’’داخل دفتر‘‘ کر دیا گیا کہ اس میں شریعت کے نفاذ کی بات بھی شامل تھی۔
یہ چند حوالے جو ہم نے پیش کیے ہیں قومی پریس کے ریکارڈ میں موجوود و محفوظ ہیں جنہیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور زمینی حقائق سے آنکھیں بند کر کے نئے دینی اور قومی بیانیہ کا مطالبہ بار بار دہرایا جا رہا ہے جس پر کم از کم الفاظ میں افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے گزارش ہے کہ دہشت گردی کی مذمت اور ملک میں کسی بھی حوالہ سے ہتھیار اٹھانے کو ناجائز قرار دینے پر آج بھی تمام مکاتب فکر کے علماء کرام پوری طرح متحد ہیں اور ان کا دوٹوک موقف یہ ہے کہ
پاکستان کی نظریاتی اساس ’’قرارداد مقاصد‘‘ ہے جس سے انحراف کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
شریعت کا نفاذ ریاست کے مقاصد اور فرائض میں سے ہے لیکن اس کی جدوجہد دستور و قانون کے دائرہ میں ہونی چاہیے اور اس کے لیے ہتھیار اٹھانا شرعاً جائز نہیں ہے۔
دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے لیے تمام دینی حلقے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
جبکہ ملک کے نظریاتی تشخص، سیاسی استحکام، قومی وحدت اور امن کے قیام کے لیے بیرونی مداخلت کی روک تھام بھی ناگزیر ہے۔
’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘‘
گزشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی کے چند اساتذہ کے ساتھ ایک غیر رسمی گفتگو میں مذہب اور ریاست کے باہمی تعلق کی بات چل پڑی، ایک دوست نے کہا کہ مذہب اور ریاست میں تعلق کبھی نہیں ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ ہمارے ہاں تو ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک ریاست کی بنیاد مذہب رہا ہے۔ خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ، خلافت عباسیہ اور خلافت عثمانیہ کا مجموعی دورانیہ تیرہ صدیوں کو محیط ہے اور ان سب کا ٹائٹل ہی ’’خلافت‘‘ تھا جو خالصتاً ایک مذہبی اصطلاح ہے۔ اس اصطلاح کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ امت مسلمہ کے اجتماعی معاملات کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کرتے ہوئے قرآن و سنت کی ہدایت کے مطابق چلانے کا نام ’’خلافت‘‘ ہے۔ اور یہ خلافت مختلف ادوار اور دائروں سے گزرتی ہوئی اب سے ایک صدی قبل تک قائم رہی ہے۔
پھر سوال ہوا کہ برصغیر میں مغل سلطنت مذہبی نہیں تھی۔ میں نے عرض کیا کہ بے شک اس کا ٹائٹل خلافت کی بجائے سلطنت تھا لیکن اس کی پالیسیوں کا حوالہ ہمیشہ اسلام ہی رہا ہے جبکہ قانون و نظام کا ماخذ و سرچشمہ قرآن و سنت اور فقہ اسلامی تھے۔ غزنوی?، لودھی?، غوری?، التمش?، ایبک? اور مغل خاندانوں میں عمومی طور پر عدالتی اور معاشرتی احکام و قوانین کا سب سے بڑا حوالہ اسلامی فقہ رہا ہے۔ حتٰی کہ مغل اعظم اکبر بادشاہ نے، جسے سب سے بڑا سیکولر حکمران کہا جاتا ہے، جب معاشرتی نظام میں تبدیلیوں کا پروگرام بنایا تو اپنے خود ساختہ مذہبی اور معاشرتی نظام کے لیے ’’دین الٰہی‘‘ کا عنوان اختیار کیا اور درباری علماء سے ’’مجتہد اعظم‘‘ کا خطاب حاصل کر کے یہ سارا کام ’’اجتہاد‘‘ کے نام سے کیا۔ چنانچہ جب 1857ء کی جنگ آزادی میں غلبہ پانے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ تاج برطانیہ نے اس خطہ کا نوآبادیاتی نظام براہ راست اپنے کنٹرول میں لیا اور نئے تعلیمی، عدالتی اور انتظامی سسٹم کا آغاز کیا تو اس کے لیے جس نظام کو منسوخ کیا گیا وہ درس نظامی اور فتاویٰ عالمگیری پر مبنی تھا۔ اس لیے یہ کہنا تاریخی حقائق کے منافی ہے کہ مذہب اور ریاست کا باہمی تعلق نہیں رہا یا نہیں ہوتا، اور ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے کا مسلم ماضی اس دعویٰ کی نفی کرتا ہے۔ اس پر مجلس میں شریک ایک اور استاذ محترم کہنے لگے کہ ہم اپنے اس ماضی سے نہ کٹ سکتے ہیں اور نہ ہی اس سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔
ریاست اور مذہب کا تعلق کیا ہوتا ہے؟ یہ بحث اب اس قدر عام ہوگئی ہے اور ہر سطح پر گفتگو کا حصہ بن گئی ہے کہ اپنے عقائد، ماضی اور تہذیب و معاشرت کی پروا کیے بغیر میڈیا، لابنگ اور این جی اوز کے بیشتر ذرائع مسلسل یہ راگ الاپے جا رہے ہیں کہ مذہب اور ریاست کا آپس میں کوئی تعلق نہیں بنتا اس لیے مذہب کو ریاست اور حکومت کے معاملات سے الگ رکھنا چاہیے۔ مغربی فلسفہ کی نمائندہ یہ سوچ سیاسی حلقوں میں کہاں تک سرایت کیے ہوئے ہے اس کی ایک مثال مولانا مفتی منیب الرحمان کی طرف سے جاری کردہ ’’قومی بیانیہ‘‘ کا وہ متن ہے جو ابھی چند روز پہلے اخبارات کی زینت بنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب سے دو برس قبل وزیراعظم ہاؤس میں دینی مدارس کے تمام وفاقوں کے قائدین کے ساتھ ایک میٹنگ میں ان قائدین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی کہ وہ موجودہ حالات کی روشنی میں ایک ’’قومی بیانیہ‘‘ مرتب کریں۔ تمام مذہبی مکاتب فکر اور دینی مدارس کے وفاقوں کے قائدین نے مل کر اس قومی بیانیہ کے لیے مشترکہ متن مرتب کر کے حکومتی حلقوں کو بھجوایا جو ’’داخل دفتر‘‘ کر دیا گیا اور وجہ یہ ظاہر کی گئی کہ اس میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ شامل ہے جبکہ حکومتی حلقوں کے خیال میں قومی بیانیہ میں شریعت کا ذکر نہیں ہونا چاہیے۔ ہم اس پر مفتی صاحب موصوف کے شکر گزار ہیں کہ ان کے اس مضمون سے دینی حلقوں اور حکومتی اداروں کے درمیان جاری کشمکش کی اصل وجہ سامنے آگئی ہے۔
مسئلہ اصل میں یہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کی بنیاد اسلامی تہذیب کی حفاظت اور اسلامی نظام کے نفاذ کے وعدوں پر رکھی گئی تھی اور جس کے دستور میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ اور قرآن و سنت کی دستوری بالادستی کا واضح اعلان کیا گیا ہے، اس وطن عزیز کی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے یہ تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ اسلام اور شریعت کو قومی معاملات سے الگ رکھا جائے۔ ہم اب تک یہ سمجھتے رہے کہ پاکستان کی اسلامی شناخت کو ختم یا کمزور کرنے کا مطالبہ صرف بیرونی ہے جس کے لیے عالمی ادارے دباؤ ڈال رہے ہیں اور بین الاقوامی سیکولر لابیاں مہم جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ ہمارے حکمران اس دباؤ کا سامنا نہیں کر پا رہے۔ لیکن اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ اس میں ’’سانوں مرن دا شوق وی سی‘‘ کا بھی اچھا خاصا عنصر شامل ہے۔ اور اس ’’شوق‘‘ کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ اسلامی نظام حکومت میں قناعت پسندی، عوامی خدمت اور اقتدار کو خدائی امانت سمجھنے کی جو خصوصیات موجود ہیں، ان کے لیے ہمارا حکمران طبقہ خود کو تیار نہیں پاتا۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ تاج برطانیہ کے دور میں جو ریاستیں نیم خودمختار حیثیت سے برطانوی نوآبادیاتی نظام کا حصہ تھیں انہیں یہ آزادی حاصل تھی کہ وہ اپنے داخلی، قانونی اور عدالتی نظام کو شریعت اسلامیہ کے مطابق چلاتی رہیں جیسا کہ قلات، بہاولپور، سوات اور بہت سی دیگر ریاستوں میں ان کے پاکستان کے ساتھ باقاعدہ الحاق تک یہ نظام چلتا رہا لیکن اب آزاد پاکستان میں اس کی گنجائش موجود نہیں رہی۔ ہم سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ اسے عالمی دباؤ اور بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا جائے یا ’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘‘ کی روایتی نفسیات کا ثمرہ سمجھا جائے لیکن یہ بات اب واضح ہوگئی ہے کہ قومی معاملات اور شریعت اسلامیہ کے درمیان فاصلہ قائم رکھنے کی ’’ڈپلومیسی‘‘ کے ڈانڈے کہاں کہاں ملتے ہیں۔ اس لیے وطن عزیز کے اسلامی تشخص، نفاذ شریعت اور مسلم تہذیب و ثقافت کے تحفظ کی جدوجہد کرنے والوں کو اب اپنی محنت کے دائروں اور ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لینے کا راستہ تلاش کرنا چاہے۔
’’جناب غلام احمد پرویز کی فکر کا علمی جائزہ‘‘
مولانا سید متین احمد شاہ
مسلمانوں کی فکری تاریخ میں جب بھی دیگر تہذیبوں سے تصادم ہوا ہے تو اس کے نتیجے میں فکرونظر کے نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ صدرِ اول کی تاریخ میں یونانی افکار کے نتیجے میں مسلم دنیا کئی سوالات سے دوچار ہوئی۔اسی نوعیت کا ’انتقالی مرحلہ‘فکر مغرب کے عمومی اور ہمہ گیر استیلا کے نتیجے میں درپیش آیا جو فکر یونان کے مقابلے میں کئی درجے ہمہ گیر تھا۔ علامہ محمد اسد کے الفاظ میں ’’انسانیت شاذ ہی ایسے فکری انتشار سے گزری ہے، جیسی ہمارے دور سے گزر رہی ہے۔نہ صرف یہ کہ ہم بے شمار مسائل میں گھرے ہوئے ہیں جن کے لیے نئے اور عدیم النظیر حل کی ضرورت ہے، بلکہ یہ مسائل ایسے انداز سے ظاہر ہو رہے ہیں، جن سے ہم واقف بھی نہیں۔‘‘ (۱) اس دور میں مغربی فکر کی طرف سے پیدا کردہ سوالات اور استشراقی مطالعات نے مسلم دنیا میں عمومی طور پر ماضی کی علمی روایت پر نظرثانی (Rethinking) کا ذہن پیدا کیا۔نظر ثانی کا یہ دائرہ تفسیر قرآن کے اسالیب، حدیث وسنت کی حجیت، فقہ اسلامی کی تشکیل جدید وغیرہ تمام اسلامی علوم پر پھیلا ہوا ہے۔مستشرقین کا حدیث پر کام ایک تو وہ ہے جو ایجابی نوعیت کا ہے جس میں بعض اصل عربی متون کی تدوین، ترجمہ، اشاریہ سازی اور جدید اسالیب تحقیق کے مطابق اشاعت ہے۔(۲) اس میں سے بعض افراد نے تو نقد حدیث کے وہی معیارات استعمال کیے جو مسلم اہل علم نے وضع کیے تھے، جب کہ بعض نے دیگر معیارات بھی وضع کیے۔(۳) ان معیارات میں بنیادی دخل ادبی اور تاریخی تنقید کے مناہج کا ہے۔ اس رجحان کا آغا Aloys Sprenger سے ہوا تاہم اس کو عروج تک پہنچانے میں سب سے مؤثر شخصیت معروف جرمن مستشرق گولڈ زیہر (Ignaz Goldziher) کی ہے۔گولڈ زیہر کا معاملہ اسلام کے حوالے سے عجیب ہے کہ ایک طرف اس کا اعتراف ہے کہ:
I truly entered into the spirit of Islam to such an extent that ultimately I became inwardly convinced that I myself was a Muslim, and judiciously discovered that this was the only religion which, even in its doctrinal and official formulation, can satisfy philosophical minds. My ideal was to elevate Judaism to a similar rational level.(4)
’’میں اس حد تک روحِ اسلام میں اتر گیا کہ داخلی طور پر مجھے یقین سا ہو چلا کہ میں خود مسلمان ہی ہوں اور شعوری سطح پر میں نے دریافت کیا کہ یہ وہ واحد مذہب ہے جو عقیدے اور فکری تشکیل کی سطح پر فلسفیانہ دماغوں کو مطمئن کر سکتا ہے۔میرا مطمح نظر یہ تھا کہ یہودیت کو بھی اسی طرح کے عقلی معیار تک پہنچاؤں۔‘‘
لیکن دوسری طرف اپنے استادVembery کے سامنے ایک گفت گو میں اس نے ایمان کے اقرار سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ غالباً اس کا وہی تعصب تھا جو اسے استشراقی روایت سے ورثے میں ملا تھا۔ نقد حدیث کے لیے اس نے وہی منہج اختیار کیا جسے بائبل کی تنقید کے سیاق میں Higher Criticismسے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس نے اسے بعض عبرانی دستاویزات کے نقد کے لیے بھی بروئے کار لایا تھا۔ اس کے اثرات مسلم اہل قلم نے (براہ راست مطالعے یا تراجم کے ذریعے) بھی قبول کیے۔ اس نے یہ دعویٰ کیا کہ بیشتر احادیث جعلی اور فرضی ہیں جنھیں حکم رانوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے وضع کیا۔ اس تحریک نے برصغیر کے بہت سے ذہنوں کو بھی اپنی گرفت میں لیا۔حدیث و سنت کی حیثیت کو چیلنج کرنے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے سوال اٹھانے والی شخصیات میں سب سے اولین حیثیت سرسید احمد خان (م 1898ء) کی ہے اور پھر یہ سفر طے ہوتا ہوا جناب غلام احمد پرویز (م 1985ء) پر اپنے عروجِ کمال کو پہنچا۔ پرویز، حافظ اسلم جیراج پوری(م1955ء ) کے فیض یافتہ تھے۔ 1938ء میں جب علامہ اقبال کی وفات ہوئی تو ان کی یادگار کے طور پر سید نذیر نیازی نے مجلہ ’’طلوعِ اسلام ‘‘ جاری کیا جس کی سرپرستی کچھ عرصے بعد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انھوں نے اس میں جہاں فکر اقبال کی نشرواشاعت کی، وہیں اپنے افکار بھی اس کے ذریعے پھیلانے شروع کیے۔ قیام پاکستان کے موقع پر پاکستان آئے تو یہاں اپنے افکار کا کھل کر پرچار کیا۔ فکری طور پر ماضی کے مبتدع فرقوں میں معتزلہ سے عقیدت رکھتے تھے جس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں :’’اگر مسلک اعتزال باقی رہتا تو یہ جمود وتعطل جو آج مسلمانوں میں نظر آ رہا ہے، وجود میں نہ آتا اور علم وفکر کی دنیا میں مسلمان آج ایسے مقام پر کھڑے ہوتے جہاں ان کا کوئی مقابل نہ ہوتا۔‘‘ ( ۵)
حدیث وسنت کے بارے میں جناب پرویز کے جمہور امت سے ہٹے ہوئے افکار سامنے آتے ہی ان پر نقد ونظر کا سلسلہ علماء کی طرف سے شروع ہوگیا اور دلائل وبراہین سے اس فکر کی علمی کمزوریوں اور داخلی تضادات واضح کیا گیا۔ اس موضوع پر تیار ہونے والا لٹریچر اس فکر کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب اصل میں فکر پرویز پر لکھی گئی تحریروں کا ایک انتخاب ہے۔ کسی موضوع پر نمائندہ تحریروں کا انتخاب اس اعتبار سے آسان ہے کہ اس میں مرتب خود تحقیق وتخلیق کے مرحلے سے نہیں گزرتا، لیکن اس پہلو سے مشکل ہے کہ اس انتخاب میں خوب سے خوب تر کی تلاش کے بغیر انتخاب جامع اور جان دار نہیں ہو پاتا۔علمی مواد کی تنگ دامانی جہاں تصنیف کے کام میں رکاوٹ ثابت ہوتی ہے، وہیں علمی مواد کی فراوانی بھی کچھ کم مشکل کا باعث نہیں ہوتی۔ ایک مؤلف کے سامنے معلومات کا ایک سیلاب ہوتا ہے اور اس نے اپنے ذوقِ سلیم کی مدد سے بہت سا مواد پڑھ کر ایسی تحریروں کا انتخاب کرنا ہوتا ہے جو متعلقہ موضوع کی جملہ جہات کا احاطہ کرتی ہوں۔ یہ کام ظاہر ہے موضوع کے وسیع مطالعے اور اس پر ناقدانہ نظر کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔
زیر تبصرہ کتاب کے انتخاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ جناب مرتب (محترم شکیل عثمانی) کی نظر فکر پرویز پر لکھے گئے لٹریچر پر غیر معمولی ہے اور انھوں نے اس انتخاب میں اپنے عمدہ ذوقِ سلیم ، تجربے اور وسعت مطالعہ کو کام میں لایا ہے۔ اس وقت مغربی دنیا میں مختلف موضوعات پر Anthologies ترتیب دینے کا چلن روز افزوں ہے۔ کیمبرج ، آکسفرڈ، راؤٹلج اور کئی دیگر اشاعتی ادارے مجموعہ ہاے مقالات شائع کر رہے ہیں، جو اپنے موضوع پر لکھنے والے اعلیٰ سطح کے قلم کاروں کی تخلیقات کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ اس طرح کے مجموعوں کی افادیت یہ ہوتی ہے کہ ان میں وہ سقم نہیں ہوتا، جو طبع زاد تصنیف کا پیٹ بھرنے کے لیے بسا اوقات ایک مصنف کی کتاب میں معروف اور تکرار شدہ مواد کے ذریعے پیدا ہوا جاتا ہے اور کہیں بہت بعد میں جا کر اصل موضوع کی باری آتی ہے۔ آج کتابوں کی مارکیٹ میں جو جامعات کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے سندی مقالات شائع ہو کر سامنے آ رہے ہیں، ان میں سے بیش تر کا حال یہی ہے۔تبصرہ نگار کی راے میں اس طرح کی کتابوں کے بجائے اعلیٰ سطح کے اہل علم کے مقالات کے انتخابات علمی لحاظ سے زیادہ سود مند ہوتے ہیں، وللناس فیما یعشقون مذاھب۔
اس خوب صورت مجموعہ انتخاب میں نو تحریریں شامل ہیں: 1۔تحریک انکارِ سنت پر ایک نظر، مولانا سید ابولاعلیٰ مودودی، 2۔ جناب پرویز کی فکر کے بنیادی خدوخال، پروفیسر خورشید احمد، 3۔ فکر پرویز کا علمی جائزہ، مولانا قمر احمد عثمانی، 4۔ پرویز صاحب اورا ن کے ’’قرآنی‘‘ نظریات، ماہر القادری، 5۔ تضاداتِ فکر پرویز، ڈاکٹر محمد دین قاسمی، 6۔پرویز صاحب کی اصل غلطی، خورشید احمد ندیم، 7۔ پرویز صاحب اور کفر کا فتویٰ، مولانا امین احسن اصلاحی، 8۔ مقتدر ’’باس‘‘اور غرض مند خوشامدی، پروفیسر وارث میر، 9۔ پرویز صاحب اور طلوعِ اسلام کا سیاسی کردار، شکیل عثمانی(مرتب کتاب)
اس انتخاب پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آخری دو مضامین جناب پرویز کی ’شخصیت وکردار‘ کا احاطہ کرتے ہیں، جب کہ باقی مضامین ان کی فکرسے بحث کرتے ہیں۔ ’شخصیت‘ سے بحث کرنے والے مضامین پاکستانی سیاست کی گردشوں اور اقتدار کے بدلتے چہروں کے سامنے ’’طلوعِ اسلام‘‘ کی ’سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں ‘ کا مصداق پالیسی اور ’کشتہ سلطانی‘ مزاج کوعیاں کرتے ہیں۔ گورنز جنرل غلام محمد کی منفی پالیسیوں او رسیاست کا واضح نقشہ پروفیسر وارث میر نے اپنے مضمون میں کھینچ کر ’’طلوعِ اسلام‘‘ کے ان کو خطاب کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:’’اے پیکر عزم وبسالت کہ دنیا تجھے غلام محمد کہتی ہے، ہم ملت شریفہ پاکستان کی طرف سے ادب و احترام سے جھکی ہوئی آنکھوں، لرزتے ہوئے ہونٹوں، کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ہزار عقیدت وصد ہزار سپاس گزاری کے گلہائے تازہ تیری خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ یقین مانیے کہ فرطِ جذبات سے اس وقت ہمارے دل کی یہ حالت ہے کہ : آبگینہ تندیِ صہبا سے پگھلا جائے ہے‘‘(۶) اسی طرح جناب شکیل عثمانی نے اپنے مضمون ’’ پرویز صاحب اور طلوعِ اسلام کا سیاسی کردار ‘‘ میں غلام محمد، صدر ایوب اور بھٹو وغیرہ کے دور میں ’’طلاعِ اسلام‘‘ کے خوشامدانہ طرز اور سیاسی موقف کی تبدیلیوں کو اقتباسات کی روشنی میں واضح کیا ہے۔ دینی امور میں کسی کے افکار کو سامنے رکھتے ہوئے محض یہ دیکھنا کافی نہیں ہوتا کہ ’کیا کہہ رہا ہے‘ بلکہ ’کون کہہ رہا ہے‘ کو بھی اس لیے یکساں اہمیت حاصل ہوتی ہے کہ دینی پیشوائی محض الفاظ کا لطف لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ منصب سب سے پہلے صاحبِ منصب سے اعلیٰ کردار کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہردور کے اصحابِ دعوت وعزیمت کے ہاں ہمیں زبان، دل کی رفیق ملتی ہے اور ان کے ہاں زہد فی الدنیا، اصحابِ جاہ وثروت سے دوری، بغیر کسی خوشامد کے کلمہ حق کہنے کی صدا بلند ہوتی ملتی ہے اور ان کے یہی اوصاف ان کے اخلاص للہ کی ظاہری علامت ہوا کرتے ہیں۔
بقیہ مضامین جناب پرویز کی فکر کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیتے ہیں۔ پہلا مضمون مولانا مودودی کا ہے جس میں انھوں نے معتزلہ کے عہد میں انکارِ سنت کی تحریک پر نظر ڈالتے ہوئے اس فتنے کے سدِ باب کے مختلف اسباب ذکر کیے ہیں اور پھر تہذیب مغرب کے استیلا کے نتیجے میں اس فتنے کی نئی اٹھان کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔انھوں نے انکارِ سنت کے اس نئے فتنے کے فروغ کے چھے اسباب بیان کیے ہیں اور ساتھ ہی پرویز صاحب کے نظامِ ربوبیت کو اختصار کے ساتھ چند نکتوں میں عمدگی سے سمو دیا ہے۔
دوسرا مقالہ پروفیسر خورشید احمد کا ہے جو مؤلف کی تصریح کے مطابق ایک طویل مقالے ’’دینی ادب ‘‘ سے لیا گیا ہے۔یہ مقالہ پنجاب یونی ورسٹی کی شائع کردہ کتاب ’’تاریخ ادبیات مسلمانان پاک و ہند‘‘ میں شامل ہے۔اس مقالے میں پرویز صاحب کی موضوعی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ ، ’’لغات القران‘‘، ’’نظامِ ربوبیت‘‘، ’’سلیم کے نام‘‘ وغیرہ کتابوں پر گفتگو کی ہے۔ مصنف کے مطابق ’’پرویز صاحب اور علامہ مشرقی کے بنیادی افکار میں کوئی فرق نہیں۔ان کے ہاں جو کچھ فرق ہے، فروعات اور تفصیلات کا ہے۔مشرقی صاحب نے گفتگو زیادہ تر عمومی کی ہے۔پرویز صاحب نے فلسفیانہ اور سماجی نقطہ نظر سے اپنے تصورات کو نسبتاًزیادہ واضح کیا ہے۔ ۔۔۔مشرقی صاحب زیادہ نظری اور بین الاقوامی معلوم ہوتے ہیں جب کہ پرویز صاحب کے نقطہ نظر پر سماجی اور معاشی پہلو کو غلبہ حاصل ہے۔‘‘(۷)
تیسرا مقالہ مولانا قمر احمد عثمانی کا ہے(۸) اور ان کی کتاب ’’ہماری مذہبی جماعتوں کا فکری جائزہ‘‘ کا ایک باب ہے۔ اس میں مولانا عثمانی نے پرویز صاحب کے اطاعت رسول،نظامِ ربوبیت،مسلمات کو تبدیل کرنے والی خود ساختہ اصطلاحات اور شعائر اسلامی کے استخفاف وغیرہ کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔
چوتھا مقالہ جناب ماہر القادری کا ’’پرویز صاحب اور ان کے قرآنی نظریات ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ یہ مضمون پرویز صاحب کی فکر کا کافی جامعیت کے ساتھ احاطہ کرتا ہے۔اس میں پرویز صاحب کے قرآنی اصطلاحات و مفاہیم کو خود ساختہ اور چودہ سو سال میں امت کے لیے اجنبی معانی کا جامہ پہنانے پر گرفت کی گئی ہے۔
پانچواں مضمون ’’تضاداتِ فکرِ پرویز ‘‘ کے نام سے ڈاکٹر محمد دین قاسمی کے قلم سے ہے اور ان کی کتاب ’’جناب غلام احمد پرویز اپنے الفاظ کے آئینے میں‘‘ سے لیا گیا ہے۔اس مضمون میں بڑی محنت اور دقت نظر کے ساتھ پرویز صاحب کی فکر میں پندرہ تضادات کی بطور نمونہ نشان دہی کی گئی ہے۔ اس میں ایک دلچسپ تضاد پرویز صاحب کا مولانا مودودی?کے بارے میں راے بھی ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے وہ مولانا مودودی کے علمی اور فکری کمالات کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں، لیکن جب ان کے محل نظر افکار سامنے آتے ہیں اور مولانا مودودی ان کی غلطیوں پر گرفت کرتے ہیں تو انھیں قرآن کی ابجد سے بھی ناواقف قرار دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان دوسرے کے بارے میں اچھی یا بری راے قائم کرنے میں بڑی حد تک داخلی پسند ناپسند کااسیر ہوتا ہے اور یہ جذبہ اس کی فکر کا رخ متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کے کئی مظاہر آج ہمارے سماج میں نظر آتے ہیں۔
چھٹے مضمون ’’پرویز صاحب کی اصل غلطی‘‘ میں جناب خورشید احمد ندیم نے واضح کیا ہے کہ پرویز صاحب کی اصل غلطی ان کے فہم قرآن کے اصول ہیں جو بنیادی طور پر غلط ہیں۔ یہ مضمون اچھا عمدہ اور فکری مضمون ہے اور اصل میں مؤلف کتاب ہی کے مرتب کردہ ایک چھوٹے سے کتابچے کا مقدمہ ہے جس میں جناب جاوید احمد غامدی نے پرویز صاحب کی قرآنی فکر پر نقد کیا ہے۔ پرویز صاحب کی قرآنی فکر کی کم زوریوں پر یہ ایک عمدہ گفتگو ہے۔
ساتویں مضمون ’’پرویز صاحب اور کفر کا فتویٰ‘‘ میں مولانا امین احسن اصلاحی نے پرویز صاحب پر علما کی طرف سے فتواے کفر پر گفت گو کی ہے اور اس کو اصولاً درست قرار دیا ہے۔ یہ مضمون مولانا اصلاحی کی کتاب ’’تفہیم دین‘‘میں شامل ہے۔
جناب غلام احمد پرویز کی فکر کے مختلف پہلوؤں کے احاطے کے لیے یہ مجموعہ مختصر ہونے کے باوجود کافی جامع اور عمدہ ہے اور قاری کو بہت کچھ دے جاتا ہے۔، تاہم اگر اس میں حجیت حدیث اور تدوین حدیث کی تاریخ پر جامع تحریرات بھی شامل ہو جاتیں تو تو اس پروپیگنڈے کی ایک مرکزی غلطی پر بھی روشنی پڑ جاتی۔ اسی طرح اس طرح کے مجموعہ مضامین میں فکر پرویز کے بارے میں مزید مطالعے کے لیے کتابوں، مجلات، مقالات وغیرہ کی بھی ایک فہرست فراہم ہو جاتی تو اس کی افادیت مزید بڑھ جاتی۔
کتاب، معروف اشاعتی ادارے کتاب سراے (لاہور) سے عمدہ معیار پر شائع ہوئی ہے۔ جب سے کتابوں کی اشاعت کمپیوٹر کمپوزنگ کے ذریعے ہونا شروع ہوئی ہے، ان میں اغلاط کی بھرمار نظر آتی ہے۔ اس کتاب کے ساتھ بھی یہ مسئلہ درپیش ہوا ہے ، جس کے لیے کتاب کے آغاز میں مؤلف کو ’صحت نامہ‘ شامل کرنا پڑا ہے۔
حواشی
۱ ۔ محمد اسد،’’ ملتِ اسلامیہ دو راہے پر‘‘ ، ترجمہ ، محبوب سبحانی(لاہور:دارالسلام، 2004ء)، 15۔
۲ ۔ اس نوعیت کا ایک جامع اور عمدہ اشاریہ Concordance and Indices of Muslim Tradition (Leiden, 1936) ہے۔اس میں صحاح ستہ کے علاوہ بعض دیگر مجموعے بھی شامل ہیں۔اس منصوبے کا آغاز ونسنک ، ہارویز اور دیگر مستشرقین نے کیا تھا۔ بعد میں اس کام کی تکمیل میں معروف محقق فؤاد عبدالباقی نے بھی حصہ لیا۔ 1936ء میں اس کی پہلی اور 1988ء میں اس کی آٹھویں اور آخری جلد شائع ہوئی، تاہم اس میں کئی فاش اغلاط بھی تھیں جن کی تصحیح اور کمپیوٹر ایڈیشن کی تیاری کے لیے جامعہ ازہر میں ایک بورڈ تشکیل دیا گیا۔
۳ ۔ برٹش اسکالر جے رابسن اور امریکی اسکالر این ایبٹ حدیث کے روایتی فریم ورک کو تسلیم کرتے ہیں ، جب کہ گولڈ زیہر اور جوزف شاخت کا پیش کردہ منہج تشکیکی ہے۔ یورپی زبانوں میں حدیث لٹریچر پر ایکاچھے مطالعے کے لیے دیکھیے:
Denffer, Ahmad, Literature on Hadith in European Languages (Leicester, 1981)
4- See. Siddiqi,op.cit ,125.
۵ ۔ ’’طلوعِ اسلام‘‘،30 جولائی 1955ء بحوالہ، عبدالرحمن کیلانی ،’’آئینہ پرویزیت حصہ اول، معتزلہ سے طلوعِ اسلام تک‘‘(لاہور: مکتبۃ السلام، 1987ء )، 112۔
۶ ۔ وارث میر،’’مقتدر باس اور غرض مند خوشامدی‘‘ مشمولہ ’’جناب غلام احمد پرویز کی فکر کا علمی جائزہ‘‘، مرتب، شکیل عثمانی(لاہور:کتاب سرائے ، 2016ء)، 161۔ 162۔
۷ ۔ خورشید احمد، ’’جناب پرویز کی فکر کے بنیادی خدوخال‘‘، نفس مرجع، 28۔
۸ ۔ مولانا قمر احمد عثمانی ، معروف دیوبندی عالم مولانا ظفر احمد عثمانی کے بیٹے ہیں۔ ان کے دوسرے بیٹے ’’فقہ القرآن‘‘ کے مصنف مولانا عمر احمد عثمانی ہیں۔ ان دونوں حضرات کے بارے میں عام طور پر مشہور ہے کہ وہ منکر حدیث ہیں، لیکن بظاہر یہ بات درست نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ تدبر حدیث کے حوالے سے ان کا منہج عام اسلوب سے ذرا مختلف ہے، لیکن اسے انکارِ حدیث سے موسوم نہیں کیا جاسکتا۔ جنوری 1968ء کے ’’البلاغ‘‘میں مولانا ظفر احمد عثمانی اور ان کے ایک شاگرد کے درمیان ایک مکالمہ شائع ہوا جس پر اہل حدیث مکتب فکر کے معروف مجلے ’’الاعتصام ‘‘ نے بہت سخت نقد کیا اور ساتھ یہ بھی لکھا کہ مولانا ظفر احمد عثمانی کے بیٹے منکر حدیث ہیں۔مولانا ظفر احمد عثمانی نے مولانا عمر احمد عثمانی کے ایک مختصر رسالے ’’خاتمۃ الکلام فی القراء ۃ خلف الامام ‘‘ کے پیش لفظ میں اس بات کو محض الزام قرار دیا ہے کہ ان کے بیٹے حجیت حدیث کے منکر ہیں۔ (دیکھیے: عمراحمد عثمانی، ’’خاتمۃ الکلام فی القراء ۃ خلف الامام ‘‘، دیباچہ مولانا ظفر احمد عثمانی (حیدر آباد: العزیز پبلی کیشن ہاؤس، س ن)، 2،3۔)