ستمبر ۲۰۱۶ء

جمہوریت اور حاکمیت عوام ۔ چند منطقی مغالطے / غیر مسلم معاشروں میں رہنے کے انسانی واخلاقی اصول / آسمانی شرائع میں جہاد کا صحیح تصورمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۲)ڈاکٹر محی الدین غازی 
ہم عصر الحاد پر ایک نظرمحمد دین جوہر 
دینی مدارس میں یوم آزادی کی تقریباتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قرآن مجید کے قطعی الدلالۃ ہونے کی بحث ۔ حافظ محمد زبیر صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہڈاکٹر عرفان شہزاد 
مباح الدم اور "جہادیوں" کا بیانیہڈاکٹر محمد شہباز منج 
مکاتیبادارہ 
’’مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار اور تنظیم فکرِ ولی اللہی کے نظریات کا تحقیقی جائزہ‘‘مولانا سید متین احمد شاہ 
قاری ملک عبد الواحد کی رحلتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مولانا گلزار احمد آزاد کے سفر جاپان کے مشاہداتڈاکٹر حافظ محمد رشید 
مولانا عمار خان ناصر کے سفر امریکا کے تاثراتادارہ 
الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاںادارہ 

جمہوریت اور حاکمیت عوام ۔ چند منطقی مغالطے / غیر مسلم معاشروں میں رہنے کے انسانی واخلاقی اصول / آسمانی شرائع میں جہاد کا صحیح تصور

محمد عمار خان ناصر

جمہوریت کو ’’حاکمیت عوام‘‘ کے نظریے کی بنیاد پر کفریہ نظام قرار دینے اور حاکمیت عوام کو اس کا جزو لاینفک قرار دینے والے گروہ کی طرف سے ایک عامۃ الورود اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ جمہوریت میں اگر دستوری طور پر قرآن وسنت کی پابندی قبول کی جاتی ہے تو اس لیے نہیں کی جاتی کہ وہ خدا کا حکم ہے جس کی اطاعت لازم ہے، بلکہ اس اصول پر کی جاتی ہے کہ یہ اکثریت نے خود اپنے اوپر عائد کی ہے اور وہ جب چاہے، اس پابندی کو ختم کر سکتی ہے۔ اس لیے دستور میں اس کی تصریح کے باوجود جمہوریت درحقیقت ’’حاکمیت عوام‘‘ ہی کے فلسفے پر مبنی نظام ہے۔
اس استدلال کے دو نکتے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ دونوں منطقی مغالطوں کی شاہکار مثالیں ہیں۔
پہلا نکتہ یہ ہے کہ دستور میں قرآن وسنت کی پابندی دراصل قرآن وسنت کے واجب الاتبا ع ہونے کے عقیدے کے تحت نہیں بلکہ محض اس لیے قبول کی جاتی ہے کہ اکثریت یہ پابندی قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر دستور میں اس تصریح کا مطلب یہ نہیں کہ دستور ساز اسمبلی خود کو قرآن وسنت کا پابند سمجھتی ہے اور یہ محض حاکمیت عوام کے اصول کا ایک اظہار ہے تو اس مقصد کے لیے اسمبلی کو یہ تصریح کرنے کی آخر ضرورت اور مجبوری ہی کیا درپیش ہے؟ پھر تو دستور میں سادہ طور پر صرف یہ بات لکھنی چاہیے کہ قانون سازی کا مدار اکثریت کی رائے پر ہے اور اس بنیاد پر جو بھی قانون بنے گا، وہ اس وقت تک قانون رہے گا جب تک اسے اکثریت کی تائید حاصل رہے۔ جب دستور ساز اسمبلی اس سے آگے بڑھ کر باقاعدہ ایک اصول کے طو رپر یہ نکتہ دستور میں شامل کر رہی ہے کہ مقننہ قرآن وسنت کے احکام کی پابند ہوگی تو کس اصول کی رو سے اس پر یہ الزام عائد کیا جا سکتا ہے کہ وہ قرآن وسنت کی پابندی کو بالذات اور مستقل اصول کے طور پر قبول نہیں کر رہی؟ اس سامنے کی بات کو صاف نظر انداز کر دینے کو آخر تحکم کے علاوہ کیا عنوان دیا جا سکتا ہے؟
استدلال کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ چونکہ دستور میں اکثریت کی رائے کی بنیاد پر تبدیلی کی جا سکتی ہے اور اس اصول کے تحت اگر کسی وقت اکثریت قرآن وسنت کی پابندی کی شرط کو ختم کرنا چاہے تو کر سکتی ہے، اس لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن وسنت کی پابندی کو فی نفسہ اور بالذات نہیں بلکہ محض اکثریت کی رائے کی بنیاد پر قبول کیا جا رہا ہے۔
یہ نکتہ پہلے سے بھی بڑھ کر عجیب بلکہ مضحکہ خیز ہے۔ سوال یہ ہے کہ دین وشریعت بلکہ دنیا کے کسی بھی قانون یا ضابطے کی پابندی قبول کرنے کا آخر وہ کون سا اسلوب یا پیرایہ ہو سکتا ہے جس میں یہ امکان موجود نہ ہو کہ کل کلاں کو پابندی قبول کرنے والا اس کا منکر نہیں ہو جائے گا؟ مثال کے طور پر ایک شخص کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرتا ہے تو اسے اس بنیاد پر مسلمان تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ اس نے اپنی مرضی اور آزادی سے یہ فیصلہ کیا ہے، حالانکہ اس بات کا پورا امکان ہے کہ وہ کسی بھی وقت اسی آزادی کی بنیاد پر اسلام سے منحرف ہونے کا فیصلہ کر لے۔ اب کیا اس کے متعلق یہ کہا جائے گا کہ چونکہ کل کلاں کو وہ اپنی مرضی سے اسلام کو چھوڑ سکتا ہے، اس لیے آج اس کے کلمہ پڑھنے کا مطلب بھی یہ ہے کہ وہ اسلام کو فی نفسہ واجب الاتباع نہیں سمجھتا، بلکہ اپنی ذاتی پسند اور مرضی کی وجہ سے قبول کر رہا ہے؟ دنیا کے ہر معاہدے اور ہر ضابطے کی پابندی کی بنیاد اسی آزادی پر ہوتی ہے جو انسانوں کو حاصل ہے اور جو آج کسی پابندی کے حق میں اور کل اس کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے، لیکن ہم اس آزادی کے منفی استعمال کے بالفعل ظہور پذیر ہونے سے پہلے کبھی مستقبل کے امکانی مفروضوں کی بنیاد پر حال میں یہ قرار نہیں دیتے کہ فلاں شخص یا گروہ درحقیقت اس قانون یا ضابطے کو فی حد ذاتہ واجب الاتباع ہی تسلیم نہیں کرتا۔
جمہوریت اور ’’حاکمیت عوام‘‘ کے تصور کو لازم وملزوم قرار دینے کے ضمن میں ایک اور منطقی مغالطہ جو بالعموم دیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ جمہوریت میں شریعت کے واضح اور مسلمہ احکام بھی کسی ملک میں اس وقت تک قانون کا درجہ اختیار نہیں کر سکتے جب تک کہ منتخب قانون ساز ادارہ اسے بطور قانون منظور نہ کر لے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جمہوریت میں اللہ کی شریعت، نفاذ کے لیے انسانوں کی منظوری کی محتاج ہے۔ اگر وہ بطور قانون اس کی منظوری نہ دیں تو کوئی حکم شرعی نافذ نہیں ہو سکتا اور ظاہر ہے کہ یہ ایک کفریہ تصور ہے۔
اس دلیل میں جو منطقی مغالطہ ہے، اسے ایک مثال کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے۔ فرض کریں، ایک شخص کسی کو قتل کر دیتا ہے۔ ایسی صورت میں شریعت کا واضح اور قطعی حکم ہے کہ قاتل کو مقتول کے قصاص میں قتل کیا جائے۔ لیکن شریعت کا یہ حکم اس وقت تک عملاً نافذ نہیں ہو سکتا جب تک یہ مقدمہ باقاعدہ کسی با اختیار عدالت کے سامنے پیش نہ کیا جائے اور وہ یہ فیصلہ نہ سنا دے کہ قاتل کو قصاص میں قتل کیا جائے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ شریعت کا حکم اپنے نفاذ کے لیے ایک جج کی منظوری کا محتاج ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں، اس لیے کہ شریعت کے حکم اور اس پر عمل درآمد کے درمیان عدالت کا کردار اس تصور کے تحت نہیں رکھا گیا کہ خدا کی شریعت کو انسانی تائید کی احتیاج ہے، بلکہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس حکم کے نفاذ کے عمل کو منضبط اور غلطیوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔ 
بالکل یہی معاملہ کسی شرعی حکم کو قانون سازی کے مرحلے سے گزارنے کا ہے۔ جب دستور میں اصولی طور پر یہ مان لیا گیا کہ شریعت بالادست قانون ہوگی تو تمام واضح اور قطعی احکام اصولاً قانون کا درجہ اختیار کر گئے۔ اس کے بعد ان احکام کے حوالے سے قانون سازی کے مراحل بنیادی طور پر پروسیجرل ہیں نہ کہ اس بنیاد پر کہ احکام شرعیہ کو ابھی قانون بننے کے لیے منظوری کی احتیاج ہے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ خاص طور پر ملحوظ رہنا چاہیے کہ شریعت کا کوئی بھی واضح اور صریح حکم اس وقت تک نفاذ میں نہیں آ سکتا جب تک اس کے ساتھ جڑے ہوئے چند اجتہادی سوالوں کا جواب نہ دے دیا جائے۔ مثلاً چوری کو لیجیے۔ محض یہ تسلیم کر لینے سے کہ چور کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے، کسی بھی چوری کے مقدمے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ حکم کے اطلاق کے لیے شاید درجنوں اجتہادی سوالات کا جواب دینا پڑے گا اور اس کے لیے کسی نہ کسی اجتہادی تعبیر کو قانون کا درجہ دینا پڑے گا۔ مثلاً یہ کہ چوری کا مصداق کیا ہے، کتنے مال کی چوری پر یہ سزا لاگو ہوگی، کیا ہر طرح کے حالات میں یہ سزا دی جائے گی یا کچھ مخصوص حالات میں رعایت بھی دی جا سکتی ہے، ہاتھ کہاں سے کاٹا جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب اجتہادی سوالات ہیں جو نص میں تصریحاً مذکور نہیں اور ان کا جواب طے کیے بغیر کسی ایک مقدمے کا فیصلہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ 
گویا ہر واضح اور قطعی شرعی حکم نفاذ کے لیے ایک اجتہادی تعبیر کا محتاج ہے۔ قانون سازی دراصل اسی درمیانی مرحلے کو طے کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ قانون کے بنیادی پہلووں کی ایک متعین تعبیر کے بغیر، جس کی روشنی میں عدالتیں فیصلے کر سکیں، قانون کے نفاذ میں بہت سی پیچیدگیاں اور مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ جدید سیاسی نظام میں قانون ساز ادارے اس نوعیت کی پیچیدگیوں کو کم کرنے اور قانون کے بنیادی پہلووں کو واضح اور متعین کرنے کے کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر قانون کے بنیادی خطوط اور حدود اربعہ متعین نہ ہوں تو ظاہر ہے کہ قانون کی براہ راست تعبیر کا کام عدالتوں کو کرنا پڑے گا جس میں اختلافات کا پیداہونا اور اس کے نتیجے میں قانونی سطح پر پیچیدگیوں کا سامنے آنا ناگزیر ہے۔ علمی اور نظری سطح پر کسی قانون کی تعبیر میں اختلافات ہوں تو ان سے عملی پیچیدگیاں پیدا نہیں ہوتیں، لیکن قانونی نظام کی سطح پر بہرحال ایک بنیادی نوعیت کی یکسانی پیدا کرنا انتظامی پہلو سے ایک مجبوری کا درجہ رکھتا ہے۔ جمہوریت میں شرعی احکام کو نفاذ سے پہلے قانون ساز ادارے کی منظوری کے مرحلے سے گزارنا دراصل اسی پہلو سے ضروری ہوتا ہے، نہ کہ اس مفروضہ تصور کے تحت کہ شریعت کا حکم تب واجب العمل ہوگا جب انسان اسے قانون کے طور پر منظور کر لیں گے۔ چنانچہ صورت حال کی درست تعبیر یہ ہوگی کہ دستور کی اسلامی نوعیت طے ہو جانے کے بعد تمام احکام شریعت کی پابندی قبول کر لی گئی، البتہ انھیں قانون کی سطح پر نافذ کرنے کے لیے کچھ درمیانی مراحل طے کرنا ضروری تھا جن میں سب سے اہم مرحلہ قانون کی تعبیر کا تھا۔ 

جمہوریت کو علی الاطلاق کفر ثابت کرنے والی ایک مشہور کتاب میں دلائل کا سارا زور صرف کرنے کے بعد آخر میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ ’’اگر یہ جمہوریت کفر ہے تو پھر بعض علمائے کرام اس نظام میں کیوں شریک ہوتے ہیں؟‘‘ 
اگرچہ ’’بعض علمائے کرام‘‘ (جس سے مراد قیام پاکستان کے بعد سے لے کر آج تک پاکستان کی مین اسٹریم مذہبی قیادت کے ، چند ایک کے استثنا کے ساتھ، تمام علماء کرام ہیں) کہہ کر سوال کی مشکل کو کافی کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، لیکن بہرحال سوال تو مشکل ہے۔ اب اس کا جواب ملاحظہ فرمائیے:
’’وہ علماء جو اس نظام میں شریک ہوئے اور اب اس دنیا سے جا چکے، ان کے بارے میں ہم یہی کہیں گے کہ ان پر اس جمہوری نظام کا کفر واضح نہیں ہوا تھا۔ لہٰذا شریعت میں یہ ایک عذر ہے اور عذر کے ہوتے ہوئے کسی خاص شخص کی تکفیر نہیں کی جا سکتی۔ ۔۔۔ کسی کفر کا ظاہر ہونا نہ ہونا، اس کفر کا کسی پر پہلے ظاہر ہونا، کسی پر بعد میں، یہ کسی کے تقویٰ اور علم کے منافی نہیں۔ اس بحث میں یہ کہنا بے کار بات ہے کہ اگر جمہوریت کفر ہوتی تو تمام بڑے علماء اس کو کفر کیوں نہیں کہتے؟‘‘ سوال یہ ہے کہ ارشاد نبوی میں کسی چیز پر کفر کا اطلاق کرنے کے لیے ’’کفرا بواحا عندکم من اللہ فیہ برھان‘‘ کے الفاظ آئے ہیں اور فقہاء اس کے لیے مطلوبہ احتیاط کو یوں واضح کرتے ہیں کہ وہ کفر ایسا ہونا چاہیے کہ اس کے کفر ہونے میں کسی کو کوئی شبہ نہ ہو اور تمام اہل علم اسے کفر قرار دینے میں کوئی تردد محسوس نہ کریں۔
اگر جمہوریت ایسا ہی کفر صریح اور کفر بواح ہے تو ان ’’تمام بڑے علماء‘‘ کو آخر یہ کیوں دکھائی نہیں دیا؟ اور کیوں اس کی ضرورت پیش آ رہی ہے کہ مختلف منطقی مغالطوں سے کام لے کر ایسے دلائل گھڑے جائیں جو صرف سادہ ذہن اور جذباتی نوجوانوں کو متاثر کر سکیں اور انھیں مطمئن کرنے کے لیے ’’تمام بڑے علماء‘‘ پر وہ آیتیں منطبق کرنی پڑیں جو قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کرنے والوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں؟ ملاحظہ فرمائیے:
’’داعیوں کے سامنے جو اعتراض بار بار کیا جاتا ہے، وہ یہ ہوتا ہے کہ آپ زیادہ سمجھ دار ہیں یا بڑے زیادہ سمجھ دار ہیں؟ اگر یہ سب جو آپ بیان کر رہے ہیں، حق ہوتا تو ہمارے بڑے اس کو کیوں نہ اختیار کرتے؟ لیکن کیا ’’قوم‘‘ کے بڑے ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں؟ کیا ’’نوجوان‘‘ ہمیشہ غلط ہوتے ہیں اور ان کا طریقہ کار کبھی بھی درست نہیں ہوتا؟ کیا شریعت اسلامیہ میں یہ کوئی معیار ہے کہ بڑوں اور چھوٹوں کی آرا جب مختلف ہو جائیں تو بڑوں کی بات ہی قابل اعتبار اور قابل عمل ہوگی؟ اور کیا حق کو صرف اس لیے رد کر دیا جائے گا کہ وہ معاشرے کے مشہور ونامور افراد کی زبان سے جاری نہیں ہوا؟ کیا اس قسم کے اعتراض حق کو رد کرنے والے پہلے ہی سے نہیں کرتے چلے آ رہے؟ خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن بھی ایسے ہی اعتراضات کیا کرتے تھے:
وقالوا لولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم (الزخرف)
’’وہ کہتے کہ اس قرآن کو دونوں بستیوں (مکہ وطائف) میں کسی بڑی شخصیت پر کیوں نہ اتارا گیا۔‘‘
حالانکہ یہاں سوال بڑوں اور چھوٹوں یا اکثریت واقلیت کا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ فقہ وشریعت کی رو سے یہ ضروری ہے کہ جس بات کو ’’کفر‘‘ قرار دیا جا رہا ہو، وہ ایسی ہو کہ اس کے کفر ہونے میں کسی کو کوئی شبہ نہ ہو اور تمام اہل علم اسے کفر قرار دینے میں کوئی تردد محسوس نہ کریں۔ اگر جمہوریت ایسا ہی کفر صریح اور کفر بواح ہے تو ان ’’تمام بڑے علماء‘‘ کو آخر یہ ’’کفر‘‘ کیوں دکھائی نہیں دیا؟

غیر مسلم معاشروں میں رہنے کے انسانی واخلاقی اصول

امریکا کے حالیہ مطالعاتی سفر (۱۰؍ جولائی تا ۲؍ اگست) کے دوران میں ڈریو یونیورسٹی (نیو جرسی) کے سنٹر فار ریلجن، کلچر اینڈ کانفلکٹ ریزولوشن کے زیر اہتمام ایک سمر انسٹی ٹیوٹ میں شرکت کے علاوہ مختلف احباب سے ملاقات اور بعض مقامات پر مسلم کمیونٹی کے اجتماعات سے گفتگو کا موقع بھی ملا۔ ان نشستوں میں راقم الحروف نے خاص طور پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے واقعے کی روشنی میں چند اخلاقی اصولوں کو واضح کرنے کی کوشش کی جن کی پابندی کسی غیر مسلم معاشرے میں رہتے ہوئے مسلمانوں کو کرنی چاہیے۔ ذیل میں اس کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔
قرآن مجید نے سیدنا یوسف علیہ السلام کا واقعہ یہ کہہ کر بیان کیا ہے کہ یہ احسن القصص یعنی بہترین قصہ ہے اور اس میں جستجو رکھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ اس واقعہ کے سبق آموز پہلو تو کئی ہیں، لیکن اس موقع پر ہم اس خاص زاویے سے اس سے راہ نمائی لینے کی کوشش کریں گے کہ کسی ایسے معاشرے میں جہاں مسلمان اکثریت میں اور اقتدار میں نہ ہوں، ان کا رویہ اور معاملہ معاشرے کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے اور اس ضمن میں انھیں کن اخلاقی اور انسانی اصولوں کی پاس داری کرنی چاہیے۔ قرآن مجید نے اس حوالے سے مختلف واقعات کی مدد سے سیدنا یوسف علیہ السلام کے کردار اور فہم ودانش کے بعض ایسے پہلووں کو اجاگر کیا ہے جو اس باب میں نہایت بنیادی راہ نمائی فراہم کرتے ہیں۔
سب سے پہلا اخلاقی اصول تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر مسلمانوں کو کسی معاشرے میں باعزت زندگی گزارنے کے مواقع میسر ہوں اور معاشرہ ان کے اخلاق وکردار پر اعتماد کرتے ہوئے انھیں اپنے وسائل اور سہولیات سے مستفید ہونے کا موقع دے رہا ہو تو اس کے جواب میں مسلمانوں کو بھی اس اعتماد پر پورا اترنا چاہیے اور خیانت سے کام لیتے ہوئے اس اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہیے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کو بازار مصر میں ایک غلام کے طور پر سستے داموں لا کر بیچا گیا تھا، لیکن ان کے مالک نے ان کے لیے رہائش، خوراک اور تربیت کا اچھا بندوبست کیا اور پردیس میں انھیں گھر جیسی سہولتوں کی فراہمی کا انتظام کیا۔ پھر سن رشد کو پہنچنے پر جب خاتون خانہ نے انھیں دعوت گناہ دی تو سیدنا یوسف کا سب سے پہلا اور فوری رد عمل یہ تھا کہ میں یہ خیانت کیسے کر سکتا ہوں، جبکہ میرے آقا نے میرے لیے یہاں سامان زندگی کا اتنا عمدہ بندوبست کیا ہے(انہ ربی احسن مثوای)۔ خاتون خانہ کی دعوت کو قبول کرنا اپنی ذات میں تو گناہ تھا ہی، اس کے ساتھ سیدنا یوسف نے اپنی سلیم فطرت کی بدولت اس کے اس پہلو کو بھی شدت سے محسوس کیا کہ یہ ایک محسن اور منعم کے ساتھ خیانت اور بد عہدی کا عمل ہوگا جو کسی شریف اور باکردار انسان کے شایان شان نہیں۔ یہ اصول، ظاہر ہے، جیسے افراد کے لیے ہے، ویسے ہی قوموں کے لیے بھی ہے اور صرف مسلمانوں کے باہمی معاملات میں موثر نہیں، بلکہ اس کا تعلق آفاقی انسانی اخلاقیات سے ہے۔ چنانچہ سب سے پہلی چیز جو مسلمانوں کو انفرادی سطح پر بھی اور گروہی سطح پر بھی ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے، یہ ہے کہ جو معاشرہ ان کے لیے اپنے وسائل اور مواقع سے استفادہ کے دروازے کھول رہا ہو اور ان کے اخلاق وکردار پر اعتماد کر رہا ہو، وہ جواب میں اس کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں اور کوئی طرز عمل اختیار نہ کریں جو اس اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والا ہو۔
دوسرا اخلاقی اصول جو سیدنا یوسف کے کردار سے ہمارے سامنے آتا ہے، یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے ساتھ کہیں کوئی نا انصافی یا زیادتی ہو جائے تو وہ اسباب کی سطح پر داد رسی کے لیے ضرور کوشش کریں، لیکن معاشرے یا اس کے نظام وقانون سے متعلق کسی منفی رد عمل میں مبتلا نہ ہو جائیں اور خاص طور پر اس ناانصافی کی وجہ سے اس معاشرے کے لیے انسانی خیر خواہی کا رویہ ترک نہ کر دیں۔ سیدنا یوسف کو ایک بے بنیاد الزام پر، محض ایک با اثر گھرانے کو بدنامی سے بچانے کے لیے، جیل میں ڈال دیا گیا اور وہ کئی سال تک قید میں رہے۔ یہاں ان کی ملاقات شاہی دربار کے دو خادموں سے ہوئی جن میں سے ایک کو انھوں نے تاکید کی کہ جب تم رہا ہو کر بادشاہ کے پاس واپس جاو تو میرے متعلق اس کو بتانا۔ سوئے اتفاق سے اس شخص کو بادشاہ کے سامنے سیدنا یوسف کا ذکر کرنا یاد نہ رہا اور سیدنا یوسف مزید کچھ عرصے کے لیے جیل میں ہی پڑے رہے۔ اس کے بعد شاہ مصر نے ایک عجیب وغریب خواب دیکھا جس کی تعبیر کسی کی سمجھ میں نہ آ سکی تو بالآخر وہ موقع پیدا ہوا جس میں اہل مصر کو سیدنا یوسف علیہ السلام کی طرف رجوع کرنا پڑا جنھیں اللہ نے خوابوں کی تعبیر کی خاص مہارت عطا فرمائی تھی۔ 
یہاں ہمیں سیدنا یوسف کے کردار کی بلندی اوج کمال پر نظر آتی ہے۔وہ نہ تو خواب کی تعبیر پوچھنے کے لیے آنے والے شاہی خادم سے کوئی شکایت کرتے ہیں کہ تم نے میری رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کی، نہ یہ رد عمل ظاہر کرتے ہیں کہ مصر کے نظام انصاف نے مجھے بے گناہ ہوتے ہوئے جیل میں ڈال رکھا ہے، اس لیے میں اہل مصر کے کام کیوں آوں اور نہ یہ شرط ہی رکھتے ہیں کہ پہلے مجھے انصاف دیا جائے، تب میں اپنے علم اور مہارت سے اہل مصر کو فائدہ پہنچاوں گا۔ اس کے بالکل برعکس، وہ نہ صرف بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتا دیتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ ہی یہ تدبیر بھی بتاتے ہیں کہ قحط کے زمانے میں خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس سے پہلے آنے والے سالوں میں غلے کا ذخیرہ جمع کر لیا جائیاور دانوں کو خوشوں کے اندر ہی رہنے دیا جائے۔ گویا وہ اپنے کردار سے یہ واضح کرتے ہیں کہ انسان کو جو علم، دانش اور حکمت دی گئی ہے، وہ اس کے پاس ایک امانت ہے جسے ہر حال میں لوگوں کی خیر خواہی اور بھلائی کے لیے استعمال ہونا چاہیے اور کسی شخص یا گروہ کے ساتھ ہونے والی کوئی نا انصافی یا زیادتی اس کا جواز نہیں بن سکتی کہ ضرورت کے موقع پر وہ لوگوں کو اپنی خداداد صلاحیت اور علم وتجربہ سے محروم رکھے۔
سیدنا یوسف علیہ السلام کے طرز عمل اور کردار سے تیسرا اہم اصول یہ سامنے آتا ہے کہ مسلمان جس معاشرے میں بھی ہوں، وہاں کے لوگوں اور وہاں کی سیاسی ومعاشی سرگرمیوں سے الگ تھلگ ہو کر رہنے کے بجائے معاشرت اور نظام سیاست ومعیشت کا حصہ بنیں اور اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے مواقع اور وسائل سے خود بھی مستفید ہوں اور خلق خدا کی بہتری کے لیے بھی اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ چنانچہ سیدنا یوسف کو ان کے علم وفہم اور دانش مندی کی بدولت جب شاہ مصر کا مقرب خاص بننے کا موقع ملا تو انھوں نے نہ صرف یہ کہ اس میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، بلکہ خود اپنے لیے اہل مصر کی خدمت کا ایک خاص دائرہ منتخب کیا اور بادشاہ سے اس دائرے میں ذمہ داری اور اختیار تفویض کیے جانے کی درخواست کی۔ اسی سے آگے چل کر انھیں مصر کے نظام اقتدار میں وہ اثر ورسوخ حاصل ہوا کہ انھوں نے اپنے پورے کنبے کو مصر میں بلا لیا اور ان کے پہنچنے پر ان کا شاہانہ شان وشوکت کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ مزید یہ کہ بنی اسرائیل کے لیے بطور ایک قوم طویل عرصے تک عزت اور وقار کے ساتھ مصر میں زندگی بسر کرنے کے اسباب فراہم ہوئے، تا آنکہ کچھ صدیوں کے بعد حالات کے الٹ پھیر سے وہ رفتہ رفتہ ایک محکوم اور مقہور گروہ کا درجہ اختیار کرتے چلے گئے۔
اس ضمن کا چوتھا اور اہم ترین دینی اصول یہ ہے کہ مسلمان کسی بھی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنی بنیادی اور اصل ذمہ داری یعنی دعوت الی اللہ سے کسی حال میں غفلت اور بے پروائی اختیار نہ کریں اور معاشی ومعاشرتی ترقی کے مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اس فریضے کی ادائیگی پر بھی پوری طرح توجہ مرکوز رکھیں۔ سیدنا یوسف کے واقعے میں قرآن نے اس کی ایک جھلک یوں پیش کی ہے کہ جب قید خانے میں دو شاہی ملازم اپنے خواب کی تعبیر معلوم کرنے کے لیے ان کے پاس آئے تو انھوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی حکمت کے ساتھ اور بڑے عمدہ اسلوب میں ان کے سامنے توحید کی دعوت بھی پیش کر دی۔ قرآن مجید کے ایک دوسرے مقام سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا یوسف نے مصر میں اقتدار اور سیاسی اثر ورسوخ ملنے کے بعد وہاں کے با اثر طبقات کو بھی دعوت الی اللہ کا باقاعدہ مخاطب بنایا اور دلائل وبینات کی روشنی میں توحید کا پیغام ان کے سامنے پیش کیا۔ ان کے مخاطبین اگرچہ عموماً ان کی دعوت کے حوالے سے تذبذب میں مبتلا رہے، تاہم مصر کی تاریخ میں اللہ کے ایک جلیل القدر پیغمبر کے طور پر انھیں احترام سے یاد کیا جاتا رہا۔
اس زاویے سے سیدنا یوسف کے واقعے پر غور کیا جائے تو، جیسا کہ عرض کیا گیا، نہ صرف غیر مسلم معاشروں میں زندگی بسر کرنے کے اخلاقی اصول واضح ہوتے ہیں، بلکہ ایک پوری حکمت عملی ابھر کر سامنے آتی ہے جس سے کسی بھی معاشرے میں رہنے والے مسلمان افراد یا طبقے استفادہ کر سکتے ہیں۔ معاصر تناظر میں مختلف غیر مسلم معاشروں میں مسلمان کمیونٹیز کی جو عمومی نفسیات دیکھنے میں آ رہی ہے، اس کے پیش نظر ان اصولوں کی طرف توجہ دلانے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اللہ کرے کہ ہر معاشرے کے ذمہ دار مذہبی وسماجی راہ نما اس طرف متوجہ ہوں اور اللہ کے ایک جلیل القدر پیغمبر کے اسوہ کی روشنی میں مسلمانوں کی نفسیات، ذمہ داریوں اور کردار کو درست طور پر تشکیل دینے میں کامیاب ہوں۔

آسمانی شرائع میں جہاد کا صحیح تصور

جہاد انبیاء کی شریعتوں میں مقصد کے حصول کے ایک ذریعے کے طور پر مشروع کیا گیا ہے اور اہل علم کی تصریح کے مطابق فی ذاتہ کوئی مطلوب یا مستحسن امر نہیں، کیونکہ اس میں انسانی جان ومال کا ضیاع ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر متبادل راستے موجود ہوں تو جنگ کے راستے سے گریز کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ جان ومال کی قربانی بھی تب مطلوب ہوگی اگر حصول مقصد کا ظن غالب ہو۔ بصورت دیگر یہ راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ ہاں، جب یہ ناگزیر ہو جائے اور حصول مقصد اسی راستے پر منحصر ہو جائے تو پھر مسلمانوں سے شریعت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور میدان جنگ میں جان ومال کی قربانی پیش کریں۔ ایسے حالات میں اس جیسا افضل عمل کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا اور حب دنیا اور بزدلی کی وجہ سے اس سے گریز کرنے والی قومیں ذلت ورسوائی کی حق دار ٹھہرتی ہیں۔
جہاد سے کس مخصوص مقصد یا غایت کا حصول پیش نظر ہے اور شریعت کا یہ حکم کب فرضیت یا استحباب کے درجے میں انسانوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے؟ اس کا تمام تر دار ومدار عملی حالات پر ہے۔ انبیاء کی تاریخ میں بعض دفعہ اس طریقے سے عالمی سطح پر انقلابی اور دور رس تبدیلیاں لائی گئیں، بعض دفعہ محدود اور وقتی مقاصد (مثلاً? جان ومال اور علاقے کا دفاع وغیرہ) حاصل کیے گئے، اور بہت سے حالات میں اس کو چھوڑ کر بالکل مختلف راستے اور طریقے اختیار کیے گئے۔ چنانچہ شریعت میں اصولی طور پر جہاد کا حکم موجود ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیشہ اور ہر طرح کے حالات میں اس راستے کا انتخاب شریعت کا لازمی تقاضا ہے۔ اس کا تعین حالات کریں گے اور حالات کی نوعیت ہر دور کے اہل علم وفقہ اپنی بصیرت کی روشنی میں طے کریں گے۔
تورات میں بنی اسرائیل کو جو شریعت دی گئی، اس میں واضح طور پر بنی اسرائیل کو اپنی سلطنت کے قیام کے لیے ایک مخصوص علاقے پر قبضہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور اس مقصد کے لیے جنگ کے تفصیلی احکام بیان کیے گئے تھے۔ تاہم انبیائے بنی اسرائیل نے اپنے طرز عمل سے واضح کیا کہ اس حکم پر عمل علی الاطلاق نہیں بلکہ بہت سی شرائط وقیود کی رعایت کے ساتھ ہی مطلوب ہے۔ چنانچہ:
۱۔ موسیٰ علیہ السلام کے دور میں جب بنی اسرائیل نے بیت المقدس کو فتح کرنے میں بزدلی دکھائی تو اللہ تعالیٰ نے چالیس سال کے لیے انھیں اس اقدام سے روک دیا اور متنبہ کیا کہ اب اگر اس سے قبل انھوں نے جنگ کی تو نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔
۲۔ حضرت داود علیہ السلام کے زمانے سے کچھ پہلے بنی اسرائیل کے قبائل الگ الگ سیاسی انتظام کے تحت زندگی گزار رہے تھے اور کوئی متحدہ اجتماعی نظم موجود نہیں تھا۔ اس موقع پر جب بنی اسرائیل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ وہ اپنے کھوئے ہوئے علاقے کفار سے واپس حاصل کرنے کے لیے جہاد کریں تو انھوں نے اپنے نبی سے درخواست کی کہ ان پر ایک بادشاہ کو مقرر کر دیا جائے جس کی قیادت میں وہ جہاد کر سکیں۔ ان کی درخواست پر اللہ نے طالوت کو ان کا بادشاہ بنا کر ان پر قتال کی ذمہ داری عائد کی۔ یہاں قرآن نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، وہ بہت قابل توجہ ہیں۔ ’’فلما کتب علیھم القتال‘‘، یعنی جب ان پر جہاد فرض کیا گیا، حالانکہ جہاد کی فرضیت اصولی طور پر پہلے سے تورات میں موجود تھی۔ قرآن کی اس تعبیر سے ایک نہایت اہم شرعی نکتہ واضح ہوتا ہے کہ کسی مخصوص صورت حال میں عملاً? جہاد کا فرض ہونا، اصولی فرضیت سے مختلف ایک معاملہ ہے۔
۳۔ بابل کی اسیری اور پھر رومی سلطنت کے ہاتھوں بنی اسرائیل کی حکومت کے خاتمے کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام تک جتنے بھی انبیاء آئے، انھوں نے اپنی دعوت اور محنت کا موضوع خود بنی اسرائیل کی دینی واخلاقی حالت کو بنایا۔ کسی ایک نے بھی انھیں یہ سبق نہیں دیا کہ اس ذلت ورسوائی سے نکلنے کے لیے ’’جہاد’’ کی طرف لوٹیں۔ ان میں سے حضرت مسیح علیہ السلام نے تو اپنی دعوتی جدوجہد سے بنی اسرائیل میں رائج اس تصور کی غلطی کو آخری درجے میں واضح کر دیا کہ دینی احیاء کا مطلب صرف قومی حکومت اور سیاسی سیادت کی بحالی ہے۔ بنی اسرائیل نے انھیں ’’مسیح موعود’’ ماننے سے انکار ہی اس لیے کیا کہ ان کے خیال میں مسیح موعود کاکام بنی اسرائیل کے قومی اقتدار کی بحالی تھا، جبکہ حضرت مسیح نے اپنی دعوت کو تمام تر بنی اسرائیل کی اخلاقی حالت پر مرکوز رکھا اور انھیں بتایا کہ اگر انھوں نے اس اجتماعی حالت کو اس پہلو سے درست نہ کیا تو قیامت تک کے لیے رسوائی اور محکومی کے عذاب سے دوچار کر دیے جائیں گے۔
ان میں سے کسی بھی دور میں جہاد کا حکم نہ منسوخ ہوا تھا اور نہ اصولی طور شریعت میں اس کی اہمیت کم ہو گئی تھی۔ فرق صرف حالات میں پیدا ہوا تھا۔ بنی اسرائیل داخلی اعتبار سے اس جگہ پر نہیں تھے کہ انھیں اللہ کی نصرت ملتی، بلکہ اللہ کے وعدے کے مطابق ان کے دشمنوں کو ان کی بد اعمالیوں کی پاداش میں ان پر مسلط کر دیا گیا تھا۔ ایسی صورت میں انبیاء4 اور دعاۃ کی ذمہ داری یہی بنتی تھی کہ وہ انھیں ان کی اصل بیماری کی طرف متوجہ کریں، نہ کہ ایک مشروط ومقید شرعی حکم کو اصل قرار دے کر قومی حمیت وغیرت کا جذبہ بیدار کرنے میں لگ جائیں۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۲)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۹۸) مدّہ اور مدّ لہ میں فرق

قرآن مجید میں فعل مد یمد براہ راست مفعول بہ کے ساتھ بھی آیا ہے اور حرف جر لام کے ساتھ بھی آیا ہے۔ ان دونوں اسلوبوں میں کیا فرق ہے؟ اس سلسلے میں عام طور سے علماء لغت اور مفسرین کے یہاں کوئی صراحت نہیں ملتی، بلکہ ان کے بیانات سے لگتا ہے کہ دونوں اسلوب ہم معنی ہیں، البتہ علامہ زمخشری نے اس فرق کوصراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے، ان کے نزدیک مد اگر مفعول بہ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی بڑھانے اور اضافہ کرنے کے ہیں، اور اگر حرف جر لام کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ڈھیل دینے اور مہلت دینے کے ہیں۔ سورہ بقرۃ آیت نمبر ۱۵؍ کی تفسیر میں وہ لکھتے ہیں: 

ویمدھم فی طغیانھم من مد الجیش وأمدہ اذا زادہ وألحق بہ ما یقویہ ویکثرہ۔۔۔ علی أن الذی بمعنی أمھلہ انما ھو مدّ لہ مع اللام کأملی لہ۔ (تفسیر الزمخشری: ۱؍۶۷)

علامہ موصوف نے جو فرق ذکر کیا ہے، قرآن مجید کے استعمالات سے اس کی بھرپور تائید ہوتی ہے۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ مترجمین قرآن کے سامنے یہ فرق واضح طور سے نہیں رہا۔ ذیل میں اس کی کچھ مثالیں پیش کی جائیں گی:

(۱) اللّٰہُ یَسْتَہْزِئُ بِہِمْ وَیَمُدُّہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُونَ۔ (البقرۃ:۱۵)

اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے اکثر مترجمین نے یمدھم کا ترجمہ ڈھیل دینا کیا ہے۔کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:
’’اللہ ان سے مذاق کررہا ہے، وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں‘‘۔ (سید مودودی، صحیح ترجمہ: اللہ ان سے مذاق کررہا ہے، وہ انہیں ان کی سرکشی میں اندھوں کی طرح بڑھنے دے رہا ہے)
’’اللہ ان سے مذاق کررہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دیے جارہا ہے، یہ بھٹکتے پھر رہے ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، صحیح ترجمہ: اللہ ان سے مذاق کررہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں بڑھائے جارہا ہے، کہ یہ بھٹکتے پھریں)
’’اللہ تعالی بھی استہزا کررہے ہیں ان کے ساتھ اور ڈھیل دیتے چلے جاتے ہیں ان کو کہ وہ اپنی سرکشی میں حیران وسرگرداں ہورہے ہیں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’اللہ ان سے استہزا فرماتا ہے (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں‘‘۔ (احمد رضا خان)
جبکہ بعض لوگوں نے ڈھیل دینے کے بجائے بڑھانے کا ترجمہ کیا ہے، اور یہی موزوں ترجمہ ہے۔کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:
’’اللہ ہنسی کرتا ہے ان سے اور بڑھاتا ہے ان کو ان کی شرارت میں بہکے ہوئے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر) 
’’اللہ تعالی بھی ان سے مذاق کرتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھادیتا ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
علامہ زمخشری کے بیان کردہ اصول کے مطابق اس آیت میں یمدھم  کا صحیح مفہوم بڑھانا ہے نا کہ ڈھیل دینا، اس کی تائید مذکورہ ذیل آیت سے بھی ہوتی ہے، جس میں فعل یمد  ٹھیک اسی اسلوب میں استعمال ہوا ہے اور اس کا ترجمہ ڈھیل دینا نہیں بلکہ بڑھانا اور کھینچنا کیا گیا ہے۔

(۲) وَإِخْوَانُہُمْ یَمُدُّونَہُمْ فِیْ الْغَیِّ ثُمَّ لاَ یُقْصِرُونَ۔ (الاعراف: ۲۰۲)

’’اور جو شیطانوں کے بھائی ہیں وہ ان کو کھینچتے جاتے ہیں غلطی میں پھر وہ کمی نہیں کرتے‘‘۔ (شاہ عبد القادر)
’’اور وہ جو شیطانوں کے بھائی ہیں شیطان انھیں گمراہی میں کھینچتے ہیں، پھر کمی نہیں کرتے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور جو ان (ناخدا ترسوں) کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں بڑھاتے ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، مولانا امانت اللہ اصلاحی کے مطابق اس آیت کا صحیح ترجمہ یوں ہے: اور جو ان شیاطین کے بھائی ہیں۔ یمدونھم  میں ضمیر مستتر مرفوع کا مرجع شیاطین اور ضمیر منصوب کا مرجع اخوانھم ہے، اور اخوانھم میں ضمیر مجرور کا مرجع بھی شیاطین ہے۔ جبکہ دوسری رائے بھی مفسرین کے یہاں موجود ہے اور ذیل کا شاہ ولی اللہ کا ترجمہ اسی دوسری رائے کے مطابق ہے)
’’وبرادران کافران می کشند ایشاں را در گمراہی وہرگز باز نمی ایستند ‘‘(شاہ ولی اللہ)
بہر حال جس طرح اس آیت میں تمام مترجمین نے یمدونھم کا مفہوم بڑھانا اور کھینچنا بیان کیا ہے، اسی طرح اوپر والی آیت میں بھی یہی مفہوم لینا مناسب تھا، کیونکہ دونوں آیتوں کا اسلوب بالکل یکساں ہے۔

(۳) قُلْ مَن کَانَ فِیْ الضَّلَالَۃِ فَلْیَمْدُدْ لَہُ الرَّحْمَنُ مَدّاً۔ (مریم: ۷۵)

اس تیسری آیت میں فعل مد لام حرف جر کے ساتھ آیا ہے، اور بجا طور پر مترجمین نے ترجمہ ڈھیل دینا اور رسی دراز کرنا کیا ہے۔ شاہ عبد القادر نے کھینچنا ترجمہ کیا ہے تاہم ان کا مقصود بھی ڈھیل دینا ہی معلوم ہوتا ہے۔
’’تو کہہ جو کوئی رہا بھٹکتا سو چاہئے اس کو کھینچ لے جاوے رحمن خوب کھینچنا ‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’تم فرماؤ جو گمراہی میں ہو تو اسے رحمن خوب ڈھیل دے ‘‘(احمد رضا خان)
’’ان سے کہہ دو کہ جو لوگ گمراہی میں پڑے رہتے ہیں تو خدائے رحمان کی شان یہی ہے کہ ان کی رسی اچھی طرح دراز کرے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
بیشتر مترجمین نے اس آیت میں فلیمدد کا ترجمہ عام فعل مضارع کا کیا ہے، حالانکہ یہاں یہ فعل لام امر کے ساتھ استعمال ہوا ہے، اور ترجمہ میں اس کی عکاسی ہونی چاہئے تھی، یعنی ڈھیل دیتا ہے کے بجائے ڈھیل دے کہا جائے، اوپر مذکور ترجموں میں اس کی رعایت کی گئی ہے، تاہم ذیل کے ترجموں میں اس کا لحاظ نظر نہیں آتا ہے:
’’آپ فرمادیجئے کہ جو لوگ گمراہی میں ہیں رحمن ان کو ڈھیل دیتا چلا جارہا ہے‘‘(اشرف علی تھانوی)
’’ان سے کہو جو شخص گمراہی میں مبتلا ہوتا ہے اسے رحمان ڈھیل دیا کرتا ہے‘‘ (سید مودودی)
’’کہہ دیجئے جو گمراہی میں ہوتا اللہ رحمن اس کو خوب لمبی مہلت دیتا ہے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیئے جاتا ہے۔‘‘ ( فتح محمد جالندھری)
مفسرین نے مفہوم کے لحاظ سے دونوں صورتوں کو جائز قرار دیا ہے، سمین حلبی لکھتے ہیں:

و قولہ: ’’فلیمدد‘‘ فیہ وجھان، أحدھما: أنہ طلبٌ علی بابہ، ومعناہ الدعاء۔ والثانی: لفظہ لفظ الأمر، ومعناہ الخبر۔ (الدرالمصون فی علوم الکتاب المکنون۔۷؍۶۳۲)

تاہم جب قرآن مجید میں کہیں پر نَمُدُّ سادہ فعل آیا ہے اور کہیں فلیمدد لام امر کے ساتھ فعل آیا ہے، تو مفہوم چاہے جو لیا جائے لیکن ترجمہ اسی طرح ہونا چاہئے کہ اسلوب کلام کی عکاسی ہوسکے۔

(۴) کَلَّا سَنَکْتُبُ مَا یَقُولُ وَنَمُدُّ لَہُ مِنَ الْعَذَابِ مَدّاً۔ (مریم: ۷۹)

اس آیت میں فعل مد کے بعد من العذاب آیا ہے، جو مفعول بہ کی جگہ پر ہے، اس طور سے یہاں بھی ڈھیل دینے کے بجائے بڑھانے کا ترجمہ درست ہوگا۔ چنانچہ عام طور سے مترجمین نے یہاں بجا طور سے بڑھانے کا ترجمہ کیا ہے۔
’’ہرگز نہیں، جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے اور اس کے لئے سزا میں اور زیادہ اضافہ کریں گے ‘‘(سید مودودی)
’’یوں نہیں، ہم لکھ رکھیں گے جو کہتا ہے اور بڑھاتے جاویں گے اس کو عذاب میں لنبا ‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’ہرگز نہیں اب ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اسے خوب لمبا عذاب دیں گے‘‘ (احمد رضا خان)
’’ہرگز نہیں، یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے، اور اس کے لئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’ہرگز نہیں جو کچھ وہ بکتا ہے ہم اس کو نوٹ کر رکھیں گے اور اس کے عذاب میں مزید اضافہ کریں گے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

(۹۹) لھم عذاب کا ترجمہ

لھم عذاب کی تعبیر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آئی ہے، اس کا ترجمہ مترجمین نے عام طور یہ کیا ہے کہ ان کے لئے عذاب ہے۔ جبکہ صاحب تفہیم نے کہیں کہیں اس کا ترجمہ کیا ہے کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں، حالانکہ خود انہوں نے بھی اکثر وبیشتر مقامات پر دیگر مترجمین کی طرح ترجمہ کیا ہے، مثال کے لئے ذیل کی آیتیں ملاحظہ ہوں: 

(۱) خَتَمَ اللّٰہُ عَلَی قُلُوبِہمْ وَعَلَی سَمْعِہِمْ وَعَلَی أَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ وَلَہُمْ عَذَابٌ عظِیْمٌ۔ (البقرۃ:۷)

’’اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں‘‘۔(سید مودودی)

(۲) إِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّونَ أَن تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ آمَنُوا لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔ (النور: ۱۹)

’’جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘۔ (سید مودودی)

(۳) وَالَّذِیْ تَوَلَّی کِبْرَہُ مِنْہُمْ لَہُ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (النور: ۱۱)

’’اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لئے تو عذاب الیم ہے‘‘۔ (سید مودودی)
پہلی دو آیتوں میں عذاب کے مستحق ہونے کا ترجمہ کیا گیا ہے، جبکہ تیسری آیت میں فی الواقع ان کے لیے عذاب ہونے کا ترجمہ کیا گیا ہے۔
اگرچہ لام استحقاق کا مفہوم بتانے کے لیے بھی آتا ہے، اور اس لحاظ سے استحقاق کا ترجمہ غلط نہیں ہے، لیکن اس ترجمہ میں وعید کا مفہوم پوری شدت کے ساتھ ادا نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب یہ کہا جائے گا کہ ان کے لیے عذاب ہے، تو اس میں یہ بات بھی شامل ہوجائے گی کہ وہ اس کے مستحق ہیں، ساتھ ہی یہ بات بھی واضح رہے گی کہ ان کو اس عذاب میں ڈالا جائے گا۔ جبکہ اگر کہا جائے کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں تو یہ لازم نہیں آئے گا کہ ان کو عذاب دیا جائے گا۔ اس لحاظ سے وہی ترجمہ زیادہ مناسب ہے، جو تمام مترجمین کرتے ہیں اور خود صاحب تفہیم نے اکثر جگہوں پر کیا ہے، یعنی یہ کہ استحقاق ہی نہیں بلکہ فی الواقع ان کے لیے عذاب ہے۔

(۱۰۰) أنداد کا ترجمہ

أنداد جمع ہے ند کی جس کے اصل معنی ہم سر کے ہیں، علامہ راغب اصفہانی کہتے ہیں:

ندید الشیء: مشارکہ فی جوھرہ، وذلک ضرب من المماثلۃ، فان المثل یقال فی أیِّ مشارکۃ کانت، فکل ند مثلٌ، ولیس کل مثل ندا۔ (المفردات فی غریب القرآن، ص:۷۹۶)

قرآن مجید میں أندادا جہاں جہاں آیا ہے، اس کا ترجمہ عام طور سے ہم سر، برابر اور شریک کیا گیا ہے، یہی لفظ کا اصل مفہوم ہے، اور یہی مشرکین کی عام روش کے مطابق حال بھی ہے، کیونکہ مشرکین اللہ کے علاوہ جن کو معبود ٹھہراتے ہیں ان کو وہ اللہ کے شریک اور ہم سر کے طور پر ہی ٹھہراتے ہیں نا کہ اللہ کے مد مقابل اور اللہ کے مخالف کے طور پر۔
قرآن مجید میں أندادا کا لفظ کئی جگہ آیا ہے، اور عام طور سے تمام مترجمین اس کا ترجمہ ہم سر، برابر اور شریک کا کرتے ہیں۔ البتہ بعض مترجمین کہیں کہیں مد مقابل یا مقابل کا ترجمہ بھی کردیتے ہیں، اس سے ایک تو لفظ کا مفہوم محدود ہوجاتا ہے، کیونکہ ہم سر میں جو وسعت ہے وہ مقابل میں نہیں ہے، دوسرے یہ کہ یہ لفظ مشرکین کے عام رویہ کے مطابق نہیں ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے کہیں کہیں مقابل اور مد مقابل کا ترجمہ کیا ہے، انہوں نے خود اکثر جگہ ہم سر اور شریک کا ترجمہ کیا ہے۔

(۱) فَلاَ تَجْعَلُوا لِلّٰہِ أَندَاداً۔ (البقرۃ: ۲۲)

’’تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھیراؤ‘‘ (سید مودودی)
’’تم اللہ کے واسطے اب تو مت ٹھیراؤ اللہ پاک کے مقابل‘(اشرف علی تھانوی)
’’سو نہ ٹھیراؤ اللہ کے برابر کوئی ‘‘ (شاہ عبد القادر)

(۲) وَمِنَ النَّاسِ مَن یَتَّخِذُ مِن دُونِ اللّٰہِ أَندَاداً۔ (البقرۃ: ۱۶۵)

’’کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مد مقابل بناتے ہیں‘‘(سید مودودی)

(۳) وَجَعَلُوا لِلّٰہِ أَندَاداً لِّیُضِلُّواْ عَن سَبِیْلِہ۔ (ابراہیم: ۳۰)

’’اور ٹھیرائے اللہ کے مقابل کہ بہکاویں لوگوں کو اس کی راہ سے‘‘ (شاہ عبد القادر)
’’اور انہوں نے اللہ کے مقابل ٹھہرائے، تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکادیں ‘‘(وحید الدین خان)
’’اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کرلئے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکادیں ‘‘(سید مودودی، اس ترجمہ میں مدمقابل کے بجائے ہم سر ترجمہ کیا ہے، جو درست ہے، تاہم اس میں ایک دوسری غلطی ہے وہ یہ کہ ترجمے سے مفہوم نکلتا ہے کہ ہم سر ان کو بھٹکائیں گے جنہوں نے ہم سر بنائے، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ ہمسر بنانے والے بھٹکائیں گے، نا کہ وہ جنہیں ہم سر بنایا گیا،یہی درست مفہوم عام مترجمین نے اختیار کیا ہے، اور اس مفہو م کی تائید ذیل کی سورہ زمر والی آیت سے بھی ہوتی ہے، وہاں مترجم موصوف نے صحیح مفہوم اختیار کیا ہے، کیونکہ دوسرا مفہوم لینے کی اس آیت میں گنجائش نہیں ہے)

(۴) وَجَعَلَ لِلّٰہِ أَندَاداً لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِہِ۔ (الزمر: ۸)

’’اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھیراتا ہے تاکہ اس کی راہ سے گمراہ کرے‘‘(سید مودودی)
’’اور ٹھیراوے اللہ کی برابر اوروں کو تا بہکاوے اس کی راہ سے‘‘ (شاہ عبد القادر)

(۵) إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّکْفُرَ بِاللّٰہِ وَنَجْعَلَ لَہُ أَندَاداً۔ (سبا: ۳۳)

’’جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں، اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھیرائیں‘‘(سید مودودی)

(۶) قُلْ أَئِنَّکُمْ لَتَکْفُرُونَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْأَرْضَ فِیْ یَوْمَیْْنِ وَتَجْعَلُونَ لَہُ أَندَاداً۔ (فصلت:۹)

’’اے نبی ان سے کہو، کیا تم اس خدا سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھیراتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنادیا‘‘(سید مودودی)
(جاری)

ہم عصر الحاد پر ایک نظر

محمد دین جوہر

دنیا کے ہر مذہب میں خدا کے تعارف، اس کے اقرار، اس سے انسان کے تعلق اور اس تعلق کے حامل انسان کی خصوصیات کو مرکزیت حاصل ہے۔ مختصراً، مذہب خدا کا تعارف اور بندگی کا سانچہ ہے۔ جدید عہد مذہب پر فکری یورش اور اس سے عملی روگردانی کا دور ہے۔ لیکن اگر مذہب سے حاصل ہونے والے تعارفِ خدا اور تصورِ خدا سے انکار بھی کر دیا جائے، تو فکری اور فلسفیانہ علوم میں ’’خدا‘‘ ایک عقلی مسئلے کے طور پر پھر بھی موجود رہتا ہے۔ خدا کے مذہبی تصور اور اس سے تعلق کے مسئلے کو ’’حل‘‘ کرنے کے لیے جدیدیت نے اپنی ابتدائی تشکیل ہی میں ایک ’’مجہول الٰہ‘‘ (deity) کا تصور دیا تھا جس کی حیثیت ایک فکشن سے زیادہ نہیں تھی۔ جدیدیت نے آدمی کو یہ مڑدہ سنایا تھا کہ وہ اس مفروضہ ’’خدا‘‘ سے تعلق طے کرنے میں بھی آزاد ہے۔ جدیدیت نے خدا کے مذہبی تصور کا مکمل انکار کیا، لیکن ایک افسانوی اور عقل ساختہ ’’خدا‘‘ کا تصور پیش کر کے خدا پرستی اور آزاد روی کا التباس باقی رکھا۔ اس طرح جدیدیت نے انسان کو مذہب سے لاتعلق ہونے کا راستہ اور جواز فراہم کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ صنعتی ترقی، صنعتی کلچر، جدید تعلیم، سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ، اور جدید سیاسی اور معاشی نظام نے اس سوال کو بالکل ہی غیر اہم بنا دیا۔ جدید دنیا میں مذہب کے مطابق خدا کو ماننے والوں کی حیثیت اب پسماندہ ذہن اور کلچر رکھنے والے ریڈ انڈینز کی طرح ہو گئی ہے۔
الحاد سے عام طور پر خدا کا انکار مراد لیا جاتا ہے، اور دہریت اس کی فکری تشکیلات اور تفصیلات پر مبنی ایک علمی مبحث اور تحریک ہے۔ آج کی دنیا میں الحاد فرد کی داخلیت میں مستحکم ہو گیا ہے اور دہریت ایک بڑی تحریک کی صورت اختیار کر گئی ہے جو خدا کو ماننے کے مذہبی عقیدے اور غیر مذہبی رویے کے خلاف جارحانہ لائحہ عمل رکھتی ہے۔ الحاد اور دہریت اب کوئی علمی یا عقلی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک سماجی اور ثقافتی صورت حال بن گئی ہے، جس نے کہیں کہیں ایک تحریک کی شکل بھی اختیار کر لی ہے۔ اب دہریت اپنے پھیلاؤ اور دفاع کے لیے ’’تحریکی‘‘ ذرائع استعمال کر رہی ہے اور سیاسی طاقت اور سرمائے کی بڑی قوتیں اس کی پشت پر ہیں۔
دہریت کی تحریک میں شدت کی ایک بڑی وجہ اسلام ہے۔ مغربی تہذیب نے ’’ترقی‘‘ کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب کاری (ویسٹرنائزیزشن) اور جدید کاری (ماڈرنائزیشن) کو عالمی سطح پر فروغ دیا۔ ان دوعوامل کے پیدا کردہ نئے سماجی اور ثقافتی حالات میں دنیا کے مذاہب بخارات کی طرح تحلیل ہو گئے۔ مسلم دنیا میں مغرب کاری اور جدید کاری کے منصوبوں کو جزوی کامیابی تو یقیناً ہوئی لیکن وہ اسلام کی بیخ کنی کرنے میں نہ صرف ناکام رہے، بلکہ انہیں ہر سطح پر مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ جو الحادی اور اباحتی مقاصد معاشی ترقی، سیاسی پالیسی اور ثقافتی تبدیلی سے بالواسطہ حاصل نہ کیے جا سکے، دہریت کی تحریک اب انہیں جعلی علوم، سیاسی دھونس اور معاشی دباؤ سے براہ راست حاصل کرنا چاہتی ہے۔
الحاد کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں لیکن ہماری ناقص رائے میں ان میں کم از کم تین اقسام اہم ہیں جن کو ہمارے کلچر اور معاشرے میں بھی زیر بحث لانا ضروری ہے۔ یہ اسباب (۱) عقلی، اور (۲) نفسی ہیں، اور یہ (۳) استعماری غلامی کے نتیجے میں بھی سامنے آئے ہیں۔

۱۔ الحاد کے عقلی اسباب

اگر الحاد کا مرکز ذہن ہو تو اس کے اسباب عقلی ہوتے ہیں، یا دوسرے لفظوں میں الحاد کے اسباب علمی اور عقلی ہوں تو اس کا مرکز ذہن ہوتا ہے۔ عقلی الحاد کا شجرہ نسب براہ راست تحریک تنویر سے مل جاتا ہے۔ جدید عہد انسانی ذہن کی ایک نئی ساخت سے پیدا ہوا ہے اور اس نئی ساخت کو مسلسل صیقل کر کے یہ عہد خود کو تسلسل دیتا ہے۔ جدید ذہنی ساخت میں ’’جاننے‘‘ کو مرکزیت حاصل ہے اور ’’ماننے‘‘ کا عمل معیوب و مطرود ہے۔ جس طرح بیداری اور نیند انسانی شعور کا فطری اور معمول کا وظیفہ ہے، اسی طرح ’’جاننا‘‘ اور ’’ماننا‘‘ بھی انسانی شعور کا فطری معمول ہے۔ ’’ماننے‘‘ کی قیمت پر ’’جاننے‘‘ کی پرورش کرنا جدید انسان کے ساتھ خاص ہے۔ الحاد ایک جدید موقف کے طور پر اس نئی شعوری ساخت سے جنم لیتا ہے۔ انسانی شعور کی ساخت، اس کے دائرہ? کار، اس کی فاعلیت اور انفعالیت کے نادرست تناطر اور علم کے بارے میں سرتاسر غلط موقف کا براہ راست نتیجہ الحاد اور دہریت کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ دراصل انسانی شعور کے بارے میں مجموعی طور پر غلط موقف ہی الحاد کی بنیاد میں کارفرما ہے۔ جدید شعور کا وحی اور امکان وحی سے ارادی انکار اس کی سرشت میں بہت پختہ ہو چکا ہے، اور جو تاریخی سفر میں فی نفسہ علم کے انکار کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ امکانِ علم کے خاتمے کی صورت حال میں جدید انسان میں عقیدے کے خلاف ایک سماجی اور سیاسی شدت پیدا ہو گئی ہے۔ کسی بھی طرح کے ’’مذہبی عقیدے‘‘ یا ’’نظریاتی موقف‘‘ کی موجودگی جدید ذہن اور عقل کی المناک نارسائی اور غیرمعمولی ناکامی کا استعارہ بن گیا ہے، کیونکہ جدید ذہن انسان سے عقیدہ چھین کر اسے کوئی ’’علم‘‘ دینے کے قابل بھی نہیں ہو سکا۔ اس مشکل سے نکلنے کے لیے جدید ذہن انسان کو پوسٹ ہیومن ہونے کی تھپکیاں دے رہا ہے۔ پوسٹ ہیومن کا سادہ مطلب انسان کو یہ باور کرانا ہے کہ اسے پیاس تو بالکل بھی نہیں لگتی، بس برگر کی بھوک ہی لگتی ہے۔ پوسٹ ماڈرنزم کے احوال میں جدید انسانی شعور ملبے کا ڈھیر ہے، اور قرائن یہی بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا کو بھی ملبے کا ڈھیر بنانے والا ہے۔ انسانی شعور کے فکری حاصلات اور علمی انتاجات تاریخی تحقق لازماً حاصل کرتے ہیں، اور جدید شعور کا یہ ملبہ تاریخی تحقق کی طرف تیز تر سفر میں ہے۔
جدید عقل وسائل شعور سے پوری طرح خودآگاہ ہے، اور ’’جاننے‘‘ کے عمل میں ان وسائل کا ناکافی ہونا اب عقل کے تجربے میں ہے۔ جدید عقل کو جس شے کے جاننے کا مسئلہ درپیش ہے یعنی کائنات، وہ اس کے حسی ادراک، وقوفی گھیر اور کمندِ فہم سے فزوں تر ہے، یعنی یہ کائنات اس کے تجربے اور ذہن دونوں کی سمائی سے زیادہ ہے۔ جدید انسان جاننے والے ’’فاعل‘‘ اور جانے گئے’’مفعول‘‘ کی دوئی میں رہتے ہوئے علم کے قیام میں ناکام ہو چکا ہے، اور اب اس پیراڈائم سے دستبردار ہو گیا ہے۔ جدید انسان کا آخری سہارا اب وقوف اور فہم ہے اور اب وہ فہم کی تقدیس سے فاعل و مفعول کی دوئی اور ذہن و شے کی ثنویت کو پاٹنے کی کوشش میں ہے جس کا نتیجہ ایک شدید اور گہری موضوعیت کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ جدید اور منہدم انسانی شعور خارج از ذہن کسی چیز کے امکانِ ادراک و علم ہی سے انکاری ہے۔
صرف جاننے کی پوزیشن پر کھڑے ہونے والے جدید شعور کا ایک بہت بڑا مسئلہ اقدار ہیں۔ خدا کو ماننے یا نہ ماننے کا موقف اپنی اصل میں ’’دی گئی اقدار‘‘ کو ماننے یا نہ ماننے کا مسئلہ ہے، اور ’’خدا‘‘ محض عنوان ہے۔ خدا کو ماننے کا ’’معنی‘‘ علمی نہیں ہے، اقداری ہے۔ خدا کا انکار یک بیک اقدار کا انکار بھی ہے۔ وجود باری کے انکار سے پیدا ہونے والے احوال میں انفرادی اور سماجی سطح پر اَہوائی پسند ناپسند انسان کی اخلاقیات بن جاتی ہے۔ ’’جاننے‘‘ کے عمل میں اگر خدا غیر اہم، غیرممکن اور غیر موجود ہے تو اقدار بھی غیر اہم، غیرممکن اور غیر موجود ہیں۔ خدا پر یقین اقدار ہی کی سربلندی ہے، اور اس یقین کا مطلب بہت سادہ ہے۔ خدا اور اقدار کو مان کر انسان یہ اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ نہ میں خود سے ہوں نہ خود کے لیے ہوں۔ اگر انسان اس غیرمذہبی اور فطری موقف کو مان لے کہ وہ نہ خود سے ہے، اور نہ خود کے لیے ہے، تو وہ ہدایت کا مخاطب بننے کی اہلیت سے متصف ہو جاتا ہے۔ جونہی انسان اس بات کا انکار کرتا ہے کہ وہ نہ خود سے ہے اور نہ خود کے لیے ہے، تو وہ اپنے انسان ہونے سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ جدیدیت انسان کے عین اسی وجودی موقف کی جڑ کاٹ دیتی ہے اور اسے ایک خود مختار و خودمکتفی وجود قرار دیتی ہے، اور اس کا انسان رہنا اور انسان ہونا ممکن نہیں رہتا۔
’’جاننا‘‘ انسانی شعور کی فاعلیت ہے اور ’’ماننا‘‘ اس کی انفعالیت۔ اگر ’’جاننا‘‘ انسانی شعور کا واحد فعل قرار دے دیا جائے، اور ’’ماننے‘‘ کی انفعالیت سے انکار کر دیا جائے تو انسانی شعور کی اساس فہم پر منتقل ہو جاتی ہے۔ فہم اساس شعور بھی جدید ذہن ہی کی ایک قسم ہے، جو اپنے لب لباب میں مذہبی نہیں ہے۔ فہم جدید ڈوبتے شعور کو تنکے کا سہارا ہے۔ ’’فہم‘‘ کے غلبے میں انسانی شعور کی انفعالیت کا انکار آسان ہو جاتا ہے، اور اقدار کی قبولیت اور ان سے تعلق کمزور پڑ جاتا ہے، یہاں تک کہ ’’فہمی شعور‘‘ جلد یا بدیر اقدار سے منقطع ہو جاتا ہے۔ ’’جاننے‘‘ کا عمل اور ’’فہم‘‘ کی سرگرمی انسانی ذہن کو مکمل طور پر نیچرلائز کر دیتی ہے اور وہ مذہب کے ماورائی معانی کا مخاطب نہیں بن پاتا۔ اگر ’’جاننے‘‘ والے ذہن اور ’’فہم‘‘ میں نسبتیں گہری ہو جائیں تو ایسا شعور ایک ململی ردائے عقلی کی پٹی میں ملفوف ہو جاتا ہے جس میں خبرِ غیب بار نہیں پا سکتی۔ فہم کا بنیادی مقصد حیات ارضی میں موضوعیت اور معروضیت کی دوئی سے پیدا ہونے والی کھائی کو پاٹنا اور شعور کی سرگرمی کو بامعنی بنانا ہے۔ ’’فہم‘‘ کا تعلق تجربی موضوعیت اور شہودی معروضیت سے ہے، اور غیب سے غیر متعلق ہے۔ اس لیے فہم پر زور دینے والا مذہبی ذہن بھی دراصل جدید ذہن ہی کی ایک شکل ہے۔
خالص عقلی اور علمی بنیادوں پر الحاد تک پہنچنے والے ذہن اور افراد ہمارے ہاں بہت کم اور خال خال ہیں، کیونکہ الحادی علمی نتائج تک پہنچنے کے لیے ذہن کی آزاد فعلیت لازمی ہے۔ ہمارے ہاں تو فعلیت ہی نہیں ہے، آزاد فعلیت کیا ہو گی۔ لیکن بہرحال ایسے الحادی ذہن کو "انگیج"کیا جا سکتا ہے۔ اس کی بنیاد خدا کے موجود یا غیر موجود ہونے کے ’’عقلی‘‘ دلائل نہیں ہوں گے بلکہ اس کی بنیاد انسانی شعور کی ساخت، اس کے مجموعی ادراکی اور علمی وسائل، شعور اور علم کا باہمی تعلق اور شعور کے داخلی اور فطری اقتضآت ہوں گے۔ اگر انسانی شعور کے کل وسائل کو حتمی تو کجا کافی بھی ثابت کیا جا سکے تو الحاد کا موقف قابل غور ہو سکتا ہے۔ ہماری گزارش ہیکہ ’’علم‘‘ کے حصول کے لیے انسانی شعور کے وسائل حتمی تو یقیناًنہیں ہیں ان کو کافی ثابت کرنا بھی ممکن نہیں۔ پھر جدید ذہن کے ’’کارناموں‘‘ کا اس کے اپنے قائم کردہ علمی تناظر میں تجزیہ بھی ضروری ہے۔ جدید ذہن اپنے انکاری علم، آلاتی اخلاقیات اور فطرت ارضی پر غلبے سے جس طرح کی دنیا تشکیل دے چکا ہے وہ انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہی، اور اس کے لیے پوسٹ ہیومن نامی ایک نئی آرگنزم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو حیوان اور مشین کا مجموعہ ہو گی۔ جدید ذہن اپنی ہی بنائی ہوئی جنت ارضی میں محصور ہو کر وسائل حیات کو بھی معرض خطر میں ڈال چکا ہے۔ جدید ذہن کے کارنامے اور کرتوت اس کے کھاتے میں رکھ کر ہی اس کے موقف کو زیربحث لایا جا سکتا ہے۔ ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہمیں جدید ذہن کے کارنامے تو ازبر ہیں، کرتوت معلوم نہیں، اس لیے بات شروع ہونے سے پہلے ہی دھونس میں آ جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں روایتی عقلی علوم کے خاتمے اور جدید عقلی اور نظری علوم سے لاتعلقی کی وجہ سے الحاد کا سامنا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ جدید الحادی عقل کا سامنا جدید مذہبی عقل سے ہی کیا جا سکتا ہے، اور مذہبی مرادات پر جدید عقل کی نظری اور فکری تشکیل ہمارے ہاں نامعلوم ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ ہماری متداول مذہبی روایت عقل اور علم کی دشمنی کو مذہبی ذمہ داری کے طور پر فروغ دے رہی ہے، اور جدید الحادی عقل کے سامنے کھڑے ہونے کی داخلی کوششوں کو نہ صرف شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے بلکہ ان کے خلاف صف آرا ہے۔ اس صورت حال میں جدید عقلی الحاد وبا کی طرح پھیل رہا ہے اور مسلمانوں کے لیے اس کا سامنا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

۲۔ الحاد کے نفسی اسباب

اگر الحاد کے اسباب نفسی ہوں تو اس کا مرکز طبیعت ہوتی ہے، اور الحاد کے نفسی اسباب پر ہمارے ہاں گفتگو معدوم ہے۔ عقلی اسباب کی نسبت جدید عہد میں الحاد کے نفسی اسباب کی کثرت ہے۔ ان کا تجزیہ دقتِ نظر کا متقاضی ہے اور ان کا توڑ بھی زیادہ مشکل ہے، کیونکہ عقلی الحاد صرف ذہنی ہوتا ہے جبکہ نفسی الحاد وجودی ہے۔ نفسی الحاد کے ’’وجودی‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ذہن اور شعور کے احوال انکار پر ہوتے ہیں اور نفس کے احوال بغاوت پر ہوتے ہیں، اور ارادہ اہوا کے تابع ہوتا ہے۔ مناسب تیاری کے بغیر، مذہبی آدمی کے لیے انکار اور بغاوت کا بیک وقت سامنا کرنا مشکل ہے۔ الحاد کے نفسی احوال میں علم اور اقدار کا التباس بہت عام ہے کیونکہ یہ بنیادی طور پر ایک(سائیکک کنڈیشن) ہے۔
الحاد کے نفسی اسباب کا شجرہ نسب براہِ راست پوروپی رومانویت کی تحریک سے مل جاتا ہے۔ ہمارے ہاں رومانویت کی تحریک کے جو اثرات مرتب ہوئے، وہ کسی علمی اور فکری تجزیے کا موضوع نہ بن سکے۔ مغرب میں پیدا ہونے والی رومانوی تحریک کے اظہارات صرف ادب اور فنون وغیرہ تک محدود نہیں ہیں۔ مغربی رومانویت کے طاقتور ترین مظاہر یورپ کے سیاسی عمل میں سامنے آئے ہیں۔ تحریک تنویر سے جڑے ہوئے سیاسی عمل میں مرکزیت ’’ریفارم‘‘ کو حاصل تھی، جبکہ رومانویت سے جڑے ہوئے سیاسی عمل میں مرکزیت ’’انقلاب‘‘ کو حاصل ہے۔ ’’ریفارم‘‘ کے لیے عقل کی ضرورت پڑتی ہے، جبکہ ’’انقلاب‘‘ کے منہ زور اور سینہ زور طبیعت اور بے دماغی کافی ہوتی ہے۔ تحریک تنویر ماضی اور روایت سے بنی ہوئی دنیا کو ’’ریفارم‘‘ کے عمل سے ختم کرنا چاہتی تھی، جبکہ رومانویت اس کو ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہیں کرتی اور ’’انقلاب‘‘ کے ایک ہی ہلے میں اسے مٹا دینا چاہتی تھی۔
اس تناظر میں دیکھیں تو ہم اپنے استعماری تجربے کی وجہ سے اس وقت ایک بہت بڑے تہذیبی تذبذب اور علمی اشکال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں ’’مذہبی سیاست‘‘ کی پوری شناخت، عمل اور طریق? کار مغرب کی سیاسی رومانویت کا انتہائی گھٹیا چربہ ہے۔ جمہوریت، تنظیمی ریاست، قانون سازی، حقوق انسانی کے جدید تصورات، سیاسی ریفارم، معاشی ترقی وغیرہ مغرب کی غیر رومانوی سیاسی فکر کے نتائج اور اس کا ایجنڈا ہیں، جبکہ انقلاب مغربی سیاسی رومانویت کا معبد اعظم ہے۔ ہمارے ہاں بھی مذہبی سیاست بنیادی طور پر ’’تحریکی‘‘ اور ’’انقلابی‘‘ نوعیت کی ہے، جو مکمل طور پر مغربی رومانویت کی نقالی ہے۔ ہمارے ہاں مذہبی سیاسی رومانویت نے تاریخی شعور، دینی روایت اور عقلی علوم کا بالکل صفایا کر دیا ہے، اور پوری دینی روایت کی عامیانہ فہم اور استعماری رومانوی جدیدیت پر تشکیل نو کی ہے جس نے دینی روایت کے تہذیبی تناظر کو بالکل فنا کر دیا ہے۔ ہمارے ہاں ’’مذہبی‘‘ بنیادوں پر جمہوریت کے خلاف سامنے آنے والے زیادہ تر مواقف سیاسی رومانویت سے حاصل ہوئے ہیں۔ ان کی بنیاد نہ استنادی ہے اور نہ عقلی اور ان کا مذہبی یا غیر مذہبی ہونا محض التباس ہے۔ رومانوی الاصل ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاں ’’مذہبی سیاست‘‘ کا پورا مبحث اخلاقی بیانات کا مچرب مجموعہ، تاریخی شعور سے عاری اور سیاسی ادراک سے بالکل تہی ہے۔ ’’مذہبی سیاسی کلچر‘‘ میں پروان چڑھنے والی طبیعت الحاد کا تر نوالہ ہوتی ہے۔ رومانوی مذہبی تصورات پر کیے گئے سیاسی تجربے میں ناکامی کا غالب رجحان الحاد کی طرف پھر جاتا ہے۔
تحریک تنویر، مذہب اور خدا کے مذہبی تصور کے روبرو عقل کے موقفِ انکار کو سامنے لاتی ہے۔ رومانویت انکار نہیں ہے۔ تنویری عقل نے خدا کے انکار کے بعد خود خدا کی جگہ پر قبضہ جمانے کی کوشش کی تھی اور یہ ابھی سکون سے بیٹھنے بھی نہ پائی تھی کہ اس کے اپنے حرم میں بلوہ ہو گیا۔ رومانویت دراصل تنویری عقل کا انکار نہیں، اس کے خلاف بغاوت ہے۔ رومانویت مجسم بغاوت ہے جس میں انکار بائی ڈیفالٹ شامل ہے۔ رومانویت کی وجودی پوزیشن پر کھڑے ہو کر مذہب تو دور کی بات ہے عقل کا اثبات بھی ممکن نہیں ہوتا۔ رومانویت کسی عقل، دلیل، روایت، کسی اخلاقیات، کسی فلسفہ? حیات، کسی تاریخ، کسی تقدیر وغیرہ کو نہیں مانتی، پس یہ اپنا راستہ چاہتی ہے، کیونکہ اس کے نزدیک ’’ہونے‘‘ کا سب سے بڑا اظہار غضب (wrath) ہے۔ رومانویت کی سرشت میں فنا گندھی ہوئی ہے اور یہ اپنی فنا سے پہلے انسان کو، اس کے معاشرے کو، تاریخ کو، فطرتِ ارضی کو، اور بس چلے تو پوری کائنات کے بخیے اْدھیڑ کے ان کو اپنی مرضی کے مطابق نئے سرے سے بنانا چاہتی ہے تاکہ اپنے نئے روپ میں یہ سب چیزیں اس کے سامنے سر بسجود ہو جائیں۔ رومانویت نفس انسانی کی ایک ایسی نئی تشکیل ہے جس میں عبد و معبود یکجا ہے، یعنی رومانوی انسان کی تجلیل ذات ایسی ہے کہ وہ ساجد و مسجود خود ہی ہے، اور ’’عظمت انسانی‘‘ کے لیے ’’شہید‘‘ ہونا اس کی بنیادی رسومیات میں شامل ہے۔
رومانویت اپنا تحقق عمل پیہم میں حاصل کرتی ہے جو سونامی صفت ارادے سے تحریک پاتا ہے اور آخر کار انقلاب پر منتہی ہوتا ہے۔ رومانویت وجودِ انسانی میں آئے ہوئے مستقل بھونچال کی طرح ہے اور یہ خود میں جل کر اور اپنے گردوپیش کو جلا کر اپنا تحقق کرتی ہے۔ رومانویت کا چیزوں سے تعلق جاننے یا فہم وغیرہ کا نہیں ہے بلکہ یہ تعلق براہِ راست غلبے اور فنا کا ہے۔ عقل، مذہب، اخلاقیات، فلسفہ وغیرہ رومانوی ترتیب میں کوئی معنی نہیں رکھتے۔ رومانویت میں راستہ پہلے سے نہیں ہوتا، ارادے سے پیدا ہوتا ہے اور علم بھی ارادے سے پھوٹتا ہے۔ ادبی اور ثقافتی رومانویت نفسی خود مختاری کی علم بردار ہے جبکہ سیاسی رومانویت انقلاب پسند ہوتی ہے۔ رومانوی تصورات پر تشکیل پانے والی انسانی شخصیت مذہب یا خدا کا انکار نہیں کرتی کیونکہ انکار بھی اسے اہمیت دینے کے مترادف ہے۔ عقلی الحاد ایک پہلے سے موجود اثبات کے روبرو انکار کا رویہ ہے۔ رومانویت اثبات و انکار ہی سے لا تعلق ہوتی ہے۔ عصر حاضر میں الحاد اور دہریت کا غالب سانچہ رومانویت ہے جسے دنیا کو تبدیل کرنے کے عظیم الشان سائنسی اور سیاسی منصوبے کی پشتیبانی حاصل ہے۔ رومانوی آدمی فطرت اور تاریخ کے خلاف جنگ میں خود کو ایک بطل جلیل کے طور پر دیکھتا ہے اور مذہب وغیرہ کو خاطر میں لانا بھی کسر شان سمجھتا ہے۔
رومانوی الحاد کے نفسی اسباب میں ایک بہت بڑی وجہ فطری اخلاقیات کی مرکزیت ہے۔ یہ اخلاقیات بوقت ضرورت رومانوی ارادے کے لیے دستانے کا کام کرتی ہے، اور دیکھنے میں خوشنما، اپنی اصل میں آلاتی اور مذہب پر ضرب میں کاری ہوتی ہے۔ تحریک تنویر نے مذہب کے خاتمے اور اس کے تصورِ خدا سے نجات کے لیے ایک افسانوی ’’الٰہ‘‘ کا تصور عام کیا تھا، اور حق و باطل کے مذہبی تصورات ہی کا خاتمہ کر دیا تھا۔ رومانویت نے مذہب کو اخلاقیات کا ناقص مجموعہ قرار دیا اور اس کے مقابلے میں ایک فطری اور آفاقی اخلاقیات کا تصور دیا۔ تنویری عقل، عقلی تصورات کو مذہبی تصورِ خدا پر حکم سمجھتی ہے۔ رومانوی انسان فطری اخلاقی تصورات کو مذہبی تصورِ خدا پر حکم خیال کرتا ہے۔ دونوں کا مقصد مذہب اور مذہبی تصور خدا کو رد کرنا ہے۔ گزارش ہے کہ جدید علمی مواقف کی رسائی محدود ہے، اور وہ مذہب پر کاری ضرب لگانے کے باوجود اسے مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ لیکن جدید رومانوی اخلاقیات اپنے ہر ہر پہلو میں زیادہ مؤثر بھی ہے اور مسموم بھی۔ جدید انسان پر رومانوی اخلاقی شعور کا غلبہ انکاری علم سے زیادہ خطرناک ہے، اور مذہب اپنی جدید تعبیرات میں بہت تیزی سے اس کے سامنے ہتھیار ڈال رہا ہے۔ اخلاقی شعور ’’درست‘‘ اور ’’غلط‘‘ میں ظاہر ہوتا ہے، اور مذہب میں یہ شعور ’’حق‘‘ اور ’’باطل‘‘ کے تصور کے تابع ہے۔ اگر حق و باطل کا اساسی شعور باقی نہ رہے، اور اخلاقی شعور کا غلبہ ہو جائے تو ’’دجل‘‘ کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ مذہبی شعور میں حق و باطل کا دائرہ مابعد الطبیعیاتی، تہذیبی اور تاریخی ہے۔ فطری اخلاقیات رومانوی شعور کی مابعد الطبیعیات ہے۔ رومانوی شعور نے اخلاقیات کو تہذیبی اور تاریخی دائروں تک وسعت دے کر مذہب کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا ہے، اور الحاد ایک ثقافتی مظہر کے طور پر عام انسانی زندگی پر مؤثر ہو گیا ہے۔ رومانوی الحاد اور دہریت سے گفتگو کے لیے مذہبی آدمی کو نہایت تنگ اور محدود جگہ میسر ہے، جو ہمارے خیال میں یہ سوال ہے کہ ’’انسان ہونے سے کیا مراد ہے؟‘‘ رومانوی دہریت میں فطری اخلاقیات ایک نہایت پیچیدہ مسئلہ کے طور پر شامل ہے اور اس سوال کے ضمن میں رومانوی انسان کے نفسی احوال اور اس کی اخلاقیات کو زیربحث لایا جا سکتا ہے۔
الحاد کے عقلی اور نفسی اسباب کا تجزیہ کرنے کے بعد ایک اعادہ ضروری ہے۔ عقلی الحاد کا سامنا کرنے کے لیے نظری علوم ضروری ہیں، تاکہ وسائل فراہم ہوں اور یہ بھی معلوم ہو کہ لڑائی کا میدان کہاں ہے۔ اب تو ہماری حالت یہ ہے کہ لڑائی کے لیے نکلتے ہیں اور سیدھے گھر کے تہہ خانے میں پہنچ جاتے ہیں اور اپنے ہی نعروں اور ان کی گونج کو سن کر فاتحانہ لوٹتے ہیں۔ اسی طرح نفسی الحاد کا سامنا کرنے کے لیے عرفانی سلوک کی نئی ترتیب لازم ہے کیونکہ نفسی الحاد کا مقابلہ صرف عقلی علوم سے نہیں کیا جا سکتا۔ نفسی اور رومانوی الحاد میں ذہن اور طبیعت کو بیک وقت مخاطب کرنا ضروری ہے جس کا واحد ذریعہ عرفانی سلوک ہے۔ نظری علوم کے بغیر عقلی الحاد کا اور عرفانی سلوک کے بغیر نفسی الحاد کا مقابلہ کرنے کا منصوبہ محض خام خیالی ہے۔ ہمارے ہاں جدید تعلیم اور دین کی جدید استعماری تعبیرات نے جس طرح عقلی الحاد کو فروغ دیا ہے، بعینہ? ہمارے ثقافتی تصوف اور شعبدہ جاتی سلوک نے نفسی الحاد اور شرک کو وبا کی صورت دے دی ہے۔ اور ان کا تجزیہ اور تزکیہ لازم و ملزوم ہیں۔ یہاں ضمناً ایک بات عرض کرنا ضروری ہے کہ رومانویت میں الحاد اور شرک کے امکانات یکساں موجود ہوتے ہیں۔ جدید عقل نے تو صرف شعور پر غلط موقف کو فروغ دیا ہے،جبکہ رومانویت شعور اور وجود دونوں کے بارے میں غلط موقف پر کھڑی ہوتی ہے۔ عرض ہے کہ جدید دنیا کے گھمسان میں سرمایہ ملت کی نگہبانی کا کام آج بھی درپیش ہے، اور ہم اس کی تیاری سے بالکل غافل ہیں۔

۳۔ استعماری غلامی بطور منبع الحاد

غلامی ایک تاریخی ادارے کے طور پر یہاں زیربحث نہیں ہے۔ جدید استعماری عہد میں غلامی اور محکومی میں فرق کرنا ضروری ہے۔ سیاسی طاقت سے مغلوبیت، محکومی ہے، اور محکومی کا شعور تاریخی اور سیاسی ادراک بن کر مزاحمت کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ محکومی ایک سیاسی مظہر ہے جبکہ غلامی ایک تہذیبی مظہر ہے۔ غلامی میں محکومی کا شعور باقی نہیں رہتا اور محکومی ایک مفید مطلب معروف کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ مزاحمت کی شرط اول محکوم کی تہذیبی شناخت کا باقی رہنا ہے۔ محکومی میں شناخت کے تہذیبی وسائل علمی روایت سے فراہم ہوتے ہیں۔ ان وسائل سے انقطاع غلامی کا بڑا سبب بنتا ہے۔ ایسی صورت حال میں محکوم حاکم سے شناخت کی عینیت پیدا کر کے غلامی میں داخل ہو جاتا ہے۔ حاضر و موجود سیاسی طاقت کا جبر محکوم میں تاریخی انقطاع کا باعث بنتا ہے اور تاریخ کسی ولولے کا منبع نہیں رہتی بلکہ ایک "گِلٹ "بن جاتی ہے۔ دینی روایت سے ملنے والے علمی شعور اور تاریخی شعور کا بیک وقت خاتمہ غلامی کا باعث بنتا ہے۔
اس میں اہم پہلو یہ ہے کہ انسانی معاشرہ جن اقدار پر قائم ہوتا ہے، سیاسی طاقت اس معاشرے کی شہر پناہ اور ان اقدار کی محافظ ہوتی ہے۔ سیاسی طاقت ختم ہوتے ہی بیرونی طاقت کے غلبے میں معاشرہ اقدار کے بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر یہ بحران گہرا ہو تو محکوم معاشرہ بیرونی سیاسی طاقت سے تہذیبی عینیت پیدا کرنا شروع کرتا ہے۔ برصغیر میں مسلم معاشرہ استعماری دور میں اپنی تہذیبی شناخت اور ورلڈ ویو کو باقی نہیں رکھ سکا۔ اس وجہ سے مسلم ذہن تاریخی اور دینی روایت کے وسائل سے محروم ہو کر عصری تاریخ سے بھی کوئی بامعنی تعلق پیدا نہ کر سکا۔
عقیدے اور اقدار کا تاریخ اور معاشرے سے تعلق دو سطحوں پر ظاہر ہوتا ہے، ایک کردار میں اور دوسرے علم میں۔ کردار قدر اور تاریخ میں فاصلہ نہیں پیدا ہونے دیتا، اور علم ذہن کو تاریخ اور معاشرے سے حالت انکار میں جانے پر روک لگاتا ہے۔ ہمارے ہاں روایتی علوم کے خاتمے اور جدید علوم سے لاتعلقی نے ہمارے عقیدے اور اقدار کے پورے نظام کو متحجر بنا دیا ہے۔ عقیدے کی حفاظت بھی علوم کی زندہ روایت میں رہ کر ممکن ہوتی ہے۔ اقدار اگر تاریخ سے غیرمتعلق ہو جائیں تو کلچر کے میوزیم میں داخل ہو جاتی ہیں۔ ان کو صرف کردار اور نظری علوم کے ذرائع سے ہی تاریخ سے متعلق رکھا جا سکتا ہے۔ دینداری کے مظاہر میں کمی اور نظری علوم کے خاتمے کی صورت حال میں جدید تعلیم نے الحاد کے راستے صاف کر دیے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہماری اقدار اور تاریخ میں فاصلہ بڑھ رہا ہے، اور ہماری دینی اقدار عصری دنیا کے لیے اجنبی ہوئی جاتی ہیں۔ جب اقدار اور تاریخ میں فاصلہ زیادہ ہو جائے تو اسے پاٹنے کے لیے ثقہ علوم اور کردار کی ضرورت شدید ہو جاتی ہے۔ ہمیں الحاد سے مقابلے کے لیے ان دونوں پہلوؤں پر غور کرنے اور لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
(بشکریہ wujood.com)

دینی مدارس میں یوم آزادی کی تقریبات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اس سال 14 اگست کی تقریبات میں دینی مدارس کی پیش رفت اور جوش و خروش کا مختلف مضامین اور کالموں میں بطور خاص تذکرہ کیا جا رہا ہے اور یہ واقعہ بھی ہے کہ اس بار دینی مدارس میں یوم آزادی اور قیام پاکستان کے حوالہ سے زیادہ تقریبات منعقد کی گئی ہیں اور جوش و خروش کا پہلے سے زیادہ اظہار ہوا ہے جس کے اسباب پر مختلف پہلوؤں سے گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔ میرا ایک عرصہ سے معمول ہے کہ قومی سطح پر منائے جانے والے دنوں کی تقریبات میں کسی نہ کسی حوالے سے ضرور شریک ہوتا ہوں اور عنوان کی مناسبت سے اپنے خیالات و تاثرات بھی پیش کرتا رہتا ہوں۔ لیکن اس سال اس کا تناسب بہت زیادہ رہا کہ 12 اگست سے 15 اگست تک نو کے لگ بھگ تقریبات اور نشستوں میں یوم آزادی اور قیام پاکستان کے موضوع پر تفصیلی اظہار خیال کا موقع ملا۔ 
سردست اس بحث کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں جو دینی مدارس کی اس طرف پہلے سے زیادہ توجہ کے اسباب کے بارے میں بعض مضامین میں کی گئی ہے۔ 
عام طور پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ چونکہ دیوبندی مکتب فکر کے بعض بڑے اکابر نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی، اس لیے ان سے عقیدت رکھنے والے دینی مدارس ایسی تقریبات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ حتیٰ کہ بعض حضرات کی طرف سے تعریضاً بھی یہ کہا گیا ہے کہ اب ان مدارس کو ریاستی دباؤ بڑھنے پر اچانک ’’یوم پاکستان‘‘ یاد آگیا ہے۔ میرے خیال میں یہ تجزیہ درست نہیں ہے، اس لیے کہ قیام پاکستان کے فورًا بعد اس کی مخالفت کرنے والے سرکردہ علماء کرام بالخصوص ان کے دو بڑے راہ نماؤں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی طرف سے واضح طور پر کہہ دیا گیا تھا کہ یہ اختلاف پاکستان کے قیام سے پہلے تھا جبکہ پاکستان بن جانے کے بعد یہ اختلاف باقی نہیں رہا۔ مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے تو یہاں تک فرما دیا تھا کہ مسجد تعمیر ہونے سے پہلے اس کے نقشہ اور سائز کے بارے میں اختلاف ہو جایا کرتا ہے لیکن جب مسجد بن جائے تو وہ جیسے بھی بنے مسجد ہی ہوتی ہے اور اس کا احترام سب کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ 
جبکہ اس کے بعد مسلسل سات عشروں کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی سا لمیت و استحکام اور اسے اپنے مقاصد کے مطابق ایک اسلامی رفاہی ریاست بنانے کی جدوجہد میں وہ حلقے بھی برابر کے شریک چلے آرہے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان بنانے کے خلاف تھے۔ اور ان کی طرف سے کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی جو اس کے منافی ہو۔ خود مجھ سے ایک محفل میں سوال کیا گیا کہ قیام پاکستان کی حمایت اور مخالفت کے اختلاف کے بارے میں آپ کا موقف کیا ہے؟ میں نے اس پر عرض کیا کہ میری پیدائش پاکستان بن جانے کے ایک سال بعد ہوئی ہے اس لیے میں اپنی ولادت سے پہلے کے تنازعات میں فریق نہیں بننا چاہتا۔ اس پر مجھے امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا ایک قول یاد آیا کہ ان سے کچھ لوگوں نے صحابہ کرامؓ کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے میں ان کا موقف دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کو ان میں سے کسی کے خون سے آلودہ ہونے سے بچا لیا ہے تو ہم اپنی زبانوں کو بھی ان میں سے کسی کے بارے میں لب کشائی سے محفوظ رکھیں گے۔ 
اس لیے مذکورہ بالا تبصرہ و تجزیہ سے اتفاق نہ کرتے ہوئے میں ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا جو میرے خیال میں زیادہ قرین قیاس ہے ۔ وہ یہ کہ ہمارے مسلکی حلقوں میں دن منانے کو ویسے ہی ناپسند کیا جاتا ہے، اس لیے کہ دینی حوالوں سے کوئی نیادن منایا جائے یا نیکی کے کسی کام کے لیے کسی دن کو مخصوص کر کے اسے شرعی حیثیت دے دی جائے تو وہ بدعت ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ دین کے معمولات میں اضافے کا موجب بن جاتا ہے، جبکہ ایسے کسی کام کو فضیلت اور ثواب کے عنوان سے شرعی حیثیت نہ دی جائے تو وہ محض رسم و رواج کا درجہ رکھتا ہے۔ لیکن یہ فرق عام طور پر نہ سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی اس کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ چنانچہ ہمارے بزرگوں نے قرآن و سنت میں منصوص شرعی ایام سے ہٹ کر دینی حوالہ سے کوئی نیا دن منانے کو پسند نہیں کیا۔ حتیٰ کہ کچھ عرصہ قبل بعض حلقوں کی طرف سے حضرات خلفائے راشدینؓ کے ایام وفات سرکاری طور پر منائے جانے کا مطالبہ کیا گیا تو والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے اس سے اختلاف کیا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح لوگ اسے دین کا حصہ سمجھنے لگیں گے جو کہ درست نہیں ہے۔ 
میرے خیال میں دینی مدارس کے قومی ایام میں اب تک زیادہ دلچسپی نہ لینے کی اصل وجہ یہ ہے۔ لیکن اب چونکہ اسے غلط معنوں میں لیا جا رہا ہے اور دینی مدارس کے خلاف مہم میں اسے استعمال کیا جا رہا ہے اس لیے دینی مدارس اس تاثر کو زائل کرنے کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ جبکہ اگر ان ایام کو شرعی دائرے میں شامل کرنے سے گریز کیا جائے اور قومی ضروریات کے دائرے میں رکھ کر ان کا اہتمام کیا جائے تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے، بلکہ ان کی افادیت ان تحفظات سے بہرحال زیادہ ہے جن کے باعث دینی مدارس کی دلچسپی اس بارے میں اب تک کم چلی آرہی ہے۔

قرآن مجید کے قطعی الدلالۃ ہونے کی بحث ۔ حافظ محمد زبیر صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر عرفان شہزاد

ماہنامہ الشریعہ کی جون 2016 کی اشاعت میں حافظ محمد زبیر صاحب کا مضمون ’’قران مجید کے قطعی الدلالۃ ہونے کی بحث‘‘ شائع ہوا۔ یہ مضمون ان کے 24اکتوبر، 2015 کو المورد کے زیر انتظام ویبینار (webinar) سے خطاب کی تحریری صورت تھی۔راقم کو اس ویبینار میں حافظ صاحب کے خطاب کو براہ راست سننے کا موقع بھی ملا تھا۔ ذیل میں ہم حافظ صاحب کے مضمون پر اپنا تبصرہ پیش کرتے ہیں۔ 
قرآن کے قطعی الدلالۃ ہونے کی بحث نہایت اہم موضوع ہے۔ قرآن کی حیثیت پر یہ براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ 
قرآن اپنے بارے میں کہتا ہے کہ وہ میزان اور فرقان ہے:
اَللّٰہُ الَّذِی اَنْزَلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَ (42:17)
’’اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری، یعنی میزان نازل کی ہے۔‘‘
تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلیٰ عَبْدِہٖ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)
’’بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کے درمیان امتیاز کر دینے والی کتاب اتاری تاکہ وہ اہل عالم کے لیے ہوشیار کر دینے والا بنے!‘‘
میزان اور فرقان ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ اسی کے ذریعے متنازع امور کے فیصلے کیے جائیں گے:
وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَمُھَیْمِنًا عَلَیْہِ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآاَنْزَلَ اللّٰہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَھُمْ عَمَّاجَآءَ کَ مِنَ الْحَقِّ ط لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجًا ط وَلَوْشَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآاٰتٰکُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ ط اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْن (5:48)
’’اور ہم نے، (اے پیغمبر) تمھاری طرف یہ کتاب نازل کی ہے، قول فیصل کے ساتھ اور اْس کتاب کی تصدیق میں جو اِس سے پہلے موجود ہے اور اْس کی نگہبان بنا کر، اِس لیے تم اِن کا فیصلہ اْس قانون کے مطابق کرو جو اللہ نے اتارا ہے اور جو حق تمھارے پاس آ چکا ہے، اْس سے ہٹ کر اب اِن کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔ تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک شریعت یعنی ایک لائحہ عمل مقرر کیا ہے۔ اللہ چاہتا تو تمھیں ایک ہی امت بنا دیتا، مگر( اْس نے یہ نہیں کیا)، اِس لیے کہ جو کچھ اْس نے تمھیں عطا فرمایا ہے، اْس میں تمھاری آزمائش کرے۔ سو بھلائیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ تم سب کو (ایک دن) اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمھیں بتا دے گا سب چیزیں جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘
یعنی دینی معاملات میں تمام نزاعات، اختلاف، احتمالات، اور مخمصات کے فیصلہ کے لیے آخری اور فیصلہ کن حیثیت قرآن کی ہے۔ لیکن اگر قرآن محتمل الوجوہ ہے، اس کی آیات کے ایک سے زیادہ مفاہیم ہوتے ہیں، جو باہم متخالف بلکہ متضاد بھی ہو سکتے ہیں، توقرآن کی یہ حیثیت کہ وہ میزان اور فرقان ہے، ختم ہو جاتی ہے۔ بھلا ایک جج یا قاضی جس کی بات ہی قطعی نہ ہو، اس کی بات کے ایک سے زیادہ مفاہیم نکالے جا سکتے ہوں، وہ کیسے کسی بھی تنازع یا اختلاف کا فیصلہ کر سکتا ہے۔فریقین اس کے بیان کی اپنی اپنی توجیہات کر کے اپنے اپنے مطالب نکالیں گے اور کوئی فیصلہ ہو نہ پائے گا۔ 
حافظ صاحب کی ساری گفتگو کا مرکزی نکتہ ہمارے فہم کے مطابق یہ ہے :
قرآن کا کچھ حصہ ظنی الدلالۃ ہے اور وہ رہے گا۔ اس کی وجہ انسانی فہم کا حقیقتِ مطلقہ کے حصول کی نارسائی اور انسانی زبان کے ابلاغی نقائص ہیں۔ تاہم وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ قرآن اللہ کے نزدیک قطعی الدلالۃ ہے اور اس کے رسول کے نزدیک بعد از بیان قطعی الدلالۃ ہے۔
اگر قرآن کی کچھ آیات قطعی الدالالۃ ہیں اور کچھ ظنی الدلالۃ ہیں ،تو چونکہ یہ تعین کوئی حتمی طور پر کر نہیں سکتا کہ قرآن کی کون سی آیات قطعی ہیں اور کون سے ظنی، اس لیے جب بھی کسی مسئلے کے تصفیے کے لیے قرآن کی آیت پیش کی جائے گی یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تو ظنی الدلالۃ ہے۔ اس میں تو دیگر احتمالات پائے جاتے ہیں۔بھلا وہ بات جس کے ایک سے زیادہ مفاہیم ہوں وہ جج اور قاضی کیسے بن سکتی ہے؟
ہم سمجھتے ہیں کہ حافظ صاحب کی ساری بحث محض اعتباری یا اضافی نوعیت کی بنیادوں پر استوار ہے۔قرآن اگر خدا کے نزدیک قطعی الدلالۃ ہے تو درحقیقت قطعی الدلالہ ہی ہوا۔ یہ تو مخاطبین کا نقصِ فہم اور زبان کے ابلاغی مسائل ہیں جس کی وجہ سے احتمالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ حافظ صاحب نے احتمالات کے پیدا ہونے کی وضاحت میں جن فلسفیانہ دلائل کا سہارا لیا ہے، ان کے مطابق تو کچھ بھی قطعی نہیں رہتا۔ تشکیکیت اور سوفسطائیت کے مطابق تو ہم جو کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، وہ بھی محض اعتباری ہوتا ہے۔ حقیقت میں وہ کیا ہے، اس کا ادراک بھی انسانی ذہن کے لیے ناقابلِ رسا ہے۔اس پہلو سے دیکھیے تو برٹرنڈ رسل کے مطابق ریاضی بھی قطعی نہیں،اعداد بھی قطعی نہیں۔ اسی طرح الفاظ اور معنی کے ربط میں بھی اتنے ابہام پیدا کر دیے گئے ہیں کہ زبان بذاتِ خود ظنی ہو جاتی ہے۔ اس لحاظ سے پورے قرآن کو ظنی سمجھنا ہی درست نتیجہ ہو سکتا ہے۔ لیکن پورے قرآن کو ظنی ماننے والوں کوبھی حافظ صاحب راہ صواب پر نہیں مانتے ۔ اس بدیہی نتیجے سے بچنے کے لیے حافظ صاحب نے یہ حل نکالا ہے کہ جن آیات کے معنی اور مفہوم پر مفسرین کا اجماع ہے اور جن کے ایک ہی معانی اور مفاہیم سمجھے گئے ہیں، وہ تو قطعی ہیں اور جن مفاہیم کے تعین میں ان کے ہاں اختلاف ہوا ہے، وہ آیات ظنی ہیں۔ لیکن کیا سب مفسرین کا فہم بھی ایک احتمال ہی نہیں؟ مثلاً ساری انسانیت صدیوں تک یہ سمجھتی رہی کہ سورج کو جس جگہ وہ دیکھتے ہیں، وہ وہیں ہوتا ہے، لیکن سائنس نے بتایا کہ وہ وہاں تقریباً آٹھ منٹ پہلے ہوتا ہے جہاں ہم اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح کیا سارے مفسرین کا فہم مل کر بھی غلطی کا احتمال نہیں رکھتا؟ اس احتمال کے ہوتے ہوئے خودحافظ صاحب کا مقدمہ بھی قطعی دلیل سے محروم ہو کر ظن پر مبنی ہو جاتا ہے۔ 
لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو ظنی الدلالۃ ثابت کرنے کے لیے اپنے مدعا کی بنیاد ان سوفسطائی نظریات پر رکھنا علمی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ انسانی عقل و فہم اعتباری سہی، لیکن یہ اعتباری فہم بھی معانی کی قطعیت کی تفہیم کے لیے کافی ہے۔ الفاظ کے معانی کا مشترکہ فہم قطعیت کے لیے کفایت کرتا ہے۔ لفظ کے مختلف استعمالات میں انسانی عقل عموماً دھوکا نہیں کھاتی۔ جب کھاتی بھی ہے تو تنبیہ کرنے پر درست مفہوم سمجھ جاتی ہے۔ ’’شیر جنگل کا بادشاہ ہے‘‘ اور ’’کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے‘‘ میں شیر کا مفہوم سمجھنے میں انسانی فہم دھوکا نہیں کھا سکتا۔ اور اگر کوئی شخص دھوکا کھا بھی جائے تو اس سے یہ کلام ظنی نہیں ہو جاتا بلکہ اس شخص پراس قطعی معنی تک رسائی کی علمی جدوجہدضروری ہو جاتی ہے۔اسے کلام کو ہی ظنی ثابت کرنے کی بجائیاپنیفہم اور علم کو درست بنیادوں پراستوار کر کے درست معنی تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
انسان کے اسی فہم پر بھروسہ کر کے ہی خدا نے اسے اپنا کلام عطا کیا ہے تا کہ وہ اس سے وہی مفہوم سمجھے گا جو متکلم کی مراد ہے۔ لیکن یہ انسان کی کوتاہی، قلت محنت، قلت تدبر، تعصب، ہوائے نفس وغیرہ کے حجابات ہیں جو احتمالات پیدا کر دیتے ہیں۔مگراس طرح کے احتمالات کے پیدا ہوجانے سے قرآن ظنی نہیں ہو جاتا جوکہ فی نفسہ قطعی ہے۔ 
اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ انسان کے بس سے باہر ہے کہ وہ قرآن کے قطعی معانی تک پہنچ سکے تو ماننا ہو گا کہ خدا نے انسان کو تکلیف مالا یطاق دی ہے۔
اپنے فہم کے نقص، یا قلت علم و تدبرکو قرآن کا نقص قرار دینا قطعی طور پر غلط ہے۔ قرآن بہرحال، قطعی الدلالۃ ہے۔ ہمارا کام اس قطعیت تک رسائی حاصل کرنے کی علمی و فکری جدوجہد جاری رکھنا ہے۔
حافظ صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ محنت و تدبر کے بعد کچھ ظنی الدلالۃ آیات قطعی الدلالۃ ہو سکتی ہیں۔ تواس امکان کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے کہ کوئی شخص اپنی محنت اور تدبر سے قرآن کی تمام آیات کے قطعی مفاہیم تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ انسان معنی اور مفہوم کی قطعیت تک تو پہنچ سکتا ہے لیکن اس حقیقت کو جان نہیں سکتا ہے کہ آیا وہ اس قطعیت کو واقعتا پا بھی گیا ہے۔ اسی لیے کسی کو بھی اپنے فہمِ قرآن کو دوسروں پر مسلط کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ دوسروں کے لیے احتمال اور اختلاف کا حق تو تسلیم ہے، لیکن قرآن میں احتمالات کی گنجائش تسلیم نہیں ہے۔ چنانچہ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا ایک مفسر اپنے اخذ کردہ معنی کو قطعی جان کر کسی دوسرے معنی کی نفی تو لازماً کرے گا، تاہم اپنے اخذ کردہ مفہوم کو دوسرے پر بہرحال مسلط نہیں کرے گا کیونکہ اس کا اپنا فہم تو بہرحال احتمالی ہی ہے۔ یہ ماننا کہ دوسرا شخص غلط سمجھا یہ اس سے بہتر ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ قرآن بیک وقت ایک سے زیادہ احتمالات دے کر اپنے قاری کو کسی صریح اور قطعی نتیجے تک اصلاً پہنچنے نہیں دینا چاہتا۔
رہی بات آیاتِ متشابہات کی تو ان متشابہ آیات کے بارے میں بھی اللہ نے یہی فرمایا ہے کہ کوئی ان کی تاویل یعنی ان کی حتمی حقیقت سے واقف نہیں ہو سکتا، نہ یہ کہ ان کے قطعی معنی نہیں سمجھ سکتا۔ ہمارے نزدیک آیاتِ متشابہات سے مراد عالمِ غیب کے حالات و واقعات ہیں، جن کی حقیقت تو ہم جان نہیں سکتے لیکن ان کے بارے میں قرآ ن کے بیان کو قطعیت سے سمجھ ضرور سکتے ہیں۔ یعنی مثلاً جنت کے معنی سمجھنے میں ہمیں کوئی ابہام لاحق نہیں ہوتا البتہ اس کی حقیقت اور کیفیت ہم نہیں جان سکتے۔ اس لحاظ سے یہ متشابہ ہے نہ کہ اپنے معنی اور مفہوم کے اعتبار سے۔
حافظ صاحب کا یہ فرمانا کہ سنتِ ثابتہ جو کہ ایک خارجی دلیل ہے ، اس سے قرآن اور قرآن کی اصطلاحات کا درست مصداق متعین ہوتا ہے۔ اس وجہ قرآن خود سے قطعی نہیں، جیسے 'الصلوۃ' کا معنی دعا ہے، لیکن اس کا خاص اصطلاحی معنی یعنی نماز کے مصداق کا تعین سنت سے ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن کے لفظ 'الصلوۃ' کی دلالت 'الصلوۃ' پر قطعی نہیں۔ اس کو قطعی سنت نے بنایا۔ حافظ صاحب کا یہ خیال ایک مغالطے پر مبنی ہے۔ الفاظ کے مدلول توہوتے ہی خارج میں ہیں۔ مثلاً لفظ قلم کا مدلول خارج میں ایک چیز ہے جو لکھنے کے کام آتی ہے۔ قلم کا لفظ بولتے ہی قلم کا مصداق مخاطب کے ذہن میں متعین ہو جاتا ہے۔ اسی طرح 'الصلوۃ' کا مصداق بھی معلوم اور معروف تھا۔ یہ لفظ قرآن کے نزول سے پہلے سے اس معنی میں عرب میں موجود تھا۔ اس لیے مخاطب کو اس کی تعیین میں کوئی دقت پیش نہیں آئی۔ قس علیٰ ہذا۔
رہا یہ مسئلہ کہ سنتِ متواترہ کے علاوہ حدیث یعنی اخبارِ احاد بھی اگر قطعی الثبوت ہوں تو قرآن کے ظنی کو قطعی میں بدل سکتی ہیں تو ہمارے نزدیک یہ ایک مغالطہ ہے۔ احادیث قطعی الثبوت بھی ہوں تو ان سے حاصل ہونے والا علم ظنی ہوتا ہے، الا یہ کہ کچھ اور قطعی قرائن اس کے ساتھ مل جائیں۔ روایت بالمعنی کا مطلب ہی روایات میں ظنیت کو تسلیم کر لینا ہے۔ چنانچہ اصولی طور پرظنی ذریعہ سے کسی ظنی مفہوم کو قطعی نہیں بنایا جا سکتا۔ تاہم، قرآن مجید کے فہم کے خارجی وسائل میں سے صحیح احادیث مبارکہ کی غیرمعمولی اہمیت کی نفی کسی طرح نہیں کی جا سکتی۔

مباح الدم اور "جہادیوں" کا بیانیہ

ڈاکٹر محمد شہباز منج

مدینے پر حملے کے تناظر میں اہل علم میں ایک دفعہ پھر" جہادی ذہنیت" اور اس کے بیانیے کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ محترم جناب ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب نے اپنی ایک تحریر میں اسے "سوچا سمجھا جنون" قرار دیتے ہوئے، "جنونی گروہ" کی" فقہ" کے اہم نکات بیان کیے ہیں۔ جناب ڈاکٹر مشتاق صاحب نے اس گروہ کے بیانیے کے جو نکات پیش فرمائے ہیں، وہ بالکل مبنی برِ حقیقت ہیں۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے راقم نے اس پر جناب زاہد صدیق مغل کا یہ تبصرہ دیکھا کہ:" اس تفصیل کے ساتھ یہ مقدمہ کس نے پیش کیا؟"تو دل چاہا کہ اپنی وہ تحریر پیش کی جائے جو ممتاز قادری کیس پر بحث کے دوران میں نے تحریر کی تھی، لیکن شائع نہیں ہوئی تھی۔ یہ تحریر"جہادیوں" کے مقدمے کو ان کے بنیادی استدلالات کے ساتھ بیان کرتی ہے؛ ان کی کتابوں اور تحریروں پر مبنی ہے ؛ جناب مشتاق صاحب نے اپنی تحریر میں ان لوگوں کے مقدمے کا جو خلاصہ پیش کیا ہے، اس میں اس کے بہت سے دلائل اور ان کی بنیادیں بھی بیان ہوئی ہیں۔لیکن اس سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جناب مشتاق صاحب کی تحریر کا اقتباس پیش کر دیا جائے، اسے اور اس کے بعد میری تحریر دیکھنے سے بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ جناب مشتاق صاحب کی طرف سے "جنونی گروہ" کی "فقہ" کے ہم نکات اس گروہ کا فرضی بیانیہ نہیں ، جس کی تفصیل کہیں ملتی نہ ہو یا اہل مقدمہ میں سے کسی نے بیان نہ کی ہو ،بلکہ یہ نکات صد فی صد درست اور ان کے فکر کی صحیح ترجمانی ہیں۔ مشتاق صاحب کا کہنا ہے: 
’’اس سوچے سمجھے جنون کی فقہ کے کچھ نکات پر غور کریں۔ اس گروہ کے تصورات کچھ اس طرح ہیں: اس گروہ نے جن لوگوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں، وہ مرتد ہیں؛ اس گروہ کے مخالفین کی حمایت کرنے والے سبھی لوگ، خواہ وہ فوج میں ہوں، پولیس میں ہوں، یا عام شہری ہوں، مرتد ہیں؛ اس گروہ کے مخالفین اور ان مخالفین کے حامیوں میں عاقل بالغ سبھی انسان مقاتلین ہیں، خواہ انھوں نے زندگی میں ایک بار بھی ہتھیار نہ اٹھایا ہو، یہاں تک کہ محض ٹیکس ادا کرنے سے بھی وہ مقاتلین بن جاتے ہیں، اور ٹیکس تو ٹافی خریدتے ہوئے بھی ادا کیا جاتا ہے، اس لیے میٹرک کا وہ طالب علم جو طبعی بلوغت کی عمر تک پہنچ چکا ہو، مقاتل ہے؛ جب مخالفین اور ان کے لیے ٹیکس ادا کرنے والے سبھی عاقل بالغ انسان مرتد اور مقاتل ہیں تو اس کے بعد حملے کو صرف "فوجی ہدف" تک محدود رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے؛ کسی بھی جگہ ان "نام نہاد شہریوں" پر، جو دراصل "مقاتلین" ہیں، حملہ کیا جاسکتا ہے؛ ہدف کے انتخاب میں صرف اور صرف "جنگی مصلحت" کو دیکھا جاتا ہے؛ کس ہدف پر کم سے کم وقت اور توانائی کے استعمال سے زیادہ سے زیادہ "جنگی فائدہ" اٹھایا جاسکتا ہے؟ فوجی کیمپ؟ چیک پوسٹ؟ سکول؟ مسجد؟ مخالفین، یا ان کے حامیوں، میں اگرچہ بعض "غیر مقاتلین" بھی ہیں، جیسے نابالغ بچے، لیکن ان کے والدین، یا مخالفین کے دیگر "عاقل بالغ مقاتلین"کو اذیت دینے، یا ان کا حوصلہ پست کرنے، کے لیے ان نابالغ بچوں کو بھی عمداً نشانہ بنایا جاسکتا ہے کیونکہ "یہ انھی میں سے ہیں!" مخالفین نے اگر اس گروہ کے بچوں کو نشانہ بنایا ہے تو پھر مخالفین، یا ان کے حامیوں، کے ان غیر مقاتلین بچوں کو نشانہ بنانے کے جواز کے لیے صرف "برابر کے بدلے" کا اصول ہی کافی ہے؛ ان کے ساتھ وہی کچھ، اور ویسا ہی کچھ،کرو جو انھوں نے تمھارے ساتھ، جس طرح، کیا ہے! 
باقی رہیں مخالفین، یا ان کے حامیوں، کی عاقل بالغ عورتیں تو چونکہ وہ عاقل بالغ ہیں اور ٹیکس بھی ادا کرتی ہیں، نیز بعض دیگر کام بھی کرتی ہیں جن سے مخالفین کو کسی طور مدد ملتی ہے، اس لیے وہ بھی مقاتلین ہی ہیں اور ان کے ساتھ وہی کچھ کیا جاسکتا ہے جو مقاتلین کے ساتھ کیاجاتا ہے؛ جنگ میں ہر وہ کام باعث اجر و ثواب ہے جس سے مخالفین، یا ان کے حامیوں، کو اذیت ملتی ہے، یا ان کا حوصلہ پست ہوتا ہے، خواہ یہ کسی مقاتل عورت کو زندہ جلانا، یا کسی غیر مقاتل بچے کو ذبح کرنا، ہو؛ ( اب اس میں اضافہ کریں : " یا مسجد نبوی پر حملہ کرنا ہو !" لعنھم اللہ ! )خود کش حملہ کمزور فریق کا بہترین ہتھیار ہے؛ خود کش حملے کے خوف سے مخالفین تمھارے قریب نہیں آئیں گے اور تم زیادہ سے زیادہ آگے بڑھ کر ان کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچاسکتے ہو؛ پھر چونکہ تم موت کے خوف سے نہیں، بلکہ اپنے لوگوں کے رازوں کی حفاظت، یا دشمن کو نقصان پہنچانے کی خاطر، اپنی جان کی قربانی دوگے، اس لیے یہ شہادت کی اعلیٰ و ارفع قسم ہوگی؛ پس یہ سب کچھ کرنے کے بعد یہ آخری کام بھی کرگزرو تو جنت تمھاری ہے! ‘‘
قادری کیس میں مباح الدم والے فلسفے کے حوالے سے "جہادیوں " کا بیانیہ پیش کرتے ہوئے راقم الحروف نے عرض کیا تھا:
زیر نظر تناظر میں مسلمان کے مباح الدم ہو جانے کا فلسفہ، اس فلسفے سے کچھ مختلف نہیں ،جو بعض لوگ غیر مسلم کے مباح الدم ہونے کے بارے میں پیش کرتے ہیں؛ اور اس سے مسلمانوں کے ہاتھوں تمام غیر مسلموں کے قتل کے شرعاً جائز ہونے کا استدلال کرتے ہیں۔ اگر اِس مباح الدم کو ماننا ہے، تو پھر اْن کی بات بھی مانیے۔ وہ بھی قرآن وسنت اور فقہ سے اسی طرح دلائل لاتے ہیں۔ان کے دلائل کا ایک خلاصہ ملاحظہ کیجیے؛ اور اندازہ فرمائیے کہ شریعت کا یہ طرزِ تعبیر اور نصوص وروایات اور علماے سلف کی آرا واجتہادات سے نتائج کے استنباط کا یہ انداز کتنا تباہ کن ہے!:
ہر حربی کافر ایک عام مسلمان کے لیے بھی مباح الدم ہوتا ہے، جس کو وہ بلا وجہ قتل کردے یا اس کا مال لوٹ لے تو بھی مسلمان پر کوئی مواخذہ نہیں ؛اور حربی صرف وہ نہیں ہوتا، جو مسلمانوں کے ساتھ براہِ راست جنگ کر رہا ہو؛ بلکہ کفر کا وصف ہی آدمی کو حربی بنا دیتا ہے؛امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
وان کان کافرا حربیا فان محاربتہ اباحت قتلہ واخذ مالہ واسترقاق امراتہ (مجموع الفتاوی لابن تیمیہ ، ج 32۔ ص 343)
"اور اگرکافر جنگ کرنے کے لائق ہو تو بلاشبہ اس کے جنگجو ہونے نے ہی اس کے قتل، اس کے مال لینے اور اس کی عورت کو لونڈی بنانے کو مباح کردیا۔"
امام ابن نحاس نے المغنی کے حوالے سے لکھا ہے کہ احمد بن حنبل سے کافروں کے ایک بحری جہاز سے متعلق پوچھا گیا جس کو روم کے بادشاہ نے روانہ کیا،؛پھر ہو ا نے اسے "طرطوس"کی طرف پہنچا دیا،تو اہل طرسوس نے ان لوگوں کو قتل کردیا ؛اور ان کے مال لوٹ لیے،توامام صاحب نے کہا:یہ مسلمانوں کے لیے مالِ فے ہے جو انھیں اللہ نے عطا فرمایا۔ امام صاحب سے یہ بھی سوال کیا گیا کہ اگر بعض لوگ راستہ کھوبیٹھیں، پھر مسلمانوں کی بستیوں میں سے کسی بستی میں جا پہنچیں؛اور کوئی مسلمان انھیں پکڑ لے،تو کیا حکم ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا :یہ بھی اس بستی کے لوگوں کا اجتماعی مال ہے ؛وہ اسے آپس میں تقسیم کرلیں۔ (مشارع الاشواق الیٰ مصارع العشاق لابن نحاس،ص1054)
امام سرخسی فرماتے ہیں: میں نے امام ابو حنیفہ سے پوچھا:اگر کوئی آدمی دشمن کو پکڑے تو وہ اسے امام کے پاس لائے یا قتل کر دے؟تو امام صاحب نے جواب دیا:دونوں میں سے جو بھی کرے ،ٹھیک ہے ؛کیونکہ قیدی بنانے کی صورت میں کوئی چیز اس کے خون کے مباح ہونے کو ختم نہیں کرتی!؛ امام اس کو قتل کرسکتا ہے۔سو قیدی بنانے والے کے لیے بھی اس کا قتل جائز ہے، جیساکہ قیدی بنانے سے پہلے جائز تھا۔ جب امیہ بن خلف بدر کے روز قیدی بنانے کے بعد قتل کیا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کرنے والے (حضرت بلال رضی اللہ عنہ) پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔امام کے پاس لے جانا امام کے مقام و مرتبے کے لحاظ سے بہتر ہے؛لیکن اسے قتل کرنا مشرکین پر شدت کے اظہار اور ان کی طاقت توڑنے کے لحاظ سے بہتر ہے۔ اسے چاہیے کہ دونوں میں سے جو چیز مسلمانوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو، اس کے مطابق عمل کرے۔ (المبسوط للسرخسی ،ج12،ص337)
قرآن نے مومنین کو بہترین مخلوق قرار دیا اور کافروں کو بد ترین مخلوق۔ ( البینہ:6۔7) کافروں کو جانوروں سے بھی بد تر کہا گیا۔ (الاعراف:179) حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: یا اخوۃ القردۃ والخنازیر  (المستدرک للحاکم) "اے بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! "۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ کے موقعے پر، ابو جندل رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر لے جانے والے، ان کے باپ کی طرف تلوار کا دستہ کرتے ہوئے کہا: ان دم الکافر عند اللہ کدم الکلب (فتح الوہاب،ج2،ص320) "بلاشبہ کافر کا خون ،اللہ کے نزدیک کتے کے خون جیسا ہے۔"
نتیجہ ان سب حقائق کا یہ ہے کہ اس دنیامیں اْسی انسان کو جینے کا حق حاصل ہے جو کلمہ توحید ،یعنی اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کی رسالت کااقرار کرتے ہوئے،اسلام کے دائرے کے اندر آجائے؛ جس نے یہ اقرار کیا ، اس کا مال وجان اور عزت محفوظ ومامون ہوگئی ؛اور جس نے ایسا نہ کیا ، اس کے مال وجان اورعزت کی کوئی حیثیت اورحرمت نہیں۔یہی وہ حقیقت تھی جس کو سمجھانے کے لیے انبیا ورسل آتے رہے؛ اور یہی وہ منہج تھا، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاربند رہے۔ آپ نے فرمایا تھا:
امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ فمن قال لا الہ الا اللہ فقد عصم منی نفسہ ومالہ الا بحقہ وحسابہ علی اللہ ( البخاری،رقم :2727)
"مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں؛ یہاں تک کہ وہ لاالہ الا اللہ کا اقرار کریں؛ پس جس نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیا، اس نے اپنی جان اور مال مجھ سے بچالیے ،سوائے حق کے،اور اس کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔"
حربی اور غیر حربی کافر کی بات کی جاتی ہے،لیکن اس ضمن میں واضح رہنا چاہے کہ کافر کا اصلی حکم حربی ہی کا ہے، اور اس کی جان و مال اور عزت ایک مسلمان کے لیے حلال ہے؛ الا یہ کہ اس کا شرعی بنیادوں پر غیرِحربی ہونا ثابت ہو جائے؛ چاہے یہ غیر حربی ہونا دار الاسلام سے کسی معاہدے کی وجہ سے ہو،یا مسلمانوں کی طرف سے امان دیے جانے کی وجہ سے ہو،یا پھردار الاسلام کے تحت ان کے ذمی بن جانے کی صورت میں ہو،یا پھر اْن صورتوں میں سے کوئی ایک ہو،جن کی وجہ سے شریعت نے ان کو استثنا دیا ہوا ہو؛ جیسے: کفار کی عورتیں ،بچے ،بوڑھے وغیرہ۔لیکن بعض صورتوں اور وجوہ کی بنیاد پر یہ استثنا بھی ختم ہوجاتے ہیں ،جیسا کہ: ان کفار کی عورتوں ،بچوں ،بوڑھوں وغیرہ میں سے کسی کا مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کسی بھی طرح شریک ہونا ،یا پھر معاہدے کی خلاف ور زی کرنا ،یا پھر شریعت کا استہزا، یاپھر ان کادیگر کفار میں گڈمڈ ہوجانا، یا کفار کا ان کو ڈھال بنالینا ،یاپھر معاملہ بالمثل کی وجہ سے؛ اس طرح کی صورتوں میں ان کی جان ومال کی حرمت بھی اٹھ جاتی ہے۔
آج کے دور میں اکثر کافر ممالک بالخصوص امریکہ اور اس کے مدد گاروں کی صورت ایسی ہی ہے۔ان کا حکم دارالحرب کا ہے؛اس لیے ان کے خلاف ہر طرح کی لڑائی لڑنا جائز ہے؛جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے؛ آپ جنگجو ملکوں کے قافلوں کو روکتے؛ جیساکہ آپ نے قریش کے قافلوں کو روکا؛ اور کافر ملکوں کے عوام کو ضرورت پڑنے پر ضمانت کے طور پر گروی رکھ لیتے؛ جیساکہ آپ نے ثقیف کی طرف سے اپنے صحابہ کو قیدی بنائے جانے پر اس کے حلیف قبیلے بنوعقیل کے ایک آدمی کو قیدی بنالیا تھا۔ لہٰذا برسرِ جنگ ملکوں کو نقصان پہنچانے سے منع کرنے والی شرعی حدود کا کوئی وجود نہیں ،سوائے اس کے کہ اگر عورتیں، بچے، اور بوڑھے واضح طورپر پہچانے جاتے ہوں اور وہ جنگ وحملے میں دشمن کے مدد گار بھی نہ ہوں ، تو انھیں نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ آج کے دور میں امریکہ وسیع پیمانے پر مسلمانوں سے برسرِ جنگ ہے؛یہ صرف ایک کافر ریاست ہی نہیں ، کفر کا ایک عالمگیر نشان بن چکا ہے؛ لہٰذا اس کی شان شوکت توڑنے کے لیے جو بھی اقدام کیا جاسکتا ہو،اسے سرانجام دیا جانا چاہیے!امریکی بحر و بر میں ،جہاں کہیں بھی ہو ، اس کو قتل کردینا چاہیے! کسی امریکی کو قتل کرنے کے لیے کسی سے مشورے کی ضرورت نہیں ! امریکہ یہود کے قبیلے بنو قریظہ ایسا ہے؛ امریکہ کے معاملے میں حکومت اور عام شہریوں ، دونوں کو ہدف بنانا چاہیے ! آج کے دور میں امریکہ اور امریکی لوگ "کفر کے امام " ہیں۔جنگ کی آگ بھڑکانے والی حکومتوں کو ووٹ دینے والے امریکی عوام ،کسی رعایت کے حق دار نہیں ہیں ؛ جو کوئی انہیں کسی بھی صورت ضرر پہنچاتا ہے، وہ امت کے لیے خیر خواہی کررہا ہے!۔
بعض لوگ غیر مسلم ملکوں میں مسلمانوں کے موجود ہونے اور کافروں سے جنگ کی صورت میں ان کو نقصان پہنچنے کے اندیشے کے پیش نظر جنگ سے گریز کی بات کرتے ہیں؛ لیکن اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں۔ جہاد از روئے شریعت قیامت تک جاری رہے گا ؛اور کبھی موقوف نہیں ہوگا۔کافروں میں رہنے والے مسلمانوں کے موت کے گھاٹ اتر جانے کا نقصان اس سے بہت کم ہے کہ جہاد کو اس وقت تک معطل رکھا جائے، جب تک عالمِ کفر مسلمانوں سے خالی نہیں ہو جاتا۔ کافروں میں رہنے کی، مسلمانوں کو شریعت، اجازت ہی نہیں دیتی ؛ احادیث و آثار اور فقہا کی تحقیقات سے واضح ہے کہ مسلمانوں کو کافروں سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے۔اس شخص کو ملامت نہیں کرنی چاہیے،جو کفار کو قتل کرنے ، اْنھیں مرعوب کرنے اور اْن کے ملکوں کو تباہ کرنے جیسے حکمِ شرعی پر عمل کرتا ہے؛اور اس دوران وہاں موجود کچھ مسلمان قتل ہوجاتے ہیں؛ملامت تو اسے کی جانی چاہیے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہوئے مشرکوں کے درمیان اقامت اختیار کی؛ نتیجتاً ان حملوں کا نشانہ بن گیا۔ یہ کیا منطق ہوئی کہ :اللہ تعالیٰ کے حکم کو بجا لانے والا تو مجرم ہو ، لیکن کفارکے درمیان رہنے سے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براء ت کا اظہار کیا، وہ ایسا مومن ٹھہرے جس کے خون اور امن وامان کی حفاظت واجب ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے:
انا بریء من کل مسلم یقیم بین اظھر المشرکین (سنن ترمذی،رقم: 1530،سنن ابی داود:رقم 2274)
" میں ہر اْس مسلمان سے بری ہوں ،جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے۔"
حضرت سمرہ بن جندب سے مروی ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تساکنوا المشرکین ولا تجامعوھم فمن ساکنھم او جامعھم فھو مثلھم (سنن ترمذی، رقم:1530)
"مشرکوں کے ساتھ رہائش اختیار نہ کرو! اور نہ اْن کے ساتھ اکٹھے ہو!؛ جو کوئی اْن کے ساتھ رہتا ہے، یا اْن کے ساتھ اختلاط کرتا ہے، وہ اْنھی کی مانند ہے!"
حافظ شمس الدین ابن القیم نے "عون المعبود"کے حاشیے میں فرمایا:
لا یقبل اللہ من مشرک بعد ما یسلم عملا او یفارق المشرکین الی المسلمین (عون المعبود،رقم الحدیث:2274)
" اللہ کسی مشرک کے اسلام لانے کے بعد کوئی عمل اْس وقت تک قبول نہیں کرتا ، جب تک وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں میں نہیں آجاتا۔"
آج جو مسلمان بھی کفارکے عالمی اقتصادی ،عسکری،انتظامی اور تجارتی مراکز میں کام کرتے ہیں، کفارکے خلاف کاروائی کے دوران ،چونکہ ان کو الگ شناخت نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا ان کے ساتھ کفار کے شرکائے کار افراد کا سامعاملہ کیا جائے گا؛ اگرچہ ان کا اخروی معاملہ مختلف ہے۔ اس کی دلیل صحیحین وغیرہ میں حضرت عائشہ کی وہ روایت ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
العجب ان ناسا من امتی یومون بالبیت برجل من قریش قد لجا بالبیت حتی اذا کانوا بالبیداء خسف بھم فقلنا یا رسول اللہ ان الطریق قد یجمع الناس قال نعم فیھم المستبصر والمجبور وابن السبیل یھلکون مھلکا واحدا ویصدرون مصادر شتی یبعثھم اللہ علی نیاتھم (مسلم،رقم :5134)
"تعجب ہے کہ میری اْمت کے کچھ لوگ اللہ کے گھر میں پناہ لیے ہوئے، قریش کے ایک آدمی پر حملے کے لیے اس گھر کی طرف آئیں گے، حتی کہ جب وہ ایک صحرا پر پہنچیں گے تو اْنہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ ہم نے کہا :یا رسول اللہ! راستے سے بھی لوگ اکھٹے ہوجاتے ہیں ، توآپ نے فرمایا:جی ہاں! ان میں جاننے بوجھنے والابھی ہوگا اور مجبور بھی ومسافر بھی، سب کو ایک ہی طریقے پر ہلاک کردیا جائے گا، مگر وہ مختلف طریقوں سے اْٹھائے جائیں گے،اللہ تعالیٰ، اْنہیں اْن کی نیتوں پر اْٹھائے گا۔"
ابنِ حجر نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا:
قال المھلب: فی ھذا الحدیث ان من کثر سواد قوم فی المعصیۃ مختارا فان العقوبۃ تلزمہ معھم، قال: واستنبط منہ مالک عقوبۃ من یجالس شربۃ الخمر وان لم یشرب (فتح الباری لابن حجر، رقم الحدیث:1975)
" امام المہلب نے فرمایا: اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ جومعصیت میں کسی قوم کی تعداد میں، خود مختاری میں اضافہ کرتا ہے، تو بلاشبہ اْن کے ساتھ اس پر بھی سزا لازم ہوتی ہے،اور کہا:امام مالک نے اس سے، اْس شخص کی سزا پر استدلال کیا ہے،جو شراب پینے والوں کے ساتھ بیٹھتا ہے؛ اگرچہ اْس نے شراب نہیں پی ہوتی۔"
امام احمد کی کتاب الزہدمیں ابن دینار سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں میں سے ایک نبی کی طرف وحی بھیجی:
قل لقومک لا تدخلوا مداخل اعدائی ولا تلبسوا ملابس اعدائی ولا ترکبوا مراکب اعدائی فتکونوا اعدائی کما ھم اعدائی۔
"اپنی قوم سے کہیے!: میرے دشمنوں کے داخل ہونے کی جگہ میں داخل نہ ہو؛اور نہ میرے دشمنوں والا لباس پہنو، اور نہ میرے دشمنوں کی سواریوں پر سوار ہو، ورنہ تم میرے اْسی طرح دشمن ہوجاؤ گے، جیسے وہ میرے دشمن ہیں۔"

مکاتیب

ادارہ

(۱)
مکرم و محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جناب محمد ظفر اقبال صاحب کی تصنیفات کو اللہ تعالیٰ نے کافی پذیرائی عطا فرمائی ہے۔ خصوصاً ان کی تازہ تصنیف ’’اسلام اور جدیدیت کی کشمکش‘‘بہت زیادہ قابل توجہ بنی ۔ گذشتہ سال ایکسپو سینٹر میں ’’انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز‘‘ کے اسٹال پر رکھے گئے تمام نسخے ہاتھوں ہاتھ لیے گئے ۔ مختلف جرائد اور اخبارات نے اپنے اپنے انداز میں اس پر جاندار تبصرے شائع کیے جو مذکورہ تصنیف کی اہمیت کا ثبوت ہیں۔
گذشتہ قریبا ایک صدی سے مسلم مفکرین کا مغرب کے ساتھ تعامل اس اصول کی بنیاد پر رہا ہے کہ ’’مغرب کی اچھی چیزوں کو لے کر بری چیزوں کو چھوڑ دیا جائے ‘‘مگر اچھے برے کی تمیز کے لیے عموماً اسلامی علمی روایت کے بجائے مغربی معیارات ہی کو اختیار کیا گیا اور چیزوں کو ان کے اپنے پس منظر میں سمجھنے کے بجائے محض جزوی مشابہت کی بنا پر اسلامیایا گیا ۔ اگرچہ بعض بہت اچھی تنقیدات بھی سامنے آئیں، مگر مجموعی طور پر مغربی اصطلاحات کی اسلامی تعبیر ہی پیش کی گئیں۔ آزادی، مساوات، ترقی، انسانی حقوق، رواداری، قومی ریاست، جمہوریت غرض کون سی چیز تھی جسے جزوی مشابہت کی وجہ سے مشرف بہ اسلام نہ ٹھہرایاگیا ۔
نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں میں غیر اسلامی اقدا ر (مغربی اقدار) سے جو نفرت تھی/ ہونی چاہیے تھی ، وہ رفتہ رفتہ کم ہو کر بالآخر ختم ہو رہی ہے اور اس طرح مسلمان مغربی تہذیب میں تحلیل اور ضم ہوتے چلے جارہے ہیں۔آج ’’ہولی‘‘، ’’دیوالی‘‘ اور ’’کرسمس‘‘منانا رواداری کی علامات ٹھہرائی جارہی ہیں جو روایتی اسلامی علمیات میں کفر و اسلام کے درمیان حد فاصل سمجھی جاتی تھیں ، یہاں تک کہ اب ہمارے وزیر اعظم کو بھی عوام کی فلاح و بہبود لبرلزم میں نظر آنے لگی (یعنی اسلام انسانوں کے درمیان امتیاز کا معیار ہونے سے نکالا جارہا ہے)۔ ایسے میں’’اسلام اور جدیدیت کی کشمکش‘‘میں مذکورہ بالا مغربی اصطلاحات سمیت فطرت بطورماخذ دین ، عقل کی نقل پر بالادستی اور سائنس کو غیر اقداری اور حتمی سمجھنے جیسے تصورات پر نئے انداز سے جاندار تنقید کی گئی ہے ۔
جولائی کے الشریعہ میں ایک مضمون پڑھا جو آنجناب نے مذکورہ کتاب کے لیے بطورِ مقدمہ تحریر فرمایا ہے ۔ کسی کتاب کا مقدمہ اس لیے لکھا جاتا ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد علیٰ وجہ البصیرہ کتاب پڑھی جاسکے ۔ مگر حیرت ہے کہ آٹھ صفحے کی تحریر میں صرف چھ سطور میں مصنف اور کتاب کا تعارف کرایا گیا ہے ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی ارشاد ہے ’’اگرچہ میرے خیال میں یہ مباحث اب پرانے ہوچکے ہیں‘‘۔ سمجھنے کی بات ہے کہ کوئی یہ مقدمہ پڑھ کر ان ’’پرانے مباحث‘‘ کے لیے اس مصروف ترین دور میں (کہ فیس بک اور یوٹیوب پر ہر آن نیا آنے والا مواد دستیاب ہے اور مقدمہ نگار خود ’’سرسری ورق گردانی‘‘پر مجبور ہیں) ساڑھے پانچ سو صفحے کی ضخیم کتاب پر مغز ماری کرے گا؟ اور وہ بھی فلسفیانہ مباحث، اس پر مستزاد روحِ عصر سے لڑانے والی تنقید)۔۔۔
لیکن اس کے بر خلاف لندن سے فلسفے میں پی ایچ ڈی، پاکستانی فلسفیوں کے کانگریس کے سابق صدر، معمر ڈاکٹر ابصار احمد صاحب کو اعتراف ہے کہ ’’چند حوالے میرے لیے بھی نئے ہیں‘‘۔
کتاب اور مقدمہ میں شدید تناقض پایا جاتا ہے۔ جن امور کو مولف نے رد کیا ہے ، مقدمہ میں ان ہی کو ’’مفید ‘‘قرار دیا گیا ہے جس سے قاری فکری الجھا ؤکا شکار ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ محترم مقدمہ نگار کی اپنی ترجیحات اور تصورات ہیں یا کتاب کی ’’سر سری ورق گردانی‘‘۔۔۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ محترم مقدمہ نگار نے کتاب پر آٹھ صفحات کا طویل مقدمہ تحریر فرمایا ہے۔ اتنا طویل مقدمہ اس بات کا غماز تھا کہ کتاب بہت اہم ہے، لیکن اس مقدمے میں متذکرہ تمام امور مفقود ہیں۔
آنجناب نے متعدد بار مقدمہ میں کسی مغربی پروفیسر کے امام ابو منصور ماتریدی پر ’’پی ایچ ڈی‘‘کی رو سے لکھا ہے کہ مغرب وحی سے رہنمائی لینے کی طرف لوٹ رہا ہے، جبکہ ’’اسلام اور جدیدیت کی کشمکش‘‘میں مغرب کی چوٹی کے مفکرین اور فلسفیوں کے حوالے سے ثابت کیا گیا ہے کہ مغربی اقدار کو حتمی نہ سمجھنے والا اور ان سے اختلاف کرنے والا موذی جراثیم ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے ۔ کتاب میں واضح کیا گیا ہے کہ جدید انسان کا مسئلہ دین کا ’’عصری اسلوب‘‘ اور ’’نفسیاتی ضروریات‘‘سے عدم موافقت نہیں بلکہ ’’جدید انسان‘‘پیٹ اور نفس کا بندہ بن چکا ہے جسے اس سے نکالنے کے لیے ’’روایتی اسلامی علمیات‘‘(منہجِ اہل سنت) پر لانا ہے ۔
’’اسلام اور جدیدیت کی کشمکش‘‘کے بارے میں تو یہ فرمایا گیا ہے کہ اس کے مباحث اب پرانے ہوچکے ہیں ، لیکن جناب والا سمیت علما جو کچھ لکھ رہے ہیں اس میں نیا کیا ہے ؟ الشریعہ میں جن مباحث پر خامہ پرسائی کی جارہی ہے، ان میں کیا نیا ہے؟ اس لیے تمام علماء کرام سے درخواست ہے کہ مذکورہ کتاب کے مندرجات پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں ، اور مسلمانوں کی درست رہنمائی فرمائیں اور اگر کہیں غلطی ہے تو اس کی نشاندہی فرمائیں ۔
آنجناب سے ایک مودبانہ گذارش یہ ہے کہ ظفر اقبال صاحب کو مذکورہ تحریر کتاب کے مقدمہ کے طور پر شامل کرنے سے روکیں کیونکہ یہ اس کتاب کا مقدمہ نہیں بن سکتا ۔اللہ ہمارے بڑوں کی مصروفیات کم کردے تا کہ عصر جدید کے مسائل میں ہماری درست رہنمائی فرماسکیں ۔
آخر میں گزارش ہے کہ اگر یہ خط ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ میں شائع کردیا جائے تو خوشی ہوگی۔
راقم حروف کا نام معراج محمد ہے ۔ گذشتہ مئی میں جامعہ دار العلوم کورنگی سے درسِ نظامی مکمل کرلیا ہے اور اس سال قرآن اکیڈمی یٰسین آباد سے وابستہ ہے ۔آبائی تعلق ضلع دیر پائین سے ہے ۔

’’مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار اور تنظیم فکرِ ولی اللہی کے نظریات کا تحقیقی جائزہ‘‘

مولانا سید متین احمد شاہ

2014ء میں مولانا عبیداللہ سندھی اور تنظیم فکر ولی اللہی کے حوالے سے ’’مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار اور تنظیم فکرِ ولی اللہی کا نظریات کا تحقیقی جائزہ‘‘ نامی کتاب شائع ہوئی جس کے مؤلف جناب مفتی محمد رضوان ہیں۔ یہ کتاب اصل میں مولانا سندھی کے بارے میں مختلف اہل علم کی ناقدانہ آرا اور تنظیم فکر ولی اللہی کے نظریات پر علما کے فتووں کا ایک تالیفی مجموعہ ہے۔اس کتاب کا حال ہی میں دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہوا ہے جس کے تقریباً تمام مندرجات پہلے ایڈیشن والے ہیں، البتہ اس میں پہلے ایڈیشن پر ہونے والے بعض تبصرے شامل کیے گئے ہیں جن میں سب سے مبسوط تبصرہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے مؤقر جریدے نقطہ نظر (شمارہ 37، اکتوبر 2014ء۔ مارچ 2015ء )کا ہے۔ اس تبصرے میں مولانا کے فکری پس منظر کو بڑی جامعیت کے ساتھ عہد بہ عہد دیکھا گیا ہے۔اس کے علاوہ کتاب کے بعض اندراجات کے بارے میں قارئین کے سوالات کے جوابات بھی نئی اشاعت میں شامل کیے گئے ہیں۔ 
کتاب کا پہلا حصہ "مولانا عبید اللہ سندھی کے متعلق اکابر علما کا موقف" ہے۔ اس میں مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا مناظر احسن گیلانی، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا مسعود عالم ندوی، مولانا عبدالماجد دریابادی، مولانا مفتی تقی عثمانی، مولانا مفتی عبدالواحد، مولانا ابن الحسن عباسی، جناب شکیل عثمانی، مولانا موسیٰ بھٹو اور بعض دیگر اہل علم کے مقالات اور آرا جمع کی گئی ہیں جن میں مولانا عبیدا للہ سندھی کے افکار پر نقدو تبصرہ کیا گیا ہے۔یہ حصہ مرتب کی محنت اور کاوش کا ثبوت ہے کہ موضوع سے متعلق مواد کوپہلی بار اس طور پر یک جا کیا ہے جس کی تلاش اور دست یابی اس سے پہلے اتنی آسان نہیں تھی۔
مولانا عبید اللہ سندھی کی شخصیت و افکار کے حوالے سے کوئی حتمی رائے قلم بند کرنا راقم کے لیے ذرا مشکل معاملہ ہے اور اس کی وجہ ان کے حوالے سے پائے جانے والے مختلف افکارو آرا ہیں جن پر نظر ڈالی جائے تو ہمارے سامنے تین قسم کی آرا آتی ہیں:
ایک نقطہ نظر کی رو سے مولانا عبیداللہ سندھی کی فکر جمہور علمائے امت کی فکر سے جدا ہے (اور یہی حکم تنظیم فکر ولی اللہی کا ہے۔) زیر تبصرہ کتاب کے مؤلف کا نقطہ نظر یہی ہے اور اسی کی تائید کرنے والی تحریرات کو اس میں جمع کیا گیا ہے۔ یہ نقطہ نظر ان کی اپنی زندگی میں لکھی گئی یا دیگر مرتبین کی مرتب کردہ کتابوں کی روشنی میں بنتا ہے۔
دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ مولانا کی فکر میں اگرچہ شاذ امور بھی پائے جاتے ہیں تاہم بہ حیثیت مجموعی وہ کتاب و سنت کی ہی ترجمان ہے۔ اس نقطہ نظر کے حاملین کے نزدیک مولانا سندھی کی طرف بعض افکار اور تحریریں غلط طور پر بھی منسوب ہیں جن کی ذمے داری ان پر نہیں آتی، بلکہ ان کے تلامذہ اس کے ذمہ دار ہیں؛ تاہم ان حضرات کے نزدیک تنظیم فکر ولی اللہی کے افکار درست نہیں ہیں۔ اس رجحان کے قائل مولانا سعید احمد اکبر آبادی، مولانا صوفی عبدالحمید سواتی، مولانا زاہد الراشدی اور مولانا عبدالحق خان بشیر وغیرہم ہیں۔
مولانا صوفی عبدالحمید سواتی لکھتے ہیں : 
’’انصاف کی بات یہ ہے کہ حضرت مولانا عبیداللہ سندھی کے بعض افکار شاذ بھی ہیں۔ بعض مرجوح قسم کے خیالات بھی ہیں اور بعض باتیں ایسی ہیں کہ مولانا ان پر بے جا سختی بھی کرتے تھے۔بعض باتیں مصلحت کی خاطر بھی ناگزیر خیال کرتے تھے اور بہت سی باتیں ایسی بھی ہیں جن کی نسبت ان کی طرف کرنے میں ان کے تلامذہ نے غلطی کی ہے۔ اس کی ذمہ داری حضرت مولانا پر نہیں، بلکہ ان کے ناقلین پر ہے۔ انھوں نے ان باتوں کو نقل کیا ہے اور شاید سابق لاحق سے قطع نظر کر کے حضرت مولانا سندھی کا مطلب بھی نہیں پا سکے۔بہرحال خیالات وافکار کا شذوذ تو ہر مجتہد اور محقق میں پایا جاتا ہے، لیکن بایں ہمہ مولانا سندھی اپنے مسلک، عقیدہ اور عمل کے لحاظ سے پکے سچے راسخ العقیدہ اور پرجوش مسلمان تھے۔‘‘ (1)
مولانا عبدالحق خان بشیر نے 2004ء میں ایک کتاب ’’مولانا عبیدا للہ سندھی اور تنظیم فکر ولی اللہی‘‘ کے نام سے تحریر کی تھی جس کا بنیادی مقدمہ یہی ہے کہ مولانا عبید اللہ سندھی کے افکار کو ان کے ناقل شاگردوں نے غلط طور پر پیش کر دیا ہے جس کے نتیجے میں ان کی فکر یگانوں اور بیگانوں کے ہاں متنازع بن کر رہ گئی۔اس کتاب کا مقدمہ مصنف کے بھائی مولانا زاہد الراشدی نے تحریر کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں :’’بدقسمتی سے مولانا سندھی کے خوشہ چین، جنھوں نے اپنے استاد کی پیروی میں کیمونسٹ انقلاب اور نظام کے مطالعہ کی زحمت تو اٹھا لی، لیکن ان کی طرح فکری و نظریاتی توازن قائم نہ رکھ سکے، خود پر ’’لغزشِ پا‘‘ کا الزام زیادہ بوجھل سمجھتے ہوئے انھوں نے اسے اپنے استاد کی طرف منتقل کر دینے میں عافیت محسوس کی اور یہ بات ناقدین کے بے رحم ہاتھوں میں پہنچ کر ایک نئے فکری معرکے کا عنوان بن گئی۔‘‘ (2)
اس کتاب میں بڑی تفصیل کے ساتھ مولانا سندھی کا دفاع کیا گیا ہے اور اس کے لیے مختلف عقلی اور نقلی معیارات وضع کیے گئے ہیں، جن پر ، مصنف کے بہ قول، مولانا سندھی کی فکر کو پرکھا جا سکتا ہے۔ایک عنوان ’’امام سندھی کی فکری صحت پر ٹھوس شہادتیں‘‘ قائم کر کے مختلف علما کی طرف سے مولانا سندھی کو پیش کیا گیا خراجِ عقیدت بھی مصنف نے نقل کیا ہے۔ان علما میں مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا احمد علی لاہوری جیسے اہل علم کا نام بھی شامل ہے۔ تاہم یہ نام پیش کرنے میں جو چیز نظر انداز ہوئی ہے، وہ مولانا سندھی کی فکر کے زمانی مدارج ہیں۔ مولانا تھانوی اور مولانا لاہوری کی طرف سے بلاشبہ حضرت سندھی کے حق میں بلند پایہ اظہارِ عقیدت بھی ملتا ہے اور یہ بات صرف انھی دو علما پر بس نہیں، علمائے دیوبند میں سے دیگر حضرات کے ہاں بھی یہ جذبات موجود ہیں، لیکن خود انھی علما کی تصریحات کے مطابق اصل مسئلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جب مولانا سندھی افغانستان، سوویٹ یونین، ترکی اور حجاز کے قیام کے بعد 1939 میں ہندوستان پہنچے تو ان کی تقاریر اور تحریروں میں پیش کیے جانے والے خیالات سے علما کو اختلاف ہونا شروع ہوا۔ (3) اگرچہ دیوبند میں قیام کے دوران میں اس سے بہت پہلے بھی مولانا سندھی کے بعض امور پر اختلافات سامنے آچکے تھے، لیکن ان کی فکر میں نمایاں اور جوہری تبدیلیوں کا تعلق سفر کابل کے بعد کا ہے۔ مولانا تھانوی کی جو تحریر اس سلسلے میں پیش کی گئی ہے، وہ 1915ء کی ہے جب کہ مولانا سندھی کے افکار کے شاذ امور سامنے آنے کے بعد مولانا تھانوی کے ملفوظات وغیرہ میں ان پر تنقید بھی ملتی ہے۔ 
اس کتاب کے مؤلف نے ایک عنوان ’’امام سندھی کے ناقابل اعتماد تلامذہ‘‘ کے الفاظ میں باندھا ہے جس کے تحت مولانا لاہوری، خواجہ عبدالحی فاروقی? وغیرہ کو قابل اعتماد جب کہ موسیٰ جار اللہ اور مولانا عبداللہ لغاری کو ان کے ناقابل اعتماد تلامذہ میں شمار کیا ہے۔ ان حضرات کے ساتھ پروفیسرمحمد سرور کا نام نقل نہیں کیا گیا، حالاں کہ ہندوستان میں مولانا سندھی کے افکار پر جو تنقید ہوئی ہے، زیادہ تر ان تحریروں کی روشنی میں ہوئی ہے جو پروفیسر محمد سرور کی مرتب کی ہوئی ہیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی کی زندگی ہی میں ان کی معروف کتاب ’’افادات وملفوظات‘‘ شائع ہوئی تھی۔ان کی ایک دوسری کتاب ’’مولانا عبیداللہ سندھی: حالات ، تعلیمات اور سیاسی افکار‘‘ کے نام سے ہے۔ مولانا سندھی کی فکر پر جو اشتراکیت ، وحدتِ ادیان ، تشریعات کے غیر ابدی ہونے جیسے مسائل کے حوالے سے سب سے زیادہ تنقید ہوئی ہے، وہ افکار پروفیسر محمد سرور کی انھی کتابوں سے اٹھائے گئے ہیں۔دوسری طرف ان کے بارے میں ایسے علما کے بلند پایہ الفاظ موجود ہیں جو مولاناسندھی کی فکر کے سب سے بڑے خوشہ چین اور ان کے عقیدت مند کہلاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا احمد علی لاہوری کے بیٹے مولانا عبیداللہ انور کے قلم سے پروفیسر سرور کے بارے میں ایک مضمون ہے جس کے بعض مندرجات یہاں نقل کیا جاتے ہیں: 
’’خود سرور صاحب کی تصنیف ارمغان شاہ ولی اللہ اپنے موضوع پر بے نظیر کتاب ہے جسے شاہ ولی اللہ کی کتابوں کا خلاصہ اور نچوڑ کہنا چاہیے اورعلومِ قرآنی کے طلبہ کے لیے تو وہ ایک نعمت ہے۔ ایسے ہی مولانا سندھی پر ’’افادات و ملفوظات‘‘ اور ’’مولاناعبیداللہ سندھی نام‘‘ کی دو کتابیں لکھ کر تو انھوں نے امت پر احسانِ عظیم کیا ہے۔‘‘ ۔۔۔’’ملک نصر اللہ خان عزیز نے مولانا سندھی سے پوچھا، اس کتاب کے بارے میں خود آپ کی کیا رائے ہے؟ مولانا نے فرمایا: ’’پروفیسر صاحب نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ میرے افکاروخیالات سے متصادم کوئی چیز اس میں نہ آنے پائے۔ ظاہر ہے خیالات تو میرے ہی ہیں، لیکن زبان وبیان سرور صاحب کا ہے۔‘‘ ۔۔۔’’بہرحال میں قدرت کی اس بے نیازی پر حیران ہوں کہ علم وادب کی یہ عظیم خدمت اس نے کس کے سپرد کی جس کا کوئی علمی پس منظر نہیں۔سرور صاحب کا تعلق گجرات کے ایک گھرانے اور پس ماندہ علاقے سے ہے۔‘‘ ۔۔۔’’سرور صاحب کا تعلق تو پرانی نسل سے تھا، لیکن لکھتے وہ نئی نسل کے لیے تھے اور زیادہ تر فائدہ بھی اس سے آئندہ نسلیں ہی اٹھائیں گی۔ میرا خیال ہے مستقبل میں ان کی تحریریں او رمقبول ہوتی چلی جائیں گی کیوں کہ یہ کوئی وقتی باتیں یا سطحی نظریات نہیں۔ یہ دراصل مولانا سندھی کے برسوں کے تجربات اور شاہ ولی اللہ کی مجتہدانہ تعلیمات پر مبنی ہیں۔‘‘ ۔۔۔’’سرور صاحب فطرت کا ایک عطیہ تھے جن کی دریافت مولانا سندھی ہیں اور مولانا سندھی نے ہمارے لیے شاہ ولی اللہ کو دریافت کیااور شاہ ولی اللہ نے خیر القرون سے لے کر اپنے دور تک اسلام کی فلاسفی کو جس طرح مدون کیا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔‘‘ (4)
ان اقتباسات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پروفیسر سرور نہ صرف مولاناسندھی کے ہاں معتمد علیہ شخصیت تھے، بلکہ بعض دیگر ثقہ علما کی رائے بھی ان کے بارے میں نہایت مثبت تھی، نیز یہ کہ انھوں نے مولانا سندھی کے افکار کو منتقل کرنے میں کسی علمی خیانت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہی خیال جناب سید خالد جامعی کا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’حضرت مولانا عبیدا للہ سندھی کے بارے میں ہمارے محترم کفیل بخاری صاحب اور عابد مسعود صاحب کی رائے ہے کہ پروفیسر سرور کی محرف تحریروں کے باعث مولانا سندھی کے افکار کا غلط خاکہ تیار ہوا ہے۔ساحل کا بھی یہی موقف تھا، لیکن جب اس سلسلے میں ڈاکٹر ابوسلمان شاہجہانپوری سے رابطہ کیا تو انھوں نے واضح طور پر دوٹوک الفاظ میں فرمایا کہ پروفیسر سرور نے مولانا سندھی کے حوالے سے جو کچھ تحریر فرمایا ہے، وہ مولانا سندھی کے افکار کی درست ترجمانی ہے۔اس میں کوئی تحریف، اضافہ، سرور صاحب سے منسوب کرنا درست نہیں۔مولانا سندھی کے یہی افکار تھے۔‘‘ (5)
تیسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ مولانا سندھی کی جملہ تحریرات و افکار ان کی اپنی ہی ہیں اور کوئی چیز ان کی طرف غلط منسوب نہیں ہے۔ یہ نقطہ نظر ان کے جملہ افکار کا مؤید اور داعی ہے۔ یہ ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہاں پوری اور تنظیم فکر ولی اللہی کا رجحان ہے اور ان حضرات نے علما کی طرف سے دیے گئے فتووں کا جواب اور اپنے نظریات کی وضاحت بھی کی ہے۔
زیر تبصرہ کتاب میں ، جیسا کہ ذکر ہوا ، پہلے نقطہ نظر کے حوالے سے تحریرات جمع کی گئی ہیں۔مولانا سید ابولاعلیٰ مودودی نے پروفیسر محمد سرور کی کتاب ’’مولاناعبید اللہ سندھی: حالات ، تعلیمات اور سیاسی افکار‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا سندھی کی فکر کے قابل تنقید امور پر نقد کرتے ہوئے لکھا تھا:
’’مولانا مرحوم کی یہ بڑی خوش قسمتی تھی کہ ان کا تعلق علماء کرام کے اس طبقہ سے تھا جو اپنی گروہ بندی کی عصبیت میں حد کمال پر پہنچا ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مولانا یہ سب کچھ فرما گئے اور لکھوا اور چھپوا بھی گئے اور پھر بھی تنقید کی زبانیں بند اور تعریف کی زبانیں تر رہیں، ورنہ اگر انھوں نے اس طبقہ خاص سے باہر جگہ پائی ہوتی تو ان کا استقبال سرسید اور علامہ مشرقی سے کچھ کم شاندار نہ ہوا ہوتا۔‘‘ (6)
تاہم زیر نظر کتاب مولانا مودودی کی اس بات کی تردید کرتی ہے، کیوں کہ اس میں شامل تقریباً تمام مقالات علمائے دیوبند کے ہیں جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے دینی مکاتب فکر میں خوداحتسابی اور تنقید کی روایت زندہ رہی ہے اور محض عقیدت مندی کی بنا پر اپنے حلقے کے بزرگوں کے قابلِ نقد افکار پر پردہ نہیں ڈالا گیا بلکہ ان پر علمی تنقید ہوتی رہی ہے۔ یہ نکتہ اور یہ پہلو سامنے رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ دینی حلقوں پر ایک عمومی الزام ہے کہ وہ اپنے بڑوں کی اندھی تقلید یا رائج اصطلاح میں ’’اکابر پرستی‘‘میں مبتلا ہوتے ہیں۔مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا مسعود عالم ندوی کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں: 
’’آپ نے سچ کہا۔ مولانا شبلی کی پیش گوئی کہ آخر دیوبند بھی کب تک دیوبند رہے گا، برہان(7) والوں کے مضامین نے اسی کا ثبوت بہم پہنچایا۔ حضرت شاہ صاحب کے ان ہی خیالات کی اس تشریح کو اگر سرسید اور شبلی کا قلم بیان کرے تو بے دینی اور اگر فضلائے دیوبند لکھیں تو عین دین؛ بسوخت عقل زحیرت کہ این چہ بوالعجبی ست۔‘‘ (8)
اسی طرح مولانا مناظر احسن گیلانی (جو کہ دیوبند کے جلیل القدر عالم ہیں) نے مولانا عبدالماجد دریابادی کے ہفت روزہ ’’صدق‘‘ میں مولانا سندھی کے حوالے سے ایک تنقیدی خط لکھا اور مولانا سندھی کا دفاع کرنے والے دیوبندی حلقہ فکر کے لوگوں پر ذرا سخت الفاظ لکھے ہیں۔(9) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا عبید اللہ سندھی کے افکار پر احتساب کا معاملہ دیوبند کے اہل علم کے ہاں قابل چشم پوشی نہیں رہا، بلکہ انھوں نے اس کا بھرپور ثبوت دیا ہے اور اس کا سب سے بڑا شاہد یہی زیر تبصرہ کتاب ہے۔ 
اس کتاب میں مولانا اشرف علی تھانوی کا ایک تنقیدی مضمون بھی شامل ہے، جو اصلاً تو اس وقت مولانا لاہوری کی تفسیر پر تنقید کے سلسلے میں سامنے آیا، لیکن وہ افادات مولانا سندھی ہی کے تھے۔ مولانا سندھی کے افکار میں جب تک شاذ امور داخل نہ ہوئے تھے، مولانا تھانوی نے ان سے اپنی عقیدت کا اظہار اچھے الفاظ میں کیا تھا، تاہم مولانا سندھی کے افکار میں شذوذ کے ظہور کے بعد مولانا تھانوی کے کلام میں ان پر تنقیدیں ملتی ہیں جن کا ایک حصہ اس کتاب کا جزو ہے۔ کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں کسی سائل کے اعتراض پر مؤلف نے مولانا تھانوی کے وہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں اور ان کی توجیہ یہ پیش کی ہے کہ یہ اظہارِ عقیدت اس دور کا ہے جب کہ مولانا سندھی کے افکار میں شاذ باتیں نمایاں نہیں ہوئی تھیں۔ (10)
مولانا عبید اللہ سندھی کی فکر کے جو اجزا علما کے نزدیک محل نظر رہے ہیں اور جن کی تائید کتاب میں شامل تحریروں سے ہوتی ہے، ان مقالات پر ایک مجموعی اور کلی نظر ڈالی جائے تو ان میں سے ضروری اور بڑے بڑے امور کو مندرجہ ذیل نکات کی شکل میں بیان کیا جا سکتا ہے:
1۔ تفسیر قرآنی میں تفسیر بالرائے کا رجحان
2۔ اشتراکیت اور نیشنل ازم کا تاثر
3۔ وحدتِ ادیان کا تصور
4۔ قادیانیت کے بارے میں نرم گوشہ
5۔ تشریعی احکام (خصوصاً حدود وغیرہ) کی زمانیت اور ابدیت
6۔بعض کلامی امور(جیسے نزولِ عیسیٰ ، عذابِ فاسقین، کفار کا خلود فی الناروغیرہ)کے بارے میں تفردات
اس کے علاوہ بھی مختلف نکات ذکر کیے جا سکتے ہیں، لیکن جناب مفتی محمد رضوان کی زیر تبصرہ کتاب کے اکثر مقالات انھی امور کے گرد گھومتے ہیں۔
پہلے نکتے کے لحاظ سے زیر تبصرہ کتاب میں مولانا اشرف علی تھانوی کا ایک رسالہ التقصیر فی التفسیر شامل اشاعت ہے۔ یہ رسالہ مولانا نے 1347ھ میں تصنیف فرمایا تھا۔اس وقت مولانا عبیدا للہ سندھی حیات تھے۔یہ رسالہ بعد میں طبع نہیں ہوا۔(11)اس رسالے میں مولانا تھانوی نے مولانا عبیداللہ سندھی کے ان تفسیری افکار پر نقد کیا ہے جو وہ جدید مسائل کے استنباط کے معاملے میں قرآن سے پیش کیا کرتے تھے۔ سیاسی اور اقتصادی مسائل کے باب میں مولانا سندھی صوفیہ کے طریق پر تاویل اور اعتبار سے کام لیتے ہوئے قرآنی آیات سے ’’ تفسیر اشاری‘‘ کے مسائل کا استنباط کیا کرتے تھے، تاہم اس طرز کو مولانا تھانوی نے تفسیر بالرائے کی قبیل سے دیکھا ہے اور اس پر نقد کیا ہے۔ 
یہ رسالہ ایک مقدمے اور تین فصلوں پر مشتمل ہے۔ مقدمے میں بعض اصولی باتیں ذکر کی ہیں جن میں دلالت کی انواع اور جائز و ناجائز استنباطات کا ذکر ہے۔ فصل دوم میں قرآن کے اصل مقصود اور اس کی غرض وغایت پر گفتگو کی گئی ہے۔ تیسری فصل میں مولانا سندھی کی تفسیراتِ اعتباریہ میں سے تقریباً اکیس نمونے نقل کر کے ان پر تنقید کی گئی ہے۔ 
مولانا سندھی کے یہ استنباطات کس طرح صوفیہ کی تفسیر اشاری سے جدا ہیں اور غیر مطلوب فی الدین ہیں؟ اس کی وضاحت میں مولانا تھانوی نصوص کی دلالت کی مختلف صورتوں کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جن احکام کو نصوص کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، وہ دو قسم کے ہیں:ایک قسم معتبر دلالتوں کی ہے، اگر وہ واضح ہو تو وہ تفسیر ہے، خواہ قطعی ہو یا ظنی اور استنباطاً ہو تو اس کا نام فقہ واجتہاد ہے۔دوسری قسم وہ ہوتی ہے جو دلالت سے تو تعلق نہیں رکھتی، لیکن ان احکام کی نصوص کے مدلولات سے ایک گونہ مشابہت ہوتی ہے۔ اس قسم کے احکام کو مدلولِ نص کہنا درست نہیں ہے، ورنہ یہ تفسیر بالرائے ہے۔ رہا اس کا جواز اور عدمِ جواز تو ایسی چیزیں اگر دین میں مطلوب ہوں تو ایسے احکام کا ذکر کرنا جائز ہوگا، جیسے تفسیر اشاری صوفیہ کے ہاں ملتی ہے، لیکن اگر یہ دین میں مطلوب نہ ہوں تو پھر ان احکام کا ذکر ان نصوص کے ذیل میں ناجائز ہوگا۔ مولانا تھانوی نے مولانا سندھی کی جن باتوں پر نقد کیا ہے، ان میں سے زیادہ تر اسی آخری قسم سے تعلق رکھتی ہیں۔ (12) 
اس کی ایک مثال: اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وان اردتم ان تسترضعوا اولادکم فلا جناح علیکم (13) (اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں (یعنی کوئی دودھ پلانے والی بلا کر)۔ اس آیت کے تحت ’’اعتبار ‘‘ کے طور پر مولانا سندھی نے لکھا ہے کہ ’’اگر از ممالک خارجہ کساں برائے ترتیب نہر وغیرہ قوم خود طلبانیدہ شود درست است۔‘‘(اگر بیرون ممالک سے حکومت اپنے ہاں نہری اور آب پاشی کے نظام کے اجرا اور ترقی کے لیے ماہرین بلائے تو درست ہے۔ ) اس پر مولانا تھانوی نے تنبیہ کرتے ہوئے لکھا ہے : 
’’اس عبارت کے مقدمہ میں بھی کچھ لکھا گیا ہے اور اس میں ایک خاص خبط (یعنی بدعقلی کا مظاہرہ) بھی کیا گیا ہے کہ مطلق رعیت کو جو کہ قدیم (یعنی پرانی رعایا) کو بھی شامل ہے، بجائے اولاد کے قرارد یا گیا ہے اور عبارت پانزدہم (یعنی پندرھویں عبارت) میں صرف نئی رعیت کو بجائے اولاد کے قرار دیا تھا۔اس کا مقتضا یہ ہے کہ اس آیت میں صرف جدید رعیت کی مصالح کے لیے غیر ملکی لوگوں کو بلانا جائز ہو اور اگر مختلف اعتبارات کی بنا پر سب تشبیہات کی تصحیح کی جاوے تو دوسرے شخص کو جائز ہوگا کہ دوسرے اعتبارات فرض کر کے ان احکام کے مضاد (یعنی مخالف) احکام قرآن سے مستنبط کرے، تو قرآن کیا ہوا ، موم کی ناک ہوئی۔نعوذ باللہ۔‘‘ (14)
مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا سندھی کی ’’قرآن کی سیاسی تعبیر‘‘ پر نقد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ نظارۃ المعارف القرآنیہ کے تحت انگریزی و عربی کے فارغ التحصیل اور نیم فارغ التحصیل لوگوں میں ’’ درس ]قرآن[ کا منشا یہ تھا کہ پورے قرآن کو جہاد وسیاست ثابت کیا جائے اور تمام احکام کو اس جنگی رنگ میں پیش کیا جائے۔اس تفسیر کی جھلک آپ کو ان کے تلامذہ مثلا خواجہ عبدالحی صاحب فاروقی کی تفسیر اور مولانا احمد علی صاحب لاہوری کے قرآنی حواشی میں پوری طرح نظر آئے گی۔‘‘ (15) غالباً انھی تنقیدوں کا محرک تھا کہ اس تفسیر پر بعد میں دیوبند کے کئی علما کی تقاریظ لی گئیں جن میں اس کے حق میں تائیدی اور تعریفی کلمات کہے گئے ہیں۔
مولانا سندھی کی فکر میں جن امور پر سخت تنقیدیں ہوئی ہیں، ان میں وحدتِ ادیان کی فکرکا عنصر بھی ہے۔ کتاب میں شامل مقالات میں مولانا مسعود عالم ندوی کے مقالے میں درج ہے کہ :’’مولانا سندھی اسلام اور ہندوستانی قومیت کا ایک معجون مرکب پیش کرنا چاہتے ہیں، تاکہ ہندوؤں کو اسلام سے وحشت نہ رہے اور مسلمان خوشی خوشی ہندوستانی قومیت کا جز بن سکیں۔اسی اعتبار سے وہ وحدتِ انسانیت اور وحدتِ ادیان کے قائل ہیں۔ مولانا کے نزدیک قرآن مجید بھی اسی بنیادی فکر کا ترجمان ہے۔‘‘ (15) اسی طرح مولانا ابن الحسن عباسی، مولانا سندھی کی تفسیر الہام الرحمان کا حسب ذیل اقتباس پیش کر کے کہتے ہیں کہ مولانا وحدتِ ادیان کی فکر کے قائل ہیں:
’’ہم تمام ادیان کی حقانیت اور صحت کا اعتراف کرتے ہیں، لیکن صرف اس قدر جتنا ان کی طرف نزول ہوا ہے، اور ان ادیان میں اختلاف کو ہم اس طرح کا اختلاف قرار دیتے ہیں جس طرح حدیث کی مختلف کتابوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔۔۔ اس لیے ہم تمام ادیان کو جمع کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کی تطبیق دیتے ہیں جس طرح مختلف احادیث میں جمع وتطبیق اختیا رکی جاتی ہے۔ ‘‘ (16)
آگے ایک اور مقام پر اسی سلسلہ میں لکھتے ہیں:
’’عام فقہا نے مسلمانوں کو اپنے اس فتویٰ سے گمراہ کیا کہ تمام کے تمام غیر مسلم باطل پر ہیں اور ان کے پاس حق میں سے کچھ بھی نہیں۔‘‘ (17)
کتاب میں جناب اقبال شیدائی کے نام مولانا سندھی کے خطوط (مرتبہ پروفیسر محمد اسلم ) کے اقتباسات بھی دیے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا سندھی کا قادیانیت کے بارے میں موقف، عام موقف سے ہٹ کر اور نرم تھا۔ ان کے خطوط میں حکیم نورالدین بھیروی اور مولوی محمد علی لاہوری کے بارے میں بلند تعریفی الفاظ ملتے ہیں۔ 
مذکورہ بالا امور تو زیر تبصرہ کتاب کی اس تصویر کے حوالے سے ہیں جو مولانا عبیداللہ سندھی کے بارے میں کتاب پڑھنے کے بعد قاری کے ذہن میں بنتی ہے؛ تاہم مناسب ہو گا کہ اختصار کے ساتھ یہاں مولانا سندھی کے دفاع میں پیش کی جانے والی باتوں کی ایک جھلک بھی سامنے رکھ دی جائے تاکہ موضوع سے متعلق تصویر کے دونوں رخ سامنے آ جائیں۔ کسی شخصیت یا نظامِ فکر کے معروضی مطالعے کے لیے یہ بات ناگزیر ہے کہ اس کے دونوں پہلو سامنے رہیں۔ 
اس سلسلے میں کچھ امور تو اوپر مولاناعبدالحق خان بشیر کی کتاب ’’مولانا عبیداللہ سندھی اور تنظیم فکر ولی اللہی‘‘ کے حوالے سے آ گئے ہیں جس کی رو سے مولانا سندھی کے بارے میں محل نظر افکار کے انتساب کی اصل وجہ ان کے شاگردوں کے ’الحاقات‘ اور ’حدیثِ دیگراں ‘ ہے جو ’سرِ دلبراں‘ کی شکل میں سامنے آ گئی ہے۔ اس کے ذمہ دار اصل میں مولانا سندھی نہیں ہیں، لیکن جیسا کہ گذشتہ سطور سے معلوم ہوا، یہ موقف زیادہ مضبوط معلوم نہیں ہوتا۔جزوی طور پر یہ موقف درست ہے، لیکن اسے کلی طور پر قبول کرنا کافی مشکل ہے کہ مولانا سندھی کی فکر کے وہ امور جو عام علما کے افکار سے مختلف ہیں، وہ سب دوسروں کی دسیسہ کاری ہے۔خود مولانا سندھی کی فکر سے والہانہ وابستگی رکھنے والے علما ان کی فکر میں شذوذ کے قائل ہیں، تاہم اس الحاق کا کلی طور پر انکار بھی ممکن نہیں اور حق بات ان دونوں کے درمیان معلوم ہوتی ہے۔ (18)
مولانا سندھی کے دفاع کے حوالے سے دوسرا موقف وہ ہے جو دیوبند ہی کے سرکردہ علما میں سے مولانا سعید احمد اکبر آبادی اور بعض دیگر اہل علم کا ہے جنھوں نے مولانا مسعود عالم ندوی کی تنقید کے جواب میں اپنے مجلے برہان میں قلم سنبھالا اور ایک سے زائد اقساط میں مولانا سندھی پر ہونے والی تنقیدوں کا جواب لکھا جو بعد میں کتابی شکل میں ’’مولانا عبیداللہ سندھی اور ان کے ناقد‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔اس تنقید کے بارے میں مولانا اکبر آبادی کا موقف یہ تھا کہ ’’اس بات کا سخت افسوس ہے کہ مولانا مسعود عالم نے مولانا سندھی پر جو تنقید کی ہے، اس میں مولانا کے افکار کو بالکل توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے جس سے حقیقت کچھ سے کچھ ہو گئی ہے اور کہیں کی بات کہیں جا پہنچی ہے۔‘‘ (19( مختلف امور پر مولانا اکبر آبادی کا موقف پیش کرنے سے پہلے خود مولانا سندھی کی فکر کے افکار سے اتفاق نہیں ہے اور وہ ان کی خواہ مخواہ طرف داری کے قائل نہیں ہیں۔ (20)
مولانا عبید اللہ سندھی کی طرف وحدتِ ادیان کی فکر کے انتساب کی وضاحت مولانااکبرآبادی نے یہ کی ہے کہ مولانا سندھی اس معنی میں وحدتِ ادیان کے قائل ہیں کہ دین اپنی اصل تعلیمات میں اشتراک رکھتے ہیں اور قرآن نے اسی بات کی صراحت کی ہے، لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آیا موجودہ وقت میں اسلام دیگر ادیان پر برتری رکھتا ہے اور نجات کے لیے اس کے حلقے میں داخل ہونا ضروری ہے تو اس کی وضاحت میں مولانا اکبر آبادی، مولانا سندھی کی کتابوں کی عبارتوں سے استمداد کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’مولانا سندھی قرآن کو آخری آسمانی کتاب مانتے ہیں۔ان کے نزدیک قرآن ان تمام صداقتوں کا کامل مجموعہ ہے جو اسلام سے پہلے مختلف ادیان میں بکھری پڑی تھیں۔ قرآن کا قانون تمام انسانوں کے لیے ہے اور انسانیت کی بھلائی کا راز صرف اسی کے اتباع اور پیروی میں ہے۔سرور صاحب لکھتے ہیں کہ مولانا کے نزدیک قرآن نے تمام اقوام ، ادیان اور مذاہب کے مرکزی نکات کو جو کل انسانیت پر منطبق ہو سکتے ہیں، یک جا کیا اور ساری دنیا کو یہ دعوت دی کہ صرف یہی ایک اساس ہے جس پر صحیح انسانیت کی تعمیر ہو سکتی ہے۔‘‘ (21)
کتاب میں شامل مقالات میں اس بات پر بھی تنقید ملتی ہے کہ مولانا عبیداللہ سندھی کی فکر میں اشتراکیت اور نیشنل ازم کا عنصر شدت سے موجود ہے اور وہ اس طرزِ فکر کے داعی تھے۔ مولانامسعود عالم ندوی کی کتاب ’’مولانا عبیداللہ سندھی اور ان کے افکاروخیالات پرا یک نظر‘‘ کے مختلف اجزا اس کتاب میں شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم انصاف کی بات یہ ہے کہ مولانا سندھی نے جہاں اس تحریک کی خوبیوں کو بنظر استحسان دیکھا ہے، اس کی خامیوں پر بھی مختلف مقامات پر گفتگو کی ہے۔اس سلسلے میں مولانا سندھی کی تحریروں کی طرف رجوع کیا جائے نیز ان کے دفاع میں لکھی جانے والی باتوں کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس سوشل ازم کو دو مختلف پہلوؤں سے دیکھتے ہیں۔اس کا ایجابی پہلو یہ ہے کہ یہ تحریک بندہ مزدور کے استحصال کے خلاف آواز اٹھاتی ہے اور موجودہ دور کی سب سے بڑی لعنت سرمایہ داری کی مخالف ہے۔ اس پہلو سے مولانا سندھی کے ہاں اس کے استحسان پر گفت گو ملتی ہے، لیکن اس تحریک کے معنوی پہلو پر مولانا سندھی کی تنقید بھی بالکل واضح ہے اور اس سے صرفِ نظرکرنا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ہے۔یہاں ان کی تفسیر الہام الرحمان کا ایک اقتباس درج کیا جاتا ہے:
’’روسی انقلاب ایک اقتصادی انقلاب ہے جس کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ حیاتِ اخروی سے کوئی سروکار رکھتا ہے۔ہم نے ان کی صحبتوں میں بیٹھ کر نہایت لطیف طریق سے امام ولی اللہ دہلوی کا وہ پروگرام انھیں بتایا جو حجۃ اللہ البالغہ میں مذکور ہے۔ جب انھوں نے ہم سے پوچھا کہ اس پروگرام پر کوئی قوم عمل بھی کرتی ہے تو ہمیں اس کا جواب نفی میں دینا پڑا تو انھوں نے کہا کہ افسوس اگر کوئی ایسی قوم ہوتی تو ہم ان کا مذہب اختیار کر لیتے اور جو ہمارے پروگرام میں سخت مشکل پیش آتی ہے ، یعنی کسانوں کا مسئلہ، وہ دور ہو جاتی۔ یہ ہے ان کی تمام باتوں کا ملخص ۔ اس فکر میں ہم نے کوئی تحریف نہیں کی، ہم اس سے یقین کرتے ہیں کہ وہ قرآن کے پروگرام کو قبول کرنے پر مجبور ہیں، خواہ کچھ عرصہ کے بعد ہی سہی۔ تاریخ انسانیت میں اشتراکیت سے بڑھ کر کوئی تحریک فطرت انسانی یعنی تعلیم قرآنی کے مخالف پیدا نہیں ہوئی۔ جب یہ تحریک بھی ہدایت قرآنی کے قبول کرنے کی محتاج ہے تو باقی تحریکات کا کیا پوچھنا۔‘‘ (22)
زیرِ تبصرہ کتاب کی یہ گزارشات مولاناسندھی کے افکار کے حوالے سے تھیں جو طویل ہو گئیں۔ 
کتاب کا دوسرا حصہ تنظیم فکر ولی اللہی کے حوالے سے ہے۔تنظیم فکر ولی اللہی ، خانقاہِ رائے پور کے چوتھے صدر نشین مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری نے ملتان میں 1987ء میں قائم کی جس میں کالج ، یونی ورسٹیوں اور مدارس کے طلبہ شامل ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے بورڈ نے 3 جمادی الثانیہ 1421ھ ، 4 ستمبر 2000ء کو اپنی مرکزی مجلس عاملہ میں تنظیم فکر ولی اللہی کے طرزِ عمل اور افکار ونظریات کے پیش نظر ، اس کو بورڈ سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کی وجہ یہ تھی کہ وفاق کے نزدیک ’’اس تنظیم کے نظریات ، جمہور امت کے موقف کے منافی ہیں۔‘‘ (23) کتاب میں شامل تنظیم کے خلاف فتاویٰ میں تنظیم کے افکار کو بھی پیش کیا گیا ہے، جن کے باعث فتاویٰ وجود میں آئے ہیں۔ جامعہ فاروقیہ کراچی کے فتوے میں درج ہے:
’’یہ لوگ اپنا نظریہ اور منشور عام لٹریچروں اور مجلسوں میں بیان نہیں کرتے، بلکہ مختلف پروگراموں کے ذریعے تدریجاً اپنے کارکنوں کے ذہن میں منتقل کرتے رہتے ہیں، چنانچہ کچھ عرصے بعد اس تنظیم سے منسلک ہونے والا آخر کار دہریت کے قریب یا بالکل دہریہ بن جاتا ہے۔ ‘‘ (24)
بنوری ٹاؤن کراچی کے فتوے میں تنظیم کے محل نظر افکار کا نسبتاً تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے جو حسب ذیل ہیں:
بلا سمجھے قرآن پڑھنے کو بت پرستی جیسا سمجھنا
جنت ودوزخ کو نفسی کیفیات قراردینا
جنت ودوزخ کے دوام کا انکار کرنا 
حوضِ کوثر کو مجردات ادراک سے حاصل شدہ عقلی لذت قرار دینا
عقید? شفاعت کو اخلاق کی بربادی کا باعث قرار دینا
عصرِ حاضر کی مساجد کو مسجدِ ضرار قرار دینا
حیاتِ عیسیٰ جیسے عقیدہ کو یہودی وصابی من گھڑت کہانی قرار دینا
ظہورِ مہدی اور نزولِ عیسیٰ کے عقیدہ کو غیراسلامی کہنا
حدیث کو مستقل وحی نہ ماننا، وغیرہ۔ (25)
دیگر فتاویٰ میں بھی اس طرح کے امور ذکر کیے گئے ہیں۔
ان فتاویٰ کے معروضی اور عادلانہ جائزے کا تقاضا یہ ہے کہ خود تنظیم فکر ولی اللہی کے لٹریچر کی طرف رجوع کیا جائے کہ وہ حضرات ان باتوں کے جواب میں کیا کہتے ہیں۔ اس بات کا جائزہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ موجودہ دور میں جس طرح افتراق وتشتت نے ہمارا اجتماعی شیرازہ بکھیرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے، وہ ہماری جدید تاریخ کا افسوس ناک باب ہے۔بعض اوقات یک رخے فتووں کی وجہ سے کسی شخصیت یا جماعت کے بارے میں ایک ایسی تصویر تیار کر دی جاتی ہے جو خود ان لوگوں کی تصریحات کے خلاف ہوتی ہے جن کے خلاف فتاویٰ دیے گئے ہوتے ہیں۔ مذکورہ بالا فتاویٰ کے منظر عام پر آنے کے بعد تنظیم کے تین علما مفتی عبدالمتین نعمانی، مفتی عبدالقدیر اور مفتی عبدالغنی قاسمی نے ان فتاویٰ کا جائزہ لیا اور ایک کتاب اپریل 2006ء میں ’’تنظیم فکر ولی اللہی کی بابت فتووں کی حقیقت‘‘ کے نام سے شائع کی۔ دیانت کا تقاضا ہے کہ ان فتاویٰ پر ان تصریحات کو پیشِ نظر رکھا جائے۔ مذکورہ بالا فتاویٰ جب سامنے آئے تو تنظیم کے بانی مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری نے مولانا عبیدالرحمن اشرفی (نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ) کے نام ایک خط لکھا جس میں کہا کہ :
’’آج کل بعض شرپسند عناصر نے خودساختہ چند غلط عقائد بنا کر میری طرف منسوب کرنے کی انتہائی مکروہ کوشش کی ہے تاکہ خانقاہ رائے پور کے عظیم سلسلہ اور میرے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کیے جائیں۔میں اپنے اکابر علماء دیوبند ، اکابر رائے پور، اکابر مجلسِ احرار اور جمعیۃ علماء ہند کے مسلک ومشرب کا پابند وترجمان ہوں۔میرے خیالات اپنے بزرگوں اور سرپرستوں اور اکابرین دیوبند سے ذرہ بھر مختلف نہیں ہیں۔ میں اپنے بزرگوں کی تصدیق سے چھپنے والی کتاب المہند علی المفند مؤلفہ حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ میں مذکورہ عقائد کا ہی پابند ہوں، گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے سے پھیلائے جانے والے عقائد ونظریات سے میرا اور میرے متعلقین کا کوئی تعلق نہیں۔ ہم بزورتاکید اس کی تردید کرتے ہیں۔‘‘ (26)
اس کتاب میں مولانا سلیم اللہ خان کے نام تنظیم والوں کے خطوط بھی شامل ہیں جن میں ان تمام عقائد سے براء ت کا اظہار کیا گیا ہے جن کی تفصیل اوپر ذکر کی گئی ہے اور جن کی بنیاد پر تنظیم کے افراد پر گم راہ ہونے کا فتویٰ دیا گیا ہے۔ کتاب کے ص 62 پر ’’الزامات کی حقیقت‘‘ کے نام سے ایک عنوان قائم کیا گیا ہے جس کے تحت ایک ایک کر کے ان تمام عقائد کی تردید کی گئی ہے کہ تنظیم کے افراد یہ موقف نہیں رکھتے، نیز مولانا عبیداللہ سندھی کی عبارات کو بھی ان الزامات کی تردید کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ تفصیل ص 146 تک پھیلی ہے اور کتاب کا اصل حصہ ہے، البتہ اس کتاب میں ایک کمی بہرحال نظر آتی ہے کہ فتووں میں مولانا سندھی کی جو محل نظر عبارات پیش کی گئی ہیں،ان کی توجیہ کے لیے کتاب عام طور پر خاموش ہے، لیکن بہرحال تنظیم کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے نہایت ضروری ہے کہ ان تفصیلات کو پیش نظر رکھا جائے، کیوں کہ کسی مسلمان کے بارے میں تفسیق یا ضلال کا فتوی بے حد نازک اور اخروی نقطہ نظر سے سنگین بات ہے۔ دنیاوی پہلو سے موجودہ افتراق کی فضا میں بھی اس بات کا التزام بہت ضروری ہے۔ برصغیر میں ایسے متعدد واقعات ہیں کہ فتاویٰ کے اجرا میں مطلوبہ احتیاط نہیں برتی گئی اور اس کا نتیجہ باہمی توڑ اور انتشار کی صور ت میں ہم بھگت رہے ہیں۔ 
کسی انسان کی وہی رائے معتبر ہوتی ہے جس کی تصریح وہ خود اپنے بارے میں پیش کرے، اس لیے ضروری ہے کہ فتاویٰ کے جواب میں اس بنیادی کتاب کو کسی صورت بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب میں ان فتاویٰ کو تو پیش کر دیا گیا ہے، لیکن ضروری تھا کہ احقاقِ حق کے لیے خود تنظیم کے افراد کے جواب پر بھی مختصراً کچھ عرض کر دیا جاتا، تاکہ معروضی مطالعے کا ذہن رکھنے والے ایک قاری کے لیے کسی نتیجے پر پہنچنا آسان ہوتا۔ محض یک طرفہ بات کو ذکر کرنا پہلے سے طے شے ذہن کا نتیجہ ہوتا ہے جو علمی اور تحقیقی نقطہ نظر سے افسوس ناک ہے اور علمی دنیا کے مسلمہ ضابطوں کے منافی۔ مولانا عبدالحق خان بشیر کی کتاب کا ذکر بھی اس تبصرے میںآیا ہے جو 2004ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس میں بھی تنظیم کے افکار پر نقد ہے، تاہم اس کتاب کو بھی 2006ء میں شائع ہونے والے اس جواب کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ زیر تبصرہ کتاب کے یک رخے مطالعے کا ایک داخلی قرینہ یہ بھی ہے کہ اس میں تنظیم فکر ولی اللہی کے بارے میں علماء کی آرا نقل کرتے ہوئے مولانا عبدالحق خان بشیر کی رائے نقل کی گئی ہے، لیکن انھوں نے اپنی کتاب میں مولانا سندھی کا جو دفاع کیا ہے، اس کا اشارہ بھی کتاب میں مؤلف نے نہیں کیا۔ اپنے مطلب کی بات اخذ کرنے کی یہ افسوس ناک روش ہے۔  
مولانا سندھی کے افکار کے محل نزاع ہونے میں ایک بڑا مسئلہ ان کے طریق ابلاغ کی ژولیدگی بھی ہے۔انھوں نے مولانا منظور نعمانی کے مجلے الفرقان شاہ ولی اللہ نمبر کے لیے ایک مضمون ’’امام ولی اللہ دہلوی کی حکمت کا اجمالی تعارف‘‘ املا کروا کر بھیجا تو اس کے آغاز میں مولانا نعمانی نے جو نوٹ لکھا، اس کا ایک حصہ یہ ہے :
’’حضرات اہل علم ، خصوصاً اصحابِ درس سے گزارش ہے کہ وہ اس مقالہ کو سرسری نظر سے نہیں ، بلکہ غور وتعمیق کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں، نیز ہر بحث کو شروع سے آخر تک بالاستیعاب ملاحظہ فرمائیں اور جہاں جہاں ضروری سمجھیں، ایک دفعہ سے زیادہ غور فرمائیں۔ میں نے خود بھی بعض مقامات کا چند چند بار اور بہت غور سے مطالعہ کیا تو مراد کو سمجھ سکا۔‘‘ (27)
خود امام شاہ ولی دہلوی، جن کے شارح مولانا سندھی ہیں، کی عبارات کے بارے میں مولانا سید سلیمان ندوی کا تبصرہ ہے کہ : ’’ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کی تعبیرات ایسی نازک ہیں کہ کفرواسلام کے درمیان پل صراط کا فرق رہ جاتا ہے۔‘‘(28)
اس تبصرے میں ممکنہ حد تک کوشش کی گئی ہے کہ یک رخا نہ ہو اور مسلمانوں کی ایک جماعت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ حسن ظن کا باعث ہو۔ اس میں مولانا سندھی کے تفردات (جن کا انکار خود ان کے عقیدت مند بھی نہیں کرتے) کا بے جا دفاع کرنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی اور ان کے افکار کی کلی مخالفت کے طرز کو بھی محل نظر سمجھا گیا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ مولانا سندھی کے بارے میں تصویر کے دونوں رخ سامنے آ جائیں تاکہ ایک قاری جب اس مطالعے کو اپنا موضوع بنائے تو اس کے پیش نظر دونوں پہلو ہوں۔ مولانا سندھی کے بارے میں تنظیم فکرولی اللہی کے افراد کے لیے بھی مناسب طرز یہی ہے کہ مولانا سندھی کے جو افکار شاذ ہیں اور امت کے اجماعی تعامل کے منافی ہیں، ان کے بے جا دفاع کرنے سے گریز کریں۔ امت کو افتراق وتشتت سے بچانے کا یہی اسلم طریق ہے۔مولانا سندھی کی سیاسی بصیرت، معاصر حالات اور تاریخ کی بدلتی کروٹوں کاگہری عمرانی ادراک ، ’بزمِ جہاں کے اور ہی انداز ‘ پر نظروغیرہ وہ امور ہیں، جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور ایسے مفکر کی نظر اگرفہم دین کی Approach Textual سے آگے بڑھ کر Textual Semi یا Contextual کی حدود میں داخل ہو جائے تو معاصر تناظر میں اس کی اہمیت پر عمرانی اور عالمی حالات کے پہلو سے غور کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

1۔ مولانا صوفی عبدالحمید سواتی، مولانا عبیداللہ سندھی کے علوم وافکار (گوجرانوالہ: ادارہ نشر واشاعت، 2007ء)، 13۔
2 ۔ حافظ عبدالحق خان بشیر نقشبندی، مولانا عبیدا للہ سندھی اور تنظیم فکر ولی اللہی، مقدمہ، مولانا زاہد الراشدی (گجرات: حق چار یار اکیڈمی، 2004ء)، 22۔
3۔ مولانا سندھی کی فکر میں بعد از ہجرت کا یہ زمانہ نمایاں امتیازات اور تغیرات کا زمانہ ہے، ورنہ ان کی فکر کے بعض اجزا پر دیوبند میں کافی پہلے اختلاف سامنے آگیا تھا۔ چنانچہ زیر تبصرہ کتاب میں مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب احاطہ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن کے اقتباسات دیے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بعض افکار سے اختلاف دیوبند میں 1914ء ، 1915ء کے زمانے میں نمایاں ہو چکا تھا۔ (دیکھیے: مفتی محمد رضوان، مولانا عبیدا للہ سندھی کے افکار اور تنظیم فکر ولی اللہی کا تحقیقی جائزہ(راولپنڈی: ادارہ غفران،2014ء)، 109 ومابعد۔)
4۔ مولانا عبیداللہ انور، ’’پروفیسر محمد سرورمرحوم‘‘ مشمولہ پروفیسر محمد سرور، ’’مولانا عبید اللہ سندھی: حالات ، تعلیمات اور سیاسی افکار‘‘ (لاہور: عبیداللہ سندھی فاؤنڈیشن، 2014ء)، 273۔ 278۔
5۔ نبی بخش لودھی کے مضمون ’’فکر مولانا عبیداللہ سندھی ایک معروضی جائزہ‘‘ کے آغاز میں شامل تعارفی کلمات ، ماہنامہ ساحل کراچی، مارچ 2007ء، ص 86۔ 
6۔ سید ابوالاعلی مودودی،’’تبصرہ بر کتاب مولانا عبید اللہ سندھی از پروفیسر محمد سرور‘‘،ترجمان القرآن،جولائی، اگست، ستمبر 1944ء، 25: 1، 2، 3، 4 ، 119۔ 120۔
7۔ یہاں اشارہ مولاناسعید احمد اکبر آبادی کی طرف ہے جنھوں نے مولاناسندھی کے دفاع میں ندوۃ المصنفین سے اپنے جاری کردہ مجلے برہان میں مقالات تحریر کیے جو بعد میں ’’مولانا عبیداللہ سندھی اور ان کے ناقد‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ 
8۔ سید سلیمان ندوی، مکاتیب سید سلیمان ندوی، مرتب ،مسعود عالم ندوی(لاہور: مکتبہ چراغ راہ، 1954ء )، 187۔یہ خط 10 مئی 1945ء کا ہے۔یہ وہ دور ہے جس سے کافی پہلے مولانا ندوی،مولانا اشرف علی تھانوی کے حلقہ ارادت میں آ چکے تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے یہاں تنقید میں کسی موضوعیت کو رکاوٹ نہیں بننے دیا ہے۔ 
9۔ دیکھیے: محمد موسیٰ بھٹو، بیسیویں صدی کے اسلامیت کے ممتاز شارح(حیدر آباد سندھ:سندھ نیشنل اکیڈمی ٹرسٹ، 2005ء)، 179، 180 بہ حوالہ ہفت روزہ صدق، 23جون 1945ء۔ 
10۔ دیکھیے: مفتی محمد رضوان، مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار اور تنظیم فکر ولی اللہی کے نظریات کا تحقیقی جائزہ(راولپنڈی : ادارہ غفران، 2016ء)، 489 ومابعد۔
11۔ مفتی محمد رضوان، نفس مصدر(طبع دوم)، 31۔
12۔ نفس مصدر، 35، 36۔ 
13۔ القرآن 2:233۔
14۔ مفتی محمد رضوان، مصدرِ سابق، 56۔
15۔ نفس مصدر، 225۔ 
16۔ نفس مصدر، 238۔
17۔ نفس مصدر، 352، 353۔ 
18۔ چنانچہ مولانا صوفی عبدالحمید سواتی ، مولانا عبیداللہ سندھی کے علوم وافکار میں یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ’’انصاف کی بات یہ ہے کہ حضرت مولانا سندھی کے بعض افکار شاذ بھی ہیں، بعض مرجوح قسم کے خیالات بھی ہیں اور بعض باتیں ایسی ہیں کہ مولانا ان پر بے جا سختی بھی کرتے تھے، بعض باتیں مصلحت کی خاطر بھی ناگزیر خیال کرتے تھے اور بہت سی باتیں ایسی بھی ہیں جن کی نسبت ان کی طرف کرنے میں ان کے تلامذہ نے غلطی کی ہے۔ان کی ذمہ داری حضرت مولانا پر نہیں، بلکہ ان کے ناقلین پر ہے جنھوں نے ان باتوں کو نقل کیا ہے اور شاید سابق لاحق سے قطع نظر کر کے حضرت مولانا سندھی کا مطلب بھی نہیں پا سکے۔‘‘ (سواتی، مرجع سابق، 13۔) 
19 ۔ مولانا سعید احمد اکبر آبادی، مولانا عبیداللہ سندھی اور ان کے ناقد(لاہور: المحمود اکیڈمی)، 26۔
20 ۔ اکبر آبادی، نفس مصدر، 27، 28۔ 
21 ۔ نفس مصدر، 50۔ 
22 ۔ عبدالحق خان بشیر نقشبندی، مولانا عبیداللہ سندھی اور تنظیم فکر ولی اللہی(گجرات: حق چار یار اکیڈمی، 2004ء)، 161، 162 بہ حوالہ مولانا عبید اللہ سندھی، الہام الرحمن ، 1: 14، 15۔ 
23 ۔ مفتی محمد رضوان، مصدرِ سابق، 374۔ 
24 ۔ نفس مصدر، 376۔ 
25 ۔ دیکھیے: نفس مصدر، 379، 380۔
26 ۔ عبدالمتین نعمانی، عبدالقدیر، عبدالغنی قاسمی، تنظیم فکر ولی اللہی کی بابت فتووں کی حقیقت(شعبہ نشرواشاعت تنظیم فکرولی اللہی پاکستان، 2006ء)، 44، 45۔ 
27 ۔ الفرقان شاہ ولی اللہ نمبر، جلد 7، شمارہ 9، 10، 11، 12، بابت ماہ رمضان، شوال، ذی قعدہ، ذی الحجہ 1359ھ، 234۔ 
28 ۔ مسعود عالم ندوی(مرتب)، مکاتیب سید سلیمان ندوی (لاہور:مکتبہ چراغ راہ، 1954ء)، 179۔

قاری ملک عبد الواحد کی رحلت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شیرانوالہ لاہور کی مجالس میں شریک ہونے والے حضرات کو قاری ملک عبد الواحد ضرور یاد ہوں گے جو ایک دور میں ان محفلوں کا لازمی حصہ اور رونق ہوا کرتے تھے، ان کا گزشتہ روز انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں ابھی قبرستان کلاں میں ان کا جنازہ پڑھا کر آیا ہوں اور آتے ہی قلم و قرطاس نے ماضی کی بہت سی یادوں کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔ وہ گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے، میرے حفظ قرآن کریم کے دور کے ساتھیوں میں سے تھے، میں نے چند پارے مدرسہ نصرۃ العلوم میں 1958ء اور 1959ء کے دوران استاذ محترم قاری محمد یاسینؒ صاحب سے پڑھے تھے، اس وقت ملک صاحب مرحوم بھی ان کے پاس پڑھتے تھے، تب سے ان کے ساتھ تعلق قائم ہوا جو کہ ان کی وفات تک کم و بیش پچپن برس تک مسلسل جاری رہا۔ 
حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ ، حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ، حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ، اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے ساتھ ان کی گہری عقیدت اور وابستگی تھی۔ اور وہ سفر و حضر میں ان کی رفاقت سے اکثر فیض یاب ہوتے رہتے تھے۔ شیرانوالہ لاہور کی روحانی، مسلکی اور سیاسی ہر قسم کی مجالس کے حاضر باش رکن تھے۔ قرآن کریم کی تلاوت کا خاص ذوق رکھتے تھے اور عالم اسلام کے معروف قاری الشیخ عبد الباسط عبد الصمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے لہجے میں قرآن کریم پڑھتے تو عجیب سماں باندھ دیتے تھے۔ اپنے بزرگوں کی گفتگو کی نقل اتارنے میں خوب مہارت رکھتے تھے۔ حضرت درخواستیؒ ، حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، صاحبزادہ سید فیض الحسنؒ ، اور مولانا عبد الرحمن جامیؒ کی تقریروں کے حافظ تھے اور دوستوں کی فرمائش پر انہی کے لہجے میں سنایا کرتے تھے۔ وہ اگر سامنے موجود نہ ہوتے تو اچھے خاصے سمجھدار حضرات بھی مغالطہ میں پڑ جاتے تھے، ہم انہیں اس حوالہ سے ’’ٹیپ ریکارڈر‘‘ کہا کرتے تھے اور خاص محافل میں فرمائش کر کے ان سے ایسی تقاریر سنا کرتے تھے۔ 
درس نظامی کی باقاعدہ تعلیم تو حاصل نہیں کی مگر جامعہ نصرۃ العلوم کے دورۂ تفسیر اور دورۂ حدیث دونوں میں شریک ہوئے اور والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے انہیں سند فراغت سے بھی نوازا تھا۔ بڑے حاضر جواب اور نکتہ رس تھے، مباحثوں میں بڑے بڑوں کو لاجواب کر دیتے تھے۔ شیرانوالہ لاہور اور حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے ساتھ انتہائی عقیدت تھی جو کہ ان کے مرشد و شیخ بھی تھے۔ 1977ء کی تحریک نظام مصطفٰیؐ کے دوران حضرت الشیخ مولانا عبید اللہ انورؒ کو گرفتار کیا گیا تو ملک صاحب مرحوم نے از خود اپنے شیخ کی خدمت کے جذبہ کے ساتھ گرفتاری دے دی اور کچھ عرصہ ان کے ساتھ جیل میں رہے جس کی یادوں کا وہ تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ 
جمعہ کی نماز اکثر جامع مسجد شیرانوالہ گوجرانوالہ میں پڑھتے اور نماز کے بعد مختصر مجلس بھی ہوتی تھی۔ آخری چند سالوں میں خاصا عرصہ بیمار رہے مگر جب بھی ہمت ہوتی جمعہ کے لیے آجاتے۔ چھوٹی سول لائن گوجرانوالہ میں ان کی رہائش تھی۔ چند روز پہلے مجھے معلوم ہوا کہ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہے تو بیمار پرسی کے لیے ان کے گھر گیا، وہ موجود نہیں تھے اور اپنے معالج ڈاکٹر صاحب کے پاس گئے ہوئے تھے۔ اگلے روز میڈیکل چیک اپ کے لیے لاہور جاتے ہوئے کنگنی والا میں میری رہائش پر آگئے اور دروازے پر گاڑی رکوا کر مجھے کہا کہ آپ گھر آئے تھے لیکن میں موجود نہیں تھا اس لیے آج لاہور جاتے ہوئے صرف ملاقات کے لیے رکا ہوں۔ میں چاہتا تھا کہ انہیں کچھ دیر گھر میں روکوں مگر وہ علالت کی شدت کے باعث اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ گاڑی سے اتار کر انہیں اندر لایا جا سکتا اس لیے وہیں دعا کر کے انہیں لاہور کے لیے رخصت کیا مگر وہ تو ہمیشہ کے لیے رخصت ہونے آئے تھے کہ اس کے بعد ان سے ملاقات نہ ہو سکی اور وہ 16 اگست کو ہم سب کو سوگوار چھوڑ کر اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ 
آج ان کے جنازے میں شہر کے علماء کرام کی بڑی تعداد کو دیکھ کر ان کے حلقۂ احباب کی وسعت و برکت کا اندازہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند فرمائیں اور ان کے بیٹوں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دیں، آمین۔ 

مولانا گلزار احمد آزاد کے سفر جاپان کے مشاہدات

ڈاکٹر حافظ محمد رشید

۱۴ اگست کو الشریعہ اکادمی میں گوجرانوالہ کی معروف دینی شخصیت مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کے ساتھ ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ حافظ صاحب حال ہی میں جاپان کا دورہ کر کے واپس تشریف لائے ہیں۔ ان کا یہ سفر جاپان کے درد دل رکھنے والے حضرات کی درخواست پر ہوا جو وہاں قادیانی حضرات کی سرگرمیوں کی وجہ سے فکر مند تھے ۔ حافظ صاحب نے اس نشست میں جاپانی قوم کی چند نمایاں خصوصیات اور وہاں قادیانیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا ۔ ان کے خیالات کا خلاصہ حسب ذیل ہے :
آج پاکستان میں سارے لوگ جشن آزادی منا رہے ہیں۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے ۔ پاکستان کی آزادی کے لیے بہت بڑی بڑی قربانیاں دی گئی ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ تقریباً ستر سال گزرنے کے باوجود لوگ ایک قوم نہیں بن سکے۔ پاکستان کے ساتھ کچھ اور ممالک بھی آزاد ہوئے تھے، لیکن آج ان کی تاریخ اور حالات ہم سے بہت مختلف ہیں۔ جاپان کے لوگ ایک قوم بن چکے ہیں ۔ قوم تقریروں سے، نعروں سے اور اشعار سے نہیں بنتی۔ ان سے مدد تو مل سکتی ہے، لیکن قوم نہیں بن سکتی ۔ قوم بااختیار لوگوں کے نمونے سے بنتی ہے۔ لوگ ان کو آئیڈیل سمجھتے ہیں ۔ وہ جب اپنی مثال پیش کرتے ہیں تو پھر لوگ اس کی پیروی کر کے قوم کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ بااختیار لوگوں کو قانون کی بالادستی کا نمونہ پیش کرنا چاہیے ۔ اگر بااختیار لوگ یہ سمجھیں گے کہ میرے پیسے پاکستان میں محفوظ نہیں ہیں، سوئزرلینڈ میں محفوظ ہیں، میری تجارت یہاں اتنی کامیاب نہیں ہے، اگر میری تجارت بیرون ممالک میں جائے گی تو کامیاب ہو گی تو قوم کیسے بنے گی اور ملک کیسے ترقی کرے گا۔ میں نے وہاں لوگوں سے پوچھا کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ تمہارا وزیراعظم اپنے ملک سے باہر کاروبار کرے اور پیسہ ملک سے باہر لے جائے تو کیا وہ اس سب کے باوجود وزیراعظم رہ سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ایک لمحہ بھی حکمرانی کر سکے ۔ قومیں ایسے بنتی ہیں۔ اسی طرح اگر قانون عام آدمی پر تو نافذ ہو لیکن حکمران پر نافذ نہ ہو تو پھر کیسے قوم بنے گی ۔
وہاں میں نے سنا کہ لوگ بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے گاڑی استعمال نہیں کرتے ۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ انہوں نے سکول قریب قریب بنائے ہیں اور بچے پیدل وہاں آسانی سے جا سکتے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ پتہ چلی کہ وہ چاہتے ہیں کہ بچے بچپن ہی سے محنت کے عادی بنیں اور جفا کشی اختیار کریں ۔ وہاں ابتدائی اسکول کے بچوں کے پاس کوئی بیگ نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی کتاب ہوتی ہے ۔ اسی طرح استاد کے پاس بھی کوئی کتاب نہیں ہوتی ۔ میں نے پوچھا کہ پھر یہ پڑھتے کیا ہیں ؟ انہوں نے مجھے بتایا کہ اس عمر میں بچوں کو اسکول میں صرف اخلاقیات سکھائی جاتی ہے کہ جھوٹ نہیں بولنا، دھوکا نہیں دینا ، کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرنی ، صاف ستھرا رہنا ہے اور ملک کو صاف رکھنا ہے۔ میں نے ایک مرتبہ ایک صحافی کا واقعہ پڑھا تھا جس کا مشاہدہ میں نے وہاں جا کر کیا ۔ وہ صحافی کہتا ہے کہ جب جاپان میں سونامی آیا تو میں نے ایک جگہ دیکھا کہ ایک لمبی لائن لگی ہوئی ہے اور لوگ کھانے پینے کی چیزیں وصول کر رہے ہیں ۔ میں اپنے حصے کی چیزیں لے چکا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی لائن میں لگا ہوا ہے۔ میں نے اس سے احوال دریافت کیے تو اس نے بتایا کہ جب سونامی آیا تو میں اپنے سکول کی چھت پر اپنے والد کا انتظار کر رہا تھا۔ میں اپنے باپ کو گاڑی میں آتے ہوئے دیکھ رہا تھا کہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے سونامی کی لہر آئی اور اس کو گاڑی سمیت بہا کر لے گئی۔ میری ماں اور دیگر خاندان بھی انھی لہروں کی زد میں آ گیا۔ میں اکیلا ہی بچا ہوں ۔ وہ صحافی لکھتا ہے کہ مجھے اس پر ترس آیا تو میں نے اپنا سامان اسے دے کر کہا کہ یہ تم لے لو اور استعمال کر لو۔ اس بچے نے وہ سامان لیا اور لائن سے نکل کر میرے دیکھتے ہی دیکھتے جہاں سامان تقسیم ہو رہا تھا، وہاں جمع کروا آیا اور دوبارہ لائن میں کھڑا ہو گیا ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ بیٹا، یہ تو میں نے تم کو استعمال کرنے کے لیے دیا تھا ! اس نے جواب دیا کہ جب میری باری آئے گی تو مجھے مل جائے گا۔ یہ ان کی اس ابتدائی تربیت کا ہی اثر ہے کہ یہ قومی احساس چھوٹے بچوں میں بھی اس حد تک پختہ ہے۔
وہاں میں نے ایک خصوصیت یہ دیکھی کہ وہ معاملات میں بہت صاف ہیں۔ ان کے ہاں گاڑیوں کا بہت بڑا کاروبار ہے۔ ہمارے لوگ تو کوشش کرتے ہیں کہ گاڑی کے ظاہری عیب تو بتا دیں، لیکن کوئی اندرونی عیب چھپ جائے تاکہ قیمت تو کچھ زیادہ لگے، لیکن جاپانی لوگ اس بات کی سختی سے پابندی کرتے ہیں کہ کوئی چیز بیچتے ہوئے اس کا ہر قسم کا عیب گاہک کو بتا دیں۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے جس پر افسوس کے ساتھ آج ہمارے بازاروں میں عمل نہیں ہو رہا۔ اس کے علاوہ ان کے ہاں دوسروں کے حقوق کا بہت خیال رکھا جاتا ہے ۔ میں جن کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا، انہوں نے ایک دن مجھ سے کہا کہ ذرا آہستہ آواز میں بات کریں۔ میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ یہاں لکڑی کے مکان بنے ہوئے ہیں، ساتھ والے مکان میں آواز جاتی ہے جس سے وہ لوگ تنگ ہوتے ہیں، اس لیے آہستہ بات کریں۔ میرے میزبانوں نے کہا کہ ہم رات کو واشنگ مشین نہیں لگاتے، یہ کبھی کبھی یہ آواز دینے لگ جاتی ہے کہ کہیں ہمسائے کو تکلیف نہ ہو۔ اس قدر احساس ہے ان لوگوں کو اپنے ہمسایوں اور دیگر لوگوں کا۔ ہمارے پاکستانی وہاں تو بہت محتاط رہتے ہیں، لیکن یہاں آ کر ائیرپورٹ پر اتر کر پھر پاکستانی بن جاتے ہیں ۔
وہاں ایک علاقے میں قادیانیوں کا مرکز ہے۔ یہاں قادیانی لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور عام مسلمان بھی ان کو بالکل اسی طرح کا ایک فرقہ سمجھتے ہیں جیسے کہ پاکستان میں فرقے ہیں، یعنی لوگ ان کے بارے میں کافی لچک رکھتے ہیں۔ میں اس علاقے کے دوستوں کی دعوت پر وہاں گیا اور نوجوانوں اور تبلیغی احباب سے رابطہ کیا اور مجھے ان لوگوں کو یہ سمجھانے میں بڑی محنت کرنی پڑی کہ قادیانی لوگ اصل میں کیا ہیں اور ان کے عقائد کیا ہیں ۔ وہاں لوگوں کا خیال تھا کہ یہ لوگ یہاں بالکل اپنی تبلیغ نہیں کرتے ۔ میں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ قادیانی ہوں اور اپنی تبلیغ نہ کریں۔ وہاں قادیانیوں نے ہر پبلک جگہ پر اپنا لٹریچر رکھا ہوا ہے، خصوصاً لائبریریوں میں اور کیفے وغیرہ میں۔ میں نے کچھ نوجوانوں کی ڈیوٹی لگائی جنہوں نے ان کا لٹریچر برآمد کروایا اور لوگوں کو یہ بات سمجھائی کہ یہ لوگ یہاں مسلمانوں کے بھیس میں اپنے عقائد کی تبلیغ کر رہے ہیں ۔ میں نے وہاں ختم نبوت کورس رکھا جس میں شرکاء بڑی دور دور سے سفر کر کے شریک ہوئے اور الحمد للہ اس کے بہت اچھے نتائج سامنے آئے۔ امید ہے کہ اللہ وہاں کام کو جاری فرمائیں گے اور عام مسلمان قادیانیوں کے گمراہ کن عقائد سے محفوظ رہیں گے۔ کام کا آغاز ہو گیا ہے، اور ان شاء اللہ اب جاری رہے گا۔

مولانا عمار خان ناصر کے سفر امریکا کے تاثرات

ادارہ

۱۴ اگست کو ہی بعد از نماز عصر اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا عمار خان ناصر نے اپنے حالیہ سفر امریکہ کے تاثرات بیان کیے۔ مولانا عمار خان ناصر نے ڈریو یونیورسٹی (نیو جرسی، امریکہ) میں قائم سنٹر فار ریلیجن، کلچر اور کانفلکٹ ریزولوشن (CRCC) کی دعوت پر ۱۰ تا ۲۸ جولائی، تین ہفتے کے ایک سمر انسٹی ٹیوٹ میں شرکت کی جس کا عنوان ’’مذہب اور حل تنازعات‘ ‘ تھا۔ مولانا عمار خان ناصر کے تاثرات کا خلاصہ حسب ذیل ہے :
آج کی دنیا میں مذہب کے مطالعہ کا ایک بڑا نمایاں زاویہ یہ ہے کہ جس معاشرے میں بھی ایک سے زیادہ مذاہب کے ماننے والے موجود ہیں اور ان کے درمیان تنازعات پائے جاتے ہیں، ان کے حل میں مذہبی قائدین کا کردار کیا ہو سکتا ہے۔ اس وقت دنیا میں، اور عموماً تاریخ میں بھی، جہاں مذہب پر مبنی تنازعات نظر آتے ہیں، وہاں مذہب part of the problem نظر آتا ہے، یعنی مذہب ان جھگڑوں کو پیدا کرنے اور بڑھانے کا کردار ادا کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے تو اسے کیسے part of the solution بنایا جائے۔ ہر مذہب ایثار ، قربانی، انصاف پسندی اور انسانی ہمدردی کی تعلیم دیتا ہے ، ان تعلیمات سے تنازعات کے حل میں کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ 
ڈریو یونیورسٹی میں قائم اس مرکز کی سرگرمیوں کا خاص میدان بھی یہی ہے کہ معاشرے میں موجود تنازعات کے حل میں مذہب اور مذہبی قائدین کا کیا کردار ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے سنٹر کے منتظمین ورکشاپس اور کانفرنسز منعقد کرتے رہتے ہیں۔ جس ورکشاپ میں مجھے شرکت کی دعوت دی گئی، اس میں دنیا کے چھ ممالک (پاکستان، نائیجیریا، مصر، انڈونیشیا، فلسطین اور اسرائیل )سے تینوں ابراہیمی مذاہب سے تعلق رکھنے والے پینتیس کے قریب افراد شریک تھے۔ یہ وہ ممالک ہیں جن میں کسی نہ کسی حوالے سے مذہبی تنازعات یا مذہبی کشیدگی کا مسئلہ موجود ہے۔ شاید اسی حوالے سے ان کا انتخاب کیا گیا۔ نائیجیریا میں مسلم مسیحی تصادم کی صورت حال پچھلے کئی سالوں سے درپیش ہے۔ پاکستان میں بھی مذہبی تشدد اور مذہب پر مبنی تنازعات موجود ہیں ۔ انڈونیشیا میں مسلمان معمولی اکثریت میں ہیں، جبکہ بہت بڑی تعداد دیگر مذاہب سے وابستہ ہے، اس لیے وہاں بھی تنازعات موجود ہیں۔ مصر میں بھی صورتحال ایسی ہی ہے اور فلسطین اور اسرائیل کے بارے میں تو سب جانتے ہی ہیں۔ 
سمر انسٹی ٹیوٹ میں پاکستان سے سات لوگ مدعو تھے۔ ادارہ برائے امن وتعلیم، اسلام آباد سے وابستہ تین حضرات، ڈاکٹر محمد حسین، محمد رشید اور غلام مرتضیٰ شریک ہوئے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے مسیحی مذہبی راہ نما فادر ارنسٹ ندیم بھی ہمارے ساتھ تھے، جبکہ لمز یونیورسٹی کی دو طالبات مناہل مہدی اور فاطمہ خالد بھی اس ورک شاپ میں شریک تھیں۔ اسی طرح باقی ممالک سے بھی اوسطاً چھ چھ، سات سات افراد کو دعوت دی گئی تھی۔ 
سمر انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں کی ترتیب یہ تھی کہ پہلے سے طے شدہ موضوعات پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو مدعو کیا جاتا تھا جو متعلقہ عنوان پر لیکچر دیتے تھے۔ اس پر سوال وجواب کا سلسلہ ہوتا تھا اور پھر شرکاء کو مختلف گروپس میں تقسیم کر دیا جاتا تھا تاکہ وہ آپس میں اس موضوع پر تبادلہ خیال کریں۔ 
جن موضوعات پر گفتگو ہوئی، ان میں تینوں مذاہب کا تعارف، ان کے بنیادی عقائد، مختصر تاریخ، ہر مذہب کے مقدس صحائف اور مذہبی مآخذ کا تعارف، ان کی درجہ بندی اور ان کے مطالعہ کے بنیادی اصول وغیرہ شامل تھے۔ ہر مذہب میں کچھ نہ کچھ داخلی تقسیم ہوتی ہے ۔ کچھ بنیادی چیزوں پر متفق ہوتے ہوئے بھی بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان تقسیمات کا مختصر تعارف بھی عنوانات میں شامل تھا۔ جیسے مسلمانوں میں شیعہ سنی کی تقسیم ہے، سلفی اور صوفی کی تقسیم ہے۔ اسی طرح کی تقسیم ہر مذہب میں موجود ہے۔ اس پہلو پر بھی بات ہوئی کہ ان تینوں مذاہب کو جدید دور میں کن سوالات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ مثلاً خواتین کی سرگرمیوں کا کیا دائرہ ہے، ان کے معاشرتی ومذہبی حقوق کیا ہیں، معاشرے میں ان کا کردار کیا ہے، مذہبی قیادت میں ان کا کس قدر حصہ ہے ، وغیرہ۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو تینوں مذاہب کو درپیش ہے۔ ہر مذہب سے وابستہ خواتین میں یہ سوچ پیدا ہوئی ہے کہ خواتین کو بھی مذہبی روایت کی تشکیل میں، مذہبی قیادت اور مذہب کی تعبیر و تشریح میں کردارادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے جبکہ تینوں مذاہب میں روایتی موقف عموماً یہ ہے کہ مذہبی دعوت وتبلیغ کے حوالے سے متحرک معاشرتی کردار، مذہبی تحقیق اور مذہب کی تعبیر وتشریح، یہ مردوں کا شعبہ ہے۔ خواتین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور بچوں کی پرورش کریں۔ اسی طرح ہر مذہب اخلاقیات اور کچھ عملی پابندیوں کی بات کرتا ہے۔ جدید دور میں ان مذہبی پابندیوں کے بارے میں بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں کہ یہ پابندیاں کس نوعیت کی ہیں، ان کی پابندی ضروری ہے یا نہیں اور ان میں کس حد تک لچک پیدا کی جا سکتی ہے۔ جدیدیت کے تناظر میں تینوں مذاہب کو یہ اہم سوال بھی درپیش ہے۔ 
سمر انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں میں دوسری اہم چیز Scriptural Reasoning اور Textual Reasoning پر مبنی مطالعاتی نشستیں تھیں جن کا بنیادی مقصد اس بات کی تفہیم پیدا کرنا تھا کہ مختلف مذہبی اور ثقافتی پس منظر کیسے مذہبی متون کے مطالعہ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور مثلاً تورات، انجیل، قرآن یا احادیث کو پڑھتے ہوئے کیسے مختلف لوگ اپنے اپنے ذہنی تناظر میں ان متون کو سمجھتے ہیں۔ یہ اختلاف اور تنوع ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کے مابین بھی ہو سکتا ہے اور اسی طرح مختلف مذاہب کے لوگ جب کسی دوسرے مذہب کی کتاب پڑھتے ہیں تو ان کے فہم میں اور خود اس مذہب کے پیروکاروں کے فہم اور تعبیر وتشریح میں بھی فرق واقع ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے Scriptural Reasoning اور Textual Reasoning پر مبنی مطالعاتی نشستوں کا اہتمام کیا گیا جن میں بائبل اور قرآن کے کے منتخب متون کو زیر مطالعہ لایا گیا۔ ایک گروپ میں شامل سب افراد اپنے اپنے ذہنی تناظر میں متعلقہ متن پر غور کر کے اپنے نتائج یا سوالات واشکالات کو باقی شرکاء کے سامنے رکھتے اور زیر بحث نکات پر باہم تبادلہ خیال کرتے تھے۔ اس ایکسرسائز کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مذہبی زاویہ نظر کے اختلاف کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے، خواہ وہ ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کے مابین ہو یا مختلف مذاہب کے مابین۔ یہ واضح ہوتا ہے کہ پڑھنے والے کا مذہبی پس منظر اور ذہنی تناظر کیسے مطالعہ متن پر اثر انداز ہوتا ہے اور بسا اوقات اس فرق سے کیسے، دوسرے مذاہب کے متعلق غلط فہمیاں اور غیر حقیقی تاثرات بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ 
مثلاً قرآن کریم سے جو آیات منتخب کی گئیں، وہ بہت اہم تھیں ۔ ان میں سے بعض کا تعلق جہاد کے ساتھ اور بعض کا خواتین کے حقوق وفرائض کے ساتھ تھا۔ جب ایک یہودی یا مسیحی یہ متن پڑھے گا تو اپنے پس منظر کے اعتبار سے اس کا مفہوم اور معنویت طے کرے گا۔ اس طرح جب ہم مسلمان بائبل کو پڑھیں گے تو کسی بھی مسئلے پر اپنے پس منظر کے اعتبار سے رائے قائم کریں گے۔ لیکن اگر یہی متن ہم مل کر پڑھیں اور تبادلہ خیال کریں تو اس کا موقع ہوگا کہ میں اپنی مذہبی کتاب کا مدعا بہتر طریقے سے دوسروں کو سمجھا سکوں۔ چنانچہ ان نشستوں میں بھی ایسے مواقع پیدا ہوئے کہ مسلمانوں نے بائبل کا متن پڑھا اور ان کے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوئے اور انہوں نے اس کے بارے میں اپنا فہم پیش کیا، لیکن یہودی یا مسیحی رفقاء نے کہا کہ ہماری مذہبی روایت میں اسے اس طرح نہیں بلکہ اس طرح سمجھا جاتا ہے۔
تیسری چیز جو اس ورکشاپ کا موضوع تھی، وہ تھی حل تنازعات کی حکمت عملی، یعنی سوسائٹی میں تنازعات پیدا کیسے ہوتے ہیں، بڑھتے کیسے ہیں، ان میں پیچیدگیاں کیسے در آتی ہیں، وہ خون ریزی تک کیسے جا پہنچتے ہیں۔ تنازع کی مختلف شکلیں کیا ہوتی ہیں ، مختلف سطحیں کیا ہوتی ہیں ، کون سے تنازعات ایسے ہوتے ہیں جن کو ختم کیا جا سکتا ہے، اور کن کی شدت کم کی جا سکتی ہے ۔ بعض ابتدائی سطح کے ہوتے ہیں جن کو روکا جا سکتا ہے ، بعض اپنی انتہا تک پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ پھر یہ کہ ان کو حل کرنے کے لیے یا ان کی شدت کو کم کرنے کے لیے با اثر لوگ کیا کر سکتے ہیں، کون سے Tools استعمال کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر مذہبی قائدین حل تنازعات میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ گفتگو زیادہ تر نظری نوعیت کی رہی۔ میں نے اپنے تاثرات میں لکھا کہ اگر نظری مباحث کے بجائے کچھ عملی تجربات اور مثالیں سامنے لائی جاتیں تو بہتر ہوتا۔ کچھ عملی مثالیں پیش بھی کی گئیں، لیکن اکثر مباحث نظری نوعیت کی ہی رہے ۔ 
سمر انسٹی ٹیوٹ کے شرکاء کو تینوں مذاہب کی عبادت گاہوں کا دورہ کروانے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا تاکہ وہ ہر مذہب کے مخصوص طریقہ عبادت کا مشاہدہ کر سکیں۔ اس غرض کے لیے جمعے کا ایک دن مختص کیا گیا تھا۔ چنانچہ پہلے شرکاء کو یہودیوں کی ایک عبادت گاہ (سینی گاگ) میں لے جایا گیا۔ اس کے بعد ایک چرچ کا وزٹ کروایا گیا۔ تاہم ان دونوں جگہوں پر ہم عملاً عبادت ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکے، کیونکہ جمعہ کا دن تھا۔ پھر آخر میں سب شرکاء کو نیو یارک کے ایک اسلامک سنٹر میں لے جایا گیا جہاں جمعہ کا اجتماع تھا۔ ہم نے جمعہ ادا کیا اور غیر مسلم شرکاء ایک گیلری میں بیٹھ کر مشاہدہ کرتے رہے۔ یہ جمعہ کا ایک بڑا اجتماع تھا اور مسجد بھی بہت بڑی اور خوب صورت تھی۔ ہمارے ساتھ جو یہودی رفقاء آئے تھے، انہوں نے بتایا کہ انھیں اس منظر اور اس کی خوبصورتی اور عبادت کے خاص ماحول نے بہت متاثر کیا۔ ان میں سے بہت سے لوگ پہلی دفعہ مسجد میں گئے تھے اور پہلی مرتبہ مسلمانوں کو عبادت کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ 
سمر انسٹی ٹیوٹ کی رسمی نشستوں کے علاوہ شرکاء کو کھانے کی میز پر ، چائے پیتے ہوئے اور اسی طرح فارغ اوقات میں غیر رسمی سطح پر بھی آپس میں گھلنے ملنے اور تبادلہ خیال کرنے کے مواقع میسر تھے۔ ڈھائی تین ہفتے تک ایک ساتھ رہنے کا مقصد یہی تھا کہ لوگ بے تکلفی کے ماحول میں ایک دوسرے کو جانیں، شخصی تعلقات بنائیں اور اپنے اپنے ماحول اور کلچر سے دوسروں کو آگاہ کریں۔ یوں شرکاء کو بہت اچھے اور دوستانہ ماحول میں ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ خاص طور پر یہ کہ ہم اپنے نقطہ نظر اور زاویے سے کسی معاملے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو دوسرا اس معاملے کو کیسے دیکھتا ہے؟ 
مولانا عمار خان ناصر کے تاثرات کے بعد سوال وجواب کا سیشن بھی ہوا اور شرکا نے بہت مفید سوالات کے ذریعے سے تاثرات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔ آخر میں اکادمی کے سابق ناظم مولانا حافظ محمد یوسف صاحب کی دعا پر تقریب کا اختتام ہوا۔

الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاں

ادارہ

16 جولائی 2016 بروز ہفتہ بعد نماز مغرب شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی صاحب نے بیان فرمایا اور دعا سے نئے تعلیمی سال کے اسباق کا باقاعدہ آغاز فرمایا۔
25 جولائی 2016 کو اس سال کی پہلی پندرہ روزہ فکری نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں مولانا زاہدالراشدی مدظلہ نے حضرت مولانا عبداللہ درخواستی رحمہ اللہ کے حوالے سے اپنی یادداشتیں بیان کیں۔
11 اگست جمعرات 2016 کو بعد از نماز مغرب خانقاہ سراجیہ، کندیاں شریف کے سجادہ نشین مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے اور اساتذہ و انتظامیہ سے ملاقات کی ۔ نماز عشاء کے بعد اکادمی کی طرف سے عشائیہ میں شرکت کی اور دعا فرما کر رخصت ہوئے۔
14اگست 2016 ء کے دن الشریعہ اکادمی کنگنی والہ، گوجرانوالہ میں بعد از نماز ظہر اکادمی کے طلبہ نے جشن آزادی کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب کا انتظام کیا جس میں تلاوت و نعت کے بعد پروجیکٹر پر پاک فوج کی ٹریننگ سے متعلقہ ویڈیوز بچوں کو دکھائی گئیں اور طلبہ نے آزادی کے حوالے سے مختلف موضوعات پر تقاریر اور ملی نغمے پیش کیے ۔ تقاریر کے عنوانات میں ’’ آزادی کی نعمت‘‘، ’’ قائد اعظم ‘‘ اور ’’ علامہ شبیر احمد عثمانی کی آزادی کے حوالے سے خدمات‘‘ نمایاں تھے۔تقریب میں الشریعہ اکادمی کے شعبہ کتب اور شعبہ حفظ کے طلبہ کے علاوہ محلے کے بچوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی ۔
20 اگست 2016ء کو دی میسج ٹی وی کے ڈائریکٹر جناب کامران رعد اپنی ٹیم کے ہمراہ اکادمی میں تشریف لائے اور شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی کی زندگی کے بارے میں تیار کی جانے والی ڈاکومینٹری کے لیے ویڈیو شاٹس لیے۔