مکالمہ کیوں ضروری ہے؟ / مذہبی فرقہ واریت کا سد باب۔ توجہ طلب پہلو / قراقرم یونیورسٹی میں دو روزہ ورک شاپ
محمد عمار خان ناصر
(mukaalma.com کے نام سے ویب سائٹ کے آغاز کے موقع پر لکھا گیا۔)
کسی بھی معاشرے کی تعمیر وتشکیل میں کردار ادا کرنے والے عناصر میں ایک بنیادی عنصر یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین عملی ہم آہنگی اور رواداری کی فضا موجود ہو۔ مختلف معاشرتی عناصر کے مابین فکر وعمل کی ترجیحات میں اختلاف پایا جا سکتا ہے اور کئی حوالوں سے مفادات کا تصادم بھی موجود ہو سکتا ہے، تاہم معاشرے کے مجموعی مفاد کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ مشترک اور بنیادی اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے ان اختلافات کو باہمی تعلقات کا عنوان نہ بننے دیا جائے اور مجموعی معاشرتی نظم تنوع اور اختلاف کے تمام تر مظاہر کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کا عمل جاری رکھے۔ معاشرے کی تعمیر کے لیے مختلف سطحوں پر متنوع صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور افراد اور طبقات کی اجتماعی صلاحیتوں کو کسی مخصوص رخ پر یکسو کیے بغیر یہ تشکیل ممکن نہیں ہوتی۔ اگر لوگوں کی صلاحیتیں مجتمع نہ ہو یا ان کا استعمال مثبت اور تعمیری انداز میں نہ کیا جائے تو اس سے اجتماعی قوت تقسیم اور انتشار کا شکار ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ دستیاب صلاحیتوں کے کند یا ضائع ہو جانے کی صورت میں نکلتا ہے۔
تاریخ وتہذیب کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ جو قومیں اپنے اجتماعی مزاج میں تنوع کی قبولیت کا مادہ جتنا زیادہ پیدا کر لیتی ہیں، وہ اتنی ہی وسعت کے ساتھ انسانی صلاحیتوں سے استفادہ کر پاتی ہیں اور سماج کے ارتقا پر زیادہ دیر پا اور گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اسلامی تاریخ کے جس دور پر آج ہم علوم وفنون کی ترقی اور ایک علم دوست تہذیب کا دور ہونے کے حوالے سے ناز کرتے ہیں، اس میں بہت بنیادی کردار ان مسیحی علماء کا تھا جو یونانی زبان سے واقف تھے اور مسلمان حکومتوں کی سرپرستی میسر آنے پر انھوں نے یونانیوں کے علوم وفنون کو عربی زبان میں منتقل کیا جس پر بعد میں مسلمان علماء، اطباء اور سائنس دانوں نے اپنی گراں قدر تحقیقات کی بنیاد رکھی اور مسلم تہذیب کو اپنے دور کی متمدن ترین اور ترقی یافتہ تہذیب بنا دیا۔ ہمارے ہاں برصغیر میں جلال الدین اکبر کے دور حکومت میں تاریخ کا سفر اسی پہلو سے ایک نیا موڑ مڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ اکبر نے مسلمان حکمرانوں اور مقامی ہندو آبادی کے مابین ذہنی اور نفسیاتی فاصلے دور کیے اور حاکم ومحکوم کا تصور ختم کر کے اکثریتی آبادی کو حکومت واقتدار میں شریک کیا۔ اسی کے نتیجے میں ہندوستان کے ایک وسیع خطے میں امن وامان کا قیام ممکن ہوا اور عظیم مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی جا سکی۔ دور جدید میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جن مغربی اقوام کو اس وقت دنیا میں سیاسی ومعاشی بالادستی حاصل ہے، ان کی قوت کے منابع میں سے ایک بہت اہم منبع یہ ہے کہ انھوں نے مذہب ونسل کی تفریق کوختم کر کے ساری دنیا سے باصلاحیت انسانوں کو اپنے معاشروں میں جذب کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے اور ایسا ماحول فراہم کیا ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر سے ہر نوع کا ٹیلنٹ مغربی معاشروں کی طرف کھنچتا چلا جا رہا ہے۔
اس تناظر میں اگر ہم پاکستانی معاشرے پر غور کریں تو ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے ہی واضح ہو جائے گا کہ یہ معاشرہ ہر ہر سطح پر انتشار،خلفشار اور تقسیم در تقسیم کا شکار ہے اور پون صدی کے سفر کے بعد بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک بے پتوار کی کشتی کسی متعین سمت میں آگے بڑھنے کے بجائے ہوا کے ہچکولوں کے سہارے بے نام منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ اقتدار کے اعلیٰ ترین مراکز سے لے کر سماج کی نچلی ترین سطح تک تقسیم اور انتشار کی ایک گہری کیفیت قوم پر چھائی ہوئی ہے۔ ملک کی سیاست ومعیشت کی ترجیحات کے سوال پر فوجی اسٹیبلشمنٹ اور منتخب اہل سیاست کے مابین شدید اور دیرینہ کشمکش پائی جاتی ہے۔ متحارب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کا وجود گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عوام اور اہل اقتدار کے مابین، چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، حقیقی اعتماد کا رشتہ واضح طور پر مفقود ہے۔ معاشی وسائل تک رسائی کے اعتبار سے معاشرے میں ایک بے حد گہری طبقاتی تقسیم پائی جاتی ہے۔ فکری اعتبار سے کنزرویٹو اور لبرل طبقات اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق معاشرے کا رخ متعین کرنے کے لیے بر سر پیکا رہیں۔ مذہب کی بنیاد پر پائی جانے والی تقسیم کی صورت حال سب سے زیادہ ناگفتہ بہ ہے۔ یہاں مسلم اکثریت اور غیر مسلم اقلیت کے مابین بد اعتمادی ایک بحرانی صورت اختیار کیے ہوئے ہے۔ مسلم اکثریت مذہبی رجحانات کے لحاظ سے روایتی اور غیر روایتی میں منقسم ہے، جبکہ روایتی طبقہ بذات خود فرقہ وارانہ بنیاد پر چار پانچ بڑی تقسیمات کا عنوان ہے۔ عام معاشرتی سطح پر خاندانوں اور برادریوں کے باہمی تنازعات، جبکہ ملک کے بعض حصوں میں شدید نسلی اور لسانی منافرتیں اجتماعیت کو گھن کی طرح کھا رہی ہیں۔ آبادی کا نصف حصہ یعنی خواتین بطور ایک طبقے کے اپنے معاشرتی کردار اور حقوق وفرائض کے نظام سے غیر مطمئن ہیں اور ان کی یہ حساسیت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ اس ساری صورت حال میں تعلیم اور ذرائع ابلاغ کے شعبے، جن سے کسی مثبت اور تعمیری کردار کی توقع کی جا سکتی تھی، الٹا خود اس تقسیم وانتشار کا حصہ ہیں اور ماحول میں پھیلے ہوئے تعصبات اور افتراقات ہی کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ معاشرے کے تمام با رسوخ طبقات اور ان کی قیادتیں سر جوڑ کر بیٹھیں اور ملک وقوم کی اس کشتی کو، جس کے وہ خود بھی سوار ہیں، ڈوبنے سے بچانے کے لیے تدبر وفراست اور قربانی وایثار کی آخری حد تک جانے کا عزم ظاہر کریں، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کسی بھی طبقے کو سرے سے اپنی ذمہ داری کا احساس تک نہیں۔ ہر طبقہ صورت حال کے بگاڑ کا ذمہ دار سر تا سر اپنے حریف طبقات کو تصور کرتا ہے اور ہر طبقے میں اپنے بری الذمہ ہونے کا زعم اس قدر شدید ہے کہ وہ اپنے کردار کے کسی غلط سے غلط پہلو پر بھی تنقید سننے کا روادار نہیں۔ ذمہ داری قبول کرنے سے گریز بلا استثنا تمام طبقات کے ذہنی رویے کا نمایاں ترین وصف اور تبادلہ الزامات سبھی طبقوں کا محبوب ترین شغف ہے۔ قوم کی گاڑی اگر چل رہی ہے تو کسی اجتماعی قومی جذبے کے تحت نہیں، بلکہ محض محدود اور وقتی مفادات کے اشتراک یا حالات کے دباو تحت چل رہی ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پورا سماج ہر ہر سطح پر عدم ہم آہنگی، عدم رواداری اور عدم برداشت کے مرض میں مبتلا ہے اور مرض کی شدت بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔
یہ وہ تناظر ہے جس میں بعض سنجیدہ اور فکر مند حضرات اس بٹی ہوئی قوم کے مختلف طبقات کو ’’مکالمہ‘‘ کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان اہل فکر کی دلچسپی اور توجہ کے دائرے مختلف اور متنوع ہیں اور فکری ترجیحات میں بھی اختلاف ہے۔ تاہم یہ فطری امر ہے اور اہل دانش کو اسے گوارا کرتے ہوئے باہمی مکالمہ کا ماحول پیدا کرنے کی ہر کوشش کا خیر مقدم کرنا چاہیے اور حسب استطاعت اس میں حصہ بھی ڈالنا چاہیے۔ برادرم انعام رانا نے بھی اسی کار خیر کے لیے ’’مکالمہ‘‘ کے نام سے ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے جو اپنے عنوان سے ہی اپنے مقاصد کا پتہ دیتی ہے۔ امید ہے کہ یہ فورم بھی اپنے حصے کا دیا جلانے اور قوم کے فکر وشعور کو بیدار کرنے میں قابل قدر کردار ادا کر سکے گا۔ ان شاء اللہ
مذہبی فرقہ واریت کا سد باب۔ توجہ طلب پہلو
فرقہ واریت کی اصطلاح عموماً اس مذہبی تقسیم کے حوالے سے استعمال کی جاتی ہے جس کا اظہار مختلف گروہوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف تکفیر وتضلیل کے فتاویٰ اور اپنے اپنے وابستگان میں دوسروں کے خلاف مذہبی بنیاد پر منافرت پیدا کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے اسباب بنیادی طور پر دو ہیں۔ ایک کا تعلق مذہبی فکر سے اور دوسرے کا سماجی حرکیات سے ہے۔
فرقہ وارانہ مذہبی فکر کا محوری نکتہ یہ ہوتا ہے کہ کسی مذہبی عقیدے کی تعبیر میں مستند اور معیاری موقف (یعنی جسے کوئی گروہ اپنے فہم کے مطابق مستند اور معیاری سمجھتا ہو)سے اختلاف کرنے والے اس مذہب کے ساتھ اپنی جس اصولی وابستگی اور نسبت کا دعویٰ کرتے ہیں، اس کی یکسر نفی کر دی جائے اور انھیں ان لوگوں کی مانند قرار دیا جائے جو سرے سے اس مذہبی روایت کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں رکھتے۔ یہ رویہ مذہبی فہم اور مذہبی تعبیر میں تنوع کے امکان کو تسلیم نہ کرنے اور اعتقادی تعبیرات کو سائنسی یا ریاضیاتی نوعیت کے بیانات کے ہم معنی سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے۔مزید برآں اس انداز فکر میں اس سوال کا بھی ایک غیر متوازن جواب طے کیا جاتا ہے کہ کسی گروہ کی طرف سے ایک مخصوص مذہبی روایت کے ساتھ اصولی وابستگی قبول کر لینے اور اس کے بعد اعتقادی وعملی گمراہیوں میں مبتلا ہو جانے کی صورت میں کس پہلو کو کتنا وزن دیا جائے۔
سماجی حرکیات کی رو سے فرقہ واریت، طاقت اور وسائل کے حصول اور اپنے دائرہ اثر کو بڑھانے کی جبلت کا مظہر ہوتی ہے۔ مذہب ہمیشہ سے انسانی معاشروں میں طاقت اور سیادت کے حصول کا موثر ترین ذریعہ رہا ہے۔ مذہبی اختلاف کی بنیاد پر جب معاشرتی تقسیم پیدا ہوتی ہے تو ہر گروہ اپنے اپنے دائرہ اثر کو محفوظ رکھنے اور اس میں وسعت پیدا کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے اور اس کے لیے حریف مذہبی گروہوں پر کفر وضلالت کے فتوے عائد کرنا نتیجہ خیز اور موثر ثابت ہوتا ہے۔ یہ کشمکش کسی معاشرے کے مانے ہوئے اور مسلمہ مذہبی گروہوں کے مابین بھی پائی جاتی ہے، تاہم صرف اس دائرے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس کا زیادہ سنگین اظہار ان فکری حلقوں کے حوالے سے ہوتا ہے جو اپنی دینی تعبیرات میں روایتی مذہبی گروہوں کے طے کردہ دائروں اور حدود کی پابندی ضروری نہیں سمجھتے۔ ایسی صورت میں روایتی مذہبی گروہ عموماً ایک مشترکہ خطرے کے مقابلے میں یک جان اور یک زبان ہو جاتے ہیں اور یوں نفرت انگیزی کا یہ عمل ایک نئی طرح کی گروہی تقسیم کی بنیاد بن جاتا ہے۔
اس صورت حال میں بہتری لانا، ظاہر ہے ، بہت گہرے غور وفکر اور بہت سنجیدہ منصوبہ بندی کا متقاضی ہے۔ یہ خوش آئند ہے کہ صورت حال کی سنگینی کی طرف نہ صرف عمومی طور پر معاشرتی طبقات بلکہ خود دینی قیادت بھی متوجہ ہو رہی ہے اور خاص طور پر نوجوان نسل بہت سے حوالوں سے ان ذہنی جکڑ بندیوں سے آزاد ہو کر سوچنے کی صلاحیت رکھتی ہے جن میں مختلف مذہبی گروہ پنے اپنے وابستگان کو باندھنے کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔
ہماری رائے میں فرقہ وارانہ ماحول میں تبدیلی پیدا کرنے کے لیے چند نہایت بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگرچہ ان سب کو بیک وقت رو بہ عمل نہیں کیا جا سکتا، لیکن طویل مدتی منصوبہ بندی میں بہرحال انھیں پیش نظر رہنا چاہیے:
۱۔ دینی تعلیم کا موجودہ نظام اور مدارس کا ماحول فرقہ وارانہ ماحول کا سب سے بڑا منبع ہے۔ ا س کی اصلاح کیے بغیر کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ ضروری ہے کہ دینی تعلیم کا نظام مخصوص فکری یا کلامی مسالک کے بجائے مجموعی اسلامی روایت اور اس کے متنوع فکری مظاہر کو تعلیم وتدریس اور ذہن سازی کی بنیاد بنائے۔
۲۔ تمام مذہبی حلقہ ہائے فکر کے مابین باہمی میل جول ، مکالمہ اور تبادلہ خیال کے مواقع ہر ہر سطح پر پیدا کرنے چاہییں۔ ابتدا میں کچھ دوسرے ادارے اس طرح کے فورم مہیا کر سکتے ہیں، لیکن اصلاً دینی حلقوں کو یہ کام خود اپنے داخلی داعیے اور اپنی قوت ارادی کی بنیاد پر کرنا ہوگا۔
۳۔ فرقہ واریت کے حوالے سے سول سوسائٹی کی تعلیم وتربیت اور ذہن سازی سب سے موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ معاشرے کے تمام با اثر طبقات کی ذہن سازی کو مستقل طو رپر موضوع بنانا چاہیے، اس لیے کہ کسی بھی رویے کو جب تک عام معاشرے کی طرف سے تائید اور ہمدردی نہ ملے، وہ جڑ نہیں پکڑ سکتا۔
۴۔ اس معاملے میں حکومت کا کردار زیادہ تر خاموش تماشائی کا ہے اور بعض پہلووں سے منفی بھی ہے۔ حکومتوں نے فرقہ وارانہ تقسیم کا مقابلہ کرنے کے بجائے اسے قبول کرنے اور سیاسی مقاصد کے لیے اسے استعمال کرنے کی پالیسی بنائی ہوئی ہے جو تقسیم کو تسلسل دینے اور مضبوط تر کرنے کی ذمہ دار ہے۔ اس پالیسی میں بھی بنیادی تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
۵۔ مذہبی طبقات کے ذہین عناصر کو جدید فکری اور معاشرتی چیلنجز کی طرف متوجہ کرنا فرقہ وارانہ ماحول میں تبدیلی کا ایک بہت موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ مذہبی ماحول میں جن مسائل وموضوعات کو اہمیت اور ترجیح کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، ذہین عناصر بھی عموماً اس کا اثر قبول کرتے اور انھی ترجیحات کو اپنی ذہنی وفکری کاوشوں کا میدان بنا لیتے ہیں۔ اگر ان کی ذہنی توجہ کے دائرے بدل دیے جائیں اور انھیں امت کے حقیقی اور زندہ مسائل کی طرف متوجہ کر لیا جائے تو اس سے خود بخود ماحول میں ایک مثبت تبدیلی پیدا ہونا شروع ہو جائے گی۔
۶۔ دینی راہ نماوں کی ذہنی ونفسیاتی تربیت بھی کام کا ایک اہم میدان ہے۔ اس کے لیے Capacity building کے باقاعدہ منصوبے بنانے چاہییں اور مستقبل کے متوقع دینی قائدین کو فکر وشعور کے ساتھ ساتھ ایسی عملی مہارتیں بھی سکھانی چاہییں جس سے ان کا کردار مثبت رخ پر ڈھل سکے اور وہ اپنی مساعی کو تعمیر معاشرہ پر مرکوز کر سکیں۔
۷۔ دینی قیادت میں مغلوبیت اور پچھڑے پن کا تحت الشعوری احساس بطور خاص توجہ کا متقاضی ہے۔ یہ احساس علمی اور عملی میدانوں میں مسابقت کے فطری جذبے کو حدود اعتدال میں نہیں رہنے دیتا اور مثبت طور پر اپنے کاز کو آگے بڑھانے کے بجائے انھیں حریف اور مخالف طبقات کے بارے میں غیر ضروری طو رپر حساس بنا دیتا ہے۔ اسی احساس کے زیر اثر، ہر قیمت پر غلبہ اور برتری حاصل کرنے کے جذبے سے مذہبی تقسیم، سیاسی عوامل کا آلہ کار بن جاتی ہے جس سے فرقہ وارانہ مذہبی تقسیم مزید پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتی ہے۔
۸۔ اختلاف اور تنقید کی اخلاقیات کی پابندی کو اس نوع کی ساری کاوشوں کا بنیادی ہدف قرار دینا چاہیے۔ تمام مسلکی حلقوں میں اس طرز فکر کو دینی واخلاقی بنیادوں پر ایک مسلمہ کا درجہ حاصل ہو جانا چاہیے کہ کسی بھی نقطہ نظر پر تنقید کرتے ہوئے اس کے موقف کی درست تعبیر، اصلاح کا ہمدردانہ جذبہ اور اسلوب بیان کی شائستگی جیسے اصولوں کی کسی بھی حال میں قربانی نہیں دی جا سکتی۔
فرقہ وارانہ مذہبی بیانیوں پر مختصر تبصرہ
مذہبی تعبیرات کا اختلاف اور ان کی بنیاد پر معاشرتی تقسیم ہمارے ہاں کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ اس کا اظہار عموماً فرقہ وارانہ اسالیب اور تکفیر وتضلیل کے فتاویٰ کی صورت میں ہوتا ہے۔ اسلام آباد کے ادارہ برائے امن وتعلیم نے گزشتہ دنوں اس موضوع پر ایک پانچ روزہ ورک شاپ کا انعقاد کیا اور اس میں ہونے والے تفصیلی بحث ومباحثہ کی روشنی میں فرقہ وارانہ بیانیے کے نمائندہ نکات مرتب کیے ہیں۔ یہ نکات تبصرے کے لیے مختلف حضرات کو بھیجے گئے ہیں۔ راقم الحروف نے چند اہم نکات پر مختصراً جو کچھ عرض کیا، وہ عمومی دلچسپی کے تناظر میں یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔
بیانیہ: ہمارے اکابر حق پر ہیں اور وہی اسلام کی مستند ترین تعبیر پیش کرتے ہیں۔
تبصرہ: اسلامی تناظر میں کسی بھی فکر کے استناد اور قبولیت کا معیار مسلمانوں کی مجموعی علمی روایت ہے۔ مختلف فکری حلقے اپنے اپنے زاویے سے یہ تصور رکھ سکتے ہیں کہ انھی کے اکابر کی پیش کردہ تعبیر درست ترین اور حتمی ہے، تاہم اس یقین واذعان کا وزن آخری تجزیے میں مجموعی علمی روایت ہی طے کرتی ہے۔ جو فکری دھارے ہم عصر اور ایک دوسرے کے حریف ہوں، ان کی طرف سے اپنے اور مخالفین کے متعلق اس طرح کے دعووں کو زیادہ احتیاط ، بلکہ شک کی نظر سے دیکھنا چاہیے اور کسی حتمی فیصلے کا کام فکری روایت کے جدلیاتی عمل کے سپرد کر دینا چاہیے۔
بیانیہ: اسلام میں جدت پسندی کا تصور مغرب سے مرعوبیت کی علامت ہے۔
تبصرہ: ’’اسلام میں جدت پسندی‘‘ مصداق کے لحاظ سے ایک غیر واضح عنوان ہے۔ اسی طرح مرعوبیت کا تعین بہت حد تک ایک موضوعی چیز ہے۔ میرے نزدیک ’’اسلام میں جدت پسندی‘‘ کا یقینی مصداق یہ چیز ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد وتصورات اور اخلاقی اقدار کے فریم ورک میں تبدیلی کو ذہنی طور پر قبول کر لیا جائے۔ اگر جدید افکار یا تمدنی وتہذیبی مظاہر کو، چاہے تاریخی وواقعاتی طور پر ان کی پیش کاری ابتداء اً غیر اسلامی تناظر میں کی گئی ہو، اسلامی اقدار اور مقاصد کے تابع کر کے اور ان کے ساتھ ہم آہنگ کر کے اسلامی فکری روایت کا حصہ بنانا مقصود ہو تو یہ ’’جدت پسندی‘‘ نہیں۔ اصولی طور پر بھی نہیں، اور عملاً بھی نہیں، کیونکہ کوئی تہذیب یا فکری روایت گرد وپیش کی تبدیلیوں سے بے تعلق ہو کر ناک کی سیدھ پر تاریخ میں سفر جاری نہیں رکھ سکتی۔
بیانیہ: اگرفلاں مسلک اپنے فلاں فلاں عقیدے سے رجوع کر لے تو مفاہمت ہو سکتی ہے۔
تبصرہ: مذہبی اختلاف اس دنیا کی ایک ناقابل تردید اور ناقابل تبدیل حقیقت ہے۔ اس میں مفاہمت کا مطالبہ غیر حقیقی اور غیر اخلاقی ہے، البتہ دعوت اور مکالمہ کے ذریعے سے ایک دوسرے کے مذہبی خیالات ونظریات کو تبدیل کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ قرآن نے اعتقادی اختلافات کے باب میں حق وباطل کو آخری درجے میں واضح کرنے کے بعد بھی مخالف مذہبی گروہوں سے مفاہمت کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ یہ کہا کہ یہ اختلاف ایسے ہی برقرار رہیں گے اور ان کا فیصلہ قیامت کے روز خدا کی بارگاہ میں ہی ہوگا۔ دنیا میں بقائے باہم اور اخلاقی طرز زندگی کے لیے جو چیزیں مطلوب ہیں، وہ دو ہیں: ایک، مخالف مذہبی عقائد کی صحیح اور دیانت دارانہ تعبیر کا اہتمام اور خود ساختہ تعبیرات کی نسبت سے گریز۔ اور دوسری، اختلاف کو رواداری کے ساتھ قبول کرنا اور ایک دوسرے کے مذہبی جذبات واحساسات کو ٹھیس پہنچانے سے اجتناب کرنا۔
بیانیہ: مودودیت ایک گمراہ فرقہ ہے۔ / غامدی صاحب ایک فتنہ ہیں اور اسلام کی تعلیمات کو بگاڑ رہے ہیں۔
تبصرہ: مولانا مودودی اور غامدی صاحب نے دین کو براہ راست اصل مآخذ سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش میں مروجہ دینی تعبیرات سے کئی جگہ اہم اور بنیادی اختلاف بھی کیا ہے۔ ان کی پیش کردہ دینی فکر اور مذہبی تعبیرات میں قابل نقد اور کمزور باتیں بھی ہو سکتی ہیں جن پر علمی نقد لازماً ہونا چاہیے، لیکن بحیثیت مجموعی ان کی دینی فکر کو فتنہ یا گمراہی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بیانیہ: فلاں اور فلاں حضرات گستاخ رسول ہیں۔ انھوں نے توہین آمیز عبارات لکھی ہیں۔
تبصرہ: کسی کلام کو توہین یا گستاخی قرار دینے کے لیے کلام کا سیاق وسباق اور متکلم کی نیت بنیادی چیز ہے۔ کوئی عبارت ظاہر کے لحاظ سے ایسا تاثر دیتی ہو تو اس پر نظر ثانی کر لینی چاہیے، تاہم متکلم کی نیت اور عبارت کے مقصد کو نظر انداز کر کے اس پر گستاخانہ یا توہین آمیز ہونے کا فتویٰ جاری نہیں کیا جا سکتا۔
بیانیہ: گستاخ رسول کو قتل کرنا غیرت ایمانی کا تقاضا ہے اور عین شریعت ہے۔
تبصرہ: توہین رسالت کا کوئی بھی واقعہ رونما ہونے پر شرعی قانون یہ ہے کہ قائل کو عدالت کے سامنے اپنی بات کی وضاحت کا موقع دیا جائے۔ اگر واقعتا اس کی نیت توہین ہی کی ہو تو اسے توبہ اور رجوع کے لیے کہا جائے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھر عدالت جرم کی نوعیت کے لحاظ سے اسے قرار واقعی سزا دے جو بعض صورتوں میں موت بھی ہو سکتی ہے۔
بیانیہ: پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔
تبصرہ: فرقہ واریت کا منبع جہالت اور غلو کے ذہنی ونفسی رویے ہیں، اور ان ذہنی رویوں کو معاشرتی سوچ کا حصہ بنانے کا کردار مذہبی تعبیرات ادا کرتی ہیں۔ بیرونی ہاتھ اور سیاسی عوامل صرف اس کو بڑھانے اور کوئی مخصوص رخ دینے کے ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں اور یہ خارجی عوامل اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کسی معاشرے میں ذہنی ونفسی سطح پر اور مذہبی تعبیرات کے دائرے میں ان کے لیے زمین تیار نہ کر دی گئی ہو۔
بیانیہ: دوسرے مسالک کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے ہماری راہ میں ہمارے مسلک کے ہی شدت پسند عناصر رکاوٹ بنتے ہیں۔
تبصرہ: یہ بات درست ہے۔ اس کا مقابلہ صرف عزم مصمم اور بلندی کردار سے کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت فرقہ واریت سے تنگ ہے اور اس سے نجات چاہتی ہے، لیکن اقلیتی گروہوں کے بلند آہنگ ہونے جبکہ سنجیدہ وفہمیدہ طبقات کے غیر فعال بلکہ منفعل ہونے کی وجہ سے اکثریت، اقلیت کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ہر مسلکی حلقے میں اگر ایسے پر عزم افراد سامنے آئیں جو یہ طے کر لیں کہ وہ ہر حال میں وحدت امت کی بات کریں گے اورکسی مصلحت یا مفاد کی خاطر یا کسی خوف کے تحت فرقہ وارانہ گروہ بندی کا حصہ نہیں بنیں گے اور اس کے لیے مقبولیت یا عوامی قبولیت کی بھی پروا نہیں کریں گے تو ان شاء اللہ بہت کم عرصے میں فضا بدلی جا سکتی ہے۔
قراقرم یونیورسٹی میں دو روزہ ورک شاپ
قراقرام انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت میں ۷ اور ۸ ستمبر ۲۰۱۶ء کو ’’سماجی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر اقبال مرکز برائے تحقیق ومکالمہ (بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد) اور قراقرم یونیورسٹی کے زیر اہتمام دو روزہ ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے رکن جناب ڈاکٹر خالد مسعود، پشاور یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز ڈاکٹر معراج الاسلام ضیاء، اقبال مرکز برائے تحقیق ومکالمہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن الامین، ائیر یونیورسٹی اسلام آباد کے استاذ جناب ندیم عباس، پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن اسلام آباد کے رکن ڈاکٹر محمد حسین اور معروف اینکر پرسن سبوخ سید کے ساتھ ساتھ راقم الحروف کو بھی اظہار خیال کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ ورک شاپ کی آخری نشست میں گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ جناب حافظ حفیظ الرحمن اور کور کمانڈر میجر جنرل عاصم منیر نے بھی شرکت کی، جبکہ قراقرم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف خان کے علاوہ مختلف شعبوں کے سربراہان، اساتذہ اور طلبہ وطالبات بھی بڑی دلچسپی اور انہماک سے دو روزہ ورک شاپ میں شریک رہے۔
راقم الحروف نے ورک شاپ کی ایک نشست میں ’’مذہبی فرقہ واریت اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر جو گفتگو کی، اس کے اہم نکات حسب ذیل ہیں:
- اجتماعیت، اسلام کی بتائی ہوئی معاشرتی اقدار میں سے ایک بہت بنیادی قدر ہے۔ یہ ایک روحانی قدر بھی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو انسانوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نفرت، حسد اور بغض کے جذبات ہرگز پسند نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک معاشرتی اور تہذیبی ضرورت بھی ہے، کیونکہ جو قومیں باہمی افتراق کا شکار ہو جائیں، ان کی توانائیاں خود کو کمزور کرنے میں صرف ہونے لگتی ہیں اور رفتہ رفتہ دشمن ان پر حاوی ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
- اسلام میں اجتماعیت کا مفہوم یہ نہیں کہ مسلمانوں میں باہم اختلاف رائے نہ ہو، خاص طور پر یہ کہ مذہب کو سمجھنے یا اس پر عمل کرنے میں سب مسلمان ایک ہی انداز کے پابند ہوں۔ اجتماعیت کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اختلاف رائے رکھتے ہوئے بھی باہم متحد رہیں اور اختلاف رائے کو نفسانی اسباب یا غلو کے زیر اثر باہمی افتراق کا ذریعہ نہ بنا لیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست دین سیکھنے والی جماعت، صحابہ کرام نے اپنے اجتماعی طرز عمل سے واضح کیا ہے کہ دین میں اختلاف رائے اور فرقہ واریت کے مابین کیا فرق ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں، حج کے موقع پر ان کے، ظہر اور عصر کی چار رکعتیں ادا کرنے پر سخت تنقید کی (کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما اس موقع پر دو رکعتیں ادا کیا کرتے تھے)، لیکن جب نماز کا وقت ہوا تو انھی کی اقتدا میں چار رکعتیں ادا کر لیں اور سوال کیے جانے پر فرمایا کہ (اختلاف کی بنیاد پر) مسلمانوں میں گروہ بندی پیدا کرنا بہت بری بات ہے۔
- دو چیزیں اختلاف رائے کو فرقہ واریت میں بدل دیتی ہیں۔ ایک، اپنی رائے کو حتمی اور فیصلہ کن سمجھنا اور مخالف نقطہ نظر کے لیے گنجائش تسلیم نہ کرنا۔ دوسری، مسلمانوں کو اپنی رائے کے گرد جمع کرنے اور دوسرے نقطہ ہائے نظر سے دور کرنے کے لیے گروہ بندی اور باہمی منافرت کو فروغ دینا۔ صحابہ کے دور میں اختلاف رائے موجود تھا اور بہت سے مذہبی معاملات کے فہم اور تعبیر میں شدید اختلاف پایا جاتا تھا، لیکن صحابہ نے اپنے نقطہ نظر کو حتمی قرار دیتے ہوئے مخالف نقطہ نظر کی کلی نفی کرنے کا نیز اس بنیاد پر عام لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کرنے اور ان میں باہمی منافرت پھیلانے کا رویہ اختیار نہیں کیا۔ یہی اختلاف اور فرقہ واریت میں حد فاصل ہے۔ فرقہ پرست ذہن اپنی پیش کردہ مذہبی تعبیر کو حتمی اور فیصلہ کن سمجھتا ہے اور عام لوگوں کو اپنے ساتھ وابستہ کرنے کے لیے انھیں دوسرے نقطہ ہائے نظر کے لوگوں سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے مذہبی فتوے بازی کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔
- فرقہ واریت کا تعلق صرف مذہبی اختلاف سے نہیں، ہر نوعیت کے اختلاف سے ہے۔ اگر مذہب کے علاوہ سیاسی، علاقائی اور نسلی اختلاف بھی ایسا رنگ اختیار کر لے کہ مختلف گروہ ایک دوسرے کی رائے کو برداشت نہ کر سکیں اور ان کی توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے صرف ہونے لگیں تو بلاشبہ یہ بھی فرقہ واریت ہے۔ اس لیے اس موضوع کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے صرف مذہبی گروہ بندی تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ فرقہ بندی کے تمام مظاہر کو زیر بحث لانا چاہیے، کیونکہ جس طرح مذہبی فرقہ واریت امت کی وحدت اور اجتماعیت کو مجروح کرتی ہے، بالکل اسی طرح سیاسی، نسلی اور فکری اختلافات اگر گروہ بندی اور حزبیت کی شکل اختیار کر لیں تو وہ بھی مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو پارہ پارہ کر دینے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
- فرقہ واریت پورے معاشرے کا مسئلہ ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری صرف اس طبقے پر نہیں ڈالی جا سکتی جو مذہبی ’’قیادت‘‘ کے منصب پر فائز ہے، اس لیے کہ کسی بھی رویے اور طرز فکر کو جب تک معاشرے کی طرف سے تائید اور حمایت نہ ملے، وہ جڑ نہیں پکڑ سکتا۔ فرقہ وایت کے سدباب کے لیے کردار ادا کرنا معاشرے کے تمام اہم طبقات کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں مذہبی راہ نماں کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت، ارباب اقتدار اور سب سے بڑھ کر سول سوسائٹی کو بھی اپنا بھرپور ادا کرنا ہوگا اور عوام الناس کے فکر وشعور کی سطح کو اس طرح بلند کرنا ہوگا کہ وہ کسی فرقہ وارانہ بیانیے سے متاثر ہو کر اسے اس کا دست وبازو بننے پر آمادہ نہ ہوں۔
- معاشرتی طبقات اگر درج ذیل چند نکات کے حوالے سے یکسو ہو جائیں اور ان سے متصادم کسی بھی مذہبی تعبیر یا بیانیے کی حوصلہ شکنی کی فضا پیدا ہو جائے تو فرقہ واریت کو بہت کم عرصے میں جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے:
- مسلمانوں کے مابین مذہبی اختلاف بظاہر کتنا ہی سنگین ہو ، اس کی بنیاد پر تکفیر کا کوئی جواز نہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی تعبیر یا بیانیہ جو تعبیری اختلاف کی وجہ سے کسی گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے پر زور دیتا ہو، اپنے ظاہر ہی کے لحاظ سے قابل رد ہے۔
- ہر مذہبی گروہ اپنے موقف کی تعبیر کا خود ہی حق رکھتا ہے، اس لیے کسی بھی گروہ کی زبان سے دوسرے گروہ کے موقف کی تعبیر قابل قبول نہیں۔
- تنقید اور اختلاف میں شائستگی کا دامن چھوڑنے اور اخلاقی حدود سے تجاوز کرنے پر ماحول کے ذمہ دار حضرات کو اپنی سماجی حیثیت اور دائرۂ اختیار کے مطابق اپنا رد عمل ظاہر کرنا چاہیے اور یہ واضح کرنا چاہیے کہ اشتعال انگیزی اور تحقیر واستہزا کا اسلوب قابل قبول نہیں۔
- مختلف گروہوں کے مابین ہر سطح پر سماجی میل جول اور مکالمے کا ماحول تسلسل کے ساتھ قائم رکھا جائے، کیونکہ غلط فہمیاں اور دوریاں پیدا ہونے کا ایک بہت بنیادی سبب یہی ہوتا ہے کہ مختلف خیال کے لوگ آپس میں ملنا جلنا چھوڑ دیں۔
بحیثیت مجموعی یہ ورک شاپ اپنے موضوع پر طلبہ وطالبات کی ذہن سازی کے حوالے سے بہت مفید اور کامیاب رہی، تاہم ورک شاپ کی آخری نشست میں گلگت بلتستان کے کور کمانڈر میجر جنرل عاصم منیر نے اپنی گفتگو میں جہاں گلگت میں قیام امن اور خاص طور پر ایک نہایت پرامن ماحول میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے گلگت کی فوجی اور سول انتظامیہ کی مشترکہ کاوشوں کا ذکر کیا، وہاں بعض ایسی باتیں بھی کہیں جو پوری ورک شاپ کے مقصد اور مزاج کے بالکل برعکس تھیں۔ مثلاً انھوں نے سی پیک کے منصوبے کے معاشی واقتصادی فوائد بیان کرنے کے بعد ’’حرف آخر‘‘ یہ فرمایا کہ جو لوگ اس منصوبے کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں اور ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کر رہے ہیں، وہ آپ کے دشمن ہیں، اس لیے جب بھی کوئی شخص ایسی بات کرے تو ’’آپ اس کا منہ توڑ دیجیے، بلکہ بہتر ہے کہ اس کا سر توڑ دیجیے۔‘‘ اسی طرح مولویوں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ان سے اپنے مذہب کو واپس چھیننے کی ضرورت ہے۔ ہماری زندگی کے تین ہی اہم مواقع ہوتے ہیں، یعنی پیدا ہونا، شادی اور مرنا اور ہم نے یہ تینوں مولوی کے حوالے کیے ہوئے ہیں۔ آپ اذان دینے، نکاح اور جنازہ پڑھانے کا کام خود کر سکتے ہیں، کسی مولوی کی ضرورت نہیں۔
یہ انداز اظہار ورک شاپ کے بنیادی پیغام کے لحاظ سے تو محل نظر تھا ہی، اس پہلو سے بھی قابل اعتراض تھا کہ یہ احساسات وتاثرات بہرحال جنرل صاحب کے ذاتی احساسات تھے، جبکہ ورک شاپ میں وہ اپنے ادارے کی نمائندگی کرتے ہوئے وردی میں اور پورے فوجی پروٹوکول کے ساتھ تشریف لائے تھے۔ ان کے ذاتی خیالات کچھ بھی ہو سکتے ہیں، لیکن اپنی منصبی حیثیت میں گفتگو کرتے ہوئے انھیں کسی بھی موضوع پر اپنی بات کو اسی حد تک محدود رکھنا چاہیے تھا جو ان کے ادارے کا طے شدہ اور علانیہ موقف ہے۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۳)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۰۱) أنفسکم کا ترجمہ
قرآن مجید میں بعضکم بعضا کی تعبیر متعدد مقامات پر آئی ہے، اور حسب حال مختلف ترکیبوں کے ساتھ استعمال ہوئی ہے، بعضکم بعضا کا ترجمہ ہوتا ہے ’’ایک دوسرے کو‘‘ اور ’’آپس میں‘‘ اور ’’کوئی کسی کو‘‘ جیسے:
ثُمَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکْفُرُ بَعْضُکُم بِبَعْضٍ وَیَلْعَنُ بَعْضُکُم بَعْضاً۔ (العنکبوت:۲۵)
کبھی فعل کے ثلاثی مجردکے بجائے باب تفاعل سے ثلاثی مزید میں استعمال ہونے سے بھی بعضکم بعضا کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسے یقتل بعضھم بعضا کا مفہوم وہی ہے جو یتقاتلون کا ہے۔
اس کے علاوہ ایک تعبیر أنفسکم کی بھی آئی ہے، بہت سے مترجمین بہت سے مقامات پر اس کا ترجمہ بھی ’’ایک دوسرے کو‘‘ کردیتے ہیں۔ حالانکہ أنفسکم اس معنی میں نہیں آتا ہے، اور اس معنی میں لانے کے لیے مختلف توجیہات کرنی پڑتی ہیں۔
دراصل أنفسکم کے دو معنی ہیں، ایک ہے ’’اپنے آپ کو‘‘ اور ایک ہے ’’اپنے لوگوں کو‘‘ قرآن مجید میں یہ لفظ پہلے معنی میں بھی خوب استعمال ہوا ہے، اور دوسرے معنی میں بھی کئی جگہ استعمال ہوا ہے۔ سیاق کلام اور محل استعمال سے یہ طے ہوتا ہے کہ کہاں کون سا معنی لیا جائے۔
دوسرے معنی کی ایک مثال ذیل کی آیت ہے، جس میں أنفسکم کا ترجمہ تمام مترجمین نے ’’اپنے لوگوں‘‘ کیا ہے:
(۱) فَإِذَا دَخَلْتُم بُیُوتاً فَسَلِّمُوا عَلَی أَنفُسِکُمْ۔ (النور: ۶۱)
’’بس بات یہ ہے کہ جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’البتہ جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو‘‘(سید مودودی)
’’پھر جب کسی گھر میں جاؤ تو اپنوں کو سلام کرو ‘‘(احمد رضا خان)
’’پھر جب جانے لگو کبھی گھروں میں تو سلام کہو اپنے لوگوں پر‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’جب تم اپنے گھروں میں جانے لگا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کرلیا کرو‘‘ (اشرف علی تھانوی)
’’پس جب تم گھروں میں جانے لگو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرلیا کرو‘‘(محمد جوناگڑھی)
آخری دونوں ترجموں میں ایک توجہ طلب امر یہ ہے کہ آیت میں بیوتا نکرہ استعمال ہوا ہے، اس لئے اول الذکر میں اپنے کے اضافے کے ساتھ اپنے گھروں اور موخر الذکر میں گھر کے اضافے کے ساتھ اپنے گھر والوں کہنا درست نہیں ہے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ اس آیت کی طرح مذکورہ ذیل آیتوں میں بھی أنفسکم کا وہی مفہوم ہے جو فسلموا علی أنفسکم میں أنفسکم کا ہے، تاہم مفسرین اور مترجمین کہیں وہ ترجمہ کرتے ہیں اور کہیں کوئی دوسرا ترجمہ کرتے ہیں۔
(۲) وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ إِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُواْ إِلَی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُواْ أَنفُسَکُمْ۔ (البقرۃ: ۵۴)
’’یاد کرو جب موسی (یہ نعمت لیے ہوئے پلٹا، تو اس ) نے اپنی قوم سے کہا کہ لوگو تم نے بچھڑے کو معبود بناکر اپنے اوپر سخت ظلم کیا ہے، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو‘‘ (سید مودودی)
زیر بحث جملے کے کچھ اور ترجمے بھی ملاحظہ ہوں:
’’اور اپنے مجرموں کو اپنے ہاتھوں قتل کرو‘‘ (امین احسن اصلاحی، یہاں أنفسکم کا مفہوم تو ادا کیا گیا ہے، لیکن اپنے ہاتھوں کہنا زائد ہے، اس کی لفظ اور معنی دونوں ہی لحاظ سے کوئی گنجائش نہیں ہے)
’’پھر بعض آدمی بعض آدمیوں کو قتل کرو‘‘ (اشرف علی تھانوی)
’’اور مارڈالو اپنی اپنی جان ‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو‘‘ (احمد رضا خان)
اس آیت میں واقعہ کے لحاظ سے نہ تو اپنے آپ کو قتل کرنے کا محل ہے اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے کا محل ہے، بچھڑے کومعبود بنانے کے ظلم میں سب لوگ شریک نہیں تھے، اس لئے جو لوگ شریک تھے ان کے بارے میں حکم دیا گیا کہ وہ جو ہیں تو اپنے ہی لوگ مگر اس جرم کے مرتکب ہوئے ہیں ان کو قتل کرو۔ابو حیان کے الفاظ میں:
وَالْمَعْنَی: اقْتُلُوا الَّذِینَ عَبَدُوا الْعِجْلَ مِن أَھْلِکُمْ،کَقَولِہِ: لَقَدْ جاءکم رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ،أَیْ مِن أَھْلِکُمْ وَجِلْدَتِکُمْ۔ (البحر المحیط فی التفسیر ،۱؍۳۳۵)
غرض صحیح ترجمہ ہے: ’’تو اپنے لوگوں کو قتل کرو‘‘
(۳) وَإِذْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ لاَ تَسْفِکُونَ دِمَاء کُمْ وَلاَ تُخْرِجُونَ أَنفُسَکُم مِّن دِیَارِکُمْ۔ (البقرۃ: ۸۴)
’’اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم سے اقرار لیا کہ اپنوں کا خون نہ بہاؤگے اور اپنوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالوگے ‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ اپنوں کا خون نہ کرنا اور اپنوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالنا ‘‘(احمد رضا خان)
آیت کے یہ دونوں صحیح ترجمے ہیں، جبکہ ذیل میں مذکور ترجمے محل نظر ہیں:
’’اور جب لیا ہم نے قرار تمہارا کہ نہ کرو گے خون آپس میں اور نہ نکال دو گے اپنوں کو اپنے وطن سے‘‘ (شاہ عبد القادر، اس ترجمے میں أنفسکم کا ترجمہ صحیح کیا ہے البتہ لا تسفکون دماءکم کا ترجمہ ’’نہ کرو گے خون آپس میں‘‘محل نظر ہے، کیونکہ ’’آپس میں‘‘ کے مطلب کے لیے آیت میں کوئی لفظ نہیں ہے۔)
’’پھر ذرا یاد کرو، ہم نے تم سے مضبوط عہد لیا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ ایک دوسرے کو گھر سے بے گھر کرنا‘‘ (سید مودودی)
’’اور (وہ زمانہ بھی یاد کرو) جب ہم نے تم سے یہ قول وقرار (بھی) لیا کہ باہم خونریزی مت کرنا اور ایک دوسرے کو ترک وطن مت کرانا‘‘ (اشرف علی تھانوی، اس ترجمہ میں زیر بحث مسئلے کے علاوہ قوسین میں ’’وہ زمانہ بھی یاد کرو‘‘ غیر ضروری ہے)
ان تینوں ترجموں میں ’’آپس میں‘‘، ’’باہم‘‘ اور ’’ایک دوسرے‘‘کا ترجمہ کیا گیا ہے، جبکہ آیت کے الفاظ سے اس کی تائید نہیں ہوتی ہے۔
اس آیت میں دماء کم اور أنفسکم کا مفہوم متعین کرنے کے لیے ذیل کی آیت سے بھی مدد لی جاسکتی ہے جس میں أنفسکم کی جگہ فریقا منکم آیا ہے، اور جو اس کے فورا بعد اسی سیاق میں آئی ہے ۔
(۴) ثُمَّ أَنتُمْ ہَؤُلاءِ تَقْتُلُونَ أَنفُسَکُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِیْقاً مِّنکُم مِّن دِیَارِہِمْ۔ (البقرۃ: ۸۵)
’’پھر تم ہی وہ لوگ ہو کہ اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے ہی ایک گروہ کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’پھر یہ جو تم ہو اپنوں کو قتل کرنے لگے اور اپنے میں سے ایک گروہ کو ان کے وطن سے نکالتے ہو‘‘(احمد رضا خان)
’’مگر آج وہی تم ہو کہ اپنے بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو، اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بے خانماں کردیتے ہو‘‘ (سید مودودی)
مذکورہ بالا ترجمے صحیح ہیں، جبکہ ذیل کے ترجموں میں زیر بحث غلطی موجود ہے۔
’’پھر تم ویسے ہی خون کرتے ہو آپس میں اور نکال دیتے ہو اپنے ایک فرقے کو ان کے وطن سے ‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’پھر تم یہ (آنکھوں کے سامنے موجود ہی) ہو (کہ) قتل وقتال بھی کرتے ہو اور ایک دوسرے کو ترک وطن بھی کراتے ہو‘‘ (اشرف علی تھانوی)
فریقا منکم کا ترجمہ ایک دوسرے کو کرنا بہت عجیب بات ہے، بلکہ جس طرح وَتُخْرِجُونَ فَرِیْقاً مِّنکُم کا ترجمہ ایک دوسرے کو کرنا درست نہیں ہے، ٹھیک اسی طرح وَلاَ تُخْرِجُونَ أَنفُسَکُم کا ترجمہ بھی ایک دوسرے کو کرنا درست نہیں ہے۔
مذکورہ غلطی کے علاوہ آخری ترجمہ میں تقتلون أنفسکم کا ترجمہ قتل وقتال کرنا بھی درست نہیں ہے، کیونکہ آیت میں قتال کا لفظ ہی نہیں آیا ہے، اور پھر قتل وقتال کا محاورہ بھی استعمال نہیں کیا جاتا ہے، مزید یہ کہ اس ترجمہ میں أَنفُسَکُم کا ترجمہ بھی نہیں ہوسکا ہے۔
(۵) یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَکُمْ بَیْْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَن تَکُونَ تِجَارَۃً عَن تَرَاضٍ مِّنکُمْ وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَکُمْ۔ (النساء :۲۹)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، لین دین ہونا چاہئے آپس کی رضامندی سے۔ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو‘‘ (سید مودودی)
اس آیت میں ولا تقتلوا أنفسکم کا ترجمہ مترجمین نے مختلف طرح سے کیا ہے، جسے ذیل میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے:
’’اور ایک دوسرے کو قتل نہ کرو‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’اور اپنی جانیں قتل نہ کرو‘‘(احمد رضا خان)
’’اور نہ خون کرو آپس میں‘‘ (شاہ عبد القادر)
’’اور تم ایک دوسرے کو قتل بھی مت کرو ‘‘(اشرف علی تھانوی)
صحیح ترجمہ ہے: ’’اوراپنے لوگوں کو قتل نہ کرو‘‘
آیت میں خود کو قتل کرنے کے بجائے دوسروں کو قتل کرنا مراد ہے اس کی تائید اس کے بعد والی آیت سے بھی ہوتی ہے، جس میں اس عمل کو عدوان اور ظلم بتایا گیا ہے، وَمَن یَفْعَلْ ذَلِکَ عُدْوَاناً وَظُلْماً فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَاراً وَکَانَ ذَلِکَ عَلَی اللّہِ یَسِیْراً۔ (النساء :۳۰)
(۶) وَلَوْ أَنَّا کَتَبْنَا عَلَیْْہِمْ أَنِ اقْتُلُواْ أَنفُسَکُم۔ (النساء :۶۶)
’’اگر ہم نے انہیں حکم دیا ہوتا کہ اپنے آپ کو ہلاک کرو‘‘ (سید مودودی)
’’اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کرو‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’اور اگر ہم نے ان پر یہ فرض کیا ہوتا کہ اپنی جانوں کو قتل کرو‘‘(محمد جوناگڑھی)
’’اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو‘‘ (احمد رضا خان)
’’اور ہم اگر لوگوں پر یہ بات فرض کردیتے کہ تم خودکشی کیا کرو‘‘(اشرف علی تھانوی)
درست ترجمہ ہے: ’’اگر ہم انہیں حکم دیتے کہ اپنے لوگوں کو قتل کرو‘‘۔
یہ ترجمہ اس لحاظ سے بھی درست ہے کہ الفاظ کے مطابق ہے، اس کے علاوہ مزید دو باتیں ملحوظ رکھی جاسکتی ہیں ، ایک بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالی خودکشی کرنے کا حکم دے، یہ خود ایک ناقابل تصور امر ہے۔ دوسرے یہ کہ خودکشی کرنے کے لئے اقْتُلُواْ أَنفُسَکُم کی تعبیربھی محل نظر ہے۔
(۷) لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِہِمْ خَیْْراً۔ (النور:۱۲)
’’ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کی بابت نیک گمان کرتے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’اسے سنتے ہی مومن مردوں عورتوں نے اپنے حق میں نیک گمانی کیوں نہ کی‘‘ (محمد جوناگڑھی)
اس آیت میں جس معاملے کے حوالے سے بات کہی گئی ہے، اس میں نہ تو اس کا محل ہے کہ بات سننے والے اہل ایمان اپنے سلسلے میں نیک گمان کریں، اور نہ اس کا محل ہے کہ سننے والے اہل ایمان ایک دوسرے کے بارے میں نیک گمان کریں۔ محل کلام واضح طور پر یہ ہے کہ اس طرح کی باتیں سننے والے اہل ایمان اپنے ان لوگوں کے سلسلے میں نیک گمان کریں جن کے بارے میں وہ باتیں کہی جارہی تھیں۔ غرض الفاظ اور محل کلام دونوں کے لحاظ سے درج ذیل دونوں ترجمے درست ہیں۔
’’کیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سنا تھا کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں پر نیک گمان کیا ہوتا ‘‘(احمد رضا خان)
’’کیوں نہ جب تم نے اس کو سنا تھا خیال کیا ہوتا ایمان والے مردوں نے اور عورتوں نے اپنے لوگوں پر بھلا خیال ‘‘(شاہ عبدالقادر)
(۸) وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَکُمْ۔ (الحجرات: ۱۱)
’’آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو‘‘(سید مودودی)
’’وعیب مکیند اہل دین خود را‘‘ (شیخ سعدی)
’’وعیب مکیند درمیان خویش ‘‘(شاہ ولی اللہ)
’’اور آپس میں طعنہ نہ کرو ‘‘(احمد رضا خان)
’’اور عیب نہ دو ایک دوسرے کو‘‘(شاہ عبد القادر)
’’اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو ‘‘(اشرف علی تھانوی)
’’اور نہ اپنوں کو عیب لگاؤ‘‘ (امین احسن اصلاحی)
صحیح ترجمہ ہے: ’’اور نہ اپنے لوگوں پر طنز کرو‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
غرض اوپر جتنی آیتیں ذکر کی گئی ہیں ان میں أنفسکم کا ترجمہ اپنے آپ کو یا آپس میں ایک دوسرے کو کیا جائے تو مفہوم اور محل کلام کے حوالے سے مختلف اشکالات پیدا ہوتے ہیں، جن کی توجیہ کی ضرورت پڑتی ہے، اور مفسرین نے ان کی توجیہ کی کوشش کی بھی ہے۔ لیکن اگر ان مقامات پر أنفسکم کا ترجمہ اپنے لوگوں کیا جائے، تو کوئی اشکال نہیں رہتا، اور مفہوم بہت واضح ہوجاتا ہے۔
(جاری)
فنا میں بقا کی تلاش
محمد حسین
اس وقت زمینی، فضائی یا بحری طور پر انڈیا اور پاکستان کے مابین عملاً جنگ شروع ہو نہ ہو، مگر دو طرح کے مائنڈ سیٹ کے مابین یہ جنگ عملاً شروع ہو چکی ہے بلکہ عروج پر ہے۔ دونوں ملکوں میں ایک طرف جنگ پسند طبے آپس میں ذرائع ابلاغ، نجی محفلوں، خوابوں اور آپس کی بحثوں میں فتح و شکست کے حساب کتاب میں لگے ہیں۔ یہ طبقہ ردعمل، غلبہ، احساس کمتری و برتری کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر جنگ کو اس وقت کی اہم ترین اور واحد ضرورت اور ذمہ داری سمجھ رہا ہے۔ دوسری طرف دونوں ملکوں میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو فتح و شکست کے خول سے نکل کر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ فتح و شکست اور جنگی لسانیات کا آسرا لیے بغیر سرے سے جنگ کی نفی اور امن کی تلقین کررہا ہے۔
جنگ میں کسی کی شکست کا معنی بھی تباہی ہے اور فتح کا مطلب بھی تباہی ہے۔ جنگ میں ہار ہمیشہ غریب، نادار، نہتے عوام کی ہوتی ہے اور فتح ہمیشہ انا، ضد، ہٹ دھرمی، مفاد پرست اشرافیہ، مقتدر جنگجوؤں اور اسلحہ بیچنے والوں کی۔ جنگ پیش خیمہ ہے تباہی کا، علامت ہے بربادی کی، آہ و فغان کی، آگ و خون کی، چیخ پکار کی، چھلنی جسموں کی، زخمی بدنوں کی، بے غسل و کفن لاشوں کی، مفلوج کر دینے والے لاعلاج امراض کی، بے پناہ بیماریوں کی، مرداروں کے تعفن کی، یتیم بچوں کی، بے آسرا عورتوں کی، سسکیوں اور آہوں کی، ظلم و بربریت کی، اندھے قتل و غارت کی، خوف کی، شک کی، مارنے اور مرنے کی، آبادیوں کے کھنڈرات میں بدلنے کی، سرسبز و شاداب وادیوں کے جھلسے ہوئے اور راکھ بنے بنجر ٹکڑوں میں بدلنے کی۔ جنگ نام ہی فنا کا ہے، لیکن معلوم نہیں لوگ کیوں اس میں بقاء تلاش کرتے ہیں۔ ہاں، یہ بقاء ضرور ہے ان انسانی اوصاف سے عاری انسان نما درندوں کے لیے جو ہمیشہ خون کے پیاسے ہوتے ہیں، جن کی معیشت، اقتدار اور قوت لوگوں کے خون سے سیراب ہوتی ہے۔
یہ تیسری دنیا اور ترقی پذیر ممالک کی بدقسمتی رہی ہے کہ وہ اپنے ناکام طرز حکمرانی، بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام، نسلی و مذہبی تعصبات و منافرت پر قابو نہ پا سکے جس کے باعث وہ بدترین سطح پر داخلی شکست و ریخت، خانہ جنگیوں، قتل و غارت اور اندرونی خلفشار کا شکار ہیں۔ وہ اپنے داخلی مسائل کو مل جل کر حل کرنے کے لیے آگے کی طرف بڑھنے کے بجائے ایک دوسرے کے لیے مزید مشکلات اور مسائل پیدا کرنے میں باہمی رقابت و مخاصمت سے کام لے رہے ہیں۔ وہ اپنا سرمایہ اور وسائل تعمیر و ترقی، استحکام و خوشحالی پر لگنے کے بجائے دفاع اور قومی سلامتی کے نام سے فسادات اور جنگ کی آگ بھڑکانے میں لگاتے ہیں۔ اس صورت حال میں مفاد پرستوں کا ایسا طبقہ بھی وجود میں آ چکا ہے جن کا مفاد اندرون ملک یا بیرون ملک فساد سے وابستہ ہے۔ اس طبقے کے نزدیک جنگ ان کی معاشی استحکام اور ترقی کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔
اس گلوبل ویلیج اور اقتصادی دوڑ کے اس دور میں یہ امر قابل غور ہے کہ مختلف عالمی اور علاقائی جنگوں سے فراغت پانے والے ممالک، خاص طور پر حالیہ برسوں میں امریکہ، روس، فرانس، چین وغیرہ نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحے بنا کر ایک طرف اپنے دفاع کو تو مضبوط کیا ہے، لیکن قابل تشویش پہلو یہ ہے کہ ان ممالک نے اسی سلحے کو اب اپنی معاشی ترقی کا ذریعہ بھی بنا لیا ہے اور وہ دنیا میں نئے نئے خریدار تلاش کرنے اور اپنے اسلحے کی کھپت کے لیے مختلف ممالک کو اپنی مارکیٹ بنانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ وہ امن کے قیام سے زیادہ اسلحہ کی مارکیٹ بنانے اور کہیں نہ کہیں میدان جنگ سجائے رکھنے پر توجہ دیتے ہیں۔اسی لیے و ہ خارجہ پالیسی، تزویراتی مقاصد، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر دوسرے ممالک میں مداخلت کرنے کو اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک اپنے ہاں داخلی مخاصمت پر مبنی ماحول میں بیرونی مداخلت اور اسلحے کے فروخت کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنے والے سوداگروں کو اپنا مسیحا سمجھتے ہیں۔
تیسری دنیا کی سوچ کی سطحیت کا عالم یہ ہے کہ یہاں جنگ کی بات کرنا وفادادری، بہادری اور غیرت و حمیت کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے جبکہ امن ، باہمی محبت و احترام، سماجی ہم آہنگی ، مکالمہ کی بات کرنا غداری قرار دی جاتی ہے۔ جس چیز میں سب کی بقاء ہے، وہ سازش سمجھی جاتی ہے اور جس میں سب کی فنا مضمر ہے، اس میں بقاء، حمیت، غیرت، بہادری تلاش کی جاتی ہے۔ لوگ قلم کی بجائے اسلحے میں قوت ڈھونڈتے ہیں۔ صحیح و غلط کا معیار طاقت و اقتدار طے کرتا ہے۔ دھوکہ دہی کو زیرکی، پروٹوکول کو عزت، خوش اخلاقی کو کمزوری، سوچنے کو بے وقوفی، تحقیق و تخلیق کو وقت کا ضیاع، اور سب کا احترام کرنے کو چاپلوسی گردانا جاتا ہے۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ مختلف نفسیاتی و سماجی امراض میں مبتلا اس قوم کے ہاں پورے نظامِ اقدار کو دوبارہ سے منقح (redefine) کرنے کی ضرورت ہے۔
مسلمان حکمرانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کی فقہ
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
(مصنف کی کتاب ’’جہاد، مزاحمت اور بغاوت‘‘ کی ایک فصل)
شیخ یوسف القرضاوی کی ’’فقہ الجہاد‘‘ میں ایک اہم بحث مناقشۃ فقہ جماعات العنف کے عنوان کے تحت ہے ، جس میں شیخ قرضاوی نے کوشش کی ہے کہ مسلمان ریاستوں میں حکومتوں کے خلاف خروج کے قائلین کی فقہ کے اہم مبادی سامنے لا کر ان کی غلطی واضح کی جائے ۔ یہ بحث بہت مفید نکات پر مشتمل ہے ۔
و من نظر الی جماعات العنف ، القائمۃ الیوم فی عالمنا العربی مثلاً ( جماعۃ الجھاد، الجماعۃ الاسلامیۃ ، السلفیۃ الجھادیۃ ، جماعہ انصار الاسلام ۔۔۔ انتھاء بتنظیم القاعدۃ ): وجد لھا فلسفتھا و وجھۃ نظرھا ، و فقھھا الذی تدعیہ لنفسھا ، و تستند بالادلۃ من القرآن و السنۃ، و من اقوال العلماء ۔ (۱)
[جو بھی ان تشدد پسند جماعتوں کا جائزہ لے گا جو آج عرب دنیا میں قائم ہیں ، جیسے جماعۃ الجہاد، الجماعۃ الاسلامیۃ ، السلفیۃ الجہادیۃ ، جماعۃ انصار الاسلام ۔۔۔ جن کی انتہا القاعدہ کی تنظیم پر ہوتا ہے ، تو وہ دیکھے گا کہ ان کا ایک مخصوص فلسفہ ، نقطۂ نظر اور فقہ ہے جس کا یہ اپنے لیے دعوی کرتی ہیں اور قرآن و سنت کے دلائل اور علما کے اقوال سے استدلال کرتی ہیں۔]
اس ضمن میں شیخ قرضاوی خصوصاً درج ذیل امور ذکر کرتے ہیں کہ ان تنظیموں کی نظر میں :
۱ ۔ مسلمانوں کے حکمران مرتد ہوچکے ہیں ؛
۲ ۔ امام ابن تیمیہ کے مشہور فتوے کی رو سے ایسے حکمرانوں کے خلاف خروج واجب ہے ؛
۳ ۔ یہ حکومتیں مسلمانوں پر غیر مسلموں نے مسلط کی ہوئی ہیں ؛
۴ ۔ یہ حکمران برائی کو فروغ دیتے اور نیکی سے لوگوں کو روکتے ہیں اور اللہ کے حرام کردہ کاموں کو جائز ٹھہراتے ہیں ؛
۵ ۔ مسلمان ریاست میں مستقل رہایش پذیر غیر مسلم عقد ذمہ توڑ چکے ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کو جزیہ نہیں دیتے ؛
۶ ۔ مسلمان ریاستوں میں سیاحت یا تجارت کی غرض سے آنے والے غیر مسلم بھی مباح الدم ہیں کیونکہ ان کی ریاستیں مسلمانوں سے برسرجنگ ہیں ؛
و لو درس ھولاء فقہ الامان و الاستئمان ، و أحکامہ فی الشریعۃ الاسلامیۃ بمختلف مذاھبھا ، لایقنوا ان ھولاء السیاح و امثالھم لھم حق الامان ، الذی اعطاھم ایاہ الاسلام ، و لو کانوا فی الاصل حربیین ، و دولھم محاربۃ للاسلام و المسلمین ، و بھذا حرمت دماؤھم و اموالھم۔ (۲)
شیخ قرضاوی صراحت کرتے ہیں کہ یہ فقہ صحیح نہیں ہے اور علما کی ذمہ داری ہے کہ اس کی غلطی واضح کریں ۔(۳)
وہ خصوصاً ذکر کرتے ہیں کہ ان کی فقہ کی اہم غلطیاں درج ذیل امور میں ہیں :
۱ ۔ جہاد کے حکم کی حقیقت اور غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کی صحیح نوعیت ؛
۲ ۔ اہل ذمہ کے ساتھ تعلقات کی صحیح نوعیت ؛
۳ ۔ برائی کو بدلنے ( تغییر منکر ) کا صحیح طریق کار ؛
۴ ۔ حکمران کے خلاف خروج کے لیے شرائط ؛ اور
۵ ۔ مسلمان کی تکفیر کا مسئلہ ۔ (۴)
پھر نتیجہ وہ یہ نکالتے ہیں کہ ان لوگوں کے خلوص میں کوئی شک وہ شبہ نہیں ہے لیکن مسئلہ ان کی فکر میں ہے :
ازمۃ ھولاء ازمۃ فکریۃ ۔ لقد تبین ان آفۃ ھولاء ۔ فی الاغلب ۔ فی عقولھم ، و لیست فی ضمائرھم ، فاکثرھم مخلصون ، و نیاتھم صالحۃ ، و ھم متعبدون لربھم ۔۔۔ (۵)
تاہم ساتھ ہی وہ یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ حسن نیت سے غلط کام صحیح نہیں ہوجاتا ۔
تغییر منکر کے طریق کار میں ان لوگوں کو کیا غلطی لاحق ہوئی ہے ؟ شیخ قرضاوی اس سوال کے جواب میں ان شرائط کا ذکر کرتے ہیں جن کی پابندی تغییر منکر کے لیے اٹھنے والوں پر عائد ہوتی ہے :
ا۔ یہ کہ اس کام کے برائی ہونے پر اجماع ہو کیونکہ اجتہادی مسائل پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوتا ؛
۲ ۔ وہ برائی واضح و آشکارا ہو جس کے لیے تجسس کی ضرورت نہ ہو ؛
۳ ۔ جس وقت اس برائی کا ارتکاب ہورہا ہو اس وقت اسے روکنے اور تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے ، ایسا نہ ہو کہ ارتکاب کے بعد یا ارتکاب سے پہلے تغییر منکر کے نام پر اقدام کیا جائے۔
۴ ۔ تغییر منکر کے لیے کی جانے والی کوشش میں زیادہ بڑی برائی یا برابر کی برائی وجود میں نہ آئے کیونکہ شرعی طور پر مسلم ہے کہ ضرر کو اس سے بڑے یا برابر کے ضرر کے ذریعے دور نہیں کیا جائے گا ۔ (۶)
یہاں شیخ قرضاوی امام غزالی کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں کہ تغییر منکر کے متعدد مراتب ہیں ، جیسے اس بات کی توضیح کہ یہ کام برا ہے ، اس کے خلاف وعظ و نصیحت ، زجر اور تخویف ، ہاتھ سے براہ راست تبدیل کرنے کی کوشش ، مارپیٹ کی دھمکی ، برائی کے مرتکب کے خلاف طاقت کا استعمال اور اسے اور اس کے ساتھیوں کو مغلوب کرنے کی کوشش اور اس ضمن میں آخری تدبیر کے طور پر اسلحے کا استعمال یا اس کی دھمکی ۔
شیخ قرضاوی کی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ تغییر منکر کے لیے اسلحے کا استعمال بالکل آخری حربہ ہے لیکن وہ اس کے عدم جواز کے لیے استدلال یہ کرتے ہیں کہ اس کام کے لیے معاصر قوانین کے تحت افراد کو اجازت نہیں ہے بلکہ یہ ریاست کے کرنے کا کام ہے ۔ درحقیقت شرعی و فقہی لحاظ سے بھی یہ کام افراد کے کرنے کا نہیں ، بلکہ ان لوگوں کے کرنے کا ہے جن کے پاس ولایہ ہے ، جیسا کہ اس باب میں ہم تفصیل سے واضح کرچکے ہیں ۔ شیخ قرضاوی نے خود بھی آگے تصریح کی ہے :
و ھذا فی الغالب انما یکون لکل ذی سلطان فی دائرۃ سلطانہ، کالزوج من زوجتہ، و الأب مع أبناۂ و بناتہ، الذین یعولھم و یلی علیھم، و صاحب المؤسسۃ داخل مؤسستہ، و الأمیر المطاع فی حدود امارتہ و سلطتہ، و حدود استطاعتہ، و ھکذا ۔ (۷)
عام لوگ یہ کام اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں تو جس فساد کا وہ خاتمہ چاہتے ہیں اس سے بڑا فساد وجود میں آجاتا ہے ۔
شیخ قرضاوی یہ بھی تصریح کرتے ہیں کہ منکر سے مراد حرام ہے ، خواہ صغائر میں ہو یا کبائر میں ، اگرچہ صغائر کے معاملے میں کبائر کی بہ نسبت تخفیف سے کام لیا جائے گا ۔ چنانچہ منکر کی تعریف میں مثال کے طور پر مستحبات کا ترک شامل نہیں ہے ۔ (۸)
اس کے بعد شیخ قرضاوی اس امر کی طرف آتے ہیں کہ جب منکر کا ارتکاب حکمران کی جانب سے ہورہا ہو تو کیا اس کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جاسکتا ہے ؟ اس ضمن میں وہ ان روایات کی ، جن میں ایسے حکمرانوں کے خلاف طاقت کے استعمال کا ذکر آیا ہے ، وہ تاویل ذکر کرتے ہیں جو محدثین نے اختیار کی ہے اور جس پر اس باب میں ہم تفصیلی بحث کرچکے ہیں ، کہ یہاں طاقت کے استعمال سے مراد لازماً اسلحے کا استعمال نہیں ہے ۔ (۹)
ہم اس باب میں امام جصاص کے حوالے سے اس پر تنقید کرچکے ہیں ۔ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ طاقت کے استعمال کا لازمی مفہوم اسلحے کا استعمال نہیں ہے لیکن آخری تدبیر کے طور پر ، جبکہ دوسری شرائط پوری ہورہی ہوں ، تو اسلحے کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ امام ابو حنیفہ کا موقف ہے۔ (۱۰)
البتہ شیخ قرضاوی کا اٹھایا گیا یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ حکمران انفرادی طور پر برائی کا ارتکاب کرتا ہو تو معاملہ کچھ اور ہوتا ہے لیکن جب پوری ریاستی مشینری منکر کے ارتکاب پر لگی ہوئی ہو تو کیا شراب کی چند بوتلیں توڑدینے ، یا موسیقی کی کسی محفل پر دھاوا بول کر چند لوگوں کی مارپیٹ سے تغییر منکر ہوجاتا ہے ؟
ولکن السؤال الأصعب فی المنکر اذا کان من عمل الدولۃ و أجھزتھا و مؤسساتھا المختلفۃ ، و تجلی ذلک المنکر فی انحرافات فکریۃ و تشریعیۃ و اعلامیۃ وسیاسیۃ واقتصادیۃ و تربویۃ و سلوکیۃ ۔ ھذہ لا یستطیع الأفراد أن یغیروھا بالید ، لأنھا لیست مجرد قدح من الخمر یشرب ، أو حفل غناء محرم ، انھا منکرات تغلغلت فی کیان المجتمع ، مھدت لھا أفکار ، و قامت علیھا تقالید، و حمتھا قوانین ، و رعتھا مؤسسات ۔ فلا یتصور تغییر ھذا کلہ من قبل فرد غیور أو أفراد متحمسین ، ان ھذا یحتاج الی تغییر نظام بنظام ، و حیاۃ بحیاۃ، و فلسفۃ بفلسفۃ أخری ۔ (۱۱)
شیخ قرضاوی نے اس باب میں اور بھی کئی اہم نکات اٹھائے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی اہلِ علم بھی آگے بڑھ کر پاکستان کے خصوصی تناظر میں اس موضوع پر تفصیلی مباحثہ کرکے اس حیران و ششدر قوم کے لیے صحیح طرز عمل تجویز کریں ۔ و ما علینا الا البلاغ ۔
حوالہ جات
۱ ۔ فقہ الجہاد ۔ ج ۲ ، ص ۱۰۳۰
۲۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۳۴
۳۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۳۵
۴۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۳۵ ۔ ۱۰۳۶
۵۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۳۶
۶ ۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۴۰ ۔ ۱۰۴۱
۷۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۴۵
۸۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۴۱
۹ ۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۴۷ ۔ ۱۰۴۸
۱۰ ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے :
Sadia Tabassum, "Recognition of the Right to Rebellion in Islamic Law with Special Reference to the Hanafi Jurisprudence", Hamdard Islamicus, 34: 4 (2011), 55-91.
مزید تفصیل کے لیے انھی مصنفہ کا پی ایچ ڈی کا غیر مطبوعہ مقالہ دیکھیے :
Legal Status and Consequences of Rebellion in Islamic and Modern International Law: A Comparative Study (Islamabad: International Islamic University, 2016)
۱۱ ۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۴۹
جمعیۃ طلباء اسلام اور جمعیۃ علماء اسلام سے میرا تعلق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے سابق راہ نما رانا شمشاد علی خان کے سوال نامہ کے جواب میں لکھا گیا۔)
سوال نمبر ۱۔ کیا آپ کبھی JTI کے ساتھ منسلک رہے؟ آپ کا JTI سے کیا تعلق تھا؟
سوال نمبر ۲۔ JTI سے آپ کی وابستگی کے خدوخال کیا تھے؟
سوال نمبر ۳۔ JTI کا تحریک نظام مصطفیؐ، تحریک جمہوریت، تحریک ختم نبوت میں کیا کردار رہا؟
سوال نمبر ۴۔ کیا JTI کی قیادت نے کالجز اور مدارس کے طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ملاں اور مسٹر کے فرق کو ختم کیا، اور کہاں تک کامیاب رہی؟
سوال نمبر ۵۔ JTI اور JUI کا آپس میں کیا تعلق تھا؟
سوال نمبر ۶۔ JTI غیر سیاسی طلبہ تنظیم تھی اور اپنے فیصلے اپنی شوریٰ میں کرنے کی مجاز تھی تو پھر JUI کی مداخلت کیوں ہوئی؟
سوال نمبر ۷۔ JUI کی مداخلت سے JTI کا شیرازہ بکھرا، ملاں اور مسٹر کی تفریق از سر نو پروان چڑھی؟
سوال نمبر ۸۔ مولانا مفتی محمودؒ اور حضرت درخواستیؒ کے مولانا ہزارویؒ سے کیا اختلافات تھے؟ مولانا ہزارویؒ کے اخراج کے وقت دو مختلف قراردادیں لکھی گئیں، اس کی کیا وجہ تھی؟
سوال نمبر ۹۔ کیا یہ درست ہے کہ حضرت مولانا درخواستیؒ غیر سیاسی شخصیت تھے، انہوں نے جمعیۃ علماء اسلام کے پلیٹ فارم کو استعمال کر کے پیری مریدی کو زیادہ پروان چڑھایا؟
سوال نمبر ۱۰۔ کیا یہ درست ہے کہ مفتی محمودؒ مذہبی حلقوں کے ہاتھوں یرغمال تھے کیونکہ مذہبی حلقوں پر درخواستی صاحبؒ اثر رکھتے تھے۔ مفتی صاحبؒ کے قریب آکر جماعت اسلامی نے اپنی ۔۔۔۔۔۔ کر دی۔
سوال نمبر ۱۱۔ ایسی صورتحال میں حضرت لاہوریؒ کے جانشین حضرت عبید اللہ انورؒ نے اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کر کے اس خلفشار کو کہاں تک کم کیا یا ان کا کیا کردار رہا؟
سوال نمبر ۱۲۔ JTI کی انتہائی اہم شخصیت میاں محمد عارف اور آپ کے درمیان گہرے تعلقات تھے۔ 1976ء میں آپ کے درمیان اہم رابطے ہوئے اور مشاورت ہوئی، آپ کس قسم کی تبدیلی JTI میں چاہتے تھے؟
سوال نمبر ۱۳۔ JUI اور مولانا سعید احمد رائے پوریؒ JTI کی سرپرستی کے دعوے دار تھے، حقیقت کیا تھی؟
سوال نمبر ۱۴۔ مولانا سعید احمد رائے پوریؒ اور حضرت درخواستیؒ کے درمیان وجہ تنازعہ کیا تھی؟
سوال نمبر ۱۵۔ مرکزی صدر محمد اسلوب قریشی کی آپ کی نظر میں کیا کارکردگی تھی، کیا انہوں نے اپنی جماعتی ذمہ داریاں دستور کے مطابق ادا کیں؟
سوال نمبر ۱۶۔ آپ نے پہلے مفتی محمودؒ اور حضرت درخواستیؒ کے اختلاف پر مفتی محمودؒ کا ساتھ دیا، بعد ازاں مولانا سمیع الحق گروپ میں فعال کردار ادا کیا، اب پاکستان شریعت کونسل بنا لی، کیوں؟
سوال نمبر ۱۷۔ آپ ’’ترجمان اسلام‘‘ کے ایڈیٹر تھے جسے آپ سے لے کر JTI کے حوالے کیا گیا،کیوں؟ تفصیلات کیا تھیں؟
سوال نمبر ۱۸۔ 1976ء میں JTI کے انتشار کے بعد آپ کے خیال میں JTI کا ماضی، حال اور مستقبل کیا ہے؟
سوال نمبر ۱۹۔ کیا مستقبل میں کوئی ایسی کوشش ہو سکتی ہے کہ JTI کے حالات پر 1976ء پر چلے جائیں؟
سوال نمبر ۲۰۔ کیا یہ درست ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام اور مدارس عربیہ میں موروثیت عروج پر ہے؟
سوال نمبر ۲۱۔ آپ کی تصانیف کون کون سی ہیں، ان میں اہم موضوعات کونسے ہیں؟
سوال نمبر ۲۲۔ کیا آج بھی کوئی ایسی صورت بنتی ہے کہ پرانے اور نئے ساتھیوں کو کسی ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جا سکے؟
سوال نمبر ۲۳۔ آپ مرکزی ناظم انتخابات تھے، رحیمیہ والوں کا اعتراض آپ نگرانی 100 کے قریب ووٹ جعلی تھے۔ قاری نور الحق قریشی کو دانستہ طور پر ناظم چنوایا گیا۔
مولانا زاہد الراشدی کے جوابات
سوال نمبر ۱ و ۲: جمعیۃ طلباء اسلام کے ساتھ میرا تعلق طالب علمی کے زمانے سے ہوگیا تھا۔ میں اس سے قبل جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ 1962ء سے وابستہ تھا، گوجرانوالہ شہر کا سیکرٹری اطلاعات اور سرگرم کارکن تھا۔ جمعیۃ طلباء اسلام قائم ہوئی تو میں اس کے گوجرانوالہ یونٹ کا نائب صدر بنا۔ مولانا حافظ عزیز الرحمنؒ صدر تھے اور میاں محمد عارف ایڈووکیٹ مرحوم سیکرٹری تھے۔ جمعیۃ طلباء اسلام میں باقاعدہ شامل ہونے پر میں نے جمعیۃ علماء اسلام کے سیکرٹری اطلاعات کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا اور اس کا اخبارات میں اعلان بھی کیا۔ اس کی اخباری خبر پر حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے غالباً قصور میں ایک ملاقات کے موقع پر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ یہ ایک تنظیمی سی بات تھی اس کا اخبارات میں اعلان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اس سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ میں نے اس پر خاموشی اختیار کر لی اور مثبت یا منفی کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا۔ البتہ طالب علمی کے دور میں جمعیۃ طلباء اسلام کے ساتھ ہی کام کرتا رہا جبکہ 1969ء میں دورۂ حدیث سے فراغت اور مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی نیابت کا منصب سنبھالنے کے بعد پھر سے جمعیۃ علماء اسلام میں متحرک ہوگیا اور ضلعی سیکرٹری اطلاعات بنا دیا گیا۔ اس دوران لاہور جامعہ رحمانیہ قلعہ گوجر سنگھ میں حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی جے ٹی آئی کے بھرپور اجلاس میں شریک ہوا، گوجرانوالہ کے متعدد اجتماعات کے انتظام میں شریک رہا اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیا جن کی تفصیلات اس وقت ذہن میں نہیں ہیں۔
سوال نمبر ۳: 1972ء میں گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کے بعض اقدامات کے خلاف چلائی گئی تحریک جمہوریت بلکہ اس سے قبل ایوب خان اور یحییٰ خان کے خلاف مختلف مواقع پر جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے جدوجہد میں جے ٹی آئی کا سرگرم کردار تھا۔ اور اس کے کارکنوں نے جلسوں اور جلوسوں کے انتظامات کے علاوہ پولیس تشدد اور گرفتاریوں کا بھی سامنا کیا۔ 1974ء کی تحریک ختم نبوت اور 1977ء کی تحریک نظام مصطفی میں بھی جے ٹی آئی کا نمایاں کردار تھا۔ جلوسوں، جلسوں، گرفتاریوں اور رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے مختلف زاویوں سے اس نے محنت کی اور قربانیاں دیں۔
سوال نمبر ۴: میرے نزدیک جی ٹی آئی کی جدوجہد کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ اس نے کالجز اور مدارس کے طلبہ کو ایک فورم پر مجتمع کر کے مسٹر اور ملا کے فرق کو ختم کرنے کی اپنے وقت میں کامیاب کوشش کی۔ اور کالج و یونیورسٹی کے ماحول میں طلبہ کی سیاست پر اسلامی جمعیۃ طلبہ اور اس کے مقابلہ میں بائیں بازو کی طالب علم تنظیموں کی شدت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشمکش بلکہ تصادم میں تیسرے اور متوازن گروپ کا کردار ادا کیا۔ اس سے اسلام کی ترجمانی کے حوالہ سے اسلامی جمعیۃ طلبہ کی عام طور پر سمجھی جانے والی اجارہ داری کو بریک لگی اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں اور گروپوں کی آزاد خیالی بلکہ آزاد روی کا راستہ بھی روکا جا سکا۔ دائیں بازو اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں میں اس وقت کشمکش اور تصادم کی جو فضا قائم ہوگئی تھی، جے ٹی آئی نے اس میں ’’بیلنس پاور‘‘ کا کردار ادا کیا جسے خدا جانے کس کی نظر لگی کہ وہ اپنا یہ کردار زیادہ دیر تک جاری نہ رکھ سکی۔
سوال نمبر ۵، ۶، ۷: جمعیۃ طلبہ اسلام دستوری اور تنظیمی طور پر ایک الگ اور غیر سیاسی تنظیم تھی جس کا دائرہ کار بھی مستقل اور امتیازی تھا۔ البتہ اس کے لیے جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت کی سرپرستی ضروری سمجھی گئی جو عملاً قائم بھی ہوگئی لیکن مسلسل تحریکات میں باہمی میل جول اور مشترکہ اقدامات کی وجہ سے یہ دستوری امتیاز نمایاں نہ رہا اور ’’من توشدم تو من شدی‘‘ کا ماحول قائم ہوگیا۔ اصولی طور پر یہ تعلق سرپرستی کا ہی تھا اور بظاہر استاد شاگرد جیسا تھا مگر عملی ماحول ۔۔۔ سیاسی و دینی تحریکات میں جے ٹی آئی کی مسلسل شرکت اور قربانیوں کے باعث یہ تاثر قائم نہ رہ سکا جس سے اس غلط فہمی نے جنم لیا کہ جے ٹی آئی کی قیادت جے یو آئی کی قیادت کو محض سرپرست سمجھنے لگی، جبکہ جے یو آئی کی قیادت نے اسے اپنی ذیلی جماعت تصور کر لیا۔ اس بنیاد پر باہمی بُعد بڑھتا گیا جسے کم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی اور جے ٹی آئی خلفشار کا شکار ہوگئی۔
جے ٹی آئی کے فکری اور تحریکی رخ کو اپنے مجموعی ماحول اور مفاد کے منافی تصور کرتے ہوئے جے یو آئی کی قیادت نے مداخلت کی۔ میں بھی جمعیۃ علماء اسلام کا ایک سرگرم کردار تھا، اس لیے ظاہر بات ہے کہ میں بھی اس اقدام کا حصہ تھا۔ اسے تنظیمی اور دستوری طور پر محل نظر کہا جا سکتا ہے لیکن ملک بھر کے عمومی ماحول اور جمعیۃ علماء اسلام کے فورم پر دینی و سیاسی تحریکات میں جے ٹی آئی کی مسلسل اور بھرپور شرکت سے قائم ہونے والا تاثر دستوری اور تنظیمی معاملات پر غالب رہا اور
اس کشمکش میں ٹوٹ گیا رشتہ چاہ کا
جہاں تک مسٹر اور ملا کی تفریق کے عود کر آنے کی بات ہے یہاں تک درست ہے کہ اس تفریق کو مٹانے کے لیے جو ایک سنجیدہ کوشش ہوئی تھی اور جس کے اثرات بھی دکھائی دینے لگے تھے، اس کا راستہ رک گیا۔ اس کی ذمہ داری کسی پر بھی ہو بہرحال یہ ایک دینی اور قومی نقصان ہے جس کی تلافی کے لیے اس کے بعد کوئی راستہ بھی اختیار نہیں کیا گیا جو دوہرے نقصان کے مترادف ہے۔
سوال نمبر ۸: مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ، مولانا مفتی محمودؒ ، اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے مابین اختلافات کو میرے مطالعہ و مشاہدہ کی رو سے دو تین الگ الگ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اول یہ کہ حضرت مولانا ہزارویؒ دوسری سیاسی پارٹیوں بالخصوص جماعت اسلامی کے ساتھ میل جول کو ایک حد سے زیادہ پسند نہیں کرتے تھے۔ جبکہ مولانا مفتی محمودؒ دینی و قومی مقاصد کے لیے دینی و سیاسی جماعتوں کے متحدہ محاذ کے قیام کے ہر دور میں خواہاں رہے ہیں۔ اس کا آغاز ایوب خان مرحوم کے دور میں جمہوری مجلس عمل سے ہوا اور 1977ء میں پاکستان قومی اتحاد تک پہنچا۔ اس دوران دوسری سیاسی و دینی جماعتوں کے ساتھ نصف درجن سے زیادہ مشترکہ فورم بنے جن میں سے بعض میں حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ بھی وقتی ضرورت سمجھ کر شریک ہوئے مگر یہ بات ایک مستقل پالیسی کے طور پر ان کے لیے قابل قبول نہیں تھی اس لیے وہ اس رخ پر زیادہ دیر تک ساتھ نہیں چل سکے۔
تنظیمی ماحول میں جب مشرقی پاکستان میں حضرت مولانا پیر محسن الدین احمدؒ کی سربراہی میں جمعیۃ علماء اسلام کے قیام کے بعد مرکزی سطح پر ’’کل پاکستان جمعیۃ علماء اسلام‘‘ تشکیل پائی تو اس کا ناظم عمومی حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو منتخب کیا گیا۔ جبکہ یہ حیثیت اس سے قبل جمعیۃ علماء اسلام مغربی پاکستان میں حضرت مولانا ہزارویؒ کو حاصل تھی اور مولانا مفتی محمودؒ مرکزی نائب امیر تھے۔ ون یونٹ کے خاتمہ کے بعد مغربی پاکستان کی سطح پر جمعیۃ علماء اسلام کا وجود ختم ہوگیا اور وہ پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان میں تقسیم ہوگئی تو حضرت مولانا ہزارویؒ کی پوزیشن کل پاکستان جمعیۃ میں مولانا مفتی محمودؒ کے نائب کے طور پر ایک مرکزی ناظم کی بن گئی۔ چونکہ دونوں بزرگوں کے سیاسی مزاج اور ترجیحات میں ایک فرق موجود تھا جس کا سطور بالا میں تذکرہ کیا گیا ہے تو عام جماعتی حلقوں میں اس فرق کے اثرات محسوس کیے جانے لگے۔
اسی تسلسل میں جب حضرت مولانا مفتی محمودؒ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بنے تو جمعیۃ کے اندر یہ رجحان سامنے آیا کہ مفتی صاحبؒ کو جماعتی عہدہ چھوڑ دینا چاہیے جو انہوں نے مجلس شوریٰ کے ایک اجلاس کے بعد چھوڑ دیا۔ اور حضرت مولانا ہزارویؒ کو مرکزی ناظم عمومی چن لیا گیا جس پر جمعیۃ کے اندرونی حلقوں میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ حضرت مفتی صاحبؒ اور حضرت مولانا ہزارویؒ کے رجحانات میں فرق کی وجہ سے اس طرح جمعیۃ خلفشار کا شکار ہو جائے گی۔ چنانچہ مجلس عمومی کے اجلاس میں مفتی صاحبؒ کو دوبارہ ناظم بنا دیا گیا، میرے خیال میں یہ بات بھی باہمی بُعد میں اضافہ کا باعث بنی اور پھر فاصلے بڑھتے چلے گئے۔
تیسرا سبب میرے خیال میں یہ ہے کہ صوبہ سرحد میں وزارت اعلیٰ کے حوالہ سے جس طرح بات آگے بڑھی وہ بھی ان اختلافات میں توسیع کی وجہ بن گئی۔ 1970ء کے الیکشن میں جمعیۃ علماء اسلام نے صوبہ سرحد کی اسمبلی میں چند سیٹیں حاصل کیں مگر خان عبد الولی خان اور خان عبد القیوم خان کے مابین سیاسی اختلاف کی شدت کے ماحول میں وہ چار یا پانچ سیٹیں صوبائی حکومت کی تشکیل کے لیے بیلنس پاور اور بادشاہ گر کی حیثیت اختیار کر گئیں۔ خان عبد القیوم خان کی مسلم لیگ اور خان عبد الولی خان کی نیشنل پارٹی دونوں کی یکساں کوشش تھی کہ جمعیۃ علماء اسلام ان کا ساتھ دے تاکہ ان کی حکومت بن جائے یا کم از کم ان کی حریف پارٹی کی حکومت نہ بن سکے۔ دونوں ایک دوسرے سے خائف تھیں جس کی وجہ سے دونوں پارٹیاں ساتھ دینے کی صورت میں جمعیۃ کی ہر شرط ماننے کو تیار تھیں۔ اس کشمکش میں مفتی صاحبؒ کا رجحان واضح طور پر خان عبد الولی خان کی طرف تھا جبکہ مولانا ہزارویؒ خان عبد القیوم خان کے ساتھ کولیشن کے خواہاں تھے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور بات کو شامل کر لیں کہ مفتی صاحبؒ کی پالیسی صوبہ میں حکومت بنانے اور مرکز میں بھٹو حکومت کے مقابلہ میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی تھی۔ جبکہ مولانا ہزارویؒ مرکز میں بھٹو حکومت کے ساتھ شامل ہونا چاہتے تھے اور اپوزیشن بالخصوص جماعت اسلامی کے ساتھ کسی قسم کی کولیشن کے حق میں نہیں تھے۔ اس میں ایک اور بات کا اضافہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ اس وقت افغانستان میں روسی جارحیت کے خلاف افغان مجاہدین کی عسکری مزاحمت منظم نہیں ہوئی تھی مگر اس کی شروعات ہو چکی تھی اور اس کے مسلسل آگے بڑھنے کے رجحانات نمایاں تھے۔ اس کے بارے میں مولانا مفتی محمودؒ اور حضرت درخواستیؒ کا رجحان بالکل واضح تھا کہ وہ اس مزاحمت کے حق میں تھے اور اسے شرعی جہاد سمجھتے تھے۔ جبکہ مولانا ہزارویؒ اس جہاد اور مزاحمت کو سپورٹ کرنے کے حق میں نہیں تھے اور اسے خطہ میں امریکی عزائم کی تکمیل میں معاونت تصور کرتے تھے۔
اس مسئلہ پر حضرت مولانا ہزاروی کے ساتھ میری طویل خط و کتابت ہوئی تھی جس کی میں نے ایک عرصہ تک تاریخی دستاویز سمجھ کر حفاظت کی مگر بدقسمتی سے گزشتہ تین چار سال سے تلاش بسیار اور بار بار تگ و دو کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔ خدا جانے وہ اس وقت کہاں اور کس حال میں ہے؟ فیا اسفاہ۔
حضرت مولانا مفتی صاحبؒ اور حضرت مولانا ہزارویؒ کے درمیان اختلافات کی خلیج کو وسیع ہوتے ہوئے میں نے خود دیکھا اور میں نے حضرت مولانا ہزارویؒ کی تمام تر محبت و عقیدت اور ادب و احترام کے باوجود میں اس معاملہ میں حضرت درخواستیؒ اور مولانا مفتی محمودؒ کے ساتھ تھا۔ جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ خود میرے ذہنی رجحانات بھی یہی تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ میرے چند بزرگوں مثلاً حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ، حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ ، اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کا ذہنی جھکاؤ بھی اسی طرف تھا۔
سوال نمبر ۹: حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کو میں غیر سیاسی شخصیت نہیں سمجھتا اس لیے کہ میں نے ان کے ساتھ ایک طویل عرصہ گزارا ہے اور بعض اہم قومی مسائل پر ان کی رائے کو ٹھوس اور دو ٹوک پایا ہے جو بعد میں بھی درست ثابت ہوئی۔ ان میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ صدر ضیاء الحق مرحوم کی کابینہ میں شمولیت کے حق میں نہیں تھے جس کا انہوں نے برملا اظہار کیا تھا لیکن چونکہ یہ فیصلہ ان کی غیر موجودگی میں مرکزی شوریٰ کر چکی تھی اس لیے انہوں نے ناراضگی کے اظہار کے باوجود خاموشی اختیار کر لی تھی۔ اسی طرح کا تاثر مولانا عبید اللہ انورؒ کے بارے میں بھی دیا جاتا ہے جو درست نہیں ہے۔ وہ وسیع سیاسی مطالعہ رکھتے تھے اور رائے کا اظہار بھی کرتے تھے۔ مثلاً جب جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے صدر فضل الٰہی چودھری مرحوم کو سبکدوش کر کے خود صدارت سنبھال لی تو شیرانوالہ لاہور میں ایک صحافی نے حضرت مولانا مفتی محمودؒ سے جو اس وقت پاکستان قومی اتحاد کے صدر تھے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ مفتی صاحبؒ نے اس پر ایک مختصر جملہ کہا کہ ’’یہ روٹین کی کاروائی ہے‘‘۔ اس صحافی کے چلے جانے کے بعد حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ نے مفتی صاحبؒ سے کہا کہ یہ آپ نے کیا کہہ دیا ہے؟ یہ روٹین کی کاروائی نہیں ہے بلکہ ایسا معاملہ ہوگیا ہے کہ ہاتھوں سے دی ہوئیں گرہیں اب دانتوں سے بھی نہیں کھلیں گی۔
حضرت درخواستیؒ کو حضرت لاہوریؒ کے بعد علماء کرام نے متفقہ طور پر اپنا امیر چنا تھا، ان کا مریدوں کا حلقہ بہت وسیع تھا لیکن ان کے ہاں پیری مریدی کو فروغ دینے یا اسے ایک خانقاہی نظام کے طور پر منظم کرنے کا کوئی نظم اس طرح کا موجود نہیں تھا۔ اور نہ ہی ان کی طرف سے یا ان کے قریبی ساتھیوں کی طرف سے لوگوں کو مرید بنانے کی کوئی مہم چلائی جاتی تھی جیسی کیمپین اور اہتمام ان کے بعض معاصر حلقوں میں صاف دکھائی دیتا تھا۔ اس لیے یہ کہنا کہ حضرت درخواستیؒ نے جمعیۃ کی امارت کو اپنے مریدوں کا حلقہ وسیع کرنے کے لیے استعمال کیا، ایک نیک دل بزرگ کے بارے میں بدگمانی پیدا کرنے کے ساتھ حقائق کے بھی منافی ہے۔ جبکہ میرے خیال میں اگر حضرت درخواستیؒ پر جماعتی ذمہ داریاں نہ ہوتیں تو ان کے مریدوں کا حلقہ اس سے کہیں زیادہ وسیع اور ان کا خانقاہی سلسلہ بہت منظم اور مربوط ہوتا۔
سوال نمبر ۱۰: میرے خیال میں یہ تصور ہی مضحکہ خیز ہے کہ ’’مولانا مفتی محمودؒ مذہبی حلقوں کے ہاتھوں یرغمال بنے‘‘۔ مفتی صاحبؒ خود ایک ممتاز مذہبی راہ نما، شیخ الحدیث، استاذ العلماء اور شب زندہ دار بزرگ تھے۔ وہ علمی و دینی معاملات میں علماء کے لیے راہ نما کی حیثیت رکھتے تھے اور بہت سے مذہبی مسائل میں ان کی رائے کو ایک معتمد علمی شخصیت کی رائے کے طور پر لیا جاتا تھا۔ اس کی بجائے اگر یہ کہا جائے تو زیادہ قرین قیاس بات ہوگی کہ مولانا مفتی محمودؒ نے اپنی بھاربھرکم علمی اور مذہبی شخصیت کے باعث ملک کے مذہبی ماحول کو بہت سی تبدیلیوں سے روشناس کرایا۔
حضرت درخواستیؒ کے بارے میں یہ کہنا سراسر زیادتی ہے کہ ان کا مذہبی اثر و رسوخ مولانا مفتی محمودؒ کو جماعت اسلامی کے قریب لانے کا باعث بنا۔ اس لیے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ بہت سے اہم اتحادوں میں شمولیت کے باوجود حضرت درخواستیؒ نے جماعت اسلامی کے ساتھ ہمیشہ اپنا فاصلہ قائم رکھا اور ان کا یہ طرز عمل آخر دم تک سب کے سامنے رہا۔
سوال نمبر ۱۱: حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ میرے شیخ و مربی تھے اور مجھے ان کی شفقت اور اعتماد ہمیشہ حاصل رہا ہے۔ وہ جماعتی معاملات میں حضرت درخواستیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے ساتھ تھے اور ہر موقع پر انہیں سپورٹ کرتے تھے۔ البتہ اختلافات میں شدت پسندی کے حق میں نہیں تھے اور بزرگوں کا ادب و احترام نہ صرف قائم رکھتے تھے بلکہ اس کی تلقین کیا کرتے تھے۔
سوال نمبر ۱۲: میاں محمد عارف ایڈووکیٹ مرحوم میرے طالب علمی کے دور کے ساتھی اور دوست تھے۔ میرا ان کے ساتھ یہ تعلق کم و بیش سبھی مراحل میں قائم رہا۔ اکثر و بیشتر معاملات میں ہم باہمی مشورہ کے ساتھ اپنا موقف اور لائحہ عمل طے کرتے تھے جبکہ بعض معاملات میں ہمارے درمیان اختلاف بھی ہوا۔ 1976ء کے معاملات میں ہم دونوں جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی قیادت کے ساتھ تھے اور حضرت درخواستیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے موقف اور پالیسی پر عملدرآمد میں ہم دونوں نے بھرپور کوشش کی تھی۔ ہمارا اپنا کوئی ایجنڈا نہیں تھا، جو کچھ بزرگ طے کرتے تھے ہم اسی پر عمل کرتے تھے۔
سوال نمبر ۱۳: جمعیۃ علماء اسلام کے اکابر اور حضرت مولانا سعید احمد رائے پوریؒ ایک دور میں دونوں ہی جمعیۃ طلباء اسلام کے سرپرست تھے اور دونوں کی سرپرستی میں جے ٹی آئی کچھ عرصہ کام کرتی رہی ہے۔ حضرت مولانا رائے پوریؒ کی سرپرستی عملی اور متحرک تھی اس لیے اس کی چھاپ نمایاں تھی لیکن بعض فکری مسائل میں ان کی انفرادی آراء جب سامنے آنا شروع ہوئیں تو فرق و امتیاز نظر آنے لگا۔ وہی معاملات بعد میں فکری اختلافات کا رنگ اختیار کر گئے اور یہ فرق و امتیاز باقاعدہ تفریق میں بدل گیا جو آج سب کے سامنے ہے۔
سوال نمبر ۱۴: میرے خیال میں حضرت درخواستیؒ اور مولانا رائے پوریؒ کے درمیان کوئی ایسا تنازعہ موجود نہیں تھا جسے ان کے درمیان شخصی تنازعہ کا عنوان دیا جا سکے۔ حضرت درخواستیؒ اور ان کے رفقاء کی پالیسی ترجیحات سے مولانا رائے پوریؒ کی پالیسی ترجیحات مختلف تھیں جسے حضرت درخواستی کے ساتھ ان کے تنازعہ کا عنوان دینا درست نہیں ہوگا۔
سوال نمبر ۱۵: جناب محمد اسلوب قریشی کو میں ایک مخلص، مدبر اور سنجیدہ راہ نما سمجھتا ہوں، ان کے بارے میں ہر مرحلہ پر میری رائے یہی رہی ہے۔ اور کسی بھی اختلاف کے باوجود مجھے ان کے خلوص، محنت اور للّٰہیت کے بارے میں بحمد اللہ کبھی تردد نہیں ہوا۔
سوال نمبر ۱۶: کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مولانا درخواستیؒ اور مولانا مفتی محمودؒ کے درمیان کوئی ایسا اختلاف ہوا ہو کہ ان میں سے کسی کا الگ طور پر ساتھ دینے کی ضرورت پڑی ہو۔ دونوں بزرگ ہمیشہ اکٹھے رہے ہیں۔البتہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کے بعد جمعیۃ علماء اسلام جب درخواستی اور فضل الرحمن گروپ میں تقسیم ہوئی تو میں درخواستیؒ گروپ میں تھا اور اس کا ایک فعال کردار تھا۔ لیکن جب ان دونوں گروپوں میں صلح ہوئی اور متفقہ طور پر حضرت درخواستیؒ کو امیر اور مولانا فضل الرحمن کو سیکرٹری جنرل چنا گیا تو میں متحدہ جمعیۃ میں تھا اور اس کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات رہا۔ اور اب بھی ایک عام رکن کے طور پر اسی جمعیۃ میں ہوں۔ مولانا درخواستیؒ اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان اتحاد کے بعد مولانا سمیع الحق نے سمیع الحق گروپ کے نام سے جمعیۃ علماء اسلام کا جو گروپ قائم کیا میں کبھی اس کا حصہ نہیں رہا۔ پاکستان شریعت کونسل کوئی مستقل جماعت نہیں بلکہ محض ایک علمی و فکری فورم ہے جس میں علمی، نظریاتی اور فکری جدوجہد سے دل چسپی رکھنے والے حضرات شامل ہیں اور ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہونا شرط نہیں ہے۔
سوال نمبر ۱۷: میں ہفت روزہ ترجمان اسلام کا مدیر رہا مگر اس کے انتظامات کو پورا وقت نہ دے سکنے کی وجہ سے بہتر طور پر نہیں چلا سکا تھا اس لیے یہ انتظام جے ٹی آئی کے حوالہ کر دیا گیا تھا جس پر نہ اس وقت مجھے کوئی اشکال تھا اور نہ ہی اب اس کی تفصیلات بیان کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔
سوال نمبر ۱۸، ۱۹، ۲۲: جمعیۃ طلباء اسلام میں خلفشار اور باہمی کشمکش کے باعث ہم دینی مدارس اور کالجوں کے طلبہ کے ایک مشترکہ فورم سے محروم ہوگئے ہیں اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے ایک خواب کی جو تعبیر عملاً دکھائی دینے لگی تھی وہ آنکھوں سے اوجھل ہوگئی ہے جسے میں کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا سے تعبیر کیا کرتا ہوں۔ میرے خیال میں اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی بجائے اس کے وسیع تر نقصانات کو مشترکہ طور پر محسوس کر کے اس کی تلافی کی کوئی صورت نکالنی چاہیے۔ میری رائے یہ ہے کہ پرانے نظریاتی ساتھی کسی وقت اکٹھے ہوں، سر جوڑ کر بیٹھیں اور ماضی کو ضرورت سے زیادہ کریدتے رہنے کی بجائے موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں اور شیخ الہندؒ کے افکار و پروگرام کو بنیاد بنا کر مستقبل کی صورت گری کا کوئی بنیادی خاکہ ضرور تجویز کر دیں۔ خود تو ظاہر ہے کہ وہ اب کچھ نہیں کر سکیں گے مگر نئی نسل کو اپنی راہ متعین کرنے میں کچھ نہ کچھ معاونت مل ہی جائے گی۔
سوال نمبر ۲۰: خاندانی موروثیت ہمارے برصغیر کے علمی و روحانی حلقوں میں روایتی طور پر چلی آرہی ہے اور اگر اہلیت ہو تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ البتہ محض خاندانی نسب کو موروثیت کی بنیاد بنانا درست نہیں ہے جو آج کل عام ہو رہی ہے اور اس کے منفی اثرات بھی سامنے آرہے ہیں۔ اس کی وجہ پاکستان میں کسی علمی و روحانی مرکزیت کا فقدان ہے جو نگرانی اور راہ نمائی کا کردار ادا کر سکے۔ نفسانفسی کا دور ہے اور کسی مرکزیت کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنی اپنی مرکزیت قائم کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
سوال نمبر ۲۱۔ میرا تصنیف و تالیف کا سرے سے ذوق ہی نہیں ہے۔ شروع سے ہی مضمون نویسی کی عادت ہے، مختلف جرائد اور اخبارات میں گزشتہ نصف صدی کے دوران بحمد اللہ تعالیٰ ہزاروں مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں سے بہت سے مضامین اور کالم کتابی مجموعوں کی صورت میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔ جبکہ میرا چھوٹا بیٹا حافظ ناصر الدین ان دنوں ایک مستقل ویب سائٹ zahidrashdi.org پر میرے مضامین مرتب صورت میں پیش کرنے کے لیے محنت کر رہا ہے اور بہت سے مضامین اس ویب سائٹ پر شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مولانا قاری جمیل الرحمن اختر باغبانپورہ لاہور نے میرے منتخب خطبات ’’خطبات راشدی‘‘ کے نام سے دو جلدوں میں مرتب کر کے شائع کیے ہیں جنہیں دوستوں نے خاصا پسند کیا ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذلک۔
سوال نمبر ۲۳: میں اس قسم کے اعتراضات و الزامات خاموشی کے ساتھ سہہ جانے کا عادی ہوں اس لیے اس پر بھی صرف اتنا ہی عرض کر سکوں گا کہ
کریدتے ہو جو اب خاک جستجو کیا ہے؟
مسلم ذہن میں علم کی دوئی کا مسئلہ
عاصم بخشی
’مذہب پسند‘ کی اصطلاح کوا ن سب طبقات تک محدود کرتے ہوئے جو اس قضیے سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں کہ معاشرتی ڈھانچے کے سیاسی و سماجی خدوخال مرتب کرنے میں تن تنہا مذہب ہی ایک واحد بامعنی قدر ہے، اگر ان تمام طبقات کا ایک عمومی سا جائزہ لیا جائے تو ہمارے ہاں فلسفہ و سائنس کو لے کر دوقسم کے فکری دھارے دیکھنے میں آتے ہیں۔ ان مذہب پسندوں میں سے ایک تو وہ ہیں جو اپنے علمی منہج کو غزالی سے منسوب کر کے ’تہافت الفلاسفہ‘ میں مشغول ہیں اور ’جدید مغربی تہذیب‘ نامی کسی ایک ٹھوس اکائی کو نظریاتی طور پراپنے مقابل فرض کر کے اس سے جہاد کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ روایتی جہاد و قتال کے لیے چونکہ ہتھیار مغربی تہذیب سے لیناواضح شرعی عذر کے کارن مباح ہے، لہٰذا اس تنقیدی معرکے میں بھی ہتھیار وں کی سپلائی کا کام مغرب کے ان مارکسسٹ اور پوسٹ مارکسسٹ نقادوں سے لیا جاتا ہے جن کی’ سرمایہ دراانہ لبرل ہیومنزم‘ پر ہونے والی پچھلی نصف صدی کی تنقیدوں کو ان کے خاص سماجی وسیاسی تناظر سے نکال کر کسی حد تک کامیابی سے ایک چوں چوں کا مربیٰ تیار کیا جاتا ہے جو ہمارے ہاں کے لبرل طبقات (جن میں سے کچھ اپنے ردعمل پر مبنی استدلال میں ان مذہب پسندوں جتنے ہی علمی متشدد ہو چکے ہیں) کے سامنے کھڑے ایک سادہ لوح ’مذہب پسند ‘ کو تقریباً اسی طرح استعمال کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے جس طرح مناظراتی تربیت کے کورسوں میں طالبعلموں کو ’مخالف کو زیر کرنے کے دس اہم ترین ہتھکنڈے‘ سکھلائے جاتے ہیں۔
اس طبقے سے اختلاف کے ساتھ بہرحال ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ طبقہ کچھ مخصوص نفسیاتی مجبوریوں اور عارضہ نرگسیت کے باعث تہذیبی مباحث کا تجزیہ کسی عالمگیر انسانی تناظر میں کرنے کی قوت ہی نہیں رکھتا، لہٰذا مجبورِ محض ہوتے ہوئے حلق کے ایک حصے سے تو ’سرمایہ دارانہ تہذیب‘ کی مئے فرنگ کا تہہ جرعہ تک اپنے اندر انڈیلتا رہتا ہے اور اسی حلق کے دوسرے حصے سے تیزی سے تنقیدیں باہر اگلنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ سچ پوچھیے تو ہمیں ان سے اس کے علاوہ کوئی شکایت نہیں کہ وہ ہم جیسے کیوں نہیں، یعنی مان کیوں نہیں لیتے کہ جدید دور میں تہذیبی سرحدیں تیزی سے انہدام پذیر ہیں اور کم از کم اتنی دھندلا چکی ہیں کہ مشرق و مغرب کی تہذیبی دوئی ایک ایسا قصہ پارینہ ہے جو بس تاریخِ فکر کی کتابوں میں ہی ڈھونڈنے سے ملتا ہے۔
دوسرا طبقہ پہلے طبقے کی نسبت کہیں زیادہ دلچسپ اور تخریبِ ذہن و فکر کی ہلاکت خیزیوں میں اس سے کہیں آگے ہے۔ اس کی وجہ اس کی تجاہل عارفانہ میں ڈوبی وہ رجعت پسندی ہے جو فلسفے کو تفکر ، تجسس، جستجو، تحقیق، خرد افروزی، ندرتِ فکر وغیرہ جیسے انسانی خواص سے علیحدہ کر کے اس ک مذہب کا روایتی حریف گردانتی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس طبقے کے نزدیک سوال کا ذہن میں پیدا ہونا تفلسف کی علت نہیں بلکہ فلسفیانہ ذہن کی تربیت ’بیجا‘ سوال اٹھانے کے مرض کی علت ہے۔ ہماری رائے میں علتوں کا یہ الٹ پھیر اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ اس طبقے کے نزدیک فلسفہ چونکہ سوال اٹھانے اور عمومی طور پر اٹل سمجھے جانے والے مفروضوں پر تشکیک و تحقیق کی دعوت ہے، لہٰذا وہ ایک ایسے ذہن کو تیار کرتا ہے جو اپنے طرف پھینکی جانے والی اٹل مذہبی اور صرف مذہب کی بنیاد پر سماجی تعبیرات کو فکر پر حاکم ماننے سے انکار کر دیتا ہے ۔
انگریزی محاورے کی رو سے اگر ہمیں ایک لحظہ شیطان کی وکالت کرنی ہو تواس مخصوص مذہبی تناظر میں جدید (سیکولر)تعلیم و تربیت کا سارا ڈھانچہ ہی از سرِ نو ترتیب کا تقاضا کرتا ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جو ہماری رائے میں نہ صرف روایتی مسلم ذہن کو ’تشکیل نو‘، ’تجدد پسندی‘، ’روشن خیالی‘ وغیرہ جیسی تراکیب کو ایک مخصوص شک کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے بلکہ ذہن میں موجود نظریہ علم کے خدوخال کو دو مختلف خانوں میں تقسیم کرتا بھی نظر آتا ہے۔قرونِ وسطی کے مذہبی متون کا ایک سرسری سا جائزہ بھی ا س مخصوص مسلم ذہنیت کے تخمِ اول کی جانب نشاندہی کے لئے کافی ہے جب ہمیں ابن رشد فکر غزالی کے خلاف فلاسفہ کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ گوراقم کی رائے میں جدید مسلم ذہن کے لئے اوراقِ تاریخ میں دبی ان بحثوں سے چند مبہم اشاروں سے زیادہ کچھ خاص استفادے کی امید نہیں لیکن یہ مبہم سے اشارے بھی پچھلے دو سو سال کے روایتی مسلم ذہن کی کسی بھی قسم کی خردافروزی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی کیفیت سمجھنے کے لئے بہت کافی ہیں۔
یہ ایک ایسا مسلم ذہن ہے جو ایک طرف تواپنی تمام تر پسماندگیوں کا الزام مغرب بالخصوص مغربی استعماریت پر دھرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتا اور دوسری طرف اپنے نظریہ علم میں ایک وحشت ناک قسم کی دوئی میں بٹا ہے۔ وحشت کے اس احساس کا تجرباتی جائزہ لینا ہو تو مذہبی کتابوں کے کسی بھی اسٹال سے’ حصول علم کے فضائل‘ یا ’علم کی برکتیں‘ نامی کوئی بھی رسالہ اٹھا کر تلاش کیجئے کہ ایک اوسط مسلم ذہن علم کا کیا تصور قائم کئے بیٹھا ہے۔ مثالیں ان گنت ہو سکتی ہیں، لیکن اگر سند ہی کی تلاش ہے تو ابن رجب حنبلی کے رسالے ’’ورثہ الانبیاء‘‘ کو دیکھ لیجئے جس کا انگریزی ترجمہ The Heirs of the Prophets کے نام سے مغرب کے اعلیٰ تعلیم یافتہ مذہبی عالم زید شاکر کے ہاتھوں ہوا ہے اور مشہور سعودی کتب خانے مکتبہ دارالسلام میں موجود ہے۔
مقصد یقیناًابن رجب یا مخصوص سلفی فکر پر تنقید نہیں بلکہ صرف اتنا واضح کرنا ہے کہ روایتی مسلم فکر، چاہے اس کا تعلق کسی بھی تعبیراتی دھارے سے ہو ،علم کو حقیقی اور اضافی کے درجہ اولیٰ اور درجہ ثانیہ میں بانٹتی نظر آتی ہے۔ چونکہ اول الذکر کا تعلق خالص مذہبی متون یعنی قرآن و حدیث اور فقہ وغیرہ سے ہے لہٰذا طبقہ علماء کی تعبیرات میں ایک ایسے خدا اور رسول کا تصور ابھرتا نظر آتا ہے جو ایک فقیہ اور ماہر طبیعیات میں ان کی علمی ترجیحات کی بنیاد پر لازماً فرق کرتا نظر آتا ہے۔ آپ کسی بھی روایتی مذہبی گھاٹ کا پانی پی کر دیکھ لیجئے، اس مخصوص طبقاتی بھاشا میں (جسے ماہرین لسانیات lingua francaکا نام دیتے ہیں) خدا اور اس کے نبی کا ’ مطلوب انسان ‘ کبھی ریاضی دان یا کیمیا دان وغیرہ نہیں ہو گا۔ لہٰذا یہ ہرگز حیران کن نہیں کہ ہم قرونِ وسطٰی کی مسلم معاشرت میں کبھی الخوارزمی یا ابن الہیثم وغیرہ کے ناموں کے ساتھ ’امام‘ کا سابقہ نہ لگا سکے اور یہ بھی خارج از امکان ہے کہ مستقبل بعید کے مسلم معاشروں میں کسی چوٹی کے سائنسدان یا فلسفی کو کسی دینی مبلغ یا فقیہ جتنی پذیرائی میسر آ سکے۔ صاحبو، ہود بھائی اور تقی عثمانی کا کیا مقابلہ۔ بھلا دنیا اور آخرت بھی کبھی ایک جتنے اہم ہوئے ہیں؟
اگر بات یہیں تک رہتی تو کچھ ایسی وحشت کی بات نہ تھی۔ ہم اپنی جدو جہد اسی سست رفتاری سے جاری رکھتے اور اپنے مذہب پسند دوستوں کوریت میں ’مسلم نشاۃ ثانیہ‘ کے خیالی محل تعمیر کرتے دیکھ کر مسکراتے ہوئے منہ دوسری طرف کر لیتے۔ لیکن مسئلہ اب صرف اپنے مخصوص آدرشوں کے لئے جدوجہد کرنے کا نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کا ہے۔ وحشت ناک امر یہ ہے کہ انسانی ترقی کے ایک مخصوص جدید تصور سے ظاہری طور پر اختلاف کرتے ہمارے یہ مذہب پسند نقادتعبیر پر اپنی حکومت قائم رکھنے کی خواہش میں ایک طرف تو آزادانہ سوچنے، سمجھنے اور سوال اٹھانے کے بنیادی حق پر اخلاقی استعمار کے ذریعے قدغن لگاتے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف سائنسی مادیت و افادیت پرستی کی انتہا پر کھڑے ہو کر سر ے سے سائنس کی مابعدالطبیعاتی فلسفیانہ بنیادوں کا انکار کر دیتے ہیں۔
کسی بھی درجے کی پاکستانی جامعہ کے فزکس ، ریاضی یا انجینئرنگ کی جماعت میں طالبعلموں سے یہ سوال پوچھ کر دیکھئے کہ ریاضی کی کتاب پوری دل جمعی سے پڑھنے سے خدا کے خوش ہونے کی کوئی امید ہے تو آ پ کو معلوم ہو جائے کہ مرض کی جڑیں کتنی پختہ ہیں۔ اس استدلال کے لئے بہت زیادہ لفاظی کی ضرورت نہیں کہ اس مخصوص مذہبی نفسیات میں کم و بیش تیرہ صدیوں سے گندھے انسان کی جینیاتی ماہیت کبھی اسے اس مرحلے کو اتنی خوش اسلوبی سے طے کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی کہ خدا اور وصالِ صنم ایک ساتھ ہی مل جائے۔ ہم نے بحیثیت استاد اپنی کلاس میں ایک سے زیادہ بار دیکھا کہ وضع قطع سے مذہبی معلوم ہونے والے طالبعلم نے بہت اعتماد سے اپنا مذہبی فریضہ ادا کرتے ہوئے ایک پیچیدہ اور نہایت دلچسپ ریاضیاتی بحث کے دوران ہمیں بیچ میں ٹوک کر اذان سننے کی ترغیب دی۔ یقین جانئے ہمیں اس روک ٹوک سے کوئی شکایت نہیں کیوں کہ ہماری نگاہ میں مسئلہ خالصتاً مذہبی نہیں بلکہ دوئی میں پھنسی مذہبی نفسیات کی ترجیحات کا ہے جس کی مذہبی اور غیر مذہبی دونوں جہتیں سراسر افادیت پرستی کے فلسفے پر قائم ہیں جو خود تردیدی کے مجسم پیکروں پر مشتمل نسلوں کی مسلسل ترسیل جاری رکھے ہیں۔ یہ تیسری دنیا کی پسماندہ مذہبی معاشرت کا ایک ایسا جدید انسان ہے جو اپنی قدیم فطرت میں موجود عقلی و حبی وحدت اس طرح بانٹ چکا ہے کہ اب اس وحدت کو محض ایک خوبصورت آدرش مان کر اس کی طرف قدم اٹھانے کی فکری قوت بھی نہیں رکھتا۔
ان حالات میں فلسفے کے کچھ ایسے مذہب پسند نقاد جو عملی سائنس کی مابعدالطبیعاتی نظری بنیادوں کے وجود کے ہی انکاری ہیں ، قرونِ وسطیٰ کے محبوب مناظرانہ متون سے ’تہافت الفلاسفہ‘ کشید کر پوری دیانت داری سے ایک ایسی نادیدہ بیماری کی دوا بنانے میں مصروف ہیں جو زمانہ جدید میں اپنا وجود ہی نہیں رکھتی۔ جب تشخیص ہی درست نہ ہو تو دوا اکسیر نہیں بلکہ زہر کا کام کرتی ہے۔ ہمارے ہاں مختلف سائنسی علوم کے طلباء کچھ اس سطحی طرز سے حصولِ علم کے منزلیں طے کرتے ہیں کہ دیکارت، اقلیدس، فیثا غورث، کیپلر اور نیوٹن وغیرہ کے فکری منہج کا سایہ بھی اپنے تک نہیں پہنچنے دیتے۔ نتیجتاً پیچیدہ مسائل کے خدوخال مرتب کرنے کی تکنیکی اہلیت تو دور کی بات، وہ اس نفسیاتی تجربے سے ہی بہت فاصلے پر رہتے ہیں ہیں جو انہیں نفسِ علم کے ساتھ ایک جذباتی لگاؤ میں جوڑ دے۔ اس پر فلسفیانہ مباحث سے کامل لا تعلقی اور سائنس کی مابعد الطبیعاتی بنیادوں سے کامل ناواقفیت انہیں یہ باور کراتی ہے کہ سائنس، مذہب اور فلسفے کو کسی ایسی کلی وحدت میں نہیں باندھا جا سکتا جس میں ان تینوں چشموں سے ایک ساتھ فیض یاب ہوتا انسان اپنے وجدان اور عقل کو ایک ایسے لطیف اور ماورائے سخن بندھن میں پرو سکے جس میں اس کی پوری ذات ایک کامل تسکین کے تجربے کے قابل ہو۔
ظاہر ہے کہ عوامی سطح پر فلسفے اور سائنس کے کسی ایسے عام فہم تدریسی بیانیے کی روایت نہ ہونا جو سائنس کے نفسِ علم میں فلسفے سے مستعار لئے گئے مابعدالطبیعیاتی اور نیم مابعد الطبیعیاتی مفروضوں کی موجودگی کو اجاگر کرے، مذہب پسندوں کے اس خاص طبقے کی وحشت ناک تنقیدوں کو کسی کم از کم درجے میں بھی معقولیت بخشنے کی اولین علت ہے۔ ہماری رائے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے آپ کو ہماری رائے سے متفق پانے والے سائنس کے اساتذہ اور شوقین والدین فلسفے کے بنیادی مباحث سے واقفیت پیدا کریں اور اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر سائنس کی تدریس میں ان طبیعاتی و مابعدالطبیعاتی فلسفیانہ مباحث پر گفتگو کا آغاز کیا جائے جو سولہویں صدی سے سائنسی استدلال کی بنیادوں میں موجود ہیں۔ کون جانے کب خدا کو ہمارے حال پر رحم آ جائے اور نیوٹن، گیلیلیو، ڈارون اور دیکارت وغیرہ کو تو خیر دور کی بات ہے ، ہماری تہذیب میں کم ازکم ابن رشد، ابن طفیل، الخوارزمی ،ابن الہیثم اور ابن باجہ کو ہی وہی پذیرائی مل جائے جو اس وقت غزالی، ابو حنیفہ اور بخاری و مسلم وغیرہ کو ملتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جو ایک نوجوان مسلم ذہن کو سطحی ٹیکنالوجی کی بھیڑچال اور محض ایک افادیت پسند سائنسی تعلیم کے فنی شوق سے اوپر اٹھ کر ندرتِ فکر ، تحقیق و جستجو اور ایجاد علم کی طرف راغب کر سکتا ہے۔
فقہاء و مکتب فراہی کے تصور قطعی الدلالۃ کا فرق
محمد زاہد صدیق مغل
اس مختصر نوٹ میں فقہائے کرام و مکتب فراہی کے تصور قطعی الدلالۃ کا موازنہ کیا جائے گا جس سے معلوم ہوگا کہ فراہی و اصلاحی صاحبان کا نظریہ قطعی الدلالۃ نہ صرف مبہم ہے بلکہ ظنی کی ایک قسم ہونے کے ساتھ ساتھ سبجیکٹو (subjective) بھی ہے۔
قطعی الدلالۃ کے معنی میں ابہام
فقہاء کا ماننا یہ ہے کہ قرآن مجید کی تمام آیات کے معنی ایک ہی درجے میں واضح نہیں بلکہ معنی کا وضوح مختلف درجوں میں ہوتا ہے۔ آیات کے معنی واضح ہونے کے اعتبار سے فقہاء انہیں دو عمومی قسموں میں بانٹتے کرتے ہیں:
(ا) واضح الدلالۃ (جس کی دلالت، سمجھنے کے لیے واضح و آسان ہے)
(2) خفی الدلالۃ (جس کی دلالت چھپی ہوئی ہے)
پھر ہر تقسیم کے تحت فقہاء چار چار ذیلی تقسیمات لاتے ہیں۔ چنانچہ خفی الدلالۃ کے تحت چار ذیلی تقسیمات یہ ہیں:
"متشابہ" (جس میں خفا سب سے زیادہ ہوتا ہے اور خود شارع نے بھی اس کی وضاحت نہیں کی ہوتی)۔
"مجمل" (اس کا خفا متشابہ سے کم ہوتا ہے اور اسے دور کرنے کے لئے شارع کے کلام کی طرف رجوع لازم ہوتا ہے، یہ گویا دینی اصطلاح ہوتی ہے جس کی تعریف شارع مقرر کرتا ہے)۔
پھر "مشکل" اور "خفی" (ان کا خفا لغوی تحقیق سے ختم کیا جاسکتا ہے)۔
اسی طرح واضح الدلالت کی چار اقسام یہ ہیں:
"ظاہر" (اس میں وضوح سب سے کم ہوتا ہے)، اس سے زیادہ واضح کو "نص" کہتے ہیں اس سے کچھ زیادہ کو "مفسر" کہا جاتا ہے اور سب سے زیادہ واضح آیات کو "محکم" کہا جاتا ہے۔
فقہاء جن آیات کو "مفسر" اور بالخصوص "محکم" کہتے ہیں، ان کے بارے میں ان کا کہنا یہ ہے کہ ان میں تاویل کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اگر ایسی آیات میں کوئی شخص تاویل سے کام لے کر کوئی دوسرا معنی اخذ کرتا ہے تو وہ گمراہ کہلائے گا۔ دوسرے لفظوں میں ان آخری دو اقسام کی نصوص کو فقہاء "قطعی الدلالۃ" کہتے ہیں اور جن آیات کو وہ قطعی الدلالۃ کہتے ہیں، ان کے مفہوم میں نہ صرف یہ کہ تاویل کی گنجائش کے قائل نہیں ہوتے بلکہ اس سے ثابت ہونے والے حکم کے منکر پر شدید شرعی حکم بھی لگاتے ہیں۔ چنانچہ اگر آپ فقہاء کے نظریہ قطعی الدلالۃ پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ فقہاء جسے "قطعی الدلالۃ" کہتے ہیں، اس کا معنی "واقعی" قطعی الدلالۃ (definite in meaning) ہی ہوتا ہے، یعنی اس قدر واضح کہ تاویل کی گنجائش قابل قبول نہیں۔
اس کے مقابلے میں مولانا فراہی و اصلاحی رحمہما اللہ اور ان کے شاگرد غامدی صاحب کے یہاں قطعی الدلالۃ کے مفہوم ہی میں ابہام پایا جاتا ہے۔ ان کے یہاں قطعی الدلالۃ کا یہ مفہوم بیان کیا جاتا ہے کہ قرآن کی ہر آیت کا ایک ہی معین معنی ہے، لیکن یہ حضرات یہ واضح نہیں کرتے کہ ہر آیت کا ایک معنی واضح الدلالۃ کے کس مفہوم میں مراد لیا جارہا ہے۔ قرآن کے قطعی الدلالۃ ہونے کو جس شدومد سے یہ حضرات پیش کرتے ہیں، اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہر ہر آیت کو "مفسر" و "محکم" کے درجے میں قطعی مانتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر انہیں اس پوزیشن کے ساتھ جڑے اس منطقی نتیجے کو بھی ماننا چاہئے کہ جو شخص قرآن کی کسی بھی آیت کے ان کے بیان کردہ معنی کے علاوہ کوئی دوسرا معنی مراد لیتا ہے تو وہ گمراہ ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ حضرات ایسا نہیں کرتے بلکہ خود ایک دوسرے سے بھی اختلاف کرتے ہیں۔ اور اگر قطعی الدلالۃ سے اس سے کم تر درجے میں کوئی وضوح مراد لیتے ہیں تو ان معنی میں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ بات تو فقہاء ہمیشہ سے ہی کہتے آئے ہیں کہ "میری رائے درست ہے اس احتمال کے ساتھ کہ غلط ہو اور مخالف کی رائے اس کے برعکس"۔ تو ان معنی میں قطعی الدلالۃ پر اس قدر اصرار کیسا؟قطعی الدلالۃ کی اصطلاح میں ان کے یہاں جس طرح لفط "قطعی" کے معنی میں ابہام پایا جاتا ہے، اسی طرح یہ حضرات یہ بھی واضح نہیں کرتے کہ "قطعی الدلالۃ" کی اس اصطلاح میں جسے "دلالت" کہا جارہا ہے، اس میں دلالت کی کون کون سی اقسام شامل ہیں اور کون سی نہیں؟ یعنی یہ قطعیت کیا صرف عبارۃ النص تک ہی محدود ہے یا اس قطعیت کا دائرہ اشارۃ النص، دلالۃ النص و اقتضاء النص تک بھی پھیلا ہوا ہے؟ ہر دو جواب کی صورت میں وجہ ترجیح کیا ہے؟
ان بنیادی نوعیت کے ابہامات کو دور کیے بنا قطعی الدلالۃ کی اصطلاح پر زور دیتے رہنے سے بات واضح نہیں ہوگی۔ مولانا فراہی کے مکتبہ فکر کے یہاں قطعی الدلالۃ کے مسئلے پر جس قدر نظریاتی زور دیا جاتا ہے، اس قدر شرح و بسط کے ساتھ اس کی تفصیلات نہیں ملتیں۔ اس کے مقابلے میں فقہاء کی تقسیمات بامعنی بھی ہیں اور احکامات اخذ کرنے میں مددگار بھی۔
قطعی الدلالۃ یا ظنی الدلالۃ؟
فراہی و اصلاحی صاحبان کے نظریہ قطعی الدلالۃ کی ایک یہ تشریح بھی کی جاتی ہے کہ 'اس سے مراد کسی مفسر کے نزدیک اپنے تئیں کلام کا ایک معنی مرادلینا لازم ہے اگرچہ یہ ممکن ہے کہ دو مختلف لوگوں کے لئے یہ معنی مختلف ہوں'۔ قطعی الدلالۃ کی یہ تعبیر درحقیقت خود قطعی ہی کو ظنی بنا دینے کے مترادف ہے۔ بھلا یہ قطعیت بھی کیسی قطعیت جو زید و عمر کے لئے الگ الگ ہے۔ نیز زید کی قطعیت کسی بھی درجے میں عمر کے حق میں اور اس کے خلاف حجت نہیں؟ گویا فقہاء جسے مؤول (ظنی کی قسم) کہتے ہیں، یہ احباب اسے بھی قطعی قرار دے رہے ہیں۔ قطعی الدلالۃ کی اس تعبیر سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ یہ تصور قطعی ایک "سبجیکٹو" (subjective) تصور ہے جو ہر ہر فرد (subject) کے لئے مختلف ہے۔
اس کے مقابلے میں فقہاء قطعیت کو سبجیکٹ (مفسر) کے بجائے حدالامکان "کلام کی صفت" میں محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس کی بنیاد پر "سب پر" یکساں حکم لگایا جاسکے۔ فقہاء ایسا اس لئے کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس ساری بحث کو قانونی نکتہ نظر سے دیکھا۔ قانون کا مقصد ہی حکم اخذ کرنا ہوتا ہے اور حکم اخذ کرنے کے لئے جس بنیاد پر حکم اخذ کیا جارہا ہے، وہ جس قدر معروضی ("ابجیکٹو")ہوگی، حکم بھی اسی قدر عمومی و مستحکم ہوتا ہے۔ لہذا فقہاء "سب کے حق میں یکساں" قطعی حکم اخذ کرنے کے لئے ایسی قطعیت کی تلاش میں رہے جو سب پر حجت بن سکے۔ اس کے برعکس فراہی و اصلاحی صاحبان نے اس پوری بحث کو کلامی و فلسفیانہ نکتہ نگاہ سے دیکھا۔ ان کے سامنے اپنے دور کے فلسفیوں کا قائم کردہ یہ سوال تھا کہ دنیا کے ہر کلام کا معنی ماحول و معاشرے کا مرہون منت ہوتا ہے، لہٰذا زبان و کلام بذات خود کبھی قطعی نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کا کوئی ایک معنی ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں انہوں نے یہ نظریہ اختیار کیا کہ کلام اللہ کا ایک ہی معنی ہے اور اگر متکلم قدرت رکھتا ہو تو اپنی بات مکمل طور پر ادا کرسکتا ہے۔ وہ اس مسئلے کو ایک فلسفیانہ معاملے کے طور پر لے کر چلے۔ ان کا مطمع نظر یہ ثابت کرنا رہا کہ کلام اللہ کا ایک معنی متعین کرنا ممکن ہے اور اس کے لئے انہیں اپنے قائم کردہ نظم کا پہلو کارآمد لگا۔ لیکن اس ساری بحث کے دوران اس مسئلے کا قانونی (حکم اخذ کرنے کا) پہلو ان سے اوجھل رہا۔ انہوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ اس پوزیشن کے قانونی مضمرات کیا نکلیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب اس پوزیشن پر علمی سوالات اٹھتے ہیں تو نتیجتاً قطعی الدلالۃ کے اس نظریے کے حامی خود کو اس کی ایسی توجیہات پیش کرنے پر مجبور پاتے ہیں جن کے بعد قطعی خود ظنی و سبجیکٹو شے بن جاتا ہے۔
قطعی الدلالۃ: دعوے اور دلیل میں ابہام
مکتب فراہی کے منتسبین عام طور پر قطعی الدلالۃ کی یہ تعبیر اختیار کرتے ہیں:
- قطعی الدلالۃ کا مطلب یہ ماننا ہے کہ عند اللہ کلام سے ایک ہی مراد ہے۔ اگر مفسر اسے پانے میں ناکام رہے، تب بھی اسے کلام کا ابہام کہہ کر کلام کی طرف نہیں پھیرا جائے گا کیونکہ ایسا کہنا کلام کا عیب ہوگا بلکہ اسے انسان کے فہم کا مسئلہ کہا جانا چاہیے کہ مفسر نہیں سمجھ پایا
- قطعی الدلالۃ کے نظریے کو ثابت کرنے کے لئے ان حضرات کی طرف سے ان آیات کو پیش کیا جاتا ہے جن میں قرآن کو "میزان" و "فرقان" کہا گیا ہے۔ چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ اگر قرآن قطعی الدلالۃ نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی قضیے میں قرآن کو حتمی طور پر میزان و فرقان بنانا ممکن نہ ہوگا، لہٰذا لازم ہے کہ قرآن کی ہرہر آیت کو قطعی الدلالۃ مانا جائے۔
- کلام اللہ اگرچہ قطعی ہے مگر اس کا یہ معنی نہیں کہ مفسر جو معنی سمجھ رہا ہے وہ معنی بھی قطعی ہے، چنانچہ ان معنی میں اختلاف جائز ہے۔
یہ تعبیر نہ صرف یہ کہ تصور قطعی الدلالۃ کی معنویت ہی کو مسخ کردیتی ہے بلکہ اس کے دعوے اور دلیل میں بھی کوئی مناسبت نہیں۔ اس تعبیر کا حاصل یہ ہے کہ کلام عنداللہ قطعی ہے، رہا معاملہ عندالناس کا تو اس میں قطعیت کا دعویٰ نہیں کیا جارہا۔
پہلی بات تو یہ کہ جو کوئی بھی کلام کو ظنی کہتا ہے تو وہ "عندالناس" ہی ظنی کہتا ہے، سو اس اعتبار سے آپ کی پوزیشن بعینہہ انہی کی طرح ہے، اس میں ایسی کوئی خصوصیت نہیں۔
دوسری بات یہ کہ یہ نظریہ اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیتا کہ آیا عندالناس سارا کلام ظنی ہے یا اس میں بھی قطعیت کا کوئی دائرہ ہے؟ اگر ہے تو اس کے اصول کیا ہیں؟ فقہاء جب معنی کے وضوح کے درجات کرتے ہیں تو اس کا مقصد عندالناس قطعیت کا ایک ایسا دائرہ تلاش کرنا ہوتا ہے جو سب کے حق میں اور سب کے خلاف حجت ہو، جبکہ اس مکتب فکر کے نظریے میں اس حوالے سے شدید ابہام ہے۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ مفسر کے سمجھے ھوئے معنی کو ہم قطعی نہیں کہتے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کلام کے معنی سبجیکٹو ہیں، لہٰذا کسی کے فہم پر کوئی حکم لگانا ممکن نہیں، گویا عندالناس قطعیت کا کوئی دائرہ موجود نہیں۔
تیسری بات یہ کہ قرآن کا فرقان و میزان ہونا کس کے اعتبار اور کس کے لئے ہے؟ خدا کے لئے یا بندوں کے لئے؟ ظاہر ہے قرآن کو عندالناس معاملات کے لئے ہی فرقان و میزان کہا گیا ہے، مگر اس تعبیر کی رو سے تو قرآن عنداللہ قطعی ہے، تو جو آیات عندالناس کے لحاظ سے نازل ہوئیں، اس نظریے کے حق میں ان سے استدلال کا کیا مطلب؟ یہ تعبیر تو بتا رہی ہے کہ عندالناس قرآن فرقان و میزان نہیں کیونکہ اس تعبیر کی رو سے عندالناس مراد معنی کو تو آپ قطعی مانتے ہی نہیں، تو پھر فرقان و میزان ہونے کا کیا مطلب؟
الغرض قطعی الدلالۃ کی اس تعبیر سے جو مقصد حاصل کرنا مقصود تھا کہ قرآن کو عندالناس فرقان مانا جائے، یہ تعبیر اس مقصد ہی کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔واللہ اعلم
فقہائے تابعین کی اہل حدیث اور اہل رائے میں تقسیم ۔ ایک تنقیدی جائزہ (۱)
مولانا سمیع اللہ سعدی
عصر حاضر میں فقہ اسلامی کی مرحلہ وار ،مربوط اور مرتب تاریخ پر قابل قدر علمی کام ہوا ہے اور خاص طور پر عالم عرب سے فقہ اسلامی اور مذاہب فقیہ کے تعارف و تاریخ پر مشتمل انتہائی اہم کتب سامنے آئی ہیں۔ فقہ اسلامی کی تجدید، احیاء اور نت نئے مسائل میں مختلف مکاتب فکر سے اخذ و استفادہ کو آسان بنانے میں ان کتب کا بڑا اہم اور بنیادی کردار ہے۔ ان کتب کی افادیت اور اہمیت اپنی جگہ ،لیکن ان میں تاریخی حوالے سے مختلف عوامل کی بنیاد پر بعض تسامحات بھی سامنے آئے ہیں اور بلا تحقیق نقل در نقل کی وجہ سے وہ تسامحات کافی مشہورہوئے۔ ان تسامحات میں ایک اہم تاریخی فروگزاشت پر کچھ معروضات پیش کرنے کی کوشش کی جا ئے گی۔
فقہ اسلامی کے مختلف مناہج تاریخ فقہ کا ایک اہم باب ہے۔تدوین فقہ کے دور میں اسلامی ممالک کے مختلف شہروں سے قابل قدر مجتہدین اٹھے ،ہر مجتہد نے اپنے گرد و پیش کے حالات،اپنے ذوق اور اساتذہ کے اسلوب کے مطابق اپنے اصول استنباط و استخراج وضع کیے ،ان میں خاص طور پر اہل عراق اور اہل حجازکے مکاتب فقہیہ میں استنباط واستخراج کے اصولوں میں واضح اور نمایاں فرق تھا۔اس فرق کی بہت سی وجوہ ہیں ،لیکن بعض تاریخی اسباب کی بنا پر یہ مشہور ہوگیا کہ مکتب عراق و حجاز میں جوہری فرق رائے و روایت کا تھا۔ اول الذکر مکتب میں رائے کو بنیادی حیثیت حاصل ہونے کی وجہ سے اہل الرائے اور ثانی الذکر مکتب میں آثار کو مرکزی حیثیت حاصل ہونے کی وجہ سے اہل حدیث کہا جاتا ہے۔اس مقالے میں درج ذیل پہلووں سے اس تاریخی مغالطے پر بحث کی گئی ہے:
- اس تقسیم کے اولین قائلین کی تعیین
- معاصرین میں سے اس تقسیم کے قائلین
- اس تقسیم کے سلسلے میں بیان کیے جانے والے بنیادی اسباب کا ناقدانہ جائزہ
- عراق میں احادیث کے ذخیرے کا ایک جائزہ
- حجازی و عراقی مکاتب حدیث کا ایک دوسرے سے اخذ و استفادہ
- حجاز میں رائے و قیاس کی کثرت اور اس کے استعمال کے شواہد
- حجازی و عراقی مکاتیب کی اولین کتب فقہیہ کا رائے و اجتہاد کے حوالے سے موازنہ
- اہل حدیث اور اہل رائے کی اصطلاحات کے مختلف مفاہیم اور ان کا ارتقائی جائزہ
فقہ اسلامی کی تاریخ پر مشتمل اکثر کتب میں دور تابعین میں اہل حدیث اور اہل رائے کے نام سے فقہا ء کے دو بڑے گروہ بنائے گئے ہیں ، اہل عراق کو اہل رائے کا سرخیل قرا دیا گیا ہے ،جبکہ اہل حدیث کی جائے نشو و نما خطہ حجاز کو ٹھہرایا گیا ہے۔ان دونوں مناہج اور مکاتب فکر میں اساسی و بنیادی فرق اس بات کو قرار دیا گیا ہے کہ اہل رائے نصوص میں تعلیل اور غیر منصوص مسائل میں قیاس و اجتہاد پر زور دیتے تھے ،جبکہ اہل حدیث کا بنیادی وصف نصوص کی بلا تعلیل پیروی کرنا اور غیر منصوص مسائل میں حتی الامکان اجتہاد اور قیاس سے اپنے آپ کو دور رکھنا تھا۔ منہج کے اس اختلاف کے اسباب اور عوامل پر بھی معاصر کتب میں گفتگو کی گئی ہے۔*
چنانچہ فقہ اسلامی کی تاریخ کی جدید اسلوب میں داغ بیل ڈالنے والے معروف مورخ شیخ خضری بک اپنی مایہ ناز کتاب تاریخ التشریع الاسلامی میں لکھتے ہیں :
وجد بذلک اھل حدیث و اھل رای، الاولون یقفون عند ظواھر النصوص بدون بحث فی عللھا و قلما یفتون برای، و الاخرون یبحثون عن علل الاحکام و ربط المسائل بعضھا ببعض و لا یحجمون عن الرای اذا لم یکن عندھم اثر ، وکان اکثر اھل الحجاز اھل حدیث وو اکثر اھل العراق اھل الرای
’’ان اسباب کی بنا پر اہل حدیث اور اہل رائے وجود میں آئے ،اہل حدیث نصوص میں علتیں نکالے بغیر ان نصوص کے ظاہری مفہوم پر ٹھہرتے اور(نص نہ ہونے کی صورت میں ) قیاس سے بہت کم فتویٰ دیتے۔جبکہ اہل رائے احکام کی علتوں کو تلاش کرتے تھے اور غیر منصوص مسائل کو ان معلول بالعلت مسائل کے ساتھ (قیاس کے ذریعے) جوڑتے تھے، نص نہ ہونے کی صورت میں قیاس و اجتہاد سے کسی قسم کی کنارہ کشی اختیار نہ کرتے تھے۔ اہل حجاز کے اکثر فقہاء اہل حدیث منہج اور عراقی فقہاء اہل رائے کے منہج پر تھے۔‘‘
شیخ خضری بک کی طرح مذکورہ نظریہ علامہ حجوی نے الفکر السامی فی تاریخ الفقہ الاسلامی میں ،شیخ مناع القطان نے تاریخ التشریع الاسلامی میں، الدکتور صالح الفرفور نے تاریخ الفقہ الاسلامی میں ،دکتور عبد الوہاب الخلاف نے خلاصۃ تاریخ التشریع الاسلامی میں ،الدکتور عبد الکریم زیدان نے المدخل الی دراسۃ الشریعۃ الاسلامیۃ میں ،شیخ ابو زہرہ مرحوم نے محاضرات فی تاریخ المذاہب الفقہیۃ میں اور ہندوستان کے مشہور عالم مولانا ارسلان رحمانی نے "فقہ اسلامی، تعارف و تاریخ " میں بیان کیا ہے۔ مذکورہ حضرات سے پہلے اہل رائے اور اہلحدیث کی تقسیم شہرستانی نے الملل و النحل میں، ابن خلدون نے الشہرستانی کی پیروی کرتے ہوئے تاریخ ابن خلدون میں اور مسند الہند امام شاہ ولی اللہ نے الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف میں اپنے پیشرووں کی تقلید میں اختیار کی ہے، البتہ ہر سہ حضرات نے بغایت اختصار اس بات کو بیان کیا ہے، لیکن معاصر مورخین نے اسباب و عوامل کے تناظر میں تفصیلاً اس نظریے پر خامہ فرسائی کی ہے۔
اہل حدیث اور اہل رائے کی تقسیم کے اسباب و عوامل کا ناقدانہ جائزہ
اب ہم ان حضرات کے بیان کردہ اسباب وعوامل پرایک ناقدانہ نظر ڈالنا چاہتے ہیں:
بنیادی طور پر اس سلسلے میں تین اسباب بیان کئے جاتے ہیں :
۱:فقہائے صحابہ کی منہج اجتہاد و قیاس کے اعتبار سے تقسیم
۲:عراق میں احادیث و روایات کی قلت اور حجاز میں کثرت
۳:عراق میں اجتہاد و رائے کی کثرت اور حجاز میں قلت
سبب اول :فقہائے صحابہ کی منہج اجتہاد و قیاس کے اعتبار سے تقسیم
مذکورہ تقسیم کے قائلین کی نظر میں اس تقسیم کا سب سے بڑا اور بنیادی سبب یہ تھا کہ خود صحابہ کرام کے مناہج اجتہاد میں اختلاف تھا ۔بعض صحابہ کرام رائے ،قیاس اور اجتہاد سے حتی الامکان اپنے آپ کو بچاتے تھے اور صرف نصوص کے ظاہری مفہوم پر اکتفاء فرماتے ،جبکہ دوسری طرف ایسے صحابہ بھی تھے جن پر احکام کی علتیں نکالنے کا ذوق غالب تھا اور غیر منصوص مسائل میں وسعت کے ساتھ اجتہاد و قیاس سے کام لیتے اور اسی کے اثرات فقہائے تابعین تک پہنچے اور یوں فقہاء کے دو بڑے گروہ اور قیاس و اجتہاد کے دو بڑے مناہج سامنے آئے۔الدکتور رمضان علی سید اپنی کتاب المدخل لدراسۃ الفقہ الاسلامی میں لکھتے ہیں:
تاثرھم بطریق شیوخھم کزید بن ثابت و ابن عمر و ابن عباس اذا کان ھو لاء یتمسکون بالاحادیث و یخافون من استعمال الرای تورعا و احتیاطا لدینھم
’’اہل مدینہ اپنے شیوخ کے طریقہ سے متاثر تھے ،جیسے زید بن ثابت ،حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس، کیونکہ یہ لوگ احادیث سے تمسک کرتے تھے اور راے و قیاس کے استعمال سے تقوی اور دین داری کی وجہ سے ڈرتے تھے۔‘‘
اس سبب کے بارے میں چند گزارشات
۱:دور تابعین میں اگرچہ صحابہ نے خاص خاص شہروں میں مسند تدریس سنبھالے ،لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ جس شہر میں جس صحابی نے ڈیرے ڈال دیے ،صرف اسی شہر کے مکین ہی ان سے استفادہ کرتے ،بلکہ اس وقت تو طلب علم کے لئے رحلت اور مختلف شہروں میں حصول علم کے لئے سفر کا رواج عروج پر تھا ،تشنگان علم در در کی خاک چھانتے ،اور جس شہر کے بارے میں کسی صاحب علم کے بارے میں سنتے تو اسی کی طرف کوچ کر جاتے ،چنانچہ مدینہ کے معروف تابعین کا سلسلہ تلمذ جس طرح مدینہ میں مکین صحابہ ،حضرت زید بن ثابت ،حضرت عبد اللہ بن عمر،حضرت ابن عباس،حضرت ابوہریرہ اور حضرت عائشہ تک پہنچتا ہے ،اسی طرح ملک عراق و شام کے اکابر تابعین نے بھی مدینہ کے ان درسگاہوں سے کسب فیض کیا، یہی وجہ ہے کہ عراق کے معروف فقہاء علقمہ بن قیس ،مسروق بن الاجدع ،اسود بن یزید،عامر بن شراحیل الشعبی اور دیگر تابعین کے اساتذہ میں حضرت زید،حضرت عائشہ اور حضرت ابن عمر کے نام سر فہرست ہیں۔اسی طرح مدینہ کے بعض تابعین کا دیگر امصار کے صحابہ سے کسب فیض معروف بات ہے ، ابن حزم اپنی کتاب الاحکام میں لکھتے ہیں :
و ھکذا صحت الاثار بنقل التابعین من سائر االامصار عن اھل المدینہ و بنقل التابعین من اھل المدینہ و من بعدھم عن اھل الامصار فقد صحب علقمۃ ومسروق عمر و عثمان و عائشۃ ام المومنین و اختصوا بھم و اکثروا الاخذ منھم
’’اسی طرح معروف شہروں کے تابعین کا مدینہ والوں سے روایات لینے کے بارے میں صحیح آثار موجود ہیں، اور ایسے ہی مدینہ کے تابعین اور تبع تابعین کا دیگر اہل بلاد سے استفادہ کرنے کے بارے میں بھی روایات موجود ہیں۔ یہ بات ثابت ہے کہ (کوفہ کے اکابر تابعین جیسے)علقمہ اور مسروق نے (مدینہ کے اکابر صحابہ )حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت عائشہ کی صحبت اختیار کی ،ان سے خصوصیت سے استفادہ کیا اور ان سے بہت ساری چیزیں حاصل کیں۔‘‘
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ مدینہ میں مقیم صحابہ سے ہر شہر خصوصاً اہل کوفہ کے اکابر تابعین نے خوب استفادہ کیا ہے،تو اس صورت میں یہ کہنا کسی صورت درست نہیں بنتا کہ مدینہ والوں کے منہج میں ان کے اسا تذہ صحابہ کا اثر تھا۔ اگر معاصر حضرات کا مذکورہ نظریہ مان لیا جائے تو ایک معقول سوال اس موقع پر ذہن میں آتا ہے کہ انہی اساتذہ سے تو کوفہ کے تابعین نے بھی استفادہ کیا تو ان پر رائے کی تقلیل اور اجتہاد و قیاس سے کنارہ کشی کا اثر کیوں نہیں پڑا؟ایک ہی طرح کے اساتذہ سے حصول علم کے بعد منہج میں فرق کی نسبت اساتذہ کی طرف کرنا علمی حوالے کوئی مضبوط بات نہیں ہے۔اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود جو متفقہ طور پر اجتہاد و قیاس کی کثرت کے حوالے سے معروف ہے،ان کے تلامذہ میں صرف اہل کوفہ نہیں تھے،بلکہ مدینہ ،شام اور بصرہ کے اکابر تابعین نے ان سے استفادہ کیا۔
۲:مدینہ میں مقیم صحابہ خصوصاً حضرت زید بن ثابت،حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس اور حضرت عائشہ کے بارے میں بات کرنا کہ وہ رائے و اجتہاد سے احتیاط کرتے تھے اور نصوص کے ظاہری مفہوم پر ہی اکتفاء کرتے تھے،محل نظر ہے۔ان صحابہ کرام کی فقہی آراء سے کتب احادیث بھری پڑی ہیں ،اور خصوصیت کے ساتھ بکثرت ایسی روایات موجود ہیں جن میں ان حضرات نے غیر منصوص مسائل میں قیاس و اجتہاد سے کام لیا اور بعض واقعات میں ان حضرات کا اجتہاد نصوص میں تعلیل پر بھی مبنی ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض صحابہ کرام کی فقہی آرا پر باقاعدہ ضخیم موسوعات بھی تیار ہوچکے ہیں۔ ابن قیم نے اعلام الموقعین میں ان صحابہ کی فہرست دی ہے ،جن سے بکثرت فتاویٰ منقول ہیں ،ان میں مدینہ میں مقیم یہ چاروں صحابہ سر فہرست ہیں ،چنانچہ لکھتے ہیں :
و کان المکثرون منھم سبعۃ،عمر بن الخطاب،و علی بن ابی طالب ،وعبد اللہ بن مسعود ،وعائشہ ام المومنین ،و زید بن ثابت ،و عبد اللہ بن عباس ،و عبد اللہ بن عمر
’’صحابہ میں وہ حضرات جن سے سب سے زیادہ فتاویٰ منقول ہیں،وہ سات حضرات ہیں :حضرت عمر، حضرت علی ،حضرت عبد اللہ بن مسعود ،حضرت عائشہ ،حضرت زید بن ثابت ،حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن عمر۔‘‘
فتویٰ میں قیاس و اجتہاد کا استعمال ایک لازمی امر ہے۔ اگر یہ مفروضہ مان لیا جائے کہ یہ صحابہ کرام اجتہاد و قیاس سے بچتے تھے تو فتاویٰ کی مقدار میں وہ حضرت ابن مسعود اور حضرت علی کے درجے تک کیسے پہنچے ،جن کے بارے میں اتفاق ہے کہ بکثرت اجتہاد و قیاس سے کام لیتے تھے؟
اس کے علاوہ ان حضرات نے ایسے مواقع پر بھی تعلیل سے کام لیتے ہوئے اجتہاد کیا ،جن میں ان کا اجتہاد نص کے ظاہری مفہوم کے معارض ہوتا ،چنانچہ حضرت عائشہ کا عورتوں کے مساجد میں آنے سے متعلق اجتہاد معروف و مشہور ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح حدیث کے ہوتے ہوئے انہوں نے عورتوں کے مسجد جانے پر نکیر فرمائی تھی، حالانکہ حدیث میں ان کو مسجد میں آنے کی صریح اجازت دی گئی تھی ،لیکن حضرت عائشہ کا فتویٰ یہ تھا کہ یہ اجازت خاص شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔ گویا تعلیل کے زریعے نص کا عام مفہوم خاص محل پر محمول کیا۔ اسی طرح حضرت ابن عباس کا معارضہ کتب احادیث میں منقول ہے کہ جب حضرت ابوہریرہ نے یہ حدیث بیان کی کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ،تو آپ نے فرمایا کہ اگر میں گرم پانی سے وضو کروں تو میرے وضو کا کیا حکم ہوگا ؟جس پر حضرت ابو ہریرہ نے ناراض ہوتے ہوئے فرمایا :
یا ابن اخی اذا سمعت حدیثا عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلا تضرب لہ مثلا
’’اے بھتیجے جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث آجائے تو اس کے لئے (معارضہ کے طور پر )عقلی مثالیں نہ دیا کرو۔‘‘
غرض کتب احادیث میں ان حضرات کے اجتہادات اور قیاسات بکثرت مروی ہیں جن میں ان حضرات نے نصوص میں تعلیل سے وسیع پیمانے پر کام لیا ۔ یہی وجہ ہے کہ عصر حاضر میں ان حضرات کے فتاویٰ اور اجتہادات پر ضخیم مجلدات وجود میں آچکی ہیں۔ ان اجتہادات کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ یہ قیاس و اجتہاد سے بچتے تھے ،محل نظر ہے۔
۳۔ ان حضرا ت کے بارے میں قیاس و اجتہاد سے کنارہ کشی کے نظریہ کی بنیاد در اصل وہ روایات ہیں جن میں ان حضرات کا اتباع سنت ،نصوص پر سختی کے ساتھ جمنا اور حتی الامکان فتویٰ کی ذمہ داری سے بچنا منقول ہے ،چنانچہ امام دارمی نے سنن دارمی میں باب من ھاب الفتیا کے نام سے باقاعدہ ایک باب باندھا ہے جس میں ان روایات کوذکر کیا ہے جن میں صحا بہ و تابعین سے فتویٰ کے بارے میں احتیاط اور اس عظیم ذمہ داری سے حتی الامکان بچنے کا ذکر ہے، لیکن اس قسم کی روایات صرف ان مدنی صحابہ سے منقول نہیں ہیں ،بلکہ فتوی و اجتہاد کے حوالے سے معروف صحابہ جیسے حضرت ابن مسعود ،حضرت علی اور حضرت عمر سمیت اکابر تابعین سے بھی اس قسم کے اقوال مروی ہیں ،چنانچہ سنن دارمی میں حضرت ابن مسعود کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے :
من افتی عن کل ما یسال فھو مجنو ن
’’جو آدمی (سوال کی نوعیت سے صرف نظر کرتے ہوئے )ہرپوچھی ہوئی چیز کے بارے میں فتوی دے تو وہ مجنون ہے۔‘‘
بلکہ امام دارمی نے ابن ابی لیلیٰ سے صحابہ کا فتوی کے بارے میں عمومی نظریہ یوں نقل کیا ہے:
لقد ادرکت فی ھذا المسجد عشرین و ماءۃ من الانصار۔ ۔۔۔ و لا یسئل عن فتیاہ الا ود ان اخاہ کفاہ الفتیا
’’ میں نے انصار صحابہ میں سے ایک سو بیس ایسے اصحاب پائے ہیں کہ جب ان میں سے کسی سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو اس کی خواہش ہوتی کہ اس کا بھائی اس کی طرف سے اس فتوی میں کفایت کر لے ،یعنی وہ اس کی طرف سے یہ فتویٰ دے۔‘‘
حضرت شاہ ولی اللہ الانصاف میں حضرت ابن مسعود کی فتویٰ کے بارے میں احتیاط نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
سئل عبد اللہ بن مسعود عن شیء،فقال :انی لاکرہ ان احل لک شیء حرمہ اللہ علیک ،او احرم ما احلہ اللہ لک
’’حضرت ابن مسعود سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ اللہ کی حرام کردہ اشیاء کو تیرے لئے (اپنے فتویٰ سے ) حلال کردوں یا حلال چیزوں کو (فتوی سے )تیرے اوپر حرام کردوں۔‘‘
چنانچہ یہی وجہ ہے کہ الدکتور محمد الدسوقی "مقدمہ فی دراسۃ الفقہ الاسلامی"میں لکھتے ہیں:
وقد وجد فی کل من المدرستین من ھاب الفتیا و انقبض عنھا اذا لم یکن فی حکمھا اثر محفوظ،کما وجد فی کلتیھما من من جرء علی الفتیا و استخدم عقلہ فی التخریج و القیاس
’’ہر دو مکاتب فکر میں ایسے افراد پائے جاتے تھے ،جو فتویٰ دینے سے احتیاط کیا کرتے تھے،اور خاص طور پر ان مسائل میں فتو یٰ دینے سے رکتے تھے ،جن میں متقدمین کے اقوال میں سے کوئی قول نہ ہو۔اس کے برعکس دو نوں مکاتب میں وہ لوگ بھی موجود تھے جو فتویٰ کے حوالے سے جرات رکھنے والے اور مسائل کی تخریج اور ایک ووسرے پر قیاس کرتے وقت عقلی مقدمات سے کام لیتے تھے۔‘‘
لہٰذا جب فتویٰ میں احتیاط مدینہ میں مقیم صحابہ کی بجائے تمام معروف فقہاء صحابہ کا عمومی عمل تھا،خواہ کسی بھی شہر سے تعلق ہو ، تو اس بنیاد پر یہ فیصلہ کیسے کیا جاسکتا ہے کہ مدینہ میں مقیم صحابہ فتوی و اجتہاد سے بچتے تھے اور دیگر صحابہ خاص کر عراق میں مووجود صحابہ قیاس و اجتہاد سے زیادہ کام لیتے تھے ؟
سبب دوم، عراق میں احادیث کی قلت اور حجاز میں کثرت
اہل رائے اور اہل حدیث کی تقسیم کا دوسرا بڑا سبب عام طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ چونکہ عراق میں احادیث و روایات حرمین شریفین سے دور ہونے کی وجہ سے حجاز کی بہ نسبت کم تھیں ،اس لئے اہل عراق اجتہاد و قیاس میں رائے پر زیادہ انحصار کرتے تھے ،جبکہ دوسری طرف حجاز خصوصا مدینہ قلب اسلام ہونے کی بنیاد پرکثیر صحابہ کا مسکن تھا ،اس لئے وہاں روایات کی تعداد کافی زیادہ تھی ،اور اہل مدینہ کو نصوص میں عام طور پر مسائل مل جاتے تھے ،اس لئے وہ اہل عراق کی بہ نسبت رائے پر بہت کم اعتماد کرتے تھے۔محقق قطان اہل رائے اور اہل حدیث کے وجود میں اسباب کے ذیل میں لکھتے ہیں :
کان الحدیث فی العراق قلیلا اذا ما قیس الی ما لدی الجاز
’’عراق میں حجاز کی بہ نسبت احادیث کم تھیں۔‘‘
اس سبب کے بارے میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں :
۱:اگر ایک لمحے کے لئے اس مفروضے کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ عراق میں احادیث کی قلت تھی ،تو بھی اہل رائے اور اہل حدیث کی تقسیم میں یہ عامل اثر انداز نہیں ہوسکتا ،اس لئے کہ دور تابعین اور تبع تابعین میں طلب حدیث کے لئے رحلت اور اس کے لئے سفر ایک لازمی جزو سمجھا جاتا تھا ،مختلف شہروں میں علم حدیث کے لئے جانے کا رواج کچھ اس کثرت سے تھا کہ محدثین کو رحلہ فی طلب الحدیث پر باقاعدہ کتب لکھنی پڑیں، چنانچہ خطیب بغدادی صاحب کی اس موضوع پر ضخیم کتاب الرحلۃ فی طلب الحدیث معروف ومشہور ہے۔ اس میں انھوں نے مختلف بلدان کی طرف محدثین کے اسفار کو بیان کیا ہے۔اور خاص طور پر مدینہ مرکز اسلام ہونے کی وجہ سے علمی اسفار کے لیے بہت معروف تھا، یہاں تک کہ اندلس جیسے دور دراز کے علاقے سے بھی کافی کثیر تعداد میں محدثین مدینہ میں طلب حدیث کے لیے آتے تھے ،تو عراق جو اندلس کی بہ نسبت مدینہ کے کافی زیادہ قریب تھا ،یہ کیسے ممکن ہے کہ وہاں سے محدثین طلب حدیث کے لیے مدینہ کی طرف نہ گئے ہوں۔
ابن سعد نے اپنی معروف کتاب الطبقات الکبری میں کوفہ ،بصرہ اور بغداد کے ان محدثین کا مفصل تذکرہ کیا ہے جنہوں نے مدینہ میں حضرت عمر،حضرت ابن عباس ،حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابن عمر سے احادیث لی ہیں۔جلدہشتم اور جلد نہم میں ان تین شہروں کے اکابر محدثین کا تذکرہ ہے جنہوں نے مدینہ میں مقیم صحابہ سے روایات لیں، خصوصاً حضرت عبد اللہ بن مسعود کا کوئی ایسا معروف شاگرد نہیں ہے جس نے حضرت عمر اور دیگر صحابہ سے روایات لینے کے لئے مدینہ کا سفر نہ کیا ہو۔ اس لئے اگر عراق میں احادیث کی قلت مان بھی لی جائے تو محدثین نے مدینہ کے صحابہ کے پاس موجود روایات مدینہ میں جاکر ان سے حاصل کیں ،تو کیا اس صورت میں اہل مدینہ کی اہل عراق پرحدیث پر فوقیت کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے؟ بلکہ اس میں تو اہل عراق کو ایک گونہ فوقیت مل گئی کہ وہ دونوں شہروں کی روایات کے جامع تھے، کیونکہ مدینہ کی طرف تو سفر حدیث کا رجحان تھا ،لیکن اہل مدینہ کا مدینہ سے خروج بہ نسبت اور شہروں کے کم تھا۔اس کے علاوہ اما م ابو حنیفہ کے دو مایہ ناز شاگرد اور فقہ حنفی کے ابتدائی دو بنیادی ستون امام ابویوسف اور امام محمد کا مدینہ کی طرف اخذ حدیث کے لئے سفر اور وہاں کئی سال تک مقیم رہ کر اہل مدینہ کی روایات کو جمع کرنے کا عمل معروف ہے۔ان اسباب کی بنا پر الدکتور شرف محمود اپنے ضخیم مقالے "مدرسۃ الحدیث فی الکوفۃ" میں لکھتے ہیں :
فقد کانت المدینۃ اھم المراکز العلمیۃ التی ساھمت فی تاسیس المدرسۃ الحدیثیہ فی الکوفۃ
’’یقیناًمدینہ تمام مراکز علمیہ سے اہم ترین مرکز تھا ،جس کا کوفہ میں مکتب حدیث کی تشکیل میں بنیادی کردار تھا۔‘‘
۲:عراق میں قلت حدیث کا دعویٰ علم حدیث کی تاریخ کی رو سے ایک نہایت کمزور اور بے بنیاد دعویٰ ہے۔اس وقت کے مراکز علمیہ میں کوفہ،بصرہ اور بغداداہم ترین مراکز سمجھے جاتے تھے ،اور کوئی ایسا قابل ذکر محدث نہیں ملتا جس نے عراقی درسگاہوں سے فیض حاصل نہ کیا ہو۔ حدیث کی معروف کتب کے مصنفین میں سے تقریباً ہر ایک نے طلب حدیث کے لئے عراق خصوصاً کوفہ کا سفر کیا ،امام بخاری نے بخارا سے ،اما م نسائی نے خراسان سے ،امام ابو داؤد نے سجستان سے ،امام ترمذی نے ترمذ سے ،امام ابن خزیمہ نے نیشاپور سے ،مستدرک حاکم کے مصنف نے امام حاکم نے نیشابور سے اور دیگر دور دراز کے محدثین نے طلب حدیث کے لئے عراق کا سفر کیا۔ اس کے علاوہ خود عراق سے علم حدیث کے وہ آفتاب طلوع ہوئے ،جن کی علمی چمک سے اب تک علم حدیث جگمگا رہا ہے۔عبد الرحمن بن مہدی ،محمد بن سیرین ،یحییٰ بن سعید القطان ،ابو داؤد الطیالسی ،اما م احمد بن حنبل ،خطیب بغدادی ،امام دارقطنی ،یحییٰ بن معین ، عامر شعبی ،ابو اسحاق السبیعی،امام اعمش،مسعر بن کدام،منصور بن المعتمر،سفیان ثوری ،سفیان بن عیینہ، وکیع بن الجراح، یحییٰ بن آدم،ابوبکر بن ابی شیبہ،سعید بن جبیر،اور علم حدیث کے دیگر روشن ماہتاب عراقی درسگاہوں سے ہی طلوع ہوئے۔ یہ وہ حضرات ہیں ،جن کے تذکرے بغیر علم حدیث کی تاریخ نامکمل سمجھی جاتی ہے ۔ مشت از خروارے کے طور پر چند معروف نام پیش کئے ،ورنہ الطبقات الکبری کی دو جلدیں صرف عراقی حفاظ و محدثین کے تذکرے پر مشتمل ہیں جس سے عراق میں حدیث و محدثین کی کثرت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
۳۔ جن محدثین نے طلب حدیث کے لئے عراق کا سفر کیا ،ان کے تاثرات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حدیث و محدثین کی کثرت اور علمی درسگاہوں کی بہتات میں عراق کے تین بڑے شہروں ،کوفہ ،بصرہ اور بغداد کا ثانی نہیں تھا، چنانچہ سرتاج محدثین امام بخاری اپنے علمی اسفار گنواتے ہوئے فرماتے ہیں :
دخلت الی الشام و مصر و الجزیرۃ مرتین ،و الی البصرۃ اربع مرات، و اقمت بالحجاز ستۃ اعوام، ولا احصی کم دخلت کوفۃ و بغداد مع المحدثین
’’میں طلب حدیث کے لئے شام ،مصر اور جزیرہ میں دو مرتبہ گیا ،بصرہ کا چار مرتبہ چکر لگایا ،جبکہ حجاز میں چھ سال مقیم رہا ،لیکن میں شمار نہیں کر سکتا کہ محدثین کے ساتھ کتنی بار بغداد اور کوفہ گیا۔‘‘
قافلہ محدثین کے اس عظیم سالار کے اس فرمان سے کوفہ و بغدا د کی حدیث کے حوالے سے شہرت اور اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔نیز محدثین کا لفظ بتا رہا ہے کہ بغداد و کوفہ کی علمی درسگاہوں سے کسب فیض میں امام بخاری اکیلے نہیں تھے، بلکہ اطراف عالم کے محدثین کے قافلے در قافلے ان علمی مراکز سے علم کی پیاس بجھانے کے لئے بار بار چکر لگاتے رہے۔
امام ابو داؤد کے صاحبزادے عبد اللہ بن سلیمان بن الاشعث فرماتے ہیں:
دخلت الکوفۃ و اکتب عن ابی سعید الا شج الف حدیث فلما کان الشھر حصل معی ثلاثین الف حدیث
’’میں کوفہ گیا اور ہر روز ابو سعید سے ایک ہزار حدیثیں پڑح کر لکھتا تھا ،اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مہینے کے آخر میں میرے پاس تیس ہزار احادیث کا مجموعہ تیار ہوگیا۔‘‘
اما م ابوداؤد کے باکمال صاحبزادے کے اس قول سے اندازہ لگا جا سکتا ہے کہ جب صرف ایک محدث کے پاس روایات کی کثرت اتنی تھی کہ ایک مہینے میں ان سے تیس پزار احادیث حاصل کیں ،تو عراق کے بقیہ حفاظ حدیث کی حدیث دانی کا کیا عالم ہوگا۔
امام انس بن سیرین کوفہ میں حدیث کی کثرت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اتیت الکوفۃ فرایت فیھا اربعۃ الاف یطلبون الحدیث و اربع ماءۃ قد فقھوا
’’میں کوفہ آیا تو دیکھا کہ چار ہزار طالبان حدیث علم حدیث کی تحصیل میں مصروف تھے اور چار سو مکمل فقیہ بن چکے تھے۔‘‘
اسی طرح معروف محدث عفان بن مسلم فرماتے ہیں :
فقدمنا الف حدیث الکوفۃ فاقمنا اربعۃ اشھر، و لو اردنا ان نکتب الف ماءۃ حدیث لکتبنا بھا، فما کتبنا الا خمسین
’’ہم کوفہ آئے ،اور وہاں چار مہینے قیام کیا ،اگر ہم چاہتے تو اس مدت میں ایک لاکھ احادیث لکھ سکتے تھے ،لیکن ہم نے اس عرصے میں پچاس ہزار روایات لکھیں۔‘‘
اگر عراق کے صرف ایک خطے میں چار ماہ کی قلیل مدت میں طالبان حدیث ایک لاکھ تک روایات جمع کر سکتے تھے تو بقیہ خطوں کو ملا نے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ روایات و احادیث کی کثرت کا کیا عالم ہوگا؟
کیا معروف محدثین کے ان بیانات کے بعد یہ دعوی کرنا صحیح ہوگا کہ عراق میں احادیث کی قلت تھی؟عجیب بات ہے کہ عراق میں قلت حدیث کے مدعی حضرات نے اپنے اس دعوے پر دور تابعین و تبع تابعین کے کسی قابل ذکر محدث کا قول ذکر نہیں کیا ہے۔
۴۔ معاصر تحریرات میں عراق میں قلت حدیث کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ عراق مرکز اسلام یعنی حرمین شریفین سے دور تھا ،اس لئے وہاں حدیث و روایات کافی کم تعداد میں تھیں ،حالانکہ تاریخی طور پر یہ بات مسلم ہے صحابہ کی ایک کثیر تعداد نے عراق خصوصا کوفہ کو مسکن بنایا ،کیونک کوفہ شہر کو چھاونی کے طور پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑے اہتمام سے آباد کیا تھا ،حضرت عمر کے اس اہتمام اور دلچسپی کا نتیجہ تھا کہ اکابر صحابہ جوق در جوق عراق منتقل ہوتے گئے ،خلافت مرتضوی کے زمانے میں جب کوفہ مملکت اسلام کا دارلحکومت بنا ،اور کوفہ میں باب العلم حضرت علی نے دربار خلافت سجایا تو دارلحکومت ہونے کی بنا پر حرمین شریفن اور دیگر خطوں سے ایک خلق کثیر نے کوفہ میں سکونت اختیا رکی۔چنانچہ محدثین کی تصریحات کے مطابق کوفہ میں ۰۷ بدری صحابہ ،سات سو بیعت رضوان میں شریک ہونے والے اصحاب اور مجموعی طور پر تقریبا پندرہ سو صحابہ نے کوفہ کو اپنا مسکن بنایا ، صحابہ کے بعد تابعین اور تبع تابعین کی تعداد تو اس کہیں زیادہ بن جاتی ہے۔اگر اس کے ساتھ عراق کے دوسے قابل ذکر شہرو ں میں مکین صحابہ و تابعین کو شمار کر لیا جائے تو بلا شبہ یہ تعداد ہزاروں تک پہنج جاتی ہے۔چنانچہ ڈاکٹرشرف محمود محمد سلمان لکھتے ہیں:
نزل الکوفۃ عدد کبیر جدا من الصحابۃ، فقد کان جیش سعد بن ابی وقاص اربعین الفا ،و ھم الذین سکنو الکوفۃ اول ما اسست،و لا شک ان آلافا من ھولاء من الصحابۃ
’’کوفہ میں بہت بڑی تعداد میں صحابہ نے اقامت اختیار کی ،کوفہ کی تاسیس کے وقت حضرت سعد بن ابی وقاص کے جس لشکر نے سب سے پہلے یہاں سکونت اختیار کی تھی ،اس لشکر کی تعداد چالیس ہزار تھی،بلا شبہ اس لشکر میں صحابہ ہزاروں کی تعداد میں تھے۔‘‘
اور یہ بات تو یقینی ہے کہ صحا بہ کو نکال کر باقی سب تابعین یا تبع تابعین تھے۔ہزاروں کی تعداد میں صحابہ و تابعین کا عراق کو مسکن بنانے کے بعد عراق میں قلت حدیث کے دعوے کی علمی و تاریخی حیثیت اہل علم پر مخفی نہیں ہے۔
چنانچہ ان وجوہات کی بنا پر مصطفی احمد الزرقاء لکھتے ہیں :
وھذہ الحقیقۃ تتنافی مع ظن قلۃ الحدیث فی العراق
’’یہ حقیقت (عراق میں صحابہ کی کثرت)عراق میں قلت حدیث کے دعوی کے منافی ہے۔‘‘
ایک تاریخی اشکال اور اس کا جواب
اس موقع پر ایک تاریخی اشکال کا ذکر کرنا مناسب معلو م ہوتا ہے کہ مورخین کی تصریحات کے مطابق عراق میں صحابہ کی کثیر تعداد نے سکونت اختیار کی ،لیکن تواریخ اور خاص طور پر کتب رجال میں ان صحابہ کے ناموں کی اگر تحقیق کر لی جائے تو چند سو سے زیادہ نہیں ملتے ،چنانچہ اس حوالے سے الدکتور شرف محمود محمد سلیمان نے اپنے ضخیم مقالے "مدرسۃ الحدیث فی الکوفۃ " میں متعدد کتب رجال سے صرف تقریبا تین سو بیس (۳۲۰)کے قریب نام اکٹھے کیے ،اگر بغداد و بصرہ کو ساتھ شامل کر لیا جائے تو ہزار سے زیا دہ یہ تعداد نہیں بنتی ،تو صرف چند سو ناموں کی موجودگی یہ دعویٰ کرنا کہ عراق میں مقیم صحابہ کی تعدادکافی زیادہ تھی ،محل نظر ہے ؟اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ محدثین و مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی،لیکن صحابہ کے حالات پر مشتمل سب سے ضخیم کتاب "الاصابہ " میں موجود تراجم کی تعداد تقریباً بارہ ہزاردو سو ستانوے ہیں۔ باقی کتب کے اضافی تراجم کو شامل بھی کر لیا جائے تو پندرہ ہزار سے زائد تعداد نہیں بنتی۔ نیز ان کتب میں بھی صحابہ کی ایک بڑی تعداد کے بلاد سکونت و دفن کا ذکر موجود نہیں ہے۔ ان عوامل کی بنیاد پر عراق میں موجود صحابہ کے نام زیادہ نہیں ملتے ،اس لئے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ واقع میں شاید تعداد اس کے قریب قریب ہو ، درست نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ محدثین ان محدود ناموں کے باوجود عراق میں مووجود صحابہ کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ذکر کرتے ہیں۔جیسا کہ اس کی تفصیل پیچھے ذکر ہو چکی ہے۔لہٰذا محض ناموں کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ فلاں شہر میں سکونت اختیار کرنے والے صحابہ کی تعداد حقیقت میں بھی مذکور ہ ناموں کے قریب قریب ہوگی۔کیونکہ اس طرح سے تو خود صحابہ کی مجموعی تعداد صرف چند ہزار رہ جاتی ہے ،جبکہ تمام مورخین و محدثین کا اتفاق ہے کہ کم ازکم ایک لاکھ تک تو تعداد ضرور پہنچتی ہے۔
(جاری)
حواشی
* اس سلسلے میں سابقہ علمی کام:
۱۔ مدرسۃ الحدیث فی الکوفۃ، از الدکتور شرف محمود
۲۔ عصر التابعین از عبد المنعم الہاشمی
۳۔ الاتجاھات الفقھیۃ عند اصحاب الحدیث فی القرن الثالث الھجری از عبد المجید محمود
۴۔مجلہ جامعۃ الملک سعود میں الدکتور حمدان کے بعض مقالات
۵۔ الرای و اثرہ فی الفقہ الاسلامی از الدکتور ادریس جمعہ
۶۔مشہور فقیہ خلیفہ بابکرالحسن کی گرانقدرکتاب: الاجتھاد بالرای فی مدرسۃ الحجاز الفقھیۃ
۷۔ابوبکراسماعیل محمد میقا کی کتاب: الرای واثرہ فی مدرسۃ المدینۃ
’’کافر‘‘ یا ’’غیر مسلم‘‘؟ چند توضیحات
مولانا محمد تہامی بشر علوی
جو انسان حق کو جانتے بوجھتے ماننے سے انکار کر دے، وہ خدا کے ہاں ابدی جہنم جیسی سخت ترین سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔ قرآن مجید ایسے سرکشوں کا تعارف" کافرین" سے کرواتا اور ان کے انجام کی خبر ابدی جہنم کی سخت ترین سزاسے دیتا ہے۔ قرآن مجید جہاں کافر کی تعبیر اختیار کرتا ہے، ساتھ ہی اس گروہ کے بد ترین انجام کو بھی لازم مانتا ہے۔قرآن مجیدمیں کافر انہی حقیقی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس جو انسان حق کو جاننے کے بعد اسے قبول کر لیتا اوراس کے سامنے سرتسلیم خم کر جاتا ہے، اسے قرآن مجید "مومنین" سے تعبیر کرتا اور ابدی جنت کی بشارت دیتا ہے۔
تمام انسانی افراد اور گروہوں کا معاملہ مگر اتنا سادہ نہیں۔ قرآن مجید کے بیان کردہ اس واضح معیار اور انجام کے علاوہ انسانوں کی کئی سطحیں چلتی پھرتی زندگی میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ قرآن مجیدلوگوں کو خبردار کرتا ہے کہ تمہارا انجام جنت یا جہنم ہو گا۔ پھر بتاتا ہے کہ جہنم کے مستحق کافرین اور جنت کے مستحق مومنین ہوں گے۔ دو انجاموں کو سامنے رکھ کر خالص اخروی تناظر میں انسانوں کو ان دو درجوں کے سوا تقسیم کیا بھی نہیں جا سکتا۔ خدا مسلم اور کافر میں حتمی تفریق کی لکیر کل قیامت کو خود کھینچ کر رہے گا۔ کفر و اسلام یا اس کے چھوٹے بڑے مظاہر کا کامل ادراک جزا و سزا دینے کی سزاوار ہستی کے سوا کسی کو نہیں، اور وہ یقینی طور پر صرف اور صرف خدا ہی کی ہستی ہے۔اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ حقیقی کافروں کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں۔ مگر انسان" مومن "اور "کافر "کی اس معیاری سطح سے مختلف ،کئی اورسطحوں پر اتر آتا ہے۔ جس جس کو دیدہ بینا میسر ہو اسی خدا کی زمیں پر چلتی پھرتی خدا کی مخلوق کو دیکھ کر جائزہ لے سکتا ہے۔میں خودجن مسیحی، ہندو اور سکھ احباب سے ملاقات کر پایا، یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے کسی ایک میں بھی جانتے بوجھتے حق کا انکار کر جانے کی کوئی علامت مجھے محسوس نہیں ہوئی۔سکھ دوست کا حمد باری تعالیٰ کے اشعار سن کر آنسو بہہ پڑنا مجھے اب بھی یاد ہے۔میرے لیے مشکل ہے کہ اس مشاہدہ کے بعد بھی کہہ جاؤں کہ وہ حق کا جانتے بوجھتے منکر تھا۔یہ محض ایک استثنائی مثال نہ تھی ، دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے ملاقات کر پانے والے ہر جگہ اس کے مظاہر دیکھ سکتے ہیں۔ انسانوں کی ان دو معیاری (کافر اور مومن) سطحوں سے نیچے کی زندگی کی سبھی سطحوں کو جان کر عنوانات دے دینا، خدائی منصب ہی ہو سکتا ہے، یہ انسانی بساط سے نکلا ہوا کام ہے۔
البتہ ان دو سطحوں کے علاوہ عام طور پر چند اور سطحیں بھی انسانوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ خدا جب کافر و مومن کا لفظاستعمال کرتا ہے تو حقیقی اور اخروی معنوں میں ہی استعمال کر رہا ہوتا ہے۔اس تناظر میں انسانوں کی سبھی سطحوں کے تذکرہ ضروری نہیں۔ مگر مسلم قوم کو اس دنیامیں جینا اور اور اپنا امتیاز و تشخص باقی رکھنا ہوتا ہے۔ اسے بعض دنیوی احکام میں بھی مسلم و کافر کی تقسیم کرنا پڑ جاتی ہے۔مثال کے طور پرجنازہ پڑھنا، رشتے ناتے کرنا وغیرہ امور۔مگر یہ تقسیم سراسر دنیوی تقسیم سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔اس تقسیم کی بنیاد پر قیامت میں ہرگز فیصلے نہیں ہونے۔یہ معاملہ "عند الناس" کی حد تک ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے خدائی فرمان یا کوئی نص نہیں ہوتی۔ ہمارے فقہاء کے ہاں انسانوں سے متعلق احکامات کا فرق ،دو بڑی تقسیمات، کافر اور مسلم کے تحت ہی ہوا ہے۔چنانچہ ہمارے فقہاء بھی دنیوی حد تک یہی اصطلاحات استعمال کر کے انسانوں کو عمومی طور پر دو بڑے گروہوں میں تقسیم کرکے دنیوی احکامات بیان کرتے ہیں۔یہاں کافر کی تعبیراصلاً کسی کی تکفیر یا کسی کو کافر قرار دینیاور کافر ہی کہنے پر اصرار کے پیشِ نہیں بلکہ چند دنیوی احکام (نکاح، جنازہ وغیرہ )کے بیان کے لیے اختیار کر دی جاتی ہے۔گویا یہاں در اصل کافر کا اطلاق کرنانہیں بلکہ ان احکامات میں فرق بیان کرنا مقصود ہوتا ہے۔ فقہاء کی یہ تقسیم عمومی دائرے میں دنیوی احکامات کے اجراء کی غرض سے ہوتی ہے، جس کایہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ فقہی تقسیم میں کافر قرار پانے والا گروہ ابدی جہنم کا مستحق بھی ٹھہر چکا۔اس ثابت شدہ علمی حقیقت کے باوجود عام مسلم نفسیات میں یہ بات کسی طرح راسخ ہو چکی ہے کہ تمام غیر مسلم، کافر اور ابدی جہنم کے مستحق ہیں۔اگرمذہبی لحاظ سے افراد اور گروہوں میں واقع یہ دنیوی فرق ، عمومی تقسیم میں "کافر" اور "مسلم" کے علاوہ کسی اور موزوں تعبیر کے تحت بیان کر دیا جائے تو اصلاً اس میں کوئی مانع نہیں۔
مسلم کی تعبیر میں تو کوئی قباحت یا حرج نہیں تاہم "کافر" کا اطلاق اس طرح کا سادہ معاملہ نہیں۔
منافق:
نزول وحی کے زمانے میں کچھ لوگ اس سطح کے بھی پائے گئے جو دل میں کفر اور ظاہر میں اسلام لیے پھرتے تھے۔ وہ چو ں کہ اپنی اصل میں کافر ہی تھے سو انجام کے لحاظ سے ابدی جہنم کے مستحق ہی ٹھہرے۔ اس ظاہر وباطن کی دوئی نے انہیں کفار کی بدترین قسم تک بنا ڈالا، مگر دنیوی احکام کا اجراء حقیقی کفر یا حقیقی اسلام پر موقوف نہیں ،سو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ظاہری حالت اسلام کے موافق پا کر کافر اور مسلم کی دو بڑی تقسیمات میں مسلم گروہ میں ہی شمار کیا۔ چنانچہ حقیقت میں کافر ہونے کے باوجود ان سے اسلامی مراسم ہی رکھے جاتے رہے۔ حتی کہ صحابہ کو سارے منافقین کی خبر تک نہ کی گئی۔ سو صحابہ منافقین کو مسلمان سمجھ کر ان کے جنازے تک پڑھتے رہے۔ قرآن مجید اس گروہ کو منافقین سے تعبیر کرتا ہے۔ منافقین اخروی لحاظ سے کافر اور دنیوی لحاظ سے مسلم ت?ے۔ مگر ان کی سطح کافر اور مسلم کی معیاری سطح سے الگ تھی، سو انہیں مسلم اور کافر کے سوا ایک الگ عنوان "منافقین" کا بھی دیا گیا۔ مگر یہ عنوان اس منافقانہ روش اور اس کے انجام سے خبردار کرنے کی خاطر اپنانا پڑا۔ دنیوی تقسیم میں منافقین کو الگ گروہ شمار کرنے کی بجائے مسلم گروہ کا ہی حصہ سمجھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء کفار و مسلمانوں کے دنیوی احکام توبیان کریں گے ،مگر قرآن میں ذکر کیے گئے منافقین کے گروہ کے الگ سے احکام ذکر نہیں فرماتے۔
نکتہ: رسالت مآب کے دور میں حقیقی کافر اور دنیوی کافر کا مصداق ایک ہی تھا، سو وہاں بلا تردد کافر کی اصطلاح دنیوی لحاظ سے بھی برتی جا سکتی تھی۔ مگر فقہاء کے ہاں یہ تقسیم حقیقی نہیں، محض دنیوی حد تک ہے۔دنیوی احکامات میں منافقین کے لیے الگ سے کوئی احکامات نہ پا کر فقہاء نے انسانوں کی دنیوی تقسیم میں منافقین کی تعیین و تذکرہ نہیں کیا۔ اب کوئی ذہین دماغ یہ نتیجہ نہ اخذ کر بیٹھے کہ فقہاء کے ہاں منافقین "ڈائنوسار" بن گئے کہ اب پائے ہی نہیں جاتے۔ خوب سمجھ لینا چاہیے کہ منافقین" ناپید " ہو کر "ڈائنوسار" نہیں بن گئے، وہ بلاشبہہ آج بھی ہوں گے، پر مگر ان کی تعیین انسانی بساط سے باہر کا کام ہے۔ہم انذار کے درجہ میں آج بھی نفاق کو بیان اور اور اس سے بچنے کو بار بار کہہ سکتے ہیں۔ نفاق کی علامات بیان کر سکتے ہیں۔ مگر چوں کہ دنیوی تقسیم میں منافقین کے گروہ کو مشخص کر لینا ضروری نہیں، اس لیے نفاق کی ظاہری علامات کے پائے جانے کے باوجود منافقین کو الگ مشخص اور متعین نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں خدائی خبر کے بعد امت کی تاریخ اس سے خالی ہے کہ سوسائٹی میں باقاعدہ کسی گروہ کو منافقین کا گروہ قرار دے دیا گیا ہو۔ منافق کی دنیوی تعین ضروری نہ تھی سو معاملہ اخروی تقسیم کا بن کر خدا کے سپرد ہو گیا۔ سو وہاں کی تقسیم خالص خدائی اختیار ہو گا کہ اس قدر محیط علم اسی ہستی کا ہے۔ اخروی انجام میں یہ گروہ کافر ہی ہو گا۔ یہی نکتہ نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ کہا گیا کہ اسلام کے ابتدائی دور کے بعد منافقین ناپید ہونا شروع ہو گئے تھے، بلکہ" ڈائنوسار بن" گئے کہ بعد کا زمانہ منافقین کی تعیین سے خالی گزرا۔ کسی بات کو اصل تناظر سے ہٹا لینا اس طرح کے نتائج کے سوا پیدا بھی کیاکر سکتا ہے۔
غیر مسلم:
فقہاء کی عمومی دنیوی تقسیم میں کافر گروہ میں شمار کیا جانے والا طبقہ اخروی اعتبار سے بھی کافر اور ابدی جہنم کا مستحق نہ تھا۔ یہ تقسیم اصلاً دنیوی احکام کے اجراء کے پیش نظر کی گئی تھی۔ اس گروہ میں ایسے افراد بھی ہیں جو اسلام سے واقف ہی نہیں، ایسے بھی ہیں جو واقف ہیں مگر اس پر غور نہ کر سکے، ایسے بھی ہیں جو اسلام کو سچا مذہب مانتے ہیں ،مگر کہتے ہیں کہ اسلام مسلمانوں کا مذہب ہے ہندووں یا سکھوں کو ماننا ضروری نہیں۔ ہر قوم کا اپنا اپنا مذہب ہوتا ہے۔سارے مذاہب سچے ہیں مگر پیروی اپنے مذہب کی کی جانی چاہیے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے مسلمانوں کے داخلی مذاہب میں لوگ کہتے ہیں کہ شافعی مذہب برحق ہے پر پیروی اپنے امام کی۔یوں وہ حق مان کر بھی نہ قبول کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں کہ ایک دوسرا حق "حنفیت" ان کے پاس ہوتا ہے۔ یوں عالمی مذاہب کی سطح پر بھی یہ خیال بڑی تعداد میں لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ مذاہب سارے سچے اور برحق ہیں مگر ہر قوماپنے مذہب کی پیروی کرے۔ یہ خیال بلاشبہ غلط ہے مگر ایسا کہنے والے کی طرف جانتے بوجھتے حق کے انکار کرجانے کی نسبت نہیں کی جا سکتی، جبکہ کافر اسم کا احقیقی مسمیٰ جانتے بوجھتے انکار کر جانے والے ہی ہوتے ہیں۔
المختصر مختلف انسانوں سے ملاقات کا تجربہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ ایسے افراد کم ہیں جن کے بارے میں یہ گمان کیا جا سکے کہ وہ جانتے بوجھتے حق کو نہیں مان رہے۔ اس پر مستزادپھر ان لوگوں کا اپنے لیے کافر لفظ کے استعمال سے نفرت کرنا بھی ہے۔جب واضح ہو چکا کہ دنیوی احکام کے فرق کے بیان کی خاطر مجبواراً یہ کافر کی تعبیر اختیار کر جانی پڑی، اب جب یہ کافر کا لفظ حقیقی معنوں میں بھی نہیں بولا جا ررہا، دیگر مذاہب کے ماننے والوں کوپسند نہیں کہ لوگ انہیں کافر کہا کریں، تو احکام کے فرق کی خاطر کسی اور موزوں تعبیر کو اختیار کیا جانا چاہیے۔ قرآن مجید بھی کفار کے ایک گروہ سے متعلق احکامات"اہل کتاب" ہی کے عنوان سے بیا ن کرتا ہے۔ان کے کافر ہونے کے باوجود قرآن کو انہیں کافر ہی کہنے پر اصرار نہیں۔ چنانچہ ہمارے فقہاء کا کہنا ہے کہ ذمی کو کافر کہہ کر پکارنے پر مسلمان کو تعزیری سزا دی جائے گی۔ جب دنیوی احکام کا اجراء ذمی کا عنوان دے کرممکن ہو جائے تو اسے کافر کہہ کر چڑانے پر اصرار ہرگز کوئی دینی مطالبہ نہیں، بلکہ فقہاء کے ہاں قابل تعزیر جرم ہے۔ پاکستان مین ہمارے علماء نے آئین کی شق میں سے " کافر" لفظ ہٹا کر "غیر مسلم" کی تعبیر اپنائی تو ہمارے نزدیک یہ ایک مستحسن عمل تھا۔اب تازہ درپیش صورت حال اور مشکلات کے پیش نظر انسانوں کی دنیوی تقسیم کافر کے علاوہ کسی موزوں عنوان کے تحت کر دینا ممنوع نہیں۔ہمیں چاہیے کہ" آئین پاکستان "میں علماء کے اختیار کیے گئے عنوان پر سنجیدگی سے غور کریں اور اس کی افادیت سمجھنے کی کوشش کریں۔
دنیوی احکام میں فرق کے بیان کی خاطر کافر لفظ کا اطلاق ہی ضروری نہیں۔ مسلم قوم کے الگ تشخص اور دنیوی احکام کے اجراء کے لیے غیر مسلم کا عنوان کافی اور موزوں ترین ہے، عہد رسالت میں چوں کہ دنیوی اور حقیقی کافر کا مصداق خارج میں ایک ہی تھا سو اس دور پر آج کی صورتِ حال کو قیاس کیا جانا درست نہیں۔ ایسا ممکن ہے کہ مسلم گروہ میں منافقین فاسقین بھی پائے جائیں اور غیر مسلم گروہ میں کافرین بھی موجود ہوں۔مگر دنیا میں ہم پر یہ فرق واضح ہو جانا بالکل بھی ضروری نہیں۔ انسانوں میں یہ حقیقی تفریق انسانی بساط سے باہر کا معاملہ ہے، سرے سے اس کا مکلف ہی نہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ کافر ناپید ہو گئے، ہم نفاق اور اس کے انجام کی طرح کفر اور اس کے انجام سے لوگوں کو خبر دار کرتے رہیں گے، اس مقصد کے لیے کافر اور منافق کا حقیقی اطلاق دنیا میں ہی ہو جانا یا اس کا انسانی بساط میں ہو جانا ضروری نہیں۔ "کافر کا آج بھی موجودہونا" ممکن ہے، یہ بالکل الگ بات ہے، اور "کافر کے موجود ہونے کا معلوم بھی ہو جانا" یہ دوسری بات ہے۔ دونوں باتوں کو ایک سمجھ کر "کافر" کے ناپید ہونے کی خبر سنانا درست نہیں۔کافر لفظ ہی کے اطلاق پر اصرار اور بھی محل نظر ہو جاتا ہے جبکہ کوئی گروہ اس عنوان کو اپنے لیے پسند نہ کرتا ہو۔ جب انسانوں کی دنیوی تقسیم ہے ہی دنیوی مصلحت کی خاطر تو کیوں اخروی انجام کے پیش نظر استعمال کی گئی اصطلاحات پر اصرار بڑھا دیا جائے، اوردنیوی مصلحت نظر انداز کر دی جائے؟
ایک سوال کا جواب
بعض ذی علم ناقدین کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ قرآن مجید میں ابتداء میں نازل ہونے والی سورہ "المدثر" میں، اتمام حجت سے قبل ہی اسلام نہ لانے والوں کو کافر قرار دیا جا چکا تھا، (فذلک یومئذ یوم عسیر ، علی الکافرین غیر یسیر) جو اس بات کی کافی دلیل ہے کہ" غیر مسلم" کو کافر قرار دینا درست ہے۔ اوریہ کہنا درست نہیں کہ کسی کو "کافر "قرار دینے کے لیے اتمامِ حجت ضروری ہے۔ سادہ لفظوں میں فاضل ناقدین کے تصور کے مطابق" کافر" کے اطلاق کے لیے " جانتے بوجھتے اسلام کا انکار" ضروری نہیں، بلکہ "مسلم گروہ " میں شامل نہ ہونا ہی "کافر" قرار دینے کے لیے کافی ہے۔
اس اعتراض میں کن امور کو خلط کر دیا گیا، اس کا جائزہ جواب میں لیا جاتا ہے۔یہاں چند بنیادی نکات کو پیش نظر رکھنا تفہیم مدعا کے لیے ضروری ہے۔
اتمام حجت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی فرد پر حق پوری طرح واضح ہو جائے۔ حق کے پوری طرح واضح ہونے کے مختلف داخلی اور خارجی ذرائع ہو سکتے ہیں۔ جس پر کسی بھی طریقہ سے حق واضح ہو گیا، اس پر اتمام حجت ہو گیا۔ اتمام حجت کے بعد جس نے حق قبول کر لیا، وہ مسلم اور جس نے انکار کیا، وہ کافر ہے۔ اتمام حجت کے بعد کفر و اسلام کی سزا و جزا اصلاً تو آخرت میں ملنی ہے، مگر اتمام حجت اگر رسول کے ذریعہ سے ہوا ہو تو ان منکرین پر اخروی سزا کی ایک جھلک دنیا میں بھی ظاہر کر دی جاتی ہے۔
سورہ المدثر کی آیات میں کسی گروہ کو "کافر قراردے کر" اس کاحکم نہیں بیان کیا جا رہا "بلکہ کفر اختیار کرنے کی صورت میں "یہ انذار عام کیا جا رہا ہے کہ ایک دن آنے والا ہے جو کافروں کے لیے سخت ثابت ہو گا۔ اس عمومی انذار کے وقت کہے گئے "کافرین " کے مصداق کا اس وقت مفقود ہونا گوکلام کی صحت کو مانع نہ تھا، مگر واقعہ یہ ہے کہ خارج میں مصداق بھی موجود تھا۔
مثال اس کی ایسے ہے جیسے کلاس میں استاد طلبہ سے یہ کہے کہ "امتحان آنے والا ہے، نہ پڑھنے والے اس دن ناکام ہو جائیں گے"۔ اس جملے کا مطلب یہ نہیں کہ کلاس کے کچھ طلبہ کو "نہ پڑھنے والا" ثابت کیا جا رہا ہے۔"نہ پڑھنے والوں" کا مصداق مفقود ہواور ساری کلاس ہی پڑھنے والی ہو، پھر بھی یہ جملہ اپنے مقصد کے پیش نظربرمحل اور درست قرار پائے گا۔مگر مصداق کا موجود ہونا بھی اس طرح کلام کرنے سے مانع نہیں۔اس بات کا امکان بھی ہے کہ کلاس میں "نہ پڑھنے" والے موجود ہوں۔ یوں ایک عمومی طور پر کہی گئی بات ان "نہ پڑھنے والوں" کے لیے خصوصی بھی بن جائے گی۔ لیکن کلام کا محل یہ نہیں ہو گا کہ "استاذ نے ناکام ہونے والے چار لڑکوں کو نہ پڑھنے والا قرار دیا"، بلکہ درست محل یہ ہو گا کہ "استاد نے نہ پڑھنے والوں کو ناکام قرار دیا، اور چار لڑکے نہ پڑھنے والے نکلے"۔ پہلی صورت میں کلام کے برمحل ہونے کے لیے "نہ پڑھنے والوں کا خارج میں موجود" ہونا ضروری ہے۔ جبکہ دوسری صورت میں "نہ پڑھنے والوں کا موجود ہوناضروری نہیں"۔
"المدثر "میں کلام کا محل یہی دوسری صورت ہے کہ جو منکر ہوں گے، قیامت کو ناکام ہوں گے۔ ابتدائی عمومی آیات کے بعد اس سے اگلی آیات میں بعض مفسرین بطور خاص ولیدبن مغیرہ کو مراد لیتے ہیں۔ قرآن مجید کے بیان کے مطابق وہ پروردگار کی آیات سے عناد رکھتا تھا۔
یہ ایسے ہی ہے کہ عمومی انذارکی خاطر کہے گئے "کافرین" کا ایک خصوصی مصداق بھی میسر آگیا اور اس مصداق سے باخبر ذات نے بتا دیا کہ کافرین کو جس انجام سے ڈرایا گیا، اس کا مصداق ولید بھی ہے۔ جب "ولید کا کافر ہونا" اور "اس کے کافر ہونے کا علم ہو جانا" ثابت ہو گیا تو اسے "کافر کا مصداق کہناکسی طرح غلط نہیں"۔ ولید کا معاملہ آیات سے واضح ہے کہ اس کا جانتے بوجھتے حق کا انکار کرنا پوری طرح ثابت ہو چکا تھا۔ خدا نے اسے کفر اختیار کیے بغیر ہرگز کافر قرار نہیں دیا۔ولید کی سرکشی کے احوال جان لینے کے بعد اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ قرآن مجید میں اتمامِ حجت کے بغیر بھی غیر مسلموں کو کافر قرار دینا روا رکھا گیا ہے۔اگر کوئی صاحب علم ہر غیر مسلم پر "کافر" کا اطلاق روا رکھے گا تو یہ اس کا اجتہادی فیصلہ تو ہو سکتا ہے جس سے اختلاف کی گنجائش بہرحال باقی رہے گی، تاہم یہ اطلاق اس نوعیت کا نہیں کہ کوئی آیت اس کی تائید میں پیش کی جا سکے یا اسے کوئی منصوص مسئلہ باور کیا جا سکے۔
مدعا کی مزید تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ تکفیر، اتمام حجت اورکفر کی دنیوی سزا کے مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔
جس پر جب بھی کسی بھی طریقے سے حق واضح ہو گیا، پھر وہ انکار کرے تو کافر ہو جاتا ہے۔ کافر ہو جانے کے لیے ، جانتے بوجھتے حق کا انکارکر دینا کافی ہے۔البتہ کس نے جانتے بوجھتے انکار کیا، اس کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں۔ اس لیے علم کے بغیر کافر کہنے سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔خدا کو چوں کہ علم ہے سو وہ جب بھی کوئی جانتے بوجھتے انکار کرے، اسے کافر کہہ سکتا ہے۔ گویا"کسی کا کافر ہوجانا" اور بات ہے اور " کسی کے کافر ہو جانے کا علم ہو جانا" اور بات ہے۔ جس کے کافر ہو جانے کا جسے علم ہو جائے ،وہ کافر کہہ بھی سکتا ہے۔اٹھائے گئے سوال میں "کافر ہو جانے" کی سطح کے "اتمام حجت" کو اور "دنیا میں خدائی سزا" کے مستحق بن جانے کے درجے کے "اتمام حجت" کو ایک سمجھ لیا گیا ہے۔ جبکہ اول عام اور ثانی رسولوں کے ساتھ خاص ہے۔
خلاصہ کلام
- اتمام حجت کے بغیر قرآن میں کسی کو کافر نہیں کہا گیا۔
- اتمام حجت کے مختلف ذرائع ہیں، کسی بھی ذریعے سے حق واضح ہو جائے تو اتمام حجت ہو جاتا ہے، اس کے بعد حق کا انکار کفر ہے۔
- کافر ہونے کے لیے حق کا جانتے بوجھتے انکار کرلینا کافی ہے۔رسول کا براہ راست مخاطب ہونا ضروری نہیں۔
- "کافر کہنے" کے لیے "کافر ہو جانے کا علم ہو جانا" ضروری ہے۔
- اتمام حجت رسولوں کے ذریعہ ہو جائے تو خدا کفر کی اخروی سزا کی ایک جھلک دنیا میں بھی ظاہر کر دیتا ہے۔
- کافر کا وجود اب بھی نایاب یا ناپید نہیں، جیسا کہ غلط فہمی سے یہ کہا جا رہا ہے۔بس اتنا ہے کہ اب پیغمبر کے بعد حتمی طور پر اس کے وجود کی خبر انسانوں کو ہو جانے کی خود اس کافر کے اقرار کے سواکوئی صورت نہیں۔ کوئی خود یہ اقرار کر دے کہ میں جانتے بوجھتے حق کا انکار کر رہا ہوں تو اسے آج بی بلا تردد کافر کہا جا سکتا ہے۔
- کافر کہنے سے اجتناب اس لیے برتا جاتا ہے کہ جسے کافر کہا جا رہا اس کا کہنا ہے کہ وہ جانتے بوجھتے حق کا انکار نہیں کر رہا، بلکہ جس چیز کو حق سمجھ رہا ہے، اسی سے وابستہ ہے۔اور وہ خود کے لیے کافر کا لقب پسند بھی نہیں کرتا۔
یہ نکتہ آفرینی بھی درست نہیں کہ جب کفر دل کا معاملہ ہوا تو ایمان بھی دل ہی کا معاملہ ہے۔ جب کسی کو کافر کہنا ممکن نہیں تو مسلم کہنا کیسے ممکن ہوا؟ کسی کاکفر و اسلام خدا جانے، ہمیں کسی کو کافر کہنا چاہیے نہ مسلم۔
یہ بات تو درست ہے کہ کفر و اسلام حقیقت میں دلی معاملات ہیں، جو خدا کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ مگر دنیوی ضرورت کے پیش نظرکافر و مسلم کا دنیوی فیصلہ کچھ اس کے سوا ہے۔ دنیا میں ظاہری نسبت و اعتراف ملحوظ رکھا جائے گا۔ مسلم کو مسلم اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ خود اس کا اعتراف کرتا ہے۔ اگر وہ اعتراف میں جھوٹا ہے تو منافق ہے جوآخرت کے لحاظر سے کافر اور دنیوی لحاظ سے مسلم ہی سمجھا جائے گا۔رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ کافر کہنے سے گریز کا اس لیے کہاجاتا ہے کہ نہ خدا نے اس کے کفر کی کوئی خبر دی نہ اس نے خود کفر کا اعتراف کیا۔الٹا اس کا کہنا یہ ہے کہ وہ جس چیز کو حق سمجھ رہا ہے، اسے قبول کر رکھا ہے۔ اس صورت میں یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ بندہ جانتے بوجھتے حق کا انکار کر رہا ہے؟ہمارے فقہاء کسی گرو یا فرد کو کافر قرار دیتے ہیں تو اس کا منشاء بھی محض دنیوی احکام کا اجراء ہی ہوتا ہے۔اخروی تناظر میں وہ بھی تکفیر نہیں کرتے، اور نہ ہی یہ خدا کے سوا کسی کی یہ ہستی ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے۔
جب دنیا میں کافر کا اطلاق محض دنیوی احکام میں فرق کی مصلحت کی خاطرکیا جاتا ہے۔تویہ مقصد اگرکسی اور موزوں تعبیر سے حاصل ہو پائے تو دین میں ممنوع نہیں۔ ہمارے نزدیک دیگر مذاہب والوں کو ان کے مذاہب کی نسبت "مسیحی، ہندو وغیرہ"سے تعبیر کرنا یا عمومی تقسیم میں مسلمانوں کے علاوہ کو "غیر مسلم" کا عنوان دے دینا زیادہ موزوں ہے۔دنیا میں کافر اور مسلم کی تقسیم کا مفاد مسلم قوم کے الگ تشخص کو قائم رکھنا ہے اور یہ مقصد ’’غیر مسلم‘‘ کی تعبیر سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مذہبی فرقہ واریت کا سد باب۔ توجہ طلب پہلو
محمد عمار خان ناصر
قراقرم یونیورسٹی میں دو روزہ ورک شاپ
محمد عمار خان ناصر
مکاتیب
ادارہ
(۱)
مولانا زاہد الراشدی صاحب وہ شخصیت ہیں جن کو پڑھ کر دین جاننے اور مزید جاننے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ میں نے ان کی تحاریر سے بہت کچھ سیکھا۔ تاہم، ان کے ایک موقف سے کچھ اختلاف پیدا ہوا ہے جو اہل علم و نظر کی خدمت میں برائے غور و فکر اور برائے نقد پیش کیا جاتا ہے۔
مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنا یہ خیال کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ قرآن کو اللہ کا کلام تسلیم کرنے کے لیے بھی پہلے حدیث کو ماننا ضروری ہے۔ قرآن کا قرآن ہونا بھی تب ہی ثابت ہوتا ہے کہ حدیث میں اسے اللہ کی کتاب بتایا گیا ہے۔ مثال بیان کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ سورۃ الکوثر کو قرآن کا حصہ بھی اس لیے تسلیم کیا گیا ہے کہ حدیث اس کو قرآن کا حصہ بتاتی ہے۔ اس لیے قرآن سے پہلے حدیث کا ماننا ضروری ہے۔ حدیث سے مراد جیسا کہ مولانا کی دی ہوئی مثال سے معلوم ہوتا ہے، خبر واحد ہے۔ یعنی قرآن اپنی تصدیق میں خبر واحد کا محتاج ہے۔
مولانا کا یہ موقف درست معلوم نہیں ہوتا۔ یہ تو بدیہی بات ہے کہ قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ملا ہے اور آپ کی تصدیق سے ہی ہم نے اس کلام کو خدا کا کلام مانا ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اس کی ترسیل صحابہ کے ذریعے ہی ہوئی ہے، لیکن ایک بڑے فرق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہونے والی تعلیمات صحابہ کے ذریعے ابلاغ کی دو نوعیتوں کے ساتھ ہم تک پہنچی ہیں، یعنی تواتر اور خبر واحد کے ذریعے۔ دین اور ضروریاتِ دین کا ابلاغ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تواتر کے طریقے پر اس طرح فرمایا ہے کہ اس کا ثبوت ایک یا چند یا بہت سے اشخاص کے بیان کا محتاج نہیں رہا۔ پورے کا پورا طبقہ صحابہ اس کا مبلغ اور راوی ہے۔ یہ تواتر علمی بھی ہے اور عملی بھی۔ علمی تواتر صرف قرآن کی محفوظ شکل میں منتقل ہوا ہے اور عملی تواتر صرف متواتر سنن کے ذریعے منتقل ہوا ہے۔ یہ تواتر پوری ایک نسل سے دوسرے نسلوں کو منتقل ہوتا چلا آیاہے۔ قرآن کا بھی یہی معاملہ ہے۔ یہ اسی لیے قطعی الثبوت ہے اور اس کے قطعی الثبوت ہونے کے لیے خبر واحد سے تصدیق نہیں کرائی جاتی۔ خبر واحد ظنی الثبوت ہوتی ہے۔ ظنی الثبوت وسیلے سے قرآن کے قطعی الثبوت ہونے کو کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے؟
بالفرض ایسا مان بھی لیا جائے کہ قرآن اپنی تصدیق کے لیے خبرواحد کا محتاج ہے تو بتایا جائے کہ قرآن کی ہر ہرآیت اور ہر ہر سورہ کے پیچھے کون کون سی اخبار احاد ہیں جس کی بنا پر ان آیات اور سور کو خدا کاکلام تسلیم کیا گیاہے؟ او ر کیا پھر ان اخبارِ آحاد پر نقد و جرح کی صورت میں جو احتمالات در آئیں گے، ان کی بنا پر ان میں بیان کر دہ آیات اور سور کو قرآن کا حصہ تسلیم کرنے میں ظنیت در نہیں آئے گی؟ یعنی قرآن ظنی الثبوت ہو جائے گا۔ نیز کیا قرآن کی آیات اور سور کو بیان کرنے والی اخبارِ آحاد سے مکمل قرآن اخذ کیا جا سکتا ہے؟ نیز کیا قرآن کی ترتیب توقیفی کا ثبوت بھی خبرواحد کا محتاج ہے؟ اگر ہے تو کیا ثابت کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کی ہر ہر آیت اور سورہ کی متعین جگہ کس کس خبرواحد کی روشنی میں متعین کی گئی ہے؟
امید ہے ایک طالب علم کی گزارشات پر توجہ فرمائی جائے گی۔
ڈاکٹر عرفان شہزاد، اسلام آباد
(۲)
اظہار براء ت بسلسلہ ’’تذکرہ مولانا محمد نافع‘‘ مولفہ حافظ عبد الجبار سلفی
حضرت مولانا محمد نافع (جامعہ محمدی شریف چنیوٹ) کی تمام تالیفات اور تحریرات اس امر کا زندہ ثبوت ہیں کہ دوسرے مسالک کے علماء کرام اور نظریاتی مخالفین سے علمی اختلاف کے باوجود ان کی تحقیر یا ذات کو ہدف تنقید بنانا آپ کے مزاج اور اسلوب تحریر میں شامل نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فاضل مولف جناب حافظ عبد الجبار سلفی نے بعض تحریروں میں علماء پر غیر ضروری تنقید لکھی جس کی وجہ سے پہلی ہی ملاقات میں ان کی اس روش اور عادت پر سرزنش اور سخت لہجہ میں تنبیہ فرمائی۔
فاضل مولف مذکور نے جب ’’تذکرہ مولانا محمد نافع‘‘ مرتب کیا تو اس میں بہت ساری قابل اعتراض وغیر ضروری چیزوں کے علاوہ اپنی دیرینہ عادت کے مطابق کئی زندہ اور مرحوم علماء اور شرفاء کو بلا ضرورت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی ذاتیات پر کیچڑ اچھالا۔ موصوف سے درخواست کی گئی کہ اس طرح کی چیزوں کو تذکرہ میں شامل نہ کریں تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ دوسرے یہ روش صاحب تذکرہ کے مزاج اور اسلوب تحریر سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ اس کے باوجود ’’تذکرہ مولانا محمد نافع‘‘ ہماری اجازت اور رضامندی کے بغیر ادارہ مظہر التحقیق لاہور سے من وعن شائع کر دیا گیا، اس لیے مولانا محمد نافع کا وارث اور بیٹا ہونے کی حیثیت سے میں تذکرہ میں موجود اس طرح کے مندرجات سے اظہار براء ت اور اعلان لا تعلقی کرتا ہوں۔
غلام ابوبکر صدیقی بن حضرت مولانا محمد نافع ؒ
سیکرٹری مالیات رحماء بینہم ویلفیئر ٹرسٹ، جامعہ محمدی شریف چنیوٹ
’’توضیحی اشاریہ تفسیر تدبر قرآن‘‘
ادارہ
مرتب: منظور حسین عباسی۔
صفحات: ۷۴۲ ۔
ناشر: فاران فاؤنڈیشن، لاہور (04236303244)
مولانا امین احسن اصلاحیؒ کی تصنیف ’’تدبر قرآن‘‘ نہ صرف عہد حاضر کا ایک مایہ ناز علمی شاہکار ہے، بلکہ پورے تفسیری ادب میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب قرآن مجید پر مولانا حمید الدین فراہی اور مولانا اصلاحی کے کم وبیش پون صدی کے غور وفکر اور تدبر کا حاصل ہے اور بلاشبہ اسے قرآنی علوم ومعارف کا ایک جامع انسائیکلو پیڈیا قرار دیا جا سکتا ہے۔ قرآنی مفردات کی تحقیق، بلاغت کے اسرار ورموز، کلام الٰہی کے داخلی نظم کی تشریح وتفصیل، قرآن کے پیش کردہ دینی تصورات کی حکیمانہ وضاحت، سابقہ الہامی کتابوں کے ساتھ قرآنی بیانات کے تقابل، تفسیری وعلمی اشکالات پر ارتکاز، غرض تفسیر قرآن سے متعلق ہر ہر پہلو سے اس کتاب کی اپنی ایک انفرادی شان ہے جو قرآن کے کسی سنجیدہ طالب علم کو اس سے مستغنی نہیں رہنے دیتی۔
ضرورت تھی کہ اس گراں قدر ذخیرے میں بکھری ہوئی تحقیقات تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے اس کا کوئی موضوعاتی اشاریہ مرتب کیا جائے۔ اس ضمن میں بعض ابتدائی اور جزوی کاوشیں اس سے پہلے بھی کی گئی ہیں، تاہم منظور حسین عباسی صاحب کی زیر نظر کاوش کو شاید پہلی جامع اور معیاری کوشش کہا جا سکتا ہے۔ مرتب نے بیس کے قریب الگ الگ عنوانات کے تحت صاحب تدبر قرآن کی تحقیقات وافادات کو موضوعاتی اعتبار سے مرتب کیا ہے، مثلاً: اسالیب کلام الٰہی، الفاظ وترکیبات، سنن الٰہیہ، اماکن، تحریفات تورات، شخصیات واقوام، فقہی اشارات، مشکلات قرآن، نظام القرآن، نقطہ نظر وغیرہ۔ آخری عنوان کے تحت چار سو کے لگ بھگ ان مقامات کی نشان دہی کی گئی ہے جس میں مولانا اصلاحی نے قرآنی مدعا کی تفہیم میں عام مفسرین یا اپنے استاذ مولانا فراہی سے مختلف نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ اس اشاریے کے دائرے میں ان کے علاوہ بھی کئی مزید موضوعات کو شامل کیا جا سکتا ہے، مثلاً علوم القرآن سے متعلق مباحث، قرآنی بلاغت کی وضاحت، جدید ذہن کے سوالات واشکالات اور حکمت دین کے مختلف پہلووں کی وضاحت۔
بہرحال مرتب اس غیر معمولی خدمت پر مبارک باد کے مستحق ہیں اور امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ’’تدبر قرآن‘‘ سے استفادہ کو سہل تر بنانے کے لیے اس نوعیت کے مزید کاموں کی طرف بھی متوجہ ہوں گے۔
(مدیر مسؤل)