پاک بھارت تعلقات اور اقبال و جناح کا زاویہ نظر / عرب ایران تنازع۔ تاریخی وتہذیبی تناظر اور ہوش مندی کی راہ / مولانا محمد بشیر سیالکوٹی ؒ کا انتقال
محمد عمار خان ناصر
انگریزی دور اقتدار میں برصغیر کی اقوام جمہوریت کے جدید مغربی تصور سے روشناس ہوئیں اور برطانوی حکمرانوں نے اسی تصور کے تحت ہندوستان کے سیاسی نظام کی تشکیل نو کے لیے اقدامات کا آغاز کیا تو یہاں کی دو بڑی قوموں یعنی ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین باہمی بے اعتمادی کی وجہ سے اپنے سیاسی اور اقتصادی حقوق کی حفاظت کے حوالے سے کشمکش اور تناؤ کی صورت حال پیدا ہو گئی جس نے آگے چل کر ایک باقاعدہ قومی تنازع کی شکل اختیار کر لی۔ اس صورت حال کے تجزیے اور ممکنہ حل کی تجویز میں مسلمان قیادت بھی باہم مختلف الرائے ہو گئی۔ ایک گروہ نے ہندوستان میں بسنے والی تمام اقوام کے لیے متحدہ قومیت کے تصور کی تائید کی اور اس بات پر زور دیا کہ تمام قومیں اور خاص طور پر ہندو اور مسلمان اپنے لیے ایک مشترک سیاسی مستقبل کے خط وخال متعین کریں اور مشترکہ سیاسی جدوجہد کے ذریعے سے ہندوستانی قوم کو سیاسی خود مختاری یا آزادی کی منزل سے ہم کنار کریں۔ تاہم مسلم لیگ کی قیادت، کانگریس کے موقف، طرز سیاست اور رویے سے بوجوہ مطمئن نہ ہو سکی اور اس نے مسلم قومیت کی بنیاد پر اپنی سیاسی جدوجہد کو منظم کیا جس کا بنیادی مطالبہ آگے چل کر ہندوستان کی تقسیم قرار پایا۔ مسلم لیگی قیادت اس مطالبے کے جواز پر مسلمان عوام کی اکثریت کو قائل کرنے میں کامیاب رہی اور ۱۹۴۷ء میں قیام پاکستان کی صورت میں تقسیم ہند کے تصور نے ایک عملی حقیقت کا درجہ اختیار کر لیا۔
یہاں یہ نکتہ یاد رکھنا بہت اہم ہے کہ مسلم قائدین کا یہ اختلاف اس حوالے سے نہیں تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین مذہبی اختلاف یا ماضی کی تلخیوں کی بنیاد پر کشمکش اور تصادم کی صورت حال کا قائم رہنا مطلوب یا ضروری ہے یا کسی بھی حوالے سے اس خطے کے سیاسی یا معاشی مفادات کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ اس بات پر دونوں فریق متفق تھے کہ خطے اور اس میں بسنے والی قوموں کے مابین باہمی تعاون کی فضا ہی خطے کے مجموعی مفاد کے لیے ناگزیر ہے۔ اختلاف اس پر تھا کہ تعاون اور موافقت کی یہ فضا آیا ایک ہی ملک میں اکٹھے رہتے ہوئے پیدا کی جا سکتی ہے یا اس کے لیے ملک کی سیاسی تقسیم کا طریقہ زیادہ حقیقت پسندانہ اور عملی ہے۔ مسلم لیگ دوسرے نقطہ نظر کی قائل تھی اور دراصل تقسیم ہند کے مطالبے کی بنیاد ہی یہ نکتہ تھا کہ اس فیصلے سے دونوں قوموں کے باہمی تنازعات کا ایک مستقل حل نکل آئے گا اور اس کے بعد دونوں قومیں دوستی اور تعاون کی فضا میں خطے کی مجموعی ترقی کے لیے جدوجہد کر سکیں گی۔
اس حوالے سے مسلمانوں کے جداگانہ سیاسی تشخص کے موقف کی ترجمانی کرنے والے دو صف اول کے مسلم قائدین کے زاویہ نظر کا حوالہ دینا یہاں مناسب ہوگا۔
علامہ محمد اقبال کا خطبہ الٰہ آباد مسلمانوں کی سیاسی فکر کا رخ متعین کرنے میں تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اقبال نے اس خطبے میں جہاں خود مختار مسلم ریاستوں کی تشکیل کی فکری وتہذیبی اساسات کو واضح کیا ہے، وہاں دونوں قوموں کے باہمی تعلقات کے حوالے سے اس کے مضمرات کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
Thus, possessing full opportunity of development within the body politic of India, the North-West Indian Muslims will prove the best defenders of India against a foreign invasion, be that invasion one of ideas or of bayonets. ...... From this you can easily calculate the possibilities of North-West Indian Muslims in regard to the defense of India against foreign aggression.
اقتباس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہندوستان کے شمال مغربی علاقے میں اگر مسلمانوں کو اپنی خود مختار ریاست بنانے کا موقع مل جائے تو وہ ہندوستان کے بہترین محافظ ثابت ہوں گے اور باہر سے ہونے والی کسی بھی فکری یا عسکری جارحیت سے ہندوستان کی حفاظت کا فریضہ انجام دیں گے۔
دوسری شخصیت، مسلمانوں کی قومی سیاسی جدوجہد کے حقیقی قائد، محمد علی جناح کی ہے۔ تقسیم ہند سے تقریباً تین ماہ قبل قائد اعظم محمد علی جناح نے رویٹرز کے نمائندے Doon Campbell کو ایک بہت اہم انٹرویو دیا جو ۲۲ مئی ۱۹۴۷ء کو ڈان میں شائع ہوا۔ انٹرویو کا موضوع تقسیم کے بعد پاکستان کی سیاسی وخارجہ پالیسی کے بنیادی نکات تھے، خصوصاً یہ کہ پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا رخ کیا ہوگا اور بین الاقوامی طاقتوں میں وہ کس پر زیادہ انحصار کرے گا، اور یہ کہ پاکستان میں اقلیتوں کی حفاظت کیسے اور کیونکر کی جا سکے گی۔ انٹرویو سے مستقبل کے سیاسی منظر نامے کے حوالے سے قائد اعظم کا وژن بہت واضح طور پر سامنے آتا ہے۔ اس کے اہم نکات حسب ذیل ہیں:
۱۔ قائد اعظم پاکستان اور بھارت کے مابین دوستانہ اور اعتماد پر مبنی تعلقات کے خواہاں تھے۔ تقسیم ہند ان کے نقطہ نظر سے مستقل دشمنی اور تناؤ کی نہیں، بلکہ باہمی کشیدگی کے خاتمے کی بنیاد تھی۔
۲۔ وہ کسی بھی بیرونی جارحیت کے مقابلے کے لیے پاکستان اور بھارت کے مابین دفاعی معاہدے یا کسی دفاعی اتحاد میں شرکت کے موید تھے۔
۳۔ وہ پاکستان کے قیام کو ’’پان اسلام ازم‘‘کی قسم کے کسی سیاسی تصور یا تحریک کا حصہ نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے خیال میں یہ تصور عرصہ دراز ہوا، اپنی عدم افادیت ثابت کر چکا تھا۔ البتہ وہ تمام مسلم ممالک سے دوستانہ اور مبنی بر تعاون تعلقات کی خواہش رکھتے تھے۔
بد قسمتی سے دونوں ملکوں کے مابین پر امن اور دوستانہ تعلقات کا یہ وژن مختلف عوامل کے زیر اثر نسیاً منسیاً ہو چکا ہے۔ تقسیم ہند کے موقع پر پیدا ہو جانے والی یا پیدا کی جانے والی بعض پیچیدگیوں اور ان کے تلخ اثرات نے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں بنیاد کی حیثیت حاصل کر لی ہے اور مرور زمانہ کے ساتھ کشیدگی اور تناؤ کی اس فضا کو برقرار رکھنے کو اب دونوں ملکوں میں طاقت اور اقتدار کا کھیل کھیلنے والے توانا عناصر نے اپنی ضرورت فرض کر لیا ہے۔
سیاست بدقسمتی سے طاقت کا کھیل ہے جس کی مثال ایک طوائف کی ہے۔ اس کی فطرت میں ہے کہ وہ غمزہ وعشوہ کے سامان اور داد وتحسین کے لیے تو ’’تماش بینوں‘‘ (یعنی عوام) پر انحصار کرے، لیکن خود چند مخصوص طبقوں کی رکھیل بن کر رہے۔ جنگ کو بھی ’’متبادل ذرائع سے سیاست‘‘ کی ایک شکل سمجھا جاتا ہے، سو یہ بھی ہمیشہ عوام کا خون نچوڑ کر لڑی جاتی ہے تاکہ چند بالادست طبقے اپنے خود غرضانہ مقاصد کی تکمیل کر سکیں۔ عوام کی، خود فریبی اور کوتاہ نظری کی صلاحیت کی بدولت، کشیدگی اور تصادم کے خواہش مند یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ ایک محدود اور وقتی تناظر میں عوام کے دل ودماغ کو ہیجان اور اشتعال کا یرغمال بنا لیں۔
یہ صورت حال دیانت دار اہل دانش کے لیے ایک کڑی آزمائش کی حیثیت رکھتی ہے۔ موقع پرست دانش وروں کے لیے اس فضا کا حصہ بن جانا آسان بھی ہوتا ہے اور صلہ بخش (rewarding) بھی، اور تاریخ کے ساتھ ساتھ معاصر حالات میں اس کے جوازات ڈھونڈ لینے میں بھی انھیں کوئی خاص دقت نہیں ہوتی، لیکن حقیقی اہل دانش کی اصل اخلاقی ذمہ داری بہت بلند ہے۔ ان کا کام اسٹریٹجک تجزیوں سے کسی قوم کی دور بینی کی صلاحیت کو کند کرنا نہیں، انسان دوستی کے جذبے کو فروغ دینا اور طاقت اور مفادات کے ٹکراؤ کے ماحول میں ہوش مندی کے پیغام کو زندہ رکھنا ہے۔
عرب ایران تنازع۔ تاریخی وتہذیبی تناظر اور ہوش مندی کی راہ
شرق اوسط میں عرب ایران تنازع کے جہاں سیاسی اور جغرافیائی پہلو اہم ہیں، وہاں اس کی حقیقی ماہیت کو سمجھنے کے لیے اس کا تاریخی وتہذیبی تناظر بھی پیش نظر رہنا بہت ضروری ہے۔ بطور ایک مشخص مذہبی روایت کے، اسلام کی ابتدا ساتویں صدی عیسوی میں جزیرہ عرب میں ہوئی اور بہت جلد مسلمانوں کے سیاسی ومذہبی اقتدار نے ہمسایہ تہذیبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس توسیع سے سب سے زیادہ ایرانی تہذیب متاثر ہوئی، یہاں تک کہ ایک مستقل اور جداگانہ تشخص رکھنے والی تہذیب کے طور پر اس کا خاتمہ ہو گیا۔ اس صورت حال میں ایرانی قوم نے بحیثیت مجموعی اسلام تو قبول کر لیا، لیکن عربوں کی مذہبی یا سیاسی سیادت کے حوالے سے دو تین مختلف رویے اختیار کیے:
ایک عنصر نے اس کو کسی بھی درجے میں تسلیم نہیں کیا۔ اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں شعوبیت کی لہر اسی کا ایک اظہار تھی۔
دوسرے عنصر نے مین اسٹریم اسلام یعنی سنی تعبیر دین کے ساتھ وابستگی اختیار کی اور اپنی غیر معمولی ذہانت اور صلاحیتوں سے اسلام کی علمی وتہذیبی ترقی میں کردار ادا کیا۔ سنی اسلام میں فقہاء، محدثین، مفسرین اور دیگر شعبوں کے اہل علم وفن کی ایک بہت بڑی اکثریت اسی عنصر سے تعلق رکھتی ہے۔
تیسرے عنصر نے اپنی قلبی وروحانی وابستگی اور اس کے نتیجے میں سیاسی اطاعت کا محور ومرکز صرف خانوادہ نبوت کو تسلیم کیا اور تشیع کے عنوان سے ایک الگ مذہبی وسیاسی گروہ کی صورت میں منظم ہو گیا۔
یوں شیعہ اسلام ابتدا ہی سے اپنا الگ تاریخی تشخص رکھتا ہے اور اس کا اظہار بھی چاہتا ہے۔ دور جدید میں انقلاب ایران اور اس کے بعد کے سارے واقعات اس حقیقت واقعہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس تشخص کے اجزاء متعدد ہیں اور گہرے بھی، جن میں دو یعنی عرب اور عجم کی قدیم آویزش اور شیعہ وسنی تعبیر دین کا تاریخی اختلاف زیادہ اہم اور بنیادی ہیں۔ شیعہ نفسیات اور تشخص کی تشکیل کرنے والے یہ دونوں عناصر اپنے اندر حصول اقتدار اور غلبے کے داعیات پیدا کرنے کی غیر معمولی قوت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ اگر شیعہ الہیات اور کچھ مذہبی پیشین گوئیوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو اس تحریک کی Potency کئی گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس تناظر میں مشرق وسطی کی دوسری سیاسی طاقتوں اور شیعہ عنصر کے مابین آویزش کا پیدا ہونا اور ابھرنا کسی طرح بھی کوئی قابل تعجب بات نہیں۔
ایرانی کیمپ کی طرف سے اس صورت حال کی جو تعبیر عموماً کی جاتی ہے، وہ محض جزوی طور پر درست ہے، یعنی یہ کہ مشرق وسطی اور خلیج میں عرب بادشاہتیں دراصل عالمی سامراج کے مفادات کی محافظ ہیں، جبکہ ایران ایک انقلابی اور مزاحمت پسند اسلام کا علمبردار ہے۔ یہ بات جزوی طو رپر یقیناًدرست ہے، لیکن معاملے کے دوسرے پہلو اس سے کم اہم نہیں ہیں ، خاص طور پر ایرانی قیادت کی ترجیحات اور طرز عمل کبھی سنی دنیا کو اس پر مطمئن نہیں کر سکیں کہ وہ ایک خاص مذہبی عنصر کے بجائے بلا تفریق وامتیاز تمام مسلمانوں کی نمائندگی اور ترجمانی کا جذبہ رکھتی ہے۔ اس لیے خطے میں شیعہ غلبہ وتسلط کے مقابلے میں سنی دنیا کو بہرحال آل سعود جیسے حکمران ہمیشہ زیادہ گوارا رہیں گے، جو چاہے سلفی اور وہابی ہوں، چاہے عیش پرست اور عیاش ہوں اور چاہے جابر ومستبد ہوں، بہرحال سنی اور عرب ہیں۔ شیعہ قیادت کو جوش فراواں میں اس بنیادی نفسیاتی حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور شیعہ احیاء کے اہداف اور حدود کو بہرحال اسی کی روشنی میں متعین کرنا چاہیے، ورنہ اس آویزش کے نتیجے میں جتنا بھی خون خرابہ ہوگا، اس کی ذمہ داری سو فی صد نہ سہی، بہت بڑی حد تک شیعہ قیادت پر ہی عائد ہوگی۔
انصاف کی یہی بات دوسرے فریق کے متعلق بھی کہنی چاہیے۔ عرب سنی ممالک میں اہل تشیع بڑی تعداد میں موجود ہیں، لیکن انھیں ان کی آبادی کے تناسب سے ان کے جائز سیاسی حقوق حاصل نہیں۔ یہ صورت حال بہرحال تناو اور تشدد کے پیدا ہونے کا سبب ہے اور غیر منصفانہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسے زیادہ دیر تک طاقت کے زور پر قائم رکھنا بھی ممکن نہیں۔ چنانچہ سنی حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جہاں ایک طرف خطے کی سطح پر غلبہ وتسلط کے ایرانی عزائم کا سامنا متحد ہو کر کریں، وہاں اپنے اپنے سیاسی دائرہ اختیار میں سب گروہوں کو ان کے جائز سیاسی ومعاشرتی حقوق دینے کا اہتمام کریں۔ یہی ذمہ داری شیعہ اکثریتی ملکوں پر بھی عائد ہوتی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ وہاں بسنے والے سنی مسلمانوں کو مساوی شہری وسیاسی حقوق دینے کے بجائے خطے کی سطح پر جاری سیاسی کشمکش کی سزا دی جائے۔
عالم اسلام کو، یعنی عربی اور عجمی اسلام دونوں کو، اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ نہ تو کوئی گروہ مذہبی جوش وجذبے کے زیر اثر طاقت کے زور پر حقیقی دنیا میں اس سے زیادہ اثر ورسوخ پیدا کر سکتا ہے جتنا اس کا فی الواقع حق بنتا ہے اور نہ کسی گروہ کو نظام اقتدار میں اپنا جائز مقام حاصل کرنے سے بزور بازو روکا جا سکتا ہے۔ یہ دونوں راستے، چاہے سنی حکمران اختیار کریں یا شیعہ، باہمی تصادم، خون ریزی اور تباہی کے راستے ہیں۔ مذہبی اور فرقہ وارانہ جذبات کو اپیل کر کے وقتی طو ر پر ہمدردیاں اور وابستگیاں جیتی جا سکتی ہیں، لیکن تاریخ کے بہاو کے آگے باندھے گئے ایسے بند کبھی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے۔
مغربی فکر وتہذیب اور حمایت دین کے امکانات
امت مسلمہ میں مغرب کے سیاسی ومعاشی غلبے کا جو رد عمل پیدا ہوا، بڑی حد تک قابل فہم ہونے کے ساتھ ساتھ، اس لحاظ سے غیر متوازن ہے کہ اس ساری صورت حال میں امت مسلمہ کا داعیانہ کردار اور اس کے تقاضے ہماری نظروں سے بالکل اوجھل ہو گئے ہیں۔ ہمارے پاس خدا کی دی ہوئی ایک ہدایت ہے جو ساری انسانیت کے لیے ہے اور امت مسلمہ اس ہدایت کی امین ہونے کے ناتے سے اس بات کے لیے مسوول ہے کہ وہ خود حاکمیت کی حالت میں ہو یا محکومیت کی، اس ہدایت کو کسی تعصب کے بغیر دنیا کے ہر اس گروہ تک پہنچائے جس تک دعوت حق کے پہنچائے جانے کا کسی بھی درجے میں کوئی امکان ہو۔ کسی قوم کے ساتھ سیاسی واقتصادی مفادات حتیٰ کہ مذہبی تصورات کا ٹکراؤ بھی اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ امت مسلمہ اس قوم تک دعوت حق پہنچانے کی ذمہ داری سے غافل ہو جائے۔
مغربی اقوام تک دعوت حق پہنچانے کی یہ ذمہ داری امت مسلمہ پر کامیابی اور قبولیت کے امکانات سے بالکل قطع نظر کر کے عائد ہوتی ہے۔ تاہم اگر دعوت دین کے لیے میسر مواقع اور امکانات کے زاویے سے غور کیا جائے تو مغربی معاشروں میں صورت حال کئی حوالوں سے امید افزا اور سازگار دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ مغربی تمدن میں مذہب اور روحانیت سے دوری اور محض مادی وجسمانی ضروریات کی تکمیل وتسکین پر توجہ کے ارتکاز کا مظہر ایک پہلو سے بڑا بھیانک دکھائی دینے کے باوجود اس لحاظ سے اپنے اندر مثبت پہلو بھی رکھتا ہے کہ اس یک طرفہ طرز زندگی نے انسان کی زندگی میں ایک بہت بڑا خلا پیدا کر دیا ہے جو فطرت انسانی کے تقاضوں سے متصادم ہے۔ مغربی طرز معاشرت میں اس کا مطالعہ کئی پہلوؤں سے کیا جا سکتا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ یہ چیز شعوری یا لاشعوری طور پر ایک سچی اور فطری روحانی دعوت کی طلب اور پیاس پیدا کرتی ہے اور اگر داعیانہ ہمدردی اور اخلاص کے ساتھ نیز دعوت دین کے حکیمانہ اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مغربی معاشروں کی اس ضرورت پر توجہ مرکوز کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے اسلام کے دامن رحمت سے وابستگی کے راستے نہ کھل جائیں۔
دعوت دین کی ذمہ داری اور دیارِ مغرب میں اس کے لیے موجود وسیع میدان ہمیں دور جدید کی بعض ایسی اہم خصوصیات کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو نہایت واضح اور بدیہی ہونے کے باوجود، غیر داعیانہ طرز فکر کی بدولت امت کی نگاہ سے اوجھل ہیں۔
مثال کے طور پر حیرت انگیز سائنسی اکتشافات وانکشافات کی روشنی میں کائنات کے نظم میں خالق کے علم وحکمت اور قدرت ورحمت کی جو ایمان افروز تفصیلات سامنے آتی ہیں، وہ ایمان باللہ کی دعوت کے لیے غیر معمولی تائیدی مواد فراہم کرتی ہیں۔ یہ ایسے محسوس ومشہود حقائق ہیں جو محض سامنے آجانے سے ہی ایک سلیم الفطرت انسان کے قلب ودماغ پر ایسا تاثر قائم کرتے ہیں کہ اس کے سامنے فلسفیانہ ومنطقی استدلالات ہیچ ہو کر رہ جاتے ہیں۔
پھر یہ کہ گوناگوں تاریخی وسماجی عوامل کے نتیجے میں مغربی ذہن میں عمومی سطح پر مذہب کے حوالے سے ایک نوع کی بے تعصبی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جو فکر واعتقاد کی سطح پر کسی بھی نئی بات کو قبول کرنے یا کم از کم اس پر غور کرنے کے لیے بڑی اہم ہوتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اپنے روایتی اور نسلی مذہب کے ساتھ وابستگی اس کے لیے کسی نئے مذہب کو اختیار کرنے میں ہمیشہ ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مغرب میں فکری سطح پر مذہب کے ساتھ عدم اعتنا اگر ایک جانب منفی پہلو رکھتا ہے تو اس لحاظ سے ایک مثبت پہلو بھی رکھتا ہے کہ اس کے نتیجے میں‘‘مذہبی تعصب’’جیسی ایک بڑی رکاوٹ بھی بڑی حد تک دور ہوئی ہے جو اسلام کی دعوت کے فروغ میں شاید سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی۔
عقیدہ ومذہب کے معاملے میں ریاستی جبر کے خاتمے نے بھی دعوت حق کے فروغ کے حوالے سے معاون اور سازگار فضا پید اکرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج مغرب میں نہ ریاست کسی مذہب کو اس مفہوم میں تحفظ دے رہی ہے جس مفہوم میں قرون وسطیٰ میں دیتی تھی اور نہ مذہبی احتساب کے وہ ادارے موجود ہیں جن کے ہوتے ہوئے اہل مغرب کے لیے بڑے پیمانے پر کیا، انفرادی سطح پر بھی تبدیلی مذہب ممکن نہیں تھی۔ یہ تاریخ وتہذیب کی سطح پر رونما ہونے والی ایک بہت بڑی اور نہایت جوہری تبدیلی ہے جس کی قدر وقیمت کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔
انسانی تہذیب کے ارتقا نے دور جدید میں بڑے پیمانے پر مسلم آبادی کے دیار مغرب کی طرف نقل مکانی اور یوں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے باہمی اختلاط کے وسیع اور پر امن مواقع پیدا کیے ہیں۔ اسباب کی دنیا میں یہ پہلو بھی دعوت دین کے زاویے سے بہت اہم ہے، اس لیے کہ انسانی تاریخ میں مختلف مذاہب کے فروغ اور نشر واشاعت کا عمل بنیادی طو رپر اسی طرح کے اختلاط اور تعامل کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے۔
اس ضمن میں جدید ذرائع ابلاغ اور ان کی اثر انگیزی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے ذریعے سے دعوت حق کو کسی رکاوٹ کے بغیر دنیا کے آخری کونے میں بسنے والے انسان تک پہنچا دینا جس طرح آج ممکن ہے، اس سے قبل تاریخ کے کسی دور میں ممکن نہیں تھا اور یہ چیز بنی نوع انسان کی سطح پر امت مسلمہ کی ذمہ داریوں اور ترجیحات کے تعین میں اساسی اہمیت کی حامل بن جاتی ہے۔
مولانا محمد بشیر سیالکوٹی ؒ کا انتقال
عربی زبان کے نامور استاذ اور متعدد درسی وعلمی کتب کے مصنف مولانا محمد بشیر سیالکوٹی طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
پاکستانی معاشرے میں عربی زبان کی ترویج ان کا خاص ذوق بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کی زندگی کا مشن تھا۔ انھیں پاکستانی مدارس میں رسمی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سالہا سال تک سعودی عرب میں گزارنے اور پاکستانی سفارت خانے میں بطور ترجمان کام کرنے کا موقع ملا۔ پھر وہ پاکستان آ گئے اور یہاں عربی زبان کی ترویج کے لیے مختلف النوع سرگرمیوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا۔ وہ دینی مدارس میں عربی صرف ونحو کی تدریس کے قدیم اور فرسودہ طریقے سے سخت نالاں رہتے تھے اور اپنے نرم گرم انداز میں اہل مدارس کو جتلاتے رہتے تھے کہ ان کا اختیار کردہ منہج تدریس عربی زبان کی ترویج کے بجائے طلبہ کو اس سے نفور کرنے کا ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔ کوئی تین سال قبل انھوں نے ’’درس نظامی کی اصلاح اور ترقی‘‘ کے عنوان سے ایک ضخیم کتاب (۵۲۸ صفحات) مرتب کی جس میں عربی زبان کے نصاب اور طریقہ تدریس کے حوالے سے اپنے زندگی بھر کے تجربات ومشاہدات اور تنقیدی تبصرے جمع کر دیے۔
مختلف سطحوں پر عربی زبان کی تدریس کے لیے نصابی کتب کی تیاری اور عالم عرب میں پڑھائی جانے والی بعض مفید کتب کی پاکستان میں اشاعت ان کی خدمات کا ایک مستقل حصہ ہے۔ دار العلم کے نام سے ایک اشاعتی ادارے کی بنیاد رکھنے کے علاوہ انھوں نے اسلام آباد میں معہد اللغۃ العربیۃ بھی قائم کیا جو اس میدان میں عمدہ خدمات انجام دے رہا ہے۔ مزید برآں انھوں نے اپنی اولاد (بیٹوں اور بیٹیوں) کو بھی اسی مقصد کے لیے وقف کر دیا جو سب کے سب معاہد اور جامعات میں عربی زبان کی تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور صحیح معنوں میں اپنے والد مرحوم کے لیے صدقہ جاریہ بنے ہوئے ہیں۔
علالت کے آخری سالوں میں بھی وہ وقفے وقفے سے فون پر رابطہ کرتے تھے اور ان کی طویل گفتگو کا محور یہی چیزیں ہوتی تھیں۔ غالباً وفات سے کچھ عرصہ قبل انھوں نے شاہ ولی اللہ دہلوی کی مایہ ناز تصنیف ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء کے عربی ترجمے کی بیروت سے اشاعت کی خبر بھی دی جو انھوں نے اپنی نگرانی میں مکمل کروایا تھا اور اس کی اشاعت کے لیے بہت پرجوش تھے۔
بلاشبہ مرحوم کی شخصیت عزم وہمت، مقصد سے لگن اور جہد پیہم کا ایک شاندار نمونہ تھی اور سیکھنے والوں کے لیے ان کی زندگی میں بہت سے سبق موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال صالحہ ، بالخصوص عربی زبان سے ان کی محبت اور اس کی ترویج کے لیے ان کی سعی وکاوش کو اپنی بارگاہ میں قبولیت سے مشرف فرمائے اور ان کی نیک اولاد کو اس میدان میں اپنے مرحوم والد کی جدوجہد کو بہتر انداز میں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۴)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۰۲) علی حبہ کا ترجمہ
علی حبہ قرآن میں دو جگہ آیا ہے، اس کا ترجمہ کرتے ہوئے یہ طے کرنا ضروری ہوتا ہے کہ علی حبہ میں ضمیر کا مرجع کیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا مرجع اللہ کو قرار دیا ہے، اس بنا پر وہ ترجمہ کرتے ہیں اللہ کی محبت میں۔ یہ ترجمہ بعض وجوہ سے کمزور ہے، ایک تو یہ کہ اس مفہوم کی ادائیگی کے لیے علی حبہ کے بجائے فی حبہ یا لحبہ آتا ہے، جبکہ یہاں دونوں مقام پر علی حبہ ہے۔ دوسرے یہ کہ ان دونوں مقامات پر قریبی عبارت میں لفظا اللہ کا ذکر نہیں ہے کہ اس کی طرف ضمیر کو لوٹایا جائے۔یہ درست ہے کہ ضمیر کے مرجع کے لیے عہد ذہنی کا اعتبار ہوسکتا ہے، یا کچھ دور پر لفظی تذکرہ بھی مل سکتا ہے، لیکن قرآن مجید میں اس طرح اللہ کی طرف ضمیر لوٹنے کی مثال ہمیں نہیں ملتی ہے۔
جبکہ دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ علی حبہ سے پہلے ایک جگہ مال اور ایک جگہ طعام کا ذکر ہوا ہے، اسی مذکور یعنی مال اور طعام کو ضمیر کا مرجع مانا جائے۔اور اس طرح ایک جگہ مال کی محبت کے باوجود اور دوسری جگہ طعام کی محبت کے باوجود ترجمہ کیا جائے، یہ مفہوم علی حبہ کے الفاظ سے میل بھی کھاتا ہے، اس صورت میں ضمیر کا مرجع بھی قریب ترین مذکور لفظ بن جاتا ہے۔ابو حیان کے الفاظ میں:
وَالظَّاھِرُ أَنَّ الضَّمِیرَ فِی حُبِّہِ عَائِدٌ عَلَی الْمَالِ لأَنَّہ أَقْرَبُ مَذکُوْرٍ، وَمِنْ قَوَاعِدِ النَّحْوِییّنَ أَنَّ الضَّمِیرَ لَایَعُودُ عَلَی غَیْرِ الأَقْرَبِ اِلَّا بِدَلِیلٍ۔۔۔۔وَقَوْلُ مَنْ أَعَادَہُ عَلَی اللَّہِ تَعَالَی أَبْعَدُ، لأَنَّہُ أَعَادَہُ عَلَی لَفْظٍ بَعیدٍ مَعَ حُسْنِ عَوْدِہِ عَلَی لَفْظٍ قَرِیب۔ (البحر المحیط فی التفسیر،۲؍۱۳۵)
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ زبان کے قواعد کے لحاظ سے یہ غلط ہے کہ علی حبہ سے بیک وقت اللہ کی محبت اور مال کی محبت دونوں مراد لیا جائے۔
(۱) وَآتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہِ ذَوِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِیْ الرِّقَابِ۔ (البقرۃ: ۱۷۷)
’’اور مال دیتا ہو اللہ کی محبت میں رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور (بے خرچ) مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردن چھڑانے میں ‘‘(اشرف علی تھانوی)
اوپر مذکور ترجمے میں علی حبہ کا ترجمہ اللہ کی محبت میں کیا گیا ہے جو محل نظر ہے، جبکہ ذیل میں مذکور دونوں ترجموں میں غلطی یہ ہے کہ علی حبہ کا ترجمہ کرتے ہوئے مال کے دل پسند اور عزیز ہونے کو بھی ذکر کیا ہے اور اللہ کی محبت کا بھی تذکرہ کیا ہے، ایک ہی لفظ سے دونوں باتیں بیک وقت مراد لینا درست نہیں ہے، اس کے بجائے صرف دل پسند یا عزیز کہہ دینا درست ہوگا۔
’’اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں اور مسافروں پر مدد کے لئے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے‘‘(سید مودودی)
’’اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھڑانے میں‘‘ (احمد رضا خان)
اس کے مقابلے میں ذیل کے دونوں ترجمے درست ہیں:
’’اور دیوے مال اس کی محبت پر ناتے والوں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور راہ کے مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں ‘‘(شاہ عبد القادر)
’’اور اپنے مال، اس کی محبت کے باوجود، قرابت مندوں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سائلوں اور گردنیں چھڑانے پر خرچ کریں‘‘ (امین احسن اصلاحی)
ضمنا یہاں یہ بات بھی ذکر کردینا مناسب ہے کہ ابن السبیل کا ترجمہ مسافر یا راہ کے مسافر کے بجائے راہ گیر کرنا زیاد ہ بہتر ہے۔راہ گیر وہ ہے جو راستہ طے کررہا ہو، جبکہ مسافر سفر کے دوران مقیم بھی ہوسکتا ہے اور حرکت میں بھی رہ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اردو محاورہ کی رو سے بھی راہ کے مسافر کے مقابلے میں راہ گیر زیادہ مناسب ہے۔
فارسی کے دو مشہور ترجموں میں علی حبہ کے دونوں طرح کے ترجمے الگ الگ ملتے ہیں:
’’وبدہد مال خود را بردوستی خدائے‘‘ (شیخ سعدی)
’’وبدہد مال باوجود دوست داشتن آں مال‘‘ (شاہ ولی اللہ)
علامہ ابن عاشور کا کہنا ہے کہ ضمیر کو تو لا محالہ مال کی طرف ہی لوٹنا چاہیے، البتہ مال کی محبت کے باوجود خرچ کرنے سے یہ مفہوم خود نکلتا ہے کہ اللہ کی خوشنودی پیش نظر ہے۔
وَالضَّمیرُ لِلْمَالِ لَا مَحَالَۃَ وَالْمُرَادُ أَنَّہُ یُعْطِی الْمَالَ مَعَ حُبّہِ لِلْمَالِ وَعَدَمِ زھَادَتِہِ فیِْہ فَیَدُلّْ عَلَی أَنَّہُ اِنَّمَا یُعْطیہِِ مَرْضَاۃً لِلَّہِ تَعَالَی وَلِذَلِکَ کَانَ فِعْلُہُ ھَذَا بِرّاً. (التحریر والتنویر، ۲؍۱۳۰)
(۲) وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِیْناً وَیَتِیْماً وَأَسِیْراً۔ (الانسان:۸)
’’اور وہ لوگ (محض) خدا کی محبت سے غریب اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں‘‘(اشرف علی تھانوی)
’’اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں ‘‘(سید مودودی)
مذکورہ بالا دونوں ترجمے محل نظر ہیں، صاحب تفہیم اس آیت کی تفسیر میں دیگر اقوال ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’حضرت فضیل بن عیاض اور ابو سلیمان الدارانی کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کی محبت میں وہ یہ کام کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک بعد کا فقرہ کہ اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللہ ہم تو اللہ کی خوشنودی کی خاطر تمہیں کھلارہے ہیں۔ اسی معنی کی تائید کررہا ہے۔‘‘
لیکن یہ بات درست نہیں ہے، انما نطعمکم لوجہ اللہ مستقبل کے لیے ہے کہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہم ایسا کررہے ہیں، جبکہ علی حبہ سے اللہ کی محبت میں مراد لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کی محبت ہونے کی وجہ سے یا محبت میں وہ یہ کام کرتے ہیں۔ غرض یہ کہ بعد کا فقرہ اس فقرہ کی تفسیر نہیں بن سکتا ہے۔ایک پہلو اور قابل غور ہے کہ علی حبہ کا مفہوم اس کی محبت کے باوجود لیں اور لوجہ اللہ والے فقرے کو بھی سامنے رکھیں تو مفہوم یہ بنتا ہے کہ دل پسند کھانے وہ حاجت مندوں کو کھلاتے ہیں تاکہ اللہ کی خوشنودی حاصل کریں۔اس طرح کلام دو عظیم معنوں کا حامل ہوجاتا ہے۔
ایک اور نکتہ قابل غور ہے کہ قرآن مجید میں محبت کے ساتھ کسی عمل کو انجام دینے کا ذکر صرف تین مقامات پر ہے، اور وہ انفاق واطعام کے ساتھ ہے، خود ان دونوں آیتوں میں دین کے بہت سارے کام ذکر کیے گئے ہیں، لیکن علی حبہ کا ذکر صرف مال اور طعام کے ساتھ کیا گیا ہے، اگر اس لفظ کے ذکر سے اللہ کی محبت کی طرف اشارہ ہے تو وہ تو ہر عمل کے ساتھ مطلوب ہے، پھر اسے صرف مال اور طعام کے ساتھ خاص طور سے ذکر کرنے کی کیا وجہ ہے؟ اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ یہاں دراصل مال اور طعام کی محبت کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے ساتھ اگر لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّی تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: ۹۲) والی آیت بھی سامنے رہے جس میں واضح طور سے خرچ کی جانے والی چیز کی محبت مراد ہے۔ تو بات اور مضبوط ہوجاتی ہے۔بہت خاص بات یہ ہے کہ ان تینوں مقامات پر بر کے حوالے سے گفتگو ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ تینوں بیان ہم معنی ہیں۔
مذکورہ بالا گفتگو کی روشنی میں ذیل کے دونوں ترجمے درست ہیں، البتہ ’’محبت پر‘‘ لفظی ترجمہ ہے بامحاورہ ترجمہ ’’محبت کے باوجود‘‘ ہوگا :
’’اور کھلاتے ہیں کھانا اس کی محبت پر محتاج کو اور بن باپ کے لڑکے کو اور قیدی کو‘‘ (شاہ عبد القادر، اس ترجمہ میں لڑکے کا لفظ بھی محل نظر ہے، یتیم کا لفظ لڑکے اور لڑکی دونوں کے لئے آتا ہے، اس لئے مناسب ترجمہ لڑکے کے بجائے بچے ہوگا، کیونکہ بچے کہنے سے دونوں شامل ہوجاتے ہیں)
’’اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو ‘‘(احمد رضا خان)
بعض مترجمین نے علی حبہ کا ترجمہ حاجت اور احتیاج کیا ہے، جیسا کہ مذکورہ ذیل فارسی اور اردو کے ترجمہ میں ہے:
’’ومید ہند طعام باوجود احتیاج بآن فقیر را ویتیم را وزندانے را‘‘ (شاہ ولی اللہ دہلوی)
’’اور وہ مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے رہے ہیں، خود اس کے حاجت مند ہوتے ہوئے‘‘(امین احسن اصلاحی) دیکھنے کی بات یہ ہے کہ صاحب تدبر نے اوپر والی آیت میں علی حبہ کا ترجمہ محبت اور اس آیت میں حاجت مند ہونا ترجمہ کیا ہے۔
علی حبہ کا ترجمہ حاجت مند ہونا درست نہیں ہے، بلکہ اس کی محبت کے باوجود خواہ وہ محبت اپنی حاجت کی وجہ سے ہو یا خود کھانے کے لذیذ ہونے کی وجہ سے ہو۔
(۱۰۳) فوم کا ترجمہ
فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الأَرْضُ مِن بَقْلِہَا وَقِثَّآئِہَا وَفُومِہَا وَعَدَسِہَا وَبَصَلِہَا۔ (البقرۃ: ۶۱)
اس آیت میں لفظ فوم سے متعدد مفسرین ومترجمین نے گیہوں مراد لیا ہے، لیکن ائمہ لغت کی تحقیق اور توراۃ کے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ فوم کا مطلب لہسن ہے۔
بعض لوگوں نے فوم کے معنی بیک وقت گیہوں اور لہسن دونوں لیے ہیں، یہ لغت کے قواعد کے خلاف ہے، اگر ایک لفظ کے ایک سے زائد معنی ہوتے ہیں تو بیک وقت تمام معنی نہیں بلکہ کوئی ایک ہی معنی مراد ہوتا ہے۔
نیچے آیت مذکورہ کے کچھ ترجمے ذکر کیے جاتے ہیں:
’’اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے لئے زمین کی پیداوار، ساگ، ترکاری، کھیرا، ککڑی، گیہوں، لہسن، پیاز، دال وغیرہ پیدا کرے‘‘ (سید مودودی)
اس ترجمہ میں کئی باتیں توجہ طلب ہیں، بقل کے معنی ساگ اور ترکاری میں سے کوئی ایک ہوں گے، اسی طرح قثاء کے معنی کھیرا اور ککڑی میں سے کوئی ایک ہوں گے، فوم کے معنی بھی بیک وقت گیہوں اور لہسن دونوں مراد لینا درست نہیں ہے۔ اس کے علاوہ الفاظ کی ترتیب کے لحاظ سے پیاز کا ذکر دال کے بعد ہونا چاہئے، جس طرح پہلے عدس اور بعد میں بصل آیا ہے۔
’’اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کرو کہ وہ ہمارے لیے ان چیزوں میں سے نکالے جو زمین اگاتی ہے اپنی سبزیوں، ککڑیوں، لہسن، مسور اور پیاز میں سے‘‘ (امین احسن اصلاحی) اس ترجمہ میں زبان کا ایک اسلوب نظر انداز ہوگیا ہے، وہ یہ کہ من بقلھا میں ضمیر کی طرف اضافت نسبت بتانے کے لئے نہیں بلکہ معرفہ بنانے کے لئے ہے اس کا ترجمہ کرنا فصیح نہیں ہوگا، دوسرے یہ کہ من یہاں بیانیہ ہے تبعیض کا نہیں ہے، اسی طرح مما تنبت الأرض میں بھی من تبعیض کا نہیں ہے، بلکہ من ویسے ہی ہے جیسے یغفر لکم من ذنوبکم میں ہے۔ اس طرح صحیح ترجمہ یوں ہے: ’’اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کرو کہ وہ ہمارے لئے وہ چیزیں نکالے جو زمین اگاتی ہے، سبزیاں، ککڑیاں، لہسن، مسور اور پیاز‘‘ ۔
ذیل کے دونوں ترجموں میں باقی تمام امور کی رعایت موجود ہے، صرف ایک بات محل نظر ہے کہ فوم کا ترجمہ گیہوں کیا گیا ہے۔
’’لہٰذا اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے زمین کی پیداواریں ترکاری، ککڑی، گیہوں، مسور، پیاز (وغیرہ) ‘‘(صدر الدین اصلاحی)
’’اس لیے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں زمین کی پیداوار ساگ ککڑی گیہوں مسور اور پیاز دے ‘‘(محمد جونا گڑھی)
(جاری)
فرقہ وارانہ اور مسلکی ہم آہنگی: علماء کے مختلف متفقہ نکات و سفارشات پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج
برصغیر پاک و ہند میں فرقہ وارانہ اور مسلکی ہم آہنگی کے لیے متعدد علماے کرام نے یقیناًقابلِ قدر کوششیں کی ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے، جس کو ایک عام صاحبِ فہم بھی آسانی سے دیکھ اور محسوس کر سکتا ہے ، کہ ان کو ششوں کے باوجود مسئلہ حل ہونے کی بجائے گھمبیر ہوا ہے۔ میرے نقطہ نظر کے مطابق، متعدد دیگر پہلوؤں کے ساتھ ساتھ، مسئلے کا اہم اور قابل توجہ پہلویہ ہے کہ علما کی اس حوالے سے کی گئی کاوشوں میں بہت سطحیت پائی جاتی ہے۔ یہ سطحیت مختلف علمی و عملی ، سماجی وتحریکی اور نظری و دستاویزی وغیرہ رویوں میں سامنے آتی رہتی ہے۔ راقم الحروف نے ان رویوں کا تفصیلی مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ان سطور میں البتہ میرے پیش نگاہ زیر نظر مسئلے کے حوالے سے علما کے مختلف مشہور متفقہ نکات وسفارشات کاتجزیاتی مطالعہ ہے۔ان نکات و سفارشات میں سے ، جن کا بہت کریڈٹ لینے کی سعی کی جاتی اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ مسلکی ہم آہنگی کے لیے علما کی بہت بڑی کاوشیں ہیں ،وہ 31 علما کے بائیس نکات،مجلسِ دستور ساز کی بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی سفارشات پر علما کے تبصرے اور 55 علما کے 15نکات ہیں۔ان نکات و سفارشات اور تبصروں میں سے ہم نے صرف ان نکات کو لیا ہے ،جن کا نفیاً یا اثباتاً کوئی تعلق فرقہ وارانہ و مسلکی ہم آہنگی کے تصورسے بنتا ہے۔ ان نکات کی متعلقہ شقوں کے جائزے سے یہ بات سمجھنے میں بہت آسانی ہوگی کہ فرقہ وارایت اور اس کی تباہ کاریاں ہمارے یہاں سے کیوں ختم نہیں ہورہیں! ہمارے علما کی اس ضمن میں کاوشیں کس قدر حقیقی اور معاملے کو حل کی طرف لے جانے والی ہیں! اور کس قدر اسی گھمبیرتا میں پھنسائے رکھنے والی!:
31 علما کے 22 نکات
31 جنوری 1951ء کو مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے 31 علما نے متفقہ طور پر 22 نکات پیش کیے، جن میں واضح کیا گیا کہ ایک پاکستانی ریاست کو اصولِ شریعت اسلامیہ کے مطابق چلانے کے لیے کن کن امور کو مد نظر رکھنا چاہیے!مختلف مسالک کے 31 علما کے ان 22 نکات کا، مسلکی ہم آہنگی اور علما کے اتحاد و اتفاق کے ضمن میں بڑا شہرہ چلا آتا ہے۔ ان بائیس نکات میں سے نکات نمبر 4 ،5 ،7 ،8اور 9 ہمارے زیرِ بحث موضوع سے کچھ علاقہ رکھتے ہیں، ہماری ناقدانہ گفت گو سے قبل ذرا ان نکات کو ملاحظہ کر لیجیے:
4۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ قرآن و سنت کے بتائے ہوئے معروفات کو قائم کرکے، منکرات کو مٹائے اور شعائرِ اسلامی کے احیا و اعلا اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری اسلامی تعلیم کاانتظام کرے۔
5۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگاکہ وہ مسلمانانِ عالم کے رشتہ اتحاد و اخوّت کو قوی سے قوی تر کرنے اور ریاست کے مسلم باشندوں کے درمیان عصبیتِ جاہلیہ کی بنیادوں پرنسلی و لسانی ،علاقائی یا دیگر مادی امتیازات کے ابھرنے کی راہیں مسدود کرکے ملت اسلامیہ کی وحدت کے تحفظ و استحکام کا انتظام کرے۔
7۔ باشندگانِ ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے، جو شریعت اسلامیہ نے ان کو عطا کیے ہیں۔ یعنی حدودِ قانون کے اندر تحفظِ جان و مال و آبرو، آزادیِ مذہب و مسلک، آزادیِ عبادت ، آزایِ ذات، آزایِ اظہارِرائے، آزادیِ نقل و حرکت، آزادئِ اجتماع، آزادیِ اکتسابِ رزق، ترقی کے مواقع میں یکسانی اور رفاہی ادارات سے استفادے کا حق۔
8۔ مذکورہ بالا حقوق میں سے کسی شہری کا کوئی حق اسلامی قانون کی سندِ جواز کے بغیر کسی وقت سلب نہ کیا جائے گا اور کسی جرم کے الزام میں کسی کو بغیر فراہمی موقعہ صفائی وفیصلہ عدالت کوئی سزا نہ دی جائے گی۔
9۔ مسلمہ اسلامی فرقوں کو حدودِ قانون کے اندر پوری مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔ انھیں اپنے پیروؤں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہوگا۔ وہ اپنے خیالات کی آزادی کے ساتھ اشاعت کرسکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنے فقہی مذہب کے مطابق ہوں گے ،اور ایسا انتظام کرنا مناسب ہوگا کہ انھی کے قاضی یہ فیصلہ کریں۔ (ماہ نامہ، "الشریعہ" جولائی 2015، ص4۔5)
آئیے اب ذرا ان نکات پر تنقیدی نظر ڈالیں:
شق نمبر 4 کے حوالے سے عرض ہے کہ اس میں قرار دیے گئے مسلمہ اسلامی فرقے کون سے ہیں ؟ انھیں ان کے کون سے مذاہب کے مطابق کون سی ضروری اسلامی تعلیم دینا، مملکت کا فرض ہو گا؟اگر مسلمہ اسلامی فرقوں سے شیعہ اور سنی مراد ہیں تو ان کی وضاحت ہونی چاہیے تھی، نیز یہ بھی واضح ہونا چاہیے تھا کہ ان کی اپنے مذہب کے مطابق تعلیم میں فقہی مذاہب کی تعلیم ہی شامل ہے یا عقیدہ وکلام کے مذاہب کی بھی؟ اگر مسلمہ اسلامی فرقوں میں بریلوی ، دیوبندی اور اہلِ حدیث وغیرہ بھی شامل ہیں ، تو انھیں ان کے کس مذہب کی کون سی تعلیم دینی ہوگی؟اگر یہ مسلمہ فرقے نہیں ہیں ، تو ان کے اندر مساجد ، مدارس اور وفاقوں کی تقسیم، اس اصول کی صریح خلاف ورزی ہے!ان انھیں ان نکات کی رو سے اس تقسیم و علاحدگی اور الگ شناخت و پہچان سے روکا جانا چاہیے۔ اگر یہ مسلمہ فرقے ہیں، تو دیوبندیوں اور بریلویوں کا فقہی مذہب ایک ہی ہے، وہ کس بنیاد پر الگ الگ مسلمہ اسلامی فرقے بنے ہیں؟ واضح ہے کہ ان کی تقسیم عقیدے و کلام کے اختلافات کی بنیاد پر ہوئی ہے۔تو کیا اہل نکات علما ریاست سے فرما رہے ہیں کہ وہ انھیں ان کے مذاہبِ عقیدہ و کلام کی تعلیم کا انتظام کرے؟ اس تعلیم نے پہلے ہی تباہی مچا رکھی ہے، آپ اس کا سرکاری انتظام کرانا چاہتے ہیں! حضور! آپ کی تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی!
یہاں میں یہ بھی عرض کر دوں کہ میرے مہربان علما محض فقہی مذاہب کی بات کر کے میری گذارش سے صرفِ نظر نہیں کر سکتے، اس لیے کہ مسلمانوں میں اصل فرقہ بندی اور تباہی کا باعث کلامی مذاہب رہے ہیں ، فقہی مذاہب نہیں۔ فقہا کے مذاہب نے کبھی بھی وہ قیامت نہیں ڈھائی ، جو کلامی مذاہب نے ڈھائی ہے۔ برصغیر میں فرقہ ورارنہ تباہی بھی کلامی اختلافات کی دین ہے،یہ انھی اختلافات کا شاخسانہ ہے کہ ہندوستان کے ایک فقہی ہی مذہب کے حامل دو بڑے فرقے اپنے فتاویٰ میں کثرت سے ایک دوسرے کو کافر، مشرک ،بدعتی ، مرتد اور گستاخِ رسول قرار دیتے آ رہے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ آپ کے اس نکتے کی رو سے یا تو بریلوی دیوبندی وغیرہ مسلمہ اسلامی فرقے نہیں ہیں، اس صورت میں ان کا کوئی جواز ہی نہیں، اور اگر مسلمہ اسلامی فرقے ہیں، تو آپ صرف ان کے کلامی مذاہب کے حوالے سے ہی انھیں فرقے تسلیم کر رہے ہیں، اور یہ کلامی مذاہب پہلے ہی تباہی مچاتے آ رہے ہیں۔ ان کی تعلیم کی آزادی ہی نہیں، سرکاری انتظام کی خواہش اصلاح کی کوشش کیسے قرار پا سکتی ہے! اس سے فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے حوالے سے کوئی خیر برآمد نہیں ہو سکتی، اگر ہو سکتی تو کوئی نہ کوئی نظر آ رہی ہوتی ، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں ، کہ سوسائٹی میں فرقہ وارانہ حوالے سے خیر کی بجائے شر ہی بڑھا ہے۔
نکتہ نمبر 5میں مسلمانانِ عالم کے رشتہ اتحاد واخوت کو قوی سے قوی تر کرنے کی اور ریاست کے مسلم باشندوں کے درمیان عصبیتِ جاہلیہ کی بنیادوں پر نسلی ، لسانی ،علاقائی یا دیگر مادی امتیازات کے ابھرنے کی راہیں مسدود کرکے ملتِ اسلامیہ کی وحدت کے تحفظ و استحکام کی تجویز دی گئی ہے،لیکن اس میں اس تجویز کو قابلِ التفات نہیں سمجھا گیا کہ مسلمانانِ پاکستان کے رشتہ اخوت کو بھی قوی تر کر لیا جائے، نیز کیا ریاست کے مسلم باشندوں کی عصبیتِ جاہلیہ صرف نسلی ، لسانی ، علاقائی یا مادی امتیازات ہی سے عبارت ہے؟ یا اس عصبیتِ جاہلیہ میں مذہبی اور فرقہ وارانہ عصبیت کا بھی کوئی دخل ہے؟ میرے خیال میں تو عصبیتِ جاہلیہ کے مظاہر اس فرقہ وارانہ عصبیت میں زیادہ ہیں ، مگر اس عصبیت کا تذکرہ ہی نہیں کیا گیا،پھر ذکر کردہ عصبیتوں کے خاتمے کے ذریعے بھی ملتِ اسلامیہ کا وسیع تر مفادہی پیش نظر رکھا گیا ہے، جیسے ملت اسلامیہ پاکستان کی وحدت کا تحفظ و استحکام تو کوئی حل طلب مسئلہ ہی نہیں۔یعنی گھر کے مسئلے کی فکر نہیں اور چلے ہیں پوری ملت اسلامیہ کو تحفظ و استحکام دینے:
تو کارِ زمیں را نکو ساختی
نکتہ نمبر 7اور 8میں باشندگانِ ریاست کے مختلف شہری حقوق کا ذکر ہے، نکتہ نمبر آٹھ کا آخری جملہ نہایت اہم ہے، اورعدل و انصاف کو یقینی بنانے کے لیے شریعتِ اسلامیہ کے دوراندیشانہ طریق مقدمہ یاعدالتی پروسیجر کا ایک رہنما اصول ہے کہ :" کسی جرم کے الزام میں کسی کو بغیر فراہمی موقعہ صفائی وفیصلہ عدالت کوئی سزا نہ دی جائے گی۔"لیکن علما کے طبقے میں اس اصول کے لحاظ کا عالم یہ ہے کہ جب کسی شخص کو توہین رسالت کے الزام میں بغیر فراہمی موقعہ صفائی اور فیصلہ عدالت ، ایک شخص قتل کر دیتا ہے، تو کہا جاتا ہے کہ ایسے شخص کو نہ صرف یہ کہ سزائے موت نہیں دی جا سکتی ،بلکہ اس نے قابلِ تحسین اقدام کیا ہے ، جس پر وہ تعریف و توصیف کا مستحق ہے۔یہ نہ صرف اپنے تجویز کردہ شرعی اصول کی صریح خلاف ورزی ہے، بلکہ ملک و معاشرے کو انارکی اور فساد کے سپرد کرنا ہے۔
نکتہ نمبر 9تو گویا ملکی و ملی انتشار کے لیے سرٹیفکیٹ کی تجویز ہے۔مسلمہ اسلامی فرقوں کی بات میں جو ابہام ہے، اس کی حقیقت ہم نے نکتہ نمبر 5 کے جائزے میں بیان کر دی ہے۔یا یہ مانیں کہ مسلمہ اسلامی فرقے دو ہی ہیں، یعنی سنی اور شیعہ۔ اس صورت میں دیوبندی ، بریلوی اور اہلِ حدیث غیر مسلمہ فرقے ہیں ،جنھیں ان نکات کی رو سے اپنی الگ پہچان کا اختیار ہے اور نہ اپنے مسالک کی تعلیم و ترویج کا۔ اگر یہ مسلمہ فرقے ہیں، تو کم ازکم دو بڑے فرقے محض کلامی مذاہب ہیں، اور جن کلامی اختلافات کی بنیاد پریہ ایک دوسرے کو بدعتی اور کافر و گستاخ قرار دیتے آ رہے ہیں ، وہ لا یعنی اور مضحکہ خیز ہیں۔ ان کی تعلیم کی نہ صرف یہ کہ کسی مسلمان کو کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کا بھلاانھیں ان کی تعلیم سے محفوظ رکھنے میں ہے؛شریعت کا نہ صرف یہ کہ ان سے متعلق سرے سے کوئی مطالبہ نہیں، بلکہ یہ مقاصد شریعت کے لیے سخت نقصان دہ ہیں ؛یہ اپنی تحصیل کرنے والے کو سوائے باہمی نفرت و عداوت ، شدت پسندی اور قتل و خوں ریزی کی ذہنیت اور شخصیت کے کچھ نہیں دے سکتے۔
مجلسِ دستور ساز کی بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی تجاویز پر علماکے تبصرے
دسمبر 1952 ء میں مجلس دستو ساز کی بنیادی اصولوں کی کمیٹی نے بنیادی اصول پیش کیے، تو تمام مکاتب فکر کے علما کا11تا 18 جنوری 1953ء کو دوبارہ اجتماع ہوا، جس کا مقصد مجلس دستور ساز کی متعلقہ کمیٹی کے پیش کردہ اصولوں پر شرعی نقطہ نظر سے تبصرہ اور اس حوالے سے اہم اور ضروری سفارشات و ترمیمات پیش کرنا تھا۔مجلس دستور ساز کی بنیادی اصولوں کی کمیٹی پر 22 نکات والے علما کے تبصروں اور سفارشات کے متعدد نکات میں سے ایک شق ہمارے موضوع کے حوالے سے تنقیدی نظر کا تقاضا کرتی ہے:
باب 2 "مملکت کی پالیسی کے رہنما اصول" کے عنوان کے تحت پیراگراف 2شق 10 کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ :"اس شق میں رپورٹ کی موجودہ عبارت ناقص ہے،اور یہ نقص خصوصیت کے ساتھ نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ لسانی تعصّبات کا ذکر نہیں کیا گیا،لہٰذا ہمارے نزدیک اس کو حسب ذیل عبارت سے بدلنا چاہیے: "مملکت کے لیے لازم ہونا چاہیے کہ وہ پاکستانی مسلمانوں میں سے جغرافیائی ،قبائلی، نسلی اور لسانی اور اسی قسم کے دوسرے غیر اسلامی جذبات دور کرنے اور ان میں یہ جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرے کہ وہ ملت اسلامیہ کی سالمیت، وحدت ، استحکام اور اس طرزِ فکر کے لوازمات اور اس مقصد کو سب سے مقدم رکھیں، جس کی تکمیل کے لیے پاکستان قائم ہوا۔"("الشریعہ "، جولائی 2015، ص 11)
اب دیکھیے! بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی عبارت کو اہلِ تبصرہ و سفارش علما نے جس عبارت سے بدلنے کی تجویز دی ہے، اس میں بھی جغرافیائی ، قبائلی ، نسلی اور لسانی اور دیگر غیر اسلامی جذبات کا ذکر ہے ،فرقہ وارانہ جذبات کا نام ہی نہیں۔ اگرچہ غیر اسلامی جذبات میں فرقہ وارانہ جذبات بھی آ سکتے ہیں ،لیکن دوسرے جذبات سے زیادہ فرقہ وارانہ جذبات کو ذکر کرنے کی ضرورت تھی ، ان جذبات کا ذکر ہی نہ کرنا صاف بتا رہا ہے کہ سفارشات پیش کرنے والے اور تبصرہ نگار ان جذبات کی ہولناکی کا یہ تو اندازہ ہی نہیں رکھتے یا انھیں کسی مصلحت کے تحت ذکر کرنے سے گریز کر رہے ہیں، حالانکہ ان کو ذکر کر کے باقی جذبات کو دیگر جذبات سے ظاہر کرنا چاہیے تھا،کہ دیگر میں کم اہم چیزیں ذکر کی جاتی ہیں۔
55 علما کے 15 نکات پر ایک نظر
ملی مجلسِ شرعی کی جانب سے اسلامی اصولِ ریاست و حکومت اور نفاذِ شریعت کے حوالے سے علما کی ایک متفقہ کوشش 24ستمبر 2011ء کو لاہور میں مذکورہ مجلس کے زیر اہتمام "اتحادِ امت کانفرنس" کے مشترکہ اعلامیے کے طور پر سامنے آنے والے" 55 علما کے 15 نکات" ہیں۔ان نکات کے نکات نمبر2، 3اور 7 میں مسلمانوں میں اتحاد واتفاق اور مسلکی ہم آہنگی اور اس کی ضرورت و اہمیت سے متعلق امور کا تذکرہ ہے۔نکات نمبر دواور تین میں نفاذِ شریعت اورسوسائٹی کی اسلامی اصولوں پر تعمیر و اصلاح کے لیے 1951ء میں علما کے پیش کردہ 22نکات کوپاکستان میں نفاذِ شریعت کی بنیاد قرار دیا گیا اورپیش نظر 15 نکات کو ان 22 نکات کی تفریع وتشریح سے تعبیر کیا گیا ہے، اور قرار دیا گیا ہے کہ ملک میں نفاذِ شریعت دینی مکاتب فکر کی طرف سے منظور شدہ متفقہ رہنما اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔نکتہ نمبر 7 ہمارے موضوع کے حوالے سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے، اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ: علاقائی ، نسلی ،لسانی اور مسلکی تعصبات کی بنیاد پر قائم ہونے والی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی جائے ،اور قومی یک جہتی کے فروغ کے لیے مناسب پالیسیاں اور ادارے بنائے جائیں۔("الشریعہ"،جولائی 2015،ص25)
ََ55 علما کے ان 15نکات میں نکات نمبردو اور تین ، چونکہ 1951ء کے 31علما کے بائیس نکات اور دیگر سفارشات پر مبنی ہیں ، اس لیے ان پر ہمارے تحفظات وہی ہیں جو بائیس نکات اور دیگر سفارشات کے حوالے سے تنقید میں ہم عرض کر چکے ہیں۔نکتہ نمبر 7البتہ اس حوالے سے منفرد اور قابلِ داد ہے کہ اس میں بائیس نکات اور دیگر سفارشات میں رہ جانے والی اس کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو مسلکی مسائل کے عدمِ ذکر کے حوالے سے تھی۔ نیز اس میں ایک اہم مطالبہ کیا گیا ہے کہ دیگر تعصبات کے ساتھ ساتھ مسلکی تعصبات کی بنا پر قائم سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی جائے۔لیکن اگر آپ ان نکات اور ان کی توثیق کرنے والے 55علما کے ناموں کی فہرست پر نظر ڈالیں، توآپ کو اس قسم کے نکات اور ان کی نظریت و عملیت کے مختلف اطراف وجوانب کی معنویت کے حوالے سے ایک خوب صورت لطیفہ دیکھنے کو ملے گا۔مسلکی تعصبات کی بنا پر قائم جماعتوں پر پابندی کے مطالبے کی توثیق کرنے والے 55 علما ء کی فہرست میں جن لوگوں کے نام درج ہیں،ان میں سے چند ایک کہ اسماے گرامی بریکٹ میں درج گئے ،ان کے تعارف سمیت یوں ہیں :
سید منور حسن (امیر جماعتِ اسلامی ،منصورہ، لاہور)،مولانا ساجد میر(امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان ، لاہور)، مولانا عبید اللہ عفیف (امیرجمعیت اہل حدیث پاکستان ، لاہور)، مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری (امیرِ متحدہ جمعیت اہلِ حدیث، پاکستان )، مولانا حافظ عبدالوہاب روپڑی (نائب امیر جماعت اہلِ حدیث، پاکستان)، مولانا قاری زوار بہادر (ناظمِ اعلیٰ جمعیت علماے پاکستان )، پیر عبدالخالق قادری ( صدر مرکزی جماعت اہلِ سنت پاکستان )، مولانا عبدالرؤف فاروقی (ناظم اعلیٰ جمعیت علماے اسلام، لاہور)، پروفیسر حافظ محمد سعید (امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان ، لاہور)،مولانا زاہد الراشدی(ڈائریکٹرالشریعہ اکیڈمی ، گوجرانوالہ) مولانا راغب حسین نعیمی (مہتمم جامعہ نعیمیہ، لاہور) ، مولانا خان محمد قادری(مہتمم جامعہ محمدیہ غوثیہ، داتا نگر، لاہور) وغیرہ وغیرہ۔
ان سارے علمائے کرام اور دیگر اہلِ علم ونظر سے میرا سوال ہے کہ جمعیت علماے اسلام، جمعیت علماے پاکستان، تحریک نفاذِ فقہ جعفریہ،اسلامی تحریک ،جماعت اہلِ سنت، سنی تحریک ،مولانا مودودی کی جماعت اسلامی وغیرہ مختلف مسالک کی نمایندہ سیاسی جماعتیں ہیں یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ کوئی صاحبِ عقل ودانش اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ جماعتیں مختلف مسالک کی نمایندہ ہیں۔اب صورت یہ ہے کہ یا تو متذکرہ صدر قبیل کے علما، جن میں سے اکثر مختلف مسالک کی نمایندہ سیاسی جماعتوں کے عہدے داریا ان سے متعلق اور ان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے ہیں ، ان جماعتوں پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں، یا انھوں نے ان نکات کو پڑھا ہی نہیں، یا ان کا خیال یہ ہے کہ اس پر کون عمل کرتا ہے!یا ان کا تصور یہ ہے کہ اس طرح کی قراردادوں کو کون غور سے دیکھتا ہے! جو بھی صورت ہے ،المیے سے کم نہیں ، یہ اہل مذہب کے نظری و عملی رویوں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب
مولانا محمد عیسٰی منصوری
تمام انسانی تہذیبیں اور ثقافتیں زندہ مخلوق (نامیاتی اجسام) کے مانند ہوتی ہیں۔ جس طرح ہر جاندار مخلوق زندگی میں مختلف مراحل سے گزرتی ہے، بچپن، جوانی، بڑھاپا، پھر موت، یہی حال تمام انسانی تہذیبوں کا ہے۔ تہذیبیں پیدا ہوتی ہیں، عروج پاتی ہیں، پھر زوال کا شکار ہو کر مٹ جاتی ہیں۔
دنیا کی جتنی بھی تہذیبیں ہیں، وہ تین چیزوں کا ملغوبہ ہوتی ہیں (۱) وہ گزشتہ تہذیبوں کے کھنڈرات پر قائم ہوتی ہیں یعنی گزشتہ تہذیبوں کے بچے کھچے آثار و باقیات یا تلچھٹ۔ (۲) ہر تہذیب کسی آسمانی وحی یا کچھ مفکرین و دانشوروں کے تصورات و افکار پر مبنی ہوتی ہیں۔ (۳) ہر تہذیب پر خطہ و ملک کا ماحول، عقائد و رسوم اثر انداز ہوتے ہیں۔
موجودہ مغربی تہذیب یونانی فلاسفہ اور مفکرین کے تصورات و افکار اور یونان و روم کی بت پرستانہ عزائم اور رسوم اور وہاں کی گزشتہ تہذیبوں کے مابقی اثرات و باقیات کا ملغوبہ ہے۔ بدقسمتی سے مغرب کے فکر و فلسفہ اور عقائد و رسوم پر آسمانی تعلیمات کی پرچھائیں بہت کم پڑی ہیں۔ اگر کچھ آسمانی تعلیمات کسی طرح مغرب میں پہنچ بھی گئیں تو مغرب نے انہیں بدل کر اپنے رنگ میں رنگ لیا، جیسے مسیحیت جس پر حضرت مسیح کے عقائد و تعلیمات کا اثر بہت کم اور ایک مغربی رومی باشندے (سینٹ پال) کے نسل پرستانہ اور رومی دیومالائی عقائد و رسوم و قوانین کا اثر بہت زیادہ رہا ہے۔ اس طرح مسیحیت یا عیسائیت دائمی افادیت کی آسمانی تعلیمات سے کٹ کر انسانی فکر و فلسفہ اور عقائد و رسوم کا مذہب بن کر رہ گئی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ تمام تہذیبیں جغرافیائی حالات اور نسلی و قومی احتیاجات و ضروریات کی پیداوار ہوتی ہیں۔
البتہ اسلامی تہذیب، تہذیبوں کے ظہور اور ان کے عروج و زوال کے اس عمومی قانون سے مستثنیٰ ہے کیونکہ یہ کوئی نسلی و قومی نامیاتی جسم نہیں ہے بلکہ ایک زندہ نظریہ و فکر کا نتیجہ ہے۔ اس کی اساس جغرافیائی، نسلی و قومی عوامل کے بجائے ایک ایسے دین اور فکر و عقیدے و تعلیمات پر ہے جس کی حیثیت دائمی و ابدی ہے۔ نزول قرآن کے ساتھ ہی دنیا میں ایک نئی تہذیب نے جنم لیا جو قرآنی عقیدہ و تعلیمات سے پیدا ہوئی۔ قرآن کریم خالق کا کلام اور خالق کی صفت ہے۔ جس طرح خالق کی ذات و صفات دائمی و ابدی ہے، اس پر زمانہ اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ وہ زمانہ پر حاوی و غالب ہے، یہی حال خالق کے عطا کردہ عقیدہ و فکر اور تعلیمات کا ہے۔ یہ زمانہ سے ماورا ہے اور اس کی افادیت ہر ہر دور کے لیے ہے، یعنی دنیا کی تمام تہذیبوں کی طرح اسلامی تہذیب نہ کسی سابقہ تہذیب کے کھنڈرات و تلچھٹ پر ہے، نہ اس پر کسی مفکر و دانشور کے فکر و فلسفہ کا ذرہ برابر اثر ہے، نہ عرب کے سابقہ عقائد و رسوم، عادات و طرز زندگی کا۔ وہ اس قدر حساس ہے کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کو ایک خاص درجہ دینے کے باوجود عبادات تک پر ان کی تحریک شدہ آسمانی تعلیمات کا بھی ذرہ برابر اثر قبول نہیں کرتی۔ حالت نماز میں آپؐ کو علم ہوتا ہے کہ یہود کا امام محراب کے اندر کھڑا ہوتا ہے، آپؐ ایک لمحہ توقف کے بغیر اسی وقت محراب کے باہر ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ’’یہود و نصاریٰ کی مخالفت کرو اگر وہ بھی عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں تو تم مخالفت کر کے اس کے آگے یا پیچھے ایک روزہ اور بڑھالو‘‘۔ وہ معاشرت کے معمولی سے معمولی عمل کے لیے الگ ضابطہ رکھتی ہے، معاشرتی امور، کھانا پینا، لباس، حجامت بنوانا، جوتا پہننا، اور استنجا کرنے میں بھی گزشتہ کسی تہذیب کا کوئی اثر قبول نہیں کرتی بلکہ اس میں بھی قرآن و سنت مستقل رہنمائی دیتی ہے۔
ہمیں یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ مسلمانوں کا زوال اس وقت شروع ہوا جب مسلمان فقہا و متکلمین کے اذہان پر قرآن کے بجائے مغرب (یونان) کے فلاسفہ کے انسانی علوم و افکار نے غلبہ پا لیا اور ان کی بنیاد پر قرون وسطیٰ کے فقہا و متکلمین نے اپنی فقہی و کلامی تعبیرات کو اپنے اپنے عہد کے سیاسی، سماجی و تمدنی حالات اور احتیاجات کے رنگ میں بیان کرنا شروع کیا، جس کی وجہ سے وہ قرآن کے عطا کردہ تفکر سے جو تخلیقیت و ابداعیت سے مملو ہے (یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اور اس کی ہر تخلیق بغیر کسی سابقہ نمونہ کے ہے) اس تفکر سے دور ہوگئے۔ ابتدائی صدیوں میں جب مسلمان اللہ کی ان صفات سے متصف تھے، تب سینکڑوں نئے علوم جن کا دنیا میں وجود نہ تھا اور ہر علوم اور شعبہ میں ہزارہا نئی نئی چیزیں ایجاد کر کے پوری انسانیت کے محسن اور نفع دینے والے بن گئے تھے۔ لیکن جب وہ یونانی علوم اور افکار کے اسیر ہوئے تو اس نے ان فقہا و متکلمین کے اذہان کے سوتوں کو خشک کر دیا۔ اس کی وجہ سے علوم میں پھیلاؤ اور نئی نئی ایجادات بند ہوگئیں اور دینی تفکر میں جدت اور ایج ختم ہوگئی جس کی وجہ سے اسلامی تہذیب و فکر تروتازہ اور زندہ و توانا رہتی تھی، یعنی مسلمانوں کی فکر و علوم میں تخلیقیت و ابداعیت نہ رہنے کی وجہ سے ان کی فکر و تہذیب فرسودہ اور کہنہ ہو کر بانجھ بن کر رہ گئی۔
متاخرین کی جس فکر کو آج شریعت قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ وہ قرآن و سنت سے مستنبط و ماخوذ ہے مگر زیادہ تر گزشتہ ادوار کے علماء و فقہاء کے اجتہادات و استنباطات پر مشتمل ہے جو اس دور (قرون وسطیٰ) کی ضروریات تھیں۔ مگر آج تہذیب و فکر کے ارتقاء کے ساتھ اس کی اکثر جزئیات بے جوڑ ہوگئی ہیں۔ قرون وسطیٰ کے فقہ و کلام پر ارسطا طالیسی اور نو فلاطونی منطق و فلسفہ کا گہرا اثر ہے اور قدیم فلسفہ و علم آج اپنی معنویت اور قدر و قیمت کھو چکا ہے۔ اس لیے قرون وسطی کے فکر و فلسفہ کی طرح ان سے متاثر کلام و فقہ بھی نئی نسل کے جدید ذہن کو اسلام کے بارے میں مطمئن کرنے میں ناکام ہے اور اس کا نتیجہ ہماری نئی نسل میں تجدید اور مغربیت کے فروغ اور غلبہ کی صورت میں نکلا ہے۔ جدید تعلیم یافتہ نسل نے اسلام کے احکام و تعلیمات اور اس کی تہذیب و تمدن کو عصر حاضر میں غیر متعلق کہنہ و فرسودہ سمجھ کر اس سے کنارہ کشی کر لی ہے اور مغربی تصورات، قانون، نظام، افکار و خیالات، اور معاشرت و تہذیب کو یہ سمجھ کر اپنا لیا ہے کہ اس سے موجودہ مسائل کا حل مل جائے گا۔
ایسے حالات میں علماء کرام کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ اسلام کے اصلی و حقیقی سرچشموں کی طرف لوٹتے یعنی قرآن و سنت اور شروع دور کی تعبیرات و تشریحات کی طرف۔ اور ان دائمی و ابدی سرچشمۂ حیات میں ازسرنو غور و خوض کرتے، آج کے مسائل کا حل نکالتے اور فقہ و کلام دونوں کو قرون وسطیٰ کے یونانی علوم کی دبیز تہوں سے آزاد کرا کے دور حاضر کے مسائل کے حل کے لیے جدید علم کلام اور جدید فقہ کو سامنے لاتے جو براہ راست قرآن و سنت سے ماخوذ ہوتا، جس سے حقیقی اسلام اپنی فطری و سادہ حالت میں نگاہوں کے سامنے آتا اور فقہ و کلام جو درمیانی دور میں یونانی فکر و فلسفہ کے غلبہ کی وجہ سے اس دور کے شارحین فقہ و کلام کی تعبیرات و تشریحات کی دبیز تہوں کے نیچے دب کر رہ گیا تھا، اس سے آزاد ہو جاتا۔ کیونکہ اسلام کا اصل ماخذ تو قرآن حکیم اور سنت رسولؐ ہی ہے، تمام اسلامی علوم و فنون اور تصورات و افکار کو ان دونوں سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ وقت کے مصالح و ضروریات اور تقاضوں کی رعایت بھی ضروری ہے جس طرح آج سے پانچ چھ سو سال پہلے کے علماء فقہاء و متکلمین نے اپنے دور کے مصالح و تقاضوں کی رعایت کی۔ ظاہر ہے آج کے علماء (فقہاء و متکلمین) کو آج کے مصالح و تقاضوں کی رعایت کرنی ہوگی۔ بدقسمتی سے گزشتہ چند صدیوں سے علماء نے اپنے پیشرو حضرات یعنی قرون وسطیٰ کے فقہاء و متکلمین کے افکار و خیالات اور نتائج فکر و استنباطات کو شریعت کے میدان میں دہرانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ ان کے سامنے قرآن و سنت سے زیادہ متاخرین کے اقوال و افکار اور نتائج فکر رہے جبکہ ہر دور میں دینی فکر کی تازگی، احیاء و تجدید کے لیے اصلاً قرآن و سنت اور سیرت سامنے رہنا ضروری ہے۔
انسان کی فطرت ازل سے یکساں رہی ہے اور رہے گی۔ وہ اپنی جسمانی ضرورتوں کے ساتھ روحانی و وجدانی ضروریات بھی رکھتا ہے۔ عصر حاضر میں مذہب کے زوال کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جدید انسان کی فطرت و جبلت میں کوئی جوہری تبدیلی واقع ہوگئی ہے اور وہ اپنے افعال اور دلچسپیوں کو روحانی مقاصد سے ہم آہنگ کرنے کی جبلی و فطری خواہش سے محروم ہوگیا ہے۔ ہر انسان آج بھی مذہب کی احتیاج و ضرورت ویسے ہی محسوس کرتا ہے جیسے پچھلی نسلیں محسوس کرتی تھیں۔ کیونکہ مذہب ہی خیر و شر، نیکی و بدی، حق و باطل اور صحیح و غلط کے مابین فرق و امتیاز کا ایک مستند معیار و کسوٹی رہا ہے اور رہے گا۔ مذہب و عقیدہ کے بغیر کوئی قطعی و یقینی کسوٹی ایسی نہیں رہ جاتی جس پر انسانی زندگی کے اغراض و مقاصد اور اس کے اعمال و افعال کی اخلاقی حیثیت کو جانچا جا سکے، اور یہ وظیفہ اور میدان سائنس و ٹیکنالوجی یا سماجی علوم کا نہیں ہے۔
اول تو مغرب کے حصہ میں سینٹ پال کی تحریف کردہ خلاف فطرت و خلاف عقل مسیحیت آئی، دوسرے یورپ میں مذہب و سائنس کے مابین کشمکش میں مذہبی طبقہ (چرچ) کے ناعاقبت اندیش غلط رویہ کے باعث مذہب کے عملی زندگی سے اخراج کے سبب مغرب کا انسان اخلاقی نامرادی (Ethical Frustration) اور انارکی میں مبتلا ہو کر رہ گیا جس کی وجہ سے ساری اخلاقی حدود کو بالائے طاق رکھ کر ہر کمزور و ناتواں اقوام پر غلبہ و بالادستی اور ان کا ہر طرح سے استحصال اس کی جبلت و فطرت بن گئی ہے جس کے سبب دنیائے انسانیت میں سفاکی و سنگدلی کے مظاہرے ہیں۔ یہ سب اسی اخلاقی نامرادی کے مختلف مظاہر و علامات ہیں۔ انسانوں کے درمیان نفرت و خونریزی ہمیشہ سے مغرب کی جبلت و فطرت رہی ہے۔ گہرائی سے مغرب کا جائزہ بتاتا ہے کہ مغربی تمدن کی بنیاد استعمار پر ہے۔ استعمار کا مطلب ہے کمزور لوگوں کو اپنی طاقت کے شکنجے میں جکڑے رکھنا۔ اور استعمار کے ہاتھوں جکڑی ہوئی اقوام و ممالک کو اپنی آزادی کے لیے ہاتھ پیر مارنے کی بھی اجازت نہیں۔ استعمار مغرب کی پانچ ہزار سالہ تاریخ و تمدن کا خلاصہ ہے۔
گزشتہ صدیوں میں مغرب کے غلبہ کے بعد دنیا کا کونسا خطہ ہے جہاں لاکھوں کروڑوں لوگ مغربی استعمار کے ہاتھوں ہلاک نہیں ہوئے۔ دو پورے براعظم (آسٹریلیا اور امریکہ) کی اصلی آبادی کا صفایا کر دیا گیا۔ امریکہ کا سب سے بڑا دیوتا (جس کے امریکہ میں سب سے زیادہ مجسمے ہیں) کولمبس نے سترہویں صدی میں ۳۵ لاکھ ریڈ انڈین کا قتل عام کیا۔ ان بے چاروں کو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ ان کا قصور کیا ہے۔ دوسری طرف سوشلزم کے ہیرو اسٹالن نے اپنے غلط فلسفہ کی خاطر چھ کروڑ معصوم لوگوں کو قتل کیا۔ ہٹلر اگر جنگ جیت گیا ہوتا تو مغرب کا سب سے بڑا ہیرو اور دیوتا ہوتا۔ استعماری ذہنیت کی خاطر دو عظیم جنگوں میں آپسی تباہی کے بعد مغربی دجالوں نے ٹیبل پر طے کیا کہ اب ساری ہلاکتیں مغرب کے باہر ممالک میں کریں گے۔
مغرب کی سینٹ پالی مسیحیت میں شروع ہی سے دین و دنیا کی تقسیم کا غلط عقیدہ آیا تھا جب مغرب نے حضرت مسیح کے بجائے سینٹ پال کے افکار و نظریات پر اپنے مذہب کی بنیاد رکھی۔ اس نے دین و دنیا، روح و مادہ کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ گویا مغرب کے موجودہ سیکولرزم کی بنیاد پہلے ہی سینٹ پال کی مسیحیت نے فراہم کی تھی۔ شروع ہی سے اس کے معتقدات و اصول غیر عقلی، ناقابل فہم، اور ناقابل عمل تھے۔ جب تک چرچ اور پوپ کے پاس جبر و طاقت رہی لوگ جبراً و قہراً مانتے رہے، جیسے ہی چرچ و پوپ کی طاقت کو زوال ہوا انسانی فطرت اس کو برداشت نہ کر سکی۔
اس کے برخلاف اسلام کے عقائد و اصول سب کچھ فطری، عقلی اور قابل فہم ہیں۔ اس میں اور انسانی فطرت میں، اس میں اور عقل و سائنس میں کہیں بھی کوئی تصادم و کشمکش نہیں ہے۔ اس لیے مذہب کا ماضی کی ایک فرسودہ و ناکارہ متاع ہونا اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہونا سینٹ پال مسیحیت اور دیگر مذاہب کی حد تک تو واقعی درست ہے مگر یہ تصور اسلام کے حوالہ سے کوئی معنٰی نہیں رکھتا۔ اسلام تو طلب علم اور مشاہدہ کائنات کی تحریک ہے۔ وہ ہر وقت انسانوں کو تعقل، تدبر، اور تفکر کی تلقین کرتا ہے۔ مگر آج ہماری اصل بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارے علماء و فقہاء اسلام کی جو تصویر پیش کرتے ہیں، وہ اصلی و حقیقی اسلام کی تصویر کم اور قرون وسطیٰ کے فقہاء و متکلمین جو مغربی (یونانی) افکار و تصورات سے متاثر و مرعوب ہوگئے تھے، ان کی ذہنی و فکری تعبیرات و تشریحات کا ملغوبہ زیادہ ہے۔ قرون وسطیٰ کے مصالح و تقاضوں سے متاثر تعبیرات موجودہ زندگی کے فکری و عملی مسائل کے حل میں بہت کم رہنمائی کرتی ہیں۔ صدیوں پرانی کلامی و فقہی تعبیرات جو حقیقتاً اپنے اپنے دور کی سیاسی، معاشی، سماجی و تہذیبی اور تمدنی حالات و مصالح اور ضروریات کی پیداوار تھیں، انہیں حالات حاضرہ کے مسائل و چیلنجز پر من و عن منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا افسوس ناک نتیجہ یہ نکلا کہ عالم اسلام کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ذی اقتدار و اختیار طبقہ نے ان تعبیرت کو فرسودہ اور موجودہ حالات میں غیر منطبق دیکھ کر وہ اسلام ہی کی افادیت کے متعلق شک و شبہ میں مبتلا ہوگیا اور وہ مغرب کے نظام و قانون، سیاست و طرز تعلیم اور تہذیبی و معاشرتی اقدار کو مسلم معاشروں پر مسلط کرتا جا رہا ہے۔
مغرب کی تمام سیاسی و قانونی تصورات و اصطلاحات جیسے ڈیموکریسی، سوشلزم، لبرل ازم، سیکولرزم، یہ سب مغرب کی صدیوں پر محیط مذہبی، تہذیبی، سماجی و تمدنی تصورات اور عقائد و رسوم سے وابستہ ہیں۔ یہ تمام مغربی تصورات مشرقی اقوام کے تصورات خصوصاً اسلامی نظریہ و فکر سے متصادم ہیں، ان کے اسلامی معاشروں پر اطلاق کا مطلب اسلامی معاشرے کو صرف مغرب کی تاریخی تہذیبی و فکری و سیاسی زاویہ نگاہ سے دیکھنا ہے جو مشرق کے کسی ایسے مذہب پر بھی فٹ نہیں بیٹھتی جس کا تعلق آسمانی تعلیمات و ہدایات سے کٹ گیا ہو جیسے ہندو معاشرہ یا بدھسٹ معاشرہ۔ اسلام جو اپنے وجود میں آنے سے ابتک ایک لمحہ کے لیے بھی آسمانی تعلیمات سے کٹ نہیں ہوا، اس پر ان تصورات و اصطلاحات کا انطباق کیسے ہو سکتا ہے۔ بقول علامہ سید سلمان ندوی کے اسلامی حقائق کو زمانہ کے ماحول کے مطابق مروجہ اصطلاحات میں ادا کرنا ہمیشہ تعبیر حقائق سے زیادہ تغییر حقائق کا باعث ہوا ہے۔ مثلاً بیسویں صدی میں جن مفکرین نے اسلام کو ایک تحریک قرار دیا وہ بلا ارادہ اسلام کی تغییر کے مرتکب ہوئے ہیں کیونکہ Movement (تحریک) کا لفظ ایک تمدن و فکری پس منظر رکھتا ہے۔ اور یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اسلام ہرگز کوئی نیا مذہب نہیں ہے جو ساتویں صدی عیسوی میں وجود میں آیا بلکہ اس آسمانی پیغام کا تسلسل و استمرار ہے جو پیغمبر اسلام سے پہلے حضرت عیسٰیؑ ، حضرت موسٰیؑ ، حضرت داؤدؑ ، حضرت سلیمانؑ ، حضرت اسحاقؑ ، حضرت ابراہیمؑ ، حضرت نوحؑ ، اور حضرت آدمؑ نے دیا، خالق و مخلوق کے درمیان اسی ارتباط کا نام مذہب ہے۔
آسمانی تعلیمات یا ربانی رشد و ہدایت کے بجائے محض انسانی عقل و فہم کے ذریعہ وضع کردہ قوانین و ضابطے اور معیارات خیر و شر عالم انسانی سے ظلم و نا انصافی اور استحصال کو ختم نہیں کر سکتے اور نہ ہی بنی نوع انسان کے اخلاقی روحانی اور مادی فلاح و کامیابی کا موجب بن سکتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی قوم یا طبقہ کے وضع کردہ قوانین و ضابطے ہوں یا خیر و شر کے معیارات، وہ ان کے ذاتی، نفسیاتی اثرات اور ملکی و قومی مفادات کے تابع ہوتے ہیں، اس میں ابدی استواری و معروضیت پیدا نہیں ہو سکتی۔ اس لیے وہ اقوام عالم میں جاری آویزش و کشمکش مٹا کر ان کے درمیان اتحاد و یگانگت کا سبب و ذریعہ نہیں بن سکتے۔ خاص طور پر سیکولرزم یعنی دین و قانون اور سیاست کی علاحدگی کے تصور نے دنیا میں اخلاقی، روحانی، عمرانی، تہذیبی و سیاسی ابتری کو پروان چڑھایا اور اقوام کے مابین کشمکش و مخاصمت کو بڑھایا ہے اور انسانی معاشروں کو حقیقی راحت و شادمانی اور امن و سکون سے دور کر دیا ہے۔ اس کے برخلاف آسمانی تعلیمات پر انسان اور معاشرہ کی مادی، حیاتیاتی و روحانی تقاضوں کی تکمیل کرتی ہیں۔ کیونکہ اس کے قوانین اور ضابطوں میں ثبات کے پہلو بہ پہلو تغیر کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ خالق ہی مخلوق کے ہر طبقہ کے مصالح و مفادات کو ملحوظ رکھ سکتا ہے۔
یورپ کو انقلاب فرانس کے بعد سینٹ پال کے غیر فطری، غیر عقلی مذہب سے تو نجات حاصل ہوگئی جو ایک خبیث جن و بھوت کی طرح مغرب کے عقل و شعور پر مسلط تھا مگر مسیحؑ کے اصل دشمن یہود مغرب کی اقتصادیات، ذرائع ابلاغ و سیاست پر پوری طرح حاوی ہوگئے بلکہ مغرب کے فکر و فلسفہ کی باگ و ڈور بھی اپنے ہاتھوں میں لے کر مغرب کو ایک روبوٹ کی طرح اپنے اشاروں پر چلا رہے ہیں۔ پوپ کی تباہ کاریاں یورپ تک محدود تھیں مگر صیہونیوں کی پوری دنیا تک وسیع ہیں۔ تقریباً پینتیس سال پہلے ایک صیہونی اسکالر سمویل ہنٹنگٹن نے مغرب کو تہذیبوں کی جنگ کا فلسفہ دے کر مغرب کو عالم اسلام سے بھڑا دیا، یعنی مستقبل میں دنیا میں جنگیں تہذیبوں کی بنیاد پر ہوں گی اور مغربی تہذیب کو اصل خطرہ اسلامی تہذیب سے ہے۔ یہاں بھارت کے سابق صدر ڈاکٹر ذاکر حسین کا مقولہ یاد آتا ہے کہ تہذیبیں نہیں ٹکراتیں، وحشتیں ٹکراتی ہیں، علوم نہیں ٹکراتے، جہالتیں ٹکراتی ہیں۔ کیونکہ مہذب ہونے کے معنی ہی یہ ہیں کہ انسان عقل و انصاف پر چلے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد مغرب نے صیہونیوں کے ایماء پر رقص کرتے ہوئے اسلام کے خلاف تہذیبی جنگ شروع کر دی ہے۔ اس جنگ کے شعلوں کو بھڑکانے کے لیے موساد اور امریکی صیہونی لابی نے نائن الیون کروا کر تہذیبی جنگ میں مزید شدت پیدا کر دی۔ مغرب نے کچھ عرصہ سے تہذیب کے لیے ایک نیا عنوان ’’مین اسٹریم‘‘ تراشا ہے۔ مین کا لفظی ترجمہ سب سے بڑا، اہم یا بنیادی اور اسٹریم ندی یا دریا کو کہتے ہیں۔ دوسرا لفظ تہذیب کے لیے ’’لائف اسٹائل‘‘ اختیار کیا ہے۔
دنیا میں پہلے انسان حضرت آدمؑ کے وقت سے یہ تہذیبی لائف اسٹائل یعنی طرز زندگی کی جنگ جاری ہے۔ ایک لائف اسٹائل وہ ہے جو خالق کائنات نے ہر دور میں پیغمبروں کے ذریعہ عطا کیا اور دوسرا لائف اسٹائل اللہ کے پیغمبروں کی ضد اور مخالفت میں انسانوں نے اپنے نفس کی خواہش کے مطابق اختیار کیا۔ مثلاً حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا لائف اسٹائل غیر فطری عمل (Gay) تھا اور یہ عین جمہوری مزاج کے مطابق ان کا مین اسٹریم یا قومی دھارا تھا۔ پوری قوم میں محض گنتی کے چند نفوس اس مین اسٹریم کے خلاف حضرت لوط کے ساتھ تھے۔ قوم شعیب کی تہذیب یا مین اسٹریم کم تولنا تھا، یہ بھی جمہوری یا اکثریتی قومی دھارا تھا، صرف چند لوگ حضرت شعیبؑ کے ساتھ تھے۔ ہر دور میں پیغمبروں کے مخالفین مین اسٹریم یا اکثریت (عین جمہوری) رہے ہیں۔ نائن الیون کے بعد مغربی تہذیب کے دو علمبرداروں امریکی صدر جارج بش اور برطانوی پرائم منسٹر ٹونی بلیئر نے اعلان کیا کہ ہم اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہمارے لائف اسٹائل (تہذیب) کے خلاف افغانستان و عراق میں جو بھی سامنے آئے گا، اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ نائن الیون کے ایک ماہ بعد امریکی وزیردفاع رونالڈ رمز فیلڈ نے دو ارب ڈالر کی لاگت سے تیار شدہ B52 بمبار طیارے کے سامنے کھڑے ہو کر امریکی فضائیہ کے ان ہوابازوں سے جو افغانستان کے عوام کو تباہ کرنے کے لیے بمباری کے مشن پر روانہ ہو رہے تھے، خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے سامنے صرف دو راستے ہیں (۱) ہم اپنے لائف اسٹائل کو یکسر بدل دیں اور ان مسلمانوں کا لائف اسٹائل اختیار کر لیں (۲) یا ہم ان کے لائف اسٹائل کو بدل دیں۔ ہم نے یہ دوسرا راستہ چنا ہے۔ اب آپ کا کام اس مشن کی تکمیل ہے۔
اب اس تہذیبی جنگ کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ افغانستان، عراق، الجزائر، لیبیا، تیونس، مصر، صومالیہ اور یمن تک پھیل چکا ہے۔ اب تک مغرب اپنی تہذیب مسلط کرنے کے لیے تقریباً ایک لاکھ حملے کر چکا ہے اور یہ تہذیبی ہولی وار (مقدس جہاد) تیز تر ہوتی جا رہی ہے، اس میں بیس لاکھ کے قریب لوگ موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔ اس تہذیبی جنگ میں مغرب کی لائف اسٹائل یعنی تہذیب یا طرز زندگی کو حاوی کرنے یا تقویت پہنچانے میں تین اداروں کا بنیادی رول ہے۔ (۱) میڈیا (۲) نظام تعلیم (۳) ڈیمو کریسی، الیکشنی سیاست۔ دنیا کا میڈیا تو مکمل طور پر مغربی و صیہونی کنٹرول میں ہے، مسلم ممالک میں نظام تعلیم کو مغرب کی منشا و مزاج کے مطابق بنانے کا عمل تیزی سے جاری ہے، دینی مدرسہ اس کا خاص نشانہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ دینی مدارس کے طلباء کو دنیا میں ترقی و کامیابی کے لیے مغربی نظام تعلیم اور تمدن و اسلوب زندگی کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عصری تعلیم گاہوں کے مسلمان اسٹوڈنٹس کو آخرت کی کامیابی و فلاح کے لیے کسی چیز کی ضرورت ہے یا نہیں؟
تقریباً نصف صدی پہلے امریکہ کے معروف صیہونی ادارے ’’رینڈ کارپوریشن‘‘ نے ایک رپورٹ مرتب کر کے مشورہ دیا تھا کہ مسلم ممالک کے عوام کو مین اسٹریم (مغربی تہذیب) میں لانے کا سب سے مؤثر نسخہ مغربی طرز سیاست یعنی انتخابی جمہوریت ہے۔ ہم اس کے ذریعہ مسلمانوں کو بہت سے گروپوں میں تقسیم کر کے ان میں سے اپنے کام کے لوگ با آسانی تلاش کر سکتے ہیں۔ اول تو اسلام پسند جماعتیں الیکشن میں جیت نہیں سکیں گی۔ اگر کبھی (مصر، الجزائر کی طرح) جیت بھی گئیں تو ہم انہیں کی فوج کے ذریعہ با آسانی کچل دیں گے۔ چنانچہ مغرب پوری مسلم دنیا میں مغربی طرز سیاست یعنی ڈیموکریسی و جمہوریت کے لیے سرگرم عمل ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعہ مسلم دنیا میں مغربی لائف اسٹائل و تہذیب کا نفوذ بہت آسانی سے ہوتا ہے۔ مغرب کی اس تہذیبی یلغار کے مقابلہ کے لیے ہمارے پاس لے دے کر دینی مدارس ہیں مگر افسوس اس پر ہے کہ ہمارے علماء ماضی میں جس طرح یونانی علوم کے اسیر بن گئے تھے وہ اب مغربی فکر سیکولرزم (دین دنیا کی علاحدگی) کو عملاً قبول کر چکے ہیں۔ چنانچہ ہمارا پورا دینی تعلیمی ڈھانچہ عقائد و عبادات کے گرد گھومتا ہے ، اس میں اجتماعی معاملات پر کوئی بحث و تحقیق تک نہیں ہے، اس کے نفاذ کے لیے افراد کاری کی تیاری تو دور کی بات ہے۔
شرق اوسط کی صورتحال اور ایران کا کردار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
لاہور سے شائع ہونے والے ایک اخبار نے 16 اکتوبر کو یہ خبر شائع کی ہے کہ عرب ٹی وی کے مطابق امریکی فوج کے ایک عہدہ دار نے کہا ہے کہ ایران دنیا بھر میں شیعہ ملیشیاؤں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ایران نہ صرف یمن میں حکومت کے خلاف سرگرم شیعہ باغیوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے بلکہ وہ دنیا کے کئی دوسرے ملکوں کو بھی بھاری جنگی ہتھیار مہیا کرتا ہے۔ یہ خبر چونکہ امریکی فوج کے ایک عہدہ دار کے حوالہ سے سامنے آئی ہے اس لیے اسے امریکی الزام یا پروپیگنڈا کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے ایک روز قبل عرب ممالک کی خلیجی تعاون کونسل اور ترکی کی کابینہ کے ارکان کے مشترکہ اجلاس کے بعد ان کی طرف سے یہ مشترکہ مطالبہ شائع ہوچکا ہے کہ ایران خطے میں مداخلت کی پالیسی ترک کر دے۔ جبکہ اس مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شام اور عراق کی سا لمیت اور وحدت کا تحفظ ضروری ہے۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال دن بدن جو گھمبیر صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے اس نے پورے عالم اسلام کو مضطرب کر رکھا ہے اور پاکستان کے عوام بطور خاص اس اضطراب اور بے چینی کا شکار ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے حالات جو بھی رخ اختیار کریں پاکستان اس سے براہ راست متاثر ہوتا ہے اور پاکستانی معاشرہ اور ماحول میں اس کے منفی اثرات کئی حوالوں سے سامنے آنے لگتے ہیں۔
اس مسئلہ کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ اب سے ایک صدی قبل برطانوی استعمار نے دیگر مغربی ممالک کی ملی بھگت سے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے مشرق وسطیٰ کے جغرافیہ اور بین الاقوامی سرحدات کا جو نیا نقشہ تشکیل دیا تھا اس کے مطلوبہ نتائج پورے ہو جانے کے بعد اب مغربی قوتوں کے قائد امریکہ کو اپنے مستقبل کے عزائم کی تکمیل کے لیے اس جغرافیائی نقشے اور بین الاقوامی سرحدات میں ازسرنو تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور اس کی راہ ہموار کرنے کے لیے یہ ساری افراتفری پھیلائی گئی ہے۔ ایک نظر اس صورتحال پر اس پہلو سے بھی ڈال لیں کہ امریکہ اور روس سمیت تمام عالمی قوتوں کا ہر قدم اس سمت اٹھ رہا ہے جس سے اس افراتفری میں اضافہ اور جنگی ماحول برقرار رکھنے کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ عراق و شام کے لاکھوں شہریوں کے قتل عام اور لاکھوں کی جلاوطنی کے بعد بھی سینوں کی آگ ابھی تک ٹھنڈی نہیں ہوئی اور جنگ کو رکوانے کی بجائے نئے نئے محاذ کھولنے پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سنی شیعہ اختلاف جو اس سے قبل طویل عرصہ سے علمی مباحث، مناظروں، مذہبی گروہ بندی، اور زیادہ سے زیادہ پراکسی وار تک محدود تھا اب کھلی خانہ جنگی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہماری اس بارے میں ہمیشہ سے یہی رائے رہی ہے کہ مذہبی دائروں میں یہ اختلافات صدیوں سے چلے آرہے ہیں اور انہیں سرے سے ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان اختلافات کو مناسب دائرے میں رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو برداشت کرنا اور مشترکہ قومی و ملی معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہی اس سلسلہ میں صحیح راستہ ہے۔ ان اختلافات کا شدت پسندانہ اظہار اور ان کی بنیاد پر گروہی محاذ آرائی کا اسلام دشمن استعماری قوتوں کے سوا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اور جو بھی ایسا کرتا ہے وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اسلام دشمن قوتوں کو ہی فائدہ پہنچاتا ہے۔ اس سے ہرممکن گریز کی ضرورت ہے بالخصوص مشرق وسطیٰ میں یہ فرقہ وارانہ محاذ آرائی استعماری قوتوں کے ان عزائم میں تقویت کا باعث بن رہی ہے جن کا ہم سطور بالا میں تذکرہ کر چکے ہیں۔
اس زمینی حقیقت سے کسی صاحب شعور کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ جو سنی شیعہ اختلافات موجود ہیں وہ اصولی اور بنیادی ہیں اور صدیوں سے چلے آرہے ہیں، نہ ان سے انکار کیا جا سکتا ہے، نہ دونوں میں سے کوئی فریق دوسرے کو مغلوب کر سکتا ہے، اور نہ ہی ان اختلافات کو ختم کرنا ممکن ہے۔ ان اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کے وجود کا اعتراف کرتے ہوئے باہمی معاملات کو ازسرنو طے کرنے کی ضرورت بہرحال موجود ہے جس کے لیے آبادی کے تناسب اور دیگر مسلمہ معروضی حقائق کو سامنے رکھ کر ہی توازن کا صحیح راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
جبکہ اس مسئلہ کا تیسرا پہلو مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات میں ایران کا مسلسل کردار ہے جو سراسر واقعاتی ہے اور اسے واقعاتی ترتیب کے ساتھ ہی دیکھا جانا چاہیے۔ اس سلسلہ میں ایرانی انقلاب سے پہلے اور بعد کے ماحول کا تقابلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایرانی انقلاب کو ابتداء میں ایک کامیاب مذہبی انقلاب سمجھا گیا تھا اور ایسا سمجھنے والوں میں ہم بھی شامل تھے۔ ہمیں توقع تھی کہ عالمی سیکولر قوتوں کے ایجنڈے کے علی الرغم ایران کا یہ کامیاب مذہبی انقلاب دنیا بھر کی اسلامی تحریکات کی تقویت کا ذریعہ بنے گا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا۔ بلکہ ایرانی انقلاب کے نتیجے میں اکثر مسلم ممالک بشمول پاکستان کی اسلامی تحریکات کو نئی اور متوازی فرقہ وارانہ تحریکات کا سامنا کرنا پڑ گیا جس کے تلخ ثمرات آج پورے عالم اسلام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ چنانچہ خلیجی کونسل اور ترکی کا مشترکہ اعلامیہ اس معاملہ کی سنگینی کی انتہائی حدوں کی نشاندہی کر رہا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مشرق وسطیٰ میں عراق، شام، لبنان، یمن، اور بحرین میں سنی شیعہ کشیدگی نے جو نیا رخ اختیار کیا ہے وہ سب ایرانی انقلاب کے بعد کی پیداوار ہے اور بعض حلقوں کا یہ خدشہ بے جا نہیں ہے کہ اس سے سعودی عرب کے گرد حصار تنگ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جبکہ بعض ذمہ دار ایرانی راہنماؤں کی طرف سے ایسی باتیں عالمی پریس کے ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں حرمین شریفین کے حوالہ سے سعودی عرب کے انتظامات اور کنٹرول کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، یہ دیکھے بغیر کہ اگر ایرانی مطالبہ پر حرمین شریفین کو سعودی کنٹرول سے نکالنے کی بات خدانخواستہ مان لی جائے تو اس کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا اور اس ممکنہ مرحلہ میں عالم اسلام کی غالب اکثریت کا ردعمل اور جذبات کیا ہو سکتے ہیں؟
مشرق وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال کے بعض اہم پہلوؤں کی طرف توجہ دلانے سے ہمارا مقصد ایران کو مطعون کرنا نہیں بلکہ ایرانی قیادت کو توجہ دلانا ہے کہ ان حالات کا بہرحال دوطرفہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اس کے سوا اس دلدل سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کی اس کشمکش کے واقعاتی اسباب کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے، دونوں طرف کی شکایات کو سامنے لا کر ان کا تجزیہ کیا جائے، اور انہیں دور کرنے کے لیے ٹھوس حکمت عملی طے کی جائے۔ لیکن کیا ایران خلیجی تعاون کونسل اور ترکی کے اس مشترکہ مطالبہ کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے ان کے ساتھ بامقصد مذاکرات کی کوئی صورت نکالنے کے لیے تیار ہو جائے گا؟
حضرت مولانا مفتی محمود کا اسلوبِ استدلال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کو ہم سے رخصت ہوئے چھتیس برس گزر چکے ہیں،لیکن ابھی کل کی بات لگتی ہے، ان کا چہرہ نگاہوں کے سامنے گھوم رہا ہے، وہ مختلف تقریبات میں آتے جاتے دکھائی دے رہے ہیں، ان کی گفتگو کانوں میں رس گھول رہی ہے، ان کے استدلال اور نکتہ رسی کی ندرت دل و دماغ کو سراپا توجہ کی کیفیت میں رکھے ہوئے ہے اور ان کی فراست و تدبر کے کئی مراحل ذہن کی اسکرین پر قطار میں لگے ہوئے ہیں۔ مولانا مفتی محمودؒ کے بارے میں بہت کچھ کہنے کو جی چاہتا ہے اور بہت لکھنے کا ارادہ ہوتا ہے لیکن آج کل سماعت و مطالعہ کا ہاضمہ اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ بعض ارادے
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے
کی دہلیز پر آکر دم توڑ دیتے ہیں۔ آج ان کے بارے میں کچھ لکھنے کے لیے قلم ہاتھ میں لینے سے پہلے کئی گھنٹے سوچتا رہا اور متعدد پہلو باری باری سامنے آنے پر انہیں تولتا رہا بالآخر ذہن کی سوئی حضرت مفتی صاحبؒ کے استدلال کے اسلوب اور ندرت پر آکر رک گئی اور اسی کے حوالہ سے چند معروضات قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو استدلال کی جو قوت و صلاحیت عطا فرمائی تھی، اس کا اعتراف سب حلقوں میں کیا جاتا تھا۔ ہمارے ایک مرحوم و مخدوم بزرگ کہا کرتے تھے کہ مفتی صاحبؒ سامنے نظر آنے والے لکڑی کے ستون کو دلائل کے ساتھ سونے کا ستون ثابت کرنا چاہیں تو دیکھنے والا شخص ان کی بات ماننے پر مجبور ہو جائے گا۔ سیاسی، علمی، اور فکری سب قسم کے معاملات میں مفتی صاحبؒ کی اس خداداد صلاحیت کا ہم نے یکساں اظہار ہوتے دیکھا ہے۔ چنانچہ اس موقع پر خود ان کی زبان سے براہ راست سنی ہوئی بعض باتیں ذکر کرنا چاہ رہا ہوں۔
۱۹۷۳ء کے دستور کی ترتیب و تدوین میں حضرت مفتی صاحبؒ بھی دستور ساز اسمبلی کے ممبر بلکہ جمعیۃ علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر کے طور پر شریک تھے۔ اس دوران یہ بات زیر بحث آئی کہ کیا عورتوں کو اسمبلی میں نمائندگی دی جا سکتی ہے؟ ہمارے بعض سرکردہ ارباب علم و فضل کو اس میں اشکال تھا۔ مفتی صاحبؒ نے اس سلسلہ میں ایک بڑے بزرگ کے ساتھ اپنی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے ان سے دریافت کیا کہ حضرت اشکال کس بات میں ہے، کیا عورتوں کو رائے دینے اور مشورہ میں شریک ہونے کا حق حاصل نہیں ہے یا پردہ اور مجلس کے اختلاط کے حوالہ سے اشکال درپیش ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ عورتوں کو رائے دینے کا حق تو ہے اور انہیں مشاورت میں شریک بھی کیا جا سکتا ہے لیکن مشترکہ مجلس میں ان کا بے حجاب شریک ہونا درست دکھائی نہیں دیتا۔ مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے عرض کیا کہ قرآن کریم نے آیت مقدسہ والقواعد من النسآء میں عمر رسیدہ عورتوں کے لیے جو گنجائش دی ہے اگر اس کے تحت اسمبلی کی رکنیت کے لیے عورتوں کی عمر کی حد مقرر کر دی جائے، ان کی نشستیں مردوں سے الگ کر دی جائیں، اور لباس کی بھی کوئی مناسب حد بندی کر دی جائے تو پھر آپ کو کیا اشکال ہے؟ اس پر وہ بزرگ خاموش ہوگئے۔
مفتی صاحبؒ نے ایک موقع پر بتایا کہ قومی اسمبلی میں قادیانیت کے حوالہ سے بحث طول پکڑ گئی اور قادیانی امت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کی طرف سے قرآن کریم کی آیات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پیش کیے جانے کے باعث اسمبلی کے وہ ارکان تشویش کا شکار ہونے لگے جو قرآن و حدیث کا علم نہیں رکھتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ’’خاتم النبیین‘‘ کے مختلف معنوں اور توجیہات نے اس تشویش میں اضافہ کر دیا، حتیٰ کہ خود وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے مفتی صاحبؒ سے کہا کہ دونوں طرف سے آیتیں اور حدیثیں پیش کی جا ری ہیں اور حوالے دیے جا رہے ہیں جو ہماری سمجھ میں نہیں آرہے۔ اس لیے ہمیں تو قرآن کریم سے کوئی سیدھی سی بات بتائیں کہ حضرت محمدؐ کے بعد نبی نہیں آئے گا تب بات ہماری سمجھ میں آسکتی ہے۔ مفتی صاحبؒ نے فرمایا کہ بھٹو مرحوم کی یہ بات سن کر ایک بار تو مجھے بھی پریشانی سی ہوئی پھر اللہ تعالیٰ نے ذہن میں بات ڈال دی اور میں نے کہا کہ بھٹو صاحب! یہ بات تو قرآن کریم نے آغاز میں ہی واضح کر دی ہے کہ سورۃ البقرہ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے کہ مومن وہی ہے جو اس وحی پر ایمان لاتا ہے جو آپؐ پر نازل ہوئی ہے اور اس وحی پر بھی ایمان رکھتا ہے جو آپؐ سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ اگر آنحضرتؐ کے بعد وحی نازل ہونا ہوتی تو اس کا بھی یہاں ذکر ہوتا، چونکہ اس کا ذکر نہیں ہے اس لیے حضورؐ کے بعد کسی وحی کا نزول نہیں ہوگا۔ یہ بات سن کر بھٹو مرحوم نے کہا کہ بس بات سمجھ میں آگئی ہے، آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔
اسمبلی کا ہی ایک اور واقعہ حضرت مفتی صاحبؒ نے سنایا کہ اسمبلی میں زیربحث کسی مسئلہ پر مفتی صاحبؒ اور کچھ دیگر ارکان نے واک آؤٹ کیا تو اس پر مولانا کوثر نیازی مرحوم نے اعتراض کیا کہ آپ حضرات یہاں قوم کی نمائندگی کے لیے آتے ہیں اور یہاں آنے اور بیٹھنے کی آپ کو تنخواہ اور الاؤنس وغیرہ ملتے ہیں، اس لیے کام چھوڑ کر چلے جانا شرعاً درست نہیں ہے۔ مفتی صاحبؒ نے فرمایا کہ قرآن کریم کا حکم ہے کہ جس مجلس میں غلط باتیں ہو رہی ہوں، فلا تقعدوا معھم، ان کے ساتھ مت بیٹھو۔ نیازی صاحب مرحوم نے کہا کہ پھر آپ مجلس میں واپس کیوں آگئے ہیں؟ مفتی صاحبؒ نے آیت کا دوسرا جملہ پڑھا: حتیٰ یخوضوا فی حدیث غیرہ یہاں تک کہ وہ کسی اور گفتگو میں مصروف ہو جائیں۔ یعنی اگر مجلس کا ایجنڈا بدل جائے تو آپ اس میں شریک ہو سکتے ہیں۔
مولانا مفتی محمودؒ موقع شناسی اور اس کے مطابق گفتگو کرنے میں مہارت رکھتے تھے اور مخاطب کی بات کا اصل مقصد سمجھ کر اس کا جواب دیتے تھے۔ اس سلسلہ میں ایک بار مفتی صاحبؒ نے بتایا کہ کسی مالدار شخص نے ان سے دریافت کیا کہ کیا حرام مال پر بھی زکوٰۃ دینا ہوتی ہے؟ مفتی صاحبؒ نے فرمایا کہ میں اس کا مقصد سمجھ گیا کہ میں کہہ دوں گا کہ نہیں تو بات بن جائے گی کہ ہماری کمائی تو اکثر حرام کی ہوتی ہے اس لیے زکوٰۃ نہیں دینا پڑے گی۔ مفتی صاحبؒ نے فرمایا کہ ہاں بھئی! حرام مال میں بھی زکوٰۃ فرض ہوتی ہے البتہ حلال مال کی زکوٰۃ اور حرام مال کی زکوٰۃ میں کچھ باتوں کا فرق ہے:
- حلال مال میں زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے نصاب کا ہونا ضروری ہے لیکن حرام مال کا کوئی نصاب نہیں ہے۔
- حلال مال میں حولان حول (سال کا گزرنا) شرط ہے لیکن حرام مال میں فوری ادائیگی ضروری ہے۔
- حلال مال میں اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ دینا ہوتی ہے جبکہ حرام مال سارے کا سارا دے دینا ضروری ہے۔
- حلال مال کی زکوٰۃ دینے پر اجر و ثواب ملے گا مگر حرام مال ثواب کی نیت کے بغیر صحیح جگہ پر خرچ کرنا ہوگا۔
مفتی صاحبؒ نے فرمایا کہ زکوٰۃ کا اصل مقصد تو مال کو پاک کرنا ہوتا ہے جو حلال میں اڑھائی فیصد دینے سے حاصل ہو جاتا ہے۔ مگر حرام مال پورے کا پورا دے دینے سے باقی کا حلال مال پاک ہوتا ہے۔
اس سلسلہ میں اپنا ایک ذاتی واقعہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت مفتی صاحبؒ کا اسلام آباد کے گورنمنٹ ہاسٹل میں عام طور پر ۴ نمبر کمرہ میں قیام ہوتا تھا اور میں وقتاً فوقتاً جماعتی معاملات میں وہاں جایا کرتا تھا۔ ایک روز مغرب کی نماز پڑھ کر ہم بیٹھے تو جماعتی و ملکی معاملات پر گفتگو کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ خاصی دیر کے بعد مفتی صاحبؒ کے خادم بھائی عبد الحلیم نے آکر پوچھا کہ کھانا تیار ہے لے آؤں؟ مفتی صاحبؒ نے مجھ سے پوچھا کہ مولوی زاہد کیا خیال ہے؟ کھانا پہلے کھالیں یا پہلے نماز پڑھ لیں۔ میں نے عرض کیا کہ پہلے نماز پڑھ لیتے ہیں پھر اطمینان سے کھانا کھائیں گے۔ مفتی صاحبؒ نے اس پر یہ کہہ کر ٹوک دیا کہ کیا مطلب! اطمینان کا تعلق کھانے کے ساتھ ہے یا نماز کے ساتھ؟ پہلے کھانا کھاتے ہیں، پھر اطمینان کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔
ایک موقع پر حضرت مفتی صاحبؒ نے کہا کہ مسلمانوں پر حکمران انھی میں سے چنے جانے چاہئیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو، اللہ تعالیٰ کے رسولؐ کی اطاعت کرو، وأولی الأمر منکم اور ان حکمرانوں کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں۔ حضرت مفتی صاحبؒ کا استدلال ’’منکم‘‘ سے تھا کہ مسلمان حکمرانوں کا انتخاب خود ان میں سے ہی ہونا چاہیے۔
بہت سی باتیں یاد آرہی ہیں، لیکن کالم میں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں ہے اس لیے چند باتوں پر اکتفا کرتے ہوئے دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے درجات جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور ہمیں ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
کیا خاندانی نظام ظلم ہے؟ مارکیٹ، سوسائٹی، غربت اور خاندان کا تحفظ
محمد زاہد صدیق مغل
کچھ روز قبل فیس بک پر خاندانی نظام کے غیر اسلامی ہونے کے حوالے سے ایک تحریر سامنے آئی جس میں کوئی اسلامی دلیل موجود ہی نہ تھی۔ اس تحریر کے استدلال کی کل بنیاد "بڑے بھائی پر ہونے والے مظالم" کا حوالہ تھی کہ اس پر خاندان کا بار گراں زیادہ ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ زیر نظر تحریر میں خاندانی نظام کو اس کے وسیع تر معاشرتی و سیاسی تناظر میں پیش کیا گیا ہے اور جدید مارکیٹ سوسائٹی سے اس کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ مسئلے کے اس پہلو کو عام طور پر نظر انداز کرکے خاندانی نظام پر گفتگو کی جاتی ہے، لہٰذا یہاں اس کی کچھ تفصیلات دی جاتی ہیں۔
آج دنیا میں جس پیمانے پر غربت، افلاس، عدم مساوات و استحصال پایا جاتا ہے، اس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس قدر بڑے پیمانے پر پائے جانے والی غربت، افلاس و عدم مساوات کوئی حادثہ نہیں بلکہ غالب سرمایہ دارانہ (مارکیٹ) نظم کا نتیجہ ہے۔ مگر جدید انسان کا المیہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسے نظام کو جو انسانیت کی ایک عظیم اکثریت کو ظلم کی چکی میں پیس رہا ہے، اس پرفدا ہوا چلا جارہا ہے اور اسے ہی اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے بیٹھا ہے۔ خیر یہ الگ موضوع ہے، فی الوقت ذرائع کی تقسیم میں برصغیر کی طرز کے جوائنٹ فیملی سسٹم کی اہمیت واضح کرنا مقصود ہے۔
تمام انسانی معاشرے انسانی ضرورتو ں کی تکمیل کے لئے اشیاء کی پیداوار اور انہیں تقسیم کرنے کی کسی نہ کسی ترتیب کو جاری رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے اشیاء کی پیداوار کے عمل میں حصہ لینے کی صلاحیت ہر انسان میں بوجوہ مساوی نہیں ہوتی، اس صلاحیت میں تفاوات ایک فطری چیز ہے۔ لیکن پیداواری صلاحیت کے اس تفاوت کا عمل صرف (consumption) کے تفاوت کے ساتھ کیا تعلق ہے، کیا ایک فرد کا جائز حق صرف اسی حدتک ہے جس قدر اس نے پیداواری عمل میں حصہ لیا یا اس سے کچھ زیادہ، اور اگر زیادہ تو کس بنا پر؟ علم معاشیات میں یہ نہایت اہم سوالات ہیں جس پر Development Economists کی بہت سی آراء پائی جاتی ہیں۔یہ سوال اس لئے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ نہ صرف یہ کہ پیدواری صلاحیتوں میں تفاوات پایا جاتا ہے بلکہ آبادی کا وہ حصہ جو براہ راست پیدوار ی عمل میں حصہ لیتا ہے (یعنی employed) وہ بالعموم غیر پیدواری آبادی (بچے، بوڑھے، گھریلو خواتین ، معذور وغیرہم) کے مقابلے میں کم ہوتا ہے (اور پختہ مارکیٹ سوسائٹی میں امیروں میں کم بچے پیدا کرنے اور اوسط آبادی کی عمر بڑھتے چلے جانے کے رجحانات کی بنا پر یہ شرح مزید کم ہوتی چلی جاتی ہے)۔ افراد کے مابین صرف کے تفاوت کو کم سے کم رکھنا قدیم سے لے کر جدید تمام انسانی معاشروں میں ایک جائز و مطلوب مقصد سمجھا جاتا رہا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے انسان کسی نہ کسی روابط کی ترتیب کو اختیار کرتے رہے ہیں۔
خاندان بطور ایک اکائی اس مسئلے کا ایک عمدہ تاریخی حل رہا ہے، وہ اس طرح کہ ایک خاندان (اگر وہ واقعی خاندان ہے) میں بالعموم افراد کے صرف کا حصہ یا تو مساوی ہوتا ہے اور اگر اس میں تفاوت ہو بھی تو کسی پر فاقوں کی نوبت نہیں آتی۔ اس کی جھلک ہم ہمارے یہاں شہروں کے بچھے کچھے خاندان کے تصور میں دیکھ سکتے ہیں کہ ایک گھر کے بچوں، کمانے والوں، خواتین، بوڑھوں، معذور افراد (اگر کچھ ہوں) وغیرہم سب کا معیار زندگی تقریبا مساوی ہوتا ہے، یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ والد صاحب خود تو مرغ مسلم اڑاتے اور رات کو اے سی لگا کر سوتے ہوں مگر نہ کمانے والے افراد کو دال روٹی اور صحن میں بستر ملتاہو۔ اگر کسی رشتے دار پر ناگہانی آفت (مثلا بیماری یا بے روزگاری) آجائے تو خاندان کے بھلے لوگ آج بھی اس کی ضروریات و علاج کا پورا بندوبست کرتے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ خاندان تمام قسم کے افراد (یہاں تک کہ نکموں جن کی ذمہ داری سوشل سیکورٹی کے نام پر اب ریاست پر ڈال گئی ہے) کی معاشی ضروریات اور مسائل کو سمونے (انٹرنلائز) کرنے کا ایک نظام ہے۔ اس نظام کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں یہ سب کچھ محبت، خلوص، صلہ رحمی و ایثار جیسے خوبصورت جذبات کے تحت کرنے کا نام ہے۔
اب آتے ہیں جدید مارکیٹ سوسائٹی کی طرف۔ اس کے لئے مارکیٹ سوسائٹی اور غربت و افلاس کے تعلق کو سمجھنا لازم ہے۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے تنویری معاشی مفکرین نے یہ فرض کیا کہ ایک فرد کا جائز حق صرف اسی قدر ہے جس قدر وہ کمپنی کے نفع میں اضافے کا باعث ہو (اس سب کے پیچھے ان مفکرین کا مخصوص تصور "قدر" ہے جس کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں)۔ یورپی ممالک استعماری دور میں ایک طرف دنیا بھر سے لوٹ مار کرکے اپنے یہاں دولت کے انبار جمع کررہے تھے اور دوسری طرف انہوں نے ان مقبوضہ نوآبادیاتی علاقوں میں بالجبر مارکیٹ سوسائٹی اور سرمایہ دارانہ سٹیٹ سٹرکچر کو فروغ دیا (اور یہ عمل آج بھی جاری ہے)۔ مارکیٹ سوسائٹی اور غربت و افلاس کے مابین لازمی تعلق ہے جس کی چند بنیادی وجوہات ہیں:
1) مارکیٹ نظم معاشرے کی روایتی اجتماعیتوں کو تحلیل کرکے معاشرتی زندگی کو فرد پر منتج (individualize) کردیتا ہے، یوں عمل صرف انفرادی ہوجاتا ہے۔
2) مارکیٹ نظم میں ایک فرد کا کل پیداوار میں حصہ اس بنیاد پر متعین ہوتا ہے کہ وہ نفع خوری پر مبنی پیداواری عمل میں کتنا اضافہ کرنے (نیز اس پر سودے بازی) کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ مارکیٹ صرف مستعد (efficient) لیبر ہی کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
3) نفع خوری پر مبنی مارکیٹ نظم کا پابند پیداواری نظام ذرائع کو انہی اشیاء کی پیداوار کیلئے استعمال کرتا ہے جن سے حصول نفع ممکن ہو، لہذا مارکیٹ نظم معاشرے کے اسی طبقے کی خواہشات و ترجیحات کی تسکین کا سامان پیدا کرتا ہے جو زیادہ قیمت ادا کرنے لائق ہوں (مثلا یہ نظام ہر سال امریکی و یورپی عوام کے کتوں اور بلوں یعنی پیٹس (pets) کے لیے اربوں ڈالرز کے کھلونے پیدا کرتا ہے، مگر افریقہ اور ایشیا کے غریبوں کے لیے گندم نہیں)۔
4) سرمایہ دارانہ ریاست چونکہ سرمائے کی باجگزار ریاست ہوتی ہے لہذا وہ ایسی پالیسیاں مرتب کرتی ہے جس سے سرمایہ بڑی بڑی کارپوریشنز، صنعتوں اور شہروں میں مرتکز ہوتا چلا جائے (کیونکہ ارتکاز سرمایہ کے بغیر بڑھوتری سرمایہ ممکن نہیں) ۔
ان سب کے درج ذیل نتائج نکلتے ہیں:
1) آبادی کی وہ اکثریت جو efficient نہ ہونے کی بنا پر مارکیٹ کا حصہ نہیں بن پاتی انکے روزگار کے مواقع ناپیدہوجاتے ہیں، مارکیٹ نظم اور سرمایہ دارانہ ریاست ذرائع کے عظیم ترین حصے کو بڑے شہروں میں منتقل کردیتی ہے (اور فرد کے ان کا حصہ بننے کی کوشش میں روایتی اجتماعیتیں تحلیل ہوجاتی ہیں)، یوں معاشی، معاشرتی و سیاسی ناہمواری کو فروغ ملتا ہے۔
2) عمل صرف کے انفرادی ہونے نیز خاندان اور روایتی اجتماعیتوں کی حفاظت نہ ہونے کی بنا پر یہ عظیم اکثریت غربت و افلاس کا شکار ہوگء۔ روایتی مذہبی معاشروں میں عمل صرف ہمیشہ اجتماعی (خاندان کے لیول پر مبنی) رہا، یعنی خاندان یا قبیلہ جتنی دولت پیدا کرتا عمل صرف کے لیے سب اس میں یکساں حصہ دار سمجھے جاتے۔ جدید معاشی مفکرین نے اس رویے کو غیر عقلی باور کرایا، اس کے مقابلے میں جدید معاشیات ایک فرد کو اپنی لامحدود خواہشات کی تکمیل کو بطور جائز و عقلی مقصد قبول کرنے کا درس دیتی ہے۔
3) چونکہ لوگوں کی پیداواری اور سودے بازی کی صلاحیتوں میں تفاوت ہوتا ہے، لہٰذا سرمایہ دارانہ معاشروں میں تقسیم دولت میں بھی زبردست عدم مساوات پائی جاتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ ایک خودکار نظام کی طرح بڑھتی چلی جاتی ہے (جو لوگ ایک سائیکل میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ efficientہوتے ہیں دوسرے سائیکل میں ان دونوں کا فرق بڑھنا لازم بات ہے)۔
4) ان معاشروں میں سیاسی و سماجی قوت بھی اسی طبقے کے ہاتھ میں مرتکز ہوجاتی ہے جس کے ذریعے یہ پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یوں کارپوریشنز اور بڑے کاروباری طبقے کے ہاتھ کروڑوں مزدوروں کے استحصال کی قوت آجاتی ہے جسے کنٹرول کرنے کی ذمہ داری ریاست کے کاندھوں پر ڈالی جاتی ہے جو اسی طبقے کی باج گزار ہوتی ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس معاشرے کی آبادی کا وہ عظیم ترین حصہ جو نان پراڈکٹو ہے، وہ سب کہاں جائیں؟ سرمایہ دارانہ نظام نے ان جیسوں کے لیے دو آپشنز کھولے ہیں، ایک سرمایہ دارانہ ریاست، دوئم این جی اوز اور پروفیشنل خیراتی ادارے۔ یہاں ان کا جائزہ لیتے ہیں، نیز ان کا روایتی معاشرتی نظم کے ساتھ تقابلی جائزہ لے کر دیکھتے ہیں کہ روابط کی کون سی ترتیب رحمت ہے۔
چنانچہ پہلا آپشن (سرمایہ دارانہ) ریاستوں کا دروازہ ہے جن سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ ان تمام ''بے کار'' (مشہور فلسفی فوکو کے الفاظ میں 'پاگل' افراد کہ اس کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام میں پاگل پن 'کام نہ ہونے' کی کیفیت کا نام ہے) لوگوں کی ذمہ داری اپنے ناتواں کاندہوں پر اٹھائیں جس کی یہ بالعموم متحمل نہیں ہوپاتیں۔ اولاً اس لئے کہ آبادی کی اتنی عظیم اکثریت کو پالنے اور سرمایہ دارانہ اہداف کے لیے تیار کرنے کے لیے جس قدر ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے، دنیا کی تمام ریاستوں کے پاس بالعموم اور تھرڈ ورلڈ کی ریاستوں کے پاس بالخصوص وہ موجود نہیں ہوتے (ظاہرہے ان کی اکانومی میں اتنی وسعت ہی نہیں ہوتی کہ ٹیکس کے ذریعے اتنی خطیر قوم اکٹھی کرسکیں اور یہاں ٹیکس دینے والوں کی تعداد نہایت قلیل ہوتی ہے)، ثانیاً اس لئے کہ اتنی بڑی اکثریت کو پالنے کے لیے جس قدر دیو ہیکل ریاست کی ضرورت ہے، فری مارکیٹ اکانومی پر مبنی عالمی ڈسکورس ریاستوں کے پھیلاؤ پر حد بندی لگاتا رہتا ہے۔ یہ اس نظام کا ایک دیرینہ تضاد ہے، یعنی ایک طرف یہ نظام حصول آزادی (بڑھوتری سرمائے) کے نام پر معاشرے کی عظیم اکثریت کو منظم طور پر (حادثاتی نہیں) بے یارومددگار کرتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ اس کے مداوے کے دروازے (ریاست کے پھیلاؤ) پر بھی حد بندی کرتا رھتا ہے، اور وہ بھی آزادی (بڑھوتری سرمائے و efficiency ) ہی کے نام پر۔
سرمایہ دارانہ نظام سے جنم لینے والے مظالم کے شکار طبقات کے لیے دوسرا دروازہ این جی اوز اور پروفیشنل خیراتی اداروں کا ہے۔ جوں جوں مارکیٹ (لبرل سرمایہ دارانہ) نظم پختہ ہوتا چلا جاتا ہے، بے یارومددگار اور نادار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان مظالم کا مداوا کرنے کے لیے این جی اوز و خیراتی ادارے سامنے آنے لگتے ہیں جو اغراض کی اس معاشرت کو سہارا دے کر اسے پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ تقریباً ہر غیر محفوظ طبقے کے لیے ایک پروفیشنل خیراتی ادارہ (جس کا کام اور شناخت ہی یہی ہوتی ہے) وجود میں آجاتا ہے، مثلاً اولڈ ہاؤس، ڈے کئیر سینٹر، پاگل خانہ، یتیم خانہ، دارالامان، معذورخانہ، خودکار معالجاتی نظام پر مبنی ہسپتال، مردے ٹھکانے لگانے کا ادارہ اور اسی طرح 'حقوق کی جدوجہد' (مثلا عورتوں کے حقوق، اساتذہ کے حقوق، ڈاکٹرز کے حقوق، میراثی و بھانڈ کے حقوق کو فروغ دینے والی بے شمار سنگل اشو موومنٹس اور این جی اوز)وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام ''فلاحی ادارے'' مل کر ایک طرف مارکیٹ نظم کا گند صاف کرکے اسے فرد کے لیے قابل قبول بناتے ہیں (کہ اسے یہ بدنما دکھائی نہ دے کہ چلو اگر ظلم ہورہا ہے تو کوئی اس کا مداوا بھی کررہا ہے) تو دوسری طرف نظام سے حقوق مانگنے کی ذہنیت کو پختہ کرکے فرد کو نظام سے پرامید رھنے پر راضی کرتے ہیں۔
دھیان رہے خاندانی نظم پر مبنی معاشرت میں فرد کو اپنی بقا کے لیے ان اداروں کی ضرورت نہ تھی کیونکہ وہاں فرد خود کو خاندانی تعلقات میں محفوظ پاتا ہے۔ مثلاً بیمار ہونے کے بعد اسے کسی ایسے خودکار معالجاتی نظام (caring system) کی ضرورت نہیں ہوتی جہاں پہنچنے کے بعد ہسپتال کا پروفیشنل عملہ خودکار طریقے سے اسکا خیال رکھے کیونکہ تیمار داری کے لیے اس کے عزیز و اقارب کا خودکار نظام موجود ہوتاہے (بلکہ بیماری روٹھوں کو منانے اور رفع اختلاف کا خوبصورت سبب ہوا کرتا ہے)۔ مگر جب فرد اکیلا ہو (جیسا کہ مارکیٹ نظم میں اسکا حال ہوتا ہے) تو معاشرے کے کسی فرد کو اسکی عیادت کرنے کا یارانہ نہیں، لہٰذا ضرورت ہے کہ اسکے معالجے کا ایسا نظام وضع کیا جائے جہاں کسی کو عیادت کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اسی طرح مرجانے کی صورت میں فرد کو ایک تدفینی ادارے پر انحصار نہیں کرنا پڑتا کہ یہ کام خاندان کے لوگ سرانجام دیتے ہیں (اور جب ایک دفعہ ادارہ بن جاتا ھے تو لوگ اس ذمہ داری سے گلوخلاصی حاصل کرلیتے ہیں کہ 'ادارہ ہے نا، وہ یہ کام کردے گا')۔ بالکل اسی طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انسانی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ معاشرے کے سارے پاگلوں، یتیموں، بیواوں، معذوروں کو پکڑ پکڑ کر ایسے اداروں کے اندر جمع کردیا گیا ہو جہاں ''پروفیشنل'' (ذاتی اغراض سے متحرک و مغلوب) افراد ان کا خیال رکھنے پر مامور کرد یے گئے ہوں۔
خاندانی نظم میں عزیز و اقارب معذور بچوں و نادار افراد کی محبت و صلہ رحمی کے ساتھ خود کفالت کرتے ہیں، یہاں تک کہ اس معاشرت میں پاگل (جھلا) بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے، محبت اور صلہ رحمی کرنے والوں کے ساتھ رھتا اور دل لگی کرتا ہے۔ اس معاشرت میں غریب و مفلسوں کی تعداد نہایت قلیل ہوتی ہے (کیونکہ عمل صرف خاندان کے اندر اجتماعی ہوتا ہے، یعنی خاندان جتنی پیداوار عمل میں لاتا ہے سب لوگ اس میں یکساں حصے دار سمجھے جاتے ہیں۔ مگر مارکیٹ نظم ایک طرف معاشرے کو انفرادیت پر منتج کرکے اور دوسری طرف ذرائع کے ارتکاز کو بڑھا کر غربت، افلاس و ناداری کو فروغ دیتا ہے۔جدید دنیا میں دو ارب سے زیادہ سسکتے انسان کہیں آسمان سے نہیں ٹپکے اور نہ ہی درختوں پر اگے ہیں، یہ اس 'ترقی یافتہ' نظام کے مظالم کا شاخسانہ ہیں، وہ نظام جس پر ہمارا جدید مسلم ذہن فریفتہ ہوا چلا جارہا ہے، دین کو جس کے تقاضوں سے ہم آہنگ ثابت کرنے کی فکر میں گھلا چلا جارہا ہے، جس کی چکا چوند کے آگے اسے اپنی تاریخ و طرز معاشرت ہیچ دکھائی دیتی ہے۔ خدا کا شکر کیجیے کہ ابھی ہمارے یہاں وسیع تر خاندان (extended family) کے باقیات ابھی کچھ نہ کچھ باقی ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں نادار افراد اس نظام کے تحفظ میں ہیں، اگر یہ جلد ہی ختم ہوگیا تو یہ کروڑوں لوگ امیروں کو نوچ کھائیں گے کیونکہ ہماری ریاست میں فی الوقت انہیں سنبھالنے کی صلاحیت نہیں۔
اب غور کیجئے، برادری، قبائلی و خاندانی نظم کس خوبصورتی کے ساتھ ''محبت و صلہ رحمی کے جذبات'' کے تحت ان تمام طبقات کو اپنے اندر سمو لیتا ہے، جبکہ مارکیٹ نظم ان کے لئے اغراض پر مبنی پروفیشنل اداروں کا محتاج ہے۔ کیا اغراض سے متحرک افراد سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان نادار افراد کا ویسا دہیان رکھیں گے جیسا محبت و صلہ رحمی سے مغلوب لوگ رکھتے رہے ہوں گے؟ سوچیے کون سا معاشرتی نظم انسانیت کے لئے رحمت تھا؟ چنانچہ جہاں یہ جدید نظام پختہ ہوچکا، وہاں ایسا ہی ہوتا ہے اور ہمارے لوگ اسے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ ماشاء اللہ جی کیا عمدہ بندوبست ہے وہاں، کیا انسانیت و اعلیٰ اخلاقیات ہیں! یعنی جو مقام (انسانیت کا تعلق محبت و رحمی رشتوں سے کٹ کر پروفیشنل اداروں سے جڑ جانا) مقام افسوس تھا، ہمارے یہاں کے مرعوب ذہن نے اسے مقام عجب سمجھ لیا ہے۔ ذرا سوچیے، ایک ایسا دین جو پڑوسیوں، بیماروں، مردے کے حقوق ادا کرنے کی بات کرتا ہو، اس کے ماننے والے آج اپنے یہاں بھی ایسے پروفیشنل اداروں کو پھلتا پھولتا دیکھ کر مطمئن ہورہے ہیں۔ گویا ان کے خیال میں سول سوسائٹی مقاصد دین کو فروغ دے رہی ہے۔ یہ مقام عبرت ہے۔
پس اگر بات موازنے کی ہی ہے تو یہ بات شرح صدر کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام اگرچہ آئیڈئیل نہیں (جو کہ درحقیقت کوئی بھی ورکنگ نظام نہیں ہوتا لہٰذا اس میں ہمیشہ اصلاح کی گنجائش ہوتی ہے) مگر اسلامی اقدار (محبت، صلہ رحمی، حفظ مراتب، ادب و احترام، ایک دوسرے کا خیال و ایثار، پڑوس ومیل جول وغیرہم) کے تحفظ اور فرد کی ان اسلامی اقدار کے مطابق تربیت کا ایک نسبتاً بہتر طریقہ معاشرت ہے نیز اس کے بہت سے معاشی فوائد بھی ہیں۔ اس کے مقابلے میں جدید مارکیٹ سوسائٹی کا ان اسلامی اقدار کے پھیلاؤ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ انہیں نیست و نابود کرنے کا انتظام ہے۔ چنانچہ اسلامی تاریخ میں علماء نے بلاوجہ ہی اس طرز معاشرت کو قبول نہیں کیے رکھا۔
فقہائے تابعین کی اہل حدیث اور اہل رائے میں تقسیم ۔ ایک تنقیدی جائزہ (۲)
مولانا سمیع اللہ سعدی
تیسرا سبب :عراق میں رائے و اجتہاد کی کثرت اور حجاز میں قلت
اہل رائے اور اہل حدیث کی تقسیم کا ایک اہم سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عراق میں اجتہاد اور رائے کا استعمال بہت زیادہ تھا ،چنانچہ اہل عراق کثرت سے اصولوں پر تفریع کر کے نئے مسائل کا استنباط کرتے، مسائل کو فرض کر کے اس کا حکم معلوم کرنے کی کوشش کرتے۔ اس کے برعکس حجاز میں رائے و اجتہاد کی بجائے حدیث کی تعلیم زیادہ ہوتی تھی ، اہل حجاز صرف پیش آمدہ مسائل کے بارے میں رائے کا اظہار کرتے ،اور بغیر ضرورت کے تفریعات کرتے اور نہ ہی مسائل کو فرض کر کے اس پر بحث کرتے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل عراق رائے کو زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے "اہل رائے"اور اہل حجاز "اہل حدیث" کے نام سے مشہور ہوئے۔محقق قطان اہل رائے کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
کثرۃ تفریعھم الفروع لکثرۃ ما یعرض لھم من الحوادث، نظرا لتحضرھم وقد ساقھم ھذا الی فرض المسائل قبل ان تقع؛ فاکثروا من" ارایت لو کان کذا"؟ فیسالون عن المسالۃ ویبدون فیھا حکما، ثم یفرعونھا بقولھم: "ارایت لو کان کذا"؟ ویقلبونھا علی سائر وجوھھا، الممکنۃ وغیر الممکنۃ احیانا، حتی سماھم اھل الحدیث "الارایتیون" وتمیز منھجھم بالفقہ الافتراضی (۳۷)
’’اہل عراق کا کثرت سے تفریعات کیا کرتے تھے ،کیونکہ عراق کے ترقی یافتہ تمدن کی وجہ سے وہاں حوادث کی کثرت تھی۔ حوادث کی کثرت نے انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مسائل کو وقوع سے پہلے فرض کریں۔ لہٰذا وہ جب کسی مسئلے کا حکم معلوم کرتے تو "ارا یت لو کان کذا" کہہ کر مسئلہ شروع کرتے، اس کا حکم معلوم کرتے ،پھر اس پر تفریعات "ارا یت لو کان کذا" کہہ کر کرتے ،اور اس مسئلے کے ممکنہ بلکہ کبھی غیر ممکنہ تمام پہلووں اور جوانب پر بحث کرتے۔ اس وجہ سے اہل الحدیث نے انہیں "ارایتیون" (یعنی کثرت سے ارایت کہنے والے )کا لقب دیا۔ان کے منہج کا بنیادی امتیاز فقہ افتراضی تھا۔‘‘
جبکہ اہل حدیث کی بنیادی خصوصیت یوں بیان کی ہے :
کراھیتھم لکثرۃ السؤال. وفرض المسائل، وتشعب القضایا؛ فالحکم ینبنی علی قضیۃ واقعۃ، لا علی قضیۃ مفترضۃ (۳۸)
’’اہل حجاز سوال کی کثرت ،مسائل کو فرض کرنے اور فقہی قضایا کے شاخ در شاخ پہلو نکالنے کو ناپسند کرتے تھے ،پس ان کے نزدیک حکم شرعی صرف اس مسئلے پر لگا یا جاتا، جو پیش آچکا ہوتا، نہ یہ کہ محض فرضی ہو۔‘‘
حجاز میں رائے و اجتہاد کا ایک جائزہ
حجاز خصوصاً مدینہ منورہ کے بڑے فقہاء کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ رائے و اجتہاد کے استعمال کے حوالے سے کسی طرح سے فقہائے عراق سے کم نہیں تھے۔ان کی فقہی آراء،فتاوی اور غیر منصوص مسائل میں رائے و قیاس کا استعمال فقہائے عراق سے زیا دہ نہ سہی ،ان کے برابر ضرورتھا۔ اس حوالیسے چند مثالیں پیش خدمت ہیں:
۱۔ اہل حجاز کے سرخیل صحابہ کرام میں سے حضرت ابن عباس کے بارے میں اما م ابن قیم لکھتے ہیں:
کان ابن عباس من اوسع الصحابۃ فتیا، وقد تقدم ان فتاواہ قد جمعت فی عشرین سفرا۔ (۳۹)
’’حضرت ابن عباس تمام صحابہ میں سے سب سے زیادہ کثرت سے فتوی دینے والے تھے ،اور یہ بات گزر چکی ہے کہ حضرت ابن عباس کے فتاوی بیس اجزا میں جمع کیے گئے۔‘‘
۲۔مدینہ میں مقیم صحابہ کرا م میں سے رائے اور اجتہاد کے حوالے سے حضرت عمر بلا شبہ ممتاز ترین صحابی ہیں۔ حضرت عمر کی فقہی آراء پر مستقل تصانیف موجود ہیں ،خصوصا مسند الہند شاہ ولی اللہ نے "ازالۃ الخفاء" میں فقہ عمر کے نام سے حضرت عمر کی فقہی آراء اور اجتہادات کو جمع کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ حضرت عمر کے بارے میں ابو زہرہ مرحوم لکھتے ہیں:
لا ن رای عمر فیما لا نص علیہ من کتاب او سنۃ الرسول کان کثیرا (۴۰)
’’کیونکہ غیرمنصوص مسائل کے بارے میں حضرت عمر کے اجتہادات کافی زیادہ ہیں۔’’
اسی طرح محقق محمد رواس قلعہ جی کی "موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب"سے بھی حضرت عمر کی فقہی آراء کے تنوع اور وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ حضرت عمر جیسے صحابی کی موجودگی میں مدینہ منورہ میں رائے و اجتہاد کی کمی کا نظریہ تاریخی نقطہ نظر سے نہایت کمزور دعویٰ ہے۔
۳۔معروف تابعی حضرت سعید بن المسیب کا لقب فتاوی اور اجتہاد اور رائے کی کثرت کی بنا پر"الجریء" پڑ گیا تھا۔ امام بن قیم "اعلام الموقعین" میں لکھتے ہیں:
وکان سعید بن المسیب ایضا واسع الفتیا ۔۔۔ و کانوا یدعونہ سعید بن السمیب الجریء (۴۱)
’’حضرت سعید بن المسیب کثرت سے فتویٰ دیا کرتے تھے ،اور لوگ آپ کو سعید بن المسیب الجریء یعنی فتوی کے بارے میں جرات مند کے لقب سے پکارتے تھے۔‘‘
حضرت سعید بن المسیب کی فقہی آراء پر عراق سے ایک ضخیم کتاب "فقہ الامام سعیدبن المسیب"کے نام سے چھپی ہے۔ کتاب کے مصنف الدکتور ہاشم جمیل عبد اللہ ہیں ۔یہ کتاب تقریباً اٹھارہ سو صفحات پر مشتمل ہے ،ا س سے سعید بن المسیب کی فقہی آراء و اجتہادات کی کثرت اور تنوع کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
۴۔مدینہ منورہ کے معروف فقیہ اور امام مالک کے استاد ربیعہ بن عبد الرحمن کا لقب رائے اور اجتہاد کی مہارت کی بنا پر "ربیعۃ الرای"پڑگیا تھا۔علامہ ذہبی تذکرۃ الحفاظ میں لکھتے ہیں:
وکان اماما حافظا فقیھا مجتھدا بصیرا بالرای ولذلک یقال لہ: ربیعۃ الرای (۴۲)
’’آپ امام حافظ ،فقیہ اور اجتہاد میں خوب بصیرت کے حامل تھے ،اسی وجہ آپ کو ربیعۃ الرای کہا جا تا تھا۔‘‘
۵۔مدینہ منور میں رائے و اجتہاد کے حوالے سے فقہائے سبعہ بھی کافی شہرت کے حامل تھے ۔فقہائے سبعہ سے مراد حضرت عروۃ بن الزبیر ،حضرت سعید بن مسیب،حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق،حضرت خارجۃ بن زید بن ثابت، حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبۃ، حضرت ابو بکر بن عبد الرحمن ،حضرت سلیمان بن یسار ہیں۔
عبد اللہ بن مبارک فقہائے سبعہ کے بارے میں فرماتے ہیں :
کان فقھاء اھل المدینۃ الذین یصدرون عن رایھم سبعۃ (۴۳)
’’مدینہ کے وہ فقہاء جن کی رائے پر اہل مدینہ اعتماد کرتے تھے ،سات تھے۔‘‘
آگے ان کے طرز اجتہاد کے بارے میں فرماتے ہیں :
وکانوا اذاجاء تھم المسالۃ دخلوا فیھا جمیعا، فنظروا فیھا، ولا یقضی القاضی حتی یرفع الیھم (۴۴)
’’:جب ان کے پاس مسئلہ آتا،سب اس مسئلے کے بارے میں اکٹھے بیٹھ کر اس میں غور وفکر کرتے اور قاضی مسئلے کو ان کے پاس بھیجنے سے پہلے فیصلہ نہیں کرتے تھے۔‘‘
فقہائے سبعہ کی اجتہادی آراء اور خاص طور پر امام مالک کی فقہی آراء کے ساتھ تقابل اور امام مالک کی فقہ پر فقہائے سبعہ کے اثرات کے حوالے سے معاصر سطح پر مستقل کام ہوا ہے۔ چنانچہ شیخ ابو زہرہ مرحوم نے "حیاۃ مالک" میں اس مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر ریاض یونی ورسٹی سے معروف محقق الدکتور محمد مصطفی الاعظمی کی زیر نگرانی ایک مفصل مقالہ "فقہ الفقھاء السبعۃ واثرہ فی فقہ الامام مالک" کے نام سے شائع ہوچکا ہے جس میں فقہ کے جملہ ابواب میں فقہائے سبعہ کی فقہی آراء پر بحث کی گئی ہے۔اس سے مدینہ منور میں رائے و اجتہاد کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ فقہ اسلامی پر فقہائے سبعہ کے اثرات کے حوالے سے الدکتور عبد اللطیف الفرفور لکھتے ہیں :
ھولاء ھم الفقھاء السبعۃ الذین کونو ا المدرسۃ الفقھیۃ الاولی فی ھذا العصر،حتی سمی باسمھم، فقیل عصر الفقھاء السبعۃ، وکان عمل ھولاء الفقھاء الاولین تاسیس الفقہ الاسلامی، بوضعھم الخطوط الاولی للمنھج الفقھی، و بما رسموہ من الرای والنظر۔ (۴۵)
’’یہ وہ سات فقہاء ہیں ،جنہوں نے اپنے زمانے میں اولین فقہی مکتب کی تشکیل کی۔ان کی شہرت کی وجہ سے اس زمانے کو فقہائے سبعہ کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ان فقہاء کا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے فقہ اسلامی کی بنیادیں رکھیں ،فقہی منہج کے اولین خطوط وضع کیے اور قیاس اور رائے کا نمونہ پیش کیا۔‘‘
۶۔ حجاز کے فقہاء صحابہ وتابعین کے بعد اگر مذہب مالکی اور شافعی کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے ،جن کو حجازی ہونے کی وجہ سے "اہل الحدیث "میں شمار کیا جاتا ہے، تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان مذاہب میں بھی روز اول سے رائے و اجتہاد کو کلیدی حیثیت حاصل تھی ،اور رائے و اجتہاد کے استعمال ،نصوص میں تعلیل اور فقہ تقدیری کی تشکیل میں "اہل حدیث" کے نام سے مشہور کیے جانے والے یہ دو حجازی مذاہب فقہیہ فقہائے عراق سے بڑھ کر نہیں تو ہم پلہ ضرور تھے۔ چنانچہ امام مالک کی فقہی و اجتہادی آراء پر مشتمل کتاب "المدونۃ الکبری"اور امام شافعی کے علم ریز قلم سے نکلی "کتاب الام" سے اس بات کی بخوبی تائید ہوتی ہے۔ان دونوں کتب میں فرضی مسائل کا معتد بہ حصہ موجود ہے اور مسائل کی فرضی صورتیں بنا کر اس پر احکام مرتب کیے گئے ہیں، بلکہ امام محمد کی کتب ظاہر الروایۃ کے ساتھ ان دو کتب کا تقابل کرنے سے حیرت انگیز مماثلت سامنے آتی ہے۔ ذیل میں ان تینوں کتب کے متفرق ابواب سے چند جزئیات دی جاتی ہیں جن کی صورتیں اگر چہ الگ الگ ہیں،لیکن مسئلے کی صورت فرض کرنے کا اسلوب اور طرز بالکل یکساں ہیں۔
المدونۃ الکبریٰ سے چند جزئیات
۱۔ قال مالک: لو ان نصرانِیا اسلم یوم الفِطرِ رایت علیہ زکاۃ الفطر، ولو اسلم یوم النحر کان عندی بینا ان یضحی(۴۶)
۲۔ قال مالک: لو ان رجلا من اھل الحرب اتی مسلما او بامان فاسلم وخلف اھلہ علی النصرانیۃ فی دار الحرب فغزا اھل الاسلام تلک الدار فغنموھا غنموا اھلہ وولدہ، قال مالک: ھی وولدہ فی اھل الاسلام (۴۷)
۳۔ قال مالک: لو ان رجلا شھد علی رجل بانہ اعتق عبدا لہ او علی ابیہ بعد موتہ انہ اعتق عبدا لہ فی وصیتہ فصار العبد الیہ فی قسمۃ او اشتری الشاھد العبد انہ یعتق علیہ (۴۸)
۴۔ قال مالک: لو ان رجلا اشتری طعاما بقدح او بقصعۃ لیس بمکیال الناس رایت ذلک فاسدا ولم ارہ جائزا (۴۹)
۵۔ قال مالک: لو ان رجلا دفع الی رجل دابۃ فقال: اعمل علیھا ولک نصف ما تکسب علیھا کان الکسب للعامل وکان علی العامل اجارۃ الدابۃ فی ما تساوی (۵۰)
کتاب الام سے چند جزئیات
۱۔ قال الشافعی: لو اکری رجلا رجلا دارا بماءۃ دینار اربع سنین فالکراء حال الا ان یشترطہ الی اجل (۵۱)
۲۔ قال الشافعی: لو باع رجل رجلا عبدا علی ان المشتری بالخیار فاھل ھلال شوال قبل ان یختار الرد او الاخذ کانت زکاۃ الفطر علی المشتری (۵۲)
۳۔ قال الشافعی: لو مات رجل لہ رقیق فورثہ ورثتہ قبل ھلال الشوال ثم اھل ھلال شوال ولم یخرج الرقیق من ایدیھم فعلیھم فیہ زکاۃ الفطر بقدر مواریثھم منہ (۵۳)
۴۔ قال الشافعی: لو اوصی برقبۃ عبد لرجل وخدمتہ لآخر حیاتہ، او وقتا فقبلا، کانت صدقۃ الفطر علی مالک الرقبۃ، لو لم یقبل کانت صدقۃ الفطر علی الورچۃ لانھم یملکون رقبتہ (۵۴)
۵۔ قال الشافعی: لو مات رجل وعلیہ دین وترک رقیقا فان زکاۃ الفطر فی مالہ عنھم، فان مات قبل شوال زکی عنھم الورثۃ (۵۵)
الجامع الصغیر سے چند جزئیات
۱۔ لَو حلف لَا یدخل ھذہ الدَّار وھذا المنزل فَقَامَ علی السَّطح حنث (۵۶)
۲۔ لَو وطیء حرَّۃ بِشْبھَۃ النِّکاح ثمَّ تزوج امۃ فِی عدتھَا جَازَ (۵۷)
۳۔ لَو تزوج المَراَۃ علی ثوب قیمتہ خَمسَۃ دَرَاھِم لَا یجب مھر المثل وَاِنَّمَا یجب الثَّوب وَخَمسَۃ دَرَاھم حَتَّی یتم العشرَۃ (۵۸)
۴۔ لَو حفر بئراً فِی دَارہ فَوَقع فیھا انسان وَمَات حیث لَا یضمن (۵۹)
۵۔ لو رمی الی الصید وھو مسلم فارتد واصابہ السھم وھو مرتد فجرح الصید ومات حل اکلہ (۶۰)
امام مالک کی "المدونۃ الکبری"امام شافعی کی "الام" اور امام محمد کی "الجامع الصغیر "کے متفرق ابواب سے لئے گئے ان مسائل کا طرز،اسلوب اور حکم مرتب کرنے کا انداز بالکل یکساں ہیں، اور اگر کتب کے حوالے کے بغیر یہ مسائل اکٹھے ذکر کیے جائیں تو شاید یہ فرق کرنا بھی مشکل ہو کہ یہ الگ الگ کتب سے اخذ کردہ ہیں ،چہ جائیکہ یہ معلوم ہو جائے کہ یہ الگ الگ فقہی مسالک کے مسائل ہیں۔ا ن مسائل کے یکساں اسلوب سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عراق کی فقہی مجالس اور حجاز کے فقہی حلقوں میں اجتہاد اور رائے کے استعمال کے حوالے سے کوئی خاص جوہری فرق نہیں تھا اور نہ ہی رائے کی کمیت کے حوالے سے دونوں حلقوں میں کوئی تفاوت تھا۔بلکہ ایک اور پہلو سے اگر دیکھا جائے تو حجازی فقہاء کی فقہی آراء و اجتہادات زیادہ معلوم ہوتے ہیں،کیونکہ امام محمد کی کتب ظاہر الروایۃ عراق کے تین بڑے فقہاء امام ابوحنیفہ ،امام ابویوسف اور امام محمد کی فقہی آراء کا مجموعہ ہیں ،جبکہ المدونۃ الکبریٰ کی پانچ ضخیم جلدیں صرف اما م مالک کے اجتہادات اور الام کی دس ضخیم جلدیں اکیلے مام شافعی کی فقہی آراء پر مشتمل ہیں۔ شخصیات کی تعدادپر تقسیم کرنے سے تو حجازی مکتب کے بانیوں کے اجتہادات بہ نسبت عراقی مکتب کے زیادہ بنتے ہیں۔ اس تفصیل کے نتیجے میں معاصر محققین کی اس بات سے اتفاق کافی مشکل ہے کہ عراق میں رائے کی کثرت اور حجاز میں قلت تھی۔
۷۔حجازی مکتب کے معروف فقہاء اور ان کی اجتہادی آراء پر عصر حاضر میں مستقل کام ہوا ہے ،خصوصاً عبد المنعم الہاشمی کی کتاب "عصر التابعین"، مشہور فقیہ خلیفہ بابکر الحسن کی گرانقدر کتاب "الاجتھاد بالرای فی مدرسۃ الحجاز الفقھیۃ" اور ابوبکر اسماعیل محمد میقا کی کتاب "الرای و اثرہ فی مدرسۃ المدینۃ" اس حوالے سے بہترین کاوشیں ہیں۔نیز تاریخ فقہ اسلامی پر لکھنے والے بعض محققین نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حجاز میں رائے و اجتہاد کی قلت کا نظریہ تاریخی حقائق سے میل نہیں کھاتا ۔شیخ ابوزہرہ مرحوم "حیاۃ مالک"میں لکھتے ہیں :
انتھینا من ھذہ الدراسۃ الی ان الرای بالمدینۃ لم یکن قلیلا،کما توھم عبارات بعض الکتاب (۶۱)
’’مذکورہ بالاتحقیق و تفصیل سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مدینہ میں رائے کی مقدار کسی طرح سے کم نہیں تھی، جیسا کہ بعض مصنفین کی عبارات سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے۔‘‘
اسی طرح شیخ مصطفی الزرقاء نے "الفقہ الاسلامی و مدارسہ" میں بھی اس نظریے پر کڑی تنقید کی ہے ،اور اسے تاریخی حقائق کے منافی قرار دیا ہے ،ساتھ اس بات کا بھی اقرار کیا ہے کہ "المدخل الفقھی العام" میں بعض معاصرین کی اتباع میں یہ نظریہ میں نے اختیار کیا تھا ،لیکن غور و فکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اہل رائے اور اہل حدیث کی یہ تقسیم تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ (۶۲)
اہل حدیث اور اہل رائے کی اصطلاح ،ایک تاریخی جائزہ
مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ حجازی و عراقی فقہاء کی اہل رائے اور اہل حدیث کے اعتبار سے تفریق کامعاصر نظریہ تاریخی اعتبار سے انتہائی کمزور ہے، نیز اس تفریق کے جو اسباب بیان کئے جاتے ہیں،وہ بھی محل نظر ہیں، اور ان اسباب میں بحث و تمحیص کی کافی گنجائش ہے۔ اب آخر میں اہل حدیث اور اہل رائے کی اصطلاح ،ان کے مصادیق اور مختلف استعمالات پر ایک نظر ڈالنا مقصود ہے،تا کہ بحث کی مزید تنقیح و توضیح کے ساتھ ان اصطلاحات کے حوالے سے رائج مغالطوں کی بھی نشاندہی ہو جائے ۔
اہل رائے کی اصطلاح اور اس کا مصداق
رائے کا لفظ ایک وسیع الاستعمال لفظ ہے،آثار و اخبار میں مختلف معانی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے،لیکن جب فقہی مسائل کے سیاق میں بولا جائے تو اس سے مراد قیاس و اجتہادہوتا ہے۔ دوسرے لفظو ں میں کسی مسئلے کے بارے میں اپنے فہم دین کی روشنی میں فقہی فیصلہ صادر کرنے کو رائے کہتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کی معروف روایت ہے کہ جب ان سے اس غیر مدخولہ عورت کے بارے میں پوچھا گیا جھ کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور اس کا خاوند فوت ہوجائے تو اس کو مہر کیا ملے گا ؟جب اس حوالے سے کوئی نص نہیں ملی تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
انی ساقول برایی، لھا صداق نساءھا ،لا وکس و لا شطط (۶۳)
’’اس کے بارے میں اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرتا ہوں کہ اس عورت کے لئے اس کے خاندان کی دیگر عورتوں والا مہر ہوگا ،نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔‘‘
اسی طرح معروف تابعی حضرت مسروق نے جب حضرت عبد اللہ بن عمر سے نقض وتر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا:
ھو شیء افعلہ برایی ولا ارویہ عن احد (۶۴)
’’یہ کام میں اپنے اجتہاد کی بنیاد پر کر رہا ہوں،کسی سے روایت کی بنیا د پر نہیں۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت زید بن ثابت کا میراث کے کسی مسئلے میں اختلاف ہوا تو حضرت ابن عباس نے ایک قاصد ان کے پاس بھیجا کہ کیا یہ مسئلہ آپ کو کتاب اللہ میں ملا ؟تو حضرت زید بن ثابت نے فرمایا:
انما انت رجل تقول برایک وانا رجل اقول برایی (۶۵)
’’آپ اپنے اجتہاد سے بات کررہے ہیں اور میں اپنے اجتہاد سے۔‘‘
آثار کی طرح فقہاء کی عبارات میں بھی رائے کا لفظ اجتہاد اور قیاس پر بولا جاتا ہے ۔اس پر کثرت سے فقہاء کی عبارات موجود ہیں،لیکن صرف نمونے کے طور پر ایک حوالہ دینا چاہوں گا ۔ شوافع کے اصول فقہ کے چار ستونوں میں سے ایک "المعتمدفی اصول الفقہ" میں مصنف "باب انا متعبدون بالقیاس" کے اندر قیاس کے دلائل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
دلیل آخر ظاھر عن الصحابۃ رضی اللہ عنھم انھم قالوا بالرای (۶۶)
’’:اگلی دلیل یہ ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ صحابہ نے رائے (قیاس و اجتہاد )کا استعمال کیا ہے۔‘‘
چونکہ قیاس و اجتہاد پر رائے کا اطلاق ہوتا ہے ،اس لئے "اہل الرای"اور "اصحاب الرای" سے مراد فقہاء ہوتے ہیں ،خواہ کسی مسلک کے بھی ہوں۔ آٹھویں صدی ہجری کے معروف حنبلی عالم سلیمان الطوفی اپنی کتاب شرح مختصر الروضۃ میں لکھتے ہیں:
اعلم ان اصحاب الرای بحسب الاضافۃ ھم کل من تصرف فی الاحکام بالرای، فیتناول جمیع علماء الاسلام لان کل واحد من المجتھدین لا یستغنی فی اجتھادہ عن نظر ورای (۶۷)
’’جان لو کہ باعتبار اضافت اصحاب الراے سے مراد ہر وہ عالم ہے جو شرعی احکام میں اجتہاد سے تصرف کرتا ہو،لہٰذا یہ تمام علمائے اسلام کو شامل ہے ،کیونکہ مجتہدین میں سے کوئی بھی رائے اور اجتہاد سے مستغنی نہیں ہے۔‘‘
اسی طرح علامہ انور شاہ کاشمیری العر ف الشذی میں فرماتے ہیں :
استعمل لفظ اھل الرای فی کل فقیہ (۶۸)
’’اہل رائے کا لفظ ہر فقیہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔‘‘
ان دو جلیل القدر علماء کی عبارات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اہل رائے اپنے حقیقی اور لغوی معنی کے اعتبار سے ہر فقیہ پر بولا جاتا ہے ،چنانچہ اما م ابن تیمیہ طلاق کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
ثم ان کثیرا من اھل الرای الحجازی والعراقی وسعوا باب الطلاق (۶۹)
’’حجازی اور عراقی دونوں قسم کے فقہاء نے باب الطلاق میں توسع اختیار کیا ہے۔‘‘
اس میں امام ابن تیمیہ نے مطلقاً فقہاء کے لئے اہل رائے کا لفظ استعمال کیا ہے ،خواہ حجاز کے ہوں یا کوفہ کے۔
اسی طرح ابن قتیبہ نے "المعارف "میں اصحاب الرای کا عنوان کا باندھ کر امام ابن ابی لیلیٰ،اما م اوزاعی ،امام ربیعہ، امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام سفیان ثوری اور دیگر معروف فقہاء کا تذکرہ کیا ہے ،اور اصحاب الحدیث کا عنوان باندھ کر معروف محدثین کا ذکر کیا ہے۔اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ اہل رائے کا لفظ اپنے اصل کے اعتبار سے مطلقاً فقہاء کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ (۷۰)
امام ابن حزم ایک جگہ "الا حکام"میں لکھتے ہیں:
روی عیسی بن دینار عن ابی القاسم قال سئل مالک قیل لہ لمن تجوز الفتیا؟ قال لا تجوز الفتیا الا لمن علم ما اختلف الناس فیہ، قیل لہ اختلاف اھل الرای؟ قال لا، اختلاف اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم (۷۱)
’’عیسیٰ بن دینا ر ابی القاسم سے روایت کرتے ہیں کہ امام مالک سے پوچھا گیا کہ فتوی دینا کس شخص کے لیے جائز ہے؟تو امام مالک نے فرمایا کہ فتوی اسی شخص کے لئے درست ہے جو لوگوں کے اختلافات کو جانتا ہو۔ پوچھا گیا کہ اہل رائے یعنی فقہاء کے اختلافات ؟تو امام مالک نے فرمایا،نہیں صحابہ کے اختلافات۔‘‘
لغوی معنی کے ساتھ اہل رائے کا لفظ احناف کے لیے بطور علم کے بھی استعمال ہوتا ہے ،اس لئے اس کا عمومی استعمال حنفیہ کے لئے ہوتا ہے ،حنبلی عالم سلیمان الطوفی لکھتے ہیں:
واما بحسب العلمیۃ فھو فی عرف السلف علم لاھل العراق وھم اھل الکوفۃ ابوحنیفۃ ومن تابعہ منھم (۷۲)
’’علمیت کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو اہل رائے کا لفظ سلف کے عرف میں اہل عراق کا علم ہے، یعنی فقہائے کوفہ امام ابوحنیفہ اور ان کے متبعین۔‘‘
مندرجہ بالا تفصیل سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ اہل رائے کا لفظ لغوی اور اضافی معنی کے اعتبار سے مطلقاً فقہاء کے لیے استعمال ہوتا ہے ،البتہ علم ہونے کے اعتبار سے یہ فقہائے حنفیہ کا لقب ہے۔
اہل حدیث کی اصطلاح اور اس کا مصداق
اہل حدیث کا لفظ قرن اول سے ان لوگوں کے لئے استعمال ہونے لگا ،جن کا مشغلہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال ،افعال اور تقریرات سے وابستگی تھا ،خواہ ان کا فقہی تعلق جس مسلک سے بھی ہو ،پھر یہ وابستگی درس و تدریس اور تعلیم و تعلم کی شکل میں ہو یا تصنیف و تالیف کی شکل میں ہو۔ائمہ اربعہ کے زمانے سے ہی یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہونے لگا۔
امام شافعی الام میں ایک حدیث پر ایک ممکنہ اعتراض وارد کر کے لکھتے ہیں:
فان قال لک قائل اھل الحدیث یوھنون ھذا الحدیث (۷۳)
’’اگر کہنے والے نے کہا کہ اہل حدیث یعنی محدثین اس حدیث کی تضعیف کرتے ہیں۔‘‘
ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
واما الرجل من اھل الفقہ یسال عن الرجل من اھل الحدیث فیقول کفوا عن حدیثہ ولا تقبلوا حدیثہ (۷۴)
’’جب فقہاء میں سے کوئی اہل حدیث یعنی محدثین سے کسی آدمی کے بارے میں پوچھتا ہے ،تو وہ کہتا ہے کہ اس کی حدیث سے رک جاؤ ،اور اس کی حدیث قبول نہ کرو۔‘‘
اس عبارت میں اہل فقہ اور اہل حدیث کا تقابل کتنی صراحت کے ساتھ دلا لت کرتا ہے کہ اہل حدیث سے مراد یہاں محدثین ہیں۔اسی طرح حدیث ،تفسیر یا فقہ کی تمام معروف کتب میں محدثین کا ذکر "اہل الحدیث "کے لفظ کے ساتھ ہوا ہے۔نیزیہ لقب ہر اس شخص پر بولا جاتا ہے ،جو حدیث کے تعلم و تعلیم سے متعلق ہو ،خواہ وہ حنفی ہو، شافعی، مالکی یا حنبلی۔
علامہ ذہبی معروف حنفی محدث اور امام بخاری کے استاد محمد بن یحییٰ الذہلی کے تذکرے میں لکھتے ہیں:
محمد بن یحیی بن عبد اللہ بن خالد بن فارس بن ذویب، الامام، العلامۃ، الحافظ، البارع، شیخ الاسلام، وعالم اھل الشرق، وامام اھل الحدیث بخراسان (۷۵)
اس میں حنفی ہونے کے باوجود امام ذہلی کو "اما م اہل لحدیث"کہا ،کیونکہ وہ معروف معنی میں محدثین میں سے تھے۔
معروف مالکی محدث اور اما م بخاری کے استاد محمد بن عبد ابراہیم البوشنجی کے تذکرے میں لکھتے ہیں:
الامام العلامۃ، الحافظ، ذو الفنون، شیخ الاسلام، ابو عبد اللہ، محمد بن ابراھیم بن سعید بن عبد الرحمن بن موسی العبدی، الفقیہ، المالکی، البوشنجی، شیخ اھل الحدیث فی عصرہ بنیسابور (۷۶)
معروف شافعی فقیہ اور خراسان کے معروف محدث ابو الولید شافعی کے تذکرے میں لکھتے ہیں:
قال الحاکم: ھو ابو الولید القرشی الاموی الشافعی، امام اھل الحدیث بخراسان (۷۷)
کتب رجال میں اس کی مثالیں بکھری پڑی ہیں کہ محدثین پر اہل حدیث کا اطلاق کیا گیا ہے ،خواہ اس کا تعلق کسی بھی مسلک اور مکتب سے ہو۔نمونے کے طور پر صرف تین مثالیں پیش کیں۔
اہل الحدیث بطور فقہی مسلک
اس موقع پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اہل الحدیث کا لفظ محدثین کے لئے استعمال ہوتا ہے تو شروح حدیث اور کتب الخلافیات یعنی وہ کتب جن میں فقہی مسائل میں مختلف مذاہب کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں فقہی مسالک کے ساتھ اہل الحدیث کو ایک مستقل فقہی مسلک کے طور پر ذکر کیا گیا ہے،اس سے کیا مراد ہے اور اس کا مصداق کیا ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ محدثین میں سے چند معروف حضرات خصوصاً امام دادو ظاہری اور امام اسحاق بن راہویہ نے الگ الگ فقہی مکتب کی بنیاد رکھی ۔ اسی طرح مشہور محدثین جیسے اصحاب صحاح ستہ اور دیگر معروف محدثین،اگر چہ ائمہ اربعہ میں سے کسی کی طرف نسبت کیا کرتے تھے ،لیکن بہت سارے مسائل میں انہوں نے اپنے فہم حدیث کی بنیاد پر مستقل موقف اپنا یا ،اور یہ موقف اکثر مسائل میں معروف محدثین کا ایک جیسا ہوتا ،اس لئے ان کی اہمیت،اور علمی مقام کی وجہ سے فقہی مسائل کے ذکر کے ضمن میں محدثین کی آرا مستقل ذکر کی جاتیں۔البتہ یہ بات ہے کہ یہ محدثین معروف معنی میں مجتہدین نہیں تھے کہ انہوں نے مستقل فقہی مکتب کی بنیاد رکھی ہو، اس کے حدود و جوانب طے کیے ہوں، اور ان کا حلقہ مقلدین ہو۔ کتب الخلافیات یا شروح حدیث میں اہل الحدیث کے لفظ سے مراد کبھی اما م دادو ظاہری، امام اسحاق بن راہویہ اور عموما محدثین کا گروہ ہوتا ہے جنہوں نے بہت سے مسائل میں مستقل موقف اپنا یا۔یہی وجہ ہے کہ فقہی آراء کے ذکر کے وقت ائمہ اربعہ کا ذکر الگ اوراہل الحدیث کا ذکر الگ کیا جاتا ہے ۔یہ بات بھی اس کی دلیل ہے کہ اہل الحدیث شوافع ،مالکیہ یا حنابلہ کی بجائے ان محدثین کے لئے استعمال ہوتاہے ،جنہوں نے مسائل میں مستقل موقف اپنایا۔ بلکہ خود شوافع ،مالکیہ اور حنابلہ کی کتب میں اختلافی مسائل میں اہل الحدیث کا مستقل ذکر کیا گیا ہے ۔اگر معاصر فقہاء کا یہ نظریہ مان لیا جائے کہ اہل الحدیث حنفیہ کے علاوہ بقیہ تین مسالک کا لقب ہے ،تو انہی مسالک کی کتب میں اہل الحدیث کے مستقل ذکر کی کیا توجیہ ہوگی؟ تخصیص بعد التعمیم والی بات اس وجہ سے نہیں کہہ سکتے کہ بسا اوقات محدثین کا مذہب شوافع ،مالکیہ اور حنابلہ کے خلاف ہوتا ہے ،تو ان کے بالمقابل اہل الحدیث کا ذکر کیا جاتا ہے۔جو ظاہر ہے کہ ان سے ایک الگ گروہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
امام نووی "المجموع "میں سعی قبل الطواف کے مسئلے میں لکھتے ہیں :
ولو سعی قبل الطواف لم یصح سعیہ عندنا وبہ قال جمھور العلماء وقدمنا عن الماوردی انہ نقل الاجماع فیہ وھو مذھب مالک وابی حنیفۃ واحمد وحکی ابن المنذر عن عطاء وبعض اھل الحدیث انہ یصح (۷۸)
اس مسئلے میں ائمہ اربعہ کا مسلک الگ ،جبکہ اہل حدیث یعنی محدثین کے ایک گروہ کا مسلک الگ نقل کیا ہے۔
ابن رشد مالکی بدایۃ المجتہد میں لکھتے ہیں :
اختلف الفقھاء فی الذی یاتی امراتہ وھی حائض، فقال مالک والشافعی وابو حنیفۃ: یستغفر اللہ ولا شیء علیہ، وقال احمد بن حنبل: یتصدق بدینار او بنصف دینار، وقالت فرقۃ من اھل الحدیث: ان وطیء فی الدم فعلیہ دینار (۷۹)
اس مسئلے میں مالکیہ ،شوافع اور حنفیہ کا مذہب الگ،حنابلہ کا الگ اور بعض اہل الحدیث یعنی بعض محدثین کا مسلک الگ نقل کیا گیا ہے۔ اس سے بخوبی اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ اہل الحدیث کا شمار بطور فقہی مسلک ائمہ اربعہ میں سے کسی میں نہیں ہوتا۔
معروف حنبلی فقیہ ابن قدامہ "المغنی "میں شہادت کے ایک مسئلے سے متعلق لکھتے ہیں :
قال احمد: ولا یقبل الا شاھدان، وقال طائفۃ من اھل الحدیث: یقبل شاھد ویمین (۸۰)
شوافع ،مالکیہ اور حنابلہ کی کتب کی ان عبارات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اہل الحدیث ان تین گروہوں میں سے کسی میں شامل نہیں ہے اور خود انہی مسالک کی کتب میں اہل الحدیث کو الگ اور ممتاز گروہ کے طو رپر تذکرہ کیا گیا ہے۔ اہل الحدیث یعنی محدثین کی فقہی آراء پر عصر حاضر میں مستقل کام ہوا ہے ۔اس سلسلے میں خاص طور پر ڈاکٹر عبد المجید محمود کی مایہ ناز کتاب "الاتجاھات الفقھیۃ عند اصحاب الحدیث فی القرن الثالث الھجری" اس بارے میں اہم ترین کاوش ہے۔مصنف نے اس کتاب میں تفصیل سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ محدثین ائمہ اربعہ کی طرف نسبت کے باوجود فقہی اعتبار سے الگ آراء رکھتے تھے۔اس لئے فقہی اختلاف کے وقت ائمہ اربعہ کے ساتھ اہل الحدیث کا مستقل ذکر کیا جاتا تھا۔چنانچہ لکھتے ہیں :
لکن الفقھاء الذین یعنون بذکر المذاھب الفقھی و اختلاف العلماء یسوقون امثال مالک والثوری والاوزاعی کاصحاب مذاھب مستقلۃ، ثم یعطفون علیھا مذھب اھل الحدیث (۸۱)
’’البتہ وہ فقہاء جنہوں نے مذاہب فقہیہ اور علماء کے اختلافات کے ذکر کا اہتمام کیا ہے ،وہ ائمہ مجتہدین یعنی اما م مالک ،امام ثوری اور امام اوزاعی کا ذکر کرنے کے بعد اس پر اہل حدیث کے مذہب کا عطف کر کے الگ ذکر کرتے ہیں۔‘‘
بحث کا خلاصہ
اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ فقہائے تابعین اور ائمہ اربعہ کی اہل رائے اور اہل حدیث میں تقسیم کرتے ہوئے احناف کو اہل رائے جبکہ بقیہ تینوں ائمہ کو اہل حدیث کے طبقے میں شامل کرنا محل نظر ہے۔ اس بارے میں جو اسباب اور وجوہات بیان کی جاتی ہیں، وہ تاریخی اعتبار سے مخدو ش ہیں ۔ اس غلط فہمی کی بنیادی وجہ یہ بنی کہ چونکہ اہل رائے اضافی معنی کے ساتھ احناف کے لیے بطور لقب اور علم کے بھی استعمال ہوتا ہے، اس لیے مفہوم مخالف سے یہ سمجھ لیا گیا کہ اہل حدیث بقیہ تینوں مذاہب کا لقب ہے۔ حالانکہ اہل الحدیث کا لقب صرف ان حضرات کے لئے استعمال ہوتا ہے ،جنہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال ،افعال اور تقریرات کی حفاظت ،تعلیم و تعلم اور درس و تدریس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا، جنہیں عرف میں محدثین کہا جاتا ہے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی فقہی مکتب سے ہو۔
حوالہ جات
۳۷۔مناع ،خلیل القطان ،تاریخ التشریع الاسلامی ،ریاض ،مکتبۃ المعارف للنشر و التوزیع ،ص ۲۹۱
۳۸۔ایضاً ،ص۲۹۳
۳۹۔ابن قیم الجوزیہ ،ابو عبد اللہ محمد بن ابی بکر ،اعلام الموقعین ،ریاض ،دار ابن الجوزی ، ۳۲۴۱ھ،ج۱ ،ص ۲۸
۴۰۔ ابو زہرہ ،محمد ،حیاۃ مالک ،دار الفکر العربی ،ص ۱۶۳
۴۱۔ ابن قیم الجوزیہ ،ابو عبد اللہ محمد بن ابی بکر ،اعلام الموقعین ،ریاض ،دار ابن الجوزی، ۱۴۲۳ھ،ج ۱ ص ۲۸
۴۲۔الذہبی ،شمس الدین محمد بن احمد ،تذکرۃ الحفاظ ،بیروت ،دارلکتب العلمیہ ، ۱۴۱۹ ھ،ج۱ ،ص۱۱۸
۴۳۔ المزی ،جمال الدین ،ابو الحجاج ،تہذیب الکمال فی اسماء الرجال ، بیروت ،موسسۃ الرسالۃ، ۱۴۰۸، ھ،ج ۱۰، ص ۱۵۰
۴۴۔ ایضاً۔
۴۵۔ الفرفور ،صالح عبد اللطیف ،تاریخ الفقہ الا سلامی ،بیروت ،دار ابن کثیر، ۱۴۱۶ھ، ص ۳۶
۴۶۔ الامام ،مالک بن انس ،المدونہ الکبری ،بیروت دارلکتب العلمیہ، ۱۴۱۵ھ، ج ۱، ص ۴۰۵
۴۷۔ ایضاً ،ج۲، ص ۲۱۷
۴۸۔ ایضاً ،ج۲ ،ص ۵۶۹
۴۹۔ ایضاً ، ج ۳، ص ۸۹
۵۰۔ ایضاً ،ج ۳، ص ۴۲۱
۵۱۔ الشافعی ،محمد بن ادریس ،الام ،بیروت ،دارلمعرفۃ،ج۲ ،ص ۶۱
۵۲۔ ایضاً،ج۲ ،ص۶۳
۵۳۔ ایضاً ،ج۲ ،ص۶۴
۵۴۔ ایضاً۔
۵۵۔ ایضاً
۵۶۔ الشیبانی ،ابو عبد اللہ محمد بن الحسن الجامع الصغیر ،کراتشی ،ادارۃ القران و العلوم الاسلامیہ ،۱۴۱۱ھ،ص ۱۲۱
۵۷۔ ایضاً،ص ۱۷۷
۵۸۔ ایضاً،ص ۱۸۰
۵۹۔ ایضاً،ص ۴۵۰
۶۰۔ ایضاً،ص ۴۹۸
۶۱۔ ابو زہرہ، محمد، حیاۃ مالک، دار الفکر العربی، ص ۱۷۹
۶۲۔ الزرقاء، مصطفی احمد ،الفقہ الاسلامی ومدارسہ ، بیرورت ،الدار الشامیہ ،۱۴۱۶ھ،ص ۵۹
۶۳۔ البیہقی ،ابو بکر احمد بن الحسین ،السنن الکبری،بیروت دار الکتب العلمیہ، ۱۴۲۴ھ،ج ۷ ، ص۴۰۰
۶۴۔ الجوہری ،ابو الحسن علی بن الجعد ،مسند ابن الجعد ،بیروت ،دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۷ھ،ص ۷۹
۶۵۔ الدارمی ،عبد اللہ بن عبد الرحمن ،سنن دارمی ، ریاض ،دارلمغنی ،۱۴۱۲ھ، رقم الحدیث۲۹۱۷
۶۶۔ البصری ،ابو الحسین محمد بن علی ،المتعمد فی اصول الفقہ ،المعہد العلمی ،دمشق، ۱۳۸۴ھ،ج۲ ،ص ۲۸۰
۶۷۔ الطوفی ،نجم الدین سلیمان بن عبد القوی ،شرح مختصر الروضۃ، ریاض ،وزارۃ الشوون الاسلامیہ، ۱۴۱۹ ،ج ۳، ص ۲۸۹
۶۸۔ الکشمیری، محمد انو رشاہ ،العرف الشذی ،بیروت ،دار احیا ء التراث العربی، ۱۳۲۵ھ،ج ۲، ص ۲۶۸
۶۹۔ ابن تیمیہ ،تقی الدین ،الفتاوی الکبری،بیروت ،دارلکتب العلمیہ، ۱۴۰۸ھ،ج۳،ص ۱۹۳
۷۰۔ ابن قتیبہ ،ابو عبد اللہ محمد بن مسلم ،المعارف ،قاہرہ ،دا ر المعارف ،ص ۴۹۴
۷۱۔ ابن حزم ،ابو محمد علی ابن احمد ،الاحکام فی اصول الاحکام ،بیروت ،دا ر الآفاق ،ج۶،ص ۱۷۷
۷۲۔ الطوفی ،نجم الدین سلیمان بن عبد القوی ،شرح مختصر الروضۃ، ریاض، وزارۃ الشوون، ۱۴۱۹ھ، ج ۳، ص ۲۸۹
۷۳۔ الشافعی ،محمد بن ادریس ،الام، بیروت ،دا ر المعرفۃ، ج۳ ،ص ۸
۷۴۔ ایضاً،ج۶، ص ۶۰۲
۷۵۔ الذہبی ،شمس الدین محمد بن احمد ،سیر اعلام النبلاء،بیروت ، موسسۃ الرسالۃ، ۱۴۰۵ ھ،ج ۱۲ ،ص ۲۷۳
۷۶۔ ایضاً، ج ۱۳، ص ۵۸۱
۷۷۔ ایضاً،ج ۱۵، ص۴۹۵
۷۸۔ النووی، ابو زکریا محی الدین بن شرف، المجموع شرح المہذب، مصر، ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ،ج ۸، ص ۷۸
۷۹۔ القرطبی ،ابن رشد،بدایۃ المجتہد،بیروت ،دارلفکر، ۱۴۲۴ھ،ج ۱، ص ۱۱۵
۸۰۔ ابن قدامہ ،موفق الدین ابو محمد عبد اللہ بن محمد،المغنی،ریاض ،دار عالم الکتب، ۱۴۱۷ھ،ج ۱۳، ص۷۴
۸۱۔ عبد المجید محمود ،الاتجاہات الفقہیہ عند اصحاب الحدیث فی القرن الثالث الھجری، ،مکتبۃ الخانجی، ۱۳۹۹ھ، ص ۱۳۶
مکاتیب
ادارہ
محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
ستمبر ۲۰۱۶ء کے ماہنامہ الشر یعۃ میں مفتی محمد رضوان صاحب کی تالیف ’’مولانا عبید اللہ سندھی کے افکار اور تنظیمِ فکرِ ولی اللّٰہی کے نظریات کا تحقیقی جائزہ ‘‘ کے دوسرے ایڈیشن پر مولانا سیّد متین احمد شاہ صاحب کا فاضلانہ تبصرہ پڑھا۔ تبصرہ نگار ممکن حد تک غیر جا نبد ار رہے ہیں اور تبصرے کو کسی طور یک رخا نہیں کہا جاسکتا۔ بہرحال غالباً عجلت کے سبب چند غلطیاں تبصرے میں راہ پاگئی ہیں ۔ ریکارڈ کی درستی کے لیے انہیں ذیل میں درج کیا جاتا ہے :
۱۔مولانا سندھی مرحوم کے سب سے بڑے راوی پروفیسر محمد سرور ہیں۔ کمیت کے اعتبار سے مولانا سندھی کے افکار و ملفوظات کو مرتب کرکے پیش کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے ۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ پروفیسر صاحب کی مرتبہ کتابوں کی اشاعت کے بعد مولانا سندھی شدید تنقید کا نشانہ بنے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔ محترم متین شاہ صاحب نے پروفیسر محمد سرور کی کتاب ’’ افادات و ملفوظاتِ حضرت مولانا عبیداللہ سندھی‘‘ کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ کتاب مولانا کی زندگی میں شائع ہوئی تھی ۔ یہ ایک تسامح ہے ۔ یہ کتاب مولانا کے انتقال کے بعد ۱۹۷۳ء میں شائع ہوئی ۔ یاد رہے کہ مولانا سندھی کا انتقال ۲۲ اگست ۱۹۴۴ء کو ہوا تھا۔ میرا خیال ہے کہ اگر یہ کتاب مولانا کی زندگی میں شائع ہوئی ہوتی تو انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ۔ مولانا کی زندگی میں شائع ہونے والی پروفیسر محمد سرور کی کتاب ’’مولانا عبید اللہ سندھی : حالاتِ زندگی ، تعلیمات اور سیاسی افکار‘‘ ہے۔ یہ کتاب ۱۹۴۳ء میں شائع ہوئی اور مولانا نے اسے ownکیا ۔ (ملاحظہ ہو پروفیسر محمد سرور کی وفات پر مولانا عبید اللہ انور کا تعزیتی مضمون جو ہفت روزہ خدام الدین میں شائع ہوا۔ یہ مضمون محولہ بالاکتاب کے حالیہ ایڈیشن میں بھی شامل ہے )
۲۔ فاضل مبصر لکھتے ہیں ’’مولانا عبد الحق خان بشیر نے اپنی کتاب ’’مولانا عبید اللہ سندھی اور تنظیم فکر ولی اللّٰہی ‘‘ میں پروفیسر محمد سرور کا نام مولانا سندھی کے ناقابل اعتماد تلامذہ کی فہرست میں شامل نہیں کیا، حالاں کہ مولانا سندھی کے افکار پر جو تنقید ہوئی ہے وہ زیادہ تر ان تحریروں کی روشنی میں ہوئی ہے ، جو پروفیسر صاحب کی مرتب کی ہوئی ہیں ‘‘۔ غالباً شاہ صاحب کی نظروں سے مولانا عبد الحق خان بشیر کی کتاب کی درج ذیل سطور اوجھل ہوگئیں:
’’ فکری اعتبار سے مولانا سندھی کے تلامذہ کو دو ٹیموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ پہلی ٹیم حضرت [احمد علی] لاہوری ؒ اور حضرت خواجہ عبد الحی فاروقی ؒ پر مشتمل ہے ۔ دوسری ٹیم میں علامہ موسیٰ جار اللہ ، مولانا عبد اللہ لغاری ، پروفیسر محمد سرور اور شیخ بشیر احمد لدھیانوی شامل ہیں ۔ ان میں سے حضرت سندھی کے افکار کی حقیقی ترجمان تو صرف پہلی ٹیم ہے ۔ اس کے برعکس دوسری ٹیم سے تفسیرِ قرآن کے سلسلے میں بیشتر مقامات پر سنگین نوعیت کی خطرناک نظریاتی اغلاط کا صدور ہوا ہے ۔۔۔ اس [ٹیم ] میں پروفیسر محمد سرور کے پیش کردہ سیاسی و معاشی افکار میں متعدد کمزوریاں موجود ہیں اور ان کی بعض عبارات حضرت سندھی کے بارے میں بے شمار شکوک کو جنم دیتی ہیں ‘‘ (ص ۷۹، ۸۰)
مولانا عبد الحق خان بشیر اس کتاب کے صفحہ نمبر ۹۵ میں لکھتے ہیں :
’’ ۔۔۔باقی رہی بات پروفیسر محمد سرور مرحوم کی تو حضرت سندھی کی نسبت سے پیش کردہ ان کے بعض افکار ، ناقابل قبول اور قابل گرفت ہیں ۔ چنانچہ مولانا صوفی عبد الحمید سواتی تحریر فرماتے ہیں :۔
پروفیسر محمد سرور نے ایک مجموعہ ’’ مولانا عبید اللہ سندھی : حالاتِ زندگی ، تعلیمات اور سیاسی افکار ‘‘ مرتب کیا ہے ۔ اور دوسرا مجموعہ ’’افادات و ملفوظاتِ حضرت مولانا عبید اللہ سندھی‘‘ ہے ۔ یہ دونوں مجموعات بڑے اہم ہیں اور دونوں قابلِ تنقید ہیں ۔ ان مجموعات میں مولانا سندھی کے بارے میں صحیح ، قابل وثوق ، ضعیف ، موضوع ، غیر قابل اعتماد ہر قسم کی باتیں موجود ہیں ‘‘۔ ( مولانا عبید اللہ سندھی کے علوم و افکار ، ص ۱۰۷)
حیرت ہے کہ مولانا سندھی کے بارے میں مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کو پروفیسر محمد سرور کی کتاب ’’مولانا عبید اللہ سندھی : حالاتِ زندگی ، تعلیمات اور سیاسی افکار ‘‘ میں قابلِ تنقید باتیں اور موضوع روایتیں نظر آگئیں ، لیکن خود مولانا سندھی کو نظر نہیں آئیں اور انہوں نے اس کتاب کو ownکرلیا۔
۳۔محترم متین شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے پروفیسر محمد سرور کی کتاب ’’ مولانا عبید اللہ سندھی : حالاتِ زندگی ، تعلیمات اور سیاسی افکار ‘‘ پر اپنے تبصرے میں مولانا سندھی کی فکر کے قابل تنقید امور کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:
’’مولانا [سندھی] مرحوم کی یہ بڑی خوش قسمتی تھی کہ ان کا تعلق علمائے کرام کے اس طبقے سے تھا جو اپنی گروہی عصبیت میں حدِ کمال پر پہنچا ہوا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا یہ سب کچھ فرما گئے اور لکھوا اور چھپوا بھی گئے اور پھر بھی تنقید کی زبانیں بند اور تعریف کی زبانیں تر رہیں ۔ ورنہ اگر انہوں نے اس طبقۂ خاص سے باہر جگہ پائی ہوتی تو ان کا استقبال سرسید اور علامہ مشرقی سے کچھ کم شا ندار نہ ہوا ہو تا ‘‘۔ (ترجمان القرآن ، جولائی ، اگست ، ستمبر ۱۹۴۴ء)
محترم شاہ صاحب کا کہنا ہے کہ مفتی محمد رضوان صاحب کی زیر نظر کتاب مولانا مودودی کی اس بات کی تردید کرتی ہے کیونکہ اس میں شامل تقریباً تمام مقالات علمائے دیو بند کے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ محترم شاہ صاحب نے یہ بات عجلت اور رواروی میں لکھی ہے۔ مفتی رضوان صاحب نے اپنی کتاب میں شامل تقریباً تمام مضامین کی تاریخِ اشاعت دے دی ہے۔ مولانا مودودی نے محولہ بالا تبصرہ ستمبر ۱۹۴۴ء کے ترجمان القرآن میں لکھا ، جب کہ علمائے دیوبند کے مضامین اس کے بعد شائع ہوئے۔ اس میں بہر حال ایک استثنا مولانا ظفر احمد عثمانی کا مضمون ’’طلوعِ اسلام ‘‘ مولانا سندھی اور شاہ ولی اللہ ہے۔ یہ مضمون ۱۹۴۲ء میں شائع ہوا۔ فاضل مبصر نوٹ فرمائیں کہ مولانا سندھی کے بارے میں دیوبندی مکتبِ فکر کے زعیم مولانا حسین احمد مدنی کا مضمون اخبارِ مدینہ بجنور کی ۱۷ مارچ ۱۹۴۵ء کی اشاعت میں شائع ہوا ۔ اسی طرح مولانا مناظر احسن گیلانی کا مضمون ’’فکرِ سندھی ‘‘ کسی دینی یا علمی مجلے میں نہیں ٗ بلکہ مسلم لیگ کے ترجمان روزنامہ منشور دہلی میں ۱۹۴۵ شائع ہوا ۔ وہاں سے liftکر کے ا سے ہفت روزہ صدق لکھنو کی ۱۳ جون تا ۱۴ جولائی ، ۱۹۴۵ ء کی اشاعتوں میں شائع کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ مضمون مولانا سندھی کی زندگی میں ۱۹۴۳ء میں لکھا گیا تھا اور اکابر علما کی توثیق کے حصول کے پیش نظر اسے فوری طور پر شائع نہیں کیا گیا ۔ یہ بات بھی ۲۰۱۱ء میں شائع ہونے والی کتاب ’’مجموعہ خطوطِ گیلانی ‘‘ مرتبہ محمد راشد شیخ کے ذریعے سامنے آئی ۔
مولانا سندھی کے حوالے سے اُن کی زندگی میں شائع ہونے والی سب سے زیادہ اختلافی کتاب پروفیسر محمد سرور کی ’’مولانا عبید اللہ سندھی : حالاتِ زندگی ، تعلیمات اور سیاسی افکار ‘‘ ہے۔ میں شاہ صاحب سے بصد احترام دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ مولانا کی زندگی میں کس ممتاز دیوبندی عالم نے اس کتاب پر نقد و تبصرہ لکھا؟ دیو بندی اکابر کی اسی خاموشی پر مولانا مناظر احسن گیلانی نے مولانا عبد الماجد دریا بادی کے نام درد اور کرب سے بھرا ہوا ایک خط لکھا جو ۲۳ جون ۱۹۴۵ء کی صدق کی اشاعت میں شائع ہوا۔ یہ خط مفتی رضوان صاحب کی کتاب میں شامل ہے ۔ اس کے برعکس دارالعلوم دیو بند کے ایک فاضل کی زیر ادارت شائع ہونے والے ماہنامہ برہان دہلی نے مولانا سندھی کی بھر پور تائید کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا عبد الماجد دریا بادی کے ہفت روزہ صدق میں ۱۹۳۹ء ہی سے مولانا سندھی کے افکار کی تردید شروع ہو گئی تھی، لیکن مجھے اس پر تحفظات ہیں کہ مولانا اشرف علی تھانوی سے بیعت ہوجانے کی بنیاد پر مولانا عبد الماجد دریابادی کا شمار علمائے دیوبند میں کیا جاسکتا ہے ۔
اگر اس عریضے میں کوئی بات محترم متین شاہ صاحب کے لئے گرانی طبع کا باعث ہو تو آپ کی وساطت سے ان سے پیشگی معذرت ۔
محمد سفیر الاسلام
safeerjanjua@gmail.com
طلبہ کی نفسیاتی، روحانی اور اخلاقی تربیت ۔ ایک فکری نشست کی روئیداد
مولانا حافظ عبد الغنی محمدی
از قلم: حافظ عبد الغنی محمدی / مولانا امیر حمزہ
فی زمانہ جہاں طلباء کی ہمتیں پست اور ارادے شکست وریخت کا شکار ہیں، وہیں اساتذہ بھی پہلے جیسے اہل نہیں رہے ۔ اساتذہ طلباء کو پڑھانا تو شاید اپنا فرض سمجھتے ہیں، لیکن طلبہ کی نفسیات کو سمجھ کر ان کی اخلاقی و روحانی تربیت بالکل نہیں کرتے۔یہی غیر تربیت یافتہ طلباء جب فضلاء بنتے ہیں تو بجائے فائدہ کے نقصان کا باعث ہوتے ہیں، اپنی تربیت نہ ہونے کے سبب معاشرہ کی تربیت سے بالکل عاری ہوتے ہیں ، نتیجتاً معاشرے کی صحیح خطوط پر تربیت کے فرض کو کماحقہ پو رانہیں کر پا تے ہیں۔
اس تناظر میں الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ۲؍اکتوبر کو علماء، فضلاء اور اساتذہ کے لیے ’’ طلبہ کی نفسیاتی، اخلاقی اور روحانی تربیت‘‘ کے عنوان سے ایک فکری نشست منعقد ہوئی جس میں مولانا جہانگیر محمود، (ڈائریکٹر سوسائٹی فار ایجوکیشنل ریسرچ لاہور)، مولانا محمد یوسف خان صاحب استاذ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور اور پروفیسر عبد الماجد حمید المشرقی بطور مہمان خصوصی تشریف لائے ۔ نشست کا آغاز اکادمی کے طالب علم عاصم شبیر کی تلاوت سے ہوا ، اس کے بعد اکادمی کے ایک طالب علم عبداللہ ریاست نے نعت رسول مقبول ﷺ پڑھی اور پھر مولانا جہانگیر محمود صاحب کا انتہائی فکر انگیز بیان ہوا۔
مولانا جہانگیر محمود کی گفتگو
مولانا نے فرمایا کہ بندہ کوئی کام متواتر کر ے تو انسانی نفسیات کا حصہ ہے کہ قدر اور جذبہ ایک جیسا نہیں رہ سکتاہے۔ امام غزالی ؒ کافرمان ہے کہ انسان جب متواتر عبادت کرتا رہتا ہے تو عبادت، عادت بن جاتی ہے ، اس لیے انسان کی طبیعت کے لیے ضروری ہے کہ اعادہ اور تکرار سے اپنے جذبہ میں نیا پن پیدا کر ے۔ ایک مرتبہ مجھ پر پریشانی آگئی ۔ میں سخت پریشان تھا۔ ایک دوست کو دعا کا کہا تو اس نے کہا کہ خود کرو ۔ میں نے کہا کہ خود تو روز کرتے ہیں۔ تو وہ دوست فرمانے لگے کہ جیسے کرنی چاہیے، ویسے کرو ۔ صبح سے شام تک پڑھا پڑھا کر ہر چیز یاد ہوجاتی ہے، لیکن وہ جذبہ، جوش اور لگن نہیں رہتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان باتوں کو دہرائیں ۔ تدریس سے بڑاکام کوئی نہیں ہے۔
بہت ملکوں کا سفر کیا، ہر جگہ پر اس پیشے کے منسلک لوگوں کے حالات بہت اچھے نہیں ہوتے۔ مدرسین کا انتخاب اللہ پاک کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کے مخلص بندے ہوتے ہیں اور یہ سب سے بڑی ذمہ داری بھی ہے، اس کی تکمیل میں حساس ہونا پڑے گا۔ منصب کے ساتھ ذمہ داری اور جواب دہی بھی ہوتی ہے ۔ اترانے کی بجائے جھکاؤپیدا کرنا ذمہ داری کا احساس ہے ۔ عادت میں تجدید کس طرح پیدا کی جائے ؟ اس کا ایک مستقل جز تزکیہ ہے ۔ ہمارے دین ، تہذیب اور تربیت کا جز ہے ۔
تدریس رسول میں سب سے نمایاں چیز محبت تھی۔ صحابہ کا عشق ، محبت ، ایثار اور لگن اصل میں حضور ﷺکی شفقت کا رد عمل تھا۔ حضور کی محبت کا بدلہ محبت کے سوا کیا ہوسکتاہے؟ پیار مجبوری اور زبردستی میں نہیں ہو سکتا۔ عبادات : نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰ ۃ وغیرہ تو زبردستی ممکن ہے، لیکن محبت ممکن نہیں ہے ۔
فتح مکہ میں جو سب جھک گئے تھے تو اس کی وجہ بھی حضور کی شفقت اور محبت تھی ، تلوار کے زور پر ان لوگوں کو جھکانا ممکن نہ تھا ۔ حضور کیسے شفیق تھے، یہ بات حضرت جابر کے واقعہ سے سمجھ آتی ہے ۔ حضرت جابر کی شادی سے قبل ان سے اونٹ خریدا ، رقم دے دی۔ بعد میں رخصت کرتے ہوئے اونٹ بھی تحفہ میں دے دیا۔ ایسا مدد کرنے کے لیے کیا ، ویسے قیمت نہیں دی تاکہ عزت نفس مجروح نہ ہو ۔حضور کس قدر حساس ہیں ۔ عبدا للہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور مسکراکر ملتے تھے، لیکن آج نہ مسکرانے کو تقویٰ کے قریب سمجھ لیا گیا ہے ۔ حضور نہ صرف خود محبت کرتے تھے بلکہ صحابہ کوبھی اس کی تلقین کرتے تھے ۔ ابن مسعود کو فرمایا کہ تمہارے پاس دور دور سے طلباء آئیں گے، تم ان کا خیال رکھنا ۔ حضرت ابن مسعود طلباء کا ستقبال کرتے تھے ۔
محبت رد عمل کا نام ہے ، تدریس کے نظام میں اس عمل کی وہ اہمیت نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی ۔ حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ رات کو اٹھ کر طلباء کی خبر گیری کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ دیکھا کہ ایک کمرے میں لائٹ چل رہی ہے اور ایک طالب علم جاگ رہا ہے ۔ استفسار پر معلوم ہو ا کہ وہ طالب علم حقہ کاعادی ہے اور حقہ کے بغیر نیند نہیں آرہی ہے۔ حضرت نے خود حقہ لا کر دیا کہ ابھی پی کر سو جاؤ۔ مولانا کفیل بخاری نے حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری کا یہ واقعہ سنایا۔ شاہ صاحب ؒ قاری رحیم بخش ؒ کے شاگر تھے۔ ایک مرتبہ شاہ صاحب کی جب حضرت قاری رحیم بخش ؒ سے ملاقات ہوئی تو قاری صاحب معافی مانگنے لگے اور فرمایا کہ میں نے تمہاری پٹائی کی، لیکن اصلاح کے علاوہ کوئی جذبہ نہ تھا ۔ قاری صاحب ؒ کا یہ مشہور قول ہے کہ استاد کوہاتھ اٹھانے کا کوئی حق نہیں جب تک چالیس روز تک اس بچے کی اصلاح کے لیے تہجد میں اٹھ کر مانگ نہ چکا ہو ۔ مارا تب جائے جب مار کے علاوہ دوسرے تمام طریقے استعمال کرچکے اور اس کو آخری حربے کے طور پر استعمال کرے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تو یہ حالت تھی کہ کفار کے ایمان کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگا کرتے تھے۔ فلعک باخع نفسک اسی لیے نازل ہوئی تھی ۔ غم اور غصہ میں فرق ہے ، حضور کو غم تھا، غصہ نہیں ۔ طلباء کے لیے دعا کریں اور دعا سب سے پہلے ہے، آخری چیز نہیں ہے ، مزید برآں زبان میں نرمی پیدا کریں ۔
جس طرح کے استاد سے پڑھنا چاہتے ہیں، اس طرح کے بن جائیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے ’’لایؤمن احدکم حتی ٰ یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ‘‘ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتاہے۔
مولانا محمد یوسف خان کا بیان
مولانا جہانگیر محمود کے بعد مولانا محمد یوسف خان صاحب کا بیان ہو ا۔ مولانا نے اپنے بیان میں دیگر قیمتی باتوں کے ساتھ اساتذہ کے لیے اکیس رہنما اصول بیان فرمائے ۔ مولانا نے فرمایا کہ شاگرد استاد سے زیادہ نفسیات سے واقف ہوتے ہیں۔ نفسیات کتابوں یا فن کانام نہیں ہے ۔ایک جگہ چند بچے تھے جو ریاضی پڑھنا پسند نہیں کرتے تھے ، بہت سے استاذ ان کے لیے بدلے گئے، لیکن نتیجہ وہی رہا ۔ بالآ خر ایک ماہر نفسیات کو بلایا گیا ، ماہر نفسیات نے کتابوں کو بند کر کے شاگردوں کوخرگوش ، مرغیاں اور بطخوں وغیرہ سے کھلانا شروع کردیا ۔ کافی دن جب یونہی گزر گئے تو استاد نے سوچا، اب مانوس ہوچکے ہیں تو اس نے ایک دن کہا کہ دیکھو ڈربے میں کتنی مرغیا ں اور باہر کتنی ہیں ۔ تو ایک بھائی دوسرے سے کہنے لگا، لگتاہے ریاضی پڑھانے آیاہے ۔
ایک استاد کو اپنے اندر چند خصوصیات پیدا کرنی چاہیے، تبھی وہ ایک کامیاب استاد بن سکتاہے ۔ یہ خصوصیات اور اصول ہمارے بزرگ سکھاتے ہیں اور اخلاقیات میں بھی پڑھائے جاتے ہیں۔
اخلاص
اچھا استاذ اپنے پیشے کے ساتھ مخلص ہوتاہے ۔ وہ اپنے پیشے کے ساتھ جس قدر بے لوث ہوگا، اس کی دلچسپی اسی قدر بڑھتی جائے گی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں اتنی ہی کم ہوتی چلی جائیں گی ۔ اخلاص وہ جوہر ہے جس سے عمل میں لذت ، تبدیلی اور احساس پیدا ہوتاہے ۔
تقویٰ
علم اور تقویٰ کاک باہم گہرا تعلق ہے ، اسی وجہ سے قرآن پاک میں خشیت الہٰی کا مدار ’’ علم ‘‘ کو قرار دیا گیاہے ۔ تقویٰ کمال کا ہو ، تقویٰ سے طلباء کے دل میں عزت وا حترام پیدا ہوتا ہے اور مدرس کی زبان میں تاثیر پیدا ہوتی ہے ۔
عملی نمونہ
طلبہ اپنے استاذ کو دیکھ کر اپنی عادات تبدیل کریں گے، کہنا نہیں پڑے گا ۔ طلبہ استاذ کی ایک ایک بات باریک بینی سے نوٹ کرتے ہیں ۔ ایک دن میری گھڑی خراب ہوگئی ، بیوی کی گھڑی پہن کر چلاگیا ۔ دوران درس میری پوری کوشش رہی کہ گھڑی کپڑوں میں چھپی رہے ۔ دن گزر گیا، بات آئی گئی ہوگئی۔ کچھ مدت بعد ایک طالب علم سے بات ہورہی تھی۔ وہ درسگاہ میں میری کسی بات کا حوالہ دے رہا تھا اور مجھے یاد نہیں آرہا تھا ۔ میں نے مزید استفسار کیا تو اس نے کہا ’’ استاد جی جس دن آپ لیڈیز گھڑی پہن کر آئے تھے‘‘۔ مجھے سخت حیرت ہوئی کہ طلبہ کتنی گہرائی سے استاد کو پڑھتے ہیں ، بلکہ پڑھنے کے بعد اسے یاد رکھتے ہیں اور دوسروں سے اس کا تذکرہ کرتے ہیں ۔
تلاوت کا معمول
قرآ ن مجید کی تلاوت روزانہ کی جائے ۔ قرآن کریم بہترین ذکر ہے اس لیے روزانہ اس کی اونچی آوازمیں تلاوت کرے ۔
ذکر اللہ
مسنون اذکا ر کیے جائیں کیونکہ خود بھی دل کو زندہ رکھنا ہوگا تب ہی تربیت ممکن ہے ۔
شکر
شکر کی کیفیت پائی جائے ۔ قلبی ، لسانی اور عملی تینوں طرح کا شکر ہونا چاہیے ۔ قلبی شکر میں دو چیزیں شامل ہیں: احترام منعم اور محبت منعم ۔ ادارے کا احترام کرتاہے تو کامیاب مدرس ہے، شاگردوں کے دلوں میں بھی احترام پیدا ہوگا۔ اور اگر مہتمم یا ناظم پر تنقید کرتاہے تو ناکام ترین مدرس ہے ۔ لسانی شکر بھی ہوناچاہیے ، قرآ ن کریم میں اس کا حکم ہے۔ ’’واما بنعمۃ ربک فحدث‘‘۔ اسی طرح دوسری آیت میں ہے ’’ان اشکر لی ولوالدیک‘‘ اور حدیث میں ہے ’’من لم یشکر النا س لم یشکر اللہ‘‘ ۔ شکریہ میں جزاک اللہ اور الحمد للہ کا استعما ل کرے ۔ اور عملی شکر یہ ہے کہ نعمتوں کو ڈھنگ سے استعمال کرے ، جو استاذ نعمتوں کا درست استعمال نہیں کرتا، وہ ناشکرا اور ناکام ترین مدرس ہے ۔
حیاء
مدرس کو باحیاء ہونا چاہیے ۔ حیاء کہتے ہیں ’’انقباض النفس عن القبیح‘‘ ناپسندیدہ باتوں سے دل کا تنگ پڑ جانا۔ شاگرد استاد کے چہرے سے حیاء کو محسو س کرے جیساکہ صحابہ کرام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہر ے سے محسوس کر لیتے تھے جب آپ کو کوئی چیز ناگوار ہوتی تھی۔ سوشل میڈیا نے حیاء کوکم کردیا ہے ، غیر شرعی باتوں کو قبیح نہیں سمجھا جا رہا ہے ۔ استاد میں حیاء ہوگی تو طلباء میں بھی یہ وصف منتقل ہوگا ۔
ذمہ دار ی کا احساس
مدرس کو ایک ذمہ دار انسان ہونا چاہیے ، غیر ذمہ دار کا مظاہر کیا جائے تو یہ طلباء میں بھی منتقل ہوتی ہے۔
اچھی صحبت
اچھا استاذ وہ ہوتا ہے جس کامزاج اچھا ہو ، اس کی بیٹھک اچھے لوگوں کے ساتھ ہو ، اس کی پہچان اچھی سوسائٹی ہو۔ اچھی اور بری صحبت کی مثال حدیث شریف میں عطار اور لوہار کی مانند دی گئی ہے جن کے پاس جانے والاکوئی چیز نہ بھی لے اثرات ضرور پہنچتے ہیں ۔ اچھی صحبت کا احسا س ہونا چاہیے اور پھر اس کی قدر بھی ہونی چاہیے ۔ لوگوں سے خیرخواہی اور اصلاح کا تعلق تو ضرور رکھے مگر دوستی نہیں ۔
صبر و تحمل
صبر کا مادہ کما ل کا ہونا چاہیے ۔ جتنا صبر کمال کا ہوگا اتنا ہی کمال کا استاد ہوگا ۔ انبیاء کرام کو اللہ رب العزت نے دعوت اور لوگوں کی اصلاح کے دوران باربار صبر کی تلقین فرمائی ہے ۔
زہد
استاد میں زہد کما ل کا ہونا چاہیے ، شاگرد کے مال پر اگر استاذ کی رال ٹپک رہی ہو تو شاگر د کی نظر میں ایسا استاذ ٹکے کا نہیں رہتا ۔ حدیث میں جو آیا ہے ’’ازھد فی الدنیا یحبک اللہ وازھد فیما عند الناس یحبک الناس‘‘ اس میں الناس کی جگہ طلبہ کو رکھ کر عملی مشاہدہ کیجیے، پھر ادراک ہوگا کہ کتنی بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے ۔
عفو و درگزر اور وسعت قلبی
ہر معمولی بات پر پکڑ کرنے والاکبھی کامیاب مدرس نہیں بن سکتا ، استاد کو اپنے اندر وسعت قلبی پیدا کرنی چاہیے ۔ اللہ رب العزت بھی اکثر معاملات میں معاف کر دیتے ہیں ’’ویعفو عن کثیر‘‘ ۔
خدمت خلق کا جذبہ
افسوس ہے کہ اس اہم ترین عبادت کوہم نے شعبوں میں تقسیم کر دیا ہے ، روز مرہ زندگی میں بطور عبادت اس اصول کا اطلا ق ہمارے ہاں نادر ہے۔ تبلیغ میں جانے والے احباب سفر دعوت میں ہر طرح کی خدمت اکرامِ مسلم سمجھ کر کر تے ہیں، مگر گھر آتے ہی خدمت انہیں ذلت محسوس ہوتی ہے ۔ استاذ اگر اپنے طلبہ کے سامنے خدمت خلق کا عملی نمونہ پیش کرے گا تو ان کے دل میں عظمت بڑھے گی اور وہ خود کا م بڑھ چڑھ کر کریں گے۔
اس سلسلے میں اپنا ایک واقعہ بیان کروں گا کہ ضعف اور نقاہت کی وجہ سے چونکہ طبیعت مستعد نہیں رہی ، ایک مرتبہ میں نے کھانا تناول کرنے کے بعد بچوں سے کہا کہ بیٹا دستر خوان اٹھا لو، اتنے میں کیا سنتا ہوں کہ میرا چھوٹا نواسا دروازے سے نکلتے ہوئے کہہ رہاہے ’’ خود تو بڑے بیٹھے رہتے ہیں اور ہمیں کام پر لگایا ہواہے‘‘۔ ایسے موقع پر اگر بچوں ڈانٹ دیاجائے تو زیادہ سے زیادہ یہ فرق پڑے گا کہ یہ یہی بات آپ کے سامنے کہنے سے باز رہیں گے، مگر ان کے ذہنوں کو آپ صرف اور صرف اپنے کردار سے کھرچ سکتے ہیں ۔
قوت و امانت
اچھا پیشہ وہ ہوتا ہے جس میں قوت اور امانت کا وصف بخوبی موجود ہو ۔ استاد کی قوت اور طاقت اس کا مطالعہ ، علمی رسوخ اور اپنے فن پر دستر س ہے۔ نالائق سے نالائق طالبعلم بھی استاذ کی علمی قابلیت کو اچھی طرح بھانپ لیتاہے ۔ استاذ کی امانت کا مدار اس بات پر ہے کہ وہ علم کو آگے منتقل کرنے میں کس قدر محتاط اور سخی ہے ۔
اخلاقی جراءت
اخلاقی جرات کے بغیر ناکام مدر س ہے ۔ اخلاقی جرات اخلاقی اوصاف سے پیدا ہوتی ہے ۔
قول و فعل میں مطابقت
استاد کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے ۔ جس استاذ کے قول و فعل میں تضاد ہو وہ ایک بدنام اور ناکام مدرس ہے ۔
رجائیت
اچھا استاد کبھی مایوس نہیں ہو تا، اس کی مثال اس پھل بیچنے والے کی سی ہے جو اپنے گاہک کے سامنے پھل کی ایسے تعریف ایسی تعریف کرے کہ وہ تھوڑے کی بجائے زیادہ لینے پر مجبور ہو جائے اور اگر وہ خود مایوس ہو تو اس سے کوئی پھل نہ لے گا ۔ اسی طرح تعلیم کامعاملہ ہے، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم جس علم کو بیچ رہے ہیں، اس کی قدر خود ہمارے دل میں بھی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ استاد کے ذریعے شاگردوں میں مایوسی منتقل ہو رہی ہے ۔
وضع قطع
استاد کو چاہیے کہ اپنے باطن کی طرح ظاہر کو بھی اللہ کے رنگ میں رنگ دے ۔ شریعت کے مطابق وضع قطع نہ صرف سنت نبوی کی اتباع ہے بلکہ اس سے آپ با وقار تشخص کی تعمیر کر سکیں گے ۔
اخلاص
دینی خدمات محض تنخواہ کے لیے سرا نجام نہ دے ۔ اس سے چاشنی اور لذت جاتی رہتی ہے ۔ اپنے کسی قول و فعل کے ذریعے شاگردوں کے سامنے بھی ایسا تاثر دینے سے باز رہے ۔
شاگردوں کے حق میں دعا
اپنے شاگردوں کے لیے ہمیشہ دعاگو رہے ۔ یہ عمل اجر اور اخلاص بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
ڈاکٹر عبد الماجد المشرقی کی گفتگو
اس کے بعد گوجرانوالہ کی مشہور شخصیت ’’ مشر ق سائنس کالج ‘‘ کے بانی و ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد المشرقی نے خطاب کیا اور درج ذیل معروضات پیش کیں :
تدریس کے بارے میں کہتا ہوں کہ اگر احساس نہ ہو تو دنیا میں اس سے زیادہآسان کام کوئی نہیں ۔ اگر احساس ہو تو دنیا کا سب سے مشکل کام ہے ۔ تعلیم کو عام کرنا چاہیے، برائے نام نہیں کرنا چاہیے۔ جس کو کوئی جگہ نہیں ملتی ،وہ اسکو ل یا مدرسہ بنا لیتا ہے ۔ تعلیم کی اہمیت یہ ہے کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔
پچھلے سال دسمبر کی بات ہے، فرانس کی لائبریری میں ہم نے ایک نوجوان کو دیکھا جو مطالعہ میں منہمک تھا ۔ تعارف کے بعد پتہ لگا کہ وہ یہودی ہے ۔ ہم نے اس کے دائیں بائیں ۵ کتابیں دیکھیں۔ درمیان میں قرآ ن کریم بھی تھا ۔ ہم بہت حیران ہوئے ۔ اس نے کہا کہ میں فزکس پڑھا تاہوں۔ میں نے کہا، سرجانس !آپ امریکن ہیں ، یہودی ہیں ، درمیان میں قرآ ن کریم کیسے رکھاہے ؟یہ تو ہماری کتاب ہے۔ اس نے کہا کہ آپ نے غلط کہاکہ قرآ ن کریم صرف آپ کی کتاب ہے۔ قرآ ن کریم ساری انسانیت کی کتاب ہے ۔ میں نے پوچھا : اس میں آپ تلا ش کیا کررہے ہیں؟ اس نے کہا کہ میں اپنا لیکچر تیار کر رہاہوں۔
قرآ ن کریم پڑھانے والے اپنے آپ کو معمولی نہ سمجھیں ۔ مجھے تدریس کرتے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہو ا، صرف ۳۸ سال ہوئے ہیں ۔ میں نے کبھی اپنے کسی شاگرد سے ایک ٹافی بھی نہیں کھائی ہے اور نہ ہی کبھی کسی سے یہ پوچھا کہ آپ کے ابو کیا کرتے ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ شاید باپ نہ ہو، یا ڈاکو ہو ۔ اور میر ے ذہن میں اس کے ابو سے کوئی مفاد لینے کا خیال نہ آجائے۔ جس ڈنڈے کے متعلق کہا جاتاہے کہ ’’ ڈنڈا وگڑے تگڑوں کا پیر ہے ‘‘وہ حسن اخلاق کا ڈنڈا ہے۔ کلاس میں ۲۵شاگرد ہیں ۔ کلاس کو واچ کرنے کے لیے استاد کی دو آنکھیں ہیں، لیکن استاد کو واچ کرنے کے لیے پچاس آنکھیں ہیں ۔
میں نے ملکہ برطانیہ سے پوچھا ، آپ بھی کبھی کسی عام شہری کے گھر ملنے گئیں ؟ انھوں نے کہا کہ جی، سا ل میں چند لوگوں کو ملنے جاتی ہوں ۔ میرے پرائمری اور ہائی اسکو ل کے جتنے اساتذہ ہیں، سب کے گھروں میں سلام کرنے جاتی ہوں ۔ پوچھا کہ کیا سارے زندہ ہیں؟ ملکہ نے کہا کہ نہیں، جو فوت ہوچکے ہیں، ان کے بچوں کو سلام کرنے جاتی ہوں۔
میں اپنے ٹیچر کی طرف پشت نہیں کر تا۔ میرے استاذ کے نام سے ملتاجلتا نام بھی اگر کہیں گراہوا دیکھ لوں تومیں اٹھالیتاہوں۔
آخر میں ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی مولانا زاہد الراشدی نے تما م حا ضرین کا شکریہ ادا کیا اور مولانا یوسف خان نے اختتامی دعا کروائی۔