مئی ۲۰۱۶ء

اسلامی ریاست اور سیکولرزم کی بحثمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۸)ڈاکٹر محی الدین غازی 
کتاب ’’الحجۃ علیٰ اہل المدینہ‘‘ کے اصولی مباحثمولانا سمیع اللہ سعدی 
فضلائے مدارس کے معاشی مسائل ۔ حالات، ضروریات اور ممکنہ راستےمولانا مفتی محمد زاہد 
سود سے متعلق عدالت عظمیٰ کا فیصلہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اسلامی نظریاتی کونسل اور جہاد سے متعلق عصری سوالاتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
قانون اور حقوق نسواںمحمد دین جوہر 
خواتین کے تحفظ کا بل ۔ اصل مسئلہ اور حلمحمد زاہد صدیق مغل 
ڈاکٹر ممتاز احمد اور ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کا سفر آخرتمولانا سید متین احمد شاہ 
’’فقہائے احناف اور فہم حدیث۔ اصولی مباحث‘‘ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی 
ایک سفر اور مولانا طارق جمیل سے ملاقاتمحمد بلال فاروقی 

اسلامی ریاست اور سیکولرزم کی بحث

محمد عمار خان ناصر

(گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر پاکستان کی نظریاتی اساس کے حوالے سے جاری بحث میں راقم الحروف نے وقتاً فوقتاً جو مختصر تبصرے لکھے، انھیں یہاں ایک ترتیب کے ساتھ یکجا پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

منطقی مغالطوں میں ایک عامۃ الورود مغالطہ کو اصطلاح میں argumentum ad hominem  کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نفس دلیل کی کمزوری پر بات کرنے کے بجائے، دلیل یا موقف پیش کرنے والے کی نیت اور کردار وغیرہ کی خرابی نمایاں کی جائے اور اس سے یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ چونکہ کہنے والا ایسا اور ایسا ہے، اس لیے اس کی بات غلط ہے۔
مذہبی اور سیاسی اختلاف رائے میں اس مغالطے کا استعمال ہمارے ہاں ایک معمول کی بات ہے۔ سنی وہابی، شیعہ سنی، علی گڑھ دیوبندی، حنفی اہل حدیث، دیوبندی مودودی وغیرہ، تمام اختلافات میں مخالف شخصیات پر کیچڑ اچھالنے کی تاب ناک روایت چلی آ رہی ہے۔ تقسیم ہند کے موقع پر قوم پرستوں اور مسلم لیگیوں نے ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر اس طرز استدلال کے نمونے پیش کیے۔ مسلم لیگیوں نے جمعیۃ علماء اور کانگریس کے زعما کی کردار کشی اور تحقیر وتوہین میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور جمعیۃ علماء کے حضرات نے یہی سلوک مسلم لیگی قیادت کے ساتھ کیا۔
پاکستان بن جانے کے بعد یہاں اہل مذہب اور لبرلز کی کشمکش شروع ہو گئی۔ بالکل ابتدائی دور میں ہی جن مذہبی شخصیات (مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا مودودی وغیرہ) نے لبرلز کے مقدمے کے خلاف آئینی جنگ جیتنے میں بنیادی کردار ادا کیا، وہ آج تک لبرلز کی نظر میں ناقابل معافی اور مطعون ہیں اور ان کی شخصیات کو ہدف بنا کر یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ چونکہ قرارداد مقاصد اِن حضرات نے پیش کی تھی، اس لیے وہ غلط تھی۔ اتفاق سے مسلم لیگی قیادت، خاص طور پر حضرت جناح کے متعلق یہی طرز استدلال ان کے قوم پرست مخالفین اختیار کیا کرتے تھے۔ یہ سارا مواد تاریخ میں محفوظ ہے اور اب بعض اہل قلم نے اس ضمن میں ’’جراتِ رندانہ’’ کا اظہار بھی شروع کر دیا ہے، البتہ جناح صاحب کو ریاستی تحفظ حاصل ہے اور ان کے بارے میں اگر کوئی ماضی کے گڑے مردے اکھاڑنے کی جسارت کرے تو قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔ ایسا کوئی تحفظ مولانا شبیر احمد عثمانی وغیرہ کو حاصل نہیں۔ سو ان کے متعلق ’’تاریخی حقائق’’ بے خوف وخطر کریدے جا سکتے ہیں۔

۱۱؍اگست کی تقریر میں قائد اعظم نے دراصل اس ملک کی غیر مسلم اقلیتوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ ان کے مذہبی وسیاسی حقوق پوری طرح محفوظ ہوں گے اور ریاست پاکستان اس ضمن میں کوئی جانب دارانہ رویہ اختیار نہیں کرے گی۔ ۱۵؍اگست کے بیان میں انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ مسلمانوں کے لیے ملکی نظام اور قانون کے دائرے میں راہ نمائی کا سرچشمہ اسلام کی ابدی تعلیمات ہیں جن کا بہترین نمونہ حصرت عمر کے عہد میں ملتا ہے۔ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں اور دونوں اپنی اپنی جگہ بالکل درست ہیں۔ اسلام چونکہ دین ومذہب کے معاملے میں کسی قسم کے جبر کا قائل نہیں، اس لیے وہ مسلمان مملکت میں بسنے والے غیر مسلم گروہوں کو مکمل مذہبی اور معاشرتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ غیر مسلم اپنے مذہب پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہر قسم کی معاشرتی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں اور ملکی فلاح وبہبود میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسلامی شریعت کے مخصوص قوانین ان پر لاگو نہیں ہوتے اور وہ اپنے معاملات اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق انجام دینے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔
یہی حق ملک کی مسلمان اکثریت کو بھی حاصل ہے۔ چنانچہ جب اکثریت ملک کے نظام اور قانون کی تشکیل کرے گی تو ملک کی اکثریتی آبادی کے لیے ان کے مذہب کی تعلیمات کے مطابق ہی کرے گی۔ نہ اکثریت کو یہ حق ہے کہ وہ اقلیت پر اپنے مذہبی خیالات کی پابندی مسلط کرے اور نہ اقلیتوں کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اکثریت سے اپنے مذہبی حقوق اور اختیارات سے دست برداری کا مطالبہ کریں۔ قائد اعظم نے یہی دونوں پہلو اپنی مذکورہ تقریروں میں واضح کیے ہیں۔ گیارہ اگست کی تقریر اقلیتوں کے مذہبی وسیاسی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے اور پندرہ اگست کا بیان یہ بتاتا ہے کہ مسلمان اکثریت جب اپنی سیاست ومعاشرت اور معیشت کی تشکیل کرے گی تو اپنے مذہب سے صرف نظر یا اس سے دست بردار ہو کر نہیں کریں گی۔
گیارہ اگست کی تقریر کے بعد فروری ۱۹۴۸ء میں امریکی عوام کے نام جاری کردہ ایک ریڈیو پیغام میں قائد اعظم نے جو کچھ کہا، وہ خود ان کی اپنی زبان سے گیارہ اگست کی تقریر کی مستند تشریح کا درجہ رکھتا ہے۔انھوں نے فرمایا:
’’پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ابھی دستور بنانا ہے۔ مجھے علم نہیں کہ اس کی حتمی شکل وصورت کیا ہوگی۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ پاکستان کا آئین جمہوری قسم کا ہوگا جسے اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جائے گا۔ اسلام کے اصول آج بھی عملی زندگی پر اسی طرح لاگو ہوتے ہیں جس طرح تیرہ سو سال قبل ہوتے تھے۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے اور مساوات اور انصاف کا سبق دیا ہے۔ ہم ان شان دار روایات کے امین اور وارث ہیں اور دستور سازی میں انھی سے راہنمائی حاصل کی جائے گی۔ بہرحال پاکستان ایک تھیو کریٹ (مذہبی) ریاست نہیں ہوگی اور یہاں تمام اقلیتوں، ہندو، عیسائی، پارسی کو بحیثیت شہری وہی حقوق حاصل ہوں گے جو دوسرے شہریوں کو حاصل ہوں گے۔’’ (یہ اقتباس ڈاکٹر صفدر محمود نے ایس ایم برک کی کتاب کے صفحہ ۵۲۱ کے حوالے سے نقل کیا ہے)
اقتباس سے واضح ہے کہ جناح صاحب کے ذہن میں کسی لا مذہبی یعنی سیکولر ریاست کا تصور نہیں، البتہ وہ ’’مذہبی ریاست’’ کے اس تصور کو قطعاً قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جس میں شہریت دراصل کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کی ہوتی ہے، جبکہ مذہبی اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا اور مساوی سیاسی حقوق کا حق دار نہیں سمجھا جاتا۔
ہمارے لبرل دوستوں میں فکر کی جدت اور تازگی کا حال اسی سے واضح ہے کہ سیکولرزم کے مقدمے کے لیے آج بھی ان کے تاریخی استدلال کا واحد قابل ذکر سہارا یہی گیارہ اگست کی تقریر ہے، حالانکہ اب وہ تقریر بھی ہاتھ جوڑتی ہے کہ مجھے خلاصی دے دی جائے۔ چنانچہ ممتاز دانش ور ڈاکٹر مبارک علی نے ایک مطبوعہ انٹرویو میں اس استدلال کی کمزوری تسلیم کی اور کہا کہ ہمیں سیکولر ریاست کے آپشن پر خود اس تصور ریاست کی افادیت نیز اپنے سابقہ تجربات کے حوالے سے غور کرنا چاہیے۔ لبرل دوست اگر ان کی روشنی میں کچھ نئے استدلالات مرتب کرنے پر توجہ مبذول فرمائیں تو زیادہ اچھا مکالمہ ہو سکے گا۔ 

’’مولانا شبیر احمد عثمانی، پاکستان بنانے کے لیے تو قائد اعظم کی قائدانہ صلاحیتوں کے قائل تھے، لیکن نئی ریاست کیسی ہونی چاہیے، اس کے متعلق ان کا زاویہ نظر قائد اعظم سے مختلف تھا۔’’
یہ سادہ سا نکتہ ہے جسے مولانا عثمانی کی شخصیت پر جرح کی بنیاد بناتے ہوئے انکشافِ سازش کے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ آخر کس اصول کی رو سے اعتراض بنتا ہے؟ تحریک پاکستان میں شامل مختلف طبقوں کے اپنے اپنے تصورات اور مقاصد تھے۔ تحریک میں شرکت صرف اس نکتے کے حوالے سے تھی کہ مسلمانوں کا ایک الگ ملک ہونا چاہیے۔ اگر اس سے یہ لازم آتا ہے کہ قیام وطن کے بعد کے اہداف میں بھی سب کا اتفاق ہونا چاہیے تو یہی اعتراض پلٹ کر خود قائد اعظم پر بھی وارد ہوتا ہے۔ کیا انھیں نہیں معلوم تھا کہ مذہبی علما ومشائخ کس جذبے اور تصور کے تحت تحریک کا حصہ بنے ہیں؟ پھر بھی انھوں نے مشترک مقصد کے حصول کے لیے انھیں ساتھ رکھا اور ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ آں محترم نے حصول مقصد سے پہلے اپنی پوزیشن غیر واضح رکھی۔ علما کے سامنے ان کی پسند کی باتیں کیں اور دوسری جگہوں پر اپنی پسند کی، لیکن ملک بن جانے کے بعد اپنا اصل تصور گیارہ اگست کی تقریر میں واضح کر دیا۔ اگر جناح صاحب کے طرز سیاست کی یہ تعبیر درست ہے تو یہ ’’بلند اخلاقی‘‘ کم سے کم علما نے تو نہیں دکھائی۔ وہ تو شروع سے آخر تک اپنے موقف میں واضح تھے اور قیام وطن کے بعد بھی وہی بات کہی جو پہلے سے کہتے چلے آ رہے تھے۔
باقی رہی یہ بات کہ جناح صاحب کا تصور ریاست فلاں اور فلاں تھا اور شبیر احمد عثمانی کا ان سے مختلف تھا تو یہ کوئی جرم کی بات نہیں۔ بانی پاکستان کو نبوت کے منصب پر آخر کس نے فائز کیا ہے؟ کیا ملک کی نظریاتی اساس متعین کرنا آئینی ودستوری یا اخلاقی طور پر جناح صاحب کا بلا شرکت غیرے حق تھا؟ اگر یہ بات ہے تو اس کے لیے دستور ساز اسمبلی بنانے کا تکلف ہی کیوں کیا گیا؟ اور اگر یہ سوال دستور ساز اسمبلی نے طے کرنا تھا تو وہ آخر کس اصول کی رو سے جناح صاحب کے تصور ریاست کی پابند تھی؟ خود جناح صاحب کا بیان تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ نئے ملک کی دستوری حیثیت متعین کرنا میرا نہیں، بلکہ دستور ساز اسمبلی کا کام ہے۔ یہی بات اصولی اور آئینی طور پر درست ہے۔ جناح صاحب کا تصور ریاست کیا تھا، یہ بحث محض تاریخی اور نظری اہمیت رکھتی ہے۔ کسی اصول یا ضابطے کی رو سے ان کا رجحان، آئینی اداروں کو پابند نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اسی کو اختیار کریں۔
قائد اعظم نے گیارہ اگست کو دستور ساز اسمبلی کے سامنے اپنی تقریر میں جو کچھ کہا، اگر اس کی وہی تعبیر درست مانی جائے جو لبرل دوست کرتے ہیں تو بھی سوال یہ ہے کہ اس کی حیثیت راہ نما مشورے یا تجویز کی تھی یا دستور ساز اسمبلی کو ڈکٹیشن کی؟ اگر آن جناب ڈکٹیشن دے رہے تھے تو اپنے دائرۂ اختیار سے صریحاً تجاوز فرما رہے تھے جو انھیں زیب نہیں دیتا تھا۔ اور اگر ان کے ارشادات کی حیثیت راہ نما مشورے کی تھی تو بہت اچھا، انھوں نے دیانت داری سے جو مشورہ بہتر سمجھا، دے دیا، لیکن دستور ساز ادارے نے بصد احترام اسے قبول نہیں کیا۔ فرض کیجیے، قائد اعظم تھیو کریٹک ریاست کے قائل ہوتے تو کیا لبرل دوست آنکھیں بند کر کے ’’آمنا وصدقنا’’ کہہ دیتے کہ جب بانی پاکستان یہی چاہتے تھے تو ہماری اختلاف کی کیا مجال؟ اگر نہیں تو آخر ایمان مفصل کی یہ شق صرف اسلام پسندوں کے لیے کیوں ہے؟
اس بحث میں ہمارے دوستوں کا سہارا اسی طرح کے منطقی مغالطے ہیں۔ ان کا اصل دکھ یہ ہے کہ دستور ساز اسمبلی کیوں علما کے موقف کی قائل ہو گئی اور جناح صاحب کا (مفروضہ) تصور کیوں قبول نہیں کیا گیا، لیکن اس کا غصہ اس طرح نکالا جا رہا ہے کہ اس آئینی فیصلے میں موثر کردار ادا کرنے والوں کی شخصیت کو مجروح کیا جائے اور اسے ایک ’’غیر اخلاقی سازش’’ دکھانے کے لیے ادھر ادھر سے تنکے جوڑ کر داستانیں رقم کی جائیں۔

اسلام پسند لکھاریوں کی ذمہ داری، ماضی کے برعکس، اب دوہری ہو گئی ہے۔ انھیں سیکولرسٹ بیانیے کا بھی جوابی بیانیہ پیش کرنا ہے اور خود اپنے بیانیے کی بھی نئی تشکیل کرنی ہے۔ جیسے سیکولرسٹ اسی پرانے بیانیے کو نئی بوتل میں پیش کر کے نئی نسل کو زیادہ متاثر نہیں کر سکتے، اسی طرح مذہبی بیانیہ بھی اپنے مقدمات اور استدلال کو re۔shape کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ 
سابقہ بیانیے سے تاریخی طور پر کلی انقطاع ظاہر ہے ممکن نہیں، لیکن بحث کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کے ایک مرحلے کے ساتھ مقید بھی نہیں رکھا جا سکتا۔ تحریک پاکستان کے مختلف کرداروں کا تصور اور عملی کردار کیا تھا، اس سوال کو بتدریج بحث کے ’’تاریخی’’ گوشے تک محدود کر دینا ضروری ہے۔ آج کی نسل کو، سوالات پر ان کے اپنے میرٹ پر بحث کرنے کی جرات کرنی ہوگی۔ دونوں طرف کے نوجوان ذہنوں کو بات اس سے آگے بڑھانی چاہیے جہاں تک ان کے بڑوں نے پہنچائی ہے۔ مثال کے طور پر جدید مسلم ریاست کو کلاسیکی دار الاسلام کے ہم معنی سمجھنا خلط مبحث بھی ہے اور نئی نسل کے ذہنوں میں پائے جانے والے تمام تر فکری ابہامات کی جڑ بھی۔ ڈاکٹر حمید اللہ سے لے کر ڈاکٹر محمود غازی اور مولانا تقی عثمانی تک، سبھی مسلم مفکرین اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں، لیکن بطور ایک اساسی مقدمے کے، اسے بیان کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ چنانچہ اصطلاحات اور تصورات کی تطبیق کی ساری کوششیں فکری وضوح پیدا کرنے کے بجائے فکری ابہامات میں ہی اضافہ کرنے کا موجب بن رہی ہیں۔ دو الگ الگ تصورات ریاست کو تلفیق کے طریقے پر گڈ مڈ کر کے نقشہ بنایا جا رہا ہے جو کسی بھی تصور ریاست میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ عسکری رجحان رکھنے والے عناصر کی فکری بے اطمینانی کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے۔

ہمارے ہاں بحث ومباحثہ کی ساری گرمی اور باہمی تبادلہ الزامات صرف اس وجہ سے ہے کہ ہر سیاسی مکتب فکر خود کو ملک وملت کا بلا شرکت غیرے ٹھیکے دار سمجھتا اور دوسروں کے نقطہ نظر کو محض ’’دخل در معقولات’’ کی نظر سے دیکھتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی موجودہ نظریاتی اساس کی تشکیل کسی ایک فکر کی روشنی میں نہیں ہوئی اور نہ قوم نے اب تک کا فکری سفر کسی ایک راہ نما کے دکھائے ہوئے راستے پر اندھا دھند چل کر طے کیا ہے۔ ہمارا اجتماعی فکری سفر متنوع اصحاب فکر کے افکار کا مرہون منت ہے اور ہمارے اجتماعی شعور نے اس معاملے میں کوئی تعصب نہیں برتا۔ اس نے پوری دیانت داری نیز دانش مندی سے مختلف فکری دھاروں سے وہ اجزا وعناصر چھانٹ لیے ہیں جو اسے مفید محسوس ہوئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم بحیثیت قوم اس نظریے کو عملی شکل دینے کے قابل نہیں ہو سکے یا اپنی نسلوں کو اس کی دانش ورانہ تفہیم میں تقصیر کے مرتکب ہوئے ہیں یا کم حوصلہ دانش اس اخذ واستفادہ کے اعتراف میں مسلسل بخل سے کام لے رہی ہے۔ یہ فکری عناصر حسب ذیل ہیں:
  • علامہ محمد اقبال کا، مسلمانوں کی تہذیبی شناخت کے حامل ایک الگ خطہ زمین کا تصور
  • مولانا حسین احمد مدنی کی یہ اجتہادی فکر کہ موجودہ دور میں قومیت کی بنیاد ’’وطن’’ پر ہے
  • قائد اعظم کا، ایک فلاحی جمہوری ریاست کا تصور جس میں اقلیتوں کو یکساں شہری وسیاسی حقوق حاصل ہوں اور تھیا کریسی کی کسی صورت کو گوارا نہ کیا جائے
  • جدید ریاست اور مذہب کے باہمی تعلق کے عملی وآئینی میکنزم کے ضمن میں نامور مذہبی اسکالرز (مولانا مودودی، علامہ اسد، مولانا شبیر احمد عثمانی اور دیگر بہت سے علماء) کی اجتہادی کاوشیں
اجتماعی شعور نہ پہلے کسی ایک فکری دھارے کا غلام بنا ہے اور نہ آئندہ اسے بنایا جا سکے گا۔ ہر ہر نقطہ خیال کے اصحاب فکر کو پورا حق ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کو ان کے دلائل کے ساتھ سامنے لاتے رہیں۔ اجتماعی شعور ان سب سے استفادہ کرے گا اور ان شاء اللہ پورے توازن کے ساتھ جس بات کا جتنا وزن محسوس کرے گا، اسے قبول کرتا رہے گا۔ اگر سب اصحاب فکر اس بنیادی نکتے کا ادراک کر لیں تو معاشرہ وریاست کو اپنی محدود سوچ کے مطابق تشکیل دینے کی حد سے بڑھی ہوئی خواہش خود بخود اعتدال پر آ جائے گی۔ (عمار ناصر)

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۸)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۸۵) سقی اور اسقاء کے درمیان فرق

سقی یسقي ثلاثی مجرد فعل ہے، جس کا مصدر سقي ہے، اور أسقی یسقي ثلاثی مزید فعل ہے جس کا مصدر اِسْقَاء ہے، قرآن مجید میں دونوں کا استعمال متعدد مرتبہ ہوا ہے، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے دونوں کے درمیان یہ فرق بتایا ہے کہ سقی میں محنت شامل نہیں ہوتی ہے، اور اِسْقَاء میں محنت شامل ہوتی ہے، بعض لوگوں نے بتایا کہ سقی منہ سے پانی پلانے کے لیے اور اسقاء کھیتیاں وغیرہ سیراب کرنے کے لیے ہوتا ہے۔راغب اصفہانی نے قرآن مجید کے استعمالات کی روشنی میں دونوں کے درمیان بہت بلیغ فرق بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں:

السَّقيُ والسّْقاءُ: أن یعطیہ ما یشرب، والاِسْقَاءُ:أن یجعل لہ ذلک حتی یتناولہ کیف شاء، فالاسقاءُ أبلغ من السّقي، لأن الاسقاء ھوأن تجعل لہ ما یسقي منہ ویشرب۔ (المفردات فی غریب القرآن، ص: ۴۱۵)

مطلب یہ کہ سقي کے معنی مشروب کو پیش کرنے کے ہیں، جسے اردو میں پلانا کہتے ہیں، اور اسقاء کے معنی مشروب فراہم کرنا اور اس کا انتظام کرنا ہے، جس کو اردو میں پلانا نہیں کہتے ہیں، پانی فراہم کرنا اور پینے کا انتظام کرنا کہتے ہیں۔ اگر کسی نے نہر جاری کردی، یا پانی کی سبیل لگادی تو وہ پانی پلانا نہیں کہا جائے گا، ہاں کوئی اسی پانی کو گلاس میں بھر کر کسی کو پیش کرے تو وہ پانی پلانا ہوا۔
چونکہ قرآن مجید میں کہیں سقي آیا ہے اور کہیں اسقاء آیا ہے، اس لیے ہمیں ترجمہ کرتے ہوئے بھی اس کا خیال کرنا چاہیے کہ دونوں کے درمیان فرق کا حق ادا ہوسکے۔
ذیل کی آیتوں میں سقي آیا ہے، اور ترجمہ پانی پلانے کا ہے، انسانوں کو پانی پلانا، جانوروں کو پانی پلانا اور کھیتیوں کو سیراب کرنا : 

وَلَمَّا وَرَدَ مَاء مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْْہِ أُمَّۃً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِہِمُ امْرَأتَیْْنِ تَذُودَانِ قَالَ مَا خَطْبُکُمَا قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتَّی یُصْدِرَ الرِّعَاء وَأَبُونَا شَیْْخٌ کَبِیْرٌ۔ فَسَقَی لَہُمَا۔ (القصص:۲۳، ۲۴)

’’اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچا تو اس نے اس پر لوگوں کی ایک بھیڑ دیکھی جو (اپنے جانوروں کو) پانی پلارہے تھے اور ان سے دور دو عورتوں کو دیکھا جو اپنی بکریوں کو روکے کھڑی ہیں، اس نے ان سے پوچھا، تمھارا کیا ماجرا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے جب تک چرواہے اپنی بکریاں ہٹا نہ لیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں تو اس نے ان ددونوں کی خاطر پانی پلایا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
اس ترجمہ میں جہاں جہاں بکریوں کا ذکر ہے وہاں مویشی یا ریوڑہونا چاہیے تھا)۔

قَالَتْ إِنَّ أَبِیْ یَدْعُوکَ لِیَجْزِیَکَ أَجْرَ مَا سَقَیْْتَ لَنَا۔ (القصص: ۲۵)

’’کہا کہ میرے باپ آپ کو بلاتے ہیں کہ آپ نے ہماری خاطر جو پانی پلایا، اس کا آپ کو صلہ دیں‘‘

وَسَقَاہُمْ رَبُّہُمْ شَرَاباً طَہُوراً۔ (الانسان: ۲۱)

’’اوران کا رب ان کو پاکیزہ مشروب پلائے گا‘‘ (امین احسن اصلاحی)

وَلاَ تَسْقِیْ الْحَرْثَ۔ (البقرۃ: ۷۱)

’’اور کھیتوں کو سیراب کرنے والی نہ ہو‘‘ (امین احسن اصلاحی)

أَمَّا أَحَدُکُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّہُ خَمْراً۔ (یوسف: ۴۱)

’’تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا‘‘ (امین احسن اصلاحی)

وَالَّذِیْ ہُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِ۔ (الشعراء :۷۹)

’’اور جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

وَسُقُوا مَاء حَمِیْماً ۔ (محمد:۱۵)

’’اور جن کو اس میں گرم پانی پلایا جائے گا‘‘ (امین احسن اصلاحی)
جبکہ مذکورہ ذیل آیتوں میں فعل اسقاء کا استعمال ہوا ہے، اور تمام مقامات وہی ہیں، جہاں کچھ پلانے کی بات نہیں ہے، بلکہ پینے والی چیزوں کو فراہم اور مہیا کرنے کی بات ہے، اس لیے اسقاء کا لفظ دیکھ کر پلانے کا پرتکلف ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ انتظام کرنا اور فراہم کرناکہنے کی لفظ میں بھی خوب خوب گنجائش ہے، اور وہی موقع ومقام کے لحاظ سے زیادہ موزوں بھی ہے۔

(۱) وَجَعَلْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَیْْنَاکُم مَّاءً ً فُرَاتاً۔ (المرسلات: ۲۷)

’’اور رکھے اس میں بوجھ کو پہاڑ اونچے، اور پلایا ہم نے تم کو پانی میٹھا پیاس بجھاتا ‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’اور ہم نے اس میں اونچے اونچے لنگر ڈالے اور ہم نے تمہیں خوب میٹھا پانی پلایا ‘‘(احمد رضا خان)
’’اور گاڑے اس میں پہاڑ اونچے اونچے، اور تمہارے پینے کے لئے خوشگوار پانی فراہم کیا‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)

(۲) فَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَسْقَیْْنَاکُمُوہُ۔ (الحجر: ۲۲)

’’پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں، اور اس پانی سے تمہیں سیراب کرتے ہیں‘‘(سید مودودی) 
’’پھر اتارا ہم نے آسمان سے پانی، پھر تم کو وہ پلایا‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’پھر ہم ہی آسمان سے پانی برساتے ہیں، پھر وہ پانی تم کو پینے کو دیتے ہیں‘‘ (اشرف علی تھانوی)
’’تو ہم نے آسمان سے پانی اتارا، پھر وہ تمہیں پینے کو دیا‘‘(احمد رضاخان)
’’پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں تو تمہارے پینے کے لئے اسے مہیا کرتے ہیں‘‘(امانت اللہ اصلاحی)

(۳) وَإِنَّ لَکُمْ فِیْ الأَنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُّسْقِیْکُم مِّمَّا فِیْ بُطُونِہِ مِن بَیْْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَناً خَالِصاً سَآئِغاً لِلشَّارِبِیْن۔ (النحل: ۶۶)

’’اور بے شک تمہارے لیے چوپایوں میں بھی بڑا سبق ہے۔ ہم ان کے پیٹوں کے اندر کے گوبر اور خون کے درمیان سے تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں، پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں ایک اور غلطی ہے، وہ یہ کہ گوبر اور خون کے درمیان سے دودھ پلانے کا ترجمہ کیا ہے، جبکہ دودہ اس چیز سے فراہم کرنے کی بات ہے جو پیٹ کے اندر ہے، اور جس سے کہ گوبر اور خون بھی بنتا ہے، مگر گوبر اور خون کے اثر سے دودھ محفوظ رہتا ہے)
’’ان کے پیٹ میں جو گوبر اور خون (کا مادہ) ہے اس کے درمیان میں سے صاف اور گلے میں آسانی سے اترنے والا دودھ (بناکر) ہم تم کو پینے کو دیتے ہیں‘‘۔(اشرف علی تھانوی، اوپر مذکور غلطی یہاں بھی موجود ہے)
’’ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لیے ‘‘(احمد رضا خان، یہاں وہ غلطی نہیں ہے جس کی طرف اوپر کے ترجمے میں اشارہ کیا گیا۔)
’’ہم ان کے پیٹوں میں جو ہے اس سے گوبر اور خون کے درمیان سے تمہارے پینے کے لیے خالص دودھ فراہم کرتے ہیں، پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۴) وَإِنَّ لَکُمْ فِیْ الْأَنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُّسقِیْکُم مِّمَّا فِیْ بُطُونِہَا۔ (المؤمنون: ۲۱)

’’اور بیشک تمہارے لیے چوپاؤں میں سمجھنے کا مقام ہے ہم تمہیں پلاتے ہیں، اس میں سے جو ان کے پیٹ میں ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اور تمہارے لیے چوپایوں میں بھی بڑا درس آموزی کا سامان ہے، ہم ان چیزوں کے اندر سے جو ان کے پیٹوں میں ہیں، تمہیں (خوش ذائقہ دودھ) پلاتے ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’ہم تم کو ان کے جوف میں کی چیز(یعنی دودھ) پینے کو دیتے ہیں‘‘ (اشرف علی تھانوی)
’’ہم ان چیزوں کے اندر سے، جو ان کے پیٹ میں ہیں، تمہیں پینے کے لیے (خوش ذائقہ دودھ ) فراہم کرتے ہیں۔‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)

(۵) وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَہُوراً۔ لِنُحْیِیَ بِہِ بَلْدَۃً مَّیْْتاً وَنُسْقِیَہُ مِمَّا خَلَقْنَا أَنْعَاماً وَأَنَاسِیَّ کَثِیْراً۔ (الفرقان: ۴۸،۴۹)

’’اور ہم آسمان سے پاکیزہ پانی اتارتے ہیں کہ اس سے مردہ زمین کو ازسر نو زندہ کردیں، اور اس کو پلائیں اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانوں کو‘‘ (امین احسن اصلاحی، طہور کا ترجمہ پاکیزہ کے بجائے پاکیزگی بخشنے والا ہونا چاہئے، نسقیہ کا درست ترجمہ ہوگا: اور اسے پینے کے لیے فراہم کریں)

(۸۶)  اَلْبَلَدِ الْأمِیْنِ کا ترجمہ

قرآن مجید میں البلد الامین صرف ایک مقام پر آیا ہے، اور اس کا عام طور سے لوگوں نے ایک ہی ترجمہ کیا ہے، یعنی امن والا شہر۔

وَہَذَا الْبَلَدِ الْأمِیْنِ ۔ (التین:۳)

’’اور اس شہر امن والے کی‘‘ (شاہ رفیع الدین، شاہ عبدالقادر)
’’اور اس امن والے شہر کی‘‘ (اشرف علی تھانوی)
’’اور یہ پرامن سرزمین‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’اور اس پرامن شہر (مکہ) کی‘‘ (سید مودودی)
’’اور اس امان والے شہر کی‘‘ (احمد رضا خان)
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں لفظ امین متعدد مقامات پر آیا ہے، کچھ مثالیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں،

إِنِّیْ لَکُمْ رَسُولٌ أَمِیْنٌ۔ (الشعراء : ۱۰۷)

بعینہ یہی جملہ قرآن مجید میں چھ مقامات پر آیا ہے۔

نَزَلَ بِہِ الرُّوحُ الْأَمِیْنُ۔ (الشعراء : ۱۹۳)

إِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ أَمِیْنٍ۔ (الدخان:۵۱)

تمام ہی جگہوں پر امین امانت دار اور امانت کے پاسدار کے معنی میں آیا ہے، البتہ مذکورہ آخری آیت میں مقام امین کا ترجمہ امان کی جگہ یا حالت کیا گیا ہے، یہاں بھی یہ واضح رہے کہ مقام امین کے معنی اس جگہ کے نہیں ہیں جو خود پر امن یا محفوظ ہو، بلکہ اس جگہ کے ہیں جو دوسروں کی حفاظت کرے یعنی جو وہاں پہونچ جائے وہ محفوظ ہو ۔ آمن وہ ہے جو خود محفوظ ہو ،اور امین وہ ہے جو دوسروں کی حفاظت کرے۔ دوسری طرف قرآن مجید میں شہر مکہ اور حرم مکہ کے لیے پرامن شہر ہونے کی صفت کئی جگہ بیان کی گئی، اور ہر جگہ اس کے لیے آمن کا لفظ استعمال کیا گیا، کہیں امین کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا، ذیل میں ذکر کی گئی مثالیں ملاحظہ ہوں:

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہََذَا بَلَداً آمِناً۔ (البقرۃ: ۱۲۶)

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہَذَا الْبَلَدَ آمِناً۔ (ابراہیم: ۳۵)

أَوَلَمْ نُمَکِّن لَّہُمْ حَرَماً آمِناً۔ (القصص: ۵۷)

أَوَلَمْ یَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَماً آمِناً۔ (العنکبوت: ۶۷)

ان دونوں پہلووں کو سامنے رکھیں تو مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ البلد الامین کا ترجمہ کرتے ہوئے امن کے بجائے امانت کا مفہوم لیا جائے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی ترجمہ کرتے ہیں، ’’اور اس شہر کی قسم جس کو امین بنایا گیا، یعنی جس میں امانت رکھی گئی‘‘۔ امانت سے مراد یہ ہے کہ یہاں خانہ کعبہ ہے، اور آخری رسول کی بعثت کا مقام اس کو بنایا گیا ہے، اور اس آخری رسول سے متعلق بہت ساری نشانیاں یہاں موجود اورمحفوظ ہیں۔ البلد الامین کا یہ ترجمہ سیاق کلام کے لحاظ سے بھی معنی خیز ہے۔
(جاری)

کتاب ’’الحجۃ علیٰ اہل المدینہ‘‘ کے اصولی مباحث

مولانا سمیع اللہ سعدی

مکاتب فقہیہ میں سے اولین مکتب کا شرف پانے والا مکتب حنفی متنوع خصوصیات و امتیازات کے باوجود اصول فقہ کے میدان میں ایک خلا کا حامل ہے کہ اس عظیم فقہ کے اصول اس کے بانی ائمہ امام ابوحنیفہ ،امام ابویوسف اور امام محمد سے براہ راست منقول نہیں ہیں۔ اس پر مستزاد یہ ،ائمہ ثلاثہ سے فیض یاب ہونے والے اولین فقہائے حنفیہ جیسے امام عیسیٰ بن ابان(المتوفی ۲۲۰ھ)، امام محمد بن سماعہ (المتوفی ۲۳۳ھ) اور صدر اول کے دیگر فقہائے احناف کی اصول فقہ کی کوئی کتاب محفوظ نہیں رہ سکی ،اگرچہ ان کے تراجم اور فہارس الکتب میں ان حضرات کی اصولی کتب کا تذکرہ ملتا ہے ۔ اس مکتب کی محفوظ شدہ اصولی کتب میں اولین کتب، چوتھی صدی ہجری کے علمائے حنفیہ ،ابو الحسن الکرخی (۳۴۰ھ)اور امام جصاص الرازی (۳۷۰ھ)کی کتب ہیں، اگرچہ ان حضرات کے بعد عصر حاضر تک فقہ حنفی کے اصولی ذخیرے میں اضافہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔
فقہائے حنفیہ نے امام ابوحنیفہ و صاحبین سے منقول فروعات کو سامنے رکھ کر ان حضرات کے پیش نظر اصول و قواعد کا استخراج کیا۔ اس طرز کے فوائد اور اس کی اہمیت اگرچہ اصول فقہ میں مسلم ہے اور فقہائے حنفیہ کے اس اسلوب نے اصول فقہ کو نئی جہات اور نئے فنون سے مالا مال کیا۔ لیکن اس کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ فروعات سے اصول کی تخریج اور خود مکتب حنفی کے بانیوں کی اصولی تصریحات اور اصولی مباحث میں قطعیت، اہمیت، تعبیر اور طرزو اسلوب کے اعتبار سے بہت فرق ہے۔ کسی کے کلام سے مستنبط کردہ اور متکلم کی صراحت میں فرق ایک بدیہی بات ہے۔
عصر حاضر میں فقہ اسلامی پر جن نئی جہات سے کام کی صدائیں بلند ہورہی ہیں، ان میں خاص طور پر فقہ حنفی کے حوالے سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ فقہ حنفی کی امہات الکتب، کتب ظاہر الروایہ اور امام محمد کی دیگر کتب کے ساتھ امام ابویوسف کی کتب میں بکھرے اصولی مباحث کو اکٹھا کیا جائے ،تاکہ فقہ حنفی کے بانیوں کا نظریہ استنباط و اجتہاد خود ان کی تصریحات کی روشنی میں سامنے آئے، چنانچہ اسی ضرورت کے پیش نظر ۲۰۲۲ میں دار ابن حزم سے امام محمد کی کتاب الاصل جدید تحقیق کے ساتھ چھپی تو کتاب کے محقق الدکتور محمد بوینو کالن نے اس کے مقدمے میں کتاب الاصل کے اصولی مباحث کا ایک مبسوط جائزہ لیا۔
اس مضمون میں امام محمد کی ایک مہتم بالشان کتاب "الحجۃ علی اہل المدینہ" کے اصولی مباحث کا ایک طائرانہ جائزہ اس مقصد کے پیش نظر لیا جائے گا کہ کوئی محقق اس کی روشنی میں کتاب کے اصولی مباحث کو دقت و بسط کے ساتھ جمع کرے تو یقیناً فقہ حنفی کی ایک تاریخی خدمت ہوگی۔

کتاب الحجۃ کا تعارف 

کتاب الحجۃ کا شمار امام محمد کی نوادر الروایہ کتب میں ہوتا ہے۔ اس کتاب کا پس منظر یہ ہے کہ امام محمد نے حصول علم کی غرض سے مدینہ منورہ کا سفر کیا، اور امام دار الہجرۃ امام مالک رحمہ اللہ سے تقریباً تین سال تک حدیث و فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں امام مالک سے حاصل کردہ روایات کو موطا امام محمد میں جمع کیا اور دوران تعلیم فقہی مناقشوں کو کتاب الحجۃ میں جمع کیا۔اس کتاب میں مصنف کا طرز یہ ہے کہ عنوان باندھنے کے بعد پہلے امام ابوحنیفہ کا مسلک ذکر کرتے ہیں، اس کے بعد وقال اھل المدینۃ کہہ کر امام مالک اور مدینہ کے دیگر فقہاء کی رائے سامنے لاتے ہیں اور اس کے بعد وقال محمد سے اہل مدینہ کے مسلک پر مناقشہ ذکر کرکے امام ابوحنیفہ کے قول کو احادیث و آثار سے مبرہن کرتے ہیں۔ چونکہ کتاب بنیادی طور پر فقہی مناقشوں پر مشتمل ہے، اس لیے امام محمد کی شان اجتہاد، وسعت علم، احادیث و آثار پر نظر اور اپنے مسلک کی نقلی و عقلی تائید ات کا انمول خزانہ ہے۔ اس کتاب کے راوی امام محمد کے معروف شاگرد امام عیسیٰ بن ابان ہیں۔ اب ہم اس کتاب میں ذکر کردہ اصولی مباحث و قواعد اصولیہ بغیر کسی خاص ترتیب کے ذکر کرتے ہیں۔

غیر منصوص مسائل کے بارے میں ضابطہ

اما م محمد نے کئی مقامات پر اس بنیادی اصول کی تصریح کی ہے کہ غیر منصوص مسائل کا حل منصوص مسائل پر قیاس ہے، چنانچہ بیع قبل القبض کے بارے میں فرماتے ہیں :
علی الناس ان یقیسوا ما لم یات فیہ اثر بما جاء من الاثار۔
’’لوگوں کے ذمے ہے کہ غیر منصوص مسائل کو منصوص مسائل پر قیاس کریں۔‘‘
ایک دوسری جگہ سے اس ضابطے کی مزید وضاحت معلوم ہوتی ہے کہ قیاس صرف ان منصوص مسائل پر کیا جائے گا جن کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہو، یعنی علت مشترکہ کی بنیاد پر قیاس ہوگا۔چنانچہ مسح الراس والے مسئلے میں لکھتے ہیں :
انما ینبغی ان یقاس ما لم یات فیہ اثر بما یشبھہ مما جاء فیہ الاثر۔
’’مناسب یہ ہے کہ جن مسائل میں روایات نہیں ہیں، انہیں ان ان کے مشابہ منصوص مسائل پر قیاس کیا جائے۔‘‘

نصوص کی موجودگی میں قیاس مردود ہے

امام محمد نے اس کی بھی کئی مقامات پر تصریح کی ہے کہ نصوص کے ہوتے ہوئے قیاس مردود اور ناقابل قبول ہے۔
قعدہ استراحت کے مسئلے میں فرماتے ہیں:
السنۃ و الآثار فی ھذا معروفۃ مشھورۃ لا یحتاج معھا الی نظر و قیاس۔
’’روایات اس مسئلے میں مشہور و معروف ہیں ،ان کے ہوتے ہوئے قیاس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
اس کے علاوہ درجہ ذیل مقامات پر بھی اسی ضابطے کو بیان کیا ہے۔ 

نصوص قیاس پر مقدم ہیں

امام محمد نے قیاس کے حوالے سے ایک اہم ترین اصول یہ بیان کیا ہے کہ نصوص قیاس پر مقدم ہیں، لہٰذا اگر کسی مسئلے میں حدیث اور روایت کا تعارض ہو تو روایت کو ترجیح ہوگی۔
قہقہہ سے وضو ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کے مسئلے میں ارشاد فرماتے ہیں :
لولا جا ء من الاثار کان القیاس علی ما قال اھل المدینہ و لکن لا قیاس مع اثر، ولیس ینبغی الا ان ینقاد للاثار۔
’’اگر قہقہہ سے وضو ٹوٹنے کے حوالے سے مذکورہ روایات نہ ہوتیں ،تو قیاس تقاضا یہی تھا جو اہل مدینہ کا مسلک ہے، لیکن حدیث کے ہوتے ہوئے قیاس نہیں ہوتا اور نصوص کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہی مناسب ہے۔‘‘
قیاس کے بارے میں ان تین ضابطوں کو اگر باب القیاس کا خلاصہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ نیز ان سے یہ بات بھی ثابت ہورہی ہے کہ ائمہ حنفیہ کی نظر میں نصوص و روایات کا کیا مقام تھا۔ امام محمد کی ان تصریحات کے بعد بھی کوئی حنفیہ پر قیاس کو ترجیح دینے کا الزام لگائے گا تو علمی دنیا میں اس سے بڑی غلط فہمی نہیں ہوگی۔

شریعت کے عمومی قواعد اور نصوص کے خلاف روایت کا حکم 

امام محمد نے جا بجا اس اہم اصو ل کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کوئی روایت اگر شریعت کے عمومی قواعد و ضوابط کے خلاف ہو ،تو وہ روایت نہیں لی جائے گی۔ 
صلاۃ الکسوف میں دو رکوع والی روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
السنۃ المعروفۃ فی غیر الکسوف علی رکعۃ وسجدتین فی کل رکعۃ وکیف صارت صلاۃ الکسوف مخالفۃ لغیرھا من جمیع الصلوات، فانما ذلک شیء یقرب بہ الی اللہ تعالی، فالصلاۃ واحدۃ وفی کل رکعۃ قراء ۃ ورکعۃ واحدۃ وسجدتان، فاما الرکعتان فی رکعۃ فھذا امر لم یکن فی شیء من الصلوات لا فی صلاۃ عید ولا فی جمعۃ ولا فی تطوع ولا فی فریضۃ، فکیف ذالک فی صلاۃ الکسوف؟
’’کسوف کے علاوہ نماز کے بارے میں معروف طریقہ ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے ہیں ،تو نماز کسوف باقی تمام نمازوں کے کیسے مخالف ہوگی؟حالانکہ یہ نماز بھی دیگر نمازوں کی طرح تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہے ،تو نماز ہونے میں سب نمازیں ایک جیسی ہیں، اور باقی نمازوں میں ہر رکعت میں قراء ت،ایک رکوع اور دو سجدے ہیں، لیکن ایک رکعت میں دو رکوع ایسا حکم ہے جو کسی بھی نماز میں ثابت نہیں ہے، خواہ وہ جمعہ کی نماز ہو ،نفل ہو یا فرض،تو یہ حکم کسوف کی نماز میں کیسے ہوسکتا ہے ؟‘‘
اس عبارت میں امام محمد نے نمازوں کے بارے میں شریعت کے عمومی قاعدے (نمازوں میں ایک ہی رکوع ہے) کی وجہ سے کسوف میں دو رکوع والی روایت کو ظاہر پر رکھنے کی بجائے اس کی تاویل کی ہے۔
ایک اور جگہ مختلف احادیث میں ترجیح کا اصول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اذا جاء الحدیثان المختلفان ان ینظر الی اشبھھما بالحق، فیوخذ بہ و یترک ما سوا ذلک۔
’’جب دو مختلف احادیث آجائیں تو حق کے موافق روایت کو لیا جائے گا اور دوسری روایت کو ترک کیا جائے گا۔‘‘
یہی اصطلاح اما م محمد نے ایک اور جگہ بھی استعمال کی ہے ،چنانچہ سواری پر وتر پڑھنے سے متعلق مختلف احادیث روایت کر کے لکھتے ہیں:
فروی ان ابن عمر رضی اللہ عنھما کان ینزل بالارض فیوتر علیھا ویروی ذلک عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاخذنا باوثقھا واشبھھا بالحق وبما جاء ت بہ الآثار من التشدید فی الوتر۔
’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ زمین پر اتر کر وتر پڑھتے تھے ،اور اسی طرح خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ،تو ہم نے ان میں سے قابل اعتماد ،حق کے موافق اور ان روایات کے مطابق روایت لی ،جن میں وتر کے مسئلے میں سختی منقول ہیں۔‘‘
ایک جگہ قصاص کے مسئلے میں مزید وضاحت کے ساتھ فرماتے ہیں:
فلیس ینبغی ان یترک ما یوافق السنۃ و الکتاب۔
’’مناسب نہیں ہے کہ اس روایت کو چھوڑ دیا جائے جو کتاب و سنت کے موافق ہو۔‘‘
ایک اور مقام پر اسے ’’اشبہ بالکتاب و السنۃ‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ 
سجدہ سہو کے مسئلے میں اہل مدینہ کی دلیل حضرت عبد اللہ ابن بحینہ کی حدیث پیش کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
قیل لھم افنقبل ھذا بترک السنۃ والآثار المعروفۃ بقول رجل لا یروی عنہ غیر حدیث واحد؟
’’اہل مدینہ سے کہا جائے گا کہ کیا اس مسئلے میں سنت اور معروف احادیث کو ایک آدمی کی حدیث کی وجہ سے چھوڑا جاسکتا ہے جن سے اس حدیث کے علاوہ کوئی حدیث مروی نہیں ہے۔‘‘
چنانچہ اس کے بعد اپنی تائید میں کافی آثار پیش کیے ہیں۔
صلوۃ الخوف کے مسئلے میں اہل مدینہ کے مسلک پر نقد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وقال محمد بن الحسن وکیف یستقیم ھذا وانما جعل الامام لیؤتم بہ فی ما جاء عن رسول الہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی ما لا اختلاف فیھا فاذا صلت الطائفۃ الاولی الرکعۃ الثانیۃ قبل ان یصلیھا الامام فلم یاتموا بالامام فیھا۔
’’محمد بن حسن کہتے ہیں کہ کہ یہ طریقہ کیسے درست ہوسکتا ہے ،حالانکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے بلا کسی اختلاف کے منقول ہے کہ امام اقتداء کے لیے ہوتا ہے، لہٰذا جب پہلے گروہ نے دوسری رکعت امام کے پڑھنے سے پہلے مکمل کر لی ،تو اس میں امام کی اقتداء انہوں نے نہیں کی۔‘‘
یہاں بھی امام محمد رحمہ اللہ نے امامت کے بارے میں شریعت کے عمومی قاعدے سے استدلال کیا ہے ،کہ شریعت کا متفقہ اصول ہے کہ مقتدی امام کی اقتدا کرتے ہیں ،جبکہ اس صورت میں مقتدی اقتدا کرنے کی بجائے امام کی مخالفت کے مرتکب ہورہے ہیں۔
امام محمد کی مذکورہ کتاب میں جا بجا اس اصول کی اصل ملتی ہے کہ شریعت کے قواعد عامہ اور نصوص متواترہ کے خلاف روایت قبول نہیں ہوگی۔ اسی اصول کو بعد میں امام محمد کے شاگرد رشید امام عیسیٰ بن ابان نے زیادہ تنقیح کے ساتھ اس طرح پیش کیا کہ اگر راوی غیر فقیہ ہو ،توقواعد عامہ کے خلاف ہونے کی صورت میں اس کی روایت قبول نہیں ہوگی ۔ (راوی کی فقاہت کے حوالے سے بھی کتاب الحجۃ میں بحث ہے جسے ان شاء اللہ آگے ذکر کریں گے)۔ امام عیسیٰ بن ابان کے بیان کردہ اصول پر دیگر مسالک اور خود بعض ائمہ حنفیہ کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا اور اسے امام عیسیٰ بن ابان اور چند فقہاء کاتفرد کہا جانے لگا،اور خاص طور پر یہ بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا کہ حنفیہ کے نزدیک قیاس روایت پر مقدم ہے اور اس اصول کو سمجھے بغیر اس کی بنیاد پر حنفیہ کو رائے اور قیاس کی وجہ سے احادیث و آثار چھوڑنے کا بے بنیاد الزام دیا جانے لگا۔ذیل میں ہم اس کی اہمیت کی وجہ سے اس پر کچھ مختصر بحث کرتے ہیں :

تقدیم القیاس علی الخبر کی بحث 

سب سے پہلے اس بات کو ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ قیاس و خبر کے تعارض کی صورت میں ترجیح کا معاملہ روز اول سے فقہاء میں معرکۃ الآراء رہا ہے۔ مجلہ جامعہ اسلامیہ کے ۲۰۱۱ کے شمارے میں ڈاکٹر سعید منصور کا "رفع الالتباس اذا تعارض خبر الواحد القیاس" کے عنوان سے ایک ضخیم مقالہ چھپا ہے ۔ اس میں محقق نے اس مسئلے کے بارے میں فقہاء کے دس مذاہب بیان کے ہیں۔ یہاں ان مذاہب کی تفصیل اور ان میں راجح مذہب سے قطع نظر یہ بتانا مقصود ہے کہ اس مسئلے میں فقہائے کرام میں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے، لہٰذا صرف حنفیہ نے بقیہ ائمہ مجتہدین سے الگ مسلک نہیں اپنایا، بلکہ اس میں ان کے ہم نوا دیگر فقہاء بھی ہیں ،اور خاص طور پر راوی کی فقاہت کی شرط میں بھی بعض ائمہ حنفیہ کے ساتھ بعض مالکیہ بھی ہیں، لہٰذا ایسا مسئلہ جس میں شروع ہی سے متعدد آراء موجود ہوں، ان میں اگر حنفیہ یا بعض حنفیہ نے ایک مسلک اختیار کیا ، جن میں ان کے ساتھ دیگر فقہاء بھی ہیں، تو صرف حنفیہ کو مورد الزام ٹھہرانا پروپیگنڈے یا تعصب کا نتیجہ ہے۔
دوسری بات اس بحث میں یہ اہم ہے کہ جب قیاس پر خبر کی تقدیم کی بحث کی جاتی ہے ،تو اس میں قیاس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ لفظ قیاس کی صحیح مراد متعین نہ ہونے کی بنیاد پر بھی اس مسئلے کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔ قیاس کا ایک عام مفہوم تو قیاس اصطلاحی ہے، یعنی علت مشترکہ کی بنیاد پر منصو ص مسئلے کا حکم غیر منصوص مسئلے پر لگانا۔ اسے قیاس اصولی بھی کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ قیاس کا اطلاق قواعد عامہ اور اصول ثابتہ پر بھی ہوتا ہے۔ کتب فقہ خصوصاً ہدایہ میں جس مسئلے میں "خلاف القیاس" کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس میں عام طور پر قیاس سے مراد اصل، ضابطہ اور قاعدہ عامہ ہوتا ہے۔بطور نمونے کے صرف ایک مثال پر اکتفاء کرنا چاہوں گا :
حائضہ عورت کے ذمے نماز کی قضاء اور روزے کی قضا نہ ہونے کے حوالے سے علامہ عینی رحمہ اللہ ایک اشکال کی صورت میں فرماتے ہیں:
فان قلت وجوب القضاء یبنی علی وجود الاداء فی الاحکام، فکیف تخلف ھذا الحکم ھاھنا؟ قلت الاصل ھذا، ولکنہ ثبت علی خلاف القیاس۔
’’اگر تم کہو کہ قضاء کا وجوب ادا کے وجود پر مبنی ہوتا ہے ،تو یہ حکم اس (روزے )مسئلے میں کیسے نہیں لگا ،تو میں کہوں گا کہ اصول یہی ہے ،لیکن یہاں حکم قیاس (اصول ) کے خلاف ثابت ہے۔ ‘‘
تقدیم القیاس علی خبر الواحد کے مسئلے میں لفظ قیاس سے مراد قیاس اصولی نہیں ،بلکہ قیاس بمعنی ضابطہ ،قاعدہ اور اصول ہے، کیونکہ قیاس اصولی خود امام محمد رحمہ اللہ کی تصریحات کی بنا پر خبر واحد سے موخر ہے۔چنانچہ قہقہہ والے مسئلے میں امام محمد رحمہ اللہ کی تصریح ما قبل میں گزر چکی ہے ، جسے دوربارہ ذکر کرنا فائدے سے خالی نہیں ہوگا :
لولا جا ء من الاثار کان القیاس علی ما قال اھل المدینۃ ولکن لا قیاس مع اثر، ولیس ینبغی الا ان ینقاد للاثار۔
’’اگر قہقہہ سے وضو ٹوٹنے کے حوالے سے مذکورہ روایات نہ ہوتیں ،تو قیاس تقاضا یہی تھا جو اہل مدینہ کا مسلک ہے۔لیکن حدیث کے ہوتے ہوئے قیاس نہیں ہوتا اور نصوص کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہی مناسب ہے۔‘‘
عبارت کا مطلب واضح ہے کہ قہقہہ سے وضو ٹوٹنے کے حوالے سے قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ وضو نہ ٹوٹتا، کیونکہ نصوص کی رو سے وضو خروج نجاست سے ٹوٹتا ہے، اور قہقہہ میں خروج نجاست نہیں ہے تو علت مشترکہ نہ ہونے کی صورت میں قہقہہ کو نواقض وضو والے نصوص پر قیاس نہیں کیا جاسکتا تھا۔ لہٰذا قیاساً تو وضو نہیں ٹوٹتا، لیکن چونکہ قہقہہ کے بارے میں خود نص آگئی کہ ناقض وضو ہے، تو قیاس کی بجائے اس نص کو ترجیح ہوگی۔ لا قیاس مع اثر سے یہی مراد ہے کہ علت مشترکہ کی بنیاد پر منصوص مسائل کا حکم صرف غیر منصوص مسائل پر لگتا ہے ۔ جب خود نص آجائے تو پھر اس مسئلے میں قیاس نہیں چل سکتا۔
لہٰذا خود کتاب الحجۃ کی روشنی میں یہ مسئلہ بخوبی حل ہوگیا کہ حنفیہ نص کے ہوتے ہوئے تو قیاس (اصطلاحی ) نہیں کرتے، اور نہ ہی قیاس کو ترجیح دیتے ہیں، کما فی القہقہہ، البتہ اگر روایت قیاس بمعنی اصول عامہ کے خلاف ہو تو حنفیہ اس صورت میں اس شاذ روایت کی بجائے نصوص متواترہ سے ثابت شدہ قاعدے اور ضابطے کو ترجیح دیتے ہیں ،کما مر۔
کتاب الحجۃ کی روشنی میں یہ معرکۃ الآراء مسئلہ حل ہونے کے بعد اگرچہ اس بارے میں دیگر کتب کے حوالہ جات پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،لیکن تکمیل بحث کے لیے چنددیگر علماء کی تصریحات پیش کرتے ہیں ،تاکہ مسئلہ مکمل طور پر واضح ہوجائے۔
الموافقات میں امام شاطبی، ابن عربی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
اذا جاء خبر الواحد معارضا لقاعدۃ من قواعد الشرع ھل یجوز العمل بہ ام لا؟ فقال ابو حنیفۃ لا یجوز العمل بہ، و قال الشافعی یجوز۔ 
’’جب خبر واحد شریعت کے قواعد میں سے کسی قاعدے کے خلاف آجائے ،تو اس پر عمل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے،جبکہ امام شافعی کے نزدیک اس پر عمل کر سکتے ہیں۔‘‘
امام ابن عبد البر الانتقاء میں فرماتے ہیں:
کثیر من اھل الحدیث استجازوا الطعن علی ابی حنیفۃ لردہ کثیرا من اخبار الآحاد العدول لانہ کان یذھب فی ذلک الی عرضھا علی ما اجتمع علیہ من الاحادیث ومعانی القرآن فما شذا عن ذالک ردہ وسماہ شاذا۔
’’محدثین میں سے بہت سارے حضرات نے امام ابوحنیفہ پر طعن کا جواز یہ تراشا ہے کہ امام صاحب نے عادل راویوں سے مروی اخبار احاد چھوڑدی ہیں۔کیونکہ امام صاحب کا اس سلسلے میں طرز یہ ہے کہ ان اخبار آحاد کو دیگر احادیث اور قرانی مفاہیم سے حاصل شدہ اصولوں پر پیش کرتے ہیں۔ جو خبر واحد ان عمومات کے خلاف ہو، اسے شاذ کانام دے کر رد کرتے ہیں۔‘‘
پانچویں صدی ہجری کے معروف شافعی فقیہ ابو اسحاق شیرازی اپنی کتاب ’’اللمع‘‘ میں لکھتے ہیں:
ویقبل وان خالف القیاس ویقدم علیہ، وقال اصحاب مالک رحمہ اللہ اذا خالف القیاس لم یقبل، وقال اصحاب ابی حنیفۃ رضی اللہ عنہ اذا خالف قیاس الاصول لم یقبل۔
’’خبر واحد قبول کی جائے گی، اگرچہ قیاس کے خلاف ہو اور قیاس پر مقدم ہوگی۔مالکیہ کے نزدیک خلاف قیاس روایت قبول نہیں ہوگی، جبکہ حنفیہ نے کہا ہے کہ جب وہ قیاس اصول (قواعد ) کے خلاف ہوتو قبول نہیں ہوگی۔‘‘
آخر میں اس مسئلے میں پانچویں صدی ہجری کے معروف حنفی فقیہ و اصولی ابو زید الدبوسی کی عبارت پیش کرنا چاہوں گا جو اس مسئلے میں اصولیین حنفیہ کی طرف سے نص کا درجہ رکھتی ہے۔ سب سے پہلے حنفیہ و مالکیہ کے درمیان اختلافی اصول کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
الاصل عند علماء الثلاثۃ ان الخبر المروی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم من طریق الآحاد مقدم علی القیاس الصحیح، و عند مالک رضی اللہ عنہ القیاس الصحیح مقدم علی خبر الآحاد۔
’’ہمارے تینوں علماء کے نزدیک اصول یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بطریق آحاد منقول روایت کو قیاس صحیح پر ترجیح دی جائے گی، جبکہ امام مالک رضی اللہ عنہ کے نزدیک قیاس صحیح، اخبار آحاد کے مقابلے میں قابل ترجیح ہے۔‘‘
آگے جا کر حنفیہ کے کچھ اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
الاصل عند اصحابنا ان خبر الاحاد متی ورد مخالفا لنفس الاصول مثل ما روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ اوجب الوضوء من مس الذکر لم یقبل اصحابنا ھذا الخبر لانہ ورد مخالفا للاصول۔
’’ہمارے اصحاب کے نزدیک اصول یہ ہے کہ جب خبر واحد نفس اصول (قواعد عامہ ) کے مخالف ہو جائے ،جیسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مس ذکر سے وضو کو واجب ٹھہرایا ہے ،تو ہمارے اصحاب نے اس حدیث کو قبول نہیں کیا ہے ،کیونکہ یہ اصول کے مخالف ہے ۔‘‘
اختصار کی خاطر چند عبارات پیش کیں ۔ اس سلسلے میں متاخرین و متقدمین فقہاء کے اقوال دیکھنے کے لیے محترم عبدالمجید الترکمانی کا مایہ ناز مقالہ "دراسات فی اصول الحدیث علی منھج الحنفیۃ" ملاحظہ فرمائیں کہ انہوں نے اس بحث میں حوالہ جات کا خوب استقصاء کیا ہے۔ 

روایات میں تعارض اور امام محمد کا طرز عمل 

امام محمد رحمہ اللہ روایات متعارضہ میں تطبیق و ترجیح دونوں سے کام لیتے ہیں۔ تطبیق کے وقت مخالف روایت میں دلنشین تاویل کر کے اسے ایسے معنی پر محمول کرتے ہیں جس سے تعارض ختم ہوجاتا ہے، جبکہ ترجیح کے سلسلے میں متنوع مرجحات سے کام لیتے ہیں۔

تطبیق کی پہلی صور ت: دو متعارض روایات کو مختلف اوقات پر محمول کرنا 

اذان قبل الفجر کے سلسلے میں حنفیہ و دیگر فقہاء کا اختلاف معروف ہے ۔ائمہ ثلاثہ کا مستدل یہ روایت ہے:
ان بلالا ینادی بلیل فکلو ا و اشربوا حتی ینادی ابن ام مکتوم۔
’’نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رات کو اذان دیتے ہیں، تو تم کھاتے پیتے رہو حتی کہ عبد اللہ بن مکتوم اذان دے دیں۔‘‘
لیکن ایک دوسری روایت اس کے معارض ہے جس میں ذکر ہے کہ حضرت بلال نے ایک دفعہ وقت سے پہلے اذان دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ مدینہ میں جگہ جگہ اعلان کرو کہ میں سو گیا تھا اور سونے کی حالت میں وقت سے پہلے اذان دی ۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا تھا کہ حضرت بلال وقت سے پہلے اذان دیا کریں گے تو پھر وقت سے پہلے اذان دینے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعادہ کا حکم کیوں دیا؟
اس تعارض کا حل امام محمد نے یہ پیش کیا ہے:
الامر الذی رویتم کان فی شھر رمضان، والامر الاخر من کراھۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لاذانہ بلیل کان فی غیر شھر رمضان۔
’’وقت سے پہلے اذان کے سلسلے میں جو روایت تم نے لی ہے اس کا تعلق رمضان سے ہے ،اور دوسری حدیث ،جس میں رات کو اذان دینے پر آپ صلی للہ علیہ وسلم کی ناپسندیدگی مروی ہے ،وہ رمضان کے علاوہ کا واقعہ ہے۔‘‘

تطبیق کی دوسری صورت : نسخ پر محمول کرنا

نماز میں سلام کا جواب دینے یا نہ دینے کے حوالے سے مختلف روایات منقول ہیں ۔یہ مختلف روایات ذکر کرنے کے بعد ان میں تطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
و قال محمد بن الحسن :کانو ا یسلمون فی الصلاۃ حتی نزلت "وقوموا للہ قانتین"۔
’’(امام )محمد کہتے ہیں کہ صحابہ کرام نماز میں سلام کیا کرتے تھے ،یہاں تک کہ پھر قرآن پا ک کی آیت "وقوموا للہ قانتین" نازل ہوئی۔(یعنی اس آیت سے سلام منسوخ ہوا )‘‘

تطبیق کی تیسری صورت: خصوصیت پر محمول کرنا

یعنی متعارض روایات میں ایک کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت پر محمول کرنا ۔ مثلاً امام عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھا رہا ہو تو اس کی اقتداء حنفیہ کے نزدیک درست جبکہ مالکیہ کے نزدیک درست نہیں ہے۔ امام محمد فریقین کے دلائل بیان کرنے کے بعدفرماتے ہیں :
قول اھل المدینۃ فی ھذا احب الی من قول ابی حنیفہ۔
’’اس مسئلے میں امام ابوحنیفہ کے قول سے مجھے اہل مدینہ کا مسلک پسند ہے۔‘‘
اس کے بعد اپنے مسلک کی تائید میں فرماتے ہیں:
بلغنا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال :لا یومن الناس بعدی جالسا، و لم یبلغنا ان احدا من ائمۃ الھدی ابی بکر ولا عمر وعثمان ولا علی و لا غیرھم اموا جالسا فاخذنا بھذا لانہ اوثق۔
’’ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ روایت پہنچی ہے کہ کوئی آدمی میرے بعد بیٹھ کر نماز کی امامت نہ کروائے۔ اور ائمہ رشد و ہدایت حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی اور ان کے علاوہ کسی کے متعلق بھی ہمیں خبر نہیں پہنچی کہ انہوں نے بیٹھ کر امامت کروائی ہو ،تو ہم نے اسی کو قول کو لیا کہ یہ زیادہ معتمد ہے۔‘‘
اس کے بعد مرض الوفاۃ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھ کر امامت کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
ولیس الصلاۃ فی فضلھا خلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کالصلاۃ خلف غیرہ۔
’’نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے میں جو فضیلت ہے وہ کسی اور کی اقتداء میں پڑھنے میں نہیں ہے۔‘‘
گویا مرض وفات میں صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں نماز ادا کرنا، جبکہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے ، آپ کی خصوصیت اور آپ کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی فضیلت کی وجہ سے تھا۔
اس سے اس اصول کی طرف بھی اشارہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ امور مختصہ جاننے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ اس فعل کو صحابہ نے لیا ہے یا نہیں ؟اگر اجلہ صحابہ نے اس کو ترک کر دیا ہو تو یہ بھی دلیل ہے کہ وہ فعل خاصہ نبوت تھا۔

تطبیق کی چوتھی صورت: متعارض روایات میں سے کسی ایک کے مفہوم میں تاویل کرنا 

مالکیہ کے نزدیک مقتدی اگر امام کو رکوع میں پائیں ،تو دور سے اقتداء کی نیت باندھ کر وہیں سے رکوع میں جھک جائے، اور بعد میں آہستہ چلتے ہوئے صف میں شامل ہوجائے ،تاکہ رکعت نہ چھوٹے ،تو یہ جائز ہے ، جبکہ احناف کے نزدیک درست نہیں ہے۔ مالکیہ حضرت ابن مسعود کے فعل سے استدلال کرتے ہیں کہ انہوں نے ایسا کیا۔ جبکہ احناف حضرت ابوبکرہ کی اس معروف روایت سے استدلال کرتے ہیں ،جن میں اس طرح کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا ،امام محمد مالکیہ کی دلیل کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
ما اسرعکم الی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ اذا کانت لکم منہ حجۃ،و ما ابطاکم عنہ اذا خالفکم، انا نحن اعلم با مر ابن مسعود ،کیف دب حتی وصل الی الصف ،انہ خرج من دارہ و معہ اصحابہ فکبر و کبروا معہ فصاروا صفا ثم دبوا حتی لحقو ا الصفوف ،و لم یخرج عبد اللہ من دارہ و حدہ و لم یبلغنا انہ دب وحدہ۔
’’حضرت ابن مسعود کی روایت میں اپنی دلیل پا کر کتنی جلدی سے تم اس کی طرف لپکے ،اور جب ان کی روایت تمہارے خلاف ہو ،تو اس سے کتنے دور رہتے ہو ،ہمیں حضرت ابن مسعود کا واقعہ آپ سے زیادہ معلوم ہے ،کہ وہ کس طرح سرکے ،کہ صف تک پہنچے ،(واقعہ یہ ہے )کہ وہ اور ان کے ساتھی گھر سے نکلے ،ان سب نے اکٹھے تکبیر کہی ،تو صف بن گئی ،پھر وہ آہستہ چلے یہاں تک کہ صفوں میں مل گئے ،حضرت ابن مسعود اکیلے گھر سے نہیں نکلے ،اور نہ ہی یہ بات ہمیں پہنچی ہے کہ وہ اکیلے صفوں کی طرف حالت رکوع میں چلے۔‘‘
اس عبارت میں اما م محمد کی مالکیہ پر خوشگوار علمی چوٹ کے ساتھ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ کے فعل میں تاویل کی ،کہ انہوں نے اکیلے ایسا نہیں کیا تھا،بلکہ صف بنا کر ایسا کیا۔

تطبیق کی پانچویں صورت (حمل علی الافراد المختلفۃ)

یعنی دو متعارض روایات کو دو قسم کے افراد پر محمول کر کے تطبیق دینا 
فجر کی نماز میں اسفار اور غلس دونوں قسم کی روایات ہیں ،اما م محمد رحمہ اللہ دونوں قسم کی روایات ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
قد جاء فی ذلک آثار مختلفۃ من التغلیس والاسفار بالفجر، الاسفار بالفجر احب الینا، لان القوم کانو ا یغلسون، فیطیلون القراء ۃ فینصرفون کما ینصرف اصحاب الاسفار و یدرک النائم و غیر ہ الصلاۃ، وقد بلغنا عن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ انہ قرا سورۃ البقرۃ فی صلاۃ الصبح، فانما کانو ا یغلسون لذلک، فاما من خفف وصلی بسورۃ المفصل ونحوھا فانہ ینبغی لہ ان یسفر۔
’’تغلیس و اسفار کے سلسلے میں مختلف روایات آئی ہیں۔ روشنی میں نماز پڑھنا ہمیں زیادہ پسند ہے ،کیونکہ صحابہ اندھیرے میں نماز پڑھتے تھے ،تو قراء ت لمبی کرتے تھے ،اور اسی وقت لوٹتے تھے جس وقت اسفار والے فارغ ہوکر لوٹتے ہیں۔ اس طرح سونے والے اور دیگر حوائج والے بھی نماز کو پالیتے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فجر کی نماز میں سورہ بقرہ پڑھتے تھے ۔تو یہ حضرات اسی طول قراء ت کی وجہ سے اندھیرے میں نماز شروع کیا کرتے تھے۔ البتہ جو مختصر نماز پڑھنا چاہتا ہو،اور مفصلات کی سورتوں سے نماز پڑھنے کا ارادہ ہ ،تو اس کے لیے روشنی میں نماز پڑھنا مناسب ہے۔‘‘
تطبیق کا خلاصہ یہ ہے کہ تغلیس کا حکم ان افراد کے لیے ہے جو طول قراء ت کے خواہاں ہیں ،جبکہ اسفار ان حضرات کے لیے جو نماز میں مختصر قراءت کرتے ہوں۔

متعارض روایات میں ترجیح 

امام محمد رحمہ اللہ متعارض روایات میں ترجیح کا طرز بھی اختیار کرتے ہیں ،اور مختلف وجوہ ترجیح سے کام لیتے ہیں۔

ترجیح بالاحتیاط 

امام محمد رحمہ اللہ بسا اوقات مختلف روایات میں احتیاط کی بنا پر ترجیح دیتے ہیں ،یعنی اس روایت کو لیتے ہیں ،جس میں احتیاط زیادہ ہو۔
مسافت قصر کے بارے میں مختلف روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
قد جاء فی ھذا آثار مختلفۃ فاخذنا فی ذلک بالثقۃ، وجعلنا ہ مسیرۃ ثلاثۃ ایام و لیالیھا، فلان یتم الرجل فیما لا یجب علیہ احب الینا من ان یقصر فیما یجب فیہ التمام۔
’’اس سلسلے میں مختلف روایات آئی ہیں۔ ہم نے زیادہ قابل اعتماد روایت کو لیا ہے ،اور تین دن تین راتوں کو مسافت ٹھہرایا ہے،کیونکہ آدمی مکمل نماز واجب نہ ہونے کی صورت میں مکمل نماز پڑھ لیں ،یہ ہمیں اس سے زیادہ پسند ہے کہ آدمی مکمل نماز پڑھنے کی صورت میں قصر نماز پڑھیں۔‘‘
خلاصہ یہ کہ احتیاط کی بنا پر زیادہ مسافت قصر والی روایت کو لیا ،کیونکہ قصر کی صورت میں پوری نماز پڑھنا تو کسی نہ کسی طرح قابل قبول ہے ،لیکن پوری نماز واجب ہونے کی صورت میں قصر پڑھنا کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہے۔اس لیے جب مسافت قصر کے بارے میں کم اور زیادہ مدت کی روایتیں جمع ہوئیں ،تو احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ زیادہ مدت والی روایت کو لیا جائے۔

ترجیح بصحۃ المتن 

اما م محمد رحمہ اللہ متعارض روایات میں بسا اوقات اس روایت کو ترجیح دیتے ہیں ،جس کا متن سب سے زیادہ محفوظ اور صحیح ہو۔چنانچہ تشہد میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ کے تشہد کو ترجیح دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
ولیس فی التشھد شیء اوثق من حدیث عبد اللہ بن مسعود لانہ رواہ عن النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم وکان یکرہ ان یزید فیہ حرفا (او ینقص منہ حرفا) وکان یعلمھم التشھد کما یعلمھم السورۃ من القرآن۔
’’تشہد میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول تشہد سے زیادہ معتمد حدیث نہیں ہے ،کیونکہ وہ اسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت کرتے ہیں کہ اس میں ایک حرف کی کمی بیشی بھی ناپسند کرتے تھے، اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو قرآن مجید کی طرح اہتمام کے ساتھ تشہد سکھلایا کرتے تھے۔‘‘

ترجیح بفقہ الراوی 

متعارض روایات میں بسا اوقات صحابی کی فقاہت اور ا س کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے بھی ترجیح دیتے ہیں، چنانچہ افلاس کے مسئلے میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کی مختلف روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
وعلی اوثق فی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ابی ھریر ۃ واعلم۔
’’حضرت علی حدیث میں حضرت ابو ہریرہ سے (فہم کے اعتبار سے )زیادہ با اعتماد اور اور حدیث کا زیادہ علم رکھنے والے ہیں۔‘‘
چونکہ یہ بات مسلم ہے کہ احادیث حضرت ابو ہریرہ کی زیادہ ہیں ،اس لیے یہاں حدیث میں اعلم ہونے کا مطلب کثرت حدیث نہیں ،بلکہ حدیث کی سمجھ اور حدیث میں تفقہ مراد ہے۔کما لا یخفی 
اسی طرح رفع یدین کے مسئلے میں بھی حضرت علی و حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایات کو حضرت ابن عمر کی روایت پر ان کی "اعلمیت"کی بنا پر ترجیح دیتے ہیں۔ 

ترجیح بالقرائن و الشواہد 

امام محمد رحمہ اللہ بسا اوقات مختلف روایات میں اس روایت کو ترجیح دیتے ہیں جس کی تائید دوسری روایات یا متنوع قرائن سے ہو رہی ہو، چنانچہ وتر زمین پر پڑھنے یا سوار ی پر پڑھنے کے حوالے سے مختلف روایات ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
فاخذنا باوثقھا واشبھھا با لحق وبما جاء ت بہ الآثار من التشدید فی الوتر۔
’’ہم نے ان روایات میں متعمد روایت کو لیا ،اور اس روایت کو جوحق کے موافق ہے (یہ قرائن کی طرف اشارہ ہے )اور وتر کے سلسلے میں تشدید والی دیگر روایات کے مطابق ہے۔‘‘

شاذ کے مقابلے میں معروف روایات کو ترجیح

متعارض روایات میں اگر کوئی روایت دیگر معروف روایا ت کے خلاف ہو ،تو اما م محمد رحمہ اللہ اس کو بھی رد کرتے ہیں۔ سجدہ سہو قبل السلام یا بعد السلام کے سلسلے میں حضرت عبد اللہ بن بحینہ کی حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
قیل لھم:ا فنقبل ھذا بترک السنۃ والاثار المعروفۃ بقول رجل لا یروی عنہ غیر حدیث واحد۔ 
’’اہل مدینہ سے کہا جائے گا کہ کیا ہم اس روایت کو قبول کر کے سنت اور دیگر معروف روایات ایک ایسے آدمی کی روایت کی بنا پر چھوڑ دیں جس سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی روایت منقول نہیں ہے۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن بحینہ کی واقعی کتب حدیث میں یہی ایک روایت ہے ، اس کی صحت و عدم صحت سے قطع نظر اس سے اما م محمد رحمہ اللہ سے ترجیح کا ایک اہم اصول ثابت ہوتا ہے۔
اسی طرح مس ذکر کے مسئلے میں بھی حضرت بسرہ کی روایت کو یہ کہہ کر رد کرتے ہیں کہ یہ روایت دیگر اجلہ صحابہ کی معروف روایات کے خلاف ہیں۔ 

صحابی کے قول کو لینے والے پر نکیر درست نہیں 

اما م محمد نے اس اہم اصول کو بھی جا بجا ذکر کیا ہے کہ صحابہ کے اختلافات کے وقت جس کے قول کو لیا جائے ،وہ درست ہے ،اس سے مخالف فریق پر نکیر درست نہیں ہے۔
میراث الجد کے سلسلے میں مختلف آثار ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
قول العامۃ علی قول زید بن ثابت، وکل ان شاء اللہ حسن جمیل۔ 
’’جمہور نے حضرت زید بن ثابت کا قول لیا ہے ،اور ہر قول ان شاء اللہ اچھا اور خوب ہے۔‘‘
بیع بالبراء ۃ کے مسئلے میں صحابہ کے مختلف اقوا ل ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
قلنا لھم اجل، قد رای ما قلتم و رای عبد اللہ بن عمر ما قلنا، فمن اخذ بقول عبد اللہ بن عمر لم یسیء فھو امام من ائمہ المسلمین۔
’’اہل مدینہ کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے ،حضرت عثمان کی رائے وہی جو تم نے کہا ہے ،اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی رائے وہی ہے جو ہم نے کہا ہے ،تو جس نے حضرت ابن عمر کی رائے کو لیا ،اس نے برا نہیں کیا ،کیونکہ وہ مسلمانوں کے ائمہ میں سے ایک بڑے امام ہیں۔‘‘

فعل کی بہ نسبت قول قوی ہوتا ہے

مقام ابطح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول فرمایا تھا ،اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
و لو کان ھذا من الواجب لقال فیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ قولا ابین من الفعل حتی یعرفہ الناس بالقول دون الفعل۔
’’اگر یہ نزول واجب ہوتا ،تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں کچھ ضرور فرماتے ،درانحالیکہ قول فعل سے زیادہ واضح ہوتا ہے ،تاکہ لوگ فعل کی بجائے قول سے اس حکم کو پہچان لیتے۔‘‘
نیز اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ محض فعل وجوب کے لیے کافی نہیں ہوتا ،جب تک کہ کوئی قرینہ نہ ہو۔ لفظ کا حقیقی معنی اولیٰ ہے۔
امام محمد رحمہ اللہ کے کلام سے اس اصول کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے کہ نصوص میں حقیقی معنی مراد لیا جائے گا۔ چنانچہ نکاح الصغیر کے جواز پر قران پاک کی درجہ ذیل آیت سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
قد اجاز اللہ تعالی فی کتابہ نکاح الیتیمۃ و الیتیم اللذان لم یبلغا،لانہ لا یتم بعد بلوغ ولا یکون ایضا یتیمہ و لھا والد۔
’’اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یتیم و یتیمہ کے نکاح کی اجازت دی ہے ،جو بالغ نہ ہوئے ہوں، کیونکہ بلوغ کے بعد یتم نہیں رہتا ،اور نہ ہی اس کو یتیم کہتے ہیں جس کا والد ہو۔‘‘
یہاں نکاح یتیم والی آیت سے صغیر کے نکاح پر جواز حقیقی معنی کے واسطے سے ہے۔ اس سے آگے امام محمد رحمہ اللہ نے دو صفحات میں اس مسئلے پر دل نشیں بحث کی ہے ،اور آخر میں آیت میں صرف کبیرۃ مراد لینے پر رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
فاما ان تخرجوا الصغیرۃ من الیتم و تجعلوہ الکبیرۃ خآصۃ یتیمۃ فھذا امر لا یکون لکم۔ 
’’البتہ یہ بات کہ صغیرہ کو یتم کے معنی سے نکال کر صرف کبیرہ کو یتیم کے تحت داخل کیا جائے ،یہ تمہارے لیے مناسب نہیں ہے۔‘‘

یقین، شک سے زائل نہیں ہوتا

ربا کے ایک مسئلے میں اصول فقہ کے اس اہم ترین قاعدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
و کیف یبطل الیقین بموضع التھمۃ وقد قال اللہ تعالی ان الظن لا یغنی من الحق شیئا۔
’’اور یقین کیسے شک و تہمت سے زائل ہوسکتا ہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ شک حق (یقین ) کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا۔‘‘

قضاء ادا کے مثل ہے

امام محمد رحمہ اللہ نے ایک جگہ اصول فقہ کے اس مشہور مبحث کی طرف اشارہ کیا ہے کہ قضا ء کیفیت و ادا میں ادا کے مشابہ ہے۔مسافر کی حالت سفر میں قضاء کی گئی نمازوں کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
لانہ انما یقضی مثل الذی کان علیہ۔
’’کیونکہ قضاء اس واجب کے مثل ہوتی ہے ،جو اس کے ذمے ہوتی ہے۔‘‘

مثبت نافی پر مقدم ہے

شفعہ للجار کے مسئلے میں اہل مدینہ کی حدیث "ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یقض لجار شفعۃ" نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
و ما اظن ان یکون بین الناس خلاف ان من شھد بکذا و کذا، قد کان احق ان تقبل شھادتہ من الذی یقول ان کذا وکذا لم یکن۔
’’میرا خیال نہیں ہے کہ لوگوں کے درمیان اس بات میں اختلاف ہو ،کہ جس نے کسی چیز کے ہونے کی گواہی دی ،وہ اس سے زیادہ حقدار ہے جس نے اس کے نہ ہونے کی گواہی دی ہو۔‘‘

خاتمہ 

امام محمد رحمہ اللہ کی مایہ ناز کتاب "الحجۃ علی اہل المدینہ "سے اصولی مباحث کا ایک اجمالی خاکہ ملاحظہ کرنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ فقہ حنفی کی امہات الکتب اصولی مباحث کا انمول خزانہ ہیں۔ان اصولی مباحث سے جہاں ائمہ ثلاثہ کے طرز استنباط و استخراج کی جھلک سامنے آتی ہے ،وہاں اصولیین حنفیہ کے تخریج کردہ اصولوں کی بھی تائید ہوتی ہیکہ بعد میں آنے والے فقہائے حنفیہ نے ائمہ ثلاثہ سے منقول شدہ فروعات کو سامنے رکھ کر جن اصولوں کا استخراج کیا ہے ،ان کی حیثیت ائمہ ثلاثہ کی صراحت کے قریب قریب ہے۔
آخر میں اس بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ یہ کتاب الحجہ کے اصولی مباحث کا مکمل اسقصا نہیں ہے۔ نمونے کے طور پر صرف چند صریح اور اپنے مدعا پر واضح مباحث پیش کیے گئے، ورنہ کتاب میں اصول فقہ و اصول حدیث کے بے بہا موتی مستور ہیں۔

فضلائے مدارس کے معاشی مسائل ۔ حالات، ضروریات اور ممکنہ راستے

مولانا مفتی محمد زاہد

الحمد للّٰہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین و بعد۔
میں اپنی بات کا آغاز قرآن کریم کی ایک آیت مبارکہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو مبارک حدیثوں سے کروں گا۔ سورہ نوح میں آتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت دیتے ہوئے، اللہ کی طرف بلاتے ہوئے ان سے کہا کہ اپنے رب سے مغفرت طلب کرو۔ اس کا فائدہ کیا ہوگا؟ ظاہر ہے کہ مغفرت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ انسان دوزخ سے بچ جائے گا اور جنت میں چلا جائے گا۔ لیکن حضرت نوح علیہ السلام نے اس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا:
اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ اِنَّہُ کَانَ غَفَّارًا o یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا o وَّیُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّیَجْعَلْ لَّکُمْ اَنْھٰرًا o
کہ اگر تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو گے تو دنیا میں تمہیں یہ یہ فوائد حاصل ہوں گے۔ اور یہ بات قرآن مجید میں ایک جگہ نہیں ہے، اور جگہوں پر بھی ہمیں ملتی ہے کہ انبیاء کرامؑ نے اپنے مدعوین کو مخاطب بناتے ہوئے، اپنی قوموں کو مخاطب بناتے ہوئے ان کے سامنے یہ بات بھی رکھی کہ اس چیز کا تمہیں دنیا میں کیا فائدہ ہوگا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا مقصوود ہے۔ دنیا مقصود نہیں ہے، محض ذریعہ ہے۔ اصل مقصود آخرت ہے۔ 
فمن زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز۔
ایک مومن کا مقصودِ اصلی تو یہی ہے، لیکن بہرحال دنیوی مفاد جب انسان کے سامنے آتا ہے تو اس سے کام کی رغبت بھی بڑھ جاتی ہے اور وہ کام کرنا آسان بھی ہو جاتا ہے۔ حضرت نوحؑ کا یہ خطاب تو ان لوگوں کو تھا جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے اور ان کو ایمان کی دعوت دی جا رہی تھی۔ سرور دو عالم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض غزوات کے اندر ایک اعلان فرمایا اور یہ اعلان ان لوگوں کے لیے نہیں تھا جون کی ایمان کی دعوت دی جانی تھی، بلکہ یہ وہ ہستیاں تھیں جو آنحضرتؐ پر ایمان لا چکی تھیں، ان کے ایمان کی گواہی قران مجید دے چکا تھا، اور وہ اپنی جان کی بازی لگانے کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے میدان جہاد میں نبی اکرمؐ کے ساتھ تھے۔ ان کی کارکردگی بہتر ہو جائے، جہاد میں محنت کے لیے ان میں رغبت پیدا ہو جائے اور جس نے جو کام کیا ہے، اس کو اس کا صلہ دنیا کے اندر بھی مل جائے، اس مقصد کے لیے آنحضرتؐ نے یہ اعلان فرمایا کہ من قتل قتیلا فلہ سلبہ جو آدمی کسی کافر کو قتل کرے گا تو اس کا سلب یعنی اس کے جسم سے جو ساز و سامان اتارا گیا ہے، وہ اسی قتل کرنے والے کو ملے گا۔ 
غزوہ حنین میں حضرت ابو قتادہؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک مشرک کو قتل کیا جو بڑا ہٹا کٹا تھا، لیکن اس کا سلب حاصل نہیں کر سکے، وہ سلب کسی اور کے پاس تھا۔ رسول اللہؐ نے جب یہ اعلان فرمایا کہ ثبوت پیش کر کے جو اس کا سلب لینا چاہتا ہے، لے لے۔ جس نے قتل کیا ہے، وہ ثبوت پیش کرے اور سلب لے جائے۔ جنہوں نے اس ہٹے کٹے مشرک کو قتل کیا تھا، وہ مشرک بڑے مسلمانوں کی جان لے چکا تھا۔ بڑا خطرناک قسم کا جنگجو تھا۔ اب اس کو قتل کرنے والے کے پاس بظاہر کوئی ثبوت نہیں تھا۔ آکر کھڑے ہوئے، آنحضرتؐ سے عرض کرنے لگے لیکن پھر یہ سوچ کر کہ میرے پاس ثبوت نہیں ہے، بیٹھ گئے۔ دو تین مرتبہ ایسا ہوا، آنحضرتؐ نے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اس مشرک کو اس طریقے سے قتل کیا ہے اور اس کا سلب مجھے ملنا چاہیے، لیکن ثبوت اور گواہ میرے پاس نہیں ہے۔ اس پر وہ جو متعلقہ شخص تھا، خود کھڑا ہوگیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! قتل تو اس نے کیا ہے اور سلب میرے پاس ہے۔ لیکن آپ ایسا کریں کہ یہ ان کو دینے کی بجائے ان کو کہیں کہ وہ مجھے معاف کر دیں، ان کو راضی کروا دیں میرے بارے میں۔ رسول اللہؐ نے تو ابھی بات کا کوئی جواب نہیں دیا، اس سے پہلے ہی حضرت صدیق اکبرؓ اٹھ کر کھڑے ہوگئے، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ کسی بھی موقع پر بات کرنی ہو تو حضرت عمرؓ اپنے جذبات کا اظہار فرماتے ہیں۔ حضرت صدیق اکبرؓ اکثر و بیشتر جگہ پر خاموش رہتے تھے۔ چند جگہیں ہیں پوری سیرت میں جہاں ہمیں حضرت صدیق اکبرؓ بولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک تو حدیبیہ کے موقع پر مشرک کو پکی قسم کی گالی دی تھی جس کا ترجمہ شاید پنجابی کے علاوہ کسی زبان میں نہ ہو سکے، کیونکہ گالیوں کے بارے میں شاید افصح اللغات پنجابی ہی ہے۔ تو یہاں حضرت صدیق اکبرؓ نے قسم کھا کر فرمایا کہ اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، ایسا نہیں ہو سکتا کہ محنت کوئی اور کرے اور اس کا صلہ کسی اور کو ملے۔ جس نے محنت کی ہے، اس کو اس کا صلہ اس دنیا کے اندر بھی ملنا چاہیے۔ آخرت میں جو اجر و ثواب ہے وہ تو پکا ہو چکا تھا۔ اور اگر ان کو سلب نہ ملتا تو ظاہر ہے ان کا اجر و ثواب کم نہیں ہونا تھا، بڑھنا تھا۔ لیکن اس کے باوجود حضرت صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک آدمی محنت کرے اور اس کو اس کا صلہ نہ ملے۔ 
دوسری حدیث رسول اللہؐ کا ایک ارشاد ہے، آپؐ نے اس شخص کا ذکر فرمایا جو حلال طریقے سے دنیا کماتا ہے۔ اس میں آپ نے دو صورتیں بیان فرمائیں۔ ایک تو مکاثرا مفاخرا مراتبا دکھاوے کے لیے، دوسروں پر اپنی دولت کی دھونس جمانے کے لیے حلال کما رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے کما رہا ہے تو رسول اللہؐ نے اس پر وعید بیان فرمائی۔ لیکن اس کے برعکس آپؐ نے ذکر فرمایا کہ جو شخص حلال طریقے سے کسی مقصد کے لیے مال طلب کرتا ہے۔ فرمایا سعیًا علیٰ اھلہ و تعطفًا علی جارہ تاکہ اپنے گھر والوں کی، اہل خانہ کی دیکھ بھال کر سکے اور اپنے اردگرد کے لوگوں کی، اپنی سوسائٹی کی مدد کر سکے، اپنے معاشرے کے لیے مددگار ثابت ہو سکے تو فرمایا کہ جب یہ شخص قیامت کے دن اللہ کے حضور پیش ہوگا تو اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا ہوگا۔ 
اور جو آنحضرتؐ کی حدیث ہے جس میں من طلب الحلال کے الفاظ آتے ہیں تو ظاہر ہے کہ من عام ہے، اس کے عموم میں جس طرح عام آدمی داخل ہے، اسی طریقے سے اس کے عموم میں ایک عالم دین بھی داخل ہو سکتا ہے۔ تو دنیا ایک عالم کے لیے کوئی شجر ممنوعہ نہیں ہے۔ ایسی چیز نہیں ہے کہ اس کے لیے گناہ کی چیز ہو، ناجائز ہو، حرام ہو۔ ہاں البتہ پچھلے زمانے میں ہمارے بزرگان دین یہ کہتے رہے ہیں کہ ایک عالم اپنی توجہات کا اصل مرکز اور محور دین کی خدمت کو، دین کی تدریس کو، دین میں تحقیق کو، دین میں تصنیف و تالیف کو بنائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی ایک ضرورت ہے۔ جیسے حضرت فرما رہے تھے کہ ایک طبقہ ایسا موجود ہو جس کا کام صرف اور صرف دین کی خدمت ہو اور اس کے بدلے میں مسلمان معاشرہ اس کی کفالت کرے۔ 
حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے اپنی وصیتوں میں ایک بات لکھی ہے۔ بصائر میں یہ بات ہے، امداد الفتاویٰ میں بھی غالبًا ہے اور کچھ نہ کچھ اشرف السوانح میں بھی ہے۔ اس کے علاوہ حضرت تھانویؒ کے ملفوظات میں بھی یہ بات بکثرت ملتی ہے کہ ایک عالم کی نظریں محض لوگوں پر نہیں رہنی چاہئیں بلکہ مستقل کوئی ذریعہ معاش بھی ہونا چاہیے تاکہ وہ استغناء کے ساتھ دین کی خدمت سر انجام دے سکے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک وضاحت میں یہ بھی کر دوں کہ حضرت کا مقصد کیا ہے۔ حضرت تھانویؒ نے جہاں یہ بات لکھی ہے، وہیں بہت سارے پیشوں کی فہرست بھی ذکر کی ہے کہ مثلاً یہ یہ پیشے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک جگہ پر ایک فہرست ان حضرات کی بھی دی ہے جو علماء کو فی سبیل اللہ یہ ہنر سکھانے کے لیے تیار ہوں، اور اگر کوئی سیکھنا چاہے تو ان سے سیکھ سکے۔ مثلاً طبابت کا پیشہ ہے۔ اس زمانے میں طب کا کام جو ہماری مقامی طب ہے، اس کا کام بہت زیادہ چلتا تھا، اب اگرچہ اتنا زیادہ نہیں رہا۔ جلد سازی ہے، خطاطی ہے، اور دیگر پیشے ہیں۔ وہیں حضرت تھانویؒ نے دینی مدارس کی تدریس وغیرہ، یہ جو ملازمت ہوتی ہے جس کے اندر انسان معاوضہ لیتا ہے، تنخواہ لیتا ہے، اور اس کے بدلے میں دین کی خدمات سر انجام دیتا ہے، اس کو بھی انہوں نے اس فہرست کے اندر شامل فرمایا ہے۔ اس لیے کہ ایک آدمی اگر اپنی زندگی کو دین کے کاموں کے لیے وقف کر دیتا ہے اور اس کے بدلے میں تنخواہ لیتا ہے اور اس پر اپنا گزر اوقات کرتا ہے تو یہ بھی حضرت تھانویؒ کی اس نصیحت یا اس وصیت کے منافی نہیں ہے، یہ بھی اسی کے اندر داخل ہے۔ 
آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ سیدنا صدیق اکبرؓ کا اپنا اچھا خاصا بزنس تھا، کپڑے کا کاروبار تھا۔ جب وہ خلیفہ بنے تو فرمایا کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ میرا جو پیشہ تھا، وہ میرے گھر کا خرچہ چلانے کے لیے کافی تھا، کوئی کمی مجھے نہیں تھی۔ لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ شغلت بامر المسلمین مسلمانوں کے معاملے میں مجھے مشغول کر دیا گیا ہے۔ اب اگر میں اپنے کاروبار کی طرف توجہ کروں گا تو خلافت کے امور کی طرف سے میری توجہ کم ہوگی۔ اس لیے یہ فرمایا فسیاکل اھل ابی بکر من ھذا المال و یحترف للمسلمین ۔۔۔ ابوبکر کے گھرانے کی معاشی ضرورتیں بیت المال سے پوری ہوں گی اور اس کے بدلے میں ابوبکر اپنا کام کرنے کی بجائے مسلمانوں کا کام کرے گا۔ اس سے ایک اصول یہ سمجھ میں آیا کہ جب کوئی شخص کسی اور کے کام کے لیے اپنی زندگی کو یا اپنے اوقاف کو وقف کر دیتا ہے تو جس کا وہ کام ہے، اس کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ اس کی کفالت کرے اور اچھے طریقے سے اس کا خرچہ اٹھائے۔ دین کی حفاظت، دین کی تدریس، دین کی تعلیم، دین میں تحقیق، دین کی اشاعت، یہ کام بنیادی طور پر زید عمر و بکر کا نہیں ہے، کسی مولانا صاحب کا یہ کام نہیں ہے بلکہ یہ ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے پوری امت مسلمہ پر عائد کی گئی ہے۔ پوری مسلمان سوسائٹی کے ذمے ہے، معاشرے کے ذمے یہ کام ہے کہ وہ دین کی خدمت کرے۔ تو جو آدمی دین کا کام کر رہا ہے، وہ در حقیقت اپنا کام نہیں کر رہا بلکہ وہ سارے مسلمانوں کا کام کر رہا ہے۔ چونکہ اس نے سارے مسلمانوں کے کام کے لیے اپنی زندگی کو وقف کر دیا ہے، اس لیے اس کا خرچہ، اس کی کفالت بھی مسلمانوں کے ذمے ہے۔ 
یہاں میں یہ بات عرض کر دوں کہ دینی خدمات پر جو ہمارے ہاں تنخواہ کا تصور ہے، اس پر خاصی لمبی چوڑی فقہاء کی بحث ہے۔ لیکن ایک نکتے کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں، غالباً حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے ہی کہیں فرمایا ہے کہ یہ جو تنخواہ ہوتی ہے یہ در حقیقت اس کام کا معاوضہ نہیں ہوتا بلکہ یہ نفقہ ہے۔ جس طرح بیوی اپنے اوقات کو خاوند کے لیے محبوس کر دیتی ہے تو بیوی کا نفقہ اس کے خاوند کے ذمہ ہے، اسی طرح سے اس عالم دین نے، اس امام نے، اس خطیب نے، اس موذن نے یا جو بھی کوئی اس طرح کی خدمت سر انجام دے رہا ہے، اس نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے کام کے لیے وقف کر دیا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے ذمے اس کا نفقہ ہے۔ جس طرح انتظامی امور سر انجام دینے والا ایک ڈی سی او ہے کسی اور شعبے میں ہے تو ظاہر ہے وہ اپنا کام نہیں کر رہا، وہ ساری سوسائٹی کا کام کر رہا ہے، تو اس کی مناسب کفالت بھی ساری سوسائٹی سے لیے گئے جو ٹیکسز ہوتے ہیں، ان کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی در حقیقت معاوضہ نہیں ہوتا بلکہ نفقہ ہوتا ہے۔ اور نفقے کا جو اصول ہے، وہ قرآن نے بیان کیا ہے، اس کو معروف کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ اور یہ کہا ہے: علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ کہ جس کے ذمہ میں نفقہ ہے، اس کی اپنی مالی حالت دیکھی جائے گی۔ ایک غریب ملک کے اندر یا غریب گاؤں کے اندر یا ایک غریب محلے کے اندر اگر کوئی شخص دینی خدمات انجام دے رہا ہے تو جس طرح کی زندگی ان کی ہے، اسی معیار کی زندگی اس امام کو دینا، عالم کو دینا، یہ اس محلے کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ایک عالم یا ایک خطیب یا ایک امام یا ایک استاد کسی اچھے شہر میں، بڑے شہر میں، کھاتے پیتے علاقے میں دینی خدمات سر انجام دے رہا ہے تو جو وہاں کے لوگوں کا معیار زندگی ہے، یہ ان لوگوں کا فرض ہے۔ ان پر فرض عائد ہوتا ہے، ان کی ذمہ داری ہے، یہ مولوی پر احسان نہیں ہے بلکہ ان کی ذمہ داری ہے کہ جو ان کا اپنا معیار زندگی ہے، تقریباً وہی اپنے علاقے میں کام کرنے والے عالم دین کو بھی مہیا کریں۔ 
یہ بات میں نے ابتداء میں اس لیے عرض کی کہ ایک زمانہ تھا کہ دینی مدارس میں پڑھنے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہوتی تھی، اور جتنے فارغ ہوتے تھے، تقریباً وہ سارے کے سارے مدارس اور مساجد میں ہی کھپ جاتے تھے۔ بلکہ ڈیمانڈ زیادہ ہوتی تھی اور رسد کم ہوتی تھی، سپلائی کم ہوتی تھی۔ فارغ التحصیل ہونے والے تھوڑے ہوتے تھے، مدارس اور مساجد میں ضرورت زیادہ کی ہوتی تھی۔ اس زمانے میں جو اساتذہ ہوتے تھے، سارے آسانی سے کھپ جاتے تھے۔ وہ مشورہ بھی یہی دیتے تھے کہ چونکہ تعداد محدود ہے اس لیے اگر یہ بھی کسی اور طرف نکل گئے تو پھر مدارس بے آباد ہو جائیں گے، مساجد ویران ہو جائیں گی۔ اس لیے یہ مشورہ دیتے تھے کہ ہمارے فضلاء کو اسی لائن میں رہنا چاہیے، کسی اور لائن میں نہیں جانا چاہیے۔ لیکن ۱۹۸۲ء کے بعد جب دینی مدارس کی اور وفاقوں کی سند کو اس وقت کی حکومت نے باقاعدہ ایم اے کے برابر قرار دیا تو بات وہی تھی جو حضرت نوح علیہ السلام نے دنیا کو لالچ دیا تھا۔ بہرحال یہ عاجلہ ہے اور آخرت آجلہ ہے، یہ نقد ہے وہ ادھار ہے۔ انسان کی قریب کی نظر زیادہ کام کرتی ہے، دور کی نظر کم کام کرتی ہے۔ اس لیے جب دنیا کا فائدہ بھی نظر آتا ہے، دین کا ایسا کام جس میں دنیا کا فائدہ بھی نظر آرہا ہو، انسان اس کی طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے۔ 
پہلے لوگ مدارس میں اپنے بچوں کو کم بھیجتے تھے، لیکن جب یہ دیکھا کہ گورنمنٹ بھی اس کی سند کو تسلیم کرتی ہے، ملازمت ملنے کے بھی امکانات ہیں تو لوگوں نے زیادہ تعداد میں اپنے بچوں کو مدارس کی طرف بھیجنا شروع کیا ۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ابھی تک وہ سلسلہ چل رہا ہے، اگرچہ اس میں کچھ پچھلے پانچ سات سال میں تھوڑی سی کمی آئی ہے۔ آگے کیا ہوتا ہے، یہ کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن بحیثیت مجموعی وہ سلسلہ بہرحال چل رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدارس میں فضلاء کی تعداد مدارس اور مساجد کی ضروریات سے زیادہ ہوگئی ۔ ایک زمانہ وہ تھا جب یہ کہا جاتا تھا کہ مدارس کے فاضل کے لیے بے روزگاری کوئی مسئلہ نہیں ہے، کوئی نہ کوئی روزگار اسے مل ہی جاتا ہے۔ لیکن اب صورتحال بہت ہی مختلف ہو چکی ہے۔ بڑی تعداد میں دینی مدارس کے فضلاء ایسے ہوتے ہیں جو فون کرتے ہیں، کسی سے رابطہ کرتے ہیں، کوئی کسی سے رابطہ کرتا ہے کہ میں فارغ ہو چکا ہوں، کوئی جگہ ہو چھوٹی موٹی پڑھانے کی، کوئی بھی کام مل جائے، میں کرنے کو تیار ہوں۔ اور اس کی وجہ وہی ہے کہ رسد بڑھ گئی ہے اور ضرورت اس کے مقابلے میں اتنی زیادہ نہیں بڑھی۔ یہ ایک صورتحال پچھلے پچیس تیس سال میں ہمارے ہاں پیدا ہوگئی ہے۔ 
یہ صورتحال جہاں ہمارے لیے ایک چیلنج ہے، وہیں ہمارے لیے ایک شاندار موقع بھی ہے۔ پہلے تو ہم اس پر مجبور تھے کہ اپنے پڑھے ہوئے لوگوں کو اپنے ہی اداروں میں رکھنے پر آمادہ کریں، لیکن اب ہمارے لیے یہ موقع آگیا ہے کہ ہم اپنی ضرورت بھی پوری کریں اور اپنا مال، اپنی پراڈکٹس ایکسپورٹ بھی کریں۔ دوسرے محکموں کے اندر، دوسری جگہوں پر ہم بھیجیں۔ وہاں جب جائیں گے تو جس نے دین پڑھا ہوگا تو ظاہر ہے دین کا کچھ نہ کچھ رنگ وہ وہاں چھوڑے گا۔ فضلاء کی تعداد جو بڑھ گئی ہے، ایک چیلنج کی بجائے ہمیں ایک اچھا موقع سمجھنا چاہیے۔ اور موقع کے نقطہ نظر سے ہم دیکھیں گے تو اس موقع سے ہم فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں کہ ہم اپنی منتجات اور اپنی پیداوار کو ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ اچھی ایکسپورٹ پالیسی وہ ہوتی ہے جس میں مقامی ضرورتوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ آپ کے ہاں اگر آلو کی پیداوار زیادہ ہو رہی ہے تو اگر آپ سارا آلو اٹھا کر بھارت بھیج دیں گے تو ظاہر ہے کہ آپ کے ہاں کھانے کو کچھ نہیں ملے گا۔ تو آپ یہ دیکھیں گے کہ ہمیں کتنی ضرورت ،ہے کس قسم کی ضرورت ہے، اچھا خود رکھیں گے اور جو ضرورت سے زائد ہے، وہ آپ باہر بھیجیں گے۔ یہی طریقہ ہم یہاں اختیار کر سکتے ہیں۔ 
ایک ہماری اپنی ضرورت ہے کہ ایک طبقہ ایسا ہونا چاہیے جس کا کام صرف دین کی تعلیم، تدریس، دین میں تحقیق، دین کی روشنی میں نئے مسائل کا حل پیش کرنا، دین کی دعوت دینا، اس نوعیت کا کام ہو۔ یہ کام جز وقتی نہیں ہے، یہ کام وقت بھی پورا مانگتا ہے، توجہ بھی پوری مانگتا ہے۔ خاص طور پر علم دین سے منسلک جتنے کام ہیں، چاہے وہ تدریس کا ہو، تحقیق کا ہو، اس نوعیت کے جتنے کام ہیں، وہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، ہر وقت اس کے ذہن میں کوئی نہ کوئی مسئلہ گھوم رہا ہو، گردش کر رہا ہو۔ کہتے ہیں کہ حضرت مولانا ادریس کاندھلویؒ کے گھر میں شاید بیٹی کی یا کسی اور کی شادی تھی۔ گھر والے پوچھ رہے ہیں کہ کیا کرنا ہے، کیا نہیں کرنا، یہ ہو جائے یا نہ ہو۔ تو فرمایا، اگر یہ فتح الباری میں کہیں لکھا ہے پھر تو میں بتا دیتا ہوں۔ نہیں تو تم جانو اور تمہارا کام جانے۔ آدمی اس طرح بنتا ہے اور ہر زمانے میں ادریس کاندھلوی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جو سوال ہے، وہ یہ ہے کہ ہم نے مان لیا کہ ادریس کاندھلوی کی ضرورت ہے، لیکن آج اگر کوئی ادریس کاندھلوی بنتا ہے تو ہمارے مدارس، ہمارا نظام اہتمام اور ہماری سوسائٹی یا ہماری مساجد کے منتظمین اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں، کیا برتاؤ کرتے ہیں اور اس کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو کس حد تک پورا کرتے ہیں؟
دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے حضرات کے حوالے سے ایک مسئلہ تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنی زندگی کو دین کے لیے وقف کر دیا ہے اور ان کی تعداد محدود ہوگی، ان کی کفالت پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس طریقے سے ضرورت پوری نہیں ہو پا رہی۔ (جو اس ضرورت سے زائد ہوں گے، ان کو ظاہر ہے کہیں اور کھپانا پڑے گا۔ اس کی طرف میں بعد میں آتا ہوں۔) جس شخص کو کسی وجہ سے معاشرے میں اپنا نام بنانے کا موقع مل جائے، وہ کوئی اچھا لیڈر بن جائے یا وہ پیری فقیری کا راستہ اختیار کر لے، اس کی معاشی زندگی چل جاتی ہے، لیکن جو شخص خالص علمی زندگی اختیار کرنا چاہتا ہے، اس کے بارے میں ہمارے مدارس کے منتظمین ہوں، مساجد کے منتظمین ہوں، یا بحیثیت مجموعی ہماری سوسائٹی ہو، خاص طور پر دیندار لوگ جو کاروباروں میں موجود ہیں، وہ اپنی ذمہ داری کا کس حد تک احساس کرتے ہیں؟
پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ ایک مدرس خاص طور پر، یا علمی کاموں کے ساتھ جڑا ہوا آدمی، اس کے معاشی مسائل ہوتے کیا ہیں؟ میں نے اس کی ایک مختصر سی فہرست بنائی اور یہ اس کی بہت بنیادی ضرورتیں یا بہت ہی جائز قسم کی خواہشات ہیں۔ اس میں کوئی تعیش کا پہلو نہیں ہے اور اس سے تھوڑا سا یہ بھی اندازہ ہوگا کہ جو آدمی اپنے آپ کو دین کے علم کے لیے وقف کرتا ہے تو وہ کتنی بڑی قربانی دے رہا ہوتا ہے اور اپنی کتنی بڑی ضرورتوں کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے۔ ایک تو اس کی اپنی روز مرہ کی ضرورتیں ہیں، اس کی بیوی کی ضرورتیں بھی ہیں، اس کو مناسب رہائش مل جائے، اچھی رہائش مل جائے جو آرام دہ ہو، پر سکون ہو، پر تعیش نہ ہو، لیکن آرام دہ ہو۔ ظاہر ہے، ہم جانتے ہیں کن چیزوں میں گزارہ ہوتا ہے۔ رہائش بقدر ضرورت، کھانے پینے کا جو نظام ہوتا ہے، وہ بھی گزارے پر ہی چل رہا ہوتا ہے۔ 
دوسرا مسئلہ ہوتا ہے خاندانی اور سماجی تعلقات کا۔ ظاہر ہے کہ ہر آدمی کا خاندان ہے، اس کے روابط ہیں، تعلقات ہیں، اس کو جاننے والے لوگ ہیں، شادی بیاہ وغیرہ کے موقع پر لین دین کا معاملہ کرنا پڑتا ہے۔ انسان کی سماجی زندگی تبھی چلتی ہے۔ لیکن ایک عالم کی جب ہم ضروریات مرتب کر رہے ہوتے ہیں تو شاید اس چیز کو ہم اس کی ضرورتوں میں شامل نہیں کرتے۔ ہمارے والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عادت تھی کہ اگر خاندان میں کوئی ایسی شادی ہو رہی ہے جس میں وہ سمجھتے تھے کہ عین تقریب میں میرا جانا مناسب نہیں ہے، کوئی ایسی چیزیں (خلاف شریعت) وہاں پر ہوں گی، تو بالکل نہ جانے والی بات نہیں کرتے تھے، بلکہ ایک دن پہلے چلے جاتے تھے اور جو دینا دلانا ہوتا تھا، وہ کر کے آجاتے تھے اور مصروفیت کا عذر کر لیتے تھے کہ میں اس وجہ سے کل نہیں آسکوں گا، اس لیے آج آگیا ہوں۔ اور کہتے تھے کہ میں یہ اس لیے کرتا ہوں کہ کسی کو یہ احساس نہ ہو کہ مولوی صاحب نے شریعت کا بہانہ بنالیا ہے، اور در اصل مولوی صاحب کچھ دینا نہیں چاہتے، اور سمجھتے ہیں کہ میں شریک ہوا تو مجھے کچھ دینا پڑے گا۔ لیکن یہ وہی کر سکے گا جس کے پاس کچھ ہوگا۔ ہر مولوی تو ظاہر ہے ایسا نہیں کر سکتا۔ تو یہ بھی انسان کی ضرورت ہے۔ 
اس کے علاوہ بچوں کی کچھ سالانہ ضرورتیں ہوتی ہیں، بچے عید کے موقع پر جوتوں کا، کپڑوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہم جو تنخواہ دے رہے ہوتے ہیں، اس سے تو مہینہ بھی نہیں گزرتا۔ ہم نے کبھی ایک عالم کی ضروریات مرتب کرتے ہوئے اس چیز کو مدنظر نہیں رکھا ہوتا۔ اس کے بچوں کے مسائل ہوتے ہیں، وہ بچوں کو اگر اچھی تعلیم دلانا چاہتا ہے، کسی بھی شعبے میں تعلیم دلانا چاہتا ہے تو اس کے پاس اس کی جیب میں اتنی گنجائش ہونی چاہیے۔ یعنی وہ اگر مدرسے میں ہی اپنے بچوں کو لگا رہا ہے تو وہ جبر نہ ہو بلکہ اس کا اپنا اختیار ہو۔ ہمارے ہاں تو صورتحال یہ ہے کہ چونکہ سکول بھیجنے یا فلاں جگہ بھیجنے کی اس کے اندر سکت نہیں ہے، اس لیے وہ بھی اپنے بچوں کو اسی مدرسے میں پڑھانے پر مجبور ہے۔ جب اس مدرسے سے فارغ ہو جائیں گے تو پھر مہتمم صاحب کی مرضی کہ وہ اس کو وہاں پر رکھیں یا نہ رکھیں۔ ظاہر ہے کہ گنجائش کی بھی بات ہوگی۔ تو بچوں کی مناسب تعلیم، بچوں کی صحت، بچوں کی پرورش، یہ ساری چیزیں ضروریات ہیں۔ 
ایک مدرس جب پینتالیس پچاس سال کی عمر تک پہنچ جاتا ہے تو اس کے ساتھ کچھ اور بھی مسائل آجاتے ہیں۔ کچھ تو اس کی صحت کے مسائل ہیں، کسی کو بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق ہوگیا، کسی کو شوگر، کسی کو کوئی اور مسئلہ۔ یہ عوارض ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں مسلسل اچھے ڈاکٹر سے رابطے کی ضرورت ہوتی ہے، مسلسل علاج معالجے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے ماہانہ اخراجات کافی بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن کبھی کسی عالم کی ضروریات کو مرتب کرتے ہوئے اور ان کا جائزہ لیتے ہوئے اس پہلو کو شاذ و نادر ہی کسی نے دیکھا ہوگا کہ یہ عالم ہیں، یہ مدرس ہیں، اتنے سال سے یہ خدمت سر انجام دے رہے ہیں تو ان کو چالیس یونٹس انسولین صبح لگ رہی ہے، چالیس یونٹس شام کو لگ رہی ہے۔ یہ ضرورت کہاں سے پوری ہوگی!
اسی طریقے سے ایک اور مسئلہ جو اس عمر میں ہوتا ہے کہ بچے اس عمر کو پہنچ جاتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری نبھائی جائے۔ انسان کی زندگی میں لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کا بڑا مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ بھی اس کی ضروریات میں داخل ہے۔ اس کی اتنی بچ نہیں ہوتی، زندگی بھر کی اتنی بچت نہیں ہوتی کہ وہ آسانی سے یہ ذمہ داریاں ادا کر سکے۔ 
اب تک جو ضروریات میں نے ذکر کی ہیں، ان میں سے کسی کو بھی آپ تعیش میں شامل نہیں کر سکتے، یہ بہت بنیادی ضرورتیں ہیں۔ اس کے بعد پھر مرحلہ آتا ہے ایک عالم دین کے لیے بڑھاپے کا۔ بڑھاپے میں ظاہر ہے کہ انسان کے اپنے مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں۔ کچھ علماء ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے بچے اس عمر تک پہنچنے تک اتنے خوش حال ہو چکے ہوتے ہیں، کسی نہ کسی جگہ اپنے آپ کو اچھی پوزیشن میں لا چکے ہوتے ہیں کہ واپنے والدین کے لیے سہارا بن جاتے ہیں۔ اور والدین کو بھی احساس ہوتا ہے کہ مسجد کے صدر صاحب یا مدرسے کے مہتمم صاحب سے کسی قدر ہم آزاد ہو رہے ہیں، لیکن ایسے بہت کم ہوتے ہیں۔ اپنے بڑھاپے کے مسائل اور پھر اس عمر کو پہنچ کر انسان کو ایک اور احساس ہوتا ہے کہ میں تو جا رہا ہوں۔ چلو میری تو جیسی تیسی کفالت کرنے والوں نے کر دی، مدرسے نے تنخواہ دے دی، مسجد نے تنخواہ دے دی، کم از کم اپنے بچوں کے لیے سر چھپانے کی کوئی جگہ چھوڑ جاؤں۔ میں نے تو کرایے کے یا مدرسے کے چھوٹے سے مکان میں، ایک چھوٹے سے ڈربے کے اندر زندگی گزار دی، یہ ڈربہ بھی اللہ کی نعمت ہوتا ہے۔ لیکن میرے بچے کیا کریں گے؟ ظاہر ہے کہ یہ انسان کی فطری چیز ہے، اس کو بھی آپ تعیش میں داخل نہیں کر سکتے۔ لیکن کبھی ہم نے نہیں سوچا کہ جس عالم دین نے اپنی پوری زندگی، جوانی سے بڑھاپے تک اس کام کے اندر لگا دی، پگھلا لی، اس کی یہ جائز ضرورت اور خواہش بھی پوری ہونی چاہیے۔ ہم اس کو خراج تحسین پیش کردیں گے، اس کے انتقال کے بعد ان کی منقبت میں ایک شاندار جلسہ منعقد کردیں گے، ان کے حالات زندگی پر کسی شمارے کا کوئی خاص نمبر شائع کر دیں گے، یہ سب کچھ ہم کر لیں گے لیکن جس نے سارے مسلمانوں کا کام کیا ہے، اپنا ذاتی کام نہیں کیا، بحیثیت مسلمان معاشرہ کے ہم نے اس کی کفالت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا کس حد تک احساس کیا ہے؟ 
یہ ایک سوال ہے جو صرف مدارس کے منتظمین سے ہی نہیں بلکہ مساجد کے منتظمین سے بھی ہے۔ 
اب اس طرف آتے ہیں کہ اس کا عملی حل کیا ہے کہ جن لوگوں نے اپنی زندگی کو اس کام کے لیے وقف کیا ہے، وہ فارغ البالی کی زندگی گزار سکیں، اور اطمینان کے ساتھ وہ اپنی تمام توجہات اپنے کام پر صرف کر سکیں۔ اس کے لیے بنیادی طور پر دو کام کرنے کے ہیں۔ ایک تو وہی جو دنیا میں فطری اصول ہے طلب اور رسد کا۔ اس کو ہم مد نظر رکھیں۔ ظاہر ہے کہ جب ایک شعبے میں تعداد بہت زیادہ ہو جائے گی، ضرورت سے زیادہ ہو جائے گی تو پہلے سے جو لوگ موجود ہیں، ان کی حق تلفی بھی ہوگی، ان کی قیمت بھی گر جائے گی۔ جس چیز کی بھی رسد بڑھتی ہے، سپلائی بڑھ جاتی ہے، تعداد بڑھ جاتی ہے، اس کی پھر قیمت کم ہو جاتی ہے، اس کی ویلیو کم ہو جاتی ہے۔ اس کا طریقہ کیا ہے؟ طلب اور رسد کو کنٹرول کرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ہم یہ طے کر لیں کہ اتنی تعداد میں علماء ہم نے بنانے ہیں، اس سے زائد کسی کو ہم نے مدارس میں داخلہ نہیں دینا۔ ظاہر ہے کہ یہ مناسب بھی نہیں ہے اور شاید عملاً ممکن بھی نہیں ہے۔ جو دین سیکھنے کے لیے آرہا ہے تو ہم کیوں مناع للخیر بنیں، بھلائی کے کام سے دین کے علم سے کیوں روکیں؟ یہ تو ظاہر ہے کہ حل نہیں ہے۔ دوسرا متبادل یہ ہے کہ جو ضرورت سے زائد تعداد ہے، اس کو ہم ڈائیورٹ کریں، کسی اور طرف اس کا رخ کریں۔ خاص طور پر وہ جو اتنی زیادہ صلاحیت نہیں رکھتے کہ بہت اعلیٰ قسم کی تدریس، بہت اعلیٰ قسم کی تحقیق، اور بہت اعلیٰ قسم کا دین کا کام کر سکیں، ان کو اگر ہم دوسری طرف کر دیں اور اِدھر تعداد مناسب بچ جائے تو پھر ان کی کفالت کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے، وگرنہ یہ کام مشکل ہے۔ تو ایک کرنے کا کام یہ ہے۔ 
دوسرا جو کرنے کا کام ہے، وہ ہر سطح پر اس حوالے سے شعور پیدا کرنے کا ہے کہ اس نوعیت کے جو اہل علم ہوتے ہیں، ان کو محض خراج تحسین پیش کرنے سے معاشرے کی ذمہ داری ادا نہیں ہو جاتی۔ ابھی صبح ایک عالم دین بتا رہے تھے کہ ہمارے استاد یہ کہا کرتے تھے کہ جو کچھ تم پڑھ رہے ہو، اس سے صرف تمہیں جزاک اللہ، ما شاء اللہ ہی ملے گا۔ اور یہ فرماتے تھے کہ جزاک اللہ کسی ہانڈی میں نہیں پکتا، اس سے پیٹ نہیں بھرتا۔ ہمارے ہاں ہم نے خود شاید ایک تاثر پیدا کیا ہے کہ ایک عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ فقر و فاقے کی اور بھوک و افلاس کی زندگی گزارے۔ اس سے ہٹے گا تو وہ معیوب ہوگا۔ ایک عالم اچھا کپڑا پہن لے اس پر اعتراض ہوتا ہے، چاہے اپنے آباؤ اجداد کی کمائی سے ہی پہنے۔ کوئی اچھی گاڑی لے لے، اس پر اعتراض ہوتا ہے۔ یہ جامعہ امدادیہ ابھی نیا نیا بنا تھا۔ ہمارے والد صاحبؒ اس سے پہلے مفتی زین العابدینؒ کے مدرسہ، دارالعلوم فیصل آباد میں ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب کو آخر عمر میں اچھی بلکہ بہت خوشحال زندگی عطا فرما دی تھی، لیکن لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے شروع میں مجاہدے کی زندگی بھی گزاری ہے ۔یہ چیز لوگوں کو بہت کم نظر آتی ہے۔ لیکن بہرحال ان کا آخری دور بڑا خوشحالی اور فراخی کا گزرا۔ تو وہ مسجد میں جہاں اعتکاف کے لیے بیٹھتے تھے، وہاں ایک کیبن سا بنا کر انہوں نے ایئر کنڈیشنر لگایا ہوا تھا۔ یہ ۱۹۸۳ء کی بات ہے، اس زمانے میں ایئر کنڈیشن اتنا عام نہیں تھا۔ بظاہر یہی ہے کہ وہ اس کی بجلی کے اخراجات اپنی جیب سے ہی ادا کرتے ہوں گے۔ والد صاحب کے سامنے ایک شخص نے کسی حوالے سے اس پر اعتراض کیا تو والد صاحبؒ نے فرمایا کہ جو بات تم کہہ رہے ہو وہ بات نہیں ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ یہ ذہن بن گیا ہے کہ ہم لوگ کسی مولوی کو خوشحال نہیں دیکھ سکتے۔ کیونکہ ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ فقر و افلاس کی زندگی گزارے۔ 
جو ہماری ذمہ داری تھی کہ ایک عالم کو اچھی حالت میں رکھیں، نفقہ کی جو ہماری ذمہ داری تھی، اس کو الٹا کر کے اس پر ڈال دیا کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ ہم تم کو کھلائیں بلکہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم بھوکے رہو۔ ہمارے ایک بہت اچھے دوست تھے، اچھی زندگی گزارنے کے عادی تھے۔ اچھی گاڑی، اچھا رہنا، اچھا کھانا، اچھا پینا۔ عالم تھے اور ایک مسجد میں ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔ ظاہر ہے جو بھی مسجد میں ذمہ داری ادا کر رہا ہوتا ہے، اس کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ تھوڑا بہت کاروبار بھی کر سکے۔ بہت اچھی زندگی گزارتے تھے اور اردگرد کے جو لوگ تھے کھاتے پیتے لوگ تھے، ان کے برابر کی سطح پر بیٹھتے تھے۔ یہ عالم صاحب ان سے کھانے والے نہیں تھے بلکہ ان کو کھلانے والے تھے۔ تو ایک بڑے پڑے لکھے آدمی جو کچھ عرصہ جج بھی رہے، وہ کہتے ہیں میں نے ایک دفعہ قاری صاحب سے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ قاری صاحب! آپ کو زیب نہیں دیتا کہ آپ کاروبار کریں۔ 
اس طرح کی ایک مثال حضرت مولانا شریف کشمیریؒ صاحب کی بھی ہے جو دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ کچھ عرصہ دارالعلوم دیوبند میں پڑھایا بھی ہے۔ پاکستان بننے کے بعد زیادہ عرصہ ان کا ملتان میں گزرا۔ ہمارے والد صاحب کے شاگرد تھے۔ ابتداء میں یہ پلندری میں تشریف لائے، جہاں ایک بڑا مشہور دارالعلوم ہے۔ وہاں کچھ عرصہ انہوں نے پڑھایا۔ حالات میں کچھ تنگی پیش آئی، کچھ مشکلات پیش آئیں۔ کئی مہینے گزر گئے، تنخواہ نہیں مل رہی۔ اہل حل و عقد کا ایک اجلاس ہوا، اس میں کشمیری صاحب بھی تشریف فرما ہیں اور اس میں یہی بات چل پڑی کہ دین کا کام تو ایسے ہی ہوتا ہے، قربانیاں دینی پڑتی ہیں، فلاں نے بھی قربانی دی، فلاں نے یہ قربانی دی وغیرہ۔ حضرت مولانا شریف کشمیریؒ کا مزاج بڑا مزاح والا تھا، ان کا درس بھی اسی انداز کا ہوتا تھا۔ ہمارے والد صاحب کا طریقہ تدریس یہ تھا کہ جس کی بات کرتے تھے، اس کی پوری نقل اتارتے تھے اور وہ ایک خاص انداز تھا۔ در حقیقت انہوں نے یہ مولانا شریف کشمیریؒ سے لیا تھا۔ ان کا یہ انداز بڑا مزاحیہ تھا۔ تو سب کی باتیں سن کر وہ فرمانے لگے کہ آپ کو صرف بھوکے ننگے بزرگ ہی یاد آئے ہیں۔ تاریخ میں کوئی کھاتا پیتا بزرگ نہیں گزرا؟ اس کا نام تمہیں نہیں آتا؟ ہماری تاریخ میں خواجہ عبید اللہ احرارؒ بھی تو گزرے ہیں، اس طرح کے لوگ بھی گزرے ہیں، ان کا نام تمہیں نہیں آتا؟ اگر ذکر کروں تو اس طرح کے اور بھی ذہن میں نام آرہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے معاشرے کا خود ذہن بنایا ہے یا ان کا ذہن بن گیا ہے۔ جب تک ہم اسے تبدیل نہیں کریں گے، یہ معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا۔
آپ کسی صنعت کار کے پاس جائیں، کسی تاجر کے پاس جائیں کہ ہمیں اپنے طلباء میں تقسیم کرنے کے لیے اتنے ہزار مصحف چاہئیں، اس پر اتنے پیسے لگیں گے۔ وہ اس کو ثواب کا کام سمجھ کر فوری طور پر آپ کو چیک کاٹ کر دے دے گا۔ لیکن اگر آپ اسی تاجر، اسی صنعت کار کے پاس جائیں کہ ہم اپنے مدرسین کی خوشحالی کے لیے،، بہتری کے لیے کوئی پروگرام کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے اتنے پیسے چاہئیں۔ وہ آپ کو نہیں دے گا، کیونکہ وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ اُس کام پر تو ثواب ملے گا، لیکن اِس کام پر ثواب نہیں ملے گا۔ حالانکہ یہ ثواب ہی نہیں ہے، بلکہ اس کا فرض ہے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا کہ یہ نفقہ ہے اور نفقہ سب مسلمانوں کے ذمہ میں فرض ہے۔ جس نے اپنے آپ کو علم دین کے لیے وقف کیا ہے، اس کے اخراجات کو اٹھانا، یہ فرض کفایہ ہے۔ اور جو میں نے فہرست ذکر کی ہے جس میں کوئی بھی تعیش نہیں ہے، کم از کم ان حوالوں سے اسے فارغ البال کرنا فرض کفایہ ہے۔ فرض کفایہ اسے کہتے ہیں کہ افراد پر تو عائد نہیں ہوتا لیکن بحیثیت معاشرہ پورے معاشرے کی طرف جو فرض متوجہ ہو، وہ فرض کفایہ ہے۔ ہم نے اس فرض کفایہ کا احساس لوگوں کے اندر پیدا نہیں کیا۔ یہ ہماری ایک کوتاہی ہے۔ اس حوالے سے شعور پیدا کرنے کی اور لوگوں کو صحیح صورت حال سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ 
اس مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہماری ضرورت سے جو زائد فضلاء ہیں، وہ ظاہر ہے مسجدوں، مدرسوں میں کبھی کھپ نہیں سکیں گے، ان کے لیے متبادل راستہ کیا ہو؟ تو بہت سارے راستے ہو سکتے ہیں۔ سب سے اہم جو ان کے لیے راستہ ہے، جو ان کی سند کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتا ہے، وہ تو یہی ہے کہ کسی جگہ ملازم بن جائے۔ مثلاً سرکاری ملازمت یا پرائیویٹ اداروں میں ملازمت۔ اس کے لیے ہمیں ابتداء ہی سے اپنے نظام تعلیم میں اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جو چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہے، اس کو چھوڑ کر جتنا ہم کر سکتے ہیں، اس کے اعتبار سے اپنے بچوں کو ابتداء ہی سے اس کے لیے تیار کریں، تاکہ ان کے لیے شروع ہی سے راستے کھل جائیں۔ اس کے لیے ظاہر ہے کہ مدرسے سے باہر ملازمتوں کے لیے کاغذ کے ٹکڑے چلتے ہیں، سرٹیفکیٹ چلتے ہیں۔ آپ کے پاس میٹرک کی سند ہے یا نہیں، ایف اے ہے یا نہیں، بی اے ہے یا نہیں، آپ کے پاس فلاں سند ہے یا نہیں۔ یہ کاغذ کے ٹکڑے چلتے ہیں۔ تو اگر تھوڑی سی محنت کر کے یہ کاغذ کے ٹکڑے حاصل کر لیں تو یہ لوگ بہتر جگہ پر پہنچ جائیں گے اور آپ کے مدرسے کا فارغ التحصیل جب بہتر جگہ پر موجود ہوگا اور کوئی بھی فارغ التحصیل بے روزگار نظر نہیں آئے گا تو لوگوں کے اندر رغبت پیدا ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کو مدارس کی طرف بھیجیں۔ وگرنہ لوگ اگر مدرسوں سے فارغ ہو کر نکلنے والے بکثرت طلباء کو فارغ دیکھیں گے تو مدرسوں کی طرف تعداد کا جو رخ ہے، وہ کم ہو سکتا ہے، اللہ ہمیں ایسے وقت سے بچائے۔ 
ایک تو تعلیم میں اس چیز کو ہم شامل کریں اور مجھے توقع ہے کہ الشریعہ اکادمی نے جو یہ پہلا قدم اٹھایا ہے، اس حوالے سے یہ قدم اٹھاتی چلی جائے گی کہ ملازمت کے حوالے سے ہم اپنے فضلاء کو کیا راہ نمائی فراہم کر سکتے ہیں اور کن کن راستوں پر ہم انہیں ڈال سکتے ہیں۔ ایک تو مساجد و مدارس کا کام ہے، اصل کام تو ظاہر ہے علماء کا یہی ہے۔ لیکن ہمارے پاس ان کاموں کے لیے ضرورت سے زیادہ تعداد موجود ہے، اس لیے ہمیں دوسری طرف بھی رخ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے چند باتیں میں آپ حضرات کی خدمت میں عرض کر کے اجازت چاہوں گا۔ میں بہت ہی اختصار کے ساتھ جو اصل روزگار اور متبادل روزگار ہیں، ان کا ذکر کر رہا ہوں۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے، جو صبح کی مجلس میں بھی کئی حضرات نے کہی اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ہماری جو وفاقوں کی سند ہے، وہ در حقیقت ایم اے نہیں بلکہ مساوی ایم اے ہے اور دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ایم اے کی سند کے پیچھے کوئی نہ کوئی قانون کھڑا ہوتا ہے، مثال کے طور پر کسی بورڈ نے آپ کو میٹرک یا ایف کی سند دی ہے یا کسی یونیورسٹی نے ایم اے کی ڈگری دی ہے تو وہ بورڈ کسی قانون کے تحت وجود میں آیا ہوتا ہے، وہ یونیورسٹی کسی قانون یا آرڈیننس وغیرہ کے تحت وجود میں آئی ہوتی ہے۔ ہر کسی کے لیے اس کو ایم اے ماننا ہی پڑتا ہے۔ باقی آپ کی صلاحیت کی بنیاد پر ہے کہ آپ کو کوئی قبول کرے یا نہ کرے، یہ ان کا اختیار ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ ایم اے نہیں ہیں، لیکن جب مساوی ایف اے، مساوی ایم اے سند لے کر جائیں گے تو اس میں بہت ساری جگہوں پر صوابدیدی اختیارات آجاتے ہیں۔ ہر ادارے کے اپنے صوابدیدی اختیارات ہیں، قانوناً اس کو بی اے، ایم اے ماننا ضروری نہیں ہوتا۔ 
اس لیے اگر ہم اس لائن میں جانا چاہتے ہیں تو میں کہا کرتا ہوں کہ واتوا البیوت من ابوابھا یہ مساوی سند ایک بھیک ہوتی ہے۔ اگر ہمیں ایک کام کرنا ہی ہے تو بھیک مانگ کر کرنے کی بجائے اس راستے سے آئیں جس میں کوئی ہمیں روک نہ سکے، کوئی ہمیں چیلنج نہ کر سکے۔ تب آپ کہہ سکتے ہیں جو کاغذ کا ٹکڑا کسی اور کے پاس ہے، وہی میرے پاس ہے۔ اس کے پاس ایک یونیورسٹی کے کاغذ کا ٹکڑا ہے، میرے پاس بھی ایک یونیورسٹی کے کاغذ کا ٹکڑا ہے۔ اور یہ کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ سب سے زیادہ مشکل مرحلہ میٹرک کا ہوتا ہے کیونکہ اس میں سائنس بھی پڑھنی پڑتی ہے، ریاضی بھی اور انگلش بھی پڑھنا پڑتی ہے۔ اس کے بعد جو مشکل لازمی مضمون رہ جاتا ہے، وہ صرف انگلش کا رہ جاتا ہے۔ انگلش زبان کا آنا ویسے ہی اچھی بات ہے۔ جتنی زبانیں آدمی کو آتی ہوں، اتنا اس کے علم میں اضافہ ہوتا ہے، اتنا ہی اس کے مطالعے میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تو جو آپ چاہیں، آسان آسان مضمون منتخب کر سکتے ہیں، ایف اے کر سکتے ہیں، بی اے کر سکتے ہیں، آسانی سے آگے جا سکتے ہیں۔ 
دوسری بات یہ کہ بہت سے فضلاء ایسے ہوتے ہیں جن کے اپنے گھر کے، اپنے آبائی کاروبار ہوتے ہیں۔ وہ کاروبار ایسے ہوتے ہیں جنہیں وہ آسانی سے سیکھ سکتے ہیں، ان کے لیے یہ سیکھنا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔ تو ہمیں اس معاملے میں حوصلہ شکنی نہیں کرنی چاہیے۔ عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ جو کسی دوسری طرف جانے لگے، ہم اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ لیکن اگر مدرسے کی طرف آئے گا تو مدرسے میں اس کے لیے جگہ نہیں ہے ، تو پھر آخر وہ کہاں جائے؟ فرض کریں ایک صاحب، فاضل ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ مجھے جامعہ امدادیہ میں رکھ لیں۔ میں کہتا ہوں کہ میرے پاس جگہ نہیں ہے۔ یہ کہتے ہیں، اچھا پھر میں اپنی دکان ڈال لیتا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ تم دکان ڈالو گے تو میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا، مجھ سے ملنے کے لیے نہیں آنا کہ تم نے دین کی لائن چھوڑ دی ہے۔ تو پھر آخر وہ جائے کہاں؟۔ تو جو شخص اپنے آبائی کاروبار میں آنا چاہتا ہے، اس سے بہتر کوئی اور چیز اس کے لیے نہیں ہے۔ اگر وہ مسجد و مدرسے کی لائن میں نہیں رہ سکتا تو وہ چیز ایسی ہے کہ وہ اسے آسانی سے سیکھ سکتا ہے۔ پھر اس کا جو خاندان ہے، اس اس کی ایک سماجی سطح ہے اور ظاہر ہے کہ جو اس کا رشتہ ہوگا، وہ بھی اسی سطح کی کسی جگہ پر ہوگا۔ آپ اسے اس بات پر مجبور کریں کہ چند ہزار کی تنخواہ پر گزارہ کرو اور اپنی بیوی کو بھی اس کا قائل کرو، تو ظاہر ہے کہ یہ اس کے لیے مشکل ہوگا۔ 
کچھ چیزیں وہ ہوتی ہیں جن کا تعلق ڈگریز سے ہے کہ آپ نے ایم اے کر لیا، ایم فل کر لیا، پی ایچ ڈی کر لی۔ یقیناًیہ ڈگریز بھی آپ کے لیے بہت سارے راستے کھولتی ہیں۔ مزید سیکھنے کے راستے بھی کھولتی ہیں اور آپ کے لیے روزگار کے راستے بھی کھولتی ہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ روزگار کی جو مجموعی صورت حال ہے، ہمارے ملک میں وہ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ اور شعبوں میں بھی جو یونیورسٹیز کے فارغ التحصیل ہیں، بڑی بڑی ڈگریاں لیے ہوئے ہیں۔ ایک چھوٹی سی چپڑاسی کی جگہ آتی ہے تو ایم فل والے وہاں اپلائی کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ڈگری روزگار کی کوئی حتمی ضمانت نہیں ہے۔ ڈگری کی بہ نسبت روزگار کے حوالے سے زیادہ اہم چیز ہنر اور skills ہوتے ہیں، وہ ہمیں حاصل کرنے چاہئیں اور اپنے فضلاء کو سکھانے چاہئیں۔ ہمارے ہاں ایک رجحان پچھلے پچیس تیس سال سے پروان چڑھا ہے کہ دورہ پر اپنی تعلیم کا اختتام نہیں کرنا بلکہ اس کے بعد بھی ایک آدھ سال لگانا ہے۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جس سے بھی پوچھیں، دورے کے بعد کیا کرنا ہے تو جواب ملتا ہے، جی مفتی کا کورس کرنا ہے، تخصص کرنا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارے پاس کچھ متبادل نہیں ہے، حالانکہ یہ تخصص فی الفقہ ہو یا تخصص فی الحدیث ہو یا کسی اور چیز میں تخصص ہو، یہ اس کے لیے ہوتا ہے جس نے دینی علوم میں تحقیق کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا ہے اور اس سطح کی استعداد کے بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی بات میں پہلے کر چکا ہوں کہ ان کو ہم نے مدرسوں میں مسجدوں میں رکھنا ہے اور خوشحال بنا کر رکھنا ہے۔ لیکن میں ان کی بات کر رہا ہوں جن کو ہم نے دوسری طرف بھیجنا ہے۔ 
کچھ مہارتیں ایسی ہیں جو ہمارے مدارس کے فضلاء بہت آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں اور ان سے جلد ان کو مناسبت ہوتی ہے۔ اور بعض ایسی ہیں جو ان کے شعبے سے بہت زیادہ گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ ان میں مثال کے طور پر ایک شعبہ پبلشنگ کا ہے کہ آپ کتابیں چھاپیں۔ اگرچہ دینی کتابوں کی پبلشنگ کے مسائل ہیں، مشکلات ہیں، اتنا زیادہ نفع آور نہیں رہا جتنا پہلے ہوتا تھا، مجموعی طور پر اپنی اور ان کی ناعاقبت اندیشیاں ہیں جن کی وجہ سے یہ صورتحال بن چکی ہے، لیکن بہرحال یہ بھی ایک شعبہ ہے جو ان کی فیلڈ سے مناسبت رکھتا ہے۔ اگر اچھی چیزیں آپ کو مل جائیں، آپ چھاپیں اور بیچیں تو ایک یہ راستہ آپ کے لیے بن سکتا ہے۔ 
دوسرا شعبہ جس میں ہمارے فضلاء بہت آسانی سے چل جاتے ہیں، میڈیا کا شعبہ ہے، چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا ہو، کیونکہ ابلاغ کی عادت اور رجحان درس و تدریس کے دوران ان کا بن چکا ہوتا ہے، کچھ الفاظ جوڑنے کا کام آہی جاتا ہے۔ اس میں تھوڑی سی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بعد وہ یہ کام آسانی سے سیکھ جاتا ہے۔ 
تیسرا کام کمپیوٹر کا ہے۔ میں صرف کمپوزنگ کی بات نہیں کر رہا، بلکہ اس سے آگے کی بات کر رہا ہوں۔ تجربہ یہ ہوا ہے کہ ہمارے طلبہ جلدی یہ چیز سیکھ جاتے ہیں اور بعض اچھی جگہوں پر بھی پہنچ جاتے ہیں۔ ہمارے جامعہ امدادیہ کے ایک فاضل ہیں، ایک اچھے ملک میں وہ کمپیوٹر نیٹ ورکنگ کے شعبے میں ایک اچھی کمپنی میں کام کر رہے ہیں، حالانکہ دورۂ حدیث تک ان کی عصری تعلیم شاید مڈل تک بھی نہیں تھی۔ تو یہ بھی ایک صاف ستھرا شعبہ ہے کام کا۔ آرام سے بیٹھ کر کرنے کا کام ہے اور علم سے مناسبت بھی رکھتا ہے۔
چوتھا ایک اہم شعبہ زبان کا شعبہ ہے۔ چونکہ دنیا ایک دوسرے کے قریب آرہی ہے، روابط بڑھ رہے ہیں، تو اس میں ترجمانی اور زبانوں کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ زبان سیکھنا سکھانا مستقل فن بن گیا ہے اور اسی کا امتیازی فن ترجمانی بن گیا ہے۔ ترجمہ کی مہارت پیدا کرنے کے لیے کچھ تو ڈگری لیول کے کورسز ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس میں وقت زیادہ لگتا ہے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ مختلف جگہوں پر اس میں ڈپلومہ لیول کے مختلف کورسز بھی سال یا چھ مہینے کے کہیں نہ کہیں ہوتے ہوں گے، ورنہ زبان سکھانے کے کورسز تو ہوتے ہی ہیں۔ یونیورسٹی تقریباً ہر زبان کے کورسز کرواتی ہے۔ ہمارے فضلاء عربی زبان خاص طور پر بہت آسانی سے سیکھ لیتے ہیں، فارسی زبان بھی آسانی سے سیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور زبانیں بھی چونکہ پہلے سے پڑھنے لکھنے کے عادی ہوتے ہیں، اس لیے زبان سیکھنا نسبتاً ان کے لیے آسان ہوتا ہے اور زبان ان کے لیے بہت سارے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ 
پانچواں ایک شعبہ جس میں کافی گنجائش ہمارے فضلاء کے لیے موجود ہے اور ان کے فیلڈ سے مناسبت بھی رکھتی ہے، وہ ہے پرائیویٹ سکولوں کا شعبہ، خاص طور پر دیہات اور قصبات میں۔ اگر ان کے لیے کچھ مختصر کورسز چھ مہینے، نو مہینے کے ایسے ڈیزائن ہو جائیں جن میں ان کو اسکول مینجمنٹ سکھا دی جائے، بحیثیت مجموعی مینجمنٹ کے کچھ اصول ان کو بتا دیے جائیں، کچھ موٹی موٹی اور چیزیں ان کو سکھا دی جائیں اور ایک دو چیزیں ان کو پڑھانے کی ٹریننگ دے دی جائے تاکہ خود ریاضی، انگریزی اور سائنس وغیرہ کی تدریس کر سکیں۔ یہ لوگ اپنے گاؤں میں، قصبے میں جا کر، چھوٹے شہر میں جا کر چھوٹا سا اسکول بنائیں، لوگوں سے فیسیں لیں، لوگوں سے روزگار مانگنے کی بجائے دوچار بندوں کو آپ روزگار دینے والے بن جائیں۔ اس شعبے میں ابھی اچھی خاصی گنجائش موجود ہے، چونکہ تعلیم کے شعبے سے حکومت نے تو ہاتھ پیچھے کر لیا ہے۔ کسی زمانے میں یہ اسکول بنانا حکومتوں کا کام ہوتا تھا، لیکن اب وہی پرانے زمانے کے آثار قدیمہ میں سے جو سرکاری اسکول ہیں، وہی ہیں۔ ان کے علاوہ نئے سرکاری اسکول نہیں بن رہے، جبکہ تعلیم لوگوں کی ضرورت ہے۔ تو پرائیویٹ اسکولوں کے شعبے سے معلق میرا اندازہ یہ ہے کہ ابھی گنجائش موجود ہے اور اس میں نفع آوری بھی ہے۔ یہ کام ہمارے فضلاء بڑی آسانی سے کر سکتے ہیں، تھوڑا سا سیکھ کر کر سکتے ہیں۔ اسکول چلانے کا تجربہ حاصل کرنے کے لیے، جو اسکول پہلے سے چل رہے ہیں، آپ ایک آدھ مہینہ اس کے ساتھ لگائیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ کام کیسے کرتے ہیں۔ یوں آپ اپنا اسکول چلانے کے قابل ہو جائیں گے۔ ایک آدھ مضمون خود پڑھائیں، ایک آدھ ٹیچر اور رکھیں۔ اللہ اللہ خیر صلا، آپ کا کام چل جائے گا۔ بچیوں کے اسکول، مدرسے تو چل ہی رہے ہیں، لوگوں کے لیے یہ بھی مسئلہ ہے۔ پہلے زمانے میں لوگ بچیوں کو تعلیم نہیں دلایا کرتے تھے، لیکن اب ہر کوئی چاہتا ہے کہ میری بچی تعلیم یافتہ ہو۔ تو یہ بھی آپ کر سکتے ہیں۔ اس میں نئی نسل کی تربیت کا پہلو بھی ہے، اس میں دعوت کا پہلو بھی ہے اور روزگار کا پہلو بھی ہے۔ 
اس طرح کے چھوٹے چھوٹے اور کئی کام ہو سکتے ہیں۔ 
حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے پہلا قدم اٹھایا ہے تو اس حوالے سے میں ایک مشورہ دوں گا کہ اس طرح کی مجالس میں بزنس سے تعلق رکھنے والے حضرات کو بھی دعوت دی جائے اور ان کے تجربات سے بھی استفادہ کیا جائے۔ وہ ہمیں کچھ بتائیں کہ فضلاء کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔ 
اور آخر میں ایک اور بات مولویوں کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے۔ بڑی ماریں کھالی ہیں، یہ دور نفع کے لیے کسی کو پیسے دینے کا نہیں ہے۔ اس میں بعض دینی ادارے ایسے میرے علم میں ہیں جو تین مرتبہ تو میرے علم کے مطابق ڈنگ کھا چکے ہیں، حالانکہ حدیث میں آتا ہے کہ مومن صرف ایک مرتبہ ڈنگ کھاتا ہے، ایک سے زیادہ مرتبہ نہیں کھاتا۔ تو ہمیں اتنا سیدھا سادا نہیں ہونا چاہیے کہ ہر دفعہ ڈنگ کھانے کے لیے تیار ہوں۔ میں انھی گزارشات پر اکتفا کرتا ہوں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

سود سے متعلق عدالت عظمیٰ کا فیصلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس کے ساتھ اس آئینی پٹیشن کو ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دیا ہے جو تنظیم اسلامی پاکستان کے امیر حافظ عاکف سعید کی طرف سے ان کے وکیل راجہ ارشاد احمد نے دائر کی تھی۔ پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ آئینی طور پر حکومت پابند ہے کہ وہ ملک میں سودی نظام کا جلد از جلد خاتمہ کرے، لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا۔ چونکہ عدالت عظمیٰ دستور کی محافظ اور اس پر عملدرآمد کی نگران ہے، اس لیے حکومت کو سودی نظام کے جلد از جلد خاتمہ کا پابند بنایا جائے۔ اس پٹیشن کے جواب میں جسٹس نثار ثاقب محترم کا ارشاد ہے کہ ہم سودی نظام کے خلاف ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نظام کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن چونکہ عدالت عظمیٰ اس بارے میں کیس وفاقی شرعی عدالت کو بھجوا چکی ہے، اس لیے اس کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔
عدالتی پراسیس کے حوالہ سے یہ فیصلہ یقیناًدرست ہوگا جس سے انکار کی گنجائش شاید نہیں ہے، لیکن ملک کی معروضی صورتحال اور سودی نظام کی وسیع تر تباہ کاریوں کے پیش نظر اگر یہ کہا جائے کہ قوم کو اس فیصلے کی توقع نہیں تھی تو یہ بات بے جا نہ ہوگی۔ سودی نظام قرآن و سنت سے متصادم، دستوری تقاضوں سے انحراف، اور بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی واضح ہدایات کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کے لیے ناسور کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ اور اب تو اس کی تباہ کاریوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے حتیٰ کہ جن مغربی اقوام و ممالک کی پیروی میں ہم نے سودی معیشت کو اختیار کر رکھا ہے وہ خود اس سے نجات کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔
بین الاقوامی ادارے بلاسود بینکاری کی طرف بتدریج بڑھ رہے ہیں۔ لندن اور پیرس جیسے معاشی مراکز غیر سودی بینکاری کا مرکز بننے کے لیے بے چین ہیں اور روسی پارلیمنٹ میں اسلامی معیشت کو اپنانے کے لیے قرارداد پیش ہو چکی ہے۔ اس فضا میں ہمارا حال یہ ہے کہ ملک میں رائج سودی قوانین کو اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت، اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں واضح طور پر دستور کے منافی قرار دیے جانے کے باوجود ان سے پیچھا چھڑانے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ جبکہ سودی معیشت کے پیدا کردہ معاشی تفاوت اور اقتصادی لوٹ کھسوٹ نے ملک کے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ مگر گزشتہ دو عشروں سے ہماری عدالتوں میں سودی قوانین کے حوالہ سے آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے اور ہم سود کو لعنت قرار دیتے ہوئے بھی اس کا جوا اپنی گردن سے اتارنے کے لیے عملاً تیار نہیں ہیں۔ 
کرپشن اور سودی نظام ہماری معاشی بیماریوں اور مشکلات کی اصل جڑ ہیں لیکن قومی سیاست کے ماحول میں کرپشن سے نجات حاصل کرنے کے لیے جو آوازیں اٹھ رہی ہیں ان کے ساتھ سودی نظام کی خباثتوں کو شامل کرنے سے خدا جانے کیوں گریز کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ دیانتدارانہ تجزیہ کیا جائے تو سودی نظام کی تباہ کاریاں کرپشن کی ہلاکت خیزیوں سے کسی طرح کم نہیں ہیں، لیکن سب کچھ جانتے ہوئے ہمارے بہت سے سیاستدان سودی نظام کے بارے میں کلمۂ حق کہنے میں حجاب محسوس کرتے ہیں۔ 
اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں سودی نظام سے متعلقہ تمام امور اور مباحث بار بار زیر بحث آچکے ہیں اور ان کے بارے میں ماہرین کی آراء کے علاوہ ملک کی رائے عامہ کے حوالہ سے یہ رپورٹ بھی سب کے سامنے ہے کہ اٹھانوے فیصد عوام سودی نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس لیے انہی مباحث کو پھر سے موضوع بحث بنانے اور بنائے رکھنے کی کوئی وجہ اس کے سوا سمجھ نہیں آرہی کہ کسی طرح مزید وقت گزر جائے اور سودی نظام کی خونخوار جونکوں کو قومی معیشت کا خون زیادہ سے زیادہ چوس لینے کا موقع فراہم ہو جائے۔ 
ہم عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو عدالتی پراسیس کے حوالہ سے درست سمجھ لیتے ہیں لیکن ایک بات کی طرف توجہ دلانا ضروری خیال کرتے ہیں کہ دہشت گردی کی لعنت کو عام دستوری اور قانونی ذرائع سے کنٹرول کرنے میں کامیابی نہ پا کر اس کے لیے ایمرجنسی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جسے بظاہر قومی سطح پر قبول کر لیا گیا ہے۔ جبکہ اس طریقہ کار کے تحت کیے جانے والے اقدامات کا بڑ حصہ عام قانونی اور عدالتی پراسیس سے بالاتر دکھائی دیتا ہے۔ اگر عدالت عظمیٰ اس سے متفق ہے تو ہمیں بھی اس پر اعتراض نہیں ہے۔ لیکن جس طرح عسکری دہشت گردی ملک کے لیے تباہ کن ہے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے خصوصی اقدامات اور طریق کار کو ضروری سمجھا گیا ہے اسی طرح سودی نظام بھی ’’معاشی دہشت گردی‘‘ سے کم نہیں ہے جس کے نقصانات اور تباہ کاریاں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ اس لیے اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات اور طریق کار کی ضرورت ہے جس کے بغیر نہ تو قومی معیشت کو سنبھالا دینے کی کوئی صورت نظر آتی ہے اور نہ ہی کرپشن کے خاتمہ کی مہم میں کامیابی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ 
ملک کے معاشی نظام کو صحیح خطوط پر استوار کرنا ہے اور کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنا ہے تو اس کے لیے دیگر ضروری اقدامات کے علاوہ سودی نظام کا خاتمہ بھی اس کا ناگزیر تقاضا ہے جس سے ہمارے قومی اداروں کو صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔ قرآن و سنت کے معاشی قوانین، غیر سودی معیشت اور خلافت راشدہ کی طرز کی رفاہی ریاست ہماری اصل قومی ضروریات ہیں جو سودی نظام و قوانین کے ماحول سے نکل کر ہی پوری کی جا سکتی ہیں۔ چنانچہ دستور کی محافظ اور اس پر عملدرآمد کی نگرانی عدالت عظمیٰ سے ہم یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ ملک و قوم کے مفاد میں ’’روٹین ورک‘‘ سے ہٹ کر بھی اس مسئلہ کا جائزہ لے گی اور قوم کو سودی نظام کی لعنت سے نکالنے کے لیے کردار ادا کرے گی۔ 

اسلامی نظریاتی کونسل اور جہاد سے متعلق عصری سوالات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ماہ کی انتیس تاریخ کو اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے زیراہتمام منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس کا عنوان تھا ’’اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جہاد کی تعریف، قوت نافذہ اور اس کے بنیادی عناصر‘‘۔ کانفرنس کی دوسری نشست میں کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کی زیرصدارت کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا جن کا خلاصہ نذر قارئین کرنے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کی سرگرمیوں کے حوالہ سے چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔
اسلامی نظریاتی کونسل ایک دستوری ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد حکومت اور پارلیمنٹ کو رائج الوقت اور مجوزہ قوانین کے حوالہ سے شرعی راہ نمائی فراہم کرنا ہے۔ چونکہ پارلیمنٹ دستوری طور پر اس بات کی پابند ہے کہ وہ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنا سکتی اور اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ تمام رائج الوقت قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنائے۔ جبکہ پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے قرآن و سنت کے ضروری علوم سے آگاہی کی کوئی شرط دستور میں موجود نہیں ہے اس لیے دستور پاکستان میں ایک مستقل ادارہ کی ضرورت محسوس کی گئی اور اس مقصد کے لیے ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ تشکیل دی گئی تاکہ پارلیمنٹ اور حکومت قوانین کے قرآن و سنت کے مطابق ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اس سے راہنمائی حاصل کر سکیں۔ 
اس کونسل میں مختلف مکاتب فکر کے جید علماء کرام کے ساتھ ساتھ ممتاز ماہرین قانون بھی شامل ہوتے ہیں اور اس ادارہ نے اس سلسلہ میں اب تک جو کام کیا ہے اس کے وقیع اور معتبر ہونے کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ ملک میں نظام اسلام کے نفاذ کے خواہاں کم و بیش تمام حلقے اس امر پر متفق ہیں کہ ملکی قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے اب تک کی جانے والی سفارشات کو دستور کے مطابق وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں میں پیش کر کے ان کی روشنی میں قانون سازی کر لی جائے تو پاکستان میں اسلامی قوانین کے نفاذ کا تقریباً نوے فیصد کام مکمل ہو جاتا ہے۔ مگر عملی صورت حال یہ ہے کہ کونسل کی بیشتر سفارشات حکومت کے سرد خانے میں پڑی ہیں اور انہیں متعلقہ اسمبلیوں میں زیربحث لانے سے مسلسل گریز کیا جا رہا ہے۔ بلکہ سیکولر حلقوں کی طرف سے سرے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی افادیت و ضرورت کو ہی مشکوک بنانے کی مہم جاری ہے اور اسے منفی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ان حالات میں کونسل کے موجودہ چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اس بات کے لیے کوشاں دکھائی دیتے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل متحرک رہے اور مختلف حوالوں سے حکومت کو نفاذ اسلام کے سلسلہ میں اس کی دستوری ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتی رہے۔ مولانا شیرانی کی بعض آراء سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کا یہ جذبہ اور محنت بہرحال قابل قدر اور لائق تحسین ہے کہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کو اس کے دستوری کردار کے دائرہ میں متحرک رکھے ہوئے ہیں۔ 
آج کل مولانا شیرانی اس امر کے لیے کوشاں ہیں جس پر انہوں نے مذکورہ بالا کانفرنس میں بھی تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا کہ جہاد اور دہشت گردی کو جس طرح عالمی ماحول میں گڈمڈ کر دیا گیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں اسلامی تعلیمات اور جہاد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اور اسلامی تعلیمات کی رو سے جہاد کے اصل مفہوم اور دائرہ کار کے ساتھ ساتھ اس کی اتھارٹی اور قوت نافذہ کو دلائل کے ساتھ واضح کرنا علماء کرام کی ذمہ داری ہے۔ اس عمل میں اسلامی نظریاتی کونسل کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے آئین کے آرٹیکل 320 کی ذیلی دفعہ (الف) کا یہ پیرا پیش کیا کہ:
’’مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیوں سے ایسے ذرائع اور وسائل کی سفارش کرنا جس سے پاکستان کے مسلمانوں کو اپنی زندگیاں انفرادی اور اجتماعی طور پر ہر لحاظ سے اسلام کے ان اصولوں اور تصورات کے مطابق ڈھالنے کی ترغیب اور امداد ملے جن کا قرآن پاک اور سنت میں تعین کیا گیا ہے۔‘‘
دستور پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کے اس کردار کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی یہ خواہش اور کوشش رہتی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل مسلسل متحرک رہے اور حکومت اور عوام دونوں کی علمی و عملی راہ نمائی کرے۔ اس پس منظر میں جہاد کی تعریف اور دیگر متعلقہ امور کے حوالہ سے مذکورہ بالا کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی جس نشست میں مجھے اظہار خیال کی دعوت دی گئی اس میں مولانا مفتی محمد زاہد، ڈاکٹر محسن نقوی، ڈاکٹر خورشید احمد، مولانا شیرانی اور دیگر حضرات نے بھی خطاب کیا۔
راقم الحروف نے جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:
  • قرآن کریم نے قتال کا لفظ تو ہتھیار کی جنگ کے لیے ہی استعمال کیا ہے مگر جہاد کے لفظ میں عموم ہے۔ قرآن کریم نے جہاد بالنفس کے ساتھ جہاد بالمال کا ذکر کیا ہے جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’جہاد باللسان‘‘ کو بھی اس کے ساتھ شامل کیا ہے۔ بلکہ غزوۂ احزاب کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح اعلان فرمایا تھا کہ اب قریش ہمارے مقابلہ میں ہتھیار لے کر نہیں آئیں گے بلکہ زبان کی جنگ لڑیں گے اور شعر و خطابت کے میدان میں جوہر دکھائیں گے۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ، حضرت کعب بن مالکؓ اور حضرت ثابت بن قیسؓ جیسے نامور خطباء اور شعراء نے جہاد باللسان کا یہ معرکہ سر کیا۔
  • جہاد کا ہدف کیا ہے؟ اس کے بارے میں بخاری شریف کی روایت کے مطابق حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا یہ ارشاد ہماری راہ نمائی کرتا ہے کہ جہاد کا مقصد کسی کو زبردستی مسلمان بنانا نہیں بلکہ اسلام کی پر امن دعوت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ چنانچہ جہاد اسلام قبول کروانے کے لیے نہیں بلکہ اسلام کے فروغ میں رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے ہے۔ جبکہ میرا طالب علمانہ خیال یہ ہے کہ مغرب نے اپنے سسٹم اور کلچر کو درپیش خطرہ سے نمٹنے کے لیے پیشگی حملہ کا جو طریق کار اختیار کیا ہے اور جسے ’’کونڈولیزا رائس کی تھیوری‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہ بھی شاید اسی نوعیت کا ہے۔
  • جہاد کا طریق کار اور ہتھیار وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں اس لیے جہاد کے بارے میں کتابوں میں موجود راہ نمائی سے استفادہ کرتے ہوئے ہر زمانہ میں اس دور کے تقاضوں کے مطابق جہاد کے ہتھیار اور حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ’’صلوٰۃ الخوف‘‘ ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے لیکن آج کے جنگی ماحول میں اس کو عملاً اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ آج کے حالات میں جہاد کی سطح، دائرہ، حکمت عملی اور ہتھیاروں کا انتخاب آج کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر ہی کیا جائے۔ 

قانون اور حقوق نسواں

محمد دین جوہر

دو انسانوں کے درمیان ہر رشتے کے صرف دو ہی سرے نہیں ہوتے، بلکہ تین کونے ہوتے ہیں۔ تیسرے کونے پر اگر خدا ہو تو وہ رشتہ اخلاقی ہوتا ہے اور اگر ریاست ہو تو وہ رشتہ قانونی ہوتا ہے۔ قانونی ہوتے ہی انسانی رشتے کا ہر طرح کی اقدار سے تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ کوئی انسانی رشتہ بیک وقت قانونی اور اخلاقی نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے۔ اخلاقی رشتوں کا اصل دائرہ خونی رشتے اور ہمسائیگی ہے۔ اچھی معاشرت انہی اخلاقی رشتوں سے وجود میں آتی ہے۔ اگر سارے انسانی رشتے قانونی ہو جائیں تو معاشرت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اخلاقیات معاشرے کا مسئلہ ہے اور قانون ریاست کا۔ ریاست گلی اور گھر کے دروازے تک پھیلی ہوتی ہے اور اگر ریاست بیڈ روم میں بھی آ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اخلاقی معاشرہ ختم ہو گیا ہے اور قانونی معاشرہ قائم ہو گیا ہے۔ قانونی معاشرے میں انسانی رشتے مزاج اور مفاد کے تابع، اخلاق سے لاتعلق اور شائستگی سے پْر ہوتے ہیں۔ اخلاقی معاشرے میں ہر وقت نگہداری کی ضرورت نہیں ہوتی، اور اقدار اور کردار اہم ہوتے ہیں۔ قانونی معاشرے میں ’’ریاستی نظر‘‘ مسلسل اور مستقل ہوتی ہے، اخلاقی کردار غیر اہم، اور عوامی ساکھ اہم ہوتی ہے۔
حال ہی میں حقوق نسواں کے تحفظ کے لیے ایک قانون بنایا گیا ہے۔ اس طرح انیسویں صدی کے اوائل سے ہمارے لیے بننے والے جدید قوانین کی طویل فہرست میں ایک اور کا اضافہ ہوا ہے۔ حقوق بھلے عورتوں کے ہوں بھلے مردوں کے، ان کی حفاظت کے لیے قانون سازی ایک خوش آئند امر ہے۔ لیکن جدید قانون سازی صرف حقوق کے تحفظ کا نام نہیں ہے۔ جدید قانون سازی انسان کے نئے حقوق بناتی ہے، یعنی گھڑتی ہے، اور پھر ان نئے حقوق کو طاقت سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ جدید حقوق انسان کے لیے نہیں ہوتے بلکہ انسان حقوق کے لیے ہوتا ہے۔ جدید ریاست کے عطا کردہ حقوقِ انسانی ایک سانچہ ہیں جن میں عام آدمی کو ڈھال کر شہری بنایا جاتا ہے۔ چیزوں کے نئے نئے ماڈلوں کے ساتھ حقوق کے بھی نئے نئے ماڈل سامنے آتے رہتے ہیں۔ نئے انسانی حقوق طاقت سے پیدا ہوتے ہیں، اقدار سے پیدا نہیں ہوتے۔ جدید معاشروں میں نئے سماجی رشتے پیدا کرنے کے لیے نئے حقوق بنائے جاتے ہیں اور ان کو طاقت سے نافذ کیا جاتا ہے۔ یہ کام بنیادی طور معاشی نظام کی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
مغربی معاشرے میں جدید قانون سازی کا مقصد انسانی حقوق کا تحفظ نہیں تھا، بلکہ مذہب اور مذہبی اخلاقیات کے طے کردہ انسانی اور سماجی رشتوں کا خاتمہ اور نئے انسانی رشتوں کا نفاذ تھا۔ جدید قانون سازی سے ایسے نئے انسانی رشتوں کا تصور سامنے آیا جو سرمایہ داری نظام کے لیے مفید تھے۔ کنبے کا باقی رہنا ہر ہر صورت میں سرمایہ داری نظام کے پیداواری رشتوں کے قطعی خلاف تھا۔ سرمایہ داری نظام کی ضرورت تھی کہ معاشرے میں انسان فرد فرد ہو جائے تاکہ اس کا شکار آسانی سے کیا جا سکے۔ ایک دوسرے سے جڑا ہوا انسان سرمایہ داری نظام کو ہرگز قابل قبول نہیں ہوتا۔ سرمایہ داری نظام کا معاشی اصول ہے: ’’ایک نوکری ایک پیٹ‘‘۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سب سے موثر قانون سازی ہے۔ قانون سازی کرتے ہوئے ریاست کے کان اور دھیان سرمائے کی طرف اور نظر لوگوں پر ہوتی ہے۔ قانون سرمائے کے معاشی دباؤ اور ریاستی طاقت کو یک جا کر دیتا ہے اور اس طرح ایک ایسا بلڈوزر بنتا ہے جس کے سامنے ہمالیہ بھی ریت کا ڈھیلا ہے۔ جدید قوانین کی مدد سے مغربی معاشرے میں کنبے کو بالکل ہی مسمار کر دیا گیا اور معاشرہ ریاست میں ضم ہو گیا۔
مغرب میں حقوق نسواں کے لیے جتنی بھی قانون سازی کی گئی اس کا مقصد ازدواجی زندگی کا خاتمہ تھا۔ اگر پائیدار ازدواجی زندگی کا خاتمہ ہو جائے تو کنبہ از خود ختم ہو جاتا ہے، اور تمام انسانی رشتے قانونی ہو جاتے ہیں۔ اس ’’کارنامے‘‘ سے پورے معاشرے کے سماجی رشتے بدل جاتے ہیں، اور معاشرہ ریاست کا جزو بن جاتا ہے۔ اور مذہب کی جگہ ازخود ختم ہو جاتی ہے۔ شادی دو چیزوں کا نام ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ شادی نبھانی ہو تو اخلاقی ہے، توڑنی ہو تو قانونی ہے۔ مذہبی معاشرہ اول پہلو پر زور دیتا ہے اور جدید سوسائٹی دوسرے پہلو کو اہم سجھتی ہے۔ ازدواجی معاہدے میں قانون سویا رہتا ہے اور شادی توڑنے کے وقت بیدار ہوتا ہے۔ معاشرے کے جن طبقات میں شادیاں ابھی چل رہی ہیں وہاں اخلاقی شعور غالب ہے اور شادیوں کے ملبے سے جہاں سوسائٹی بن گئی ہے وہاں ہر وقت حقوق اور قانون کی شقوں پر زور ہوتا ہے۔ اگر ازدواجی قانون سازی وافر ہو جائے تو یہ ادارہ ہی ختم ہو جاتا ہے جیسا کہ مغرب میں ہوا ہے۔ مغرب میں ازدواجی قانون سازی اس قدر ہے کہ شادی میں اخلاقی رشتے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔ اب بچے پیدا کرنے اور ان کی کفالت کے لیے عورت کو شادی کی ضرورت نہیں اور نہ وہ مرد کی طرف دیکھنے کی محتاج ہے۔ اگر خوش طبعی کے لیے عورت مرد شادی کر لیں تو ان کی مرضی، لیکن یہ ضروری نہیں رہی۔ یہ ترقیاتی کامیابی مغربی معاشرے نے ازدواجی قانون سازی کے ذریعے سے ہی حاصل کی ہے اور اس میں اولاد اور والدین کا رشتہ بھی فنا ہو گیا ہے۔
ہمارے مولوی صاحبان کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ جدید دنیا میں قانون سازی سرمایے کی سڑک بنانے کا اسٹیم رولر ہے۔ نسوانی حقوق اور ازدواجی قوانین کا بنیادی مقصد ہی کنبے کا خاتمہ تھا جس میں کامیابی اب مکمل ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں معاشرے مغربی ہوئے ہیں، وہاں بھی کنبے کا مکمل خاتمہ ہو گیا ہے۔ جدید ریاست کی قانون سازی مذہب کے مطابق یا خلاف نہیں ہوتی۔ یہ مولوی صاحبان کی نہایت ہی بڑی خوش فہمی اور غلط فہمی ہے کہ جدید ریاست مذہب کے ’’خلاف‘‘ کوئی قانون پاس کرتی ہے۔ یعنی مولوی صاحبان یہ سمجھتے ہیں کہ جدید ریاست مذہب کو کوئی اہمیت دیتی ہے، اس لیے وہ اس کے ’’خلاف‘‘ قانون بناتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جدید سیکولر ریاست مذہب کو اتنی اہمیت بھی نہیں دیتی کہ اس کے ’’خلاف‘‘ قانون بنانے پر وقت ضائع کرے۔ جدید قانون سازی معاشرے کو ریاست میں ضم کرنے کے لیے ہوتی ہے اور ضمناً مذہب از خود ختم ہو جاتا ہے۔ 
ہمارے علما قانون سازی میں مذہبی اور غیر مذہبی کی بحث اٹھا کر اصل چیزوں سے توجہ ہٹا دیتے ہیں اور اس طرح وہ عین انہی قوتوں کو مضبوط کرتے ہیں جو مذہب کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ ہمارے علما نے اس نئے قانون سے جو غیر مذہبی پہلو نکالا ہے، وہ نہایت مضحکہ خیز ہے۔ جدید ریاست مذہب کا ازحد احترام کرتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے وہ دہریت یا ہم جنس پرستی یا کلچر وغیرہ کا بھی ازحد احترام کرتی ہے۔ وہ قانون سازی کرتے وقت مذہب سے چھیڑ چھاڑ میں وقت ضائع نہیں کرتی۔ دراصل مذہب کے نمائندے نہایت نادان لوگ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ نعرے سے کام چل جائے گا۔ نعرہ سنتے ہی جدید ریاست اپنی حکمت عملی تبدیل کر لیتی ہے، ایجنڈا تبدیل نہیں کرتی، اور وہ قانون سازی سے اس زمین ہی کو ختم کر دیتی ہے جہاں مذہب کا شجر اگتا ہے۔ مذہب کا شجر انسانی معاشرے میں اگتا ہے۔ معاشی قوتوں کی مدد سے جدید قانون سازی معاشرے کو سول سوسائٹی بنا دیتی ہے، اور اس طرح مذہب کا ٹنٹا ہی نکل جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس قانون کی چند شقوں کے رد و بدل سے اگر مذہبی طبقے کو خوش کر بھی دیا جائے تو وہ اس معاشی دباؤ کا کیا علاج تجویز فرمائیں گے جو کنبے کو تیزی سے ختم کر رہا ہے؟ ایسا سرمایہ دارانہ نظام جو کنبے ہی کو مٹائے جا رہا ہے کیا وہ تبدیل شدہ قانون کے بعد ’’اسلامی‘‘ قرار پائے گا؟ طاقت دراصل کینگرو کی طرح ہوتی ہے اور قانون اس کی جھولی کا بچہ۔ ہمارے علما کی گہری بصیرت یہ کہتی ہے کہ طاقت کے کینگرو سے بکری کا بچہ پیدا ہوتا ہے۔ ہمارے مولانا حضرات قانون کی بہت بات کرتے ہیں، لیکن جو طاقت قانون بناتی ہے، اور جس معاشی قوت کو راستہ دینے کے لیے قانون بنایا جاتا ہے، ان کے بارے میں وہ کچھ کہنے کے روادار نہیں۔ بڑے امام صاحب کے ایک مشہور قول کا عین یہی مطلب ہے کہ سیاسی طاقت اور قانون کا یک منبع، یک استناد اور یک ہدف ہونا لازم ہے۔ اسلامی قانون کی موٹی موٹی شقیں ان پڑھ آدمی کو بھی معلوم ہوتی ہیں، اس کے لیے عالم ہونا ضروری نہیں۔ ضروری یہ ہے کہ جدید سیاسی اور معاشی طاقت کے نظام کو سمجھنے کے وسائل بھی فراہم کیے جائیں، اور قانون سے اس کا تعلق واضح کیا جائے۔ مذہبی قوانین کی بات اس تجزیے کے بعد ہی بامعنی ہو سکتی ہے۔
اگر ہم مذہب کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں عادلانہ سیاسی اور معاشی نظام کی بات پہلے کرنا ہو گی اور قانون کے بارے میں وعظ کو تھوڑی دیر کے لیے مؤخر کرنا پڑے گا۔ قانون ایک ذیلی اور ضمنی چیز ہے، کیونکہ جیسی سیاسی اور معاشی قوت ہوتی ہے، ویسا ہی قانون بناتی ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہٹلر، سٹالن، بش اور بلیر کی ریاست اگر حدود و تعزیرات کو نافذ کر دے تو کیا شرعی عدل کے تقاضے پورے ہو جاتے ہیں؟ 

خواتین کے تحفظ کا بل ۔ اصل مسئلہ اور حل

محمد زاہد صدیق مغل

پنجاب اسمبلی میں "خواتین کے تحفظ" کے نام پر جو نیا قانون پاس کیا گیا ہے اسے لے کر ہمارے یہاں کہ مذہب پسند اور لبرل طبقات میں فکری بحث و مباحثہ اور سیاسی رسہ کشی جاری ہے۔ اس قانون کی حمایت کرنے والوں کے خیال میں اس بل سے نہ صرف یہ کہ خواتین کو مردوں کے تشدد سے تحفظ فراہم ہوگا بلکہ خواتین کی ترقی میں بھی پیش قدمی ہوگی (جیسا کہ کچھ سیاسی احباب نے اسے خواتین کی ترقی کا بل قرار دیا ہے)۔ یہاں اختصار کے ساتھ ہم ان مفروضات کا ذکر کریں گے جن کی بنا پر یہ بل ہمارے سماجی حقائق کے ساتھ مطابقت اور ہماری تہذیبی اقدار کے تحفظ کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ بل میں چونکہ نفس مسئلہ کی تشخیص ہی غلط کی گئی ہے لہذا اس کا نہایت غیر متعلق حل پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک متبادل تجویز بھی پیش کی جائے گی۔ 
خواتین کے تحفظ کا یہ بل پیش کرنے والوں کے دو مفروضے ہیں: (1) مار کھانے والی تمام خواتین یورپی خواتین کی طرح معاشی و سماجی طور پر خود مختار ہیں، یعنی شوہر کے خلاف اس قسم کی قانونی کاروائی کا فیصلہ کرنے اور پھر اس فیصلے کے سماجی نتائج بھگتنے کے لئے خود مختار اور تیار ہیں، (2) جو مرد اس قدر سفاک ہے کہ اپنی بیوی کو بری طرح مارتا ہے، بیوی کی طرف سے پولیس کے حوالے کئے جانے کے بعد وہ بیوی کو خوشی سے گھر میں بسا کر رکھے گا، اور اگر طلاق دے کر فارغ کردے گا، جو تقریبا یقیناًکردے گا، تو ریاست ایسی بے سہارا خواتین کو کھچا کھچ دارالامان میں بھرتی کرلیا کرے گی۔ گویا یوں ایک بیوی کو ایک محفوظ اور باوقار زندگی میسر آجائے گی۔ دھیان رہے، یہ دارالامان عوام کے ٹیکسوں سے چلائے جائیں گے۔ یہ ادارے کیسے "چلتے" اور "چلائے جاتے" ہیں یہ امر بھی اہل نظر پر کچھ مخفی نہیں۔ 
اہم تر سوال یہ ہے کہ کیا اس سب سے ایک "بیوی" محفوظ ہوگی یا برباد؟ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ قانون ایک "بیوی" کا تحفظ کرنے میں ناکام رہتا ہے؟ درحقیقت اس قسم کے ترمیمی بل جہاں ایک طرف مقامی زمینی حقائق اور معاشرتی اقدار سے سہو نظر کرکے مغربی طرز کے معاشروں کی نقالی پر مبنی ہوتے ہیں، دوسری طرف انہیں وضع کرتے وقت ان فلسفیانہ فکری مفروضات سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جو اس قسم کے قوانین کے پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ مغرب میں نافذ العمل یہ قوانین "ہیومن رائٹس" کی ایک مخصوص فلسفیانہ تشریح پر مبنی ہیں۔ حقوق کی تفصیلات طے کرنے کا یہ مخصوص قانونی فریم ورک انسان کو تعلقات کی ایک اکائی کے طور پر نہیں بلکہ ایک "قائم بالذات مجرد فرد" کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہ مجرد فرد خود کو صرف ایک ایسی ذات کے طور پر پہچانتا ہے جو اپنی ذاتی آزادی میں بے پناہ اضافے کا خواہاں ہوتا ہے۔ چنانچہ ہیومن رائٹس فریم ورک کی کمٹمنٹ کسی بھی سماجی اکائی کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتی (سوائے سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے، البتہ یہ ایک الگ موضوع ہے)، یہ فریم ورک صرف "ہیومن" (بطور مجرد فرد) کے حقوق کو ڈیفائن کرنے اور ان کا تحفظ کرنے کی یقین دھانی کراتا ہے۔ یہ فریم ورک فرد کو میاں بیوی، ماں باپ، بیٹا بیٹی جیسی شناختوں میں پہچاننے، ان کے حقوق متعین کرنے اور ان کا تحفظ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ چنانچہ "تحفظ خواتین بل" اس رویے کی ایک تازہ ترین مثال ہے جسے اس امر میں تو دلچسپی ہے کہ "عورت بطور ایک فرد" کا تحفظ کیسے ممکن ہے، مگر یہ اس سوال سے کلیتاً سہو نظر کرتاہے کہ کیا اس میں ایک "بیوی" کا تحفظ بھی ہے؟ 
مذہبی حلقوں کا اس قانون یہی بنیادی اعتراض ہے کہ آخر اس قانون سے ایک بیوی محفوظ ہوگی یا برباد؟ اور نتیجتا کیا خاندان کی اکائی مضبوط ہوگی یا کمزور؟ اس بل کے حامیوں کو اس اہم ترین سوال کے جواب سے کوئی غرض نہیں۔ تاریخ کا سفر یہ بتاتا ہے کہ ہیومن رائٹس فریم ورک سے ماخوذ یہ قوانین بیوی وشوہر جیسے رشتوں کو معدوم کرکے خاندان کی اکائی کو نیست و نابود کردیتے ہیں اور بالاخر "اکیلا فرد" باقی بچ رہتا ہے۔ یہ بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام "مرد و عورت کے حقوق" نامی عنوان باندھ کر کسی کو حقوق نہیں دیتا، ہر کسی کو جو بھی حقوق دئیے گئے ہیں وہ ان "مخصوص تعلقات" سے وجود میں آنے والی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے عطا کیے گئے ہیں جنہیں اسلام مطلوبہ معاشرتی تعلقات کے طور پر دیکھتا ہے۔ چنانچہ معاشرتی حقوق کی بنیاد شوھر، باپ، بیوی و ماں وغیرہ ہونا ہے، نہ کہ مجرد مرد یا عورت ہونا۔ جو علمی فریم ورک تعلقات کی ان جاحت سے سہو نظر کرتے ہوئے مرد و عورت کو مجرد حیثیت میں حقوق دینے پر اصرار کرتا ہے، وہ لازماً ان تعلقات کو نیست و نابود کردیتا ہے کیونکہ اس فریم ورک میں حقوق کی تفصیلات ان مخصوص ذمہ داریوں کی ادائیگی کے تناظر میں طے ہی نہیں کی جاتیں جو ان تعلقات کی بقا کی ضامن ہو۔ حقوق بذات خود مطلوب نہیں ہوتے بلکہ مخصوص فرائض کی ادائیگی کے لیے عطا کیے جاتے ہیں۔ اگر فرائض کا تصور مختلف ہوگا تو حقوق کی تفصیلات بھی مختلف ہوگی، اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں۔ 
اب رہا یہ سوال کہ اس قسم کے گھریلو تشدد کو کیسے ختم کیا جائے، تو اس کا جواب ہے گھریلو تعلقات کے نگران افراد اور اداروں کو مؤثر بنا کر۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کا خدشہ ہو تو دونوں کی طرف سے حکم مقرر کرو جو ان کے مابین صلح کی کوشش کریں۔ چنانچہ خواتین پر تشدد کو ختم کرنے کے لیے "حکم کے ادارے" کو مؤثر بنانے کے لئے قانون سازی اور کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل نوعیت کے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں: 
  • قانونی مداخلت کا بنیادی مقصد "عورت بطور فرد" نہیں بلکہ ایک "بیوی" کو تشدد سے تحفظ دیناہے ۔
  • تشدد کی روک تھام میں پولیس کی مداخلت کم از کم ہونی چاہیے۔ شکایات کے ازالے کے لیے ایسے سماجی افراد، تعلقات اور اداروں پر انحصار کرنا چاہیے جو سماجی و نفسیاتی اعتبار سے قابل قدر و لحاظ سمجھے جاتے ہیں ۔
  • اس کے لیے نکاح رجسٹرار اور قاضی کے کردار کو قانونی طور پر مؤثر بنایا جائے، یعنی پولیس کے بجائے نکاح رجسٹرار کے پاس شکایت درج کرائی جائے۔ نکاح رجسٹرار کو جب کوئی شکایت موصول ہو تو بجائے اس کے کہ بیوی ازخود شوہر کو گھر سے نکال دے یا پولیس اسے جیل بھیج دے، نکاح رجسٹرار و قاضی دونوں طرف کے ذمہ داروں (حکمین) کو معاملے میں شامل کرکے مسئلہ حل کرانے کا پابند ہو۔
  • اس سلسلے میں فریقین کو تھانے کے بجائے مقامی مسجد یا مدرسے میں بلایا جائے اور امام صاحب کے روبرو اور ان کی زیر نگرانی کاروائی کی جائے ۔
  • متعلقہ مرد اور خاتون دونوں کو کچھ عرصے کے لیے مسجد و مدرسے کے امام و مہتمم صاحب کی زیر نگرانی تعلیم و تربیت کا پابند بنایا جائے یعنی مرد اور خاتون دونوں ان تعلیمی و تربیتی نشستوں میں شامل ہونے کے پابند ہوں ۔
  • اگر مرد اس پورے عمل میں تعاون نہ کرے تو نکاح رجسٹرار اس تعاون کو ممکن بنانے کے لیے حسب ضرورت و حکمت پولیس کی مدد لے سکتا ہو ۔
الغرض مداخلت کا مقصد گھریلو مسائل کا ایسا حل تلاش کرنا ہونا چاہئے جو گھر کی اکائی کو برقرار رکھتے ہوئے مسئلے کو حل کرسکے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ان مسائل کے حل کے لیے سماجی طور پر معتبر سمجھے جانے والے افراد اور اداروں کو مؤثر طور پر شامل معاملہ کیا جائے۔ میاں بیوی کا تعلق کارخانے دار اور مزدور کا نہیں کہ آج ایک کارخانے دار تو کل دوسرا، یہ محبت و خلوص پر مبنی عمر بھر ساتھ نبھانے کا بندھن ہے اور انہی کے فروغ میں اس کی بقا ہے۔حکم کا مؤثر کردار اور تعلیم و تربیت کا مناسب انتظام ہی وہ راستہ ہے جو فی الواقع ہمارے یہاں ایک بیوی کو شوہر کے تشدد سے نجات دلا سکتا ہے۔ عورت کی پٹائی بنیادی طور پر پیٹنے والے اور مار کھاتی بیٹی و بہن کا ساتھ نہ دینے والے مردوں کی کمزوری و تربیت کے فقدان کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جس بدقسمت بیوی کو اس کا باپ، بھائی، بیٹا، شوہر اور دیگر خاندانی تعلقات مرد کی پٹائی سے نہیں بچا سکتے، مغربی اقوام کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ خواتین کے تحفظ جیسے حالیہ بل زیادہ دور اور دیر تک اس کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ اس نوعیت کے تمام تر قوانین کے باوجود مغرب میں 50 فیصد سے زائد "خواتین " آج بھی مردوں کے ہاتھوں سے پٹتی ہیں۔ ہمارے یہاں بھی یہ اپنی نوعیت کا کوئی اچھوتا بل نہیں جسے منظور کیا گیا ہو، اس طرح کے بل ماضی میں بھی منظور کیے گئے ہیں تا ہم عورت اسی طرح سے مظلوم ہے۔ اس پر سب سے بڑی دلیل پاکستان میں نشر ہونے والے دو درجن سے زائد وہ کرائم شوز ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پولیس اور دیگر حکومتی اداروں کی سرپرستی میں ہی عورتوں کی خرید و فروخت ،جسم فروشی ،جبری زنا وغیرہ کا کام جاری و ساری ہے۔ اس خدشے کو بھی کلیتاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ منظور شدہ بل کے ذریعے مالی مفادات سمیٹنا مقصود ہو کیونکہ جس انداز سے نئے ادارے قائم ہوں گے، افراد کو بھرتی کیا جائے گا، ڈونرز سے چندے وصول کیے جائیں گے اس سب سے "اصل مسئلہ" حل ہو یا نہ ہو البتہ کچھ تحقیقی اداروں، این جی اوز اور سرکاری افریان کے مالی مسائل ضرور حل ہوجائیں گے۔ 

ڈاکٹر ممتاز احمد اور ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کا سفر آخرت

مولانا سید متین احمد شاہ

ڈاکٹر ممتاز احمد کا سانحہ ارتحال

30 مارچ 2016 کو اسلامی یونی ورسٹی کے سابق صدر اور ادارہ اقبال براے تحقیق ومکالمہ (IRD) کے سربراہ ڈاکٹر ممتاز احمد انتقال کر گئے۔ آپ کی پیدائش 1942ء/ 1943ء میں گوجر خان ضلع راول پنڈی میں ہوئی۔گورنمنٹ ہائی سکول حضرو ضلع اٹک سے 1957ء میں میٹرک کیا اور گوجر خان سے انٹرمیڈیٹ کر کے کراچی چلے گئے اور جماعت اسلامی کے ادارے معارفِ اسلامی سے وابستہ ہو گئے۔ کراچی یونی ورسٹی سے بی اے اور ایم اے سیاسیات میں کیا۔1965ء میں سرکاری ادارے نیپا (NIPA) سے وابستہ ہوئے۔1969ء میں بیروت کی امریکی یونی ورسٹی سے یک سالہ وظیفہ ملا جہاں Islamic Attitude Towards Modernization کے موضوع پر مقالہ لکھ کر ایم اے کیا۔ شکاگو یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا اور پھر زندگی کا زیادہ تر وقت امریکا ہی میں گزرا۔ کولمبیا کالج، شکاگو اسٹیٹ یونی ورسٹی اور ورجینیا کی ہمپٹن یونی ورسٹی میں تدریس کی خدمات سرانجام دیں۔ آپ اسلامی یونی ورسٹی کے صدر بھی رہے اور ادارہ اقبال براے تحقیق ومکالمہ (IRD) کے سربراہ بھی۔ مؤخر الذکر ذمے داری وہ آخر تک نبھاتے رہے۔ آخری عمر میں آپ کے گردے ناکارہ ہو گئے تھے اور یہی ان کا مرضِ وفات ثابت ہوا۔
ڈاکٹر ممتاز احمد ایک صاحبِ نظر دانش ور اور اردو وانگریزی میں یکساں مہارت کے ساتھ لکھنے والے باکمال مصنف تھے۔ آپ نے نو کتابیں اور کئی تحقیقی مقالات تحریر کیے جو عالمی سطح کے معیاری مجلات میں اشاعت پذیر ہوئے۔ آپ عالمی سیاسی مسائل اور دنیا کی فکری و علمی حرکیات سے باخبر رہنے والی شخصیت تھے۔ برصغیر پاک وہند میں دینی و عصری نظامِ تعلیم کے مسائل و مباحث پر آپ کی نظر گہری تھی۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (جن کی وفات کا سانحہ بھی اس کے بعد جلد ہی پیش آگیا) نے ان کی وفات پر ایک تعزیتی جلسے میں کہا کہ اپنی وفات سے پہلے ڈاکٹر ممتاز احمد نے مغربی فکروفلسفے کے بعض اہم مباحث پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان پر ابھی تک توجہ نہیں ہو سکی ہے۔ 
اپنے اخلاق وخصائل میں وہ ایک پرجوش انسان تھے۔ جوہر قابل کی قدر دانی اور اپنے ماتحت کے ساتھ خوئے دل نوازی کا معاملہ ان کی اعلیٰ خوبیاں تھیں۔علما اور اہل دین سے محبت رکھنے والے انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے اور اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین

ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کا سفر آخرت

بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کو ڈاکٹر ممتاز احمد کی وفات کے بعد جلد ہی نامور اسکالر پروفیسر ایمریطس ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کی وفات (24اپریل 2016ء) کا سانحہ برداشت کرنا پڑا۔
آپ 27دسمبر 1932ء کو مولانا ظفر احمد انصاری کے گھر پیدا ہوئے جو قیامِ پاکستان اور تحریک آزادی کے ایک سرگرم کارکن تھے۔ تحریک کے صف اول کے قائدین قائد اعظم، نواب زادہ لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین اور سردار عبدالرب نشتر جیسے حضرات کے ساتھ آپ کے قریبی تعلقات تھے۔ تحریک پاکستان میں مولانااشرف علی تھانوی کے خلفا نے جو حصہ لیا تو جمعیت علمائے اسلام کی تشکیل وتاسیس میں مولانا ظفر احمد انصاری بھی شامل تھے۔ پاکستان بننے کے بعد قراردادِ مقاصد کی تسوید میں آپ کا مرکزی کردار تھا۔ اس کے علاوہ ملک وملت کی خدمت میں مولانا انصاری کئی کلیدی مناصب پر کام کرتے رہے۔ 
ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کو اپنے باکمال والد کی خوبیوں کا حظ وافر عطا ہوا تھا۔ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت سے وابستہ رہے اور پروفیسر خورشید احمد، خرم جاہ مراد، ڈاکٹر اسرار احمد اور دیگر کئی لوگ آپ کے ہم عصر تھے۔ آپ نے جامعہ کراچی میں بھی تعلیم حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم میں پی ایچ ڈی میکگل یونی ورسٹی مونٹریال کینیڈا سے 1966ء میں کیا۔ آپ کا پی ایچ ڈی کا مقالہ The Early Development of Fiqh in Kufah with special reference to the works of Abu Yusuf and Shaybani (کوفہ میں فقہ کا ابتدائی ارتقا: ابو یوسف اور شیبانی کی تصانیف کا خصوصی مطالعہ) کے عنوان سے تھا۔ آپ نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز پرنسٹن یونی ورسٹی امریکا کے شعبہ مطالعاتِ شرقی میں وزٹنگ استادکی حیثیت سے کیا۔تب سے آپ نے کنگ عبدالعزیز یونی ورسٹی جدہ، یونی ورسٹی آف میلبورن آسٹریلیا، میکگل یونی ورسٹی کینیڈا، یونی ورسٹی آف شکاگو اور بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد جیسی بڑی بڑی یونی ورسٹیوں میں علومِ اسلامیہ اور تاریخ کے استاد کی حیثیت سے تدریسی فرائض سرانجام دیے۔ آپ انگریزی، اردو، عربی، فرانسیسی اور فارسی زبانوں پر قدرت رکھتے تھے۔
1988ء سے آپ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ یہاں آپ نے ادارے کے عالمی شہرت یافتہ مجلے Islamic Studies کی ادارت کا طویل عرصہ کام کیا اور اس کے معیار کو خوب سے خوب تر کی طرف لے جانے میں ان تھک محنت کی۔ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کے رفقا کا کہنا ہے کہ بعض اوقات آپ نے کسی مقالے کے مسودے کو بیس مرتبہ نظر سے گزارنے کا جاں گداز کام بھی کیا ہے۔ اتنی محنت کے باوجود اگرچہ مقالہ جات مصنف ہی کے نام سے شائع ہوتے ہیں ، لیکن اس تزیین گلستاں میں مدیر کی محنت کی حیثیت باغباں کے جڑوں کو دیے گئے پانی کی سی ہوتی ہے جو نظر تو نہیں آتا، لیکن درختوں کی ہریالی اور اس کے شگفتہ پھولوں کی خوشبو اسی باغباں کے خونِ جگر کی مرہونِ احسان ہوتی ہے۔ اس مجلے کی ادارت کے علاوہ آپ دنیا میں کئی تحقیقی مجلات کے مشاورتی بورڈ کے بھی رکن تھے۔ آپ کا سب سے قابل قدر کام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ کا انگریزی ترجمہ ہے۔ 
UNESCO نے ایک اسلامی انسائیکلوپیڈیا کا منصوبہ چھے جلدوں میں شروع کیا جس کی پہلی جلد The Foundations of Islam کے آپ شریک مدیر تھے اور اپنی وفات سے چند مہینے پہلے اسے مکمل کیا۔ کینیڈا میں مقیم ڈاکٹر مظفر اقبال Brill کے Encyclopedia of the Quran کے جواب میں مسلم نقطہ نظر سے Integrated Encyclopedia of the Quran کی اشاعت کا کام کر رہے ہیں جس میں پوری مسلم دنیا کے اعلیٰ سطح کے اہل علم شریک ہیں۔ ڈاکٹر انصاری بھی اس پراجیکٹ کا حصہ تھے۔ اس کے علاوہ انگریزی میں آپ کی کئی کتابیں اور اعلیٰ سطح کے علمی مقالات یادگار ہیں۔ ان مقالات کا تین جلدوں پر مشتمل ایک مجموعہ ادارہ اقبال براے تحقیق ومکالمہ (IRD) (اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد) سے اشاعت کے مراحل میں ہے۔ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی سے وابستگی کے دوران میں آپ نے انگریزی میں کئی علمی کتابیں شائع کروائیں جو اپنے موضوعات پر عمدہ حوالے کا درجہ رکھتی ہیں۔
اپنے اعلیٰ ترین علمی کمالات کے باوجود ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری شفقت اور تواضع کا ایک ایسا مجسمہ تھے جس کی نظیر اب رخِ زیبا کا چراغ جلا کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ اپنے رفقا کی عزت، ان کی علمی اور فکری تربیت کی غرض سے مطالعے کے لیے علمی کتابوں کی تجویز، لکھنے کے لیے موضوعات کی نشان دہی، چھوٹے سے کام پر بلند الفاظ میں حوصلہ افزائی جیسی خوبیاں ہر اس انسان کی یادداشت کا عمدہ سرمایہ ہے جسے ڈاکٹر انصاری کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا تجربہ ہوا ہو۔ شدید پیرانہ سالی اور ضعف کے عالم میں بھی فیصل مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے تشریف لاتے تھے۔ بعض اوقات کسی معمولی مسئلے میں بھی احتیاط اور ورع کے پیش نظر اپنے رفقا سے فقہی مسئلہ جاننے کی کوشش کرتے تھے جس کی طرف عام افراد کی توجہ بھی نہیں جاتی۔
علم وتحقیق کے میدان میں قحط اور کم یابی بلکہ نایابی کے اس دور میں ڈاکٹر انصاری ایک ابر نیساں تھے۔ افسوس کہ یہ ابر برس کر اب ہمیشہ کے لیے تھم گیا۔

’’فقہائے احناف اور فہم حدیث۔ اصولی مباحث‘‘

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

حال ہی میں جناب پروفیسر عمار خان ناصر کی کتاب "فقہائے احناف اور فہمِ حدیث۔ اصولی مباحث" کتاب محل لاہور سے طبع ہوکر آئی ہے۔ کتاب اس کش مکش کو حل کرنے کی کوشش ہے جو برصغیر میں حنفی مدارس کے درسِ نظامی کے ہر ذہین طالب علم کو پیش آتی ہے کہ اگر صحاحِ ستہ کے اس ذخیرہ احادیث پر جو داخل نصاب ہے اور جن میں سے بعض کتب کو اَصح الکتب قرار دیا جاتا ہے، احکامِ شرعیہ کا مدار ہے تو حنفی فقہ کے حدیث سے مستنبط ہونے پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہے اور اگر حنفی فقہ کی زیرِ تدریس کتب میں مذکور ادلہ مستند ہیں تو کیا عقل و قیاس کی اساس پر صحیح احادیث سے صرفِ نظر کیا جاسکتا ہے یا صحیح اور مستند ترین روایات پر دوسرے اور تیسرے درجے کی کتب احادیث کی روایات کو ترجیح دی جاسکتی ہے؟ اس کش مکش کے نتیجے میں یا تو فقہ حنفی کا یہ دعویٰ مخدوش معلوم ہونے لگتا ہے کہ اس کی بنیاد کتاب اللہ کے بعد سنت نبوی پر ہے یا یہ خیال پختہ ہونے لگتا ہے کہ احادیث کے اخذ و قبول میں حنفیہ مخصوص انتخابی رجحان کے حامل ہیں۔
اس کش مکش کا اصل سبب یہ ہے کہ مدارس میں داخل نصاب کتب احادیث کی تفہیم اور ان سے استدلال کے لیے جو اصولِ حدیث پڑھائے جاتے ہیں، وہ ان اصول سے مختلف ہیں جن کی اساس پر داخل نصاب کتب فقہ کی تدوین کی گئی ہے۔ اس تضاد کی وجہ سے طلبہ کے ذہن میں یہ تصور جاگزیں ہوجاتا ہے کہ حنفی فقہ اور احادیث میں یکسانی کا فقدان ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ حنفی مدارس میں جو اصولِ حدیث کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، وہ حنفیہ کے نہیں بلکہ محدثین کے اصول بیان کرتی ہیں اور طلبہ موقوف علیہ اور دورہ حدیث کے دوران احادیث کو اْنہیں اصول پر پرکھنے کی مہارت بہم پہنچاتے ہیں۔ حنفیہ کے اصولِ حدیث مختلف ہیں لیکن وہ تدریس حدیث کے مقدمہ کے طور پر نہیں بلکہ اصولِ فقہ میں ضمناً پڑھائے جاتے ہیں اور ان کی مناسب تطبیقی مشق بھی نہیں کرائی جاتی۔ اگر اصولِ حدیث کی تدریس کے دوران صرف محدثین کے اصول پڑھانے کی بجائے حنفیہ اور محدثین دونوں کے اصول کی نہ صرف تدریس بلکہ مْقارنہ کرکے ثمرۂ اختلاف اور نتائج سے متعارف کروایاجائے تو یقیناًطلبہ ذہنی کش مکش میں مبتلا ہونے کی بجائے دورانِ تعلیم ہی یک سْو ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں مدارس میں حدیث کی تدریس کا انداز اس طرح کا اختیار کیا جاتا ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ایک صحیح حدیث کے مقابلے میں مناظرانہ جوابات کے انبار لگادیے گئے ہیں۔ ہر چند کے اساتذہ دورانِ بحث یہ باور کرتے ہوں گے کہ انہوں نے درجنوں اور بیسیوں جوابات قلم بند کروادیے ہیں، لیکن طلبہ کے ذہن سے یہ بات نہیں کھرچی جاسکتی کہ صحیح احادیث کو مصنوعی جوابات سے رد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس ساری صورت حال کا واحد سبب یہ ہے کہ مدارس میں حنفیہ کے اصولِ حدیث کی تدریس کا مستقلاً اہتمام نہیں ہے، ورنہ بلاشبہ جس طرح فقہ حنفی کی اساس باقی تمام مذاہبِ فقہیہ کی بہ نسبت زیادہ علمی، فکری، عملی اور بین الاقوامی رجحان کی حامل ہے، اسی طرح حنفیہ کے اصولِ حدیث اس نوعیت کے ہیں کہ تاریخ کے طویل ادوار کی منظّم تحریکیں اور حجیت سنت کے خلاف ہونے والی علمی اور فکری محاذ آرائی نے انہیں سرمو متاثر نہیں کیا۔
اکثر محدثین کے برعکس حنفیہ نے شروع ہی سے حدیث اور سنت میں واضح خطِ امتیاز کھینچ کر حدیث کو نہیں بلکہ سنت کو حجت قرار دیا اور سنت کی بنیاد اسناد و متون پر رکھنے کی بجائے تعامل اور تواتر عملی پر رکھی۔ نیز سنت میں تشریعی اور غیر تشریعی کی تقسیم کرتے ہوئے سنت کو کتاب اللہ کی تبیین و تفسیر قرار دیا۔ چنانچہ انہوں نے بجاطور پر یہ نقطہ نظر اختیار کیا کہ تشریعی سنن کا بیان اور ان کے مطابق سماج کی تشکیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی طرح فرضِ منصبی تھا جیسے تعلیم کتاب و حکمت۔ پس حنفیہ اور مالکیہ نے اپنے مذاہب فقہیہ کے لیے تقریباً سارہ ذخیرۂ سنن_متون اور ان کی معاشرتی تطبیق_ کھنگال کر اپنے مذاہب مدون کیے۔ یہی وجہ ہے کہ جن سنن کو اولین ائمہ مجتہدین نے اپنا مستدل قرار دے کر ان پر اپنے مذاہب کی بنیاد رکھی، بعد کے کسی مؤلف کی بیان کردہ اسناد کی اساس پر انہیں چیلنج کرنے کو اہل علم نے کبھی درست قرار نہیں دیا۔
اگرچہ محدثین نے احادیث کی جمع و تدوین اور ان کی ہر نوع کی جانچ پرکھ کے حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تشریعی احادیث کی نہ صرف جمع و تدوین کا کام محدثین کی کاوشوں کے آغاز سے پہلے ہی فقہاء مکمل کر چکے تھے بلکہ ان کو مدارِ استدلال بنا کر اپنے مذاہب فقہیہ بھی مدون کرچکے تھے۔ یہ محدثین ہیں جنہیں فتنہ وضعِ احادیث کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اس کے مقابلے کے لیے جرح و تعدیل اور اسماء الرجال کی عظیم الشان لائبریری تشکیل دے دی لیکن یہ چیلنج ائمہ مجتہدین بالخصوص حنفیہ و مالکیہ کو پیش نہیں آیا کیوں کہ وہ اپنے مذاہب کی بنیاد سنن متداولہ پر رکھ چکے تھے اور کوئی موضوع حدیث سنن متداولہ کو چیلنج نہیں کرسکتی تھی۔
ماضی قریب میں جن مستشرقین نے حدیث کو موضوعِ بحث بنایا، ان میں گولڈ زیئر Goldzeihr اور شاخت Schacht کو مغرب میں اس قدر اہمیت حاصل ہوئی کہ ان کے منہجِ تحقیق کو موضوعِ بحث بنانا "توہین اکابر" کے زْمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے جزوی روایات اور واقعات سے کلی نتائج اخذ کرتے ہوئے یہ نقطہ نظر اختیار کیا کہ:
۱۔ سلسلہ سند کا آغاز پہلی صدی کے اختتام اور دوسری صدی کے شروع میں ہوا، اس سے پہلے نہیں تھا۔
۲۔ محدثین نے متونِ حدیث کی نقد کا کام نہیں کیا، اس لیے کئی احادیث عقل کے خلاف ہیں۔
۳۔ جس طرح متن وضع کرنا آسان تھا، سند وضع کرنا اس کی بہ نسبت زیادہ آسان تھا۔
۴۔ سیاسی اور کلامی اختلافات کے عہد میں متون بمع اسناد وضع کیے گئے۔
۵۔ شاخت کے بقول مذاہب فقہیہ کے ابتدائی دور میں فقہی اقوال علماء و فقہاء کی طرف منسوب کیے جاتے تھے اور ان کے مآخذ مقامی قوانین اور رسوم و رواج تھے۔ان اقوال کو احادیث نبویہ کا درجہ بعد میں دیا گیا اور ان کو مستند بنانے کے لیے سند متصل وضع کی گئی۔ جہاں کہیں مکمل، متصل سند موجود ہوگی، وہاں وضع کا احتمال زیادہ ہوگا اور اگر یہ معلوم کرنا ہو کہ یہ روایت کس نے وضع کی ہے تو تمام سلسلہ ہائے اسناد سے مرکزی راوی معلوم کیا جائے، یہ اْسی کی کارستانی ہے۔ نیزسلسلہ ہائے اسناد کو متون کے ساتھ کیف مااتفق ملادیا گیا۔ بعد کے دور میں سلسلہ ہائے اسناد کو زیادہ مرتب اور مدون کیا گیا ور ان میں خالی جگہیں بھر دی گئیں۔
مستشرقین کے منہج تحقیق حدیث کو مغرب میں قبولیت عامہ حاصل ہوئی اور اسلامی دنیا میں بھی بہت سے لوگ اس سے متاثر ہوئے۔ اس کے ردِ عمل میں متعدد اسلامی سکالرز بالخصوص فواد سزگین، ڈاکٹر محمد حمیداللہ، ڈاکٹر مصطفی اعظمی اور ڈاکٹر حبیب الرحمن اعظمی نے مذکورہ بالا مفروضات کا تحقیقی جواب دیا، لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ مستشرقین کے یہ اعتراضات محدثین کے اصولِ حدیث پر وارد ہوتے ہیں۔ حنفیہ اور مالکیہ کے اصولِ حدیث پر ان سے کوئی آنچ نہیں آتی، کیوں کہ اگر یہ بات مان لی جائے کہ متداول کتبِ حدیث دوسری اور تیسری صدی کا کلچر تھا تو یہ وہی چیز ہے جسے امام مالک "من السنۃ" اور "الامر عندنا" کہہ کر تعبیر کرتے تھے اور یہی حنفیہ کا مستدل ہے اور یہ وہی کلچر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً رائج کردیا تھا۔
اس ساری صورت حال کا مداوا صرف اور صرف اس طریقے سے ہوسکتا ہے کہ حنفیہ کے اصولِ حدیث کو الگ سے اس طرح مدلل اور شستہ انداز میں بیان کیا جائے کہ تاریخ کا سارا گرد و غبار دْھل جائے۔ جناب پروفیسر عمار خان ناصر مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے دورِ حاضر کے احناف کے ذمے جو قرض تھا، اسے انتہائی علمی، مدلل، واضح اور شائستہ انداز سے ادا کردیا۔ لگ بھگ ایک سو صفحات میں حنفی منہجِ اجتہاد میں احادیث و آثار کی اہمیت پر گفتگوکی گئی اور یہ ثابت کیا گیاکہ حنفی مستدلات میں آثار و روایات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور مثالوں سے واضح کیا گیا کہ حنفیہ کے بارے میں یہ خیال غلط ہے کہ وہ قیاس کی بنا پر حدیث کو ترک کردیتے ہیں جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ حنفیہ نے نہ صرف احادیث بلکہ آثارِ صحابہ کو بھی مستدل قرار دیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ حنفیہ کی تحقیق اور رد و قبول حدیث کے معیار وہی ہیں جو فقہاء صحابہ کرام سے منقول ہیں اور اگر درایت کی بنا پر صحابہ کرام کا دوسرے صحابہ کرام کی بیان کردہ روایات کا ترک یا ان پر نقد قابل اعتراض نہیں تو وہی معیار حنفیہ نے اختیار کیاہے، ان پر تنقید کا کیا جواز ہے؟ کتاب کا یہ حصہ بہت اہم ہے جس میں صحابہ کے ایک دوسرے کی روایات قبول نہ کرنے کے واقعات و اسباب بیان کیے گئے ہیں۔ اس بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ایک دوسرے پر دانستہ دروغ گوئی کا الزام نہ لگانے کے باوجود وہم راوی اور فہم راوی کو زیر بحث لاکر بعض روایات کو رد کردیتے تھے۔
میرے خیال میں اس موضوع کے زیر عنوان اس امر پر بھی غور کرنا چاہیے جسے جصاص نے الفصول فی الاصول میں ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوہریرہرضی اللہ عنہ ایک ہی مجلس میں احادیث نبویہ اور وہب بن منبہ سے سنی ہوئی باتیں بیان کیا کرتے تھے اور ان کے شاگرد بعد میں انہیں روایت کرتے ہوئے انتساب نادانستہ گڈ مڈ کردیتے تھے۔ مزید براں اس حوالے سے بھی ایک جامع تحقیقی مطالعے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ فتنہ وضع حدیث کے عہد میں کہیں وضاعین نے مکثرین صحابہ کے اسماء کو اتصالِ سند کے لیے استعمال تو نہیں کیا یا طویل عمر پانے والے صحابہ کرام مثلاً حضرت انس رضی اللہ عنہ کی طرف ایسی احادیث تو منسوب نہیں کردی گئیں جن کی ان کی وفات کے بعد کسی دوسرے ذریعے سے تصدیق کا امکان نہیں تھا؟ مذکورہ بالا امور اس کے متقاضی ہیں کہ الصحابۃ کلہم عدول کے اصول کے تناظر میں اس نقد کی حدبندی کردی جائے تاکہ ہمارے دور میں پیدا ہونے والی شدت پسندی کا علمی اساس پر تدارک ہوسکے۔
کتاب کا تیسرا حصہ جو لگ بھگ سو صفحات پر مشتمل ہے، حدیث کی تعبیر و تشریح کے اصول پر مبنی ہے اور حنفی اصولِ حدیث کے حوالے سے سب سے اہم ہے۔
کتاب بلاشبہ اس امر کا استحقاق رکھتی ہے کہ اسے دینی مدارس اور رسمی جامعات کے علومِ اسلامیہ کے شعبوں میں درساً پڑھایا جائے۔ میرے خیال میں یہ کتاب امام جصاص کی "الفصول فی الاصول " سے اس اعتبار سے ہم آہنگ ہے کہ انہوں نے قرآنی احکام سے استدلال و استنباط کے لیے پہلے بطور مقدمہ ایک ضخیم کتاب تالیف کی اور انہیں اصول کی بنیاد پر احکام القرآن کی تدوین کی۔ اسی طرح یہ کتاب اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ان اصول کی بنیاد پر کتبِ سنن یا تشریعی احادیث پر حنفی اصولِ حدیث کے تناظر میں مفصل تحقیقی کام کیا جائے۔
میرے لیے یہ امر باعث مسرت ہے کہ اتنی گراں قدر علمی فکری اور تحقیقی کاوش پر برادر عزیز پروفیسر عمار خان ناصر کو ہدیہ تبریک پیش کروں۔

ایک سفر اور مولانا طارق جمیل سے ملاقات

محمد بلال فاروقی

۲۹ مارچ ۲۰۱۶ء کو العصر تعلیمی مرکز پیر محل میں اختتام بخاری شریف کی تقریب میں شرکت کی غرض سے استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ہمراہ براستہ فیصل آباد پیر محل کے لیے رخت سفر باندھا ۔ پہلا پڑاو فیصل آباد تھا جہاں جامعہ مدینۃ العلم کے سرپرست اور استاد گرامی کے قدیم رفیق مولانا قاری محمد الیاس سے ملاقات طے تھی۔ مولانا موصوف جمعیت علمائے اسلام کے پرانے راہ نما تھے، لیکن ۹۰ کی دہائی میں عملی سیاست سے کنارہ کش ہو کر امریکہ منتقل ہوگئے۔ وہاں ڈیٹرائٹ میں ایک تعلیمی ادارہ کی بنیاد رکھی جہاں حفظ و ناظرہ اور درس نظامی کی تعلیم دی جاتی ہے ۔نماز ظہر کے بعد استاذ محترم نے معروف ٹی وی چینل بزنسپلس کے لیے انٹرویو ریکارڈ کروایا جس میں روزنامہ اسلام کے سنئیر رپورٹر جناب ذکر اللہ حسنی بھی موجود تھے ۔ دونوں نمائندوں کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے استاد محترم نے کہا کہ لاہور کے گلشن اقبال پارک میں ہونے والا قومی سانحہ انتہائی تکلیف دہ ہے ۔اس قسم کے سانحات پوری قوم کو کرب کی کیفیت میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ استاذ محترم نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اس قسم کے واقعات کا تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر ہونا کیا ہماری اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان نہیں؟ ریاستی اداروں کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر حکمت عملی اپنانا ہوگی اور ہر معاملے پر بیرونی عوامل کو نظر انداز کر کے دینی مدارس کی طرف الزامات دہراتے رہنے کی روش کو ترک کرنا ہوگا۔
حقوق نسواں بل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ گذشتہ کئی عشروں سے مسلسل مسلمانوں اور مشرق کے خاندانی نظام کو توڑنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ مغرب آخر کیوں اپنے مسائل اور ماحول کی بنیاد پر بنائے جانے والے قوانین کو ہم پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ مغرب اور ہمارے لبرز کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ مغرب کا اور ہمارا پس منظر بالکل مختلف ہے اور یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ پاکستان کے کسی مسلمان کو اس بات پر آمادہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے خاندانی معاملات میں قرآن و حدیث کو مد نظر نہ رکھے ۔ یہ زمینی حقیقت ہے ۔جب تک آپ اس کو مدنظر رکھ کر قانون نہیں بنائیں گے، ہر قانون کا یہی حشر ہو گا اور اسی طرح کی بے چینی پھیلے گی۔
انٹرویو کے بعد پیر محل کے لیے روانہ ہوئے جہاں حضرت مولانا منیر احمد منور اور حضرت مولانا ارشاد احمد سے ملاقات ہوئی۔ میں نے مولانا منیر احمد کی خدمت میں استاذ گرامی مولانا عمار خان ناصر صاحب کی کتاب فقہائے احناف پیش کی اور تبصرہ فرمانے کی گذارش کی جسے انہوں نے بخوشی قبول فرمایا۔
رات کو ختم بخاری شریف کی تقریب کے بعد قیام وہیں رہا جبکہ دوسرے روز صبح کو فیصل آباد سے پیر محل جاتے ہوئے راستے میں علم ہوا کہ مولانا طارق جمیل اپنے گاؤں تلمبہ میں ہیں جو ہمارے راستہ میں ہے۔ چونکہ مولانا طارق جمیل پہلے اطلاع نہیں دے رکھی تھی، اس لیے ارادہ تھا کہ اگر ملاقات ہوگئی تو ٹھیک، ورنہ اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے اگلی منزل ملتان روانہ ہو جائیں گے۔ مولانا طارق جمیل کی رہائش گاہ پر پہنچے تو وہاں متعین خدام نے بھرپور ناشتے کا اہتمام کیا۔ کچھ ہی دیر بعد مولانا تشریف لائے اور آتے ہی فرمایا کہ آج تو ہماری عید ہوگئی۔ استاذ محترم نے بتایا کہ ملتان جارہے تھے تو سوچا آپ کی زیارت کرتے ہوئے جائیں ۔ 
مولانا طارق جمیل نے پوچھا کہ جامعہ نصرۃ العلوم میں بخاری شریف آپ ہی کے ذمہ ہے؟ تو استاذ محترم نے فرمایا کہ بس بڑوں نے ذمہ داری ڈال دی ہے۔اس پر مولانا نے فرمایا کہ جامعہ بغداد کے میں ایک صاحب کو شیخ الحدیث مقرر کیا گیا تو وہ چھپ گئے ۔جب انہیں ڈھونڈ کر مسند پر بٹھایا گیا تو انہوں نے شعر پڑھا:
خلت الدیارفسدت غیر مسود
ومن الشقاء تفردی بالسؤدد
اس پر استاد جی نے فرمایا کہ مولانا عبد اللہ درخواستی اس جملے کو کہ ’’کبرنی موت الکبراء‘‘ ( بڑوں کی موت نے ہم کو بڑا بنا دیا) کو اضافہ کے ساتھ یوں پڑھا کرتے تھے کہ ’’بڑوں کی موت نے ’ہم جیسوں‘  کو بڑا بنا دیا‘‘۔
مولانا طارق جمیل نے پوچھا کہ آپ کا الشریعہ کیسا چل رہا ہے تو استاذ محترم نے فرمایا کہ حسب معمول او ر حسب دستور اپنے مدو جزر کے ساتھ۔ استاذ محترم نے مولانا کی خدمت میں ’’ خطبات راشدی‘‘ جلد دوم اور ’’فقہائے احناف اور فہم حدیث‘‘ پیش کی تو مولانا نے بڑی حسرت سے فرمایا کہ مولانا ! مجھے تو اسفار اور ملاقاتوں نے بے حال کر رکھا ہے۔ اپنے لیے کوئی وقت ہی نہیں بچتا۔کہنے لگے، ۸۹ ء میں میرا پہلا حج تھا۔ اس سے پہلے میں رائیونڈ میں مقیم ہوتا تھا اور میرے سفر کوئی نہیں ہوتے تھے۔جب حج پر گیا توبیت اللہ میں مولانا فاروق صاحب( وہ چھوٹے حاجی عبدالوہاب صاحب ہیں ) سے ملاقات ہوئی ۔ان کے بڑے سفر ہوتے تھے ۔میں نے ان سے کہا کہ آپ تو بڑے خوش نصیب ہیں ۔آپ کے اتنے سفر ہوتے ہیں، میں تو رائیونڈ میں ہی پڑا رہتا ہوں ۔یہ عشاء کے بعد کا وقت تھا ۔انہوں نے مجھے کہا کہ طواف کرو اس کے دو نفل پڑو اور پھر اللہ سے دعا مانگوکہ یا اللہ! مجھے اپنے دین کے لیے سیار بنا دے ۔میں اٹھا ،طواف کیا دو نفل پڑھے اور دعا مانگی کہ یا اللہ ! مجھے اپنے دین کا سیار بنا دے ۔ بس وہ دعا ایسی قبول ہوئی کہ کبھی سفر سے پاؤں نکلا ہی نہیں۔ ایک ایک سال میں تیس تیس ملکوں کا سفر اللہ نے کروایا ۔اب وہ ہمت نہیں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے پوری دنیا میں پھرنا لکھا تھا اور شکر ہے کہ اس نے اپنے دین کی خدمت میں پھرایا ۔
مولانا طارق جمیل صاحب نے فرمایا کہ زمانے کے ساتھ ساتھ تجدید کی ضرورت تو ہوتی ہے ۔ استاذ محترم نے فرمایا کہتجدید رکتی نہیں، ہوتی رہتی ہے ۔کہہ کر کریں، تب اور نہ مان کر کریں، تب بھی۔ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم بغیر مانے تجدید کرتے رہتے ہیں۔ اجتہاد چلتا رہتا ہے، زمانے کے بدلنے سے احکامات بدلتے رہتے ہیں ۔ہمارا موقف یہ ہے کہ بھئی، یہ تجدید و اجتہا د بتا کر اور سمجھا کر کرو گے تو بہت سی الجھنوں سے بچ جاؤ گے، مگر یہ بات بہت سے حضرات کی سمجھ میں نہیں آ رہی۔
مولانا طارق جمیل سے رخصت ہو کر ہم جامعہ قادریہ حنفیہ ملتان پہنچے جہاں ادارے کے سربراہ مولانا محمد نواز اور مولانا عبد الجبار طاہر نے استقبال کیا ۔جامعہ میں ایک ہی دن میں دو تقریبات تھیں، جامعہ کے قدیم فضلاء کا کنونشن اور اختتام بخاری کی تقریب۔ مولانا زاہد الراشدی نے فضلاء سے اپنے خطاب کا آغاز ایک لطیفہ سے کیا کہ ’’ رشدی ‘‘ اور ’’ راشدی ‘‘ میں فرق ملحوظ رکھا جائے اور بتایا کہ ایک دفعہ میں اور مولانا سمیع الحق صاحب ملتان آئے تو کارکنان نے بھرپور استقبال کیا ۔ان دنوں سلمان رشدی کا قصہ چل رہا تھا۔ ہم آگے گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے اور پیچھے بہت سے کارکن زور زور سے نعرے لگا رہے تھے ’’راشدی کو پھانسی دو، راشدی کو پھانسی دو۔‘‘ جلوس جب منزل پر پہنچا تو میں اسٹیج پر گیا اور لوگوں سے پوچھا کہ بھئی ! میر ا کیا قصور ہے کہ تم لوگ دو گھنٹے یہ نعرے لگاتے رہے ؟ مجمع سے آواز آئی کہ وہ آپ کو نہیں، سلمان راشدی کو کہہ رہے ہیں۔ تو میں نے کہا کہ بھائیو! وہ راشدی نہیں، رشدی ہے۔
ماحول، حالات، اور زمانہ کے مطابق اسباب کو اختیار کرنا بہت اہم ہے، لیکن میں اس سے پہلے کی ایک بات عرض کرنا چاہوں گا کہ ان سب سے پہلے ضرورت اس امر کی ہے کہ زمانہ، ماحول اور حالات کو سمجھا جائے۔
ہماری بہت سی الجھنوں اور پریشانیوں کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں حالات کا ادراک نہیں ہوتا، ہم حالات کو پوری طرح سمجھتے نہیں۔ سطحی، ادھوری باتیں ہمارے ذہن میں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے پریشانی ہوتی ہے۔
ایسے ہی ایک مسئلہ ہمیں درپیش ہے کہ ہم سے اجتہاد کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ آپ اجتہاد کریں۔ ہم اس بات کو سمجھے بغیر کہ ان کے ہاں اجتہاد کا تصور کیا ہے، نور الانوار اور حسامی لے کر فقہی جزئیات سے جواب دینے لگتے ہیں جس سے بات سلجھنے کے بجائے مزید الجھ جاتی ہے۔ ہم سے اجتہاد کا مطالبہ کرنے والوں کے ذہن میں اجتہاد کے دو مختلف تصور ہیں۔ ایک یہ کہ جیسا کہ عیسائیوں کے ہاں پاپائے روم کو دین عیسوی میں حلال و حرام کا صوابدیدی اختیار حاصل ہے، ایسے ہی شاید ہمارے علماء کو بھی اس طرح کا صوابدیدی اختیار حاصل ہے، لیکن یہ استعمال نہیں کرتے ۔اس پر وہ پریشان ہوتے ہیں کہ اختیار حاصل ہونے کے باوجود اس کو استعمال نہیں کرتے۔ تیس پینتیس قبل رمضان سخت گرمیوں میں تھا تو اس زمانہ میں ایک دانشور کا کالم ’’ اجتہاد ‘‘ کے عنوان سے شائع ہو ا۔اس کالم میں علماء سے درخواست کی گئی کہ رمضان سخت گرمی میں آرہا ہے اور اس شدید گرمی میں بھٹے پر کام کرنے والے مزدور اور مونجی کاشت کرنے مزدور کے لیے روزہ رکھنا انتہائی مشکل ہے، لہٰذا علماء مشورہ کرکے اجتہاد کریں اور رمضان کو کسی ایک مہینہ میں خاص کر دیں اور ساتھ ہی تجویز دی کہ اگر رمضان کو فروری کے مہینے میں مقرر کر دیا جائے تو دو فائدے ہوں گے۔ایک یہ کہ رمضان معتدل موسم میں آجائے گا اور دوسرا عید کے چاند کا جھگڑا ختم ہو جائے گا۔یہ ان کے ہاں اجتہا د کا تصور ہے۔ میں نے جواب میں کالم لکھا کہ بھئی، آپ تیسرا فائدہ بھول گئے ہیں کہ تیسویں روزہ کی بات ہی ختم ہو جائے گی۔تین سال اٹھائیس اور ایک سال انتیس روزے رکھنے پڑیں گے۔
میں ایسے دوستوں سے عرض کرتا ہوں کہ بھیا، ہمیں پاپائے روم کی طرح اس قسم کو کوئی صوبدیدی اختیار نہیں ہے۔ ہم تو نصوص کے پابند ہیں اورنصوص صریحہ وقطعیہ میں کسی قسم کے رد وبدل کا اختیار نہیں رکھتے۔ 
بہت سے لوگوں کے ذہن میں اجتہاد کا دوسرا تصور بھی ہے اور وہ بھی عیسائیوں سے مستعار لیا گیا ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ نے پاپائے روم کے اس صوابدیدی اختیار کو چیلنج کیا اور اس بات کا نعرہ لگایاکہ ’’ کامن سینس‘‘ پر فیصلے ہوں گے، بائبل کی تشریح میں پوپ کی اتھارٹی حتمی نہیں ہے۔ اب چونکہ سوسائٹی کی کامن سینس کی نمائندگی پارلیمنٹ کرتی ہے، لہٰذا یہ موقف اختیار کیا گیا کہ پارلیمنٹ کو مذہب کی تشریح کی اجازت ہونی چاہیے۔جب شریعت بل کی تحریک چل رہی تھی تو نوائے وقت کے زیر اہتمام ایک سیمینار میں مختلف حضرات کا کہنا تھا کہ ہم قرآن و سنت کو سپریم لا مان لیتے ہیں، لیکن اس کی تشریح کا اختیار پارلیمنٹ کو ہونا چاہیے۔ جب میری باری آئی تو میں نے کہا کہ بالکل درست ہے۔ پارلیمنٹ کو مذہب کی تشریح کا اختیار دے دینا چاہیے۔ بس میری ایک شرط ہے، وہ یہ کہ پارلیمنٹ کی رکنیت کی اہلیت کے لیے وہ شرائط مقرر کی جائیں جو قرآن وسنت کی تعبیر اور اجتہاد کے لیے ضروری ہیں ۔ ہم سے اجتہاد کا مطالبہ کرنے والوں کا ایک تصور اجتہاد یہ ہے اور ہمیں اجتہاد کے اس مطالبہ کا ان امور کو سامنے رکھ کر جواب دینا ہوگا۔
رات کو جامعہ قادریہ کا سالانہ عمومی جلسہ تھا جس میں استاذ محترم نے ملک کی عمومی صورت حال اور عالمی فکری وتہذیبی کشمکش کے حوالے سے مفصل خطاب کیا اور اس کے بعد ہم گوجرانوالہ کے لیے روانہ ہو گئے۔