جدید معاشرہ اور اہل مذہب کی نفسیات
محمد عمار خان ناصر
اہل دین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ انبیا کی نیابت کرتے ہوئے دین کے پیغام کو معاشرے تک پہنچائیں، دین کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں اور شکوک وشبہات کو دور کریں اور دینی واخلاقی تربیت کے ذریعے سے معاشرے کو درست نہج پر استوار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی کا سب سے بنیادی تقاضا یہ ہے کہ اپنے معاشرے اور ماحول کے لیے اہل دین کا رویہ سر تا سر ہمدردی اور خیر خواہی پر مبنی ہو اور اس میں حریفانہ کشاکش اور طبقاتی وگروہی نفسیات کارفرما نہ ہو۔ انسانی معاشرے میں یہ کردار ادا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اصلاً انبیا اور رسولوں کو مبعوث کیا اور انھی کی سیرت وکردار اس سلسلے میں نمونے اور آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس تناظر میں اگر ہم اپنے معاشرے میں علمائے دین اور مذہبی طبقات کے کردار کا جائزہ لیں تو ہمارے سامنے ایک ایسی نفسیات ابھر کر آتی ہے جس کی تشکیل داعیانہ ہمدردی اور انسانی خیر خواہی کے زیر اثر نہیں، بلکہ طبقاتی مخاصمت اور حریفانہ کشاکش کے اصول کے تحت ہوئی ہے۔ اہل مذہب اور معاشرے کے دیگر طبقات کے مابین ایک گہرا ذہنی ونفسیاتی بعد پایا جاتا ہے۔ مذہب سے وابستہ طبقوں اور معاشرے کے مابین اجنبیت کی ایک دیوار حائل دکھائی دیتی ہے اور ارباب مذہب کی فکر اور حکمت عملی میں اصلاح کے ہمدردانہ اور داعیانہ جذبے کے بجائے شکوہ شکایت اور تنافر کا عنصر بالعموم غالب ہوتا ہے۔ گرد وپیش کے ناسازگار ماحول کے خلاف اس نفسیاتی رد عمل کا اظہار ہمیں اہل مذہب کے رویوں میں مختلف پہلووں سے دیکھنے کو ملتا ہے۔
مثال کے طور پر معاصر مذہبی ذہن اپنے اظہار کے سانچوں میں رنگا رنگی اور تنوع کے باوصف، مجموعی حیثیت سے ایک ہی ذہنی رویے کی نمائندگی کرتا اور معاشرے میں اسی کو پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ رویہ معاشرے سے گریز اور فرار (escapist attitude) اور معاشرے کے دوسرے طبقات سے اجنبیت اور بے گانگی کا رویہ ہے۔ ان میں سے جن عناصر کی penetration ہر طرح کے طبقات میں ہے، ان کے پاس بھی معاشرے میں رہ کر مثبت طور پر مواقع اور امکانات کو دریافت کرنے اور اپنا کردار ادا کرنے کا نہیں، بلکہ عموماً معاشرے سے ہٹ کٹ کر ایک خاص روحانی ماحول میں تسکین پانے ہی کا پیغام ہے۔
اسی طرح اختلاف اور تنقید کے حوالے سے اہل مذہب ’علمی رویے‘ کے تصور سے، بالعموم، ناآشنا ہو چکے ہیں۔ علمی رویے کے تحت کسی بھی مسئلے کو نہایت ہم دردی اور معروضیت کے ساتھ اس کی علمی بنیاد میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اگر اس میں کوئی سقم نظر آئے تو علمی دلائل ہی کے ساتھ اس کی غلطی کو واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم موجودہ مذہبی ذہن مخالف نقطہ ہائے نظر کے فکری وذہنی پس منظر کو سمجھے بغیر اور ان کو استدلال سے متاثر کرنے کے بجائے ’’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘‘ کی نفسیات کے تحت تحکم کے انداز میں اپنی رائے اس پر ٹھونسنے کی کوشش کرتا ہے۔
تحفظاتی نفسیات کے زیر اثر مذہبی طبقات نے وسیع تر علمی وفکری استفادے کو اپنے ہاں شجرممنوعہ کی حیثیت دے رکھی ہے۔ جدید علمی وفکری مسائل کا تجزیہ اور ان کے حوالے سے معاشرے کی راہ نمائی سرے سے موجودہ دینی تعلیم کا نظام کا مسئلہ ہی نہیں۔ اہل مذہب کا مطمح نظر اس نظام سے صرف یہ ہے کہ وہ معاشرے اپنی space کو محفوظ رکھیں اور ایک سماجی طبقے طورپر اپنی حیثیت منوانے اور اپنے دائرۂ اثر کو وسیع تر اور پائیدار بنانے کی جدوجہد کرتے رہیں۔ اس کے لیے معاشرے میں مذہب کے ساتھ ایک عمومی وابستگی اور اس کی بنیاد پر ملنے والی تائید وحمایت انھیں پیش نظر مقصد کے لیے کافی محسوس ہوتی ہے، جبکہ معاشرے کو علم وعقل اور اخلاقی تربیت کے میدان میں جن سوالات کا سامنا ہے، وہ اہل مذہب کی توجہ سے خارج ہیں۔ یہ نظام پورے معنوں میں ایک گروہی، حزبی اور طبقاتی نفسیات کی نمائندگی کرتا ہے اور اس کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے ہر مذہبی طبقہ فکر اس کو ضروری سمجھتا ہے کہ وہ اپنے وابستگان کے علمی وفکری استفادے کو ایک خاص دائرے کا پابند رکھے اور چند مخصوص فکری ترجیحات اور علمی شخصیات سے ہٹ کر، جو اس طبقہ فکر کے جداگانہ فکری تشخص کی علامت ہیں، ان کے لیے اخذ واستفادہ کا دروازہ بند رکھا جائے۔
اہل مذہب کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ اس صورت حال کے پیدا ہونے کی ذمہ داری کافی حد تک خود ان پر عائد ہوتی ہے۔ علم کلام اور فقہ وشریعت کے دائروں میں نئے پیدا ہونے والے مباحث کے حوالے سے علمی خلا کو موثر طریقے سے پر کرنے سے صرف نظر کا رویہ آخر کس نے اختیار کیے رکھا؟ اگر ان کے اس اعراض کے نتیجے میں بعض نئے فکری طبقات کو آگے بڑھنے اور اس میدان میں اپنی جگہ بنانے کا موقع ملا ہے تو کس بنیاد پر ان طبقوں سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ روایتی اہل مذہب کے بالمقابل تعبیر دین کے حق سے دست بردار ہو جائیں ؟
روایتی مذہبی طبقے نے مغربی فکر وتہذیب کے چیلنج کے نمودار ہونے کا نہ پیشگی اندازہ کیا اور نہ اس کے لیے کسی قسم کی تیاری کی ضرورت محسوس کی، بلکہ جب یہ چیلنج اپنے تمام تر مضمرات سمیت ان کے سامنے آکھڑا ہوا تو بھی وہ، اپنی علمی وذہنی حالت کے پیش نظر، اس سے مسلسل صرف نظر کرتا رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عقائد وکلام سے لے کر تعلیم ومعاشرت اورمعیشت اور تہذیب کے دائروں میں پیدا ہونے ان گنت نئے مباحث میں داد تحقیق دینے کے لیے روایتی علمی طبقہ سے باہر کے کچھ لوگ متوجہ ہوئے اور انہوں نے اپنے اپنے ذوق اور فہم وفراست کے مطابق ان سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دین کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے اہل علم کے روایتی طبقہ کو ماضی میں جو بلاشرکت غیرے (Exclusive) مرجعیت حاصل تھی، وہ ختم ہو گئی۔ ان کی حیثیت اب اس میدان کے ’’ایک‘‘ فریق کی ہو گئی جسے اپنی تعبیر دین، بہرحال، ایک ’’تعبیر‘‘ ہی کی حیثیت سے پیش کرنی اور استدلال ہی کے زور پر مخالف تعبیرات پر تنقید کرنی ہے۔ تاریخی، تہذیبی، معاشرتی اور علمی لحاظ سے طبقہ علما کو جو برتری ماضی میں حاصل تھی، اس کے کھو جانے کے بعد اب علمی استدلال کی قوت ہی ان کا واحد سہارا ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن طبقہ علما اس پوزیشن کو قبول کرنے کے لیے نفسیاتی طور پرتیار نہیں۔
امر واقعہ یہ ہے کہ مختلف عوامل کے نتیجے میں ایک نیا پراسس شروع ہو کر ملت کے فکری دھارے میں شامل ہو چکا ہے اور قدیم وجدید کی یہ فکری Polarityاب تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ نظری طور پر بے شک یہ بحثیں اٹھائی جا سکتی ہیں کہ فقہ واجتہاد کی مطلوبہ علمی شرائط کیا ہیں اور تعبیر دین کا اختیار مانگنے والے نئے فکری طبقات ان کو پورا کرتے ہیں یا نہیں، لیکن تاریخ کا جبر اس استدلال کو وزن دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ کوئی بھی تعبیر دین، خواہ وہ علما کی نظر میں کتنی ہی غلط، بے بنیاد اور مسلمات کے خلاف کیوں نہ ہو، اگر اسے معاشرے کے فہیم طبقات میں پذیرائی حاصل ہے تو محض علما کی خواہش یا مطالبے پر اسے نابود نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ اس نئی صورت حال کو شعوری طور پر قبول کرنا، اپنے آپ کو نفسیاتی طور پر اس سے ہم آہنگ کرنا اور سنجیدہ علمی مزاج کو اجتماعی طور پر اپنے اندر پروان چڑھانا ہی بہتری اور اصلاح حال کے لیے کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ نکتہ بھی اہل مذہب کے سنجیدہ غور وفکر کا مستحق ہے کہ اگر دین کی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں میں غزالی، ابن رشد، ابن تیمیہ، ابن خلدون، ابن عربی اور شاہ ولی اللہ کی سطح کے مفکرین پیدا ہوں جو علم وعقل کے میدان میں درپیش چیلنج سے نبرد آزما ہو سکیں تو ظاہر ہے کہ وہ ان فکری قدغنوں کے ماحول میں پیدا نہیں ہو سکتے جہاں تقلید آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہو اور اجتہاد اور آزادئ فکر کو طعنے بلکہ گالی کا درجہ دے دیا جائے۔ یقیناًآزادئ فکر میں خطرات بھی ہیں، لیکن یہ خطرہ تو مول لینا ہی پڑے گا کیونکہ یہ قیمت ادا کیے بغیر اعلیٰ سطح کی وہ فکری وتخلیقی دانش پیدا نہیں کی جا سکتی جس کا فقدان اس وقت بانجھ پن کی حدوں کو چھو رہا ہے۔
علما کو یہ حقیقت بھی سمجھنا ہوگی کہ ماضی میں انھیں حاصل معاشرتی قدر ومنزلت اور مرجعیت کوئی خدائی استحقاق نہیں بلکہ اس حقیقت کا نتیجہ تھی کہ معاشرے کے عوام وخواص کو ان کی علمی لیاقت اور فہم وبصیرت پر اعتماد تھا اور وہ اپنے دور کے علمی وعملی سوالات کا ادراک کرنے اور ان کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہ نتیجہ اب بھی اس شرط کو پورا کیے بغیر ممکن نہیں۔ علما اگر اپنے علم وفہم کا معیار بہتر کریں گے، جدید ذہن کے سوالات اور جدید معاشرے کے مسائل کا ادراک کریں گے اور علم وفکر کی سطح پر معاشرے کی قیادت کی اہلیت اپنے اندر پیدا کریں گے تو انھیں وہ احترام اور وقار خود بخود حاصل ہو جائے گا جس کے حاصل نہ ہونے کے وہ اس وقت شاکی ہیں۔ ان میں سے اس معیار پر پورے اترنے والے اہل علم کو انفرادی سطح پر یہ مقام اب بھی حاصل ہے۔ وہ اگر بحیثیت طبقے کے اس کے خواہاں ہیں تو اس کے تقاضوں کو بھی پورے طبقے ہی کی سطح پر پورا کرنا ہوگا۔
مذہبی طبقے کو اس حقیقت کو بھی پوری طرح مد نظر رکھا ہوگا کہ مسلم معاشرہ اس وقت فکری، تہذیبی، نفسیاتی اور اخلاقی اعتبار سے شدید شکست وریخت کا شکار ہے۔ وہ بے حد ہمدردی، داعیانہ اخلاص اور لطف وملائمت کے ساتھ تعمیر نو کا محتاج ہے۔ وہ کوئی ہٹا کٹا اور تنومند معاشرہ نہیں جس پر اندھا دھند شرعی حدود نافذ کر دی جائیں۔ وہ ایسا بیمار ہے کہ اس مرحلے پر اگر اسے علامتی طور پر جھاڑو کے تنکے مار دیے جائیں تو بھی شریعت کا منشا پورا ہو جائے گا۔ اس کی مثال اس ماں کی سی ہے جسے بدکاری کی سزا دینے کے لیے اس وقت کا انتظار کرنا پڑے گا جب وہ اپنے بچے کو جنم دینے کے بعد اس کی پرورش کے ضروری مراحل سے فارغ ہو جائے۔ وہ اس وقت ایک فقیہ اور قاضی کے دروں سے زیادہ ایک صوفی کی دل گداز باتوں اور ایک مسیحا کے پھاہوں کا محتاج ہے۔ اس کا علاج فقیہوں اور فریسیوں کے بے لچک ضابطوں میں نہیں، بلکہ سیدنا مسیح کے دل نواز وعظوں میں ہے۔
کوئی بھی طبقہ اپنی بقا اور اپنے کردار کے مفید تسلسل کے لیے خو دتنقیدی اور داخلی احتساب کی ضرورت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ بد قسمتی سے اہل دین اس وقت اپنی ترجیحات اور اپنے متعین کردہ کردار کے حوالے سے سخت حساسیت کا شکار ہیں اور کسی بھی قسم کا تنقیدی تجزیہ سننے اور اسے قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ اس کی وجہ قابل فہم ہے، کیونکہ جب کوئی طبقہ چاروں طرف سے یلغار کا شکار ہو اور ہر طرف سے جائز یا ناجائز اعتراضات سخت اور تیز وتند لہجے میں وارد کیے جا رہے ہوں تو وہ اپنے آپ کو ذہنی طور پر کیموفلاج کرنے میں عافیت محسوس کرتا ہے۔ تاہم اگر اہل مذہب اپنے کردار کو دفاع سے اقدام میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو تنقید کے حوالے سے ’ذکاوت حس‘ کی یہ کیفیت نہایت منفی اور مضر ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ نہ صرف خارج اور داخل سے ہونے والی مختلف تنقیدوں کو پوری توجہ سے سنیں اور ان پر غور کریں بلکہ ازخود تنقیدی سوالات اٹھانے کا رجحان بھی پیداکریں۔ مدارس کے اساتذہ آپس میں ان موضوعات پر گفتگو کریں، تنقیدوں کا سنجیدہ تجزیہ کریں، ان کے مثبت اور منفی پہلووں کو متعین کریں اور اس طرز فکر کو مدارس کے ماحول کا حصہ بنائیں۔ اس سے چیزیں نکھریں گی اور خیالات اور ترجیحات میں وضوح پیدا ہوگا جو اہل دین کو اپنے آئندہ کردار کے تعین میں مدد دے گا۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۶)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۸۰) تنازع کے دو مفہوم
قرآن مجید میں تنازع کا لفظ متعدد مقامات پر آیا ہے، فیروزآبادی نے لکھا ہے کہ اس لفظ کے دو مفہوم ہیں، باہم جھگڑا کرنا اور ایک دوسرے کو کچھ پیش کرنا۔
والتَّنازُعُ: التَّخاصُمُ والتَّناوُل. (القاموس المحیط، ص: ۷۶۶)
زبیدی کا خیال ہے کہ حقیقی مفہوم جھگڑا کرنا اور مجازی مفہوم ایک دوسرے کو پیش کرنا ہے، زبیدی نے مثالیں دے کربتایا ہے کہ قرآن مجید میں دونوں مفہوم کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوا ہے۔
والتَّنازُعُ فِی الأصلِ: التَّجاذُبُ، کالمُنَازَعَۃِ، ویُعَبَّرُ بِھِمَا عَن التَّخَاصُمِ والمُجَادَلَۃِ، ومِنہُ قَوْلُہُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلَا تَنازَعوا فتَفْشَلُوا، وقَوْلُہُ تعالَی: فَاِنْ تَنازَعْتُمْ فِی شَیءٍ فرُدُّوہُ اِلَی اللّٰہِ. وَمن المَجَازِ: التَّنَازُعُ: التَّناوُلُ والتَّعَاطِی، وَالأَصْلُ فیہِ التَّجَاذُبُ، قالَ اللّٰہُ تَعَالَی: یَتَنَازَعُونَ فِیھَا کأساً، أَیْ: یَتَنَاوَلُونَ. (تاج العروس، ۲۲/۲۴۷)
تاہم بہت اہم سوال ہے کہ یہ معلوم کیسے ہو کہ لفظ تنازع کہاں کس معنی میں آیا ہے؟ اس سلسلے میں مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ایک بہت قیمتی نکتہ بیان فرمایا جس سے اس لفظ کے مفہوم کو متعین کرنے میں بڑی آسانی ہوجاتی ہے، مولانا کے افادات کے مطابق اگر تنازع کے بعد (فی) کا صلہ آئے تو جھگڑا کرنے اور اختلاف کرنے کا مفہوم ہوتا ہے، جبکہ اگر اس کے بعد مفعول بہ آجائے تو جھگڑنے کا مفہوم نہیں بلکہ تبادلے اور باہم لین دین کرنے کا مفہوم ہوتا ہے، اور اگر فعل ان دونوں کے بغیر ہو تو بھی اختلاف اور جھگڑے کا مفہوم ہوتا ہے۔ گویا تنازع فی الامر کا مطلب ہوگا کسی مسئلے میں اختلاف کرنا اور جھگڑا کرنا، جبکہ تنازع الامر کا مطلب ہوگا کسی مسئلے کے اوپر باہم گفتگو اور تبادلہ خیال کرنا۔
مذکورہ ذیل آیتیں ملاحظہ فرمائیں، ان میں تنازع کے بعد (فی) آیا ہے، اور آیت کا مجموعی مفہوم خود گواہی دے رہا ہے کہ یہاں اختلاف اور جھگڑے کا مفہوم مراد ہے۔
لِکُلِّ أُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنسَکاً ہُمْ نَاسِکُوہُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِیْ الْأَمْرِ۔ (الحج:۶۷)
’’ہر فرقے کو ہم نے ٹھیرادی ہے ایک راہ بندگی کی کہ وہ اسی طرح کرتے ہیں بندگی سو چاہیے تجھ سے جھگڑا نہ کریں اس کام میں‘‘ (شاہ عبدالقادر)
وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہُ إِذْ تَحُسُّونَہُم بِإِذْنِہِ حَتَّی إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِیْ الأَمْرِ وَعَصَیْْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَاکُم مَّا تُحِبُّونَ۔َ (آل عمران: ۱۵۲)
’’اور اللہ تو سچ کرچکا تم سے اپنا وعدہ جب تم لگے ان کو کاٹنے اس کے حکم سے جب تک کہ تم نے نامردی کی اور کام میں جھگڑا ڈالا اور بے حکمی کی بعد اس کے کہ تم کو دکھا چکا تمہاری خوشی کی چیز‘‘ (شاہ عبد القادر)
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَطِیْعُوا اللّٰہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنکُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْْءٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُولِ۔ (النساء: ۵۹)
’’اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور جو اختیار والے ہیں تم میں سے، پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو اللہ اور رسول کی طرف۔‘‘ (شاہ عبدالقادر)
إِذْ یُرِیْکَہُمُ اللّٰہُ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلاً وَلَوْ أَرَاکَہُمْ کَثِیْراً لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِیْ الأَمْرِ وَلَکِنَّ اللّٰہَ سَلَّمَ إِنَّہُ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُور۔ (الانفال:۴۳)
’’جب اللہ نے ان کو دکھلایا تیرے خواب میں تھوڑے اور اگر وہ تجھکو بہت دکھاتا تو تم لوگ نامردی کرتے اور جھگڑا ڈالتے کام میں لیکن اللہ نے بچالیا اس کو معلوم ہے جو بات ہے دلوں میں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر، قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں اذ کے ساتھ مضارع آیا ہے، اس لیے ترجمہ ماضی استمراری کا ہوگا، جب اللہ تم کو دکھارہا تھا)
ذیل کی آیت میں مجرد تنازع استعمال ہوا ہے، نہ اس کے بعد (فی) ہے اور نہ ہی مفعول بہ ہے، اور یہاں بھی مفہوم بالکل واضح ہے کہ اہل ایمان کو باہم اختلاف اور جھگڑے سے منع کیا گیا ہے۔
وَأَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَلاَ تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْن۔ (الانفال:۴۶)
’’اور حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول کا اور آپس میں نہ جھگڑو پھر نامرد ہوجاؤگے اور جاتی رہے گی تمہاری باؤ۔ اور ٹہیرے رہو اللہ ساتھ ہے ٹہرنے والوں کے۔‘‘ (شاہ عبدالقادر)
مذکورہ بالا اسلوب سے ہٹ کر درج ذیل آیتوں میں تنازع کا فعل (فی) کے بجائے براہ راست مفعول بہ کے ساتھ استعمال ہوا ہے، بہت سے مترجمین نے یہاں بھی اختلاف اور جھگڑے کا مفہوم اختیار کیا ہے، لیکن جب ہم ان میں سے ہر آیت کے سیاق اور مجموعی مفہوم کو دیکھتے ہیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں اختلاف اور جھگڑے کا مفہوم نہیں ہے۔ اور یہ اصول ثابت اور مدلل ہوجاتا ہے کہ تنازع جب (فی) کے ساتھ آئے تو جھگڑے کے مفہوم میں ہوگا، اور جب براہ راست مفعول بہ کے ساتھ آئے تو تبادلے کے مفہوم میں ہوگا۔ درج ذیل آیتوں کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
(۱) وَکَذَلِکَ أَعْثَرْنَا عَلَیْْہِمْ لِیَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیْْبَ فِیْہَا، إِذْ یَتَنَازَعُونَ بَیْْنَہُمْ أَمْرَہُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَیْْہِم بُنْیَاناً، رَّبُّہُمْ أَعْلَمُ بِہِمْ، قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوا عَلَی أَمْرِہِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْْہِم مَّسْجِداً۔ (الکہف: ۲۱)
اس طرح ہم نے اہل شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بیشک آکر رہے گی۔ (مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی) اس وقت وہ آپس میں اس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ ان (اصحاب کہف) کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کچھ لوگوں نے کہا ’’ان پر ایک دیوار چن دو ان کا رب ہی ان کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے‘‘ مگر جو لوگ ان کے معاملات پر غالب تھے انہوں نے کہا ’’ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے‘‘ (سید مودودی)
آیت کے زیر نظر ٹکڑے: إِذْ یَتَنَازَعُونَ بَیْْنَہُمْ أَمْرَہُمْ کے مزید کچھ ترجمے حسب ذیل ہیں:
’’جب لوگ آپس میں ان کے معاملے میں جھگڑ رہے تھے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’جس وقت کہ جھگڑتے تھے وہ آپس میں بیچ کام اپنے کے‘‘ (شاہ رفیع الدین)
’’جب جھگڑ رہے تھے آپس میں اپنی بات پر‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’جبکہ اس زمانہ کے لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑ رہے تھے‘‘ (اشرف علی تھانوی)
’’جب وہ لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑنے لگے‘‘ (احمد رضا خان)
’’جبکہ وہ اپنے امر میں آپس میں اختلاف کررہے تھے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے یہاں تبادلہ خیال، باہم گفتگو اور مشاورت کا مفہوم لیا ہے، ان کا ترجمہ یوں ہے:
’’جس وقت وہ آپس میں ان کے بارے میں گفتگو کررہے تھے‘‘
سیاق کلام سے بھی اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے کہ موقعہ آپس میں جھگڑے کا نہیں بلکہ مشاورت اور تبادلہ خیال کا ہے، ان لوگوں نے اصحاب کہف کے عقیدت مند بن جانے کے بعد باہم مشاورت کی کہ یہاں پر کیا کیا جائے۔
(۲) یَتَنَازَعُونَ فِیْہَا کَأْساً۔ (الطور: ۲۳)
’’ایک دوسرے سے چھین لیویں گے بیچ اس کے پیالہ‘‘ (شاہ رفیع الدین)
’’جھپٹتے ہیں وہاں پیالہ‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’وہاں آپس میں (بطور خوش طبعی کے) جام شراب میں چھینا جھپٹی کریں گے‘‘ (اشرف علی تھانوی)
’’(خوش طبعی کے ساتھ) ایک دوسرے سے جام (شراب) کی چھینا جھپٹی کریں گے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
واضح رہے کہ یہ بات جنت اور اہل جنت کے بارے میں کہی جارہی ہے، مذکورہ بالا ترجموں میں چھین جھپٹ کا ترجمہ کیا گیا، جبکہ ذیل کے ترجموں میں ایک دوسرے کوجام پیش کرنے اور ایک دوسرے سے جام قبول کرنے کا مفہوم ذکر کیا گیا ہے۔ یہ دوسرا مفہوم ہی یہاں درست ہے، کیونکہ چھین جھپٹ خواہ وہ خوش طبعی کے ماحول میں ہو قابل تعریف چیز نہیں ہے، قرآن مجید میں کسی بھی مقام پر جنت میں ایسی کسی چھین جھپٹ کا تذکرہ نہیں ہے، اس کے بجائے جام کے پیالوں کا تبادلہ بہت معنی خیز مفہوم ہے، اس میں محبت اور دلداری کا بھرپور اظہار پایا جاتا ہے۔ اس دوسرے مفہوم کے مطابق درج ذیل ترجمے ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔
’’وہ ایک دوسرے سے جام شراب لپک لپک کر لے رہے ہوں گے‘‘(سید مودودی)
’’ان کے درمیان شراب کے پیالوں کے تبادلے ہورہے ہوں گے‘‘(امین احسن اصلاحی)
ایک دوسرے سے لیتے ہیں وہ جام (احمد رضا خان، لیتے ہیں کے بجائے لے رہے ہیں کہنا زیادہ مناسب ہے)
(۳) فَتَنَازَعُوا أَمْرَہُم بَیْْنَہُمْ وَأَسَرُّوا النَّجْوَی۔ (طہ:۶۲)
’’یہ سن کر ان کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا اور وہ چپکے چپکے باہم مشورہ کرنے لگے‘‘۔ (سید مودودی)
’’پھر جھگڑے اپنے کام پر آپس میں اور چھپ کر کی مشورت‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’پس جادوگر (یہ بات سن کر) باہم اپنی رائے میں اختلاف کرنے لگے اور خفیہ گفتگو کرتے رہے‘‘(اشرف علی تھانوی)
’’تو اپنے معاملے میں باہم مختلف ہوگئے اور چھپ کر مشورت کی‘‘ (احمد رضا خان)
’’پس یہ لوگ آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہوگئے اور چھپ کر چپکے چپکے مشورہ کرنے لگے۔‘‘(محمد جونا گڑھی)
مذکورہ بالا ترجموں میں اختلاف اور جھگڑے کا مفہوم لیا گیا ہے، جبکہ سیاق کلام سے اس کی تائید نہیں ہوتی ہے، تذکرہ فرعون کے درباریوں کا ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کی تذکیر وتنبیہ سننے کے بعد کیا رد عمل اختیار کیا، اسی آیت میں (وَأَسَرُّوا النَّجْوَی) سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے درمیان حضرت موسیٰ کی مخالفت کے سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں تھا بلکہ حضرت موسی کی مخالفت کے باب میں ان میں اتفاق پایا جاتا تھا۔ورنہ آپس میں سرگوشی بھی کرنا، اور آپس میں جھگڑا بھی کرنا ایک دوسرے کے مناسب حال معلوم نہیں ہوتے ہیں۔ اس آیت کا ترجمہ صاحب تدبر قرآن نے درست کیا ہے:
’’پس انھوں نے آپس میں اپنے معاملے میں مشورت اور سرگوشی کی‘‘ (امین احسن اصلاحی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا: ’’انہوں نے آپس میں خاموشی سے مشورہ کیا‘‘
(۸۱) کَادِحٌ إِلَی رَبِّکَ کَدْحاً کا مفہوم
کدح کے معنی ہیں تگ ودو کرنا، راغب اصفہانی لکھتا ہے: الکدح: السّعي والعناء۔ (المفردات)
قرآن مجید میں یہ لفظ ایک مقام پر آیا ہے:
یَا أَیُّہَا الْإِنسَانُ إِنَّکَ کَادِحٌ إِلَی رَبِّکَ کَدْحاً فَمُلَاقِیْہِ۔ (الانشقاق: ۶)
زیادہ تر مترجمین نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ تگ ودو کا مفہوم غائب ہوگیا اور بس تیز تیز جانے کا مفہوم حاوی ہوگیا۔
’’اے انسان تو کشاں کشاں اپنے خداوند ہی کی طرف جارہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’اے انسان تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جارہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے‘‘ (سید مودودی)
’’اے آدمی بیشک تجھے اپنے رب کی طرف ضرور دوڑنا ہے پھر اس سے ملنا‘‘ (احمد رضا خان)
بعض ترجموں میں لفظ کے اصل مفہوم کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے جیسے:
’’اے آدمی تجھے پچنا ہے اپنے رب تک پہنچنے میں پچ پچ کر پھر اس سے ملنا ہے‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’اے انسان تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے‘‘۔ (محمد جونا گڑھی)
’’اے انسان! تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشِش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا‘‘ (جالندھری)
’’اے انسان تو اپنے رب کے پاس پہنچنے تک (یعنی مرنے کے وقت تک) کام میں کوشش کررہا ہے پھر (قیامت میں) اس (کام کی جزا) سے جا ملے گا‘‘ (اشرف علی تھانوی)
پکتھال کا انگریزی ترجمہ بھی اس مفہوم کا ہے:
Thou, verily, O man, art working toward thy Lord a work which thou wilt meet (in His presence).
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ترجمہ اس طرح کیا ہے:
’’اے انسان، تیری تگ ودو تیرے رب کے پاس پہنچ رہی ہے، تو تجھے اس کا سامنا کرنا ہے‘‘۔
مولانا کی رائے ہے کہ یہاں انسان کے رب تک جانے کی بات نہیں ہے بلکہ انسان کی تگ ودو اور سعی ومحنت کے رب تک جانے کی بات ہے، اصل جملہ اِنَّکَ کَادِحٌ کَدْحًا ہے، یعنی تم بہت محنت اور تگ ودو کررہے ہو، اِلَی رَبِّکَ کے اضافے سے یہ مفہوم پیدا ہوگیا کہ یہ محنت اور تگ ودو تمہارے رب کے پاس پہنچ رہی ہے، یہ ویسے ہی ہے جیسے اِنّی کاتبٌ الی الملک کتاباً جس کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ میں لکھتے ہوئے بادشاہ کے پاس پہنچ رہا ہوں بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں خط لکھ رہا ہوں جو بادشاہ کے پاس پہنچنے والا ہے۔ فملاقیہ کا مطلب عام طور سے لوگوں نے یہ لیا ہے کہ انسان کی رب سے ملاقات کا بیان ہے، مولانا کے مطابق یہ بتایا گیا ہے کہ انسان اپنی تگ ودو کا سامنا کرے گا جو اس وقت اس کے رب کے پاس لحظہ بہ لحظہ پہنچ رہی ہے۔
(جاری)
اسلام عصری تہذیبی تناظر میں ۔ ممتاز دانشور جناب احمد جاوید کا فکر انگیز انٹرویو (۲)
اے اے سید
فرائیڈے اسپیشل: مغربی دنیا اگرچہ باطل کی پرستش کرتی ہے لیکن اس کے باوجود اُسے عالمگیر غلبہ حاصل ہے۔ آخر مغرب کے عالمگیر غلبے کی وجوہات کیا ہیں؟
احمد جاوید: اس کی دو ہی وجوہات ہیں: اول طاقت اور دوم علم۔ غلبے اور مغلوبیت کے جو اسباب ہوتے ہیں وہ قانونِ قدرت میں ہیں، قانونِ ہدایت میں نہیں ہیں۔ تو یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا بنایا ہوا ایک نظام قدرت ہے، جس میں کافر بھی اس کے مطابق ہوجائے گا تو غالب ہوجائے گا، اور مومن اس کی خلاف ورزی کرے گا تو مغلوب ہوجائے گا۔ تو طاقت اور علم، یہ مغرب کے غلبے کے مکینکس کے دو پارٹ ہیں۔ غلبہ اُس قوم کو حاصل نہیں ہوسکتا جس کے پاس طاقت نہ ہو۔ اس قوم کو حاصل نہیں ہوسکتا جس کے پاس دنیا کا علم نہ ہو۔ جو معاصر دنیا ہے اس کا علم، یہ عروج و زوال کا معیار ہے۔ اس کا تیسرا معیار اخلاقی ہے، کہ وہ معاشرہ اپنے آپ کو مربوط رکھنے، اپنے آپ کو ایک نظام میں ڈھالنے کے لائق ہو۔ یہ تینوں ضرورتیں مغرب نے پوری کردیں۔ یہ تینوں چیزیں جب تک کسی قوم میں موجود ہیں اُس وقت تک اس قوم کو زوال نہیں ہوگا، چاہے وہ کافر ہو یا مومن۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا مغرب کمزور پڑرہا ہے؟
احمد جاوید: مغرب کمزور پڑتا رہتا ہے، لیکن اس کے ہاں رپیئرنگ کا نظام بہت مضبوط ہے۔ وہ اپنی کمزوری کو فوراً بھانپ لیتا ہے اور اس کا علاج کرلیتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ مغرب میں کتنے بڑے بڑے معاشی زلزلے آئے، کتنے بڑے بڑے معاشرتی زلزلے آئے، انہوں نے سب کو ایک ڈھب سے رام کرلیا، کیونکہ ان کا تو کوئی نظریاتی مسئلہ نہیں ہے۔ جب بھی کوئی ایشو اٹھا تو مغربی معاشرے میں ایک ہلچل پیدا ہوئی۔ اس سے بالادست قوتوں نے بھانپ لیا کہ اس کے نتیجے میں مغربی معاشرے کا جو تانا بانا ہے، وہ کمزور پڑجائے گا تو انہوں نے اسے لیگل کور دے دیا کہ قانوناً یہ جائز ہے۔ تو وہ ہرچیز کو رپیئر کرلیتے ہیں کیونکہ وہ کسی کمٹمنٹ پر نہیں ہیں۔ ان میں خدا کو جواب دینے کا تصور نہیں ہے، ان کے ماڈلز یا محرکاتِ عمل دینی، مذہبی یا ایمانی نہیں ہیں۔ ان کا ماڈل تو یہ ہے کہ ہمیں طاقتور رہنا ہے اور اپنے لوگوں کو آرام سے رکھنا ہے، اس کے لیے ہمیں جو جو کمپرومائز کرنے پڑیں، جیسی جیسی لچک دکھانی پڑے، جتنا جتنا قانون کو، تعلیم کو بدلنا پڑے ہم بدلتے رہیں گے۔
فرائیڈے اسپیشل: اس پس منظر میں سوال یہ ہے کہ امریکہ کے معروف دانشور سیموئیل پی ہن ٹنگٹن نے 1990 کی دہائی میں تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ پیش کیا تھا، لیکن تہذیبوں کے تصادم کی باتیں اقبالؒ اور سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ بھی بہت پہلے کرچکے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اقبال ؒ اور مودودی ؒ اور سیموئیل پی ہن ٹنگٹن کے تناظر میں کیا کوئی فرق پایا جاتا ہے اور اس نظریے کی ہمارے لیے کیا اہمیت ہے؟
احمد جاوید: تہذیبوں کے تصادم کا آئیڈیا بہت قدیم ہے۔ یونان میں بھی تھا۔ یہ ان لوگوں (اقبال اور مودودی صاحب) کا اندازہ تھا، اور یہ نظریاتی نوعیت کا زیادہ تھا۔ یہ قیاس تھا، تصور تھا۔مغرب یہ کرنے جارہا ہے۔ ہم یہ کرنے جارہے ہیں۔ اگلے تیس سال بعد زمین پر یہ صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ تو دونوں کے یہاں یہ تصور آئیڈیلسٹک تھا کہ ایسا ہوہی نہیں سکتا کہ اسلامی نظریہ زندگی مغربی نظریہ حیات سے بالآخر تصادم کی صورت میں نہ آئے۔ ظاہر ہے کہ اُن کا تصورِ انسان الگ، بنیادی تصورات الگ۔۔۔ ہمارے بنیادی تصورات الگ۔۔۔ تو علمی تصادم تو جاری ہے، اس لیے یہ عملی تصادم بھی بن سکتا ہے۔ پیش گوئی نہیں صرف ایک قیاس تھا۔ ہن ٹنگٹن کا کام یہ ہے کہ اس نے اس نظریے کو بالکل clinically بناکر دکھادیا ہے۔ اس پر ورک آؤٹ کرکے دکھادیا ہے۔ دنیا میں بعد میں آنے والے نظریے میں اس نظریے کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ اس لیے ہن ٹنگٹن کا تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ واقعی ایک نظریہ ہے، اور اقبالؒ وغیرہ کا تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ ایک تصور ہے جو اپنی بنیادوں پر بالکل درست ہے۔ ہن ٹنگٹن تصور سازی نہیں کررہا، وہ مستقبل کی دنیا کی پیشگی تصویر کھینچ رہا ہے۔ وہ کوئی نظریاتی باتیں نہیں کررہا، وہ واقعات بیان کررہا ہے۔ جہاں تک ہمارے نزدیک اہمیت کی بات ہے، اقبالؒ اور ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا جو پیراڈائم ہے، اس کے مطابق ہم اس تصادم سے گزر رہے ہیں، اس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ تصادم زندگی کی تمام سطحوں پر عملی حالات میں برپا ہوکر رہے گا بشرطیکہ ہم، ہم کہلانے کے لائق تو بنیں۔ آپ کی امت اپنی تہذیبی، اخلاقی اور نظریاتی قوت کے ساتھ مغرب کے سامنے صف آرا تو نہیں ہوسکی اور نہ ہی ہونے کا کوئی منصوبہ دکھائی دیتا ہے، نہ تیاری نظر آرہی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ جو امت کا منصوبہ یا تصور ہے یہ کیسے اور کہاں بنے گا؟ کسی ایک جگہ بنے گا؟ امت تو کہیں نظر بھی نہیں آرہی! اس کا وجود کہاں ہے؟پاکستان میں بنے گا، ترکی میں یا سعودی عرب میں؟ اور پوری دنیا کے لیے یہ نظریۂ امت کیسے قابل قبول ہوگا؟یا یہ کہ آج کے جغرافیائی دور میں تبدیلی کس طرح آئے گی؟
احمد جاوید: امتِ مسلم اجتماعیت اور قومیتوں کے مجموعے کو کہتے ہیں، یعنی مسلم تہذیبیں، قومیں اور ممالک ہم عقیدہ ہونے کی بنیاد پر، ہم مقصد ہونے کی اساس پر ایک دائرۂ وحدت کے اندر ہیں۔ اس دائرۂ وحدت کا نام امت ہے۔ اور اس امت کو پاکستانی اور ملائشین ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم مختلف قوموں، معاشروں، ریاستوں اور ثقافتوں کے ہوتے ہوئے بھی متحد ہوسکتے ہیں۔ یہ اتحاد جب برپا ہوجائے گا تو ہم قوم کے ساتھ ساتھ امت کا تشخص بھی حاصل کرلیں گے۔ امت کا تشخص قومیت کی نفی سے نہیں ہے، قومیت کو اپنے اندر جذب کرلینے سے ہے۔ ان معنوں میں مسلمان عملاً اب بھی امت ہیں، لیکن امت کا یہ تصور کہ اس کا سیاسی نظم، اس کا ریاستی اسٹرکچر ایک حاکم کے تابع ہو، ایک حکومت کے تحت ہو تو یہ اب محالات میں سے ہے، نہ ہی یہ اسلام کا مطالبہ ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ کو اس وقت دنیا میں وہ نرم زمین کہاں نظر آرہی ہے جہاں سے تبدیلی کے امکانات ہیں؟
احمد جاوید: اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو دنیا میں ترکی وہ خطۂ زمین ہے جہاں تبدیلی نظر آرہی ہے۔ وہ مرحلہ شروع ہوگیا ہے، اور اگر یہ کامیابی سے چلتا رہا تو ترکی سینٹر آف امہ بننے کی قابلیت رکھتا ہے، کیونکہ طاقت، علم، اخلاق،کمٹمنٹ اور آزادی کا جذبہ۔۔۔ یہ تمام چیزیں ان میں موجود ہیں۔ وہ نفسیاتی طور پر آزاد لوگ ہیں۔ یہ سب عناصر مل کر کسی قوم کو اپنی ہم خیال اقوام کے لیے نمونہ یا لیڈر بناسکتے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: جب ہم اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کا ذکر کرتے ہیں تو تین نقطہ ہائے نظر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ مغرب قابلِ تقلید ہے اور مسلمانوں کو آنکھ بندکرکے مغربی فکر کی تقلید کرنی چاہیے۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے جو علماء کا ہے کہ مغرب کو یکسر مستردکردیا جائے، اور وہ کہتے ہیں کہ مغرب باطل ہے اور باطل کی پیروی ممکن نہیں۔ تیسرا نقطہ نظر ہے جو درمیان کی راہ نکالتا ہے اور مغرب اور مشرق کے اندر امتزاج تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کے ذریعے اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے درمیان جو تصادم ہے اس کی راہ روکی جاسکتی ہے اور اس سے دونوں تہذیبوں کو بڑا فائدہ ہوسکتا ہے۔ ان تین نقطہ ہائے نظر کو آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں؟
احمد جاوید: یہ ایک پرانا منظرہے جس میں یہی تین باتیں مغرب کے بارے میں کہی جارہی تھیں۔ سرسید کے دور کے فوراً بعد مغرب کے حوالے سے یہ تین رویّے پیدا ہوئے تھے۔ ان تینوں رویوں کے پیچھے ایک مفروضہ قائم کرنے کی غلطی ہے، یعنی ان تینوں کی پشت پر بنیادی مفروضہ ہی غلط ہے کہ تہذیبیں معاہدوں کے نتیجے میں وجود میں نہیں آتیں۔ تہذیبوں کے درمیان جو تعلق ہوتا ہے وہ آرگینک (Organic) ہوتا ہے۔ وہ کسی مذاکرات، ناپ تول یا سیاسی فیصلوں کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ سارے فیصلے اور منصوبہ بندیاں اثرانداز تو ہوتی ہیں لیکن یہ تصور کرلینا کہ ہم مغرب کی تہذیب کو مکمل طور پر روکنے کا ایک پلان بناکر اس کی پابندی کریں یا اس کو مکمل طور پر قبول کرنے کا منصوبہ تیار کرکے اس کے پیچھے رہیں، اس کو عمل میں لائیں، یا یہ کرلیں کہ دین کا تعلق رکھیں، یہ چیزیں کسی طرح کے فیصلوں سے نہیں پیدا ہوتیں۔ مغربی تہذیب سے ہمارے تعلق کی جیسی بھی نوعیتیں بنیں گی وہ یکطرفہ نہیں ہوں گی، وہ ایسی نہیں ہوں گی کہ جیسے ہم نے پہلے کوئی فیصلہ کیا، اب تعلق کا سارا نظام ہمارے پہلے کیے گئے فیصلے پر چل رہا ہے۔ گویا یہ ایک مصنوعی سوچ ہے۔
صورت حال یہ ہے کہ مغرب اس وقت عالمگیر تہذیب بننے کے عمل میں ہے۔ جس چیز کو ہم ستّر اسّی برس پہلے مغربی تہذیب کہتے تھے اُس کا ایک جغرافیہ تھا مغربی یورپ اور امریکہ ملاکر۔ لیکن اب جو مغربی تہذیب ہے وہ مغرب کے جغرافیہ میں محصور نہیں ہے۔ اب مغربی تہذیب ہندوستان اور چین میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس وقت موجود تہذیبی مظاہر میں ایک مغرب ہی ہے جو عالمگیر تہذیب بننے کے عمل سے سردست کامیابی کے ساتھ گزر رہا ہے اور اس کو جو چیلنج پیش آرہے ہیں وہ معمولی نوعیت کے ہیں۔ اب حقیقی اور برسرزمین صورت حال یہ ہے۔ اس طغیانی اور مغرب کے اس تہذیبی طوفان میں، مغرب کے اس عالمگیر اخلاقی، علمی، عقلی غرض ہر طرح کے تہذیبی غلبے کے ماحول میں ہم یہ فکر کررہے ہیں کہ ہم بطور مسلمان اپنے تہذیبی امتیاز کی حفاظت کیسے کریں؟ ہم خود کو مغربی تہذیب میں ضم اور جذب ہوجانے سے کیسے بچائیں؟ یہ اس وقت کا مسلم سولائزیشن کو درپیش ایک مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کو کچھ طریقوں سے حل کرنے یا اس مسئلے سے نکلنے کے لیے کچھ راستے ہم اپنے سامنے ایسے موجود پاتے ہیں جن سے یہ امید باندھی جاسکے کہ یہ ہمیں مغرب کے تہذیبی غلبے سے بچانے کی قوت رکھتے ہیں۔ ان میں ایک راستہ یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ تصادم کا رویہ اختیار کریں، اور کیوں کہ مغربی تہذیب کے پھیلاؤ میں اس کی قوت کا بہت عمل دخل ہے لہٰذا اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قوت ہی کا استعمال ضروری ہے۔ مسلم تہذیب اپنے کچھ پاکٹس میں طاقت کے خلاف مزاحمت ((Power Resistance کررہی ہے کہ اس کا راستہ ہم طاقت سے روک لیں گے، جس کی ایک موجودہ صورت حال جنگجوئی (Milintancy) ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کچھ تنکے آپس میں اتحاد کرکے سونامی کو روکنے کا منصوبہ بنائیں۔یہ انتہائی لغو خیال اور بے معنی طرزعمل ہے۔ یہ جنگجوئی مغرب کے غلبے کی قبولیت میں اضافہ کررہی ہے، یعنی مغربی تہذیب کو اخلاقی جواز فراہم کررہی ہے۔ تہذیبوں کے پھیلاؤ میں جو سب سے بڑے جواز ہوتے ہیں ان میں سے ایک جواز ان کی اخلاقی برتری ہوتا ہے۔ تو داعش وغیرہ کے مقابلے میں مغربی تہذیب یا داعش کا ہر ہدف اخلاقی طور پر ان سے بلند ہوگا۔ اب مغرب کے خلاف تشدد کا رویہ اور دہشت گردی کے واقعات جتنے بڑھتے چلے جائیں گے، ان سے مغرب کے جسم پر خراش تک نہیں آئے گی بلکہ ان کی طرف ہمارا رویہ بدلنے لگے گا اور ہم ان کی اخلاقی برتری کے قائل ہونے لگیں گے۔ تو اس سے ان کے پھیلاؤ کا راستہ اور زیادہ ہموار ہوجائے گا۔
دوسرا رویہ یہ ہے کہ ہم مغرب کی وہ اقدار، مغربی نظام کے وہ عناصر جن کی عالمگیریت مسلم ہوچکی ہے، جو اس وقت دنیا کا قانون بن چکے ہیں اور ان کا موجد مغرب ہے، مثلاً جمہوریت، مائلڈ کیپٹلزم (mild capitalism)، انسانی حقوق کا تصور، آزادئ اظہار کا آئیڈیا، دین بدلنے کی آزادی وغیرہ، تو ہم مغرب کی یہ جو قدریں آفاقی اقدار کی صورت اختیار کرتی جارہی ہیں، ہم ان میں سے کچھ قدریں منتخب کرکے اختیار کرلیں۔ دو راستے ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم جمہوریت اختیار کرلیں، کیونکہ جمہوریت کے نتائج اچھے ہیں۔ ہم آزادئ اظہار اختیار کرلیں، ہم انسانی حقوق کی وہی فہرست مان لیں جو مغرب نے بنائی ہے اور اقوام متحدہ سے منظور کروائی ہے، تو اس کے ساتھ ساتھ ہم نماز، روزہ جاری رکھیں۔ ہم اپنا آئین نیا بنادیں کہ جس میں لکھ دیا جائے کہ قرآن و سنت سے ٹکراؤ رکھنے والا کوئی قانون نہیں بن سکتا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ تو ہم اسلام کو آئینی طور پر غالب رکھیں اور زندگی کا پورا مزاج جو ہے، وہ مغرب سے نزدیک رہ کر بنائیں۔ مغرب میں ضم ہوئے بغیر اپنی بعض شناختوں کو برقرار رکھتے ہوئے، یا یوں کہیں کہ اپنی اُن شناختوں کو برقرار رکھتے ہوئے، جن پر مغرب کو اعتراض نہیں ہے، ہم اپنے ان تہذیبی امتیازات کو برقرار رکھتے ہوئے زندگی کو چلانے والا اجتماعی نظام ،چاہے وہ سیاست کے دائرے میں ہو، اخلاق کے دائرے میں ہو، چاہے معیشت میں ہو، چاہے تعلیم میں ہو، چاہے انصاف میں ہو، وہ ہم مغرب سے نقل کریں، مغرب سے پورا پیکیج لے لیں اور اس پیکیج کو لے کر بس اس پر عنوان یہ لگادیں کہ یہ ہماری ہی تہذیب کے بنیادی عناصر ہیں جو مغرب نے ہم سے لیے تھے۔ تو ہم گویا اپنی دی ہوئی چیز اُن سے واپس لے رہے ہیں۔ تو دوسرا رویہ یہ ہے، ٹھیک ہے نا! مغرب کی بنائی ہوئی دنیا کو مغرب ہی کا ایجاد کیا ہوا نظام چلا سکتا ہے۔ ہم اس وقت مغرب کی بنائی ہوئی دنیا میں رہتے ہیں اور اس دنیا میں رہنے کے لیے انھی کے بنائے ہوئے نظام کے محتاج ہیں۔ یہ دنیا کسی اور نظام سے چل نہیں سکتی۔
تیسرا رویہ ابھی تصور کی سطح پر ہے، ابھی اس کے مظاہر پیدا نہیں ہورہے۔ وہ رویہ ہے مغرب سے لاتعلق ہوکر مثبت انداز میں اپنی تہذیب کو اس کی بنیادی اقدار پر چلانے کا عمل شروع کیا جائے۔ جیساکہ دنیا میں کئی خطے ہیں جو مغرب سے لاتعلق ہوکر اپنی تہذیبی اقدار کو بچانے، برقرار رکھنے اور برسرعمل رکھنے میں بڑی حد تک کامیاب ہیں، تو اس ماڈل کو ہم بھی اپنالیں۔ تو یہ تین ممکنہ راستے ہیں جن سے ہم یہ امید باندھ رہے ہیں کہ شاید یہ ہمارے دینی اور تہذیبی بقا میں ہمارے معاون ثابت ہوں۔ لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی راستے کو سفر کے قابل بنانے کا جو سامان ہوتا ہے، وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ ہم نے ریل کی پٹری کے تین نقشے بنالیے ہیں، لیکن اس نقشے پر پٹری بچھانے کا سامان ہمارے پاس نہیں ہے۔ تو ان تینوں تصورات پر عمل کرنے کے لیے جو چیزیں درکار ہیں، وہ ہمارے پاس نہیں ہیں، اس وجہ سے ہم ایک طرح سے عادی ہوگئے ہیں کہ تصور میں اپنے امتیاز کی حفاظت کرتے ہیں اور عملاً مغرب کی پیروی میں چلتے رہیں۔ ہماری موجودہ صورت حال یہی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: آئیڈیل طریقہ کیا ہے؟
احمد جاوید: آئیڈیل طریقہ مغرب سے تصادم کی فضا ختم کرکے اپنے prospective سے ترقی اور کامیابی کے تصورات کو عمل میں لانا ہے۔ ہمیں یہ کہنے کے لائق ہونا چاہیے کہ ترقی کا مغربی ماڈل ہمیں قبول نہیں، کامیابی کا مغربی نظام ہمیں قبول نہیں، ہم انسانی فضائل اور انسانی زندگی کی آسانیوں اور راحتوں کا اپنا ایک تصور رکھتے ہیں اور اس تصور کو عمل میں لانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہماری خوشحالی سود سے پاک ہونی چاہیے۔ ہمارا یہ آئیڈیل ہے، ہم اس کے پابند ہیں کہ ہمارا مال سود سے پاک ہو، ہمارے اخلاق حیا کی بنیاد پر ہوں، آزادی یا کاروبارکی بنیاد پر نہیں۔ ہماری شخصیت انکسار کے جوہر سے تعمیر ہو، کسی اور تصور سے نہیں۔ میں صرف مثال دے رہا ہوں۔ تو جب تک ہم اسلام کا ورلڈ ویو بنانے یا بتانے اور اسے عمل میں لانے کی صلاحیت پیدا نہیں کریں گے اُس وقت تک ہمیں مغرب کے تسلط سے بچانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔ ہر امت، قوم، تہذیب کی پہلی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ وہ بتائے کہ اس کا ورلڈ ویو کیا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: ورلڈ ویو سے آپ کی کیا مراد ہے؟
احمد جاوید: ورلڈ ویو سے مراد ہے: اس کا تصورِ علم کیا ہے؟ اس کا تصورِ دنیا کیا ہے؟ اس کا تصورِ انسان کیا ہے؟ جب تک ہم اپنے ورلڈ ویو کو فراموشی کی دھند سے نکال کر سب سے پہلے خود اپنے ذہن میں لانے اور اپنی زبان سے اظہار دینے کے لائق نہیں ہوں گے اُس وقت تک مغرب کے تسلط سے نکلنے کا کوئی نقشہ تیار نہیں ہوگا۔
فرائیڈے اسپیشل: اس آئیڈیل تصور کا شعور ہمارے معاشرے میں کس طبقے کو ہونا چاہیے یا ہوگا؟
احمد جاوید: اس کا شعورتو آ پ کے حاکم طبقے کو ہونا چاہیے آپ کے علماء کو ہونا چاہیے آپ کے تعلیم یافتہ لوگوں کو ہونا چاہیے۔ لیکن اس کا احساس عام ہونا چاہیے۔ حقیقت کی دو نسبتیں ہوتی ہیں۔ اس کا شعور اُن طبقات کو ہونا چاہیے جو سوسائٹی کو چلانے کی قوت رکھتے ہیں۔ جو اپنے فیصلوں کو نتیجہ خیز بنانے کے اسباب رکھتے ہیں یا جن کی ذمہ داری ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ احساس اور شعور تو ہمیں کسی طبقے میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ علماء کی صورت حال بھی مختلف نہیں بلکہ ان کے بارے میں ایک طبقے کی رائے ہے کہ علماء مغرب کے بارے میں ہی نہیں جانتے، اس کا شعور وہ کیسے رکھ سکتے ہیں!
احمد جاوید: یہ صحیح بات ہے۔ یہ اعتراف صحیح ہے کہ ہمارے علماء مغرب کو نہیں سمجھتے۔ لیکن صرف اتنی سی بات نہیں ہے، ہمارے پی ایچ ڈی بھی مغرب کو نہیں سمجھتے۔ یہ جو مکاری کی جاتی ہے نا کہ زوال کی ساری ذمہ داری مذہبی طبقے پر ڈال دی جائے، یہ چالاکی اور عیاری ہے۔ مغرب کو نہ سمجھنا اگر ایک جرم ہے تو اس کے بڑے مجرم علماء نہیں ہیں، کیونکہ ان کی ذمہ داریوں میں مغرب کو سمجھنا ثانوی ذمہ داری ہے۔ اس کے ذمہ دار جدید مغربی تعلیم یافتہ طبقات ہیں جنہوں نے مغربی نظام تعلیم میں اپنی تحصیلات مکمل کی ہیں اور مغرب کے حوالے سے اتنے ہی جاہل ہیں جتنے گاؤں کا کوئی مولوی۔ تو فہم مغرب جو ہے نا یعنی وہ فہم جوان کی تہذیب کے اثرات، ان کی تہذیب کے مزاج، ان کی تہذیب کے چھپے ہوئے (Hidden) مقاصد کو سمجھ سکے، وہ شعور ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقے میں بالکل نہیں ہے اور اپنی تہذیب کی عائد کردہ ذمہ داریوں کا کوئی احساس ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقات میں نہیں ہے۔ مولویوں میں کم از کم اپنی تہذیب کے تحفظ کا احساس تو ہے۔ جدید تعلیم یافتہ آدمی اپنی تہذیب کا غدار ہوتا ہے، وہ اپنی تہذیب کی وفاداری کی رمق سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔ یہ مغرب کا سب سے کامیاب حربہ ہے کہ وہ اپنے سے مختلف تہذیبوں کے تعلیمی نظام میں سرایت کرکے انجام دیتا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ جو علم کی بات کرتے ہیں تو اس سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جتنا بھی فساد ہے وہ تعلیم یافتہ لوگوں کا پھیلایا ہوا ہے اور اس میں جدید تعلیم یافتہ اور دینی تعلیم یافتہ دونوں ہی شامل ہیں بدنام جاہل ہیں ان کا کیا قصور؟
احمد جاوید: جاہلوں کا قصور یہ ہے کہ وہ جاہل نہ رہتے تو علم کا غلط استعمال نہ ہوتا جہل اپنی جگہ جرم ہے۔جو بھی مقتدا اس کا رہنے پر راضی ہے وہ اپنے انسان رہنے پر انکار کرنے پر راضی ہے۔ یہ الگ بات ہے ہم دوسری بات جو آپ کہہ رہے ہیں وہ بات بھی ٹھیک ہے۔علم کے بغیر نہ گمراہی کو قوت حاصل ہوسکتی ہے اور نہ ہدایات کو، یہ نیچرل اصول ہے یعنی ابوجہل بننے کے لیے بھی ذہین ہونا ضروری ہی اور ابوبکر بننے کے لیے بھی صاحب علم ہونا ضروری ہے ۔ جھوٹا شعور نہ ابوجہل بن سکتا ہے نہ ابوبکرؓبن سکتا ہے وہ ایک نیچرل نظام ہے لیکن ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہماری مذہبی تعلیم سے فساد زیادہ پھیل رہا ہے اور ہماری جدید تعلیم سے الحاد پھیل رہا ہے؟ یہ کیا وجہ ہے؟ کوئی تہذیب ان دو سوالوں کا جواب دیے بغیر وجود ہی میں نہیں آسکتی۔ علم کیا ہے اور علم کس لیے ہوتا ہے؟ مغرب کہتا ہے علم محسوسات کا علم ہے اور علم آرام سے، آزادی اور سلامتی ‘ خوشحالی کے ساتھ زندہ رہنے کے لیے ہے۔ علم دنیا کو اپنے لیے آسان اور پرآسائش بنانے کے لیے ہے۔ان کے پاس دنوں کا واضح جواب ہے اوروہ ان دنوں جوابات کو عملی جامہ پہنانے میں بھی کامیاب ہیں۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ علم محسوساتی (Empirical) ہوتا ہے، اس سے انہوں نے فزکس، میتھی میٹکس اور تمام علوم جو دنیا اورانسان سے تعلق رکھتے ہیں وہ ایک لائن پیدا کرکے دکھادی پھر اس علم کو نتیجہ خیز بنا کر دکھادیا انہوں نے کہا کہ ہم صرف یہ نہیں کہتے کہ ایٹم ہوتا ہے۔ ہم ایٹم کو پکڑ کر استعمال بھی کرسکتے ہیں اور استعمال کرکے دکھادیا، انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ خوشحالی ہونی چاہیے ہم وہ خوشحالی لاکر دنیا کے لیے دکھابھی چکے ہیں۔ یہ خوشحالی ہمارا تصور ہے او ریہ دیکھ لو کہ اس تصور کو ہم نے کس طرح عملی روپ دے دیا۔
تو وہ (مغرب) واضح ہیں انہوں نے پوری طرح یکسو ہوکر اپنی تہذیب کی تعمیر میں ان دو جوابات سے مدد لی اور ان دو جوابات کو زندگی کے تمام گوشوں میں جاری کرکے دکھادیا اورنہ صرف اپنے اندر کی زندگی میں بلکہ جوان کے اس نظریے کو قبول کرلے وہ بھی ان کے معیار پر خوشحال ہوسکتا ہے ترقی یافتہ ہوسکتا ہے عالم اسلام میں جتنی بھی ترقی اور خوشحالی ہے وہ مغربی اصول کی تقلید کے نتیجے میں ہے۔ اسلامی تعلیم کے نتیجے میں نہیں ہے۔ یہ مغرب کے تسلط کا ناقابل تردید ثبوت ہے ۔آپ کو بھی ترقی کرنے کے لیے دنیاوی معاملات میں مسلمان ہونا چھوڑنا پڑتا ہے یہ ہے مغرب کا غلبہ ،کہ تمہیں ترقی کرنی ہے تو خدا کو چھوڑ کر کرنی ہے اور اس پر انہوں نے ہمیں قائل کرلیا ہے چاہے زبان سے اعتراف نہ کریں چاہے اس کا ہمیں ادراک نہ ہو لیکن عالم اسلام میں جہاں جہاں چھوٹی موٹی ترقیاں نظر آتی ہیں ان سب کا سرچشمہ مغرب کے یہ دو اصول ہیں۔وہ اسلام کی کوئی تعلیم نہیں ہے۔ ملائیشیا نے اگر کچھ ترقی کی ہی تو کس اسلامی تعلیم سے کی ہے؟ مغربی ماڈل پہ کی ہے ترکی اگر کچھ ترقی کررہا ہے تو کس اسلامی تعلیم سے کررہاہے؟ مغر ب کے اصول ترقی کی تقلید کرکے کررہاہے تو اتنے غلبے میں پسے ہوئے ہم لوگ ہیں تو اس میں سے نکلنے یا اس میں مسلمان کی حیثیت سے سانس لینے کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم ان دو سوالوں کا جواب پہلے بتائیں اپنے جواب میں خود کو کلیئر کریں اور پھر اس جواب کو عمل میں لانے کی اجتماعی سرگرمیوں کا پورا ایک مربوط نظام بنائیں اب اس میں چاہے سو سال لگیں چاہے پچاس سال لگیں لیکن یہ کیے بغیر ہم تہذیبی بقا حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ ہے اس سوال کاجواب کہ علم کیا ہوتا ہے؟ علم کس لیے ہوتا ہے؟
فرائیڈے اسپیشل: اب اس میں ایک سوال تحریکوں کی کامیابی اور ناکامی کے پس منظر میں اٹھتا ہے کہ کیا تحریکوں کی ناکامی واقعی ان کی ناکامی ہوتی ہے تحریکوں اور جماعتؤں کا کام تو جدوجہد کرنا ہے آپ سے سوال جدوجہد کا ہوگا؟ آپ کا پیغام قبول ہوا یا نہیں ہوا لوگ تبدیل ہوئے نہیں ہوئے یہ مطلوب نہیں۔ اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
احمد جاوید: نہیں اس کو دوسری طرح بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ ایک تحریک اگر پچاس سال سے ناکام ہے، اپنے مقاصد حاصل نہیں کرپارہی اور اپنے کام میں لگی ہوئی ہے تو اسے ناکام نہیں کہا جائے گا۔ بالکل ٹھیک ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے اور اسے دینی معنوں میں بھی ناکام نہیں کہا جائے گا دنیاوی معنوں میں بھی ناکام نہیں کہا جائے گا۔ اسے ناکام کہنے کا کوئی دینی یا عقلی جواز نہیں ہے، لیکن ا گر کوئی تحریک اس طرح کی ہو، وہ سکڑنے لگے، اس کا ایکٹی وزم کم ہونے لگے، اس کے مقاصد بدلنے لگیں تو پھر کہا جائے گا کہ یہ ناکام ہوگئی ہے ۔ ہمارے یہاں مشکل یہ ہے کہ وہ ناکامی کے احساس سے بچانے والی چھوٹی چھوٹی کامیابیاں بھی اب تیزی سے کم ہوتی جارہی ہیں۔جدوجہد تو کررہے ہیں، بس جدوجہد کرتے رہنے پر ہم راضی ہیں۔ اپنی جدوجہد کو نتیجہ خیزبنانے کے لیے جن صلاحیتوں کی ضرورت ہے، ان سے غافل ہیں۔ یہ مذہبی طبقے کا ایک ڈایلیما ہے کہ آپ انقلاب لانے کی جدوجہد میں مخلص بھی ہیں، سرگرم بھی ہیں، لیکن انقلاب لانے کے لیے جو قوت اور صلاحیت لازماً درکا ہے، اس قوت و صلاحیت کو حاصل کرنے کی کوئی سنجیدہ اور مربوط کوشش نہیں کررہے۔
اب جماعت اسلامی یا کوئی بھی معروف سیاسی ذریعہ سے غلبہ دین کی جدوجہد کرنے والی مخلص جماعت، اس طرح کی کوئی بھی جماعت ہو، ان سے یہ پوچھا جائے کہ تم جو اسلامی نظام لانے کے لیے اپنے سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہو، اس میں ہمیں کوئی شبہ نہیں ہے۔ وہ اسلامی نظام عمل میں کس طرح آئے گا؟ سودی نظام سے نکلنے کا کوئی لٹریچر ہے تمہارے پاس سے؟ تمہارے پاس موجودہ نیشن اسٹیٹ کے جو شہری مساوات کا حق ہے، اس کو اسلام سے کس طرح جوڑوگے، اس کا کوئی narativeہے تمہارے پاس ؟ کیپٹلسٹ معیشت میں جو باریکیاں، پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں، ان کا کوئی احساس ہے تمہارے پاس؟ کیپٹلزم کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ مغرب کے بارے میں تمہاری کیا انڈر اسٹیڈنگ ہے؟ اور پھر اسلامی نظام ‘ اللہ کی حاکمیت‘ حاکمیت اعلیٰ ‘ اللہ کا قانون‘ شریعت کا طریقہ ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا‘ یہ سب تمہاری وجہ سے بے معنی نعرے لگنے لگے ہیں۔ کیونکہ تم اس کے معنی بتاتے ہی نہیں ہو‘ اللہ کی حاکمیت کس اسٹرکچر میں ہوگی؟ جیسے مغرب نے کہا ناں؟ مغرب نے ایک ڈسکورس (Discourse) کیا جمہوریت کا، جمہوریت ایک مغربیوں کے لیے دین ہے۔ انہوں نے بتادیا جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت عوام کے ذریعے عوام کے لیے۔ انہوں نے ایک لائن بنائی ناں۔ اس طرح اللہ کی حاکمیت ‘ اللہ کے بندوں کے لیے یہ ان کا سلوگن ہے جمہوریت نے اپنے سلوگن کو عمل میں لانے کے لیے تمام وسائل تمہاری نظروں کے سامنے رکھ دیے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: مولانا مودودیؒ نے معیشت‘ اسلامی معیشت پر بہت لکھا سود کے حوالے سے ’’سود‘‘ کے عنوان سے ایک ضخیم کتاب لکھی اور آج اگر دیکھا جائے تو دوسری طرف مولانا تقی عثمانی نے اسلامی بینک کا نظام متعارف کروادیا کام تو ہوا ہے اور ہورہا ہے؟
احمد جاوید: پہلی مثا ل لے لیتے ہیں، مولانا مودودی کا ’’مسئلہ سود‘‘۔اس کتاب کا بڑا فائدہ اوربڑی برکت یہ ہے کہ اس سے مسلمان کو یہ پتا چل جاتا ہے کہ سود حرام ہے، بس۔ بلاسودی معیشت کا ایک نظام کے طو رپر کیسے پتہ چلے گا، اس کی کوئی رہنمائی ہے اس کتاب میں؟ سرمایہ دارانہ capitalisticسودی معیشت کی متبادل معیشت کے ضروری خدوخال اور ورکنگ پیپر ہے اس کتاب میں ؟ یا کسی بھی عالم کی کتاب میں؟ اس طرح تھوڑی ہوتا ہے۔ ایڈم اسمتھ کو پڑھیں تو آپ کو کیپٹلزم کی بائبل نظر آجائے گی۔ تو بلاسودی معیشت اپنی ورک ایبل حالت میں کہاں ہے؟ پھر یہ کہ کسی بھی مسلمان ملک میں کسی بھی اسلامی مملکت کہلانے والے ملک میں بلاسودی نظام معیشت سرے سے موجود نہیں ہے۔ تو اس کا کیا سبب ہے؟ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ علماء کے ذہن میں معیشت کا نظام بنانے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ وہ موجودہ معیشت کے دروبست کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ وہ کیپٹلزم کا سامنا کرکے معیشت کا ایک ڈھانچہ بنانے کی قابلیت ہی نہیں رکھتے۔ وہ بس ہوا میں احکام کی سطح پر بات کررہے ہیں کہ یہ حکم قرآن میں ہے، یہ حکم حدیث میں ہے، یہ حکم اخلاقی طور پر ضروری ہے۔ اخلاق بھی کتابی، قرآن و حدیث بھی کتابی، یہ سارے احکام اپنی تعاملی صورتوں میں ایک نظام کو چلانے والے کیسے بنیں گے؟یہ سب کچھ بھی نہیں ہے۔ مجھے بھی معلوم ہے، سود حرام ہے۔
اب دوسرا ماڈل تقی عثمانی صاحب کا ہے۔ تقی عثمانی بڑے عالم ہیں، میں عالم نہیں ہوں۔ میرے ایک دوست ہیں، سینئر بینکر ہیں اور انٹلکچول بینکر ہیں۔ وہ نظام معیشت اور عالمی نظام معیشت کو تقی عثمانی سے ایک ارب گنا زیادہ جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا، یہ رام کا نام رحیم رکھ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، جو ہم ان سے فرمائش کرتے ہیں کہ اس کو جائز بنا دیں، اس کو اسلامی بنادیں، وہ ہمارے مفادات کو نظر میں رکھتے ہوئے کہ ہمیں کوئی نقصان نہ اٹھانا پڑے، اسے اسلامی اصطلاحات میں بدل دیتے ہیں اور تھوڑا سا اس میں (ضابطے) Procedural change لے آتے ہیں۔عمل اور اس کی بنیاد اور اس کا نتیجہ وہی رہتا ہے۔ یہ وہی تصور ہے کہ مغرب پر ہم غالب نہیں آسکتے، مغرب سے ہم لڑ نہیں سکتے تو اب بعض مغربی اقدار میں کچھ جزوی اور غیر موثر آرائشی تبدیلیاں کرکے اسے مشرف بہ اسلام کرلو۔ یہ مذاق ہے اور یہ ہماری طرف سے ایک مکمل اعتراف شکست ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ کی شہرت ماہر اقبالیات کی بھی ہے۔ آپ نے اپنی عمر کا طویل عرصہ فکر اقبال کو عام کرنے میں بسر کیا۔ سوال یہ ہے کہ اقبال کی فکر ہمارے لیے اور بحیثیت مجموعی پوری امت مسلمہ کے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے؟
احمد جاوید: اقبال ہماری جدید روایات میں وہ آدمی ہیں جن کے یہاں ہم اسلامی ورلڈ ویو کو زیادہ کامل حالت تلاش کرسکتے ہیں۔ اقبال معاصرین میں غالباً عالم اسلام میں سب سے ممتاز اور منفرد آدمی ہیں جنہوں نے اس ضرورت کا ادراک کیا کہ اسلامی ورلڈ ویو جو ہے وہ پہلے تشکیل دینا چاہیے اسلامی تہذیب کے اصول ومبادی کو پہلے بیان ہونا چاہیے واضح ہونا چاہیے ورلڈ ویو کی میں نے تعریف کردی کہ تصور خدا‘ تصور انسان‘ تصور کائنات اور تصور علم‘ اقبال کے علاوہ یہ ورلڈ ویو اتنی اونچی ذہنی سطح اور اتنی مضبوط جذباتی سطح دونوں سطح پر ظاہر ہوا ہے وہ ان کے معاصرین کو اس کا شعور اور احساس نہیں تھا۔ اقبال کا سب سے بڑا کارنامہ اور افادیت یہ ہے کہ جب بھی ہم ہوش میں آکر اپنا ورلڈ ویو بنانے کی کوشش کریں گے تو اس میں اقبال سے مدد لینی ناگزیر ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: اقبال کے بارے میں آپ کے استاد سلیم احمد سمیت کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اقبال کی شاعری اور اقبال کے خطبات میں تضاد پایا جاتا ہے آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
احمد جاوید: اقبال کی شاعری اور خطبات میں تضاد نہیں ہے، موضوعات کا فرق ہے اور موضوعات کا بیان کرنے کا فرق ہے۔ تضاد کہیں نہیں ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: وضاحت فرمایئے؟
احمد جاوید: وضاحت تو اس بات کی ہونی چاہیے کہ کہاں تضاد دیکھا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: جی۔ کہا یہ جاتا ہے کہ وہ اپنی شاعری میں عشق اور اپنے خطبات میں عقل کی فوقیت کے قائل نظر آتے ہیں۔ شاعری میں ایک مذہبی انسان کو ہم دیکھتے ہیں تو خطبات میں مغربی فکر سے متاثر دکھائی دیتے ہیں؟
احمد جاوید: نہیں وہ شاعری میں بھی مغربی فکر سے متاثر ہیں اور خطبات میں بھی ہیں۔ لیکن خطبات میں وہ مغربی فکر کا سامنا کرکے مغربی ذہن کے لیے قابل قبول تصور اسلام بتانے کی کوشش کررہے ہیں۰ شاعری میں ان کا مخاطب مسلمان ہے جس میں وہ اپنے ہی ورلڈ ویو سے آشنا کرنے کی جذبے اور عقل دونوں سطحوں پر کوششیں کررہے ہیں۔ تو مخاطب بدل جانے کے فرق سے طریقۂ کلام بدل گیا ہے اور استدلال کا نظام بدل گیا ہے اور وہ بدلنا ضروری تھا۔ غیر مسلم کے سامنے یا غیر مسلم طبیعت کی سامنے اسلام کو جس طرح پیش کیا جائے گا، وہ اس سے مختلف ہوگا جیسا کہ مسلمانوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔تضاد کی نسبت نہیں ہے، تنوع کہہ سکتے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: سلیم احمد صاحب نے جب اس رائے کا اظہار کیا تو ان کے سامنے آپ نے اپنی رائے کا اظہار کیا؟ ان سے بات ہوئی؟
احمد جاوید: ’’اقبال ایک شاعر‘‘ انہوں نے لکھی وہ بہت جلدی میں لکھی، انہوں نے وہ کتاب ایک مہینے میں لکھی تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے جب سلیم بھائی نے یہ کہا تھا تو ہم اس بات کے قائل تھے کہ خطبات کا اقبال کوئی اور ہے شاعری کا اقبال کوئی اور ہے خطبات کا اقبال مغرب سے مغلوب ہوچکا ہے اور شاعری کا اقبال مغرب سے لڑنے پر اکساتا ہے۔ اس وقت میری بھی یہی رائے تھی جو استاد کی رائے ہے اوریہ فطری بات ہے لیکن جب میرا خود اقبالیات سے عملی تعلق سلیم احمد کے انتقال کے دو سال بعد پیدا ہوا ہے تو جب میں اقبالیات کے شعبے سے متعلق ہوا اور جب میں نے اقبال کو تفصیل سے اور زیادہ سنجیدگی سے پڑھا تو پھر مجھے یہ معلوم ہوا کہ سلیم احمد کی اس رائے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اقبال ایک بہت منضبط آدمی تھے۔ تضاد چھوٹے ذہن کے افکار میں ہوتا ہے ایک آدمی چیزوں کا holistic View کلی نقطہ نظر کھتا ہو اس میں غلطی ہوسکتی ہے کہ مغرب کی وجہ سے ترقی کررہاہے عالم اسلام علم نہ ہونے کی وجہ سے تنزل میں ہیں یہی وہ خطبات ہیں بھی کہتے ہیں۔شاعری مغرب کے تصور وجود کے مقابلے میں اسلام کا تصور وجود پیش کرتی ہے اور خطبات مغرب کے تصور علم کے سامنے اسلام کا تصور علم پیش کرتے ہیں تو اتنے بڑے بنیادی تھیمز(موضوعات) کا ادراک اور کلام کے دو ذرائع اختیار کرنا بڑے آدمی کاکام ہے ۔
فرائیڈے اسپیشل: آج کل سیکولرزم اور لبرل ازم کی اصطلاح ایک بار پھر موضوع بحث بنی ہوئی ہے اس موضوع پر بہت بات کی جارہی ہے اورلکھا بھی جارہا ہے یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا سیکولرزم کفر ہے؟آخر ان کا مطلب کیا ہے؟ ذرا ہمیں سمجھایئے؟
احمد جاوید: سیکولرزم اور لبرل ازم دونوں جڑواں بہنیں ہیں لبرلزم ایک رویہ ہے سیکولرازم ایک نظام ہے ان میں فرق یہ ہے کہ سیکولرزم کا مطلب ہے کہ دنیا کے معاملات انسان چلائے گا اس کی لیے کسی خدا ئی ہدایات نامے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ سیکولرزم ہے لبرل ازم کا مطلب ہے کہ کفر بھی ٹھیک ہے ایمان بھی ٹھیک ہے آدمی کو کافر ہونے کا بھی کھلا موقع ملنا چاہیے مومن ہونے کا راستہ بھی صاف رہے یہ رویہ ہے کہ کافر سے اس کی کفر کی بنیاد پر دوری نہ محسوس کرنا اور مومن سے اس کی ایمان کی بنیاد پر خصوصی محبت محسوس نہ کرنا یہ لبرل ازم ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: ایک شخص اگر مسلمان ہے او روہ خود کو سیکولر کہے تو کیا اس نے اسلام کی جس بنیاد کا حلف لیا ہے اس کی خلاف ورزی کررہاہے؟
احمد جاوید: خلاف ورزی ہے ‘ مذہبی آدمی سیکولر نہیں ہوسکتا۔ سیکولزم کا مطلب ہے دنیا میں خدا کے اختیارات کو سلب کرلینا‘ خدا کو غیر متعلق کردینا تو سیکولر ازم مذہب کی اور خاص طور پر اسلام کی نفی ہے۔ عیسائیت نے تو اپنی اس پوزیشن کو قبول کرلیا کہ چلو دین انفرادی معاملہ ہے لیکن اسلام کا تو دعویٰ ہی اس پر ہے کہ انسان اس کی انفرادیت اور اجتماعیت سب کی سب اسلام کے دائرے میں ہونی چاہیے یعنی اسلام کو انسان کی اجتماعی انفرادی سرگرمیوں کا مرکز ہونا چاہیے اور سیکولرازم اس کو مانتا ہی نہیں۔ کہتا ہے، مرکز انسان خود ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ کے جو اساتذہ ہیں وہ اپنی بات کو آسان اسلوب میں بیان کرنے والے ہیں مثلا ایوب دہلوی، سلیم احمد وغیرہ لیکن بہت سے لوگوں کو آپ کے اظہار کا سانچہ بہت مشکل، ادق اور پیچیدہ محسوس ہوتا ہے اس کا کیا سبب ہے؟
احمد جاوید: میں یہ نہیں کہتا کہ اس میں صداقت ہے یا نہیں ہے کیونکہ میں اپنے اوپر غور نہیں کرتا۔ لیکن اگر مجھ سے پوچھا جائے تو اپنی دفاع کی نیت کیے بغیر میں یہ کہوں گاکہ یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔ سلیم احمد کے اسٹائل میں ایک سلاست تھی لیکن مولانا ایوبؒ کی گفتگو آسان نہیں تھی۔ مولانا ایوب صاحب کی گفتگو میں بہت اصطلاحات تھیں وہ گفتگو عالموں کے لیے تھیں۔ میں یہ سمجھتا ہو کہ مخاطب میں فرق پیدا ہو جانے کی وجہ سے مجھے مشکل پسندی کا چارج سننا پڑتا ہے کیونکہ سامعین وہ نہیں رہے۔ اگرہمارے سامعین بھی مولانا ایوب صاحب اور سلیم احمد اور حسن عسکری جیسے ہوتے تو میرا خیال ہے کہ میرا طرز کلام ان کے لیے سہل تھا اب صورت یہ ہے کہ اخبار پڑھنے کی صلاحیت لے کر لوگ حقائق کی کھوج میں نکلتے ہیں۔ یعنی آپ جن سے بات کر رہے ہیں انہوں نے بمشکل اخبار کو پڑھ کر سمجھنا سیکھا ہے اب آپ ان سے بات کرتے ہیں حیات و کائنات کے مسائل کی یا کچھ گہرے مسائل کی تو وہ انہیں مشکل لگتے ہیں۔ لیکن وہ مشکل ہوتے نہیں ہیں میرے خیال میں، میں چیزوں کو واضح کرنے کا مزاج رکھتا ہوں۔ یہ ٹھیک ہے کہ میں پہلے دو فقرے یا تمہیدی جملے ایسے بولتا ہوں جو اصطلاحی ہو اور جس میں بات پوری ہو جائے اور جو اس علمی معیار کے مطابق ہوں تو اس کے بعد زیادہ وقت انہی کی وضاحت میں لگاتا ہوں تو جس کی گفتگو میں وضاحت کرنے کا عمل زیادہ ہو اس کو مشکل کہنا ٹھیک نہیں ہے۔ دوسرا مجھے ایک چیز کا جیسے بہت احساس رہتا ہے کہ علم کی اور علم کے بیان کی سطح کو گرنے نہ دیا جائے مخاطب کو دعوت دی جائے تم اوپراٹھو خود کو اس کاپابند نہ کیا جائے کہ میں علم کو اس کی سطح فہم پر گرا دوں،ہمارے زوال کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ہمالیہ کو کہتے ہیں کہ اپنا قد چھوٹا کرو تو میں تم سے معانقہ کروں گا۔ اگر تم نے اپنی بلندی برقرار رکھی تو میں چلا، تو یہ ذہن اونچائی کی کشش سے محروم ہو گیا ہے۔ مشکل میں ایک ذہین آدمی کے لیے دلکشی ہوتی ہے اس کو سوچ اس پر غور کرے اور اس کو حل کرے تو جن لوگوں نے مجھ سے کہا تمہاری بات سمجھ میں نہیں آئی۔ مشکل ہے تو میں نے ان سے ایک سوال کیا اور سب کا جواب مشترک تھا۔ مطلب یہ میں رپورٹ کر رہا ہوں۔ میں نے کہا تم نے غورکرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد یہ کہہ رہے ہو۔ غور کر کے کہہ رہے ہو۔ تمہاری بات مشکل ہے انہوں نے کہا غور کرنے میں نہیں سننے میں مشکل لگی۔ یعنی پہلا تاثر مشکل لگا۔ تو اس کے اندر یہ ارج نہیں پیدا ہوئی کہ ایک آدمی کی یہ بات سننے میں مجھے مشکل لگی ہے تو میں اس مشکل کو حل کرنے کی کوشش تو کروں نا۔ اس جملے پردو مرتبہ غور تو کر کے دیکھو۔ اب آپ کسی کی بات پر دوسری مرتبہ غور تو کر کے دیکھو۔ اب آپ کسی کی بات پر دوسری مرتبہ غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے اور پہلے تاثر اس پر فیصلہ کر لیں کہ یہ بات مشکل ہے، لہٰذا میں اس کا مخاطب نہیں بنتا، میں اس پر غور نہیں کروں گا تو یہ تو بہت ہی لکڑی کے دماغ کا کام ہے نا۔ ورنہ ہم بھی چھوٹے تھے، اپنے استادوں کی باتیں نہیں سمجھتے تھے تو وہ حافظے میں رکھتے تھے، کاغذ پر لکھتے تھے اور پھر اگلی ملاقات تک اس پر غور کرتے تھے اور انہیں یہ بات فخریہ بتاتے تھے کہ ہمیں یہ بات آپ کی مشکل لگی اور ہم نے دو دن غور کر کے اس کواس طرح سمجھا ہے یہ درست ہے؟ تو کبھی درست ہوتی تو کہتے تھے، درست ہے۔ کبھی غلط ہوتی تھی تو کہتے تھے، یہاںیہ غلطی تھی اور بات واضح ہو جاتی تھی۔
حل تنازعات کے طریقے سیرت نبوی کی روشنی میں
محمد حسین
تنازعات کا علم جدید سماجی علوم میں بہت ہی اہمیت کا حامل بن چکا ہے۔ یہ ایک مستقل شعبہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ دنیا بھر کی یونیور سٹیوں اور تحقیقاتی و پالیسی ساز اداروں میں اس پر تدریسی و تحقیقی پروگرامات اور مطالعات اور تحقیقات کا ایک وسیع سلسلہ جاری ہے۔ اس علمی شعبے میں ہونے والی پیش رفت کے نتیجے میں تنازعات کے تجزیات، اصول، اساب و اثرات، مراحل و صورتیں اور تنازع سے نمٹنے کے اسالیب اور تنازع کے نتائج پر بہت کام کیا جا چکا ہے اور بہت کچھ کیا جا رہا ہے۔ چونکہ دنیا میں اس وقت جاری تنازعات یا تو مسلم ممالک میں ہیں یا ان سے مسلمان وابستہ ہیں، اس لیے اس میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تاریخ کا خصوصی مطالعہ کیا جارہا ہے اور دہشت گردی، امن، تنازعات سے اسلام کے تعلق کی نوعیت کو جاننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گزشتہ چار سال کے دوران میں مجھے امن، تنازعات کا حل، اور سماجی ہم آہنگی کے اسلامی تناظرات و موضوعات پر ایک طرف کچھ تحقیقی کام کا موقع ملا اور دوسری طرف پاکستان کے متعدد شہروں میں مختلف مسالک و مذاہب سے وابستہ تقریباً دو ہزار اساتذہ اور قائدین کو ان موضوعات پر ٹریننگ دینے کے پراجیکٹس پر کام کا موقع ملا۔ اس دوران میں جب ہم نے سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی مطالعہ کیا تو ہمیں بہت مسرت ہوئی کی اتنی علمی پیش رفت کے بعد تنازعات کے علم پر کام کرنے والے ماہرین نے تنازعات سے نمٹنے کے جو اسالیب و طریقے پیش کیے ہیں، اْن سے متعلق سیرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمیں واضح رہنمائی ملتی ہے۔ یہاں ہم انتہائی اختصار کے ساتھ تنازع سے نمٹنے کے مختلف اسالیب کو سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہاں صرف وہی واقعات بطور مثال پیش کر یں گے جو بہت مشہور ہیں اور جنھیں اسلامی تاریخ و سیرت النبی کی تقریباً ساری کتب میں بیان کیا گیا ہے۔
تنازع سے کیا مراد ہے؟ ’’تنازع‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے اور ’’نزع‘‘ سے مشتق ہے۔ نزع کا معنی کھینچنا ہے۔ پس دو یا دو سے زائد افراد کا کسی چیز کو اپنی طرف کھینچنا تنازع کہلاتا ہے، جبکہ عام بول چال میں تنازع اختلاف، جھگڑے یا کشمکش کو کہا جاتا ہے۔ اصطلاحی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ’’تنازع سے مراد کم سے کم دو افراد یا گروہوں کے درمیان ایسا تعلق ہے جن کے مفادات، مقاصد،نظریات یا ضروریات میں حقیقی طور پر یا تصوراتی طور پر تصادم یا عدم مطابقت پائی جاتی ہے۔
مفادات یا نظریات کے تصادم کی بنیاد پر تنازع کے فریق ایک دوسرے کے خلاف رد عمل دکھاتے ہیں‘‘۔ عام طور پر تنازع کو امن کا متضاد سمجھا جاتا ہے، حالانکہ امن کا ضد خوف ہے اور تنازع خوف کا ایک اہم سبب ہے۔
کسی بھی تنازع کی صورت حال سے نمٹنے کے طریقے یا اسالیب مختلف ہو سکتے ہیں۔ صورت حال کے مطابق نمٹنے کے انداز مختلف ہو سکتے ہیں اور ان کے تحت تنازع کے نتائج بھی مختلف نکل سکتے ہیں۔ ذیل میں تنازع سے نمٹنے کے مختلف طریقوں اور اسالیب کو بیان کیا جارہا ہے:
ا) تنازع پر قابو پانا (Conflict Management )
سب سے پہلے ضروری ہے کہ تنازع کو تشدد اور نقصان سے بچانے کے لیے اس پر قابو پالیا جائے۔ متحارب افراد اور گروہوں کو ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے روکنے کے لیے ان کے درمیان قانونی، سماجی اور اخلاقی رکاوٹیں پیدا کی جائیں جس کے نتیجے میں عارضی طور پر امن قائم ہو جاتا ہے۔
ایک موقع پر اہل قبا کے مابین جھگڑا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ نے فرمایا:
’’ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم ان کے درمیان صلح کروائیں۔‘‘ (مسندابی یعلی الموصلی : ۷۵۴۵)
اس طرح ایک جاری تنازع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں جا کر قابو پا لیا، تاکہ نقصان اور تشدد سے بچا جا سکے۔
ب) تنازع کا حل نکالنا (Conflict Resolution )
تنازع پر وقتی طور پر قابو پانے کے بعد تنازع کا کوئی نہ کوئی وقتی حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ تنازع کے حل کا مقصد فریقین کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کی ضروریات، مسائل اور تنازع کی وجوہات کو سمجھ کر پائیدار حل تلاش کر سکیں۔ اس مرحلے/طریقے کا مقصدفریقین کو کسی ایسے معاہدے یا حل پر راضی کرنا ہوتا ہے جس پر دونوں فریق پر مطمئن ہو تاکہ تنازع کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
بعثت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کعبۃ اللہ میں حجر اسود نصب کرنے کے مسئلے پر قریش کے قبائل کے درمیان کھڑا ہونے والا تنازع اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیش کردہ حل ایک بہترین مثال ہے۔ تمام قبائل یہ سعادت خود حاصل کرنے کے خواہش مند تھے اور اس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنازع کو بہترین انداز میں حل کرنے کے لیے یہ تجویز پیش کی کہ حجر اسود کو ایک چادر کے درمیان میں رکھا جائے اور ہر قبیلے کا سردار ایک کونا پکڑ کر اْسے مطلوبہ مقام پر لے جائے جہاں اْسے نصب کرنا مقصود تھا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور تنازع حل ہوگیا جس سے خطرناک لڑائی کا خطرہ ٹل گیا۔
اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مختلف تنازعات کے لیے مختلف اور مؤثر حل سامنے لائے۔
ج) تنازعات کو بہتر مواقع میں بدل دینا (Conflict Transformation )
تنازع کو بہتر مواقع میں بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ تنازع کا کثیر الجہت تجزیہ کیا جائے اور اس کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ تنازع کی وجہ سے فریقین کے مابین متاثر ہونے والے تعلقات کو بحال کیا جائے، نقصانات اگر ہوئے ہوں تو ان کا ازالہ کیا جائے، نفرتوں کو معافی اور عفو و درگزر کے ذریعے خوشگوار تعلقات میں تبدیل کیا جائے تاکہ فریقین افہام و تفہیم کے نتیجے میں ایک دوسرے کی صلاحیتوں، استعداد اور وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ایک ایسے دور کا آغاز کر سکیں جس میں مذکوہ مسئلہ پر کسی تشدد یا تنازع کا خدشہ نہ رہے۔ دونوں گروہ تنازع کی وجوہات دور کر کے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کے بعد تنازع کو عناد اور دشمنی کے بجائے مستقل بنیادوں پر مفاہمت اور دوستی میں بدل دیں۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد فریقین کی مدد کرنا ہے کہ وہ تنازع کے صحت مند اور مفید اثرات قبول کرتے ہوئے اس قابل ہوجائیں کہ باہمی تنازعات کے ذیلی مسائل کا حل خود تلاش کر سکیں۔
یہ وہ مرحلہ ہے جب تنازع کے بعد بحالی اور تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اس مرحلہ میں تعمیرِ نو کا مقصد صرف تباہ شدہ عمارت کی از سر نو تعمیر نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور سیاسی ڈھانچے کی تعمیرِ نو اور تنازع کے شکار فریقین کے درمیان پہلے سے مضبوط اور پائیدار تعلقات استوار کرنا ہے اور نئے امکانات اور مواقع کا آغاز ہے۔ اس کا مقصد تنازع کی بنیادی وجہ کو سامنے لانا اور فریقین کو کسی ایسے حل کی طرف لے جانا بھی ہے جس کے بعد تنازع کا خدشہ نہ رہے۔
فتح مکہ (۸ ہجری ) کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فاتح بن کر شہر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے وہی لوگ تھے جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بے شمار ظلم ڈھائے، جس کے سبب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت فرمائی اور ان کے ساتھ کئی جنگیں لڑیں۔ ان سب باتوں کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کو معاف فرمایا۔ اس معافی کے بعد ماضی کے دشمن اب ہر قسم کی تلخیاں بھلا کر مکمل طور پر آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور ایک نئی اجتماعی زندگی کا آغاز فرمایا۔
اسلامی تاریخ میں ہجرت کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے انصار اور مکہ مکرمہ سے آنے والے مہاجرین کے درمیان مواخات کا رشتہ قائم کیا۔ نسل، قوم و قبیلہ، خاندان، شہر، سوچ و بچار وغیرہ کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود انصار اور مہاجرین ایک پائیدار رشتہ میں بندھ گئے۔ انہوں نے ایک دوسرے کے لیے ایثار و قربانی کی عظیم مثال قائم کی۔
مذکورہ بالا مثالوں میں تنازعات کا نہ صرف حل پیش کیے گئے بلکہ ان کو بہتر مواقع میں تبدیل کرتے ہوئے ان سے مثبت، دیرپا اور مفید اثرات برآمد کیے۔
د) تنازعات سے بچاؤ (Conflict Prevention)
تنازع سے بچاؤ بھی ایک ایسی حکمت عملی ہے جس سے معاشرے کو تنازعات سے بچایا جا سکتا ہے۔ تنازع سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ ان وجوہات کا پہلے ہی جائزہ لیا جائے جو تنازع کا سبب بن سکتی ہوں، یعنی ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ تنازع پیدا ہونے ہی نہ پائے۔ تنازعات سے بچاؤ کے لیے معاشرے کے اندر لوگوں کے مابین ایسی کوششیں اور اقدامات کیے جا سکتے ہیں جو تنازع کا راستہ روکیں اور تنازع اور تشدد کا مرحلہ پیش ہی نہ آئے۔ معاشرتی اقدار جیسے باہمی احترام، عدل و انصاف، مساوات، باہمی افہام و تفہیم، حسن معاشرت اور حسن اخلاق وغیرہ کے فروغ سے تنازعات کا بچاؤ ممکن ہے۔ اسلامی تعلیمات میں ’’ سدّ ذرائع ‘‘ (برائی کا راستہ روکنے کا) کی صورت میں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ سد ذرائع تنازعات سے بچاوکی اسی حکمت عملی کو واضح کرتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک کبیرہ گناہوں میں سے ایک اپنے والدین کو گالی دینا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کوئی شخص اپنے والدین کو بھی گالی دے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ،وہ دوسرے شخص کے باپ کو گالی دے گا اور دوسرا رد عمل میں اس کے باپ کو گالی دے گا، وہ دوسرے کی ماں کو گالی دے گا تو وہ اس کی ماں کو گالی دے گا۔ (صحیح مسلم: ۱۳۰)
یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سد ذرائع کی تعلیم دی کہ اگر تم نے اپنے ماں باپ کی ناموس کو بچانا ہے ، تو دوسرے کے ماں باپ کی توہین نہ کرو۔
حل تنازعات کی ممکنہ صورتیں
فریقین چاہے وہ افراد ہوں، گروہ یا ممالک، ان کے درمیان تنازع مندرجہ ذیل چار مختلف صورتوں میں ختم ہو سکتا ہے:
ا) یک فریقی جیت ( win۔lose)
ایک فریق ،جسمانی طور پر زیادہ مضبوط ہونے یا مالی لحاظ سے زیادہ طاقتور ہونے یا اسے کسی بااختیار ادارے یا ملک کی حمایت کی وجہ سے جیت جاتا ہے اور دوسرا ہار جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ہارنے والا مطمئن نہ ہواور اسے تشدد اور نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑے۔
مختلف غزوات اس کی مثال ہیں۔ غزوہ بدر میں مسلمانوں کو جیت اور مشرکین کو شکست اور غزوہ احد میں اس کے برعکس مسلمانوں کو شکست اور مشرکین کو جیت ملی۔
ب) دست برداری (lose۔win)
تنازع کو کم از کم عارضی طور پر ختم کرنے کا ایک اور طریقہ دست برداری ہے جس کے مطابق ایک یا دونوں فریق پیچھے ہٹ جاتے ہیں، البتہ اس کے ذریعے کوئی بھی فریق صحیح معنوں میں مطمئن نہیں ہوتا۔
سن ۶ہجری میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ عمرہ کرنے کا فیصلہ فرمایا اور مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اس فیصلہ کا جب مکہ کے قبائل اور سرداروں کو پتا چلا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کسی صورت مسلمانوں کو عمرہ کرنے نہیں دیں گے۔ قریش مکہ نے مسلمانوں کو مکہ سے باہر حدیبیہ کے مقام پر ہی روک دیا۔ اس موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس معاہدہ کی چند شرائط سے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بظاہر متفق نہیں تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان شرائط کو منظور فرمایا۔ صلح حدیبیہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے موقف (عمرہ کی ادائیگی)سے دست بردار ہوتے ہوئے مکہ مکرمہ جانے کے بجائے واپس مدینہ منورہ لوٹے۔
ج) سمجھوتہ (lose۔lose)
یہ تنازع کے حل کا آغاز ہے۔ دونوں فریق کم و بیش کسی چھوٹی سی تبدیلی پر مثلاً ان وسائل میں شراکت جن پر ان کے درمیان جھگڑا ہوا، یا براہ راست لڑائی سے گریز پر رضا مند ہوجاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ سمجھوتہ فریقین کے لیے مکمل طور پر منصفانہ، نہ ہو لیکن یہ کم از کم عارضی طور پر اطمینان بخش ہوتا ہے۔
میثاق مدینہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے یہودی قبائل کو ریاست سے وفاداری کے عوض تمام شہری حقوق عطا کیے۔
د) ہر ایک کی جیت (win۔win)
حقیقی مشترکہ سوچ (یا اعلیٰ تر سوچ) کے حامل فریق ایک دوسرے کے نقصان یا ہار کے بارے میں نہیں سوچتے بلکہ ہر ایک کی بھلائی اور جیت کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اس میں دونوں فریق اپنی اصل ضروریات پر ایک نئی مفاہمت پیدا کر لیتے ہیں اور تعاون کے ثمرات آپس میں بانٹنے کا ایک نیا طریقہ تلاش کر لیتے ہیں۔ وہ اپنے اختلافات کا احترام کرتے اور اپنے مشترکہ مسائل کا تعین کرتے ہیں۔ وہ اپنے مشترکہ مقصد کی خاطر مل کر کام کرتے ہیں۔ اس حل کے مطابق’’ پْرتشدد تنازع‘‘ فریقین کی نظر میں اختلافات کے حل کا تقریباً غیر مطلوب طریقہ بن کر رہ جاتا ہے۔
حجر اسود کے نصب کرنے کے معاملے پر پیش آنے والے تنازع کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا حل پیش فرمایا، جسے آج کے جدید دور میں ’’طرفین کی جیت‘‘ (win۔win) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسا حل جس میں سب کی جیت ہوتی ہے اور کسی کی ہار نہیں ہوتی۔
فتح مکہ بھی ہر فریق کی جیت کی ایک بہترین مثال ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فتح مکہ کے موقع پر عفوو درگزر کی عظیم مثال قائم کی اور فرمایا: اے قریش کی جماعت! آپ کیا کہتے ہیں کہ آج آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ انھوں نے کہا: آپ ہمارے بھتیجے اور عم زاد اور رحم کرم کرنے والے ہیں، اس لیے ہم امید رکھتے ہیں کہ آپ ہمیں معاف فرمائیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر ان سے یہی سوال پوچھا ۔ انھوں نے پھر یہی جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’’میں وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف (علیہ السلام )نے کہی تھی: آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمھیں معاف کر دے گااور وہ سب سے بڑا رحم فرمانے والا ہے۔‘‘
تنازعات کے دوران تین قسم کے رویے
تنازعات و فسادات کے دوران انسانوں کے رویے مختلف نوعیت کے سامنے آتے ہیں۔ ان رویوں کا ایک مجموعی جائزہ لیا جائے تو وہ تین طرح کے ہوتے ہیں۔
(1) بھڑکاؤ کا رویہ:
بعض لوگ تنازعات وفسادات کو مزید بھڑکاتے ہیں۔ وہ یا تو خود ایک فریق کا حصہ بن جاتے ہیں یا دور رہ کر جارحانہ یا دفاعی پوزیشن لینے والے کے ساتھ مدد کرتا ہے۔ شاید اس رویے سے بعض انسان اپنا مفاد حاصل کریں لیکن انسانی جان اور دیگر وسائل زندگی کے ضیاع کی صورت میں اس رویے کا نقصان انسانی معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے
(2) سلجھاؤ کا رویہ:
بعض لوگ تنازع کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھتے ہوئے اور تنازع کا فریق بنائے بغیر دونوں فریق کو کسی حل پر آمادہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں تاکہ تنازع کسی حل کی طرف بڑھے اور اس کے نتیجے میں نقصانات کم سے کم ہوں۔ کبھی ایسا بھی ممکن ہے کہ وہ اپنا اخلاقی، سیاسی اور سماجی قوت کی بدولت دونوں فریق یا کسی ایک فریق کو طاقت سے ایک دوسرے پر زیادتی کرنے سے روکیں۔
(3) لا تعلقی کا رویہ:
بعض لوگ بھڑکانے اور سلجھانے دونوں کاموں میں حصہ نہیں لیتے۔ یہ رویہ بعض صورتوں میں بہت تکلیف دہ اور نقصان د ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب تنازع رشتوں پر مبنی ہو تو لاتعلقی کا رویہ بھڑکاؤ کی مانند نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ یہ وہ تین رویے ہیں جو تنازع کے نتائج کو اثرانداز کرتے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ، ہمارا مظلوم کی مدد کرنا تو قابل فہم ہے، (کہ اسے ظلم سے بچائیں)، لیکن ہم ظالم کی مدد کیسے کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس کا ہاتھ ظلم سے روک دو۔ (یعنی درحقیقت یہ اس کی مدد ہے کہ وہ ظلم کے برے انجام سے محفوظ رہے گا)۔ (صحیح بخاری: ۲۳۱۲)
یہ حدیث مبارکہ ہمیں تنازع کی صورت میں بھڑکانے یا لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے منہ پھیرنے کے بجائے تنازع کو حل کرنے میں کردار ادا کرنے کی رہنمائی کرتی ہے۔ موجودہ دور میں تنازعات ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں۔ آپ اس کے مناظر اپنی گلی محلے کے فسادات سے لے کر قومی ، علاقائی اور بین الاقوامی فسادات میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس دور میں ہماری آزمائش یہ ہے کہ ہم کون سا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم فسادات کو درآمد کرنے یا بر آمد کر کے بھڑکانے والوں میں شامل ہوں اور دوسروں کے مظالم کی بھی سزا ہم بھگتیں!
اسلامو فوبیا ۔ کیا ہم خود بھی ذمہ دار نہیں؟
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
چند دن پہلے امریکہ میں آنے والے صدارتی انتخابات کے ایک امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ مطالبہ کر کے امریکیوں سمیت بہتوں کوحیران کر دیا کہ مسلمانوں کو امریکہ میں داخلہ کی اجازت نہ دی جائے۔ ان کے بیان کی شدید مذمت امریکہ میں بھی ہوئی ہے اور برطانیہ میں تو اب تک تیس ہزار لوگوں نے ان کے خلاف ایک دستخطی مہم پر اپنے دستخط ثبت کیے ہیں، تاہم ان کے بیان سے مغرب میں اسلامو فوبیا کا وجود عیاں ہو کر سامنے آگیا ہے۔ اسلامو فوبیا کا لفظی مفہوم ہے: اسلام سے خطرہ محسوس کرنا یا مسلمانوں سے نفرت کا اظہار۔ اس اصطلاح کوپہلے پہل مغرب کے بعض لکھنے والوں نے استعمال کیااور اب مغربی میڈیاکے ذریعے اس کا استعمال بہت عام ہوگیاہے۔اس پر ریسرچ ہورہی ہے، اس کے بڑھتے ہوئے مظاہر پر مغربی مسلمانوں کے ساتھ خود مغرب کی حکومتیں بھی تشویش کا اظہارکررہی ہیں اوراس کا مقابلہ کرنے کے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
ویسے توجب مسلمان اپنے دور عروج میں تھے، مغرب میں اسلامو فوبیا اس وقت بھی شباب پر تھا۔ متعصب عیسائی پادری اور رہنما پورے یورپ میں گھوم گھوم کر اسلام، پیغمبر اسلام اورمسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے اور انھیں بتاتے تھے کہ مسلمان ’’محمد‘‘ نام کے بت کی پوجاکرتے ہیں۔یہ بدقماش نبی اکرم کا نام بگاڑکر اس کو Mohmed, Mohamet یا Mohamend بولتے تھے اور آپ کو(نعوذباللہ) ظالم وجابربادشاہ، جھوٹانبی، شہوت پرست حاکم باور کراتے تھے۔ صلیبی جنگیں انھی جھوٹے پروپیگنڈوں کی بنیادپر مذہبی جوش وخروش سے لڑی گئیں۔ استشراق کی کلاسیکل تحریروں میں اس گمراہ کن پروپیگنڈے کی تفصیل موجودہے۔ پھراستشراق کا دوسرادورآیااوراُس نے علمی وتحقیقی رنگ اختیارکرلیاتواِس گمراہ کن پروپیگنڈے کی شدت میں کمی آئی۔ پھرجب مسلمان زوال کا شکارہوئے اور مغربی سامراج کوعروج ملا تو مختلف اسباب سے مسلمانوں نے مغرب کا رخ کرناشروع کردیا۔ نئی دنیا امریکہ میں اسپین اور افریقہ سے جبری مزدوری کے لیے ہزاروں مسلمان (مورسکو)لے جائے گئے تھے جن کی نسلیں وہیں کی باشندہ ہوگئیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعدجرمنی کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دیاگیا۔ جرمنی کے لوگوں کواپنے ملک کی تعمیرنوکے لیے غیرممالک سے افرادی قوت کی ضرورت پڑی جس کو ترکی کے مزدوروں نے پوراکیا۔ یہ مزدورجرمنی میں ہی رہ پڑے۔ اسی طرح الجزائراپنی آزادی سے پہلے فرانس کے مقبوضات میں تھا، اس لیے الجزائرسے بھی بڑی تعدادمیں مزدورپیرس وفرانس میں جاکرآبادہوگئے۔ پھرشام ومصراورعراق کے بادشاہوں اور ڈکٹیٹروں سے تنگ آکران ملکوں سے مذہب پسند نیز اشتراکی لوگ اور انقلابی عناصر سیاسی پناہ، امن وسکون، بہترتعلیمی، رہائشی اورروزگار کے مواقع کی تلاش میں عام طور پر مغرب کا رخ کرنے لگے۔ برصغیرسے بھی بہت سے لوگ تعلیم اور ملازمت کے لیے وہاں پہنچے۔ اس کے بعد فلسطین کے المیہ، اسرائیل کے قیام اور اس سے مسلمانوں کے جبری انخلا کے بعدمغرب کی طرف اس مہاجرت میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔
امریکہ، انگلینڈ اور یورپ کے دوسرے ممالک میں پہنچنے والے یہ تارکین وطن جب تک اپنی مزدوری یا ملازمت میں لگے رہے، کوئی مسئلہ وہاں کے لوگوں کوپیش نہیں آیا، مگر چونکہ ان تارکین وطن میں مذہب پسندبھی بڑی تعدادمیں تھے لہٰذاجب انہوں نے مسجدوں اور اسلامک مراکزکے قیام کے ذریعے اپنے مذہبی وتہذیبی تشخص کا اظہارشروع کردیا، تب سے مسئلہ پیداہونے لگا۔ تاہم چونکہ مغرب کا پورامعاشرہ سیکولر، جمہوری اورآزادی پسندہے (جس کی بعض اقدارسے یقیناًاختلاف ہو سکتاہے) لہٰذا اپنے انھی اصولوں کی بنیادپر اہل مغرب مجبورتھے کہ مشرق اورخاص کرعرب دنیا سے آنے والے مسلمانوں کومذہبی وکلچرل آزادیاں دیں اور انہوں نے دیں۔ لیکن تلخ حقیقت یہی ہے کہ تارکین وطن کا مذہبی اورتہذیبی تشخص کا Aggressive اظہار ہی وہ پوائنٹ تھاجب مغرب میں شدت سے اسلاموفوبیاکا ظہور ہونا شروع ہوا۔
حقیقت تویہ ہے کہ انتہا پسندی ہر سماج میں اور ہر مذہبی اکائی میں موجود ہے۔ مسلمانوں میں بھی ہے اور غیر مسلموں میں بھی۔ مغرب میں مسلمانوں کے خلاف اسی انتہاپسندی کی ایک شکل اسلاموفوبیا ہے جس کے مظاہر مختلف صورتوں میں سامنے آرہے ہیں۔ جرمنی میں اس کا ظہور نیو نازی ازم کی تحریک میں ہوا ہے توامریکہ میں ایونجلیکل فرقہ اس کی نمائندگی کرتاہے۔ ڈنمارک اورانگلینڈمیں بعض سیاسی پارٹیاں اورلیڈراس کی آوازاٹھاتے ہیں۔ اونجلیکل چرچ سے وابستہ کئی گروپ اورپادری اسرائیل کے ہم نوا ہیں اور عربوں اور مسلمانوں سے نفرت کا اظہارکرتے ہیں۔ اور بھی گروپ ہیں جو اس کے لیے سرگرم ہیں۔ کئی مسیحی پادری قرآن کو جلانے کی مہم میں پیش پیش ہیں۔ کئی پادری اور خواتین ڈبیٹر اپنی اسلام مخالف تقریروں کے لیے مشہورہیں اوریوٹیوب پر ان کی ہرزہ سرائیاں سنی جاسکتی ہیں۔ 9/11کے المیہ کے بعدامریکہ میں ایک اسلاموفوب گروپ نے Bomb The Caaba (کعبہ کوبم سے اڑادو)کا مکروہ نعرہ بھی لگایا تھا۔ فرانس میں الٹرا سیکولر گروپوں اورحکومت کومسلمان عورت کے حجا ب(اسکارف )سے ڈرلگتاہے۔ ڈنمارک میں ان کو مساجدکے میناروں سے خوف آتاہے۔ سویڈن اورپیرس میں پیغمبراسلام کے استہزائیہ کارٹون بناکراس کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانہ پرمفلس اور خانماں بربادشامی مہاجرین کی یورپ کومنتقلی سے بھی مغرب میں بعض لوگوں پر نہ جانے کیوں دہشت طاری ہے! اس لے میں میڈیاکے بڑ ے بڑے گروپ، فرائیڈمین جیسے اسرائیل نوازصحافی، جیری فالویل جیسے پادری،ڈینیل پائپس اور برنارڈلویس جیسے بڑے مستشرق سر میں سر ملائے ہوئے ہیں۔ ٹرینڈاڈ میں مقیم ہندنژادنوبل انعام یافتہ مصنف وی ایس نائپال کی تحریریں مسلمانوں کے بارے میں متعصبانہ ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کے فوکس نیوز، CNBC ,CNN وغیرہ اپنی رپورٹوں اورتجزیوں میں ان کے بارے میں جانب دار نہیں ہیں۔ ان کے اکثراینکر اور رپورٹرز مسلمانوں اور عربوں سے عناد اور اسرائیل کے لیے نر م گوشہ رکھتے ہیں۔
اسلاموفوبیاکے علمبردارگروپ عام طورپراسلام اورمسلمانوں کے خلاف وہی الزام لگاتے ہیں جوہندوستان میں فسطائی قوتیں لگاتی ہیں۔ یہ کہ مسلمان کئی کئی شادیاں کرتے اورزیادہ بچے پیداکرتے ہیں، اگران کی یورپ کونقل مکانی نہ روکی گئی تویہ کچھ ہی دنوں میںآبادی کا حلیہ اورتناسب بدل دیں گے ،ان کی اکثریت ہوجائے گی تویہ Rule کریں گے اورہماری آزادیوں اورتہذیب کوبربادکردیں گے۔ یہ امن عالم کے لیے خطرہ ہیں کیونکہ یہ اپنے مذہب کی روسے دوسرے مذاہب کے ساتھ امن اور چین سے نہیں رہ سکتے۔ یہ مغربی تہذیب وتمدن کے لیے اورمغربی اقدارکے لیے خطرہ ہیں۔ عورت کویہ غلام بناکررکھتے ہیں، انسان کواظہارخیال کی آزادی یہ نہیں دیتے، تہذیب کے ارتقا میں اِن کا کوئی کردار نہیں ہے ،وغیرہ۔ بلاشبہ بعض لوگوں کواسلام کے بارے میں غلط فہمیاں بھی ہوں گی مگراکثریہ پروپیگنڈاجان بوجھ کر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اسلاموفوبیاکا ایک مستقل ہتھیار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس شخصیت کی اہانت ہے جس کے لیے وہ کارٹون بناتے ہیں، سیرت پر کتابیں شائع کرتے ہیں اورچن چن کرایسے واقعات پر فوکس کرتے ہیں جن سے رسو ل اللہ کی شخصیت مجروح ہواوربدقسمتی سے سارامسالہ ان کومسلمانوں کے ہاں رائج اورجعلی روایات پر مبنی سیرت لٹریچرسے مل جاتاہے۔ مغرب میں بہت سی کتابیں ایسی بھی لکھی گئی ہیں اورلکھنے والے اہم مصنف اورناول نگار ہیں جن میں مغرب کے زوال کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ان کا کہناہے کہ اگرعربوں کی پیش قدمی نہ روکی گئی تویورپ، یورپ نہیں رہے گا، یوروسلام بن جائے گا۔
9/11کے حادثہ سے پہلے ہی اسلاموفوبیامغرب میں موجودتھا، چنانچہ مراکش کے ایک ریسرچ اسکالرنے اس مسئلہ کا جائزہ لیا تو پایا کہ صرف دو دہائیوں کے عرصہ میں تقریباً پچیس ہزار کتابیں، کتابچے، فلمیں، کارٹون اور ہینڈبل اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شائع کیے گئے۔ البتہ یہ بات ضرورکہی جاسکتی ہے کہ گیارہ ستمبرکے بعداس میں تیزی آئی اور اب القاعدہ اورداعش جیسے دہشت گردمسلمان گروپوں کی مجنونانہ، غیراسلامی، غیرانسانی وغیرعقلی حرکتوں، دہشت گردی اور معصوموں کے قتل عام کی وارداتوں سے اِس لے میں بہت ہی شدت آگئی ہے۔حدتویہ ہے کہ دولت اسلامیہ کے مقابلہ میں دولت مسیحیہ کے عنوان سے ایک شدت پسند تنظیم کانام بھی سامنے آیاہے۔
اسلاموفوبیاکے ان خارجی مظاہرکے ساتھ کچھ داخلی اسباب بھی ہیں اوران کوبھی لازماًقارئین کے سامنے لایا جانا چاہیے۔ مثال کے طورپر کئی مسلمانوں نے نہ صرف مغرب میں بلکہ انڈیامیں بھی جمہوریت اورسیکولرزم کے خلاف لفظی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ بعض سرپھرے سیکولرجمہوریت کوکفروشرک بتاتے ہیں اوراپنے اس مطلق فتوے میں وہ بدلے حالات وزمانہ کی رعایت یامسلم اکثریت یااقلیت کے حالات کے اختلاف کی بھی کوئی پروانہیں کرتے۔ روایتی مسلم علما، اسلام کے قانون جہادکی معقول عصری تشریح کرنے میں ناکام ہیں جو جدید ذہن کو اپیل کر سکے۔ ان میں سے بہت سے آج بھی تبدیلئ مذہب پر لوگوں کی گردن ناپنے کے لیے تیارہیں، آج بھی لونڈی غلام کے پرانے عرف ( جس کی آج کوئی گنجائش نہیں) کی وکالت کرتے ہیں۔ اور بعض لوگ تومغرب میں بیٹھ کر، اس کی آزادیوں سے فیض یاب ہو کر وہاں اسلامی خلافت کے قیا م کی بے وقت کی راگنی گاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ غیرمسلموں سے نفرت اسلام کا تقاضا ہے، شوکت کفر( Power) کو توڑنامسلمانوں کا فرض ہے۔ یہ اسلامی حجاب کی بھی یک رخی تشریح کرتے ہیں۔ جہاد کی غلط تشریح کرنے والے یہ لوگ اگرچہ زیادہ نہیں، لیکن یہی مٹھی بھرلوگ اپنی انتہاپسندانہ سوچ اوراقدامات سے اسلام اور مسلمانوں کی غلط ترجمانی کاسبب بن جاتے ہیں کیونکہ میڈیااِنھی کی باتیں اچک لیتااوران پرمباحثے کرنے بیٹھ جاتا ہے جن میں اسلام کا صحیح فہم رکھنے والوں کو اکثر نہیں بلایا جاتا۔
مذہب کے اِنھی ٹھیکہ داروں کی غیرعقلی، غیراسلامی، من مانی، یک رخی، غیرحقیقت پسندانہ تشریحِ دین ہی اسلام ومسلمانوں کی منفی شبیہ بنانے کی سب سے بڑی ذمہ دارہے۔ برطانیہ میں مذکورہ باتوں کی تبلیغ کرنے والے دوعرب شیوخ ابوحمزہ المصری اورعمرالبکری کے چرچے تواخبارات میں بھی آئے۔ جمہوریت کی مخالفت کرنے والے اورعالمی خلافت کے نعرے لگانے والے یہ شعورنہیں رکھتے کہ وہ اپنے زمانہ کی روح سے لڑرہے ہیں اورزمانہ کی روح سے لڑنا صرف اپنے آپ کوشکست دیناہے۔ اس وقت جمہویت پوری دنیاکے اجتماعی شعورکا حصہ بن چکی ہے اوراس کی خواہ مخواہ کی مخالفت اپنے آپ کوصرف نکو بناناہے اورایسی مہم ہے جس کامقدرہی ناکامی ہے۔ اسلام سراسرحقیقت پسندی کا دین ہے اور اسوہ نبوی میں ہمیں قدم قدم پر حقیقت پسندی کی تعلیم ملتی ہے، لیکن آج ہم نے گویاقسم کھارکھی ہے کہ حقیقت پسندی سے کوئی ناتا نہ رکھیں گے ۔
ہمارے بیشتراقدامات ردعمل میں اور جذباتی اور ’’غیر‘‘ سے نفرت پرمبنی ہوتے ہیں۔ شریعت کی تفہیم ہمارے علما عموماً ایسے بے لچک اورRigid انداز میں کرتے ہیں جس سے نئی نسل اورجدیدذہن کو لگتا ہے کہ شریعت بھی چرچ ہی کی ایک شکل ہے، خاص کرجب ان کے سامنے عملی نمونہ وہ ہوجوطالبان کا ہے یادولت اسلامیہ کا۔خالص اسلام کی دعوت چھوڑ کر مسلک ومشرب کی دعوت دی جارہی ہے جوبڑی مصیبت بن رہی ہے۔ کوئی سیاسی اسلام کی طرف بلارہاہے، کوئی صوفی اسلام کی طرف اورکوئی کسی اوراسلام کی طرف۔ ان مختلف طرح کے اسلاموں کے وکیلوں کی تحریریں کل حزب بما لدیہم فرحون (ہرگروہ اپنے ہی خیالات پر نازاں ہے) کی تصویرہوتی ہیں۔
سچ ہمیشہ کڑواہوتاہے، مگرمجھے کہنے دیجیے کہ اکثرمسلمان علماودانشوروں کی تحریروں میں مغرب والوں کے لیے جو نفرت وکراہیت پائی جاتی ہے، وہ مسلمانوں میں انتہاپسندی اورجذباتی ردعمل کوہوادیتی ہے۔ہمارے ہاں بہت سے لکھنے بولنے والے شروعات ہی مغرب کولعن طعن اورصلواتیں سنانے سے کرتے ہیں، حالانکہ مغربی تہذیب کے منفی پہلوؤں کے ساتھ بہت سے پہلویقیناًمثبت اور اچھے بھی ہیں جن کوappreciate کرنا چاہیے۔ دوسری قوموں اور انسانوں سے ہمارا مذہبی طبقہ کتنی نفرت کرتا ہے، اس کے لیے ان کی تحریروں اورتقریروں پر ایک سرسری سی نظرڈال لینا کافی ہوگا۔ ایک ندوی عالم وادیب نے اپنی ضخیم عربی کتاب میرے پاس تبصرہ کے لیے بھیجی۔ آٹھ سو صفحہ سے زیادہ کی اس کتاب میں جگہ جگہ یہودیوں کو اولاد وحفدۃ الخنازیر (سورکے بچے ) لکھا گیا ہے۔ راقم نے اپنے تبصرہ میں اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ پوری قوم یہودکے لیے ایسے الفاظ استعمال کرناشائستگی اورتہذیب کے خلاف توہے ہی، اسلامی روایات کے اور حقیقت واقعہ کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ اسرائیل کتنا ہی ظالم سہی، بہت سے یہودی دانشور بلکہ مذہبی راہ نما بھی اس کے شدیدناقداورفلسطینی کازکے حامی ہیں۔ اور علما وداعیوں کو تو خاص کرایسی زبان استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔
پڑھے لکھے مسلمانوں کا ایک بڑاحلقہ سازشی تھیوری میں جیتاہے اور ہر واقعہ کی توجیہ اسی تھیوری سے کرتا اور اپنوں کی تمام غلطیوں ونادانیوں سے صرف نظرکر لیتا ہے۔ چنانچہ پیرس میں دہشت گردی کے واقعہ کوبھی اردوکے کئی بڑے کالم نگار یک گونہ جوازدیتے نظر آئے۔ ہمارے بہت سے علمابھی بالعموم مسلم عناصرکے ذریعہ انجام دی جانے والی دہشت گردی کو اپنے ’’اگرمگر‘‘ سے جوازدیتے رہے ہیں اور اگر کبھی اس کی مذمت بھی کرتے ہیں تومسلکی رنگ میں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارایہ رویہ کیاغیروں کوہم سے اور زیادہ برانگیختہ نہیں کرے گا؟
ایک اورپہلوبھی غورکرنے کا ہے کہ اسلام دشمن قوتوں کی طرف سے جان بوجھ کراوربڑی پلاننگ سے عالمی سطح پر بھی اور وطن عزیزمیں بھی مسلمانوں کوچھوٹے چھوٹے مسئلوں اور نان ایشوز میں الجھایا اور پھنسا دیا جا تا ہے۔ ان کی ساری قوتیں بے سرے احتجاجوں، ناکام مظاہروں اوربے نتیجہ دھرنوں اورمشتعل جلوسوں اورتشددکی نذرہوجاتی ہیں۔ اہانت رسول کے بدبختانہ واقعات، ملعون زمانہ کارٹون اوراسی قسم کے شوشے اسلاموفوبیاکا ضروری حصہ ہیں۔ ہوناتویہ چاہیے تھاکہ ہماری دینی وملی قیادت زیادہ بیدارمغزی کا ثبوت دیتی اورقوم کوبے فائدہ مظاہروں میں لگانے کی بجائے وہ ناموس رسالت کی حفاظت کے کچھ مثبت اورمتحرک متبادل ڈھونڈتی اورقوم کی تربیت ان خطوط پر کی جاتی کہ اِس طرح کے شوشوں کونظرانداز کرنابھی اسو ۂ نبوی کا ہی ناگزیرحصہ ہے ،اورموجودہ زمانہ میں تواِس کی پہلے سے بھی کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو شاید حالات آج اتنے خراب نہ ہوتے جن کا عالمی وملکی سطح پر آج ہم کو سامنا ہے!
معاہدۂ حدیبیہ کے چند اہم سبق
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
صلح حدیبیہ کے معاہدہ میں جہاں یہ طے ہوا تھا کہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی، وہاں دوسری شرائط کے ساتھ ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مکہ مکرمہ سے قریش کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے گا تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ لیکن اگر کوئی مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا (نعوذ باللہ) ساتھ چھوڑ کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا تو اس کی واپسی ضروری نہیں ہوگی۔ اس شرط پر مسلمانوں میں بے چینی اور اضطراب کا پیدا ہونا فطری امر تھا کہ یہ برابری کی شرط نہیں تھی اور معاہدات کی روح کے خلاف تھی۔ حضرت عمرؓ نے تو اس اضطراب کا کھلم کھلا اظہار بھی کر دیا تھا لیکن حضورؐ نے نہ صرف اس شرط کو منظور کر لیا بلکہ اس موقع پر قریش کی طرف سے مذاکرات کرنے والے نمائندہ سہیل بن عمروؓ کا اپنا بیٹا ابو جندلؓ زنجیروں میں جکڑا ہوا مسلمانوں کے ساتھ جانے کے لیے کسی طرح حدیبیہ تک آ پہنچا تو سہیل بن عمروؓ کے مطالبہ پر آنحضرتؐ نے اسے اسی طرح پابجولاں اس کے والد کے ساتھ مکہ مکرمہ واپس بھجوا دیا۔ جبکہ حضرت عمرؓ اور دیگر مسلمانوں کی اس حوالہ سے بے چینی اور اضطراب میں انہیں تسلی دیتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یہ فرمایا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور جو کچھ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے کر رہے ہیں، اس لیے اسی میں خیر ہوگی۔
اس معاہدہ کو تھوڑا عرصہ گزرا تھا کہ ایک قریشی نوجوان ابو بصیرؓ مسلمان ہو کر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ پہنچ گئے جس پر مکہ والوں نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا اور دو آدمی انہیں واپس لانے کے لیے بھجوائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے ابو بصیرؓ کو ان دو نمائندوں کے ہمراہ واپس بھجوا دیا۔ راستہ میں ایک جگہ ابوبصیرؓ نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور انہی میں سے ایک کی تلوار لے کر اسے قتل کر دیا اور مدینہ منورہ واپس آکر حضورؐ سے کہا کہ آپ نے تو معاہدہ کی پابندی کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے، اب میں ان سے جان چھڑا کر واپس آگیا ہوں۔ اس پر نبی کریمؐ نے شدید رد عمل کا اظہار فرمایا اور اس کے بارے میں کہا کہ ویل لأمہ مسعر حرب، ( اس کی ماں کے لیے ہلاکت ہو! یہ لڑائی کی آگ بھڑکائے گا۔) اتنے میں راستہ میں ابو بصیرؓ کے وار سے بچ جانے والا دوسرا شخص بھی بھاگ کر مدینہ منورہ آگیا اور حضورؐ کو سارا ماجرا سنا دیا۔ جب حضرت ابو بصیرؓ نے اپنی کاروائی پر حضورؐ کا سخت رد عمل دیکھا تو چپکے سے وہاں سے نکل گئے اور مکہ مکرمہ واپس جانے کی بجائے راستہ میں ’’سیف البحر‘‘ کے مقام پر ڈیرہ لگا لیا۔ یہ مکہ مکرمہ سے شام جانے والے تجارتی قافلوں کی گزرگاہ میں تھا۔ چند دنوں کے بعد حضرت ابو جندلؓ بھی کسی طرح جان بچا کر ان کے پاس وہاں آگئے جنہیں صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن عمروؓ کے ساتھ پابجولاں واپس کر دیا تھا ۔
اس کے بعد یہ معمول بن گیا کہ مکہ مکرمہ کے علاقہ سے جو شخص بھی مسلمان ہوتا، وہ مدینہ منورہ جانے کی بجائے حضرت ابوبصیرؓ کے کیمپ میں پہنچ جاتا۔ رفتہ رفتہ ان کی تعداد ستر تک پہنچ گئی، جبکہ بعض روایات میں تین سو کی تعداد بھی مذکور ہے۔ انہوں نے قریش کے تجارتی قافلوں کو روکنا اور ان کا سامان چھیننا شروع کر دیا اور کچھ افراد ان کے ہاتھوں قتل بھی ہوئے۔ اس پر قریش میں تشویش پیدا ہوئی مگر وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے اس لیے کہ حضورؐ نے ان میں سے کسی شخص کو قبول نہیں کیا تھا، بلکہ مدینہ منورہ پہنچنے والوں کو واپس کر دیا تھا اور ڈانٹ بھی پلائی تھی۔ یہ کیمپ آزاد علاقہ میں تھا جس کی ذمہ داری آنحضرتؐ پر عائد نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی ان لوگوں سے نمٹنا قریش کے بس میں رہا تھا۔ چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے طے کیا کہ اس ساری صورت حال کی اصل وجہ معاہدۂ حدیبیہ کی وہ شرط ہے جو یک طرفہ تھی اور جس کے نتیجے میں یہ حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس لیے قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد بھجوا کر پیش کش کی کہ اگر یہ کیمپ ختم ہو جائے تو وہ معاہدہ کی اس شق سے دست بردار ہونے کے لیے تیار ہیں۔ اس پر حضورؐ نے قریش کی پیش کش قبول کر کے حضرت ابوبصیرؓ کو خط بھجوایا کہ انہیں معاہدۂ حدیبیہ کی جس شق کی وجہ سے پریشانی تھی، وہ ختم ہوگئی ہے، اس لیے وہ احتجاجی کیمپ ختم کر کے مدینہ منورہ آجائیں، انہیں قبول کر لیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیمپ ختم کر کے واپس آنے والوں کے لیے ’’عام معافی‘‘ کا اعلان کر دیا تھا۔
تاریخی روایات میں ہے کہ آنحضرتؐ کا یہ گرامی نامہ حضرت ابو بصیرؓ کوپہنچا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو اکٹھا کر کے انہیں سنایا، لیکن ابھی وہ خط پڑھ ہی رہے تھے کہ اچانک حرکت قلب بند ہو جانے سے ان کا انتقال ہوگیا اور وہ اس کیفیت میں فوت ہوئے کہ نبی کریمؐ کا نامۂ مبارک ان کے ہاتھ میں تھا۔ حضرت ابو جندلؓ ان کے جنازہ اور تدفین کے بعد حضورؐ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مدینہ منورہ آگئے اور دوسرے سب ساتھی بھی کیمپ ختم کر کے اپنی اپنی محفوظ جگہوں پر چلے گئے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو مسلمان سوسائٹی کے حصہ کے طور پر قبول فرمایا اور کسی کو دوبارہ سرزنش نہیں کی۔ جبکہ حضرت ابو جندلؓ خلافت راشدہ کے دور میں ایک جہاد کے دوران شہید ہوئے۔
سیرت النبیؐ کے اس اہم واقعہ اور اسوۂ نبویؐ کے اس اہم پہلو سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ:
- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ساتھ معاہدہ کی مکمل پاسداری کی اور اس میں کوئی لچک نہیں دکھائی۔
- معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے والوں اور ان کے کسی عمل کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا، ڈانٹ پلائی اور لا تعلقی کا اظہار کیا۔
- معاہدہ کی ناجائز اور یک طرفہ شق کا فریق مخالف میں احساس پیدا ہونے پر ان کی طرف سے اس شق سے دست برداری کو قبول فرمایا۔
- خراب ہو جانے والے حالات کو صحیح سمت لے جانے کے لیے ان کے اسباب و عوامل کو بھی سامنے رکھا گیا اور ان کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔
- کیمپ ختم کر کے مدینہ منورہ یا اپنے اپنے محفوظ ٹھکانوں پر چلے جانے والوں کو واپسی کا راستہ دیا گیا او ران سے کوئی باز پرس نہیں کی گئی۔
اس قسم کے حالات میں اسوۂ نبوی میں ہمارے لیے یہ راہ نمائی موجود ہے، لیکن کیا ہمارے پالیسی ساز اس پر غور کرنے کے لیے تیار ہوں گے؟
قرآن مجید کے موجودہ نسخے اور ان کا رسم الخط
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
بیت اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام نے مل کر کی تھی اور اس وقت سے اس کا تسلسل چلا آرہا ہے۔ مگر بیت اللہ شریف کی موجودہ عمارت ابراہیمی بنیادوں پر نہیں ہے کیونکہ جب قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ان کی بعثت سے قبل بیت اللہ تعمیر کیا تھا تو ابراہیمی بنیادوں میں کچھ تبدیلیاں کر دی تھیں۔ اس تعمیر میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حصہ لیا تھا بلکہ تعمیر کے دوران جب حجر اسود کو اس کے مقام پر نصب کرنے کا شرف حاصل کرنے پر قریش کے سرداروں میں اختلاف ہوا اور بات تنازعہ تک جا پہنچی تو اس تنازعہ کو جناب حضورؐ نے ہی کمال حکمت عملی کے ساتھ نمٹایا تھا جس پر قریش کے مختلف خاندان باہمی جھگڑے سے بچ گئے تھے۔
قریش نے اس تعمیر میں تین تبدیلیاں کی تھیں۔ ایک یہ کہ اس کے آمنے سامنے دو دروازے تھے جس سے بیت اللہ شریف کی زیارت اور طواف کرنے والوں کو سہولت حاصل تھی کہ وہ ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے باہر نکل جائیں اور انہیں بیت اللہ کے اندر جانے کی سعادت بھی مل جائے۔ مگر اس تعمیر کے دوران ایک دروازہ بند کر دیا گیا۔ دوسری تبدیلی یہ ہوئی کہ پہلے دونوں دروازے زمین کے ساتھ تھے اور آسانی کے ساتھ اندر جایا جا سکتا تھا مگر اس موقع پر ایک دروازہ بند کر کے دوسرے دروازے کو زمین کی سطح سے اتنا بلند کر دیا گیا کہ کوئی شخص آسانی کے ساتھ اندر نہ جا سکے۔ جبکہ تیسری تبدیلی یہ کی گئی کہ ایک حصہ کو چھت سے نکال دیا گیا جو اب حطیم کہلاتا ہے۔ اسے ایک چھوٹی دیوار سے گھیرا گیا ہے مگر وہ بیت اللہ شریف کا حصہ ہونے کے باوجود اس کی چھت کے نیچے نہیں ہے۔
بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد ام المومنین حضرت عائشہؓ کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بیت اللہ کی قریش کی تعمیر کردہ بلڈنگ کو شہید کر کے اسے از سرِ نو ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر کر دیا جائے، لیکن رسول اکرمؐ نے خواہش کے باوجود ایسا نہ کیا اور اسے اسی حالت میں یہ فرما کر چھوڑ دیا کہ قریشی قوم نئی نئی مسلمان ہوئی ہے، وہ اس بات کو محسوس کریں گے کہ ابھی چند سال قبل تو ہم نے بیت اللہ تعمیر کیا تھا، اب اسے دوبارہ تعمیر کیوں کیا جا رہا ہے؟
ام المومنین حضرت عائشہؓ نے حضورؐ کا یہ ارشاد روایت کیا تو وہ ان کے بھانجے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کے علم میں بھی آیا۔ حضرت امام حسینؓ کی کربلا میں شہادت کے بعد جب مدینہ منورہ کے لوگوں نے یزید کی بیعت توڑ کر اس کی اطاعت میں رہنے سے انکار کر دیا تو اس موقع پر حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے اپنی خلافت کا اعلان کر دیا۔ بہت سے لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کی حکومت کافی سالوں تک مکہ مکرمہ سمیت مختلف علاقوں پر قائم رہی۔ اموی خلیفہ عبد الملک بن مروانؒ کے دور میں حجاج بن یوسفؒ کو حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کے خلاف جنگ پر مامور کیا گیا تو انہوں نے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کر لیا جو اس وقت حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کا پایۂ تخت تھا۔ حجاج بن یوسفؒ نے مکہ مکرمہ کے محاصرہ کے دوران گولہ باری کی جس سے بیت اللہ کی عمارت کو نقصان پہنچا تو حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے بیت اللہ شریف کو ازسرِنو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور ام المومنین حضرت عائشہؓ سے مذکورہ روایت کی دوبارہ تصدیق کر کے بیت اللہ شریف کو ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر کر کے وہ تینوں تبدیلیاں ختم کر دیں جو قریشی تعمیر کے موقع پر کی گئی تھیں۔ اور جن تبدیلیوں کو ختم کر دینے کی خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواہش ظاہر کی تھی مگر مصلحتاً اس سے گریز کیا تھا۔
لیکن جب حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ اس جنگ میں شہید ہوگئے اور مکہ مکرمہ کا کنٹرول حجاج بن یوسفؒ کے ہاتھ میں آگیا تو اس نے خلیفہ وقت عبد الملک بن مروانؒ کو یہ رپورٹ بھجوائی کہ عبدا اللہ بن زبیرؓ نے بیت اللہ کی عمارت بھی تبدیل کر دی ہے جس پر خلیفہ نے حکم دیا کہ اسے گرا کر دوبارہ قریشی بنیادوں پر تعمیر کر دیا جائے۔ چنانچہ حجاج بن یوسفؒ نے بیت اللہ کو شہید کر کے قریشی بنیادوں پر از سرِنو تعمیر کر دیا جس سے وہ تینوں تبدیلیاں واپس لوٹ آئیں جنہیں حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے ختم کر دیا تھا۔ اور اس وقت سے آج تک وہ تعمیر اسی حال میں چلی آرہی ہے۔ اس کے بعد جب بنو امیہ کی حکومت ختم ہوگئی اور خلافت کی زمام کار ان کے سیاسی حریفوں بنو عباسؓ نے سنبھالی تو انہوں نے بیت اللہ کی اس عمارت کو امویوں کی تعمیر کردہ قرار دے کر اسے پھر سے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کے طریقے پر تعمیر کرنے کے پروگرام بنا لیا جس پر اہل سنت کے امام حضرت امام مالکؒ نے فتویٰ جاری کیا کہ بیت اللہ کی تعمیر میں بار بار اس طرح کے ردوبدل سے کعبۃ اللہ سیاسی حریفوں کی باہمی محاذ آرائی کی آماجگاہ بن جائے گا جو بیت اللہ کے تقدس اور حرمت کے منافی ہوگا۔ اس لیے اب بیت اللہ کو شہید کر کے اسے ابراہیمی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کرنا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ اس فتوے پر آج تک عمل ہو رہا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے باوجود امت مسلمہ کعبۃ اللہ کی بلڈنگ کو ابراہیمی بنیادوں کی بجائے قریش کی بنیادوں پر قائم رکھے ہوئے ہے، کیونکہ بیت اللہ کی حرمت و تقدس اور امت مسلمہ کی اجتماعیت و وحدت کا تقاضہ یہی ہے۔
یہ سارا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ قرآن کریم کی طباعت و اشاعت کے حوالہ سے ہم آج کل کم و بیش اسی قسم کی صورت حال سے دوچار ہیں۔ مصحف عثمانی کے دو نمونے اس وقت عالم اسلام میں اشاعت پذیر ہو رہے ہیں جو قرأت میں تو ایک دوسرے سے زیادہ مختلف نہیں ہیں مگر رسوم و علامات کے حوالہ سے الگ الگ ہیں۔ عرب دنیا میں قرآن کریم کی طباعت ان رسوم و علامات کے ساتھ ہوتی ہے جو وہاں معروف ہیں، جبکہ جنوبی ایشیا یعنی بنگلہ دیش، پاکستان اور بھارت وغیرہ میں مطبوعہ قرآن کریم کی رسوم و علامات ان سے الگ ہیں جو اس قدر متعارف اور عام فہم ہو چکی ہیں کہ یہاں کے عام مسلمان کے لیے کسی دوسرے نسخہ سے قرآن کریم کی تلاوت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ غالباً اسی وجہ سے حرمین شریفین میں دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں مسلمانوں کے لیے قرآن کریم کے جو نسخے تلاوت کی غرض سے سرکاری طور پر مہیا کیے جاتے ہیں، ان میں دونوں طرح کے نسخوں کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی مسلمان کو تلاوت میں دقت نہ ہو۔
مگر اب بعض حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ہمارے ہاں یعنی پاکستان وغیرہ میں چھاپے جانے والے قرآن کریم کے نسخوں میں بہت سی اغلاط موجود ہیں جن کی اصلاح ضروری ہے جبکہ اس کے ساتھ ان کی رسوم و علامات کو بھی عرب نسخوں کے مطابق تبدیل کیا جانا چاہیے۔ اس پر بحث و مباحثہ کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا ہے، حتیٰ کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور پنجاب قرآن بورڈ میں بھی اس پر گفتگو جاری ہے اور اس پر علمی و فنی دلائل دیے جا رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ مسئلہ علمی و فنی مکالمہ و مباحثہ کی حدود سے آگے نکل کر عرف و تعامل کے دائرہ میں آچکا ہے، اس لیے اسے علمی بحث و تمحیص کی بجائے عرف و تعامل کے حوالہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک قرأت کی ناقابل قبول غلطیوں کا تعلق ہے وہ جہاں بھی موجود ہوں، ان کی اصلاح بہرحال ضروری ہے۔ لیکن رسوم و علامات کا معاملہ منصوص نہیں بلکہ اجتہادی ہے۔ اس لیے جو رسوم و علامات متعارف ہو چکی ہیں اور صدیوں سے عوام ان سے مانوس ہو کر ان کے مطابق تلاوت کرتے آرہے ہیں، وہ اگر ’’خطائے اجتہادی‘‘ قرار دے دی جائیں، تب بھی امت کو کسی نئے مخمصے سے دوچار کرنے کی بجائے انہیں اسی حالت میں رہنے دینا چاہیے۔ اگر امت کو کسی فکری یا نفسیاتی خلفشار سے بچانے کے لیے بیت اللہ کی عمارت میں ابراہیمی بنیادوں سے ’’عدول‘‘ کو برقرار رکھا جا سکتا ہے تو قرآن کریم کی طباعت و اشاعت میں بھی عجمی رسوم و علامات کو برقرار رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ امت مسلمہ کی عمومی مصلحت کا تقاضا یہی ہے۔
میخانے کا محروم بھی محروم نہیں ہے
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی
(یہ عمرہ کے سفر کی کچھ روداد ہے۔اس کا اگر کوئی فائدہ ہو تو اس کا ثواب برادرِ عزیز حسان نعمانی کے حساب میں کہ یہ تحریر محض ان کی فرمائش پر ہے۔)
بسم اللہ حمداً وَّسلاماً۔
چالیس برس ہوتے ہیں جب شمالی برطانیہ کے شہر ڈیوز بری میں سکونت پذیر محترم مولانا یعقوب قاسمی زید مجدہم نے راقم کی صحت کے حوالہ سے اپنے یہاں کچھ وقت گزارنے کی دعوت دیتے ہوئے آمد و رفت کاایسا ٹکٹ ارسال فرمایا کہ واپسی براہِ جدہ تھی، یعنی اسی سفر میں حج کی سعادت بھی حاصل کی جا سکتی تھی۔اللہ مولانا کو ہردوعالم میں جزائے خیر سے نوازے،یہ سعادت حاصل ہوئی۔یہ دسمبر۱۹۷۵ء تھا۔ ۱۹۷۶ء سے سکونت ہی برطانیہ میں ہو گئی۔ مگر حالات کی نامساعد ت کہیے یا بے توفیقی کہ اس کے بعد اپنی طرف سے کوئی کوشش اس ارضِ مقدس کی زیارت کے لیے عمل میں نہ آئی، خواہش البتہ رہی اور بڑھتی رہی، حتیٰ کہ گزشتہ سال توفیق شامل حال ہوئی اور عمرے کے ارادہ کا ’’احرام ‘‘ باندھ لیا، مگر اس سال یہ سعادت مقدر نہ نکلی۔ ویزا کے حصول کا مرحلہ اتنا دیر طلب ہوا کہ ارادہ کو آئندہ سال پر محول کرنا ناگزیر ہوگیا۔ کرم اُس گھر والے کا کہ زندگی نے ساتھ دیا اور امسال ۱۰ تا ۱۸؍جنوری( ۲۰۱۶ء )میںیہ ایک دیرینہ آرزو بر آنے کی سبیل بنی۔ رفاقت سفر کا قرعہ برادر زادۂ عزیز ہارون نعمانی کے نام پڑا۔ اور حسنِ اتفاق کہ نعمانی برادر زادگان میں سب سے بڑے، شمعون نعمانی، جو مدت سے مدینۂ منورہ کی سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں اور اپنی بھانجی کی شادی کے سلسلہ میں لکھنؤ آئے ہوئے تھے وہ بھی اسی( لکھنؤ۔جدہ) سعودی فلائٹ سے ہم سفر(بلکہ جدہ تک )امیر قافلہ ہوگئے۔
فلائٹ لکھنؤ سے چار بجے دن کو چل کر بفضل خدا ۱۰؍ بجے جدہ میں بسلامت اتری۔ معلوم ہوا کہ یہاں سے عام مسافروں اور عمرہ کے مسافروں میں تفریق کردی جاتی ہے۔ پس شمعون سلمہ یہاں سے جداہو گئے اور اگلے مراحل، کسٹم وغیرہ، اب ہم میاں ہارون سلمہ کی رہنمائی میں طے کرتے ہوئے ،جو اپنے حج کے بعد ابھی ایک دوسال پہلے عمرہ بھی کرچکے تھے اور واقف راہ و منزل تھے، عازمِ مکہ ہوئے۔ اس کے لیے جدہ سے بس لینا تھی۔بس اسٹیشن پر پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ میاں شمعون موجود ہیں جبکہ ہم سمجھ رہے تھے کہ ان سے ملاقات اب مدینۂ منوّرہ ہی میں ہوگی۔وہ ہم سے جدا ہوکر جدہ میں مقیم اپنی بہن (عالیہ سلمہا) کے گھر چلے گئے تھے اور وہاں سے بہنوئی (ذیشان سلمہ ) کو لے کر جدہ کے بس اسٹاپ پر آگئے تاکہ مکہ معظمہ کا ہمارا سفر کار سے ہو۔دل سے دعا نکلی کی عزیز بچوں نے کیسی راحت کا سامان کردیا۔ لیکن یہ لوگ اس ارادہ سے آئے تھے کہ ہم پہلے عالیہ و ذیشان کے گھر جائیں اور وہاں کچھ سستا کے عازمِ بیت اللہ ہوں۔ ارادہ بے شک بڑا سعادتمندانہ تھا، مگر اپنے لیے آزمائش ہوگئی ۔چالیس برس کے بعد اُس گھر کے لیے نکلنے کی توفیق پائی تھی جسے اللہ نے لوگوں کے لیے پروانہ وار لوٹ لوٹ کر آنے کی جگہ(مَثابَۃّ لِلنّاس) فرمایا ہے ،پھر بھی آستاں بوسی سے پہلے کسی اور گھر میں سستانے کو جا اُتریں! چنانچہ ہم نے ان کا یہ نیک ارادہ جاننے کے بعدمعذوری ظاہر کی کہ ہم کو سیدھے مکہ مکرمہ جانا ہے۔ لیکن وہ دونوں یہ پروگرام بنا کر آئے تھے کہ ہمیں گھر لے جائیں گے اور گھر سے ابن ذیشان، فرحان سلمہ، ہمیں لے کر مکہ مکرمہ جائیں گے۔ پس گھر جانا تو نا گزیر ہوا جس نے آزمائش دو آتشہ کردی کہ وہاں عالیہ سلمہا ہمیں اپنے گھر خوش آمدید کہنے کو دروازہ پر کھڑی تھیں۔اب اللہ جانے ہم نے اچھا کیا یا برا، دل پتھر کرلیا اور دروازہ کے اندر قدم رکھنے کو تیار نہ ہوئے، جبکہ یہ بھتیجی جدہ کی ساکن ہوکر شاذ و نادر ہی مل پانے کی بناپر ہمیں توعزیز تر ہو ہی گئی ہے، خوداس کے لگاؤکا حال بھی اس سے کمتر نہیں ہے۔آرزومند رہتی رہی ہے کہ کبھی تایا ابا کا بھی ادھر پھیرا ہو کیونکہ خاندان کے لوگوں کا سلسلہ کچھ نہ کچھ لگا ہی رہتا ہے۔
الغرض اس آزمائش سے گزر کر عالیہ کے دروازے ہی سے مکہ مکرمہ کے لیے روانگی ہو گئی۔اب ہمیں فرحان سلمہ اپنی کار میں لے کر چلے تھے۔شب کے کوئی ڈیڑھ بجے منزلِ مقصود ہاتھ آئی، لیکن کیا خوب کسی نے کہا ہے
حسرت پہ اس مسافرِ بیکس کی روئیے
جو تھک گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے
منزل پہ پہنچے تو یہ مسافر تھکن سے ایسا چور تھا کہ عمرہ کے ادائیگی تھوڑے آرام پر مؤخر کرنا پڑی۔ ہوٹل میں اُتر کرکچھ کھا کر اور ایک دو گھنٹے آرام کر کے ہمت ہوئی کہ کم از کم طواف کرلیا جائے،پھر چاہے سعی صبح پر مؤخر ہو۔اور ایسا ہی ہوا۔ سعئ صفا و مروہ صبح پر مؤخر ہوئی۔یہاں اس کم ہمت کو بتا دینا چاہیے کہ عمر کے ۸۸ سال اس نے پورے کر لیے ہیں اورطوارف و سعی میں کلیتاً نہیں تو جزوی طور پر وہیل چیئر کی مدد ناگزیر تھیِ۔طواف الحمد للہ ہوگیا۔زہے قسمت ،زیارتِ بیت اللہ ایک بار پھر اس عاصی کے لیے مقدر تھی۔
نازم بچشمِ خویش کہ روئے تو دیدہ است
لیکن چالیس برس کے فاصلہ نے بڑا فرق اس وقت کے اور اُس وقت کے طواف کے درمیان کردیا۔اسِ دفعہ صحن مطاف میں تل دھرنے کی جگہ نہ پائی، سہ روزہ قیام میں تمام طواف بالائی منزل پر ہی کرنا پڑے، جبکہ اُس وقت موسم حج والااژدہام ہونے کے باوجود سارے طواف صحنِ مطاف ہی میں میسر آئے تھے۔چالیس برس میں عالم اسلام کی آبادی بھی کچھ سے کچھ ہوگئی ہے اورلوگوں میں استطاعت بھی بحمد اللہ اضعافاًمضاعفہ۔اب وہاں شاید سال بھر یہی عالم رہتا ہے اور حج کا اژدہام تو پھر حج کا اژدہام۔
عالیہ سلمہا کے علاوہ ہمارے گھرانے کی ایک اور بیٹی(عالیہ اور ہارون کی خالہ زاد بہن اورمیرے چچا زاد کی بیٹی) بھی اس دیار میں عین سرزمین مکہ پر سکونت پائے ہوئے ہے۔ہمیں مکہ مکرمہ میں قیام کے لیے جو ہوٹل میسر آیا ،جو ایک طرف نہایت اعلیٰ درجہ کا اور دوسری طرف عین حرم شریف سے لگا ہو، یہ کارنامہ اسی نسرین سلمہا کے بیٹے محمد مکی کا تھا جو اس ہوٹل کے اسٹاف میں ہیں۔ ہم تواس سطح کے ہوٹل میں قیام کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے مگر مکی سلمہ کی بدولت اللہ عمّ نوالہ نے اس شاندار ہوٹل میں تین دن قیام کی سہولت عطا فرمائی۔ اور مکی جو بالکل ہی سادہ عام مؤمنانہ وضع میں رہتے ہیں، اللہ نے ایسا رسوخ انھیں اس ۲۸ منزلہ ہوٹل میں بخشا ہے کہ کمرہ انھی کے نام پر بک ہوا اور مدینہ کے لیے رخصت ہوتے و قت جب کمرہ چھوڑا گیا تو مکی ہارون سلمہ کو لے کر بل کی ادائیگی کو چلے اور واپسی پر جو ادائیگی ہارون میاں نے بتائی، وہ کسی کم سے کم معیار کے ہوٹل میں بھی نہیں ہوسکتی تھی۔ اس کے لیے صحیح لفظ ’’ایک غریبا مؤ بل‘‘ ہوسکتا ہے۔ مکی کو تو دعا ملنی ہی چاہیے، ہوٹل کی انتظامیہ کی شرافت کے لیے بھی جو کچھ کہا جائے کم ہے۔ ہوٹل مغربی مگر برتاؤ عرب سرزمین پر بالکل عربی اور مشرقی۔
ہم اتوار اور دوشنبہ کی درمیان شب میں مکہ مکرمہ پہنچے تھے اور اگلے اتوار ہی تک کا وقت ہمارے پاس تھا۔ خود میرے اپنے پا س تو وقت ہی وقت تھا، مگر عزیزی ہارون نے محض میری خاطر اپنی کارو باری مصروفیت سے وقت نکالا تھا جس کے لیے ایک ہفتہ ہی بہت تھا۔ بہر حال ہمیں اتوار کو واپس ہو جانا تھا، پس مدینہ منورہ کے لیے بدھ کو روانگی کا پروگرام بنا کہ شب میں وہاں پہنچ جائیں اورجمعہ کی شام تک رہ کر مکہ مکرمہ کو واپسی ہو اورہفتہ کے دن ایک عمرہ کی اور سعادت حاصل کرکے جدہ کی راہ لے لیں جہاں ہفتہ اتوار کی درمیانی شب عالیہ سلمہا کے گھر گزار کر اس سفر کا آخری ’’رکن‘‘ ادا کردیا جائے۔ مغرب کے قریب مدینۂ منورہ کے لیے بذریعۂ ٹیکسی روانگی ہوئی۔ پانچ چھ گھنٹے کی مسافت تھی۔ کوئی گیارہ بجے اس شہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں داخلہ کی عزت پائی جسے اس زمین کا آسماں کہیے۔ عزیزی شمعون نے وہاں ہم لوگوں کی خواہش کے مطابق مسجدِ نبوی کے بالکل قریب ایک ہوٹل میں کمرہ بک کرایا تھامگر وہاں بیسیوں ہوٹلوں کے ہوتے ہوئے رش کا یہ عالم تھا کہ کمرہ صرف اگلی دوپہر تک کے لیے ملا۔ تاہم اتنے وقت کے لیے بھی یہ قربت میسر آنی بڑی چیز تھی،مگر افسوس کہ جیسا فائدہ اس قرب سے اُٹھایا جا سکتا تھا، یہ عمر رسیدہ ہڈیاں اس کی متحمل نہ ہو پائیں۔ مزید برآن پروانوں کے ہجوم کا وہ عالم کہ روضۂ مقدسہ کی جالی کے قریب ہوکر عرضِ سلام کا موقع بھی ایک ہی بار مل سکا۔ بعد ازاں تو دورہی سے رسمِ سلام ادا ہوئی۔اور ریاض الجنّہ میں قدم رکھنے کی سعادت تو کجا، اس کی دید سے بھی آنکھیں شاد کام نہ ہو سکیں۔ مگر شکر کہ سلام کے لیے جالی(مواجہہ شریف) پر حاضری میسر فرمادی گئی، ورنہ احساسِ محرومی نے کہیں کا نہ رکھا ہوتا۔اگرچہ رحمۃٌللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے در سے محروم لوٹنے کا سوال کہاں ؟طوافِ کعبہ کے لیے میرے جیسے جانے والوں سے بیشک کہا جاسکتاہے کہ’’ برونِ در چہ کردی کہ درونِ خانہ آئی؟‘‘ (کس منہ سے طواف کو آئے ہو؟) مگر رسول اللہ کی ردائے رحمت میں تو عبد اللہ بن اُبی جیسے سردارِ منافقین کے لیے بھی وہ گنجائش تھی کہ زمین و آسمان حیرت سے تکیں۔
اور لیجیے حرمِ مکی کے بعد حرمِ مدنی (مسجد نبوی)زادہُ اللہ تعظیماً وَّ تکریماً میں جس تبدیلی سے آنکھیں چار ہوئیں، اس کے بیان کے لیے تو الفاظ اپنے پاس نہیں، مختصر کہیے کہ بقعۂ نور بنادیا گیا ہے ۔ جدھر کو نگاہ اُٹھتی ہے ’’کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جاست‘‘ کا مضمون بنتا ہے۔پھر اس پر وسعت، کہ ہر چہار سمت کا کنارہ ڈھونڈھتے نگاہ تھک جائے۔ یاد آتا ہے کہ توسیع کے اس کام کی بنا اس وقت پڑرہی تھی جب چالیس برس پہلے حاضری ہوئی تھی۔اب کہا جا سکتا ہے کہ بظاہر مکمل ہوگئی۔یہاں توسیع اور تزئین و آرائش پر جو بے اندازہ دولت خرچ ہوئی ہوگی، اس کا خیال کرکے ایک بار پھر شاہانِ سعود کے لیے دعا گوئی کا جذبہ اُبھرتا ہے۔ اور دعا ہے کہ اللہ ان کو بقدرِ اخلاص پوری پوری جزا اپنی شانِ کریمی کے مطابق دے۔ لیکن ایک بات دونوں جگہ(حرمِ مکی اور مدنی) کھٹکی، کہ اس توسیع اور تزئین کا کام جن شاہانِ سعود کے ہاتھوں ہوا ہے، دونوں جگہ ان کے نام نمایاں کیے جانے کا اہتمام رہا۔یہ دو بالخصوص ملک فہد اور ملک عبد اللہ تھے۔ہر دو حرمین میں داخلہ کے دروازے ان کے نام سے بڑے جلی طور پر موسوم ہوئے ہیں ، بابُ ملک فہد۔ باب ملک عبد اللہ۔ جبکہ ان مقامات پر توحق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ساتھیوں اور جانشینوں کا تھا۔ بابُ سیدنا ابوبکر الصدیقؓ ہوتا، بابُ سیدنا عمربن الخطابؓہوتا،باب سیدنا عثمان بن عفانؓ ہوتا اور بابُ سیدنا علی المرتضیٰ ہو۔ ہاں کسی جگہ تختی لگی ہوتی تو مضائقہ نہ تھا کہ اس توسیع و تزئین کی خدمت فلاں اور فلاں خادمِ حرمین کے ہاتھوں انجام پائی ۔اور افسوس کہ یہ تکدر یہیں نہیں رکتا۔ مدینہ منورہ سے لوٹتے میں سڑکوں کے ناموں پر نظر گئی تو بصد رنج دیکھا کہ ابو بکرِ صدیقؓ اور عمر الفاروقؓ کے مقدس ناموں کو طریق ابوبکر اور طریق عمر بن الخطاب کر کے سڑکوں کے ناکوں پہ ٹانگ دیا ہے۔ کیسے کہا جائے اور کیسے نہ کہا جائے
اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی
جی ہاں ،توجمعرات کی ظہر آگئی جس تک کے لیے مسجد کے قریب ہوٹل کا کمرہ بک تھا اور ’’حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد‘‘ کے مصداق ظہر مسجد نبوی میں پڑھ کر کمرہ خالی کردیا گیا اور میاں شمعون اپنی گاڑی لے کر ہمیں دوسرے ٹھکانے پر لے جانے کے لیے آگئے۔ یہ ماشاء اللہ بڑا وسیع آرام دہ مکان تھا ، البتہ مسجد شریف سے فاصلہ پر۔میاں شمعون کے دوست جناب سلیمان ظفر صاحب فقط اپنے صاحبزادہ کے ساتھ اس کے مکین تھے۔اس کے زیادہ آرام دہ ہونے ہی کی وجہ سے شمعون سلمہ نے اس کا انتخاب کیا اور واقعی بہت آرام دہ رہا۔ پھر صاحب خانہ کا حسن اخلاق اور مخلصانہ پذیرائی اس پر مستزاد۔ خدا ہر طرح کی برکتوں سے نوازے کہ زائرین شہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پذیرائی کو سعادت جانا۔ وہاں سے عصر کے لیے تو حرمِ نبوی جانے کا موقع نہ تھا، مغرب عشاء الحمد للہ وہیں میسر آگئی۔ پھرجمعہ کی فجر حرمِ نبوی میں ادا کرکے شمعون اور ہارون سلمہما نے توجہ دلائی کی جنۃ البقیع کی زیارت کی جائے۔ اسے پایا کہ یہ تو چالیس سال پہلے کے مقابلہ میں کلیتاً بدل گئی ہے۔ قبریں نہیں رہیں ۔ ہر قبر کے سرہانے ایک پتھر گاڑ کر قبر کا نشان کردیا گیا ہے اور ان کی تعداد بے شمار۔ پھر وہاں جانے کے ڈھلوان راستہ کی دونوں طرف سے حد بندی کردی گئی ہے۔ نیز بس فجر کے بعد ہی کچھ وقت کے لیے یہ قبرستان کھولاجاتا ہے۔ بظاہر یہ وجہ تھی کہ راستہ زائرین کے لیے لمحہ بہ لمحہ تنگ ہوتا جا رہا تھا۔ ایک کشمکش کی صورت تھی۔ اسی میں ہارون سلمہ کا ساتھ بھی چھوٹ گیا تھا اور میں جب تن تنہا جد و جہد کرتا ہوا اوپر قبرستان کے سطح کے قریب ہونے کو ہوا، تب تو تنگی کی وہ کیفیت ہوئی کہ بس دم گھٹ جائے گا، مگر اللہ نے دستگیری فرمائی اور پہرے پر متعین ایک شرطی نے اپنی طرف بڑھا ہوا میراہاتھ تھام کے اوپر آجانے کا سہارا مجھے دے دیا۔ فللہ الحمد۔ ضرورت ہے کہ سعودی حکام کو اس طرف توجہ دلائی جائے کہ زیارتِ بقیع کے لیے وقت بڑھایا جانا چاہیے۔
اس زیارت کے بعد بخیر واپسی ہوئی توضرورت تھی کہ کچھ ٹانک ملے۔ شمعون سلمہ جن کے پاس وہیل چیئر تھی، انھوں نے جلد ہی اندازہ کرکے کہ وہ اس بھیڑ میں پار نہ ہو سکیں گے، واپسی اختیار کرلی تھی اورپیچھے جوکھجوریں بیچنے والے اس عرصہ میں آگئے تھے، ان سے ایک ڈبہ خرید لیا تھا۔ وہ اس ضرورت کے وقت بہترین ٹانک بن گیا۔ نہایت نفیس رسیلی کھجوریں تھیں۔ تازہ دم کردیا اور ہمت ہوئی کہِ قبا چل کر مسجد ’’اُسِّسَ علیٰ التقویٰ مِنْ اوّلِ یومٍ ‘‘ میں دو رکعت نماز کے فضیلت حاصل کریں ا ور شہدائے اُحد کی بھی زیارت سے ان شہیدانِ راہِ خدا کی یاد تازہ کی جائے۔ اللہ نے یہ ارادہ بھی اپنے کرم سے پورا کرادیا۔اللہ ان شہدائے کرام کے درجے بڑھائے او ر اس مسجد کی عظمت ورونق۔ یہ خاصا لمبا پروگرام تھا۔واپس قیام گاہ پر آئے ،کچھ سستائے اور پھر جمعہ کی نمازکے لیے مسجد نبوی،مگر بڑاافسوس رہے گا کہ اپنے بعض اعذار کی مجبوری سے نماز کے لیے نکلنے میں دیر ہوئی اوربہت پچھلی صفوں میں جگہ مل سکی۔ افسوس اپنی جگہ مگر تسلی بھی تھی کہ
میخانے کا محروم بھی محروم نہیں ہے
مجمع غالباً جمعہ کی وجہ سے اتنا تھا کہ مسجد سے باہر بھی صفیں بنیں۔ہم بہر حال اندر تھے۔
لیجیے ایک جمعہ بھی خانۂ کعبہ کے بعد کے درجہ کی اس مسجد نبی اُمی میں نصیب ہوگیا۔اس سے کیا زیادہ ایک نا لائق کو چاہیے؟ اب تیاری واپسی کے سفر کی ہے۔قیام گاہ پر پہنچے،کھانا کھایا اوراگلے سفر کی تیاری میں کچھ دیر کے لیے لیٹنا اور سو لینا ضروری ہوا۔ عصر پڑھ کر لیٹ رہے۔ مغرب سے فراغت کرکے ایک ٹیکسی مکہ مکرمہ کے لیے لی اور ایک بار پھر دربارِ الٰہی میں حاضری کو چل دیے۔ راستے میں مسجد میقات پر رک کر احرام باندھا، عشاء کی نماز سے فراغت کی اور اب سفر تلبیہ کے ساتھ حالت احرام میں شروع ہوا۔عزیزم محمد مکی کو اطلاع دی جا چکی تھی اور انھوں نے پھر اپنے ہوٹل میں کمرہ بک کرا لیا تھا۔ اور اس دفعہ ہوٹل نے ہمیں اپنا مہمان بنالیاتھا، یعنی نام کو بھی کچھ لینا دینا نہ تھا۔ ایک طرف اپنی گناہوں بھری زندگی تھی اور ایک طرف مالک کے گھر میں یہ پذیرائی کی جیسی باتیں!ایک معمہ تھا سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔
خدا نہ کرے کہ آزمائش رہی ہو۔
مکہ مکرمہ میں عمرہ کرنے بعد پروگرام چونکہ سیدھے جدہ جانے کا تھا، اس لیے فرحان (ابن ذیشان) سلمہ پیشوائی کے لیے مع کچھ ما حضر پہنچے ہوئے تھے۔ معدہ کی ضیافت کی ،کچھ دیر آرام کیا اور فجر ہو گئی۔ میرا تو جی آرام کو چاہتا تھا مگر ہارون سلمہ نے تھوڑا سا چائے پانی کرکے جب کہا کہ چلیں عمرہ کرلیں تو عذر کرنے کو جی نہ چاہا۔ پس نو بجے کے اندر یہ فریضہ بھی ادا ہوگیا۔اورپھر ناشتہ کرکے جو ہوٹل کی طرف سے بڑے شاندار پیمانے پر ہوتا تھا، اس سفر کے آخری ’’رُکن‘‘ (یعنی ایک شب عالیہ سلمہا کے گھر گزارنا) کی ادائیگی کے لیے جدہ کو چل پڑے۔ مگر افسوس رہے گاکہ یہ ادائیگی بس نام کی ہو ئی۔مدینہ منورہ سے روانگی کے وقت گلے میں کچھ خراش شروع ہوئی تھی،عمرہ کی ادائیگی تک تو وہ د بی رہی مگراس کے بعد جیسے اسے آزادی مل گئی۔جدہ پہنچتے پہنچتے اس نے کافی پر پرزے نکال لیے۔ اور دوسرے صبح تک سینہ پر نزلہ کی تکلیف نے پوری شدت اختیار کرلی جبکہ اسی صبح کو لکھنؤ کا سفر بھی کرنا۔ اسی حال میں ایر پورٹ پہنچے۔مگر وہاں پتہ چلا کہ ہم لیٹ ہوگئے، پس گھر واپس جانا ہے۔بہت گرانی ہوا ۔ مگر بعد میں پتہ چلا کہ اس میں اس گنہگار کے لیے بھلائی تھی۔ طبیعت کی خرابی تیزی سے بڑھتی جارہی تھی اوراس کی بنا پر ضرورت تھی کہ ڈاکٹر سے رابطہ ہو۔سفر ملتوی ہوجانے کی بناپر جدہ ہی میں یہ کام ہوگیا اور پتہ چلا کہ نزلہ کا معاملہ تو اتنا نہ تھا، بلڈ پریشر تھا جو خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا ۔اس کے بعدضرورت تھی کہ سفر ختم ہو تو پوری طرح آرام و راحت کی جگہ ملے۔ اس کا انتظام اس طور پر ہوا کہ اگلے دن کے لیے لکھنؤ کی سیٹ بہت مہنگے داموں مل رہی تھی اور اس کا بدل یہ تھا کہ جدہ سے لکھنؤ کا سفر براستہ دلّی کیا جائے۔ چنانچہ اس کو اختیار کیا گیا اور اس کے نتیجہ میں اللہ نے مجھے دلی پہنچانے کا انتظام کردیا ،جومیرے اس حال میں میرے لیے بہترین نتظام تھا کہ دلّی بڑے بیٹے عبیدسلمہ کا گھر ہونے کی وجہ سے میرا گھر اور علاج کی بھی بہترین سہولت گویا دروازہ ہی پر میسر۔
شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدیؒ
مولانا مفتی منیب الرحمن
۴ فروری ۲۰۱۶ء جمعۃ المبارک کی شب کو آفتاب علم غروب ہو گیا۔ اردو کا محاورہ ہے ’’اک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے‘‘، لیکن یہ آفتاب علم تو غروب ہو گیا، مگر تفسیر تبیان القرآن، تفسیر تبیان الفرقان، شرح صحیح مسلم او ر نعمۃ الباری یعنی علوم قرآن وحدیث کے فیضان کی صورت میں اپنا نور پیچھے چھوڑ گیا ہے جو ان شاء اللہ العزیز آنے والی صدیوں تک تشنگان علم کو فیض یاب کرتا رہے گا۔
فارسی کا مقولہ ہے ’’ہر گلے را رنگ وبوئے دیگر است‘‘، یعنی ہر پھول کی اپنی اپنی خوشبو ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر شخص کا استحقاق ہے کہ وہ علم کی دنیا میں جسے چاہے اپنا آئیڈیل قرار دے، کیونکہ ہر شخص کی پسند وناپسند، ترجیحات اور معیارات اپنے اپنے ہوتے ہیں۔ میری دیانت دارانہ رائے کے مطابق اردو بولنے، لکھنے اور پڑھے جانے والے ہمارے اس خطے میں تفسیر وحدیث کے میدان میں جتنا کام علامہ غلام رسول سعیدی نے تیس سال میں کیا ہے، گزشتہ نصف صدی میں اتنا تحقیقی، وقیع اور علمی کام کسی اور کا نظر نہیں آتا۔ ہمیں تسلیم ہے کہ ہر دور میں اصحاب علم اپنے اپنے حصے کا کام کرتے ہوئے گئے ہیں اور ہر صاحب علم کے کام میں ان کے منہج اور مزاج کے اعتبار سے کوئی نہ کوئی تفرد، تفوق اور امتیاز ضرور ہوتا ہے، لہٰذا یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ کسی ایک صاحب کمال کی تحسین وتعریف سے دوسروں کی نفی یا ان پر تنقید یا ان کی تنقیص مقصود نہیں ہوتی، صرف ایک حقیقت واقعی کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہے۔
اردو زبان میں علامہ صاحب کی تفسیر تبیان القرآن سب سے مبسوط، مفصل او رمدلل تفسیر ہے۔ آج کی تاریخ تک یہ اردو زبان کی واحد تفسیر ہے کہ جس میں تفسیر القرآن بالقرآن اور تفسیر القرآن بالحدیث کو بالترتیب درجہ اولیٰ اور ثانیہ میں رکھا گیا ہے۔ اس کے بعد آثار صحابہ وتابعین، پھر ائمہ مجتہدین کے اجتہادات وآرا کو ترجیح دی گئی ہے۔ جدید تحقیقی ، طبی اور سائنسی تحقیقات کے بھی آپ نے دوران تفسیر حوالے دیے ہیں۔ تمام احادیث اصل مآخذ کے حوالہ جات اور رقم الحدیث کے ساتھ درج ہیں اور یہ سارا کام انھوں نے اپنی علمی ریاضت اور مشقت سے (Manually) کیا ہے، انھیں کمپیوٹر تک رسائی (Access) نہیں تھی۔ صحیح بخاری کی احادیث کی ترقیم (Numbering) اور ان احادیث کے دیگر کتب حدیث میں حوالہ جات کے ساتھ جدید صحیح بخاری ابھی بیروت سے چھپ کر نہیں آئی تھی کہ آپ نے اپنے زیر تربیت طلبہ کے ذریعے نہ صرف صحیح بخاری بلکہ بعض دیگر کتب احادیث کی ترقیم خود کرائی۔ آپ کی دیگر تصانیف میں تذکرۃ المحدثین، مقالات سعیدی، توضیح البیان، مقام ولایت ونبوت، تاریخ نجد وحجاز، ذکر بالجہر اور متعدد دیگر وقیع کتب شامل ہیں۔
آپ کی تفاسیر اور شروح حدیث میں جا بجا ایسی معرکۃ الآرا علمی وتحقیقی ابحاث شامل ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کو مستقل رسائل کی صورت میں ایڈٹ کر کے طبع کرایا جا سکتا ہے اور ہم ان کے نام سے منسوب ’’سعید ملت فاؤنڈیشن‘‘ کے نام سے ایک علمی، تحقیقی اور تصنیفی ادارہ قائم کرنے کی تدبیر کر رہے ہیں۔ وسائل کی دست یابی کی صورت میں ان شاء اللہ العزیز اس کام کو منظم، مربوط اور خوب صورت انداز میں سامنے لانے کی سعی کی جائے گی۔
حضرت کا جنازہ پاکستان کے بڑے تاریخی، منظم اور علمی وروحانی شکوہ سے بھرپور جنازوں میں سے ایک تھا۔ مجھے سیکڑوں علما ومشائخ اور لاکھوں عوام کی موجودگی میں ٹی گراؤنڈ فیڈرل بی ایریا کراچی میں آپ کی نماز جنازہ پڑھانے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کی تدفین جامع مسجد اقصیٰ کے احاطے میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی بے پایاں مغفرت سے نوازے اور آپ کو سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت مقبولہ اور قربت نصیب ہو اور رب کریم آپ کے درجات کو بلند اور آپ کی گراں قدر دینی خدمت کو تاقیامت صدقہ جاریہ فرمائے۔
(بشکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘)
شیخ الحدیث حضرت مولانا صدیق احمدؒ
سبوح سید
گذشتہ برس بہاؤالدین زکریا یونی ورسٹی ملتان میں ماس کمیونی کیشن میں ایم فل کے لیے داخلہ لیا تو ملتان جانا ہوا۔ ہفتہ اور اتوار کلاس ہوتی تھی۔ ایک روز جامعہ خیر المدارس کے مہتمم اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری برادر بزرگوار محترم قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کو فون کیا کہ ملتان میں ہوں، ملنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کراچی ہیں، لیکن حکم دیا کہ ’’آپ کو ہر صورت خیر المدارس جانا ہے‘‘۔ ہم حکم کی تعمیل میں جامعہ خیر المدارس گئے اور رات وہیں قیام کیا۔
خیر المدارس ملتان شیخ الحدیث مولانا خواجہ خیر محمد جالندھری کا لگایا ہوا پودا ہے جس کے سایے میں ہمہ وقت قال اللہ اور قال الرسول کی صدائیں گونجتی ہیں۔ والد محترم نے کچھ عرصہ خیر المدارس میں پڑھا تھا۔ جامعہ کے ناظم حضرت مولانا نجم الحق صاحب نے مدرسے کا دورہ کرایا۔ وہ خود ایک باکمال شخصیت ہیں۔ میری خواہش تھی کہ میں ان کے حوالے سے ایک مضمون لکھوں ۔ پاکستان میں وہ پہلی شخصیت ہیں جنھوں نے خود کش حملوں کے خلاف ۲۰۰۴ء میں تحقیقی مقالہ لکھا ۔ یہ مقالہ عالمی فورمز پر پڑھا گیا۔ آج لوگ اس مقالے سے اہنے مقالے تیار کرتے ہیں، لیکن انہیں اس وقت اچھا نہیں کہا گیا۔ جامعہ خیر المدارس کا بہت خوبصورت اور صاف ستھرا ماحول دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ اساتذہ سے ملے۔ اتنا بہترین نظم و نسق آپ کو کم ہی کہیں دکھائی دیتا ہے۔ مدرسے میں واقع قرآن ہال دیکھا۔ درختوں کے سایے میں خوبصورت تالاب اور تالاب کے کنارے قدیم طرز تعمیر کی عالیشان مسجد اور مسجد کے سامنے دارلحدیث واقع ہے۔ ہم نے مولانا خیر محمد جالندھری اور مولانا محمد شریف جالندھری کی مرقد پرفاتحہ خوانی کی۔
میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ جہاں جاؤں ، صاحبان علم سے خاص طورعلم کی خیرات ضرور حاصل کروں، یہی توشہ آخرت ہے۔ مولانا نجم الحق صاحب نے بتایا کہ دار الحدیث حدیث کے عقب میں شیخ الحدیث مولانا محمد صدیق صاحب رہائش پزیر ہیں۔ مولانا تقریباً ساٹھ برس سے جامعہ خیر المدارس میں پڑھا رہے ہیں۔ ان کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ انہوں نے یہیں سے تعلیم حاصل کی اور پھر تدریس بھی یہاں ہی کی۔ ملاقات کی خواہش کی تو انہوں نے طلب فرمایا۔ مولانا منظور احمد صاحب، اقبال بالاکوٹی صاحب، مولانا نجم الحق صاحب کے فرزند عداس نجم صاحب، دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ناصر فرید صاحب، ہم سب ان کی خدمت میں اکٹھے حاضر ہوئے۔ ان کے پاس بیٹھے، کئی باتیں کی۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی کے قصے سنائے۔ میں نے ان سے مدرسے کی خوبصورت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’’ حضرت آپ ضرور خیر المدارس کے رومانوی ماحول کا شکار ہوئے ہیں جو یہاں سے گئے نہیں۔ کندھے پر تھپکی دی اور ہنس پڑے۔
میری خواہش پر حصول برکت کے لیے انہوں نے بخاری شریف کتاب الایمان سے دو احادیث پڑھائیں۔ اصرار کے ساتھ چائے پلائی۔ مجھے لگا کہ ان کا کمرہ محبتوں کا ایک حصار تھا جہاں سے نکلنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ اور کیوں نہ ہوتا! جی ہاں یہ وہی کمرہ تھا جہاں صبح و شام رسول اللہ کی باتیں ہوتی تھیں ، اس سادہ سے کمرے میں اتنا سکون تھا کہ اگر اسے تقسیم کیا جائے تو پورے ملتان میں بٹ جائے، لیکن ہم جیسے دماغ کے سودوں کو دل کے سودوں پر ترجیح دے دیتے ہیں اور ساری زندگی خسارے میں گذارتے ہیں۔
فرمایا: پاکستان مسجد کی طرح مقدس ہے. اس میں کسی قسم کا انتشار اور تفرقہ پھیلانا خود اپنے وجود کو عذاب میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ پھر پاکستان کے حوالے سے اپنا رقم کردہ ایک کتابچہ دیا۔ (جامعہ خیر المدارس کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ اس کتابچے کو کثیر تعداد میں شائع کروا کے تقسیم کروائیں۔ ) نصف گھنٹہ سے زیادہ ان کے صحبت میسر رہی ۔ ان سے دعاؤں کی درخواست کی تو انہوں نے محبت سے بار گاہ خداوندی میں ہاتھ اٹھا کر ہمارے لیے دعا کی اور مجھے وہ قبول ہوتی نظر آ نے لگی۔ ہم نے دست بوسی کی سعادت حاصل کی، انہوں نے سر پہ اپنا ہاتھ پھیرا اور ہم باہر چلے آئے۔ میں اس جگہ حاصل ہونے والے سکون کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔
آج صبح جاگا تو موبائل پر پیغام تھا کہ یادگار اسلاف ، استاذ العلماء شیخ الحدیث مولانا محمد صدیق صاحب اس عارضی دنیا کو اپنے علم و عرفان سے مہکانے کے بعد الوداع ہو چکے ہیں۔ ذہن میں اتنا سا خیال آیا کہ جانا تو سب نے ہے، لیکن کاش ان کے جانے سے پہلے ایک ملاقات اور ہو جاتی۔ ان کے جنازے میں پورا شہر امڈ آیا تھا۔ نہ کوئی عہدہ اور نہ سلطنت، صدیق کی صداقت کی گواہی ملتان کی سوگوار فضا، آہیں اور سسکیاں دے رہی تھیں۔
برادر مولانا عبد القدوس محمدی صاحب نے لکھا کہ ان کے جانے کے بعد ہم دعاؤں کے ایک اور دَر سے محروم ہو گئے۔ واقعی اتنی بے لوث اور محبت بھری دعائیں اور کون دے سکتا ہے۔ اللہ حضرت کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے متعلقین اور اقربا کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
بابائے سوشلزم
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ
یادش بخیر! ایک شیخ رشید ہوا کرتے تھے، بابائے سوشلزم۔ پہلے "آزاد پاکستان پارٹی" میں تھے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو اس کے بانی رکن بنے ۔ تب لوگ پیپلز پارٹی کو ایک مزاحیہ فلم سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ شیخ صاحب مرحوم سوشلزم کا درس پہ درس دیتے رہتے۔ مگر کم علم اور ان پڑھ لوگوں کو کیا پتہ کہ سوشلزم کیا ہوتا ہے۔ ا ستحصال کسے کہتے ہیں۔ اضافی پیداوار وآلات پر کسی کا حق ہونا چاہیے۔ انہیں تو بس ذوالفقار علی بھٹو نے مسحور کر رکھا تھا۔ ایسا جاوو سر چڑھ کر بول رہا تھا کہ کسی کو سوشلزم کا پتہ وتہ کچھ نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی کا مطلب ذوالفقار علی بھٹو اور بس بھٹو تھا ۔ ۷۰ء میں جب عام انتخابات کا اعلان ہوا تو لوگ دنگ رہ گئے کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب اور سندھ میں کس طرح جھاڑو پھیر کر مغربی پاکستان میں اتنی بڑی اکثریت حاصل کر لی ہے، حالانکہ جماعت اسلامی ان انتخابات کے نتیجے میں اپنی آنے والی حکومت کی کابینہ بھی مکمل کر چکی تھی۔ مگر اس کے میاں طفیل محمد صاحب کو شیخ رشید نے چاروں شانے چت کر دیا۔ اور ذوالفقار علی بھٹو کے وزیر اعظم بننے کے بعد وہ ان کی کابینہ میں وزیر صحت مقرر کیے گئے۔
پیپلز پارٹی نے جہاں آئین بنایا، وہاں دیگر معاملات میں بھی بہت قانون سازی کی جن میں ایک شاہکار کا رنامہ دوائیوں کا "جنرک " نام بھی تھا۔ یعنی اگر ایک کمپنی کوئی دوائی بناتی ہے اور اُسے اپنے نام سے اگر دس روپے میں فروخت کرتی تو "جنرک" نام کی بدولت اسی فارمولے کا استعمال کرتے ہوئے کمپنی کے نام کی بجائے دوائی ایک یا دو روپے کی ہوتی۔ کمپنیوں کی لوٹ مار ختم ہو گئی۔ کمپنیوں کے سرمایہ دار مالکان نے بہت شور کیا مگر جس قانون کو عوام کی تائید حاصل ہو، بھلا وہ کب ختم ہوتا ہے۔ ۱۹۷۶ء میں پیپلز پارٹی نے " ڈرگ ایکٹ" پار لیمنٹ سے منظور کروا کے نافذ کیا۔ قیام پاکستان کے بعد جو چند قوانین عوامی فلاحی وبہبود کے لیے بنائے گئے، ان میں یہ ایکٹ بڑا اہم اور جامع ہے۔ ۷۷ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب ضیا ء الحق نے اقتدار سنبھا لا تو جہاں ہیروئین کے سوداگروں، ناجائز اسلحہ کے بیوپاریوں، لاکھوں شرپسند افغانیوں اور علمائے سو کی موجیں لگ گئیں، وہیں مالکان کی بھی، خواہ و مکانوں اور دکانوں کے تھے یادواساز کمپنیوں کے، خوب سنی گئی ۔ دوائیوں کی قیمتیں دن بدن بڑھنا شروع ہو گئیں۔ اوراُس کے بعد پھر آج تک رکنے کا نام نہیں لے رہیں۔ دواساز کمپنیوں کے مالکان نے اب اطمنان سے اپنا اگلا وار کیا اور جعلی دوائیاں بنا بنا کر لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ اور پاپڑ منڈی کو ایشیا کی سب سے بڑی مارکیٹ بنا دیا ۔ یہ ایک دلچسپ واقعہ بھی ہے اور المیہ بھی کہ پنجاب کے ایک گورنر چوہدری الطاف حسین مرحوم جب دل کے علاج کے لیے امریکہ گئے تو ہسپتال میں جب ان کے زیر استعمال دوائیوں کا لیبارٹری میں معائنہ کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ گورنر صاحب کو جو دوائیاں سپلائی کی جاتی تھیں، وہ تو جعلی تھیں۔ اس جعلی اور اصلی کے چکر میں ہی گورنر الطاف دل کی بازی ہار کر اللہ کو پیارے ہو گئے۔
پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ کے دور میں محکمہ صحت کی جانب بڑی توجہ دی گئی۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے علاوہ صوبہ بھر میں وکلاء صاحبان کا علاج آدھے سے بھی کم خرچے پر ہوتا تھا ۔ عام آدمی کو مفت اور معیاری دوائیاں اورٹیسٹ دستیاب تو تھے ہی، مگر 1122 بنا کر خلق خدا کر ہمیشہ کے لیے اپنا ممد وح بنا لیا۔ انتخابات میں فتح وشکست اصلاحات کی بنا پر تھوڑی ہوتی ہے، یہ تو ایک طر ح کی MANAGEMENT ہوتی ہے جو بساط بچھا کر عالمی طاقتیں پاکستان میں کھیل رچاتی ہیں اور یہ بساط الٹا بھی دیتی ہیں۔ پھر دنیا کے چند امیر ترین لوگوں میں شامل ایک "خادم " پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا تو اس کی برادری کے لوگوں کی بھی سنی گئی۔ وہ بھی نیچے سے نے نکل کر اوپر آگئے اور پارلیمنٹ سمیت نوکر شاہی اور دیگر اداروں پر قبضہ کر لیا جو تاحال جاری ہے۔ پہلے پہل تو لوگوں کو اس سے نجات کی کوئی توقع تھی، مگر گزشتہ دنوں اخبارات میں چھینے والی ایک تصویر نے ان کے ارمانوں کا خون کر دیا اور وہ مایوسی کی اندھیر نگری میں چلے گئے۔
اس وقت جعلی، زائد المیعاد، بلاوجہ مہنگی اور غیر ملکی موت بانٹنے والی جعلی دوائیوں سے گوداموں کے گودام بھرے پڑے ہیں۔ کوئی گلی ایسی نہیں جس کی نکڑ پر یہ مکروہ دھندا نہ ہورہا ہو ۔ ایسے بھی کئی ہنر مند ہیں جو ایسی جنسی دوائیوں کی ہوم ڈیلیوری بھی کرتے ہیں۔ آپ نے کبھی غور کیا کہ اسپتالوں کے اردگرد میڈیکل سٹور اور لیبارٹریاں کیوں اتنی زیادہ ہوتی ہیں؟ اس لیے کہ لوگوں کو ہسپتالوں سے مفت دوائی اورٹیسٹ دستیاب نہیں۔ محکمہ صحت میں ایک افسر ہوتا ہے جسے "ڈرگ انسپکٹر" کہا جاتا ہے جو دودھ کے دھلے تو ہر گز نہیں ہوتے، پھر بھی کوئی نہ کوئی دیانتدارانسپکٹر قسم توڑنے کے لیے ہی سہی، ان سٹوروں، عطائیوں اور لیبارٹریوں پر چھاپے مار ہی لیتا ہے۔کچھ ایسے ہیں جو کبھی نہ کبھی کچھ کارکردگی دکھانے کے لیے ہی سہی کاروائی کرتے ہیں اور کیس درج کر کے متعلقہ اتھارٹی یعنی DCO کو ارسال کر دیتے ہیں۔ یہیں سے اصل برائی شروع ہوتی ہے۔ جب کیس DCO کے پاس جاتا ہے تو موت کے سوداگر عوامی نمائندے فون کرتے ہیں اور DCO موت بانٹنے والوں کو چائے پلائے بغیر دفتر سے نہیں جانے دیتا اور کام بھی کر دیتا ہے ۔
آج ان حالات میں قدم قدم پر بابائے سوشلزم شیخ رشید مرحوم کی بہت یاد آتی ہے۔ ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جو معاشروں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ اللہ کروٹ کروٹ انہیں جنت نصیب کرے ۔ ان سے آخری ملاقات نیویارک میں ہوئی تھی جہاں امریکہ کے سابق اٹارنی جنرل رمزے کلارک کے انسانی حقوق کے ایک بڑے عالمی پروگرام میں وہ مہمان خصو صی کے طورپر شریک ہوئے اور ایک عالم کو اپنے خیالات کا قائل کرنے کی مقدور بھر کوشش کی۔
مکاتیب
ڈاکٹر محمد شہباز منج
محترم المقام جناب محمد عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
گستاخی معاف !"الشریعہ "کے فل فلیج مدیر بننے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو مضامین کی عبارتوں میں کان کی جگہ آنکھ اور آنکھ کی جگہ کان لگانے کی اجازت مل گئی ہے۔ مدیر کا یہ اختیار تسلیم کہ وہ ضرورت کے تحت ایڈٹنگ کر لے ، لیکن یہ اختیار تو کوئی معقول آدمی قبول نہ کرے گا کہ متعلقہ مضمون میں سوال گندم اور جواب چنا کی کیفیت پیدا کر دی جائے۔ راقم الحروف نے "ممتاز قادری کی سزا: اپنی معروضات پر اعتراضات کا جائزہ" کے عنوان سے فروری 2016ء کے "الشریعہ" کے لیے جو مضمون بھیجا، اسے مکاتیب میں جس حالت میں شائع کیا گیا، اس پر (نرم سے نرم الفاظ میں) سخت کوفت ہوئی۔ ایک طرف تو مضمون کی عبارتوں کی عبارتیں حذف کر دی گئیں اور دوسری طرف ان کو باہم جوڑتے ہوئے یہ بھی خیال نہ رکھا گیا کہ معترضین کے کس سوال کا کیا جواب ہے! (الفاظ کے" حسن استعمال" کی "مہربانی" الگ ہے۔ پہلے ہی جملے سے مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ مضمون کا کیا حشر کیا گیا ہوگا: "ممتاز قادری کی سزا کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے" ایک جملے میں "کے حوالے سے" کی اس تکرار نے ہی میرے کانوں سے دھواں نکال دیا تھا)۔ شائع شدہ مضمون دیکھ کر مضمون نگار کے بارے میں جو تاثر پید ہوتا ہے، وہ حرف و تحریر سے انس رکھنے والا کوئی فرد برداشت نہیں کر سکتا (حتی کہ آپ اپنے بارے میں بھی نہیں)۔ "الشریعہ" ایسے موقر رسالے میں اپنی تحریر کا یہ حال دیکھ کر پہلی دفعہ احساس ہوا کہ کاش میں نے یہ مضمون نہ بھیجا ہوتا یا آپ نے اسے شائع نہ کیا ہوتا! پوچھ ہی لیا ہوتا کہ جگہ کی تنگی کے باعث مختصر شائع کرنا ہے تو میں اختصار بھیج دیتا یا عرض کر دیتا کہ فلاں فلاں جگہ کو حذف کر دیں! میرا آپ سے پر زور مطالبہ ہے کہ اس خط اور وضاحت کے ساتھ مضمون کا درج ذیل حصہ دوبارہ شائع کریں، اور یہ اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ "الشریعہ" پر اپنے حق کا مان رکھتا ہوں۔
"ممتاز قادری کے حوالے سے سپریم کورٹ نے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس پر تحفظ شریعت کانفرنس کے عنوان سے، بعض علما کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ سزاقرآن و سنت اور چودہ سو سالہ اجماع کے خلاف ہے۔ راقم نے ان علما کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے ، دسمبر 2015ء کے 'الشریعہ " میں، "ممتاز قادری کی سزا: تحفظ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظر" کے عنوان سے ایک مضمون میں دلائل سے ثابت کیا کہ توہین رسالت پر سزائے موت کے قانون کے ہوتے ہوئے، کسی شخص کا توہینِ رسالت کے کسی ملزم کوماوراے عدالت قتل کرنا ،شرعی نقطہ نظرسے غلط ہے؛ لہٰذا زیر بحث کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بے جواز نہیں۔اس پر بعض کرم فرماؤں کی جانب سے کچھ اختلافات واعتراضات سامنے آئے۔ان سطور میں ان پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جا رہی ہے۔میرے موقف سے متعلق معترضین کے افکار و دلائل کچھ اس طرح سے ہیں:
1) توہینِ رسالت کا مر تکب، فقہا کے نزدیک مباح الدم ہے جس کے قتل کرنے والے کو قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ تادیباً کوئی تعزیر ی سزا دی جائے گی؛ لہٰذا ممتاز قادری کو سزائے موت دینا غلط ہے؛ کوئی تعزیری سزا دی جا سکتی ہے۔
2) مقدمہ چلنے کے بعد، قرائن سے، جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ سلیمان تاثیر نے توہین رسالت کی تھی، تو اس کے قاتل کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔
3) آپ ایسے لوگ، اس طرح کے دلائل سے، یہود و نصاریٰ کو خوش کرنا چاہتے ہیں؛ آپ ان کی پیروی ہی کیو ں نہیں کر لیتے تاکہ وہ خوش ہو جائیں!؛ لیکن قرآن کا فیصلہ ہے کہ وہ خوش نہیں ہوں گے۔
اب ہم ان اعتراضات و دلائل پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
جہاں تک آخری بات کا تعلق ہے، تو سچ یہ ہے کہ ہم خود کو ، اس معاملے پر کوئی دلیل پیش کرنے کی پوزیشن میں نہیں پاتے؛ اس لیے کہ کس کی کس کو خوش کرنے کی نیت ہے؟ اس کی دریافت اتنا مشکل کام ہے کہ ہمارے کرم فرما ہی اتنی آسانی سے کر سکتے ہیں!؛ہم لوگوں کے باطن میں اتر کر ان کے مسائل اور بیماریوں کی تشخیص کا(اگر کچھ جان بھی سکیں تو) اتنا فن نہیں جانتے کہ آدمی کو دیکھے ، ملے اور جانے بغیر اس کے باطن پر حکم لگا سکیں۔ہاں ! اپنی صفائی کی بات ہو سکتی ہے۔لیکن وہ بھی معترضین ایسے مسکت دلائل سے رد کر سکتے ہیں جن کا، ہمارے پاس، ہمیں اقرار ہے، کہ کوئی جواب نہیں ہو گا۔ مثلا: وہ کہہ سکتے ہیں: تم اوپر اوپر سے صفائیاں پیش کر رہے ہو؛ اندر تمھارے وہی کچھ ہے،جو ہم عرض کر رہے ہیں۔سو دوسری اور پہلی بات ہی کے حوالے سے کچھ عرض کرنا ہماری بساط میں ہے۔
دوسری دلیل کے حوالے سے عرض ہے کہ یہ مقدمے، ثبوت اور عدالتی کاروائی سے متعلق ایک بے مثل عجوبہ ہے۔ یعنی کسی کے جرم کے حق میں دلائل اس کا کام تمام کرنے کے بعد فراہم کیے جا سکتے ہیں !بعد میں اگر پتہ چلے کہ ملزم مجرم تھا،اور اس کی بنا پر کسی شخص نے اسے قتل کر دیا تھا، تو اب قاتل کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی!۔ثبوتِ جرم کا یہ طریقہ عدالتوں کو بہ طورِ رہنما اصول اپنانا چاہیے اور قاتل کو نہ صرف اس وقت تک مہلت دینی چاہیے، جب تک یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ قاتل مقتول کو قتل کرنے میں حق بہ جانب تھا؛ اور قاتل کو مقتول کے قتل پر سزا دینے اور سزا کے حق میں دلائل تلاش کرنے کی بجائے ان شواہد پر نظر رکھنی چاہیے، جو مقتول کے خلاف مرورِ زمانہ سے مہیا ہوئے ہیں۔کیا قانون ، عدالت اور مقتول کے ساتھ اس سے بڑا مذاق ممکن ہے!۔ ہو سکتا ہے کہ آپ یہ سوچ رہے ہوں : بھلا یہ دلیل بھی کوئی دے سکتا ہے!، لیکن یہ دلیل دی گئی ہے ؛ اور ایک مشہور صاحبِ" ماہنامہ" کی جانب سے دی گئی ہے۔
اس دلیل کی لغویت کو ایک طرف رکھیں اور صرف اس زمینی حقیقت ہی کو دیکھ لیں کہ زیر نظر کیس میں جب قاتل نے مقتول کو قتل کیا ؛ اس وقت قاتل کے حق میں فضا زیادہ تھی ، یا بعد میں زیادہ ہوئی!۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ بعد میں فضا قاتل کے مخالف ہوتی گئی؛ اور ان لوگوں کی طرف سے بھی اس کے اقدام کو غلط قرار دیا گیا ،جو واقعے کے ابتدائی دنوں میں اس کے حق میں دلائل دیتے اور نعرے لگاتے تھے۔راقم ایسے بیسیوں صاحبانِ علم کو جانتا ہے، جو ابتدا میں یہ کہتے تھے کہ سلیمان تاثیر کا قتل درست تھا؛ لیکن بعد میں اس کے قائل ہو گئے کہ یہ قتل غلط تھا؛ اس کے بر عکس میں ایک بھی بندے کو نہیں جانتا ، جو پہلے ممتاز قادری کے اقدام کو غلط سمجھتا تھا، لیکن بعد میں اس کا جواز پیش کرنے لگا۔ گویا بعد کے حالات نے تو یہ ثابت کیا کہ مقتول کو ایک فرضی اور غیر ثابت شدہ الزام پر،بہت سے دیگر محرکات اور اس کے خلاف ایک خاص فضا پیدا ہوجانے کے نتیجے میں ،رد عمل کی نفسیات کے تحت ،موت کے گھاٹ اتارا گیا؛ نہ کہ ایک صحیح الزام پر قتل کیا گیا!؛ تو اگر بعد کے ثبوتوں پر ہی جانا ہے، تو بھی مذکورہ کیس میں کورٹ کا فیصلہ درست قرار پاتا ہے، نہ کہ اس کے بر عکس۔
خود عدالت نے بھی ،اپنے تفصیلی فیصلے میں، یہ کہا ہے کہ ملزمِ توہینِ رسالت کو ایک فرضی توہین کے پیش نظر قتل کیا گیا؛ اس بات کا کوئی ثقہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ مقتول نے واقعی توہین رسالت کی تھی۔میں نے اپنے محولہ مضمون میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ ایک مسلمان جج، جو قانون کے مطابق توہین رسالت پر سزائے موت دینے کا اختیار رکھتا ہے، وہ صرف اسی صورت میں سزاے موت کو ٹال سکتا ہے، جب اس کو یقین ہو کہ توہین نہیں ہوئی؛ یا اس میں شک ہے؛ اور صرف اسی صورت میں توہین سالت کے ملزم کو مار دینے والے کو سزاے موت دے سکتا ہے، جب اسے یقین ہو جائے کہ قاتل نے بغیر کسی یقینی بات کے کسی کو توہینِ رسالت کا مجرم سمجھ کر قتل کیا ہے۔ ایک مسلمان جج ،کتنا گیا گزرا بھی ہو، قانون کے ہوتے ہوئے توہین رسالت کے معاملے میں سمجھوتا نہیں کر سکتا! عدالت چاہتی تو صرف اس بنیاد پر بھی سزا سناسکتی تھی کہ قاتل نے قانون ہاتھ میں لیا؛ لیکن اس نے اس بات کو بہ طورِ خاص پیش نظر رکھا کہ قاتل نے بلا ثبوت اور بے جواز اقدام کیا؛ مقتول کے معاملے میں توہین کا کوئی واضح ثبوت نہیں تھا۔
اب آئیے مباح الدم کے مسئلے کی طرف۔مرتد یا گستاخِ رسول کے مرتد اور اس کے نتیجے میں مباح الدم ہو جانے میں علما کے اختلاف سے قطع نظر ، سوال یہ ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے ، کسی شرعی امر کے تحت کسی کے مباح الدم ہو جانے کا، بہ طورِ خاص ایک نظم ریاست میں ، اور وہ بھی وہاں ، جہاں ایسے مسئلے پر باقاعدہ قانون موجود ہو،یہ مطلب کیسے لیا جا سکتا ہے کہ اس کو کوئی بھی شخص قتل کر سکتا ہے!؛اور ایسے قاتل کو عدالت سزاے موت نہیں دے سکتی!
کسی مسلم کے مباح الد م ہونے کے حوالے سے، شریعت کا عام طور پر بیان ہونے والا معروف ضابطہ یہ ہے کہ تمام مسلمان محفوظ الدم ہیں ، بغیر کسی شرعی سبب کے ان میں کسی کا خون حرام ہے۔وہ شرعی وجوہ جن سے کسی مسلمان کا خون حلال ہوتا ہے، حدیث کی رو سے تین بیان کی جاتی ہیں:
1۔ کسی کو نا حق قتل کرنا۔
2۔شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کرنا۔
3۔کسی مسلمان کا مرتد ہو جانا۔
حدیث کے الفاظ یوں ہیں:
عَنِ ابنِ مَسعْودٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسْولْ اللہِ صَلَّی اللہْ عَلَیہِ وَسَلَّمَ: لا یَحِلّْ دَمْ امرِئ مْسلِمٍ اِلاَّ باِحدی ثَلاثٍ: الثَّیِّبْ الزَّانِی، وَالنَّفسْ بِالنَّفسِ، وَالتَّارک لِدِینِہِ المْفَارِقْ للجمَاعَۃِ (مسلم)
"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جومسلمان اس بات کی گواہی دیتا ہوکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس کی جان بس ان تین وجوہ میں سے کسی ایک وجہ سے لی جا سکتی ہے: (1) جان کے بدلے جان۔ (2) شادی شدہ زانی۔ (3) دین کو ترک کرنے والا؛ جماعت سے الگ ہو جانے والا۔"
فقہا کے مطابق ان میں کوئی بھی وجہ ہو تو مسلمان محفوظ الدم نہیں رہتا؛مباح الدم ہو جاتا ہے۔لیکن ان میں سے کسی بھی وجہ کے تحت آنے والے کسی شخص کو سزاے موت دینے کا اختیار، انفرادی طور پر کسی فرد کے پاس نہیں ہے؛ بلکہ یہ امراسلامی حکومت یا نظم ریاست کے دائرہ کار میں آتا ہے۔اصولی طور پر ان وجوہ میں سے کسی بھی وجہ کے تحت مباح الدم ہونے والے کو انفرادی حیثیت میں قتل کرنا؛ اسی طرح قتلِ نا حق ہے ؛ جیسے کسی بھی شخص کو ناحق قتل کرنا۔
گستاخِ رسول کو عام مرتد سے مختلف بتا کر اس کے قاتل سے رعایت کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر گستاخ پر حد لاگو ہوتی ہے، تو حد کو انفرادی حیثیت سے میں کس دلیل سے جائز ٹھہرایا جا سکتا ہے!۔اس ضمن میں آں جناب اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب سے توہین رسالت کے مجرموں کو انفرادی حیثیت میں قتل کرنے اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، قاتل کوکسی سزا کا مستحق نہ ٹھہرانے کی، بعض مثالوں سے جو استدلال کیا جاتا ہے، اس استدلال کی غلطی کی طرف راقم نے اپنے محولہ مضمون میں اشارہ کیا تھا۔ بات دراصل یہ ہے کہ توہین رسالت پر قتل کے ایسے تمام واقعات اسلامی نظم و قانون سے ماورا اور ذاتی حیثیت میں اقدام ثابت ہی نہیں کیے جا سکتے!۔ اس سلسلے میں سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے ایک شخص کو قتل کر دینے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پر نکیر نہ فرمانے والے واقعے کے علاوہ، جو روایت کثرت سے پیش کی جاتی ہے، وہ ابوداود کی یہ روایت ہے:
"حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک نابینا کی ام ولد باندی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی اور آپ کے شان میں گستاخیاں کرتی تھی، یہ نابینا اس کو روکتا اور زجر وتو بیخ کرتا تھا،مگر وہ نہ رکتی تھی۔ یہ اسے ڈانٹتا تھا، مگر وہ نہیں مانتی تھی۔راوی کہتا ہے کہ جب اس نے ایک رات پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں اور آپ کو گالیاں دینا شروع کیں، تو اس نابینا نے ہتھیار لیا اور اسکے پیٹ پر رکھا اور اس پر اپنا وزن ڈال کر دبا یا اور مار ڈالا، عورت کی ٹانگوں کے درمیان بچہ نکل آیا، جو کچھ وہاں تھا ، خون آلود ہوگیا۔جب صبح ہوئی تو یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر ہوا۔آپ نے لوگوں کو جمع کیا ، پھر فرمایا : اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے یہ کام کیا، جو کچھ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہوجائے،تو نابینا کھڑا ہوگیا؛ لوگوں کو پھلانگتا ہوا ، اس حالت میں آگے بڑھا کہ وہ کانپ رہا تھا، حتی کہ حضور کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا : یارسول اللہ! میں ہوں اسے مارنے والا!؛ وہ آپ کو گالیاں دیتی تھی اور گستاخیاں کرتی تھی؛ میں اسے روکتا تھا؛ وہ نہ رکتی تھی ؛ میں دھمکاتا تھا، وہ باز نہ آتی تھی ؛ اور اس سے میرے دو بچے ہیں جو موتیوں ایسے ہیں ؛اور وہ مجھ پر مہربان بھی تھی؛لیکن آج رات جب اس نے آپ کو گالیاں دینا اور برا بھلا کہنا شروع کیا تو میں نے خنجر لیا اور اس کے پیٹ پر رکھا اور زور لگا کر اسے مار ڈالا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! گواہ رہو، اس کا خون بے بدلہ ہے۔"
اب ذرا تصور کیجیے! ،اس سے ثابت کیا ہو رہا ہے!: ایک آدمی نے بار بار سمجھانے پر نہ سمجھنے والی اپنی ایک باندی کو توہین رسالت پر قتل کیا؛ معاملہ رسول اللہ کی عدالت میں لایا گیا؛ ملزم ڈر تا کانپتا پیش ہوا ( جس سے مترشح ہے کہ اسے حضور کی جانب سے سزا نافذ کیے جانے کا اندیشہ تھا)۔ آپ نے صورتِ حال کے تجزیے سے فیصلہ فرمایا کہ متعلقہ کیس میں باندی کا خون بے بدلہ ہے۔ اس سے یہ کس منطق کے تحت ثابت ہوا کہ اب قیامت تک،جس بھی شخص کے بارے میں، بعض لوگ یہ کہیں ، یا کوئی بھی شخص خود سے یہ سمجھے کہ اس نے توہین کی ہے، اور اس کو بلا کسی زجر وتوبیخ اور سمجھانے بجھانے اور یہ یقین کرنے کے کہ اس سے متعلق سنی سنائی بات کی کیا حقیقت ہے، توہین رسالت کا مجرم قرار دے کر قتل کر دے، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حدیث میں مذکور واقعے کے ذیل میں آتا ہے!؛ اور اسی پر قیاس کرتے ہوئے، اس میں بھی مقتول کے خون کو بے بدلہ قرار دینا چاہیے! کیا شریعت اور اس کے فلسفہ جرم و سزا اور نفاذِ و حدود و تعزیرات پر، اس سے بڑا ظلم ہو سکتا ہے!اگر ایک یا چند مثالیں قیامت تک کے ہر رنگ کے واقعات پر سزا کے معاملے کو دو اور چار کی طرح طے کر دیتی ہیں،تو یہ ثبوت، گواہیاں ، عدالتیں ، قاضی کس مرض کی دوا ہیں؟
اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کسی فلاطونی عقل کی ضرورت نہیں کہ جو اقدام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا ہو اور آپ نے اس پر نکیر نہ فرمائی ہو، وہ انفرادی اور ماورائے عدالت قرار ہی نہیں دیا جا سکتا! کیا عدالت و حکومت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی چیز تھی! بدیہی حقیقت ہے کہ کسی اقدام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جائز قرار دینا، ریاست اور عدالت کا اسے جائز قرار دینا ہے۔اگر زیرِ بحث کیس میں بھی ریاست قاتل کے اقدام کو درست قرار دے ، تو ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے!؛ یہ رسول اللہ کے طریقے کے مطابق ہو گا۔ لیکن ماورائے ریاست ایسا اقدام آں جناب کی سنت و ہدایت کی پیروی نہیں؛ واضح طور پر اس کی مخالفت ہے۔"
بہ الفاظِ دیگر توہینِ رسالت پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیانفرادی اقدامات کو یا اس تو حوالے سے قانونی تصور کرنا چاہیے کہ آں جناب نے خود اس پر نکیر نہ کر کے یا انہیں برداشت کرکے قانونی بنا دیا اور یا سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اقدامات استثنائی ہیں؛ اور استثنا سے قانون ثابت نہیں ہوتا۔ حضور اور مختلف صحابہ رضی اللہ عنہم کے مختلف اعمال کے حوالے سے بہت سی استثناآت ملتے ہیں جو خاص افراد کے لیے اور محدود تناظر کی حامل ہیں؛ساری امت اور اس کے تمام افراد کے لیے نہیں ہیں اور نہ ہی آفاقی ہیں کہ انہیں قیامت تک ہر شخص کے معاملے تک ممتد قرار دیا جائے۔ہماری عام مذہبی ذہنیت کا عجیب المیہ ہے کہ بعض استثنائی مثالوں کو لے کر اس پر ساری شریعت کا مدار رکھ لیتی ہے ،لیکن اس کے برعکس شریعت کے عام اور معلوم ومعروف اصول و قانون کو یکسر نظر انداز کر دیتی ہے۔شریعت کا یہ اصول مسلمہ ہے کہ ملزم کو صفائی اور اپنی پوزیشن کی وضاحت کا موقع ملنا چاہیے ؛اور عدالت کو معاملے کی تحقیق کے بعد ملزم کے مجرم ثابت ہونے پر اسے سزا دینی چاہیے۔یہ وہ اصول ہے جو قرآن و حدیث سے بھی واضح ہے اور عہد نبوی و خلفاے راشدین رضی اللہ عنہم کے ملزموں سے متعلق فیصلوں اور عدالت و قضا کی مسلسل اور ان گنت کاروائیوں سے بھی۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ بعض صحابہ کے انفرادی فیصلے تو ابدی قانون ہیں، لیکن قرآن و حدیث کے بیسیوں فرامین اور نبی اکرم اور خلفائے راشدین کے مسلسل اور ان گنت عملی فیصلے کوئی شرعی ضابطہ ہی نہیں!
یہ فیصلہ کہ مباح الد م کون ہے، کون کرے گا؟ یعنی کون یہ طے کرے گا کہ کسی مسلمان نے شادی شدہ ہو کر زنا کیا ہے!؛ قتلِ ناحق کا ارتکاب کیا ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے کی بنا پر یا کسی اور سبب سے مرتد ہو گیا ہے!؛ تا کہ اسے قتل کی سزا دی جائے؟ ظاہر ہے کہ یہ کام ریاست اور اس کا مجاز ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ علما یا شریعتِ اسلامی کے ماہرین کوئی تجویز یا مشورہ ہی دے سکتے ہیں؛ خود کوئی اقدام کر سکتے ہیں اور نہ کسی کو از خود اقدام کا کَہ سکتے ہیں۔خود اقدام کرنے والا قانونی اعتبار سے مجرم ہے ؛ اور اس کی قسمت کا فیصلہ ریاست کے سپرد ہے؛ جو اپنی سمجھ ، تحقیق اور قانون کے مطابق اس کو سزا دینے کا اختیار رکھتی ہے۔
اگرچہ یہ بات اپنی جگہ محل نظر ہے کہ مباح الدم کو ماوراے عدالت قتل کرنے پر قصاص نہیں ہو سکتا؛اس لیے کہ شریعت سے اس کا جواز ثابت نہیں کیا جا سکتا۔لیکن زیر بحث کیس میں،قاتل کو ازروئے شرع قصاص میں قتل کرنے کے عدم جواز کا فتویٰ، اگر درست بھی تسلیم کر لیا جائے، تو بھی یہ سوال اپنی جگہ رہے گا کہ مقتول نے توہین کی بھی تھی یا نہیں؟ جب توہین پر ناقابلِ تردید ثبوت ہی پیش نہ ہو سکا ہو، تو مقتول کا مباح الدم ہونا ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی قاتل سے قصاص نہ لینے کے مطالبے کی کوئی حقیقت رہتی ہے۔
جہاں تک کوئی تعزیری سزا دینے کا تعلق ہے تو سوال ہے کہ تعزیری سزا کیا ہوتی ہے!؛ یہ عدالت اپنی مرضی سے نہیں دیتی کیا!؛ تو اگر عدالت ایک بندے کو سزاے موت دے دے؛ بلکہ اس پر کوئی جرمانہ وغیرہ بھی عائد کر دے ، تو آپ یہ کہیں گے کہ: نہیں! آپ کی یہ تعزیر ہم نہیں مانتے!؛ اس کو دوسال قید رکھ لیں؛ دس ہزار جرمانہ کر دیں! مزید برآں تادیب کیا صرف قاتل کی مطلوب ہے!؛ سوسائٹی اور ایسی ذہنیت رکھنے والے دیگر افراد اور ان کے محرکین کی نہیں!۔ تعزیر کو تو بہر حال، آپ کو عدالت پر ہی چھوڑنا پڑے گا کہ وہ جو سزا مناسب سمجھے دے دے۔لیکن تعزیری سزا کے موقف والوں کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے اصل کرم فرماؤں کا موقف تو یہ ہے کہ قاتل نے کوئی جرم کیا ہی نہیں؛ بلکہ اعلیٰ ترین نیکی انجام دی ہے؛ وہ سرے سے کسی سزا کا مستحق ہی نہیں؛ وہ تو انعام و اکرام کا مستحق ہے۔
فیصل آباد کا تین روزہ دعوتی و تبلیغی سفر
مولانا محمد عبد اللہ راتھر
حضرت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کا ہر سال عیدالاضحی کی چھٹیوں میں تبلیغی احباب کے ساتھ سہ روزہ لگانے کا معمول ہے۔ اس سال سفر حج کے باعث اس سہ روزہ کی ترتیب ماہ جمادی الاولیٰ میں بنائی گئی اور ۱۶ تا ۱۸ مارچ تین دن کے لیے فیصل آباد میں مفتی زین العابدین رحمہ اللہ والی مسجد میں تشکیل ہوئی۔ منگل کے روز گوجرانوالہ مرکز میں حاجی اسحق صاحب کی ہدایات سننے کے بعد صبح نو بجے بیس علما کا قافلہ مختلف سواریوں پر گوجرانوالہ سے فیصل آبادروانہ ہوا۔ راقم الحروف اسی گاڑی میں تھا جس میں شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی تشریف فرماتھے۔
بات چل نکلی مصحف عثمانی کی تو حضرت نے فرمایاکہ یہ کل چھ نسخے تھے جن میں سے اس وقت دنیا میں صرف تین مصحف پائے جاتے ہیں: ایک ترکی میں، ایک لندن میں اور ایک تاشقند میں۔ فرمایا، کئی برس پہلے صنعاء (یمن) سے مصحف علوی کے دریافت ہونے کی خبر آئی تو مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اللہ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: یہ خبر پڑھی ہے؟ میں نے لاعلمی ظاہر کی تو مجھے وہ خبر نکال کر دکھائی اور فرمایا: یہ کہیں مولیٰ علی کے نام پہ سازش نہ ہو۔ میں نے کہا: ہاں، یہ بھی ہو سکتا ہے۔ کہنے لگے: کیا پھر میں اس معاملہ کو دیکھوں؟ میں نے کہا: دیکھ لیں۔ مولانا چنیوٹی بڑے باذوق آدمی تھے۔ وہ سفر کر کے یمن (صنعا) گئے۔ایک ہفتہ وہاں رہ کر اس مصحف علی کو دیکھتے رہے۔ جن جن مقامات پر شبہ ہو سکتا تھا، انہیں خوب اچھی طرح دیکھا اور پھر اس نتیجے پر پہنچے کہ واقعی یہ مصحف علی ہی ہے، کوئی ڈراما نہیں، اور اس میں اور مصحف عثمانی میں کوئی فرق نہیں۔ جرمن تحقیق کار بھی وہاں ریسرچ کر رہے تھے۔ ان کی تحقیق کا طریقہ یہ ہے کہ سیاہی دیکھتے ہیں، کاغذ پر تحقیق کرتے ہیں، رسم الخط کی جانچ کرتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق بھی یہ مصحف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا ہے۔ مولانا زاہد الراشدی نے فرمایا کہ چند ماہ قبل برمنگھم سے ان سب سے قدیم ’’مصحف صدیقی‘‘ دریافت ہوا ہے، یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ کامصحف، لیکن وہ مکمل نہیں ہے۔ وہ لوگ اس کے باقی اوراق کو تلاش کر رہے ہیں۔
قاری ریاض احمد صاحب نے ایران کے سفر کے دوران آیت اللہ جنتی کے ساتھ حضرت مولانا زاہدالراشدی کے مکالمے کی تفصیل سننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ حضرت نے فرمایا کہ ایک مکالمہ مولانا چنیوٹی رحمہ اللہ کا آیت اللہ خزعلی کے ساتھ ہواتھا جبکہ دوسرا مکالمہ میرا آیت اللہ جنتی کے ساتھ ہوا تھا۔ پھر حضرت نے ان مکالموں کی تفصیل بیان کی۔ فرمایا کہ ان دنوں علامہ احسان الٰہی ظہیررحمہ اللہ کی کتاب "الشیعۃ والقرآن" کا عالم عرب میں کافی شور تھا جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ شیعوں کا موجودہ قرآن پر ایمان نہیں ہے۔ عراق کے صدر صدام حسین نے اس کتاب کے ایک ملین نسخے چھپوا کر تقسیم کروائے تھے۔ یہیں سے علامہ کے، صدر صدام سے تعلقات کی ابتدا ہوئی۔ علامہ احسان الٰہی ظہیرعراق کے اعزازی سفیرتھے۔
جب ۱۹۸۷ء میں پاکستان سے ایک وفد ایرانی حکومت کی دعوت پر ایران گیا تو ایک نشست میں آیت اللہ خزعلی نے کتاب"الشیعۃ والقرآن"ہاتھ میں لے کر کہا کہ یہ ہم پر بڑا بہتان ہے۔ ہم قرآن کو مانتے ہیں اور ہمارا اس قرآن پر پورا یقین ہے۔ چنیوٹی صاحب نے میرے کان میں کہا :مڑ چھیڑاں ایہنوں؟ (چھیڑوں پھر اس کو؟) میں کہا: چھیڑیں! تو مولانا چنیوٹی کھڑے ہوئے اور کہا: ہمیں بڑی خوشی ہوئی کہ ایک شیعہ عالم کی زبان سے ہم سن رہے ہیں کہ یہ قرآن برحق ہے اور ہمارا اس پر پورا یقین ہے، لیکن آپ کی روایات اس کے خلاف کہتی ہیں۔ ان کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ آیت اللہ خزالی مسکرانے لگے اور کہا کہ آپ کے ہاں بھی تو علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ قرآن پاک کی آیات سترہ ہزار تھیں، جبکہ اب صرف چھ ہزار سے کچھ اوپر پائی جاتی ہیں۔ تو جیسے آپ علامہ سیوطی کی اس روایت کو نہیں مانتے، اسی طرح ہم بھی ان روایات کو نہیں مانتے۔ علامہ چنیوٹی کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ تو ایک روایت ہے، ہم اس کو نہ مانیں بلکہ پورے سیوطی کو بھی نہ مانیں تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، جبکہ آپ کی تو صحاح اربعہ(جن کی حیثیت ان کے ہاں ہماری صحاح ستہ جیسی ہے) میں دو ہزار سے زائد روایات قرآن کا انکار کرتی ہیں، ان کاآپ کیا کریں گے؟ مولانا چنیوٹی نے دو چار روایات سنا بھی دیں جو انہیں زبانی یاد تھیں۔ اس پر آیت اللہ صاحب تھوڑا ٹھٹھکے۔ پھر فوراً سنبھل کر کہنے لگے کہ امام جعفر سے روایت ہے کہ جو بھی روایت قرآن سے ٹکرائے، اسے دیوار پہ دے مارو۔ لہٰذا ہم ان سب روایات کو دیوار پر مارتے ہیں۔ علامہ چنیوٹی پھر کھڑے ہوئے اور فرمایا: بہت اچھا۔ ہمیں آپ کا موقف سمجھ آگیا ہے۔ لیکن ایک بات بتا دیجیے، ہمارے ہاں جوتحریف قرآن کا قائل ہو، ہم اسے دائرۂ اسلام سے خارج اور کافر مانتے ہیں۔ آپ کا ان روایات کے راویوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آیت اللہ خزعلی ڈائس چھوڑتے ہوئے کہنے لگے، آئیے چائے پییں۔ چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے اور مجھے کہیں جانا بھی ہے۔
فیصل آباد میں تقریباً چالیس چھوٹے بڑے مدارس میں گشت کے دوران علماء وطلبہ سے ملاقاتیں ہوئیں۔ جامعۃ الحسنین، دارالقرآن، مدینۃ العلم، جامعہ عبیدیہ، کاشف العلوم اور جامعہ امدادیہ میں مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم کے بیانات ہوئے۔ بہت سے علماء اور شخصیات دور ونزدیک کے علاقوں سے حضرت سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے رہے۔ کئی ایک کے پاس آپ خودملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔ تیسرے روز نماز ظہر کے بعد جامع مسجد عثمانیہ میں علماء کے ایک بڑے مجمع سے مولانا زاہد الراشدی نے خطاب فرمایا جس میں علماء کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنے اور جدوجہد کا دائرہ وسیع کرنے کی ترغیب دی۔ فرمایا کہ اس وقت کے حالات بتاتے ہیں کہ اللہ جل شانہ ہم سے ناراض ہیں، چنانچہ ہمیں مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ اللہ جل شانہ کو راضی کرنے اور اس کے احکامات کی پیروی کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے۔ آخر میں مفتی زین العابدین رحمہ اللہ کے صاحبزادے مولانا یوسف ثالث صاحب نے (جو مدینہ منورہ میں مقیم ہیں اور اِن دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں) تشکیل کے فرائض انجام دیتے ہوئے علماء کو اللہ کے راستے میں نکلنے کی ترغیب دی۔
’’مولانا محمد حسن امروہوی ۔ ایک تعارف، ایک تجزیہ‘‘
ادارہ
مصنف: مولانا محمد اورنگزیب اعوان۔
ناشر: کتاب محل، دربار مارکیٹ لاہور۔
ہندوستان میں ایک عالم تھے، محمد احسن امروہوی جن کا تعلق مسلکِ اہلحدیث سے تھا۔ انہوں نے بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی ایک کتاب ’’ادلہ کاملہ‘‘ کا جواب ’’مصباح الادلہ‘‘ کے نام سے لکھا تھا۔ اِس کا جواب شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے ’’ایضاح الادلہ‘‘ کے نام سے لکھا۔ یہی محمد احسن امروہوی مرزا غلام احمد قادیانی کے حلقہ بگوش ہو گئے اور قادیانیت کا ہی طوق گلے میں ڈالے آخرت کو سدھارے۔
اِسی زمانہ میں ایک اور عالم تھے، مولانا محمد حسن امروہویؒ جو نہ اہلحدیث تھے اور نہ ہی قادیانی ہوئے۔ جید عالم اور زاہد و عابد بزرگ تھے۔ مولانا فضل حق خیرآبادیؒ ، مفتی صدرالدین آزردہ دہلویؒ اور حکیم امام الدین دہلویؒ کے مایہ ناز شاگرد تھے۔ قرآن کریم کی فارسی اور اردو میں تفسیر لکھی۔ اس کے علاوہ تصوف اور دیگر موضوعات پر اُ ن کی گیارہ تصانیف موجود ہیں۔ بدقسمتی سے محمد احسن امروہوی قادیانی سے ملتے جلتے نام کی وجہ سے بعض اہلِ علم کو شبہ ہو گیا کہ یہ محمد حسن امروہوی، محمد احسن امروہی قادیانی ہیں، یہاں تک کہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیر ی بھی اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے۔ ان کے مایہ ناز شاگر مولانا محمد یوسف بنوری بھی مولانا محمد حسن امروہی مرحوم کو قادیانی ہی سمجھتے رہے اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی بھی ان کی تفسیر کے متعلق غلط فہمی کا شکار رہے۔
مولانا محمد اورنگ زیب اعوان نے مولانا محمد حسن امروہی کی وفات کے ۱۱۰ سال کے بعد بیسیوں کتابوں اور ہزاروں صفحات کی ورق گردانی کے بعد اس گرد کو صاف کرنے کا فریضہ سر انجام دیا اور ناقابل تردید حوالہ جات سے یہ ثابت کیا ہے کہ مولانا محمد حسن امروہی قادیانی نہیں تھے۔ مصنف نے ڈاکٹر شاہد علی، ڈاکٹر صالحہ عبدالحکیم، ڈاکٹر شکیل اوج، ڈاکٹر محمد حبیب اللہ چترالی، مولانا قاضی زاہد الحسینی، مولانا عبدالصمد صارم الازہری، جناب خلیق نظامی، مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا عبدالحی لکھنوی ندوی، مولانا عبدالماجد دریا آبادی اور دیگر مشاہیر کی تحریروں کی کہکشاں سجا کر مولانا محمد حسن امروہی مرحوم کا تعارف پیش کیا ہے۔مولانا مناظر احسن گیلانی ایک مضمون ’’ہندوستان کا ایک مظلوم مولوی‘‘ کے عنوان سے ماہنامہ ’’معارف‘‘ اعظم گڑھ میں مولانا محمد حسن امروہی کے دفاع میں لکھا تھا، اسے بھی شامل کتاب کر دیا گیا ہے۔
کتاب جہاں مصنف کی شبانہ روز محنت کا ثمرہ ہے، وہاں ناشر کے اعلیٰ ذوق کی بھی عکاس ہے۔ عمدہ کاغذ اور شاندار جلد سے مجلدیہ کتاب اپنے قدردانوں کی منتظر ہے۔
(قیمت: 300/- روپے۔ مکتبہ امام اہل سنت پر دستیاب ہے)