غیر شرعی قوانین کی بنیاد پر مقتدر طبقات کی تکفیر / تہذیب جدید اور خواتین کے استحصال کے ’’متمدن‘‘ طریقے / چھوٹی عمر کے بچے اور رَسمی تعلیم کا ’’عذاب‘‘
محمد عمار خان ناصر
تکفیری نقطہ نظر کے حاملین کی طرف سے حکمران طبقات کے کفر وارتداد کے ضمن میں ایکبڑی نمایاں دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ انھوں نے مسلمان ممالک میں شریعت اسلامیہ کے بجائے غیر شرعی نظاموں اور قوانین کو نافذ کررکھا ہے اور مسلمانوں کے معاملات احکام شرعیہ سے بغاوت کی بنیاد پر چلائے جا رہے ہیں۔
یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ موجودہ مسلم ممالک میں اجتماعی نظام کلی طور پر شریعت اسلامیہ کی ہدایات پر استوار نہیں اور معاشرت، معیشت اور سیاست کے دائروں میں شرعی احکام وقوانین کی پاس داری نہیں کی جا رہی۔ اگرچہ بیشتر مسلم ممالک میں اصولی طور پر آئین میں شریعت کی پابندی قبول کی گئی ہے، لیکن بہت سے اساسی امور میں جدید لادینی نظریات کے زیر اثر ایسے قوانین پر بھی عمل کیا جا رہا ہے جو شریعت سے متصادم ہیں، جبکہ بعض مسلم ممالک ایسے بھی ہیں جہاں قانون ونظام کی سطح پر سرے سے احکام شریعت کی پابندی کا التزام ہی نہیں کیا گیا۔ معاصر تناظر میں اس صورت حال کا بنیادی سبب دنیا پر مغربی تہذیب کا فکری، سیاسی اور معاشی غلبہ ہے جس سے مسلمان معاشروں کے مختلف طبقات اور خاص طو رپر ان کے ارباب اقتدار بھی شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیشتر مسلم ممالک میں ارباب اقتدار اور اہل دین کے مابین کشمکش کی ایک سنگین صورت حال پائی جاتی ہے جس کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ مسلمان معاشروں کے اجتماعی معاملات کی تشکیل خالصتاً شرعی احکام وقوانین کی روشنی میں کی جائے اور شریعت سے متصادم نظریات وقوانین کے اثر ونفوذ کو ختم کیا جائے۔ تاہم ا س حوالے سے عالم اسلام کے جمہور اہل علم اور معاصر تکفیری طبقات کے نقطہ نظر میں ایک جوہری فرق ہے۔ جمہور اہل علم اس ساری صورت حال کو تاریخ کے ایک جبر کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے عالم اسلام بحیثیت مجموعی اس وقت دوچار ہے، چنانچہ وہ کسی مخصوص طبقے، خاص طور پر حکمران طبقے کو بلا شرکت غیرے اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر کافر ومرتد قرار دینے کے بجائے حالات کی عملی پیچیدگیوں، مشکلات اور بالخصوص مغربی فکر وتہذیب کے غیر معمولی اثرات کو مد نظر رکھتے ہیں جس نے گزشتہ دو صدیوں میں تدریجاً ساری دنیا پر یلغار کی ہے اور رفتہ رفتہ انسانی فکر اور انسانی معاشروں کو کم وبیش مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔
دنیا پر مغرب کا غلبہ چونکہ مختلف ارتقائی ادوار سے گزرا ہے، اس لیے فطری طور پر اس کی نوعیت وماہیت کی تشخیص میں مختلف ادوار کے مسلمان مفکرین میں اختلاف بھی نظر آتا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، یہ غلبہ ابتدا میں عسکری وسیاسی اور معاشی واقتصادی تسلط کا رنگ لیے ہوا تھا اور بیسویں صدی کے وسط تک مفکرین کا عمومی خیال یہی تھا کہ اس تسلط کے جلو میں جو فکری وتہذیب اثرات مسلم معاشروں پر مرتب ہو رہے ہیں، ان کی طاقت کا اصل منبع مغرب کا سیاسی غلبہ ہے او ریہ کہ مسلمان ریاستوں کی آزادی کے بعد اور خاص طور پر اسلامی ریاستوں کے قیام کے بعد مسلمانوں کے لیے خود اپنی تہذیبی اقدار پر مبنی معاشرے تشکیل دینا اور یوں ایک نظام حیات کے مقابلے میں ایک دوسرا نظام حیات اور ایک تہذیب کے مد مقابل ایک دوسری تہذیب کی تشکیل سے نظام عالم میں ایک توازن پیدا کرنا ممکن ہوگا۔ تاہم گزشتہ ساٹھ ستر سال کے تجربے اور سفر کے نتیجے میں اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ صورت حال بہت مختلف ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر اور اکیسویں صدی میں مغرب کے فکری واقداری غلبہ کا پہلو زیادہ مشخص اور نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے اور اب اس حقیقت کا ادراک کیا جا رہا ہے کہ دو مختلف تہذیبی پیرا ڈائمز کے دنیا میں متوازی طور پر موجود رہنے اور پرامن بقائے باہمی کے اصول پر ایک دوسرے سے تعرض نہ کرنے کی بات کم سے کم موجودہ تناظر میں ایک غیر واقعی اور تخیلاتی بات ہے۔ اس حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے کہ اس وقت ہم بنیادی طور پر مغرب کی بنائی ہوئی دنیا میں جی رہے ہیں۔ سیاست ومعیشت، فکر وفلسفہ، معاشرتی اقدار اور بین الاقوامی قانون، ہر دائرے میں مغرب ہی کا سکہ رائج ہے اور دنیا کی قومیں مادی سطح پر مغرب ہی کے مقرر کردہ آئیڈیلز کے حصول کے لیے اجتماعی طور پر کوشاں ہیں۔ مغربی اجتماعی اقدار کے غلبہ وتسلط کی بات محض بالواسطہ اثرات تک محدود نہیں رہی، بلکہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدات کی صورت میں انھیں قانونی سطح پر دنیا پر نافذ کرنے کی علانیہ اور دانستہ کوشش کی جا رہی ہے اور یہ سب کچھ ایک توانا تہذیبی اور اخلاقی جذبے کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔
جمہور اہل علم نے اس صورت حال کی سنگینی، نزاکت اور پیچیدگی کا ادراک کرتے ہوئے بجا طور پر یہ سمجھا ہے کہ اس کی ذمہ داری کلی طور پر مسلمانوں کے بارسوخ اور مقتدر طبقات پر ڈال دینا اور سارے بگاڑ کی جڑ انھیں قرار دے کر ان کے خلاف مورچہ بندی کر لینا نہ تو معروضی طور پر صورت حال کا درست تجزیہ ہوگا اور نہ اس کے نتیجے میں مسلمان معاشروں کو داخلی انتشار اور تصادم کی آگ میں دھکیل دینا عملاً اس صورت حال سے نجات پانے میں کسی بھی پہلو سے مفید اور مددگار ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ فکر ونظر کی کئی سنگین گمراہیوں اور احکام شریعت سے کھلے ہوئے عملی تجاوزات کے باوجود جمہور اہل علم نہ تو مقتدر طبقات کی تکفیر کرتے ہیں اور نہ ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو درپیش مشکلات اور مسائل کا حل تصور کرتے ہیں۔
اس ضمن میں جمہور اہل علم کے نقطہ نظر کی شرعی بنیادوں کو سمجھنے کے لیے درج ذیل نکات کو پیش نظر رکھنا چاہیے:
پہلا نکتہ یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے کچھ طبقات اسلام کے ساتھ ظاہری نسبت رکھتے ہوئے بھی ذہنی اور فکری طور پر اسلامی شریعت کی بالادستی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں یا شریعت کے مقابلے میں بعض دوسرے نظاموں اور قوانین سے مرعوب اور متاثر ہیں تو ان کا یہ ذہنی رویہ کفر ونفاق کے دائرے میں آتا ہے، لیکن اس کے باوجود جب تک وہ صاف صاف اسلام سے براء ت کا اعلان نہیں کرتے، ان کے کلمہ گو ہونے کا لحاظ کیا جائے گا اور ان کی سنگین فکری گمراہی کے باوجود ظاہری احکام کے لحاظ سے انھیں کفار ومرتدین کے زمرے میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرز فکر کے حامل بعض گروہ خود عہد رسالت میں موجود تھے اور ان کے ذہنی رجحانات پر قرآن مجید میں باقاعدہ تبصرہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۂ نور میں ارشاد ہوا ہے:
وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَبِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْق مِّنْھُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ، وَمَآ اُولٰٓءِکَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ اِذَا فَرِیْق مِّنْھُمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔ وَاِنْ یَّکُنْ لَّھُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْٓا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ ۔ اَفِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَض اَمِ ارْتَابُوْٓا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ وَرَسُوْلُہٗ، بَلْ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ (النور ۴۷۔۵۰)
’’اور یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور اطاعت قبول کی، پھر ان میں سے ایک گروہ اس کے بعد منہ پھیر لیتا ہے اور حقیقت میں یہ لوگ مومن نہیں ہیں۔ اور جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے مابین فیصلہ کرے (اور انھیں معلوم ہو کہ فیصلہ ان کے خلاف ہوگا) تو ان میں سے ایک گروہ رو گرداں ہو جاتا ہے، لیکن اگر حق انھیں مل رہا ہو تو پھر پورے یقین کے ساتھ اس کی طرف آ جاتے ہیں۔ کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے؟ یا یہ شک میں مبتلا ہیں؟ یا انھیں یہ ڈر ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر زیادتی کرے گا؟ نہیں، بلکہ یہ لوگ خود ہی ظلم کرنے والے ہیں۔‘‘
ان تبصروں میں اللہ تعالیٰ نے ان کے طرز فکر اور طرز عمل کو واضح الفاظ میں کفر اور نفاق سے تعبیر کیا اور اسے ایمان کے منافی قرار دیا ہے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ منافقین میں شامل کسی بھی گروہ کو عہد نبوی یا عہد صحابہ میں ظاہری قانون کے اعتبار سے دائرۂ اسلام سے خارج شمار نہیں کیا گیا اور نہ ان کے ساتھ عملی معاملات میں کفار جیسا برتاؤ کرنے کے احکام دیے گئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن نے اپنے ان تبصروں میں ’کفر‘ کا لفظ کفر عملی کے معنی میں استعمال کیا ہے نہ کہ کفر اعتقادی اور کفر قانونی کے معنی میں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا یہ طرز عمل اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک کافرانہ طرز عمل ہے جو ایمان کا دعویٰ رکھنے والے کسی گرہ کو زیبا نہیں۔ جہاں تک دنیا کے ظاہری احکام کے لحاظ سے کسی کو کافر قرار دینے کا تعلق ہے تو وہ ایک الگ معاملہ ہے اور قرآن مجید کے مذکورہ زاویہ نظر سے صاف واضح ہوتا ہے کہ جب تک کوئی شخص کسی تاویل کے بغیر کھلم کھلا اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت کو قبول نہ کرنے یا انھیں مسترد کرنے کا اعلان نہ کر دے، اسے کافر قرار دینے اور اس پر کفر کے ظاہری قانونی احکام جاری کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جب قرآن نے ضعف ایمان اور نفاق کے حامل ان گروہوں کو دنیوی قانون کے لحاظ سے مسلمانوں ہی میں شمار کیا ہے تو وہ لوگ جو اس سے کم تر وجوہ کی بنا پر احکام شریعت سے عملاً گریز کریں، انھیں دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینے سے گریز ظاہر ہے کہ بدرجہ اولیٰ شریعت کا منشا ہوگا۔ چنانچہ دیکھیے، سورۂ مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے طرز عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:
وَمَن لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰءِکَ ھُمُ الکَافِرُونَ (آیت ۴۴)
’’اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی لوگ کافر ہیں۔‘‘
عہد صحابہ میں خوارج نے اس مفہوم کی آیات سے ارباب اقتدار کے کافر ہونے پر استدلال کیا تو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی تردید میں فرمایا:
’’یہ وہ کفر نہیں جو خوارج مراد لیتے ہیں۔ یہ وہ کفر نہیں جو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ یہ اس کفر سے کم تر کفر ہے۔‘‘ (مستدرک حاکم ۲/۳۴۳)
ابو طلحہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا ہے کہ:
’’جو شخص اللہ کے اتارے ہوئے حکم کا صاف انکار کرے، وہ تو کافر ہے، لیکن جو اسے تسلیم کرے (اور عمل نہ کرے)، وہ ظالم اور فاسق ہے۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر ۲/ ۶۲)
مفسر واحدی نے یہی قول بعض دیگر اکابر مفسرین سے بھی نقل کیا ہے:
’’ایک جماعت نے کہا ہے کہ ان آیات کا مصداق کفار اور وہ یہود ہیں جنھوں نے اللہ کے احکام کو تبدیل کر دیا۔ ان آیات کا اہل اسلام سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ مسلمان کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرے تو بھی اسے کافر نہیں کہا جاتا۔ یہ قتادہ، ضحاک اور ابو صالح کا قول ہے اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ایک روایت میں یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے۔‘‘ (الوسیط ۱/ ۱۹۰)
امام ابن القیم نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’کفر کی ایک صورت دوسرے سے کم تر ہے، نفاق کا بھی ایک درجہ دوسرے درجے سے کم تر ہے، شرک کی کچھ شکلیں دوسری شکلوں سے ہلکی ہیں، فسق کے کچھ کام دوسرے کاموں سے کم تر ہیں اور ظلم کی بعض صورتیں دوسری صورتوں سے کم ہیں۔ ابن عباس نے ’’ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون‘‘ کے متعلق کہا ہے کہ اس سے مراد وہ کفر نہیں جو لوگ مراد لیتے ہیں۔ ابن عباس سے اس آیت کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کا یہ رویہ کفر ہے، لیکن اس کا حکم وہ نہیں جیسے کوئی شخص اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسول کا انکار کرے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق انھوں نے کہا کہ یہ کفر کی وہ صورت ہے جو آدمی کو دائرۂ اسلام سے خارج نہیں کرتی۔‘‘ (الصلاۃ وحکم تارکھا، ۱/ ۷۴)
’’جب کوئی شخص اللہ کے اتارے ہوئے قانون سے ہٹ کر فیصلہ کرے یا کوئی ایسا کام کرے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر قرار دیا ہو، لیکن وہ شخص اسلام اور اس کے شرائع کی پابندی قبول کرتا ہو تو ایسا کرنے والے کے عمل میں کفر اور اسلام دونوں پائے جاتے ہیں۔‘‘ (ایضاً، ص ۷۹)
تیسرا قابل لحاظ پہلو یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے احکام پر عمل کی ذمہ داری، چاہے وہ فرد سے متعلق ہوں یا جماعت سے، عملی استطاعت کی شرط سے مشروط ہے۔ جہاں فرد یا جماعت کے لیے احکام شرعیہ کے کسی حصے پر عمل ممکن نہ ہو یا اس کی راہ میں عملی رکاوٹیں موجود ہوں، وہاں شریعت درپیش موانع کے بقدر ذمہ داری میں بھی تخفیف کر دیتی ہے۔ یہ اصول جہاں افراد اور گروہوں کے لیے ہے، وہاں ارباب اقتدار کے لیے بھی ہے اور شریعت ان پر احکام شرعیہ کی تنفیذ کی ذمہ داری اس استطاعت اور اختیار کے لحاظ سے ہی عائد کرتی ہے جو انھیں کسی مخصوص معاشرے میں عملاً حاصل ہو۔ محض اقتدار اور حکمرانی کا حاصل ہونا، جب کہ اس کے ساتھ اختیارات پر بہت سی قدغنیں بھی لگی ہوئی ہوں، حکمران کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا کہ وہ موانع اور مشکلات نیز عملی نتائج سے بالکل بے پروا ہو کر محض حکمرانی کے زور پر تمام احکام شرعیہ کو ہر حال میں نافذ کرنے کی کوشش کرے۔
امام ابن تیمیہ نے اس شرعی اصول کی وضاحت درج ذیل اقتباس میں بہت خوبی سے فرمائی ہے:
’’حضرت یوسف علیہ السلام اہل مصر کے ساتھ رہتے تھے جو کفار تھے لیکن حضرت یوسف کے لیے ان پر تمام امور میں اسلام کے احکام کے مطابق معاملہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ اسی طرح نجاشی اگرچہ نصاریٰ کا بادشاہ تھا، لیکن اس کی قوم نے قبول اسلام کے معاملے میں اس کی بات نہیں مانی، بلکہ نجاشی کے ساتھ کچھ ہی لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ نجاشی بہت سے بلکہ اکثر احکام اسلام پر عمل نہیں کر سکا کیونکہ وہ ایسا کرنے سے عاجز تھا۔ اس نے نہ تو ہجرت کی نہ جہاد کیا او رنہ بیت اللہ کا حج کیا، بلکہ یہ بھی روایت ہے کہ اس نے پانچ نمازیں بھی ادا نہیں کیں اور نہ وہ روزہ رکھتا اور شرعی زکوٰۃ ادا کرتا تھا، کیونکہ ایسا کرنے سے معاملہ اس کی قوم کے سامنے طاہر ہو جاتا اور وہ اس پر معترض ہوتے، جبکہ نجاشی کے لیے ان کی مخالفت کرنا ممکن نہیں تھا۔ ہم قطعی طور پر جانتے ہیں کہ نجاشی کے لیے اپنی قوم کے مابین قرآن کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنا ممکن نہ تھا، کیونکہ اس کی قوم اس کو قبول نہ کرتی۔ اور بکثرت ایسا ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور تاتاریوں کے مابین کسی آدمی کو قاضی کا بلکہ حاکم تک کا منصب مل جاتا ہے اور اس کے دل میں ارادہ ہوتا ہے کہ وہ عدل کے بہت سے احکام پر عمل کرے، لیکن اس کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ وہاں اسے روکنے والے موجود ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے جب عدل کے مطابق بعض فیصلے کیے تو لوگ ان کے دشمن ہو گئے اور انھیں اذیت دی گئی اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ اسی پر انھیں زہر دے دیا گیا۔ پس نجاشی اور ان جیسے لوگ کامیاب ہو کر جنت میں جائیں گے، اگرچہ انھوں نے اسلام کے ان شرائع کی پابندی نہیں کی جن کی پابندی پر وہ قدرت نہیں رکھتے تھے، بلکہ وہ صرف انھی احکام پر عمل کرتے تھے جن کے مطابق فیصلہ کرنا ان کے بس میں تھا۔ خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کے مابین اس حوالے سے کوئی اختلاف نہیں کہ جو شخص دار الکفر میں ہو اور وہ ایمان لا چکا ہو لیکن ہجرت کرنے سے عاجز ہو تو اس پر شریعت کے وہ احکام واجب نہیں ہوتے جن پر عمل کرنا اس کے لیے ممکن نہیں، بلکہ احکام کا وجوب اتنا ہی ہوتا ہے جتنا آدمی کے لیے عمل کرنا ممکن ہو۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ، ج ۱۹، ص ۲۱۷۔۲۱۹)
اس شرعی اصول کی روشنی میں عالم اسلام کے جمہور اہل علم معاصر تناظر میں شریعت کے جامع اور مکمل نفاذ کی راہ میں حائل ان بے شمار نظری اور عملی رکاوٹوں کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں جو حالات کے تغیر نے پیدا کر دی ہیں۔ صورت حال کی نزاکت واضح کرنے کے لیے ہم اپنے ان الفاظ کا اعادہ کرنا چاہیں گے کہ ’’اس وقت ہم بنیادی طور پر مغرب کی بنائی ہوئی دنیا میں جی رہے ہیں۔ سیاست ومعیشت، فکر وفلسفہ، معاشرتی اقدار اور بین الاقوامی قانون، ہر دائرے میں مغرب ہی کا سکہ رائج ہے اور دنیا کی قومیں مادی سطح پر مغرب ہی کے مقرر کردہ آئیڈیلز کے حصول کے لیے اجتماعی طور پر کوشاں ہیں۔ مغربی اجتماعی اقدار کے غلبہ وتسلط کی بات محض بالواسطہ اثرات تک محدود نہیں رہی، بلکہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدات کی صورت میں انھیں قانونی سطح پر دنیا پر نافذ کرنے کی علانیہ اور دانستہ کوشش کی جا رہی ہے اور یہ سب کچھ ایک توانا تہذیبی اور اخلاقی جذبے کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔‘‘
اب ان تمام مشکلات وموانع سے بالکل صرف نظر کرتے ہوئے صورت حال کا یہ یک نکاتی تجزیہ کہ ’’عالم اسلام کے حکمران شریعت کا نفاذ نہ کرنے اور غیر شرعی قوانین اور نظاموں کی بالادستی قبول کرنے کی وجہ سے کافر اور مرتد ہیں‘‘، جمہور اہل علم کی سمجھ میں نہیں آتا اور اسی لیے وہ تمام تر خرابیوں کے باوجود بطور ایک طبقے کے موجودہ مسلم حکمرانوں یا مسلم ممالک میں رائج سیاسی وقانونی نظاموں کی تکفیر سے علیٰ وجہ البصیرت اجتناب کرتے ہیں۔
تہذیب جدید اور خواتین کے استحصال کے ’’متمدن‘‘ طریقے
خواتین کے استحصال اور ان پر ظلم وستم کو عموماً روایتی معاشرے کا ایک مظہر تصور کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس صورت حال کا واحد ماخذ روایتی معاشرہ نہیں، جدید لبرل اور سرمایہ دارانہ معاشرت اس استحصال اور تذلیل کے شاید اس سے بھی سنگین مواقع اور صورتیں پیدا کر رہی ہے اور بدقسمتی سے ان کی طرف کسی کی توجہ نہیں۔
ان چند مظاہر پر ذرا ایک نظر ڈالیے:
۱۔ خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں شریک کرنے کا ایسا رجحان جس کا نتیجہ آخر یہ نکلے کہ انھیں اپنا معاشی بوجھ خود اٹھانے کا ذمہ دار سمجھا جائے اور مرد ان کی کفالت کی ذمہ داری سے بالکل دست بردار ہو جائیں۔ اس صورت حال کا خمیازہ نہ صرف خواتین بلکہ اولاد کو بھی بھگتنا پڑتا ہے اور مغربی معاشروں میں ڈے کیئر سنٹرز اس تباہی کا صرف ایک مظہر ہیں۔ اس پر ستم یہ ہے کہ خواتین کو گھر کے محفوظ اور فطری ماحول سے باہر نکال کر ایک طرف انھیں اپنی تمام تر صنفی وجسمانی نزاکتوں کے ساتھ کسب معاش کے لیے مردوں کی مسابقت پر مجبور کیا جاتا ہے جس کے لیے انھیں بلا استثنا ہر جگہ کسی نہ کسی شکل میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ، اور دوسری طرف اس تمام تگ ودو کے بعد بھی ان کے معاوضے مردوں سے کم ہی رہتے ہیں۔
۲۔ کچی عمر میں، جب صنف مخالف کی کشش ایک ہیجان کی صورت اختیار کیے ہوئے ہوتی ہے، بچیوں کو مخلوط تعلیم کے اداروں میں بھیج دینا جہاں آداب اختلاط کی کوئی پاس داری نہ ہو۔ ہمارے ہاں حقوق نسواں کے علم برداروں کو یہ ظلم تو نظر آتا ہے کہ نابالغی کی عمر میں بچیوں کی شادیاں کر دی جاتی ہیں،لیکن یہ ظلم کسی کو محسوس تک نہیں ہوتا کہ کچی عمر کی بچیوں کو موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولتیں دے کر مخلوط ماحول میں بھیج دینے اور میڈیا کے متعارف کردہ کلچر کے زیر اثر مخالف صنف سے دوستی کے نام پر جذباتی، نفسیاتی اور بسا اوقات جسمانی استحصال کا شکار ہونے کے لیے بے یار ومددگار چھوڑ دینے کا رجحان کیا ستم ڈھا رہا ہے۔
۳۔ نسوانی حسن کو کاروباری مقاصد کے لیے ایک ذریعہ بنانے کا رجحان جس کا اظہار ماڈلنگ کی مختلف صورتوں میں ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں الیکٹرانک میڈیا پر بعض ٹاک شوز کی اینکرنگ کا انداز بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتا۔ اس کی بد ترین اور سب سے گھنونی شکل عریاں فلموں کی صنعت کی صورت میں سامنے آتی ہے جسے مغربی معاشروں میں باقاعدہ قانونی تحفظ حاصل ہے اور اس صنعت کو، جس سے بڑھ کر نسوانی تذلیل اور توہین کی کوئی شکل انسانی تاریخ نے نہیں دیکھی ہوگی، زندہ رکھنے کے لیے غیر محفوظ اور نفسیاتی طور پر بے سہارا خواتین کو پھانسنے یا انھیں ترغیب وتحریص کے مختلف طریقوں سے اس پیشے میں لانے کے لیے باقاعدہ نیٹ ورک کام کر رہے ہیں۔
۴۔ فیمنزم کے عنوان سے مرد اور عورت کے مابین منافرت کے رجحانات اور تصورات کا فروغ جو خواتین کو یہ باور کراتے ہیں کہ مرد دراصل ان کے ’’زوج‘‘ نہیں، بلکہ دشمن اور حریف ہیں۔ اس کا نتیجہ جس نفسیاتی اور ذہنی وفکری عدم توازن کی صورت میں نکلتا ہے، وہ واقعتاً ایک عبرت کا سامان ہے اور اس کی سب سے عبرت انگیز مثال سرے سے شادی اور خاندان کے ادارے کو ہی خواتین کی آزادی کے منافی قرار دینے کا رجحان ہے۔ اس فکر کے علم بردار شادی کو جبر اور قانونی قحبہ گری سے تعبیرکرتے ہیں جس کی رو سے مجبور اور بے بس عورتیں محض معاشرتی روایات کے دباو کے تحت ایک معاہدے کے ذریعے سے مردوں کے لیے اپنے استحصال کا قانونی حق قبول کر لیتی ہیں۔
۵۔ روزگار اور معاش کے سلسلے میں ملازمت یا تجارت کے لیے میاں بیوی کے درمیان ایسی طویل جدائی کہ میاں بیوی اور بچوں کے ایک جگہ اور اکٹھے رہنے کا تصور بس ایک خیال بن کر رہ جائے۔ بالخصوص تلاش روزگار کے لیے بیرون ملک قسمت آزمائی کے لیے جانے والوں کے گھریلو معاملات ایسے دگرگوں ہو جاتے ہیں کہ جنسی اخلاقیات کی پاس داری اور بچوں کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی باتیں خواب وخیال ہو کر رہ جاتی ہیں۔
۶۔ صنفی مساوات کے ایک غیر حقیقی اور تخیلاتی نظریے کے زیر اثر خاندانی نظام میں مرد کی برتری اور اختیار کو اس طرح چیلنج کرنا کہ مرد خود کو بالکل بے اختیار ہوتا ہوا محسوس کرے اور نتیجتاً یا تو خود کو ان ذمہ داریوں سے ہی بری سمجھے جو اختیار کے ساتھ اسے حاصل تھیں اور یا رفتہ رفتہ گھر بسانے میں ہی دلچسپی ختم ہوتی چلی جائے۔
یہ تمام مظاہر کسی تخیل کی پیداوار نہیں ہیں، بلکہ مغربی معاشروں میں ان سب کو بچشم سر دیکھا جا سکتا ہے اور مغربی معاشرہ چلا چلا کر ہمیں یہ دعوت دے رہا ہے کہ
دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہے
چھوٹی عمر کے بچے اور رَسمی تعلیم کا ’’عذاب‘‘
بچوں کی رسمی تعلیم کا عمل کس عمر سے شروع کیا جائے اور ابتدائی تعلیم کے مندرجات اور ترجیحات کیا ہونی چاہییں؟ یہ کسی بھی معاشرے میں تعلیمی نظام سے متعلق سوالات میں ایک بنیادی اور اہم ترین سوال ہے۔ ہمارے ہاں جدید تمدن کے زیر اثر پروان چڑھنے والا ایک نہایت لا یعنی رجحان بہت چھوٹی عمر میں بچوں کو رسمی تعلیمی اداروں کے سپرد کر دینے کا پیدا ہوا ہے جو کاروباری محرکات کے تحت روز بروز فروغ پا رہا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں راقم نے سوشل میڈیا پر اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کیا تو قارئین کے رسپانس سے اندازہ ہوا کہ اس بات کا احساس کافی عام ہے اور اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ اس رجحان کے مفاسد اور مضرات پر گفتگو کی جائے۔
اس رجحان کا بنیادی منبع تو ہماری اشرافیہ کا، مغربی معاشروں کی اندھی نقالی کا وہ شوق ہے جس کے زیر اثر اہل مغرب کی ہر بات کو جدت اور ترقی کا ایک لازمہ سمجھ کر اختیار کرنا فرض سمجھا جاتا ہے، جبکہ مغربی معاشرتی روایات کے مخصوص سماجی تناظر نیز ان کے منفی وضرر رساں پہلووں پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ اشرافیہ کے اختیار کردہ رجحانات کو اگلے مرحلے پر متوسط طبقوں میں فروغ ملتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اسے ایک عام معاشرتی روایت کا درجہ حاصل ہوتا چلا جاتا ہے۔
بچپن کی عمر دراصل بچوں کے کھیلنے کودنے، معصوم شرارتیں کرنے اور گھرکے مانوس ماحول میں ماں باپ کا لاڈ پیار دیکھنے کی عمر ہوتی ہے۔ بچے کی وابستگی ماں باپ کے ساتھ بہت گہری ہوتی ہے اور خاص طور پر اپنے ذاتی نوعیت کے مسائل کے لیے ماں اس کے لیے سب سے زیادہ قابل اعتماد ہستی ہوتی ہے۔ بچوں کی تعلیم کا عمل اسی ماحول میں ایسے طریقے سے شروع ہونا چاہیے کہ وہ اسے کوئی ذمہ داری یا بوجھ نہ سمجھیں، بلکہ فطری رغبت اور اشتیاق کے ساتھ اس کی طرف مائل ہوں۔ بچہ ویسے بھی سیکھنے کی ایک فطری خواہش رکھتا ہے اور اگر اس کی نفسیات کا لحاظ رکھتے ہوئے گھر کے ماحول میں ہی غیر رسمی انداز میں اس کے لیے سیکھنے کا ماحول پیدا کیا جائے تو وہ رسمی تعلیم کے اس نظام سے کہیں زیادہ موثر اور مفید ہو سکتا ہے جس میں اوسطاً چار سال کے بچے کو جبر اور دھونس سے کام لے کر اسکول جانے پر مجبور کیا جاتا ہے جہاں بسا اوقات بچہ پیشاب پاخانے جیسی ذاتی اور نجی ضروریات کے لیے بھی بالکل اجنبی افراد کی مدد لینے پر مجبور ہوتا ہے، حالانکہ اپنے گھر کے ماحول میں وہ ایسی ضروریات کے لیے ماں کے علاوہ عموماً گھر کے دوسرے افراد سے بھی مدد لینا قبول نہیں کرتا۔
رسمی تعلیم کے اداروں میں ابتدائی ایک آدھ سال کے بعد بچوں کی تعلیم کا یومیہ دورانیہ کم وبیش اپنے سے دوگنی عمر کے بچوں کے برابر ہو جاتا ہے اور وہ دن کا زیادہ تر حصہ تعلیمی ادارے میں گزارنے کے پابند ہوتے ہیں۔ پھر اس پر بس نہیں کی جاتی، بلکہ ہوم ورک کی صورت میں بچوں کے گھر کا سکون برباد کرنے کا مزید اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ نظم وضبط کی پابندی، تعلیمی ذمہ داریوں کے بوجھ اور مواخذے اور جواب دہی کے تصور سے یک بارگی واسطہ پڑنا بچوں کے لیے سوہان روح بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جب تعلیم کے عمل سے مجرمانہ ناواقفیت کی وجہ سے ان پر بیک وقت کئی قسم کے مضامین سیکھنے کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے تو ان کی شخصیت غیر معمولی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس سے بہت سے بچوں کی جسمانی نشو ونما بھی متاثر ہوتی ہے، جبکہ تعلیم کے حوالے سے ناپسندیدگی کا ایک عمومی احساس ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔
اس حوالے سے والدین اور تعلیمی اداروں کے منتظمین کی فکری تربیت کی ضرورت ہے۔ تعلیم اور سماجی شعور کی عمومی کمی کی وجہ سے زیادہ تر والدین اس ضمن میں ازخود کوئی شعوری فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ وہ ماحول کے عمومی چلن کو دیکھتے ہیں اور اسی کو صحیح اور بہتر سمجھ کر اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ تاہم اگر انھیں بچے کی نفسیات اور تعلیمی عمل سے متعلق کچھ بنیادی حقائق کا شعور مل جائے توان سے بہتر فیصلوں کی توقع کی جا سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں کے منتظمین کی سوچ اور ترجیحات میں بھی شعوری تبدیلی لانے اور انھیں یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ تعلیم محض ایک کاروبار نہیں، بلکہ اس کے ساتھ نئی نسل کی تعمیر شخصیت کا نہایت اہم اور نازک سوال وابستہ ہے۔ تعلیمی ادارے اگر چھوٹی عمر کے بچوں کو اسکول میں لانے کے بجائے والدین کے لیے ایسے تعلیمی وتربیتی پروگراموں کا آغاز کریں جن میں انھیں گھر کے ماحول کو بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے زیادہ سازگار اور موثر بنانے کے طریقے سکھائے جائیں تو یہ معاشرے اور قوم کی زیادہ قابل قدر اور قابل تحسین خدمت ہوگی۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۹)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۸۷) ثَمَرَاتِ النَّخِیلِ وَالاَعْنَابِ کا ترجمہ
نخیل کا مطلب کھجور کا درخت ہوتا ہے، اور ثمرات النخیل کا مطلب کھجور ہوتا ہے، جبکہ اعناب کا اصل مطلب انگور ہوتا ہے، کبھی انگور کی بیلوں کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے، اس وضاحت کی روشنی میں ذیل میں مذکور آیت کے مختلف ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
وَمِن ثَمَرَاتِ النَّخِیْلِ وَالأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْہُ سَکَراً وَرِزْقاً حَسَناً إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لآیَۃً لِّقَوْمٍ یَعْقِلُون۔ (النحل: ۶۷)
’’اسی طرح کھجور کے درختوں اور انگور کی بیلوں سے بھی ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں، جسے تم نشہ آور بھی بنالیتے ہو، اور پاک رزق بھی‘‘ (سید مودودی، اس ترجمہ میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ کھجور کے درخت اور انگور کی بیلوں سے نہ شراب بنتی ہے، اور نہ رزق حسن، اور آیت میں تو خود ثمرات کا ذکر ہے)
’’اور کھجور اور انگور کے درختوں کے پھلوں سے تم شراب بنالیتے ہو اور عمدہ روزی بھی‘‘۔ (محمد جوناگڑھی، اس ترجمہ میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ انگور کے درخت تو ہوتے نہیں ہیں، بیلیں ہوتی ہیں)
’’اور کھجور اور انگوروں کے پھلوں سے تم لوگ نشہ کی چیز اور عمدہ کھانے کی چیزیں بناتے ہو‘‘ (اشرف علی تھانوی، اس ترجمہ میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ اردو کے لحاظ سے کھجور اور انگور خود پھل ہیں، اس لئے کھجور اور انگور کے پھل کہنا غیر فصیح ہے، عربی میں نخیل کھجور کے درخت کو کہتے ہیں، اس لیے ثمرات النخیل کہنا فصیح ہے، جبکہ الاعناب کا تو مطلب ہے انگور ہے)
’’اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے کہ اس سے نبیذ بناتے ہو، اور اچھا رزق‘‘ (احمد رضا خان، اس ترجمہ میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ سکر کا ترجمہ نبیذ درست نہیں ہے، کیونکہ نبیذ میں نشہ کا ہونا ضروری نہیں ہے جبکہ سکر میں اصلا نشہ کا مفہوم ہے)
اوپر کے تمام ترجموں میں تتخذون کا ترجمہ ’’بنانا‘‘ کیا گیا ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ تتخذون کا مطلب بنانا نہیں بلکہ حاصل کرنا ہے، مولانا آیت مذکورہ کا ترجمہ یوں کرتے ہیں:
’’اور کھجور اور انگور سے بھی تم نشہ حاصل کرلیتے ہو اور پاک رزق بھی‘‘
(۸۸) خَیرُ الرَّازِقِینَ کا ترجمہ
قرآن مجید میں خیر الرازقین کئی جگہ آیا ہے، عربی زبان میں ’’خیر‘‘ کبھی تفضیل کے لیے ہوتا ہے تو کبھی مبالغہ کے لیے، اردو میں جب ہم سب سے اچھا اور سب سے بہتر کہتے ہیں تو صرف تفضیل مراد ہوتی ہے، اور جب بہترین کہتے ہیں، تو تفضیل بھی مراد ہوسکتی ہے اور مبالغہ بھی مقصود ہوسکتا ہے۔اس لحاظ سے جہاں کلام کا موقع ومحل یہ تقاضا کرے کہ تفضیل کے بجائے مبالغہ کا مفہوم لیا جائے وہاں ’’سب سے بہتر‘‘ کے بجائے ’’بہترین‘‘ کہنا مناسب ہوتا ہے، خیر الرازقین کے ترجمہ میں اس کا لحاظ ہونا چاہئے، کیونکہ رازق تو صرف اللہ ہے، اس کے سوا کوئی رازق نہیں ہے، اس لیے خیر الرازقین کا ترجمہ بہترین رازق کرنا چاہئے نہ کہ سب سے بہتر رازق۔
مترجمین کے یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ’’ بہترین ‘‘اور’’ سب سے بہتر‘‘ کے درمیان فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے اور ایک ہی مترجم کہیں سب سے بہتر کا ترجمہ کرتا ہے تو وہی دوسری جگہ بہترین کا ترجمہ کرتا ہے۔
مندرجہ ذیل آیتوں کے ترجموں کا اس پہلو سے جائزہ لیا جاسکتا ہے:
(۱) وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَیْْرُ الرَّازِقِیْن۔ (المائدۃ: ۱۱۴)
’’اور تو ہم کو رزق عطا فرمادے اور تو سب عطا کرنے والوں سے اچھا ہے‘‘(محمد جوناگڑھی)
’’اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘(احمد رضا خان)
’’اور عطا فرما، تو بہترین عطا فرمانے والا ہے ‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’ہم کو رزق دے، اور تو بہترین رازق ہے‘‘ (سید مودودی)
(۲) وَإِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ خَیْْرُ الرَّازِقِیْن۔ (الحج: ۵۸)
’’اور بے شک اللہ تعالی روزی دینے والوں میں سب سے بہتر ہے‘‘ (محمد جونا گڑھی)
’’اور بے شک اللہ کی روزی سب سے بہتر ہے ‘‘(احمد رضا خان)
’’اور بے شک اللہ ہی ہے جو بہترین رزق دینے والا ہے‘‘(امین احسن اصلاحی، اس میں مزید اصلاح کرکے مناسب ترجمہ یوں ہوگا:’’اور بے شک اللہ بہترین رزق دینے والا ہی ہے‘‘)
’’اور یقیناًاللہ ہی بہترین رازق ہے‘‘ (سید مودودی،البتہ ’’ہی‘‘ کو’’ بہترین رازق‘‘کے بعدآنا چاہئے)
(۳) وَہُوَ خَیْْرُ الرَّازِقِیْنَ۔ (المؤمنون: ۷۲)
’’اور وہ سب سے بہتر روزی رساں ہے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا‘‘ (احمد رضا خان)
’’اور وہ بہترین روزی بخشنے والا ہے‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’اور وہ بہترین رازق ہے‘‘(سید مودودی)
(۴) وَاللّٰہُ خَیْْرُ الرَّازِقِیْنَ۔ (الجمعۃ: ۱۱)
’’اور اللہ تعالی بہترین روزی رساں ہے ‘‘(محمد جوناگڑھی)
’’اور اللہ کا رزق سب سے اچھا ‘‘(احمد رضا خان)
’’اور اللہ بہترین روزی دینے والا ہے‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے ‘‘(سید مودودی)
(۵) وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَیْْءٍ فَہُوَ یُخْلِفُہُ وَہُوَ خَیْْرُ الرَّازِقِیْن۔ (سبا: ۳۹)
’’تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا، اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا‘‘(احمد رضا خان)
’’اور جو کوئی چیز بھی تم خرچ کروگے تو وہ اس کا بدلہ دے گااور وہ بہترین رزق دینے والا ہے‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’اور جو خرچ کرتے ہو کچھ چیز وہ اس کا عوض دیتا ہے اور وہ بہتر ہے روزی دینے والا‘‘(شاہ عبدالقادر)
اس آیت کے ترجمے میں مترجمین سے عام طور سے ایک غلطی اور ہوئی ہے، اور وہ ہے یُخْلِفُہ کا ترجمہ، اس کا ترجمہ بہت سے مترجمین نے بدلہ دیناکیا ہے، لیکن اس کا صحیح ترجمہ بدلہ دینا نہیں بلکہ بدل دینا ہے، بدلہ دینے کے لئے جزی آتا ہے، اور بدل دینے کے لیے أخلف آتا ہے، بعض لوگوں نے عوض دینے کا ترجمہ کیا ہے، جو قدرے مناسب ہے،یعنی اس آیت میں انفاق کا بدلہ دینے کی نہیں بلکہ انفاق سے جو مال میں کمی ہوئی ہے اس کمی کو نعم البدل کے ذریعہ پورا کردینے کی بات ہے، جس کو حدیث میں کہا گیا ہے کہ کسی بندے کے صدقہ دینے سے اس کے مال میں کمی نہیں آتی ہے، ما نقص مال عبد من صدقۃ۔ گویا جو کوئی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اللہ اس کا بدل دنیا میں دیتا رہتا ہے، اور اس کے مال میں انفاق کی وجہ سے کمی نہیں ہونے دیتا، اور پھر آخرت میں تو انفاق کا بدلہ ملے گا جس کا وعدہ متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ یعنی یہاں وعدہ نہیں ہے بلکہ اللہ کی سنت جاریہ کا تذکرہ ہے اس لحاظ سے پوری آیت کا ترجمہ مستقبل کے صیغے سے کرنے کے بجائے حال کے صیغے سے کرنا چاہئے ،ذیل کے ترجمے میں یُخْلِفُہ کا ترجمہ بالکل درست کیا گیا ہے، لیکن خَیْْرُ الرَّازِقِیْن کا ترجمہ درست نہیں ہے:
’’اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے‘‘ (سید مودودی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی مذکورہ بالا تمام امور کی رعایت کے ساتھ ترجمہ کرتے ہیں:’’اور جو کچھ بھی تم خرچ کرتے ہوتو وہ اس کا بدل دیتا ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے‘‘
(۸۹) احسن الخالقین کا ترجمہ
جس طرح خیر الرازقین کا ترجمہ بہترین رازق ہونا چاہئے، اسی طرح احسن الخالقین کا ترجمہ بہترین خالق ہونا چاہیے، نہ کہ سب سے بہتر خالق۔
(۱) وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَۃٍ مِّن طِیْنٍ۔ ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ۔ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَاماً فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْماً ثُمَّ أَنشَأْنَاہُ خَلْقاً آخَرَ فَتَبَارَکَ اللَّہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔ (المؤمنون: ۱۲۔ ۱۴)
’’اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا، پھر ہم نے پانی کی ایک بوند کی شکل میں اس کو ایک محفوظ مستقر میں رکھا، پھر ہم نے پانی کی بوند کو ایک جنین کی شکل دی، پھر جنین کو گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا، پس لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں، پھر ہڈیوں کو گوشت کا جامہ پہنایا، پھر اس کو ایک بالکل ہی مختلف مخلوق کی شکل میں مشکل کردیا۔ بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والا‘‘ (امین احسن اصلاحی)
مذکورہ بالا ترجمہ میں کئی مقامات اصلاح طلب ہیں، علقۃ کا ترجمہ جنین نہیں بلکہ لوتھڑا ہونا چاہئے، مضغۃ کا ترجمہ گوشت کا لوتھڑا نہیں بلکہ بوٹی ہونا چاہئے،خَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً کا مطلب مضغۃ کے اندر ہڈیاں پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ مضغۃ یعنی بوٹی کو ہڈی بنادینا ہے، البتہ احسن الخالقین کا ترجمہ مناسب ہے، جبکہ مذکورہ ذیل ترجمہ میں یہ ساری کمیاں تو نہیں ہیں، البتہ احسن الخالقین کا ترجمہ مناسب نہیں ہے:
’’اور ہم نے بنایا ہے آدمی چن لی مٹی سے، پھر رکھا اس کو بوند کرکر ایک جمے ٹھیراو میں پھر بنائی اس بوند سے پھٹکی، پھر بنائی اس پھٹکی سے بوٹی، پھر بنائی اس بوٹی سے ہڈیاں، پھر بنایا ان ہڈیوں پر گوشت، پھر اٹھا کھڑا کیا اس کو ایک نئی صورت میں سو بڑی برکت اللہ کی جو سب سے بہتر بنانے والا‘‘ (شاہ عبدالقادر)
(۲) أَتَدْعُونَ بَعْلاً وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخَالِقِیْن۔ (الصافات: ۱۲۵)
’’کیا تم بعل (نامی بت) کو پکارتے ہو؟ اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’کیا تم لوگ بعل کو پکارتے ہو اور بہترین خالق کو چھوڑتے ہو‘‘ (امین احسن اصلاحی، ’’چھوڑتے ہو‘‘ کے بجائے ’’چھوڑ دیتے ہو‘‘ کہنا موقع کلام کے لحاظ زیادہ فصیح ہے)۔
(۹۰) تَلَّہُ لِلْجَبِیْنِ کا ترجمہ
تلَّ کے معنی زمین پر گرانے کے اور پچھاڑنے کے بھی ہوتے ہیں، اور اس کے معنی لٹانے کے بھی ہوتے ہیں، دونوں طرح کے استعمالات لغت میں ملتے ہیں، یہ بات موقع ومحل کے لحاظ سے طے ہونا چاہئے کہ کون سا معنی مقصود ہے، قرآن مجید میں یہ لفظ ایک مقام پر آیا ہے، اور اس کا سیاق یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ انہوں نے خواب دیکھا ہے کہ وہ اسے ذبح کر رہے ہیں، اور بیٹے نے کہا کہ ابو جان آپ کو جو حکم ملا ہے وہ کرگزرئیے،ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے، اس کے بعد ذیل کی آیت میں دونوں کی حوالگی کا ذکر کرتے ہوئے ذبح کرنے سے پہلے کا منظر بیان کیا گیا:
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّہُ لِلْجَبِیْنِ۔ (الصافات:۱۰۳)
یہاں موقع ومحل خود بتارہا ہے کہ بیٹے کی طرف سے کوئی مزاحمت نہیں ہورہی ہے، بلکہ وہ تو حوالگی اور خود سپردگی کی بے مثال تصویر بنا ہوا ہے، اس پس منظر کی روشنی میں ایسا ترجمہ مناسب نہیں ہوگا جو اس حوالگی اور خود سپردگی کے مناسب حال نہیں ہو۔
مترجمین کے یہاں ہمیں تین مختلف طرح کے ترجمے ملتے ہیں:
’’پس جب مطیع ہوئے دونوں حکم الٰہی کے اور پچھاڑا اس کو ماتھے پر‘‘(شاہ رفیع الدین)
’’پھر جب دونوں نے حکم مانا اور پچھاڑا اس کو ماتھے کے بل‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’پس جب دونوں نے اپنے تئیں اپنے رب کے حوالے کردیا اور ابراہیم نے اس کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی کے بل گرادیا‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’آخر کو جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کردیا، اور ابراہیم نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرادیا‘‘(سید مودودی)
’’غرض دونوں نے (خدا کے حکم کو) تسلیم کرلیا اور باپ نے بیٹے کو (ذبح کرنے کے لیے) کروٹ پر لٹایا‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا‘‘(احمد رضاخان)
ان تینوں طرح کے ترجموں میں گرانے اور پچھاڑنے کا ترجمہ مناسب نہیں ہے، لٹانے اور ڈالنے کا ترجمہ زیادہ مناسب ہے۔
(جاری)
فتویٰ کی حقیقت و اہمیت اور افتا کے ادارہ کی تنظیم نو
ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی
دستور، قانون اور عملی احکام سے آگاہی معاشرے کے ہر فرد کی ضرورت ہے، اس لیے کہ آئین کی روح کو سمجھنا، قانون سے واقف ہونا اور اس کے مطابق زندگی گزارنا ہر مہذب فرد کا فریضہ ہے۔ دین اسلام نے بالکل آغاز سے انسان کو اس بنیادی ضرورت کی طرف متوجہ کیا ہے۔
قانون پر اس کی روح کے مطابق عمل کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک علم نافع جو ہر فرد بشر کے فکری ارتقا اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔ قرآن و سنت کی رو سے ہر مسلمان مرد اور عورت کا علم حاصل کرنا نہ صرف فرض ہے بلکہ حصول عم کا عمل مومن کی ساری زندگی میں تسلسل کے ساتھ جاری رہنا ضروری ہے۔ علمی اور فکری ارتقا کا رک جانا عقل و شعور کی موت (intellectual death) کے مترادف ہے۔
وحی الٰہی کا آغاز سورہ علق کی جن پانچ آیات سے ہوا ہے، ان سے دین میں تعلیم و تعلم، قلم و کتاب ، مطالعہ اور بحث و تحقیق کی اہمیت و ضرورت مسلم امہ کے لیے پہلے دن سے ہی اجاگر کر دی گئی تھی۔
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ
’’اے محمدؐ! اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا۔ پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اسے علم نہ تھا۔‘‘
دوسری چیز وہ رویہ ہے جو قبول علم کے لیے لازمی ہے۔ یہ رویہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے آپ کو اخلاق فاضلہ سے آراستہ کر لیتا ہے۔ پھر اخلاص کے ساتھ علم کی طلب و جستجو پیدا ہو جاتی ہے۔ علم صفت خداوندی ہے۔ یہ عظیم الشان صفت اس وقت اجاگر ہوتی ہے جب انسان میں عبدیت کا شعور بیدار ہوتا ہے۔ چنانچہ شعور عبدیت کو اجاگر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان تزکیہ نفس کے عمل سے گزرے اور اپنے مزاج اور رویہ میں فضائل اخلاق کو رچا بسا لے۔ جب یہ دونوں چیزیں انسان کو حاصل ہو جاتی ہیں تو پھر وہ نہ صرف یہ کہ علم و عمل کی لذت سے آشنا ہو جاتا ہے، بلکہ دل میں قانون کی عظمت بھی اجاگر ہو جاتی ہے اور قلب و دماغ میں مزید علم کی طلب اور ذوق تحقیق و جستجو بھی پیدا ہوتا ہے۔
عہد رسالت میں تو عوامی نمائندوں اور انتظامی عہدہ داروں کی یہ ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ لوگوں کو احکام و ضوابط اور قاعدے و قانون سے آگاہ کرتے رہیں۔ نیز یہ کہ وہ خود بھی اخلاقی اقدار کے مالک ہوں اور معاشرے میں بطور معلم اخلاق اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔ ابن حجر عسقلانیؒ عہد رسالت کے پبلک نمائندوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ لوگوں کے حقوق کی نگہبانی بھی کرتے تھے اور قانون پر عمل درآمد بھی کراتے تھے۔
فتویٰ کی حقیقت یہ ہے کہ احکام و مسائل اور قانون کو صحیح صحیح دلیل کے ساتھ بتا دیا جائے۔ قانون کے اصل مآخذ و مصادر تو قرآن و سنت ہیں۔ یقینی بات ہے کہ ہر قانون کو انہی کی روشنی میں دیکھنا اور پرکھنا ہوتا ہے۔ قرآن و سنت میں کوئی حکم موجود نہ ہو تو اس صورت میں دیگر شرعی دلائل کے ذریعہ مسئلہ کا حل تلاش کیا جاتا ہے۔ دلائل شرعیہ کے ذریعہ استنباط و استدلال کے بہت سے مناہج ہیں جن کی تفصیلات اجتہاد اور اصول فقہ کی کتب میں ملتی ہیں۔
فتویٰ، فیصلہ اور رائے کا فرق
عام طور پر لوگ فتویٰ، فیصلہ اور رائے کے فرق کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بہت سی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس لیے مناسب ہوگا کہ یہاں ان کے فرق کو نمایاں کر دیا جائے۔
جہاں تک رائے کا تعلق ہے تو وہ ہر صاحب علم و فکر کا حق ہے کہ وہ کسی مسئلہ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار دیانت داری کے ساتھ کرے۔
اظہار رائے کے لیے تین شرائط ہیں: پہلی شرط اخلاص ہے۔ انسان جو بات بھی کہے وہ اخلاص و دیانت پر مبنی ہونی چاہیے۔ دوسری شرط علم ہے، جس شعبہ سے متعلق کوئی فرد کسی مسئلہ کے بارے میں رائے کا اظہار کر رہا ہو، اس سے متعلق وہ معلومات اور علم بھی رکھتا ہو۔ تیسری شرط یہ ہے کہ جو بات کہے وہ مدلل ہو، دلیل کے بغیر رائے کو اہمیت نہیں دی جا سکتی۔
فتویٰ اس حکم یا رائے کو کہا جاتا ہے جو درجہ افتاء پر فائز با صلاحیت مفتی کی جانب سے جاری ہوتا ہے۔ مفتی کسی مسئلہ کے بارے میں اپنے علم و اجتہاد کی بنیاد پر یہ بتاتا ہے کہ زیر غور مسئلہ میں شریعت کا نقطہ نگاہ کیا ہے۔ شریعت کا نقطہ نگاہ جب معلوم ہو جائے تو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ انفرادی طور پر بھی عمل کرنا ضروری ہے اور اجتماعی طور پر بھی۔ فیصلہ اسے کہا جاتا ہے جو کسی با اختیار عدالت یا ایسے با اختیار ادارے کی طرف سے کیا جائے جس پر عمل درآمد کے لیے لوگ قواعد و ضوابط کے مطابق پابند ہوتے ہیں۔ بقول فقہاء قاضی مجبر (یعنی اس کے فیصلہ پر عمل لازم ہے) اور مفتی مخبر ہوتا ہے۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی میں افتاء کا ادارہ وجود میں آگیا تھا۔ خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زندگی میں درپیش مسائل کے بارے میں دریافت کیا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جوابات دیا کرتے تھے۔ لیکن جب مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی اور لوگ دور دراز کے علاقوں میں پھیل گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان صحابہ کرام کو فتویٰ دینے کی اجازت عطا فرمائی جو علم و عمل اور تفقہ و اجتہاد کے لحاظ سے اس درجے کو پہنچ چکے تھے کہ لوگوں کی علمی، فکری اور قانون رہنمائی کر سکیں۔
عہد رسالت میں دو اداروں کے قیام کی طرف خصوصی توجہ دی گئی تھی، ایک عدلیہ کا قیام، دوسرے افتاء کا ادارہ۔ نظام قضاء کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرے اور قانون کو بلا روک ٹوک اس کی صحیح روح کے ساتھ جاری و نافذ کرے۔ افتاء کے ادارہ کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ لوگوں کو قانون کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں مدد کرے۔ جس طرح عدلیہ بے لاگ اور بلا معاوضہ انصاف مہیا کرتا تھا، اس طرح افتاء کا ادارہ بھی کسی فیس یا معاوضہ کے بغیر قانونی مشورے دیتا تھا۔ افتاء کا ادارہ وقت کے ساتھ پھیلتا اور مستحکم ہوتا رہا۔ مفتی حضرات نہ صرف یہ کہ زبانی مسائل، احکام اور قانون کی وضاحت کرتے بلکہ بوقت ضرورت تحریری طور پر بھی قانون کی وضاحت کا فریضہ انجام دینے لگے۔ اگر کہیں کسی مسئلہ میں کوئی الجھن پیدا ہوتی تو وہ تعبیر و تشریح کے اصولوں کی روشنی میں دلائل کے ساتھ الجھن کو دور کرنے کی سعی فرماتے اور کوشش کرتے تھے کہ ایسی تعبیر پیش کی جائے جو شریعت کی روح اور منشاء سے زیادہ قریب ہو۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن صحابہ کرامؓ کو فتویٰ دینے کی اجازت دی تھی، ان میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، ام المومنین حضرت عائشہؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نمایاں تھے۔ یوں تو صحابہ کرام کی بہت بڑی تعداد تھی جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست علم حاصل کیا۔ لیکن درجہ افتاء پر فائز صحابہ کرام کی بہت بڑی تعداد تھی جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست علم حاصل کیا۔ لیکن درجہ افتاء پر فائز صحابہ کرام کی تعداد تقریباً سوا سو تھی۔ ان میں سے جو لوگ عملاً افتاء کے کام میں مصروف رہے انہیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے ۱۔ بہرحال یہ تمام حضرات مستند اور اجازت یافتہ مفتی تھے، اور لوگوں کو قانون سے آگاہی فراہم کیا کرتے تھے۔ لوگوں میں قانون کا علم اور شعور پیدا کرنے میں ان حضرات کا نمایاں کردار ہے۔
افتاء کی اہلیت و صلاحیت
فتویٰ دینا کیونکہ ایک بھاری ذمہ داری ہے، لہٰذا اس منصب کے لیے صلاحیت و قابلیت کو بھی بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ مفتی اور قاضی کے عہدے ایسے ہیں کہ ان پر بہت سوچ سمجھ کر با صلاحیت اور با کردار افراد ہی کا تقرر کیا جا سکتا ہے۔ ان کی قابلیت و صلاحیت کا کڑا معیار ہر صورت میں برقرار رکھنا چاہیے۔
افتاء کے عہدہ پر انتہائی سمجھدار، تجربہ کار اور عاقل و بالغ مسلمان ہی کو فائز کیا جا سکتا ہے۔ مفتی کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن حکیم اور اس کے علوم، سنت اور علوم الحدیث سے اچھی طرح واقف ہو۔ اجماعی مسائل کا علم رکھتا ہو۔ اجتہاد اور اس کے اسالیب سے اچھی طرح واقف ہو۔ نیز دلالات اور تشریح و تعبیر کے اصولوں کو خوب سمجھتا ہو۔ یہ اسی وقت ممکن ہو سکے گا جب اسے عربی زبان و ادب پر عبور حاصل ہو۔ فقہا نے مفتی کے لیے یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ وہ جس خطہ میں بطور مفتی مقرر کیا جا رہا ہو، وہاں کے عرف و عادات، رسوم و رواج، زبان اور اس کی اصطلاحات کو خوب سمجھتا ہو۔ سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ عمل و کردار، تقویٰ اور نیکی میں بھی نمایاں مقام رکھتا ہو۔
حواشی
۱ الاشقر، عمر سلیمان، تاریخ الفقہ الاسلامی (مکتبہ الفلاح، الکویت ۱۴۱۰ھ / ۱۹۸۹) ۷۹
مطالعہ و تحقیق کے مزاج کو فروغ دینے کی ضرورت
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی
(چند سال قبل برصغیر کے نامور محقق اور مورخ حضرت مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی مدظلہ (مدیر سہ ماہی ’’احوال وآثار’’ کاندھلہ ، انڈیا) الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی لائبریری کے افتتاح کے موقع پر اکادمی میں تشریف لائے تھے۔ اس موقع پر انھوں نے حسب ذیل گفتگو فرمائی جسے ٹیپ ریکارڈ کی مدد سے صفحہ قرطا س پر منتقل کیا گیا ہے۔ مدیر)
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ علمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما۔ الحکمۃ ضالۃ المؤمن۔
حضرت مولانا دامت برکاتہم اور حضرت مولانا مفتی عیسٰی صاحب مدظلہ العالی
میں یقیناًاس لائق نہیں ہوں کہ جس طرح کے کلمات خیر سے ازراہِ محبت ذکر کیا گیا ہے، لیکن چونکہ یہ بڑے حضرات ہیں، اکابر حضرات ہیں، اس لیے دعا و تمنا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے خیالات کو حقیقت میں بدل دے اور ان کے یہ کلمات ہمارے لیے ایسی دعا ثابت ہوں جو حقیقت ہو جائیں۔
یہ بات میرے لیے بڑی خوش نصیبی اور سعادت کی ہے کہ اس مبارک مدرسہ میں حاضری ہوئی۔ میں جب پڑھتا تھا، اس وقت میں نے حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی کتاب ’’راہ سنت‘‘ پڑھی تھی، اور پھر تو بار بار پڑھنے کا موقع ملا۔ مولانا کی جتنی کتابیں ہیں، میرے خیال میں تقریباً ساری ہی ایک ایک کر کے پڑھیں۔ حضرت مولانا سواتی صاحب کی بیشتر کتابیں دیکھنے کا اور ہمارے اندر تھوڑی بہت جتنی لیاقت تھی، اس کے مطابق ان کو سمجھنے کا اور ان سے استفادہ کی توفیق نصیب ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جو بے شمار عنایات اور انعامات ہیں، ان میں سے ایک بڑا انعام اور فضل و کرم یہ ہے کہ آج اس مبارک مدرسے اور ان حضرات کے زیر سایہ حاضر ہونے کی توفیق ملی اور آپ سے ملاقات ہوئی۔
یہ بھی بڑی سعادت ہے اور یہ بھی بڑی خوشی کی بات ہے کہ آج یہاں ایک مدرسے کی لائبریری کا افتتاح ہو رہا ہے۔ یہ بات بڑی تعجب کی ہوگی کہ لائبریری کے افتتاح کے لیے ایک ایسے آدمی کو طلب فرمایا گیا جو بہت ہی ادنیٰ درجہ کا طالب علم ہے اور اس کا اہل بھی نہیں ہے، لیکن بعض اوقات آپ حضرات جانتے ہیں کہ حکم کے بعد گنجائش کم رہتی ہے تو حکم ہوا تو میں حاضر ہوگیا۔
لائبریری کا قائم کرنا بہت مبارک ہے اور بے حد ضروری بھی ہے۔ مدارس کا اصل ورثہ علم ہی تھا۔ یہ جو علم ہے، وہ اصل میں ہمارے بزرگوں کی محنت کا نتیجہ ہے، اور ان حضرات نے علم اور کتاب دونوں کو مفاد سے بالاتر ہو رکھا۔ کسی کام کو نہ اپنی ذات کے لیے کیا اور نہ کسی دنیا کے مفاد کے لیے کیا۔ ہر بات میں وہ دو چیزوں کی رعایت رکھتے تھے۔ ایک اللہ تعالیٰ کی رضا اور دوسرا علم کی خدمت۔ اسی لیے ہمارے علماء نے ایسے ایسے کام کیے ہیں کہ آج بڑی بڑی اکیڈمیاں اور کروڑوں روپے کے بجٹ وہ نہیں کر سکتے جو ان میں سے ایک نے کر دیے ہیں۔
مثلاً ابھی پچھلے مہینے ہمارے ہاں ایک کتاب شائع ہوئی ہے ’’فتاویٰ تاتار خانیہ‘‘۔ آپ نے سنا ہوگا۔ یہ آٹھویں صدی کے عالم ہیں، ۷۸۶ھ میں ان کی وفات ہے۔ ان کی کتاب کو قاضی سجاد صاحب نے مرتب کرنا شروع کیا تھا، لیکن اجل نے ان کو مہلت نہیں دی اور ان کی وفات ہوگئی۔ اب ہمارے ہاں ایک اور عالم مفتی شبیر صاحب نے اس کو مرتب کر کے شائع کیا ہے جو ۲۳ جلدوں میں ہے۔ ایک فرد کا کام ہے۔
آپ حضرات نے قریب میں سنا ہوگا کہ ٹونک کے ایک عالم تھے، مولانا محمود حسن صاحب۔ انہوں نے ان علماء پر جو عربی کے صاحب تصنیف ہیں، جنہوں نے عربی میں کوئی قابل ذکر کتاب لکھی ہے، صرف ان کے حالات جمع کیے۔ ’’معجم المصنفین‘‘ کے نام سے ۸۰ جلدوں میں ہے اور اس کتاب کے مؤلف کوئی پرانی صدی کے آدمی نہیں ہیں۔ غالباً ابھی ۱۳۷۰ھ یا اس کے بعد ان کی وفات ہوئی ہے۔
ہمارے ہاں ایک ہندو راجہ تھا راجندر لاؤ۔ اردو کا بڑا دلدادہ تھا۔ اس نے اردو کا ایک لغت مرتب کیا جس کا ایک نسخہ دستیاب ہوگیا ہے جو پچاس جلدوں میں ہے۔ اردو کا لغت پچاس جلدوں میں اور ہندو لکھ رہا ہے۔
اور جن لوگوں کو آپ نے بہت قریب سے دیکھا ہے، ان میں ہمارے مولانا ادریس صاحب کاندھلوی ، ان کی شرح بخاری شریف ہے جو ۳۰ جلدوں میں ہے۔ ان کی شرح بیضاوی ہے جو ۳۰ جلدوں میں ہے۔ التعلیق الصبیح ۸ جلدوں میں ہے۔ ان کی تفسیر معارف القرآن دیکھی ہوگی۔ اور ان کی سیرت پر جو کتاب ہے، مجھے یہ کہنا چاہیے کہ پورے برصغیر میں غالباً علامہ شبلی کی کتاب کے بعد سب سے بڑی مرجع ہے۔
اور میں نے ابھی دیکھا تو نہیں، لیکن سنا ہے کہ مولانا موسیٰ خانؒ روحانی بازی کی ایک تقریر ہے بیضاوی کی جو شاید ۶۰ جلدوں میں ہے اور اب اس کی طباعت کا اہتمام ہو رہا ہے۔ اور اس طرح کی بہت ساری باتیں ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آدمی کرنا چاہے تو بہت کچھ کر سکتا ہے۔
آپ کہیں گے کہ پرانے دور میں بادشاہ اہل علم کی سرپرستی کیا کرتے تھے۔ بتائیے، مولانا ادریس صاحب کو کس کا تعاون تھا؟ کس سے تنخواہ لیتے تھے؟ کہاں سے وظیفہ ملتا تھا؟ وہ فرد تھے، ارادہ رکھتے تھے، خدا کے لیے کام کرتے تھے، خدا کی طرف سے مدد ہوتی تھی۔ ہم لوگ اول تو کام کرنا نہیں چاہتے، اگر کرنا چاہتے ہیں تو ہماری ترتیب الٹی ہوتی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے مدرسوں کے بارے میں بھی یہ کیا اور علم کے بارے میں بھی یہ کیا کہ وہ پہلے کام کرتے تھے، وسائل خود بخود آتے تھے۔ ہم پہلے وسائل ڈھونڈتے ہیں اور کام کچھ نہیں ہوتا۔ اس لیے کام شروع کر دینا چاہیے۔
حضرت مولانا ادریس کو آپ نے دیکھا ہوگا۔ مولانا کی صفات کیا تھیں؟ مولانا کی صفت یہ ہے کہ مولانا نے پوری زندگی کبھی انگریزی قلم کو ہاتھ میں نہیں لیا، بازار سے آنے والی روشنائی سے نہیں لکھا۔ وہ کہتے تھے کہ روشنائی ناپاک ہے۔ میں اس سے حدیث کس طرح لکھوں؟ خدا کو کیا جواب دوں گا؟ تب ان کے کام میں برکت ہوتی تھی۔ مولانا ہمیشہ سرکنڈے کے قلم سے لکھتے تھے، تا حیات قلم خود بناتے تھے۔ اور اسی طرح سے اور بھی سب حضرات اس طرح کام کرتے تھے۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب کو ہم نے خود دیکھا، زمین پر بوریا بچھا کر بیٹھتے تھے۔ آپ کے ہاں تو ہم جانتے نہیں، کیا کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو ۵، ۷ روپے کا آتا ہے بوریا اور وہاں قربانی کا گوشت رکھنے کے کام آتا ہے۔ شیخ الحدیث صاحب اس پر بیٹھتے تھے، اسی پر بیٹھ کر سارے کام کیے ہیں۔ وہیں بیٹھ کر اوجز المسالک لکھی گئی ہے۔ وہاں اس کمرے میں نہ بجلی ہے، نہ دنیاوی شوکت ہے اور نہ ہی کوئی پنکھا ہے۔ وہاں بیٹھے رہتے تھے۔ چاروں طرف کتابوں کا ہجوم ہوتا تھا۔ ترتیب سے کتابیں لگی ہوتی تھیں اور جب کوئی ضرورت پڑتی تو ان کے پاس جو طلبہ تھے، مولانا یوسف صاحب تھے یا دیگر، ان کو کہتے تھے کہ کتاب اٹھاؤ۔ کتاب دیکھی، پھر رکھ دی۔ شیخ نے اپنے اس کمرے میں پوری زندگی نہ بجلی لگنے دی نہ پنکھا لگنے دیا۔ اور حافظ صاحب اور شیخ صاحب لنگی باندھتے تھے اور وہ لنگی پسینے سے تر ہو جاتی تھی۔ جب دیکھتے کہ پسینہ بنیان میں سے ٹپکنے لگا تو اس کو بدل کر دھوپ میں ڈال دیا، لیکن کام میں نہیں فرق پڑتا تھا۔ یہی بات اصل ہے۔
ہمارے ہاں سہولیات تو بہت ہیں، لیکن وہ لگن نہیں، وہ تڑپ نہیں، وہ جذبہ نہیں۔ علم تو اس امت کا خاصہ ہے۔ اس امت نے جس طرح علم کو آگے بڑھایا اور جتنے علم کے پہلو ایجاد کیے، پوری دنیا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ یورپ نے جو کچھ کیا ہے، یہ نہیں کہ اس نے کوئی چیز ایجاد کی ہے۔ اس نے آپ کے پاس جو معلومات تھیں، ان کو نکھارا سنوارا، آگے بڑھایا۔ میں کچھ مثالیں پیش کرتا ہوں۔
ایک بہت بڑے مغربی اسکالر ہیں اور ان کی دنیا میں بڑی شہرت ہے، اس بات میں کہ انہوں نے اہرام میں اور دوسری جو عمارتیں ہیں، ان کے کتبات اور مہروں کو پڑھا اور دنیا میں اس کو آخری سند سمجھا جاتا ہے۔ چار، پانچ سال پہلے ایک کتاب چھپی تو پتہ چلا کہ وہ تو آٹھویں صدی کے ایک عالم تھے، وہ سارے کتبے حل کر چکے تھے۔ اس بندۂ خدا کے ہاتھ وہ کتاب لگ گئی اور اس نے وہ ساری چیزیں اپنی طرف منسوب کرلیں۔ تو اس طرح سے ہوتا ہے۔
ہم نے وہ راستہ چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے اندر سے وہ لگن ختم ہوگئی۔ ہمارے اندر سے وہ جذبہ چلا گیا، ہمارے اندر سے وہ تڑپ جاتی رہی۔ اب کام نہیں ہوتا۔ تو یہ جو ادارہ قائم کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ مبارک کرے۔ بڑی مزید ترقیات سے نوازے اور بڑے ادارے قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ساتھ ساتھ کچھ افراد بھی تیار کریں اور افراد کون ہوں؟ وہ افراد وہ ہوں جو کہ کہا جاتا ہے کہ بالکل کشتیاں جلا کر کام کریں۔ دنیا کے کسی مفاد کو سامنے نہ رکھیں اور بالکل سراپا علم کے اندر ڈوب جائیں۔ پھر تو بات بنتی ہے۔ اور جب تک یہ بات نہ ہو تو بات نہیں بنتی۔
آج کل اتنی کتابیں چھپ رہی ہیں کہ پہلے کبھی نہیں چھپتی تھیں۔ لیکن شاید دو سو چار سو کتابوں میں سے کوئی دو چار کتابیں ایسی ہوں کہ آدمی پڑھ کر سمجھے کہ اس کو پڑھ کر کوئی فائدہ حاصل کیا۔ اور پہلے لوگوں کی کتابیں ایسی ہیں مثلاً مولانا محمد قاسم صاحب،ؒ مولانا اشرف علی تھانویؒ ، ان کے بعد مولانا ادریس صاحب کو بھی، ان کی کتابوں کو آپ جتنی مرتبہ پڑھیں گے تو ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی نیا فائدہ حاصل ہوگا۔ اور آپ سوچیں گے کہ اوہو یہ بات تو میں نے پڑھی ہی نہیں، میرا ذہن اس طرف گیا ہی نہیں۔ بعض فقرے ایسے ہیں ان کی کتاب میں کہ ایک فقرے کی شرح میں پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ یہ ان کے علم کی گہرائی، ان کی جامعیت تھی کہ انہوں نے یہ فقرات لکھے۔ ہمارے اندر یہ بات نہیں۔ ہم کبھی کسی کتاب کے دو سو تین سو صفحے پڑھتے ہیں، پڑھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ کیوں وقت ضائع کیا۔ ان میں سے دو صفحے بھی ایسے نہیں نکلتے کہ جن کو پڑھ کر آدمی کچھ فائدہ حاصل کرے۔
اب یہ ہے کہ آپ حضرات کے ہاں وسائل بھی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہاں طلبہ کی توجہ بھی ہے، اور کسی چیز کی کسی طرح کی دقت نہیں ہے۔ یہاں ایسا ادارہ قائم ہو جو ہمارے اسلاف خاص طور پر حضرت شاہ ولی اللہ سے اب تک کے حضرات پر کام ہو۔ ان پر تحقیق ہو، ان پر تنقیح ہو۔ حضرت شاہ ولی اللہ ہیں، مجھے معلوم ہے کہ اس برصغیر میں کسی جگہ بھی ان کی تصانیف ایک جگہ موجود نہیں ہیں۔ اگر ہوں تو میری راہنمائی فرمائیں۔ ان کی کتابیں موجود ہیں، لیکن کسی کے اندر وہ جذبہ نہیں۔ میں ایک ناچیز سا طالب علم ہوں، ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتا ہوں، اور میرے پاس حضرات شاہ صاحب کی سو فیصد کتابیں موجود ہیں، مطبوعہ بھی اور غیر مطبوعہ بھی، ہاتھ سے لکھی ہوئی بھی۔ اسی طرح حضرت مولانا قاسم نانوتوی کی سو فیصد کتابیں میرے پاس ہیں۔ اگر یہاں لوگ اس طرح کی کوشش کریں تو اس کو کامیابی کیوں حاصل نہ ہو!
اس لیے کوئی ایسا ادارہ ہو جہاں ان تمام حضرات کی چیزیں جمع کی جائیں اور طلبہ کو ان پر کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ مثلاً حضرت شاہ صاحب ہیں، ان کی اپنی اصطلاحات ہیں جن کو وہ مختلف جگہ پر استعمال کرتے ہیں اور مختلف مطلب لیتے ہیں۔ اب اگر ایسی لغت مرتب کی جائے کہ اس بات کو شاہ صاحب فلاں جگہ فرمائیں تو یہ مطلب ہے، فلاں جگہ فرمائیں تو یہ مطلب ہے، تو اس سے استفادہ کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔ اور یہ جو بات کی جاتی ہے کہ صاحب ! شاہ صاحب کے ہں اختلاف بہت ہے، اس کا جواب ہو جائے۔ اسی طرح شاہ صاحب اجتہاد و تقلید پر خوب لکھتے ہیں، ان کی ساری چیزوں کو جمع کیا جائے تو وہ مفہوم ہرگز نہ ہو جو آج لیا جا رہا ہے۔ ان پر حضرت مولانا عبید اللہ سندھی نے کام کیا، تھا لیکن ان کی کتابیں اس وقت چھپنی شروع ہوئی ہیں جب ان کے پڑھنے والے چلے گئے۔
ہمارے ہاں یہ بات بہت مشہور ہے کہ حضرت علامہ کشمیری نے فرمایا کہ مولانا گنگوہی تفقہ میں شامی سے بڑھے ہوئے ہیں، لیکن اس کا کوئی دستاویزی ثبوت بھی چاہیے۔ حضرت کشمیری نے فرمایا، بہت اچھا ہے لیکن یہ ثابت کیسے ہو؟ اس کی صورت یہ ہے کہ ان کے فتاویٰ کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے اور اس بات کو ثابت کیا جائے۔
پہلے علماء یہ کیا کرتے تھے کہ آدمی ہزار صفحے پڑھے، پھر دس صفحے لکھے۔ اب کام الٹ ہوگیا ہے کہ پہلے سو صفحے لکھے، پھر پڑھنا شروع کرتے ہیں۔ اس کے لیے طلبہ کو تیار کرنا ہوگا۔ اسی طرح ہمارے دیگر حضرات کے ملفوظات میں بھی بہت سارے نوادر موجود ہیں۔ ہمارے قریب کے حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری کے ہاں غیر معمولی باتیں ہیں۔ شاہ یعقوب کے ہاں بھی اسی طرح چیزیں ہیں۔ اس کے لیے طلبہ کو تیار کرنے کی ضرورت ہے اور طلبہ اس وقت تیار ہوتے ہیں کہ جب استاد ان سے ان چیزوں میں فائق ہو۔ ان کی ہر موقع پر راہنمائی کر سکتا ہو۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ ہر جگہ باقاعدہ طلبہ ہوں، ذہین طلبہ رکھے جائیں، ان کو معقول وظیفے دیے جائیں، ان کے لیے تمام علمی مواد جمع کر دیا جائے۔
آپ کے سامنے ایک طالب علم بیٹھا ہے۔ اس کی کوششوں سے الحمد للہ اس وقت ہمارے ذخیرے میں ۱۶۰۰ تو مخطوطے ہیں اور بارہ چودہ ہزار کتابیں ہیں اور استفادے کے لیے پوری دنیا سے لوگ آتے ہیں۔ ابھی یہاں آنے سے دو دن پہلے مجھے ایسی خوشی ہوئی کہ ایک صاحب کا بخارا سے فون آیا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو معلوم کیسے ہوا تو انہوں نے بتایا کہ اگر فلاں چیز چاہیے تو وہاں فون کرو۔ علم کا تو معاملہ یہ ہے کہ آدمی جب اس میں لگ جاتا ہے تو یہ خود بخود آپ کو ترقی دیتا ہے۔ ہم نے اور چیزوں کو مقصد بنا لیا ہے، علم کو چھوڑ دیا ہے۔
برطانیہ میں لین پول یونیورسٹی ہے آکسفورڈ اور کیمبرج کے بعد سب سے بڑی سمجھی جاتی ہے۔ اس کے شعبہ علوم اسلامیہ کے جو صدر ہیں، وہ آئے۔ یہ صاحب وزیر اعظم برطانیہ کے اسلامی ممالک کے لیے مشیر ہیں۔ مجھے اس بات پر تعجب ہوا کہ وہ کیوں آئے تھے؟ اس بات پر ریسرچ کرنے کے لیے کہ یہ ہندوستان کے جو مدارس ہیں، ان کے مقاصد کیا ہیں؟ اور کیا یہ اپنے مقاصد پورے کر رہے ہیں؟ اور اب ان کا نقطۂ نظر کیا ہے؟ اب دیکھیں، اتنا بڑا آدمی جس کی حیثیت برطانیہ کے ایک وزیر کی ہے، وہ صوفے پر نہیں بیٹھا۔ دری پر ہی بیٹھا اور وہیں پر سویا۔ وہ کہتا تھا کہ طالب علم کو ان باتوں سے کیا تعلق؟ ہم نے کہا تو کہنے لگا کہ نہیں نہیں، جہاں تم بیٹھو گے، وہیں بیٹھوں گا۔ جو کھلاؤ گے، کھاؤں گا۔ مقصد تو باتیں کرنا ہے اور وہ دیر تک، رات دو بجے تک سوالات پوچھتا رہا۔ اور ایسے ایسے سوالات کہ ہمارے بڑے بڑے اچھے حضرات کا ذہن بھی اس طرف نہیں جا سکتا کہ مدرسوں کے مزاج میں فرق کیوں ہے؟ ان کے نصاب میں فرق کیوں ہے؟ فلاں آدمی اور فلاں آدمی کے طریقہ تعلیم میں کیوں فرق ہے؟ فلاں فلاں کے پاس بیٹھنے والے طلبہ کے مزاج میں کیوں فرق ہے؟ اور ایسے سوالات کے انبار تھے کہ بس! بہرحال جو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی، وہ ہم نے بھی عرض کیا۔
بہرحال ضرورت اس بات کی ہے کہ کچھ افراد تیار کیے جائیں۔ یہاں پر مولانا عمار صاحب کی زیر نگرانی اور مولانا زاہد الراشدی صاحب کی زیر سرپرستی بہت سا کام ہو سکتا ہے۔ اللہ اس ادارے کو ترقی دے اور اس کو ہم جیسے لوگوں کے لیے مرجع بنائے۔ ان شاء اللہ اس سلسلے میں جو خدمت مجھ سے ہو سکے گی، میں حاضر ہوں۔
عصری لسانیاتی مباحث اور الہامی کتب کی معنویت کا مسئلہ
محمد زاہد صدیق مغل
جدید لسانیاتی مباحث اپنی وضع میں پوسٹ ماڈرن مباحث سے ماخوذ ہیں۔ ان مباحث کی رو سے الفاظ کے تمام تر اطلاقات اور معانی معاشرتی ماحول اور نفس کی کیفیاتی تناظر کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ اس فلسفے کے زور پر فلسفہ لسانیات کے ماہرین الہامی کتب کی نہ صرف آفاقیت پر سوال کھڑا کرتے ہیں بلکہ الہامی کتب سے منسوب کسی بھی قسم کی قطعی معنویت کا انکار کرتے ہیں۔ ظاہر ہے اگر کسی بھی لفظ اور عبارت کا معنی قطعی نہیں تو نصوص میں بیان کردہ حلال حرام اور اچھائی برائی کا کیا معنی، وہ بھی رہتی دنیا تک؟ اسی فکری منہج کے حوالے سے چند روز قبل فیس بک پر ایک کالم "مذہب پر عصری تنقید" دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ کالم کے فاضل مصنف یہ کہتے ہیں کہ جدید فلسفیانہ مباحث نے مذہبی علمیت پر چند ایسے "بدیہی سوالات" کھڑے کردئیے ہیں کہ "ان کا تسلی بخش جواب دینا اور پھر اس جواب کی علمی قدر پیدا کرنا تقریباً ناممکن ہے"۔ مصنف کے خیال میں اہل مشرق بالعموم اور اہل پاکستان بالخصوص فلسفے کے پیدا کردہ ان مسائل و مباحث سے واقف ہی نہیں۔ ان سوالات میں سے ایک کاتعلق ان لسانیاتی مباحث کے پیدا کردہ مسائل سے ہے جن کے زور پر الہامی کتب کی معنویت پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
درج بالا مقدمے کا تجزیہ کرنے سے قبل یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ جو احباب فلسفیانہ مباحث کے اندر پیوست مفروضات پر سوال اٹھائے بنا "ان فلسفوں کے اندر رہتے ہوئے" ان کے پیدا کردہ مسائل کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اکثر و بیشتر ناکام ہوتے ہیں، اور نتیجتاً ان فلسفوں کے پیدا کردہ گمراہ کن نتائج کو قبول کرلیتے ہیں۔ امام غزالی (رح) نے فلسفے کے مطالعے اور نقد کے اس طریقہ کار کی غلطی کو بخوبی بھانپ لیا تھا۔ جو شخص فلسفے کو حقیقت کا کوئی اعلی علم سمجھ کر پڑھتا ہے، پھر اسکے مسائل کے تناظر میں خدا کی نازل کردہ وحی کو جانچنا اور رد کردینا شروع کردیتا ہے وہ اسی غلط منہج پر چلتا ہے جو معتزلہ نے صدیوں قبل اختیار کیا تھا۔ ایسے مسائل کے جواب کا طریقہ وہی ہے جو امام غزالی نے اختیار کیا، یعنی فلسفے کے ان غیر عقلی و غیر ثابت شدہ مفروضات کا تجزیہ کرکے انہیں رد کردیا جائے جو بزعم فلسفی "لاینحل مسائل" کو جنم دیتے ہیں۔ اس مختصر تحریر میں قدرے اختصار کے ساتھ ان مفروضات کی نشاندہی و تجزیہ کر نے کی کوشش کی جائے جن کے تحت یہ لسانیاتی مسائل کھڑے کئے جاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ "معانی کے تعین کا مسئلہ درحقیقت نفس کے تعین کا مسئلہ ہے"۔ آئندہ سطور میں اسی اجمال کی کچھ تفصیل پیش کی جائے گی۔
اہل فلاسفہ کا ایک دیرینہ مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ انسان کے کسی ایک جذبے یا پہلو کو اہم سمجھ کر پورے انسان یہاں تک کہ پوری انسانی زندگی کو اسی میں محصور کر دیتے ہیں۔ اسکی چند مثالیں نطشے، مارکس اور فرائیڈ کے تجزیوں میں ملتی ہیں جنہوں نے حصول قوت، معاشی مسابقت و صنفی جذبات کو تمام انسانی عمل اور تعلقات کی بنیاد فرض کرکے انسانی معاشروں کا تجزیہ کرڈالا۔ اہل فلاسفہ کے یہاں اسی نوع کا غیر معتدل رویہ انسانی نفس کے تعین کے سلسلے میں بھی پایا جاتا ہے۔ یہاں ایک طرف وہ لوگ ہیں جو انسان کو گویا ایک مشین کی طرح بالکل معین شے تصور کرتے ہیں، یعنی انسان ایک بالکل متعین شے ہے، اس اپروچ کو essentialism کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف ایک فکر کا خیال یہ ہے کہ انسانی نفس کچھ ہے ہی نہیں، تجربات کے ذریعے یہ مسلسل ہوتا رہتا ہے۔ اس فکر کو existentialism کہتے ہیں جو بیسیوں صدی کے مشہور فلسفی ہائیڈیگر کے افکار سے ماخوذ ہے۔
ہائیڈیگر اصلاً ایک ملحد تھا، وہ "آزادی بطور قدر" کو ایک مقدم و جائز مفروضے کے طور پر قبول کرتا ہے۔ جاننا چاہیے کہ آزادی کا معنی "کچھ بھی چاہنے کی صلاحیت ہے"، یہ عدم محض (nothingness) کا نام ہے۔ یہ صرف "کچھ بھی چاہنے" کی صلاحیت ہے، ماورائے اس سے کہ وہ چاہت کیا ہے۔ نفس کو کیا چاھنا چاہیے (یعنی وہ "کچھ" کیا ہے) اس کا تعین ناممکن و لاحاصل ہے، نفس جونہی کسی مخصوص چاہت کو مرکز و محور بناتا ہے آزادی ختم ہوجاتی ہے (یعنی self can posses ends but cannot be contained by them)۔ جان لو! آزادی لاحاصل کے حصول کی جستجو ہے، یہ وجود کی لامعنویت کو مستلزم ہے۔ آزادی کا معنی نفس کو تعلقات سے ماورا فرض کرنا ہے، آزادی تعلقات کی نفی کا نام ہے (اسی لئے سارتر نے کہا کہ Hell is other people یعنی دوسرے لوگ آزادی پسند انسان کے لئے رکاوٹ ہیں کہ وہ اسے اس کی آزادی محدود ہونے کا احساس دلاتے ہیں)۔ تعلقات کی نفی احساس تنہائی کو جنم دیتی ہے اور تنہائی اضطرارو یاسیت (frustration and boredom) کو۔ چنانچہ:
- جوں جوں آزادی پڑھتی ہے، تنہائی بڑھتی ہے
- جیسے جیسے تنہائی بڑھتی ہے اضطرار و یاسیت میں اضافہ ہوتا ہے
- نتیجتاً انسان کا احساس محرومی اور اس کا غضب و شہوت اس کے قلب کو مسخر کرتے ہیں
آزادی کا پرستار اس اضطرار کو فطری انسانی کیفیت سمجھتا ہے۔ ھائیڈیگر کہتا ہے کہ اضطرار بالکل غیر معین ہے اور یہ عدم محض کی جستجو کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ مغربی دہریت فرد کو اس اضطرار کو فطری سمجھ کر اس پر راضی ہونے کا درس دیتی ہے۔ چنانچہ اس عدم محض کی جستجو میں انسانی نفس ہمہ وقت "ہوتا رہتا" (یعنی بدلتا رہتا) ہے کیونکہ جو خیالات و خواہشات نفس میں وقوع پزیر ہورہے ہیں وہ نہ تو حتمی ہیں اور نہ ہی نفس کا اصل۔ "نفس خود کیا ہے"، نفس اس کا تعین نہیں کرسکتا۔ ہائیڈیگر کے خیال میں انسان دنیا میں پھینک دیا گیا ہے۔ یہاں کون، کب اور کیوں پھینکا گیا ہے، نفس کے لئے یہ جاننا ممکن نہیں، انسان کائنات میں تنہا ہے۔
درج بالا مباحث اگرچہ قدرے پیچیدہ و مشکل ہیں مگر انہیں سمجھے بنا زیر نظر مسئلے کا حل گرفت میں لانا ممکن نہیں۔
اب جاننا چاہیے کہ آزادی اپنے رب سے بغاوت (قرآن اصطلاح میں "بغی") ہے۔ مغربی انفردایت کے اضطرار کی بنیاد گناہ سے آگاہی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبد پیدا کیا ہے اور جب وہ عبدیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اپنے نفس کی اصل سے لڑتا ہے اور نتیجتاً ہمہ وقت اضطرار اور گناہ کے احساس سے معمور رہتا ہے۔ چنانچہ عبدیت ہی تعیین نفس کی اصل بنیاد ہے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر تاقیامت تک ہر انسان کے نفس کی حقیقت یہی ہے، اسی لیے دین ہمیشہ سے اسلام ہی تھا اور رہے گا۔ قرآن اسی لیے خود کو "ذکر" (حقیقت ازلی کی یاد دہانی) کہتا ہے۔ یہ بات کہ مبادیات دین ہمیشہ یکساں اور قطعی رہے ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اس بات ہی کا بیان ہے کہ نفس کی حقیقت میں کچھ ایسا ہے جو ہمیشہ ایک ہی طرح متعین و مشترک رہا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان کوئی مشین ہے۔ چونکہ تجربات کے تنوع سے نفس کی حالت میں تنوع بھی پیدا ہوسکتا ہے، لہٰذا شرع نے غیر قطعی امور میں اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھا، اصولیین نے اس حقیقت کو ہمیشہ تسلیم کیا۔ نیز اصولیین نے یہ امر بھی بہت پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ تمام نصوص دلالت کے اعتبار سے نیز ان نصوص سے ثابت ہونے والے شرعی احکامات ایک ہی درجے پر نہیں۔
پس مبادیات دین ہمیشہ قطعی تھے، صحابہ کرام نے بھی انہیں اسی طرح قبول کیا جیسے آج ایک مسلمان انہیں قبول کرتا ہے، ہر غیر مسلم ان کا "انہی معنی" میں مخاطب ہے جیسے صحابہ کرام اس کے مخاطب تھے۔ چودہ سو برس سے روئے زمین پر مسلمان دن میں پانچ مرتبہ اسی طرح نماز کی ادائیگی کرتے ہیں جیسے صحابہ نے ادا کی، اس امر کو سمجھنے میں مسلمانوں کے مابین کوئی اختلاف رونما نہیں، جنہوں نے ایسا کیا وہ متفقہ طور پر گمراہ کہلائے۔ تعیین و تعمیر نفس کا مسئلہ حق کے تعین (یعنی عبد بن جانے) کا مسئلہ ہے، نفس جونہی اپنی اصل (حق) کو پہچان و مان لیتا ہے تو وہ متعین ہوجاتا ہے۔ جو نفس آزادی کا خوگر ہے وہ حقیقت کے تعین کے لئے اپنے سے باہر کسی ریفرنس کو ماننے پر تیار نہیں۔ اور جب حقیقت کا ایسے نفس، جو کچھ ہے ہی نہیں، کے سوا کوئی دوسرا ریفرنس ہی نہیں تو کسی بھی ازلی و ابدی حقیقت و معنی کا کیا مطلب؟
اب اگر اس مقام پر کوئی کہے کہ آپ کی اس تمام گفتگو سے تو آزادی ہی ختم ہوگئی، تو جان لینا چاہیے کہ آزادی ہائیڈیگر (یا اس جیسے دیگر فلاسفہ) اور ان کے متبعین کا مسئلہ ہے، بندہ مؤمن کا نہیں۔ بندہ مؤمن اور ہائیڈیگر کے مابین ازلی حقیقت کی طرف دعوت کا تعلق ہے، اس لیے کہ ہائیڈیگر کے متبعین اپنی ازلی حقیقت سے بھٹک چکے۔
اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تعمیر نفس کے اسلامی طریقہ کار کی طرف بھی کچھ اشارے کردئیے جائیں کہ جسے بنیاد بنا کر نفس کو اس طرز پر تعمیر کیا جاتا ہے جو اسے کلام الٰہی سے درست معنی اخذ کرنے لائق بناتا ہے۔ نفس جس قدر ان خطوط پر استوار ہوگا کلام الٰہی سے ثابت ہونے والے مبادیات میں اشتراک اسی قدر قائم کرنا ممکن ہوگا۔ ہر نفس کلام الٰہی کا نہ تو موضوع ہے اور نہ ہی اس سے درست طور پر استفادہ کرنے لائق ہے۔
تعیین نفس درحقیقت "تعمیر نفس" سے عبارت ہے۔ جیسا کہ بتایا گیا کہ جدید انسان کے اضطرار کی بنیاد گناہ (آزادی یعنی اپنے رب سے بغاوت) سے آگاہی ہے اور اس سے چھٹکارے کے لیے گناہ سے توبہ لازم ہے۔ چنانچہ تعیین نفس کا پہلا قدم نیت کی اصلاح ہے، انسان جب اپنی نیت درست کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرکے اسے اضطرار سے نجات دے کر اطمینان کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔ ایسا نفس ہر عمل کو اس بنیاد پر جانچتا ہے کہ آیا اس سے خدا کی رضا حاصل ہوتی ہے یا نہیں۔ یہی نفس کلام الہی سے فیض حاصل کرنے لائق ہوتا ہے (اسی نفس سے متعلق کہا گیا کہ "انما تنذر من اتبع الذکر وخشی الرحمن بالغیب" نیز "ھدی للمتقین")۔
پھر محض نیت ٹھیک کرلینے سے انسان خدا کی رضا حاصل کرلینے لائق نہیں ہوجاتا، اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنے حال کو بھی درست کرنا ہوتا ہے، یعنی یہ کہ زندگی کے ہر عمل میں اتباع سنت کی جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اوڑھنا بچھونا بنایا جائے۔ ہر شخص کا حال اتنا ہی درست ہے جتنا وہ ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے عمل میں اپنے محبوب کی سنت کا اہتمام کرتا ہے۔ گویا تعمیر نفس میں صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ فرد کی صرف نیت ٹھیک ہوجائے بلکہ یہ بھی لازم ہے کہ وہ ایسے افعال بھی انجام دے جو اس کے نفس کے حال کو درست روش پر لے آئے۔ جس طرح قلبی میلانات انسان کے ظاہر پر اثر انداز ہوتے ہیں اسی طرح ظاہری اعمال بھی قلبی احوال پیدا کرنے میں مدد گارہ ہوتے ہیں، ان دونوں کا تعلق پہلو دار ہے۔
جب انسان کا حال درست ہوتا ہے تو وہ کائنات میں اپنے مقام کو پہچان لیتا ہے، یعنی یہ کہ وہ یہاں کس آزمائش میں رکھا گیا ہے۔ وہ یہ "محسوس کرنے" لگتا ہے کہ اس کی حقیقی پوزیشن اور کائنات اور بندوں کے ساتھ اس کا تعلق کیا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ حال درست ہوئے بنا وہ قلبی تناظر (perspective) قائم نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں انسان اپنے مقام کو پہچان کر اس پر راضی ہوجائے۔ جس شخص کا قلب گناہوں کا اثیر ہو وہ اپنے مقام کو نہیں پہچان سکتا کیونکہ گناہ کے نتیجے میں قلب پر غفلت کا سیاہ دھبہ پڑجاتا ہے، اور پورا قلب سیاہ ہوجاتا ہے، بالآخر توبہ کی توفیق سلب کرلی جاتی ہے۔ پس ادراک حقیقت کے لئے گناہوں سے توبہ لازم ہے۔ جب انسان اپنے مقام کو پہچان لیتا ہے تو شہوت و غضب کے میلانات کم یا ختم ہوجاتے ہیں۔ خوب جان لینا چائیے کہ مقام کو پہچان لینا محض کوئی فکری (intellectual) چیز نہیں ہے، یہ قلبی و فطری چیز ہے۔ یہ معاملہ صرف اس قدر نہیں ہے کہ کسی منطقی دلیل سے یہ ثابت کردیا جائے کہ خدا خالق ہے اور ہم مخلوق، بلکہ یہ جذبات و احساسات کو رزائل سے پاک کرکے عبدیت پر راضی ہونے کا معاملہ ہے۔
جب انسان کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ وہ اپنا مقام پہچان کر اس میں بلندی حاصل کرلے تو اب ایسا نفس مشاہدے کے قابل ہوجاتا ہے۔ فرد جب تک عبدیت پر راضی نہ ہوگا تو اس کا زاویہ نگاہ درست نہ ہوگا۔ اس غلط زاویہ نگاہ سے وہ جس بھی شے کا مشاہدہ کرے گا، غلط نتائج تک ہی پہنچے گا۔ ایسا نفس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی کائنات تخلیق کرنا چاہتا ہے، ایک ایسی کائنات جو اس کی خودی (شہوت و غضب) کی تسکین کا باعث بن سکے۔ خود اظہاری (self expression and creation) کی اسی جستجو کو موضوعیت (subjectivity) یعنی چیزوں کو اپنی ذات کے تناظر میں دیکھنا) کہتے ہیں۔ جان لو، معروضیت فنا (نفس مطمئنہ) کا نام ہے، چونکہ انسان فی الواقع عبد ہے، لہٰذا اس موضوعیت ہی میں معروضیت ہے۔ معروضیت کی بلند ترین سطح یہی ہے کہ انسان پوری طرح خدائی تناظر میں آجائے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کی ذات سراپا معروضیت (حق جیسا کہ وہ ہے جانچنے کا پیمانہ) ہوتی ہے کیونکہ وہ معروضیت (فنا) کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہوتا ہے۔ جو قلب طاہر نہیں وہ حقیقت سے آشنا نہیں ہوسکتا، اس کا غضب و شہوت اس کے نفس پر غالب ہوتے ہیں۔ معروضیت قلب کو غضب و شہوت سے پاک کرکے اسے تقوی و زہد کا مسکن بنا کر حاصل ہوتی ہے، عقلیت دماغی کے فروغ سے حاصل نہیں ہوتی۔ جس کا حال اور مقام جس قدر بلند ہوگا، اس کا مشاہدہ بھی اسی قدر معروضی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ امت میں کسی عالم و مجتہد کے محض علم کی بنیاد پر اس کے افکار کو قبولیت حاصل نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے حال کو بھی دیکھا جاتا ہے۔ جس کا حال درست نہ ہو، اس کا علم (مشاہدہ) بھی لائق اعتبار نہیں سمجھا جاتا۔
پس نیت، حال، مقام اور مشاہدہ تعمیر نفس و اصلاح نفس کے بنیادی عناصر ہیں۔ "اصلاح نفس" فی الحقیقت "تعیین نفس" کا ہی عنوان ہے۔ پس جس قدر ہم نفوس کی اصلاح کرپائیں گے، اسی قدر ہم انہیں کلام الٰہی سے اکتساب فیض کے لائق بنا پائیں گے۔ یہ امید رکھنا کہ نفس کی چاہت تو آزادی ہی ہو مگر وہ کلام الٰہی سے اکتساب کے لائق بھی ہو، یہ ممکن نہیں۔ کہنے کا مطلب یہ کہ نفس سے متعلق مغربی مفروضات و افکار کے اندر رہتے ہوئے یہ ممکن نہیں کہ نفس کو کلام الٰہی کا مخاطب بنا کر اس کی طرف راغب کیا جاسکے۔ ایسا نفس کلام الٰہی میں نہیں، صرف خواہشات کی تسکین میں معنویت تلاش کرتا ہے۔
پس معلوم ہوا کہ لسانیاتی مباحث کے تناظر میں الہامی کتب کو بے معنی ثابت کرنے کی فکر نفس انسانی سے متعلق اس وجودیاتی مفروضے پر مبنی ہیں کہ نفس انسانی نہ تو کچھ ہے اور نہ ہی خود کو جان سکتا ہے، یہ مسلسل ہوتا رہتا ہے۔ اس فلسفیانہ مفروضے کی نہ تو کوئی قطعی منصوص دلیل ہے اور نہ ہی کوئی عقلی، اس کے حق میں زیادہ سے زیادہ چند استقرائی نظائر پیش کیے جاسکتے ہیں۔ اس دنیا میں اربوں انسان نہ صرف یہ کہ ہر روز اپنے ہم عصر لوگوں سے ہم کلام "ہوتے ہیں" بلکہ ماضی کے لوگوں کے کلام اور افکار کو بھی ٹھیک ٹھیک "سمجھ لیتے ہیں"، اتنا ہی نہیں بلکہ اپنے اور انکے افکار کا ٹھیک ٹھیک موازنہ بھی کرلیتے ہیں، یہ نہایت سادہ سی حقیقت اپنے اندر اشتراک نفس سے متعلق بہت سے معانی سمیٹے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا نہ کہ nothingness پر، انسانیت کا آغاز جہالت سے نہیں بلکہ ایسی برگزیدہ شخصیت سے ہوا جسے اللہ تعالیٰ نے اسماء اور معانی کا علم سکھایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہائیڈیگر کا وجودیاتی مفروضہ ایسے انسان پر غور و فکر کا نتیجہ ہے جس کا رابطہ اپنے رب سے کٹ چکا ہے، وہ کسی نامعلوم وجہ سے دنیا میں پھینک دیے جانے (Throwness) کی کیفیت کا شکار ہو کر اضطرار سے دوچار ہے۔ ایسا نفس مضطرر اصلاح کا موضوع ہے نہ کہ معانی کے تعین میں پیمانہ بن جانے کا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
دیوبند کا ایک علمی سفر
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
دارالعلوم دیوبند ہندوستان کے مسلمانوں کا دھڑکتاہوا دل ہے۔ وہ ازہر ہند کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ راقم السطور نے اس سے قبل بھی تین مرتبہ دیوبند کا سفر کیاہے۔سب سے پہلا سفر زمانہ طالب علمی میں آج سے کوئی 20سال پہلے کیاتھا جس کی کوئی خاص بات یاد نہیں۔ بس اتنایادہے کہ بعض دوستوں کے ساتھ مولانا سعیداحمد پالن پوری کے درس ترمذی میں شرکت کی تھی جس کا ان دنوں شہرہ تھا۔ ایک سفرکسی استفتاء کی خاطر، اور ایک بعض کتابوں کی خریداری کے لیے ہواتھا کیونکہ دیوبند ہند و ستان میں اردو وعربی میں علمی کتابوں کی سب سے بڑی اورسستی مارکیٹ بھی ہے۔ بہر حال میرے اِس سفر کی غرض وغایت مسلم یونیورسٹی کے فارغین مدارس کے لیے شروع کیے گئے برج کورس (Bridge Course) کے سلسلہ میں دیوبند کے علماء ،اساتذہ ومشاہیر کے تاثرات وخیالات سے آگاہی حاصل کرنی تھی۔
یادرہے کہ مذکورہ برج کورس میں فارغین مدراس کو ایک سال عصری علوم:سیاسیات، سائنس، جغرافیہ، تاریخ، سماجیات، معاشیات، انگریزی زبان وادب اور انٹر فیتھ وانٹرا فیتھ ڈائلاگ(بین المذاہب اوربین المسالک مفاہمت) وغیرہ پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے بعدیو نیورسٹی اِن طلبہ کو Senior Secondry کا سر ٹیفکیٹ دیتی ہے اوروہ یونیورسٹی کی Main Streamمیں Arts sideکے کسی بھی شعبہ میں B.Aکرنے کے مجاز ہوجاتے ہیں۔ فی الحال اس کورس کا تیسرا بیچ کامیابی کے ساتھ چل رہاہے۔ اس کورس کا عموماً استقبال کیاگیا۔ بڑی تعداد میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اورجماعت اسلامی کے اداروں سے طلبہ یہاں آئے اوراب وہ ملک کی ممتازیونیورسٹیوں جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ ہمدرد جے این یو اورخود مسلم نیورسٹی علی گڑھ میں مختلف مضامین میں اعلیٰ تعلیمی مراحل طے کررہے ہیں۔ تاہم مسلمانوں کا عمومی مزاج منفی ہے۔ عصری آگہی اورمنفی کو مثبت میں بدلنے کا فن ان کو نہیں آتا جس کی وجہ سے عام طورپر یہ ہوتاہے کہ شروع میں ہر نئی آواز پر لبیک کہتے اورہر نئی تحریک کی طرف لپکتے ہیں، پھر جلد ہی شکوے وشکایت شروع ہوجاتے ہیں۔اخبارات ورسائل میں منفی ورکیک تبصرے کیے جاتے ہیں اورپھر وہ چیز سردمہری کا شکارہوجاتی ہے۔ گویا
چلتاہوں تھوڑی دیر ہر اک راہروکے ساتھ
پہچانتانہیں ہوں ابھی راہبر کو میں
والامعاملہ ہے۔ ایسا ہی کچھ ان دنوں برج کورس کے ساتھ ہورہاہے۔ بعض منفی ذہن کے عناصر کا’’ دین وایمان‘‘ صرف اس لیے خطرہ میں پڑگیاہے کہ برج کورس کے نظریہ ساز محرک اورعلمی اور عملی ڈائریکٹر پروفیسر راشد شاز ہیں۔ ڈاکٹر راشدشاز کے قرآن، سنت فقہ وتصوف اوراسلامی فکر کے سلسلہ میں اپنے خیالا ت ہیں،ان کی اپنی تحقیق ہے جو انہوں نے وسیع مطالعہ کی بنیاد پر قائم کی ہے۔ کسی کو ان کے خیالات، فکر اوران کے دلائل سے اختلاف ہو سکتا ہے اوراختلاف کیاجانا چاہیے، مگر اس اختلاف کو علمی اختلاف کی ہی حد تک رکھاجانا اور برج کورس کو پروفیسر شاز کی شخصیت وفکر سے الگ کرکے دیکھا جاناچاہیے تھا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ یونیورسٹی کے اندر وباہر بڑے پیمانے پر اس کے خلاف فضا بنائی گئی۔ علی گڑھ ہی کے ایک صاحب اب مختلف مدارس ومراکز افتاء سے شاز صاحب کے خلاف تکفیر کی مہم چلارہے ہیں، بعض اکابر ومحترم شخصیات کا کھلاتعاون بھی ان کو حاصل ہے۔ فالی اللہ المشتکی۔
بہر حال ۲۹ مارچ کو راقم نئی دہلی سے بذریعہ جالندھر امرتسر ایکسپریس روانہ ہوکر دیوبند اترا۔ مولانا صدرِعالم قاسمی صاحب کو فون کرلیاتھا۔ دیوبندکے مہمان خانے میں دوگھنٹہ رکارہا۔ یاد رہے دارالعلوم دیوبند کا مہمان خانہ بہت کشادہ ہے اورہرروز پچاسوں مہمان یہاںآتے ہیں، پورے ملک کے مدارس میں یہ اس کی بڑی خصوصیت ہے۔اس کے بعد مولانا صدرعالم قاسمی آگئے اورباصرار مجھ کو اپنی قیام گاہ پر لے گئے۔ ان کو میرے بارے میں رفیق محترم ڈاکٹر وارث مظہری نے ازراہ کرم فون کر کے اطلاع دے دی تھی۔ اس کے بعد سے تین دن تک انہیں کی میز بانی سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ مولانا صدرعالم بہترین علمی ذوق رکھتے ہیں۔ ان کی دوروم والی قیام گاہ کتابوں سے بھری تھی جس میں علوم اسلامیہ کے مصادر ومراجع کی کثرت تھی۔
دوسرے دن علی الصباح ناشتہ کے بعد اساتذہ سے ملاقات کے لیے نکلے۔ دفتر اہتمام میں مولانا، محمد شاہد قاسمی نگراں درالاقامہ دیوبند نے پہلے برج کورس کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ ان کا کہناتھا کہ برج کورس فی نفسہ طلبہ کے لیے بہت مفید ہے، لیکن ڈاکٹرراشد شاز صاحب کے بارے میں جو معلومات ہیں، اس کے لحاظ سے وہ کوئی صحیح عقیدہ کے آدمی نہیں معلوم ہوتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح مولانا آزاد قومی اردو یونیورسٹی نے اپنے ریجنل سنٹرز کھول رکھے ہیں اوردیوبند میں بھی ان کا ایک سینٹر ہے۔ اسی طرح برج کورس بھی اپنا ایک مقامی سینٹر یہاں کھول دے۔ اسی طرح جامعۃ الشیخ کے ایک استاد مولانا عباداللہ نے رائے دی کہ دیوبند میں مناسب مقامات پر برج کورس کے اعلانات آویزاں کیے جائیں تاکہ طلبہ کو زیادہ سے زیادہ معلومات مل سکے۔ دارالعلوم کے شعبہ کمپیوٹر وشعبہ نشرواشاعت میں پہنچے۔ جہاں اس شعبہ کے سربراہ جناب عبدالسلام قاسمی صاحب سے تفصیلی بات چیت ہوئی، وہیں پر دارالعلوم کے میڈیا انچارج جناب اشرف عثمانی دیوبندی بھی موجود تھے (جو راشٹریہ سہارا روزنامہ سے بھی وابستہ ہیں)۔مؤخر الذکر نے پروفیسر شاز کی جم کر تنقید ومذمت کی اورصاف صاف کہہ دیا کہ جب تک ڈاکٹر شاز وہاں موجود ہیں، ہم اس کورس کی مخالفت جاری رکھیں گے۔ بہر حال ان کے ہاں سے نکل کر مدیرتعلیمات اورسینئر استاد حدیث مولانا عبدالخالق سنبھلی کے دفتر میں پہنچے۔آپ نے سکون سے ہماری معروضات سنیں۔اس کے بعد فرمایا کہ مسلم یونیورسٹی باضابطہ اپنے لیٹرپیڈپر ہمیں اس کورس کے بارے میں لکھ کر دے، تبھی ہم اس کے بارے میں کچھ کہہ سکیں گے۔
مولانا کے پاس سے اٹھ کر دورہ کے ایک طالب علم کے ساتھ جوبرج کورس کے بارے میں زیادہ دلچسپی لے رہے تھے، مولانا عبدالخالق مدراسی صاحب کے ہاں پہنچے جو نائب مہتمم ہیں اور سینئر استاد ہیں۔ یاد رہے کہ مہتمم دارالعلوم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی بنارسی اس وقت ملک سے باہر عمرہ کے مبارک سفر پرگئے ہوئے تھے۔مولانا عبدالخالق نے ہماری باتیں اطمینان سے سنیں اور دیر تک پرلطف گفتگو فرمائی۔ ان کے جوابات کا خلاصہ یہ تھاکہ ڈاکٹر راشد شاز یا برج کورس کے بارے میں ہماری معلومات براہ راست نہیں، اخباری رپورٹوں اورسنی سنائی باتوں پر مشتمل ہیں۔ ہمارے اساتذہ ان کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتے۔ جوباتیں اب تک معلوم ہوئی ہیں، وہ بڑی تشویش ناک ہیں۔ ان کو ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ تو نہیں بنانا چاہیے تھا۔ جہاں تک فی نفسہ کورس کی بات ہے، ہم نہ اس کی مخالفت کرتے ہیں نہ طلبہ کو وہاں جانے سے روکتے ہیں، لیکن اس کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کرتے، کیونکہ ہمارے مقاصد بالکل الگ ہیں۔ہمارا احساس ہے کہ جوطلبہ کالج ویونیورسٹیوں میں گئے ہیں، انہوں نے مجموعی طورپر ملت کو کچھ خاص نہیں دیاہے۔ یونیورسٹی میں جاکر آدمی اپنی ذات میں گم ہوجاتاہے۔ وہاں Competition اس طرح کا ہے کہ آدمی خدمت دین وملت کا جذبہ رکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرپاتا اورختم ہوکررہ جاتاہے۔ ہم نے عرض کیا کیاکہ دارالعلوم نے شعبہ انگریزی کھولاہے۔ یہ بہت خوش آئند قدم ہے، مگر اس میں تخصص کے صرف 20طلبہ لیے جاتے ہیں(جومجموعی نمبرات میں 70 فیصد حاصل کرلیتے ہوں)۔ بقیہ عام طلبہ کو کیوں انگریزی سے محروم رکھاجارہاہے؟اس کے جواب میں مولانا نے جو منطق پیش کی، وہ بہت عجیب تھی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند میں انگریزی عام بول چال کی زبان ہے۔ وہ دوسرے فرقوں کے لوگ جلسوں میں انگریزی میں تقریر کرکے لوگوں کے ذہن بگاڑتے ہیں، اس لیے جنوب کے لوگوں نے ہم سے کہا کہ آپ ہمیں ایسے قاسمی طلبہ دیجیے جو انگریزی میں تقریر کرسکیں، اس لیے ہم نے اس ضرورت کو پوراکرنے کے لیے محدود پیمانہ پریہ شعبہ شروع کیاہے۔
یہاں برسبیل تذکرہ یہ بتانا بے محل نہ ہوگاکہ دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ اوردہلی یونیورسٹی میں گئے اس شعبہ کے چند استادوں کو ہم نے دیکھاہے جن کی انگریزی تو بہت اچھی ہے، لیکن ان کو عصری آگہی بالکل حاصل نہیں ہوئی ۔ اس لیے صرف انگریزی سیکھ لینا یا سکھادینا مسئلہ کا حل نہیں ہے جیساکہ بدقسمتی سے دارالعلوم دیوبند کے اربابِ حل وعقد سمجھتے ہیں اوراس سے زمانہ کی وہ معرفت حاصل نہیں ہوجاتی جس کو امام محمد نے یوں کہاتھا کہ ’من لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل‘۔ (جس کوزمانہ کی معرفت حاصل نہیں، وہ عالم کہلانے کا حقدارنہیں)۔
بہر حال ان کے پاس سے نکل کر ہم لوگ دارالعلوم کی کتابوں کی مارکیٹ دیکھنے نکل گئے۔ اس مارکیٹ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں بہت سستی کتابیں مل جاتی ہیں۔ جو کتاب آپ کو دہلی یا کسی دوسرے شہر میں پانچ سو میں ملے گی، وہ دیوبندمیں صرف ایک سو میں مل جائے گی۔ دوسری چیز یہ ہے کہ دیوبند کی کتاب مارکیٹ میں عربی اردو کتابوں پر مرتکز ہے جو زیادہ تردرس کتب کی کی شرو ح، حواشی، حواشی کے حواشی اوران کتابوں کے ترجموں وکلیدوں پرمبنی ہے۔ درس نظامی ہویا ندوہ کا نصاب، مارکیٹ کے استادانِ فن نے ان کی کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ بابڑی سی بڑی کتاب بھی بغیرترجمہ کے نہیں چھوڑی ہے۔ اونچی کتابوں کی توچھوڑیئے منہاج العربیہ اورالقراء ۃ الواضحہ جیسی ابتدائی کتابوں کے ترجمے بھی بکثرت اوربآسانی دستیاب ہیں۔ یہاں تقریروں اورخطابات کی کتابیں بھی بکثرت ملتی ہیں۔اسی طرح ملفوظات ومواعظ کی بھی۔ البتہ ایک اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ عالم عرب کے مشہور مکتبات(قاہرہ، بیروت، دمشق اورسعودی عرب قطر وکویت)کی عربی واسلامی علوم : علوم القرآن، علوم الحدیث، تفسیر ، ادب، شروحات وغیرہ اب سب دیوبند کے بڑے کتب خانوں میں بھی دستیاب ہیں۔ بیرون ہند سے اگر آپ کو تہذیب التہذیب کا سیٹ پچیس ہزار ہندی روپے میں حاصل ہوگا تو دیوبند وسہارنپور کے مکتبات میں اُسے آپ نو یا دس ہزار روپے میں حاصل کرسکتے ہیں۔ اس چیز سے اہل علم کو بڑی سہولت فراہم ہوگئی ہے۔
آج کل دیوبند انگریزی عربی بول چال، انگریزی عربی ڈکشنریوں اورترجمہ وانشاء سکھانے والی کتابوں کا بھی بڑازورہے۔پہلے دارالعلوم میں جدید عربی پر توجہ نہیں تھی مگر استاذمولانا وحیدالزماں کیرانوی مرحوم عربی زبان کے عاشق صادق تھے۔ انہوں نے بڑی جدوجہد ومحنت سے ایسے تلامذہ پیداکر دیے تھے جو آج اس ذوق کو طلبہ میں جلا دے رہے ہیں جس طرح کہ علامہ انورشاہ کشمیری کے تلامذہ کا ایک مخصوص علمی ذوق ہواکرتاتھا اوران میں سے ہر شخص اپنی جگہ مرجع ہوتا تھا، مثلاً علامہ یوسف بنوری، مولاناسعید احمد اکبرآبادی، مفتی عتیق الرحمن عثمانی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی وغیرہم۔ ایک چیز یہ بھی مشاہدہ میں آئی کہ دیوبندمیں جگہ جگہ انگریزی وکمپیوٹر سکھانے والے سنٹراورکوچنگ مراکز کھل گئے ہیں جن میں طلبہ اپنے شوق سے یہ چیزیں سیکھ رہے ہیں۔
کتاب لاتحزن
شخصیت کے ارتقاء پر انگریزی میں ڈیل کا رنیگی بہت مشہور مصنف ہے۔ اردو عربی میں اس موضوع پر کوئی خاص کتاب نہ تھی۔ تقریباًایک دہائی قبل سعودی عرب کے مشہور مصنف شیخ عائض القرنی نے لاتحزن کے نام سے ایک کتاب لکھی جو عالم عرب کی اس وقت مقبول ترین کتاب ہے۔ کوئی بک اسٹور اورکتب خانہ اس سے خالی نہیں یہ کتاب ملینوں میں چھپتی اوربکتی ہے۔ اردو میں راقم نے اس کا ترجمہ’’ غم نہ کریں‘‘ کے نام سے کئی سال پہلے کیاتھا جو ریاض کے مشہور ناشر الدارالعالمی للکتاب الاسلامی نے کرایاتھا۔ کتاب قرآن وحدیث، اقوال سلف ، شخصی تجربات وامکاناتِ زندگی کا نچوڑہے۔ اصل کتاب کے ساتھ اس کے اردو ترجمہ کو بھی حیرت انگیز مقبولیت ملی ہے۔ حیدرآباد(انڈیا) کے کثیر الاشاعت روزنامہ منصف نے اس کے اردو ترجمہ کو تقریباًڈیڑھ سال تک بالاقساط مکمل شائع کیا ۔اس کے علاوہ اصل ناشر( الدارالعالمی ریاض)کے علاوہ پاکستان میں لاہور کے مکتبہ قاسم العلوم نے اوردہلی کے ناشروں کے علاوہ دیوبند کے مکتبہ یو سفیہ نے شائع کررکھی ہے۔ طلبہ وعوام بھی اس پر ٹوٹے پڑتے ہیں۔ بہت سے طلبہ و اساتذہ نے راقم کا غطریف شہباز سنتے ہی کہا: لاتحزن کے مترجم؟ یوں حیرت انگیز طورپر دوردورتک یہ ترجمہ خاکسار کے تعارف کا ذریعہ بن گیاہے، حالانکہ مترجم نے خود اس کتاب کوبہت زیادہ اہمیت نہیں دی تھی کیونکہ اس کا اصل ذوق علمی، فکری اورتحقیقی کتابیں پڑھنے کا ہے۔
دیوبند کے ایک معروف مصنف اس وقت مولانا ندیم الواجدی ہیں میں جو ایک بڑے کتب خانہ کے مالک، متعدد کتابوں کے مصنف اورماہنامہ ترجمان دیوبند کے مدیر ہیں۔اس کے علاوہ لڑکیوں کی دینی تعلیم کا ایک ادارہ دارلعلوم عائشہ صدیقہ للبنات بھی چلاتے ہیں۔ آپ کے صاحبزادہ مولانا یاسر ندیم دیوبندی نے دیوبند دارالعلوم سے فراغت کے بعد انہوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا اورپھر امریکہ کی ایک دانش گاہ سے بھی اکتساب فیض کیا ہے۔ مولانا ندیم الواجدی نے راقم کا نام سنتے ہی پہچان لیا اوربڑے تپاک سے ملے۔ ضروری تواضع کے بعد راقم نے ان سے برج کورس کی افادیت کے بارے میں ان کے تاثرات معلوم کیے مولانا ندیم الواجدی نے فرمایا:دینی مدارس کے فارغین کے لیے یہ کورس نہایت مفید ہے۔ اس کی افادیت میں کوئی شبہ نہیں ، البتہ اس کے ڈائرکٹر پروفیسر راشد شاز کی شخصیت متنازعہ فیہ بن گئی ہے۔ یہی اصل مسئلہ ہے (حالانکہ میرے(واجدی کے) ان سے خوش گوارتعلقات ہیں)۔ اس کورس کا ذمہ دار متنازعہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے عرض کیا کہ جناب شاز صاحب اپنے فکر کو اس کورس سے بالکل الگ کرکے رکھتے ہیں۔ اس جواب سے وہ مطمئن ہوئے اورانہوں نے کہا کہ آئندہ بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ برج کورس میں Science Stream کے آغاز اورپھر اس کو جاری نہ رکھ پانے کی مشکلات ہم نے ان کے گوش گزار کیں توانہوں نے کہا کہ برج کورس کو مدارس سے اس مسئلہ میں کسی مدد کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ دارالعلوم نے جنرل سائنس کے نام سے(اردومیں)سائنس پڑھانے کا ایک تجربہ شروع کیاتھا جو جاری نہیں رہ سکا۔ اصل میں مولانا ارشدمدنی سابق مدیر تعلیمات دارالعلوم دیوبندوسینئر استاد حدیث اورجمعیۃ العلماء (ارشد گروپ) کے صدر اس چیز کے سخت خلاف ہیں اورجب تک وہ اس کے قائل نہ ہوں، یہاں کوئی بھی کچھ سننے کاروادارنہ ہوگا۔
اس کے بعد ہم نے مولانا شاہ عالم قاسمی گورکھپوری کے مکان کا قصد کیا۔ مولانا سے ملنے کے اشتیاق کی خاص وجہ یہ تھی کہ انہوں نے تفسیر قرآن کی ایک ویب سائٹ ڈیولپ کی ہے جس میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور جماعت اسلامی سبھی مکاتب فکر کی تفسیریں اورقرآن سے متعلق اورخدمات جمع کردی ہیں۔ یہ ایک مثبت ، خوش آئند اور تعمیری کام ہے۔ برج کورس کے بارے میں ان کے تاثرات جاننے کے علاوہ راقم کے ذہن میں یہ بھی سوال تھا کہ مکتب فراہی کی تفسیری خدمات بھی ان کی ویب سائٹ کا حصہ بنیں گی یا نہیں ۔اگر نہیں تو اس کی وجوہات کیاہیں؟ کہ برصغیر میں اس مکتب فکر کی خدمات کا ذکر کیے بغیر کوئی بھی فہرست ؍سائٹ ادھوری ہوگی۔لیکن افسوس کہ مولانا سے ملاقات نہ ہوسکی کیونکہ وہ لمبے سفر پر گئے ہوئے تھے۔ اسی طرح مولانا حبیب الرحمن اعظمی( استاد حدیث اورمدیر ماہنامہ ترجمان دارالعلوم (دارالعلوم کا سرکاری آرگن) سے ملاقات نہ ہوسکنے کا قلق بھی بھی رہا۔ موصوف بھی سفر پر گئے ہوئے تھے۔
مولانا پالن پوری کی خدمت میں
موجودہ وقت میں دارالعلوم دیوبند کی سب سے مشہور علمی شخصیت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری ہیں جو دارالعلوم کے شیخ الحدیث ہیں۔ وہ دارالعلوم میں گزشتہ 40سالوں سے حدیث کا درس دے رہے ہیں۔ حجۃ اللہ البالغہ کی اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعہ کے مؤلف ہیں جو علمی دنیا میں خاصی معروف ہے۔ اس کے علاوہ موصوف کے اوربھی فقہی وحدیثی کارنامے معروف ہیں۔ان کے خادم خاص مولانا اشتیاق احمد قاسمی نے بتایا کہ مولانا کی کتابوں کی طلب غیر ممالک میں بہت زیادہ ہے۔ اس وقت دارالعلوم سے ان کی تنخواہ تیس ہزار روپے مقرر ہے، مگر وہ تنخواہ نہیں لیتے بلکہ اپنی کتابوں کی یافت پرگزربسر کرتے ہیں۔ رضا کارانہ خدمات انجام دینا آج کی دنیا میں بہت بڑی بات ہے۔ مولانااشتیاق عالم نے راقم کی عربی تحریریں البعث الاسلامی میں پڑھی ہیں۔انہوں نے بتایاکہ میںآپ سے بہت متاثرہوں مگراسی بے تکلفی میں انہوں نے میری ڈاڑھی کی خبربھی لے لی۔
خیر،مولانا پالن پوری کی عام مجلس عصرتامغرب روزانہ لگتی ہے جس میں کثرت سے استاد، زائرین اورطلبہ حاضر ہوتے ہیں۔ راقم بھی مولانا صدرعالم کے ساتھ آپ کی مجلس میں حاضر ہوا۔ سلام کے بعد جیسے ہی اندرداخل ہوئے، مولانا نے فوراً تاڑ لیاکہ باہر کابندہ ہے۔پوچھا، کہاں سے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا، دہلی سے۔ پوچھا، کیاکرتے ہیں؟ میں بتایا کہ میر اترجمہ وتالیف کا کام ہے اورصحافت سے بھی تعلق ہے۔ نیزبعض طلبہ کو انگریزی زبان اورعربی ادب بھی پڑھاتاہوں۔ مولانا کی طبیعت میں ظرافت بھی ہے۔ اسی وقت کہیں باہر سے ایک تبلیغی جماعت مصافحہ کے لیے آئی جس میں سب سے پہلے آنے والے عالم بہت تن وتوش والے تھے۔ مفتی صاحب چھوٹتے ہی بولے، ’’بہت موٹا مولوی ہے۔ اسی سے زیادہ گشت کرایا کرو۔‘‘ پوری مجلس زعفران زار ہوگئی۔ میں نے جگہ بنانے بناتے بناتے مولانا سے قریب جاکر کہا، حضرت ایک اشکال ذہن میں ہے کہ درس نظامی پر علامہ بنوری اورمولانا گیلانی نے شدید تنقید کی ہے، مگرہم اس میں کوئی تبدیلی نہیں لارہے ہیں؟ کہنے لگے۔ ’’میں بھی اس کا ناقد ہوں ، مگر مولانا بنوری کی تنقید مجھے پسند نہیں آئی۔ انہوں نے کاغذ بچانے اورازحداختصارسے کام لینے کاشکوہ کیاہے حالانکہ جواس درس کے مختصرمتون ہیں، وہ ازبر یاد کرنے کے لیے ہیں‘‘۔ ظاہر ہے یہ کہ اصل اشکال کاکوئی جواب نہیں تھا۔
میرے ہاتھ میں اس وقت کتاب ’’تناقضات الالبانی الواضحات‘‘ از حسن علی السقاف تھی۔ پوچھا، یہ کیاہے؟ میرے ہاتھ سے کتاب لے کر دیکھی اور پھر تبصرہ کیا۔ ’’ یہ عرب اب لکیر پیٹ رہے ہیں۔ مولانا (محدث) حبیب الرحمن اعظمیؒ نے ابتدا میں تناقضات الالبانی لکھ کر عربوں کو توجہ دلائی تھی۔ البانی نے بڑانقصان پہنچادیاہے۔ اب دوسو سال اس کی بھرپائی میں لگیں گے‘‘۔ اسی وقت مغرب کی اذان ہوگئی اوریوں مجلس برخواست ہوگئی ۔ ظاہر ہے کہ مولانا کا البانیؒ صاحب پر سخت تبصرہ اوران کی زبان مولانا کی شایان شان نہ تھی۔ علمی اختلاف اپنی جگہ، لیکن خدمات کا اعتراف کیاجانا چاہیے۔ ویسے البانی صاحب کی زبان بھی اپنے ناقدوں کے لیے ویسی ہی شدید اورتندتھی چنانچہ وہ شیخ عبدالفتاح ابو غدہ اوران کے استاد علامہ زاہد الکوثری کے لیے الظالم الجائر الجانی جیسے شدید الفاظ استعمال کرتے تھے۔ میرے والد علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھیؒ نے بھی ائمہ رواۃ حدیث کے لیے سخت الفاظ لکھے ہیں جو مناسب نہ تھا۔
دارالعلوم دیوبندمیں کئی مسجدیں ہیں جن میں سب سے زیادہ خوبصورت اوروسیع مسجدرشیدہے جوایک نئی مسجدہے اور غالباً دہلی کی تاریخی جامع مسجدکے بعدہندوستان کی سب سے بڑی اورخوبصورت مسجدہے۔اس کے علاوہ دارالعلوم کی لائبریری کی بھی چھہ منزلہ کشارہ عمارت بن رہی ہے ۔ہندوستان کے مدارس اسلامیہ اوراسلامی علمی مراکز میں دارالعلوم کی لائبریری اپنی کثیرکتابوں اور اپنے علمی مخطوطات کے لیے مشہورہے۔ البتہ طلبہ کی اقامت گاہیں ابھی بہت اچھی حالت میں نہیں ہیں۔اس سلسلہ میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کی ہاسٹل سہولیات کہیں زیادہ بہترہیں۔
جامعہ امام انور شاہ میں:
دیوبند کا تیسرابڑاادارہ جامعہ امام محمد انور ہے جسے علامہ انور شاہ کشمیری کی یاد میں ان کے فرزنداصغر مولانا انظر شاہ کشمیریؒ نے قائم کیاتھا۔ مولانا بڑے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ عظیم خطیب اورالبیلے نثر نگار بھی تھے۔ عصر حاضر کے تقاضوں سے آشنا اورمیدان سیاست کے شہسوار بھی۔چنانچہ آپ کانگریس کی یوپی شاخ کے صدر بھی رہے۔ مدارس اسلامیہ کے نصاب میں تبدیلی کو ضروری جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جامعہ امام انور میں نصاب تعلیم میں خاصی انقلابی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس وقت مولانا انظر شاہ صاحب کے صاحبزادے مولانا احمد خضر شاہ مسعودی اس ادارہ کے سربراہ ہیں۔ادارہ کے استاد مولانا وصی احمد قاسمی نے راقم کی کتاب’’عالم اسلام کے چند مشاہیر سوانح وافکار کا مطالعہ‘‘ طلب کی تھی، چنانچہ بعد مغرب راقم نے مولانا صدرعالم کی ہمراہی میں جامعہ کی راہ لی۔ مولانا وصی احمد سے خاصی دیر مختلف امور پر تبادلۂ خیال رہا۔ پھر آپ نے جامعہ کے اہم شعبے دکھائے۔اُنہی سے مولانا احمد خضر شاہ کا نمبر لیا اوران سے فون پر بات ہوئی۔ مولانا نے دوسرے دن سات بجے ناشتہ پر بلایا۔ چنانچہ راقم سطور حاضر ہوا اور مولانا کے ساتھ ناشتہ کی میز پر مختصر سوال جواب کیے۔ آپ نے عربی میں تازہ بتازہ شائع ہوئی کتاب مختارات الامام الکشمیری تحفہ میں عنایت فرمائی۔
دارالعلوم وقف میں
مولانا احمد خضر شاہ صاحب سے ملاقات کے بعد طے شدہ پروگرام کے مطابق دارالعلوم وقف میں حاضر ی ہوئی۔ وہاں مہتم دارالعلوم وقف مولانا سفیان القاسمی کے بیٹے جناب مولانا شکیب القاسمی سے ملاقات ہوئی جنہوں نے دارالعلوم دیوبند سے فضلیت کے بعد جامعہ ازہر مصر اورملیشیا کی انٹرنیشنل یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ انہوں نے حجۃ الاسلام اکیڈمی سے عربی میں وحدۃ الامۃ کے نام سے ایک تحقیقی مجلہ اوراردو میں ندائے دارالعلوم وقف (ماہنامہ)نکالنا شروع کیاہے۔ شکیب صاحب مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے سینٹر برائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانانِ ہند (CEPECAMI) کی مسلم امت کا فکری بحران کا نفرنس میں شرکت کرچکے ہیں۔برج کورس کے سلسلہ میں راقم کے سوالوں کے جواب میں انہوں نے جوباتیں کہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے: برج کورس سے کسی کو پریشانی نہیں۔ مولانا آزاد یونیورسٹی بھی برج کورس کئی سارے Streamsمیں لارہی ہے۔ اہل مدارس کو اسے قبول کرنے میں کوئی تحفظ نہیں۔ ہمیں جو تحفظ ہے، وہ صرف ڈاکٹر شاز کی فکر سے ہے۔ ہم نے تو ان کی فکر کا براہ راست مطالعہ کرناچاہا۔ سوالات مرتب کرکے ان کے پاس بھیجے، مگر انہوں نے کوئی Responseنہیں دیا۔ انٹرفیتھ اورانٹرافیتھ کے ذریعہ مفاہمت پیداہورہی ہے، وہ اچھی چیز ہے۔ یونیورسٹی میں تویہ ہوتاہی ہے۔ اس میں برج کورس کی کوئی تخصیص نہیں۔ سائنس کی مبادیات کو یوں متعارف کرایاجاسکتاہے کہ اس کے لیے ایک ڈپلوما کورس مدارس میں اصل نصا ب کو چھیڑے بغیر شروع کیاجائے۔ اوراس کا جوکورس بنایاجائے، اس میں ماہرین کے ساتھ علماء کو بھی شامل کیاجائے۔ بہر حال بڑے خوش گوار ماحول میں گفتگوہوئی۔
اتحاد الطلبہ حیدرآباد میں
دارالعلوم میں اس وقت سال کے اخیر میں طلبائی انجمنوں کے پروگرام چل رہے تھے۔ دارالعلوم میں مختلف علاقوں شخصیات اورشہروں کے ناموں پر طلبائی انجمنیں ہیں۔ مولانا صدرعالم قاسمی کو حیدرآباد کے طلبہ نے اپنے پروگرام میں شرکت کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔ وہیں ان طلبہ سے میراتعارف بحیثیت مترجم لاتحزن کے صدرعالم صاحب نے کرادیا۔ پھر توطلبہ مصر ہوگئے چنانچہ رات میں بعد عشا میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ طلباء نے مختلف پروگراموں کے ساتھ ایک مکالمہ (ڈرامہ) بھی پیش کیا جس میں کرکٹ کے نقصانات کو دکھایاگیا تھا۔ ڈرامہ حیدر آباد کی اردو (مقامی بولی) میں تھا، اس لیے سامعین خوب محظوظ ہوئے۔ صدارت دارالعلوم کے صدرمفتی مولانا حبیب الرحمن خیرآبادی نے کی۔ اخیر میں مجھ سے بھی بحیثیت مترجم لاتحزن کے طلبہ کو خطاب کرنے کی دعوت دی گئی۔ چنانچہ دس منٹ کی مختصر تقریر میں راقم نے تحریک دیوبند کی خدمات موجودہ دور کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ضروری صلاحیتوں کے حصول پر روشنی ڈالی۔ علی الصباح دیوبند سے واپسی ہوگئی۔ دیوبند کے مختلف اداروں کے موجودہ نصابہائے تعلیم بھی میں نے جمع کرلیے تھے جن کے مطالعہ، اپنے مشاہدے اورعلماء سے گفتگو کے بعد دوسوال ایسے ہیں جن کا جواب دیاجانا باقی ہے۔
۱۔ مختلف امور میں دینیرہنمائی کے لیے ضروری ہے کہ زمانہ کافہم بھی حاصل کیا جائے۔ موجودہ سائنس، اس کی فکریات، موجودہ نظام معیشت اورنظام سیاست وغیرہ اس کا ذریعہ ہیں اورجن کوبغیر ضروری سیکولر علوم داخل کیے نہیں سمجھاجاسکتا توآخر ہمارے مدارس کو ان کے سلسلہ میں شدید تحفظ کیوں ہے؟
۲۔ درس نظامی کے ناقدین کہتے ہیں کہ ابتداء میں یہ دینی کم، سیکولر زیادہ تھا۔ خوددارالعلوم میں جو نصاب شروع میں اختیار کیاگیا، اس میں بھی سیکولر علوم (آلیہ) کا حصہ بہت زیادہ تھا مگر آج اس پہلے نصاب کی طرف مراجعت کی کوئی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی جاتی حالانکہ خود متعدد دیوبندی اکابر مثلاً علامہ یوسف بنوری اورمولانامناظراحسن گیلانی نے مروجہ درس نظامی پر سخت تنقیدیں کی ہیں؟
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
مجھے نہ معلوم کیسے شروع سے یہ احساس تھا کہ پاکستان بر صغیر میں اسلام کی بقا کے باعث وجود میں آیا۔انگریزی انتداب کے بعد جس طبقے نے اسے سپین ہونے سے بچایا، حقیقتاً وہی لوگ اس ملک کے خالق ہیں اور اس کا نظم چلانے کے اولیں مستحق بھی۔ لیکن تاریخی ارتقا کے نتیجے میں ملکی نظم و نسق چلانے کے لیے کچھ مخصوص مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ مدارس کا ایک طبقہ تقسیم ملک کے بعد بھی اس ذہنی کیفیت سے نہیں نکل سکا جو غیر ملکی تسلط کے باعث پیدا ہوئی تھی اور ایک حد تک فطری اور نا گزیر تھی۔ دوسرا طبقہ ’’کنجے گرفت و ترس خدا را بہانہ ساخت‘‘ کا پیکر ہو گیا۔ ایسے میں ضرورت تھی کہ دینی طبقات کو ملکی نظام چلانے کی اہلیتوں کے حصول کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
اتفاق سے میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں تھا اور اوپن یونیورسٹی اصلاً ان لوگوں کے لیے بنائی گئی تھی جو کسی بھی وجہ سے باقاعدہ کالجز ؍یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تھے تاکہ اس یونیورسٹی کے ذریعے ان کے لیے تکمیلی تکنیکی فنی اور دیگر انواع کی تعلیم کا فاصلاتی طریق پر انتظام کیا جائے۔ میں نے سوچا کہ دینی مدارس کے طلبہ اپنی تعلیمی مصروفیات کے باعث رسمی تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف ہماری جامعات معمولی درجہ میں تفسیر، حدیث اور فقہ وغیرہ کی تعلیم دے کر ایم اے کی اسناد دیتی ہیں تو کیوں نہ یہ کیا جائے کہ دینی مدارس کے نصاب کو یونیورسٹی میں درجاتی کریڈٹ دیا جائے، مدارس کے اساتذہ کو یونیورسٹی ٹیوٹر مقرر کیا جائے اور دینی مدارس کے بعض متروک مضامین جو وقت کے تقاضوں کے مطابق ضروری ہیں، فاصلاتی طریقہ سے پڑھا دیے جائیں اور یونیورسٹی امتحان لے کر میٹرک سے پی ایچ ڈی تک ڈگری دیا کرے۔ مدارس کے نظم کو محفوظ رکھنے اور ان کا مالی تعاون کرنے کے لیے یہ بھی سوچا کہ طلبہ کے داخلے مدارس کے توسط سے کیے جائیں اور مدارس کے اساتذہ کو یونیورسٹی کا ٹیوٹر لگا کر ان کی آمدنی میں اضافے کی راہ نکالی جائے۔
یونیورسٹی اتھارٹیز اس پروگرام کے خلاف تھیں۔ ایسے میں مجھے باہر سے صرف مرحوم ڈاکٹر محمود غازی اور ڈاکٹر ایس ایم زمان کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ آخر بہت مشکل سے اتھارٹیز کو رضامند کرنے کے بعد میں نے مختلف وفاقوں اور مدارس سے رابطے کرنا شروع کیے۔ مجھے بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ وفاقوں کی طرف سے بھر پور یقین دہانی کرائی گئی، لیکن دیوبندی وفاق کو اس کی افادیت باور کروانے میں مجھے بہت وقت محنت اور وسائل خرچ کرنا پڑے۔ ایک سے زائد مرتبہ وفاق کے اجلاسوں میں بھی پروگروام پیش کیا۔ کراچی جاکر مولانا سلیم اللہ خان سے بھی ملاقات کی اور باقاعدہ ایک معاہدہ طے ہوا۔اس کے مطابق مجھے آٹھ نو ماہ کے بعد یہ پروگرام لانچ کر دینا تھا، لیکن ایک دن اچانک میرے آفس میں وفاق المدارس کے ایک نمائندہ وفد کے ارکان یکے بعد دیگرے آنا شروع ہو گئے۔ جب سب تشریف لا چکے تو میرے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ ہم اس لیے آئے ہیں کہ جو پروگرام ہمارے درمیان طے ہوا، اس پر فوراً اور اسی سمسٹر سے عمل در آمد کیا جائے۔ میں نے اپنی مشکلات اور یونیورسٹی کا طریق کار سب کچھ عرض کیا، لیکن وفد میں موجود استاذ گرامی قدر مولا نا نذیر احمد صاحب کی وجہ سے میں نے ہامی بھر لی اور قہر درویش بر جان خویش کے مصداق دن رات کام کر کے پروگرام شروع کر دیا۔ جب میرے پاس داخلوں کی تفصیل آئی تو معلوم ہوا کہ دیوبندی وفاق سے کوئی طالب علم داخل نہیں ہوا۔
مرے تھے جن کے لیے ۔۔۔
حیرت ہوئی۔ مولانا محمد زاہد سے معلوم کیا تو انہوں نے صرف یہ کہا کہ علماء کرام نے رجوع کرلیا ۔ بعد میں دیگر ذرائع سے معلوم ہوا کہ مولانا سلیم اللہ خان نے تمام مدارس کو ایک سرکلر جاری کر دیا تھا کہ طفیل ہاشمی کا پروگرام مدارس کے خلاف حکومت کی سازش ہے، اس میں کوئی طالب علم داخل نہ کروایا جائے۔ اگرچہ میرے پاس ثبوت کوئی نہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ یونیورسٹی کی جس میٹنگ میں یہ پروگرام منظور کیا گیا، اس وقت کے وفاقی سکریٹری ایجوکیشن بھی اس کے ممبر تھے۔ میٹنگ کے بعد انہوں نے تنہائی میں مجھے کہا ، یہ کیا کرنے جا رہے ہیں؟ مدرسوں کے مولوی اگر ڈگری لے کر سی ایس ایس کر کے بیورو کریسی میں آجائیں گے تو ہمارے بچے کہاں جائیں گے؟ میں نے انہیں جواب دیا کہ کہاں سی ایس ایس، بیچارے تعلیمی اداروں میں چلے جائیں تو بھی بسا غنیمت، لیکن وہ بہت منجھے ہوئے اور سینئر بیورو کریٹ تھے اور مستقبل کو دور تک دیکھ سکتے تھے۔ مجھے شبہ ہوتا ہے کہ مولانا سلیم اللہ خان تک سازش تھیور ی انہوں نے نہ پہنچائی ہو اور دیوبندی علماء سازش کے خوف کا بآسانی شکار ہو جاتے ہیں۔
اس حادثے کے نتیجے میں مختلف اہل علم اور اہل اللہ کے تقویٰ، دانش، کردار کی بلندی اور بے شمار خوبیوں سے متعارف ہو کر ایک نظریہ نہ بنانا میرے بس میں نہیں تھا۔
لاہور کے سیاست کدے
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ
لاہور کے بادامی باغ سے اگر آپ ریلوے اسٹیشن کی طرف جائیں تو دائیں جانب پہلے مستی گیٹ اور اس سے آگے شیرانوالہ گیٹ نظر آئے گا۔ اب تو ہجوم آبادی کے سبب لاہور کے سب تاریخی دروازوں کی طرح اس کا بھی حسن گہنا گیا ہے ۔ دروازے کے اندر داخل ہوں تو دائیں جانب وہ تاریخی مسجد شیرانوالہ گیٹ ہے جہاں پاکستان کی سیاست کے کئی اسرار ورموز دفن ہیں۔ یہ مسجد ایوب خاں اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلائی جانے والی بڑی بڑی تحریکوں کا مرکز رہی ہے۔ تحریک ریشمی رومال کے بانی مولانا عبید اللہ سندھی کے جانشین مولانا احمد علی لاہوری نے ایک عرصہ تک یہاں اللہ اور اللہ کے رسول کا پیغام لوگوں تک پہنچایا ۔ انہیں حقوق انسانی کی پاسداری کا سبق دیا اور فرنگی سامراج کے خلاف طویل عرصہ تک صبر آزما جدوجہد کی ۔پھر قیام پاکستان کے بعد حضرت لاہور ی جب ملک عدم کے راہی ہو گئے توفرنگی سامراج کی جگہ "دیسی سامراج"لے چکا تھا اور صرف گیارہ سال بعد ملک پر مارشل لاء کے سیاہ بادل چھا گئے اور جرنیلوں کی طویل رات کا آغاز ہوا ۔
ایوب خاں کے مارشل لاء کے دروان سیاسی راہنماؤں اور کارکنوں کو جدوجہد کے لیے لاہور میں جو ٹھکانے دستیاب تھے، جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ کا ان میں بڑا مقام تھا۔ مولانا عبید اللہ انور یہیں ہر جمعرات کو نماز مغرب کے بعد مجلس ذکر کا اہتمام کرتے جہاں دور دراز سے ان کے عقیدت مند شامل ہوتے ۔ ایوب خاں کے خلاف لاہور میں سب سے پہلا اور بڑا جلوس اسی جامع مسجد سے نکالا گیا جس میں پیپلز پارٹی کے شیخ رشید مرحوم کے علاوہ نیشنل عوامی پارٹی کے میاں محمود علی قصوری اور شیخ رفیق نے بھی شرکت کی ۔ میاں صاحب اور شیخ رفیق بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ۔ میاں صاحب وفاقی وزیر قانون اور شیخ رفیق پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور گورنر رہے۔ مولانا سمیت سب اسی جلوس سے گرفتار ہوئے۔ بعد میں انہیں کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا ۔ میری خوش قسمتی تھی کہ بہت چھوٹی عمر میں ہی ان ہستیوں کے ساتھ گرفتار ہوا اور کوٹ لکھپت جیل میں قید رہا ۔
ایوب خاں رخصت ہوا تو ایک اور جنرل، یحییٰ خاں سامنے کھڑا تھا، اپنا پورا جلال ودبدبہ اور قدوقامت لیے ہوئے۔ یحییٰ خاں نے ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات کا اعلان کیا تو مشرقی ومغربی پاکستان کے سیاسی حلقوں میں ایک لہر دوڈ گئی ۔ ہر سیاسی جماعت نے لنگر لنگوٹ کس کے اپنی اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں ۔ مشرقی پاکستان میں بلاشرکت غیرے شیخ مجیب الرحمان کی جماعت عوامی لیگ اپنے انتخابی نشان "کشتی" کو لیے نمایاں تھی ۔ دیگر جماعتوں میں وہاں جماعت اسلامی کی پوزیشن اگرچہ بہتر تھی مگر فرق انیس بیس کا نہیں، دواٹھارہ کا تھا ۔ جماعت کا خیال تھا کہ مشرقی پاکستان سے انہیں بہت نشستیں ملیں گی اور اگر مغربی پاکستان سے انہیں چند سیٹیں مل جائیں تو وہ حکومت بنا سکتی ہے ۔ جماعت نے تو وزیر اعظم میاں طفیل سمیت تمام کابینہ بھی مکمل کر لی تھی ۔ عوام نے مگر انہیں رد کر دیااور مغربی پاکستان سے انہیں چار نشستیں ملیں جبکہ مشرقی پاکستان سے مکمل صفایا ہو گیا جس کا انتقام جماعت اسلامی نے مشرقی پاکستان کے بنگالیوں سے بڑا بھیانک لیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے مشرقی پاکستان سے کوئی بھی امیدوار میدان میں کھڑا نہیں کیا تھا۔ البتہ عوامی لیگ نے لاہورسے ملک حامد سرفراز کو انتخابی میدان میں اتارا ۔
مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کا طوطی بول رہا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو ایک پارہ صفت قیادت کے طور پر ابھرے ۔ "تلوار" کا انتخابی نشان لیے وہ پنجاب اور سند ھ میں چھا گئے ۔ مغربی پاکستان کی دیگر قابل ذکر جماعتوں میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیۃ علماء اسلام نے صوبہ سرحداور بلوچستان میں اپنی صوبائی حکومتیں قائم کر لیں۔ مفتی محمودصوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اور ارباب سکندر خاں خلیل گورنر بنے ، جبکہ سردار عطاء اللہ مینگل بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور میر غوث بخش بزنجو گورنر بنے۔ کراچی سے جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد اور محمود اعظم فاروقی بھی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جبکہ شاہ احمد نوارنی کی جماعت "جمعیۃ علماء پاکستان" نے کراچی سمیت ملک بھر سے قومی اسمبلی کی سات نشستیں حاصل کیں۔ نورانی میاں پہلی با ر ایک جماعت بنا کر میدان سیاست میں آئے تھے اور آتے ہی سات نشستیں حاصل کر لیں۔
مسجد شیرانوالہ گیٹ، شہر لاہور میں پہلے ایوب خان کی آمریت کی خلاف ایک مضبوط قلعہ ثابت ہوئی اور ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات میں بھی یہ لاہور کے اہم سیاست کدوں میں شمار ہوتی تھی ۔ ڈاکٹر مبشر حسن، شیخ رشید، حنیف رامے، حبیب جالب اوراحسان وائیں اکثر وبیشتر مولانا عبید اللہ انور سے ملنے آتے ۔ اسی دوران موچی دروازہ میں جمعیۃ علماء اسلام کے ایک جلسہ عام میں مولانا عبید اللہ انور نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور اُس کی قیادت سے سیاسی اختلاف تو ہو سکتاہے، مگر انہیں کافر نہیں کہا جاسکتا ۔ ان انتخابات میں جماعت اسلامی کا سب سے بڑا نشانہ ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی کے کارکنان تھے۔ جمعیۃ علماء اسلا م کو بھی جماعت اسلامی نے نشانے پر رکھ لیااور خوب گولہ باری کی۔ بس ایک "کافر" کے علاوہ وہ کون کون سے الزمات تھے جو جماعت نے ان پر نہ تھونپے۔ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو تو اپنی مقبولیت کی معراج پر تھے۔ لاڑکانہ لاہور اور دیگر علاقوں سے انتخاب لڑنے کا اعلان کرتے کرتے پتہ نہیں ان کے من کی موج کس طرف نکل گئی کہ ڈیر ہ اسماعیل خاں سے مفتی محمود کے خلاف بھی کاغذات نامزدگی داخل کرا دیے۔
مسجد شیرانوالہ گیٹ کے سینے میں کئی راز دفن ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیۃ علماء اسلام کے درمیان انتخابی اتحاد کی گفت وشنید ہو رہی تھی تو بقول مولانا عبید اللہ انور کے صاحبزادے، جناب اجمل قادری کے، مفتی محمود اپنا مقدمہ لے کر جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ لاہور آئے اورپیپلز پارٹی کے ساتھ جمعیۃ علماء اسلام کا ہونے والاممکنہ انتخابی اتحادخواب خیال ہو گیا۔ اب بھی شیرانوالہ گیٹ لاہور میں یہ مسجد موجود ہے ، مگر نہ مولانا احمد علی لاہور ی رہے نہ مولانا عبید اللہ انور۔ گویا اولیاء کا سایہ اُٹھ گیا ۔ رہے مفتی محمود ، شیخ رشید ، حنیف رامے اور حبیب جالب تو وہ ایسے چاند تھے جو چمک چمک کے پلٹ گئے۔ بس اجمل قادری صاحب، ڈاکٹر مبشر حسن اور احسان وائیں باقی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اُن کی عمر دراز کرے کہ قوم کو ابھی ان کی ضرورت ہے۔
قرآن مجید کے قطعی الدلالہ ہونے کی بحث
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر
یہ گفتگو ادارہ علم و تحقیق "المورد" کے سلسلہ وار آن لائن ماہانہ علمی لیکچرز کی سولہویں نشست میں کی گئی۔ اسے کچھ تہذیب و تنقیح کے بعد اشاعت کی غرض سے لیکچر سے تحریری صورت دی گئی ہے۔
قطعی الدلالہ کا معنی ومفہوم
سب سے پہلے ہم قطعی الدلالہ کا معنی واضح کر دیں۔ قطعی کا لفظ "قطع" سے ہے کہ جس کا معنی کاٹنا ہے۔ پس "قطعی الدلالہ" میں قطعی کا معنی یہ ہے کہ لفظ میں موجود ایک سے زائد معانی کے احتمالات کا ختم ہو جانااور محتمل معانی میں سے ایک ہی معنی کا متعین ہو جانا۔ یہاں "قطعی" کا لفظ خود اس بات کی دلیل ہے کہ لفظ میں ایک سے زائد معانی کا احتمال ہوتا ہے، ورنہ تو "قطع" کا معنی کیا ہوا کہ جو اس لفظ کی اصل ہے۔ لفظ میں یہ احتمالات لغت میں ایک سے زائد معانی کے لیے لفظ کے وضع ہونے یا لفظ کے عرفی معنی میں اختلاف یا لغوی اور شرعی معنی میں فرق یا نظم کلام اور سیاق وسباق میں کسی لفظ کو رکھ کر دیکھنے کے پس منظر اور تناظر کے اختلاف وغیرہ کے سبب سے پیدا ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ بات امر واقعہ ہے کہ بعض اوقات کلام میں فی نفسہ ایک سے زائد معانی کا احتمال موجود ہوتا ہے۔
"دلالت" کا اصطلاحی معنی یہاں، منطق کی اصطلاح میں ، دلالت مطابقت ، دلالت تضمن اور دلالت التزام ہے۔ اور اصول فقہ کی اصطلاح میں "دلالت" سے مراد منطوق اور مفہوم ہے یعنی لفظی اور معنوی دلالت۔ منطوق سے صریح اور غیر صریح مراد ہے کہ لفظ، صیغے اور نظم کلام کی اپنے معنی پر دلالت صراحت کے ساتھ ہے یا غیر صراحت کے ساتھ۔ صریح میں مطابقت اور تضمن یعنی لفظ کا کل معنی یا جزوی معنی پر دلالت کرنا ہے جیسا کہ امر ونہی، مطلق ومقید، عام وخاص، مجمل ومبین اور ظاہر ومؤول وغیرہ۔ غیر صریح میں دلالت التزام مراد ہے کہ لفظ نہ تو کل معنی پر دلالت کرے اور نہ ہی جزوی معنی پر بلکہ لازم معنی پر دلالت کرے جیسا کہ اشارۃ النص، اقتضاء النص اور ایماء النص۔ مفہوم کی دو قسمیں ہیں: موافق اور مخالف۔ موافق کی قسموں میں اولیٰ اور مساوی ہے جبکہ مخالف کی قسموں میں غایت، شرط، وصف، عدد، ظرف، علت اور لقب ہے۔ یہ جمہور کا طریقہ ہے۔
احناف کے نزدیک دلالت کی چار قسمیں ہیں: یعنی وضع، استعمال، وضوح وخفاء اور قصد کے اعتبار سے۔ وضعی دلالت کے اعتبار سے لفظ عام، خاص اور مشترک میں منقسم ہے۔ لفظ یا تو ایسے مدلول کے لیے وضع ہوا ہے کہ جو محصور ہے یا پھر ایسے مدلول کے لیے کہ جو غیر محصور ہے یا پھر ایک سے زائد مدلول کے لیے وضع ہوا ہے۔ پھر لفظ اپنے وضعی معنی میں استعمال ہوا ہے یا نہیں تو اس اعتبار سے حقیقت ومجازاور صریح وکنایہ کی اصطلاحات ہیں۔ پھر لفظ کی اپنے معنی میں دلالت کتنی واضح یا کس قدر خفی ہے تو اس پہلو سے ظاہر، نص، مفسر اور محکم ہے یا خفی، مشکل، مجمل اور متشابہ ہے۔ اور قصد کے اعتبار سے عبارۃ النص، اشارۃ النص، دلالۃ النص اور اقتضاء النص ہیں۔ اگر تو وہ دلالت متکلم کا مقصود ہے تو عبارت ہے اور اگر مقصود کلام نہیں ہے تو اشارہ ہے۔ اور اگر دلالت لغوی ہے تو دلالت ہے اور اگر شرعی ہے تو اقتضاء ہے۔
قرآن مجید کی قطعیت اور ظنیت کے بارے مروجہ نقطہ ہائے نظر
قرآن مجید کے الفاظ کی اپنی دلالت میں قطعیت اور ظنیت کے بارے تین موقف پائے جاتے ہیں:
۱۔قرآن مجید کل کا کل قطعی الدلالہ ہے۔
۲۔ قرآن مجید کل کا کل ظنی الدلالہ ہے۔
۳۔قرآن مجید کا بعض قطعی الدلالہ اور بعض ظنی الدلالہ ہے۔
ہمیں اس وقت یہ بحث نہیں کرنی کہ ان میں سے کون سا کس کا موقف ہے؟ ہمیں اس وقت شخصیات کے تذکرہ کی بجائے پہلے دو نقطہ ہائے نظر کی غلطی اور تیسرے کی صحت بیان کرنی ہے۔ قرآن مجید کے قطعی یا ظنی ہونے کے بارے تیسرا موقف اس دینی اور علمی روایت کا تسلسل ہے کہ جس پر تمام معروف مذاہب کا اتفاق رہا ہے۔ ہم اپنی گفتگو میں اختصار کے پیش نظر پہلے موقف کو قرآن مجید "قطعی" ہے، دوسرے کو قرآن مجید "ظنی" ہے اور تیسرے کو قرآن مجید "قطعی اور ظنی" ہے، کے عنوان سے بھی ذکر کریں گے۔
قرآن مجید کی قطعیت کی ممکنہ صورتیں
جب کسی علمی یا دینی روایت میں یہ بحث کی جاتی ہے کہ قرآن مجید قطعی الدلالہ ہے یا نہیں تو وہاں دلالت سے مراد دلالت کی مذکورہ بالا جمیع اقسام ہوتی ہیں۔ اس گفتگو میں اپنی بات کو آسان فہم انداز میں پیش کرنے کی غرض سے قرآن مجید قطعی الدلالہ کا معنی ہم یہ لے رہے ہیں کہ قرآن مجید کے الفاظ کا ایک متعین معنی ہے کہ جو متکلم کا مقصود ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور معنی مراد لینا نہ صرف متکلم کی مراد کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کی مخالفت بھی ہے۔ اگر ہم اس بحث کہ قرآن مجید کل کا کل قطعی الدلالہ ہے، کی ممکنہ صورتیں بنائیں تو وہ درج ذیل چار صورتیں ہیں:
۱۔ قرآن مجید عند اللہ قطعی الدلالہ ہے؟ ہمارا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ہر کلام اپنے متکلم کے نزدیک اپنے لفظ لفظ میں قطعی ہوتا ہے۔
۲۔قرآن مجید عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قطعی الدلالہ ہے؟اس میں کچھ تفصیل ہے کہ فی نفسہ قطعی نہیں بلکہ مع البیان قطعی ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا کہ آپ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی قراء ت کی اتباع کریں اور پھر اس قراء ت کا بیان ہمارے ذمہ ہے۔ "اقیموا الصلوۃ" کا وہ معنی ومفہوم جو منشائے متکلم ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صرف اسی نص کے نزول سے قطعی نہیں ہوا بلکہ مزید وحی خفی کے بیان سے قطعی ہوا جیسا کہ جبرئیل علیہ السلام نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازوں کے اوقات وغیرہ کی تعلیم دی۔
۳۔قرآن مجید عند جمیع المخاطبین قطعی الدلالہ ہے؟ یہ دعویٰ کسی طور نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی سوفسطائیت ہے جو تفسیر میں اختلاف کے وجود کی بھی منکر ہے۔ تفسیر میں اہل علم کا اختلاف ہوا ہے اور یہ تنوع کا بھی ہے اورتضاد کا بھی ہے۔ تفسیر کا یہ اختلاف آج بھی جاری ہے، اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو دیکھا یا نہیں تو اس میں صحابہ رضوان اللہ اجمعین سے آج تک اختلاف جاری ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ایک مفسر کے نزدیک راجح رائے کون سی ہے یا اس کے پاس اپنی اس رائے کے حق میں دلائل کس قدر مضبوط ہیں یا اسے اپنی اس رائے کی صحت پر کتنا ایمان اور یقین حاصل ہے وغیرہ۔ ہم یہ بات کر رہے ہیں کہ قرآن مجید کے جتنے مقامات کی تفسیر میں اہل علم کا اختلاف ہوا ہے تو کیا اس اختلاف کے نتیجے میں کسی مفسر کے دلائل اس قدر مضبوط اور کافی و شافی ہیں کہ اس نے مراد الٰہی کی قطعیت کو اس طرح ثابت کر دیا ہو کہ نہ صرف معاصرین نے اس سے اپنا اختلاف ترک کر دیا ہو بلکہ قیامت تک آنے والے اہل علم کے لیے بھی اس کی رائے سے اختلاف کرنا ممکن نہ رہا ہو۔ ہم تو نفس اختلاف کی بات کر رہے ہیں کہ صلاحیت اور اخلاص دونوں بنیادوں پر اہل علم کا قرآن مجید کی آیات کی تفسیر میں اختلاف ہوا ہے، ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا اور یہی اس کے قطعی الدلالہ نہ ہونے کے لیے کافی و شافی دلیل ہے۔
اب یہ کہنا کہ تاویل کا اختلاف اور ہوتا ہے اور احتمال کا اختلاف فرق ہے اور مفسرین نے تاویل میں اختلاف کیا ہے، یہ ویسی ہی تھیورائزیشن ہے جیسی کہ قرآن مجید کو ظنی الدلالہ کہنے والوں کی۔ جب ان کے اس موقف پر کہ قرآن مجید کل کا کل ظنی الدلالہ ہے، عقلی وشرعی اعتراضات وارد کیے جاتے ہیں تو وہ یہی جواب دیتے نظر آتے ہیں کہ تفسیر اور ہوتی ہے اور اعتبار فرق ہے۔ کسی شیء کو تھیورائز کر لینے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس قاعدے کلیے یا ضابطے کا آپ کے ذہن سے باہر خارج میں بھی وجود ثابت ہو گیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مفسرین میں تاویل کا اختلاف تنوع کا بھی ہے اور تضاد کا بھی ہے۔ البتہ متقدمین مفسرین یعنی صحابہ کی جماعت میں تفسیر کازیادہ تر اختلاف تنوع کا ہی تھا۔ اس لیے ابن تیمیہ رحمہ اللہ متقدمین کی تفسیر کی طرف رجوع کے پرجوش مبلغ ہیں کہ اس سے قرآن مجید کی قطعیت بڑھ جاتی ہے کہ قرآن مجید کامعنی ومفہوم متعین کرنے میں متقدمین کو کچھ ایسے خارجی ذرائع بھی حاصل تھے کہ جو کہ متاخرین کو حاصل نہیں ہیں جیسا کہ ان کا شان نزول کا حصہ ہونا۔ لیکن قرآن مجید کی تفسیر میں متاخرین نے جو اختلاف متقدمین سے کیا یا متاخرین نے آپس میں کیا تو اس میں تو اکثراختلاف، تضاد ہی کاہے۔ اور تضاد کا اختلاف، نفس کلام اور لفظ میں موجود ایک سے زائد احتمالات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
قرآن مجید عند بعض المخاطبین قطعی الدلالہ ہے؟ تو یہ دعویٰ بھی درست نہیں ہے کہ ایک مفسر کے لیے کل قرآن مجید قطعی الدلالہ ہو جائے۔ یہ تو عصمت ہے جو نبی کے علاوہ کو حاصل نہیں ہے۔ اگر نبی کے علاوہ کو حاصل ہو سکتی تو دو اشخاص کو لازماً حاصل ہوتی یعنی عمر بن خطاب اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہ جن کی قرآن فہمی، تاویل وتفسیر اور دینی علم کی فضیلت و منقبت نصوص سے ثابت ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سینے سے لگا کر یہ دعا دی کہ اے پروردگار!انہیں کتاب کا علم عطا فرما۔ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ علم نبوت کے اس پیالے سے سیراب کیے گئے کہ جس سے میں سیراب ہوا ہوں۔اور یہی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے "ابا" کا معنی معلوم نہیں اور اگر میں اس کا معنی معلوم کرنے کی کوشش بھی کروں گا تو تکلف محض ہو گا۔ اور اس نوعیت کے اقوال کئی ایک کبار صحابہ سے منقول ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ قرآن مجید کے بعض مقامات بعض مفسرین کے لیے کچھ خارجی ذرائع کی وجہ سے قطعی الدلالہ ہو جائیں جبکہ وہی مقامات دیگر مفسرین کی جماعت کے لیے قطعی نہ ہوں۔ اور یہ مفسرین صحابہ اور ان کے بعد کے مفسرین کی جماعت میں ایک اہم فرق ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا کہ مسلمان امت قرآن مجید میں کیسے اختلاف کرے گی ؟ تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ قرآن مجید ہم صحابہ کی جماعت کے تو سامنے نازل ہوا لہٰذا ہمیں آیات کے بارے میں علم ہے کہ کس کے بارے میں، کیوں اور کس پس منظر میں نازل ہوئی۔ لیکن ہمارے بعد والے اس سے محروم ہوں گے اور بہت اختلاف کریں گے۔
کلام الٰہی اور عربی معلی
اللہ تعالی نے اہل عرب کی زبان میں کلام فرمایا ہے یعنی قرآن مجید جس زبان میں نازل ہوا ہے، اللہ عزوجل نے اسے قرآن مجید کے نزول کے ساتھ وضع نہیں کیا بلکہ اہل عرب اس زبان کے واضع تھے۔ لہٰذا عربی معلی ہو یا عربی مبین،یہ مخلوق کی زبان ہے کہ جس میں خالق نے کلام فرمایا ہے۔ خالق نے اپنے کلام کے لیے مخلوق کی وضع کردہ زبان کو آلہ بنایا ہے اور اسی لیے تو قرآن مجید نے بھی کہہ دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان میں نازل ہوا ہے۔
پس ہمارے نزدیک ظنی الدلالہ ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ متکلم قادر الکلام نہیں ہے بلکہ یہ کہ متکلم نے اپنے کلام کے بعض مقامات کو جانتے بوجھتے اپنے بندوں کی آزمائش کی غرض سے ظنی الدلالہ بنایا ہے جیسا کہ ہمارے لیے واضح ہے کہ کس طرح اللہ عزوجل نے آیات کو محکم اور متشابہ میں تقسیم کر کے متشابہات کو آزمائش بنانے اور ان پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ کی صفت کلام اور مخلوق کی زبان میں فرق لازم ہے اور یہ اس بارے دوسرا نکتہ ہے۔ ظنی الدلالہ ہونا کلام کا عیب نہیں ہے بلکہ مخاطب کی آزمائش ہے جیسا کہ کسی شخص کا پیدائشی گونگا، بہرا یا نابینا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اللہ کی صفت خلق میں کوئی عیب یا نقص ہے بلکہ یہ اس کی آزمائش ہے۔اللہ عزوجل کی صفت خلق اور مخلوق دونوں میں فرق لازم ہے۔ اسی طرح کلام کا ظنی الدلالہ ہونا یہ لازم نہیں کرتا کہ اللہ کی صفت کلام میں عیب اور نقص ہے بلکہ اس میں بندوں کی آزمائش رکھی گئی ہے۔
قرآن مجید کی فی نفسہ قطعیت
قرآن مجید کل کا کل قطعی الدلالہ نہیں ہے جیسا کہ خود "القرآن یفسر بعضہ بعضا" کے اصول سے ثابت ہو رہا ہے۔ قرآن مجید میں متوفی عنہا کی عدت درج ذیل آیت میں بیان کی گئی ہے: وَالَّذِینَ یْتَوَفَّونَ مِنْکُم وَیَذَرُونَ اَزْوَاجاً یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَربَعَۃَ اَشْھُرٍٍ وَّعَشْراً. [سورۃ البقرۃ، الآیۃ: 234]۔جبکہ اس کے بعد ایک اور آیت میں حاملہ عورتوں کی عدت بیان کی گئی: واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن [سورۃ الطلاق:4]۔ ہر دو صورتوں میں، کہ پہلی آیت متوفی عنہاحاملہ کے حکم کو شامل ہے یا نہیں،
متوفی عنہا کی عدت کے مسئلہ میں دوسری آیت نے پہلی آیت کے معنی کو قطعیت دی ہے اور دونوں آیات کے نزول میں زمانی اختلاف موجود ہے، لہٰذا دوسری آیت کے نزول تک پہلی آیت فی نفسہ ظنی الدلالہ تھی۔
اسی طرح اگر قرآن مجید فی نفسہ قطعی الدلالہ ہوتا تو حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو کیوں شبہہ ہوتا کہ "الخیط الابیض" اور "الخیط الاسود" سے کیا مراد ہے کہ ان کی تو مادری زبان بھی عربی تھی۔ البتہ یہ الفاظ قرآنی عند رسول صلی اللہ علیہ وسلم قطعی الدلالہ تھے۔پس قرآن مجید بعض مقامات پر فی نفسہ قطعی ہے جیسا کہ "مائۃ جلدۃ" اوربعض پر فی نفسہ ظنی جیسا کہ "المیتۃ"۔
قرآن مجید کا کل ذخیرہ الفاظ یا محاورات عربی معلی ہی کے ہیں یا قرآن مجید نے اصلاً عربی معلی میں کلام کیا اور بہت سا ذخیرہ الفاظ یا محاورات ایسے استعمال کیے جو اہل عرب کی زبان میں رائج نہیں تھے؟ یہ اس موضوع سے متعلق ایک اہم سوال ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ قرآن مجید نے بہت سے الفاظ اور محاورات ایسے استعمال کیے ہیں جو اہل عرب کے لیے نئے تھے یعنی ان کی زبان میں وہ مستعمل نہ تھے جیسا کہ استوی علی العرش، سدرۃ المنتھی، لوح محفوظ اور جہنم وغیرہ۔ اب عرب جن الفاظ اور محاورات ہی کو پہلی مرتبہ سن رہے تھے تو وہ ان کے لیے فی نفسہ قطعی الدلالہ کیسے ہو گئے؟ ہاں! سنت کے بیان کے ساتھ مل کر وہ قرآنی الفاظ قطعی الدلالہ ہو گئے ہوں تو وہ علیحدہ مسئلہ ہے کہ اس صورت میں ایک خارجی ذریعے نے قرآن کے الفاظ کے معانی کو متعین کیا ہے نہ کہ نظم کلام یا سیاق وسباق نے۔
اسی طرح قرآن مجید نے عربی معلی کے جس ذخیرہ الفاظ یا محاورات کو استعمال کیا تو کیا بعینہ اسی معنی میں استعمال کیا کہ جیسے عرب جانتے تھے یا جس معنی میں وہ استعمال کرتے تھے یا اس معنی میں کمی بیشی کے ساتھ لفظ کو ایک نیا معنی دیا کہ جس معنی سے عرب اس سے پہلے واقف نہ تھے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے بہت سے الفاظ جو کہ اصطلاحات شرعیہ کی قبیل سے ہیں، قرآن مجید نے انھیں ان معانی میں استعمال نہیں کیا کہ جس معنی میں وہ عربی معلی میں مستعمل تھے بلکہ اس میں بہت زیادہ کمی بیشی کی جیسا کہ لفظ صلوٰۃ، صوم، زکوٰۃ او رحج وغیرہ۔ اب سنت کے بیان کے بغیر کیا قرآن مجید کے یہ الفاظ اپنے معنی ومفہوم میں قطعی الدلالہ ہیں؟ آپ اگر سنت سے مراد ’’سنت ابراہیمی‘‘ بھی لے لیں تو پھر بھی صورت حال یہ ہے کہ ایک تو یہ سنت بھی قرآن مجید کے علاوہ ایک خارجی ذریعہ ہی ہے اور دوسرا آپ سنت میں بھی تجدید واضافہ کے بھی قائل ہیں کہ یہ سنت بھی بعینہ وہ نہیں تھی جو اہل عرب میں اسلام سے پہلے رائج تھی یا عرب اس کے اصل معنی سے واقف تھے۔
قرآن مجید کی خارجی ذرائع کے ساتھ قطعیت
یہ بات درست ہے کہ قرآن مجید کے بعض مقامات جو کہ مخاطبین کے لیے ظنی الدلالہ ہوں، خارجی ذرائع مثلاً تفسیر رسول صلی اللہ علیہ وسلم، لغت قرآن میں تفسیر صحابی، شان نزول کی روایات اور اجماع مفسرین سے قطعی ہو جاتے ہیں۔ کل قرآن مجید فی نفسہ قطعی الدلالہ ہے یا خارجی ذرائع کے ساتھ قطعی الدلالہ ہے تو یہ دعویٰ کسی صورت درست نہیں ہے کہ کم از کم حروف مقطعات تو دونوں صورتوں میں ہی نکالنے ہی پڑیں گے۔ اور فی نفسہ قطعی الدلالہ نہ ہونے کے ثبوت میں امور غیبیہ اور مصطلحات شرعیہ بھی تو دلیل ہیں۔ کیا کوئی مفسر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ سنت کے بغیر صلوٰۃ، زکوٰۃ، صوم اور حج کا وہ معنی معلوم ہو سکتا ہے کہ جو متکلم کی مراد ہے؟ کیا قرآن مجید مصطلحات شرعیہ کے معانی ومفاہیم کے بیان میں فی نفسہ قطعی الدلالہ ہے کہ بغیر کسی خارجی ذریعے کے ان اصطلاحات کے معانی ومفاہیم مخاطب کو سمجھ آ جائیں؟
اگر آپ یہ کہیں کہ کل قران مجید فی نفسہ قطعی القصد ہے تو یہ بات درست ہے لیکن قطعی المعنی تو یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ قرآن مجید نے آیات متشابہات کے بارے کہا کہ اللہ کا قصد واضح ہے کہ ان آیات پر ایمان لے آؤ لیکن ان کی معنوی حقیقت ، تو یہ اللہ کے علاوہ کسی کے علم میں نہیں ہے۔ یہ واضح رہے کہ معنی میں اور معنوی حقیقت میں بھی فرق ہے۔ ایک کل معنی ہے، ایک اصل معنی ہے اور ایک لازم معنی ہے۔ یہ فرق بھی اس بحث میں اہم ہے۔"جنت" کا کل معنی یا حقیقی معنی نامعلوم اور کبھی معلوم ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی آنکھ نے دیکھی نہیں، کان نے سنی نہیں اور دل پر خیال نہیں گزرا۔ اور "جنت" کا اصل معنی معلوم ہے کہ وہ باغ ہے۔ اور اس کا لازم معنی یہ ہے کہ مومنین کا اخروی گھر ہے۔"فرشتہ" کا کل معنی نامعلوم ہے اور معلوم ہونا بھی ناممکن ہے۔ اصل معنی نور ہے۔ اور لازم معنی اللہ کی مخلوق ہونا ہے۔
یہاں سے ظنی الدلالہ کہنے والوں کو شبہہ ہوا کہ قرآن مجید کل کا کل ظنی الدلالہ ہے کہ ان کے نزدیک ایک لفظ کی حقیقت وماہیت معلوم نہیں ہو سکتی۔ اور یہ تحکم محض اور جہل مرکب ہے کہ قرآن مجید کے لفظ لفظ کے باے میں یہ دعویٰ کر دیا جائے کہ اس کا کل معنی نامعلوم ہے۔ اربعۃ کا کل معنی اربعۃ اور ماءۃ کا کل معنی ماءۃ ہے۔ موسیٰ کا کل معنی معلوم ہے کہ ایک اللہ کے پیغمبر اور ان کی ذات مراد ہے اور ہارون کا کل معنی معلوم ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہیں، اللہ کے پیغمبر ہیں اور ان کی ذات مراد ہے۔ اب یہ کہنا کہ قرآن مجید میں موسیٰ علیہ السلام سے ’’قلب سلیم‘‘ اور ہارون سے ’’عقل مستقیم‘‘ مراد ہے تو اس سے بڑھ کر اللہ کی کتاب کے ساتھ کیا کھلواڑ ہوگا؟
ظنی الدلالہ ہونے کا معنی ومفہوم
ظنی الدلالہ کا یہ معنی نہیں ہے کہ
۱۔قرآن مجید کی آیات کا کوئی معنی ومفہوم ہی نہیں ہے یہ تو اہل تفویض کا قول ہے۔
۲۔اور نہ ہی ظنی الدلالہ کا معنی یہ ہے کہ مفسر کو قرآن مجید کا جو معنی ومفہوم سمجھ آیا ہے تو وہ لازماً غلط ہی ہے۔
۳۔اور نہ ہی ظنی الدلالہ کا یہ معنی ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ میں اس قدر ابہام ہے کہ مرزائیوں کی مرزائیت، روافض کی رافضیت اور باطنیہ کی باطنیت بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
پہلی دو باتوں کے بارے عرض یہ ہے کہ ظنی الدلالہ کا معنی یہ ہے کہ مفسر کے غالب گمان کے مطابق قرآن مجید کا معنی ومفہوم وہی ہے جو اسے سمجھ میں آیا ہے۔ وہ "عندہ مصیب" ہے اور قرآن فہمی میں خطا کے باوجود عند اللہ ماجور ہو گا کہ ایک گنا اجر حاصل کرے گابشرطیکہ اس میں قرآن مجید کی تفسیر کی اہلیت اور اخلاص کی شرائط موجود ہوں۔علاوہ ازیں ظنی الدلالہ ہونے کا معنی یہ بھی ہے کہ اس کی قرآن فہمی میں خطا جبکہ فریق مخالف کی تفسیری رائے میں صحت کا امکان بھی موجود ہے۔
تیسری بات کے بارے ہمیں یہ عرض کرنا ہے کہ ظنی الدلالہ ہونے کا یہ معنی کسی بھی اصولی علمی روایت میں بیان نہیں ہوا کہ لفظ کی کوئی حدود ہی نہیں ہوتیں کہ جو چاہیں اس سے معنی مراد لے لیں۔ لفظ "ید"کا معنی ہاتھ ہے یا بازو ہے یا قدرت ہے تو یہی احتمالات ہیں نا کہ جن میں سے کوئی ایک مراد لیا جا سکتا ہے۔ اب ظنی الدلالہ ہونے کا یہ معنی تھوڑا ہی ہے کہ لفظ "ید" سے آنکھ بھی مراد ہو سکتی ہے، ناک بھی اور کان بھی وغیرہ ذلک۔ جس طرح اصولیین نے عقل ونقل سے یہ ثابت کر دیا کہ کتاب وسنت میں لفظ کا کل معنی مراد ہو گا یا جزوی معنی یا لازم معنی اور دلالت کی تمام اقسام کو عقل کے علاوہ شرع سے بھی ثابت کیا ہے اور اصول فقہ کی کتب اس قسم کی مباحث سے بھری پڑی ہیں، اس طرح سے ظنی الدلالہ کہنے والوں کا علم اعتبار کے علم ہونے پر اصرار ابھی تک کسی محقق کی راہ دیکھ رہا ہے۔
اور یہ علم تھوڑا ہے کہ بنی اسرائیل سے مراد "خیالات طیبہ" ہیں اور جو دریا انہوں نے پار کیا تھا، اس سے مراد "دریائے وحدت" ہے۔ یہ تو جہل مرکب ہے کہ اس قسم کی قرآن فہمی کے بعد علم الاعتبار اور باطنیت میں فرق پر بھی اصرار ہے اور اعتبار کو علم کہنے پر بھی۔ ظنی الدلالہ ہونے کا معنی ہر گز یہ نہیں ہے کہ کتاب اللہ کا جو معنی ومفہوم چاہیں بیان کر دیں تو اس کا بھی احتمال قرآنی الفاظ میں موجود ہوتا ہے۔ قرآنی الفاظ میں جو احتمالات ہیں، پہلے انہیں لغت، عرف اور شرع سے ثابت کرنا ہو گا اور پھر ان تین قسم کے احتمالات میں سے جب کوئی ایک احتمال کسی مفسر کے نزدیک اس کی تحقیق کے نتیجے میں متعین ہو جائے تو یہ ظنی الدلالہ کا معنی ومفہوم ہے اور اگر سب مفسرین کا اس معنی ومفہوم پر اتفاق ہو جائے تو یہ قطعی الدلالہ ہے۔ بنی اسرائیل سے مراد "خیالات طیبہ" ہیں، یہ معنی نہ تو لغوی احتمالات میں سے ہے، نہ عرفی اور نہ ہی شرعی۔ اور جو معنی ان احتمالات کے علاوہ ہو، وہ باطنیت ہی کی ایک قسم ہے، چاہے اعتبار کا نام دیا جائے یا تفسیر اشاری کا۔
قرآن مجید کے قطعی الدلالہ اور ظنی الدلالہ ہونے کی دلیل قطعی
باقی رہا یہ سوال کہ جو اصول ہم نے بیان کیا کہ قرآن مجید قطعی الدلالہ بھی ہے اور ظنی الدلالہ بھی تو اس اصول کے قطعی ہونے کیا دلیل ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اصول ان کلیات محضہ میں سے نہیں ہے کہ جن کے اثبات کے لیے کسی صغریٰ وکبریٰ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ قاعدہ کلیہ ایک خارجی حقیقت اور امر واقعہ ہے۔ قرآن مجید کے لفظ لفظ میں مفسرین کااختلاف ہے یا بعض مقامات میں ہے؟ اس سوال کا جواب ایک تاریخی واقعہ ہے کہ جس کے بارے دو رائے ممکن نہیں ہیں۔
قرآن مجید کے لفظ لفظ کے بارے نہ تو متقدمین میں اختلاف ہوا اور نہ ہی معاصرین میں۔ تو جن مقامات میں سب کا اتفاق ہے تو وہ قطعی الدلالہ ہیں اور جن میں اختلاف ہے تو وہ ظنی الدلالہ ہیں۔ اختلاف سے مراد اختلاف تضاد ہے، تنوع کا اختلاف در حقیقت اختلاف نہیں ہوتا بلکہ اضافہ ہوتا ہے۔ رہی وہ آیات کہ جو قرآن مجید کے قطعی الدلالہ ہونے کی دلیل کے طور نقل کی جاتی ہیں تو فریق مخالف کا خود ان آیات کے معنی مفہوم میں آپ سے اختلاف ہے۔ اور فریق مخالف نے ایسی بہت سی آیات بیان کی ہیں کہ جو قرآن مجید کے ظنی الدلالہ ہونے کی دلیل ہیں لیکن آپ ان کے معنی ومفہوم کے بیان میں اختلاف رکھتے ہوں گے۔ دلیل کے معنی ومفہوم میں دونوں طرف سے یہ اختلاف بھی اس بات کی دلیل ہے کہ سب قطعی نہیں ہے۔
خلاصہ کلام
جب آپ قرآن مجید کی کسی آیت کے بارے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ قطعی الدلالہ ہے جبکہ مفسرین کا اس آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے تو آپ یہ دعویٰ کر رہے ہوتے ہیں کہ اللہ کی مراد وہی ہے جو آپ کو سمجھ آئی ہے جبکہ بقیہ سب نہ صرف غلطی پر ہیں بلکہ آپ کی نہیں اپنے پروردگار کی مخالفت پر کھڑے ہیں۔ اگر آپ یہ کہیں کہ "الزانیۃ والزانی" کا لفظ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ دونوں کو شامل ہے اور یہ معنی ومفہوم ظنی الدلالہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ دوسروں کو اختلاف کی گنجائش دے رہے ہیں۔ اس صورت میں اگر آپ میں یہ معنی بیان کرنے کی اہلیت اور اخلاص کی شرائط موجود ہیں توآپ اپنے نزدیک مصیب ہیں اور عند اللہ ماجور ہیں۔ حدیث میں مجتہد مخطی کے لیے ثواب کا ذکر ہے نہ کہ صرف مخطی کے لیے۔ اسی طرح آپ اس صورت میں اپنی قرآن فہمی میں خطا اور دوسرے کی تفسیر میں صحت کا امکان تسلیم کر رہے ہیں۔ لیکن اگر آپ یہ دعوی کریں کہ "الزانیۃ والزانی" کا لفظ شادی شدہ اور غیر شادی شدہ دونوں کو شامل ہے اور یہ معنی ومفہوم قطعی الدلالہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نہ صرف دوسروں کو اپنے سے اختلاف کا حق نہیں دے رہے بلکہ یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ جس نے آپ سے اختلاف کیا، اس نے پروردگار سے اختلاف کیا۔ قطعی الدلالہ ہونے کا معنی تو یہی ہے کہ اس متعین معنی کے علاوہ کوئی معنی مراد لینا جائز نہیں ہے کہ جسے آپ نے قطعی الدلالہ قرار دے دیا ہے۔ اس لیے قرآن مجید کے ان مقامات میں کہ جن میں اہل علم کا اختلاف ہے، قطعی الدلالہ ہونے کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
توہین رسالت کیوں ہوتی ہے؟
ڈاکٹر عرفان شہزاد
انسانی رویے، مختلف سماجی، نفسیاتی ،جینیاتی اور عقلی عوامل کا نتیجہ اور رد عمل ہوتے ہیں۔ انسانی رویوں کے باقاعدہ مطالعے کی روایت ہمارے ہاں بوجوہ پنپ نہیں سکی، حالانکہ اس کے بغیر کسی بھی انسانی رویے کی درست تشخیص ہو سکتی ہے اور نہ اس کا علاج ممکن ہے۔ ہمارے ہاں محض علامات دیکھ کر فیصلہ صادر کرنے کا چلن ہے۔ کسی رویے کے پیچھے کیا محرکات ہیں یہ جاننے کی زحمت کم ہی کی جاتی ہے۔
توہین مذہب یا توہین رسالت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ توہین رسالت کے ہزاروں مقدمات پاکستانی عدالتوں میں قائم ہیں، اگر یہ سارے مقدمات درست ہیں، جو کہ درحقیقت نہیں ہیں، تو کیا یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ آخر ایسا ہوکیوں رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ سے آخر ایسی کیا پرخاش ہو گئی ہے لوگوں کو کہ اپنی جان پرکھیل کربھی آپ جیسی کریم ہستی کی توہین کا ارتکاب کررہے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک طرف سزائے موت اور دوسری طرف عوام کے غیظ و غضب کے نتیجے میں ہونے والی دردناک اموات کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کے خلاف توہین کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا؟اور یہ سب ایک اسلامی ملک میں ہو رہا ہے جہاں عوام، ادارے، تھانے اور عدالتیں سب مسلمانوں کے ہاتھ میں ہیں۔ آج ہم ان سوالوں کے جوبات تلاش کریں گے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں توہین رسالت کے درج کیے جانے والے مقدمات میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 80 سے 90 فیصد مقدمات جعلی ہوتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق توہین رسالت کی دفعہ C 295 کے تحت 1986 سے لے کے 2004 تک پاکستان میں رجسٹرڈ کیسوں کی تعداد 5000 سے زائد ہے۔ 5000 افراد جن کے خلاف توہین رسالت کے کیسز رجسٹر ہوئے، ان میں سے صرف 964 افراد کے کیس عدالتوں میں پہنچے، 4036 کیسز ابتدائی اسٹیج پر ہی جعلی ثابت ہونے پر خارج کردیے گئے، سب سے زیادہ حیران کن امر یہ ہے کہ 86% فیصد کیسز صرف پنجاب میں رجسٹر ہوئے،یعنی 5000 میں سے 4300 کیسز! مزید یہ کہ جن 964 افراد کے کیس عدالتوں میں گئے، ان میں سے بھی 92% فیصد کیسز کا تعلق پنجاب سے تھا۔
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ توہین رسالت کے جھوٹے مقدمات کے پیچھے ہمارے سماجی رویے کار فرما ہیں۔ پنجاب میں ان واقعات کی کثرت کی وجہ زمین پر قبضے، ذاتی دشمنی اور رنجشیں ہیں۔ مسلمان افراد دوسرے مسلمان اورغیر مسلم افراد کے خلاف توہین رسالت کے جھوٹے مقدمات قائم کرکے اپنے ذاتی مذموم مقاصد پورے کرتے ہیں۔ اپنے مخالف پر توہین رسالت کا الزام سب سے آسان اور تیر بہدف ثابت ہوتا ہے۔ عوامی حمایت ایک لحظہ میں حاصل ہو جاتی ہے۔ ایک بار الزام لگ جائے تو پھر ملزم لاکھ یقین دلاتا رہے کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا مگرعوام کا غیظ وغضب اس کا تیا پانچہ کرنے پر تل جاتا ہے، پولیس اور عدالت پر ہر طرح سے دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ کہ سزا پھانسی سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ ویسے بھی معافی کی گنجائش ہی نہیں قانون میں۔ مزید یہ کہ ملزم اگر عدالت سے بری ہو بھی جائے، تب بھی عوام اسے یا تو مار ڈالتی ہے اوراگرمارا نہ بھی جائے تومعاشرے میں اس کی سماجی حیثیت کی بحالی ممکن نہیں رہتی، حالانکہ بری کرنے والی عدالت بھی مسلمان جج کی ہوتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ توہین رسالت کا اصل جرم توہین کے جھوٹے مقدمات بنانے والوں پر ثابت ہوتا ہے، جو توہین کے الفاظ خود اپنی طرف سے بناتے ہیں۔ یقیناًیہ بڑی قبیح جسارت ہے۔ مگرہمارا قانون جھوٹا مقدمہ کرنے والے کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کرتا۔ اگر قانون یہ بنا دیا جائے کہ توہین رسالت کا جھوٹا مقدمہ کرنے والے کو توہین رسالت کے قانون میں دھر لیا جائے گا تو جھوٹے مقدمات میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔
توہین رسالت کا صدور کسی صحیح الدماغ آدمی سے ممکن نہیں۔ پاکستان میں توہین رسالت کے موجودہ سخت قانون، جس میں توبہ کی گنجائش بھی نہیں اور اس سے بڑ ھ کراس معاملے میں عوام کی دیوانگی کی حدوں کو چھوتی ہوئی جذباتیت، جو محض الزام پر ہی نہایت خوفناک نتائج پیدا کردیتی ہے، ان سب کی موجودگی میں کوئی شخص بالفرض توہین مذہب یا توہین رسالت کرنے کا ارادہ رکھتا بھی ہو توباہوش و حواس تو ایسا کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ دین یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سنجیدہ علمی تنقید چاہے، ہماری طبع پر کتنی ہی گراں گزرے، گستاخی کے زمرے میں نہیں آتی۔ سر ولیم میور نے اپنی کتاب 'لائف آف محمد' میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت سی تنقید کی، لیکن کسی نے ولیم میور کو گستاخ رسول قرار نہیں دیا۔ سرسید نے اس کا جواب 'خطباتِ احمدیہ' کی صورت میں لکھا، لیکن کوئی فتویٰ ولیم میور پر نہیں لگایا۔ افسوس کا مقام ہے کہ علمی حلقوں میں بھی اب وہ وسعت نظری نہیں رہی کہ تنقید اور گستاخی کا فرق سمجھ سکیں۔ الا ماشاء اللہ۔ ماضی قریب تک یہ علمی بلوغت نظر آتی ہے، جہاں تنقید کے جواب میں تنقید لکھی جاتی تھی، ڈنڈے جوتے اٹھا کر سڑک پر آکر گلے نہیں پھاڑے جاتے تھے۔ عوام میں ایسی تنقید ی کتب زیر بحث لانے سے گریز کرنا چاہیے۔
بہرحال، معاشرے اور قانون کی طرف سے اگر اتنے خوفناک نتائج کے باوجود کوئی توہین رسالت کا مرتکب ہوتا ہے، جیسا کہ چند مقدمات میں ایسا ثابت ہوتا ہے، تو سزا کے نفاذ کے علاوہ اس رویے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایسا آخر ہوا کیوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کو ہدفِ گستاخی بنانے کی وجہ اور ضرورت کیوں پیش آ گئی اور وہ بھی اپنی جان پر کھیل کر؟
ہم سمجھتے ہیں کہ توہین رسالت جہاں درحقیقت ہوتی بھی ہے تو اس کی وجہ وہ رد عمل ہوتا ہے جو اس معاشرے کے مسلم اکثریت نے اپنے جاہلانہ رویوں کی بنا پر غیر مسلم اقلیت کے ساتھ اسلام کے نام پر روا رکھے ہوئے ہے۔ انہیں اچھوت اور ناپاک سمجھا جاتا ہے، عوام کے ایک طبقے میں ان کے ساتھ ہاتھ ملانا بھی مکروہ سمجھا جاتا ہے، ان کے ساتھ کھانا پینا تو دور کی بات ان کے کھانے پینے کے برتن الگ رکھے جاتے ہیں۔ سب سیبڑھ کر یہ کہ انہیں معاشرتی دباؤ ڈال کر اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، اور انکار پر حقارت آمیز طرزِ عمل اختیار کیا جا تا ہے۔ جو زیادتیاں غیرمسلموں کے غریب ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ ہوتی ہیں، جوہمارے معاشرے کا عمومی رویہ ہے، وہ بھی مذہبی زیادتی کے زمرے میں شمار ہو جاتی ہیں۔ میں نے بطورِ استاد جس تعلیمی ادارے میں بھی پڑھایا، وہاں مجھ سے میرے طلبہ نے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا غیر مسلم کو سلام کرنا جائز ہے؟ ان کے ساتھ کھاناکھایا جا سکتا ہے؟ یہ شہری تعلیمی اداروں کا حال ہے۔ اندازہ کیجیے کہ دیہی علاقوں کا کیا حال ہوگا، جو وقتاً فوقتاً مختلف واقعات کی صورت میں ہمارے سامنے آتا رہتا ہے۔ تعلیم ملازمت اور زندگی کے دیگر شعبہ جات میں غیر مسلموں سے امتیازی سلوک عام ہے۔ ان کی بستیاں اور قبرستان تک الگ بسائے جاتے ہیں۔ خاکروب اورنچلی سطح کے کام ان کے ساتھ مخصوص کردیے گئے ہیں۔ ان کے مخصوص نام رکھ کر حقارت کا اظہار کیا جاتا ہے۔
یہ ساری جہالت اسلام کے نام پر کی جاتی ہے اور پھر اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کا تقاضا بھی سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ اب ذرا سوچیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر اس نفرت اور حقارت آمیز رویے کے بعد ایک غیر مسلم کے ذہن میں اسلام اور نبی کریم کا کیا تاثر بنتا ہے ؟ ایک مثال لیجیے۔ ایک مغرور بدتمیز آدمی اپنے غرور اور بدتمیزی کو بڑے فخر سے اپنے والد اور خاندانی روایات کی طرف منسوب کرے تو اس کے خاندان اور والد کے بارے میں ہمارا کیا تاثر بنے گا؟چاہے اس کا والد نیک نفس شخص ہی کیوں نہ ہو، لیکن ہمارے سامنے جوتاثر آئے گا ہم تو اس کے مطابق ہی سوچیں گے کہ یہ تمیز سکھائی ہے اس کو اس کے والد نے! اسی طرح جب ایک غیر مسلم، اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر مسلمانوں کی طرف سے مسلسل امتیازی سلوک، حقارت آمیز رویے اور ظلم وستم سے تنگ آکردین کے اس منفی مظہرپرکوئی ردعمل ظاہر کردیتا ہے تو توہین رسالت کامرتکب قرار پاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہماری ان حرکتوں اور رویوں کے بعد غیر مسلم کے ذہن میں نبی پاک کا جو منفی تاثر پیدا ہوتا ہے اس تاثر کے پیدا کرنے والے مسلمان کیا توہینِ رسالت کے مرتکب قرارنہیں پاتے؟ ان کی کیا سزا ہونی چاہیے؟ اس کے بعد پھرذرا سوچیے، بھلا ایسا کون سا غیر مسلم ہوگا جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواؤں سے وہ عزت واحترام اور حقوق مل رہے ہوں جو نبی کریم خود غیرمسلمو ں کو دیا کرتے تھے اوروہ پھر بھی آپ کی شان میں گستاخی کرے؟ اگر اس کے باوجود کرے تو یقیناًسزا کا مستحق بنتا ہے۔
ہمارے مولویوں نے جتنی محنت نبی کریم کی محبت کی دیوانگی لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنے میں لگائی ہے، اتنی ہی محنت اگروہ لوگوں میں اخلاقِ نبوی کی تربیت اور ترویج کے لیے بھی کرتے تو ایسی صورتِ حال پیدا ہی نہ ہوتی، جس سے آج پاکستانی معاشرہ دوچار ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا سود کا ایک روپیہ چھوڑنے کو تیار نہیں، لیکن ان کے نام پر کسی کو بھی قتل کرنے کو تیار ہیں۔ دودھ اور دوائیوں میں ملاوٹ کرنے والے میلاد کی محفلیں سجانے میں پیش پیش ہوتے ہیں، بھائی بہنوں کی جائیداد دبا لینے والے نعت شریف کی محفلیں لگاتے ہیں، نعتیں سن کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں اورآبدیدہ ہونے کے بعد بھی زمین کا قبضہ نہیں چھوڑتے۔ نعرہ رسالت کے آگے پیچھے (نعوذ باللہ) بلا تکلف گالیاں نکالتے ہیں۔ سوچیے کہ ایک غیرمسلم ان مظاہر کے بعد اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا تاثر لے گا۔ کس کے پاس اتنا وقت اور سمجھ ہے کہ خود قرآن یا سیرتِ رسول پڑھ کر پڑھ کر معلوم کرے کہ ان غافل مسلمانوں کے نبی کتنے عظیم تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "خبر دار! جس نے کسی معاہد (ذمی) پر ظلم کیا یا اْس کے حق میں کمی کی یا اْسے کوئی ایسا کام دیا جو اْس کی طاقت سے باہر ہو یا اْس کی دلی رضامندی کے بغیر کوئی چیز اْس سے لے لی تو قیامت کے دن میں اْس کی طرف سے جھگڑا کروں گا۔‘‘ (ابو داؤد)
اب جو لوگ غیرمسلموں پر رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نا م اور ان کی شفاعت کے بھروسے پر بلا جواز زیادتیاں کر رہے ہیں، بلا تحقیق قتل کررہے، قیامت کے دن دیکھیں گے کہ خود رسول اللہ خدا کی عدالت میں ان ظالم مسلمان کے خلاف ان مظلوم غیرمسلموں کا مقدمہ لڑیں گے۔ اور جس کے خلاف خود اللہ کا رسول کھڑا ہو جائے اس بدبخت کی تباہی میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔
عالمی سطح پر توہین رسالت کی وجہ اسلام کا وہ سیاسی تصور ہے جو پوری دنیا پر طاقت کے بل بوتے پر مسلم حکمرانی کو مسلمان کا مقصد گردانتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب عالمی سطح پر آزادی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کر لیا گیا ہے تو پھر کسی قوم کا یہ مقصد حیات کہ اس نے پوری دنیا کو محکوم بنانا ہے، دوسروں کے لیے کسی طرح قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ یہ نظریہ اگر مولانا مودودی کے نام سے پھیلایا جائے تو لوگ ان کو برا بھلا کہیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے فروغ دیں تو لوگ انجانے میں ان کی توہین کریں گے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس نظریہ کے حاملین کے عملی مظاہر اگر داعش کی صورت میں سامنے آئیں تو تحقیق کرنے پہلے ہی عوام سخت رد عمل میں آکر اس دین اور اس کے لانے والے کو برا کہنے لگتے ہیں، جو ایسی تعلیمات یا ایسی تربیت کرتا ہے۔
اسلام کے بارے میں غیروں اور اپنوں کا منفی پراپیگنڈا بھی اس کا سبب ہے۔ مثلاً،اسلام کے عورتوں کے بارے میں احکامات کو عجیب رنگ میں پیش کیا جاتا ہے جو بادی النظر میں بہت دقیانوسی لگتا ہے۔ اس دقیانیوسیت پر مہر تصدیق اس وقت ثبت ہوجاتی ہے جب کچھ مسلم ممالک میں اس پر پوری دقیانوسیت کے ساتھ عمل بھی نظر آتا ہے ، جہاں عورت کو کسی جانور سے زیادہ حیثیت نہیں دی جاتی۔ اس سب کا ردعمل اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف نکلتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ ردعمل نبی کریم کی حقیقی ذات کے خلاف نہیں بلکہ اس تصور کے خلاف ہے جو ان کے سامنے اسلام کی غلط ترجمانی سے پیدا ہوتا ہے۔ دوسروں کو الزام دینے اور اس الزام پر ان کو سزاد دینے سے پہلے ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانک لینا چاہیے کہ کہیں ہم ہی اپنے عظیم نبی کی توہین کے ذمہ دار ہم خود تو نہیں؟
امتی باعث رسوائیِ پیمبرہیں
کیا توہین رسالت پر سزا کے قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے؟ مولانا شیرانی، پروفیسر ساجد میر اور مولانا زاہد الراشدی کی خدمت میں
مولانا غلام محمد صادق
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور ہمارے لیے قابل احترام علمی شخصیت محترم حضرت مولانا محمد خان شیرانی صاحب نے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل توہین رسالت کے قانون پر نظر ثانی کے لیے تیار ہے۔ مگر اس کے لیے حکومت یہ مسئلہ باقاعدہ طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوائے۔ (روزنامہ اسلام ۳۱ جنوری ۲۰۱۶ء) اس پر مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ توہین رسالت پر موت کی سزا کے قانون کی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی۔ البتہ اس کے غلط استعمال کی روک تھام ضروری ہے اور اس پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔ ملک کی ایک تیسری علمی شخصیت اور معروف سکالر و دانشور حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے بھی محترم شیرانی صاحب کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح یہ بات قطعی طور پر غیر متنازعہ ہے کہ توہین رسالت کی سزا بہرحال موت ہے جسے کسی صورت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح یہ بات بھی اب متنازعہ نہیں رہی کہ ہمارے ہاں اس قانون کا استعمال بہت سے مواقع پر ناجائز ہوتا ہے۔ متعدد شواہد ایسے موجود ہیں کہ اپنے مخالفین کو خواہ مخواہ پھنسانے کے لیے اس قانون کا ناجائز استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ بیسیوں مقدمات ایسے ریکارڈ پر ہیں جو خود مسلمانوں کے باہمی مسلکی مشاجرات و تنازعات کے پس منظر میں ایک دوسرے کے خلاف درج کرائے گئے ہیں۔
ہمارے لیے یہ تینوں حضرات قابل احترام و قابل تعظیم و تکریم ہیں، مگر ہم پورے وثوق و اعتماد کے ساتھ ان حضرات کے بیانات کو مآل و نتیجہ کے اعتبار سے توہین رسالت کی سزا میں تخفیف و کمی اور مغربی و سیکولر لابیوں کی طرف سے بے جا واویلا اور مسلمانوں کے خلاف ان کے متعصبانہ پروپیگنڈہ مہم کی نادانستہ طور پر تائید و تصویب اور اس سزا کے مخالفین کو مؤثر ہتھیار فراہم کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ ایسے ماحول میں جبکہ مغرب قانون توہین رسالت کے درپے ہو اور اس کے مکمل خاتمہ یا غیر مؤثر بنانے کے لیے رات دن کوششوں میں مصروف ہو، وقتاً فوقتاً امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے اس قانون کو ختم کرنے کے مطالبات سامنے آتے رہے ہوں، کیا محترم چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل مولانا شیرانی صاحب کا بیان کہ ’’اسلامی نظریاتی کونسل توہین رسالت کے قانون پر نظر ثانی کے لیے تیار ہے مگر اس کے لیے حکومت اس مسئلہ کو باقاعدہ طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوائے‘‘ اس بات کی غمازی نہیں ہے کہ مولانائے محترم خود حکومت کو دعوت دے رہے ہیں کہ توہین رسالت کا متفقہ اور مسلمہ مسئلہ دوبارہ متنازعہ بنا کر کونسل بھجوائے تاکہ اس کو تیثۂ تحقیق کے ذریعہ مغرب اور لادین قوتوں کے لیے قابل برداشت بنایا جائے کہ ’’شیخ بھی راضی ہو اور شیطان بھی ناراض نہ ہو۔‘‘
اگرچہ ہمیں یقین ہے کہ حکومت ایسی غلطی کبھی نہیں کرے گی کہ اس قسم کے حساس اور جذبات ابھارنے والا طے شدہ مسئلہ کو چھیڑ کر اپنے لیے تباہ کن مسائل پیدا کرے گی اور اگر خدانخواستہ اس حکومت اس قسم کی ناعاقبت اندیشی کا مظاہرہ بھی کرے تو عاشقان رسول کے غیض و غضب سے نہیں بچ سکے گی۔
اسلامی نظریاتی کونسل ایک مشاورتی ادارہ ہے، نہ دارالافتاء ہے اور نہ دارالقضاء ہے کہ مسلمانان ملک اس کی تشریح و تعبیر اور بیان و تحقیق سے مطمئن ہو کر توہین رسالت کی سزا جیسے متفقہ اور مسلمہ قانون سے دستبردار ہو کر کونسل کی رائے اور تجویز کو باعث اطمینان و تسکین سمجھیں۔ باقی رہے محترم سینیٹر ساجد میر صاحب اور محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب کے خیالات و بیانات کہ ’’توہین رسالت کے قانون کا استعمال غلط اور ناجائز ہوتا ہے جس کی روک تھام ضروری ہے اور اس پر ہمیں غور کرنا چاہیے‘‘ بلکہ مولانا زاہد الراشدی صاحب نے تو جناب ساجد میر صاحب کی وہم وظن اور مفروضے پر مبنی دعوے پر قطعیت اور یقینیت کی مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے اس موہوم قسم کی بات ’’توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال‘‘ کو غیر متنازعہ (قوم کا متفقہ فیصلہ) اور متعدد شواہد پر مبنی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ہم دونوں بزرگوں کے مذکورہ بیانات کو توہین رسالت کے متفقہ اور مسلمہ قانون میں نادانستہ طور پر امت مسلمہ میں مذموم و مکروہ اختلاف و تفریق اور تذبذب و انتشار پیدا کرنے کے لیے راہ ہموار کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں جو کہ توہین رسالت کی قانونی سزا ختم کرنے یا غیر مؤثر کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کیا ہم ان حضرات کی توقیر و عظیم کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ ملک کے سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف صاحب نے تو مئی ۲۰۰۰ء کو یہی الفاظ استعمال کر کے اعلان کیا تھا: ’’توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے اس لیے ضابطۂ کار تبدیل کرنا چاہیے‘‘ جس پر اس وقت ملک کے طول و عرض میں پاکستان کی دینی اور سیاسی جماعتوں نے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔ اس دوران جنرل موصوف بیرون ملک دوروں پر تھے۔ وہاں انہیں اس بگڑتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کیا گیا، بیرونی ملکی دوروں سے واپسی پر انہوں نے وہ بیان جاری کیا جس کا ایک ایک حرف آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت نے توہین رسالت ایکٹ میں کوئی ترمیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ علماء کرام و مشائخ عظام متفقہ طور پر یہ چاہتے ہیں کہ ایف آئی آر براہ راست ایس ایچ او کے پاس درج ہو۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ان سب کا احترام ہے اور اس سے بڑھ کر عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ ایف آئی آر کے طریقہ کار میں تبدیلی نہ ہو۔ میں نے فیصلہ کیا کہ تمام کا ہی فیصلہ ہے کہ اب بھی ایس ایچ او کے پاس ہی براہ راست ایف آئی آر درج ہو سکے۔ توہین رسالت کے تحت ایف آئی آر کے حوالے سے حکومت جو مجوزہ تبدیلی لانا چاہ رہی ھی اس پر علماء کی رائے حکومت کے لیے بہت راہنمائی کا سبب بنی۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کا قانون پی پی سی 295سی کا حصہ ہے، نہ تو اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے نہ ہی کوئی مسلمان اسے بدل سکتا ہے۔ کوئی اسے تبدیل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ جو معاملہ سامنے آیا ہے وہ ایف آئی آر کے اندراج میں ایک معمولی تبدیلی کا تھا جس کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایسا معاملہ ڈپٹی کمشنر کے نوٹس میں لایا جائے گا جو اس پر ایف آئی آر درج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں علماء کا بے حد احترام کرتا ہوں اور میں نے حکام کو علماء کے ساتھ رابطے کی ہدایت کی ہے۔(روزنامہ نوائے وقت ۱۷ مئی ۲۰۰۰ء)
آخر ایک غیر متدین شخص اور شرعی رموز و آداب سے ناواقف و نابلد جرنیل سابقہ صدر پاکستان کے توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی سے متعلق بیان کہ ’’توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے اس لیے ضابطہ کار تبدیل کرنا چاہیے‘‘ اور مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے امیر محترم پروفیسر ساجد میر صاحب کے ان الفاظ میں کہ ’’البتہ اس (توہین رسالت کے قانون) کے غلط استعمال کی روک تھام ضروری ہے اور اس پر ہمیں غور کرنا چاہیے‘‘ اور محترم مولانا زاہد الراشدی کے ان الفاظ میں کہ ’’یہ بات اب متنازعہ نہیں رہی کہ ہمارے ہاں اس قانون کا استعمال بہت سے مواقع پر ناجائز ہوتا ہے‘‘ اور پھر مولانائے محترم کے یہ الفاظ کہ ’’چنانچہ قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے یہ مسئلہ نظریاتی کونسل میں زیر بحث آتا ہے تو اسے ہدف تنقید بنانے کی بجائے اس کی حمایت کرنی چاہیے‘‘ میں انجام و نتیجہ کے اعتبار سے کیا فرق ہے؟ کہ پرویز مشرف کا بیان تو مورد الزام اور طعن و تشنیع کا سبب بن جاتا ہے جس کے خلاف ملک کے طول و عرض میں احتجاجی مظاہرے اور مذمتی جلسے و اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے قانون توہین رسالت کے نفاذ کے طریقہ کار میں تبدیلی کے متعلق اپنے اعلان کو واپس لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جبکہ ہمارے مذکورہ محترم علمی شخصیات اور قومی قائدین کے مندرجہ بالا بیانات توہین رسالت کے قانون کے لیے افادیت کا سبب طنز و تشنیع سے حفاظت اور مسلمانوں کی نیک نامی کے باعث بن جائیں گے۔
کہتے ہیں کہ کسی شخص کے سر پر ٹوپی فٹ نہیں ہوتی تھی تو دوسرے نے اس کو سر تراشی کا مشورہ دیا۔ ظاہر ہے کہ سر تراشی سے پھر وہ سر، سر ہی نہیں رہ جائے گا۔ ظاہر ہے کہ توہین رسالت کے قانون کے نفاذ کے لیے مانع استعمال شروط و قیود لگانے سے ہی اس قانون کی افادیت ختم ہو جائے گی اور پھر یہ قانون قانون ہی نہیں رہے گا۔
جہاں تک پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال اور بے گناہ لوگوں کو اس قانون میں پھنسانے کے لیے ان کے خلاف مقدمات دائر کرانے اور سزا دلانے کا تعلق ہے تو اس کے لیے مؤثر قانون تعزیرات موجود ہے۔ قانون تعزیرات کی دفعہ 194 کی رو سے اگر کوئی شخص بے گناہ کو سزائے عمر قید یا سزائے قتل دلانے کے ارادے سے غلط بیانی کرے یا جھوٹی شہادت دے تو اس کو عمر قید کی سزا مقرر ہے۔ اور کسی شخص پر سزائے موت لاگو ہو جائے اور بعد میں ثابت ہو کہ اس کی وجہ جھوٹی شہادت تھی تو ایسے جھوٹے گواہ یا گواہوں کو سزائے موت دی جائے گی۔ اگر کسی جگہ قانون توہین رسالت کا غلط استعمال ہوا تو اس تعزیراتی قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے حکومت یا عدالت از خود نوٹس لے کر ایسے افراد کو قرار واقعی سزا دے سکتی ہے جو توہین رسالت کے نام پر جھوٹے مقدمات میں لوگوں کو ملوث کرتے ہیں۔ جب یہ قانون پہلے ہی سے ملک میں موجود ہے تو پھر صرف توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے فکرمند ہونا اور اس اہم اور متفقہ قانون پر نظر ثانی کرنا چہ معنی دارد؟
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: الدین النصیحۃ۔ یعنی دین بس خیر خواہی کا نام ہے۔
(بشکریہ ماہنامہ ’’النصیحہ‘‘ چارسدہ)
مولانا غلام محمد صادق کے نام مکتوب
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مکرمی حضرت مولانا غلام محمد صادق زید مجدکم، مدیر اعلیٰ ماہنامہ النصیحہ چارسدہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
کل ہی ایک دوست نے ماہنامہ النصیحۃ کے ایک شمارہ کی طرف توجہ دلائی ہے جس کے اداریہ میں آنجناب نے مولانا محمد خان شیرانی، پروفیسر ساجد میر، اور راقم الحروف کو خطاب کر کے توہین رسالت پر موت کی سزا کے قانون کے حوالہ سے کچھ نصائح فرمائے ہیں۔ یاد فرمائی کا شکریہ!
توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کے حوالہ سے میرا موقف واضح ہے جس کا درجنوں مضامین میں تفصیل کے ساتھ ذکر ہو چکا ہے، اس کا خلاصہ آنجناب کے لیے دوبارہ تحریر کر رہا ہوں۔
(۱) جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا اللہ تعالیٰ کے کسی بھی پیغمبر کی توہین کی شرعی سزا موت ہے۔ اور اس سلسلہ میں پاکستان میں رائج الوقت قانون بالکل درست ہے جس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی درست نہیں ہوگی۔
(۲) امام ابویوسفؒ ، امام طحاویؒ اور علامہ شامیؒ نے اس سنگین جرم کو ’’ارتداد‘‘ قرار دے کر اس میں توبہ کی گنجائش بیان فرمائی ہے۔ اس لیے اگر اس گنجائش کو مناسب طور پر قانونی حصہ بنا لیا جائے تو اس میں مجھے کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا۔
(۳) یہ بات امر واقعہ ہے کہ ہمارے ہاں اس قانون کا عام طور پر استعمال گروہی اور فرقہ وارانہ تعصبات کے حوالہ سے ایک دوسرے کے خلاف غلط طور پر ہو رہا ہے۔ اس لیے قانون میں تو نہیں البتہ قانون کے نفاذ کے طریق کار میں کوئی تبدیلی اس غلط استعمال کو روکنے کے لیے ناگزیر ہو جائے تو ایسا کرنا نہ صرف درست ہوگا بلکہ قانون پر اعتماد بحال کرنے کا ذریعہ بھی ہوگا۔
جہاں تک اس قانون کے غلط استعمال کا تعلق ہے اس کے بارے میں چند ذاتی مشاہدات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا:
- تھانہ گرجاکھ گوجرانوالہ میں ایک اہل حدیث مولوی صاحب کو ’’توہین قرآن کریم‘‘ کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا اور ضلعی انتظامیہ نے اس سلسلہ میں مجھ سے رابطہ کیا۔ میں نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ وہ مولوی صاحب مسجد کی الماریوں میں پڑے ہوئے بوسیدہ قرآنی کاغذات کو تلف کرنے کے لیے جلا رہے تھے جسے دیکھ کر مخالف مسلک کے ایک مولوی صاحب نے اپنی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر توہین قرآن کریم کا اعلان کرکے اپنے پیروکاروں کا ہجوم اکٹھا کر لیا جس کے مطالبہ پر مولوی صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔ میں نے پولیس افسران سے کہا کہ یہ توہین قرآن کریم کا کیس نہیں بلکہ بے احتیاطی اور بے وقوفی کا معاملہ ہے جس پر مولوی صاحب کو تنبیہ ضرور کی جائے مگر توہین قرآن کریم کا کیس درج نہ کیا جائے۔
- تھانہ کھیالی گوجرانوالہ کے علاقہ میں ایک نوجوان حافظ قرآن کریم کو قرآن کریم کی توہین کا مجرم قرار دے کر پولیس کے حوالے کرنے کی بجائے ہجوم نے سڑکوں پر گھسیٹ کر مار ڈالا جس کا تذکرہ قومی اور بین الاقوامی پریس میں کئی روز تک ہوتا رہا۔ بعد میں جب تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ بھی اس محلہ میں مخالف مولوی صاحب کی کارستانی تھی جس نے مسلکی مخالفت و تعصب میں یہ ڈرامہ رچایا تھا۔
- تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن گوجرانوالہ کے علاقہ میں واقع ہمارے ایک دینی مدرسہ ’’جامعہ قاسمیہ‘‘ کے باہر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت پر مبنی پرچیاں تقسیم کی گئیں اور ان کا کھوج علاقہ کے چند مسیحی افراد تک پہنچایا گیا۔ دوپہر تک پورا علاقہ سڑکوں پر تھا اور قریب تھا کہ مسیحی آبادی کو گھیر لیا جاتا، کمشنر گوجرانوالہ نے ہم سے رابطہ کیا۔ ہمارے ہاں گوجرانوالہ میں بحمد اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے یہ معمول ہے کہ ایسے کسی بھی اجتماعی معاملہ میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، جماعت اسلامی اور شیعہ کے سرکردہ راہنما فوری طور پر مل بیٹھتے ہیں اور ثم الحمد اللہ کہ ایسے مواقع پر داعی بھی ہم دیوبندی ہی ہوتے ہیں۔ اس روز چند گھنٹوں کے نوٹس پر ہم سب جمع ہوئے، معاملہ کو کنٹرول کیا اور پھر انکوائری کی تو اندر سے یہ بات نکلی کہ کاروباری رقابت میں مسیحی سوسائٹی کے چند لوگوں نے اپنے ہی مسیحی بھائیوں کے خلاف یہ سازش کی تھی۔ ضلعی افسران کا کہنا تھا کہ اگر ہم لوگ بروقت مداخلت نہ کرتے تو شام تک علاقہ کی مسیحی آبادی نذر آتش ہو چکی ہوتی اور اس پر سرکردہ مسیحی راہنماؤں نے ہمارا شکریہ ادا کیا۔
- دو سال قبل دینہ ضلع جہلم میں ایک مسجد کے تنازعہ پر ایک گروہ کے لوگوں نے دوسرے گروہ کے خلاف مقدمہ درج کرایا کہ انہوں نے عید میلاد النبیؐ کی جھنڈیاں اکھاڑ کر پاؤں تلے روندی ہیں جن پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی اور درود شریف درج تھا۔ جن حضرات کے خلاف توہین رسالتؐ کا باقاعدہ مقدمہ درج ہوا ان میں جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جھلم کے مہتمم مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق بھی ہیں جو میرے بھانجے، حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کے پوتے، او ر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے نواسے ہیں۔ دینی کارکنوں اور علاقہ کے علماء کرام نے متحد ہو کر اس معاملہ کو ڈیل کیا اور بڑی مشکل کے ساتھ اس ایف آئی آر پر کاروائی کو رکوایا جا سکا۔
یہ چند واقعات ہیں جو میرے ذاتی علم میں ہیں۔ اگر آنجناب حضرت مولانا سید گوہر شاہ صاحب ایم این اے سے کہہ کر اعلیٰ سطح پر ایسی کسی انکوائری کا اہتمام کرا سکیں کہ اس وقت ملک بھر کے تھانوں میں توہین رسالتؐ کے قانون کے تحت درج مقدمات کا جائزہ لے لیا جائے تو آپ کو اکثر مقدمات اسی نوعیت کے ملیں گے جو فرقہ وارانہ یا گروہی مخالفت و تعصب کی بنا پر درج کرائے گئے ہیں۔ اس لیے نہ محترم پروفیسر ساجد میر صاحب غلط کہہ رہے ہیں اور نہ ہی میں نے کوئی خلاف واقعہ بات کی ہے۔ چنانچہ اگر مولانا محمد خان شیرانی اسلامی نظریاتی کونسل میں صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اس قانون کے نفاذ کے طریق کار کو زیر بحث لاتے ہیں تو میری رائے اب بھی یہ ہے کہ اس کی حمایت کی جانی چاہیے۔ اس سے خود قانون کے احترام و اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
ابوعمار زاہد الراشدی
۱۰ مئی ۲۰۱۶ء
’’میرا مطالعہ‘‘
ادارہ
مطالعہ اہل علم کی زندگی کا مرغوب ترین مشغلہ ہوتا ہے اور اس حوالے سے ہر صاحب علم کا اپنا منفرد ذوق اور خاص تجربات ہوتے ہیں۔ قریبی تعلقات رکھنے والے اصحاب علم میں ایک دوسرے کے ذوق مطالعہ سے مستفید ہونا بھی عام مشاہدے کی چیز ہے۔ نامور اہل علم سے ان کے مطالعاتی سفر کی تفصیلات معلوم کرنے اور انھیں عمومی افادہ کے لیے یکجا کرنے کی روایت بھی ہمارے ہاں موجود ہے۔ اس حوالے سے مولانا محمد عمران خان ندوی کا مرتب کردہ مجموعہ ’’مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں‘‘ کے عنوان سے مشہور ومعروف ہے۔ کم وبیش اتنی ہی شہرت ’’میری علمی ومطالعاتی زندگی‘‘ کو حاصل ہوئی جس کے مرتب مولانا عبد القیوم حقانی ہیں اور اس میں مولانا سمیع الحق کے تیار کردہ ایک علمی وتعلیمی سوال نامہ کے جواب میں برصغیر کے نامور اہل علم کے جوابات کو یکجا کیا گیا ہے۔
اسی نوعیت کی ایک تازہ کوشش ماہنامہ نوائے کسان لاہور کے مدیر، برادرم عرفان احمد بھٹی نے کی ہے اور مطالعے کے حوالے سے پاکستان کے معروف اہل قلم، اُدبا اور اہل علم کے تاثرات وتجربات کو زیر نظر مجموعہ ’’میرا مطالعہ‘‘ کی صورت میں قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس مجموعے کی تدوین جناب عبد الرؤف نے کی ہے اور احمد جاوید، اسلم فرخی، ڈاکٹر محمود احمد غازی، ڈاکٹر انور سدید، ڈاکٹر مبارک علی، مولانا زاہد الراشدی، حکیم محمود احمد برکاتی، ڈاکٹر صفدر محمود، آصف فرخی اور ڈاکٹر زاہد منیر عامر سمیت بیس معروف اہل علم واہل قلم کے جوابات اس مجموعے کی زینت ہیں۔ مرتب کی طرف سے اس سلسلے کو جاری رکھنے اور کتاب کی جلد دوم وسوم شائع کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا گیا ہے اور اس کے لیے مجوزہ اہل علم کی ایک فہرست بھی کتاب کے صفحہ ۲۸۸ پر درج کی گئی ہے۔
کتاب کو بلاشبہ مذکورہ اہل علم کے برسوں کے مطالعاتی سفر کا نچوڑ قرار دیا جا سکتا ہے اور اس لحاظ سے علم وادب کا ذوق رکھنے والا کوئی بھی شخص اس کے مطالعہ سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ معروف اشاعتی ادارے ایمل مطبوعات نے اسے طباعت واشاعت کے عمدہ معیار پر پیش کیا ہے، تاہم پروف خوانی کا معیار کتاب کی علمی قدر وقیمت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ کتاب کے آخر میں ان تمام کتب کی فہرست (بعض کتب کے مصنفین کے ناموں کے ساتھ) دی گئی ہے جن کا ذکر کتاب کے صفحات میں ہوا ہے، تاہم اگر ان کے اندراج میں الف بائی یا موضوعاتی ترتیب ملحوظ رکھی جائے اور سب کے مصنفین کا بالالتزام ذکر کیا جائے تو افادہ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔
۲۹۴ صفحات پر مشتمل اس مجموعے کی قیمت ۶۵۰ روپے مقرر کی گئی ہے اور بذریعہ ڈاک منگوانے کے لیے 03425548690 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ (ادارہ)