مسلم حکمرانوں کی غیر مسلموں کے ساتھ دوستیاں / اختلاف اور منافرت / جدید مغربی فکر اور تہذیبی رواداری
محمد عمار خان ناصر
تکفیری گروہ کی طرف سے مسلمان حکمرانوں کی تکفیر کے حق میں یہ نکتہ بھی شد ومد سے اٹھایا جاتا ہے کہ ان حکمرانوں نے بین الاقوامی تعلقات کے دائرے میں کفار کے ساتھ دوستیاں قائم کر رکھی ہیں اور بہت سے معاملات میں یہ دوستیاں اور تعلقات مسلمانوں کے مفاد کے خلاف کردار ادا کرتی ہیں۔ اس ضمن میں عموماً قرآن مجید کی ان آیات کا حوالہ دیا جاتا ہے جن میں میں مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اہل ایمان کے مقابلے میں اہل کفر کے ساتھ دوستی اختیار نہ کریں اور جو ایسا کریں گے، ان کا شمار انھی میں ہوگا۔ (آل عمران ۳:۲۸ و ۵۱)
قرآن مجید میں ان ہدایات کا سیاق وسباق پیش نظر رہے تو اس استدلال کی حقیقت سمجھنا بھی مشکل نہیں رہتا۔ یہ تمام ہدایات، جیسا کہ قرآن کا ہر طالب علم جانتا ہے، عہد نبوی کے مخصوص واقعاتی تناظر میں دی گئیں جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد عرب معاشرے میں کفر اور ایمان کا ایک معرکہ برپا ہو گیا تھا اور کفار کے مختلف گروہ ایک نئے دین کے مقابلے میں اور اس کو مٹا دینے کے عزم سے پیغمبر اسلام کے بالمقابل آ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ گروہ اسلام کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے کے لیے آمادہ نہیں تھے اور ان کی ساری تگ ودو اور مساعی کا ہدف یہ تھا کہ اسلام کو مٹا دیا جائے اور اسلام قبول کرنے والوں کو اس سے برگشتہ کر دیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکاروں کے ساتھ ان سب گروہوں کے عناد او رمخاصمت کی بنیاد ہی یہ تھی کہ دین حق کو فروغ نہ ملنے پائے، بلکہ ممکن ہو تو صفحہ ہستی سے ہی اس کا خاتمہ کر دیا جائے۔ (البقرہ ۲:۱۰۹، ۱۲۰، ۲۱۷۔ (آل عمران ۳:۱۰۰۔ النساء ۴: ۸۹)
اس صورت حال میں ایمان کا بدیہی تقاضا یہی تھا کہ مسلمان ان اسلام دشمن عناصر کے عزائم اور ارادوں سے خبردار رہیں اور اپنی دوستیوں اور تعلقات کا دائرہ اہل ایمان تک ہی محدود رکھیں تاکہ پوری یکسوئی اور دل جمعی کے ساتھ اس کشمکش کو اس کے انجام تک پہنچایا جا سکے۔ تاہم مسلمانوں کے کچھ گروہ مذکورہ اہل کفر کے ساتھ اپنی قرابت داریوں اور سابقہ سیاسی ومعاشرتی تعلقات کی وجہ سے یا ان کی سیاسی طاقت اور اثر ورسوخ سے مرعوب ہو کر اس کشمکش میں کھلے طور پر اللہ اور اس کے رسول کا ساتھ دینے کی ہمت نہیں کر پا رہے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ کوئی بیچ کی راہ اختیار کیے رکھیں جس میں ایمان واسلام کا دعویٰ اور اہل کفر کے ساتھ دوستی اور تعلقات، دونوں برقرار رکھے جا سکیں۔ قرآن مجید کی زیر بحث آیات میں انھی عناصر سے خطاب کیا گیا ہے اور انھیں متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ذہنی گومگو اور تذبذب کی کیفیت سے باہر نکلیں، اپنی تمام تر وفاداریوں کو اللہ کے دین کے لیے خاص کرتے ہوئے اسلام کے ان دشمنوں کے ساتھ دوستی اور قلبی تعلق کو خیرباد کہہ دیں اور اس کشمکش میں پوری یکسوئی کے ساتھ ایمان کے عملی تقاضوں کو بجا لانے اور جان ومال اور رشتہ وقرابت سمیت ہر اس چیز کی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جائیں جس کا ان سے تقاضا کیا جائے۔
کفار سے دوستی کی ممانعت اور ایسا کرنے والوں کو ’’وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ‘‘ (اورتم میں سے جو ان کے ساتھ وابستہ ہوگا، وہ انھی میں سے شمار ہوگا) کی وعید کا پس منظر، جیسا کہ واضح کیا گیا، یہی تھا اور اس وعید کا مقصد بھی کمزور اہل ایمان کو متنبہ اور خبردار کرنا تھا نہ کہ ظاہری قانون کے لحاظ سے انھیں کافر قرار دے کر انھیں دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینا۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ عہد نبوی میں ہمیں متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں جب چند نہایت مخلص صحابہ نے، کسی ایمانی کمزوری کی بنا پر نہیں، بلکہ چند دیگر وجوہ سے ایسا طرز عمل اختیار کیا جو بظاہر کفار کے ساتھ دوستی کی ممانعت کی ہدایات کے برعکس تھا، لیکن اس کے باوجود ان صحابہ کو کافر ومرتد قراردینا تو کجا، معمولی سرزنش تک نہیں کی گئی ۔ چنانچہ دیکھیے:
۱۔ قریش کے سردار اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین دشمن امیہ بن خلف اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف کے مابین دوستی تھی جو ہجرت کے بعد بھی برقرار رہی اور دونوں اپنے اپنے شہر میں ایک دوسرے کے اموال اور تجارتی معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ جنگ بدر میں جب مشرکین کو شکست ہوئی تو عبد الرحمن بن عوف نے اسی دوستی کو نبھاتے ہوئے امیہ کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کی اور انھیں لے کر ایک پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اتنے میں سیدنا بلال کی نظر پڑ گئی اور انھوں نے آواز دے کر کچھ انصاری صحابہ کو اکٹھا کر لیا اور ان کے پیچھے ہو لیے۔ جب یہ حضرات پیچھا کرتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئے تو عبد الرحمن بن عوف نے امیہ کی جان بچانے کے لیے اسے نیچے بٹھا کر اپنے آپ کو اس کے اوپر ڈال دیا، لیکن بلال اور ان کے ساتھیوں نے ان کے نیچے سے تلواریں مار مار کر امیہ کا کام تمام کر دیا۔ (بخاری، ۲۱۷۹)
۲۔ ۶ ہجری میں غزوہ بنی المصطلق سے واپسی پر جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا غلط فہمی کی وجہ سے سفر میں قافلے سے پیچھے رہ گئیں اور بعد میں صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قافلے کے پاس پہنچیں تو منافقین نے ان پر تہمت طرازی کرتے ہوئے پروپیگنڈا کا ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ اس بے ہودہ اور شنیع مہم کی قیادت خزرج کے سردار عبد اللہ بن ابی کے ہاتھ میں تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ سارا معاملہ اس قدر ذہنی اذیت کا باعث بن گیا کہ ایک موقع پر آپ نے منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ آپ کے اس کے شر سے بچائیں۔ آپ نے فرمایا:
یا معشر المسلمین من یعذرنی من رجل قد بلغنی عنہ اذاہ فی اہلی
’’اے مسلمانوں کے گروہ! کون ہے جو مجھے اس شخص کے شر سے بچائے جس کی اذیت کی زد میں میرے اہل خانہ بھی آ گئے ہیں۔‘‘
اس موقع پر اوس کے سردار سعد بن معاذ اٹھے اور کہا کہ یا رسو ل اللہ، ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ اگر اس شخص کا تعلق اوس سے ہے تو ہم خود اسے قتل کر دیں گے اور اگر خزرج سے ہے تو آپ ہمیں حکم دیں، ہم اس کی تعمیل کریں گے۔ اس پر خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کی قبائلی عصبیت بیدا ر ہو گئی اور انھوں نے سعد بن معاذ سے کہا:
لعمر اللہ لا تقتلہ ولا تقدر علی قتلہ ولو کان من رہطک ما احببت ان یقتل
’’خدا کی قسم، تم اسے قتل نہیں کرو گے اور نہ تم میں اتنی ہمت ہے کہ اسے قتل کر سکو۔ اگر اس کا تعلق تمھارے قبیلے سے ہوتا تو تم کبھی اس کا قتل کیا جانا پسند نہ کرتے۔‘‘
اس کے جواب میں اسید بن حضیر نے سعد بن عبادہ کو طعنہ دیا کہ وہ خود بھی منافق ہیں اور منافقوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ اس گفتگو کے نتیجے میں دونوں قبیلے مشتعل ہو گئے اور قریب تھا کہ وہ باہم لڑپڑیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے دونوں گروہوں کے اشتعال کو سکون میں بدلنے کی کوشش کرتے رہے اور بڑی مشکل سے اس صورت حال پر قابو پایا۔ (بخاری، رقم ۳۹۱۰)
علامہ انور شاہ کشمیریؒ خزرج کے سردار کے اس رد عمل کی توضیح میں لکھتے ہیں:
’’ظاہر تو یہی ہے کہ جس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے بارے میں الزامات لگائے اور آپ کی آبرو پر ہاتھ ڈالا، ا س کے بارے میں صحابہ کے موقف باہم مختلف نہ ہوں، لیکن خزرجی نے اس معاملے کے خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ہونے پر نظر نہیں کی اور اس کے بجاے اس کی توجہ ادھر ہو گئی کہ (قتل کی تجویز دینے والا) اوسی یہ سمجھتا ہے کہ عبد اللہ ابن ابی کمزور ہے اور اس کا کوئی حامی نہیں۔ اس سے اسے اپنے اور اپنے قبیلے کے ساتھ ذلت اور پستی لاحق ہوتی ہوئی محسوس ہوئی جس کی وجہ سے اس پر قبائلی حمیت غالب آ گئی اور اس نے مذکورہ جملے کہہ دیے۔‘‘ (فیض الباری ۵/۷۳)
۳۔ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بدری صحابہ میں سے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ معروف ہے کہ انھوں نے مکہ میں اپنے کچھ قرابت داروں اور جائیداد کے تحفظ کی نیت سے مسلمانوں کی جنگی تیاریوں کی اطلاع خفیہ طور پر اہل مکہ کو بھیجنے کی کوشش کی۔ ان کے اس عمل کی اطلاع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی دی گئی اور آپ نے ان کو بلا کر جواب طلبی کی تو انھوں نے وضاحت کی کہ اس اقدام کا محرک اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی نہیں، بلکہ نیت محض یہ تھی کہ اہل مکہ ان کا یہ احسان مانتے ہوئے مکہ میں موجود ان کے اعزہ اور جائیدا کی دیکھ بھال کریں گے۔ اس موقع پر سیدنا عمر نے حاطب کو منافق قرار دیتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی گردن اڑانے کی اجازت طلب کی، لیکن آپ نے فرمایا کہ حاطب نے جو عذر بیان کیا ہے، وہ درست ہے اور یہ کہ اہل بدر کو تو اللہ نے یہ پروانہ دے رکھا ہے کہ تم جو چاہو کرو، میں نے تمھاری مغفرت کر دی ہے۔
فقہاء نے اس واقعے سے جو فقہی اصول اخذ کیا ہے، وہ امام سرخسی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے:
’’اگر مسلمانوں کو کوئی ایسا شخص ملے جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی جاسوسی کرتا اور مسلمانوں کی راز کی باتیں ان تک پہنچاتا ہو اور وہ اپنی مرضی سے اس جرم کا اقرار بھی کر لے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا، البتہ حکمران اسے سزا دے سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے جس بنیاد (یعنی شہادتین کے اقرار) پر اس کو مسلمان تسلیم کیا تھا، اس نے اسے تو ترک نہیں کیا، اس لیے ظاہر کے لحاظ سے ہم اسے دائرۂ اسلام سے خارج نہیں کریں گے جب تک کہ وہ خود اس چیز کو ترک نہ کر دے جس کی بنیاد پر وہ اسلام میں داخل ہوا تھا۔ مزید یہ کہ اس کے اس فعل کا محرک عقیدے کی خرابی نہیں بلکہ لالچ ہے۔ یہ (اس کے عمل کی ) دو ممکنہ توجیہات میں سے زیادہ اچھی توجیہ ہے اور ہمیں اسی کی تلقین کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اہل ایمان بات کے اچھے پہلو کو اختیار کرتے ہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمھارے بھائی کے منہ سے کوئی بات نکلے اور تم اس کا اچھا محمل تلاش کر سکتے ہو تو پھر اسے برے محمل پر محمول نہ کرو۔ اس پر حاطب بن ابی بلتعہ کے واقعے سے بھی استدلال کیا گیا ہے، کیونکہ اگر وہ ایسا کرنے سے کافر اور واجب القتل ہو گئے ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں قتل کیے بغیر نہ چھوڑتے، چاہے وہ بدری صحابی تھے یا غیر بدری۔‘‘ (شرح السیر الکبیر ج ۵ ص ۲۲۹)
مذکورہ تمام پہلووں سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر زیر بحث آیات سے کلمہ گو مسلمانوں کی تکفیر کا اصول یا ضابطہ اخذ کرنے پر ہی اصرار کیا جائے تو وہ یہی ہو سکتا ہے کہ اگر کفار بطور ایک مذہب کے، اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہوں اور کچھ مسلمان دیدہ ودانستہ اسی ارادے سے ان کے ساتھ دوستیاں قائم کر لیں کہ اسلام کو زک پہنچائی جا سکے تو چونکہ ایسا اسلام کے مقابلے میں کفر کو پسند کرنے اور اسے ذہنی وقلبی طور پر اسلام پر ترجیح دیے بغیر ممکن نہیں، اس لیے اسے کفر یا ارتداد قرار دینے میں کسی کو کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم ظاہر ہے کہ کفار اور مسلمانوں کی باہمی کشمکش کی واحد بنیاد مذہب کا اختلاف نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی دنیوی مفادات کے تصادم یا ایک دوسرے کے مقابلے میں برتری اور تفوق حاصل کرنے کی بہت سی صورتیں ہو سکتی ہیں اور وہ صرف مسلمانوں اور کفار کے مابین نہیں بلکہ خود کفار کے مابین یا مسلمانوں کے مختلف گروہو ں کے درمیان بھی ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام دنیوی مفادات کے تناظر میں ایسے حالات میں کفار کے ساتھ دوستی کرنے والے مسلمانوں کو ذمہ دار اور محتاط فقہاء نے کبھی دائرۂ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا۔
مثال کے طور پر جب چھٹی؍ ساتویں صدی میں مسلمانوں کی مرکزی سیاسی طاقت کمزور ہونے کے نتیجے میں ان کے فتح کیے ہوئے بعض علاقے دوبارہ کفار کے قبضے میں چلے گئے اور بعض علاقوں میں مقامی مسلمان حکمرانوں نے غلبہ حاصل کرنے والے کفار کے ساتھ موافقت اور سازگار تعلقات کا طریقہ اختیار کیا تو اہل علم کے سامنے یہ سوال آیا کہ ایسے لوگوں کا شرعی حکم کیا ہے؟ اس حوالے سے ساتویں صدی ہجری کے حنفی فقیہ داود بن یوسف الخطیب کی کتاب ’’الفتاویٰ الغیاثیہ‘‘ سے ایک اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
’’مسلمانوں میں سے جو آدمی کسی معاملے میں ان کی موافقت کرے تو وہ فاسق ہے نہ کہ مرتد اور کافر، اور ایسے مسلمانوں کو کافر قرار دینا سب سے بڑا گناہ کبیرہ ہے، کیونکہ یہ طرز عمل انہیں اسلام سے متنفر کرنے، مسلمانوں کی تعداد کو کم کرنے اور انہیں کفر پر بر انگیختہ کرنے کے مترادف ہے۔ باقی رہے مسلمان بادشاہ ،جو کسی ضرورت کے باعث ان کی اطاعت کرتے ہیں ،تو بحمدہ تعالیٰ صحت اسلام پر قائم ہیں اور اگر ان کی اطاعت کسی ضرورت کے بغیر ہے تو بھی یہی حکم ہوگا ،البتہ اس صورت میں ان پر فاسق کا اطلاق ہوگا۔‘‘ (فتاویٰ غیاثیہ، کتاب السیر، بحوالہ مجلہ ’’فکر و نظر‘‘ ادار تحقیقات اسلامی ،شمارہ ۳ جلد ۶۴ (جنوری، مارچ ۲۰۰۹ )
ہمارے ہاں برصغیر کی ماضی قریب کی تاریخ میں بھی اس کا نمونہ موجود ہے۔ جب برطانوی حکمرانوں نے ہندوستان پر اپنا تسلط مستحکم کرنا شروع کیا تو بہت سے مسلمانوں نے ان کی طاقت اور دنیوی ترقی سے مرعوب ہو کر یا یہ محسوس کرتے ہوئے کہ ان کی مخالفت یا مزاحمت کا طریقہ معروضی صورت حال میں خلاف مصلحت ہوگا، برطانوی حکمرانوں کا قرب اختیار کرنے اور انگریزی سلطنت کے استحکام میں ان کا ساتھ دینے کا راستہ اختیار کر لیا۔ اس طرز فکر کے سب سے بڑے نمائندہ سرسید احمد خان تھے جنھوں نے نہ صرف ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں عملاً باغیوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دیا، بلکہ اس کے بعد اپنی ساری زندگی اس طرز فکر کی تبلیغ کے لیے وقف کر دی کہ مسلمانوں کو برطانوی حکومت کی وفادار اور مخلص رعایا بن کر زندگی بسر کر نی چاہیے۔ سرسید کے اس طرز فکر سے بہت سے طبقات نے اختلاف کیا، لیکن اس کی بنیاد پر ان کی یا ان کے ہم خیالوں کی تکفیر کسی ذمہ دار عالم نے نہیں کی، بلکہ بعض اکابر اہل علم نے یہ کہہ کر ان کا باقاعدہ دفاع کیا کہ اس سب کچھ کے پیچھے سرسید کا جذبہ محرکہ اسلام دشمنی نہیں بلکہ مسلمانوں کی ہمدردی اور خیر خواہی تھی۔ چنانچہ مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں:
’’بڑے محب قوم تھے۔ دین میں رخنہ اندازی کرنے کی وجہ سے لوگ ان سے نفرت کرنے لگے تھے۔ اسی سے نقصان ہوا۔ ۔۔۔ یہ جو مشہور ہے کہ وہ انگریزوں کا خیر خواہ تھا، یہ غلط ہے بلکہ بڑا دانش مند تھا۔ یہ سمجھتا تھا کہ انگریز برسر حکومت ہیں۔ ان سے بگاڑ کر کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ ان سے مل کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات حکیم الامت ج ۱۱، ص ۲۶۷۔۲۶۹)
اختلاف اور منافرت
ادبِ اختلاف مسلمانوں کی علمی روایت کی ایک بہت اہم بحث رہی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ میں مختلف دینی اور دنیاوی امور کے فہم کے ضمن میں اختلاف رائے واقع ہوا۔ بعض حساس دینی وسیاسی معاملات پر اختلاف رائے نے آگے چل کر باقاعدہ مذہبی وسیاسی مکاتب فکر کی صورت اختیار کر لی اور بعض انتہا پسند فکری گروہوں نے اپنے طرز فکر اور طرز عمل سے مسلم فکر کو اس سوال کی طرف متوجہ کیا کہ اختلاف رائے کے آداب اور اخلاقی حدود کا تعین کیا جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ اظہار اختلاف کے بعض نہایت سنگین پیرایے سامنے آنے کے باوجود مسلم فکر میں اختلاف پر قدغن لگانے یا آزادء رائے کو محدود کرنے کا رجحان پیدا نہیں ہوا۔ اس کے بجائے اختلاف رائے کی اہمیت اور ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے اظہار کے لیے مناسب علمی واخلاقی آداب کی تعیین پر توجہ مرکوز کی گئی۔ مسلمانوں کے علمی وفقہی ذخیرے میں اس حوالے سے نہایت عمدہ اور بلند پایہ بحثیں موجود ہیں۔
آٹھویں صدی ہجری میں غرناطہ (اندلس) سے تعلق رکھنے والے شہرۂ آفاق عالم، امام ابو اسحاق الشاطبی (وفات ۷۹۰ھ) نے اپنی کتاب ’’الموافقات‘‘ کی ایک فصل میں اختلاف اور منافرت کے باہمی تعلق کا تجزیہ کیا ہے اور ان اسباب کو واضح کیا ہے جو علمی اختلاف کو باہمی منافرت تک پہنچا دیتے ہیں۔ شاطبی کا کہنا ہے کہ جب لوگ اپنے نقطہ نظر کے ترجیحی دلائل بیان کرتے ہوئے مخالف نقطہ نظر اور اس کے حاملین پر طعن اور ان کی تنقیص کا انداز اختیار کرتے ہیں تو اس سے اختلاف اور علمی ترجیح اپنے حدود سے باہر چلے جاتے ہیں، کیونکہ ترجیح کا مطلب ہی یہ ہے کہ دونوں نقطہ نظر مشترک طور پر اپنے اندر امکان صحت رکھتے ہیں اور علمی طور پر قابل غور ہیں، البتہ ایک نقطہ نظر بعض پہلووں سے کسی فریق کو زیادہ وزنی محسوس ہوتا ہے۔ اب اگر دوسرے نقطہ نظر کی غلطی کو اس اسلوب میں اجاگر کیا جائے کہ اس کی کلی نفی کا تاثر پیدا ہونے لگے تو یہ طریقہ ’’ترجیح’’ سے آگے بڑھ کر ’’ابطال‘‘ کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے جو کہ اپنے بنیادی تصور کے لحاظ سے غلط ہے۔
شاطبی کے مطابق اس طرز تنقید کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جن کے نقطہ نظر پر تنقید کی جاتی ہے، وہ مخالف نقطہ نظر کی خوبیوں اور محاسن کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے اپنے نقطہ نظر کے دفاع پر مجبو رہو جاتے ہیں اور جواب آں غزل کے طور پر مخالف نقطہ نظر کی کمزوریاں اور معائب تلاش کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ یوں بحث کا جو عمل اپنے اپنے نقطہ نظر کے محاسن اور مثبت پہلو واضح کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا، وہ دوسرے نقطہ نظر کی خامیاں اور معائب تلاش کرنے میں بدل جاتا ہے اور انسانوں کے مابین افہام وتفہیم کی فضا پیدا ہونے کے بجائے منافرت اور بغض کو فروغ ملنے لگتا ہے۔ شاطبی نے ا س ضمن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ نقل کیا ہے کہ انھوں نے ایک عرب شاعر زبرقان بن بدر کو اس کا پابند کیا تھا کہ وہ کسی قبیلے یا گروہ کی مدح کرتے ہوئے ایسا انداز اختیار نہ کرے جس سے کسی دوسرے قبیلے یا گروہ کی تحقیر کا تاثر ملتا ہو۔
شاطبی نے امام غزالی کے حوالے سے اس اسلوب تنقید کے ایک اور نقصان کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور وہ یہ کہ اس سے بسا اوقات بالکل صحیح بات کے لیے بھی دلوں میں جگہ پیدا نہیں ہو پاتی، بلکہ الٹا دل اس سے نفور ہو جاتے ہیں۔ امام غزالی لکھتے ہیں کہ عوام کے دلوں میں جہالت اور تعصب کے راسخ ہونے کی بہت بنیادی وجہ یہ ہے کہ اہل حق میں سے بعض ’’جہال‘‘ صحیح بات کو لوگوں کے سامنے چیلنج کے انداز میں پیش کرتے ہیں اور مد مقابل گروہوں کو تحقیر اور استخفاف کی نظر سے دیکھتے ہیں جس سے مخاطب کے دلوں میں عناد اور مخالفت کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں جو پھر اتنے پختہ ہو جاتے ہیں کہ نرم مزاج اور حکیم علمائے حق کے لیے ان کے اثرات کو مٹانا، ناممکن ہو جاتا ہے۔ شاطبی لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہلو سے صحابہ کو اس سے روک دیا تھا کہ وہ یہودیوں کے سامنے حضرت موسیٰ کے مقابلے میں آنحضرت کی فضیلت اس اسلوب میں بیان نہ کریں کہ اس سے حضرت موسیٰ کی کسر شان لازم آتی ہو، کیونکہ کسی بھی نبی سے عقیدت رکھنے والوں کی عقیدت کو مجروح کرنا اسلام کے مزاج کے خلاف ہے۔
شاطبی نے ادب اختلاف کے حوالے سے جس نکتے کو واضح کیا ہے، اس کی زندہ مثالیں اور شواہد ہم روز مرہ اپنے ماحول میں دیکھتے ہیں۔ مذہبی، سیاسی، فکری اور سماجی اختلافات، سب کے سب اسی رویے کی عکاسی کرتے ہیں جس کی شاطبی نے نشان دہی کی ہے۔ حدودِ اختلاف اور آداب تنقید کے حوالے سے اسلامی تصورات کی یاد دہانی کی جتنی آج معاشرے کو ضرورت ہے، شاید کبھی نہیں تھی۔
جدید مغربی فکر اور تہذیبی رواداری
ہمارے اہل دانش میں بالعموم یہ تصور پایا جاتا ہے کہ جدید مغربی تہذیب مذہبی رواداری کی علم بردار اور معاشرتی وثقافتی تنوع کی حوصلہ افزائی کرنے والی تہذیب ہے۔ ہمارے نزدیک یہ تصور نظر ثانی کا متقاضی ہے۔
سب سے بنیادی بات یہ سمجھ لینی چاہیے کہ کوئی بھی تہذیب (اور اس کی علم بردار سیاسی طاقت) ایک مخصوص نظریہ حیات پر مبنی ہوتی ہے اور تمام ترجیحات اسی کی روشنی میں متعین کرتی ہے۔ ایسا کرنا ااس کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ اس کے بغیر وہ دراصل تہذیب بن ہی نہیں سکتی۔ مثال کے طور پر مسلم تہذیب چونکہ ایک ایسے دین کی نمائندہ تھی جو مذہبی اختلافات کے باب میں ’’الحق’’ ہونے کا مدعی تھا، اس لیے اس تہذیب کے تمام مظاہر میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین امتیاز قائم کیا جانا لازم تھا اور ایسا نہ کرنا درحقیقت نظریاتی تضاد کا غماز ہوتا۔ تاہم یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ مسلم تہذیب نے ’’الحق‘‘ کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اس چیز کو بھی اپنے نظریہ حیات میں بنیادی جگہ دی کہ ’’باطل’’ کو کلی طور پر دنیا سے مٹانا خدا کی اسکیم کا حصہ نہیں ہے، اور یہ کہ ’’الحق’’ کی اتباع کی پابندی اصولاً انھی لوگوں پر لازم ہے جو نظریاتی طور پر اسے ’’الحق’’ مان لیں۔ جو لوگ اس پر ایمان نہ لائیں، انھیں سیاسی حقوق میں اہل ایمان کے مساوی نہیں سمجھا جائے گا، تاہم انھیں اپنے مذہبی اور معاشرتی معاملات میں اس ’’حق‘‘ کی پیروی کا پورا اختیار ہوگا جو مسلمانوں کے نقطہ نظر سے ’’باطل‘‘ ہے۔ چنانچہ مسلمانوں نے بطور اصول یہ بات تسلیم کی کہ اخلاقی تصورات کے اطلاق میں مختلف مذاہب کا اختلاف ہو سکتا ہے، اس لیے مسلم تہذیب کے زیر سایہ بسنے والے مختلف مذہبی گروہوں کے معاشرتی قوانین ہمارے نقطہ نظر سے جتنے بھی قابل اعتراض ہوں، انھیں اس پر عمل کی اجازت ہوگی، حتی کہ مجوسیوں کو ماں اور بہن سے نکاح کرنے کی بھی۔ اصل میں ’’رواداری‘‘ کا مصداق یہی چیز ہے۔
اس کی روشنی میں اب مغربی تہذیب کا جائزہ لیجیے:
جدید مغربی تہذیب بھی ایک مخصوص نظریہ حیات پر مبنی ہے اور وہ یہ کہ مذاہب کے اختلاف میں حق وباطل نام کی کوئی چیز پائی ہی نہیں جاتی۔ یہ سارے ’’حق’’ ہیں اور یا پھر سارے ہی ’’باطل’’۔ سو اس بنیاد پر کسی فرق اور امتیاز کا بھی ظاہر ہے، کوئی جواز نہیں بنتا۔ چنانچہ مذہبی عدم امتیاز مغربی تہذیب کے کسی ’’روا دارانہ‘‘ رویے کا نہیں، بلکہ اس تہذیب کے بنیادی نظریہ حیات کا تقاضا ہے۔ مذہب یا مذہبی اخلاقیات کی جگہ یہ تہذیب ’’انسانی حقوق’’ کے ایک متبادل نظریہ حیات کی علم بردار ہے اور ظاہر ہے کہ دنیا میں موجود دوسری تہذیبیں یا اخلاقی تصورات اس کے اس نظریہ حیات سے مختلف ہیں۔ ’’روا داری’’ کا اصل امتحان یہاں شروع ہوتا ہے۔ اگر مغربی تہذیب بھی اپنے اندر وہ لچک رکھتی ہو جو مسلم تہذیب رکھتی تھی، یعنی اپنے نظریہ حیات کو ’’الحق’’ ماننے کے باوجود اس سے مختلف اخلاقی وقانونی نظاموں کی گنجائش تسلیم کرنا بلکہ انھیں قانونی تحفظ دینا، تو یقیناًیہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تہذیب بھی اسی طرح ’’روا دار’’ تہذیب ہے جیسے مسلم تہذیب تھی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ معاملہ یہ نہیں ہے۔ مغربی فکر کو اس پر اصرار ہے کہ انسانی حقوق کا واحد معیار وہی ہے جسے وہ معیار تسلیم کرتی ہے اور اس سے متصادم تمام اخلاقی اور قانونی نظاموں کے لیے لازم ہے کہ وہ خود کو اس سے ہم آہنگ کریں اور غالب تہذیب اس مقصد کے لیے سیاسی، معاشی اور تہذیبی دباو کے تمام تر ذرائع کو بروئے کار لائے گی، بلکہ یہ اس کا فرض ہے۔
سو اچھی طرح یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اہل مغرب جس مذہبی عدم امتیاز کے علم بردار ہیں، وہ ’’روا داری‘‘ کے رویے کے بجائے ان کے اپنے نظریہ حیات کا عین تقاضا ہے، جبکہ جہاں ان کے نظریہ حیات سے مختلف اخلاقی وقانونی نظاموں کی گنجائش تسلیم کرنے کا سوال آتا ہے تو وہاں اہل مغرب ذرہ برابر لچک یا روا داری دکھانے کے قائل نہیں۔ اسی وجہ سے ہم علیٰ وجہ البصیرت یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم تہذیب، مذہبی واخلاقی تصورات کے تنوع اور اختلاف کو قبول کرنے کے حوالے سے جدید مغربی تہذیب سے سو گنا زیادہ روادار اور لچک دار تھی، کیونکہ مسلمانوں نے اپنے دور میں اہل ذمہ کو جان ومال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنے مذہبی قوانین پر عمل کی بھی آزادی دی تھی، جبکہ اہل مغرب اپنے ’’اہل ذمہ‘‘ کو یہ آزادی دینے کے لیے تیار نہیں اور اپنے مخصوص اقداری تصورات کی بنیاد پر مسلمانوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی شریعت کے ان تمام احکام سے دست بردار ہو جائیں جو جدید مغربی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ نہیں۔ (حقیقت یہی ہے کہ مسلمان ممالک کی حیثیت اس دور میں مغربی اقوام کے ’’اہل ذمہ’’ کی ہے جو ان کی دنیا میں، ان کی شرائط پر اور ان کے مقرر کردہ حدود میں ہی سیاسی ’’آزادی‘‘ سے مستفید ہو رہے ہیں۔)
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۰)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۹۱) ’’وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْْہِ الْعَذَابُ‘‘ کا ترجمہ
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ یَسْجُدُ لَہُ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَن فِیْ الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْْہِ الْعَذَابُ۔ (الحج: ۱۸)
اس آیت کا ایک ترجمہ تو وہ ہے جو عام طور سے مترجمین نے کیا ہے، بطور مثال ذیل میں ایک ترجمہ پیش کیا جاتا ہے:
’’تو نے نہ دیکھا کہ اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی آسمان میں ہے، اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت آدمی۔ اور بہت ہیں کہ ان پر ٹھہر چکا ہے عذاب‘‘۔ (شاہ عبد القادر)
اس ترجمہ کی رو سے پہلا جملہ وکثیر من الناس، پر جاکر مکمل ہوگیا ہے، او ر اس کے بعد وکثیر حق علیہ العذاب ایک مستقل جملہ ہے۔ اس ترجمہ میں کوئی اشکال نہیں ہے اور بات بہت واضح ہے، کہ کائنات میں تمام چیزیں اللہ کے آگے سجدہ ریز ہیں، بہت سے انسان بھی سجدہ ریز ہیں، اور جو بہت سے نہیں ہیں ان کے سلسلے میں عذاب کا فیصلہ ہوچکا ہے۔
دوسرا ترجمہ ہمیں تفہیم القرآن میں ملتا ہے:
’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اورجو زمین میں ہیں، سورج، چاند، اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں؟‘‘ (سید مودودی)
اس ترجمہ کی رو سے وکثیر حق علیہ العذاب مکمل جملہ نہیں بلکہ موصوف صفت ہے، اور کثیر من الناس پر معطوف ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جن انسانوں کے بارے میں عذاب کا فیصلہ ہوچکا ہے وہ بھی خدا کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اس کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ہر انسان خواہ مومن ہو یا کافر، اس طور سے سجدہ ریز ہوتا ہے کہ اس کے جسم کے بہت سارے اعضاء حکم الٰہی کے پابند ہوتے ہیں۔
اس ترجمہ کی گنجائش عربی قواعد کے لحاظ سے نکل سکتی ہے، لیکن کئی وجوہ سے یہ ترجمہ نامناسب ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ کافروں کے لیے اللہ کی طرف سجدہ کرنے کی نسبت کہیں نہیں کی گئی ہے۔ غیر انسانی مخلوقات کے سجدہ کی نوعیت کیا ہوتی ہے، اس سے قطع نظر ایک انسان سجدہ سے متصف اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ وہ حقیقت میں اللہ کے لیے سجدہ کرتا ہو، وہ سجدہ جس کا اس کو حکم دیا گیا ہے، اگر کسی انسان کا دل ودماغ اور اس کی پیشانی غیر اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہوں تو خود وہ انسان اللہ کے لیے سجدہ کرنے والا کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ جب انسانوں کی دو تقسیم کردی گئی تو اس سے خود یہ بات واضح ہوگئی کہ ایک گروہ سجدہ نہیں کرنے والوں کا ہے۔ ورنہ ایسی تقسیم کی ضرورت نہیں تھی۔ کثیر من الناس کہہ دینے کا صاف مطلب ہے، کہ باقی سجدہ نہیں کرتے ہیں، ورنہ اگر سب سجدہ کرتے ہیں، تو صرف الناس کہہ دیا جاتا۔
(۹۲) ’’وَلْیُوفُوا نُذُورَہُمْ‘‘ کا مطلب
سورہ حج کی مذکورہ ذیل آیت کے دو ترجمے ملاحظہ فرمائیں:
وَأَذِّن فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالاً وَعَلَی کُلِّ ضَامِرٍ یَأْتِیْنَ مِن کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔ لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ فِیْ أَیَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَی مَا رَزَقَہُم مِّن بَہِیْمَۃِ الْأَنْعَامِ فَکُلُوا مِنْہَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِیْرَ۔ ثُمَّ لْیَقْضُوا تَفَثَہُمْ وَلْیُوفُوا نُذُورَہُمْ وَلْیَطَّوَّفُوا بِالْبَیْْتِ الْعَتِیْقِ۔ (الحج: ۲۷۔۲۹)
’’اور لوگوں میں حج کی منادی کردو وہ تمہارے پاس آئیں گے، پیادہ بھی اور نہایت لاغر اونٹنیوں پر بھی جوپہنچیں گی دوردراز گہرے پہاڑی رستوں سے تاکہ لوگ اپنی منفعت کی جگہوں پر بھی پہنچیں اور خاص دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔ پس اس میں سے کھاؤ اور فاقہ کش فقیروں کو کھلاؤ۔ پھر وہ اپنے میل کچیل دور کریں، اپنی نذریں پوری کریں اور بیت قدیم کا طواف کریں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اور لوگوں کو حج کے لیے اذن عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں تاکہ وہ فائدے دیکھیں، جو یہاں ان کے لیے رکھے گئے ہیں، اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں بخشے ہیں، خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں، پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں‘‘۔ (سید مودودی)
ان آیتوں کے ترجمے کے سلسلے میں مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات حسب ذیل ہیں:
ضامر کا ترجمہ لاغر اونٹنی کیا جاتا ہے، صحیح ترجمہ ہوگا سدھائی ہوئی اونٹنی، جس کو سدھانے سے پیٹ اندر چلا جاتا ہے، یہ اونٹنیاں دور دراز کے سفر میں کام آتی ہیں۔
من کل فج عمیق کا ترجمہ دور دراز مقام اور دور دور دراز راستوں کیا جاتا ہے، فج عمیق سے مراد مکہ میں داخل ہونے والے راستے ہیں جو کہ آنے والوں کی کثرت سے گہرے ہوگئے، من کل فج عمیق کا ترجمہ ہوگا ہر گہرے راستے سے گزر کر۔
لیشھدوا منافع لھم کا ترجمہ ہوگا فائدے دیکھنا یا فائدوں کی جگہ پر پہونچنا نہیں ہوگا بلکہ یہ کہ وہ شریک ہوں ان فائدوں میں جو ان کے لیے رکھے گئے ہیں۔
بہیمۃ الانعام کا ترجمہ جانوروں نہیں بلکہ چوپایوں کیا جائے گا۔
مذکورہ بالا امور کے علاوہ ان آیتوں کے ترجمہ میں بہت اہم بحث یہ ہے کہ ولیوفوا نذورھم کا کا ترجمہ کیا ہو؟
عام طور سے لوگوں نے ترجمہ کیا ہے:’’ اور اپنی نذریں پوری کریں‘‘۔
اس میں کئی اشکال ہیں، ایک تو یہ کہ نذر پوری کرنے کے لیے أوفی کے ساتھ باء کا صلہ آتا ہے، جیسے یوفون بالنذر۔ جبکہ یہاں باء کے بغیر استعمال ہوا ہے۔
دوسرا اشکال یہ ہے کہ نذر پوری کرنے کا مناسک حج، ایام حج اور مکہ مکرمہ سے کیا تعلق ہے؟
تیسرا اشکال یہ کہ نذریں پوری کرنے کا نمبر سارے کاموں کے بعد کیوں؟
مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے کے مطابق یہاں ترجمہ ہوگا: حج کے مناسک کو مکمل سمجھ کر اپنے پرہیز ختم کریں، یا احرام کے لوازم سے باہر نکل آئیں۔ أوفی بنذرہ کا مطلب ہوگا جو کام اس پر واجب تھا اس کو انجام دیا، اور أوفی نذرہ کا مطلب ہوگا، اپنے پرہیز کو مکمل کرکے اس سے باہر آگیا۔
مقامات حریری کی ذیل کی عبارت میں غالباً اسی بات کی طرف اشارہ ہے:
حکی الحارثُ بنُ ھَمّامٍ قال: نھضتُ من مدینۃِ السّلام. لحِجّۃِ الاسلامِ. فلمّا قضیتُْ بعَونِ اللہِ التّفَثَ. واستبَحتُ الطّیبَ والرَّفَثَ. (مقامات الحریری، ص:۱۳۲)
(۹۳) ترجمہ میں تقدیم وتاخیر کی غلطی
وَمَن یَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخَافُ ظُلْماً وَلَا ہَضْما۔ (طہ:۱۱۲)
’’اور جو نیک اعمال کرے گا اور وہ مومن بھی ہے، تو اس کو نہ کسی حق تلفی کا اندیشہ ہوگا اور نہ کسی زیادتی کا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
اس ترجمہ میں نص کی مطابقت میں بھی اور ترتیب کے عام اصول کے لحاظ سے بھی ’’زیادتی‘‘ پہلے ہونا چاہیے اور ’’حق تلفی‘‘ بعد میں، کیونکہ ظلم جو پہلے آیا ہے اس کا مطلب زیادتی اور ہضم جو بعد میں آیا ہے اس کا مطلب حق تلفی ہے۔
ذیل کا ترجمہ اس پہلو سے درست ہے:
’’اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا نہ نقصان کا‘‘۔ (احمد رضا خان)
(۹۴) موصوف کی تعیین میں غلطی
فِیْہَا فَاکِہَۃٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَکْمَامِ۔ (الرحمن:۱۱)
’’اس میں میوے اور کھجور ہیں، جن پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
اس ترجمہ میں غلطی یہ ہے کہ ذات الاکمام کو فاکھۃ اور النخل دونوں کی صفت بنادیا گیا ہے، حالانکہ وہ صرف النخل کی صفت ہے، تمام پھل اور میوے تو خوشے والے نہیں ہوتے ہیں۔ اس پہلو سے ذیل کا ترجمہ درست ہے۔
اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں۔ کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ (سید مودودی)
بعض لوگ ذات الاکمام کا ترجمہ خوشے والے کرتے ہیں، اور بعض لوگ غلاف والے، ذیل میں دونوں کی مثالیں ہیں:
’’بیچ اس کے میوہ ہے، اور کھجوریں خوشوں والے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)
’’اس میں میوہ ہے اور کھجوریں جن کے میوے پر غلاف‘‘ (شاہ عبدالقادر)
راغب اصفہانی لکھتا ہے: والکِمُّ: مایغطّی الثّمرۃَ، وجمعہ: الاکمَام. (المفردات فی غرائب القرآن،ص:۷۲۶)
جوہری لکھتا ہے: والکِمُّ والکِمَّۃُ بالکسر والکِمامَۃُ: وعاءُ الطلع وغطاء النَوْرِ، والجمع کِمامٌ وأکِمَّۃٌ وأکمام۔ (الصحاح)
(۹۵) معطوف کی تعیین میں غلطی
وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّیْْحَان۔ (الرحمن:۱۲)
’’طرح طرح کے غلے ہیں، جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے، اور دانہ بھی‘‘۔ (سید مودودی)
اس ترجمہ میں غلطی یہ ہے کہ الریحان کو العصف پر معطوف مان لیا گیا ہے، حالانکہ الریحان مرفوع ہے، اگر الریحان مجرور ہوتا تو یہ ترجمہ درست ہوتا، اس کے علاوہ ریحان کے ترجمہ کے لیے دانہ کا استعمال بھی محل نظر ہے۔ اس پہلو سے ذیل کے ترجمے درست ہیں:
’’اور بھس والے اناج بھی ہیں، اور خوشبودار پھول بھی‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اور (اس میں) غلہ ہے جن میں بھوسا (بھی) ہوتا ہے اور (اس میں) غذا کی چیز (بھی) ہے۔‘‘ (اشرف علی تھانوی)
(۹۶) أمثال کا ترجمہ
أمثال جمع ہے مِثْل اور مَثَل کی، اول الذکر کا مطلب ہے ’’جیسا‘‘ اور ثانی الذکر کا مطلب ہے تمثیل۔
مثال کی جمع أمثال نہیں ہوتی بلکہ أمثلۃ ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں أمثال کا لفظ کئی جگہ آیا ہے بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ مثالیں کیا ہے، جو درست نہیں ہے، صحیح ترجمہ امثال یا تمثیلیں یا کہاوتیں ہوگا۔
(۱) وَتِلْکَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُہَا إِلَّا الْعَالِمُونَ۔ (العنکبوت:۴۳)
’’ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لیے بیان فرمارہے ہیں انہیں صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
یہ ترجمہ لفظ کے اعتبار سے بھی اور سیاق کے پیش نظر بھی درست نہیں ہے، کیونکہ اوپر کسی مثال کا نہیں بلکہ تمثیل کا ذکر ہے۔ اس پہلو سے ذیل کے ترجمے درست ہیں:
’’اور یہ تمثیلیں ہیں جن کو ہم لوگوں کے غوروفکر کرنے کے لیے بیان کرتے ہیں، لیکن ان کو صرف اہل علم ہی سمجھتے ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اور یہ کہاوتیں بٹھاتے ہیں ہم لوگوں کے واسطے اور ان کو بوجھتے وہی ہیں جن کو سمجھ ہے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
(۲) لَوْ أَنزَلْنَا ہَذَا الْقُرْآنَ عَلَی جَبَلٍ لَّرَأَیْْتَہُ خَاشِعاً مُّتَصَدِّعاً مِّنْ خَشْیَۃِ اللَّہِ وَتِلْکَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ۔ (الحشر:۲۱)
’’اگر ہم اتارتے یہ قرآن ایک پہاڑ پر تو تو دیکھتا وہ دب جاتا پھٹ جاتا اللہ کے ڈر سے اور یہ کہاوتیں ہم سناتے ہیں لوگوں کو شاید وہ دھیان کریں‘‘۔(شاہ عبد القادر)
’’اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی اتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جارہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے، یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں، کہ وہ (اپنی حالت پر) غور کریں‘‘۔ (سید مودودی، اس ترجمہ میں ایک غلطی تو یہ ہے کہ امثال کا ترجمہ مثالیں کیا گیا ہے، جبکہ تمثیلیں ہونا چاہیے۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ ترجمے میں ’’اپنی حالت پر‘‘ کا اضافہ غیر ضروری ہے، اور بے محل بھی ہے، کیونکہ آیت میں تمثیل ذکر کرکے اس پر غور کرنے کی دعوت ہے، نہ کہ اپنی حالت پر غور کرنے کی۔)
’’اگر اس قرآن کو ہم کسی پہاڑ پر اتارتے تو تم دیکھتے کہ وہ خشیت الٰہی سے پس اور پاش پاش ہوجاتا، اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، اس ترجمہ میں ایک غلطی تو یہ ہے کہ امثال کا ترجمہ مثالیں کیا گیا ہے، مزید یہ کہ متصدعا کا ترجمہ پاش پاش ہوجاتا درست نہیں ہے، پھٹا جاتا درست ترجمہ ہے)
سعدی شیرازی کا ترجمہ ہے:’’ شگافتہ از ترس خدا‘‘۔ جبکہ شاہ ولی اللہ کا ترجمہ ہے’’ پارہ پارہ شدہ از خوف خدا‘‘۔
تصدع کا عربی میں قریب ترین متبادل تشقق ہے۔ راغب اصفہانی نے تصدع کی بہت اچھی وضاحت کی ہے۔
الصَّدْعُ: الشّقّ فی الْجسام الصّلبۃکالزّجاج والحدید ونحوھما. قال: صَدَعْتُہ فَانْصَدَعَ، وصَدَّعْتُہُ فَتَصَدَّعَ، قال تعالی: یَوْمَئِذٍ یَصَّدَّعُونَ. (الروم: ۴۳)، وعنہ استعیر: صَدَعَ الأمرَ، أی: فَصَلَہُ، قال: فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ. (الحجر:۹۴)، وکذا استعیر منہ الصُّدَاعُ، وھو شبہ الاشتقاق فی الرّأس من الوجع. قال: لا یصَدَّعُونَ عَنھا وَلایُنْزِفُونَ. (الواقعۃ:۱۹)، ومنہ الصَّدِیعُ للفجر، وصَدَعتُ الفلاۃ: قطعتھا، وتَصَدَّعَ القومُ أی: تفرّقوا. (المفردات فی غریب القرآن)
(جاری)
اسلام اور جدیدیت کی کشمکش
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(جناب محمد ظفر اقبال کی تصنیف کے دوسرے ایڈیشن کے لیے لکھا گیا۔)
نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔
ضرورت کے مطابق علم اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کو مرحمت فرمایا ہے لیکن علم میں وسعت، ارتقاء اور اس سے زیادہ سے زیادہ نفع اٹھانے کی صلاحیت انسان کو ودیعت ہوئی ہے جو نسل انسانی کا اختصاص ہے۔ اور بعض مفسرین کرام کے مطابق یہی خصوصیت وعلم آدم الاسماء کلھا کے حوالہ سے فرشتوں پر انسان کی برتری کا ذریعہ بنی تھی۔ اپنے محدود وقت اور ضرورت کے مطابق علم چیونٹی کو بھی حاصل ہے کہ اسے زندگی گزارنے اور اپنے اردگرد کے ماحول سے استفادہ کرنے اور نمٹنے کے لیے ضروری علم اس کی پیدائش کے ساتھ ہی ودیعت کر دیا جاتا ہے۔ اور وہ اس کی روشنی میں ایسی منظم اور مربوط زندگی گزارتی ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اسی طرح باقی تمام جانوروں کو بھی پیدا ہوتے ہی ان کی زندگی کے بارے میں بنیادی معلومات میسر ہوتی ہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ ان میں اتنا ہی اضافہ ہو پاتا ہے جو ان کی زندگی کے لیے ضروری ہوتا ہے جبکہ اس سے ہٹ کر انہیں کسی اور بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اسے ’’فطرت نوعیہ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں کہ جانوروں کی ہر نوع کو زندگی گزارنے کے لیے ضروری معلومات قدرتی طور پر ودیعت ہوتی ہیں اور یہ سب کچھ وہبی ہوتا ہے کسبی نہیں۔ مشاہدہ و تجربہ سے اس میں کچھ نہ کچھ اضافہ تو ہو جاتا ہے لیکن خود اس علم یا معلومات کی بنیاد کسی کسب اور محنت پر نہیں ہوتی۔ یہی حال حضرت انسان کا بھی ہے کہ اپنے نوعی اختصاص کے مطابق پیدائش کے ساتھ ہی اسے بنیادی باتوں کا شعور ہوتا ہے جس کا اندازہ دو چھوٹی سی مثالوں سے کیا جا سکتا ہے۔
ماں کے پیٹ میں بچے کے جسم کو خوراک ملنے کا ذریعہ ناف کی نالی ہوتی ہے جو اس کے پیدا ہو جانے کے بعد کاٹ دی جاتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی بھوک لگنے کی صورت میں بچہ ناف کو حرکت دینے کی بجائے منہ کو حرکت دینے لگتا ہے اور ماں کے سینے سے چمٹ کر ہونٹ ہلانے لگ جاتا ہے کہ اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب مجھے خوراک اس راستے سے ملے گی اور ماں کے سینے سے ملے گی۔ یہ اسے کسی نے دنیا میں آنے کے بعد بتایا نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس حوالہ سے اس سے قبل کسی تجربہ و مشاہدہ سے گزرا ہے لیکن اس کے اندر کی کوئی چیز اسے یہ کچھ کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اسی طرح کی دوسری مثال یہ ہے کہ معصوم اور گود کے بچے کو جب آنکھ میں خارش ہوتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا علاج کھجلانا ہے۔ وہ اپنا ہاتھ آنکھوں تک لے جاتا ہے اور کھجلاتا بھی انگلیوں سے نہیں بلکہ ہاتھ کی پشت سے ہے کیونکہ اس کے شعور میں یہ بات شامل ہے کہ انگلیوں اور ناخنوں کے ساتھ کھجلانے سے آنکھ کو نقصان پہنچے گا، اس لیے وہ مٹھی بند کرتا ہے اور اس کی پشت سے آنکھ کھجلاتا ہے۔
اسے آپ فطرت نوعیہ سے تعبیر کریں، نوعی شعور کہہ لیں یا وجدان کا نام دیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کے حصول میں اس کے کسی کسب اور محنت کا دخل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی خارجی تعلیم و تربیت اس کے اس وجدان و شعور کا باعث بنی ہے بلکہ یہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہبی طور پر دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ نسل انسانی کی رسمی تعلیم کا آغاز بھی قرآن کریم نے وعلم آدم الاسمآء کلھا الخ کی صورت میں وہبی ہی بیان فرمایا ہے۔ اس لیے یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ انسانی علم و شعور کی بنیاد کسب پر نہیں بلکہ وہب و عطیہ پر ہے۔ البتہ اس میں ترقی و وسعت اور اسے زیادہ سے زیادہ نفع بخش بنانے میں انسان کا کسب، محنت اور صلاحیت ذریعہ بنتی ہے۔ اور چونکہ انسان کی زندگی صرف دنیا تک محدود نہیں ہے اور اس کی تگ و دو کا دائرہ بھی صرف زمین کا کرہ نہیں ہے اس لیے اس کی علمی استعداد، توانائیاں، مواقع، اور سعی و محنت دنیا اور زمین کی حدود کی پابند نہیں ہے۔ بلکہ اسے اس تگ و دو کے لیے ایک وسیع دائرہ دیا گیا ہے جس کی طرف قرآن کریم کی دو آیات کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔
(۱) سنریھم اٰیاتنا فی الاٰفاق و فی انفسھم حتیٰ یتبین لھم انہ الحق۔ (سورۃ فصلت ۴۱ ۔ آیت ۵۳)
’’عن قریب ہم اپنی نشانیاں انہیں دنیا میں دکھائیں گے اور خود ان کے نفس میں، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ وہی حق ہے۔‘‘
(۲) یعلمون ظاھرًا من الحیاۃ الدنیا وھم عن الآخرۃ ھم غافلون۔ (سورۃ الروم ۳۰ ۔ آیت ۷)
’’دنیا کی زندگی کی ظاہر باتیں جانتے ہیں اور وہ آخرت سے غافل ہی ہیں۔‘‘
چنانچہ انسان کے ذمہ صرف یہ نہیں ہے کہ وہ دنیا کی چند روزہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے آسائش تلاش کرے، اسباب فراہم کرے، اور ان کے بہتر سے بہتر استعمال کے طریقے دریافت کرتا رہے۔ بلکہ یہ بھی اس کی نوعی ذمہ داری میں شامل ہے کہ وہ کائنات کو وجود میں لانے والے خالق و مالک کی مرضی معلوم کرے اورا س کی مرضی و منشاء کی تکمیل کے لیے متحرک ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کی زندگی کے لیے، جو اصلی اور دائمی حیات ہے، فکرمند ہو اور اسے بہتر بنانے کو زندگی کا مقصد قرار دے۔
انسان کا المیہ یہ ہے کہ اس نے اسی دنیا کی زندگی کو اپنا واحد مقصد بنا لیا ہے اور اس کی تمام تر تگ و دو اسی کے گرد گھومنے لگی ہے۔ اسی طرح اس کی فکرمندی ’’دنیا میں آگیا ہوں تو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہے‘‘ کے دائرے میں محصور ہے۔ جبکہ ’’کیوں آیا ہوں؟ کس نے بھیجا ہے؟ آگے کہاں جانا ہے؟‘‘ کے بنیادی سوالات اس کی نظروں سے اوجھل ہو کر رہ گئے ہیں جسے قرآن کریم نے یعلمون ظاھرًا من الحیاۃ الدنیا سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس کا اندازہ اس مثال سے کر لیجیے کہ میڈیکل سائنس بلاشبہ ایک وسیع، وقیع اور مفید علم ہے جس کا موضوع انسانی جسم ہے۔ یہ علم و فن انسانی جسم کے بارے میں ہزاروں سال سے تحقیق و تجزیہ کی محنت کر رہا ہے اور اس حوالہ سے انسانی معاشرے کی بڑی خدمت کر رہا ہے۔ لیکن اس کی بنیاد صرف ان سوالات پر ہے کہ انسانی باڈی کے اجزائے ترکیب کیا ہیں؟ اس کا نیٹ ورک اور میکنزم کیا ہے؟ یہ کیسے صحیح کام کرتا ہے؟ اور خرابی پیدا ہو جائے تو اسے کیسے صحیح کرنا ہے؟
لیکن انسانی جسم کا مقصد تخلیق کیا ہے؟ اور اسے تخلیق کس نے کیا ہے؟ کے دو اہم ترین سوال سرے سے میڈیکل سائنس کے موضوع سے خارج ہیں۔ انتہائی تعجب کی بات ہے کہ میں اس وقت جس قلم کے ساتھ لکھ رہا ہوں اس کے بارے میں تو مجھے معلوم ہے کہ اس کا مقصد وجود کیا ہے اور یہ کس فرم نے بنایا ہے۔ لیکن خود اپنے بارے میں یہ جاننا مجھے ضروری نہیں محسوس ہوتا ہے کہ میرا خالق کون ہے اور اس نے مجھے کس مقصد کے لیے تخلیق کیا ہے؟
اسی طرح کائنات کی وسعتوں پر غور اور محنت کرنے والی سائنس نے بھی خود کو صرف اس سوال میں مقید کر رکھا ہے کہ یہ سب کچھ کیا ہے اور ہم اس سے فائدہ کس طرح حاصل کر سکتے ہیں؟ لیکن اسے یہ معلوم کرنے کی فرصت نہیں ہے کہ یہ سب کچھ کس نے بنایا ہے اور کیوں بنایا ہے؟ جبکہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے ما خلقنا السماوات والارض وما بینھما لاعبین کہ ہم نے زمین و آسمان اور ان کے اردگرد کائنات کو کھیل تماشے کے لیے نہیں بنایا اور ما خلقنا ھما الا بالحق ہم نے یہ سب کچھ بامقصد پیدا کیا ہے۔ لیکن ہماری سائنس اس سب کچھ سے بے نیاز ہو کر اپنی تمام تر محنت اس نکتہ پر مرکوز رکھے ہوئے ہے کہ ہمارے اردگرد کائنات کی وسعتوں میں جو کچھ موجود ہے اسے دریافت کیسے کرنا ہے؟ استعمال میں کیسے لانا ہے؟ اس سے فائدہ کیسے اٹھانا ہے؟ اور اسے اپنے دشمن کے خلاف استعمال کیسے کرنا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس میں سائنس کے ان دونوں دائروں کا ذکر کیا ہے اور ان کی مقصدیت اس طرح واضح فرمائی ہے کہ
سنریھم اٰیاتنا فی الاٰفاق وفی انفسھم حتیٰ یتبین لھم انہ الحق، اولم یکف بربک انہ علیٰ کل شئی قدیر O الآ انھم فی مریۃ من لقآ ربھم الآ انہ بکل شئی محیط۔ (سورۃ فصلت ۴۱ ۔ آیات ۵۳ و ۵۴)
’’عن قریب ہم اپنی نشانیاں انہیں کائنات میں دکھائیں گے اور خود ان کے نفس میں، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ وہی حق ہے۔ کیا ان کے رب کی یہ بات کافی نہیں کہ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے؟ (۵۳) خبردار! انہیں اپنے رب کے پاس حاضر ہونے میں شک ہے، خبردار! بے شک وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ (۵۴)‘‘
قرآن کریم نے انفس و آفاق کی نشانیوں کے مشاہدہ و تجربات کی مقصدیت کو کتنے واضح انداز میں بیان فرمایا ہے۔ مگر ہماری سائنس کے یہ دونوں دائرے اس مقصدیت سے آنکھیں بند کر کے سائنس کے صرف دنیاوی نفع و نقصان کے گرد کولہو کے بیل کی طرح مسلسل گھوم رہے ہیں بلکہ انسان اور کائنات کی مقصدیت اور آخرت کی حقیقی اور دائمی زندگی کے بارے میں انکار و تمسخر کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
انسان کو علم کے جو ذرائع میسر ہیں انہیں عام طور پر محسوسات، مشاہدات اور معقولات کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے اور بلاشبہ یہ علم کے مؤثر ذرائع ہیں۔ لیکن کیا انسان کے پاس ان کے علاوہ علم کے حصول کا اور کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے؟ یہ بات خاص طور پر غور طلب ہے اس لیے کہ ہمارے بہت سے علمی و فکری مسائل و مشکلات کی اصل وجہ یہ ہے کہ جو بات محسوسات و معقولات کے دائرہ میں نہیں ہے اس سے عام طور پر انکار کر دیا جاتا ہے۔ لیکن کیا محسوسات، مشاہدات اور معقولات کے دائرے سے باہر کائنات میں کوئی چیز موجود نہیں ہے؟ اس کا جواب شاید ہی کوئی باشعور شخص اثبات میں دے سکے، اس لیے کہ خود سائنس جوں جوں ترقی کر رہی ہے مسلسل ایسی چیزیں دریافت ہوتی جا رہی ہیں بلکہ استعمال میں آرہی ہیں جو اس سے قبل نہ محسوسات میں شمار ہوتی تھیں اور نہ ہی معقولات کا دامن انہیں اپنے اندر سمیٹنے کی پوزیشن میں تھا۔ مثال کے طور پر ایک نوجوان نے مجھ سے سوال کیا کہ اگر ہمارے اردگرد فرشتے اور جن موجود و متحرک ہیں تو نظر کیوں نہیں آتے اور محسوس کیوں نہیں ہوتے؟ میں نے کہا کہ ہمارے اردگرد فضا کی جو لہریں ہماری آواز اور تصویر کو لمحہ بھر میں دنیا کے ہر کونے تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ہم انہیں پوری طرح استعمال بھی کر رہے ہیں، یہ ہمیں فضا میں دکھائی کیوں نہیں دیتیں اور محسوس کیوں نہیں ہوتیں۔ اگر یہ لہریں مشاہدات و محسوسات کے دائرہ میں آئے بغیر پوری کائنات میں موجود و متحرک ہیں تو فرشتوں کے وجود اور نظام کار سے اس بنیاد پر انکار کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے کہ وہ نظر نہیں آتے یا محسوس نہیں ہوتے۔ بلکہ محسوس نہ ہونے کی بات بجائے خود محل نظر ہے، اس لیے کہ فرشتوں کی برکات اور ان کی موجودگی کے ثمرات اہل دل کو تو ہر وقت محسوس ہوتے ہیں، عام لوگوں کو بھی بسا اوقات محسوس ہو جاتے ہیں جس کے شواہد ہمارے اردگرد بکھرے پڑے ہیں۔
یہ بات اب سائنسی طور پر بھی تسلیم کرنا پڑ رہی ہے کہ کائنات میں محسوسات اور مشاہدات کی دنیا محدود ہے اور مغیبات کا دائرہ ان سے کہیں زیادہ وسعت رکھتا ہے جو وقتاً فوقتاً دریافت ہوتے رہتے ہیں اور قیامت تک اس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ بلکہ میری طالب علمانہ رائے میں یؤمنون بالغیب کی یہ تعبیر شاید سب سے زیادہ قرین قیاس ہے کہ اہل ایمان صرف محسوسات و مشاہدات پر ایمان نہیں رکھتے بلکہ مغیبات اور عالم غیب کو بھی مانتے ہیں اور اس پر یقین رکھتے ہیں۔
آج کی انسانی فکر کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس نے معقولات کو علم کا آخری درجہ اور حتمی ذریعہ قرار دے رکھا ہے اور صرف دنیا کو اپنا مقصد حیات قرار دینے کے باعث محسوسات، مشاہدات اور معقولات کی سرحدوں سے باہر جھانکنے کا اسے حوصلہ نہیں ہو رہا۔ جبکہ اس وقت تعجب اپنی انتہاء کو پہنچ جاتا ہے جب محسوسات سے بھی پہلے کے درجہ یعنی وجدانیات کی کوئی توجیہ کرنا آج کی فکر و دانش کی نظر میں ایک معمہ سا بن کر رہ گیا ہے۔ حضرت شاہ ولی الہ دہلویؒ نے تو اسے ’’فطرت نوعیہ‘‘ کا نام دے کر واضح کر دیا ہے کہ یہ نوع انسانی کے لیے علم کی وہ اساس ہے جو اسے قدرت کی طرف سے ودیعت ہوئی ہے تاکہ وہ اس کی بنیاد پر اپنے علم و معلومات کا دائرہ وسیع تر کرتا چلا جائے، اس سے استفادہ کرے اور اسے با مقصد بنانے کی سعی کرے۔ وجدان کا حس، مشاہدہ اور عقل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ ان تینوں سے پہلے کا مرحلہ ہے جو ماں کی گود کے معصوم بچے کو بھی حاصل ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ آج کی دانش کا ایک دائرہ اسے وحی کے متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
عقل انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جس کے استعمال کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی ہمہ نوع افادیت و ضرورت کو تسلیم کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا گیا۔ لیکن اس کی ماہیت کیا ہے؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ عقل انسان کی اس خداداد صلاحیت و استعداد کا نام ہے جو محسوسات و مشاہدات اور میسر معلومات کی بنیاد پر نتائج اخذ کرتی ہے اور اسے انسان کے مستقبل کی صورت گری کا ذریعہ بنا دیتی ہے۔ لیکن اس کے تجزیہ و استنباط کی بنیاد وہی معلومات ہوتی ہیں جو یہ عمل سر انجام دیتے وقت اسے میسر ہوتی ہیں۔ ان محسوسات و مشاہدات اور معلومات کا دائرہ بدل جائے تو عقل کا قائم کردہ نتیجہ بھی بدل جاتا ہے۔ وہ اس کمپیوٹر کی طرح ہے جو اپنی طرف سے کچھ نہیں دیتا بلکہ جو پروگرام اس کے اندر فیڈ ہوتا ہے اس کے مطابق نتیجہ دے دیتا ہے۔ اس پروگرام کا دائرہ بدل جائے یا اس میں وسعت پیدا ہو جائے تو کمپیوٹر کا دیا ہوا نتیجہ بھی اس کے ساتھ ہی بدل جاتا ہے۔ یہی حال عقل کا بھی ہے کہ اسے جو مشاہدات و تجربات اور معلومات میسر ہوں گے ان کے مطابق وہ نتیجہ دے گی اور اگر معلومات میں اضافہ ہوگا تو نتیجہ بھی متغیر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ جبکہ انسانی مشاہدات، تجربات اور معلومات کو کسی جگہ قرار نہیں ہے، وہ ہر دم وسعت پذیر رہتے ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے کسی بھی مسئلہ میں عقل سے یہ توقع رکھنا کہ وہ حتمی نتیجہ دے گی اور دوٹوک بات کرے گی، محض خام خیالی ہے بلکہ ناممکنات میں سے ہے ۔ عقل کی آخری انتہا ظن غالب ہے، اس سے آگے اس کے پَر جلتے ہیں اور وہ کسی پرواز کے قابل نہیں رہتی۔ اس حقیقت کو قرآن کریم نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ:
ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس، ولقد جآء ھم من ربھم الہدیٰ۔ (سورۃ النجم ۵۳ ۔ آیت ۲۳)
’’وہ محض وہم اور اپنی خواہش کی پیروی کرتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کے ہاں سے ہدایت آچکی ہے۔‘‘
چنانچہ علم میں یقین کا درجہ حاصل کرنے کے لیے وجدانیات، محسوسات، مشاہدات اور معقولات کے بعد پھر ہمیں کسی ایسی چیز کی ضرورت پڑتی ہے جو ان سب سے بالا ہو اور یقین کی منزل سے ہمکنار کرتی ہو۔ ظاہر بات ہے کہ وہ وحی الٰہی ہی ہو سکتی ہے جو علم کے ان ذرائع سے بالاتر ہے، ان کی نگران ہے، اور ان سب پر فائنل اتھارٹی کا درجہ رکھتی ہے۔ آخر یہ ممکن بھی کیسے ہے کہ اتنی وسیع و عریض کائنات کے خالق نے یہ سب کچھ بنا کر اور انسان کو اس میں تصرف اور استفادے کے مواقع فراہم کر کے اسے کسی علم کے بغیر کھلا چھوڑ دیا ہو کہ جا اپنی مرضی کر، ہمارا اس کام سے اب کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ ایک فرم چھوٹی سی مشین بنا کر اسے استعمال کے لیے مارکیٹ کے سپرد کرتی ہے تو اس کے ساتھ بنیادی معلومات کا کتابچہ فراہم کرتی ہے تاکہ اسے صحیح طریقہ سے استعمال کیا جا سکے۔ خدا جانے کائنات کے خالق و مالک کے بارے میں یہ تصور کہاں سے آگیا ہے کہ اس نے سارا نظام وضع کر کے اسے کسی ہدایت اور نگرانی کے بغیر آزاد چھوڑ رکھا ہے۔
حضرت انسان کے پاس علم کے بنیادی ذرائع چار ہیں:
(۱) وجدانیات (۲) محسوسات و مشاہدات (۳) معقولات (۴) وحی الٰہی
ان چاروں مراحل سے گزرے بغیر انسان کا علم مکمل نہیں ہو سکتا اور ان میں حتمی اور یقینی ذریعہ وحی الٰہی ہے۔ اس لیے کہ اس سے قبل کے کسبی ذرائع انسان کو ظن غالب تک پہنچا کر وہیں رک جاتے ہیں اور یقین کے حصول کے لیے اسے کسی ایسے ذریعہ کی ضرورت پڑتی ہے جس کا اپنا علم یقینی اور حتمی ہو۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ وہی ان سب چیزوں کا خالق و منتظم و مدبر ہے۔
آج انسانی سوسائٹی میں فکر و فلسفہ اور علم و معلومات کے حوالہ سے جو بحث جاری ہے اور انسانی ذہنوں میں اس کے پیدا کردہ کنفیوژن اور پیچیدگیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ ہماری طالب علمانہ رائے میں یہ ہے کہ:
- دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ قرار دے لیا گیا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی نگاہوں سے اوجھل ہو کر رہ گئی ہے۔
- معقولات کو علم و یقین کی آخری اتھارٹی سمجھ لیا گیا ہے اور وحی الٰہی کو علم کا ذریعہ نہیں تسلیم کیا جا رہا۔
- سائنس نے انسانی جسم کے اسرار و رموز اور کائنات کے وسائل کی دریافت و استعمال کو صرف دنیا کی وقتی ضروریات تک محدود رکھا ہوا ہے۔
- انسانی وجود اور کائنات کی مقصدیت تلاش کرنے اور ان کے خالق کی منشا معلوم کرنے کی بجائے ’’ایڈہاک ازم‘‘ کی بنیاد پر وقتی نفع و نقصان کو ہی آخری منزل قرار دے لیا گیا ہے۔
اس تناظر میں مغرب نے جس علمی و تہذیبی سفر کا آغاز اب سے تین صدیاں قبل کیا تھا وہ اپنی منطقی انتہا کو پہنچ کر اب واپسی کے راستے تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ اور مغرب کی دانش گاہوں میں وجدانیات کی اہمیت و ضرورت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ روح کے اطمینان، زندگی کی مقصدیت، سائنس کے حقیقی اہداف، خاندانی نظام کی بحالی، اور انسانی سوسائٹی کے بہتر مستقبل کے لیے آسمانی تعلیمات سے استفادہ کے موضوعات اب بحث و مباحثہ کی ترجیحات کا حصہ بن رہے ہیں۔ لیکن مسلم دنیا کی صورت حال اس سے مختلف ہے، جس بھاری پتھر کو چوم کر چھوڑ دینے پر مغرب خود کو مجبور پا رہا ہے، ہماری ’’جدید دانش‘‘ اسی پتھر کو چومنے اور اٹھانے کے لیے بے چین دکھائی دے رہی ہے اور عالم اسلام میں ایسے فکری علمی مباحثوں کی ہاہاکار مچی ہوئی ہے جو ’’آؤٹ آف ڈیٹ‘‘ ہوتے جا رہے ہیں۔
عقل اور وحی کے مباحث کا مغرب کی دنیا میں اس وقت حال یہ ہے کہ چند ماہ قبل امریکہ کی ییل یونیورسٹی کے ایک پروفیسر اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے بعض علماء کرام کے ساتھ گفتگو کے مرحلہ میں راقم الحروف کے پاس گوجرانوالہ تشریف لائے تو انہوں نے بتایا کہ ہم مغرب میں عقل اور آسمانی تعلیمات کے باہمی تعلق کے بارے میں مسلم متکلمین کے افکار پر کام کر رہے ہیں اور وہ خود ان میں سے امام ابو منصور ماتریدیؒ کو اس لیے موضوع بحث بنائے ہوئے ہیں کہ ان کے ہاں عقل اور وحی کے درمیان توازن انہیں زیادہ بہتر دکھائی دیتا ہے۔
عقل کو علم کا یقینی درجہ دینے اور انسانی مسائل و مشکلات کے حل کی آخری اتھارٹی سمجھ لینے کے مغالطہ نے ہی انسانی سوسائٹی کو اس کنفیوژن سے دوچار کر رکھا ہے کہ فرد کی عقل تو ناقص ہو سکتی ہے لیکن سوسائٹی کی اجتماعی عقل (کامن سینس) ناقص اور کمزور نہیں ہوتی، اس لیے وہ تمام امور میں حَکَم اور اتھارٹی کا درجہ رکھتی ہے۔ مگر یہ بات مسلسل نظر انداز کی جا رہی ہے کہ اس ’’عقل عام‘‘ کا ماخذ اور سرچشمہ کیا ہے؟ اس نے بھی تو میسر معلومات و مشاہدات اور ظاہری محسوسات سے ہی نتائج اخذ کرنے ہیں، جبکہ کسی چیز کے بارے میں یقینی، مکمل اور آخری معلومات کا احاطہ کر لینا فرد کی طرح سوسائٹی کی اجتماعی عقل کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔
پھر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ عقل عام کو امریکی معاشرے سے حاصل ہونے والے محسوسات و مشاہدات و تجربات وہی ہوں جو اسے افریقی معاشرے میں میسر ہیں۔ اور یورپ کا معاشرہ بھی وہی تجربات و محسوسات مہیا کرتا ہو جو مڈل ایسٹ کی معاشرت میں جنم لیتے ہیں۔ اس حوالہ سے دیکھا جائے تو جنوبی امریکہ کی کامن سینس شمالی امریکہ سے اور مشرق وسطیٰ کی کامن سینس وسطی ایشیا سے مختلف ہوگی، جبکہ مشرق بعید کی کامن سینس ان سب سے مختلف تجربات سے دوچار ہوگی۔ چنانچہ گلوبل انسانی معاشرے کی طرف تیزی سے بڑھتی ہوئی سوسائٹی کو پھر کسی اور معیار کی ضرورت پیش آئے گی جو ان سب کے معاملات طے کرنے کی پوزیشن میں ہو۔
مغرب چونکہ بین الاقوامیت اور گلوبل سوسائٹی کے ماحول میں نووارد ہے اس لیے اسے یہ الجھنیں پریشان کر رہی ہیں۔ جبکہ اسلام نے چودہ سو سال قبل یا ایھا الناس کے خطاب سے اس عالمیت اور گلوبلائزیشن کو اپنا دائرہ کار بنا لیا تھا بلکہ وہ دنیا کے مختلف علاقوں اور براعظموں پر محیط ادوار حکومت میں ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک ان تجربات و مشاہدات سے گزر چکا ہے۔ اس لیے اسے اس معاملہ میں کسی کنفیوژن کا سامنا نہیں ہے اور وہ بالکل کلیئر ہے کہ انسانی سوسائٹی خود اپنے تمام معاملات نمٹانے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور اسے بہرحال خارجی راہ نمائی اور نگرانی کی ضرورت ہے جو وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات ہی ہو سکتی ہیں۔ مغرب کی دانش دھیرے دھیرے اس رخ پر آرہی ہے مگر اسے پریشانی یہ ہے کہ وحی الٰہی کا مستند و محفوظ ذخیرہ اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات کا معتمد ریکارڈ اسلام کے سوا کسی اور کے پاس موجود نہیں ہے۔ اس لیے اس رخ پر واپس آنے کے لیے مغرب کو ’’اسلام‘‘ سے استفادہ کرنے کے سوا دوسر کوئی آپشن میسر نہیں ہے۔
چنانچہ تاریخ اور سماج کے میرے جیسے طالب علم آج پھر اس دل چسپ منظر کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اہل کتاب اپنی کتابوں میں موجود پیش گوئیوں کی وجہ سے نبی آخر الزمانؐ کے منتظر تھے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان بھی لیا تھا لیکن قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ قرآن کریم نے یہ بیان کی ہے کہ
حسدًا من عند انفسھم من بعد ما تبین لھم الحق۔ (سورۃ البقرہ ۲ ۔ آیت ۱۰۹)
’’انہوں نے حق واضح ہو جانے کے باوجود اپنے حسد کی وجہ سے اسے قبول نہ کیا۔‘‘
یہ حسد اس بات پر تھا کہ آخری نبوت اور وحی کا یہ اعزاز بنی اسرائیل کی بجائے بنو اسماعیل کو کیوں حاصل ہوگیا ہے۔ اس کی جھلک قیصر روم ہرقل اور قریش کے سردار حضرت ابوسفیانؓ کے درمیان ہونے والے اس تاریخی مکالمہ میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جو بخاری شریف میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ اور جس میں قیصر روم نے نبی اکرمؐ کی نبوت کا اعتراف کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ آخری پیغمبرؐ کا مجھے بھی انتظار ہے اور یہ وہی لگتے ہیں لیکن ’’مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ پیغمبر تم عرب بدوؤں میں پیدا ہو جائے گا۔‘‘
علم و دانش کا آج کا عالمی منظر بھی اس سے مختلف نہیں ہے اور آسمانی تعلیمات کی طرف واپسی کی ضرورت محسوس کرنے کے باوجود عالمی دانش کا ’’قبضہ گروپ‘‘ اسے قبول کرنے سے صرف اس لیے گریزاں ہے بلکہ اس میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے کہ آسمانی تعلیمات کا مستند اور محفوظ ذخیرہ اسلام کے سوا کسی اور کے پاس موجود نہیں ہے۔ مگر اس سے زیادہ تعجب کا مرحلہ یہ ہے کہ عالمی دانش تو عقل کی کوتاہی کا عملی تجربہ کرتے ہوئے آسمانی تعلیمات کی طرف واپسی کے راستے تلاش کر رہی ہے لیکن عالم اسلام کی جدید کہلانے والی دانش ابھی تک اس مغربی فکر و دانش کی جگالی کرنے میں مصروف ہے جس سے پیچھا چھڑانا خود مغرب کے لیے مشکل ہوگیا ہے۔عالم اسلام کی جدید نما دانش جن مباحث میں الجھی ہوئی ہے وہ ’’آؤٹ آف ڈیٹ‘‘ ہو چکے ہیں، ان کی میعاد ختم ہو گئی ہے اور آج کی سب سے بڑی علمی و فکری ضرورت یہ سامنے آرہی ہے کہ مغربی فکر و فلسفہ کی ناکامی کے اسباب واضح کرتے ہوئے قرآن و سنت کے معارف اور احکام شریعت کی حکمت و ضرورت کو آج کے اسلوب میں اور دور حاضر کی نفسیاتی ضروریات کے مطابق پیش کیا جائے۔
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اسی کو قرآن کریم کے اعجاز کا ایک بڑا پہلو اور جدید دور کی اہم ضرورت قراردیا تھا، اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے بھی اسلام کی تجدید اور فقہ و شریعت کی تشکیل نو کا ہدف یہی بیان کیا ہے۔ مگر ہماری جدید دانش مروجہ فکر و فلسفہ کا رخ اسلام کی طرف موڑنے کی کوشش کرنے کی بجائے اسلام کو اس تھکے ماندہ فکر و فلسفہ کے بوسیدہ سانچے میں فٹ کرنے میں اپنی صلاحیتوں کو صرف کرنے میں مصروف ہے۔ اس تناظر میں وہ ارباب فکر و دانش ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں جو مسلم دانش کو اس دلدل سے نجات دلانے اور قرآن و سنت کی حقیقی شاہراہ کی طرف واپس لانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ اور یقیناًمستقبل میں انہی اصحاب فکر و دانش کی یہ مبارک مساعی فکری و علمی معاملات کو صحیح رخ پر گامزن کرنے کی جدوجہد کا نقش اول قرار پائیں گی۔
ہمارے فاضل دوست جناب محمد ظفر اقبال دانش وروں کے اسی قافلہ کے فرد ہیں جو دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری دانش و اسلوب اور مستقبل کی فکری و علمی ضروریات کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’اسلام اور جدیدیت کی کشمکش‘‘ میں اس حوالہ سے بعض مسلم مفکرین کے افکار کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے عصر حاضر کے فکری و تہذیبی الجھاؤ کی بعض گتھیاں سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ میں نے کتاب کی سرسری ورق گردانی کی ہے، اگرچہ میرے خیال میں یہ مباحث اب پرانے ہو چکے ہیں، لیکن محمد ظفر اقبال صاحب کی یہ علمی و تحقیقی کاوش نئی نسل کو ان معاملات میں صحیح سمت دکھانے کے لیے مفید ثابت ہوگی اور تحقیق و جستجو کا ذوق رکھنے والوں کی راہ نمائی کا ذریعہ بنے گی۔
دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت موصوف کی اس سعی و محنت کو اپنی بارگاہ میں قبولیت سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین۔
مذہب حنفی کے حوالے سے دو سنجیدہ سوالات
مولانا سمیع اللہ سعدی
سائد بکداش فقہی تحقیقات کے حوالے سے معاصر علمی دنیا کے معروف محقق ہیں۔ جامعہ ام القریٰ سے فقہ اسلامی میں پی ایچ ڈی کی ہے ،پی ایچ ڈی مقالے کے لیے مختصر الطحاوی پر امام جصاص کی مبسوط شرح مختصر الطحاوی کے مخطوطے کا انتخاب کیا ،اور اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر آٹھ جلدوں میں اس کی تحقیق مکمل کی۔ موصوف حلب کے معروف حنفی عالم اور محقق شیخ عوامہ کے داماد بھی ہیں۔ آج کل مدینہ منورہ میں مقیم ہیں۔ گرانقدر تصنیفات کے ساتھ فقہ حنفی کی ایک درجن سے زائد بنیادی کتب پر تحقیق کر چکے ہیں ،جن میں متون ثلاثہ ،قدوری ،کنز اور المختار بھی شامل ہیں۔آپ کی تحقیقات علمی دنیا میں بڑی اہم سمجھی جاتی ہیں۔ حال ہی میں موصوف کا سو صفحات پر مشتمل "تکوین المذھب الحنفی مع تاملات فی ضوابط المفتی بہ" کے نام سے ایک قیمتی کتابچہ سامنے آیا ہے۔ رسالے کے مقدمے میں لکھا ہے کہ اس رسالہ کے لیے فقہی کتب سے عبارات جمع کرنے میں دس سال کا عرصہ لگا ۔اس رسالے میں محقق مذکور نے فقہ حنفی کے حوالے سے دو سوالات کو زیر بحث بنایا :
ایک سوال یہ کہ فقہ حنفی کا اطلاق امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال پر ہوتا ہے یا اس اصطلاح میں صاحبین و امام زفر کے اقوال بھی شامل ہیں؟اگر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اجلہ اصحاب کے اقوال پر بھی فقہ حنفی کا لفظ بو لا جاتا ہے ،جیسا کہ عام طور پر مشہور ہے تو اس اطلاق کی ابتداء کب سے ہوئی؟کیا ائمہ کے زمانے سے ہی یہ رائج تھا کہ فقہ حنفی میں صاحبین و امام زفر کے اقوال بھی شامل تھے یا بعد کے فقہاء نے یہ اصطلاح بنائی ہے؟اگر بعد میں بنی ہے تو اس اصطلاح کی علمی حیثیت کیا ہے؟ اور اس پر از سر نو غور کرنے کی کتنی گنجائش ہے؟
دوسرا سوال یہ کہ فقہ حنفی میں مفتی بہ اقوال کی تعیین کے ضوابط کیا ہیں؟اس میں علامہ شامی رحمہ اللہ کے ذکر کردہ منہج سے ہٹ کل مزید کتنے مناہج ہیں؟ ان مناہج کے واضعین فقہاء نے کن علمی بنیادوں پر یہ ضوابط طے کیے؟ ان ضوابط کے پیچھے کیا اصول و دلائل کار فرما ہیں ؟اور مفتیان کرام پر ان ضوابط کی پاسداری کس حد تک اور کیوں لازم ہے؟
ہم موصوف کے اٹھا ئے گئے دونوں سوالات کی تفصیل ترجمانی کے انداز میں قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں اور فیصلہ فقہ و فتویٰ سے شغف رکھنے والے محققین پر چھوڑ دیتے ہیں۔
پہلا سوال: فقہ حنفی کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟
موصوف کے بقول اس مسئلے پر فقہائے حنفیہ میں سے سب سے پہلے بارہویں صدی ہجری کے معروف شامی عالم عبد الغنی نابلسی نے مستقل رسالہ "الجواب الشریف للحضرۃ الشریفۃ فی ان مذھب ابی یوسف و محمد ھو مذھب ابی حنیفۃ" لکھا۔ فقہی کتب میں اگرچہ مختلف مقامات پر ضمناً فقہاء نے اس پر بحث کی ہے، چنانچہ علامہ نابلسی کے علاوہ اس موضوع پر ابن عابدین شامی،شاہ ولی اللہ، مصری عالم شیخ محمد بخت المطیعی، شیخ الاسلام زاہد الکوثری اور دیگر فقہاء نے اس موضوع پر بحث کی ہے،لیکن اس کو باقاعدہ تصنیف کا موضوع شیخ نابلسی نے بنایا۔اس رسالہ کے لکھنے کا سبب یہ بناکہ امیر حجاز شریف سعد نے شیخ نابلسی سے یہ سوال کیا :
ما تقولون فی مذھب ابی حنیفہ رضی اللہ عنہ و صاحبیہ ابی یوسف ومحمد، فان کل واحد منھم مجتھد فی اصول الشرع الاربعۃ: الکتاب و السنۃ و الاجماع و القیاس، وکل واحد منھم لہ قول مستقل غیر قول الاخر فی المسالۃ الواحدۃ الشرعیہ، وکیف تسمون ھذہ المذاھب الثلاثۃ مذھبا واحدا، و تقولون ان الکل مذھب ابی حنیفۃ؟و تقولون عن الذی یقلد ابا یوسف فی مذھبہ ا ومحمدا انہ حنفی، و انما الحنفی من قلد ابا حنیفہ فقط فیما ذھب الیہ؟ (ص ۶۱)
’’امام ابوحنیفہ اور صاحبین کے مذہب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟کیونکہ ان تینوں حضرات میں سے ہر ایک شریعت کے ادلہ اربعہ میں مجتہد مستقل ہے ،اور ایک ہی مسئلے میں ہر ایک کاالگ الگ مستقل قول ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ ان تین مجتہدین کے مذاہب فقہیہ کو ایک مذہب کے نام سے کیسے موسوم کرتے ہیں؟اور سب کو ابوحنیفہ کے مذہب سے پکارتے ہو ،اور تم لوگ امام ابویوسف یا امام محمد کی تقلید کرنے والے کو "حنفی"کانام دیتے ہو ،حالانکہ حنفی تو صرف وہ ہوتا ہے ،جو امام ابوحنیفہ کی تقلید کرے ؟‘‘
فقہائے حنفیہ کی طرف سے اس سوال کے جوابات
محقق مذکور کے بقول اس سوال کے فقہائے حنفیہ کی طرف سے عموماً دو قسم کے جواب دیے جاتے ہیں ،ایک جواب صاحبین کو مجتہد منتسب ماننے کی صورت میں اور دوسرا جواب ان کو مجتہد مستقل مان کر دیا جاتا ہے۔
علامہ نابلسی و دیگر بعض فقہاء نے پہلے طرز کا جواب دیا ہے کہ صاحبین کے اقوال فقہیہ دو وجوہ سے امام ابوحنیفہ کے اقوال شمار ہوتے ہیں :
۱۔صاحبین امام ابوحنیفہ کے مستنبط کردہ اصول اجتہاد پر مسائل فقہیہ کی تخریج کرتے ہیں۔
۲۔صاحبین کے بیشتر اقوال در اصل امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مرجوع عنہ اقوال ہیں۔
لہٰذا جب صاحبین کے اقوال در اصل امام ابو حنیفہ کے اقوال ہیں تو صاحبین کا قول لینا اور اس پر عمل کرنا امام ابو حنیفہ کے قول پر عمل ہے۔اس لیے صاحبین کے اقوال لینے کے باوجود مقلد فقہ حنفی پر ہی عمل پیرا ہوتا ہے۔ اس جواب کی بنیاد ابن کمال پاشا کی بیان کردہ فقہاء کی طبقاتی تقسیم پر ہے، کیونکہ اس میں صاحبین کو مجتہد منتسب مانا گیا ہے۔
اس سوال کا دوسرا جواب فقہائے حنفیہ کی عبارات میں یہ ملتا ہے کہ امام ابو حنیفہ کی طرح صاحبین بھی مستقل مجتہد ہیں اور فقہ حنفی ان تین مجتہدین کے اجتہادات کا مجموعہ ہے ،مجتہدین ثلاثہ کے اجتہادات کے مجوعے کو تغلیباً و اصطلاحاً "فقہ حنفی"کا نام دیا گیا ہے ،اور اصطلاح و تسمیہ میں مناقشہ و مباحثہ نہیں کیا جا سکتا،کیونکہ اصطلاح کوئی بھی بنائی جا سکتی ہے۔
مذکورہ جوابات پر سائد بکداش کا نقد و تبصرہ
پہلے جواب پر خود متعدد فقہائے حنفیہ نے نقد کیا ہے،کیونکہ اس کی بنیاد ابن کمال باشا کی بیان کردہ طبقا ت فقہاء پر ہے ،اور اس تقسیم کو بعد میں آنے والوں نے رد کیا ہے۔اس تقسیم میں دیگر خامیوں کے علاوہ بڑی خامی یہ ہے کہ صاحبین کو مجتہد منتسب مانا گیا ہے ،جبکہ صاحبین مجتہد مستقل کے منصب پر فائز ہیں اور حنفی فقہ کے اصول و فروع اس بات پر شاہد ہیں کہ صاحبین نے فروع و اصول دونوں میں امام ابو حنیفہ سے بڑے پیمانے پر اختلاف کیا ہے، حالانکہ مجتہد منتسب اصول میں اپنے امام کی مخالفت نہیں کرتا۔محقق مذکور نے اس موقع پر اس بات کے متعدد شواہد پیش کیے ہیں، اختصا ر کے پیش نظر ہم اس سے صرف نظر کرتے ہیں۔
دوسرے جواب پر محقق مذکور نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فقہ حنفی کا اطلاق اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے امام ابو حنیفہ کے اقوال پر ہوتا ہے اور فقہ حنفی کے مقلدنے بھی صرف امام ابو حنیفہ کی تقلید کا التزام کیا ہے۔ لہٰذا یہ جواب علمی و عملی دونوں طرح سے مخدوش ہے۔ نیز اسے "اصطلاح عرفی"(اصطلاح عرفی سے مراد کہ کسی خاص فن کے لوگ مل کر کوئی اصطلاح بنا لیں)بھی نہیں مانا جا سکتا ،کیونکہ متقدمین فقہائے حنفیہ کی عبارات میں ایسی کوئی صراحت نہیں ملتی جو اس بات پر دلالت کرے کہ فقہ حنفی کے اطلاق میں صاحبین کے اقوال بھی شامل ہیں، لہٰذا متاخرین کے خلط و دمج (اقوال امام کو اقوال صاحبین کے ساتھ ملانے اور آپس میں تصحیح و ترجیح) سے اصطلاح عرفی نہیں بن سکتی، جب تک اس پر مذہب کے اولین مدونین اور بانین کی صراحت نہ ملے۔
اقوال امام کو اقوال صاحبین کے ساتھ ملانے کا تاریخی جائزہ
محقق مذکور نے یہاں اس بات کا ایک تاریخی جائزہ لیا ہے کہ فقہ حنفی کے اطلاق میں صاحبین کے اقوال کو شامل کرنے کی فکر نے کب جنم لیا۔ ہم موصوف کے تاریخی جائزے کو نکات کی شکل میں قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں :
۱۔امام ابوحنیفہ نے اپنے اجتہادات خود مدون نہیں کیے ،بلکہ ان کے شاگرد رشید امام محمد نے اس کی تدوین کی۔ کتب ظاہر الروایہ میں ان کا طرز یہ ہے کہ وہ شیخین اور اپنے قول کے لیے الگ الگ "مذہب"کا لفظ استعمال کرتے ہیں، مذہب ابی حنیفہ ،مذہب ابی یوسف وغیرہ۔ہر ایک کے قول کے لیے مذہب کا مستقل لفظ دلالت کرتا ہے کہ خود امام محمد رحمہ اللہ بھی تینوں کو الگ الگ متصور کرتے تھے۔
۲۔امام محمد نے اپنی کتب میں اپنے دونوں شیوخ امام ابو حنیفہ ،امام ابویوسف اور اپنے اقوال بلا ترجیح، تقابلی انداز میں ذکر کیے ہیں۔اس سے ایک اہم بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ اپنے شیخ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کے اقوال کو ایک مان کر ان میں تصحیح و ترجیح کا طرز ان کے پیش نظر نہیں تھا۔
۳۔امام محمد کی کتب فقہ حنفی کی امہات قرار پائیں ،اس لیے بعد میں آنے والے فقہاء نے کتب ظاہر الروایہ کی تلخیص، شروح اور انہی پر تخریج و تاسیس کا سلسلہ شروع کیا۔کتب ظاہر الروایہ میں متقدمین فقہائے حنفیہ نے عام طور پر امام ابو حنیفہ کے اقوال فقہیہ کی ترجیح و تصحیح پر توجہ دی۔
۴۔ فقہ حنفی میں دو قسم کے متون و مختصرات تیار ہوئے۔ بعض متون میں صرف امام ابو حنیفہ کے اقوال فقہیہ ذکر کیے گئے ہیں، جیسے علامہ موصلی کی المختار اور علامہ نسفی کی کنز الدقائق۔یہ دو متون فقہ حنفی کی بنیادی ترین متون میں شمار ہوتی ہیں۔ ان اصحاب متون کا طرز خود اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک فقہ حنفی اقوال امام کا نام ہے۔ جبکہ دوسری قسم کے متون میں اقوال امام کے ساتھ صاحبین کے اقوال بھی ذکر کیے گئے ہیں،جیسے مختصر القدوری ،انہوں نے بھی اولاً اصل مذہب کے طور پر امام صاحب کا قول لیا ہے اور تقابلی فقہ کے لیے دوسرے ائمہ و صاحبین کے اقوال بھی ذکر کیے ہیں۔ مختصرالقدوری کی شروح سے اس بات کی تائیدہوتی ہے، اصحاب متون و مختصرات کے اس طرز سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ فقہ حنفی کا اطلاق صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال پر ہوتا ہے۔
۵۔ان متون و مختصرات کی جو معروف شروح لکھی گئی ہیں ،ان میں بھی قول امام کی ترجیح و تصحیح کے دلائل دیے گئے ہیں، جیسا کہ امام جصاص کی "شرح مختصر الطحاوی "، قاسم بن قطلوبغا کی "تصحیح القدوری "وغیرہ۔
۶۔صاحب قدوری نے اپنی کتاب"التجرید "میں یہ طرز اپنایا ہے کہ وہ امام صاحب کے قول کو مبرہن کرنے کے بعد صاحبین وغیرہ کے اقوال کے لیے "قول المخالف"کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور ان کے دلائل کا امام صاحب کی طرف سے جواب دیتے ہیں۔ بنیادی متون میں سے ایک کے مصنف کا یہ طرز اس بات کی دلیل ہے کہ امام قدوری رحمہ اللہ کے نزدیک فقہ حنفی اصلاً اقوال امام کانام تھا۔
۷۔اس کے علاوہ متعدد فقہائے حنفیہ کی اس با ت پر صراحت ہے کہ فتوی مطلقاً امام صاحب کے قول پر ہوگا، البتہ کسی حاجت و ضرورت کے وقت صاحبین کے اقوال کی طرف عدول ہوگا۔لیکن ظاہر ہے کہ یہ عدول ہر مذہب فقہی میں ہوتا ہے۔ اس عدول سے یہ بات قطعاً لازم نہیں آتی کہ صاحبین کے اقوال بھی فقہ حنفی میں شامل ہیں۔ اس سلسلے میں محقق مذکو ر نے چھٹی صدی ہجری کے حنفی عالم احمد بن محمود الحلبی، ساتویں صدی ہجری کے علامہ موصلی، آٹھویں صدی ہجری کے علامہ نسفی، نویں صدی ہجری کے قاسم بن قطلوبغا، صاحب الدرالمختار علامہ حصکفی، صاحب البحر الرائق ابن نجیم، ابن عابدین الشامی اورعلامہ لکھنوی کی عبارات ذکر کی ہیں ،جنہوں نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ امام ابو حنیفہ کا قول مطلقاً اولیٰ و راجح ہے۔
۸۔محقق مذکور نے مولانا احمد رضاخان صاحب کے ایک رسالے "اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقا علی قول الامام" کا بھی حوالہ دیا ہے جو فتاویٰ رضویہ کی پہلی جلد میں شائع ہوا ہے ،جس میں آنجناب نے متعدد ائمہ حنفیہ سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ فتویٰ مطلقاً امام ابو حنیفہ کے قول پر ہوگا۔
۹۔محقق مذکور کے نزدیک صاحبین کے اقوال کو فقہ حنفی میں شامل کر کے صاحبین و امام صاحب کے اقوال میں تصحیح و ترجیح کی داغ بیل صاحب ہدایہ نے ڈالی۔ انہوں نے اپنے تصنیف کردہ متن بدایۃ المبتدی کی شرح ہدایہ میں صاحبین و امام صاحب کے اقوال میں خلط کرتے ہوئے مختلف مسائل میں تینوں ائمہ کے اقوال میں تصحیح و ترجیح کا طرز اپنا یا۔
۱۰۔صاحب ہدایہ کے بعد اس طرز کو قاضی خان نے مقدمہ فتاویٰ قاضی خان میں ،ابن ہمام نے فتح القدیر میں، ابن نجیم نے البحر الرائق میں اور ابن عابدین نے حاشیہ الدر میں اختیار کیا اور یوں متقدمین کی بجائے ان متاخرین کا طرز ہی اصل قرار پایا اور آج صورتحال یہ ہے کہ صاحبین کے اقوال کو باقاعدہ فقہ حنفی کا جزو سمجھا جاتا ہے اور صاحبین کے اقوال پر فتویٰ کو کسی صورت خروج عن المذہب نہیں سمجھا جاتا، حالانکہ یہ متقدمین اور اصحاب متون و مختصرات (متون کو ہر مذہب میں اصل و بنیاد سمجھا جاتا ہے) کے طرز کے بالکل خلاف ہے۔نیز انہی میں سے بعض ائمہ کی صراحت کے بھی خلاف ہیں، چنانچہ خود صاحب ہدایہ نے التجنیس و المزید میں مطلقاً امام صاحب کے قول پر فتوی کی صراحت کی ہے۔
دوسرا سوال
فقہ حنفی کے حوالے سے محقق مذکور نے دوسرا سوال یہ اٹھایا ہے کہ فقہ حنفی میں مفتی بہ اور راجح اقوال کے ضوابط کیا ہیں؟ کیونکہ فقہائے حنفیہ کی عبارات و تصنیفات میں متعدد مناہج ذکر کیے گئے ہیں۔ محقق مذکور کے بقول یہ اختلاف بھی دراصل اقوال امام کو اقوال صاحبین کے ساتھ ملانے کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے ان تین ائمہ مجتہدین کے اقوال فقہیہ میں تصحیح و ترجیح کے حوالے سے ائمہ حنفیہ میں بڑے پیمانے پر اختلاف وجود میں آیا۔ محقق مذکور کے بقول اس سلسلے میں کل پندرہ قسم کے مناہج افتاء و اصول ترجیح ہیں اور یہ مناہج فقہائے حنفیہ کی طرف سے محض اجتہاداور اپنے ذوق کی بنا پر ہیں جن کے پیچھے کوئی مضبوط دلائل نہیں ہیں۔ نیز یہ مناہج فقہ حنفی کے مقلد فقہاء کی طرف سے ہیں ،تو ان "مقلدین"کی پیروی اور ان کے ذکر کردہ ضوابط اصول مذہب کی رو سے کسی صورت دیگر"مقلدین "پر لازم نہیں کیے جاسکتے ،کیونکہ مقلدین نے ان ائمہ کی بجائے امام ابو حنیفہ کی تقلید کا التزام کیا ہے۔اب ہم موصوف کے بیان کردہ مناہج افتاء ذکر کرتے ہیں۔ان مناہج و ضوابط میں اگر غور کیا جائے تو بعض مناہج بعض میں ضم ہو سکتے ہیں ،لیکن اتنی بات بہرحال اس سے ثابت ہوتی ہے کہ فقہ حنفی میں مفتی بہ قول کا کوئی ایک متفقہ منہج نہیں ہے :
۱۔متعدد ائمہ حنفیہ نے مطلقاً امام ابوحنیفہ کے قول کو مفتی بہ قرار دیا ہے۔ اس کی تفصیل ما قبل میں گزر چکی ہے۔
۲۔بعض ائمہ حنفیہ نے قول امام اور قول صاحبین میں اختیار کا قول ذکر کیا ہے کہ اگر صاحبین ایک طرف اور امام صاحب دوسری طرف ہوں تو ان دو فریقوں میں سے جس کے قول کو لیا جائے ،درست ہے۔ یہ قول علامہ اسبیجابی نے مقدمہ مختصر الطحاوی میں اور علامہ غزنوی نے "الحاوی القدسی"میں فقہائے حنفیہ کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے۔
۳۔بعض ائمہ حنفیہ نے قوت دلیل کی بنا پر ترجیح کا قول اختیار کیا ہے کہ جس قول کی دلیل قوی اور ماخذ معتمد ہو ،اس قول کو لیا جائے گا۔محقق مذکور کے بقول یہ اصول خود بڑے اختلاف کا دروازہ کھولنے کا سبب ہے کہ قوت دلائل ایک اضافی چیز ہے، اس میں ایک سے زیادہ آراء عموماً ہوتی ہیں۔
۴۔بعض فقہاء نے تیسیر اور لوگوں کی آسانی والے اصول کو ترجیح کا سبب قرار دیا ہے کہ جس قول میں مقلدین کے لیے آسانی ہو ،اسی کو لیا جائے گا۔
۵۔بعض ائمہ نے عموم البلوی کو سبب ترجیح قرارد یا ہے۔
۶۔کچھ فقہاء نے تعامل الناس کو ترجیح کی بنیاد بنایا ہے۔
۷۔بعض فقہاء نے زمان و مکان کو اصل سبب قرار دیا ہے کہ زمانے کے بدلنے سے اور جگہ کے بدلنے سے ایک سے دوسرے کے قول کی طرف عدول ہوگا۔
۸۔متعدد فقہائے حنفیہ نے "احوط قول" کا اصول ذکر کیا ہے ،کہ جس قول میں احتیاط ہو گا ،وہی قول لیا جائے گا۔
۹۔بعض فقہاء نے احوط اور ارفق میں اختیار کا قول اپنایا ہے کہ اگر دو قولوں میں سے ایک قول میں احتیاط ہو اور دوسرے میں لوگوں پر آسانی ہو تو دونوں میں اختیار ہوگا۔محقق مذکور کے بقول کتب فقہ میں "القول الاول احسن و القول الثانی ارفق" وغیرہ جیسی اصطلاحات کا یہی مطلب ہے۔
۱۰۔بعض فقہاء نے قول امام اور قول صاحبین سے نکل کر دیگر ائمہ کے قول کو اختیار کیا ہے۔(جزوی مسائل میں خاص وجوہ سے خروج عن المذہب کو باقاعدہ اصول ترجیح میں ذکر کرنا محل نظر ہے۔ )
۱۱۔بعض فقہاء نے حاجت مسلمین کو اصل سبب قرار دیا ہے۔ (یہ قول پچھلے بعض اقوال میں داخل ہیں ،الگ ذکر کرنے کی کوئی خاص وجہ معلوم نہیں ہوتی)۔
۱۲۔متعدد فقہائے حنفیہ کی ترجیحات میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔کسی کتاب میں قول امام کو ترجیح دیتے ہیں ،جبکہ اپنی دوسری کتاب میں قول صاحبین کو راجح قرار دے دیتے ہیں ،جیسے کہ قاضی خان ،علامہ نسفی و دیگر ائمہ کی مختلف کتب دیکھنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے۔
۱۳۔بعض فقہاء کی عبارات میں یہ بھی ملتا ہے کہ اس مسئلے میں کسی خاص قول کو مفتی بہ نہ قرار دیا جائے اور کسی ایک کو راجح قرار دینے کی بجائے بلا ترجیح چھوڑ دیا جائے ،تاکہ عوام کو آسانی رہے، جیسا کہ صاحب ہدایہ نے خراج و عشر کے بعض مسائل میں اس کی صراحت کی ہے۔
محقق مذکور نے اس کے اصل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کتب فقہیہ میں ذکر کردہ ترجیحات کی بجائے نزول حادثہ کے وقت، مکان اور مستفتی کے احوال کو دیکھ کر ہی صورتحال کے مطابق فتوی دیا جائے گا۔ موصوف نے مزید لکھا ہے کہ اگر مذاہب اربعہ کی کتب پر غور کیا جائے اور تتبع کیا جائے تو اس کی کافی مثالیں مل سکتی ہیں کہ فقہاء نے نظری اصول افتاء و ترجیح کی بجائے مبتلی بہ کی حاجت، ضرورت اور اس کی حالت کے مطابق فتاوی دیے ہیں۔
۱۴۔متعدد فقہاء کا طرز یہ بھی ہے کہ قول امام و صاحبین بلا کسی ترجیح و تصحیح کے بیان کرتے ہیں اور ائمہ مذہب کے اقوال کے ساتھ ساتھ "قال البعض کذا" یا "فیہ اختلاف المشائخ" جیسے الفاظ بلا کسی ترجیح کے ذکر کر دیتے ہیں ۔محقق کے بقول ان مصنفین کے اس طرز سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک ان تمام اقوال و تصحیحات میں توسع و اختیار ہے۔
۱۵۔ان تمام ضوابط و مناہج کے ساتھ فقہ حنفی میں مستقل مکاتب و مدارس ہیں ،جیسا کہ مکتب عراق ، جن کے سرخیل امام جصاص ،امام کرخی اور امام قدوری رحمہ اللہ ہیں۔دوسری طرف بلخ میں مشائخ بلخ کا مکتب ہے ،جس کی طرف ابو جعفر الہندوانی اور ابو اللیث سمرقندی منسوب ہیں۔ مشائخ بخارا و وماوارء النہر ہیں ،جن کی طرف امام خواہر زادہ و صدر الشہید بن مازہ جیسے اساطین منسوب ہیں۔ان سب مدارس فقہیہ و مکاتب کی اپنی ترجیحات ہیں ،اپنے اصول افتاء اور اپنے مناہج تصحیح ہیں۔
خاتمہ
محقق مذکور نے اس بحث کے آخر میں تین اہم باتیں بھی لکھی ہیں :
۱۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی معروف فقیہ اپنی کتاب میں محض اپنے اجتہاد کی بنا پر کسی مسئلے میں اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے تو بعد میں آنے والے اس خاص فقیہ کی رائے کو "مذہب"سمجھ کر اسے نقل کرتے ہیں اور یوں نقل در نقل سے اس خاص فقیہ کی رائے "مذہب حنفی"بن جاتا ہے۔محقق مذکور کے بقول حاشیہ ابن عابدین میں اس کی متعددامثلہ موجود ہیں۔
۲۔اصحاب ترجیح و تصحیح نے جن اقوال کو معتمد قرار دیا ہے، ان پر بھی بعد والوں کی طرف سے تعقبات و اعتراضات ہوئے ہیں، لہٰذا متفقہ طور پر قول مفتی بہ کی نشاندہی کافی مشکل اور گنجلک کام ہے، جیسا کہ ابن ہمام نے فتح القدیر میں صاحب ہدایہ کی تصحیحات پر اور ابن نجیم نے البحرمیں متعدد مفتی بہ اقوال پر نقد کیا ہے۔اسی طرح متاخرین میں تصحیح و ترجیح کے امام سمجھے جانے والے "ابن عابدین "کی تصحیحات و ترجیحات پر بھی بعد والوں نے تعقبات کیے ہیں، خصوصاً شیخ عابد سندھی نے اپنی کتاب "طوالع الانوار شرح الدر المختار" میں، علامہ رافعی نے "تقریرات رافعی" میں اور شیخ احمد رضاخان نے "جد الممتار علی رد المحتار" میں ابن عابدین کی تصحیح و ترجیح سے متعدد مقامات پر اختلاف کیا ہے۔
۳۔بسا اوقات کوئی فقیہ کسی مسئلے میں کسی ایک عالم کی تصحیح و ترجیح پر اعتماد کرتے ہوئے لکھ لیتا ہے کہ اس میں یہ قول راجح و مفتی بہ ہے، جبکہ اس میں دیگر علماء کی تصحیحات و ترجیحات بھی موجود ہوتی ہیں۔بعد میں کوئی ناقل یا مفتی جب دیکھتا ہے کہ اس مسئلے میں تو دیگر اقوال کے بارے میں بھی تصحیح و ترجیح موجود ہیں تو وہ مذہب حنفی کے بارے میں شبہات کا شکار ہوجاتا ہے کہ مذہب حنفی میں تناقض و تضاد موجود ہے۔
آخر میں محقق مذکور نے لکھا ہے کہ متقدمین و متاخرین، اصحاب متون و مختصرات اور اصحاب شروح و حواشی کے اپنے ذوق و اجتہاد کی بنا بیان کردہ متضاد تصحیحات سے مخلص یہی ہے کہ فقہ حنفی کی حقیقت کا اعتبار کرتے ہوئے صرف اقوال امام کو مذہب حنفی مانا جائے اور اولین ائمہ مذہب اور اصحاب متون و مختصرات کے مطابق صرف قول امام کو مفتی بہ قرار دیا جائے تو ان تمام مشکلات سے چھٹکارا پا یا جاسکتا ہے۔ہاں جس مسئلے میں امام ابو حنیفہ سے کوئی روایت نہ ہو ،وہاں صاحبین و دیگر فقہاء کی رائے لی جاسکتی ہے۔
ریٹائرڈ اساتذہ کی دوبارہ تعیناتیاں اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری
ڈاکٹر عرفان شہزاد
یونیورسٹی کے مروجہ قوانین کے مطابق یونیورسٹی کے کسی استاد یا ملازم کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس کی دوبارہ تعیناتی کرنے کے لیے دو شرائط رکھی گئی ہیں: ایک یہ کہ اس کا متبادل میسر نہ ہو اور دوسرا یہ کہ ریٹائر ہونے والے استاد کی عمر 65 سال سے زائد نہ ہو۔ صورتِ واقعہ یہ ہے کہ 80 سال سے زائدعمر کے اساتذہ اپنے ذاتی تعلقات کی بدولت، یونیورسٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، اپنے عہدوں پر مسلسل براجمان ہیں، اور ان کے متبادل نوجوان نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ پنشن اور دیگر مراعات وصول کرنے کے باوجود بھی یہ بزرگ اگلے مستحق کے لیے عہدہ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
حال ہی میں ہم نے یونیورسٹی کے زیرِ تعلیم اور فارغ التحصیل محققین کی تعلیمی اور تحقیقی مشکلات پر ایک سروے کرایا، جس کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ بزرگ اساتذہ اپنے شعبے کے چاہے کتنے ہی ماہر کیوں نہ ہوں، طلبہ کو مطلوبہ علم و ہنر منتقل کرنے کے لیے ضروری توانائی سے تہی ہوتے ہیں۔ خصوصاً،تحقیق کے میدان میں نئے رجحانات سے ناواقف ہوتے ہیں۔ طلبہ کی اسائنمنٹس چیک کرنے اور وقت پر واپس دینے میں عموماً تساہل برتتے ہیں، خاص طور پر یہ کہ سوال کرنے کی اجازت نہیں دیتے، بلکہ طلبہ کے سوالات کو حالات کے بدلے ہوئے تناظر میں درست طریقے سے سمجھ ہی نہیں پاتے۔ الٹا ان کے سوالات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ نصاب سے زیادہ اپنے ماضی کے قصے دہرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور اگر اصل تدریس کی طر ف آتے ہیں تو طلبہ کی ذہنی سطح کا لحاظ عموماً نہیں رکھ پاتے۔ طلبہ اور بزرگ اساتذہ کی عمر، سوچ اور مزاج کے فرق کی وجہ سے طلبہ کھل کر ان سے بحث نہیں کرسکتے۔ یوں تعلیم اور تحقیق کا بنیادی مقصد،یعنی تحقیق اور تنقید کی صلاحیت پیدا کرنا، ہی فوت ہو جاتا ہے۔ طلبہ شکوہ کناں ہیں کہ بزرگ اساتذہ ان کا وقت اور صلاحیت ضائع کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
دنیا کا اصول ہے کہ ہر شعبہ زندگی ایک خاص وقت کے بعد نئی نسل اور تازہ توانائی کی طلب کرتا ہے۔ ہمارے ہاں جس طرح شعبہ تعلیم کے جسم میں نئے خون کی آمد پر روک لگی ہوئی ہے، ایسا ہی اگر دیگر شعبہ جات میں بھی روا رکھا جائے تو سوچیے کہ کیا حالات بنیں۔ آپ بوڑھے سپاہی کے ہاتھ میں بندوق تھما کر سرحد پر کھڑا کر دیں یا 80 سال کے مکینک سے اپنی گاڑی کی ٹیوننگ کروانے پر مجبور ہوں تو ملک اور گاڑی کا کیا حال ہوگا؟ یہی حال تعلیم کا حقیقتاً ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کا نام تعلیمی حلقوں میں کسی شمار میں نہیں آتا۔
پاکستان میں نوجوان آبادی 60 فیصد سے زائد ہے، جب کہ نوجوانوں میں عمومی بے روزگاری کی شرح 8.2 فیصد ہے۔ بے روزگاری کی تقریباً یہی شرح اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس صورتِ حال میں ہونا تو یہ چاہیے کہ ان کے لیے ملازمت کے نئے مواقع پیداکرنے کے علاوہ ریٹائرمنٹ کی عمر مزید کم کر دی جائے تاکہ نوجوانوں کی بے روزگاری کا مسئلہ حل کرنے میں مدد ملے۔ اگر یہ نہیں تو کم از کم یہ تو ہو کہ یونیورسٹی کے قوانین پر عمل درآمد کرتے ہوئے ریٹائر ہونے والے اساتذہ کو احترام کے ساتھ گھر بھیج دیا جائے یا پھرایسے کاموں میں لگا دیا جائے جہاں ان کے علم اور تجربے سے استفادہ بھی ہوتا رہے اور مستحق نوجوانوں کی حق تلفی بھی نہ ہو، مثلاً نگران کمیٹیوں، مشاوراتی کمیٹیوں، تھنک ٹینک وغیرہ میں ان کے علم و تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
ایچ ای سی کے مطابق 2014 تک 11846 پی ایچ ڈی تیار ہو چکے ہیں۔ ہر سال گزشتہ سال سے زیادہ ایم فل/ ایم ایس اور پی ایچ ڈی تیار ہو رہے ہیں۔ 2016 تک اس تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے۔ ایک طرف یہ خوش آئند ہے کہ پاکستان میں قابل لحاظ تعداد میں اعلیٰ تعلیم کے حامل افراد تیار ہورہے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کی کھپت کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جارہی ہے۔ بے روزگاری کے باعث نوجوانوں میں مایوسی اور بد دلی بڑھتی جارہی ہے، جس کے منفی اثرات معاشرے پر مرتب ہورہے ہیں۔
یہ کتنا بڑا تضاد ہے کہ ایک طرف تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی عمر کی آخری عمومی حد مقرر ہے یعنی 33 سال اور بعض صورتوں میں 35 سال، اس کے بعد وہ سرکاری ملازمت کے لیے درخواست دینے کے بھی اہل نہیں سمجھے جاتے۔ گویا 33 یا 35 سال کے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں سے یہ قربانی مانگ لی جاتی ہے کہ وہ ملازمت حاصل کرنے کی مسابقت میں شامل نہ ہوں تاکہ دوسرے کم عمر تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے جگہ بنائی جا سکے، لیکن دوسری طرف 60 سال کی بڑھاپے کی عمرمیں ریٹائر ہونے والے افراد ،جن کے قوی ٰبھی درست طریقے سے کام نہیں کرپاتے، اپنا عہدہ دوسرے کو دینے کے لیے تیار نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جو بڑوں کا احترام نہ کرے اور چھوٹوں پر شفقت نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ادھرنوجوان ہیں جو اپنی زندگی کے کئی سال روزوشب محنت کے بعد اپنی تعلیم پوری کرکے ڈگری ہاتھوں میں تھامے ، اپنے قیمتی وقت کو پل پل ضائع ہوتا دیکھتے ہیں مگر بزرگوں کے احترام میں پھر بھی چپ رہتے ہیں، اور دوسری طرف بزرگ ہیں جو کسی طور شفقت فرمانے پر تیار نہیں۔یونیورسٹیوں کی انتظامیہ سے گزارش ہے کہ ملازمت سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنا کر تعلیم یافتگان کے لیے اچھی مثال قائم کریں، اور بزرگ حضرات سے گزارش ہے کہ نوجوانوں کے حالات پر رحم فرمائیں، قوانین کا احترام کریں ، اور پنشن پر گزارا کرتے ہوئے مستحق تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے اپنی سیٹ خالی فرما دیں، جس طرح بس میں سوار نوجوان اپنی سیٹ بزرگ سواریوں کے حوالے کر کے خود کھڑے ہو جاتے ہیں۔
ارباب اقتدار اور قومی زبوں حالی
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ
چند روز قبل معروف کالم نویس جناب جاوید چوہدری کا کالم ’’ذمہ دار ‘‘نظر سے گزرا۔ موصوف نے لکھنے کا حق ادا کر دیا ہے۔ کالم کا خلاصہ یہ تھا کہ مہاتر محمد کو دل کا عارضہ لاحق ہوا۔ اس وقت وہ ملائشیا کے وزیر اعظم تھے۔ ہارٹ اٹیک میں بے ہوش ہو گئے۔ فسٹ ایڈ کے بعد تشخیصی مراحل میں طے کیا کہ ان کا بائی پاس ہو گا۔ ان کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ بائی پاس کے لیے بیرون ملک جائیں۔ وہ اس پر آمادہ نہ تھے۔ ڈاکٹروں نے اپنے مشورے پر اصرار کرتے ہوئے بیرونی ملک سہولیات کا حوالہ دیا۔ جناب مہاتر محمد نے جواب میں کہا کہ وہ بیرون ملک علاج کے لیے چلے جائیں اور ان کے ملک کے لوگ علاج کی اعلیٰ سہولتوں سے محروم رہیں، یہ نہیں ہو سکتا ۔ وہ ملک میں مہیا سہولیات کے مطابق ہی اپنا علاج کرائیں گے۔ چنانچہ ان کا بائی پاس ملائشیا ہی میں ہوا۔ صحت اور زندگی تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دی۔ صحت یاب ہو کر انہو ں نے ملک میں صحت کے شعبے کو اتنا ترقی یافتہ بنا دیا کہ آج اس شعبہ سے ملائشیا کثیر زر مبادلہ کما رہا ہے اور دنیا بھر سے علاج کے لیے لوگ اس ملک کا رخ کرتے ہیں۔
جناب جاوید چوہدری نے اسے ایک مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔ میں اس سلسلے میں بعض ملکی شخصیات کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ خود قائد اعظم علیہ الرحمہ نے علاج کے لیے باہر جانے سے انکار کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ خزانے پر بیرونی علاج کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے تھے تو دوسری وجہ یہ تھی کہ باہر علاج کی صورت میں وہ نومولود مملکت میں اپنی ذمہ داریاں کسی دوسرے کے سپرد کر کے نہیں جانا چاہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے ساتھی کم بیش کھوٹے سکے ہیں۔ وہ کسی صورت یہ نہیں کر سکتے تھے کہ باہر علاج کے مزے لوٹتے رہیں اور وطن اور اہل وطن حالات کی مخدوشی میں رہیں۔ مزید وجہ یہ تھی کہ ان کی بیماری کا راز افشا ہو جاتا۔ اب تو بیماری کا ہمہ وقتی اشتہار نہ ہو تو بیمار ہونے کا کیا فائدہ۔ یہاں صورت حال یہ ہے کہ مہینوں سے علاج کے لیے باہر جا کر براجمان ہو گئے ہیں۔ ذمہ داریاں جائیں بھاڑ میں۔ فوج ضرب عضب میں پھنسی ہوئی ہے۔ چیف ایگزیکٹو علاج کی ادا کاری سی فرما رہے ہیں۔ پیچھے ان کے نالائق اور بد دیانت ساتھی ملک کے ساتھ جو کھیل کھیل رہے ہیں، لتا حیا کا قطعہ یاد نہ آئے تو کیا ہو:
اگر ہو جنگ نفرت سے، محبت جیت جاتی ہے
دلوں میں حوصلہ کم ہو تو دہشت جیت جاتی ہے
ملن کی آرزؤں میں اگر ہو شمس سی گرمی
تو پھر فرعون بھی آئے، صداقت جیت جاتی ہے
سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس جناب اے کارنیلیس کا قصہ تو ابھی کل کی بات ہے۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد فلیٹیز ہوٹل لاہور کے ایک کمرے میں اپنی اہلیہ کے ساتھ رہتے تھے۔ پورے ملک میں ان کا کوئی مکان نہیں تھا۔ اواخر عمر میں جب علالت نے گھیر لیا تو اں کے عظمت کردار کے پیش نظر وکلا برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کا سرکاری طور پر بہتر علاج کرایا جائے۔ اس طرح جب حکومت کو کچھ شرم آئی تو ایک وفد نے ہوٹل ہی میں ان سے ملاقات کی اور سرکاری اہتمام سے علاج کی پیش کش کی۔ جناب کارنیلیس کا جواب تھا کہ وہ اپنا علاج پنشن کے اندررہ کروا رہے ہیں۔ اس سے زیادہ کے وہ مکلف نہیں۔ وہ کسی طرح مملکت پر مزید بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔
ہم نے اپنے مشاہیر کے ساتھ کیا کیا؟ جناب سید حسین شہید سہر وردی متحدہ بنگال کے وزیر اعلیٰ تھے۔ پاکستان بنا تو وہ مہاتما گاندھی کے ساتھ فساد زدہ علاقوں میں امن مشن میں مصروف ہو گئے۔ فارغ ہو کر واپس آنا چاہا تو خواجہ ناظم الدین نے صوبے میں ان کے داخلے پر پابندی لگا دی۔ خواجہ صاحب اس وقت پاکستانی بنگال کے وزیر اعلیٰ تھے۔ وہ خود اس مزاج کے نہ تھے۔ یقینی طور پر وزیر اعظم پاکستان جناب لیاقت علی خان کے کہنے پر پابندی کا یہ حکم جاری ہوا۔یہی نہیں، ایوب خان کے دور میں سہروردی کو جس طرح بیروت کے ہسپتال میں مروایا گیا، یہ راز بھی تاشقند کے رازوں کی طرح دفن ہو گیا۔ پھر کون نہیں جانتا کہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو بھی جان سے مارا گیا۔ ایف آئی آر تک درج نہیں۔ قائد اعظم کے سیکریٹری جناب شریف الدین پیرزادہ کے بیانات موجود ہیں۔ وہ ہمیشہ مقتدر لوگوں کے چرنوں میں رہے، مگر ان کو محترمہ کی رپورٹ ابتدائی درج کروانے میں کیا دلچسپی ہو سکتی تھی۔
امریکہ کو فضائی اڈے نہ دینے سے انکار پر میر مصحف علی کو کس طرح حادثے کا شکار کیاگیا۔ اگر کسی میں تحقیق کی جرات ہو تو ہو سکتا ہے کہ ۲۰۰۵ کا زلزلہ بھی بین الاقوامی صنعت کاری ثابت ہو جائے۔ ہمارے وزیر اعظم جناب میاں محمد نواز شریف کی بھارت کے ساتھ دوستی غداری کی حدوں کو پہنچی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ یہاں یہ بھی عرض کردوں کہ اپوزیشن میں بیٹھے لوگ بھی مودی سے یاری نباہنے والے موجود ہیں۔ اعتزاز احسن نے سکھوں کی لسٹیں دے کر یہی کچھ تو کیا تھا۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر کے ملک کو دوٹکڑے کرنے کا کارنامہ ایک شہید ہی نے انجام دیا تھا۔ لال مسجد آپریشن کے بعد جس طرح نیا اسلحہ رکھ کر میڈیا کو دکھایا گیا، اس جعل سازی سے فوج کی ساکھ کتنی شاندار ہوئی کہنے کی بات نہیں۔ آج کم از کم پنجاب کی حد تک سی ٹی ڈی انسداد دہشت گردی کی فرض کاریاں کر رہی ہے، شاید کبھی اس کا حساب ہو۔
ہمارے ہاں کیا کچھ ہو رہا ہے؟ روز کے کالم بھرے ہوئے ہیں۔ کوئی قدر، یہاں تک کہ غیرت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ ہمارے ہاں ہسپتالوں کی صورت حال کا ذکر بھی وقت ضائع کرنے والی بات ہے۔ جب ہسپتالوں میں مریضوں کی عصمت دری ہونے لگے تو اس ملک کے مسیحاؤں کو کوئی کیا کہے۔ حکمران اب وڈیو لنک کے ذریعے اپنے فرائض منصبی اس حال میں ادا کریں کہ بیس بیس وزارتیں اپنے پاس رکھیں۔وڈیو لنک کے ذریعے صوبے اور وفاق کو چلایا جائے۔ اس سے تو اچھا تھا کہ روبوٹ سے کام لے لیا جائے۔
ہسپتالوں کے ذکر کے ساتھ اپنا ایک واقعہ لکھ دینا چاہتے ہیں۔ایک رات میرے جواں سال بیٹے کی طبیعت خراب ہوئی۔ وہ بے ہوش گیا۔ میں خود سائیکل پر ڈسٹرکٹ ہسپتال گوجرانوالہ پہنچا اور میرے دو بیٹے اسے بے ہوشی کی حالت میں موٹر سائیکل پر لاد کر ڈسٹرکٹ ہسپتال کے ایمرجنسی میں لے کر آئے۔ وہاں علاج شروع ہوا۔ سب سے پہلی چیز مشاہدے میں یہ بات آئی کہ بی پی ایپریٹس خراب ہے ۔ ایسی حالت میں کیا علاج ہونا تھا۔ کہنے کی ضرورت نہیں۔
اس سب کچھ کے باوجود میں مایوس نہیں۔ حالات بدل کر رہیں گے۔ یہ بھی واضح رہے کہ مکافاتِ عمل کار فرما ہے۔ اس ملک سے زیادتی کرنے والے اپنا حشر دیکھ چکے ہیں اور دیکھتے رہیں گے۔ شریفوں کے مقابلے پر ملک امیر محمد خان تو فرشتہ تھے۔ اس کے باوجود پورے ملک میں ان کی قبر موجود نہیں۔ ان کو قتل کر کے لاش کے ٹکڑے کیے گئے اور پھر دریائے سندھ میں بہا دیے گئے۔ دریائے سندھ کا پاٹ دس میل ہے، یہ کیسے ملتے۔ آج کے حکمران سمجھے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔
اس نوحہ گری کا کوئی فائدہ ہے یا نہیں، مگر میں اس پر مجبور ہوں۔ میری آرزوئیں جوان ہیں اور ان شا ء اللہ جوان رہیں گی اور پوری ہو گی۔ راشد بزمی کا یہ شعر کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔
اقبال! تیرے تخیل کا یہ چمن بے رنگ و بو نہ ہوتا
توہین رسالت کی سزا اور مولانا مودودیؒ کا موقف
ڈاکٹر عبد الباری عتیقی
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (۱۹۰۳ ۔ ۱۹۷۹) بیسویں صدی کے ایک جلیل القدر عالم اور مفکر تھے۔ ان کی فکر اور دینی تعبیر نے نسلوں کو متاثر کیا ہے۔ آئندہ سطور میں ہم توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے مولانا مودودیؒ کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
اپنی کتاب ’الجہاد فی الاسلام‘ میں ذمیوں (یعنی غیر مسلموں )کے حقوق بیان کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں:
’’ذمی خواہ کیسے ہی بڑے جرم کا ارتکاب کرے اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا، حتیٰ کہ جزیہ بند کردینا، مسلمان کو قتل کرنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنایا کسی مسلمان عورت کی آبرو ریزی کرنابھی اس کے حق میں ناقضِ ذمہ نہیں ہے۔ البتہ صرف دو صورتیں ایسی ہیں جن میں عقد ذمہ باقی نہیں رہتا: ایک یہ کہ وہ دارالاسلام سے نکل کر دشمنوں سے جا ملے، دوسرے یہ کہ حکومت اسلامیہ کے خلاف علانیہ بغاوت کرکے فتنہ و فساد برپا کرے۔‘‘ (الجہاد فی الاسلام، ص ۲۸۹)
اس اقتباس سے واضح ہے کہ مولانا مودودیؒ کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے سے ذمی کا ذمہ نہیں ٹوٹتا اور نتیجتاً وہ سزائے قتل کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ بھی واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی، مولانا مودودیؒ کے نزدیک، لازمی طور پر فساد فی الارض یا حکومتِ اسلامیہ کے خلاف بغاوت کے زمرے میں نہیں آتی۔ یہ بات مولانا مودودیؒ نے چونکہ فقہ حنفی کی کتب بدائع اور فتح القدیر کے حوالے سے بیان کی ہے، اس لیے مولانا مودودیؒ کی رائے قطعی طور پر متعین ہو جاتی ہے کہ شاتم رسول ذمی کو موت کی سزا نہیں دی جائے گی۔
اس اقتباس کے حوالے سے ایک سائل کے سوال کے جواب میں مولانا مودودیؒ نے نسبتاً تفصیل سے اپنا موقف واضح کیا ہے۔ ہم یہ سوال و جواب من و عن یہاں نقل کرتے ہیں:
’’سوال: راقم الحروف نے پچھلے دنوں آپ کی تصنیف ’ الجہاد فی الاسلام‘ کا مطالعہ کیا۔ اسلام کا قانون صلح و جنگ کے باب میں ص ۲۴۰ ضمن(۶) میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ : ’ ذمی خواہ کیسے ہی جرم کا ارتکاب کرے اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا، حتیٰ کہ جزیہ بند کردینا، مسلمانوں کو قتل کرنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنایا کسی مسلمان عورت کی آبرو ریزی کرنابھی اس کے حق میں ناقض ذمہ نہیں ہے۔ البتہ صرف دو صورتیں ایسی ہیں کہ جن میں عقد ذمہ باقی نہیں رہتا، ایک یہ کہ وہ دارالاسلام سے نکلے اور دشمنوں سے جا ملے، دوسرے یہ کہ حکومتِ اسلامیہ کے خلاف علانیہ بغاوت کر کے فتنہ و فساد برپا کرے۔‘ فدوی کو اس امر سے اختلاف ہے اور میں اسے قرآن وسنت کے مطابق نہیں سمجھتا۔میری تحقیق یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا اور دوسرے امور جن کا آپ نے ذکر فرمایا ہے، ان سے ذمی کا عقد ذمہ ٹوٹ جاتا ہے۔ آپ نے اپنی رائے کی تائید میں فتح القدیر جلد ۴ اور بدائع ص ۱۱۳ کا حوالہ دیا ہے، لیکن دوسری طرف علامہ ابن تیمیہ نے ’الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول‘ کے نام سے اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے۔ زادالمعاد، تاریخ الخلفاء عون المعبود، نیل الاوطارجیسی کتابوں میں علمائے سلف کے دلائل آپ کی رائے کے خلاف ہیں۔ یہاں ایک حدیث کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں۔ عن علی ان یھودیۃ کانت تشتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم وتقع فیہ فختقھا رجل حتی ماتت فابطل النبی صلی اللہ علیہ وسلم دمہا۔ حضرت علی کی روایت ہے کہ ایک یہودیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بد زبانی کرتی تھی اور آپ پر باتیں چھانٹتی رہتی تھی۔ ایک شخض نے اس کا گلا گھونٹا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔ (ابو داود، ملاحظہ ہومشکوۃ باب قتل اہل الردۃ والافساد ص ۳۰۸) ۔ ضمناً یہ بھی بیان کردوں کہ یہاں کہ ایک مقامی اہل حدیث عالم نے آپ کی اس رائے کے خلاف ایک مضمون بعنوان ’مولانا مودودی کی ایک غلطی ‘ شائع کیا ہے اور اس میں متعدد احادیث اور علماء کے فتاویٰ درج کیے ہیں۔
جواب: یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ اس میں آپ یا دوسرے حضرات جو رائے بھی رکھتے ہوں ، رکھیں اور اپنے دلائل بیان کریں۔ دوسری طرف بھی علماء کا ایک بڑا گروہ ہے اور اس کے پاس بھی دلائل ہیں۔ اصل اختلاف اس بات میں نہیں ہے کہ جزیہ نہ دینا، یا سب نبی صلعم ، یا ہتک مسلمات قانونی جرم مستلزم سزا ہیں یا نہیں، بلکہ اس امر میں ہے کہ یہ جرائم آیا قانون کے خلاف جرائم ہیں یا دستور مملکت کے خلاف۔ ایک جرم وہ ہے جو رعیت کا کوئی فرد کرے تو صرف مجرم ہوتا ہے۔ دوسرا جرم یہ ہے جس کا ارتکاب وہ کرے تو سرے سے رعیت ہونے ہی سے خارج ہوجا تا ہے۔ حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ ذمی کے یہ جرائم پہلی نوعیت کے ہیں۔ بعض دوسرے علماء کے نزدیک ان کی نوعیت دوسری قسم کے جرائم کی سی ہے۔ یہ ایک دستوری بحث ہے جس میں دونوں طرف کافی دلائل ہیں۔ اس میں کسی کے ناراض ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ جن صاحب نے مضمون لکھا ہے، انہوں نے انصاف نہیں کیا کہ اسے صرف میری غلطی قرار دیا۔ یہ اگر غلطی ہے تو سلف میں بہت سے اس کے مرتکب ہیں۔ میرا تو صرف یہ قصور ہے کہ کسی مسئلے میں مسلک حنفی کی تائید کرتا ہوں تو اہل حدیث خفا ہوجاتے ہیں اور کسی مسئلے میں اہل حدیث کی تائید کرتا ہوں تو حنفی پیچھے پڑ جاتے ہیں۔‘‘ (ترجمان القرآن ذی القعدہ ۱۳۷۴ھ۔جولائی ۱۹۵۵ء) ‘‘[رسائل و مسائل ۴/ ۱۳۲ ۔ ۱۳۳]
ْْْاس جواب میں مولانا مودودیؒ نے بالکل واضح کردیا ہے کہ غیر مسلم شاتم رسول (ذمی) کی سزا کے حوالے سے ان کی رائے وہی ہے جو متقدمین فقہائے احناف کی رائے ہے۔اور فقہائے احناف کی رائے معلوم و معروف ہے کہ ذمی کو شتم رسول کے جرم میں عمومی حالات میں موت کی سزا نہیں دی جائے گی، البتہ اگر کوئی فرد اعلانیہ یا سرکشی کے ساتھ اس جرم کو عادت بنا لے تو اسے تعزیراََ یا سیاسۃََ موت کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔
فقہ اسلامی میں اس بات پر اجماع پایا جاتا ہے (اگرچہ آج کل تاثر اس سے مختلف دیا جاتا ہے) کہ توہین رسالت کی کوئی سزا قرآن و سنت میں متعین نہیں کی گئی ہے بلکہ یہ فقہاء کی اجتہادی اور استنباطی رائے ہے۔ اس بات پر فقہائے کرام متفق ہیں کہ اگر کوئی مسلمان توہین رسالت کا مرتکب ہوگا تو وہ چونکہ مرتد ہوجائے گا، اس لیے اسے ارتداد کے جرم میں قتل کیا جائے گا۔ اگر کوئی غیر مسلم اس جرم کا ارتکاب کرے گا تو اسے تعزیر کے طور پر سزا دی جائے گی۔ مولانا مودودیؒ بھی اسی رائے کے حامل نظرآتے ہیں۔ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’اسلامی قانون نے قتل بالحق کو صرف پانچ صورتوں میں محدود کردیا: ایک قتل عمد کے مجرم سے قصاص، دوسرے دین حق کے راستے میں مزاحمت کرنے والوں سے جنگ، تیسرے اسلامی نظامِ حکومت کو الٹنے کی سعی کرنے والوں کو سزا، چوتھے شادی شدہ مرد یا عورت کو ارتکابِ زنا کی سزا، پانچویں ارتداد کی سزا۔ صرف یہی پانچ صورتیں ہیں جن میں انسانی جان کی حرمت مرتفع ہوجاتی ہے اور اسے قتل کرنا جائز ہوجاتا ہے۔‘‘ ( تفہیم القرآن ۲/ ۶۱۴)
ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
’’یعنی انسانی جان، جو فی الاصل خدا کی طرف سے حرام ٹھیرائی گئی ہے، ہلاک نہ کی جائے مگر حق کے ساتھ۔ اب رہا یہ سوال کہ ’ حق کے ساتھ‘ کا کیا مفہوم ہے، تو اس کی تین صورتیں قرآن میں بیان کی گئی ہیں، اور دو صورتیں اس پر زائد، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں۔ قرآن کی بیان کردہ صورتیں یہ ہیں: (۱) انسان کسی دوسرے انسان کے قتلِ عمد کا مجرم ہو اور اس پر قصاص کا حق قائم ہوگیا ہو۔ (۲) دین حق کے قیام کی راہ میں مزاحم ہو اور اس سے جنگ کیے بغیر چارہ نہ رہا ہو۔ (۳) دارالاسلام کے حدود میں بدامنی پھیلائے یا اسلامی نظامِ حکومت کو الٹنے کی سعی کرے۔ باقی دو صورتیں جو حدیث میں ارشاد ہوئی ہیں ، یہ ہیں : (۴) شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے۔ (۵) ارتداد اور خروج از جماعت کا مرتکب ہو۔ اِن پانچ صورتوں کے علاوہ کسی صورت میں انسان کا قتل انسان کے لیے حلال نہیں ہے، خواہ وہ مومن ہو یا ذمی یا عام کافر۔‘‘ ( تفہیم القرآن ۱/۵۹۹۔۶۰۰)
یہاں جس قطعیت اور حصر کے ساتھ مولانا مودودیؒ نے ان جرائم کو بیان کیا ہے جن کی سزا قرآن و حدیث کے مطابق موت ہے، اس سے بالکل واضح ہے کہ وہ توہین رسالت کو ان جرائم میں شمار نہیں کرتے جن کی سزا قرآن و حدیث نے متعین کر دی ہے۔
مرتد کو سزائے موت دینے کے معاملے میں، احناف کی رائے کے عین مطابق ،مولانا مودودیؒ بھی اس کے قائل ہیں کہ اسے توبہ کا موقع دیاجائے گا اور اگر وہ توبہ کرلے تو اسے معاف کردیاجائے گا۔ بدیہی طور پر اس اصول کا اطلاق شاتم رسول پر بھی ہونا چاہیے۔ فرماتے ہیں:
’’اسلامی قانون صدور ارتداد کے بعد فوراََ ہی مرتد کو قتل کردینے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ اس کو اپنی غلطی محسوس کرنے اور توبہ کا موقع بھی دیتا ہے اور اگر وہ توبہ کرلے تو اسے معاف کردیتا ہے۔‘‘ (رسائل و مسائل ۲ / ۵۲)
رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے وہ واقعات جن سے بالعموم توہین رسالت کی سزا کا قانون اخذ کیا جاتا ہے، ان میں ایک اہم واقعہ کعب بن اشرف کا قتل ہے۔ مولانا مودودیؒ اس واقعہ کی جو توجیہ کرتے ہیں، وہ ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں:
’’عہد رسالت کا ایک اور واقعہ جس پر سخت اعتراضات کیے جاتے ہیں، یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک دشمن کعب بن اشرف کو خفیہ طریقے سے قتل کرادیا۔ مخالفین کا اعتراض یہ ہے کہ یہ وہی جاہلیت کا ’فَتک‘ تھا اور بزدلی کے علاوہ آدابِ جنگ کے بھی خلاف تھا ۔ لیکن اس واقعہ کے بھی چند مخصوص اسباب تھے جن کو معترضین نے نظر انداز کردیا ہے۔ یہ شخص یہود بنی نضیر میں سے تھا اور اپنی قوم کے ساتھ اس معاہدہ میں شریک تھا جو ہجرت کے بعد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان کے درمیان ہوا تھا۔ مگر اسے اسلام اور خاص کر داعی اسلامؐ سے سخت عداوت تھی۔ آپؐ کی شان میں ہجویہ اشعار کہتا، مسلمان عورتوں کے متعلق نہایت گندے عشقیہ قصائد کہتا اور کفارِ قریش کو آنحضرت ؐ کے خلاف اشتعال دلاتا تھا۔ جب جنگِ بدر میں آنحضرت کو فتح ہوئی تو اس کو سخت رنج ہوا اور شدتِ غضب میں پکار اٹھا کہ واللہ لئن کان محمد اصاب ھولاء القوم لبطن الارض خیرُُ لنا من ظھرھا۔(خدا کی قسم اگر محمدؐ نے قریش کو واقعی شکست دے دی ہے تو زمین کا پیٹ ہمارے لیے اس کی پیٹھ سے زیادہ بہتر ہے)۔ پھر وہ مدینہ سے مکہ پہنچا اور وہاں نہایت درد انگیز طریقہ سے قریش کے مقتولوں کے مرثیے کہہ کہہ کر ان کے عوام اور سرداروں کو انتقام کا جوش دلانے لگا۔ اس کی یہ سب حرکات اس معاہدہ کے خلاف تھیں جو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ہوا تھا اور جس میں وہ بھی اپنی قوم کے ساتھ شریک تھا۔ تاہم انھیں کسی نہ کسی طرح معاف کیا جا سکتا تھا۔ لیکن ان سب سے گزر کر وہ اپنے جذبہ عناد میں یہاں تک پہنچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جان تک لینے کا تہیہ کرلیا۔ اس نے ایک سازش کی تیار ی کی جس کا مقصد آپؐ کو دھوکہ سے قتل کرنا تھا ۔۔۔ اُس کے جرائم کی فہرست کو اِس سازشِ قتل نے مکمل کردیا اور اس کے بعد اس کے کشتنی ہونے میں کوئی کسر باقی نہ رہی۔ ایک شخص اپنے قومی معاہدہ کو توڑتا ہے، مسلمانوں کے دشمنوں سے ساز باز کرتا ہے، مسلمانوں کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکاتا ہے، اور مسلمانوں کے امام کو قتل کرنے کی خفیہ سازشیں کرتا ہے۔ ایسے شخص کی سزا بجز قتل کے اور کیا ہوسکتی ہے؟‘‘ (الجہادفی الاسلام، ص ۳۱۱ ۔ ۳۱۲)
یہاں دیکھ لیجیے،مولانا مودودیؒ نے بالکل واضح طور پر لکھا ہے کہ کعب بن اشرف کاقتل توہین رسالت کے جرم میں نہیں کیا گیا، بلکہ یہ جرم تو ’کسی نہ کسی طرح‘ معاف بھی کیا جاسکتا تھا۔ اس کا اصل جرم جو قتل کی وجہ بنا، وہ اُس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ نے اس واقعہ کو ’چند مستثنیات ‘ کے عنوان سے بیان کیا ہے اور استثنا کی وضاحت میں لکھا ہے کہ:
’’اس واقعہ سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ خفیہ طریقے سے دشمن کے سرداروں کو قتل کرادینا اسلام کے قانونِ جنگ کی کوئی مستقل دفعہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو یقیناًآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے ابو جہل اور ابو سفیان جیسے دشمنوں کو قتل کراتے، اور صحابہ میں ایسے فدائیوں کی کمی نہ تھی جو اس قسم کے تمام دشمنوں کو ایک ایک کر کے قتل کرسکتے تھے۔ لیکن عہد رسالتؐ اور عہدِ صحابہ کی پوری تاریخ میں ہم کو کعب بن اشرف اور ابو رافع کے سوا کسی اور شخص کا نام نہیں ملتا جسے اس طرح خفیہ طریقہ سے قتل کیا گیا ہو، حالانکہ آپؐ کے دشمن صرف یہی دو شخص نہ تھے۔ پس یہ واقعہ خود اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ خفیہ طریقے سے دشمن کو قتل کرنا اسلام کی کوئی مستقل جنگی پالیسی نہیں ہے، بلکہ ایسے مخصوص حالات میں اس کی اجازت ہے جب کہ دشمن خود سامنے نہ آتا ہو اور پردے کے پیچھے بیٹھ کر خفیہ سازشیں کیا کرتا ہو۔‘‘ (الجہاد فی الاسلام، ص ۳۱۳ ۔۳۱۴)
اس واقعہ کو مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں بھی بیان کیا ہے۔ یہود کی معاندانہ روش اور شرارتوں کے ضمن میں لکھتے ہیں:
’’معاہدے کے خلاف یہ کھلی کھلی معاندانہ روش تو جنگ بدر سے پہلے ہی وہ اختیار کر چکے تھے۔ مگر جب بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو قریش پر فتحِ مبین حاصل ہوئی تو وہ تَلمَلا اٹھے اور اُن کے بغض کی آگ اور زیادہ بھڑک اٹھی۔ اس جنگ سے وہ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ قریش کی طاقت سے ٹکرا کر مسلمانوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اسی لیے انہوں نے فتح اسلام کی خبر پہنچنے سے پہلے مدینے میں یہ افواہیں اڑانی شروع کر دی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے، اور مسلمانوں کو شکست فاش ہوئی، اور اب ابو جہل کی قیادت میں قریش کا لشکر مدینے کی طرف بڑھا چلا آرہا ہے۔ لیکن جب نتیجہ ان کی امیدوں اور تمناؤں کے خلاف نکلا تو وہ غم اور غصے کے مارے پھٹ پڑے۔بنی نَضِیر کا سردار کَعب بن اشرف چیخ اٹھا کہ’خدا کی قسم اگر محمدؐ نے اِن اشرافِ عرب کو قتل کر دیا ہے تو زمین کا پیٹ ہمارے لیے اُس کی پیٹھ سے زیادہ بہتر ہے‘۔ پھر وہ مکہ پہنچااور بدر میں جو سردارانِ قریش مارے گئے تھے، اُن کے نہایت اشتعال انگیز مرثیے کہہ کر مکہ والوں کو انتقام پر اکسایا۔ پھر مدینے واپس آکر اس نے اپنے دل کی جلن نکالنے کے لیے ایسی غزلیں کہنی شروع کیں جن میں مسلمان شرفاء کی بہو بیٹیوں کے ساتھ اظہارِ عشق کیا گیا تھا۔ آخر کار اس کی شرارتوں سے تنگ آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول ۳ھ میں محمد بن مَسلَمہ انصاری کو بھیج کر اسے قتل کرا دیا۔‘‘ ( تفہیم القرآن۵/ ۳۷۷)
یہاں بھی توہین رسالت کو اس کے اصل جرم کے طور پر بیان نہیں کیا ہے۔
اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کا نام لے کر ان کے قتل کا حکم جاری کیا تھا۔ اس واقعہ کو بھی توہین رسالت کی سزا کے ماخذ کے طور پر بیان کر دیا جاتا ہے۔ مولانا مودودیؒ اس کی توجیہ بھی مختلف انداز میں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:
’’یہ جو فرمایا کہ اگر وہ باز آجائیں تو ’ظالموں کے سوا کسی پر دست درازی روا نہیں‘، تو اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جب نظامِ باطل کی جگہ نظامِ حق قائم ہو جائے تو عام لوگوں کو تو معاف کر دیا جائے گا ، لیکن ایسے لوگوں کو سزا دینے میں اہل حق بالکل حق بجانب ہوں گے جنہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں نظامِ حق کا راستہ روکنے کے لیے ظلم و ستم کی حد کردی ہو، اگرچہ اس معاملے میں بھی مومنینِ صالحین کو زیب یہی دیتا ہے کہ عفو و درگزر سے کام لیں اور فتحیاب ہو کر ظالموں سے انتقام نہ لیں، مگر جن کے جرائم کی فہرست بہت ہی زیادہ سیاہ ہو اُن کو سزا دینا بالکل جائز ہے اور اس اجازت سے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فائدہ اٹھایا ہے ، جن سے بڑھ کر عفو و درگزر کسی کے شایانِ شان نہ تھا۔ چنانچہ جنگِ بدر کے قیدیوں میں سے عُقبہ بن ابی مُعَیط اور نضَر بن حارث کا قتل اور فتحِ مکہ کے بعد آپ کا ۱۷ ؍آدمیوں کو عفو عام سے مستثنیٰ فرمانا اور پھر ان میں سے چار کو سزائے موت دینا اسی اجازت پر مبنی تھا۔‘‘ ( تفہیم القرآن۱/ ۱۵۲)
ان مجرموں کا اصل جرم بھی جس کی وجہ سے وہ قتل کی سزا کے مستحق قرار دیے گئے تھے،مولانا مودودیؒ کے نزدیک، نظامِ حق کا راستہ روکنے کے لیے ظلم و ستم کی حد کردینا تھا، نہ کہ سادہ طور پر توہین رسالت کا ارتکاب کرنا۔
محترم اسماعیل قریشی ایڈوکیٹ صاحب نے اپنی کتاب ’ ناموسِ رسول اور قانونِ توہین رسالت‘ میں مولانا مودودیؒ کا ایک مضمون نقل کیا ہے۔ یہ مضمون مولانا مودودیؒ نے ۱۹۲۷ء میں تحریر کیا تھا اور ان کی اس زمانے کی تحریروں کے مجموعے’آفتابِ تازہ‘ میں شامل ہے۔ یہ مضمون مولانا مودودیؒ نے ’رنگیلا رسول‘ نامی کتاب کے عدالتی مقدمے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوا لکھا تھا۔ ہم اس مضمون کا متعلقہ حصہ یہاں نقل کرتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیس کے متعلق مسلمانوں کے جذبات کا صحیح اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ آپؐ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے لیے اسلام میں قتل کی سزا ہے اور آپ کو گالی دینے والے کا خون مباح قرار دیا گیا ہے۔ نسائی میں کئی طریقوں سے ابو برزہ الاسلمی کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک شخص پر ناراض ہو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس کی گردن ماروں؟ یہ سنتے ہی آپ کا غصہ دور ہوگیااور آپ نے جھڑک کر مجھے فرمایا: لیس ھذا لا حد بعد رسول اللہ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی کا درجہ نہیں ہے کہ اس کی گستاخی کرنے والے کو قتل کی سزا دی جائے)۔
ایک دوسری حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینے میں ایک اندھے مسلمان کی لونڈی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اور اس مسلمان نے تکلے سے اس کا پیٹ پھاڑ دیا، دوسرے دن جب اس کے مارے جانے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچی ، تو آپ نے فرمایا کہ جس نے یہ کام کیا ہے، اس کو میں خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اٹھ کھڑا ہو۔ یہ سن کر وہ اندھا گرتا پڑتا آیا اور اس نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! یہ فعل میں نے کیا ہے۔ وہ میری لونڈی تھی۔ مجھ پر مہربان تھی، مگر آپ کی شان میں بہت بد گوئی کرتی تھی۔ میں اسے منع کرتا، تو نہیں مانتی تھی۔ میں ڈانٹتا تو اس پر کچھ اثر نہ ہوتا۔ کل رات پھر اس نے آپ کو برا کہا۔ اس پر میں اٹھا اور تکلا چبھو کر اس کا پیٹ پھاڑ دیا۔ یہ سن کر حضور نے فرمایا! الا اشھدوا ان دمھا ھدر، سب لوگ گواہ رہو کہ اس کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے۔‘
اس طرح بخاری شریف میں کتاب المغازی میں کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ موجود ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کر کے اور قریش کو آپ کے خلاف بھڑکا کر آپ کو ایذا دیتا تھا، اس لیے آپ نے محمد ابن مسلمہ کے ہاتھوں اسے قتل کرادیا۔ ابی داؤد میں کعب بن اشرف کے قتل کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ’ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا اور کفار قریش کو آپ کے خلاف جوش دلاتا تھا‘۔قسطلانی نے بخاری کی مذکورہ حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ: ’ وہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتا تھا، اس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہجو کرتا اور قریش کو ان کے خلاف بھڑکاتا‘۔ ابن سعد نے بھی اس کے قتل کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ :’وہ ایک شاعر آدمی تھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی ہجو کرتا اور ان کے خلاف لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتا تھا۔‘
کتب فقہیہ میں بھی اس کے متعلق صریح احکام موجود ہیں۔ چنانچہ علامہ شامی لکھتے ہیں کہ: ’ابو بکر بن المنذر کا قول ہے کہ اس امر پر عامہ اہل علم کا اجماع ہے کہ جو کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے، وہ قتل کیا جائے گا۔ اس قول کے قائلین میں سے مالک بن انس، لیث اور احمد اور اسحاق ہیں اور یہی مذہب ہے شافعی کا اور یہی مقتضا ہے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قول کا۔ ان بزرگوں کے نزدیک اس کی توبہ مقبول نہیں ہے۔ ایسا ہی قول ہے ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب اور ثوری اور اہل کوفہ اور اوزاعی کا بھی‘۔ شیخ الاسلام احمد ابن تیمیہ اپنی کتاب الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول میں لکھتے ہیں کہ: ’اس طرح ہمارے اصحاب یعنی حنابلہ کی ایک دوسری جماعت نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والا قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی خواہ وہ کافر ہو یا مسلم‘۔ پس جزئیات میں فقہاء کے درمیان خواہ کتنا ہی اختلاف ہو، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظمت میں حنفی، مالکی، حنبلی، شافعی سب کا اتفاق ہے کہ آپ کو گالی دینے والا واجب القتل ہے۔ اس سے صحیح اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام میں داعی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حرمت و عزت کے متعلق کیا احکام ہیں اور اس بارے میں مسلمانوں کا مذہب ان کو کیا تعلیم دیتا ہے‘‘۔ (آفتابِ تازہ، ص ۱۸۴۔ ۱۸۶)
اس مضمون میں مولانا مودودیؒ نے جو رائے اختیار کی ہے، وہ قطعی طور پر اس موقف سے مختلف بلکہ متضاد ہے جو ہم اوپر بیان کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس تضاد کی یہی توجیہ ممکن ہے کہ یہ مانا جائے کہ اس مضمون میں مولانا مودودیؒ کی اختیار کردہ رائے ان کی ابتدائی رائے تھی جبکہ ان کا حتمی اور آخری موقف وہ ہے جو ان کی بعد کی تحریروں میں بیان ہوا ہے اور جسے ہم نے اپنی اس تحریر میں واضح کیا ہے۔اس مضمون کو ۲۴ سالہ نوجوان صحافی کی ایک جذبہ انگیز تحریر سمجھنا چاہیے۔ اصل اور حتمی موقف بہرحال وہی سمجھا جائے گا جو بعد کے دور میں اختیارکیا گیاہے۔
توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے مولانا مودودیؒ کے موقف کو سمجھنے کے لیے ایک اور نکتہ بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم پہلے واضح کر چکے ہیں کہ توہین رسالت کی کوئی سزا قرآن و حدیث میں بیان نہیں ہوئی ہے۔ بعد کے دور میں لوگوں نے اس جرم کی سزا کے ماخذ کے طور پر قرآن کی بعض آیات سے استدلال کیا ہے۔ ان میں نمایاں ترین اور غالباََ اولین نام امام ابن تیمیہؒ کا ہے۔ (ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھئے امام ابن تیمیہؒ کی کتاب ’الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول‘ اور جناب اسماعیل قریشی ایڈوکیٹ کی کتاب ’ناموس رسول اور قانونِ توہین رسالت‘)۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ نے اپنی معرکۃ الآرا تفسیر تفہیم القرآن میں (ہمارے استقصاکی حد تک) ان محولہ آیات بلکہ کسی بھی آیت کے ذیل میں اشارۃََ بھی توہین رسالت کی سزا کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اس سے بجا طور پر یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ مولانا مودودیؒ کے نزدیک بھی ، فقہاء کے اجماع کی طرح، قرآن میں توہین رسالت کی کوئی سزا بیان نہیں کی گئی ہے۔
توہین رسالت کی سزا نافذ کرنے کا اختیار کس کو حاصل ہے؟ ۱۹۲۷ء میں ’رنگیلا رسول‘ اور راجپال کے قضیے کے ہنگام مولانا مودودیؒ نے ایک مضمون لکھا۔ یاد رہے کہ اس وقت ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت قائم تھی۔ اس مضمون میں فرماتے ہیں:
’’کوئی شخص جو تھوڑی بہت بھی عقل رکھتا ہو، اس بنیادی حقیقت سے غافل نہیں رہ سکتا کہ اگر افراد قانون و آئین کی قوت سے بے نیاز ہو کر انصاف اور تعزیر کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیں اور ہر شخص اپنی جگہ خود جج اور کوتوال بن کر دوسرے لوگوں کو سزا دینے لگے تو ایک لمحہ کے لیے بھی جماعت کا نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ افراد میں ، خواہ کسی قسم کی عداوت ہو، ذاتی رنج و کاوش پر مبنی ہو، یا مذہبی و سیاسی شکایات پر، ہر حالت میں ان کا فرض ہے کہ ضبط نفس سے کام لیں، ملک میں جو حکومت قیام امن و عدل کی ذمہ دار ہو، اس کے ذریعے سے انصاف حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اگر وہ انصاف نہ کرے، تو اپنی طاقت کو غیر آئینی افعال میں صرف کرنے کے بجائے اس حکومت کو ادائے فرض پر مجبور کرنے میں استعمال کریں۔ جو لوگ اس صحیح طریقے کو جان بوجھ کر چھوڑ دیتے ہیں اور قانون کی طاقت کو خود اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے فعل کا اصلی محرک خواہ ایک شریف جذبہ ہو یا رذیل اور ان کی شکایت خواہ حق بجانب ہو یا غیر حق بجانب، دونوں صورتوں میں وہ کم از کم اس حقیقت سے سوسائٹی کی نظر میں یکساں مجرم ہیں کہ وہ جماعت کے آئین و نظام کا احترام نہیں کرتے اور ملک میں طوائف الملوکی و فوضویت کا فتنہ پھیلاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جب عدالت عالیہ لاہور نے موجود الوقت قانون کی رو سے توہین رسول کو ناقابل سزا جرم قرار دے کر بد گوئی کے فتنے کا دروازہ کھول دیا تو علمائے اسلام نے یہ مسئلہ بیان کیا تھا کہ اسلام کے قانون میں توہین رسول کی سزا قتل ہے، لیکن اس کا مقصد گورنمنٹ پر اس جرم کی اہمیت اور حرمت رسول کے بارے میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی نزاکت ظاہر کرنا تھا تاکہ وہ قانون کی اس کمی کو جلد سے جلد پورا کرے اور اس فتنے کا دروازہ بند کردے۔ اس مسئلے کے اظہار سے یہ مقصد ہرگز نہ تھا کہ مسلمان موجودہ انگریزی حکومت میں اسلام کے قانون تعزیرات کو نافذ کریں۔ ہم پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں اور اب دوبارہ اس کا اظہار کرتے ہیں کہ اسلامی شریعت میں حدود و تعزیرات کے متعلق جتنے احکام ہیں ، ان سب کی تنفیذ امام کے ساتھ وابستہ ہے۔ جب مسلمانوں کا کوئی با اختیار امیر یا امام موجود نہ ہو اور وہ کسی غیر اسلامی حکومت کے مطیع ہوں تو نہ اسلامی حدود قائم ہو سکتی ہیں اور نہ تعزیری احکام نافذ ہو سکتے ہیں ۔ پھر خود اسلامی حکومت میں بھی ہر فرد کو یہ اختیار نہیں ہے کہ خود کسی شخص کو کسی جرم کی سزا دے دے ۔ جرم کی تحقیق کر کے سزا کا حکم دینا قاضی شرع کا کام ہے اور اسے نافذ کرنا اسلامی سلطنت کے با اختیار حاکم سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان خود قانون کو ہاتھ میں لے کر کسی مجرم کو سزا دے گا تو فوری اشتعال ثابت نہ ہونے کی صورت میں اس کو خلاف ورزی آئین کی یقیناًسزا دی جائے گی‘‘۔ (آفتاب تازہ، ص ۳۴۴۔۳۴۷)
یہ تحریر اپنے مفہوم و مدعا میں بالکل واضح ہے کہ ،مولانا مودودیؒ کے نزدیک، کسی منظم ریاست و حکومت میں، خواہ وہ غیر مسلموں کی ہو یا مسلمانوں کی، کسی فرد کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے کرتوہین رسالت سمیت کسی بھی جرم کی سزا خود نافذ کردے۔۔ یہ مضمون اگرچہ مولانا مودودی ؒ کے ابتدائی زمانے کا ہے، لیکن چونکہ اس رائے میں تبدیلی کے کوئی شواہد ہمیں بعد کی تحریروں میں نہیں ملے، اس لیے اس معاملے میں اسی کو مولانا مودودی ؒ کی آخری اور حتمی رائے سمجھنا چاہیے۔
اوپر بیان کی گئی تصریحات اور اشارات کی روشنی میں ہم توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے مولانا مودودیؒ کے موقف کا خلاصہ اس طرح کرسکتے ہیں:
- توہین رسالت کی کوئی سزا قرآن میں بیان نہیں کی گئی ہے ۔
- کعب بن اشرف، ابو رافع، بدر کے قیدیوں اور فتح مکہ کے موقع پر جن کفار کو قتل کیا گیا، وہ توہین رسالت کی سزا کے طور پر نہیں بلکہ معاہدہ شکنی، دشمنوں سے ساز باز، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فتنہ انگیزی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش جیسے جرائم کی سزا تھی۔
- اگر کوئی مسلمان توہین رسالت کا مرتکب ہو تو چونکہ وہ مرتد ہو جائے گا، اس لیے اسے ارتداد کے جرم میں قتل کی سزا دی جائے گی، لیکن اس سے پہلے اسے توبہ کا موقع دیا جائے گا اور اگر وہ توبہ کر لے تو اسے معاف کر دیا جائے گا۔
- شاتمِ رسول ذمی (یعنی غیر مسلم) کا ذمہ برقرار رہے گا اور عمومی حالات میں اسے موت کی سزا نہیں دی جائے گی۔
- تمام جرائم کی طرح توہین رسالت کی سزادینے کا اختیار بھی صرف اور صرف ریاست کو حاصل ہے۔
یہاں دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ ہم نے مولانا مودودیؒ کا موقف غیر جانبداری سے سمجھنے اور بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کی تائید یا تردیدیہاں ہمارا مقصود نہیں ہے۔ دوسری یہ کہ ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ کسی عام انسان کی طرف بھی کوئی غلط بات منسوب کریں، کجا کہ ایک جلیل القدر عالم و مفکر کے ساتھ ایسا کیا جائے۔ ہم نے جو کوشش بھی کی ہے وہ اپنے محدود علم اور ناقص فہم کے ساتھ کی ہے۔اس بات کا پورا امکان ہے کہ ہم مولانا مودودیؒ کے موقف کو درست طریقے پرنہ سمجھ سکے ہوں۔اگر کوئی صاحبِ علم مولانا مودودیؒ کی ان تحریروں کا جو ہم نے نقل کی ہیں، کچھ مختلف مفہوم واضح کر دیں گے یا اس موضوع سے متعلق مولانا مودودیؒ کی کچھ اور تحریروں سے، جن تک ہماری رسائی نہیں ہوسکی ہے، ان کا کوئی مختلف موقف بیان کردیں گے تو ہم ان کے شکر گزار ہوں گے۔
ہم اپنی اس تحریر کو مولانا مودودیؒ ہی کے ایک اقتباس پر ختم کرتے ہیں۔ اس میں بھی غور و فکر کا کافی سامان موجود ہے۔
’’جب دشمنوں کی طرف سے اللہ کے رسول پر طعن و تشنیع کی بوچھاڑ ہو رہی ہواور دین حق کو زک پہنچانے کے لیے ذاتِ رسول کو ہدف بنا کر پروپیگنڈے کا طوفان برپا کیا جا رہا ہو، ایسی حالت میں اہل ایمان کا کام نہ تو یہ ہے کہ ان بے ہودگیوں کو اطمینان کے ساتھ سنتے رہیں، اور نہ یہ کہ خود بھی دشمنوں کے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات میں مبتلا ہوں، اور نہ یہ کہ جواب میں ان سے گالم گلوچ کرنے لگیں ، بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ عام دنوں سے بڑھ کر اس زمانے میں خصوصیت کے ساتھ اللہ کو اور زیادہ یاد کریں‘‘۔ (تفہیم القرآن ۴/۱۰۴)
اللہ تعالیٰ ہمیں بات کو صحیح طریقے سے سمجھنے، اسی طرح قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین
سود، کرایہ و افراطِ زر : اصل سوال اور جواب کی تلاش
محمد انور عباسی
الشریعہ کے جنوری کے شمارے میں محترم مغل صاحب کا مضمون نظر سے گزرا۔ اپنے موضوع پر ایک جاندار اور عام ڈگر سے ہٹا ہوا اور سوچ کو ابھارنے والا مضمون دیکھنے کو ملا۔ یہ جریدہ اس لحاظ سے ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے کہ اس میں ہر ماہ ہی اہل علم کی فکر انگیز تحریریں ملتی ہیں جو ذہن کو جلا بخشتی ہیں۔ ہر وہ تحریر ، حتیٰ کہ ایک جملہ بھی،قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے کے قابل ہے جو کسی بھی لحاظ سے مکالمے پر انگیز کرے۔ کبھی کبھی یہ خواہش شدید تمنا کا روپ دھار لیتی ہے کہ ملک عزیز کے دیگر رسائل و جرائدبھی یہی رویہ اپنائیں اور اپنے ہاں اس طرح کے مکالمے پر ابھارنے والی تحیریروں کو جگہ دیں تو یقین ہے فکری جمود کی فضا، جس کا عرصے سے رونا رویا جا رہا ہے ،مستقبل قریب میں ختم کی جا سکتی ہے۔
افراطِ زر اور سود کے سلسلے میں محترم مغل صاحب نے حامیانِ سود کی ایک دلیل کا ذکر کیا ہے کہ وہ سود کا جواز اس امر واقعہ میں تلاش کرتے ہیں کہ افراطِ زر کی وجہ سے اس کی قدر میں کمی واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا اس کی تلافی سود سے کی جاتی ہے۔ ہمیں مغل صاحب سے مکمل اتفاق ہے کہ یہ دلیل انتہائی کمزور دلیل ہے۔ واقعہ یہ کہ ہمارے علم کی حد تک بعض حضرات کی طرف سے اسے محض الزامی جواب کے طور پر ہی پیش کیا گیا ہے چنانچہ یہ خیال کرنا شاید اتنا درست نہیں کہ مخالف نقطہ نظر کا انحصار اس یا اسی طرح کی کسی دلیل پر ہے۔ لہٰذا اس کو اس طور پر پیش کرنا کہ یہ کوئی بہت بڑی دلیل ہے، مسئلے کو سنجیدہ نہ لینے کے مترادف ہو گا۔ اس دلیل کی حیثیت بالکل وہی ہے جس کا ایک جگہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے ذکر کیا ہے۔
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی کتاب سود میں بیہقی اور مسند حارث بن اسامہ کی احادیث ’کل قرض جر منفعۃ فھو وجہ من وجوہ الربوا‘ اور ’کل قرض جر بہ نفعا فھو ربوٰا‘ کو بنیاد بنا کر بینک کے سود کو بھی ربا قرار دے کر حرام کہا تو کئی لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ احادیث قابل احتجاج نہیں۔ اس پر مولانا محترم نے ان لوگوں کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: ’’بعض لوگ اس حدیث کی صحت پر اس دلیل سے کام کرتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے ۔ لیکن جو اصول اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے، اسے تمام فقہائے امت نے بالاتفاق تسلیم کیا ہے۔ یہ قبولِ عام حدیث کے مضمون کو قوی کر دیتا ہے، خواہ روایت کے اعتبار سے اس کی سند ضعیف ہو۔‘‘(سود، ص ۲۶۶،۲۶۷)
یہی استدلال جب ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ’’بعض لوگ یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں کہ اپنے مد مقابل کی طرف ایسا ضعیف قول منسوب کر دیتے ہیں جو اس نے نہیں کہا ہوتا، تاکہ اس قول کا ردو ابطال ان کے لیے آسان ہو۔حقیقت یہ ہے کہ فقہا نے اس حدیث کو اپنے لیے سند نہیں بنایا۔ اگر بعض کتب میں یہ مذکور ہے تو یہ ایسی کتب ہیں جو منقولہ اقوال کی صحت کا خیال نہیں رکھتیں۔ فقہا تو اس قرض پر ایسے نفع کو جائز قرار دیتے ہیں جن کا قرض دیتے وقت ذکر نہیں کیا گیابلکہ مقروض نے ادائیگی قرض کے وقت حسن اخلاق کی خاطر کچھ زائد پیسے ادا کر دیے اور فرمایا ’’خیر کم احسنکم اداء‘‘ کہ تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے جو اچھے طریقے سے قرض ادا کرتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’کل قرض جر نفعا فھو ربا‘‘ صحیح نہیں۔ اور صحیح یہ ہے کہ وہ قرض جس کو پیشگی نفع کے ساتھ مشروط کیا جائے، وہ سود(ربا) ہے۔‘‘ (ربا اور بینک کا سود، ص ۳۳)
یہاں اس سے بحث نہیں کہ آیا ربا کی یہ تعریف درست ہے جو بقول مولانا مودودی حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ ہر قرض پر اضافہ ربا ہے یا ڈاکٹر قرضاوی کا قول درست ہے کہ بغیر شرط کے قرض پر اضافہ بالکل جائز ہے جسے مولانا مودودی حرام قرار دیتے ہیں۔ اس مختصر سے مضمون میں ہم ان دونوں حضرات کی تعریفوں کا محاکمہ کرنے بھی کا ارادہ نہیں رکھتے۔ یہاں ہم ڈاکٹر صاحب محترم کی اس دلیل کو سامنے لا رہے ہیں کہ مد مقابل کی کمزور دلیل کا سہارا لے کر اگر ہم کسی بھی چیز کا تجزیہ کریں گے تو شاید حقیقت تک پہنچنے میں کامیابی نہ ہو۔ اسی لیے ہمارا خیال ہے کہ ’ ربا ‘ پر بات کرتے ہوئے ہمیں افراطِ زر اور سود کے تعلق کو پس پشت ڈالنا ہو گا۔ ورنہ منجمد اثاثے اور سیال اثاثے کو بنیاد بنا کر کلہاڑیوں کی مثالوں سے کھربوں تک کے حسابات پیش کر کے ربا کی درست تعریف ہو سکتی ہے نہ سود کی۔ کرنسی کی درست توجیہ کے لیے ہمیں اپنا مائنڈ سیٹ بدلنا ہوگا۔ اور اگر ہم کسی طرح paradigm shift کرنے کے قابل ہو جائیں تو عین ممکن ہے، تصویر کا دوسرا رخ جو پہلے دھندلایا سا تھا ، صاف نظر آنا شروع ہو جائے۔ چونکہ ، جیسا کہ ہم نے ابتدا میں عرض کیا تھا، افراطِ زر کی دلیل واقعی کمزور ہے، اس لیے ہم اس پوری بحث سے صرفِ نظر کر کے اصل سوال کی تلاش میں اہلِ علم کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں جس پر غوروفکر کر کے ہم نہ صرف ربا کی درست تعریف تک پہنچ سکتے ہیں بلکہ سود اور افراطِ زر جیسی کمزور دلیلوں سے جان چھڑا سکتے ہیں۔
امر واقعہ یہ ہے کہ یہ ساری بحث اس لیے جاری ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اس قبیح گناہ سے بچ سکیں جس کو قرآن مجید میں سنگین ترین قرار دیا ہے۔ اسی کی نشاندہی کی کوشش کرتے ہوئے ہم ان پگڈنڈیوں کی طرف نکل آئے جن کی ہلکی سی مشابہت بھی ہمیں نظر آئی اور ان پر سفر کرتے ہوئے ان بے شمار سوالات و جوابات کی کانٹے دار جھاڑیوں میں الجھ گئے جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ چنانچہ ہم اصل شاہراہ کی طرف متوجہ ہو کر اصل سوال کی طرف آتے ہیں۔
اصل سوال تو صرف ایک ہے کہ ’ ربا‘ کیا ہے جس کی اتنی شدت سے قرآن میں ممانعت آئی ہے۔ نہ صرف قرآن بلکہ تمام الہامی مذاہب اور فلاسفہ میں اس کو قابلِ نفرت اور سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے لیے تنقیح طلب اموریہ ہو سکتے ہیں:
۱۔ ’ربا‘ صرف کرنسی میں پیدا ہوتا ہے یا دیگر اشیا میں بھی؟
۲۔ کرنسی کی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ بھی کوئی شے یعنی commodity ہے ؟ کیا جو شے ذریعہ مبادلہ Medium of exchange ہو، وہ ’’بذاتِ خود‘‘ نفع آور نہیں ہوتی؟
۳۔ کیا کرنسی ’مال‘ کی تعریف میں آتی ہے؟ اگر نہیں تو کیا’ ربا‘ صرف کرنسی میں پیدا ہوتا ہے اور مال میں نہیں؟اگر کرنسی بھی مال ہی ہے تو منجمد سرمایے اور سیال سرمایے کے کرایے کو ’ربا‘ قرار دینے میں فرق کیسا؟
۱۔ دورِ حاضر کے بعض اہلِ علم کے ہاں یہ رجحان بالعموم پایا جاتا ہے کہ ’ربا‘ کرنسی ہی میں پایا جاتا ہے ۔ ان کے ہاں چونکہ محض قرض دے کے اس پر اضافے کو ’ربا‘ کہا جاتا ہے، اس لیے عموماً دلیل اسی قسم کی دی جاتی ہے کہ یہ کوئی اثاثہ تھوڑا ہی ہے کہ اس کا ’کرایہ‘ حاصل کیا جاسکے۔ اس کی اپنی ذاتی افادیت نہیں ہے، یہ تو محض ایک سہولت ہے جسے انسان نے اشیا کے تبادلے کے لیے ایجاد کیا ہے۔ یہ اہل علم ایک طرف تو کرنسی کو قرض قرار دے کر اضافہ کو ’ربا‘ قرار دیتے ہیں، لیکن دورانِ بحث اشیا کے تبادلے پر بھی ’ربا‘ کے پیدا ہونے کو تسلیم کرتے ہیں اور اس طرح خلط مبحث کا شکار ہو کر اصل مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے۔اصل سوال کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ہماری کوشش ہو گی کہ اہل علم ایک ہی موقف پر یکسو ہوسکیں۔
۲۔ یہ اہل علم کرنسی کو سیال سرمایہ (Liquid capital) قرار دے کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ’ ’بذات خود کرنسی کا کرایہ کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ کرنسی ’’بذات خود‘‘ نفع آور نہیں، اس کی نفع آوری ان اشیاء پر منحصر ہے جو اس سے خریدی جاتی ہیں‘‘ ۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز محض ذریعہ مبادلہ (Medium of exchange) ہو، وہ ’’بذات خود‘‘ نفع آور کس طرح ہو سکتی ہے۔ ان کے ہاں غالباً افادیت اسی کا نام ہے کہ کوئی چیز کھا پی کر ہضم کر لی جائے۔ ہمارے سامنے یہ محض دعویٰ ہی ہے جس کی کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی۔معلوم نہیں قرآن یا حدیث کے کس جملے سے یہ مفہوم اخذ کیا گیا ہے کہ جو شے ذریعہ مبادلہ ہو، وہ ’’بذات خود‘‘ نفع آور نہیں ہو سکتی۔ ہمارا خیال ہے کہ کرنسی بھی نفع آور شے ہے۔ پھول کو سونگھ کر، شیرینی کو چکھ کر، کتاب کو پڑھ کر اور کھانے کی چیز کو کھا کر افادہ حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح کرنسی کی افادیت یہی ہے کہ یہ ہمیں سہولت فراہم کرتی ہے کہ اس سے ہم روزمرہ کی چیزیں خرید کر استعمال میں لے آئیں۔ ذرا سوچیے تو سہی کہ یہ ذریعہ مبادلہ نہ ہو تو آج کے دور ہم کس مشکل میں پڑ جائیں۔ کیا اس کی یہ نفع آوری اور افادیت ہمیں نظر نہیں آتی؟
چونکہ یہ حضرات کرنسی کو (بجا طور پر) ذریعہ مبادلہ سمجھتے ہیں، اس لیے اسے کوئی شے (Commodity) نہیں سمجھتے اوراس کی ذاتی قدر (سونے،چاندی، گندم،جو وغیرہ کی طرح) کی نفی کرتے ہیں۔ یہ رائے پہلے پہل فقہائے متاخرین کے ہاں ملتی ہے جو زر،کرنسی اور فلوس میں اس بنا پر فرق کرتے ہیں کہ آج کل زر قانونی ذاتی قدر نہیں رکھتے، اس لیے یہ کوئی شے (Commodity) ہی نہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ چونکہ موجودہ زر یا کرنسی نوٹ شرعی اعتبار سے فلوس کے حکم میں ہیں، اس لیے نہ تو ان پر نقدین(سونے،چاندی)کی طرح زکوٰۃ واجب ہوگی اور نہ ان پر ربا کے احکام جاری ہوں گے۔ مثلاً متاخرین شافعیہ میں سے شیخ سلیمان اسعردیؒ ا رشاد ہے کہ: ’’شافعیہ کے نزدیک کرنسی نوٹ تمام احکام میں فلوس کی طرح ہیں، لہٰذا ان کی آپس میں خریدو فروخت، کمی بیشی اور ادھار سب جائز ہیں کیونکہ یہ سودی اموال میں سے نہیں ہیں‘‘ (ڈاکٹر محمد توفیق رمضان البوطی: خریدو فروخت کی مروجہ صورتیں اور ان کی شرعی حیثیت؛ ص ۴۳۶)۔ ہمارے اپنے خطے کے حضرت احمد رضا خان صاحب بریلویؒ کی رائے یہ ہے کہ ’’نوٹوں میں سرے سے قدر پائی ہی نہیں جاتی۔ چونکہ نوٹ اموالِ ربویہ میں سے نہیں، اس لیے ان میں کمی بیشی اور ادھار دونوں جائز ہیں۔‘‘ (ایضاً ،ص ۴۳۵)
ہمارا نہیں خیال کہ محترم مغل صاحب، مکمل طور پر اعلیٰ حضرت احمد رضا خان صاحبؒ سے (ان سے ذہنی وفکری ہم آہنگی ہونے کے باوجود) متفق ہوں گے۔ وہ تو کرنسی نوٹس پر احکامِ ربویہ جاری کرتے ہیں، جب کہ خان صاحب علیہ الرحمہ کرنسی نوٹس کو اموالِ ربویہ ہی نہیں سمجھتے ۔ جہاں تک کرنسی یا زر کو شے (Commodity) نہ سمجھنے کا تعلق ہے، یہ کسی کا ذہنی مسئلہ ہو سکتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق یا واسطہ نہیں۔ کسی کے نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دیکھنا یہ ہے کہ حقیقی اور زمینی حقائق کیا ہیں۔ ڈاکٹر رمضان البوطی اپنا نتیجہ فکر ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں: ’’آج کرنسی نوٹوں کی وہی حیثیت ہے جو سونے اور چاندی کے رواج کے دور میں دراہم و دنانیر کی ہوا کرتی تھی اور (اجمالی طور پر) ان پر وہی احکام جاری ہوتے ہیں جو دراہم و دنانیر پر جاری ہوتے تھے۔ متداول کرنسی نوٹ محض کاغذ کا ایک پرزہ نہیں رہا،بلکہ یہ اس قیمت کی نمائندگی کرتا ہے جس کے ذریعہ لوگ معاملات کرتے اور اسے ثمن اور اُجرت کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں، بلکہ اس سے کاغذ یت کا وصف ایسے ختم ہو چکا ہے کہ یہ وصف اس قیمت اور ویلیو کے مقابلے میں جس کی یہ کرنسی نوٹ نمائندگی کرتا ہے، تقریباً فراموش ہونے کو ہے۔‘‘ (ایضاً، ص ۴۴۶)
علمائے کرام کی قدیم رائے میں تو واقعی یہی سمجھا جاتا تھا کہ کرنسی نوٹ میں ذاتی قدر و قیمت نہیں رکھتے، اس لیے اس میں ثمنیت نہیں پائی جاتی۔ لیکن اب تو فیصلہ ہو چکا کہ زر میں مکمل ثمنیت پائی جاتی ہے، جب ہی تو اس سے ’منجمد‘ اثاثے خریدے جا سکتے ہیں۔ ورنہ جس کی کوئی اپنی قدر یا حیثیت ہی نہ ہو، اس سے کوئی خاک خرید سکتا ہے۔ اب یہ تو کموڈٹی کی جگہ لے چکا۔ اب اصل حیثیت تو زر ہی کو حاصل ہے نہ کہ کسی اور’ کموڈٹی‘ کو۔ مثال کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ایک فرد کے پاس زر ہے تو وہ سونا بھی خرید سکتا ہے، گاڑی اور گندم بھی۔ لیکن ایک فرد کے پس گندم کا ڈھیر پڑا ہو تو وہ اس سے کار، کپڑے اور سونا تب ہی خرید سکتا ہے جب وہ پہلے گندم کو فروخت کر کے زر حاصل کرے گا۔ زر کموڈٹی بن چکا۔ اب یہ بحث محض ذہنی وعلمی عیاشی کے زمرے میں ہی آئے گی۔ چنانچہ دیکھیے، ہمیں زر کی تعریف ان الفاظ میں ملتی ہے:
"Money as legal tender, is a commodity or asset, or an officially-issued currency or coin that can be legally exchanged for something of equal value, such as a good or service or that can be used in payment of a debt."
جی ہاں، زر ایک کموڈٹی یا اثاثہ ہے۔ اس حقیقت سے آنکھیں چرانا اب مشکل ہے، اسی لیے ہمیں ہر ادارے کی بیلنس شیٹ میں کیش تو اثاثہ ہی نظر آتا ہے۔ اب تو اسلامی مالیات پر لکھنے والے بھی اس کی صراحت کرنے لگے ہیں۔ محمد ایوب ، اپنی کتاب ’اسلامی مالیات‘ میں لکھتے ہیں: ’’اثاثوں میں صرفی اشیاء، پائیدار اشیاء، زری اکائیاں یا تبادلے کے ذرائع (Medium of Exchange) جیسے سونا، چاندی، اور دیگر کرنسیاں، اثاثوں کی نمائندگی کرنے والے حصص وغیرہ شامل ہیں۔‘‘ ( ص، ۷۰)۔ اب زری اکائیاں اور تمام کرنسیاں اثاثے میں شمار ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر البوطی اپنی اسی کتاب میں رقمطراز ہیں: ’’فقہ اکیڈمی جدہ نے ۸۔۱۳ صفر ۱۴۰۷ھ بمطابق ۱۶ اکتوبر ۱۹۸۶ ء کو اردن میں منعقد ہونے والے اپنے تیسرے اجلاس کی قرارداد نمبر ۹ میں صراحتاً لکھا ہے کہ ’کرنسی نوٹ زر اعتباری ہیں، جن میں مکمل ثمنیت پائی جاتی ہے۔ سود، زکوٰۃ، سلم اور دیگر احکام کے اعتبار سے ان کا وہی حکم ہے جو سونے چاندی کا ہے....چونکہ عصرِ حاضر میں کرنسی نوٹوں نے لین دین اور تبادلہ کے وسیلہ کی حیثیت سے ثمن خلقی یعنی سونے چاندی کی جگہ لے لی ہے، اس لیے حکم کے اعتبار سے ان کے ساتھ ثمنِ حقیقی والا کیا جائے گا۔‘ ‘‘ ( ایضاً ص، ۴۴۷) مختصر یہ کہ دورِ حاضر میں یہ بحث تو اب بالکل غیر متعلق (irrelevant) ہو چکی ہے۔
۳۔کیا کرنسی ’مال‘ کی تعریف میں آتی ہے؟ اگر نہیں تو کیا’ ربا‘ صرف کرنسی میں پیدا ہوتا ہے اور مال میں نہیں؟اگر کرنسی بھی مال ہی ہے تو منجمد سرمایے اور سیال سرمایے کے کرایے کو ’ربا‘ قرار دینے میں فرق کیسا؟ درج بالا بحث سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ کرنسی بھی مال کی ایک قسم ہے۔ اگر بعض اہل علم کے اس قول کو تسلیم کیا جائے کہ زر یا کرنسی کوئی اثاثہ نہیں، اس کا ’بذات خود‘ کوئی افادہ ہے نہ یہ نفع آور شے ہے، تو پھر اس پر احکامِ ربویہ اور زکوٰۃ یقیناًلاگو نہیں ہوتے اور نہیں ہونے چاہییں۔ ایک بیکار محض شے پر واقعی کوئی ’کرایہ‘ کیوں دے ، بلکہ اس کو اپنے پاس ہی کیوں رکھے؟لیکن ذرا رکیے! ہمارے یہ اہل علم اسی ’بیکار‘ شے پر ہی تو احکامِ ربویہ جاری کرتے ہیں۔ اس لیے یہاں اگر پہلے ان سوالات کے دوٹوک انداز میں جوابات میسر آ جائیں تو مسئلہ زیرِ بحث کو سلجھانے میں نسبتاً آسانی حاصل ہو جائے گی۔
اب اصل سوال کی طرف آتے ہیں کہ ’ ربا‘ ہے کیا جس کی اتنی شدت سے قرآن میں ممانعت آئی ہے۔ نہ صرف قرآن بلکہ تمام الہامی مذاہب اور فلاسفہ میں اس کو قابلِ نفرت اور سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ سوال حل ہو جائے تو سود اور کرایے کی بحث سے جان چھوٹ سکتی ہے، جو یقیناًایک غیر اہم بحث ہے۔
بیسویں صدی کے وسط میں ،جب استعمار کے قبضے سے مسلمان ابھی پوری طرح آزاد نہیں ہوئے تھے، دنیائے اسلام میں آزادی کی تحریکیں سامنے آنا شروع ہو چکی تھیں۔ ان ہی تحریکوں میں وہ تحریکیں بھی شامل تھیں جو قومیت کی بنا پر نہیں،بلکہ اسلام کو بنیاد بناکر استعمار کے نقش پا ختم کر کے اپنے اپنے ممالک میں انقلاب کی نیو ڈال رہی تھیں۔ یہ تو صاف ظاہر تھا کہ استعمار تجارت کے ذریعے سرمایے کے بل بوتے پر مسلم ممالک پر قابض ہوا تھا۔ یہ بھی واضح تھا کہ سرمایے کی منتقلی و کشش میں نظامِ بینکاری کا بہت بڑا دخل تھااور اس کا وجود و بقاکا انحصار سود پر تھا اور ہے۔ ان حالات میں ان تحریکوں نے یہ ضروری سمجھا کہ اگراستعمار پر ضرب لگانی ہے تو اس کی بنیاد پر تیشہ رکھنا پڑے گا۔ اس کی قوت و شان کو اگر ختم کرنا ہے تو اس کے بغیر ممکن نہیں کہ سرمایہ ساز کارخانوں (بینکوں)کی موجودہ حیثیت کو ختم کیا جائے۔ یہ تھے وہ حالات جن میں وہ دلائل تلاش کیے گئے جن کے بل بوتے پر بینک کے سود کو ’ربا‘ قرار دے کر حرام قرار دیا گیا۔ پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ اس دور میں عقلی و نقلی اور بڑے سائنٹفک انداز میں سود کے خلاف دلائل سامنے آئے۔ آج کے دور کے اہل علم کی یہ ایک بڑی علمی خدمت ہو گی کہ درست تناظر میں ربا اور سود کے بارے میں اصل سوال کو سامنے لائیں۔
ہمارے نزدیک اصل سوال تب ہی سامنے آسکتا ہے جب ہم ربا اور سود کے متعلق علمائے کرام کے تمام دلائل کا جائزہ لیں گے۔
علمائے کرام نے سود کو ’ ربا‘ قرار دینے کے لیے اس کے خلاف جو دلائل فراہم کیے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:
(۱) ربا کی تعریف اور لغوی بحث (۲) معاشی، معاشرتی اور اخلاقی مفاسد۔
(۱) ربا کی تعریفیں
ہم نے دنیائے اسلام کی چار نمائندہ تعریفوں کا چنا ہے۔ تمام علمائے کرام کم و بیش ان پر متفق ہیں:
(الف۔۱) سید ابوالاعلی مودودیؒ
آپ نے اپنی تعریف مسندحارث بن اسامہ اور بیہقی کی روایت پر رکھی ہے۔ آپ کے الفاظ میں ’’لغت اور قرآن کے بعد تیسرا اہم ترین ماخذ سنت ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے احکام کا منشا معلوم کیا جا سکتا ہے۔یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ علت حکم مجرد زیادتی کو قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے : کل قرض جر منفعۃ فھو وجہ من وجوہ الربوا (البیہقی) اور کل قرض جر بہ نفعا فھو ربوا۔ (مسند حارث بن اسامہ) یعنی ہر وہ اضافہ جو قرض پر حاصل ہو، ربا ہے۔ آپ کے ارشاد کے مطابق ’’امت کے تمام فقہا نے بالاتفاق اس حکم کا منشا یہی سمجھا ہے کہ قرض کے معاملہ میں اصل سے زائد جو کچھ بھی لیا جائے، وہ حرام ہے‘‘ نیز یہ کہ ’’قرآن جس چیز کو حرام کر رہا ہے اس کے لیے وہ مطلق لفظ ’الربوا‘ استعمال کرتا ہے جس کا مفہوم لغت عرب میں مجرد زیادتی ہے۔‘‘ (سود، ص ۲۶۵،۲۶۶،۲۶۷)۔
اس سے چند چیزیں واضح ہوتی ہیں:
- ربا قرض کے معاملے میں ہوتاہے۔
- راس المال پر مجرد اضافہ یا زیادتی ربا ہے۔اس کے لیے پیشگی شرط ضروری نہیں۔
- متعین اور فکسڈ اضافہ نہ ہو، پھر بھی وہ ربا ہو گا۔
بعض لوگوں نے جب اس روایت پر ضعیف سند کے حوالے سے اعتراض کیا کہ قابل قبول نہیں تو آپ نے فرمایا: ’’بعض لوگ اس حدیث اس حدیث پر اس دلیل سے کلام کرتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ لیکن جو اصول اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے، اسے تمام فقہائے امت نے بالاتفاق تسلیم کیا ہے۔ یہ قبولِ عام حدیث کے مضمون کو قوی کر دیتا ہے، خواہ روایت کے اعتبار سے اس کی سند ضعیف ہو۔‘‘ (سود، ص ۲۶۶) ۔
(الف۔۲) مولانا محترم نے ربا کی ایک اور تعریف بھی کی ہے جو پہلی سے مختلف ہے۔اس میں راس المال پر مدت کے مقابلہ میں شرط اور تعین کے ساتھ اضافے کو ربا قرار دیا گیا ہے۔ آپ رقمطراز ہیں: ’’قرض میں دیے ہوئے راس المال پر جو زائد رقم مدت کے مقابلہ میں شرط اور تعین کے ساتھ لی جائے، وہ ’سود‘ ہے۔ راس المال پر اضافہ ، اضافہ کی تعین مدت کے لحاظ سے کیے جانا اور معاملہ میں اس کا شرط ہونا، یہ تین اجزائے ترکیبی ہیں جن سے سود بنتا ہے۔‘‘ (سود، ص ۱۵۳، تفہیم القرآن جلد اول، سورۃ البقرہ، حاشیہ ۳۱۵)۔ اس تعریف کے مطابق :
- راس المال پر مجرد اضافہ ربا نہیں،بلکہ اضافہ مدت کے لحاظ سے ہو اور اس کا شرط ہونا۔
- اگر مدت کے تعین کے ساتھ اضافہ کی شرط نہ عائد کی گئی ہو تو وہ اضافہ ربا نہیں ہوگا۔
(۲) ڈاکٹر محمد یوسف القرضاوی
ڈاکٹر صاحب، مولانا مودودیؒ کی پہلی تعریف سے بالکل اتفاق نہیں کرتے، بلکہ اس فکر پر سخت تنقید کرتے نظر آتے ہیں، جیسا کہ گزشتہ سطور میں ذکر کیا گیا ہے۔اسی کی تائید محمد ایوب صاحب ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’قرض ادا کرتے وقت کسی پیشگی شرط کے بغیر اصل رقم سے زائد دینا قابل ستائش اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہے۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مقروض تھے۔ آپ نے مجھے ادائیگی کی اور اصل سے زیادہ رقم دی۔ (مسلم، ۱۹۸۱، ۱۰م ص ۲۱۹، نسائی ص ۲۸۳، ۲۸۴، ابن قدامہ، ص ۳۲۰،۳۲۱)۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار میں لیے گئے ایک اونٹ کی ادائیگی کے لیے ایک بہتر اونٹ دینے کا حکم دیا کیونکہ ادائیگی کے وقت مطلوبہ عمر کا اونٹ دستیاب نہ تھا۔ ‘‘ (اسلامی مالیات، ص ۲۱۸)۔
اس موقف کے لازمی نتائج:
- فقہا نے اس حدیث کو اپنے لیے سند نہیں بنایا، جیسا کہ مولانا محترم کا ارشاد ہے۔
- مطلقاً ہر اضافہ ربا نہیں، بلکہ وہی اضافہ ربا ہے جو قرض کو پیشگی نفع کے ساتھ مشروط کرتا ہو۔
- دورِ جاہلیت کا ربا جائز ہو جائے گا، کیونکہ وہاں بسا اوقات اضافہ پیشگی مشروط نہیں ہوتا تھا۔
(۳)مفتی محمد شفیعؒ
مفتی صاحب علیہ الرحمہ ربا کی تعریف کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ’’ اصطلاحِ شریعت میں ایسی زیادتی کو ’ربا‘ کہتے ہیں جو بغیر کسی مالی معاوضہ کے حاصل کی جائے۔ اس میں وہ زیادتی بھی داخل ہے جو روپیہ کو ادھار دینے پرحاصل کی جائے کیونکہ مال کے عوض معاوضہ میں تو راس المال پورا مل جاتا ہے۔ جو زیادتی بنام سود یا انٹرسٹ لی جاتی ہے، وہ بے معاوضہ ہے۔‘‘ (سود، ص،۱۵۔۲۲)۔
اس تعریف کے اجزائے ترکیبی کے لازمی نتائج:
- اس میں قرض کا لفظ غائب ہے (اگرچہ مفتی صاحب مرحوم کی دوسری تعریف میں یہ لفظ پایا جاتا ہے)۔
- اس تعریف کے مطابق ایسی زیادتی یا بڑھوتری کو ’ربا‘ کہا گیا ہے جو بغیر مالی معاوضہ کے حاصل کی جائے۔یہ تعریف صاف بتا رہی ہے کہ روپیہ ادھار دینے سے جو بڑھوتری حاصل ہو رہی ہے، وہ تو ربا ہے ہی، اس کے علاوہ بھی ’بغیر کسی مالی معاوضہ‘ کے حاصل ہونے والی زیادتی ربا ہے۔ اب درج ذیل مثالوں پر اس تعریف کا اطلاق کے بعدجو نتیجہ حاصل ہوتا ہے، وہ یہ ہے:
(۱) ایک فرد نے کسی جوائنٹ اسٹاک کمپنی کے ایک ہزار روپے کی مالیت کے شیئرز خرید رکھے ہیں۔ اسے ہر سال بغیر کسی محنت کے کمپنی کی طرف سے منافع کے نام سے دو سو روپے کا اضافہ ملتا ہے۔ اس تعریف کی رو سے یہ دو سو روپے کا اضافہ ’ربا‘ ہو جائے گا کیونکہ یہ اضافہ بہر حال ’بغیر کسی مالی معاوضہ کے حاصل ہو رہا ہے۔
(۲) مضاربت میں لگائی جانے والی رقم کا معاوضہ بھی ’ربا‘ ہوگا، اس لیے کہ وہ اضافہ بھی بغیر کسی ’مالی معاوضہ‘ کے حاصل ہو رہا ہے۔
(۴) پروفیسر خورشید احمد
پروفیسرصاحب نے ربا کی ان الفاظ میں تعریف کی ہے:
"What is forbidden is that fixed and predetermined return for one factor." (M. Kabir Hassan and Meryn: Islamic Finance; p.88)
یعنی جس چیز کی ممانعت ہے، وہ یہ ہے کہ کسی ایک عامل کو پہلے سے مقرر و متعین معاوضہ ملے۔ پروفیسر صاحب نے اس تعریف کے علاوہ بھی تعریف کی ہے، لیکن اس جگہ جو تعریف کی گئی اس کا لازمی نتیجہ تو یہی نکلتا ہے کہ زمین کا معاوضہ یعنی ’کرایہ‘ اور محنت کا معاوضہ یعنی ’اجرت ‘ بھی ’ربا‘ ہو جائے گا کیونکہ یہ دونوں ہی پہلے سے مقرر اور متعین ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں چاروں عوامل پیداوار میں سے صرف تنظیم (Organization) ہی وہ واحد عامل بچتا ہے جس کا معاوضہ جائز ہو گا۔ باقی تینوں عوامل پہلے سے مقرر و متعین معاوضے ہی لیتے ہیں جو ممنوع اور حرام متصور ہوں گے۔
ان تعریفوں کے تجزیے سے جو چیز سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ سب تعریفیں نہ صرف آپس میں متضاد ہیں، بلکہ ایک ہی مفکر کی بعض تعریفیں بھی آپس میں ٹکراتی ہیں۔( مثلاً)سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحقیق کے مطابق ضعیف سند والی روایت کو بالاتفاق فقہا نے تسلیم کیا ہے جب کہ ڈاکٹر محمد یوسف القرضاوی نے اس کی تردید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ ’فقہا نے اس حدیث کو اپنے لیے سند بالکل نہیں بنایا‘۔ ربا کی تعریف رہی ایک طرف ، اب اس مسئلے کو کون حل کرے کہ فقہا نے کس چیز کو بنیاد بنایا یا نہیں بنایا۔
لُغوی اور اصطلاحی بحث
راس المال پر اضافے کے متعلق بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ ’ربا‘ کے لُغوی مفہوم اور اصطلاحی مفہوم میں فرق ہے۔ حرام صرف اصطلاحی مفہوم میں ہے نہ کہ لُغوی مفہوم میں۔ مولانا محمد عبیداللہ اسعدی لکھتے ہیں: ’’الربوا بمعنی زیادتی عربی لفظ ہے جس کا اطلاق ہر زیادتی پر ہو سکتا ہے، اور معاملاتِ خریدوفروخت میں زیادتی کو ہی نفع کہتے ہیں لیکن الربوا سے ہر زیادتی نہیں مراد ہوتی بلکہ خاص زیادتی مراد ہوتی ہے۔‘‘ ( الربا، ص ۳۱)
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بھی لکھا کہ: ’’....ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اصل رقم پر جو زیادتی بھی ہو گی، وہ ’ربوا‘ کہلائے گی، لیکن قرآن مجید نے مطلق ہر زیادتی کو حرام نہیں کیا ہے۔ زیادتی تو تجارت میں بھی ہوتی ہے۔ قرآن جس زیادتی کو حرام قرار دیتا ہے، وہ ایک خاص قسم کی زیادتی ہے، اسی لیے وہ اس کو ’الربوا‘ کے نام سے یاد کرتا ہے۔‘‘ (سود؛ ص ۱۴۹)
ان ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ علمائے کرام بالعموم ’ربا‘ کے لُغوی اور اصطلاحی مفہوم میں فرق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق لُغت کا اگر اعتبار کیا جائے تو تجارت میں جو زیادتی ، بڑھوتری یا فائدہ ہو تا ہے، اس پر بھی ’ربا‘ کا اطلاق ہوتا ہے اور قرآن نے ’ربا‘ پر معرفہ کا الف لام ’ال‘ لگا کر اسے تجارت کے فائدے سے الگ کر کے قرض پر زیادتی کے لیے خاص کر دیا۔ اس کا دوسرا مطلب یہی ہے کہ دورِ جاہلیت کے عرب قرض پر حاصل ہونے والی بڑھوتری کے لیے ’ربا‘ نہیں، بلکہ ’الربوا‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔عربی لغت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اس کے برعکس ہمیں تو یہ نظر آتا ہے کہ تجارت میں ہونے والے فائدے کے لیے اہل عرب ’ربح‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ امام راغبؒ مفردات القرآن میں ’ربح‘ کے مادّے کے تحت لکھتے ہیں کہ ربح وہ فائدہ ہے جو تجارت میں چیزوں کے تبادلے سے حاصل ہو۔ چنانچہ قرآن میں ہے کہ ’فما ربحت تجارتھم ‘ (البقرہ: ۱۶)۔ پس ان کی تجارت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ ’ربح و رباح‘ تجارت میں اضافہ و ترقی کو کہتے ہیں۔ (تاج العروس)
چونکہ تجارت میں فائدے کے لیے عربی میں ’ربا‘ (مادّہ رب و)کا لفظ موجود ہی نہیں، اس لیے اس پر الف لام (ال) لگاکر قرض پر حاصل ہونے والی زیادتی کا خاص مفہوم پیدا کرنے کا تصور ہی بے معنی ہے۔ ’ربا‘ کے لفظ میں ہی قرض پر بڑھوتری و زیادتی تصور موجود تھا اور اہل عرب اس لفظ کو اسی معنوں میں استعمال کرتے تھے۔ الف لام لگا کر البتہ قرآن نے اس قرض کو خاص کر دیا جس پر اضافہ کو حرام قرار دینا مقصود تھا۔ حضرت مفتی محمد شفیعؒ بہت حوالوں کے بعد لکھتے ہیں:
’’مذکورہ الصدر حوالوں سے یہ واضح طور پر ثابت ہو گیا کہ لفظ ’ربا‘ ایک مخصوص معاملہ کے لیے عربی زبان میں نزولِ قرآن سے پہلے سے متعارف چلا آتا تھا، اور پورے عرب میں اس معاملہ کا رواج تھا، وہ یہ کہ قرض دے کر اس پر کوئی نفع لیا جائے اور عرب صرف اسی کو ربا کہتے اور سمجھتے تھے۔‘‘ (مسئلہ سود؛ ص ۲۳)
اگر عرب لفظ ’ربا‘ کو ایک مخصوص معاملہ یعنی قرض پر بڑھوتری کے لیے استعمال کرتے تھے تو یہ کہنا کس طور درست ہو سکتا ہے کہ معاملات خریدوفروخت اور تجارت پر ہونے والے فائدے کے لیے ’ربا‘ کا اطلاق ہو سکتا ہے؟
(۲) معاشی، معاشرتی اور اخلاقی مفاسد
علمائے کرام نے لُغوی اور اصطلاحی تعریفوں کے علاوہ معاشی،معاشری اور اخلاقی مفاسد بھی گنوائے ہیں، جو ان کے خیال میں ’ربا‘ میں تو پائے جاتے ہیں، لیکن بینک انٹرسٹ میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ یہاں ہم ان دلائل کا جائزہ لیں گے جن کے سہارے بینک انٹرسٹ کو ربا قرار دے کر حرام کیا گیا ہے۔
(الف) معاشی دلائل
- سود (ربا) چیزوں کی لاگت میں شامل ہو کر مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔
- دولت کا رخ غریبوں کی طرف سے امیروں کی طرف ہوتا ہے۔
- امیروں کی طرف دولت کے بہاؤ کی وجہ سے دولت کا ارتکاز ہوتا ہے۔
(الف۔۱) مہنگائی کا مسئلہ
دولت کی پیدائش میں بنیادی طور میں چار عوامل (Factors of Production) ،زمین، محنت،سرمایہ اور تنظیم شامل ہوتے ہیں۔ یہ سب عوامل تقسیم دولت میں اپنے معاوضے کی صورت میں حاصل کرتے ہیں۔ زمین کرایے کے نام سے، محنت اُجرت کے نام سے ، سرمایہ سود اور تنظیم منافع کے نام سے اپنا اپنا معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک میز کی لاگت میں عاملین پیدائش پر مصارف اس طرح آئے:
(زمین) کرایہ: ۲۰ روپے
(محنت) اُجرت: ۲۵ روپے
(سرمایہ) سود: ۲۰ روپے
(تنظیم) منافع: ۳۵ روپے
کل لاگت : ۱۰۰ روپے
اس مثال میں کسی بھی عامل کا معاوضہ اگر بڑھ جائے تو لاگت میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ محض سود ہی کی خاصیت نہیں۔ کرایہ بھی پہلے سے متعین ہوتا ہے اور اُجرت بھی۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ چونکہ سود پہلے سے متعین ہوتا ہے، وہ تو لاگت میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے، لیکن اُجرت اور کرایہ اضافے کا سبب نہیں سکتے۔ بلکہ منافع پہلے سے متعین نہیں ہوتا۔ وہ بھی اگر بڑھ جائے تو مہنگائی کا سبب جائے گا۔یہ محض پروپیگنڈا ہے اور بس۔ علمی تحقیق اور عقل کی میزان اس دلیل کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ اگر سود محض اس وجہ سے ربا بن کر حرام ہو جاتا ہے کہ وہ مہنگائی کا سبب بنتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ کرایہ ، اُجرت اور منافع بھی ربا نہ بن جائے۔
(الف۔۲) دولت کا بہاؤ امراء کی طرف
ابتدا میں ہی اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ علمائے کرام نے جتنے بھی مفاسد گنوائے ہیں، وہ کم و بیش فی الحقیقت ’الربوا‘ میں پائے جاتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کا اطلاق بینک کے سود پر بھی ہو سکتا ہے یا نہیں۔
علمائے کرام بالعموم ’ربا‘ کی دو قسمیں قرار دیتے ہیں۔ ایک، اہل حاجت کے قرضوں پر منافع یا بڑھوتری لینا۔ دوسرا، بینک کے قرضوں پر اضافہ ۔ اس کی عمدہ تشریح مولانا مودودیؒ نے ان الفاظ میں کی ہے:
’’دنیا میں سب سے بڑھ کر سود خواری اس کاروبار میں ہوتی ہے جو مہاجنی کاروبار(Money Lending Business) کہلاتا ہے۔ یہ بلا صرف بر عظیم تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ایک عالم گیر بلا ہے جس سے دنیا کا کوئی ملک بچا ہوا نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ کہ دنیا میں کہیں بھی یہ انتظام نہیں ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو ان کی ہنگامی ضروریات کے لیے آسانی سے قرض مل جائے....یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک قلیل المعاش آدمی اپنی کسی فوری ضرورت کے لیے بینک تک پہنچ سکے اور اس سے قرض حاصل کر سکے۔ ان وجوہ سے مزدور، کسان، کم تنخواہوں والے ملازم اور غریب لوگ ہر ملک میں مجبور ہوتے ہیں کہ اپنی بُرے وقت پر ان مہاجنوں سے قرض لیں جو اپنی بستیوں کے قریب ہی ان کو گدھ کی طرح شکار کی تلاش میں منڈلاتے ہوئے مل جاتے ہیں۔
یہ وہ بلائے عظیم ہے جس میں ہر ملک کے غریب اور متوسط الحال طبقوں کی بڑی اکثریت بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے قلیل المعاش کارکنوں کی آمدنی کا بڑا حصہ مہاجن لے جاتا ہے۔ شب و روز کی ان تھک محنت کے بعدجو تھوڑی سی تنخواہیں یا مزدوریاں ان کو ملتی ہیں، ان میں سے سود ادا کرنے کے بعد ان کے پاس اتنا بھی نہیں بچتا کہ وہ دو وقت کی روٹی چلا سکیں.....اس لحاظ سے سودی کاروبار کی یہ قسم ایک ظلم ہی نہیں ہے بلکہ اجتماعی معیشت کا بھی بھاری نقصان ہے۔‘‘ (سود؛ ص ۱۰۷ تا ۱۱۰)
ان افکار کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرضوں کی دو قسمیں ہیں۔ ذیل میں دو خاکے سامنے رکھ کر علمائے کرام کے بیان کردہ مفاسد کا اطلاق کر کے دیکھیں گے کہ وہ کس خاکے میں فٹ بیٹھتے ہیں:
خاکہ نمبر ۱
اس خاکے میں فاضل آمدنی والے افراد اہل حاجت یعنی غریب طبقے کو (مثلاً) ۱۰ فیصد شرح بڑھوتری پر قرض دیتے ہیں۔ یہ پسا ہوا طبقہ مجبوراً اپنی غمی خوشی کے موقع پر یا علاج معالجے کے لیے یا روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فاضل آمدنی والے افراد سے قرض کا طلب گار ہو تا ہے۔ یہ پسا ہوا طبقہ بقول مولانا مودودیؒ ہر سال سود ادا کرنے کے بعد اس قابل نہیں ہوتا کہ دو وقت کی روٹی بھی چلا سکے۔ اس خاکے سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہر سال یہ غریب لوگ اپنے پلے سے زیر بار ہوتے رہتے ہیں اور امیر لوگ اپنی جیبیں بھرتے رہتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ اس صورتِ حال میں دولت کا بہاؤ غریب سے امیر کی طرف جاری رہتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غریب پہلے سے زیادہ غریب ہو جائے اور امیر پہلے سے زیادہ امیر۔ جب یہ صورتِ حال ہوتی ہے تو دولت کا ارتکاز امیر طبقے کے ہاں ہوتا رہتا ہے۔
خاکہ نمبر ۲
خاکہ (ب) کا تجزیہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فاضل آمدنی والے افراد اپنی بچتیں بینک میں (مثلاً) ۵ فیصد شرح سود کے حساب سے جمع کرواتے ہیں۔ بینک آگے طبقہ امرا کو (مثلاً) ۱۵ فیصد شرح سود پر قرض دیتے ہیں۔ بینک کسی غریب فرد کو قرض نہیں دیتے۔ یہ طبقہ امراء بالعموم اس قرض کو تجارتی غرض کے لیے استعمال کرتا ہے۔ فرض کریں ان کو کاروبار میں ۳۰ فیصد منافع ہوا۔ یہ بینک کو ۱۵ فیصد ادا کرکے باقی اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ بینک اسی طرح اپنے کھاتے داروں کو ۵ فیصد دے کر ۱۰ فیصد اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ اس خاکے میں نہ تو دولت کا بہاؤ غریب سے امیر کی طرف ہوتا ہے (کیونکہ کہ اس پورے کھیل میں غریب کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا) اور نہ دولت کا ارتکاز ہوتا ہے۔ اس خاکے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر طبقے میں دولت کا پھیلاؤ ہوا۔ اگر لوگ بینک میں اپنی بچتیں جمع نہ کرواتے یا بینک آگے قرض نہ دیتے تو دولت ایک ہی جگہ سکڑی رہتی، کسی کو بھی کچھ فائدہ نہ ہوتا۔ ضمنی طور پر غریب کو اس لحاظ سے فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ اس طرح کاروبار کے وسیع پھیلاؤ کے نتیجے میں روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں۔
(ب) اخلاقی اور معاشرتی مفاسد
(۱) ظلم: خاکہ ( الف ) اور (ب) کو ایک غیرجانبدارانہ نگاہ سے دیکھیں تو خاکہ (الف) میں ظلم صاف دکھائی دیتا ہے، بلکہ مولانا مودودیؒ تو صریحاً اس کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’کاروبار کی یہ قسم صرف ظلم ہی نہیں ہے بلکہ اسی میں اجتماعی معیشت کا بھی بڑا بھاری نقصان ہو۔‘‘ خاکہ (ب) میں تو سب کا فائدہ ہے، ظلم کہیں بھی نہیں۔
(۲)دوسری خرابی یہ بتائی گئی ہے کہ اس کے نتیجے میں آدمی خود غرض، بخیل، تنگ دل اور سنگدل بن جاتا ہے۔ یہ ساری خرابیاں خاکہ (الف) میں ملیں گی۔ ظاہر ہے کہ فاضل آمدنی والے افراد اگر اپنے سے کم تر حیثیت والے افراد کی حقیقی مشکل میں مدد کو نہیں آتے تو وہ انتہائی خود غرض، بخیل اور تنگ دل ہی ہو سکتے ہیں۔ خاکہ (ب) میں تو فاضل آمدنی والے بینک کے ذریعے اپنے سے کم حیثیت والے افراد کو نہیں، بلکہ طبقہ امرا کو ہی قرض فراہم کر رہے ہوتے ہیں جو اس قرض کو اپنے کاروبار کو وسیع کرنے میں استعمال کرتے ہیں۔ یہاں سود کھانے والے (یعنی بینک کے کھاتے دار) پر بخیل، خود غرض، تنگ دل اور سنگ دل جیسے القابات پکارا جانا انتہائی مشکل ہے۔ لہٰذا ہم یہ برائی خاکہ (الف) میں تو دیکھتے ہیں، لیکن خاکہ (ب) میں اس کا اطلاق درست نہیں۔
(۳) ایک اور خرابی یہ بتائی جاتی ہے کہ بے محنت اور بے مشقت کمائی کی قدر نہیں ہوتی اور آدمی اسراف و تبذیر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لگتا ہے اس جزیئے پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ اوپر کہا گیا تھا کہ ’سود‘ کی کمائی کھانے والا بخیل ہوتا ہے، اور یہا ں کہا یہ جا رہا ہے کہ وہ انتہائی فضول خرچ ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسراف و تبذیر اور بخیلی جیسی اخلاقی برائیاں سود کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتیں۔ ہم نے کتنے ہی ایسے دولت مند دیکھے ہیں جن کا بینک انٹرسٹ سے کوئی لین دین ہی نہیں، لیکن ان میں سے بعض انتہائی کنجوس اور پرلے درجے کے بخیل ہیں اور بعض انتہائی فضول خرچ۔ اس کے برعکس کئی افراد جو سود میں تو ملوث ہیں، لیکن انتہائی فیاض پائے گئے ہیں۔ بل گیٹس، کمپیوٹر کی دنیا کا ایک اہم نام، یقیناًجو سود کے لین دین میں شریک ہے لیکن کئی قسم کے خیراتی کاموں میں پیش پیش نظر آتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ مضاربت وغیرہ کی بے محنت و مشقت کمائی بھی کیا انسان کو اسراف و تبذیر اور فضول خرچی میں مبتلا کرتی ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ وہ بھی بغیر محنت و مشقت کے حاصل ہونے والی کمائی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ سود کے نام سے حاصل ہونے والی بے محنت آمدنی تو انسان کو اسراف میں مبتلا کردے، لیکن مضاربت کی بے محنت کمائی یہ کام نہ کر سکے۔
درج بالا سطور میں علمائے کرام کے ان تمام دلائل کا جائزہ لیا گیا جن کے بل بوتے پر بینک انٹرسٹ کو ’ربا‘ قرار دے کر حرام کیا جاتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ جب تک کوئی مضبوط اور ٹھوس دلائل موجود نہ ہوں، اس وقت تک ہمیں کسی چیز کو حرام قرار دینے کی جرات نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار اپنے پاس رکھا ہے۔ جب یہ حرکت ہم سے سرزد ہو جاتی ہے تو پھراسی طرح کی غیر متعلق بحث جنم لیتی ہے جس کا ہم نے شروع میں ذکر کیا تھا۔
علمائے کرام کے دلائل سے قطع نظر جب ہم قرآن پر نظر ڈالتے ہیں تو اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یقیناً’ربا‘ حرام ہے اور اسے حرام ہونا ہی چاہیے تھا۔یہ وہ منافع ہے جو اہل حاجت ، غریب و مسکین فرد کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان کو قرض کے بوجھ تلے دبا کر ان سے وصول کیا جاتا ہے، لیکن اس سے پہلے زبان فہمی کا ایک عام اصول ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی متن کا صحیح مفہوم متعین کرنے کے لیے اس کے سیاق و سباق (Context) کو اگر سامنے نہ رکھا جائے تو اس کا الٹا مطلب لیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصولِ تفسیر میں اس کو بہت اہم مقام دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ بڑی سادہ سی ہے جس کو علامہ جاوید احمد غامدی صاحب نے بڑی خوبصورتی سے یوں بیان کیا ہے: ’’اس کے (یعنی قرآن کے) عام و خاص میں امتیاز کیا جائے۔ قرآن میں یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے کہ بظاہر الفاظ عام ہیں، لیکن سیاق و سباق کی دلالت پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتی ہے کہ ان سے مراد عام نہیں۔ قرآن الناس کہتا ہے، لیکن ساری دنیا کا توکیا ذکر بارہا، اس سے عرب کے سب لوگ بھی اس کے پیش نظر نہیں ہوتے۔ یہ قرآن کا عام اسلوب ہے جس کی رعایت اگر ملحوظ نہ رہے تو قرآن کی شرح و وضاحت میں متکلم کا منشا بالکل باطل ہو کر رہ جاتا ہے اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے، لہٰذا ناگزیر ہے کہ اس معاملے میں قرآن کے عرف اور اس کے سیاق و سباق کی حکومت اس کے الفاظ پر ہر حال میں قائم رکھی جائے۔‘‘ ( اصول و مبادی؛ ص ۲۲)
مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ اصولِ تفسیر کا یہ قاعدہ یوں بیان کرتے ہیں: ’’ نقد صحیح کا تیسرا قاعدہ ہمارے سامنے آتا ہے یعنی یہ کسی آیت کی جو تفسیر بیان کی جا رہی ہو، اسے دیکھا جائے کہ آیا قرآن کا سیاق و سباق بھی اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔‘‘ ( تفہیم القرآن، جلد سوم، سورہ الحج، حاشیہ ۱۰۱) مزید ارشاد ہوتا ہے: ’’ یہ بات اصولاً غلط ہے کہ ایک عبارت کے اپنے سیاق و سباق سے اس کے کسی لفظ کا جو مفہوم ظاہر ہوتا ہو، اسے نظر انداز کر کے ہم اپنی طرف سے کوئی معنی اس کے اندر داخل کریں۔‘‘ ( سود، ص ۳۰۹) اس اصول کی مزید تشریح اس طرح کرتے ہیں: ’’لوگ ایک آیت کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کر کے بے تکلف جو معنی چاہتے ہیں، اس کے الفاظ سے نکال لیتے ہیں، حالانکہ ہر آیت کے صحیح معنی صرف وہی ہو سکتے ہیں جو سیاق و سباق سے مناسبت رکھتے ہوں۔‘‘(تفہیم القرآن، جلد سوم، سورہ الانبیاء، حاشیہ، ۹۹)
اس اصول سے صاف ظاہر ہے کہ اگر کسی متن کی تشریح کرتے ہوئے اس کے سیاق و سباق کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ تشریح تحریف کے زمرے میں آئے گی۔ اس اصول کو سامنے رکھ کر آئیے دیکھیں، سورۃ البقرہ میں ’ربا‘ یعنی قرض پر اضافہ جو ممنوع کیا جا رہا ہے، وہ کس قرض پر اضافہ ہے۔ آیات نمبر ۲۶۱ سے ۲۸۰ کا خلاصہ یہ ہے:
- یقیناًاللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے اجر کو ایک دانے کی سات بالیاں اور ہر بالی کے سو دانے کی طرح بڑھاتا ہے۔
- یقیناًاللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے لیے خوف اور غم کا نام و نشان نہ ہو گا۔
- لہٰذا اللہ کی راہ میں صدقات ادا کرو اور لوگوں پر احسان نہ دھرنا۔
- شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے، اس کے چکر میں نہ آنا۔
- محتاج و غریب کو صدقات دو تو خفیہ دو تو زیادہ بہتر ہے۔
- ایسے لوگوں کو بالخصوص جو سفید پوش ہیں اور لپٹ لپٹ کر نہیں مانگتے، ان پر خرچ کرو کہ صدقات ان ہی کا حق ہے۔
- ان کو علانیہ اور خفیہ صدقات دو۔
- (قرض ہی دینے کی نوبت آگئی ہو تو) قرضدار اگر تنگدست ہو تو اسے مہلت دو، لیکن اگر معاف کر دو تو بہتر ہے۔
- یہ کہ قرض پر منافع یعنی ’ربا‘ لو کہ یہ تو اللہ نے حرام کر دیا ہے۔
قرآن مجید کی ان آیات مبارکہ نے کسی قسم کا کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہنے دیا کہ کس نوعیت کے قرض پر اضافہ ممنوع و حرام ہے۔ متن کے سیاق و سباق نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ غرباء و مساکین کو اول تو صدقات سے مدد کرو، اور اگر کسی وجہ سے قرض ہی دینے سے مدد کر سکتے ہو تو کرو، لیکن اس قرض پر اضافہ نہ لو ۔ ’ربا‘ یعنی محض کسی بھی قرض پر اضافہ حرام نہیں، بلکہ ’الف لام‘ لگا کر ’ الربوا‘ کو معرفہ بنا کر ان قرضوں پر اضافے کے لیے خاص کر دیا ہے جو محتاج و غریب افراد ہو ں اور ہماری توجہ و مدد کے مستحق ہوں۔
خلاصہ کلام
- بینک انٹرسٹ کو ذہن میں رکھ کر ’ربا‘ کی تمام تعریفیں نہ صرف متضاد ہیں بلکہ بسا اوقات ایک ہی مفکر کی تعریفیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔
- لُغوی لحاظ سے ’الربوا‘ کا اطلاق بینک انٹرسٹ پر درست نہیں۔
- علمائے کرام کے بیان کردہ مفاسد کا اطلاق بینک انٹرسٹ پر نہیں ہوتا، بلکہ اہل حاجت یعنی غریب افرادکو قرض دے کر فائدہ اٹھانے پر ہوتا ہے۔
- سیاق و سباق کا لحاظ رکھا جائے تو قرآن مجید میں ’الربوا‘ کا اطلاق اس بڑھوتری پر ہوتا ہے جو اہل حاجت کو قرض دے کر حاصل کیا جائے۔
- اہل علم اس اصل سوال کی طرف متوجہ ہوں تو کرایہ،سود اور افراطِ زر جیسے کم اہم اور غیر متعلق موضوعات سے جان چھوٹ سکتی ہے۔