جنوری ۲۰۱۶ء

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داریوں کی منتقلیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
بھارتی وزیر اعظم کا دورۂ پاکستانمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۴)ڈاکٹر محی الدین غازی 
اسلام اور سائنس کا باہمی تعلقمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
’’اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق‘‘محمد زاہد صدیق مغل 
بیل ۔ سینگوں کے بغیر؟خورشید احمد ندیم 
جدید علم الکلاممولانا مفتی منیب الرحمن 
بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال و جوابمحمد عمار خان ناصر 
حسینہ واجد کی انتقامی سیاستمحمد اظہار الحق 
رفیق احمد باجوہ ۔ ایک بھولا بسرا کردارمحمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ 
پروانہ جمعیت صوفی خدا بخش چوہانؒابو محمد سلیم اللہ چوہان سندھی 
سود، کرایہ و افراط زر: غلط سوال کے غلط جواب کا درست جوابمحمد زاہد صدیق مغل 
سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کا تقابلی جائزہمولانا محمد انس حسان 
ممتاز قادری کی سزا ۔ ڈاکٹر شہباز منج کے خیالات پر ایک نظرمولانا قاضی نثار احمد 
مکاتیبادارہ 
ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان : بین المذاہب اور بین المسالک تناظرات کی نئی تشکیلڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
سانحہ ہائے ارتحالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
ایک سفر کی رودادمحمد بلال فاروقی 

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داریوں کی منتقلی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں نے اپنے والد ماجد امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صاحب صفدر قدس سرہ کی ہدایت کے مطابق تعلیم و تربیت پائی ہے، اور تقلیداً بھی اور تحقیقاً بھی انہی کے مسلک و مشرب کے مطابق اس بات کا قائل ہوں اور رہا ہوں کہ ہدایت و سلامتی جمہور امت کے ساتھ منسلک رہنے میں ہے، اور کوئی بھی ایسا نظریہ جو جمہور امت کے مسلمات کے خلاف ہو، درست نہیں ہے اور جمہور امت کے مسلمات کے خلاف کوئی انفرادی رائے ہرگز قابل اتباع نہیں ہے۔ میں نے اپنی متعدد تحریروں اور تقریروں میں یہ بات پوری طرح واضح کی ہے اور جن لوگوں نے جمہور امت کے مسلمات کے خلاف کوئی راستہ اختیار کیا ہے، میں نے اس کی تردید میں الحمد للہ اپنی دانست کی حد تک کسی مداہنت سے کام نہیں لیا۔ البتہ میں مخالف نظریات پر تنقید میں سنجیدگی، متانت اور علمی اسلوب کا قائل ہوں اور اسی کو اپنے اکابر کا طریقہ سمجھتا ہوں۔ چنانچہ اسی اسلوب کے ساتھ میں نے جناب جاوید غامدی صاحب کے متعدد افکار پر بھرپور تنقید کی ہے جو شائع ہو چکی ہے۔ 
البتہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ میں، میں نے ایک ایسا فورم مہیا کرنے کی کوشش کی تھی جس میں ایسے مخالف افکار کے لوگ بھی اپنا مدعا اپنے الفاظ میں بیان کر سکیں تاکہ جب ان پر کوئی تنقید ہو تو یہ نہ کہا جا سکے کہ ان کی بات پوری طرح نہیں سنی گئی یا اسے سیاق و سباق سے کاٹ کر بیان کیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں ’’الشریعہ‘‘ کے مدیر اور میرے بیٹے حافظ عمار ناصر سلّمہ کے متعدد مضامین بھی ایسے شائع ہوئے ہیں جن میں انہوں نے بعض مسائل میں جناب غامدی صاحب کی تائید کی ہے یا انہی کا نقطہ نظر اپنایا ہے۔ اس بنا پر بعض حضرات کو یہ شبہہ پیدا ہوگیا کہ میں ان افکار میں ان کا ہم نوا ہوں، حالانکہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر وضاحت کرتا ہوں کہ میرا مسلک و مشرب جمہور امت کے مسلمات کی اتباع ہے، اور اس کے خلاف میرے بیٹے سمیت جس کسی نے کچھ کہا یا لکھا ہے، مجھے اس سے شدید اختلاف ہے اور میں اس سے اپنی مکمل براء ت کا اظہار کرتا ہوں۔ 
اگرچہ ’’الشریعہ‘‘ میں نے مذکورہ بالا مقصد کے تحت خود جاری کیا تھا، لیکن اس کا مقصد جدید لکھنے والوں کا یہ شکوہ دور کرنا تھا کہ ان کی بات سنجیدگی سے نہیں سنی جاتی۔ لیکن چونکہ میرے مسلک و مشرب کے بارے میں مغالطے اسی رسالے کے مضامین کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں یا کیے گئے، اس لیے بزرگوں نے جن کی رائے میری نظر میں قابل صد احترام ہے، مجھے یہ مشورہ دیا ہے کہ میں یہ بیان جاری کرنے کے ساتھ ’’الشریعہ‘‘ سے علیحدگی اختیار کر لوں تاکہ اس میں شائع ہونے والے مضامین کی کسی بھی طرح میری طرف نسبت نہ کی جا سکے۔ میں ان بزرگوں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ’’الشریعہ‘‘ سے علیحدگی اختیار کرتا ہوں اور اپنے بیٹے حافظ عمار خان ناصر سلّمہ کو بھی، جو آئندہ ’’الشریعہ‘‘ کے ذمہ دار ہوں گے، یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جمہور امت کے مسلمات سے کسی بھی مسئلے میں علیحدہ روش اختیار نہ کریں۔ لیکن چونکہ وہ خود صاحب قلم ہیں، اس لیے اگر وہ ایسا کوئی رویہ اختیار کریں گے تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا، میری طرف اس کی نسبت کسی طرح درست نہیں ہوگی۔
ابوعمار زاہد الراشدی، گوجرانوالہ 
۱۴ نومبر ۲۰۱۵ء

مذکورہ تحریر حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم، حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری زید مجدہم اور مولانا مفتی کفایت اللہ مانسہروی زید مجدہم کے مشورہ کے مطابق مرتب کر کے حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کی خدمت میں بھجوائی گئی جس کے جواب میں حضرت شیخ مدظلہ نے مندرجہ ذیل مکتوب گرامی ارسال فرمایا ہے:

باسمہ سبحانہ
مکرم و محترم جناب مولانا ابوعمار زاہد الراشدی حفظہ اللہ و رعاہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک عرصہ سے ’’ماہنامہ الشریعہ‘‘ کا قضیہ تشویش و اضطراب کا سبب بنا ہوا تھا، آپ نے ہمت و حوصلے اور وسعت قلب سے کام لے کر اس کو حل فرما دیا۔ احقر جناب کو ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہے۔ جناب کے اس فیصلے سے بے حد خوشی ہوئی اور بے اختیار دل سے آپ کے لیے، مع جملہ متعلقین حسنات و خیرات کی دعا نکلی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو والد ماجد ابوالزاہد سرفراز خان صفدر کا سچا اور حقیقی جانشین بننے کی توفیق سے نوازے، آمین یا رب العالمین۔ 
احقر ہمیشہ آپ کی اعلیٰ و عمدہ صلاحیتوں کا قائل و معترف رہا ہے۔ میرے دل میں کبھی بھی اس میں تردد پیش نہیں آیا۔ 
مجھ جیسے محروم کو حق نہیں کہ نصیحت کرے، بزرگوں کا ارشاد نقل کر رہا ہے۔ ’’عافیت اور فتنوں سے حفاظت کا ذریعہ بزرگوں (جن کا برحق ہونا مسلمات میں شمار ہوتا ہے) کی اتباع و پیروی میں منحصر ہے اور سکون و طمانیت کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ ‘‘
سلیم اللہ خان
خادم جامعہ فاروقیہ کراچی
۴ صفر ۱۴۳۷ھ /۱۷؍ نومبر ۲۰۱۵ء

چنانچہ زیر نظر شمارہ سے میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داری مکمل طور پر عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلّمہ کے سپرد کر رہا ہوں جس کی علمی صلاحیت، تحقیقی ذوق اور دینی صلابت پر، ذاتی طور پر بعض مسائل میں اختلاف رائے کے باوجود، مجھے مکمل اعتماد ہے اور قوی امید ہے کہ وہ ’’الشریعہ‘‘ کو اس کے اہداف، دائرۂ کار اور معیار کے مطابق زیادہ بہتر طور پر آگے بڑھا سکے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

بھارتی وزیر اعظم کا دورۂ پاکستان

محمد عمار خان ناصر

علاقائی امن اور ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات، اس خطے کی ضرورت ہیں۔ سیاست دانوں اور افواج اور انتہا پسند پریشر گروپس کی نہ سہی، عوام کی بہرحال ضرورت ہیں۔ انسانی قدریں بھی اسی کا تقاضا کرتی ہیں اور مسلمانوں کی مذہبی ودعوتی ذمہ داریاں بھی۔
تنازعات پرامن تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہوا کرتے ہیں۔ تاہم پر امن تعلقات کی طرف بڑھنے کو تنازعات کے پیشگی حل سے مشروط کرنا ایک غیر عملی سوچ ہے۔ تاریخ کا مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ اگر آپ کے پاس طاقت سے تنازع کو حل کرنے کا آپشن موجود نہیں تو پھر پہلے وہ سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں فریقین کے پاس سیاسی لین دین کی گنجائش اور لچک موجود ہو۔
پاکستان اور بھارت، طاقت کے راستے سے تنازعات کے حل کا آپشن بار بار آزما چکے ہیں اور اب یہ طریقہ واضح طور پر ’’نو آپشن’’ کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ مذاکرات اور سیاسی مکالمہ کے ذریعے سے حل تلاش کرنے کے لیے جس ماحول کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے موجودہ صورت حال میں وہ میسر نہیں۔ سو اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ تنازعات کو اپنی جگہ تسلیم کرتے ہوئے وہ ماحول بنانے کی کوشش کی جائے جس میں خطے کی عمومی ذہنی فضا خود یہ تقاضا کرے کہ تنازعات کا تصفیہ کیا جائے (اور تقاضا نہ بھی کرے تو کم سے کم اس کی راہ میں حائل نہ ہو)۔
سازگار ماحول بنانے کے لیے ان دائروں میں باہمی تعلقات کو آگے بڑھانا ہوگا جن میں دونوں ملکوں کے مفادات مشترک ہیں۔ پون صدی سے جاری دائرے کے سفر سے اگر باہر نکلنا ہے تو یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہے۔ اس حوالے سے کسی بھی امید افزا پیش رفت کا خیر مقدم کرنا ہمارے نزدیک سیاسی فکر کی پختگی کی علامت ہے۔ خطے کی تاریخ اہل سیاست اور اہل صحافت، دونوں سے مثبت اور تعمیری کردار کی توقع کر رہی ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۴)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۷۴) امداد کا ترجمہ

عربی میں لفظ ’امداد‘ کا مطلب مدد بہم پہونچانا بھی ہوتا ہے، اور محض عطا ونوازش کے لیے بھی لفظ ’امداد‘ آتا ہے۔
فیروزآبادی لکھتا ہے:

والاِمْدادُ: تأخیرُ الأجَلِ، وأَن تَنْصُرَ الأجْنادَ بِجَماعَۃٍ غیرَکَ، والاِعْطاءُ، والاِغاثَۃُ.۔ (القاموس المحیط.)

فیروزآبادی کی اس بات پر یہ اضافہ مناسب ہوگا کہ تطویل وتوسیع کے معنی میں دراصل ’مدد‘ ثلاثی مجرد آتا ہے، اور ’امداد‘ ثلاثی مزید اس معنی میں ’فی‘ کے ساتھ آتا ہے۔ 
قرآن مجید میں یہ لفظ دونوں معنوں میں آیا ہے، موقع ومحل سے مفہوم متعین ہوتا ہے، لیکن مترجمین سے اس لفظ کے مفہوم کو متعین کرنے میں غلطی بھی ہوجاتی ہے۔

امداد بمعنی مدد پہونچانا 

لفظ ’امداد‘ کے مذکورہ ذیل تینوں استعمالات مدد پہونچانے کے معنی میں ہیں، میرے علم کی حد تک مختلف زبانوں کے تمام مترجمین نے ان کا ترجمہ مدد کرنے کا کیا ہے، اور کسی نے مدد کے علاوہ کوئی اور ترجمہ نہیں کیا ہے:

(۱) إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ أَلَن یَکْفِیْکُمْ أَن یُمِدَّکُمْ رَبُّکُم بِثَلاَثَۃِ آلاَفٍ مِّنَ الْمَلآئِکَۃِ مُنزَلِیْن۔ بَلَی إِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ وَیَأْتُوکُم مِّن فَوْرِہِمْ ہَذَا یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُم بِخَمْسَۃِ آلافٍ مِّنَ الْمَلآئِکَۃِ مُسَوِّمِیْنَ۔ (آل عمران: ۱۲۴، ۱۲۵)

’’(یاد کرو) جب تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب، تین ہزار تازہ دم اتارے ہوئے فرشتوں سے، تمہاری مدد فرمائے؟ ہاں اگر تم ثابت قدم رہو گے اور بچتے رہو گے اور وہ (دشمن) تمہارے اوپر آدھمکے، تو تمہارا رب، پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے گا، جو اپنے خاص نشان لگائے ہوں گے‘‘(امین احسن اصلاحی)

(۲) إِذْ تَسْتَغِیْثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّیْ مُمِدُّکُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلآئِکَۃِ مُرْدِفِیْن۔ (الانفال:۹)

’’اور (یاد کرو) جبکہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سنی کہ میں ایک ہزار فرشتے تمھاری کمک پر بھیجنے والا ہوں جن کے پرے کے بعد پرے نمودار ہوں گے‘‘ (امین احسن اصلاحی)

امداد بمعنی عطیہ اور نوازش

مذکورہ ذیل تمام آیتوں میں امداد نوازش کے معنی میں ہے، تاہم بعض مترجمین نے ان تمام آیتوں کا اور بعض نے ان میں سے بعض آیتوں کا ترجمہ مدد پہونچانے کا کیا ہے، جو قرین صواب نہیں ہے۔

(۱) وَاتَّقُوا الَّذِیْ أَمَدَّکُم بِمَا تَعْلَمُونَ۔ أَمَدَّکُم بِأَنْعَامٍ وَبَنِیْنَ۔ (الشعراء : ۱۳۲،۱۳۳)

’’اور اس اللہ سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمھیں مدد پہنچائی، جن کو تم جانتے ہو، اس نے تمھاری مدد کی چوپایوں اور اولاد سے۔‘‘ (امین احسن اصلاحی، اس ترجمہ میں ایک اور غلطی یہ ہوئی کہ الذی کا ترجمہ اللہ کیا ہے، جو لفظ کے مطابق نہیں ہے، صحیح ترجمہ ہوگا: ’’اس ہستی سے ڈرو‘‘، اور چونکہ اللہ کا ذکر پہلے صراحت کے ساتھ آچکا ہے، اس لیے الذی اسی کی صفت ہے)
’’اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے امداد کی جن کو تم جانتے ہو، (یعنی) مواشی اور بیٹوں اور باغوں اور چشموں سے تمہاری امداد کی‘‘ (اشرف علی تھانوی) (وجنات وعیون کا بھی ترجمہ شامل ہے۔)
مذکورہ بالا دونوں ترجموں کے مقابلے میں ذیل کے ترجمے درست ہیں،
’’اور ڈرو اس سے جس نے تم کو پہنچایا ہے جو کچھ جانتے ہو، پہنچائے تم کو چوپائے اور بیٹے۔‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’ڈرو اُس سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا ہے جو تم جانتے ہو۔ تمہیں جانور دیے، اولادیں دیں۔‘‘(سید مودودی)
Freely has He bestowed on you cattle and sons,-(Yousuf Ali)
مذکورہ بالا ترجموں میں (اتقوا) کا ترجمہ ’’ڈرو‘‘ کیا گیا ہے، مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ اصل مادہ اور کلام کے موقع ومحل کے لحاظ سے صحیح ترجمہ ڈرو نہیں ہے، بلکہ ’’ناراضگی اور نافرمانی سے بچنے کی کوشش کرو‘‘ ہے۔ 

(۲) ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْْہِمْ وَأَمْدَدْنَاکُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِیْنَ وَجَعَلْنَاکُمْ أَکْثَرَ نَفِیْراً۔ (الاسراء :۶)

’’پھر ہم نے تمھاری باری ان پر لوٹائی اور تمھاری مال اور اولاد سے مدد کی۔‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’پھر ہم ان پر تمہارا غلبہ کردیں گے، اور مال اور بیٹوں سے ہم تمھاری امداد کریں گے۔‘‘ (اشرف علی تھانوی)
مذکورہ بالا دونوں ترجموں کے مقابلے میں ذیل کا ترجمہ درست ہے،
’’پھر ہم نے پھیری تمہاری باری ان پر اور زور دیا تم کو مالوں سے اور بیٹوں سے‘‘ (شاہ عبدالقادر)
مذکورہ تینوں ترجموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک میں’ رددنا‘ کا ترجمہ مستقبل کا کیا گیا ہے، جبکہ دیگر دونوں ترجمے ماضی کے ہیں، مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں ’رددنا‘ کا مستقبل کا ترجمہ زیادہ قرین صواب ہے، گو کہ فعل ماضی ہے مضارع نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ (رددنا) گذشتہ آیت میں وارد (بعثنا) پر عطف ہے، جو ’اذا‘ کے تحت آیا ہے، ’اذا‘ کی خاصیت یہ ہے کہ وہ حال اور مستقبل کے لیے آتا ہے، جبکہ ’لما ‘ماضی کے لیے آتا ہے، مزید یہ کہ سیاق کلام کے لحاظ سے یہ وعدے کا بیان ہے جیسا کہ کان وعدا مفعولا بتا رہا ہے، نہ کہ وعدہ پورا ہونے کا بیان ہے کہ ماضی کا ترجمہ کیا جائے۔ 

(۳) أَیَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّہُم بِہِ مِن مَّالٍ وَبَنِیْنَ۔ (المومنون:۵۵)

’’کیا گمان کرتے ہیں یہ کہ جو کچھ مدد دیتے ہیں ہم ان کو ساتھ اس کے مال سے اور بیٹوں سے۔‘‘ (شاہ رفیع الدین) 
’’کیا یہ خیال کررہے ہیں کہ وہ جو ہم ان کی مدد کررہے ہیں مال اور بیٹوں سے‘‘ (احمد رضا خان)
’’کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال و اولاد سے مدد دیے جا رہے ہیں‘‘ (سید مودودی)
’’کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں‘‘ (جالندھری)
مذکورہ بالا ترجموں کے مقابلے میں ذیل کے ترجمے زیادہ صحیح ہیں، کیونکہ سیاق کلام مدد دینے کا نہیں بلکہ مال اور بیٹوں سے نوازنے کا ہے۔
’’کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کے مال واولاد میں اضافہ کررہے ہیں۔‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’کیا خیال رکھتے ہیں یہ جو ہم ان کو دیے جاتے ہیں مال اور اولاد‘‘ (شاہ عبدالقادر)
’’کیا یہ لوگ یوں گمان کررہے ہیں کہ ہم ان کو جو کچھ مال اولاد دیتے چلے جاتے ہیں‘‘(اشرف علی تھانوی)
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ مذکورہ بالا تینوں آیتوں کے ترجموں میں بعض لوگوں نے بنین کا ترجمہ اولاد کیا ہے جو درست نہیں ہے، بنین کا درست ترجمہ بیٹوں ہے۔ اولاد بیٹے اور بیٹی دونوں کے لیے آتا ہے، جبکہ ابن بیٹے کے لیے آتا ہے جس کے پانے پر عرب خوش ہوتے تھے، جبکہ بیٹی کو عار خیال کرتے تھے۔ 

(۴) فَلَمَّا جَاء سُلَیْْمَانَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ۔ (النمل: ۳۶)

’’تو جب سفیر سلیمان کے پاس پہنچا، اس نے کہا کیا تم لوگ میری مدد مال سے کرنا چاہتے ہو؟‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’جب وہ (ملکہ کا سفیر) سلیمان کے ہاں پہنچا تو اس نے کہا:کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟‘‘(سید مودودی)
آیت مذکورہ میں ملکہ کا قول انی مرسلۃ الیہم بھدیۃ مذکور ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ کا سفیر ہدایا لے کر پہونچا تھا، نہ کہ کوئی مدد لے کر گیا تھا، اس لیے سیاق عطیہ اور تحفے کا ہے، مدد کا نہیں ہے۔
مذکورہ بالا اردو ترجموں کے بالمقابل انگریزی کے حسب ذیل دونوں ترجمے درست ہیں:
Then when he came unto Sulaiman, he said: are ye going to add riches to me. (Daryabdi)
So when [the envoy] came to Solomon he said, "What! Are you offering me wealth? (Wahiduddin Khan)

(۵) کُلاًّ نُّمِدُّ ہَؤُلاء وَہَؤُلاء مِنْ عَطَاء رَبِّکَ وَمَا کَانَ عَطَاء رَبِّکَ مَحْظُوراً۔ (الاسراء :۲۰)

’’ہم تیرے پروردگار کی بخشش سے ہر ایک کی مدد کرتے ہیں، ان کی بھی اور ان کی بھی، اور تیرے رب کی بخشش کسی پر بند نہیں‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’آپ کے رب کی (اس) عطا (دنیوی) میں سے تو ہم ان کی بھی امداد کرتے ہیں اور ان کی بھی‘‘ (اشرف علی تھانوی)
آیت میں عطاء ربک کا صاف ذکر ہے ، اس لیے مذکورہ بالا دونوں ترجموں کے مقابلے میں ذیل کے ترجمے درست ہیں:
’’ہر ایک کو ہم پہنچائے جاتے ہیں ان کو اور ان کو تیرے رب کی بخشش میں سے‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’اِن کو بھی اور اُن کو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جا رہے ہیں، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے، اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے‘‘(سید مودودی)

(۶) وَأَمْدَدْنَاہُم بِفَاکِہَۃٍ وَلَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَہُونَ۔ (الطور: ۲۲)

’’اور مدد دیں گے ہم ان کو ساتھ میووں کے اور گوشت کے اس چیز سے کہ چاہتے ہیں‘‘(شاہ رفیع الدین)
’’اور ہم نے ان کی مدد فرمائی میوے اور گوشت سے جو چاہیں‘‘ (احمد رضا خان) 
’’اور ہم ان کی پسند کے میوے اور گوشت ان کو برابر دیتے رہیں گے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’اور ہم ان کو میوے اور گوشت جس قسم کا ان کو مرغوب ہو روز افزوں دیتے رہیں گے‘‘(اشرف علی تھانوی)
’’اور جس طرح کے میوے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو عطا کریں گے‘‘(جالندھری)
اس مقام پر تو امداد کے لیے نوازش کا معنی بالکل یقینی ہے، کیونکہ جنت کی ساری نعمتیں دراصل اللہ کی نوازش اور عطیہ بتائی گئی ہیں، ان کی نوعیت امداد والی قرار نہیں پاتی۔ اور یہاں تو جنت کے پھلوں اور گوشت کا ذکر ہے، سیاق واضح طور سے نوازش کا ہے امداد کا نہیں ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ فتح محمد جالندھری جو ایسے ہر مقام پر مدد کا ترجمہ کرتے ہیں، اس مقام پر عطا کرنے کا ترجمہ کرتے ہیں، وہیں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعض مترجمین نے بشمول اس مقام کے ہر جگہ اس کا التزام کیا ہے کہ جہاں بھی امداد کا لفظ آتا ہے وہ مدد پہنچانا یا مدد کرنا ترجمہ کرتے ہیں۔ شاہ رفیع الدین اور احمد رضا خان کے ترجموں میں ہم کو یہی التزام نظر آتا ہے۔ جبکہ شاہ عبدالقادر کے ترجمے میں ہمیں مدد اور نوازش کے درمیان فرق کی بہت خوب رعایت ملتی ہے۔ اشرف علی تھانوی، سید مودودی اور امین احسن اصلاحی کے یہاں ہم کو اس فرق کی با ضابطہ رعایت نظر نہیں آتی، چنانچہ شروع کے تین مقامات جن میں مال اور بنین سے نوازنے کا ذکر ہے،وہاں یہ تینوں بزرگ کبھی نوازش کا ترجمہ کرتے ہیں اور کبھی مدد کا، حالانکہ ان تینوں مقامات میں موقع کلام نوازش کا ہے نہ کہ مدد دینے کا۔ 
(جاری)

اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۵ نومبر کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے امام ابوحنیفہؒ ہال میں ’’اسلام اور سائنس‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں پیش کی گئی گزارشات کا خلاصہ۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ! اسلام اور سائنس کے حوالہ سے مختلف پہلوؤں پر آپ حضرات نے فاضل مقررین کے ارشادات سماعت فرمائے ہیں۔ اس موضوع پر گفتگو کے بیسیوں دائرے ہیں، میں ان میں سے ایک صرف ایک پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ کیا اسلام اور سائنس آپس میں متصادم ہیں؟ اس لیے کہ عام طور پر یہ بات دنیا میں کہی جاتی ہے کہ مذہب اور سائنس ایک دوسرے کے مخالف ہیں اور ان کے درمیان بعد اور منافاۃ ہے۔ میں آج کی گفتگو میں اس سوال کا جائزہ لینے کی کوشش کروں گا۔ سب سے پہلے اس بات پر غور فرمائیں کہ مذہب اور سائنس کے باہم مخالف اور متصادم ہونے کا جو تاثر عام طور پر پایا جاتا ہے اس کے بڑے اسباب دو ہیں۔ ایک نظری اور اصولی ہے جبکہ دوسرا سبب تاریخی اور واقعاتی ہے۔ 
اصولی پہلو یہ ہے کہ سائنس کائنات کی اشیاء پر غور و فکر کرنے، ان کی حقیقت جاننے، ان کی افادیت و ضرورت کو سمجھنے، ان کے استعمال کے طریقے معلوم کرنے، ان سے فائدہ اٹھانے اور تجربات کے ذریعہ انہیں زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کا نام ہے، اور سائنس اسی دائرہ میں ہر دور میں متحرک رہی ہے۔ جب تک کائنات کی بیشتر اشیاء تجربات و مشاہدات کے دائرے میں نہیں آئی تھیں، ان پر غور و فکر کا سب سے بڑا ذریعہ عقلیات کا ہوتا تھا، اس لیے سائنس بھی معقولات کا ایک شعبہ اور فلسفے کا حصہ سمجھی جاتی تھی۔ خود ہمارے ہاں درس نظامی میں فلکیات کو معقولات کے مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا تھا لیکن جب کائنات کی متعدد اشیاء انسان کے محسوسات، مشاہدات اور تجربات کے دائرہ میں شامل ہونے لگیں تو سائنس کو معقولات اور فلسفہ سے الگ ایک مستقل مضمون کا درجہ حاصل ہوگیا اور فلسفہ اور سائنس کا رخ الگ الگ سمتوں کی طرف ہوگیا۔ اسی طرح سائنس اس دور میں تجربات و مشاہدات کے بغیر محض معقولات کا حصہ سمجھی جاتی تھی اور آسمانی تعلیمات اور فلسفہ و معقولات کے درمیان مسلسل کشمکش رہتی تھی۔ خاص طور پر اس تناظر میں یہ بحث زیادہ شدت اختیار کر جاتی تھی کہ وحی اور عقل کا باہمی تعلق کیا ہے اور ان میں سے کس کو فائنل اتھارٹی کا درجہ حاصل ہے؟ یہ دور عقل اور وحی کے درمیان کشمکش کا دور تھا جو آج بھی جاری ہے۔ چونکہ سائنس معقولات کے دائرہ کی چیز تھی اس لیے سائنس کو بھی مذہب سے الگ بلکہ اس سے متصادم تصور کیا جاتا تھا، لیکن جب سے عملی تجربات، مشاہدات اور تحقیقات کے ذریعہ سائنس کا دائرہ فلسفہ سے الگ ہوا ہے صورت حال بالکل مختلف ہوگئی ہے۔ 
ایک اور بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وحی کائنات کے حقائق کی نشاندہی کرتی ہے اور سائنس بھی انہی حقائق و اشیاء پر تجربات کرتی ہے۔ اس لیے ان دونوں کے درمیان تصادم کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ بلکہ میری طالب علمانہ رائے میں دونوں میں باہمی تقسیم کار کا ماحول سا بن گیا ہے۔ مثلاً انسانی جسم جو کہ میڈیکل سائنس کا موضوع ہے اور وہی وحی الٰہی کا موضوع بھی ہے۔ میڈیکل سائنس اس سوال کا جائزہ لیتی ہے کہ انسانی باڈی کی ماہیت کیا ہے، اس کے اعضاء کا آپس میں جوڑ کیا ہے، ان کا نیٹ ورک کیا ہے، میکنزم کیا ہے اور یہ کس طرح صحیح کام کرتے ہیں؟ جبکہ وحی الٰہی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانی وجود کس نے بنایا ہے اور اس کا مقصدِ وجود کیا ہے؟ میں سائنس دانوں سے کہا کرتا ہوں کہ ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں، اس لیے کہ ہمارا دائرہ کار ہی الگ الگ ہے۔ انسانی باڈی کے بارے میں دو سوالوں پر آپ بحث کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی ماہیت اور نیٹ ورک کیا ہے اور دوسرا یہ کہ یہ کیسے صحیح کام کرتی ہے ، اور خرابی پیدا ہوجائے تو اسے صحیح کیسے کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ ہمارا یعنی وحی الٰہی کی بات کرنے والوں کا موضوع اس سے الگ دو سوال ہیں۔ ایک یہ کہ انسان کو بنایا کس نے ہے اور دوسرا یہ کہ کس مقصد کے لیے بنایا ہے؟ 
کسی بھی چیز کے مکمل تعارف کے لیے چار سوال ضروری ہوتے ہیں۔ (۱) یہ کیا ہے؟ (۲) یہ کیسے کام کرتی ہے؟ (۳) یہ کس نے بنائی ہے؟ اور (۴) کس مقصد کے لیے بنائی ہے؟ پہلے دو سوال سائنس کا موضوع ہیں جبکہ دوسرے دو سوال مذہب کا موضوع ہیں۔ اس لیے ان کے درمیان کوئی اختلاف اور تنازعہ نہیں ہے۔ 
مذہب اور سائنس کے درمیان اختلاف اور تنازعہ کے عوامی تاثر کی دوسری وجہ تاریخی اور واقعاتی ہے۔ وہ یہ کہ جس دور میں یورپ میں سائنسی تجربات کا کام شروع ہوا اور سائنس دانوں نے کائنا ت کی متعدد اشیاء پر عقلی بحثوں سے آگے بڑھ کر عملی تجربات اور مشاہدات کا آغاز کیا اس وقت یورپ میں مسیحی مذہب کی فرمانروائی تھی اور ریاست و حکومت میں مذہبی قیادت کو فیصلہ کن درجہ حاصل تھا۔ مسیحیت کی اس دور کی مذہبی قیادت نے ان سائنسی تجربات و مشاہدات کو مذہب سے متصادم قرار دے کر ان کی مخالفت کی اور سائنسی تجربات پر الحاد اور ارتداد کا فتویٰ لگا کر ایسا کرنے والوں کو سزائیں دینا شروع کر دیں۔ اس کا سلسلہ بہت طویل اور افسوسناک رہا ہے جس سے یہ تاثر عام ہوگیا کہ مذہب سائنس کا مخالف ہے اور مذہبی تعلیمات میں سائنسی تجربات و مشاہدات کی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کو بھی اسی پر قیاس کر لیا گیا کہ مسیحیت کی پاپائی تعبیر کی طرح اسلام بھی سائنس کا مخالف ہے۔ حالانکہ اسلام نے سائنس اور سائنسی تجربات کی کبھی مخالفت نہیں کی، بلکہ قرآن کریم نے متعدد مقامات پر کائنات پر غور و فکر کی دعوت دی ہے ان میں سے ایک کا حوالہ دینا چاہوں گا کہ سورۃ آل عمران کی آخری آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق اور شب و روز کے اختلاف میں ارباب دانش (اولوالالباب) کے لیے آیات اور نشانیاں ہیں اور ارباب فکر و دانش یتفکرون فی خلق السماوات والارض آسمان و زمین کی تخلیق پر غور و فکر کرتے ہیں، البتہ اس غور و فکر کا ہدف ’’مقصدیت‘‘ کو قرار دیا ہے کہ وہ زمین و آسمان کی تخلیق پر غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ربنا ما خلقت ھذا باطلاً، یا اللہ! تو نے اسے بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ 
اسلام نے کائنات کے نظام پر غور و فکر کی دعوت دی ہے اور یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اس غور و فکر یعنی سائنسی مشاہدات و تجربات کی اصل بنیادیں مسلمانوں نے ہی فراہم کی ہیں جن پر آج پوری سائنس کی عمارت کھڑی ہے۔ اس لیے اسلام کو مسیحیت کے اس دور پر قیاس کرنا درست نہیں ہے اور یہ کہنا قطعی طور پر خلاف حقیقت ہے کہ اسلام اور سائنس میں کوئی تصادم ہے۔ اس کے اس کے ساتھ یہ بھی عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ سائنس ہماری مخالف نہیں بلکہ معاون اور مؤید ہے کہ قرآن و حدیث کے بیان کردہ بہت سے حقائق کو سائنس نے عمل و تجربہ کے ساتھ ثابت کیا ہے جس سے قرآن و حدیث کی صداقت مزید واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔ اس کے بیسیوں پہلو ہیں جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کی مختصر گفتگو میں ان میں سے دو تین کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا۔ 
قرآن کریم نے قیامت کے دن اعمال کے وزن کی بات کی ہے کہ انسان کے اعمال و اقوال کا وزن کیا جائے گا۔ اس پر اعتراض کیا گیا بلکہ ا س کی تعبیر و تشریح میں اہل سنت اور معتزلہ وغیرہ کے مابین ایک عرصہ تک اختلاف رہا کہ قول اور عمل تولنے کی چیز نہیں ہے، اس لیے کہ قول اور عمل صادر ہونے کے بعد معدوم ہو جاتے ہیں، چنانچہ بات اور عمل کا وزن نہیں کیا جا سکتا اور نہیں کیا جائے گا۔ مگر سائنس نے قول اور عمل دونوں کو محفوظ کر کے بلکہ ان کی مقدار کا تعین کر کے اس اعتراض کو ختم کر دیا، اور قرآن کریم نے اعمال کے وزن کی جو بات کی ہے اسے صحیح ثابت کر دیا۔ 
دوسری مثال یہ عرض کروں گا کہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جب ماں کے پیٹ میں حمل قرار پاتا ہے تو اس کے ساتھ ایک فرشتے کی ڈیوٹی لگ جاتی ہے جو ہر چالیس روز کے بعد رپورٹ پیش کرتا ہے کہ اب یہ کس کیفیت میں ہے۔ اور جب تین چلے پورے ہو کر اس میں روح ڈالنے کا وقت آتا ہے تو فرشتہ اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہے کہ ما أجلہ اس کی عمر کتنی ہوگی؟ ما کسبہ اس کا کسب و عمل کیا ہوگا؟ ما رزقہ اس کے رزق کا کوٹہ کتنا ہوگا؟ اور اشقی ام سعید یہ نیک بختی یا بدبختی میں سے کس کھاتے میں شمار ہوگا، وغیر ذلک۔یہ سوال و جواب مکمل کرنے کے بعد اسے روح کا کنکشن دے دیا جاتا ہے۔ میں جب اس حدیث مبارکہ کو پڑھتا ہوں تو میرے ذہن میں سائنس کے بیان کردہ جین (Gene) کا تصور آجاتا ہے کہ جس جین کی بات سائنس دان کرتے ہیں کہیں یہ وہی فائل تو نہیں جو فرشتہ انسان کے جسم میں روح ڈالے جانے سے پہلے مکمل کر کے سیل کر دیتا ہے؟ 
ایک اور مثال بھی دیکھ لیں کہ بخاری شریف ہی کی ایک اور روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان مرنے کے بعد جب قبر میں جاتا ہے اور مٹی میں مل جاتا ہے تو اس کے جسم کا ہر عضو بوسیدہ ہو کر خاک ہو جاتا ہے۔ اِلاعجب ذنبہ فیہا یرکب مگر اس کی دُمچی کا مہرہ فنا نہیں ہوتا، وہ باقی رہتا ہے اور اسی سے اس کی دوبارہ تشکیل و ترتیب ہوتی ہے۔ میرے خیال میں آج کی سائنس جس کلون (Clone) کی بات کرتی ہے اور جس پر کلوننگ کے ایک مستقل کام کی بنیاد رکھی گئی ہے غالباً وہی عجب ذنبہ یعنی دُمچی کا مہرہ ہے جو انسان کی دوبارہ تخلیق کی بنیاد بنے گا۔ اور وہ پہلے سے الگ وجود نہیں ہوگا بلکہ اسی کی نشاۃ ثانیہ ہوگی۔ 
ایک اور مثال بھی سامنے رکھ لیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر معراج کے مشاہدات بیان کرتے ہوئے ایک مجرم کو سزا دیے جانے کا ذکر کیا اور اس کا جرم یہ بتایا کہ وہ جھوٹ گھڑتا تھا اور یبلغ بہ الأفاق اسے دنیا کے کناروں تک پہنچا دیتا تھا۔ یہ جھوٹ گھڑنے والی بات سمجھ میں آتی تھی لیکن اسے دنیا کے کناروں تک پہنچا دینے کی بات آج سے ڈیڑھ صدی قبل سمجھ میں آنے والی بات نہیں تھی۔ مگر سائنس نے اسے بھی حقیقت ثابت کر دیا ہے کہ سچ ہو یا جھوٹ کسی بات کو آناً فاناً دنیا کے مختلف کناروں تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ 
حضرات محترم! میں نے چند ارشادات آپ کے سامنے اس حوالہ سے کیے ہیں کہ اسلام اور سائنس میں کوئی تصادم نہیں ہے بلکہ اسلام سائنسی تحقیقات کی دعوت دیتا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ جبکہ سائنس وحی الٰہی کے بیان کردہ حقائق کی تائید کرتی ہے اور مسلسل کرتی جا رہی ہے۔ اس لیے سائنس کے علم سے جہاں انسانی سوسائٹی کو نت نئی سہولتیں اور فوائد حاصل ہو رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے ، اسی طرح یہ آسمانی تعلیمات کی مؤید اور معاون بھی ہے۔ البتہ اسے محض معروضیت کے دائرہ میں رکھنے کی بجائے ’’مقصدیت‘‘ کا پہلو بھی اس کے حوالہ سے اجاگر کرنا ہوگا اور یہی اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تمام علوم و فنون سے صحیح استفادے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ 

’’اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق‘‘

محمد زاہد صدیق مغل

(فیس بک پر جناب زاہد صدیق مغل کا تبصرہ)

جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب کا 'اسلام اور سائنس' پر کالم پڑھا، مختصر تبصرہ یہ ہے:
’’سائنس کائنات کی اشیاء پر غور و فکر کرنے، ان کی حقیقت جاننے، ان کی افادیت و ضرورت کو سمجھنے کا نام ہے، ان کے استعمال کے طریقے معلوم کرنے کا نام ہے۔‘‘
نہ جانے وہ کون سی سائنس ہے جو ’’حقیقت تلاش‘‘ کررہی ہے۔ جدید سائنس، جس کا ظہور تاریخ میں ہوا، وہ تو کائنات کے ذرے ذرے کو سرمایے میں تبدیل کرکے نفع میں اضافے کی جدوجہد سے عبارت ہے۔
سائنس کا دائرہ کار ’’(1) یہ چیز کیا ہے؟ اور (2) کیسے کام کرتی ہے‘‘ ہے جبکہ مذہب کا دائرہ کار ’’(3) اسے کس نے بنایا ہے‘‘ اور ’’(4) اس کا مقصد کیا ہے‘‘ ہے۔ ۔۔۔
نجانے اس دنیا کی وہ کون سی سائنس ہے جو ’’اشیاء کی مقصدیت‘‘ فرض کیے بغیر ہی کام کیے جارہی ہے۔
’’وحی کائنات کے حقائق کی نشاندہی کرتی ہے، سائنس بھی انہی حقائق و اشیاء پر تجربات کرتی ہے، اس لیے ان دونوں کے درمیان تصادم کی کوئی وجہ نہیں۔‘‘
اوپر کہا کہ ان دونوں کا دائرہ کار الگ الگ ہے، مگر ایک بھی ہے۔
مجھے تو آج تک ایسا سائنس دان نہیں ملا جو یہ کہتا ہو کہ ’’میں حقیقت تلاش کررہا ہوں‘‘، نہ ہی کوئی ایسے والدین جو اپنے بچے کو کسی سائنسی شعبے میں داخلہ دلاتے ہوئے یہ کہتے ہوں: ’’جاؤ بیٹا حقیقت تلاش کرو‘‘۔ بھائیو! یہ ’’پروفیشن‘‘ ہے، ملین بلین ڈالر پروفیشن جس کے پیچھے کارپوریٹ، ریاست و مارکیٹ اکانومی کا سٹرکچر کھڑا ہے۔ ان تینوں کے Nexus کے بغیر ٹیکنالوجیکل ترقی کو سمجھنا ممکن نہیں۔ اور ایسا نہیں ہے کہ شاید ہم پاکستانی برے لوگ ہیں، اس لئے سائنس کے ذریعے حقیقت تلاش نہیں کرتے بلکہ یورپ و امریکہ ہر جگہ لوگ اسے پروفیشن اور کیرئیر کے طور پر ہی لیتے ہیں۔
سائنس سے حاصل ہونے والے مادی فوائد کو مد نظر رکھ کر اسے اپنی طرف سے تھیورائز کرلینا کہ سائنس ایسی ہوتی ہے یا ویسی، کوئی علمی طریقہ نہیں۔ سائنس کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے؟ اس کے لیے فلاسفی آف سائنس میں اس سے متعلق مباحث کی ڈویلپمنٹ کو دیکھنا چاہیے۔ انہیں نظر انداز کرکے سائنس کے بارے میں اپنی طرف سے وضع کردہ نظریات کی روشنی میں کی جانے والی گفتگو بے معنی ہے۔

بیل ۔ سینگوں کے بغیر؟

خورشید احمد ندیم

انسان تسخیر کائنات کے اگلے مرحلے، تسخیر فطرت میں داخل ہو چکا۔ صدیوں سے قائم ما بعد الطبیعیاتی تصورات اور عقائد کے پاؤں تلے سے زمین سرک رہی ہے۔ مذہب بھی اپنی حقیقت میں مابعد الطبیعیاتی تصور ہے،اگرچہ وہ طبیعات کی دنیا سے اپنے حق میں دلائل کشید کر تا ہے۔ تسخیر کائنات کا مر حلہ درپیش تھا تو مسیحیت مذہب کی نمائندگی کر رہی تھی۔ ہمیں معلوم ہے کہ اہل کلیسا اس چیلنج سے عہدہ برآ نہ ہو سکے۔ تسخیر فطرت کے مر حلے میں، مذہب کی نمائندگی اسلام کر رہا ہے۔ کیا اہل اسلام اس چیلنج کا سامنا کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟
۲۸۔ نومبر کو ’نیو یارک ٹائمز‘ کے صفحہ اوّ ل پر ایک خبر شائع ہوئی۔’جین ایڈیٹنگ‘ سے بیل کے تخلیقی فارمولے کوبدل دیا گیا ہے۔ دو ایسے بیل پیدا کیے جاچکے جن کے سینگ نہیں ہیں۔ اسی علم سے، اس سے پہلے ایک مچھلی بھی پیدا کی گئی جو اب امریکہ میں دستر خوان کا حصہ ہے۔ایک ایسا مچھر’پیدا‘کر لیا گیا ہے جو ملیریا پھیلانے کی ’صلاحیت‘ سے محروم ہے۔ اس علم سے سور اور مویشیوں کی ایسی نسلیں پیدا کی جا رہی ہیں جو کم خوراک لیکن زیادہ فربہ ہوں گی اور یوں زیادہ گوشت کی فراہمی کاباعث ہوں گی۔چینی محققین نے بونے سور پیدا کر دیے ہیں جنہیں گھروں میں پالتو جانوروں کی طرح رکھا جا سکے گا۔ وہ ایسی بھیڑیں بھی پیدا کرہے ہیں جو زیادہ گوشت فراہم کریں گی اور ان کے بال بھی کہیں لمبے ہوں گے جن سے زیادہ گرم کپڑابنایا جا سکے گا۔اس نوعیت کے ان گنت تجربات ہیں جو جانوروں پر جاری ہیں۔
’پیوند کاری‘ کوئی نیا عمل نہیں۔ عالمِ نباتات و حیوانات پر اس کے تجربات قدیم سے ہورہے ہیں۔تاہم یہ بہت سست اور محدود عمل تھا۔ایک تجربے کے نتائج کے لیے کئی عشروں تک انتظار کر نا پڑتا تھا۔’جین ایڈیٹنگ‘کامعاملہ مختلف ہے۔اس نے تبدیلیء ہیت کے عمل کو مہمیز دے دی ہے۔وہ تخلیقی فارمولہ اب اس کی دست رس میں ہے جوایک صنف کی صورت میں حسب خواہش و ضرورت تبدیلی لا سکتا ہے۔انزائمزکے استعمال سے اب ڈی این اے کے حسب خواہش مقام پر چرکہ لگا کر، کوئی جین نکالی اور کوئی ڈالی جا سکتی ہے۔ یوں اپنی مرضی کا جانور تخلیق کیا جا سکتا ہے۔کیا معلوم کب بولنے والے جانور پیدا ہو جائیں اور سوچنے والے بھی؟اگر جانوروں میں سوچ آگئی تو کیاپھربھی وہ جانور ہی شمار ہوں گے؟کچھ دیر کے لیے ذہن کے گھوڑے کو اس سمت میں دوڑائیے اور پھر سوچیے کہ مستقبل کا کیسا منظر آپ کے سامنے ہے؟ 
مذہب مظاہر فطرت سے دلیل اٹھاتا ہے۔ انہیں خدا کے وجود کے لیے بطور استدلال پیش کرتا ہے۔مثال کے طور پروہ اونٹ کی تخلیق پر غور کی دعوت دیتا ہے ۔انسان اب اس صناعی میں شریک ہونے کا دعویٰ کرنے لگا ہے۔ اُس نے پہلی بارایسا نہیں کیا۔نمرود نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ میں زندگی دیتاہوں اورموت بھی۔اللہ کے ایک رسول نے اس کے استدلال کی کمزوری طشت ازبام کر دی۔ہم ختم نبوت کے عہد میں زندہ ہیں۔اب آسمان سے کوئی وحی نہیں اترنے والی جو آج کے نمرود کو جواب دے۔یہ جواب تو وحی کے وارثوں کو دینا ہے۔یہ امت جس پر آ خری رسول سیدنا محمد ﷺ نے شہادت دی اور اسے تمام عالم انسانیت کے سامنے یہ شہادت دینی ہے۔
آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے!
ابراہیم ؑ کی صلبی اور معنوی اولاد، جسے امتحان کا سامنا ہے، کیا اس کے لیے تیار ہے؟
یہ چیلنج گھمبیر ہونے والا ہے جب معاملہ جانوروں تک محدود نہیں رہے گے۔’جین ایڈیٹنگ‘ کا ہاتھ حریم آ دم کی طرف بڑھ رہا ہے۔کیا معلوم مستقبل کے پردے سے ابھرنے والا آ دم کیسا ہو؟اس کے خدو خال کیسے ہوں؟سوچ کیسی ہو؟ ابھی تو سائنس دانوں کو روک دیا گیا ہے لیکن کب تک؟یہ پابندی زیادہ عرصہ باقی نہیں رہ سکے گی۔ لوگوں نے اس مقصد کے لیے اربوں8 ڈالر مختص کر دیے ہیں۔یہ روبوٹ کی بات نہیں ،جیتے جاگتے انسان کا معاملہ ہے۔وہ انسان جس کے بارے میں مذہب کا مقدمہ ہے کہ اسے روز جزا اپنے رب کے حضور میں پیش ہو نا ہے۔بزعمِ خویش ،نئے انسان کا خالق،ا س دنیا میں انسان اور اس کے حقیقی خالق کے مابین آ کھڑا ہوا ہے،نمرود کی طرح۔آ خری الہام کے وارثوں کوکیا اس کا اندازہ ہے؟
علم بالحواس اور علم بالو حی کی بحث سے بات آگے نکل چکی۔ یہ بات طے ہے کہ جنہوں نے سائنس کی زبان میں مذہب کا مقدمہ پیش کیا، انہیں شکست ہوئی۔انہوں نے یقین کے لیے گمان کی دلیل پر انحصار کیا۔یوں یقین کو نقصان پہنچایا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ما بعد الطبیعیات کا مقدمہ طبیعیات کے میدان میں لڑا۔ سائنس دریافت کا ایک مسلسل عمل ہے۔کیا معلوم اس کی اگلی منزل کیا ہے؟اس کے نتائج سے محکمات پر استدلال نہیں کیا جا سکا۔ تاہم ایک دائرہ ایسا ہے جہاں اس سے گریز ممکن نہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مذہب اپنے حق میں مظاہر فطرت سے استنباط کر تا ہے۔ یہاں لازم ہے کہ فطرت کے جن مظاہر کی طرف مذہب اشارہ کرتا ہے، وہ تحقیق کے پیمانے پر پورا اترتے ہوں۔ ’جین ایڈیٹنگ‘ کے بعد، میرااحساس ہے کہ ان نصوص کی قدیم تفسیر اور شرح شاید نئے ذہن کے اطمینان کے لیے کافی نہ ہوجہاں فطرت کے مظاہر پر مذہب کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔
اس بحث کا ایک پہلو اور بھی ہے۔مذہب کا مقدمہ یہ بھی ہے کہ پیغمبر دراصل ان باتوں کی یاد دہانی کے لیے تشریف لاتے ہیں جوانسانی فطرت میں الہام کر دی گئی ہیں۔وہ فطرت کو ایک محکم بنیاد فرض کر تا ہے۔وہ آفاق ہی نہیں، انفُس کی نشانیوں سے بھی دلیل لا تا ہے۔ ’جین ایڈیٹنگ‘کے تحت فطرت اب قابل تغیر ہے۔اگر انسان کی یاداشت ہی کو کھرچ ڈالا جائے توعہدِ الست کی گواہی کا کیا ہوگا؟یہ درست ہے کہ مذہب کی دنیا میں روح زندگی کا محور ہے۔جو اس پر رقم ہے، ’جین ایڈنٹنگ‘ کی اس تک رسائی نہیں۔ عہد الست اگر اس پر محفوظ ہے تواس ٹیکنالوجی کے دسترس سے باہر ہے۔ بات لیکن یہاں ختم نہیں ہو جا تی۔اس کے بعد یہ بتانا پڑے گا کہ فطرت کیا ہے؟مثال کے طور پر اب یہ کہا جا رہا ہے کہ جرم جینز میں ہو تاہے۔اگر جینز میں تبدیلی ممکن ہے تویہ بھی ممکن ہے کہ ’جین ایڈیٹنگ‘ سے جرم کر نے کی صلاحیت ہی سلب کر لی جائے۔ سوال یہ ہے کہ جس فطرت میں فجور اور تقویٰ الہام کر دیے گئے ہیں،اگراس میں تبدیلی ممکن ہے تو پھر قانونِ آ زمائش کی معنویت کیا ہوگی؟
’جین ایڈیٹنگ‘ آج کے علمِ جدید کا چیلنج ہے۔انیسویں صدی میں جب علم بالحواس نے اسی نوعیت کا چیلنج اٹھایا تھا تو سر سید نے ایک نئے علم کلام کی ضرورت کو نمایاں کیا تھا۔علامہ اقبال نے بھی اسی بات کو آگے بڑھایا۔اب سر سید کا علم کلام بھی ہماری مدد نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے مذہب کو فطرت سے ہم آہنگ کرنے کی بات کی تھی۔اب تو فطرت ہی تبدیلی کی زد میں ہے۔بنیادی سوا ل پھر اپنی جگہ کھڑا ہے کہ محکم کے لیے متغیر کو معیار کیسے مانا جا سکتا ہے؟
میں مذہب کی سخت جانی سے واقف ہوں۔اس نے ہر دور کے ’علم جدید‘ کا سامنا کیا ہے اور میری نظرمیں،دلیل کے میدان میں اسے شکست نہیں دی سکی۔یقیناًوہ اس معرکے میں بھی فاتح ہوگا۔اس وقت ایک جانب توصف بندی ہو چکی۔ آج بیل کے سر سے سینگ غائب ہوئے ہیں۔کل کچھ اور غائب ہو جائے گا۔یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔کیا اہلِ مذہب نے بھی صف بندی کا سوچ لیا ہے؟کیا ان کے پاس وہ علم کلام مو جود ہے جو بیل کے سر پر سینگ اگا دے یا پھراسے اپنے حق میں انفس وآفاق کی ایک نئی دلیل میں بدل ڈالے؟ 
(بشکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘)

جدید علم الکلام

مولانا مفتی منیب الرحمن

روزنامہ دنیا کے فاضل کالم نگار جناب خورشید ندیم نے اپنے کالم میں ’’جین ایڈیٹنگ‘‘ کو موضوع بنایا اور بتایا کہ جنیٹک انجینئرنگ کے ذریعے حیوانات کی بعض خصوصیات پر مشتمل نئی نسلیں تیار کی جا رہی ہیں جن میں بغیر سینگ کے بیل، ایک خاص قسم کی مچھلی اور Malaria free مچھر بھی پیدا کیا گیا ہے۔ الغرض اجناس اور حیوانات کی نسلوں میں تنوع پر تجربات ہورہے ہیں اور کسی حد تک اس کی اصل تابیر یا تلقیح ہے۔ اسے درختوں میں قلمیں لگانے اور جانوروں میں مخلوط نسل سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ جانوروں کی مخلوط نسلوں کے حوالے سے ہمارے فقہی سرمایے میں پہلے سے اس کا حل موجود ہے۔ ذیل میں سوال وجواب کی صورت میں ایک مسئلہ درج کیا جاتا ہے جو ہم نے عید الاضحی کے موقع پر آسٹریلوی گائے کی قربانی کے حوالے سے لکھا تھا:
’’سوال: کیا آسٹریلوی گائے کی قربانی جائز ہے؟ اس کے بارے میں یہ افواہ بھی ہے کہ اسے حرام جانور کے مادہ منویہ سے حاملہ کرایا جاتا ہے تاکہ اس سے دودھ کی زیادہ مقدار حاصل ہو۔ ایسی گایوں کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب: آسٹریلوی گائے کی قربانی جائز ہے۔ فقہی رائے کا مدار افواہوں یا سنی سنائی باتوں پر نہیں ہوتا، صرف ان باتوں پر ہوتا ہے جو قطعی ثبوت یا مشاہدے سے ثابت ہوں۔ اسی لیے مسلمہ اصول ہے کہ ’’یقین شک سے زائل نہیں ہوتا‘‘۔ تاہم اگر یہ بات درست بھی ہو، تب بھی یہ گائیں حلال ہیں، ان کا گوشت کھانا اور دودھ پینا جائز ہے۔ اس لیے کہ جانور کی نسل کا مدار ماں (یعنی مادہ جانور) پر ہوتا ہے۔ علامہ برہان الدین لکھتے ہیں: ترجمہ ’’اور جو بچہ پالتو جانور اور وحشی جانور کے ملاپ سے پیدا ہو، وہ (بچہ) ماں کے تابع ہوتا ہے، کیونکہ بچے کے تابع ہونے میں ماں ہی اصل ہے، یہاں تک کہ اگر بھیڑیے نے بکری پر جفتی کی تو اس ملاپ سے جو بچہ پیدا ہوگا، اس کی قربانی جائز ہے ۔‘‘ اس کی شرح میں علامہ محمد بن محمود ’’عنایہ‘‘ شرح ہدایہ میں لکھتے ہیں: ترجمہ (کیونکہ بچہ ماں کا جزء ہوتا ہے اور اسی لیے آزاد یا غلام ہونے میں ماں کے تابع ہوتا ہے۔ (یہ اس دور کی بات ہے جب غلامی کا رواج تھا)۔ یہ اس لیے کہ نر کے وجود سے نطفہ جدا ہوتا ہے اور وہ قربانی کا محل نہیں ہے اور ماں کے وجود سے حیوان جدا ہوتا ہے اور وہ قربانی کا محل ہے، پس اسی کا اعتبار کیا گیا ہے۔‘‘ (فتح القدیر جلد ۹ ص ۵۳۲)‘‘
اور آج کل تو مغرب میں انسانوں کو اسی حیوانی درجے میں پہنچا دیا گیا ہے، اسی لیے باپ کے بجائے ماں کا نام پوچھا جاتا ہے، کیونکہ بہت سے لوگوں کو اپنے باپ کا پتہ ہی نہیں ہوتا، جبکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے انسانوں میں نسب باپ کی طرف سے چلتا ہے۔ پس بیل کا بغیر سینگ کے ہونا جبکہ گائے نے اسے جنم دیا ہو، مذہب کی رو سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مچھلی کی مثال جناب خورشید ندیم نے دی ہے، جبکہ برائلر مرغی سے مسلمانوں سمیت پوری انسانیت ایک مدت سے استفادہ کر رہی ہے۔
اسلام میں جمود نہیں ہے، توسع ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی مفاد میں تجربات کے لیے راستہ کھلا چھوڑا ہے۔ حدیث پاک میں ہے، رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم (ہجرت کر کے) مدینے تشریف لائے تو لوگ وہاں کھجوروں میں پیوند کاری کرتے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، یہ تم کیا کرتے ہو؟ انھوں نے عرض کیا، ہم یہ کام (قلمیں لگانا) کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تم یہ نہ کرتے تو بہتر ہوتا۔ سو انھوں نے (قلمیں لگانا) چھوڑ دیا تو درخت جھڑ گئے یا پیداوار کم ہو گئی۔ راوی بیان کرتے ہیں، صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا، ’’میں صرف بشر ہوں۔ جب میں دین کے بارے میں (جو وحی ربانی پر مشتمل ہوتا ہے) تمھیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے قبول کر لو اور اگر میں اپنی رائے سے کسی بات کا حکم دوں تو میں بشر ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم، ۲۳۶۲) دوسری حدیث میں فرمایا ’’اگر (پیوند کاری) ان کے لیے مفید ہے تو وہ اسے اختیار کریں۔ میں نے ظن پر مبنی بات کی تھی اور ظنی (یا قیاسی) بات پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے، لیکن جب میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف منسوب کر کے کوئی بات کہوں تو اسے لازم پکڑو۔‘‘ (صحیح مسلم، ۲۳۶۱)
اسی طرح ماضی قریب میں ایک بھیڑ کے خلیے (Cell) سے دوسری بھیڑ ڈولی کو تخلیق کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو سوال یہ ہے کہ اس سلسلے کو آگے جاری کیوں نہ رکھا گیا، اس کا سبب معلوم نہیں ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں یہ سارے نظائر (Precedents) موجود ہیں۔ عام سنت الٰہیہ یہ ہے کہ توالد وتناسل یعنی افزائش نسل حیوانات میں نر ومادہ اور انسانوں میں مرد اور عورت کے اشتراک سے وجود میں آتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مرد کے واسطے کے بغیر، حضرت حوا کو عورت کے واسطے کے بغیر اور حضرت آدم علیہ السلام کو دونوں کے واسطے کے بغیر پیدا کر کے یہ بتا دیا کہ اسباب قدرتِ باری تعالیٰ کے تابع ہیں اور اس کی قدرت ان اسباب کی محتاج نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی مانند ہے۔ انھیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے فرمایا : ہو جا، سو وہ ہو گیا۔‘‘ (آل عمران: ۵۹) اسی طرح فرمایا: ’’اے لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرتے رہا کرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا ہے اور اسی سے اس کی زوج (حوا) کو پیدا کیا اور ان دونوں سے کثیر تعداد میں مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔‘‘ (النساء: ۱) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے حضرتِ حوا کو آدم علیہ السلام کے وجود سے پیدا کیا اور اپنی حکومت سے اس تخلیق کی عملی صورت کو بیان نہیں فرمایا۔ قرآن مجید اصول اور کلیات بیان کرتا ہے، اس کی صورت وہیئت کی تحدید نہیں فرماتا تاکہ آنے والے زمانے میں انسانی علم کے ارتقاء کے سبب جو بھی صورت اختیار کی جائے، اس پر اصول کی تطبیق (Application) میں دشواری پیش نہ آئے۔
جناب خورشید ندیم نے لکھا ہے کہ نئے علم الکلام کی ضرورت ہے۔ یہ بات درست ہے، اس لیے کہ انسان کے علمی، عقلی اور فکری ارتقا کا سفر جاری وساری ہے۔ فلسفہ یونان تو اب از کار رفتہ ہو چکا۔ نئے فلسفے اور ما بعد الطبیعیاتی (Metaphysical) نظریے وجود میں آتے رہیں گے۔ آج اباحت کلی (Total Permissibility) کا فلسفہ کار فرما ہے۔ انسان کے لیے کیا مفید ہے اور کیا نقصان دہ؟ اس بارے میں مغرب کا فیصلہ یہ ہے کہ ان کی اجتماعی دانش ہی حاکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کو انھوں نے دیس نکالا دے دیا ہے۔ آج ہم جنس پرستی (Homosexuality)، مردوں کے باہم جنسی تلذذ (Gay)، عورتوں کے باہم جنسی تلذذ (Lesbians) اور ہیجڑوں کے باہم جنسی تلذذ (Transgender) کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ قانون الٰہی میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
علم الکلام سے مراد یہ ہے کہ اسلامی عقائد پر وارد ہونے والے عقلی اور فکری اعتراضات کا ایسا مدلل اور مفصل جواب دیا جائے جو ایک سلیم الفطرت اور عقل سلیم رکھنے والے انسان کو مطمئن کرسکے۔ جہاں تک ہٹ دھرم لوگوں کا تعلق ہے، وہ ہمیشہ قاطع حجتوں کو بھی رَد کرتے رہے ہیں، عصبیت جاہلیہ سے کام لیتے ہوئے دین آبا سے جڑے رہے ہیں۔ ایسے کٹ حجت اور ہٹ دھرم لوگ تاریخ کے ہر دور میں موجود رہے ہیں اور رہیں گے۔ اسلام کے حاملین کو عقلی اور فکری جمود کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اہل دین کو اپنے عہد کے عقلی اور فکری فتنوں اور ان کی فکری اساس کو سمجھ کر ان کا تشفی بخش جواب دینا چاہیے۔ یہ بھی درست ہے کہ عقلی، فکری اور سائنسی ارتقا کے اس دور میں آیات الٰہیہ کی نئی تعبیرات آتی رہیں گی۔ ہمارا کام یہ نہیں ہے کہ نصوص قرآنی کو ہر دور میں سائنس کے تابع کریں، بلکہ ہماری ذمے داری یہ ہے کہ یہ ثابت کریں کہ قرآن وسنت اور اصول دین کا سائنس سے کوئی تصادم نہیں ہے۔ اگر ہم آج کی کسی تعبیر کو حرفِ آخر قرار دے دیں تو کل اس کے برعکس بھی کوئی صورت سامنے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیقات اور اس میں سربستہ رازوں کو دریافت کرنا یا انھیں مختلف شکلیں دینا تو ممکن ہے اور یہ دین کے منافی نہیں ہے۔ خلق اور ایجاد اللہ تعالیٰ کی شان ہے اور روح یا حقیقت حیات، یہ قدرت کا راز ہے اور تاحال یہ انسانی عقل کی رسائی سے ماوَرا ہے۔ علامہ اقبال نے کہا:
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکون
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور ہم نے آسمان کو اپنے دست قدرت سے بنایا اور ہم (ہر آن) اسے وسعت دینے والے ہیں۔‘‘ (الذاریات ۴۷)۔ سائنس دان بھی کہتے ہیں کہ ہماری کہکشاں (Galaxy) کی طرح کئی ارب کہکشائیں (Galaxies) ایسی ہیں جو ابھی دریافت نہیں ہوئیں۔ 
(بشکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘)

بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال و جواب

محمد عمار خان ناصر

مورخہ ۸ دسمبر ۲۰۱۵ء کو فیصل آباد کے ہوٹل وَن میں کرسچین اسٹڈی سنٹر اسلام آباد کے زیر اہتمام بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست میں شرکت اور حاضرین کے درجنوں سوالات کے جواب میں اپنے فہم کے مطابق گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا۔ بڑے اچھے ماحول میں سوالات اور ان کے جوابات کا تبادلہ ہوا۔ مجلس کی منتظم محترمہ فہمیدہ سلیم نے آخر میں سب کا شکریہ ادا کیا اور تحمل وبرداشت کے حوالے سے کہا کہ ’’آپ کا ریموٹ کنٹرول آپ ہی کے پاس ہونا چاہیے’’، مطلب یہ کہ مکالمہ ومباحثہ میں کوئی دوسرا شخص اپنی کسی غیر محتاط یا اشتعال انگیز بات سے آپ کو بھڑکانے میں کامیاب نہ ہونے پائے۔ ایک اور بزرگ نے پتے کی بات کی کہ اس طرح کی مخلوط مجالس میں ہم جن اچھے اچھے خیالات اور جذبات کا اظہار کرتے ہیں، تبدیلی اس وقت آئے گی جب ہم یہی باتیں اپنے اپنے ماحول میں واپس جا کر بھی کرنے لگیں گے۔
اس نشست میں جن سوالات کے جوابات دیے گئے، ان میں سے بعض اہم سوال وجواب موضوع سے متعلق بعض دیگر سوالات کے اضافے کے ساتھ یہاں پیش کیے جا رہے ہیں۔

سوال۔ اسلام کا تصور توحید کیا ہے؟
جواب۔ اسلام میں توحید کا تصور یہ ہے کہ اس کائنات کی خالق ومالک ایک ہی ہستی ہے جو اپنے اقتدار واختیار اور اپنے خاص حقوق میں کسی کو شریک نہیں کرتی اور نہ ایسی شرکت کو گوارا کرتی ہے۔
سوال۔ کافر کس کو کہتے ہیں؟
جواب۔ کافر کا لفظ قرآن میں ان لوگوں کے لیے بولا گیا ہے جنھوں نے پیغمبر علیہ السلام کی طرف سے حق کو پوری طرح واضح کر دیے جانے کے باوجود اسے قبول نہیں کیا۔ یہ چونکہ دل کی کیفیت ہے، اس لیے اس مفہوم میں کسی کو کافر (یعنی جانتے بوجھتے حق کا انکار کرنے والا) کہنا اللہ تعالیٰ کی تصریح کے بغیر کسی انسان کے لیے روا نہیں۔ البتہ ایک عمومی مفہوم میں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذہبی گروہوں کو جو اسلام کی مبنی برحق تعلیم کو قبول نہیں کرتے، ’’کفار‘‘ سے تعبیر کر دیا جاتا ہے۔ ان کے دل کی کیفیات کا فیصلہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ہی کریں گے۔ دنیا میں انھیں ظاہری احکام کے لحاظ سے ’’کافر‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم ہر مذہب کے ماننے والے چونکہ اپنے خیال میں حق ہی کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے لیے ’’کافر‘‘ کی تعبیر پسند نہیں کرتے، اس لیے فقہائے اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی کہ کسی غیر مسلم کو طعن کے انداز میں ’’کافر‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جائے۔ فقہ اسلامی کی رو سے ایسا کرنے والے کو دوسروں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی پاداش میں تعزیری سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
سوال۔ مختلف مسلمان فرقے آپس میں ایک دوسرے کو کافر کیوں کہتے ہیں؟
جواب۔ فرقہ واریت صرف مسلمانوں میں نہیں، ہر مذہب کے پیروکاروں میں پائی جاتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہر مذہب کے ماننے والوں میں کچھ نہ کچھ مذہبی اختلافات بہرحال پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب ان مذہبی اختلافات میں ہر گروہ اپنی ہی تعبیر کو عین حق اور مخالف تعبیر کو عین باطل تصور کرتا ہے تو اس سے باہمی تکفیر کا رویہ پیدا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ مذہبی تعبیر کے اختلاف کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، اصل مذہب کی طرف نسبت اگر موجود ہے تو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ اس لحاظ سے جب تک کوئی گروہ خود کو ازخود اسلام سے لاتعلق قرار نہ دے یا اسلام کے کسی بنیادی عقیدے کا یہ کہہ کر انکار نہ کرے کہ میں اس عقیدے کو قبول نہیں کرتا یا پیغمبر علیہ السلام کے بعد کسی نئے نبی سے اپنے آپ کو وابستہ کر کے کوئی نئی مذہبی شناخت اختیار نہ کر لے، اسے دائرۂ اسلام میں ہی شمار کرنا چاہیے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ مسلمان فرقے عموماً اس اصول کو ملحوظ نہیں رکھتے جس کی وجہ سے وہ باہمی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے کی تکفیر کرتے رہتے ہیں۔
سوال۔ اگر سب کا خالق و مالک ایک ہے تو مذاہب کا اختلاف کیسے پیدا ہوا؟
جواب۔ مذہبی عقائد کا اختلاف پیدا ہونے کا سبب بھی انسان کو ملنے والی وہی ارادہ واختیار کی آزادی ہے جس کی وجہ سے دنیا میں اخلاقی خیر وشر وجود میں آیا ہے۔ یعنی انسان اپنے عمل میں بھی آزمائش سے دوچار ہے اور فکر ونظر میں بھی، بلکہ فکر ونظر کی آزمائش زیادہ سنگین ہے، کیونکہ اس دائرے میں انسان کو ایک طرف حق وباطل کے التباس کو الگ الگ کرنے اور حق کی پہچان کا امتحان درپیش ہے اور اس کے بعد حق کو عملاً قبول کر لینے کا۔ قرآن مجید نے بتایا ہے کہ یہ مذہبی اختلاف اللہ تعالیٰ کی اسکیم کا حصہ ہے اور اس دنیا میں اسی طرح ہمیشہ برقرار رہے گا۔
سوال۔ کیا مذہبی اختلاف کے ہوتے ہوئے احترام انسانیت فروغ پا سکتا ہے؟
جواب۔ جہاں دوسرے اسبابِ اختلاف انسانوں کے مابین نفرت اور بے توقیری کا رویہ پیدا کرتے ہیں، وہاں مذہبی اختلاف بھی اس کا سبب بن سکتا ہے اور بنتا ہے۔ لیکن اصولی طور پر اگر مذہب کی تعلیم کو درست طور پر سمجھ کر اس کے مطابق رویے اپنائے جائیں تو مذہبی اختلاف کے باوجود یہ ممکن ہے کہ انسان، ایک ہی رب کے بندے اور ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہونے کی حیثیت سے ایک دوسرے کا احترام کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہمارے لیے اس کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ ایک یہودی کے جنازے کے احترام میں کھڑے ہو گئے تھے اور لوگوں کے تعجب ظاہر کرنے پر فرمایا تھا کہ ’’کیا وہ ایک انسان نہیں ہے؟‘‘ آپ نے اپنے پیروکاروں کو بتایا کہ اگر کسی نے کسی غیر مسلم معاہد کے ساتھ زیادتی کی تو قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں اس کے خلاف آپ خود استغاثہ کریں گے۔ آپ نے یہ تعلیم دی کہ میدان جنگ میں اگر بدترین دشمن بھی مارا جائے تو اس کی لاش کو بگاڑنا اور اس کی توہین کرنا جائز نہیں۔ یہ سب باتیں واضح کرتی ہیں کہ مذہبی اختلاف کے باوجود انسانی سطح پر سارے انسانوں کی یکساں تکریم واحترام کا رویہ اپنایا جا سکتا ہے۔
سوال۔ جب اسلام لا اکراہ فی الدین پر یقین رکھتا ہے تو اسلام چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کرنے والوں کے لیے موت کی سزا کیوں رکھی گئی ہے؟
جواب۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ قوانین اور ضابطے اس دنیا کے عمومی حالات کے لحاظ سے مقرر کیے ہیں اور کچھ ضابطے بعض مخصوص حالات میں اختیار کیے جاتے ہیں۔ مذہبی آزادی کے حوالے سے اللہ کا عمومی قانون یہی ہے کہ اس دنیا میں انسان پر کسی مخصوص عقیدے یا مذہب کے حوالے سے جبر نہ اللہ نے خود کیا ہے اور نہ انسانوں کو اس کی اجازت دی ہے۔ البتہ جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت کسی قوم میں اپنا پیغمبر بھیجتا ہے اور اس کے ذریعے سے حق ان لوگوں کے سامنے واضح فرما دیتا ہے تو پھر اس کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم اسے لازماً قبول کرے، ورنہ اس دنیا میں ہی عذاب الٰہی کا شکار ہو جائے گی۔ اسی اصول کے تحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے براہ راست مخاطب گروہوں کے متعلق یہ قانون بیان فرمایا کہ ان میں سے جو اسلام قبول کر لینے کے بعد اسے چھوڑنا چاہے تو اسے اس کی اجازت نہ دی جائے بلکہ ایسا کرنے والے کو قتل کر دیا جائے۔
دور جدید میں یہ مسئلہ مسلمان علماء کے درمیان خاصا زیر بحث ہے۔ جہاں ایک بڑا طبقہ یہ رائے رکھتا ہے کہ ارتداد کی مذکورہ سزا کا نفاذ ہمیشہ اسی طرح واجب العمل ہے، وہاں کچھ مختلف نقطہ ہائے نظر بھی سامنے آ رہے ہیں جن کی رو سے اِس دور میں شکوک وشبہات کا شکار ہو کر اسلام کو چھوڑنے والے مسلمانوں پر موت کی سزا کا لازمی نفاذ شریعت کا منشا نہیں۔ ایسے لوگوں کو حکمت اور دانش کے ساتھ ہی واپس دائرۂ اسلام میں لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سوال۔ قرآن مجید میں مسلمانوں کو اہل کتاب کے ساتھ دوستی کرنے سے کیوں منع کیا گیا ہے؟
جواب۔ اسلام کا اصول یہ ہے کہ وہ غیر مسلموں کے کسی بھی گروہ کے ساتھ تعلقا ت کی نوعیت کا فیصلہ خود اس گروہ کے رویے کی روشنی میں کرتا ہے۔ اس اصول کی روشنی میں قرآن مجید میں مختلف گروہوں کے اختیار کردہ رویے کے مطابق ان کے ساتھ تعلقات رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرۂ عرب میں قرآن کی دعوت پیش کی تو اس کا رد عمل مختلف گروہوں کی طرف سے مختلف انداز میں سامنے آیا۔ بعض نے کھلم کھلا دشمنی کا طریقہ اختیار کیا، بعض نے اہل اسلام کے ساتھ ہمدردی اور مشکل حالات میں ان کی مدد کا رویہ اپنایا، جبکہ بہت سے گروہوں نے غیر جانب دار رہنے کو ترجیح دی۔ 
ان میں سے جو گروہ اسلام اور مسلمانوں کا وجود برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور موقع ملنے پر انھیں نابود کر دینے کے خواب دیکھ رہے تھے، ان کے ساتھ کوئی ہمدردی یا تعلق خاطر رکھنے کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے منافی قرار دیا اور ان کے لیے محبت اور دوستی کے جذبات ظاہر کرنے والے مسلمانوں کو سخت تنبیہ فرمائی۔ اس کے برخلاف جو گروہ اسلام کی دعوت کو قبول نہ کرتے ہوئے بھی مسلمانوں کی جان ومال یا ان کے مذہب کے دشمن نہیں بنے، ان کے ساتھ مصالحانہ تعلقات اور اچھے برتاؤ کی تلقین کی گئی۔ (سورۂ ممتحنہ، آیت ۸) اسی طرح اس دور کے اہل کتاب میں کچھ گروہ ایسے بھی تھے جو دیانت داری اور خدا خوفی جیسے اوصاف سے متصف تھے اور مذہبی تعلیمات کے اشتراک کی وجہ سے اسلام او رمسلمانوں کے ساتھ تعلق خاطر بھی محسوس کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایسے گروہوں کا ذکر تحسین کے انداز میں کیا ہے۔ (سورۂ مائدہ، آیت ۸۲) 
عہد نبوی میں ہمیں ایسے اہل کتاب بھی ملتے ہیں جنھوں نے اسلام اور مسلمانوں کے متعلق ہمدردانہ اور دوستانہ طرز عمل اختیار کیا، بلکہ نازک مواقع پر مسلمانوں کی مدد بھی کی۔ اس حوالے سے سب سے نمایاں مثال حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی ہے جس نے کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آ کر حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مظلوم مسلمانوں کو اپنے ملک میں نہ صرف پناہ فراہم کی، بلکہ مشرکین کے مطالبے کے باوجود ان مسلمانوں کو ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً مکہ سے ہجرت کر کے جانے والے بہت سے مسلمان کئی سال تک امن وعافیت کے ساتھ حبشہ کی سرزمین میں مقیم رہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی تناظر میں صحابہ کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ آپ کے بعد جب مسلمان ارد گرد کے ممالک کو فتح کرنے کے لیے نکلیں تو اہل حبشہ جب تک مسلمانوں کے خلاف جنگ میں پہل نہ کریں، ان کے خلاف جنگ نہ کی جائے۔ (سنن ابی داود، کتاب الملاحم، حدیث ۴۳۰۲)
سوال۔ کیا مسلمان اور مسیحی مردوں کو ایک ہی قبرستان میں دفن کیا جا سکتا ہے؟
جواب۔ اس معاملے میں شریعت کی رو سے کوئی لازمی پابندی تو مسلمانوں پر عائد نہیں کی گئی۔ ابتدائی دور میں مدینہ میں ایک ہی مشترک قبرستان تھا جہاں مشرکین اور مسلمانوں کو دفن کیا جاتا تھا۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں ایسے آثار بھی منقول ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کے دور میں بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا اور اہل کتاب کے بعض مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے دیا گیا۔ البتہ کچھ باتوں کا اہتمام عملی مصلحت کے لحاظ سے کیا جاتا ہے اور اس کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ مختلف مذہبی گروہ جن کے اعتقادات اور عملی احکام وقوانین باہم مختلف ہوں، وہ جب ایک جگہ اکٹھے رہتے ہیں تو باہمی نزاع سے بچنے کے لیے کچھ احتیاطی تدابیر رفتہ رفتہ اختیار کر لی جاتی ہیں جو مفید ہوتی ہیں۔ اس پہلو سے عموماً ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ مختلف مذہبی گروہوں نے اپنے مردوں کے لیے قبرستان بھی الگ الگ کر لیے۔ یہی طریقہ مسلمانوں نے بھی اختیار کیا ہے اور اس کی پابندی کرنے میں بہت سے مصالح مضمر ہیں۔
سوال۔ مسلمانوں یا مسیحیوں کا ایک دوسرے کی عبادت گاہوں میں عبادت کرنا یا مشترکہ عبادت میں شریک ہونا کیسا ہے؟
جواب۔ مسلمانوں کے لیے ساری زمین کو مسجد قرار دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے وہ کسی بھی جگہ جہاں کوئی اضافی شرعی مانع موجود نہ ہو، نماز ادا کر سکتے ہیں۔ جہاں تک اہل کتاب کے، مسلمانوں کی مسجد میں عبادت کا تعلق ہے تو اس ضمن میں بھی اسلام اصولاً بہت روادارانہ رویہ رکھتا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے نجران کے مسیحیوں نے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریقے پر اپنی نماز ادا کی تھی۔ تاہم اس معاملے کو ایک عمومی عمل کی حیثیت سے اختیار کرنا بہت سے عملی مصالح کی روشنی میں مشکل ہے۔ عبادت گاہوں کے حوالے سے مذہبی گروہوں میں خاصی حساسیت پائی جاتی ہے اور سب لوگوں کی ذہنی سطح بھی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اس لیے کسی موقع پر اس اجازت سے فائدہ یہ دیکھ کر ہی اٹھانا چاہیے کہ اس سے کوئی اور بڑا مسئلہ نہ کھڑا ہو جائے۔ حضرت عمر نے بیت المقدس میں ایک کلیسا میں نماز ادا کرنے سے اسی لیے انکار کر دیا تھا کہ آگے چل کر کہیں مسلمان یہ کہہ کر اس جگہ اپنا حق نہ جتا دیں کہ یہاں ہمارے خلیفہ نے نماز ادا کی تھی۔
جہاں تک مشترکہ عبادت ادا کرنے کا تعلق ہے تو دیکھیے، ہر مذہب میں عبادت کے اپنے کچھ مخصوص مراسم اور طریقے ہوتے ہیں جن کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔ مثلاً نماز کا طریقہ اہل اسلام کے ہاں اس طریقے سے بہت مختلف ہے جو مسیحیوں کے ہاں پایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں مشترکہ عبادت کی ادائیگی نہیں ہو سکتی۔ البتہ عبادت کے ایسے طریقے جن کا تعلق مخصوص مراسم سے نہیں، مثلاً اللہ کے سامنے دعا کرنا یا اس کی حمد ومناجات کرنا، ان میں اگر مختلف مذاہب کے ماننے والے باہم شریک ہونا چاہیں اور مذہبی نقطہ نظر سے اس میں کوئی مانع موجود نہ ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
سوال۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی باہمی شادیوں سے متعلق اسلام کی تعلیم کیا ہے؟
جواب۔ اس حوالے سے اسلامی شریعت میں اہل کتاب اور ان کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے الگ الگ احکام مقرر کیے گئے ہیں۔ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کے ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت کھانا اسلام میں حرام ہے اور ان میں سے کسی مرد یا عورت کے ساتھ نکاح کرنا بھی مسلمانوں کے لیے جائز نہیں رکھا گیا، لیکن اہل کتاب کے متعلق یہ اجازت دی گئی ہے کہ ان کے ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت بھی کھایا جا سکتا ہے اور ان کی پاک دامن عورتوں سے مسلمان مرد نکاح بھی کر سکتے ہیں۔ (سورۂ مائدہ، آیت ۵) یہ اجازت اسلامی شریعت میں یک طرفہ ہے، یعنی مسلمان مرد تو اہل کتاب کی خواتین سے نکاح کر سکتے ہیں، لیکن مسلمان عورتوں کو شریعت نے اس کو روا نہیں رکھا کہ مسلمانوں کے علاوہ کسی بھی دوسرے مذہب کے مردوں سے شادی کریں۔
سوال۔ حضرت مسیح کے پیروکاروں کو عیسائی کہا جائے یا مسیحی؟
جواب۔ قرآن میں چونکہ ’عیسیٰ’ کا نام آیا ہے، اس لیے مسلمانوں میں اس نسبت سے عام طور پر ’’عیسائی‘‘ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اس میں تحقیر یا توہین کا کوئی پہلو مسلمانوں کے ذہن میں نہیں ہوتا۔ البتہ مسیحی حضرات اپنے لیے ’’مسیحی‘‘ کا لفظ استعمال کرنے کو ہی پسند کرتے ہیں جو ان کا حق ہے اور اگر انھیں کسی وجہ سے ’’عیسائی‘‘ کے لفظ کے استعمال سے توحش ہوتا ہے یا انھیں ناگوار گزرتا ہے تو ہمیں بھی اس کا خیال رکھنا چاہیے اور ان کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے انھیں ’’مسیحی’’ کے نام سے ہی یاد کرنا چاہیے۔
سوال۔ سابقہ آسمانی صحائف کو پڑھنا اسلام کی نظر میں کیسا ہے؟
جواب۔ قرآن مجید نے سابقہ آسمانی صحائف کی عظمت وفضیلت واضح کی ہے اور بتایا ہے کہ قرآن بھی انھی تعلیمات کا تسلسل ہے، کوئی نیا دین نہیں لے کر آیا۔ قرآن اپنی تعلیمات کے، سابقہ صحائف کے موافق ہونے کو اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے اور اس پہلو سے قرآن مجید کی تعلیم کو تاریخی تناظر میں سمجھنے کے لیے علمی سطح پر سابقہ آسمانی صحائف کا مطالعہ اور ان سے استفادہ ایک بہت مفید چیز ہے۔ مسلمان علماء اس حقیقت سے واقف رہے ہیں اور اپنی علمی ومذہبی تحقیقات میں کتب سماویہ سے استفادہ کرتے رہے ہیں۔
مسلمانوں کے نقطہ نظر سے بائبل میں موجود تمام صحائف اور ان کے تمام مندرجات تاریخی طور پر ایسے محفوظ نہیں کہ انبیاء کی طرف ان کی نسبت پورے اعتماد کے ساتھ کی جا سکے۔ پھر بھی اگر دینی تعلیمات کے حوالے سے قرآن اور صحائف انبیاء کا تقابل کیا جائے تو حیرت انگیز مشابہت اور مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ ماضی قریب میں بعض بڑے علماء مثلاً مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم نے دین کی اہم تعلیمات کے حوالے سے ان تمام صحائف کا تقابلی مطالعہ کیا ہے اور اس سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔
سوال۔ قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر اور پندرہ اگست کا بیان بظاہر متضاد دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے کس کو ترجیح دی جائے؟
جواب۔ گیارہ اگست کی تقریر میں قائد اعظم نے اس ملک کی غیر مسلم اقلیتوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ ان کے مذہبی وسیاسی حقوق پوری طرح محفوظ ہوں گے اور ریاست پاکستان اس ضمن میں کوئی جانب دارانہ رویہ اختیار نہیں کرے گی۔ پندرہ اگست کے بیان میں انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ مسلمانوں کے لیے ملکی نظام اور قانون کے دائرے میں راہ نمائی کا سرچشمہ اسلام کی ابدی تعلیمات ہیں جن کا بہترین نمونہ حضرت عمر کے عہد میں ملتا ہے۔ میرے نزدیک ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں اور دونوں اپنی اپنی جگہ بالکل درست ہیں۔ اسلام چونکہ دین ومذہب کے معاملے میں کسی قسم کے جبر کا قائل نہیں، اس لیے وہ مسلمان مملکت میں بسنے والے غیر مسلم گروہوں کو مکمل مذہبی اور معاشرتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ غیر مسلم اپنے مذہب پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہر قسم کی معاشرتی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں اور ملکی فلاح وبہبود میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسلامی شریعت کے مخصوص قوانین ان پر لاگو نہیں ہوتے اور وہ اپنے معاملات اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق انجام دینے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔
یہی حق ملک کی مسلمان اکثریت کو بھی حاصل ہے۔ چنانچہ جب اکثریت ملک کے نظام اور قانون کی تشکیل کرے گی تو ملک کی اکثریتی آبادی کے لیے ان کے مذہب کی تعلیمات کے مطابق ہی کرے گی۔ نہ اکثریت کو یہ حق ہے کہ وہ اقلیت پر اپنے مذہبی خیالات کی پابندی مسلط کرے اور نہ اقلیتوں کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اکثریت سے اپنے مذہبی حقوق اور اختیارات سے دست برداری کا مطالبہ کریں۔ قائد اعظم نے یہی دونوں پہلو اپنی مذکورہ تقریروں میں واضح کیے ہیں۔ گیارہ اگست کی تقریر اقلیتوں کے مذہبی وسیاسی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے اور پندرہ اگست کا بیان یہ بتاتا ہے کہ مسلمان اکثریت جب اپنی سیاست ومعاشرت اور معیشت کی تشکیل کرے گی تو اپنے مذہب سے صرف نظر یا اس سے دست بردار ہو کر نہیں کریں گی۔

حسینہ واجد کی انتقامی سیاست

محمد اظہار الحق

’’آدم بو، آدم بو‘‘ ۔۔۔
چڑیل نے اپنے بے حد چوڑے نتھنے سیکڑے، پھر پھیلائے۔ اس کے پر چمگادڑ کے پروں کی طرح تھے۔ پھیلے ہوئے اور ڈراؤنے۔ آسمانی بلا کی طرح زمین پر اتری۔ جو سامنے آیا اسے کھا گئی، کھاتی گئی۔ خلق خدا نے پناہ مانگی۔ لوگ چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دینے لگے۔ ماؤں نے بچوں کو گھروں سے باہر بھیجنا بند کر دیا۔ خاندانوں کے خاندان تہہ خانوں میں جا چھپے!
حسینہ واجد کی پیاس ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے! بلور کے بنے ہوئے ساغر اور ان میں انسانی خون۔ مگر آہ! پیاس بجھ نہیں رہی۔ تاریخ نے بڑے بڑے ظالم دیکھے ہیں۔ سولہویں صدی میں ملکہ میری نے پروٹسٹنٹ عقیدہ رکھنے والوں کو آگے میں جلانے کا حکم دیا۔ پادریوں کو پھانسیاں دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ملکہ کا نام ’’خونی میری‘‘ پڑ گیا۔ سٹالن خلق خلق خدا کے لیے عذاب بنا۔ آج ملکہ میری ہے نہ سٹالن۔ حسینہ واجد بھی تاریخ کے گمنام صفحے پر خون کے ایک بدنما دھبے کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ بہت جلد! بہت جلد! جب پنڈلی سے پنڈلی جڑے گی! جھاڑ پھونک کرنے والوں کو بلایا جائے گا! آنکھوں کے سامنے فلم چلے گی! حسینہ واجد کی رحم طلب نگاہوں کے سامنے پروفیسر غلام احمد، قمر الزمان، عبد القادر ملا، صلاح الدین چودھری اور علی احسن مجاہد کے چہرے ابھریں گے۔ وہ چیخے گی، مگر چہرے بار بار نظر آئیں گے۔ موت کی غشی اس اذیت سے نجات نہیں دے گی۔ یہ تومحض آغاز ہوگا! آغاز جس کا کوئی انت، کوئی آخر نہیں ہوگا۔
۱۹۶۹ء کا اگست تھا جب ڈھاکہ یونیورسٹی کے طالب علم عبد المالک کو شہید کیا گیا۔ ٹیچر سٹوڈنٹ سنٹر میں تعزیتی اجتماع تھا۔ یہ کالم نگار بھی سامعین میں موجود تھا۔ عبد المالک سے ہماری اچھی علیک سلیک او ر خوب گپ شپ تھی۔ تمام مغربی پاکستانی طلبہ سے وہ محبت سے ملا کرتا۔ اجتماع میں پروفیسر غلام اعظم نے تقریر کی اور رُلا کر رکھ دیا۔ پروفیسر صاحب سے جب بھی ملاقات ہوئی، انھیں تبسم کے ساتھ ہی پایا۔ نرم ملائم ہاتھ جن میں ملنے والے کے ہاتھوں کووہ تھامے رکھتے! پھر وہ خبر پڑھی کہ عمر رسیدہ غلام اعظم کو نوے سال قید کی سزا سنائی گئی۔ پروفیسر نے زنداں کا مرہون احسان ہونا گوارا نہ کیا اور جان، جلد ہی جان آفریں کے سپرد کر دی۔ یہی غلام اعظم تھے جنھوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی سنٹرل سٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے سامنے بنگلہ کو اردو کے شانہ بشانہ قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
ایک دن کے لیے، نہیں! ایک دن تو بہت لمبی مدت ہوتی ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی اس اٹل سچائی میں کبھی شک نہیں کیا کہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے نتیجہ میں عوامی لیگ جیتی تھی اور وفاق میں حکومت کی تشکیل اس کا حق تھا۔ کچھ لوگوں نے اس وقت کہا کہ عوامی لیگ کی نشستیں یہاں نہیں ہیں اور مغربی پاکستان میں جیتنے والوں کی وہاں نہیں ہیں اور یہ تو پولرائزیشن ہوگی! یعنی دو انتہائیں۔ پولرائزیشن، کون سی پولرائزیشن! ع
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
آج کے پاکستان میں پولرائزیشن کے سوا کہیں کچھ نظر ہی نہیں آ رہا۔ وسطی پنجاب میں جیتی ہوئی پارٹی وفاق میں حکومت کر رہی ہے۔ سندھ میں اس کی حیثیت صفر ہے۔ بلوچستان اور کے پی کے میں اس کی موجودگی تبرک سے بڑھ کر نہیں۔ وفاقی کابینہ میں پشتو بولنے والے کتنے ہیں؟ دل پرہاتھ رکھ کر سوچیے! دفاع، خزانہ، داخلہ، ریلوے، بجلی، توانائی، تجارت، اطلاعات، ترقی ومنصوبہ بندی، جہاز رانی سب وزارتیں کیسے بانٹی گئی ہیں؟ ایوان اقتدار میں ریٹائرڈ ضعیف بیورو کریٹ کہاں کہاں سے ہیں؟ مشرقی پاکستان علاقہ نہ ہوتا، انسان ہوتا تو آج قہقہہ لگا کر کہتا ’’دیکھا، کیسی بد دعا لگی ہے! اب بتاؤ کیسی ہے پولرائزیشن!‘‘
مگر جب پاکستان ایک ملک تھا تو اس وقت سیاسی اختلاف کرنے والوں پر یا فوج کا ساتھ دینے والوں پر، آج غداری کا الزام کیسے لگ سکتا ہے؟ کیا یہ آسمانی کتاب میں لکھا ہے کہ عوامی لیگ سے سیاسی اختلاف نہیں ہو سکتا تھا؟ اگر پاکستان متحد رہ جاتا تو کیا اختلاف کرنے پر عوامی لیگ کو مطعون کیا جا سکتا تھا؟ نہیں، ہرگز نہیں! تو پھر صلاح الدین چودھری، علی احسن مجاہد اور دوسرے سیاست دانوں کو کس طرح قصور وار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ اس وقت بنگلہ دیش کا وجود کہیں نہ تھا۔ ملک ایک تھا، سیاسی رائے کچھ بھی ہو سکتی تھی۔ حسینہ واجد غداری کے عذر لنگ پر سیاست دانوں کو قتل کرا رہی ہیں، بلکہ کر رہی ہیں۔ یہ ایک بھیانک روایت ہے جس کا آغاز اس عورت نے کیا ہے۔ یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوگا۔ یہ خون اپنا حساب لے گا۔ مجیب الرحمن آخری آدمی نہیں ہیں جو گھر کی سیڑھیوں پر قتل ہوئے!
رہا بہت سے ان دوستوں کا شکوہ جو ایک مذہبی سیاسی جماعت کی اس معاملے میں خاموشی کا رونا رو رہے ہیں، ان حضرات کا شکوہ ناروا ہے۔ وہ کس سے شکوہ کر رہے ہیں؟ امید ہی کیوں رکھی تھی؟ کچھ جماعتوں کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے کہ ہمیشہ صحیح وقت پر غلط فیصلہ اور صحیح فیصلہ غلط وقت پر کریں۔ اُس وقت عوامی امنگوں کے سامنے بند باندھنا بھی سیاسی کم نظری (Political Myopia) تھا اور اِس وقت شور محشر بپا نہ کرنا بھی افسوس ناک ہے۔ فارسی کے شاعر نے انھی کا ماتم کیا ہوگا۔ ع
زیں ہمرہانِ سست عناصر دلم گرفت
کم کوشی ان ہمراہیوں کے خمیر میں گوندھ دی گئی ہے! دل جیسے مٹھی میں جکڑا جا رہا ہے!!
(بشکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘)

رفیق احمد باجوہ ۔ ایک بھولا بسرا کردار

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ لاہور کے رہائشی علاقے شاد باغ میں رفیق احمد باجوہ ایڈووکیٹ (مرحوم) کے گھر پر ملک بھر کے سیاسی راہنماؤں کا ایک اجلاس ہوا ۔ یہ 10 جنوری 1977کی اک سہ پہر تھی۔ میں LLB کے امتحان سے فارغ ہو کر ہمہ وقت تحریک استقلال کے لیے کام کرتا تھا ۔ نہ دن کا پتہ نہ رات کا، بس سیاست کا سودا ہی ذہن میں سمایا رہتا۔ ہم کچھ لوگ رفیق باجوہ صاحب کے دروازے پر کھڑے ہو کر آنے والوں کا استقبال کرتے ۔ جمعیت علما ء پاکستان کے سربراہ شاہ احمد نورانی اور مولانا عبد الستار نیازی پہلے سے ہی وہاں موجود تھے ۔ پھر ایئر مارشل (ر) اصغر خاں، بیگم نسیم ولی خان، خاکسار لیڈر اشرف خاں، آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و صدر سردار عبد القیوم خاں، جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد، ایک شیعہ مکتب فکر کے راہنما اور آخر میں مولانا مفتی محمود اجلاس میں شرکت کے لیے آئے۔ پیر صاحب پگارہ شریف اگرچہ لاہور میں موجود تھے مگر ان کی نمائندگی کسی اور نے کی۔ باجوہ صاحب کے گھر کے باہر ہجوم اکٹھا ہو گیا جو مطالبہ کر رہا تھا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف تمام جماعتیں متحد ہو کر مقابلہ کریں۔ پھر شام کے وقت پروفیسر غفور احمد نے چھت پر آ کر اعلان کیا کہ مارچ میں ہونے والے قومی انتخابات میں تمام جماعتیں مل کر پیپلز پارٹی کے خلاف انتخابات میں حصہ لیں گی۔ ساتھ ہی دوسرا اعلان کیا کہ دو دن کے بعد تمام راہنماؤں کا اعلیٰ سطح کا اجلاس مسلم لیگ ہاؤس ڈیوس روڈ پر ہو گا۔ 
دودن کے بعد جب ہم مسلم لیگ ہاؤس پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ انسانوں کا ایک ہجوم وہاں در آیا ہے۔ اجلاس ہو ا اور پروفیسر غفور کی بجائے رفیق باجوہ نمودار ہوئے اور انہوں نے چند فیصلوں کا اعلان کیا کہ تحریک استقلال، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ، جمعیت علماء اسلام،جمعیت علماء پاکستان، جماعت اسلامی، مسلم کانفرنس، خاکسار تحریک اور شیعہ الائنس (غالباً یہی نام تھا) پر مشتمل اتحاد تشکیل پا چکاہے۔ مفتی محمود اس کے سربراہ اور میں رفیق احمد باجوہ اس کے جنرل سیکرٹری ہوں گے۔ اس سیاسی اتحاد کا نام ’’ پاکستان قومی اتحاد‘‘ ہو گا جسے انگریزی میں P.N.A کہا جائے گا۔ تمام جماعتوں کے لیے انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کا فارمولا اگلے اجلاس میں طے کیا جائے گا جو گلبرگ میں چوہدری ظہور الٰہی کی رہائش گاہ پر ہو گا۔ تاہم تحریک استقلال اور J.U.P کے لیے 34% کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔
پھر چوہدری ظہور الٰہی کی کوٹھی ’’قومی اتحاد‘‘ کا مرکز بن گئی۔ پاکستان قومی اتحاد کا پہلاجلسہ عام کراچی کے نشتر پارک میں ہو اجس کی آڈیو کیسٹ ریکارڈنگ لاہور پہنچی جو چینیزلنچ ہوم میں حبیب جالب، میں نے اور دیگر کارکنوں نے سنی۔ اس ریکارڈ نگ میں کسی مقرر نے بھی ’’نظام مصطفی‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔ دوسرا جلسہ لاہور کے ناصر باغ میں احسان وائیں کی صدارت میں ہوا۔ ناصر باغ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ ملحقہ سٹرکیں ، مال روڈ ، پوسٹ آفس جنرل کے دفتر سے لے کر ضلع کچہری کے آخری سرے تک اور اولڈ کیمپس کے انار کلی والے سرے تک پر جوش لوگوں کا ایک جم غفیر تھا۔ اس جلسہ میں ایئرمارشل اصغر خاں اور بیگم نسیم ولی خاں کو بہت پذیرائی ملی۔ دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اب تک نو جماعتوں کے یہ سربراہ ’’نو ستاروں‘‘ کا عوامی لقب اختیار کر چکے تھے۔ ایک صحیح معنوں میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ یہاں بھی ہمیں ’’نظام مصطفی‘‘ کا کوئی مطالبہ سننے کو نہیں ملا۔ 
پھر ایک روز کسی شہر میں رفیق باجوہ نے ’’نظام مصطفی‘‘ کا نعرہ بلند کر دیا اور اسٹیج پر سے ہی اللہ ہو اللہ ہو کا ورد بھی شروع کر کے اس سوال کی بنیاد رکھی جو سید افضل حیدر ایڈووکیٹ نے اپنی حالیہ شائع ہونے والی کتاب " M.D.R " میں اٹھا یاہے اور یہی سوال فرخ سہیل گوئیندی نے بھی اپنی کتاب ’’ ترکی ہی ترکی‘‘ میں اٹھایا ہے۔ تاریخ کو درست کرنا میرا کام نہیں۔ ایک کوشش اس لیے کر رہا ہوں کہ میں پاکستان قومی اتحاد اور تحریک استقلال کی ہائی کمان کے نزدیک رہا ہوں۔ بہت کچھ جانتا ہوں۔ کئی گفتنی اورنا گفتنی حقائق ہیں جنہیں ابھی تک خوف فساد خلق کی بنا پر سامنے نہیں لایا گیا ۔ قومی اتحادکی ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والی تحریک سراسر سیاسی تحریک تھی۔ اس پر دورانِ تحریک اصغر خاں اور بیگم نسیم ولی خاں کا ہی غلبہ رہا۔ عوامی طور پر رفیق باجوہ نے اسے ’’نظام مصطفی‘‘ کا نام دے کر اپنی تقریروں کی مقبولیت کی سند تو حاصل کر لی مگر یہ اتحاد کے کسی منشور وغیرہ کا حصہ نہیں تھا۔ یہ صرف دھاندلی کے خلاف چلائی گئی ایک سیاسی تحریک تھی جسے بعد میں ضیاء الحق نے شب خون مار کر یرغمال بنا لیا اوراپنی پہلی ہی تقریر میں کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والی تحریک میں جو ’’ اسلامی جذبہ‘‘ دیکھنے کو ملا، وہ قابل تعریف ہے ۔ اور پھر اس کے بعد ضیا ء الحق نے اسلام کے نام پر کیا کیا ظلم وزیادتیاں اس نے ’’ ایجاد‘‘ نہ کیں۔ تاریخ اس کی گواہ ہے ۔ 
پروفیسر غفور احمد نے بھی اپنی کتاب ’’اور مارشل لاء آگیا‘‘ کے آخری ابواب میں پاکستان قومی اتحاد کے وہ تمام آخری مطالبات پیش کیے ہیں جو ذوالفقار علی بھٹو کو پیش کیے گئے اور جن پر اتفاق ہو گیا تھا۔ ان مطالبات کو دیکھ کربخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں بھی ایسا کوئی مطالبہ شامل نہیں تھا۔ سب مطالبات سیاسی نوعیت کے حامل تھے۔ 
اب آخر میں رفیق باجوہ کے انجام کا بھی ذکر کرتا چلوں۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے چیف سیکرٹری پنجاب بریگیڈیئر مظفر کے ذریعے انہیں وزیر اعظم ہاؤس میں دعوت پر بلایا ۔ ایک غیر سیاسی شخص جو صرف دو ماہ میں ہی قومی سطح کا لیڈر بن چکا تھا، اس دعوت کے ملنے پر اتنا خوش ہوا کہ بغیر کسی کو بتلائے وزیر اعظم ہاؤس کھانا کھانے چلا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اتنا احمق تو نہیں تھا کہ اتنی بڑی تحریک کو ختم کرنے کے لیے صرف ایک شخص سے ہی مذاکرات کرتا۔ بس رفیق باجوہ کو اوجِ ثریا سے زمین پر گرانا تھا، سو گرا دیا۔
ملاقات کی خبر عوام تک پہنچی تو وہ غم وغصہ میں آگئے۔ باجوہ صاحب نے چند دن تو تردید میں گزار دیے۔ اس دوران ایک روز میں میاں محمود علی قصوری کے فین روڈ والے بنگلے پر گیا جہاں ایئر مارشل اصغر خاں اور مولانا شاہ احمد نورانی موجود تھے۔ ایئرمارشل صاحب نے مجھے کہا کہ باہر دروازے پر کھڑے ہو جاؤاور جب تک میں نہ کہوں، کسی کو اندر نہ آنے دینا۔ دونوں نے دوپہر کا کھانا اکٹھے کھا یا اور رفیق باجوہ کو پاکستان قومی اتحاد اور جمعیت علماء پاکستان دونوں جماعتوں سے فارغ کر دیا۔ رفیق باجوہ نے پھر سیاست کی طرف منہ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی سیاستدانوں نے انہیں اپنے پاس بٹھایا۔ ’’ سیاسی مرزائی‘‘ بن کر رہ گئے۔ اور تو اور ہائیکورٹ بار میں بھی جانا چھوڑ دیا۔ ایسی تنہائی کا شکار ہوئے کہ خدا کی پناہ! اور اسی عالم میں ایک دن اپنے فکری اعمال کا جواب دینے اُس کے پاس پہنچ گئے جو سب کا حساب رکھتا ہے۔

پروانہ جمعیت صوفی خدا بخش چوہانؒ

ابو محمد سلیم اللہ چوہان سندھی

میرے مربی، میرے محسن اور میرے والد گرامی پروانہ جمعیت صوفی خدا بخش بن اللہ بخش بن خدا بخش چوہان (بانی مدرسہ دارالتعلیم حمادیہ) ان شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنے اعمال صالحہ، کریمانہ اخلاق اور بے شمار خوبیوں کی وجہ سے اپنا نیک نام چھوڑا ہے۔ 
ان کی ولادت 1944 میں گوٹھ راجو چوہان، تحصیل لکھی غلام شاہ، ضلع شکارپورمیں ہوئی۔ دنیوی تعلیم پانچ جماعتوں تک اپنے گاؤں راجو گوٹھ میں حاصل کی۔ قرآن پاک ناظرہ کی تعلیم بھی اپنے اسی گاؤں میں حاصل کی۔ والد محترم باضابطہ عالم نہ تھے، البتہ علماء صلحاء کے صحبت یافتہ ضرورتھے۔ فقط ناظرہ قرآن اور اسکول کی پانچ جماعتیں پڑھ کر قابل رشک خدمات سرانجام دیں۔ اپنے رب سے قوی امید ہے کہ ان خدمات کی وجہ وہ بخشے جائیں گے۔ 
اللہ پاک نے بہت خوبیوں سے نوازا تھا۔ صوم وصلاۃ کے پابند تھے اور تہجد کی ادائیگی ان کا معمول تھی۔ جب سے ہوش سنبھالا، والد محترم کو رات کو اٹھ کر تہجد پڑھتے دیکھا۔ قادری طریقہ سے ذکر اذکار کرتے، اپنے رب کے حضور میں دعائیں مانگتے دیکھا۔ مستجاب الدعوات تھے، کسی بھی مسئلہ میں پریشان ہوتے تو اللہ رب العالمین کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے۔ ان کا اصلاحی تعلق قطب الاقطاب حضرت مولانا حماداللہ ہالیجویؒ کے جانشین حضرت مولانا حافظ محمود اسعد سے تھا۔ ان سے خوب کسب فیض کیا۔ اسی فیض وصحبت کی برکت تھی کہ خود تو کسی سبب سے عالم نہ بن سکے، لیکن اپنی اولاد کو دینی تعلیم کے لیے وقف کیا۔ 
آپ نے مجاہدانہ زندگی گذاری۔ اخلاص اور راست گوئی میں ضرب المثل تھے۔ ان کے اندر دینی جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ جمعیت علماء اسلام کے فعال کارکن تھے۔ 2007 کے بلدیاتی الیکشن میں جمعیۃ علماء اسلام یوسی طیب ضلع شکار پور تحصیل لکھی غلام شاہ میں جنرل کاؤنسلر کے امیدوار بھی بنے جس کی وجہ وڈیروں کی نیندیں حرام ہو گئیں۔ والد صاحب کو ڈرایا دھمکایا گیا لیکن وہ اپنے مشن وپروگرام سے دستبردار نہیں ہوئے۔ جتنے بھی جماعتی، سماجی، اور مذہبی کام کیے، ان میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن تمام کام مخالفت کے باوجود استقامت اور خوش اسلوبی سے سرانجام دیے۔
ان کی زندگی کا سب سے اہم ترین مقصد مساجد ومدارس کی تعمیر تھا۔ اپنے گاؤں میں دو مساجد اور ایک مدرسہ تعمیر کرایا جو ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ جامع مسجد اقصیٰ، یہ مسجد ہمارے گاؤں کی سب سے پرانی مسجد ہے جو گاؤں کے بالکل اندر ہے۔ جیسے جیسے گاؤں کے مکانات کی تعمیرات ہوتی گئی، مسجد کی سطح نیچی ہوتی گئی اور برسات وغیرہ کا پانی مسجد میں آنے لگا۔ والد گرامی کو خیال ہوا کہ مسجد کی از سر نو تعمیر کی جائے۔ گاؤں والوں سے مشورہ کیا کہ مسجد کی نئی تعمیر کی جائے۔ اخراجات کی وجہ سے کسی نے بھی حمایت نھیں کی۔ کسی نے کہا کہ آپ کے پاس اگر ایک لاکھ کی رقم ہے تو پھر مسجد کا کام شروع کریں۔ والد صاحب نے فرمایا کہ میرے پاس اتنی رقم تو نہیں البتہ مجھے اپنے خالق حقیقی اللہ کی ذات پر بھروسہ ہے۔ اسی کا نام لے کر کام شروع کروں گا، وہی ذات اس کام کو پایہ تکمیل تک پھچائی گی۔ چنانچہ اللہ رب العالمین کا نام لے کر کام شروع کر دیا اور دس بارہ سال کی محنت اور لگن سے ایک شاندار مسجد بن گئی۔ اسی مسجد میں بندہ نے دینی تعلیم کا آغاز کیا ۔
مچ والی مسجد بھی بہت پرانی تھی۔ (مچ سندھی زبان میں آگ کو کہتے ہیں اس مسجد کے قریب لوگ آگ جلا کر مجلس کیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے اس کا نام ہی "مچ والی مسجد" پڑ گیا)۔ زمانے کی گردش سے منہدم ہو گئی تھی۔ اس مسجد کو بھی نئی سرے سے والد صاحب نے تعمیر کروایا۔ یہاں وہ امامت بھی خود ہی کراتے تھے۔ 
مساجد کی تعمیر کے بعد والد صاحب کو فکر لاحق ہوا کہ گاؤں میں ایک دینی مدرسہ بھی ہونا چاہیے جو نئی نسل کی دینی و مذہبی تربیت کر سکے اور لوگوں کے عقائد کی اصلاح ہوسکے۔ مدرسہ کے لئے ایک موزوں جگہ والد گرامی کی نظر میں تھی، لیکن اس میں کچھ رکاوٹ تھی۔ جگہ کے مالکان جگہ دینے پر راضی نہ تھے۔ والد گرامی نے رات کو اٹھ اٹھ کر تہجد میں دعائیں مانگیں۔ اللہ تعالیٰ نے وہ دعائیں قبول کیں اور جگہ کے مالکان میں سے مرحوم بنگل فقیر خود والد صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ ہم یہ جگہ آپ کو مدرسہ کے لیے وقف کرنے آئے ہیں۔ والد صاحب نے فرمایا کہ اب زندگی کا سورج غروب ہونے والا ہے، اب میرے اس کمزور جسم میں اتنی طاقت کہاں کہ مدرسہ تعمیر کراؤں۔ مرحوم بنگل فقیر نے بہت اصرار کیا کہ آپ کو جگہ لینی ہے اور مدرسہ تعمیر کرنا ہے۔ والد صاحب نے اللہ کا نام لے کر کام شروع کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک عظیم الشان ادارہ ’’مدرسہ عربیہ دارالتعلیم حمادیہ گلشن امام سندھی‘‘ تعمیر ہو گیا۔ یوں ان کی زندگی میں سب سے محبوب عمل ان آخری عمل اور "انما الاعمال بالخواتیم" کی عملی تصویر بن گیا۔ یہ بھی ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔
والد گرامی نے اپنے گاؤں میں دینی جلسے کرانے کا سلسلہ شروع کیا تھا جو 1981ء سے ان کی وفات تک جاری رہا۔ ان جلسوں میں سندھ اور پنجاب کے مشہور خطباء تشریف لاتے ہیں جن میں کچھ یہ قابل ذکر ہیں: امام المجاہدین حضرت مولانا سید محمد شاہ امروٹی، مناظر اسلام حضرت مولانا سید عبداللہ شاہ بخاری، شہید اسلام حضرت مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو، حضرت مولانا عبدالغفور حقانی شجاع آباد پنجاب، حضرت مولانا سید سراج احمد شاہ امروٹی مدظلہ، حضرت مولانا میر محمد میرک والے حضرت مولانا عبدالغنی پنجاب، وغیرہ۔
وفات حسرت آیات: جس طرح آپ نے زندگی شاندار اور مجاہدانہ گذاری، وفات بھی قابل رشک تھی کہ نماز پڑھتے اپنا سر سجدے میں رکھتے ہوئے جان جان آفریں کے حوالے کر دی۔ وفات ۲؍ اگست ۲۰۱۵ء کو مغرب کی نماز پڑھتے ہوئے پہلی رکعت کے سجدے میں ہوئی۔ حضرت والد گرامی کے غسل میں راقم الحروف اور میرے چھوٹے بھائی عطاء اللہ شریک تھے۔ نماز جنازہ ان کے قائم کردہ ادارہ مدرسہ عربیہ دارالتعلیم میں حضرت مولانا حافظ سعید احمد شاہ بخاری نے پڑھائی۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت انہیں اپنی جوار رحمت جگہ دے آمین۔

سود، کرایہ و افراط زر: غلط سوال کے غلط جواب کا درست جواب

محمد زاہد صدیق مغل

صدر مملکت کے حالیہ بیان کے بعد بعض اہل علم احباب ایک مرتبہ پھر سود کے جواز کے لیے وہی دلائل پیش کرنے میں مصروف ہیں جو اپنی نوعیت میں کچھ نئے نہیں۔ اس ضمن میں پیش کئے جانے والے بعض دلائل کی نوعیت تو دلیل سے زیادہ غلط فہمیوں کی ہے۔ مثلاً ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سود لینا اس لیے معقول ہے کیونکہ وقت کے ساتھ افراط زر کی وجہ سے کرنسی کی قدر میں کمی ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ایک اور دلیل میں سود کو اثاثوں کے کرایے پر قیاس کرلیا جاتا ہے۔ اس مختصر تحریر میں سود کے حق میں دیے جانے والے ان دو دلائل کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔ 
جدید محققین نے کرایے کے جواز اور سود و کرایے میں فرق بیان کرنے کے لیے کرایے کی توجیہات مختلف انداز میں بیان کی ہیں۔ چنانچہ اس تھیورائزیشن میں کرائے کے جواز میں ایک عمومی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ کرایہ لینا اس لئے جائز ہے کیونکہ اثاثہ استعمال کرنے سے اس کی کی "قدر" میں "ٹوٹ پھوٹ یا فرسودگی" (depreciation) کی وجہ سے کمی آجاتی ہے، لہٰذا مکانوں ودیگر اثاثہ جات کا کرایہ لینا جائز ہے۔ کرائے کے جواز کے لئے یہ ایک غلط دلیل ہے۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اس غلط دلیل کی آڑ میں سود کے حامی حضرات بھی ایک غلط دلیل قائم کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ اگر دیگر اثاثوں کا کرایہ اس لیے جائز ہے کہ اثاثے کی قدر میں استعمال کی وجہ سے کمی آجاتی ہے تو زر یعنی کرنسی کی قدر میں بھی وقت کے ساتھ "افراط زر کی وجہ" سے کمی آجاتی ہے، لہٰذا اس کا کرایہ بھی جائز ہونا چاہیے۔ اس دلیل اور جواب دلیل میں قدر، اثاثے کی فرسودگی،کرائے و افراط زر جیسے مختلف معاشی تصورات کو خلط ملط کردیا گیا ہے۔ پہلے افراط زر اور سود کے تعلق سے سہو نظر کرتے ہوئے کرائے و سود کے فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ 

کرایہ اور سود

پہلی بات یہ کہ کرائے کا جواز اثاثے کی فرسودگی نہیں۔ اگر مکان کے کرائے کا جواز فرسودگی کی وجہ سے اس کی قدر میں کمی ہوجانا ہے تو پھر مکان کا کرایہ صرف اسی صورت میں جائز ہونا چاہیے جب اس کی قدر کم ہوجائے، لیکن اگر وقت کے ساتھ اس کی قدر بڑھ جائے تو اس صورت میں اس کا کرایہ لینا جائز نہیں ہونا چاہیے۔ نیز اس تعبیر کی رو سے مکان کا کرایہ صرف اتنا ہی ہونا چاہیے جس شرح سے اس میں فرسودگی ہوتی ہو مگر عموما ایسا نہیں ہوتا۔ 9/11 کے بعد اسلام آباد میں دیگر شہروں کے مقابلے میں کرایوں میں زیادہ اضافہ ہوا، تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ 9/11 کے بعد اسلام آباد میں فرسودگی کے قوانین فطرت دیگر شہروں کے مقابلے میں زیادہ تیز ہوگئے تھے؟ دراصل کسی شے کی قدر پر فرسودگی کے علاوہ بازار کی قوتیں بھی اثر انداز ہوتی ہیں، چنانچہ عین ممکن ہے کہ کسی اثاثے مثلاً مکان کی قدر فرسودگی کے باوجود وقت گزرنے کے ساتھ ان قوتوں کی وجہ سے کم ہونے کے بجائے بڑھ جائے لیکن پھر بھی اس کا کرایہ لینا جائز ہوگا۔ کسی شے میں فرسودگی کا عمل کائنات کے مادی قوانین کی وجہ سے بہرحال جاری و ساری رہتا ہے، چاہے کوئی اسے استعمال کرے یا نہ کرے، چاہے وہ اثاثہ اپنی ملکیت میں رکھ کریوں ہی رکھ چھوڑ دیا جائے یا کسی کو کرائے پر دے دیا جائے۔ ہرصورت میں وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکررہے گا ،مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی "مارکیٹ قدر" بھی لازما کم ہوجائے گی۔ الغرض کرائے کا جواز نہ تو استعمال کے بعد قدر میں کمی آجانا ہے (کیونکہ یہ لازما کم نہیں ہوتی) اور نہ ہی فرسودگی ہوتا ہے کہ وہ تو بہرحال ہوکر رہتی ہے (صرف رفتار کا فرق ہوسکتا ہے)۔ اگر کسی شے میں نفع ہے تو باوجود اسکے کہ دوران استعمال اس میں کوئی خاطر خواہ فرسودگی نہ ہو تب بھی اسکا کرایہ بہرحال جائز ہوگا۔ 
کرایہ دراصل "نفع کی بیع" ہے، یعنی ایک شے میں جو نفع ہے اس نفع کو حاصل کرنے کی قیمت ادا کی جائے۔ کسی شے سے منفعت اٹھانے کی دو صورتیں ممکن ہیں، ایک یہ کہ جب اس سے منفعت لی جائے تو وہ شے اپنی اصل پر برقرار نہ رہے جیسے آلو کھا کر اس سے نفع اٹھانے کے عمل میں آلو ختم ہوجاتاہے۔ اس کے مقابلے میں بعض اشیاء کا وجود دیرپا (durable) ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کی منفعت فوری نہیں بلکہ دیرپا اور طویل المدت نفع (stream of benefits) کی صورت میں ہوتی ہے۔ مثلاً گاڑی یا فرج کہ یہ اشیاء صرف ایک مرتبہ نفع اٹھانے سے ختم نہیں ہوجاتیں بلکہ ایک طویل مدت تک نفع آور رہتی ہیں۔ پہلی صورت میں شے کے نفع کی قیمت ایک ہی مرتبہ ممکن ہے، ایک آلو کو ایک مرتبہ کھانے کی باربار قیمت لینے کا کوئی معنی نہیں کیونکہ شے اور اس کا نفع صرف کرنے کے بعد معدوم ہوجائے گا۔ دوسری صورت میں شے کا نفع چونکہ یک بار نہیں بلکہ بار بار حاصل کرنا ممکن ہے لہذا ہر مرتبہ نفع اٹھانے کی قیمت لینا ممکن ہے۔ اصطلاحا اول الذکر اشیاء کے نفع کی خرید و فروخت کو بیع کا معاہدہ کہتے ہیں جبکہ مؤخر الذکر کو کرائے کا۔ 
اس گفتگو سے ظاہر ہے کہ اسی شے کے نفع کا کرایہ لینا ممکن ہے جو نفع اٹھانے کے عمل کے باوجود اپنی ’’منجمد صورت‘‘ برقرار رکھ سکے۔ اگر کوئی شخص کسی سے آلو اس لئے مانگے کہ انہیں وقتی طور پر کسی تصویر میں پیوست کر کے تصویری نمائش میں دکھانا ہے اور چند گھنٹوں بعد آلو واپس کردئیے جائیں گے تو اب آلو والا ان کا کرایہ طلب کرسکتا ہے کہ اس صورت میں نفع اٹھانے کے بعد آلو برقرار رہا۔ اس کے مقابلے میں "کھانے کے لئے دئیے گئے آلو" کا کرایہ نہیں ہوسکتا۔پس واضح ہوا کہ کرایہ کسی "منجمد اثاثے" کے "منجمدنفع" کی بیع کہلاتی ہے۔ اثاثہ جب منجمد صورت میں ہو تو اس کا نفع چونکہ ماقبل طور پر منجمد ( معین) ومعلوم ہوتا ہے (اسی لئے تو اثاثہ کرائے پر لیا جاتا ہے) نیز دوران استعمال اثاثے کی صورت بھی نہیں بدلتی جو اس سے متوقع مخصوص نفع کے برقرار رہنے کی علامت ہوتی ہے لہذا "نفع کی اس بیع" کی قیمت دیگر بیوع کی طرح پہلے طے کی جاتی ہے۔ کسی انسان کی اجرت بھی اسی اصول پر سمجھی جاسکتی ہے کہ چونکہ انسان کی پیداواری صلاحیت بھی طویل المدت نفع کے طور پر ہوتی ہے لہذا اس سے ہر مرتبہ نفع اٹھانے کے لئے ہر مرتبہ اجرت (یعنی کرایہ) ادا کرنا پڑتی ہے۔ 
درج بالا گفتگو کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ کرنسی کا کرایہ ممکن نہیں کیونکہ کرنسی کو جب تک خرچ نہ کرلیا جائے (یعنی اسے کسی دوسری صورت میں تبدیل نہ کرلیا جائے) اس سے نفع اٹھانا ممکن نہیں۔ کرنسی کی صورت میں یہ تو ممکن ہے کہ کرنسی سے جو دیرپا شے یا منجمد اثاثہ خریدا جائے اس منجمد اثاثے کے نفع کا کرایہ لیا جائے لیکن بذات خود کرنسی کا کرایہ کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ کرنسی "بذات خود" نفع آور نہیں، اس کی نفع آوری ان اشیاء4 پر منحصر ہے جو اس سے خریدی جاتی ہیں۔ کرنسی منجمد نہیں بلکہ سیال سرمایہ ( liquid capital) ہے جسے سرمایہ کاری کے بعد کسی "منجمد سرمائے" میں تبدیل ہوکر نفع آور ہونا ابھی باقی ہے۔ جو حضرات کرنسی کے کرائے کی بات کرتے ہیں ان کی اس دلیل پر معاشی نکتہ نگاہ سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سیال سرمائے پر "منجمد نفع کا تعین" چہ معنی دارد؟ یعنی جو ہے ہی "غیر منجمد" اسکے نفع کے "تعین" کا کیا مطلب؟ الغرض کرایہ ایک "معین منجمد سرمائے" کے نفع کی بیع ہے جبکہ نقدی قرض پر طلب کیا جانے والا نفع (سود) سیال سرمائے پر مانگا جانے والا ایک قیاسی (speculative) نفع ہے۔ دوسرے لفظوں میں کرایہ ایک معین اثاثے ( formed capital) کے نفع کی معین قیمت ہے جبکہ نقدی قرض پر مانگا جانے والا سود ایک غیر منجمد شے ( unformed capital) کی معین قیمت طلب کرنا ہے جبکہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ غیر منجمد اثاثے کی قیمت (نفع) بھی غیر منجمد ہی ہونی چاہئے۔ شماریات کی زبان میں سیال سرمائے سے حاصل ہوسکنے والا نفع ایک random variable (غیر منظم طور پر بدلنے والی شے) ہے، جبکہ منجمد سرمائے کا کرایہ ایک fixed variable(معین طور پر بدلنے والی شے)۔ جو حضرات نقدی قرض کے سود کو اثاثوں کے کرائے پر قیاس کرکے سود کا جواز دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ دو مختلف قسم کے تصورات یا variables کو خلط ملط کردیتے ہیں۔ 

افراط زر اور سود

سود کے حامی حضرات ایک دلیل یہ دیتے ہیں کہ زر یعنی کرنسی کی قدر میں وقت کے ساتھ "افراط زر کی وجہ" سے کمی آجاتی ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص کسی کو رقم قرض پر رقم دے تو لازم ہے کہ اس کی نقدی کی قدر میں اس کمی کی تلافی کی جائے، یعنی اسے کم از کم افراط زر کے مساوی سود دیا جائے۔ سود کے حق میں دی جانے والی یہ معاشی دلیل اصولاً غلط ہے کیونکہ کسی بھی معاشی نظری کی رو سے افراط زر سود کا وجہ جواز نہیں۔ "سود کیوں دیا جانا چاہئے" اور "سود کا تعین کیسے ہوتا ہے"، یہ دو الگ سوالات ہیں۔ سود کے جواز کے دلائل کی بحث کا تعلق پہلے سوال سے ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل نظریات مشہور و معروف ہیں: 
1) ) سود positive time preference (مستقبل کے مقابلے میں زمانہ حال کے لئے ترجیح) کی وجہ سے طلب کیا جانا چاہئے ، یعنی یہ آج روپیہ صرف کرسکنے کے امکان کی قربانی دینے کی قیمت ہے۔قرض دینے کا عمل رقم کو آج خرچ کرسکنے کی صلاحیت سے دستبردار ہوکر اسے مستقبل میں منتقل کرنے کا نام ہے اور مستقبل میں اسے صرف کرنا چونکہ غیر یقینی ہے لہٰذا آج خرچ کرنے کی قربانی دینے کی قیمت ہونی چاہئے۔ مستقبل کے مقابلے میں زمانہ حال کے لئے یہ ترجیح مستقبل کے غیر یقینی ہونے نیز زر کے افادہ مختتم (marginal utility of money) کم ہوجانے کی وجہ سے ہے۔ (اس دلیل سے سود کے تعین کی supply and demand for loanable funds theory وجود میں آتی ہے)۔
2) ) سود سرمائے کی پیداواری صلاحیت کی وجہ سے طلب کیا جاتا ہے، یعنی زر سے چونکہ نفع آور کاروبار کیاجاتاہے لہذا اس قرض پر لی گئی رقم کا منافع لیاجانا چاہئے (اس دلیل سے سود کے تعین کی theory of marginal productivity of capital وجود میں آتی ہے)
3 ) سود اس لیے لیا جانا چاہیے کیونکہ زر (liquidity) بذات خود لذت (utility) کا ذریعہ ہے اور اس سے دور رہنے کی قیمت ہونی چاہیے۔ ( اس نظرئیے کی رو سے سود کے تعین کی liquidity preference theory وجود میں آتی ہے)۔
درج بالا نظریات سود کے جواز کے تین بڑے نظریات ہیں۔ ان تینوں میں سے کسی ایک بھی دلیل کا افراط زر سے کوئی واسطہ نہیں۔ جو حضرات افراط زر کو سود ادا کرنے کا جواز قرار دیتے ہیں، انہیں بتانا چاہئے کہ کس معاشی نظرئیے کی رو سے سود کا وجہ جواز افراط زر ہوتا ہے نیز اس سے سود کے تعین کا کونسا نظریہ وجود میں آتا ہے۔
اس ضمن میں یہ کہنا کہ جدید میکرو اکنامکس ماڈل یا اعداد و شمار کے مطابق افراط زر اور سود میں تعلق پایا جاتا ہے، نفس مسئلہ میں درست دلیل نہیں کیونکہ کسی شے کی طلب کا وجود کس بنا پر متحقق ہوتا ہے اور اس شے کی مارکیٹ قیمت کے تعین میں کون کون سے عناصر کردار ادا کرسکتے ہیں، یہ دو الگ سوالات ہیں۔ "سود کی وجہ جواز کیا ہے" اور "مارکیٹ سود کن کن عناصر سے متعین ہوتا ہے" یہ دو الگ سوالات ہیں۔پہلے سوال کا تعلق اس امر سے ہے کہ سود طلب کرنا کس بنیاد پر جائز ہے، یعنی جس شے کا سود لیا جارہا ہے اس میں ایسی کونسی معاشی صفت ہے جس کی بنا پر اس کا سود لیا جانا چاہئے۔ معاشی نکتہ نگاہ سے سود طلب کرنے کی بنیاد اوپر دی گئیں تین میں سے کوئی ایک وجہ ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے سوال کا تعلق اس امر سے ہے کہ مارکیٹ میں اس شے کی خرید و فروخت کس قیمت (شرح سود) پر ہوگی۔ کسی شے کی مارکیٹ قیمت پر بہت سے ایسے امور بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں جو اس شے کی قیمت طلب کرنے کا وجہ جواز نہیں ہوتے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ مارکیٹ اجرت پر اثر انداز ہونے والے تمام عناصر اجرت کی ادائیگی کا جواز نہیں ہوتے۔ چنانچہ افراط زر اور سود کے ایک ساتھ گھٹنے یا بڑھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ افراط زر سود ادا کرنے کی 'بنیاد' ہے، یہ دلیل پیش کرنا نفس مدعا میں دو مختلف امور کو خلط ملط کردینے کے مترادف ہے۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں، مگر معاشیات دان اس امر سے بھی واقف ہیں کہ معروف میکرواکنامک ماڈل کی رو سے سود افراط زرکا تعین کرتا ہے نہ کہ افراط زر سود کا۔ اس اعتبار سے افراط زر کو سود کا جواز قرار دینا غلط ٹھرتا ہے۔ الغرض یہ کہنا کہ نقدی قرض پر اضافی رقم (سود) افراط زر کی وجہ سے ملنی چاہیے اصولاً معاشی نظریات کی رو سے کوئی متعلقہ دلیل نہیں۔ 
دوسری بات یہ کہ افراط زر کی وجہ قرض لینے والے کا عمل نہیں ہوتا کہ اس کی ادائیگی اس کے ذمے لگادی جائے۔ موجودہ معاشی نظریات کی رو سے افراط زر کا اہم سبب ریاست و کمرشل بکور ں کا بلا کسی عوض کرنسی کو تخلیق کرتے رہنا ہے۔ گویا اگر قرض کی صورت میں افراط زر کی بنا پر نقدی کی قوت خرید کم ہوجانا اضافی رقم کا جواز ہے، تو قوت خرید میں اس کمی کا ازالہ ریاست کے ذمے ڈالنا چاہیے نہ کہ مقروض کے۔ پھر فرض کریں زید اپنی یہ اضافی رقم کسی کو قرض پر نہ دے بلکہ اپنے ہی پاس محفوظ کرلے تو کیا اس صورت میں افراط زر کی بنا پر اسکی نقدی کی قدر کم نہ ہوگی؟ اگر ہوگی، تو آخر محض اس "قرض دینے کے عمل" میں ایسا کیا ہے جو اس کی نقدی کی قوت خرید کو برقرار رکھنے کی ضامن ہو؟ رقم زید کی ملکیت میں رہے یا صہیب کو ادھار پر دے دی جائے، افراط زر دونوں صورتوں میں اس پر یکساں طور پر اپنا عمل دکھاتا ہے۔ اب یہ تو کوئی منطقی بات نہ ہوئی کہ اپنی نقدی کو "نقدی کی صورت میں رکھ کر" جس افراط زر کے اثرات سے میں خود محفوظ نہیں کرسکتا اسکا حل یہ بتایا جائے کہ اس نقدی کو کسی دوسرے کے حوالے کردو! چنانچہ معاملہ بالکل واضح ہے، قرض دینے کے بعد زید کو اپنی اصل رقم مستقبل میں "اسی طرح" واپس لینے کا حق تو ہے جس طرح یہ خود اس کی اپنی ملکیت میں رہتے ہوئے موجود رہتی مگر کسی کو صرف قرض دینے کے بعد یہ تقاضا کرنا کہ نہیں تم مجھے مستقبل میں اس کے ساتھ وہ اضافی رقم بھی دو گے جسے میں خود محفوظ نہیں رکھ سکتا تھا ایک غیر منطقی بات ہے۔ 
اب فرض کریں زید اور صہیب بارٹر اکانومی کے باشندے ہیں جہاں اشیاء کا تبادلہ براہ راست اشیاء سے ہوتا ہے۔ اگر زید کے پاس صرف کرنے کے بعد کچھ زائد دولت بچ جائے تو زید اسے کسی مادی اثاثے کی صورت میں محفوظ کرسکتا ہے۔ اس صورت میں زید کو اثاثہ سٹور اور محفوظ کرنے کے کچھ اخراجات بھی لازماً اٹھانا ہوں گے۔ اس کے علاوہ کائنات کے مادی قوانین کی رو سے اس کا اثاثہ لازماً فرسودگی کا شکار ہوگا جس کا تعلق اس امر سے ہے کہ اس نے اضافی دولت کو کس قسم کے اثاثے کی صورت میں محفوظ کیا ہے۔ اس کے علاوہ زید کے پاس ایک آپشن یہ ہے کہ وہ یہ اثاثہ (مثلاً کلہاڑی) کام کرنے کے لیے صہیب کو ادھار پر دے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ زید خود یا صہیب بطور مقروض اس کلہاڑی سے کام بھی کرے مگر اس کے باوجود بھی کلہاڑی عین اپنی "اصل حالت" (با اعتبار عمر اور معیار) پر قائم رہے؟
چنانچہ موجودہ کرنسی نظام میں قرض پر افراط زر کے مساوی رقم مانگنے کا جواز ثابت کرنے والوں کے اس دعوے کو اگر بارٹر اکانومی پر منطبق کیا جائے تو اس کا مطلب اس مفروضے کے سوا کچھ نہیں کہ کائنات کے مادی قوانین کی رو سے یہ ممکن ہے کہ کلہاڑی استعمال کرنے سے مزید پیدوار بھی حاصل ہوجائے مگر اس کے باوجود کلہاڑی پوری عمر یکساں حالت پر برقرار بھی رہے! مگر کائنات پر لاگو مادی قوانین کی رو سے ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ اس کائنات میں ایسی کوئی شے نہیں جو فرسودگی (decay) کے عمل کا شکار نہ ہو۔ یہاں اس بات پر بھی دھیان رہے کہ قرض دینے کے اس عمل میں قرض دینے والا اپنے ذمے اثاثے کو سٹور اور محفوظ رکھنے کی لاگت کو بھی قرض خواہ پر منتقل کردیتا ہے، ایک ایسی لاگت جسے اثاثہ اپنے پاس رکھنے کی صورت میں کسی بھی طرح ختم کرنا ممکن نہیں۔ یوں سمجھئے کہ افراط زر کو کرنسی پر سود کا جواز بتانے والے حضرات کرنسی (سیال سرمائے) کو کائنات کے مادی قوانین سے ماوراء4 بتانا چاہتے ہیں، یعنی جو اصول اثاثے (منجمد سرمائے) کی ملکیت و قرض پر لاگو ہوتے ہیں انہیں سیال سرمائے پر لاگو نہیں ہونا چاہئے۔ ظاہر ہے اس کائنات میں اس مفروضے کی کوئی دلیل نہیں۔
درج بالا بات سمجھنے کے لئے سودی حساب کتاب پر مبنی ایک مثال پر غور کرتے ہیں۔ فرض زید آج صہیب کو ایک کلہاڑی قرض پر دیتا ہے۔ زید اس پر 10 فیصدسالانہ (ماہانہ کے لحاظ سے جواب مختلف آتا ہے) افراط زر کے حساب سے سود طلب کرتا ہے۔ اگر صہیب قرض نہ اتارے تو ایک سال بعد صہیب پر 1.1 کلہاڑی واجب الاداء ہوگی جبکہ دو سال بعد 1.21۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ زید پر کتنی کلہاڑیاں واجب الاداء ہوں گی، اس کا حساب کچھ ہوں ہے: 
5 سال بعد : 1.61
10 سال بعد: 2.59
50 سال بعد: 117.4
100 سال بعد: 13,780
200 سال بعد: 189,905,276.46
300 سال بعد: 2,617,010,996,188.45
400 سال بعد: 36,064,014,027,525,400
500 سال بعد: 496,984,196,731,244,000,000
1000 سال بعد: 246,993,291,800,599,000,000,000,000,000,000,000,000,000 (یہ عدد کئی کئی کئی کئی کئی بلین ہے) 
یہ حساب 10 فیصد سالانہ شرح سود کے حساب سے ہے۔ اگر 10 فیصد سالانہ سود ماہانہ کے حساب سے لاگو کیا جائے، تو جواب یہ ہوگا:
1000 سال بعد: 
17,761,973,832,231,500,000,000,000,000,000,000,000,000,000
سالانہ و ماہانہ حساب کے جواب میں فرق یہ ہے: 
17,514,980,540,430,900,000,000,000,000,000,000,000,000,000
اس حساب کتاب کا معنی یہ ہے کہ مثلاً سو سال بعد زید پر 13,780 کلہاڑیاں واجب الاداء ہوں گی، اس لئے کہ مجوزین کی دلیل کے مطابق اس دس فیصد شرح سود کے حساب سے آج کی ایک کلہاڑی سو سال بعد 13780 کلہاڑیوں کے مساوی ہے۔ مگر یہ کہتے وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جو کلہاڑی ابتدا میں ادھار دی گئی تھی نیز ایک سال اور پھر ہر گزرتے سال کے بعد اس پر جو اضافی کلہاڑی واجب الاداء ہوتی گئی تھی، وقت گزرنے کے ساتھ وہ کائناتی قوانین کی رو سے لازماً بوسیدگی (decay) کا شکار ہوکر رہے گی۔ نیز انہیں محفوظ رکھنے کی بھی قیمت ہے جو کلہاڑیوں کی تعداد بڑھنے سے بڑھتی چلی جائے گی۔ یعنی فزیکل اثاثہ بوسیدگی کا شکار ہوکر رہتا ہے۔
زر پر افراز زر کے مساوی سود کا جواز دینے والے حضرات کا کہنا ہے کہ ادھار پر دئیے گئے ایک روپے کے بدلے 100 سال بعد 13,780 روپے جبکہ 1000 سال بعد 
246,993,291,800,599,000,000,000,000,000,000,000,000,000 
روپے ادا کی جانا چاہئیں۔ گویا ان حضرات کے مطابق سیال سرمائے کو مادی کائنات کے قانون بوسیدگی سے ہرصورت ماوراء ہونا چاہیے، یعنی اس کی قوت خرید ہر صورت برقرار رہنی چاہیے۔ زر کے کائناتی قوانین سے ماوراء4 ہونے کا یہ مفروضہ "یتخبطہ الشیطان من المس" کا ایک پہلو ہے کیونکہ اس کائنات میں کسی شے کو دوام نہیں۔ درحقیقت سود کائنات کے مادی وجود ( ontological structure) سے ہم آہنگ نہیں۔ سودی حساب اس مفروضے پر مبنی ہے کہ سرمایہ وہ شے ہے جو کائنات میں کار فرما بوسیدگی کے عمل سے ماوراء ہے، یعنی یہاں ایک ایسے عمل کا وجود ہے جو سرمائے میں ہر لمحے و لحظے مسلسل اضافے کا باعث بنتا رہتا ہے۔ 

سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کا تقابلی جائزہ

مولانا محمد انس حسان

محترم ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب کا مضمون ’’سید احمد شہید کی تحریک جہاد:ایک مطالعہ‘‘ ماہنامہ الشریعہ (دسمبر ۲۰۱۵ء) میں شائع ہوا ہے۔ فاضل مضمون نگار نے سید احمد شہید کی تحریک اور تحریک طالبان کے مابین مماثلت پر مبنی یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر سید احمد شہید اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مسلح جدوجہد کرتے ہیں تو اس جدوجہد کو جہاد کا نام دیا جاتا ہے اور یہی عمل اگر طالبان کرتے ہیں تو اسے دہشت گردی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ فاضل مضمون نگار نے اپنے مضمون کے آخری نوٹ میں تحریر کیا ہے کہ:
’’یہاں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم پہلے فریق (سید احمد شہید) کو درست قرار دیتے ہیں تو اس دوسرے فریق (طالبان )کو غلط نہیں کہہ سکتے۔ اگر دوسرا غلط ہے تو پہلے کی تغلیط کی ہمت بھی لامحالہ کرنا ہوگی۔ ہمیں اس دوغلے پن سے براءت کااعلان کرنا ہوگا‘‘۔ (ص۴۰)
یہ وہ سوال ہے جس پر گذشتہ کچھ عرصے میں موافق و مخالف بہت کچھ لکھا گیا ہے اور اس تناظر میں بنیادی طور پر دو سوچیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ پہلی سوچ کے حامل طبقے نے اپنے نظریات کو اصولی طورپر سید ین کی تحریک سے مماثل قراردے کر مسلح جدوجہد کا جواز پیدا کیا۔ جبکہ دوسرے طبقے نے اس بیانیے پر تحقیق کرنے کی بجائے مسلح جدوجہد کی مماثلت کی بنیاد پر دونوں تحریکات کو باطل قرار دینے کی کوشش کی۔ تاہم اب تک کوئی سنجیدہ کوشش اس بابت کم ازکم ہماری نظر سے نہیں گزری کہ جس میں ان دونوں تحریکات کا جذباتیت اور قلبی وابستگی سے بالاتر ہو کر حقیقت پر مبنی تجزیہ کیا گیا ہو۔ 
یہ موضوع اپنی ماہیت اور حیثیت کے اعتبار سے تفصیل کا متقاضی ہے اور اس پر متوازن مباحثے کی ضرورت بھی ہے۔اس ضمن میں محترم عرفان شہزاد کی بات کو قدرے وسعت دیتے ہوئے ان تحریکات کے تاریخی پس منظر کے حوالے سے چند طالب علمانہ نکات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
بنیادی طور پر ان تحریکات کے تقابلی جائزے کے لیے دوپہلوؤں پر غور وفکر کی زیادہ ضرورت ہے۔پہلی یہ کہ فکری و نظریاتی اعتبار سے ان دونوں تحریکات میں کیا مماثلت ہے؟دوسرے یہ کہ ناکامی و نتائج کے اعتبار سے ان دونوں تحریکات میں کیا مماثلت ہے؟ 
کسی بھی تحریک کے مطالعے کے لیے اس دور کے حالات اور تقاضے سامنے ہونا ضروری ہیں ۔اگر اس اصول کو نظر انداز کیا جائے گا تو بہت سی تحریکات کے حوالے سے شکوک و شبہات جنم لیں گے اور کسی بھی تحریک کو دوسری تحریک کے مماثل قراردینے کے حوالے سے متعدد قرآئن بہ آسانی مل جائیں گے۔سید احمد شہید کی تحریک جس دور میں بپا ہوئی وہ برصغیر میں انگریز سامراج کا دور استبداد تھا۔مسلمان غالب سے مغلوب ہوئے تھے اور ان میں اس سوچ کا پیدا ہونا فطری تھا کہ اس اس بدیسی قوت کے خلاف ہمیں جدوجہد کرنا ہوگی ورنہ ہماری حالت بھی اندلس سے مختلف نہ ہوگی۔ اس بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ سید احمد شہید کی تحریک ایک قومی تحریک تھی۔ البتہ ان کی تحریک میں یمن ونجدکے علماء کے شاگردوں کا جو محدود طبقہ شامل ہوگیا تھا،اس نے اس قومی تحریک کو نقصان پہنچایا۔ اس کے برعکس تحریک طالبان (جو روس کی پسپائی سے قبل تحریک مجاہدین کے نام سے ملقب تھی )میں محض روس سے نجات مقصد نہیں تھا ۔اگر ایسا ہوتا تو روس کے جانے کے بعد آپس کی خانہ جنگی کی نوبت نہ آتی۔نیز اس تحریک میں تمام دنیا سے جذباتیت کی حدتک اسلام سے وابستگی رکھنے والے مسلمانوں کو دعوت دی گئی،جس سے یہ تحریک قومیت کے عصری رجحانات سے ہٹ گئی اور دنیا کے مختلف خطوں سے آئے لوگوں نے اپنے ملکوں میں بھی اسلامائزیشن کے رجحانات کو ہوا دی۔ 
سید احمد شہید کی تحریک دراصل اپنا ایک سیاسی پس منظر رکھتی تھی اور فکری طور پر امام شاہ ولی اللہ کی فکر سے متاثر تھی۔چنانچہ اس تحریک کاایک فکری تسلسل تھا جو اس تحریک کی ناکامی کے بعد بھی جاری رہا۔(اس حوالے سے راقم کا ایک مقالہ’’ الایام‘‘ کراچی میں شائع ہوا ہے جس میں تفصیل ملے گی)۔ سیدین کی تحریک کی ناکامی کے بعد ان کی جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ چنانچہ مولانا شاہ محمد اسحاق دہلویؒ حجاز تشریف لے گئے مگر وہاں رہ کر تحریکی کام کو نیا رخ دینے میں مصروف عمل رہے۔ جبکہ مولانا ولایت علی نے ہندوستان میں رہ کراپنی الگ جماعت تشکیل دی اور ان کی جماعت میں یمنی اور نجدی ذہنیت کا حامل وہ طبقہ بھی شامل ہوگیاجس کے پرتشدد مزاج اورمسلکی تعصب کے باعث افغان مخالف ہوگئے تھے اور سیدین کی تحریک ناکام ہوئی تھی۔ چونکہ سید ین کے بعد ان کی جماعت کابرصغیر کی حد تک تعارف اسی جماعت کے سبب تھا اس لیے اس جماعت کے پر تشدد مزاج نے سیداحمد شہید کے تصور جہاد کو سخت نقصان پہنچایا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں مولانا ولایت علی کی جماعت کے لوگوں نے بھی کانگرس میں شمولیت اختیار کرکے عدم تشدد کا راستہ اپنایا۔سید احمد شہید کے تصور جہاد میں عوامی بہبود،اصلاح معاشرت اور عقائد کی درستگی سب شامل تھیں۔چنانچہ ان کے تصور جہاد سے محض مسلح جدوجہد مراد لینااس کی وسعت کو محدود کرنے کے مترادف تھا۔ اس کے برعکس تحریک طالبان کا وہ طبقہ جس کے پیش نظر سید احمد شہید کی محض مسلح جدوجہد تھی،اسے شاید یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ جس تحریک سے وہ خود کو منسوب کررہے ہیں اس کا ایک فکری تسلسل تھا جو اس تحریک کی ناکامی کے بعد بھی جاری رہا۔چنانچہ تحریک کی ناکامی کے بعد مولانا اسحاق دہلوی ؒ اورمولانا امداد اللہ مہاجر مکی ؒ نے مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کو تیار کیاجنہوں نے اس تحریک کو تعلیمی وتربیتی شکل دی اور شیخ الہندمولانامحمود حسنؒ جیسے انسان کو تیار کیا جنہوں نے برصغیر کی تاریخ آزادی میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا۔اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تحریک ریشمی رومال تک اس جماعت کی پالیسی انگریز سامراج کے خلاف مزاحمتی جد وجہد کی تھی کیونکہ اس دور میں اسی طریقے کو رواج تھا۔ نیزچونکہ خلافت عثمانیہ کی مرکزیت کمزور ہی سہی مگر موجود تھی اس لیے اس جدوجہد میں بین الاقومی تعاون سے بھی دریغ نہیں کیا گیا تھا۔تاہم سقوط خلافت عثمانیہ کے بعد عالمی منظرنامہ تبدیل ہوا۔ چنانچہ تحریک ریشمی رومال کی ناکامی کے بعدشیخ الہندمولانا محمود حسن ؒ جب مالٹا کی قید سے واپس ہوئے تو انہوں نے جماعت کی پالیسی تبدیل کی اورعدم تشدد ،قومی سیاست، عصری ودینی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تربیت کے اصولوں پر عمل پیرا ہوکر اس تحریک کو ایک نئے دور میں داخل کیا۔ چنانچہ ان کی اس پالیسی کو جمعیۃ العلمائے ہند نے جاری رکھا اور بعد کے حالات میں عدم تشدد کے اصول پر قومی جدوجہد کا آغاز کیا۔اس لیے اسی پالیسی کو حتمی سمجھا جانا چاہیے تھا۔ تحریک پاکستان کی مخالفت بھی جمعیۃ العلمائے ہند نے اسی بنا پر کی تھی کہ ان اصولوں پر زد پڑتی تھی اور اسی اختلاف پر دیوبندی جماعت مدنی اور تھانوی گروپ میں تقسیم ہوئی تھی۔
تحریک پاکستان کے حوالے سے دیوبندیت دو حصوں یعنی مکتب تھانوی اور مکتب مدنی میں تقسیم ہوئی ۔ان دونوں مکاتب فکر میں بنیادی طور پر سیاسی اختلاف تھا جو بعد میں بڑے دور رس نتائج پر منتج ہوااور کوئی مانے یا نہ مانے اس سیاسی اختلاف کا اثراب تک محسوس کیا جاسکتا ہے۔گو اس ضمن میں تطبیق اور اتفاق رائے کی بہت سی کوششیں بھی ہوئیں۔تحریک پاکستان سے قبل حضرت تھانویؒ مکتب فکرکا کوئی سیاسی کردار نہیں تھا ۔چنانچہ حضرت شیخ الہند ؒ نے جب حضرت تھانوی ؒ کو تحریک آزادی میں شمولیت کی دعوت دی تھی تو حضرت تھانوی ؒ نے یہ کہہ کر معذرت کر لی تھی کہ ان کا مزاج سیاست سے مناسبت نہیں رکھتا۔شاید یہی حضرت تھانویؒ کا عمومی مزاج تھا جبکہ ان کے فکر وعمل کی اصل جولان گاہ تصنیف وتالیف کا میدان تھا۔ مگر نہ صرف تحریک پاکستان میں بلکہ پاکستان بن جانے کے بعد بھی ایک عرصے تک حضرت تھانوی ؒ کے نام لیواؤں نے سیاسی تحریکات میں برابر حصہ لیا۔ سیاسی ناتجربہ کاری وعدم پختگی کے باعث حضرت تھانوی ؒ سے اس مکتب فکر کی نسبت محض نام کی حد تک تھی۔مدنی مکتب فکر نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی اور اس سبب بہت کچھ خود کو مطعون بھی کیا تھا۔جمعیۃ ہی نہیں خود حضرت مدنی ؒ کی ذات پر بہت کیچڑ اچھالا گیا مگر ان کی طرف سے عدم تشدد کا مظاہرہ کیا گیا۔تقسیم کے بعد بھی حضرت مدنی ؒ اور ان کی جماعت ہمیشہ عدم تشدد پر بڑی سختی سے کار بند رہے اور تقسیم کو دل وجان سے قبول کیا۔تقسیم کے بعد شروع میں تو مکتب تھانوی نے ایک عرصے تک تو سیاست میں حصہ لیا مگرجب اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہوتے نہ دیکھا تو ایک حد تک کنارہ کشی اختیار کی اوراپنی سیاسی غلطی پر سوال کے ڈر سے درس وتدریس کی جانب متوجہ ہوگئے۔مکتب مدنی کا اصل جوہر ہندوستان میں رہ گیا تھا مگر مکتب تھانوی کی سیاسی کنارہ کشی نے مکتب مدنی کو یہ خلا پر کرنے پر ابھارا اور ستر کی دہائی تک پاکستان کے معروضی حالات میں جمعیۃ نے بھرپور سیاسی کردار ادا کیا۔تاہم پاکستان کی جمعیۃ اور ہندوستان کی جمعیۃ دونوں کی سیاسی ترجیحات میں نمایاں فرق رہا۔ 
ستر کی دہائی کے بعد جب امریکہ بہادر نے سرد جنگ کے لیے ماحول بنانا چاہا توضیاء الحق کے ذریعے پاکستان میں موجود جمعیۃ کے مذہبی اثر ور سوخ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا ۔چنانچہ ایک طرف مکتب مدنی کے نام لیوا علماء (جمعیۃ)کی ایک بڑی تعداد بھی حالات کی رو میں بہہ گئی اور تحریک طالبان کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی۔ اس دور میں مکتب مدنی کے بعض علماء نے اسے شیخ الہندؒ اور مولانا مدنی ؒ کے اصولوں سے رو گردانی قرار دیتے ہوئے مخالفت بھی کی مگر انہیں دیوار کے ساتھ لگادیاگیا۔ دوسری طرف مکتب تھانوی کے نام لیواء علماء جو سیاست سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے تھی ایک مرتبہ پھر سیاست میں آئے اور تحریک طالبان کی حمایت میں متعددفتاوی جاری کیے اور کتب لکھیں۔ اس کا معاوضہ انہیں مدارس کی بڑ ی بڑی عمارت اور لاکھوں مالیت کے چندوں سے نوازا گیا۔ پاکستان میں ان دونوں مکاتب فکر نے تحریک طالبان کی مکمل حمایت کی اور سرمایہ دارانہ نظام کا آلہ کار بن کر سوشلسٹ نظام کو شکست دینے میں اپناکردار اداکیا۔لیکن جب عالمی منظرنامہ تبدیل ہوا اور وقت کے مجاہد وطن کے غدار ٹھہرے تو ان دونوں مکاتب فکر نے بڑی چابک دستی سے اپنی پالیسی تبدیل کی ۔چنانچہ ایک مکتب فکر اپنا ماضی کا ٹریک ریکارڈ اٹھاکرثابت کرنے لگا کہ ان کا تو کبھی سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں رہا اور مسجد ومدرسہ کی گوشہ نشینی اور تعلیم وتعلم ہی ہمیشہ ان کا شعار رہا ہے۔جبکہ دوسرے مکتب فکر نے سیاست کی چھتری کے نیچے اپنے حواریوں سمیت پناہ لی ۔البتہ مطعون مدنی فکر کو اپنے سیاسی پس منظر کے باعث ہونا پڑا۔
اس دور میں پاکستانی مدارس کے طالبان کی ریکروٹمنٹ کے لیے ضروری تھا کہ ان کی مناسب ذہن سازی کی جائے اور ماضی کے کرداروں کو نئے روپ میں پیش کرکے ان کے جذبے کو مہمیز دی جائے۔اس ضمن میں ماضی کی قریب ترین مثال سید احمد شہید اور ان کی تحریک کی شکل میں موجود تھی۔پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ اس تحریک کا تعلق بھی قریب اسی خطے سے تھا جس خطے میں یہ تحریک برپا ہونے جارہی تھی۔اسی بنا ء پر سید احمد شہید کی تحریک کو پاکستانی طالبان کے لیے ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا اور تھانوی و مدنی مکتب فکر کے نام لیواؤں کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی اور متعدد دوسری جماعتوں کے سرکردہ علماء نے اس کی سرپرستی کی۔قطع نظر اس بات کے کہ حضرت تھانویؒ اور حضرت مدنیؒ کی اصولی فکر سے ان دونوں مکاتب فکر کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔ایک مخصوص دور تک تو اس ترکیب نے کام کیا لیکن جب عالمی منظرنامہ تبدیل ہوا اور سامراج کی ضروت پوری ہوگئی اورانہی طالبان کو دہشت گردوں کے خطاب سے نوازا گیا تو ان تحریکوں کی سرپرستی کرنے والے مقدس ہاتھوں نے بھی ان کے سروں سے ہاتھ کھینچ کر انہیں تحریکی یتیمی کا شکار کردیا۔چنانچہ جس مائنڈ سیٹ کی تخلیق میں دہائیاں صرف ہوئی تھیں چونکہ اس کو یکایک تبدیل کیاجانا ممکن نہیں رہاتھا،اس لیے اس کے آفٹر شاکس سے قوم اب تک دوچار ہے۔
آج عالمی سامراج خود اس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ ہم نے روس کے خلاف طالبان کو استعمال کیا اور متعدد ثبوت اس کے سامنے بھی آچکے ہیں۔ اس ضمن میں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ جن علماء عظام اور مفتیان کرام نے دینی مدارس کے مخلص طلباء کے جذبات کو استعمال کیا اور انہیں سیدین کی تحریک جیسی آزادی پسند تحریکوں کا جانشین قرار دے کر عالمی سامراج کی جنگ میں جھونکا،کیا وہ اب بھی اپنے اسی مؤقف پر قائم ہیں؟ہمارے وہ علماء وشیوخ جنہوں نے افغانستان کے حوالے سے جہاد کے فتاویٰ شائع کروا کر بلکہ اس میں خود عملاً شریک ہو کر ’’ شیخ المجاہدین ‘‘ اور ’’ سرپرست مجاہدین ‘‘ کے القابات پائے اور اس عمل کو ’’ اعلاء کلمۃ الحق ‘‘کا عظیم فریضہ قرار دیا، آج پاکستان کے معروضی حالات میں ان کی فقہی بصیرت نے انہیں خاموش کیوں کرا رکھا ہے ۔
اس سب کے باوجود یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ تحریک سیدین اور تحریک طالبان میں نتیجے کے اعتبار سے بعض چیزیں مماثل بھی نظر آتی ہیں ۔مثلاًتشدد کا جوعنصر سیدین کی تحریک میں شامل ہوا وہ ہمیں تحریک طالبان میں بھی نظر آتا ہے۔فرق یہ ہے کہ پہلی تحریک میں یہ عنصر مسلکی وفروعی تھا جبکہ دوسری تحریک میں یہ قبائلی اور لسانی تھا۔تاہم نتیجہ دونوں کا یکساں تھا۔اسی طرح حالات و زمانہ کی رعایت کوجس طرح سیدین کی تحریک میں نظر انداز کیا گیا،وہی طرز عمل ہمیں تحریک طالبان میں بھی نظر آتا ہے۔سیدین کی تحریک کی ناکامی کے نتیجے میں جو تشددپسندانہ ذہنیت الگ ہوئی وہی تشدد پسندانہ ذہنیت ہمیں تحریک طالبان میں بھی نظر آتی ہے،جس نے عالم اسلام میں ایک طوفان بدتمیزی بپا کر رکھا ہے۔اگر غور کیا جائے تو جنگ صفین میں بھی اس طرح کی تشدد پسند ذہنیت خوارج کی شکل میں الگ ہوئی تھی۔بہرحال جوعسکری اغلاط سیدین کی تحریک کے ناکام ہونے کا سبب بنیں ان میں سے اکثر اغلاط تحریک طالبان میں بھی دہرائی گئیں۔ اس پہلو پر سید احمد شہید کی تحریک پر لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا ہے جس کا اعادہ سعی لاحاصل ہے۔
خلاصہ یہ کہ سیدین کی تحریک کی ناکامی کے بعدمولانا ولایت علی اور ان کی جماعت نے اپنی نسبت سید احمد شہیدکی طرف منسوب کی اور سید احمد شہید کے تصور جہاد کی ہمہ گیریت کو قتل وغارت گری اور تشددوتعصب کے ذریعے مسخ کیا۔ تاہم سید احمد شہیدکی جماعت کے حقیقی حاملین نے اسے پیش آمدہ قومی و جمہوری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا اور تشدد کی بجائے عدم تشدد کا اصول اپنایا۔اس بناء پر اب کوئی بھی تحریک جو اپنی نسبت سید احمد شہید کی طرف کرتی ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اگروہ تشدد کی راہ پر ہے تو اس کی نسبت سید ین کی تحریک سے وہی ہوگی جو مولانا ولایت علی اور ان کی جماعت کی تھی۔اس ضمن میں برصغیر کی کوئی بھی اسلامی تحریک اس فکری تسلسل کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔بہر کیف سیدین کی تحریک ایک قومی تحریک تھی جس نے برصغیرکی آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا جبکہ تحریک طالبان عالمی سامراج کی جنگ تھی جس میں ہماری حیثیت محض کرایے کے سپاہی کی تھی ۔اس کرایے کی جنگ کوحقیقی آزادی پسند قومی تحریک سے کیونکر نسبت ہو سکتی ہے۔
بنا بریں ہم کہہ سکتے ہیں کہ نتائج کے اعتبار سے تو بعض جگہ دونوں تحریکات میں مماثلت ہے مگر فکری و نظریاتی اعتبار سے تحریک طالبان کو سیدین کی تحریک سے دور کی بھی کوئی نسبت نہیں ۔جو علماء کرام حقیقی دیوبندیت بالخصوص مدنیت وتھانویت کے تناظر میں تحریک طالبان کو سیدین کی تحریک کے مماثل قرار دینے کی تاویل کرتے رہے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ان کی فکر کا تعلق کم از کم اس دیوبند سے تو نہیں ہے جو حضرت مدنی اور حضرت تھانوی کا دیوبند تھا۔

ممتاز قادری کی سزا ۔ ڈاکٹر شہباز منج کے خیالات پر ایک نظر

مولانا قاضی نثار احمد

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے دسمبر کے شمارے میں ممتاز قادری کی سزا کے حوالے سے ڈاکٹر محمد شہباز صاحب کا مضمون پڑھا۔ موصوف نے تحفظ شریعت کانفرنس کے ایک فیصلے پر نظر ڈالتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے، اس کو پڑھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ ہم لوگ مغربی اور یورپی ممالک کے پروپیگنڈے سے اتنے مرعوب ہوچکے ہیں کہ ان کو خوش کرنے اور انھی کی زبان بولنے کو اپنا فریضہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ جناب موصوف نے تحفظ شریعت کانفرنس کی طرف سے عدالت کی طرف سے ممتاز قادری کو سنائی گئی سزائے موت کو غیر شرعی قراردیتے ہوئے سپریم کورٹ کو سزاواپس لینے کے مطالبے پر لکھا ہے۔ ان سے یہ ہضم ہی نہیں ہورہا کہ اس قدر غلط اور غیر معقول فیصلے کی بڑے بڑے مذہبی ستونوں نے تائید کردی ہے۔ موصوف نے اپنی جس حیرت اور تعجب کا اظہار کیا ہے، پورا مضمون پڑھ کر ہمیں ان کی حیرت اور تعجب پر حیرت اور تعجب ہورہا ہے۔ موصوف نے ایک طرف توہین رسالت کی سزا کی حمایت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ اس سزا کے حامی ہیں اور اس قانون کو کسی بھی طور پر ختم نہیں ہونا چاہیے اور دوسری طرف قادری کی سزا کو غلط قرار دینے کے خلاف اپنے مزعومہ دلائل دیتے ہوئے اس سزا کے حق میں لکھا ہے۔موصوف نے سارا زور اس بات پر لگایا ہے کہ ممتاز قادری نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر نہ صرف ناجائز کام کا ارتکاب کیا ہے بلکہ وہ سلمان تاثیر کے قتل ناحق کے مرتکب بھی ہوئے ہیں۔
اس سلسلے میں انہوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے نقصانات کے حوالے سے جو مثالیں دی ہیں اور جن پر قیاس کیا ہے، بنظر انصاف دیکھا جائے تو یہ قیاس مع الفارق ہے۔ موصوف نے توہین رسالت کے جرم کی نوعیت اور سنگینی کو سمجھا ہی نہیں۔ وہ یہ سمجھ نہیں سکے کہ ایک مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے مگر اپنے نبی کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔ نیز یہ کہ اس کی ایمانی غیرت اس موقع پر کیا تقاضا کرتی ہے؟ انہوں نے اس جرم کو بھی ان عام جرائم کی طرح سمجھا ہے جن میں مظلوم قانون کو ہاتھ میں لے لے تو اس سے معاشرے میں گوناگوں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں ہمار ا مقصد توہین رسالت کی شرعی حیثیت کو واضح کرنا نہیں ہے کیونکہ اس سے موصوف بخوبی واقف ہیں۔ طنز کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ تحفظ شریعت کانفرنس کے فیصلے کی عبارت سے یوں لگ رہا ہے کہ خدانخواستہ کتاب و سنت، اسوہ رسول وصحابہ رضی اللہ عنہم اور چودہ سو سالہ اجماع کا بنیادی مسئلہ اور مقصد وحید ممتاز قادری کیس کا فیصلہ کرنا تھا کہ کہیں کسی کو اس سزا کے شریعت کے خلاف ہونے میں شک باقی نہ رہ جائے۔ حقیقت یہی ہے کہ ممتاز قادری کو دی جانے والی سزائے موت کے غیر شرعی ہونے میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے۔ 
ممتاز قادری نے کسی معصوم مسلمان کے قتل کا ارتکاب نہیں کیا ہے کہ اس کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا جاتا، بلکہ اس نے ایک مباح الدم گستاخ رسول کو قتل کیا تھا جس کے سلسلے میں بس اتنا شکوہ کر لیا جاتا کہ ا س نے قانون کو کیوں اپنے ہاتھ میں خود لے لیا تو بات کسی حد تک معقول ہوتی، مگر موصوف نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے ’’جرم‘‘ اور قتل کے جرم، دو الگ الگ چیزوں کو خلط کرتے ہوئے ممتازقادری کی گردن پر دونوں ڈال دیے ہیں، جبکہ حقیقت میں ممتاز قادری پر شرعاً قتل کا جرم عائد ہی نہیں ہوتا کیونکہ اس نے ایک واجب القتل، مباح الدم شخص کو قتل کیا ہے جس کا خون شریعت کی نظر میں رائیگاں ہے۔ رہی بات قانون کو ہاتھ میں لینے کی تو یہ الگ بات ہے جس پر بحث کی گنجائش ہے کہ اس کو جرم کے زمرے میں لانا درست ہے یا نہیں؟ بہر حال اس پر ممتاز قادری کو سزائے موت سنانا اور اس فیصلے کے خلاف تحفظ شریعت کانفرنس کے فیصلے کو خلاف عقل اور غلط کہنا سراسر بے انصافی اور ظلم ہے۔ 
موصوف نے ایک طرف خود عدالتی نظام میں موجود ان خامیوں کی نشاندہی کی ہے جس کی وجہ سے عدالت سے عموماً انصاف نہیں ملتا۔ دوسری طرف ممتاز قادری اور مسلمانوں کو یہی مشورہ دیا ہے کہ وہ عدالت پر اعتبار کریں اور اسی کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہیں۔ اس طرح موصوف کی باتوں میں کافی حد تک تضاد نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر محمد شہباز صاحب نے عدالتی نظام میں جن خرایبوں کی خود نشاندہی کی ہے، انھی خرابیوں کی بنا پر ہم ممتاز قادری کو قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبور و معذور سمجھتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ موصوف اس موقع پر عدالتی نظام اور ہمارے قانون میں موجود ان خرابیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے جن کی بنیاد پر ممتاز قادری کو قانون اپنے ہاتھوں میں لینا پڑا، مگر موصوف نے اپنی متضاد کڑوی باتوں کا رخ سارا کا سارا ممتاز قادری اور ان کے حمایتی علماء کے طرف موڑا ہوا ہے۔
موصوف نے لکھا ہے کہ ’’اگر عدالتی پروسیجر میں پڑنے کے سبب بڑے اور بااثر ملزموں کے اپنے اثر ورسوخ کی وجہ سے سزا سے بچے رہنے کے اندیشے کے تحت توہین رسالت کے ملزم کو ذاتی حیثیت میں قتل کرنا جائز کہا جائے تو بااثر قاتلوں اور ظالموں کے ٹرائل میں پڑ کر چھوٹ جانے کے خدشے کی وجہ سے ایک مقتول کے غریب اور بے سہارا ورثہ اور مظلوموں کے اس سے خود انصاف لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کو کس دلیل کی بنا پر ناجائز کہا جائے گا؟‘‘ نیز ۔لکھا ہے کہ ’’شریعت دراصل لوگوں کی اصلاح کے لیے ہے اور سزادینا اس کی ضرورت اور مجبوری ہے ، خوشی اور دل لگی نہیں۔ عجب ستم ظریفی یہ ہے کہ جس شریعت کی خوشی لوگوں پر سے سزائیں ٹالنے میں ہے، ہم ایسی سزائیں زبردستی نافذ کرکے خوش کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ موصوف نے اس طرح قیاس مع الفارق کرنے سے قبل اس نکتے پر غور نہیں کیا کہ عام قتل اور توہین رسالت کے جرم میں بہت بڑا فرق ہے۔ نیز ایک جرم قابل معافی ہے تو دوسرا نا قابل معافی۔ اس لیے موصوف کا جب سوال ہی درست نہیں ہے تو اس کے جواب کے درپے ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ 
دراصل اسلام ایک دین اعتدال ہے جو ہر مزاج کے لوگوں کے لیے ہے، چاہے فطرتاً سخت مزاج کے ہوں یا نرم مزاج کے۔ دونوں طبائع کے لحاظ سے اسلام نے کچھ جرائم کو قابل معافی رکھا ہوا ہے اور کچھ کو ناقابل معافی۔ اگر دین اسلام میں ہر جگہ ہی عفوو درگزر کی تعلیم ہوتی تو یہ ان طبایع کے لیے ناقابل قبول ہوسکتا تھا جن کو اللہ تعالیٰ نے خلق سختی کی طرف مائل پیدا فرمایا ہے اور اگر ہر جگہ سزا ہی سزا ہوتی تو یہ ان طبایع کے لیے گراں گزرسکتا تھا جن کو اللہ تعالیٰ نے نرم مزاج پیدا فرما یا ہے۔ اس لیے اسلام میں سزا و جزا ، معافی و نامعافی دونوں کا تصور ہے۔ سلمان تاثیر کے جرم کا تعلق ناقابل معافی سزا سے تھا چنانچہ اس پر خوش ہونے کی بجائے افسوس کا اظہار کرنا نادانی اور حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ مگر ہماری بدقسمتی اور المیہ یہ ہے کہ کنویں کے مینڈک کی طرح اسی کنویں کو دنیا سمجھ بیٹھے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ جو چیز ہماری سمجھ کو صحیح لگے، وہ صحیح ہے اور جو غلط لگے، وہ غلط ہے حالانکہ دنیا بہت وسیع ہے اور یہاں ہر طرح کے مزاج کے لوگ ہیں۔ کبھی اپنے ذاتی خول، پسند اور ناپسند سے باہر نکل کر بنظر انصاف شرعی حدود اور سزاؤں اور ان کی حکمتوں میں غور کرلیا ہوتا تو یہود و نصاریٰ کے پروپیگنڈے کے اثر سے آزاد ہوکرہمیں حقیقت کو سمجھنے میں مدد ملتی۔
مگر ایسا نہ کرنے کی وجہ سے موصوف جیسے حضرات آخر میں یہ لکھتے نظر آتے ہیں کہ ’’ذاتی حیثیت میں ایسے قتل کو سند جواز عطاکرنا سوسائٹی کو انارکی اور تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔ کیا دینی قوتوں کو سامنے کی یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ چیز تو ان کے اپنے کاز کو نقصان پہنچانے والی ہے؟ اس نوع کے مواقف کو اپنانے کے نتیجے میں اہل مذہب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔۔۔قانون توہین رسالت کے خاتمے کے لئے آواز اٹھائی جاتی ہے۔‘‘ اس کے جواب میں ہم اتنا عرض کر سکتے ہیں کہ تحفظ شریعت کانفرنس کی طرف سے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی حمایت ذاتی حیثیت سے نہیں بلکہ شرعی حیثیت سے کی گئی ہے اور اگر یہ شرعی حیثیت موصوف کو سمجھ نہ آسکی تو ہم اس کے لیے دعا ہی کر سکتے ہیں۔ نیز اس طرح کا قتل سوسائٹی کو انارکی اور تباہی سے نکالنا ہے تاکہ ایسے جرائم کا آئندہ سد باب ہوسکے۔ 
موصوف نے اہل مذہب کو جس شدیدتنقید کا نشانہ بنانے کے ڈر کا اظہار کیاہے اور اس قانون توہین رسالت کے خاتمے کی آواز اٹھائے جانے پر اپنی پریشانی کا اظہار کیا ہے جس کے بقول ان کے وہ خود بھی حمایتی ہیں تو اس طرح کامضمون لکھ کر وہ اسلام اورمسلمانوں پر اغیار کی طرف سے متوقع تنقید سے کبھی نہ خود بچ سکتے ہیں اور نہ ہی مسلمان ممتاز قادری کو سنائی جانے والی سزائے موت کے فیصلے کی حمایت کرکے نکل سکتے ہیں۔اگر اس تنقید سے شدید گھبراہٹ ہورہی ہے جس سے نکلنا بہت ضروری ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ معاذ اللہ یہود ونصاریٰ کی پیروی کر لی جائے تاکہ وہ خوش ہوسکیں، ورنہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق یہود ونصاریٰ کی تنقید سے بچنے اور ان کو خوش کرنے کا کوئی اور طریقہ کامیاب نہیں ہے۔ وَلَنْ تَرْضَی عَنْکَ الیَھُودُ وَلَا النَّصَارَی حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
آج کل سوشل میڈیا پر’داعش‘ کے متعلق مولانا سید سلمان صاحب ندوی کا ایک مضمون بڑے پیمانے پر نشرکیا جا رہا ہے جس میں انھوں نے مذکورہ تنظیم کو سلفیت سے منسلک کرتے ہوئے سلفی منہاج فکر اور سلفی علما کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ قبل ازیں انھوں نے اس تشدد پسند گروہ کی تحسین و ستایش کرتے ہوئے اس کے سربراہ ابو بکر البغدادی کو ایک خط بھی لکھا تھا جس میں ان سے مختلف اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔ بہ ظاہر یہ مضمون اپنے اسی سابقہ موقف کے کفارے کے طور پر لکھا گیا ہے جس میں سلفیت خواہ مخواہ زیر عتاب آگئی ہے۔ ہم نے بعض احباب کے توجہ دلانے پر موصوف کی اس تحریر کا مطالعہ کیا تو بے حد افسوس ہوا کہ ان کا تجزیہ غیر جانب دارنہ نہیں ہے بلکہ غلطی ہاے مضامین کا شاہ کار ہے۔ اس پرمفصل نقدکی خاطر تو ایک مبسوط مضمون ہی کی ضرورت ہے جس کا فی الحال موقع نہیں؛ البتہ چندمختصر نکات کی صورت میں ایک اجمالی تبصرہ پیش خدمت ہے:
1) تشدد اور بدامنی کا رشتہ سلفیت سے جوڑنا صریح ناانصافی اور خلاف حقیقت ہے۔ سلفیت نام ہے: نصوص کتاب و سنت کو فہم سلف کی روشنی میں سمجھنے اور سمجھانے کا اور اپنے تمام تر افکار و اعمال کو ان کے مطابق ڈھالنے کا اور بس! قرون مفضلہ کے اسی نظریے کوقرون متوسطہ میں شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ نے اور عہدِ متاخر میں امام محمد بن عبدالوہابؒ نے پیش کیا؛ فی زمانہ عرب کے سلفی علما اور برصغیر کے اصحاب الحدیث اسی کے پر چارک ہیں۔
2)شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ عظیم مجدد،مصلح اور داعیِ توحید تھے جنھوں نے قرآن و حدیث کی واضح تعلیمات اور سلف صالحین کے طرز عمل کی اتباع میں عقیدۂ توحید اور اس کے تقاضوں کو شرح و بسط سے اجاگرکیا اور معاشرے میں دَر آنے والی بدعات اور مزخرفات پر تنقید کی۔ ان پر کفر سازی یا قتل مسلمین کے الزامات غلط فہمی پر مبنی ہیں جن کے ازالے کے لیے مولانا مسعود عالم صاحب ندویؒ [ایک وہ ندوی تھے اور ایک ہمارے ممدوح ہیں!] کی وقیع کتاب’’شیخ محمد بن عبدالوہابؒ : ایک مظلوم اور بدنام مصلح ‘‘کا مطالعہ بے حد مفید رہے گا۔ برصغیر میں بعض علماے دیوبند نے بھی ان پر اعتراضات کیے تھے لیکن اس کی وجہ ان کے احوال کی تفصیلات سے عدم واقفیت تھی جیسا کہ معروف دیوبندی عالم اور مناظر مولانا منظور احمد صاحب نعمانی نے اپنی کتاب’’شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کے خلاف پراپیگنڈا اور علماے حق پر اس کے اثرات‘‘ میں اس امر کی وضاحت کی ہے۔ واضح رہے کہ دارالافتا، دارالعلوم دیوبند کی آفیشل ویب سائٹ پر ایک سوال کے جواب میں اس کتاب کی تائید و تصدیق کرتے ہوئے امام محمد بن عبدالوہاب کو اہل سنت قرار دیا گیا ہے۔
3) داعش کا ناتا سلفیت سے ملانا اور پھر پورے سلفی مدرسہ فکر کو اس کا ذمہ دار ٹھیراتے ہوئے اسے مطعون کرنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے بعض لوگ پاکستانی طالبان ،لشکر جھنگوی اور بعض دیگر متشدد گروہوں کو حنفی دیوبندی قرار دے کر پورے دیوبندی مکتب خیال کو نشانہ جرح بنالیتے ہیں اورخطے میں بپا قتل و غارت اور بد امنی و فساد کا منبع حنفیت اوردیوبندیت کو گردانتے ہیں!!ہماری رائے میں دونوں رویے نامنصفانہ اور افراط و تفریط کے مظہر ہیں کیوں کہ کسی بھی مسلک کے عقائد و افکار کی نمایندگی اس کے معتبر اور کبار علماسے ہوتی ہے جب کہ یہاں عالم یہ ہے کہ سعودی عرب کے مفتیِ اعظم اپنے خطبہ حج میں ’داعش‘کو گم راہ کہتے اور اس سے اظہارِ براء ت کرتے ہیں اور آج تک کسی بھی معروف سلفی عالم نے اس تنظیم کی تائید و حمایت نہیں کی؛ اس کے باوجود داعش کا نام لے کر سلفیت اور سلفیوں کو رگیدتے چلا جانا عدل و انصاف کے کون سے پیمانوں پر پورا اترتا ہے؟ معلوم ہوتا ہے ایک منحرف گروہ کا بہانہ بنا کر تجزیے کے عنوان سے دل کا پرانا بخار نکالا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں ایسے ارباب دانش بھی موجود ہیں جو موجودہ صورت حال کی تمام تر ذمہ داری شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مفتی تقی عثمانی اور مولانا زاہدالراشدی سمیت پورے مذہبی حلقے پر ڈالتے ہیں!!
4) مولاناسید سلمان صاحب ندوی عالم دین ہیں؛ اس پہلوسے ان کا احترام واجب ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ وہ موقع بہ موقع سلفیت پرتند وتیز لہجے اور سخت الفاظ میں ناروا تنقید کرتے رہتے ہیں۔ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ سیاسی مسائل ہوں یا دیگر فکری و مذہبی امور، ان میں اختلاف کی گنجایش ہمیشہ رہتی ہے اور صحت مند تنقیدسے معاملے کے نئے گوشے سامنے آتے ہیں جس کی اہمیت سے کسی طور انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن محترم موصوف اکثر و بیش تر حد اعتدال سے تجاوز کر جاتے ہیں؛ پھرجذباتی انداز اور فکر کا الجھاؤ تحریر کی سلاست، روانی اور ادبی چاشنی کو بھی سلب کر لیتا ہے اورقلم سے اس نوع کے جملے صفحہ قرطاس پر آتے ہیں:’’یہ ساری تنظیمیں سلفیت کے پیٹ سے پیدا ہوئی ہیں۔۔‘‘، ’’اس کے فکری دھماکے۔۔۔‘‘، ’’اس کی شرعی ماں القاعدہ ہے!!‘‘بہ ہر حال ان کا اسلوب جارحانہ اور جانب دارانہ ہوتا ہے اور وہ مسائل یا نظریات پر گفتگو کے بجاے پورے مکتب فکر کو مورد الزام ٹھیراتے ہیں جو علمی تنقید کے معیارات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ 
مولانا موصوف کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک عجلت پسند اور متلون مزاج انسان ہیں؛ کل تک وہ داعش کی تعریف میں رطب اللسان تھے اور آج اسے برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ مناسب نہ تھا کہ وہ اس تنظیم سے متعلق پہلے ہی اچھی طرح تحقیق کر لیتے اور پھر اپنی رائے قائم کرتے جب کہ سلفی علما اول روزسے اس کی حقیقت آشکار کر چکے تھے! لیکن انھوں نے غالباً طلب شہرت کے پیش نظر’امیر المومنین‘ کے نام مکتوب لکھا اور اسے عام شائع کیا۔ ہمیں تسلیم ہے کہ انسان سے اندازے کی غلطی ہو جاتی ہے اور وہ تفاصیل و جزئیات سے بے خبری کے سبب کوئی غلط رائے بنا لیتا ہے، لیکن یہ کیا انداز ہے کہ اپنی غلطی سے رجوع کرتے ہوئے غیر متعلق نکات پربحث شروع کر دی جائے اورسارا ملبہ اْن لوگوں پر ڈال دیا جائے جن کا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں!!گویا مولاناے محترم ایک مرتبہ پھر وہی غلطی دہرا کر اپنی عجلت پسندی اور ناعاقبت اندیشی کا ثبوت بہم پہنچا رہے ہیں!! 
5) آخر میں ہماری دردمندانہ گزارش ہے کہ آج جب کہ امت کو کفر ونفاق اور الحادو لادینیت کے خلاف متحد اور متفق ہونے کی اشد ضرورت ہے ،اس نوع کی تحریریں ہر گز سود مند نہیں ہو سکتیں بلکہ یہ حنفیت اور سلفیت میں فاصلوں کو بڑھانے کا باعث ہوں گی؛ جب کہ ہماری نگاہ میں یہ دونوں مکاتب اپنے اپنے انداز سے اسلام کی تشریح و تعبیر کرتے ہیں جن میں علمی مکالمہ جاری رہنا چاہیے؛ پس ہر دو کی توقیر لازم ہے اور ان سے وابستہ افراد کو ایک دوسرے سے قریب کرنا نہ صر ف یہ کہ مذہب کا ضروری مطالبہ ہے بلکہ حالات کا بھی اولین تقاضا ہے۔ جو احباب ندوی صاحب کے اس مضمون کو بہت ہی نادر اور قیمتی سوغات سمجھ کر اس کی اشاعت عام رہے ہیں، اگرچہ یہ اْن کا حق ہے لیکن ہماری استدعا ہے کہ یہ ہر گز کوئی مستحسن عمل نہیں ہے کہ اس کی افادیت توشاید ایک فی صد بھی نہ ہو، البتہ مضر اثرات بہت زیادہ ہیں؛اس لیے اس سے گریز ہی فرمائیں تو بہتر ہو گا:ع
مانیں، نہ مانیں، آپ کو یہ اختیار ہے 
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں!
حافظ طاہر اسلام عسکری
(مدیر،سہ ماہی نظریات،لاہور)

(۲)

تاریخ اسلام کا مطالعہ ہمیں اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ مسلمانوں میں آج تک جتنے فتنوں نے سراُٹھایا ،وہ سب اسلام کی غلطی تشریح و تعبیر کا نتیجہ تھے۔ ایسے ادارے، ایسی تحاریک اور ایسے افراد جنھوں نے اسلام کو منہج سلف سے ہٹ کر سمجھنے کی کوشش کی ،گمراہی و ضلالت ان کا مقدر ٹھہری۔ جہمیہ، مرجۂ، کرامیہ، خلاسفہ، قراطہ، سوفسطائیہ، باطنیہ، لاادریہ، خوارج ،روافص و نواصب، یہ سب اسلام کی غلط تشریح و تعبیر کے نتیجے میں پیدا ہوء۔ 
عصر حاضر میں دو فتنے ایسے ہیں جو منہج سلف سے ہٹے ہوئے ہیں۔ ایک فتنۂ خوارج (جس کی نمائندگی پاکستانی طالبان، القاعدہ و داعش جیسی تنظیمیں کررہی ہیں) اور دوسرا فتنہ غامدیت(جس کی قیادت جاوید احمد غامدی اور ان کا ادارہ کررہا ہے)۔ یہ دونوں تحاریک دراصل ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ عہدِ حاضر کا فتنۂ خوارج ان افکار و نظریات کی ضد میں پیدا ہوا ہے جو افکارو نظریات آج جاوید احمد غامدی پیش کررہے ہیں یا پھر ان کے اعلانیہ و غیر اعلانیہ حامیان۔ ان میں سے ایک فکر گمراہی کے ایک دہانے پر ہے اور دوسری فکر گمراہی کے دوسرے دہانے پر۔ جبکہ اسلام کی فکری ونظریاتی شاہراہ ان کے درمیان ہے جو کہ سلف صالحین کی راہ ہے۔ فتنۂ خوارج و غامدیت کا حال کچھ ایسا ہے کہ بقول مفتی تقی عثمانی مدظلہم :
’’جب ایک مرتبہ کوئی صاحبِ فکر جمہورامت کے مسلمات سے آزاد ہوکر اپنی راہ الگ اختیار کرلیتا ہے اور یہ تصور کرلیتا ہے کہ وہ اِن مسلمات کے بارے میں پہلی بار اصابتِ فکر سے محروم رہے ہیں ،توان کے اوپر کوئی روک باقی نہیں رہتی۔ ماضی میں یہی طرزِ فکر نہ جانے کتنی گمراہیاں پیدا کرچکا ہے۔ طہٰ حسین سے لے کر سرسید تک اور وحید الدین خان سے لے کر جاوید احمد غامدی تک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اپنے اپنے وقت میں اس طرزِ فکر نے دلائل کا زور بھی باندھا ،لیکن امتِ اسلامیہ کا اجتماعی ضمیر رفتہ رفتہ اسے رَد کرکے اس طرح آگے بڑھ گیا کہ اس کا ذکر صرف کتابوں میں باقی رہ گیا۔ بالخصوص آج کے دور میں جس طرح کے افکار،دین میں تحریف کے درپے ہیں، اس کے سواسلامتی کا کوئی راستہ نہیں کہ انسان علماءِ امت کے سوادِ اعظم سے اور جمہور امت کے مسلمات سے وابستہ رہے۔ بے شک انبیاء کرام ؑ کے سوا کوئی معصوم نہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہ ہونا چاہیے کہ انسان جمہور علماءِ امت کے مقابلے میں خود کو معصوم سمجھنے لگے اور یہ سمجھے کہ اُن سب سے بیک وقت غلطی ہوئی ہے،مجھ سے نہیں۔‘‘ (ماخوذ از مجلہ صفدر، فتنہ غامدی نمبر، جلد اول) 
برِصغیر احیائے اسلام کی ایک عظیم تحریک ،جو کہ امیر المومنین مجاہدِ کبیر سید احمد شہیدؒ کی امارت میں اٹھی تھی، صحابہ کرامؓ کے بعد اخلاص و للہیت، زہد وتقویٰ ،ایما ن و عزیمت اور جرأت و استقلال کے باب میں اپنا ثانی کوئی نہیں رکھتی۔ یہ تحریک سندالہند حضرت الامام شاہ ولی اللہ نوراللہ مرقدہٗ کے افکار ونظریات سے مولود ہوئی اور امام شاہ ولی اللہؒ کے افکار و نظریات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اسلام اپنا غلبہ اور اقتدار چاہتا ہے اور غلبہ اسلام کے لیے جدوجہد کرنا مسلمانوں کے فرائض میں شامل ہے۔ امام شاہ ولی اللہؒ کی یہ فکر ان کی ذاتی و اختراعی فکر نہیں بلکہ آپ کے تمام فکری ڈانڈے سلف صالحین سے جڑے ہوئے ہیں اور سلف صالحین کا راستہ ہی ہدایت کا راستہ ہے۔ عہدِ حاضر کے خوارج اپنا فکری و نظریاتی رشتہ فکرِ سیداحمد شہیدؒ سے جوڑتے ہیں یا نہیں، لیکن غامدی افکارونظریات کے اعلانیہ و غیر اعلانیہ حامیان اپنے تئیں پاکستانی طالبان کا فکری ونظریاتی رشتہ فکر سید احمد شہیدؒ سے جوڑنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے انھیں بہت دور کی کوڑ لانی پڑے، مختلف و متنوع تحریکات کا، جو کہ مختلف ومتنوع حالات میں چلی تھیں، آپس میں رشتہ جوڑنا پڑے، یا پھر مختلف تحاریک کو اپنے ذہنی تخیلات کی بنیاد پر اپنا مَن چاہا مفہوم پہنانا پڑے تو وہ کسی بھی بات سے نہیں چوکتے۔ 
راقم الحروف کے مطابق، اگر کسی شخص نے پاکستانی طالبان کا فکری و نظریاتی رشتہ سید احمد شہیدؒ کی تحریک سے جوڑنا ہے تو وہ اِن دنوں تحریکات کے افکار ونظریات میں باہمی یکسانیت پیش کرے کہ کیا سید صاحبؒ فاسق و فاجر مسلمانوں کی تکفیر کرتے تھے اور کیا سید صاحبؒ نے کبھی بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کے قتل کو جائز سمجھا۔ ہمیں ان سوالوں کا جواب نفی میں ملتا ہے ،جبکہ پاکستانی طالبان (خوارج) فاسق و فاجر مسلمانوں کی تکفیر بھی کرتے ہیں اور بے گناہ انسانیت کو ’’انصارانِ طاغوت‘‘ جیسے القاب سے ملقب کرکے مباح الدّم قرار دیتے ہیں ۔اس لیے اُن حضرات کے دلائل میں کوئی وزن نہیں جو پاکستانی طالبان کو نفاذِ شریعت کا دعوے دار قرار دے کر ان کو فکر سید احمد شہیدؒ کا تسلسل قرار دیتے ہیں، کیونکہ غلبۂ اسلام کے لیے جدوجہد کا نظریہ صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم، ائمہ مجتہدین اور سلف صالحین کے ہاں بھی پایا جاتا ہے۔ اگر غامدی افکار کے اعلانیہ و غیر اعلانیہ حامیان نے محض غلبۂ اسلام کی جدوجہد کے نام پر پاکستانی طالبان کا سید صاحبؒ سے رشتہ جوڑنا ہے تو پھر انھیں پاکستانی طالبان کا فکری ونظری رشتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور حضرات سلف صالحین سے بھی جوڑنا ہوگااوراگر سلف صالحین سے ان کا رشتہ نہیں جوڑتے تو پھر لامحالہ سید صاحبؒ سے بھی نہیں جوڑ سکتے، کیونکہ پاکستانی طالبان بھی اسی طرح منہج سلف سے ہٹے ہوئے ہیں جس طرح فکرِ غامدی منہج سلف سے ہٹی ہوئی ہے۔ 
محمد یاسر الحسینی

ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان : بین المذاہب اور بین المسالک تناظرات کی نئی تشکیل

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مرکز برائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانانِ ہند( CEPECAMI)، علی گڑھ پلیٹ فارم اورفیوچراسلام ڈاٹ کام کے اشتراک سے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں 17دسمبر2015کوایک یک روزہ عالمی کانفرنس بین المذاہب اوربین المسالک تناظرات کی تشکیل نوکے موضوع پر منعقدہوئی۔اس کانفرنس میں خصوصی خطاب پیش کرتے ہوئے خصوصی مہمان وزیرخارجہ ملائشیااوراوآئی سی کے خصوصی ایلچی سیدحامدالبرسابق نے کہاکہ موجودہ زمانہ میں مسلمان ہرجگہ محاصرہ کی حالت میں ہیں۔ ان کا دین ہی نہیں، ان کی نقل وحرکت ،آمدورفت اورگفتگوسب پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ 9/11کے واقعہ نے مسلمانوں اورمغرب کے تعلقات پر زبردست منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ہم ایک بحرانی حالت میں ہیں لہٰذاہمیں اپنے مسائل کوحل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی جس کے لیے دوسر ی قوموں سے زیادہ سے زیادہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ قرآن نے قوموں اور قبیلوں کے درمیان بہتر تعلقات پر زور دیا ہے، انسانیت کا احترام سکھایا ہے۔ ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم دوسروں سے اپنے آپ کو اعلیٰ اور برتر سمجھتے ہیں، ان سے کچھ سیکھتے نہیں۔ہمیں سوچناچاہیے کہ ہم ناکام کیوں ہیں کیونکہ ہم جمودپسندہیں۔
امریکہ سے آئے ہوئے ورلڈ پارلیمنٹ کے صدرپروفیسرگلن ٹی مارٹن نے اسلام کے تصورخودی پرایک پُرمغزخطبہ پیش کیا۔ انہوں نے حاضرین سے سوال کیاکہ آج اسلام فرانس،امریکہ اورہرجگہ محاصرہ میں کیوں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کے تصورخودی کوبھلادیاگیاہے۔انہوں نے 9/11کے بارے میں اپنی یہ رائے بھی ظاہرکی کہ وہ خودامریکہ کی اندرونی ایجنسیوں کا ہی کیا دھرا تھا۔ اپنے طویل خطبہ میں پروفیسرمارٹن نے پوری دنیاکے امن وسلامتی کے لیے عالمی شہریت کا ایک دستوربھی پیش کیا۔
آریہ سماج کے متحرک رہنماسوامی اگنی ویش نے کہاکہ لاالہ الااللہ ایک انقلابی کلمہ ہے اورتمام انسانوں کوجوڑنے والاہے۔انہوں نے کہاکہ ہم سب انسان ایک ہی فیملی ہیں، ہم نقلی بحثوں میں کیوں پڑے ہوئے ہیں۔
پروفیسرراشدشازنے اپنے مختصرکلمات میں بین المذاہب اوربین المسالک مذاکرات کی اہمیت کو اجاگرکیا۔ نیز بین المسالک مذاکرات کے لیے نئے زاویوں سے سوچنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ امت مسلمہ پر اس کی طویل تاریخ میں چار بڑے بحران آئے ہیں۔پہلابحران قتلِ عثمانؓ سے شروع ہوتاہے ،دوسرابڑابحران سقوط بغداد تھا اور تیسرا بڑا بحران خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ تھاجس کے بعدامت مسلمہ اپنی چھتری سے محروم ہوکرکھلے آسمان کے نیچے آگئی۔ چوتھا بحرانی دور آج کا ہے جس میں شرق اوسط میں مسلسل خانہ جنگی کی کیفیت ہے جس میں قاتل بھی مسلمان اورمقتول بھی مسلمان۔ آج مسلم دنیاکے مرکزی علاقہ سے اس کا Depopulation ہو رہا ہے۔
مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے امیرمولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے بھی اپنے خیالات کا اظہارکیااورعالمی امن کی کوششوں کی تائیدکی۔ اس نشست کی نظامت ڈاکٹرمحمدزکی کرمانی کررہے تھے۔ کانفرنس کے اغراض ومقاصدکا تعارف راحیل احمدنے کرایااوراحمدفوزان نے ایسسکوکے چیئرمین عبدالعزیزعثمان التویجری اوردوسری شخصیات کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔
ا س کانفرنس کا دوسراسیشن بہت اہم تھاجس کوٹاؤن ہال سیشن کا نام دیاگیا۔اس کا اندازراؤنڈٹیبل کانفرنس کا تھا۔ تقریباً دو درجن شرکائے بحث ایک گول دائرہ میں بیٹھے تھے،سب کوان کی جگہ ہی مائک مہیا کیے گئے تھے۔ شرکاء میں علما، پروفیسرز، محققین ،سماجی ایکٹوسٹ، رضاکار، صحافی دانشور، نوجوان اسکالر مردوخواتین سبھی شامل تھے۔ تقریباً 18 شرکاء نے اس بحث میں پورے جوش وخروش اورسنجیدگی سے حصہ لیا۔ اس سیشن کومرکزبرائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانانِ ہند کے ڈائرکٹر پروفیسر راشد شاز نے چلایا۔ ان کے ساتھ شیعہ تھیولوجی کے صدر پروفیسر علی محمد نقوی، ڈاکٹر زکی کرمانی، سید حامدالبر اور مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی بھی ڈائس پر موجود رہے۔ سوال اصل یہ تھاکہ وہ کیااسباب وحالات تھے کہ امت افتراق اورانتشارکا شکارہوگئی اورمتبعینِ محمدﷺمیں سے کٹ کٹ کرکتنے ہی لوگ قافلہ سے جداہوکرنئے نئے فرقے بناتے چلے گئے۔ اور اب کیاکیاجائے کہ امت پھرسے ایک پلیٹ فارم پر آجائے۔ 
مولانا محمد میاں قاسمی سنبھلی نے جوایک بڑے مدرسہ کے مہتمم ہیں، بحث کا آغازکرتے ہوئے کہاکہ میں قرآن کا مطالعہ موجودہ حالا ت کے تناظرمیں بغیرشان نزول اورتفاسیرکی محتاجی کے کرتاہوں اور قبلہ، نماز اور حج کی بنیادپر اہل قبلہ کے لیے وحدت کا ایک پروگرام بنایاجاسکتا ہے، بلکہ حج پوائنٹ پرتوتمام انسانیت کوجمع کیا جا سکتا ہے، کیونکہ قرآن حج، مسجد نبوی اورمسجد حرام کا باربارذکرکرتاہے اورکہیں پر بھی غیرمسلموں کوداخلہ سے نہیں روکتا بلکہ وہ ہر جگہ الناس کا تذکرہ کرتا ہے۔ 
مسلم یونیورسٹی کے استاد اور ڈبیٹر ڈاکٹرمحب الحق نے موجودہ دورمیں مسلمانوں کے تین رویوں کا ذکرکیا۔ 
۱۔ مسلم علما کے مذہبی جدا ل سے تنگ آکرمذہب بیزاری جس میں سیکولرحلقہ معاشرہ کو Deislamize کرنے کی آوازلگارہاہے۔
۲۔دوسرارویہ مذہب پسندحضرات کا یہ سامنے آرہاہے کہ قرآن پر basedاسلام کواختیارکیاجائے اورمذاہب فقہ اورروایات سے پیچھا چھڑایا جائے۔
۳۔تیسرارویہ جمع وتطبیق کا ہے۔ یہ رویہ تیونس کے ماڈل کو، جس کو اسلامی سیکولرزم کہا جا سکتا ہے، اختیار کرنے کی بات کہتاہے۔ڈاکٹرمحب الحق نے بھی اسی تیسری رائے کی وکالت کی ۔
دہلی سے آئے جناب نظام الدین صاحب نے کہاکہ قرآن کے ترجموں اورتفاسیرسے قرآ ن کے بہت سے الفاظ کی پوری وضاحت نہیں ہوتی، ا س لیے قرآن فہمی پر زیادہ زوردینے کی ضرورت ہے۔
پروفیسررحیم اللہ نے کہاکہ اگرچہ مدارس میں 4فیصدہی بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اوران میں بھی ایک فیصدلوگ ہی معاشرہ کی مذہبی قیادت میں آتے ہیں، مگرمعاشرہ کے سوفیصدلوگ انھی ایک فیصدکوfollow کرتے ہیں جس کی وجہ سے پورامعاشرہ مسلکی جھگڑوں میں جی رہا ہے۔ کوئی بھی آدمی الاماشاء اللہ اس سے باہرنہیں۔
شعبہ فلسفہ کے صدرپروفیسرمحمدمقیم الدین نے وحدت امت کے لیے چندتجاویزدیں:
۱۔تاریخ کے حوالہ سے جوبات ہوگی، وہ کامیاب نہ ہوگی ۔جوکچھ تاریخ میں ہوگیا، اب اس کو درست نہیں کیا جا سکتا۔
۲۔سب فرقوں کا تعلق شخصیا ت سے ہے، اس لیے ان شخصیات پرجارحانہ تنقیدیاحملہ نہ کیاجائے۔
۳۔اب جو کچھ ہو سکتا ہے، وہ یہ کہ انسان کو انسان بنایا جائے۔ اچھا انسان اور اچھا مسلمان بنانے کے لیے عقل کو معیار بنایا جائے۔ عقل کا استعمال ہواورایکReasonalble اورحقیقت پسندمسلمان بنایاجائے۔
ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی نے براہ راست موضوع پر گفتگوکی کہ امت فرقوں اور ٹکڑوں میں کیوں بٹتی چلی گئی۔ اس بات پرغورکرتے ہیں تواس کے بہت سے اسباب میں سے ایک بڑاسبب یہ بھی نظرآتاہے کہ امت میں اظہارخیال اور اظہار رائے کی آزادی چھین لی گئی۔ اشخاص اورجماعتوں کی تکفیرکی باقاعدہ مہمیں مذہبی طبقہ نے چلائیں، بات بات پر تکفیرکے فتوے دیے جانے لگے۔ ڈاکٹر غطریف ندوی نے تاریخ سے اورحا ل کے دنوں سے کئی مثالیں بھی دیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں جوآدمی بھی سلف سے اختلاف کرتا یا لکیر سے ہٹ کرکچھ سوچتایاتحقیق پیش کرتا ہے، اس پر کفرکے فتوے لگ جاتے ہیںیااُسے یہودی وصہیونی ایجنٹ قراردیاجانے لگتا ہے۔ حقیقت پسندی کی اتنی کمی ہے کہ ہمارا ہر لکھنے بولنے والاشروعات ہی مغرب کوگالیوں اورلعن طعن سے کرتا ہے۔ سازشی تھیوری میں ہم جیتے ہیں۔ جب تک ہم اس جمودِفکرسے باہرنہیں آئیں گے، چیزوں کو حقیقت پسندی سے نہیں دیکھیں گے، تب تک ہمارے مسائل حل نہ ہوں گے۔
پروفیسرگلریزاحمدنے کہاکہ موجودہ زمانہ میں multiculturalسوچ کوآگے بڑھاناچاہیے اوراسی کوبنیادبناکرہم اپنی بات کوآگے بڑھائیں۔ کرنل سراج الحق نے سوامی اگنی ویش کی تقریرچندسوالات اٹھائے۔ پروفیسرصوفی نے بھی وحدت امت کے سلسلہ میں اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے اس اصول کی طرف بلایاکہ ’’اپنے مسلک کو چھوڑو نہیں، دوسرے کے مسلک کوچھیڑونہیں‘‘۔
شرکاء سے سوال کیاگیاکہ مسلمان کسے کہیں گے اورامت مسلمہ سے کون خارج سمجھاجائے گا؟ اس سوال کے جواب میں پروفیسرعلی محمدنقوی نے کہا کہ مسلمان ہونے کے لیے’’ توحید،رسالت وآخرت پر ایمان ،ختم نبوت اورقرآن کے محفوظ وغیرمحرف ہونے پر ایمان ویقین رکھنا‘‘یہ اصول ہیں۔پھریہ بھی دیکھاجائے گاکہ وہ فردیافرقہ خود کو اسلام کا پیروکارکہتاہے یانہیں۔ تمام شرکاء نے اسلام کی اس تعریف کوجامع ومانع قراردیا۔ 
اس کے بعدایک خاتون پروفیسرنے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ ’’ہم میں بحث کے آداب نہیں۔ ادب اختلاف نہیں، عدم تحمل ہے ،برداشت نہیں ہے۔جومسالک ہیں، وہی دین بن گئے ہیں۔ اس وجہ سے نئی نسل دین سے برگشتہ ہورہی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ دعوت کا نصب العین کیاہو،اقامتِ دین اورغلبۂ دین یاکچھ اور؟انہوں نے مشورہ دیاکہ ایک ایسی جامعہ بنائی جائے جوNeutral ہواورصرف اسلام کوRepresentکرے۔
بزرگ دانشورجنا ب عابدرضابیدارنے وحد ت امت پر گفتگوکرتے ہوئے رائے دی کہ حدیثوں کی بجائے قرآن کوبنیادبنائیں توبہت سے مسئلے حل ہوجائیں گے کیونکہ ہرفرقہ اپنے مطلب کی حدیثیں بیان کردیتاہے۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ مسلمانوں کے درمیان جوفرقے بن گئے ہیں، ان کے درمیان مذاکرا ت کے لیے اہل قبلہ کے بجائے کوئی اوراصطلاح استعمال کی جائے توبہترہوگا۔
مولاناضیاء الرحمان علیمی کے نزدیک قادیانیوں اوربہائیوں سے بھی کلمہ سواء کی بنیادپر مکالمہ کا جواز پیدا ہوتا ہے۔ یہ سوال جب مولاناذیشان رضامصباحی سے پوچھاگیاتواصولی طور ،پر پروفیسرعلی محمدنقوی کی تعریف سے اتفاق کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ فقہاء کا طریقہ تحفظی ہے۔ وہ کفرکی لسٹ بناتے ہیں کہ جویہ کرے، وہ کافروہ، کرے توکافر،جبکہ متکلمین کی اپروچ زیادہ مناسب ہے جن کی رائے ہے کہ جو ضروریاتِ دین کا انکارنہ کرے، وہ مسلمان ہوگا۔ 
ڈاکٹرعبدالرؤف نے کہاکہ میراعلماسے سوال ہے کہ اگرکسی کے اندراجتہادکی صلاحیت ہے توکیاوہ اجتہاد کر سکتا ہے؟ انہوں نے مزیدکہاکہ امت عالمی طورپرپروپیگنڈے کا بھی شکارہے، اس پر بھی ہماری نظرہونی چاہیے۔
سنی تھیولوجی کے چیئرمین مفتی زاہدصاحب نے فرمایاکہ اصولِ دین میں شیعہ وسنی دونوں مشترک ہیں۔ جہاں تک قیاسی مسائل کی بات ہوتی ہے تووہ لازمی نہیں ہوتے، انفرادی ہوتے ہیں۔ البتہ ہمیں مسائل میں تشدد نہیں برتنا چاہیے۔ 
پروفیسرمبارک علی نے رائے دی کہ تاریخی اسلام میں Rebuildکرنے کی ضرورت ہے۔ 
مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے کہاکہ ہم اس کانفرنس کے روحِ رواں راشدشازکی دردمندی کوسمجھیں اوراپنے دل میں یہی درد لے کر جائیں۔
پروفیسرعلی محمدنقوی کی رائے تھی کہ ہمیں اسلامی فکرمیں موجودکثرت کا اعتراف کرتے ہوئے وحدت ملی قائم کرنی چاہیے کیونکہ چودہ سو سال کے تاریخی سفرمیں جوفرقے اورمسالک بن گئے ہیں، نہ توان کوختم کیاجاسکتاہے اورنہ کسی ایک مسلک پر سب کو لایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر محمد زکی کرمانی مدیر’’آیات‘‘ نے طلبہ وطالبات کوخاص طورپر مشورہ دیاکہ ہم کوقرآن پاک سے براہ راست مربوط ہوناچاہیے اوراسی سے اپنے مسائل کا جواب مانگناچاہیے۔
اس سیشن میں برج کورس کے کئی طلبہ وطالبات عائشہ ،آرزوفاطمہ ،روشنی امیر،سرورعالم ،شرافت ندوی، ارشد احمد وغیرہ نے بہت اختصارکے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مترجم قرآن اورکئی کتابوں کے مصنف جناب سکندر احمد کمال اور وکیل خالد احمد نے بھی مختصراًا س موضوع پر گفتگوکی۔
اس سیمینارکی مجموعی اپروچ لکیر سے ہٹ کر اورغیرروایتی اندازمیں سوچنے کی تھی ۔عام سیمیناروں میں لوگ اپنے اپنے پیپرپڑھ کرچلے جاتے ہیں، گھسی پٹی باتیں دہراتے ہیں جن پر کوئی سوال جواب اوربحث ومباحثہ نہیں ہوتا۔اس سیمینارمیں شرکاء اورحاضرین نے کھل کر ہر چیز پر بحث کی۔ یہ توممکن نہیں کہ ایک نشست میں پیچیدہ مسئلے حل ہو جائیں، تاہم اس کا فائدہ یہ ہوگاکہ لوگوں میں غیر روایتی طورپر سوچنے کی اورغوروفکرکرنے کی عاد ت پروان چڑھے گی۔ ایک Rationalاورحقیقت پسندانہ رویہ ترقی پائے گا۔ اِس کانفرنس کی یہی سب سے بڑی دین امت کوہوگی جس کی وہ موجودہ بحرانی دورمیں سب سے زیادہ محتاج ہے۔ضرورت اس کا فولواپ کرنے اوراس قسم کے مذاکرات زیادہ سے زیادہ کرنے کی ہے۔

سانحہ ہائے ارتحال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

  • مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبالؒ گزشتہ ماہ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ فرزند اقبال ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی مستقل فکری شناخت بھی رکھتے تھے اور مختلف ملی ودینی مسائل پر اظہار خیال کرتے رہتے تھے۔ ان کی فکر کے بعض زاویوں سے ہمیں بھی اختلاف رہا ہے اور ہمارے درمیان مکالمہ چلتا رہا ہے، لیکن نظریہ پاکستان اور نفاذ اسلام کے حوالے سے ان کے جذبات واحساسات کا اندازہ دو واقعات سے کیا جا سکتا ہے: ایک یہ کہ جب سابق صدر پاکستان اسکندر مرزا نے انھیں کسی قومی منصب کی پیش کش کی تو انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، اس لیے انھیں قوانین کی اسلامائزیشن کے حوالے سے قائم دستوری ادارے کی ذمہ داری دے دی جائے، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ اور دوسرا واقعہ یہ ہے کہ جب وہ طالبان کے دورِ حکومت میں چند روز کے لیے افغانستان گئے تو واپسی پر اپنے ان تاثرات کا کھلے بندوں اظہار کیا کہ وہ اسلامی قوانین کے معاشرتی اثرات اور برکات کا خود مشاہدہ کر کے آئے ہیں۔
    ڈاکٹر جاوید اقبال نے پاکستان کے علمی وتجزیاتی ماحول کے علاوہ عدالتی شعبہ میں بھی جج کے طور پر ایک عرصہ خدمات سرانجام دی ہیں۔ راقم الحروف کو مختلف فکری مجالس میں ان کے ساتھ شرکت کا موقع ملا ہے اور اسلام اور پاکستان کے ساتھ ان کی محبت نے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ 
  • بزرگ اہل حدیث عالم دین، محقق اور مورخ مولانا محمد اسحاق بھٹی ؒ گزشتہ دنوں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ صاحب مطالعہ محقق اور معتدل مزاج مصنف تھے۔ ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ لاہور کے مدیر بھی رہے ہیں۔ حضرت مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ اور حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کے قافلہ کے آدمی تھے۔ علمی ودینی شخصیات کا تعارف ان کا خصوصی ذوق تھا اور اس حوالے سے ان کی متعدد تصانیف اور سیکڑوں مضامین ان کی یادگار ہیں۔ ان کی وفات سے تحقیق ومطالعہ اور تاریخ وتجزیہ کے ماحول میں جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ قحط الرجال کے اس دور میں علمی دنیا کو بہت شدت کے ساتھ محسوس ہوتا رہے گا۔ 
  • خطیب اسلام مولانا سید عبد المجید شاہ ندیمؒ کا بھی گزشتہ دنوں انتقال ہو گیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ پاکستان میں اہل سنت کے عقائد وحقوق کے تحفظ کی جدوجہد کے ایک اہم راہ نما تھے اور صاحب طرز خطیب تھے۔ کم وبیش نصف صدی تک پاکستان کے طول وعرض اور دیگر ممالک کی فضاؤں میں وہ اپنی سحر انگیز خطابت کا جادو جگاتے رہے ہیں اور انھوں نے ہزاروں لوگوں کی عقیدت ومحبت سمیٹی ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ وابستہ رہے ہیں، جبکہ مجلس تحفظ حقوق اہل سنت پاکستان کے ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ راقم الحروف کا دوستانہ بلکہ برادرانہ تعلق ہمیشہ قائم رہا ہے اور سیکڑوں مجالس میں رفاقت رہی ہے۔ 
  • سنی بینک، مری کے ایک معروف بزرگ محترم حاجی محمد شعیب گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ خدا ترس اور عبادت گذار بزرگ تھے۔ سنی بینک میں ان کے گھر کے ساتھ مہمانوں بالخصوص علماء کرام کے لیے ایک مستقل مہمان خانہ تھا جہاں ملک کے بزرگ علماء کرام وقتاً فوقتاً قیام کیا کرتے تھے۔ والد گرامی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ متعدد بار حاجی صاحب مرحوم کے کئی روز تک اپنے رفقاء سمیت مہمان رہے ہیں۔ بہت مہمان نواز اور خدمت گذار بزرگ تھے۔ راقم الحروف بھی متعدد بار ان کی میزبانی سے فیض یاب ہوا ہے۔ ان کا تقاضا ہوتا تھا کہ جب بھی مری کے علاقہ میں حاضری ہو، قیام ان کے ہاں ہو جس کی بعض مواقع پر تعمیل بھی ہوتی رہتی تھی اور وہ بہت دعاؤں سے نوازتے رہے ہیں۔ 
  • جمعیۃ اشاعت التوحید والسنہ پاکستان کے امیر مولانا محمد طیب طاہری کے جواں سال فرزند یمان طیبی گذشتہ دنوں ٹریفک کے ایک حادثے میں شہید ہو گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جواں سال بیٹے کی حادثاتی موت ماں باپ اور اہل خاندان کے لیے جس دہرے صدمے کا باعث ہوتی ہے، اس کی شدت کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں۔ اس صدمہ میں ہم مولانا محمد طیب طاہری اور ان کے خاندان کے ساتھ شریک ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت شہید نوجوان کو جنت الفردوس میں جگہ دیں اور اپنے خاندان کے لیے اجر وذخر بنائیں۔ آمین یا رب العالمین۔ 
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کی حسنات کو قبول فرمائیں، سیئات سے درگذر کریں، ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین ثم آمین۔

ایک سفر کی روداد

محمد بلال فاروقی

25 نومبر کو UNITE) Universal Nexus for Interfaith Trust and Engagement) کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس برائے مذہبی ہم آہنگی میں شرکت کے لئے اسلام آباد جانا تھا۔صبح نو بجے میں گاڑی لے کر مدرسہ نصرۃ العلوم پہنچا جہاں سے استاد محترم مولانا زاہد الراشدی اور جامعہ میں زیر تعلیم دورہ حدیث کے ایک ساتھی مولانا عبدالمتین عباسی کے ساتھ اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے۔ ہماری پہلی منزل انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی تھی جہاں اسلام اور سائنس کے موضوع پہ یونیورسٹی کے طلبہ نے ایک پروگرام منعقد کیا ہوا تھا۔ مولانا وقاص احمد اس کے روح ورواں تھے۔ دعوۃ فیکلٹی کے سربراہ ڈاکٹر احمد جان ازہری کی صدارت میں پروگرام شروع تھا۔ استاد محترم نے اسلام اور سائنس میں تصادم کے موضوع پر گفتگو کی (جس کا خلاصہ اسی شمارے میں شامل اشاعت ہے)۔
مولانا زاہد الراشدی کے بیان کے بعد ڈاکٹر احمد جان ازہری نے شرکاء اور مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا۔اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کے آفس میں گئے جہاں ڈاکٹر سراج الاسلام حنیف مردان یونیورسٹی سے ملاقات ہوئی۔ یونیورسٹی سے آگے ہمیں اسلام آباد کے سیکٹر جی 10/1 جانا تھا جہاں مولانا محمد رمضان علوی منتظر تھے۔مولانا وقاص احمد ہمارے ہمراہ تھے۔ انہوں نے استاد محترم سے سوال کیا کہ آپ تحریک انصاف کے علماء کنونشن میں گئے تھے جس سے ہمارے لوگوں میں تشویش ہے۔ مولانا نے فرمایا !بھئی ہمیشہ سے یہ اصول ہے کہ جاؤ ہر کسی کے پاس، لیکن بات اپنی کرو۔ لوگوں نے میرا وہاں جانا تو دیکھا لیکن میں نے جو باتیں وہاں کیں، وہ نہیں سنیں۔
مولانا محمد رمضان علوی کے ہاں پہنچے تو وہاں ورلڈ اسلامک فورم کے رابطہ سیکرٹری اور ابو الحسن علی ندوی اکیڈمی کے چیئر مین جناب جعفر بھٹی بھی موجود تھے جو بین الاقوامی مذاہب کانفرنس کے لیے برطانیہ سے تشریف لائے تھے۔ نماز ظہر ادا کرنے کے بعد مولانا رمضان علوی ،جناب جعفر بھٹی ،مولانا وقاص احمد وغیرہم کے ساتھ عصر تک نشست رہی۔ مختلف موضوعات پہ گفتگو ہوئی۔ استاد محترم نے ہمارے اور یورپ کے تحقیقی ذوق کا تقابل کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دفعہ میں یو کے میں تھا تو وہاں میں نے امام نسائی کی کتاب "کتاب المصاحف" دیکھی۔ نیچے ناشر کا نام چرچ آف انگلینڈ لکھا تھا۔ میں حیران رہ گیا کہ امام نسائی کی کتاب کا ناشر چرچ آف انگلینڈ۔ معلوم کرنے پہ پتہ چلا کہ یہ کتاب مسیحی پادریوں کو نصاب میں پڑھائی جاتی ہے، اس لیے کہ قرآن مجید میں لفظی اختلاف ثابت کیا جا سکے، جبکہ ہمارے ہاں کے بہت سے مدرسین کو بھی اس کتاب کا علم نہ ہوگا۔
مولانا وقاص احمد نے پوچھا کہ اسی طرح کی ایک کتاب کا ذکر آپ نے تحریک ریشمی رومال کے حوالے سے بھی کیا تھا۔ مولانا نے تفصیل بتائی کہ میں نے لندن میں خبر پڑھی تھی کہ جرمن وزارت خارجہ کے ڈپٹی سیکرٹری اولف شمل کی مرتب کردہ سرکاری دستاویزات کتابی صورت میں شائع ہوئی ہیں۔تحریک ریشمی رومال برطانوی سی آئی ڈی میں "سلک لیٹرز سازش کیس" کہلاتی ہے جبکہ جرمن انٹیلی جنس اس کو " برلن پلان'' کے نام سے جانتی ہے، کیونکہ بنیادی پلان تو برلن میں بیٹھ کے بنایا گیا تھا۔یہ کتاب جرمن زبان میں ہے، لیکن مل نہیں رہی۔ دو تین دوستوں کے ذمہ لگایا، لیکن نہیں ملی۔اس کتاب کی خبر لندن کے روزنامہ جنگ میں چھپی تھی۔اس خبر کو ہم نے الشریعہ میں شائع کیا تھا۔ہم اس تحریک کے آدمی ہیں۔ مجھے اس رپورٹ سے پتہ چلا کہ جاپان بھی اس پلان میں شریک تھا اور جاپان نے قبائلی علاقوں میں ٹریننگ کیمپ قائم کیا تھا اور ایک جاپانی نے یہاں آکر ٹریننگ دی۔ استاد جی نے فرمایا کہ ہمارا ذوق نہیں ہے۔ ہم شیخ الہند کانفرنس میں گئے تھے۔ وہاں میں نے مولانا محمود مدنی کو بھی کہا ، مولانا سلمان بجنوری کو بھی کہا، لیکن بات بنی نہیں۔
اسی سلسلے میں بات کرتے ہوئے فرمایا کہ جاپان پر اگر ایٹم بم نہ گرایا جاتا تو جاپان ہرگز ہتھیار نہ ڈالتا۔مجھے یہ ڈر لگتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جب یہ دیکھیں گے کہ ان کا بس نہیں چل رہا تو یہاں بھی وہ ایٹم بم گرادیں گے۔(29 نومبر کی تاریخ میں روسی سیاستد ان نے روسی صدر کو ترکی پہ ایٹم بم گرانے کی تجویز دی ہے۔بحوالہ خبر اردو پوائنٹ نیوز)
جعفر بھٹی صاحب نے سوال کیا کہ مولانا! آپ یورپ میں مسلمانوں کا کیا مستقبل دیکھتے ہیں؟ مولانا نے کہا کہ ٹکراؤ نظر آرہا ہے۔ جو کچھ یہ مڈل ایسٹ میں کررہے ہیں، اس کا ردعمل تو آنا ہے اور ردعمل وہیں آئے گا جہاں آزادی ہوگی۔ جعفر صاحب نے برطانوی اخبار ڈیلی سن کی رپورٹ کا تذکرہ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ یوکے میں مقیم مسلمانوں میں سے ہر پانچواں مسلمان دہشت گردوں کی مدد کرتا ہے۔
جعفر بھائی نے پوچھا کہ جان کائزر کی کتاب کے اردو ترجمہ پر آپ کا مقدمہ ہے، لیکن اس پہ مترجم کا نام نہیں ہے۔استاد جی نے فرمایا، مجھے بھی معلوم نہیں، لیکن مترجم کا نام چھپنا چاہیے تھا۔ میں نے عرض کیا، الجزائری صاحب کے حوالے سے ہمارے ہاں کے اشکالات اور ہیں جبکہ عرب کے کچھ علماء ان پر وحدۃ الوجود کے حوالے سے اشکالات کرتے ہیں۔ استاد جی نے تصدیق کی کہ سلفی علماء اس وجہ سے انہیں ملحد کہتے ہیں۔ اس پراستاد جی نے واقعہ سنایا کہ مجھے اہل حدیث عالم دین نے سوال کیا کہ وحدۃ الوجود کے بارے میں آپ کا نظریہ کیا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ جو مولانا میاں نذیر حسین دہلوی کا ہے، وہی میرا نظریہ ہے۔جو نواب صدیق حسن خان صاحب کا نظریہ ہے، وہی میرا ہے۔ کہنے لگا، انہوں نے بھی یہ نظریہ اپنایا ہے؟ میں نے کہا، ہاں بھئی۔ پڑھ لو جا کر۔اس کے بعد دوبارہ اس نے نہیں پوچھا۔ حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی نے اس حوالے سے بڑے مزے کی بات کہی۔کسی نے کہا کہ حضرت مجدد الف ثانی نے وحدۃ الوجود کے بارے میں یہ یہ باتیں کی ہیں۔صوفی صاحب نے فرمایا کہ بھئی جو نہیں سمجھے گا، وہ یہی کہے گا۔
جعفر بھائی نے مولانا کو بتایا کہ میرا ارادہ ہے کہ مغرب میں جو مدارس ہیں، ان پہ کام کروں کہ ان کا نصاب و نظام کیا ہے۔ ہمارے ہاں کے مدارس پرتو بات ہوتی ہے کہ ان کے نصاب کو بدلا جائے اور نظام کو درست کیا جائے لیکن مغرب میں جو مدارس ہیں، ان پر کام کیا جائے۔استاد محترم نے فرمایا کہ بہت اچھی بات ہے، اس پر کام ہونا چاہیے۔ 
مولانا محمد رمضان علوی کی خواہش پر مولانا نے نماز عصر کے بعد مختصر بیان فرمایا اور صحابہ کرام کا ایک واقعہ بیان کیا کہ صحابہ کی ایک جماعت جہاد کے لیے جارہی تھی۔دشمن کے علاقہ میں تھی کہ انہیں ایک چرواہا نظر آیا۔ مجاہدین نے یہ سمجھا کہ یہ کافر ہے۔ اسی اثنا میں اس نے انہیں السلام علیکم کہا۔صحابہ سمجھے کہ یہ سلام کر کے جان بچانا چاہتا ہے۔یہ سمجھ کر انہوں نے اس چرواہے کو قتل کردیا۔اللہ رب العزت نے قرآن مجید کی آیات نازل کیں۔
ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقآی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا، تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا، فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃ’‘ (النساء، آیت ۹۴)
’’اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں نکلو تو (دشمن کو پہچاننے کے لئے ) اچھی طرح تحقیق کرلیا کرواور جو شخص تمہیں سلام کرے ، اس کو دنیوی سامان کی خاطر فورا یہ نہ کہہ دو کہ تم مومن نہیں۔اللہ کے پاس (تمہارے لیے ) بہت مال غنیمت ہے۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ نے اس بات پر ڈانٹا کہ تحقیق کی بغیر ایک آدمی کو کیوں قتل کردیا۔
یہ بات میں نے اس لیے عرض کی ہے کہ آج ہمارے مزاج کا حصہ بن گیا ہے کہ کام پہلے کرگزرتے ہیں اور تحقیق بہت بعد میں جا کر کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ایک چیز سنی، موبائل میں محفوظ کی، آگے دس بیس بندوں کو بھیجی۔ انہوں نے آگے دس بیس بندوں کو بھیجی۔ اس کے نتیجے میں اچھا خاصا ہنگامہ کھڑا ہوجاتا ہے اور کوئی نقصان وغیرہ ہوجاتا ہے، تب جاکر پتہ چلتا ہے کہ وہ بات تو غلط تھی۔وہ میسج فیک تھا۔ آج کل اس پہ عمل کرنے کی ضرورت ہے۔آج کل یہ وبا پھیل چکی ہے۔ میسجنگ ، سوشل میڈیا وغیرہ پر سنی سنائی بات کو پھیلا دیا جاتا ہے۔اس کے نتیجے میں اچھا خاصا نقصان ہوجاتا ہے۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ بات غلط تھی اور ہمیں اس پر شرمندگی ہوتی ہے۔تو اس بارے میں اللہ کا حکم ہے کہ پہلے تحقیق کرلو۔ جب اچھی طرح بات واضح ہوجائے، تب کوئی فیصلہ کرو۔اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
دعا کے بعد جمعیت علماء اسلا م، اسلام آباد کے امیر اور بزرگ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرؤف صاحب استادجی سے ملے اور اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ان کے گھر کی جانب چل پڑے۔راستے میں جعفر بھائی سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ ابوالحسن علی ندوی اکادمی کی جانب سے مفکر اسلام مولانا علی میاں کے افکارو خدمات پر مقالات لکھوائے جائیں۔ایک مقابلہ مضمون نویسی تو شروع ہے، لیکن تحقیقی مقالہ جات جو ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کے ہوں، لکھوائے جائیں۔ میں نے ایک تجویز دی کہ ہمارے مدارس کے طلباء مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی سے صرف القراء ۃ الراشدہ اور قصص النبیین کے حوالے سے واقف ہیں۔ اگر ممکن ہو تو آپ مختلف مدارس میں دو دن یا تین دن کی ورکشاپ رکھیں اور وہاں حضرت کی خدمات و افکار کا کچھ تعارف ان کے سامنے رکھیں۔جب یہ چیز سامنے ہوگی تو اس صورت میں آپ کو مولانا علی میاں پر کام کرنے والے ملیں گے۔
مولانا عبد الروف صاحب کے گھر پہنچے۔ استاد جی نے ان کا احوال پوچھا تو انہوں نے کہا جی بس ہمارا ہاتھ اور زبان سلامت رہے، کام چل جاتا ہے۔اس پہ استاد جی نے حضرت ابی ابن کعبؓ کا واقعہ سنایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک کہ ’’آدمی کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ اس کے گناہوں کے لیے کفارہ بنتی ہے‘‘ سنا تو دعا کی کہ یا اللہ مجھے ہمیشہ اس حد تک بخار میں مبتلا رکھیے کہ مجھ سے فرض نماز، رمضان کے روزے، حج بیت اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ نہ چھوٹے۔اللہ نے یہ دعا قبول فرمائی کہ اور ان کو ہمیشہ اندورنی طورپہ بخار رہا کرتا تھا۔
اسی گفتگو کے دوران استاد جی نے امام نسائی کی کتاب المصاحف کا واقعہ سنایا اور ساتھ ہی ایک اور واقعہ بھی سنایا کہ جب کچھ مسلمان خلاباز خلا میں جانے لگے تو وہاں نماز کے بارے میں سوال ہوا تو اس کا جواب سب سے پہلے انٹرنیٹ پر ایک یہودی نے دیا کہ خلا باز کا حکم معذور جیسا ہے، جیسے ممکن ہو پڑھ لے۔ اس یہودی نے البحرالرائق کا حوالہ دیا۔ 
اس مختصر نشست کے بعد ہم یونائٹ کے زیر اہتمام بین الاقوامی مذاہب کانفرنس کے لیے روانہ ہوئے اور مغرب کی نماز جناح کنونشن سینٹر میں ادا کی۔ نماز کے بعد کی نشست میں جعفر بھائی نے سوال کیا کہ مدارس کی کریم (یعنی ہونہار اور قابل علماء) کہاں جاتی ہے۔استاد محترم نے جواب دیا کہ ڈاکٹر مشیر الحق مرحوم نے بڑا دلچسپ تجزیہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے فضلاء کی چار قسمیں ہیں۔ایک وہ جو مدارس کے مزاج کے ہوتے ہیں، وہ مدارس میں کھپ جاتے ہیں۔اس کے بعد دوسراطبقہ بیرون ملک یونیورسٹیز میں اپنا آموختہ دوہرانے کا معقول وظیفہ پاتا ہے۔ تیسرا طبقہ کوشش کرتا ہے کہ وہ یونیورسٹی، کالج یا اسکول کہیں ایڈجسٹ ہو کر کام کرے۔اس کے بعد چوتھا طبقہ مسجد کی امامت وغیرہ کی جانب رخ کرتے ہیں۔
اسی دوران ایک فون پہ کسی نے مسئلہ پوچھا تو استاد محترم نے بتایا کہ جائزہے لیکن علماء کو احتیاط کرنی چاہیے۔اس پر یہ واقعہ سنایا کہ میں اور مولانا منظور احمد چنیوٹی ہم اکٹھے سفر کرتے تھے تو جہاز میں نماز کا مسئلہ ہوتا تھا۔میں قضا کر لیا کرتا تھا۔ مولانا پڑھ لیتے تھے اور بعد میں قضاء کرلیتے تھے۔ میں نے ایک دن والد صاحب سے پوچھا۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ نے نہیں پڑھنی۔ میں نے پوچھا، کیا وجہ ہے ؟ جواب دیا، آپ تو دوہرا لو گے لیکن آپ اچھے خاصے مولوی لگتے ہو۔ آپ کو دیکھ کر جو پڑھے گا، وہ نہیں دوہرائے گا۔ اس لیے میرا جہاز میں پڑھنے کا معمول نہیں ہے۔
اس کے بعد استاد محترم نے بین الاقوامی مذاہب کانفرنس سے خطاب کیا۔ مولانا کا کہنا تھا کہ عدم برداشت، شدت پسندی میں ایک کردار مذہب کا بھی ہے، لیکن کیا انسانی معاشرہ کے باقی مسائل بھی مذہب کے پیدا کردہ ہیں؟کیا کرپشن، اباحیت، طاقت کی بالادستی، فحاشی، عریانی اور خاندانی نظام کا بکھرنا، کیا یہ بھی مذہب کے پیداکردہ ہیں؟ میرے خیال میں ہمیں توازن قائم کرنا ہوگا۔مذہب کا غلط استعمال معاشرے میں مسائل پیدا کررہا ہے، لیکن مذہب سے انحراف اس سے زیادہ مسائل پیدا کررہا ہے۔ہمیں بات حقیقت پسندی کی بنیاد پر کرنا ہوگی۔ جتنے مسائل مذہب نے پیدا کیے ہیں، مذہب سے بغاوت، مذہب سے انحراف اور مذہب سے بے پروائی نے اس سے زیادہ مسائل پیدا کیے ہیں۔ اس لیے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم مذاہب کے نام پر جمع ہیں، ہمیں ان مسائل کا مذاہب کی بنیاد پر جائزہ لینا ہوگا اور میں آج کی کانفرنس سے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہوں گا کہ ہمیں انسانی سوسائٹی کو درپیش عملی مسائل، پریکٹیکل ایشوز پر مذاہب کی مشترکہ تعلیمات سے آج کے اسلوب میں ان کا حل پیش کرنا ہوگا۔ مذہب کے نمائندے ہونے کی حیثیت سے لوگوں کو آسمانی تعلیمات کی طرف واپسی کی دعوت دینا ہماری ذمہ داری ہے۔
خطاب کے بعد استاد محترم نے چیئرمین یونائٹ مفتی ابو ہریرہ محی الدین صاحب سے یادگاری شیلڈ وصول کی۔ جعفر بھائی اور مولانا محمد ادریس صاحب نے ہمیں الوداع کہا اور ہم واپس گوجرانوالہ کی جانب روانہ ہوگئے۔