فروری ۲۰۱۶ء

دولت اسلامیہ اور قیام خلافت : ایک سنگین مغالطہمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۵)ڈاکٹر محی الدین غازی 
اسلام عصری تہذیبی تناظر میں ۔ ممتاز دانشور جناب احمد جاوید کا فکر انگیز انٹرویو (۱)اے اے سید 
مولانا فراہیؒ اور مدرسۃ الاصلاح کی علمی خدماتمولانا سید متین احمد شاہ 
جہادِ افغانستان اور موجودہ صورتحالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
خلافت اور عالم اسلام کی سیاسی قیادتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
علامہ احسان الٰہی ظہیرؒمحمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ 
روایتی مسلم ذہن میں مسئلہ الحاد کی غلط تفہیمعاصم بخشی 
مکاتیبادارہ 
سیرت کانفرنس پی سی بھوربن کے لیے سفرمحمد بلال فاروقی 
الشریعہ اکادمی کی ہم نصابی تعلیمی سرگرمیاںڈاکٹر حافظ محمد رشید 
دِل کے بہلانے کو شوقِ رائیگاں رکھتا ہوں میںمحمد عمار خان ناصر 

دولت اسلامیہ اور قیام خلافت : ایک سنگین مغالطہ

محمد عمار خان ناصر

دولت اسلامیہ (داعش) کے وابستگان کا یہ کہنا ہے کہ اس کے سربراہ اس وقت شرعی لحاظ سے سارے عالم اسلام کے ’’خلیفہ ‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں جس کی اطاعت قبول کرنا تمام مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے۔ اس ضمن میں ان حضرات کی طرف سے پیش کردہ استدلال کے مقدمات حسب ذیل ہیں:
۱۔ خلافت کا قیام مسلمانوں پر فرض ہے اور اس کا اہتمام نہ کرنے کی صورت میں ساری امت گناہ گار قرار پاتی ہے۔ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد سے اب تک عالم اسلام اس فریضے کا تارک تھا، لیکن اب دولت اسلامیہ کی صورت میں اس فریضے کی ادائیگی کا اہتمام کر دیا گیا ہے، اس لیے اس کی اطاعت قبول کرنا مسلمانوں پر شرعاً لازم ہے۔
۲۔ اس خلافت کا قیام شرعی اصول کے تحت یعنی ارباب حل وعقد (جس سے مراد عراق وشام کی جہادی تنظیموں کے ذمہ داران ہیں) کے مشورے سے ہوا ہے اور ان کی بیعت، خلافت کے انعقاد کے لیے کافی ہے، کیونکہ فقہاء کی تصریح کے مطابق ’’خلیفہ‘‘ کے انتخاب پر سارے عالم اسلام کے ارباب حل وعقد کا اتفاق نہ ضروری ہے اور نہ عملاً ممکن ہے۔ 
۳۔ بالفرض یہ کہا جائے کہ دولت اسلامیہ مشورے کے بجائے طاقت کے زور پر قائم ہوئی ہے تو بھی تغلب اور تسلط کے ذریعے سے قائم ہونے والی حکومت جب اپنی رِٹ قائم کر لے اور لوگ اس کی بیعت کر لیں تو شرعی طور پر اس کا اقتدار قائم ہو جاتا اور اس کی اطاعت لازم ٹھہرتی ہے۔
ہمارے نزدیک یہ سارا استدلال سرتا سر کج فہمی اور مغالطوں پر مبنی ہے۔ آئیے، اس کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔
پہلے نکتے کو دیکھیے: 
فقہاء نے جس مفہوم میں خلافت کے قیام کو فرض قرار دیا ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے اجتماعی معاملات کی انجام دہی کے لیے ایک باقاعدہ نظام حکومت قائم کریں اور اس کے تحت زندگی بسر کریں، کیونکہ شریعت نے بحیثیت جماعت مسلمانوں کو جو احکام دیے ہیں، ان میں سے بہت سے احکام پر عمل درآمد قیام حکومت پر موقوف ہے جبکہ افراد اپنی انفرادی حیثیت میں ان پر عمل نہیں کر سکتے۔ اس وجہ سے اگر مسلمان کسی علاقے میں آزاد اور خود مختار ہوں اور اس کے باوجود اپنا کوئی نظم اجتماعی قائم نہ کریں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنی اجتماعی زندگی میں شریعت کے بہت سے احکام پر عمل نہیں کر سکیں گے اور یوں ایک شرعی فریضے کے تارک اور گناہ گار قرار پائیں گے۔ فقہاء اسی کو ’’نصب امام‘‘ کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں، یعنی مسلمانوں پر اپنا کوئی حکمران منتخب کرنا لازم ہے جو ان کے اجتماعی معاملات کی انجام دہی کی ذمہ داری ادا کر سکے۔
اگر کسی علاقے کے مسلمان اس کا اہتمام کر لیں تو وہ اس فرض کی ادائیگی سے عہدہ برآ ہو جاتے ہیں اور انھیں شریعت کے ایک فرض کا تارک قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ حکمرانی کے لیے کسی نااہل کا انتخاب کر لیں یا کوئی نااہل ازخود طاقت کے زور پر ان پر مسلط ہو جائے یا ارباب اقتدار اپنے اوپر عائد ہونے والی شرعی ذمہ داریوں کو کماحقہ انجام نہ دیں، لیکن ان سب خامیوں کے باوجود اگر مسلمانوں نے اپنا کوئی نظم حکومت قائم کر لیا ہو اور وہ ایک منظم گروہ کے طور پر زندگی بسر کر رہے ہوں تو فقہاء کے زاویہ نظر سے ان پر یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ ’’نصب امام‘‘ کے شرعی فریضے کے تارک اور گناہ گار ہیں۔ وہ حسب استطاعت نظام حکومت کی اصلاح کے لیے کوشش اور جدوجہد کے تو مکلف ہوں گے، لیکن شریعت اس صورت حال میں انھیں اس بات کا مجرم قرار نہیں دیتی کہ انھوں نے اصل حکم یعنی ’’نصب امام‘‘ پر ہی عمل نہیں کیا۔ 
عصر حاضر کے معروف فقیہ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اس نکتے کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے:
’’تمام فقہاء اور اہل عقائد اس بات پر متفق ہیں کہ امام کا نصب کرنا مسلمانوں پر واجب ہے، یعنی مسلمانوں کی پوری جماعت کے ذمہ داجب ہے کہ وہ کسی کو اپنا امام بنائیں، ایسے شخص کو امام بنائیں جو ان صفات کا حامل ہو جس کا حاصل یہ ہے کہ نصب الامام ایک طرح سے فرض کفایہ ہوا۔ لیکن یہاں یہ فرق سمجھ لیجیے کہ نصب الامام کا واجب ہونا، اس کا تعلق اس حالت سے ہے جب مسلمانوں کا کوئی سربراہ نہ ہو، یعنی مسلمان بغیر کسی سربراہ کے زندگی گزار رہے ہوں۔ کوئی ان کا حاکم نہ ہو، کوئی ان کا سربراہ نہ ہو۔ اس وقت میں مسلمانوں میں سے کسی ایک کو امام بنانا واجب ہے۔ لیکن اگر کوئی ان کا سربراہ بنا ہوا ہے، خواہ زبردستی یا تغلب سے بنا ہو، اور وہ امام صفات مطلوبہ کا حامل نہ ہو، جیسا کہ اس وقت اسلامی ممالک میں سربراہ موجود ہیں لیکن وہ ان صفات کے حامل نہیں ہیں جو سربراہ کے لیے مطلوب ہیں تو اس وقت میں مسلمانوں کا کیا کام ہونا چاہیے؟ اس کا تعلق اس مسئلے سے ہے کہ موجودہ سربراہ کو معزول کر کے کسی صحیح سربراہ کو لانے کا کیا طریق کار ہونا چاہیے۔‘‘  (’’اسلام اور سیاسی نظریات‘‘، ص ۲۲۶)
اس وضاحت کی روشنی میں دولت اسلامیہ کے اس دعوے کا جائزہ لیجیے کہ ’’دولت اسلامیہ کے قیام سے پہلے تک پورا عالم اسلام ’’نصب امام‘‘ کے فریضے کا اجتماعی طور پر تارک تھا‘‘ تو صاف معلوم ہوگا کہ اس میں ایک حقیقت واقعہ کی نفی کی جا رہی ہے، اس لیے کہ عالم اسلام کا کوئی بھی خطہ ایسا نہیں جہاں مسلمان اپنے آزاد علاقوں میں ’’نصب امام‘‘ یعنی کسی نظم اجتماعی کے قیام کے بغیر زندگی بسر کر رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے اس دعوے کا جواز پیدا کرنے کے لیے ان حضرات کو اس کے ساتھ ایک دوسرا مقدمہ شامل کرنا پڑتا ہے، یعنی یہ کہ اس وقت پورے عالم اسلام میں کہیں بھی کوئی جائز شرعی حکومت موجود نہیں، کیونکہ تمام مسلمان حکمران فلاں اور فلاں وجوہ سے کافر اور مرتد ہو چکے ہیں۔ اس دوسرے دعوے کا الگ سے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ یہاں صرف یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ فقہاء کی سند پر یہ دعویٰ کرنا کہ مسلمانوں کی اکثریت اس وقت ایک بنیادی شرعی فریضے یعنی نصب امام کی تارک ہے، فقہاء کے نقطہ نظر کی بالکل غلط ترجمانی ہے اور اس کی کوئی علمی یا شرعی بنیاد موجود نہیں۔ 
دوسرے اور تیسرے نکتے کے متعلق گزارش یہ ہے کہ علماء وفقہاء جب انعقادِ خلافت کے لیے بعض ارباب حل وعقد کے اتفاق کو کافی تصور کرتے اور سب کے اتفاق واجماع کو غیر ضروری قرار دیتے ہیں یا غلبہ وتسلط کے ذریعے سے قائم ہونے والی حکومت کو بالفعل ایک قانونی حکومت کا درجہ دیتے ہیں تو ان کے پیش نظر اس اصول کا اطلاق کسی مخصوص مسلم ریاست یا سلطنت کے عملی دائرۂ اختیار کے اندر ہوتا ہے نہ کہ علی الاطلاق سارے عالم اسلام کے مسلمانوں پر۔ اگر عالم اسلام کے سارے مسلمان، بالفرض، کسی وقت ایک ہی مرکزی حکومت کے تحت مجتمع ہوں تو فقہاء کے بیان کردہ مذکورہ اصول کا دائرۂ اطلاق سارا عالم اسلام ہوگا، لیکن اگر کسی وقت سیاسی حالات اس سے مختلف ہوں اور مسلمان مختلف علاقوں میں اپنی اپنی جداگانہ حکومتیں قائم کر کے ان کے تحت زندگی بسر کر رہے ہوں تو پھر اس اصول کا اطلاق ہر حکومت یا سلطنت کے اپنے مخصوص دائرۂ اختیار اور اس کی عمل داری میں واقع علاقوں کے اندر ہوگا۔ 
ہم جانتے ہیں کہ اسلامی تاریخ کے ایک مخصوص مرحلے پر جب اندلس میں مسلمانوں کی ایک مستقل خلافت قائم ہو گئی جس کا مرکزی خلافت کے ساتھ کوئی سیاسی تعلق نہیں تھا تو اس کے بعد اہل اندلس نے حکمرانی کے تسلسل اور انتقال اقتدار کے لیے اپنا سیاسی نظام بھی الگ وضع کیا اور اس علاقے کے مسلمان آئندہ تاریخ میں مرکزی خلافت سے آزاد رہ کر اپنے سیاسی معاملات کی انجام دہی کرتے رہے۔ تاریخ اسلام میں اندلس کے فقہاء نے کبھی یہ سوال نہیں اٹھایا کہ جب بغداد میں ایک خلیفہ پہلے سے موجود ہے تو اس سے ہٹ کر اندلس میں ایک دوسرا خلیفہ کیوں حکومت کر رہا ہے۔ دونوں حکومتوں کے اپنے اپنے دار الحکومت اور اپنے اپنے ارباب حل وعقد تھے اور دونوں سلطنتوں میں خلیفہ کے انتخاب کے لیے مقامی ارباب حل وعقد کا اتفاق اسی علاقے کے لیے اور انھی جغرافیائی حدود میں موثر مانا جاتا تھا جن میں ان میں سے ہر ایک سلطنت عملاً قائم تھی۔ تاریخ میں کسی بھی مرحلے پر یہ بحث نہیں اٹھائی گئی کہ بغداد کے ارباب حل وعقد نے جس خلیفہ کے انتخاب پر صاد کیا ہے، اندلس کے مسلمان بھی اسی کی اطاعت قبول کرنے کے پابند ہیں یا اس کے برعکس یہ کہ اندلس میں ارباب حل وعقد نے جس حکمران کی بیعت کر لی ہے، باقی عالم اسلام کے مسلمانوں پر بھی اسی کی بیعت کرنا واجب ہے۔
یہی معاملہ عالم اسلام کے ان دوسرے خطوں کا بھی رہا ہے جہاں تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمانوں نے مرکزی خلافت سے الگ اپنا نظام حکمرانی قائم کیا۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں مختلف مسلمان حکمرانوں کے جوازِ حکمرانی کو کبھی مرکزی خلافت کے ساتھ وابستہ نہیں کیا گیا اور نہ یہ تصور ہی پیش کیا گیا کہ ہندوستان کی مسلم حکومتوں کو لازمی طور پر بغداد کی مرکزی حکومت کے تابع ہونا چاہیے یا یہاں کے حکمران کا تقرر مرکزی خلافت کی طرف سے کیا جانا چاہیے۔ یہاں یکے بعد دیگرے مختلف مسلمان خاندان آتے رہے اور اپنے زورِ بازو سے جو بھی اپنا اقتدار جن زمینی حدود میں قائم کرنے میں اور مقامی ارباب حل وعقد کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا، اس کی حکمرانی کو قبول کر لیا گیا۔ یہی صورت حال ہمیں عالم اسلام کے دور دراز خطوں مثلاً انڈونیشیا اور ملائشیا وغیرہ کی تاریخ میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ 
اس سے واضح ہے کہ فقہاء جب ایک علاقے کے ارباب حل وعقد کے اتفاق، یا طاقت کے زور پر اپنا تسلط قائم کر لینے کی بنیاد پر کسی حکمران کی حکومت کو منعقد قرار دیتے ہیں اور اس کے لیے تمام علاقوں کے ارباب حل وعقد کے اتفاق کو ضروری قرار نہیں دیتے تو اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ کوئی مسلم ریاست یا سلطنت جن جغرافیائی حدود میں قائم ہے، ان کے اندر یہ فیصلہ نافذ تصور کیا جائے گا اور مرکز حکومت یا دار الخلافہ میں موجود ارباب حل وعقد جس حکمران کے انتخاب پر متفق ہو جائیں، اس کی اطاعت اس سلطنت کے دائرۂ اختیار اور زمینی حدود میں بسنے والے مسلمانوں پر لازم ہو جائے گی۔ اس اصول کو مذکورہ قید سے آزاد کرتے ہوئے علی الاطلاق بیان کرنا نہ تو عقل عام کی رو سے درست ہے اور نہ یہ فقہاء کی مراد اور منشا کی صحیح ترجمانی ہوگی، کیونکہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ خود مختار مسلم ریاستوں کے جواز کی نہ تو علماء وفقہاء نے عملاً کبھی نفی کی ہے اور نہ دو الگ الگ سلطنتوں کے سیاسی معاملات کو گڈ مڈ کرتے ہوئے ایک سلطنت کے سیاسی فیصلوں کی بنیاد پر دوسری سلطنت کے سیاسی معاملات میں مداخلت کو سند جواز دی ہے۔ 
اس وضاحت کی روشنی میں اب دیکھیے، یہ ایک حقیقت ہے کہ عالم اسلام اس وقت ساٹھ کے قریب الگ الگ اور خود مختار مسلم ریاستوں میں تقسیم ہے جن میں سے ہر ملک کے اپنے جغرافیائی حدود متعین ہیں اور ہر ملک کے باشندوں نے اپنے اپنے حالات کے لحاظ سے اپنے سیاسی معاملات کی انجام دہی کا کوئی نہ کوئی نظام وضع کررکھا ہے۔ یہ تمام مسلمان ملک باہمی معاہدات میں بندھے ہوئے ہیں جن کی رو سے ہر ملک کے ارباب حل وعقد جو بھی فیصلے کرتے ہیں، ان کا تعلق اسی ملک کے معاملات سے ہوتا ہے اور کوئی بھی ملک اپنے سیاسی دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے دوسرے ملک کے معاملات میں دخل اندازی کرنے یا ان پر اپنے سیاسی فیصلوں کی پابندی لازم کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اس وجہ سے اگر عراق اور شام کے بعض علاقوں میں کسی جماعت نے مفروضہ طور پر وہاں کے ارباب حل وعقد کے مشورے سے یا طاقت کے زور پر اپنا تسلط قائم کر کے اپنی حکومت کا اعلان کر دیا ہے، اسے بالفرض ایک جائز حکومت تسلیم کر لیا جائے تو بھی اس کا قانونی جواز اور دائرۂ اختیار اس علاقے تک محدود ہے جہاں اس نے بالفعل اپنی رِٹ قائم کر رکھی ہے۔ اس کی طرف سے یا اس کے وابستگان کی طرف سے عالم اسلام کے باقی مسلمانوں سے یہ مطالبہ کہ وہ اپنی اطاعت اسی کے ساتھ وابستہ کر لیں اور خاص طور پر یہ کہ ایسا کرنا ان کا شرعی اور دینی فریضہ ہے، کسی بھی شرعی یا قانونی یا اخلاقی اصول کی رو سے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ 
عالم اسلام کی سیاسی وحدت اپنی جگہ بڑی اہمیت کی حامل ہے، لیکن اس کا راستہ یہ نہیں کہ موجودہ آزاد اور خود مختار مسلم حکومتوں کے جواز کی نفی کی جائے اور قدیم شہنشاہیت کے طریقے پر پورے عالم اسلام کو کسی ایک حکمران کے زیر حکمرانی متحد کرنے کی کوشش کی جائے۔ تاریخ وتہذیب کے ارتقا کے اس مرحلے پر ایسی کوششیں پتھر سے سر پھوڑنے کے مترادف تو ہوں گی ہی، اس کے ساتھ ساتھ عالم اسلام میں اتحاد واتفاق کے بجائے افتراق وانتشار اور باہمی خانہ جنگی کی آگ بھڑکانے کا بھی اس سے بڑھ کر تیر بہدف نسخہ کوئی اور نہیں ہوگا۔ 

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۵)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۷۵) سعر کا مطلب

قرآن مجید میں جہنم کے عذاب کے لیے لفظ سعیر متعدد مقامات پر آیا ہے، البتہ سورہ قمر میں دو جگہ لفظ سعر آیا ہے، اور دونوں ہی جگہ یہ لفظ ضلال کے ساتھ آیا ہے۔ مترجمین ومفسرین میں اس پر اختلاف ہوگیا کہ ان دونوں مقامات پر سعر کا کیا مطلب لیا جائے، کیونکہ لغت کے لحاظ سے سعر سعیر کی جمع بھی ہوسکتا ہے، اور واحد کے صیغے میں بطور مصدر جنون کا ہم معنی بھی ہوتا ہے ہم ذیل کی سطور میں دونوں آیتوں کے مختلف ترجمے پیش کریں گے۔ 

(۱) کَذَّبَتْ ثَمُودُ بِالنُّذُرِ۔ فَقَالُوا أَبَشَراً مِّنَّا وَاحِداً نَّتَّبِعُہُ إِنَّا إِذاً لَّفِیْ ضَلَالٍ وَسُعُرٍ۔ (القمر: ۲۳،۲۴)

’’ثمود نے بھی انذار کی تکذیب کی، سو انھوں نے کہا کیا ہم اپنے ہی اندر کے ایک بشر کی پیروی کریں گے؟ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم کھلی گمراہی اور جہنم میں پڑے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
یہ تو پوری آیت کا ترجمہ ہے، صرف (إِنَّا إِذاً لَّفِیْ ضَلَالٍ وَسُعُرٍ) کے مزید کچھ ترجمے بھی ملاحظہ ہوں:
’’تحقیق ہم اس وقت البتہ بیچ گمراہی کے ہیں اور جنون کے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)
تو تو ہم غلطی میں پڑے اور سودا میں ‘‘(شاہ عبدالقادر)
’’تو اس صورت میں ہم بڑی غلطی اور (بلکہ) جنون میں پڑجاویں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)

(۲) إِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلَالٍ وَسُعُرٍ۔ (القمر: ۴۷،۴۸)

’’بے شک مجرمین گمراہی میں ہیں اور دوزخ میں پڑیں گے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
’’تحقیق گناہ گار بیچ گمراہی کے اور جلنے کے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)
’’جو لوگ گناہ گار ہیں غلطی میں ہیں اور سودا میں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’یہ مجرمین بڑی غلطی اور بے عقلی میں ہیں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
توجہ طلب بات یہ ہے کہ شاہ رفیع الدین نے پہلے مقام پر جنون اور دوسرے مقام پر جلنا ترجمہ کیا ہے، اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ تفسیر جلالین میں بھی پہلے مقام پر سُعُرٍ کا مطلب الجنون اور دوسرے مقام پرالنار بتایا گیا ہے۔ تاہم خود تفسیر جلالین میں یہ فرق کیوں کیا گیا اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی، اسلوب کی مکمل یکسانیت کا تقاضا ہے کہ دونوں جگہ ایک ہی مفہوم مراد ہو، اور اتنا بڑا فرق نہ ہو۔
سیاق کو دیکھیں تو ضَلَال کے ساتھ سُعُرٍ کے تذکرے سے معلوم ہوتا ہے کہ سُعُرٍ سے مراد دنیا میں پیش آنے والی کوئی حالت ہے، اورمعنوی لحاظ سے بھی ضَلَال کی مناسبت سے جنون کا مفہوم لینا ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، سورہ قمر کے مذکورہ دونوں مقاموں میں سے پہلے مقام پر سُعُرٍ سے مراد جہنم اس لیے نہیں لے سکتے کیونکہ رسول کی تکذیب کرنے والی قوم ثمود کا آخرت اور جنت وجہنم پر ایمان ہی ثابت نہیں ہے، پھر وہ کیسے کہیں گے کہ ایسا کرکے ہم جہنم میں جائیں گے؟ اسی طرح دوسری آیت میں جہنم کا تذکرہ جس طرح اس کے بعد والی آیت میں آرہا ہے اس سے بھی قرین قیاس یہی لگتا ہے کہ اس سُعُرٍ سے مراد دنیا کی کوئی حالت ہے۔ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ جہنم کے لیے جتنے بھی نام قرآن مجید میں آئے ہیں، وہ سب واحد کے صیغے سے آئے ہیں، کوئی جمع کے صیغے میں کہیں نہیں آیا، جبکہ جنت کا ذکر زیادہ تر جمع کے صیغے کے ساتھ آیا ہے۔ خود لفظ سعیر جہاں بھی آیا ہے، واحد کے صیغے میں آیا ہے، اس لیے ان دونوں جگہوں پر سُعُرٍ کو سعیر کی جمع ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہے، جبکہ دوسرے قرائن بھی اس لفظ کو جنون کے معنی میں لینے کے حق میں ہوں۔

(۷۶) باء برائے سبب اور باء بطور صلہ میں اشتباہ

لفظ (بما) کبھی سبب کو بیان کرتا ہے تو کبھی محض صلہ کے طور پر آتا ہے، قرآن مجید میں دونوں اسلوب کثرت سے آئے ہیں، جیسے صلہ کی مثال ہے:

والَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ۔ (البقرۃ: ۴)

اور سبب کی مثال ہے:

وَلَہُم عَذَابٌ أَلِیْمٌ بِمَا کَانُوا یَکْذِبُونَ۔ (البقرۃ: ۱۰)

پہلی آیت میں (ب) یؤمنون کا صلہ ہے اور( ما) موصولہ ہے، جبکہ دوسری آیت میں (ب) عذاب کا سبب بیان کرنے کے لیے ہے اور( ما) مصدریہ ہے۔
لیکن بعض مقامات پر مترجمین کو اشتباہ ہوجاتا ہے اور (بما) سے ان کا ذہن سبب کی طرف چلاجاتا ہے حالانکہ وہاں صلہ کا محل ہوتا ہے۔ ذیل کی دونوں آیتوں کے ترجموں میں یہی ہوا، ذیل کی دونوں آیتوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ مترجمین نے دونوں طرح سے ترجمہ کیا ہے، حالانکہ ترجمہ(ب) کوصلہ مان کر ہونا چاہئے تھا۔:

(۱) فَمَا کَانُواْ لِیُؤْمِنُواْ بِمَا کَذَّبُواْ مِن قَبْلُ۔ (الاعراف:۱۰۱)

’’پس نہ بودند کہ ایمان آرند بآنچہ بہ دروغ شمردند پیش ازیں‘‘۔(شیرازی)
’’پھر ہرگز نہ ہوا کہ یقین لاویں اس بات پر جو پہلے جھٹلاچکے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے بوجہ اس کے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
but they could not believe because they had before denied. (Pickthal)

(۲) فَمَا کَانُواْ لِیُؤْمِنُواْ بِمَا کَذَّبُواْ بِہِ مِن قَبْلُ۔ (یونس: ۷۴)

’’پس نبود قوم کہ ایمان آرند بہ سبب آنچہ بدروغ داشتند اورا پیش ازیں‘‘۔ (شیرازی)
’’سو ہرگز نہ ہوئے کہ یقین لاویں جو بات جھٹلاچکے پہلے سے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’لیکن وہ اس چیز پر ایمان لانے والے نہ بنے جس کو پہلے جھٹلاچکے تھے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
But they were not ready to believe in that which they before denied. (Pickthal)
غور طلب بات یہ ہے کہ شیرازی نے فارسی ترجمہ میں دوسرے مقام پر سبب کا ترجمہ کیا، اور پہلے مقام پر صلے کا ترجمہ کیا، جبکہ صاحب تدبر قرآن نے اس کے برعکس پہلے مقام پر سبب اور دوسرے مقام پر صلے کا ترجمہ کیا ہے۔ درست طریقہ شاہ عبدالقادر کا ہے، انہوں نے دونوں مقامات پر صلے کا ترجمہ کیا ہے۔ اسلوب میں یکسانیت کے باوجود دونوں مقامات کے ترجموں میں فرق کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی، ایسا لگتا ہے کہ دونوں سے سبب کا ترجمہ غلطی سے ہوا ہے۔

(۷۷) افعل صرف صفت کے مفہوم میں

یوں تو افعل کا صیغہ عام طور سے تفضیل کے لیے استعمال ہوتا ہے، تاہم کبھی کبھی وہ تفضیل کے مفہوم کے بجائے مبالغے کا یا صرف صفت کا مفہوم دیتا ہے، جس میں تفاضل نہیں بلکہ تقابل کا مفہوم ہوتا ہے، یعنی یہ نہیں بتانا ہوتا ہے کہ فلاں کے اندر یہ صفت فلاں کے مقابلے میں زیادہ پائی جاتی ہے، بلکہ یہ بتانا ہوتا ہے کہ جو دو فریق سامنے ہیں، ان میں سے صرف ایک میں یہ صفت پائی جاتی ہے اور اس کے بالمقابل دوسرے میں یہ صفت نہیں پائی جاتی ہے۔ بعض ترجموں میں اس کا لحاظ نہیں نظر آتا، اور جہاں موقع ومحل صفت کے ترجمہ کا تقاضا کرے وہاں بھی تفضیل کا ترجمہ کردیا جاتا ہے۔ ذیل کی مثالوں سے اسے سمجھا جاسکتا ہے:

وَإِذَا رَأَوْکَ إِن یَتَّخِذُونَکَ إِلَّا ہُزُواً أَہَذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُولاً۔ إِن کَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ آلِہَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَیْْہَا وَسَوْفَ یَعْلَمُونَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِیْلاً۔ (الفرقان: ۴۱،۴۲)

’’اور جب بھی یہ تمھیں دیکھتے ہیں بس تمہیں مذاق بنالیتے ہیں، اچھا یہی ہیں جن کو اللہ نے رسول بناکر بھیجا ہے؟ اس شخص نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا اگر ہم ان پر جمے نہ رہتے۔ اور عنقریب جب یہ عذاب دیکھیں گے، جان لیں گے کہ سب سے زیادہ بے راہ کون ہے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
’’کہ کون زیادہ گمراہ تھا‘‘ (طاہر القادری)
سیاق کلام سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ کون زیادہ بے راہ ہے، بلکہ یہ بتایا جارہا ہے کہ کون گمراہ ہے اور کون گمراہ نہیں ہے۔
(مَنْ أَضَلُّ سَبِیْلاً) کے بعض درست ترجمے حسب ذیل ہیں:
’’کون شخص بہت گمراہ ہوا ہے راہ سے‘‘۔(شاہ رفیع الدین)
’’کون بہت بچلا ہے راہ سے‘‘۔(شاہ عبدالقادر)
’’کہ کون شخص گمراہ ہے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’کہ کون گمراہ تھا‘‘۔ (احمد رضا خان)

قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلَی شَاکِلَتِہِ فَرَبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ ہُوَ أَہْدَی سَبِیْلاً۔ (الاسراء :۸۴)

’’کہہ دو کہ ہر ایک اپنی کاوش پر کام کرے گا تو تمہارا رب ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو صحیح تر راستے پر ہیں۔‘‘ (اصلاحی)
آیت کے زیر گفتگو حصے (بِمَنْ ہُوَ أَہْدَی سَبِیْلاً) کے بعض ترجمے حسب ذیل ہیں:
’’جو زیادہ ٹھیک رستہ پر ہوا‘‘۔(اشرف علی تھانوی)
’’کون زیادہ راہ پر ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اس شخص کو کہ وہ بہت پانیوالا ہے راہ کو‘‘۔(شاہ رفیع الدین)
’’کون خوب سوجھا ہے راہ‘‘۔(شاہ عبدالقادر)
’’جو سب سے زیادہ سیدھے رستے پر ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
یہاں بھی محل موازنے اور تفضیل کا نہیں ہے، کیونکہ کوئی یا تو ہدایت پر ہوگا اور یا نہیں ہوگا، اول الذکر تینوں ترجموں میں موازنے اور تفضیل کا مفہوم لیا گیا ہے، جو درست نہیں ہے۔ سید مودودی نے یہاں تفضیل کے بجائے موازنے کے طور پر صفت کا ترجمہ کیا ہے، اور یہ ترجمہ درست ہے: ’’سیدھی راہ پر کون ہے"(سید مودودی)

(۷۸) أَفَمَن یَمْشِیْ مُکِبّاً عَلَی وَجْہِہِ کا مفہوم

أَفَمَن یَمْشِیْ مُکِبّاً عَلَی وَجْہِہِ أَہْدَی أَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیّاً عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔ (الملک: ۲۲)

اس آیت کے مختلف ترجمے کئے گئے ہیں، اور وہ سب محل نظر ہیں،
’’کیا وہ جو اوندھے منہ چل رہا ہے راہ یاب ہونے والا بنے گا یا وہ جو سیدھا ایک سیدھی راہ پر چل رہا ہے؟‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’بھلا ایک جو چلے اوندھا اپنے منہ پر وہ سیدھی راہ پاوے یا وہ جو چلے سیدھا ایک سیدھی راہ پر‘‘۔(شاہ عبدالقادر)
’’سو کیا جو شخص منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہووہ منزل مقصود پر زیادہ پہنچنے والا ہوگا، یا وہ شخص جو سیدھا ایک ہموار سڑک پر چلا جارہا ہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’تو کیا وہ جو اپنے منھ کے بل اوندھا چلے زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھا چلے سیدھی راہ پر‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’اچھا وہ شخص ہدایت والا ہے جو اپنے منہ کے بل اوندھا ہو کر چلے یا وہ جو سیدھا (پیروں کے بل) راہ راست پر چلے‘‘۔ (محمد جونا گڑھی)
’’بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو؟‘‘(فتح محمد جالندھری)
ان تمام ترجموں میں اس امر پر اتفاق نظر آتا ہے کہ آیت میں دو طرح سے چلنے کے طریقوں میں موازنہ ذکر کیا گیا ہے، ایک منہ کے بل اوندھا ہوکر چلنا اور دوسرا پیروں کے بل سیدھا ہوکر چلنا۔
اوندھے ہوکر منہ کے بل چلنے کا مفہوم لوگوں کے ذہن میں غالبا اس وجہ سے آیا کیونکہ انہوں نے(علی وجھہ) کو (مکبا) سے متعلق سمجھ لیا، اور اس سے منہ کے بل اوندھا ہونے اور اسی حال میں چلنے کا مفہوم پیدا ہوا جسے تصور کرنا اپنے آپ میں ایک مشکل امر ہے۔یہاں یہ بات یاد رہنا چاہئے کہ دو فریقوں میں اس پہلو سے تقابل نہیں ہے کہ کون سا فریق اس پوزیشن میں ہے کہ چل سکے اور کون سا فریق ایسی پوزیشن اختیار کئے ہوئے ہے کہ اس پوزیشن میں رہ کر ٹھیک سے نہیں چل سکے یا چل ہی نہیں سکے، بلکہ تقابل اس میں ہے کہ کون سا فریق چلنے کی ایسی پوزیشن میں ہے کہ منزل پر پہونچ سکتا ہے، اور کون فریق چلنے کی ایسی پوزیشن میں ہے کہ منزل پر پہونچ ہی نہیں سکتا ہے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ(علی وجھہ) کا تعلق (مکبا) سے نہیں ہے بلکہ (یمشی) سے ہے، (یمشی علی وجھہ) کا مطلب ہوتا ہے جدھر رخ ہوجائے چلتا چلا جائے، اور صرف (مکبا) کا مطلب ہوتا ہے سر جھکائے ہوئے، لسان العرب میں (رجل مکب) کا مطلب بتایا گیا ہے: کَثِیرُ النَّظَرِ الی الأَرض۔ زمین کی طرف زیادہ دیکھنے والا۔ مزید برآں (مکبا) کے مقابلے میں (سوی)  کا مطلب ہوتا ہے سر اٹھائے ہوئے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ (علی وجھہ) دراصل (علی صراط مستقیم) کے مقابلے میں ذکر کیا گیا ہے، ان ساری باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے مولانا امانت اللہ اصلاحی پوری آیت کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں:
’’کیا وہ جو سر جھکائے جدھر رخ ہوجائے چل پڑے راہ یاب ہونے والا بنے گا یا وہ جو سر اٹھاکر ایک سیدھی راہ پر چل رہا ہے‘‘۔
سید مودودی کے ذیل کے ترجمے میں (سویا) کا مفہوم درست بتایا گیا ہے، لیکن (مکبا)، (علی وجھہ) اور (أھدی) کا ترجمہ درست نہیں ہے۔
’’بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟‘‘(سید مودودی)
آیت زیر بحث میں (أھدی) کا ترجمہ بھی توجہ طلب ہے، جن لوگوں نے زیادہ کہہ کر تفضیل کا مفہوم ادا کیا ہے وہ درست نہیں ہے، صحیح بات یہ ہے کہ (أھدی) یہاں بطور صفت تقابل کے مفہوم کے ساتھ استعمال ہوا ہے، یعنی یہ سوال زیر غور نہیں ہے کہ کون زیادہ ہدایت پر ہے اور کون کم ہدایت پر ہے، بلکہ تقابل اس پہلو سے ہے کہ کون ہدایت پر ہے اور کون ہدایت پر نہیں ہے۔

(۷۹) اللّٰہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیْلٌ کا مفہوم

لفظ (وکیل) قرآن مجید میں مختلف معنوں میں آیا ہے، تاہم اس کا اول ترین معنی ہے، وہ ذات جس پر بھروسہ کیا جائے۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل کا مطلب ہے ’’اللہ ہمیں کافی ہے اور وہ بھروسہ کرنے کے لیے کیا ہی بہترین ہستی ہے‘‘۔
قرآن مجید میں دو مقامات پر اللّٰہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیْلٌ آیا ہے، اس کے مختلف ترجمے کیے گئے ہیں، لیکن ان دونوں مقامات پر اس لفظ کے اصل مفہوم کی طرف کم لوگوں کا ذہن گیا ہے، عام طور سے گواہ اور نگہبان کا مفہوم اختیار کیا گیا ہے، جبکہ مناسب ترین مفہوم وہی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا یعنی وہ ذات جس پر بھروسہ کیا جائے۔

(۱) قَالَ لَنْ أُرْسِلَہُ مَعَکُمْ حَتَّی تُؤْتُونِ مَوْثِقاً مِّنَ اللّٰہِ لَتَأْتُنَّنِیْ بِہِ إِلاَّ أَن یُحَاطَ بِکُمْ فَلَمَّا آتَوْہُ مَوْثِقَہُمْ قَالَ اللّٰہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیْلٌ۔ (یوسف: ۶۶)

’’اس نے جواب دیا کہ میں اس کو تمہارے ساتھ ہرگز نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھ سے خدا کے نام پر یہ عہد نہ کرو کہ تم اس کو میرے پاس ضرور واپس لاؤگے الا آنکہ تم کہیں گھر ہی جاؤ۔ تو جب انھوں نے اس کو اپنا پکا قول دے دیا، اس نے کہا جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اللہ اس کا نگہبان ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
متعلقہ ٹکڑے کے کچھ اور ترجمے حسب ذیل ہیں:
’’کہا اللہ اوپر اس چیز کے کہ کہتے ہیں ہم کارساز ہے‘‘۔(شاہ رفیع الدین)
’’بولا ذمہ اللہ کا ہے جو باتیں ہم کہتے ہیں‘‘۔(شاہ عبدالقادر)
’’تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ جو کچھ بات چیت کررہے ہیں یہ سب اللہ ہی کے حوالے‘‘۔(اشرف علی تھانوی)
’’دیکھو، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے‘‘۔(سید مودودی)
’’کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
مولانا امانت اللہ اصلاحی اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے:
’’جو ہم کہہ رہے ہیں اللہ کے بھروسے پر کہہ رہے ہیں‘‘۔

(۲) قَالَ ذَلِکَ بَیْْنِیْ وَبَیْْنَکَ أَیَّمَا الْأَجَلَیْْنِ قَضَیْْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ وَاللّٰہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیْلٌ ۔ (القصص: ۲۸)

’’اس نے جواب دیا کہ یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہے۔ دونوں میں سے جو مدت بھی پوری کردوں تو اس معاملے میں مجھ پر کوئی جبر نہ ہوگا اور اللہ ہمارے اس قول وقرار پر جو ہم کررہے ہیں گواہ ہے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
متعلقہ ٹکڑے کے کچھ اور ترجمے حسب ذیل ہیں:
’’اور اللہ اوپر اس چیز کے کہ کہتے ہیں کارساز ہے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)
’’اور اللہ پر بھروسا اس کا جو ہم کہتے ہیں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’اور ہم جو (معاملہ) کی بات چیت کررہے ہیں اللہ تعالی اس کا گواہ (کافی) ہے‘‘۔(اشرف علی تھانوی)
’’اور جو کچھ قول قرار ہم کر رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے‘‘۔(سید مودودی)
’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں خدا اس کا گواہ ہے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے:
’’اللہ پر بھروسہ ہے ہمیں اس قول وقرار میں جو ہم کررہے ہیں‘‘۔
گویا جس طرح ہم توکلنا علی اللہ کہتے ہیں، اسی طرح اللّٰہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیْلٌ بھی توکل کے اظہار کی ایک خوب صورت قرآنی تعبیر ہے، اور جب دو فریق کسی کام کو کرنے کا باہم معاہدہ کرتے ہیں تو اس تعبیر کی ادائیگی اس معاہدے میں اللہ کے توکل کی ایک کیفیت کا اضافہ کردیتی ہے۔ امام زمخشری لکھتے ہیں: الوکیل: الذی وکل الیہ الأمر۔ 
(جاری)

اسلام عصری تہذیبی تناظر میں ۔ ممتاز دانشور جناب احمد جاوید کا فکر انگیز انٹرویو (۱)

اے اے سید

(کراچی کے معروف جریدہ ’’فرائیڈے اسپیشل‘‘ نے ۲؍ جنوری کی اشاعت میں ملک کے ممتاز مفکر اور دانش ور جناب احمد جاوید کا ایک تفصیلی انٹرویو شائع کیا ہے۔ اس کے مندرجات کی اہمیت اور بلند فکری سطح کے پیش نظر مذکورہ جریدہ کے شکریہ کے ساتھ اسے ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

فرائیڈے اسپیشل: آپ کی شخصیت اور فکر مذہب، فلسفے، ادب اور تصوف سے متعلق ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کا اصل تشخص کیا ہے؟ یعنی آپ اپنے آپ کو کیا کہلوانا پسند کرتے ہیں؟
احمد جاوید: یہ ایک دلچسپ سوال ہے۔ میں خود کو ایک مفید مسلمان کہلوانا یا بنانا پسند کرتا ہوں۔ میرے ذہن میں آدمی کا اصل تشخص وہ ہوتا ہے جو اُس کے ذہن میں ترجیح کے طور پر ہو۔ اس سوال کا اگر میں بے تکلفی سے جواب دوں تو وہ یہ ہے کہ میرے ذہن میں خود میری پہچان صوفی، ادیب وغیرہ کے عنوان سے نہیں ہے، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ’’اللہ سے تعلق کی نسبت پر تشخص کے تمام زاویے تیار ہوجائیں‘‘۔ اپنی ذات کے لیے یہ میرا وہ آئیڈیل تشخص ہے جسے میں اپنے عمل اور خیالات سے حاصل کرنے کی پوری پوری کوشش کرتا ہوں کہ بندگی میرا تشخص بن جائے۔ اور آدمی کے تشخص میں اس کے نظام تعلق کا بہت دخل ہوتا ہے، اس کا بہت حصہ ہوتا ہے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ جس نظام تعلق میں انسان کو پیدا کیا گیا ہے میرے لیے اس نظام تعلق کا زندہ مرکز، اللہ کے ساتھ میرا تعلق بنے۔ میں اپنا مطلوبہ تشخص تو حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکوں لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا اصل تشخص شخصیت کے مستقبل میں ہوتا ہے، شخصیت کے حال میں نہیں۔ اس لیے میرا مطلوبہ تشخص تو یہ ہے کہ اللہ سے میرا تعلق، یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ حق میرا بنیادی تناظر بن جائے، اور اس تناظر سے میں خود کو اور اپنی دنیا کو دیکھنے کی عادت ڈالوں۔ لیکن اگر آپ عملی تشخص پوچھ رہے ہیں تو میں ایک عام آدمی ہوں، جس کی کچھ میدانوں میں تھوڑی بہت کچھ صلاحیتیں ہیں، لیکن مجھے عام آدمی بن کر رہنا پسند ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:آپ اپنی ابتدائی تعلیم و تربیت کے بارے میں کچھ بتائیں اور یہ فرمائیں کہ آپ کی فکر کی تشکیل میں کن شخصیات اور عوامل کا زیادہ اور اہم کردار رہا ہے؟
احمد جاوید: یہ اللہ رب العزت کی بڑی مہربانی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میری زندگی میں معنویت پیدا کرنے کا سارا سہرا میرے استادوں اور دوستوں کے سر جاتا ہے۔ ادب میں سلیم احمد میرے مربی، میرے معلم رہے۔ اسی طرح ایک اور شخصیت ہے جن سے میں شاگردی کا دعویٰ تو نہیں کرتا، ہاں البتہ استفادہ کی بات کرسکتا ہوں، ان کا میری شخصیت اور فکر پر غالباً سب سے زیادہ اثر پڑا ہے۔ وہ مولانا ایوب دہلویؒ ہیں۔ اسی طرح کراچی کے ایک شاعر تھے رئیس فروغ صاحب، وہ میرے بزرگ اور دوست تھے۔ اگر میری شخصیت میں کچھ ادبی عناصر موجود ہیں تو وہ سلیم احمد، قمر جمیل اور رئیس فروغ کی صحبتوں کی وجہ سے ہیں، اور محمد حسن عسکری کو جم کر شوق سے پڑھنے کے نتیجے میں۔ باقی یہ کہ اگر میری شخصیت میں کوئی مذہبی عناصر ہیں تو ان کا دارومدار مولانا ایوب ؒ کے ساتھ اس تعلق پر ہے جو اُن کے لیے میں محسوس کرتا ہوں۔ مولانا ایوب تو بہت پہلے فوت ہوگئے تھے لیکن سلیم احمد کے ساتھ برسوں تعلق رہا، رئیس فروغ صاحب اور قمر جمیل کے ساتھ برسوں کا تعلق تھا۔ میرا تعلق کراچی سے ہی ہے اور 1980ء میں مَیں نے کراچی چھوڑا۔
فرائیڈے اسپیشل: جیسا کہ آپ نے بتایا، آپ کی مذہبی فکر کے سلسلے میں مولانا ایوب دہلویؒ اور ادبی تربیت کے سلسلے میں حسن عسکری اور سلیم احمد کا کردار ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان شخصیتوں کی ہماری اجتماعی زندگی میں اہمیت کیا ہے؟
احمد جاوید: محمد حسن عسکری اردو ادب کے سب سے بڑے نقاد ہیں۔ اس بات پر شبہ کرنے والا ادب اور تنقید سے نابلد ہے۔ عسکری صاحب نے ادب کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سکھایا۔ عسکری صاحب نہ ہوتے تو ہمارا ادب وہ اصول دریافت نہ کرپاتا جس کی بنیاد پر ادب خودمختار اور خودکفیل حیثیت سے خود کو استوار اور قائم رکھ سکتاہے۔ ادب کی پوری روایت میں یہ عسکری صاحب کا بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے۔ وہ نہ ہوتے تو ہم ادب کو خالص ادبی معیار پر پرکھنے کے اصول حاصل نہ کرپاتے۔ وہ جامع الکمالات شخص تھے، ان پر گفتگو کے لیے بہت وقت چاہیے۔ سلیم احمد، عسکری صاحب کے شاگردِ رشید تھے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ عسکری صاحب کے جانشین تھے۔ سلیم احمد عسکری اسکول کے سب سے بڑے آدمی تھے۔ سلیم احمد نے عسکری صاحب کے ادبی اصول کو قبول کرکے انہیں عملی تنقید کا حصہ بنانے میں جو بے مثل کامیابی حاصل کی اس نے بھی خصوصاً ہماری ادبی تنقیدی روایت پر بہت اثر ڈالا۔ سلیم احمد ایک اعتبار سے عسکری اسکول کو پھیلانے والی سب سے بڑی قوت کا نام ہے۔ لیکن چونکہ سلیم بھائی کے شعبے زیادہ تھے، وہ میڈیا سے متعلق بھی تھے، ڈراما نگاری بھی کرتے، ریڈیو، ٹی وی اور تھیٹر کے ڈرامے بھی لکھتے تھے، اخبار میں کالم نگاری بھی کرتے تھے، تو ان کے ہاں موضوعات زیادہ ہیں۔ اپنی ہر حیثیت میں سلیم احمد نے ایک پرنسپل کو ملحوظ رکھ کر دکھایا۔ وہ پرنسپل یہ ہے کہ سیاست سے لے کر ادب تک میں ہماری تہذیب کے بنیادی اصول حاکمانہ حیثیت سے باقی رہنے چاہئیں۔ سلیم احمد نے ادب اور تنقید وغیرہ میں ایک ضروری مقصدیت جو درکار ہوتی ہے وہ اپنی شاعری سے بھی اور اپنی تنقید سے بھی پیدا کرکے دکھائی۔ ان کی شخصیت کا دوسرا بڑا پہلو ان کا شاعر ہونا ہے۔ وہ بہت زبردست شاعر تھے۔ ہم اپنے ذوق اور فہم کی کمی، یا اپنے تہذیبی اضمحلال کی وجہ سے ان کی شاعری کی معنویت کو نہیں سراہ پائے۔ ان کی شاعری اپنی تہذیب کے انہدام کا نوحہ ہے، اور ان کی تنقید اپنی تہذیب کی تعمیرنو کا عمل ہے۔ یہ تھے سلیم احمد۔ 
رہی بات مولانا ایوب دہلوی کی، تو بلاخوفِ تردید کہا جاسکتا ہے کہ وہ ہماری روایت کے آخری متکلم تھے۔ ان کے زیادہ موضوعات کلامی تھے، معقولی تھے۔ اگر کبھی متکلم کی حیثیت سے ان کا جائزہ لیا گیا تو وہ ہماری علم الکلام کی روایت میں سب سے آگے کے لوگوں میں شمارکیے جائیں گے۔ مذہبی فکر کے جو مسائل لاینحل چلے آرہے تھے ان میں ایک مسئلہ جبر و قدر تھا۔ اس طرح کے مسائل کو مولانا ایوب دہلوی صاحب نے اس طرح حل کیا کہ ان کی مسلسل جو دشواری پڑھنے یا سننے والے کی نظر سے غائب ہوگئی۔ عقل اپنے آپ کو پورے کا پورا ایمان کے تابع رکھنے کا ارادہ رکھنے کے باوجود اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے سے عاجز رہ جائے تو جو شخص عقل کی اس نارسائی کو دور کرے گا وہ اصل میں متکلم ہوگا۔ متکلم کہتے ہی اسے ہیں جو عقل کے ایمانی کردار کو اس کے دیگر وظیفوں پر غالب رکھ کر دکھا دے۔ مولانا ایوب دہلوی گزشتہ سو، دو سو برس کی روایت میں شاید سب سے بڑا مذہبی ذہن ہیں، جنہوں نے عقل کی نارسائی کا ازالہ کیا اور عقل کو ایمانی بننے کے لیے جن دلائل کی ضرورت تھی، وہ دلائل فراہم کیے۔ لیکن افسوس، چونکہ بڑے موضوعات سے ہماری مناسبت ختم ہوچکی ہے اور مولانا کے مخاطبین معمولی لوگ تھے اور اس کے بعد اس معمولی پن میں اضافہ ہوتا چلا گیا، تو اب تو نہ کسی کو جبر و قدر مشکل محسوس ہوتا ہے، اور نہ آسان۔۔۔ کیونکہ وہ اس سے واقف ہی نہیں ہے۔ اس کا یہ مسئلہ ہی نہیں ہے۔ اس وجہ سے ان کی تعریف و توصیف سامنے نہیں آسکی، ورنہ اگر وہ اچھے زمانوں میں پیدا ہوتے تو ان کا درجہ اُن متکلمین جیسا ہوتا جو مشکلات کو حل کرنے کی ضمانت ہوتے ہیں۔ مولانا پر مجھے یہ اعتماد رہا ہے اور ہے کہ ایمانیات میں، عقل کی ہر مشکل میں، اسے قائل کرنے کی جیسی قوت اُن میں تھی وہ میں نے کسی کی تحریر میں دیکھی نہ تقریر میں۔ یہ ان کا امتیاز تھا۔ شخصیت کے اعتبار سے وہ بہت بڑے آدمی تھے، یعنی بلند کردار اور عمیق علم کو اگر ایک شخص میں جمع دیکھنا ہے تو جب تک آپ مولانا ایوب دہلوی کو دیکھیں یہ تھے مولانا ایوب دہلویؒ ۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے جس انحطاط کا ذکر کیا ہے اُس کے اسباب کیا ہیں؟ 
احمد جاوید: ہمارا جو سب سے بڑا اجتماعی مرض یا اُم الامراض ہے وہ یہ ہے کہ ہم گھٹیا لوگ بن کر رہ گئے ہیں۔ ذوق میں، فہم میں، ذہن میں، اخلاق میں۔۔۔ ہر معاملے میں ہم اوسط سے نیچے ہیں۔ یہ ہمارے انحطاط کا سب سے بڑا سبب ہے، اور اسی سے ذہنی اور اخلاقی انحطاط پیدا ہوا ہم بہت چھوٹے لوگ ہیں اور اس چھوٹے پن کو دور کرنے کی خواہش بھی نہیں رکھتے۔ ہم بہت معمولی لوگ ہیں اور اس معمولی پن سے نکلنے کی کوئی طلب نہیں رکھتے۔ معمولی پن پیدا ہوجانا مرض ہے۔ معمولی پن پر راضی ہوجانا موت ہے۔ 
فرائیڈے اسپیشل: قحط الرجال ہے کہ نہ کوئی بڑا ادیب پیدا ہورہا ہے، نہ بڑا شاعر پیدا ہورہا ہے۔ علماء کے شعبہ میں بھی بہت اچھی صورت حال نہیں ہے۔آپ کے خیال میں یہ حالات کس طرح ختم ہوسکتے ہیں؟
احمد جاوید: بڑے لوگ کیوں نہیں پید ا ہورہے؟ اس کا سبب میں نے بتادیا۔ خواہ شاعری ہو یا دین، دونوں جگہ یہی صورت حال ہے۔ ہم جب تک اپنی کمزوریوں کی ذمہ داری غیروں پر ڈالتے رہیں گے اُس وقت تک ہم ان کمزوریوں سے نہیں نکل سکتے۔ پھر آپ کا پورا نظام تعلیم عمومی لوگ پیدا کرنے کی مشین ہے، کیونکہ ہر تہذیب کا ایک ذہن ہوتا ہے جو اس کے نظام تعلیم سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر کسی معاشرے یا سماج کا نظام تعلیم اس کے اپنے تصورِ علم سے مناسبت نہ رکھتا ہو اور مانگے تانگے پر مبنی ہو، تو ظاہر ہے کہ اس تعلیم سے اس تہذیب کے اجتماعی شعور تقویت کا کوئی امکان باقی نہیں رہ جاتا۔ہر تہذیب کا ایک اجتماعی شعور، ایک اجتماعی قلب اور ایک اجتماعی ارادہ ہوتا ہے۔ اجتماعی شعور کو حالتِ تسکین، حالتِ سیرابی بلکہ حالتِ نمو میں رکھنے کے لیے وہ تہذیب اپنا نظام تعلیم بناتی ہے۔ اسی طرح ہر تہذیب کا ایک اجتماعی ارادہ ہوتا ہے جو اس کی مراد کو پہنچانے میں مددکرتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی تہذیب اپنی اوریجنل مراد سے دست بردار ہوکر دوسروں کے مقاصد کو اپنا مقصد بنانے کا فیصلہ کرلے تو اس کا وہ اجتماعی، فطری ارادہ جو اس کی اپنی مراد سے مناسبت رکھنے کی حالت ہی میں عمل میں آسکتا تھا، وہ معطل ہوکر رہ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ تخلیقی اعمال بجا نہیں لاسکتے۔ آپ بڑے مقاصد کو حاصل کرنے والی اجتماعی محنت نہیں کرسکتے، وغیرہ وغیرہ۔ 
اسی طرح ایک اجتماعی قلب ہوتا ہے جو اس تہذیب کے محبت اور نفرت اور اس تہذیب کے احساسات اور جذبا ت کو ایک خاص ہیئت، رنگ اور حالت میں رکھتا ہے۔ ہر تہذیب اپنا نظام احساسات رکھتی ہے۔ اگرتہذیب اپنے نظام احساسات سے خالی اور غیر مطمئن ہوجائے تو ا س کا قلب دھڑکنا بند کردیتا ہے۔ اس کا قلب معطل ہوجاتا ہے۔ اس لیے ان تین سطحوں پر اگر دیکھیں تو نظر یہ آتا ہے کہ ہم ان تینوں سطحوں پر بانجھ پن کا شکار ہیں۔ اب ہم یہ کہنے کے لائق نہیں ہیں کہ یہ رہا ہماری تہذیب کا اجتماعی ذہن اور یہ اس کے افکار و اقدار۔یہ رہی ہماری منزل، اور یہ رہی ہماری پسند و ناپسند۔۔۔ اور ہم اس قدر سے وفادار ی رکھتے ہوئے چیزوں کو پسندو نا پسندکرتے ہیں۔ تو جس تہذیب کے اندر اس کی آبیاری، اس کی نگہداشت کا نظام ختم ہوجائے، اس تہذیب کی باطنی قوت کو طاقت فراہم کرنے والا نظام تعلیم کی شکل میں، نظام اخلاق کی شکل میں،نظام انصا ف کی شکل میں وغیرہ وغیرہ، تو پھر وہ تہذیب بڑا آدمی پیدا کرنے سے معذور ہوجاتی ہے۔ بڑا آدمی کہتے ہیں اپنی تہذیب کے ذہن اور قلب کا مظہر بن جانے والے کو۔ اس لیے جس تہذیب کے اندر خلا پیدا ہو جائے گا وہ پھر خالی لوگ ہی پیدا کرے گی، اس لیے ہم اس بحران میں مبتلا ہیں۔ اس بحران سے نکلنے کا اس کے سوا اور کوئی حل نہیں ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے فرمایا کہ بلحاظِ نظام تعلیم، نظام اخلاق اور نظام انصاف ہم بانجھ پن کا شکار ہیں۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ تبدیلی کے حوالے سے تین قسم کے ماڈل ہمارے سامنے آئے ہیں۔ ان میں اول تبلیغی جماعت کا ماڈل ہے، دوسرا ماڈل جمہوریت کا ہے، تیسرا ماڈل یہ ہے کہ آپ کے پاس طاقت ہو اور اس کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرکے خلافت قائم کرلیں۔ آپ ان ماڈلز کو کس طرح دیکھتے ہیں اور کیا کوئی چوتھا طریقہ یا ماڈل بھی موجود ہے جس کے ذریعے تبدیلی آسکتی ہے؟
احمد جاوید: دیکھیے اتفاق یہ ہے، بلکہ اتفاق کیا شاید ہم سب کا یہ مشاہدہ ہے کہ یہ تینوں ماڈل (یعنی تبلیغی جماعت، جمہوریت اور طاقت سے خلافت قائم کرنے کے خواہش مند) اپنی بہترین صلاحیتوں کو استعمال کرلینے کے باوجود بے اثر، بے نتیجہ اور ناکام ہیں۔ اس وقت دنیا کے کسی بھی مذہب میں تبلیغی جماعت سے بڑا دعوتی نیٹ ورک نہیں، لیکن اس کے کام کا مسلمانوں کے اجتماعی وجود پر کوئی اثر نہیں پڑا اور مسلم زندگی کو چلانے والے نظام کی تبدیلی کی شکل میں نظر نہیں آتا۔ ہم اسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بڑے دائرے میں ناکام ہے، چھوٹے چھوٹے دائروں میں کامیاب ہے۔ اسی طرح دین کی سیاسی تعبیر کرکے غلبہ دین کی وہ جدوجہد جس میں جمہوریت کو ذریعہ مان لیا گیا ہے، جسے آج کل کی اصطلاح میں مذہبی سیاسی جماعتیں کہتے ہیں، یہ جماعتیں مضحکہ خیز صورت اختیار کرچکی ہیں۔ مثال کے طور پر اس کا بڑا اور شاید سب سے مضبوط نمونہ جماعت اسلامی ہے۔ جماعت اسلامی کے پاس ایک بڑی فکر بھی ہے، کارکنوں کا اخلاص اور عمل کی قوت بھی ہے۔ جو ایک سیاسی جماعت کی خوبیاں ہوسکتی ہیں وہ ان کے پاس ہیں۔ ان کا ایک بیانیہ بھی ہے، اس بیانیے کو عمل میں لانے کے لیے جدوجہد کرنے والے کارکنوں کی فوج بھی موجود ہے، اور اپنی جماعت کو بچانے والا ایک فیئر ڈسپلن بھی حاضر ہے، مگر یہ سب خوبیاں رکھنے کے باوجود جماعت اسلامی پہلے دینی شناخت یا تشخص رکھنے میں کامیاب ہوئی، اس کے بعد اس میں غائب ہوگئی۔ سیاسی وجود یا شناخت کچھ حاصل ہوئی، لیکن اب سیاست سے بھی غائب ہوگئی ہے۔ اب موجودہ صورت یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی نہ کوئی دینی وقعت رہ گئی ہے، نہ سیاسی اہمیت۔ یہ گویا ایک ماڈل کی مکمل ناکامی کا ایک نمونہ ہے۔ 
اور تیسرا ماڈل جس کا آپ نے ذکر کیا کہ غلبہ بذریعہ طاقت برائے قیام خلافت، تو یہ desperation میں اٹھی ہے، یہ گویا احتجاج میں اٹھی ہے، یہ پچھلے دو ماڈلز کی مسلسل اور مکمل ناکامی کے مشاہدے سے پیدا ہوئی ہے، کیونکہ یہ ردعمل ہے۔ ہر زمانے میں عالمگیر سطح پر تبدیلی کا ایک میکنزم ہوتا ہے جس کی حق اور باطل دونوں کے ترجمانوں کو پابندی کرنا پڑتی ہے۔ یہ جو تیسرا گروپ ہے، ان کا المیہ یہ ہے کہ جو موجودہ Universal mechanics of change ہیں، ان سے کسی بھی طرح کا کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ ایک عالمگیر مزاج کی تبدیلی اور نظام کی تبدیلی سے خود کو بالکل لاتعلق رکھ کر دنیا میں تبدیلی لانے کا خواب دیکھنا گویا ناممکن کو ممکن فرض کرلینا ہے۔ جو عسکریت پسند جماعتیں ہیں یا خلافت کے قیام کی پُرامن جدوجہد کرنے والی تحاریک ہیں، یہ دونوں اپنے زمانے کی روح سے لڑرہی ہیں اور روحِ عصر سے لڑائی کامیاب نہیں ہوتی۔ اسلام نے غلامی وغیرہ کے رد میں خود بھی یہ کچھ نہیں کیا۔ کیونکہ جمہوریت پوری دنیا کے اجتماعی لاشعور کا عقیدہ بن چکی ہے، اب اس سے بلاوجہ کی لڑائی چھیڑ کر لوکل تبدیلی لانے کے لیے پوری دنیا کو اس کی اساس سے ہٹانے کی کوشش کرنا ایک ناسمجھی کا کام ہے۔ یہ ایسا کام ہے کہ ذہن میں آتے ہی ناکام ہوجاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس پر جو عمل ہورہا ہے، افسوس کہ وہ عسکریت پسندی کی شکل میں ہورہا ہے۔ عسکریت پسندی جو ہے، وہ قدیم زمانے کی بناوٹ کے مطابق تو تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی تھی، لیکن جدید دنیا کی ساخت یہ ہے کہ کسی گروپ کی عسکریت پسندی سوشل یا ریاستی سطح کے چیلنج کا باعث کبھی نہیں بن سکتی اور نہ کبھی بنی ہے۔ اس لیے جو لوگ عسکریت میں ملوث نہیں مگر ان کے مقاصد سے متفق ہیں، ان کے لیے یہ ایک المیہ بھی ہے۔ دوسرا یہ ایک دہشت کا سا تصور ہے کہ آپ اپنے تصور میں کھلے ہوئے پھول کو باہر کی زمین میں اگانے کے لیے اس زمین میں آگ لگا رہے ہیں اور پہلے سے کھلے ہوئے پھولوں کو پاؤں تلے روند رہے ہیں۔ یہ بہت پست ذہنی اور کمی کی علامت ہے۔ 
میرے خیال میں ہمیں حقیقت میں جس ماڈل کی ضرورت ہے وہ بنیادی طور پر تو دعوتی ہے۔ اس میں کچھ طاقتور عناصر ظاہر ہے کہ سیاسی ہوں گے۔ تو دعوت اور سیاست کو ملا کر معاشرے کو اپنی بنیادی اقدار پر ری اسٹرکچر کرنے کی کوشش کرنا ضروری بھی ہے اور ممکن بھی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری جو غالب مذہبی قوتیں ہیں وہ ریاستی اسٹرکچر میں تبدیلی لانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں بہ نسبت معاشرتی دروبست میں انقلاب لانے کے، جبکہ انسانوں میں دیرپا انقلاب کی ہر قسم فرد سے شروع ہوتی ہے، معاشرے میں اپنے حق پر ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہے اور معاشرے کی تبدیلی کے نتیجے میں ریاستی نظام خودبخود بدلنے لگتا ہے۔ تو ہمارے یہاں معاشرے کو بدلنے کا کوئی مربوط تصور موجود نہیں ہے۔ فرد کو بدلنے کا تصور ہے جسے تبلیغی جماعت بہت اچھی طرح استعمال کررہی ہے۔ لیکن یہ مسلم معاشرہ کسے کہتے ہیں؟ مسلم معاشرے کے قیام کو اپنا مقصد بناکر اس کے لیے فکری اور عملی جدوجہد کرنا، اس کی تحریک چلانا، یہ دستیاب مذہبی جماعتوں کا موضوع یا مقصد نہیں ہے جو میرے خیال میں ایک بہت بڑی کمی ہے۔ اب اگر ہماری تہذیب یعنی مسلم تہذیب کی تجدید یا بقا کا کوئی بھی کام ہوگا تو وہ اپنی صورت اور معنویت میں معاشرتی ہوگا، سیاسی یا ریاستی نہیں ہوگا۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا آپ کے خیال میں پاکستان میں اسلامی نظام کے لیے کام کرنے والی جماعت یا جماعتیں ناکام ہوگئی ہیں؟ تو پھر تبدیلی کیسے آئے گی، جماعتوں میں اصلاحات کے ذریعے؟ یا پھر کسی نئی جماعت یا تحریک کی ضرورت ہے؟
احمد جاوید: یہ ثانوی باتیں ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دینی جماعتیں اپنے اندر بنیادی اور مؤثر تبدیلی لائیں۔ جیسے مسلم لیگ۔ جس مسلم لیگ نے پاکستان بنایا ہے، یہ پہلے جاگیرداروں کا کلب تھا، اس نے خود کو بدل کر پاکستان بنایا تھا۔ لیکن یہ ثانوی باتیں ہیں کہ یہ خود کو بدلیں یا اس کی جگہ نئی جماعت بنائیں، دونوں صورتوں میں نتائج کی امید کی جاسکتی ہے۔ اصل میں سب سے زیادہ ضروری یہ سمجھنا ہے کہ دین کس طرح کی اجتماعیت ہم سے طلب کرتا ہے۔ اس طلب کو درست انداز میں سمجھ کر اسے اپنی ذہنی اور اخلاقی قوتوں سے عمل میں لانا۔۔۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ مسلم معاشرے کا اگر ایک نمونہ بھی مسلمان پیش کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو ان پر مغرب کی یلغار ہی نہیں رک جائے گی بلکہ مغرب میں اسلام پھیلنا شروع ہوجائے گا۔ کیونکہ مغرب کو ایک روحانی معاشرے کی پیاس لگی ہوئی ہے جو وہاں کے حساس اور ذہین طبقات محسوس کرتے ہیں۔ اگر ہم روحانی بنیادوں پر ایک فلاحی اور انسانی معاشرہ بناکر دکھادیں تو مغرب ایک گولی چلائے بغیر فتح ہوسکتا ہے۔ لیکن ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم اس کو تو روتے ہیں کہ عالم اسلام میں کوئی حکومت اسلامی نہیں ہے، لیکن اس طرف نظر نہیں کرتے کہ عالم اسلام میں کوئی معاشرہ اسلامی ہے یا نہیں؟ ہمیں اس بات کی کسک محسوس نہیں ہوتی کہ اس وقت عالم اسلام میں کوئی ایک معاشرہ بھی اسلامی معاشرہ نہیں ہے۔ مختصر یہ کہ معاشرے میں تبدیلی آجائے تو ریاست میں خود بخود آجاتی ہے۔میرے خیال میں تبدیلی کا یہ نظریاتی طریقہ ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: عالم اسلام میں کئی اسلامی تحریکیں کام کررہی ہیں، آپ ان کی جدوجہد کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
احمد جاوید: سب کی خامیاں ایک جیسی ہیں۔ اخوان المسلمون ہے، الجزائر کی اسلامک فرنٹ ہے وغیرہ وغیرہ، جو بھی سیاسی جدوجہد کرنے والی جماعتیں ہیں، وہ ایک جیسی ہیں۔ وہ سب نظام بدلنے کی بات کرتی ہیں۔ جبکہ تبلیغی جماعت کے مقابلے میں دعوتی جماعتیں بہت کم ہیں اور چھوٹی ہیں۔ تو اس میں ہمیں اسی ماڈل کو سامنے رکھ کر عالم اسلام کی دعوتی فضا پر اپلائی کرنا ٹھیک لگتا ہے۔ ہمارے ہاں دین کی دعوت کا ایک نظام ہے، دین کو دعوت بنانے کی ایک تحریک ہے، اور یہ دونوں ناکام ہیں۔ پورے عالم اسلام میں کہیں بھی ایسا نہیں ہے کہ کوئی مذہبی، اسلامی سیاسی تحریک کامیاب ہوئی ہو۔
فرائیڈے اسپیشل: اب ہم ادب سے متعلق کچھ گفتگو کرلیتے ہیں۔ ادب کے دائرے میں مختلف نکتہ ہائے نظر موجود ہیں۔ کچھ لوگ ادب برائے ادب کے قائل ہیں، کچھ لوگ ادب برائے مقصدیت کے قائل ہیں۔ آپ کی نظر میں ایک انسانی معاشرے میں ادب کا حقیقی کردار اور اس کی اہمیت کیا ہے؟
احمد جاوید: اب یہ سوال موجود ہی نہیں ہے کہ ادب برائے زندگی ہوتا ہے کہ ادب برائے ادب ہوتا ہے۔ وہ تنازع کی فضا گزر چکی ہے۔ اب وہ ہمارا ماضی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اشتراکیت اور جدیدیت سے پیدا ہونے والی تحریک میں تصادم کی فضا تھی۔ اشتراکی کہتے تھے کہ ادب مقصد کے تحت ہوتا ہے، جبکہ جدیدیت پسند کہتے تھے کہ نہیں ادب کا مقصد ادب ہی ہوتا ہے۔ یعنی ادب ایک جمالیاتی مشغلہ ہے، اس کا کوئی سیاسی اور اخلاقی پہلو نہیں ہوتا۔ وہ دور اب گزر گیا۔ آج کے ادیب کو ان دونوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا مسئلہ درپیش نہیں ہے۔اب فضا یہ ہے کہ ادب زندگی میں انسان کی داخلی اور خارجی صورت حال میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے: اگر میرا جمالیاتی شعور اور احساس نظرانداز ہوجائے تو میرے شعور اور میرے وجود میں ایک بنیادی نقص رہ جائے گا۔ یعنی یہ کہ آپ کا مذہبی شعور بھی بہت پختہ ہو، آپ کا عقلی شعور بھی بہت پختہ ہو، آپ کا اخلاقی شعور بھی بہت پختہ ہو لیکن آپ چیزوں کو خوبصورتی اور بدصورتی میں تقسیم اور اس کا فیصلہ نہ کرسکتے ہوں تو گویا آپ کا ادراک اور آپ کی سطح وجود کم تر ہے۔ جمالیاتی شعور یعنی چیزوں کو خوبصورتی اور بدصورتی کے تناظر میں دیکھنا اور ان میں فرق کرنا، جیسے عقل کرتی ہے کہ یہ صحیح ہے اور یہ غلط ہے، یہ مفید ہے یا مضر ہے۔ مذہبی شعور کہتا ہے کہ حق ہے یا باطل ہے، یہ حلال ہے یا حرام ہے۔ اخلاقی شعور کہتا ہے کہ یہ بھلا ہے یا برا ہے، خیر ہے یا شر ہے۔ یہ سب ان کے وجودِ کار ہیں۔ 
تو اگر ہم حق و باطل، حلال و حرام، مفید و مضر اور خیر و شر تک ہیں تو ہم تعمیر ہوئے۔ لیکن چیزیں اپنا جمیل ہونا اور بدصورت ہونا میرے اندر پیدا نہ کریں تو ان چیزوں کے بارے میں میرا فہم، ان چیزوں سے میرا تعلق ناقص رہ جائے گا۔ اور میری عقل نے ان چیزوں کا جس طرح ادراک کیا ہے اس میں کمی رہ جائے گی۔ یعنی میری عقل بھی سیرابی کے تجربے سے محرو م رہ جائے گی، میری مذہبیت بھی اطمینان کے تجربے سے خالی رہ جائے گی، میرے اخلاق بھی دل کی نرمی سے، دل کی حرارت سے منقطع حالت میں رہ جائیں گے۔ تو گویا جمالیاتی شعور اور طرزِ احساس کی یہ اہمیت ہے کہ یہ انسان کے شعور اور وجود دونوں کی تکمیل میں لازمے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اگر یہ کمزور یا معدوم حالت میں ہیں تو انسان شعور اور وجود دونوں سطح پر ایک کم تر ہستی رہ جائے گا۔ یہ تو رہا اصولی مطلب۔ اب دوسرا مطلب یہ ہے کہ میری سب سے بڑی آرزوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ جو جانے، جو مانے، جو کرے اس میں اس کا دل لگے۔ اس میں اسے تسکین محسو س ہو۔وہ اسے ایک خوبصورتی کی فضا میں رکھے۔کہ جس مورتی کو اس نے ڈھونڈ کرنکالا ہے اسے ٹاٹ کے بورے میں جمع نہ کرے بلکہ اس کے لیے اچھا صندوق بنائے۔اخلاق بھی یہ چاہتا ہے کہ عمل صرف مبنی بر خیر نہ ہو، بلکہ میرے خیر میں ایک کشش اور جمال بھی ہو۔ مذہبی شعور بھی یہ چاہتا ہے کہ اللہ آپ کی طرف یکسو ہوں۔احسان کے ساتھ ہو۔خوبصورتی کے ساتھ ہو۔ حسن کے ساتھ ہو۔گویا حسن ہر شعورکے ہر حاصل میں ایک نئی چمک دمک پیدا کرتا ہے، ایک کشش پیدا کرتا ہے، وہ عقل کے لیے معقول کو،مذہبی ذہن کے لیے عقیدے کو پر کشش بناتا ہے جو ان عقائد اور ان نظریات سے تسکین پانے کے لیے ضروری ہے۔ 
تو جمالیاتی شعور میرے عقائد،نظریات اور اعمال کو پرکشش بنانے کا کام کرتا ہے۔ان کو بدلے بغیر، ان کو چھیڑے بغیر۔لیکن اگر فرض کیا کہ خدا میرے لیے پرکشش نہ رہے تو خدا کو ماننے کی تمام تفصیلات رکھنے کے باوجو د مجھے اس سے تسکین نہیں حاصل ہوگی، مجھے اس سے ایک زندہ تعلق کا تجربہ نصیب نہیں ہوگا۔ ان معنوں میں جمالیات علم الحضور ہے۔یہ حضوری کا احساس ہے۔یہ غیب میں حضوری کی لگن پید اکرنے کی قوت ہے۔ اگر یہ نہ رہے تو اس کے نتیجے میں پھر شعور کی اور طبیعت کی حالتیں، اندرخام اور ناتمام رہ جائیں گی۔بڑا ادب یہ کام کرتا ہے کہ وہ انسانی شعور اور اس کی طبیعت کو بلند کرتا ہے۔ اس کی تمام صلاحیتوں کو، تمام قابلیتوں کو حالتِ تسکین میں کرتے ہوئے اس کے تمام عقائد و تصورات کو حسین اور پرکشش بناتا ہے۔ جمالیات مجھے کوئی نظریہ نہیں دیتی، جمالیات میرے مانے ہوئے نظریے کی تزئیین کردیتی ہے۔ اسے خوبصورت بنادیتی ہے۔ تو ادب اگر واقعی تخلیقی ادب ہے تو اس کا یہ کردار، اس کا یہ کارنامہ سامنے کی چیز ہے۔ اسی وجہ سے افلاطون نے کہا تھا کہ ’’یونانی تہذیب کا بانی ہومر ہے‘‘۔ اس نے کسی فلسفی کا نام نہیں لیا کیونکہ اس نے یونانی تہذیب کے جو آئیڈیلز تھے انہیں پُرکشش بنادیا تھا، انہیں خوبصورت کردیا تھا۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب ’’احسان کیا ہے؟‘‘ کا جواب دیتے ہیں تو فرماتے ہیں: ’’اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔‘‘ تو گویا اللہ کو دیکھنے کا حال ایک پختہ جمالیاتی شعور کے بغیر ناممکن ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے بڑے ادب کا ذکر کیا۔ بڑا ادب کس طرح تخلیق پاتا ہے؟ یا بڑا ادیب کیسے پیدا ہوتا ہے؟
احمد جاوید: جب کوئی زبان اور تہذیب بڑائی کی سطح پر ہو یا بڑائی سے تازہ تازہ گری ہو تو بڑا ادیب اور بڑا ادب پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اگر تہذیب اور زبان میں مادہ عظمت رہ ہی نہ جائے اور اس مادہ کو دیر ہوگئی ہو تو پھر بڑے ادیب اور بڑے ادب کا پیدا ہونا محال ہے۔ زبان اور تہذیب میں بڑائی کا جوہر عملی حالت میں موجود نہ ہو تو بڑا ادب نہیں پیدا ہوسکتا۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ کے ادبی استاد سلیم احمد ؒ نے آج سے تیس، پینتیس سال پہلے ’’ادب کی موت‘‘ کا اعلان کیا تھا۔ اس جملے کی معنویت کیا ہے اور اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟کیا ادب کی واقعی موت واقع ہوگئی ہے؟ 
احمد جاوید: جب انہوں نے یہ بات کہی تھی تو اُس وقت میں بھی موجود تھا۔ اُن کے یہاں ہونے والی نشستوں میں یہ ایک موضوع بھی تھا کہ ’’ادب کی موت‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ ظاہر ہے کہ جس نے یہ بات کہی ہے اگر اُس شخص نے اس کی تشریح کردی ہے تو اسی بات کو حتمی کہیں گے۔ سلیم احمد نے ایک سلسلہ کلام میں یہ بات کہی تھی۔ وہ سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے نطشے سے، نطشے نے کہا تھا کہ ’’خدا مر گیا ہے‘‘۔ اس پر سلیم احمد کی تعبیر کے مطابق نطشے کہہ رہا ہے کہ وہ آدمی فنا ہوگیا ہے جس کا سب سے بڑا مسئلہ ’’خدا‘‘ تھا، تو نطشے نے اصل میں خداپرست آدمی کی موت کا اعلان کیا۔ اسی طرح اگلا نعرہ لگا کہ ’’انسان مر گیا ہے‘‘۔ اس پر سلیم بھائی فرماتے تھے کہ وہ انسان مرگیا ہے جو خود کو اپنا مقصود سمجھتا تھا، یا خود کو مرکزِ کائنات سمجھتا تھا۔ ایک شفٹ آیا نا کہ پہلے خدا مرکز کائنات تھی، اس کی موت کا اعلان نطشے نے کردیا اور اس کی جگہ آدمی کو مرکز کائنات بنایا، پھر پتا چلا کہ اب آدمی بھی مر گیا ہے یعنی اب آدمی بھی کائنات کا مرکز نہیں رہا تو اس تسلسل میں سلیم احمد نے کہا کہ ’’ادب مرگیا ہے‘‘۔ یعنی وہ آدمی غائب ہوگیا ہے جس کے لیے ادب ایک سنجیدہ مسئلہ اور مشغلہ تھا۔ یہ اُن کے اس اعلان کا انہی کے بیان کردہ الفاظ میں براہِ راست مطلب ہے۔ اس لیے میرے نکتہ نگاہ سے یہ بات بالکل درست ہے کہ ادب کی موت واقع ہوگئی ہے۔ 
اس بات کو دو چیزوں پر غور کرکے بہت آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے: (1) کیا ہماری تہذیب اپنے اصول پر زندہ رہنے کا دعویٰ کرسکتی ہے؟کیا ہم یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ہماری تہذیب اپنے اصول پر زندہ ہے؟ ظاہر ہے نہیں۔ ہم کہیں گے ہماری تہذیب مر گئی ہے۔ (2) کیا ہماری زبان اپنے سیمنٹکس(semantics) معنویاتی کے ساتھ، اپنے لسانیاتی اسٹرکچرز کے ساتھ، اپنی علامات (symbolism) کے ساتھ زندہ رہ گئی ہے؟ تو ہم کہیں گے کہ نہیں۔ تو جب ہم اپنی تہذیب اور اپنی زبان کی زندگی کا انکار کررہے ہیں تو ادب انہی دونوں کے ملاپ سے پیدا ہونے والا بچہ ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ تہذیب مر گئی ہے کہنا درست ہو، زبان فوت ہوگئی ہے کہنا درست ہو، اور ان دونوں اموات کی موجودگی میں ہم یہ امکان روا رکھیں کہ ادب زندہ رہ جائے گا۔ یہ ناممکن ہے۔ تو ادب بھی مر گیا۔
فرائیڈے اسپیشل: ہمارے مذہب اور ہماری تہذیب میں انسان کی فضیلت دو چیزوں کی بنیاد پر ہے: تقویٰ اور علم۔ اس کا کیا سبب ہے؟ اور کیا یہ دو فضیلتیں ہمارے معاشرے میں فضیلتوں کی حیثیت میں موجود ہیں؟
احمد جاوید: آپ علم و تقویٰ کے جو اصول بتارہے ہیں، بلاشبہ ہماری روایت میں انسانی فضیلت کی یہ دو بنیادیں ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہماری روایت میں اس کے معنی ہیں: حق کا علم، علم ہے اور اس علم سے نفس پر مرتب ہونے والا حال تقویٰ ہے۔ علم اللہ کی معرفت ہے اس کی تخلیقی قدرت سے آگاہی کے ساتھ۔ اللہ کو جاننا ہے اس کی تخلیق کے اندر تک جھانک لینے کی صلاحیت کے ساتھ۔ یہ علم ہے۔ اس میں دونوں طرح کے علم آگئے۔ لیکن اس علم کا مادہ معرفتِ الٰہی ہے۔ معرفتِ کائنات کا بھی مادہ اصل میں معرفتِ خداوندی ہے۔ تو ایسا علم جو حضور حق رکھتا ہے اور کائنات کے اندر تک جھانکنے کی صلاحیت فراہم کرسکتا ہے، میری طبیعت اور میری نبض پر جو اثر چھوڑے گا، میری نبض کی جو conditioning کرے گا، جس حالت کو میری نبض کی بنیادی حالت بنائے گا اُس بنیادی حالت کا نام تقویٰ ہے۔ یعنی یہ ممکن نہیں ہوسکتا کہ آدمی اللہ کو جانتا ہو اور اللہ سے ڈرتا نہ ہو۔ تقویٰ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ڈر ہے جو اللہ کی معرفت کے پیڑ کی سب سے اونچی شاخ پر لگنے والا پھل ہے۔ اس سے توازن قائم ہوتا ہے۔ تہذیب کا نفس تقویٰ پر ہے۔ تہذیب کاذہن (mind) علم پر ہے۔ انسان بہ اعتبارِ نفس اگر کامل ہے تو متقی ہے، اور بہ اعتبارِ شعور اگر پختہ ہے تو صاحبِ علم ہے، یعنی علم کائنات کے حساب سے عارفِ خداوندی ہے۔ یہ جو ہم پیچھے نوحہ پڑھتے آرہے ہیں، اسی سے جوڑ کر دیکھ لیں کہ علم و تقویٰ کی یہ فضیلتیں موجود نہیں ہیں، جبھی تو ہم اس حال کو پہنچے ہوئے ہیں۔ آخر علم کیا ہے؟ جس میں ایمان بالغیب یقینی ہو اور حضور خداوندی بھی حتمی ہو، یہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ حضور سے پیدا ہوتا ہے، علم غیب سے پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح حضور و غیب کے توازن سے بننے والا انسان، اس کا ذہن، اس کا معاشرہ، اس کی انفرادیت وہ سارا عمل مکمل طور پر رکا ہوا ہے جبھی تو ہم یہ نوحہ پڑھ رہے ہیں۔ 
فرائیڈے اسپیشل: آپ کا تعلق فلسفے اور اس کی تفہیم سے بھی ہے، مگر ہماری تاریخ میں فلسفہ کو علم کی ایک خطرناک شاخ کہا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ امام غزالی ؒ نے فلسفے کو بالادست علم کی حیثیت سے رد کیا۔ آپ ہمیں یہ بتائیے کہ ہمارے لیے فلسفے کا جاننا کتنا اہم ہے؟ اور کیوں؟
احمد جاوید: امام غزالی ؒ نے جس نکتے کے تحت فلسفے کو رد کیا ہے اس کی ایک بہت مضبوط بنیاد ہے۔ وہ یہ کہ فلسفہ عقل کو حاکم مانتا، عقل کی حکومت تسلیم کرتا، اور وحی سے بے نیاز رہنا چاہتا ہے۔ اس بنیاد پر انہوں نے فلسفے کو رد کیا ہے۔ اس کی تفصیلات تکنیکی ہیں۔ اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ اب اس سوال کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ فلسفہ ایمان کے لیے خطرناک ہے لہٰذا اسے نہیں پڑھنا چاہیے۔ اس میں واقعی صورت حال یہ ہے کہ بغیر تیاری کے اور جوشِ تقلید میں فلسفہ پڑھنا ایمان کے لیے خطرناک ہے۔ ایمان کو نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پہنچاتا آیا ہے۔ اب اس کا تیسرا حصہ یہ ہے کہ اس کے باوجود ایک مذہبی آدمی جو ذہین ہے، وہ فلسفہ پڑھتا ہے تو اس کی نظر میں فلسفے کی کیا افادیت ہے؟ یعنی اتنے ضرر کے پہلو اس علم میں ہیں، اس کے باوجود اگر کوئی مذہبی آدمی فلسفہ پڑھتا ہے تو وہ فلسفے سے کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے؟ یا فلسفے میں کیا افادیت دیکھتا ہے؟ کہ وہ اس خطرے کو خاطر میں لائے بغیر اسے پڑھ رہا ہے۔ میرے خیال میں اگر اس کا ایک جملے میں جواب دوں تو وہ یہ ہوگا کہ ’’فلسفے کو جاننا بہتر ہے، فلسفے کی ماننا خطرناک ہے‘‘۔ فلسفے کو جاننے سے ذہنی سطحیت دور ہوتی ہے۔ فلسفے کو ماننے سے ایمانی ذہن کمزور پڑتا ہے۔ اس لیے جو لوگ فلسفے کو تقلید کی نظر سے نہیں بلکہ حقیقت تک پہنچانے والے علم کی حیثیت دے کر پڑھتے ہیں انہیں یہ فائدہ حاصل ہوجاتا ہے کہ ان کے ذہن میں سطحیت پیدا نہیں ہوتی۔ ان کے ذہن میں گراوٹ نہیں پیدا ہوتی۔ ان میں ذہانت کا ملکہ ضرور بڑھتا ہے۔ تو فلسفہ ذہانت کا ملکہ بڑھاتا ہے، حقائق کا علم فراہم نہیں کرتا۔ فلسفہ جاننا ان لوگوں کے لیے بہت ضروری ہے جو اپنے دین کا عقلی دفاع کرنے کی ذمہ داری ادا کرنا چاہتے ہیں، اور اگر یہ ذمہ داری میرے کاندھوں پر نہیں ہے تو میرے لیے فلسفہ پڑھنا ایک خطرناک عمل زیادہ ہے، مفید ہونے کے امکانات کم ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: مغربی فکر سے متاثر لوگ تنقید کرتے ہیں کہ فلسفے سے متعلق غزالیؒ کے رد سے مسلمانوں میں ارتقا کا عمل رک گیا ہے اور اس کی وجہ سے مسلمان سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہ گئے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
احمد جاوید: یہ تنقید ذرا جلدی میں کی گئی ہے۔ آپ نے غزالی ؒ کو اتنا بڑا بنادیا کہ اُن کے اتنا کچھ کہنے پر تو کچھ ہوا نہیں، لیکن ایک خرابی ہی ان کے کہنے پر آپ میں پیدا ہوگئی۔ آپ نے غزالی ؒ کو ایک scape goat  بنا دیا ہے، اور وہ تہذیب کتنی بھولی ہے جو ایک آدمی کے کہنے پر اپنے ارتقا کے عمل کو روکنے پر تیار ہوگئی! حالانکہ غزالی ؒ کی سب سے کم پڑھی جانے والی کتاب ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ ہے۔ یہ سب بہانے بازیاں ہیں۔ اور غزالی ؒ نے فلسفے کے تین یا چار مسائل پر کہا کہ یہ کفر ہے۔ مادہ قدیم ہے۔ یہ ماننا کفر ہے۔ کلاسیکل فلسفہ اس عقیدے پر کھڑا ہوا ہے کہ مادہ قدیم ہے، زمانہ قدیم ہے۔ اٹھائیس یا بتیس میں سے چار مسائل ہیں جن پر انہوں نے کہا کہ یہ کفر ہیں، باقی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس میں یہ فلسفہ مفید ہے۔ پھر یہ کہ غزالی ؒ نے کہیں یہ نہیں کہا کہ فلسفے کی کتاب کی طرف آنکھ اٹھانا بھی منع ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسفہ پڑھتے وقت یہ احتیاطیں کرو۔ یہ جو اتنے بڑے بڑے جدید تعلیم یافتہ لوگ ہیں،کیا آج پرویز ہود بھائی کو طبیعات کی کوئی تھیوری پیش کرنے سے غزالی ؒ نے روک رکھا ہے؟ یہ بہانے بازیاں ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ مسلم تہذیب میں ارتقا کا عمل رکنے کے عوامل کچھ اور ہیں، لیکن ان میں سے کسی ایک کی ذمہ داری بھی غزالی ؒ پر نہیں جاتی۔ابن رشد نے تہافت فلاسفہ کا رد لکھا ہے۔وہ تو پچاس، ساٹھ صفحات کا ایک رسالہ ہے، اس کا رد اس سے دس گنا ضخیم ہے۔اس میں ابن رشد نے کہا ہے کہ غزالی پر مجھے اس بات کا شک نہیں ہے کہ وہ فلسفہ جانتے نہیں تھے،اس لیے ان کی کتاب پر اعتراض کیا، مجھے تو غزالی ؒ سے شکوہ یہ ہے کہ وہ فلسفہ مجھ سے زیادہ جانتے تھے لیکن متعصب تھے۔
فرائیڈے اسپیشل: کہا یہ جاتا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ترقی نہ کرنامسلمانوں کے زوال کا سبب۔ کیا آپ کے خیال میں تہذیب کے ارتقا میں ٹیکنالوجی کوئی معیار ہے؟
احمد جاوید: آج ٹیکنالوجی نے جدید دنیا کی بناوٹ میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کرلی ہے، یعنی آپ کا آرام اور آپ کی طاقت یہ ٹیکنالوجی ہے،آپ ٹیکنالوجی کے بغیر طاقت ور قوم نہیں بن سکتے، اور اسی طرح ٹیکنالوجی کے بغیر معاشرے کے لوگوں کو راحت فراہم نہیں کرسکتے۔ اب آپ خود سوچ لیں کہ معاشرے کی ضرورت ہے کہ اس کے باشندے راحت میں رہیں، یہ معاشرے کا مقصود ہے۔ اسی طرح ریاست کی ضرورت ہے کہ وہ طاقتور ہو، اس کے بغیر ریاست قائم نہیں رہ سکتی۔ تو ہماری ریاست اور معاشرے میں زوال کے جو عوامل ہیں ان میں ایک یقیناًٹیکنالوجی میں پسماندہ رہ جانا بھی ہے۔ یعنی فزیکل سائنسز میں پیچھے رہ جانا۔ لیکن یہ سبب اصولی نہیں ہے۔ یہ بہت سے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ ہم جب اپنی ترقی اور پسماندگی کو ناپیں گے تو اس میں معیار مغرب کو نہیں بنائیں گے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی سوسائٹی کو بنائیں گے۔ ہم اپنی تہذیب کو ترقی یا تنزل کے معیارات پر دیکھنے کا جب آغاز کریں گے تو ترقی یافتہ تہذیب کیا ہوتی ہے، اس کا ماڈل مغرب سے نہیں بلکہ اپنے ماضی سے لیں گے جب ہم مسلم معاشرہ یا ریاست بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ 
لیکن ہمارے یہاں ایک اور مصیبت جو پیدا ہوگئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے مغرب کو کامیابی اور ترقی کا لازمی ماڈل سمجھ لیا ہے اور ہماری تہذیب کے اسبابِ مرگ میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم جب بھی ترقی کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ویسی ترقی ہوگی جیسی کہ مغرب نے کی ہے۔ جب بھی ہم طاقت کا لفظ استعمال کریں گے تو وہی طاقت جو مغرب کے پاس ہے۔ جیسے ہی ہم ایک فلاحی معاشرے کا تصور قائم کریں گے تو یہ کہیں گے کہ وہی فلاحی معاشرہ جو ناروے نے قائم کیا، یا مغرب میں قائم ہوا، وغیرہ وغیرہ۔ تو جو تہذیب اپنے آئیڈیلزکی حفاظت کرنے سے قاصر رہ جائے وہ پھر اسی طرح کیمرہ لیے لیے پھرتی رہے کہ کہیں کوئی ترقی نظر آجائے تو اس کی تصویر اتار سکے۔ اس لیے ہماری تہذیب اس وقت کیمرہ بردار آدمی کی طرح ہے جو دوسروں کے دروازوں کی، دیواروں کی تصاویر کھینچ رہا ہے کہ میں اپنا گھر بنواؤں گا تو اس نقشے پر بنواؤں گا، یا اس ڈیزائن پر بنواؤں گا۔یہ تو مکمل طور پر دست نگری کو تسلیم کرلینا ہے جوہماری موت کا سب سے بڑا مظہرہے۔ ہم مکمل طور پر دست نگر ہوگئے ہیں، یعنی اپنے تصورِ خدا کو بھی مغربی ذہن کے مطابق بنانا چاہتے ہیں، یعنی سائنسی بنانا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے تصورِ انسان کو بھی مغرب سے اخذ کرنے کی عادت ڈال چکے ہیں۔ ہم اپنے تصورِ دنیا میں بھی مغرب کی نقالی کے جنون میں مبتلا ہیں۔ مطلب یہ کہ اتنے زیادہ انحصار کی حالت میں کوئی تہذیب اپنے امتیازات کے ساتھ قائم کیسے رہ سکتی ہے؟ 
(جاری)

مولانا فراہیؒ اور مدرسۃ الاصلاح کی علمی خدمات

مولانا سید متین احمد شاہ

کچھ عرصہ پہلے کراچی کے ماہ نامہ ’’بینات‘‘ میں ایک مضمون غامدی صاحب پر تنقید کے سلسلے میں نظر سے گزرا۔ پہلی قسط میں فراہی مکتب فکر کے شجرۂ نسب کی تحقیق پیش کی گئی ہے۔ اس کی رو سے مولانا حمید الدین فراہی لارڈ کرزن کے وفادار اور انگریز کے ایجنٹ تھے۔ 
ہمارے برصغیر کے نوآبادیاتی عہد میں یہاں انگریز کے وجود کے باعث مختلف مسالک کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف لکھی گئی کتابوں میں ان کے تعلقات انگریزوں کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ عوام میں انہیں بے اعتبار ثابت کیا جائے۔ اس طرح کی کوششوں کو شاید دروغ مصلحت آمیز بہ از راستی فتنہ انگیز کے اصولوں کے تحت درست سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں ان کے فائدے کے مقابلے میں نقصان کا تناسب زیادہ ہے۔ 
بات مولانا فراہی کی ہو رہی تھی۔ غامدی صاحب سے فکری اختلاف کا درست طریقہ یہ ہے کہ جس تناظر میں وہ جو بات پیش کر رہے ہیں، پہلے اس تناظر کا پورا ادراک حاصل کیا جائے اور پھر ان کی فکر میں جو اجزا قابل نقد نظر آئیں، ان کا مطالعہ کر کے علمی دلائل کے ذریعے تنقید کی جائے۔ یہ بات درست نہیں کہ کسی سے اختلاف کے باعث اس سے وابستہ شخصیات کو انگریز کا ایجنٹ ثابت کرنا ضروری سمجھا جائے۔ مولانا فراہی کے بارے میں اس طرز کا آغاز ایک مفتی صاحب کے ایک کالم سے ہوا اور یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے۔ اگر کسی انگریز شخصیت سے کوئی تعلق یا اس کے ساتھ سفر اسے انگریز کا ایجنٹ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے تو پھر اس کی بنیاد پر بہت سی شخصیات کا کردار محل نظر ٹھہر سکتا ہے، چنانچہ یہی ظلم بہت سے لوگوں نے اکابر علمایدیوبند کے ساتھ بھی کیا اور آج ہم خود اسی منہج پر چل نکلے ہیں۔ 
ان سطور سے مقصود غامدی صاحب کی وکالت ہرگز نہیں بلکہ ایک غلط رویے پر تنقید ہے جس کے باعث ہم اپنا آپ بے اعتبار بناتے چلے جا رہے ہیں۔ مولانا فراہی پر ایسے الزامات سے پہلے ہمیں اپنے ہی اکابر علامہ سید سلیمان ندویؒ ، مولانا ابو الحسن علی ندویؒ اور ’’نزہۃ الخواطر‘‘ میں سید عبد الحی حسنی جیسی عظیم شخصیات کی ان کے بارے میں آرا کا جائزہ لے لینا چاہیے۔ نیز انگریز کے خلاف مولانا فراہی کی حمیت ان کی سوانح کے تناظر میں دیکھ لینی چاہیے۔ ایسی چیزوں کو آخرت کی جواب دہی کے احساس سے بھی دیکھنا چاہیے۔
ہمارے دیوبندی علماء میں اس وقت یہ رجحان بنتا جا رہا ہے کہ اس فکر کو بالکل شروع سے ایک ہی انداز سے دیکھا جائے۔ یہ اپروچ خلط مبحث کا باعث ہے اور تحقیقی نقطہ نظر سے غلط بھی۔ مولانا فراہی کے بارے میں ہمارے علماء غلطیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں اور غامدی صاحب پر رَد کے جوش میں ایک خدا ترس شخصیت پر ایسی باتیں تیزی سے پھیل رہی ہیں جن پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ میں یہاں سید سلیمان ندوی، سید ابوالحسن علی ندوی اور ان کے والد مولانا عبدالحی حسنی رحمہم اللہ کی تحریروں سے مولانا فراہی کے بارے میں اقتباس نہیں دیتا، صرف حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی کچھ باتیں پیش کرنا مقصود ہیں۔
حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے خطوط کا مجموعہ چار جلدوں میں مدرسۃ الاصلاح کے فاضل عالم مولانا نجم الدین اصلاحی نے مرتب کیا ہے جو مولانا حمید الدین فراہی کے شاگرد تھے۔ یہ مجموعہ حضرت کی زندگی میں مرتب ہوا تھا ، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک ’’اصلاحی‘‘ کی کوئی ’’دسیسہ کاری‘‘ اس میں شامل ہو سکتی ہے۔حضرت مدنی فرماتے ہیں:
’’مدرسۃ الاصلاح سرائے میر سے مجھ کو جو قدیم سے تعلق ہے،وہ آپ حضرات کو بخوبی معلوم ہے۔مدرسہ مذکور کے روح رواں مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ تھے جو قرآنِ شریف کے مسلّم عالم تھے، اور ایک خاص فکروخیال رکھتے تھے۔ضرورت تھی کہ مدرسہ مذکور کے اساتذہ اور طلبہ مولانا مرحوم کی زندگی کو اپناتے اور سلف صالحین اور اکابر اہل سنت والجماعت کے طریقہ کو مضبوطی سے پکڑتے ہوئے مولانا مرحوم کے اصول کے مطابق جدوجہد جاری رکھتے، لیکن یہ معلوم کر کے سخت صدمہ ہوا کہ اب اس مدرسہ میں مودودی جماعت کا زور ہے۔‘‘ (مولانا حسین احمد مدنی، "مکتوباتِ شیخ الاسلام"، مرتبہ، مولانا نجم الدین اصلاحی،کراچی، مجلس یادگار شیخ الاسلام، ۱۹۹۴ء، ج ۲، ص ۳۱۹، ۳۲۱) 
یہ اقتباس کسی حاشیے کا محتاج نہیں کہ حضرت مدنی کے نزدیک مولانا فراہی کا کیا مقام تھا اور انھیں وہ کس نظر سے دیکھتے تھے۔ مولانا نجم الدین اصلاحی (جو حضرت مدنی کے نہایت عقیدت مند اہل تعلق تھے) نے اس خط کے حاشیے میں مدرسۃ الاصلاح کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں بعض اہم باتوں کی طرف اشارات کیے ہیں جنھیں یہاں درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ 
ضلع اعظم گڑھ کے بعض روشن دل مسلمانوں نے ایک مجلس کی داغ بیل بنام انجمن اصلاح قوم و برادری ضلع اعظم گڑھ ۱۳۳۱ھ میں ڈالی تھی۔یہی مجلس انجمن اصلاح اعظم گڑھ ترقی کر کے مدرسہ اصلاح المسلمین سرائے میر کی شکل اختیار کر گئی جس کے اصلی روح رواں مولانا محمد شفیع صاحب مرحوم سیدھا اور مولانا عبدالاحد صاحب مرحوم فاضل دیوبند تھے۔ اس مدرسہ کا سنگ بنیاد حضرت شیخ الہند کے شاگرد، حضرت مولانا میاں اصغر حسین دیوبندی نے رکھا تھا اور اس کی کامیانی کے لیے اللہ سے رو کر دعا ئیں کی تھیں۔گو بعد کوقوم وبرادری کے دیگر علمائے کرام تکمیل کے نقشے مرتب کرتے رہے، لیکن اولیت اور الفضل للمتقدم کا طغرائے امتیاز اول الذکر حضرات ہی کے بے لوث ایثار اورخلوص کا مرہونِ منت ہے اور اب اس مدرسہ کا نام بدل کر مدرسۃ الاصلاح ہو گیا ہے۔
’’حضرت مولانا مدنی مدظلہ العالی کا مدرسہ مذکور سے پہلا تعلق تو یہ ہے کہ اس کا سنگ بنیاد ایک دیوبندی عالم اور شیخ الہند ؒ کے شاگرد نے رکھا ہے۔‘‘ (دیکھیے: ’’مکتوبات‘‘ ، حاشیہ مکتوب نمبر ۱۳۷، ج ۲، ص ۳۱۸) 
مدرسۃ الاصلاح کی تاریخ کے ان بالعموم مخفی گوشوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ اس کے آغاز و پرداخت میں اکابر دیوبند ہی کا فیض شامل ہے۔ ۱۹۳۶ء میں مدرسۃ الاصلاح کے مجلے "الاصلاح" کے ایک مضمون پرایک مولوی صاحب کی طرف سے پھیلائی گئی غلط فہمی کی بنا پر مولانا شبلی نعمانی اور مولانا فراہی کی تکفیر کی گئی۔اس پر حضرت مدنی نے وہ مضمون منگوایااور سختی سے اس کی تردید کی اور ان مولوی صاحب کے اس اقدام کو ناپاک طریقہ قرار دیا۔ حضرت مدنی کی وضاحت پر جن علما نے فتویٰ دیا تھا، انھوں نے رجوع کر لیا۔حضرت مدنی نے یہ وضاحت خود مدرسۃ الاصلاح پہنچ کر تحقیق کے بعد شائع فرمائی۔ حضرت نے اس سلسلے میں تحریر فرمایا: 
’’محترم المقام زید مجدکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ حضرات کے منسلکہ جوابات دیکھ کر مجھے کلی اطمینان ہوگیا اور جو شکوک وشبہات مجھے مولوی محمد فاروق صاحب کے کھلے معروضہ کو دیکھنے اور دیگر حضرات کے کلمات کی بنا پر پیدا ہوئے تھے، وہ سب رفع ہوگئے۔ مجھے سخت تعجب ہے کہ ان حضرات نے ایسے سخت گذار خطرناک راستہ یعنی تکفیر مومنین کو کیوں اختیار فرمایا ہے، حالانکہ اس کے اور اس کے مماثل امور کے لیے نہایت شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ کیا فقد باء بہ احدھما الحدیث اور کل المسلم علی المسلم حرام وغیرہ احادیث قویہ انزجار کے لیے کافی نہیں ہیں؟ کیا آپس کے نزاعاتِ نفسانیہ اس کی اجازت دیتے ہیں کہ افتراء ات اور بہتانوں کا طومار باندھ کر تکفیر کے فتاویٰ حاصل کیے جائیں؟ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں نے مدرسۃ الاصلاح کے پرچے دیکھے، مجھ کو ان میں ایسی کوئی چیزنہیں ملی جس کا کوئی صحیح محل نہ ہو سکتا ہو۔۔۔‘‘ (مصدرِ سابق، ص ۳۱۹، ۳۲۰)
مولانا نجم الدین اصلاحی، حضرت کے اس مکتوب کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی مدظلہ العالی کے اس قولِ فیصل نے قصرِ تکفیر کے ایک ایک ستون اور ایک ایک اینٹ کو منتشر کر دیا ، غوغاتکفیر اور کافر گری کاناس ہوگیا۔حضرت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا شبیر احمد عثمانی زید مجدہم وغیرہم اکابر علماء اور مفتیانِ ہند نے بعض تشریحی مضامین پڑھے اور مولانا مدنی کے محاکمہ پر تکفیر سے رجوع کر لیا۔‘‘ (مصدرِ سابق، ص ۳۱۹، ۳۲۰)
اس کے بعد مولانا اصلاحی نے کچھ مزید روشنی حضرت مدنی کے مدرسۃ الاصلاح سے تعلق پر ڈالی ہے۔
مولانا فراہیؒ کے علمی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا اصلاحی نے لکھا ہے کہ وہ مولانا فضل حق خیر آبادی کے ممتاز شاگردوں میں سے مولانا فیض الحسن سہارنپوری کے شاگرد تھے اور اس اعتبار سے وہ اور حضرت تھانوی ایک ہی استاد کے شاگرد ہیں۔ مولانا فراہی نرے الفاظ کے عالم ہی نہ تھے بلکہ انھیں بیعت ارادت حضرت شاہ وارث حسن صاحب کوڑا جہاں آبادی خلیفہ مجاز حضرت قطب گنگوہی سے حاصل تھی۔ (دیکھیے: مصدرِ سابق، ص ۳۲۱) 
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ غامدی صاحب کی فکر کے جو اجزا قابل نقد ہیں، ان پر ضرور تنقید اور علمی محاسبہ ہونا چاہیے کہ ہماری روایت کا یہی اصول رہا ہے جس نے اس دین کا وہ حشر نہ ہونے دیا جو پولوس کے ہاتھوں مسیحیت کا ہوا، لیکن کہیں یہ نقد ’شنآن قوم‘ کے دائرے میں داخل ہو کر ’عدل‘کے تقاضے پامال ہونے کا سبب نہ بن جائے اور ہم ایسی باتیں کہ بیٹھیں جو نہ صرف مسلمہ تاریخی حقائق کے منافی ہوں، بلکہ اللہ کے ہاں تقویٰ اور دیانت کے باب میں بھی مشکوک ہو جائیں، نیز وہ خود ہمارے اکابر کے اسوہ کے بھی خلاف ہوں۔ کسی خدا ترس اور صاحب تقویٰ شخصیت پر غلط الزامات کی سزا یقیناًسنگین ہے اور اس کے عواقب پر غور کرنا چاہیے۔
ایک طالب علم کی یہ عرض غامدی صاحب کی وکالت کے طور پر ہرگز نہ لی جائے۔ راقم خود ان کی فکر کا ناقد ہے اور اس کو اپنے جملہ اجزا کے ساتھ صحیح نہیں سمجھتا اور امت کے لیے ان کے نتائج بھی درست نہیں سمجھتا۔اس کے کچھ آثار ان سے منسوب آج کے نوجوانوں میں واضح ہیں اور اللہ کرے، مستقبل میں امت ان کے ذریعے کسی اور ابتلا کا شکار نہ ہو۔ مقصود یہ ہے کہ ہمارے زبان وقلم اول و آخر جذبہ دعوت سے سرشار ہوں اور ایسے امور سرزد نہ ہوں جو ایک فتنے کو دبانے کے لیے دوسرے فتنے کو ہوا دینے کا سبب بن جائیں۔ ان ارید الاصلاح ما استطعت!

گذشتہ دنوں ’’مدرسۃ الاصلاح کی تفسیری روایت‘‘ کے موضوع پر آئی آر ڈی اور دعوہ اکیڈمی (اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد) کے تعاون و اشتراک سے علی گڑھ سے آئے ہوئے مہمان ڈاکٹر ابوسفیان اصلاحی کا ایک عمدہ اور معلومات افزا لیکچر ہوا جس میں مقرر نے اس تفسیری روایت اور اس سے وابستہ شخصیات پر جامع گفتگو کی جس کے اہم نکات حسب ذیل ہیں: 
مدرسۃ الاصلاح ہندوستان اعظم گڑھ میں واقع ہے جس کی بنیاد مولانا محمد شفیع نے ۱۹۰۸ء میں رکھی۔ علامہ شبلی اور مولانا حمید الدین فراہی کا شروع سے اس ادارے سے تعلق قائم ہوا اور انھی کے تعلیمی افکارکی چھاپ اس پر گہری ہوئی جو آج تک قائم ہے۔ اس کی بنیادی خصوصیت جملہ علومِ اسلامیہ میں قرآن فہمی کو مرکزی اور اولین حیثیت دینا ہے۔ فاضل مقرر نے اس روایت سے وابستہ شخصیات میں سے مولانا حمیدا لدین فراہی، مولانا اختر احسن اصلاحی، مولانا امین احسن اصلاحی،مولانا داؤد اکبر اصلاحی، مولانا ابواللیث اصلاحی ، مولانا صدر الدین اصلاحی، مولانا ضیاء الدین اصلاحی، مولانا وحید الدین خان، مولانا عبدالرحمان پرواز اصلاحی، مولانا الطاف اعظمی، مولانا عنایت اللہ سبحانی، مولانا اجمل ایوب اصلاحی، مولانا بدرالدین اصلاحی اور دیگر حضرات کی قرآنی خدمات پر عمدہ روشنی ڈالی۔
مولانا فراہی اور مولانا اصلاحی کے کام سے تو علمی حلقے واقف ہی ہیں، لیکن اس مدرسے کے دیگر فضلا کا کام بھی اپنی جگہ غیر معمولی اور علمی لحاظ سے قدروقیمت کا حامل ہے۔ ابواللیث اصلاحی کا زیادہ وقت اگر جماعت اسلامی کی ذمے داریوں میں نہ گزرتا تو وہ مولانا امین احسن اصلاحی سے زیادہ آگے جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کے بعض مقالات "قرآنی مقالات" میں موجود ہیں۔ ان کے مقالات کو عمیر منظر صاحب نے جمع کر کے شائع کر دیا ہے۔ 
مدرسہ فراہی کی ایک اہم شخصیت داؤد اکبر اصلاحی ہیں۔انھوں نے قرآنِ کریم کے بعض مشکل مقامات پر بہت عمدہ گفتگو کی ہے جو ان کی تفسیری بصیرت کا پتا دیتی ہے۔اس کتاب کا نام ’’مشکلات القرآن‘‘ ہے، جس میں قرآن کے تقریباً بارہ مقامات پر عمدہ اور عالمانہ گفتگو کی گئی ہے۔ مولانا صدر الدین اصلاحی کے تفسیری کام میں ٹھہراؤ اور متانت کی شان ملتی ہے۔ یہ تفسیر صرف سورۂ فاتحہ اور البقرہ پر مشتمل ہے اور ماہ نامہ "زندگی" رام پور سے قسط وار شائع ہوئی۔اس تفسیر کی تحریر کا آغاز مولانا امین احسن کی تفسیر سے پہلے ہوا تھا۔سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ پر مشتمل یہ تفسیر ’’تیسیر القرآن‘‘ کے نام سے مرتب کی گئی ہے۔
مولانا فراہی کے ایک غیر معمولی اور بہت کمال شاگرد مولانا اختر احسن اصلاحیؒ تھے جن کا زیادہ تعارف لوگوں کے سامنے نہیں ہے۔ڈاکٹر اصلاحی نے بتایا کہ مولانا امین احسن نے مولانا فراہی کی کتابوں کے جو اردو تراجم کیے اور ۱۹۳۶ء میں جاری ہونے والے مجلے ’’الاصلاح‘‘ میں جو تحریریں شائع ہوتی تھیں، وہ مولانا اختر کے قلم سے گزر کر شائع ہوتی تھیں۔ اس طرح مولانا امین احسن کی تراش خراش میں ان کا بڑا ہاتھ ہے، اگرچہ مولانا اصلاحی نے اس کا اعتراف کم ہی کیا ہے۔ان کے مقالات ’’مباحث قرآن‘‘ کے نام سے عبدالرحمان پرواز اصلاحی نے شائع کر دیے ہیں۔
مولاناامین احسن اصلاحی کی ’’تدبر قرآن‘‘ بلاشبہ فکر فراہی کا ایک اعلیٰ شاہکار ہے جس میں مولانا فراہی کی ’’تعلیقات‘‘ سے غیر معمولی استفادہ کیا گیا ہے۔ 
مدرسۃ الاصلاح کے ایک نامور فاضل مولانا نجم الدین اصلاحی ہیں جنھوں نے مولانا حسین احمد مدنی کے مکتوبات کو اعلیٰ حواشی کے ساتھ مدون کیا ہے۔یہ ایک افسوس ناک بات ہے کہ مولانا فراہی کے مبسوط تذکرے ’’ذکرِ فراہی‘‘ میں ان کا نام بالکل نہیں آسکا۔یہ دیوبند سے ’’القاسم‘‘ نامی رسالہ نکالتے تھے جس میں ان کے قرآنیات پر عمدہ مقالات شائع ہوتے تھے جو اب چھپ بھی چکے ہیں۔ 
اس ادارے کے ایک فاضل عبدالرحمان اعظمی نے صوفیانہ تصور عشق پر ایک مختصر لیکن بہت عمدہ مقالہ قلم بند کیا جو اس موضوع پر خاصے کی چیز ہے۔ مولانا ضیاء الدین اصلاحی ، مجلہ "معارف" سے وابستہ رہے ہیں اور" ایضاح القرآن "جیسی تصانیف کے ذریعے فکر فراہی کے کئی گوشوں کا بہت عمدہ تعارف و تجزیہ پیش کیاہے۔
مولانا وحید الدین خان کی تمام تعلیم بھی اسی ادارے سے ہوئی اگرچہ وہ اپنی فکری اپج میں اس کے طرز سے بہت دور چلے گئے۔اس ادارے کے ایک فاضل عبدالرحمان پرواز اصلاحی کا علامہ مہائمی پر کام ہے۔ الطاف احمد اعظمی بھی اسی ادارے کے فاضل ہیں۔ خود ایک صاحب فکر انسان ہیں اور فکر فراہی سے استفادے کے ساتھ اپنے افکار کو بھی پیش کرتے ہیں۔ آپ کی تفسیر ’’میزان‘‘ ہے جس کی پہلی جلد مقدمہ تفسیر ہے اور عمدہ مباحث پر مشتمل ہے۔عنایت اللہ سبحانی نے ایم فل اور پی ایچ ڈی میں نظم قرآن کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا اور اس باب میں ’’البرہان‘‘ وغیرہ کی شکل میں قابل قدر کام کیا ہے۔اجمل ایوب اصلاحی عربی زبان و ادب کے نہایت فاضل آدمی ہیں جنھوں نے مولانا فراہی کی عربی تصانیف کو تعلیقات کے ساتھ ایک نئی آن بان عطا کی ہے۔ مولانا بدرالدین اصلاحی کا کام بھی اسی نوعیت کا ہے۔ فاضل مقرر نے اپنی تصانیف ’’مطالعاتِ قرآن‘‘ اور مولانا فراہی پر دیگر کاموں کا تعارف بھی کروایا۔ 
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں جاوید احمد غامدی صاحب کی فکر مکمل طور پر وہ نہیں جو مولانا فراہی کے ہاں ہے۔ یہاں ان کے حقیقی معنوں میں جانشین جناب خالد مسعود تھے جو علمی لحاظ سے ایک قابل اور اخلاقاً ایک سادہ اور شریف انسان تھے۔
آخر میں جناب ڈاکٹرسہیل حسن نے اپنے والد گرامی مولانا عبدالغفار حسن کے حوالے سے کہا کہ وہ تفسیر ’’تدبرقرآن‘‘ کی تعریف بھی کرتے تھے، لیکن اس کے تسامحات کی بھی، خصوصاً حدیث کے باب میں، نشان دہی کیا کرتے تھے، اس لیے فکر فراہی سے استفادے میں اس کے محل نظر پہلوؤں پر بھی نظر رہنی چاہیے۔
بحیثیت مجموعی یہ لیکچر عمدہ تھا۔ ڈاکٹر ابوسفیان اصلاحی کا تعارف تو عرصے سے ان کی تحریروں کی وجہ سے رہا ہے، لیکن یہ دوسرا موقع انھیں براہ راست سننے کا ملا۔ آپ ایک محنتی محقق ہیں اور مطالعے میں وسعت نظر کے حامل ہیں۔ سرسید کے بہت مداح اور عقیدت مند ہیں اور ان کے کام کو ایڈٹ کر کے سامنے لا رہے ہیں۔حال ہی میں ’’فکرونظر‘‘ (ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، اسلام آباد) میں ان کا ایک اچھا مقالہ علامہ شبلی کی عربی ادب کے میدان میں خدمات پر شائع ہوا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی تحریر و تقریر سے ذرا یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ مولانا امین احسن اصلاحی کی خدمت کے صحیح اعتراف میں کچھ متامل ہیں۔ مثلاً انھوں نے گذشتہ گفتگو میں کہا کہ انہیں بنانے میں مولانا اختر احسن اصلاحی کا بہت ہاتھ ہے، لیکن انھوں نے کبھی اس کا اعتراف نہیں کیا۔ یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی۔ مولانا اصلاحی کی وفات کے بعد ان پر جو خاص نمبر مختلف مجلات نے شائع کیے، ان میں مولانا اصلاحی کی ذاتی یادداشتیں بھی شائع ہوئی ہیں۔ حال ہی میں ماہنامہ ’’شمس الاسلام‘‘ کی جو مولانا اصلاحی پر خصوصی اشاعت آئی ہے، اس میں بھی ان چیزوں کے ایک بڑے حصے کا اعادہ کیا گیا ہے۔ ایک تحریر میں مولانا اصلاحی نے مولانا اختر احسن کے بارے میں لکھا ہے کہ :
’’طالب علمی کے دور میں ہم دونوں کے درمیان ایک قسم کی معاصرانہ چشمک و رقابت رہی، تعلیم کے میدان میں بھی اور کھیل کے میدان میں بھی، لیکن مولانا فراہی کے درس میں شریک ہونے کے بعد ہم میں ایسی محبت پیدا ہو گئی کہ اگر میں یہ کہوں تو ذرا بھی مبالغہ نہ ہو گا کہ ہماری یہ محبت دو حقیقی بھائیوں کی محبت تھی۔ وہ عمر میں مجھ سے غالباً سال ڈیڑھ سال بڑے رہے ہوں گے۔ انھوں نے اس بڑائی کا حق یوں ادا کیا کہ جن علمی خامیوں کو دور کرنے میں مجھے ان کی مدد کی ضرورت ہوئی، اس میں انھوں نے نہایت فیاضی سے میری مدد کی۔ بعض فنی چیزوں میں ان کو مجھ پر نہایت نمایاں تفوق حاصل تھا۔ اس طرح کی چیزوں میں ان کی مدد سے میں نے فائدہ اٹھایا۔ اس پہلو سے اگر میں ان کو اپنا ساتھی ہی نہیں بلکہ استاذ بھی کہوں تو شاید بے جا نہ ہو۔‘‘ (ص ۲۴۵)
اتنے بلند الفاظ میں اعتراف کے بعد شاید مزید کچھ کہنے کی حاجت نہیں۔ ڈاکٹر اصلاحی کی ان باتوں کی ایک نفسیاتی اور فکری وجہ بھی معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ وہ سرسید کے نہایت عقیدت مند ہیں، جبکہ مولانا اصلاحی سرسید کے سخت ناقد ہیں اور مولانا فراہی کا سرسید پر موقف بھی انھوں نے ہی تحریروں میں محفوظ کیا ہے۔ چنانچہ اپنے ایک مضمون ’’سرسید احمد خان مرحوم بحیثیت ایک لیڈر ، مصلح اور نجات دہندہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’میرے استاذ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ ، سرسید مرحوم کی تفسیرِ قرآن کو ایک فتنہ سمجھتے تھے، لیکن ان کے قومی خلوص اور ان کے کردار کی بلندی کے بڑے مداح تھے۔‘‘ ( امین احسن اصلاحی، ’’تفہیم دین‘‘، لاہور، فاران فاؤنڈیشن ۲۰۰۰ء، ص ۱۷۵، ۱۷۶) 
اسی طرح مولانا فراہی کے بعض تفسیری اجزا کو مولانا اصلاحی نے ’’مجموعہ تفاسیر فراہی‘‘ کے نام سے اردو میں منتقل کیا ہے اور شروع میں ان کے حالاتِ زندگی پر ایک جامع روشنی ڈالی ہے۔ اس میں ایک جگہ لکھتے ہیں : 
’’مولانا [فراہی] نے قرآنِ مجید پر غور کرنے کا کام باضابطہ طور پر ، جیسا کہ انھوں نے اپنے مقدمہ نظام القرآن میں خود ظاہر فرمایا ہے، اس زمانہ سے شروع کیا ہے جب وہ علی گڑھ میں بحیثیت ایک طالب علم کے مقیم تھے۔یہ وہ زمانہ ہے جب سرسید مرحوم مغربی نظریات سے مرعوبیت کے سبب سے قرآنِ مجید کی من مانی تاویلات کر رہے تھے اور مسلمانوں کا وہ طبقہ جو انگریزوں اور انگریزوں کے لائے ہوئے افکارونظریات سے مرعوب تھا، بری طرح ان من مانی تاویلات کا شکار ہورہا تھا۔ مولانا نے اس فتنہ کو جہاں انگریزوں کے تسلط کا ایک قدرتی نتیجہ خیال کیا، وہاں اس حقیقت پر بھی ان کی نظر گئی کہ مذہبی علوم خصوصا قرآن کے سمجھنے سمجھانے کا جو طریقہ مسلمانوں میں رائج اور مقبول رہا ہے، وہ بالکل ہی غلط اور فرسودہ ہے۔‘‘ (حمید الدین فراہی، ’’مجموعہ تفاسیرِ فراہی‘‘، مصنف کے مختصر حالاتِ زندگی، لاہور، فاران فاؤنڈیشن، ۱۹۹۸ء، ص ۱۳) 
اسی طرح مولانا فراہی کے علی گڑھ کے زمانہ قیام کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے مولانا اصلاحی لکھتے ہیں : 
"غالباً اسی زمانہ میں سرسید مرحوم کی تفسیر قرآن کا عربی میں ترجمہ کرانے کا خیال پیدا ہوا اور اس کام کے لیے لوگوں کی نظر انتخاب مولانا [فراہی] پر پڑی، لیکن جب مولانا کے سامنے یہ تجویز رکھی گئی تو مولانا نے فرمایا کہ ’’ میں اشاعت معصیت میں کوئی حصہ لینا نہیں چاہتا۔‘‘ ( مصدرِ سابق، ص ۱۱) 
سرسید کی تفسیری فکر کے حوالے سے مولانا فراہی کا یہ موقف اس لیے پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ آج کئی ذہنوں میں یہ غلط فہمی موجود ہے کہ فکر فراہی، فکر سرسید ہی کا تسلسل ہے۔

جہادِ افغانستان اور موجودہ صورتحال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ ہم نے جہاد افغانستان میں فریق بن کر غلطی کی تھی اور پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہو کر بھی غلطی کی ہے، آئندہ یہ غلطی نہیں دہرائیں گے۔ انہوں نے یہ بات سعودی عرب ایران کشمکش کے تناظر میں کہی ہے۔ 
جہاں تک اپنی غلطیوں کو محسوس کرنے، ان کا اعتراف کرنے اور آئندہ غلطی نہ دہرانے کے عزم کا تعلق ہے، خواجہ صاحب کا یہ ارشاد خوش آئند ہے اور قومی سیاست میں اچھی پیش رفت کی علامت ہے کہ حکمران طبقات میں بھی اپنی غلطیوں کے اعتراف کی روایت آگے بڑھنے لگی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ان دونوں حوالوں سے حالات و واقعات اور اپنے رویوں پر تفصیلی بحث و مباحثہ کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کا صحیح طور پر اندازہ ہو سکے کہ ہم نے اصل غلطی کہاں کی ہے۔ 
جہاد افغانستان کا پس منظر یہ تھا کہ سوویت یونین نے افغانستان میں اثر و رسوخ بڑھاتے بڑھاتے اپنا نظام و فلسفہ مسلط کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے تحفظ کے لیے مسلح لشکر کشی بھی کر دی تھی جس کے رد عمل میں افغان علماء کرام اور عوام نے مسلح مزاحمت کا آغاز کیا جو بالآخر ایک بڑی اور بین الاقوامی جنگ میں تبدیلی ہوگئی۔ بہت سے پاکستانی راہ نماؤں کو یہ خدشہ تھا کہ کمیونسٹ نظام اور اثر و رسوخ کا افغانستان میں استحکام اس کے پاکستان تک وسیع ہو جانے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ ہی افغانستان میں سوویت یونین کی مسلح لشکر کشی کی آخری منزل گوادر دکھائی دینے لگی تھی۔ وہ گوادر جہاں تک سوویت یونین کی رسائی کو روکنے کے لیے طویل جنگ لڑی گئی، مگر وہی رسائی چین کو مہیا کرنے کے لیے تجارتی راہداری کی تعمیر میں ہمارے قومی راہ نما ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بہرحال اس دور میں پاکستان تک کمیونسٹ نظام کی وسعت اور گوادر تک سوویت یونین کی رسائی کے خطرات نے نہ صرف حکمران طبقات کو چوکنا کر دیا تھا بلکہ مذہبی عناصر بھی متحرک ہوگئے تھے اور ریاستی قوت کے ساتھ مل کر مذہبی حمیت نے جہاد افغانستان میں پاکستانی عوام کی براہ راست شرکت کا ماحول پیدا کر دیا تھا۔ 
بات یہاں تک رہتی تو سمجھ میں آرہی تھی جیسا کہ اس دور میں مولانا مفتی محمودؒ بار بار یہ کہتے رہے کہ افغان مجاہدین صرف افغانستان کی آزادی کی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ پاکستان کے اسلامی تشخص اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے بھی برسر پیکار ہیں، لیکن جب افغانستان میں روسی جارحیت کے خلاف افغان مجاہدین کی جنگ کو کامیابی کی طرف بڑھتے دیکھ کر امریکی استعمار نے اپنا ’’لچ‘‘ تلنا شروع کر دیا تو معاملات میں بگاڑ پیدا ہونے لگا۔ ہمیں یاد ہے کہ جہاد افغانستان میں امریکہ کی عملی دلچسپی اور کردار کے بعد افغان مجاہدین کے آٹھ گروپوں کا اتحاد قائم ہوا اور مولانا نصر اللہ منصور شہیدؒ کو اس کا سیکرٹری جنرل چنا گیا تھا تو مولوی نصر اللہ منصورؒ نے اس بات سے اختلاف کیا تھا کہ امریکہ کو جنگ کی کمان میں حصہ دار بنایا جائے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ حمایت اور امداد قبول کرنے میں حرج نہیں ہے، مگر معاملات کو بیرونی کنٹرول میں دے دینا جہاد افغانستان کے مقاصد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ چنانچہ اس اختلاف کی وجہ سے انہیں جہاد افغانستان کا باقی دورانیہ بیرون ملک جلا وطنی کی حالت میں گزارنا پڑا تھا۔ سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی اور حضرت صبغۃ اللہ مجددی کی صدارت میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد انہیں افغانستان واپس آنا نصیب ہوا تھا اور اسی دوران وہ جام شہادت نوش کر گئے تھے۔ 
امریکہ کو جہاد افغانستان میں اس درجہ کا عمل دخل دلوانے میں کن لوگوں کا ہاتھ رہا ہے اور اس کے لیے کس کس سطح پر کام ہوا ہے؟ اس کی تفصیل مناسب موقع پر بیان کی جا سکتی ہے ، البتہ اس کے نتائج ہم سب بھگت رہے ہیں اور خدا جانے کب تک بھگتتے رہیں گے۔ 
ہمیں خواجہ محمد آصف صاحب کے اس ارشاد سے اتفاق ہے کہ ہم سے غلطی ہوئی تھی، البتہ یہ غلطی افغان مجاہدین کی حمایت و امداد میں نہیں بلکہ پورے جہاد افغانستان کی باگ ڈور امریکہ بہادر کے ہاتھ میں دینے کے موقع پر ہوئی تھی۔ اور پھر یہی غلطی ہم نے مشرف دور میں دہرائی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ خود لڑنے کی بجائے امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بن کر ہم نے دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان عناصر کو بھی اپنا دشمن قرار دے دیا جو امریکہ کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں اور خطہ میں امریکہ کے خود ساختہ مفادات کی مخالفت کر رہے ہیں جس سے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ خود ابہامات اور شکوک و شبہات سے دوچار ہوگئی۔
البتہ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر امور خارجہ جناب سرتاج عزیز کی اس بات میں وزن ہے کہ خطہ کی موجودہ صورت حال امریکی پالیسیوں کی وجہ سے رونما ہوئی ہے اور سب کچھ خود امریکہ کا کیا دھرا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ محترم سرتاج عزیز کے اس موقف کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے، چنانچہ جہاد افغانستان کے آغاز سے اب تک کی صورت حال کا حقیقت پسندانہ تجزیہ قومی تقاضے کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ اصل حقائق تک رسائی اور ان کے غیر جانبدارانہ جائزہ کی سوچ اپنائی جائے۔ خدا کرے کہ ہم اس قومی ضرورت کی تکمیل کے لیے اپنی لابیوں اور حلقوں کے دائروں سے ہٹ کر ملک کے بہتر مستقبل کے لیے کوئی علمی و فکری کام کر سکیں، آمین یا رب العالمین۔ 

خلافت اور عالم اسلام کی سیاسی قیادت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سعودی عرب کے مفتی اعظم فضیلۃ الشیخ عبد العزیز آل الشیخ حفظہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ داعش اسرائیلی فوج کا حصہ ہے اور ان خوارج کی ہی ایک شکل ہے جنہوں نے قرن اول میں اسلامی خلافت کے خلاف بغاوت کر کے ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا تھا۔ شیخ محترم نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ مسلم ممالک کا فوجی اتحاد داعش کو کچلنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ 
داعش اسرائیلی فوج کا حصہ ہے یا نہیں، یہ ایک بحث طلب بات ہے، مگر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ داعش نے طور طریقے وہی اختیار کر رکھے ہیں جو امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خلاف بغاوت کرنے والے خارجیوں نے اپنائے تھے اور ایک عرصہ تک وہ مسلمانوں کا ہی خون بہاتے رہے۔ جہاں تک ۳۴ مسلم ممالک کے فوجی اتحاد کا تعلق ہے، اس کی کوئی واضح عملی شکل ابھی تک سامنے نہیں آئی، البتہ اس سے یہ توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں کہ وہ داعش اور اس طرز کے دیگر دہشت گرد گروہوں کا راستہ روکنے میں کامیاب ہو جائے گا جو اسلام کے نفاذ کے نام پر بہت سی مسلم حکومتوں کے خلاف ہتھیار بکف ہیں اور تکفیر و قتال کے نام پر زیادہ تر مسلمانوں کو ہی قتل و قتال کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ مسلم ممالک کا کوئی اتحاد سیاسی ہو، معاشی ہو، صنعتی ہو، تہذیبی ہو یا عسکری ہو، خود ہماری خواہش چلا آرہا ہے بلکہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے بہت سے حلقے اس کے لیے آواز بھی اٹھاتے رہے ہیں، لیکن کیا سعودی عرب کی قیادت میں قائم کیا جانے والا یہ اتحاد عالم اسلام کی اس خواہش کو پورا کر سکے گا؟
ملت اسلامیہ کی اصل ضرورت عالمی سطح کی مضبوط سیاسی قیادت ہے جو خود مسلمانوں کے جذبات و مفادات کی نمائندگی کرتی ہو اور اندرونی و بیرونی سازشوں کے موجودہ حصار سے امت مسلمہ کو نکالنے کا حوصلہ اور صلاحیت رکھتی ہو۔ اب سے ایک صدی پہلے تک خلافت عثمانیہ کی صورت میں اس عالمی قیادت کا احساس کسی نہ کسی درجہ میں موجود تھا اور اس کی افادیت بھی بہرحال قائم تھی۔ اگرچہ خلافت عثمانیہ کو ’’یورپ کا مرد بیمار‘‘ کہا جاتا تھا لیکن جب تک یہ ’’مرد بیمار‘‘ سامنے دکھائی دیتا رہا، مسلمانوں کی امیدوں اور حوصلوں کا چراغ جلتا رہا۔ مگر اس کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی امت مسلمہ خلفشار اور مایوسی کی دلدل میں دھنستی چلی گئی۔بعض تاریخی روایات کے مطابق خلافت عثمانیہ کے بعد سعودی عرب کی حکومت قائم ہوئی تو شاہ عبد العزیز آل سعود رحمہ اللہ تعالیٰ کو سرکردہ علماء کرام کے ایک وفد نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ آپ مملکت کی بجائے خلافت کا اعلان کر دیں تاکہ یہ خلا کسی حد تک پر ہو جائے، مگر یہ تجویز قبول نہ کی گئی۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر یہ تجویز قبول کر لی جاتی تو گزشتہ ایک صدی کے دوران خلافت کے نام پر جتنے فتنے کھڑے ہوئے ہیں، ان سے بچا جا سکتا تھا اور خلافت کے مقدس ٹائٹل کو بہت سے طالع آزماؤں کا تختۂ مشق بننے سے محفوظ رکھا جا سکتا تھا۔ 
ہمارے نزدیک آج بھی اس مسئلہ کا حل یہی ہے کہ سعودی عرب، پاکستان، ترکی، مصر یا کوئی بھی بڑا مسلم ملک خلافت کے ٹائٹل کے ساتھ امت مسلمہ کو عالمی قیادت فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول کرے اور خلافت کی غیر موجودگی سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے ختم کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ ایک واقعی ضرورت کو صحی طریقہ سے پورا نہ کیا جائے تو اسے غلط طریقہ سے حصول مقصد کا ذریعہ بنانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اس لیے ۳۴ مسلم ملکوں کے فوجی اتحاد سے ہم یہ درخواست کریں گے کہ وہ اپنے اسی اتحاد کو صرف منفی اہداف تک محدود رکھنے کی بجائے اسے مثبت رخ فراہم کریں اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ خلافت کے ٹائٹل کو دہشت گردوں کے ہاتھوں سے چھین کر اس کا پرچم خود سنبھالیں، ورنہ خلافت کے نام پر فتنے کھڑے ہوتے رہیں گے اور اس مقدس عنوان کو کسی بھی دہشت گردی کا ذریعہ بننے سے روکا نہیں جا سکے گا۔

علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ لاہور موچی دروازہ میں اصغر خاں نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔ یہ 1976 کا آغاز تھا۔ جلسے سے پہلے تحریک استقلال کی اعلیٰ سطح کی قیادت کا اجلاس میاں محمود علی قصوری کی رہائش گاہ 4 فین روڈ پر ہوا۔ ابھی تک اصغر خاں کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو کے پورے دور حکومت میں کسی دیگر راہنما نے عوامی جلسوں سے خطاب کرنے وہ طرح نہیں ڈالی تھی جو ہزاروں لاکھوں لوگوں کو جمع کر سکے۔ البتہ چوہدری ظہور الٰہی مرحوم نے مسلم لیگ میں قدرے جان ڈالے رکھی۔ جماعت اسلامی بھی پیپلز پارٹی کے خلاف صف آرا رہی ، مگر بڑے جلسوں کی بجائے ان کا ہدف تعلیمی ادارے تھے جہاں سوشلزم کا مقابلہ کرنے کے لیے وقتاًفوقتاً کسی معصوم طالب علم کی جان بھی لے لیتے اور ثواب دارین حاصل کرتے۔ خاں عبد الولی خاں کو پنجاب میں بالعموم اور لاہور میں بالخصوص پذیرائی ملتی تھی۔ مگر حکومت انہیں پنجاب کے عوام سے ملنے میں ہر طرح سے رکاوٹیں ڈالتی۔ بالآخر انہیں حبیب جالب اور دیگر ساتھوں کے ہمراہ حیدر آباد ٹربیونل میں اس وقت تک قید رکھا گیا جب تک ذوالفقا ر علی بھٹو کی جگہ ضیاء الحق نے اقتدار نہیں سنبھالا۔ دیگر سیاسی جماعتیں بس ایسے ہی کسی پریس کانفرنس، کسی بیان یا کسی بار روم میں خطاب کے سہارے ہی چل رہی تھیں۔ ایسے میں اصغر خاں کے عوامی جلسوں نے جہاں حکمرانوں کو للکارا وہیں عوام کو بھی ایک سیاسی زندگی دی ۔ 
موچی دروازہ جہاں لاہور کی سیاست کا دل دھڑکتا تھا، یہ جلسہ حکومت اور اپوزیشن کے لیے ایک بڑ ا معرکہ تھا۔ ملک وزیر علی تحریک استقلال کے نائب صدر تھے جو بڑے منتظم آدمی تھے ۔ انہوں نے مختلف پارٹی ورکرز کی ٹولیاں بنا کر انہیں مختلف راستوں سے موچی دروازہ پہنچے کو کہا۔ ایک گروپ جس نے موچی دروازہ میں ان ورکرز کا استقبال کرنا تھا، اس کی سربراہی تحریک استقلال کے سیکرٹری اطلاعات علامہ احسان الٰہی ظہیر نے کی جبکہ ان کے ساتھ مجھے نائب کے طور پر مقرر کیا گیا۔ ہم فین روڈسے نکل کر مال روڈ، بیڈن روڈ اورنسبت روڈ سے ہوتے ہوئے چیمبر لین روڈ کے اس سرے تک پہنچے جہاں سے موچی دروازہ ہمارے سامنے تھا۔ ذاتی مقاصد کے لیے بنائی گئی ذوالفقار علی بھٹو کی " فیڈرل سیکیورٹی فورس" سڑک پر سیدھی گولی کی پوزیشن لیے ہوئے صف آرا تھی۔ ہم دونوں دائیں بائیں کی گلیوں سے نکل کر اسٹیج کے عقب میں پہنچ گئے۔ علامہ صاحب فوراً سٹرھیاں چڑھ کر اسٹیج پر پہنچ گئے اور ہاتھ ہلا کر کارکنوں کو تسلی دی۔ انہیں اسٹیج پر موجود پا کر چاروں اطراف سے تحریک استقلال کے کارکن اور عوام کا ایک جم غفیر جلسے میں آگیا ۔ اس سے قبل کہ علامہ احسان الٰہی ظہیر اپنی تقریر شروع کرتے، اوپر تلے تین چار کریکر چلائے گئے۔ لوگ ہراساں ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ پیپلز پارٹی کے ایک طالب علم راہنما جسے " فتنہ" کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، اُس نے یہ شرارت کی ہے جو ا س کام میں ماہر گنا جاتا ہے اور یہی اُس کا " افتخار " ہے، تاہم اس کے بعد علامہ صاحب نے ایسی پر جوش تقریر کی کہ سہما ہوا ہجوم جم گیا۔ 
علامہ احسان الٰہی ظہیر برس ہابرس تک تحریک استقلال کے سیکرٹری اطلاعات رہے۔ وہ غایت درجہ آتش نوا مقرر تھے۔ ان کی آواز کا طنطنہ کمال کا تھا۔ رعدکی گونج اور بجلی کی کڑک تھے۔ انہوں نے تلوار کا لہجہ اپنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے پاکستان میں ایک بلند مقام کے خطیب ٹھہرے۔ انہیں سعودی عرب میں ایک بڑا مقام حاصل تھا، اسی لیے ایک بار حج کے دوران خانہ کعبہ میں جنرل ضیاء الحق سے ملاقات ہو گئی تو ضیاء الحق نے پوچھا کہ علامہ صاحب! آپ میری مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جنرل صاحب آپ نے الیکشن تو کروانے نہیں، کم ازکم قوم سے جھوٹ تو نہ بولیں۔ میں خانہ کعبہ میں کھڑے ہو کر وعدہ کرتا ہوں کہ آپ اسلام کا نام لینا چھوڑ دیں تو میں آپ کی مخالفت کرنا چھوڑ دوں گا۔ اس پر جنرل ضیاء الحق نے اپنے مخصوص انداز میں اپنا دایاں ہاتھ سینے کی بائیں جانب رکھتے ہوئے پھر ایک جھوٹا وعدہ کیا کہ وہ جلد از جلد انتخابات کروادیں گے۔ ضیاء الحق تو حسب توقع الیکشن کروانے سے پھر مکر گیا، مگر علامہ صاحب نے اس کی مخالفت میں مزید تیزی او ر شدت پیدا کر دی ۔ اس وقت تک علامہ صاحب تحریک استقلال سے علیحدہ ہو کر اپنی قیادت میں مسلک اہلحدیث کی ایک بڑی جماعت تشکیل د ے چکے تھے ۔ شہر شہرقریہ قریہ فوجی جنتا کے خلاف خطاب کیا ۔ ضیا ء الحق نے برا محسوس کیا۔ کینہ پرور آدمی تھا، اس لیے علامہ صاحب کو ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کر لیا۔
پھر ایک روز جب علامہ احسان الٰہی ظہیر قلعہ لچھمن سنگھ لاہور کے چوک میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرنے آئے تو یہ ان کی زندگی کا آخری جلسہ ثابت ہوا۔ ابھی خطاب شروع کیا ہی تھا کہ ایک بم نے اسٹیج کے بخیے ادھیڑ دیے۔ لوگ لہولہان ہو گئے۔ کچھ موقع پرہی دم توڑ گئے۔ سارا ملک سوگوار ہو گیا۔ علامہ صاحب کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہوں نے اپنے نزاعی بیان میں کہا کہ انہیں جنرل ضیاء الحق نے مروانے کی کوشش کی ہے۔ آخری سانس تک بھی یہ ہی کہتے رہے کہ اگر وہ مر گئے تو ان کا خون جنرل ضیاء الحق کی گردن پر ہو گا۔ یار لوگوں نے ان کی موت کے ڈانڈے شاہدرہ کی ایک امام بارگاہ سے ملانا چاہے مگر ناکام لوٹے۔ شدید زخمی حالت میں سعودی عرب نے بڑے اہتمام سے اپنے ہاں لے جا کر ان کا علاج کرنے کی تمام کوشش کیں، مگر وہ زندگی ہار چکے تھے۔ انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا اور وطن عزیز کی پر آشوب سیاست کا ایک اور باب ختم ہوا۔ 

روایتی مسلم ذہن میں مسئلہ الحاد کی غلط تفہیم

عاصم بخشی

روایتی مسلم ذہن میں موجود سماج کا تصور چونکہ الہامی روایت کی مختلف تعبیرات سے معاشرتی معیارات اخذ کرتا ہے، لہٰذا ایسے غیرمذہبی ذہن کو بھی الحادی یا ’ نیم الحادی‘ گردانتا ہے جس کے لیے الہامی روایت سماجیات کی ذیل میں اپنے اندر کوئی نظری یا عملی دلچسپی نہیں رکھتی۔ اگر تاریخی تناظر میں مسلم سماج کے حال پر ایک نظر ڈالی جائے تو اٹھارویں صدی کے یورپ کی تنویری یا روشن خیال تحریک کی ایک سطحی سی جھلک نظر آتی ہے۔ سطحی اس لئے کہ چاہے بنگلہ دیش میں اپنے شدت پسند مذہبی حریفوں کے ہاتھوں قتل ہوتے ’فری تھنکر‘ انٹرنیٹ ادیب اور کالم نگار ہوں یا پاکستانی سوشل میڈیا پر برسرپیکار مختلف عقلیت پسند الحادی و نیم الحادی آوازیں، اپنی سیاسی و سماجی تعبیرات کے کوئی ایسے چشمے نہیں رکھتیں جو اسی زمین سے پھوٹیں جس کی سیرابی کے سماجی حق کے لئے وہ جدوجہد میں مشغول ہیں۔ ہمارے ہاں روایتی مذہبی ذہن اور روشن خیال عقلیت پسند ذہن کی باہمی کشمکش کے لئے ابن سینا یا ابن طفیل کی بجائے گیلیلیو کو استعاراتی ترجیح دینا اس لئے حیرانی کی بات نہیں کہ اٹھارویں صدی کی روشن خیال تحریکوں، صنعتی و سائنسی انقلاب اور دورِ استعماریت کے بعد پوری دنیا سکڑ کر کچھ ایسے ملفوظ یا ناملفوظ سماجی معیارات کو تیزی سے ہمہ گیر تسلیم کر نے کے دور سے گزر رہی ہے جن کی بنیادوں میں سائنس طریقہ استدلال سے جڑی تاریخِ فکر کو بلاشبہ روایتی فلسفیانہ استدلال کے مقابلے میں اہمیت حاصل ہے۔ لہٰذا کشمکش کے اس پورے منظرنامے میں اگر روایتی اور تجدد مخالف مذہبی ذہن کے پاس کچھ ایسی منجمد الہامی تعبیرات کا سہارا ہے جو قرونِ وسطیٰ کی تعبیری روایت سے منسلک ہیں تو غیرمذہبی عقلیت پسند ذہن کی پشت پرجدید سائنس کی کم و بیش تین سو سالہ طویل مستحکم روایت کھڑی ہے جو مسلسل اپنے پھیلاؤ کے ذریعے ذہن سازی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
عقلیت پسند ذہن سازی کے اس مسئلے کو کسی مثال سے سمجھنا ہو تو بنگلہ دیشی ’فری تھنکر‘ تحر یک کے ۱۳ سالہ کارکن محی الدین کی ذہنی کشمکش پر ایک نظر دوڑائیے جو مذہبی شدت پسندوں کے متعدد حملوں کے بعد بالآخر جرمنی میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے اور آج کل وہاں سے بذریعہ انٹرنیٹ سرگرمِ عمل ہیں۔ ایک مسلم خاندان میں پیدا ہونے والے محی الدین کا کہنا ہے کہ انہیں جنت و جہنم کے واقعات سے بھرپور مذہبی’’ قصے کہانیاں ‘‘کسی دیومالا کی طرح مضحکہ خیز معلوم ہوتی تھیں لہٰذا تیرہ سال کی عمر سے ہی وہ اپنے آپ کو ملحد سمجھنے لگے۔ ان کے بقول اس ردعمل پر ان کے والد بہت شرمسار تھے۔ اسی زمانے میں انہوں نے اسٹیفن ہاکنگ کی مشہورِ زمانہ کتاب ’بریف ہسٹری آف ٹائم‘ (اردو ترجمہ: وقت کا سفر) کا مطالعہ کیا جس نے ایک نئے جہان کی طرف ان کی راہنمائی کی۔ سولہ سال کی عمر میں ان کا تعارف ایک ایسے بنگلہ دیشی مجلے سے ہوا جو نظریہ اضافت اور دوسرے سائنسی اصولوں کی مدد سے قرآن کریم میں موجود معجزوں کی تعبیرات پیش کرتا تھا۔ محی الدین نے اپنے کڑے تنقیدی خطوط میں یہ نکتہ اٹھایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ سائنسی طور پر ناممکن تھا کہ کسی گھوڑے پر سوار ہو کر آسمانوں کا سفر کر آتے۔یوں ڈھاکہ سے شائع ہونے والے مختلف اخبارات میں ان مختلف مذہب پسندوں سے ان کا کڑا مناظرہ جاری رہا۔ ۲۰۰۸ء میں کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن کے بعد انہوں نے مستقل طور پر لکھنا شروع کیا اور یوں وہ تحریک برپا ہوئی جس کے نتیجے میں ان کے چار ساتھی مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اور وہ خود بنگلہ دیش سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ 
آپ کے سامنے یہ نہایت مختصر سوانحی منظرنامہ رکھنے کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ اول تو یہ منظرنامہ ہمیں ایک روایتی مذہبی ذہن کا ردعمل سمجھنے میں ناگزیر مدد فراہم کرتا ہے اور دوسرا ایک روایتی عقلیت پسند ذہن کی ماہیت اور جدید دنیا میں اس کے ارتقاء پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں اپنے ایک اخباری مضمون میں ایک عالم دین کے مشہور مغربی مفکر کارل ساگاں کی کتاب ’کاسموس‘ پر پابندی کے مطالبے کو مثال بنا کر راقم نے روایتی مذہبی ذہن کے ایک مخصوص متشدد ردعمل کی کی جانب نشان دہی کی تو کچھ محترم مذہب پسند دوستوں نے یہ سوال اٹھایا کہ پھر کیا چپ سادھ لی جائے اور سماج کو فکری طور پر آزاد چھوڑ دیا جائے؟ ایک اور مشہور اہلِ علم نے مجھ طالب علم پر یہ اعتراض اٹھایا کہ یہ ایک خطرناک فکری نراجیت پسندی معلوم ہوتی ہے اور کوئی بھی مذہبی یا غیرمذہبی سماج فکر کو بالکل آزاد کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ 
ذاتی نوعیت کے یہ دونوں اعتراضات پیش کرنے کا مقصد بھی روایتی مذہبی ذہن کے ردعمل کی اس مخصوص جہت ہی کو مزیدواضح کرنا ہے کیوں کہ راقم کی سوچی سمجھی رائے میں فی زمانہ اسلام کی مذہبی سماجی روایت کے سامنے ردعمل کے مباحث ترتیب دینے کا مسئلہ تو سرے سے درپیش ہے ہی نہیں کیوں کہ اس کا تعلق تو بہرحال کسی نہ کسی طرح مسئلے کے حل سے ہے۔ یہاں تو فی الحال مسئلے کے خدوخال پر ہی اتفاق زیرِ التوا ہے۔ جب ایسے سوال ہی سامنے موجود نہ ہوں جن پر ایک سماج میں باہمی اتفاق پایا جاتا ہو تو جواب چہ معنی دارد؟ ظاہر ہے اگر کوئی روایتی مذہبی ذہن مسئلے کے خدوخال ہی یوں مرتب کرتا ہے کہ ہمارے نام نہاد مذہبی سماج کا مسئلہ اخلاقیات کا جنازہ نکلنا، باہمی محبت و احترام کا ایک سماجی قدر کے طور پر ناپید ہو جانا، اور روشن خیالی و خرد افروزی کو ایک طنز و دشنام کے طور پر رواج دینا نہیں بلکہ فلسفہ و سائنس کے ذریعے بڑھتا ہوا الحاد ہے تو اس کے نزدیک یہ سادہ لوح ردعمل یقیناًمعقول ٹھہرے گا کہ ’کاسموس‘ اور ’بریف ہسٹری آف ٹائم‘ جیسی کتابوں پر سرے سے پابندی ہی لگا دی جائے۔ لیکن اگر پھر بھی ہم جیسے ’نیم ملحدین‘ باز نہ آئیں اور ریاست یہ نیک کام کرنے میں سستی کرے تو پھر ہمارے پیٹ میں خنجر گھونپ دینا بھی یقیناًاسی ردعمل کا اگلا معقول ترین مذہبی قدم ہونا چاہیے جسے تائیدِ غیبی حاصل ہو۔ 
لیکن ہماری رائے میں اس ہولناک سماجی سانحے سے بچنے کی واحد معقول ترین صورت یہی ہے کہ اس روایتی مذہبی ذہن کے مقابل کھڑے ایک غیرمذہبی عقلیت پسند ذہن کی ماہیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ کیا یہ واقعی کوئی مسئلہ بھی ہے یا سادہ طور سے ایک مستقل ذہنی ارتقاء کا ہی تسلسل ہے جس کے ساتھ اب ہماری روایتی مذہبی روایت کو کئی داخلی و خارجی وجوہات کے باعث قدم ملا کر چلنے میں مشکل پیش آ رہی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس مشکل پر قابو پانے کا کوئی دوسرا نفیس طریقہ نہ ہونے کے باعث یہ مخصوص روایتی مذہبی شعوراب اپنی داخلی سماعت کے پردوں سے خدا کی یہ تحکمانہ آواز ٹکراتے سن رہا ہے کہ دوڑ میں آگے نکلنے والے حریف کو اڑنگا دے کر گرا دیا جائے؟ چونکہ ہماری روایت میں مذہبی کے ساتھ ساتھ غیرمذہبی روایت کے سوتے بھی عرصے سے خشک پڑے ہیں لہٰذا کیوں نہ مغربی عقلیت پسند ذہن کی ماہیت کو براہِ راست سمجھنے کی کوشش کی جائے تاکہ جہاں روایتی مذہبی ذہن کو اس کی خطرناک سادہ لوحی کا یقین دلایا جا سکے وہی ہمارے ہاں کے عقلیت پسند مقلدین و نیم ملحدین کو بھی واضح ہو سکے کہ وہ اپنے مخصوص تعصبات کے لئے کتنا معقول جواز رکھتے ہیں جس پر ان کو خود بھی غیرمتزلزل یقین ہو۔ 
چونکہ اس مختصر مضمون کو اس حد تک طویل نہیں کیا جا سکتا کہ نظر خراشی کا الزام معقول ٹھہرے لہٰذا کتابوں کے اقتباسات کی بجائے آپ کی توجہ کے لیے ۸۰ء کی دہائی کے اواخر میں نشر کی جانے والی ایک گھنٹے کی نادر دستاویزی فلم کا انتخاب کیا ہے جس کا عنوان ہے ’خدا، کائنات اور باقی سب کچھ‘۔ یہ وہ سال ہے جب اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ راقم کی رائے میں یہ مکالمہ اس جاری بحث کے تناظر میں اس لیے دلچسپ ترین ہے کہ مکالمے کے تینوں شرکاء یعنی اسٹیفن ہاکنگ، کارل سیگاں اور آرتھر سی کلارک نہ صرف چوٹی کے سائنسی مفکرین تھے بلکہ زمانہ جدید کی تاریخ فکر میں بھی ان کے نام سائنسی تفکر کو عوامی طور پر متعارف کروانے کے لحاظ سے سرفہرست ہی رہیں گے۔ پوری فلم تو انٹرنیٹ پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے اوراپنے آپ کو اب تک مجھ سے متفق پانے والے قاری یقیناًاس کے ذریعے وہ تقابلی نفسیاتی جائزہ لینے کے قابل ہوں گے جس کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا۔ اس نفسیاتی جائزے میں تجسس، جستجو، تخیل کی جست، منطقی استدلال کی نوعیت، شعور کی حقیقت مطلق کو جان لینے کی داخلی کشمکش وغیرہ جیسی جہتوں پر تو سیر حاصل بحث ہو سکتی ہے، لیکن یہاں اس کے اختتامی حصے کے کم وبیش دس منٹ کے مکالمے کا ترجمہ پیش کرنا بہت ضروری ہے۔ اپنے سوالات کے ذریعے گفتگو کو آگے بڑھانے والے مشہور صحافی میگن میگنسن تھے۔
’’میگن: پروفیسر ہاکنگ، اپنی کتاب کے بالکل آخر میں آپ لکھتے ہیں کہ اگر ہم کائنات کا ایک مکمل نظریہ دریافت کر لیں تو پھر آخرکار وہ کچھ وقت میں(عوامی سطح پر) قابلِ فہم مانا جائے گا اور نہ صرف سائنسدانوں بلکہ ہر ایک کو اصولی طور پر متفق کر دے گا۔ اور جب یہ ہو جائے گا تو ہم ’کیسے ‘ کی بجائے ’کیوں‘ کے بارے میں بحث کرنے کے قابل ہوں گے۔ میں آپ کا اقتباس پیش کرتا ہوں کہ ’’اگر ہم اس سوال کا جواب ڈھونڈ لیں تو یہ انسانی عقل کی حتمی فتح ہو گی کیوں کہ پھر ہمیں خدائی ذہن کا علم حاصل ہو جائے گا۔‘‘ سوال یہ ہے کہ کیا آپ کے خیال میں خدا جیسے چاہے کائنات میں دخل دے سکتا ہے؟ یا خدا بھی قوانین سائنس کے دائرے میں محدود ہے؟
اسٹیفن ہاکنگ: یہ سوال کہ آیا خدا قوانین سائنس کے دائرے میں محدود ہے، اسی قسم کے سوال کی طرح ہے کہ کیا خدا ایک ایسا بھاری پتھر بنا سکتا ہے جسے وہ خود بھی نہ اٹھا سکے؟ میں نہیں سمجھتا کہ یہ تفکر کچھ خاص مفید ہو سکتا ہے کہ خدا کیا کرسکتا ہے اور کیا نہیں بلکہ ہمیں اس کا جائزہ لینا چاہیے کہ و ہ واقعتا اس کائنات کے ساتھ کیا کرتا ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ ہمارے تمام مشاہدات یہ تجویز کرتے ہیں کہ وہ کچھ اچھی طرح متعین قوانین کے مطابق کام کرتا ہے۔ و ہ قوانین شاید خدا نے خود ہی متعین کیے ہوں، لیکن یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہ قوانین توڑنے کے لیے کائنات میں دخل نہیں دیتا، کم از کم جب ایک دفعہ کائنات اپنے راستے پر چل پڑے۔ تاہم اب تک یہی سمجھا جاتا تھا کہ یہ تمام قوانین کائنات کے نقطہ آغاز پر ہر صورت ٹوٹ جاتے ہیں جس کا مطلب یہی تھا کہ کائنات کے آغاز کی حد تک خدا کو انتخاب کی مکمل آزادی تھی۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں میں ہمیں اندازہ ہوا کہ قوانین سائنس وقت کے نقطہ آغاز پر بھی شاید متعین ہی ہیں۔ اس صورت میں تو خدا کو یہ آزادی نہیں ہو گی اور کائنات کا نقطہ آغاز بھی سائنسی قوانین کے ذریعے ہی متعین ہو گا۔
میگن: بہت شکریہ۔ کارل ساگاں، اس کتاب کے تعارف میں آپ نے تبصرہ کیا کہ یہ کتاب خدا کے بارے میں بھی ہے بلکہ شاید خدا کے نہ ہونے کے بارے میں، کیوں کہ ہاکنگ نے خدائی تخلیق کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ لیکن ظاہر ہے، خدا مختلف لوگوں کے لیے مختلف معنی رکھتا ہے۔ جب ہم ذہن خداوندی تک جست کی بات کرتے ہیں تو ہم کس قسم کے خدا کا تصور قائم کر رہے ہوتے ہیں؟
کارل ساگاں: بھئی میرے خیال میں تو یہ ایک اعلیٰ ترین سوال ہے اور میں اسٹیفن ہاکنگ کا جواب جاننا چاہوں گا۔ لیکن صرف حدودِ امکان کا احاطہ کرنے کی خاطر میں دو متبادل قیاسات پر غور کی دعوت دیتا ہوں۔ایک تو مغرب کا مشہور تصورِ خدا ہے جہاں خدا ایک بہت جسیم سفید فام مرد ہے جو اپنی لامبی سفید ریش کے ساتھ تخت آسمانی پر براجمان ہر گرتی چڑیا کے بارے پیشین گوئی کر رہاہے۔ اس کے متبادل وہ تصورِ خدا ہے جو مثال کے طور پر اسپینوزا یا آئن سٹائن کے ذہن میں موجود ہے جو کم از کم کائنات کے کل مجموعہ قوانین کے بہت قریب ہے۔ اب کائنات میں متعین طبیعی قوانین کا انکار کرنا پاگل پن ہی ہو گا اور اگر آپ کی خداسے یہی مراد ہے تو خدا کے نہ ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ لیکن یہ ایک بہت ہی دوردراز بیٹھا خدا ہے جسے فرانسیسی روایت میں ’ کاہل بادشاہ‘ کا خطاب دیا گیا۔ اس کے برعکس پہلے والا تصور جو کائناتی مظاہر میں روز مرہ کی بنیاد پر دخل اندازی کرتا ہے، ڈاکٹر ہاکنگ کے بقول اس کے کوئی شواہد نہیں پائے جاتے۔ میرا ذاتی رجحان یہی ہے کہ ان معاملات میں انسان کو ذرا عاجزی کا مظاہرہ ہی کرنا چاہیے کیوں کہ ہمیں یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ ہم اصولی طور پر کچھ ایسے پیچیدہ معاملات کے بارے میں رائے قائم کرنا چاہ رہے ہیں جو انسانی تجربے سے سب سے زیادہ فاصلے پر ہیں۔اور شاید ہم ان پراسرار رازوں کی جانب ذرا سا رینگنے کے قابل ہی ہو پائیں۔
میگن: شاید پروفیسر ہاکنگ کچھ کہنا چاہتے ہیں۔
اسٹیفن ہاکنگ:میں خدا کا نام اسی طرح استعمال کرتا ہوں جیسے آئن سٹائن نے کیا کہ وہ کائنات کے اس طرح ہونے کی اولین توجیہ ہے جس طرح کہ وہ ہمارے سامنے ہے اور اس کے موجود ہونے کی اولین علت بھی وہی ہے۔
میگن: آرتھر کلارک، کیا میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ اس بات کا کیا مطلب تھا جب آپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں خدا پر ایمان نہیں رکھتا لیکن اس میں شدید دلچسپی رکھتا ہوں۔
آرتھر کلارک: (مسکراتے ہوئے) خیر میں نے تو اب تک اپنی شرط ہی نہیں باندھی۔ اسٹیفن اور کارل کے تبصروں سے مجھے نپولین اور لاپلاس کا نظریہ کائنات کے ضمن میں دو سو سال پرانا مکالمہ یاد آ گیا جب نپولین نے اس سے پوچھا کہ ’’اس میں خدا کہاں ہے؟‘‘ تو لاپلاس نے جواب دیا کہ ’’جناب، مجھے اس قیاس کے قائم کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔‘‘ میں اس سلسلے میں پنڈت نہرو کے اس قول کا بہت معترف ہوں کہ سیاست اور مذہب کا زمانہ گزر گیا، یہ زمانہ سائنس اور روحانیت کا ہے۔‘‘
پوری گفتگو ہی نہایت دلچسپ ہے لیکن یہ اقتباس پیش کرنے کا مقصد ایک طرف تو روایتی مذہبی ذہن اور دوسری طرف پچھلی دو دہائیوں سے تیزی سے بڑھتے ایک متشدد سائنس پرست الحادی ذہن کو اپنی ردعمل کی نفسیات پر نظر ثانی کی دعوت دینا ہے۔جہاں اسی گفتگو کے اختتام پر ایک سوال کے جواب میں اسٹیفن ہاکنگ کا یہ تبصرہ کہ فزکس ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ ہمسائے سے کیسے سلوک کرنا ہے، الحادی روایت کے شدت پرست حامیوں کے لیے چشم کشا ہے، وہیں اس میں روایتی مذہبی ذہن کے فہم کے لیے نہایت اہم اشارے ہیں۔ ان میں اہم ترین اشارہ یہی ہے کہ ایک اعلیٰ ٰجدید عقلیت پسند ذہن کی ماہیت نہایت پیچیدہ طور پر سائنسی استدلال اور سائنسی تاریخ فکر کی روایت سے نہ صرف نظری طور پر مربوط ہے بلکہ عملی میدان میں ایسے نتائج بھی پیدا کرنے کے قابل ہے جن کے لیے کسی نظری استدلال کی ضرورت نہیں۔ یہ پیچیدہ جدید ذہن آج ایک ایسے نئے تناظر میں ایستادہ ہے جہاں عوامی طور پر سائنس پر ایمان لانے کی صورت کم وبیش وہی ہے جو خدا پر ایمان لانے کی ہے۔ یہ انسان خدا کو اس کے تصور کی بجائے اس کی فعالیت سے تو پہچانتا ہی تھا، لیکن آج سائنس پر ایمان لانے کی کیفیت بھی کم وبیش ایسی ہی ہے۔ ایک کسان جہاں سجدے میں بارش کی دعا کرتا ہے اور آسمان سے پانی کے نزول کو خدائی قوت کا مظہر سمجھتا ہے، وہیں اسے یہ ایمان بھی ہوتا ہے کہ موسمی پیشین گوئی کے مطابق اگلے تین دن بارش کے امکانات معدوم ہیں۔ یہ اب نفسیاتی طور پر ایک شدید تجربیت پسند انسانی شعور ہے جسے تجربے سے بہت فاصلے پر موجود حقائق پراسرار معلوم ہوتے ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ ہر لمحہ کائنات کے اسرار و رموز پر سے پردہ اٹھاتے، ابدی پیاس سے نڈھال، زمانہ جدید کے اس انسان کی جستجو بھی روایتی مذہبی ذہن میں ایک ہیبت سے بھرپور محبت پیدا کرنے کی بجائے نفرت اور ردعمل پر اکساتی ہے۔ سمجھ سے باہر ہے کہ یہ کیسی مذہبی نفسیات ہے جو ہر لمحہ اپنے خدا کے آگے پردہ تانے کھڑی ہے اور اسی خدا تک پہنچنے کے متلاشی انسان کو حملہ آور سمجھ بیٹھی ہے کیوں کہ وہ اپنی زندگی میں خدا کو کوئی ’معنی خیز‘ جگہ دینے سے قاصر ہے۔
یہ اب ایک صریح نتائجیت پسندی پر استوار منظر نامہ ہے جس میں ایسی روایتی مذہبی فکر کو جو جدیدیت سے سمجھوتے کے بعد ایک معقول اور جامع تجدیدِ فکر کے نتیجے میں انسانیت کی عالمگیر فکری روایت میں اپنا حصہ نہیں ڈالنا چاہتی، سائنسی تفکر کے خلاف استبدادی محاذ آرائی کی بجائے اخلاقیات و مابعدالطبیعات کے میدان میں اپنے رہے سہے اختیار کو اس طرح قائم رکھنے کی فکر کرنی چاہیے کہ ایک ایسا فرد جسے الٰہامی تعبیرات کی بنیاد پر کھڑے مذہب کے مجموعی اعتقادی ڈھانچے پر ایمان لانے کی دعوت دی جائے تو وہ اس ایمانیات کوجبرِ محض کی بجائے دنیا میں نوعِ انسانی کی فلاح اور آخرت میں نجات کے ساتھ ایک مربوط فکری و عملی نظام کے طور پر اپنانے کے لیے تیار ہو۔ دوسرے لفظوں میں روایتی مذہبی فکر کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ استبداد اور جبر سے دورِ جدید کی مذہبی سماجیات میں سوائے مزید ردعمل اور شدت پسند الحادی فکر پیدا کرنے کے کوئی اور خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں کیا جا سکتا جو خدا کی بارگاہ میں بھی پسندیدہ ٹھہرے اور انسانوں کے لئے بھی کسی مجموعی خیر کا ضامن ہو۔ 
اوپر پیش کی گئی گفتگو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ سوال اٹھانا ہر گز مشکل نہیں کہ ہمارے وقت کے یہ اعلیٰ ترین اذہان جن کی فکر کو ہمارے تیسری دنیا کے مذہبی سماج میں مسئلہ الحاد کی جڑ سمجھا جا رہا ہے، ان سوالات میں سرے سے دلچسپی ہی نہیں رکھتے جوہمارے ہاں کی روایتی مذہبی فکر کا موضوع ہیں۔شاید یہ خدا کوماننے کا نہیں بلکہ ایک مخصوص تصورِ خدا سے ایسا ذاتی تعلق پیدا کرنے کا مسئلہ ہے جو یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے۔ جہاں دو دہائیاں قبل ویٹی کن میں آرتھر کلارک جیسوں کے خطاب کے بعد کیتھولک کلیسا کی روایت اپنی ساڑھے تین سو سالہ پرانی غلطی تسلیم کرنے کے بعد گلیلیو کو بری الذمہ قرار دے چکی ہے، وہاں ہمارے ہاں کی روایتی مذہبی فکر ابھی صرف اس پیچیدہ جدید نفسیات کے فہم سے مسئلے کے خدوخال متعین کر نے کی جانب اولین قدم ہی اٹھا سکتی ہے۔ اسے اپنے اوپر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر انسان کو اپنی کامل ابدی تسکین کے لیے خدا کی ضرورت ہے تو اسی روایتی مذہبی ذہن کی تعبیرات کے مطابق خدا بھی تو کمالِ بے نیازی سے اپنے آپ کو مانے جانے کا مطالبہ لیے کھڑا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مذہبی فکر اپنی اٹل تعبیرات پر ’غیرمعقول‘ پیرایے میں اصرار کی دیوار کے ذریعے بندے اور خدا کے درمیان موجود ہے؟
(مضمون میں مذکورہ دستاویزی فلم کا انگریزی عنوان God, the Universe and Everything Else ہے اور اسے انٹرنیٹ پر بآسانی تلاش کیا جا سکتا ہے۔)

مکاتیب

ادارہ

(۱) 
ممتاز قادری کی سزا کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے راقم نے دسمبر 2015ء کے ’’الشریعہ‘‘ میں دلائل سے ثابت کیا کہ توہین رسالت پر سزائے موت کے قانون کے ہوتے ہوئے، کسی شخص کا توہینِ رسالت کے کسی ملزم کوماورائے عدالت قتل کرنا ،شرعی نقطہ نظرسے غلط ہے؛ لہٰذازیر بحث کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بے جواز نہیں۔ اس پر بعض کرم فرماؤں کی جانب سے کچھ اختلافات واعتراضات سامنے آئے ہیں۔ 
کچھ حضرات نے فرمایا ہے کہ آپ جیسے لوگ اس طرح کے دلائل سے یہود و نصاریٰ کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ان کی پیروی ہی کیو ں نہیں کر لیتے تاکہ وہ خوش ہو جائیں!؛ لیکن قرآن کا فیصلہ ہے کہ وہ خوش نہیں ہوں گے۔
سچ یہ ہے کہ ہم خود کو ، اس معاملے پر کوئی دلیل پیش کرنے کی پوزیشن میں نہیں پاتے، اس لیے کہ کس کی کس کو خوش کرنے کی نیت ہے؟ اس کی دریافت اتنا مشکل کام ہے کہ ہمارے کرم فرما ہی اتنی آسانی سے کر سکتے ہیں! ہم لوگوں کے باطن میں اتر کر ان کے مسائل اور بیماریوں کی تشخیص کا(اگر کچھ جان بھی سکیں تو ) اتنا فن نہیں جانتے کہ آدمی کو دیکھے، ملے اور جانے بغیر اس کے باطن پر حکم لگا سکیں۔ہاں ! اپنی صفائی کی بات ہو سکتی ہے، لیکن وہ بھی معترضین ایسے مسکت دلائل سے رد کر سکتے ہیں جن کا ہمارے پاس، ہمیں اقرار ہے، کہ کوئی جواب نہیں ہو گا۔ مثلاً وہ کہہ سکتے ہیں: تم اوپر اوپر سے صفائیاں پیش کر رہے ہو، اندر تمھارے وہی کچھ ہے جو ہم عرض کر رہے ہیں۔ سو دوسری اور پہلی بات ہی کے حوالے سے کچھ عرض کرنا ہماری بساط میں ہے۔
جہاں تک اس دلیل کا تعلق ہے کہ توہینِ رسالت کا مر تکب، فقہا کے نزدیک مباح الدم ہے جس کے قتل کرنے والے کو قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ تادیباً کوئی تعزیر ی سزا دی جائے گی؛ لہٰذا ممتاز قادری کو سزاے موت دینا غلط ہے، کوئی تعزیری سزا دی جا سکتی ہے تو اس کے حوالے سے عرض ہے کہ یہ مقدمے، ثبوت اور عدالتی کاروائی سے متعلق ایک بے مثل عجوبہ ہے۔ یعنی کسی کے جرم کے حق میں دلائل اس کا کام تمام کرنے کے بعد فراہم کیے جا سکتے ہیں ! بعد میں اگر پتہ چلے کہ ملزم مجرم تھا، اور اس کی بنا پر کسی شخص نے اسے قتل کر دیا تھا تو اب قاتل کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی! ثبوتِ جرم کا یہ طریقہ عدالتوں کو بہ طورِ رہنما اصول اپنانا چاہیے اور قاتل کو اس وقت تک مہلت دینی چاہیے جب تک یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ قاتل، مقتول کو قتل کرنے میں حق بہ جانب تھا؛ اور قاتل کو مقتول کے قتل پر سزا دینے اور سزا کے حق میں دلائل تلاش کرنے کی بجائے ان شواہد پر نظر رکھنی چاہیے جو مقتول کے خلاف مرورِ زمانہ سے مہیا ہوئے ہیں۔ کیا قانون ، عدالت اور مقتول کے ساتھ اس سے بڑا مذاق ممکن ہے! ہو سکتا ہے کہ آپ یہ سوچ رہے ہوں : بھلا یہ دلیل بھی کوئی دے سکتا ہے!، لیکن یہ دلیل دی گئی ہے ؛ اور ایک مشہور صاحب ’’ ماہنامہ‘‘ کی جانب سے دی گئی ہے۔
اس دلیل کی لغویت کو ایک طرف رکھیں اور صرف اس زمینی حقیقت ہی کو دیکھ لیں کہ زیر نظر کیس میں جب قاتل نے مقتول کو قتل کیا، اس وقت قاتل کے حق میں فضا زیادہ تھی ، یا بعد میں زیادہ ہوئی! ہمارا دعویٰ ہے کہ بعد میں فضا قاتل کے مخالف ہوتی گئی اور ان لوگوں کی طرف سے بھی اس کے اقدام کو غلط قرار دیا گیا جو واقعے کے ابتدائی دنوں میں اس کے حق میں دلائل دیتے اور نعرے لگاتے تھے۔ راقم ایسے بیسیوں صاحبانِ علم کو جانتا ہے جو ابتدا میں یہ کہتے تھے کہ سلیمان تاثیر کا قتل درست تھا؛ لیکن بعد میں اس کے قائل ہو گئے کہ یہ قتل غلط تھا۔ اس کے بر عکس میں ایک بھی بندے کو نہیں جانتا جو پہلے ممتاز قادری کے اقدام کو غلط سمجھتا تھا، لیکن بعد میں اس کا جواز پیش کرنے لگا۔ گویا بعد کے حالات نے تو یہ ثابت کیا کہ مقتول کو ایک فرضی اور غیر ثابت شدہ الزام پر، بہت سے دیگر محرکات اور اس کے خلاف ایک خاص فضا پیدا ہوجانے کے نتیجے میں، رد عمل کی نفسیات کے تحت موت کے گھاٹ اتارا گیا، نہ کہ ایک صحیح الزام پر قتل کیا گیا!؛ تو اگر بعد کے ثبوتوں پر ہی جانا ہے، تو بھی مذکورہ کیس میں کورٹ کا فیصلہ درست قرار پاتا ہے، نہ کہ اس کے بر عکس۔ 
خود عدالت نے بھی اپنے تفصیلی فیصلے میں یہ کہا ہے کہ ملزمِ توہین رسالت کو ایک فرضی توہین کے پیش نظر قتل کیا گیا، اس بات کا کوئی تشفی بخش ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ مقتول نے واقعی توہین رسالت کی تھی۔ عدالت چاہتی تو صرف اس بنیاد پر بھی سزا سناسکتی تھی کہ قاتل نے قانون ہاتھ میں لیا، لیکن اس نے اس بات کو بہ طورِ خاص پیش نظر رکھا کہ قاتل نے بلا ثبوت اور بے جواز اقدام کیا؛ مقتول کے معاملے میں توہین کا کوئی واضح ثبوت نہیں تھا۔
اب آئیے مباح الدم کے مسئلے کی طرف۔ مرتد یا گستاخِ رسول کے مرتد اور اس کے نتیجے میں مباح الدم ہو جانے میں علما کے اختلاف سے قطع نظر، سوال یہ ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے ، کسی شرعی امر کے تحت کسی کے مباح الدم ہو جانے کا، بہ طورِ خاص ایک نظمِ ریاست میں ، اور وہ بھی وہاں ، جہاں ایسے مسئلے پر باقاعدہ قانون موجود ہو،یہ مطلب کیسے لیا جا سکتا ہے کہ اس کو کوئی بھی شخص قتل کر سکتا ہے اور ایسے قاتل کو عدالت سزاے موت نہیں دے سکتی؟ فقہا کے مطابق تو کسی بھی قانونی وجہ کے تحت مباح الدم قرار پانے والے کسی شخص کو سزائے موت دینے کا اختیار، انفرادی طور پر کسی فرد کے پاس نہیں ہے؛ بلکہ یہ امراسلامی حکومت یا نظم ریاست کے دائرہ کار میں آتا ہے۔اصولی طور پر ان وجوہ میں سے کسی بھی وجہ کے تحت مباح الدم ہونے والے کو انفرادی حیثیت میں قتل کرنا اسی طرح قتلِ نا حق ہے جیسے کسی بھی شخص کو ناحق قتل کرنا۔
اس ضمن میں عہد رسالت کے جس واقعے سے عام طور پر استدلال کیا جا سکتا ہے، اس کی حقیقت یہ ہے کہ ایک آدمی نے بار بار سمجھانے پر نہ سمجھنے والی اپنی ایک باندی کو توہین رسالت پر قتل کیا۔ معاملہ رسول اللہ کی عدالت میں لایا گیا۔ ملزم ڈر تا کانپتا پیش ہوا ( جس سے مترشح ہے کہ اسے حضور کی جانب سے سزا نافذ کیے جانے کا اندیشہ تھا)۔ آپ نے صورتِ حال کے تجزیے سے فیصلہ فرمایا کہ متعلقہ کیس میں باندی کا خون بے بدلہ ہے۔ 
اس واقعے سے یہ کس منطق کے تحت ثابت ہوا کہ قیامت تک جس بھی شخص کے بارے میں بعض لوگ یہ کہیں ، یا کوئی بھی شخص خود سے یہ سمجھے کہ اس نے توہین کی ہے، اور اس کو بلا کسی زجر وتوبیخ اور سمجھانے بجھانے اور یہ تحقیق کرنے کے کہ اس سے متعلق سنی سنائی بات کی کیا حقیقت ہے، توہین رسالت کا مجرم قرار دے کر قتل کر دے، تو وہ مذکور واقعے کے ذیل میں آتا ہے اور اس پر قیاس کرتے ہوئے ہر ایسے مقتول کے خون کو بے بدلہ قرار دینا چاہیے؟ کیا شریعت اور اس کے فلسفہ جرم و سزا اور نفاذِ و حدود و تعزیرات پر اس سے بڑا ظلم ہو سکتا ہے؟ اگر ایک یا چند مثالیں قیامت تک کے ہر رنگ کے واقعات پر سزا کے معاملے کو دو اور چار کی طرح طے کر دیتی ہیں تو یہ ثبوت، گواہیاں ، عدالتیں ، قاضی کس مرض کی دوا ہیں؟ 
یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اقدامات استثنائی ہیں اور استثنا سے قانون ثابت نہیں ہوتا۔ حضور اور مختلف صحابہ رضی اللہ عنہم کے مختلف اعمال کے حوالے سے بہت سی استثنائی مثالیں ملتی ہیں جو محدود تناظر کی حامل ہیں؛ ساری امت اور اس کے تمام افراد کے لیے نہیں ہیں اور نہ ہی آفاقی ہیں کہ انہیں قیامت تک ہر شخص کے معاملے تک ممتد قرار دیا جائے۔ ہماری عام مذہبی ذہنیت کا عجیب المیہ ہے کہ بعض استثنائی مثالوں کو لے کر اس پر ساری شریعت کا مدار رکھ لیتی ہے، لیکن اس کے برعکس شریعت کے عام اور معلوم ومعروف اصول و قانون کو یکسر نظر انداز کر دیتی ہے۔ شریعت کا یہ اصول مسلمہ ہے کہ ملزم کو صفائی اور اپنی پوزیشن کی وضاحت کا موقع ملنا چاہیے اور عدالت کو معاملے کی تحقیق کے بعد ملزم کے مجرم ثابت ہونے پر اسے سزا دینی چاہیے۔یہ وہ اصول ہے جو قرآن و حدیث سے بھی واضح ہے اور عہدِنبوی و خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے ملزموں سے متعلق فیصلوں اور عدالت و قضا کی مسلسل اور ان گنت کاروائیوں سے بھی۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ بعض صحابہ کے انفرادی فیصلے تو ابدی قانون ہیں، لیکن قرآن و حدیث کے بیسیوں فرامین اور نبی اکرم اور خلفائے راشدین کے مسلسل اور ان گنت عملی فیصلے کوئی شرعی ضابطہ ہی نہیں!
فرض کریں، اس واقعے سے کوئی اصول اخذ کیا جا سکتا ہے تو وہ بھی یہ ہوگا کہ اگر مقتول کا جرم خود عدالت کی نظر میں بھی ثابت ہو جائے تو وہ قاتل کو سزائے موت سے بری کر سکتی ہے۔ زیر بحث کیس میں، قاتل کو ازروئے شرع قصاص میں قتل کرنے کے عدم جواز کا فتویٰ اگر درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو بھی یہ سوال اپنی جگہ رہے گا کہ مقتول نے توہین کی بھی تھی یا نہیں؟ جب توہین پر ناقابل تردید ثبوت ہی پیش نہ ہو سکا ہو تو نہ مقتول کا مباح الدم ہونا ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی قاتل سے قصاص نہ لینے کے مطالبے کی کوئی حقیقت رہتی ہے۔
یہ بھی غنیمت ہے کہ بعض معترضین ممتاز قادری کے لیے تعزیری سزا کی گنجائش کا ذکر کر رہے ہیں، ورنہ اصل کرم فرماؤں کا موقف تو یہ ہے کہ قاتل نے کوئی جرم کیا ہی نہیں، اس نے تو اعلیٰ ترین نیکی انجام دی ہے۔ وہ سرے سے کسی سزا کا مستحق ہی نہیں، وہ تو انعام و اکرام کا مستحق ہے۔ 
ڈاکٹر محمد شہباز منج
شعبہ اسلامیات، یونی ورسٹی آف سرگودھا، سرگودھا
(۲)
ان دنوں ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر سید احمد شہید کی تحریک جہاد، افغانستان میں روس کے خلاف جہاد کرنے والے مجاہدین اور موجودہ دور کے طالبان کے فکری وعملی اشتراکات وامتیازات کے حوالے سے مختلف اہل قلم اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں ۔ اسی حوالے سے ہم بھی چند حقائق کی طرف قارئین کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔
سید احمد شہیدؒ کی تحریک کا فکری اور سیاسی پس منظر کیا تھا؟ اس کے پیچھے شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور ان کے بیٹوں کا مضبوط فکری اور سیاسی تسلسل تھا اور وقت کے دو بڑے علماء مولانا عبد الحئی فرنگی محل لکھنویؒ او رشاہ اسماعیل شہیدؒ ، سید احمد شہیدؒ کے نائبین میں سے تھے۔ وہ اور ان کے ساتھی اس دور میں پھیلی ہوئی شرک و بدعت اور فسق و فجور کے خلاف بھی نبرد آزما تھے۔ لوگوں میں تبلیغ کے ذریعے اصلاح رسوم و رواج بھی کرتے رہے اور اسلامی قوانین کو ان جگہوں پر نافذ کرنے کی کوششیں بھی کیں جہاں ان کی حکومت قائم ہوگئی تھی۔ کہیں ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے لوگوں کی گردنیں کاٹیں، بلکہ انہوں نے بار بار لوگوں کو معاف کیا جنہوں نے آگے چل کر انہیں سخت نقصان پہنچایا اور تحریک کی ناکامی کا باعث بنے۔ 
جہاں تک یمن کے شافعی اور نجد کے حنبلی علماء کے شاگردوں کا اور ان کی وجہ سے ہونے والے نقصان کی بات ہے تو یہ انگریزوں اور ان کے ایجنٹوں کی پھیلائی ہوئی باتیں تھیں۔ ڈاکٹر صادق حسین اپنی مشہور تحقیقی کتاب میں، جو تقریباً ۹۰۰ صفحات پر مشتمل ہے اور جس میں سید احمد شہیدؒ کے خطوط بھی شامل ہیں، لکھتے ہیں:
’’سید احمد شہیدؒ سے پہلے کئی ایک درد دل رکھنے والے اصحاب نے حالات کو سدھارنے کی کوشش کی تھی۔ البتہ ان کی کوششوں کا رخ دانشوروں اور حاکموں کی طرف ہوتا تھا اور ان سے حمایت کے طلب گار ہوتے تھے یا فوج کو اپنا طرف دار بنا کر مقصد کے حصول کی سعی کرتے تھے۔ لیکن سید احمد شہیدؒ نے ایک ایسی تحریک کی بنیاد رکھی تھی جس کا روئے سخن عوام کی طرف تھا اور وہ ایک ایسی سیاسی اور مذہبی تنظیم کو بروئے کار لائے تھے جو سربر آوردہ لوگوں سے بے نیاز تھی۔ چنانچہ بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں سید شہید ہی نے سب سے پہلے ہر دل عزیز سیاسی رہنما کا اعزاز حاصل کیا تھا۔‘‘ ( سید احمد شہید اور ان کی تحریک مجاہدین۔ صفحہ ۱۹)
یہ افواہ بھی انگریزوں اور ان کے ایجنٹوں کی پھیلائی ہوئی تھی کہ سید احمد شہیدؒ کی تحریک جہاد وہابیوں کی تحریک سید عبد الوہاب نجدیؒ کی تحریک کے زیر اثر ہے۔ ڈبلیو ہنٹر اپنی کتاب انڈین مسلمانز کے صفحہ ۵۲، ۵۳ پر لکھتا ہے:
’’اس مخالف جماعت نے اپنی تائید میں یہ من گھڑت افسانہ بھی نشر کیا کہ 1823ء اور 1822ء میں جب سید احمدؒ کا قافلہ حج کی غرض سے مکہ مکرمہ میں مقیم تھا تو اپنے عقائد کی بنا پر جو وہابیوں سے ملتے جلتے تھے حکومت حجاز نے ان سے بڑی سختی سے باز پرس کی تھی اور پھر اسی بنا پر انہیں مکہ سے نکال دیا گیا تھا۔ اس سے وہ نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں جب ہندوستان واپس آئے تو وہ اب بری رسومات کی اصلاح کرنے والے نہ تھے بلکہ محمد بن عبد الوہابؒ کے پکے مریدوں میں سے تھے اور اس وہم میں گرفتار ہوگئے تھے کہ وہ ہندوستان کے ہر قلعے میں ہلالی جھنڈا گاڑ دیں گے اور صلیب کو انگریزوں کی لاشوں کے ساتھ دفن کر دیں گے۔‘‘
سید احمد شہیدؒ کا نجد کے موحدین کی تحریک سے کچھ تعلق نہ تھا۔ مسلمانوں کے اندر جب کوئی اصلاحی تحریک اٹھے گی، اس کا لازمی سر چشمہ کتاب و سنت ہی ہوگا۔ اس لیے ایسی ہر تحریک میں مماثلت کا پایا جانا ضروری ہے۔ محمد بن عبد الوہاب نجدیؒ کی کتاب ’’التوحید‘‘ میں ان کے عزائم کی جھلک سامنے آجاتی ہے۔ محمد بن عبد الوہابؒ کی تحریک ’’توحید و اصلاح‘‘ تھی، لیکن سید احمد شہیدؒ کی تحریک تجدید جہاد تھی۔ کتاب توحید کے مطالعہ سے ان دونوں کے مسلک، اہم بنیادی مسئلوں میں بھی اختلاف رائے کی جھلک نظر آتی ہے، طریق کار تو دونوں کا مختلف تھا۔ محمد بن عبد الوہابؒ کی دعوت میں توحید اور ترکِ بدعات کو زیادہ اہمیت حاصل تھی، اور اس کتاب میں جہاد پر کوئی علیحدہ باب سرے سے موجود نہیں۔ لیکن اس کے برعکس سید احمد شہیدؒ کی کوئی تحریر، مکتوب یا وعظ جہاد کے ذکر سے خالی نہیں۔ اگرچہ سید احمد شہیدؒ کی دعوت میں بھی توحید خالص کی تبلیغ، قبر پرستی کا استیصال اور نکاح بیوگان کی ترویج وغیرہ دعوت کے اہم اجزاء تھے۔ اب تک پاک و ہند میں جو کچھ اصلاح و تجدید ہو سکی، وہ اس جماعت کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔ 
ترجمان وہابیہ صفحہ ۱۷، ۱۸ میں نواب صدیق حسن خان قنوجی لکھتے ہیں:
’’علاوہ ازیں یہ بیان کہ مجاہدین نے ’’جہاد‘‘ کا خیال وہابی تحریک سے حاصل کیا تھا، تاریخی اعتبار سے بے بنیاد معلوم ہوتا ہے۔‘‘
مجاہدین کا جہاد اور وہابیوں کا قتال دو مختلف صورتیں تھیں۔ بنیادی طور پر یہ دونوں تحریکیں بڑی فعال تحریکیں تھیں۔ وہابیوں کی تحریک ’’مرتد مسلمانوں‘‘ کے خلاف قتال تھا اور مجاہدین کی جنگ ’’کفار‘‘ کے خلاف جہاد تھا۔ وہابیوں کا عندیہ، یہ تھا کہ گمراہ مسلمانوں کو اسلام کا ہیرو بن جانے پر مجبور کیا جائے اور ان کو بدعات اور غیر اسلامی رسوم و شعار سے، جن کو وہ اختیار کرتے چلے جا رہے تھے، زبردستی روکا جائے، لیکن مجاہدین کا مقصد اس سے بالکل جدا تھا۔ انہوں نے جہاد کو ایک علیحدہ اسلامی شعار کے طور پر تسلیم کیا تھا اور انہوں نے جس قدر ادب تخلیق کیا، اس میں زیادہ تر جہاد کی فضیلت ہی بیان کی جاتی تھی۔ اس کی بنیاد انہوں نے اس امر اور حالت پر رکھی تھی کہ ہندوستان ’’دار الحرب‘‘ ہے نہ کہ ’’دار الاسلام‘‘۔
اس بحث میں حصہ لینے والے فرنگیوں بالخصوص ہنٹر اور رہتک وغیرہ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سید احمد شہیدؒ کی تحریک ابتدا ہی سے انگریزوں کے خلاف تھی۔ ان کو ۱۸۵۰ء سے ۱۸۶۳ء تک ان مجاہدین کے خلاف ایسی تباہ کن مہموں سے واسطہ پڑا جن میں مالی اور جانی نقصان کے علاوہ انگریزوں کی قوت، عزت اور آبرو خاک میں مل گئی تھی۔ یہ وہ طاقت تھی جس سے رنجیت سنگھ خائف تھا اورا س طاقت نے سکھوں کو ختم کر دیا تھا۔ یہ وہ قوت تھی جس کا مقابلہ والیان کابل بھی نہ کر سکے، لیکن مجاہدین نے نہ صرف ان کا مقابلہ کیا بلکہ ان کے دانت بھی کھٹے کیے۔ وہ فوجی کارروائیوں پر مجبور ہوگئے تھے۔ تاریخ ان کی عزیمت کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ 

بعض حلقے روس کو شکست دینے والے مجاہدین کو ہی موجودہ دور کے طالبان سمجھ رہے ہیں اور ان کو منظم گروہ کی شکل میں برسراقتدار لانے کا الزام جنرل ضیاء الحقؒ پر عائد کر رہے ہیں۔ یہ سراسر غلط نظریہ ہے اور اس میں تاریخی حقائق وواقعات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ 
بھٹو دور کے اخبارات نکال لیں، جب ظاہر شاہ کا تختہ الٹنے کے بعد سردار داؤد برسر اقتدار ہوئے تو بھٹو افغانستان گئے اور ان سے تعلقات بہتر ہوئے۔ سردار داؤد روس کے چنگل سے نکلنا چاہتے تھے اور بھٹو سے مدد کے طالب تھے۔ انہی دنوں گلبدین حکمت یار اور دوسرے کچھ جہادی لیڈر پاکستان آئے۔ ان دنوں میجر جنرل نصیر اللہ بابر مرحوم انسپکٹر جنرل فرنٹیئر فورس تھے۔ درہ خیبر کے قریب کوئی جگہ تھی جہاں کچھ مجاہدین کو روس کے خلاف جنگ میں تربیت بھی دی گئی تھی۔ جنرل حمید گلؒ ٹی وی کے ایک دو پروگراموں میں تفصیل بیان کر چکے ہیں۔ اس وقت ان کے ساتھ شریک قمر الزمان کائرہ بھی تھے۔ وہ سر عام کہہ چکے ہیں کہ یہ جنگ ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کی تھی، ضیاء الحق بہت بعد میں شریک ہوئے۔ 
روس نے جب افغانستان پر قبضہ کیا تو اسے (روس کو) نکالنے کے لیے عالم اسلام کی تمام قوتیں متحد تھیں۔ سعودی عرب، ایران، مصر، پاکستان، شیعہ، سنی، حنفی، شافعی، حنبلی، مالکی، شامی، عراقی، تمام قوتوں کا مطالبہ تھا کہ روس افغانستان سے نکل جائے اور یہ تمام علمائے کرام کا فتویٰ تھا۔ عالم اسلام کی جدوجہد جب کامیاب ہوتی نظر آئی تب امریکہ نے امداد دینی شروع کی۔ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے۔ افغان جہاد کی حامی کوئی جماعت، کوئی مفتی اور ملا شرمندہ نہیں ہے بلکہ اسے اس پر فخر ہے۔ 
آج جن طالبان کو ان جہادی لیڈروں کا تسلسل بتایا جا رہا ہے، یہ دراصل ان کے وہ حریف اور دشمن ہیں جو ان کی نااتفاقی کے سبب افغانستان اور پاکستان میں چھا گئے اور بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگ رہے ہیں۔ روس کے خلاف لڑنے والے مجاہدین سات پارٹیوں پر منظم گروہ تھے جن کے سربراہ صبغت اللہ مجددی بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ مولوی یونس خالصؒ مولانا عبد الحقؒ اکوڑہ خٹک والوں کے شاگرد تھے۔ عبد الرب سیاف حنبلی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ گل بدین حکمت یار، احمد شاہ مسعودؒ یہ دونوں انجینئر تھے۔ استاد ربانیؒ کابل یونیورسٹی میں استاد تھے اور ان آخری تینوں کا تعلق مولانا مودودیؒ سے تھا اور اس کا وہ اقرار بھی کرتے رہے ہیں۔ یہ سب پڑھے لکھے لوگ تھے اور دین اسلام کو بہتر طریقے سے جانتے تھے۔ صبغت اللہ مجددی، استاد ربانیؒ ، انجینئر احمد شاہ مسعودؒ ، اور انجینئر گلبدین حکمت یار دین کا علم رکھنے والے لوگ تھے۔ قرآن مجید اور بائبل کے متعلق گلبدین حکمت یار کی تقریباً ایک ہزار صفحے پر مشتمل کتاب نہایت اعلیٰ تحقیق پر مشتمل ہے اور انہوں نے قرآن مجید کی نہایت اچھی تفسیر بھی لکھی ہے جس کا ترجمہ ادارہ معارف اسلامی نے شائع کیا ہے۔ 
بہرحال صبغت اللہ مجددی افغانستان کے صدر بنائے گئے۔ پھر چھ ماہ بعد استاد ربانیؒ افغانستان کے صدر بن گئے۔ زیادہ تر اختیارات احمد شاہ مسعودؒ کے پاس تھے۔ حکمت یار سے شدید جنگیں ہوئیں۔ آخر کار صلح ہوگئی اور یہ طے ہوا کہ ربانیؒ افغان صدر ہوں گے، گلبدین حکمت یار وزیر اعظم ہوں گے اور احمد شاہ مسعودؒ وزیر دفاع اور نائب وزیر اعظم ہوں گے، اور اختیارات بھی تینوں کے درمیان تقسیم ہوگئے۔ یہ انتظام عارضی تھا۔ اسی دوران جنرل نصیر اللہ بابر نے بے نظیر دور حکومت میں جہادی گروپوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے انہیں منظم کیا اور ان کی ہر طرح سے امداد کی۔ یہ لوگ ابھی تک صرف طالب علم تھے، مکمل عالم دین نہیں تھے اور واجبی سا علم رکھتے تھے، لیکن جہادی لیڈروں کی نا اتفاقی کی وجہ سے طالبان افغانستان کے وسیع علاقے پر قابض ہوگئے۔ مولانا سمیع الحق یا مولانا فضل الرحمن نے صرف مشورے کی حد تک ان کی مدد کی۔ بعد میں مولانا فضل الرحمن ان سے الگ تھلگ رہے اور سمیع الحق صرف بیانات کی حد تک ان کے ساتھ رہے۔ انہیں راہ راست پر لانے کے لیے کبھی مفتی ڈاکٹر شامزئیؒ کو، کبھی مفتی رفیع عثمانیؒ کو، کبھی سمیع الحق صاحب کو بھیجا جاتا، مگر یہ کسی کی مانتے کم ہی تھے۔ ان میں بہت سے غیر ملکی ایجنٹ بھی شامل ہوگئے جن کی کاروائیوں کی وجہ سے پاکستان کو شدید نقصان پہنچا۔ عوام میں ان کی حمایت کم ہوتی چلی گئی۔ 
جماعت اسلامی شروع شروع میں طالبان کے خلاف بیانات دیتی رہی جس کا جواب جمعیۃ العلماء اسلام (فضل الرحمن گروپ اور سمیع الحق گروپ) کی طرف سے آتا رہا۔ پھر اخبارات میں جنرل نصیر اللہ بابرؒ کا بیان موجود ہے کہ افغانستان پر پہلے جماعت اسلامی کے حامیوں کا کنٹرول تھا۔ اب جبکہ طالبان کی صورت میں جمعیۃ علماء اسلام کا کنٹرول ہے تو جماعت اسلامی کو سخت کوفت ہو رہی ہے۔ حکیم اللہ محسود کا ایک سخت بیان قاضی حسین احمدؒ کے خلاف موجود ہے۔ قاضی صاحب کے جلوس پر ایک خودکش حملہ بھی ہوا اور کچھ لوگ شہید بھی ہوئے۔ مولانا فضل الرحمن جو کہ طالبان کے حامیوں میں تھے بلکہ بانیوں میں سے تھے، جب طالبان سے اپنی باتیں نہ منوا سکے تو ایک فاصلے پر ہوگئے۔ تب جماعت اسلامی کے ذہین و فطین لیڈروں، خاص طور پر منور حسن اور سراج الحق نے یہ بوجھ اپنے سر لے لیا اور طالبان کے ترجمان بن گئے۔ سیکولر اور لبرل حلقوں نے اس پر جماعت کو آڑے ہاتھوں لیا اور جماعت اسلامی کا گراف مزید گر گیا۔
ایک وقت وہ تھا کہ پاکستان نے دنیا کی سب سے بڑی مہاجر آبادی کا بوجھ سنبھالا ہوا تھا۔ یہ عوام کے لاڈلے تھے، جہادی لیڈر پاکستان میں بھی مقبولیت کی معراج پر تھے۔ نسیم حجازیؒ جیسے عظیم ناول نگار گلبدین حکمت یار کے قدموں میں بیٹھ کر رونے لگے اور کہنے لگے کہ مجھے میرے ناولوں کے مجاہد مل گئے ہیں۔ یہ میرے وہ ہی ہیرو ہیں۔ اب ان کی جگہ لینے والے جو طالبان آئے ہیں، عوام ان سے ان کی کاروائیوں کی وجہ سے شدید برہم ہیں۔ 
خواجہ امتیاز احمد
سابق ناظم اسلامی جمعیت طلبہ گوجرانوالہ
(۳) 
محترمی ومکرمی مدیر ماہنامہ الشریعہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
جنوری کے الشریعہ میں حافظ طاہر اسلام عسکری کا مکتوب نظر سے گزرا جس میں انھوں نے داعش اور سلفیت کے باہمی تعلق کے حوالے سے مولانا سید سلمان الحسینی ندوی کی تحریر پر تنقید فرمائی ہے۔ راقم نے مولانا ندوی کا مضمون نہیں دیکھا، لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی تنظیموں کا فکری اور مذہبی بیانیہ صرف اور صرف ’’سلفیت‘‘ سے کیوں ملتا ہے؟ آج کل داعش کھل کر علماء دیوبند کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہے۔ داعش کے خراسان ونگ نے ’’رسالۃ الی دیوبند‘‘ کے نام سے سوشل میڈیا اور اپنے رسالہ DABIQ  میں سلسلہ وار مضامین شائع کیے اور علماء دیوبند کو گمراہ، کافر اور بے دین قرار دیا ہے۔ علماء دیوبند کی تصوف وسلوک سے وابستگی سمیت دیگر اہم مسائل میں موقف، خصوصاً المہند علی المفند مولفہ مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ کو تنقید وتشنیع کا نشانہ بنایا ہے۔ وہی پرانے گھسے پٹے مسلکی مسائل ہیں جن کی بنیاد پر علماء دیوبند کی تکفیر کی گئی ہے۔ تمام حوالے اور دلائل پڑھ لیجیے، بات ’’سلفیت‘‘ سے آگے نہیں بڑھتی۔ 
فقہ الجہاد وغیرہ کے نام سے سب سے زیادہ کام علامہ عبد اللہ عزام مرحوم کا ہے مگر مولانا عزام، ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش، سب کا بیانیہ ایک ہے جو سلفیت کی کوکھ سے جنم لے رہا ہے۔ القاعدہ نے صرف اور صرف سیاسی اختلافات کی بنا پر خود کو داعش سے الگ رکھا ہوا ہے۔ 
عسکری صاحب نے تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی کا تعلق دیوبندی فکر سے ہونے کی بات کی جو درست نہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے سرکردہ قائدین تو داعش میں شامل ہو گئے ہیں کیونکہ دونوں کی فکری اساس ایک ہی تھی، جبکہ لشکر جھنگوی، جو سپاہ صحابہ سے الگ ہو کر صرف اور صرف شیعہ کے خلاف میدان میں اتری، اس کے پاس کوئی ٹھوس علمی یا فکری بیانیہ نہیں، بلکہ نفرت کے جذبات ہی اس کا اصل سہارا ہیں۔ 
بہرحال داعش اب ہمارے خطے میں بھی باقاعدہ مسلح طور پر میدان میں آ چکی ہے۔ ایسے حالات میں علماء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ کھل کر سامنے آئیں اور داعش کے موقف اور استدلال کے حوالے سے اپنا موقف بیان کریں۔ یقیناًاسلامی خلافت اپنی اصلیت میں ایک بہت اچھی چیز ہے، مگر جس خلافت کا تصور داعش پیش کر رہی ہے، وہ امت مسلمہ کے لیے ایک انتہائی تاریک اور بھیانک تصور ہے۔
ابو حسان مدنی
(۴)
جناب مجاہد کامران، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہور
بعد از سلام مسنون عرض یہ ہے کہ میں جناب کی تحریروں کا مداح ہوں۔ آپ گوجرانوالہ میں چند سال پہلے ہماری بار میں تشریف لائے۔ آپ کی ایک کتاب Grand Deception  میں نے خرید کر پڑھی۔ اس سے متاثر ہو کر ایک مضمون لکھ کر فرائیڈے سپیشل میں چھپوایا۔ یہ مضمون مذکورہ جریدے کی ۲۴۔اگست ۲۰۱۲ء میں چھپا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مضمون آپ کے علم میں ہو۔ پھر بھی مضمون کی نقل منسلک ہے۔ اپنے بارے میں میرے احساسات اس مضمون سے واضح ہوتے ہیں۔ ان کا یہاں اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے خاندانی پس منظر اور جرات مندانہ کردار کا مجھے کھل کر اعتراف کرنا پڑا۔ مضمون میں، میں نے جو کچھ لکھا تھا، وہ اس سے بڑھ کر تھا۔ فرائڈے سپیشل والوں نے اپنی پالیسی کے لحاظ سے اسے ایڈٹ کیا۔ میں نے عنوان رکھا تھا ’’مجاہد بھی اور کامران بھی‘‘، جب کہ رسالے والوں نے عنون بدل کر اس طرح کر دیا تھا کہ’’ امریکی ضمیر و دانش کی تلاش؟‘‘ میرے لئے وائس چانسلر کے منصب پر فائز شخص کی حیثیت سے امریکہ کے بارے میں آپ نے جو کچھ لکھا، وہ خلاف توقع تھا۔ آپ یونیورسٹی کو جس طرح پر سکون تعلیم کی طرف لائے، اس کا اعتراف صوبائی حکومت کو رہا۔ اسی وجہ سے آپ کو توسیع بھی ملی۔ آپ کا سیکوریٹی کے بغیر کام کرنا بڑا ہی حوصلہ مندانہ طرز عمل ہے۔
میں آپ کے جراتِ کردار کا اب بھی معترف ہوں۔ چند دن پہلے آپ کی یونیورسٹی کے دو پروفیسروں کو حساس ادراوں والے رات گئے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ ان کے نام ڈاکٹر غالب عطا اور ڈاکٹر عامر سعید ہیں۔ اس دیدہ دلیری کے نتیجہ میں ڈاکٹر غالب عطا کے کم سن بچے کی جو نفسیاتی حالت ہوئی ہے، اس کا تذکرہ اخبارات میں آ چکا ہے۔ آپ تمام تر صورت حال سے یقیناًآگاہ ہوں گے۔ طلبہ خاموش نظر آتے ہیں۔ اساتذہ کی تنظیموں نے باقاعدہ قراردادیں پاس کی ہیں۔ میں ایک معمولی شہری کے طور پر آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کی ڈومین میں یہ جو کچھ ہوا ہے، اس کے بعد آپ کا وائس چانسلر کے طور پر کام کرنا بنتا ہے؟ اگر بنتا ہے تو واضح کریں کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ اساتذہ آپ سے یہ سوال کریں یا نہ کریں، میں آپ کے ایک مداح کے طور پر ضرور پوچھوں گا کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ ہمارے ملک کے حساس ادارے عام شہریوں کے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں، اس کے بارے میں اخبارات اور اسکرین میڈیا پر بہت آتا رہا ہے۔ عام مشاہدہ بھی اس پر گواہ ہے۔ پنجاب کی حد تک میں ذاتی طور پر بہت کچھ جانتا ہوں۔ تفصیلات یہاں غیر متعلق ہوں گی۔ ہمارے ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی کے لائق فائق اساتذہ بھی اگر حساس اداروں کی چیرہ دستیوں سے بچ نہ سکیں گے تو پھر کیا بننے والا ہے؟ اس پر اگر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور معاشرے میں مقتدر طبقات خاموش رہیں تو پھر یہ بے حسی کی انتہا ہو گی۔
میں تو دکھ سے کہتا ہوں کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں (بلا کسی استثنا) تو پہلے سپہ سالار فوج کے سامنے سپر انداز ہو چکی ہیں۔ زیادہ تر لیڈر بک چکے ہیں۔ جو بکے نہیں، وہ جھک گئے ہیں۔ جھکے بھی ایسے کہ کھڑے ہونے کی جرات نہیں کر سکتے۔ سپریم کورٹ بھی فوجی عدالتوں کے قیام کی اجازت دے چکی ہے۔ بہر حال چند ججوں نے اختلاف کیا مگر سردست انصاف کے سول اداروں کی ناکامی پر جو مہر لگ چکی ہے، اس اختلاف سے اس مہرگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مذہبی طبقات بھی اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔ میرے لیے یہ امر انتہائی دکھ کا باعث ہے کہ جس ملک میں لاکھوں مساجد موجود ہوں، ان میں کروڑوں درس، خطبات جمعہ اور تقریریں ہوتی ہوں، اس کے باوجود ملک میں قبرستان جیسی بے حسی پائی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب کچھ بیکار ہے۔ کرپشن، دہشت گردی، ظلم و بے انصافی اور بد امنی اپنے جوبن پر ہے۔ امن کی راہ پر لے جانے والے اداروں کی بے حکمتی اس سے ظاہر ہے کہ وہ خود خوف کا شکا رہیں۔ امن قائم کرنے والی قوتیں خوف کا شکار ہو کر جو کچھ بھی کریں گی، اس کا نتیجہ امن کا قیام نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ہاں اندھا دھند طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں ایجنسیاں عدم پتہ لوگوں کے ساتھ جو کچھ کر رہی ہیں، وہ سخت تشویشناک ہے۔ بنیادی حقوق کی انجمنیں بھی کم بیش خاموش ہیں۔ واقعی 
قحط آشفتہ سراں ہے یارو
شہر میں امن و اماں ہے یارو
میری دعا ہے کہ امن وامان ہوجائے، جیسے بھی ہو۔ مگر یہ کام دعاؤں سے ہونے والا نہیں، اصحاب تدبیر کے حسن تدبیر پر منحصر ہے۔ اس بارے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مقتدر طبقات اور آپ جیسے ذمہ دار لوگوں کو صورت حال میں احساسِ جواں سے کام لینا ہو گا، وگرنہ مظلوموں کا کیا بنے گا! اس کے لیے اللہ کے ہاں ہر ایک کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔
راقم کے خط میں اگر کہیں جذباتیت اور رد عمل کا عنصر محسوس ہو تو اسے مہربانی کر کے نظر انداز کر دیں۔ امید ہے کہ آپ کی طرف جواب سے محروم نہیں رہوں گا۔
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

سیرت کانفرنس پی سی بھوربن کے لیے سفر

محمد بلال فاروقی

استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی کو ۷ جنوری ۲۰۱۶ کو پرل کانٹی نینٹل ہوٹل بھوربن میں منعقدہ سیرت کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔ ۶ جنوری کو دوپہر کے وقت ہم اسلام آباد روانہ ہوئے۔ وہاں مولانا سید علی محی الدین کے ہاں قیام تھا۔ مولانا علی محی الدین چند دن پہلے عمرہ کی سعادت حاصل کر کے لوٹے تھے جس پر مولانا زاہد الراشدی نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ عصر کی نماز کے بعد ایک نشست میں، میں نے سوال کیا کہ آپ نے اسلام اور سائنس کے حوالہ سے جو کالم لکھا ہے، اس پر جناب زاہد صدیق مغل نے اشکال کیا ہے کہ ’’ نہ جانے وہ کون سی سائنس ہے جو حقیقت تلاش کر رہی ہے۔ جدید سائنس، جس کا ظہور آج کی تاریخ میں ہوا، وہ کائنات کے ذرے ذرے کو سرمایے میں تبدیل کرکے نفع میں اضافے کی جدوجہد سے عبارت ہے۔ مجھے تو آج تک کوئی سائنس دان نہیں ملا جو اشیاء کی حقیقت تلاش کررہا ہو۔‘‘
استاذ محترم نے فرمایا: میں نے سائنس کی تعریف نہیں بیان کی بلکہ سائنس کا فنکشن بیان کیا ہے کہ سائنس کرتی کیا ہے۔ کائناتی قوانین کو دریافت کرنا، اشیاء کی حقیقت جاننا، ان کے استعمال کا طریقہ اور ان کی افادیت کے مختلف پہلو دریافت کرنا، اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچانا یہی سائنس کا فنکشن ہے اور اس سے اسلام کا کسی قسم کا کوئی تصادم نہیں۔ استعمال کرنے والے اگر غلط استعمال کرتے ہیں تو اس سے سائنس کے فنکشن کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاً چاقو کا فنکشن کاٹنا ہے۔ اب یہ کاٹنے والے پر منحصر ہے کہ سیب کاٹتا ہے یا کسی کا ہاتھ۔ کاٹنے والے کے ناجائز استعمال کی بنیاد پر چاقو کی افادیت سے انکار کیونکر ہوسکتا ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ دریافتوں سے نفع کا حصول بالکل جائز عمل ہے۔ شریعت نفع کے حصول سے ہرگز منع نہیں کرتی بلکہ ضرر پہنچانے سے منع کرتی ہے۔ سائنس کی بنیادیں تو ہم نے اپنے دورِ عروج میں فراہم کی ہیں۔ مغرب اسے غلط رخ پر لے گیا ہے تو کیا مغرب کے غلط رخ پر جانے کی وجہ سے ہم اپنی بنیادوں کا انکار کر دیں ؟
دوسرا سوال میں نے یہ کیا کہ الشریعہ کے اہداف، دائرء کار اور معیار کیا ہے؟ 
استاد محترم نے فرمایا: الشریعہ کا پہلے دن سے یہ ہدف طے ہے کہ علمی وفکری مسائل پر مکالمہ کا ماحول فراہم کیا جائے، وہی ماحول جو امام ابو حنیفہ کی مجلس میں تھا، جو فقہاء اور متکلمین کے ہاں تیرہ سو سال سے چلا آرہا ہے، وہی ماحول جو عقائد میں ماتریدیہ واشاعرہ کے مابین اور فقہ میں فقہاء کے درمیان ہمیشہ سے رہا ہے اور میرے نزدیک اس کا سب سے بہتر نمونہ طحاوی شریف ہے۔ طحاوی فقہی مکالمہ ومجادلہ کا اعلیٰ ترین معیار ہے۔خصوصا جدید مسائل پر مکالمہ کا ماحول فراہم کرنا الشریعہ کا ہدف ہے اور مجھے امید ہے کہ ’’الشریعہ‘‘ کی نئی ادارت اس کو قائم رکھے گی۔ الشریعہ کا دائرہ کار اہل سنت کے مسلمات ہیں۔ اہل سنت کے کلامی دائرہ میں اشاعرہ، ماتریدیہ اور ظاہریہ، فقہی دائرہ میں احناف، شوافع، حنابلہ، مالکیہ اور ظواہر جبکہ تصوف کے دائرہ میں نقشبندیہ ،قادریہ، سہروردیہ اور چشتیہ یہ سب اہل سنت میں شامل ہیں۔ مکالمہ میں علمی، فکری تنقید، سنجیدہ مجادلہ کو ہم نے ہمیشہ خوش آمدید کہا ہے اور اس کو الشریعہ میں جگہ دی ہے، لیکن غیر سنجیدہ ، غیر علمی اور ’’مان نہ مان‘‘ قسم کا نقد، اس کا ہم نے نہ کبھی نوٹس لیا ہے، نہ جواب دیا ہے اور نہ ایسی تحاریر نوٹس لینے کے قابل ہوتی ہیں۔ 
اس پر میں نے سوال کیا کہ جدید مسائل پر بہت سی آرا ایسی ہیں جوالشریعہ میں شائع ہوتی ہیں اور وہ آپ کے بیان کردہ دائرہ کار سے ہٹ کر ہیں۔ استاد محترم نے جواب دیا کہ ان آرا کاآنا کوئی قابل اشکال بات نہیں، البتہ میں اہل سنت کے مسلمات سے ہٹ کر نئے اصولِ استدلال وضع کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔
اسی دوران مولانا سید علی محی الدین نے گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل میں زیر بحث آنے والے اس مسئلے کے متعلق سوال کیا کہ ’’قادیانیوں کی حیثیت کیا ہے؟‘‘ مولانا نے فرمایا کہ یہ بحث پہلے ہوچکی ہے اور علماء کا متفقہ فیصلہ آچکا ہے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں۔ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی کا مؤقف تھا کہ یہ مرتد ہیں یا کم از کم زندیق اور واجب القتل ہیں، جبکہ علامہ اقبال کا خیال تھا کہ یہ صورت آج کے دور میں قابل عمل نہیں ہے، اس لیے ان کو امت مسلمہ کے وجود سے الگ کرکے ایک غیر مسلم اقلیت کی حیثیت دے دی جائے۔ چنانچہ تمام علماء نے ۵۳ء میں متفقہ طور پر ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے اتفاق کیا اور اسی پر تمام مکاتب فکر کا اجماع ہو گیا۔ میرے خیال میں اس موضوع کو دوبارہ چھیڑنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ نقصان کا خدشہ موجود ہے۔
نمازِ عشاء کے بعد جامع مسجد ہمک ماڈل ٹاؤن میں مولانا زاہد الراشدی صاحب کا بیان تھا جس میں استاد محترم نے اس نکتے کو واضح فرمایا کہ جس طرح رسول اللہ، اللہ کا پیغام قرآن مجید امت تک پہنچانے والے ہیں، ایسے ہی قرآن مجید کی تشریح کی بھی مطلق اتھارٹی ہیں۔ فرمایا، کامن سینس کی بات ہے کہ جب کسی کی بات سمجھ میں نہ آئے اور بات کرنے والا موجود ہو تو اس کی بات سمجھنے کے لیے اس کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ یا متکلم نے کوئی بات کی ہے اور آپ اس کا کچھ مطلب سمجھے ہیں جبکہ متکلم کا کہنا ہے کہ میرا یہ مطلب نہیں ہے تو متکلم کی بات ہی معتبر ٹھہرے گی۔ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمارے لیے نازل ہوا ہے۔ اب قرآن مجید کی کوئی بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی یا پھر مغالطہ لگتا ہے تو متکلم اللہ تعالیٰ ہے، ان تک ہماری رسائی نہیں، لیکن ان کے نمائندہ رسول اللہ تک ہماری رسائی ہے۔ ہم یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے اس بات کو کیسے سمجھا ہے ؟ کیسے اس پر عمل کیا ہے؟ اس تک ہماری رسائی ممکن ہے اور چونکہ رسول اللہ، اللہ کے نمائندہ ہیں لہٰذا رسول اللہ آیت قرآنی کا جو مطلب سمجھائیں گے، وہی اللہ کی منشا ہوگی۔
صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست سامع تھے۔ صحابہ کو کئی مواقع پر بات سمجھ میں نہیں آئی یا مغالطہ لگ گیا یا کسی نے غلط فہمی ڈال دی تو صحابہ رسول اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس پر چند واقعات سنائے۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ جلیل القدر صحابی تھے۔ بہت منجھے ہوئے ڈپلومیٹ،سفارتکار اور بہادر جرنیل تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نجران بھیجا تاکہ ان کو اسلام کی دعوت دیں اور قرآن کریم سنائیں۔ حضرت مغیرہ سے جب نجران کے عیسائیوں نے قرآن کریم سنا تو حضرت مغیرہ کو مغالطہ میں ڈال دیا۔ اشکال کیا کہ قرآن مجید میں حضرت مریم کو حضرت ہارون کا بھائی کہاگیا ہے: یا اخت ھارون، جبکہ حضرت ہارون اور حضرت مریم کے زمانہ میں صدیاں حائل ہیں۔ حضرت مغیرہ پریشان ہوگئے اور جواب نہ دے سکے۔ واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پہنچے او ر بتایا کہ حضور! انہوں نے اشکال کیا اور میں جواب نہیں دے سکا۔ نبی کریم نے فرمایا کہ خدا کے بندے ! سادہ سی بات تھی۔ وہ ہارون اور ہیں جبکہ یہ ہارون اور ہیں۔ بنی اسرائیل کا یہ رواج تھا کہ وہ انبیاء کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھتے تھے۔ مریم کے بھائی کا نام بھی حضرت ہارون کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اب یہ الجھن حضرت مغیرہ کو پیش ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی اور آپ نے اس الجھن کو صحیح معنی و مطلب سمجھا کر حل کر دیا۔
قرآن مجید نے رمضان المبارک میں سحری کی حد بیان کرتے ہوئے ایک محاورہ استعمال کیا: وَ کُلُوا وَ اشْرَبُوا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیطُ الاَبْیَضُ مِنَ الخَیْطِ الاَسْوَدِ مِنَ الفَجر۔ اب جن کا محاورہ تھا، وہ تو سمجھ گئے کہ اس سے مراد پوپھٹنا ہے، لیکن جو اس محاورہ سے ناواقف تھے، انہوں نے سفید اور سیاہ دھاگے کا مطلب حقیقی دھاگہ سمجھ لیا۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ بعض صحابہ نے کالی اور سفید ڈوریاں ٹانگوں کے ساتھ باندھ لیں اور جب تک ان میں فرق نظر نہیں آیا، تب تک سحری کھاتے رہے۔ ایک صحابی حضرت عدی بن حاتم نے اپنے سرہانے کے نیچے سفید اور کالے رنگ کی دو ڈوریاں رکھ لیں۔ ایک دن صبح موسم ابر آلود تھا اور کافی دیر بعد ان میں فرق نظرآیا تو اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ آج سحری بہت لمبی تھی۔ حضور نے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ یوں سرہانے کے نیچے رکھے سفید و کالے دھاگے میں فرق دیر سے نظر آیا۔ آپ نے فرمایا کہ بھئی! اس کا مطلب پوپھٹنا تھا، سفید اور کالا دھاگہ مراد نہیں تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر دل لگی کا جملہ بھی فرمایا کہ: اذا لوسادتک عریض یا عدی۔ عدی! تیرا سرہانہ تو بہت چوڑا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی کا جو معنی متعین کردیا، وہی حتمی ہے۔اب اس کے بعد یہ کہنا کہ میں یہ سمجھا ہوں، اس کی ہرگز گنجائش نہیں ہے۔
اگلے دن صبح فجر کے بعد مولانا ثناء اللہ غالب کی مسجد میں استاذِ محترم نے درس قرآن ارشاد فرمایا اور ان کے ہاں ناشتہ کرنے کے بعد مولانا قاسم عباسی کے ہاں ان کے والد محترم کی تعزیت کے لیے گئے۔مولانا قاسم عباسی کے والد محترم حاجی محمد شعیب صاحب سنی بینک مری کے معروف بزرگ تھے۔ خدا ترس، عبادت گزار اور انتہائی مہمان نواز بزرگ تھے۔ ان کا گھر مہمانوں بالخصوص علماء کرام کے لیے ایک مستقل مہمان خانہ تھا۔ امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر بھی ان کے ہاں کئی روز تک مہمان رہے۔ گزشتہ دنوں اس دار فانی سے انتقال فرماگئے۔ ان کے صاحبزادے مولانا محمد قاسم عباسی آجکل روالپنڈی میں رہائش پذیر ہیں۔ان کے گھر حاضر ہو کر حاجی شعیب صاحب کی تعزیت کی۔ 
اس کے بعد مولانا نوید عباسی کے ساتھ مری کے لیے روانہ ہوئے۔سنی بینک مری سے مولانا سیف اللہ سیفی صاحب بھی ہمراہ ہو گئے۔ راستہ میں مرکزی جامع مسجد مری کے خطیب مولانا مفتی محمد خالد صاحب سے ان کے والد گرامی کی وفات پر تعزیت کی جس کے بعد پرل کانٹی نینٹل ہوٹل بھوربن پہنچے جہاں پی سی کے مینیجر ذوالفقار ملک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کے ساتھ کانفرنس ہال میں پہنچے۔ یہ سیرت کانفرنس ہر سال پی سی کی انتظامیہ کی طرف سے منعقد کی جاتی ہے جس میں اس سال مہمان خصوصی مولانا زاہد الراشدی تھے۔
استاذِ محترم نے رسول اللہ کے طرز حکمرانی پر بات کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ فلاحی ریاست کی خصوصیات کو بیان فرمایا۔ فرمایا کہ نبی کریم نے صرف ویلفیئر اسٹیٹ کا تصور نہیں دیا، صرف اس کی تعلیمات نہیں بیان کیں، بلکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیئس سال کی محنت کے بعد اس دنیا سے تشریف لے گئے تو ایک فلاحی ریاست قائم ہوچکی تھی جسے آج کی دنیا بھی فلاحی ریاست مانتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول تھا کہ جب کسی مسلمان کی وفات ہوتی اور آپ سے تقاضا ہوتا کہ آپ اس کا جنازہ پڑھائیں تو رسول اللہ اس میت کے متعلق کچھ سوالات پوچھتے تھے۔ ایک سوال یہ ہوتا تھا کہ اس کے ذمہ کوئی قرضہ تو نہیں؟ اگر جواب نہ میں ہوتا تو جنازہ پڑھا دیتے۔ اگر مقروض ہوتا تو صحابہ سے پوچھتے کہ قرض کی ادائیگی کا کوئی بندو بست ہے؟ اگر ہوتا تو آپ جنازہ پڑھا دیتے۔ اگر ایسی کوئی صورت نہ ہوتی تو خود جنازہ نہیں پڑھاتے تھے، صحابہ کو فرماتے کہ وہ نماز جنازہ پڑھ لیں۔ ایک صحابی کی وفات پر یہی واقعہ ہوا تو پتہ چلا کہ میت مقروض ہے اور قرضہ اتارنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ صحابہ سے فرمایا، بھئی! اس کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔ ایک صحابی ابو قتادۃ نے عرض کی، یا رسول اللہ!ہمارا مسلمان بھائی ہے۔ اسے آپ اس سعادت سے محروم نہ کیجیے۔ آپ جنازہ پڑھائیں، قرضہ میں ادا کر دوں گا۔ حضور نے جنازہ پڑھا دیا۔ جنازہ پڑھانے کے بعد حضور نے ایک اعلان کیا جو ویلفیئر اسٹیٹ کی بنیاد ہے۔ فرمایا :
ما من مومن الا وانا اولی الناس بہ فی الدنیا والآخرۃ، اقرء وا ان شئتم (النبی اولی بالمومنین من انفسھم)، فایما مومن ترک مالا فلیرثہ عصبتہ من کانوا، فان ترک دینا او ضیاعا فلیاتنی فانا مولاہ۔
اگر کوئی مسلمان قرضہ یا بے سہارا خاندان چھوڑ کر فوت ہوا ہے، فالی وعلی، وہ میرے پاس آئے گا، وہ میری ذمہ داری ہے۔ تاریخ کے طالب علم کے طور پر میری رائے ہی کہ ’’الی‘‘ کی بات تو بہت لوگوں نے کی ہے کہ کوئی ضروت مند ہو تو میرے پاس آئے، لیکن ’’علی‘‘ کہ اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے، یہ بات تاریخ میں سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے۔ رسول اللہ نے یہ پالیسی دی کہ ریاست کے نادار، معذور، غریب اور ضرورت مند لوگ ریاست کی ذمہ داری ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا ماحول یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی شخص آتا اور کسی ضرورت کا تقاضا کرتا تو رسول اللہ ارشاد فرماتے! بھئی، اس کو بیت المال میں سے دے دو۔ رسول اللہ نے ایسا سسٹم بنا لیا تھا کہ جو بھی ضرورت مند آتا، اس کی ضرورت پوری ہوتی تھی۔اس حوالے سے دو واقعات بیان کیے۔
ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور عرض کی، یا رسول اللہ! میرا اونٹ فوت ہوگیا ہے۔ گھر سے دور ہوں۔ مجھے سواری عنایت فرمائیں تاکہ میں گھر جا سکوں۔ رسول اللہ نے فرمایا! بیٹھو، تمہیں اونٹنی کا بچہ دیتا ہوں۔ وہ حیران ہوا کہ مجھے سواری چاہیے، اونٹنی کا بچہ میرے کس کام کا؟ صحابی نے دوبارہ عرض کی، یا رسول اللہ! مجھے سواری چاہیے، میں نے گھر جانا ہے۔ فرمایا، بھئی کہا تو ہے کہ تمہیں اونٹنی کا بچہ دیتا ہوں۔ وہ پھر پریشان ہوئے اور عرض کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا، بھئی اونٹنی کا بچہ دیتا ہوں۔اور پھر ایک اونٹ منگوا کر ان کے حوالے کیا اور فرمایا کہ یہ بھی کسی اونٹنی کا بچہ ہی ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوش مزاج بزرگ تھے اور کبھی کبھی اس قسم کی دل لگی فرما لیا کرتے تھے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک موقع پر ہمارے خاندان والوں نے سفر پر جانا تھا۔ ہمیں اونٹوں کی ضرورت تھی۔ اس وقت کا ماحول دیکھیے! ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ ہمیں کسی قسم کی پریشانی نہیں تھی۔ ہمیں پتہ تھا کہ رسول اللہ کی بارگاہ میں جائیں گے تو مایوس نہیں لوٹیں گے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور عرض کی، یارسول اللہ! سواری کے لیے اونٹ چاہییں۔ آپ نے انکار فرما دیا اور قسم اٹھا لی کہ نہیں دوں گا۔ ابو موسیٰ اشعری خود فرماتے ہیں کہ مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے جاتے ہی مجلس کے ماحول کا لحاظ کیے بغیر اپنی ضرورت پیش کردی۔ رسول اللہ کسی وجہ سے غصے میں تھے، اس لیے انکار فرما دیا۔ یہ واپس آگئے اور خاندان والوں کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا ہے۔ اسی اثنا میں ایک آدمی آیا اور ابوموسیٰ اشعری کو بتایا کہ آپ کو رسول اللہ یاد فرمارہے ہیں۔ یہ پہنچے تو دیکھا کہ رسول اللہ کے سامنے اونٹوں کی دو جوڑیاں کھڑی تھیں۔ آپ نے فرمایا یہ لے جاؤ۔میں نے اونٹ پکڑے اور چل پڑا۔ راستے میں خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم اٹھا لی تھی۔ اب اس حالت میں اگر میں نے اونٹ لے لیے تو اس میں کیا برکت ہوگی۔ میں واپس گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کے پاس تو اونٹ نہیں تھے اور آپ نے مجھے اونٹ نہ دینے کی قسم اٹھا لی تھی۔ فرمایا کہ اس وقت میرے پاس اونٹ نہیں تھے۔ یہ قیس بن سعد کے باڑے سے ادھار منگوائے ہیں۔ انہوں نے پھر سوال کیا کہ آپ نے تو قسم اٹھا لی تھی۔ فرمایا کہ مجھے قسم یاد ہے، لیکن میرا معمول ہے کہ اگر کوئی قسم اٹھا لوں اور مجھے خیال ہو کہ جس کام کے نہ کرنے کی قسم اٹھائی ہے، وہ خیر کا کام ہے تو میں قسم کو خیر کے کام میں رکاوٹ کا ذریعہ نہیں بننے دیتا اور کفارہ ادا کرتا ہوں۔ 
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور کا یہ ماحول تھا۔فلاحی ریاست کی یہ صورتحال تھی۔ 
سیرت کانفرنس میں مری کے علاقہ کے سرکردہ علماء کرام بڑی تعداد میں شریک تھے جنھوں نے اس خطاب پر خوش گوار تاثرات کا اظہار کیا اور کہا کہ آج کے ماحول میں انسانی سوسائٹی کی ضروریات کے حوالے سے اس قسم کے خطابات کی زیادہ ضرورت ہے۔

الشریعہ اکادمی کی ہم نصابی تعلیمی سرگرمیاں

ڈاکٹر حافظ محمد رشید

دورۂ جغرافیہ قرآنی

الشریعہ اکادمی کی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ دینی مدارس کے مقامی طلبہ کے لئے مختصر دورانیہ کے کورسز بھی ہیں جن کا انعقاد عام طور پر دوسری سہ ماہی میں جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں کیا جاتا ہے۔ تقریباً دس سال سے ’’ عربی بول چال‘‘ اور ’’انگلش بول چال‘‘ کے کورسز منعقد ہو رہے ہیں جن کا دورانیہ ایک ماہ یا چالیس روز ہوتا ہے۔ اس سال اکادمی کی مجلس نے یہ طے کیا کہ مختلف علمی وفکری موضوعات پر تین روزہ ورکشاپس منعقد کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں پہلی ورک شاپ کا موضوع ’’ جغرافیہ قرآنی‘‘ طے ہوا ، جبکہ آئندہ سہ ماہی میں دوسری ورک شاپ ’’ذرائع ابلاغ‘‘ کے عنوان پر منعقد کی جائے گی۔ 
دورۂ جغرافیہ قرآنی کا انعقاد ۲۵ تا ۲۷ دسمبر ۲۰۱۵ء کیا گیا۔ ۲۵ ؍ دسمبر کو افتتاحی تقریب میں شیخ الحدیث مولانا محمد داؤد صاحب نے خطاب فرمایا۔ تدریس کے لیے عصر تا عشاء کا وقت مختص کیا گیا تھا۔ گوجرانوالہ شہر سے اسکول و کالج اور مدارس کے چالیس سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ مولانا فضل الہادی نے تدریس کی ذمہ داری انجام دی اور تمام اسباق پروجیکٹر پر پڑھائے۔ تینوں دن شرکاء کے لیے ریفریشمنٹ کا انتظام کیا گیا تھا۔ جناب شاہد اقبال، جناب حافظ صفوان محمد چوہان اور جناب محمد ریاض کے مالی تعاون، جبکہ اکادمی کے رفقاء مولانا بلال فاروقی، مولانامحمد وقار اور ان کے معاونین کے حسن انتظام کی بدولت سباق تین روزہ دورہ بحمداللہ کامیابی سے پایہ تکمیل کو پہنچا۔ 
اس کورس میں قرآنی جغرافیہ کے حوالے سے جو موضوعات زیر درس رہے، وہ یہ تھے :
۱۔ جغرافیہ کا تعارف ، ۲۔ نقشہ پڑھنے کا طریقہ ، ۳۔ انبیاء قرآنی کا تعارف ، ۴۔ شخصیات قرآنی کا تعارف ، ۵۔ اقوام قرآنی کا تعارف ، ۶۔ ارض قرآن کا تعارف اور ۷۔ ارض سیرت کا تعارف۔
طلبہ نے بڑی دلچسپی اور ذوق و شوق کا مظاہر ہ کیا اور بروقت تشریف لاتے رہے۔ آخری دن شرکاء کا زبان امتحان بھی لیا گیا۔ دورہ میں پنجاب کالج کے شعبہ جغرافیہ کے استاد جناب جاوید الرحمان بھی شریک تھے جنھوں نے اختتامی نشست میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 
’’مجھے بالکل آخری دن اس دورہ کی اطلاع ملی اور میں حیران ہوا کہ قرآن کریم کو سمجھنے میں جغرافیہ قرآنی کا کتنا اہم کردار ہے، اس سے میرے سامنے قرآن فہمی کی ایک نئی جہت سامنے آئی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی میں مولانا فضل الہادی کے انداز تدریس سے بہت متاثر ہوا ہوں کہ انہوں نے اتنی تفصیل سے اور اتنی محنت سے پڑھایا کہ ایک لحاظ سے خشک سمجھا جانے والا مضمون بڑی آسانی سے طلبہ کے ذہن میں اترتا چلا گیا۔ میرے لیے جہاں اس دورہ میں قرآن فہمی کی ایک نیا در وا ہوا ہے، وہاں طرز تدریس کا ایک موثر پہلو بھی اجاگر ہوا ہے اور میں اس پر الشریعہ اکادمی کے احباب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔‘‘
اختتامی نشست میں مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم مہمان خصوصی کی حیثیت سے تشریف فرما تھے جنہوں نے طلبہ کو اسناد عنایت فرمائیں اور اپنے خطاب میں قرآن فہمی میں جغرافیہ قرآنی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ایسے مختصر دورانیہ کے کورسز تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ 

سیرت کوئز مقابلہ

الشریعہ اکادمی کی طرف سے ماہ ربیع الاول میں سیر ت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایسی تعلیمی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جو طلبہ میں سیرت کے مطالعہ کا ذوق و شوق پیدا کرنے کا باعث ہوں۔ گزشتہ سالوں میں سیرت کے متنوع پہلوؤں پر مضمون نویسی کے مقابلے کروائے گئے جس میں شہر کے دینی مدارس کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور اول ، دوم ، سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کونقد انعامات سے نوازا گیا۔ اس سال اکادمی کی مجلس تعلیمی میں یہ بات طے پائی کہ مضمون نویسی کے بجائے ’’ سیرت کوئز مقابلہ‘‘ کے عنوان سے اسکول و کالج اور مدارس کے طلبہ کے مابین مقابلے کا انعقاد کیا جائے تاکہ مقابلہ میں شریک طلبہ سیرت کے بھر پور مطالعہ کی سعادت حاصل کر لیں۔ 
گزشتہ ربیع الاول میں منعقد ہونے والے اس سیرت کوئز مقابلہ میں شہر کے آٹھ دینی مدارس کی سولہ ٹیموں نے حصہ لیا۔ ہر مدرسے سے تین ارکان پر مشتمل دو دو ٹیمیں حصہ لے سکتی تھیں۔ جن مدارس کے طلبہ نے حصہ لیا، ان کے نام حسب ذیل ہیں : مدرسہ نصرۃ العلوم ، جامعہ عربیہ ، جامعہ حقانیہ ، جامعہ مدینۃ العلم ، جامعہ نعمانیہ ، جامعہ مظاہر العلوم ، جامعہ علوم الاسلامیہ ، دار العلوم گوجرانوالہ ۔ 
مقابلہ کے دو مراحل تھے۔ پہلا مرحلہ مورخہ ۳۱ دسمبر ۲۰۱۵ء بروز جمعرات مکمل ہوا۔ اس مرحلے میں سب ٹیموں سے دس دس سوالات پوچھے گئے اور پہلی آٹھ پوزیشنز پر آنے والی ٹیموں کو اگلے مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا۔ عصر کی نماز کے بعد قرعہ اندازی کے ذریعے سب ٹیموں سے سوالات پوچھنے کی باری مقرر کی گئی۔ پھر سیرت کوئز مقابلہ کی آرگنائزنگ کمیٹی (حافظ محمد رشید، مولانا عبد الغنی اور مولانا عبد اللہ )کے مرتب کردہ سوالات کے پیکٹ میز پر رکھ دیے گئے اور ہر ٹیم کو اس کی باری پر اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی پسند کا پیکٹ اٹھا کر میزبان کے حوالے کر دے۔ ہر پیکٹ میں تیرہ سوالات تھے جس میں سے دس سوالات متعلقہ ٹیم سے جبکہ باقی سوالات عام سامعین سے پوچھے گئے اور صحیح جواب دینے والے سامعین کو بطور انعام ایک کتاب دی گئی۔ ۔اس مقصد کے لیے مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کی کتاب’’ تراشے ‘‘اور مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒ کی کتاب ’’ پا جا سراغ زندگی ‘‘ منتخب کی گئی تھیں ۔ ہر ٹیم کے حاصل کردہ نمبر وائٹ بورڈ پر سب کے سامنے لکھ دیے جاتے تھے۔ میزبان کے فرائض مولانا عبد الغنی نے انجام دیے اور عمدگی سے سارے پروگرام کو آگے بڑھایا۔
دوسرے مرحلے کا انعقاد ۷جنوری ۲۰۱۶ء بروز جمعرات کیا گیا جس میں پہلے مرحلے سے منتخب شدہ آٹھ ٹیموں کے درمیان مقابلہ کروایا گیا۔ اس مرحلے میں ٹیموں کے دو گروپ بنائے گئے اور قرعہ اندازی کی مدد سے پہلے گروپ کی مختلف ٹیموں کا دوسرے گروپ کی ٹیموں سے مقابلہ طے کیا گیا۔ طلبہ نے خوب تیاری کی ہوئی تھی، اس لیے بڑا دلچسپ مقابلے دیکھنے میں آیا ۔ اس مرحلے میں بھی وہی ترتیب رکھی گئی کہ پیکٹ میں سوالات میز پر رکھ دیے گئے اور پیکٹ کا انتخاب طلبہ کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا۔ اس مرحلے میں سات مقابلے ہوئے جن میں چار کوارٹر فائنل، دو سیمی فائنل اور ایک فائنل شامل تھا۔ استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی دامت دام ظلہ مری سے طویل سفر کر کے مقابلہ کے اختتامی مراحل میں شریک ہوئے اور سیرت کوئز مقابلے کا فائنل مقابلہ ان کی موجودگی میں منعقد ہوا۔ 
فائنل تک رسائی کے لیے سخت مقابلہ ہوا اور بالآخر جامعہ مدینۃ العلم اور الشریعہ اکادمی کے سال سوم کے طلبہ کی ٹیمیں فائنل تک رسائی حاصل کر سکیں۔ فائنل میں بھی سخت مقابلہ ہوا اور جامعہ مدینۃ العلم کی ٹیم دس نمبروں کے فرق کے ساتھ اول پوزیشن کی حق دار قرار پائی۔ سامعین میں بڑا جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ خصوصاً انعامی سوالات کے وقت سامعین میں سے ہر ایک کی خواہش ہوتی کہ میں اس سوال کا جواب دے کر انعام حاصل کر لوں۔ جیتنے والی ٹیم کے حمایتی نعروں سے اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ مقابلوں کے دوران وقفہ کے لمحات میں نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اور حمد باری تعالیٰ سے سامعین کے دلوں کو گرمایا گیا۔ 
سیرت کوئز مقابلہ میں سب شرکا کو کتابوں کے تحائف پیش کیے گئے، جبکہ اول ، دوم اور سوم پوزیشنز حاصل کرنے والی ٹیموں کے لیے کتابوں (مولانا ندوی کی ’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ مکمل اور مولانا محمد تقی عثمانی کی ’’دنیا میرے آگے‘‘) کے تحائف کے ساتھ بالترتیب چھ ہزار روپے، پینتالیس سو روپے اور تین ہزار روپے کے نقد انعامات اور یادگاری شیلڈز بھی دی گئیں۔ 
مولانا زاہد الراشدی دام ظلہ نے اپنی اختتامی خطاب میں فرمایا کہ اس سال ربیع الاول میں سیرت کوئز مقابلہ منعقد کروانے کا مقصد یہ تھا کہ طلبہ ذوق اور توجہ سے سیرت کا باریک بینی سے مطالعہ کریں اور مقابلہ کی نوعیت دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب رہے ہیں۔ سیرت کے مطالعہ کے حوالے سے ہر طرح کی کوشش باعث برکت بھی ہے اور اس دور کی اشد ضرورت بھی ۔ مجھے مقابلے میں شریک طلبہ کی تیاری، سوالات کی بناوٹ میں باریک بینی اور سامعین کی دلچسپی دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر اد ا کرتا ہوں کہ ہمارے طلبہ میں سیرت کے مطالعہ کا شوق و ذوق موجود ہے۔ ہم اس سلسلے کو جاری رکھیں گے اور تاریخ کے دیگر پہلوؤں مثلاً سیرت خلفائے راشدینؓ ، سیرت ائمہ کرام ؒ اور سیرت صحابہؓ جیسے موضوعات پر بھی مقابلہ جات منعقد کروائے جائیں گے،ان شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جمع ہونا قبول فرمائیں۔ 

دِل کے بہلانے کو شوقِ رائیگاں رکھتا ہوں میں

محمد عمار خان ناصر

خود بھی بے خود ہوں کہ یہ سارا جہاں رکھتا ہوں میں؟
ایک لمحہ ہوں کہ عمر جاوِداں رکھتا ہوں میں؟

گو کہ اب باقی نہیں وہ حیرتوں کی جستجو
دِل کے بہلانے کو شوقِ رائیگاں رکھتا ہوں میں

بے غرض رہتا ہے بس تفریقِ خویش وغیر سے
اپنے سینے میں جو احساسِ زیاں رکھتا ہوں میں

حسرتوں کے ساتھ اب یہ نفرتوں کے بوجھ بھی؟
اتنی طاقت اے دلِ ناداں! کہاں رکھتا ہوں میں

جس کا ہر اک رَاہرو تنہا ہوا گرمِ سفر
اَن گنت صدیوں میں پھیلا کارواں رکھتا ہوں میں

اِس کے صدقے دیکھ سکتا ہوں اُفق میں دُور تک
دل میں اِک جو یادِ خاکِ رَفتگاں رکھتا ہوں میں