دسمبر ۲۰۱۶ء

مذہب اور معاشرتی اصلاح ۔ خواتین کے مقام وحقوق کے تناظر میں / مغربی تہذیب کے مفید تصورات وتجربات سے استفادہمحمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۵)ڈاکٹر محی الدین غازی 
طیب اردگان اور عالمی معاہداتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مولانا سندھیؒ کی فکر اور اس سے استفادہ کی ضرورتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
الشیخ محمد امین: راہِ علم کا ایک مسافرڈاکٹر حافظ محمد رشید 
اسلام کا دستوری قانون اور سیاسی نظام (۱)ڈاکٹر محمد ارشد 
بوقت نکاح و رخصتی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمرعدنان اعجاز 
تبلیغی سہ روزہ کی مختصر رودادحافظ محمد شفقت اللہ 

مذہب اور معاشرتی اصلاح ۔ خواتین کے مقام وحقوق کے تناظر میں / مغربی تہذیب کے مفید تصورات وتجربات سے استفادہ

محمد عمار خان ناصر

اللہ کے مستند پیغمبروں کی دعوتی جدوجہد سے مذہب کا جو تصور سامنے آتا ہے، اس کا ایک بہت بنیادی جزو معاشرتی ناہمواریوں اور اخلاقی بگاڑ کی اصلاح ہے۔ مذہب انسان کے عقیدہ وایمان کے ساتھ ساتھ اس کے عمل کا بھی تزکیہ چاہتا ہے، چنانچہ یہ ناگزیر ہے کہ انسانی جبلت کے منفی رجحانات سے پیدا ہونے والے معاشرتی رویوں اور رسوم واعمال کی اصلاح مذہبی تعلیمات کا موضوع بنے۔ اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو آپ نے بھی عرب معاشرے کے تین پسے ہوئے اور مظلوم طبقوں، یعنی غلام لونڈیوں، عورتوں اور بے سہارا یتیموں کو اٹھانے اور انھیں ان کے حقوق دلوانے کو اصلاح معاشرہ کی جدوجہد کا بطور خاص ہدف ٹھہرایا۔ 
اس ضمن میں خواتین کے معاشرتی حقوق کے تحفظ اور ان کے ساتھ نا انصافی اور استحصال کے خاتمے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اصلاحی اقدامات کیے، ان کا ایک جائزہ لینے سے حسب ذیل منظر ہمارے سامنے آتا ہے۔
تصورات کی اصلاح کے حوالے سے سب سے بنیادی کام یہ کیا گیا کہ بطور صنف عورت کی تکریم و احترام کو اجاگر کیا گیااوربچیوں کی اچھی پرورش کرنے اور ان کے اور لڑکوں کے درمیان امتیاز نہ کرنے کو اعلیٰ اخلاقی رویے کے طور پر پیش کیا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ ’’بچیوں کو ناپسند نہ کیا کرو، کیونکہ یہ تو (ماں باپ کا) دل لگانے والی اور غیر معمولی قدر رکھنے والی ہوتی ہیں۔’’ (مسند احمد، حدیث ۱۷۱۱۴)آپ نے فرمایا کہ ’’جس کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ کرے اور اس کی تحقیر نہ کرے اور اس کے ساتھ لڑکوں کے مقابلے میں امتیازی سلوک نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دیں گے۔’’ (ابو داود، حدیث ۵۱۴۶) مزید فرمایا کہ ’’جس شخص نے دو بچیوں کے بلوغت کو پہنچنے تک ان کی کفالت کی ، قیامت کے روز وہ اس حالت میں آئے گا کہ میں اور وہ ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے ہوں گے۔’’ (صحیح مسلم، حدیث ۲۶۳۱)
ایک شخص کو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ تمھاری ماں، تمھارے باپ کے مقابلے میں تمھارے حسن سلوک اور خدمت کی تین درجے زیادہ حق دار ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث ۵۶۵۰) جبکہ ایک شخص کو یہ کہہ کر جہاد پر جانے سے روک دیا کہ اپنی ماں کے قدموں کے ساتھ چمٹے رہو، کیونکہ جنت وہیں ہے۔ (ابن ماجہ، حدیث ۲۷۹۵)
حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا کہ ’’عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی وصیت قبول کرو، کیونکہ وہ (رشتہ نکاح کی وجہ سے) تمھاری پابند ہو کر رہتی ہیں، لیکن اس سے آگے تمھیں ان پر (زور زبردستی کا) کوئی اختیار نہیں۔’’ (ترمذی، حدیث ۱۱۴۵)
اس کے بعد اہم ترین دائرہ جس میں بہت بنیادی اصلاحی اقدامات کیے گئے، خاندانی زندگی کا دائرہ تھا۔ اس دائرے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انھیں شوہروں کے تعدی وتجاوز سے بچانے کے لیے حسب ذیل نظری وعملی اصلاحات رو بہ عمل کی گئیں۔
اصلاح کا ایک اور اہم دائرہ خواتین کے مالی ومعاشی حقوق سے متعلق تھا۔ اس حوالے سے بنیادی ترین اصلاحی اقدام یہ تھا کہ وراثت میں خواتین کے لازمی حصے مقرر کیے گئے اور ان کی ادائیگی کو شرعی فریضہ قرار دیا گیا، (سورۃ النساء، آیت ۷) جبکہ اس سے پہلے خواتین سرے سے وراثت میں حصہ لینے کی حق دار ہی تصور نہیں کی جاتی تھیں۔عہد صحابہ میں خواتین کے، کسی معاشرتی دباؤ کے تحت اس حق سے دست بردار ہونے کو روکنے کے لیے بعض قانونی پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔ مثلاً جلیل القدر تابعی عامر شعبی کہتے ہیں کہ قریش کی ایک لڑکی سے اس کے بھائی نے کہا کہ تم اپنے شوہر کے پاس جانے سے پہلے اپنی وہ میراث جو تمھیں والد کی طرف سے ملی ہے، مجھے ہبہ کر دو۔ لڑکی نے اس کی بات مان لی، لیکن پھر شادی ہو جانے کے بعد اس نے اپنی میراث دوبارہ مانگی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ اسے واپس دلوا دی اور قاضی شریح کو تاکید کی کہ جب تک عورت اپنے شوہر کے گھر میں جا کر ایک سال نہ گزار لے یا ایک بچے کو جنم نہ دے دے، اس وقت تک اس کی طرف سے ہبہ کے فیصلے کو نافذ نہ مانا جائے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ۲۱۹۱۴، ۲۱۹۱۶)
خواتین کی، اجتماعی مذہبی وتعلیمی سرگرمیوں میں شرکت کی حوصلہ افزائی کی گئی (صحیح بخاری، حدیث ۸۷۳) اور مسجد میں باجماعت نماز میں شرکت کے علاوہ تعلیمی مجلسوں میں شریک ہونے اور مختلف سماجی سطحوں پر متحرک کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔ عہد نبوی میں اس حوالے سے صحابہ کے ساتھ ساتھ بہت سی ممتاز صحابیات کے نمایاں کردارکا بھی ذکر ملتا ہے۔ مسجد نبوی میں خواتین کی تعلیم کے مخصوص اور مستقل حلقے قائم کیے گئے اور بعض صحابیات کو اپنے گھروں میں خواتین کی باجماعت نماز کا امام مقرر کیا گیا۔ (ابو داود، حدیث ۵۲۰)
خواتین کے لیے کسی جھجھک یا حجاب کے بغیر اپنے مخصوص مسائل کے حوالے سے استفسار کرنے کا ماحول بنایا گیا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک موقع پر کہا کہ’’انصار کی خواتین بہت ہی اچھی تھیں کہ ان کی شرم، دین کے معاملے میں سوال کرنے سے ان کے لیے رکاوٹ نہیں بنتی تھی۔‘‘ (صحیح مسلم، حدیث ۵۳۵)
سماجی اصلاح اور پسے ہوئے طبقات کو اٹھانے کی حکمت عملی کے ضمن میں ایک اہم نکتہ یہ یاد رکھنے کا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے غلاموں کو آقاؤں کے خلاف، عورتوں کو مردوں کے خلاف اور فقرا کو اصحاب ثروت کے خلاف بھڑکا کر ایک دوسرے کا مد مقابل بنا دینے کا طریقہ اختیار نہیں فرمایا۔ یہ طریقہ کوتاہ نظر طبقاتی لیڈروں کا ہوتا ہے جن کے جوش وخروش میں ذاتی محرومیوں کا غصہ شامل ہوتا ہے۔اللہ کا پیغمبر کسی ایک طبقے کا نہیں، بلکہ پوری انسانیت کا نبی ہوتا ہے۔ اسے آقا کی فلاح سے بھی اتنی ہی غرض ہوتی ہے جتنی غلام کی، مردوں کی کامیابی بھی اتنی ہی عزیز ہوتی ہے جتنی عورتوں کی اور مال داروں کا حسن انجام بھی اتنا ہی محبوب ہوتا ہے جتنا فقرا اور یتامی ومساکین کا۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصلاحی پروگرام کی بنیاد طبقاتی کشمکش کو ابھارنے پر نہیں، بلکہ ہر طبقے میں فطری طور پر موجود نیک جذبات اور اخلاقی تصورات کو اپیل کرنے پر رکھی اور یہ سمجھایا کہ انسانی سماج میں بہتر وکہتر کی یہ تقسیم انسان کی آزمائش کا ایک ذریعہ ہے جس میں کامیابی کا معیار اللہ کی نظر میں صرف اور صرف اچھا عمل اور حسن کردار ہے۔

مغربی تہذیب کے مفید تصورات وتجربات سے استفادہ

مغربی تہذیب نے گذشتہ کئی صدیوں میں فکری ارتقا کا جو سفر طے کیا ہے، اس نے متعدد اسباب سے اسے مذہب اور روحانیت سے دور کر دیا ہے اور وہ بلاشبہ اس وقت دنیا میں ایک لادینی تہذیب کا علم بردار ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانی ذہن کو سیاست مدن اور تنظیم معاشرت کے ضمن میں عملی نوعیت کے جو بہت سے سوالات ہمیشہ سے درپیش رہے ہیں، ان کے حل کے لیے مغرب نے کئی مفید تصورات اور تجربات سے بھی دنیا کو روشناس کرایا ہے۔ ان میں مثال کے طور پر حکومت سازی میں رائے عامہ کو بنیادی اہمیت دینے، حکومت کی سطح پر اختیار کے سوء استعمال کو روکنے کے لیے تقسیم اختیارات کے اصول، دنیا کی مختلف اقوام کے لیے اپنے اپنے مخصوص جغرافیائی خطوں میں حق خود ارادیت تسلیم کرنے اور بین الاقوامی تنازعات کے پرامن تصفیے کے لیے عالمی برادری کی سطح پر مختلف اداروں اورتنظیموں کے قیام جیسے تصورات کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ ان تصورات پر عمل کے حوالے سے مغرب کا اپنا طرز عمل کیا ہے، اس پر یقیناًبات ہو سکتی ہے اور مذکورہ سیاسی تصورات کا جو ماڈل مغرب نے پیش کیا ہے، اس میں مزید بہتری کی ضرورت پر بھی بحث ومباحثہ کی پوری گنجائش موجود ہے۔ لیکن اصولی طور پر ان تصورات کی اہمیت اور اجتماعی انسانی تعلقات کی تنظیم کے ضمن میں ان کی افادی صلاحیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 
مغربی غلبے کے رد عمل میں اور اس کے مقابلے میں مسلمانوں کے بعض تاریخی تجربات کی فوقیت ثابت کرنے کے جذبے کے زیر اثر مسلم فکر میں ایک بڑا نمایاں رجحان سرے سے مذکورہ تصورات وتجربات کی نفی کر دینے کا دکھائی دیتا ہے جو ایک غیر متوازن رویہ ہے۔ کوئی بھی مفید اور اچھا تصور انسانیت کا مشترک سرمایہ ہوتا ہے، چاہے اس کا ابتدائی تعارف کسی بھی گروہ کی طرف سے سامنے آئے۔ انسانی تمدن کا ارتقا اسی طرح باہم اخذ واستفادہ سے ہوتا ہے اور مسلم تہذیب نے بھی اپنے دور عروج میں کبھی دوسری قوموں، تہذیبوں اور معاشروں سے اچھے اور مفید تصورات کو لے لینے کبھی کوئی باک محسوس نہیں کیا۔ 
مثال کے طور پر رائے عامہ کو حکومت سازی میں بنیادی اہمیت دینے کا اصول بنیادی طور پر خود اسلام کا اصول ہے جس سے مسلمان اپنی تاریخ کے بالکل ابتدائی دور میں ہی مختلف عملی اسباب سے دست بردار ہو گئے اور رفتہ رفتہ اس سے بالکل غیر مانوس ہوتے چلے گئے۔ امام ابوعبید نے کتاب الاموال میں لکھا ہے کہ اگر مسلمانوں کا لشکر دوران جنگ میں دشمن کے ساتھ صلح کا معاہدہ کرنا چاہے اور اس کی شرائط ایسی ہوں جن کا اثر دشمن کے زیر نگیں عوام الناس پر بھی پڑتا ہو تو ایسی کوئی بھی شرط اسی وقت معتبر سمجھی جائے گی جب براہ راست ان کے عوام سے رابطہ کر کے ان کی رضامندی معلوم کر لی جائے۔ اس کے بغیر محض ان کے سرداروں یا امراء کے اس شرط کو تسلیم کر لینے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ امام ابوعبید نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چونکہ امرا اور سرداروں کو کوئی بھی اجتماعی فیصلہ کرنے کا اختیار عام لوگوں کی طرف سے تفویض کیا جاتا ہے، اس لیے وہ لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کوئی ایسا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے جس سے لوگ متفق نہ ہوں۔ (کتاب الاموال، ص ۲۷۰، ۲۷۱) اس فقہی جزئیے سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جب اسلام دشمن قوم کی رائے عامہ کو اتنی اہمیت دیتا ہے تو خود مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں مسلمانوں کی رائے عامہ اس کے نزدیک کتنی اہم ہوگی۔
آج مغرب نے حکمرانوں کے عزل ونصب میں رائے عامہ کو بنیادی اصول کے طور پر تسلیم کر کے اقتدار کے پرامن انتقال کا ایک ایسا طریقہ اختیار کر لیا ہے جسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے اسلامی تاریخ میں ہمیں ایک طرف تو موروثی بادشاہت اور بزور بازور اقتدار پر قبضے جیسے طریقوں کو جواز فراہم کرنا پڑا اور دوسری طرف عملی طور پر پرامن انتقال اقتدار کا کوئی طریقہ باقی نہ رہا۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس سے کھلے دل سے استفادہ کرنا چاہیے، نہ کہ مغرب کی ہر بات کے رد کر دینے کو اسلامیت کا اظہار سمجھ کر ’’لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو‘‘ کی تحریک برپا کرنی چاہیے۔
اسی زاویے سے ریاستی اختیارات کی تقسیم کے تصور کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مغرب میں جدید ریاست کے ارتقا میں ایک اہم عامل کا کردار بادشاہ کے مطلق العنان ہونے کے مسئلے نے ادا کیا۔ مغربی مفکرین نے ارتکاز اختیارات اور اس سے پیدا ہونے والی قباحتوں کا حل یہ تجویز کیا کہ حکومت واقتدار سے متعلق اختیارات کو ایک فرد میں مرتکز کرنے کے بجائے انھیں مختلف مراکز میں تقسیم کر دیا جائے جو ایک دوسرے کو تجاوز سے روکنے کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا کام کریں۔ اس سے افراد کے بجائے اداروں مثلاً مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ وغیرہ کا نظام وجود میں آیا۔ یہ تمام ادارے الگ الگ دائروں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے باوجود ایک ہی نظم اجتماعی کا حصہ ہوتے اور اسی کے طے کردہ مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں، اور ان کے مجموعے کو ایک جامع عنوان یعنی ’’ریاست‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اس کے برخلاف مسلم سیاسی فکر میں ’’امام‘‘ یعنی مسلمانوں کے حکمران کی شخصیت میں تمام تر سیاسی اختیارات کے ارتکاز کا تصور غالب ہے۔ شریعت کی پابندی کی شرط کے ساتھ مسلمانوں کے جملہ اجتماعی امور سے متعلق آخری اور فیصلہ کن اختیار ’’امام‘‘ کے لیے تسلیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ کسی بھی اجتہادی تعبیر کو قانون کا درجہ دینے کا فیصلہ کن اختیار اسی کے پاس ہے۔ وہ دار الاسلام کے حدود میں کیے گئے کسی بھی عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کا اختیار رکھتا ہے۔ وزرا، گورنروں، عمال، قضاۃ اور فوجی امراء کے تقرر کا حتمی اختیار اس کے ہاتھ میں ہے۔ دشمن کے ساتھ جنگ کرنے یا صلح کا معاہدہ کرنے میں امام ہی فائنل اتھارٹی رکھتا ہے۔ گویا مسلمان امت اپنے اجتماعی امور سے متعلق تمام تر اختیارات ’’امام‘‘ کو تفویض کر دیتی ہے اور پھر وہ ان کی نیابت میں، انتظامی سہولت اور مصلحت کے تحت ان میں سے کچھ اختیارات مختلف سطحوں پر اپنے منتخب عمال اور افسران کے سپرد کر دیتا ہے، تاہم اختیارات کا اصل منبع ومصدر امام ہی کی شخصیت رہتی ہے اور اپنے تفویض کردہ اختیارات کے تحت کیے گئے تمام فیصلوں اور تصرفات پر نظر ثانی کا آخری اختیار امام ہی کے پاس رہتا ہے۔ 
ہر سیاسی وقانونی تصور کی طرح اس سیاسی تصور کے بھی مختلف اور متنوع مضمرات تھے اور ناگزیر طور پر ان کے اثرات ونتائج اسلامی تاریخ اور قانونی روایت پر بھی مرتب ہوئے۔ان میں سے ایک اہم نتیجہ یہ تھا کہ سیاسی نوعیت کے مقدمات کی سماعت اور ان کے فیصلے عمومی عدالتی سسٹم کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں تھے اور حکومت یا حاکم کے خلاف کیے جانے والے کسی بھی اقدام کا فیصلہ براہ راست خود امام ہی کیا کرتا تھا اور اس کے فیصلوں کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ گویا عدلیہ، سیاسی مقدمات میں نہ صرف یہ کہ انتظامیہ کے تابع تھی، بلکہ سرے سے بے اختیار تھی، کیونکہ یہ مقدمات امام کی طرف سے اس کے دائرہ اختیار میں رکھے ہی نہیں گئے تھے۔ اسلامی تاریخ کے اہم ترین اور الم ناک ترین حادثات میں ہم اس قانونی تصور کے براہ راست اثرات دیکھ سکتے ہیں۔ سیدنا عثمان کو شہید کیا گیا تو قصاص کا مطالبہ کرنے والے خلیفہ وقت کو اس واقعے یا اس کی ذمہ داری سے بالکل لاتعلق تسلیم کرتے ہوئے بھی ان کی طرف سے باغیوں کے خلاف کسی موثر قانونی اقدام کے امکان پر مطمئن نہ ہو سکے، اور چونکہ معاملہ براہ راست خلیفہ کے دائرہ اختیار میں آتا تھا، جبکہ عدلیہ بطور ایک مستقل ادارے کے کوئی وجود نہیں رکھتی تھی جو اپنی آزاد حیثیت میں سیاسی مقدمات کی سماعت کا اختیار رکھتی ہو، اس لیے قصاص کا مطالبہ کرنے والوں کو نظام کے اندر رہتے ہوئے اپنے مطالبے کی تکمیل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے نہتے خانوادے کو کربلا میں شہید کر دیا گیا، لیکن چونکہ معاملہ سرے سے عدالتی نظام کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں تھا، اس لیے نہ اس کی تحقیق کے لیے کوئی عدالتی کمیشن قائم ہو سکتا تھا اور نہ امام کے خلاف طاقت کے ناجائز استعمال کا مقدمہ دائر کیا جا سکتا تھا۔ حجاج بن یوسف نے حکومت مخالف رجحانات کو ختم کرنے کے لیے لوگوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے اور اکابر صحابہ وتابعین کی ایک بڑی جماعت بھی اس کی چیرہ دستیوں کا شکار ہوئی، حتی کہ بیت اللہ کی حرمت تک پامال کی گئی، لیکن اس کے خلاف بھی کوئی مقدمہ نہ چلایا جا سکا۔ 
ظاہر ہے کہ اس پوری صورت حال میں مسلم معاشرہ بھی موجود تھا اور اس کے اندر عدل وانصاف کی قدریں اور اخلاقی جرات کے اوصاف بھی زندہ تھے اور عین اسی وقت میں اپنے دائرہ اختیار میں جلیل القدر مسلمان قاضی کسی خوف کے بغیر خود حکمرانوں کے خلاف بھی فیصلے کر رہے تھے۔ اصل مسئلہ جملہ ریاستی اختیارات کو امام کی شخصیت میں مرتکز ماننے کے قانونی تصور میں تھا جس کی رو سے تمام ریاستی ادارے (اگر انھیں جدید مفہوم میں ’’ادارے‘‘ کہا جا سکے) دراصل امام کی طرف سے تفویض کیے گئے اختیار کے دائرے میں ہی کوئی قدم اٹھانے کے مجاز تھے۔ اس سے ہٹ کر ان کا کوئی اقدام کرنا صریحاً قانون کے خلاف ہوتا جس پر امام متعلقہ فرد کو معزول کرنے کا حق رکھتا تھا۔ہمارے طالب علمانہ نقطہ نظر کے مطابق دور اول میں خروج اور بغاوت کے مسلسل واقعات کو اس تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اقتدار کے پرامن انتقال نیز ریاستی جبر سے تحفظ جیسے اہم عملی سوالات کا کوئی حقیقی جواب اس وقت مسلم سیاسی فکر کے پاس، بلکہ اس وقت دنیا کے کسی بھی مسلمہ سیاسی فکر کے پاس موجود نہیں تھا۔ انسانی تمدن اور انسانی تاریخ اچھے اور برے تجربات کی روشنی میں اور خوب سے خوب تر کی تلاش کے جذبے سے ہی آگے بڑھتے ہیں۔ آج اگر دنیا کی کچھ دوسری قوموں نے اجتماعی نظام کو چلانے کے لیے مسلم سیاسی فکر سے ہٹ کر کچھ مفید تصورات یا تجربات پیش کیے ہیں تو انھیں اسلامی قانونی روایت کے لیے غیر مانوس ہونے کی بنیاد پر یکسر مسترد کر دینے کے بجائے ان کی عملی اور قانونی افادیت کے پہلو سے زیر غور لانا اور ان سے استفادہ کرنا چاہیے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۵)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۰۴) من ذنوبکم کا ترجمہ

قرآن مجید میں تین مقامات پر من کے ساتھ یغفر لکم من ذنوبکم آیا ہے، اور تین ہی مقامات پر من کے بغیر یغفر لکم ذنوبکم آیا ہے۔ جہاں من نہیں ہے وہاں ترجمہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن جہاں من ہے وہاں ترجمہ میں اختلاف ہوگیا ہے، بعض لوگوں نے من کو زائد مان کرآیت کا ترجمہ کیا ہے، اور بعض لوگوں نے تبعیض کا مان کر ترجمہ کیا ہے، دلچسپ معاملہ ان لوگوں کا ہے جو کہیں زائد والا ترجمہ کرتے ہیں اور کہیں تبعیض والا ترجمہ کرتے ہیں۔ ذیل میں تینوں آیتوں کے کچھ ترجمے پیش کیے جارہے ہیں جن سے صورت حال واضح ہوجاتی ہے۔

(۱) قَالَتْ رُسُلُہُمْ أَفِیْ اللّہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ یَدْعُوکُمْ لِیَغْفِرَ لَکُم مِّن ذُنُوبِکُمْ۔ (ابراہیم:۱۰)

’’کہا پیغمبروں ان کے نے کیا بیچ اللہ کے شک ہے بنانے والا آسمانوں اور زمین کا پکارتا ہے تم کو تو کہ بخشے واسطے تمہارے بعضے گناہ تمہارے سے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)
’’بولے ان کے رسول کیا اللہ میں شبہہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین تم کو بلاتا ہے کہ بخشے تم کو کچھ گناہ تمہارے‘‘ (شاہ عبد القادر)
’’ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ میں شک ہے آسمان اور زمین کا بنانے والا تمہیں بلاتا ہے کہ تمہارے کچھ گناہ بخشے‘‘ (احمد رضا خان)
’’ان کے پیغمبروں نے کہا کہ تم کو اللہ تعالی کے بارہ میں شک ہے جو کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے وہ تم کو بلارہا ہے تاکہ تمہارے گناہ معاف کردے‘‘(اشرف علی تھانوی)
’’تا بیا مرزد شمارا از گناہان شما‘‘ (شیخ سعدی)
’’تا بیا مرزد برائے شما گناہان شما‘‘ (شاہ ولی اللہ)

(۲) یَا قَوْمَنَا أَجِیْبُوا دَاعِیَ اللَّہِ وَآمِنُوا بِہِ یَغْفِرْ لَکُم مِّن ذُنُوبِکُمْ وَیُجِرْکُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِیْمٍ۔ (الاحقاف:۳۱)

’’اے قوم ہماری قبول کرو واسطے بلانے والے کے اللہ کی طرف سے اور ایمان لاؤ ساتھ اس کے بخشے گا واسطے تمہارے گناہ تمہارے‘‘(شاہ رفیع الدین)
’’اے قوم ہماری مانو اللہ کے بلانے والے کو اور اس پر یقین لاؤ کہ بخشے تم کو کچھ تمہارے گناہ‘‘ (شاہ عبد القادر)
’’اے ہماری قوم اللہ کے منادی کی بات مانو اور اس پر ایمان لاؤ کہ وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے‘‘ (احمد رضا خان)
’’اے بھائیو اللہ کی طرف بلانے والوں کا کہنا مانو اور اس پر ایمان لے آؤ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا‘‘ (اشرف علی تھانوی)
’’تا بیا مرزد خدا برائے شما بعض گناہان شمارا‘‘ (شاہ ولی اللہ)
’’تا بیا مرزد خدا برائے شما از گناہان شما‘‘(شیخ سعدی)

(۳) یَغْفِرْ لَکُم مِّن ذُنُوبِکُمْ۔ (نوح:۴)

’’بخشے گا واسطے تمہارے گناہ تمہارے‘‘ (شاہ رفیع الدین)
’’کہ بخشے وہ تم کو کچھ گناہ تمہارے‘‘ (شاہ عبد القادر)
’’وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے گا‘‘ (احمد رضا خان)
’’تو وہ تمہارے گناہ معاف کردے گا‘‘ (اشرف علی تھانوی)
’’تا بیا مرزد برائے شما گناہان شمارا‘‘ (شاہ ولی اللہ )
’’تا بیا مرزد شمارا از گناہان شما‘‘ (شیخ سعدی)
مذکورہ بالا ترجموں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بعض لوگوں نے ’’کچھ گناہ‘‘ اور بعض لوگوں نے ’’گناہ‘‘ ترجمہ کیا ہے، اور بعض نے کہیں یہ ترجمہ کیا ہے اور کہیں وہ۔فارسی ترجموں میں شیخ سعدی ’’از گناہان‘‘ کرتے ہیں، جبکہ شاہ ولی اللہ دو مقامات پر صرف ’’گناہان‘‘ اور ایک مقام پر ’’بعض گناہان‘‘ کرتے ہیں۔
یہاں ایک نکتہ اور قابل توجہ ہے، وہ یہ کہ تینوں آیتوں کے ترجمہ میں شاہ ولی اللہ نے یَغْفِرْ لَکُم میں لکم کا ترجمہ ’’برائے شما‘‘ اور شاہ رفیع الدین نے ’’واسطے تمہارے‘‘کیا ہے، یہ بھی درست نہیں ہے، کیونکہ مغفرت کے ساتھ گناہ یا خطا جس کی مغفرت کی جائے بطور مفعول بہ آتا ہے اور جس شخص کی مغفرت کی جائے اس کے لئے لام بطور صلہ آتا ہے، اس کا ترجمہ واسطے یا لئے کرنا درست نہیں ہے۔اس لئے ’’واسطے تمہارے ‘‘کے بجائے صرف ’’تمہارے‘‘ ترجمہ ہوگا، جیسا کہ دوسرے لوگوں نے کیا ہے۔
اس مقام پر صاحب تفہیم اور صاحب تدبرکا موقف قدرے تفصیل کا تقاضا کرتا ہے۔ صاحب تفہیم نے سورہ نوح والی آیت کے ترجمے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا: ’’یہاں من تبعیض کے لیے نہیں بلکہ عن کے معنی میں ہے‘‘
اس پر صاحب تدبر نے اسی آیت کے ترجمہ کی توضیح میں لکھا: ’’اسی طرح اس کو عن کے معنی میں لینا بھی ایک بالکل بے سند بات ہے۔ اول تو اس کے عن کے معنی میں آنے کی کوئی قابل اعتماد مثال موجود نہیں ہے، ہو بھی تو غفر کا صلہ عن کے ساتھ نہیں آتا۔ آپ دعا میں کہتے ہیں: ربنا اغفر لنا ذنوبنا یوں نہیں کہتے کہ اغفر لنا عن ذنوبنا۔ اگر یوں کہیں گے تو اس کو صحیح ثابت کرنے کے لیے یہ تاویل کرنی پڑے گی کہ یہاں غفر لفظ بمعنی صفح یا اس کے ہم معنی کسی ایسے لفظ پر متضمن ہے جس کا صلہ عن کے ساتھ آیا ہے۔ اس کے بغیر غفر کے ساتھ عن کا استعمال عربیت کے خلاف ہوگا۔‘‘
صاحب تدبر کی یہ بات تحقیق طلب ہے کہ ’’من کو عن کے معنی میں لینا ایک بالکل بے سند بات ہے۔ اول تو اس کے عن کے معنی میں آنے کی کوئی قابل اعتماد مثال موجود نہیں ہے۔‘‘ نحو کے مشہورمحقق علامہ ابن ہشام نے ذکر کیا ہے کہ من عن کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، انہوں نے اس کی قرآن مجید سے دو مثالیں بھی دی ہیں، ابن ہشام کی عبارت ملاحظہ ہو: مرادفۃعَن نَحو(فویل للقاسیۃقلوبھم من ذکراللہ) (یاویلنا قدکنَّا فِی غَفلَۃ من ھَذَا) (مغنی اللبیب،ص: ۴۲۳) ۔
جبکہ مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے ہے کہ ان دونوں مثالوں میں جنہیں ابن ہشام نے ذکر کیا ہے، من کو عن کے معنی میں ماننا درست نہیں ہے، دونوں جگہ من من کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے۔ان کے نزدیک پہلی مثال کا مفہوم ہے، وہ سخت دل جو ذکر اللہ سے خالی ہیں، اگر عن ہوتا تو مفہوم یہ ہوتا کہ وہ دل جن پر اللہ کا ذکر اثر نہیں کرتا ہے۔ اسی طرح دوسری مثال کا مفہوم ہے کہ جانتے بوجھتے اس کی طرف سے غافل تھے، اگر عن ہوتا تو مفہوم ہوتا کہ اس سے بے خبر تھے، جیسا کہ بغیر صلہ کے آتا ہے، فرمایا (و ان کنت من قبلہ لمن الغافلین) غرض دونوں مثالوں میں من من کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے۔
البتہ صاحب تدبر کی یہ بات کہ ’’غفر کا صلہ عن کے ساتھ نہیں آتا‘‘ بالکل درست ہے اور صاحب تفہیم کا اس مقام پر من کو عن کے معنی میں ماننا واضح طور سے غلط ہے، لگتا ہے کہ صفح اور عفا وغیرہ جیسے غفر کے ہم معنی الفاظ سے اشتباہ کے نتیجہ میں ان سے یہ چوک ہوگئی، راقم کی معلومات کی حد تک یہ رائے کسی مفسر یا ماہر لغت نے ذکر نہیں کی ہے۔
صاحب تدبر نے ان لوگوں پر بھی سخت تنقید کی ہے جو من کو یہاں زائد قرار دیتے ہیں، وہ سورہ نوح کے زیربحث ترجمہ کی توضیح میں لکھتے ہیں:
’’حرف من کو بعض لوگوں نے زائد قرار دیا ہے اور بعض لوگوں نے اس کو عن کے معنی میں لیا ہے لیکن یہ دونوں رائیں عربیت کے خلاف ہیں۔ قرآن میں کوئی حرف بھی زائد نہیں ہے۔ اگر کہیں کوئی حرف بظاہر زائد نظر آتا ہے تو وہ بھی زبان کے معروف ضابطہ کے تحت کسی خلا کو بھرنے کے لیے آیا ہے۔ اس طرح کے حروف مخصوص ہیں۔ ہر حرف کو بغیر کسی سند کے زائد نہیں قرار نہیں دیا جاسکتا، من کے زائد آنے کی کوئی مثال قرآن یا مستند کلام میں موجود نہیں ہے۔‘‘ 
آگے لکھتے ہیں:
’’میرے نزدیک یہاں من اپنے معروف معنی یعنی تبعیض ہی کے لیے آیا ہے۔ پوری بات گویا یوں ہے کہ یغفر لکم ما تقدم من ذنوبکم (اگر تم میری باتیں مان لوگے تو اللہ تعالی تمہارے وہ سارے گناہ معاف فرمادے گا جو اب تک تم سے صادر ہوئے ہیں) یہاں وضاحت قرینہ کی بنا پر ما تقدم کے الفاظ حذف ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔اس آیت میں حرف من اسی حقیقت کے اظہار کے لیے آیا ہے کہ اگر تم اس دعوت کو قبول کرکے ایمان میں داخل ہوجاؤ گے تو دور جاہلیت کے تمہارے سارے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ اگر یہ من یہاں نہ ہوتا تو آیت کے یہ معنی نکل سکتے تھے کہ تمہارے تمام اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ درآنحالیکہ یہ بات صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ کفر کے بعد ایمان صرف پچھلے گناہوں ہی کا ہادم بنتا ہے۔ آگے کے گناہوں کا ہادم نہیں بنتا۔‘‘
صاحب تدبر کی یہ بات کہ ’’من کے زائد آنے کی کوئی مثال قرآن یا مستند کلام میں موجود نہیں ہے‘‘ خلاف واقعہ بھی ہے اور تمام اہل لغت کے موقف کے بھی خلاف ہے، مذکورہ ذیل قرآنی مثالوں میں من کے زائد ہونے پر تو تمام نحویوں کا اتفاق ہے:

 (ما جاء نا من نذیر) (وَمَا تسْقط من ورقۃ اِلَّا یعلمہا) (مَا تری فِی خلق الرَّحْمٰن من تفَاوت) (فَارْجِع الْبَصَر ھَل تری من فطور)

البتہ نحویوں کے درمیان اس میں اختلاف ہے کہ من بلا شرط زائد ہوسکتا ہے یا اس کے لیے کچھ شرطیں بھی ہیں، زیر بحث جملہ یعنی (یغفر لکم من ذنوبکم) میں من ابوعبیدہ اور اخفش کے نزدیک زائد ہوسکتا ہے۔
صاحب تدبر کا یہ خیال ہے کہ ’’اگر یہ من یہاں نہ ہوتا تو آیت کے یہ معنی نکل سکتے تھے کہ تمہارے تمام اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے‘‘ اگر ان کی یہ بات مان لی جائے تو ان آیتوں کے بارے میں کیا کہا جائے گا جہاں یہی جملہ من کے بغیر آیا ہے۔ جیسے:

قُلْ إِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّہَ فَاتَّبِعُونِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ۔ (آل عمران: ۳۱) 

کیا اس آیت میں اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کردینے کی بات کہی گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صاحب تدبر یوں تواس جملے میں من کو تبعیض کا مانتے ہیں، لیکن ترجمہ عام طور سے زائد کا کرتے ہیں، سورہ ابراہیم والی آیت میں ترجمہ کرتے ہیں: ’’تاکہ تمہارے گناہوں کو بخشے‘‘۔سورہ احقاف والی آیت میں ترجمہ کرتے ہیں: ’’اللہ تمہارے گناہوں کو بخشے گا‘‘ البتہ سورہ نوح والی آیت میں ترجمہ کرتے ہیں: ’’اللہ تمہارے (پچھلے) گناہ معاف کردے گا‘‘ وہ اس وجہ سے کہ وہ یہاں ما تقدم کو محذوف مانتے ہیں، حالانکہ صرف من کو بنیاد بنا کر اس طرح سے محذوف ماننا خود دلیل کا محتاج ہے۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ صاحب تدبر سورہ نوح والی آیت میں تو من سے پہلے ما تقدم محذوف مان کر من ذنوبکم سے پچھلے گناہ مراد لیتے ہیں۔ لیکن سورہ احقاف والی آیت میں ان کی رائے بالکل مختلف ہے، لکھتے ہیں: ’’من تبعیض کے لیے ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ بعض گناہ ایسے بھی ہیں جن کی معافی کا معاملہ اس ایمان کے بعد بھی محول رہتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ وہ سنگین قسم کے گناہ ہیں جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔‘‘
درست بات یہ ہے کہ مذکورہ تینوں آیتوں میں من تاکید کے لئے ہے، اور ان میں تمام گناہ معاف کئے جانے کا وعدہ ہے، ان تینوں آیتوں کاخطاب غیر مسلموں سے ہے، اور غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیتے وقت یہ کہنا کسی طور مناسب نہیں لگتا ہے کہ اگر تم ایمان لے آئے تو تمہارے کچھ گناہ معاف کیے جائیں گے اور کچھ گناہ معاف نہیں کیے جائیں گے۔ کسی نبی کی دعوت میں ہمیں اس طرح کی بات نہیں ملتی ہے۔ نہ ہی یہ دعوتی حکمت کے مطابق ہے، اور نہ ہی یہ قرآن مجید کی دوسری تصریحات کے موافق ہے۔ موقع ومحل کا تقاضا صاف طور سے یہی ہے کہ من کو تبعیض کے بجائے تاکید کے لیے مانا جائے۔ قرآن میں اسی مفہوم کو یوں بھی ادا کیا گیا ہے: قُل لِلَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِن یَنتَہُواْ یُغَفَرْ لَہُم مَّا قَدْ سَلَفَ (الانفال: ۳۸) یعنی جتنے گناہ اب تک ہوچکے ہیں سب معاف کردیئے جائیں گے۔ یہاں بھی ما قد سلف سے تحدید نہیں ہورہی ہے بلکہ عموم کی تاکید ہورہی ہے، کیونکہ معافی چاہنے والے کا مدعا یہی ہوتا ہے کہ جتنے گناہ ہوچکے ہیں وہ سب معاف کردیئے جائیں۔
ان تینوں مقامات پر من کو زائد ماننے والوں پر امام رازی نے سخت تنقید کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کلام الٰہی کے کسی لفظ کو زائد ماننا درست نہیں ہے۔

أما قولہ: اِنَّھَا صِلَۃ فَمَعْنَاہُ الحکم عَلی کلِمَۃٍ مِن کلَامِ اللَّہِ تَعَالَی بِأَنَّھَا حَشْوٌ ضَائِعٌ فَاسِدٌ، وَالْعَاقِل لَایُجَوِّزُ الْمَصِیرَ اِلَیہِ مِنْ غَیرِضَرْورَۃٍ۔ (التفسیرالکبیر،۱۹؍۷۲)

اس لئے یہ وضاحت ضروری ہے کہ جب من کو زائد کہا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ وہ فضول اور بے مصرف ہے، بلکہ اس سے ایک فائدہ حاصل ہوتا ہے، اور وہ یہ کہ اس لفظ کے عموم کی تاکید ہوتی ہے جس پر من داخل ہوتا ہے، یعنی ذنوبکم کا مطلب ہوگا تمہارے گناہ اور من ذنوبکم کا مطلب ہوگا تمہارے تمام گناہ۔ چنانچہ علامہ ابن ہشام نے من کے اس مفہوم کے بارے میں یوں لکھا ہے: توکید العُمُوم وَھِی الزَّائِدَۃ۔ اس لیے امام رازی کا یہ کہنا کہ من کو یہاں زائد ماننا کلام الٰہی کی شان کے منافی ہے درست نہیں ہے۔سورہ ابراہیم والی آیت کا ذیل کا ترجمہ تاکیدکے اس مفہوم کو بخوبی ادا کررہا ہے: ’’وہ تو تمہیں اس لئے بلا رہا ہے کہ تمہارے تمام گناہ معاف فرمادے‘‘ (محمد جوناگڑھی) مولانا امانت اللہ اصلاحی وضاحت کرتے ہیں کہ من یہاں پر نہ زائد ہے اور نہ تبعیض کے لئے ہے، بلکہ فصل اور تاکید کے لئے ہے ، یعنی پہلے مغفرت کا اعلان کردیا پھر بیان کیا کہ نہ صرف خطائیں بلکہ سارے گناہ معاف کردے گا۔
یہ بات اوپر ذکر کی جاچکی ہے کہ قرآن مجید میں یغفر لکم من ذنوبکم تین بار آیا ہے اور یغفر لکم ذنوبکم بھی تین بار آیا ہے، اس پر مزید امام زمخشری نے یہ نکتہ بھی دریافت کیا کہ جہاں من کے ساتھ آیا ہے وہاں مخاطب غیر مسلمین ہیں، اور جہاں من کے بغیر آیا ہے، وہاں مخاطب اہل ایمان ہیں۔
چونکہ امام زمخشری من کو تبعیض کا مانتے ہیں، اس لیے وہ اس فرق کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کرسکے، اور محض اتنا کہا کہ ایسا اس لیے کیا ہے کہ قیامت کے دن دونوں فریقوں میں فرق وامتیاز رہے۔ وَکَأَنَّ ذَلِکَ لِلتَّفْرِقَۃِ بَین الْخِطَابَینِ، وَلِئَلَّا یُسَوَّی بَینَ الْفَرِیقَینِ فِی الْمَعَادِان کی اس رائے پر امام رازی نے سخت تنقید کی۔ اور کہا فھُوَ مِنْ بَابِ الطَّامَّاتِ۔ تاہم خود امام رازی اور دیگر مفسرین نے من کو تبعیض کا مان کر جو توجیہیں کی ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس رائے کے نتیجے میں مفسرین کو کتنی زیادہ الجھنوں کا شکار ہونا پڑا۔
لیکن اگر من کو برائے تاکید مانیں تو اس فرق کی واضح توجیہ سامنے آجاتی ہے، اہل کفر کے گناہ بہت زیادہ اور بہت بڑے ہوتے ہیں، اور وہ وحی کے اور وحی کے ہر وعدے کے منکر بھی ہوتے ہیں، اس لیے ان کو یہ یقین دلانا کہ ایمان لانے کی صورت میں ان کے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے توکید کے اسلوب کا تقاضا کرتا ہے۔ جبکہ اہل ایمان کے گناہ کفر وشرک سے آلودہ زندگی کے مقابلے میں بہت معمولی درجے کے ہوتے ہیں، اور صاحب ایمان ہونے کی وجہ سے وہ اللہ کے ہر وعدے پر فوراً یقین کرنے کے لیے تیار بھی ہوتے ہیں، اس لیے توکید کے اسلوب کے بغیر بھی ان کے یقین کے لیے ہر وعدہ کافی ہوتا ہے۔ غرض گناہ تو ہر توبہ کرنے والے کے معاف ہوجائیں گے تاہم کافروں سے جو معافی کا وعدہ کیا گیا ہے اس میں تاکید اور زور زیادہ ہے۔
من ذنوبکم کے اسلوب اور اس کے اندر موجود تاکید کو سمجھنے کے لیے ذیل کی آیت قول فیصل اور بہترین رہنما ہے:

 قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَۃِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیْعاً إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیْمُ۔ (الزمر:۵۳)

(جاری)

طیب اردگان اور عالمی معاہدات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اس وقت دنیا میں حکومتوں کی بجائے معاہدات کی حکومت ہے۔ چند طاقتور ملکوں کے علاوہ باقی ممالک و اقوام ان معاہدات کی پابندی کرنے پر اس حد تک مجبور ہیں کہ بسا اوقات ان معاہدات اور عالمی دباؤ کے سامنے بے بسی کی تصویر بن کر رہ جاتے ہیں اور ان کی خودمختاری اور سا لمیت بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اقوام متحدہ ان معاہدات کی سرپرستی کرتی ہے اور سلامتی کونسل ان پر عملدرآمد کا اہتمام کرتی ہے جس کا منظر ہم وقتاً فوقتاً مجبور اقوام کی کس مپرسی کی صورت میں دیکھتے رہتے ہیں جیسا کہ گزشتہ ربع صدی کے دوران عراق و افغانستان کا حشر ہمارے سامنے ہے۔ عالم اسلام ان معاہدات کے جبر کا سب سے زیادہ نشانہ ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان اپنی مذہبی و تہذیبی اقدار سے دستبردار ہونے اور مغرب کی لادین ثقافت و فلسفہ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اور اپنے عقیدہ و ثقافت کے ساتھ مسلمانوں کی یہ بے لچک وابستگی دنیا پر مغرب کی تہذیبی بالادستی کی راہ میں ناقابل عبور رکاوٹ کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ مگر ان معاہدات کے بارے میں عالم اسلام کے حکمران طبقات کی برخورداری کا عالم یہ ہے کہ اس کھلے جبر پر کوئی زبانی احتجاج کرنے کا حوصلہ بھی نہیں کر رہا۔ 
کم و بیش نصف صدی قبل انڈونیشیا کے صدر عبد الرحیم احمد سوئیکارنو نے بغاوت کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی تھی مگر کسی طرف سے بھی حمایت نہ پا کر ’’پہلی تنخواہ پر گزارہ‘‘ کرنے میں ہی عافیت محسوس کی تھی۔ اس کے بعد ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد مغرب کے اس معاہداتی جبر اور اقوام متحدہ کے غیر منصفانہ نظام کے خلاف اپنے دور حکومت میں آواز بلند کرتے رہے مگر کوئی شنوائی نہ دیکھ کر خاموش ہوگئے۔ اب ترکی کے صدر محترم رجب طیب اردگان اس میدان میں آئے ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس کھلی دھاندلی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ چنانچہ سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی 4 اکتوبر 2016ء کی رپورٹ کے مطابق :
’’ترکی کے صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے ذریعہ دنیا کو جھنجھوڑنے کی بہت کوشش کی یہاں تک کہہ دیا کہ دنیا پر سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران کی اجارہ داری ہے اور پوری دنیا کی قسمت کا فیصلہ ان کی مٹھی میں ہے۔ ان کے اختیارات نہایت ہی غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر جمہوری ہیں۔ ان کی بدولت انہوں نے پوری دنیا کو غلام بنا رکھا ہے اور اپنے اشاروں پر نچا رہے ہیں۔ یہ پانچ ممالک کبھی بھی کسی دوسرے ملک کو اپنے مفادات کے خلاف قدم اٹھانے کی اجازت نہیں دیتے اور ان تمام قراردادوں کو ویٹو کر دیتے ہیں جو ان کے یا ان کے حامی ملکوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ ان پانچ ویٹو پاور رکھنے والے ملکوں نے اقوام متحدہ پر قبضہ کر رکھا ہے اور ان میں ایک بھی مسلم ملک نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے مسلم ملکوں کے مسائل حل کرنے کی ذرہ برابر بھی سنجیدہ کوشش نہیں ہوتی بلکہ حل کرنے کی بجائے اور الجھا دیا جاتا ہے جبکہ عیسائیت کے معاملہ میں ان کا رویہ دوسرا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد 24 اکتوبر 1945ء کو جن حالات میں اقوام متحدہ کو تشکیل دیا گیا تھا بعد میں اس کے ذیلی ادارے اور ممبران بھی وقت کے لحاظ سے بڑھائے جاتے رہے ، وہ حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ اب دنیا کے تقاضے دوسرے ہیں اس لیے اقوام متحدہ کو بھی دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنا چاہیے اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو اس کے ذریعے دنیا میں امن کے قیام کی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘‘
جناب طیب اردگان کا اقوام متحدہ کے نظم کے بارے میں یہ تبصرہ بالکل حقیقت پسندانہ ہے اور کم و بیش یہی باتیں مہاتیر محمد کرتے رہے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ اکثر مسلمان حکمرانوں کو اس جائز اور مصنفانہ موقف کی تائید کی ابھی تک توفیق نہیں ہوئی اور یہی اس وقت اس حوالہ سے عالم اسلام کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ 
سہ روزہ دعوت دہلی کے اسی شمارے میں ’’معاہدہ لوزان‘‘ کے بارے میں بھی صدر اردگان کے ایک بیان کا حوالہ دیا گیا ہے۔ لوزان کا یہ معاہدہ دوسری جنگ عظیم کی فاتح اقوام اور ترکی کے درمیان 24 جولائی 1923ء کو ہوا تھا جس کے تحت ترکی کو خلافت اسلامیہ دستبردار ہونے، ملک میں رائج شرعی قوانین منسوخ کرنے، اور ترکی کو ایک سیکولر ریاست کی شکل دینے کا پابند کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ 
’’پیمان لوزان (لوزان معاہدہ) جس پر 24 جولائی 1923ء کو دستخط ہوئے تھے ترکوں پر تھوپا ہوا معاہدہ ہے۔ بعض لوگ اسے اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے یہ ترکی پر ان کی فتح تھی۔ انہوں نے ترکی کی مرضی کے خلاف اس پر یہ معاہدہ مسلط کر دیا اور اپنے تئیں یہ باور بھی کر لیا کہ ترکوں نے اسے تسلیم کر لیا ہے۔ نیز اس بنیاد پر انہوں نے دنیا والوں کو بھی یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ انہیں بھی اسے ایک جائز معاہدہ تسلیم کر لینا چاہیے۔ ترک صدر کا کہنا ہے کہ اس معاہدہ کے نتیجے میں ترکی کا ایک نیا نقشہ تیار کیا گیا، اس کے حدود اربعہ طے کیے گئے اور یہ سب کام دوسروں نے ترک عوام کی مرضی جانے بغیر اور ان سے صلاح مشورہ کیے بغیر ہی کر لیا۔‘‘
اقوام متحدہ کے نظام اور لوزان معاہدہ کے بارے میں ترکی کے صدر حافظ رجب طیب اردگان کے ارشادات آپ نے ملاحظہ فرمالیے۔ قارئین جانتے ہیں کہ ہم اس پر کم و بیش تین عشروں سے مسلسل چیخ و پکار کرتے آرہے ہیں اور بیسیوں کالموں میں اس نا انصافی اور عالمی جبر کی طرف عالم اسلام کے ارباب دانش کو توجہ دلانے کی کوشش کر چکے ہیں۔ ارباب اقتدار اور حکمران طبقات تو عالم اسلام میں کسی جگہ اب بھی یہ بات نہیں سنیں گے اور نہ اس طرف توجہ دیں گے لیکن کیا ارباب علم و دانش نے بھی آنکھیں اور کان بند رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟
ہماری درخواست عالم اسلام بالخصوص پاکستان کے علمی اور دینی مراکز سے ہے کہ ان عالمی معاہدات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیا جائے جو مسلم دنیا کو سیاسی، معاشی اور تہذیبی ہر حوالہ سے جکڑے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کی تہذیبی شناخت اور ثقافت کو بھی مجروح کر رہے ہیں۔ ہم انہیں اگر فوری طور پر تبدیل نہیں کر سکتے تو کم از کم نشاندہی تو کر سکتے ہیں اور دنیا کے انصاف پسند لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ تو سکتے ہیں، کیا یہ ’’اضعف الایمان‘‘ درجے کا کام بھی ہماری دسترس میں نہیں رہا؟ فیا اسفاہ۔

مولانا سندھیؒ کی فکر اور اس سے استفادہ کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور میں ’’مجلس یادگار شیخ الاسلاؒ م پاکستان‘‘ کے زیر اہتمام حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے حوالہ سے منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں جو گزارشات پیش کیں، انہیں تھوڑے سے اضافہ کے ساتھ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔ 
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے بارے میں گفتگو کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک مستقل گفتگو کا متقاضی ہے۔ مثلاً ان کا قبول اسلام کیسے ہوا؟ ضلع سیالکوٹ کے گاؤں چیانوالی کے سکھ گھرانے کے ایک نوجوان نے اسلام قبول کیا تو اس کے اسباب کیا تھے اور وہ کن حالات و مراحل سے گزر کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرنے میں اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ بوٹا سنگھ نامی نوجوان جب مسلمان ہوا تو سیالکوٹ سے جام پور اور وہاں سے بھرچونڈی شریف سندھ تک کے سفر کی داستان بھی توجہ کی مستحق ہے۔ بھرچونڈی شریف سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ کی ایک اہم خانقاہ ہے، عارف باللہ حضرت حافظ محمد صدیقؒ اس وقت اس سلسلہ کے سب سے بڑے پیشوا تھے، ان کی خدمت میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی حاضری اور حضرت حافظ صاحبؒ سے استفادہ اور کسبِ فیض ایک مستقل موضوع بحث ہے۔ سیالکوٹ کے ایک نومسلم نوجوان کو وہاں ایسی محبت و شفقت ملی کہ وہ اپنے علاقائی نسبت ہی بھول گیا اور ہمیشہ کے لیے سندھی کا تعارف اختیار کر لیا۔
ابھی ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر امجد علی شاکر اپنے خطاب میں بتا رہے تھے کہ مولانا سندھیؒ پہلے صوفی بنے اور پھر عالم دین بنے۔ وہ اسی بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ یہ مسلم نوجوان پہلے بھرچونڈی شریف کی خانقاہ پہنچا اور پھر وہاں سے دیوبند کی طرف روانہ ہوا۔ اس کے بعد دیوبند میں مولانا سندھی کے تعلیم حاصل کرنے اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ کے ساتھ تعلق، استفادہ اور رفاقت کا دور ہے کہ انہوں نے اپنے وقت کے سب سے بڑے محدث، فقیہ، صوفی اور تحریک آزادی کے عظیم قائد کے معتمد ترین شاگرد اور ساتھی کا مقام کیسے حاصل کر لیا؟
پھر آزادئ وطن کی جدوجہد میں ان کے کردار اور محنت و قربانی کا دور آتا ہے کہ اس عظیم مشن کے لیے صرف اپنے ملک میں محنت نہیں کی بلکہ دنیا بھر میں دربدر کی خاک چھانی اور ایک قومی جدوجہد کو بین الاقوامی تحریک میں تبدیل کر دیا۔ مختلف ملکوں کا یہ سفر ہوائی جہاز اور لگژری کاروں کا نہیں بلکہ پیدل یا زیادہ سے زیادہ عام سطح کی پبلک ٹرانسپورٹ کا تھا۔ اس سفر کی ایک جھلک اس واقعہ میں دیکھی جا سکتی ہے جو میں نے اپنے شیخ محترم حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ سے سنا ہے کہ مولانا سندھیؒ نے حضرت شیخ الہندؒ کے حکم پر کابل کا سفر کرنا تھا، وہ سی آئی ڈی کے تعاقب سے بچنے کے لیے ادھر ادھر گھومتے ہوئے دین پور شریف پہنچے تو وہاں بھی اردگرد مخصوص لوگوں کو نگرانی کرتے ہوئے پایا۔ چند دن وہاں رہے مگر ان کی نگاہوں سے بچ کر نکلنے کی کوئی صورت دکھائی نہ دی۔ ایک دن تیز جلاب کی کوئی دوائی کھالی جس سے سخت اسہال شروع ہوگئے، نگرانوں نے یہ دیکھ کر کہ اب تو یہ دو تین دن تک کسی طرف جانے کے قابل نہیں رہے، نگرانی میں تھوڑی غفلت دکھائی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر مولانا سندھیؒ اسی حالت میں وہاں سے نکلے اور چھپتے چھپاتے قندھار کی طرف روانہ ہوگئے اور اپنی منزل تک پہنچ جانے تک کسی کو محسوس نہ ہونے دیا کہ وہ کون ہیں، کہاں سے آرہے ہیں اور کدھر جا رہے ہیں؟
یہ بات بھی تحقیق و مطالعہ کا اہم موضوع ہے کہ اپنی وطنی تحریک کو بین الاقوامی رخ دینے کے لیے اس مرد قلندر نے کیا کیا پاپڑ بیلے۔ اس وقت سلطنت برطانیہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت شمار ہوتی تھی اور اس کے حریفوں میں جرمنی، خلافت عثمانیہ اور جاپان نمایاں تھے۔ ان تینوں بڑی قوتوں کو ایک منصوبے پر متفق کر کے آزادئ وطن کی قومی تحریک میں تعاون پر آمادہ کرلینا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ اس کے لیے سبھاش چندر بوس، مہندر پرتاب، برکت اللہ بھوپالیؒ ، عبید اللہ سندھیؒ اور محمد میاں انصاریؒ جیسے اصحابِ عزیمت کا حوصلہ کام آیا۔ اس حوصلہ اور اس کے مظاہر سے آج کی دنیا بالخصوص نئی نسل کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ 
مولانا سندھیؒ کی زندگی کا ایک پہلو ایک مفکر اور اجتہادی صلاحیتوں سے بہرہ ور بلند پایہ عالم دین کا بھی ہے، انہوں نے قرآن و سنت کی صرف تعبیر و تشریح نہیں کی بلکہ اپنے دور کی سماجی ضروریات اور معاشی تقاضوں کے ساتھ ان کی تطبیق و توفیق کی راہیں بھی نکالی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان کی ساری تعبیرات کو قبول کیا جائے لیکن ان کا یہ ذوق و جذبہ آج بھی ہم سب کے لیے لائق تقلید ہے کہ قرآن و سنت کے علوم صرف کتب اور درسگاہ کے لیے نہیں ہیں بلکہ ان کا اصل مقام سماج اور معاشرہ ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ اپنے دور کے سماج اور سوسائٹی سے آگاہی بھی ضروری ہے اور ایک مفکر و مجتہد کا اصل کام یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات اور سماج کی ضروریات کے درمیان تطبیق و مفاہمت کی راہیں تلاش کرے اور انسانی سوسائٹی کے مسائل و مشکلات کا قرآن و سنت کی روشنی میں حل پیش کرے۔
میں نے مولانا سندھیؒ کی جدوجہد، خدمات اور حیات کے چند پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور ہمارے فاضل محققین کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ لیکن آج میں ایک اور پہلو کے حوالہ سے بات کرنا چاہوں گا کہ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اپنی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ میں قرآن کریم کے اعجاز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آنے والے دور میں جو نظاموں اور معاشرتی قوانین کے تقابل کا دور ہوگا، اس پہلو کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ قرآن و سنت کا پیش کردہ نظام اور اس کے معاشرتی احکام و قوانین دنیا کے تمام نظاموں سے بہتر ہیں اور انسانی سوسائٹی کے مسائل و مشکلات کو زیادہ بہتر طور پر حل کرتے ہیں۔ 
اس پس منظر میں مولانا سندھیؒ کی علمی و فکری جدوجہد کو دیکھا جائے تو انہوں نے اپنے دور کے عالمی نظاموں کے درمیان مقابلہ کو وسیع تناظر اور گہری نظر سے دیکھا ہے، انہوں نے ہماری طرح اخباری خبروں اور سنی سنائی باتوں پر اپنے فکر و فلسفہ کی بنیاد نہیں رکھی بلکہ خود ان عالمی نظاموں کے مراکز میں جا کر ان کی اکھاڑ پچھاڑ کا ذاتی طور پر مشاہدہ کیا۔ انہوں نے مغرب کے سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام کے مقابلہ میں کمیونزم کے ابھرتے ہوئے طوفان کو ماسکو میں بیٹھ کر دیکھا۔ خلافت عثمانیہ کے بکھرنے کے عمل کا استنبول میں رہ کر مشاہدہ کیا، اور عرب قومیت کے نام پر عالم اسلام کا شیرازہ بکھیرے جانے کے مراحل کو مکہ مکرمہ میں بیٹھ کر سمجھا۔ انہوں نے مغرب کے سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام کے مقابلہ میں ابھرتے ہوئے سوشلزم کی ان حالات کے تناظر میں تحسین ضرور کی لیکن یہ بات بھی دوٹوک انداز میں واضح کی کہ انسانی سوسائٹی کے مسائل کا اصل حل صرف قرآن کریم میں ہے اور اس کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و فلسفہ کو راہ نما بنانے کی ضرورت ہے۔ 
مولانا سندھیؒ کو اس بات کا زندگی بھر قلق رہا کہ ہم مسلمانوں کے پاس اسلام کے عادلانہ سماجی نظام کا کوئی عملی نمونہ عصر حاضر میں موجود نہیں ہے اس لیے سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظاموں سے نجات حاصل کرنے کے لیے دنیا کو کمیونزم اور سوشلزم کی طرف رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔ اور وہ اس نمونہ کے قیام کے لیے ساری زندگی محنت کرتے رہے۔ 
البتہ ان کا دور نظاموں کے تقابل کا دور تھا اور انہوں نے اپنے دور کے نظاموں کے باہمی مقابلہ کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و فلسفہ کی طرف لوگوں کی راہنمائی کی۔ مولانا سندھیؒ کی بعض تعبیرات و تشریحات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی اس بات سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اپنے دور کے مسائل اور تقاضوں کو براہ راست معروضی حالات کے تحت سمجھنا ضروری ہے اور انسانی سوسائٹی کی راہنمائی کے لیے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و فلسفہ سے راہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ 
اس پس منظر میں ایک طالب علمانہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پچھلی صدی نظاموں کے ٹکراؤ کی صدی تھی مگر آج کا دور تہذیبوں کے تصادم کا دور ہے۔ مغرب کی تہذیب و ثقافت پوری دنیا بالخصوص عالم اسلام کو اپنے دائرے میں سمیٹ لینے کے چکر میں ہے۔ اس لیے آج کے علماء کرام اور دانش وروں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ تہذیبوں کے اس تصادم اور ثقافتوں کے اس ٹکراؤ کو سمجھنے کی کوشش کریں، آج کے عصر کا ادراک حاصل کریں، اور اس سولائزیشن وار میں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں امت مسلمہ بلکہ نوع انسانی کی راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیں جس کے لیے ولی اللہی فکر و فلسفہ کی روشنی آج بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ میرے نزدیک آج کی نسل کے لیے مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا پیغام یہی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمت راہنمائی کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

الشیخ محمد امین: راہِ علم کا ایک مسافر

ڈاکٹر حافظ محمد رشید

عید الفطر کا دوسرا روز تھا ۔ استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم نے الشریعہ اکادمی میں یاد فرمایا۔ پہنچا تو استاد گرامی کے ساتھ ایک ملائیشی بزرگ تشریف رکھتے تھے ۔ استاد گرامی نے تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ یہ ملائیشیا سے سفر کر کے آئے ہیں اور حضرت شاہ ولی اللہؒ کے علوم وافکار میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انگلش اور عربی جانتے ہیں۔ ان سے یہاں قیام کی ترتیب اور مقصد کے بارے میں تفصیلی معلومات لے لیں۔ میں نے ان سے آمد کا مقصد پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ التفہیمات الالہیۃ کا عربی حصہ میں نظر سے گزار چکا ہوں،مجھے ملائشیا میں فارسی جاننے والا اور خصوصاً تفہیمات کے فارسی حصہ کو سمجھنے والا کوئی نہیں ملا۔ اس لیے اس حصے کو سمجھنے کے لیے پاکستان آیا ہوں۔ استاد گرامی کو آگاہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ کام تو مولانا عمار خان ناصر کے کرنے کا ہے ، لیکن وہ عین انھی دنوں میں امریکا کے لیے رخت سفر باندھ رہے تھے۔
مولانا عمار خان ناصر نے بھی مہمان کے ساتھ تفصیلی نشست کی۔ ہماری رائے یہ ہوئی کہ ان کی چند ایسے اصحاب علم سے ملاقات کروا دی جائے جو اس موضوع پر معلومات و مطالعہ کے حامل ہیں، لیکن مہمان نے کہا کہ میں محض تفہیمات کے فارسی حصہ کو سمجھنا چاہتا ہوں اور کسی سے ملاقات کا خواہش مند نہیں ہوں۔ چنانچہ ان کی خواہش کے مطابق طے ہوا کہ استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی تفہیمات کا فارسی حصہ راقم کو سمجھائیں گے اور پھر میں مہمان کو اس کا ترجمہ لکھوا دیا کروں گا۔ 
یہ مہمان ملائیشیا کے نو مسلم بزرگ محمد امین چنگ بن عبد اللہ تھے جو عید الفطر کے دوسرے روز الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے اور 16 اکتوبر تک یہاں مقیم رہ کر استاد گرامی سے تفہیمات کا فارسی حصہ سمجھتے رہے۔ ان کا مختصر تعارف حسب ذیل ہے۔
ان کا پورا نام محمد امین چنگ ہے۔ 7ستمبر 1950ء کو جارج ٹاؤن ، پولاؤ، پنینگ (GeorgeTown, Pulau, Pinang) میں پیدا ہوئے جو کہ ملائشیا کا ایک جزیرہ ہے۔والد کانام چنگ تزی نن(Cheng Tze Nen) ہے۔ چین سے ہجرت کر کے ملائشیا آئے۔ ایک ٹیچر کی زندگی گزاری اور بطور ہیڈ ماسٹر ریٹائر ہوئے۔ ملائیشیا میں اسلام قبول کرنے والوں کی شناخت کے لیے ان کی ولدیت میں مستقل طور پر ’’ عبد اللہ ‘‘ لکھا جاتا ہے ، اس لیے یہ اپنے نام کے ساتھ ’’محمد امین چنگ بن عبد اللہ ‘‘ لکھتے ہیں۔ والدہ کا نام کینٹو نیسا چیونگ لائی کوئن(Cantonese Cheong Lai Kuen) ہے، ان کا خاندان بھی چین سے ہجرت کر کے ملائیشیا آیا اور اب غالباً ان کی پانچویں پشت ملائشیا میں آباد ہے۔ ان کی فیملی میں ان کے علاوہ دو بہنیں اور ایک بھائی شامل ہے۔ بہن کانام چنگ شاؤن فنگ (Cheng Shwn Feng)ہے جن کی عمر ۸۰ سال ہے ۔ ابھی تک حیات ہیں اور ایک ریٹائرڈ ٹیچر کی زندگی گزار رہی ہیں ۔ دوسری بہن کا نام چنگ سو فنگ ( Cheng Soo Feng)ہے جن کی عمر ۷۴ سال ہے۔ ابھی تک حیات ہیں اور بطور نرس ملازمت کرنے کے بعد اب ایک نرسنگ ہوم چلا رہی ہیں ۔ بھائی چنگ شانگ شو(Cheng Shang Show) ہیں ، عمر ۷۲ سال اور ہسپتال اسسٹنٹ کے عہدہ سے ریٹائرڈ زندگی بسر کر رہے ہیں ۔آبائی زبان چائنیز ہے،قومی زبان ملائے ہے لیکن گھر میں عام طور پرگفتگو کے لیے انگریزی استعمال ہوتی ہے۔
انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم (سینئر کیمبرج تک) مقامی سکول میں حاصل کی، لیکن جس سکول میں پڑھتے تھے، وہاں ذریعہ تعلیم انگلش تھا اور ملائے زبان سیکنڈ لینگوئج کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ اس کے بعدایک سال تک مابعد ثانوی تعلیم حاصل کی اور پھر امریکہ کے سفر پر روانہ ہوئے اور دو سال (1969-71) وہاں رہے۔ وہیں سے یورپ کا سفر کیا اور تقریباً پورے یورپ کی سیاحت کا لطف اٹھایا۔ ان کا آبائی مذہب بدھ مت تھا لیکن ان کے بقول ان دنوں وہ مختلف گروہوں کے ساتھ گھومتے رہے۔ ان میں عیسائی، بدھ اور ہندوؤں کے کچھ گروہ بھی شامل تھے، خصوصاً ایسے گروہ جو کسی قدر تصوف کی طرف رجحان رکھتے تھے اور جن کے اعمال کا بڑا حصہ مراقبہ ، دھیان گیان وغیرہ پر مشتمل تھا ۔ وہاں سے واپسی پر انہوں نے معاشی ذرائع اپنائے اور ابتدائی طور پر ایک اسکول بک ایڈیٹنگ کمپنی میں بطور ایڈیٹر نوکری کی۔ کمپنی کا نام ’’ پان پیسفک بک کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ، سنگاپور ‘‘ تھا ۔ ۷۰ کی دہائی میں یہ اسی کمپنی میں ملازمت کرتے رہے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ٹی وی چینل ’’ TV3‘‘ کو بطور اسسٹنٹ پروڈیوسر کے جوائن کیااور اس کے اسٹیشن کولالمپور میں تعینات رہے ۔ ۸۰ کی دہائی میں انہوں نے اسی چینل میں کام کیا ۔ اس میں ان کا کام مختلف موضوعات پر دستاویزی فلمیں بنانے کا تھا۔
اسلام سے ان کی شناسائی محض اس قدر تھی کہ ملائیشیا کی اکثرآبادی کا مذہب اسلام تھا۔یہ شناسائی تفصیلی تعارف میں کیسے تبدیل ہوئی؟ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ملائیشیا میں مسلمانوں کی دو سیاسی جماعتیں تھیں جن میں سے ایک ڈیمو کریٹک نظریات کی نمائندہ تھی اور دوسری کنزرویٹو نظریات کی۔ 1985ء میں ملائیشیا میں ایک ’’ امام ‘‘ تحریک شروع ہوئی جس کا پس منظر یہ تھا کہ مساجد میں دو عہدے ہوتے تھے، امام اور نائب امام ۔ دونوں جماعتوں میں اس بات کی کشمکش شروع ہوئی کہ مساجد میں موجود ان دو عہدوں (امام و نائب امام) پر ہمارے موقف سے اتفاق رکھنے والے امام مقرر کیے جائیں ۔ اس کشمکش میں اس قدر شدت آئی کہ سخت قسم کی محاذ آرائی شروع ہو گئی ۔ اس تحریک میں محمد امین TV3کی طرف سے کوریج پر مامور تھے ۔ اس تحریک نے پورے ملک کو متاثر کیا ۔ کوریج کے دوران ان کو مسلمانوں کے معاشرتی نظام ، خاندانی نظام اور نظریاتی پس منظر کو جاننے کے لیے مطالعہ کرنے کی ضرورت پڑی ۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اسلام کا تفصیلی مطالعہ شروع کیا جس کے نتیجے میں اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہوئے۔
اسی دوران انہوں نے ایک خواب دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں تسبیح دی گئی ہے اور وہ اس پر کچھ ورد کر رہے ہیں۔ ملائشیا میں چونکہ تسبیح مسلمانوں کی شناخت تھی ، اس لیے یہ بھی اسلام قبول کرنے کی طرف اشارہ تھا ۔اسی دوران رمضان کی آمد ہوئی اور انہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی پورا رمضان روزے رکھے۔ انہوں نے قبول اسلام کی ایک وجہ یہ بھی بتائی کہ ان کو بچپن سے ہی سر میں درد رہتا تھا ۔ جب یہ اذکار میں سے کوئی ذکر کرتے تو انہیں اس سر درد میں بہت افاقہ محسوس ہوتا جس کی وجہ سے وہ اسلام قبول کرنے پر تیار ہوئے ۔ رمضان گزرنے پر TV3کے مالک کو اپنے اسلام قبول کرنے کی خواہش کا بتایا جنہوں نے ان کے قبول اسلام کے انتظامات کیے ۔ اس طرح انہوں نے 1987ء میں اسلام قبول کیا۔ TV3کے مالک خود نقشبندی سلسلے سے منسلک تھے، انہیں کی راہنمائی میں یہ بھی نقشبندی سلسلے سے منسلک ہو گئے اورنہ صرف نقشبندی سلوک کے تمام مراحل طے کیے بلکہ حضرت مجدد ؒ کی تعلیمات کا گہرامطالعہ بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملائشیامیں جس نقشبندی گروہ کے ساتھ ان کا تعلق ہے، وہ ’ نقشبندی مجددی خالدی جبل ترکی ‘کے نام سے موسوم ہے ۔ اس گروہ کے طریق کے بارے میں ایک بات انہوں نے یہ بتائی کہ اس گروہ میں عموماً چھ ماہ بعد کسی پر فضا مقام پر کیمپ لگایا جاتا ہے جس کو ’عزلہ‘ کہا جاتا ہے ، سب منتسبین وہاں ایک یا دو ہفتے کے لیے جمع ہوتے ہیں اور ذکر و اذکار کی پہلے سے طے شدہ ترتیب سے معمولات بجا لاتے ہیں ۔ اسی جماعت سے متعلق ایک خاتون سے انہوں نے 1992ء میں شادی کی ، لیکن یہ شادی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی۔
اسی اثناء میں انہوں نے اپنے گھر کے قریب واقع ایک دینی مدرسہ سے باقاعدہ عربی زبان کی تعلیم حاصل کی ۔ نقشبندی سلسلہ میں ان کے ایک دوست تھے جو شاہ ولی اللہ کے فلسفہ سے کافی متاثر تھے ۔ ان کے توجہ دلانے پر انہوں نے شاہ صاحب ؒ کی کتب کا مطالعہ شروع کیا اور اس وقت وہ حقائق کو پرکھنے کے مغربی سائنسی نظریہ اور حضرت شاہ ولی اللہ کے فکر و فلسفہ کے مابین مماثلت کے موضوع پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس وقت مغرب کا سائنسی نظریہ غالب ہے اور اس کا مقابلہ یا اس سے ہم آہنگی اگر کسی شخصیت کی فکر میں پائی جاتی ہے تو وہ شاہ ولی اللہ ہیں ۔ اس لیے ان کے افکار کا مطالعہ اہل مغرب اور ان کے نظریہ سے متاثر افراد میں دعوت دین کے لیے انتہائی ضروری ہے ۔اسی مقصد کے لیے وہ شاہ ولی اللہ ؒ کے لٹریچر کا مطالعہ کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں تفہیمات الہیہ کے فارسی حصہ کو سمجھنے کے لیے پہلے انہوں نے انڈیا کا سفر کیا اور ندوۃ العلماء میں تین ماہ قیام کیا۔ اسی مقصد کے لیے وہ پاکستان تشریف لائے۔ ان کے علاقے میں دار القرآن فیصل آباد کی ایک شاخ قائم ہے جس کو مولانا قاری محمد یاسین صاحب کے ایک شاگرد چلا رہے ہیں ۔ ان کی وساطت سے وہ دار القرآن فیصل آباد آئے اور ایک ماہ وہاں قیام کرنے کے بعد وہاں کے احباب کی راہنمائی میں گوجرانوالہ استاد گرامی کے پاس تشریف لائے۔ گوجرانوالہ آنے کی ایک وجہ انہوں نے یہ بھی بتائی کہ امریکہ کی ایک نو مسلم خاتون دانش ور ڈاکٹر ایم کے ہرمینسن نے اپنے ایک مضمون میں گوجرانوالہ کا تذکرہ کیا ہے کہ وہ حضرت شاہ ولی اللہ کے فکر و فلسفہ پر اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے کی تکمیل کے سلسلے میں گوجرانوالہ آئی تھیں ۔ وہ مضمون ان کے پاس موجود تھا۔ اصل میں ڈاکٹر ہرمینسن مفسر قرآن مولانا صوفی عبد الحمید سواتی ؒ سے استفادہ کے لیے گوجرانوالہ آئی تھیں اور جامعہ نصرۃ العلوم میں انہوں نے حضرت صوفی صاحب ؒ سے اس غرض سے ملاقات بھی کی تھی۔ اس مضمون میں اسی ملاقات کی طرف اشارہ ہے ۔ 
الشریعہ اکادمی میں قیام کے دوران میں میری شیخ محمد امین کے ساتھ ایک مترجم کی حیثیت سے مسلسل رفاقت رہی ۔ استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی ایک یا دو تفہیمات مجھے سمجھا دیتے جو میں ان کو عربی میں ترجمہ کروا دیتا اور اگلے سبق میں وہ یہ ترجمہ استاد محترم کو چیک کروا کر اصلاح لے لیتے۔ جہاں کوئی بات سمجھ نہ آتی، اس کو دوبارہ سمجھ لیا جاتا۔ اس کے علاوہ ان کے کھانے پینے اور دیگر معاملات میں ان کی ضروریات کی دیکھ بھال کے حوالے سے بھی مجھے خدمت کا موقع ملا۔ اس سارے عرصے میں ان کو سادگی کا پیکر اور تکلفات سے کوسوں دور پایا ۔ ان کے پاس لباس کی مد میں صرف دو جوڑے تھے ۔ ہم نے بارہا ان سے درخواست کی کہ آپ کپڑے دھونے کے لیے ہمارے حوالے کر دیا کریں، لیکن انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا ۔ انتہائی قلیل غذا استعمال کرتے ۔ کبھی ہم سے کھانے کی بروقت فراہمی میں سستی ہو جاتی تو خود کبھی نہیں مانگتے تھے بلکہ قریبی بازار میں جا کر کسی ہوٹل سے کھانا کھا لیتے۔ ہم نے دو طلبہ کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ ان کے کھانے کے اوقات کا خیال رکھیں، لیکن انہوں نے کبھی ان سے بھی کوئی کام نہیں کہا ۔ اپنے سارے کام خود کرتے تھے۔ دو چیزوں کا انتہائی اہتمام کرتے، ایک یہ کہ سبق کا ناغہ نہ ہو۔ استاد گرامی کے اسفار یا میری سستی کی وجہ سے ہفتے میں ایک آدھ دن کا ناغہ ہو جاتا تو ان دنوں میں اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لیے نیٹ سے شاہ صاحب ؒ کے فلسفہ سے متعلق کتابیں ڈاؤن لوڈ کر لیتے۔ ان کے پاس شاہ صاحبؒ کے فلسفے سے متعلق چند انگریزی کتابیں بھی تھیں، فارغ اوقات میں ان کا مطالعہ کرتے رہتے۔دوسرا، نماز کے انتہائی پابند تھے ۔ نماز کے اوقات میں فوراً اپنے کام چھوڑ کر مسجد کی طرف چلے جاتے۔ جتنا عرصہ وہ اکادمی میں رہے، بہت کم ایسا ہوا کہ تکبیرہ اولیٰ ان سے رہ گئی ہو ۔
ایک دن گوجرانوالہ کے راستو ں سے موٹر سائیکل پر گزرتے ہوئے ٹوٹی ہوئی سڑک کی وجہ سے کافی ہچکولے لگے تو میں نے ان سے پوچھا :What about the roads in Malaysia?۔ انہوں نے جواب میں کہا ، Far batter!۔ اس کے بعد میں نے پھر کبھی کسی چیز کے بارے میں ان سے اس طرح کا سوال نہیں پوچھا۔ پاسپورٹ آفس میں داخل ہوتے ہوئے انہوں نے اپنے بٹوے سے کچھ پیسے نکال کر مجھے دینے چاہے تو میں نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ کوئی بات نہیں ، میرے پاس پیسے ہیں۔ انہوں نے ہاتھ کے دباؤ سے مجھے لینے کی تاکید کی اور کہا : Keep it , It is bakhshish.They don't work without this.۔ مجھے بڑی شرم آئی اور میرے ذہن میں آیا کہ انہیں اسلام آباد سے ویزا کی توسیع کا لیٹر لینے میں اس طرح کے حالات کا سامنا ہوا ہو گا جس کی وجہ سے وہ ایسا کر رہے ہیں ۔
نقشبندی سلسلہ سے متعلق ہونے کی وجہ سے انہوں نے حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے مکتوبات کا انتہائی گہرائی سے مطالعہ کیا تھا اور سلوک کے تمام مراحل سے نہ صرف واقف تھے بلکہ ان سے گزرے بھی تھے۔ تفہیمات کے ترجمہ کے دورا ن شاہ صاحب ؒ اور حضرت مجدد ؒ کے فلسفہ کے درمیان تقابل پر بھی گفتگو کرتے کہ یہ چیز شاہ صاحب ؒ کے ہاں زیادہ منظم اور منقح ہے اور حضرت مجدد ؒ کے ہاں یہ اس طرح بیان ہوئی ہے ۔ان کی دلچسپی کا موضوع موسمیاتی سائنس (Environmantel Science) تھا ۔ جگہ جگہ اس بات پر زور دیتے کہ شاہ صاحب ؒ نے افلاک کی حرکات کے انسانوں پر اثرات کا جو ذکر کیا ہے، وہ اسی سائنس سے متعلق ہے اور اس پر دلائل بھی دیتے کہ دیکھو آج سپیس سائنس نے اس کو ثابت کر دیا ہے کہ خلا میں تبدیلیوں کے زمین پر اثرات ہوتے ہیں۔ شاہ صاحب ؒ کے مکاشف اور مابعد الطبیعیاتی احوال کے بارے میں بارہا فرمایا کہ ان تمام چیزوں کو تجربے سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ کبھی میں کسی بات پر تعجب کا اظہار کرتا کہ یہ شاہ صاحب ؒ کیا فرما رہے ہیں تو کہتے ’’ھو فی الحال‘‘۔ 
شاہ صاحبؒ کا فلسفہ پڑھنے سے ان کا مطمح نظر سائنسی نظریہ تحقیق (Scientific method)سے اس کا تقابل و تماثل دیکھنا تھا ۔ اس لیے دوران درس سائنس کے نظریات کا حوالہ دیتے کہ شاہ صاحب ؒ کی یہ بات سائنس کی اس بات کے موافق ہے ۔ ان کی بڑی خواہش تھی کہ وہ ہدایۃ الحکمۃ کسی استاد سے پڑھ لیں۔ اس کی دو وجوہات تھیں ، ایک یہ کہ ان کے گھر کے قریب جو مدرسہ قائم تھا، اس کے نصاب میں یہ کتاب شامل تھی لیکن وہاںیہ کتاب پڑھانے والا کوئی استاد نہیں تھا ، اور دوسرا اس وجہ سے کہ ان کے خیال میں اس کتاب میں شاہ صاحب ؒ کی بہت سی اصطلاحات کی نہایت عمدہ تشریح کی گئی ہے۔ اسی مقصد کے لیے ہم استاد گرامی کی سفارش لے کر گوجرانوالہ کے مشہور عالم مولانا داؤد احمد صاحب کے پاس بھی گئے اور ان سے یہ کتاب پڑھانے کی درخواست کی، لیکن وقت کی قلت کے باعث یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ اس کا انہوں نے یہ حل نکالاکہ نیٹ سے اس کتاب کا انگلش ترجمہ تلاش کیا اور پرنٹ کروا کر اسے اپنے مطالعہ میں رکھا اور اپنے قیام کے دوران ساری کتاب کامطالعہ کر لیا۔
بعض وجوہات کی بنا پر ان کا خیال یہ تھا کہ شاہ صاحب ؒ کی اصطلاحات کی تسہیل سب سے زیادہ ایرانیوں نے کی ہے اور انہوں نے شاہ صاحب ؒ کے فلسفے کو عملی طور پر آزمایا ہے ، اسی لیے وہ کہتے تھے کہ میں واپس جا کر شاہ صاحب ؒ کے فلسفے اور ایرانی فلسفے کا تقابل کروں گا۔ ان میں سے مجھے جو مغربی سائنسی فکر کے زیادہ مناسب لگا، اس کے مطابق کام کو آگے بڑھاؤں گا اور دوسرے کو چھوڑ دوں گا۔میں نے استاد گرامی کو اس بارے میں بتایا تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان کی نظر سے میرے وہ مضامین گزرنے چاہیے جو خلافت کے ایرانی تصور امامت کے بارے میں، میں نے لکھے ہیں تاکہ وہ اصل تناظر میں ایرانی فلسفے کا مطالعہ کر سکیں، لیکن وقت کی قلت کی وجہ سے یہ کام نہ ہو سکا ، اللہ کرے کہ اس کا کوئی انتظام ہو سکے کیوں کہ استاد گرامی کے مضامین اردو میں ہیں اور ان کو اردو نہیں آتی۔ لعل اللہ یحدث بعد ذالک امرا۔ 
تفہیمات کی دو جلدیں ہیں۔ شیخ محمد امین کے قیام کے دوران صرف ایک جلد کا فارسی حصہ ہی مکمل ہو سکا۔ دوسری جلد کے بارے میں یہ طے ہوا کہ استاد گرامی کی مصروفیات کو دیکھتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو سکے گا، اس کا ترجمہ بذریعہ ای میل ان کو بھیج دیا جائے گا۔ اپنے قیام کے دوران وہ دو مرتبہ لاہور بھی گئے اور تحریک فکر ولی اللہی کے مرکز جامعہ رحیمیہ میں دو دن قیام کیا۔ وہاں کے ذمہ داران سے تو خاطر خواہ گفتگو نہ ہو سکی، لیکن وہاں انہوں نے پروفیسر محمد اقبال صاحب کو تلاش کر لیا جو حضر ت مجدد ؒ کے مکتوبات پر کافی گہرا مطالعہ رکھتے ہیں۔ ملاقات میں حضرت مجدد ؒ اور نقشبندی سلسلہ کے بارے میں ان سے کافی استفادہ کیا، ان سے کچھ کتب کی انہوں نے تصاویر بھی لیں ۔ ان سے حضرت مجدد ؒ کے مکتوبات کے انگلش ترجمہ اور نقشبندی سلسلہ کے مراتب کے حوالے سے شیخ وجیہ الدین صاحب کی ایک کتاب کا پتہ چلا ۔ ملائشیا روانگی سے پہلے 14اکتوبر کو شیخ وجیہ الدین صاحب سے ملاقات کی غرض سے ہم ان کے ساتھ لاہور روانہ ہوئے اورمولانا قاری محمد رمضان صاحب کے پاس مکی مسجد میں قیام کیا۔ قاری صاحب کے صاحبزادہ مولانا عثمان صاحب کی راہنمائی میں شیخ صاحب کی مسجد میں پہنچے تو پتہ چلا کہ وہ شدید بیمار ہیں اور ہسپتال میں داخل ہیں، اس لیے ان سے ملاقات ممکن نہیں ۔ وہاں احباب سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ان کے صاحبزادہ سے مطلوبہ کتابیں مل سکتی ہیں، لیکن وہ بھی ان کی خدمت میں مصروف ہیں ۔ بڑی پریشانی ہوئی ، پھر اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا تو شیخ صاحب کے ایک مرید ملے، انہیں صورتحال سے آگاہ کیا کہ شیخ محمد امین ملائشیا سے آئے ہیں، کتاب کے شائق ہیں ، کوئی بندوبست فرمائیں ۔ انہوں نے بڑی تگ و دو کے بعد کتاب کا بندوبست کر دیا ۔ اللہ ان کو جزائے خیر عطا کرے۔
دو دن شیخ محمد امین مکی مسجد میں ہی رہے۔ 16اکتوبر کو ان کی واپسی کی فلائیٹ تھی جس سے وہ مقررہ وقت پر ملائشیا کے لیے روانہ ہو گئے۔

اسلام کا دستوری قانون اور سیاسی نظام (۱)

برِعظیم پاکستان و ہند کے فتاویٰ کا تجزیاتی مطالعہ

ڈاکٹر محمد ارشد

ابتدائیہ

برعظیم پاکستان و وہند میں اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام سے متعلق بعض مسائل، با لخصوص خلیفہ کی اہلیت کے شرائط (قرشیت وغیرہ) ، سے متعلق علماء کے ہاں بحث و مباحثہ کا آغازتحریک خلافت کے دنوں میں (۱۹۱۸۔۱۹۲۲ء) ہوا۔ تحریک خلافت کے مخالف علماء نے ترکانِ عثمانی کی خلافت کی شرعی حیثیت کو چیلنج کیا، کہ ان کی نظر میں عثمانی خلفاء منصب خلافت کی ایک اساسی شرط، شرط قرشیت کو پورا نہ کرتے تھے (۱)۔ جب کہ تحریک خلافت کے حامی و مؤید علماء نے عثمانی خلافت کو شرعی طور پر جائز تسلیم کیا اور شرطِ قرشیت کی ایک مختلف تعبیر پیش کی(۲) ۔تحریک خلافت کے مخالف علماء کی رائے کے برعکس علماء کی اکثریت کی رائے یہ ٹھیری کہ منصبِ خلافت کے لیے ’’قریشیت ہو تو افضل ہے نہ ہو تو غیر قریشی قابل بھی ہو سکتا ہے‘‘(۳)۔ اسلام کے دستوری قانون پر بحث و گفتگو کو خطباتِ اقبال (تشکیل جدید الٰہیاتِ اسلامیہ) سے بھی مہمیز ملی۔ علامہ محمد اقبال نے اپنے مشہور خطبے ’’الاجتہاد فی الاسلام‘‘ میں انفرادی اجتہاد کے بجائے اجتماعی اجتہاد پر زور دیا اور دور جدید کی مجالس قانون ساز (پارلیمان) کے حق اجتہاد اور قانون سازی کی وکالت کی۔مزید براں ملوکیت و آمریت کے برخلاف جمہوری و نمائندہ طرزِحکومت کے تصور کو اسلام کے سیاسی قانون کا مقصود مطلوب قرار دیا(۴)۔ 
طبقۂ علماء کے ہاں اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام پر بحث و گفتگو کا آغاز ۱۹۴۰ء کی دہائی کے آغاز سے ہوا۔ تحریک پاکستان کے آغاز میں ہی (۱۹۴۰ء کے لگ بھگ) اسلام کے دستوری قانون اور نظامِ حکومت کے ایک خاکے (blueprint) کی تدوین بعض قائدین تحریک پاکستان کی توجہ کا مرکز بنی تو انہوں نے اس کے لیے علماء کی طرف رجوع کیا۔ ممتاز مسلم لیگی رہنما نواب سر محمد اسماعیل (۱۸۸۶۔۱۹۵۸ء) نے نواب سعید چھتاری(م ۱۹۸۲ء) کی سرکردگی میں مولانا سید سلیمان ندوی ( ۱۸ ۔۱۹۵۳ء)،مولانا آزاد سبحانی (۱۸۸۲۔۱۹۵۷ء)، مولانا عبدالماجد دریابادی (۱۸۹۲۔۱۹۷۸ء)، مولانا عبدالحامد بدایونی(۱۹۰۰۔۱۹۷۰ء) اور ڈاکٹر ذاکر حسین وغیرہ پر مشتمل ایک مجلس (مجلس نظام اسلامی) تشکیل دی گئی۔مجلس کے کنوینر سید سلیمان ندوی نے اسلامی دستور کے مہمات مسائل پر غور و فکر کے ساتھ ساتھ متعدد دیگر اہل فکر و علم : مولانا ابوالبرکات عبدالرؤف دانا پوری (۱۸۸۴۔۱۹۴۸ء)، ڈاکٹر سید ظفر الحسن (م ۱۹۴۹ء) اورمولانا سید مناظر احسن گیلانی (۱۸۹۲۔۱۹۵۶ء) وغیرہ) کو اسلامی دستور کا خاکہ مرتب کرنے کی غرض سے تجاویز پیش کرنے کا کہا (۵)۔چنانچہ مجلس نظامِ اسلامی نے طویل غور وفکر اور اہل علم و فکر سے استصواب رائے کے بعد اسلام کے سیاسی نظام کا ایک دستورالعمل مرتب کیا۔اس دستور العمل کی تدوین کا کام مولانا محمد اسحاق صدیقی سندیلوی کو تفویض کیا گیا۔تاہم ان کا مرتب کردہ اسلامی دستور اورسیاسی نظام العمل کا خاکہ ۱۹۵۶ء سے قبل اشاعت پذیر ہو کر منظر عام پر نہ آسکا (۶)۔
جون ۹۴۷اء میں تقسیم ہند کے اعلان کے ساتھ ہی مستقبل قریب میں قیام پذیر ہونے والی مسلم ریاست ’’پاکستان‘‘ کے دستور اور اس کے نظام حکومت پر بحث کا آغاز ہوا۔ نو مسلم فاضل محمد اسد (۱۹۰۰۔۱۹۹۲ء) نے اپنی زیر ادارت شائع ہونے والے ماہنامے عرفات کے شمارہ بابت جولائی ۱۹۴۷ء، میں قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی دستور کے اصول و مبادی کی توضیح و تشریح کا آغاز کیا (۷)جبکہ مارچ ۱۹۴۸ء میں ’’اصول دستور اسلامی‘‘ کے عنوان سے اسلامی دستور کا ایک خاکہ مرتب کر کے شائع کیا (۸)۔محمد اسد کے علاوہ بانئ جماعتِ اسلامی، سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنے خطبات اور تحریروں میں اسلامی دستور کے بنیادی اصول کی توضیح و تنقیح کی اور علمی و فکر ی نیز سیاسی محاذ پر اسلامی دستور کی تدوین و تنفیذ کا مقدمہ بڑی قوت و طاقت سے پیش کیا۔سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کی فکر سے متأثر اہل قلم نے ماہنامہ ترجمان القرآن میں اپنی تحریروں میں تواتر کے ساتھ اسلام کے سیاسی نظام کے خدوخال کی وضاحت کی (۹؍ا)۔
قیام پاکستان کے بعد تحریک پاکستان میں سرگرم عمل علماء ،جو پاکستان کو ایک اسلامی ریاست کے بطور دیکھنے کے آرزو مند تھے، مملکت کے دستور اور سیاسی نظام کو اسلام کے اصول و احکام پر استوار کرنے کامطالبہ لے کر اٹھے ۔ چنانچہ علامہ شبیر احمد عثمانی (۱۸۸۶۔۱۹۴۹ء) اور ان کے ہم خیال ارکانِ دستور ساز اسمبلی خصوصاًڈاکٹر عمر حیات ملک (۱۸۹۴۔۱۹۸۲ء) وغیرہ کی مساعی کا نتیجہ مجلس دستور ساز کی طرف سے قرار داد مقاصد کی منظوری (مارچ ۱۹۴۹ء)کی صورت میں نکلا (۹؍ب)۔ بعد ازاں مختلف مکاتب فکر کے نمائندہ علماء کی ایک مجلس نے اسلامی دستور سازی کے سلسلہ میں تجاویز مرتب کیں جو علماء کے بائیس نکات کے نام سے مشہور ہوئیں (۱۰) ۔ خود مجلس دستور ساز کی طرف سے دستورسازی کے سلسلہ میں تجاویز ؍ اسلامی دستور کے خاکہ کی تدوین کے لیے تشکیل کردہ اسلامی تعلیمات بورڈ ( جس کے ارکان میں سید سلیمان ندوی، مفتی محمد شفیع، ڈاکٹر محمد حمیداللہ، مولانا ظفر احمد انصاری، پروفیسر عبدالخالق اور مولانا جعفر حسین مجتہدوغیرہ شامل تھے) نے بھی اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام سے متعلق تجاویز مرتب کیں (۱۱)۔ 
جنرل محمد ایوب کے عہد حکومت میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کے بطور صدارتی امید وار کے منظرِ عام پر آنے پر اسلامی مملکت میں سربراہِ ریاست و حکومت کی اہلیت کے شرائط اور عورت کی حکمرانی کے مسئلہ نے علماء کی توجہ اپنی طرف مبذول کی(۱۲)۔ مابعد ادوار میں خصوصا۱۹۷۳ء میں آئین کی تدوین اور بعد ازاں جنرل محمد ضیاء الحق کی طرف سے ۱۹۸۳ء کے آئین کی تشکیل نو کی غرض سے انصاری کمیشن کے قیام (۱۹۸۲ء) ، ہر دو مواقع پر علماء نے دستوری و سیاسی مسائل پر بحث و مباحثہ میں پوری سرگرمی سے حصہ لیا (۱۳)۔ علماء نے ان مواقع پر دستوری و سیاسی مسائل پر رسائل تصنیف کیے اور فتاویٰ بھی جاری کیے۔ بعد ازاں۱۹۸۸ء اور پھر ۱۹۹۳ء میں بینظیر بھٹو کی طرف سے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر عورت کی حکمرانی کے مسئلہ پر علماء نے بڑے شدومد سے مباحثہ میں حصہ لیا۔چنانچہ عورت کی حکمرانی کی حرمت میں کثیر تعداد میں رسائل و مقالات اور فتاویٰ منظر عام پر آئے۔
سطور ذیل میں ۱۹۴۹ء میں قرارداد مقاصد کی منظوری سے لے کر پاکستان میں بینظیر بھٹوکے دوسرے دورِ حکومت کے اختتام (۱۹۹۶ء) تک اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام کے متعلق پاکستان و ہند کے علمائے اہل سنت کے تینوں مکاتبِ فکر ( دیوبندی، اہلحدیث اور بریلوی ) کے فتاویٰ کا تنقیدی مطالعہ پیش کیا جائے گا۔

امہات دستوری مسائل

مملکت پاکستان کے لیے اسلامی دستور کی تدوین کی جدوجہد کے دوران میں وہ دستوری و سیاسی مسائل جو علما سے قرآن و سنت اور تاریخی نظائر (خصوصا خلافت راشدہ) کی روشنی میں توضیحات و تشریحات کا تقاضا کر رہے تھے، بالعموم حسب ذیل تھے:
  1. اسلامی ریاست کی صحیح صحیح تعریف کیا ہے؟ اسلامی ریاست آج کے سیاق و سباق میں کس ریاست کو کہا جائے گا؟ کسی ریاست کے اسلامی ریاست ہونے کے کم سے کم تقاضے کیا ہیں؟
  2. اسلامی ریاست کے اعضاء (حاکمہ، مقننہ اور عدلیہ)کی ضع و ہےئت اور نوعیت کیا ہونی چاہیے؟ کیا عہدِ نبوی کی مثالی اسلامی مملکت اور خلافت راشدہ کے سیاسی اوضاع (forms) کا نمونہ ہمیشہ کے لیے متعین ہو چکا ہے کہ جس کی تقلید و پیروی ہر دور کے مسلمانوں کے لیے ضروری و لازمی ہے؟ یا پھر اسلام نے اس باب میں محض بنیادی اصول مقرر کرنے پر اکتفا کیا ہے کہ جن کا لحاظ رکھتے ہوئے ہر دور کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق اسلامی ریاست و حکومت کا ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے اور اسلامی دستور کی جزئیات متعین کی جا سکتی ہیں؟
  3. اسلامی ریاست اپنی مائیت میں ایک جمہوری ریاست ہے یا پھر یک جماعتی آمریت؟
  4. اسلامی ریاست میں ہےئت مقتدرہ (حاکمہ، تنفیذیہ) ، مقننہ اور عدلیہ کی تشکیل و قیام کا طریق کار کیا ہوگا؟ سربراہ مملکت ؍سربراہ حکومت کا انتخاب و تقرر کیسے ہوگا؟ اس کی اہلیت کے اوصاف و شرائط (Qualifications) کیا ہوں گے؟ اس کے اختیار ات کا دائرہ کیا ہوگا؟ حاکمہ(تنفیذیہ) اپنے افعال و وظائف کی بجا آوری کے سلسلے میں کسی(مجلس شوریٰ وغیرہ) کے سامنے جواب دہ ہے کہ نہیں؟ نیز اس کے مواخذہ و عزل کا طریق کا ر کیا ہو گا؟ 
  5. مقننہ (مجلس شوری ٰ )کی تشکیل کیسے ہوگی، بذریعہ انتخاب یا بذریعہ نامزدگی(سربراہِ مملکت؍حکومت کی طرف سے)؟ اس کی رکنیت کے لیے اہلیت کی صفات کیا ہوں گی؟ کیا عورتوں کو مجلس شوریٰ میں شامل کیا جائے گا؟ مجلس شوریٰ کے حق قانون سازی کا دائرہ عمل اور اس کے حدود کیا ہوں گے؟ حاکمہ (تنفیذیہ) اور مقننہ (مجلس شوریٰ) کے باہمی ارتباط و تعامل کی صورت کیا ہوگی؟ سب سے اہم یہ کہ عصرِ جدید میں اسلام کے اصول شورائیت کو کیسے مؤثر طور پر رو بہ عمل لایا جاسکتا ہے؟ شوریٰ کے فیصلوں کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا شوریٰ کے فیصلے حاکمہ کے لیے واجب التعمیل ہوں گے؟ یا سربراہ مملکت و حکومت شوریٰ کے فیصلوں کو ویٹو کر سکتا ہے؟
  6. ریاست کے تیسرے ستون عدلیہ کی تشکیل کیسے کی جائے گی؟ قانون سازی یا اس کی تعبیر و تشریح کے باب میں اس کے اختیارات کی نوعیت کیا ہوگی؟
  7. اسلامی ریاست میں سیاسی جماعتوں کا کردار کیا ہوگا؟ کیا اسلامی مملکت میں مختلف نظریات کی علمبردار سیاسی جماعتوں کے قیام اورپھر انھیں اپنے اپنے منشور کی بنیاد پر انتخابی سیاست میں معرکہ آرائی کی اجازت دی جا سکتی ہے؟
  8. حق رائے دہی کی نوعیت کیا ہوگی اور ووٹر کی اہلیت کے اوصاف و شرائط کیا ہوں گے؟کیا خواتین کو بھی حق رائے دہی حاصل ہوگا؟
  9. اسلامی ریاست میں شہریوں کے حقوق و فرائض کیا ہوں گے؟ غیر مسلم شہریوں کی حیثیت و کردار(position and role) کیا ہوگا۔ ان کے مذہبی، قانونی و سیاسی اور شہریتی حقوق کیا ہوں گے؟ کیا غیر مسلم شہریوں کو حاکمہ اور مقننہ میں نمائندگی حاصل ہوگی؟ غیر مسلموں کے لیے نمائندگی کا حق تسلیم کرنے کی صورت میں ان کے انتخاب کا طریق کار کیا ہوگا؟ طریق انتخاب کیا ہو گا مخلوط یا جداگانہ؟

فتاویٰ لٹریچراور دستوری و سیاسی مسائل

برعظیم پاکستان و ہند کے مفتیان کرام نے دستور اسلامی سے متعلق مذکورہ مسائل کو غورو فکر کا موضوع بنایا اور ان کے متعلق فتاویٰ جاری کیے۔ اس سلسلے میں یہ بات بطورِ خاص قابلِ ذکر ہے کہ علامہ شبیر احمد عثمانی کی قیادت میں اسلامی دستور کی تدوین کے لیے سرگرم عمل علماء اور ان کے متبعین کے مجموعہ ہائے فتاویٰ میں دیگر علماء کے مجموعہ ہائے فتاویٰ کے مقابلے میں سیاسی اور دستوری مسائل پر زیادہ توجہ دی گئی ہے(۱۴)۔ گو علمائے اہلحدیث کی زیادہ تر توجہ کلامی مسائل اور اصلاح رسوم و بدعات پر مرکوز رہی ہے تاہم ان کے مجموعہ ہائے فتاویٰ میں دستوری قانون اور سیاسی نظام سے متعلق مسائل پر چند فتاویٰ بھی ملتے ہیں۔ بریلوی مکتبِ فکر کے علماء کے مجموعہ ہائے فتاویٰ میں علمائے اہلحدیث و علمائے دیو بند کے کلامی آرا کے رد کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ چنانچہ ان کے مجموعۂ ہائے فتاویٰ دستوری و سیاسی مسائل سے با لعموم معرا نظر آتے ہیں۔ بریلوی مکتب فکر کے مجموعہ ہائے فتاویٰ میں اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام کے متعلق مسائل و موضوعات سے اس عمومی بے اعتنائی کا ایک ممکنہ سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عامۃ الناس (جن کے ہاں پاپولر رسوماتی اسلام کا چلن ہے) سیاسی و دستوری معاملات کو مذہبی نہیں بلکہ ایک خالص دنیوی (سیکولر) امر خیال کرتے رہے۔ چنانچہ وہ ان معاملات میں رہنمائی کے لیے علماء اور مفتیان کرام کی طرف رجوع کرنے کے بجائے ایسے سیاسی قائدین کا اتباع کرتے رہے ہیں جو نسلی ، لسانی اور علاقائی عصبیتوں پر اپنی عملی سیاست کا قصر تعمیر کیے ہوئے تھے، یا پھر اشتراکی نظام کی ترویج( روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی )جیسے پرکشش نعرے کو رواج دے کر سادہ لوح عوام کی توجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ عامۃ الناس کے برخلاف جدید تعلیم یافتہ طبقات بالعموم مذہب و سیاست کی علیحدگی کے نظریے کے قائل رہے ہیں۔ البتہ ایسے تعلیم یافتہ افراد جو بانئ جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی کی فکر سے متاثر تھے اور ملک میں اقامتِ دین اورحکومتِ الٰہیہ کے قیام کے آرزو مند تھے، وہ مذہبی و سیاسی جملہ مسائل میں رہنمائی کے لیے روایتی علماء کی طرف رجوع کے بجائے سید ابوالاعلیٰ مودودی یا پھر جماعت سے تعلق رکھنے والے دیگر اہل علم و نظر سے رجوع کرتے تھے۔الغرض اسباب و محرکات خواہ کچھ بھی رہے ہوں بر عظیم پاکستان و ہند کے مجموعہ ہائے فتاویٰ کے جائزہ سے اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام کا کوئی مربوط و مکمل خاکہ سامنے نہیں آتا ، البتہ ان سے چند متفرق مسائل پر علماء کا موقف ضرور سامنے آجاتا ہے ۔
سطورِ ذیل میں برعظیم پاکستان و ہند کے اہلِ سنت کے تینوں مکاتب فکر (دیو بندی، بریلوی، اور اہل حدیث)کے مجموعہ ہائے فتاویٰ میں دستوری قانون ا ور سیاسی نظام سے متعلق مسائل پر فتاویٰ کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ان جملہ دستوری و سیاسی مسائل کو جو ان فتاویٰ کا موضوع بنے ہیں،زیر بحث لاتے ہوئے ان کی بابت مختلف آرا کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ 

(۱) سیاست شریعت سے جدا نہیں 

اسلامی دستوری قانون اور سیاسی نظام سے متعلق مسائل کے ضمن میں سب سے اہم سوال مذہب و سیاست کے باہمی تعلق کے بارے میں ہی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ دیوبندی مکتبِ فکر کے مفتی رشید احمد نے اپنے مجموعہ فتاویٰ احسن الفتاویٰ میں اس سوال (استفتاء) کہ :’’کیا سیاست دین میں داخل ہے یا اس سے الگ نئی چیز ؟ کے جواب میں دین و سیاست کے باہمی تعلق کی وضاحت کی ہے۔مفتی رشید احمد کی رائے میں دین و سیاست کی علیحدگی کا نعرہ اپنی ماہیت میں دین اسلام کی روح کے منافی ہے اورجدید مغربی لادینی تہذیب کی پیداوار ہے۔ ان کے الفاظ میں:
’’مروجہ سیاست اور اس کے تمام طور طریقے چونکہ یورپ سے درآمد ہوئے ہیں لہٰذا مغرب گزیدہ لوگوں نے یہ سوچ کر کہ ایسی سیاست کا دین اسلام سے کوئی جوڑ نہیں بیٹھتا، اور دونوں ایک قدم بھی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، یہ نعرہ لگایا: 
’’دین و سیاست دو الگ الگ چیزیں ہیں‘‘
یورپ والوں کو تو یہ نعرہ زیب دیتا ہے کہ ان کے دین میں سیاست کی کوئی گنجائش نہیں، حکومت و سلطنت کے لیے کوئی ہدایات نہیں، مگر ایک مسلمان کی طرف سے اس قسم کا نعرہ درحقیقت اس الحاد و بے دینی کا اظہار ہے کہ ہمارے دین میں بھی سیاست و حکومت کے لیے کوئی رہنما اصول نہیں، حضور اکرم صلٰی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں اس پہلو پر کوئی روشنی نہیں پائی جاتی، اس لیے ہم سیاست کو دین سے الگ رکھنے پر مجبور ہیں۔اس کا کفر والحاد ہونا محتاج دلیل نہیں۔خلاصہ یہ کہ سیاست دین سے جدا نہیں بلکہ دین کہ کا ایک اہم شعبہ ہے مروجہ نعرہ مغرب پرست آخرت بیزار قسم کے لوگوں کا پھیلایا ہوا ہے‘‘ (۱۵):
جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

(۲) اسلامی ملک اور اسلامی حکومت کی تعریف 

اس سلسلے میں ایک نہایت اہم سوال یہ ہے کہ اسلامی حکومت کی تعریف کیا ہے؟ کسی مملکت و حکومت کے اسلامی ہونے کے کم از کم تقاضے کیا ہیں؟ اسلامی مملکت کی تعریف کے لیے کسی ملک میں شریعت کی تنفیذضروری ہے یا اس ملک کی آبادی کی اکثریت کا مسلمان ہونا کافی ہے؟ ایک ایسی مملکت جس میں قرآن و سنت کے عملی نظام کا نفاذ نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ مملکت اسلامی ہے یا غیر اسلامی؟ 
مفتی رشید احمد نے اس ضمن میں اسلامی مملکت اور اسلامی حکومت کی بڑی مختصر مگر جامع تعریف بیان کی ہے۔ ان کی رائے میں:
’’جس ملک میں اگرچہ عملًا اسلامی احکامِ اسلام کا نفاذ نہ ہو مگر تنفیذِ احکام پر قدرت ہو وہ دارالاسلام ہے، اس معنی سے اسے اسلامی ملک بھی کہا جا سکتا ہے۔ مگر ایسے ملک کی حکومت کو اس وقت تک حکومتِ اسلامیہ نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ وہ احکامِ اسلام کی تنفیذ نہ کرے‘‘ (۱۶)۔ 

(۳) نظام حکومت ۔ عوامی/ جمہوری یا شاہی

ایک اہم سوال نظام حکومت کا ہے۔ موجودہ جمہوری نظام جو مغربی سیکولر تہذیب کی تخلیق ہے اور اس وقت مشرق و مغرب کے بہت سے ممالک میں نافذ ہے جس میں بیک وقت کئی جماعتوں کا وجود شرط ہے، کیا اسلام میں اس کی گنجائش ہے؟ با لفاظ دیگر جدید مغربی جمہوری نظام اسلام کے سیاسی اصول و تصورات سے کس حد تک متصادم ہے اور ان دونوں میں کس طور سے موافقت اور ہم آہنگی پید ا کی جا سکتی ہے؟ اس ضمن میں کچھ اس طرح کے عمومی سوالات بھی ابھر کر سامنے آتے ہیں: اسلام میں طرزِ حکومت شاہی ہے یا جمہوری؟ اگر جمہوری ہے تو طریق انتخاب کیا ہے؟ اسلامی جمہوریت میں مسلمانوں کا سربراہ کیسے منتخب کیا جاتا ہے؟ کیا مر اور عورت سب کو رائے دہی کا حق ہے یا صرف مردوں کو؟ اور کیا صرف اربابِ عقول اورسمجھدار لوگوں سے رائے لی جائے یا سب سے ، سمجھدار اور بے سمجھ چرواہوں اور بے وقوفوں سے بھی؟غرضیکہ جن لوگوں کو اپنا خلیفہ؍امیر اور ارکان شوریٰ (مجلس اہل حل و عقد ؍ پارلیمان)منتخب کرنے میں کوئی سمجھ بوجھ نہیں کہ کون اہلیت رکھتا ہے، کیا ان سے بھی رائے لی جائے یا نہیں؟ 
ان سوالات کا جواب دو معروف دیوبندی علماء ( مفتی رشید احمد اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی) نے دیا ہے۔ دونوں نے اپنے فتاویٰ میں مغربی جمہوریت کو شر کا منبع قرار دیا ہے۔ ان کی رائے میں اسلام میں مغربی جمہوریت کی کوئی گنجائش نہیں۔مفتی رشید احمد کی رائے میں:
’’اسلام میں مغربی جمہوریت کا کوئی تصور نہیں، ( ۱)اس [مغربی جمہوریت ] میں متعدد گروہوں کا وجود (حزب اقتدار و حزب اختلاف) ضروری ہے ، جبکہ قرآن اس تصور کی نفی کرتا ہے ( واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا ، القرآن، ۳:۱۰۳) ؛ (۲) اس میں تمام فیصلے کثرت رائے سے ہوتے ہیں جب کہ قرآن اس انداز فکر کی بیخ کنی کرتا ہے (و ان تطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اللہ ، القرآن، ۶: ۱۱۶) ؛ (۳) یہ غیر فطری نظام یورپ سے درآمد ہو اہے جس میں سروں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا۔ اس میں مرد و عورت، پیر و جواں، عامی و عالم بلکہ دانا و ناداں سب ایک ہی بھاؤ تلتے ہیں۔ جس امید وار کے پلے ووٹ زیادہ پڑ جائیں وہ کامیاب قرار پاتا ہے اور دوسرا ناکام، مثلا کسی آبادی کے پچاس علماء، عقلاء اور دانشوروں نے باالاتفاق ایک شخص کو ووٹ دیے،مگر ان کے بالمقابل علاقہ کے بھنگیوں، چرسیوں اور بے دین و اوباش لوگوں نے اس کے مخالف امیدوار کو ووٹ دیے جن کی تعداد اکاون ہو گئی تھی تو یہ امید وار کامیاب اور پور ے علاقے کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا ۔ پھر ووٹ لینے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ کا استعمال لازمۂ جمہوریت ہے۔ ہر فریق اپنے مقابل کو چت کرنے کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہاتا ہے۔ مزید براں دھونس، دھاندلی، دھوکا، فریب، رشوت، غرض تمام ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں ، اور جو کامیاب ہوتے ہیں ان کی چاندی ہو جاتی ہے۔ ایوان سمبلی میں پہنچ کر ان کی بولی لگتی ہے، فیکٹریوں کے پرمٹ، پلاٹس، وزارتیں، غرض یہ کہ طرح طرح کے لالچ اورچکمے دے کر انہیں خرید ا جاتا ہے۔ پھر قوم کے یہ منتخب نمائندے اسمبلی ہال میں بیٹھ کر کیا گل کھلاتے ہیں؟ یہ تمام برگ و بار مغربی جمہوریت کے شجرۂ خبیثہ کی پیداوار ہیں۔ اسلام میں اس کافرانہ نظام کی کوئی گنجائش نہیں، نہ ہی اس طریقے سے قیامت تک اسلامی نظام آ سکتا ہے۔ بفحوائے ’’الجنس یمیل الی الجنس‘‘ عوام، جن کی اکثریت بے دین لوگوں کی ہے، اپنی ہی جنس کے نمائندے منتخب کر ے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں‘‘ (۱۷)۔ 
مفتی رشید احمد کی رائے میں مغربی جمہوریت اور اسلام کے سیاسی نظام میں جو بنیادی اور جوہری فرق و امتیاز پایا جاتا ہے وہ سربراہ مملکت؍ حکومت کے انتخاب کے طریق کار کا ہے۔ ان کی رائے میں اسلام سربراہ مملکت ؍ حکومت کے انتخاب کے سلسلہ میں ہر کس و ناکس کو رائے دہی (ووٹ) کا حق نہیں دیتا بلکہ یہ حق اہل الحل والعقد کو تفویض کرتا ہے۔ مفتی رشید احمد اس سلسلے میں خلفائے راشدین کے انتخاب کے طریق سے استشہاد کرتے ہیں ۔ ان کے خیال میں:
’’اسلام میں شورائی نظام ہے جس میں اہل الحل والعقد غور و فکر کر کے ایک امیر کا انتخاب کرتے ہیں، چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفات کے وقت چھ اہل الحل والعقد کی شوریٰ بنائی جنہوں نے اتفاق رائے سے حضرت عثمان کو خلیفہ نامزد کیا۔ اس پاکیزہ نظام میں انسانی سروں کو گننے کے بجائے انسانیت کا عنصر تولا جاتا ہے، اس میں کسی ایک ذی صلاح مدبر انسان کی رائے لاکھوں بلکہ کروڑوں انسانوں کی رائے پر بھاری ہو سکتی ہے :
گریز از طرز جمہوری غلامِ پختہ کارے شو
کہ درمغز دو صد خر فکر انسانے نمی آید
حضرت ابو بکر نے کسی سے استشارہ کیے بغیر صرف اپنی ہی صوابدید سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتخاب فرمایا۔ آپ کا یہ انتخاب کس قدر موزوں، مناسب اور جچا تلا تھا؟ اس کا جوا ب دینا الفاظ میں ممکن نہیں، اس حقیقت کا مشاہدہ پوری دنیا کھلی آنکھوں سے کر چکی ہے‘‘ (۱۸)۔ 
خلفائے راشدین کے انتخاب کے طریق سے متعلق تاریخی نظائر کو مفتی رشید احمد اسلامی دستورِمملکت کا ایک ابدی اصول تسلیم کرتے ہیں اور یہی چیز ان کی نظر میں اسلام کے سیاسی نظام کو مغربی جمہوریت سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کی رائے میں اسلامی مملکت کے سربراہ کا انتخاب جمہور کی رائے سے نہیں بلکہ متعینہ صفات کے حامل اہلِ حل و عقد کی رائے سے عمل میں آئے گا۔ مفتی رشید احمد کے الفاظ میں: 
’’جمہوریت مروجہ میں ہر کس و ناکس کو رائے دہی کا حق ہے مگر جمہوریت اسلامیہ میں انتخاب خلیفہ کا حق صرف اہل حل و عقد کو ہے۔اہلِ حل و عقد کے لیے پانچ شرائط ہیں: ( ا) عقائد اسلام میں رسوخ و مضبوطی؛(ب)ذکورہ؛(۳)علم دین میں رسوخ؛( ۴)تقویٰ وتصلب فی الدین؛ (۵) ملکی حالات و سیاسیاتِ حاضرہ میں بصیرتِ تامہ‘‘ (۱۹)۔ 
مفتی رشید احمد کی رائے میں نصوص شرعیہ کے علاوہ عقل کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ انتخاب امیر ہر کس و ناکس کا کام نہیں بلکہ اس کے لیے عقل کی ضرورت ہے اور علم دین و تقویٰ کے بغیر عقل کامل نہیں ہو سکتی(۲۰)۔ ان کی رائے میں مغربی جمہوری نظام اور اسلام کے سیاسی نظام میں دوسرا جوہری فرق سربراہ مملکت ؍حکومت اورمجلس شوریٰ کے اختیارات میں توازن کا ہے۔ ان کی رائے میں:
’’جمہوریت مروجہ میں سربراہ مملکت خود مختار نہیں ہوتا بلکہ مقننہ کے فیصلہ کا پابند ہوتا ہے اور جمہوریت اسلامیہ میں امیر المؤمنین خودمختار ہوتا ہے، اہم امور مین اہل حل و عقد سے مشورہ کے تا بع جو اس کی رائے میں صواب ہو اس کے مطابق فیصلہ کرے، شوریٰ کے فیصلہ کا پابند نہیں، قال اللہ تعالیٰ : و شاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ (۳: ۱۵۹) (۲۱)۔ 
اسلام میں جمہوریت کی گنجائش ہے یا نہیں؟ اسکے بارے میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے بھی اپنے فتاویٰ میں بتفصیل اظہار خیال کیا ہے۔ ان کی رائے میں بھی اسلام اور جمہوریت کے مابین فرق نہایت وسیع و عمیق ہے، بلکہ یہ اپنی روح کے اعتبار سے ایک دوسرے کی ضد ہیں اوران دونوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکتی ۔ان کے الفاظ میں:
’’ جمہوریت اس دور کا صنم اکبر ہے جس کی پرستش اول اول دانایان مغرب نے شروع کی ، کیونکہ وہ آسمانی ہدایت سے محروم تھے اس لیے ان کی عقل نارسا نے دیگر نظام ہائے حکومت کے مقابلہ میں جمہوریت کا بت تراش لیا اور پھر اس کو مثالی طرزِ حکومت قرار دے کر اس کا صور اس بلند آہنگی سے پھونکا کہ پوری دنیا میں اس کا غلغلہ بلند ہوا، یہاں تک کہ مسلمانوں نے بھی تقلید مغرب میں جمہوریت کی مالا جپنی شروع کر دی۔ کبھی یہ نعرہ لگا یا کہ ’’اسلام جمہوریت کا علمبردار ہے‘‘ اور کبھی ’’اسلامی جمہوریت‘‘ کی اصطلاح وضع کی گئی، حالانکہ مغرب جمہوریت کے جس بت کا پجاری ہے اس کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریہ کی ضد ہے۔ اس لیے اسلام کے ساتھ جمہوریت کا پیوند لگانا اور جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کرنا صریحاً غلط ہے‘‘ (۲۲)۔ 

(۴) طرز حکومت ۔ صدرارتی یا پارلیمانی 

مغربی جمہوریت کے علمبردار ممالک میں یا تو صدارتی نظام رائج ہے یا پھر پارلیمانی۔ ان میں سے کو ن سا طرزِ حکومت اسلام کے سیاسی اصول سے زیادہ موافق و ہم آہنگ ہے؟ مفتی محمد شفیع(۱۸۹۷۔۱۹۷۶ء) نے اس مسئلہ کو یوں حل فرمایا ہے:
’’حکومت کے مروجہ طریقوں میں سے صدارتی طرزِ حکومت اسلام کے مزاج اور اصول سے قریب تر ہے۔ قرآنی آیت: یا داود انا جعلناک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس با لحق (۳۸: ۲۶) کے مطابق حکم و فیصلہ کی ذمہ داری خلیفۂ وقت (امیر المومنین) پر ڈالی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ پارلیمانی طرز میں امیر مملکت پر کوئی ایسی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ، یہ صرف صدارتی طرز میں ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں قرآنی آیت (۴: ۵۹) سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست کے اولوالامر کا مسلم ہونا شرط ہے اور موجودہ دنیا میں اس شرط پر عمل صدارتی طرزِ حکومت میں بآسانی ہو سکتا ہے جس میں ولایت امر اور اقتدار اصلی صدر مملکت کا ہوتا ہے اس لیے مسلمان ہونے کی شرط عملاً سہل ہے بخلاف پارلیمانی نظام کے کہ اس میں صدر مملکت محض ایک نمائشی چیز ہے، اصل اقتدار صرف پارلیمان کا ہوتا ہے اور پوری پارلیمان میں کسی غیر مسلم کو شامل نہ کرنا عملاً دشوار ہے اس لیے بھی صدارتی طرزِ حکومت اصولِ اسلام سے قریب تر ہے‘‘ (۲۳؍ا)۔ 

(۵) شرائط اہلیتِ امیر / سربراہ مملکت و حکومت

سربراہ مملکت ؍حکومت کی اہلیت کے شرائط و اوصاف ایک اہم دستوری مسئلہ ہے۔ مفتی رشید احمد کی رائے میں نصوص قرآن و سنت سے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ امیر ایسے شخص کو منتخب کرنا فرض ہے جس میں امارت کی اہلیت ہو (۲۳؍ب)۔ان کی رائے میں اسلامی مملکت کے سربراہ کی ذات میں نہ صرف ان تمام شرائط و اوصاف کا پایا جانا ضروری ہے جو اہل حل و عقد کے لیے لازم ہیں ، بلکہ اس کے لیے یہ شرط بھی ضروری ہے کہ وہ صاحب ہمت و شجاعت ہو۔ مفتی رشید احمد کی رائے ملاحظہ ہو:
’’ اہلیت اہل حل و عقد کے لیے پانچ شرائط ہیں: ( ا) عقائد اسلام میں رسوخ و مضبوطی؛ (ب) ذکورہ؛ (۳) علم دین میں رسوخ؛( ۴) تقویٰ و تصلب فی الدین ،؛(۵) ملکی حالات و سیاسیاتِ حاضرہ میں بصیرتِ تامہ (۲۴)۔ امیر کے لیے اہلیت حل و عقد کی شرائطِ مذکورہ کے علاوہ شرط یہ بھی ہے کہ صاحب ہمت و شجاعت ہو‘‘ (۲۵)۔ 

حوالہ جات و حواشی

۱) مولانا احمد رضا خاں بریلوی(۱۲۷۳۔۱۳۴۰ھ؍۱۸۵۶۔۱۹۲۱ء)، فتاویٰ رضویہ (لاہور: رضا فاؤنڈیشن، ۱۴۱۹ھ؍۱۹۹۸ء)، جلد ۱۴: رسالہ دوام العیش من الائمۃ من القریش،(زندگی کا دوام اس امر میں ہے کہ خلفاء قریش میں سے ہوں گے)، ص ۱۷۳۔۲۴۷ ۔ 
۲) مولانا ابو الکلام آزاد، مسئلۂ خلافت ) ، لاہور: دارالشعور، ۲۰۰۲ء ) ؛ مولانا حبیب الرحمٰن دیوبندی، ’’خطبۂ صدارت‘‘، اجلاس چہارم جمعےۃ العلماء ہند، بمقام ’’گیا‘‘، ۲۴ تا ۲۶ دسمبر ۱۹۲۲ء، زیر صدارت مولانا حبیب الرحمٰن دیوبندی ، مشمولہ پروین روزینہ (مرتب)، جمعیت العلماء ہند: دستاویزات مرکزی اجلاس ہائے عام ۱۹۱۹ تا ۱۹۴۵ء (اسلام آباد: قومی ادارہ برائے تحقیق تاریخ و ثقافت ، ۱۹۸۰ء)، جلد ۱، ص۱۵۴۔۱۷۴؛ سید سلیمان ندوی، ’’خطبہ صدارت: اجلاس ہفتم جمعےۃ العلماء ہند، کلکتہ، ۱۱ تا ۱۴ مارچ ۱۹۲۶ء، ‘‘، مشمولہ پروین روزینہ (مرتب)، جمعیت العلماء ہند: دستاویزات ،جلد ۱، ص۳۳۱۔۳۳۸، ۳۴۲۔۳۶۱۔
۳) مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری ، فتاویٰ ثنائیہ (مرتبہ: مولانا محمد داود راز) ۲ جلدیں (لاہور: ادارۂ ترجمان السنہ، ۱۹۷۲ء)، جلد ۲، ص ۵۹۸۔۵۹۹۔
۴) تفصیل کے لیے دیکھیے: وحید عشرت، ’’اقبال اور جمہوریت‘‘، مشمولہ اقبال ۱۹۸۶ء (لاہور: اقبال اکادمی پاکستان، ۱۹۹۰ء)، ص ۲۹۴۔۲۹۵؛ جسٹس کریم اللہ درانی، ’’اقبال کا اسلامی ریاست کا تصور‘‘، اقبال ریویو (لاہور)، ۲:۲ ، ص ۷۔۱۸؛ وحید قریشی، اساسیاتِ اقبال (لاہور: اقبال اکادمی پاکستان، ۱۹۹۶ء)، ص ۱۶۔۱۸؛ وہی مصنف، ’’علامہ اقبال کا تصور ریاست‘‘، مخزن (لاہور)، ۲:۲ (۲۰۰۲ء)، ص ۷۷۔۸۳؛ جاوید اقبال ، زندہ رود (لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، ۲۰۰۴ء)، ص ۴۸۴۔۴۸۵؛ وہی مصنف، ’’اقبال اور عصر جدید میں اسلامی ریاست کا تصور‘‘، مشمولہ سید محمد حسین جعفری (مرتب)، اقبال: فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید (کراچی: پاکستان اسٹڈی سینٹر، جامعۂ کراچی، ۱۹۸۸ء)، ص ۷۳۔۱۲۲۔ 
مزید دیکھیے:
 Allama Muhammad Iqbal, "Presidential Address - Allahabad Session", in Syed Abdul Latif (ed.), Thoughts and Reflections of Iqbal (Lahore: Sh. Muhammad Ashraf, 1992), pp. 162-167, 173 190; Sir Muhammad Iqbal, Islam as an Ethical and a Political Ideal, ed. S. Y. Hashimy (Lahore: Islamic Book Service, 1998), pp. 99-104, 106-108; Idem, The Reconstruction of Religious Thought in Islam, ed. M. Saeed Sheikh (Lahore: Iqbal Academy Pakistan, 1989), 122-25, 137-140, 142; Idem, "Political Thought in Islam", Abdul Vahid (ed.), Thoguhts and Reflections, pp. 58-75; Javed Iqbal, "The Image of Turkey and Turkish Democracy in Iqbal's Thought and his Concept of Modern Islamic State", Iqbal Review, 28:3 (1987), pp. 27-39.
۵) مجلس نظام اسلامی کی تشکیل اور اس کی کارگزاری کے بارے میں ملاحظہ ہو: عبدالماجد دریا بادی، ’’پیش لفظ‘‘، مشمولہ مولانا محمد اسحاق سندیلوی، اسلام کا سیاسی نظام (اسلام آباد: نیشنل بک فاؤنڈیشن، ۱۹۸۹ء)، ص ۱۔۳؛ سید سلیمان ندوی، ’’شذرات‘‘، معارف (اعظم گڑھ)، فروری ۱۹۴۱ء، و مئی ۱۹۴۱ء؛ دریا بادی (مرتب)، سید سلیمان ندوی کے خطوط، حصہ دوم، ص ۸۷۔۸۹، ۱۰۱۔۱۰۲؛ مسعود عالم ندوی (مرتب)، مکاتیب سید سلیمان ندوی (لاہور: مکتبہ چراغ راہ، ۱۹۵۴ء)، ص ۱۰۵، ۱۰۶، ۱۰۷۔
۶) دیکھیے: عبدالماجد دریا بادی، ’’پیش لفظ ‘‘، مشمولہ اسلام کا سیاسی نظام ( مرتبہ: محمد اسحاق صدیقی سندیلوی) ، ص ۱۔۲۔
۷) :Muhammad Asad, "Towards an Islamic Constitution", Arafat, 1:9 (July 1947), pp. 262-284 ۔اس کی تلخیص ماہنامہ شمس الاسلام (بھیرہ، ضلع سرگودھا میں شائع ہوئی۔ دیکھیے: محمد اسد مدیر عرفات، ، ’’پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے بعد(۱)‘‘، جون ، جولائی ۱۹۴۷ء، ص ۵۷۔۵۸۔؛ محمد اسد، ’’پاکستان کا خواب شرمندہ ہونے کے بعد(۲)‘‘، اگست ۱۹۴۷ء، ص ۳۴۔
۸) :Asad, "Islamic Constitution-Making", Arafat: Quarterly Journal of Islamic Reconstruction, No. 1
(March 1948, pp. 16-62). ۔[اس تحریر کا اردو ترجمہ ماہنامہ شمس الاسلام (بھیرہ، ضلع سرگودھا) میں بھی شائع ہوا۔ دیکھیے: علامہ محمد اسد (جرمن نو مسلم سکالر)، ’’اصول دستور اسلامی‘‘، شمس الاسلام، مارچ ۱۹۴۹ء، ۲۷۔۳۲۔ 
۹) ابوالاعلیٰ مودودی، دستوری تجاویز (لاہور: مرکزی مکتبۂ جماعتِ اسلامی پاکستان، ۱۹۵۲ء)؛ ماہنامہ ترجمان القرآن میں اسلامی دستور کے موضوع پر مولانا مودودی کی تحریروں کے لیے ملاحظہ ہو: حکیم نعیم الدین زبیری (مرتب)، اشاریہ ماہنامہ ترجمان القرآن، ۱۹۳۲۔۱۹۷۶ء (کراچی: ادارۂ معارفِ اسلامی، ۱۹۸۵ء)، ص ۴۔۱۱؛ سید ابوالاعلیٰ مودودی، اسلامی ریاست (لاہور: اسلامک پبلی کیشنز، ۲۰۰۰ء)؛ امین احسن اصلاحی، اسلامی ریاست (لاہور: دارالتذکیر، ۲۰۰۲ء )۔ علامہ محمد اسد اور سید مودودی کی تعبیرات و توجیہات علماء پر اثر انداز ہوئیں؛ مناظر احسن گیلانی، ’’پاکستان کا اسلامی دستور‘‘، صدق (لکھنؤ)، ۱۹۴۸ء) ۔
۱۰) دیکھیے: نفاذِ اسلام کے لیے پاکستان کے علماء کرام کے بائیس نکات (اسلام آباد: دار العلم، س۔ ن)۔ 
۱۱) جب ۱۹۴۹ء میں یہ دستور ساز اسمبلی نے باقاعدہ دستور سازی کا کام شروع کیا تو حکومت پاکستان نے ایک اسلامی مشاورتی بورڈ بنایا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اسلامی دستور کا خاکہ تیار کر کے پیش کرے گا اور اس کی روشنی میں دستور ساز اسمبلی پاکستان کا آئین تیار کرے گی۔ اس بورڈ کے سربراہ جناب علامہ سید سلیمان ندوی مقرر ہوئے اور مفتی محمد شفیع اور ڈاکٹر امحمد حمید اللہ (سابق استاذ جامعہ عثمانیہ ، حیدر آباد دکن) ، پروفیسر عبدالخالق اور مولانا محمد جعفر حسین مجتہد ممبر کی حیثیت سے نامزد کئے گئے ۔ مولانا ظفر احمد انصاری بورڈ کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔یہ بورڈ اگست ۱۹۴۹ء سے اپریل ۱۹۵۴ء تک قائم رہا اور مفتی محمد شفیع شروع سے آخر تک اس کے اہم رکن رہے ۔ اس بورڈ نے دستور پاکستان کے لیے جو سفارشات پیش کی تھیں اگرچہ ۱۹۵۶ء کے دستور پاکستان میں ان کی جھلک بڑی حد تک موجود تھی جس کے باعث وہ دستور ’’اسلامی دستور‘‘ کہلانے کا مستحق ہو گیا۔ لیکن اس بورڈ کی تمام سفارشات کسی بھی دستور میں نہ تو تمام کی تمام روبہ عمل لائی گئیں اور نہ انہیں شائع کیا گیا۔ (مفتی محمد رفیع عثمانی، ’’ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد شفیع صاحب کے مختصر حالات زندگی‘‘، مشمولہ مولانا مفتی محمد شفیع، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند: جلد دوم یعنی امداد المفتین کامل (کراچی: دارالاشاعت، ۲۰۰۱ء)، جلد ۲ ،ص ۷۸۔
مزید دیکھیے:
 Keith Callard, Pakistan: A Political Study (London: George Allen & Unwin Ltd., 1958), pp. 85-103; Leonard Binder, Religion and Politics in Pakistan (Berkeley, CA: University of California Press, 1963), chaps. 4-5, pp. 137-182 ;Manzooruddin Ahmad, Pakistan: The Emerging Islamic State (Karachi: The Allies Book Corporation, 1966), chap. 6, pp. 89-122. 
۱۲) رفیع عثمانی، ’’عورت کی سربراہی: اکابر علماء کا فیصلہ‘‘، مشمولہ مفتی رشید احمد، احسن الفتاویٰ، جلد ۶، ص ۱۸۲)۔ 
۱۳) انصاری کمیشن کی سفارشات کے لیے دیکھیے: مولانا ظفر احمد انصاری(مرتب)، نظام حکومت کے بارے میں انصاری کمیشن کی رپورٹ ، ۲۴ شوال المکرم ۱۴۰۳ھ؍ ۴ اگست ۱۹۸۳ء (اسلام آباد: گورنمنٹ آف پاکستان، ۱۹۸۳ء) ۔
۱۴) علامہ شبیر احمد عثمانی اور ان کے رفقاء بالخصوص مفتی محمد شفیع اور مولانا ظفر احمد عثمانی نے اپنے فتاویٰ اور فقہ پر اپنی کتب میں نصوص قرآن وسنت اور خلافت راشدہ کے سیاسی نظائر سے اخذ کر کے اسلامی دستور کا ایک خاکہ مرتب کرنے کی سعی کی تھی (ملاحظہ ہو: مفتی محمد شفیع، دستورِ قرآنی، کراچی : مکتبہ دارالعلوم، ۱۳۷۲ھ؍۱۹۵۲ء )۔ مفتی محمدشفیع کا یہ خاکہ ان کے مجموعہ ہائے فتاویٰ جواہر الفقہ میں بھی شامل ہے ( دیکھیے: مولانا مفتی محمد شفیع، جواھر الفقہ: فقہی رسائل و مقالات کا نادر مجموعہ (کراچی: مکتبہ دارالعلوم، ۱۳۴۱ھ؍۲۰۱۰ء)، جلد ، ۵، ص۴۶۱ ۔۵۲۷ ۔ مزید براں انہوں نے ووٹ کی شرعی حیثیت سے متعلق ایک مفصل فتویٰ بھی جاری کیا جس میں ووٹ کو ایک امانت قرار دیتے ہوئے اس کے جائز اور ناجائز استعمال کی صورتوں کی وضاحت کی۔ یہ فتویٰ بھی ان کی فقہی تالیف جواہر الفقہ میں شامل ہے ۔
۱۵) مفتی رشید احمد، احسن الفتاویٰ  (کراچی: ایچ ایم سعید کمپنی، طبع ششم، ۱۴۲۲ء)، جلد ۶ ، ص۲۳۔
۱۶) ایضاً ، جلد ۶، ص ۲۱۔
۱۷) ایضاً ، جلد ۶، ص۲۴۔۲۷ ۔
۱۸) ایضاً ، جلد ۶، ص ۲۶۔۲۷۔
۱۹) ایضاً ، جلد۶، ص ۱۴۳۔
۲۰) ایضاً ، جلد ۶، ص ۱۴۴۔
۲۱) ایضاً ، جلد ۶، ص ۔
۲۲) مولانا محمد یوسف لدھیانوی، آپ کے مسائل اور ان کا حل، (کراچی: مکتبہ لدھیانوی، ۱۹۹۹ء) جلد ۸، ص ۱۸۲۔۱۸۵۔ 
۲۳ (ا) مفتی محمد شفیع، جواھر الفقہ، جلد ۵، ص ۴۷۹۔
۲۳ (ب) احسن الفتاویٰ، ص ۱۴۳۔۱۴۴۔
۲۴) مفتی رشید احمد، احسن الفتاویٰ، ص ۱۴۳۔ 
۲۵) ایضاً ، جلد ۶، ص ۱۴۴۔۱۴۵۔
(جاری)

بوقت نکاح و رخصتی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر

عدنان اعجاز

معروف اسلامی روایت کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے وقت حضرت عائشہ صدیقہ کی عمر چھ (6) برس تھی اور رخصتی کے وقت نو (9) برس۔ انتہائی کم سنی کی یہ مبیّنہ شادی عصر حاضر میں دین اسلام کی مذمت کے لیے عمومی طور پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی کردارکشی کے لیے خصوصی طور پرپیش کی جاتی ہے اور مسلمان اس الزام کے دفاع/جواز میں تذبذب کا شکار دکھائی دیتے دیتے اب معاملے کی حقیقت کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں۔ ماضی قریب سے شروع ہونے والی اس بحث کو ہمارے زمانے میں دو بنیادی وجوہات سے حددرجہ اہمیت و انفرادیت حاصل ہو گئی ہے:
  1. عالم اسلام کے مغربی اقوام کے زیر تسلّط آنے اور پھر آزادی پانے کے بعدمغربی روشن خیالی کے زیرِ اثر اخلاقی معیارات کی جو از سرِ نو تعمیر ہوئی، اس میں کم سن بچیوں سے شادی / تعلق زن و شو کے رجحان کو قابلِ کراہت قرار دے دیا گیا۔ اس اصول کو بڑی حد تک اب دنیا میں ایک بنیادی اخلاقی حقیقت کی حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اور یہ امر واقعہ ہے کہ کم سے کم جدید تعلیم یافتہ طبقہ 150 مسلم و غیر مسلم 150 اس اصول کی اخلاقی قوت اور انحراف کی صورت میں شناعت کو اپنے اخلاقی وجود میں محسوس کرتا ہے۔ چنانچہ ادوارِ ماضی کے برعکس ہمارے دور کی جوان اور نوجوان نسلوں کو اس معاملے کی حقیقت معلوم کرنے میں غیر معمولی دلچسپی ہے؛ صرف اس لیے نہیں کہ وہ غیر مسلموں کے حملوں کی مدافعت کر سکیں، بلکہ بدرجہ اولیٰ ولکن لیطمئن قلبی کی غرض سے۔
  2. ماضی قریب میں مستشرقین سے ہونے والی بحثیں بڑی حد تک 'مذہبی' بحثیں تھیں جس میں فریقین کسی نہ کسی مذہب کے پیرو ہی ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ یا تو 'اپنے' مذہبی پیشواؤں / مقدّس ہستیوں سے منسوب کچھ سوال طلب طرزِ عمل کی روایات پر اعتقاد انہیں پوری جرات سے سوال کرنے سے ہی روک دیتا تھا، اور یا پھر سوال کے جواب میں نفس مسئلہ کے علی الرّغم مسلمان اْن کی اپنی دینی تاریخ میں مذکور انحرافات کی نشاندہی کر کے ان کو سبکی کھانے پر مجبور کر دیتے تھے۔ مگر ہمارے دور میں الحاد پرستوں نے150 خصوصی طور پر 'جدید الحاد پرستی' ( Nes Atheism) کے معتقدین نے، جو صرف اسلام نہیں بلکہ تمام ادیان کے پیروؤں پر جارحانہ دلائل کی بوچھاڑ کیے ہوئے ہیں150 اس طرح کے سارے طرزِ تخاطب نا ممکن بنا چھوڑے ہیں۔ اْن کے نزدیک جب کوئی مقدس اور قابلِ حرمت ہستیاں ہی نہیں تو مسئلے کا خالص عقلی و تاریخی و اخلاقی جواب دینے پر ہی ڈیرے ڈالنا ہمارے دَور کی مجبوری ہو چلا ہے۔ 
یہ مضمون غیر مسلموں کو مخاطب نہیں بناتا، بلکہ اس کی نوعیت امت مسلمہ کی ایک In-house Discussion کی ہے۔ اس مضمون کا مقصد اس مسئلے پر ہونے والی بحثوں اور جانبین 150 یعنی وہ مسلمان جو اس روایت کو درست مانتے ہیں اور وہ جو اسے غلط سمجھتے ہیں 150 کے دلائل کا جائزہ لینا، اور ان زاویوں کی نشاندہی کرنا ہے جو ان مباحث میں اب تلک موضوعِ بحث نہ بن پائے ہیں، مگر مسئلے کی تحقیق میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ گویا ایک طرح سے یہ مضمون بیک وقت اب تک ہونے والی بحثوں پر تبصرہ اور تشنہ یا غیر مذکور رہنے جانے والے زاویوں کا مرکب ہے۔

جانبین اور مجوزہ طرزِ گفتگو

اس سے پہلے کہ نفس مسئلہ کا رْخ کیا جائے، میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ جانبین کی شناخت اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے محرکات کی نشاندہی قدرے تفصیل سے ہو جائے تا کہ طرزِ گفتگو پر جو گزارش میں پیش کرنا چاہتا ہوں، اس کا جواز فراہم ہو سکے۔
اِس بحث کا ایک فریق وہ گروہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اماں عائشہ کی عمر کے متعلق روایتی مؤقف ہی درست ہے۔ اس گروہ کا مرکزہ (nucleus) اصلاً دینی علما پر مشتمل ہے۔ پھر اْن مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد بھی اس رائے میں ان کی ہم نوا ہے جو علما کی محافل میں اٹھتی بیٹھتی یا دین کی روایتی تعبیر کو ہی درست مانتی ہے۔ اِن کے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ ان میں جدید تعلیم یافتہ طبقہ کی بھی کچھ نمائندگی موجود ہے تو خلافِ واقعہ نہ ہو گا۔ 
اس گروہ کا بنیادی استدلال اس روایت کی اسنادی پختگی اور اسلاف کا اس پر اعتماد ہے۔ یعنی وہ اسے فنی اور علمی اعتبار سے ناقابل انکار سمجھتے ہیں۔ وہ جن موازین پر تول کر دین میں کھرے اور کھوٹے کو باور کرتے ہیں ، اْن موازین میں اس روایت کا وزن بھی باقی درجہ وثوق کو پہنچنے والی اخبار سے کسی قدر کم نہیں سمجھتے۔ پھر اپنے دعوے کو تقویت دینے کے لیے وہ کم سنی/قبل البلوغ کی شادیوں میں کوئی مستقل بالذات قباحت نہ ہونے کے مدعی اور تاریخ کی کچھ قرائنی شہادتوں کی ناموافق توجیہات کے غلط، جانبدارانہ یا ناکافی ہونے کے قائل ہیں۔
فریق آخر وہ گروہ ہے جو اس روایت کو درست نہیں سمجھتا۔ اس گروہ کا مرکزہ اصلاً جدید تعلیم یافتہ طبقے پر مشتمل ہے۔ پھر ان مسلمانوں کی بھی ایک قابلِ لحاظ تعداد اس رائے کی حامی دکھائی دیتی ہے جو مغرب میں پلے بڑھے یا وہاں خاطر خواہ وقت گزارا یا وہاں کے لوگوں سے منسلک رہے ہیں۔ بلکہ اس کو اگر سمت مخالف سے یوں بیان کیا جائے کہ جو لوگ مذہب کی روایتی تعبیر یا شدت پسندانہ تعبیر سے مرعوب نہ ہو پائے ہیں، وہ زیادہ تر اسی رائے کے حاملین ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔
اس گروہ کے بنیادی استدلال رسل اللہ علیہم السلام کی اعلیٰ اخلاقی قدروں کی ہمیشہ پاسداری اور قرائن کی شہادتیں ہیں۔ یعنی وہ بنیادی طورپر یا تو مزعومہ فعل کی شناعت و کراہت کے قائل ہیں اور اس سبب سے اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنے کے لیے تیار نہیں اور یا پھر قرائن کی شہادتوں اور تاریخی واقعات کی روایات کو اپنا مؤید مانتے ہیں۔ چنانچہ وہ قدیم مؤقف کی تائید میں پیش کی گئی روایات کو عقلی اعتبار سے ناقابل قبول یا کم سے کم باعتبارِ ثبوت ناکافی سمجھتے ہیں۔
حاصل کلام یہ ہے کہ دونوں گروہ دین اسلام کے وقار و حقانیت کے قائل اور اس کی سچی تعبیر کی کھوج کے مسافر ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اپنے مؤقف کا حامی اس لیے نہیں ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا اسلام کے تقدس کو پامال کرنے کے درپے ہو یا غیر مسلموں کا جانتے بوجھتے آلہ کار بننا چاہتا ہو۔ چنانچہ کوئی وجہ نہیں کہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے خلوص پر سوال اٹھائیں اور اس کے نتیجے میں وہ اہانت و حقارت آمیز رویہ اختیار کریں جو اب تک کی مراسلت میں اِلا ما شاء اللہ غالب نظر آتا ہے۔
الغرض دونوں گروہ ایک دوسرے کے خلوص کا اعتراف کرتے ہوئے دوستانہ اور با ادب لب ولہجہ اختیار کریں۔ اس سے نہ صرف یہ کہ معاملے کی تہہ تک پہنچنا ممکن ہو سکے گا بلکہ اقوامِ عالم کو ایک انتہائی حساس و جذباتی معاملے کے متعلق بحث و تمحیص میں بھی اس دین کی سکھلائی ہوئی تہذیب کی شدت و گہرائی کا اندازہ ہو سکے گا۔
اس اپیل کے ساتھ آئیے اب تک ہونے والی بحثوں کا ایک طائرانہ جائزہ لیتے ہیں۔

جانبین کے دلائل کا جائزہ

عمر عائشہ کو ایک واضح مسئلے کی حیثیت سے ماضی قریب کے کچھ محققین نے اٹھایا۔ ان میں غلام احمد پرویز، محمود احمد عباسی، ظہور احمد قریشی وغیرہ آغاز کنندگان میں قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے چند علمی و تاریخی دلائل کی روشنی میں حضرت عائشہ کی شادی کے وقت عمر کے روایتی مؤقف سے اختلاف کیا۔ پھر حکیم نیاز احمد صاحب نے کشف الغمۃ عن عمر امّ الامۃ اور علامہ حبیب الرحمن کاندھلوی نے ’’عمر سیدہ عائشہ پر ایک تحقیقی نظر‘‘ میں تفصیل کے ساتھ بحث کرکے ان سارے دلائل کو جمع کردیا ہے جو ان کے نزدیک یہ بات واضح کر دیتے ہیں کہ نکاح کے وقت سیدہ کی عمر وہ نہیں تھی جو بیان کی جاتی ہے، بلکہ وہ ایک بالغ اور نوجوان خاتون تھیں۔بلکہ کاندھلوی صاحب نے تو اپنے موقف کی تائید میں سب سے زیادہ یعنی چوبیس (24)دلائل فراہم کر دیے۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ کاندھلوی صاحب کا رسالہ اس مسئلے میں فریق آخر کے سب دلائل کا ایک جامع اور اتم خلاصہ ہے تو غلط نہ ہو گا۔
فریق اوّل کے نمائندہ علما نے ان دلائل کا وقتاً فوقتاً ردّ شائع کیا۔ اگرچہ متعدد علما نے چیدہ چیدہ دلائل پر اپنی تنقید اور تجزیہ نقل کیا جن کو یہاں شمار کرنا ممکن نہ ہو گا، تاہم میری نظر سے گزرنے والے فن پاروں میں سے تین اصحاب کا کام اس سلسلے میں بہت جامع ہے۔ فہد بن محمد بن محمد الغفیلی کی کتاب 'السّنا الوھّاج فی سن عائشۃ عند الزّواج' اور حافط ثناء اللہ ضیاکی کتاب ’’عمر عائشہ کی تحقیق اور کاندھلوی تلبیس کا ازالہ‘‘ میں تمام دلائل کا نکتہ بہ نکتہ جواب دیا گیا ہے۔ اور عمار خان ناصر صاحب کا مجلہ 'الشریعہ' اپریل 2012 کے شمارے میں شامل مضمون بعنوان ’’رخصتی کے وقت امّ لمؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر‘‘ میں اہم دلائل کا مختصر مگر جامع تجزیہ کیا گیا ہے۔ پہلے دو اپنی تفصیل اور تیسرا اختصار کے باعث فریق اوّل کے دلائل کا ایک جامع مطالعہ فراہم کرتے ہیں۔
اہم کتب و رسائل کی نشاندہی کے بعد آئیے اب اہم دلائل اور ان کے جوابات کا تجزیہ کرتے ہیں۔

روایات کی اسنادی حیثیت

روایتی مؤقف پر سب سے قوی ’’فنی‘‘ اعتراض اس دلیل کی صورت میں سامنے آیا کہ حضرت عائشہ کی کم سنی میں شادی کی دعویدار روایت جن طرق سے ہم تک پہنچی ہے، ان سب کے رواۃ میں ایک مشترک راوی ہشام بن عروہ ہیں، جو اگرچہ رشتے میں تو حضرت عائشہ کے بھانجے عروہ بن زبیر کے بیٹے ہیں، مگر چونکہ اْن کی131 ہجری کے بعد اور/یا عراقیوں سے ملنے والی روایات کو ہمارے اسلاف نے اصولی طور پر مردود جانا تھا اور یہ بھی اسی نوعیت کی روایت ہے، اس لیے ناقابل قبول ہے۔ یہ دعویٰ اگر درست ہوتا تو قطع نظر اس سے کہ ہشام پر اٹھائے گئے اعتراضات کس قدر فیصلہ کن ہوتے، ان کا اس روایت میں متفرد ہونا ہی شاید اْس بنیادکو منہدم کر دیتا جس پر روایتی مؤقف قائم ہے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ فریق اوّل نے ایسی متعدد طرق اور روایات سامنے رکھ دیں جو ہشام بن عروہ کے واسطے سے نہیں تھیں۔ اس کے بعد ظاہر ہے کہ یہ استدلال قطعاً قابلِ اعتنا نہیں رہتا۔ تاہم اس استدلال کی بازگشت اب بھی فریق ثانی کے مضامین میں سننے کو ملتی رہتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ جوابی استدلال اب تک ان کے مطالعے میں آ نہیں سکا یا وہ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں۔ 

تاریخی قرائن پر جانبین کے دلائل اور نتائج مختلفہ پر تبصرہ

حضرت عائشہ صدیقہ کی شادی کے وقت عمر کا تعین اپنی اصل کے اعتبار سے ایک تاریخی قضیہ ہے۔ یعنی نہ تو اللہ نے اس کا ذکر قرآن میں فرمایا ہے اور نہ ہی کوئی قولِ رسول ایسا ہے جس میں عمر مذکور ہو۔ پس اس کی نوعیت ایک ایسے تاریخی واقعے کی ہے جس کے بارے میں یہ طے کرنا ہے کہ وہ پیش آیا کہ نہیں اور اس کی تفصیلات کیا تھیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ تاریخی تحقیق میں جس طرح کسی مسئلے سے متعلق شخصیات کے براہِ راست اقوال کی جانچ پڑتال اہمیت کی حامل ہوتی ہے، اسی طرح دوسرے واقعاتی قرائن کے ساتھ تکرار و تطبیق سے بھی کسی دعوے کی تصدیق و تکذیب بہت ضروری ہوتی ہے۔ مثلاً اگر یہ دعویٰ تاریخ میں کسی شخص سے منقول ہو کہ اْس نے فلاں فلاں جگہیں فتح کیں، یا اْس نے فلاں فلاں کام کیے، یا اس کی عمراِن کاموں کے وقت فلاں فلاں تھی، تو یہ دیکھا جائے گا کہ اس دَور کی جو تاریخ ہمیں ملتی ہے، وہ عمومی طور پر اِن دعاوی کی تصدیق کرتی ہے کہ نہیں۔ مثال کے طور پر اگر تاریخ کے مطالعے میں متعدد بالواسطہ قرائن ایسے ملیں کہ اس کی فوج تو فلاں جگہ پہنچ ہی نہ پائی تھی، یا مزعومہ کام کرنے کی اس میں استعداد ہی نہ تھی، یا پھر اس شخص کی عمر فلاں شخص کے جتنی تھی جو اس کے دعوے کی نفی کر دیں تو کسی بھی محقق کے لیے یہ ایک تجزیاتی فیصلہ قرار پاتا ہے کہ وہ مبینہ دعوے کو درست مانے یا رد کر دے۔
بالفاظِ دیگر زبانِ قال اور زبانِ حال میں بظاہر تصادم پایا جائے تو اس امر کی تحقیق ضروری ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اس معاملے کے محققین نے بھی ایسے متعدد قرائن پیش کر دیے جن سے فریق ثانی اپنے موقف کی تائید کے دعویدار ہوئے۔ ان قرائن کا اگر خالی الذہن ہو کر مطالعہ کیا جائے، کمزور دلائل کو منہا بھی کر دیا جائے، تو عائشہ کا کم سے کم بچپن کی حدود سے پار ہونا قرین ازقیاس لگتا ہے۔ تاہم ان قرائن کو ضم کرنے کے بعد بھی فریق اوّل انہیں حضرت عائشہ سے منسوب قولی روایات کو بے اثر کرنے کے لیے کافی نہیں سمجھتا۔ نتیجتاً دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر متحجر سے ہو گئے ہیں۔ میں جتنا سمجھ پایا ہوں، اس اختلاف کا باعث انفرادی دلائل کی داخلی قوت نہیں بلکہ ایک اصولی علمی رویّے کی کشمکش ہے جس کی تحلیل بہت ضروری ہے۔
تفہیم کے واسطے ایک علمی رویے کو محدثانہ اور دوسرے کو مورخانہ کہہ لیتے ہیں۔ (۱) محدثانہ سے مراد وہ رویہ ہے جس میں کسی شخصیت سے منسوب قولی روایت کے راویوں کی اگر تحقیق کر لی جائے تو وہ ایک ایسے ناقابل انکار ثبوت کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے جس کی تلافی کسی مثل آفتاب دلیل سے کم سے نہیں ہو سکتی۔ اگر قرائن اس کے خلاف بھی جاتے ہوئے محسوس ہوں تو جب تک اْن کی تاویل بالکل ناممکن نہ ہو جائے، وہ فیصلہ کن نہیں سمجھے جاتے۔
مؤرّخانہ سے مراد وہ رویہ ہے جس میں کسی تاریخی واقعے کی تحقیق کے لیے کسی ہستی کا کوئی دعویٰ 150 خواہ وہ اپنے متعلق ہی کیوں نہ ہو151 قرائن میں سے بس ایک قرینہ ہو۔ چنانچہ تمام بالواسطہ قرائن اور عقلی و منطقی تقاضوں کی تضمیم کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے کہ معاملے کی کون سی صورت قرین قیاس لگتی ہے۔ اور غیر معمولی دعاوی کو قبول کرنے کے لیے ہوا بند اور آہن پوش شواہد درکار سمجھے جائیں جو اگر میسر نہ ہوں تو نامعقول دعاوی کو ردّ کر دیا جائے۔ اس رویے میں صریح دعویٰ کرنے والی براہِ راست روایت کسی ایسی حرمت کی حامل نہیں سمجھی جاتی کہ اس کو کسی واقعے کی تحقیق میں قرائن کے مخالف یا بعید از قیاس ہونے کے سبب ردّ نہ کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس رویے کے حاملین ’’رجال‘‘ کی بحثوں کے بجائے اصلاً ’’امکانِ وقوع’’ کی بحثوں کے قائل ہوتے ہیں۔
چنانچہ زیر بحث مسئلے میں ہوا یہ ہے کہ فریق اوّل محدثانہ روش کا قائل اور فریق ثانی مؤرخانہ نقطہ نگاہ کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فریقِ ثانی عمر کے متعلق صریح نصوص کی موزونیت سے مرعوب نہیں ہوتا اور فریق اوّل بات یہاں سے شروع کرتا ہے کہ چونکہ روایات ’’صحیح‘‘ ہیں، اس لیے قرائن کی تاویل حتی الامکان کی جائے گی۔ یعنی چاہے روایات ایک انتہائی خلافِ معمول فعل کی دعویدار ہوں، مبینہ قرائن یہ بتاتے ہوں کہ رخصتی کے وقت اور اس کے گرد و نواح میں حضرت عائشہ ایسی عمر میں تھیں جس میں انہیں جنگوں میں شامل کیا گیا، بیماروں اور زخمیوں کی تیمارداری پر مامور ہوئیں، اپنی بہن اور سوتیلی بیٹی کی عمروں کے ساتھ موازنے کے نتیجے میں ان کی عمرمختلف بنتی ہے، اور مؤرّخین انہیں اولین اسلام لانے والیوں میں شامل کرتے تھے، مگر فریق اوّل ’’غیر معمولی ذہانت و صلاحیت‘‘ یا دوسری ملتی جلتی تاویلات کر کے تمام قرائن کی موافق توجیہ کر دیتا ہے۔الغرض یہ ایک ایسی ناقابل مصالحت پیچیدگی ہے جسے عبور کرنا فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
بنا بریں حاصل کلام یہ ہوا کہ فیصلہ قارئین نے خود کرنا ہے۔ جہاں تک میری رائے کا تعلق ہے، چونکہ یہ فقط ایک تاریخی واقعہ ہے، اس لیے مؤرّخانہ اندازِ فکر 150 جس میں بنیاد امکانِ وقوع سے اٹھائی جائے150 زیادہ موزوں ہے۔

مجوزہ علمی رویے کے حق میں ایک تجرباتی دلیل

آخرالامم ہونے کے ناطے ہمیں یہ امتیازی خوش قسمتی حاصل ہے کہ ہم اپنے سے قبل امتوں کی غلطیوں سے وافر سبق سیکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پروردگار نے بنی اسرائیل کے احوال ہمیں تفصیل سے سنائے۔ اس کا مقصد دیگر مقاصد کے ساتھ یقیناًیہ بھی تھا کہ ہم وہ غلطیاں نہ دہرائیں جو ہم سے پہلے لوگوں سے سر زد ہوئیں۔ 
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ روایت پرستی کا نظریہ بنی اسرائیل کے ہاں بھی شدت سے پیدا ہوا۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ انہوں نے اپنے انبیاء و صالحین کے متعلق یا ان سے منسوب ایسی قبیح اورو اہی باتوں پر یقین کیا کہ اس پر دل خون کے آنسو روئے تو بھی کم ہے۔ نقل کفر کفر نہ باشد151 وہ لوط کی اپنی بیٹیوں سے ہم بستری، ابراہیم سے زنا، داو د سے سازشِ قتل وغیرہ کے ارتکاب کے قائل ہوئے۔ یہ نتائج اسی لیے نکلے کہ انہوں نے اْن روایات پر تو اعتماد کیا جو اْن تک پہنچیں پر زبانِ حال کو بالکل نظر انداز کر دیا جو چیخ چیخ کر پکار رہی تھی کہ یہ افک مبین ہیں۔ 
یہی وجہ ہے کہ اسلامی بلکہ دنیا کی تاریخ کے قابل ترین مؤرّخین میں شمار ہونے والے151 اور بہت سوں کے نزدیک مؤرّخین کے سرخیل151ابن خلدون نے مؤرّخانہ علمی رویہ اختیار و تجویز کیا جس کے نتیجے میں انہوں نے بہت سے ایسے روایتی مؤقف ردّ کر دیے جن کی تائید میں ڈھیروں روایات موجود تھیں۔ مگر ظاہر ہے کہ اس رویے کو ہمارے حلقہ علما و مشائخ میں عمومی قبولیت نہ حاصل ہو سکی۔ درانحالیکہ خود ہمارے صحابہ سے ایسی کتنی ہی مثالیں منسوب ہیں جہاں انہوں نے کسی راوی کی روایت 150 بغیر اس کے کہ راوی کے ضبط یا کذب پر کوئی سوال اٹھایا گیا ہو 150 کو علم و عقل کی بنیاد پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اور یہ باوجود اس کے ہوا کہ راویِ اوّل اْن کے درمیان موجود تھا اور ان کے سامنے دعویٰ کر رہا تھا۔ بلکہ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ جن میں مبینہ اخبار کو بے ہودہ یا بہتان ہونے کی بنیاد پر ردّ کر دیا گیا، قبل اس سے کہ اْن کے رجال کی تحقیق کر لی جاتی ،اور اس طرزِ عمل کی تصویب خود باری تعالیٰ نے بھی کر دی۔(۲) 
بدیں وجہ ہمارے لیے یہی مناسب ہے کہ ہم کسی غیر معمولی خبر کے متعلق تحقیق کے آخری درجے تک جائیں چاہے ہمیں سطح پر ہی ایک طرح کا جواب ملتا دکھائی کیوں نہ دے۔ یہ علم و عقل کا تقاضا اور یہی قرآن و سنت کا مدعا بھی ہے۔

اصل میں انیس (19) تھا جو غلطی سے نو (9) رہ گیا؟

فریق آخر کے بعض محققین نے حضرت عائشہ سے منسوب اپنی عمر کے متعلق روایات کو ردّ کرنے کی بجائے قرائن کے ساتھ تطبیق کی کوشش کی ہے۔ اْن کااستدلال یہ ہے کہ جس طرح انگریزی زبان میں بیس (20) سے اوپر کے اعداد کو مرکب اعداد (جیسے 21کو Twenty One، یعنی بیس اور ایک) کے طور پر بولا جاتا ہے، عربی زبان میں یہی معاملہ دس (10) کے بعد ہی شروع ہو جاتا ہے (جیسے 11 کو احَدَ عَشَرَ، یعنی دس اور ایک)۔چنانچہ راویوں نے یا تو سننے میں غلطی کی اور یا پھرکلام میں 'بعد العشر' (یعنی دس کے بعد) کے مقدر الفاظ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ 
اگرچہ روایات کے بالاستیعاب مطالعے کے بعد بھی کسی بھی طریق میں کوئی ایسا اضطراب نظر نہیں آتا جو اس استدلال کو تقویت بخشے، تاہم ایک اور وجہ سے یہ بعید از قیاس ہے۔ وہ یہ کہ اس سلسلے کی بعض روایات میں صرف 6 اور 9 سال ہی مذکور نہیں بلکہ ان دو عمروں کے ساتھ ایک ہی ترتیب میں یہ بھی مذکور ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو اْن کی عمر 18 (ثَمَانَ عَشرَۃَ) برس تھی۔ (۳) یعنی یہ ایک تدریجی (categorical)اور اندرونی طور پر اتنا مربوط بیان ہے کہ اس طرح کے عقلی احتمالات کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ پھر 'عشرۃ' کا لفظ اگر ایک عدد کے لیے عبارت میں موجود ہے تو ظاہر ہے باقیوں کے لیے اس کا سہواً چھوٹ جانا یا مقدر ہونا اور 'عشرین' کا 'عشرۃ' ہو جانابظاہر معقول نہیں لگتا۔
پس یہ طرزِ استدلال تو کمزورہے۔

نکاحِ عائشہ کا پس منظر

حضرت عائشہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کا پس منظر 150 جو روایتی مؤقف کے حاملین کے یہاں بھی صائب ہے 150 کے ایک اندرونی تضاد کو بھی فریقِ ثانی کے محققین نے اپنے مؤقف کی تائید میں پیش کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ تاریخ کی تحقیق میں جس طرح کسی واقعے کے صدور کا ذکر کرنے والی روایات اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہیں، اسی طرح واقعے کی وجوہات و علل اور پیش خیمہ بننے والے واقعات بھی قابل توجہ ہوتے ہیں۔
ایک روایت (۴) کے مختلف متون کو جمع کر کے دیکھا جائے تو اس میں مذکور ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ اور عمر بھر کی ساتھی حضرت خدیجہ انتقال فرما گئیں تو ایسا نہیں ہوا کہ نبی نے خود کسی نئی زوجہ کی تلاش شروع کر دی ہو، بلکہ آپ کی بھاوج خولہ بنت حکیم کو آپ کی تنہائی کا احساس ہوا اور انہوں نے خود اپنی جانب سے یہ تجویز پیش کی کہ چونکہ آپ بالکل تنہا ہو کر رہ گئے ہیں تو کیوں نہیں شادی کر لیتے۔ اگر آپ اس کے لیے تیار ہوں تو وہ آپ کی جانب سے بات کرنے 150 یعنی رشتے کا پیغام لے کے جانے150 کے لیے تیار ہیں۔ آپ نے رضامندی کا اظہار کیا۔ اس پر بھی بجائے اس کے کہ اپنی جانب سے کسی کا نام تجویز فرما کر کہتے کہ فلاں جگہ بات آگے بڑھائی جائے، آپ نے صاف اس انداز میں کہ جیسے اس بارے میں آپ کی کوئی رائے ہی نہ ہو، حضرت خولہ ہی سے نام دریافت فرمایا۔ صحابیہ نے فرمایا کہ اگر آپ چاہیں تو ثیبہ (شوہر دیدہ) بھی ہے اور اگر چاہیں تو باکرہ (کنواری) بھی۔باکرہ لوگوں میں آپ کے سب سے محبوب شخص حضرت ابو بکر کی بیٹی عائشہ ہیں، اور ثیبہ آپ پر ایمان لانے والی اور آپ کا اتباع کرنے والی سودہ ہیں۔اس پر آپ نے دونوں طرف پیغام کا عندیہ دیا۔
چونکہ فریق اوّل اس بات کا قائل ہے کہ اس پیشکش کے وقت حضرت عائشہ کی عمر چھ (6) برس تھی، فریق ثانی اس تضاد کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو نہ حضرت خولہ انہیں شادی کے قابل (eligible) ہونے کی حیثیت سے پیش کرتیں اور اگر کر بھی دیتیں تو آپ اس پر اس علت کے سبب کہ وہ تو ابھی بچی ہیں، قبول نہ فرماتے۔ ’’بیوی کی ضرورت زن و شو کے تعلق کے لیے ہو سکتی ہے، دوستی اور رفاقت کے لیے ہو سکتی ہے، بچوں کی نگہداشت اور گھر بار کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ چھ سال کی ایک بچی ان میں سے کون سی ضرورت پوری کر سکتی تھی؟ کیا اس سے زن و شو کا تعلق قائم کیا جا سکتا تھا؟ کیا اْس سے بیوی کی رفاقت میسر ہو سکتی تھی؟ کیا وہ بچوں کی نگہداشت کر سکتی تھی؟ کیا وہ گھر بار کے معاملات سنبھال سکتی تھی؟ سیدہ کی عمر سے متعلق روایتوں کے بارے میں فیصلے کے لیے یہ قرائن میں سے ایک قرینہ نہیں، بلکہ بنیادی سوال ہے۔ کیا عقل باور کر سکتی ہے کہ جو ضرورت آج ہے، اس کو پورا کرنے کے لیے ایک ایسی تجویز پیش کی جائے جس کے نتیجے میں وہ برسوں کے بعد بھی پوری نہیں ہو سکتی ؟‘‘(۵) 
یہ ایک معقول اور قوی استدلال ہے، اس لیے بھی کیونکہ اخلاقی کے بجائے عقلی جواز کو بنیاد بناتا ہے۔ تاہم فریق اوّل نے ایسے اعتراضات کیے ہیں جن سے ان کے بیان کے مطابق اس استدلال کا وزن ختم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ان میں سے معقول اعتراضات کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔
ایک توجیہ یہ پیش کی گئی ہے کہ دراصل حضرت خولہ کی مراد بیک وقت دونوں نکاحوں کی تھی تا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو مختلف حاجات پوری ہو سکیں۔ ایک فوری خانگی ضروریات کو پورا کرنے کی اور ایک حضرت ابو بکر کے ساتھ اپنے رشتے کو گہرا کرنے کی۔ چنانچہ حضرت عائشہ سے شادی کا مشورہ فی الفور رخصتی کے ارادے سے دیا ہی نہیں گیا تھا۔ اس کی تائید میں دو قرائن پیش کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ عملاً ایسا ہی ہوا، یعنی پیغام دونوں کو بھیجا گیا اور ایک کی رخصتی فوراً عمل میں لائی گئی اور دوسری کو مؤخر کر دیا گیا۔ اور دوم یہ کہ حضرت عائشہ سے شادی کی تجویز کے الفاظ میں جو یہ فرمایا گیا کہ ’’لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب شخص کی بیٹی‘‘، اس سے صاف واضح ہے کہ یہ تجویز اپنے اندر دونوں دوستوں میں تعلق کو مزید مضبوط کرنے کا اصل او ر اہم تر محرک لیے ہوئے تھی۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اسی روایت کے متن میں حضرت عائشہ کی عمر کی تعیین خود اپنے قول کے مطابق بھی چھ اور نو صراحتاً مذکور ہے۔ چنانچہ یا تو اس روایت کو پورا قبول کیا جائے اور یا پھر اگر اسے اندرونی تضاد ہی سمجھنا ہو تو پھر اس مبینہ درونی غیر مربوطی ( Intrinsic Incoherence) کے باعث اسے پورا ردّ کر دیا جائے، جس سے ظاہر ہے کہ علت کی یہ واحد روایت ہی منہا ہو جائے گی اور تضاد کی کوئی وجہ باقی نہیں رہے گی۔
تاہم یہ دونوں اعتراضات محل نظر ہیں۔
پہلے اعتراض کو لیجیے۔یہ تاویل اگرچہ روایت ہی میں مذکور حضرت خولہ کے صریح الفاظ (ان شئت بکراً وان شئت ثیّبًا) کے بھی خلاف ہے جو واضح طور پر دو میں سے ایک شے کے انتخاب کے لیے ہی بولے جاتے ہیں، مگر چونکہ روایات اکثر بالمعنی ہوتی ہیں، اس لیے قطعی الفاظِ عبارت سے استدلال ہمیشہ کوئی بہت وزنی چیز نہیں ہوتی۔چنانچہ اس کا خلافِ قیاس ہونا زیادہ اہم دلیل ہے۔ یعنی یہ تجویز ایک ایسے شخص کو دی جا رہی تھی جس نے اپنا سارا شباب ایک ہی رفیقہ حیات کے ساتھ بسر کر دیا تھا اور یہ اس شخص نے اپنے معاشرے کے تعددِ ازواج کے عام رواج کے علی الرغم کیا تھا۔ پھر تجویز دینے والی بھی کوئی اجنبیہ نہ تھیں جو حضور کے ماضی و مزاج سے ناواقف ہوتیں کہ ایک سوگوار شخص کو ایک نہیں بلکہ اس کی طبیعت کے بالکل برخلاف دو دو نکاحوں کا مشورہ دیتیں۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ دو نکاحوں کی بیک وقت تجویز کی توجیہ کو خلافِ عبارت اور خلافِ قیاس ہونے کے سبب قابل التفات سمجھا جائے۔
رہے قرائن، کہ بالفعل ایسا کیوں ہوا 150 ایک کی بجائے دونوں کو پیغام کیوں بھجوایا گیا اور ایک کی رخصتی تاخیر سے کیوں ہوئی151 تو اس میں سے صرف رخصتی دیر سے کیوں ہوئی، مضمون حاضر سے متعلق ہے۔ یعنی اگر رخصتی تاخیر سے کرنے کا ارادہ حضور کا پہلے سے ہونا ثابت ہو جائے تو حضرت عائشہ کا زوجیت کی عمر سے کم ہونا قابل التفات ہو سکتا ہے۔ اس پر دو تین باتیں عرض ہیں۔
ایک تو یہ کہ متن حدیث میں ایسی کوئی بات موجود نہیں جس سے یہ باور کیا جا سکتا ہو کہ ایسا کرنا pre-planned تھا۔ حضرت خولہ نے عائشہ کو بالکل حضرت سودہ کے ہم پلہ پیش کیا۔ نہ انہوں نے، نہ حضور نے اور نہ ہی عائشہ کے والدین نے اتنی اہم بات کا کوئی بھی اشارہ دیا۔ دوسرے یہ کہ نکاح فی الفور یا عنقریب رخصتی کے ارادے ہی سے کیا جاتا ہے۔ کوئی آدمی یہ گوارا نہیں کرتا کہ عقد نکاح ہونے کے بعد بھی اس کی زوجہ اپنے والدین کے گھر پر ہی بیٹھی رہے۔اگر اسے پہلے سے پتہ ہو کہ رخصتی نہیں کرنی یا نہیں ہو سکتی تو پھر نکاح میں تاخیر ہی متوقع رویہ ہے۔ اور تیسرے اگر عمر کم ہونے کے سبب رخصتی تاخیر سے کرنا متضمن ہوتا تو وعدہ نکاح یا سگائی کفایت کرتا۔ یہ منطقی بھی ہے اور عرب کا رواج بھی یہی تھا۔ بلکہ حضرت عائشہ خود بھی اس سے پہلے اسی رواج کے مطابق مطعم بن عدی کے بیٹے کے ساتھ منسوب (betrothed) تھیں۔ 
رہی یہ بات کہ حضرت عائشہ کے ساتھ شادی کی تجویز میں مذکور الفاظ 'ابنۃ احبّ خلق اللہ عزّ و جلّ الیک' سے کوئی اس نوعیت کا استنباط درست بھی ہے کہ نہیں، تو اس پر عرض ہے کہ کسی بھی عورت سے شادی کی تجویز جب بھی دی جاتی ہے اس انتخاب کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ضرور ہی بتائی جاتی ہے۔ یہ معمول ہے اور اس کا مقصد بس یہ ہوتا ہے کہ گرد و پیش میں موجود آخر اتنی بہت سی شادی کے قابل رشتوں میں سے یہی کیوں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح حضرت عائشہ کے انتخاب کی وجہ بتائی گئی، اسی طرح حضرت سودہ کی بھی بتائی گئی۔ اس معمول کے عمل سے اس طرح کا کوئی استنباط کہ جس کے نتیجے میں مجوزہ لڑکی کی اہلیت شادی ( Eligibility for marriage) پس عمر سرے سے غیر اہم قرار پائے151ایک متجاوز استنباط ہے۔
دوسرے اعتراض پر عرض ہے کہ اندرونی تضاد کا جو حل پیش کیا گیا ہے، وہ 'محدثانہ' طرزِ فکر کے حاملین کے لیے یقیناًقابل عمل ہو گا، تاہم 'مؤرّخانہ' نظریے کے حاملین کے لیے ایسا کرنا کوئی ضروری نہیں ہوتا۔ ان کے نزدیک تو اس طرح کے تضادات ہی اکثر صحیح ماجرے تک رسائی ممکن بناتے ہیں۔ اور یہاں تو یہ روایت جس تضاد کی نشاندہی کے لیے پیش کی گئی ہے، وہ تو اس روایت کے بغیر بھی لازماً حل طلب ہے۔ یعنی زوجیت کی وہ کون سی قابلیت تھی جس نے اس رشتے کو معقول بنایا۔
بدیں وجہ میرے نزدیک اس استدلال کا وزن پوری طرح باقی ہے اور اس کے مقابل میں جو اعتراضات بھی پیش کیے گئے ہیں، وہ کمزور ہیں۔

کم سنی کی شادی کی حیثیت تاریخ کے آئینے میں

یہ تو طے ہے کہ باقتضائے عہد حاضر کم سنی 150 جیسے نو (9) برس اَو نحوھا 150 میں لڑکیوں سے تعلق زن و شو قائم کرنا عقلی، احشانی اور جذباتی سب ہی اعتبارات سے قابل کراہت چیز ہے۔ کم از کم دورِ حاضر میں تو اِس سے انکار ناممکن اور احمقانہ ہے۔ یعنی چاہے یہ تقریر مغربی تہذیب کے زیر اثر ماضی قریب میں ہوئی، ہم میں سے ہر ایک نہیں تو کم سے کم جدید تعلیم یافتہ طبقے نے تو اپنے پورے اخلاقی وجود میں اس کی قوت کو محسوس کیا اور پورے شعور سے اس کی توثیق کی ہے۔ بلکہ اس کی شناعت اس درجے کی ہو چلی ہے کہ ایسا معاملہ پاکستان کی طرح کے ایک تیسری دنیا کے ملک میں بھی چاہے باہمی رضامندی سے ہی پیش آیا ہو، سماج عمومی طور پر اسے قابل دست اندازیِ معاشرہ سمجھتے ہوئے کالعدم قرار دینے کے لیے اقدام کا حق استعمال کرتے نہیں جھجھکتا۔ چنانچہ معاصر فکر میں اس فعل کے امتناع کے خلاف کسی نئی بحث کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ تاہم کسی بھی محقق کے لیے یہ ابھی بھی ایک قابل غور مسئلہ ہے یا ہونا چاہیے کہ عقلی، احشانی اور جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ کیا یہ ایک فطری نتیجہ بھی ہے؟ اس سوال کا جواب اس لیے اہم ہے کہ اگر یہ جواب اثبات میں ہوا تو اس کا مؤثر بہ ماضی ہونا منطقی ہو گا، اور کم سنی کی شادیوں کی کراہت کومطلق مانتے ہوئے چودہ سو برس پہلے کے ایک معاشرے میں بھی اسے ایک اخلاقی گراوٹ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہ ہو گا151 خصوصاً وہ معاشرہ جو اسلام کی روشنی سے منور ہو چکا تھا۔ اہل مغرب کا یہی نظریہ ہے، اسی لیے وہ اسے اخلاقی گراوٹ ہی سمجھتے ہیں۔ اور اگر اس کا جواب نفی میں ہوا تو اعتباری اور غیر مطلق ہونے کی وجہ سے ماضی کے دریچوں پر کوئی حکم لگاتے ہوئے اس دَور کی روحِ عصر کے زیر اثر اس رویے کو اخلاقی گرفت سے باہر، اْس زمانے کی انسانی نفسیات اور معیاری طرزِ عمل کے عین مطابق بھی سمجھنا ممکن ہو گا۔ اسی لیے یہ نکتہ ہمارے اطمینانِ قلب کے لیے شاید سب سے اہم ہے۔
اگرچہ فطری و غیر فطری کی بحث میں بہت سے عوامل کا تجزیہ ضروری ہے تاہم یہاں اْن سب کا احاطہ کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ موزوں۔ اس کے لیے تو ایک مکمل مقالہ ہی کفایت کرے گا۔ سر دست اس کے ایک اہم عامل یعنی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں جو ہمارے مضمون سے براہِ راست متعلق بھی ہے۔ مگر اس سے پہلے کہ ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں، پہلے اپنے دَور میں ہی دائیں بائیں نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ سن بلوغ، سن زوجیت، سن رضامندی وغیرہ نہ صرف یہ کہ ایک نہیں ہیں بلکہ آج بھی مختلف ممالک میں باہم دگر مختلف ہی ہیں۔ یہ عمریں عموماً14 سے 21 کے درمیان ہوتی ہیں، جس میں کم سے کم عمر زوجیت اکثر 18 برس مقرر کی جاتی ہے جس میں لڑکیوں کے لیے 14 برس آج بھی متفرقاً رائج ہے۔ تاہم یہ سب جانتے ہیں کہ یہ لکیریں زیادہ تر عملی فائدہ مندی (pragmatism) کے اصول کے تحت کھینچی گئی ہیں اور کم اخلاقی جواز کے اصول پر۔حد فاصل کی تصویب میں اگر اتنا انتشار آج کے دن بھی موجود ہے تو کوئی بھی محقق یہ جان سکتا ہے کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا عموماً مغربی فکر میں تصور کیا جاتا ہے۔
ماضی کی طرف نگاہ دوڑائیں تو اس موضوع پر لکھی جانے والی تمام تحقیقات اس سے ملتے جلتے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں کہ ’’تاریخی طور پر بچپن میں شادی کا رواج اور بلوغت سے قبل لڑکیوں کی سگائی کا رواج عام تھا۔‘‘ زیادہ پیچھے نہ بھی جائیں تو سولھویں (16th) صدی عیسوی کے متعلق بھی مؤرّخین کا یہ خیال ہے کہ بچپن کی شادی اتنی عام تھی کہ گویا قاعدہ(Norm) تھا۔ (۶) مشہور شادیاں اس کے لیے ثبوت کے طور پر بھی پیش کی جاتی ہیں جیسے مثلاً1689 میں ورجینیا، امریکہ میں میری ہیتھوے (Mary Hathaway) کی جب ولیم ولیمز ( William Willams) سے شادی ہوئی تو وہ نو 9 برس کی تھی۔ بلکہ امریکہ میں تو انیسویں صدی کے اختتام سے کچھ پہلے تک سن رضامندی 10۔12 سال کے درمیان تھا۔(۷) (ڈیلاویر میں اس سے بھی کم 7 سال تھا)۔ سترھویں صدی برطانیہ کے ایک معروف قانون دان سر ایڈورڈ کوک (Sir Edward Coke) سے اپنے دَورکے بارے میں منقول ہے کہ ’’بارہ سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی عام تھی اور نو (9) سال کی لڑکی مہر کے حصول کی حقدار سمجھی جاتی تھی۔‘‘(۸) رضامندی کی نوعیت (Nature of Consent) کے بارے میں قدیم اور قرونِ وسطی کے اسرائیلی رواج کے بارے میں فریڈمین (Friedman) لکھتا ہے کہ ’’کسی بچی کی شادی کا انتظام و عقد کرنے کا باپ کو ناقابل نزاع استحقاق حاصل تھا۔‘‘(۹) اسی دَور میں یورپ میں سات (7) سال سے بڑے لڑکا لڑکی کے درمیان عقد نکاح کو جائز سمجھا جاتا تھا (۱۰) اور کبھی کبھار اس سے کم عمر میں بھی۔ (۱۱) بلکہ بہت سے قارئین کے لیے شاید یہ دلچسپ انکشاف ہو کہ مشہور فرانسیسی مؤرّخ فیلیپ آرییس (Philippe Ari232s) کی تحقیق کے مطابق ’’بچپن‘‘ کوئی فطری نظریہ ہے ہی نہیں بلکہ سترھویں صدی سے پہلے اس کا کسی ممیز مرحلہ زندگی کی حیثیت سے وجود ہی نہیں تھا۔(۱۲) بچے اصلاً ’’چھوٹے جوان‘‘ (Mini-adults) کے طور پر دیکھے جاتے تھے۔ یہ روشن خیالی اور عہد رومانوی کی تحریکیں تھیں اور صنعتی انقلاب کے بعد حاصل ہونے والی معاشی آسودگی تھی جس نے اٹھارویں صدی میں بچپن کے نظریے کو مستقل بالذات وجود بخشا، جس کے نتیجے میں عمر شادی اور عمر رضامندی کو قانوناً بلوغ کی دہلیز پر یا اس کے ورا قرار دے دیا گیا اور بچپن میں شادی کو قابل کراہت۔ 
اس سے زیادہ تفصیل میں جانا یہاں موزوں نہیں۔ سمجھانا یہ مقصود تھا کہ تاریخ کے تتبع سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ شادی بیاہ کے لیے جسمانی بلوغ ہمیشہ سے ایک واضح قدرتی مظہر اور عاملہ سمجھا جاتا تھا مگراس کی حیثیت کسی حد فاصل کی کبھی نہیں رہی۔ کوئی موزوں رشتہ مل جانے پر بلوغ کا انتظار نہیں کیا جاتا تھا۔ اخلاقی قباحت تو دور کی بات، ایسا کرنا ساری دنیا میں ہی استثنا نہیں بلکہ تقریباً معمول تھا۔ بلوغ بھی 12، 14 سال کی عمر میں مکمل تصور کیا جاتا تھا۔ اور کم سنی کی شادیوں کے لیے رضامندی کا غیر متنازع استحقاق باپ کو ہی حاصل تھا۔ مشرق و مغرب میں اس درجے مشترک، محیط، اثر پذیر اور مروّج ہونے کے سبب کم سنی کی شادی کا غیر فطری ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔
مجھے معلوم ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لیے اس سب کو ہضم کرنا آسان نہیں اوران حقائق پر حیرانی بالکل بجا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات مرورِ زمانہ سے انسانی نفسیات میں کچھ ایسی تخمی اور مہیب تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں کہ ماضی قریب بھی کسی اور سیّارے کی داستان لگتا ہے۔ مثال کے طور پر غلاموں کی خرید و فروخت یا مملوکہ عورتوں کے ساتھ جنسی تعلق کے بارے میں سوچ کر بھی کراہت آتی ہے۔ زوجین کی عمروں میں ایک خاص حد سے زیادہ فرق بھی قابل اعتراض لگتا ہے۔ بلکہ اب تو تعددِ ازواج بھی معیوب محسوس ہونے لگا ہے۔ تاہم ہمیں کوئی وقت کے پہیے کو الٹا چلا کر واپس ان رواجوں کو اپنانے پر مجبور نہیں کر رہا۔ چنانچہ یہ رویہ تو صحیح ہے کہ اپنے دور اور معروضی حالات کے تحت اخلاقی معیارات کی تنقیح کی جاتی رہے۔تاہم کسی بھی طالب علم کے لیے یہ مناسب رویہ نہیں کہ زمان و مکاں سے بے نیاز ہو کر ہر اخلاقی قدر کو مطلق مانتے ہوئے ماضی پر بھی بد اخلاقی یا جہالت کے فتوے جڑ دے۔ 
حاصل کلام یہ ہے کہ بالفرض اگر روایتی مؤقف درست بھی ہے تو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ قطع نظر اس سے کہ علم حیاتیات کی توثیق سے نو دس برس کی عمر میں لڑکی کا بالغ ہوجانا بھی پوری طرح ممکن ہے، تاریخی اعتبار سے آج سے دو تین صدیاں پہلے کے معاشروں میں اس عمر میں رخصتی کوئی غیر اخلاقی امر نہیں تھا۔ اور یہ واقعہ تو چودہ سو برس پہلے کا ہے۔اس وجہ سے فریق ثانی کے وہ تمام اعتراضات بے اصل ہیں جو نو برس میں خلوت یا زوجین کی عمری تفاوت کو اخلاقیات کے زاویے سے ہدف بناتے ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ چونکہ ایسے غیر معمولی رشتے پر دشمنانِ رسول کے کوئی اعتراضات منقول نہیں، اس لیے روایتی مؤقف نہیں مانا جا سکتا۔
الغرض، مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں کم سے کم اخلاقیات کے نقطہ نگاہ سے تو کوئی اعتراض قابل التفات نہیں رہتا۔

نو (9) نہیں چھ (6) برس

اس موضوع پر کی گئی مراسلت کا تجزیہ کریں تو ایسا لگتا ہے کہ سب نہیں تو اکثر استدلالات کا زور نو (9) برس ہی پر مرتکز ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ عمر اس اعتبار سے تو یقیناًاہم تر ہے کہ عمر خلوت ہے، اور اعتراضات میں اصل شدت اسی احساس سے پیدا ہوتی ہے کہ ایک ایسی عمر میں قربت ہوئی جو موجودہ فکر ،رواج اور شاید علم حیاتیات کے مطابق بھی بہت کم تھی۔ تاہم چھ (6) برس کی عمرِ نکاح کو یکسر نظر انداز کر دینا یا قابل توجہ نہ سمجھنا غیر منصفانہ ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بالا تاریخی حقائق کی روشنی میں 9 برس تو احاطہ جواز کے اندر یا کم سے کم بھی سرحد پر تو ضرور ہی شمار ہونا چاہیے ، مگر 6 برس کی عمر میں شادی تو ہر اعتبار سے ہی غیر معمولی اور توجیہ طلب ہے۔خصوصاً اس لیے کہ خلوتِ صحیحہ تو شادی کے قدرتی اور قریبی نتائج و لوازمات میں سے ہے۔ اور جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے، نہ تو زیرِ عنوان شادی میں رخصتی میں تاخیر کرنا پہلے سے مذکور تھا اور نہ ہی ایسا گمان کرنا قرین از قیاس لگتا ہے۔ رخصتی تاخیر سے کرنا پیشگی ارادہ ہوتا تو عرب کے رواج کے مطابق وعدہ نکاح/ سگائی پر اکتفا کافی ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم جب اپنے اعتراضات کو مخلص انداز میں پیش کرتے ہیں تو اسی عمر سے قواعد اعتراض بلند کرتے ہیں۔
چنانچہ فریق اوّل نے جو بھی جواز فرہم کرنے ہیں، ان میں صرف 9 سال نہیں بلکہ وہ وجوہات و علل بھی بیان کرنی ہیں جن کے باعث ایک خلافِ رواج وتعامل شادی 6 برس میں ہی ضروری تھی۔ ورنہ ایک غیر ضروری کام کے لیے معاشرے میں مسلمہ رسوم کے خلاف جانا خلافِ عقل اور ناقابل انہضام ہے۔

صدیقہ کی گواہی کی قانونی موزونیت

نکاح و رخصتی کی مبینہ عمریں غیر معمولی ہیں، اس میں تو کوئی اختلاف نہیں۔ اور اصول یہ ہے کہ عام معاملات میں جو معیارِ ثبوت چاہیے ہوتا ہے، حساس اور غیر معمولی معاملات میں اس سے زیادہ وزنی ثبوت درکار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانون دانوں نے ہمیشہ معاملات کی نوعیت کے اعتبار سے مقدارِ ثبوت میں فرق کیا ہے۔لہٰذا یہ معاملہ بھی ثقیل تر ثبوت کا متقاضی ہے۔
روایتی مؤقف کے حاملین نے اس معاملے میں حضرت عائشہ کی اپنی گواہی کو کافی اور ماورء الشک قرار دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ کسی بھی شخص کی اپنی عمر کے متعلق گواہی ایک وزنی ثبوت ہے 150 خصوصاًتب جبکہ گواہ کے متعلق امکانِ کذب قطعاً مفقود ہو151مگر جس معاملے کی نوعیت ایک معاہدے کی ہو اور گواہی گواہ کی ذات تک محدود نہ ہو بلکہ کسی دوسرے فریق پر اس کا اثر پڑتا ہو، تو دوسرے فریق کا اس سے متفق ہونا یا کسی اور متعلقہ فرد سے اس کی تصدیق ہونا فیصلہ سازی کے لیے لازم ہوتا ہے۔
یہاں متعلقہ افراد کون ہو سکتے ہیں؟ عمر ایک اتنا ذاتی اور غیر مر ئی معاملہ ہوتا ہے کہ اس کے لیے صرف والدین یا اپنے سے بڑے بہن بھائی ہی قطعی اور یقینی خبر دے سکتے ہیں۔ پھر چونکہ یہ عقد نکاح تھا، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ شوہر بھی قطعی عمر سے واقف ہو ں گے۔ خصوصاً جبکہ شوہر رسول اللہ، پس عالم الغیب سے رابطے میں ہوں۔ تاہم یہ معلوم ہے کہ شوہر سے اس بارے میں کوئی توثیق یا تقریر منقول نہیں۔ رہے والدین اور بڑے بہن بھائی تو اْن سے بھی اس معاملے میں سرے سے کوئی خبر مروی نہیں۔ بنا بریں عقد نکاح جیسے دوطرفہ معاملے میں یک طرفہ غیر معمولی خبر باعتبارِ ثبوت بلاخوفِ تردید ناکافی ہے، خصوصاً جبکہ کسی اور فریق کو اس خبر کے سارے نتائج برداشت کرنے پڑ رہے ہوں۔ 
عام عوام کی جانب سے اس نتیجے پر دو اعتراضات ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیقہ کے رشتہ داروں کے سکوت کو اقرار کیوں نہ سمجھا جائے؟ اور دوسرے یہ کہ صدیقہ کی گواہی پر صحیح اور غلط کی تصریح کے بغیر کوئی نتیجہ حاصل کرنا کیسے ممکن ہے؟ تو پہلے کا جواب یہ ہے کہ تاریخ میں کسی معاملے پر کسی کی رائے موجود نہ ہونے کو ہمارے سامنے کسی سوال کے جواب میں سکوت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بالکل واضح ہے۔ ہاں اگر ان کے سامنے یہ تذکرہ کسی نے کیا ہوتا اور اس پر ان میں سے کسی کا سکوت مروی ہوتا تو بات اور ہوتی مگر ایسا کچھ بھی روایات میں موجود نہیں۔ اور دوسرے کے جواب میں عرض ہے کہ مقدارِ ثبوت کے اعتبار سے ناکافی ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ کسی کی گواہی پر لازماً صحیح یا غلط کا فتویٰ لگایا جائے۔ ناکافی ہونے کا مطلب فقط اتنا ہوتا ہے کہ چاہے پیش کردہ ثبوت غلط نہ بھی ہو معاملے کے کسی خاص رخ میں فیصلے کے لیے مزید ثبوت درکار متصور ہو۔جیسے مثلاً مقدارِ ثبوت دو گواہ ہوں اور ایک ہی میسر ہو۔

حضور کا ذوقِ طبع

کسی بھی شخص کے بارے میں ملنے والی خبر کو پرکھنے کے کئی زاویے ہو سکتے ہیں جن سے اس خبر کی تحقیق ممکن ہو سکتی ہے۔ انہی زاویوں میں سے ایک اہم زاویہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ دیکھ لیا جائے کہ اس شخص کی عمومی شخصیت کس قسم کے رجحانات کو متوقع بناتی ہے۔ہاں، اس زاویے سے کوئی صحیح نتیجہ حاصل کرنے کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ اس شخص کے بارے میں ہم تک پہنچنے والی معلومات کس قدر محیط اور قابل اعتماد ہیں۔
چنانچہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ایک جانی پہچانی شخصیت ہے۔ تاریخ میں سب سے زیادہ مستند اور کثیر روایات اگر کسی شخص کے بارے میں ملتی ہیں تو وہ آپ ہی ہیں۔ بلکہ باقی لوگوں کے لیے تو کسی نہ کسی درجے میں یہ مبالغہ ہی ہوتا ہے مگر آپ ہی وہ ہستی ہیں کہ جن کے بارے میں ’’آپ کی زندگی کھلی کتاب تھی‘‘ کے الفاظ بلا شائبہ مبالغہ درست ہیں۔ پس سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک چھ سالہ بچی سے شادی کرنا آپ کی مذاق عادت کے تجزیے سے متوقع نظر آتا ہے؟ پھر سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا جو شادی 150 اور اغلب یہی ہے 150 کی ہی اس لیے جا رہی ہے کہ اْس رفاقت کا نعم البدل چاہیے جو جاتی رہی ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ وہ ملی بھی انہی زوجہ سے ہے، اس کے لیے آپ ایک چھ سالہ بچی کو منتخب یا گوارا کر لیں گے، کیا ایسا عمل مناسب طبیعت لگتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ آپ کی بالغ النظر شخصیت کو جن حالات میں جو ہم نوائی مطلوب تھی اور جو صدیقہ کی صورت میں ہی ملی بھی، جن سے ازدواجی تاریخ کے ہر ورق پر شوخی، رنگینی اور دانش بکھری نظر آتی ہے، ایسے شخص کے لیے ایسی کم سن سے شادی سر تا سر خلافِ طبیعت لگتی ہے۔

رہتی دنیا کے لیے بے داغ اسوہ حسنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام افعال و عادات کو دنیا کے لیے اسوہ حسنہ تو بننا ہی تھا۔ تاہم اس بات کا بھی خیال رکھا گیا کہ اس اسوہ میں آنے والے تمام ادوار کے اعتبار سے بھی کوئی قابلِ تنقید عمل ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے اِس دین کی حقانیت پر کوئی اثر پڑے۔اس میں اگر کوئی استثنا نظر آتا ہے تو وہ دو احتمالات میں سے کسی ایک سے خالی نہیں ہوتا۔ ایک یہ کہ کوئی ایسی معاشرتی یا دینی ضرورت اس میں پنہاں ہوئی ہو جس کے لیے اس دور کے متداول رسوم و رواج کے تحت کوئی طریقہ اختیار کرنا ناگزیر ہو؛ جیسے مثال کے طور پر تعددِ ازواج، باندیوں سے ہم بستری وغیرہ۔ اور دوسرے یہ کہ کسی ایسے رواج کی بنا ڈالنی مقصود ہو جسے لوگوں نے بلاوجہ اپنے لیے ممنوع تصور کر لیا ہو؛ جیسے مثلاً اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی۔ تاہم ان معاملات میں بھی اخلاقیات کے اعلیٰ ترین معیارات پر کاربند رہنا اور ان کی طرف کوئی ذاتی رجحان و خواہش نہ رکھنا ہمیشہ حضور کی عادت دکھائی دیتا ہے۔
اس دَور میں تعددِ ازواج تقریباً معمول اور قاعدہ تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اپنی ذاتی زندگی میں آپ نے ایک ہی بیوی پر اکتفا کیا باوجود اس کے کہ بیٹوں کی طلب باقی رہی۔ بعد از بعثت جب دین کی خدمت کے لیے یہ گوارا ہوئیں تو ہر شخص دیکھ اور جان سکتا ہے کہ وہ شادیاں معاشی بہبود اور فرائضِ منصبی کی ادائیگی ہی کے لیے کی گئیں۔ اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ کے باب میں تو خود قرآن دلیل ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ رشتہ ایک دینی ضرورت کی تکمیل کے لیے ناگزیر تھا، آپ نے اس سے بچنے ہی کی پوری کوشش کی۔ باندیوں سے مجامعت کے معاصر قاعدے اور مسلمہ اجازت کے باوجود ہم دیکھ سکتے ہیں کہ آپ نے اپنے لیے اسے اختیار نہیں کیا اور وما ملکت یمینک مما افاء اللہ علیک سے بھی سب کو ہی آزاد کر کے ان کی رضا لے کر نکاح فرمایا۔اگرچہ ان میں سے کوئی بھی فعل انسانی تاریخ میں ممنوع نہیں رہا بلکہ معمول رہے، مگر چونکہ اللہ کا علم ماضی و مستقبل کو یکساں محیط ہے، اس لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے رجحانات بھی سرمدی معیارات کے حامل رہے۔چنانچہ دیکھا جا سکتا ہے کہ حضور کے سب اعمال و رجحانات کی تکوینی تنقیح فطرت کے اصول پر تو ہوئی ہی، مستقبل بعید کو عاملہ بنا کر بھی ہوئی۔ 
اس کے بر عکس زیرِ بحث معاملہ ہر اعتبار سے منفرد ہے۔ چھ برس کی بچیوں سے شادی نہ پہلے عام تھی اور نہ اب۔ اس پر دورِ حاضر میں داغے گئے اعتراضات کی نوعیت بھی مذکورہ بالا افعال پر اعتراضات سے مختلف اور سنگین تر ہے۔ پھر اس امر کی کوئی دینی ضرورت نہ تو متحقق ہوتی ہے اور نہ ہی اس سے پوری۔ اگر اس ذیل میں کوئی خامہ فرسائی فریق اوّل نے کی بھی ہو جو چھ برس کی ہی عمر میں شادی کو ضروری قرار دینے کے جواز پر مشتمل ہو تو ان سب کے بارے میں یہ کہہ دینا کافی ہو گا کہ وہ سب ضرورتیں بارہ تیرہ برس کی عمر اور بڑی عمروں میں باحسن وجوہ پورے ہونے میں کوئی شے مانع نہیں۔ تو ایک غیر ضروری، خلافِ رواج و عقل شادی میں ایسی کون سی معقولیت پوشیدہ تھی جس کے سبب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور ان کے کردار پر ایک قبیح دشنام ترازی کے امکان کو پیشگی زائل کرنا مناسب نہ جانا۔ایک رسول جو دین پر بدخواہوں کے اتہام سے اتنے پر اندیش تھے کہ خدائی عندیے کے باوجود شادی میں متردّد رہے، جن کا خدا اتنا باریک بینی سے ان کے اسوے کی تحسین پر نگران تھا کہ قدم قدم پر دنیا جہان کو چیلنج دیتا جا رہا تھا کہ انک لعلی خلق عظیم اور مستقبل میں آپ کے کسی عمل کو ناسمجھی میں امت یا معاندین ہی کے لیے پر فتن سمجھ کر اس کی فوری پیمانہ بندی کر دی جا رہی تھی، ان کے متعلق یہ گمان کرنا کہ ایک غیر ضروری اقدام سے نادانستگی میں دین پر عیب جوئی کی کمک فراہم کر دیں گے، ناقابل ادراک ہے۔

کیا حضرت عائشہ کو اپنی عمر ٹھیک معلوم تھی؟

اطمینان رکھیے! یہ سرخی بادی النظر میں جتنی مضحکہ خیز لگ رہی ہے، حقیقت میں اتنی ہی دلچسپ ہے۔
دَورِ حاضر میں عمروں کا شمار جس اہتمام و محتاط انداز میں ممکن ہو گیا ہے اور لوگ رکھتے ہیں، ماضی بعید ہی نہیں قریب میں بھی صورتحال اس سے بہت مختلف تھی۔ چند صدیوں بلکہ دہائیوں پہلے تک بھی ہر ملک میں ایسے بہت سے مقامات تھے جہاں لوگ نہ کیلنڈر سے واقف تھے اور نہ عمروں کے صحیح شمار کے لیے رجسٹریشن ضروری تھی کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ میرے والدین کی پیدائش کشمیر میں ہوئی۔ میرے اپنے والد کو اپنی عمر شناختی کارڈ بنوانے کے وقت اندازے سے درج کرانی پڑی۔ آج بھی کسی دور پار گاؤں میں چلے جائیے، آپ کو ایسے بہت سے تعیّنات سننے کو ملیں گے کہ ’’یہ جاڑے کی پیدائش تھی۔‘‘ یعنی زیادہ سے زیادہ جو معلومات وہ کسی کی عمر کے بارے میں اپنی یادداشت سے مہیا کر پاتے ہیں، وہ یا تو موسم کی تعیین ہے یا کسی اور کی عمر سے موازنے یا کسی اہم واقعے کے وقوع سے حساب کر کے جانچتے ہیں۔ مزید یہ کہ سالگرہ وغیرہ کا بھی کوئی رواج نہیں ہوتا۔ عمر کے بالکل صحیح شمار کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی۔ ایسے ماحول میں جا کر ہی انسان سمجھ سکتا ہے کہ بعض وہ مقدمات جو ہم آج جکل کی شہری زندگی میں قائم کر لیتے ہیں، وہ کس کس غیر متوقع زاویے سے لائق تنقیح ہو جاتے ہیں۔
چودہ سو برس پہلے کے عرب ماحول کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہاں بھی کوئی نظامِ تقویم رائج نہیں تھا۔ وہ امی لوگ تھے۔ وہاں مہینوں کا حساب قمری جنتری پر کیا جاتا تھا اور سالوں کے حساب کے لیے کوئی باقاعدہ تقویم حضرت عمر کے دَور تک اختیار نہ کی گئی تھی۔ بہت سے واقعات بھی اس خیال کو تقویت بخشتے ہیں کہ وہاں بھی بڑے اور اہم واقعات کے قرب و بعد سے عمر کا تخمینہ لگا یا جاتا تھا۔ سالگرہ وغیرہ منانے کا بھی کوئی رواج نہ تھا۔عمر کی تعیین میں انسان کا اپنا معاملہ بھی یہ نہیں ہوتا کہ وہ پیدائش سے ہی اپنی عمر کا شمار خود شروع کر دے۔ اس معاملے میں بھی اور بہت سے معاملات کی طرح ایک خاص عمر تک وہ دوسروں کا ہی محتاج ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسے ماحول میں کسی شخص کی اپنی عمر کی تعیین میں بھی کم سے کم دو تین سال اور عموماً بضع سنین کی کمی بیشی پوری طرح معقول بلکہ قرین از قیاس ہے۔
حضرت عائشہ کی ولادت کسی اہم سال میں ہونے کا کوئی حوالہ ہمیں نہیں ملتا۔ پھر اپنی عمر کاجو بیان ان سے منسوب ہے، وہ بھی چھ یا نو برس میں اْن سے نہیں لیا گیا، بلکہ سالوں اور شاید دہائیوں بعد انہوں نے اپنے بھانجوں، بھتیجوں، پوتوں وغیرہ سے ذکر کیا۔ مزید اگر اْن کی عمری تعیین سے متعلق تمام روایات کا استقصا کیا جائے تو یہ خیال بھی زور پکڑتا محسوس ہوتا ہے کہ اْن کے پیش نظر اپنی کم عمری بتانا بھی تھا، یعنی انہیں کس قدر نوخیزی میں حضور کی صحبت میسر ہوئی۔ 
ان سب عوامل کی روشنی میں اگر ان روایات کو قابل اعتنا بھی سمجھنا ہو تو بھی یہ بات قرین قیاس لگتی ہے کہ عائشہ نے اپنی عمر حضور کی وفات کے کچھ یا طویل عرصے بعد ایک اندازے سے ہی بتائی ہو گی، جس میں دو تین سال یا کچھ زیادہ بھی اوپر نیچے ہو جانے کا امکان پوری طرح موجود ہو گا۔ سننے والے بھی چونکہ اب ہجری اور باقاعدہ تقویم کے عادی ہو چکے ہوں گے، اور پھر اسلام کی جدوجہد کے نتیجے میں واقعات، تاریخوں اور عمروں کے شمار کی عادت بھی بعد میں آنے والوں میں راسخ ہو چکی ہو گی، اس لیے انہوں نے تعیین کو بالکل محتاط اور قطعی گردانتے ہوئے کسی انتباہ کے بغیر اسی طرح آگے نقل کر دیا ہو گا۔ تاہم مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں ہمیں اسے محض ایک اندازہ تسلیم کرتے ہوئے اس بات کا پورا امکان باور کرنا چاہیے کہ رخصتی کے وقت آپ کی عمر نو کے بجائے بارہ تیرہ برس یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے جو کسی اعتبار سے قابل اعتراض بھی نہیں رہتی، اْس دَور کے تمدنی حالات میں معقول بھی لگتی ہے اور خود حضرت عائشہ کی بوقت رخصتی نوخیز ی بھی قائم رہتی ہے۔

حضرت عائشہ کا قد؟

اس مضمون کا مقصد چونکہ معاملے کے سب پہلوؤں کا احاطہ ہے اس لیے اس طرح کے ضمنی نوعیت کے مشاہدات کا ذکر بھی برمحل معلوم پڑتا ہے۔ اماں عائشہ سے ایسی باتیں تو منسوب ہیں جن میں آپ اپنی کم عمری کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ ان کی والدہ انھیں رخصتی سے پہلے اس ارادے سے عمدہ اور جسم کو بھر دینے والی خوراک کھلایا کرتی تھیں کہ انھیں رخصت کر کے رسول اللہ کے گھر بھیجا جا سکے۔(۱۳) اور ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن میں آپ کا وزن میں بہت ہلکا ہونا بھی مذکور ہے۔ تاہم جسمانی ترقی کا ایک اہم مظہر قد بھی ہوتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اس سے متعلق کوئی ذکر ہمیں روایات میں نہیں ملتا؟بلکہ شادی میں کم سنی کے اخفا کے لیے تندرستی اور وزن کے مقابل میں قد اہم تر ہوتاہے۔ یعنی کسی لڑکی کو کم سنی کے باوجود ہم بستری کے قابل اور بچپن کے مراحل سے باہر سمجھنے کے لیے انسان نفسیاتی طور پر یہ تو گوارا کر سکتا ہے کہ اس کا جسم بھرا ہوا نہ ہو یا وہ بہت ہلکی ہو، مگر شاید ایک خاص حد سے چھوٹا قد فطری طور پر کراہت کا باعث بن سکتا ہے۔
لڑکیوں میں قد میں نمایاں تبدیلیاں گیارہ بارہ سال کے ارد گردہوتی ہیں جو چودہ پندرہ برس کی عمر تک چلتی رہتی ہیں۔ (۱۴) عام مشاہدے میں بھی آٹھ نو برس کی عمر میں باعتبارِ قد لڑکیاں ابھی بچپن ہی کے ارتعاشات بکھیر رہی ہوتی ہیں۔ چنانچہ اگر حضرت عائشہ اس وقت واقعی سات آٹھ برس کی تھیں تو کیا سب سے بڑی پریشانی یہ لاحق نہیں ہونی چاہیے تھی کہ جلد سے جلد ان کا قد بڑا ہو جائے؟ مگر قد سے متعلق کوئی پریشانی ہمیں روایات میں نہیں ملتی۔
اس سوال کو حضرت عائشہ کے مذکورہ بالا انکشافات کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو یہ گمان قرین از قیاس لگتا ہے کہ آپ ایسی عمر میں تھیں جس میں قد میں تمام قابل لحاظ تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں۔ اور چونکہ ان تبدیلیوں کے وقت جسم نحیف ہوجاتا ہے، اس مقصد سے اصل توجہ تندرستی پر مرکوز کر دی گئی ہو گی۔

فریقِ اوّل کے پیش کردہ قرائن موافق

فریق اوّل نے بھی کچھ ایسے قرائن پیش کیے ہیں جو بظاہر روایتی مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ یعنی ایسی روایات کی طرف توجہ دلائی گئی جن میں رخصتی کے زمانے اور بعد میں بھی حضرت عائشہ کا جھولا جھولنا، گڑیوں سے شغف، سہیلیوں کے ساتھ کھیلنا اور میلوں میں کرتبوں سے محظوظ ہونا شامل ہیں۔ بلکہ اکا دکا روایات تو ایسی بھی ہیں جن کی رو سے اس نوعیت کے شغف مبینہ طور پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے چند سال پہلے تک بھی ثابت ہیں۔ حق یہ ہے کہ بادی النظر میں یہ قرائن اپنے مؤقف کی تائید میں معقول ہیں۔ اس لیے ان کا تجزیہ بھی ضروری ہے۔
جہاں تک ان روایات کی بات ہے جو اِن دلچسپیوں کا وقوع کسی بھی وقتی تعیین کے ساتھ بتاتی ہیں، شاید ایک دو ہی ہیں اور زیادہ قابلِ اعتبار بھی نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک روایت (۱۵) میں حضرت عائشہ کے پاس گڑیوں کی موجودگی ایک اندازے کے مطابق ۵ ہجری کے بعد تک ہونا منقول ہے۔ مگر چونکہ راوی کو اس بات میں شک ہے کہ آیا یہ واقعہ خیبر کا ہے یا تبوک کا، اس کو کسی زمانی تخصیص کے لیے بنائے استدلال بنانا کوئی معتبر طریقہ نہیں۔ پھر اس پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ خیبر اور تبوک میں کوئی خاص مماثلت نہیں، چنانچہ کوئی وجہ نہیں کہ راوی نے اس واقعے کو کسی اور غزوے سے ملتبس نہ کر دیا ہو۔مزید اس روایت میں حضرت سلیمان کے ’’پروں والے گھوڑے‘‘ کے متعلق حضرت عائشہ کا جو بیان منقول ہے، اس سے بھی اس واقعے کا رخصتی کے زمانے کے ارد گرد ہونا اغلب لگتا ہے۔ پھر اگر اسے ۵ ہجری کا ہی واقعہ مان بھی لیا جائے، تب بھی اس روایت سے گڑیوں سے کھیلنا نہیں بلکہ ’’سامان کے کمرے‘‘ میں فقط ان کی موجودگی ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ جس طرح اپنے بچپن کے کھلونوں کو بڑے ہونے تک بھی لوگ سنبھال کر رکھ لیتے ہیں، عائشہ کا بھی اسی مقصد سے ان کو بچا کے رکھنا ہی قرین از قیاس ہے۔
اور جہاں تک بات ہے اصولاً ان میں سے کچھ بچگانہ عادتوں کے وقوع کی تو ان سے بس اتنا استدلال درست ہے کہ رخصتی کے وقت عائشہ ایسی عمر میں تھیں جس میں ابھی تک ان کی یہ عادتیں نہ چھوٹی ہوں گی۔ جھولا جھولنا اور میلوں وغیرہ سے محظوظ ہونے کی عادات سے تو لڑکیوں کی عمر کے خصوص کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی، کیونکہ ان جذبات سے تو وہ نوجوانی میں بھی خالی نہیں ہوتیں۔ ہاں گڑیوں یا سہیلیوں سے کھیلنا عمر کی بابت حد بدنی کا کام دے سکتی ہیں۔ تاہم یہ حدبندی بضع سنین کے اوپر نیچے ہونے کے معاملے میں مددگار نہیں بن سکتی۔ پھر اس دَور کے اور ہمارے تمدن میں قابل لحاظ فرق بھی درست حتمی تخمینے میں کسی قدر مانع ہے۔
بایں ہمہ اس طرح کی جتنی بھی روایات ہیں، ان کے انضمام کے بعد ان کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ یہ زمانہ رخصتی ہی کے فوری قرب و جوار کے واقعات پر مشتمل ہوں گی، ہر اعتبار سے منطقی اور صائب لگتا ہے۔ چنانچہ رخصتی کے وقت عائشہ کی عمر چودہ پندرہ برس بھی ہو تو یہ کوئی غیر متوقع لہو و لعب نہیں کہ زمانی اطراف میں ان کا صدور عمر کی تحقیق کے معاملے میں کوئی سرخ جھنڈی ( red flag) کھڑی کر دے۔

قرآنی آیات سے استشہاد

دونوں فریقین نے اپنے اپنے مؤقف کی تائید کے لیے قرآنی آیات سے بھی بالواسطہ استشہاد کیا ہے۔ یعنی انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نابالغوں کی شادی دین کیْ و سے روا ہے بھی کہ نہیں؛ کیونکہ اگر قبل البلوغ شادی جائز نہیں تو حضور کی نسبت ایسا کوئی دعویٰ اعتقاداً غلط ہو گا۔ چنانچہ ایک آیت فریق اوّل اپنی تائید میں پیش کرکے کہتا ہے کہ نابالغوں سے شادی درست ہے اور ایک دوسری آیت سے فریق ثانی استنباط کر کے کہتا ہے کہ ایسی شادیاں درست نہیں، اور پھر دونوں گروہ فریق مخالف کی پیش کردہ آیت کی تاویل بھی کر دیتے ہیں۔ فریق اوّل سورۃ الطّلاق (۱۶) کی آیت 4 اور فریق ثانی سورۃ النساء (۱۷) کی آیت 6 سے استشہاد کرتے ہیں۔ 
مضمون ہذا ان آیات کی تشریح پر بحث کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ یہ قدرے تفصیل کی متقاضی ہے۔ تاہم یہاں میں وہ دلائل بیان کر دیتا ہوں جن کی بنیاد پر ان آیات سے اس معاملے میں تائید وتنکیر درست نہیں:
1۔ یہ آیات معاملے سے براہِ راست متعلق نہیں کیونکہ یہ حضرت عائشہ کی شادی پر کوئی تبصرہ نہیں کررہیں۔ دونوں آیات کا یہ پہلو لا نزاع و لا جدال فیہ (undisputed) ہے۔
2۔ یہ آیات حضرت عائشہ سے شادی کے بعد نازل ہوئی ہیں۔ اس لیے ایک ماضی کے واقعے کو اِن پر پرکھنا ظاہر ہے کہ درست نہیں۔
3۔ یہ آیات شادی کی عمر سے متعلق کسی صریح حکم پر مشتمل نہیں۔ یہ تو براہِ راست شادی کے مسئلے سے بھی متعلق نہیں بلکہ ان سے اس ضمن میں استنباط بھی بالواسطہ ہی ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت وراثت کی تقسیم سے متعلق اور سورہ طلاق کی آیت عدتِ طلاق سے متعلق ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے دین میں حلت و حرمت جس وضوح سے بیان کی جاتی ہے، وہ ان آیات سے استخراج میں نہیں پائی جا تی۔
4۔ بادی النظر میں اِن آیات میں عمر نکاح کے عرف پر کوئی تنقید نہیں کی جارہی، بلکہ بظاہر اسے ہی بنیاد بنایا جا رہا ہے۔ پھر اگر اس قسم کی کوئی تنقید فرض کر بھی لی جائے تو اوّل تو یہ مبہم ہی رہے گی اور تاویلی اختلافات سے خالی نہ ہو گی،اور دوم اس تنقید سے عمر نکاح کے زاویے سے استثنائی معاملات کی نفی کی حد تک تاکید تو کبھی برآمد نہیں کی جا سکتی۔ اگرچہ یہ نکتہ تفصیل سے تو ایک علیحدہ مضمون میں ہی زیر بحث آ سکتا ہے، تاہم یہاں ان آیات سے استنباط کی سطحیت اور کمزوری باور کرانا مقصود ہے۔
5۔ اور آخری مگر شاید اہم ترین نکات میں سے یہ بھی ہے کہ ان آیات کی کسی بھی توجیہ سے عمر عائشہ کے لیے استشہاد ایک صورت میں استنتاج دائری (circular reasoning) کے عارضے سے خالی نہ ہو گا، جو ظاہر ہے کہ منطقی مغالطے (logical fallacy) کی ہی قسم ہے، اور آخری صورت میں معاملے کی تحقیق سے متعلق کوئی اثباتی شہادت نہ دے سکے گا۔ یعنی حرام ہونے کی صورت میں اس میں چونکہ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ حضور نے کسی نابالغہ سے شادی نہ کی ہو گی (یعنی گناہ نہ کیا ہوگا) یہ فرض کرنا پڑے گا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے (یعنی گناہ نہ کر سکتے تھے)، اس سبب منطقی اعتبار سے یہ کوئی وزن نہیں رکھے گا؛ اور یا پھر اگر نابالغہ سے شادی کا جواز ان آیات سے ثابت کر بھی دیا جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت عائشہ کے ساتھ کم عمری میں نکاح کا کوئی مثبت دعویٰ تو پھر بھی موجود نہ ہو گا۔ مسلمانوں کی قلبی تسکین تو اس سے شاید حاصل کرنا ممکن ہو، پر غیر مسلموں کے لیے اس استدلال کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی۔
یہ چند دلائل ہیں جن کے باعث زیر بحث مسئلے کی تحقیق میں اِن آیات سے استشہاد کسی خاص اہمیت کا حامل دکھائی نہیں دیتا۔ 

نتائج تحقیق

تحقیق ہذا کے نتیجے میں مندرجہ ذیل اکتشافات سامنے آتے ہیں:
1۔ مختلف طرق سے ملنے والی روایات میں حضرت عائشہ کا مذکور دعویٰ کہ وہ نکاح کے وقت چھ سات برس کی اور رخصتی کے وقت نو برس کی تھیں، باعتبارِ سند صحیح ہے، اس لیے یہ مقبول الشّہادہ ہے۔
2۔ معاملے کی نوعیت چونکہ دو طرفہ عقد کی ہے اور ایک فریق کا دعویٰ (خصوصاً عمر نکاح) غیر معمولی پس استجواب حضوری (cross-examination) کا متقاضی ہے، لہٰذا تیقن کے لیے شوہر یا والدین وغیرہ کی شہادتوں کی ضرورت ہے جو کہ مفقود ہیں۔ پس بارِ ثبوت کے اعتبار سے میسر شہادت ناکافی ہے۔
3۔ قرائن مبینہ عمر کو غیر متوقع بنا دیتے ہیں۔ اگرچہ بعض قرائن بچپن کی بعض عادات رخصتی کے ارد گرد ثابت کرتے ہیں تاہم انہیں دوسرے قرائن کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے جیسے وجہ رشتہ،حضور کا ذوقِ طبع، عرب کا رواج اور مختلف معاملات میں عائشہ کی شمولیت اور ان کی عمومی ذہنی و جسمانی کیفیت وغیرہ توصحیح عمر شباب یا اوائل شباب کی مسافات میں محسوس ہوتی ہے۔
4۔ دنیا اور خصوصاً عرب کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس دَور میں لوگ اپنی عمروں کا شمار محتاط انداز میں نہیں کیا کرتے تھے، سالوں کے شمار کے لیے کوئی نظامِ تقویم رائج نہیں تھا۔ حضرت عائشہ سے جو بیان منسوب ہے، وہ شادی کے کئی سال بعد لیا گیا تھا اور اس میں بھی اپنی کم عمری بتانا ان کے پیش نظر تھا۔ یہ سب شواہد سیّدہ کے اپنی عمر کے متعلق بیان کو بھی ایک اندازے پر ہی محمول کردیتے ہیں۔
5۔ قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملے میں خاموش ہیں۔ اس معاملے کے خلافِ معمول اور نامعقول ہونے کی حیثیت ان دونوں مصادر کی خاموشی کو معنی خیز اور معاملے کو ناممکن الوقوع بنا دیتی ہے۔تاہم یہ استحالہ دو امکانات کو جنم دیتا ہے۔ ایک یہ کہ شادی اس درجے کم سنی میں نہیں ہوئی ہو گی۔ اور دوسرے یہ کہ روایتی مؤقف میں مذکور عمریں اس دَور کی معاشرت اور تمدن کے اعتبار سے غیر معمولی نہیں تھیں۔ تحقیق کی روشنی میں پہلا امکان اغلب ہے۔
6۔ چونکہ یہ کوئی دینی نہیں بلکہ ایک تاریخی معاملہ ہے، اس لیے اس معاملے میں مؤرّخانہ نقطہ نظر اپنانا زیادہ مناسب ہے۔ پس اس اعتبار سے چونکہ اس غیر معمولی خبر کی تصدیق کسی موثوقہ ذریعے سے آج نہیں ہو سکتی، اس لیے اس کو ردّ کر دینا علم و عقل کے عین مطابق ہے۔

اختتامیہ

حضرت عائشہ کی شادی کے بارے میں روایتی مؤقف کو مکمل طور پر ناممکن نہیں کہا جا سکتا کیونکہ تاریخی تحقیق سے اس طرح کے نتائج کی برآمدگی اکثر ممکن نہیں ہوتی۔ تاہم اثبات یا نفی میں فیصلے اکثر و بیشتر قرین و بعید از قیاس ہونے کی بنا پر ہی کیے جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے اس معاملے میں یہ کہنا عین قرین از قیاس ہے کہ شادی کی وہ عمریں جس پر روایتی مؤقف کے حاملین مصر ہیں، غالباً درست نہیں، بلکہ بارہ تیرہ سال کی عمر سے لے کر سولہ سترہ سال کی عمر یں راجح دکھتی ہیں۔
فریق اوّل سے التماس ہے کہ ان دلائل کا جائزہ لے کر امت کو کسی ایک نہج پر متفق کرنے کی جد و جہد کریں۔ ایک ایسی نہج پر جس میں علم و عقل کے تقاضوں سے گزیز بھی نہ ہو اور غیر مسلموں اور ان کے اوطان میں مقیم مسلمانوں کے لیے دین اسلام کی طرف آنے، بلانے اور قائم رہنے کی سعی عمر صدیقہ بوقت نکاح و رخصتی کی گھاٹی عبور کر نے کے قابل بھی ہو جائے جو فی الحال عقبہ کؤود (insurmountable obstacle) بنی ہوئی ہے۔

حوالہ جات وحواشی

۱۔ میں اسے محققانہ کہنا چاہتا تھا، تاہم اس خیال سے کہ اس کے لغوی مطلب کو بنیاد بنا کر کوئی ایک فریق یہ کہہ سکتا ہے کہ کیا ہمارا رویہ حقیقت تک پہنچنے کا نہیں، میں نے ایسا نہیں کیا۔ 
۲۔ مثال کے طور پر دیکھیے :
http://www.javedahmadghamidi.com/ishraq/view/ilm-e-hadis-main-darayati-naqd-ka-tasawur
۳۔ صحیح مسلم، کتاب النکاح ( 16)، حدیث 83 اور 84؛ سنن ابن ماجہ، جلد 3، کتاب النکاح ( 9)، حدیث 1877؛ مسند احمد بن حنبل، رقم 24653۔
۴۔ الطبقات الکبریٰ، ابن سعد ۸/ ۵۷؛ احمد، رقم ۲۵۲۴۱؛
5- http://www.alsharia.org/mujalla/2012/jul/sayyidah-aisha-javed-ghamidi
http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/Hazrat-Ayesha-Ki-Umer
6- Ruth Lamdan: A Separate People: Jewish Women in Palestine, Syria, and Egypt in the sixteenth Century, p. 47. Leiden, 2000.
7- "PURITY CONGRESS MEETS; A Great Gathering for Moral Work in the City of Baltimore. AIMS AND OBJECTS OF THE MOVEMENT Determined to Prevent State Regulation of Vice and to Rescue Fallen Men and Fallen Women.". The New York Times. BALTIMORE, Oct. 14. October 15, 1895.
8- "Encyclopedia of Children and Childhood in History and Society". Faqs.org. Retrieved 2015-11-20.
9- M.A. Friedman (1980), Jewish Marriage in Palestine, Vol 1, The Jewish Theological Seminary of America.
10- Noonan, John (1967). "MARRIAGE CANONS from THE DECRETUM OF GRATIAN - BOOK FOUR - TITLE I - Betrothals and Marriages - C3". CUA.edu. Archived from the original on 17 January 2016.
11- Bullough, Vern. "Encyclopedia of Children and Childhood in History and Society". faqs.org. Internet FAQ Archives. Archived from the original on 28 September 2008. Retrieved 25 August 2015.
۱۲۔ دیکھیے فیلیپ آرییس کی کتاب 'Centuries of Childhood' اور کنگھیم کی کتاب 'Invention of Childhood (2006)۔
۱۳۔ ابن ماجہ، رقم ۳۳۲۴
14-https://en.wikipedia.org/wiki/Human_height#Determinants_of_growth_and_height
۱۵۔ سنن ابو داود، حدیث نمبر ۴۹۳۲۔ راوی کو شک ہے کہ یہ واقعہ غزوہ خیبر سے متعلق ہے یا تبوک سے۔ فتح الباری میں غزوہ خیبر سے متعلق ہونے کو راجح قرار دیا گیا ہے۔
۱۶۔ ترجمہ تدبر قرآن: ’’اور تمہاری عورتوں میں جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں، اگر ان کے باب میں شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور اسی طرح ان کی بھی جن کو حیض نہ آیا ہو اور حمل والیوں کی مدت وضع حمل ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا تو اللہ اس کے لیے اس کے معاملے میں آسانی پیدا کرے گا۔‘‘
۱۷۔ ترجمہ تدبر قرآن: ’’اور ان یتیموں کو جانچتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں تو اگر تم ان کے اندر سوجھ بوجھ پاؤ تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو اور اس ڈر سے کہ وہ بڑے ہو جائیں گے، اسراف اور جلد بازی کر کے اْن کا مال ہڑپ نہ کرو۔‘‘

تبلیغی سہ روزہ کی مختصر روداد

حافظ محمد شفقت اللہ

گزشتہ چندسال سے استادِمحترم مولانازاہد الراشدی صاحب کی یہ ترتیب ہے کہ وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک سالانہ سہ روزہ لگاتے ہیں۔ اس سال ۸ تا ۱۰ نومبر ۲۰۱۶ء کو سہ روزہ ترتیب پایا۔ گوجرانوالہ سے ۳۵ علماء کرام پر مشتمل قافلہ ۸ نومبرکی صبح تبلیغی مرکز میں جمع ہوا۔ امیرتبلیغی مرکز محترم حاجی محمداسحاق صاحب نے روانگی کی ہدایات فرمائیں اور مولانا اسرار صاحب کو امیر مقرر کرنے کے بعدتشکیل سرگودھا میں طے پائی۔ ہماری گاڑی میں استادِمحترم مولانازاہد الراشدی،مولانا طارق بلالی اور مولانا اسرائیل صاحب سوارتھے۔امیرِ سفر مولانامحمد اسرائیل صاحب منتخب ہوئے۔
دورانِ سفر میں نے استاد محترم سے سوال کیا کہ موجودہ دور میں بین المسالک ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ پر زور دیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں تقابلِ ادیان کا دائرہ کیا ہے اور تقابل ادیان کو تحقیق ،تنقید یا فتنہ کہا جائے؟ استاد جی نے جواب دیا کہ تقابل ادیان کا اطلاق اسلام سے متصادم مذاہب عیسائیت،یہودیت،بدھ مت کے حوالے سے ہوتا ہے۔ بریلویت ،اہلحدیث وغیرہ پر تقابل ادیان کا اطلاق غلط ہے۔ یہ مسلکی اختلافات ہیں اور ایسا اختلاف جو پبلک میں لڑائی اور شدت کا باعث بنے، وہ فتنہ ہے۔
میں نے امامِ اہل سنت ؒ کی کتاب ارشادالشیعہ کے بارے میں پوچھا کہ اس میں شیعہ کی تکفیر ہے اور کتاب لکھی ہی لوگوں کے لیے جاتی ہے تو کیا یہ لڑائی کا باعث نہیں ہے؟ استاد محترم نے کہا کہ تکفیر کا موقف اپنی جگہ ،یہ ایک علمی اختلاف ہے جس کا حق ہر کسی کو حاصل ہے۔ اگر یہ کتابی شکل میں ہے تو یہ اپنے موقف کی وضاحت کے لیے ہے نہ کہ معاشرے میں منافرت پھیلانے کے لیے۔ اختلاف لڑائی کا باعث تب بنتا ہے جب جلسے ،جلوس اور منبر پرمنفی لہجے میں بیان کیا جائے۔ قرآن کہہ رہا ہے کہ وَمَا ھْم بِمْؤمِنِین ، وَاللّٰہُ یَشھَدْ اِنَّھْم لَکٰذِبْون، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نماز جنازہ پڑھا رہے ہیں ۔چودہ بندے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے درپے ہیں۔ اللہ نے بچالیا، لیکن حضور ان کے نام بتانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ ہے معاشرت۔ معاشرتی احکام بالکل الگ ہیں۔ حضرت امامِ اہل سنت نے کبھی جلسے،جمعے میں اس طرح کااختلافی بیان نہیں کیا۔ ہاں تحقیقی ،تدریسی میدان میں جہاں محسوس کرتے، وہاں وضاحت کر دیتے تھے اور خوب کرتے تھے۔
استادِمحترم نے فرمایا: ایک دن میرے ساتھ کچھ احباب بیٹھے تھے۔ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ مولانا سرفراز صاحب بہت معتدل آدمی ہیں، کبھی اختلافی بیان نہیں کرتے۔ جب وہ آدمی چلا گیا تو ساتھی حیرانی سے پوچھنے لگے کہ ان سے بڑھ کر کون اختلاف کرتا ہے۔ ہر طبقہ کے خلاف مدلل ،مسکت مؤقف رکھتے ہیں۔ تو میں نے ساتھیوں سے کہا کہ آپ بھی سچے ہیں اور وہ بھی سچا ہے ۔آپ نے تدریسی،تصنیفی،تحقیقی دنیا دیکھی ہے اور اس نے عمومی مجلس دیکھی ہے اور حضرتؒ عمومی جگہ میں اختلافی بیانات کے قائل نہیں تھے۔ 
بہرحال سرگودھا مرکز پہنچے۔ وہاں مقامی ترتیب کے مطابق گشتوں کی تشکیل ہوئی۔پہلے دن یہ گشت بیسیوں مساجد میں بلاتفریق مسلک ہوا اورائمہ وخطباء کو مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کے خصوصی خطاب میں شرکت کے لیے دعوت دی گئی۔ اگلے روز بدھ کے دن ضلع کی تحصیلوں کا گشت طے تھا اور بڑے بڑے مدارس میں گشت کی ترتیب مولانا کے ساتھ طے پائی۔ دار العلوم زکریا ، مرکز اہل سنت سرگودھا ، جامعہ دار الہدیٰ چوکیرہ ، ضیاء العلوم اشاعت التوحید وا لسنۃ کا سفر ہوا۔ تمام مدارس کے طلباء میں مولانازاہد الراشدی صاحب کا خطاب اور تشکیلیں ہوئیں۔ 
راستے میں استادِ محترم نے فرمایا:کہ یہ تبلیغ کی برکت ہے کہ ہم مولانا الیاس گھمن سے بھی مل رہے ہیں اور مولانا عطاء اللہ بندیالوی کو بھی وقت دیا ہے۔ اسی پر فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ اسی سلسلہ میں گجرات کے مولاناسید ضیاء اللہ شاہ صاحب کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا اس کام کا بھی کوئی فائدہ ہے؟ میں نے کہا کہ یہ تھوڑا فائدہ ہے کہ آپ اور میں اکٹھے بیٹھ کر چائے پی رہے ہیں۔ اس پر شاہ صاحب ؒ ہنس پڑے۔ 
مولانا گلزاراحمد قاسمی، مولانا گلزاراحمد آزاد اور قاری محمد قاسم قاسمی کے ہمراہ چندعلماء پر مشتمل قافلے کی تشکیل جھاوریاں اور ڈھڈیاں شریف کی طرف ہوئی۔ڈھڈیاں شریف میں حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری کی قبر پر حاضری ہوئی اورموجودہ گدی نشین حضرت مولانا مظفر رائے پوری مدظلہ سے ملاقات ہوئی۔
ظہر کے بعدسرگودھا تبلیغی مرکز میں استاد محترم مولانازاہد الراشدی صاحب کا فکر انگیز بیان ہو ا جس میں علماء کے جم غفیرنے شرکت کی۔ عصر کے بعد ایک مسجد کا سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد مولانا نے نمازمغرب نئے تبلیغی مرکز میں ادا کی اور جامعہ اسلامیہ محمودیہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں حضرت مولانا مفتی محمدرفیع عثمانی صاحب کا خطاب تھا۔ مقصو د توملاقات تھی، لیکن احباب نے کہا کہ نیت دعوت کی کرلیں تاکہ تقاضابھی پوراہوجائے اور ملاقات بھی ہوجائے۔ اسی پر استادِ محترم نے فرمایاکہ حضرت مولانامحمد زکریا ؒ ایک مرتبہ نلکے کے نیچے نہا رہے تھے۔ ایک آدمی نلکا چلا رہا تھا۔ کافی دیر نہاتے رہے۔ ایک شخص آکر کہنے لگا کہ آپ ہمیں کہتے ہیں کہ پانی ضائع نہ کرو اور خود اتنی دیر سے نہار ہے ہیں؟ مولانا محمدزکریا ؒ نے کہا: میرا ارادہ غسل کا، نہیں تبرید کا ہے۔ جب جسم ٹھنڈا ہوجائے گا، اٹھ جاؤں گا۔ اس میں پانی ضائع کرنے والی کو ن سی بات ہے؟
جامعہ اسلامیہ محمودیہ میں استاد محترم مولانازاہدالراشدی صاحب اورحضرت مفتی صاحب کا خطاب سن کر مرکز واپسی ہوئی۔
جمعرات کی صبح استادِ محترم مولانازاہد الراشدی صاحب کا گشت مرکز آلِ محمدسلانوالی مولانا شاہ خالد گیلانی صاحب اورساہیوال میں مولانا عبد القدوس ترمذی صاحب کی طرف طے پایا۔ نمازِفجر کے بعد ہم روانہ ہوئے۔ دورانِ سفر میں نے پوچھا کہ روایات میں آتاہے کہ ہر صدی کا ایک مجدد ہوتاہے، اس صدی کا مجدد کون ہے؟ استادِ محترم نے جواب دیا کہ اس پر مولاناسعید احمداکبرآبادی ؒ نے ایک محاکمہ لکھاتھا جو بہت پسند کیا گیا۔ فرمایا کہ یہ اجتماعیت کا دور ہے، ہر کوئی اپنے شعبے کا مجدد ہے۔ اصلاح و سلوک میں حضرت تھانویؒ ، دعوت و تبلیغ میں مولانا محمدالیاسؒ ، علمی دنیا میں حضرت علامہ انور شاہ کاشمیر ی ؒ ، تحریکی جدوجہد میں مولانا مدنی ؒ اور ان سب کا مجموعہ دار العلوم دیوبند ہے۔ 
جامعہ حقانیہ ساہیوال میں پہنچنے کے بعد تخصص کے طلباء کوخطاب کرتے ہوئے مولانازاہد الراشدی صاحب نے فرمایا کہ مستفتی کے مقصد کو پہچاننا بھی ضروری ہے۔ عام طور پر کیا پوچھ رہا ہے پر غور تو کیاجاتاہے، لیکن کیوں پوچھ رہا ہے پر غور نہیں ہوتا۔ اس لیے استفتاء کا جواب دیتے ہوئے کیا کے ساتھ ’کیوں‘ کو بھی شامل کیا جائے۔اکابر کایہی طریقہ ہے۔
مولانامفتی محمودؒ کے پاس ایک شخص آیا اورپوچھنے لگا کہ حرام مال میں زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ مفتی صاحب سمجھ گئے کہ یہ فتویٰ کو بنیاد بنا کر مال کھا جائے گا۔ مفتی صاحب نے فرمایاکہ ہاں حرام مال میں زکوٰۃ ہے، لیکن چار شرائط کے ساتھ: حلال میں نصاب شرط ہے، حرام میں نہیں۔ حلال میں سال کا گزرنا شرط ہے، حرام میں نہیں۔ حلال کے لیے نصاب اڑھائی فیصد ہے اور حرام سارا دینا پڑے گا۔ حلال میں ثواب ہوگا، حرام میں ثواب کی نیت نہیں کرنی۔ اگر’’ کیا‘‘ کے ساتھ’’ کیوں‘‘کو بھی شامل کیاجائے تو بہت سارے مسائل میں الجھن سے بچ کرصحیح رہنمائی ہو جاتی ہے۔
مولاناعبدالقدوس صاحب سے ملاقات کے بعد مرکز واپسی ہوئی۔ یہ ہمارا تیسرادن تھا ۔ظہر کی نماز کے بعد استادِ محترم مولانازاہد الراشدی ،مولانا آفتاب اور مولانا سعد صاحب کے ساتھ فیصل آباد روانہ ہوئے جہاں مغرب کے بعد مدینہ ٹاؤن میں درسِ قرآن کا پروگرام تھا جبکہ بقیہ جماعت نے گوجرانوالہ کارخ کیا۔