اگست ۲۰۱۶ء

مولانا مودودی کی دینی فکر اور شدت پسندی کا بیانیہ / ترکی کا ناکام انقلاب ۔ کیا چیز سیکھنے کی ہے اور کیا نہیں؟محمد عمار خان ناصر 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۱)ڈاکٹر محی الدین غازی 
فقہ حنفی کی مقبولیت کے اسباب و وجوہ کا ایک جائزہمولانا عبید اختر رحمانی 
برصغیر کی صنعتی و تجارتی حالت ۔ انگریز کی آمد سے پہلے اور بعد میںمولانا محمد انس حسان 
ترکی کا ناکام انقلاب ۔ کیا چیز سیکھنے کی ہے اور کیا نہیں؟محمد عمار خان ناصر 
روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے لیے مولانا زاہد الراشدی کا انٹرویورانا محمد آصف 
بین المذاہب مکالمہ: چند مشاہدات و تاثراتمحمد حسین 

مولانا مودودی کی دینی فکر اور شدت پسندی کا بیانیہ / ترکی کا ناکام انقلاب ۔ کیا چیز سیکھنے کی ہے اور کیا نہیں؟

محمد عمار خان ناصر

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کا شمار عصر حاضر کے ان ممتاز مفکرین میں ہوتا ہے جنھوں نے بطور ایک اجتماعی نظام کے، اسلام کے تعارف پر توجہ مرکوز کی اور مختلف پہلووں سے اس بحث کو تحقیق وتصنیف کا موضوع بنایا۔ مولانا کی دینی فکر میں اسلامی ریاست کا قیام، جس کو وہ اپنی مخصوص اصطلاح میں ’’حکومت الٰہیہ‘‘ کا عنوان دیتے ہیں، بے حد اساسی اہمیت کا حامل ہے اور وہ اسے مسلمانوں کے ایک اجتماعی فریضے کا درجہ دیتے ہیں۔ اسلام چونکہ محض پوجا اور پرستش کا مذہب نہیں، بلکہ انسانی زندگی میں مخصوص اعتقادی واخلاقی اقدار اور متعین احکام وقوانین کی عمل داری کو بھی اپنا مقصد قرار دیتا ہے، اس لیے بیسویں صدی میں مسلم قومی ریاستوں کے ظہور نے حیات اجتماعی کے دائرے میں مسلمان معاشروں کی تشکیل نو اور بالخصوص مذہب کے کردار کو اہل دانش کے ہاں غور وفکر اور بحث ومباحثہ کا ایک زندہ موضوع بنا دیا۔ مذہب کے اجتماعی کردار کا سوال اپنے متنوع پہلووں کے ساتھ ان مفکرین کے غور وفکر اور مطالعہ وتحقیق کا موضوع بنا جو جدید تہذیبی رجحانات کے علی الرغم ریاست اور مذہب کے باہمی تعلق کو نہ صرف مضبوط دیکھنا چاہتے تھے، بلکہ ریاست کو خالص مذہبی ونظریاتی اساسات پر استوار کرنا چاہتے تھے۔ مولانا مودودی کا شمار اس طرز فکر کے حامل قائدین کی صف اول میں ہوتا ہے۔ چنانچہ تقسیم ہند سے قبل مولانا نے ’’موجودہ سیاسی کشمکش‘‘ کے زیر عنوان ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ میں کئی قسطوں پر مشتمل ایک مفصل تجزیاتی تحریر لکھی جس میں معروضی صورت حال میں مسلم لیگ اور جمعیۃ علمائے ہند وغیرہ کی طرف سے مسلمانان ہند کے لیے تجویز کیے جانے والے لائحہ ہائے عمل پر زوردار تنقید کی اور متحدہ قومیت اور لبرل جمہوری ریاست کے تصورات کے بالمقابل حکومت الٰہیہ یعنی اسلامی ریاست کے قیام کو مسلمانوں کے لیے واحد شرعی لائحہ عمل قرار دیا۔ 
مولانا کے نتائج فکر پر مختلف حوالوں سے بحث وتمحیص اور نقد واختلاف کی گنجائش موجود ہے اور ان کی فکر میں ارتقا کے بعض اہم پہلو بھی خاص توجہ کا تقاضا کرتے ہیں (جس کی کچھ تفصیل ہماری کتاب ’’جہاد۔ ایک مطالعہ‘‘ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے،) تاہم اس کا ایک بے حد قیمتی اور قابل قدر ہے اور وہ یہ کہ مولانا کے معاصر تناظر میں زمینی حقائق کا بھرپور ادراک بھی موجود ہے اور وہ عصری صورت حال کی پیچیدگیوں سے پوری پوری آگاہی رکھتے ہیں۔ آئندہ سطور میں ہم اس حوالے سے مولانا کی فکر کے چند اہم پہلووں کا مختصر جائزہ لیں گے۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد نظری سطح پر اس حوالے سے زوردار بحث شروع ہو گئی تھی کہ نئی ریاست کو ایک سیکولر جمہوری ریاست ہونا چاہیے یا ایک اسلامی ریاست۔ اس بحث میں مولانا مودودی نے بھی بھرپور حصہ لیا اور آخر کار عوامی سطح پر جماعت اسلامی کی محنت اور دستور ساز اسمبلی میں مولانا شبیر احمد عثمانی اور ان کے رفقا کی جدوجہد کے نتیجے میں ۱۹۵۶ء کے دستور میں قرآن وسنت کی بالادستی کی دفعات شامل کر لی گئیں۔ اس تناظر میں ڈاکٹر احمد حسین کمال اور مولانا مودودی کے مابین اس نکتے کے حوالے سے تفصیلی مراسلت ہوئی کہ کیا اس دستور کو ایک اسلامی دستور قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ اس کی رو سے شریعت کے قوانین کا نفاذ مجلس قانون ساز اور صدر مملکت کی منظوری کا محتاج ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسمبلی میں مسلم وغیر مسلم اراکین دونوں کو یکساں حق رائے دہی حاصل ہے۔
ڈاکٹر احمد حسین کمال کے اٹھائے ہوئے ان سوالات کے جواب میں مولانا نے دو تفصیلی مکتوب تحریر کیے جن میں انھوں نے نفاذ شریعت کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کو واضح کیا۔ یہ مکاتیب ترجمان القرآن کے دسمبر ۱۹۵۶ء کے شمارے میں شائع ہوئے۔ مولانا لکھتے ہیں:
’’آپ نے جن مسائل کی طرف توجہ دلائی ہے، ان کے متعلق ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہم اپنی تحریک خلا میں نہیں چلا رہے ہیں، بلکہ واقعات کی دنیا میں چلا رہے ہیں۔ ۔۔۔ دستور اسلامی کے بارے میں جو باتیں آپ نے لکھی ہیں، ان میں سے کوئی بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہے، نہ کبھی پوشیدہ تھی، لیکن یہاں ایک کھلی کھلی لادینی ریاست کا قائم ہو جانا ہمارے مقصد کے لیے اس سے بہت زیادہ نقصان دہ ہوتا جتنا اب اس نیم دینی نظام کا نقصان آپ کو نظر آ رہا ہے۔‘‘ (’’مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اور ان کا طریق فکر‘‘، مرتب: محمد ریاض درانی، جمعیۃ پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۱ء، ص ۱۰۸، ۱۰۹)
’’ہم جس ملک اور جس آبادی میں بھی ایک قائم شدہ نظام کو تبدیل کر کے دوسرا نظام قائم کرنے کی کوشش کریں گے، وہاں ایسا خلا ہم کو کبھی نہ ملے گا کہ ہم بس اطمینان سے ’’براہ راست‘‘ اپنے مقصود کی طرف بڑھتے چلے جائیں۔ لامحالہ اس ملک کی کوئی تاریخ ہوگی، اس آبادی کی مجموعی طور پر اور اس کے مختلف عناصر کی انفرادی طور پر کچھ روایات ہوں گی۔ کوئی ذہنی اور اخلاقی اور نفسیاتی فضا بھی وہاں موجود ہوگی۔ ہماری طرح کچھ دوسرے دماغ اور دست وپا بھی وہاں پائے جاتے ہوں گے جو کسی او رطرح سوچنے والے اور کسی اور راستے کی طرف اس ملک اور اس آبادی کو لے چلنے کی سعی کرنے والے ہوں گے۔ ۔۔۔ ان حالات میں نہ تو اس امر کا کوئی امکان ہے کہ ہم کہیں اور سے پوری تیاری کر کے آئیں اور یکایک اس نظام کو بدل ڈالیں جو ملک کے ماضی اور حال میں اپنی گہری جڑیں رکھتا ہے، نہ یہ ممکن ہے کہ اسی ماحول میں رہ کر کشمکش کیے بغیر کہیں الگ بیٹھے ہوئے اتنی تیاری کر لیں کہ میدان مقابلہ میں اترتے ہی سیدھے منزل مقصود پر پہنچ جائیں اور نہ اس بات ہی کا تصور کیا جا سکتا ہے کہ ہم اس کشمکش میں سے گزرتے ہوئے کسی طرح ’’براہ راست‘‘ اپنے مقصود تک جا پہنچیں۔ ہمیں لامحالہ واقعات کی اس دنیا میں موافق عوامل سے مدد لیتے ہوئے اور مزاحم طاقتوں سے کشمکش کرتے ہوئے بتدریج اور بروقت اٹھا دینا ہوگا۔‘‘ (ایضاً، ص ۱۱۶، ۱۱۷) 
’’واقعات کی دنیا میں ہم جس صورت حال سے دوچار ہیں، وہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مجالس قانون ساز کے قیام کی ابتداء انگریزوں کے دور حکومت میں ہوئی۔ اس نظام کو انھوں نے اپنے نظریات کے مطابق قومی، جمہوری، لادینی ریاست کے اصولوں پر قائم کیا۔ انھی اصولوں پر سالہا سال تک اس کا مسلسل ارتقا ہوتا رہا اور انھی اصولوں پر نہ صرف پوری ریاست کا نظام تعمیر ہوا، بلکہ نظام تعلیم نے ان کو پوری طرح اپنا لیا اور بحیثیت مجموعی سارے معاشرے نے ان کے ساتھ مطابقت پیدا کر لی۔ ان واقعات کی موجودگی میں جتنے کچھ ذرائع ہمارے (یعنی دینی نظام کے حامیوں کے) پاس تھے، ان کو دیکھتے ہوئے یہ بھی کوئی آسان کام نہ تھا کہ کم از کم آئینی حیثیت سے اس عمارت کی اصل کافرانہ بنیاد (لادینیت) کو بدلوا کر اس کی جگہ وہ بنیاد رکھ دی گئی جس کی بنا پر آپ موجودہ دستور کو نیم دینی تسلیم کر رہے ہیں۔‘‘ (ایضاً، ص ۱۲۱، ۱۲۲) 
غلبہ دین کی جدوجہد میں تدریج کی حکمت عملی کی اہمیت اور اس کے بنیادی اصولوں کو واضح کرتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں:
’’اسلامی نظام زندگی جن لوگوں کو قائم کرنا اور چلانا ہو، انھیں آنکھیں بند کر کے حالات کا لحاظ کیے بغیر پورا کا پورا نسخہ اسلام یک بارگی استعمال نہ کر ڈالنا چاہیے، بلکہ عقل اور بینائی سے کام لے کر زمان ومکان کے حالات کو ایک مومن کی فراست اور فقیہ کی بصیرت وتدبر کے ساتھ ٹھیک ٹھیک جانچنا چاہیے۔ جن احکام اور اصولوں کے نفاذ کے لیے حالات سازگار ہوں، انھیں نافذ کرنا چاہیے اور جن کے لیے حالات سازگار نہ ہوں، ان کو موخر رکھ کر پہلے وہ تدابیر اختیار کرنی چاہییں جن سے ان کے نفاذ کے لیے فضا موافق ہو سکے۔ اسی چیز کا نام حکمت یا حکمت عملی ہے جس کی ایک نہیں، بیسیوں مثالیں شارع کے اقوال اور طرز عمل میں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اقامت دین بدھوؤں کے کرنے کا کام نہیں ہے۔
ثانیاً، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب زمان ومکان کے حالات کی وجہ سے اسلام کے دو احکام یا اصولوں یا مقاصد کے درمیان عملاً تضاد واقع ہو جائے، یعنی دونوں پر بیک وقت عمل کرنا ممکن نہ رہے تو دیکھنا چاہیے کہ شریعت کی نگاہ میں اہم تر چیز کون سی ہے اور پھر جو اہم تر ہو اس کی خاطر شرعی نقطہ نظر سے کم تر اہمیت رکھنے والی چیز کو اس وقت تک ترک کر دینا چاہیے جب تک دونوں پر ایک ساتھ عمل کرنا ممکن نہ ہو جائے۔ ۔۔۔ 
ثالثاً، اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ جہاں قبائلیت اور برادریوں کے تعصبات یا دوسری گروہی عصبیتیں زندہ ومتحرک ہوں، وہاں ان سے براہ راست تصادم کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ جہاں جس قبیلے یا برادری یا گروہ کا زور ہو، وہاں اسی کے نیک لوگوں کو آگے لانا چاہیے تاکہ زور آور گروہ کی طاقت اسلامی نظام کے نفاذ کی مزاحم بننے کے بجائے اس مددگار بنائی جا سکے اور بالآخر نیک لوگوں کی کارفرمائی سے وہ حالات پیدا ہو سکیں جن میں ہر مسلمان مجرد اپنی دینی واخلاقی اور ذہنی صلاحیت کی بنا پر بلا لحاظ نسل ونسب ووطن سربراہی کے مقام پر آ سکے۔ ۔۔۔
رہا اس پر کسی کا یہ اعتراض کہ اس نوع کے تصرفات کرنے کا حق صرف شارع کو پہنچتا تھا، دوسرا کوئی اس کا مجاز نہیں ہو سکتا تو میں صاف عرض کروں گا کہ یہ بات اگر مان لی جائے تو فقہ اسلامی کی جڑ ہی کٹ جاتی ہے کیونکہ اس کا تو سارا نشو وارتقاء ہی اس بنیاد پر ہوا ہے کہ شارع کے زمانے میں جو حوادث اور معاملات پیش آئے تھے، ان میں شارع کے احکام اور تصرفات اور طرز عمل کا گہرا مطالعہ کر کے وہ اصول اخذ کیے جائیں جو شارع کے بعد پیش آنے والے حوادث ومعاملات پر منطبق ہو سکتے ہوں۔ اس کا دروازہ بند ہو جائے تو پھر فقہ اسلامی صرف انھی حوادث ومعاملات کے لیے رہ جائے گی جو شارع کے زمانے میں پیش آئے تھے۔ بعد کے نئے حالات میں ہم بالکل بے بس ہوں گے۔‘‘ (’’تفہیم الاحادیث‘‘، مرتب: وکیل احمد علوی، ادارۂ معارف اسلامی، لاہور، ۶؍۴۵۴، ۴۵۵) 
اسی ضمن میں مولانا مودودی نے اپنی تحریروں او ربیانات میں یہ نکتہ بھی غیر مبہم انداز میں واضح کیا ہے کہ جدید جمہوری ریاستوں میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کا صرف وہی راستہ جائز ہے جو آئین وقانون کی حدود کے اندر ہو، جبکہ غیر آئینی طریقوں سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ شرعاً درست ہوگی اور نہ حکمت عملی کی رو سے۔ اس حوالے سے مولانا کی بعض تصریحات کو یہاں نقل کرنا مناسب ہوگا۔
مولانا سے سوال کیا گیا کہ ’’کیا موجودہ صورت حال میں آئینی ذرائع سے انقلاب لانا مشکل نہیں ہو گیا؟‘‘ اس کے جواب میں فرمایا:
’’فرض کیجیے کہ بہت سے لوگ مل کر آپ کی صحت بگاڑنے میں لگ جائیں تو کیا آپ ان کی دیکھا دیکھی خود بھی اپنی صحت بگاڑنے کی کوشش میں لگ جائیں گے؟ بہت برا کیا گیا کہ غیر آئینی طریقوں سے کام لیا گیا ہے اور بہت برا کریں گے اگر ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔ غیر آئینی طریقوں کو اختیار کرنے کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک علانیہ اور دوسری خفیہ۔ آپ دیکھیں کہ دونوں صورتوں میں کیا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
علانیہ طور پر غیر آئینی طریقوں سے جو تغیر پیدا ہوگا، وہ زیادہ برا ہوگا۔ اس طرح کی کوششوں سے پوری قوم کو قانون شکنی کی تربیت ملتی ہے اور پھر سو سال تک آپ اسے قانون کی اطاعت پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ہندوستان میں تحریک آزادی کے دوران قانون شکنی کو ایک حربے کی حیثیت سے جو استعمال کیا گیا تھا، اس کے اثرات آپ دیکھ رہے ہیں۔ آج پچیس سال بعد بھی لوگوں کو قانون کا پابند نہیں بنایا جا سکا۔
اگر خفیہ طریقے سے غیر آئینی ذرائع کو اختیار کیا جائے تو نتائج اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے۔ خفیہ تنظیموں میں چند افراد مختار کل بن جاتے ہیں اور پھر ساری تنظیم یا تحریک ان ہی کی مرضی پر چلتی ہے۔ ان سے اختلاف رکھنے والوں کو فوراً ختم کر دیا جاتا ہے۔ ان کی پالیسی سے اظہار بے اطمینانی سخت ناگوار اور ناپسندیدہ قرار دی جاتی ہے۔ اب آپ خود سوچیں کہ یہی چند افراد جب برسر اقتدار آئیں گے تو کس قدر بدترین ڈکٹیٹر ثابت ہوں گے۔ اگر آپ ایک ڈکٹیٹر کو ہٹا کر دوسرے ڈکٹیٹر کو لے آئیں تو خلق خدا کے لیے اس میں خیر کا پہلو کون سا ہے؟
میرا مشورہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ خواہ آپ کو بھوکا رہنا پڑے، گولیاں کھانی پڑیں، مگر صبر کے ساتھ، تحمل کے ساتھ، کھلم کھلا علانیہ طور پر اپنی اصلاحی تحریک کو قانون، ضابطے اور اخلاقی حدود کے اندر چلاتے رہیے۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق کار بھی علانیہ اور کھلم کھلا تبلیغ کا طریقہ تھا۔ .... آپ سے میری درخواست ہے کہ آپ اپنی اخلاقی ساکھ کو کبھی نقصان نہ پہنچنے دیں اور غیر آئینی طریقوں کے بارے میں سوچنے والوں کی قطعاً حوصلہ افزائی نہ کریں۔ حالات جیسے کچھ بھی ہیں، ہمیں ان حالات کو درست کرنا ہے۔ غلط طریقوں سے حالات درست نہیں ہوتے بلکہ اور بگڑ جاتے ہیں۔‘‘ (’’تصریحات‘‘، مرتب: سلیم منصور خالد، البدر پبلی کیشنز لاہور، ص ۲۵۷، ۲۵۸) 
مزید فرماتے ہیں:
’’بکثرت لوگ اس الجھن میں پڑ گئے ہیں کہ آیا جمہوری طریقوں سے یہاں کوئی تبدیلی لائی جا سکتی ہے یا نہیں اور ایک اچھی خاصی تعداد یہ سمجھنے لگی ہے کہ ایسے حالات میں غیر جمہوری طریقے اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ بجائے خود ہمار ے حکمرانوں کی بہت بڑی نادانی ہے کہ انھوں نے لوگوں کو اس طرح سوچنے پر مجبور کر دیا ہے، لیکن ہم اس پوری صورت حال کو دیکھتے ہوئے اور اس کی پیدا کردہ تمام صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے بھی اپنی اس رائے پر قائم ہیں کہ اسلامی نظام جسے برپا کرنے کے لیے ہم اٹھے ہیں، جمہوری طریقوں کے سوا کسی دوسری صورت سے برپا نہیں ہو سکتا اور اگر کسی دوسرے طریقے سے برپا کیا بھی جا سکے تو وہ دیرپا نہیں ہو سکتا۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے آپ جمہوری طریقوں کا مطلب واضح طور پر جان لیں۔ غیر جمہوری طریقوں کے مقابلے میں جب جمہوری طریقوں کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ نظام زندگی میں جو تبدیلی بھی لانا اور ایک نظام کی جگہ جو نظام بھی قائم کرنا مطلوب ہو، اسے زور زبردستی سے لوگوں پر مسلط نہ کیا جائے، بلکہ عامۃ الناس کو سمجھا کر اور اچھی طرح مطمئن کر کے انھیں ہم خیال بنایا جائے اور ان کی تائید سے اپنا مطلوبہ نظام قائم کیا جائے۔ .....
کوئی دوسرا نظام مثلاً کمیونزم لوگوں پر زبردستی ٹھونسا جا سکتا ہے بلکہ اس کے قیام کا ذریعہ ہی جبر اور جباریت ہے اور خود اس کے ائمہ علانیہ یہ کہتے ہیں کہ انقلاب بندوق کی گولی ہی سے آتا ہے۔ استعماری نظام اور سرمایہ داری نظام اور فسطائی نظام بھی رائے عام کی تائید کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ رائے عام کو طاقت سے کچل دینا اور اس کا گلا گھونٹ دینا ہی ان کے قیام کا ذریعہ ہے، لیکن اسلام اس قسم کا نظام نہیں ہے۔ وہ پہلے لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کرنا ضروری سمجھتا ہے، کیونکہ ایمان کے بغیر لوگ خلوص کے ساتھ اس کے بتائے ہوئے راستوں پر نہیں چل سکتے۔ پھر وہ اپنے اصولوں کا فہم اور ان کے برحق ہونے پر اطمینان بھی عوام کے اندر ضروری حد تک اور خواص (خصوصاً کار فرماؤں) میں کافی حد تک پیدا کرنا لازم سمجھتا ہے، کیونکہ اس کے بغیر اس کے اصول واحکام کی صحیح تنفیذ ممکن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ وہ عوام وخواص کی ذہنیت، انداز فکر اور سیرت وکردار میں بھی اپنے مزاج کے مطابق تبدیلی لانے کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ یہ نہ ہو تو اس کے پاکیزہ اور بلند پایہ اصول واحکام اپنی صحیح روح کے ساتھ نافذ نہیں ہو سکتے۔ یہ جتنی چیزیں میں نے بیان کی ہیں، اسلامی نظام کو برپا کرنے کے لیے سب کی سب ضروری ہیں اور ان میں سے کوئی چیز بھی جبراً لوگوں کے دل ودماغ میں نہیں ٹھونسی جا سکتی، بلکہ ان میں سے ہر ایک کے لیے ناگزیر ہے کہ تبلیغ، تلقین اور تفہیم کے ذرائع اختیار کر کے لوگوں کے عقائد وافکار بدلے جائیں، ان کے سوچنے کے انداز بدلے جائیں، ان کی اقدار (Values) بدلی جائیں، ان کے اخلاق بدلے جائیں اور ان کو اس حد تک ابھار دیا جائے کہ وہ اپنے اوپر جاہلیت کے کسی نظام کا تسلط برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ جمہوری طریقوں کے سوا اس کے حصول کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے اور آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ اسلامی نظام کو عملاً برپا کر دینے کے لیے کوئی اقدام اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک اس مقصد کے لیے کام کرنے والوں کو اس نوعیت کی عوامی تائید حاصل نہ ہو جائے۔‘‘ (ایضاً، ص ۳۲۰-۳۲۲) 
مولانا سے سوال ہوا کہ اسلامی انقلاب فوری طور پر کیسے آئے گا؟ جواب میں فرمایا:
’’یہ آپ سے کس نے کہہ دیا کہ اسلامی انقلاب بہت جلد آ رہا ہے؟ آپ اس قسم کی غلط توقعات قائم نہ کریں۔ بے جا توقعات سے مایوسی ہوتی ہے۔ پاکستان کی تشکیل سے پہلے بھی اخلاقی حالت بگڑی ہوئی تھی۔ پاکستان کے بعد اس بگاڑ میں اور اضافہ ہوا۔ اس ساری مدت میں اصلاح کی طرف کماحقہ توجہ نہ ہوئی۔ ہمارے بس میں جو کچھ ہے، وہ ہم کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان نسل سے جو افراد دین کی حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں، وہ سرگرمی کے ساتھ اصلاح کے کام کا بیڑا اٹھائیں۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس تمام تر مساعی کے نتیجے میں حالت کب بدلے گی۔ ایک طرف شیطان اپنا کام کر رہا ہے، دوسری طرف ہم اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں، لیکن ہمیں توقع ہے کہ اللہ کا دین غالب ہو کر رہے گا۔ ہمارے کرنے کی جو چیز ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اپنی کوشش میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں۔ باقی معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں۔‘‘ (ایضاً، ص ۳۴۰) 
’’میں اصولاً قانون شکنی اور غیر آئینی طریق کار اور زیر زمین کام کا سخت مخالف ہوں۔ میری یہ رائے کسی سے خوف یا کسی وقتی مصلحت کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ میں سالہا سال کے مطالعے سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ قانون کا احترام مہذب معاشرے کے وجود کے لیے ناگزیر ہے اور کوئی تحریک اگر اس احترام کو ایک دفعہ ضائع کر دے تو پھر خود اس کے لیے بھی لوگوں کو قانون کا پابند بنانا سخت دشوار بلکہ محال ہو جاتا ہے۔ اسی طرح زیر زمین کام اپنے اندر وہ قباحتیں رکھتا ہے جن کی وجہ سے اس طریقے پر کام کرنے والے آخر کار خود ان لوگوں سے بھی بڑھ کر معاشرے کے لیے مصیبت بن جاتے ہیں جن کو ہٹانے کے لیے وہ یہ طریقے اختیار کرتے ہیں۔ انھی وجوہ سے میرا عقیدہ یہ ہے کہ قانون شکنی اور خفیہ کام قطعی غلط ہے۔ میں نے ہمیشہ جو کچھ کیا ہے، علانیہ کیا ہے اور آئین وقانون کے حدود کے اندر رہ کر کیا ہے، حتیٰ کہ جن قوانین کا میں شدید مخالف ہوں، ان کو بھی میں نے آئینی وجمہوری طریقوں سے بدلوانے کی کوشش کی ہے مگر کبھی ان کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ .... یہی عقیدہ جماعت اسلامی کا بھی ہے۔ اس کے دستور کی دفعہ ۵ میں اس امر کی صراحت موجود ہے کہ ہم ایسے ذرائع اور طریقے کبھی استعمال نہیں کریں گے جو صداقت ودیانت کے خلاف ہوں یا جن سے فساد فی الارض رونما ہو۔ ہم جو کچھ کریں گے، جمہوری اور آئینی طریقوں سے کریں گے اور خفیہ طریقوں سے نہیں بلکہ کھلم کھلا اور علانیہ کریں گے۔‘‘ (ایضاً، ص ۹۲) 
مولانا نے یہ بات بھی واشگاف الفاظ میں واضح کی کہ اگر خدا نخواستہ پاکستان کو ایک غیر اسلامی ریاست بنانے کے خواہش مند عناصر اپنے عزائم میں کامیاب ہو جائیں تو بھی جدوجہد کا راستہ ایک تحریک اصلاح برپا کرنا ہی ہوگا نہ کہ مسلح انقلاب برپا کرنے کی کوئی کوشش۔ لکھتے ہیں:
’’واضح طور پر سمجھ لیجیے کہ یہاں اسلامی نظام کا قیام صرف دو طریقوں سے ممکن ہے:
ایک یہ کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں اس وقت زمام کار ہے، وہ اسلام کے معاملے میں اتنے مخلص اور اپنے ان وعدوں کے بارے میں جو انھوں نے اپنی قوم سے کیے تھے، اتنے صادق ہوں کہ اسلامی حکومت قائم کرنے کی جو اہلیت ان کے اندر مفقود ہے، اسے خود محسوس کر لیں اور ایمان داری کے ساتھ یہ مان لیں کہ پاکستان حاصل کرنے کے بعد ان کا کام ختم ہو گیا ہے اور یہ کہ اب یہاں اسلامی نظام تعمیر کرنا ان لوگوں کا کام ہے جو اس کے اہل ہوں۔ ۔۔۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ معاشرے کو جڑ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے اور ایک عمومی تحریک اصلاح کے ذریعے سے اس میں خالص اسلامی شعور وارادے کو بتدریج اس حد تک نشو ونما دیا جائے کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچے تو خود بخود اس سے ایک مکمل اسلامی نظام وجود میں آ جائے۔
ہم اس وقت پہلے طریقے کو آزما رہے ہیں۔ اگر اس میں ہم کامیاب ہو گئے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ پاکستان کے قیام کے لیے ہماری قوم نے جو جدوجہد کی تھی، وہ لاحاصل نہ تھی بلکہ اس کی بدولت اسلامی نظام کے نصب العین تک پہنچنے کے لیے ایک سہل ترین اور قریب ترین راستہ ہمارے ہاتھ آ گیا، لیکن اگر خدا نخواستہ ہمیں اس میں ناکامی ہوئی اور اس ملک میں ایک غیر اسلامی ریاست قائم کر دی گئی تو یہ مسلمانوں کی ان تمام محنتوں اور قربانیوں کا صریح ضیاع ہوگا جو قیام پاکستان کی راہ میں انھوں نے کیں اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم پاکستان بننے کے بعد بھی اسلامی نقطہ نظر سے اسی مقام پر ہیں جہاں پہلے تھے۔ اس صورت میں ہم پھر دوسرے طریقے پر کام شروع کر دیں گے جس طرح پاکستان بننے سے پہلے کر رہے تھے۔‘‘ (ابوالاعلیٰ مودودی: ’’اسلامی ریاست۔ فلسفہ، نظام کار اور اصول حکمرانی‘‘، مرتب: خورشید احمد، اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ، لاہور، اکتوبر ۲۰۱۰ء، ص ۶۳۶، ۶۳۷) 

گزشتہ معروضات سے واضح ہے کہ مولانا مودودی نے بالکل ابتدا میں ہی ان سوالات کو گہری فکری سطح پر موضوع بنا لیا تھا جو جذباتیت، بے صبری اور غیر معروضی زاویہ نظر سے ذہنوں میں پیدا ہو رہے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ آگے چل کر بعینہ وہی سوالات ہمارے ہاں انھی فکری بنیادوں پر پیدا ہوئے جن کی واضح نفی مولانا مودودی نے اپنی تحریروں میں کی تھی اور خود جماعت اسلامی کے حلقہ فکر سے وابستہ نوجوان نسل اس انتہا پسندانہ فکر سے شدید طور پر متاثر ہوئی۔ اس کے اسباب ووجوہ ایک مستقل تجزیے کا تقاضا کرتے ہیں، تاہم اتنا واضح ہے کہ مولانا کی پیش کردہ صریح اور واضح فکر حالات کے اتار چڑھاؤ میں رفتہ رفتہ نظروں سے اوجھل ہوتی گئی اور شدت پسندی کے بیانیے نے وسیع پیمانے پر ذہنوں کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ 
اسی ضمن میں مولانا کی دینی واجتہادی بصیرت کے اسی نوعیت کے ایک اور پہلو کی طرف اہل فکر کو دوبارہ متوجہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ مذہبی شدت پسندی اور عسکریت کے جس عفریت کا ہمیں سامنا ہے، اس کے اسباب میں سے اہم ترین سبب نجی سطح پر جہادی سرگرمیوں کی تنظیم ہے۔ پوری اسلامی روایت اس پر متفق رہی ہے کہ اگر مسلمان کسی جگہ ایک نظم اجتماعی کے تحت رہ رہے ہوں تو ان کی طرف سے کسی دوسرے ملک کے ساتھ جنگ کا فیصلہ ان کا نظم اجتماعی ہی کر سکتا ہے اور یہ کہ اگر مسلمان مختلف علاقوں میں ایک سے زیادہ نظام ہائے اجتماعی کے تحت زندگی بسر کر رہے ہوں تو ان میں سے ہر نظم اجتماعی اپنی ذمہ داریوں کا تعین اور اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ کسی نجی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ نظم اجتماعی کے اختیار کو اپنے ہاتھ میں لے اور قوم کی طرف سے فیصلے کا حق تفویض کیے جانے کے بغیر ازخود کوئی فیصلہ کر کے اس کے نتائج وعواقب کی ذمہ داری پوری قوم پر ڈال دے۔
مولانا مودودی نے اپنی تحریروں میں اس حوالے سے درج ذیل تین بنیادی نکات کی وضاحت کی ہے:
ایک یہ کہ مسلمانوں کا لازمی طور پر کسی ایک ہی نظم اجتماعی کے تحت سیاسی طور پر متحد ہونا ضروری نہیں اور سیاسی وحدت کا ہرگز یہ تقاضا نہیں کہ الگ الگ اور خود مختار حکومتوں کے جواز کی نفی کی جائے۔
دوسرے یہ کہ جنگ کا فیصلہ اور اعلان کرنے کا اختیار صرف اور صرف منتخب ارباب اقتدار کو حاصل ہے۔ غیر حکومتی گروہ اگر یہ اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں گے تو اس سے چند در چند قانونی اور اخلاقی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔
تیسرے یہ کہ مسلمانوں کی حکومت اس ضمن میں کسی بھی ملک کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی لفظاً ومعناً پابندی کرے گی اور معاہدے بظاہر قائم رکھتے ہوئے ایسی خفیہ سرگرمیوں کی اجازت یا ان کی تائید نہیں کرے گی جو معاہدے کے خلاف ہوں۔
پہلے نکتے کی وضاحت میں ’’خلافت وملوکیت‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’دنیا میں جہاں بھی ان اصولوں پر کوئی حکومت قائم ہوگی، وہ لازماً اسلامی حکومت ہی ہوگی، خواہ وہ افریقہ میں ہو یا امریکہ میں، یورپ میں ہو یا ایشیا میں اور اس کے چلانے والے خواہ گورے ہوں یا کالے یا زرد۔ اس نوعیت کی خالص اصولی ریاست کے لیے ایک عالمی ریاست بن جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، لیکن اگر زمین کے مختلف حصوں میں بہت سی ریاستیں بھی اس نوعیت کی ہوں تو وہ سب کی سب یکساں اسلامی ریاستیں ہوں گی، کسی قوم پرستانہ کشمکش کے بجائے ان کے درمیان پورا پورا برادرانہ تعاون ممکن ہوگا اور کسی وقت بھی وہ متفق ہو کر اپنا ایک عالم گیر وفاق قائم کر سکیں گی۔‘‘ (ص ۵۶)
یہ وہی تصور تھا جو دور جدید میں عالمی سطح پر امت مسلمہ کی سیاسی وحدت کو رو بہ عمل کرنے کے لیے علامہ محمد اقبال نے بھی ’خلافت‘ کے قدیم سیاسی نظام کے احیاء کے متبادل کے طور پر تجویز کیا تھا۔ چنانچہ خطبہ اجتہاد میں انھوں نے لکھا کہ:
For the present, every Muslim nation must sink into her own deeper self, temporarily focus her vision on herself alone, until all are strong and powerful to form a living family of republics. A trud and living unity, according to the nationalist thinkers, is not so easy as to be achieved by a merely symbolical overlordship. It is truely manifested in a multiplicity of free independent units whose racial rivalries are adjusted and harmonized by the unifying bond of a common spiritual aspiration. It seems to me that God is slowly bringing home to us the truth that Islam is neither Nationalism nor Imperialism but a League of Nations which recognizes artificial boundaries and racial distinctions for facility of reference only, and not for restricting the social horizon of its members. (The Reconstruction, p. 126)
’’موجودہ صورت حال میں ہر مسلمان قوم کو اپنے آپ میں گہرے طور پر غوطہ زن ہونا چاہیے اور عارضی طور پر اپنی نظر خود اپنے آپ پر جما لینی چاہیے حتیٰ کہ تمام اس قدر مضبوط اور مستحکم ہو جائیں کہ وہ جمہوریتوں کا ایک زندہ خاندان تشکیل دے سکیں۔ ایک سچی اور زندہ وحدت نیشنلسٹ مفکرین کے مطابق کوئی ایسی آسان نہیں کہ اسے محض ایک علامتی عالمگیر حکمرانی کی وساطت سے حاصل کر لیا جائے۔ اس کا سچا اظہار خود مختار اکائیوں کی کثرت سے ہوگا جن کی نسلی رقابتوں کو مشترک روحانی امنگوں کی وحدت سے ہم آہنگ اور ہموار کر دیا گیا ہو۔ مجھے یوں نظر آتا ہے کہ خدا ہمیں آہستہ آہستہ اس حقیقت کے ادراک کی طرف لا رہا ہے کہ اسلام نہ تو قومیت ہے اور نہ ملوکیت، بلکہ ایک مجلس اقوام ہے جومصنوعی حد بندیوں اور نسلی امتیازات کو محض پہچان کے لیے تسلیم کرتی ہے، نہ اس لیے کہ ان رکن ممالک کے اپنے اپنے سماجی آفاق کو تنگ کر دیا جائے۔‘‘
جہاد وقتال کے ضمن میں بین الاقوامی معاہدات کی پاس داری کی قانونی وعملی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے سورۂ انفال کی آیات ۷۲، ۷۳ کی تشریح میں مولانا نے ’تفہیم القرآن‘ میں جو کچھ لکھا ہے، وہ قابل ملاحظہ ہے۔ فرماتے ہیں:
’’یہ آیت اسلامی حکومت کی خارجی سیاست پر بھی بڑا اثر ڈالتی ہے۔ اس کی رو سے دولت اسلامیہ کی ذمہ داری ان مسلمانوں تک محدود ہے جو اس کی حدود کے اندر رہتے ہیں۔ باہر کے مسلمانوں کے لیے کسی ذمہ داری کا بار اس کے سر نہیں ہے۔ یہی وہ بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمائی ہے کہ انا بریء من کل مسلم بین ظھرانی المشرکین۔ ’’میں کسی ایسے مسلمان کی حمایت وحفاظت کا ذمہ دار نہیں ہوں جو مشرکین کے درمیان رہتا ہو۔‘‘ اس طرح اسلامی قانون نے اس جھگڑے کی جڑ کاٹ دی ہے جو بالعموم بین الاقوامی پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے، کیونکہ جب کوئی حکومت اپنے حدود سے باہر رہنے والی بعض اقلیتوں کا ذمہ اپنے سر لے لیتی ہے تو اس کی وجہ سے ایسی الجھنیں پڑ جاتی ہیں جن کو بار بار کی لڑائیاں بھی نہیں سلجھا سکتیں۔ ... ان دینی بھائیوں کی مدد کا فریضہ اندھا دھند انجام نہیں دیا جائے گا بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں اور اخلاقی حدود کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے ہی انجام دیا جا سکے گا۔ اگر ظلم کرنے والی قوم سے دار الاسلام کے معاہدانہ تعلقات ہوں تو اس صورت میں مظلوم مسلمانوں کی کوئی ایسی مدد نہیں کی جا سکے گی جو ان تعلقات کی اخلاقی ذمہ داریوں کے خلاف پڑتی ہو۔‘‘ (تفہیم القرآن ۲/۱۶۱، ۱۶۲) 
اگرچہ کسی غیر مسلم قوم کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی پابندی کا اصول کلاسیکی فقہ میں بھی تسلیم کیا گیا ہے، تاہم فقہا اسے ایک محدود اور وقتی اصول کی حیثیت دیتے ہیں۔ مولانا کے اقتباس سے واضح ہے کہ وہ اسے بین الاقوامی سیاست اور مسلم وغیر مسلم حکومتوں کے تعلقات کی تشکیل کے ضمن میں ایک مستقل اور بنیادی اصول کا درجہ دیتے ہیں جس کی پاس داری مظلوم مسلمان اقلیتوں کی مدد کرنے سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں زاویہ ہائے نگاہ کی ترجیحات کا فرق اس سے واضح ہوتا ہے کہ جب ۱۹۴۸ء میں کشمیر کے مقامی مسلمانوں نے بھارت کے خلاف جنگ آزادی کا آغاز کیا تو مولانا مودودی نے حکومت پاکستان کی پالیسی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ:
’’جہاد کشمیرکے سلسلے میں میرے نزدیک یہ کوئی معقول بات نہیں ہے کہ وہاں لڑائی بھی ہو اور نہ بھی ہو۔ یعنی ایک طرف ہماری حکومت تمام دنیا کے سامنے اعلان کرے کہ ہم لڑ نہیں رہے بلکہ لڑنے والوں کو روک رہے ہیں اور دوسری طرف وہ لڑے بھی تو اس سے نہ صرف ہماری اخلاقی پوزیشن خراب ہوگی بلکہ ہم لڑ بھی نہیں سکیں گے۔ حکومت کا یہ موقف خود پاکستانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں بیان کیا تھا۔‘‘ (تصریحات ص ۴۷۰)
اس نکتے پر مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کے مابین ایک اہم اور دلچسپ بحث بھی ہوئی کہ آیا پاکستانی حکومت مجاہدین کی عسکری اور افرادی امداد کر سکتی ہے یا نہیں۔ مولانا عثمانی کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کا عملاً مجاہدین کو مدد فراہم کرنا گویا اس بات کا اعلان ہے کہ وہ معاہدے کی پابند نہیں رہی، جبکہ مولانا مودودی کا استدلال یہ تھا کہ حکومت کا اس بات کا واضح اعلان اور اقرار نہ کرنا بلکہ ظاہری طور پر اس کی تردید کرنا اور پہلے کی طرح بھارتی حکومت سے سفارتی اور سیاسی تعلقات قائم رکھنا اس امر کو تسلیم کرنے سے مانع ہے۔ تاہم بحث کے آخر میں مولانا مودودی نے یہ قرار دیا کہ چونکہ پاکستانی حکومت کی طرف سے مجاہدین کشمیر کی امداد کے علانیہ اعتراف کے باوجود بھارتی حکومت نے اسے نبذ عہد کے مترادف نہیں سمجھا، اس لیے قانونی طور پر اس کا مطلب یہ سمجھا جائے گا کہ صرف کشمیر کی حد تک دونوں حکومتیں امن معاہدے کی پابند نہیں رہیں، جبکہ عمومی طور پریہ معاہدہ برقرار ہے۔ (یہ مراسلت مولانا مودودی اور مولانا شبیر احمد عثمانی، ہر دو بزرگوں کے مجموعہ مکاتیب میں شامل ہے)۔
۱۹۷۹ء میں افغانستان میں کمیونسٹ حکومت کی طرف سے افغان مسلمانوں پر ظلم وستم کے واقعات رونما ہوئے تو وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور حکومت کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر مولانا سے دریافت کیا گیا کہ آیا پاکستان سے مسلمانوں کو افغان بھائیوں کی مدد کے لیے سرحد پار جانا چاہیے؟ مولانا نے فرمایا:
’’کوئی شک نہیں کہ ہمارے افغان بھائی اس وقت نہ صرف صدی کے بہت بڑے جہاد میں مصروف ہیں، بلکہ جن مشکلات کا انھیں سامنا ہے، دوسروں کو ان کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔ ... لیکن جب تک کابل حکومت ریاست پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کرتی یا حکومت پاکستان اس سے تمام تعلقات توڑ کر اعلان جنگ نہیں کرتی، آپ پاکستانی شہریوں کو سرحد پار کر کے میدان جنگ میں نہیں اترنا چاہیے۔ یہ نہ صرف اسلامی قانون بین الاقوام کی نگاہ میں مناسب نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کے لیے بھی مشکلات کا باعث بنے گا۔ البتہ قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے آپ کے کارکنان جا سکتے ہیں، مگر زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ وہ بھی اسی پالیسی کو اختیار کریں جسے حکومت پاکستان اور آپ کا نظم طے کرے۔... اگر حالات بہت ہی زیادہ خراب ہو جائیں اور وہاں پر جہاد میں مصروف مجاہدین کی قیادت یہ چاہے کہ دوسرے مسلم ممالک سے انھیں افرادی قوت بھی درکار ہو، تب ایسے مسائل کا مرکزی سطح پر حل تلاش کیجیے، مگر یہ چیز انفرادی یا مقامات کی سطح پر نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ (تصریحات ص ۴۵۷، ۴۵۸)
مولانا کی ان تمام تصریحات سے واضح ہے کہ ان کی نظر بصیرت معاملات کو کس قدر گہرائی سے اور کتنی دور تک دیکھ رہی تھی۔ یہ بات اس تناظر میں خاص اہمیت کی حامل ہے کہ اسلامی ریاست کے قیام کی اہمیت وضرورت کو اجاگر کرنے اور اس کے لیے عملی جدوجہد کو منظم کرنے کے حوالے سے مولانا مودودی کا شمار دور حاضر کے ممتاز ترین مسلم مفکرین اور قائدین میں ہوتا ہے، تاہم مولانا کے زاویہ نظر میں نظری اور فلسفیانہ بحث ومباحثہ اور عملی اجتہادی ضروریات اور تقاضوں کے مابین فرق کا بھرپور ادراک دکھائی دیتا ہے، جبکہ معاصر جہادی تحریکوں کے ہاں اصولی اور نظری بحث اور عملی ومعروضی حالات کے تقاضوں کے مابین حکیمانہ امتیاز کا شدید فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصولی اور نظریاتی اشتراک کے باوجود جہادی عناصر نے بحیثیت مجموعی تشدد اور تصادم کی راہ اختیار کر لی ہے جبکہ مولانا موودی نے عدم تشدد اور جمہوری اصولوں کی پاس داری کو اپنی تحریک کا بنیادی پتھر قرار دیا۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مولانا کی پیش کردہ تعبیرات اور افکار کے مختلف پہلوؤں سے اختلاف کے تمام تر امکانات کے باوجود دور جدید میں دینی جدوجہد کے لیے ایک متوازن حکمت عملی کے اصول اور خط وخال واضح کرنے کے حوالے سے مولانا کی یہ خدمت بے حد غیر معمولی ہے اور درحقیقت اسی میں ان کی فکری عظمت کا راز پوشیدہ ہے۔
البتہ یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ فکری قیادت کی سطح پر اتنے واضح اور دوٹوک انداز نظر کے ہوتے ہوئے وہ صورت حال کیسے پیدا ہو گئی جس کا اب ہمیں سامنا ہے۔ یقیناًاس کے بہت سے عملی وواقعاتی اسباب بھی ہیں، لیکن اس کا فکری پہلو بھی کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آئندہ کسی نشست میں ان شاء اللہ ہم اس پر بھی اپنی معروضات پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

ترکی کا ناکام انقلاب ۔ کیا چیز سیکھنے کی ہے اور کیا نہیں؟

ترکی میں فوجی انقلاب کی حالیہ ناکام کوشش مختلف حوالوں سے اور مختلف ذہنی سطحوں پر ہمارے ہاں بھی زیر بحث ہے اور حسب سابق ساری بحثیں اور تجزیے نفس واقعہ کی تفہیم میں کوئی مدد دینے سے زیادہ اپنے ہی ذہنی رویوں اور فکری سانچوں کو سمجھنے میں ہمارے لیے مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔
اس ساری بحث میں غالب ترین رجحان تو، ہمارے قومی مزاج اور ماضی کی روایت کے عین مطابق، یہی ہے کہ اسے حق وباطل کا معرکہ تصور کرتے ہوئے خود کو باقاعدہ ایک فریق کے ساتھ نتھی کیا جائے اور اقصائے عالم کی لڑائیوں کو درآمد کر کے اپنے گلی کوچوں میں لڑا جائے۔ اس طرز فکر کی توجیہ محض اسلامی اخوت یا عالم اسلام کے امور میں دلچسپی وغیرہ سے نہیں کی جا سکتی۔ اس کا گہرا تعلق اس ذہنی اضطراب اور فکری پریشانی سے ہے جو ہمیں خود اپنے قومی وجود اور اس کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے لاحق ہے اور جس نے فکری ہمتیں اتنی کمزور کر دی ہیں کہ تلخ حقیقتوں کو بطور امر واقعہ کے قبول کرتے ہوئے خود کو ایک صبر آزما جدوجہد کے لیے آمادہ کرنے کی صلاحیت معدوم سے معدوم تر ہوتی جا رہی ہے۔ نگاہیں کسی ایسے آسمانی اور معجزانہ حل کے لیے بے تاب ہیں جو تاریخ کی سطح پر جاری سلسلہ اسباب وعلل کو توڑ کر ایک نئی دنیا وجود میں لے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ خود اپنے تناظر میں اپنے مسائل سے نبرد آزمانے ہونے کا کوئی نقشہ عمل ہمارے لیے زیادہ کشش نہیں رکھتا۔ ہم دنیا بھر میں رونما ہونے والی انقلابی تبدیلیوں میں اپنے دکھوں کا مداوا ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں اور جہاں بھی کوئی اس طرح کا واقعہ رونما ہو، فوراً متحارب فریقوں میں سے کسی ایک کے کیمپ میں شامل ہو کر کہانی کے کرداروں اور واقعات کا انطباق اپنی صورت حال پر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ رویہ دنیا اور خاص طور عالم اسلام کے معاملات میں دلچسپی سے زیادہ اپنی زمینی حقیقتوں سے ذہنی فرار کی ایک کوشش ہے اور بلاشبہ کوئی مستحسن نہیں، بلکہ ایک قابل علاج ذہنی کیفیت ہے۔
مذکورہ سطحی اور بچگانہ انداز نظر کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر اس واقعے کو ، بلکہ اس نوعیت کے حالیہ سبھی واقعات کو، زمینی صورت حال کے سمجھنے کا ایک ذریعہ تصور کیا جائے تو ہمارے سامنے ایک بہت اہم سوال آتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایک پچھڑی ہوئی اور مغلوب ومقہور قوم کو دنیا کے غالب نظام اقدار اور نظام طاقت کے ساتھ اپنے تعلق کی نوعیت کیا متعین کرنی چاہیے؟ یہ ایک بہت بنیادی اور سنجیدہ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت پیچیدہ سوال بھی ہے اور اس وقت مسلمان معاشروں میں پائی جانے والی گہری تقسیم بنیادی طور پر اسی سوال کے حوالے سے ہے۔ اس سوال کے فکری وتہذیبی ابعاد بھی ہیں اور سیاسی ومعاشی بھی۔ گویا کوئی بھی طبقہ اس سوال کے حوالے سے جو بھی پوزیشن لے گا، اس میں فکری وتہذیبی موقف کے ساتھ ساتھ سیاسی ومعاشی محرکات بھی کار فرما ہوں گے۔ ہمارے نزدیک اس نوعیت کی صورت حال میں اس امکان کو بطور مقدمہ ماننا ناگزیر ہے کہ دیانت داری کی ایک کم سے کم سطح کو برقرار رکھتے ہوئے دو بالکل متخالف اور متضاد نقطہ ہائے نظر وجود میں آ سکتے ہیں۔ 
ہماری ماضی قریب کی تاریخ میں اس کی بعض واضح مثالیں بھی موجود ہیں۔ ۱۸۵۷ء کے واقعے کے بعد سرسید احمد خان اور ان کے مکتب فکر نے بالکل علانیہ، جبکہ بہت سے دوسرے طبقات نے نسبتاً خاموشی اور کسی قدر تفاوت کے ساتھ صورت حال کا یہی تجزیہ کیا تھا کہ انگریزی اقتدار کی موافقت اور اس کے ساتھ اعتماد کا رشتہ مسلمانوں کے سیاسی مفاد کے تحفظ یا ان کی قومی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ سرسید کی پیش کردہ نئی مذہبی فکر پر بہت سے سوالات اٹھائے گئے اور اسے قبول عام بھی حاصل نہیں ہوا، لیکن ان کے سیاسی وتہذیبی موقف پر ، چند استثنائی اور غیر نمائندہ تنقیدوں کے علاوہ، ان کی دیانت یا قائدانہ مقام اور خدمات پر حرف رکھنے کی جسارت عموماً نہیں کی گئی۔ اس کا لازمی مطلب ان کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں تھا، بلکہ دراصل یہ صورت حال کی پیچیدگی اور اس کے پہلو دار ہونے کا اعتراف تھا جس میں ایک سے زیادہ ، اور بالکل متضاد مواقف کا وجود میں آنا پوری دیانت داری کے ساتھ ممکن ہوتا ہے۔
اس فکری تقسیم کو وفاداری اور غداری جیسی اصطلاحات میں بیان کرنا ایک طرف تو اس ذہنی لچک کے فقدان کی نشان دہی کرتا ہے جو تبدیلی کے ایک بہت بڑے اور گہرے عمل کو معروضیت کے ساتھ سمجھنے کے لیے ضروری ہے اور دوسری طرف بحث کو تقارب واشتراک کے دائرے کی طرف بڑھانے کے بجائے، جس کے سوا اس ساری صورت حال کا سرے سے کوئی عملی حل ہی موجود نہیں، تقسیم اور افتراق کو مزید گہرا کرنے کا موجب بنتا ہے۔ کوئی چارہ اس کے سوا نہیں کہ اس طرح کے فتووں کو ، چاہے کسی کو ان کی صداقت وواقعیت پر کتنا ہی یقین ہو، سینوں میں تھام کر رکھا جائے اور اپنے زاویہ نظر کی صداقت پر پورا اطمینان رکھنے کے ساتھ ساتھ اتنی ذہنی وسعت رکھی جائے جو اجتہادی معاملات میں رکھنا اسلامی فکری روایت کا ہمیشہ سے طرہ امتیاز رہا ہے۔ 
اس ضمن میں یہ بات بطور خاص پیش نظر رہنی چاہیے کہ داخلی نظریاتی یا سیاسی اختلافات کو اس طرح کے سیاہ اور سفید خانوں میں تقسیم کرنا جبر اور استبداد کو براہ راست جواز دینے کا موثر ترین ذریعہ ہے اور عالم اسلام کی حالیہ تاریخ میں جمال عبد الناصر سے لے کر امام خمینی، جنرل ضیاء الحق اور صدام حسین تک، ہمارے لیے نشانیاں ہی نشانیاں ہیں جن سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت مسلم معاشروں کی ضرورت ایسی ’’مدبر‘‘ سیاسی قیادت ہے جو ان کی داخلی تقسیم کو کسی طرح سنبھالے اور باہمی کشمکش میں ضائع ہوتی توانائیوں کو کوئی تعمیری رخ دے، نہ کہ ایسی قیادت کی جو کچھ ’’جرات مندانہ‘‘ اقدامات کر کے مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرے اور پھر موقع پاتے ہی اس طاقت کو نظریاتی وسیاسی مخالفین کو روندنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دے۔ 


اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۱)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۹۷) افتری علی اللہ الکذب کا ترجمہ

افتری کے معنی گھڑنا ہوتے ہیں، افتری الکذب کا مطلب ہوتا ہے جھوٹ بات گھڑنا، اور افتری علی اللہ الکذب کا مطلب ہے اللہ کے بارے میں جھوٹ گھڑنا، اور اللہ کی طرف بے بنیاد بات منسوب کرنا۔ 
قرآن مجید میں یہ تعبیر بہت زیادہ مقامات پر آئی ہے،بہت سے مترجمین کے یہاں دیکھا جاتا ہے کہ اس کا ترجمہ کرتے وقت کبھی کبھی بہتان باندھنے یا تہمت لگانے کا ترجمہ کردیتے ہیں، لیکن یہ درست نہیں ہے، افتری علی اللہ الکذب میں اللہ پر بہتان لگانے یا تہمت لگانے کا مفہوم ہوتا ہی نہیں ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ جو مترجم بعض جگہوں پر بہتان باندھنے کا ترجمہ کرتے ہیں، وہی دوسری بعض جگہوں پر جھوٹ باندھنے کا ترجمہ کرتے ہیں۔ ذیل میں اس طرح کی مثالوں کا احاطہ کیا گیا ہے:

(۱) فَمَنِ افْتَرَیَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ مِن بَعْدِ ذَلِکَ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ۔ (آل عمران: ۹۴)

’’جو شخص اس کے بعد اللہ تعالی پر جھوٹ بات کی تہمت لگائے، تو ایسے لوگ بڑے بے انصاف ہیں‘‘۔ (تھانوی)
’’اس کے بعد بھی جو لوگ اللہ تعالی پر جھوٹ بہتان باندھیں وہی ظالم ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’پھر جو کوئی باندھے اللہ پر جھوٹ اس کے بعد تو وہی ہیں بے انصاف‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’پس ہر کہ بر بندو بر خدائے دروغ را از پس آنکہ ایں را دانست پس آن گروہ ایشانند ظالمان‘‘۔ (سعدی شیرازی)
’’پس ہر کہ دروغ بندو بر خدا بعد ازیں پس آن گروہ ایشانند ستم گاران‘‘۔ (شاہ ولی اللہ دہلوی)

(۲) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰٰہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیَاتِہِ إِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُون۔ (الانعام:۲۱)

’’اور اس سے زیادہ اور کون بے انصاف ہوگا جو اللہ تعالی پر جھوٹ بہتان باندھے یا اللہ تعالی کی آیات کو جھوٹا بتلائے، ایسے بے انصافوں کو رست گاری نہ ہوگی‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’اور اس سے ظالم کون جو جھوٹ باندھے اللہ پر یا جھٹلادے اس کی آیتیں مقرر بھلائی نہیں پاتے گنہ گار‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۳) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً أَوْ قَالَ أُوْحِیَ إِلَیَّ وَلَمْ یُوحَ إِلَیْْہِ شَیْْءٌ۔ (الانعام: ۹۳)

’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ تہمت باندھے، یا دعوی کرے کہ مجھ پر وحی آئی ہے، درآنحالیکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹی تہمت لگائے، یا یوں کہے کہ مجھ کو وحی آئی ہے حالانکہ اس کے پاس کسی بات کی بھی وحی نہیں آئی‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’اور اس سے ظالم کون جو باندھے اللہ پر جھوٹ یا کہے مجکو وحی آئی اور اس کو وحی کچھ نہیں آئی‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۴) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً لِیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْْرِ عِلْمٍ۔ (الانعام: ۱۴۴)

’’تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے بغیر کسی علم کے‘‘۔ (اصلاحی)
’’تو اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ تعالی پر بلادلیل جھوٹ تہمت لگائے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے‘‘۔ (تھانوی)
پھر اس سے ظالم کون جو جھوٹھ باندھے اللہ پر تا لوگوں کو بہکادے بغیر تحقیق۔ (شاہ عبدالقادر)

(۵) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیَاتِہِ أُوْلَئِکَ یَنَالُہُمْ نَصِیْبُہُم مِّنَ الْکِتَابِ۔ (الاعراف: ۳۷)

’’تو ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھیں یا اس کی آیات جھٹلائیں، ان لوگوں کو ان کے نوشتہ کا حصہ پہونچے گا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’سو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ تعالی پر جھوٹھ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتلادے ان لوگوں کے نصیب کا جو کچھ ہے وہ ان کو مل جاوے گا‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’پھر اس سے ظالم کون جو جھوٹ باندھے اللہ پر یا جھٹلادے اس کے حکم کو وہ لوگ پاویں گے جو ان کا حصہ لکھا کتاب میں‘‘ (شاہ عبدالقادر)

(۶) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیَاتِہِ۔ (یونس: ۱۷)

’’اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے‘‘۔ (اصلاحی)
’’پھر کون ظالم اس سے جو بناوے اللہ پر جھوٹ یا جھٹلادے اس کی آیتیں‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۷) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً أُوْلَئِکَ یُعْرَضُونَ عَلَی رَبِّہِمْ وَیَقُولُ الأَشْہَادُ ہَؤُلاءِ الَّذِیْنَ کَذَبُوا عَلَی رَبِّہِمْ۔ (ہود: ۱۸)

’’اور کون ظالم اس سے جو باندھے اللہ پر جھوٹ وہ لوگ رو برو آویں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہی والے یہی ہیں جنھوں نے جھوٹ کہا اپنے رب پر‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۸) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً۔ (الکہف: ۱۵)

’’تو اس شخص سے زیادہ کون غضب ڈھانے والا ہوگا جو اللہ پر جھوٹ تہمت لگائے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’پھر اس شخص سے گناہ گار کون جس نے باندھا اللہ پر جھوٹ‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۹) قَالَ لَہُم مُّوسَی وَیْْلَکُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَی اللّٰہِ کَذِباً۔ (طہ: ۶۱)

’’موسی نے کہا شامت کے مارو، نہ جھوٹی تہمتیں باندھو اللہ پر‘‘(سید مودودی)
’’کہا ان کو موسی نے کم بختی تمہاری جھوٹھ نہ بولو اللہ پر‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۰) إِنْ ہُوَ إِلَّا رَجُلٌ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً وَمَا نَحْنُ لَہُ بِمُؤْمِنِیْنَ۔ (المؤمنون: ۳۸)

’’اور کچھ نہیں یہ ایک مرد ہے باندھ لایا اللہ پر جھوٹ، اور اس کو ہم نہیں ماننے والے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۱) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَہُ۔ (العنکبوت: ۶۸)

’’اور اس سے بے انصاف کون ہے جو باندھے اللہ پر جھوٹ یا جھٹلادے سچی بات کو جب اس تک پہونچے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۲) أَفْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً أَم بِہِ جِنَّۃٌ۔ (سبا:۸)

’’نہ معلوم یہ شخص اللہ نام سے جھوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنون لاحق ہے‘‘۔ (سید مودودی)
’’معلوم نہیں اس شخص نے خدا پر (قصدا) جھوٹ بہتان باندھا ہے یا اس کو کسی طرح کا جنون ہے‘‘۔ (تھانوی)
’’کیا بنا لایا ہے اللہ پر جھوٹ یا اس کو سودا ہے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۳) أَمْ یَقُولُونَ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً۔ (الشوریٰ: ۲۴)

’’کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹا بہتان گھڑ لیا ہے‘‘۔ (سید مودودی)
’’کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ انہوں نے خدا پر جھوٹھ بہتان باندھ رکھا ہے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’کیا کہتے ہیں اس نے باندھا اللہ پر جھوٹ‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۴) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَہُوَ یُدْعَی إِلَی الْإِسْلَامِ۔ (الصف: ۷)

’’اب بھلا اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام کی دعوت دی جارہی ہو‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ تہمت باندھے درآنحالیکہ اس کو اسلام کی طرف بلایا جارہا ہو‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اور اس سے بے انصاف کون جو باندھے اللہ پر جھوٹ اور اس کو بلاتے ہیں مسلمان ہونے کو‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۵) وَلاَ تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہَذَا حَلاَلٌ وَہَذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ إِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّٰہِ الکَذِبَ لاَ یُفْلِحُون۔ (النحل: ۱۱۶)

’’اور اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام، کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگاؤ۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹی تہمت لگائیں گے وہ ہرگز فلاح نہیں پائیں گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اور جن چیزوں کے بارے میں محض تمہارا جھوٹا زبانی دعوی ہے ان کی نسبت یوں مت کہہ دیا کرو کہ فلانی چیز حلال ہے اور فلانی چیز حرام ہے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگادو گے بلاشبہہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ لگاتے ہیں وہ فلاح نہ پاویں گے‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’اور مت کہو اپنی زبانوں کے جھوٹ بنانے سے کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو بیشک جو جھوٹ باندھتے ہیں اللہ پر بھلا نہیں پاتے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۶) قَدِ افْتَرَیْْنَا عَلَی اللّٰہِ کَذِباً إِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللّٰہُ مِنْہَا۔ (الاعراف: ۸۹)

’’ہم اللہ پر جھوٹ تہمت باندھنے والے ٹھہریں گے اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں گے بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دی‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’ہم تو اللہ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہوجاویں گے اگر (خدا نہ کرے) ہم تمہارے مذہب میں آجاویں (خصوصا) بعد اس کے کہ اللہ تعالی نے ہم کو اس سے نجات دی ہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’ہم نے جھوٹ باندھا اللہ پر اگر پھر آویں تمہارے دین میں جب اللہ ہم کو خلاص کرچکا اس سے‘‘۔ (شاہ عبد القادر)

(۱۷) انظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الکَذِبَ وَکَفَی بِہِ إِثْماً مُّبِیْناً۔ (النساء:۵۰)

’’دیکھ تو یہ لوگ اللہ پر کیسی جھوٹی تہمت لگاتے ہیں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’دیکھو یہ لوگ اللہ پر کس طرح جھوٹ باندھتے ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’دیکھ کیا باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)

(۱۸) مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَۃٍ وَلاَ سَآئِبَۃٍ وَلاَ وَصِیْلَۃٍ وَلاَ حَامٍ وَلَکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ۔ (المائدۃ: ۱۰۳)

’’نہیں ٹھہرایا اللہ نے بحیرہ اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حامی اور لیکن کافر باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ‘‘۔ (شاہ عبد القادر)

(۱۹) وَمَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (یونس:۶۰)

’’اور کیا اٹکلے ہیں جھوٹ باندھنے والے اللہ پر قیامت کے دن کو‘‘۔ (شاہ عبد القادر)

(۲۰) قُلْ إِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُونَ۔ (یونس:۶۹)

’’کہہ جو لوگ باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ بھلائی نہیں پاتے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
مفصل جائزے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ متعدد اردو مترجمین، جیسے اشرف علی تھانوی، محمد جوناگڑھی، سید مودودی، امین احسن اصلاحی، جھوٹ باندھنے اور جھوٹا بہتان لگانے میں فرق نہیں کرتے ہیں، ایک جیسے الفاظ کا ترجمہ کہیں جھوٹ باندھنا کرتے ہیں تو کہیں جھوٹا بہتان اور جھوٹی تہمت لگانا کرتے ہیں۔ بظاہر اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ جھوٹ باندھنے اور جھوٹا بہتان باندھنے میں جو فرق ہے، وہ ان سے اوجھل رہا۔
بعض مترجمین نے اس لفظ کے درست معنی کی ہر جگہ پابندی کی ہے، اور ہر مقام پر جھوٹ باندھنا یا اس جیسا ترجمہ کیا ہے، ان میں شاہ عبدالقادر، شاہ رفیع الدین اور احمد رضا خان کے نام قابل ذکر ہیں۔
فارسی کے دو مشہور ترجمے بھی پیش نظر ہیں، ایک سعدی شیرازی کا اور دوسرا شاہ ولی اللہ دہلوی کا، دونوں نے تمام مقامات پر درست ترجمے کا التزام کیا ہے، جیسا کہ اس سلسلے کی پہلی مثال میں دیکھا جاسکتا ہے۔
(جاری)

فقہ حنفی کی مقبولیت کے اسباب و وجوہ کا ایک جائزہ

مولانا عبید اختر رحمانی

فقہ حنفی کو اللہ نے جس قبول عام سے نوازاہے، اس سے ہرخاص وعام بخوبی واقف ہے۔ دنیابھرکے سنی مسلمانوں کا دوتہائی حصہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اجتہادات کے مطابق عبادات کی ادائیگی کرتاآرہاہے ۔فقہ حنفی کے اس قبول عام کی کچھ خاص وجوہ رہی ہیں؛ لیکن اکثر ایسا ہوا ہے کہ اس کے اسباب پر گہرائی سے غوروفکر کرنے کے بجائے محض یہ کہہ کر اس حقیقت کو گدلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حکومت عباسیہ کی سرپرستی اوراثرونفوذ کے سبب فقہ حنفی کوفروغ حاصل ہوا۔ یہ ایک وجہ ہوسکتی ہے؛ لیکن مکمل اور سب سے بڑی وجہ نہیں ۔دورحاضر میں بعض لوگ جب فقہ حنفی کی خداداد مقبولیت کا انکار نہیں کرسکے توانھوں نے بطورتحقیر بعض نامکمل حوالے پیش کرکے یہ کہنا اور بھرم پھیلاناشروع کردیاکہ فقہ حنفی کو مسلمانوں کے درمیان اتنی بڑی پذیرائی ملنا محض حکومت وسلطنت کے نظرکرم کی وجہ سے تھا،اس کاخداداد مقبولیت سے کوئی لینادینانہیں ہے۔ ذیل کے مضمون میں اسی غلط فہمی کو دورکرنے کی کوشش کی گئی ہے اوریہ اس کی قبولیت کے واقعی اسباب ووجوہ بیان کیے گئے ہیں:

(۱) امام ابوحنیفہ کا اخلاص

اس میں کوئی شک نہیں کہ جس کے اندر اپنے کام کے تعلق سے اخلاص ہوتاہے، خداکی رضامقصود ہوتی ہے، خداکے بھی اس کے نام اورکام کو زندہ اورباقی رکھتاہے۔ہم میں سے کون نہیں جانتاکہ امت محمدیہ کثیرالتصانیف امت ہے۔اس کے باوجود عالم گیر قبولیت کی حامل کتابوں کی فہرست بہ آسانی مرتب کی جاسکتی ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ جن کے مذاہب مٹ گئے یاپھرزیادہ مقبول نہ ہوئے ان کے موسسین کے اندراخلاص نہ تھا، ایسی بات سے خداکی پناہ!ہوسکتاہے اس کی کچھ دوسری وجوہ ہوں۔ ان کے موسسین کے اخلاص میں شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہماراکہنایہ ہے کہ جولوگ فقہ حنفی کی توسیع اورنشرواشاعت اوراکثر بلادوامصار میں قبولیت عامہ کو صرف سلطنتوں کی پشت پناہی کا ثمرہ سمجھتے ہیں وہ لوگ یقیناغلطی پر اورفاش غلطی پرہیں۔ اس قبولیت عامہ کا مرجع اورمنبع امام ابوحنیفہ کا اخلاص اور خداکی رضاجوئی ہے۔
عن وکیع بن الجراح کان واللہ ابوحنیفۃ عظیم الامانۃ، وکان اللہ فی قبلہ، جلیلا عظیما یوثر رضاہ علی کل شی ولواخذتہ السیوف فی اللہ تعالی لاحتمل، (مناقب الائمۃ الاربعۃ لعبد الہادی المقدسی، ص۶۰)
’’وکیع بن جراح کہتے ہیں :ابوحنیفہ بڑے امانت دار تھے، اللہ تبارک وتعالیٰ کی ان کے دل میں بڑی عظمت وکبریائی تھی، اللہ کی رضاکو ہرچیز پر ترجیح دیتے تھے خواہ اس میں جان ہی جانے کا خطرہ کیوں نہ ہو۔‘‘
عن ابِی ھریرۃ قال قال رسول اللہِ صلی اللہ علیہِ وسلم: ان اللہ اذا احب عبدا دعا جِبرِیل فقال: انِی احِب فلانا فاحِبہ، قال فیحِبہ جِبرِیل، ثم ینادِی فِی السماء فیقول : ان اللہ یحِب فلانا فاحِبوہ فیحِبہ اہل السماء ،قال ثم یوضع لہ القبول فِی الارضِ (بخاری باب ذکر الملائکۃ ،حدیث نمبر۳۲۰۹،مسلم باب اذا احب اللہ عبدا ،حدیث نمبر۲۶۳۷)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو جبریل علیہ السلام کو بلا کر فرماتے ہیں: میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر،چنانچہ جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور (ساتھ ہی)آسمان میں اعلان کرتے ہیں کہ فلاں شخص سے اللہ تعالی محبت فرماتے ہیں تم بھی اس سے محبت کرو،چنانچہ آسمان والے(سب کے سب) اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔پھر زمین میں اس کے لیے قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔‘‘
یہ امام ابوحنیفہ کااخلاص ہی تھاکہ انھوں نے زندگی بھراپنے مخالفین سے الجھنے کی کوشش نہیں کی۔اگرکسی نے کچھ غلط سلط کہابھی تواس کو سناان سناکردیااورمعاملہ خداکے سپرد کردیا۔اللہ کو اپنے بندے کی اداپسند آئی کہ اس کی خاموشی کے بدلے پورے عالم میں شہرت دے دی۔
جعفر بن حسن کہتے ہیں کہ میں نے امام ابوحنیفہ کو خواب میں دیکھاتوپوچھاکہ اللہ نے آپ کے ساتھ کیامعاملہ فرمایا انھوں نے کہا:میری مغفرت فرمادی۔انھوں نے پوچھاعلم کی وجہ سے۔ توفرمایاکہ فتوی توفتوی دینے والے کے لیے بہت ہی سخت معاملہ ہے۔پھرانھوں نے پوچھاکہ کس وجہ سے مغفرت ہوئی توفرمایاکہ لوگوں کی میرے بارے میں ایسی باتوں کی وجہ سے جومجھ میں نہیں تھی۔(مناقب الامام ابی حنیفۃ وصاحبیہ ص۵۲)
عباد تمار کہتے ہیں کہ میں نے امام ابوحنیفہ کو خواب میں دیکھاتوپوچھاکہ کیامعاملہ پیش آیا۔ انھوں نے کہاکہ اپنے رب کی وسیع رحمت کا معاملہ ہوا۔میں نے پوچھاکہ علم کی وجہ سے۔ انھوں نے جواب دیاکہ ہائے افسوس علم کے لیے توسخت شرائط ہیں اوراس کی اپنی آفتیں ہیں بہت کم لوگ اس سے بچ سکتے ہیں۔پھرمیں نے پوچھاکہ توپھرکس وجہ سے رحمت کا معاملہ ہوا؟فرمایاکہ میرے بارے میں لوگوں کی ایسی ایسی باتوں کی وجہ سے جس سے میں بری تھا۔(مناقب الامام ابی حنیفۃ وصاحبیہ ص۵۲)
یہی وجہ ہے کہ جولوگ امام ابوحنیفہ کے مخالفت کرتے رہے انھوں نے بھی اعتراف کیاکہ امام ابوحنیفہ کی مقبولیت کا دائرہ کوفہ سے گزرکرسارے عالم اسلام میں پہنچ چکاہے۔
عبد اللہ بن الزبیر الحمیدی، قال: سمعت سفیان بن عیین، یقول: شیئان ما ظننت انھما یجاوزان قنطرۃ الکوفۃ، وقد بلغا الآفاق: قراء ۃ حمزۃ، ورای ابِی حنیفۃ (تاریخ بغداد ۱۵؍۴۷۵، اسنادہ صحیح)
’’سفیان بن عینیہ کہتے ہیں کہ دوچیزوں کے بارے میں میراگمان تھاکہ وہ کوفہ کی حدود سے بھی تجاوز نہیں کریں گی؛ لیکن وہ دنیابھر میں پھیل چکی ہیں۔ایک حمزہ کی قرات دوسرے ابوحنیفہ کے اجتہادات۔‘‘
فقہ حنفی کی قبولیت عامہ کی بنیادی اوراولین وجہ یہی ہے۔ (واللہ اعلم)

(۲) رضائے الٰہی

حقیقت یہ ہے کہ فقہ حنفی سے جس طرح اسلامی ممالک اوربلادوامصار معمور رہے، اسے صرف اللہ کی مرضی اورمنشا سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں کہ کسی کے اجتہاد کو اتنی ہردلعزیزی اورمقبولیت نصیب ہو اور عالم اسلام کا بیشتر علاقہ فقہ حنفی کواپنائے؛ حالانکہ یہ تمام علاقے ثقافت اورکلچر کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ کہاں چین اورکہاں عراق،کہاں ہندوستان اورکہاں بلادروم،اس کے باوجود فقہ حنفی کاعلم ہرجگہ نور افشاں ہے، تویہ صرف مشیت الٰہی اوررضائے خداوندی ہی ہے۔ ہم دنیا میں ایسے کتنے ہی واقعات سے واقف ہیں کہ بہت سارے اشخاص جونہ صرف نہایت قابل اورعالم وفاضل تھے؛ لیکن دنیاان کے فیض سے محروم رہی اوربہت سارے افراد بھلے ہی علمی اعتبار سے کم درجہ کے ہوں؛ لیکن ان سے زیادہ فیض پہنچا۔اوراس کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ اس شخص کی کوئی ادااللہ کوپسند آجاتی ہے اوراللہ اس کے فیض کو عام کردیتے ہیں اوراس کے لیے صدقہ جاریہ بنادیتے ہیں۔
خدانخواستہ ہماراکہنایہ نہیں ہے کہ امام ابوحنیفہ علم یاعمل کے اعتبار سے کسی سے کمترتھے؛ بلکہ وہ علم وعمل کی جس بلندی پر تھے وہ تاریخ اورکتب سوانح میں مذکور ہے۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ فقہ حنفی کی نشرواشاعت اورلوگوں کے قبول عام کو صرف رضائے الہی کا ثمرہ سمجھناچاہیے ۔اس کی جانب بعض علمائے نے رضائے الہی اوربعض نے سرالہی سے تعبیر کرکے اشارہ کیاہے۔چنانچہ امام ابن الاثیر لکھتے ہیں۔
ویدل علی نزاھتہ عنھا ما نشر اللہ تعالی لہ من الذِکر المنتشر فی الآفاق، والعلم الذی طبق الارض، والاخذ بمذھبہ وفقہہ والرجوع الی قولہ وفعلہ، وان ذلک لو لم یکن للہ فیہ سر خفی، ورضی اِلہی وفقہ اللہ لہ لما اجتمع شطر السلامِ او ما یقاربہ علی تقلیدہ، والعمل برایہ ومذھبہ حتی قد عبِد اللہ ودیِن بفقھہ، وعمل برایہ ومذھبہ، واخذ بقولہ الی یومنا ھذا ما یقارب اربعماءۃ وخمسین سنۃ (جامع الاصول۱۲؍۹۵۲)
’’اورامام ابوحنیفہ کے فقہ کی پاکیزگی کی دلیل یہ ہے کہ اللہ نے ان کو پوری دنیا میں شہرت بخشی ہے اوران کے علم سے روئے زمین کے علما سیراب ہورہے ہیں اور پوری دنیا میں ان کے مذہب اورفقہی اجتہادات پر عمل کیاجاتاہے اوران کے قول وفعل کی جانب توجہ دی جاتی ہے اور اگراس بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا پوشیدہ رازنہ ہوتا اوراللہ کی مرضی نہ ہوتی جس کی اللہ نے امام ابوحنیفہ کو توفیق ارزانی کی ہے تونصف اہل اسلام یااس کے قریب ان کی تقلید پر اوران کی رائے پر عمل کرنے پر متفق نہ ہوتے اوریہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے دور سے لے کرآج تک سنہ ہجری تک ان کے اجتہادات کے مطابق اللہ کی عبادت کی جاتی رہی ہے، ان کی رائے اور مذہب پر عمل کیاجاتارہاہے۔‘‘
واضح رہے کہ یہ ابن اثیر نے اپنے عہد کے بارے میں تحریر کیاہے۔ ورنہ امام ابوحنیفہ کے دور سے لے کر پندرہویں صدی یعنی موجودہ دورتک امام ابوحنیفہ کی فقہ پر بیشتراہل اسلام عمل کرتے چلے آرہے ہیں۔
ایک دوسری وجہ یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ فقہ حنفی بواسطہ امام حماد،ابراہیمی نخعی، علقمہ واسود حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے خزانہ علم وفکر سے مستفیض ہے ۔اورصرف فقہ حنفی ہی کیوں کہیے؛ بلکہ تمام فقہائے کوفہ کافقہ وفتاویٰ میں اصل مرجع حضرت عبداللہ بن مسعود ہی ہیں اوروہی دراصل فقہ کوفی کے بانی مبانی ہیں۔اورحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ ابن ام عبد جوتمہارے لیے پسند کریں، میں بھی اس کو تمہارے لیے پسند کرتاہوں۔
رضِیت لامتِی ما رضِی لہا ابن امِ عبد (مستدرک حاکم۳؍۳۱۳)
ایک دوسری روایت میں یہ لفظ بھی آیاہے۔
قد رضِیت لکم ما رضِی لکم ابن امِ عبد (مستدرک حاکم۳؍۳۱۹)
جب کہ ایک اورروایت میں اس طرح مذکور ہے:
رضِیت لامتِی ما رضِی لھم ابن امِ عبد، وکرِھت لامتِی ما کرِہ لھا ابن امِ عبد (فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل،حدیث نمبر۱۵۳۶)
’’میں نے اپنی امت کے لیے وہی پسند کیاہے جس کوابن ام عبد(عبداللہ بن مسعود)نے پسند کیاہے اور میں نے اپنی امت کے لیے اس کو ناپسند کیاہے جس کو ابن ام عبد نے ناپسند کیاہے۔‘‘
اوریہ سمجھنامشکل نہیں کہ جواللہ کے رسول کی پسند ہوگی، وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بھی پسندیدہ ہوگی۔ اس طرح اگرمنطق کی زبان میں کہیں تو اللہ کے رسول نے عبداللہ بن مسعود کے بارے میں فرمایاکہ میں اپنی امت کے بارے میں وہی پسند کرتاہوں جس کو ابن مسعودپسندکریں،ابن مسعود کے اقوال ہی فقہ حنفی کا اصل سرمایہ ہیں ،اس طرح یہ منطقی نتیجہ کے طورپر حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند قرارپاتی ہے اور بالواسطہ طورپر اللہ تبارک وتعالیٰ کی پسند قرارپاتی ہے اورظاہرسی بات ہے کہ قبول عام اسی کو نصیب ہوگاجس کو اللہ پسند کریں گے ۔فقہ حنفی کوقبول عام جونصیب ہواہے تواس لیے کہ اس کو اللہ نے پسند کیاہے۔
فقہ حنفی کی قبولیت میں رضائے الٰہی کو دخل ہے، اس کی جانب حضرت شاہ ولی اللہ نے بھی اپنے بعض رسالوں میں اشارہ کیاہے۔ وہ اپنے مکاتیب میں لکھتے ہیں:
’’ایک روز اس حدیث پر ہم نے گفتگو کی کہ ایمان اگرثریاکے پاس بھی ہوتا تو اہل فارس کے کچھ لوگ یاان میں کاایک شخص اس کوضرورحاصل کرلیتا۔فقیر (شاہ صاحب)نے کہاکہ امام ابوحنیفہ اس حکم میں داخل ہیں؛ کیونکہ حق تعالیٰ نے علم فقہ کی اشاعت آپ ہی کے ذریعہ کرائی اور اہل اسلام کی ایک جماعت کو اس فقہ کے ذریعہ مہذب کیا۔ خصوصا اس اخیر دور میں کہ دولت دین کا سرمایہ یہی مذہب ہے۔سارے ملکوں اورشہروں میں بادشاہ حنفی ہیں،قاضی حنفی ہیں ۔اکثر درس علوم دینے والے علما اوراکثرعوام بھی حنفی ہیں۔‘‘ (کلمات طیبات مطبع مجتبائی ص۱۶۸)
حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ نے ایک دوسرے مقام پر اپنے مکاشفات ذکر کرتے ہوئے لکھاہے:
’’مذہب کا معاملہ بھی ایساہی ہوتاہے کہ کبھی ایک ملت کی حفاظت کی طرح حق تعالی کی عنایت خودکسی مذہب کی حفاظت کی طرف بھی متوجہ ہوتی ہے۔ اس معنی کرکہ اس مذہب کے نگہبان وپیرو ہی اس وقت ملت کی جانب سے مدافعت کرنے والے ہوتے ہیں۔یایہ کسی علاقے میں انہی کا شعارحق وباطل کے درمیان وجہ فرق ہوتاہے۔اس صورت حال کے پیش نظرملا اعلی یاملا اسفل میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ ملت دراصل یہی مذہب ہے۔‘‘
آگے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں:
’’جب یہ تمہید ذہن نشیں ہوگئی توآگے کہتاہوں:مجھے ایسانظرآتارہاکہ مذہب حنفی میں کوئی خاص بات اور اہم راز ہے ۔میں برابر اس مخفی راز کو سمجھنے کے لیے غوروفکر کرتارہاحتی کہ مجھ پر وہ بات کھل گئی جسے بیان کرچکاہوں۔میں نے دیکھاکہ معنی دقیق کے اعتبار سے اس مذہب کو ان دنوں تمام مذاہب پر غلبہ وفوقفیت حاصل ہے۔ اگرمعنی اولی کے اعتبار سے بعض دوسرے مذاہب اس پر فائق بھی ہیں۔اورمیرے سامنے یہ بات بھی آئی کہ یہی وہ راز ہے جس کابسااوقات بعض ارباب کشف کسی درجہ میں ادراک کرلیتے ہیں اورپھراس کو تمام مذاہب کے مقابلے میں ترجیح دیتے ہیں اوربعض مرتبہ یہی رازتصلب وپختگی کی بابت الہام کے طورپر اورکبھی خواب کی صورت میں اس طورپر ظاہر ہوتاہے کہ اس سے اس مذہب پر عمل کے سلسلہ میں تحریض ہوتی ہے۔‘‘ (فیوض الحرمین ص۱۰۵ ،بحوالہ فقہ ولی اللہی ص۱۵۰)
یہ حقیقت ہے کہ تاریخ کے بیشترادوار میں اسلامی مملکتوں کے سربراہ حنفی رہے ہیں اور سرحدوں کی حفاظت،دشمنان دین اسلام سے مقاتلہ،دارالاسلام کی توسیع اوراحکام شرعیہ کانفاذ انہی کے ہاتھوں میں رہا، لہٰذا حنفی مذہب کی بقا اور حفاظت خود مرضی الٰہی رہی ہے۔
ایک دوسرے مقام پر حضرت شاہ صاحب نے فروعات فقہیہ میں اپنی قوم کی مخالفت کومراد حق کی مخالفت قراردیاہے؛چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
ان مراد الحق فیک ان یجمع شملا من شمل الامۃ المرحومۃ بک وایاک ان تخالف القوم فی الفروع فانہ مناقض لمراد الحق (فیوض الحرمین ص۶۲)
’’حق تعالیٰ کی مراد تم سے یہ ہے کہ امت مرحومہ کی شیرازہ بندی کی جائے اورخبردارفروعات میں اپنی قوم کی مخالفت سے بچتے رہنا؛کیونکہ وہ حق تعالی کی مراد کے خلاف ہے۔‘‘
یہ تھوڑے سے نصوص یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ رضائے الہی کے عنوان سے میں نے جوفقہ حنفی کی نشرواشاعت کا سبب بیان کیاہے ۔وہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اوریہ راقم الحروف کی اختراع نہیں؛ بلکہ دیگر سابق علما کی تحقیق سے استمداد واستفادہ ہے۔

(۳) قابل اور باصلاحیت شاگرد

حقیقت یہ ہے کہ شخصیت کتنی بھی عظیم کیوں نہ ہو؛ لیکن تاریخی طورپر اس کانام اورکام جاری رہنے کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جواپنی ذات کی قربانی دے کر اپنے استاد یاتحریک کے موسس کے کام کو آگے بڑھا سکیں۔ ایسے شاگردوں کاملنااورایسے افراد کا تحریک سے جڑنامحض فضل ربانی اورعطائے ایزدی ہے۔ ورنہ تاریخ کی کتنی ہی نامور ہستیاں ایسی ہیں جوباوجود علم وفضل کا پہاڑ ہونے کے محض اس لیے صرف کتابوں میں دفن ہوکر رہ گئیں کہ ان کے بعد ان کے کام اورکاز کوآگے بڑھانے والے مخلص شاگرددستیاب نہ ہوئے ،یاان کے شاگردان کے علمی امانت کے لائق امین نہ بن سکے۔
حضرت لیث بن سعد علم حدیث وفقہ میں ممتاز مقام کے حامل ہیں، مجتہد ہیں،مصر میں ان کا مذہب بھی ایک عرصے تک رائج رہا۔ان کی فقاہت کی تعریف موافق ومخالف سبھی نے کی ہے، وہ امام مالک کے ہم عصر تھے۔ ان دونوں میں بعض امور کے تعلق سے اختلاف بھی تھا،جس پر دونوں میں مشہور خط وکتابت بھی ہوئی جس کو پڑھ کر آج بھی آنکھوں میں ٹھنڈک اترتی ہے اوردل کوسکون ملتاہے کہ ہمارے اسلاف اختلاف میں بھی کتنا مہذب اورشائستہ طریقہ کاراختیار کرتے تھے۔
لیث بن سعد کے بارے میں امام شافعی کہتے ہیں:
اللیث ا فقہ من مالک الا ان اصحابہ لم یقوموا بہ 
لیث مالک سے زیادہ فقیہ تھے لیکن لیث کے شاگرد اپنے استاذ کے علم کی حفاظت نہ کرسکے۔
(طبقات الفقہاء ا۷۸، تاریخ دمشق لابن عساکر۵۰؍۳۵۸،تہذیب الکمال فی اسماء الرجال ۲۴؍۲۷۵، سیر اعلام النبلاء ۷؍۲۱۶)
یہ دیکھیے، امام شافعی کااعتراف کہ لیث امام مالک سے زیادہ فقیہ تھے۔ امام شافعی نے امام مالک کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کیاتھااوران کے بڑے قدرشناس تھے۔ کہتے ہیں کہ جب علما کا ذکر ہوتوامام مالک ستاروں کے مانند ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء ۷؍۱۵۵)لیکن فقہی تقابل میں انھوں نے امام مالک پر لیث بن سعد کو ترجیح دی اوراس کے ساتھ ہی ایک چھپے ہوئے سوال کاجواب بھی دے دیا۔ جب لیث بن سعد مصری زیادہ فقیہ ہیں توپھران کو وہ شہرت وہ مقام اورمتبعین کی وہ کثرت کیوں نصیب نہ ہوئی جوامام مالک کونصیب ہوئی تواس کا جواب امام شافعی یہ دیتے ہیں کہ ان کے شاگردان کے کام اورمشن کو لے کر کھڑے نہیں ہوئے، اس وجہ سے ان کا علم اوران کی فقاہت عروج پذیر نہیں ہوئی اور ان کا نام اور کام اورکارنامہ شہرت دوام حاصل نہ کرسکا۔
امام ابوحنیفہ کو اللہ نے ایسے باصلاحیت مخلص اورمحبت کرنے والے شاگردوں سے نوازا جنہوں نے اپنے استاد کے منہج کو اپنامنہج بنایااوراپنے استاد کے علمی کارنامہ کو دنیابھر میں مشتہر کیا۔ انھوں نے اپنے استاد سے بجاطورپر علمی اختلاف بھی کیا، استاد کے دلائل اورنظریہ پر تنقید بھی کی؛ لیکن اسی کے ساتھ استاد کی ذات سے چمٹے رہے۔ ان کو چھوڑانہیں ان سے جدائی اختیار نہیں کی۔
یوں توامام ابوحنیفہ کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے؛ لیکن جوشاگردان سے بطورخاص وابستہ رہے وہ ہیں: امام ابویوسف،امام محمد بن الحسن،امام زفر،امام حسن بن زیاد۔
امام ابویوسف علیہ الرحمہ نے جب دیکھاکہ اوزاعی نے امام ابوحنیفہ کے سیر کے مسائل پر تنقید کی ہے توانھوں نے اس کا مدلل جواب لکھا جو الرد علی الاوزاعی  کے نام سے مشہور ہے۔اسی طرح انھوں نے اپنے استاد کی مرویات کو کتاب الآثار کے نام سے جمع کیا۔ اسی طرح اپنے سابق استاد ابن بی لیلیٰ اورامام ابوحنیفہ کے درمیان بعض مسائل میں اختلاف کو دلائل کے ساتھ واضح کیا اور اپنا رجحان بھی بتایا۔
امام محمد نے استاد کے مسلک اورمنہج پر کتابیں لکھیں جو ظاہر الروایۃ  کے نام سے مشہور ہے۔ اہل عراق اوراہل مدینہ کے اختلافات پر الحجۃ علی اھل المدینہ لکھی اوراس کے علاوہ دیگر کتابیں لکھ کر استاد کے نام اورکام کو آگے بڑھایا۔
امام زفر نے اہل بصرہ کی اہل کوفہ سے عداوت کی وجہ سے امام ابوحنیفہ سے برگشتگی کو حکمت اور حسن تدبیر سے دورکیااوراہل بصرہ کو بھی آپ کا محب ومطیع اور فرمانبردار بنادیا۔
امام ابن عبدالبر اس سلسلے میں لکھتے ہیں:
’’زفربصرہ کے قاضی بنائے گئے تو انھوں نے فرمایاکہ آپ سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اہل بصرہ اورہمارے مابین حسد وعداوت پائی جاتی ہے۔لہذا آپ کا سلامت بچ نکلنادشوار ہے۔جب بصرہ میں قاضی مقرر ہوکر آئے تو اہل علم جمع ہوکرروزانہ آپ سے فقہی مسائل میں مناظرہ کیاکرتے تھے۔ جب ان میں قبولیت اور حسن ظن کا رجحان دیکھتے توکہتے یہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے۔ اہل بصرہ متعجب ہوکر پوچھتے کیاابوحنیفہ ایساکہہ سکتے ہیں، امام زفرجواب دیتے: جی ہاں اوراس سے بھی زیادہ!اس کے بعد تومعمول ساہوگیاکہ جب بھی زفراہل بصرہ کا رجحان تسلیم وانقیاد دیکھتے تو کہتے کہ یہ ابوحنیفہ کاقول ہے اس سے اہل بصرہ اورمتعجب ہوتے چنانچہ امام زفر کااہل بصرہ سے یہی رویہ رہا یہاں تک کہ بغض وعداوت چھوڑ کر وہ امام صاحب کے معتقد ہوگئے ۔پہلے برابھلاکہتے تھے اب ثناخوانی میں رطب اللسان رہنے لگے۔‘‘ (الانتقاء لابن عبدالبرص۱۷۳)
عبدالبرکے اس بیان میں یہ بات غلط ہے کہ امام زفر بصرہ کے قاضی بناکر بھیجے گئے تھے؛ بلکہ جب ان کو قاضی بنانے کا فرمان صادر ہواتو انھوں نے اپناگھر منہدم کردیااورروپوش ہوگئے۔ بصرہ وہ اپنے بھائی کے میراث کے سلسلہ میں گئے تھے۔ اہل بصرہ کوان سے اتنی عقیدت ہوگئی کہ انھوں نے پھران کو بصرہ سے باہر جانے نہیں دیا۔علامہ کوثری ’’لمحات النظر فی سیرۃ الامام زفر ‘‘ میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے۔(دیکھئے ص۲۵)
مغرب میں امام ابوحنیفہ کے مذہب اورمسلک کوپھیلانے والے اسد بن فرات ہیں۔اسد بن فرات نے امام مالک سے بھی تحصیل علم کیاتھااوراسی کے ساتھ امام محمد بن حسن رحمہ اللہ کے خرمن علم سے بھی خوشہ چینی کی تھی۔ ان کا رجحان احناف کی جانب زیادہ تھا؛چنانچہ مغرب میں ان کی علمی وجاہت سے فقہ حنفی کو فروغ ہوا ۔(’’حیاتِ امام ابوحنیفہ‘‘، مصنف ابوزہرہ ص۷۵۷)
امام حسن بن زیاد نے مختلف موضوعات پر خصوصاقضاء کے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھ کر اس موضوع کے خس وخاشاک کو صاف کیااوربعد والوں کے لیے راہ ہموار کی۔پھران چراغوں سے نئے چراغ جلے اوران چراغوں نے مزید چراغ جلائے اورپوری دنیا فقہ حنفی سے منور ہوگئی اوراس کی ضیا پاشیوں نے پوری دنیا کو اپنے احاطہ میں لے لیا۔ ان چاروں کے علاوہ امام ابوحنیفہ کے دامن فقہ سے وابستہ دیگر تشنگان علم نے بھی خوشہ چینی کی اورجہاں رہے وہاں امام ابوحنیفہ کے نام کوروشن کیااوران کے دبستان فقہ کو فروغ بخشا۔مثلاعبداللہ بن المبارک کی ذات گرامی کو لے لیں، انھوں نے بھی فقہ حنفی کی خدمت کی ہے اورامام ابوحنیفہ کے مسائل پر مبنی کتاب لکھی ہے۔
سلیم بن سلیمان یقول: قلت لِابنِ المبارکِ: وضعت مِن رایِ ابِی حنِیفۃ ولم تضع مِن رایِ مالِک قال: لم ارہ علما (جامع بیان العلم وفضلہ ۲؍۱۱۰۷)
’’سلیم بن سلیمان کہتے ہیں :میں نے ابن مبارک سے کہاکہ آپ نے امام ابوحنیفہ کی فقہ پر کتابیں لکھی ہیں، امام مالک کی فقہ پر کتاب کیوں نہیں لکھی توفرمایاکہ وہ مجھ کو زیادہ جچی نہیں۔‘‘
اس حوالہ سے مقصود امام مالک کی تنقیصِ شان نہیں؛بلکہ مراد یہ ہے کہ فقہ حنفی کی خدمت کرنے والوں میں سے ایک عبداللہ بن المبارک ہیں۔
شیخ ابوزہرہ فقہ حنفی کی نشرواشاعت کے تحت لکھتے ہیں۔
’’جب سیاسی قوت کمزور پڑگئی تو وہ علما کی ہی جدوجہد تھی جس نے مختلف امصاروبلاد میں فقہ حنفی کو زندہ رکھا۔ اس ضمن میں علما کی کوشش ایک نہج پر قائم نہیں رہی؛ بلکہ رفتار زمانہ کے پیش نظر کبھی اس میں قوت رونماہوئی اورکبھی کمزوری واقع ہوئی۔جن بلاد وامصار میں علما اثرورسوخ کے حامل تھے، وہاں یہ مذہب پھلا پھولا اور برگ وبار لایا؛لیکن جہاں علما کمزورتھے، وہاں مذہب بھی کمزورپڑگیا۔‘‘ (حیات حضرت امام ابوحنیفہ ص۷۵۶)

(۴) تصنیفی خدمات

اس کا تعلق اگرچہ ماقبل سے ہی ہے؛ لیکن اس کے باوجود اس کو اس کی اہمیت کے پیش نظرعلیحدہ طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ کسی بھی مسلک اورمذہب کو تابندہ اورزندہ رکھنے میں تصنیفی خدمات بہت اہم کرداراداکرتی ہیں۔تصنیفی خدمات سے اندازہ ہوتاہے کہ کسی مذہب کے خدوخال کیا ہیں، اس کے نقوش کیاہیں، اس کی بنیاد اوراصول کیاہیں۔ اگرتصنیفی خدمات نہ ہوں اوراس کے جاننے والے فنا کے گھاٹ اترجائیں توپھریہ مذہب سرے سے نیست ونابود ہوجاتاہے۔ کسی مذہب کے دوام کے لیے دونوں چیزیں ضروری ہیں یعنی اس مذہب کے جاننے والے اوراس مذہب کی تصانیف۔
اللہ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے بھی یہی نظام قائم کیاہے؛ چنانچہ ایک جانب انبیا اوررسولوں کو بھیجا اور دوسری طرف صحائف اورکتب بھی نازل فرمائیں ۔ کتابوں میں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جب تک کوئی ان کو عملی طور پر برت کرنہ بتائے سمجھنامشکل ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ محض تصنیفی خدمات یاپھر محض اس مذہب کے جانکار رہنے سے کسی مذہب کو دوام نصیب نہیں ہوتا،دونوں چیزوں کا ہوناضروری ہے۔
مذاہب اربعہ زندہ ہیں اوراس کے نام لیوا آج بھی دنیا کے ہرخطے میں موجود ہیں تواس کی وجہ یہی ہے کہ ہردور میں اس مذہب کے علما اورفقہا بھی رہے ہیں اورانھوں نے تصنیفی خدمات کے ذریعہ پیش آمدہ واقعات اورحوادث میں لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیاہے۔محمد بن جریرالطبری،ابن حزم ظاہری کی کتابیں موجود ہیں؛ لیکن چونکہ اس مذہب کے جاننے والے واقف کار علما نہیں ہیں، لہذا یہ مذہب تاریخ میں باقی نہیں رہا۔
ابن خلدون اس تعلق سے لکھتے ہیں:
’’آج ظاہریہ کامذہب بھی مٹ مٹاگیا کیونکہ اس کے امام ختم ہوگئے بہت سے طلبہ جوان کے مذاہب کا مطالعہ کرناچاہتے ہیں اوران کتابوں سے ان کا فقہ اورمذہب سیکھناچاہتے ہیں وہ اپناوقت ضائع کرتے ہیں اور اس سے جمہور کی مخالفت اوران کے مذہب سے انکار بھی لازم آتاہے ۔ہوسکتاہے کہ وہ اس مذہب کی وجہ سے بدعتیوں میں شمار کرلیے جائیں؛ کیونکہ وہ اساتذہ کی چابی کے بغیرکتابوں سے علم کو نقل کررہے ہیں۔‘‘ (مقدمہ ابن خلدون ص۲۸۳)
ائمہ اربعہ میں سے ائمہ ثلاثہ کی تصانیف تومشہور ہیں؛لیکن امام ابوحنیفہ کی تصانیف کے تعلق سے تاریخی نقوش اتنے دھندلے ہیں کہ کچھ کہنامشکل ہے۔ویسے ماقبل کے مورخین نے اس تعلق سے کچھ کتابوں کے نام لیے ہیں تواس بنا پر کہاجاسکتاہے کہ امام ابوحنیفہ نے کچھ کتابوں کی تصنیف ضرورکی لیکن وہ ہم تک نہیں پہنچ سکی جیساکہ دیگر علما کے ساتھ بھی ہواہے۔ ان کے شاگردوں نے جوکتابیں لکھیں ان میں سے کچھ ہم تک پہنچی ہیں اوربیشتر ہم تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔
ان کے شاگردوں میں نمایاں نام امام ابویوسف کاہے۔ انھوں نے درج ذیل کتابیں لکھی ہیں۔ابن ندیم نے امام ابویوسف کی تصانیف میں مندرجہ ذیل کتب کانام لکھاہے۔
کتاب الصلاۃ، کتاب الزکا، کتاب الصیام، کتاب الفرائض، کتاب البیوع، کتاب الحدود، کتاب الوکالۃ، کتاب الوصایا، کتاب الصید والذبائح، کتاب الغصب والاستبرا ء، کتاب اختلاف الامصار، کتاب الرد علی مالک بن انس، کتاب رسالۃ فی الخراج الی الرشید، کتاب الجوامع الفہ لیحیی بن خالد یحتوی علی اربعین کتابا ذکر فیہ اختلاف الناس والرای الماخوذ بہ(الفہرست لابن ندیم ۱؍۳۵۳)
اس فہرست میں ابن ندیم نے کتاب الردعلیٰ مالک بن انس کانام لیاہے؛ لیکن ایسالگتاہے کہ یاتوسبقت قلم سے ایساہوگیاہے، صحیح نام ہوناچاہیے: کتاب الرد علیٰ سیرالاوزاعی۔
امام زفر کی کتابوں کا ابن ندیم نے کوئی تذکرہ نہیں کیاہے؛ لیکن یہ حقیقت ہے کہ انھوں نے بھی کچھ کتابیں لکھی ہیں۔ ابن ندیم نے امام زفر کے ترجمہ میں صرف اتنالکھ کر چھوڑدیاہے کہ ان کی چند کتابیں ہیں۔ کون کون سی ہیں، یہ نہیں بتایا۔ الفہرست کے محقق نے حاشیہ میں لکھاہے کہ ان کی ایک کتاب مجرد فی الفروع کے نام سے ہے۔ اس کے علاوہ جیساکہ مولانا عبدالرشید نعمانی نے ثابت کیاہے کہ ان کی ایک اورکتاب کتاب الآثار کے نام سے ہے جس کاحاکم نے بھی ذکر کیاہے۔لہذاان کی زیادہ تصانیف نہ ہوناکوئی مستبعد نہیں ہے۔
امام محمد بن الحسن کی درج ذیل کتابوں کاابن ندیم نے ذکر کیاہے۔
ولمحمد من الکتب فی الاصول کتاب الصلوٰۃ، کتاب الزکاۃ، کتاب المناسک، کتاب نوادر الصلوۃ، کتاب النکاح، کتاب الطلاق، کتاب العتاق وامھات الاولاد، کتاب السلم والبیوع، کتاب المضارب الکبیر، کتاب المضارب الصغیر، کتاب الاجارات الکبیر، کتاب الاجارات الصغیر، کتاب الصرف، کتاب الرھن، کتاب الشفع، کتاب الحیض، کتاب المزارع الکبیر، کتاب المزارع الصغیر، کتاب المفاوضۃ وھی الشرکۃ، کتاب الوکالۃ، کتاب العاریۃ، کتاب الودیعۃ، کتاب الحوالۃ، کتاب الکفالۃ، کتاب الاقرار، کتاب الدعوی والبینات، کتاب الحیل، کتاب الماذون الصغیر، کتاب الدیات، کتاب جنایات المدبر والمکاتب، کتاب الولاء، کتاب الشرب، کتاب السرق وقطاع الطریق، کتاب الصید والذبائح، کتاب العتق فی المرض، کتاب العین والدین، کتاب الرجوع عن الشھادات، کتاب الوقوف والصدقات، کتاب الغصب، کتاب الدور، کتاب الھبۃ والصدقات، کتاب الایمان والنذور والکفارات، کتاب الوصایا، کتاب حساب الوصایا، کتاب الصلح والخنثی والمفقود، کتاب اجتھاد الرای، کتاب الاکراہ، کتاب الاستحسان، کتاب اللقیط، ، کتاب الآبق، کتاب الجامع الصغیر، کتاب اصول الفقہ، کتاب یعرف بکتاب الحجۃ یحتوی علی کتب کثیر، کتاب الجامع الکبیر، کتاب امالی محمد فی الفقہ وھی الکیسانیات، کتاب الزیادات، کتاب زیادات الزیادات، کتاب التحری، کتاب المعاقل، کتاب الخصال، کتاب الاجارات الکبیر، کتاب الرد علی اھل المدینۃ، کتاب نوادر محمد (الفہرست لابن ندیم۱؍۲۵۴ )
حقیقت یہ ہے کہ امام محمد نے اپنی تصانیف کے ذریعہ ہی فقہ حنفی کا نام زندہ اورروشن رکھاہے اورانہی کی کتابیں فقہ حنفی کا دارومدار ہیں۔اگرکہاجائے کہ فقہ حنفی کو زندہ رکھنے میں ایک بڑاسبب اوراہم کردار امام محمد بن الحسن کی کتابوں اورتصنیفی خدمات کا ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔
امام حسن بن زیاد لولوئی۔یہ بھی بڑے مرتبہ کے فقیہ تھے۔یحییٰ بن آدم جوبڑے درجہ کے مجتہد ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے بڑھ کر فقیہہ نہیں دیکھا،ان کی تصنیفات بقول امام طحاوی درج ذیل ہیں:
قال الطحاوی ولہ من الکتب کتاب المجرد لابی حنیفۃ، روایتہ کتاب ادب القاضی، کتاب الخصال، کتاب معانی الیمان، کتاب النفقات، کتاب الخراج، کتاب الفرائض، کتاب الوصایا (الفہرست لابن ندیم ۱۵۵)
پھراس کے بعد امام ابویوسف،امام محمد ،امام زیاد بن حسن کے شاگردوں اورپھران کے شاگردوں نے جوتصنیفی خدمات انجام دی ہیں: سفینہ چاہیے اس بحربیکراں کے لیے،اوراس کے بعد بھی حالت یہی ہوگی۔ورق تمام ہوااورمدح ابھی باقی ہے۔
مشہور مورخ ابن خلدون لکھتے ہیں: ان کے(امام ابوحنیفہ)فقہ پر کثرت سے کتابیں لکھی گئیں اورشافعیوں سے مناظرہ کی مجلسیں بھی خوب گرم رہیں اوراختلافی مسائل میں انتہائی نفیس ومفید مذاکرات ہوئے اورانھوں نے گہرے وسنجیدہ نظریات پیش کیے۔ (مقدمہ ابن خلدون ص۶۲۵)
اصول فقہ کے باب میں ابن خلدون حنفیہ کی کاوشوں کااعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’پھر (امام شافعی کے بعد)اس پر فقہائے احناف نے کتابیں لکھیں اوران قواعد کی تحقیق کی اوران میں تفصیل سے گفتگو کی۔ اسی طرح اہل کلام نے بھی اس پر کتابیں لکھیں؛ مگراس موضوع پر فقہا کی کتابیں فقہ کے لیے زیادہ موزوں اورفروع کے مناسب ہیں؛ کیونکہ وہ ہرجزئی مسئلہ میں کثرت سے مثالیں وشواہد پیش کرتے ہیں اورفقہی نکات پر مسائل اٹھاتے ہیں،فقہائے حنفیہ اس میں بڑے ماہر ہیں ۔وہ فقہی نکات کے دریا میں غوطہ لگاکر مقدوربھرمسائل فقہ سے ان قوانین کے موتی چن لیتے ہیں۔ جیساکہ انہی کے امام میں سے ابوزید دبوسی کازمانہ آیاتوانھوں نے قیاس پر سب سے زیادہ لکھااوران بحثوں اورشرطوں کو تکمیل تک پہنچادیا، جن کی قیاس میں ضرورت پڑتی ہے۔ ان کی تکمیل سے اصول فقہ کی صنعت مکمل ہوگئی اوراس کے مسائل مرتب اور قواعد تیار ہوگئے ،حنفیہ نے بھی اس علم پر بہت سی کتابیں لکھیں ہیں۔پہلے علما میں ابوزید دبوسی کی اور پچھلے علما میں سیف الاسلام بزدوی کی بہترین کتاب ہے۔جو اس فن کے تمام مسائل کی جامع ہے۔ ابن ساعاتی حنفی نے کتاب الاحکام اوربزدوی کی کتاب کو ایک جگہ ترتیب سے جمع کردیااوراس کا نام البدائع رکھا۔ اس کی ترتیب انتہائی بہترین ہے اوریہ بے حد نادرکتاب ہے۔اس زمانے کے علما کے مطالعہ میں یہی رہتی ہے اوروہ اسی کے مسائل پر تبادلہ خیالات کرتے ہیں۔بہت سے علمائے عجم نے اس کی شرحیں لکھی ہیں۔‘‘ (مقدمہ ابن خلدون، ص۶۳۲)
جن کو اس تعلق سے زیادہ معلومات چاہیے وہ کشف الظنون، معجم المولفین، المدخل الی المذھب الحنفی اوردیگر کتابوں کا مطالعہ کریں۔جس سے یہ حقیقت بخوبی کھل کر واضح ہوگی کہ علمائے احناف نے تصنیف وتالیف اورپیش آمدہ مسائل میں لوگوں کی رہنمائی ہر دور میں جاری رکھی اوریہی وجہ ہے کہ امت کا ایک بڑاطبقہ فقہ حنفی سے وابستہ رہاہے۔

(۵) فقہ حنفی کی اپنی خصوصیات

فقہ حنفی کی ایک مزید خصوصیت یہ ہے کہ وہ صیقل شدہ ہے۔ یعنی حکومت اورکارقضا اس کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے پیش آمدہ مسائل کاحل اس نے پیش کیاہے اورلوگوں کو جو مختلف طرح معاملات پیش آتے ہیں، اس میں رہنمائی کی ہے۔ تیرہ صدیوں سے وہ تجربات کی بھٹی میں تپ تپ کر کندن ہوچکی ہے، اس معاملے میں اگرکوئی دوسری فقہ اس کے ساتھ شریک ہوسکتی ہے تووہ صرف فقہ مالکی ہے۔
فقہ مالکی اورفقہ حنفی کے تقابل میں فقہ حنفی کو ایک امتیاز یہ حاصل ہے کہ فقہ مالکی کادائرۂ کار صرف اندلس اوران کے اطراف ہی رہے ہیں، جہاں کی تہذیب اومعاشرت ایک جیسی ہے۔ جب کہ فقہ حنفی نے مختلف الاذہان اورمختلف ممالک وقبائل کو اپنے سانچے میں ڈھالاہے۔ایک جانب اگروہ عراق اوردارالسلام بغداد میں حکومت کا سرکاری مذہب ہے تواسی کے ساتھ وہ ترک اورروم میں بھی کارقضا وافتا انجام دے رہاہے۔ اگرایک جانب چینی مسلمان فقہ حنفی کے حلقہ بگوش ہیں تودوسری طرف ہندی مسلمان بھی، اسی کے دائرہ اطاعت میں داخل ہیں۔
بلا خوف تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اگرکوئی مذہب اورمسلک تجربات کی بھٹی میں تپ تپ کر کندن ہواہے تووہ صرف فقہ حنفی ہے ۔اگرفقہ حنفی میں جان نہ ہوتی تو وہ تاریخ کے اتنے رگڑے نہیں سہہ سکتی تھی۔وہ اب تک زندہ ہے پایندہ ہے تویہ اس کی نافعیت اورتاریخ کی کسوٹی پر ثابت ہونے والی صداقت ہے۔
اس سلسلہ میں یہ بتادیناشائد نفع سے خالی نہ ہوگاکہ حضرت مولانا مناظراحسن گیلانی نوراللہ مرقدہ یہ کہتے تھے کہ فقہ حنفی اورمالکی تعمیری فقہ ہیں اورفقہ شافعی وحنبلی تنقیدی ہیں اوراس کی توجیہ وہ یہ کرتے تھے:
’’لوگ جانتے ہیں کہ حنفی اورمالکی فقہ کی حیثیت اسلامی قوانین کے سلسلہ میں تعمیری فقہ کی ہے اورشافعی وحنبلی فقہ کی زیادہ تر ایک تنقیدی فقہ کی ہے۔ حنفیوں کی فقہ کومشرق اورمالکی فقہ کو مغرب میں چوں کہ عموماً حکومتوں کے دستور العمل کی حیثیت سے تقریباً ہزار سال سے زیادہ مدت تک استعمال کیاگیاہے؛ اس لیے قدرتاً ان دونوں مکاتب خیال کے علما کی توجہ زیادہ تر جدید حوادث وجزئیات وتفریعات کے ادھیڑبن میں مشغول رہی۔ بخلاف شوافع وحنابلہ کے کہ بہ نسبت حکومت کے ان کا زیادہ ترتعلیم وتعلم، درس وتدریس اور تصنیف وتالیف سے رہا؛ اس لیے عموماً تحقیق وتنقید کا وقت ان کو زیادہ ملتارہا۔‘‘ (شاہ ولی اللہ نمبرص۲۰۰)
(یہاں پر یہ بتادیناضروری ہے کہ فقہ حنفی نے اجتہاد وتقلید کے مابین ایک مناسب خط کھینچا ہے جو افراط وتفریط سے عاری اوراعتدال وتوازن پر مبنی ہے۔ انھوں نے ایک جانب عوام پر مجتہدین کی تقلید کو ضروری قراردیا تو دوسری جانب پیش آمدہ مسائل کی رہنمائی کے لیے اجتہاد فی المذہب کے باب کو مفتوح رکھا؛کیونکہ واقعات وحوادث بے شمار ہیں اور کوئی شخص کتناہی ذہین کیوں نہ ہو؛ لیکن وہ تمام پیش آمدہ واقعات اوراس کی جزئیات نہیں بتاسکتا،لہٰذا اس کی ضرورت باقی رہتی ہے کہ اجتہاد فی المذہب کا سلسلہ جاری رہے۔)
فقہ حنفی کی ایک اورخصوصیت جواس کو دیگر فقہ سے ممتاز کرتی ہے، یہ ہے کہ امام ابویوسف، امام محمد اورامام زفر اگرچہ خود اپنی جگہ مجتہد مطلق تھے؛ لیکن ان کے اقوال بھی امام ابوحنیفہ کے اقوال کے ساتھ ہی کتابوں میں ذکر کیے گئے ہیں، لہٰذا یہ سب مل ملاکر فقہ حنفی ہوگئے ہیں۔ جس کی وجہ سے فقہ حنفی کادائرہ بہت وسیع ہوگیاہے۔شیخ ابوزہرہ اس تعلق سے لکھتے ہیں:
’’صرف امام ابوحنیفہ کے اصحاب وتلامذہ کے افکار وآرا ہی ان کے اقوال سے مخلوط نہیں ہوئے؛ بلکہ آگے چل کر لوگوں نے ان میں ایسے اقوال کوبھی داخل کردیے، جو امام ابوحنیفہ اوران کے اصحاب سے منقول نہ تھے۔ ان میں سے بعض اقوال کو حنفی مسلک سے وابستہ سمجھاگیااوربعض کو نہیں۔ بعض علما نے کچھ اقوال کوراجح اورکچھ کومرجوح قراردیا۔اس طرح اختلاف وترجیح میں اضافہ ہوتارہا اوریہ سب کچھ بڑے دقیق اورمحکم قواعد پر مبنی تھے۔اس طرح فقہ حنفی میں وسعت پیداہوئی اوراس کا دامن اتناوسیع ہوگیاکہ اس میں زمانہ کے لوازمات اورعام حالات کاساتھ دینے کی صلاحیت پیداہوئی۔‘‘ (حیات حضرت امام ابوحنیفہ ص۷۲۴)
آگے چل کر شیخ ابوزہرہ لکھتے ہیں کہ فقہ حنفی کی ترقی کا باعث تین عوامل ہوئے :
(۱) حنفی مذہب کے دائرہ کے مجتہد اورتخریج مسائل کرنے والے فقہا
(۲) امام صاحب اورآپ کے اصحاب سے منقول اقوال کی کثرت
(۳) تخریج مسائل کی سہولت اورمخرجین کے اقوال کامعتبرہونا

(۶) داعیان دین کی کوششیں اورکاوشیں

یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ سلطنت عباسیہ کے خلفا حنفی مذہب سے ارادت اورعقیدت رکھتے تھے۔سلطنت عباسیہ کے قاضی اورچیف جسٹس وغیرہ حنفی ہواکرتے تھے۔یہ حکومتیں کفر کی سرزمین پر لشکرکشی کیاکرتی تھیں۔ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر ہزاروں افراد اسلام لے آتے تھے۔ان نومسلموں کواسلامی تعلیمات سکھانے کی ذمہ داری قاضیوں کی ہوا کرتی تھی ۔یہ قاضی چونکہ خود بھی حنفی ہوتے تھے؛ لہذا ان کو مسائل فقہیہ کی تعلیم بھی فقہ حنفی کے مطابق دیاکرتے تھے۔ اس طرح رفتہ رفتہ تھوڑے ہی عرصہ میں فقہ حنفی نے ایک بڑی اوروسیع جگہ پیداکرلی۔بالخصوص نومسلمین تمام کے تمام فقہ حنفی سے ہی وابستہ ہوئے۔یہی وجہ ہے کہ ان نومسلمین قبائل میں سے آگے چل کر جنھوں نے سلطنت وحکومت کی باگ ڈورسنبھالی۔ جیسے کہ سلجوقی،مغل،آل عثمان وغیرہ ۔وہ سب کے سب بھی حنفی ہوئے۔اس کے علاوہ بھی دیگر داعیانِ دین جنہوں نے انفرادی طورپر دعوت دین کاعلم بلند کیاوہ بھی زیادہ تر حنفی تھے۔
جب چنگیز خان کی قیادت میں تاتاریوں نے عالم اسلامی کوروند دیاتواس وقت عالم اسلام زوال کا شکار تھا۔ اورایسالگتاتھاکہ اس کے دن پورے ہوچکے ہیں؛ لیکن خداکی رحمت جوش میں آئی اورفاتحین نے مفتوحین کے مذہب کوقبول کرلیا۔ چنگیز خان کی حکومت اس کے بیٹوں میں تقسیم کردی گئی تھی۔چنگیز کے بڑے بیٹے کی نسل جوجی خان میں سے برکہ خان نے اسلام قبول کیا،اس طرح کہ اس کو خود اسلام کی طرف رغبت ہوئی اور اس نے مسلم تاجروں سے اس کے حوالے سے پوچھااوراسلام قبول کرلیااوراپنے چھوٹے بھائی کوبھی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ چنگیز خان کا پوتاقازان بن ارغوان امیرتوزون کی تلقین سے ان کے ہاتھ پرمشرف بہ اسلام ہوا۔چنگیز خان کے خاندان کی تیسری شاخ جو بلادمتوسطہ پر قابض تھی، اس میں سے تیمور خان نے ایک مسلم داعی شیخ جمال الدین کاشغر کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا۔(بحوالہ تاریخ دعوت وعزیمت ص۳۳۱)
حقیقت یہ ہے کہ مغل اورترک تمام کے تمام حنفی گزرے ہیں اوراس کی وجہ یہی ہے کہ انھوں نے جن کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیاوہ سب حنفی تھے، لہذا اس اثر سے انھوں نے بھی فقہیات میں حنفی مسلک کواپنایا۔
اسی طرح ہم ہندوستان میں دیکھیں کہ حضرات صوفیا کرام کے وجود باجود سے ہندوستان میں اسلام کی نشرواشاعت ہوئی ۔صرف خواجہ اجمیر ی کے تعلق سے بعض مورخین نے لکھاہے کہ نوے لاکھ افراد حلقہ بگوش اسلام ان کی وجہ سے ہوئے۔پھران کے خلفا اورمریدین نے دوردراز کے مقامات پر جس طرح اسلام کو پھیلایا،وہ تاریخ کاحصہ ہے۔
سیر الاولیا کے مصنف حضرت خواجہ معین الدین چشتی اوران کے خلفا کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ملک ہندوستان اپنے آخری مشرقی کنارہ تک کفروشرک کی بستی تھی ۔اہل تمرد انا ربکم الاعلی کی صدا لگارہے تھے۔اورخداکی خدائی میں دوسری ہستیوں کوشریک کرتے تھے اوراینٹ، پتھر، درخت، جانور، گائے کوسجدہ کرتے تھے۔ کفر کی ظلمت سے ان کے دل تاریک اورمقفل تھے۔ سب دین وشریعت سے غافل، خداوپیغمبر سے بے خبرتھے۔ نہ کسی نے قبلہ کی سمت پہچانی۔نہ کسی نے اللہ اکبرکی صداسنی،آفتاب اہل یقین حضرت خواجہ معین الدین کے قدم مبارک کا یہاں پہنچنا تھاکہ اس ملک کی ظلمت نوراسلام سے مبدل ہوگئی۔ اوران کی کوشش وتاثیر سے جہاں شعائرشرک تھے، وہاں مسجد ومحراب ومنبر نظرآنے لگے۔ جوفضا شرک کی صدا سے معمورتھی، وہ نعرۂ اللہ اکبر سے گونجنے لگی۔اس ملک میں جس کو اسلام کی دولت ملی اورقیامت تک جو بھی اس دولت سے مشرف ہوگا۔ نہ صرف وہ بلکہ اس کی اولاد دراولاد نسل درنسل سب ان کے نامہ اعمال میں ہوں گے اوراس میں قیامت تک جوبھی اضافہ ہوتارہے گا اوردائرہ اسلام وسیع ہوتارہے گا۔ قیامت تک اس کاثواب شیخ الاسلام معین الدین حسن سنجری کی روح کو پہنچتارہے گا۔‘‘ (سیر اولیا ص، بحوالہ تاریخ دعوت وعزیمت ص۲۸-۲۹)
سیر الاقطاب کے مصنف لکھتے ہیں: ہندوستان میں ان کی وجہ سے اسلام کی اشاعت ہوئی اورکفر کی ظلمت یہاں سے کافور ہوئی۔(سیرالاقطاب ص۱۰۱)
یہ صرف صوفیانہ خوش عقیدگی نہیں ہے؛ بلکہ دیگر مورخین نے بھی اس کااعتراف کیاہے۔ ابوالفضل آئین اکبری میں لکھتاہے: اجمیر میں عزلت گزریں ہوئے اوراسلام کا چراغ بڑی آب وتاب سے روشن کیااوران کے انفاسِ قدسیہ سے جوق درجوق انسانوں نے ایمان کی دولت پائی۔(آئین اکبری،سرسید ایڈیشن ص ،بحوالہ تاریخ دعوت وعزیمت ص۳۰)
یہ سب صوفیائے کرام چونکہ حنفی تھے، لہذا نومسلم بھی فقہ حنفی سے ہی وابستہ ہوئے۔
برصغیر ہندوپاک میں کس طرح اسلام پھیلا۔اس پرپروفیسر آرنلڈ کی کتاب پریچنگ آف اسلام کا مطالعہ کیاجائے۔ہم اس مختصر مضمون میں کچھ اشارے کردیتے ہین بالخصوص ہندوستان کے تعلق سے۔
کشمیر جوبرہمنوں کا گڑھ تھا،اس کو سید علی ہمدانی نے اپنی دعوتی کوششوں سے اسلام کے مرکز میں تبدیل کردیا اور اس طرح تبدیل کیاکہ آبادی کاتوازن ہی بالکل الٹ دیا۔جہاں کبھی برہمن اکثریت میں تھے، اب وہ اقلیت میں آگئے۔ سید علی ہمدانی حنفی تھے، لہذا ظاہرسی بات ہے کہ ان کے اثر سے اسلام قبول کرنے والے بھی فقہ حنفی سے وابستہ ہوئے۔
خواجہ معین الدین چشتی اجمیری نے جس طرح ہندوستان میں اسلام کی نشرواشاعت کی۔ اس کے بارے میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں:
’’سلسلہ چشتیہ کی بنیاد ہندوستان میں پہلے ہی دن سے اشاعت وتبلیغ اسلام پر پڑی تھی۔ اوراس کے عالی مرتبت بانی حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے ہاتھ پر اس کثرت سے لوگ مسلمان ہوئے کہ تاریخ کے اس اندھیرے میں اس کا اندازہ لگانابھی مشکل ہے‘‘۔ (تاریخ دعوت وعزیمت جلد سوم)
’’پنجاب کے مغربی صوبوں کے باشندوں نے خواجہ بہاء الحق ملتانی اوربابافرید پاک پٹن کی تعلیم سے اسلام قبول کیا۔یہ دونوں بزرگ تیرہویں صدی عیسوی کے قریب خاتمہ اورچودھویں صدی عیسوی کے شروع میں گزرے ہیں۔ بابافرید گنج کے بارے میں مصنف نے لکھاہے کہ انھوں نے سولہ قوموں (برادریوں) کو تعلیم وتلقین سے مشرف بہ اسلام کیا‘‘۔ (پریچنگ آف اسلام)
اس کے علاوہ تمل ناڈو کے بارے میں آتاہے کہ وہا ں نویں صدی میں ایک بزرگ مظہر نامی آکربسے تھے اوران کے ساتھ مریدین تھے۔ انھوں نے وحشیوں کو زیربھی کیااوراپنے اخلاق وکردارسے ان کو اسلام کی جانب مائل بھی کیا۔ بنگال وبہار میں بھی اسلام کی شاعت صوفیا کرام ہی کے زیر اثر ہوئی۔اوریہ بات مخفی نہیں ہے کہ صوفیا کرام میں سے تمام کے تمام حنفی تھے، لہٰذا ان کے وابستگان بھی فقہ حنفی سے وابستہ ہوئے۔
انڈونیشیا اور ملیشیا میں حنفیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔جب کہ وہاں پر کوئی لشکر کشی نہیں ہوئی، وہاں تاجروں کے ذریعہ اسلام پھیلا۔گمان غالب یہ ہے کہ یہ تاجربھی حنفی ہوں گے اوران کے اثر سے اسلام قبول کرنے والوں نے فقہ حنفی کو اپنایاہوگا۔
یہ اگرچہ انتہائی مختصر جائزہ ہے؛ لیکن اس سے اتنی بات ثابت ہورہی ہے کہ صوفیا کرام اور داعیان دین کا فقہ حنفی کی نشرواشاعت میں اہم کردارہے۔

(۷) حکومت وسلطنت کا اثر

عمومی طورپر مورخین نے بھی فقہ حنفی کے قبولِ عام اوراقطارِعالم میں پھیلنے کاایک سبب حکومت وسلطنت کی سرپرستی قرار دیا ہے اور امام ابویوسف کے عباسی سلطنت میں قاضی القضا(چیف جسٹس)بننے کو بڑی وجہ قراردیاہے۔ابن حزم لکھتے ہیں:
مذہبان انتشرا فی بدء امرھما بالریاسۃ، الحنفی بالمشرق والمالکی بالاندلس (وفیات الاعیان۲؍۲۱۶)
’’دومذہب ابتدا میں حکومت کی سرپرستی کی وجہ سے پھیلے، مشرق میں حنفی اوراندلس میں مالکی مذہب۔‘‘
ابن خلدون لکھتے ہیں: امام ابوحنیفہ کے ماننے والے آج عراقی، سندھی، چینی ،ماورا النہر اورتمام عجمی شہروں کے مسلمان ہیں؛ کیونکہ ان کامذہب خصوصیت سے عراق اوردارالسلام کامذہب تھااورسرکاری مذہب کو ہی زیادہ مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ اس ضمن میں لکھتے ہیں:
وکان اشھر اصحابہ ذکرا ابو یوسف، تولی قضاء القضاۃ ایام ھارونِ الرشید فکان سببا لظھور مذھبہ والقضاء بِہِ فِی اقطارِ العراقِ وخراسان و ما وراء النھر (الانصاف فی اسباب الاختلاف ص ۳۹)
اس سے انکار نہیں کہ یہ بھی فقہ حنفی کے نشرواشاعت کاایک سبب ہے؛ لیکن اسی کو مکمل سبب قراردینا،نہ صرف امام ابوحنیفہ اوران کے شاگردوں کے کارناموں کے ساتھ ظلم ہے؛ بلکہ ان تمام فقہائے احناف کے ساتھ ظلم ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی فقہ حنفی کی خدمت میں لگادی۔

(۸)  فقہ حنفی کو حکومت کی مخالفت کا سامنا

یہ شاید بہتوں کومعلوم نہ ہوکہ فقہ حنفی پرسرکاری ظلم واستبداد بھی خوب ہوئے ہیں۔ دیگرمسالک اس سے بہت حد تک بچے رہے ہیں۔اندلس وغیرہ میں فقہ حنفی رواج پذیرتھی؛ لیکن وہاں کے سلطان نے شاہی استبداد سے کام لے کر فقہائے احناف کو اپنی مملکت سے جلاوطن کردیا۔مقدسی احسن التقاسیم میں بعض اہل مغرب کے حوالہ سے لکھتے ہیں:
ایک مرتبہ سلطان کے سامنے دونوں فریق جمع ہوئے سلطان نے پوچھا:امام ابوحنیفہ کہاں کے ہیں؟کہاگیا:کوفہ کے۔ پھراس نے پوچھا:امام مالک کہاں کے ہیں؟ جواب دیاگیا: مدینہ کے۔ تواس نے کہا: ہمارے لیے صرف امام دارالہجرت کافی ہیں۔ اس کے بعد اس نے تمام فقہائے احناف کوملک سے باہر نکل جانے کاحکم دے دیااورکہنے لگامیں اپنی سلطنت میں دومذہب پسند نہیں کرتا۔(احسن التقاسیم)
مصر میں فقہ مالکی شافعی اورحنفی سبھی موجود تھے؛ لیکن فاطمی حکمرانوں کے دورمیں صرف فقہ حنفی کووہاں کے حکام نے نشانہ بنایا۔اوراس کی وجہ سیاسی تھی؛ کیونکہ فقہ حنفی سلطنت عباسیہ کاسرکاری مذہب تھااورعباسی خلفا اورفاطمی حکمرانوں میں ہمیشہ چپقلش رہتی تھی، دونوں دینی سیادت وقیادت کے دعویدار تھے۔ایک سنیوں کا نمائندہ تودوسراشیعوں کا نمونہ تھا۔اسی وجہ سے فاطمی حکمرانی کے دورمیں جوطویل عرصہ تک ممتد رہا، فقہ حنفی کونشانہ بنایاگیا۔
اسی طرح فارس یعنی موجودہ ایران پورا کا پورا فقہ حنفی پر عمل پیرا تھا؛ لیکن ایک جانب وہاں صفوی خاندان کے حکمرانوں نے شیعیت کی ترویج میں جم کر حصہ لیاتودوسری جانب سلطنتِ عثمانیہ سے چپقلش کی وجہ سے ایرانی حکمرانوں نے حنفیوں پر زندگی تنگ کردی اوران کو ہرطرح سے ستایاگیا۔نتیجہ یہ ہواکہ وہ شہراوربلاد وامصار جوکبھی فقہائے احناف کے گڑھ ہواکرتے تھے، ویران اورسنسان ہوگئے۔اورفارس جوکبھی علمی رہنمائی میں اسلامی دنیاکا نقیب اوررہنماتھاعلمی تنزلی سے ایسادوچارہواکہ کل تک جوزمانہ کے امام تھے، وہ غیروں کے پیروکار بن گئے۔
ہم نے یہ کچھ وجوہ اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ فقہ حنفی کے شیوع اور قبولِ عام کے تعلق سے مخالفانہ پروپیگنڈہ کرنے والے اپنے نظریات پرسنجیدگی سے غورکریں اورسمجھیں کہ مورخین کے چند بیانات کوجس طرح وہ اپنی دلیل بنائے ہوئے ہیں، وہ اس موضوع کے موضوعی اور غیرجانبدارنہ مطالعہ میں کہاں تک درست اورباصواب ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنی مرضیات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ (آمین)

برصغیر کی صنعتی و تجارتی حالت ۔ انگریز کی آمد سے پہلے اور بعد میں

مولانا محمد انس حسان

کسی بھی ملک کی صنعت و معیشت اس ملک ترقی کی ضامن ہوتی ہیں۔ انگریز سامراج کی آمد سے قبل یہ خطہ صنعتی ومعاشی لحاظ سے اس قدر خوشحال وترقی یافتہ تھا کہ اسے سونے کی چڑیا کہاجاتا تھا۔ گیارہویں صدی سے انیسویں صدی کے وسط تک ہندوستان تجارتی وصنعتی اعتبار سے بہت نمایاں تھا۔ اس دور میں انگلستان سے جاپان تک ہندوستانی مال فروخت ہوتا تھا۔ دورِ حاضر کے بیشتر یورپی ممالک اس خطہ کی صنعتی وتجارتی منڈیاں تھیں۔ بقول باری علیگ ہندوستان کی صنعتی برتری کااندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے ختم کرنے میں سولہ سال صرف ہوئے۔ (1) انگلستان کے لیے تجارتی اور جنگی جہاز ہندوستان میں تیار ہوتے تھے۔ (2) ولیم ڈگبی کے مطابق بمبئی میں جو جہاز بنتے ہیں ، ان پر انگلینڈ کی بہ نسبت پچیس فی صدی کم لاگت لگتی ہے۔ (3) 
یہاں (برصغیر) میں چاروں طرف بڑے بڑے صنعت وحرفت کے کاروبار جاری تھے۔ (4) بڑے بڑے لائق اور کاری گر صناع موجود تھے۔ (5) سوت اور کپڑے اس قدر عمدہ اور باریک ونفیس وخوب صورت بنتے تھے کہ دنیا میں کوئی ملک بھی ان کی برابری نہ کرسکتا تھا۔ (6) ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک روئی اور ریشم کا کپڑا یہاں بکثرت تیار ہوتا تھا۔(7) مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے کپڑے کی صنعت کے حوالے سے لکھا ہے کہ حسن وباریکی میں ان کپڑوں کی حالت یہ ہے کہ ایک انگوٹھی میں پورا تھان سما سکتا ہے۔ (8) لوہا سازی کی صنعت انتہائی عروج پر تھی۔ رناڈلے کے مطابق دہلی کی مشہور لوہے کی لاٹ جو پندرہ سو سال پرانی ہے اس سے لوہا ڈھالنے کی صنعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ (9) لندن میں فولاد ہندوستان کے نام سے فروخت کیاجاتا تھا۔(10) ہندوستان کی صنعت وتجارت پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا حسین احمد مدنیؒ لکھتے ہیں کہ : 
‘‘ہندوستان قدیم زمانے سے صنعتی اور تجارتی ملک تھا۔ یہاں ہر قسم کی اعلیٰ اور ادنیٰ صنعتوں کے بے شمار کارخانے قائم تھے۔ جن سے ملکی ضروریات اور ذرائع ترقیات پوری ہوتی تھیں اور تمام دنیا کے ممالک نفع حاصل کرتے تھے ۔ بیرونی ملکوں سے ہر سال کروڑوں اشرفیاں انہیں مصنوعات کی قیمت میں ہندوستانی تاجر حاصل کرتے تھے ۔ اور ہندوستانی باشندے کروڑوں آدمیوں کی تعداد میں یہاں کی صنائع اور تجارتوں کے ذریعہ سے آرام اور عیش کی زندگی بسر کرتے تھے۔‘‘ (11)
صنعتی میدان میں آج چین ترقی کے جس بامِ عروج پر پہنچا ہوا ہے ایک دور تھا کہ برصغیر کی ترقی کا بھی یہی عالم تھا۔ جس طرح چین کی مصنوعات دنیا کے کسی بھی خطے کی مصنوعات سے کم قیمت پر اس خطے میں دستیاب ہوتی ہیں ، بالکل اسی طرح برصغیر کی مصنوعات بھی اپنے اعلیٰ معیار کے ساتھ ساتھ کم قیمت پر دستیاب ہوتی تھیں۔ ایچ ایچ ولسن لکھتے ہیں کہ: 
’’ہندوستان کے بنے ہوئے سوتی اور ریشمی کپڑے اس وقت تک برطانیہ کے بازاروں میں ولایتی کپڑے سے ارزاں بکتے تھے ۔ ہندوستانی مال کی قیمت ولایتی مال سے پچاس سے لے کر ساٹھ فی صدی تک کم ہوتی تھی ۔ مگر اس پر بھی ہندوستانی کپڑے کی تجارت میں فائدہ رہتا تھا۔‘‘ (12)
محمد تغلق نے دہلی میں سوتی کپڑے کا ایک کارخانہ قائم کیا تھا، جس میں پانچ ہزار کاریگر کام کرتے تھے ۔(13) اورنگ زیب کے عہد میں سورت اور احمد آباد سے جو مال باہر بھیجا جاتا تھا اس سے (اس وقت کے) تیرہ لاکھ اور ایک سو تین روپے سالانہ چنگی کے ذریعے وصول ہوتا تھا۔(14) کپڑا سازی کی صنعت اس درجہ قدیم تھی کہ فراعنہ مصر کے مقبروں میں ان کی نعشیں ہندوستان کے باریک ململ میں لپٹی ہوئی پائی گئیں۔ (15) اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ صنعت کس درجہ قدیم اور کسی قدر ترقی یافتہ تھی ۔ مسٹر بالکفین کے مطابق ہندوستانی کپڑے نے ہمارے اونی کپڑے کا کام تمام کردیا اور اپنے مقابل دیگر ممالک کے کپڑے کی درآمد انگلستان میں روک دی ۔ (16) اس صنعتی ترقی نے انگریز سامراج کو اتنا حواس باختہ کردیا تھا کہ اپنی پارلیمنٹ میں درخواست گزار دی کہ اگر ہندوستانی کپڑا نہ روکا گیا تو یہ صنعت یہاں(انگلستان ) میں بالکل تباہ ہوجائے گی۔(17) اس صورت حال نے انگریز سامراج میں غصہ کی آگ بھڑکائی ۔ 
انگریز مورخین برصغیر کی موجودہ زرعی حالات کو دیکھ کر یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ ہندوستان ہمیشہ سے زرعی لحاظ سے ترقی یافتہ تھا۔ یقیناًاس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ خطہ زرعی لحاظ سے بھی ترقی یافتہ تھا مگر اس دلیل سے اس امر کو مشکوک نہیں کیا جاسکتا کہ صنعتی لحاظ سے یہ خطہ غیر ترقی یافتہ تھا۔ چنانچہ حضرت مدنیؒ نے اس دلیل اور اس رائے کا مکمل رد کیا ہے اور اسے انگریز مورخین ومصنفین کا پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔ (18) باری علیگ نے تو انتہائی واضح طور پر لکھا ہے کہ :
’’آج ہندوستان کو صرف زرعی ملک کہا جاسکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انیسویں صدی کے شروع تک ہندوستان ایک صنعتی ملک تھا۔ دنیا کے ہر ملک کے تاجر ہندوستان سے تجارت کرتے تھے۔‘‘ (19) 
انگریز سامراج کی آمد سے قبل برصغیر مال ودولت سے بھرپور تھا۔ یہاں کے تاجر خوشحال تھے اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دی جاتی تھی۔ اس خوشحالی نے یہاں کے باشندوں میں سرمایہ داری کے مسائل پیدا نہیں کیے تھے۔ بعض تاریخیں بتلاتی ہیں کہ 1772ء میں صرافوں کی دکانوں پر شہروں میں اشرفیوں اور روپیوں کے ڈھیر ایسے لگے ہوتے تھے جیسے منڈیوں میں اناج کے ڈھیر ہوتے ہیں۔ (20) ریاست کا فلاحی کردار انتہائی عمدہ تھا۔ محمد تغلق کے دور میں بیس ہزار آدمی شاہی مہمان خانہ میں کھانا کھایا کرتے تھے۔ (21) صرف دہلی میں ستر شفاخانے عام لوگوں کے لیے دن رات کام کرتے تھے اور دو ہزار مسافر خانے مسافروں کے لیے کھلے رہتیتھے۔(22) مسافروں کے جانوروں کا کھانا بھی سرائے (مسافرخانوں) کے ذمہ تھا۔ (23) برصغیر کے تاجر اپنی مصنوعات دنیا کے ہر کونے میں پہنچاتے تھے۔ بنگال میں صرف دریائے ہگلی سے 50یا 60جہاز مال سے بھرے ہوئے سالانہ تجارت کے لیے بیرون ہند بھیجے جاتے تھے۔ (24)چیزیں اتنی ارزاں اور کم قیمت تھیں کہ آج بھی سن کر حیرت ہوتی ہے۔ مولانا گیلانی نے ابن حوقل (سیاح) کے حوالے سے لکھا ہے کہ:
’’شہد، گھی ، من ،اخروٹ، کشمش، الغرض کھانے پینے کی ساری چیزیں اتنی ارزاں ہیں کہ گویا مفت مل جاتی ہیں۔‘‘ (25)
برصغیر کے حکمرانوں کی معاشی خوشحالی کا ذکر تو کتابوں میں ملتا ہے مگر اس عہد کے عام تاجروں کے مالی گوشواروں کا علم زیادہ تر لوگوں کو نہیں ہے ۔ صاحب مآثر الامراء کے مطابق سورت کے تاجر ملا عبدالغفور جو عالمگیری عہد کے تاجر ہیں، ان کا سرمایہ کروڑوں روپیہ سے متجاوز تھا۔ عالمگیر کا بیٹا مرادبخش جو گجرات کا گورنر تھا اس کے حالات میں بھی لکھا ہے کہ حاجی پیر محمد زاہد علی سے ایک دفعہ چھ لاکھ قرض شہزادے نے لیا۔ (26)
زرعی لحاظ سے بھی یہ خطہ خوشحال اور زرخیز تھا۔ مغلوں کے دور میں ساری زمین ریاست کی ہوتی تھی اور اسے مختلف افراد کو مقررہ مقاصد کے تحت دیاجاتا تھا۔ کارل مارکس نے بھی اپنی کتاب داس کیپٹل میں برصغیر کی زمینوں کی قومی ملکیت کو اپنے لیے بطور دلیل پیش کیا ہے۔(27) خاندان مغلیہ کے سربراہوں نے برصغیر کی زراعت کو تیزی کے ساتھ فروغ دینے کے لیے ایسے زرعی قوانین وضع کیے کہ ترقی کی راہ پر گامزن صنعت کے لیے خام مال اور عوام کے لیے خوراک کی بہم رسانی نہایت ہی آسان ہوگئی۔(28) کسی قسم کا مالیہ اور محصول ادا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ سرکاری زمین ہونے کی وجہ سے انتہائی معمولی لگان جو پیداوار کا بہت تھوڑا حصہ ہوتا تھا ادا کرنا پڑتا تھا۔ اس خوشحالی کی وجہ سے کسان میں تجربات اور اختراعات کی سوچ پیدا ہوتی۔ (29) مولانا گیلانی نے شیخ مبارک (سیاح) کے حوالے سے لکھا ہے کہ :
’’اس ملک (برصغیر ) میں چاول ہی صرف اکیس قسموں کا پیدا ہوتا ہے۔‘‘ (30)
برصغیر کا کسان خوشحال ، باشعور اور انتہائی اچھے حالات میں تھا۔ جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی کا نام ونشان نہ تھا۔ کسان اپنی خوشحالی اور فارغ البالی کی وجہ سے زمین کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی پوری کوشش کرتا تھا۔ اس سے جہاں اس کے اپنے حالات بہتر ہوتے وہیں خطے کی اقتصادی ومعاشی صورت حال بھی بہتر ہوتی تھی۔ اجناس کی فراوانی نے عوام میں مہنگائی اور غربت کے خدشات ختم کردیئے تھے۔ 
لیکن انگریز سامراج کے آنے کے بعد اس خطے کی صنعتی ، معاشی ، تجارتی اور زرعی صورت حال یکسر تبدیل ہوکر رہ گئی۔ وہ انگریز سامراج جو 1601ء میں محض تیس ہزار پاؤنڈ سے تجارت شروع کرتا ہے تقریباًساٹھ برس تجارت کرنے کے بعد اس قدر دولت مند ہوجاتا ہے کہ انگلستان کے بادشاہ کو تین چار لاکھ پاؤنڈ بطور نذرانہ پیش کرتا ہے۔(31) جب نذرانہ ہی لاکھوں پاؤنڈ ہو تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ لوٹ کھسوٹ کتنی کی گئی ہوگی ۔ انگریز سامراج نے ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ کے نام سے اس خطے میں پہلی مرتبہ صنعتی اداروں میں مزدور اور مالک کے مروجہ ظالمانہ نظام کو متعارف کروایا۔ مزدوروں کوقلیل تنخواہیں اور مالکان کو بڑی تنخواہوں پر رکھ کر ان میں رقابت اور نفرت کے جذبات پیدا کیے گئے ۔ مولانا مدنیؒ اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ:
’’کمپنی کے وہ ملازم جو ہندوستان میں خرید وفروخت پر مقرر تھے چھوٹی چھوٹی تنخواہیں پاتے تھے۔ فیکٹری کے صدر کو تین سو پونڈ سالانہ ملتے تھے جو کہ سب سے اونچی تنخواہ تھی ۔ محرروں اور دوسرے ملازمین کو دس سے لے کر چالیس پونڈ سالانہ تک دیے جاتے تھے ۔۔۔ ان تنخواہوں پربھلے بانس اور شریف لوگ تو کاہے کو اپنے گھر بار چھوڑ کر آتے تھے۔‘‘ (32)
اے۔ جی ولسن کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 1882ء تک آتے آتے یہاں کے باشندوں کی اوسط آمدنی پانچ پاؤنڈ سالانہ تک پہنچ گئی تھی۔ (33) نیز تین کروڑ پاؤنڈ سالانہ اس خطے سے انگلستان منتقل کیا جاتا رہا۔ انگریز سامراج نے اس خطے کی معیشت وتجارت کو برباد کردیا۔ یہاں کے باشندوں کے تمام کاروبار بند ہوگئے ۔ محصولات اور ٹیکس کے بوجھ نے کاروباری سرگرمیوں کو معطل کرکے رکھ دیا۔ سرمایہ داریت کو فروغ دیا گیا اور غربت وافلاس نے یہاں کی عوام کو ایڑیاں رگڑنے پر مجبور کردیا ۔ قانون وآئین ایسے بنائے گئے جن سے انسانیت سوز مظالم کو سند جواز فراہم ہوسکے۔ تاجرانہ ہوس اور خود غرضانہ لالچ کی وجہ سے بنیادی انسانی حقوق پامال کیے گئے۔ لالہ لاجپت رائے کے مطابق جنوبی ہندوستان میں تو غربت وافلاس کی وجہ سے لوگ مُردار گوشت کھاکر زندگی گزارتے ہیں ۔(34) وہ ہندوستان جس کی خوشحالی مثالی تھی، اے ۔ اے برسل (ممبر پارلیمنٹ) کے مطابق اب اس حال میں تھا کہ یہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جسے اپنی پیدائش سے لے کر اپنی وفات تک کبھی پیٹ بھر کر کھانے کو نہیں ملتا۔ (35) اخبار مدینہ (بجنور) کے مطابق مسلسل فاقہ کرنے والوں کی تعداد چار کروڑ سے لے کر سات کروڑ تک ہے۔ (36)
یہ خطہ زیادہ پیداوار والا سستا ملک تھا۔ انگریز سامراج نے اس کو قحط اور غربت کا مرکز بنادیا۔ یہاں کی پیداواری صلاحیت کو کم کرکے مہنگائی اور افلاس میں اضافہ کردیا گیا۔ اس مہنگائی اور گرانی کے درج ذیل اسباب مولانا مدنی نے بتائے ہیں: 
  • یہاں کے نقود اور سونے چاندی سے جن کو لوٹ کھسوٹ کر انگریزوں نے انگلستان پہنچایا وہاں ان سے بڑے بڑے بینک کھولے گئے۔ تجارت کی انتہائی گرم بازاری کی گئی۔ ملیں اور مشینیں قائم کی گئیں اور ہندوستان سے خام اشیاء کو کھینچ کر انگلستان پہنچایا گیا۔ 
  • انگلستان میں ہندوستان مال پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس اور قانونی پابندیاں قائم کی گئیں اور ہندوستانی مال کو انگلستان سے نکال باہر کیا گیا ۔ 
  • ہندوستان کی صنعت اور تجارت کو مٹایا گیا۔ 
  • ہندوستان کی صنعت اور تجارت کے بند اور قریب المرگ ہوجاتے ہی فری ٹریڈ (آزاد تجارت) کی پالیسی کا اعلان کیا گیا اور ہر قسم کے مصنوعات اور تجارتی اشیاء کو نہایت معمولی اور کم سے کم ٹیکس کے ساتھ ہندوستان میں داخل کرکے ہندوستان کو یورپین بالخصوص انگریزی مال کی منڈی بنادیا گیا۔ 
  • ہندوستان سے غلہ نہایت فراوانی اور کثرت سے جہازوں میں بھر بھر کر انگلستان اور دیگر ممالک بھیجا گیا۔ (37)
ان تمام تر وجوہات کی بناء پر برصغیر کی صنعت کو شدید دھچکا لگا۔ شمس القمر قاسمی کے مطابق:
’’سنگ دل اور خود غرض انگریز نے انتہائی جابرانہ طریقوں سے صنعت وحرفت کو مٹانے کے لیے وحشیانہ مظالم ڈھائے اور آخر ایک دن وہ آیا کہ برصغیر کی صنعتی حالت بالکل پست ہوکر رہ گئی۔‘‘(38) 
برصغیر کی صنعت وحرفت کو جس دور میں تباہ کیا جارہا تھا یاد رہے کہ یہ وہی دور ہے جب انگلستان میں صنعت ومعیشت ترقی کر رہی تھی۔ کپڑے کی صنعت جس نے ایک دور میں انگریز تاجروں کو مفلسی کے غم میں مبتلا کر رکھا تھا۔(39) سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت اس کا استحصال کیا گیا۔ (40) اس حوالے سے طریقہ کار یہ اپنایا گیا کہ اس خطہ سے خام مال باہر لے جا کر تیار کیا گیا۔ (41) اس خام مال سے نہایت عمدہ اشیاء تیار کی جاتیں جو اطرافِ عالم میں مقبولیت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔
انگریز سامراج نے برصغیر کو جس دور میں صنعتی زوال کا شکار کیا اس دور میں یورپ میں صنعتی انقلاب کا عمل شروع ہوا۔ اس خطے کی لوٹی ہوئی دولت سے انگریز سامراج نے اپنے ملک میں صنعت اور مشینی ترقی کو فروغ دیا۔ چنانچہ باری علیگ لکھتے ہیں کہ:
’’وہ سرمایہ جو ایسٹ انڈیاکمپنی نے ہندوستان کی تجارت سے پیدا کیا تھا، انگلستان میں صنعتی انقلاب کا سبب بنا۔‘‘(42)
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انگریز سامراج نے مشین کی ایجاد میں سرمایہ کاری انسانیت کی فلاح وبہبود کے پیشِ نظر نہیں کی تھی بلکہ اس عمل کے پیچھے نو آبادیاتی دور کے وہ سرمایہ دارانہ عوامل شامل تھے جس نے ہوس، لالچ اور خود غرضی کو فروغ دیا۔ چنانچہ مشین کی ایجاد نے مزدور کا استحصال کیا اور سرمایہ کے حصول کے ناجائز طریقوں میں اضافہ کیا۔ اگر مشین ابتداء ہی میں کسی صالح نظام کے تابع ہوتی تو اس سے انسانی فلاح وبہبود اور ترقی کا کام لیا جاسکتا تھامگر بدقسمتی سے اس کا آغاز انگریز سامراج کے سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ہوا جس نے غریب مزدور کے خون سے اپنی آبیاری کی ۔ 
یہ خطہ جو صنعت وتجارت کے حوالے سے شہرت رکھتا تھا انگریزوں کی ڈپلومیسی اور خود غرضی سے محض زراعتی ملک بنادیا گیا۔(43) چونکہ صنعت وحرفت کے تمام راستے مسدود کردیے گئے اس لیے لوگ زراعت کی طرف متوجہ ہوئے۔لیکن شومئی قسمت کہ اس میدان کے حالات بھی سازگار نہیں تھے۔ چنانچہ زراعت کے حوالے سے بھی انگریز سامراج کی پالیسی نہایت اندوہناک اور دلخراش رہی اس خطے کو زراعت کا خطہ کہہ کر اس قدر پروپیگنڈا کیا گیا کہ اس کا صنعتی کردار مشکوک ہو کر رہ گیا۔ پاکستان کے معروضی حالات میں یہ پروپیگنڈا اب تک جاری ہے اور اس کے پس پردہ استحصالی قوتیں اپنی زرعی مصنوعات کو فروغ دے رہی ہیں۔ اس خطے میں جاگیر داری کو فروغ دیا گیا، جس کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ انگریز سامراج نے اپنے وفاداروں کو بڑی بڑی جاگیریں نواز کر خطے میں طبقاتی کشمکش پیدا کی۔ محاصل اور زرعی ٹیکسوں کی بھرمار کی ۔ پیداوار کم ہونے کے باوجود لگان کی شرح میں بتدریج اضافہ کیا جاتا رہا جس سے کسان کی زندگی دو بھر ہو کر رہ گئی ۔ جی کرہارڈی کے مطابق 1817ء میں جبری لگان کا طریقہ رائج کیا گیا۔ (44) حالانکہ یہ سلسلہ اس سے بہت پہلے شروع ہوچکا تھا۔ مولانا مدنی نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’لگان کے ثقیل بوجھ اور وصولی کے انتہائی جابرانہ طریقہ کی وجہ سے کسان ہر سال زمین جوتنے پر مجبور تھا، زمین کو لگاتار بوتا تھا اور اپنی گلوخلاصی کی فکر کرتا تھا جس کی وجہ سے ہندوستان کی زمین انتہائی درجہ کمزور ہوگئی اور پیداوار میں نہایت زیادہ کمی ہوگئی ۔‘‘ (45) 
اس صورت حال نے عام کاشت کار کو اس قدر تنگ اور پریشان کردیا کہ آسام کے کمشنر چارلس ایلیٹ کو لکھنا پڑا کہ : 
’’میں بلاتامل کہہ سکتا ہوں کہ کاشتکاروں کی نصف تعداد ایسی ہے جو سال بھر تک نہیں جانتی کہ ایک وقت پیٹ بھر کر کھانا کسے کہتے ہیں۔‘‘ (46)
اس اقتصادی پریشانی اور معاشی الجھنوں کی وجہ سے اس خطے کے عوام کی اعلیٰ ذہنی صلاحیتیں اور فکرو شعور ختم ہوتا چلا گیا ۔ تنگئِ معیشت کے سبب سماجی بگاڑ اور جرائم نے جنم لیا۔ایجادات واکتشافات کی جگہ پیٹ بھرنے کی فکر پروان چڑھی ۔ سوسائٹی کی اجتماعی ترقی کی جگہ انفرادیت پسندی اور خود غرضی نے سنبھال لی ۔ تاجرانہ سرگرمیوں کے خاتمے، صنعتی تباہ حالی اور زرعی استحصال نے اس خطے کے لوگوں میں بداخلاقی ، دوعملی اور منفی اقدار کو فروغ دیا، جس نے انگریز سامراج کے نوآبادیاتی نظام کو استحکام بخشا۔ 

حوالہ جات

(1) باری علیگ کمپنی کی حکومت ،ص 46
(2) مدنی، حسین احمد ، نقشِ حیات ، ج1، ص 252
(3) قاسمی، شمس القمر، رودادِ برصغیر ، ص 64
(4) رسالہ مظلوم کسان، ص 13 
(5) ایضاً
(6) مدنی ، حسین احمد، نقش حیات ، ج1 ، ص 246
(7) ایضاً، ص 248
(8) گیلانی ، مناظراحسن ، مولانا، ہزارسال پہلے ، ص 94بیت العلم ، کراچی ، 2004
(9) مدنی ، حسین احمد، نقش حیات ، ج1، ص 253
(10) قاسمی، شمس القمر ، رودادِ برصغیر ، ص 66
(11) مدنی ، حسین احمد نقشِ حیات ، ج 1، ص253-254
(12) ایضاً، ص276-277
(13) باری علیگ ، کمپنی کی حکومت ، ص 45
(14) ایضاً، ص46
(15) ایضاً، ص 45
(16) مدنی ، حسین احمد، نقشِ حیات ، ج 1، ص 269
(17) ایضاً، ص266
(18) ایضاً ، ص247
(19) باری علیگ، کمپنی کی حکومت ، ص 45
(20) مدنی ، حسین احمد، نقشِ حیات ، ج 1، ص196-197
(21) ایضاً، ص197
(22) ایضاً
(23) گیلانی ، مناظر احسن ، ہزار سال پہلے ، ص 213
(24) قاسمی، شمس القمر، رودادِ برصغیر ، ص55
(25) گیلانی ، مناظر احسن ، ہزار سال پہلے، ص 173
(26) ایضاً، ص176
(27) غلام کبریا، آزادی سے پہلے مسلمانوں کا ذہنی رویہ ، ص42
(28) کارل مارکس ، داس کیپٹل (مترجم :سید محمد تقی) ج1، ص91، دارالشعور، لاہور، 2004
(29) رسالہ مظلوم کسان ، ص 13
(30) گیلانی ، مناظر احسن ، ہزار سال پہلے، ص 116
(31) مدنی ، حسین احمد، نقشِ حیات ، ج 1، ص 204
(32) ایضاً، ص206
(33) ایضاً، ص 220
(34) ایضاً، ص 226
(35) اخبار سچ، لکھنؤ ، 13 جولائی 1928ء 
(36) اخبار مدینہ، بجنور، 25، مارچ ، 1930ء 
(37) مدنی ، حسین احمد، نقشِ حیات ، ج 1 ص 236-237
(38) قاسمی ،شمس القمر ، رودادِ برصغیر، ص 72
(39) باری علیگ ، کمپنی کی حکومت ، ص 96
(40) انگلستان کی حکومت نے 1700ء میں ایک قانون کے تحت انگلستان میں ہندوستان کے کپڑے کی درآمد کو ممنوع کردیا تھا۔ 
(41) مدنی ، حسین احمد، نقشِ حیات ، ج 1، ص 245
(42) باری علیگ ، کمپنی کی حکومت، ص 96
(43) مدنی ، حسین احمد، نقشِ حیات ، ج 1، ص، 288
(44) ایضاً، ص 289
(45) ایضاً ، ص 292
(46) ایضاً ، ص 296

ترکی کا ناکام انقلاب ۔ کیا چیز سیکھنے کی ہے اور کیا نہیں؟

محمد عمار خان ناصر


روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے لیے مولانا زاہد الراشدی کا انٹرویو

رانا محمد آصف

(روزنامہ دنیا کے سنڈے میگزین میں ۱۷ جولائی ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والا انٹرویو ضروری اصلاح و ترمیم کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے جس کی نظر ثانی مولانا راشدی نے کی ہے۔)

اب سے ربع صدی قبل کے زمانے کے ایک سرگرم سیاسی کارکن علامہ زاہد الراشدی نے عملی سیاسی سرگرمیوں سے رفتہ رفتہ کنارہ کشی اختیار کر لی ہے لیکن فکری اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے اب بھی کئی تنظیمات اور فورموں سے وابستہ ہیں۔ مولانا فداء الرحمن درخواستی کے ساتھ مل کر ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کے نام سے ایک فکری فورم قائم کیا۔ اسی طرح لندن میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ قائم کیا جو کہ علمی و فکری میدان میں عصر حاضر کے تقاضوں کا احساس اجاگر کرنے میں مصروف ہے اور اس کی سرگرمیوں کا دائرہ برطانیہ، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ بیرون ملک ختم نبوت کانفرنسوں اور ورلڈ اسلامک فورم کی سرگرمیوں کے علاوہ دیگر تعلیمی، دعوتی اور مطالعاتی مقاصد کے لیے کئی ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔ سادگی اور بے ساختگی ان کی شخصیت اور گفتگو کی خصوصیات ہیں۔ مولانا راشدی ملک کی قومی سیاست، دینی جدوجہد اور جہاد افغانستان کے حوالے سے تاریخ کے کئی اہم ادوار کے عینی شاہد بلکہ شریک کار رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں کراچی میں ان سے ہونے والی گفتگو کی تفصیلات پیش خدمت ہیں۔ 

سوال: مدارس میں آپ کے دور طالب علمی اور آج کے ماحول میں کوئی فرق ہے؟ 
جواب: بہت فرق ہے۔ اس وقت تعلیم کے ساتھ ساتھ ذہن سازی اور فکری تربیت کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا۔ وہ جمعیۃ علمائے اسلام کا دور تھا اور آج جیسے کئی مسائل اس وقت نہیں تھے۔ ہماری فکری تربیت خالصتاً تحریک ختم نبوت کے دور میں ہوئی، پھر 70ء کے الیکشن میں جمعیۃ کے لیے کام کیا، جمعیۃ طلباء اسلام کا حصہ بھی رہا۔ اس دور میں سیاسی، تحریکی اور اجتماعی سطح پر کام کرنے کی تربیت کا ماحول تھا۔ اس کی وجہ سے تمام مکاتب فکر کے ساتھ مل کر کام کرنے کا تجربہ بھی رہا۔ 
سوال: تحریک ختم نبوت اور بعد کی مختلف تحریکوں میں دینی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نے مل کر کام کیا۔ اب اس تعلق کو کس سطح پر دیکھتے ہیں؟
جواب: درمیانی اور نچلی سطح پر کارکنوں کا یہ رابطہ اب بالکل ختم ہوگیا ہے اور صرف اعلیٰ قیادت کی حد تک رہ گیا ہے۔ 1970، 1977، 1984 کے ادوار میں جس طرح مڈل کلاس کے سیاسی ورکرز اور دینی تحریکوں کے کارکنان شانہ بہ شانہ رہے اور ان کے آپس میں روابط تھے، وہ بات اب نظر نہیں آتی۔ 
سوال: اس صورتحال کے کیا اثرات ہوئے؟
جواب: گوجرانوالہ میں آج بھی ہم میل جول کا پرانا ماحول قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، سیاسی و مذہبی حوالے سے دوسری جماعتوں کے ساتھ رابطے اور مشترکہ پروگرام کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے شہر کی سطح تک تو حالات بہتر معلوم ہوتے ہیں لیکن مجموعی سطح پر دوریاں بڑھ رہی ہیں اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نچلی سطح پر مشترکہ سرگرمیوں کے ماحول کو بحال کرنے کی ضرورت ہے ورنہ دینی کاز کو بہت نقصان پہنچے گا۔ 
سوال: مدارس کے معیار تعلیم کے بارے میں کیا کہیں گے؟
جواب: ماضی کے مقابلے میں طلباء اور اداروں کی تعداد بڑھی ہے لیکن معیار وہ نہیں رہا۔ وسعت پیدا ہوئی ہے لیکن استعداد اور قابلیت میں کمزوری آئی ہے۔ 
سوال: اس صورتحال کے اسباب کیا ہیں؟
جواب: مدارس میں تعلیمی معیار کی کمی کے اسباب بھی وہی ہیں جو دیگر تعلیمی اداروں میں ہیں۔ جس طرح اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں طلباء کی بڑی تعداد صرف ڈگری لینے کے لیے جاتی ہے، یہ رجحان مدارس میں بھی آگیا ہے اور اب بہت سے طلباء صرف حصول سند کے لیے پڑھتے ہیں۔ اگرچہ صورتحال بالکل خراب نہیں ہوئی لیکن پہلے کے مقابلے میں تبدیل ضرور ہوئی ہے۔ 
سوال: ماضی میں علمائے دین میں شعری ذوق بھی پایا جاتا تھا اور ادب سے تعلق بھی۔ اب صورتحال کیا ہے؟ 
جواب: اب یہ ذوق نہیں رہا۔ جبکہ پہلے بھی یہ مضامین باقاعدہ نصاب کا حصہ نہیں ہوتے تھے لیکن علمی و ادبی حلقوں سے میل جول کی وجہ سے لوگ اس طرف مائل ہو جاتے تھے۔ میں اپنی مثال اس لیے نہیں دیتا کہ میرے والد حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ اہل قلم تھے اور ان کا ادبی ذوق ٹھیک ٹھاک تھا۔ یہ معاملہ میرے چچا محترم حضرت صوفی عبد الحمید سواتیؒ کا بھی تھا۔ میں نوجوانی ہی سے کسی نہ کسی ادبی فورم کا رکن رہا۔ مشاعروں میں شرکت، مقالہ نگاری اور تنقید نگاری وغیرہ، میں ان مراحل سے طالب علمی کے دور میں گزر چکا ہوں۔ والد اور چچا کی وجہ سے مجھے تو یہ موقع ملا لیکن عام طور پر ہمارے دینی حلقوں میں یہ ماحول نہیں ہے اور نہ ہی اس پر توجہ دی جا رہی ہے۔ 
سوال: ادب سے دوری طبیعت پر اثر ڈالتی ہے؟
جواب: بالکل ایسا ہوتا ہے۔ میں تو ایک بات اور کہتا ہوں، جب بھی ہمارے ہاں مدارس میں انگریزی پڑھانے کی بات ہوتی ہے تو میرا کہنا یہ ہوتا ہے کہ پہلے انہیں اردو تو پڑھائی جائے۔ ہمیں انگریزی پڑھانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن عربی کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ فارسی تو مدارس سے ختم ہی ہوگئی ہے اور اس کا اثر ہماری اردو پر بھی پڑا ہے۔ اس کے علاوہ ہم ماضی کے لٹریچر سے کٹ گئے ہیں اور تراجم پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ ان سب باتوں کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ آج کا مدرس اور خطیب صحیح اردو تک بولنا اور لکھنا نہیں سیکھ پاتا۔ 
سوال: آپ کا تعلق جس دینی و سیاسی مکتب فکر سے ہے،اس کے اور ملک کی ایک اور دینی سیاسی قوت جماعت اسلامی کے مابین اختلافات پائے جاتے ہیں جنہیں ختم کرنے کی ایک کوشش کا آپ بھی حصہ رہے ہیں۔ اس بارے میں کیا بتانا چاہیں گے؟
جواب: قاضی حسین احمد مرحوم جس زمانے میں جماعت اسلامی کے قیم (جنرل سیکرٹری) تھے، اس سلسلہ میں گفتگو کا آغاز ہوا تھا۔ میں ان مذاکرات کا حصہ تھا لیکن ہم کسی فارمولے پر نہیں پہنچ سکے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ قاضی صاحب کی وفات کے بعد وہ سلسلہ ختم ہوگیا، لیکن رک ضرور گیا ہے۔ اس کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ وہ یہ کہ قاضی صاحب جماعت کے فکری و نظریاتی پہلو پر قناعت کی بجائے اسے عملی سیاست کی جانب زیادہ لے گئے اور آج جماعت اسلامی ایک فکری تحریک کی بجائے سیاسی جماعت ہی تصور کی جاتی ہے۔ جماعت اسلامی کے نظریاتی عنصر کے مغلوب ہو جانے کی وجہ سے کئی اہم افراد اس سے الگ بھی ہوئے۔ قاضی صاحب کے دور میں چونکہ جماعت اسلامی خالصتاً ایک متحرک سیاسی جماعت بن گئی، اس لیے وہ پرانے جھگڑے اس وجہ سے بھی پس منظر میں چلے گئے۔ اور سراج الحق صاحب کا رخ بھی اسی جانب دکھائی دیتا ہے۔
سوال: جماعت اسلامی کے ساتھ یہ اختلافات ختم کرنے کے سلسلے میں کوئی پیش رفت کیوں نہیں ہو سکی؟ 
جواب: اصل میں اختلاف تو مولانا مودودیؒ کی بعض عبارات سے شروع ہوا تھا۔ قاضی صاحب مرحوم نے جمعیۃ علماء اسلام کے اکابر مولانا سید حامد میاںؒ اور مولانا محمد اجمل خانؒ کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر جماعت اسلامی کی شوریٰ یہ قرارداد منظور کرلے کہ ہم متنازعہ فکری معاملات میں مولانا مودودیؒ کی بجائے جمہور علماء کے ساتھ ہیں تو سارا جھگڑا ختم ہو سکتا ہے۔ ہماری اسی پر بحث چل رہی تھی اور والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی رائے بھی یہی تھی کہ اس کے بعد معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔ لیکن پھر اس کے بعد چلتے چلتے بات یہاں پہنچی کہ اصل اختلاف تو جماعت اسلامی کے دستور کی اس شق پر ہے کہ 
’’رسولِ خدا کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے، کسی کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھے، کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو، ہر ایک کو خدا کے بنائے ہوئے اسی معیار کامل پر جانچے اور پرکھے اور جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجہ میں ہو، اس کو اسی درجے میں رکھے‘‘۔
اس پر مولانا حسین احمد مدنیؒ کا اعتراض یہ تھا کہ یہ اہل سنت کے مسلمات کے خلاف ہے (کیونکہ اہل سنت کے ہاں صحابہ کرامؓ بھی معیار حق اور تنقید سے بالاتر ہیں)۔ چنانچہ جماعت اسلامی کے ساتھ تنازعہ بھی یہیں سے شروع ہوا تھا۔ تو اس سلسلہ میں بات یہاں آکر رکی کہ جماعت اسلامی کو دستور میں ترمیم کرنی ہوگی۔ اس کے بعد مذاکرات تو نہیں ہوئے لیکن ایک کمیٹی اب بھی کاغذوں میں ہے اور جماعت اسلامی کے مولانا عبد المالک اس کے سربراہ ہیں، میں نے جب اس سلسلہ میں ان سے پوچھا تو وہ طرح دے گئے۔ 
سوال: جس طرح آپ نے جماعت اسلامی کے بارے میں کہا، کیا اسی طرح جمعیۃ علمائے اسلام بھی محض ایک سیاسی جماعت بن کر نہیں رہ گئی؟ 
جواب: جمعیۃ علمائے اسلام ایک تحریکی قوت تھی لیکن اب نہیں رہی۔ اس بارے میں میرا ہمیشہ سے نقطۂ نظر رہا ہے کہ پارلیمانی سیاست ہماری تحریکی قوت کی نمائندگی کے لیے تھی۔ اب ہم صرف پارلیمانی ہی رہ گئے ہیں اور ساری تگ و دو اسی سمت میں کی جا رہی ہے جس کا نقصان ہو رہا ہے۔ 
سوال: کیا پاکستان کی انتخابی سیاسی تاریخ سے یہ بات واضح نہیں ہوگئی کہ عوام کوئی مذہبی ریاست نہیں چاہتے؟ 
جواب: عوام اگر ٹھیٹھ مذہبی ریاست نہیں چاہتے تو مذہب سے باغی ریاست کے حق میں بھی نہیں ہیں۔ ان کے دل و دماغ میں شاید کسی خالص مذہبی ریاست کا نقشہ نہ ہو لیکن گزشتہ برسوں میں جو سروے ہوئے ہیں ان کے نتائج اس بات کو واضح کرتے ہیں۔ چند ماہ پہلے ایک امریکی ادارے کے سروے میں 78 فیصد پاکستانی عوام نے سختی کے ساتھ اسلام کے نفاذ کی حمایت کی، 17 فیصد کچھ نرم روی کے ساتھ اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں، جبکہ صرف 2 فیصد ہیں جنہوں نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر میں یہ کہتا ہوں کہ ہم پر یہی 2 فیصد مسلط ہیں۔ شدت یا تشدد پسندی کو پاکستان کے عوام مجموعی طور پر مسترد کرتے ہیں لیکن اس ملک کی غالب اکثریت ملک میں اسلام کی عملداری چاہتی ہے جبکہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اس طرف نہیں جا رہی یا بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اس طرف جانے نہیں دے رہی۔ 
سوال: پھر لوگ مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟
جواب: کوئی بھی جماعت بطور مذہبی جماعت انتخابات میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ عوامی سطح پر آکر اتحاد تشکیل دیے جائیں یا پاکستان کی تمام مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں تو لوگ اب بھی ساتھ دینے کو تیار ہیں لیکن مسلکی بنیاد پر لوگ ووٹ نہیں دیں گے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مختلف مکاتب فکر نے متحد ہو کر دینی کاز کے لیے جدوجہد کی ہے عوام نے اس کا ساتھ دیا ہے۔ 
سوال: بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان میں شدت پسندی کو سید احمد شہیدؒ کی تحریک کا تسلسل کہا جاتا ہے اور ان میں سے اکثر گروپ دیوبندی مکتب فکر ہی سے تعلق رکھتے ہیں، اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟
جواب: یہ تاثر بظاہر تو درست دکھائی دیتا ہے کیونکہ جہادی تحریکیں فکری طور پر خود کو اسی کے ساتھ منسوب کرتی ہیں، اس کا بنیادی سبب میرے خیال میں جہاد افغانستان ہے۔ روس کی واپسی اور افغان جہاد کی کامیابی کے بعد عالمی طاقتوں نے اس پوری تحریک کو اس کے منطقی نتائج سے محروم کیا، اسی کا رد عمل ہمیں بعد میں شدت پسندی کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ البتہ سید احمد شہیدؒ کے بعد شیخ الہندؒ کے زمانے میں یہ تبدیلی آئی تھی کہ دیوبند کی تحریک ایک نئی تشکیل کے تحت تعلیمی و تدریسی محنت اور پر امن سیاسی جدوجہد کے دور سے گزری۔ اس کے بعد ایک محدود دائرہ میں اس کی تشکیل نو جہاد افغانستان کے زمانے میں ہوئی کہ روس کی جارحیت کی وجہ سے وہی پرانے جذبات پھر آگئے، لیکن جہاد افغانستان سے ہٹ کر دوسرے معاملات میں مجموعی طور پر دیوبندی حلقوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ 
سوال: جہاد افغانستان کو اگر عالمی قوتوں نے منطقی انجام تک نہیں پہنچنے دیا تو کیا مذہبی تحریکوں کا داخلی نظام اتنا کمزور تھا کہ اس کے نتیجے میں ایسے عناصر پیدا ہوگئے جنہوں نے مسلمانوں اور عام شہریوں کی قتل و غارت سے بھی گریز نہیں کیا؟
جواب: یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ جب جہاد افغانستان ختم ہوا تو اس وقت میرے اندازے کے مطابق پینتالیس پچاس ہزار پاکستانی مسلح افراد وہاں سے فارغ ہو کر واپس آئے۔ اس وقت میں نے بہت سی اہم شخصیات بالخصوص مولانا فضل الرحمان، جنرل حمید گل اور مولانا سمیع الحق سے یہ بات کہی تھی کہ یہ قوت اگر کھلی چھوڑ دی گئی تو مسائل پیدا ہوں گے، اس لیے اس قوت کا کوئی مصرف تلاش کریں۔ میں نے مثال بھی دی کہ سندھ میں قیام پاکستان کے وقت کوئی سات آٹھ ہزار مسلح حُر موجود تھے جنہیں اس نظام میں ایڈجسٹ کر لیا گیا تھا، ورنہ وہ بھی آج ایک مسئلہ ہوتا۔ جہاد افغانستان کے موقع پر بھی میرا کہنا یہی تھا کہ اگر اس بے پناہ قوت نے اپنا راستہ خود بنایا تو تباہی آئے گی۔ یہی بات کافی عرصہ بعد ہیلری کلنٹن نے بطور امریکی وزیر خارجہ تسلیم کی کہ ہم سے اس معاملے میں غلطی ہوئی کہ افغان جہاد کے بعد مجاہدین کے گروپوں کو آزاد اور تنہا چھوڑ دیا جس کی وجہ سے معاملہ بگڑ گیا۔ 
سوال: افغانستان کے طالبان کے بارے میں آپ کا کیا موقف ہے؟
جواب: افغانستان کے طالبان سادہ و مخلص لوگ ہیں اور ان کا تعلق نچلے طبقے کے افراد سے ہے۔ انہوں نے افغانستان کی آزادی اور اسلامی تشخص کے لیے مخلصانہ جنگ لڑی ہے لیکن انہیں مناسب سیاسی راہنمائی میسر نہیں آئی۔ جبکہ ان کے قیام کے فورًا بعد القاعدہ کے عنصر کی وجہ سے خرابی بہت تیزی سے بڑھی۔ میں نے اس وقت بہت سے دوستوں سے یہ کہا تھا کہ خدا کے لیے طالبان کو مستحکم ہونے دو اور انہیں کام کے لیے وقت دو، کوئی دوسری لڑائی مت چھیڑو مگر یہ بات نہیں سنی گئی۔ القاعدہ کی بے وقت تشکیل اور فوری متحرک ہوجانے کی وجہ سے طالبان حکومت مسائل کا شکار ہوئی۔ اُدھر القاعدہ کی سرگرمیوں اور اِدھر پاکستان میں تحریک طالبان کی تشکیل نے افغان طالبان کا مشن خراب کر دیا۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ افغانستان میں اگر کوئی پرو پاکستان طبقہ ہے تو وہ طالبان ہے۔ لیکن ہم نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے جس کی وجہ سے تعلقات میں دراڑیں پیدا ہوئیں۔ اور آج افغانستان میں ایسے لوگ برسراقتدار ہیں جو بھارت کو اپنے ملک میں کھلی چھٹی دے رہے ہیں۔
سوال: عوامی سطح پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مذہبی طبقے کی جانب سے شدت پسندی کے رجحانات اور قتل و غارت کی واضح اور غیر مشروط مذمت نہیں کی جاتی۔ کیا ایسی تنظیموں اور فکر کے لیے نرم گوشہ پایا جاتا ہے؟ 
جواب: شدت پسندی کی مذمت کرنے میں مذہبی طبقے نے کبھی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ لیکن میڈیا کا رویہ اس معاملے میں انتہائی جانبدارانہ رہا ہے۔ ہمارے ملک اور عالمی میڈیا دونوں کی پالیسی یہ ہے کہ شدت پسندی کو تو اجاگر کیا جائے لیکن سنجیدہ مذہبی قیادت کی جانب سے جب اس کی مخالفت ہو تو اسے دبا دیا جائے۔ میں خود اس رویے کا شاہد ہوں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور میں دیوبندی مکتب فکر کی پوری قیادت نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر شدت پسندی کی مخالفت کی اور اس کی مذمت میں باقاعدہ قرارداد منظور کی گئی۔ وہ قرارداد میں نے اور مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے لکھی تھی لیکن تمام کوششوں کے باوجود میڈیا نے اسے کسی عام مدرسے میں ہونے والے جلسے کی طرح نظر انداز کر دیا۔ 
سوال: بعض حلقوں کے نزدیک مذہبی فکر کی جانب سے قومی ریاست کو مسترد کرنے اور عالمی سطح پر خلافت کے قیام کو دینی تقاضا قرار دینے کی وجہ سے شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ خیال کہاں تک درست ہے؟
جواب: عمومی دینی حلقے تو قومی ریاست کو قبول کر چکے ہیں۔ کچھ نے اگر نہیں کیا تو اس کے لیے سب کو یکساں طور پر ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہے۔ دنیا میں جتنی بھی ریاستیں ہیں وہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کر رہی ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اس بات کو اس طرح بھی واضح کر دیا تھا کہ خلافت کسی علاقائی حکومت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ آج کی اصطلاح میں ایک کنفیڈریشن کا نام ہے۔ یعنی امارات اپنی اپنی جگہ قائم ہوں اور خودمختار ہوں جبکہ ان کا ایک مرکز ہو جو کنفیڈریشن کی طرح کا ایک نظام ہو۔ 
اسی لیے میں اسے افغان طالبان کی عقل مندی کے فیصلوں میں شمار کرتا ہوں کہ انہوں نے افغانستان میں حکومت کے قیام کے بعد ’’خلافت‘‘ کا نہیں بلکہ ’’امارت‘‘ کا اعلان کیا۔ جبکہ داعش کی سب سے بڑی بے وقوفی یہی تھی کہ انہوں نے بات ہی خلافت سے شروع کی ہے۔ حالانکہ خلافت جب بھی بنے گی ایک کنفیڈریشن کی طرز پر بنے گی جس میں امارات کو پوری داخلی خود مختاری حاصل ہوگی۔ خلافت راشدہ کے دور کا اگر درست تجزیہ کیا جائے تو وہ نظام کنفیڈریشن ہی کا تھا جس میں صوبوں کو خودمختاری حاصل تھی اور مرکزی حکومت ہر معاملے میں مداخلت نہیں کرتی تھی۔ 
سوال: دینی مدارس کے طلباء اس معاملے میں یکسو نظر نہیں آتے، شدت پسندانہ کاروائیوں کو رد عمل قرار دے دیا جاتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: اس معاملے میں ہونے والی کوششوں کو منظم نہیں کیا گیا اور اسے ایک تحریک کی شکل نہیں دی گئی۔ میں اس کے لیے دینی جماعتوں کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہوں لیکن سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کے بالادست طبقے بھی یہی چاہتے ہیں کہ لوگ اس معاملے میں کنفیوژن کا شکار رہیں۔ 
سوال: دینی حلقے میڈیا کو کئی مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ کیا علماء کا طبقہ میڈیا کی آزادی اور اس کے بڑھتے ہوئے رسوخ کے حوالے سے اپنی تیاری مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں؟ 
جواب: اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ مذہبی طبقات کو میڈیا میں اپنی نمائندگی اور موقف پیش کرنے کے لیے منصوبہ بندی اور تربیت کی ضرورت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں اسے آزاد میڈیا نہیں مانتا۔ اسے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کنٹرول کر رہی ہے اور یہ اسی کی پالیسی کے مطابق چلتا ہے۔ مثلاً یہ پالیسی کے تحت کیا گیا ہے کہ کسی خالص مذہبی اور قومی مسئلے پر ایک جانب سے تیاری کر کے لوگوں کو بلایا جاتا ہے جبکہ مذہبی طبقے کی نمائندگی کے لیے جان بوجھ کر ایسے لوگ بلائے جاتے ہیں جو اپنا موقف بیان نہیں کر پاتے۔ یہاں کراچی میں میرے سامنے ایک مرتبہ ایسا ہوا۔ ایک چینل میں اس موضوع پر بحث رکھی گئی کہ اسلامائزیشن کا کوئی ہوم ورک بھی ہے یا نہیں، یا صرف اسلامی نظام کے نفاذ کا شور ہی مچا رکھا ہے؟ اس گفتگو میں مجھے بھی بلایا گیا لیکن سوال وہاں بیٹھے ایک ایسے صاحب سے کیا گیا جنہیں اسلامائزیشن کی الف بے بھی معلوم نہیں تھی۔ میں نے میزبان سے کہا کہ اس کا جواب میں دوں گا لیکن وہ ٹالنے کی کوشش کرتے رہے۔ پروگرام لائیو تھا، میں نے انہیں یہ بھی کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور میں یہ نہیں ہونے دوں گا۔ عرض یہ ہے کہ ایسا باقاعدہ پالیسی کے تحت ہوتا ہے کہ مذہبی فکر کو یا تو بالکل دبا دیا جائے یا جان بوجھ کر ایسے انداز میں پیش کیا جائے کہ قابل قبول نہ رہے۔ 
سوال: اسلامی قوانین کے نفاذ اور مشاورت کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کی صورت میں جو آئینی ادارے موجود ہیں ان کے غیر مؤثر ہونے کی شکایت تو کی جاتی ہے لیکن انہیں مؤثر بنانے کے لیے کیوں کچھ نہیں کیا جاتا؟ 
جواب: ہمارے پاس تو یہی راستہ تھا کہ عوامی دباؤ کے ذریعے ان فیصلوں کو نافذ کروایا جائے۔ لیکن اس آپشن کو بھی ہتھیار اٹھانے والوں نے مسدود کر دیا ہے۔ ہم پر امن جدوجہد کرتے تھے، سڑکوں پر نکلتے تھے اور ہلکا پھلکا ہنگامہ بھی ہو جاتا تھا جس کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی نتیجہ نکل آتا تھا۔ اب اس کی جگہ کلاشنکوف نے لے لی ہے۔ اس کی وجہ سے ہماری وہ عوامی مزاحمتی قوت کمزور ہوگئی ہے۔ 
سوال: گزشتہ دنوں خواتین کے تحفظ کے لیے قانون سازی ہوئی اور اس کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات بھی سامنے آئیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں اس تاثر نے زور پکڑا ہے کہ مذہبی طبقہ خواتین کے بارے میں جاگیردارانہ رویہ رکھتا ہے۔ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟
جواب: ان معاملات میں مذہبی ردعمل کی بات تو کی جاتی ہے لیکن مثبت باتوں کو عوام تک نہیں آنے دیا جاتا۔ اسلامی معاشرے میں خواتین کا کردار کم از کم وہ نہیں ہو سکتا جو مغرب چاہتا ہے۔ کیونکہ اسلام عورت کو ایک فطری دائرے میں رکھتا ہے جسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے مغرب کا اپنا خاندانی نظام تباہ ہو چکا ہے اور اب وہ خواتین کے حقوق کے نام پر ہمارے خاندانی نظام کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ مغرب کے دانشور خود خاندانی نظام کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں مگر ہمیں اس نظام سے محروم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
سوال: ہماری سوسائٹی جو مذہبی معاملات میں تو حساس ہے لیکن تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اس کا ردعمل سامنے نہیں آتا۔ کیا اس حوالے سے مذہبی راہنما اپنا کردار ادا کر رہے ہیں؟
جواب: ہمارے معاشرے پر مذہبی ہونے کا ’’الزام‘‘ تو ہے لیکن قومی سطح پر مذہب کی تعلیم، روایتی میڈیا، اور اسلامی تعلیمات کے نفاذ کی قوت مذہبی لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ البتہ صرف مولوی کو گالی دینے کے لیے سوسائٹی کو مذہبی کہا جاتا ہے اور تشدد کے واقعات کو جزوی اور مشروط مذہبی تعلیمات کی طرف منسوب کر کے غلط تاثر قائم کیا جاتا ہے۔ 
سوال: آپ کے خیال میں ایک اسلامی ریاست میں تمام مذہبی ادارے ریاست کے ماتحت ہونے چاہئیں؟
جواب: حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں یہ ادارے ریاست ہی کے پاس تھے۔ اور اسلامی ریاست سے مراد ویسی ہی ریاست ہے جیسی اس دور میں قائم ہوئی تھی۔ فوج اور انتظامیہ بھی اسی مذہبی ریاست کے کنٹرول میں تھے۔ اور بیت المال کا پورا نظام جسے آج ویلفیئر اسٹیٹ کی مثال قرار دیا جاتا ہے، وہ بھی ایک ریاستی ادارہ ہی تھا۔ 
سوال: لیکن ہمارے ہاں مدارس کا متوازی نظام اور مساجد میں جمعہ پر تو سرکار کی عملداری نہیں۔ ان اداروں کو ریاست سے کیوں الگ رکھا جا رہا ہے؟
جواب: ریاست اگر ساری ذمہ داریاں قبول کرلے تو اس کے بعد مسجد بھی سنبھال لے۔ باقی سارے کام امریکہ کے ایجنڈے کے ماتحت ہوں اور پھر آپ مسجد کنٹرول کرنے آجائیں تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ریاست پہلے قومی سطح پر دین کی تعلیم اور نفاذ اسلام کے دستوری تقاضے پورے کرے پھر مدارس سے سوال کرے کہ تمہاری کیا ضرورت ہے؟ خود اپنی ذمہ داریاں قبول کر کے انہیں پورا نہیں کرتے لیکن مدارس یہ کام کر رہے ہیں تو ان پر ملامت کی جاتی ہے۔ 
سوال: مکالمے کے فورم تبدیل ہو رہے ہیں لیکن مذہبی لوگ آج بھی روایتی مناظرانہ انداز میں اپنا موقف پیش کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟
جواب: میں یہی کہتا ہوں کہ یہ مکالمے کا دور ہے، مناظرے اور فتوے کی زبان کا نہیں۔ ہمارے دینی حلقے آج بھی سو سال پہلے کی زبان بول رہے ہیں۔ اب فتوے اور مناظرے کی بجائے باہمی مکالمے کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ 
سوال: فرقہ واریت کے خاتمے اور اتحاد امت کے عنوان سے کئی کوششیں کی گئیں لیکن یہ نتیجہ خیز کیوں ثابت نہیں ہوتیں؟
جواب: نتیجہ خیز ثابت ہونے سے مراد اگر یہ ہے کہ فرقوں کا وجود ہی ختم ہو جائے تو ایسا ممکن نہیں ہے۔ فکر کا اختلاف کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ جب ذہن مختلف ہیں تو اختلاف بھی رہے گا۔ البتہ ان اختلافات کو حدود میں لانے اور مشترکات پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ 
سوال: فرقہ واریت کی بنیاد پر اسلحہ اٹھانے والوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
جواب: ایسے کسی گروہ کی ہم نے کبھی حمایت نہیں کی اور نہ آج کرتے ہیں۔ مسلم ریاست میں ہتھیار اٹھا کر بات کرنے والے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ 
سوال: کیا مسلمانوں کو تجدید فکر کی ضرورت نہیں؟ 
جواب: ہمیں فکر کی تجدید کی ضرورت ہے لیکن جدید فکر کی ضرورت نہیں۔ اپنے پیغام کو جدید انداز میں پیش کرنا ضروری ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دین میں کسی نئی فکر کو داخل کرنے کی کوشش کی جائے۔ 
سوال: جاوید احمد غامدی صاحب کی فکر کے بارے میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں؟
جواب: غامدی صاحب کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ وہ خود بھی کنفیوژ ہیں اور کئی معاملات میں وہ اپنی کنفیوژن میں پوری قوم کو شریک کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں بنیادی بات یہ ہے کہ وہ اسلام کی تعبیر نو کے لیے نئے اصول وضع کرنا چاہتے ہیں۔ امت کسی ایسی فکر کو قبول نہیں کرے گی۔ مسلمہ اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے فکر کی تشکیل نو کی جا سکتی ہے لیکن غامدی صاحب اصول بھی نئے قائم کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن و حدیث سے استنباط کے بنیادی اصول طے شدہ ہیں لیکن وہ پورا فکری ڈھانچہ ہی تبدیل کرنا چاہتے جو کہ ممکن اور قابل قبول نہیں ہے۔ 
سوال: آپ کے صاحبزادے عمار خان ناصر بھی کیا اسی فکر سے تعلق رکھتے ہیں؟
جواب: نہیں، اس معاملے میں اس کا اصولی موقف وہی ہے جو میرا ہے۔ یعنی دینی فکر کو اخذ کرنے کے اصول تبدیل نہیں ہو سکتے۔ عمار کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’’فقہائے احناف اور فہم حدیث‘‘ آپ پڑھیں گے تو یہ بات واضح ہو جائے گی۔ 
سوال: کیا آپ کے نزدیک مذہبی جماعتوں کی جانب سے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک، اور بعد ازاں اسلامی جمہوری اتحاد کے قیام کے فیصلے درست تھے؟
جواب: تمام اتحاد اور سبھی فیصلے غلط نہیں تھے۔ البتہ میں آئی جے آئی پنجاب کا نائب صدر رہا۔ آئی جے آئی کا تجربہ ٹھیک نہیں تھا اور کامیاب بھی نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک ریموٹ کنٹرول تحریک تھی۔ مذہبی جماعتیں حالات کا صحیح جائزہ نہیں لے سکیں جس کی وجہ سے دوسروں نے تو فائدہ اٹھایا لیکن خود مذہبی جماعتوں کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ 
سوال: ضیاء دور کو کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب: جنرل ضیاء الحق مرحوم نے بعض اچھے اقدامات بھی کیے لیکن ان کی اپروچ ذاتی سطح تک ہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ادارے ان کے اقدامات کو سپورٹ نہیں کر سکے۔ دوسری جانب ایک رجحان یہ ہے کہ ان کے کھاتے میں کئی ایسے کام بھی ڈال دیے جاتے ہین جو ان کی حکومت سے کئی برس پہلے شروع ہوئے تھے۔ مثلاً اسلامی نظریاتی کونسل 1973ء میں قائم ہوئی تھی۔ انہوں نے بعض اچھے کام کیے لیکن کئی کام دستور کی سطح پر پہلے طے ہو چکے تھے۔ ہماری افغان پالیسی کی تشکیل بھٹو دور میں ہوئی۔ عالمی میڈیا میں اس حوالے سے تفصیلات سامنے آئی ہیں بھٹو کی بلوچستان میں فوج کشی کا ردعمل افغانستان میں ظاہر ہوا۔ اب چونکہ افغانستان میں مزاحمت مذہبی لوگ کر رہے تھے تو ان کا ساتھ یہاں کے مذہبی لوگوں ہی نے دینا تھا، لیکن اس کا سارا الزام جنرل ضیاء الحق پر ڈال دیا جاتا ہے۔ 
سوال: مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو کیسے دیکھتے ہیں؟ 
جواب: ایران نے انقلاب کے بعد اسے اپنی ملکی حدود میں رکھنے کی بجائے اس کے اثرات کو دیگر ممالک تک پہنچانے اور پورے مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کیں، آج کے حالات اسی کا نتیجہ ہیں۔ ہمارے ہاں پاکستان میں بھی جب یہ کوششیں شروع ہوئیں تو ردعمل میں تنظیمیں بنیں۔ یہی ردعمل بحرین، کویت اور عراق میں سامنے آیا۔ 
سوال: یہی الزام سعودی عرب پر بھی تو لگایا جاتا ہے۔ اس بارے میں کیا کہیں گے؟
جواب: سعودی عرب نے سلفی فکر کو حنفیوں اور اخوانیوں کے مقابلے میں آگے بڑھایا، ایران کے مقابلے پر نہیں۔ اور وہ زیادہ سے زیادہ مالی امداد ہی دیتے ہیں جبکہ یہ تو سب کچھ ہی کرتے ہیں۔ اس لیے کہ سعودی عرب کے پاس صرف پیسے ہی ہیں۔ انہوں نے پورے عالم اسلام کو سنبھالنے کے لیے کئی ایسے اقدامات کیے جن کے مثبت اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ لیکن اب وہ کچھ پالیسیوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں مگر بہت تاخیر سے ایسا ہو رہا ہے۔ 
سوال: مشرق وسطیٰ کے حالات کے تناظر میں فرقہ وارانہ انتشار کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے؟ 
جواب: او آئی سی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسے اب گہری نیند سے جاگنا ہوگا۔ اس مسئلے کے دو پہلو ہیں۔ ایک شیعہ سنی لڑائی جبکہ دوسرا عالمی استعمار کے مفادات۔ ان دونوں باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے او آئی سی کے پلیٹ فارم سے سعودیہ اور ایران کو اپنی اپنی حدود میں لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ہم تو صرف اپیل ہی کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ 
سوال: کیا آپ کے نزدیک عبادات کی جانب راغب کرنے اور معاشرتی اصطلاحات کے لیے کام کرنے والی تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی جیسی تنظیموں کی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں؟
جواب: دین کے ساتھ فرد کا تعلق قائم کرنے کی حد تک تو یہ لوگ کامیاب ہیں۔ اس لیے کہ جو فرد بھی ان کے ماحول میں آجاتا ہے اس کا تعلق نماز، روزے اور مسجد سے جڑ جاتا ہے اور وہ کئی برائیوں سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ اجتماعیت کی فکر دینے کی طرف متوجہ نہیں ہیں اور میرے خیال میں یہ ان کا کام بھی نہیں ہے۔ یہ دراصل علماء اور مراکز کا کام ہے۔ دعوت اسلامی ہو یا تبلیغی جماعت، یہ ایک شخص کو مسجد میں لے آتے ہیں اور اس کے لیے بڑی محنت کرتے ہیں، لیکن آگے سنبھالنا تو امام صاحب کا کام ہے کہ وہ اس شخص کی مزید تربیت کریں لیکن ایسا نہیں ہو پاتا، بہرحال وہ لوگ تو اپنا کام کر ہی رہے ہیں۔ 
سوال: آپ کو جن سیاسی قائدین کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ان کے بارے میں آپ کے تاثرات کیا ہیں؟
جواب: سیاسی قیادت میں جن لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ان میں تین بڑی شخصیات نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم، مولانا مفتی محمودؒ ، اور مولانا شاہ احمد نورانیؒ نمایاں ہیں۔ ان تینوں راہنماؤں کی قیادت کا خلا پر نہیں ہوا۔ مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا شاہ احمد نورانی میں اختلاف بھی ہوا، لیکن وہ ہمیشہ اہم قومی معاملات میں مشاورت ضرورت کرتے تھے۔ 
سوال: مولانا نورانیؒ کو دیگر مسالک سے اتحاد کی وجہ سے اپنے ہم مسلک حلقوں میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ کیا مفتی محمودؒ کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا؟
جواب: مولانا مفتی محمودؒ کی مخالفت کی سطح ویسی تو نہیں تھی جس کا سامنا مولانا نورانیؒ کو رہا، بلکہ مفتی صاحب سے جب اس معاملے میں بحث ہوتی تھی تو ان کا موقف یہی رہا کہ قومی مشترکہ امور اور سیاست کا مسلک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعض اوقات تو بحث کرنے والوں کو چپ کرانے کے لیے وہ یوں بھی کہہ دیا کرتے تھے کہ ’’میں اس طرح کا دیوبندی نہیں ہوں‘‘۔

بین المذاہب مکالمہ: چند مشاہدات و تاثرات

محمد حسین

(محمد حسین، گزشتہ کئی سالوں سے امن و مکالمہ کے ماہر نصابیات اور ٹرینر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور مختلف موضوعات پر ایک درجن سے زائد کتابوں کی تحریر و تدوین کے علاوہ مذہبی ہم آہنگی پر کئی ہزار مذہبی و سماجی قائدین کو تربیت دے چکے ہیں۔)

انفرادی و اجتماعی زندگی کے متعدد محرکات کی بنیاد پر انسان اپنی تاریخ کے طول و عرض میں مختلف و متعدد ارتقائی مراحل سے گزرا ہے۔ گزشتہ تین صدیوں کے دوران دنیا کے مختلف ممالک و تہذیبوں میں بٹے انسانی معاشرے نے ترقی ( یا بسا اوقات تنزل) کے کئی سنگ میل کئی انقلابات کی صورت میں تیز رفتاری سے طے کیے ہیں۔ اکیسویں صدی میں سائنس اور سماج میں ہوشربا ترقی کے نتیجے میں دنیا سکڑ کر ایک عالمی گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے، ایک ایسا گاؤں جس میں اس کے ایک کونے میں پیش آنے والے حالات پورے گاؤں کو متاثر کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اس عالمگیریت کے باعث اقوام عالم متعدد فکری، سیاسی، سماجی، قانونی اور مذہبی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔ ایسے میں ایک طرف انفرادی، گروہی اور ریاستی مفادات نے مختلف اقوام کے اندر ایک تناؤ کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے اور دوسری طرف مختلف نسلی، لسانی، مذہبی اور سماجی و سیاسی تعصبات نے پْرامن بقائے باہمی کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ مفادات اور تعصبات کی چپقلش نے کبھی مذہبی رنگ تو کبھی سیاسی رنگ اور بسا اوقات نسلی رنگ اختیار کرتے ہوئے مختلف اقوام و رنگ و نسل کے کروڑوں انسانوں کو لقمہ اجل بنا ڈالا ہے۔ 
شعور اور تجربات کے اس تلخ و شیریں سفر نے انسان کو کبھی مختلف تہذیبوں کے اندر سے کچھ چیزوں کے احیائے نو کی راہ دکھائی ہے تو کبھی فکر و عمل کی نئی راہوں کی تلاش پر اسے لگا دیا ہے۔ دنیا کو درپیش مشکلات کے حل، اور اس میں رہنے والوں کی زندگی میں امن، خوشحالی، توازن اور ترقی کے لیے جن چیزوں پر پھر سے اصرار کیا جانے لگا ہے، ان میں سے ایک دنیا کے مختلف مذاہب کے درمیان مکالمے کی ثقافت کا احیا ہے۔ غلط یا صحیح، موجودہ دنیا میں تنازعات و فسادات کے ایک اہم عنصر کے طور پر مذہب کو بھی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے، اور مذہبی تعلیمات و روایات کو بھی تشدد کے ایک اہم سرچشمے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس پورے پس منظر میں بین المذاہب مکالمے کی ثقافت کے احیاء کی بنیاد اس سوال پر ہے کہ کیا مذاہب کی تعلیمات واقعتا تشدد کا سرچشمہ ہیں یا وہ امن کا سرچشمہ کہلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں؟ بہت سے اہل فکر و دانش کا خیال یہ ہے کہ مذہب انسان کو تقسیم کرتا ہے اور انسانی معاشرے کو فسادات و تعصبات کی بھینٹ چڑھادیتا ہے جبکہ بہت سے ایسے ہیں جو یہ دلائل دیتے ہیں کہ مذہب انسان کو روحانیت اور اخلاقیات کی اعلیٰ اقدار پر متحد کر سکتا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ مذہب میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ انسان کو ان فسادات و مسائل سے نجات دلا سکے۔ ان کے نزدیک دنیا کے تمام مذاہب میں ایسی تعلیمات موجود ہیں جن میں انسانیت کی بہتری اور فلاح کا سامان موجود ہے۔ سب مذاہب نے انسانوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنے، ان کی خدمت کرنے، ضرر رسانی سے بچنے اور لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے پر زور دیا ہے۔
عام طور پر جب بھی بین المذاہب مکالمے کا نام سامنے آتا ہے تو اس سے طرح طرح کا تاثر لیا جاتا ہے:
  •  بعض لوگوں کے ذہن میں یہ آتا ہے کہ بین المذاہب مکالمے سے مراد یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگ اپنے اپنے اعتقادی نقطہ ہائے نظر سے دست بردار ہو کر مذہب کی ایک بالکل نئی تفہیم کے قائل ہو جائیں جس کی بنیادیں ان کے دینی تعلیمات سے متصادم ہوں۔ 
  •  بعض کا خدشہ ہے کہ بین المذاہب مکالمہ شاید مذاہب کے اتحاد کا نام ہے۔
  •  کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بین المذاہب مکالمہ سے مراد مذاہب پرسمجھوتہ کرتے ہوئے ان سے مضبوط وابستگی سے دست برداری کا نام ہے اور کم از کم جدت پسند مذہبی بننا مقصود ہے۔
  •  کچھ کا خیال ہے کہ یہ موجودہ مذاہب کو چھوڑ کر ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھنے کا نام ہے۔
  •  بین المذاہب مکالمہ کا نام جب لیا جاتا ہے تو اس سے عام طور پر یہ تاثر بھی لیا جاتا ہے کہ شاید یہ کوئی مغربی ایجنڈا ہے۔ 
  •  بعض اسے روایتی مذہبی فکر کے خلاف ابھرتی ہوئی ایک متوازی فکر قرار دیتے ہیں۔
مذکورہ بالا سارے خدشات کے پیچھے کچھ باتیں قابل غور بھی ہیں، خاص طور پر کچھ اداروں، تنظیموں اور ممالک کے اپنے مخصوص اہداف، طرز عمل اور سرگرمیوں نے ایسے شکوک و شبہات کو مزید قوی کر دیا ہے۔ یہ تلخ حقیقت بھی ملحوظ رہے کہ طاقتور ممالک اور ریاستی اداروں نے دنیا کے مختلف خطوں میں مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے مضبوط اور اثر انگیز لبادے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہ بھی قرین قیاس ہے کہ شاید بعض تنظیموں نے بین المذاہب مکالمے کے نام سے کوئی خاص مفہوم کشید کر لیا ہو جس سے تاثر بنتا ہو کہ بین المذاہب مکالمہ سے مراد مذہب پر سمجھوتہ کرتے ہوئے اس سے وابستگی کے عنصر کو کم کرنا ہے.
میری نظر میں بین المذاہب مکالمہ سے مراد سارے مذاہب (جو اس وقت دنیا میں موجود ہیں ) کی موجودگی اور ان کے کردار کا اعتراف کرنے کا نام ہے۔ موجودگی کے اعتراف کے ساتھ ہر انسان چاہے وہ جس مذہب سے وابستہ ہو، اس کے جینے اور انسانی قدر و منزلت کے بنیادی حق کو تسلیم کرنے اور مختلف مذاہب کے درمیان پْرامن بقائے باہمی کو یقینی بنانے کی خاطر باہمی رواداری اور احترام کو فروغ دینے کا نام ہے۔
بین المذاہب مکالمے کے دو اہم پہلو ہیں۔ پہلا، مذاہب کی تعلیمات (مآخذ، عقائد، احکامات، مذہبی رسومات، اخلاقی تعلیمات اور تصور کائنات)، اور دوسرا، ان سے وابستہ افراد و اقوام کی بشریات (اطوار، رسوم، تاریخ، حالات و واقعات، وسائل و مسائل )۔ ان دونوں پہلووں کو دیکھنے اور سمجھنے کے بھی دو مختلف تناظرات ہیں۔ ایک داخلی تناظر جسے متعلقہ مذہب سے وابستہ اہل علم پیش کرتے ہیں۔ اور دوسرا بیرونی تناظر جو ایسے مکالمے کے دوران دوسرے لوگ اس مذہب یا ان سے وابستہ افراد و اقوام کے بارے میں پیش کرتے ہیں۔ بین المذاہب مکالمے کی سرگرمیوں میں کبھی دونوں پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور کبھی ایک پہلو ہی زیر نظر ہوتا ہے۔
بین المذاہب مکالمے میں دو چیزیں اگر ملحوظ رہیں تو فکرمندی کا پہلو کافی کم ہو جاتا ہے؛ ایک دیانت دار ی یعنی اگر آپ ایسے مکالمے میں حصہ لے رہے ہیں تو آپ کو اپنے نقطہ نظر پیش کرنے میں کسی قسم کی شرمندگی محسوس کرنے، معذرت خواہانہ رویہ اپنانے اور لیپا پوتی کا سہارا لینے کی ضرورت پیش نہیں آنی چاہیے۔ دیانت داری، خود اعتمادی اور شائستگی کا دامن تھامے رکھنا بین المذاہب مکالمے کو تقویت بخشتا ہے۔ دوسرا، آپ دوسروں کے اختلافی نقطہ نظر کو سننے کا حوصلہ پیدا کریں اور اس اختلاف کے باوجود اس کے ساتھ اخلاص اور احترام پر مبنی تعلق قائم رکھنا سیکھیں۔ 
گزشتہ کئی سالوں کے دوران مختلف اداروں خاص طور پر ادارہ امن و تعلیم، اسلام آباد کے پلیٹ فارم سے مجھے پاکستان بھر میں بین المذاہب قائدین کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران طلبہ، اساتذہ، ائمہ و خطباء، ٹرینرز کے لیے نصاب تیار کرنے کے علاوہ ان لوگوں کے ساتھ تربیتی پروگرامات اور مشاورتی اجلاسوں اور علمی مذاکروں میں افادہ و استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ مختلف مسالک ومذاہب کی عبادت گاہوں، سماجی مراکز اور تعلیمی درسگاہوں کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ اس کے علاوہ حال ہی میں امریکہ میں ڈریو یونیورسٹی ، نیو جرسی اسٹیٹ کے تحت مذہب اور تنازعات کے حل کے عنوان سے تین ہفتوں پر مبنی ایک بین الاقوامی بین المذاہب مکالمے کے پروگرام میں شرکت کی جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے شرکا سے ان کے نقطہ ہائے نظر کو جاننے اور مختلف موضوعات پر منتخب ماہرین سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔
گزشتہ کئی سالوں کے تجربات اور مختلف مسالک و مذاہب، ممالک و علاقوں سے تعلق رکھنے والے پانچ ہزار سے زائد مذہبی قائدین سے تربیتی نشستوں، مشاورتی اجلاسوں، علمی مذاکروں ، مکالموں اور تعامل کے دوران بارہا محسوس کیا ہے کہ بین المذاہب مکالمہ سے جہاں آپ کو مختلف مذاہب اور ان سے وابستہ افراد کے نقطہ نظر کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے، وہیں آپ کو اپنے مذہب کے ساتھ وابستگی کو دوسروں کی نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کا بھی موقع ملتا ہے۔ نیز ایک چیز بہت صراحت کے ساتھ یہ بھی سامنے آئی ہے کہ بین المذاہب مکالمے کی کوششوں کے دوران آپ کو اپنے مذہب کو مختلف افقی و عمودی تناظر ات میں سمجھنے کا موقع میسر آتا ہے۔اس دوران آپ کو اپنے مذہب سے اپنی وابستگی مستحکم ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔