تعمیر معاشرہ اور احتجاج و مخاصمت کی نفسیات
محمد عمار خان ناصر
دہشت گردی یا انتہا پسندی کی سوچ کو عمومی طور پر اس طرز فکر کے حامل عناصر کے بعض اقدامات مثلاً خود کش حملوں وغیرہ کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی بھی اوسط سطح کے باخبر آدمی سے دہشت گردی کی سوچ کے متعلق سوال کیا جائے تو غالباً اس کا جواب یہی ہوگا کہ یہ وہ سوچ ہے جو بے گناہ لوگوں کا خون بہانے اور لوگوں کے اموال واملاک کو تباہ کرنے کو نیکی کا کام سمجھتی ہے۔ تاہم فکری سطح پر اس سوچ کا تجزیہ کرنے کے لیے مذکورہ تعریف ناکافی ہے، کیونکہ خون بہانا اور اموال واملاک کی تباہی اصل فکر نہیں، بلکہ اس فکر کا ایک نتیجہ اور ایک اظہار ہے۔ انتہا پسندی یا دہشت گردی کی اصل فکر ایک پورا بیانیہ ہے جس کی بنیاد ایک مخصوص ورلڈ ویو پر اور خاص طور پر دنیا کے موجودہ نظام طاقت (Power Structure) کے بارے میں ایک متعین نقطہ نظر پر ہے۔
اس فکر کا خلاصہ یہ ہے کہ دور جدید کے جمہوری تصورات کے تحت قائم مسلم ریاستیں کسی بھی لحاظ سے اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات کی حامل نہیں، بلکہ معاشرے کی تشکیل میں ان مغربی اقدار اور تصورات کو تحفظ اور تقویت فراہم کر رہی ہیں جو خیر وشر کے اسلامی پیمانے سے مختلف اور متصادم ہیں۔ نیز یہ کہ مسلمانوں کے مقتدر طبقات نے اپنے شخصی وطبقاتی مفادات کی خاطر مغربی تہذیب کے غلبے اور مغربی جمہوری نظام کے سامنے نہ صرف سر تسلیم خم کر دیا ہے بلکہ نفاذ شریعت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے مغربی تہذیب کے حلیف کا کردار بھی قبول کر لیا ہے اور اس ساری صورت حال کا حل اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس پورے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور اس کی جگہ خالص اسلامی وشرعی نظام قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔
اس طرز فکر کے حق میں بہت سے نظری وشرعی استدلالات بھی پیش کیے جاتے ہیں، تاہم بنیادی طور پر اس فکر کا ذہنوں میں پیدا ہونا شرعی دلائل پر کسی غور وفکر کا نتیجہ نہیں۔ اپنی بنیادی نوعیت کے لحاظ سے یہ ایک نفسیاتی ردعمل ہے جس میں انسانی ذہن ارد گرد کے ماحول کے ساتھ ایک خاص طرح کا منفی تعلق متعین کرتا ہے اور پھر اس کے اظہار کے لیے ایسے وسائل اور ذرائع تلاش کرتا ہے جو اس کے احتجاج، نفرت اور بے زاری کا ابلاغ شدت اور جارحیت کے ساتھ کر سکیں۔
اہم بات یہ ہے کہ سوچ کا یہ زاویہ ان عناصر کے ساتھ خاص نہیں جنھیں ہم ’’انتہا پسند‘‘ قرار دیتے ہیں۔ اس کی پوری پوری عکاسی ہمیں اپنے یہاں کی عام مذہبی سوچ میں بھی ملتی ہے، اگرچہ عام مذہبی فکر کے مسائل وموضوعات اور ’’انتہا پسند‘‘ عناصر کے مسائل وموضوعات میں ظاہری طور پر کئی فرق موجود ہیں۔
دونوں میں مشترک چیز یہ ذہنی رویہ ہے کہ ماحول کے منفی اور ناپسندیدہ پہلوؤں پر حد سے بڑھی ہوئی حساسیت اور جھنجھلاہٹ کی عکاسی کرنے والا رد عمل ظاہر کیا جائے اور یہ فرض کر لیا جائے کہ گویا مثبت اور تعمیری طور پر کرنے کے لیے کوئی کام یا کام کے مواقع اور امکانات بالکل ناپید ہیں۔ اس ذہنی رویے کے نتیجے میں مذہبی ذہن ماحول کے صرف منکرات اور منفی پہلوؤں پر ارتکاز کرتا ہے اور اپنے طرز اظہار سے اس احساس کو مسلسل تقویت پہنچاتا ہے کہ یہاں مثبت طور پر کرنے کے لیے کوئی کام نہیں، ہر طرف رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہیں اور خاص طور پر اہل اقتدار کے خلاف احتجاج ہی واحد راستہ ہے جو موثر ہو سکتا ہے۔ چنانچہ حکمران طبقوں، حتیٰ کہ آئینی وقانونی اداروں پر بے اعتمادی کی فضا کو فروغ دینا اور ہر معاملے میں تنقید کا ایسا اسلوب اختیار کرنا اس طرز فکر کا ایک لازمی تقاضا قرار پاتا ہے جس کا بنیادی نکتہ یہ ہو کہ حکومت کا کوئی بھی اقدام جو مذہبی طبقات کے نزدیک غلط ہو، لازماً خلاف اسلام ہے، اسلام دشمن ایجنڈا کو آگے بڑھانے والا ہے اور اس کے پیچھے صرف اور صرف عالمی طاقتوں کا دباؤ یا انھیں خوش کرنے کا جذبہ کام کر رہا ہے۔ یہ طرز فکر چونکہ طبقاتی وگروہی سیاست کے قائدین کے لیے بے حد مفید مطلب ہوتا ہے، اس لیے وہ اپنی سیاسی ضروریات کے لیے اس کا بھرپور استعمال کرتے ہیں اور قومی سطح پر اس کے ترجمان اور وکیل بن کر ہر طرح کے فکری، قانونی، سماجی اور سیاسی بحث ومباحثہ کو اس کا یرغمال بنا لیتے ہیں۔
یوں کسی تردد کے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہماری عمومی مذہبی فکر اپنے اظہاری رویوں کے ذریعے سے انتہا پسند فکر کو نہ صرف مسلسل غذا بہم پہنچاتی ہے، بلکہ اس کے پیش کردہ مقدمے کو بھی بالواسطہ بلکہ بعض صورتوں میں کھلی کھلی تائید فراہم کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ شریعت اور اسلامی فقہ کا مزاج اور ترجیحات جس قدر anti-anarchist ہیں، ہمارے یہاں کی مذہبی فکر اور بالخصوص مذہبی سیاست میں گزشتہ تین چار دہائیوں سے اتنا ہی anarchist رجحانات نے فروغ پایا ہے۔ اس حوالے سے بعض طبقوں کے متعلق اس سے مختلف جو تاثر پایا جاتا تھا، حالیہ چند واقعات نے ظاہر کر دیا ہے کہ وہ محض سطحی اور ظاہری تھا، ورنہ ہر طبقہ اپنی ترجیحات کے دائرے میں اصلاً اسی طرز فکر کا حامل ہے کہ اگر کسی خاص معاملے میں کوئی حکومتی یا ریاستی اقدام اس کے مذہبی فہم کے خلاف ہے تو پھر اس کے لب ولہجہ اور اسلوب تنقید میں اور ریاست کے ساتھ برسر پیکار انتہا پسند عناصر کے طرز استدلال میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔
ہمارے نزدیک ریاست، قانون اور معاشرتی نظم سے متعلق اس ذہنی رویے کی بنیاد طبقاتی پچھڑے پن کا وہ شدید احساس ہے جو عموماً اہل مذہب کے تحت الشعور میں کام کر رہا ہے اور انھیں یہ باور کراتا رہتا ہے کہ جس معاشرہ کی تشکیل ان کی پسند وناپسند کے مطابق نہیں ہوئی، وہ ان کی تعمیری کوششوں کا سزاوار ہرگز نہیں ہو سکتا۔ وہ اگر کوئی کار خیر انجام دے سکتے ہیں تو بس یہی کہ اپنا وزن تخریب، انتشار اور بد نظمی پھیلانے والی طاقتوں کے پلڑے میں ڈالے رکھیں۔ اس نفسیاتی خول سے باہر نکلنا شاید اس وقت اہل مذہب کے لیے سب سے بڑے چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس نفسیات کے ساتھ تو ایک فرد، چند افراد کے ساتھ معمول کی زندگی نہیں گزار سکتا، چہ جائیکہ ایک پورا طبقہ، معاشرے میں کوئی مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکے۔ معاشرے کی قیادت وہی لوگ کر سکتے ہیں جو خود پر امید ہوں، لوگوں کو امید دلائیں اور مایوسی کی تاریکیوں میں امید کی کرنیں جلاتے چلے جائیں۔ جو حالات سے پیدا ہونے والی منفی ذہنیت کو مثبت رخ دیں اور لوگ ان کی باتوں میں اپنے دکھوں کا درمان پائیں۔ یہ کام سب سے بڑھ کر اہل مذہب کے کرنے کا ہے۔ اگر وہ خود ہی اس ذہنی کیفیت کا شکار ہو جائیں تو معاشرے کو دینے کے لیے ان کے پاس مایوسی، جھنجھلاہٹ اور انتہا پسندی کے علاوہ کچھ نہیں رہ جائے گا۔ وہ اگر اس نفسیات سے باہر نکل کر دیکھیں گے تو انھیں ماحول میں کرنے کا اتنا کام اور کام کے لیے اتنے ان گنت مواقع نظر آئیں گے کہ مایوسی، رنجش اور شکایت کی فرصت ہی نہیں ملے گی۔
مولانا وحید الدین خان نے معاشرے اور ماحول کو دیکھنے کے ان دونوں انداز ہائے نظر کو کیا خوبی سے واضح کیا ہے:
’’ایک صاحب سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی کہ تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ تبلیغی جماعت مبنی بر مسجد (Masjid-based) تحریک ہے۔ اس کے مقابلہ میں جماعت اسلامی ایک مبنی بر پارلیمنٹ (Parliament-based) تحریک ہے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہے کہ تبلیغ کو فوراً ہی اپنا میدان کار مل جاتا ہے، کیونکہ صرف ہندوستان میں اس وقت تین لاکھ مسجدیں ہیں اور ہر مسجد میں آڈینس (audience) بھی موجود ہے، جبکہ جماعت اسلامی کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ اس کا میدان عمل ابھی حاصل نہیں ہوا۔ اس کے نزدیک اصل میدان عمل پارلیمنٹ ہے اور پارلیمنٹ ابھی تک دوسروں کے قبضہ میں ہے۔
اس فرق کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ تبلیغ میں مثبت ذہن بنتا ہے اور جماعت اسلامی میں احتجاجی ذہن۔ تبلیغی جماعت کا آدمی ’پائے ہوئے‘ ذہن کے ساتھ جیتا ہے اور جماعت اسلامی کا آدمی ’کھوئے ہوئے‘ ذہن کے تحت۔ تبلیغی آدمی کے لیے ساری دنیا کے لوگ اپنے نظر آتے ہیں اور جماعتی آدمی کو ساری دنیا کے لوگ رقیب اور غیر دکھائی دیتے ہیں۔‘‘
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۷)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۸۲) بأیمانھم کا مطلب
یمین کی جمع أیمان ہے۔ یمین کے معنی داہنے ہاتھ کے بھی ہیں اور داہنی جانب کے بھی ہیں۔ قرآن مجید میں یمین بھی آیا ہے اور أیمان بھی آیا ہے۔ یمین کا لفظ قرآن مجید میں دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا امانت اللہ اصلاحی نے اپنے افادات میں ایک قیمتی نکتہ ذکر کیا ہے کہ اگر یمین سے پہلے حرف (باء) ہو تو مطلب ہوگا داہنے ہاتھ میں اور اگر یمین سے پہلے حرف (عن) ہو تو مطلب ہوگا داہنی جانب۔ ذیل کی قرآنی مثالوں سے یہ نکتہ بخوبی واضح ہوجاتا ہے:
وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یَا مُوسَی۔ (طہ: ۱۷)
’’اور اے موسیٰ تمہارے داہنے ہاتھ میں وہ کیا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ یہاں جار مجرور بطور حال آیا ہے، اس کے ساتھ کسی فعل کا ذکر نہیں ہے۔ مَا مبتدا اور تِلْکَ خبر ہے، اس سے حال بِیَمِیْنِکَ ہے۔
فَأَمَّا مَنْ أُوتِیَ کِتَابَہُ بِیَمِیْنِہِ۔ (الانشقاق:۷) اور (الحاقۃ: ۱۹)
’’تو جس کو اس کی کتاب اس کے داہنے ہاتھ میں دی گئی۔‘‘
مذکورہ بالا ان دونوں آیتوں میں یمین کے ساتھ حرف (باء ) آیا ہے، اور دونوں ہی جگہ اس کا مطلب داہنا ہاتھ ہے۔ جبکہ مذکورہ ذیل دونوں آیتوں میں یمین کے ساتھ حرف (عن) آیا ہے، اور دونوں ہی جگہ داہنی جانب کے معنی میں ہے۔
فَمَالِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا قِبَلَکَ مُہْطِعِیْنَ۔ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ۔ (المعارج: ۳۶،۳۷)
’’تو ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ داہنے بائیں سے تم پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں، گروہ در گروہ۔ ‘‘
لَقَدْ کَانَ لِسَبَإٍ فِیْ مَسْکَنِہِمْ آیَۃٌ جَنَّتَانِ عَن یَمِیْنٍ وَشِمَال۔ (سبا:۱۵)
’’اہل سبا کے لیے بھی، ان کے مسکن میں، بہت بڑی نشانی موجود تھی۔ داہنے اور بائیں دونوں جانب باغوں کی دو قطاریں۔‘‘
اسی طرح مذکورہ ذیل آیت میں یمین کی جمع لفظ أیمان آیا ہے، یہ بھی داہنی جانب کے معنی میں ہے۔
ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ۔ (الاعراف:۱۷)
ہم مترجمین کے یہاں دیکھتے ہیں، کہ وہ قرآن مجید کے ان تمام مقامات پر جہاں یمین یا أیمان کے ساتھ باء یا عن آیا ہے وہاں مذکورہ بالا اصول کے مطابق ہی ترجمہ کیا ہے، البتہ دو مقامات ایسے ہیں جہاں یمین کی جمع أیمان کے ساتھ حرف (باء ) آیا ہے، اور اس لحاظ سے ترجمہ داہنے ہاتھ کا ہونا چاہیے تھا، لیکن عام طور سے ترجمہ کرنے والوں نے داہنے جانب کا ترجمہ کیا، چند ترجمے یہاں ذکر کیے جاتے ہیں:
(۱) یَسْعَی نُورُہُم بَیْْنَ أَیْْدِیْہِمْ وَبِأَیْْمَانِہِم۔ (الحدید: ۱۲)
ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا۔(سید مودودی)
دوڑتی چلتی ہے ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے داہنے۔(شاہ عبدالقادر)
ان کا نور ان کے آگے اور ان کی داہنی طرف دوڑتا ہوا۔ (اشرف علی تھانوی)
their light shining forth before them and on their right hands,. (Pickthal)
their light running forward before them and by their right hands. (Hilali & Khan)
مولانا امانت اللہ اصلاحی آیت کے مذکورہ ٹکڑے کا ترجمہ یوں کرتے ہیں:
’’ان کا نور ان کے آگے آگے رواں دواں اور ان کے دائیں ہاتھ میں ہوگا‘‘ ۔
نحوی ترکیب کے پہلو سے نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ فعل ’’یسعی‘‘ کا تعلق صرف ’’من بین أیدیھم‘‘ سے ہے، ’’بأیمانھم‘‘ سے نہیں ہے۔ ’’بأیمانھم‘‘ یہاں بجائے خبر ہے جس کا مبتدا پہلے مذکور نور کی ضمیر ہے۔
مذکورہ ذیل انگریزی ترجمہ بھی اوپر بیان کردہ اصول کے مطابق ہے:
their light running forward before them and in their right hands. (Mubarakpuri)
(۲) نُورُہُمْ یَسْعَی بَیْْنَ أَیْْدِیْہِمْ وَبِأَیْْمَانِہِمْ۔ (التحریم:۸)
ان کی روشنی دوڑتی ہے ان کے آگے اور ان کے داہنے۔ (شاہ عبدالقادر)
ان کا نور ان کے داہنے اور ان کے سامنے دوڑتا ہوگا۔ (اشرف علی تھانوی)
ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا۔ (سید مودودی)
ان کی روشنی ان کے آگے آگے اور ان کے دہنے چل رہی ہوگی۔(امین احسن اصلاحی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی آیت کے مذکورہ ٹکڑے کا ترجمہ یوں کرتے ہیں:
’’ان کی روشنی ان کے آگے آگے رواں دواں ہوگی اور ان کے دائیں ہاتھ میں بھی ہوگی‘‘۔
مذکورہ ذیل انگریزی ترجمہ بھی بیان کردہ اصول کے مطابق ہے:
Their light will run forward before them and in their right hands. (Mubarakpuri)
مشہور مفسر اور ماہر لغت علامہ ابوحیان کی مذکورہ ذیل عبارت کے مطابق جمہور کی رائے یہی ہے کہ ان کے داہنے ہاتھ میں نور ہوگا جس سے سامنے بھی روشنی ہورہی ہوگے، البتہ وہ ایک رائے ذکر کرتے ہیں جس کی رو سے یہاں باء عن کے معنی میں ہے، اور مفہوم داہنی جانب کا ہے۔
والظاھر أن النور یتقدم لھم بین أیدیھم ، ویکون أیضا بأیمانھم، فیظھر أنھما نوران: نورٌ ساعٍ بین أیدیھم، ونورٌ بأیمانھم فذلک یضیءُ الجھۃ التی یؤُمُّونھا، وھذا یضیءُ ما حوالیھم من الجھات۔ وقال الجمھورُ: النور أصلہ بأیمانھم، والذی بین أیدیھم ھو الضوءُ المنبسط من ذلک النور۔ وقیل: الباءُ بمعنی عن، أی عن أیمانھم، والمعنی: فی جمیع جھاتھم۔ وعبّر عن ذلک بالأیمان تشریفاً لھا۔ (البحر المحیط فی التفسیر: ۱۰؍۱۰۵)
تاہم قرآن مجید کے تمام استعمالات کی روشنی میں اور خود دونوں آیتوں کے سیاق کلام کی روشنی میں بھی اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے، کہ باء کو عن کے معنی میں لیا جائے، بلکہ زیادہ مناسب یہی ہے کہ باء کو باء کے معنی میں ہی مان کر ترجمہ کیا جائے۔
(۸۳) انظرونا کا مطلب
نظر کا فعل مختلف صیغوں کے ساتھ قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر آیا ہے، کہیں پر یہ حرف الی کے صلہ کے ساتھ آیا ہے، تو کہیں براہ راست مفعول بہ کے ساتھ، نظر کے دو معنی ہوتے ہیں، دیکھنا اور انتظار کرنا،
عام طور سے اہل لغت یہ ذکر کرتے ہیں کہ انتظار کرنے کے معنی میں نظر اس وقت ہوتا ہے جب وہ براہ راست مفعول بہ کے ساتھ ہو، البتہ دیکھنے کے معنی میں وہ ہر دو صورت میں ہوتا ہے، خواہ حرف الی کے ساتھ ہو، یا براہ راست مفعول بہ کے ساتھ ہو۔
نظرہ کنصرہ وسمعہ ، والیہ نظراً ومنظراً ونظراناً ومنظرۃً وتنظاراً: تأملہ بعینہ، ونظرہ وانتظرہ وتنظّرہ: تأنی علیہ۔ (القاموس المحیط، ص: ۴۸۴)
گویا نظرہ کے دو معنی ہوں گے اس کو دیکھا، یا اس کا انتظار کیا، اور نظر الیہ کے معنی ہوں گے اس کو دیکھا۔
تاہم ابوحیان کی تحقیق یہ ہے کہ دیکھنے کے لیے جو نظر آتا ہے اس کے ساتھ الی ضرور آتا ہے، اور الی کے بغیر نظر دیکھنے کے معنی میں صرف شعر میں (گویا شعری ضرورت کے تحت) آتا ہے۔
ولا یتعدی النظر ھذا فی لسان العرب الا بالی لا بنفسہ، وانما وجد متعدیاً بنفسہ فی الشعر۔ (البحر المحیط فی التفسیر:۱۰؍۱۰۶)
علامہ طاہر بن عاشور بھی اس رائے کی تائید کرتے ہیں:
الا أن نظر بمعنی الانتظار یتعدی الی المفعول، ونظر بمعنی أبصر یتعدی بحرف (الی)۔ (التحریر والتنویر: ۲۷؍۳۸۲)
سب سے اہم بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں نظر حرف الی کے ساتھ آیا ہے، وہ دیکھنے کے مفہوم میں ہے، اور جہاں براہ راست مفعول بہ کے ساتھ آیا ہے، وہاں انتظار کرنے یا نظر عنایت فرمانے کے معنی میں ہے۔ ذیل کی مثالوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے:
أَفَلَا یَنظُرُونَ إِلَی الْإِبِلِ کَیْْفَ خُلِقَتْ۔ (الغاشیۃ:۱۷)
کیا وہ اونٹوں پر نگاہ نہیں کرتے، وہ کیسے بنائے گئے؟
وَتَرَاہُمْ یَنظُرُونَ إِلَیْْکَ وَہُمْ لاَ یُبْصِرُون۔ (الاعراف:۱۹۸)
اور تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ تمھاری طرف تاک رہے ہیں، لیکن انھیں سوجھتا کچھ بھی نہیں ہے۔
فَہَلْ یَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَۃَ أَن تَأْتِیَہُم بَغْتَۃً۔ (محمد:۱۸)
یہ لوگ تو بس اسی بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر اچانک آدھمکے۔
فَہَلْ یَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِیْنَ۔ (فاطر:۴۳)
پس کیا یہ انتظار کررہے ہیں اسی سنت الہی کا جو اگلوں کے باب میں ظاہر ہوئی۔
اول الذکر دونوں آیتوں میں الی آیا ہے، اور مطلب دیکھنا ہے، اور موخر الذکر دونوں آیتوں میں براہ راست مفعول بہ کے ساتھ آیا ہے اور انتظار کرنے کے معنی میں ہے۔
تاہم ذیل میں مذکور ایک مقام پر جہاں نظر براہ راست مفعول کے ساتھ آیا ہے، بہت سارے مترجمین نے دیکھنا ترجمہ کیا ہے، حالانکہ قرآنی استعمالات کی روشنی میں بھی اور خود اس آیت کے عمومی مفہوم کے لحاظ سے بھی ٹھہرنا اور انتظار کرنا زیادہ مناسب ترجمہ ہے، دونوں طرح کے ترجمے ذیل میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں:
یَوْمَ یَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِیْنَ آمَنُوا انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِکُمْ۔ (الحدید: ۱۳)
اس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں۔ (سید مودودی)
wait for us that we may borrow some of your light. (Daryabadi)
Look on us that we may borrow from your light! (Pickthal)
ہمیں ایک نگاہ دیکھو کہ ہم تمہارے نور سے کچھ حصہ لیں،(احمد رضا خان)
ہمارا انتظار تو کرو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کر لیں۔ (محمد جوناگڑھی)
ہماری راہ دیکھو ہم بھی سلگالیں تمہاری روشنی سے (شاہ عبدالقادر)
انتظار کرو ہمارا ہم بھی روشنی لیں نور تمہارے سے (شاہ رفیع الدین)
نظر کنید بما تا بگیریم روشنی از نور شما (شیرازی)
علامہ زمخشری نے انظرونا کے دونوں معنے مراد لیے، اس پر علامہ ابوحیان نے حسب ذیل تنقید کی، اور وہ تنقید مناسب ہے۔
قال الزمخشری: انظرونا: انتظرونا، لأنھم یسرع بھم الی الجنۃ کالبروق الخاطفۃ علی رکاب تذف بھم وھؤلاء مشاۃٌ، أوانظروا الینا، لأنھم اذا نظروا الیھم استقبلوھم بوجوھھم والنور بین أیدیھم فیستضیؤن بہ۔ انتھی۔ فجعل انظرونا بمعنی انظروا الینا، ولا یتعدی النظر ھذا فی لسان العرب الا بالی لا بنفسہ، وانما وجد متعدیاً بنفسہ فی الشعر۔ (البحر المحیط فی التفسیر: ۱۰؍۱۰۶)
(۸۴) اسم موصول کا دقیق ترجمہ
ذیل کی دونوں آیتیں ملاحظہ فرمائیں:
وَقِیْلَ لَہُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ کُنتُم بِہِ تُکَذِّبُونَ۔ (السجدہ: ۲۰)
وَنَقُولُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ کُنتُم بِہَا تُکَذِّبُونَ۔ (سبا:۴۲)
ان میں الذی اور التی کا فرق ہے۔ عذاب مذکر ہے، اور اس کے لحاظ سے الذی آیا ہے، جبکہ النار مونث ہے اور اس کے لحاظ سے التی آیا ہے، دراصل جہاں الذی ہے وہاں زور اس پر ہے کہ یہ لوگ عذاب کو جھٹلاتے تھے، یعنی دوزخ کے عذاب کو، اور جہاں التی ہے وہاں زور اس پر ہے کہ یہ لوگ دوزخ کو جھٹلاتے تھے، جس دوزخ کے عذاب سے ان کو دوچار کیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ وہ جھٹلاتے تو دونوں کو تھے، لیکن ایک جگہ ان کی ایک تکذیب کو نمایاں کیا گیا تو دوسری جگہ دوسری تکذیب کو نمایاں کیا گیا۔
ترجمے میں اس کا لحاظ کرنا زیادہ مناسب تھا، لیکن بعض مترجمین نے دونوں جگہ بالکل یکساں ترجمہ کیا، جو مفہوم کی ادائیگی کے لحاظ سے غلط نہیں ہے، لیکن دونوں اسلوبوں کا فرق ان سے ظاہر نہیں ہوتا ہے، جبکہ بعض ترجموں سے اس فرق کے خلاف مفہوم پیدا ہوتا ہے۔
وَقِیْلَ لَہُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ کُنتُم بِہِ تُکَذِّبُونَ۔ (السجدہ: ۲۰)
اور ان سے کہا جائے گا کہ اب اس دوزخ کے عذاب کا مزا چکھو جس کی تم تکذیب کرتے رہے تھے۔ (امین احسن اصلاحی، اس ترجمے میں تکذیب کی نسبت دوزخ کی طرف ہے، جبکہ آیت میں عذاب کی طرف ہے)
اور ان کو کہا جاوے گا کہ دوزخ کا وہ عذاب چکھو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے(اشرف۔ علی تھانوی، اس ترجمہ میں اسلوب کی بخوبی رعایت ہے)
اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اسی آگ کے عذاب کا مزا جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ (سید مودودی، اس ترجمہ میں آگ پر زور ہے، حالانکہ اسلوب عذاب پر زور کا متقاضی ہے)
وَنَقُولُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ کُنتُم بِہَا تُکَذِّبُونَ۔ (سبا:۴۲)
اور ہم ان ظالموں سے کہیں گے کہ اب اس دوزخ کے عذاب کا مزا چکھو جس کو تم جھٹلاتے رہے ہو۔ (امین احسن اصلاحی، آپ نے دونوں جگہ ترجمہ بالکل یکساں کیا ہے، اس سے اسلوب کا فرق ظاہر نہیں ہوپاتا)
اور کہیں گے ہم ان گناہ گاروں کو چکھو تکلیف اس آگ کی جس کو تم جھوٹ بتاتے تھے۔ (شاہ عبدالقادر، اس ترجمے میں اسلوب کی اچھی رعایت نظر آتی ہے)
اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھٹلایا کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو۔ (اشرف علی تھانوی، اس ترجمے میں اسلوب کی رعایت کی گئی ہے)
اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ (سید مودودی، آیت میں جہنم کو جھٹلانے پر زور ہے، اور ترجمہ میں عذاب کو جھٹلانے پر زور ظاہر ہورہا ہے، جو درست نہیں ہے)۔
(جاری)
فقہ حنفی کے امتیازات و خصوصیات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اسے اپنی امت کے ساتھ اجتماعی طور پر الوداعی ملاقات قرار دیتے ہوئے مختلف خطبات میں بہت سی ہدایات دی تھیں اور ان ارشادات وہدایات کے بارے میں یہ تلقین فرمائی تھی کہ:
فلیبلغ الشاھد الغائب فرب مبلغ اوعی لہ من سامع۔
’’جو موجود ہیں، وہ ان باتوں کو ان لوگوں تک پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں۔ بسا اوقات جس کو بات پہنچائی جائے، وہ سننے اور پہنچانے والے سے زیادہ اس بات کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘
اس حفاظت کرنے میں یاد رکھنا، سمجھنا، اسے اہتمام کے ساتھ آگے پہنچانا اور صحیح طور پر استعمال میں لانا بھی شامل ہے۔ چنانچہ جب تابعین کرام کے دور میں حدیث وسنت کی حفاظت وروایت اور تفقہ واستنباط کا ایک وسیع سلسلہ سامنے آیا تو حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ تعالیٰ اس کا مشاہدہ وتجربہ کرتے ہوئے بے ساختہ پکار اٹھے: ’’صدق محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا، وہ آج ایک زندہ سچائی کی صورت میں سب کے سامنے جلوہ گر ہے۔
حدیث وسنت کی روایت اور حفاظت وترویج کا محاذ محدثین کرام نے سنبھالا اور درایت وتفقہ کا پرچم فقہائے عظام نے بلند کر دیا جبکہ ان دونوں کی جڑیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ان علمی کاوشوں میں پیوست تھیں جن کی نمائندگی کرنے والوں میں حضر ت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت انس بن مالکؓ، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ، حضرت ام المومنین عائشہؓ اور ام المومنین حضرت ام سلمہ نمایاں ہیں۔
محدثین اور فقہا کی یہ محنت وکاوش آگے بڑھی تو دائرۂ کار الگ الگ ہونے کی وجہ سے ذوق اور تفہیم واظہار کا امتیاز بھی واضح ہونے لگا اور رفتہ رفتہ یہ دونوں گروہ مستقل طبقوں کی صورت میں نمایاں ہوتے گئے۔ انسانی ذہن وفہم اور استعداد وصلاحیت کا دائرہ اور سطح کبھی ایک نہیں رہے۔ اسی تنوع واختلاف کے باعث آرا وافکار کا فرق وامتیاز ہمیشہ سے انسانی سوسائٹی میں قائم ہے جو قیامت تک موجود رہے گا اور اگر یہ اپنی حدود میں رہے تو یہی انسانی سوسائٹی کا حسن وامتیاز ہے جو اسے باقی تمام مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں ارتفاقات یعنی انسانی سوسائٹی کی معاشرتی بنیادوں اور تقاضوں پر بحث کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ معاشرت او رتمدن کی بنیادی ضروریات پر تو تمام اقوام متفق ہیں، مگر ان کا اظہار ہر طبقہ اپنے اپنے انداز میں کرتا ہے۔ شاہ صاحب کا ارشاد ہے:
والناس بعدھا فی تمھید قواعد الآداب مختلفون فالطبیعی یمھدھا علی استحسانات الطب والمنجم علی خواص النجوم والالھی علی الاحسان کما تجد فی کتبھم مفصلا۔
’’اصولوں پر اتفاق کے بعد لوگ آداب وضوابط کی تشکیل وتعبیر میں مختلف ہو جاتے ہیں۔ طبیب انھیں طب کی اصطلاحات اور فوائد کی زبان میں بیان کرے گا، نجومی انھی باتوں کا ستاروں کے خواص کے پس منظر میں ذکر کرتا ہے جبکہ صوفی نے اس کی وضاحت سلوک واحسان کے اسلوب میں کرنا ہوتی ہے، جیسا کہ تمھیں ان کی کتابوں میں اس کی تفصیل ملے گی۔‘‘
محدثین کرام روایت کی نمائندگی فرماتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ان کے ہاں ترجیح کی بنیاد روایت کے اصول اور تقاضے ہوں گے، جبکہ فقہائے کرام درایت واستنباط کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں تو وہ تفقہ واستنباط کی ضروریات کو ترجیح دیں گے، اس لیے یہاں یہ فرق صرف ذوق واسلوب کا نہیں رہتا، بلکہ اپنے اپنے کام کی ضروریات بھی اس کا حصہ بن جاتی ہیں اور یہی بات امت میں محدثین کرام اور فقہائے عظام کے دو مستقل طبقات کے ظہور وارتقا کا باعث بنی ہے۔
قرون اولیٰ میں بہت سے محدثین کرام نے حدیث وسنت کی روایت، جمع، حفاظت، رواۃ کی نقد وجرح اور سند ومتن کی درجہ بندی کے شعبہ میں خدمات سرانجام دیں جن میں سے صحاح ستہ کے مصنفین اور امام مالک واحمد رحمہم اللہ تعالیٰ نمایاں ہو کر سامنے آئے اور تمام محدثین کے سرخیل قرار پائے۔ بالخصوص امام بخاریؒ کو سب محدثین کے سردار کے لقب سے نوازا گیا۔ اسی طرح بیسیوں فقہائے کرام نے اپنے اپنے استنباطات واستدلالات کو جمع کیا، اصول وقواعد وضع کیے، ان کے مطابق مسائل واحکام کا استنباط کیا اور اپنے اپنے علمی حلقے قائم کیے جن میں سے ائمہ اربعہ نے فقہائے کرام کی سیادت وقیادت کا اعزاز حاصل کیا اور امام اعظم ابو حنیفہؒ کی امامت عظمیٰ کی فوقیت کو سب نے تسلیم کیا۔
اہل سنت کے چاروں ائمہ حضرت امام ابو حنیفہؒ ، حضرت امام مالکؒ ، حضرت امام شافعیؒ اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ بلکہ حضرت امام داؤد ظاہریؒ کی فقہ ودرایت سے بھی امت مسلمہ نے ہر دور میں استفادہ کیا ہے، ان کے مقلدین ومتبعین لاکھوں کی تعداد میں ہمیشہ موجود رہے ہیں اور آج بھی کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں، مگر ان میں سب سے زیادہ امتیاز فقہ حنفی کو حاصل ہوا جس کا اعتراف واحترام اہل علم وفضل نے ہمیشہ کیا ہے۔ ہمارے خیال میں اس امتیاز وتفوق کے اسباب یہ ہیں:
۔ حنفی فقہ شخصی نہیں، شورائی ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہؒ اور ان کے تلامذہ اپنی اپنی آرا علمی مجلس میں پیش کرتے تھے۔ ان پر بحث ومباحثہ ہوتا تھا۔ جس بات پر اتفاق ہوتا تھا، وہ متفقہ موقف کی صورت میں درج ہوتی تھی۔ مختلف فیہ بات کو اختلاف کے درجہ میں رکھا جاتا تھا۔ کسی پر جبر نہیں ہوتا تھا۔ اگر مجلس کے کسی شریک کو اجتماعی رائے سے اتفاق نہیں ہوتا تھا تو اس کی رائے الگ درج کی جاتی تھی۔
شورائیت اور اجتماعیت کی یہ روایت فقہ حنفی کی تشکیل وتدوین کے بعد اس پر بوقت ضرورت نظر ثانی کے موقع پر بھی قائم رہی، چنانچہ مغل دور میں فقہ حنفی کی از سرنو ترتیب وتشریح کی ضرورت پیش آئی تو سلطان اورنگ زیب عالمگیرؒ کی سربراہی میں یہ فریضہ سیکڑوں علماء کرام پر مشتمل کونسل نے تفصیلی بحث ومباحثہ کے ذریعے سرانجام دیا جبکہ خلافت عثمانیہ کے دور میں فقہ حنفی کی بنیاد پر حالات زمانہ کے مطابق نئی قانون سازی کا مرحلہ پیش آیا تو ’’مجلۃ الاحکام العدلیۃ‘‘ کی ترتیب وتدوین فقہا وعلما کی ایک مجلس نے مشاورت ومباحثہ کی صورت میں انجام دی۔
۔ فقہ حنفی میں روایت ودرایت کے درمیان فطری توازن کا پوری طرح لحاظ رکھا گیا ہے اور عقل ودرایت کو نص وروایت پر فوقیت دینے کے بجائے اس کے تابع کیا گیا ہے۔ فقہ حنفی میں نہ تو عقل ودرایت کی ضرورت وافادیت سے انکار کیا گیا ہے، نہ اسے نص وروایت پر ترجیح دی گئی ہے اور نہ ہی نص وروایت کے فہم واستنباط کو عقل ودرایت کی خدمت ومعاونت سے محروم کیا گیا ہے۔ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ وہ پہلے قرآن کریم سے استنباط کرتے ہیں، پھر حدیث وسنت سے استفادہ کرتے ہیں، اس کے بعد صحابہ کرام سے رجوع کرتے ہیں اور کسی ایک صحابی کا قول بھی مل جائے تو اسے ترجیح دیتے ہیں، حتیٰ کہ احناف کے ہاں ضعیف حدیث کو بھی قیاس پر ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ احناف عقل ودرایت اور قیاس پر صرف نص کو ہی مقدم نہیں سمجھتے بلکہ نص کے آخری امکان تک کا لحاظ رکھتے ہیں۔
۔ فقہ حنفی میں عقل ودرایت کا اس کے دائرہ میں بھرپور اور فطری استعمال کیا گیا ہے اور اس سے استفادہ میں کوئی کوتاہی روا نہیں رکھی گئی، البتہ احناف کے ہاں نظری اور فلسفیانہ عقلیت کے بجائے عملی اور معاشرتی عقل ودرایت کو احکام وقوانین کی بنیاد بنایا گیا ہے، چنانچہ عرف وتعامل کا حنفی فقہ میں اس کی جائز حدود کے اندر پورا احترام کیا گیا ہے اور معاشرتی عقل سے بہت سے احکام ومسائل میں استنباط کیا گیا ہے۔
۔ فقہ حنفی کو طویل عرصہ تک رائج الوقت قانون ونظام کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ خلافت عباسیہ، خلافت عثمانیہ اور مغل سلطنت میں صدیوں تک عدالتی قانون کے طور پر فقہ حنفی کی عمل داری رہی ہے جس کی وجہ سے تجربات ومشاہدات کا جو ذخیرہ اس کے پاس ہے اور انسانی معاشرہ کی مشکلات کو سمجھنے اور حل کرنے کی جو صلاحیت وتجربہ اس کے دامن میں ہے، وہ (ایک حد تک فقہ مالکی کے سوا) کسی دوسری فقہ کو میسر نہیں آیا۔
فقہ حنفی کے انھی امتیازات وخصوصیات کی وجہ سے بجا طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ عالم اسلام میں عدالتی و انتظامی طور پر شرعی احکام وقوانین کے نفاذ کے جو امکانات دن بدن واضح ہوتے جا رہے ہیں، ان میں فقہ حنفی ہی نفاذ اسلام اور تنفیذ شریعت کی علمی قیادت کی پوزیشن میں ہے۔ اس لیے یہ بات پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے کہ فقہ حنفی کو ماضی کے معاملات وتجربات کے ساتھ ساتھ مستقبل کے امکانات وضروریات کے حوالے سے بھی تحقیق ومطالعہ کا موضوع بنایا جائے اور انسانی سوسائٹی کی ضروریات ومشکلات کے دائرہ میں فقہ حنفی کی افادیت واہمیت کو علمی اسلوب اور فقہی انداز میں واضح کیا جائے۔
فقہ حنفی کو اس امتیاز وتفوق کے پس منظر میں فطری طور پر کچھ الزامات واعتراضات کا بھی ہر دور میں سامنا رہا ہے جن میں بعض کا تعلق دائرۂ کار اور ذوق واسلوب کے فرق وتنوع سے ہے، بعض اعتراضات نے غلط فہمی کے باعث جنم لیا ہے، کچھ الزامات معاصرت کی پیداوار ہیں اور ان میں ایسے اعتراضات بھی موجود ہیں جو ’’حَسَداً مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ‘‘ کا مصداق قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ان الزامات واعتراضات کا دفاع مختلف ادوارمیں اہل علم نے کیا ہے اور صرف احناف نے نہیں، بلکہ منصف مزاج غیر حنفی علما وافاضل اس دفاع میں پیش پیش رہے ہیں جو یقیناًامام اعظم کے خلوص ودیانت اور علم وفضل کی ’’خدائی تائید‘‘ ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔
ان اعتراضات میں سے ایک یہ بھی ہے جو امام اعظم پر قلت روایت حدیث اور اپنے قیاسات میں احادیث کی مبینہ مخالفت کے عنوان سے مسلسل لگایا اور دہرایا جا رہا ہے، حالانکہ سادہ سی بات ہے کہ اگر امام صاحب پر اعتراض یہ ہے کہ انھوں نے سیکڑوں مسائل میں حدیث معلوم ہونے کے باوجود اس کی مخالفت کی ہے تو ’’قلت معرفت حدیث‘‘ کا الزام محل نظر ہے اور اگر احادیث معلوم نہ ہونے کی وجہ سے قیاس پر اعتراض کیا جا رہا ہے تو یہ ’’مخالفت حدیث‘‘ کا اعتراض نہیں بنتا، لیکن اس کے باوجود اس الزام کا مسلسل اعادہ کیا جا رہا ہے اور طعن وتشنیع کا بازار گرم رکھنے میں ہی تسکین محسوس کی جا رہی ہے۔
اس تناظر میں کچھ عرصہ قبل عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر حفظہ اللہ تعالیٰ نے ’’امام اعظم ابو حنیفہ اور عمل بالحدیث‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جو ۱۹۹۶ء میں شعبہ نشر واشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی طرف سے شائع ہوئی اور اس پر بہت سے اہل علم، بالخصوص اس کے دادا محترم اور استاذ گرامی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ نے مسرت کا اظہار کیا اور اسے انعام سے بھی نوازا۔ مجھے بھی اس پر بے حد خوشی ہوئی، لیکن اس کے ساتھ ایک ضرورت کا احساس پیدا ہوا کہ ہمارے ہاں عام طور پر الزامات کا جواب تو دے دیا جاتا ہے، مگر الزامات واعتراضات کے پس منظر اور اسباب کی وضاحت نہیں کی جاتی جس سے عام قاری تو کسی حد تک مطمئن ہو جاتا ہے، مگر مطالعہ وتحقیق کے دائرہ کے لوگ پوری طرح تشفی حاصل نہیں کر پاتے اور کچھ سوالات ان کے ذہنوں میں ادھورے رہ جاتے ہیں۔ اس لیے میرا خیال ہوا کہ اس کتاب کی دوسری بار اشاعت کے موقع پر اس حوالے سے اس پر ایک مبسوط مقدمہ لکھا جائے جس میں اس ضرورت کو کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔
’’امام اعظم ابوحنیفہ اور عمل بالحدیث‘‘ بنیادی طور پر دوسری صدی ہجری کے عظیم محدث حضرت امام ابن ابی شیبہؒ کی طرف سے ان کی معرکۃ الآرا تصنیف ’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ میں حضرت امام ابوحنیفہؒ پر اس حوالے سے کیے جانے والے اعتراضات کا ناقدانہ جائزہ ہے۔ یہ جائزہ اس سے قبل بھی بہت سے اہل علم کی طرف سے سامنے آ چکا ہے، مگر عزیزم عمار نے اسے اردو میں ایک نئے اسلوب کے ساتھ مرتب کر کے پیش کیا اور اسی وجہ سے میرے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ اعتراضات کے جوابات کے ساتھ ساتھ اعتراضات کے پس منظر اور اس دور کے علمی ماحول کی معروضی صورت حال کا تذکرہ بھی مناسب انداز میں ضروری ہے۔ میرے دل میں یہ خواہش تھی کہ موقع آنے پر یہ خدمت میں سر انجام دوں گا، مگر متنوع مصروفیات اور مختلف اشغال کی گہماگہمی میرے لیے بہت سے ضروری کاموں میں ایک ناقابل عبور رکاوٹ سی بن کر رہ گئی ہے اور لگتا ہے کہ ان کی حسرت میرے ساتھ ہی دنیا سے کوچ کر جائے گی۔
اس دوران میں عزیزم عمار نے بتایا کہ اس نے احادیث سے فقہائے احناف کے استنباط کے منہج کے موضوع پر ایک کتاب مرتب کی ہے جو ’’فقہائے احناف اور فہم حدیث۔ اصولی مباحث‘‘ کے عنوان سے شائع ہو رہی ہے تو میں نے اس کا مسودہ ایک نظر دیکھا اور محسوس کیا کہ جو کچھ میں چاہ رہا تھا، وہ کافی حد تک اس میں شامل ہے۔ یہ اپنے موضوع پر ایک مستقل کتاب ہے جو اپنے موضوع کے بہت سے ضروری پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے اور اس میں میرے لیے زیادہ خوشی کا پہلو یہ ہے کہ مصنف کے دادا محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے علمی وتحقیقی ذوق کی جھلک اس میں کسی حد تک دکھائی دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نظر بد سے بچائیں اور اس علمی کاوش کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نافع بنائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
ایک نئے تعلیمی نظام کی ضرورت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
جامعہ دارالعلوم کراچی کے عصری تعلیم کے ادارے ’’حرا فاؤنڈیشن سکول‘‘ کی ایک تقریب کی رپورٹ اخبارات میں نظر سے گزری جو سکول کے اکتیس حفاظ قرآن کریم کی دستار بندی کے حوالہ سے منعقد ہوئی۔ اس میں حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے علاوہ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور مولانا مفتی محمد نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں اپنے خطاب کے دوران مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ:
’’ہمیں ایک ایسے نظام تعلیم کی ضرورت ہے جس میں دینی اور دنیوی تعلیم اکٹھی دی جائے، جہاں دین کی بنیادی معلومات سب کو پڑھائی جائیں۔ اس کے بعد ہر ہر شعبہ میں اختصاص کے مواقع دیے جائیں۔ یہ نظام تعلیم ہمارے اسلاف کی تاریخ سے مربوط چلا آرہا ہے۔‘‘
مفتی صاحب محترم کا یہ ارشاد پڑھ کر دل سے بے ساختہ ’’تری آواز مکے اور مدینے‘‘ کی صدا بلند ہوئی اور ماضی کی بعض یادیں تازہ ہوگئیں۔ یہ بات سب سے پہلے حضرت مفتی صاحب کے والد گرامی مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع قدس اللہ سرہ العزیز نے اب سے کوئی چھ عشرے قبل فرمائی تھی، جبکہ گزشتہ صدی کے آخری عشرہ کے آغاز میں وفاقی حکومت کے قائم کردہ ’’قومی تعلیمی کمیشن‘‘ کی ایک خصوصی کمیٹی کے کنوینر جسٹس (ر) محمد ظہور الحق کے استفسار کے جواب میں راقم الحروف نے بھی یہی گزارش تحریر کی تھی۔ اس وقت مجھے حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ کے ارشاد کا علم نہیں تھا، بعد میں ایک موقع پر حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کی زبان سے اس کا تذکرہ سنا تو دل کو اطمینان ہوا کہ
متفق گردید رائے بو علی با رائے من
اس سوال نامہ کا جواب قومی تعلیمی کمیشن کو بھجوانے کے علاوہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے جنوری ۱۹۹۲ء کے شمارہ میں شائع ہوگیا تھا۔ اسے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے سے قبل یہ عرض کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پرائیویٹ دائرہ میں اس سمت کام کا آغاز پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی ہوگیا تھا۔ ہماری معلومات کے مطابق سب سے پہلے ٹیکسلا میں حضرت مولانا محمد داؤدؒ اور ان کے رفقاء نے شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی سرپرستی اور راہ نمائی میں ’’تعلیم القرآن ہائی سکول‘‘ کے نام سے یہ سلسلہ شروع کیا تھا جس کے نظام میں دینی و عصری علوم کو جمع کیا گیا تھا، تب سے اس پہلو پر ملک کے مختلف حصوں میں تجربات کا سلسلہ جاری ہے۔
اس رخ پر ایک اعلیٰ سطحی کوشش گزشتہ صدی کے چھٹے عشرہ کے دوران لاہور کے قریب سرائے مغل میں ’’جامعہ حمیدیہ‘‘ کے نام سے بھی کی گئی تھی جس کے محرکین میں حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ، آغا شورش کاشمیریؒ اور مولانا محمد اکرمؒ (الہلال فونڈری) بھی شامل تھے۔
گوجرانوالہ میں ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے عنوان سے یہی تجربہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کی سرپرستی اور راہ نمائی میں کیا گیا جو اب ’’جامعہ شاہ ولی اللہ‘‘ کے نام سے مصروف کار ہے۔ جامعہ خالد بن ولیدؓ وہاڑی، جامعہ حنفیہ بورے والا، ادارہ علوم اسلامی بہارہ کہو اسلام آباد، اور جامعۃ الرشید کراچی اسی محنت کی ارتقائی صورتیں ہیں جبکہ ان کی طرز پر ملک کے مختلف حصوں میں ہماری معلومات کے مطابق بیسیوں ادارے اس سمت محنت اور جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس حوالہ سے حکومت اور ریاستی اداروں کی طرف سے کسی پیش رفت کی تو بظاہر کوئی توقع نہیں ہے، البتہ پرائیویٹ سطح پر اس دائرہ میں کام کرنے والے ادارے باہمی مشاورت کا کوئی نظام وضع کر لیں تو اس محنت کو نہ صرف مربوط بنایا جا سکتا ہے بلکہ بہتر پیش رفت کے راستے بھی نکالے جا سکتے ہیں۔ اس لیے ہماری رائے میں دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کے دائرہ میں کام کرنے والے اداروں کا کوئی مشترکہ مشاورتی اجلاس وقت کی اہم ضرورت ہے جس میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا جائے اور باہمی مشاورت کے ساتھ مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع قدس اللہ سرہ العزیز کے اس حسین خواب کی عملی تعبیر کی کوئی شکل اختیار کی جائے۔ دروازہ تو ہم نے کھٹکھٹا دیا ہے، دیکھیں کنڈی کھولنے کے لیے کون آگے بڑھتا ہے؟
ان گزارشات کے ساتھ ۱۹۹۲ء کے قومی تعلیمی کمیشن کی خصوصی کمیٹی کا سوالنامہ اور اس کا جواب قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
سوالنامہ:
محترم و مکرم۔ السلام علیکم!
حکومت پاکستان نے شریعت کے نفاذ کے لیے اپنی کاوشوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ شریعت بل ۱۹۹۱ء کے تحت قومی تعلیمی کمیشن برائے اسلامائزیشن تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کمیشن کی پہلی نشست ۳ستمبر ۱۹۹۱ء کو ہوئی تھی او رکمیٹیاں بنائی گئی تھیں۔ کمیٹی نمبر ۵ کا میں کنوینر ہوں۔ یہ کمیٹی دینی مدارس کے مسائل، ضروریات اور سہولتوں کے مسائل پر غور و فکر کر رہی ہے۔ دینی مدارس کے مسائل کا علم آپ کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ تعلیم کو اسلامی خطوط پر استوار کرنے میں کمیشن کی اعانت فرمائیں، اور دینی مدارس کو کیا سہولتیں حکومت سے درکار ہو سکتی ہیں، اس کی وضاحت فرما دیں۔
سفارشات ۵ دسمبر سے پہلے ارسال فرما دیں۔
۱۔ دینی مدارس کو حکومت کی مالی معاونت کی ضرورت سے متعلق آپ کی تجاویز۔
۲۔ دینی مدارس کے مسائل اور ضروریات۔
۳۔ دینی مدارس کو حکومت کس طرح کی سہولتیں مہیا کرے؟
۴۔ جدید نظام تعلیم کو اسلامی خطوط پر کس طرح استوار کیا جائے؟
۵۔ دینی مدارس میں جدید علوم کو کس طرح متعارف کرایا جائے؟
۶۔ یہ بھی درخواست ہے کہ دینی مدارس اور عام مدارس کے نصاب اور نظام میں کس طرح ہم آہنگی اور مطابقت پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں بھی اپنی تجاویز تحریر فرما دیں، نوازش ہوگی۔
تعاون کا پیشگی شکریہ، والسلام
جسٹس (ریٹائرڈ) محمد ظہور الحق،
کنوینر نیشنل ایجوکیشن کونسل، اسلام آباد
جواب:
حکومت پاکستان کے قائم کردہ نیشنل ایجوکیشن کمیشن کی کمیٹی نمبر ۵ نے دینی مدارس اور مروجہ تعلیمی اداروں کے نصاب و نظام میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے جو سوالنامہ جاری کیا ہے، اگرچہ اس میں چھ سوالات ہیں، لیکن یہ سب سوالات بنیادی طور پر دو سوالوں پر مشتمل ہیں۔ ایک یہ کہ عصری، اسکولوں اور کالجوں کے نصاب و نظام کے ساتھ دینی مدارس کے نصاب و نظام کو کس طرح زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے؟ اور دوسرا یہ کہ دینی مدارس کو درپیش مسائل و ضروریات میں حکومت کیا تعاون کر سکتی ہے؟
جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے، اس ضمن میں یہ گزارش ہے کہ اگرچہ یہ بظاہر ایک دلکش اور خوشنما تصور ہے لیکن اصولی طور پر یہ غلط اور غیر منطقی سوچ ہے۔ کیونکہ اس سوچ کی بنیاد ان دونوں نظام ہائے تعلیم کی جداگانہ ضروریات و اہمیت کو تسلیم کرنے پر ہے، اور یہ ضرورت و اہمیت بجائے خود محل نظر ہے۔
عصری اسکولوں اور کالجوں کا نظام تعلیم مستقل حیثیت کا حامل ہے، جبکہ دینی مدارس کا نظام تعلیم اس سے بالکل مختلف اور الگ حیثیت رکھتا ہے۔ ان دونوں کا آغاز ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد اس دور کی قومی ضروریات کے پیش نظر ہوا تھا۔ دونوں تعلیمی نظاموں کی بنیاد خوف اور تحفظات پر تھی۔ جدید تعلیم کا نظام کھڑا کرنے والوں کے سامنے یہ خوف تھا کہ اگر مسلمانوں نے انگریزی تعلیم حاصل نہ کی تو وہ نئے قومی نظام میں شریک نہیں ہو سکیں گے اور ان کے ہندو معاصرین اس دوڑ میں آگے بڑھ کر قومی زندگی پر تسلط جما لیں گے جس سے مسلمان دوسرے درجے کے شہری بن کر رہ جائیں گے۔ جبکہ دینی تعلیمی نظام کے بانیوں کو یہ خوف لاحق تھا کہ اگر قرآن و سنت اور عربی علوم کی تعلیم کا اہتمام نہ کیا گیا تو مسلمانوں کا رشتہ اپنے مذہب اور اعتقاد سے کٹ جائے گا اور وہ دینی تشخص سے محروم ہو جائیں گے۔ یہ دونوں خوف اپنی اپنی جگہ صحیح تھے اور انہی کی بنیاد پر دو الگ اور مستقل نظام ہائے تعلیم وجود میں آگئے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد ان میں سے کسی خوف کے تسلسل کا کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا تھا اور قومی دانشوروں کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان خدشات کی نفی کرتے اور دونوں محاذوں پر قوم کو خوف سے نجات دلا کر خوف اور تحفظات کی بنیاد پر تشکیل پانے والے دونوں تعلیمی نظاموں کے یکسر خاتمہ کی راہ ہموار کرتے، لیکن بدقسمتی سے اب تک ایسا نہیں ہوا۔ اور ہم حصول آزادی کے تقریباً نصف صدی بعد بھی تعلیمی پالیسیوں کے لحاظ سے ابھی تک انیسویں صدی کے اواخر کے ذہنی دائروں میں کولہو کے بیل کی طرح چکر کاٹ رہے ہیں۔
کالجوں اور دینی مدارس کے نصاب و نظام میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہماری بنیادی تعلیمی ضرورت نہیں ہے۔ یہ محض ایڈہاک ازم ہے جو کسی ٹھوس اور واضح تعلیمی پالیسی کے جڑ پکڑنے تک ایک عبوری اور عارضی انتظام کا درجہ تو پا سکتی ہے لیکن یہ ہمارے تعلیمی مسائل کا حل نہیں ہے۔ اور اگر سنجیدگی کے ساتھ تجزیہ کیا جائے تو دونوں نصابوں کو مکمل طور پر ہم آہنگ کرنا قابل عمل اور ممکن بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اگر دونوں نصاب پورے کے پورے یکجا کر دیے جائیں تو طلبہ کی میسر کھیپ میں سے شاید پانچ فیصد اسے بمشکل کور کر سکیں۔ اور اگر ایک کو بنیاد بنا کر دوسرے نصاب کی چند چیزیں اس کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کی پالیسی اختیار کی جائے تو اسے ’’ہم آہنگی‘‘ قرار دینا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے ہمارے نزدیک یہ تصور ہی سرے سے غلط ہے کہ دونوں نظام ہائے تعلیم کو یکجا کرنے کی کوشش کی جائے۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ جرأت و حوصلہ سے کام لے کر ان دونوں نظام کی نفی کرتے ہوئے ایک نئے نظام تعلیم کی بنیاد رکھی جائے۔ ان دو نظام ہائے تعلیم کی نفی کا مطلب ان کے قومی کردارکی نفی نہیں ہے۔ دونوں نے اپنے اپنے دائرے میں قوم کی خدمت کی ہے اور ان میں سے کسی کے کردار کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ان کی ضرورت اور اہمیت کا دور گزر چکا ہے اور دونوں نظام اپنی طبعی عمر پوری کر چکے ہیں۔ اس لیے انہیں مصنوعی تنفس کے ذریعے سے زندہ رکھنے کی کوشش نہ عقل و دانش کا تقاضا ہے اور نہ ہی ایسا کرنا نئی نسل کے ساتھ انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگا۔ ہمارے خیال میں قومی تعلیمی کمیشن کا اصل رول یہ ہونا چاہیے کہ وہ ایک نئے اور انقلابی تعلیمی نظام کے لیے قوم کی ذہن سازی کرے اور دونوں طبقوں کے ماہرین تعلیم کو اعتماد میں لے کر نئے تعلیمی نظام کا ڈھانچہ تشکیل دے۔
نئے تعلیمی نظام کو بنیادی شخصی ضروریات اور قومی تقاضوں کے دو دائروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک تعلیمی نظام کا پہلا حصہ بنیادی شخصی ضروریات پر مشتمل ہونا چاہیے جبکہ دوسرے حصے میں قومی ضروریات کو ایک حسین توازن و تناسب کے ساتھ سمو دینا چاہیے۔ مثلاً اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہر شہری کی بنیادی ضروریات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ اس کی مادری اور علاقائی زبان پر اسے عبور ہو اور وہ اسے لکھنے پڑھنے پر قادر ہو۔
۲۔ قومی زبان اردو پر بھی اسے یہی قدرت حاصل ہو۔
۳۔ دینی زبان عربی کے ساتھ اس کا اتنا تعلق ضرور ہو کہ وہ قرآن و حدیث کو سمجھ سکے۔
۴۔ بین الاقوامی زبان انگریزی پر بھی اسے دسترس حاصل ہو۔
۵۔ عقائد، عبادات، اخلاق اور معاملات کے بارے میں اسے اتنا دینی علم حاصل ہو کہ وہ ایک صحیح مسلمان کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکے۔
۶۔ اتنا حساب کتاب جانتا ہو کہ روز مرہ کے معاملات میں اسے دقت پیش نہ آئے۔
۷۔ ملکی اور بین الاقوامی حالات اسے اس قدر ضرور واقف ہو کہ قومی تقاضوں کو سمجھ سکے۔
۸۔ وہ جدید سائنسی علوم کے بارے میں بھی بنیادی معلومات سے بہرہ ور ہو۔
ہماری تجویز یہ ہے کہ ان بنیادی ضروریات پر مشتمل نصاب تعلیم کو میٹرک تک از سر نو مرتب کیا جائے اور اسے ہر شہری کے لیے قانوناً لازمی قرار دے دیا جائے۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے کے تعلیمی نظام میں قومی تقاضوں کو سامنے رکھ کر شعبوں کی تقسیم کی جائے۔ مثلاً ہمیں اچھے علماء کی ضرورت ہے، بہترین سائنس دانوں کی ضرورت ہے، قابل ڈاکٹروں کی ضرورت ہے، ماہر انجینئروں کی ضرورت ہے، اسی طرح زندگی کے دوسرے شعبوں میں ماہرین درکار ہیں۔ اس لیے میٹرک کے بعد ہر طالب علم کو یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنے ذوق اور صلاحیت کے مطابق ان میں سے کسی ایک شعبہ میں تعلیم و مہارت حاصل کرے۔ اور قومی پالیسی کے طور پر ایک ایسا توازن قائم کیا جائے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی کی ضروریات تناسب کے ساتھ پوری ہوتی رہیں۔
دوسرا اہم سوال دینی مدارس کی ضروریات و مسائل میں حکومت کے ممکنہ تعاون کی صورت کے بارے میں ہے۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ دینی مدارس معاشرہ میں قرآن و سنت اور دیگر دینی علوم کی ترویج اور بقا و تحفظ کا جو کردار ادا کر رہے ہیں وہ بہت بڑی قومی خدمت ہے۔ اور جب تک دینی تعلیم کی تمام ضروریات کو اپنے اندر سمونے والا کوئی ہمہ گیر نظام تعلیم وجود میں آکر مستحکم نہیں ہو جاتا، اس وقت تک دینی مدارس کی ضروریات اور ان کا کردار بہرحال ایک ناگزیر قومی تقاضے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ دینی مدارس کا یہ کردار ان کے اس آزادانہ نظام کی بدولت ہی تاریخ میں اپنی جگہ بنا سکا ہے جو ہر دور میں حکومت کی سرپرستی اور دخل اندازی سے بے نیاز رہا ہے۔ اگر دینی مدارس کو وقت کی حکومتوں کی دخل اندازی سے آزادی اور بے نیازی حاصل نہ ہوتی تو ان کی خدمات اور جدوجہد کے نتائج کی موجودہ شکل سامنے نہیں آسکتی تھی۔ اس لیے ہمارے نزدیک دینی مدارس کا سب سے بڑا مسئلہ اور ان کی سب سے اہم ضرورت ان کے آزادانہ تعلیمی کردار کا تحفظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو دینی ادارے اپنے معاشرتی کردار کی اہمیت سے شعوری طور پر آگاہ ہیں وہ ہر دور میں سرکاری امداد قبول کرنے سے گریزاں رہے ہیں، اور آج بھی بے نیازی کی اسی روش پر گامزن ہیں۔ محتاط دینی اداروں کی سوچ یہ ہے کہ پاکستان میں قائم ہونے والی حکومتوں کا اسلام کے ساتھ تعلق مخلصانہ اور نظریاتی نہیں بلکہ مصلحت پرستانہ ہے، اور وہ یہ بھی سوچتے ہیں کہ کسی بھی قسم کی سرکاری امداد حکومت کی پالیسیوں اور مصلحتوں کے ساتھ کسی نہ کسی درجے میں وابستگی کا احساس ضرور پیدا کر دیتی ہے۔ پھر بعض تجربات نے اس احساس کو بھی جنم دیا ہے کہ حکومت کی سرپرستی میں آنے کے بعد دینی مدارس شاید اپنے موجودہ کردار کو برقرار نہ رکھ سکیں گے، جیسا کہ محکمہ تعلیم کی تحویل میں آنے والے جامعہ عباسیہ بہاولپور اور محکمہ اوقاف کے کنٹرول میں آنے والے جامعہ عثمانیہ اوکاڑہ کے انجام سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے اگر حکومت دینی مدارس کو ان کے آزادانہ کردار کے تحفظ کا یقین اور اعتماد دلا سکے تو یہ ان مدارس کے ساتھ حکومت کا سب سے بڑا تعاون ہوگا۔ اور پھر آزادانہ کردار کے تحفظ کے ساتھ دینی مدارس کے اخراجات میں بھی ان سے تعاون، ان کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں ماہرین کے ذریعے سے ان کی راہنمائی، ان کی سندات کی مسلمہ حیثیت کو یقینی اور قابل عمل بنانے اور ان کے درمیان رابطہ و تعاون کی فضا کو بہتر بنانے کے اقدامات کے ذریعے سے حکومت دینی مدارس کی بہتر خدمت کر سکتی ہے۔
سوڈان میں غروب آفتاب
محمد اظہار الحق
سنیچر تھا اور مارچ کی پانچ تاریخ۔ صبح کا وقت تھا جب ڈاکٹر حسن الترابی اپنے دفتر میں بے ہوش ہوگئے۔ انہیں فوراً خرطوم کے رائل انٹرنیشنل ہسپتال میں لے جایا گیا۔ پھر دل کا دورہ پڑا اور سوڈان کا یہ فرزند، جس نے صرف اپنے خطے میں نہیں، پورے عالم اسلام میں بلکہ پوری علمی اور سیاسی دنیا میں اپنا اثرورسوخ قائم کیا تھا، اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوگیا۔ ہم سب نے لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے!
حسن الترابی سوڈان کے صوبے کسالہ میں 1932ء میں پیدا ہوئے۔ خرطوم یونیورسٹی سے قانون میں ڈگری حاصل کی۔ پھر انگلستان جا کر پڑھتے رہے۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری سوربون یونیورسٹی پیرس سے لی۔ عربی ان کی مادری زبان تھی۔ انگریزی، فرانسیسی اور جرمن روانی سے بولتے تھے۔ صدر جعفر نمیری نے انہیں اٹارنی جنرل مقرر کیا۔ سیاسی کیریر ان کا تلاطم خیز رہا۔ مخالفین نے الزام لگایا کہ صدر حسن البشیرنے سوڈان کو ’’پولیس سٹیٹ‘‘ بنایا تو حسن الترابی نے اس کا ساتھ دیا۔ وہ جہادیوں کے بھی حامی رہے۔ کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملے ہوئے تو حسن الترابی نے ان حملوں کو ’’'قابل فہم‘‘ قرار دیا۔ ان کا یہ قول بہت مشہور ہوا کہ ’’اگر آپ جبر اور ظلم کا مقابلہ کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں تو انہیں حریت پسند اورانقلابی کہتے ہیں۔ نہ پسند کریں تو یہی حریت پسند ''دہشت گرد‘‘ بن جاتے ہیں!‘‘
خلیج کی جنگ چھڑی تو سعودی امریکی اتحاد کی شدید مخالفت کی۔1990۔91ء میں ’’عرب اینڈ اسلامک کانگریس‘‘ بنائی اور پورے عالم اسلام سے شیعہ اور سنی تنظیموں کو اکٹھا کیا۔ ان میں پی ایل او اور حزب اللہ بھی شامل تھے۔ ڈاکٹر ترابی نے سیاسی علمی اور قانونی سفر میں قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ تین سال لیبیا میں جلا وطن رہے۔1992ء میں اوٹاوا( کینیڈا) کے ہوائی اڈے پر ایک سوڈانی نے، جو سیاسی مخالف تھا، ڈاکٹر صاحب پر چاقو سے حملہ کیا۔ یہ شخص کراٹے کا ماہر تھا اور بلیک بیلٹ جیتے ہوئے تھا۔ حملہ شدید تھا۔ حملہ آور نے سمجھا کہ وہ ختم ہوگئے۔ انہیں روبصحت ہونے میں بہت وقت لگا۔مگر ڈاکٹر حسن الترابی کا اصل کارنامہ ان کا وہ موقف ہے جو مسلمانوں کو پیش آنے والے گمبھیرمسائل پر انہوں نے فقہی اور علمی اعتبارسے پیش کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک متنازع میدان تھا۔ اس پر بہت لے دے ہوئی۔ کفر کے فتوے لگے۔تاہم مجموعی طور پر مسلمانوں نے خاص طور پر وہ جو غیر مسلم ملکوں میں قیام پذیر تھے، ان کے موقف کو سراہا۔
روزنامہ الشرق الاوسط، دنیا کا معروف ترین عربی روزنامہ ہے۔ اس کا اجراء لندن سے 1978ء میں ہوا تھا۔ اب یہ چار براعظموں کے چودہ شہروں سے شائع ہوتا ہے اور پوری دنیائے عرب میں مقبول ہے۔ اپریل 2006ء میں اسی نے جدید مسائل پر ڈاکٹر صاحب سے ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کے مندرجات، قدرے اختصار کے ساتھ، قارئین کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہم ان کے موقف سے اتفاق کریں۔ یہ بھی لازم نہیں کہ اختلاف برائے اختلاف ہو۔ مقصد جدید مسائل کے حوالے سے ذہنی وسعت اور قوت برداشت پیدا کرنا ہے اوراس احساس کو اجاگر کرنا ہے کہ اسلام ہر زمانے میں قابل عمل ہے۔
سوال: مسلمان عورت اور نصرانی یا یہودی لڑکے درمیان شادی کے معاملے میں آپ کا فتویٰ بہت متنازع ہوا ہے۔ کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ شادی شدہ عورت اسلام قبول کرنے کے بعد غیر مسلم شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے؟
جواب: پہلے تو اسی مسئلے کو اجتہاد کے نقطہ نظر سے دیکھنا ہوگا۔ آج کے مسلمان ، عورت کے حوالے سے قابل اعتماد اسلامی قوانین کی پروا نہیں کرتے اور اپنی بیٹیوں کی شادی کے سلسلے میں غورو فکر نہیں کرتے۔ یہ فتویٰ اس صورت حال کے پیش نظر دیا گیا تھا جو مسلمان کمیونٹی کو امریکہ میں پیش آ رہی ہے۔ ایک امریکی عورت قبول اسلام کے لیے ایک اسلامی مرکز میں گئی۔ اسے بتایا گیا کہ وہ قبول اسلام کے بعد شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی، خواہ اسے غیر معمولی مالی قیمت ادا کرنی پڑے یا بچوں کو بھی چھوڑنا پڑے۔ ان حضرات نے بالکل نہیں سوچا کہ ابھی تو وہ پہلا قدم اٹھا رہی تھی اور یہ کہ اس رویہ سے عورتیں مسلمان ہونے سے گریز کریں گی۔فتویٰ دینے سے پہلے مجھے خاصی تحقیق کرنا پڑی اور فقہ کی اکثر وبیشترکتابیں دیکھنا پڑیں۔ تمام فتوے جنہوں نے مسلمان عورت اور غیر مسلم مرد کی شادی کو منع کیا تھا، ان زمانوں کے تھے جب مسلمانوں اور غیر مسلموں میں جھگڑے اور لڑائیاں ہورہی تھیں۔ دوسری طرف قرآن اور سنت میں ایسی شادیوں کے خلاف مجھے ایک لفظ بھی نہ ملا۔
اس خاص واقعہ کے حوالے سے میرا موقف یہ تھا کہ وہ عورت مسلمان ہونے کے بعد اپنے غیر مسلم شوہر کے ساتھ ہی رہتی اور شوہرکے قبول اسلام کی وجہ بن جاتی۔ مسلمان ہونے والی باقی عورتوں کے خاندان بھی پیروی کرتے۔ مجھے اس موقف کے بعد بہت اعتراضات موصول ہوئے۔ کچھ نے مجھے کافر بھی قراردیا۔ لوگوں نے اسے عزت اور بے عزتی کا مسئلہ بنالیا۔ حالانکہ زیادہ امکان یہی تھا کہ شوہر بھی مسلمان ہو جاتا۔ مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کا مفاد بھی اسی میں تھا۔ مسلمان اقلیتوں کو جو ''اہل کتاب‘‘ کے ملکوں میں رہ رہی ہیں خود اس مسئلے پر غور کرنا چاہیے اور خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ کیا مناسب ہے کیونکہ صورت حال کا سامنا انہی کو ہے۔ وہ اس نتیجے پر ہی پہنچیں گی کہ انہیں اہل کتاب سے شادیاں کرنے کے لیے بیٹیوں کو اجازت دے دینی چاہیے کیونکہ قوی امکان یہ ہے کہ وہ شوہروں کو اپنے راستے پر لے آئیں گی!
(غیر مسلم عورت کے قبول اسلام پر شوہر کو نہ چھوڑنے کے متعلق ''یورپی کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ‘‘ نے بھی وہی فتویٰ دیا ہے جو حسن الترابی نے دیا۔ اس کونسل میں لبنان، سوڈان، سعودی عرب، ماریطانیہ، کویت اور یو اے ای کے علاوہ مغربی ملکوں کے ممتاز علماء بھی شامل ہیں۔ معروف فقیہ یوسف القرضاوی بھی کونسل کے ممبر ہیں)۔
سوال: آپ نے ایک اور متنازع بات بھی کہی کہ گواہی میں مرد اور عورت برابر ہیں؟
جواب: بھائی ، میری بات سنے اور سمجھے بغیر، فیصلہ نہ کیجیے۔ جس آیت کا حوالہ دیا جاتا ہے، اس میں قرضے کو ضبط تحریر میں لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس میں حکم ہے کہ ایک لکھنے والا ہو اور معاہدے کی تصدیق کے لیے گواہ ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’عورتوں میں سے ایک بھول نہ جائے‘‘، یہ نہیں فرمایا کہ وہ یقیناًبھول جائے گی۔ ایک اور مقام پر کلام پاک میں دو انصاف پسند گواہوں کی بات کی گئی ہے جو کسی کی موت پر گواہی دیں گے۔ یہاں جنس کی تخصیص ہی نہیں کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ خاندان میں کسی کی موت کے وقت زیادہ امکان یہ ہے کہ خواتین اس وقت پاس ہوں گی۔ یہاں مردوں اور عورتوں کی گواہی کے لیے ایک ہی معیار ہے۔
بہت سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ گواہی دینے کی کئی صورتیں ہیں۔ جیسے معاہدے کی تصدیق ، یا جج یا وکیل کے سامنے شہادت دینا! آج کے عہد میں بہت سی خواتین وکالت میں اور بزنس میں نام پیدا کر رہی ہیں۔ بہت سے مرد ان کا مقابلہ ہی نہیں کرسکتے۔ ابتدائے اسلام میں بزنس اور تجارت میں خواتین ناتجربہ کار تھیں! یہ اب جج پر منحصر ہے کہ وہ کس کو گواہ کے طور پر قبول کرتا ہے۔
سوال: کیا آپ نے فتویٰ دیا ہے کہ عورت نماز پڑھا سکتی ہے؟
جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ منع کس نے کیا ہے؟ یہ تو آپ لوگوں کا رواج اور روایات تھیں جو عورت کو نماز گھرپر پڑھواتی رہیں نہ کہ مسجد میں۔ یہ قرآن اور حدیث کا حکم تو نہ تھا! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابیہ تھیں جو مردوں کو نماز پڑھاتی رہیں۔ اگر کوئی خاتون نیک ہے تو اسے نماز پڑھانی چاہیے اور اگر کسی کا خیال اسے دیکھ کر کسی اور سمت بھٹک جاتا ہے تو اسے بیمار (ذہنیت کا)سمجھنا چاہیے! مرد کے نماز پڑھاتے وقت ہم کیا اس کی سفید داڑھی یا بدصورت چہرہ دیکھ پاتے ہیں؟ ہم یہ سنتے ہیں کہ وہ کہہ کیا رہا ہے۔ عالم فاضل اور نیک خواتین کا بھی یہی معاملہ ہونا چاہیے۔
سوال: امام مہدی کی آمد پر بھی آپ کے خیالات مختلف ہیں؟
جواب: اس ضمن میں کئی احادیث ہیں! تاہم میں مسلمانوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے امام مہدی کا انتظار کرنے کے بجائے خود بھی کچھ کریں۔ وہ منتظر ہیں کہ امام مہدی تشریف لائیں گے اور عدل قائم کریں گے۔ وہ خود کسی قوت اور حرکت سے محروم ہیں! یہ تو موسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں والی بات ہوئی جنہوں نے پیغمبر سے کہا کہ آپ جا کر لڑائی کریں، ہم تو یہیں ٹھہریں گے۔ میں مسلمانوں سے کہتا ہوں کہ آپ سب ان شاء اللہ مہدی ہیں!
(بشکریہ روزنامہ دنیا)
ڈاکٹر حسن ترابی رخصت ہوئے
خورشید احمد ندیم
ڈاکٹر حسن ترابی دنیا سے رخصت ہوئے۔یہ حسن ترابی کون تھے؟
2001ء میں امریکہ سے ایک کتاب شائع ہوئی: 'معاصر اسلام کے صورت گر‘ (Makers of Contemporary Islam)۔ اس کتاب میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جن کی تفہیم دین نے دورِ حاضرکی مسلم فکر کو سب سے زیادہ متاثر کیا اور جنہوں نے عصری اسلوب میں اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ حسن ترابی ان ہی میں سے ایک تھے۔ دورِ حاضرمیں مو لانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اور سید قطب جیسے اہل فکر کے زیراثر جو اسلامی تحریکیں برپا ہوئیں، انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے۔چونکہ ان شخصیات نے برصغیر اور مشرقِ وسطیٰ میں جنم لیا، اس لیے،ان تحریکوں کے سب سے زیادہ اثرات بھی یہیں محسوس کیے گئے۔یہ تحریکیں اگر چہ اسلام کے سیاسی غلبے کے لیے برپا ہوئیں، لیکن ابتدائی عہد میں ان کا پیغام ہمہ جہتی تھا۔اسلام کا فکری وعلمی احیا بھی ان کے مقاصد میں شامل تھا۔ مو لانا مودودی کے الفاظ میں ’تجدید و احیائے دین‘۔
ڈاکٹر حسن ترابی سوڈان کے وہ صاحبِ علم تھے جو اس فکر سے متاثر ہوئے۔وہ ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ لندن اور فرانس کے جدید تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔پی ایچ ڈی فرانس سے کیا۔ فرنچ، جرمن، انگریزی کے ماہر تھے۔عربی تو ان کی اپنی زبان تھی۔قانون ان کا شعبہ تھا۔اسلامی قانون اور فقہ کی روایت پر گہری نظر رکھتے تھے۔ سوڈان کی سیاست میں بہت متحرک رہے۔نمیری کی حکومت میں اٹارنی جنرل تھے۔عمر البشیر کے عہد اقتدار میں اسمبلی کے سپیکر رہے اور وزیر خارجہ بھی۔سوڈان کے آئین کی اسلامی تشکیل ان کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔اس کی ابتدا میں پاکستان کے آئین کی بنیاد ،قراردادِ مقاصد کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے۔
وہ سوڈان کے واحد رہنما تھے جنہوں نے اس مطالبے کی حمایت کی کہ جنوبی سوڈان میں مبینہ جنگی جرائم کے جرم میں، عمر البشیرکو انصاف کی بین الاقوامی عدالت کے سامنے پیش ہو نا چاہیے۔فوجی آمرعمرالبشیرنے اقتدار پر قبضہ کیاتو اسے انقلاب کہا گیا جس کے فکری قائد حسن ترابی تھے۔ پھر وہ وقت آیا کہ اسی اقتدار کے ہاتھوں جیل بھیج دیے گئے اور اذیتیں اٹھائیں۔اس قلب ماہیت پر ان کا تبصرہ بڑا بلیغ تھا: ’’ یہ تو سن رکھا تھا کہ انقلاب اپنے بچوں کو کھا جاتا ہے۔یہ پہلی دفعہ دیکھا کہ ا نقلاب اپنے باپ کو کھا گیا۔‘‘ تاہم بعد میں تعلقات کچھ بہتر ہوئے۔انہوں نے عمر البشیر کے انتخاب کو دھاندلی زدہ قرارد یا، لیکن سیاسی تسلسل کے لیے نتائج کو تسلیم کیا۔سنیچر کی صبح انہیں دل کا دورہ پڑا اور شام ان کا انتقال ہوگیا۔عمر البشیرعیادت کے لیے دو دفعہ ہسپتال گئے۔
اسلامی تحریکیں، وقت گزرنے کے ساتھ سیاسی تبدیلی کے لیے یک سو ہو گئیں۔یوں وہ روایتی سیاسی جماعتوں میں تبدیل ہوگئیں۔ تجدید دین اب ایک قصہ پارینہ تھا۔تاہم ان تحریکوں کی ابتدائی نسل میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے اس سبق کو فراموش نہیں کیا، جیسے یوسف القرضاوی، محمد الغزالی،راشد الغنوشی،خرم مراداورمحمد قطب۔ ان میں حسن ترابی بھی تھے۔ اب میں سے کچھ وہ تھے جنہوں نے سیاسی جدو جہد سے علیحدگی اختیار کر لی اور خود کو علمی کام کے لیے خاص کر لیا، جیسے مصر کے محمد الغزالی۔کچھ وہ تھے جنہوں نے سیاسی میدان میں متحرک رہنے کے ساتھ ساتھ،تجدید و احیائے دین کی اہمیت کو بھی سمجھا اورعلمی میدان میں بھی بروئے کار آئے، جیسے تونس کے راشد الغنوشی اور سوڈان کے حسن الترابی۔
ڈاکٹر حسن ترابی ان افرادمیں نمایاں تر ہیں۔ان کے اجتہادات تو ایسے تھے کہ اسلامی تحریکیں ان کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ ترابی اگرچہ بنیادی طور پر اْسی فکر کے علم بردار تھے جسے اس دور میں ’سیاسی اسلام‘ سے تعبیر کیا جاتاہے مگر اس میں وہ روحِ عصر کو نظر انداز کر نے کے قائل نہیں تھے۔سید قطب کے ہاں تو جومسلمان حکمران اسلام کی سیاسی حکمرانی نہیں مانتے، وہ ’ طاغوت‘ ہیں اور ان کے خلاف اْٹھنا لازم ہے۔حسن ترابی اس کے قائل نہیں تھے۔وہ موجود نظام کو قبول کرتے ہوئے، اس میں راستہ بنانے کو درست سمجھتے تھے۔اگر چہ انہوں نے سوڈان میں اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری اور اس نقطہ نظر کے لوگوں کو مدعو بھی کیا لیکن وہ خود جمہوری جدو جہد کو درست سمجھتے تھے۔
خواتین کے بارے میں ان کے خیالات غیر معمولی ندرت لیے ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں سیاسی و سماجی معاملات میں ایک متحرک کردار ادا کر نا چاہیے۔اس مو ضوع پر انہوں نے ایک کتاب لکھی اور بہت سے مضامین بھی۔ وہ خواتین کے پردے کے لیے حجاب کی اصطلاح کو درست نہیں سمجھتے تھے۔ان کے نزدیک حجاب گھروں میں لٹکائے جانے والے پردے کو کہتے ہیں۔اس کے لیے درست لفظ' خمار‘ ہے۔یہ ایک باوقار اور مہذب لباس ہے جو مسلم خاتون کو پہننا چاہیے۔ حسن ترابی غیر مسلم مرد کے ساتھ مسلمان عورت کے نکاح کو بھی جائز سمجھتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ قرآن مجید میں کہیں اس کی ممانعت نہیں آئی۔وہ خواتین کی آدھی گواہی کے تصور کو بھی دین کی درست تفہیم نہیں سمجھتے تھے۔ان کی دلیل یہ تھی کہ قرآن مجید میں قرض کی دستاویز کے حوالے سے اس کا ذکر ہواہے، گواہی کے عمومی قانون کمے حوالے سے نہیں۔ یہ عدالت کی صواب دید ہے کہ وہ کس کی گواہی قبول کرتی ہے اور کس کی رد۔اس کا تعلق صنف سے نہیں، گواہی کے معتبر ہونے سے ہے۔ایک مرد کی گواہی رد ا ور عورت کی قبول کی جا سکتی ہے۔وہ مردوں کے لیے خواتین کی امامت کو بھی جائز سمجھتے تھے۔
حسن ترابی سید نامسیح علیہ السلام کے نزولِ ثانی کے بھی قائل نہیں تھے۔وہ اس کے لیے قرآن مجید سے استدلال کرتے تھے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ قرآن مجید میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بارے میں سیدنا مسیح کی پیش گوئی کا ذکر ہے۔قرآن نے سیدنا مسیح کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’میرے بعد ایک رسول آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔ ’’میرے بعد’’ سے واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح سے پہلے نہیں، بعد میں تشریف لائیں گے۔ اسی طرح قرآن مجید سیدنا محمد کو آ خری نبی کہتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید سے ان کی آ مد ثانی کا عقیدہ ثابت نہیں۔ جب ان سے بعض روایات کا ذکر کیا گیا جن میں سیدنا مسیح کی دوبارہ آمد کا ذکر ہے تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا: ’’حدیث قرآن کی ناسخ نہیں ہو سکتی۔‘‘ وہ مرتد کے لیے موت کی سزا کے بھی قائل نہیں تھے۔
ڈاکٹر حسن ترابی کے ان نظریات کا ذکر ان کے ایک انٹرویو میں یک جا ہے جو 'الشرق الاوسط‘ میں 24 اپریل 2006ء کو شائع ہوا۔یہ انٹرویو اخبار کی ویب سائٹ پر محفوظ ہے۔اس کالم میں ان نظریات کی تصدیق یا تردید مقصود ومطلوب نہیں، صرف یہ واضح کر نا ہے کہ مرحوم کے ہاں غور وفکر کا عمل کس نہج پر آگے بڑھ رہا تھا۔اس سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ اسلامی تحریکوں کے عمومی رویے کے برخلاف،وہ سیاسی جدو جہد کے ساتھ فکری ارتقا کے عمل سے بھی گزر رہے تھے جس کے بغیرتجدید و احیائے دین کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ڈاکٹر صاحب اس پر بھی پوری طرح واضح تھے کہ قدیم فقہی ذخیرہ دورِ جدید میں مسلم سماج کے کام نہیں آ سکتا۔ہمیں قرآن وسنت پر براہ راست غور کرتے ہوئے،ان کی نئی تعبیر کر نی ہے۔وہ معاشرتی روایات کو دین کے الہامی ماخذ سے جدا کر کے دیکھتے تھے۔
آج حسن ترابی اس دنیا میں نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ معاصر اسلام کے صورت گروں میں بہت نمایاں تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول کرے اور ان کی فروگزاشتوں کو معاف کرے۔ آمین۔
(بشکریہ روزنامہ دنیا)
ڈاکٹر طہ جابر العلوانی ۔ شخصیت اور فکر
مولانا سید متین احمد شاہ
4 مارچ 2016ء بروز جمعہ کو عالم اسلام کے نام ور مفکر اور مصنف ڈاکٹر طہ جابر العلوانی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ وفات کے وقت آپ کی عمر تقریباً 81 سال تھی۔ آپ کی پیدائش 1935ء میں عراق کے شہر فلوجہ میں ہوئی۔ آپ نے عراق میں اعلیٰ سطح کے اہل علم سے تعلیم حاصل کی اور جامعہ ازہر سے 1973ء میں اصولِ فقہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 1985ء سے آپ نے جامعۃ الام محمد بن سعود الاسلامیہ میں اصول فقہ کے استاد کے طور پر دس سال تدریس کے فرائض سرانجام دیے۔ 1981ء میں عالمی ادارہ فکر اسلامی (المعھد العالمی للفکر الاسلامی / The International Institute of Islamic Thought) امریکا میں قائم کیا گیا جس کے اول بنیاد گزاروں میں ڈاکٹر طہ جابر بھی تھے۔ اس کے پہلے صدر معروف اسلامی مفکر ڈاکٹر اسماعیل راجی فاروقی (1921ء ۔ 1986ء) تھے۔ ان کی شہادت کے بعد اس ادارے کی سب سے نمایاں شخصیت ڈاکٹر طہ جابر ہی کی رہی ہے۔ رابطہ عالم اسلامی (Muslim World League) کی مجلس تاسیسی کے بھی آپ رکن تھے۔اس کے علاوہ کئی دیگر اداروں سے آپ کی وابستگی رہی ہے۔ آپ کی اہلیہ ڈاکٹر منیٰ ابوالفضل کا انتقال 23 ستمبر 2008ء کو ہوا تھا جو خود بہت صاحبِ فضل خاتون اور انگریزی اور عربی میں کئی کتابوں کی مصنف تھیں۔ڈاکٹر طہ جابر نے مختلف علمی اور فکری موضوعات پر کتابیں بھی لکھیں جن میں سے نمایاں کتابیں حسب ذیل ہیں :
1۔ ادب الاختلاف فی الاسلام (اس کتاب کا اردو میں بھی ترجمہ "اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب " کے نام سے ہو چکا ہے۔)
2۔ تحقیق و تدوین المحصول فی علم اصول الفقہ (امام رازی)،
3۔ الازمۃ الفکریۃ المعاصرۃ
4۔ الامام فخر الدین الرازی ومصنفاتہ
5۔ الجمع بین القراء تین: قراء ۃ الوحی وقراء ۃ الکون
6۔ الخصوصیۃ والعالمیۃ فی الفکر المعاصر
7۔ الوحدۃ البنائیۃ للقرآن المجید
8۔ لا اکراہ فی الدین: اشکالیۃ الردۃ والمرتدین من صدر الاسلام الی الیوم
9۔ لسان القرآن ومستقبل الامۃ القطب
10۔ مقاصد الشریعۃ
11۔ مقدمۃ فی اسلامیۃ المعرفۃ
اس کے علاوہ عالمی ادارہ فکر اسلامی سے شائع ہونے والی کئی کتابوں پر آپ کے علمی مقدمات قابل مطالعہ ہیں۔
بعض فکری خدوخال
علم کی اسلامی تشکیل
ڈاکٹر طہ جابر امت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے آرزو مند مفکرین میں سے تھے۔یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا میں علوم کے اسلامیانے کی تحریک سے ان کا ہمیشہ تعلق رہا اور عالمی ادارہ فکر اسلامی (IIIT) سے ان کی عربی اور انگریزی میں کئی کتابیں منصہ شہود پر آئیں۔
علم کی اسلامی تشکیل کا مسئلہ بیسویں صدی میں کثرت سے معرضِ بحث آنے والے موضوعات میں سے ہے تاکہ مغرب کے فکری اور سیاسی غلبے کے اس شدید جبر میں امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کے جدید خطوط پر کام کیا جا سکے۔علم وتحقیق چوں کہ کسی بھی قوم کی مادی اور ذہنی اٹھان کا نشان ہوتے ہیں، اس لیے مسلم مفکرین نے اس بات پر شدت سے توجہ مبذول کی کہ مسلمانوں کو علمی اور فکری میدان میں تیار کیا جائے اور جدید علوم، جو مغرب کی گود میں تیار ہوئے ہیں اور وحی اساس نہیں ہیں، لیکن انسانیت کے قافلے کے حدی خواں بہرحال بن چکے ہیں، انھیں اسلام کے مابعد الطبیعی افکاراور نظامِ اخلاق کی اساسات پر استوار کیا جا سکے۔ یہ فکر اصل میں مسلم دنیا میں مغرب کے ساتھ تعامل میں مکمل سپردگی اور قبول کے اس تصور کے خلاف ایک نظرثانی کے رجحان (Rethinking Trend) کے طور پر سامنے آئی جس کے حاملین میں ہمارے ہاں سرسید احمد خان اور عرب دنیا میں محمد عبدہ جیسے لوگوں کو شمار کیا جاتا ہے۔ علم کی اسلامی تشکیل کے حامیوں نے یہ بنیادی تصور پیش کیا کہ علوم وافکار کسی تہذیب کے تصورِ کائنات سے جدا نہیں ہوا کرتے، اس لیے انھیں انسانیت کے لیے حقیقی معنوں میں کارآمد بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے غیر صالح اجزا کی اصلاح کی جائے۔(۱) اس تصور میں علم کی ثنویت (عقلی اور نقلی کی تقسیم ) کی نفی بھی ملتی ہے۔
عالمی ادارہ فکر اسلامی نے عالم عربی کو اس مسئلے سے متعارف کروانے کے لیے ایک مجلہ اسلامیۃ المعرفۃ کے نام سے شائع کرنا شروع کیا۔اس مجلے کے پہلے شمارے میں ڈاکٹر طہ جابر اس کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’مجلہ اسلامیۃ المعرفۃ ایک دو گونہ اور نہایت بھاری اور مشکل ذمے داری سے عہدہ برآ ہونے کی کاوش ہے۔ وہ ذمے داری یہ ہے کہ مسلمانوں کی قرآنِ کریم سے دوری کی موجودہ صورتِ حال کو ختم کیا جائے اور ان میں اپنے منہجی اور علمی خصائص کے ساتھ شعوروآگہی پیدا کی جائے تاکہ انھیں پتہ چلے کہ قرآن کو کس طرح اپنے زمانی کی سطح پر پڑھا جائے اور اس کے ساتھ کائنات کے مطالعے کو جمع کیا جائے؛ تاکہ وہ اس کے وجود کو ختم کرنے والی ان کارروائیوں کے مقابلے میں اپنے تشخص کی حفاظت کر سکے جن کی زمامِ کار مغرب کے ہاتھ میں ہے اور وہ دنیا کو اپنے تصورِ حیات اور اقتدار کے مطابق ڈھالنے کے درپے ہے۔‘‘(۲)
اس سلسلے میں وہ علم وحی اور علم جدید سے برابر استفادے کے داعی تھے اور اپنی کئی تحریروں میں اس پر زور دیا ہے۔ تجددِ محض اور تجمد محض کی دو انتہاؤں پر گفت گو کرتے ہوئے علم کی اسلامی تشکیل (Islamization of Knowledge یا اسلامیۃ / اسلمۃ المعرفۃ) کی تحریک کے نشو وارتقا کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ایک منہجی نقطہ نظر کی ضرورت کے تحت علم کی اسلامی تشکیل کا تصور سامنے آیا۔ یہ ایک فکری سرگرمی اور علمیاتی زاویہ نظر ہے جو انسانی اور طبعی دونوں طرح کے علوم کی تشکیلِ جدید کی کوشش ہے اور اپنے اہداف، نتائج اور تطبیق کے اعتبار سے اسلامی اصولوں پر استوار ہے۔ یہ تصور مطالعہ وحی اور مطالعہ کائنات کے درمیان حائل ہونے والی خلیج کو پاٹنے کی سعی ہے؛ کیوں کہ صرف وحی کی تعلیمات پر اکتفا کرلینا اور کائنات سے صرفِ نظر کر لینا پیش آمدہ صورتِ حال ، فطرت اور زندگی کے ادراک کے باب میں پسپائی کا سبب بنا ہے اور صرف تجربے اور مشاہدے پر انحصار دین و دنیا کی جدائی کے ان مظاہر کا سبب بنا جن کا پہلے ذکر ہوا ہے۔‘‘ (۳)
اپنی کتاب الازمۃ الفکریۃ المعاصرۃ (موجودہ فکری بحران) میں انھوں نے اسلام اور مغرب کی کشمکش کے مختلف مراحل اور ان کے مقابلے میں مسلم دنیا میں پیدا ہونے والے رویوں اور رجحانات کو جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ موجودہ چیلنج کے فیصلہ کن مرحلے کو واضح کرتے ہوئے وہ اس بات پر پر اعتماد ہیں کہ اسلام ہرزمان ومکاں میں راہ نمائی کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، تاہم عملی طور پر ہمارے لیے صرف دو ہی صورتیں ہیں:یا تو ہم امت کو اس بات پر اعتماد بخش سکیں کہ انسانیت کے لیے مغرب کے مقابلے میں ہم ہی مناسب متبادل ہیں اور صحیح اور درست ثقافت پیش کرسکتے ہیں یا پھر ہم پسپائی اختیار لیں۔ ہمارے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ مغرب نے زندگی کے کئی میدانوں میں جو غیر معمولی برتری کا لوہا منوایا ہے اور بعض میں وہ ناکام ہوا ہے، ہم فکر، کلچر، تہذیب اور علم کے میدانوں میں متبادل فراہم کریں۔(۴)
ڈاکٹر طہ جابر کے نزدیک علم کے اسلامیانے کا تصور کوئی اجنبی چیز نہیں ہے بلکہ قدما میں محاسبی، ابن عربی اور امام رازی وغیرہ کے ہاں اس کی بنیادیں ملتی ہیں۔(۵)
تدبرِقرآن کا منہج
قرآنِ کریم کے تعلق سے اس کتاب پر تدبر کا ان کا ایک خاص زاویہ نظر تھا۔وہ اس کتاب پر تدبر کے لیے موضوعی وحدت کے منہج کے داعی تھے جس کی بنیادی فکر اپنی کتاب الوحدۃ البنائیۃ فی القرآن میں پیش کی ہے۔ قرآنِ کریم میں موضوعی وحدت کا مطلب یہ ہے کہ قرآنی سورتوں کے اجزا کو منتشر اکائیوں کی شکل میں نہ دیکھا جائے بلکہ ہر سورت کا ایک مرکزی مضمون ہوتا ہے اور باقی اجزا اس کے ساتھ حکیمانہ طور پر مربوط ہوتے ہیں۔ علامہ شبلی نعمانی نے" الفاروق "میں ایک اہم تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ’’تمدن کے زمانے میں جو علوم وفنون پیدا ہو جاتے ہیں، ان میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جن کا ہیولیٰ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ تمدن کے زمانے میں وہ ایک موزوں قالب اختیار کر لیتا ہے اور پھر ایک خاص نام یا لقب مشہور ہو جاتا ہے۔‘‘ ( ۶) اس اصول کو پیش نظر رکھا جائے تو قرآنِ کریم میں موضوعی وحدت کی فکر کی بنیادیں ہمیں قدما کے ہاں ملتی ہیں، لیکن ایک مربوط فن کی حیثیت سے یہ طرز بیسویں صدی میں سامنے آیا ہے۔ اس طریقِ تفسیر کو سب سے مربوط اور جامع شکل میں مولانا حمید الدین فراہی نے پیش کیا اور اس کو نہ صرف عملاً برت کر دکھایا بلکہ اس کے لیے اصول بھی وضع کیے۔( ۷) عرب دنیا میں سید قطب اور شیخ سعید حویٰ کا طریق تدبر بھی اس نہج کا جز ہے اور اب مسلم دنیا بڑے پیمانے پر اس طرزِ تفسیر کی طرف متوجہ ہو چکی ہے۔ ایران میں خاص طور پر علامہ باقر الصدراور شیخ حسین الطباطبائی کے نام اس سلسلے میں لیے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طہ جابر نے اس فکر کی بنیادیں قدما میں عبدالقاہر جرجانی اور ابو علی فارسی کے ہاں تلاش کی ہیں۔
قرآنِ کریم میں موضوعی وحدت کے داعی مفسرین یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ اس طریق تفسیر سے ایک ایک آیت کے کئی کئی احتمالات اور تفسیروں میں سے راجح ترین تفسیر کا انتخاب آسان ہوتا ہے اور یہ طرز آپس کے اختلافات کو دور کرنے کے لیے بھی نہایت ضروری ہے۔ اسی طرزِ تدبر کے باعث ڈاکٹر طہ جابر قرآنِ کریم کو "حمال ذو وجوہ" تسلیم کرنے میں متردد ہیں۔اس کو دوسرے الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ وہی بات ہے جسے مولانا فراہی قرآن کے قطعی الدلالۃ ہونے سے یاد کرتے ہیں۔( ۸) چند سال قبل ڈاکٹر طہ کے چھوٹے بھائی مصطفی جابر فیاض العلوانی کی ایک کتاب عالمیۃ الخطاب القرآنی، دراسۃ تحلیلیۃ فی السور المسبحات کے نام سے شائع ہوئی جس پر ڈاکٹر طہ جابر نے پیش لفظ تحریر کیا ہے۔(۹) اس میں ایک جگہ لکھا ہے:
’’روایت کی نسل نے علم ، فقہ کی نسل کے ہاتھ میں تھمایا اور فقہ و افتا کے حاصلات ظہور پذیر ہونے لگے جن کے ساتھ کچھ غلط افکار بھی در آئے، جیسے یہ اصول کہ "نصوص محدود ہیں جب کہ حوادث غیر متناہی ہیں" اور یہ اصول کہ " قرآن کئی وجوہ کی محتمل کتاب ہے۔‘‘ (۱۰)
قرآنِ کریم میں موضوعی وحدت کی دعوت کے ساتھ ڈاکٹر طہ جابر قرآنِ کریم کو علم جدید کے ساتھ مربوط کر کے دیکھنے کے داعی ہیں۔ اپنی کتاب الجمع بین القراء تین: قراء ۃ الوحی وقراء ۃ الکون (۱۱ )میں انھوں نے یہی تصور پیش کیا ہے۔ڈاکٹر طہ جابر نے "فقہ الاقلیات"(جس کا ذکر آگے آتا ہے) کے اصولوں میں بھی اس اصل کو بنیادی حیثیت دی ہے۔
قرآنِ کریم کے بارے میں یہ معروف اصول ہے کہ القرآن یفسر بعضہ بعضًا، یعنی قرآن خو د اپنی تفسیر آپ کرتا ہے، تاہم اس اصول کو برتنے کے مختلف پہلوؤں کی طرف جدید دور میں زیادہ توجہ مبذول ہوئی ہے۔ قرآنِ کریم کی زبان کے اسالیب اور اس کے بلاغی خصائص کے لیے بھی ڈاکٹر طہ جابر کے نزدیک خودقرآن ہی کی زبان کو حاکم بنانا ضروری ہے نہ کہ اس کے باہر طے کیے گئے لسانی اصولوں کو؛ اس اصول کو نظر انداز کرنے کی عملی خرابی یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی بعض آیات کی نحوی تالیف کے بارے میں قدیم دور سے لے کر آج تک مستشرقین کو اعتراضات کا موقع ملا ہے۔( ۱۲) ڈاکٹر طہ جابر سے پہلے یہی بات امام شاہ ولی اللہ دہلوی نے بھی لکھی ہے۔ ( ۱۳)
اختلاف و افتراق
امت کا سب سے بڑا مسئلہ: امت مسلمہ کے جن مسائل پر ڈاکٹر طہ جابر فکر مند تھے، ان میں سے باہمی اختلاف و انتشار کا مسئلہ ان کے نزدیک بڑے مسائل میں تھا۔ اسلام میں اختلاف کی حدود و آداب اور اس کے تعامل پر ایک عمدہ کتاب ادب الاختلاف فی الاسلام تحریر کی۔ اس کے مقدمے میں لکھتے ہیں:
’’امت مسلمہ کو جو سب سے خطرناک مرض لاحق ہوا ہے، وہ اختلاف اور مخالفت ہے۔یہ وہ شدید اور متعدی مرض ہے جو ہر میدان، علاقے اور سماج پر سایہ فگن ہے اور اس نے سوچ، عقیدے، تصورات، آرا، ذوق، چلن، طرزِ عمل، اخلاق، طرزِ زندگی، طریق تعامل، طرزِ گفت گو، تمناؤں اور قریب ودورکے مقاصد کو اپنے مکروہ دائرے کی لپیٹ میں لے لیا ہے، یہاں تک کہ اس نے اپنی سیاہ ڈائن کو دلوں کی دنیا پر محیط کر دیا ہے جس کے نتیجے میں فضا، اوہام کے بادلوں سے ابر آلود کر بنجر دلوں کی سرزمین پر مصروفِ بارش ہے جس نے باہم برسر پیکار اور جوتم پیزار میں مشغول لوگوں کو وجود بخشا ہے ؛ گویا اس امت کے پاس جتنے بھی اوامر ونواہی اور تعلیمات ہیں، بس اختلاف ہی کو ہوا دیتے ہیں اور باہمی لڑائی اور جھگڑے ہی کی دعوت دیتے ہیں۔‘‘ (۱۴)
کتاب میں اختلاف کی حقیقت، اس کی اقسام ، مسلم تاریخ میں واقع ہونے والے عہد بہ عہد اختلافات ، ائمہ فقہا کے اختلافات اور ان کی نوعیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس کے بعد قرونِ خیر کے بعد کے اختلافات کی حقیقت پر گفت گو کی ہے کہ کس طرح یہ اختلاف محمود سے مذموم کے دائرے میں داخل ہوتے چلے گئے اور پھر وہ صورتِ حال سامنے آئی جس کا سامنا اس وقت ہم سب کو ہے۔ موجودہ اختلافات و انتشار کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آج مسلمانوں کے باہمی اختلاف کے سب سے اہم اور نمایاں اسباب اسلام سے ناواقفیت یا اس کا ناقص علم ہے۔( ۱۵) اس کی بنیادی وجہ ظاہر ہے علم دین کی ناقدری ہے۔ اس صورتِ حال پر ان کا تبصرہ حقیقت پسندانہ ہے اور آج اگر ہم دینی مدارس کے فضلا کے حالات پر نظر ڈالیں تو یہ بات بالکل بجا محسوس ہوتا ہے؛ لکھا ہے:
’’اکثر اسلامی ممالک میں دینی تعلیم کے طالب علم کم ہو گئے اور اس کا معیار پست ہو گیا اور اس طرف رخ کرنے والوں میں سے اکثر کی صورتِ حال اس شخص کی سی ہو گئی جو زمین میں کاشت کاری کرے لیکن اسے اس کا پھل پانے کی امید نہ ہو۔اس تعلیم کی طرف خاص حالات ہی انھیں متوجہ کرتے ہیں اور فراغت کے بعد بھی انھیں ان حالات کے جبر سے رست گاری نہیں مل پاتی؛ چناں چہ ان کے دروازے بند ہوتے ہیں اور وہ معاشرے میں ایک عالم کو جو کردار ادا کرنا چاہیے، وہ اسے ادا کرنے اور اس سے مربوط پیغام کے ابلاغ سے قاصر ہوتے ہیں ۔ان بند دروازوں کے سامنے ان کی استقامت جواب دے جاتی ہے ، شخصیت ماند پڑ جاتی ہے اور ناچار وہ سرکاری طور پر قائم شدہ اداروں کے نظام میں بندھ جاتے ہیں جو خاص سرکاری اہداف کو پورا کرنے کے لیے بنائے گئے ہوتے ہیں اور وہ ان سے تجاوز نہیں کر سکتے، چنانچہ ان کے اور سماجی کردار کی ادائیگی میں رکاوٹیں کھڑی ہو جاتی ہیں اور لوگوں کا ان پر اعتماد بھی باقی نہیں رہتا۔‘‘ ( ۱۶)
اس کتاب میں ڈاکٹر طہ جابر چوتھی صدی کے بعد مسلم امت میں اجتہاد کا دروزہ بند ہونے کا درد کے ساتھ ذکر کرتے ہیں اور امت مسلمہ کے موجودہ دور تک پہنچنے میں اس عنصر کو بنیادی حیثیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چوتھی صدی ہجری سے اجتہاد ختم ہوگیا اور اس کا آفتاب غروب ہوگیا اور تقلید عام ہو گئی۔ ( ۱۷)اس کے بعد اس کے نتائج اور عواقب پر تفصیل سے گفت گو کی ہے۔ ان کی دیگر تحریروں میں بھی اس بات کا تکرار ملتا ہے۔
یہ بات اس وقت عام طور پر جدید دانش ور طبقے کے ہاں معروف ہے کہ چوتھی صدی کے بعد اجتہاد کا دروازہ بند ہوگیا تھا۔ اس سے پیدا ہونے والی مایوسی کے آثار اس طرح کے مفکرین کی تحریروں میں بہ کثرت ملتے ہیں اور ڈاکٹر طہ جابر کی تحریروں میں بھی یہی عنصر دیکھنے کو ملتا ہے۔ مسلم دنیا کے سنجیدہ اہلِ علم یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس بات کا سب سے زیادہ پروپیگنڈا اہل مغرب نے کیا تاکہ اسلامی قانون کو ایک جامد چیز ثابت کیا جائے جو ہرزمان و مکاں میں رہ نمائی کی صلاحیت سے عاری ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے معروف خطبات میں کہا تھا : The closing of the door of Ijhtihad is pure fiction. یعنی بابِ اجتہاد بند ہونے کی بات نرا افسانہ ہے۔ معروف اقبال شناس جناب سہیل عمر نے اقبال کے اس نکتے پر اپنی مختصر کتاب "زنجیر پڑی دروازے میں" میں عمدہ گفت گو کی ہے اور امت میں اجتہاد کے عمل کے جاری رہنے کو عمدگی سے واضح کیا ہے۔ ( ۱۸) اس کے علاوہ اس افسانے کی تردید میں بعض غیر مسلم اہل علم نے بھی قلم اٹھایا ہے۔ فقہ اسلامی کی تاریخ کے نام ور عیسائی مصنف Wael B. Hallaq کا ایک تفصیلی مضمون اس سلسلے میں قابلِ مطالعہ ہے۔ ( ۱۹) مولانا ابوالحسن علی ندوی نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں" پر تنقید کرتے ہوئے بجا طور پر لکھا تھا کہ:
’’ان عبارتوں کا پڑھنے والا جس کا مطالعہ وسیع اور گہرا نہیں ہے اور جو اس حقیقت سے واقف نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عام گمراہی اور دین سے ایسی ناشناسائی سے محفوظ رکھا ہے جو زمان و مکاں کی حدود سے بے نیاز ہو کر ساری امت پر سایہ فگن ہو، یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ قرآن مجید کی حقیقت اس طویل مدت تک امت کی (یا زیادہ محتاط الفاظ میں امت کے اکثر افراد کی ) نگاہوں سے اوجھل رہی اور امت بحیثیت مجموعی ان بنیادی الفاظ کی حقیقت ہی سے بے خبر رہی۔ ۔۔۔یہ نتیجہ اگرچہ بادی النظر میں کچھ زیادہ اہم اور سنگین نہ معلوم ہو، لیکن اس کے اثرات ذہن ودماغ اور طرزِ فکر پر بڑے گہریا ور دوررس ہیں، اس لیے کہ یہ اس امت کی صلاحیت ہی میں شک و شبہ پیدا کر دیتا ہے۔ ۔۔۔ اور اس سے اس امت کی گذشتہ تاریخ ، اس کے مجددین، مصلحین اور مجتہدین کے علمی وعملی کارنامے بھی مشکوک اور کم قیمت ہو جاتے ہیں۔‘‘ ( ۲۰)
بعض فقہی مسائل میں اجتہادی زاویہ نظر
سزاے مرتد کا مسئلہ
عصر حاضر میں جو مسائل کثرت سے زیر بحث آئے ہیں، ان میں اسلام کو چھوڑ کر کسی اور دین کو اختیار کرنے (ارتداد) کی سزا کا مسئلہ بھی ہے۔ ہمارے روایتی فقہی موقف میں اس کی سزا، جیسا کہ معروف ہے، قتل ہے۔( ۲۱) ڈاکٹر طہ جابر فیاض کی فقہی موضوعات پر لکھی تحریروں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بعض مسائل میں جمہور کی رائے سے ہٹ کر آرا کے حامل ہیں۔ دورِ حاضر کے معروف مصنفین میں حسن الترابی کا نقطہ نظر بھی ہے جو اسی دن فوت ہوئے جس دن ڈاکٹر طہ جابر کا انتقال ہوا۔ مثال کے طور پر مرتد کی سزا کے مسئلے میں ان کا موقف عام نقطہ نظر کے برعکس ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرتد کی سزا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی احادیث سے ثابت نہیں ہے اور آپ کے زمانے میں اس قتل کا عملی واقعہ کوئی بھی نہیں ملتا۔ وہ اس سلسلے میں کسی اجماع کا انکار کرتے ہیں۔( ۲۲) ڈاکٹر طہ جابر کی اس کتاب کے مشمولات پر مختلف پہلوؤں سے نقدو نظر ممکن ہے، چنانچہ اس کتاب پر ایک ضمیمہ شیخ عبداللہ ابن شیخ المحفوظ بن بیہ کا ہے جس میں انھوں نے بعض باتوں سے اختلاف کیا ہے۔ڈاکٹر طہ جابر کی فکر میں اس طرح کے مسائل کی وجہ سے وہ عرب اہل علم کے ہاں نقدونظر کا موضوع رہے ہیں۔
فقہ الاقلیات
ڈاکٹر طہ جابر کے فکری امتیازات میں "فقہ الاقلیات" کا جامع اور مربوط تصور بھی ہے۔ دورِ جدید کی تمدنی ضروریات کے تحت کئی مسلمان ہجرت کر کے غیر مسلم ممالک میں جا بسے ہیں اور انھیں وہاں رہتے ہوئے کئی نسلیں گزر گئی ہیں۔ یہ مسلمان وہاں کی غالب اکثریت کے مقابلے میں اقلیت میں ہیں۔وہاں کے سیاسی اور تمدنی مسائل میں مساوات ان اقلیتوں کا ایک بنیادی مطالبہ ہے۔اس کے ساتھ عالم گیریت کے تقاضوں کے نتیجے میں اب بہت سے مسائل ہمیں اپنے دیار میں رہ کر درپیش ہیں۔ اسلامی طرزِ زندگی، اس کی مابعدالطبیعی اساسات اور نظامِ اخلاق کے پیش نظر غیر مسلم معاشروں میں ان مسلمانوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو مسلم سماج میں رہ کر پیش نہیں آتے۔ اس لیے ان کے لیے ایک جامع نظامِ فکر کی تدوین کو ڈاکٹر طہ جابر جیسے مفکرین نے ضروری قرار دیا۔ اس متنوع الابعاد نظام کو دیکھتے ہوئے ظاہر ہے کہ "فقہ الاقلیات" میں "فقہ" سے مراد صرف اسلامی قانون کے مسائل نہیں ہیں، بلکہ اس کی حیثیت "فقہ اکبر " کی ہے جو عقائد، نظم زندگی اور دیگر امور کی تعبیر نو اور تشکیل جدید سے تعلق رکھتی ہے۔ ( ۲۳) اس اعتبار سے ڈاکٹر طہ جابر فقہ اسلامی کی تجدید کے داعی مفکرین میں سے تھے جن کے پیش نظر اصل چیز "فقہ الواقع" تھی۔
اصولِ فقہ کے میدان میں خدمات
اصولِ فقہ آپ کا خاص میدان تھا اور پی ایچ ڈی اسی میدان میں کی۔پی ایچ ڈی میں آپ کی تحقیق کا موضوع امام فخر الدین رازی کی اصولِ فقہ پر کتاب ’’المحصول فی علم اصول الفقہ‘‘ کی تحقیق و تدوین تھی جسے جامعۃ الامام محمد بن سعود (ریاض) نے شائع کیا۔ آج ڈاکٹر طہ جابر کا چھے جلدوں میں تحقیق شدہ نسخہ عرب دنیا میں سب سے معتبر سمجھا جاتا ہے۔اس کتاب کا ایک مبسوط مقدمہ انھوں نے قلم بند کیا تھا لیکن جامعہ میں اس کی اشاعت سے اس لیے انکار کر دیا گیا کہ اس میں مصنف نے امام رازی کو امام ابن تیمیہ پر فضیلت دی ہے جو کہ اس کے اشعری ہونے کی دلیل ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ محسن ترکی نے اس معاملے کو ہاتھ میں لیا اور یہ حصہ کہیں اور طبع کرنے کی تجویز دی جو اب مستقل کتاب کی شکل میں دارالسلام قاہرہ سے شائع ہوتا ہے۔ ( ۲۴)
اصولِ فقہ سے گہری وابستگی کے باعث ڈاکٹر طہ جابر کی تحریروں میں بعض بڑے عمدہ نکات ملتے ہیں جو مستقل تحقیق کا موضوع بن سکتے ہیں۔ آپ کے ایک بھائی جابر فیاض العلوانی کی اس سے پہلے وفات(5 مارچ 1987ء) ہو چکی ہے۔ ان کی کتاب "الامثال فی القرآن الکریم" پر ڈاکٹر طہ جابر کا پیش لفظ ہے۔ اس میں انھوں نے قرآنی امثال کی معنویت پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ امثال احکام شرعیہ کا ایک مصدر ہیں۔ان امثال میں حسن و قبح کا پہلو بھی ملتا ہے جس سے حلت ، حرمت اور کراہت کے فقہی موضوعات کو مربوط کر کے دیکھنا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے امام شافعی نے امثالِ قرآنی کی معرفت کو مجتہد کے لیے لازم قراردیا ہے۔ان امثال کا دوسرا پہلو "قیاسِ اصولی" کا ہے جس پر سائنس کے تجربی منہج کی اٹھان ہوئی ہے، اس لیے امثالِ قرآنی کے ان پہلوؤں پر تحقیقی کام کی ضرورت ہے۔ ( ۲۵)
حواشی
۱۔ انیسویں صدی میں یہ جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے بارے میں قدر آزاد (Valure free)نظریے کا عمومی چلن تھا، لیکن بیسویں صدی میں اس نقطہ نظر میں تبدیلی آئی اور جدید سرمایہ دارانہ علمیت کے ناقدین نے یہ قرار دیا کہ یہ چیزیں کسی طرح بھی قدر آزاد نہیں ہیں۔اگرچہ یہ نظریہ اب تقریباً مکمل طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے، تاہم مسلم دنیا کے بعض مفکرین ابھی بھی مغربی ٹیکنالوجی کے ایک حصے کے بارے میں رائے رکھتے ہیں کہ اسے بلاجھجک قبول کرنے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے؛ چنانچہ نام ور مصنف اور مفکر سید حسین نصر کہتے ہیں :
I am the last person in the world to think that Islamic civilization can choose a part of Western technology which is considered good, claim it is completely harmless, and then reject another part.
(میں اسلامی دنیا کا شاید واحد فرد ہوں جو یہ رئاے رکھتا ہے کہ اسلامی تہذیب مغربی ٹیکنالوجی کے ایک حصے کواپنا سکتی ہے جو کہ اچھا ہے اور اس کے بارے میں یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ وہ مکمل طور پر بے ضرر ہے، جب کہ دوسرے حصے کو مسترد کر دے۔)
(Seyyed Hossein Nasr in Conversation with Muzaffar Iqbal, Islam, Science, Muslims and Technology (Islamabad: Dost Publications, 2007), 57.)
۲۔ طہ جابر العلوانی، لما ذا اسلامیۃ المعرفۃ؟ در اسلامیۃ المعرفۃ، العدد الاول،ص 29۔
۳۔ طہ جابر العلوانی، مقدمۃ فی اسلامیۃ المعرفۃ (بیروت: دار الہادی للطباعۃ والنشر، 2001ء)،ص 186۔
۴۔ طہ جابر العلوانی، الازمۃ الفکریۃ المعاصرۃ (ورجینا: المعہد العالمی للفکر الاسلامی، 1994ء)، 24۔
۵۔ نفس مصدر۔
۶۔ شبلی نعمانی،الفاروق (کراچی: دارلاشاعت، 1991ء )، ص 22۔
۷۔ مولانا فراہی نے قرآن میں موضوعی وحدت کو نظم یا نظام کا نام دیا ، اس کے لیے ان کے اصول ان کی کتابوں دلائل النظام، التکمیل فی اصول التاویل اور ان کی ناتمام تفسیر نظام القرآن وتفسیر الفرقان بالفرقان میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کے شاگرد مولانا امین احسن اصلاحی نے انھی اصولوں کو بڑھاتے ہوئے اردو میں اپنی معروف تفسیر تدبرِ قرآن تحریر کی۔
۸۔ حمید الدین فراہی،مقدمہ تفسیر نظام القران،ترجمہ: امین احسن اصلاحی(اعظم گڑھ: دائرۂ حمیدیہ، س۔ن)، ص 45۔
۹۔ مصطفی جابر فیاض العلوانی، عالمیۃ الخطاب القرآنی، دراسۃ تحلیلیۃ فی السور المسبحات،پیش لفظ ا۔د۔ طہ جابر العلوانی (ورجینا: المعہد العالمی للفکر الاسلامی، 2012ء)، 14۔
۱۰۔ یہاں یہ بات پیشِ نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ ڈاکٹر طہ جابر نص قرآنی کے "ثابت" اور "متغیر" معانی میں فرق کرتے ہیں اور دوسری نوع کے پہلو سے قرآنِ کریم کی "قراء تِ مفاہیمہ" کی ایک معجم تیار کرنے کے عمل کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کی اس فکر میں مطالعہ نص میں جدید Semantics کے اصولوں کا لمس کارفرما نظر آتا ہے اور جس کی بنیادیں اسلامی تراث میں علامہ شاطبی جیسوں کے ہاں ملتی ہیں۔
۱۱۔ اس کتاب کے نام سے ہمارے یہاں ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی کتاب "دو قرآن" کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے۔ برق لکھتے ہیں :"دو قرآن میں جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے، بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک نہیں، دو ہیں۔ایک وہ جو کتاب کی شکل میں ہر مسلمان کے گھر میں موجود اور ہر حافظ کے سینے میں محفوظ ہے اور دوسرا وہ کائناتِ ارض و سما کی شکل میں ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔۔۔ ایک قرآن میں لکھی ہوئی آیتیں ہیں اور دوسرے میں عمل وحرکت کرتی ہوئی آیتیں؛ ایک قرآن اصول و قوانین کا ضابطہ ہے اور دوسرا اس کی عملی تشریح۔"(غلام جیلانی برق، دو قرآن(لاہور: الفیصل)، ص 10۔
۱۲۔ اس سلسلے میں پانچ آیات ایسی ہیں جن کو قدیم دور میں بھی موردِ طعن بنایا گیا جن کا جواب دینے کے لیے امام رازی نے بھی تعرض کیا۔البقرۃ177، النساء 162، المائدۃ69، ط?6، المنافقون10۔
۱۳۔ شاہ ولی اللہ دہلوی، الفوز الکبیر فی اصول التفسیر، تعریب: مولانا انور بدخشانی (کراچی: بیت العلم، 2006ء)، ص 101۔
۱۴۔ طہ جابر العلوانی، ادب الاختلاف فی الاسلام (ورجینیا: المعہد العالمی للفکر الاسلامی، 1992ء )، 8۔
۱۵۔ ادب الاختلاف فی الاسلام، 150۔
۱۶۔ نفس مصدر، 151۔ 152۔
۱۷۔ نفس مصدر، 135۔
۱۸۔ دیکھیے: سہیل عمر، زنجیر پڑی دروازے میں(لاہور: اقبال اکادمی، 2010ء4 )۔
19 - Wael B. Hallaq, "Was the Gate of Ijtihad Closed?" in International Journal of Middle East Studies (March 1984), pp. 3- 41.
انٹرنیٹ پر یہ مقالہ دست یاب ہے۔
۲۰۔ ابوالحسن علی ندوی، عصر حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح(کراچی: مجلس نشریاتِ اسلام)، ص 34۔
۲۱۔ اردو میں اس نقطہ نظر کے ایک جامع مطالعے اور دلائل کے لیے دیکھیے: سید ابوالاعلیٰ مودودی، مرتد کی سزا (لاہور:اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ)۔
۲۲۔ دیکھیے: طہ جابر العلوانی، لا اکراہ فی الدین: اشکالیۃ الردۃ والمرتدین من صدر الاسلام الی الیوم (ورجینیا: المعہد العالمی للفکر الاسلامی، قاہرۃ: مکتبۃ الشروق الدولیۃ، 2006ء )۔
۳۳۔ فقہ الاقلیات پر ڈاکٹر طہ جابر نے فی فقہ الاقلیات نامی مختصر کتاب تحریر کی ہے۔
۳۴۔ دیکھیے: طہ جابر العلوانی، فخر الدین الرازی ومصنفاتہ (قاہرہ: دارالسلام، 2010ء )، ص 6۔
۳۵۔ دیکھیے: محمد جابر الفیاض، الامثال فی القرآن الکریم، پیش لفظ، طہ جابر العلوانی (ریاض: الدار العالمیۃ للکتاب الاسلامی، 1995ء)، ص 13۔ 14۔
مولانا محمد عبید اللہ اشرفی رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
جامعہ اشرفیہ کے مہتمم، سراپا اخلاق و تبسم، زندہ دل، خندہ جبیں، علم و حلم کا حسین امتزاج، شکوہ علم کے بغیر کوہ علم اور زعم تقویٰ سے خالی زبدہ اتقیا ء۔اتنے بے تکلف کہ شاگرد سراپا حیرت رہ جاتے اور اتنے مودب کہ معاصرین کو اساتذہ کا سا درجہ دیتے۔ حدیث کے زیر سایہ منطق کلام تصوف یا فقہی مناظرہ آراء کی تدریس ایک الگ پہلو ہے، لیکن حدیث بحیثیت حدیث کی تدریس میں ان کو تفوق حاصل تھا۔ تاہم نہ صرف یہ کہ کبھی بخاری پڑھانے کی خواہش نہیں کی بلکہ ہمیشہ اپنے کو شیوخ حدیث کے شاگردوں کی سطح پر رکھا۔
صبح صبح ہمیں ابوداود اور پھر طحاوی پڑھانے آتے تو کبھی اس نشست پر نہیں بیٹھے جو استاذ حدیث کے لیے مختص تھی۔ ایک کنارے پر ایک پاؤں مسند سے نیچے رکھ کر بیٹھ جاتے اور اپنی بے پناہ مترنم آوازمیں حدیث کا مفہوم، معانی، مطالب، توجیہات، تنقیحات، تعارض، توافق، تطبیق، سب ایک ایک کر کے بیان کرتے لیکن نہ زعم تحقیق نہ علمی طنطنہ نہ بیاض نہ نوٹس نہ رٹا۔ اتنے دلآویز انداز میں قال ابو داود کہہ کر اس کی تشریح کر تے کہ اس وقت بھی ان کی مترنم آواز میری سماعت میں رس گھول رہی ہے۔
وہ اصل میں کیا تھے؟ فنون لطیفہ کے حسن امتزاج سے جو پیکر مجسم ہو سکتاہو اسے نام دیا جائے تو وہ مولانا عبیداللہ تھے۔ سنا ہے جوانی میں انہوں نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی تھی اور ریاض کرتے رہے تھے۔ جن احباب نے ان سے حماسہ پڑھی ہے، وہی ان کے جذب و شوق اور عشق و وارفتگی سے بخوبی آگاہ رہے ہو ں گے۔
جب اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر تھے تو اتفاق سے میں کونسل کے دفتر گیا تو وہاں نیاز حاصل ہوئے۔ انہیں کمیٹی چوک پنڈی اپنے کسی عزیز کے ہاں جانا تھا۔میری درخواست پر میرے ساتھ بیٹھ گئے۔ راستے میں مجھے مزے مزے کے اشعار بھی سناتے رہے جن میں سے ایک ابھی تک حافظے میں محفوظ ہے:
رکھ کے لب سو گئے ہم آتشیں رخساروں پر
دل کو تھا چین کہ نیند آگئی انگاروں پر
اسی دوران میں میرے سوال پر کہ دیگر مدارس کے بر عکس فضلائے جامعہ اشرفیہ میں شدت پسندی نہیں ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ بانی جامعہ حضرت مفتی محمد حسن صاحب کے مزاج کا اثر ہے۔ پھر اس پر واقعہ بھی سنایا کہ لاہور کے چند جید علماء دیوبند و اہل حدیث نے جن میں مولانا احمد علی لاہوری اور مولانا داود غزنوی شامل تھے، ایک فتویٰ تیار کیا جس کا مفاد یہ تھا کہ عید میلاد النبی کا جلوس نکالنا بدعت ہے اور ایک وفد کی شکل میں مولانا مفتی محمد حسن بانی جامعہ اشرفیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس پر دستخط کرنے کی درخواست کی۔ مفتی صاحب نے ٹالنے کی کوشش کی، لیکن جب علماء نے اصرار کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر دستخط کرنے سے انکار کر دیا کہ’’میرے خیال میں جس طرح کوئی اللہ رسول کا نام لے، اسے لینے دیا جائے۔‘‘
آج کی بات نہیں، میں ہمیشہ سے یہ سوچتا ہوں کہ انسان اتنا متوازن کیسے ہو سکتا ہے جس قدر استاذ گرامی قدر متوازن تھے۔ اہل علم اپنے احساس علم کے طمطراق کے اسیر ہو جاتے ہیں اور اہل دل عزت نفس بر قرار رکھنا بھی عجب (عین کی پیش ) سمجھتے ہیں۔ نہ معلوم انہوں نے کس طرح اپنے آپ کو پیکر توازن میں ڈھال لیا تھا۔ تھانوی مکتب خیال سے متعلق ہونے کے باوجود اس مکتب فکر کی منفی خصوصیات سے کوسوں دور۔ حدیث پڑھانا یقیناًبہت بڑی سعادت ہے اور حاصل نہیں ہو سکتی تا نہ بخشد خدائے بخشندہ، لیکن شخصیت کو سنت کے قالب میں اس طرح ڈھال لینا کہ ہر دیکھنے اور ملنے والا دام محبت میں اسیر ہوجائے، کاروان اصحاب رسول کا امتیاز تھا۔ نہ معلوم آج کے دور میں کچھ شخصیات پر ایسی محبوبیت کا نزول کیسے ہوتا ہے۔
مجھے زیادہ موقع نہیں ملا، لیکن ایک دوبار مولانا خیر محمد جالندھری اور مولانا محمد علی جالندھری کی مجالس میں بیٹھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ نہ معلوم ان کی شخصیات کنن سی مقناطیسی قوت اور کس نوع کی کشش ثقل لے کر آئی تھیں کہ ان کی طرف دل کھنچا چلا جاتاتھا۔ مولانا عبید اللہ اسی قافلے کے آخری مسافر تھے اور بقول آغا شورش کاشمیری
القصہ ایک عہد صحابہ کی یاد گار
ان کا وجود نغمہ طراز حجاز تھا
مولانا محمد عبید اللہ اشرفی رحمہ اللہ
مولانا مفتی محمد زاہد
حضرت مولانا عبید اللہ صاحب بھی اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا واقعی ان شخصیات میں سے تھے جن کے معاصرین میں سے کسی کو ان کا مماثل نہیں کہا جاسکتا۔ علامہ انور شاہ کشمیری اور مرشد تھانوی سے نیاز حاصل کرنے والی پاکستانی کی شاید آخری شخصیت۔ علم فطانت ، ذہانت، حاضر جوابی ، بڑوں کی نسبتوں کے باوجود امتیاز پسندی کا نام ونشان تک نہیں۔ خشکی قریب سے نہیں گذری تھی۔ خود کو متقی ، عابد وزاہد ثابت کرنے کے لیے بھی کبھی خشک بننے کا تکلف نہیں کیا ہوگا۔ آخر عمر تک دورہ حدیث میں طحاوی کی شرح معانی الآثار کا درس دیتے رہے، حالانکہ بخاری جیسی کوئی معروف کتاب بھی لے سکتے تھے۔
مولانا کو یہ خاص امتیاز حاصل تھا کہ انہوں نے فارسی کی ابتدائی کتب سے لے کر صحیح بخاری تک ساری درسی کتب کا پہلا سبق حضرت مولانا تھانوی رحمہ اللہ سے پڑھا تھا۔ اس طرح سے اس وقت مولانا تھانوی کے وہ واحد شاگرد تھے۔ ان کے والد ماجد مفتی محمد حسن حضرت تھانوی کے عاشق زار مرید وخلیفہ تھے، لیکن فرمایا کرتے تھے کہ حضرت تھانوی کے ساتھ مجھے بعض ایسی خصوصیات حاصل ہیں جو میرے والد صاحب کو بھی حاصل نہیں، اور یہ بات وہ خود اپنے والد ماجد سے بھی کہا کرتے تھے۔ ایک بات تو وہی ہرکتاب ان سے شروع کرنے والی۔ ایک یہ کہ میں نے حضرت تھانوی سے بچپن میں ایک تھپڑ بھی کھایا تھا۔
شعر وشاعری سے بے تحاشا شغف تھا۔ بہت سے اشعار بڑھاپے میں بھی یاد تھے۔ کرکٹ جیسے کسی زمانے میں مکروہ سمجھے جانے والے کھیل بھی لگاؤ رکھتے تھے۔
اپنے اور اپنے بزرگوں کے بہت سے واقعات سنایا کرتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد مفتی حسن صاحب لاہور آگئے۔ حکومت میں آپ کے خاصے تعلقات تھے۔ مولانا تھانوی کے کئی متعلقین کو ان کی ہندوستان کی جائیدادوں کے claim میں یہاں پراپرٹیز الاٹ کروائیں، لیکن خود کچھ حاصل نہیں کیا۔ بتاتے تھے کہ مولانا تھانوی کی اہلیہ (جنہیں چھوٹی پیرانی صاحبہ کہا جاتا تھا، مفتی جمیل احمد تھانوی کی ساس اور مولانا مشرف علی تھانوی وغیرہ کی نانی) کو ماڈل ٹاؤن میں ایک بڑی کوٹھی الاٹ کروائی۔ مولانا عبید اللہ بتایا کرتے تھے کہ کئی لوگوں نے مفتی صاحب سے خود بھی کہا اور میرے ذریعے بھی کہلوایا کہ آدھی مفتی صاحب خود رکھ لیں اور آدھی پیرانی صاحبہ کو دلوادیں، لیکن مفتی صاحب نہیں مانے۔
اللہ تعالیٰ نے آواز میں عجیب ترنم اور سوز دیا تھا۔ پچپن میں کچھ عرصہ جامعہ اشرفیہ میں صوفی صاحب کے گھر رہنے کا اتفاق ہوا۔ جب کبھی فجر کی نماز پڑھاتے تو مزا آجاتا۔ ’’وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض‘‘ کثرت سے تلاوت کرتے۔ خطبہ جمعہ بھی سننے کے قابل ہوتا تھا۔ کئی لوگوں نے نقل اتارنے کی کوشش کی، لیکن نقل اور اصل میں فرق برقرار رہا۔ غفر اللہ لہ ورفع درجتہ
ممتاز قادری کیس: سپریم کورٹ کے فیصلے کے اہم نکات
ادارہ
یہ کیس سب سے پہلے ایک سپیشل ٹرائل کورٹ میں چلا جس نے ممتاز قادری کو 302 اور اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997 کے سیکشن 7 کے تحت سزائے موت سنائی جس کے خلاف جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی تو عدالت نے 302 کے تحت پھانسی کی سزا برقرار رکھی مگر انسدادِ دہشت گردی کی شق ہٹا دی۔ پھر جب اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی تو سپریم کورٹ کی بینچ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور 302 کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے تحت سزائے موت بھی بحال کر دی۔ سب سے پہلے فیصلے میں کیس کی نوعیت پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ اس کیس کی نوعیت یہ نہیں ہے کہ کیا توہین مذہب کے ارتکاب کے نتیجے میں کوئی شخص کسی کو قتل کر سکتا ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ’’کیا کوئی شخص کسی پر توہین مذہب کے شبہے میں یا اپنی دانست میں کسی بات کو توہین مذہب سمجھ کر کسی کو قتل کر سکتا ہے؟’’
کیس میں ممتاز قادری کا دفاع 2 نکات پر مشتمل تھا:
- میں سلمان تاثیر کو قتل کرنے میں حق بجانب تھا، کیونکہ اس نے توہین رسالت کی تھی اور ایک ایسی عورت کو سپورٹ کیا تھا جس کو توہین رسالت کے کیس میں سزا ہو چکی تھی۔
- میں سلمان تاثیر کو قتل کرنے میں اس لیے حق بجانب تھا کہ اس نے مجھے اشتعال دلایا۔ جب وہ کوہسار مارکیٹ کے ریسٹورنٹ سے اپنے دوست کے ساتھ باہر نکلا تو میں نے اس سے کہا کہ جنابِ والا! آپ نے گورنر ہوتے ہوئے بلاسفیمی لا کو کالا قانون کہا ہے جو آپ کے شایانِ شان نہیں۔ اس پر سلمان تاثیر نے آگے سے نہ صرف یہ کہا کہ یہ کالا قانون ہے، بلکہ اس نے اس قانون کو مزید برا بھلا کہا جس پر ممتاز قادری کو مبینہ طور پر اشتعال آ گیا اور اس نے گولیاں چلا دیں۔
پہلے نکتے کو ثابت کرنے کے لیے ممتاز قادری نے عدالت میں 2 اخباری رپورٹیں جمع کروائیں جس میں سلمان تاثیر کے آسیہ بی بی سے متعلق ریمارکس بتائے گئے تھے۔ اْن میں سے ایک رپورٹ تو قتل ہو جانے کے بعد شائع ہوئی تھی۔ دوسری رپورٹ کے بارے میں جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا اس نے اس رپورٹ کی تصدیق کی تھی کہ کس نے اسے رپورٹ کیا اور کیا واقعی یہ سلمان تاثیر کے الفاظ ہیں؟ تو ممتاز قادری کا جواب نفی میں تھا جس پر عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ممتاز قادری نے آسیہ بی بی سے متعلق ریمارکس براہ راست نہیں سنے بلکہ یہ Hearsay پر مبنی ہیں جن کو وہ اپنی دانست میں توہین رسالت سمجھ بیٹھا۔
دوسرے نکتے کو ٹرائل کورٹ میں تحریری طور پر کیس چلنے کے وقت جمع کروایا گیا تھا۔ اس بارے میں جب اس سے کہا گیا کہ وہ عدالت میں آ کر حلف اٹھا کر یہ بیان دے کہ سلمان تاثیر نے اس کے سامنے ایسی بات کہی تھی تو اس نے حلفیہ بیان دینے سے انکار کر دیا۔ اس مبینہ گفتگو کے وقت تین ہی لوگ موجود تھے: ایک سلمان تاثیر کا دوست شیخ وقاص، دوسرا سلمان تاثیر اور تیسرا قادری۔ ایک انسان مارا جا چکا تھا۔ دوسرے کو انہوں نے عدالت میں طلب کرنے کی درخواست نہیں جمع کروائی۔ اگر کرواتے تو یہ عدالت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس اہم گواہ کو بلاتی اور اگر وہ نہ پیش ہوتا تو اس پر توہین عدالت لگ جاتی۔ لیکن اپیل کنندہ کی جانب سے ایسی کوئی درخواست ہی جمع نہیں کروائی گئی۔ خود اپیل کنندہ نے بھی حلف اٹھا کر یہ بات کہنے سے انکار کر دیا۔
بس یہی وہ نکتہ تھا جس نے اس کیس کو سب سے زیادہ کمزور کر دیا اور عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ اپنا دفاع بہتر کرنے کے لیے بعد میں ایجاد کی گئی ایک کہانی ہے کیونکہ ٹرائل کورٹ سے پہلے تفتیشی افسر کے سامنے بھی ممتاز قادری نے قتل کے وقت ایسے کسی مکالمے کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ ممتاز قادری کے وکلاء نے کہا کہ مقتول کو گولیاں سامنے سے لگی تھیں جس سے پتا لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان ضرور کوئی مکالمہ ہوا ہوگا اور 28 گولیوں کے لگنے سے پتا لگتا ہے کہ ضرور ملزم اشتعال میں آیا ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ یہ صرف قیاس آرائیاں ہیں، ان سے ایسا کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا۔
ممتاز قادری کے وکلاء کی جانب سے یہ بات بھی اٹھائی گئی کہ توہین مذہب پر سزا کے قانون کو غلط کہنا بھی توہین مذہب ہے اور فیصلے کی رپورٹ کے مطابق اس بات کے حق میں انہوں نے جو حوالے پیش کیے، ان میں سے کوئی بھی قرآن یا حدیث کے حوالے پر مبنی نہیں تھا، بلکہ وہ صرف کچھ اسکالرز کی رائے تھی کہ توہین مذہب پر سزا کے قانون کو غلط کہنا بھی توہین مذہب ہے۔ عدالت کا موقف یہ تھا کہ بلاسفیمی کیا ہے، اْس کی تعریف 295-C میں موجود ہے۔ سلمان تاثیر کا اس قانون سے متعلق بیان کسی بھی صورت میں 295-C میں بیان کردہ توہین مذہب کی تعریف میں نہیں آتا۔ فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ بلاسفیمی قانون میں پہلے بھی کئی بار ترمیم ہو چکی ہے۔ یہ سب سے پہلے 1866 میں انڈین پینل کوڈ میں شامل ہوا۔ پھر سب سے پہلی ترمیم 1927 میں ہوئی۔ پھر 1986 اور 1991 میں اس میں ترامیم ہوئیں۔ لہٰذا جس قانون میں پہلے ہی کئی بار ترامیم ہو چکی ہوں، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کوئی ساکت و جامد قانون نہیں ہے بلکہ اس کو مزید بہتر کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اگر کسی نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اس پر نظر ثانی کی جائے تو یہ مطالبہ کوئی غلط بات نہیں۔ معزز جج صاحبان نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک 2002 کے کیس کا حوالہ دیا جس میں خود عدالت نے قانون میں ترامیم کی کچھ سفارشات پیش کی تھیں کہ اس کے پروسیجر میں یہ اور یہ تبدیلیاں کی جائیں۔ اس کی تفتیش کوئی عام ASI یا محرر نہ کرے، بلکہ دو ایسے افسر کریں جن کو اس بارے میں مکمل علم ہو کہ توہین مذہب کی تعریف کیا ہے اور ان کے ساتھ ایک غیر جانبدار مذہبی اسکالر بھی ہو اور پوری تفتیش کے بعد کیس درج کیا جائے۔ عدالت نے فیصلے میں سوال اٹھایا ہے کہ کیا لاہور ہائی کورٹ کی اس قانون میں تبدیلیاں کرنے کی سفارشات کو کسی بھی صورت میں توہین مذہب کہا جا سکتا ہے؟ خود ہی اس کا جواب بھی دیا ہے کہ ہرگز نہیں۔
جج صاحبان نے بلاسفیمی کیسز کے حوالے سے کچھ اعداد و شمار بھی فراہم کیے جن کے مطابق 1953 سے 2012 تک درج ہونے والے 434 بلاسفیمی کے مقدمات میں 258 خود مسلمانوں کے خلاف تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس قانون کا استعمال ذاتی دشمنیاں نکالنے کے لیے کیا جاتا ہے، لہٰذا اگر کوئی یہ بات کرتا ہے کہ اس قانون پر نظر ثانی کی جائے اور اس کا غلط استعمال روکا جائے تو یہ کوئی غلط مطالبہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی توہین مذہب ہے۔
(https://www.facebook.com/leee3x/posts/193792064320665)
تشدد کے خلاف خواتین کے تحفظ کا قانون :چند اہم نکات
محمد مشتاق احمد
اصولی گزارشات
پہلے چند اصولی گزارشات ملاحظہ کریں:
۱۔ اسلامی قانون کی رو سے یہ موقف صحیح نہیں ہے کہ نظمِ اجتماعی کو گھر یا خاندان کے امور میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ اگر قاضی کو بیوی کی جانب سے شوہر کے خلاف شکایت ملے تو قاضی کو شوہر سے بازپرس اور اس کے پڑوسیوں کے ذریعے تحقیق کا حق ہے اور نتیجتاً وہ شوہر کی مناسب تادیب بھی کرسکتا ہے۔ پس اس موقف سے گریز ہی بہتر ہے کہ نظمِ اجتماعی کو خاندان کے نجی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ہے، بلکہ میں تو ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بھی کہوں گا کہ پاکستانی معاشرے میں عورت پر ظلم ایک بدیہی امر ہے جو بے شک اس سطح پر نہ ہوتا ہو جتنا لوگ اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں، لیکن بہرحال اس کی سنگینی سے انکار مناسب نہیں ہے۔ اس لیے اصولاً اس ظلم کے خاتمے کے لیے مناسب قانون سازی کی ضرورت بھی تسلیم کرنی چاہیے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر مناسب قانون سازی کی ضرورت کو دینی حلقے خود ہی پورا نہیں کریں گے تو خلا اسی طرح کی ناقص اور بھونڈی قانون سازی سے پورا ہوگا۔ البتہ اس امر پر بحث ضروری ہے کہ نظمِ اجتماعی کی یہ مداخلت کس نوعیت کی ہے اور کیا وہ شریعت کے اصول و قواعد سے ہم آہنگ ہے یا نہیں ؟
۲۔ جب شریعت سے ہم آہنگی کی بات کی جاتی ہے تو یار لوگ پوچھنا شروع کردیتے ہیں کہ اس قانون کی کون سی شق سے کس آیت یا حدیث کی خلاف ورزی ہورہی ہے ؟ اہم بات یہ ہے کہ صرف کسی مخصوص آیت یا حدیث کی مخالفت ہی کی بنا پر کوئی شق غیر اسلامی نہیں ہوجاتی بلکہ اگر وہ شریعت کے اصول اور قواعدِ عامہ سے متصادم ہو تو اس صورت میں بھی حکم یہی ہوگا۔یہ نظریہ صرف اسلامی شریعت نے ہی نہیں دیا بلکہ ملکی قانون کی رو سے بھی عدالتوں نے یہی اصول تسلیم کیا ہے ؛ یہاں تک کہ بین الاقوامی قانون نے بھی ’’قانون کے قواعدِ عامہ‘‘ کو بین الاقوامی قانون کے بنیادی مآخذ میں شمار کیا ہے۔
۳۔ مزید برآں ، بعض اوقات کسی خاص شق سے کسی خاص دلیلِ جزئی کی خلاف ورزی نہیں ہوتی لیکن قانون کا جو پورا مجموعہ ہوتا ہے، وہ شریعت کے عمومی مقاصد150 جسے آج کل معروف اصطلاح میں "شریعت کی روح " کہا جاتا ہے 150سے متصادم ہوتا ہے۔ اس لیے جہاں ایک ایک شق پر الگ بحث کی ضرورت ہے، وہیں یہ دیکھنا بھی اشد ضروری ہے کہ کیا اس قانون کا کلی تصور شریعت کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے؟
۴۔ یہیں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ بارِ ثبوت ان لوگوں پر نہیں ہے جو اس قانون کو شریعت سے متصادم قرار دیتے ہیں ، بلکہ ان لوگوں پر ہے جن کا دعویٰ ہے کہ اس قانون سے شریعت کے کسی اصول کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری عدالتوں نے اباحتِ اصلیہ کے انتہائی کمزور تصور کی بنیاد پر کئی اہم فیصلوں کی بنا کی ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ اس معاملے کی برابر کی ذمہ داری ہمارے علماے کرام پر بھی آتی ہے جنھوں نے بعض امور 150 بالخصوص "اسلامی" بینکاری کے امور 150میں اس تصور کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا ہے۔
اس قانون کے بارے میں چند اہم نکات
ان اصولی باتوں کی توضیح کے بعد چند نکات اس قانون کے متعلق پیش کیے جاتے ہیں :
قانون کا اطلاق
میڈیا پربغیر کسی تصدیق کے قرار دیا گیا کہ اس قانون کے تحت ایک شوہر پر مقدمہ درج کیا گیا اورپھر ضمانت پر باہر آنے کے بعد اس نے فوراً بیوی کو طلاق دے دی۔ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک اس قانون کا نفاذ تو شروع ہی نہیں ہوا۔ دفعہ 1 کی ذیلی دفعہ 3 میں قرار دیاگیا ہے کہ یہ قانون تب نافذ العمل ہوگا جب حکومتِ پنجاب خصوصی اعلان کے ذریعے اس کا نفاذ کرے۔ یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ مختلف علاقوں میں اس کے نفاذ کی تاریخ مختلف ہوسکتی ہے۔ چونکہ ابھی تک سرکاری طور پر کسی بھی ضلع میں اس کا نفاذ نہیں کیا گیا ، اس لیے اس کے تحت مقدمے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس قانون کے تحت تشدد ، بشمول گھریلو تشدد ، اصلاً دیوانی معاملہ ہے جس پر خواہ آخر میں سزا تک بات پہنچ جاتی ہو، لیکن ابتدا میں مقدمہ سول عدالت ( فیملی عدالت ) میں جائے گا۔ تاہم مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کے تحت تشدد پہلے ہی سے قابلِ سزا جرم ہے۔ اس لیے تعزیراتِ پاکستان کے تحت فوجداری مقدمہ بھی دائر ہوسکتا ہے۔ میڈیا میں مذکور کیس اسی نوعیت کا تھا۔ اس مقدمے کا اندراج تعزیراتِ پاکستان کے تحت ہوا تھا ، نہ کہ اس نئے قانون کے تحت۔
البتہ اس مقدمے سے یہ بات تو بہرحال ثابت ہوجاتی ہے کہ اس طرح کی مقدمہ بازی کا نتیجہ فوری طلاق کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ کہنے والا یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اس سے تو یہ بھی ثابت ہوا کہ مرد واقعی خواتین پر ظلم کرتے ہیں اور اسی لیے اس ظلم کی روک تھام کے لیے مناسب قانون سازی بہرحال ضروری ہے۔
قانون کی وسعت
میڈیا پر زیادہ تر بحث شوہر کی جانب سے بیوی پر ہونے والے ظلم کے تناظر میں ہورہی ہے ، حالانکہ قانون صرف بیوی اور شوہر تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ کسی بھی خاتون پر کسی بھی شخص کی جانب سے ہونے والے ظلم پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ نیز اس قانون کا اطلاق صرف "گھریلو تشدد " پر ہی نہیں ہوتا ، بلکہ کہیں بھی کسی خاتون پر تشدد ہو تو وہاں اس قانون کی رو سے کارروائی ہوسکتی ہے۔ چنانچہ دفعہ 2 کی ذیلی دفعہ (a) میں "متاثرہ شخص" (aggrieved person) کی تعریف یہ پیش کی گئی ہے :
a female who has been subjected to violence by a defendant
( کوئی خاتون جسے مدعا علیہ کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ )
اسی طرح "مدعا علیہ "(defendant) کی تعریف دفعہ 2 کی ذیلی دفعہ (n) میں یہ کی گئی ہے :
a person against whom relief has been sought by the aggrieved person
(کوئی شخص جس کے خلاف کارروائی کے لیے متاثرہ فریق نے دعویٰ کیا ہو۔ )
یہاں اس بات پر بھی توجہ رہے کہ "متاثرہ فریق " تو کوئی خاتون ہی ہوسکتی ہے لیکن "مدعا علیہ " کا مرد ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ کسی بھی شخص ، مرد یا عورت ، کے خلاف کسی خاتون پر تشدد کا دعویٰ دائر کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ اس بات کا اضافہ کردیں کہ دفعہ 2 کی ذیلی دفعہ (r) کی رو سے "تشدد " کی تعریف میں اس کی "اعانت" (abatement) بھی شامل ہے۔ مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 107 میں اعانتِ جرم کی جو تعریف پیش کی گئی ہے، اس کی رو سے کسی جرم کی "ترغیب " ، " سازش " یا "عملی معاونت " سبھی کو اعانتِ جرم کہا جاتا ہے۔ اس وسیع تعریف کی رو سے تلوار صرف شوہر کے سر پر ہی نہیں لٹک رہی ، بلکہ باپ ، بھائی ، بیٹے اور دیگر رشتہ دار وں اور خواتین 150 جیسے ساس ، نند وغیرہ 150 کو بھی کڑا پہنایا جاسکتا ہے۔ نیز ، جیسا کہ واضح کیا گیا ، اس کا قانون کا اطلاق صرف گھریلو تشدد پر ہی نہیں ہوتا بلکہ گھر سے باہر 150 گلی ، محلہ ، بازار ، سکول ، کالج ، یونی ورسٹی ، دفتر 150 کہیں بھی اس پر تشدد ہو تو تشدد کرنے والے / والی اور اس کی اعانت (ترغیب ، سازش یا عملی معاونت ) کرنے والے / والی کے خلاف اس قانون کی رو سے کارروائی ہوسکتی ہے۔
تشدد کا مفہوم
اب ذرا اس کی بھی وضاحت کی جائے کہ اس قانون کی رو سے "تشدد" سے کیا مراد ہے ؟ دفعہ 2 کی ذیلی دفعہ (r) کی رو سے "تشدد " کی یہ تعریف پیش کی گئی ہے :
"any offence committed against the human body of the aggrieved person including abatement of an offence, domestic violence, sexual violence, psychological abuse, economic abuse, stalking or a cybercrime "
یہاں چند نکات قابلِ غور ہیں :
۱۔ اس تعریف کی رو سے تشددکو "جرم " (offence) قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے خلاف کارروائی کے لیے مقدمہ فیملی کورٹ میں دائر کیا جائے گا جو بنیادی طور پر سول عدالت ہے ، اگرچہ خاندان سے متعلق بعض فوجداری امور کے اختیارات بھی اسے حاصل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب "انسانی جسم کے خلاف کیا گیا جرم " تو مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی رو سے پہلے ہی سے جرم ہے ، تو پھر اس نئی قانون سازی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ نیز جب تعزیراتِ پاکستان کی رو سے اس فعل پر کارروائی ہوگی تو مقدمہ فوجداری عدالت میں جائے گا، لیکن جب اس قانون کی رو سے کارروائی ہوگی تو مقدمہ فیملی عدالت میں دائر کیا جائے گا۔ اس طرح غیر ضروری مقدمہ بازی کے لیے اچھی خاصی گنجایش پیدا ہوجائے گی۔
۲۔ "گھریلو تشدد " اس تعریف کی رو سے تشدد کی ایک قسم ہے۔ اس قانون کی دفعہ 2 ، ذیلی دفعہ (h) میں گھریلو تشدد (domestic violence) کی تعریف ان الفاظ میں پیش کی گئی ہے :
"domestic violence" means the violence committed by the defendant with whom the aggrieved is living or has lived in a house when they are related to each other by consanguinity, marriage or adoption"
( گھریلو تشدد سے مراد وہ تشدد ہے جس کا ارتکاب وہ مدعا علیہ کرے جس کے ساتھ متاثرہ خاتون کسی مکان میں رہتی ہے ، یا رہ چکی ہے ، جبکہ ان کا ایک دوسرے سے نسب ، شادی یا تبنی کا رشتہ ہو۔)
اس تعریف میں چند نکات قابلِ غور ہیں :
اولاً : تشدد کی جتنی قسمیں آگے ذکر کی جائیں گی وہ سب گھریلو تشدد کہلائیں گی ، اگر ان کا ارتکاب ایسا شخص کرے جس کے ساتھ متاثرہ خاتون ایک مکان میں رہتی ہو ، یا کبھی رہ چکی ہو ، بشرطیکہ اس شخص اور اس خاتون کے درمیان نسب، شادی یا تبنی کا رشتہ ہو۔
ثانیاً : قطع نظر اس سے کہ پاکستانی قانون کس حد تک تبنی کے رشتے کو مانتا ہے ، اس بات پر توجہ کی ضرورت ہے کہ اگر باپ اپنی بیٹی کے خلاف ، یا شوہر اپنی بیوی کے خلاف تادیبی کارروائی کرتا ہے ، خواہ وہ کارروائی شریعت کی مقررہ حدود کے اندر ہی کیوں نہ ہو ، تو کیا وہ تادیبی کارروائی اس تعریف کی رو سے "گھریلو تشدد" نہیں ہوگی ؟
۳۔ "جنسی تشدد" کی تعریف اس قانون میں پیش نہیں کی گئی ہے۔ کسی دوسرے قانون میں بھی ابھی تک اس جرم کی مستقل تعریف اور اس کی مختلف قسموں کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ تاہم یہ بات یقینی ہے کہ "زنا بالجبر " (rape) اس کی تعریف میں داخل ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جب 2006ء میں جنرل مشرف نے "قانونِ تحفظِ نسواں " بنایا تھا تو اس کی رو سے حد زنا آرڈی نینس سے زنا بالجبر کے جرم اور اس کی سزا کے متعلق دفعات ختم کرکے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان میں دفعہ 376 میں rape کے جرم کی تعریف اور دفعہ 377 میں اس کی سزا مقرر کی گئی۔ اس قانون کی رو سے rape کی تعریف میں marital rape بھی شامل ہے۔ چنانچہ اگر شوہر نے بیوی کی مرضی کے بغیر اس کے ساتھ جماع کیا تو تعزیراتِ پاکستان کی رو سے یہ marital rape ہوگا اور اس نئے قانون کی رو سے یہ "تشدد" کے ضمن میں آئے گا۔ واضح رہے کہ rape جنسی تشدد کی ایک انتہائی شکل ہے۔ اس سے کم تر شکلیں ، جیسے بوس و کنار ، خواہ rape نہ کہلائیں لیکن وہ بہرحال تشدد میں شامل سمجھے جائیں گے ، خواہ ان کا ارتکاب کرنے والا اس خاتون کا شوہر ہی ہو۔
۴۔ نفسیاتی بدسلوکی (psychological abuse) کو بھی تشدد کی ایک قسم قرار دیاگیا ہے اور دفعہ 2 میں تشدد کی تعریف کی توضیحِ دوم میں قرار دیاگیا ہے:
"psychological violence includes psychological deterioration of aggrieved person which may result in anorexia, suicide attempt or clinically proven depression resulting from defendant's oppressive behaviour or limiting freedom of movement of the aggrieved person and that condition is certified by a panel of psychologists appointed by District Women Protection Committee"
اس تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مدعا علیہ ( باپ ، بھائی ، شوہر ، افسر وغیرہ) کے رویے سے ، یا اس کی جانب سے متاثرہ فریق (بیٹی ، بہن ، بیوی ، ماتحت خاتون وغیرہ) کی نقل و حرکت محدود کرنے کی وجہ سے ، وجود میں آنے والی پریشانی کو نفسیاتی بدسلوکی تصور کیا جائے گا ، بشرطیکہ ماہرینِ نفسیات کا پینل اس نتیجے پر پہنچے۔تاہم اس کے ساتھ اس بات پر بھی توجہ ہوکہ اس تعریف میں means کی جگہincludes کا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفسیاتی بدسلوکی کی کچھ اور قسمیں بھی ہوسکتی ہیں جویہاں مذکور نہیں ہیں لیکن عدالت ان کا تعین کرسکتی ہے۔
۵۔ اسی طرح "معاشی بدسلوکی " کو تشدد کی ایک اور قسم قرار دیا گیا ہے اور دفعہ 2 میں تشدد کی تعریف کی توضیحِ اول میں اس کی تعریف ان الفاظ میں پیش کی گئی ہے :
"economic abuse" means denial of food, clothing and shelter in a domestic relationship to the aggrieved person by the defendant in accordance with the defendant's income or taking away the income of the aggrieved person without her consent by the defendant
اس تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشی بدسلوکی کا اطلاق صرف "گھریلو تعلقات " کے ضمن میں ہی ہوسکتا ہے۔ معاشی بدسلوکی کی دو قسمیں ذکر کی گئی ہیں :
اولاًکھانے ، کپڑوں یا رہایش سے محرومی ، لیکن اس کو بدسلوکی ، اور نتیجتاً تشدد ، نہیں کہا جائے گا اگر خاتون نے مدعا علیہ کی آمدنی سے بڑھ کر کوئی مطالبہ کیا۔ یہ حقیقت واضح ہے کہ اس کا اطلاق والدین کی جانب سے بچی کے خلاف تادیبی کارروائی پر بھی ہوسکتا ہے۔
ثانیاً: معاشی بدسلوکی کی دوسری قسم یہ ہے کہ خاتون کی مرضی کے بغیر مدعا علیہ اس کی آمدنی اپنے تصرف میں لے آئے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ کئی بے غیرت شوہر اپنی بیویوں کو ان کی آمدنی سے محروم کرتے ہیں حالانکہ اس کا ان کو شرعاً ، قانوناً یا عرفاً کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
۶۔ تشدد کی آخری دو قسمیں stalking اور cyber crime ہیں۔ ان دونوں امور کی تعریف اس قانون میں پیش نہیں کی گئی۔ اس لیے عدالت ان کی تشریح و تعبیر کے لیے دیگر قوانین اور قواعدِ عامہ کی طرف رجوع کرے گی۔
آکسفرڈ ڈکشنری آف لا میں Cyber crime کی یہ تعریف پیش کی گئی ہے:
Crime committed over the internet
( ایسا جرم جس کا ارتکاب انٹرنیٹ پر کیا جائے۔ )
جعلی ای میل اکاؤنٹ کھولنا سائبر کرائم کی ایک عام مثال ہے۔
جہاں تک Stalkingکا تعلق ہے تو اس کی تعریف آکسفرڈ ڈکشنری آف لا میں یہ کی گئی ہے :
Persistent threatening behaviour by one person against another
(ایک شخص کا دوسرے شخص کے خلاف مسلسل دھمکی آمیز رویہ )
گیل انسائیکلوپیڈیا آف امیریکن لا سے اس کی مزید وضاحت ہوجاتی ہے :
Criminal activity consisting of the repeated following and harassing of another person
(ایسی مجرمانہ کارروائی جو کسی دوسرے شخص کا مسلسل پیچھا کرنے اور اسے ہراساں کرنے پر مبنی ہو۔ )
سوال یہ ہے کہ اگر باپ اپنی بیٹی سے پوچھ گچھ کرتا رہے کہ وہ کہاں گئی ، کس سے ملی ، کب آئی ، کہاں سے آئی ، کس کے ساتھ آئی ، تو کیا اس پوچھ گچھ کو stalking ، اور اسی بنا پر "تشدد" ، کہا جائے گا ؟
۷۔ تشدد کی تعریف پر اس بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں ایک طرف خواتین کے خلاف ہونے والے عمومی تشدد کی روک تھام کی کوشش کی گئی ہے ، جو اپنی جگہ ایک مستحسن کام ہے ، وہیں دوسری طرف اس بات کا بالکل ہی خیال نہیں رکھا گیا کہ شریعت نے "ولایت" کا جو تصور دیا ہے اور اس کے تحت "ولی" کو اپنے ماتحتوں کی "تادیب" کا اختیار دیا گیا ہے، وہ بھی پامال ہوجاتے ہیں ! یہی بات،جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ، "گھریلو تشدد " کی تعریف سے بھی معلوم ہوتی ہے۔
شنوائی کا طریقِ کار
اگر کسی خاتون پر تشدد ہو ، یا اسے تشدد کا خطرہ ہو ، تو اس قانون کے تحت اس کے پاس دو راستے ہیں : عدالت میں استغاثہ یا ویمن پروٹیکشن آفیسر کو شکایت۔ ان دونوں پر الگ الگ بحث ضروری ہے۔
دفعہ 4 کی ذیلی دفعہ 1 میں قرار دیاگیا ہے کہ عدالت میں استغاثہ متاثرہ خاتون خود ، یا اس کی جانب سے مقررہ کیا گیا کوئی شخص ( مرد یا عورت)، یا ویمن پروٹیکشن آفیسرکی جانب سے دائر کیا جاسکے گا۔ اس استغاثے پر عدالت درج ذیل تین میں سے کوئی ایک یا زیادہ حکم جاری کرسکتی ہے: تحفظ کا حکم ، رہایش کا حکم یا مال سے متعلق حکم۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک اہم مسئلے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ دفعہ 21 کی ذیلی دفعہ 1 میں قرار دیاگیا ہے کہ اس قانون کے تحت کسی بھی جرم پر عدالت تبھی کارروائی کرسکے گی جب ویمن پروٹیکشن آفیسر کی جانب سے اس کے سامنے استغاثہ نہ کیا جائے۔ کیا ان دونوں دفعات میں تضاد ہے ؟ یا دفعہ 4 کے تحت جرم سے قبل روک تھام کے لیے شکایت کا ذکر ہے جو خاتون خود یا اس کا نمائندہ یا ویمن پروٹیکشن آفیسر کی جانب سے آسکتی ہے اور دفعہ 21 میں جرم کے بعد کی کارروائی کا ذکر ہے جو صرف ویمن پروٹیکشن آفیسر کی جانب سے شکایت کے بعد ہی ہوسکے گی ؟
شکایت موصول ہونے کے بعد سماعت کے لیے عدالت زیادہ سے زیادہ سات دن کے اندر تاریخ مقرر کرے گی۔ نیز وہ مدعا علیہ کو نوٹس دے گی کہ سات دن کے اندر جوابِ دعویٰ دائر کردے ورنہ اس کے خلاف یک طرفہ کارروائی کی جائے گی۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت نوے دن کے اندر کرے گی۔ واضح رہے کہ عدالت سے اس قانون میں مراد فیملی کورٹ ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ جب کسی خاتون کے خلاف تشدد گھر سے باہر کسی غیر مرد ( جیسے دفتر میں باس، یا پڑوس کے کسی آوارہ نوجوان ) نے کیا ہو تو پھر مقدمہ فیملی کورٹ میں کیوں دائر کیا جائے گا ؟ اس سوال پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ جب فیملی عدالتیں پہلے ہی مقدمات کے بوجھ تلے دبی جارہی ہیں تو ان پر مزید مقدمات کا بوجھ لادنے کے بعد ان سے بہتر نتائج کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ؟
شکایت کے بعد وہ متاثرہ خاتون جس نے گھریلو تشدد کی شکایت کی ہو چاہے تو اپنے گھر کے بجاے مدعا علیہ کے خرچے پر کسی اور گھر میں یا "دار الامان" (shelter home) میں رہ سکے گی۔ (دفعہ 5 ، ذیلی دفعہ b) یہاں پھر اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ واقعتاً کسی خاتون کو گھر میں / سسرال میں تشدد کا نشانہ بنایاجاتا ہو تو اس کا تحفظ ضروری ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ولی کے پاس تادیب کا جو اختیار ہے، کیا وہ سلب نہیں ہوجائے گا ؟ کیا اس قانون نے ان دو امور میں توازن کو نظرانداز نہیں کردیا ہے ؟ اور کیا اس طرح خاندانوں کے اجڑنے کا عمل آسان نہیں ہوجائے گا ؟
یہی کچھ ان احکامات کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے جو عدالت جاری کرسکتی ہے۔ مثلاً restraining order جسے اس قانون میں protection order کہا گیا ہے، ان معاشروں میں تو بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے جہاں ازدواجی رشتے کا خاتمہ بہت مشکل کام ہو۔ تاہم ہمارے قانونی نظام میں جب مرد صرف ایک لفظ بول کر نکاح کا رشتہ ختم کرسکتا ہے، کیا اس قسم کے احکامات سے تشدد کی روک تھام ہوگی یا رہے سہے بندھن بھی ختم ہوجائیں گے ، بالخصوص جبکہ قانون بنانے والوں کا مفروضہ بھی یہ ہے کہ مرد ظالم ہیں ؟
شنوائی کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ویمن پروٹیکشن آفیسر کسی متاثرہ خاتون کو بچانے کے لیے کارروائی کرے۔ اس ضمن میں دفعہ 15 نے اسے اختیار دیا ہے کہ کسی بھی گھر میں بغیر عدالتی وارنٹ کے داخل ہو اور اس ضمن میں پولیس اور دیگر اداروں سے مدد لے ؛ نیز اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ایک مستقل جرم ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ جب پولیس پر وارنٹ کی پابندی بہت سے معاملات میں ہے اور اس کے باوجود وہ چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرنے میں بدنام ہے تو جب ایسے آفیسر ہوں جنھیں یہ کام کرنے کے لیے وارنٹ کی سرے سے ضرورت ہی نہ ہو تو وہ کیا کچھ نہیں کرگزریں گے ! اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ویمن پروٹیکشن آفیسر کے لیے خاتون ہونا بھی ضروری نہیں ہے (دفعہ 2 ، ذیلی دفعہ s)۔ اس لیے یہ کارہائے نمایاں بہت سارے مرد حضرات اپنی تمام تر مردانگی سمیت سرانجام دے سکیں گے۔ اگرچہ خواتین کے رہایشی حصے میں داخلے کے لیے صرف خواتین آفیسر ہی جاسکیں گی ( دفعہ 15، ذیلی دفعہ 5 ) ، لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ پابندی نہایت کمزور ہے اور اس کی موجودگی کے باوجود اس قانون کا غلط استعمال نہایت آسان ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ شکایت متاثرہ خاتون کے علاوہ کوئی اور شخص بھی کرسکتا /کرسکتی ہے۔ بدنیتی پر مبنی شکایت کو جرم قرار دیا گیا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ اس الزام کے خلاف "نیک نیتی " (good faith) اور "مفادِ عامہ" (public good)کے عذر میسر رہیں گے جن کی بنا پر شاید ہی کبھی کسی کو اس جرم کا مرتکب قرار دیا جاسکے۔ دفعہ 19 کی رو سے جھوٹی شکایت کرنے والے کو تبھی سزا دی جاسکے گی جب یہ ثابت کیا جاسکے کہ اسے معلوم تھا کہ شکایت جھوٹی ہے ، یا ایسے اسباب موجود تھے جن کی رو سے اسے معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ شکایت جھوٹی ہے ! (knows or has reason to believe to be false) قانون کے ادنیٰ طالب علم بھی جانتے ہیں کہ اس ترکیب کی موجودگی میں جرم کا ثابت کرنا ناممکن حد تک مشکل ہوجاتا ہے۔
اسلامی قانون سے تصادم؟
اس قانون سے اسلامی قانون کے کن اصول و قواعد کی خلاف ورزی ہوتی ہے ؟ اس سلسلے میں کچھ اشارات تو سطورِ بالا میں دیے گئے۔ یہاں ایک اور پہلو کی وضاحت ضروری ہے۔
سورۃ النساء کی آیت 34 میں قرار دیا گیا ہے کہ "نشوز" کی صورت میں شوہر اپنی بیوی کی مناسب تادیب کرسکتا ہے اور اس ضمن میں تین اقدامات ذکرکیے گئے ہیں : وعظ و نصیحت ، خواب گاہوں کے اندر علیحدگی اور ضرب۔ حدیثِ مبارک میں وضاحت کی گئی ہے کہ ضرب ایسی نہ ہو جو نشان چھوڑے۔ اسی طرح حدیثِ مبارک میں ان بچوں کے لیے بھی ، جو دس سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد نماز نہ پڑھیں ، ضرب کا ذکر ہے۔ فقہائے کرام نے ان دونوں امور میں تصریح کی ہے کہ یہ سزا نہیں ، بلکہ تادیب ہے اور اسی لیے اس میں ڈنڈے یا کوڑے کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اب خواہ "نشوز"سے ہر قسم کی "نافرمانی" مرادنہ ہو ، بلکہ صرف ایک مخصوص قسم کی سرکشی ہی مراد ہو ، اور اس صورت میں بھی خواہ ضرب ان حدود کے اندر ہو جو فقہاے کرام نے ذکر کی ہیں ، بہرحال اس قانون کی رو سے اس کا شمار "گھریلو تشدد" میں ہوگا۔
گویا یہاں دو انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک جانب یہ انتہا ہے کہ نشوز سے ہر طرح کی "نافرمانی "مراد لے کر اور ضرب کو "مار پیٹ " سمجھ کر شوہر کے لیے بیوی پر مختلف نوعیت کے مظالم ڈھانے کو اس کا شرعی حق قرار دیا جاتا ہے ، تو دوسری انتہا یہ ہے کہ قرآن کے اس حکم کو ، خواہ اسلامی قانون کی حدود کے اندر ہی اس پر عمل کیا جائے ، تشدد قرار دیاجاتا ہے۔ دینی حلقوں کے سامنے اس وقت اصل سوال یہی ہے کہ کس طرح شریعت کے اس حکم سے انکار کیے بغیر گھریلو تشددد کا راستہ روکا جائے ؟ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ دینی حلقے تو یہ بات ماننے کے لیے ہی تیار نہیں ہیں کہ شریعت کے اس حکم کی غلط تعبیر کی جاتی ہے یا یہ کہ گھریلو تشدد ایک امر واقعی ہے۔ جب تک دینی حلقے انکار کی نفسیات سے نکل کر ایسی قانون سازی کے لیے رہنمائی فراہم نہیں کریں گے جس سے شریعت کے احکامات کی خلاف ورزی بھی نہ ہوتی ہو اور گھریلو تشدد کی روک تھام بھی ہوسکے ، تب تک دوسروں سے گلہ بے جا ہی ہوگا۔
پس چہ باید کرد؟
۱۔ اولاً تو دینی حلقوں کے لیے یہ بات قابلِ غور ہے کہ سانپ گزر جانے کے بعد لکیر پیٹنے کا عمل وہ کب تک جاری رکھیں گے ؟ قانون کا یہ مسودہ مئی 2015ء میں اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ دس مہینے بعد اسے منظور کیا گیا۔ یہ دس مہینے کیوں اس مسودے پر بحث کرکے اس کی کمزوریاں دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ؟اسلامی نظریاتی کونسل کا ادارہ بنیادی طور پر اسی قبل از تقنین (pre-legislation) مرحلے کے لیے بنایا گیا ہے، اگرچہ بعد از تقنین بھی وہ مشورے دے سکتی ہے۔ ہر دو صورتوں میں ان مشوروں کا ماننا اسمبلی پر لازم نہیں ہے، لیکن بدیہی امر ہے کہ قبل از تقنین مرحلے پر ان کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے اور جب ان کے ساتھ عوامی دباو بھی ہو تو ان مشوروں کا وزن اور بڑھ جاتا ہے۔
۲۔ بعد از تقنین مرحلے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے مشوروں کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ البتہ دو اداروں کا کام شروع ہوجاتا ہے : وفاقی شرعی عدالت اور عدالت ہاے عالیہ۔ اول الذکر عدالت کے ذریعے اس قانون کو شریعت سے تصادم کی بنیاد پر ختم یا تبدیل کرایا جاسکتا ہے ، جبکہ عدالتِ عالیہ کے ذریعے اس کی ان شقوں کو ختم یا تبدیل کرایا جاسکتا ہے جو خلافِ دستور ہیں۔ بلکہ اگر یہ ثابت کیا جاسکے کہ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے تو دستور سے تصادم کے مسئلے کو براہِ راست عدالتِ عظمی میں بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔
۳۔ اس بات پر بھی زور دینے کی ضرورت ہے کہ عدالتیں قانوناً اس کی پابند ہیں کہ تمام قوانین کی تعبیر و تشریح اسلامی قانون کی روشنی میں کریں ( حوالے کے لیے دیکھیے : قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء کی دفعہ 4 )۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہماری عدالتوں نے کبھی اس فریضے کی ادائیگی میں دلچسپی ظاہر نہیں کی، نہ ہی کبھی وکلا نے اس طرف توجہ دلائی۔ اور تو اور خود دینی حلقے اس اہم قانونی شق کو بالکل ہی بھول چکے ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ عدالتِ عظمی کے سامنے قصاص و دیت کے قانون کا کوئی مسئلہ آتا ہے تو ایک فاضل جج صاحب فیصلے میں یہ لکھتے ہیں کہ شریعت سے تصادم کا مسئلہ اٹھانے کے لیے مناسب فورم عدالتِ عظمیٰ کے بجاے وفاقی شرعی عدالت ہے اور ایک دوسرے جج صاحب لکھتے ہیں کہ خدائی قانون کی تعبیر و تشریح کے لیے وہ خود میں مناسب اہلیت نہیں پاتے ! یہ دونوں فاضل جج صاحبان یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلامی قانون سے ہم آہنگ تعبیر کرنا ان پر مذکورہ بالا قانون کی رو سے بھی لازم ہے اور بالخصوص قصاص و دیت کے قانون میں تو مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 338۔ایف نے تصریح کی ہے کہ اس باب کی تعبیر و تشریح اسلامی قانون کی روشنی میں کی جائے گی۔ پس شریعت سے متصادم یا ہم آہنگ قرار دینے کا اختیار تو یقیناًوفاقی شرعی عدالت ، اور پھر اپیل ہو تو عدالتِ عظمیٰ کی شریعت اپیلیٹ بنچ ، کے پاس ہے لیکن جہاں تک تمام قوانین کی ایسی تعبیر و تشریح کا معاملہ ہے جو شریعت سے ہم آہنگ ہو ، تو وہ ماتحت عدالتوں سے لے کر عدالتِ عظمیٰ تک تمام عدالتوں کا قانونی فریضہ ہے۔
۴۔ وہ دینی حلقے جو تشدد اور انتہاپسندی سے خود کو الگ تھلگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی ذمہ داری ہے کہ ان ریاستی اداروں 150 اسلامی نظریاتی کونسل ، وفاقی شرعی عدالت اور عدالت ہائے عالیہ و عدالت عظمی 150 کے ذریعے قوانین کو اسلام سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں تیز کردیں۔ کیا کسی نے اس امر پر غور کیا ہے کہ 1980ء سے 1999ء تک وفاقی شرعی عدالت اور عدالتِ عظمیٰ کی شریعت اپیلیٹ بنچ کس قدر موثر ادارے تھے اور اس کے بعد ڈیڑھ دہائی میں وہ کس قدر غیر متعلق ہوچکے ہیں؟ کیا کسی نے اس امر کا بھی جائزہ لیا ہے کہ ان اداروں کے غیر موثر اور غیر متعلق ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کے بیانیے کو ہی تائید مل رہی ہے جو پورے ریاستی و دستوری ڈھانچے کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں ؟
۵۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ وفاقی شرعی عدالت ، یا عدالتِ عالیہ و عدالتِ عظمیٰ سے فیصلہ حاصل کرنے کے بعد بھی بالآخر متبادل قانون سازی کے لیے اسمبلی کے فلور کا ہی رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے عدالت اور اسمبلی کا راستہ کٹھن اور لمبا ہی سہی ، جمہوری سیاست میں اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ان قانونی راستوں کی موجودگی میں بھی براہ راست احتجاج اور دھونس کی راہ اختیار کرنا دراصل اس مرض کی ابتدا ہے جس کی انتہائی شکل نظمِ اجتماعی کے خلاف بغاوت کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔
"تنگ دروازہ سے داخل ہو کیونکہ وہ دروازہ چوڑا ہے اور وہ راستہ کشادہ ہے جو ہلاکت کو پہنچا سکتا ہے اور اس سے داخل ہونے والے بہت ہیں۔کیو نکہ وہ دروازہ تنگ ہے اور وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کو پہنچاتا ہے اور اس کے پانے والے تھوڑے ہیں۔" (انجیل متی ، باب 7 ، آیات 13۔14)
مکاتیب
ادارہ
’’پاکستان اسٹڈیز انٹرمیڈیٹ کے نصاب میں تحریک خلافت میں گاندھی کے کردار پر معروضی انداز میں نظرثانی کی جائے’’۔ یہ تعلیمی سفارش ۱۹۳۷ ء میں ہندوستان کے صوبوں میں قائم کانگریسی حکومت کے کسی متعصب راہنما کی نہیں ہے، پنجاب کی موجودہ مسلم لیگی حکومت کی نگرانی میں لاہور کے کالجوں میں دو پروفیسرصاحبان اور ایک انتظامی افسرپرمشتمل ایک کمیٹی نے رواداری اور روشن خیالی کے فروغ کے لیے جو سفارشات مرتب کی ہیں، یہ ان میں سے ایک چاول ہے۔ ملکی اور صوبائی سطح پر مختلف نصاب میں چند مزید مجوزہ تبدیلیاں ملاحظہ ہوں۔بریکٹ میں ہم نے اپنا تبصرہ دیا ہے:
۱۔ ’’طلبا کو پڑھایا جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سابقہ مذاہب کی تنسیخ کے لیے نہیں آئے بلکہ ابراہیم موسیٰ ، داؤد، سلیمان اورعیسیٰ علیہم السلام کا پیغام وہی تھا جو محمدؐ کا ہے‘‘۔ (گویا یہودیت اورمسیحیت اپنی موجودہ شکل میں وہی مذاہب ہیں جومذکورہ پیغمبروں کے تھے۔ اسے قرآنی آیات کی تحریف کہاجائے یا استخفاف ؟ )
۲۔ ’’تحریک پاکستان کا ازسرنو معروضی جائزہ لے کر اس میں اقلیتوں کا کردار اجاگر کیاجائے‘‘۔ (یہ معروضی جائزہ مسلم لیگ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل۱۹۵۵ء میںیوں لے چکے ہیں۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا قیام مسلمان اور صرف مسلمان قوم کی جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجہ میں عمل میں آیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہماری آبادی کے دوسرے تمام عناصر خصوصاً ہندو قوم کے پاکستان کو وجود میں نہ آنے دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ ڈان، ۲۳دسمبر۱۹۵۵ء ‘‘۔ معروضی انداز میں بتایاجائے کہ کیا اختلاف کی کوئی گنجائش ہے)
۳۔ ’’ یورپ میں احیائے علوم کی تفصیلات نصاب میں شامل ہوں‘‘۔ (مغربی فکر کے مطابق یونانی عہد کے بعد انسانیت پر ایک تاریک دور (dark age) آیا جس کا خاتمہ، یورپی صنعتی انقلاب کے ذریعے ہوا۔ اس ’’تاریک دور‘‘ میں مسلمانوں کا عہد زریں شامل ہے جس میں عورت کو پہلی دفعہ مرد کے برابر قراردے کر اسے جائداد کا حق دیا گیا۔ برطانیہ میں عورت کو یہ حق ۱۹۳۵ میں ملا۔ جی ہاں ! اب ہمارے بچے خلافت راشدہ کو عہد ظلمات کے طورپر پڑھیں گے) ۔
محترم قارئین! یہ نمونے کی چند سفارشات ہیں جو پشاور میں ایک چرچ پر حملے کے ثمرات ہیں۔ دہشت گردی کی جنگ میں ایک اندازے کے مطابق پچاس ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے اور مسلمان صبر اور شکر کے ساتھ یہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن ادھر ایک چرچ پر ستمبر ۲۰۱۳ء میں حملہ ہوا تو ملاحظہ ہو کہ ایک نادیدہ تسلسل کے ساتھ کیا کیا فیصلے ہوئے جن کا پاکستانی قوم کو احساس تک نہیں ہونے دیا گیا۔
ایک این جی او کی درخواست پرسپریم کورٹ نے اس چرچ پر حملے کا ازخود نوٹس لیا۔ اقلیتی برادریوں کی چند دیگردرخواستوں کو جمع کرکے اٹارنی جنرل ، صوبائی ایڈووکیٹ جنرل اور دیگر متعلقہ افسران کوبلایاگیا۔ سماعت کے بعد معزز عدالت نے ۱۹جون ۲۰۱۴ ء کو فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ ازخود نوٹس پر تین فیصد اقلیتوں کے لیے تھا لیکن اس فیصلے سے ستانوے فی صد مسلمانوں کی نسلوں پرجو اثرات مرتب ہوں گے، انہیں متصورکرکے دل ڈوب جاتا ہے۔ اور تماشا یہ ہے کہ مسلمان نہ اس مقدمے میں فریق تھے اور نہ انہیں سنایا گیا۔ معزز عدالت نے حکم دیا کہ ’’اسکول اور کالج کے درجات پر ایسا مناسب نصاب تشکیل دیاجائے جو مذہبی رواداری کی ثقافت کو فروغ دے۔ فیصلے میں۱۹۸۱ میں اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کاحوالہ دیاکہ ’’بچے کو مذہب اور اعتقاد کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے تعصب سے محفوظ رکھا جائے گا اور اس کی نشوونما سمجھ داری، رواداری، افراد کے مابین دوستانہ روابط، امن اور آفاقی بھائی چارے، مذہبی آزادی اور دوسرے اعتقاد کی تعظیم اور اس شعور کے ساتھ کی جائے گی کہ اس کی صلاحیتیں اور توانائی اپنے ساتھیوں کے لیے وقف ہوگی‘‘۔
فیصلے کی نقل متعلقہ اداروں کو بھیجی گئی۔ پنجاب حکومت نے تین مقامی صاحبان پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جس نے وہ سفارشات مرتب کیں جن کی ہلکی سی ایک جھلک آپ سطور گزشتہ میں دیکھ چکے ہیں۔ تین مقامی اور مطلقاً غیرمعروف افراد کی ان سفارشات کو ۲فروری ۲۰۱۶ء کو پنجاب حکومت نے سرکاری ونجی جامعات کو اس ہدایت کے ساتھ ارسال کیا کہ ان سفارشات پرعمل کرکے بالوضاحت بتایاجائے کہ نصاب میں کیا ترامیم کی گئیں اور جن کتب میں ترامیم کی گئیں وہ کتب بھی منسلک کی جائیں۔ اسی پربس نہیں، جامعات امتحانی سوالات بھی اب ان تین غیرمعروف افراد کے افکار کی روشنی ہی میں مرتب کیاکریں گی۔
اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ وطن عزیز میں کیا کیا بارودی سرنگیں بچھ رہی ہیں اور اس جمہوری ملک میں ستانوے فی صد آبادی کو پتہ ہی نہیں کہ آنے والی نسلوں کے ساتھ کیا ہورہاہے؟ اس مقدمے میں تمام فریقوں نے یہ فرض کرلیا ہے کہ چرچ پر حملہ آور غلط نصاب تعلیم کی پیداوار پاکستانی طلبا تھے۔ نصاب تعلیم عدم برداشت پرمبنی ہے (اس کاکوئی ثبوت فیصلے میں نہیں )۔ چونکہ اس ازخود نوٹس کے تمام متاثرین غیرمسلم افراد تھے، اس لیے نہ تو مسلمانوں میں سے کسی کو بطور فریق سنا گیا ، نہ کسی سطح کے تعلیمی نصاب کی جانچ پرکھ کی گئی ۔ نہ کسی جامعہ کے وائس چانسلر سے رابطہ کیاگیا۔ عدالت عظمیٰ کے مکمل احترام کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ ایک ایسا یک طرفہ( ex party) فیصلہ ہے جس کے متعلقہ فریقوں اور متاثرین کو سنا ہی نہیں گیا۔ معزز جج صاحب نے فیصلہ تحریر کرتے وقت ان تمام حدود سے تجاوز کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے جو عدلیہ کے لیے پوری دنیا مسلمہ ہیں۔ اسی فیصلے میں یہ حکم بھی موجود ہے کہ ایک خاص تربیت یافتہ پولیس فورس تشکیل دی جائے جو اقلیتی عبادت گاہوں کی حفاظت کرے۔ معززعدالت نے اس مختصر سے حکم کے مضمرات پر شاید غور نہیں کیا ۔ کل کو نجی اسکولوں کے مالکان دہشت گرد ی کے نام پر عدالت عظمیٰ میں چلے گئے تو ان کے لیے ایک نئی پولیس فورس کیوں نہ تشکیل دی جائے ۔ فی الاصل عدلیہ کا کام ملکی قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہوتا ہے نہ کہ انتظامی احکام جاری کرنا۔ اس کی بہترین مثال موجودہ چیف جسٹس صاحب نے قائم کی ہے: رینجرز نے گزارش کی کہ ہمیں تھانے قائم کرنے کی اجازت دی جائے تو سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ہم قانون کے مطابق فیصلے کریں گے کسی کو انتظامی حکم نہیں دے سکتے۔
ذرا اندازہ کریں کہ کتنی خاموشی اور تسلسل سے تبدیلیوں کی ایک رو چلتے چلتے مسلمانوں کی نسلوں کو لپیٹ میں لے آئی جنہیں سنا ہی نہیں گیا۔ دہشت گردعالمی غنڈوں کے پروردہ لوگ ہیں ۔ ان کا عامہ الناس اور اسلام سے کیا تعلق؟: چرچ پر حملے کو جواز بناکر ایک این جی او کی درخواست اورازخود نوٹس پر سماعت جس میں حقائق کاذکر تک نہیں، یہ سارا فیصلہ مفروضوں پرمبنی ہے۔ کیا چرچ کے ملزمان کہیں پکڑے گئے؟ اگر ہاں تو کیا ان پر کوئی ایسی جرح ہوئی جس میں انہوں نے اپنے اس فعل بد کو تعلیمی نظام کی پیداوار قرار دے کرکوئی اعتراف کیا ہو۔ کیا کسی نے نصاب تعلیم کا جائزہ لے کر اس کے توجہ طلب پہلو اجاگر کیے۔ یہ سب کچھ نہیں ہوا۔ ازخود نوٹس کی تحدید اس قدر مختصر ہواکرتی ہے کہ عدالتیں اس کوچے سے جلدازجلد نکلنے کی کوشش کرتی ہیں۔ زیرنظر فیصلے میں معززعدالت کے سامنے ایک اقلیتی عبادت گاہ پرحملے کے مرتکبین کی گرفتاری مسئلہ تھا لیکن معزز جج صاحب نے نادیدہ ونامعلوم مجرموں کو اولاً مسلمان فرض کیا ۔ پھر یہ فرض کیا کہ ملکی نظام تعلیم ان مسلمانوں کی تربیت کاذمہ دار ہے۔ لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ نصاب تعلیم تبدیل کیاجائے۔
اس قصے میں کوئی ایک لطیفہ سرزد ہوا ہو تو اس کاذکر کیاجائے۔ جامعات دنیا بھر کی طرح اپنے ملک میں بھی خودمختار ادارے ہیں ۔ حکومتیں ان سے تحقیق اور جستجو کی درخواست تو کرسکتی ہیں، انہیں کوئی حکم نہیں دے سکتیں۔ حکم دینے کے لیے متعلقہ پارلیمان سے جامعہ کے ایکٹ میں ترمیم لازم ہے۔ اس زیرنظر مقدمے میں حکومت پنجاب نے لاہور کے تین مقامی کالجوں کے تین افراد (ان تین میں سے ایک صاحب انتظامی عہدے دار ہیں اور صرف ایک پی ایچ ڈی ہیں) پرمشتمل ایک کمیٹی سفارشات مرتب کرنے کے لیے قائم کی۔ یہ اصحاب علمی دنیا میں کتنے معروف ہیں، اس سے بحث نہیں۔ قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ جنا کرے گی۔ قارئین کرام، اب کالجوں کے ایم اے پاس حضرات اور انتظامی افسران صف اول کی جامعات کے پی ایچ ڈی پروفیسروں کے لیے ہدایات مرتب کیاکریں گے۔ یہ جامعات میں quality enhancement کے ثناخوانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے یا قرب قیامت کی علامت؟
سینیٹ ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے معزز ارکان سے دردمندانہ گزارش ہے کہ عوام کی دی گئی پانچ چھ سالہ امانت کی پاسداری میں براہ کرم ان بارودی سرنگوں پرنظر رکھا کریں۔ اس اہم فیصلے کے مضمرات پر ماہرین تعلیم کو غور کرنا چاہیے۔ یہ دینی وغیر دینی سیاست کاموضوع ہی نہیں۔ معزز جج صاحب کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کے راستے موجود ہیں۔ اصحاب دانش سے گزارش ہے کہ اس فیصلے کے مضمرات پرغور کرکے اس کے تدارک کا بندوبست کیاجائے ورنہ طلبا جب کتابوں میں خلافت راشدہ کو ظلمات کا دور پڑھیں گے تو ان سے پھولوں کی توقع کون کرسکتا ہے؟ کیا یہ فیصلہ ہمیں رواداری اور عدم برداشت کی طرف لے جارہا ہے؟ معاشرتی طبقات میں بڑھتی ہوئی خلیج کوکم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ فیصلہ اورتعلیمی سفارشات طبقاتی بعد کو ہوادیں گے۔
ماہرین قانون ، ماہرین تعلیم، اصحاب دانش اور فہمیدہ افراد سے توقع کی جاتی ہے کہ اس فیصلے کے مضمرات پرغورکرکے اس کے تدارک کا کوئی راستہ نکالیں گے تاکہ معاشرے کو دوسری انتہاپر جانے سے روکا جائے۔
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام
صدر شعبہ علوم اسلامیہ، سیالکوٹ کیمپس
یونیورسٹی آف گجرات
’’فقہائے احناف اور فہم حدیث : اصولی مباحث‘‘ ۔ تعارف و تبصرہ کی ایک نشست کی روداد
ڈاکٹر حافظ محمد رشید
۱۹ مارچ ، بروز ہفتہ مولانا محمد عمار خان ناصر کی نئی تصنیف ’’ فقہائے احناف اور فہم حدیث : اصولی مباحث‘‘ کے تعارف وتبصرہ کے حوالے سے ایک فکری نشست الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں ڈاکٹر محمد اکرم ورک (پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ، کامونکی )، ڈاکٹر شہزاد اقبال شام (پروفیسر (ر) انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی ، اسلام آباد )، پیر جی سید مشتاق شاہ ، مولانا ظفر فیاض (استاذ الحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم ، گوجرانوالہ) ڈاکٹر میاں ریاض محمود اور دیگر اہل علم نے شرکت کی اور کتاب کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ ڈاکٹر شہزاد اقبال شام صاحب کو کتاب بروقت موصول نہ ہو سکی، تاہم انہوں نے موضوع کی ضرورت اور عصر حاضر میں موضوع کے بعض پہلوؤں پر، پر مغز گفتگو کی۔ کتاب اور صاحب کتاب کے حوالے سے مقررین نے جو کچھ کہا، اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے ۔
ڈاکٹر محمد اکرم ورک نے اپنی گفتگو میں کہا کہ:
مولانا عمار خان ناصر نے اپنی کتاب میں احناف کے وہ فکری معیارات واضح کیے ہیں جن پر وہ حدیث کو پرکھتے ہیں۔ یہ بڑا قابل قدر کام ہے اور وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ اس کے ساتھ احناف کے ان فکری معیارات کا شجرہ نسب بھی اس میں شامل کر لیا جائے تو اس کی افادیت میں اضافہ ہو جائے۔ فکری شجرہ نسب سے میری مراد یہ ہے کہ کس طرح امام ابوحنیفہ ؒ کی فکر اپنے اساتذہ کے واسطے سے اکابر صحابہ کرامؓ جیسے حضرت علیؓ ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ سے مربوط ہوتی ہے۔ کتاب کو پڑھتے ہوئے بہت واضح تاثر ملتا ہے کہ احناف کے بارے میں دور اول میں بہت سی غلط فہمیاں ان مآخذ سے ناواقفیت کی بنا پر تھیں جو کہ اب ہمارے پاس موجود ہیں، لیکن بے اعتنائی کی وجہ سے وہی ساری غلط فہمیاں آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ مثلاً غلام احمد پرویز نے اپنی کتاب میں امام ابوحنیفہ کو بھی منکرین حدیث کے گروہ کا ایک فرد شمار کیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے یہ بات بڑی واضح ہوئی ہے کہ ان مآخذ کو جس طرح عمار صاحب نے پیش نظر رکھا ہے، اگر ہم بھی پیش نظر رکھیں تو بہت سی غلط فہمیاں دور ہو سکتی ہیں۔
ایک اور بات میں یہ کہنا چاہوں گا کہ عمار صاحب نے جہاں احناف کے نقطہ نظر کی بہت خوبصورت وضاحت کی ہے، وہیں اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حدیث کے بارے میں ان کا اپنا بھی وہی موقف ہے جو احناف کا موقف ہے، کیونکہ کسی چیز کو بطور دلیل پیش کرنا بھی اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ اس چیز کے بارے میں آپ کا موقف بھی قریب قریب وہی ہے۔ عمار صاحب کے بارے میں ایک بات کا اظہار میں اکثر علمی محافل میں کرتا ہوں کہ وہ ایک ایسی علمی شخصیت ہیں جو دلیل کے ساتھ کسی بات کو قبول کرتے ہیں اور دلیل کے ساتھ ہی کسی بات کو رد کرتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ حق اہل علم کو دیا جانا چاہیے۔ یہ بات قریب کے لوگ تو بہت اچھی طرح جانتے ہیں، دور کے لوگوں کے لیے بھی اس کتاب کے ذریعے یہ بات واضح ہو گئی ہے۔
اس کتاب میں احناف کے نقطہ نظر کی تفہیم و وضاحت کا جو اسلوب اپنایا گیا ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ ہماری تاریخ میں جو مختلف گروہ گزرے ہیں، جیسے معتزلہ ، خوارج وغیرہ اور آج کے دور میں جو گروہ سامنے آئے ہیں ، حدیث کے حوالے سے ان کی رائے کو بھی اسی انداز میں صحیح تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ ورنہ آپ اگر لوگوں کو ایک دو یا چند احادیث کے انکار کے نتیجہ میں منکرین حدیث کے زمرے میں شمار کرنا شروع کر دیں گے تو میرا خیال ہے کہ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ جیسا شخص بھی، جنہوں نے حدیث کی حجیت پر ایک زبردست مناظرہ کیا ہے، شاید منکرین حدیث کی فہرست میں شامل ہوگا۔ اسی طرح مولانا غلام رسول سعیدی جن کاا بھی کچھ عرصہ پہلے ہی انتقال ہوا ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو والی جتنی حدیثیں ہیں، ان کی صحت کے قائل نہیں تھے، حالانکہ یہ احادیث بخاری و مسلم میں موجود ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ محض کسی حدیث کا انکار کرنا اور بات ہے اور پورے علم حدیث اور فن حدیث کا انکار کرنا جو کہ ایک مخصوص مکتبہ فکر کا مؤقف ہے، بالکل مختلف چیز ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کی شکل میں ہمارے سامنے ایک زاویہ نگاہ آیا ہے کہ کسی غلط فہمی میں مبتلا ہونے کے بجائے موجود مآخذ کی روشنی میں علمی بنیادوں پر ایسے لوگوں کا نقطہ نظر سمجھنا چاہیے جیسے احناف کا نقطہ نظر اس کتاب میں سمجھا گیا ہے۔
پیر جی سید مشتاق علی شاہ صاحب کی گفتگو کے اہم نکات یہ تھے:
مولانا عمار صاحب جب طالب علم تھے، اسی وقت ہم ان کی صلاحیتوں سے باخبر ہو گئے تھے کہ مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی اولاد میں یہ شخص ان کے کام کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مولانا سرفراز خان صفدرؒ کو محدث اعظم یا اسماء الرجال کا امام خوش فہمی یا عقیدت کی وجہ سے نہیں کہا گیا، بلکہ انہوں نے اپنا لوہا خود منوایا۔ جو ان کی کتابیں پڑھے گا، وہ یہ کہے گا کہ ان کو فن حدیث یا اسماء الرجال میں جو مقام دیا گیا، وہ ایسے ہی نہیں دیا گیا بلکہ ان کے اندر یہ وصف پایا جاتا تھا ۔حضرت صوفی عبد الحمید سواتی صاحب ؒ سے ایک مرتبہ عمار کے بارے میں بات ہوئی تو فرمانے لگے کہ شیخ الحدیث صاحب نے اس کو حدیث محدثین کی طرز پر پڑھائی ہے اور ہم نے اس کو حدیث شاہ ولی اللہ ؒ کی طرز پر پڑھائی ہے۔ یعنی عمار دونوں کا جامع ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ بڑا ہو کر اپنے دادا کا ترجمان بنے اور خاندان کا اس سے نام روشن ہو۔ صوفی صاحب نے فرمایا کہ مفتی عبد الواحدؒ (سابق خطیب جامع مسجد شیرانوالہ باغ ، گوجرانوالہ) نے جب مولانا سرفراز خان صفدر ؒ سے ان کے بیٹے کو مانگا تو انہوں نے مولانا زاہد الراشدی کو ان کے حوالے کر دیا اور یہ سیاست کی لائن پر چڑھ گئے، لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ عمار حدیث پر کام کرے اور دادا کا وارث بنے۔ جنہوں نے مولانا سرفراز خان صفدر ؒ کو دیکھا اور پڑھا ہے، وہ مولانا زاہد الراشدی اور عمار صاحب کو بھی اسی آئینے میں دیکھنا چاہتے تھے۔ کچھ عرصہ تک تو یہ آئینہ دھندلا دھندلا رہا، اس کتاب نے یہ دھندلاہٹ صاف کر دی ہے اور اس کو پڑھنے کے بعد ہر آدمی یہی کہے گا کہ ’’مقام ابی حنیفہ‘‘ کے بعد اگر ایسی کوئی کتاب اردو میں آئی ہے تو وہ عمار صاحب کی یہ کتاب ہے۔
امام صاحب ؒ کے بارے میں مخالفین کی طرف سے دو طرح کے اعتراض سامنے آئے ہیں۔ ایک ان کے مسائل کے بارے میں اور دوسرا ان کی شخصیت کے بارے میں ۔ اگر آدمی ان دونوں چیزوں کو سمجھ لے تو امام صاحب پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ امام صاحب ؒ کی شخصیت سے جو اچھی طرح واقف ہوگا، وہ یہ سمجھ جائے گا کہ امام صاحب ؒ کے اصول کیا ہیں ، ضوابط کیا ہیں ، ان کا استدلال کا طریقہ کیا ہے۔ اور جو ان کے مسائل سے واقف ہو گا، وہ سمجھ جائے گا کہ امام صاحبؒ نے کوئی کمی چھوڑی ہی نہیں اور وہ اس بات کی تہہ تک پہنچ جائے گا کہ امام صاحب ؒ کی کوئی بات حدیث کے خلاف نہیں۔
ہم یہ بات پڑھا کرتے تھے کہ امام صاحب نے اجتہاد کے لیے چالیس آدمیوں کی کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی میں جو بحثیں ہوتی رہیں اور جو نتائج مرتب ہوتے رہے، ان کے بارے میں ہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ وہ سب چیزیں کہاں ہیں؟ ان کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔ ظاہر الروایہ اور احناف کی دیگر بڑی کتب اردو میں بہت کم ملتی ہیں۔ امام ابویوسف ؒ کی کتاب الآثار تک کا ابھی تک اردو میں ترجمہ نہیں ہوا ۔امام محمدؒ کی پانچ کتابوں کا ترجمہ آیا ہے جو ہم نے دیکھی ہیں، باقی کا پتہ نہیں۔ تو ہم سوچتے تھے کہ فقہائے احناف کی جو ظاہر الروایہ کتابیں ہیں اور چالیس آدمیوں کی کمیٹی نے جو کام کیا ہے، وہ کہاں ہے ؟عمار صاحب کی کتاب کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں براہ راست امام محمد ؒ کی کتابوں سے استدلال کیا گیا ہے، امام ابو یوسف ؒ کی کتابوں کو ماخذ بنایا گیا ہے، سرخسی کی ’’المبسوط‘‘ کو ماخذ بنایا گیا ہے جو امام حاکم شہید ؒ کی کتاب ’’الکافی‘‘ کی شرح ہے جو کہ ظاہر الروایہ کی چھ کتابوں کا مجموعہ ہے۔ عمار صاحب نے اس طرح توجہ دلائی ہے کہ احناف کا موقف سمجھنے اور ان کے طریقہ استدلال کو چانچنے اور جاننے کے لیے ان اصل کتابوں کو ماخذ بنانا چاہیے۔
’’ مقام ابی حنیفہ‘‘ میں مولانا سرفراز خان صفدر ؒ نے ایک باب قائم کیا جس کا عنوان ہے: ’’ مخالفت حدیث کی نفیس بحث‘‘ ۔ جو آدمی وہ پڑھ لے گا، اس پر واضح ہو جائے گا کہ امام صاحب ؒ حدیث کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔ عمار صاحب نے ابن ابی شیبہ ؒ کے ایک سو پچیس اعتراضات پر جو کام کیا ہے، اس میں ان کو انفرادیت حاصل ہے کہ ان سے پہلے اردو میں اس پر جامع کام نہیں ہوا تھا۔ حضرت تھانوی ؒ کے زمانے میں صرف دس مسئلوں پر کام ہوا تھا جو ’’ الاجوبۃ اللطیفہ عن بعض ردود ابن ابی شیبہ علی ابی حنیفہ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اسی طرح مولانا عطاء المصطفیٰ جمیل کے دادا نے’’ تائید الامام ‘‘کے نام سے ابن ابی شیبہ کے چودہ اعتراضات کا جائزہ لیا۔ پورے ایک سو پچیس مسئلوں پر اردو میں صرف عمار صاحب نے کام کیا ہے۔ تو مسائل کے حوالے سے انہوں نے اعتراضات کا جواب دے دیا کہ امام ابوحنیفہ کے ہاں مخالفت حدیث نہیں ہے۔ عمار صاحب کی موجودہ کتاب تو صرف اصولی مباحث پر مشتمل ہے جو اصل کتاب کا دیباچہ ہے۔ اصل کتاب ابھی آرہی ہے ۔ جو شخص بھی اس کتاب کو خالی ذہن ہو کر پڑھے گا، وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ امام ابو حنیفہ ؒ حدیث کی مخالفت کرتے تھے۔
باقی رہے امام صاحب پر شخصی اعتراضات تو اس پر علامہ خطیب بغدادی کی کتاب ’’تاریخ بغداد‘‘ کے متعلقہ حصے کو اردو میں سب سے پہلے مولانا محمد بن ابراہیم میمن جوناگڑھی نے چھاپا۔ اس کے چھپنے کے بعد مولانا حبیب الرحمن شیروانی نے جو برصغیر کے مشہور آدمی ہیں، ’’ امام ابو حنیفہ ؒ اور ان کے ناقدین ‘‘ کے نام سے اس کا جواب لکھا، مگر وہ نامکمل تھا ۔ میں نے عمار صاحب کے چچا مولانا عبد القدوس خان صاحب کی توجہ اس طرف مبذول کروائی تو انہوں نے علامہ زاہد الکوثری کی کتاب ’’تانیب الخطیب‘‘ کا اردو ترجمہ ’ ’ عادلانہ دفاع‘‘ کے نام سے کر دیا۔ یہ دونوں کام اللہ تعالیٰ نے مولانا سرفراز خان صفدر ؒ کے خاندان سے کرائے۔
یونیورسٹی آف گجرات، سیالکوٹ کیمپس میں شعبہ علوم اسلامیہ کے صدر ڈاکٹر شہزاد اقبال شام نے اپنی گفتگو میں کہا کہ :
میں مولانا عمار خان ناصر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ اس چھوٹی سی عمر میں علمی لحاظ سے اتنا آگے جا چکے ہیں کہ جس پر رشک کی بجائے میں حسد بھی کروں تو کوئی حرج نہیں ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم میں برکت عطا فرمائیں اور امت مسلمہ کے لئے نافع بنائے۔ آمین۔
امام ابو حنیفہ ؒ کے متعلق یہ مشہور ہو گیا کہ وہ حدیث کے ردو قبول میں اس قدر متشدد تھے کہ چند مخصوص احادیث کے علاوہ وہ کسی حدیث سے استنباط و استنتاج ہی نہیں کرتے تھے۔ میری معلومات کے مطابق یہ قول ابن خلدون کی طرف منسوب ہے۔ یہ قول ایسا چلا کہ اس پر عمارات تعمیر ہونی شروع ہو گئیں، حالانکہ امام ابو حنیفہ ؒ سے مرویات کی کتابیں ایک سے زیادہ موجود ہیں۔ میری معلومات کے مطابق برصغیر میں جو پہلی کتاب شائع ہوئی، وہ ’’ کتاب الآثار ‘‘ کے نام سے ہے۔ یہ حیدر آباد دکن سے تقریباً بیسویں صدی کے پہلے ربع میں کہیں چھپی تھی۔ اس میں امام ابو یوسف ؒ کی وہ روایات ہیں جو انہوں نے امام ابو حنیفہ ؒ سے کی ہیں۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ عمار صاحب کی یہ کتاب ایک طبقے کے لیے تو بہت اہمیت رکھتی ہے۔ عمار صاحب کا تعلق ایک علمی خانوادہ سے ہے اور حدیث کے مطابق اولاد صالح اور صدقہ جاریہ کسی بھی خانوادے کا سرمایہ ہوتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں اس کتاب میں جمع ہو گئی ہیں ۔ یہ کتاب پورے خانوادے کے لیے صدقہ جاریہ بھی ہے اور اولاد صالح کی ایک دمکتی ہوئی مثال بھی ہے۔ لیکن میری ان سے گزارش ہے کہ ماضی کے ساتھ جڑے رہنا ایک بہت مثالی اور آئیڈیل کام ہے، لیکن وہ عہد حاضر کے مسائل کی طرف نسبتاً زیادہ توجہ کریں تو بہت اچھا ہو ۔ کیونکہ میری رائے میں جو لوگ فقہ اور فقہا کے بارے میں ہر وقت مناظرانہ تکلم کے قائل ہیں، ان کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ ایک ذوقی چیز ہے، اس معاملے میں کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ لیکن کاسموپولیٹن فقہ یا فقہ عولمی جس تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، یہ سب چیزیں اب قصہ پارینہ ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ اس لیے اس کی طرف توجہ زیادہ ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحبؒ نے اپنی کتاب میں کاسموپولیٹن فقہ کی بات کی ہے۔ ان کے مطابق اب متعین فقہ کی پابندی کا دور قصہ پارینہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جس تسلسل اور تدریج کے ساتھ اسلامی قانون اس طرف جا رہا ہے، اس میں اب کسی ایک فقہ کے ساتھ امت مسلمہ کے مسائل نہ حل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی حل ہوں گے۔
میں عمار صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان کی مساعی میں برکت عطا فرمائیں اور مولانا زاہد الراشدی کو صحت کے ساتھ عمردراز دے کیونکہ جو کام وہ کر رہے ہیں، مجھے ان میں ڈاکٹر محمود غازی ؒ کی جھلک نظر آتی ہے۔
الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ :
اس کتاب کے بارے میں، میں نے دیباچہ میں کچھ باتیں لکھ دی ہیں۔ اس وقت میں سوسائٹی میں علم و فکر اور دانش کے مستقبل کے حوالے سے چند باتیں عرض کروں گا۔ یہ صدی مسلمہ طور پر مذہب کی طرف واپسی کی صدی کہلاتی ہے۔ پچھلی دو صدیاں مذہب سے انحراف کی صدیاں تھیں، اب دنیا آہستہ آہستہ مذہب کی طرف واپس آ رہی ہے۔ ان حالات میں، میں یہ چاہتا ہوں کہ ہمارے اہل علم بالخصوص نوجوان فضلاء جن کا کتاب سے، علم سے اور ماضی سے گہرا تعلق ہے، وہ مذہب کی طرف واپسی کے صحیح راستوں کی نشاندہی کریں۔ اس موڑ پر اگر امت کسی غلط راستے کی طرف مڑ گئی تو اس کی ذمہ داری ہم پر بھی ہو گی اور بالخصوص یہ نوجوان فضلاء اس کے ذمہ دار ہوں گے ۔ میں تمام فقہوں کا احترام کرتا ہوں، سب سے استفادے کا قائل ہوں، اگر کسی دوسری فقہ سے استفادے کی ضرورت ہو تو میں اس کا منکر نہیں ہوں، لیکن میرا وجدان شرح صدر کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ آنے والے دور میں فقہ حنفی میں یہ صلاحیت زیادہ ہے کہ وہ قیادت کرے۔ باقی فقہیں بھی ساتھ ہوں، لیکن فقہ حنفی کے اسلوب اور بنیادی اساس میں زیادہ صلاحیت ہے کہ وہ مستقبل کی فقہی و علمی اور فکری ضروریات کو پورا کر سکے اور مسائل کو حل کر سکے، اس لیے اس پر کام کی زیادہ ضرورت ہے۔
مغرب میں فکری اعتبار سے جن شخصیات پر سب سے زیادہ کام ہو رہا ہے، ان میں ایک شاہ ولی اللہ ؒ ہیں۔ اس کی وجہ ان کی فکر میں حدیث، فقہ، تفقہ اور سلوک کا بہترین امتزاج ہے۔ اسی وجہ سے شاہ صاحب ؒ مغرب میں توجہات کا ایک بڑا موضوع ہیں۔ ان کے ساتھ اب دوسری شخصیت امام ابو منصور ماتریدیؒ کی شامل ہو رہی ہے۔ پچھلے دنوں امریکہ کی ایک یونیورسٹی سے ایک پروفیسر صاحب آئے تھے جو امام ابو منصور ماتریدی ؒ کی فکر پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کے کچھ سوالات تھے جن کے بارے میں ایک طویل نشست میں ان سے گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ مغرب میں فکر وفلسفہ کے حلقوں میں اس پر غور ہو رہا ہے کہ اخلاقیات کی ٹھوس بنیادیں مذہب کے علاوہ کسی اور جگہ سے نہیں مل سکتیں اور اس سلسلے میں عقل اور وحی کے مابین توازن کے حوالے سے ابومنصور ماتریدیؒ کے افکار کی طرف ہماری توجہ بڑھ رہی ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ایسی شخصیات اور ان کی فکر پر اس حوالے سے کام کرنے کی زیادہ ضرورت ہے کہ عقل و وحی کے درمیان توازن کیسے قائم ہو، مسائل کے حوالے سے بھی اور اصول کے حوالے سے بھی ۔میں اس کتاب کو بھی اسی کوشش کا حصہ سمجھتا ہوں اور یہ اس ضمن کی ایک اچھی کوشش ہے۔
الشریعہ اکادمی کو بنے تقریباً تیس سال ہو گئے ہیں۔ میرے ذہن میں اس کے قیام سے بھی پہلے سے ایسے کام کا خاکہ تھا کہ اس رخ پر کام ہونا چاہیے۔ آج کی ضروریات کا احسا س ہونا چاہیے، مستقبل کے امکانات کا جائزہ لینا چاہیے اور ماضی کو سامنے رکھ کر اس کی بنیاد پر آج کی ضروریات اور مستقبل کے امکانات پر کام ہونا چاہیے۔ میں اس کتاب کو بھی اسی کوشش کا ایک حصہ سمجھتا ہوں۔ دعا فرمائیں کہ اللہ رب العز ت نظر بد سے بچائیں اور خلوص اور ذوق میں اضافہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے والد گرامی اور چچا محترم کے درجات بلند فرمائیں۔ یہ انھی کا فیض ہے ، وگرنہ سچی بات ہے کہ ہم تو کچھ بھی نہیں، صرف پائپ لائن ہیں۔ بس یہ دعا ہے کہ ہم پائپ لائن کے طور پر اپنے بزرگوں کے فیض کو آگے پہنچا سکیں اور دین کی، ملک کی اور ملت کی کوئی مثبت خدمت کر سکیں ۔جزاکم اللہ تعالیٰ
تقریب کے آخر میں کتاب کے مصنف، مولانا محمد عمار خان ناصر نے اپنی مختصر گفتگو میں دو تین باتیں کہیں:
ایک تو یہ کہ اس کتاب کی صورت میں حنفی فکر پر کام کرنے کی ایک جہت کو سامنے لایا گیا ہے۔ یہ اس کی ایک ابتدائی اور چھوٹی سی کوشش ہے۔ اس کے اور بھی بہت سے پہلو ہیں جن پر کام کی ضرورت ہے۔ اسی طرح جن پہلوؤں پر بات ہوئی ہے، ان پر مزید وسعت کے ساتھ تحقیق کی ضرورت ہے۔ ان شاء اللہ مجھے بھی توفیق ہوئی تو مزید کچھ پہلوؤں پر کام کروں گا اور امید ہے کہ دوسرے اہل علم بھی متوجہ ہوں گے، کیونکہ اس پر کام کے لیے بہت گنجائش ہے۔
دوسری یہ کہ یہاں اس موضوع کے مختلف پہلوؤں کا ذکر ہوا۔ میرے لیے جو چیز محرک ہے، جس کی وجہ سے میں اب تک اور آئندہ بھی اس میں دلچسپی محسوس کرتا رہوں گا، وہ ایک تو یہ ہے کہ ہماری علمی روایت کا ایک حصہ جس سے ہم خود وابستہ ہیں، جس سے ہم نے دین سیکھا ہے، اس کا علمی تعارف ابھی بہت سے پہلوؤں سے توضیح کا متقاضی ہے۔ ہمارے اس تعلق کا تقاضا ہے کہ ہم ان پہلوؤں کو واضح کریں اور خاص طور پر اس ضمن میں در آنے والے منفی تصورات و تاثرات کا ازالہ کریں۔ ڈاکٹر اکرم ورک صاحب نے بڑا اچھا پہلو نمایاں کیا کہ ہمارے ہاں بعض گروہوں کی طرف سے امام ابو حنیفہ ؒ کو انکار حدیث کی روایت کا ایک حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ تاثر نہ صرف پرویز صاحب جیسے مفکرین کے ہاں ہے بلکہ آپ کو حیرت ہو گی کہ علامہ اقبال نے بھی اپنے خطبہ اجتہاد میں امام صاحب ؒ کی فکر کا تعارف اسی تناظر میں کروایا ہے کہ چونکہ ذخیرہ احادیث غیر مستند ہے، اسی لیے امام ابو حنیفہ ؒ بھی احادیث کو اپنے اجتہاد میں اہمیت نہیں دیا کرتے تھے۔ ایک تو اس تاثر کا ازالہ اور حنفی فقہ کے صحیح موقف کی وضاحت ضروری ہے۔
دو چیزیں اور ہیں جو موجودہ تناظر میں اس کام کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔ ایک تو وہی جس کی ابھی بات ہوئی یعنی فقہ عولمی اور بدلتے ہوئے زمانے میں اجتہادی روایت کا احیاء۔ اس حوالے سے حنفی منہج فکر کیا ہے؟ اس کو اصولی زاویے واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں ایک تاثر سا بن گیا ہے کہ فقہ حنفی کچھ خاص امتیازی مسائل کا نام ہے اور اس تاثر میں ہم بعض اسباب کے تحت بہت زیادہ گرفتار ہو گئے ہیں۔ تو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ مسائل اصل میں نتائج ہیں ایک خاص اجتہادی طرز فکر کے۔ اصل چیز سوچنے کا وہ انداز اور اجتہاد کے وہ اصول ہیں اور کسی بھی مسئلے کو شریعت کے پورے نظام کے اندر رکھ کر سمجھنے کا طریقہ ہے جو حنفی فقہا نے اختیار کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر احناف کی علمی روایت جزوی بحثوں سے اوپر اٹھ کر اس اصولی جگہ سے خود کو نئے سرے سے دریافت کر لے تو فقہ عولمی یا کاسموپولیٹن فقہ کی تشکیل میں اس کا کردار زیادہ مفید اور بامعنی بن سکتا ہے۔
تیسری چیز جو میرے نزدیک بہت اہم ہے، وہ یہ ہے کہ اس وقت ہمیں مذہبی حلقوں میں، ان کی سوچ اور فکر میں تشدد اور انتہا پسندی کا جو ایک عنصر بڑھتا ہوا نظر آتا ہے، اس کا ازالہ بھی اسی میں ہے کہ ہم دین کو، شریعت کو اور شریعت کے احکام کو سمجھنے کا جو صحیح اور جامع زاویہ نگاہ ہے، اس کو واضح کریں ۔ ہمیں احناف کے منہج میں یہ دیکھنا چاہیے کہ امام صاحبؒ اور دیگر ائمہ احناف کیسے کسی آیت کو یا کسی حدیث کو شریعت کے پورے نظام کے اندر رکھ کر اور باقی سارے نصوص کے ساتھ مربوط کر کے سمجھتے تھے۔ یہ چیز اس فکری انتہا پسندی کا تریاق ثابت ہوگی جس میں ایک آیت یا حدیث کو لے کر اس کی بنیاد پر پوری عمارت تعمیر کر لی جاتی ہے اور بہت سے بڑے بڑے قدم بھی اٹھا لیے جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میں نے جو چھوٹی سی کاوش کی ہے، وہ مفید ثابت ہو اور اس نہج پر کام کو مزید آگے بڑھایا جا سکے اور ہمارا یہ کام دین اور اہل دین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔