ستمبر ۲۰۱۵ء

ملا محمد عمرؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچی کا سانحہ ارتحالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
جنرل حمید گل بھی رخصت ہوئےمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۱)ڈاکٹر محی الدین غازی 
خاطراتمحمد عمار خان ناصر 
بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی اور اس کا سدبابمحمد فیصل شہزاد 
دعوتِ دین اور ہمارے معاشرتی رویےمحمد اظہار الحق 
جانباز مرزا ۔۔۔۔۔۔ عظیم مرزامحمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ 
امام ابن جریر طبری کی مظلومیتمولانا عبد المتین منیری 
کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۸)مولانا حافظ صلاح الدین یوسف 
مکاتیبادارہ 
سید احمد شہیدؒ کی خدمات پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا احوالڈاکٹر حافظ محمد رشید 

ملا محمد عمرؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ماہ کے دوران افغان طالبان کی طرف سے اس خبر کی تصدیق کر دی گئی کہ ان کے امیر ملا محمد عمر مجاہد کا انتقال ہوگیا ہے ( انا للہ وانا الیہ راجعون) اور طالبان شوریٰ نے ان کے نائب ملا اختر منصور کو ان کی جگہ نیا امیر چن لیا ہے۔
ملا محمد عمرؒ روسی استعمار کے خلاف افغان جہاد میں شریک رہے ہیں، اس میں زخمی بھی ہوئے تھے اور ان کی ایک آنکھ متاثر ہوگئی تھی۔ لیکن وہ گمنامی کے اندھیروں میں اس وقت ایک چمکدار ستارے کی مانند نمودار ہوئے جب سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کے بعد افغانستان بین الاقوامی طاقتوں کی طے شدہ پالیسی کے مطابق ایک نئی اور وسیع تر خانہ جنگی کا شکار ہو چکا تھا۔ کابل پر قبضے کی بڑی جنگ کے ساتھ ساتھ افغان مجاہدین اور تحلیل شدہ سابقہ سرکاری افغان فوج کے مختلف گروپ افغانستان کے بہت سے علاقوں میں باہم برسر پیکار تھے ۔ پورا افغانستان افراتفری کا شکار تھا، سرداروں کی اس جنگ (لارڈز وار) نے افغانستان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا تھا اور شاید بہت سی بڑی طاقتیں بھی یہی چاہتی تھیں۔ مگر قندھار کے ایک گمنام طالب علم نے اپنے طالب علم ساتھیوں کو اکٹھا کیا اور افغان عوام کو لارڈز وار کی نحوست سے نجات دلانے اور جہاد افغانستان کے نظریاتی مقاصد کی تکمیل یعنی نفاذ شریعت کو اپنا مقصد قرار دے کر یہ بے سروسامان طلبہ میدان میں نکل آئے۔ ان کا ابتدائی ہدف یہ تھا کہ کوئٹہ سے قندھار اور پھر مزار شریف تک کے تجارتی راستے پر علاقائی سرداروں نے جگہ جگہ ناکے لگا کر جبری ٹیکس وصول کرنے کا جو سلسلہ شروع کر رکھا تھا اسے ختم کر کے تجارتی گزرگاہ کو محفوظ بنایا جائے۔ چونکہ ابتدائی لشکر کے زیادہ تر شرکاء دینی مدارس کے طلبہ تھے جو جہاد افغانستان میں حصہ لینے والے مختلف جہادی گروپوں سے تعلق رکھتے تھے اس لیے یہ لشکر طالبان کے نام سے معروف ہوا۔ اور پھر چند سو افراد سے شروع ہونے والا یہ لشکر رفتہ رفتہ ایک منظم فوج کی شکل اختیار کرتا چلا گیا۔ انہوں نے نہ صرف تجارتی راستہ صاف کیا بلکہ جو علاقے ان کے کنٹرول میں آتے گئے وہاں شریعت اسلامیہ کے مطابق امارتی نظام قائم کر کے افغان عوام کو اسلامی قوانین کی برکات سے فیض یاب کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جس کا مشاہدہ و اعتراف ملا محمد عمرؒ کے پانچ سالہ دور حکومت میں عالمی سطح پر بھی کیا جاتا رہا۔ انہوں نے اپنی حکومت کو ’’امارت اسلامی افغانستان‘‘ کا نام دیا اور دھیرے دھیرے کابل سمیت بیشتر افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ 
ملا محمد عمرؒ کی حکومت کے تین کارناموں کا آج بھی بین الاقوامی سطح پر اعتراف کیا جاتا ہے۔ 
  • لارڈز وار کا خاتمہ یعنی سرداروں کی ان علاقائی حکومتوں اور باہمی جنگوں کا خاتمہ جس کا عام حالات میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ 
  • انہوں نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں عام افغان آبادی کو غیر مسلح کر دیا، یعنی ہر شخص سے اسلحہ واپس لے کر افغانستان جیسے ملک میں ’’ویپن لیس سوسائٹی‘‘ کا عملی نمونہ پیش کیا۔ 
  • ہیروئن بنانے والے پوست کی کاشت جو طالبان کے دور سے پہلے کبھی کنٹرول ہوئی اور نہ ہی ان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سے اب تک ممکن ہو سکی ہے، بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق ملا محمد عمرؒ کے ایک حکم سے ایسے ختم ہوئی کہ ان کے حکومتی دائرہ میں شامل علاقوں میں ایک پودا بھی کاشت نہ ہونے کا محاورہ بولا جانے لگا۔ 
یہ تو وہ باتیں ہیں جو بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کا حصہ ہیں اور ان کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے، جبکہ ہمارے نزدیک ان کے ساتھ ان امور کو شامل کرنا بھی ضروری ہے۔ 
  • شرعی احکام و قوانین کا عملی نفاذ اور عوام کو شریعت اسلامیہ کے مطابق انصاف کی فراہمی۔
  • گڈ گورننس اور سادہ و فطری انداز حکمرانی کا ایسا نمونہ کہ بلا شبہ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی یاد تازہ ہوگئی۔ 
  • امن عامہ اور لوگوں کی جان و مال اور آبرو کا اس درجہ میں تحفظ کہ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے کابل کے بازاروں میں دکانداروں کو دکانیں کھلی چھوڑ کر نماز کے لیے مسجد میں جاتے دیکھا ہے۔ مجھے اس سلسلہ میں ایک ذاتی واقعہ کبھی نہ بھولے گا کہ ایک بار میں چند روز کے لیے کابل گیا ہوا تھا۔ پل خشتی کی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد بازار کی طرف نکلا تو چند سکھوں کی دکانیں دکھائی دیں۔ میں ایک دکان میں بلا تکلف گھس گیا اور ٹھیٹھ پنجابی زبان میں جب دکاندار کا حال احوال دریافت کیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ کچھ دیر ہمارے درمیان گفتگو رہی، میں نے اس سے پوچھا کہ سردار جی ! یہ مولوی جب سے آئے ہیں آپ کیا تبدیلی دیکھ رہے ہیں؟ اس نے بے تکلفی سے کہا کہ جب سے یہ مولوی آئے ہیں ہم آرام کی نیند سوتے ہیں۔ میں نے تفصیل پوچھی تو اس نے بتایا کہ پہلے ہر وقت خوف و ہراس کی کیفیت رہتی تھی، میرے دو بیٹے جوان ہیں، ہم تینوں باری باری آٹھ آٹھ گھنٹے پہرہ دیتے تھے، اور باقی گھر والے سوتے تھے۔ جب سے ان مولویوں کی حکومت آئی ہے ’’ایہہ مولبی پہرہ دیندے آ، تے اسی سکھ دی نیند سوندے ہاں‘‘۔ یہ مولوی پہرہ دیتے ہیں اور ہم آرام کی نیند سوتے ہیں۔ 
مجھے کابل اور قندھار دونوں جگہ ملا محمد عمرؒ سے ملاقات و گفتگو کا موقع ملا ہے اور طالبان حکومت کے متعدد راہ نماؤں سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئی ہیں جن کے کچھ تاثرات اپنے بیسیوں کالموں میں وقتاً فوقتاً قارئین کی خدمت میں پیش کر چکا ہوں، جبکہ اکثر حصہ ابھی ’’در بطن شاعر‘‘ کی کیفیت میں ہے۔
’’الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ‘‘ نے اس سال پندرہ روزہ فکری نشستوں میں میری گفتگو کا عنوان ’’میری یادداشتیں‘‘ طے کیا ہے جس کے تحت سال کے دوران ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ مجالس میں اپنی جماعتی، مسلکی اور تحریکی سرگرمیوں کی یادداشتیں بشرط صحت و توفیق بیان کروں گا، اور انہیں ریکارڈ کرنے کے بعد قلمبند کرنے کا بھی پروگرام ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ میں نے اس میں ’’جہاد افغانستان‘‘ سے متعلقہ یادداشتوں کو ترجیحاً پہلے بیان کرنے کا ارادہ کیا ہے، اس لیے کہ روس کے خلاف جہاد افغانستان کے آغاز سے طالبان حکومت کے خاتمہ تک بحمد اللہ تعالیٰ کم و بیش ہر مرحلہ میں شریک رہا ہوں، جس کے مشاہدات و تاثرات بلاشبہ قوم اور تاریخ کی امانت ہیں۔ قارئین سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ رب العزت مجھے یہ امانت پوری دیانت اور شرح صدر کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ 
ان گزارشات کے بعد امیر المومنین حضرت ملا محمد عمر مجاہدؒ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے رفقاء اور اہل خانہ کے ساتھ اس غم میں شریک ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ان کے رفقاء و متوسلین کو صبر و حوصلہ کے ساتھ ان کا مشن جاری رکھنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔ 

مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچی کا سانحہ ارتحال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچیؒ کا انتقال علمی و دینی حلقوں کے لیے غم و صدمہ کا باعث ہے اور بلاشبہ ہم ایک مخلص بزرگ اور مدبر راہ نما سے محروم ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے والد گرامی حضرت مولانا قاضی نجم الدین کلاچویؒ اپنے دور کے بڑے علماء کرام میں سے تھے اور علمی و دینی دنیا میں مرجع کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے فتاوٰی ’’نجم الفتاوٰی‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں موجود ہیں اور علماء کرام کے لیے راہ نمائی اور استفادہ کا اہم ذریعہ ہیں۔ 
حضرت مولانا قاضی عبد الکریمؒ دارالعلوم دیوبند کے پرانے فضلاء میں سے تھے۔ انہوں نے غالباً 1938ء میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا تلمذ حاصل کر کے دورۂ حدیث کیا تھا، جبکہ ان کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ 1942ء میں دورۂ حدیث میں شریک ہوئے تھے اور اسی سال میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے بھی فراغت حاصل کی تھی۔
میں نے دونوں بھائیوں کو 1970ء کے عام انتخابات کے دوران پہلی بار جمعیۃ علماء اسلام میں متحرک دیکھا تھا جو میرا ابتدائی دور تھا۔ اور یہ دونوں بزرگ جمعیۃ کے اہم راہنماؤں اور مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے قریبی رفقاء میں شمار ہوتے تھے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ میں حضرت مولانا علاء الدینؒ ، حضرت مولانا قاضی عبد الکریمؒ ، حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ ، حضرت مولانا قاضی عطاء اللہ آف ٹانکؒ ، حضرت مولانا مفتی عبد القدوسؒ اس وقت کے بڑے جماعتی بزرگ شمار ہوتے تھے اور ان سب سے میری نیاز مندی ایک کارکن کے طور پر اس وقت سے قائم تھی۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور کلاچی اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ جمعیۃ کی مرکزی مجلس شورٰی کے اجلاسوں میں بھی ان سے ملاقات ہوتی تھی اور جماعتی امور میں نیازمندانہ رفاقت کا سلسلہ ایک عرصہ تک جاری رہا۔ مولانا قاضی عبد الکریمؒ نکتہ رس اور صاحب الرائے بزرگ تھے اور علمی و سیاسی اجلاسوں میں ان کی رائے ہمیشہ وقیع ہوتی تھی جسے توجہ سے سنا جاتا تھا۔ ایک عرصہ تک وہ جمعیۃ کے مرکزی اجلاسوں کا لازمی حصہ رہے مگر بعد میں بوجوہ غیر متحرک ہوتے چلے گئے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے چھوٹے بھائی مولانا قاضی عبد اللطیفؒ جمعیۃ کی مرکزی قیادت کا متحرک حصہ بن گئے تھے اور بڑے بھائی ہر اجلاس میں شرکت کو ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ جبکہ مولانا قاضی عبد اللطیفؒ کو حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے رفقاء میں سینئر معاون کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی اور وہ جماعتی سیاست کے ساتھ ساتھ بعد میں پارلیمانی سیاست کا بھی اہم کردار بن گئے تھے۔ بالخصوص حضرت مولانا سمیع الحق کے ساتھ سینٹ میں شریعت بل پیش کرنے پر انہیں ملک گیر شہرت حاصل ہوئی تھی۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کے وقت مرکزی ناظم کے طور پر ان کے نائبین میں حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ ، حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ ، حضرت مولانا غلام ربانیؒ آف رحیم یار خان، حضرت مولانا نیاز محمدؒ آف زیارت بلوچستان، اور راقم الحروف متحرک تھے۔
مولانا قاضی عبد الکریمؒ بعض علمی امور پر اپنی منفرد رائے رکھتے تھے اور اس کا اظہاربھی کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ وہ اسمبلی میں غیر مسلموں کی نمائندگی کے حق میں نہیں تھے، ان سے اس مسئلہ میں متعدد بار میری بھی گفتگو ہوئی۔ ان کا موقف تھا کہ ایک اسلامی ریاست کی پارلیمنٹ میں کسی غیر مسلم کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے، جبکہ ہمارا موقف یہ تھا کہ غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے غیر مسلموں کو اسمبلی میں نمائندگی دی جا سکتی ہے۔ 
افغانستان میں طالبان حکومت کے دوران میں نے ایک موقع پر رائے دی کہ طالبان راہ نماؤں کو اسلامی ریاست کے سیاسی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے پاکستان میں نفاذ اسلام کے حوالہ سے علماء کرام کی علمی و فکری جدوجہد اور اس سلسلہ میں سرگرم سرکردہ علماء کرام کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے، اور علمی و فکری محاذ کے ہوم ورک سے استفادہ کرنا چاہیے۔ خاص طور پر علماء کے 22نکات اور 1973ء کے دستور کی اسلامی دفعات کو اپنے ہاں دستوری بنیاد بنانا چاہیے۔ میں اس رائے پر اب بھی قائم ہوں اور اس کا اظہار کرتا رہتا ہوں، مگر ایک بار میں نے اس رائے کا تفصیل کے ساتھ کسی مضمون میں اظہار کیا تو مولانا قاضی عبد الکریمؒ نے ایک مکتوب گرامی میں فرمایا کہ ’’کیوں طالبان قائدین کو بھی ہمارے جیسی عادتیں ڈالنا چاہتے ہو‘‘۔ سچی بات ہے کہ اپنے موقف پر اصولی طور پر قائم رہتے ہوئے بھی مجھے حضرت قاضی صاحبؒ کی یہ پر خلوص بات اپیل کر گئی اور میں اپنی رائے کے اظہار میں محتاط ہوگیا۔ 
حضرت مولانا قاضی عبد الکریمؒ ان بزرگوں میں سے تھے جو علم و حکمت کے ساتھ فکر و دانش سے بھی پوری طرح بہرہ ور تھے اور حالات حاضرہ پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ میں نے کئی بار کلاچی میں ان کی خدمت میں حاضری دی ہے اور علمی و فکری استفادہ کے ساتھ ان کی شفقتوں او ردعاؤں سے ہمیشہ فیض یاب ہوا ہوں۔ اللہ رب العزت ان کے درجات جنت میں بلند فرمائیں اور برادرم مولانا قاضی محمد نسیم کلاچوی اور دیگر رفقأ، تلامذہ اور اہل خاندان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ 

جنرل حمید گل بھی رخصت ہوئے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جنرل حمید گل مرحوم آج ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی تاریخی جدوجہد اور تگ و دو کے اثرات ایک عرصہ تک تاریخ کے صفحات پر جگمگاتے رہیں گے۔ ان کا تعلق پاک فوج سے تھا اور ان کا نام جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم اور جنرل اختر عبد الرحمن مرحوم کے ساتھ جہادِ افغانستان کے منصوبہ سازوں میں ذکر کیا جاتا ہے۔ وہ جہاد افغانستان جس نے تاریخ کا رخ موٹ دیا اور جس کے مثبت و منفی دونوں قسم کے اثرات سے پوری دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے یا انہیں بھگت رہی ہے۔
جنرل حمید گل مرحوم کا اس جنگ میں کیا کردار تھا؟ اس کے اظہار کا ایک پہلو یہ ہے کہ جہاد افغانستان کے نتیجے میں سوویت یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی جس کی وجہ سے جرمنی متحد ہوا اور برلن کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی دیوار توڑ دی گئی، تو زندہ دل جرمنوں نے اس کا ایک چھوٹا سا پتھر جنرل حمید گل مرحوم کو بھی اس نوٹ کے ساتھ بھجوایا کہ یہ دیوار چونکہ آپ کی کوششوں سے ٹوٹی ہے اس لیے یادگار اور اعتراف کے طور پر اس ٹوٹی ہوئی دیوار کا ایک پتھر آپ کو بھجوایا جا رہا ہے۔ 
جہاد افغانستان کی برکت سے نہ صرف جرمنی متحد ہوا بلکہ مشرقی یورپ کو کمیونزم کے تسلط سے نجات ملی، وسی ایشیا کی ریاستیں آزاد ہوئیں اور بالٹیک ریاستوں نے بھی آزادی کا ماحول پایا۔ مگر اسے تاریخ کی ستم ظریفی کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ جہاد افغانستان میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے افغان مجاہدین اپنے ہی ملک میں ایک بار پھر غیر ملکی جارحیت سے نبرد آزما ہیں اور ان کی مدد کے لیے دنیا بھر سے آئے ہوئے مجاہدین اپنے اپنے ملکوں میں ’’دہشت گرد‘‘ کا خطاب پا کر خود اپنی حکومتوں کے جبر کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ 
جنرل حمید گل مرحوم کو جہاد افغانستان کے ہیروز میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ اگر صرف اسی اعزاز کو سینے سے لگائے دنیا سے رخصت ہو جاتے تو تاریخ میں ان کا نام زندہ رہنے کے لیے یہ بات کافی تھی۔ مگر ان کا ہدف صرف تاریخ میں اپنے نام کو محفوظ کرنا نہیں تھا بلکہ وہ خود کو اللہ کا سپاہی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جاں نثار، اسلام کا خدمت گزار، ملت اسلامیہ کا غم خوار اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظریاتی کارکن سمجھتے تھے۔ اس لیے زندہ دل جرمنوں سے ’’خراج کا پتھر‘‘ وصول کرنے کے بعد ان کے قدم رکے نہیں بلکہ وہ آگے بڑھتے چلے گئے اور انہوں نے جہاد افغانستان کے نظریاتی مقاصد کے حصول، پاکستان کو ایک صحیح اسلامی ریاست کی شکل دینے اور عالم اسلام کی دینی تحریکات کے دفاع اور انہیں سپورٹ کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا اور اسی راہ میں جدوجہد کرتے ہوئے اپنے اللہ کے حضور جا پہنچے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ 
انہیں جہاد افغانستان کا منصوبہ ساز کہا جاتا ہے اور اس کے بعد انہیں پاکستان میں اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) کا خالق بھی بتایا جاتا ہے جبکہ افغانستان و پاکستان کے حوالہ سے بہت سی تحریکات کے راہ نماؤں میں وہ صف اول میں دیکھے جاتے رہے ہیں۔ ان کے طریق کار، سوچ اور اقدامات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا اسلام کی خاطر کیا، ملت اسلامیہ کا مفاد سمجھ کر کیا اور اسلامی جمہوری پاکستان کی خدمت کے جذبہ کے ساتھ کیا۔
میں بھی چونکہ اسی راہ کا مسافر ہوں اور اس سفر میں صحرا نوردی کرتے ہوئے مجھے نصف صدی کا عرصہ بیت چکا ہے اس لیے جنرل حمید گل مرحوم کے ساتھ رفاقت، ہم آہنگی اور یگانگت فطری بات ہے اور یہ مختلف دائروں میں مسلسل رہی ہے۔ ملاقاتیں بھی رہی ہیں، مشاورت کا سلسلہ بھی وقفہ وقفہ سے موجود رہا ہے، متعدد تحریکات میں شرکت بھی رہی ہے، اور اہم قومی و دینی مسائل پر مشترکہ موقف کے اظہار کے لیے باہمی تبادلۂ خیالات کے مواقع بھی میسر رہے ہیں۔ جب اکوڑہ خٹک میں افغانستان اور پاکستان کے دفاع کے لیے قومی سطح پر دینی و سیاسی جماعتوں کا بہت بڑا کنونشن حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ کی صدارت میں ہوا تھا اور دفاع پاکستان و افغانستان کونسل کی تشکیل عمل میں لائی گئی تھی تو کنونشن کا موقف تحریر کرنے کی ذمہ داری جنرل حمید گل مرحوم اور راقم الحروف کو سونپی گئی تھی۔ ہم دونوں جب اس مقصد کے لیے تنہا ہوئے تو جنرل صاحب نے کہا کہ مولانا ! آپ ہی لکھیں، میں اس پر نظر ثانی کر لوں گا۔ چنانچہ ہم دونوں نے اس طرح اس کنونشن کا اعلامیہ مرتب کیا اور اس کی بنیاد پر ایک نئی قومی کونسل وجود میں آئی۔ 
جرنل صاحب آئی ایس آئی کے سربراہ تھے، انہیں اس منصب سے تبدیل کر کے جب ایک ٹیکنیکل قسم کا منصب دیا گیا تو وہ مستعفی ہو گئے۔ مجھے ان کے اس فیصلے سے اتفاق نہیں تھا اس لیے کہ سنیارٹی کی فہرست میں ایک دو ٹرم کے بعد ان کے چیف آف آرمی اسٹاف بننے کا چانس دکھائی دے رہا تھا۔ مگر وہ استعفیٰ دے چکے تھے اس لیے اب کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کیونکہ تحریک انصاف ابھی وجود میں نہیں آئی تھی اور ایم کیو ایم کے ساتھ ان کا کوئی مثبت تعلق نہیں تھا، جبکہ ان کے استعفیٰ پر سیاست کی اکاس بیل کا سایہ بھی نہیں تھا۔ اس لیے وہ مستعفی ہوئے تو ہو ہی گئے البتہ بعد میں جب ہمارے خیال کے مطابق اس ’’چانس‘‘ کا مرحلہ گزر گیا تو میں نے ایک ملاقات میں ان سے کہا کہ 
’’جنرل صاحب! اب آپ کو اپنے غصے پر غصہ تو آرہا ہوگا۔‘‘
جنرل صاحب نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بات کا رخ کسی اور طرف موڑ دیا۔ جرنل صاحب نظریاتی اور فکری دنیا کے بھی جنرل تھے۔ عالمی تاریخ اور بین الاقوامی معاملات کے اتار چڑھاؤ کو سمجھتے تھے، بر وقت بات کہنے کا ذوق رکھتے تھے اور لگی لپٹی رکھے بغیر منہ پر بات کرنے کا حوصلہ بھی ان میں موجود تھا۔ لاہور کے فلیٹی ہوٹل میں ایک سیمینار تھا جس میں جسٹس سید نسیم حسن شاہ مرحوم نے قرآن و سنت کی بالادستی پر بڑی اچھی گفتگو کی۔ راقم الحروف بھی اس میں شریک تھا۔ جسٹس صاحب مرحوم کے بعد جب جنرل حمید گل مرحوم نے گفتگو کی تو جسٹس مرحوم سے مخاطب ہو کر کہا کہ جناب والا! جب آپ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر ’’قرارداد مقاصد‘‘ کو دستور کی بالادست دفعہ تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ تحریر فرما رہے تھے تو قرآن و سنت کی بالادستی پر آپ کا یہ عقیدہ کونسے فریزر میں منجمد پڑا تھا جس کا آپ نے آج کے خطاب میں اظہار کیا ہے؟ جنرل حمید گل مرحوم کے اس استفسار پر جسٹس صاحب مرحوم نے ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا اور میرے دل نے بے ساختہ دعائیں دینا شروع کر دیں۔
جنرل حمید گل مرحوم کی جدائی سے ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی شناخت کے تحفظ اور ’’اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام‘‘ کی جدوجہد کے ایک عظیم جرنیل سے محروم ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں انہیں اعلیٰ مقام سے نوازیں او رپسماندگان کو صبر و حوصلہ کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔ 

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۱)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۶۸) مَقَام اور مُقَام میں فرق

مَقَام  (میم پر زبر کے ساتھ) کی اصل قیام ہے، یہ فعل قام ثلاثی مجرد لازم سے اسم ظرف ہوتا ہے یا مصدر میمی ہوتا ہے۔ مُقَام (میم پر پیش کے ساتھ) کی اصل اقامۃ ہے، یہ فعل أَقَامَ کا ظرف ہوتا ہے یا مصدر میمی یا اسم مفعول ہوتا ہے۔ قیام کا صلہ اگر باء ہو تو اس کے معنی کسی کام کو کرنایا کسی سرگرمی کو انجام دینا ہوتاہے، جبکہ اقامۃ اگر فی کے صلے کے ساتھ لازم ہو تو اس کے معنی کسی جگہ رہائش اختیار کرنا ہے۔ اور اگر مفعول بہ مراد ہو تومتعدی ہوتا ہے جیسے أقام الدین اور فأقامہ۔
اس وضاحت کی روشنی میں لفظ مَقام اور لفظ مُقام کے مفہوم میں فرق واضح ہوتا ہے، لفظ مَقَام کا مطلب سرگرمی ہوگا یا سرگرمی سے انجام دینے کی جگہ یا مطلق حالت،جبکہ لفظ مُقَام کا مطلب رہائش یا رہائش کی جگہ ہوگا۔ گویا مَقَام کے معنی رہائش گاہ کے نہیں ہوں گے، جبکہ مُقَام کے معنی رہائش گاہ کے ہوں گے۔
دونوں لفظوں کے اس فرق کی وضاحت کے بعد ہم جائزہ لیں گے کہ قرآن مجید کے مترجمین نے اس فرق کی کس حد تک رعایت کی۔

وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَأَمْناً وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی۔ (البقرۃ : ۱۲۵)

’’اور (یاد کرو) جبکہ ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لئے مرکز اور امن کی جگہ بنایا اور (حکم دیا کہ) مسکن ابراہیم میں ایک نماز کی جگہ بناؤ ‘‘۔(امین احسن اصلاحی، مَقَام کا ترجمہ مسکن درست نہیں ہے۔)
’’اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے) کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ابراہیمؑ جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اس مقام کو مستقل جائے نماز بنا لو‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ‘‘۔ (احمد رضا خان)

فِیْہِ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاہِیْمَ وَمَن دَخَلَہُ کَانَ آمِناً۔ (آل عمران:۹۷)

’’وہاں واضح نشانیاں ہیں: مسکن ابراہیم ہے۔ جو اس میں داخل ہوجائے وہ مامون ہے‘‘۔(امین احسن اصلاحی، مَقَام کا ترجمہ مسکن درست نہیں ہے۔)
’’اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ان میں سے ایک) ابراہیم (علیہ السلام) کی جائے قیام ہے، اور جو اس میں داخل ہوگیا امان پا گیا‘‘۔ (طاہر القادری، مَقَام کا ترجمہ جائے قیام بھی درست نہیں ہے۔)
’’اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، ابراہیمؑ کا مقام عبادت ہے، اوراس کا حال یہ ہے کہ جو اِس میں داخل ہوا مامون ہو گیا‘‘۔(سید مودودی)
مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں مولانا امانت اللہ اصلاحی نے مَقَام ابراہیم کا ترجمہ ’’ابراہیم کی سرگرمیوں اور جدوجہد کا مرکز‘‘ کیا ہے۔ اس ترجمہ سے مکہ کی اس پہلو سے خصوصیت واضح ہوجاتی ہے۔

وَمَا مِنَّا إِلَّا لَہُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ۔ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ۔ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُون۔ (الصافات:۱۶۴ ۔۱۶۶)

’’(فرشتوں کا قول ہے کہ) ہم میں سے تو ہر ایک کی جگہ مقرر ہے، اور ہم تو (بندگئ الٰہی میں) صف بستہ کھڑے ہیں اور اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڈھی)
’’اور ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے، اور ہم صف بستہ خدمت گار ہیں، اور تسبیح کرنے والے ہیں‘‘۔(سید مودودی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ترجمہ کیا:
’’اور ہم میں سے ہر ایک کے لئے ایک متعین ذمہ داری ہے، اور ہم تو خدا کے حضور صف بستہ رہنے والے ہیں، اور ہم تو اس کی تسبیح کرتے رہنے والے ہیں‘‘۔
اس سلسلے میں اسی سورہ کے آغاز کی آیتیں بھی سامنے رہیں، تو نظم قرآن سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بڑی دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔

وَالصَّافَّاتِ صَفّاً۔ فَالزَّاجِرَاتِ زَجْراً۔ فَالتَّالِیَاتِ ذِکْراً۔ (الصافات:۱ ۔۳)

ترجمہ ہے: ’’شاہد ہیں صفیں باندھے، حاضر رہنے والے۔ پھر رب کا حکم نافذ کرنے والے۔ پھر ذکر کرنے والے۔‘‘
مولانا کے نزدیک یہ تینوں صفتیں فرشتوں کی ہیں، اور ان تینوں صفات کا ذکر بالفاظ دیگر سورہ کے آخر میں دوبارہ کیا گیا ہے۔
وَالصَّافَّاتِ صَفّاً کے ہم معنی ہے وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ۔ فَالزَّاجِرَاتِ زَجْراکی دوسری تعبیر ہے وَمَا مِنَّا إِلَّا لَہُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ۔ اور فَالتَّالِیَاتِ ذِکْراً کے ہم معنی ہے وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُون۔

إِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ أَمِیْنٍ۔ (الدخان :۵۱)

’’خدا ترس لوگ امن کی جگہ میں ہوں گے‘‘۔ (سید مودودی)
’’بیشک پرہیزگار لوگ امن کے مقام میں ہوں گے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں مقام مصدر میمی ہے، نہ کہ اسم ظرف، اور اس صورت میں پوزیشن کے معنی میں ہے یا خوش حالی کے معنی میں۔

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَان۔ (الرحمن:۴۶)

’’اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لئے دو باغ ہیں‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’اور ہر اُس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، دو باغ ہیں‘‘۔(سید مودودی)

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوَی۔ (النازعات:۴۰)

’’ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا‘‘۔(محمد جوناگڈھی)
’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا‘‘۔(احمد رضا خان)

فَأَخْرَجْنَاہُم مِّن جَنَّاتٍ وَعُیُون۔ وَکُنُوزٍ وَمَقَامٍ کَرِیْمٍ۔ (الشعراء :۵۷،۵۸)

’’تو ہم نے انہیں باہر نکالا باغوں اور چشموں، اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے‘‘۔(احمد رضا خان)
’’اِس طرح ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموں، اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے‘‘۔(سید مودودی)
’’تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا، اور خزانوں اور نفیس مکانات سے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’بالآخر ہم نے انہیں باغات سے اور چشموں سے، اور خزانوں سے۔ اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا‘‘۔(محمد جوناگڈھی)
مذکورہ ترجموں میں مقام کے لئے مکانات اور قیام گاہ کا ترجمہ درست نہیں ہے، حالت اور مرتبہ درست ترجمہ ہے۔

کَمْ تَرَکُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ۔ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ کَرِیْمٍ۔ (الدخان:۲۵،۲۶)

’’کتنے ہی باغ اور چشمے، اور کھیت اور شاندار محل تھے جو وہ چھوڑ گئے‘‘۔(سید مودودی)
’’کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے، اورکھیت اور عمدہ مکانات‘‘۔(احمد رضا خان)
’’وہ کتنے ہی باغات اور چشمے چھوڑ گئے،اور زراعتیں اور عالی شان عمارتیں‘‘۔ (طاہر القادری)
’’وہ بہت سے باغات اور چشمے چھوڑ گئے، اور کھیتیاں اور راحت بخش ٹھکانے‘‘۔ (محمد جوناگڈھی)
مذکورہ ترجموں میں مَقَام کے لیے محل، مکانات، ٹھکانے اور عمارتیں درست نہیں ہے۔ حالت اور مرتبہ درست ترجمہ ہے۔

وَمِنَ اللَّیْْلِ فَتَہَجَّدْ بِہِ نَافِلَۃً لَّکَ عَسَی أَن یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَاماً مَّحْمُوداً۔ (الاسراء :۷۹)

’’اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمہارے لیے زیادہ ہے قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں‘‘۔(احمد رضا خان)
’’اور رات کو تہجد پڑھو، یہ تمہارے لیے نفل ہے، بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر فائز کر دے‘‘۔(سید مودودی)

وَإِذَا تُتْلَی عَلَیْْہِمْ آیَاتُنَا بَیِّنَاتٍ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا لِلَّذِیْنَ آمَنُوا أَیُّ الْفَرِیْقَیْْنِ خَیْْرٌ مَّقَاماً وَأَحْسَنُ نَدِیّاً۔ (مریم:۷۳)

’’اِن لوگوں کو جب ہماری کھُلی کھُلی آیات سنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں: بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں؟‘‘۔(سید مودودی)
’’اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کون سے گروہ کا مکان اچھا اورمجلس بہتر ہے‘‘۔(احمد رضا خان)
’’اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں بتاؤ ہم تم دونوں جماعتوں میں سے کس کا مرتبہ زیادہ ہے؟ اور کس کی مجلس شاندار ہے؟‘‘(محمد جوناگڈھی)
مذکورہ ترجموں میں مَقَاما کے لیے مکان کا ترجمہ درست نہیں ہے، البتہ حالت اور مرتبہ کا ترجمہ درست ہے۔

قَالَ عِفْریْتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِیْکَ بِہِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِکَ وَإِنِّیْ عَلَیْْہِ لَقَوِیٌّ أَمِیْنٌ۔ (النمل:۳۹)

’’جنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیا: میں اسے حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانتدار ہوں‘‘۔(سید مودودی)
’’ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوت والا امانتدار ہوں‘‘۔(احمد رضا خان)

وَاتْلُ عَلَیْْہِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ إِن کَانَ کَبُرَ عَلَیْْکُم مَّقَامِیْ وَتَذْکِیْرِیْ بِآیَاتِ اللّہِ فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ۔ (یونس:۷۱)

’’اِن کو نوحؑ کا قصہ سناؤ، اُس وقت کا قصہ جب اُس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ’’اے برادران قوم، اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیات سنا سنا کر تمہیں غفلت سے بیدار کرنا تمہارے لیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے تو میرا بھروسہ اللہ پر ہے‘‘۔(سید مودودی)
’’اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنادو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تم کو میرا تم میں رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’اور ان پر نوح (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمائیے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم (اولادِ قابیل!) اگر تم پر میرا قیام اور میرا اللہ کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کرنا گراں گزر رہا ہے تو (جان لو کہ) میں نے تو صرف اللہ ہی پر توکل کرلیا ہے‘‘۔ (طاہر القادری)
مذکورہ ترجموں میں (میرا رہنا)، اور (میرا قیام) درست نہیں ہے، بلکہ درست ترجمہ ہے، میری سرگرمی۔ 

وَلَنُسْکِنَنَّکُمُ الأَرْضَ مِن بَعْدِہِمْ ذَلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَخَافَ وَعِیْدِ۔ (ابراہیم:۱۴)

’’اور اُن کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے یہ انعام ہے اُس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو‘‘۔ (سید مودودی)

إِنَّہَا سَاءَتْ مُسْتَقَرّاً وَمُقَاماً۔ (الفرقان:۶۶)

’’اور دوزخ ٹھیرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’بے شک وہ ٹھہرنے اور رہنے کے لحاظ سے بدترین جگہ ہے‘‘۔(محمد جوناگڈھی)
’’وہ بڑا ہی برا مستقر اور مقام ہے‘‘ (سید مودودی)
’’بیشک وہ (عارضی ٹھہرنے والوں کے لئے) بُری قرار گاہ اور (دائمی رہنے والوں کے لئے) بُری قیام گاہ ہے‘‘۔(طاہر القادری)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ مستقر مستقل قیام کو کہا گیا ہے، اور مقام عارضی قیام گاہ کو کہا گیا ہے، اس کی تائید اسی سورہ کی ایک دوسری آیت سے بھی ہوتی ہے:

أَصْحَابُ الْجَنَّۃِ یَوْمَءِذٍ خَیْْرٌ مُّسْتَقَرّاً وَأَحْسَنُ مَقِیْلاً (الفرقان:۲۴) 

اس میں مستقر کے ساتھ مقیل کا لفظ آیا ہے جس کے معنی دوپہر کی استراحت کی جگہ کے ہیں۔ ’’اس دن اہل جنت کا ٹھکانا بھی بہتر ہوگا اور مقام استراحت بھی‘‘ (فتح محمد جالندھری) اس آیت میں مقیل کا عارضی قیام گاہ ہونا واضح ہے، پس مستقر تینوں مقامات پر مستقل قیام گاہ کے معنی میں ہے۔

خَالِدِیْنَ فِیْہَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرّاً وَمُقَاماً۔ (الفرقان:۷۶)

’’وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے کیا ہی اچھا ہے وہ مستقر اور وہ مقام‘‘۔(سید مودودی)
’’ہمیشہ اس میں رہیں گے، کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور بسنے کی جگہ‘‘۔(احمد رضا خان)
’’اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور وہ ٹھیرنے اور رہنے کی بہت ہی عمدہ جگہ ہے‘‘(فتح محمد جالندھری)

الَّذِیْ أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَۃِ مِن فَضْلِہِ لَا یَمَسُّنَا فِیْہَا نَصَبٌ وَلَا یَمَسُّنَا فِیْہَا لُغُوبٌ۔ (فاطر: ۳۵)

’’جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ کے رہنے کے گھر میں اُتارا۔ یہاں نہ تو ہم کو رنج پہنچے گا اور نہ ہمیں تکان ہی ہوگی‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’وہ جس نے ہمیں آرام کی جگہ اتارا اپنے فضل سے، ہمیں اس میں نہ کوئی تکلیف پہنچے، نہ ہمیں اس میں کوئی تکان لاحق ہو‘‘۔ (احمد رضا خان)
(جاری)

خاطرات

محمد عمار خان ناصر

کوئی بھی نیا ترجمہ یا تفسیری کاوش دیکھنے کا موقع ملے (اور ظاہر ہے کہ جستہ جستہ) تو میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ قرآن کے ان مقامات پر نظر ڈالی جائے تو تفسیری اعتبار سے مشکل ہیں۔ میری طالب علمانہ رائے کے مطابق یہ کوئی ڈیڑھ درجن کے قریب مقام ہیں۔ سو ’مشکل کشائی‘ کی جہاں سے بھی امید ہو، جستجو جاری رہتی ہے۔ میری نظر میں حالیہ سالوں میں تین ایسی کاوشیں کی گئی ہیں جن میں قرآن کے مشکل مقامات پر خاصا غور وخوض کیا گیا اور محض رسمی تفسیر پر اکتفا کرنے کے بجائے باقاعدہ تدبر کر کے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے قرآن کے ہر طالب علم کا حق ہے کہ وہ ان کاوشوں سے استفادہ کرے۔ پیش کردہ حل پر اطمینان ہونا یا نہ ہونا ایک الگ معاملہ ہے، لیکن کسی بڑے دماغ نے علمی بنیاد پر کسی پہلو کو ترجیح دی ہو تو بہرحال اس پر غور کرنے سے بہت سی نئی راہیں کھلتی ہیں اور ایک سچے طالب علم کو درحقیقت یہی چیز مطلوب ہوتی ہے۔ 
۱۔ جناب جاوید احمد غامدی کا ترجمہ وتفسیر ’’البیان‘‘
۲۔ جناب مولانا عتیق الرحمن سنبھلی صاحب کا تفسیری سلسلہ بعنوان ’’محفل قرآن‘‘
۳۔ جناب مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا ترجمہ ’’توضیح القرآن‘‘
مختصر حواشی کے ساتھ ترجمہ قرآن کے سلسلے کی اگر چند نمائندہ اور معیاری کاوشوں کا انتخاب کیا جائے تو حسب ذیل تراجم کا اضافہ کیا جا سکتا ہے:
۱۔ تسہیل بیان القرآن از قلم مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب
۲۔ تفسیر عثمانی از مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب
۳۔ تفسیری حواشی از مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب
میرے خیال میں قرآن مجید کی حل مشکلات کے لیے براہ راست غور وتدبر کے بعد ثانوی اور معاون ذرائع کے طور پر کم سے کم یہ پانچ تراجم ہر طالب علم کی میز پر لازماً ہونے چاہییں۔ 
قدیم تفسیری ذخیرے کے حوالے سے، عرب دنیا میں ایک اچھا کام یہ کیا گیا ہے کہ اہم مطولات کی تلخیصات تیار کر دی گئی ہیں۔ اس حوالے سے درج ذیل کاوشیں بہت مفید اور مددگار ثابت ہوں گی:
۱۔ تفسیر طبری کی تلخیص
۲۔ تفسیر ابن کثیر کی تلخیص
۳۔ تفسیر بغوی کی تلخیص
اگر اسی نہج پر دیگر امہات کی تلخیصات بھی میسر ہو جائیں تو مراجعت واستفادہ میں کافی آسانی پیدا ہو جائے گی۔
جہاں تک کسی مقام کے باعث اشکال ہونے یا نہ ہونے کا تعلق ہے تو یہ ہر طالب علم یا صاحب علم کے لحاظ سے شاید ایک اضافی یعنی relative چیز ہے۔ ایک کو جو مقام مشکل محسوس ہوتا ہے، ہو سکتا ہے دوسرے کو نہ ہوتا ہے۔ 
ذیل میں ان مقامات کی ایک فہرست درج کی جا رہی ہے جو میرے لیے اپنی طالب علمانہ سطح کے لحاظ سے کافی غور طلب ہیں اور بعض مقامات پر کسی ایک تاویل کی طرف رجحان ہونے کے باوجود قرائن اتنے لطیف ہیں کہ بار بار غور کرنا پڑتا ہے۔ واللہ اعلم
(۱) سورۃ البقرۃ، آیات ۷ تا ۱۶ (ومن الناس من یقول آمنا باللہ ........ )
محل اشکال: مذکورہ گروہ کی تعیین اور ذکر شدہ بعض اوصاف کا مفہوم۔
(۲) سورۃ البقرۃ، آیات ۱۴۹، ۱۵۰ (ومن حیث خرجت ............)
محل اشکال: مذکورہ جملے کے تکرار کی معنویت۔
(۳) سورۃ البقرۃ، آیت ۱۸۴ (وعلی الذین یطیقونہ .........)
محل اشکال: کن لوگوں کو کس نوعیت کی رخصت دی گئی؟
(۴) سورۃ النساء، آیت ۳ (وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحو ا .......)
محل اشکال: شرط اور جزا کا باہمی تعلق۔ کن خواتین سے نکاح کی ترغیب دی گئی ہے؟
(۵) سورۃ النساء، آیت ۱۱ (فان کان لہ اخوۃ فلامہ السدس)
محل اشکال: بھائی ، حصہ دار نہ ہونے کے باوجود ماں کا حصہ کم کرنے کا باعث کیوں؟
(۶) سورۃ النساء، آیت ۱۱ (وان کان رجل یور ث کلالۃ ...........)
محل اشکال: رجل سے مراد وارث ہے یا مورث؟ 
(۷) سورۃ النساء، آیت ۱۵، ۱۶ (واللاتی یاتین الفاحشۃ ......... والذان یاتیانھا ......)
محل اشکال: والذان یاتیانھا سے مراد؟
(۸) سورۃ النساء، آیت ۱۵۹ (وان من اہل الکتاب ..........)
محل اشکال: اہل کتاب کس کی موت سے پہلے کس پر ایمان لائیں گے؟
(۹) سورۃ الانفال، آیت ۶۷ (ما کان لنبی ان یکون لہ اسری .........)
محل اشکال: اتنی سخت وعید کی وجہ اور پس منظر۔
(۱۰) سورۃ التوبہ، آیات ۱ تا ۵ (براءۃ من اللہ ورسولہ ........)
محل اشکال: اربعۃ اشہر اور فاذا انسلخ الاشہر الحرم کا باہمی تعلق؟ نیز آیات کے زمانہ نزول کی تعیین۔
(۱۱) سورۃ التوبہ، آیت ۶۰ (انما الصدقات للفقراء والمساکین ........)
محل اشکال: الصدقات سے جملہ اصناف صدقہ مراد ہیں یا بطور خاص زکوٰۃ؟ نیز حصر حقیقی ہے یا اضافی؟
(۱۲) سورۃ الرعد، آیت ۴۱ (ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا)
محل اشکال: ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا کا مفہوم ۔
(۱۳) سورۃ الحجر، آیت ۸۷ (سبعا من المثانی)
محل اشکال: سبعا من المثانی کا مفہوم ومصداق۔
(۱۴) سورۃ الصافات، آیت ۷۸ (وترکنا علیہ فی الآخرین)
محل اشکال: اس جملے کا مفہوم اور تاویل نحوی۔
(۱۵) سورۃ ص، آیت ۳۴ (والقینا علی کرسیہ جسدا)
محل اشکال: اس جملے کا مفہوم۔
(۱۶) سورۃ الزخرف، آیت ۸۸ (وقیلہ یا رب ............)
محل اشکال: اس جملے کا عطف۔
(۱۷) سورۃ محمد، آیت ۳ (فاما منا بعد واما فداء )
محل اشکال: حصر کا مفہوم اور عملی نتیجہ۔

خیر النکاح ایسرہ۔ نکاح کا آسان اور سہل ہونا یقیناًمقاصد شریعت میں سے اہم ترین مقصد ہے۔ اس کا تعلق نہ صرف ’’ضروریات‘‘ (شاطبی کی اصطلاح میں) کی تکمیل سے ہے، بلکہ عفت وعصمت کی حفاظت بھی اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ 
ہمارے معاشرے میں نکاح کے ساتھ جڑ جانے والی بری عادات ورسوم میں سے ایک، بے پناہ مالی اخراجات ہیں جنھوں نے اب تو ایک وبال جان کی صورت اختیار کر لی ہے۔ نوجوانوں کے لیے مناسب عمر میں شادی کرنا ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ 
برصغیر کے سوشل اسٹرکچر میں اس کا سب سے بنیادی سبب یہ ہے کہ دو افراد کی شادی کا معاملہ دراصل دونوں طرف کے پورے کے پورے خاندانوں کا معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔ کسی رشتے پر اگر خاندان کے سارے بڑے راضی نہیں تو ہنسی خوشی اور اتفاق سے شادی نہیں ہو سکتی اور ہو جائے تو بعد میں چل نہیں سکتی۔ خاندانوں کے مابین پھر مالی منافست کی نفسیات ظاہر ہوتی ہے اور لمبی چوڑی تقریبات، پورے کے پورے خاندان کے لیے تحائف کا بندوبست اور اس طرح کی دیگر خرافات کا شامل ہوتے جانا ایک ناگزیر امر بن جاتا ہے۔
اس صورت حال کی اصلاح صرف اخلاقی وعظ سے نہیں ہو سکتی، نہ ہی کچھ اچھی مثالیں بڑے پیمانے پر اس میں کوئی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ سماجی علوم کے مطالعے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک سوشل اسٹرکچر سے پیدا ہونے والی رسوم وعادات دراصل اس اسٹرکچر میں تبدیلی سے ہی بدل سکتی ہیں۔ اس وجہ سے میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ ہمیں شادی کے معاملے کو اصلاً اور بنیادی طور پر دو افراد کا فیصلہ قرار دینے اور نئی نسل میں اس رجحان کی حوصلہ افزائی کرنے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے لیے تعلیم اور معاش کے مواقع پیدا ہونے سے بھی وہ زندگی کے اس اہم فیصلے میں زیادہ با اختیار ہوں گی۔ خاندان اور برادری کی اہمیت بھی ہونی چاہیے، لیکن ضمنی اور ثانوی تاکہ وہ اس درجے میں stake holder نہ بن جائیں کہ افراد کی مصلحت اس کی ترجیحات کی بھینٹ چڑھا دی جائے۔ 
البتہ اس حوالے سے دو باتوں کا اہتمام ہونا چاہیے:
ایک، نئی نسل کی ذہنی تربیت کرنی ہوگی کہ اگر وہ مناسب عمر میں شادی کی نعمت سے بہرہ ور ہونا اور اس حوالے سے باختیار ہونا چاہتی ہے تو اس کی ایک قیمت بھی ہوگی اور وہ یہ کہ وہ مادی سہولیات کے حوالے سے ’’قناعت‘‘ کا رویہ اختیار کریں اور توقعات کی سطح اتنی ہی رکھیں جتنی عملی حقائق اور وسائل اجازت دیتے ہیں۔ یہ ایک trade-off ہے۔ اگر آپ کو وہ ساری سہولیات چاہییں جو موجودہ اسٹرکچر میں ملتی ہیں تو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی، یعنی دس بارہ سال تک شادی میں تاخیر۔ 
دوسری بات یہ کہ حکومتوں کو اس طرح متوجہ کرنا چاہیے کہ وہ مناسب عمر میں شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے subsidized rates پر رہائش گاہوں اور شادی الاؤنسز کا انتظام کرے تاکہ جو جوڑے اس رکاوٹ کی وجہ سے شادی نہیں کر پاتے، ان کی کچھ نہ کچھ معاونت کی جا سکے۔ 

’’جدیدیت‘‘ چند سیاسی، معاشی، سماجی اور فکری تبدیلیوں کا ایک جامع عنوان ہے جو مغربی تہذیب کے زیر اثر دنیا میں رونما ہوئیں۔ اس کے جواب میں مسلمان اہل فکر نے جو حکمت عملی اختیار کی، کئی پہلووں سے اس کی افادیت تسلیم کرتے ہوئے دو سوال بہرحال اٹھائے جا سکتے ہیں :
ایک،مزاحمت کے لیے اہداف اور ترجیحات کا غیر حقیقت پسندانہ تعین یا دوسرے لفظوں میں میدان جنگ میں محاذ کا غلط انتخاب۔ جب سرحد پر دشمن کی یلغار شروع ہوتی ہے تو دفاع میں سمجھ دار جرنیل کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ حملہ آور طاقت کا کہاں تک آگے بڑھ آنا ناگزیر ہے اور کہاں اس کے خلاف موثر مزاحمت کی جا سکتی ہے۔ اگر اس کے بجائے ایک ایک انچ کے دفاع کی حکمت عملی اپنائی جائے گی تو وہ محاذ بھی ہاتھ سے نکل جائیں گے جہاں مناسب تیاری سے مزاحمت کامیاب ہو سکتی تھی۔ 
اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے دریا کے کنارے واقع بستی سیلاب کے خطرے سے دوچار ہو اور سارے اندازے بتا رہے ہوں کہ پانی کا بستی میں داخل ہونا اور ایک خاص سطح تک پہنچ کر رہنا طے ہے۔ اس کے باوجود بستی والے اپنے گھروں کے سامان اور مواشی وغیرہ کو کسی محفوظ جگہ منتقل کرنے کے بجائے پانی کو روکنے کے لیے دریا کے کنارے پر کچی اینٹیں چننا شروع کر دیں۔
دوسرا قابل غور پہلو یہ ہے کہ جب بھی کسی سماجی اسٹرکچر میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو کئی مراحل سے گزر کر آتی ہے اور پہلے ہی دن حتمی طور پر یہ طے نہیں ہوتا کہ وہ مآل کار فلاں اور فلاں شکل اختیار کرے گی۔ اس تشکیلی مرحلے میں کئی عوامل مل کر اسے کوئی خاص رخ دیتے ہیں اور اس میں ان لوگوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے جو ہاتھ بڑھا کر جام ومینا اٹھا لینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ اس کے برخلاف اس مرحلے میں اس سے الگ تھلگ ہو کر یا کلی طور پر اس کے مزاحم بن کر کھڑے رہنے والے مثبت طور پر اس سارے عمل میں کوئی حصہ نہیں ڈال پاتے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نئے اسٹرکچر میں ان کا شمار پچھڑے ہووں اور پس ماندہ رہ جانے والوں میں ہو اور نئے ماحول سے شکایت اور گریز مستقل طو رپر ان کی نفسیات کا حصہ بن جائے۔ 
ان دونوں غلطیوں کا باعث لمحہ موجود کی اسیری ہے، جو ایک طرف تو یہ صلاحیت سلب کر لیتی ہے کہ حالات کے رخ سے اس حقیقت کا پیشگی ادراک کیا جائے کہ کچھ تبدیلیوں کا عملاً رونما ہو کر رہنا سلسلہ اسباب وعلل کی رو سے طے ہے اور دوسری طرف نئی آنے والی تبدیلیوں کے ناپسندیدہ نتائج سے خوف زدہ کر کے ان مواقع اور امکانات سے بھی توجہ ہٹا دیتی ہے جن سے ممکنہ حد تک تبدیلی کا رخ کسی بہتر سمت میں موڑا جا سکتا تھا۔
مسلم معاشروں میں جدیدیت کی penetration کا عمل ابھی جاری ہے۔ بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور بہت سی آنے والی ہیں۔ اگرہمارے اہل فکر سابقہ حکمت عملی کے مذکورہ پہلووں سے کچھ سیکھ کر آئندہ کی حکمت عملی وضع کریں تو شاید ہم بحیثیت مجموعی کچھ بہتر نتائج حاصل کر سکیں۔
(یہ واضح رہے کہ میں جدیدیت کو بالجملہ منفی انداز سے نہیں دیکھتا۔ اس کے بہت سے پہلو مثبت اور قابل استفادہ بھی ہیں۔ یہ ساری گفتگو ’’جدیدیت‘‘ کے ان پہلووں کے حوالے سے ہے جن کا منفی اور ضرر رساں ہونا مسلم ہے۔ )

بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی اور اس کا سدباب

محمد فیصل شہزاد

(یہ ایک حساس، سلگتا ہوا مگر انتہائی ضروری موضوع ہے جو شاید کسی طبع نازک کو ناگوار گزرے مگر بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں اور یاد رکھیں کہ ہم سب کے ہی بچے ہر وقت جنسی کتوں کی نظر میں ہیں۔ اگر آج ہم ضروری اقدامات نہیں کریں گے تو خدانخواستہ ہمارے بچے بھی غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ درخواست ہے کہ اسے پڑھیے، سمجھیے، عمل کیجیے اور شیئر کیجیے تا کہ ہمارا اور ملک کا مستقبل، ہمارے معصوم بچے، ان گلی کوچوں میں آزاد گھومتے جنسی درندوں کے ناپاک ارادوں سے محفوظ رہ سکیں۔ اللہ تعالیٰ سب بچوں کی ہر طرح حفاظت فرمائے آمین! اعداد وشمار اور معلومات کے لیے ادارہ ’’روزن‘‘ کی رپورٹس سے استفادہ کیا گیا ہے۔ محمد فیصل شہزاد)

سانحہ قصور ایک نہایت دل دہلا دینے والا، دردناک، شرم ناک بلکہ گھناؤنا ترین واقعہ ہے۔ 280 بچوں کا تو ذکر ہے، مجھے یقین ہے کہ اس سے دوگنے بچے ہوں گے جن کا بدترین جنسی استحصال کیا گیا ہو گا۔ اس گھناؤنے جرم کے ذمہ داران کے خلاف بڑی باتیں ہو رہی ہیں مگر کیا یہ سب پہلی بار ہوا ہے؟ کیا اس سے پہلے ہمارے معاشرے میں بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی اور بدفعلی عام نہیں ہے؟ نہیں جناب! یہ گھناؤنا عمل ہر محلے کی سطح میں، ہر دوسرے اسکول اور ہر تیسرے اقامتی مدرسے میں ہو رہا ہے۔ ایک ادارے ’’روزن‘‘ کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر معاشرتی و اقتصادی پس منظر سے تعلق رکھنے والے 15سے 20فیصد لڑکوں اور لڑکیوں کو اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور جنسی بدسلوکی سے واسطہ پڑتا ہے اور یہ بیس فیصد وہ ہوتے ہیں جو رپورٹ ہوتے ہیں، مگر سب جانتے ہیں کہ اس سے کئی گنا سلگتے واقعات وہ ہیں، جو کبھی منظر عام پر نہیں آتے!
میں ان سطور کے ذریعے سے کوشش کروں گا کہ دوستوں کو بتايں کہ معصوم پھول جیسے بچوں کے ساتھ بدفعلی صرف ایک ’’عمل‘‘ نہیں ہے، بلکہ بہت سارے بد افعال بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے ضمن میں آتے ہیں۔ اسی طرح اس ضمن میں ہمارے ہاں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ سب سے پہلیان غلط فہمیوں کا ذکر کروں گا تا کہ ہم اپنے بچوں کو ہر بری نگاہ رکھنے والے کی گندی نگاہ سے زیادہ سے زیادہ حفاظت میں رکھ سکیں۔

صرف بچیاں یا بچے بھی؟

ایک بہت بڑی غلط فہمی لوگوں میں اس خیال کا عام ہونا ہے کہ صرف بچیوں کے ساتھ ہی جنسی بدسلوکی ہوتی ہے! ایسا بالکل نہیں ہے۔ تحقیق کے مطابق بچیاں اور بچے تقریبا ایک جتنی تعداد میں جنسی بدسلوکی کا شکار ہوتے ہیں، یعنی ہر تین میں سے ایک بچی اور ہر چار میں سے ایک بچہ!! یہ اس لیے کہ بچے بچیوں کی بانسبت آسان ہدف ثابت ہوتے ہیں۔ ایک تو اس لیے کہ لڑکیوں اور بچیوں کی لوگ زیادہ حفاظت کرتے اور ان پر نظر رکھتے ہیں مگر بچوں کو جنسی بھیڑیوں کا تر نوالہ بننے کے لیے ایسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے! دوسری بات ہم جنس پرستی کی بڑھتی ہوئی لعنت ہے جس نے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اسی لیے لڑکیوں کی نسبت چھوٹے لڑکوں کو آج اسکول، مدرسے، کھیل کا میدان حتی کہ اپنے گھر میں بھی تحفظ حاصل نہیں ہے! 

اجنبی نہیں، رشتہ دار زیادہ خطرناک ہیں! 

ایک اور بہت بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کرنے والے زیادہ تر اجنبی مرد یا عورت ہوتے ہیں۔ یہ سنگین غلطی ہے۔ درحقیقت جنسی بدسلوکی کرنے والے مرد اور عورتیں دونوں ہی عام طور پر جنسی بدسلوکی کے لیے منتخب کیے جانے والے بچے سے پہلے ہی سے واقفیت یا کوئی تعلق رکھتے ہیں اور اکثر انہیں بچے تک براہ راست رسائی حاصل ہوتی ہے۔ خاندان کے افراد( فرسٹ کزنز، پھوپھا، خالو حتی کہ چچا ماموں)خاندانی دوست، گھریلو معاون، پڑوسی اور ٹیچرز سب ہی جنسی بھیڑیے ثابت ہو سکتے ہیں! جی ہاں، استاد جسے روحانی باپ کہا جاتا ہے، وہ بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہیں۔ خود قصور کے جس علاقے میں بچوں سے جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے، وہاں کے ایک زمیندار مولانا عبیداللہ صاحب ہمارے ایک دوست کے دوست ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ اس واقعہ میں بنیادی کردار مقامی اسکول کا ہے جہاں بے غیرت ٹیچرز ہی اس مکروہ کام کرنے والوں کو بچے سپلائی کرتے تھے۔ مگر اس واقعہ میں میڈیانے اسکول کا ذکر سرے سے غائب کر دیا ہے۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ اس طرح کے کسی واقعہ میں کسی مدرسے کا نام آیا ہوتا تو پھر میڈیا اور سول سوسائٹی کا کردار کیا ہوتا!
یہ ایک ضمنی بات آ گئی، بہرحال ایک غیر سرکاری ادارے روزن کی ایک رپورٹ کے مطابق دو سو بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کرنے والوں میں سے49فیصد رشتہ دار تھے، 43فیصدواقف کاروں میں سے تھے (جن میں سب سے زیادہ شرح گھریلو ملازموں کی تھی)، اور صرف 7فیصد کی تعداد اجنبی افراد کی تھی!

غریب، امیر سب کے بچے!

اسی طرح ایک خیال یہ عام ہے کہ صرف غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بچے ہی بدفعلی کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر یہ بات بھی غلط ہے۔ غرباء کے بچوں کے تقریباً برابر ہی متوسط اور امیر طبقے کے بچے بھی جنسی سلوکی کا شکار ہوتے ہیں! 

طریقہ واردات! 

جیسا کہ عرض کیا گیا، جنسی بدسلوکی کرنے والوں کی اکثریت ایسے قریبی افراد کی ہوتی ہے جن پر اعتماد کیاجاتا ہے اور جن کے بارے میں کوئی ایسی حرکت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات ان کی حرکتیں کسی کے علم میں نہیں آتیں۔ پھر یہ کہ جنسی بدسلوکی کرنے والے یہ درندے اپنے شکار بچوں کی سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے افعال کو راز میں رکھنے کے لیے جسمانی قوت استعمال کرنے کے بجائے، اپنے تعلقات کو بنیاد بناتے ہیں۔ جنسی بدسلوکی کرنے والے ایسا طرزِ عمل اپناتے ہیں کہ وہ بچوں سے قریب ہو جائیں اور وہ بچوں کو تحفہ دے کر، ان کی تعریف کر کے ان کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے وہ لوگ جو قریبی رشتہ دار نہ ہوں، وہ بچے کے گھر والوں کے ساتھ کسی ہمدرد کی صورت بنا کر قریبی تعلقات قائم کر لیتے ہیں تا کہ انہیں بچے کے ساتھ تنہائی میں ملنے کا موقع ملتا رہے اور ان کی طرف کسی کا دھیان بھی نہ جائے! ایک بار بچے کے ساتھ بے تکلف ہونے کے بعد وہ آہستہ آہستہ حدود کو پار کرنے لگتے ہیں۔ بعض اوقات اتفاقیہ طور پر چھو جانے کی صورت میں، جنسی نوعیت کے مذاق کرنے یا بچے کو مختلف مواقع پر لپٹانے یا چومنے کی صورت میں!
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معصوم بچہ جنسی بدسلوکی کرنے والے یا والی سے مانوس ہو جاتا ہے اور اس کی جانب سے چھوئے جانے یا باتیں کرنے پر بچے کی حساسیت کم ہو جاتی ہے۔ اگر پرائیویٹ مقامات پر ملاقات کے مواقع جاری رہیں تو جنسی بدسلوکی کرنے والے اپنے افعال میں قربت بڑھا دیتے ہیں۔ جنسی بدسلوکی کرنے والے ایسے طریقے اختیار کرتے ہیں جن کے ذریعے یہ یقین ہو جائے کہ بچے اپنے ساتھ ہونے والے معاملات کسی کو نہ بتائیں گے۔ ان میں سے بعض براہ راست جارحیت (قوت کا استعمال) اختیار کرتے ہیں اور بچے کو بری طرح ڈرا دیتے ہیں کہ ’’اگر اس نے کسی کو بتایا تو اسے یا اس کے گھر والوں کو نقصان پہنچا دیا جائے گا‘‘ جب کہ بعض ایسے افراد بچوں کو ندامت یا شرمندگی کا احساس دلاتے ہیں کہ تم یہ کسی کو بتاؤ گے تو کتنی شرم کی بات ہے، سب تمہارا مذاق اڑائیں گے۔ اس طرح وہ بالآخر انہیں اس بات پر راضی کر لیتے ہیں کہ اس تعلق یا جنسی بدسلوکی کو راز میں رکھا جائے!

بدسلوکی کرنے والے صرف مرد ہی نہیں عورتیں بھی!

بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں میں مردوں کے ساتھ عورتوں کے ذکر پر کچھ لوگوں کو تعجب ہوا ہوگا اور انہیں برا بھی لگے گا کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ عرض ہے کہ بالکل ممکن ہے۔ نو عمر قریب البلوغ بچے یا نو بالغ لڑکوں کا جنسی استحصال صرف مرد ہی نہیں بلکہ عورتیں بھی کرتی ہیں۔ خاص طور پر امیر گھرانوں میں کام کرنے والی گھریلو ملازمائیں اس میں ملوث ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی دورکی آنٹیاں نوعمر بچوں جنسی استحصال کرتی ہیں، یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ البتہ یہ ہے کہ فطرتاً ایسی گندی عورتوں کی تعداد ایسے مردوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے اور ان کے کیسز بھی بہت کم سامنے آتے ہیں مگر ایسا ہوتا ضرور ہے۔ یہ فرق بھی ضرور ہے کہ عورتوں کی طرف سے جنسی استحصال میں عموماً امیروں کے بچے زیادہ شکار بنتے ہیں! 

جنسی بدسلوکی میں کیا کیا شامل ہے؟ 

جنسی بدسلوکی کی نمایاں صورتوں میں جنسی حملہ، اعضائے مخصوصہ کو سہلانا اور بچے کو ڈرا دھمکا کر زنا بالجبر یا لالچ دے کر زنا بالرضا کرنا تو شامل ہے ہی، مگر جنسی بدسلوکی میں کسی بھی قسم کے غیر مناسب جنسی مواد سے دوچار کرنا بھی شامل ہے، خواہ یہ مواد زبانی ہو یا مناظر کی صورت میں ہو۔ درج ذیل تمام عوامل جنسی بدسلوکی میں شامل ہیں:
  • بچے کی جسم یا اعضاء کو اور خصوصاً پوشیدہ اعضاء کو غیرمناسب طریقے سے چھونا یا سہلانا۔
  • بچے کو اس کے اپنے یا کسی دوسرے فرد کے جنسی اعضاء کو چھونے کے لیے کہنا۔
  • بچے کے ساتھ جنسی ملاپ کرنا یا اسے کسی دوسرے سے یہ قبیح حرکت کرنے پر مجبورکرنا۔
  • بچے کو عریاں تصاویر یا عریاں فلم دکھانا۔
  • بچے کو عریانیت پر مبنی کہانی سنانا۔
  • بچے کو عریاں تصاویر یا عریاں فلم بنوانے کے لیے کہنا۔
  • بچے کو بے لباس کرنا یا اسے کسی اور کو بے لباسی کی حالت میں دیکھنے پر مجبور کرنا۔
  • بچے کو اپنے پوشیدہ اعضاء دکھانا یا جنسی لطف حاصل کرنے کے ارادے سے بچے کے اعضاء کو دیکھنا۔

کیا جنسی بدسلوکی کو روکا جا سکتا ہے؟ 

اس سوال کا سادہ جواب یہ ہے کہ: ’’ہاں‘‘۔ بالکل ایسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں جن کے ذریعے جنسی بدسلوکی ہونے کے امکانات کو کم کیا جا سکتاہے۔ والدین اور دیکھ بھال کرنے والے ہر وقت اپنے بچوں کے ساتھ موجود نہیں رہ سکتے، لہٰذا بچوں میں اپنی حفاظت کے لیے مطلوبہ صلاحیتیں پیدا کی جانی چاہئیں۔ روایتی طور پر سب سے زیادہ عام طریقہ استعمال خوف کا استعمال ہے تا کہ بچے بات سننے اور ہدایات پر عمل کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ مثال کے طور پر والدین اپنے بچوں کو ’’اجنبی افراد سے خطرے‘‘ کے بارے میں بتاتے ہیں، یعنی اگر وہ کسی اجنبی سے بات کریں گے یا اس کے ساتھ کہیں جائیں گے تو انہیں جسمانی طور پر نقصان پہنچ سکتا ہے، مگر جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ جنسی طور پر بدسلوکی کرنے والوں میں سے زیادہ تر افراد اور متعلقہ بچے کے درمیان پہلے سے واقفیت ہوتی ہے، اس لیے یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ:
1۔ والدین کسی پر بھی اندھا اعتماد نہ کریں، قریب ترین رشتہ داروں اور دوستوں کے گھر بھی اپنے بچوں کو تنہا نہ چھوڑیں۔
2۔ اسی طرح انتہائی کوشش کیجیے کہ حتی الامکان بچے کو عصری ہاسٹلز یا اقامتی مدرسوں میں داخل نہ کریں، بلکہ ترتیب یہ بنائیں کہ بچہ تعلیم حاصل کر کے واپس گھر ہی آئے۔ 
3۔ خود اپنے بچوں کو کمپنی دیں، ان کے ساتھ کھیلیں اور ان کے اندر خوداعتمادی پیدا ہونے دیں۔ خود اعتمادی کے ساتھ اپنے آپ کو اس کے دوستوں کی طرح رکھیں کہ وہ ہر بات پر آپ کو بھی اعتماد میں لے۔
4۔ اس بات کو لے کر اس کے اندر غصہ اور غیرت پیدا کروائیں کہ کوئی بھی ان کی ’’شرم‘‘ والی جگہ کو بے اختیار ہاتھ لگنے کا ڈھونگ بھی کرے تو وہ بھرپور غصے کا اظہار کریں۔
5۔ اپنے بچوں کے اشارے کنائے یا ڈھکی چھپی باتوں کو ’’بچوں کی باتیں‘‘ کہہ کر کبھی نظر انداز نہ کریں۔ ان کی ہر بات کو سیریس لیں اور پھر خاموشی سے تحقیق کریں! اگر ایک بار آپ نے بچے کے اشارے کنائے کو نظر انداز کر دیا یا سختی سے اسے جھٹلا دیا تو آپ پر سے اس کا اعتماد ختم ہو جائے گا اور ہوس کے بچاری اس کے جسم و روح پر قبضہ کر لیں گے! 

بچوں کو ضروری آگہی دیجیے! 

6۔ بچے کو بتائیں کہ والدین، والدین کے والدین اور بہن بھائیوں کے علاوہ کوئی بھی، کتنا ہی قریبی رشتہ دار ہو، ایک حد سے زیادہ بے تکلف ہوں یا تحفے تحائف دے تو محتاط ہو جائیں ۔۔۔ تحفے کبھی خود نہ لیں، بلکہ اپنے والدین کو دینے کا کہیں!
7۔ ماں باپ بچوں میں کوئی بھی غیرمعمولی حرکت دیکھیں تو فورا چوکنا ہو جائیں ۔۔۔ 
  • ان کے جسم پر چوٹ کے نشانات خصوصاً نازک اور پوشیدہ جگہوں پر کوئی نشان یا تکلیف کے آثار۔
  • بچوں کا اچانک غیرمعمولی طور پر حساس ہو جانا۔
  • چپ چاپ رہنا۔
  • ڈرے سہمے رہنا۔
  • یا پھر اس کے بالکل برعکس بہت زیادہ بولڈ یا بدتمیز ہو جانا۔
  • فحش حرکتیں کرنا یا فحش گفتگو کرنا جو پہلے نہ کرتا تھا۔
  • بچوں کے پاس زیادہ پیسوں کا آ جانا (خود بھی میانہ روی سے کام لیں، نہ زیادہ جیب خرچ دیں اور نہ ہی بہت کم دیں)
  • کھانے کی چیزیں یا کھلونے وغیرہ کا آ جانا۔
  • دیر سے گھر آنا۔
  • آپ کے کسی خاص واقف کار کو دیکھ کر عجیب سا برتاؤ کرنا وغیرہ۔
یہ سب علامات چوکنا کر دینے والی ہیں، انہیں دیکھ کر آپ کے دماغ میں الارم بج جانا چاہیے، مگر واضح رہے کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم شکی ہو جائیں،  ذرا ذرا سی بات پر بچوں سے سوال جواب کرنے لگ جائیں، اس سے اس کی شخصیت پر برا اثر پڑے گا، نہ ہی میں بلاوجہ کسی پر شک کرنے کی ترغیب دے رہا ہوں، مگر جب آپ کو کچھ بھی غیر معمولی لگے تو اسے نظر انداز نہ کیجیے، براہ راست بچے سے نہ پوچھیے بلکہ اس کی جاسوسی کیجیے، ریکی کیجیے، باتوں ہی باتوں میں اس سے اس کی نئی چیزوں اور پیسوں کے متعلق اس طرح کریدیے کہ اسے ذرا شک نہ ہو! یہ سب ہمارے لیے اس لیے ضروری ہے کہ ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں جس میں سب سے زیادہ بچوں پر ظلم ہو رہا ہے! 
8۔ بچوں کو ضروری آگہی دیجیے، انہیں مہذب پیرایے میں بتائیے کہ ستر سے متعلق ہر بات عیب یا "گندی بات" نہیں ہے، بلکہ "گندی بات" غلط انداز میں ذکر یا "کسی" بھی دوسرے کا آپ کے جسم سے چھیڑ چھاڑ ہے، لیکن آج اس ضروری آگہی کو بھی گناہ سمجھا جاتا ہے اور عیب کی بات سمجھتی جاتی ہے، چاہے پھر بچہ دوسرے بگڑئے ہوئے لوگوں سے غلط سلط معلومات حاصل کرے اور نتیجتاً ان کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر رہ جائے!
آج میں اس پبلک فورم میں اس بات کا ڈنکے کی چوٹ پر اظہار کرتا ہوں کہ میں والد کے، بچوں کو بلوغت کے قریب آسان زبان اور لہجے میں، مہذب و شائستہ پیرایے میں ضروری جنسی مسائل کی تعلیم دینے کے حق میں ہوں، جس طرح ماں بچیوں کو بلوغت کے وقت سب کچھ سمجھاتی ہے کہ پھر اسے ادھر ادھر دیکھنا نہیں پڑتا، بالکل اسی طرح باپ (واضح رہے صرف باپ، استاد بھی نہیں) بچوں کو ایک حد میں رکھتے ہوئے ایسا اعتماد دے کہ وہ اپنا ہر مسئلہ، اپنی ہر بات آپ سے شیئر کر ے، تا کہ آپ بھی وقت کے ساتھ ساتھ اس کی فطری تبدیلیوں کے بارے میں مہذب اور شائستہ پیرایے میں اسے سمجھا سکیں،  یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ہمارے دینی مدارس میں اس کی مثال موجود ہے، بچوں کو بلوغت کے شروع میں ہی یہ سب پڑھایا جاتا ہے!

اچھے برے لمس کی پہچان اور اللہ کی حفاظت! 

9۔ بقول محترمہ شینا صاحبہ، پانچ سے نو سال تک کے بچوں سے جنسی بدسلوکی پر ٹھوس انداز میں بات کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انہیں ’’اچھے‘‘ اور ’’برے‘‘ لمس (چْھونا) کے بارے میں بتایا جائے۔ تمام بات چیت میں مثالیں دی جائیں تا کہ وہ بیان کردہ لمس (چھوئے جانے) اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے احساسات کے درمیان تعلق قائم کر سکیں!
مثال کے طور پر اچھا لمس وہ ہوتا ہے جس سے ہمیں خوشی، پیار اور سکون کا احساس ہو مثلاً والدین کی جانب سے لپٹانا، یا استاد کی جانب سے حوصلہ افزائی کے طور پر پیٹھ پر تھپکی دینا!
برے لمس وہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ہمیں یا تو جسمانی نقصان پہنچتا ہے یا کسی نہ کسی طرح بے چینی محسوس ہوتی ہے،  اگر کوئی شخص ہمارے ستر پر ہاتھ مارتا ہے یا بے سکونی کی حد تک گدگداتا ہے تو یہ سب برے لمس ہوتے ہیں، خیال رکھیے کہ صرف جسمانی نقصان کی مثالیں نہ دی جائیں کیوں کہ اس طرح بچے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ برے لمس(چھونا) صرف وہ ہوتے ہیں کہ جن کی وجہ سے جسمانی درد ہوتا ہے، جب کہ یہ لازم نہیں ہے، بلکہ ان کی چھٹی حس کو بیدار کیجیے، اللہ تعالیٰ کی یہ نعمت ہر انسان کو دی گئی ہے کہ اس کا دل اچھی بری نظر، اچھے برے لمس، اچھے برے لہجے میں فوراً فرق کر لیتا ہے، آپ کو اپنے بچے کی اسی حس کو بیدار کرنا ہے کیوں کہ صرف جسمانی نقصان یا درد کی مثال کافی نہیں ہے، بہت سے عیار نفس کے غلام اس طرح اپنی نفسانی خواہش کو پورا کرتے ہیں کہ بچے کو کوئی جسمانی نقصان نہ ہو، لیکن ظاہر سی بات ہے کہ پیار سے سہلانا جس کی تہہ میں نفسانیت اور گندگی ہو، چاہے ظاہری تکلیف نہ دے، ایک بے چینی ضرور پیدا کر دے گی، بس یہی حس بچے میں بیدار کیجیے!

اللہ کی حفاظت میں دیجیے! ۔۔۔ چند مسنون اعمال

آخری اور بنیادی بات یہ کہ یہ سب تو اسباب کے درجے میں ہے، جس کا ہمیں حکم ہے، مگر اصل حفاظت اللہ رب العزت ہی کرتے ہیں!اس لیے آخر میں کچھ مسنون دعائیں اور کچھ بزرگوں کے تجربات اس ضمن میں پیش خدمت ہیں، ان اعمال کو خود بھی یاد کیجیے اور خصوصاً خواتین اور بچوں کو ضرور یاد کروا کر ان کو عمل پر مضبوط کیجیے، ان شاء اللہ غیب سے حفاظت ہو گی اور خواتین بچے ہر برے ارادے والے کی بری نگاہ سے مستور ہو جائیں گے ان شاء4 اللہ! صبح شام کی دعاؤں کے علاوہ، گھر سے باہر نکلنے کی دعا بچے کو اس دعا کا اہتمام کروائیے۔
اَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامََّۃِ مِنْ کُلِِّ شَیطَانٍٍ وَّھَامَّۃٍ وَمِن کُلِِّ عَینٍٍ لَّامَّۃٍ (ترمذی)
’’میں پناہ پکڑتا ہوں اللہ تعالیٰ کے پورے کلموں کے ساتھ ہر شیطان کے اثرسے اور ڈسنے والے ہر زہریلے کیڑے سے اور لگنے والی ہر نظر بد سے۔‘‘
یہ دعا نظربد،شیاطین اور موذی مخلوق سے حفاظت میں عجیب تاثیر رکھتی ہے، نیت کے بقدر اس میں ہر طرح کی بد نظر" والے سے حفاظت ہو گی، ان شاء اللہ! صبح و شام اس کا ورد بہت مفید ہے۔
حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مشرکین کی آنکھوں سے مستور ہونا چاہتے تو قرآن مجید کی تین آیتیں پڑھ لیتے تھے۔ اس کے اثر سے کفار آپ کو نہ دیکھ سکتے تھے۔ وہ تین آیتیں یہ ہیں۔ ایک سورہ کہف میں، دوسری سورہ نحل میں اور تیسری سورہ جاثیہ میں۔‘‘ (قرطبی)
اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰیٰ قُلُوبِھِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَھُوہُ وَفِی اٰذَانِھِمْ وَقْرًا۔ (سورۃ الکہف)
اُولَئِکَ الَّذِینَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَی قُلُوبِِِھِِمْ وَسَمْعِھِمْ وَاََبْصَارِھِمْ۔ (سورہ نحل)
اَفَرَاَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہُ ھَوٰاہُ وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلمٍٍ وَخَتَمَ عَلٰی سَمْعِہ وَقَلْبِِہ وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِہ غِشَاوَۃً۔ (سورۃ الجاثیہ)
حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معاملہ میں نے ملک شام کے ایک شخص سے بیان کیا، اس کو کسی ضرورت سے رومیوں کے ملک میں جانا تھا، وہاں گیا اور ایک زمانہ تک وہاں مقیم رہا، پھر رومی کفار نے اس کو ستایا تو وہ وہاں سے بھاگ نکلا، ان لوگوں نے اس کا تعاقب کیا، اس شخص کو وہ روایت یاد آگئی اور مذکورہ تین آیتیں پڑھیں، قدرت نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈالا کہ جس راستے پر یہ چل رہے تھے، اسی راستے پر دشمن گزر رہے تھے مگر وہ ان کو نہ دیکھ سکتے تھے۔(قرطبی)
امام ثعلبی رحمہ اللہ کہتے ہیں حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے جو روایت نقل کی گئی ہے میں نے رَے کے رہنے والے ایک شخص کو بتلائی، اتفاق سے دیلم کے کفار نے اس کو گرفتار کرلیا۔ کچھ عرصہ ان کی قید میں رہا، پھر ایک روز موقع پاکر بھاگ کھڑا ہوا۔ یہ لوگ اس کے تعاقب میں نکلے مگر اس شخص نے بھی یہ تین آیتیں پڑھ لیں، اس کا یہ اثر ہوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیا کہ وہ اس کو نہ دیکھ سکتے تھے، حالاں کہ ساتھ ساتھ چل رہے تھے اور ان کے کپڑے ان کے کپڑوں سے چھو جاتے تھے۔ (قرطبی)
امام قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان تینوں آیات کے ساتھ اگر وہ آیات سورہ یٰسین کی بھی ملالی جائیں جن کو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے وقت پڑھا تھا تو نور علیٰ نور ہیں۔ اس رات جبکہ مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کا محاصرہ کر رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات پڑھیں اور ان کے درمیان سے نکلتے ہوئے چلے گئے بلکہ ان کے سروں پر مٹی ڈالتے ہوئے گئے۔ ان میں سے کسی کو خبر تک نہیں ہوئی، وہ سورہ یٰسین کی پہلی نو آیات ہیں۔
اس لیے ان تینوں آیات کے ساتھ سورہ یٰسین کی ابتدائی نو آیات خصوصاً خواتین اور بچے پڑھ لیا کیجیے، ان شاء اللہ ہر برے ارادے والے کی نگاہوں سے حفاظت رہے گی، زیادہ چھوٹے بچوں کی طرف سے خود ہی پڑھ کر ان پر دم کر دیجیے۔ بلاشبہ آج کا دور ہمارے بچوں کے لیے بہت خطرناک ہے، روز کوئی نہ کوئی دل دہلا دینے والی خبر سننے کو ملتی ہے، اس عمل کی برکت سیاللہ تعالیٰ ہر برے ارادے والے کی نگاہ سے مستور رہیں گے ان شاء اللہ!

دعوتِ دین اور ہمارے معاشرتی رویے

محمد اظہار الحق

مولانا طارق جمیل کو احسن الخالقین نے حسن بیان کی قابل رشک نعمت سے نوازا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس وقت مقبول ترین واعظ ہیں تو مبالغہ نہ ہوگا۔ ان کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی جماعت کے دیگر اکابر کی طرح آہنی پردے کے پیچھے نہیں رہے بلکہ مخصوص دائرے سے باہر نکلے ہیں۔ ان کے ارشادات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچتے ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے لا تعداد مداح ان کی تقاریر التزام اور اہتمام سے لاکھوں لوگوں کو سنوا رہے ہیں۔ تبلیغی جماعت کی قابل تحسین پالیسی پر عمل پیرا ہوتے مولانا طارق جمیل فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے بھی کوشاں رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں مختلف مسالک اور مذاہب کے درمیان مناظرانہ، مجادلانہ اور معاندانہ ماحول جس طرح ہر وقت گرم رہتا ہے اور آتشیں حدوں تک جا پہنچتا ہے اس کے پیش نظر مثبت لہجے میں کام کرنے والی جماعتیں اور علماء قابل قدر ہیں۔ 
مولانا نے حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن پر تفصیلی انٹرویو دیا ہے جس کی خبر نما تلخیص پرنٹ میڈیا پر بھی عوام تک پہنچی ہے۔ حضرت مولانا کی عوام تک رسائی کی خوشگوار پالیسی سے حوصلہ پا کر ہم بھی کچھ طالب علمانہ اشکال پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ اشکال ہیں جو بے شمار ذہنوں میں موجود ہیں اور رہنمائی کے طلب گار ہیں۔ ہمارا مقصد حاشا و کلاّ اعتراض برائے اعتراض نہیں، ایسے رویے سے ہم خدا کی پناہ مانگے ہیں۔ ہمارا مقصد پوری دلسوزی اور عجز کے ساتھ محض رہنمائی کی طلب ہے اور عاجزانہ طلب ہے۔ 
مولانا نے بجا ارشاد فرمایا کہ عبادات اور معاملات کو الگ کرنے سے معاشرے میں شر پھیل رہا ہے۔ دین کو مسجد اور عبادت تک محدود کر دیا گیا ہے، حج، نماز، عمرہ، اور زکوٰۃ کو دین سمجھ لیا گیا ہے اور دنیاوی معاملات، اخلاق اور معاشرت کو دین سے خارج کر دیا گیا ہے۔ یہ تشخیص سو فی صد درست ہے۔ نبض دیکھتے ہوئے مولانا نے اپنا دست سلیم بالکل صحیح رگ پر رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نقصان دہ تفریق کس کے رویے کا نتیجہ ہے اور صورت حال کی اصلاح کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ دین کا طالب علم جب دیکھتا ہے کہ تعداد اور تنظیم کے اعتبار سے عالم اسلام کی سب سے بڑی اور مؤثر ترین حزب، تبلیغی جماعت اپنے لاکھوں نہیں کروڑوں وابستگان کو رات دن فضائل نماز، فضائل حج، فضائل قرآن، فضائل رمضان اور فضائل ذکر کا درس دیتی ہے اور اس ’’تعلیم‘‘ میں معاملات، حقوق العباد بشمول حقوق والدین اور حقوق اقربا، معاشرتی فرائض اور سماج کے دیگر پہلو جو دینی حوالے سے حد درجہ اہم ہیں، شامل نہیں تو حیران ہوتا ہے اور پریشان بھی۔ یہ کہنا کہ جب فضائل قرآن پڑھا دیے تو اس میں سب کچھ شامل ہوگیا، اس لیے اپیل نہیں کرتا کہ قرآن پاک میں تو رمضان، نماز، ذکر، تبلیغ، تمام امور کے فضائل شامل ہیں، پھر ان کے لیے الگ الگ نصاب کیوں؟ 
مولانا نے جو فرمایا ہے کہ دین کو عبادات تک محدود کر دیا گیا ہے، ہمارے مسائل کی جڑ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے علماء، صلحاء، واعظین اور مبلغین کی روش بدستور وہی ہے جو تھی۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال دیکھیے کہ ایک ہفتہ پہلے ٹیلی ویژن کے ایک مشہور مذہبی پروگرام میں کسی نے دعاؤں کی قبولیت کے ضمن میں رہنمائی چاہی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ عدم احتیاط کے اس پر آشوب عہد میں ہماری دعاؤں کے قبول نہ ہونے کی بڑی وجہ اکل حلال سے محرومی ہے۔ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے جواب دینے والے صاحب کو، جو مولانا طارق جمیل کے شاگرد اور معروف شخصیت ہیں، اکل حلال کی اہمیت واضح کرنی چاہیے تھی، مگر انہوں نے محض اتنا بتایا کہ فلاں وظیفہ اتنی بار پڑھ لیا کریں۔ مقصود اس مثال سے یہ ہے کہ امر بالمعروف پر زور ہے اور نہی عن المنکر سے اجتناب۔ پھر ’’معروف‘‘ میں بھی وہ پہلو شامل کیے جاتے ہیں جو صرف حقوق اللہ سے متعلق ہیں۔ 
ایک اشکال یہ بھی ہے کہ ہمارے کاروباری حضرات کی کثیر تعداد مذہبی تنظیموں میں بالعموم اور تبلیغی جماعت میں بالخصوص شامل ہے۔ مولانا فرماتے ہیں، مدارس اور تبلیغ دین کا جو نظام پاکستان میں ہے پوری دنیا میں کہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ بجا ارشاد فرمایا، افسوسناک Paradox یہ ہے کہ دینی مزاج رکھنے والے لاکھوں متشرع تاجروں اور دکانداروں کی موجودگی کے باوجود ملاوٹ، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، وعدہ خلافی اور ٹیکس چوری اس طبقے میں از حد نمایاں ہے۔ خوراک تو خوراک ہے، ادویات اور معصوم بچوں کا دودھ بھی ملاوٹ سے پاک نہیں ہے۔ 
اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ ملک کا جو حصہ اغوا برائے تاوان اور کار چوری کا مرکز سمجھا جاتا ہے، تبلیغی جماعت کے وابستگان کی تعداد بھی وہیں زیادہ ہے۔ اور سالانہ اجتماع میں آنے والی بسوں کے زیادہ قافلے ادھر ہی سے آتے ہیں۔ اگر ایک خصوصی کتابچہ ان سماجی برائیوں بالخصوص ناجائز تجاوزات کے بارے میں نصاب میں رکھا جاتا تو معاشرے میں خاموش انقلاب آسکتا تھا۔ ناجائز تجاوزات نے پورے ملک کو بدصورت اور تکلیف دہ بنا رکھا ہے۔ عبادات کے پابند تاجر اور دکاندار اس حقیقت سے یکسر غافل ہیں کہ وہ اس فٹ پاتھ یا اس جگہ کو استعمال کر کے جو ان کی ملکیت نہیں، وہ اپنی آمدنی کو مشکوک بنا رہے ہیں۔ مگر اکثریت الا ما شاء اللہ اس زعم میں ہے کہ وہ عبادات جو حقوق اللہ سے متعلق ہیں، کافی ہیں۔ 
ایک سوال طالب علموں کے ذہن میں یہ بھی اٹھتا ہے کہ دین کا اصل امتحان دفتر، بازار، کارخانے، کھیت اور اہل و عیال کے درمیان ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ اسلام میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ روایت ہے کہ ایک صحابی کو ماں کی خدمت کے لیے جہاد میں نہیں لے جایا گیا تھا۔ مگر زندگی کے اصل کارزار سے کاٹ کر چالیس دن یا چار ماہ کے لیے جو دینی ماحول میسر کیا جاتا ہے اس میں عملی زندگی کا کوئی پہلو نہیں ہوتا۔ اور پھر شعوری یا غیر شعوری طور پر عملی زندگی یا تو دفتر، بازار، کارخانے، کھیت اور اہل و عیال سے کٹ کر رہ جاتی ہے یا اس ضمن میں دینی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے یا نہیں کیے جا سکتے۔ مولانا کا یہ فرمان قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ والدین کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں جس کی وجہ سے ان کی تربیت نہیں ہو پاتی۔ تاہم دینی تربیت کے لیے جو بھرپور نظام الاوقات ہمیں دیا جاتا ہے اس میں بھی بچوں کے لیے اور گھر بار کے لیے وقت نکالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اگر ہفتے میں ایک بار شب جمعہ کے لیے، مہینے میں تین دن سہ روزے کے لیے، سال میں چالیس دن تربیت کے لیے اور جب بھی کچھ تعطیلات ہوں ان میں دس دن کے لیے تشکیل پر جانا ہو تو بچوں پر توجہ دینا ناممکن نہہیں تو از حد مشکل ضرور ہے۔ عملی نتیجہ یہ ہے کہ اس کار خیر میں جو لوگ رات دن مصروف ہیں اور ’’جوڑ‘‘ کے لیے الگ جاتے ہیں، ان کے اہل و عیال ان کی توجہ سے بالعموم محروم ہی رہتے ہیں۔ 
آخری گزارش، بہ احترام فراواں، یہ ہے کہ قوم کا سنجیدہ طبقہ اس سلوک سے جو الیکٹرانک میڈیا رمضان المبارک کے ساتھ کچھ عرصہ سے روا رکھے ہوئے ہے، از حد پراگندہ خاطر ہے۔ اشتہارات، نیلامی، انعامات اور اس قبیل کی دیگر سرگرمیوں کو رمضان کی مقدس شاموں اور راتوں کے ساتھ خلط ملط کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ’’اسلامی شوبزنس‘‘ باقاعدہ ایک الگ اکائی بنا دی گئی ہے۔ جو کچھ پردہ سیمیں پر اس سلسلے میں دکھایا اور کیا جاتا ہے، ناظرین کی اکثریت دیکھ تو لیتی ہے مگر دل کے نہاں خانے میں اسے ناپسند کرتی ہے۔ بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر، کہ وہی ان کی رسائی میں ہے، اس سے کھلی بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں مولانا انتہائی منطقی اور خوبصورت بات کی ہے کہ ان پروگراموں کا تعلق کمائی سے ہے نہ کہ خدمت دین سے۔ ہم دست بستہ گزارش کرتے ہیں کہ کم از کم جنید جمشید صاحب کو اس ’’گرم بازاری‘‘ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے مگر عوام کو معلوم ہے کہ جنید جمشید صاحب حضرت مولانا کے فیض رسیدگان میں سر فہرست ہیں۔ ایک اوسط ناظر اس سے یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ ایسی سرگرمی، جو کمائی کے لیے ہے، دین کے لیے نہیں، تبلیغی جماعت اور حضرت مولانا کی نظر میں قابل قبول ہے اور یوں جائز ہے۔ یوں اس کا رخ فرد سے جماعت کی طرف مڑ جاتا ہے۔ 
ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک ہے نہ خوف لومۃ لائم کہ مولانا کی اوپن ڈور پالیسی دین کی بہت بڑی خدمت ہے۔ اپنے خوبصورت بیان کے بعد اگر وہ سوالات کی اجازت مرحمت فرمایا کریں تو ایسے بے شمار اشکال دور ہو سکتے ہیں۔ دین کی تفہیم کے لیے وعظ ضروری ہے مگر مکالمہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ زبور عجم سے اقبال کے دو اشعار ان کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کرنے کرنے کی جسارت کرتے ہیں:
ہمہ افکارِ من از تست چہ در دل چہ بلب
گہر از بحر بر آری نہ بر آری از تست
من ہماں مشتِ غبارم کہ بجائی نہ رسد
لالہ از تست و نمِ ابر بہاری از تست
مولانا کا پنجابی کا ذوق بہت عمدہ ہے، انہوں نے یہ ماہیا سن رکھا ہوگا:
مینہ وس گیا ٹیناں تے
اللہ تینوں حسن دتا
ورتا مسکیناں تے
ظاہر ہے یہاں حسن سے مراد حسن بیان ہے کہ بقول احمد ندیم قاسمی:
فقط اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں
کہ ترا حسن، ترے حسن بیاں تک دیکھوں 
(بشکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘)

جانباز مرزا ۔۔۔۔۔۔ عظیم مرزا

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

ایک دفعہ کا ذکر ہے جب برصغیر میں انگریز کے عروج کا زمانہ تھا۔ دور دور تک کوئی ریاست اس کے ہم پلہ نہ تھی اور نہ کوئی طاقت۔ محاورہ تھا کہ انگریز سرکار میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ دوسری جنگ عظیم بھی ابھی شروع نہیں ہوئی تھی کہ انگریز سرکار کے کمزور ہونے کا کوئی امکان ہوتا۔ نہ ہی ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے الگ ملک کی کوئی قرارداد منظور ہوئی تھی۔ چہار سو اندھیرا تھا۔ برطانوی سامراج اپنے ہندوستانی فرزندوں کی مدد سے حکمران تھا۔ گنگا جمنا کی لہروں سے لے کر راوی جہلم کے کناروں تک اس کی ہیبت کے نشان کندہ تھے۔ ’’انقلاب‘‘ زندہ باد کی آواز پر نوجوانوں کو گولیوں سے بھون دیا جاتا یا چونے کی بھٹی میں ڈال کر زندہ جلا دیا جاتا۔ کاسہ لیسوں کوخطابات اور مخبروں کو انعامات دیے جاتے، اور سیاسی کارکنوں کو داد و رسن کے قصائی خانوں میں تختہ مشق بنا کر ان کے خون اور گوشت کا تماشہ دیکھا جاتا۔ اس اندھیرے میں بھی نوجوان حریت پسندوں کا قافلہ نیم جاں اپنے گریباں کے چاک سے آزادی کا پھریرا بنا کر لہراتا رہا۔ 1857ء سے پہلے اور بعد میں آزادی کی جتنی بھی تحریکیں چلیں ان میں مسلمان نوجوان کا نام اور کام ہمیشہ نمایاں رہا۔ جو لوگ زبان و قلم سے آزادی کی جنگ لڑے ان میں ایک بڑا نام مرزا غلام نبی جانباز کا تھا۔ جانباز کا پیدائشی تعلق امرتسر اور سیاسی تعلق سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی جماعت ’’مجلس احرار‘‘ سے تھا۔ زندگی بھر انگریز سرکار کے خلاف اس کی زبان و قلم شعلے اگلتی رہی۔ باقی زندگی میں جو الفاظ بچے وہ شاہ صاحب کی محبت میں صرف کر دیے۔ ’’حیات امیر شریعت‘‘ کے نام سے شاہ صاحب کی سوانح عمری کی کئی جلدیں مرتب کر ڈالیں۔ 1935ء میں گورداسپور جیل میں ’’آتش کدہ‘‘ کے نام سے اعلیٰ پائے کا شعری مجموعہ تخلیق کیا۔ ایک شعر ملاحظہ ہو:
بہاروں کے پسِ پردہ خزاں ہے ہم نہ کہتے تھے
چمن کی خاک میں آتش فشاں ہے ہم نہ کہتے تھے
اب آپ کو ’’آتش کدہ‘‘ کے نام سے کسی بھی لائبریری یا کتب خانے سے جانباز مرزا کا کوئی کلام نہیں ملے گا۔ ایک نسخہ مرزا صاحب نے جیل سے رہائی کے بعد مجھے دیا تھا۔ مگر یہ ہندوستان کی گورداسپور جیل اور انگریز سرکار نہیں بلکہ یہ پاکستان کی ’’کوٹ لکھپت‘‘ جیل سے رہائی کا موقع تھا اور ایوب خان کی سرکار تھی جب 1969ء میں ہم دونوں جمہوریت اور عوام کے حقوق کے لیے پابند سلاسل تھے۔ دار و رسن کے اس معرکہ میں اپنے دور کے ولی مولانا عبید اللہ انور ہماررے قافلہ سالار تھے۔ اس قافلے میں شیخ رشید (بانی رکن پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی وزیر) اور شیخ رفیق مرحوم (سابق گورنر و اسپیکر پنجاب اسمبلی) بھی ہمارے ساتھ تھے۔ شیخ رفیق مرحوم تب نیشنل عوامی پارٹی میں تھے۔ جاڑوں کے مہینے تھے، دن دھوپ سے لطف اندوز ہوتے ہوتے اور رات جیل کے غلیظ کمبلوں میں گزر جاتی۔ ایک روز میں نے جانباز مرزا صاحب سے پوچھا کہ آپ کتنی بار جیل گئے ہیں۔ پانچ چھ بار ہی جانا ہوا مگر کل ملا کر سزا 14 برس بنتی ہے، مرزا صاحب نے جواب دیا۔ مشقت بڑی سخت ہوا کرتی تھی۔ کولہو میں بیل کی جگہ جت کر کئی کئی گھنٹے اسے چلانا، سخت سردیوں میں ٹھنڈے پانی میں ردی کاغذوں کو ہاتھوں اور پیروں سے مسل مسل کر ان کا گودہ بنانا، اور راہداریوں کا پوچا کرنا تو عام سی مشقت تھی۔ جیل کے ہیڈ وارڈ کا عذاب مشقت سے بھی بڑا تھا۔ ساری ساری رات ہوا میں گالیاں بکتا رہتا اور آزادی کے متوالوں کے نام لے لے کر، کبھی عطاء اللہ شاہ بخاری اور کبھی بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی شان میں غلیظ الفاظ استعمال کرتا۔ جانباز مرزا کے مجموعہ کلام ’’آتش کدہ‘‘ کا انتساب بھی اسی جلاد ہیڈوارڈ کے نام ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’اس سید زادے کے نام جو 1935ء میں گورداسپور ڈسٹرکٹ جیل کا ہیڈ وارڈ تھا اور جس کے تعدی آمیز تشدد کی یاد اب بھی ایام رفتہ میں تلخی بھر دیتی ہے۔‘‘
جانباز مرزا نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ اسے ان مصیبتوں اور کلفتوں کا کبھی غم نہیں رہا، صرف ایک بات نے ہمیشہ زندگی بھر کا دکھ دیا کہ جب بھی میں رہا ہو کر گھر آتا تو لوگ کہتے کہ ’’یار مرزا کہاں رہے تم آج کئی سالوں کے بعد ملے ہو‘‘۔ یہ الفاظ ہمیشہ تیر بن کر سینے پر لگتے۔ ان کا درد آج تک محسوس ہوتا ہے۔ 
پھر اللہ نے آزادی دی اور پاکستان بن گیا۔ جانباز مرزا بھی لاہور آگیا۔ کچھ وقت گزارا، چند ماہ و سال بیتے تو معلوم ہوا کہ یہاں آزادئ فکر، آزادئ اظہار، آزادئ تقریر تو دور کی بات رزق تلاش کرنا بھی کاردار ہے۔ قلم و زبان اور آزادی کا نقشہ اترا اور بے کسی نے اپنا رنگ دکھایا۔ پیٹ کی بھوک چمکی تو آشکار ہوا کہ رزق حلال تو اپنی جگہ رزق حرام بھی بڑی مشکل سے دستیاب ہوتا ہے۔ پاکستان فلم انڈسٹری نے آغا جی اے گل کی بدولت بہت سے سیاسی کارکنوں کو سہارا دے رکھا تھا۔ تب فلم انڈسٹری کا رخ کیا۔ ایکسٹرا کردار ادا کیے، کچھ فلموں کے مکالمے لکھ کر اور کچھ رسائل و جرائد میں مضامین لکھ کر زندگی کی گاڑی کھینچتے رہے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ان کا ایک بیٹا روزنامہ ’’مشرق‘‘ لاہور کے شعبہ طباعت میں معمولی ملازم تھا۔ شاد باغ میں ایک چھوٹا سا گھر تھا جہاں سبھی اہل خانہ مشترکہ خاندانی نظام کی بدولت گزر بسر کر رہے تھے۔ زندگی بھر کھدر کا لباس اس لیے استعمال کیا کہ بغیر دھوئے ایک ہفتہ تک چل جاتا تھا۔ آخری بار میں نے انہیں ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ کے دفتر میں مسعود شورش کے پاس دیکھا۔ زندگی کی گاڑی کھینچتے کھینچتے، لاہور کی آدم خور مسافر ویگنوں پر سفر کرتے کرتے، رزق حلال کی تلاش کرتے کرتے، مکالمے لکھتے لکھتے ایک روز موت کے فرشتے سے پتہ نہیں کیا مکالمہ ہوا کہ اسی کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ 
جانباز مرزا بلا کا جگر دار، غضب کا مقرر، صاحب اسلوب و صاحب دیوان شاعر تھا۔ اپنی جوانی کے 14 سال آزادی کے لیے دار و رسن اور طوق و سلاسل کی نذر کرنے والا جانباز مرزا جب اجل کے فرشتے کے ساتھ گیا تو لوگوں کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ اخبارات نے خبر دینا بھی گوارہ نہ کیا۔ خبر چھپی بھی ہوگی تو اندر کہیں منڈیوں کے بھاؤ کے ساتھ۔ عزرائیل نے بھی کہا ہوگا کہ ’’یار مرزا کہاں رہے، تم آج کئی سالوں بعد ملے ہو۔‘‘

امام ابن جریر طبری کی مظلومیت

مولانا عبد المتین منیری

محترم اوریا مقبول جان، پاکستان میں سول سروس سے وابستہ ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے آپ کے کالم اردو کے بڑے اخبار ات میں چھپ کر وسیع پیمانے پر پڑھے جارہے ہیں ۔ چو نکہ اسلام اور مسلمانوں سے وابستہ مسائل پر لکھتے ہیں جن میں ہمدردی کا پہلو بھی نمایاں رہتا ہے اور پھر وہ اپنے وسیع المطالعہ ہونے کا بھی احساس دلاتے ہیں، اس لیے بڑے پیمانے پر ان کے یہ کالم سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ ہورہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا کے توسط سے آپ کے ۷ اور ۱۳ جولائی ۲۰۱۵ء کے دو کالم (روزنامہ ’ایکسرپس‘ لاہور) ہماری نظر سے گذرے جن میں آپ نے امت کے ایک جلیل القدر امام، مفسر اور مورخ ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ پر خامہ فرسائی کی ہے اور ان کے بارے میں نہایت ہی بھونڈے انداز میں اظہار خیال کیا گیا ہے جس سے خدشہ محسوس ہوتا ہے کہ موصوف بھی اب ان دانشوروں کی فہرست میں شامل نہ ہو رہے ہوں جو ابتدا میں اسلام اور مسلمانوں سے ہمدردی اور دل سوزی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور جب مقبولیت کے بام عروج کو پہنچتے ہیں اور ان پر پڑھے لکھے افراد اعتماد اور بھروسہ کرنے لگتے ہیں تو پھر اسلام کے تہذیبی ورثے اور اسلامی تاریخ کے پورے دفتر ہی کو قابل گردن زدنی قرار دینے میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو، لیکن کم از کم ان دو کالموں سے تو یہی لگتا ہے۔
ان کالموں کے پڑھنے سے محسوس نہیں ہوتا کہ ان کا لکھنے والا فرد اصل ماخذ سے باخبر فرد ہے ۔ ان کے لفظ لفظ سے زیر بحث موضوع پر ناواقفیت کا گمان گزرتا ہے۔ اس تحریر کے ایک ایک حصے کو لے کر رد کرنا علم وتحقیق کے وقار کے منافی محسوس ہوتا ہے، لیکن یہ مسئلہ اتنا آسان بھی نہیں ہے کیونکہ کالم نگار نے ایک ایسے امام کی کردار کشی کا ہے جن کی تفسیر اور تاریخ کی کتابوں پر بعد میں آنے والے علماء اور محققین نے اعتماد اور بھروسہ کیا ہے اور ان تصنیفات پر اپنی علمی تحقیقات کی بنیاد رکھی ہے۔ اگر اس بنیاد ہی کو ڈھا دیا جائے تو گزشتہ بارہ سو سال کے دوران منظر عام پر آنے والا پچاسوں نسلوں کا پورا علمی سرمایہ جس پر امت بجا طور پر فخر کرسکتی ہے، دھول کے مانند بیٹھ جائے گا ۔ لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کالم نگار کے ایک ایک الزام کا جواب دینے کے بجائے چند موٹی موٹی اصولی باتوں پر روشنی ڈالی جائے۔
امام ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید طبری ف۳۱۰ھ کاشمار خیر القرون کے ان ائمہ مجتہدین میں ہوتا ہے جنھوں نے آنے والی نسلوں کے لیے تفسیر حدیث فقہ اور تاریخ کا ایک ایسا علمی ذخیرہ چھوڑا، جن سے قیامت تک امت مسلمہ سیراب ہوتی رہے گی ۔ آپ نے ایک ایسا دور پایا تھا جب کہ آئندہ نسلوں کے لیے حدیث و روایات کے ورثے کی من و عن، بلا کم و کاست منتقلی پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی۔ آپ کے دور کے آتے آتے صحابہ تابعین اور تبع تابعین کا دور ختم ہورہا تھا اور ڈر تھا کہ کہیں اس طبقے کے افرادکی آنکھیں بند ہوتے ہی علم وروایت کے انمول ذخیرے بھی قبروں کی مٹی میں گھل نہ جائیں ، تو ان کی روایات اور آثار کی حفاظت پر توجہ زیادہ دی جانے لگی۔ چونکہ عہد رسالت و خلافت راشدہ تک راویوں کی کڑیاں مختصر اورسند عالی تھیں اور محدثین عظام نے حضرت عثمان رضی اللہ علیہ کے زمانے میں اٹھنے والے انتشار اور فتنے کے شروع ہو تے ہی علم سند و رجال کی تدوین کا سلسلہ شروع کردیا تھا اور صحابہ کرام سے مستفید ہونے والے تابعین نے محسوس کیا تھا کہ انتشار کے اس دور میں اپنے اپنے گروہ کی تائید میں مفاد پسند عناصر نے جھوٹی روایات گھڑنا شروع کردی ہیں۔ لہٰذا روایتوں کی اسناد نقل کرنے کا اہتمام والتزام کیا جائے اور ہرراوی کے حالات کے بارے میں معلومات جمع کی جائے۔ اس ضرورت علمی نے مسلمانوں کے ہاتھوں پرعلم اسناد ور جال کا ایک ایسا علم ایجاد کروا یا جس کی کوئی اور مثال کسی بھی دوسرے مذہب کے ماننے والوں میں نہیں ملتی۔اس طرح لاکھوں افراد کا بائیو ڈاٹا (کوائف نامہ) تیار ہوگیا ۔
آج کے زمانے میں سانس لینے والے قارئین کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ وسائل کی کمی ، کاغذ کی عدم دستیابی کے باوجود ابتدائی چار صدیوں میں جتنی تعداد میں روایت نقل کرنے والے افراد کے حالات اس طرح جمع ہوئے کہ فلاں سے کس روای نے روایت کی، اس کے شاگرد کون کون تھے ، وفات کب پائی، اس کا مذہبی اور سیاسی رجحان کیا تھا ، اس کا تعلق کس گروہ سے تھا، اس مقدار میں تاریخی مواد تو بعد کی ترقی یافتہ گیارہ صدیوں میں بھی جمع نہ ہوسکا ۔چونکہ سند کے ساتھ روایت نقل کرنے کی صورت میں دودھ کادودھ اورپانی کا پانی الگ کرنے والے ماہرین بکثرت پائے جاتے تھے، اس لیے ان روایات کی تحقیق کے تعلق سے ان میں زیادہ خوف نہیں رہا تھا۔ اس زاویہ نگاہ سے اطمنان نہ ہونے کی وجہ سے اگر قرون اولیٰ کے ہمارے علماء و ائمہ کرام اپنے اسلاف سے علم اور روایت کو جمع کرنے کے لیے یکسو نہ ہوجاتے اور ہر ایک روایت کی جانچ پھٹک میں اپنی ساری توانیا ں لگا دیتے تو ہماری تاریخ باریک باریک جزئیات اور مختلف پہلؤوں کے ساتھ ہم تک نہیں پہنچ پاتی ، جن کے جانے بغیر واقعات کی حقیقتیں پوری رعنائی کے ساتھ ہم پرنہیں کھلتیں اور ہر حادثہ ہمارے سامنے آئینے کی طرح شفاف نظر نہیں آتا۔
علمائے حدیث کا اس پر اتفاق ہے کہ علامہ ابن الصلاحؒ کے مقدمہ کی حیثیت علم حدیث میں بنیاد کی ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ: مسند ابی داود طیالسیؒ ، مسند عبید اللہ بن موسی ؒ ، مسند احمد بن حنبلؒ ، مسند اسحق بن راہویہ ؒ ، مسند عبد بن حمیدؒ ، مسند الدارمی ،ؒ مسند ابی یعلی الموصلیؒ ، مسند الحسن بن سفیانؒ ،مسند البزار ابو بکرؒ اور اس جیسی جو کتابیں ہیں تو ان میں ان کا طریقہ یہ ہے کہ ہر صحابی کی مسند میں ان کی روایت کردہ حدیث لائیں۔ اس پابند ی کے بغیر کہ یہ حدیث حجت بنے گی یا نہیں(ص۳۸)
اس کی تشریح کرتے ہوئے قریبی دور کے عظیم محدث شیخ عبد الفتاح ابو غدہؒ رقم طراز ہیں کہ: ’’یہی قدیم محدثین اور مفسرین اور مورخین کا شیوہ رہاہے ۔ان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ایک باب سے متعلق تمام حدیثیں اور اخبار اس کی سند کے تذکرے کا سہارا لے کر لاتے ہیں ،چاہے ان کی سند صحیح نہ ہو یا اس کی سند باطل ہونے کا انھیں علم ہو، کیونکہ سند کا ذکر ان روایات کے لانے پر مواخذہ سے انھیں بری کردیتا ہے بشرطیکہ اس کے زمانے میں علم الاسناد مکمل طور پر سینوں میں زندہ ہو۔‘‘ (الاجوبۃ الفاضلۃ،ص۹۱)
مشہور محقق اورعالم دین شیخ محب الدین الخطیبؒ جنھوں نے مصر و عالم عرب میں شیعی اثرات کو ختم کرنے کے لیے بیسویں صدی کے اوائل میں زبردست کوششیں کی تھیں ، آپ نے شیعیت کے رد میں اپنی مختصر سی کتاب الخطوط العریضۃ کے ذریعے بڑی شہرت پائی۔ وہ فرماتے ہیں کہ: امام طبری جیسے ان کے طبقے کے ثقہ اور ثبوت پیش کرتے والے علماء کی ضعیف روایات لانے کے سلسلے میں مثال آج کے دور میں عدالتی پروسیکوٹر کی ہوتی ہے۔ جب وہ کسی مقدمے کی تحقیق کر رہے ہوتے ہیں تو اس سے وابستہ دستیاب جملہ دلیلیں اور شواہد اکٹھا کرتے ہیں۔ حالانکہ انھیں ان میں سے بعض کے بودے اور ضعیف ہونے کا پورا علم بھی ہوتاہے۔ لیکن وہ اس اعتماد پر اسے نقل کرتے ہیں ، کہ ہر چیز کو اس کی قدر قیمت کے مطابق تولا جائے گا۔(ایضاً)
اس طرح طبریؒ جیسے ہمارے اسلاف میں سے بڑے بڑے روایتوں کے حاملین اس ڈر سے کہ ان تک پہنچنے والی کسی خبر کے بارے میں ضعف جاننے کے باوجود اس کی روایت میں اس وجہ سے تفریط نہیں کرتے تھے کہ اسے چھوڑ دینے سے علم کا کوئی پہلو پوشیدہ نہ رہ جائے ۔ مگر وہ ہر روایت کو اس کی سند کے ساتھ لاتے ہیں تاکہ قاری معتبر راویوں کی پہچان کی بنیاد پر اس روایت کی مضبوطی کو جان لے۔یا پھر غیر معتبر راویوں کی بنیاد پر اس کے ضعیف ہونے کا فیصلہ کرے۔ اس طرح وہ سمجھتے تھے کہ ان کے ہاتھوں تک جو کچھ پہنچا ہے، انھوں نے اپنے قاری تک دیانت داری سے پہنچادیا ہے۔ (مجلۃ الازہر، ج،۲۴،ص۲۱۴)
فن رجال میں حافظ شمس الدین احمد بن عثمان الذہبیؒ اور حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کا وہی مقام ہے جو فقہ حنفی کے فتاوی میں میں شامیؒ اور ابن الہما مؒ اور فقہ شافعی میں امام نوویؒ کا ہے ۔ حافظ ابن حجر ؒ نے امام سلیمان بن احمد طبرانی ؒ کے حالات میں لکھاہے کہ: قدیم حفاظ حدیث، موضوع احادیث کی روایت پر جب سکوت اختیار کرتے ہیں تو ان کا اعتماد حدیث کی سند کے ذکر پر ہوتا ہے ۔ کیونکہ ان کا اعتقاد ہوتا ہے کہ جب حدیث کو اس کی سند کے ساتھ لے آئے تو اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہوگئے اور اس کی تحقیق کی ذمہ داری اس کی سند پرغور کرنے کے لیے چھوڑ دی ہے۔(لسان المیزان)
کسی بھی کتاب کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے دیباچے کو پہلے ایک نظر میں دیکھا جائے ، تاکہ مصنف کا انداز تحریر اور طریقہ معلوم ہوسکے ، ساتھ ہی ساتھ اس دور کے علمی ماحول اور پس منظر پر بھی نظر رکھی جائے ۔ ایسا لگتا ہے کالم نگار نے اسے ضروری نہیں سمجھا اور مقدمہ کی جس عبارت کو امت کے جلیل علماء و محققین نے طبریؒ کے دفاع اوران کے حق میں استعمال کیا ہے، آپ نے خلط مبحث کرکے اس کا الٹا مطلب پیش کیا ہے۔ غالباً کالم نگار کے سامنے طبری کا انگریزی ایڈیشن رہاہے ، کیونکہ کتاب کے عربی ایڈیشن میں امام طبری ؒ کی یہ صراحت موجود ہے کہ: اذ لم نقصد بکتابنا ھذا الاحتجاج بذلک (تاریخ الطبری، اول، ص۷) جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ انھوں نے یہ کتاب اس لیے نہیں مرتب کی تاکہ لوگ اس سے سند لیں اور حجت پکڑیں، بلکہ ان تک جو پہنچا، آئندہ نسل کے لیے اسے من و عن پیش کرکے علم و روایت کے حفاظت کی اپنی ذمہ داری ختم کردی ۔ اب تحقیق کے مرحلوں سے گذار کر اسے مستند بنانا آپ کا کام ہے ۔ تاریخ طبری کے اردو ترجمہ میں یہ عبارت ہمیں نظر نہیں آئی ۔ اس کے چند سطور بعد امام طبری نے اپنے کتاب کے اسلوب تحریر کے بارے میں یہ عبارت لکھی ہے:
’’لہٰذا ہماری اس کتاب میں کسی خبر وروایت کو پڑھنے والااجنبی سمجھے، یا سننے والا قبیح قراردے صرف اس بناء پر کہ وہ اس روایت کو درست نہیں سمجھتا تو اسے جان لینا چاہیے کہ ہم نے اپنی طرف سے کوئی ملمع سازی یا رنگ آمیزی نہیں کی، بلکہ بعض ناقلین سے وہ ہمیں اس طرح آپہنچی ہیں، پس ہم نے ان کو اسی طرح آگے لکھ دیا ، جس طرح وہ ہم تک پہنچی ہیں۔‘‘
ہمیں اس بات کا بہت رنج ہے کہ اوریا مقبول جان صاحب جیسے قابلِ احترام قلم کار نے جس پر ایک دنیا اعتبار کرتی ہے، طبری ؒ کے اسلوب کو سمجھے بغیر، جو عبارت ان کی براء ت کا چیخ چیخ کر اعلان کررہی تھی اسے تمسخر اڑانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ امام صاحب کی شان میں افتراء پردازی کرکے ایک ایسی داستان کھڑی کی ہے، جس پر انھیں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے اور غلطی کا اظہار علی الاعلان کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ اوپر امام طبری ؒ کی جو عبارت کالم نگار نے اردو میں نقل کی ہے، اس میں امام طبری کی اس عبارت: والآثار التی انا مسندھا الی رواتھا جس کا مطلب ہے کہ جن روایات و آثار کو اس کے راوی کی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے چھوٹ گیا ہے جس کاسبب کالم نگار کی عربی سے لاعلمی ہے۔
اس سلسلے میں عثمان بن محمد الخمیس نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ: صر ف سند کے ذکر پر اکتفا کرنے کا جہاں تک تعلق ہے، تو اس پر اکثر محدثین کا عمل رہا ہے ، اگر آپ صحیحین کا استثناء کریں جنھوں نے صرف صحیح احادیث لانے کا عہد کیا ہے ،ان کے علاوہ اگر آپ جامع الترمذی یا سنن ابی داود یا دارقطنی یا دارمی یا مسند امام احمد اور دوسری حدیث کی کتابوں کو دیکھیں گے تو پائیں گے کہ انھوں نے صرف صحیح روایات کو لانے کا اہتمام نہیں کیا ہے، بلکہ انھوں نے سند کا ذکر کیا ہے اور یہ آپ پر لازم ٹھہرایا ہے کہ ان کی اسانید پر نظر ڈالیں ۔ اگر سند صحیح ہے تو اسے قبول کریں ۔ اگر سند صحیح نہیں ہے تو اسے ٹھکرادیں ، امام طبری ؒ نے بھی صرف صحیح روایات کو نقل کرنے کا عہد نہیں کیا ہے ۔ انھوں نے تو جن سے روایت ان تک پہنچی ہے ، اس کے ذکر کا وعدہ کیا ہے۔ (حقبہ من التاریخ مابین وفاۃ النبیؐ الی مقتل الحسین رضی اللّٰہ عنہ)
ہمارے خیال میں یہ صرف اوریا مقبول جان کا عقدہ نہیں ہے، بلکہ یہ برصغیر شمالی ہند وپاک کے علماء و دانشوران کا بھی مسئلہ ہے ، امام طبریؒ کے تعلق سے ہمارے بعض بڑے بڑوں سے بھی چوک ہوئی ہے ، اور اس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ جیسا کہ ہمارے بزرگ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ جب ہمارے جنوبی ساحلی قصبے بھٹکل تشریف لاتے تھے تو ہمیشہ کہا کرتے: ’’یہاں کی سرزمین سے صحابہ و تابعین رضوان اللہ علیہم کے گزرنے کی خوشبو آتی ہے، آپ کے یہاں اسلام کا تروتازہ جھونکا ان حضرات کے قدموں کے ساتھ براہ راست آ یا لیکن ہمارے شمال میں اسلام سرزمین عجم ، ایران و طوران کی سرحدوں کو پار کرتا ہوا ملکوں ملکوں کی خاک چھانتا ہوا ،ہاتھ بدل بدل کر، گھوم پھر کر درۂ خیبر کے راستے سے سیکنڈ ہینڈ پہنچاہے۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ علمِ سند و رجال کی طرف ہمارے علمائے ہند کا ابتدا ہی سے رجحان نہیں رہا ، کیوں کہ شمالی ہند میں گیارہویں صدی ہجری کے اوائل میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی ف ۱۰۵۲ھ کے ہاتھوں صحاح ستہ پہلی مرتبہ داخل ہوئی تھی ۔ اس سے قبل یہاں پر ساتویں صدی ہجری کے محدث شیخ حسن بن محمد صاغانی لاہوری ف ۶۵۰ھ کی دوہزار چھیالیس(۲۰۴۶) حدیثوں کا مجموعہ مشارق الانوار النبویہ فی صحاح الاخبار المصطفویہ رائج تھا۔ یہ ثانوی درجہ کا حدیث کامجموعہ اسناد سے معری تھا۔ علم اسناد کے عروج کے دور میں یہاں مسند کتابوں کا رواج نہیں رہا۔ لہٰذا یہاں پر علم اسناد سے اعتناء کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی گئی۔ برصغیر میں شیخ عبد الحی لکھنوی فرنگی محلیؒ ف ۱۳۰۴ھ سے قبل کے علماء کی علم الجرح و التعدیل کے موضوع پر مستقل کتابوں کا فقدان پایا جاتا ہے ۔ شیخ عبدالحی لکھنویؒ کی کتابوں کی پذیرائی بھی برصغیر کے بجائے عرب علماء میں زیادہ ہوئی۔ہاں اس دوران شیخ محمد طاہر فتنی ف ۹۸۰ھ کا نام آتا ہے جن کی کتاب المغنی فی اسماء الرجال دو جلدوں میں حیدرآباد دکن سے چھپ کر آئی ہے۔یہ بھی اپنے موضوع پر ثانوی درجے کی تصنیف شمار ہوتی ہے ۔ مولانا فرنگی محلی کی کتابوں کی طرح اسے قبولیت عامہ حاصل نہیں ہوئی۔ہماری کئی ایک محترم شخصیات کے امام طبریؒ کے تئیں غلط فہمی پر مبنی موقف اختیار کرنے کا سبب یہ ہے کہ چونکہ یہ علمی شخصیات مغربی سامراج کے دور عروج میں ابھریں، یہ لاکھ انکار کریں لیکن ان پر مستشرقین کے اسلوب نقد سے مرعوبیت جھلکتی ہے اور یہ فطری بات ہے کہ ان کے مخاطب یہی تو لوگ تھے ۔ انھیں کے اسلوب میں انھیں اعتراضات کا توڑ پیش کرنا تھا۔
کالم نگار چونکہ عربی زبان سے ناواقف دکھائی دیتے ہیں، اس لیے لازماً ان کے سامنے نفیس اکیڈمی،کراچی سے چھپا ہوا یا پھر تاریخ طبری کا انگریزی ترجمہ شدہ نسخہ ہی ہے(جس میں مستشرقین نے اپنی بدباطنی کا زہر گھول رکھا ہے)۔ نفیس اکیڈمی کے تحت جو علمی صخیم کتابوں کے ترجمے شائع ہوئے ہیں، ان کی تعریف ہونی چاہیے ۔ لیکن تعریف کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں معیاری بھی قرار دیا جائے ۔ یا جن کتابوں کا ترجمہ کے لیے انھوں نے انتخاب کیا ہے اسے موزوں مانا جائے۔ اس سلسلے میں ان کی مطبوعات میں بڑا جھول پایا جاتا ہے۔ کئی ایک بڑی بڑی علمی کتابوں کا ترجمہ معیاری نہ ہونے کی وجہ سے بات کیا سے کیا ہوگئی ہے۔ دور حاضرکے ایک مایہ ناز مصنف مولانا محمد اسحاق بھٹی نے بزم ارجمندان میں اپنی ایک ایسے سینئر ساتھی کے بارے میں لکھا ہے کہ جو کہ بیک وقت صحافی، ناول نگارفلمی کہانی نگار بھی تھے ، اور نفیس اکیڈمی کے لیے انھوں نے درجنوں کتابوں کا ترجمہ بھی کیا کہ ان کے کسی عربی کتاب کے ترجمہ کا طریقہ یہ تھا ، ایک نظر میں عربی کی کتاب کا صفحہ دیکھتے اور اسے بند کردیتے اور یادداشت سے اس کا ترجمہ یا خلاصہ لکھ دیتے ، اسی طرح انھوں نے بھٹی صاحب کو رقم دے ایک کتاب کا ترجمہ بھی کروایا تھا ، جسے انھوں نے بھٹی صاحب کے بجائے اپنے نام سے چھاپ دیا۔
تاریخ طبری کے اردو ترجمہ کے ساتھ بھی کچھ اسی قسم کی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا گیا ہے ۔ طبری کی روح روایتوں کی اسانید میں پوشیدہ ہے ۔ اس کے بغیر تفسیر ہویا تاریخ کی کتاب، ان کی علمی حیثیت علماء کے نزدیک نہ ہونے کے برابر ہے ۔ شاید ناشرین نے یہ سمجھ کر کہ ناموں کی تکرار سے اردو قاری بوریت محسوس کرنے لگے گا ، اسانید کوحذف کردیا ہے جس کے بعد ہر کوئی طبری کی نقل کردہ روایتوں کو آپ کی طرف منسوب کرکے، کالم نگار ہی کی طرح ان کا مذاق اڑا سکتا ہے۔ کالم نگار نے بہت برا کیا ہے جو امام طبریؒ کو ایک سڑک چھاپ بازار قصہ خوانی کے داستان گو کی حیثیت سے پیش کردیا ہے ۔ آئیے امام طبری ؒ کے بارے میں چند ائمہ حدیث کے اقوال و آراء جاننے کی کوشش کرتے ہیں:
  • محمد ابن جریر الطبری فقیہ عالم ۔(امام ابو العباس محمد بن سریج ؒ ف ۳۰۶)
  • میں اپنے دور میں اس دھرتی پر محمد بن جریر سے بڑے عالم سے واقف نہیں ہوں ۔ حنابلہ نے ان کے ساتھ بڑا ظلم کیا(امام الائمہ محمد ابن اسحاق بن خزیمۃؒ )
  • میں نے ابن جریر کے بعد علم اور علماء کی کتابوں ، فقہاء کے اختلاف رائے اور علمی اور علوم کا ایسا ماہر نہیں دیکھا ( احمد بن کامل القاضیؒ )
  • طبری علماء کے اماموں میں سے ایک تھے۔ آپ کی رائے پر فیصلہ دیا جاتا تھا۔ اور آپ کی علمی معرفت اور فضیلت کی وجہ سے آپ کی رائے کو ترجیح دی جاتی تھی ۔ آپ نے اتنے علوم حاصل کئے تھے کہ جتنے آپ کے دور کے کسی ایک شخص میں جمع نہیں ہوئے ۔آپ کتاب اللہ کے حافظ تھے ،علم قراء ت قرآن کے معانی کی پہچان رکھتے تھے ، احکام قرآن کے فقیہ تھے ، سنن کے راستوں ، ان کے صحیح یا سقیم ہونے کا اور ناسخ و منسوخ کا علم رکھتے تھے ، صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں کے بیان کردہ احکام فقہیہ اور مسائل حلال و حرام سے متعلق اقوال کے جاننے والے تھے ، لوگوں کے دنوں اور ان کے اخبار کے عارف تھے ۔ ( خطیب بغدادیؒ )
  • وہ ثقہ صادق اور حافظ تھے ، تفسیر کے سردار ، فقہ و اجماع و اختلاف کے امام ، تاریخ اور دنوں کے، قراء ت ، لغت وغیر ہ میں علامہ تھے ( امام الذھبیؒ )
  • وہ امام مجتہد، علم و دین کی دنیا کے ایک امام تھے ( تاج الدین السبکی ؒ )
  • وہ عابدوں اور زاہدوں اور پرہیز گاروں میں سے تھے ، انھیں حق بات سے کسی کی ملامت روک نہیں سکتی تھی ، اور بڑے صالحین میں تھے ( حافظ ابن کثیرؒ )
  • امام محمد بن عبد الوہاب نجدی ؒ نے امام ذہبیؒ ، ابن کثیرؒ ، ابن عبد البرؒ ، خطابیؒ ، امام شافعیؒ ، ابن جریرؒ ، ابن قتیبہؒ ، اور ابو عبیدؒ جیسے علماء کے تذکرہ کے بعد فرمایا کہ یہ وہ ہیں جن کی طرف اللہ اور اس کے کلام اور کلام سلف کے بارے میں رجوع کیا جاتا ہے۔
    ام القری یونیورسٹی مکہ مکرمہ میں عقیدہ کے شعبہ سے ۱۹۸۳ء میں ڈاکٹر احمدعوائشہ کو ان کے تحقیقی مقالہ الامام الطبری و دفاعہ عن عقیدہ السلف پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی ہے ۔ جس میں امام صاحب کے عقیدے کا دفاع کیا گیا ہے ۔ جس کے بعد مزید اس موضوع پر بحث کی ضرورت باقی نہیں ہے ۔ کالم نگارنے امام طبری ؒ کے عقیدے اور حنابلہ کی آپ سے ناچاقی اور آپ کی وفات کے سلسلے میں مبالغہ آمیز اور من گھڑت کہانیاں تخلیق کی ہیں ، اس بارے میں مکمل تحقیق اس ڈاکٹریٹ کے مقالہ میں موجود ہے ۔ افادیت کے خاطر اس سلسلہ میں ائمہ حدیث و تاریخ کے چند اقوال کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
  • شیعہ حضرات نے اس لیے آپ کے شیعہ ہونے کی تشہیر کی تاکہ حدیث و روایت کے ایک ستون پرسے اعتبار اٹھ جائے اور ایک اہم امام حدیث و فقہ کی صورت مسخ ہوجائے ۔ 
امام الذہبیؒ کا قول ہے کہ: ابن جریر اور ابن ابی داؤد میں اختلافات ہوئے ، یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ انصاف نہیں کرتے تھے ، حنابلہ ابو بکر بن ابی داؤد کی حکمران پارٹی سے تھے ، تو انھوں نے بات کا بتنگڑ بنادیااور ابن جریر ؒ کے یہاں توڑ پھوڑ کی اور انھیں تکلیفیں پہنچائیں ، تو ابن جریر ؒ نے اپنا گھر پکڑ لیا ، ابو بکر ابن ابی داؤ د نے حاجب کی شکل میں حکومت وقت سے مد د لی اور ابن جریرؒ کو اپنی آراء سکھانے سے روک دیا۔(سیر اعلام النبلاء)
ڈاکٹر احمد عوائشہ کی رائے ہے کہ امام ابن جریر پر حنابلہ کے تشدد کی جن تفصیلات کا ذکر کتابوں میں آیا ہے، ان میں حنابلہ کو شدت پسند ثابت کرنے کے لیے کافی رنگ بھرا گیا ہے ۔ لہٰذا امام سبکی ؒ نے امام ذہبی ؒ کے قول کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام ابن جریر ؒ کو حنابلہ نے گھر سے نکلنے سے روکا نہیں تھا، بلکہ امام صاحب نے خود سے گھر کا کوناپکڑ لیا تھا۔
آپ کی وفات کے وقت آپ کے جو شاگرد موجود تھے، ان میں سے ابو بکر بن کامل اور دوسرے لوگوں نے روایت کی ہے کہ آپ کی روح کے قبض ہونے سے کچھ پہلے آپ سے دریافت کیا گیا کہ ابو جعفر !آپ اللہ اور ہمارے درمیان حجت ہیں، آپ ہمیں کس بات کا حکم دیتے ہیں ، کیا ہمارے دین کے تعلق سے کسی چیز کی وصیت کریں گے؟ اور کوئی ایسی بات بتائیں گے جو ہماری آخرت میں نجات کا ذریعہ بنے ، تو آپ نے کچھ اس طرح بیان فرمایا کہ میں جس اللہ کی فرماں برداری کرتا ہوں ۔ اور جو باتیں اپنی کتابوں میں بیان کی ہیں ۔ ان پر عمل کرو۔ پھر تشہد اور اللہ کے ذکرکی کثرت شروع کردی اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا ، پھر اپنے ہاتھ سے آنکھیں بند کیں اور انھیں پھیلادیا ،پھر آپ کی روح پرواز کرگئی۔ (تاریخ ابن عساکر)
امام خطیب بغدادیؒ اور ابن عساکرؒ اور جمہور مورخین کی رائے ہے کہ آپ کو چاشت کے وقت دفن کیا گیا تھا ، آپ کے جنازے میں لوگوں کی تعداد اتنی بڑی تھی جسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ حالانکہ اس کی کسی نے منادی نہیں کی تھی ۔
ڈاکٹر احمد عواشہ کہتے ہیں کہ آپ کی وفات اور تدفین کے بارے میں جو اختلافی باتیں بیان ہوئی ہیں ، ان کی کوئی بڑی علمی اہمیت نہیں ہے ۔ کیونکہ جب امام ابن جریرؒ کی وفات ہوئی تو لوگ سارے بغداد کے نواح و اطراف سے امنڈ پڑے تھے ۔ آپ کے گھر میں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی ، کئی مہینوں تک لوگ آپ کی قبر پر جاتے رہے اور نماز جنازہ پڑھتے رہے ۔ اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہے ۔ دین علم اور ادب سے وابستہ بہت ساری شخصیات نے آپ کے لیے مرثیے لکھے ، ڈاکٹر صاحب نے اپنے تحقیقی مقالے میں کئی ایک ایسے مرثیوں کا تذکرہ کیا ہے۔
امام ابن جریر نے اپنی تفسیر اور تاریخ کی کتاب کے علاوہ بھی کئی ایک اہم کتابیں یاد گار چھوڑی ہیں ۔ ان میں سے ایک کتاب تہذیب الآثار بھی ہے ۔ جس کے نامکمل ہونے کے باوجود اس میں عشرہ مبشرہ اور اہل بیت اور ان کے موالی سے مسند روایات ، ان سے مروی فقہی مسائل ، ان کے الفاظ کے معنی درج ہیں ، اس کے بارے میں علماء کی رائے ہے کہ اگر یہ مکمل ہوتی تو اپنی مثال آپ ہوتی ۔
شیخ عثمان الخمیس جنھوں نے امام محمد بن سعود یونیورسٹی ۔ قصیم سے جید سعودی علماء سے تعلیم حاصل کی ہے اور دور حاضر میں ٹیلی ویژن پر شیعوں سے مناظرے میں کافی شہرت حاصل کی ہے اور جن کی کتاب کا تذکرہ پہلے آچکا ہے کہتے ہیں کہ تاریخ طبری اسلامی تاریخ کے موضوع پر سب سے اہم کتاب ہے ۔ اس سے بہت کچھ لیا جاتا ہے ، اہل سنت اور اہل بدعت دونوں اس سے نقل کرتے ہیں اور اس سے حجت لیتے ہیں تو پھر کیوں اسے تاریخ کی دوسری کتابوں پر ترجیح دی جائے ؟ تو عرض ہے کہ امام طبریؒ کی تاریخ کو بہت سارے امور میں دوسری کتابوں پر سبقت حاصل ہے ۔ جن میں سے چند یہ ہیں:
۱۔ امام طبریؒ کا زمانہ ان واقعات سے قریب ترین ہے۔
۲۔ امام طبری ؒ سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
۳۔ امام طبری ؒ کی جلالت شان اور علمی مقام۔
۴۔ زیادہ تر تاریخ کی کتابیں آپ ہی سے نقل ہوئی ہیں۔
اگر بات یہ ہے تو اگر ہم براہ راست امام طبری ؒ سے کوئی بات لینا چاہیں تو کیا کریں؟ کیونکہ جیسا کہ بیان ہوچکا اہل سنت اور اہل بدعت دونوں جو رائے ان کے مذہب کے مطابق ہوتی ہے نقل کرتے ہیں ، تو کس طرح اس میں توافق پیدا کیا جائے ۔تو جیسا کہ میں نے بیان کیا، تاریخ طبری کا اہم امتیاز یہ ہے کہ وہ بغیر سند کوئی چیز نہیں لاتے ۔ اہل سنت امام طبری ؒ کی صحیح سند سے آئی ہوئی روایتیں لیتے ہیں اور اہل بدعت صحیح اور موٹی دبلی ہر ہر رطب و یابس چیز لیتے ہیں۔ (حقبہ من التاریخ مابین وفاۃ النبیؐ الی مقتل الحسین رضی اللہ عنہَ ۔ ص ۳۲)
اس لیے جہاں آپ نے ابو مخنف لوط بن یحیی ، واقدی ، سیف بن عمر التمیمی ، کلبی وغیرہ روایتیں بیان کرنے والے افراد جن کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل ضعیف اور جھوٹے ہونے کا فیصلہ دیتے ہیں ، ان کی روایتیں نہیں لیں گے۔
امام طبری کی کتابوں کی تحقیق اور اس کی اسانید کی صحت پر علمی دنیا میں کافی تحقیقی کام ہوا ہے ۔ان میں سے جو کتابیں ہمارے آرکائیوز میں محفوظ ہیں، ان میں سے چند کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے: 
۱۔تحقیق مواقف الصحابہ فی الفتنۃ من روایات الامام الطبری و المحدثین، تصنیف : ڈاکٹر امحزون، صفحات : ۶۹۴/ اس کتاب میں صحابہ کے مابین دور فتنہ سے متعلق امام طبری کی جملہ روایات کا دیگر محدثین کی نقل کردہ روایات سے موازنہ کرکے ایک ایک راوی اور واقعہ سے بحث کی گئی ہے۔
۲۔ مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری،تصنیف : یحییٰ بن ابراہیم بن علی الیحییٰ، صفحات : ۲۵۸/اس میں طبری کے اہم ضعیف راوی ابی مخنف کی ایک ایک روایت کی تحقیق کی گئی ہے ۔
۳۔ رجال تفسیرا لطبری جرحا و تعدیلا،تصنیف : محمد صبحی بن حسن الحلاق،صفحات: ۶۰۸/ اس میں تفسیر طبری میں جن راویں سے روایتیں لی گئی ہیں ، ان کے بارے میں فردا فردا تحقیق کی گئی ہے۔ اور اس سلسلے میں دو عظیم علمائشیخ احمد شاکر اور محمود شاکر کی رائے بیان کی گئی ہے۔
۴۔ صحیح تاریخ الطبری و ضعیف تاریخ الطبری،تصنیف : محمد طاہر البرزنجی، اشراف : محمد صبحی حسن حلاق،۱۳ جلدوں میں مطبوعہ اس کتاب میں طبری کی ایک ایک روایت کے بارے میں صحیح یا ضعیف ہونے کے تعلق سے تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔
اس طرح طبری کی سند کے ایک ایک راوی اور روایت کردہ واقعات کی تحقیق کی گئی ہے اور ان کا موازنہ مستند محدثین کی روایتوں سے کیا گیا ہے ۔ خاص طو پر سعودیہ کی یونیورسٹیوں میں ان موضوعات پر ڈاکٹریٹ کے لیے تحقیقی مقالات تیار ہوئے ہیں ۔ جن کا عشر عشیر ابھی اردو میں نہیں آیا ہے ۔
اردو میں امت اسلامیہ کے عظیم محسن اور ان کی علمی وراثت بنیادی امین امام طبریؒ کے تعلق سے باقاعدہ تحقیقی کتاب کی ضرورت ہے ۔ یہ چند باتیں سر سری طور پر یاد آگئیں ، امید کے ان کے ذریعے تحقیق اور جستجو کے نئے دروازے کھلیں گے ۔ اللہ کی توفیق ہمارے ساتھ ہو۔

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۸)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

ایک اور مغالطہ انگیزی اور علماپر طعنہ زنی 

غامدی صاحب فرماتے ہیں:
’’الائمۃ من قریش مشہور روایت ہے؛ (مسند احمد،رقم 11898 ) اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے ہمارے علما اس غلط فہمی میں مبتلاہو گئے کہ مسلما نوں کے حکم ران صرف قریش میں سے ہوں گے، دراں حالے کہ یہ بات مان لی جائے تو اسلام اور برہمنیت میں کم سے کم سیاسی نظام کی حد تک کوئی فر ق باقی نہیں رہ جاتا؛ اس مغالطے کی وجہ محض یہ ہوئی کہ ایک بات جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفا ت کے فوراً بعد کی سیاسی صورت حال کے لحاظ سے کہی گئی تھی؛ اسے دین کا مستقل حکم سمجھ لیا گیا۔‘‘ (میزان، ص64)
یہ محض علما پر طعنہ زنی ہے ؛ علما نے اس سے وہی کچھ سمجھا ہے جس کی وضاحت خود انھوں نے کی ہے ؛ علما نے اسے دین کا مستقل حکم نہیں سمجھا؛ اس کی جووضاحت شیخ محمدابو زہرہ نے علمائے اسلام کے موقف کی اور تمام احادیث وآثار کی روشنی میں کی ہے، وہ ملاحظہ فرمائیں :
نظر بریں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان اخبار وآثار سے قطعی و حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ امامت قریش میں مقصور و محدود ہے اور اگر کوئی اور خلیفہ ہو گا تواس کی خلافت، خلافت نبوت نہیں ہوگی ؛اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ آپ امت کو مامور فرمارہے ہیں کہ خلافت صرف قریش تک محدود ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا فرمان طلب وجوب کے لیے ہے بلکہ آپ کا مقصد صر ف یہ ظاہر کرناہے کہ قریش کی امامت افضل ہے نہ یہ کہ کسی اور کی اما مت صحیح نہیں ؛ اس کی وجہ بخاری ومسلم کی یہ روایات ہیں : 
۱۔ ابو ذرغفاریؓ روایت کرتے ہیں کہ مجھے میرے دوست (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) نے وصیت فرمائی کہ اگر تم پر ایک نکٹے حبشی کوبھی امام بنا دیا جائے تواس کی اطاعت کرتے رہنا۔
۲۔ امام بخاری روایت کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم پر ایک حبشی کو امام بنا دیا جائے جس کا سر منقیٰ ایساہوتو اس کی بات سننااور اس کے اطاعت شعار رہنا۔
ایک تیسری روایت اسی مفہوم کی صحیح مسلم سے نقل کر کے شیخ ابوزہرہ لکھتے ہیں :
’’اگر مذکورۃ الصدر روایات کو حدیث ’ان ھذا الامر فی قریش‘ کے ساتھ یک جا کرکے دیکھا جا ئے تو یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ نصوص بہ حیثیت مجموعی یہ تاثر پیدا نہیں کر تیں کہ امامت قریش میں محدود ہے اور کسی اور کی خلافت صحیح نہیں؛بہ خلاف ازیں ا حادیث کا بہ بحیثیت مجموعی یہ مفہوم ہو گا کہ غیر قریش کی امامت درست ہے اور آپ نے حدیث ’الامر فی قریش‘ میں اخبار بالغیب کے طور پر ایک ہونے والے واقعے سے آگاہ فرمایا تھا یا آپ کا مقصد یہ ہو گا کہ قریش کی خلافت دوسروں سے افضل ہے ؛ یہ مطلب نہیں ہے کہ سرے سے کسی اور کی خلافت درست نہیں۔‘‘
حضرت ابو بکر صدیق کے قول کا محمل اور مطلب بیان کر کے لکھتے ہیں :
’’جب امامت کا ا نحصار وقوت و شوکت پر رکھا گیا ہے تو جہاں یہ اوصاف پائے جائیں گے، وہیں خلافت و امامت پائی جائے گی؛ یہ ہے امامت کے قریش میں ہونے کی اصل وجہ! اور یہ ہے ان آثار صحیحہ اور اس مناط ومدار کی حقیقت و ماہیت جس پر حضرت ابو بکر کے خلیفہ منتخب ہونے کے بارے میں اجماع منعقد ہوا تھا۔‘‘ (المذاہب الاسلامیہ، اردو،ص112۔113)

گرگٹ کی طرح حالات و ضرورت کے مطابق رنگ اور بھیس بدلنا

علماے اسلام کا رویہ اور طرزاستدلال آپ نے دیکھ لیا کہ وہ تمام احادیث کو دیکھتے اور ان سے بہ حیثیت مجموعی جو بات ثابت ہوتی ہے، اس کو اختیار کرتے ہیں؛ اس کو جمع وتطبیق کہا جاتا ہے ؛ اس سے راویات کا ظاہری تعارض کابھی دور ہوجاتا ہے اور مسئلے کے سارے پہلو بھی واضح ہو جاتے ہیں۔ علمائے اسلام اس طرح کے ظاہری تعارض کو باہم متناقض ثابت کر کے احادیث کو رد نہیں کرتے بلکہ ان کا معقول حل اور محمل تلاش کر لیتے ہیں۔
اس کے برعکس منکرین حدیث اس قسم کے ظاہری تعارض کو دیکھ کر بڑے خوش ہوتے ہیں اور ان کو باہم متناقض قرار دے کر یا تو ساری متعلقہ احادیث کو رد کردیتے ہیں جیسے رجم کی مستند اور متفق علیہ روایات کو رد کر دیا گیا یا پھران سے کوئی غلط مسئلہ نکال لیتے ہیں دراں حالے کہ ان سے وہ مسئلہ نہیں نکلتا ؛ اس کی مثال خود غامدی صاحب کی ’میزان ‘ سے ملاحظہ فرمائیں :
’’چوتھی چیز یہ ہے کہ کسی حدیث کا مدعا متعین کرتے وقت اس باب کی تمام روایات پیش نظر رکھی جائیں؛ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ آدمی حدیث کا ایک مفہوم سمجھتاہے لیکن اسی باب کی تمام روایتوں کا مطالعہ کیاجائے تو وہ مفہوم بالکل دوسر ی صورت نمایاں ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال تصویر سے متعلق روایتیں ہیں ؛ ان میں سے بعض کو دیکھیے تو بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کی تصاویر ممنوع قرار دی گئی ہیں لیکن تمام روایتیں جمع کیجیے تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ممانعت کاحکم صرف ان تصویروں کے بارے میں ہیجو پرستش کے لیے بنائی گئی ہوں۔حدیث کے ذخیرہ سے اس طرح کی بیسیوں مثالیں ملتی ہیں لہٰذا یہ ضروری ہے کہ کسی حدیث کی مفہوم میں تردد ہو تو احادیث باب کو جمع کیے بغیر اس کے بارے میں کوئی حتمی راے قائم نہ کی جائے۔‘‘ (میزان، ص64۔65)
اس اقتباس کو پڑھ کر یقین ہو جا تا ہے کہ غامدی صاحب کی شخصیت گرگٹ کی طرح ہے جو رنگ بدلتی رہتی ہے اور موصوف حالات وضرورت کے تحت بھیس بدلتے رہتے ہیں؛اس کی وجہ فکر ونظر میں پختگی کی کمی ہی نہیں بلکہ ابن الوقتی اور اسلام کے روئے آب دار کو مسخ کرنا ہے ؛یہ مقصد جس طرح بھی حاصل ہو ،اس کے لیے اس طریقے کے اختیار کرنے میں انھیں کوئی تامل نہیں ہوتا اور جو بھی ہتھکنڈا انھیں اپنانا پڑے ، اس کے لیے وہ تیار رہتے ہیں۔
انھیں اپنے یا ان کے ’امام ‘ کے خود ساختہ نظریہ رجم کے اثبات میں رجم کی صحیح، متواتر اور متفق علیہ روایات حائل نظر آئیں توان کو باہم متناقض باورکراکے یاقرآن کے خلاف قرار دے کر رد کر دیا۔ 
اب اس تازہ اقتباس میں انھوں نے اس کے بالکل برعکس رویہ اختیار کیاہے ؛یہاں وہ تلقین فرمارہے ہیں کہ ایک مسئلے سے متعلقہ تمام احادیث کو دیکھنا چاہیے ؛اس سے ان کا ظاہری تعارض بھی دور ہو جاتا ہے اور مسئلے کے سارے پہلو بھی واضح ہوجاتے ہیں۔یہاں ان کی یہ بات درست ہے اور یہ وہی موقف ہے جو احادیث کی تشریعی حیثیت کے قائلین کا ہے؛اگر یہی موقف احادیث رجم میں بھی اختیار کرلیاجاتاتوان کاظاہری تناقض بھی دور ہو جاتااور رجم کے حد شرعی ہونے کا پہلو بھی نمایاں ہو کر سامنے آجاتا لیکن وہاں چوں کہ ان کی ضرورت کچھ اور تھی،وہاں جمع وتطبیق کی یہ صورت جو علماومحدثین بیان کرتے اور اختیار کرتے ہیں اور یہاں خود غامدی صاحب نے بھی اسے اختیار کر کے بیان کیاہے، وہاں اسے اختیار نہیں کیا۔لیکن یہاں اس کو اختیار کر لیاکیوں کہ یہاں ان کی ضرورت کچھ اور ہے اور وہ ہے تصویر سازی کا جوازواثبات۔
لیکن چوں کہ ان کی نیت اور مقصد میں فساد ہے ،اس لیے طریقہ تویقیناًمحدثین والااختیارکیاہے تاہم نتیجہ محدثین کے نتائج سے یک سرسے مختلف اخذ کیاہے؛اس باب کی یہی تمام حد یثیں محدثین اور علماے اسلام کے سامنے بھی ہیں اور آج ہی نہیں، صدیوں سے ہیں لیکن ان کو کسی حدیث سے بھی تصویر کا جواز معلوم نہیں ہوا اور وہ آج بھی احادیث کی وجہ سے تصویر کی حرمت ہی کے قائل ہیں نہ کہ جواز کے۔
اس گروہ سے پوچھا جائے کہ کون سی حدیث کے کون سے الفاظ سے ثابت ہوتاہے کہ ممانعت کا حکم صرف ان تصویروں کے بارے میں ہے جو پرستش کے لیے بنائی گئی ہوں کیوں کہ حدیث میں تو وجہ ممانعت ،اللہ تعالی کی صنعت خالقیت میں مشابہت ہے۔
علاوہ ازیں اگر ممانعت کی یہی علت ( پرستش سے بچانا)تسلیم کر لی جائے ،تب بھی اس کا جواز ثابت نہیں ہوتا ؛ اس لیے کہ یہ علت آج بھی موجود ہے؛ آپ ان قبروں پر جا کر دیکھ لیں جوپرستش گاہیں بنی ہوئی ہیں اور مرجع خلائق ہیں ؛ وہاں ننگ دھڑنگ ملنگوں اور صدیوں پہلے فوت شدہ بزرگوں کی جعلی تصویریں خوب فروخت ہوتی ہیں؛ لوگ ان کو لے جا کر فریم کرواکے گھروں اور دکانوں میں تبرک کے طور پر لٹکاتے ہیں ؛ کیایہ پرستش کی صورت نہیں ہے؟گو یا غامدی صاحب کامذکورہ اقتباس ان کے تضادکا بھی مظہر ہے اور بلادلیل دعوے کا بھی۔

جھوٹ اور بلادلیل دعوے 

اور بھی انھوں نے بلادلیل دعوے کیے ہیں جن کی کچھ تفصیل گذشتہ صفحات میں بھی گزری ؛ مثلاً:
رجم کی تعزیری سزا کامبنیٰ، آیت محاربہ ہے اور یہ بات وحیِ خفی کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلائی گئی۔ اول تو موصوف وحی خفی سے کسی حکم کے اثبات کے قائل ہی نہیں ہیں اور پھر یہ سراسر جھوٹ اور دلیل دعویٰ ہے ؛ اگر وہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں تو کوئی حدیث پیش کریں۔
ان کایہ دعویٰ بھی بلادلیل بھی ہے اور جھوٹ بھی کہ ائمہ سلف اور ان کے موقف میں سر مو فرق نہیں ہے۔
ان کا دعویٰ ’’صرف کتاب وسنت تنقید سے بالا ہے‘‘سراسر جھوٹ ،فریب اور بلادلیل ہے؛سنت نبوی کوتو وہ مانتے ہی نہیں ہے ؛ہاں، سنت جاہلیہ کو وہ مانتے ہیں؛اگر یہ سنت جاہلیہ جو ان کے نزدیک کے قرآن سے بھی مقدم ہے، ان کے نزدیک تنقید سے بالا ہے تو یہ غامدی گروہ ہی کو مبارک ہو ؛ اہل اسلام تو اس بات کو ماننے سے رہے۔
’’امام فراہی کی تحقیق قرآنی نصوص پر مبنی ہے‘‘ سراسر جھوٹ،فریب اور بلادلیل دعویٰ ہے؛یہ تو قرآن میں تحریف معنوی ہے؛ اسے قرآنی نصوص کس طرح باور کیا جاسکتا ہے ؟
حضرت ماعز بن مالک اور غامدی قبیلے کی صحابیہ،ان کی بابت دعویٰ کہ’’ وہ غنڈے، بد معاش اور او باش وآوارہ منش تھے؛ وہ عورت پیشہ وبد کار (قحبہ)تھی‘‘بلادلیل اور جھوٹ ہے۔
ان کا یہ دعوی جھوٹ اور بلادلیل ہے کہ ’’قرآن نے اپنے متعلق یہ بات پوری صراحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے کہ وہ قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے۔‘‘ (میزان، ص31)

قرآن میں یہ صراحت کہاں ہے ؟

کلام عرب یعنی زمانہ جاہلیت کے عرب شعرا کا کلام ،جو فراہی گروہ کے نزدیک قرآن فہمی میں احادیث سے بھی زیادہ مستند اور مفید ہے،اس کی بابت دعویٰ ہے کہ 
’’لغت وادب کے ائمہ اس بات پر ہمیشہ متفق رہے ہیں کہ قرآن کے بعد یہی کلام ہے جس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے اور جو صحت نقل اور روایت باللفظ کی بنا پر زبان کی تحقیق میں سند و حجت کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘ (میزان، ص19)
کتنا بڑا دعویٰ ہے لیکن بلا دلیل اور پھر اس کی صحت نقل کا دعویٰ اس سے بھی عجیب تر ہے ؛نقد حدیث کے تو اصول وضوابط منضبط ہیں، اس کے باوجود وہ غیر محفوظ اور کلام عرب جس کی نہ کوئی سند ہے اور نہ پرکھنے کے اصول وضوابط، پھر بھی ان کی صحت نقل کا دعویٰ! ان ھذا الاشیء عجاب.
اور ستم ظریفی کی انتہا،یہ کلام عرب اس کے باوجود کہ اس میں کچھ منحول کلام بھی شامل ہے (یعنی جعلی) (میزان، ص19) پھر بھی سب سے زیادہ با اعتماد ہے۔ 
پھر یہ دعویٰ دیکھیے :
’’جس طرح نقد حدیث کے علمااس کی صحیح و سقیم روایتوں میں امتیاز کر سکتے ہیں ؛اسی طرح اس کلام کے نقاد بھی روایت و حدیث کے نہایت واضح معیارات کی بنا پر اس کے خالص اور منحول کو ایک دوسرے سے الگ کر سکتے ہیں۔‘‘ (میزان، ص19)
نقد حدیث کے ذریعے سے صحیح سقیم روایتوں میں امتیاز کیا جاسکتا ہے؛ علماے اسلام تو اس با ت کو ما نتے ہیں لیکن آپ تو اس با ت کو ما ننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں ؛پھر اس کا حوالہ کیوں؟ 
پھر کلام عرب میں اصل اور جعلی کے پہچاننے کے نہایت واضح معیارات کیا ہیں؟ اور کہاں ہیں ؟ کیا اس کی نشان دہی کی جا سکتی ہے ؟
حدیث باسند کلام نبوی ہے ؛ علاوہ ازیں اس کے پر کھنے کے اصول وضوابط بھی موجو د ہیں ؛ پھر بھی وہ غیر مستند اور کلام عرب ، جس میں منحول (یعنی الحاقی اور جعلی )بھی ہے اور نقد و تحقیق کے کوئی اصو ل و ضوابط بھی نہیں؛ وہ سب سے زیادہ مستند اور قابل اعتماد ؟ تلک اذاً قسمۃ ضیزیٰ۔ 

بے انصافی اور تحقیق کا ایک اور نمونہ 

ان مغالطات،تضادات ، بلا دلیل دعووں کے ساتھ اب ان کی بے انصافی کا ایک اور نمونہ اور تحقیق کا ایک اورانداز بھی دیکھ لیں۔
محدثین نے حدیث کی سند کی تحقیق کے لیے جو اصول و ضوابط مقرر اور وضع کیے ہیں، ان کی تعریف کرتے ہوئے غامدی صاحب فرماتے ہیں :
’’سند کی تحقیق کے لیے یہ معیا ر محدثین نے قائم کیا ہے اور ایسا قطعی ہے کہ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جا سکتی۔‘‘ (میزان، ص61)
لیکن اس کے باوجود احادیث غیر معتبر اور غیر محفوظ لیکن کلام عرب جس کی بابت وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ اس میں جعلی اور الحاقی (منحول) کلام بھی ہے یعنی عرب شعرا کے اصلی کلام میں جعلی کلام بھی شامل کر دیا گیا ہے اور اس کے اصلی اور جعلی کلام کو متمیز کرنے کا کوئی اصول وضابطہ بھی نہیں ہے ، نیز وہ باسند بھی نہیں ہے؛ پھر بھی وہ سب سے زیادہ مستند اور قابل ا عتماد ہے۔ 
اپنی اس بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے حضر ت عمر ? کا ایک بے سند قول نقل کیا ہے؛ حضر ت عمر نے فرمایا :
علیکم بدیو انکم لا تضلوا؛ قا لوا ما دیو اننا؟ قا ل: شعر الجاھلیۃ، فان فیہ تفسیر کتابکم و معانی کلامکم۔ 
’’تم لوگ اپنے دیوان کی حفاظت کرتے رہو، گم راہی سے بچے رہو گے؛لوگوں نے پوچھا : ہمارا دیوان کیا ہے؟فرمایا : اہل جاہلیت کے اشعار ، اس لیے کہ ان میں تمھاری کتا ب کی تفسیر بھی ہے اور کلام کے معانی بھی۔‘‘
غامدی صاحب نے اس قول کا انتسا ب حضر ت عمر کی طرف کیا ہے؛ جب ہم نے اصل کتا ب تفسیر بیضاوی میں یہ قول دیکھا تو اس میں ’ رْوِیَ‘ کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے (انوار التنزیل، بیضاوی 1/459)، اور جو بات ’رْوِیَ‘ یا ’قِیلَ‘ سے بیان کی جاتی ہے، وہ بے سرو پا سمجھی جاتی ہے کیو ں کہ اس کا راوی ہی مجہول یعنی نا معلوم ہو تا ہے ؛ خود غامدی صا حب کا موقف بھی ان الفاظ کے بارے میں یہی ہے جو ہم پہلے نقل کر آئے ہیں۔(برہان، ص 284)
جب وہ خود ’رْوِیَ‘ یا ’قیل‘ سے مروی با ت کو مردوداور نا قابل اعتبار سمجھتے ہیں تو یہاں ایسے قول کو نقل کرنے کا مطلب کیا ہے ؟ کیا اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ غامدی صاحب کا کوئی ایک موقف نہیں ، کوئی اصول اور ضابطہ نہیں؛ان کے نظریے اور زعم باطل کے خلاف بخاری ومسلم کی روایت بھی ہو تو وہ بھی ان کو (نعوذباللہ ) بے ہودہ روایت یا منافق کی گھڑی ہوئی نظر آتی ہے اور جس قول سے ان کی مطلب بر آری ہوتی ہو تو وہ چاہے کیسا بھی گرا پڑا اور نا قابل ا عتبار ہو، وہ ان کے نزدیک وحیِ الٰہی کی طرح معتبر ہے۔
ذرا غور کیجیے ! یہ قو ل، قول عمرہو سکتا ہے؟ جس میں قرآن کے بجاے اشعار جا ہلیت کو گم راہی سے بچاؤ کا ذریعہ بتلایا گیا ہے اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجاے ان اشعار جاہلیہ کو قرآن کریم کی تفسیر اور اس کے معانی کے دریچے کھولنے والے باور کرایا گیا ہے؟ کیا واقعی حضرت عمر کے نزدیک قرآن و حدیث کے مقابلے میں اشعار جا ہلیت کی اتنی اہمیت ہو سکتی ہے؟ یقیناًنہیں ہو سکتی؛ہر گز نہیں ہو سکتی۔ یہ فراہی گروہ جیسے باطل نظریات کا ڈسا ہوا کوئی شیطان صفت شخص ہی ہے جس نے یہ بات گھڑ کر حضرت عمر کی طرف منسوب کر دی ہے۔
اس کے مقابلے میں حد رجم کے قرآنی حکم ہونے کے بارے میں ان کا خطبہ صحیح بخاری میں صحیح ترین سندوں کے ساتھ بیان ہواہے ؛ اس کی بابت غامدی صاحب نے کہا ہے کہ یہ روایت کسی منافق نے وضع کی (گھڑی)ہے۔ (برہان، ص61) اور اپنے استاذامام کی رائے نقل کی ہے کہ یہ بے ہودہ روایت ہے۔ (برہان، ص62) حضرت عمر کا یہ خطبہ ان شاء اللہ آگے ان کے استاذامام کے نظریہ رجم کی بحث میں ہم بیان کریں گے؛ یہ خطبہ صحیح بخاری کی کتاب الحدود، حدیث نمبر 283 میں اور موطا امام مالک میں ہے۔
یہ دونوں کتابیں احادیث کے صحیح ترین مجموعے ہیں ؛ موطاامام مالک کی صحت کے تو فراہی گروہ کے امام اول مولانا حمیدالدین فراہی بھی احادیث میں اپنے ذہنی تحفظات یا تضادات کے باوجودقائل تھے ؛چنانچہ ان کا ایک مکالمہ جو حدیث کی حجیت وعدم حجیت کے موضوع پر مولانا عبیداللہ سندھی اور ان کے درمیان ہوا، قابل ملاحظہ ہے؛ مولانا عبیداللہ سندھی لکھتے ہیں:
’’مولانا حمیدالدین مرحوم میرے بہت پرانے دوست تھے؛ قرآن شریف کے تناسق آیات میں ہمارا مذاق متحد تھا، اگرچہ طریقے اور پروگرام میں کسی قدر اختلاف رہا؛وہ بائبل مجھ سے بہ درجہا اعلیٰ جانتے تھے اور میں حدیث ان سے زیادہ جانتا تھا۔جب تک میں ہندوستان میں ان سے ملتا رہا، حدیث شریف کے ما ننے کا جھگڑا کبھی ختم نہیں ہوا ؛ اتفاقاً جس سال میں مکہ معظمہ پہنچا ہوں، اسی سال وہ بھی حج کے لیے آئے؛ ہماری باہمی مفصل ملاقاتیں رہیں؛ افکار میں بے حد توافق پیدا ہو گیا مگر وہاں بھی حدیث کے ماننے نہ ماننے پر بحث شروع ہو گئی۔ ہم نے سختی سے ان پر انکار کیا اور کہا کہ حدیث کو ضروری ماننا پڑے گا ؛ تنگ آکر فرمانے لگے : آخر آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا : موطا مالک !فرمایا : ہم اس کو مانتے ہیں ؛ میں نے کہا : بس آج سے ہمارا نزاع ختم ہے،ہم آپ کو صحیح ماننے کے لیے مجبور نہیں کرتے۔ ‘‘ (ماہ نامہ الفرقان(بریلی )شاہ ولی اللہ نمبر ،ص287،مطبوعہ1359ھ)
غامدی صاحب کے گم راہ نظریات کے جو متضاد دلائل،بے بنیاد دعوے اور تعلیات تھیں،الحمد للہ، اللہ کے فضل اور اس کی توفیق سے ہم نے ان کی اصل حقیقت واضح کر دی ہے جو اس شعر کی مصداق ہیں : ع
بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا 
اگر اس طرۂ پر پیچ وخم کا پیچ وخم نکلے 
جو بھی فریب خوردہ شخص اس مضمون کو طلب حق کی نیت صادق سے اور غیر جانب دارانہ انداز سے پڑھے گا،ان شاء اللہ اس پر ان افکار باطلہ کے پیچ و خم کی تہ در تہ تہیں کھلتی چلی جائیں گی اور احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حجیت واہمیت شرعی پر جو دبیز پردیڈالنے کی مذموم سعی اس گروہ کی طرف سے کی گئی ہے اور مسلسل کی جا رہی ہے، وہ بے نقاب ہو جائے گی؛ گم راہی کی وضاحت اور حق و صواب کی نشان دہی کی کوشش سے ہمارا مقصد اتمام حجت ائمہ سلف کے موقف کو نمایاں کرنے اور گم گشتگان راہ ہدایت کو روشنی مہیا کرنے کے سوا کوئی اور نہیں، واللہ علیٰ ما نقول شھید، تا کہ اس کے بعد!!
لیھلک من ھلک عن بینۃ ویحیی من حی عن بینۃ (الانفال 42:8)
’’جو ہلاکت کو پسند کرے تو دلیل واضح کے بعد ایسا کرے اور جو زندہ رہے، وہ دلیل واضح پر زندہ رہے۔‘‘

مسئلہ شہادتِ نسواں میں اِدعاآت اور مسلمات کا انکار

اس مضمون کی تکمیل کے بعد ہمیں خیا ل آیا کہ آج سے 23سا ل قبل 1989ء میں وفاقی شرعی عدالت میں مسئلہ شہادت نسواں پر بحث چلی تھی جس میں راقم نے بھی ایک مفصل مقالہ پیش کر کے حصہ لیا تھا۔ اس وقت عدالت کے چیف جسٹس گل محمد پرویزی ذہن کے حامل تھے؛ اس لیے انھوں نے غامدی صاحب کو بھی بلا کر ان کا موقف سنا تھا؛ راقم کو چیف جسٹس نے پابند کیا تھا کہ وہ ان کی بحث کو مکمل سنے، چناں چہ راقم نے اپنا بیان پیش کرنے کے بعد غامدی صاحب کے پیش کردہ دلائل بھی اپنے کانوں سے سنے۔ راقم کا خیال تھا کہ شاید چیف صاحب بعد میں راقم کو غامدی دلائل کا تجزیہ و محاکمہ پیش کرنے کا موقع دیں گے لیکن جب یہ مرحلہ آیا اور راقم نے اس امر کی کوشش کی تو چیف صاحب نے فرمایا: آپ دونوں اخبار (اشراق،الاعتصام) کے اڈیٹر ہیں،وہاں ا س مباحثے کو جاری رکھیں ؛ عدالتی فورم اس کے لیے موزوں نہیں ہے۔
بہ ہر حال مسئلہ شہادت نسواں میں بھی اپنے عدالتی بیان میں غامدی صاحب نے مسلمات اسلامیہ کا انکار کرنے میں جس طرح کا ادعائی انداز اور تنہا روی کا مظاہرہ کیا، وہ دیدنی ہے ؛ راقم نے ان کے دلائل کا یہ تجزیہ تحریری طور پر ۔ اصل مقالہ کے علاوہ ۔ عدالت میں پیش کردیا تھا اور ماہ نا مہ محدث ،لاہور میں بھی شائع ہوا تھا ؛ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے احباب وہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
برادر محترم جناب عمار خان ناصر صاحب 
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 
اگست کے ’’الشریعہ‘‘ میں ’’تہذیبی کشمکش کا نیا باب ‘‘ کے عنوان سے جناب خورشید احمد ندیم کا کالم ’’بشکریہ روزنامہ دنیا ‘‘ شائع کیا گیا ۔ ندیم صاحب نے بہت اہم موضوع پر قلم اٹھایا ہے ۔ سنجیدگی اور متانت ان کے ہر کالم کی خصوصیات میں شامل ہیں ۔ تاہم اپنے استاد محترم کی طرح ان کی تحریرات میں بھی بسا اوقات مبالغے اور انفعال کے مظاہر نظر آتے ہیں ۔ مثال کے طور پر انھوں نے ہم جنس پرستی کے مسئلے پر امریکی عدالت عظمی کے فیصلے کو ’’ تاریخ ساز‘‘ قرار دیا ہے ، بعینہ اسی طرح جیسے ۲۰۰۱ء میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے فتوی پر باندی کے حوالے سے بنگلہ دیش کی عدالت عالیہ کے فیصلے کو ’’صدی کا سب سے اہم فیصلہ ‘‘قرار دیا تھا (حالانکہ اکیسویں صدی کا ابھی آغاز ہی ہوا تھا )۔ مغرب کے ساتھ تعامل کے مسئلے پر جس طرح ہمارا روایتی دینی طبقہ ایک انتہا پر کھڑا ہے اسی طرح جناب غامدی صاحب کا حلقۂ اثر بھی ایک دوسری انتہا پر کھڑا ہے۔ اول الذکر گروہ کارد عمل اگر اس طرح کے مسائل میں طنز و استخفاف کی صورت میں ہوتا ہے تو موخر الذکر گروہ کا رد عمل بالعموم بہت زیادہ متاثر ہونے کی صورت میں ہوتا ہے ، خواہ اس متاثر ہونے کے بعد وہ اس کا جواب دینے کی کوشش ہی میں مصروف نظر آئے ۔ 
حقیقت یہ ہے کہ امریکی عدالت کا یہ فیصلہ انوکھا ہے نہ ہی تاریخ ساز ، بلکہ یہ ’’لادینی انسانیت ‘‘ (اگر secular humanism کے لیے یہ تعبیر قابل قبول ہو ) کے بنیادی عقیدے کا محض ایک عملی تقاضا ہے ۔ ندیم صاحب فرماتے ہیں : 
’’یہ الہامی روایت اور لبرل ازم کے درمیان جاری کشمکش کا فیصلہ کن موڑ ہے ۔ انسان ، سماج اور زندگی کے باب میں جوہری طور پر دو ہی نقطہ ہاے نظر رہے ہیں ۔ ایک یہ کہ انسان خدا کی مخلوق ہے ۔ یہ حق خدا کا ہے کہ وہ اس کے مقصد حیات کا تعین کرے اور اس کے ساتھ اس کے لیے آداب زندگی بھی طے کرے ۔ یہ خدا ہی ہے جس نے انسان کی فطرت کو تخلیق کیا ۔ فطرت میں خیر و شر کا تصور رکھا اور پھر اس تصور کی یاددہانی کے لیے اپنے پیغمبروں کو مبعوث کیا ۔ دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ انسان کسی خالق کی مخلوق نہیں ۔ زندگی اصلاً ایک ارتقائی عمل ہے۔ ۔۔ انسان اس تبدیل شدہ حیات کا ایک ارتقائی مرحلہ ہے ۔ اس کی زندگی کا نصب العین کیا ہے ، اس نے جینے کے لیے کن آداب کا لحاظ رکھنا ہے ، اس کا فیصلہ وہ اپنی عقل سے کرے گا ۔ فطرت کسی مستقل ضابطے کی پابند نہیں ہے ۔ یہ خارجی عوامل سے متاثر ہوتی ہے اور یوں اس کے مطالبا ت تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔‘‘ 
اس بارے میں عرض یہ ہے کہ انھوں نے مذہب کا جو موقف بیان کیا ہے وہ ایک بنیادی مغالطے پرمبنی ہے ۔ اسی طرح جو ’’دوسرا نقطۂ نظر‘‘ انھوں نے ذکر کیا اس میں بھی انھوں oversimplification  کی ہے ۔ مذہب کے موقف کے متعلق بنیادی مغالطہ یہ ہے کہ خیر و شر کا اصل معیار انسانی فطرت ہے اور پیغمبر صرف اس کی ’’یاددہانی ‘‘کے لیے آتے ہیں ؛ جبکہ درحقیقت ’’الہامی مذہب‘‘ کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ اصل اور حقیقی معیار صرف وحی الٰہی ہے ۔ چنانچہ فطرت کو اصل ماننے والے تو یہ کہیں گے کہ فلاں کام برا ہے ،اسی لیے وحی نے اس سے روکا ؛ جبکہ وحی کو اصل ماننے والے یہ کہتے ہیں کہ وحی نے فلاں کام سے روکا ہے ، اس لیے وہ برا ہے۔ بہ الفاظ دیگر بات ان تین بنیادی مسائل تک آجاتی ہے کہ : حسن اور قبح افعال کی ذاتی خصوصیات ہیں یا نہیں ؟ حسن اور قبح عقل کے ذریعے قطعی طور پر معلوم ہوسکتے ہیں یا نہیں ؟ اور عقل کا یہ فیصلہ حکم خداوندی کی حیثیت رکھتا ہے یا نہیں ؟ الہامی مذہب ماننے والوں کا پہلے دو مسئلوں پر چاہے چھوٹا یا بڑا اختلاف ہو لیکن تیسرے مسئلے پر ان کا اتفاق ہے ، سواے ان عقل پرستوں کے جن کی راے کو علمی دنیا نے کبھی الہامی مذہب کا ’’اصل موقف ‘‘تسلیم نہیں کیا ، کہ عقل کا فیصلہ حکم خداوندی کی حیثیت نہیں رکھتا اور اسی لیے اصول فقہ میں حکم شرعی کی تعریف میں ’’خطاب الشارع‘‘ کو بنیادی رکن کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے ۔ 
اسی طرح ہم جنس پرستی کے قائلین صرف وہ لوگ ہی نہیں ہیں جو انسانی فطرت کو کسی ضابطے کا پابندنہیں سمجھتے بلکہ اس کے قائلین اور پر جوش وکلامیں بہت سے وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ انسانی فطرت ہی اصل معیار ہے اور کوئی بھی قانون جو ’’قانونِ فطرت‘‘ (Natural Law)کے خلاف ہو ، اسے قانون کے طور پر مانا ہی نہیں جاسکتا ۔ اصول قانون (Jurisprudence)کے مبتدی طالب علم بھی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ Legal Positivists فطرت اور اخلاق کو ’’اضافی ‘‘(Relative) قرار دیتے ہیں جبکہ Naturalists ان کو متعین حقیقت (Absolute Reality) کے طور پر مانتے ہیں ۔ اس لیے قانون اور اخلاق کی بحث میں Legal Positivists کا موقف یہ ہوتا ہے کہ اخلاقیات کے تصورات غیر متعلق ہیں اور یہ کہ قانونِ فطرت محض ایک ’’افسانہ ‘‘(fiction) ہے ۔ اس کے برعکس Naturalists کا موقف یہ ہوتا ہے کہ قانون فطرت ہی اصل معیار ہے جسے عقل کے ذریعے دریافت کیا جاسکتا ہے اور اگر وضعی قانون (Positive Law)اس قانونِ فطرت کے خلاف ہو تو وہ کوئی قانون ہی نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ قانونِ فطرت کے ان قائلین کی اکثریت اس وقت ان لوگوں کی ہے جو اخلاقیات کے لیے وحی کے بجاے عقلِ انسانی کو ماخذ مانتے ہیں ۔ 
بین الاقوامی قانون کے طالب علم جانتے ہیں کہ حقوق انسانی کے قانون (Human Rights Law) کی بنا دراصل قانونِ فطرت کے بنیادی مفروضات پر ہی کی گئی ہے ۔ مثال کے طور پر میری رابنسن ، جو اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کے کمیشن کی سربراہ تھیں ، کے اس قول کے مضمرات پر غور کریں : 
Human rights are inscribed in the hearts of people. They were there long before the lawmakers drafted their first proclamation.
پس جو لوگ ہم جنس پرستی کو ’’انسانی حق ‘‘ مانتے ہیں وہ ’’عقل و فطرت ‘‘ کے اسی تصورکو استعمال کرتے ہیں جو جناب غامدی صاحب کے مکتبِ فکر کے ’’اصول و مبادی ‘‘اور ’’دین کے صحیح تصور‘‘ کا رکن رکین ہے ۔ کافی عرصے سے میں نے المورد کی ویب سائٹ www.understanding-islam.com پر سوالات اور مباحث کا مطالعہ نہیں کیا لیکن جن دنوں میں اس ویب سائٹ کی باقاعدہ ’’سیاحی ‘‘کیا کرتا تھا ، ان دنوں ( ۱۹۹۹ء اور ۲۰۰۱ء کے درمیان) اس پر ایک اہم مباحثہ یہ ہوا تھا کہ ہم جنس پرستی انسانی فطرت کے خلاف ہے یا نہیں اور جناب معز امجد صاحب کو اسے خلافِ فطرت ثابت کرنے میں کافی کدوکاوش کرنی پڑی تھی ۔ وہ بحث بعد میں المورد کی جانب سے شائع کردہ کتاب Answers on the Web کی ۲۰۰۰ء کی اشاعت میں شامل بھی تھی اور میں حسن ظن رکھتا ہوں کہ بعد کی اشاعتوں میں بھی وہ خارج نہیں کی گئی ہوگی ۔ 
چنانچہ اس وقت اسلام سمیت تمام الہامی مذاہب کو اصل خطرہ ان لوگوں سے نہیں ہے جو انسان کو زندگی کا ایک ارتقائی مرحلہ مانتے ہیں بلکہ ان لوگوں سے ہے جو لادینی انسانیت کے قائل ہیں اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس معرکے میں عقل و فطرت کو معیار ماننے والوں کی کاوشوں کا فائدہ لادینی انسانیت کے قائلین کو ہی مل رہا ہے ۔ 
ندیم صاحب کا جو دوسرا کالم اسی شمارے میں شائع کیا گیا ہے ، اس پر تفصیلی تبصرہ کسی اور وقت کروں گا لیکن ایک بات کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ انھوں نے علامہ شبلی نعمانی کے بارے میں اس تاثر کی نفی کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ مستشرقین کے زیر اثر تھے ۔ یہ ندیم صاحب کی مجبوری ہے کیونکہ ان کے استاد گرامی کے نزدیک مغرب کے تہذیبی اور علمی حملوں کا جواب صرف ’’دبستانِ شبلی ‘‘ ہی سے ممکن ہوسکا تھا ۔ جناب غامدی صاحب کے پیروکاروں میں جن چند اصحاب سے یہ توقع تھی کہ وہ مجتہد فی المذہب کا درجہ تو حاصل کرہی لیں گے ان میں ایک ندیم صاحب بھی تھے لیکن وہ بھی نرے مقلد ہی نکلے وگرنہ ان کے لیے تو کم از کم یہ بات عیاں ہونی چاہیے تھی کہ مستشرقین کے جواب میں ہی سہی ، اور نہایت خلوصِ نیت سے ہی سہی ، لیکن علامہ شبلی (اللہ انھیں غریقِ رحمت کرے ) نے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرکے کئی ایسی باتوں کا انکار کیا ، یا ان کی تاویل کی ، جو تاریخی طور پر مسلمات میں شمار کی جاتی رہی ہیں ۔ وہی رویہ تین نسلیں گزرنے کے بعد بھی دبستانِ شبلی کے منتسبین کے ہاں بدستور پورے آب و تاب کے ساتھ موجود ہے ۔ 
محمد مشتاق احمد 
اسسٹنٹ پروفیسر قانون ، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی ،اسلام آباد 
mushtaqahmad@iiu.edu.pk
۶ ذوالقعدہ ۱۴۳۶ ھ ( ۲۲ اگست ۲۰۱۵ء ) 
(۲)
محترم محمد عمار خان صاحب السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔
الشریعہ کا ہمیشہ سے ہی انتظار رہتا ہے اور یقین جانیے اس کے مندرجات سارے کے سارے ہی علم میں اضافے کا باعث ہوتے ہیں۔ الشریعہ کی یہ پالیسی میرے نزدیک احسن ہے کہ اس میں مختلف مکاتب فکر ،حتی کہ اپنے خلاف بھی بڑے کھلے دل سے ، کی تحریروں کہ جگہ ملتی ہے۔مباحثہ و مکالمہ اور تنقید سے ہی علم کی ترقی ممکن ہے۔ اسی سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ بڑے خلوص سے لکھے گئے مقالات کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے، ورنہ زندگی غلط فہمی میں ہی گزر جائے۔ اسی احساس کے پیش نظر میں نے اپنی کتاب،:بینک انٹرسٹ:منافع یا ربا" آپ کی خدمت میں پیش کی تھی کہ اس پر کھل کر تنقید ہو گی اور مجھ پر اپنی غلطی واضح ہو گی۔ وہ تو شاید کسی مصلحت یا کسی مناسب اہل علم کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہ ہو سکا۔ یہ میں نے اپنا نقطہ واضح کرنے کی خاطر لکھا کہ تنقید کو میں علم کی ترقی کے لیے ضروری خیال کرتا ہوں۔
غامدی صاحب کی فکر پر جب محترم حافظ صاحب کی تحریر کا آغاز ہوا تھا تو ایک لحاظ سے خوشی ہوئی تھی کہ کوئی علمی چیز سامنے آئے گی۔ ایک دو قسطوں کے بعد میں نے مضمون پر سرسری سی نظر ڈالنے کے بعد آگے بڑھ گیا، اور اب حالت یہ ہے کہ میں اس پر نظر ڈالنا بھی پسند نہیں کرتا۔ یہ میری بد قسمتی ہی ہے کہ انداز تحریر کی وجہ سے شاید کوئی بڑی علمی چیز سے محروم ہوا جاتا ہوں۔ کاش کہ موصوف اس بحث کو علمی انداز میں آگے بڑھاتے۔ اب گزارش یہ ہے یہ سلسلہ کہیں رکے گا بھی یا ہم جیسے لوگوں کے ذوق پر برچھی بن کر دل و دماغ کو زخمی کرتا رہے گا۔ یہ درست ہے کہ و کل فوق ذی علم علیم، لیکن اہل علم کو دوسروں کو امتحان میں نہ ڈالیں تو بہتر ہو گا۔ 
اسی طرح ایک اور علمی سلسلہ جو سال ہونے کو آیا ہے اور ابھی تک جاری ہے یعنی اردو تراجم قرآن پر ایک نظر، اللہ جانے یہ کب ہماری جان چھوڑے گا۔ اس کے لیے میں صرف دعا ہی کر سکتا ہوں۔
الفاظ کے انتخاب میں اگر کسی کی دل آزاری کو کوئی پہلو نکلتا ہو تو معافی کا خواہاں ہوں۔ بندہ بشر ہونے کے علاوہ عجمی ہوں۔ والسلام 
محمد انور عباسی
anwarabbasi@hotmail.com

سید احمد شہیدؒ کی خدمات پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا احوال

ڈاکٹر حافظ محمد رشید

۲۹ جولائی تا ۳۱  جولائی ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ میں قائم ’’ہزارہ چیئر‘‘ کے زیر اہتمام سید احمد شہید ؒ کی تحریک اور خدمات کے حوالے سے ایک بین الاقوامی سیمینار کا اہتمام کیا گیا ۔ سیمینار کا مقصد سید احمد شہید ؒ کی تحریک اور اس کے پس منظر و اثرات کے بارے میں ٓگاہی پیدا کرنا اور مستقبل کے منظر نامے میں اس تحریک سے راہنمائی حاصل کرنا تھا ۔ راقم کو اس سیمینار میں شرکت کرنے اور ’’ سید احمد شہید ؒ کی تحریک اور میر نثار علی عرف تیتو میر ؒ کی تحریک کا باہمی تعلق ‘‘ کے عنوان سے مقالہ پیش کرنے کا موقع ملا جس کے لیے میں اپنے دیرینہ رفیق اور محترم دوست مولانا وقار احمد (لیکچرار اسلامیات خان پور کالج، ہری پور ، ناظم دورہ تفسیر ، الشریعہ اکادمی ، گوجرانوالہ ) کا شکر گزار ہوں کہ یہ قیمتی موقع ان کی اطلاع و تحریض کی وجہ سے حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ ان کو بہترین بدلہ عطا فرمائیں اور دین و دنیا کی تمام سعادتوں سے بہرہ مند فرمائیں۔ 
سیمینار کے منتظم ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم کے چیئر مین ڈاکٹر منظور شاہ صاحب تھے ۔ ڈاکٹر صاحب کی ہدایت پر پہلے ایک صفحہ پر مشتمل مقالے کا خلاصہ بھیجا گیا جس کا منتظمہ کمیٹی نے جائزہ لیا اور پھر بذریعہ ای میل اطلاع دی گئی کہ آپ مقالہ پیش کرنے آسکتے ہیں ۔ سیمینار تین دنوں پر مشتمل تھا ۔ پہلے دو دن مقالات پیش کئے گئے اور تیسرے دن شرکاء کے لئے سید صاحب ؒ سے متعلقہ منتخب مقامات کی زیارت اور دیگر سیاحتی مقامات کی سیر کا انتظام کیا گیا تھا ۔ پہلے دو دن سیمینار کے دو حصے تھے ، صبح نو بجے سے ایک بجے تک کا وقت مہمانان خصوصی کی گفتگو کے لیے مختص تھا جس کو Key Notes کا عنوان دیا گیا تھا اور دوسرے حصے میں مقالہ پیش کرنے والے شرکاء کے لئے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مختلف کمروں میں متوازی سیشنز میں مقالہ پیش کرنے کا اہتما م تھا ۔ جن شرکاء نے مقالہ پیش کیا، ان کی مجموعی تعداد ساٹھ کے لگ بھگ تھی۔ 
سیمینار کا آغاز ڈاکٹر منظور شاہ صاحب کے خوش آمدیدی خطاب سے ہوا ۔ جس میں سیمینار کا مقصد بتایا گیا۔ ان کے بعد سیمینار کے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف عدیل نے بطور کی نوٹ سپیکر خطاب کیا ۔ ڈاکٹر اشرف عدیل کا تعلق یونیورسٹی آف پینسلوینیا ، امریکہ سے ہے اور وہ وہاں سے سیمینار میں شرکت کے لئے تشریف لائے تھے ۔ ان کے خطاب کا عنوان ’’ معاشروں اور تحریکات کی کارکردگی جانچنے میں اعتدال بطور پیمانہ ‘‘ تھا ۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیت مبارکہ وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُونُواْ شُہَدَاء عَلَی النَّاس (البقرۃ، ۴۳)ِ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اعتدال اس امت کا امتیازی وصف ہے اور اس امت کی اصلاح اسی وصف کوہر شعبہ زندگی میں اپنانے سے ممکن ہے ۔انہوں نے اس بات پر بطور خاص زور دیا کہ کسی بھی قوم میں انقلاب کی ابتداء کلاس روم سے ہوتی ہے اس لئے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو بہتر اور مؤثر کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔اسی سے معاشرہ انقلاب سے روشناس ہو گا ۔سوال و جواب میں شرکاء کی طرف سے کافی اہم سوالات اٹھائے جن کا ڈاکٹر صاحب نے عمدگی کے ساتھ جواب دیا۔ 
keynote speakers  میں پہلے دن اسراء یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر علی خان ، ڈاکٹر ارشاد شاکر اعوان شامل تھے۔ ڈاکٹر عمر علی خان کے مقالے کا عنوان:
’’The Renaissance of Millat -E - Muslima and Its Resurrection after The Encounter of Balakot‘‘ 
یہ مقالہ انگریزی زبان میں بڑے جوشیلے انداز میں پیش کیا گیا۔ لوگوں نے توجہ سے سنا بھی، لیکن ان کے آیات اور احادیث کی غلط تلاوت کی وجہ سے عمومی تاثر اچھا نہیں رہا۔ ڈاکٹر ارشاد شاکر اعوان جو کہ سرحد یونیورسٹی پشاور سے تشریف لائے تھے ، ان کے مقالے کا عنوان تھا:
’’The Historical outcome of Armed Struggle by Syed Ahmed Shaheed: A Critical Analysis‘‘ 
انہوں نے سید صاحب ؒ کے سفر اور جدوجہد کی روداد داستان کے انداز میں سنائی ۔ اس سیشن کے اختتام پرٍ مانسہرہ کے سابق ضلعی خطیب اور بالا کوٹ میں مدرسہ سید احمد شہید ؒ کے مہتمم قاضی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ میری پر زور رائے بلکہ مطالبہ ہے کہ سید احمد شہید ؒ کی خدمات سے عوام الناس کو متعارف کروانے کے لئے ہزارہ یونیورسٹی کو ان کے نام سے موسوم کیا جائے ۔انہوں نے ضیاء دور کے ایک اعلان کا حوالہ بھی دیا جس میں ایک جگہ سید احمد شہیدؒ کے نام سے ایک لائبریری بنانے کا اعلان ہوا تھا اور سنا یہ گیا تھا کہ فنڈز بھی جاری ہو چکے ہیں لیکن آج تک وہ لائبریری معرض وجود میں نہیں آسکی ۔ ان کی دعا پر اس سیشن کا اختتام ہوا۔پہلے دن کے keynoteسیشن کے اختتام پر ہمارا تاثر یہ تھا کہ موضوع پر بہت کم بات ہوئی اور وعظ و نصیحت کی محفل زیادہ جمی رہی۔
دوسرے دن keynoteوالے سیشن میں ڈاکٹر سعید الرحمان اور کراچی سے تشریف لانے والی ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر کی گفتگو انتہائی عمدہ اور عین موضوع کے مطابق تھی۔ ڈاکٹر سعید الرحمان (صدر شعبہ اسلامیات ، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان) کے مقالے کا عنوان تھا:
’’Syed Ahmed Shaheed's Mission of Reforming Muslim Society: Research and Analysis" 
اپنے Keynote خطاب میں انہوں سید صاحبؒ کے جہاد کی ہمہ گیریت پر نہایت عمدہ گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر سید صاحب ؒ کے جہاد کے بارے میں یہ تصور ہے کہ یہ سکھوں کے مقابلے میں ایک مسلح جدوجہد تھی اور بس ۔ حالانکہ سید صاحبؒ کے ہاں جہاد کا تصور بڑا وسیع ہے اس میں عوامی بہبود ، معاشرتی رسومات کی اصلاح اور عقائد کی درستگی سب شامل ہے اور سید صاحبؒ کے حالات زندگی اس پر شاہد ہیں ۔گویا اس جہاد سے محض مسلح جدوجہد مراد لیا اس کی وسعت کو محدود کرنے کے مترادف ہے ۔ ڈاکٹر صاحب سے چائے کے وقفہ کے دوران ہم نے ملاقات کی اور درخواست کی کہ کچھ وقت عنایت ہو تو مولانا وقار صاحب کے پی ایچ ڈی کے موضوع مقالہ اور کچھ دیگر امور پر راہنمائی حاصل کی جا سکے ۔ انہوں نے سیشن کے دوران وقفہ میں ہم کو بلایا اور حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے حوالے سے پی ایچ ڈی کے موضوعات کے حوالے سے انتہائی مفید راہنمائی فرمائی۔ راقم نے دوران گفتگو سوال کیا کہ کیا مدرسہ کے طلبہ کو مطالعہ کا عادی بنانے کے لئے کوئی ناول دیا جا سکتا ہے جیسے کہ نسیم حجازی کے ناول ہیں تو انہوں نے برملا کہا کہ ایسے ناول انسان کے اندر ایک تخیلاتی دنیا تشکیل دیتے ہیں کہ ایک نجات دہندہ آئے گا اور کشتوں کے پشتے لگا کر قوم کو مصائب سے نجات دلائے گا ۔ اس سے پھر وہ ساری زندگی کسی ایسے مسیحا کا انتظار ہی کرتے رہتے ہیں جو کہ ان کی نجات کا سندیسہ لے کر آئے اور یہ کوئی practical approach نہیں ۔
ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر صاحبہ کی گفتگو بلا شبہ پوری کانفرنس کی جان کہی جا سکتی ہے اور ان کی گفتگو کے بعد سید حنیف رسول صاحب نے اٹھ کر برملا اقرار بھی کیا کہ شکر ہے آپ کی گفتگو ہوئی وگرنہ کل سے سید صاحب ؒ کے متعلق کافی کنفیوژن پیدا ہو چکی تھی جس کا اب کافی حد تک ازالہ ہو چکا ہے ۔ ان کے مقالے کا عنوان تھا:
’’Political Vision of Sayyed Ahmad Shaheed‘‘
اپنی گفتگو میں انہوں نے سید صاحبؒ کے حالات سے متعلق تقریبا تمام کتب اور ماخذ کا انتہائی عمدہ اور بھر پور تنقیدی جائزہ پیش کیا اور سید صاحبؒ کی جدوجہد کی عظمت کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام سید صاحبؒ کے حوالے سے ایک مثال پر کیا کہ دوران جنگ دو سپاہی ایک مورچے میں محصور ہیں ، ان کے پاس ایک ہی بم ہے ، دوسری طرف سے دشمن مسلسل فائرنگ کر رہا ہے اور گولیوں کی بوچھاڑ ہو رہی ہے ، اس دوران ایک سپاہی نے اٹھ کر وہ اکلوتا بم دشمن کی طرف پھینکا۔اب اگر وہ گولیوں کا نشانہ بننے سے محفوظ رہا تو لوگ اس کو شجاع اور بہادر کہہ کر اس کی تعریف کریں گے اور اگر وہ کسی گولی کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کر گیا تو یہی لوگ تنقید کرتے ہوئے یہ کہنے لگیں گے کہ کیا ضرورت تھی جان گنوانے کی ، انتظار کر لیتے ، ایسے ہی اپنا بھی نقصان کیا اور قوم کا بھی وغیرہ ۔ سید صاحبؒ کے بارے میں بھی ایسا ہی رویہ ہے ، سید صاحب ؒ وہ سپاہی ہیں جنہوں نے دشمن پر آخری حملہ کیا اور جان کی بازی ہار گئے اور بعد والے لوگ ان کی کوشش کو پس پشت ڈال کر ان پر تنقید کے نشتر چلانے لگے حالانکہ انہوں نے اس وقت کے معروضی حالات کے مطابق اپنا فرض ادا کر دیا ۔ 
دوسرا سیشن ظہر کی نماز کے بعد شروع ہوا ، اس میں مقالہ پیش کرنے والے شرکاء نے اپنے مقالہ جات پیش کئے جس کا انتظام شعبہ تعلیم کے کلاس رومز میں کیا گیا تھا ۔ چار کمرے منتخب کئے گئے تھے اور ہر کمرے میں تقریبا پانچ سے چھ مقالہ نگاروں نے اپنے مقالہ جات پیش کئے ۔اس طرح دو دنوں میں تقریبا بیس کے قریب مقالے پیش کئے گئے ۔ کانفرنس کے اس حصے میں سید صاحب ؒ کی تحریک کے حوالے سے جو نکات زیادہ زیر بحث رہے ان میں سے چند اہم نکات حسب ذیل ہیں :
۱۔ سید احمد شہید ؒ کی تحریک برطانوی ایمپائر کی حکمت عملی کا نتیجہ تھی ، اس کی دلیل یہ دی گئی کہ انگریز سامراج نے سب سے پہلے بنگال کے علاقوں پر قبضہ کیااور سید احمد شہیدؒ کی تحریک کی تقریبا ساری افرادی قوت انہیں علاقوں سے تعلق رکھتی ہے ، سید احمد شہید ؒ کے مریدین کا سب سے بڑا حلقہ بھی انہیں علاقوں میں تھا ۔ انگریز ایمپائر کو اس وقت زیر قبضہ علاقوں پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے اور مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کے لئے جن دو قابل ذکر مزاحمتوں کا سامنا تھا وہ ایک بنگال اور ملحقہ علاقوں میں موجود مسلم مزاحمتی عنصر تھا اور دوسرا پنجاب کے علاقوں میں سکھ راج تھا ، انگریزوں نے اپنے زیر قبضہ علاقوں سے یہ ساری قوت مجتمع کر کے سکھوں کے خلاف کھڑی کر دی جس سے جہاں یہ مسلم مزاحمتی قوت تباہ ہو گئی وہیں سکھوں کی قوت کا بھی کافی حد تک توڑ ہو گیا ، اس طرح برطانوی ایمپائر نے اپنے دونوں مقاصد حاصل کر لئے ۔اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ یہ ساری تحریک اصل میں برطانوی ایمپائر کی حکمت عملی کا نتیجہ تھی اور جس طرح ہم عصر حاضر میں افغانستان ودیگر علاقوں میں امریکی ایمپائر کے ہاتھو استعمال ہو رہے ہیں سید صاحبؒ کے ساتھ بھی اسی طرح کا معاملہ ہوا ۔یہ نظریہ GPGC, Mansehra سے آئے ہوئے ڈاکٹر ریاض حسین صاحب نے پیش کیا جن کے مقالے کا عنوان تھا:
’’The Study of jihad Movement Through Imperialist Persperctive‘‘
۲۔ سید احمد شہید ؒ کی تحریک جہاد اصلا انگریزوں کے خلاف تھی اور ان کا سکھوں کے ساتھ ٹاکرا ان کے مشن کی ایک ناگزیر قسط تھی ۔ اس کے دلائل میں سید صاحبؒ کے وہ خطوط پیش کئے گئے جو انہوں نے ہندہ راجاؤں کو لکھے جن میں ان کو تعاون کرنے اور اس تعاون کے بدلے میں ان کی راجدھانیاں قائم رہنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی ۔ اس کا مطلب تھا کہ سید صاحب ؒ کا اصل ہدف انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنا تھا نہ کہ سکھوں یا دوسری اقوام کے ساتھ جنگ چھیڑ دینا ۔ اس موقف پر کافی لے دے ہوئی اور عمومی سامعین نے اس کو قبول نہیں کیا ۔ ان کا خیال تھا کہ سید صاحب ؒ کے پیش نظر صرف انگریز وں کا اخراج نہیں تھا بلکہ وہ ایک اسلامی ریاست کے قیام اور خلافت علی منہاج النبوت کے احیاء کے لئے نکلے تھے ۔ مندرجہ بالا موقف کی نمائندگی سید حنیف رسول نے کی جو Edwards College, Peshawar سے آئے تھے ۔ ان کے مقالے کا عنوان تھا:
’’Revisiting Syed Ahmad Shaheed's Tehreek-e-Mujahedeen: First LIberation Movement of the Wali Ullahi School‘‘ 
۳۔ سید احمد شہیدؒ کی تحریک کا دو قومی نظریہ سے کیا تعلق ہے ؟اس ضمن میں عام تاثر وہی رہا جو ہمارے معاشرے میں پایا جاتا ہے کہ دو قومی نظریہ شاہ ولی اللہ ؒ بلکہ ان سے بھی پہلے سے شروع ہوتا ہے اور قیام پاکستان تک پہنچتا ہے ۔ اس معاملے میں ایک دلچسپ بحث کانفرنس کے تیسرے دن ٹور کے موقع پر ہوئی ۔ ٹور سے واپسی پر ایک جگہ چائے کے لئے رکے تو شرکاء میں دو قومی نظریہ کی تعریف پر بات چلی ۔ اسراء یونیورسٹی اسلام آباد سے آئے ہوئے ڈاکٹر ریاض سعید نے کہا کہ دو قومی نظریہ یہ ہے کہ ہندو اور مسلم دو الگ الگ قومیں ہیں کیوں کہ ان کا مذہب ، رسوم و روایات اور طرز ندگی مختلف ہے ، اس پر مولانا وقار احمد نے سوال کیا کہ پاکستان میں بسنے والے ہندو اور سکھ پھر کس قومیت سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے شناختی کارڈ میں قومیت کے خانے میں کیا لکھا ہوتا ہے ؟ ان کے سوال پر کچھ دیر کے لئے شرکاء خاموش ہوئے تو درمیان میں راقم نے یہی سوال ہندوستان کے مسلمان باسیوں کے بارے میں اٹھایا تو ایک صاحب کہنے لگے کہ ان کو الگ کرنے کے لئے شناختی کارڈ کے خانے میں مذہب کا خانہ موجود ہے ۔ اس پر عرض کیا کہ مذہب کا خانہ موجود ہے لیکن قومیت ’’Nationality ‘‘ کے خانے میں وہ بھی پاکستانی ہی ہیں یہاں پر دو قومی نظریہ کہا گیا ؟ اس پر شرکاء کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہ آسکا ۔ ہمارا اصرار تھا کہ قومیت کا جو تصور مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ نے پیش کیا تھا وہ عملی طور پر آج بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں رائج ہے اور یہی عملی طور پر ممکن بھی ہے ۔ اور دو قومی نظریہ ایک وقتی ضرورت تو کہا جا سکتا ہے لیکن اس کو عملی طور پر ناقابل عمل ہی سمجھا گیا ہے اور قومیت کے خانے میں آج بھی وطن اور خطہ زمین کی بنیاد پر ہی قومیت درج کی جاتی ہے ۔ کافی گرما گرم بحث ہوئی ۔ آخر میں ڈاکٹر ریاض صاحب نے یہ کہا کہ اس بحث سے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ مجھے اس موضوع پر مزید مطالعہ کرنا چاہئے اور انہوں نے مولانا وقار صاحب کا شکریہ ادا کیا کہ اس بحث کا ایک اہم پہلو سامنے لائے ہیں ۔ ان کے مقالہ کا عنوان تھا:
’’Syed Ahmed Shaheed movement and the two nation's theory(Struggle for a separate identity in Indian subcontinent)‘‘
۴۔ سید صاحبؒ کی تحریک کے عصر حاضر کے ساتھ تعلق پر جو سوال بار بار زیر بحث آیا وہ ان کی تحریک اور طالبان تحریک خصوصا پاکستانی طالبان کے نظریات کے درمیان مماثلت کا سوال تھا ۔ یعنی سید صاحب ؒ اگر ہتھیار اٹھا کر ایک خطہ لینا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں مسلح کوشش کرتے ہیں تو وہ جہاد کہلاتا ہے اور طالبان اگر یہی کام کرتے ہیں تو وہ دہشت گردی کہلاتی ہے ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ گویا طالبان تحریک سید صاحبؒ کی جدوجہد کا ہی ایک تسلسل ہے ۔ اس سوال پر کافی محتاط گفتگو ہوئی اور کوئی بات واضح نہ ہو سکی لیکن عام شرکاء کی باڈی لینگوئچ سے ایسا احساس ہوتا تھا کہ لوگ اس معاملے میں کنفیوژن کا شکار ہیں اور ان کے ذہنوں میں اس حوالے سے کوئی تسلی بخش تصور نہیں ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ سید صاحب ؒ کے حوالے سے عقیدت و احترام اور طالبان کے حوالے سے برعکس رویہ دیکھنے میں آیاخصوصا پاکستانی طالبان کے حوالے سے ۔ 
۵۔ راقم کا مقالہ ’’ سید احمد شہید ؒ کی تحریک جہاد اور میر نثار علی عرف تیتو میر کی تحریک کا باہمی تعلق :تحقیقی مطالعہ ‘‘ کے عنوان سے تھا جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ تیتو میر کا تعلق سید صاحب ؒ سے ضرور تھا اور انہوں نے ان کے سفر حج سے پہلے یا دوران سفر ان کے ہاتھ پر بیعت بھی کر لی تھی اور غیر مستند روایت کے مطابق سید صاحبؒ نے ان کو اپنا خلیفہ بھی مقرر کیا تھا لیکن ان کی تحریک کو مزاحمتی تحریک تو کہا جا سکتا ہے جو کہ حالات کے جبر کی وجہ سے ان کو منظم کرنا پڑی لیکن اس کے پیچھے تحریک مجاہدین کا وہ اساسی تصور نہیں تھا کہ قوت جمع کر کے کسی علاقے پر قبضہ کیا جائے اور اسلامی تعلیمات کا نفاذ کیا جائے ، بلکہ اپنی ابتداء میں یہ ایک اصلاحی تحریک تھے جس کا مقصد غلط رسوم کا قلع قمع اور مسلمانوں کے عقائد کی اصلاح کے ساتھ ان کی دینی تعلیم کا مناسب بندو بست کرنا تھا ، یہ اصلاحی تحریک کچھ مسلمانوں کی ریشہ دوانیوں اور ہندہ راجاؤں کے مظالم کی وجہ سے مسلح مزاحمت میں تبدیل ہو گئی ۔ہاں اختتام پر جب تیتو میر شہید ؒ نے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا تو انہوں نے کچھ عرصہ کے لئے اپنی آزاد حیثیت اور برطانوی تسلط و ہندو راجاؤں کی عملداری سے نکل جائے کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے ان کے خلاف ایک بڑا آپریشن کیا گیا اور وہ اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت شہید ہوئے ۔ ان کی شہادت سید صاحب کی شہادت سے کچھ عرصہ بعد ہوئی ہے ۔ 
۶۔ مولانا وقار صاحب (لیکچرار اسلامیات ، گورنمنٹ کالج ، خانپور )کے مقالے کا عنوان تھا’’ تحریک مجاہدین کی ناکامی کے اسباب وجوہ : تجزیاتی مطالعہ ‘‘ اس میں انہوں نے بڑی تفصیل سے ان وجوہات پر گفتگو کی جن کی وجہ سے سید صاحبؒ کی تحریک بظاہر ناکامی سے دوچار ہوئی ۔ اس میں انتظامی امور میں لاپرواہی ، علاقائی حالات کے بارے میں غلط اندازے ، مقامی لوگوں کا غیر تربیت یافتہ ہونا ، گردو نواح کے کچھ مسلمانوں کی مفاد پرستی اور کئی دیگر وجوہات پر بات ہوئی جو کہ سید صاحبؒ کی تحریک کی ناکامی کا باعث بنے ۔ لوگوں نے انتہائی توجہ سے سنا اور کثیر سوالات کے ذریعے اس میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ۔
ان مقالات کے علاوہ دیگر عنوانات پر بھی گفتگو ہوتی رہی، مثلاً سید صاحبؒ کے بعد ان کی تحریک کا تسلسل کہا ں تک رہا اور کس کس نے ان کا مشن جاری رکھنے کی کوشش کی؟ اسی طرح جو لوگ مقتل سے بچ گئے، وہ کس طرف گئے اور ان کی زندگی کی کیا مصروفیات رہیں؟ بہر حال کانفرنس کے دوران بہت اچھا علمی ماحول بن گیا اور شرکاء نے ایک دوسرے کے مطالعہ و معلومات سے بھر پور استفادہ کیا۔ بجا طور پر ہزارہ یونیورسٹی کی انتظامیہ ، ہزارہ چیئر کے منتظمین اور خصوصاً ڈاکٹر منظور حسین شاہ صاحب اس اہم موضوع پر کامیاب بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ کچھ انتظامی خامیاں ضرور رہیں لیکن علمی استفادہ و افادہ خوب ہوا ، اللہ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اسی طرح اہم موضوعا ت پر کانفرنسز اور سیمینارز منعقد کرنے کی توفیق مزید مرحمت فرمائیں ۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔