ملی مجلس شرعی کے اجلاس کے اہم فیصلے
ادارہ
10 ستمبر 2015ء کو بعد نماز مغرب جامعہ اشرفیہ الاہور میں ملی مجلس شرعی پاکستان کا ایک اہم اجلاس مولانا مفتی محمد خان قادری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا حافظ فضل الرحیم، مولانا زاہد الراشدی، علامہ احمد علی قصوری، علامہ خلیل الرحمن قادری، مولانا عبد المالک محمد ڈاکٹر امین، مولانا حافظ محمد نعمان، جسٹس (ر) میاں نذیر اختر، جسٹس (ر) میاں سعید الرحمن فرخ، ڈاکٹر سید محمد مہدی، ڈاکٹر محمد توقیر، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، مولانا سید عبد الوحید شاہ، حافظ عاکف سعید، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا محمد رمضان، مولانا اشرف علی، مرزا محمد ایوب بیگ، اور دیگر حضرات نے شرکت کی۔ اجلاس کے لیے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کی طرف سے مندرجہ ذیل ایجنڈا شرکاء کو بھجوایا گیا تھا:
(۱) سپریم کورٹ کا مخدوش فیصلہ
آئینی ترامیم کے حق میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے اکثریتی فیصلے نے پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا لا محدود اختیار دے دیا ہے، سوائے تین امور کے جن میں اسلامی دفعات اور آئین کا اسلامی مزج اور ڈھانچہ شامل نہیں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ جب چاہے آئین کی اسلامی دفعات ختم کر سکتی ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے جو اسلامی جماعتوں اور اداروں کے لیے کسی حالت میں بھی قابل قبول نہیں ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فیصلے کو چیلنج کیا جائے اور فل کورٹ کے لیے ریویو پٹیشن داخل کی جائے اور علماء کرام و عوام کو متحرک کیاجائے کہ وہ اس تشویش ناک صورت حال کی سنجیدگی اور الم ناکی کو محسوس کریں۔
(۲) قانون توہین رسالت اور ممتاز قادری کیس
مجلس نے پچھلے اجلاس میں طے کیا تھا کہ ممتاز قادری کیس میں عدالت عظمیٰ کے ججوں کے رویے کے پیش نظر رائے عامہ کو متحرک کیا جائے۔ اس کے لیے علامہ احمد علی قصوری صاحب کی کنوینر شپ میں ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ وہ کمیٹی اپنی رپورٹ اور آئندہ کا لائحہ عمل پیش کرے گی۔ نیز جسٹس (ر) سعید الرحمن فرخ صاحب قانون توہین رسالت کی بقاء کے حوالے سے اپنی کوششوں کے بارے میں بتائیں گے۔
(۳) دینی مسالک اور علماء کرام کے لیے ضابطہ اخلاق
ملی مجلس شرعی کے بانی رکن اور جامعہ اشرفیہ کے نائب مہتمم مولانا حافظ فضل الرحیم نے (جو حکومت پنجاب کے قائم کردہ متحدہ علماء بورڈ کے صدر بھی ہیں) منافرت آمیز مواد کے خاتمے کے حوالے سے ایک تحریر تیار کی ہے جو انہوں نے مختلف علماء کو بھیجی۔ مجلس کے صدر مولانا مفتی محمد خان قادری صاحب نے اپنی ذاتی حیثیت میں اس مسودے کے بارے میں تجاویز دیں۔ دونوں کی فوٹو کاپیاں ارکان مجلس کی خدمت میں ارسال ہیں جنہیں وہ پڑھ کر تشریف لائیں تاکہ مجلس کی طرف سے ایک متحدہ موقف اختیار کیا جا سکے۔
(۴) مولانا زاہد الراشدی صاحب کا خط اور تجاویز
مجلس نے اپنے سابقہ اجلاس میں طے کیا تھا کہ جاوید احمد غامدی صاحب کے گمراہ کن افکار کے بارے میں علماء کرام کے متفقہ موقف کے لیے صدر و جنرل سیکرٹری ایک تحریر تیار کریں۔ اسی طرح قضیۂ یمن کے بارے میں طے ہوا تھا کہ متعلقہ ممالک کی حکومتوں کو صلح و جنگ کے قرآنی اصولوں کی طرف متوجہ کیا جائے تاکہ امت میں اختلاف و انتشار کا خاتمہ ہو۔ ان دونوں نکات پر عملدرآمد کے حوالے سے مولانا زاہد الراشدی نے مجلس کے جنرل سیکرٹری کو ایک خط لکھا جس کی فوٹو کاپی لف ہذا ہے ۔۔۔ تاکہ ارکان مجلس ان معاملات میں اپنی رائے دے سکیں۔
سیکرٹری جنرل کے نام مولانا زاہد الراشدی کا خط:
’’گزارش ہے کہ ملی مجلس شرعی کے 14 جون کے اجلاس کی کاروائی ’’البرہان‘‘ کے جون ہی کے شمارہ میں پڑھ لی تھی مگر ایک دو ضروری گزارشات پیش کرنے میں کچھ تاخیر ہوگئی۔
- جاوید احمد غامدی صاحب کے افکار کے حوالہ سے میری تجویز یہ ہے جو میں نے لاہور کے ایک بڑے مفتی صاحب محترم کے استفسار پر ان کی خدمت میں بھی عرض کی تھی کہ غامدی صاحب کی تحریرات کا بغور جائزہ لے کر ان کے بارے میں اشکالات مرتب کیے جائیں اور انہیں وضاحت کے لیے بھجوائے جائیں۔ اگر وہ وضاحت سے انکار کر دیں یا ان کی وضاحت قابل قبول نہ ہو تو اس کے بعد ایک متوازن اور ٹھوس رائے قائم کر کے اس پر مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کے دستخط کرا لیے جائیں۔ اس لیے کہ جس شخص کے بارے میں ہم اپنی رائے کا اعلان کرنا چاہتے ہیں وہ اگر زندہ موجود ہے تو اسے وضاحت کا موقع دیے بغیر کسی حتمی رائے یا فتویٰ کا اعلان میرے خیال میں مناسب بات نہیں ہوگی۔
- قضیۂ یمن کے حوالہ سے مجلس کی رائے اصولی طور پر درست ہے مگر صرف موجودہ صورت حال کو بنیاد بنانے کی بجائے حالات کو یہاں تک پہنچانے کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ میری تجویز ہے کہ ملی مجلس شرعی کو اس مسئلہ پر وسیع تر مکالمہ و مباحثہ کا اہتمام کرنا چاہیے اور اہل سنت و اہل تشیع کے سنجیدہ اہل دانش کو باہمی تبادلہ خیالات کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔ کیونکہ جب تک اسباب و عوامل کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں کوئی رائے قائم نہ کر لی جائے، صرف معروضی حالات کو کسی حکمت عملی کی بنیاد بنانا قرین انصاف نہیں ہوگا۔‘‘
جامعہ اشرفیہ میں منعقدہ اجلاس کی کاروائی
جامعہ اشرفیہ لاہور میں 10 ستمبر کو منعقدہ اجلاس میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا جائزہ لیا گیا اور اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ فیصلے میں دستور کے ناقابل ترمیم حصوں کا ذکر کرتے ہوئے اسلامی دفعات اور قرارداد مقاصد کا معاملہ گول کر دیا گیا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ سے نظر ثانی کے لیے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور طے پایا کہ جسٹس (ر) میاں نذیر اختر، جسٹس (ر) میاں سعید الرحمن فرخ اور پروفیسر ڈاکٹر محمد امین پر مشتمل کمیٹی دیگر حضرات سے مشاورت کے بعد عملی طریق کار طے کرے گی۔ جبکہ عید الاضحی کے بعد اجلاس میں اس کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اجلاس میں ممتاز قادری کیس کے سلسلہ میں رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے علامہ احمد علی قصوری کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو دوبارہ متحرک کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور مولانا قصوری نے تبایا کہ وہ جلد از جلد کمیٹی کا اجلاس بلا کر عملی پروگرام کی ترتیب طے کریں گے۔
اجلاس میں ’’تحریک انسداد سود‘‘ کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا اور رابطہ کمیٹی کے کنوینر مولانا زاہد الراشدی نے بتایا کہ وہ عید الاضحی کے بعد رابطہ کمیٹی کا اجلاس طلب کریں گے جس میں مہم کو آگے بڑھانے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
اجلاس میں متحدہ علماء بورڈ کا مختلف مذہبی مکاتب فکر کے لیے تجویز کردہ ضابطہ اخلاق زیر بحث آیا اور طے پایا کہ اس سلسلہ میں پیش کی جانے والی تجاویز کا جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں حتمی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ جبکہ ان کا جائزہ لینے کے لیے مولانا مفتی محمد خان قادری، پروفیسر ڈاکٹر محمد امین اور علامہ خلیل الرحمن قادری پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی۔
اجلاس میں مولانا زاہد الراشدی کی اس تجویز سے اتفاق کیا گیا کہ جاوید احمد غامدی صاحب کے متنازعہ افکار کے حوالہ سے کسی مشترکہ موقف کے اعلان سے پہلے ان کے بارے میں اعتراضات و اشکالات مرتب کر کے انہیں بھجوائے جائیں اور ان کی طرف سے جواب موصول ہونے یا انکار کر دینے کے بعد کوئی مشترکہ رائے قائم کر کے اس کا اعلان کیا جائے۔
یمن کے قضیہ کے بارے میں غور و خوض کے بعد طے پایا کہ مولانا مفتی محمد خان قادری اور ڈاکٹر محمد امین یمن، سعودی عرب اور ایران کے سفارت خانوں سے رابطہ کر کے انہیں یمن کے تنازعہ کے بارے میں ملی مجلس شرعی کے جذبات سے آگاہ کریں گے اور ضرورت پڑنے پر باقاعدہ وفد کی صورت میں ان سفارت خانوں سے ملاقات و رابطہ کا اہتمام کریں گے۔ اس سلسلہ میں مولانا زاہد الراشدی کی اس رائے سے اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ صرف یمن کی بجائے مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورت حال اور بڑھتی ہوئی سنی شیعہ کشیدگی کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے کے بعد اس کے بارے میں مشترکہ موقف پیش کیا جائے اور اس مقصد کے لیے سنجیدہ سنی اور شیعہ راہ نماؤں کے درمیان مشاورت اور تبادلۂ خیالات کا بھی اہتمام کیا جائے تاکہ کوئی متوازن موقف طے کیا جا سکے۔
اجلاس میں جسٹس (ر) میاں سعید الرحمن فرخ نے ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے قانون کے حوالہ سے نفاذِ قانون کے پس منظر اور اس کے تقاضوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ اور حاضرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون کے خلاف سازشوں کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔
سنی شیعہ اختلافات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مشرق وسطیٰ ہو یا پاکستان، ہم کسی بھی جگہ سنی شیعہ کشیدگی میں اضافہ اور اس کے فروغ کے حق میں نہیں ہیں اور پہلے کی طرح اب بھی دل سے چاہتے ہیں کہ اس کی شدت اور سنگینی میں کمی لائی جائے اور اس ماحول کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے جو سنی شیعہ کشیدگی کے باقاعدہ خانہ جنگی کی صورت اختیار کرنے سے قبل موجود تھا کہ باہمی اختلافات کے باوجود مشترکہ قومی مسائل میں ایک دوسرے سے تعاون کیا جاتا تھا، اختلافات کو دلیل اور مناظرہ کے دائرے میں محدود رکھا جاتا تھا، ایک دوسرے کے عقیدہ و موقف پر شدید تنقید بھی کچھ حدود کا لحاظ رکھتی تھی، اور باہمی قتل و قتال اور تصادم سے ہر ممکن گریز کیا جاتا تھا۔ ہم نے پاکستان کے قیام کی تحریک سے لے کر تحریک ختم نبوتؐ، تحریک نظام مصطفیؐ، تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ اور دیگر دینی و قومی تحریکات میں مشترکہ کردار ادا کیا ہے۔ اور ان تمام تر اختلافات کے باوجود کیا ہے جنہوں نے اب ہمیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا رکھا ہے۔ اور سنی شیعہ اختلافات کا جملہ زبان پر آتے ہی دل و دماغ میں عجیب سے ہیجان بپا ہونے لگتا ہے۔
جہاں تک اختلافات کی بات ہے وہ تو صدیوں سے چلے آرہے ہیں اور قیامت تک رہیں گے۔ انہیں ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی دونوں میں سے کوئی گروہ دوسرے کو ختم یا مغلوب کر سکتا ہے۔ یہ اختلاف عقیدہ میں بھی ہے، شخصیات میں بھی ہے، فقہ و شریعت میں بھی ہے، اور رسوم و عبادات میں بھی ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ اختلافات کسی طرح ختم کیے جا سکتے ہیں تو وہ انسانی فطرت، معاشرتی نفسیات اور تاریخی پس منظر و عوامل سے بے خبری کا اظہار کرتا ہے۔ البتہ ان اختلافات کا ایسا اظہار اور ان کی بنیاد پر ایسا باہمی رویہ ضرور غور طلب ہے جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور باہمی تصادم کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہم اس پر غور و خوض کی اہل فکر و دانش کو وقتاً فوقتاً دعوت دیتے رہتے ہیں اور اسے اپنی دینی و قومی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
در اصل ہمارے ہاں یہ سوچ مسلسل پروان چڑھ رہی ہے کہ کسی مسئلہ کو ’’کیمو فلاج‘‘ کر دینے سے شاید اس کے حل کی کوئی صورت نکل آتی ہے۔ یعنی مسئلہ کے وجود سے انکار کر دیا جائے، اس پر بحث و تمحیص سے گریز کیا جائے، اور اسے نظر انداز کیا جاتا رہے تو وقتی طور پر وہ آنکھوں سے ضرور اوجھل ہو جاتا ہے لیکن اس کی سطح سمندر جیسی خاموشی کی تہہ میں جو طوفان کروٹیں لے رہے ہوتے ہیں ان میں ایک بھی ابھر آئے تو سب کچھ تہہ و بالا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور پھر جو کچھ کیا جا سکتا ہے وہ بھی نہیں ہو پاتا۔
پاکستان کا داخلی ماحول ہو یا مشرق وسطیٰ کا وسیع تناظر ہو، ہم ہر جگہ اور ہر حوالہ سے اس بات پر زور دیتے آرہے ہیں کہ کشیدگی کی موجودگی کو محسوس کیا جائے، اس کے معروضی تناظر کو کھلی آنکھوں سے دیکھا جائے، اس کے اسباب و عوامل کی نشاندہی کی جائے، ان پر فریقین کے سنجیدہ اور ارباب دانش کے درمیان مکالمہ کا اہتمام کیا جائے، ان اسباب و عوامل کو کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیاجائے، ایک دوسرے کے وجود اور جائز حقوق کا احترام کیا جائے، اور ایک دوسرے کی شکایات و تحفظات کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ یہ کام یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ بنیادوں پر ہونا چاہیے اور ایسے مؤثر افراد و طبقات کو سامنے آنا چاہیے جو عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دونوں فریقوں سے بات کر سکیں، دونوں کو ایک میز پر لا سکیں، حقیقت پسندانہ توازن قائم کر سکیں اور معاملات کو سلجھانے یا کم از کم مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے کوئی کردار ادا کر سکیں۔
ہمارے خیال میں مسئلہ کا اصل حل یہی ہے اور اس کے لیے مشرق وسطیٰ کے ماحول میں اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم، جبکہ پاکستان کے اندر عدالت عظمیٰ یا ریٹائرڈ جسٹس صاحبان کا کوئی فورم اس کام کو بطریق احسن سر انجام دے سکتا ہے۔ اگر حکومتی سطح پر یا فریقین کی طرف سے اس کی پذیرائی نہ ہو تو بھی غیر جانبدار دانش وروں کا کوئی فورم اپنے طور پر یہ ذمہ داری قبول کر کے آزادانہ انکوائری اور تحقیقات کے ذریعہ سنی شیعہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ کے اسباب و عوامل کی نشاندہی کر کے اس میں کمی لانے کے لیے تجاویز اور سفارشات ملکی اور عالمی رائے عامہ کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ اس سے لوگوں کو اصل صورت حال سمجھنے میں مدد ملے گی اور رائے عامہ کی راہ نمائی ہو جائے گی۔ اور یہ طرز عمل کوئی نئی اور انہونی بات نہیں ہوگی کیونکہ قومی اور عالمی سطح پر تنازعات میں ایسا ہوتا آرہا ہے اور اس کی افادیت اور تاثیر سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
مثلاً مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان پراکسی وار سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اور ظاہری تناظر بھی یہی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے نصف درجن کے لگ بھگ ممالک میں یہ کشیدگی آگے بڑھ رہی ہے اور اس کے فروغ کی پشت پر ایران اور سعودی عرب کی موجودگی ہر ایک کو نظر آرہی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا موقف یہی ہوگا کہ وہ یہ سب کچھ اپنے دفاع میں کر رہا ہے اور اپنے ہم خیال لوگوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی سلامتی اور بقا کی خاطر اسے ایسا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن کیا ان دعوؤں کا زمینی حقائق کی بنیاد پر جائزہ لینا ضروری نہیں ہے؟ سوال یہ ہے کہ زمینی حقائق کیا ہیں، واقعات کی ترتیب کیا ہے، اور ایک دوسرے کے حوالہ سے اقدامات اور پالیسیوں میں توازن و تناسب کیا ہے؟ جب تک ان امور کا جائزہ نہیں لیا جائے گا اور معروضی صورت حال کی پشت پر کار فرما حقائق و اسباب کو سامنے نہیں لایا جائے گا، نہ تو اس کشیدگی بلکہ تصادم کو روکنا ممکن ہوگا اور نہ ہی انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں گے۔
دونوں میں سے کسی کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کشیدگی اور تصادم کا فائدہ صرف امریکہ، اسرائیل اور ان عالمی قوتوں کو ہے جو عالم اسلام کو بکھری ہوئی حالت میں رکھنا چاہتی ہیں، جنہیں عالم اسلام میں دینی بیداری اور مذہبی رجحانات کا فروغ برداشت نہیں ہے، جن کا مفاد اسرائیل کے تحفظ و استحکام اور اس کے ذریعہ مشرق وسطیٰ کے وسائل اور دولت پر اپنی گرفت قائم رکھنے میں ہے، اور جو عالم اسلام کو اس کے اپنے وسائل کے کنٹرول اور استعمال سے محروم رکھنے میں اپنی عافیت سمجھ رہی ہیں۔
لیکن اس کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ہم حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں، اسباب و عوامل کا تعین کریں اور انہیں دور کرنے کے لیے باہمی مکالمہ و مشاورت کے ساتھ راستہ نکالیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم سب نے مسائل کے حل کے لیے امریکہ کی طرف دیکھنے کی روش کو عادت بنا لیا ہے۔ ہماری اپنی پالیسیوں کا تعین بھی واشنگٹن کا موڈ دیکھ کر ہوتا ہے۔ اور اسے دولت و طاقت کا کرشمہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ بہادر بیک وقت حریف بھی ہے، فریق بھی ہے، ریفری بھی ہے، قابض بھی ہے، جج بھی ہے، گواہ بھی ہے، وکیل بھی ہے، اور فیصلہ صادر کرنے کے بعد سزا دینے کی اتھارٹی بھی وہی رکھتا ہے۔ کیا عالم اسلام کی مثال آپریشن تھیٹر کے اس مریض کی تو نہیں جسے سرجن نے بے ہوش کر کے اس کے پورے جسم کی چیر پھاڑ شروع کر رکھی ہے؟ بات آپریشن کی حد تک رہتی تو کسی حد تک قابل فہم تھی مگر اب تو یہ آپریشن ’’پوسٹ مارٹم‘‘ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
گزشتہ دنوں دو بظاہر چھوٹی سی خبریں نظر سے گزریں جن کو کسی تبصرہ کے بغیر قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے دوستوں کو ہماری گزارشات کا مقصد سمجھنے میں اس سے کچھ سہولت ہو جائے۔
ایک خبر رونامہ ’’جنگ‘‘ کے ملتان ایڈیشن میں 5 ستمبر کو شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ:
’’ایران کے قونصلیٹ جنرل نے حال ہی میں حکومت پنجاب کی اعلیٰ شخصیات سے ملاقات کر کے انہیں پیش کش کی تھی کہ پنجاب پولیس اور ایران پولیس ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں تاکہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے پولیس کو جدید خطوط پر تربیت دی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے یہ پیش کش قبول کر لی ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ سیکرٹری داخلہ پنجاب، آئی جی پولیس پنجاب اور ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ پر مشتمل ایک وفد تین روزہ دورے پر ایران جائے گا اور ایران کے پولیس سسٹم کا جائزہ لے گا۔‘‘
جبکہ ودسری خبر روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے گوجرانوالہ ایڈیشن نے 8 ستمبر کو شائع کی ہے جس کا متن یہ ہے کہ:
’’امریکی اخبار ’’واشنگٹن ٹائمز‘‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یمن، شام، لبنان اور غزہ کی پٹی میں ایران اپنے حامی جنگجوؤں کو سالانہ اربوں ڈالر کی امداد مہیا کرتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران وزارت دفاع کا سالانہ بجٹ 14 سے 30 ارب ڈالر کے درمیان ہے جس کا ایک بڑا حصہ بیرون ملک مسلح دہشت گرد گروپوں بالخصوص مشرق وسطیٰ میں سرگرم تنظیموں کو پہنچایا جاتا ہے۔ شام میں بشار الاسد کی حمایت میں لڑنے والے اجرتی قاتلوں کو ماہانہ 500 سے ایک ہزار ڈالر اجرت ایران کی طرف سے ادا کی جاتی ہے۔ ان میں سے بیشتر جنگجوؤں کا تعلق افغانستان اور دوسرے ملکوں سے ہے، پہلے ان کی ایران ہی میں عسکری تربیت کی جاتی ہے۔‘‘
فقہی مسالک کے درمیان جمع و تطبیق
مولانا سید سلمان الحسینی الندوی
(دارالعلوم ندوۃ العلماء میں کلیۃ الشریعۃ کی طرف سے اساتذۂ فقہ کے لیے ایک سہ روزہ تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا تھا جس میں مولانا سید سلمان حسینی ندوی نے درج ذیل خطاب فرمایا۔ مولوی محمد مستقیم محتشم ندوی نے اس کو کیسٹ سے نقل کیا اور مولانا کی نظر ثانی کے بعد افادۂ عام کی غرض سے اسے شائع کیا جارہا ہے۔)
الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونسغفرہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا ومن سیآت أعمالنا، من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلاہادي لہ، ونشھد أن لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ ونشھد ان سیدنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ. صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ واصحابہ وأزواجہ وذریاتہ وأہل بیتہ، وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا، اما بعد!
اساتذہ گرامی قدر،بزرگان محترم ،نمائندگان مدارس ، دارالافتاودارالقضاء سے تعلق رکھنے والے فضلاء ،اور عزیز طلبہ!
اس سہ روزہ تربیتی پروگرام میں جو عنوانات منتخب کیے گئے ہیں، سب اپنی جگہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان عنوانات میں میں سمجھتا ہوں کہ فکر ولی اللہی اور فقہ ولی اللہی سے متعلق فقہی مسالک کے درمیان جمع وتطبیق کا موضوع بہت حساس ہے۔ آج تقلید وعدم تقلید کے عنوان سے مسلکی اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں،بلکہ افکار ونظریات اور کلامی مسائل کے اختلافات سے لے کرجماعتی اور سیاسی اختلافات میں شدت پیدا ہوتی چلی جارہی ہے،جس کے نتیجے میں لوگ ایک دوسرے سے، اور ادارے دوسرے اداروں سے دورہوتے چلے جارہے ہیں۔ عالم اسلام میں اس اختلاف نے ایک بڑی مصیبت کی شکل اختیار کرلی ہے۔فرقہ وارانہ اختلاف نے میدان کارزار گرم کر دیے ہیں اور ہندوستان کی سرزمین پر اگر چہ مسلک ولی اللہی سے تعلق رکھنے والے حضرات ہمیشہ مسلکی توسع اور رواداری کی ترجمانی کرتے رہے، لیکن اس کے باوجود وقتاً فوقتاًاختلافات میں کسی نہ کسی حلقے کی طرف سے شدت پیدا کردی جاتی ہے۔ ان حالات میں مسالک کے درمیان جمع وتطبیق کی کوشش کرنا، اورفکر ولی اللٰہی کو اپنے لئے رہنما بنانا بہت ضروری ہے۔ اختلاف رائے کے باوجود ہمارے درمیان اتحاد برقرار رہ سکتا ہے،یہ ہنر سیکھنا چاہئے، ہماری روز مرہ کی زندگی میں جماعتی، تنظیمی، اداری اختلافات کی بنیاد پر ہمارے دلوں میں عداوت پیدانہیں ہونی چاہئے۔
مجتہدین امت اور علمائے ملت فقہی اور کلامی اختلافات کو زحمت نہیں بلکہ رحمت کے طورپر پیش کرتے رہے ہیں ’’اختلاف امتی رحمۃ‘‘ والی حدیث پراگرچہ کلام ہے ، وہ فنی طور پرصحیح درجے کی حدیث نہیں ہے ،اور بہت سی حدیثیں ایسی ہیں جوسند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہیں لیکن ان کا متن صحیح ہے اور دیگر روایات سے مدلل ہے، کسی بھی حدیث پر حکم لگانے کیلئے محض سند کا مطالعہ کافی نہیں ہے۔ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ جومتن سند ضعیف کے ساتھ نقل کیاگیا ہے، اس کی تائید قرآن پاک کی آیات سے، دیگر احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، صحابہ کرام کے تعامل سے اور مابعد کے علمائے کرام کے اتفاق سے کس درجے میں ہوتی ہے ؟ بہت سے ایسے حقائق ہیں جن پر سند کی وجہ سے اشکال پیدا کردیا گیا ہے ،لیکن ان کا مضمون قرآن وحدیث اور علمائے امت کے تعامل سے ثابت ہے۔ ’’اختلاف امتی رحمۃ‘‘ والا مضمون بھی اسی نوعیت کاہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی قرآن پاک کی آیات سے ، احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور صحابہ کے تعامل سے تائید ہوتی ہے اور اس کا بھرپور ثبوت ملتا ہے۔
اختلاف رائے کی دوقسمیں ہوتی ہیں۔ ایک اختلاف مذموم اورایک اختلاف محمود۔ اختلاف مذموم وہ ہے جس کی بنیاد کتاب وسنت نہ ہو محض کسی کی رائے ہو، یا اجتہاد وقیاس میں حدود سے تجاوز کیا گیا ہواور بدون دلائل کے کسی مسئلہ کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہو ، ظاہر ہے کہ یہ رائے اس لئے مذموم ہے کہ کتاب وسنت کے خلاف ہے،لیکن اگر اختلاف دلائل کی بنیاد پر ہو اور دلائل پیش کرنے والا وہ ہو جس کو استدلال اور استنباط کا حق حاصل ہوتو اس کی تحقیقی کوشش محمود ہے۔ہاں ہر شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ جس طرح کورٹ میں وکیل کو ہی پیش ہونے کا حق ہے اور جس طرح کرسئ جج پر جج ہی بیٹھ سکتا ہے، اور جیسے بیماری میں کسی ڈاکٹر سے ہی رجوع کیا جاتا ہے، محض طبی نسخوں کی کتاب پڑھنے والے کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ علاج ومعالجہ شروع کردے ،اورقانون کی کتاب کے مطالعہ سے کوئی جج نہیں بن جاتا۔ اس کو نہ قانو نی حق حاصل ہوتا ہے اور نہ علمی دنیا میں اس کو تسلیم کیا جاتا ہے۔اسی طرح فقہی اجتہاد واستنباط کا مسئلہ ہے۔
قرآن پاک اور حدیث کے اپنے طور پر مطالعہ سے اجتہاد کا حق حاصل نہیں ہوجاتا ہے، کسی نے قرآن کا ترجمہ پڑھ لیا ہو، حدیث کی کوئی کتاب دیکھ لی ہو، مثلا صحیح بخاری کا ترجمہ دیکھ لیا ، تو اسے یہ درجہ حاصل نہیں ہوتا ہے کہ وہ اجتہاد شروع کردے، فیصلہ صادر کرنے لگے ،اپنی رائے پیش کرنا شروع کردے ، آج کل عام طور پر طلباء اور مدرسین بھی فقہی اعتبار سے ’’عامی ‘‘کے درجے میں ہی ہیں۔ فقہائے کرام نے مجتہد مطلق سے لیکر عامی تک جوطبقات اور مراتب ذکر کئے ہیں، ان کے اعتبار سے مدرسین کا درجہ بھی ایک عامی سے کچھ زیادہ بلند نہیں ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی شخصیت کاجہاں تک تعلق ہے اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ وہ ہندوستان میں علوم اسلامیہ کے مجدد تھے، حضرت مجدد سرہندی نے حکومتی ارتداد کا مقابلہ کیا، اور جھوٹے دین الہی کے مقابلہ میں اسلام کی نصرت ودفاع میں کامیابی حاصل کی، ان کی ایمانی اور روحانی توجہ ، اصلاح اور تربیت کے ذریعہ ایسی تبدیلی وجود میں آئی کہ اکبر کا ارتداد دور جہانگیر ی میں کمزور پڑگیا،اور دور شاہ جہانی میں وہ ماضی کا ایک حصہ بن گیا، اور بتدریج ہندوستان مجددی کوششوں سے گہوارۂ اسلام بن گیا۔
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی ؒ چودہ سال کی عمر میں نصابیات سے فارغ ہوگئے تھے، اس کے بعد انہوں نے درس وتدریس کا سلسلہ شروع فرمادیا تھا، وہ دور عام طور پر ہندوستان میں سخت جمود کا تھا،مسلکی تعصب میں بڑی شدت تھی ، حنفیت اور شافعیت کی فقہی، کتابی، جنگ تو تھی ہی،بنیادی مآخذ سے رابطہ بھی کمزور پڑگیاتھا۔صورت حال یہ تھی کہ قرآن پاک سے یا حدیث نبوی سے اگر براہ راست کوئی دلیل دی جاتی تو بعض لوگ دھڑلّے سے کہہ دیتے کہ ہمیں تو امام ابو حنیفہ کا قول چاہئے ،ہمیں حدیث نہیں چاہئے۔ شاید وہ ان علماء کی ہدایت کی بنیاد پر کہتے ہوں گے، جنہوں نے ان کو سمجھارکھا تھا کہ کسی کو اجتہاد کاحق حاصل نہیں ہے، اور آپ براہ راست حدیث سے استدلال نہیں کرسکتے، علم کلام میں ما تریدی اور اشعری نقطۂ نظر کے درمیان بھی جنگ وجدل کی فضاتھی اور کوئی اصلاحی تحریک نہیں کام کررہی تھی، تصوف کے مختلف حلقوں میں بھی خلیج بڑھتی جارہی تھی۔ وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود معرکۃ الاراء مسئلے بنے ہوئے تھے۔ایسے ماحول میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے قلم اٹھایا اور ’’ البدور البازغۃ‘‘ تصنیف فرمائی، جو ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کا نقش اول ہے۔ اور ’’تفہیمات‘‘ میں جوا ن کا ایک کشکول ہے ، ان کی ایک علمی ڈائری ہے۔ اس صورتحال پر تبصرے کئے، بلکہ اپنے دل کے پھپھولے پھوڑے ، معاشرے کی نباضی کی، امراض کی نشاندہی فرمائی۔اس میں انہوں نے کبھی صوفیہ کو خطاب کیا ،کبھی علماء کو،کبھی وزراء وامراء کو ،کبھی فوج کے جنرلوں کو ،کبھی فوجیوں اور سپاہیوں کو اورکبھی عوام کو، ہرطبقہ کی کمزوری کی نشاندہی فرمائی۔ ’’تلبیس ابلیس‘‘ میں ابن الجوزی نے جو طرز اختیار کیا ہے اسی سے ملتا جلتا طرز شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے’’ تفہیمات‘‘ میں اختیار کیا۔
شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی جو سب سے معرکۃ الاراء کتاب ہے جس نے پوری دنیا کے علماء اوراہل فکر ونظر سے خراج تحسین حاصل کیا وہ ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک الہامی کتاب ہے، انہوں نے اس میں پورے اسلامی نظام کوایک مربوط اور منظم شکل میں پیش کرنے کی ایسی پہلی کامیاب کوشش ہے جس کی نظیردور دور تک نہیں ملتی ہے۔ علامہ شاطبی نے’’ الموافقات‘‘ میں اور عزالدین ابن عبدالسلام، غزالی ، ابن تیمیہ الحرانی جیسے حضرات نے ان موضوعات پر قلم اٹھایا اور فکر اسلامی کی تجدید اور تشکیل جدید کی کوششیں کی ، اور خاص طورپر شریعت اسلامی کے اسرارو حکم کو موضوع بنایا ،لیکن جس تفصیل کے ساتھ شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے بارگاہ الہی کے’’ ملأ اعلی ‘‘سے ریاست کے امراء اور وزارا تک ،اورپھر ان سے علماء وصلحا ء اور عوام مسلمین تک جس طرح زندگی کے تمام موضوعات عقائد، عبادات، معاشرت،معاملات، اور سیاست اور انتظامی امور وغیرہ پر بحثیں کی ہیں، وہ ایک نادرالمثال علمی کارنامہ ہے،جو نہ صرف یہ کہ اپنے مضامین میں بلکہ اپنے اسلوب اور طرز ادا میں بھی منفرد ہے ،مولانامنظور نعمانی سے میں نے خود سنا ، فرماتے تھے کہ اسلام کو ایسے منظم اور مربوط انداز میں پیش کرنے کا کام شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی علاوہ شاید کسی اور سے نہیں ہوسکا۔ انہوں نے پورے دین کو اس طرح پیش کیا کہ سارے احکام گویا ایک لڑی میں پرودیئے گئے ہیں۔
شاہ صاحب کا سب سے بڑا مشن ربط و تطبیق واتحاد کا تھا، انہوں نے عقائد میں سلفیت، اشعریت اور ماتریدیت، فقہ میں شافعیت ،حنفیت،مالکیت اور حنبلیت، تصوف میں نقشبندیت ، چشتیت ، وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کی شرح میں ابن عربی اور مجدد الف ثانی کو بہم آمیز کردیا، اور ان سب کو شیر وشکر بنادیا۔انہوں نے جمع وتطبیق کاجو موقف اختیار کیا اس نے تضاد کواتفاق سے بدل دیا۔حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے تفہیمات میں ایک جگہ لکھا ہے کہ میری طبیعت تقلید کے لئے بالکل تیارنہیں لیکن حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مجھ سے مطالبہ کیا گیا کہ میں پابندی قبول کروں۔فیوض الحرمین ،مکاشفات اور مراقبات پر مبنی کتاب ہے ،مدینہ منورہ میں دوران قیام جن مراقبات اور مکاشفات سے انہیں نوازا گیا، اس کی روداد انہوں نے اپنی اس کتاب میں درج کی ہے۔اس میں ایک وصیت یہ بھی تھی کہ تم عمل میں لوگوں کی مخالفت نہ کرو۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے متعدد مقامات پر یہ بات لکھی ہے کہ مجھ سے طلب کیا گیا ہے کہ میں عمل میں اس کی رعایت کروں، تاکہ معاشرے میں کوئی انتشار نہ ہو۔ انہوں نے اس کا ذکر بھی فرمایا کہ جب میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہوں تو حنفیت کی پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں ،لیکن جب اپنی نمازتنہائی میں پڑھتا ہوں، تو اپنی ترجیحات پر عمل کرتاہوں ،مثلاً رفع یدین کے بارے میں شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے لکھا ہے کہ رفع یدین اور عدم رفع یدین دونوں ثابت ہیں، لیکن رفع یدین ارجح ہے۔پھر بھی انہوں نے لوگوں کے سامنے اس پرعمل نہیں کیاایسے ہی مثلاً وہ وتر کی ایک رکعت، پانچ رکعات یا سات رکعات کے قائل ہیں لیکن عمل مشہور قول پر کرتے رہے، جہراً بسم اللہ پڑھنا ،امام کے پیچھے قرأت ،عید کی تکبیرات کی تعداد وغیرہ بہت سے موضوعات ہیں جن کے بارے میں ان کی رائے یہ ہے کہ یہ اختلافات صرف ترجیحی بنیادوں پرہیں، اور سب چیزیں قابل عمل ہیں۔ حضرت شاہ صاحب نے اپنی شرح مسوی اور مصفی میں جا بجا اپنی ترجیحات کا تذکرہ کیا ہے۔ مولانا عبدالحیؒ لکھنوی نے مصفی کے بارے میں لکھا ہے کہ تکلم فیہ کلام المجتھدین اس میں انہوں نے مجتہدانہ گفتگوکی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مقدمے میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے فرمایا ہے کہ بندۂ ناچیز کو اجتہاد کا ملکہ حاصل ہے۔اور بھی مختلف مقامات پر انہوں نے اپنے لئے اجتہاد کا دعوی کیا ہے، جبکہ کہیں کہیں وہ اپنا تعارف کراتے ہوئے یہ بھی لکھتے ہیں کہ الحنفی مسلکاً والشافعی تدریساً۔مسلک کے اعتبار سے اگر چہ میں حنفی ہوں لیکن تدریس میں شافعی ہوں۔
تفہیمات میں اس کا بھی ذکر ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کس طرح مسائل پر عمل کرتے ہیں، تو فرمایا کہ میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ائمہ اربعہ کے مسالک میں جمع وتطبیق سے کام لوں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جمع وتطبیق کے کام میں سب سے زیادہ حنفیت اور شافعیت میں جمع وتطبیق کا مسئلہ درپیش آتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے عملی طور پر اس بات کی کوشش کی کہ حنفیت کو شافعیت کے اور شافعیت کو حنفیت کے قریب لایا جائے کیونکہ اگریہ دونوں مسالک ایک دوسرے سے قریب ہوجاتے ہیں تو پھر زیادہ اختلافات باقی نہیں رہ جاتے۔ مالکیت، حنبلیت اور حنفیت کے درمیان اتنے اختلافات نہیں ہیں جتنے کہ حنفیت اور شافعیت کے درمیان ہیں۔انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارۂ روحانی سے یہ تجویزپیش کی ہے کہ فقہ حنفی کی تجدید کی جائے ،اور امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف اور امام محمدکے اقوال کا احادیث کی روشنی میں جائزہ لیا جائے اور جس کی رائے احادیث صحیحہ کے زیادہ قریب ہو، اسے اختیار کیاجائے۔اس پر مولانا محمدیوسف بنوری ؒ نے اپنے مقالے میں یہ بات لکھی تھی کہ اگر فقہ ولی اللہی کی روشنی میں فقہ حنفی کی ترتیب وتدوین حضرت شاہ صاحب کی رائے کے مطابق کی جائے تو پھر حنفیت اور شافعیت کے بمشکل پندرہ بیس مسائل میں اختلافات باقی رہ جائیں گے ،اکثر اختلافات ختم ہوجائیں گے۔
اس سلسلہ میں، میں یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ کی کتاب کا جب نزول ہو ا اور حضور اکرم ؐ کی احادیث جب سامنے آئیں تو وہ نہ حنفی تھیں نہ شافعی ،نہ مالکی ، نہ حنبلی ، قرآن سب کے لئے تھا ،حدیثیں سب کے لئے تھیں، علماء وفقہاء کے غور وخوض، تشریح وتوضیح اوراستنباط واجتہاد کی بنیاد پران کی تحقیقات اور اجتہادات سامنے آئے اور معاشرہ پر ان کے اثرات مرتب ہوئے، اور اپنے اپنے علاقوں میں ان کی چھاپ قائم ہوتی چلی گئی، لوگ ان کا اتباع کرتے چلے گئے ،اور فطری طور پر کسی علاقہ میں کسی فقیہ کے فقہ کا رواج ہوگیا، اس میں نہ کسی کی پلاننگ کو کوئی دخل تھا، نہ تعصب اور حلقہ واریت کو۔امام مالک ؒ مدینہ منورہ میں درس دیتے تھے، ان کے شاگردوں کے ذریعہ ان کی فقہ مراکش اور اندلس تک پہنچ گئی۔ مدینہ منورہ اورجزیرۃ العرب میں ان کامسلک اتنا نہیں پھیلا، جتنا کہ وہ افریقہ کی شمالی پٹی میں پھیل گیا ، اسپین میں پھیل گیا۔امام مالک کے شاگردوں میں بڑے بڑے اجلۂ علماء انہیں علاقوں سے اٹھے۔یہی صورت حال امام ابوحنیفہ ؒ کی رہی۔ وہ عراق میں رہے، وہاں ان کی شخصیت اور علمی تحقیق کا گہرا اثر ہوا اور پھر ان کے اثرات ایران،خراسان ،ترکستان، ہندوستان تک پھیلتے چلے گئے۔ فطری طور پر یہ علاقے متاثر ہوتے گئے، اس میں کسی کی منصوبہ بندی یا پلاننگ کو کوئی دخل نہ تھا ،امام شافعی ؒ حجازمیں رہے، عراق میں رہے، بعد میں مصر تشریف لے گئے ،ان کا مسلک عراق میں پھیلا ،شام اور مصرمیں بھی پھیلا، امام احمد بن حنبل بغدادمیں رہے ، ان کا مسلک بغداد میں اور دیگر علاقوں میں محدود طور پر پھیلا۔ایک طویل عرصے تک ان کا مسلک بہت زیادہ نمایا ں نہیں رہا۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ ائمہ ثلاثہ کوفقہاء میں ، اور امام احمد ابن حنبل کو محدثین کی فہرست میں شمار کرتے ہیں، اگر چہ وہ ائمہ اربعہ میں ہیں ، لیکن حضرت شاہ صاحب ان کے مسلک کو شافعی مسلک کا ضمیمہ قرار دیتے ہیں۔
کتب حدیث میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے سب سے زیادہ توجہ’’ موطا‘‘پر فرمائی اور ان کا یہ فرماناہے کہ’’موطا‘‘ حدیث کی بنیادی اور اولین کتاب ہے ،بخاری اور مسلم اس کی شرح اور تکمیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔امام بخاری اور امام مسلم کا کام اس شکل میں سامنے آیا کہ انہوں نے احادیث کے بڑے ذخیرے سے اعلی درجہ کی صحیح احادیث کا انتخاب فرمایا۔ امام ترمذی، امام ابوداؤد، امام نسائی ، امام ابن ماجہ، امام دارمی وغیرہ حضرات نے اصل کوشش اس پر صرف کی کہ فقہائے کرام کے مستدلات یکجا کردیئے جائیں،تاکہ فقہاء کی آراء کے مآخذ واضح ہوجائیں، اور یہ واضح کردیا جائے کہ جو مسلک چل رہا ہے اس کے پیچھے دلائل کیا ہیں اور ان دلائل کی حیثیت کیا ہے ؟ امام ترمذی ؒ نے اس کا بھی اہتمام کیا کہ دلیل کی حیثیت کو بھی واضح کردیا۔ حدیث صحیح ہے یا ضعیف ، شاذ یامنکر اس کو بھی بیان کیا ،اور اس سلسلہ کی دیگر احادیث کی طرف اشارہ بھی کردیا،ساتھ ہی ساتھ ائمہ فقہاء کی آراء بیان کیں۔
محدثین کرام اور فقہائے عظام نے وقت کی ضرورت اور تقاضے کی تحت اپنے اپنے کا م انجام دیئے ، ان ائمہ فقہاء میں چار حضرات بہت ممتاز اورنمایا ں ہوئے، اور ان کو ایسے شاگرد ملے، جنہوں نے ان کے مسلک کا تعارف کرایا،اور اس کی علمی خدمت انجام دی۔امام اوزاعی ،امام ابوحنیفہ کے درجے کے سمجھے جاتے تھے ، اورامام لیث بن سعد، امام مالک کے ہم پلہ قرار دیئے جاتے تھے ،لیکن ان دونوں کا مسلک زیادہ نہیں چل سکا، اپنے دور میں ایک بڑی تعداد ان کے مسلک پر عمل کرتی تھی، بہت سے لوگ ان سے فتوی لیتے تھے ، ان سے رجوع کرتے تھے ،لیکن ان کا مسلک رائج نہیں ہوسکا۔ اسحاق بن راہویہ ،امام احمد بن حنبل کے معاصر اوربرابرکے درجے کے تھے، دونوں فقہ اور حدیث کے امام تھے لیکن امام احمد کے مقابلے میں اسحاق بن راہویہ کا مسلک نہیں چلا۔ عبداللہ ابن مبارک کا مسلک بھی باقاعدہ چلتا تھا، امام ترمذی ائمہ فقہا ء میں ان کا بھی حوالہ دیتے ہیں لیکن ان کا مسلک بھی رائج نہیں ہوا۔ ائمہ اربعہ کے ساتھ خداتعالی کی خاص تائید اور توفیق تھی ، اللہ کی طرف سے ان کا انتخاب ہوا ، مابعد کی تاریخ سے یہ حقیقت واضح ہوتی چلی گئی۔ امام ابن الصلاح ؒ نے اپنی کتاب’’ معرفۃ علوم الحدیث‘‘ میں ائمہ مسالک کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ائمۃ المذاہب الخمسۃ المشہورۃ۔ اس میں پانچواں مسلک سفیان ثوری کا تھا۔ ابن الصلاح ساتویں صدی ہجری میں تھے ، وہ اس وقت کے مشہور پانچ مسالک کی بات کررہے ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اسلامی قانون سازی کی اور اس کے تسلسل اورفقہ کی تدریحی ترقی کا بڑا منصفانہ جائزہ لیاہے۔ حضرت شاہ صاحب کی طبیعت میں اعتدال وانصاف کوٹ کوٹ کر بھرا تھا اور جامعیت اور اجتماعیت ان کا مشن تھا ، وہ چاہتے تھے کہ ملت کی شیرازہ بندی ہو اور انتشار کو دور کیاجائے۔بہرحال انہوں نے بارہویں صدی ہجری میں یہ صدا لگائی کہ مسالک میں جمع وتطبیق کی ضرورت ہے۔ یہ اس وقت ایک بالکل اجنبی اور نامانوس سی صدا تھی ، لیکن دھیرے دھیرے ،عالم اسلام کے مفکرین اور دعوتی اور اصلاحی کام کرنے والے اب اس رخ پر بڑھتے چلے جارہے ہیں، یہاں تک کہ دینی مدارس اورعلمی حلقوں میں اب یہ مذاکرہ کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم عہد اول کی طرف رجعت اختیار کررہے ہیں۔ آخری زمانے میں جب حضرت مہدی تشریف لائیں گے ،تو وہ نہ حنفی ہوں گے نہ شافعی ، نہ مالکی نہ حنبلی ،وہ خود مجتہد ہوں گے۔ قرآن پاک اور حدیث نبوی ہی کی بنیاد پر وہ پوری امت کی قیادت فرمائیں گے۔اور اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ ان کی آمد کے موقع پر امت مجتمع ہوچکی ہوگی ،یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ مسیحؑ بھی ان کی قیادت کو تسلیم کریں گے۔ظاہر ہے کہ اس وقت نہ مسلکی اختلافات باقی رہیں گے ، نہ کلامی، نہ جماعتی نہ گروہی، اس اجتماعی صور تحال تک پہنچنے کیلئے تدبیری انتظامات بھی چاہئیں، الحمدللہ ہم فکر ولی اللہی کی روشنی میں ان ہی تمہیدی راستوں پر چل رہے ہیں۔
جہاں تک تحریک ندوۃ العلماء اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کا تعلق ہے وہ فکر ولی اللہی کا ترجمان اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے منہج اور طریقۂ کار کا علمبردار ہے۔ ۱۹۷۵ ء میں جب دارالعلوم ندوۃ العلماء میں۸۵ سالہ جشن تعلیمی منعقد ہوا تھا ، اس وقت حضرت مولانا سید ابوالحسن ندوی ؒ نے ایک بہت بڑے چارٹ پر ایک تحریر عباسیہ ہال کے دروازہ کے اردگرد آویزاں کروائی تھی جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی تھی کہ ندوۃ العلماء اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کا مسلک وہی ہے جو شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا مسلک ہے ، اس کا اظہار واعلان اہتمام سے کیا گیا تھا تاکہ یہ بات تمام حاضرین پرپوری طرح واضح ہوجائے کہ ہم فکر ولی اللہی کے امین ہیں ،ہم ان کے شارح وترجمان ہیں ، افسوس ہے کہ اس پر جو کام ہونا چاہئے تھا وہ ابھی تک نہیں ہوا ، کتنی عجیب بات ہے کہ کتنی ضروری اور غیر ضروری کتابوں کے ترجمے عربی سے اردو ،اردو سے عربی میں کئے گئے ،لیکن حضرت شاہ ،صاحب ؒ کا اجتہادی شاہکار ’’مصفی ‘‘ شرح ’’موطا‘‘ کا ترجمہ نہیں ہوا ، اس معرکتہ الاراء کتاب میں انہوں نے اصول فقہ کی تشکیل جدید کی طرح ڈال دی ہے اور مجتہدانہ شرح کا ایک نمونہ پیش کیا ہے۔اپنی آراء اور اجتہاد ات بھی بیان فرمائے ہیں اور جمع وتطبیق کی کوشش کا ایک نمونہ پیش کیا ہے۔ میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے زمانہ طالبعلمی سے فکر ولی اللہی کی ترجمانی کی توفیق عطا فرمائی۔ مجھے مولانا علی میاں ؒ اور مولانا منظور نعمانی کی صحبتوں میں حضرت شاہ صاحب کے مقام کو سمجھنے کا موقعہ ملا، پھر’’ حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کے درس اور شاہ صاحب کی سوانح اور علمی کارناموں پر متعدد کتابیں پڑھنے کا اتفاق ہوا، الفرقان کے سن ۱۹۴۱ء کے شاہ ولی اللہ پر خاص نمبرکے مطالعہ کا خوب موقعہ ملا، اور میں نے اپنے فضیلت کے سندی مقالہ کیلئے حضرت شاہ صاحب کے منہج فقہی کو اپنا موضوع بنایا، بعد میں یہ مقالہ دو کتابوں میں شائع ہوا،ایک ’’تاریخ التشریع الاسلامی واسباب الاختلافات الفقہیۃ فی ضوء آراء الامام الدھلوی‘‘ اور دوسرا ’’التقلید والاجتھاد عند الامام الدھلوی‘‘ کے عنوان سے، ادھر چند سالوں سے دارالعلوم کے دراسات علیا کے طلباء سے حضرت شاہ صاحبؒ کے متعدد رسالوں پر کام کرانے کا موقع ملا، اور موطا کی شرحیں ’’مسوی‘‘ اور’’ مصفی‘‘ شائع کی گئیں۔
میری دیرینہ تمنا ’’مصفی ‘‘کے ترجمہ کی تھی،جو الحمداللہ پوری ہوئی، اور فارسی اصل سے عربی ترجمہ دوجلدوں میں مکمل ہوکر شائع ہوا۔حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’فیوض الحرمین ‘‘میں فقہ حنفی کی تجدید یاتشکیل جدید کا جو طریقۂ کاربیان فرمایا ہے کہ ائمہ ثلاثہ ابوحنیفہ ، ابویوسف، اور محمد بن الحسن کے اقوال میں اقرب الی الاحادیث الصحیحۃ کو اختیار کیا جائے۔اس پر بھی میں نے کام شروع کرایا تھا ، جو ابھی تشنہ ہے۔حضرت شاہ صاحب ان تینوں کو مجتہد مطلق مانتے ہیں۔ انہوں نے اپنے استاد سے اکثر اصول میں اتفاق کرتے ہوئے بعض اصول اور بہت سی فروع میں اختلاف کیا ہے۔ عام طور پر یہ شہرت ہے کہ وہ مجتہد فی المذہب ہیں ،لیکن شاہ صاحب کے نزدیک یہ تینوں مجتہد مطلق ہیں۔ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ ؒ کی فقہ کا سرچشمہ حضرت ابراہیم نخعی کی فقہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابراہیم نخعی اور ابوحنیفہ کے اقوال کا موازنہ کیجئے تو آپ اس کی تصدیق کریں گے کہ اکثرجگہ امام ابوحنیفہ ابراہیم نخعی سے متفق ہیں۔ اسی طرز پر ابو یوسف اور محمد بن الحسن نے اپنے استاذگرامی سے استفادہ کیا ہے ،ان سے قیاس واجتہاد سیکھا ہے ، اور وہ ان سے اکثر اتفاق کرتے ہیں لیکن بہت سے مسائل میں اختلاف بھی کرتے ہیں۔ بنیادی طورپروہ بھی ابراہیم نخعی کی فقہ کو اپنے سامنے رکھتے ہیں ، کہنے والوں نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے، کہ تقریباً دوتہائی مسائل میں دونوں شاگردوں نے امام صاحب سے اختلاف کیا ہے،جس کا مطلب تو یہ ہوا کہ تقریباً ساٹھ فیصد مسائل میں اختلاف ہے، یہ ایک قابل تحقیق موضوع ہے۔ امام ابو یوسف کی صحبت مدینہ منورہ کے محدثین وعلماء کے ساتھ بھی خوب رہی ، اورامام محمد بن الحسن تو باقاعدہ امام مالک کے تین سال شاگرد رہے ، ان کی خدمت میں’’ موطا‘‘ کی روایت حاصل کی، ان کی شخصیت میں فقہ مالکی اور فقہ حنفی دونوں جلوہ گرہیں، اگرچہ وہ اصلاً امام ابوحنیفہ کے ترجمان ہیں۔امام محمد کی ’’روایت موطا‘‘ امام مالک کے دیگر شاگردوں کی روایات سے بعض پہلوؤں سے ممتاز ہے۔ انہوں نے اس میں اپنی آراء بھی ذکر فرمائی ہیں۔ بہرحال امام محمد دونوں مدرسوں کے فارغ ہیں۔
اسی طرح امام شافعی ؒ بھی دونوں مدرسوں کے فارغ ہیں، وہ ایک طرف امام محمد کے شاگرد ہیں، دوسری طرف امام مالک کے۔ فقہی بصیرت کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ انہیں امام محمد کے مدرسے سے ملی ،لیکن حدیث کا خاص ذوق مالک بن انس اور سفیان ابن عیینہ سے ملا، دونوں کے اصول اجتہاد سے استفادہ کرتے ہوئے ، انہوں نے اپنے مسلک کے اصول ’’ الرسالہ ‘‘ میں مرتب فرمائے۔ ان کو احادیث کے بڑے ذخیرہ تک پہونچنے کے مواقع حاصل ہوئے اور بہت سی جگہوں پر انہوں نے دونوں مسلکوں سے اختلاف رائے ظاہر فرمایا، میرا یہ خیال ہے کہ امام ابو یوسف اور امام محمد کی آراء اور امام شافعی کی آراء کا موازنہ کرنا چاہئے۔اور امام شافعی کے اقوال پر اسی طرح غور کرنا چاہئے جس طرح احناف امام ابو یوسف اور امام محمد کے اقوال پرکرتے ہیں۔ امام شافعی اگر امام ابوحنیفہ کی مجلس میں ہوتے ،تو ان کی مجلس کے ایک اہم رکن ہوتے ، اور ان کودیگر ارکان مجلس کی طرح اختلاف رائے کا پورا موقعہ ملتا، وہ اگر بعد زمانی کے ساتھ حاصل ہوا تواس سے فقہی نظام پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
مسلک حنبلی شاہ صاحب کی نظر میں فقہ شافعی کی ایک شاخ ہے،امام احمد امام شافعی کے شاگردتھے ، انہوں نے فقہ میں ان سے براہ راست استفادہ کیا اور متعدد محقق علماء کے نزدیک ان کی فقہ کے بارے میں وہی رائے ہے، جوحضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی رائے ہے۔
ہمیں فقہائے صحابہ سے فقہائے تابعین تک، اور ائمہ فقہاء سے ان کے شاگردوں تک ، اسی طرح ان کی فقہ اور اجتہادی آراء کا جائزہ لینا چاہئے جیسے صحابہ کرام کی احادیث اور آراء بغیر کسی حلقہ واریت اور مسلکی تقسیم کے ہم جائزہ لیتے ہیں، یہ سارے حضرات ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں ہیں، ان سب سے استفادہ اسی نقطۂ نظر سے ہونا چاہئے۔بعد کے دور میں جو مسلکی حلقے پیدا ہوئے اور فقہی شخصیات کے الگ الگ حلقے بن گئے ،اورپھر ان کے درمیان دوریاں پیدا ہوتی گئیں، یہ حقیقی اسلامی روح کے خلاف ہوا۔ اسلام اس حلقہ واریت کا قائل نہیں ہے، نہ وہ دین وعلم کے میدان میں تعصب کی اجازت دیتا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ ائمہ اربعہ کی فقہ میں تطبیق واتحاد کے قائل تھے ،کیا ہی اچھا ہو کہ ان تمام ائمہ فقہاء بالخصوص ائمہ اربعہ کی فقہ کو پوری ملت کا مشترک سرمایہ سمجھا جائے ، اور سب سے مشترک طورپر استفادہ کی شکلیں پیدا کی جائیں، محدثین کرام کی عظیم علمی کوششوں کو اس میں شامل کیا جائے ، اور متفق علیہ باتوں کو ترجیح دی جائے ، اور اختلافات کی گنجائش رہنے دی جائے۔ فقہاء احناف میں جنہوں نے تحقیقی اقوال اختیار کئے اور احادیث کی روشنی میں اقوال فقہاء کا جائزہ لیا، ان کی کوششوں کو نمایاں کیا جائے، اور خالص فقہی تخریجات کے پابند اور مسلکی دائرہ میں ’’مفتی بہ ‘‘کے طوق سے گلوبند حضرات کے فیصلوں کو بنیادی حیثیت نہ دی جائے۔اگر امام صاحب کی طویل صحبت میں رہنے والے،ان سے مسلسل استفادہ کرنے والے، اور ان کے عزیز شاگرد ان سے اختلاف کررہے ہیں، تومریدان باصفا ’’ پیر نہ پرد مریداں می پرانند‘‘ کا مصداق کیوں بنے ہوئے ہیں ؟حق وانصاف کی بات یہ تھی کہ ان حضرات کے اقوال پر غیر جانبدارانہ غور وفکر ہونا چاہئے ،پھر ترجیح کا فیصلہ اسی بنیاد پر کیا جانا چاہئے۔یہ بات اصولاًتو ائمہ فقہاء کے درمیان ترجیحات میں ملحوظ رہنی چاہئے تھی۔ لیکن کم ازکم فقہائے احناف میں تو اس کو لازماً ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔
خلفائے راشدین کی سنت، ان کے اجتہاد اور رائے کی جب بات آتی ہے تو بعض کم عقل سلفی یہ کہتے ہیں کہ ہمیں عمرؓ کی سنت نہیں چاہئے! ہمیں رسول اللہ کی سنت چاہئے! ظاہر ہے کہ یہ حماقت’’ علمی بدویت‘‘ اور’’ ابلہی ‘‘کے سوا کچھ نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر وحضرت عمر کو خاص مقام تشریعی عطا فرمایا ہے، ارشاد فرمایا: اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمر اور تمام خلفائے راشدین کو مجموعی طورپر ایک مقام تشریعی عطا فرمایا ہے۔ارشاد فرمایا: علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین عضوا علیھا بالنواجذ۔ حضرت شاہ صاحب نے ازالۃ الخلفاء عن خلافۃ الخلفاء میں اس موضوع پر بڑی سیرحاصل بحث فرمائی ہے۔
ترتیب یہ ہے کہ سب سے پہلے کتاب اللہ ہے، پھر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،پھر ابوبکر وعمرکی سنت،پھر عثمان وعلی کی سنت، پھر اہل بیت نبوی کی سنت اور طریقۂ کار، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بسند صحیح ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ ترکت فیکم أمرین لن تضلوا إن تمسکتم بھما کتاب اللہ وعترتی‘‘(۱) اس لئے خلفائے راشدین اوراہل بیت نبوی شرعی طور پرحجت ہیں ، یہ موضوع تفصیل طلب ہے، اس وقت صرف اشارہ کررہا ہوں۔ اس کے بعد اجماع امت ہے ، جس میں سرفہرست اجماع صحابہ ہے، جس پر اس آیت سے بھی استدلال فرمایا گیاہے : (ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدی ویتبع غیر سبیل المؤ منین نولہ ماتولی ونصلہ جہنم وساء ت مصیرا) ’’سبیل المؤمنین‘‘ کو حجت قراردیاجارہا ہے، اسی حقیقت کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یوں فرمایا تھا ’’ما رآہ المسلمون حسنا فھو عند اللہ حسن‘‘ اور حضور ؐ کا یہ قول کتب احادیث میں صحت کے ساتھ منقول ہے: ’’لایجتمع امتی علی ضلالۃ ومن شذ شذ فی النار‘‘اور یہ بھی آپ کا ارشاد ہے: ’’ید اللہ علی الجماعۃ ومن شذ شذ فی النار‘‘ مزیدارشاد ہے: ’’علیکم بالسواد الاعظم‘‘۔ لہٰذا خلفائے راشدین اور اہل بیت کے بعد اجماع علماء امت ہے، اس کو شرعی حجت کے نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہئے۔ ہر دور میں علماء کی ذمہ داری ہے اور اہل حق علماء کے بارے میں پیشین گوئی ہے کہ ’’یحمل ھذا العلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین وانتحال المبطلین وتأویل الجاہلین‘‘ اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان حضرات کی نشاندہی ہوکہ وہ کون سے علماء ہیں جن کے بارے میں حضورؐ پیشین گوئی فرمارہے ہیں،ان کی پہچان اس لئے ضروری ہے کہ وہ معیار حق ہیں گے ، ان کا اتباع ہونا چاہئے ، انہیں کے بار ے میں مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’ ’لاتزال طائفۃ من أ متی ظاھرین علی الحق لایضرہم من خذلھم الی قیام الساعۃ‘‘۔ یہ حدیث مذکورہ بالا حدیث کی تائید کررہی ہے، پھر اورمزید وضاحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ان اللہ تبارک وتعالی سیبعث علی رأس کل مأۃ سنۃ من یجدد لھذہ الأ مۃ أمر دینھا‘‘ اس سے معلوم ہواکہ ہر صدی میں حضور کی نمائندگی کرنے والے علمائے مجددین ومصلحین ضرور موجود رہیں گے۔ یہ حضور ؐ کی صاف پیشین گوئیاں ہیں، اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ صرف صحابہ کرام کوہی ہمیں اپنے سامنے نہیں رکھنا ہے، کیونکہ ہردور میں نئے مسائل درپیش آتے رہے ہیں، اور آتے رہیں گے ،نئے چیلنج سامنے آتے ہیں۔ مقابلہ ہر دور میں باطل سے درپیش رہا ہے اور رہے گا،اس لئے ہر صدی میں تجدید واصلاح کا کام ضروری ہے ، تجدید اجتہاد کی متقاضی ہے، اس لئے ہر صدی میں اجتہاد بھی ضروری ہے۔ مسائل کلامی ہوں یا فقہی، انفرادی ہوں یا اجتماعی، معاشرتی ہوں یامعاملاتی،سیاسی ہوں یا معاشی،ہر دور میں تجدیدواجتہاد کی ضرورت باقی رہے گی ، اور اللہ تعالی کی ربوبیت عامہ اس کا انتظام کرتی رہے گی ، یہاں تک علم حق مہدی علیہ السلام اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔
بہر حال امام ابوحنیفہ ، امام مالک ،امام شافعی ، امام احمد ،اپنی اپنی کوشش کرتے رہے ، اپنے نتائج فکر پیش فرماتے رہے اور یہ کہتے رہے کہ ہماری اندھی تقلید نہ کرنا، بے سمجھے بوجھے اتباع نہ کرنا، امام ابوحنیفہ نے فرمایا تھا: کسی شخص کیلئے جائزنہیں کہ وہ میرے قول پر فتوی دے جب تک اسے یہ نہ معلوم ہوجائے کہ میری دلیل کیا ہے ،یہی بات امام ابویوسف سے منقول ہے، امام محمد بن الحسن سے منقول ہے ،امام مالک ، امام شافعی ،امام احمد اور تمام ائمہ سے اسطرح کے اقوال منقول ہیں، ان کے بارے میں تعصب نہ برتا جائے اور ان کی اندھی تقلید نہ ہو۔
جہاں تک عوام الناس کا تعلق ہے ،جو مآخذ دین سے ناواقف ہیں ، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ علمائے حق سے رجوع کریں ، اور بغیر کسی انتشار کے علماء کی رہنمائی میں عمل کریں۔ ان کا حق یہ نہیں ہے کہ وہ دلائل سے بحث کرنا شروع کردیں، وہ اس کے اہل نہیں ہیں۔ قرآن کی تفسیر سے واقف نہیں ہے، احادیث کے مضامین ،ان کی صحت وعدم صحت ،ان سے استنباط کے طریقے سے واقف نہیں ہیں،جس کا بھی یہ حال ہے اس کی حیثیت عوام کی سی ہے ، اس کو عالم اور فقیہ سے رجوع کرنا چاہئے۔
بہر حال میں حضرت شاہ صاحب کے نقطۂ نظر اور مسلک کا ذکر کررہا تھا ، ان کی اصل کوشش بین المذاہب جمع وتطبیق کی تھی، خاص طور پر حنفیت اور شافعیت میں جمع وتطبیق، اس لئے وہ فرماتے تھے کہ میں عملاً حنفی اور تدریساً شافعی ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ کیوں شوافع واحناف مل کر یہ کام نہیں کرتے، اس کی بہترین جگہ دارالعلوم ندوۃ العلماء ہے، یہاں شافعی طلباء بھی پڑھتے ہیں اور حنفی بھی ہیں، کیا اچھا ہو کہ حنفی اور شافعی طلباء مل کر یہ علمی کام انجام دیں ، اورحضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی تجویز کو بروئے کار لائیں۔ دونوں مسالک کے اصولوں پر بھی غورہونا چاہئے اور فروع پر بھی ،پھر مالکیہ اورحنفیہ کا تقابلی مطالعہ آسان ہوجائے گا، اورفقہ حنفی وفقہ حنبلی کے درمیان بھی رابطہ واضح ہوجائے گا،اور امت ایک متفقہ مسلک کی طرف بڑھتی جائے گی۔ہمیں فقہا ومحدثین کا ادب واحترام ملحوظ رکھنا چاہئے، ان کے ادب واحترام کا اولین تقاضہ ہے کہ ہم ان سب سے مستفید ہوں ان کے علم اوراجتہاد کی قدر کریں ، ہم یہ مان کر چلیں کہ ، محدثین نے مواد فراہم کیا ، اس کی چھان بین کی ، اور اس کو بڑی تفصیل کے ساتھ مرتب کرکے پیش کردیا ،ان کی حیثیت عطا رکی ہے اور فقہا کی حیثیت اطباء کی،اطباء کے نسخوں سے حسب ضرورت فائدہ اٹھانا چاہئے اور عطار کی دوکان سے دوالینا چاہئے۔ امام اعمش نے امام اوزاعی سے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ سے کہا تھا أنتم الأطباء ونحن الصیادلۃ۔آپ لوگ ڈاکٹر ہیں اور ہم عطار، ہماری دوکان پر دوائیں موجود ہیں لیکن ہم مرض کی تشخیص نہیں کرسکتے ہیں، نہ علاج بتاسکتے ہیں، یہ کام فقہا ء کا ہے۔
فقہی تحقیقات پیش کرنے اور اس کے جامع نظام کو وضع کرنے میں اولیت امام ابوحنیفہ کو حاصل رہی ہے، اس کا امام شافعی نے اعتراف بھی کیا ہے، اور اظہار بھی۔ انہوں نے فرمایا تھا: الناس فی الفقہ عیال علی أبی حنیفۃ، سارے لوگ فقہ میں ابوحنیفہ کے محتاج ہیں، بغیر ان کے فقہ کے اصول وضوابط سمجھنا اور اجتھاد کے راستے میں چلنا مشکل ہے۔ امام ابوحنیفہ کی قبر کے قریب جو مسجد ہے اس میں ایک مرتبہ امام شافعی نے نماز فجر پڑھائی تو قنوت نہیں پڑھا، ان سے اسکے بارے میں پوچھا گیا کہ آپ تو قنوت کے قائل ہیں، آپ نے قنوت کیوں نہیں پڑھا؟ فرمایا کہ ابوحنیفہ کی رائے کا احترام مانع رہا، ان کی رائے کو میں نے یہاں عملاً ترجیح دی، یہ صاحب قبر کے ساتھ ان کا غایت درجہ کا ادب تھا۔ امام ابوحنیفہ حیات ہوتے تو سوچیئے کہ ان کا قدرومحبت کا معاملہ کیسا ہوتا۔ امام ابویوسفؒ ایک مرتبہ مدینہ منورہ آئے ، ایک کنویں کے پانی سے وضو فرمایا، نماز پڑھی ،بعد میں کسی نے بتایا کہ کنویں میں چوہا گرگیا تھا ،اور آپ کا مسلک تو یہ ہے کہ کنویں کاپانی پاک نہیں رہا۔ فرمایا کہ اس وقت اہل مدینہ کے مسلک پر عمل کرلیتے ہیں۔امام ابویوسف جب عید کی نمازپڑھاتے تھے توخلیفہ عباسی ہارون رشید پیچھے نماز پڑھتے تھے، اور وہ کیونکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول تکبیرات کو پسند کرتے تھے لہذا امام ابو یوسف ان کی روایت کے مطابق سات تکبیرات پہلی رکعت میں اور ۵ تکبیرات دوسری رکعت میں ادا کرتے تھے۔ اس طرح بہت سی مثالیں ائمہ کرام کے آپس کے لحاظ واکرام واحترام کی موجود ہیں۔ آج جو تنگ نظری کا ماحول ہے اور جو ایک عرصے سے چلی آرہی ہے وہ درحقیقت عجمیت زدہ ہے، صاف ستھرا عربی ذوق عجمیت سے متاثر ہوکر مکدر ہوگیا۔ صحابہ، تابعین ،تبع تابعین، اور خود ان کے متبعین کا یہ مزاج نہیں تھا۔
بہرحال میری خواہش یہ ہے کہ فکر ولی اللہی کا تعارف کرایا جائے ، امت میں اسے زندہ کیا جائے اور’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کو بھی اس نقطۂ نظر سے پڑھا اور پڑھایاجائے، یہ حکومت اسلامیہ کے احیاء کے نظام کی ایک زبردست علمی وفکری کوشش وکاوش ہے جس میں شاہ صاحب فکر اسلامی کو پیش کرنے میں پوری طرح کامیاب ہوئے ہیں۔’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ علمائے کرام اور طلباء دراسات علیا کے مطالعے میں ضرور رہنی چاہئے، امت کی شیرازہ بندی کے لئے اس کے ذریعہ جو جامع نظام دیا گیا ہے،اس کو بروئے کار لانے کی کوشش کرنا چاہئے ، ائمہ کرام کے مسالک پر بے جا تنقید اور منفی رویہ درست نہیں ہے۔
سلفیت کے نام سے جو مسلکی ہنگامہ آرائی کی جارہی ہے، اس کا سلف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صحابہ کرام ،تابعین عظام اور محدثین وفقہاء کے طریقہ کار کے بالکل خلاف ہے۔یہ امت میں انتشار برپا کرنے کی ایک سازش ہے، محدثین کرام، اصحاب الحدیث ، اہل الحدیث کا طرز دیکھنا ہو تو سنن الترمذی دیکھیں کہ مختلف مسائل کی احادیث کے تذکرہ اور اس صراحت کے بعد کہ یہ یہ حدیث ضعیف ہے، وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اس کے مطالب، فقہاء کرام کے مسالک ذکر کرتے ہیں، اس پر نہ وہ ناراض ہوتے ہیں ، نہ فقہاء پر تنقید کرتے ہیں،بلکہ ایک معتبر معمول کی حیثیت سے بغیر کسی تشنج کے اس کا تذکرہ فرماتے ہیں، یہ اہل حدیث کا طریقہ کار ہے،اسی پر ابوداؤد، نسائی،دارمی وغیرہ کا عمل ہے، لہذا مسلکی اختلاف کی بنیاد پر جماعت بندی، گروہ بندی ،اور الگ الگ مساجد کا قیام ایک شیطانی فتنہ ہے ، جس پر ملمع کاری کے ساتھ سلفیت کا لبادہ اوڑھا دیا گیا ہے۔نماز کے مسائل جو روز مرہ پانچ وقت کا اجتماعی عمل تھا اورقدیم صحابۂ کرام نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے ایک ایک جزئیہ پر عمل کرتے ہوئے تقریباً اٹھارہ ہزار مرتبہ دیکھا تھا، اس میں جتنے بھی اختلافات ان سے منقول ہیں وہ صرف تنوعات ہیں۔ صحابہ کرام کا تعامل اس سلسلہ میں حجت ہے، او رتنوع اور توسع کے ساتھ امت میں یہ تعامل مستقل ہوتا چلا آرہا ہے۔ اس لئے روایتیں تلاش کرکے تعامل کے خلاف فضابنانا،اور جھگڑا پیداکرنا کسی طرح درست نہیں ہے، ثناء مختلف الفاظ ،بسم اللہ زور سے یا دھیمی آواز سے پڑھنا ،اما م کے پیچھے فاتحہ پڑھنا ،نہ پڑھنا آمین بلند یا پست آواز سے کہنا، یہ سب جائز صورتیں ہیں۔ امام ترمذی ؒ نے اپنی سنن میں ناف کے نیچے، ناف کے اوپر ہاتھ باندھنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ، ان سب شکلوں میں توسع ہے۔ ان میں کوئی چیز قابل رد نہیں ہے۔یاد رکھئے کہ آپس کا تفرقہ اور نزاع حرام ہے، یہ چوری اور بدکاری سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے۔آپس کا تفرقہ دین مونڈدینے والا استرہ قراردیاگیا ہے، اس لئے ہمارے تعلیمی اداروں کو خاص طور پر ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ اکثر مدارس ہی علمی جھگڑوں کا اکھاڑابن جاتے ہیں ،ان کو کلامی اور مسلکی فقہی اختلافات کا دنگل بنادیا جاتا ہے ،پھر مساجد اکھاڑا بن جاتی ہیں جس کے نتیجے میں ملت کی اجتماعیت پارہ پارہ ہوجاتی ہے۔اس لئے ان علمی وتعلیمی مراکز پر پوری توجہ اصلاح حال کی مرجوز ہونی چاہئے، اور فکر ولی اللہی اور فقہ ولی اللہی کے خطوط پر کام کی داغ بیل ڈالنی چاہئے۔
اللہ تعالی ہمیں دین کی سوجھ بوجھ عطا فرمائے، ہماری صفوں میں اتحاد فرمائے، اور ہر تفرقہ سے ہمیں محفوظ فرمائے۔ (آمین) و آخردعوانا ان ا لحمدللہ رب العالمین۔
حاشیہ
(۱) یہ روایت ترمذی، نسائی، مسند احمد بن حنبل وغیرہ صحیح اور حسن سندوں سے موجود ہے، لیکن اہل سنت کے ہاں خلفائے راشدین کے ساتھ جو اہتمام ہے اور سنت الخلفاء الراشدین کا جتنا حوالہ دیا جاتا ہے، جبکہ سندی اعتبار سے یہ حدیث زیادہ قوی ہے، نہ اس کا حوالہ دیا جاتا ہے اور نہ اس کے ساتھ وہ اعتناء ہے جو ہونا چاہئے، میں سمجھتا ہوں کہ اس کو بھی موضوع بنانا چاہئے۔
پاکستان کے اسلامی تحقیقی ادارے : جائزہ و تجاویز
مولانا مفتی محمد زاہد
(اپریل ۲۱۰۲ء میں ادارہ تحقیقاتِ اسلامی اسلام آباد نے اپنے یومِ تاسیس کے حوالے سے یہ ایک تقریب کا انعقاد کیا جس میں اس طالب علم کو کلیدی خطبہ عرض کرنے کے لئے کہا گیا۔ خیال تھا کہ اس خطبے میں اجمالاً آنے والے نکات کو تفصیل سے بیان کرکے ایک مکمل مقالے کی شکل دے دی جائے۔ بوجوہ ایسا نہ ہوسکنے کی وجہ سے تقریباً اسی حالت میں پیشِ خدمت ہے۔ زاہد)
سب سے پہلے تو میں ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کے ذمہ داران ، کار پردازان اور جملہ کارکنان کو اس عظیم علمی و تحقیقی سفر کی باون منازل طے کرنے پر دل کی گہرائی سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اسی کے ساتھ ادارے کے ذمہ داران بالخصوص اس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خالد مسعود صاحب کا تہِ دل سے شکر گذار ہوں کہ اس پْر مسرت موقع پر اتنی بڑی تعداد میں اہلِ علم وتجربہ کے درمیان حاضر ہوکر نہ صرف استفادے کا موقع عطا فرمایا بلکہ کچھ عرض کرنے کا اعزاز بھی بخشا۔ایسے موقع پر کچھ گذارشات پیش کرنا جہاں مجھ جیسے طالب علم کے لئے ایک اعزاز اور سعادت ہے وہیں ایک بڑا امتحان بھی۔’’ حکمت بلقمان آموختن‘‘ والا محاورہ تو بار ہا سنا ہے ، لیکن جہاں بیک وقت اتنے سارے لقمان موجود ہوں وہاں یہ جسارت کئی آتشہ ہوجاتی ہے۔
انیسویں صدی کے نصف یا اس کے اواخر تک کا دور مسلمانوں کے تنزل کی طرف مسلسل سفر کا دور ہے۔ یہ دور مسلمانوں کے زیاں ہی کا نہیں علمی وفکری سطح پر احساسِ زیاں کے فقدان کا بھی ہے۔ سیاسی اور عسکری انحطاط کا کم از کم احساس مسلمانوں میں ضرور موجود تھا لیکن علمی اور فکری تحدیات کا ادراک بہت کم تھا۔ دنیا بہت بدل چکی تھی اور تیز رفتاری سے بدل رہی تھی ، خواہی نخواہی ان تبدیلیوں کے اثرات باقی دنیا کے علاوہ عالمِ اسلام پر بھی مرتب ہورہے تھے اور ہونے جارہے تھے۔ لیکن اس دور پر ایک عمومی نظر دوڑائیں تو مسلمانوں کے علمی وفکری حلقوں میں ان تبدیلیوں ، ان کے اسباب اور مضمرات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی باستثنائے چند کوئی قابلِ ذکر کوشش نظر نہیں آتی۔ اسلام کے اصول اور اس کی بنیادی تعلیمات تو ابدی اور ناقابلِ تغیر ہیں ، لیکن یہ سوال کہ کیا پہلے سے موجود مواد ، ڈھانچا اور طور طریقے جو انسانی کاوشوں کا نتیجہ ہونے کے ناطے زمان ومکان اور حالات کے اسیر ہیں ، اس تبدیل شدہ اورمسلسل تبدیل ہوتی دنیا میں اس قابل ہوں گے کہ محض انہی کے سہارے اسلامی تعلیمات کو مسلمانوں کی اجتماعی اور انفرادی زندگی میں رو بہ عمل لایا جائے‘ اس سوال کے جواب کو عموماً ایک عرصے تک قابلِ اعتنا ہی نہیں سمجھا گیا۔ یہ صورتِ حال صرف علمی حلقوں کی ہی نہیں تھی بلکہ آخری دور میں مسلمانوں کے اقتدارِ اعلی کی جو اہم کرسیاں موجود تھیں ان میں بھی بدلتی دنیا کو سمجھنے سے گریز کا انداز ہی غالب رہا۔ مغرب کی طاقت کے گہرے سائے ہندوستان تک پہنچ چکے تھے لیکن یہاں کی مغلیہ سلطنت سمیت طاقت کے بیش تر سرچشموں کواس چیز کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ اس خطرے کے مضمرات اور اس طاقت کے راز کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کروایا جائے ، اس کی بجائے وقت پاس کرنے کے لئے آہستہ آہستہ مقامی طاقتیں سمجھوتوں پر سمجھوتے کرتے اس ابھرتی طاقت کے قدموں کی طرف سرک رہیں تھیں۔ اسی صورتِ حال کی ایک مثال کے طور پر یہ بات بھی پیش کی جاسکتی ہے کہ مغربی دنیا میِں دستور پسندی کا رجحان بہت حد تک نمایاں ہو چکا تھا اور یہ بات بہت موٹے حروف میں نہ سہی بہر حال نوشتہ دیوار تھی کہ باقی دنیا کو بھی آہستہ آہستہ کسی نہ کسی شکل میں ادھر ہی آنا ہوگا۔ اگر اس نوشتہ دیوار کو مناسب وقت پر سنجیدگی سے پڑھ لیا جاتا اور خلافت کو شخصی کی بجائے ایک دستوری ادارہ بنانے کی تجاویز اور کوششوں کا وہ حشر نہ ہوتا جو ہوا تو شاید مسلمانوں کے سیاسی اقتدارِ اعلی کو وہ دھچکے برداشت نہ کرتے پڑتے جن کا سامنا انہیں کرنا پڑا۔اس کی وجہ غالباً طویل عرصے تک مسلمانوں کا سیاسی غلبہ تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنے قابلِ شکست ہونے کے تصور کے لئے بھی ذہنا آمادہ نہیں تھے، اس لئے کہ اپنے ماضی کی عظمتوں کی اسیر قوموں کے لئے نئی حقیقتوں کو تسلیم کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے (اس ابتلا کا سامنا اقوامِ مغرب کو بھی کرنا پڑ سکتا ہے)۔
بہر حال سیاسی طور پر تو عالمِ اسلام کے ساتھ جو کچھ ہوا سو ہوا ، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جس زمانے سے سیاسی طور پر مسلمانوں کا انحطاط ان کے باقاعدہ دورِ غلامی میں تبدیل ہونا شروع ہوا تقریباً وہیں سے ان میں علمی اور فکری بیداری کا دور بھی شروع ہوتا ہے۔ اس نئے دور کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ نکتہ بھی بڑا اہم ہے کہ جن حقیقتوں کو بر وقت سنجیدگی سے نہیں سمجھا گیا اور ان کا طوطی سر پر چڑھ کے بولنے لگا تو اس کے نتیجے میں جو ذہنی روییّ مسلمانوں میں وجود میں آئے ان میں ایک چیز یہ بھی تھی کہ اس دور میں مسلمانوں نے عمومی طور پر فاعلی اور مؤثرانہ کردار (active role ) کی بجائے انفعالی اور مؤثرانہ کردار (passive role ) کو قبول کرلیااور انہوں نے یہ باور کرلیا کہ ہم وہ نہیں جو کچھ کرتے ہیں بلکہ وہ ہیں جن کے ساتھ کچھ ہوتاہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم نے کیا کیا یا کیا کر رہے ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا یا ہورہا ہے۔ اگر کوئی بہتری کی امید کی بات بھی ہے تو اس کا بیان یہ نہیں کہ ہم یہ کریں گے یا کرسکتے ہیں ، بلکہ یہ کہ کیسے اور کون نجات دہندہ بن کر آئے گا اور ہمیں بچائے گا اور آگے لے جائے گا۔ اس طالب علم کے خیال میں مسلمانوں کے ذہنی رویّوں میں اس پہلو کاتفصیلی مطالعہ خاصی دلچسپی کا حامل ہوسکتاہے۔ شاید اسی پہلو کا ایک فکری مظہر یہ بھی ہے کہ مثلا بر صغیر ہی میں آزادی کے حوالے سے یا مستعمرین کے ساتھ تعلق کے حوالے سے جو لٹریچر زیادہ مقبول عام ہوا وہ دو طرح کا تھا، ایک وہ جس میں حکم ران قوم سے بناکر رکھنے کی ترغیب تھی، دوسرے وہ جو اس کے بالکل برعکس سوچ کا عکاس تھا۔ اول الذکر کے بارے میں تو یہ بات عام طور پر کہی ہی جاتی ہے کہ وہ مرعوب ذہنیت کا شاخسانہ تھا۔ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی تحقیق سے وابستہ لوگوں کے قابلِ توجہ ہے کہ موخر الذکر نوعیت کا جو لٹریچر اور فکری مواد وجود میں آیا، خاص طور تحریکِ خلافت اور تحریکِ ترکِ موالات جیسی بڑی تحریکوں کی کوکھ سے جس لٹریچر نے جنم لیا کیا یہ سب کچھ مستقل بالذات تھایا اس کا بھی کچھ تعلق یورپ ہی کی ان طاقتوں سے تھا جو انگریزوں کے مدّ مقابل تھیں اور انہیں ہندوستان میں ناکام دیکھنے کی خواہش مند تھیں۔ یعنی کہیں ایسے تو نہیں تھا کہ دونوں قسم کا جوفکری مواد اور لٹریچر وجود میں آرہا تھا یا عملی سیاست کے میدان میں جو کچھ ہورہا تھاوہ بھی در حقیقت ہمارے آپس کے مباحثے سے زیادہ یورپ کی بڑی طاقتوں کی جنگ ہی ہم شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنی سرزمین پر لڑ رہے تھے۔ اگر ایسا ہی تھا تو اس سے مزید سمجھا جاسکتا ہے کہ ہم فاعلی (active) کی بجائے کتنے انفعالی (passive) تھے۔
یہاں تو یہ بات ضمناً آگئی ، اصل مقصود یہ عرض کرنا تھا کہ مسلمانوں کی سیاسی مغلوبیت بلکہ سیاسی غلامی کے دور سے نئے سوالات زیرِ بحث آئے جنہوں نے نئی فکری تحریکوں اور رجحانات کو جنم دیا اور اسلامی ادبیات کو ماضی کے ذخیرے کی جگالی اور متون وشروح میں انحصارسے نکال کر اس میں نئی جہات کا اضافہ کیا۔ اس حوالے سے چند میدان یا موضوعات یہاں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سرِ فہرست تو مغرب کے علوم و افکار کے حوالے سے یہ طویل بحث ہے کہ مسلمانوں کو ان کے ساتھ کیا رویہ اور انداز اختیار کرنا چاہئے، یہ بحث گذشتہ صدی ڈیڑھ صدی کا ہمارا اہم فکری ورثہ اور سرمایہ ہے۔ ان حالات کے نتیجے میں دوسری نوعیت کا اہم مواد وہ ہے جو دنیا کے بڑے مذاہب بالخصوص اسلام اور عیسائیت یا اسلامی تہذیب اور دیگر تہذیبوں کے تقابلی مطالعے کے حوالے سے وجود میں آیا۔ تیسرا اور شاید سب سے اہم میدان جس پر مسلمانوں کے اعلی ترین دماغوں کی توجہ مرکوز رہی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ تھی۔ اس لئے کہ مسلمان اپنی پسماندگی کو تو دیکھ اور بھگت سکتے تھے لیکن کسی بھی طرح اس کا کوئی ادنی سا دھبہ یا اس کی ادنیٰ سی ذمہ داری بھی اپنے نبی کی ذاتِ مبارکہ پریا ان کی تعلیم پر گوارا نہیں کرسکتے تھے۔ اس لئے مسلمان مفکرین نے سیرتِ طیبہ کونئے انداز سے موضوعِ بحث بنایا۔ پچھلی صدی ڈیڑھ صدی میں سیرت پر ایسا وقیع کام سامنے آیا ہے جو شاید اس سے پہلے کے ہزار سال کے کام پر حاوی ہو۔ چوتھا میدان مطالعہ قرآن تھا۔ اس دورِ غلامی و پسماندگی نے مطالعہ قرآن کو بھی نئی جہتیں بخشیں اور تفسیرنگاری کے کئی نئے رجحانات متعارف ہوئے۔پانچواں میدان قانون ، معیشت ، سیاست وغیرہ پر مغربی علوم وتجربات کا مطالعہ کرکے ان پہلووؤں پر اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت تھی۔ اس پانچویں میدان میں زیادہ کام شاید مابعد استعمار کے دور میں ہوا اور اس میں مسلمان ملکوں کے ریاستی سرپرستی میں قائم اداروں کا نمایاں حصہ رہا۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ اس دور میں مسلمانوں کی نفسیات میں جہاں passiveness کا عنصر موجود تھا وہیں اس وقت کی صورتِ حال میں ایک اضطرابی کیفیت بھی موجود تھی، جو کہ مکمل غلامی نے ان میں پیدا کردی تھی، اور مذکورہ بالا پانچ میدانوں میں جو کام ہوا وہ اسی اضطراب اور بے چینی کی کیفیت کا اچھا ثمر تھا، جس کا یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ یہ غلامی کا بالواسطہ طور پر ثمر تھا اور یہ کہ غلامی نے مسلمانوں میں خاص قسم کی فکری بیداری پیدا کی اور انہوں نے ان سے بھی سیکھا جنہیں وہ اپنا حریف سمجھتے تھے۔
تراث کا احیا ، اس کی عصری انداز سے پیش کاری ، اس کی توضیح وتنقیح اور اس کے تجزیہ وتحلیل جیسے کاموں کو چھوڑ کر اس دورمیں ہونے والی تحقیقی اور فکری کاوشوں کے جو مقاصد رہے انہیں تین بنیادی نکتوں میں بیان کیا جاسکتاہے۔ سب سے پہلے تو اسلامی تعلیمات کی مغرب پر برتری کو ثابت کرنا، خواہ وہ جارحانہ اور پیش قدمی کے انداز سے ہو یا معذرت خواہانہ۔ اس لئے کہ معذرتی منہج کا مقصد بھی مغرب کو یہ باور کرانا تھا کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اسلام بھی وہی کہہ رہا ہے اور بہت پہلے سے کہہ رہا ہے، اس لئے اسلام کو تم پرسبقت کا شرف حاصل ہے۔دوسرا مقصد اس سوال کا جائزہ لینا رہا کہ بدلتی ہوئی دنیا میں زندگی کے مختلف شعبوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل کو کیسے ممکن بنایا جائے۔ تیسرے امت مسلمہ جس نے صدیوں تک دنیا کی قیادت کی ہے اسے یہ مقام دوبارہ کیسے حاصل ہو۔
مذکورہ بالا مقاصد کے تحت اوپر ذکر کردہ ہر میدان میں متنوّع رجحانات سامنے آتے رہے ، جن میں سے بعض تو ایک دوسرے سے بالکل الٹی سمت پر چلتے ہوئے نظر آتے تھے۔ لیکن یہ سب مل جل کر مجموعی طور پر ایک ہی بڑے عمل کا جزو لا ینفک ہیں۔ بات در اصل یہ ہے کہ پہلی مرتبہ جب اسلام سربلند ہورہاتھا اس کی بنیاد بھی علم تھی ، جیسا کہ غارِ حرا میں نازل ہونے والی پہلی وحی سے واضح ہے۔ لیکن اس دور کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ پالیسی کے جزوی معاملات میں بھی اللہ کے نبی کی قیادت سے مسلمان براہِ راست سرفراز تھے جنہیں یا تو جزوی معاملات میں بھی اللہ کی طرف سے وحی کی راہ نمائی حاصل ہوتی تھی یا کم از کم فراستِ نبوت ضرور شاملِ حال ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ اللہ کی طرف سے عمومی وعدہ? نصرت کے ساتھ بعض جزوی مواقع پر بھی نصرت کا خاص وعدہ شامل حال ہوتا تھا (جیسا کہ غزوہ بدر میں ہوا) جس کی وجہ سے اس عمل کی رفتار غیر معمولی حد تک تیز تھی۔ اب اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد بھی علم پر ہی ہوگی۔لیکن ختمِ نبوت کے نتیجے میں نئی صورتِ حال کے مطابق سارا کام اس امت ہی کو کرنا ہے، اور اس دنیا کو دار الاسباب سمجھ کر کرناہے ، اس لئے کہ جس نوعیت کا وعدۂ نصرت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اْس خاص نوعیت کا بعد میں کوئی دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اسلام اور امتِ مسلمہ کی سربلندی ایک واقعہ یا event نہیں ہوگا بلکہ ایک پروسس ہوگا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی آئے اور چھا جائے ، پہلے امت کے حالات کو درست کرے پھر باقی دنیا کو۔ بلکہ ختمِ نبوت کا ایک لازمی تقاضا ہے کہ ذمہ داری پوری امت پر عائد کی گئی ہے۔ اس لئے سارے پروسس میں امت کی بحیثیت امت شرکت ضروری ہوگی، جس کے لئے یہ ایک لازمی امرہے کہ مذکورہ بالا مقاصد کے لئے امت کا ہر طبقہ اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائے۔اس کے لئے بحث وفکر اور ڈسکشن کا ایک عرصہ درمیان میں آنا ضروری لازمی ہے اور یہ بھی لازمی ہے کہ اس ڈسکشن میں امت کے مختلف طبقات شریک ہوں۔ انیسویں صدی سے جب سے احساسِ زیاں اجاگر ہوا ہے تب سے اب تک امت ڈسکشن کے اسی مرحلے سے گذر رہی ہے۔ یہ مرحلہ مزید دراز ہوگا ، لیکن یہ عرصہ تنزل کی طرف سفر کے عرصے سے یقیناًکم ہوگا۔ یہ ایک مثبت پہلو ہے کہ امت اگر اقوامِ عالم میں اپنا مقام بنائے گی تو کسی خاص طبقے کی برتری کے ذریعے نہیں بلکہ ایک طویل ڈسکشن کے نتیجے اور امت کے اجتماعی ضمیر کے ثمرے کے طورپر۔ یعنی بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا کہ کوئی خاص طبقہ آئے اور چھا جائیبلکہ جو راہ بھی ہوگی وہ امت اپنیاجتماعی تجربات اور اجتماعی دانش کی روشنی میں طے کرے گی یا کسی راہ کو قبول کرے گی، ظاہرہے اس عمل میں وقت لگنا فطری امر ہے۔بہر حال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس دور کی طوالت یا متضاد آوازوں کی وجہ سے بظاہر محسوس ہونے والی پراگندگی سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ سب کچھ ایک ارتقائی عمل کا لازمی حصہ ہے۔ اس ڈسکشن میں صرف متنوع ہی نہیں متضادات رجحانات کو ایک گھڑی کے کل پرزوں کی طرح سمجھا جاسکتاہے۔ ایک گھڑی کو اگر کھول کر دیکھیں تو اس کے مختلف گول گول پرزے ایک دوسرے سے الٹ سمت میں حرکت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن ان سب کی حرکت کا آخری نتیجہ ایک ہی نکل رہا ہوتا ہے اور وہ ہے وقت کی نشان دہی۔
دورِ آزادی میں
جنگِ عظیم دوم کے بعد نئے عالمی حالات کے تحت دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ مسلمان ملکوں کو بھی ایک ایک کرکے آزادی ملنے کا سلسلہ شروع ہوا تو متعدد ملکوں میں تحقیقی کام کے لئے ریاستی سطح پر بھی ادارے وجود میں آنے لگے۔ یہاں ہم صرف پاکستان کے تناظر تک بات کو محدود رکھنے کی کوشش کریں گے، جن میں دور ادارے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں، ایک اسلامی نظریاتی کونسل اور دوسرے ادارہ تحقیقاتِ اسلامی۔ اس لئے کہ ان دونوں کو دستوری بنیاد حاصل رہی ہے ، موخر الذکر کو ۱۹۶۲ء کے دستور میں ، اور اول الذکر کو اب بھی حاصل ہے۔ یہاں ان اداروں یا ان جیسے اداروں کی کار کردگی کا تفصیلی جائزہ لینا مقصود نہیں ہے ، بلکہ ان کے کام کے چند عمومی خد وخال اور آئندہ کے کام کے لئے چند تجاویز پیش کرناہے۔آج جبکہ ہم ادارہ تحقیقات اسلامی جیسے وقیع ادارے کی باون منازلِ عمر کی تکمیل پر خوشی کا اظہار کررہے اور اس کے کارناموں کا جائزہ لے رہے ہیں تو اس موقع پر اس طرح کے اداروں میں نئی زندگی پیدا کرنے کے لئے مناسب ہوگا کہ وقت کی نبض اور رجحانات و امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی تحقیق میں نئی جہتیں دریافت کرنے کی کوشش کریں۔ خصوصا وہ جہتیں جو result oriented ہوں۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں دوقسم کے کاموں میں فرق پیشِ نظر رہنا چاہئے۔ ایک وہ کام ہے جو کیا تو کسی فرد یا چند افراد نے ہوتا ہے البتہ کسی ادارے نے انہیں اس کام کے لئے درکار سہولتیں اور وسائل فراہم کئے ہوتے ہیں یا کسی فرد نے اس ادارے کا حصہ ہونے کے دوران اور اس حیثیت میں کام کیا ہوتاہے یا اس ادارے نے اس کام کی طباعت واشاعت کا فریضہ انجام دیا ہوتاہے۔ دوسری قسم کا کام وہ ہے جو باقاعدہ ایک ٹیم ورک اور اجتماعی کاوش کا نتیجہ ہوتاہے۔ تعبیر میں سہولت کے لئے آنے والی سطور میں ہم پہلی قسم کے کام کو اداروں کا کام اور دوسری قسم کے کام کو ادارہ جاتی کام کہیں گے۔ دونوں نوعیت کے کاموں میں سے کسی کی بھی نہ تو اہمیت سے انکار کیا جاسکتاہے اور نہ ہی اس کام کو کسی ادارے کی حسنِ کار کردگی میں داخل کرنے سے۔ تاہم کام کے موضوعات اور میدانوں کے انتخاب میں یہ امر مدِ نظر رکھنا اہم ہے۔ اس لئے کہ بعض کام ایسے ہیں جو صرف موخر الذکر انداز سے ہی انجام پاسکتے ہیں، اس لئے بڑے بڑے اداروں سے بجا طور پر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ان کاموں اور منصوبوں کو اہمیت دیں جن کے لئے دوسری نوعیت کی کاوشیں زیادہ فائدہ مند ہوتی ہیں۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ کون سے موضوعات اور میدان ہائے تحقیق ہمارے تحقیقی اداروں کی توجہ کا زیادہ مرکز رہے ہیں ، بالخصوص بات اداروں کے کام کے حوالے سے نہ کی جائے بلکہ ادراہ جاتی کاموں کے حوالے سے کی جائے تو پہلی بات تو یہ سامنے آتی ہے کہ اس تحقیقی کام کا زیادہ تر محور ریاست رہی ہے۔ یعنی یہ سوال رہا ہے کہ ریاست کے کرنے کے کام کیا ہیں اور وہ اپنی ان ذمہ داریوں کو کیسے پورا کرے۔ ان کاوشوں کا بھی شاید سب بڑا محور قانون اور دوسرے نمبر معیشت رہی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے تو مینڈیٹ میں ہی بنیادی بات یہ تھی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے بارے میں دستور کی دفعہ ۲۳۰ کی شق (۱) کی ذیلی شق a میں اگرچہ کونسل کا ایک کام یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ ایسی تجاویز تیار کرے جن کے ذریعے مسلمانانِ پاکستان کو اس قابل بنایا جاسکے کہ وہ اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگیوں کو اسلامی ہدایات اور تصورات کے مطابق ڈھال سکیں۔ اس طرح سے اس دفعہ کا یہ حصہ محض قانون کی بجائے بحیثیتِ مجموعی زندگی کو موضوعِ بحث بناتا ہوا نظر آتا ہے ، لیکن اسی شق میں ان تجاویز کا مخاطب مقننہ کو بنایا گیا ہے نہ کہ منتظمہ کو اور یہ کہا گیا ہے کہ کونسل اپنی یہ تجاویز پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلیوں کو پیش کریں گی جن کا بنیادی وظیفہ قانون سازی ہے، اس طرح سے معاملہ پھر قانونی نوعیت اختیار کر جاتاہے۔ بہر حال اسلامی نظریاتی کونسل اپنے مینڈیٹ کے مطابق اپنے فرائض انجام دیتی چلی آرہی ہے۔ اصل بات جو کہنا مقصود ہے کہ وہ یہ ہے کہ اگرچہ قرادادِ مقاصد ، مختلف آئینی دفعات اور متعدد اہم دستاویزات میں زندگی کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کی بات تو کی گئی لیکن یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ پاکستان بننے کے بعد کی کئی دہائیاں بڑی حد تک اس مفروضے پر لگ گئیں کہ قانون ٹھیک ہوجانے سے سب کچھ ٹھیک ہوجاتاہے۔ اس طرح سے زندگی بحیثیت مجموعی ہمارے محققین بالخصوص تحقیقی اداروں کی اتنی زیادہ توجہ حاصل نہ کرسکی جتنی قانون نے حاصل کی۔ پھر قانون خود بھی لوگوں تک انصاف پہنچانے کے نظام کا محض ایک حصہ ہے ، جبکہ فراہمی عدل کے عمل کے اور بھی کئی اجزا اور عناصر ہوتے ہیں ، یہ اجزا اور عناصر بھی شاید اتنی توجہ حاصل نہیں کرسکے جتنی خود قانون نے حاصل کی ہے۔
اوپر تحقیق کے جو بنیادی مقاصد ذکر کئے گئے ہیں ان میں ایک مقصد اس سوال پر غور ہے کہ موجودہ دور میں انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو کس طرح اسلامی تعلیمات کے مطابق بنایا جائے۔ اس سوال کے اعتبار سے اب تک کے کام کا زیادہ تر نقطہ ارتکاز ریاست رہی ہے جبکہ ریاست زندگی پر اثر انداز ہونے والا ایک اہم عنصر ضرور ہے اور شاید جدید دور میں ریگولائزیشن کے کردار کی وجہ سے اس کی اہمیت گھٹنے کی بجائے بڑھ رہی ہے تاہم زندگی پر اثر انداز ہونے والا یہ واحد عنصر نہیں، اور بھی کئی عناصر موجود ہیں۔ بالخصوص حالیہ دور میں کئی ایک نے کافی زیادہ اہمیت حاصل کرلی ہے۔ یہاں یہ عرض کرنا ہے کہ محض ریاست کے کردار کی بھی بات کی جائے تو اس کے زندگی پر اثر انداز ہونے کے دو رخ ہیں۔ ایک یہ کہ ریاست کے پاس جبر کی طاقت موجود ہوتی ہے ، اپنے اس اختیار کے ذریعے سے وہ لوگوں کو خاص کام کرنے یا نہ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ قانون کوئی بھی ہو اور کتناہی اچھا ہو بہر حال ہوتا ایک جبرہی ہے۔ ریاست کے زندگی پر اثر انداز ہونے کا دوسرا رخ ریاستی پالیسی ہے۔اس زاویے سے ریاست براہِ راست لوگوں کو مجبور کرنے کی بجائے عمومی پالیسی ایسی بناتی ہے جس سے خاص ماحول وجود میں آتا ہے اور لوگ خاص رخ پر چلنے لگتے ہیں۔ اب تک ایک طرف تو کام کی زیادہ ترکیز ریاست پر رہی ہے ، دوسرے ریاستی کردار میں بھی پہلے رخ کو زیادہ توجہ ملی ہے۔ دوسرے رخ کو خاص توجہ نہیں مل سکی۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہاں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرنا مناسب معلوم ہوتاہے کہ آج کا دور اعداد وشمار، سرویز اور میدانی تحقیق کا دور ہے جس کے ذریعے ایک طرف توعملی حقائق کو ریاضیاتی اور سائنسی انداز سے معلوم کیا جاتا ہے دوسری طرف کسی بھی اختیار کی جانے والی پالیسی یا اقدام کے ممکنہ اثرات و نتائج کو جانچ کر اس کے بارے میں کافی حد تک درست اندازے لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آج ہر کامیاب پالیسی کے پیچھے شماریات اور میدانی تحقیق کی طاقت موجود ہوتی ہے۔ صرف حکومتیں ہی نہیں کاروباری اور غیر کاروباری ادارے بھی کوئی نیا قدم اٹھانے سے پہلے اس طرح کی سہولتیں مہیا کرنے والے اداروں سے رجوع کرتے ہیں۔ وقت گذرنے کے سا تھ ساتھ اس رجحان میں اضافہ ہورہا ہے اور لوگوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ شماریاتی تحقیق پر مبنی منصوبہ بندی زیادہ کامیاب ہوتی ہے۔ لیکن اسلامی تحقیق شاید اس رجحان سے خاطر خواہ متعارف اور اس سے استفادے کی طرف ابھی مائل نہیں ہوپائی۔صرف قانونی تحقیق ہی کی بات ہو تو اس میں بھی اس ذریعے کو استعمال کرکے زیادہ ثمر آور نتائجِ تحقیق حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ بات تو فقہائے اسلام کے ہاں بھی مسلمہ ہے کہ فقیہ کو امرِ واقعہ سے واقف ہونا چاہئے۔ پورے معاشرے کی سطح پر امرِ واقعہ کا ادراک کیسے ہوگا ، میڈیا کی نمایاں سرخیوں اور ہیڈ لائنز سے ، بعض مفاداتی گروہوں کے پروپیگنڈے سے یا شماریاتی ریاضیاتی اور سائنسی طریقہ کار اس کے لئے بہتر ہوگا۔
بہر حال اسلامی تحقیق کے سلسلے میں ادارہ جاتی سطح پر اب تک جو کام ہوا ہے اس کی قدر وقیمت اور اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کام کو آگے بڑھانے کے لئے ایک تو تحقیقی کاموں بالخصوص ادارہ جاتی تحقیق کی ترکیز صرف ریاست یا قانون سے پھیلا کر پوری زندگی کو موضوعِ بحث بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص ہمارے معاشرے اور سماج کو۔ کسی چیز کو قانون بناکر نافذ کردینا بہت آسان ہوتا ہے ، لیکن اگر یہ سوال ہو کہ اسی چیز کو کسی سماج کے لئے قابلِ قبول کیسے بنا یا جائے ، یا نظریاتی اور اصولی طور پر جو چیز اس معاشرے میں قابلِ قبول ہے کے روبہ عمل آنے میں حائل رکاوٹوں کو سمجھ کر انہیں دور کیسے کیا جائے تو یہ کام محض قانون سازی کے مقابلے میں خاصا محنت طلب اور وقت طلب کام ہے۔ اس عمل میں کئی نزاکتوں اور سماجی حقائق کو مد نظر رکھنا ہوتاہے۔
اس حوالے سے یہاں عہد نبوی سے دو مثالیں ذکر کرنے پر اکتفا کروں گا۔ ایک مثال تو یہ ہے کہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے مروی ایک روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خواہش تھی کہ فتحِ مکہ کے بعد بیت اللہ کی از سرِ نو تعمیر کی جائے اور یہ کہ اس مرتبہ کی تعمیر‘ زمانہ قبل از بعثت کی قریشی تعمیر کی بجائے اصل ابراہیمی بنیادوں اور نقشے (قواعد ابراہیم) پرہو۔ لیکن نبی کریم کو اندازہ تھا کہ اس کام کے ماحول اور معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، ان کے پیشِ نظر آپ نے اس ارادے پر عمل نہیں فرمایا۔ دوسری مثال یہ ہے کہ خاندانی ماحول اور رسم و رواج میں قریش اور انصار کے درمیان بہت سے فرق موجود تھے۔ ہجرت کے بعد جب دونوں طرف کے خاندانوں کا میل ملاپ شروع ہوا ، بلکہ ایک دوسرے کے ہاں شادیاں بھی ہوئیں تو پہلے سے موجود ان فروق کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوئے ، ان مسائل ومعاملات کو حضور اقدس نے کیسے ہینڈل کیا، یہ مطالعہ حدیث وسیرت کا ایک مستقل موضوع ہے۔ یہاں مثال کے طور پر یہ بات عرض کرنا ہے کہ عربوں کے ہاں گھریلو ڈسپلن قائم رکھنے کے لئے عورتوں کومارنا ایک عام سی بات تھی۔ خصوصاً قریش میں انصار کے مقابلے میں یہ چیز زیادہ تھی۔ جبکہ انصار میں مردوں کی عورتوں پر اتھارٹی کم تھی۔
اسلام کا اصل مزاج تو یہ ہے کہ کسی جانور کو بھی بلا وجہ نہیں مارنا چاہئے ، اپنے غلاموں اور باندیوں تک کو مارنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعیدیں ارشاد فرمائیں۔ ایک موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو مسعود انصاری کو دیکھا کہ وہ اپنے ایک غلام کو مار رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ابو مسعود! یہ ذہن میں رکھو کہ جتنا بس تمہارا اس غلام پر چلتاہے اس سے زیادہ قدرت اللہ تعالی کو تم پر حاصل ہے۔ یہ بات سن کر ابومسعود انصاری نے اس غلام کو فوراً آزاد کردیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں دوزخ کی آگ میں جھلسنا پڑتا۔ حالانکہ ابو مسعود بدری صحابی ہیں، اور بدر میں شرکت ایسی نیکی ہے جس کی وجہ سے اللہ کی طرف عام مغفرت کا وعدہ ہے۔ جب ایک زر خرید غلام یا باندی کو مارنے کے بارے میں اسلام کا مزاج یہ ہے کہ تو شریکِ حیات کے بارے میں اس کی تعلیم کیا ہوسکتی ہے‘ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
غلاموں کو مارنے پر پابندی کا اطلاق تو بہت آسانی سے ہوگیالیکن جب عورتوں کا معاملہ آیا تو کچھ پیچیدگیوں کا بھی سامنا ہوا۔ ابتدا میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حتمی طور پر اس سے منع فرمادیا۔ لیکن اس پر بعض لوگوں کی طرف سے یہ شکایت سامنے آئی کہ اب تک چونکہ جو ڈسپلن چلا آرہا تھا اس میں مار پر پابندی نہ ہونے کا بھی دخل تھا،اب یک دم پابندی لگنے سے معاملات درست نہیں رہے۔ روایات کے لفظ ہیں کہ عورتیں جری اور بے باک ہوگئی ہیں۔ آ ں حضرت نے عارضی طور پر یہ پابندی اٹھالی۔ اس پر ان عورتوں کی طرف سے شکایات کا تانتا بندھ گیا جو زمانہ جاہلیت سے اگرچہ مار سہتی چلی آرہی تھیں، اب چنددن انہوں نے اس مار پر پابندی کا مزا چکھ لیا تھا۔ اس موقع پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ عورتوں کی طرف سے اپنے مردوں کے خلاف اس طرح کی شکایات بکثرت آرہی ہیں، جن مردوں کے بارے میں اس طرح کی شکایتیں آرہی ہیں وہ کوئی اچھے لوگ نہیں ہیں۔ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس فرمایا کہ مقصود اگرچہ بڑا ہے، لیکن اس کے حصول کے لئے اخلاقی راستہ اختیار کرنا زیادہ بہتر ہوگا۔
یہاں بذاتِ خود اس مسئلے پر بات کرنا مقصود نہیں ہے، بلکہ یہ عرض کرنا ہے کہ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی موثر ہستی موجود ہو اور صحابہ جیسے اطاعت شعار لوگ موجود ہوں وہاں بھی سماجی اور معاشرتی حقیقتیں اپنا اثر کس طرح دکھاتی ہیں اور کسی تبدیلی کے لئے کس طرح سے تدریجی طریقہ اختیار کرنا پڑتاہے۔سماج کا سدھار اول تو ہماری توجہ کا مستحق بنتاہی کم ہے ، اگر بن جائے تو اسے کسی تحقیقی کاوش کا محتاج سمجھنے کی بجائے محض واعظانہ کام سمجھ لیا جاتا ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد کے سلسلے میں جب ہم سماج کو موضوعِ تحقیق بنائیں گے وہاں خاصا کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس لئے کہ بحیثیت مجموعی انسانی معاشرے کی حرکیات اور رویے ہوتے ہیں۔ کسی چیز کو کوئی معاشرہ اپنے اندر کیسے جذب کرتا ہے، اپنی اختیار کردہ قدروں ، رسم رواج یا عادات کو کب کیوں ہر قیمت پر سینے سے لگانے کی کوشش کرتاہے اور کب اپنی اختیار کردہ چیزوں ہی کو dispose off کردیتاہے، نئی چیزوں کو کب کیسے اور کیوں قبول کرنے کے لئے لپکتا ہے اور کب کیسے اور کیوں کسی نئی چیزکے بارے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ سب باتیں وہ ہیں جنہیں سمجھنا سماج پر مبنی اسلامی تحقیق کے لئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح متعدد شعبوں میں فقہ اسلامی سے واقفیت کے ساتھ موجودہ قوانین جاننے کو ضروری سمجھا جاتا رہاہے۔ پھر ہر ماحول اور سماج کا اپنا الگ مخصوص مزاج اور رنگ ہوتاہے اس کا مطالعہ بھی ناگزیر ہے۔
سماجی سطح پراسلامی نقطہ نظر سے جو بھی کام ہوگا اس کا محورمعروف اور منکر کے تصورات ہوں گے۔ ایسے کام کے کئی زاویے ہوسکتے ہیں۔ اطلاقی اور عملی تحقیق سے پہلے کچھ اصولی سوالات پر کام اہم ہوگا۔ مثلا معروف اور منکر کا معیار کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سب سے اہم معیار تو نص ہے۔ لیکن اس کے علاوہ معروف اصول ما رآہ المسلمون حسنا فھو عند اللہ حسن کے مطابق خود مسلمان معاشرے کو اس کے طے کرنے میں ایک کردار دیا گیا ہے ، اس کی حدود کیا ہیں۔ پھر عملی اور اطلاقی پہلو سے کئی چیزیں دیکھنے کی ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ وہ کون سے معروف ہیں جنہیں کسی خاص اور متعین ماحول میں قابلِ قبول قدر کا درجہ حاصل ہونا چاہئے تھا لیکن حاصل نہیں ہے ، یا کون سا منکر ہے جس کے منکر ہونے کا احساس ایک خاص ماحول میں موجود نہیں ہے۔ اس کے اسباب کیا ہیں۔اور اس کے تدارک کے لئے کیا کیا تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔
دوسرے یہ کہ وہ کون سے معروف ہیں جو کسی ماحول میں سمجھے تو معروف ہی جاتے ہیں یعنی نظریاتی طور پر ایک اچھی قدر کے طور پر متعارف ہیں ، لیکن اس کے عملی اثرات نظر نہیں آتے ، یا کسی منکر کو نظریاتی طور پر منکر تو سمجھا جاتا ہے لیکن عملاً اس ماحول یا معاشرے میں اس کا وجود عام نظر آتا ہے۔ اس کے اسباب کی کھوج لگانا ، کہ ایک کام کو اچھا سمجھتے ہوئے لوگ اسے کیوں نہیں کر پارہے یا برا سمجھتے ہوئے اس سے کیوں نہیں بچ پارہے۔ اسباب کی کھوج لگانے کے بعد اس کے تدارک کے ذرائع سوچنا۔
تیسرے یہ کہ معاشروں کے ایک دوسرے سا تھ میل ملاپ اور دیگر محرکات کے نتیجے میں ان کے طرزِ زندگی بلکہ طرزِ فکر میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ کبھی یہ تبدیلیاں خود آرہی ہوتی ہیں اور کبھی پیدا کی جارہی ہو تی ہیں۔ ان پر نظر رکھنا اور ان کے بارے میں مناسب پالیسی طے کرنا۔ یہ کام اتنے سادہ نہیں ہیں کہ انہیں یا تو وعظ ونصیحت کے شعبے پر چھوڑ دیا جائے یا چند لٹھ بردار گروہوں کے رحم پر۔ یا پھر ایسے گروہوں کی مذمت کو کافی سمجھ لیا جائے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کام اداروں کی سطح پر ٹیم ورک کے طور پر سائنسی بنیادوں پر کرنے کے ہیں۔ اس میں جہاں شماریاتی اورمیدانی تحقیق سے کام لینے کی ضرورت ہے وہیں انسانی رویوں کے علوم (Behavioural Sciences ) سے بھی گہرے استفادے کی ضرورت ہے۔ اس سے بھی پہلے اسلامی مصادر بالخصوص سیرت طیبہ کی روشنی میں سماجیات پر اثر انداز ہونے یا ان کے ساتھ کوئی رویہ روا رکھنے کے طور طریقوں کے بارے میں بنیادی اصول منقح کرناہوں گے۔پھر سارے تحقیقی کاموں کو بنیاد بناکر ریاستی ادارے ، میڈیا ، تعلیمی اداروں ، تفریح سازوں ، ادبا وغیرہ زندگی پر اثر انداز ہونے والے تمام طبقات کے لئے آسان گائیڈ لائن تیار کرنا ہوگی۔
یہ سوال اسلامی تحقیق کاروں کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے معاشرتی ریشے اور بافتے صرف کمزور ہی نہیں ہورہے ، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں ہم آدھا تیتر آدھا بٹیر بننے کی بجائے تیتر نہ بٹیر والی صورتِ حال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ معاشرے میں کیا قدریں مروج ہونی چاہئیں، کیا چیز سماجی طور پر قابلِ قبول ہونی چاہئیں کیا نہیں اس حوالے سے کہیں خلا تو پیدا نہیں ہورہا کہ یہ کام کسی منصوبے ، سوچ بچار ، مباحثے وغیرہ پر مبنی ہونے کی بجائے ان چیزوں کو چند سوشل پلیئرز مثلاً میڈیا، یا میڈیا کے بھی ایک حصے اشتہاراتی صنعت کے حوالے کردیا ہو، وہ چاہے تو کچھ عرصے میں معاشرے کے لئے ایسی چیزوں کو بھی قابلِ قبول بنادے جو کچھ عرصہ قبل ناقابلِ قبول تھیں۔
ہمارے ہاں یہ شکایت بکثرت کی جاتی ہے کہ مغرب یا فلاں فلاں طاقتیں یا لابیاں ہمارے معاشرے میں فلاں فلاں غلط چیزوں کو بڑی منصوبہ بندی سے فروغ دے رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک کام ایک انسانی گروہ کرسکتا ہے تو دوسرا کیوں نہیں کرسکتا۔ اگر انسانی معاشرے ، اس کے رویوں اور اس کی سوچ میں غلط تخم کاشت ہوسکتاہے تو اچھا تخم کیوں کاشت نہیں ہوسکتا۔ مذہب اور سماجیات کے باہم ملاپ پر مبنی تحقیق کی روایت غالبا مغر میں موجود نہیں ہوگی ، اس لئے کہ وہاں مذہب صرف نمائشی رہ گیا ہے لیکن کیا ہمارے مغربی نمونے کے بغیر کوئی نئی تحقیقی روایت قائم کرنا ممنوع ہے؟بات شاید وہی ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی اپنے لئے فاعلی کردار کی بجائے انفعالی کردار (passive role ) قبول کرچکے ہیں۔ اگر اس سے نکلتے بھی ہیں تو active یا proactive ہونے کی بجائے reactive ہوجاتے ہیں۔
یہ باتیں تو بطور مثال عرض کی جارہی ہیں۔ اصل مقصود یہ کہنا ہے کہ اسلامی تحقیق کے ایک اہم مقصد اسلامی تعلیمات کو آج کی زندگی میں روبہ عمل لانے کے سلسلے میں اب تک جو کام ہوا ہے اس کے دائرہ کار میں وسعت کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔
اس ضمن میں ایک اور چیز کی طرف اشارہ کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں ایک چیز تزکیہ بھی ذکر کی ہے۔خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کو اپنی بعثت کا مقصد قرار دیا ہے۔ جس کا حاصل صوفیہ کرام کے مطابق اخلاقِ رذیلہ کی اصلاح اور اخلاقِ فاضلہ کو انسان میں راسخ کرناہے۔ یہ کام یقیناًہماری خانقاہوں اور مشائخ نے انجام دیاہے اور اب بھی کسی حد تک چل رہاہے۔ لیکن کیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا یہ مقصد صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو خود کو کسی خانقاہ سے وابستہ کرتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے اور یقیناًنہیں ہے ، بلکہ دین کی اساس ہونے کے ناطے یہ پورے مسلم معاشرے کی ضرورت ہے تو پھر ظاہر ہے کہ اس کام کو خانقاہوں ، تصوف کے سلاسل اور وعظ ونصیحت کی مجالس تک محدود کرنے کی بجائے اس مقصد کے لئے عام زندگی پر اثر انداز ہونے والے تمام عناصر کو استعمال کرنا ہوگا۔ یہ کام کیسے ہوسکتاہے ، اس کے لئے بھی مذکورہ بالا نوعیت کے تحقیقی کام کی ضرورت ہے ، جو صرف لائبریری تحقیق تک محدود نہ ہو بلکہ عملی ، میدانی اورشماریاتی تحقیق پر مبنی ہو اور اس میں رویوں کے علوم (Behavioural Sciences ) کی راہ نمائی بھی مفید ہوسکتی ہے۔ صوفیہ کرام افراد کی اصلاح کرتے ہوئے جب کسی رذیلے کی علامت اپنے کسی مرید میں دیکھتے تھے تو یہ جاننے کی کوشش کرتے تھے کہ اس کا منشا اور سبب کیا ہے ، اسے دریافت کرکے علاج کیا کرتے تھے۔ آج یہی کام بحیثیت مجموعی پورے معاشرے پر بھی ہوسکتاہے۔ مثال کے طور پر ہم اگر دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں غصہ کنٹرول کرنے اور ضبط وتحمل سے کام لینے کی صلاحیت کم ہے تو ہم اس حوالے سے متعلقہ مہارت رکھنے والے اداروں کے تعاون سے شماریاتی ڈیٹا جمع کرسکتے ہیں کہ عموماً کن کن مواقع پر لوگ جلدی سے ایک دوسرے سے الجھ پڑتے ہیں ، اس معاملے میں جنس ، عمر، تعلیم ، معاشرتی طبقات وغیرہ کے حوالے سے کیا کیا فرق پائے جاتے ہیں۔ کس کس طرح کے لوگوں میں کن مواقع پر یہ چیز زیادہ دیکھنے میں آتی ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہوتی ہیں۔ کون کون کس طرح سے اپنے جذبات پر نسبتاً بہتر کنٹرول کرلیتاہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کا ڈیٹا اگر موجود ہو اور اسے استعمال کرنے کا سلیقہ بھی موجود ہو تو عام زندگی کو بھی ایک خانقاہ بنایا جاسکتاہے۔ حاصل یہ کہ معاشرے کو سمجھنے کے لئے میدانی معلومات ، شماریاتی تحقیق اور انسانی رویوں اور سماجیات سے بحث کرنے والے علوم کی مدد سے پورے معاشرے کی تربیت کے بڑے بڑے منصوبے بنائے جاسکتے ہیں۔
اگر خالصتاً ریاست کے حوالے بھی بات کی جائے تب بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں عموماً دو رجحان پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ ریاست کو اس طرح کے معاملات میں بالکل غیر جانب دار رہنا چاہئے ، دوسرا رجحان یہ ہے کہ اس مقصد کے لئے ریاست کو اپنا اختیارِ جبر بھر پور انداز سے استعمال کرنا چاہئے اور حسبہ بل جیسے قوانین لاگو ہونے چاہئیں۔ جبکہ ایک تیسرا راستہ بھی ہوسکتا ہے کہ ریاست اپنے جبر نہیں اپنی پالیسی کے ذریعے یہ کام کرے۔ یہ کام اگرچہ زندگی پر اثر انداز ہونے والی ہر طاقت کرسکتی ہے لیکن ظاہر ہے کہ ریاست کے پاس زندگی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت سب سے زیادہ نہیں تو کافی زیادہ ہوتی ہے۔
بہر حال یہ ایک خوشی کا موقع ہے ادارہ تحقیقاتِ اسلامی جیسا وقیع ادارہ اپنی عمر کے باون سال پورے کررہا ہے۔ اس موقع بس یہ حقیر سی طالب علمانہ خواہش پیش کرنا مقصود ہے کہ پاکستان کے تحقیق اداروں میں اب تک ہونے والے کاموں کے جائزے کے ساتھ نئے تحقیقی راستوں کی تلاش بھی جاری رہنی چاہئے۔
مدارس کی اصلاح: ایک اور کمیٹی!
خورشید احمد ندیم
قوم کو یہ مژدہ ہو کہ مدارس کی اصلاح کے لیے دو کمیٹیاں مزید بنا دی گئی ہیں۔ انسانی یاداشت تو شاید اس کی متحمل نہ ہو سکے، کوئی کیلکولیٹر ہی بتا سکے گا کہ اب تک اس کارِ خاص کی بجا آوری کے لیے کتنی کمیٹیاں بنائی جا چکیں۔ وزیرِ داخلہ نے مکرر ارشاد فرمایا کہ مدارس اور علما نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شاندار کردار ادا کیا ہے۔ سادہ سا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی بڑی شکایت نہیں ہے تو یہ پے در پے کمیٹیاں کس لیے؟ ایسا غیر معمولی اجلاس کیوں جس میں وزیرِ اعظم کے ساتھ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی شریک ہیں۔ ایک معمولی سی بات کے لیے اس سطح کے لوگوں کو زحمت دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ معمولی کام تو وزیرِ داخلہ کے حکم پر ، ان کی وزارت کا معمولی اہل کار بھی نمٹا سکتا تھا۔
خیر یہ امورِ جہاں بانی، ہم جیسے عامی کیا سمجھیں۔ بڑے دماغوں کا کام بڑوں ہی کے لیے چھوڑتے ہوئے، میں ایک بات کو موضوع بنانا چاہتا ہوں جو اعلیٰ سطحی اجلاس سے چھن کر باہر آئی۔ کہا گیا کہ جب اصلاح مطلوب ہے تو صرف مدارس ہی کی کیوں؟ پورے تعلیمی نظام کی کیوں نہیں؟ میرا خیال ہے جس نے بھی یہ بات کہی، اس کی بصیرت کی داد دینی چاہیے۔ یہ سچ ہے کہ اصلاح صرف مدارس کی نہیں، تعلیم کے سارے نظام کی ضرورت ہے۔ اگر یہ مقدمہ درست ہے تو پھر تعلیم کو ایک اکائی کے طور پر دیکھنا پڑے گا۔ پھر دینی اور دنیاوی کی تقسیم غیر ضروری ہے۔ پھر تو معاملے کا سارا تناظر ہی بدل جائے گا۔
مدارس کیوں ضروری ہیں؟ ہم سب جانتے ہیں کہ مدارس اُس علمی ورثے کی حفاظت کے لیے وجود میں لائے گئے تھے، انگریزوں کی آمد کے بعد، جس کے ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ یہ خدشہ بے بنیاد نہیں تھا۔ مدارس نے اپنے ذمہ دو کام لیے۔ ایک یہ کہ ایسے علما تیار کیے جائیں جو روایتی علوم کے ماہر ہوں اور یوں اس روایت کو زندہ رکھیں۔ دوسرا یہ کہ سماج کی دینی ضروریات پوری کریں۔ مسلمان گھرانوں کو وہ معلم میسر آئیں جو ان کے بچوں کو دینی تعلیم دے سکیں۔ ان کی مساجد کو آباد رکھیں اور یہ کہ موت اور پیدائش سے متعلق دینی رسوم ادا کی جا سکیں۔ آزادی کے بعد لازم تھا کہ ریاست یہ ذمہ داری اٹھا لیتی۔ اس نے ایسا نہیں کیا۔ یوں یہ روایت نجی سطح پر برقرار رہی کیونکہ ضرورت باقی تھی۔ریاست کی اس لاتعلقی نے مذہب کی ایک معیشت کو جنم دیا۔ یوں ایک طبقہ وجود میں آیاجس کی معاش اس سے وابستہ ہو گئی۔ ۱۹۷۹ء کے بعد جب ریاست کو افغانستان میں ایک معرکہ درپیش ہوا تو اس نے ان مدارس کو ایک نرسری سمجھا اور یوں ان کی مدد سے افغانستان کی جنگ کے لیے رضا کار تیار کیے اور وہ مبلغ بھی جو ریاست کے تصورِِِ جہاد کو پھیلا رہے تھے اور مزید رضا کا ر تیار کرنے میں ریاست کے مددگار تھے۔
اس کے نتیجے میں جو کچھ ہوا، اسے بارہا دہرایا جا چکا۔قصہ مختصر کہ اب ریاست اس کام کو سمیٹنا چاہتی ہے، جسے اس نے ۱۹۷۹ء کے بعد پھیلا دیا تھا۔ اس باب میں ریاست سے دو بنیادی غلطیاں ہوئیں۔ ایک تو یہ کہ آزادی کے بعد اس نے مسلم آبادی کی دینی ضروریات سے صرفِ نظر کیا۔ دوسرا یہ کہ افغانستان کی جنگ میں اس نے ان مدارس کے سماجی کردار کو یکسر تبدیل کر دیا۔ پہلے ان کا کام سماج کی دینی ضروریات کی تکمیل تھا۔ اب انہیں ریاست کے سکھائے ہوئے تصورِ دین کا مبلغ بنا دیا گیا اور ساتھ ہی رضا کاروں کی فراہمی کا کام بھی سونپ دیا گیا۔ ریاست ہی نے وہ ماحول فراہم کیا جس کے ذریعے ،مذہبی سیاسی جماعتوں نے ،طلبا تنظیموں کے زیرِ اہتمام، اس تصورِ دین کو جدید تعلیمی اداروں تک پہنچادیا۔ اب اس تصورِ دین کے مبلغ اور رضاکار دونوں طرح کے تعلیمی اداروں میں موجود تھے۔ افغان جنگ سے لے کر القاعدہ تک، سب کوزیادہ جان نثار، جدید تعلیمی اداروں سے ملے۔ اس کے لیے اگر آج کسی مردِ دانا نے پورے نظامِ تعلیم کی اصلاح کی بات کی تو اس نے غلط نہیں کہا۔
اس خرابی نے چونکہ ریاست کی غلطی سے جنم لیا، اس لیے لازم ہے کہ وہی اس کو درست کرے۔ ایک تووہ سماج کی دینی ضروریات کی تکمیل کی ذمہ داری اٹھائے۔ دوسرا یہ کہ تعلیمی نظام کو ایک سمت دے اور اس سے دوئی کوختم کرے۔ میں اس کے لیے چند اقدامات تجویز کر رہا ہوں:
۱۔ملک میں بنیادی بارہ سالہ تعلیم کا یکساں نظام قائم کیا جائے۔ تمام بچوں کے لیے یہ تعلیم لازم ہو۔
۲۔بارہ سالہ تعلیم کے بعد تخصص کا آغاز ہو۔ آج جس طرح میڈیکل، انجیرینگ اور دوسرے شعبوں کے ماہرین تیار کرنے کے لیے خصوصی تعلیم کے کالجز قائم ہیں، اسی طرز پر دینی تعلیم کے ماہرین کی تیاری کے لیے ادارے قائم ہوں جہاں پانچ سال تک دین کی تعلیم دی جائے۔
۳۔حکومت جس طرح ڈاکٹرز، انجینیرزکو ڈگری دیتی ہے اسی طرح دینی تعلیم کے ماہرین کو ڈگریاں جاری کرے۔ ان کو بھی اسی طرح تنخواہیں اور مراعات دی جائیں، جیسے دوسرے شعبے کے لوگوں کو دی جاتی ہیں۔
۴۔مرکزی سطح پر ایک محکمہ قائم کیا جائے جو سماج کی دینی ضروریات کا خیال رکھے۔ مسجد، مکتب اور دیگر دینی ذمہ داریوں کے لیے افراد کا انتخاب کرے اور ان کی تعیناتی کرے۔ اس کے لیے ترکی کے ادارے ’دیانت‘ کو مثال بنایا جا سکتا ہے ۔
۵۔اس وقت جو دینی مدارس تخصص اور اعلیٰ تعلیم کی شہرت رکھتے ہیں،انہیں اسلامی یونیورسٹی کا درجہ دے دیا جا ئے۔ان کا نظم بھی دیگر یونیورسٹیوں کی طرح ایچ ای سی (HEC) کے پاس ہو۔نجی سطح پر اعلیٰ دینی علوم کے لیے یونیورسٹیاں قائم کر نے کی اجازت ہو جس طرح آج دیگر علوم کے لیے جامعات قائم ہو رہی ہیں۔
۶۔ دیگر تمام مدارس کو بارہ سال کی عمومی تعلیم کے اداروں میں بدل دیا جائے۔ اساتذہ میں جو اہل ہیں، انہیں ریفرشر کورسز کرائے جائیں اور انہیں وہی سکیل دیے جائیں جو اس وقت دیگر اساتذہ کو دیے جاتے ہیں۔ جو اپنی تعلیم کو بہتربنانا چاہیں، انہیں اس کا موقع دیا جائے۔عام اساتذہ کی طرح ان کی بھی تبدیلی اور ریٹائرمنٹ ہو۔
۷۔تمام تعلیمی اداروں میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا داخلہ ممنوع ہو، انہیں طلبا ونگز بنانے سے روک دیا جائے ۔اداروں کی انتظامیہ کو پابند کیا جائے کہ طالب علموں کی دینی اور دیگر ضروریات کا خیال رکھے۔ جیسے مسجد کا قیام اور مروجہ اخلاقی روایات کی حفاظت۔
۸۔اتحاد تنظیمات المدارس کے ذمہ داران کی مشاورت سے اس سارے نظام کی تشکیلِ نو کی جائے اور اس کے لیے تدریج کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ جن مدارس کو عمومی تعلیم کے اداروں میں بدلنا ممکن نہ ہو تو انہیں مکتب بنا دیا جائے، جن کی حیثیت قبل از تدریس (Pre-Schooling) اداروں کی ہو۔
۹۔حکومت علما کی تائید حاصل کر نے کے لیے،یہ منصوبہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی مو جود گی میں ان کے سامنے رکھے۔ انشاء اﷲ برکت ہوگی۔
کیا یہ سب کچھ ہو جائے گا؟ میرا جواب ہے ؛’نہیں‘۔ اربابِ اقتدار اور بیورکریسی میں یہ صلاحیت موجود نہیں۔ ان کی قوتِ پرواز ہم دیکھ چکے جو اسلام آباد کے نظامِ صلاۃ تک ہے۔ نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ اس کام کے لیے سماج اور مذہب کا مطالعہ ضروری ہے۔ یہ اہلِ اقتدار کے نصاب میں شامل ہیں نہ افسر شاہی کے۔ اگر میں اس کو لاحاصل سمجھتا ہوں تو لکھ کیوں رہا ہوں؟ اس کا میرے پاس ایک ہی جواب ہے: وما علینا الاالبلاغ
(بشکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘)
وزیر اعظم ہاؤس میں اجلاس
مولانا مفتی منیب الرحمن
۷ ستمبر کو وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں وطن عزیز کی اعلیٰ سیاسی ودفاعی قیادت کا دینی مدارس کی پانچ تنظیمات کے قائدین کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعظم جناب محمد نواز شریف، مسلح افواج کے سپہ سالار جناب جنرل راحیل شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر، وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور وزیر تعلیم بلیغ الرحمن کے علاوہ اہم وزارتوں کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔ دینی مدارس کی تنظیمات کے قائدین کے اسماء گرامی میڈیا پر آ چکے ہیں۔ اندر کا ماحول خوشگوار تھا۔ باہمی اعتماد اور احترام کی فضا تھی۔ کوئی تناؤ نہیں تھا اور اگر اس میں طے شدہ امور پر لفظاً ومعنیً عمل ہوا تو ان شاء اللہ العزیز اس کے یقیناًمثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ لیکن پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے مہربان دوستوں نے اپنی خواہشات کو خبر بنا کر آتش بداماں سرخیاں لگائیں اور بحث مباحثے کی مجالس ٹیلی ویژن اسکرین پر برپا ہو گئیں۔ پیر زادہ قاسم صدیقی نے کہا ہے:
شہر کرے طلب اگر تم سے علاج تیرگی
صاحب اختیار ہو، آگ لگا دیا کرو
اجلاس کے بعد وزیر داخلہ جناب چوہدری نثار علی خاں کی پریس کانفرنس متوازن تھی، لیکن اگر شروح وحواشی کے ساتھ خبر میں مصالحہ ڈال کر تڑکا نہ لگایا جائے تو بات نہیں بنتی۔ ہمارے ایک مہربان صاحب قلم جو گہرائی تک جاتے ہیں اور بین السطور کا بھی مطالعہ کرتے ہیں، انھوں نے اس اجلاس کو مایوس کن قرار دیا اور اسے ریاست کی کمزوری قرار دیا۔ ریاست کی کموری پر الگ سے بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، مگر پھر کبھی۔ میڈیا کے دوستوں نے یہ تاثر دیا کہ گویا چیف آف آرمی اسٹاف اہل مدارس کی مشکیں کسنے اور انھیں بیڑیوں میں جکڑنے کے لیے آئے تھے۔ غالب نے کہا ہے:
تھی خبر گرم غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
ہماری مسلح افواج کے سپہ سالار جناب جنرل راحیل شریف ایک مشکل اور پیچیدہ جنگ کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ ملک کی سرحدوں کے اندر ریاست سے برسرپیکار مفسدین کے خلاف جنگ ہے اور بیک وقت شہروں اور دشوار گزار قبائلی علاقوں میں برپا ہے۔ نریندر مودی انتہائی جارحانہ انداز اختیار کیے ہوئے ہے۔ افغانستان کو تو وہ العیا ذباللہ پاکستان کی شکست وریخت کے لیے پہلے ہی مرکز بنائے ہوئے تھے، لیکن متحدہ عرب امارات میں ہمارے مہربان دوستوں نے اپنی تمام تر روایا ت کے برعکس مودی کے لیے جلسہ عام کا اہتمام کیا جس میں صر ف پاکستان کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اس سے پاکستان کو یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ گوادر چائنا اقتصادی شاہراہ انھیں کسی طور پر گوارا نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور ایران کے مابین اپنے دائرۂ اثر کے پھیلاؤ کے لیے سرد جنگ جاری ہے اور یمن میں تو گرم جنگ بھی بپا ہے اور متحدہ عرب امارات سعودی عرب کی ’’خلیج تعاون کونسل‘‘ کا سب سے اہم شراکت دار ہے، لیکن اسے مودی کی جادوگری کہیے کہ بیک وقت اس کی قربتیں ایران اور سعودی عرب ومتحدہ عرب امارات کے ساتھ قائم ہیں، یعنی اپنے مفاد میں اس نے آگ او رپانی کا ملاپ کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ انڈیا گوادر ایئر پورٹ کو غیر موثر بنانے کے لیے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کو ترقی دینے کے لیے اپنے خزانے کی تجوریاں پہلے ہی کھول چکا ہے۔
ان حقائق کے باوجود ہمارے میڈیا کے مہربان کیا یہ چاہتے ہیں کہ ملک کے اندر نئے نئے محاذ کھلیں اور ہماری مسلح افواج چومکھی لڑائی میں پھنس جائیں اور اصل ہدف کو سانس لینے اور اپنی حکمت عملی ازسرنو ترتیب دینے کا موقع مل جائے؟ ہماری رائے میں حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ جنگ کے سپہ سالار کو اپنی حکمت عملی اور ترجیحات خود طے کرنے کا موقع دیا جائے اور قوم کے تمام تر طبقات ان کی غیر مشروط حمایت کریں، ان کی پشت پر کھڑے ہوں تاکہ پتا چلے کہ یہ قومی جنگ ہے اور قوم پورے عزم کے ساتھ اسے کامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے یک سو ہے۔ سندھ میں کرپشن کے خلاف کارروائی سے بعض سیاسی عناصر پہلے ہی مضطرب اور سیخ پا ہیں، اس لیے حکمت اور ٹھہراؤ کے ساتھ معاملات سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔
میں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ہمیں طویل تقاریر کی بجائے اصل مسئلے پر گفتگو کرنی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ ریاست کو ہم سے کیا چاہیے اور ہم ریاست سے کیا چاہتے ہیں؟ گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے تواتر کے ساتھ جو اصطلاحات ہم سنتے چلے آ رہے ہیں اور ہمیں ازبر ہو چکی ہیں، وہ یہ ہیں: فرقہ وارانہ منافرت، فرقہ وارانہ تصادم، شدت پسندی، انتہا پسندی اور سابق صدر جناب جنرل پرویز مشرف کے تحائف میں سے آزاد خیالی ، روشن خیال اعتدال پسندی شامل ہیں۔ جہاں تک مسالک کی خلافیات کے بارے میں علمی ابحاث کا تعلق ہے، وہ اکیڈمک ہیں اور ان کا تعلق کلاس روم اور درس گاہ سے ہے۔ ان کا عوامی اجتماعات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ دینی لٹریچر قرون اولیٰ سے چلا آ رہا ہے اور دنیا کی تمام یونیورسٹیوں اور درس گاہوں میں موجود ہے۔ اس نے ماضی میں کبھی بھی ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے کے لیے مسلح جتھے پیدا نہیں کیے اور نہ ہی مذہب ومسلک کی بنیاد پر قتل وغارت کا بازار گرم رہا ہے۔ یہ رجحان کب پیدا ہوا، کیوں پیدا ہوا، اس کے قومی اور بین الاقوامی محرکات کیا تھے، یہ لوگ کہاں پائے جاتے ہیں، ان کے تیکنیکی اور مالیاتی ذرائع کہاں ہیں؟ ان امور کو ریاستی ادارے ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ ریاست ان کے خلاف جو بھی کارروائی کرے گی، ہم ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں گے، ان کے حمایتی نہیں ہوں گے۔
ہم پانچوں تنظیمات کی طرف سے یہ متفقہ تحریر دے چکے ہیں کہ اگر ریاستی اداروں کے پاس شواہد ہیں کہ کوئی ادارہ یا مدارس سے متعلق بعض افراد کسی بھی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف شواہد کی روشنی میں جو بھی کارروائی کی جائے گی، ہم ان کا کوئی دفاع نہیں کریں گے اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں گے، لیکن حال ہی میں ہمارے اعلیٰ شہرت کے حامل عصری تعلیمی اداروں کے بعض طلبہ کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے اور ایسی بہت سی اور مثالیں بھی ہیں تو کیا اس کی بنیاد پر ان اداروں کو دہشت گرد قرار دے دیا جائے گا؟ اب تو مغربی تعلیمی اداروں سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں داعش اور القاعدہ میں آ کر شامل ہو رہے ہیں اور ان میں سے بعض یمن، عراق وشام اور وزیرستان میں ڈرون حملوں کا نشانہ بھی بن چکے ہیں۔ سو یہ ایک ذہنی سوچ اور فکری رویہ ہے جو ذہنوں میں جنم لے رہا ہے اور اس کے من جملہ محرکات میں ذہن سازوں کی مہارت کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر نا انصافیاں اور جدید آئی ٹی دور میں مظالم کی داستانوں کی سوشل میڈیا پر تشہیر بھی ہے۔
میں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ الیکٹرانک میڈیا پر مسلی خلافیات کے بارے میں مناظرانہ بحث مباحثے پر پابندی لگائی جائے۔ یہ اکیڈمک مباحث ہیں اور انھیں کلاس روم تک محدود رہنا چاہیے۔ اسی طرح عام اجتماعات میں نفرت انگیز خطابات پر پابندی لگا کر اسے قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے اور گلی کوچوں ومحلوں میں ہر قسم کے جلسوں پر وقت کی پابندی کا اطلاق کیا جائے۔ ساری رات لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے دور دور تک لوگوں کو پریشان کرنا، نیند سے محروم کرنا، مطالعے میں مصروف طلبہ یا مریضوں کو بے چین کیے رکھنا شرعاً درست نہیں ہے اور اسے قانون کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔ لہٰذا ہر مذہبی یا سیاسی جلسے کی اجازت انتہائے وقت کے تعین کے ساتھ مشروط ہونی چاہیے۔
ہمارے بعض دوستوں کی یہ خواہش ضرور ہے کہ کشتوں کے پشتے لگیں، پورے منظر کو تہ وبالا کر دیا جائے، مگر انھیں احساس ہونا چاہیے کہ ملک کسی انقلابی عمل سے نہیں گزر رہا۔ داخلی فساد اور مفسدین کے خلاف جنگ او رکرپشن کی تطہیر کی مساعی نظام کے اندر رہ کر ہو رہی ہیں اور نظام کی محدودیت کا ہر ایک کو ادراک ہونا چاہیے۔ فوجی عدالتوں کے لیے بھی نظام کے اندر گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ ہمارے ایک مہربان دوست نے لکھا کہ مدارس کا معاملہ پھر نامعلوم شروعات کی بھول بھلیوں میں دفن کر دیا گیا ہے، حالانکہ ۲۰۱۰ء کا معاہدہ معقول تھا اور اسی کو آگے بڑھانا چاہیے۔ اس سے قطع نظر کہ اس وقت یہ معاہدہ ہمارے میڈیا کے پرجوش دوستوں کو ایک آنکھ نہیں بھایا تھا، مگر آج اس کی پسندیدگی پر ہم تہ دل سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور انھیں یقین دلاتے ہیں کہ معاملہ وہیں سے آگے بڑھے گا جہاں پر رکا تھا۔ یہ ریاست اور ہم سب کے مفاد میں ہے۔ باقی امور پر پھر گفتگو ہوگی۔ ہمارے ایک مہربان دوست تکرار کے ساتھ یہ کہتے رہتے ہیں کہ ان چند لوگوں کے ساتھ ہی بات کیوں کی جاتی ہے۔ گویا ’’ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں‘‘۔ ہمیں ان کی بھاری جسامت اور وزن کا احساس ہے، لیکن تلخ حقائق کو قبول کرنے ہی میں عافیت ہے۔ ملک کا نظام چلانے والے، حساس معاملات پر نظر رکھنے والے اور پاکستان کے دینی مدارس کے غم میں گھلنے والی بیرونی قوتیں خوب جانتی ہیں کہ ملک کے اٹھانوے فی صد مدارس کا نظم ان ہی پانچ تنظیمات کے ساتھ مربوط ہے۔ لہٰذا جب بھی سنجیدہ مکالمے کی نوبت آئے گی، انھی ’’بے وزن‘‘ لوگوں کے ساتھ بات کرنی پڑے گی۔ یہ ان کی ترجیح نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ اور اگر کوئی ہمارے ان دوستوں کے ساتھ مکالمہ کر کے نظم میں کوئی بہتری لا سکتا ہے تو بصد شوق ایسا کرے، ہمیں کوئی شکایت نہیں ہوگی۔
(بشکریہ روزنامہ دنیا، لاہور)
امام ابن جریر طبریؒ کی جلالت ۔ چند مزید باتیں
مولانا عبد المتین منیری
’’مستشرقین کے ایک بڑے طبقے کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اسلامی شریعت ، مسلمانوں کی تاریخ اور تہذیب و تمدن میں کمزوریوں اور غلطیوں کی تلاش و جستجو میں وقت صرف کریں ، اور سیاسی و مذہبی اغراض کی خاطر رائی کا پربت بنائیں۔ اس سلسلے میں ان کا کردار بالکل اس شخص کا سا ہے جس کو ایک منظم و خوشنما اور خوش منظر شہر میں صرف سیو ریج، نالیاں ، گندگی اور گھورے نظر آئیں، جس طرح محکمہ صفائی کے انچارج کسی کارپوریشن اور میونسپلٹی میں منصبی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ اس طرح کی رپورٹ پیش کرے جس میں طبعی طور پر قارئین کو سوائے گندگیوں اور کوڑے کرکٹ کے تذکرے کے عام طور پر کچھ نہیں ملتا ۔‘‘
۱۹۸۲ء میں اسلام اور مستشرقین کے موضوع پر منعقدہ عالمی سیمی نار میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے پیش کردہ یہ کلمات نہ جانے کیوں ہمارے ذہن میں بار بار گردش کررہے تھے جب محترم کالم نگار جناب اوریا مقبول جان صاحب کے امام طبری ؒ پر مرکوز کالموں پر ہماری نظر پڑی تھی ۔ پھر ان پر ہمارے ایک وضاحتی مضمون(مطبوعہ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ شمارہ ستمبر ۲۰۱۵ء) پر ان کا ردعمل مزید پریشانی کا باعث بنا۔ دنیا کی وسعتوں کو دیکھنے والے کالم نگار نے اس رد کے ذریعے ہماری معلومات میں اضافہ یا ان کی تصحیح کی ہے۔ممکن ہے اس کا سبب ہمارا فہم ناقص ہو، جس نے تازہ کالم سے ہماری معلومات میں اضافہ کا احساس نہ ہونے دیا ہو اور ہمیں اس میں حبیب جالب مرحوم کے مصرعے ’’میں نہیں مانتا ، میں نہیں جانتا‘‘کی گونج سنائی دی ہو ۔ ان کا جوابی کالم پڑھ کر ہمیں محسوس ہوا کہ فاضل دانشور نے ہمارے مضمون کو ٹھنڈے دل سے پڑھنے کی کوشش نہیں کی ہے ، بس پتہ نہیں موصوف نے یہ کیوں مان لیا کہ خود وہ حد سے گذر جائیں تو معاف ہے ، اگر وہ کسی خالص علمی اور فنی بحث کو عامۃ الناس میں لے جائیں تو اخلاص اور دانشمندی کی انتہا ہے۔جب وہ ایک امام وقت کے لیے ایسالب و لہجہ استعمال کریں جو اہل علم کا شیوہ نہیں تو درست ، لیکن جب کاٹ خود ان پر پڑے تو تلملا اٹھیں ۔اسے انصاف نہیں کہا جاسکتا!
ہم نے اپنے مضمون میں یہ بات کہی تھی کہ : ہماری بہت سی متعدد محترم شخصیات کے امام طبریؒ کے تئیں غلط فہمی پر مبنی موقف اختیار کرنے کا سبب یہ ہے کہ چونکہ یہ علمی شخصیات مغربی سامراج کے دور عروج میں ابھریں تھیں ، تو یہ لاکھ انکار کریں لیکن ان پر مستشرقین کے اسلوب نقد سے مرعوبیت جھلکتی ہے اور یہ فطری بات ہے کہ ان کے مخاطب یہی تو لوگ تھے۔ انھی کے اسلوب میں انھی کے اعتراضات کا توڑ پیش کرنا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ موصوف بھی کبھی کبھار مستشرقین کے اسالیب سے متاثر ہوجاتے ہیں ۔ علامہ شبلی ؒ نے سیرت النبی ؒ کے مقدمہ میں مستشرقین کے انداز تحقیق کے بارے میں لکھا ہے کہ :
’’سیرت نبویؐ کے واقعات جو قلم بند کئے گئے وہ تقریبا نبوت کے سو سال بعد قلم بند ہوئے ، اس لئے مصنّفین کا ماخذ کوئی کتاب نہ تھی ، بلکہ اکثر زبانی روایتیں تھیں ۔ اس قسم کا موقع جب دوسری قوموں کو پیش آتا ہے یعنی کسی زمانے کے حالات مدت کے بعد قلم بند کئے جاتے ہیں تو یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ ہر قسم کی بازاری افواہیں قلم بند کرلی جاتی ہیں ۔ جن کے راویوں کا نام و نشان تک معلوم نہیں ہوتا ۔ ان افواہوں میں سے وہ واقعات انتخاب کرلئے جاتے ہیں جو قرائن قیاسات کے مطابق ہوتے ہیں ۔ تھوڑی دیر کے بعد یہی خرافات ایک دلچسپ تاریخی کتاب بن جاتے ہیں ، یورپ کی تاریخی تصنیفات اسی اصول پر لکھی گئی ہیں۔ ‘‘
کیا یہ حقیقت نہیں کہ مستشرقین یورپ نے سیرت کو بھی اپنے اسی معیار پر رکھا، اور اپنے ہی معیارات کے مطابق سیرت پاک میں کیڑے نکالنے لگے؟ کالم نگار نے بھی انہی معیارات کو درست سمجھ کر جن مورخین سیرت نے امانت داری اور غیر جانب داری سے واقعات نقل کئے تھے ، انہیں مورد الزام ٹھیرا دیا حالانکہ ان کی نظر سے علامہ شبلی نعمانی ؒ کی یہ عبارت گزرنی چاہیے تھی کہ :
’’لیکن مسلمانوں نے اس فن سیرت کا جو معیار قائم کیا ، وہ اس سے بہت زیادہ بلند تھا۔ اس کا پہلا اصول یہ تھا کہ جو واقعہ بیا ن کیا جائے، اس شخص کی زبان سے بیان کیا جائے جو خود شریک واقعہ تھا۔ اگر خود شریک واقعہ نہ تھا تو شریک واقعہ تک تمام راویوں کا نام بہ ترتیب بتایا جائے ۔اس کے ساتھ یہ بھی تحقیق کی جائے کہ جو اشخاص سلسلہ روایت میں آئے ، کون لوگ تھے ؟ کیسے تھے ؟ کیا مشاغل تھے ؟ چال چلن کیسا تھا ؟ حافظہ کیسا تھا؟ سمجھ کیسی تھی ؟ ثقہ تھے یا غیرثقہ ؟سطحی الذہن تھے یا دقیقہ بیں ؟ عالم تھے یا جاہل ؟ان جزئی باتوں کا پتہ لگانا سخت مشکل بلکہ ناممکن تھا۔ سینکڑوں ہزاروں محدثین نے اپنی عمریں اسی کام میں صرف کردیں ، ایک ایک شہر میں گئے ، راویوں سے ملے ، ان کے متعلق ہر قسم کی معلومات بہم پہنچائے ، جو لوگ ان کے زمانے میں موجود نہ تھے، ان کے دیکھنے والوں سے حالات دریافت کیے، ان تحقیقات اسماء الرجال ( بائیوگرافی ) کا وہ عظیم الشان فن تیار ہوگیا ، جس کی بدولت آج کم از کم لاکھ اشخاص کے حالات معلوم ہوسکتے ہیں اور اگر ڈاکٹر اسپرنگر کے حسن ظن کا اعتبار کیا جائے تو یہ تعداد پانچ لاکھ تک پہنچتی ہے ‘‘۔
واضح رہے کہ ہم نے اپنے مضمون میں اس نکتے پر اپنی بحث مرکوز کی تھی کہ :’’امام طبری ؒ نے ایک ایسا دور پایا تھا، جب کہ آئندہ نسلوں کے لیے حدیث و روایات کے ورثے کی من و عن، بلا کم و کاست منتقلی پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی۔ آپ کے دور کے آتے آتے صحابہ تابعین اور تبع تابعین کا دور ختم ہورہا تھا اور ڈر تھا کہ کہیں اس طبقے کے افرادکی آنکھیں بند ہوتے ہی، علم وروایت کے انمول ذخیرے بھی قبروں کی مٹی میں گھل نہ جائیں ، تو ان کی روایات اور آثار کی حفاظت پر توجہ زیادہ دی جانے لگی‘‘۔لہٰذا آپ کے زمانے میں اہل علم کا روایات جمع کرنے کا جو طریقہ رائج تھا، امانت داری کے ساتھ آپ نے اسے اپنا یا ہے اور روایت نقل کرتے وقت آپ کی حیثیت عدالت کے ایک جج کی نہیں بلکہ عدالتی پراسیکیوٹر کی ہے جو اپنے ہاتھ میں ملنے والے تمام دلیلوں اور شواہد کو سینت سینت کر محفوظ رکھتا ہے ، اور فیصلہ فاضل عدالت پر چھوڑ دیتا ہے ۔ ہمیں محترم اوریا صاحب کے اس بیان سے خوشی ہوئی کہ’’ وہ عربی زبان سے واقف ہیں‘‘۔ لیکن انہوں نے اپنے کالم میں یہ نہیں بتایا کہ تاریخ طبری کے عربی ایڈیشن میں یہ جو مصنف کا فرمان ہے کہ اذ لم نقصد بکتابنا ھذا الاحتجاج بذلک (تاریخ الطبری، اول، ص۷) کہ ہمارا ارادہ اس کتاب کے لکھنے سے یہ نہیں ہے کہ لوگ اس سے سند پکڑیں اور حجت لیں، یا یہ کہ والآثار التی انا مسندھا الی رواتھا ان آثار کو ہم نے ان کے راویوں تک سند کے ساتھ بیان کردیا ہے کہ آپ نے اپنے دور کی روایتوں کے نقل کرنے کے لئے رائج اصول کو امانت دار اور غیر جانب داری سے اپنایا ہے یا نہیں ؟
محترم کالم نگار کا یہ فرمان ہے کہ:
’’ میری حیرت کی اس وقت انتہا نہ رہی جب میرے سیکولر دوست تو میری اس وضاحت پر خاموش ہوگئے ، لیکن چند علمائے امت اپنی تلواریں سونت کر مجھ پر پل پڑے ۔۔۔ ان علماء نے طبری کا دفاع صرف اس لئے کیا کہ گزشتہ چند سو سالوں سے ان کے مدارس میں تفسیر جلالین پڑھائی جاتی ہے اور اس میں اس واقعہ غرانیق کا ذکر ہے جس کا ماخذ طبری کے سوا کوئی اور نہیں‘‘۔
ہماری نظر سے ابھی تک کالم نگار کے فرمان کے جائزے پر مبنی پاکستان کے اخبارات و رسائل میں کوئی مضمون نہیں گزرا ہے ۔ شاید فاصلوں کی وجہ سے ایسا ہوا ہو۔ رہی بات ’’حضرت زیدؓ کے نکاح کی روایت کی یا غرانیق کی‘‘ تو کوئی مسلمان اہل علم ایسا نہیں جو انہیں درست سمجھتا ہو ، لیکن یہ سمجھنا کہ امام طبری ؒ نے انہیں درست مان کر نقل کیا ہے، امام صاحب کے ساتھ سراسر سنگین زیادتی ہے ۔ کالم نگار کا یہ کہنا کہ ان کا ماخذ طبری ؒ کے سوا کوئی اور نہیں ہے، موصوف کی لاعلمی کی ایک اور دلیل ہے ۔ یہ موضوعات سیرت و تاریخ کے گھسے پٹے موضوعات ہیں ، ان پر عرصہ دراز قبل تحقیقی کام ہوچکا ہے ۔ ایک نظر شیخ محمد ناصر الدین الالبانی ؒ کے رسالہ نسف المجانیق لنسف قصۃ الغرانیق پر ڈال لیں ۔ اس سے پتہ چل جائے گا کہ یہ روایت طبریؒ کے علاوہ کن کن راستوں سے در آئی ہے ۔ یہ امام طبریؒ اور دوسرے ائمہ روایت کا احسان ہے کہ انہوں نے غلط اسانید کو من و عن پیش کردیا جس کی وجہ سے جن راستوں سے غلط روایات داخل ہوئیں ان کا علم ہوپایا ۔ اگر یہ ائمہ محمد بن سائب کلبی ، سیف بن عمر تمیمی ، اور ابو مخنف لوط بن یحییٰ وغیرہ کی روایات کو اسانید کے ذکر کے ساتھ نہ لاتے تو ان کے غیر ثقہ یا ضعیف راویوں کی کڑیاں کبھی نہ مل پاتیں ۔ ان ائمہ نے اسانید کے ساتھ روایات کو نقل کرکے مرض کی جڑ تک پہنچنا آسان کردیا ہے ، اب اس پر ان کی خدمت کا اعتراف کرنے کے بجائے انھی پر گُرز چلانے والوں کو دیکھ کر کبیر داس کا دوہا یاد آتا ہے کہ
رنگی کو نارنگی کہیں بنے دودھ کوکھویا
چلتی کو یہ گاڑی کہیں دیکھ کبیرا رویا
علم رجال بہت سے عالم فاضلوں کے لئے بھی بڑا خشک موضوع ہے ۔ اس کی فنی باریکیوں کو سہل زبان میں اس طرح پیش کرنا کہ متوسط سطح کا قاری آسانی سے سمجھ سکے، بہت مشکل کام ہے ۔یہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ جھوٹا بھی سچ بولتا ہے ، اور اگر وہ عینی گواہ ہوتو اس سے کسی واقعے کے بارے میں ایسی باریکیاں اور تفصیلات ملتی ہیں جو حقیقت تک پہنچنے میں ممد معاون ثابت ہوتی ہیں ۔ لہٰذا علمائے حدیث نے ضعیف اور غیر ثقہ راویوں کو جھوٹ کا پلندہ سمجھ کر چھوڑ نہیں دیا ہے بلکہ ان کی تحقیق اور ان روایات کا ثقہ روایات سے موازنہ کرکے ضعیف راویوں کی روایات میں اضافوں اور ان اضافوں کے علمی فوائد کا باریک بینی سے جائزہ لے کراہم علمی نکات نکالے ہیں ۔ اب مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری (ضخامت:۵۲۴) تصنیف یحییٰ بن ابراہیم بن علی یحییٰ کو ہی لیجئے ۔ اس میں ابی مخنف کی تاریخ طبری میں روایت کردہ جملہ روایات کا تجزیہ کیا گیا ہے اور سند میں موجود ایک ایک راوی ، روایتوں میں ان کے اضافے اور صحیح روایات سے ان کی مطابقت کا جائزہ لیا گیا ۔
کالم نگار صاحب کی اس بات نے کہ: ’’میرے سیکولر دوست تو میری اس وضاحت پر خاموش ہوگئے‘‘ ہمیں حیرت میں ڈال دیا ہے۔ سیکولر طبقہ میں سے کوئی دینی روایات کے ورثے کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کر تا تو کون ان کی باتوں پر دھیان دیتا، جب کہ اوریا صاحب کا شمار تو خوگر حمد اصحاب میں ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کے ایک ہمدرد کی حیثیت سے ان کے سطحی اور تباہ کن بیان کو درست سمجھنے والے مخلصین بھی موجود ہیں۔ سیکولر طبقہ کے ایسے بھاگ کہاں، ان کی دشمنی تو کھلی ہوئی ہے، لیکن میٹھے زہر کا تریاق کہاں سے لائیں ۔ آخر حرف شکایت وہ زبان پر کیوں لاتے ، ان کے دل کی بات تو کالم نگار کی زبان سے ادا ہوگئی ہے۔
یہ بات دینی و عربی کتابوں کا ادنیٰ قاری بھی جانتا ہے کہ تفسیر الطبری (جامع البیان عن تاویل آی القرآن) اور تاریخ الطبری (تاریخ الامم و الملوک) اہل سنت کے امام ابو جعفرمحمد بن جریر طبری ؒ ف ۳۱۰ھ کی تصنیف ہے ۔اگر کالم نگار کو اس میں بھی شک تھا تو پھر اس نے امام طبریؒ پر کالم سیاہ کرکے خودپر بڑا ظلم کیا ہے۔ جس کے سرہانے مستشرقین کی کتابیں پڑی رہتی ہیں، اسے کم از کم کارل بروکلمان کی کتاب : Geschichte der Arabischen Litteratur ہی کی جانکاری حاصل کرلینی چاہئے تھی ۔ اس عظیم مستشرق نے اپنی کتاب میں عہد جاہلیت سے ۱۹۳۹ء تک جتنی کتابیں عربی زبان میں لکھی گئی ہیں، ان کے مصنفین کون کون ہیں؟ ان کتابوں کی مصنفین کی طرف نسبت کن کن علمی حوالہ جات سے ثابت ہے؟ ان کے قلمی نسخے دنیا کے کن کن کتب خانوں میں موجود ہیں؟ یہ کب اور کہاں کہاں چھپی ہیں؟ ان کے حالات زندگی پر کون کون سی کتابوں اور مقالات میں تذکرہ ملتا ہے؟ ان سب باتوں کا اشاریہ دیا ہے ۔یا پھر ڈاکٹر فواد سزگین کی Geschichte des Arabischen Schrifttums دیکھ لیتے جس میں سزگین نے ۴۳۰ھ تک کے مصنفین کے تعلق سے بروکلمان کے پروجیکٹ کو آگے بڑھا یا ہے ، اور جس پر انہیں لٹریچر کا پہلا ’’شاہ فیصل ایوارڈ‘‘ ملا تھا۔ ان دونوں کتابوں کے جس حصے کا عربی ترجمہ تاریخ الادب العربی اور تاریخ التراث العربی کے عنوان سے ہوا ہے، اس میں طبری ؒ سے متعلق تفصیلات موجو د ہیں ۔حکمت بشیر یٰسین کا سزگین کی کتاب کا تکملہ استدارکات علی التاریخ التراث العربی بھی آٹھ جلدوں میں دستیاب ہے۔ اب کتابوں کے مصنفین کے بارے میں ان جیسی کتابوں ہی میں تو قابل اعتبار معلومات ملیں گی ، یہ تو نہیں ہوسکتا کے پنساری کی دکان پر حلوہ جلیبی ملا کرے۔
تحدیث نعمت کے طور پر یہ کہنے میں مضائقہ نہیں کہ عالمی قلمی کتابوں کی ایک لائبریری میں ہم کو دس سال تک مخطوطات کے تعارفی کارڈ تیار کرنے کی ذمہ داری نبھانے کا موقع ملا ہے۔ ان کارڈوں کی تیاری میں بنیادی کا م کتاب کی ابتدا ئی و اختتامی عبارت اور کتاب کی داخلی شہادتوں کی مطابقت کے ساتھ ساتھ مختلف مراجع ،کحالہ کی معجم المولفین ، زرکلی کی الاعلام ، حاجی خلیفہ کی کشف الظنون،اسماعیل باشا بابانی کی ایضاح المکنون اور ہدایۃ العارفین ، آقا بزرگ طہرانی کی الذریعہ الی تصانیف الشیعۃ۔ الفہرس الشامل للتراث العربی المخطوط جیسی انسائیکلوپیڈیائی ٹائپ کی کتابوں اور عالمی کتب خانوں کے کیٹلاگوں سے مراجعت کی ضرورت پیش آتی تھی ۔کوئی دن نہیں جاتا جب بروکلمان اور سزگین کی جرمنی زبان میں ترتیب دی گئی موسوعاتی کتابوں کی ورق گردانی کی ضرورت پیش نہیں آتی ۔ اس تجربے کی بنیاد پر یہ کہنے میں ہمیں کوئی مضائقہ محسوس نہیں ہوتا کہ کالم نگار نے بیان کرکے کہ: ’’کہیں بھی معلوم نہیں پڑتا کہ تصدیق کی جائے کہ کون سی کتب کس طبری کی لکھی ہوئی‘‘بڑے بھونڈے پن کا مظاہرہ کیا ہے۔
اوریا صاحب کی تحریریں ہم بڑی قدر و منزلت کے جذبے کے ساتھ پڑھتے آئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں تک پہنچانے کی سعادت بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔ چند سال قبل جب آپ دوبئی تشریف لائے تھے اور آپ کے لکچر میں شرکت کا ہمیں موقع نہ مل سکا تھا تو بڑا رنج اور افسوس ہوا تھا۔امام طبری کے حوالے سے ان تین کالموں کے بعد بھی آپ کے کالموں میں ہماری دلچسپی جون کی توں بر قرارہے ۔ خدا را آپ پر اعتماد کو مجروح کرنے کے اسباب پید ا نہ کیجئے ۔ علم و تحقیق پر اعتماد اور بھروسہ بڑے جتن کے بعد پیدا ہوتا ہے ۔ اسے پیدا کرنے کے لئے عرصہ تک پتاّ جلانا پڑتا ہے، لیکن اسے گنوانے کے لئے زیادہ محنت کرنی نہیں پڑتی۔ معمولی سی ہٹ سالہاسال کی محنت پر پانی پھیر دیتی ہے۔ آپ جیسے اہل قلم جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے دفاع میں رت جگا کیا ہے۔ ان پر سے اعتماد اٹھ جانا امت کے لئے بڑ ے خسارے کا باعث ہوگا ۔ خدارا ایسا رویہ تو اختیار نہ کریں کہ ایک بار نہیں بلکہ بار بار کہنا پڑے کہ ’’خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے ‘‘ ۔
ہم نے اپنے وضاحتی مضمون کا اختتام ابن جریر طبریؒ سے وابستہ کتابیات پر کیا تھا ، تاکہ پتہ چلے کے ابن جریر طبریؒ کی جلالت شان کے مطابق ان کی کتابوں پر تحقیقی کام ہوچکا ہے ، لہذا اب مزید کی ضرورت باقی نہیں رہی ہے، الا یہ کہ کوئی نیا نکتہ محققین کے سامنے آجائے ۔ اسکے باوجود کالم نگار یہ کہہ کر قاری کو حیرت و تعجب میں ڈال دیتے ہیں کہ: ’’طبری کی تفسیر کے رجال کا کام تو مصر کے محمود شاکر نے کیا ہے ، لیکن آج تک تاریخ طبری کے رجال اور راویوں پر مفصل کام نہیں کیا ‘‘۔ تو قند مکرر کے طور پر ہمارے گزشتہ کالم کا یہ پیراگراف دوبارہ پڑھنے میں حرج نہیں کہ:
’’امام طبری کی کتابوں کی تحقیق اور اس کی اسانید کی صحت پر علمی دنیا میں کافی تحقیقی کام ہوا ہے ۔ان میں سے جو کتابیں ہمارے آرکائیوز میں محفوظ ہیں، ان میں سے چند کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے:
۱۔تحقیق مواقف الصحابہ فی الفتنۃ من روایات الامام الطبری و المحدثین، تصنیف : ڈاکٹر امحزون، صفحات : ۶۹۴/ اس کتاب میں صحابہ کے مابین دور فتنہ سے متعلق امام طبری کی جملہ روایات کا دیگر محدثین کی نقل کردہ روایات سے موازنہ کرکے ایک ایک راوی اور واقعہ سے بحث کی گئی ہے۔
۲۔ مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری، تصنیف : یحیی بن ابراہیم بن علی الیحیی،صفحات : ۲۵۸/اس میں طبری کے اہم ضعیف راوی ابی مخنف کی ایک ایک روایت کی تحقیق کی گئی ہے ۔
۳۔ رجال تفسیرا لطبری جرحا و تعدیلا، تصنیف : محمد صبحی بن حسن الحلاق،صفحات: ۶۰۸/ اس میں تفسیر طبری میں جن راویں سے روایتیں لی گئی ہیں ، ان کے بارے میں فردا فردا تحقیق کی گئی ہے۔ اور اس سلسلے میں دو عظیم علماء شیخ احمد شاکر اور محمود شاکر کی رائے بیان کی گئی ہے۔
۴۔ صحیح تاریخ الطبری و ضعیف تاریخ الطبری، تصنیف : محمد طاہر البرزنجیاشراف : محمد صبحی حسن حلاق،۱۳ جلدوں میں مطبوعہ اس کتاب میں طبری کی ایک ایک روایت کے بارے میں صحیح یا ضعیف ہونے کے تعلق سے تفصیلات فراہم کی گئی ہیں ۔‘‘
اس سلسلے میں مزید عرض کرنا یہ ہے کہ محمود محمد شاکر بنیادی طور پر ایک ادیب اور زبان دان تھے ، ان کے بھائی شیخ احمد محمد شاکر کا آخری دور کے عظیم محدثین میں شمار ہوتا ہے ۔ محمود محمدشاکر نے بیس پاروں کی تفسیر کی تحقیق مکمل کی ہے ، لیکن اس میں ان کی توجہ زیادہ تر مختلف قلمی نسخوں کا موازنہ کرنے اور متن کی درستی پر صرف ہوئی ۔ تفسیر طبری کی تخریج کا اہم اور وسیع کام اس کے چند سال بعد سامنے آیا ہے اور وہ ہے ڈاکٹر عبد اللہ عبد المحسن الترکی سکریٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے زیر نگرانی تحقیق شدہ تفسیر الطبری: جامع البیان عن تاویل آی القرآن لابی جعفر محمد بن جریر الطبری، ف ۳۱۰ھ کا نسخہ جسے مرکز البحوث و الدراسات العربیۃ و الاسلامیہ بدار ہجر نے ۲۶ جلدوں میں شائع کیا ہے ، اور اس کی ہر جلد تقریباً ۸۰۰ صفحات پر مشتمل ہے ۔ اس میں ہر ایک روایت اور راوی کے بارے میں چھان پھٹک کی گئی ہے ۔ اس ایڈیشن میں میں محمود شاکر کی تحقیقات کو بھی ضم کیا گیا ہے ۔
ایسا لگتا ہے کہ ہمارے محترم بھائی اوریا مقبول صاحب نے ڈاکٹر خالد طلال کبیر کی کسی تحریر کے رد عمل میں طبری ؒ پر یہ کالم لکھے ہیں۔ ہم نے بہت کوشش کی کے ان صاحب اور ان کی کتاب یا تحقیق کا پتہ لگائیں، لیکن ہمیں ہنوز اس سلسلے میں معلومات دستیاب نہیں ہو پارہی ہیں۔ اگر کوئی قاری اس سلسلے میں معلومات فراہم کرسکیں تو بڑی مہربانی ہوگی ۔ ویسے کالم نگار نے ڈاکٹر خالد سے حاصل شدہ جو معلومات دی ہیں، ان میں ہمارے لیے کچھ بھی نیا پن نہیں ہے۔
یہ بتانے میں شاید مضائقہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے گذشتہ چھتیس سال سے ہماری روزی روٹی کا انتظام کتابیں پڑھنے میں کر رکھا ہے ۔ ممکن ہے قارئین ہماری رائے سے اختلا ف کریں، لیکن ہمارا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ ۱۹۷۰ء کے عشرے کے ختم ہوتے ہوتے گذشتہ ایک صدی تک اردو زبان میں لکھی جانے والی تاریخی و فکری تحقیقات کو عربی سمیت دیگر زبانوں کے لٹریچر پر فوقیت حاصل رہی۔ لیکن گذشتہ صدی میں اسّی کے عشرے کے شروع ہوتے ہوتے ان عبقری شخصیات کا دور برصغیر سے ختم ہونے لگا ۔ اسی دوران میں سنہ ساٹھ کے عشرے میں قائم ہونے والی مدینہ یونیورسٹی ، امام محمد بن سعود یونیورسٹی ، اور ام القری یونیورسٹی کے فارغین کے علمی کارناموں کا دور شروع ہوا ، سعودیہ کی ان یونیورسٹیوں میں عالم اسلام سے چنندہ دماغ بلائے گئے تھے جنہوں نے علم و تحقیق کا نیا ولولہ اور ذوق دیا۔ ان شخصیات میں شیخ محمد ناصر الدین الالبانی ، شیخ حماد الانصاری ، شیخ عبد الرحمن المعلمی ، شیخ عبد الفتاح ابو غدۃ جیسی عظیم شخصیات شامل تھیں، جنہوں نے علم الرجال میں ایک نئی روح پھونک دی۔ پھر اس کام کے بیڑے کو مدینہ یونیورسٹی کے عراقی محقق ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری نے آگے بڑھایا ،جنہوں نے خود صحیح السیرۃ النبویۃ اور عصر الخلافۃ الراشدہ : محاولۃ لنقد الروایۃ التاریخیۃ جیسی معرکہ آرا کتابیں نہ صرف تصنیف کیں ، بلکہ جن موضوعات پر اب تک تحقیقات نہ ہونے کا محترم اوریا صاحب کر رہے، تقریباً ان سبھی موضوعات پر یونیورسٹیوں کے ہونہارطلبہ سے سالہاسال محنت شاقہ لے کر ڈاکٹریٹ اور یم فل کے مقالات تیار کروائے ۔ اپنے وقت میں علامہ شبلی ؒ کی سیرت النبی کا مقدمہ علم تاریخ میں ایک تجدیدی کارنامہ شمار ہوتا تھا، لیکن بر وقت اس کا عربی میں ترجمہ نہ ہونے کی وجہ سے بیسویں صدی کے اواخر میں منظر عام پر آنے والی علمی و تاریخی تحقیقات اس مقدمہ کو پیچھے چھوڑ گئیں۔
کالم نگار نے آخر میں مسعود احمد بی ایس سی کے لیے دعا کی ہے اور ان کی کتاب صحیح تاریخ الاسلام و المسلمین کو قرآن اور حدیث کی روایتوں پر مبنی قرار دیاہے ۔ ہم بھی آپ کی دعاؤں میں شریک ہیں ، لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ مرحوم کو علم حدیث اور علم تخریج میں کہاں تک درک حاصل تھا اور کہاں تک علمی تحقیقی اصولوں سے تجاوز کرتے ہوئے اپنے میلان کو ترجیح دی ہے ۔ ۱۹۸۰ء کے اوائل میں مسعود صاحب کے چند رسائل ہمارے مطالعے سے گزرے تھے ۔ سنا ہے کہ مرحوم انہیں کراچی کے گلی کوچوں میں سائیکل پرلاد کر بانٹا کرتے تھے ۔ان رسائل کے ہاتھ آنے سے بہت پہلے ہم نے بھی تصوف پر مبنی لٹریچر ، خواجہ معین الدین اجمیریؒ ، خواجہ بختیار کعکی ؒ ، شرف الدین یحییٰ منیریؒ ، خواجہ فرید الدین شکر گنج ؒ اور خواجہ نظام الدین اولیا ء کے ملفوظات اور مجدد الف ثانی کے مکتوبات ، اور شیخ عبد الوہاب شعرانی ؒ کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا تھا ۔ ان میں سے بہت سی باتیں ہمیں بھی عجیب سی لگتیں تھیں۔ پھر مسعود احمد صاحب کے رسائل ہاتھ لگے جن میں ان بزرگان دین کے ملفوظات کے اقتباسات کے عکس اور ان پر شدید نقد ہوتا تھا ۔ ناممکن تھا کہ انہیں پڑھنے کے بعد برصغیر میں امت مسلمہ کے ان محسنوں پر اعتقاد و اعتماد باقی رہے۔ کچھ عرصہ بعد ہمیں حضرت مولانا علی میاں ندوی ؒ کی وہ تقریر ملی جس کی عبارت سے آج اس مضمون کا آغاز کیا گیا ہے ۔ پھر ہم نے محسوس کیا کہ ہمارا معاشرہ شخصیت پرستی سے تعبیر ہے ۔ اگر محترم شخصیات کی خامیاں، مبالغہ آمیز جنگی لہجے میں ابھارنے میں قوم کے دانشور لگ جائیں گے، تو پھر یہ قوم یا تو مکمل طور پر اسلام کی ان تاریخی علامتوں سے باغی ہوجائے گی ، یا پھر عقیدت میں غلو کی وجہ سے اپنی خامیوں میں مزید پختہ ہوجائے گی ، اور یہ دونوں راہیں امت کی فلاح پر ختم نہیں ہوتیں۔ معلوم نہیں کہ کالم نگار نے مسعود احمد کی کتاب کی تعریف اسے پڑھ کر کی ہے یا پھر مصنف کا دعویٰ دیکھ کر۔ کالم نگار ہماری رہنمائی کریں کہ طبری ؒ کے بارے میں صحیح تاریخ الاسلام و المسلمین کی یہ عبارت پڑھنے کے بعد ان کے ممدوح کی یہ کتاب کے مزید اوراق کھولیں یا اسے بند کردیں کہ:
’’علامہ طبری نے بہت سی کتابیں تصنیف و تالیف کیں ، ان کی تمام کتابیں ہم تک نہیں پہنچیں ، البتہ ان کی ایک تفسیر اور ایک تاریخ ہم تک پہنچی ہے۔ محمد بن جریر محدث تھے ، لہذا انہوں نے تاریخ میں بھی محدثین کا طریقہ استعمال کیا ، یعنی تاریخ کی تدوین میں انہوں نے اسناد کا خاص خیال رکھا ۔۔۔ ان پر شیعیت کا بہتان بے بنیاد ہے ۔ وہ شیعہ ہرگز نہیں تھے۔‘‘
میری صحافتی زندگی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
اخبارات و جرائد میں کسی نہ کسی بہانے مراسلے، بیانات، اجلاسوں کی رپورٹیں اور ہلکے پھلکے مضامین لکھنے کا ’’چسکہ‘‘ تو 1964ء میں ہی شروع ہوگیا تھا جب میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اپنی طالب علمی کے تیسرے سال میں تھا۔ حافظ سید جمیل الحسن مظلوم مرحوم ’’نوائے گوجرانوالہ‘‘ کے نام سے ہفت روزہ اخبار نکالتے تھے۔ گھنٹہ گھر کے قریب چوک غریب نواز میں دفتر تھا جو ہمارے مدرسہ سے چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ مولانا عزیز الرحمن خورشید اور مولانا سعید الرحمن علویؒ بھیرہ کے حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ کے فرزند تھے اور نصرۃ العلوم میں زیر تعلیم تھے۔ ان کا اور میرا مشترکہ ذوق یہ تھا کہ بیانات اور مضامین لکھ کر اخبارات میں شائع کرانے کی کوشش کرنا۔ اور پھر شائع شدہ بیان یا مضمون دوستوں کو پڑھانا۔ ’’نوائے گوجرانوالہ‘‘ کے علاوہ ہفت روزہ ’’قومی دلیر‘‘ اور سہ روزہ ’’تحفہ‘‘ بھی مقامی اخبارات تھے اور ہماری ابتدائی جولانگاہ یہی جرائد تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے آرگن ہفت روزہ ’’ترجمان اسلام‘‘ لاہور کو بھی مضامین بھجوائے جاتے تھے جن میں اکثر شائع ہو جاتے تھے۔
البتہ صحافتی زندگی میں میری باضابطہ انٹری ستمبر 1965ء میں ہوئی جب میں نے گکھڑ میں روزنامہ وفاق لاہور کے نامہ نگار کے طور پر کام شروع کیا۔ 6 ستمبر کو جنگ کے پہلے مرحلہ میں ہی صبح نماز کے وقت گکھڑ ریلوے اسٹیشن پر بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے بمباری کی جس میں ہمارے ایک دوست صفدر باجوہ شہید ہوگئے۔ وہ ریلوے اسٹیشن کی دوسری جانب اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے کہ بھارتی طیارے کی بمباری کا نشانہ بن گئے۔ میں نے اس واقعہ پر ایک فیچر لکھا جو روزنامہ وفاق لاہور میں شائع ہوا تھا۔ یہ میری صحافتی زندگی کا عملی آغاز تھا اور اس کے بعد روزنامہ وفاق کے نامہ نگار کے طور پر کچھ عرصہ کام کرتا رہا۔
حافظ سید جمیل الحسن مظلومؒ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مجاز صحبت حضرت حافظ عنایت علی رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرزند تھے۔ انجمن صحافیان کے ضلعی صدر تھے اور قائد صحافت کہلاتے تھے۔ میری خبر نویسی کی حوصلہ افزائی میں ان کا بہت حصہ ہے۔ ’’نوائے گوجرانوالہ‘‘ میں ہی راشد بزمی مرحوم اور حافظ خلیل الرحمن ضیاء مرحوم سے تعارف ہوا۔ بزمی صاحب مرحوم ایک عرصہ تک روزنامہ جنگ کے نمائندہ خصوصی رہے جبکہ حافظ خلیل الرحمن ضیاء کا تعلق بھی جنگ اور وفاق سے رہا۔ حافظ صاحب مرحوم جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل اور میرے دورۂ حدیث کے ساتھی بھی تھے۔ اس وقت گوجرانوالہ میں مختلف اخبارات کے نمائندوں میں بذل احمد ایوبی مرحوم، کیف صہبائی مرحوم، اعجاز میر مرحوم، اکرم ملک، اور جی ڈی بھٹی نمایاں تھے۔ اور ان سب سے میرے دوستانہ مراسم تھے۔ ان کے ساتھ میری انڈر اسٹینڈنگ تھی کہ میں جمعیۃ علماء اسلام یا کسی دینی تحریک کے حوالہ سے کوئی خبر بھجواتا تو وہ نہ تو کسی لیٹر پیڈ پر ہوتی اور نہ ہی اس پر مہر اور دستخط موجود ہوتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمہاری بھجوائی ہوئی خبر پر کسی کمی بیشی کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے سادہ کاغذ پر لکھ کر بھیج دیا کرو۔ وہ میری ہینڈ رائٹنگ پہچانتے تھے اور اسے دیکھ کر اسی پر دستخط ثبت کر کے اپنے اپنے اخبارات کو بھجوا دیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ سالہا سال چلتا رہا۔
ہفت روزہ ’’ترجمان اسلام‘‘ لاہور اور ہفت روزہ ’’خدام الدین‘‘ لاہور میں بھی وقتاً فوقتاً لکھنے کا کام جاری رہا جو آگے چل کر ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کی باقاعدہ ادارت سنبھالنے تک پہنچا، اور میں کئی برس جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ہفت وار آرگن کا ایڈیٹر رہا۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور پاکستان قومی اتحاد کے صوبائی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے مجھے حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور نواب زادہ نصرہ اللہ خان مرحوم کی سالہا سال تک رفاقت کا شرف حاصل رہا اور میں نے ان بزرگوں سے بہت کچھ سیکھا جس سے میرے صحافتی شعور میں پختگی آئی۔
معروف احرار راہ نما جانباز مرزا مرحوم ماہنامہ ’’تبصرہ‘‘ کے نام سے ایک عرصہ سے جریدہ شائع کر رہے تھے جس کی اشاعت میں 77 ء / 78ء کے دوران کچھ وقفہ آیا تو میری درخواست پر انہوں نے یہ جریدہ میرے حوالے کر دیا۔ اور میں نے اپنے رفیق مولانا صالح محمد حضروی کی رفاقت میں کئی ماہ تک اس کی اشاعت و ادارت کا اہتمام کیا۔
1989ء کے آخر میں ’’الشریعہ‘‘ کے نام سے میں نے ایک مستقل جریدہ کا ڈیکلیریشن حاصل کیا جو گوجرانوالہ سے تب سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اس کا مدیر مسؤل میں خود ہوں جبکہ مدیر کے طور میرا بڑا بیٹا پروفیسر حافظ محمد عمار خان ناصر کم و بیش دو عشروں سے خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ عمار خان ناصر جامعہ نصرۃ العلوم کا فاضل اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش ہے، اور اب پی ایچ ڈی کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ جبکہ گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں اسلامیات کے شعبہ ایم فل کا استاذ و نگران ہے۔
قومی اخبارات جنگ، نوائے وقت، مشرق اور وفاق میں وقتاً فوقتاً مختلف عنوانات پر لکھتا آرہا ہوں، مگر برادرم حامد میر اور مولانا اللہ وسایا قاسم شہیدؒ کی ترغیب پر میں نے باقاعدہ ’’کالم نگاری‘‘ کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ حامد میر صاحب ان دنوں روزنامہ پاکستان اسلام آباد کے مدیر تھے اور وہیں سے میں نے کالم لکھنے کا آغاز کیا تھا۔ بعد میں وہ روزنامہ اوصاف میں گئے تو میں بھی ان کے ساتھ ہی اوصاف میں منتقل ہوگیا۔ اس کے بعد مختلف اتار چڑھاؤ آئے مگر روزنامہ پاکستان لاہور، روزنامہ اسلام کراچی اور روزنامہ اوصاف اسلام آباد میں میرے کالم الگ الگ عنوانات سے مسلسل چھپتے رہے ہیں جس کی تازہ ترین صورت یہ ہے کہ ہفتہ میں ایک یا دو کالم لکھتا ہوں جو (۱) روزنامہ اوصاف (۲) روزنامہ اسلام اور (۳) روزنامہ انصاف میں بیک وقت شائع ہو جاتے ہیں۔ اور اس پر ملک بھر سے احباب کی دعائیں ملتی رہتی ہیں، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔
ستمبر 2015ء کے پہلے عشرہ میں میری باقاعدہ صحافتی زندگی کے پچاس سال مکمل ہو رہے ہیں جس پر ’’تحدیث نعمت‘‘ کے طور پر چند سطور میں اپنی اس شعبہ کی کارگزاری قارئین کی خدمت میں پیش کر دی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے اور بزرگوں کی شفقتیں اور دعائیں ہیں کہ اللہ رب العزت تدریس، خطابت اور صحافت کے تینوں شعبوں میں کسی نہ کسی حوالہ سے دین کی کچھ نہ کچھ خدمت لیتے آرہے ہیں۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ خصوصی طور پر دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ زندگی بھر یہ خدمت لیتے رہیں اور ایمان و اعمال صالحہ پر خاتمہ نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
۲ ذی الحجہ ۱۴۳۶ھ ۱۷ ستمبر ۲۰۱۵ء
بخدمت محترم و مکرم مولانا زاہد الراشدی زید لطفہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ کے رسالۂ’’ غامدی صاحب کا تصورِ حدیث و سنت‘‘ کا اشتہار الشریعہ میں نظر پڑا تو میری خواہش پراس کی ایک کاپی میاں عمار صاحب نے مجھے بھیجدی ہے۔میں شکر گزار ہوں کہ مستفید ہونے کا موقع ملا۔اللہ آپ کے افادات کو قائم و دائم رکھے۔مگر استفادہ کیلئے شکر گزاری کے ساتھ ایک شکوہ گزاری کی بھی اجازت ہو۔
آپ کی تحریر بتارہی ہے کہ آپ غامدی صاحب کے موقف کو بالکل غلط سمجھ رہے ہیں یہاں تک کہ ’’وَمَن یُّشاقِقُ الرَّسولَ اور وَیَتَّبِع سَبیلَ غیرالمؤ مِنِین کی حدوں کو چھوتا ہوا۔مگر ان کے لئے آپ کے احترام اور برادرانہ مودّت پر اس کا ادنی ٰاثر نہیں دیکھنے میں آتا۔جو آدمی وَمَن یُّشاقِقُ الرَّسول کی حدوں کو چھورہا ہے اس کے لئے بھی برادرانہ مودت و احترام کی گنجائش!
یہ آپ کی جون ۲۰۰۸ کی تحریر ہوئی۔اس پر محترم غامدی صاحب کے شاگرد آپ کو جواب دیتے ہیں جس پر آپ خود محترم ہی کی طرف سے وضاحت کے لئے’’ درخواست‘‘ گزار ہوتے ہیں۔محترم آپ کی’’ گزارش‘‘کو قبول کرتے ہوئے اپنے ماہنامہ’’اشراق‘‘مارچ ۲۰۰۹ء میں وضاحت فرماتے ہیں۔اور اپنے اور علماء کے اختلاف کو محض اصطلاحات کا فرق بتاتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’میرے ناقدین اگر میری کتاب’’میزان‘‘ کا مطالعہ دقتِ نظر کے ساتھ کرتے تو اس چیز کو سمجھ لیتے ۔اور انھیں کوئی غلط فہمی نہ ہوتی۔یہ توقع اب بھی نہیں ۔دین کے سنجیدہ طالب علم البتہ مستحق ہیں کہ اپنے نقطۂ نظرکی وضاحت کے لئے چند معروضات ان کی خدمت میں پیش کر دی جائیں۔‘‘
اس ارشاد کے مطابق ہمارے محترم مولانا زاہد الراشدی اپنے محترم جناب غامدی کی نگاہ میں ’’دین کے (ایک) سنجیدہ طالب علم‘‘سے زیادہ کے خانے میں نہیں آتے۔مگر ہمارے مولانا کا ظرف کہ آگے گفتگو غامدی صاحب کے لئے اس احترام سے بہرحال محروم نہیں ہوئی ہے جو چلا آرہا تھا۔یہاں مجھے اپنے تایا صاحب ؒ کا ایک لطیفہ یاد آرہا ہے۔ طبیعت میں لطافت تھی اور شرک و بدعت کے بارے میں بالکل مولانا اسمٰعیل شہیدؒ کا ذہن رکھتے تھے۔ دوسری طرف محلہ میں شرک وبدعت کی دکانیں بھی چل رہی تھیں۔ اپنا مکان ایسی جگہ واقع تھا کہ سارے محلہ کی گزرگاہ۔تایا صاحب ایسے لوگوں کو نظر میں رکھتے تھے جن کی ان دکانوں میں آمد و رفت ہوتی اورکسی کو مناسب سمجھتے تو حال چال پوچھنے کو بلالیا کرتے۔ایک صاحب سے ان کے مولانا صاحب کاحال پوچھا جو بیمار چل رہے تھے۔ بیچارے سیدھے سے تھے۔بولے کہ بڑے مولی صاب نے جب سے مسجد کی زمین بیچ لخ، تب سے نہیں چار پائی سے اُٹھ پائے۔تایا صاحب نے لطف لیا اور فرمایا:مگر رہے پھر بھی بڑے مولی صاب ہی!
خیریہ تو لطیفہ تھا کہ ذرا دیر کو فضا بدل جائے۔ عرض یہ کرنا تھا کہ غامدی صاحب کے کلام میں جو ادّعائیت ہے یعنی یہ طرزِ کلام کہ
’’ہمارے علماء ان تینوں کے لئے ایک ہی لفظ ’’سنت ‘‘ استعمال کرتے ہیں۔میں اسے موزوں نہیں سمجھتا۔میرے نزدیک پہلی چیزکے لئے ’’سنت‘‘ دوسری کے لئے’’‘تفہیم و تبیین‘‘ اورتیسری کے لئے’’اسوۂ حسنہ‘‘کی اصطلاح استعمال ہونی چاہئے۔‘‘
تو ’’ہمارے علماء‘‘ کے مقابلہ میں یہ ’’میں ان کی اصطلاح کو موزوں نہیں سمجھتا‘‘ اور ’’میرے نزدیک یہ ہونا چاہئے، وہ ہونا چاہئے‘‘۔ کیا اس ہفت آسمانی طرزِ کلام والے ’’کےَ آمدی و کےَ پیر شدی‘‘ لوگوں کے ساتھ یہ سراپا احترام طرزِ گفتگو دینی نقطۂ نظر سے مناسب ہے؟ ان کی اِدعائیت ان کے بطلان کی طرف سے اطمینان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔اور صاحبِ مقام علماء کی طرف سے یہ سراپا احترام طرز گفتگو اس پر پردہ ڈالنے والا ہے۔ مجھے یہ عرض کرنے میں معاف رکھئے کہ محترم کے سلسلہ میں الشریعہ کے رئیس التحریر کی یہ حد سے بڑھی کریمانہ روش ایک مدعی کو قابلِ لحاظ بننے میں مددگار ہوئی ہے۔ نہ کیجئے حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کے لہجہ میں گفتگو مگراس کا بالکل عکس، یہ تو آپ کے منصب نہیں کہی جا سکتی۔ والسلام
گستاخی کے لئے عفو خواہ،
عتیق الرحمن سنبھلی
(۲)
1989ء میں قائد اعظم یونیورسٹی میں الیکٹرانکس میں داخلہ ہوا تو شروع شروع کے دنوں میں جن کلاس فیلوز سے قریبی تعلق ہوگیا ان میں کراچی کا ایک دوست (نام حنیف فرض کر لیجیے) بہت محنتی اور ملنسار تھا اور پڑھائی اور اسائنمنٹس مکمل کرنے میں بہت ساتھ دینے والا۔ ہم لوگ رات گئے تک پڑھتے۔ ہم کلاس فیلوز سارے پاکستان سے دور دور سے آئے تھے اور ہمارے کچھ کلاس فیلو اردن، شام، فلسطین، سعودیہ، مصر وغیرہ کے بھی تھے۔
حنیف کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ ہر ایک کے کام آنے کی کوشش کرتا۔ کبھی اس کے کمرے میں گئے تو معلوم ہوا کہ فلاں دوست کے ساتھ ڈسپنسری گیا ہوا ہے یا فلاں کی دوا لینے کے لیے آبپارہ مارکیٹ گیا ہوا ہے۔ کوئی گھر سے آ رہا ہے اور اس کا سامان زیادہ ہے تو اسے لینے سٹیشن گیا ہوا ہے (اس دور میں ریل سے سفر ہوتا تھا)۔ ایک مرتبہ ایک اردنی کلاس فیلو کو لے کر سفارت خانے جاتا پایا گیا۔ ایک دن میں لیٹ ہو رہا تھا تو مجھے کہنے لگا کہ مولوی تو باتھ روم میں گھس، میں تیرے کپڑے استری کرکے تجھے وہیں پکڑا دیتا ہوں۔ رات کو کنٹین بند ہوجاتی تو اس وقت جاگ کر پڑھنے والے الوؤں کے لیے اس کے کمرے میں کچھ نہ کچھ کھاجہ ضرور مل جاتا۔ ان الوؤں کو نائٹ رائیڈرز کہا جاتا تھا جو ان دنوں ٹی وی پر چلنے والی ایک امریکی سیریل Knight Rider کی نقلِ صوتی تھی۔
ابھی دو ماہ بھی نہ گزرے تھے اور ہم لوگوں کو ابھی تک ہوم سکنیس بھی ہوا کرتی تھی کہ حنیف نے سارا اسلام آباد اور اس کے بیشتر دفاتر چھان مارے اور ہر جگہ اس کا تعلق بن گیا۔
ایک دن یہ انکشاف ہوا کہ حنیف مرزائی ہے۔ سب لوگوں کی نظریں بدل گئیں۔
یہ انکشاف میرے لیے بھی بہت صدمے کا باعث تھا۔ اب میں دوراہے پر تھا۔ مجھے یہ فیصلہ کرنے میں ایک آدھ منٹ لگا کہ میں حنیف کو خود سے کاٹ دوں یا اسے ساتھ لیے رکھوں۔ میں نے دوسرے والا فیصلہ کر لیا تھا۔
اس رات بھی ہم پڑھنے کے لیے بیٹھے۔ اپریل کا آغاز تھا اور موسم ابھی خاصا خنک تھا۔ میں نے حنیف کو یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ مجھ تک یہ خبر پہنچ چکی ہے۔ رات بھر بیٹھے پڑھتے رہے۔ میں کوشش کرتا تھا کہ اگر پڑھتے پڑھتے رات کے تین بج جائیں تو فجر خراب نہ کروں بلکہ کسی طرح فجر کا وقت داخل ہوتے ہی نماز پڑھ کر پھر سوؤں۔ اس رات بھی فجر کی اذان ہونے تک جاگے۔ میں نے بڑے بھولپن سے اسے کہا کہ یار آج مسجد میں چل کر نماز پڑھتے ہیں۔ اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ مولوی تو مجھے مروائے گا۔ میں نے کہا کہ میں ساتھ ہوں۔ کچھ نہیں ہوگا۔ اسے یقین ہوگیا تھا کہ مجھے کیمپس میں چلنے والی اس خبر کا کچھ پتہ نہیں ہے۔
ہم فجر کے لیے گئے۔ نماز ختم ہوتے ہی کئی لوگوں نے اسے کچا کھا جانے والی نظروں سے گھور گھور کر دیکھنا شروع کر دیا۔ دعا ہوئی اور ہم فوراً مسجد سے نکلے۔ قاری عطاء الرحمٰن صاحب کو اللہ خوش رکھے، وہ جلدی سے میری طرف کو بڑھے۔ میں نے انھیں عرض کیا کہ میں رات بھر نہیں سویا ہوں اس لیے دوپہر کو ملیں گے۔ انھوں نے یہ عذر قبول کر لیا۔
کمرے میں پہنچتے ساتھ ہی حنیف نے کہا کہ مولوی تو نے بڑی بے عزتی کرائی ہے میری۔ میں انجان بنا رہا۔ کہنے لگا کہ کل سے میرے بارے میں یہ بات پھیلائی جا رہی ہے کہ میں مرزائی ہوں۔ اور تو بدھو ہے کہ تجھے معلوم ہی نہیں، اور مجھے مسجد میں گھسیٹ لے گیا ہے۔ میں نے تاسف کا اظہار کیا اور سونے کے لیے اپنے کمرے میں چلا آیا۔
یہ دوپہر اور شام بہت اہم (critical) تھی۔ حنیف کا ایک طرح سے سوشل بائیکاٹ ہوگیا تھا۔ لیکن میں معمول کے مطابق اس کے کمرے میں گیا اور اس موضوع پر بالکل کوئی بات نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہا۔ چند دن میں حالات معمول پر آگئے لیکن اس کا فاصلہ بیشتر لوگوں سے بڑھ گیا تھا اگرچہ میرے ساتھ ٹھیک رہا۔
میں کبھی سہ روزے پر جاتا تو وہ مقامِ تشکیل پر مجھے ملنے ضرور آتا۔ میں نے یونیورسٹی میں پورا باقی عرصہ اس سے کوئی مذہبی بحث نہیں کی بلکہ ان موضوعات کو سختی سے سوئچ آف کیے رکھا۔
اس وقت نہ موبائل فون تھا اور نہ ای میل۔ یونیورسٹی سے فراغت ہوئی اور نوکریاں شروع ہوئیں تو ایک دن اس کا فون آیا۔ کہنے لگا کہ میرا سکالرشپ ہوگیا ہے اور میں چائنہ جا رہا ہوں، تو مجھ سے ایک بار کہیں مل لے۔ ہم لاہور میں ملے۔ حنیف نے کہا کہ ’’میں خاندانی مرزائی ہوں ورنہ میں مرزے پہ ۔۔۔ بھیجتا ہوں۔ میں مسلمانوں کے درمیان رہتا ہوں اور نماز روزہ کرتا ہوں لیکن جہاں میرا خاندانی تعلق سامنے آتا ہے، سب مجھے الگ کر دیتے ہیں۔ میں ان حالات سے سکول کے زمانے سے گزر رہا ہوں۔ یار مولوی، تو گواہ رہنا کہ میں مسلمان ہوں۔ میرا باپ اس وقت فوت ہوا تھا جب میں دس سال کا تھا اور میری مجھ سے چھوٹی چار بہنیں ہیں۔ ہم اس لیے مرزائی ہیں کہ میری اور میری بہنوں کی شادی اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک ہم مرزائی نہ ہوں۔ آج میرا ملک سے باہر جانے کا سلسلہ بن گیا ہے۔ اب میں مڑ کے پاکستان کبھی نہیں آؤں گا۔ میں اپنی ماں اور بہنوں کو وہیں بلاؤں گا اور وہیں بہنوں کی شادیاں کروں گا۔ بس تو صرف یہ کرنا کہ ہر چھے مہینے بعد چین آنے والی کسی جماعت کو میرا اور میری یونیورسٹی کا نام لکھ کے دے دیا کرنا۔‘‘ یہ 1994 کی بات ہے۔
میں نے اس کا نام رائے ونڈ کے کچھ متعلقہ لوگوں کو دیا۔ لیکن اس وقت چین جانے والی جماعتیں نہ ہونے کے برابر ہوتی تھیں، اور نہ کوئی چین سے جماعت میں آتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا کہ ابھی ڈیڑھ سال کی جماعتیں بھی چلتی تھیں۔ پورے سال میں سو سوا سو جماعتیں بمشکل رائے ونڈ سے نکلتی تھیں۔
اکا دکا جماعتیں بھی حنیف سے ملیں۔ میرا رابطہ پھر نہیں ہوا۔ میں بھی مصروف تر ہوتا چلا گیا اور حنیف بھی زمانے کی گرد میں کھو گیا۔
پچھلے سال رمضان میں حنیف نے مجھے گوگل کرکے اور لنکڈ اِن سے دریافت کیا۔ آج وہ ایک بڑے یورپی ملک میں ایک بڑی کمپنی کا کنڑی منیجر ہے۔ اس نے اپنے بارے میں جو باتیں بتائیں ان کا خلاصہ یہاں لکھتا ہوں:
’’میں چائنہ جانے سے پہلے یہ طے کر چکا تھا کہ مجھے اپنی ماں اور بہنوں کو کسی کافر ملک میں سیٹل کرنا ہے۔ پی ایچ ڈی مکمل کرکے میں پاکستان نہیں آیا بلکہ برطانیہ جا سیٹل ہوا۔ ماں اور بہنیں آگئیں۔ میں نے شادی ایک کورین عیسائن سے کی۔ چاروں بہنوں کی شادیاں چار یورپی ملکوں میں غیر پاکستانی اور غیر ہندوستانیوں سے کیں۔ پاکستان اور سارے اسلامی ممالک میں ہم لوگ آؤٹ کاسٹ تھے، ان ملکوں میں ہم ان ممالک کے شہری ہیں۔ پاکستان میں ہم پانچ مرلے کے مشترکہ گھر میں رہتے تھے اور محلے کے کئی مسلمان دکاندار ہمیں سودا بھی نہیں دیتے تھے۔ یہاں آکر میرے اور میری بہنوں کے اپنے اپنے گھر ہیں۔ ہمیں اپنی پچھلی کسی شناخت کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے بچوں اور بھانجے بھانجیوں میں سے کسی کو ہم نے اردو نہیں سکھائی اور وہ اپنے اپنے باپوں کی زبانیں بولتے ہیں۔ اردو نہ سکھانے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ ہمیں اس ثقافت سے کچھ واسطہ نہیں رکھنا جہاں ہمیں کافر بنایا گیا ہے۔ اب ہم انٹرنیشنل شہری ہیں اور مختلف عالمی زبانیں بولتے ہیں۔
میری بیوی ابھی تک عیسائی ہے لیکن اس نے میرے تین بیٹوں کو حافظ بنایا ہے اور ان میں سے دو کو عالم۔ میرے تینوں بچے ڈیوزبری کے مدرسے سے پڑھے ہیں۔ یہ تینوں بھائی ابھی عملی زندگی میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان کی شادیاں بھی میں نان انڈین لڑکیوں سے کروں گا۔ میں اپنے بھانجوں بھانجیوں کی شادیاں بھی نان انڈین سے کروں گا تاکہ پاکستان یا اسلامی ممالک کی کوئی شناخت ہمارے ساتھ نہ لگی رہے۔ ہم کبھی پاکستان نہیں آئیں گے۔
میں کچھ سال بعد تبلیغی اجتماع وغیرہ پر آتا ہوں لیکن کسی کے گھر نہیں جاتا اور نہ کسی کو بتاتا ہوں۔ میں نے ڈاڑھی بھی اس لیے نہیں بڑھائی کہ متشدد نہ لگوں اور نہ میں نے عربی لباس اختیار کیا ہے. میں نے چار مہینے بھی اس لیے نہیں لگائے تھے کہ اس کے لیے پاکستان اور ہندوستان آنا پڑتا ہے۔ میں صرف چلہ لگانے پر راضی ہوں تاکہ پاکستان نہ آنا پڑے۔
ہم صرف مرزائی خاندان ہونے کی وجہ سے مرزائی ہیں لیکن ہمیں ہر موقع پر ذلیل کیا گیا ہے۔ ہم نماز روزہ کرنے کے باوجود کافر کہے جاتے تھے۔ ان کافر ملکوں میں رہنے اور پاکستانی شناخت ختم کر لینے کی وجہ سے اب ہم کافر نہیں کہے جاتے۔ پاکستانی شناخت ختم کرنے میں مجھے پورے پچیس سال لگے ہیں اور اگلے پچیس سال اپنی اگلی نسل کی یہ شناخت ختم کرنے میں لگیں گے۔
مولوی! تیرا شکریہ کہ تو نے مجھے پہلے دن سے مسلمان سمجھا۔ میری اور میرے خاندان کی جتنی نیکیاں ہیں وہ تیرے کھاتے میں ہیں۔ اگر اس دن تو مجھے فجر کی نماز پڑھوانے نہ لے جاتا اور مجھ سے قطع تعلق کر لیتا تو میں فیصلہ کر چکا تھا کہ گھر جا کر ماں اور بہنوں کو قتل کرکے خود کشی کرلوں گا۔‘‘
میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ چند سال پہلے جناب محمد اظہار الحق نے یہ مسئلہ چھیڑا تھا کہ کئی لوگ صرف خاندان ہونے کی وجہ سے مرزائی ہیں۔ میں اس وقت خاموش رہا تھا۔ اب بھائی مولوی عمار خان ناصر نے امت کی ان کھوئی ہوئی بھیڑوں کی واپسی کے لیے اپنے عظیم والد مولانا زاہد الراشدی مدظلہ کی نگرانی میں حرکت شروع کی ہے تو میں نے ٹوٹی پھوٹی زبان میں یہ واقعہ لکھنے کا حوصلہ پکڑا ہے۔
ہمارے سخت گیر رویوں کی وجہ سے کتنے ہی لوگ کفر پر جمے ہوئے ہیں اور کتنے ہی مسلمان کفر پر مرے ہیں۔ کاش امت داعیانہ مزاج پر آئے۔ دینِ اسلام دعوت سے پھیلا ہے، مسلمانوں کی بقا بھی داعیانہ ترتیب پر چلنے میں ہے۔ اللہ سمجھ دے۔
(بعض نام اور ضروری مقامات تبدیل کیے گئے ہیں اور کچھ معلومات میں دانستہ ابہام ڈالا گیا ہے)
حافظ صفوان محمد چوہان
’’ذخیرۃ الجنان فی فہم القرآن‘‘
مولانا وقار احمد
مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی بامقصد کام کرنے والوں کے لیے ایک نادر نمونہ ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی قرآن وسنت کی تعلیم کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ قرآن و سنت کی تعلیم ان کا اوڑھنا بچھونا تھی، قرآن و سنت کی تعلیم عام کرنے کے لیے انہوں نے کئی حوالوں سے خدمات سر انجام دیں جن میں مکاتیب قرآنیہ کاقیام، درس و تدریس، وعظ و تبلیغ اور تصنیف و تالیف شامل ہیں۔
مولانا قرآن و سنت کے ماہر عالم اور یگانہ روزگا ر مدرس تھے۔ انہوں نے نصف صدی سے زائد عرصہ قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر پڑھانے میں صرف کیا۔ وہ صبح نماز فجر کے بعد سے درس قرآن کا سلسلہ شروع کرتے اور نماز عشاء تک وقفوں کے ساتھ یہ سلسلہ قائم رہتا تھا۔ یہ سلسلہ تین مقامات پر تسلسل سے جاری رہا۔ گکھڑ کی جامع مسجد جہاں وہ نماز کی امامت اور خطابت کے فرائض سر انجام دیا کرتے تھے، اس مسجد میں روزانہ نماز فجر کے بعد درس قرآن پنجابی زبان میں ہوتا۔ گکھڑ میں قائم ٹیچرز ٹریننگ کالج میں موسم گرما میں نماز عصر کے بعد اور موسم سرما میں نماز عشاء کے بعد زیر تربیت اساتذہ کو درس قرآن دیتے جو تقریباً عرصہ پچیس سال تک مسلسل جاری رہا۔ جبکہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں درس نظامی کے منتہی درجات کے طلبہ کو ترجمہ و تفسیر قرآن پڑھایا کرتے اور دو سال میں پورے قرآن کریم کا ترجمہ مکمل کرتے۔ مدرسہ نصرۃ العلوم میں ہی شعبان ورمضان کی سالانہ تعطیلات میں اساتذہ مدارس اور منتہی درجات کے طلبہ کے لیے دورہ تفسیر کا اہتما م ہوتا جس میں چالیس روز میں پورے قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر مکمل پڑھاتے تھے۔
مولانا کے ان دروس میں سے مدرسہ نصرۃ العلوم کے دروس پر مولانا کے فرزند شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس خان قارن کام کر رہے ہیں جبکہ گکھڑ کے درس قرآن مولانا کے شاگرد مولانا محمد نواز بلوچ اور ان کے رفقاء پنجابی سے اردو کے قالب میں ڈھال کر ’’ذخیرۃ الجنان فی فہم القرآن‘‘ کے نام سے مرتب کر رہے ہیں اور مولانا کے مرید خاص حاجی میر لقمان اللہ کے زیر اہتمام شائع ہو رہے ہیں۔ مولانا کا درس خالص پنجابی میں ہوتاتھا جس کو اردو میں منتقل کرنا ایک مشکل کام تھا۔ اللہ جزائے خیر عطا فرمائے میر محمد لقمان، مولانا محمد نواز بلوچ اور ان کے رفقاء کو کہ انہوں نے اس علمی خزانے کو اردو میں منتقل کر کے عام کر دیا ہے۔ ذخیرۃ الجنان فی فہم القرآن کی پہلی جلد مئی 2002ء میں شائع ہوئی تھی اور اب 21 جلد وں میں یہ سلسلہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔
جہاں یہ مجموعہ دروس بہت سے خوبیوں کا حامل ہے، وہیں اس میں بعض اشیاء ایسی بھی آگئی ہیں جو کہ مولانا سرفراز خان صفدر کی بلند علمی نسبت اور معیار کے منافی ہیں۔ دروس وافادات کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کیا جائے اور تقریر سے تحریر کی صور ت دی جائے تو مسودے کی ترتیب وتہذیب کے حوالے سے مرتبین پر کافی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ذیل میں عرض کیے جانے والے ملاحظات کو اسی تناظر میں دیکھا جائے۔
۱۔ کتاب عمدہ جلد بندی کے ساتھ بہت معیاری کاغذ پر شائع ہو رہی ہے، مگر اس میں پروف ریڈنگ کی غلطیاں بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ متن قرآنی کی غلطیاں بہت کم ہیں، مگر پھر بھی بعض جگہوں میں قرآنی الفاظ کے نقل میں سہو کاتب ہو گیا ہے۔ مثلاً جلد اول کے صفحہ 43 پر آیت کریمہ إِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (النساء: 145) نقل کی گئی ہے۔ اس میں الدَّرْکِ الأَسْفَلِ میں الف لام کو ماقبل کے ساتھ ملا کر لکھنے کے بجائے "اِلَّا" لکھ دیا گیا ہے جو کہ غلط ہے اور معنی کو بدل دیتا ہے۔
۲۔ کتاب کے شروع میں تو فہرست عنوانات دی گئی ہے، مگر کتاب کے درمیان میں بعض جلدوں میں عنوانات ہیں اور بعض میں کوئی عنوان نہیں ہے جو کہ جدید طباعتی معیار کے مطابق نہیں ہے اور جدید تعلیم یافتہ ذہن اس طرز سے ناآشنا ہے جو کہ کتاب کی افادیت کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔
۳۔ درمیان کتاب میں جہاں عنوانات لگائے گئے ہیں، ان میں بعض مقامات پر عنوانات کی ترتیب کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ مثلاً جلد 5 صفحہ 273 پر عنوان ہے ’’مسکین کی تعریف ‘‘۔ اگلے صفحے پر بات مکمل ہونے سے پہلے ہی نیا عنوان ’’مسکین کے لیے شرائط‘‘ لگا یا گیا ہے اور اس کے نیچے لکھا ہے: ’’مثلاً پلنگ ہیں بسترے ہیں۔۔۔‘‘۔ اب یہ جملہ عنوان سے پہلے والے جملے کا حصہ ہے۔ اسے اس سے علیحدہ کر کے خلجان پیداکر دیا گیا ہے۔
۴۔ دروس میں بعض جگہ اشعار غلط بھی نقل ہوئے ہیں جو کہ مولانا کے بلند شعری ذوق سے مطابقت نہیں رکھتے، مثلاً جلد 7، صفحہ 276 میں ایک فارسی شعر یوں نقل کیا گیا ہے:
در میان قعر تختہ بند کردہ ای
باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش
جب کہ اصل شعر میں پہلا مصرعہ یوں ہے:
در میان قعر دریا تختہ بندم کردہ ای
جلد 9 صفحہ 51 میں ایک ہندو شاعرہری چند اختر کا شعر یوں نقل ہوا ہے:
ملے گی شیخ کو جنت ہمیں دوزخ عطا ہو
بس اتنی بات ہے جس کے لیے دوزخ بپا ہو
جب کہ اصل شعر یوں ہے:
ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہو گا
بس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہو گا
۵۔ مولانا صفدر الفاظ وتعبیرات کے بادشاہ تھے۔ ان کی پچاس کے قریب کتب گواہ ہے کہ وہ اپنی تحریر میں ایسے الفاظ اور تعبیرات اختیار کرتے تھے کہ سخت سے سخت مخالف بھی ادب لطیف کا لطف لیے بغیر نہ رہ سکتا۔ تاہم اس کتاب میں بعض تعبیرات ایسی بھی آ گئی ہیں جو مناسب نہیں ہیں، اور اگر مولانا کی نظر سے گزرتیں تو وہ ضرور انہیں تبدیل کر دیتے۔ مثلاً موسیٰ علیہ السلام کا تعارف کراتے ہوئے ایک جگہ یہ تعبیر استعمال ہوئی ہے: ’’موسیٰ بچے تھے مگر تماشے کرتے تھے۔‘‘ (جلد 12، صفحہ 341) گو کہ یہ ان کے بچپن کے حالات کے ذیل میں آئی ہے، اس اعتبار سے یہ کوئی گستاخی نہیں ہے، مگر پھر بھی ایک جلیل القدر پیغمبر کے لیے اس طرح کے الفاظ کا استعمال مخالف کے ہاتھ میں ہتھیار دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ مناسب ہے کہ اصل پنجابی کو سامنے رکھتے ہوئے ایسی تعبیرات کو مناسب الفاظ سے بدل دیا جائے، اردو میں متبادلات کی کمی نہیں ہے۔
اس مجموعے کی ترتیب واشاعت کے حوالے سے ایک اور اہم بات کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ کتاب کے مرتب مولانا محمد نواز بلوچ ہیں، جبکہ ابتدائی جلدوں کی نظر ثانی مولانا صفدر کے جانشین مولانا زاہد الراشدی نے کی ہے۔ مسودے کی ترتیب و تہذیب کے حوالے سے کتاب کے ابتدائیہ میں لکھا ہے:
’’مولانا محمد نواز بلوچ کا طریق کار یہ ہے کہ وہ مضمون کو پنجابی سے اردو میں منتقل کرتے ہیں اور اس کے بعد حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کے فرزند اکبر اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب اس پر نظر ثانی کرتے ہیں۔ پھر اس کی کتابت ہوتی ہے، اور دونوں حضرات باری باری اس کو دوبارہ مطالعہ کر کے چیک کرتے ہیں۔‘‘ (جلد اول، ص 26)
یہ بات کہ مولانا زاہد الراشدی کتاب کے مسودے پر دو مرتبہ نظر ثانی کرتے ہیں، ہر جلد کی ابتدا میں درج ہے۔ تاہم مولانا راشدی نے دریافت کرنے پر بتایا کہ انھوں نے صرف پہلی دو تین جلدوں پر نظر ثانی کی ہے۔ اس کے بعد کسی جلد کا مسودہ طباعت سے قبل ان کے پاس نہیں آیا۔ اسی طرح پہلی دو جلدوں میں مولانا عبد القدوس خان قارن کا نام نظر ثانی میں آتا رہا ہے، مگر بعد کی جلدوں میں نام نہیں آیا، اور اب نئے ایڈیشن میں تو پہلی جلدوں میں بھی ان کا نام درج نہیں ہے۔ معلوم نہیں، دونوں حضرات نے نظر ثانی کا کام کیوں چھوڑ دیا ہے، حالانکہ صاحب دروس نے کتاب کی اشاعت کے اجازت نامہ میں ان حضرات کا خاص طور پر تذکرہ کیا اور انھیں علمی مشورہ اور رہنمائی کا مجاز قرار دیا ہے۔
ان حضرات کی طرف سے نظر ثانی کا سلسلہ موقوف ہونے کی وجہ سے بعض ایسی باتیں بھی مجموعہ دروس میں پیش کی جا رہی ہیں جو صاحب دروس کے معروف اور جانے پہچانے رجحان فکر سے میل نہیں کھاتیں۔ مثال کے طور پر جلد نہم کے ابتدائیہ میں یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے:
’’وفات سے تقریباً چھ ماہ پہلے کی بات ہے۔تلونڈی موسیٰ خان مولوی نذیر صاحب سرگودھوی کی مسجد میں تبلیغی جماعت آئی جس میں کچھ علماء بھی تھے۔ مولوی نذیر صاحب فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہاکہ حضرت کی زیارت کے لیے چلیں، چناچہ ہم حضرت کے پاس پہنچ گئے۔ ملاقات کے بعد علماء نے سنداجازت کا تقاضا کیا۔حضرت شیخ نے ایک سے پوچھا کہ تو کہا (کہاں ) سے فارغ ہے؟ اس نے کہا، اکوڑہ خٹک سے۔فرمایا، اس کو سند دے دو۔ دوسرے سے پوچھا۔ اس نے کہا، دارالعلوم کراچی سے۔فرمایا، اس کو سند دے دو۔ جب تیسرے سے پوچھا تو اس نے کہا کہ رائیونڈ سے۔ فرمایا، اس کو باہر نکال دو۔ اس کے لیے کوئی سند نہیں ہے اور پھرباہر نکلوا دیا۔‘‘ (جلد 9 صفحہ 17،18 )
اس واقعے کے حوالے سے کئی اہم سوال پیدا ہوتے ہیں:
پہلی بات تو یہ کہ یہ واقعہ مولانا صفدر کے طبیعت ومزاج کی جو عکاسی کر رہا ہے، وہ ان کی زندگی کے عمومی نہج سے میل نہیں کھاتا۔ یہاں تبلیغی جماعت کی مخالفت سے بڑھ کر امام اہل سنت کے اخلاق اور طرز عمل پر انگلی اٹھتی ہے۔
دوسری بات یہ کہ مولانا محمد سرفراز خان صفدر دیوبندی فکر کے امین تھے۔ ان کا خاص امتیاز یہی ہے کہ وہ اکابر واسلاف کی فکر اور منہج کی پوری پوری پیروی کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اسی کی اپنے تلامذہ ومتعلقین کو نصیحت فرماتے تھے۔ مولانا دیوبندی دبستان کے تمام حلقوں، اداروں اور جماعتوں کے دینی کاموں کی تحسین وسرپرستی فرماتے تھے اور غلطیوں پر ٹوکتے بھی تھے، مگر بحیثیت مجموعی انہوں نے کبھی بھی دیوبندی فکر کی کسی جماعت یا ادارے کے کام کی مکمل نفی نہیں کی ہے۔ بلند علمی معیار اور دیوبندی فکر کی جماعتوں اور اداروں کی سرپرستی و معاونت کی بنا پر ہی ان کو دیوبندی دبستان میں ’’امام اہل سنت والجماعت‘‘ کے عظیم لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
زیر نظر مجموعہ دروس میں بعض مقامات پر تبلیغی جماعت وابستہ حضرات کی بعض بے اعتدالیوں پر متوازن اور اصلاحی تنقید کے ساتھ ساتھ عمومی طور پر تبلیغی جماعت، رائیونڈ مرکز اور وہاں کے دینی ماحول کی تعریف ہی ملتی ہے۔ یہ بات معلوم ومعروف ہے کہ مولانا صفدر گکھڑ کی جامع مسجد میں تبلیغی جماعتوں کی آمد پر ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے اور عوام کو ان کے ساتھ اس کار خیر میں شرکت کی ترغیب دیا کرتے تھے جس پر گکھڑ کے عوام گواہ ہیں۔
تیسری بات یہ کہ اگر مولانا صفدر تبلیغی جماعت کے نظام اور خاص طور پر رائے ونڈ کے نظام تعلیم سے اس قدر متنفر تھے، اس کی کوئی تصدیق یا تائید مذکورہ ایک واقعے کے علاوہ کہیں سے نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے کوئی اور شواہد موجود ہیں۔ اگر یہ واقعہ درست ہے تو لازماً اس کی کچھ مزید تفصیلات بھی ہیں جو مذکورہ بیان میں درج نہیں۔ محض رائے ونڈ کا طالب علم ہونے کی وجہ سے سند نہ دینا، کسی بھی قیاس کی رو سے قابل فہم نہیں۔
چوتھی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ واقعہ مرتب کتاب نے جو نویں جلد کے ابتدائیے میں درج کیا ہے، اس کی مناسبت اور موقع محل کیا ہے؟ اس واقعے کا زیر نظر مجموعہ دروس سے کیا معنوی تعلق ہے؟ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ مرتب کتاب مولانا محمد نواز بلوچ گزشتہ کافی عرصے سے تبلیغی جماعت کے متعلق سخت جارحانہ اور منفی موقف رکھتے ہیں اور اپنی تقریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ یہ مشتبہ ومشکوک واقعہ مولانا کے دروس کے ابتدائیے میں درج کر کے قارئین کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ مولانا صفدر بھی تبلیغی جماعت کے بارے میں وہی رجحان رکھتے تھے جس کا پرچار ان دنوں مرتب کتاب کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے خیالات اس حوالے سے مولانا صفدر کے معلوم ومعروف نقطہ نظر سے واضح طور پر متضاد ہیں۔
بہرحال، یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کتاب کے مسودے پر مولانا صفدر کے علمی جانشینان مولانا راشدی اور مولانا قارن کی نظر ثانی کا سلسلہ جاری رہتا تو مرتب کی طرف سے اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کتاب میں شامل نہ کیے جا سکتے۔ اس کے باوجود یہ بات، جو واقعاتی طو رپر غلط ہے، ہر جلد کے شروع میں تسلسل کے ساتھ درج کرنا بالکل غیر اخلاقی ہے کہ کتاب کا مسودہ مولانا راشدی کا نظر ثانی شدہ ہے۔
ان چند ملاحظات سے قطع نظر، مولانا سرفراز خان صفدر کے ان درسی افادات کو منظر عام پر لانا اور محفوظ کر دینا بہت بڑی محنت ہے جو کہ مرتب مولانا محمد نواز بلوچ کی اپنے شیخ سے محبت اور ارادت کا عمدہ اظہار ہے۔ اسی طرح اس کی اشاعت کا بیڑا اٹھانے والے جناب میر لقمان اللہ صاحب کی محنت اور اخلاص بھی مثالی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کی محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔
محض توجہ دلانے کے لیے چند امور کی نشان دہی کی گئی ہے۔ کتاب کی طبع ثانی کے وقت اگر ان فروگذاشتوں کی اصلاح کر لی جائے تو ان شاء اللہ اس مجموعہ دروس کی افادیت اور فیض کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔