نومبر ۲۰۱۵ء

عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی صحیح ترجمانی کی ضرورتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
سود کا خاتمہ : ریاست کی ذمہ داریحافظ عاکف سعید 
اردو پر کرم یا ستم؟ سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہچوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 
اک چراغ اور بجھا: مولانا سید نظام الدینؒمولانا عبد المتین منیری 
بہار کا عالممحمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲)ڈاکٹر محی الدین غازی 
موجودہ دور کے فکری چیلنجز اور فضلا کی ذمہ داریمولانا سمیع اللہ سعدی 
حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۱)غازی عبد الرحمن قاسمی 
’’اللہ پوچھے گا‘‘مولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
’’مقالات ایوبی‘‘ پر ایک نظرمولانا عبد الغنی مجددی 
مکاتیبادارہ 
فتویٰ کے نظام کے لیے قانون سازی کی ضرورتادارہ 

عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی صحیح ترجمانی کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے گزشتہ روز جنرل اسمبلی کی لیگل کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
’’اسلام کی غلط اور غیر معقول عکاسی کرنے والوں کے خلاف کاروائی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے حکمت عملی بنائی جائے۔ اسلام کے خلاف متعصبانہ رویہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں اسلامی عقائد کی تعصب پر مبنی کردار کشی کی روک تھام پر بھرپور توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز کاروائیاں ناقابل برداشت ہیں جو کہ نہ صرف رویوں میں شدت کا باعث بنتی ہیں بلکہ اس سے مغرب اور اسلامی دنیا کے مابین غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی طرح دہشت گردی کی ان بنیادی وجوہ کو دور کرنا ضروری ہے جن سے دہشت گردی فروغ پاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو دہشت گردی کی بنیادی وجوہ سمیت طویل عرصہ سے حل طلب تنازعات کے حل، طاقت کے غیر قانونی استعمال اور جارحیت کی روک تھام جیسے امور پر بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو غیر ملکی قبضہ، حق خود ارادیت سے انکار، سیاسی اور اقتصادی نا انصافیوں کے ساتھ سیاسی استحصال اور پسماندگی جیسے مسائل حل کرنے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘‘
اقوام متحدہ کے کسی فورم پر اسلام اور مسلمانوں کے حوالہ سے اس قسم کی باتیں ایک عرصہ کے بعد سنائی دی ہیں جن پر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ ایک دور میں ڈاکٹر مہاتیر محمد اس لہجہ میں بات کیا کرتے تھے، مگر اب وہ نہ صرف یہ کہ اقتدار میں نہیں ہیں بلکہ صاحب فراش بھی ہیں۔ اس لیے ہمارے جیسے نظریاتی کارکن ان کی صحت یابی کی دعا کے ساتھ ساتھ اس تمنا کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں کہ اے کاش کسی مسلم ملک کا کوئی نمائندہ اقوام متحدہ کے فورم پر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بات کرے۔ اس لیے ہمیں ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی یہ باتیں بہت اچھی لگی ہیں اور ہم ان کے لیے سعادت دارین کی دعا کرتے ہیں، آمین یا رب العالمین۔ 
اقوام متحدہ کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے حوالہ سے بہت سی باتیں کرنے کی ہیں اور کیونکہ گزشتہ ستر برس سے ایسے معاملات جمع ہوتے جا رہے ہیں جن پر بات کرنے کی ضرورت ہے مگر سنجیدگی کے ساتھ کسی مسئلہ کو کسی مناسب فورم پر نہیں اٹھایا رہا، اس لیے یہ فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے۔ ہم بھی ایک عرصہ سے اقوام متحدہ اور عالم اسلام سے متعلقہ مسائل و معاملات پر اپنے محدود دائرہ میں کچھ نہ کچھ کہہ اور لکھ رہے ہیں اور اس موضوع کے طلبہ میں شمار ہوتے ہیں۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چند گزارشات اس موقع پر بھی ارباب فکر و دانش کی خدمت میں پیش کر دی جائیں۔ اس امید پر کہ ہو سکتا ہے ان معروضات کو کوئی بہتر زبان یا فورم میسر آجائے اور وہ وہاں تک رسائی حاصل کر سکیں جہاں ان گزارشات پر سنجیدگی کے ساتھ غور و خوض کی ضرورت ہے۔ 
ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی مذکورہ بالا گفتگو کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ اور عالم اسلام کے تعلقات کی موجودہ صورت حال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا کے کم و بیش سب ہی مسلم ممالک ایک آدھ کی استثناء کے ساتھ اقوام متحدہ کا حصہ ہیں، اس کے نظام میں شریک ہیں اور اس کے مثبت اور منفی فیصلوں کا دائرہ کار ہیں، مگر مسلمانوں کے طور پر ان کا تشخص کسی جگہ بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا ۔ اور اس حقیقت کا ادراک نہیں کیا جا رہا کہ دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان نہ تو اپنے مذہبی تشخص سے دست بردار ہونے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی قرآن و سنت کے معاشرتی احکام کو اپنی انفرادی، خاندانی اور اجتماعی زندگی سے بے دخل کرنے پر آمادہ ہیں۔ پوری دنیا میں مجموعی صورت حال یہی ہے مگر اسے تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔ اور بلا وجہ فرض کر لیا گیا ہے کہ دنیا کی باقی آبادی کی طرح مسلمان بھی مذہب کے معاشرتی کردار سے کنارہ کش ہوگئے ہیں یا انہیں اس پر تیار کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک مغرب اور عالم اسلام کے درمیان موجودہ کشمکش اور اس میں دن بدن شدت پیدا ہوتے چلے جانے کی اصل وجہ یہی ہے۔ اس لیے جب تک یہ معروضی حقیقت تسلیم نہیں کر لی جاتی کہ مسلمان آج بھی اللہ تعالیٰ، قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ و سنت پر بے لچک یقین رکھتے ہیں اور ان کے احکام و قوانین کو اپنی معاشرتی زندگی کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں اس وقت تک باقی امور میں بہتری کی طرف کسی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ 
اقوام متحدہ اور مغربی قیادت کے لیے صحیح راستہ یہی ہے کہ وہ اسلام کے معاشرتی وجود اور مسلمانوں کے اسلامی تشخص کی نفی کرنے اور اسے نظر انداز کرتے چلے جانے کی بجائے اسے ایک زمینی حقیقت کے طور پر تسلیم کریں اور اس کی بنیاد پر مسلمانوں کے ساتھ معاملات کو از سر نو طے کرنے کی کوئی صورت نکالیں۔ ورنہ اقوام متحدہ اور مغربی طاقتوں کے بارے میں مسلم دنیا کی بے چینی اور اضطراب میں بہرحال اضافہ ہوتا رہے گا، فاصلے بڑھتے رہیں گے اور بے اعتمادی اور نفرت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ 
اقوام متحدہ کے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ کرنے کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی منشور سمیت ان تمام بین الاقوامی معاہدات پر مسلم دنیا کے تحفظات بدستور موجود ہیں جو آج کے عالمی نظام کی بنیاد تصور کیے جاتے ہیں اور عملاً بین الاقوامی قوانین کا درجہ رکھتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ اگر اپنے اوپر لاگو ہونے والے قوانین کو اپنے عقائد کے منافی سمجھتا ہو اور ان کے اصولی اور اخلاقی جواز پر تحفظات رکھتا ہو تو باہمی اعتماد کی فضا قائم نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی ایسے ماحول کو کسی بہتر مستقبل کا پیش خیمہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ 
اسی طرح اقوام متحدہ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھانا بھی ضروری ہے کہ دنیا کی کل آبادی کا کم و بیش ایک چوتھائی حصہ اقوام متحدہ کی پالیسی سازی کے نظام کا حصہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ فیصلے اور تنفیذ کی اصل قوت سلامتی کونسل کے پاس ہے جبکہ سلامتی کونسل میں اصل اتھارٹی ’’پانچ ویٹو پاورز‘‘ ہیں جن کے ہاتھ میں پوری دنیا کا نظام ہے۔ اس دائرہ میں نہ کوئی مسلم ملک شامل ہے اور نہ ہی کسی مسلم ملک یا مسلمان ملکوں کے کسی اجتماعی فورم کی وہاں تک رسائی کا کوئی امکان ہے۔ اس لیے پالیسیوں کی تشکیل اور نفاذ کے موجودہ نظام کو دنیائے اسلام ’’ون وے ٹریفک‘‘ سمجھتی ہے اور خاص طور پر مسلم ممالک کے بارے میں سلامتی کونسل کے فیصلوں کو ’’یکطرفہ فیصلے‘‘ تصور کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس ماحول کو عملی طور پر تبدیل کیے بغیر باہمی تعلقات اور رویوں میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ 
مگر اقوام متحدہ سے بات کرنے سے قبل ان مسائل پر عالم اسلام کے علمی، فکری اور دینی مراکز میں مباحثہ ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کے معاہدات، قوانین، فیصلوں اور پالیسیوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہوئے موجودہ عالمی نظام کے بارے میں مسلمانوں کی شکایات، تحفظات اور مطالبات کو مرتب کرنے اور دانش و منطق کی زبان میں اسے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے اسلامی یونیورسٹیوں، بڑے دینی مدارس اور علمی و فکری مراکز کو خواب غفلت سے بیدار کرنا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔ ہم تو صرف گزارش ہی کر سکتے ہیں جو اس امید کے ساتھ کرتے رہتے ہیں کہ 
؂ شاید کہ اتر جائے ’’کسی‘‘ دل میں مری بات

سود کا خاتمہ : ریاست کی ذمہ داری

حافظ عاکف سعید

سود کے حوالے سے سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا ہے۔ اخبارات میں آیا ہے کہ میری طرف سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ ہمارے دستور کا آرٹیکل 38 کہتا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں سود کا خاتمہ کرے۔ ہمارے دستور میں اسلامی شقیں موجود ہیں، لیکن کچھ چور دروازے بھی ہیں۔ دستور میں اسلام کا اچھا خاصا مواد موجود ہے، مگر جتنا کچھ ہے، افسوس یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد نہیں ہے۔ یہ المیہ ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ سود کتنا بڑا گناہ ہے۔ قرآن مجید میں جو الفاظ سود کی قباحت و شناعت کے بارے میں آئے ہیں، وہ کسی اور گناہ کے لیے نہیں آئے۔ یعنی تم سودی لین دین سے باز نہیں آتے تو اللہ اور رسولؐ سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔ اللہ اور رسولؐ سے جنگ ہو تو ہمارے لیے رتی بھر خیر کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ پھر ہماری دعائیں قبول کیسے ہو سکتی ہیں؟ اس سے زیادہ خطرناک کوئی شے نہیں۔
عملی گناہوں میں سود سب سے بڑا گناہ ہے۔ ایک ہے نظری یا عقیدے کا گناہ، جیسے شرک یا کفر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کا مفہوم ہے کہ سود کے ستر حصے ہیں جن میں سے سب سے ہلکا حصہ ایسا ہے گویا کوئی انسان اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے۔ یہ ذکر کرتے ہوئے زبان لڑکھڑا جاتی ہے، لیکن اس معاملے میں ہم اتنے ڈھیلے واقع ہوئے ہیں کہ گویا ہمیں کوئی سروکارہی نہیں۔ لاپروائی کی انتہا ہے۔
درحقیقت ہم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جو بڑی مشکلوں سے سماعت کے لیے منظور ہوئی۔ اس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 38 کے تحت یہ حکومت کی ذمہ داری ہے وہ ملک سے سود کا خاتمہ کرے۔ ہم سود کی وجہ سے اللہ اور رسولؐ کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔ اس کا سپریم کورٹ نوٹس لے اور حکومت کو فوری طور پر متوجہ کرے۔ اس پر وہاں سے جواب آیا کہ یہ ہمارا کام نہیں ، یہ معاملہ وفاقی شرعی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس کا فیصلہ وہیں ہوگا۔ درخواست خارج کر دی گئی، لیکن سپریم کورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی جن کی سربراہی میں یہ بنچ قائم ہوا تھا، کے ریمارکس عجیب و غریب تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو سود نہیں لیتانہ لے، اور جو لیتا ہے اس سے اللہ پوچھے گا۔ ان کی بات کو صحیح مان لیں تو پھر ہم یہ کہنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ حکومت اپنے فرائض منصبی ادا کرے تو اچھی بات ہے، اور اگر نہ کرے تو اللہ پوچھے گا۔ فوجی جرنیل آئین کی پاسداری کریں اچھی بات ہے، حلف توڑ کر اقتدار پر قابض ہو جائیں تو اللہ پوچھے گا۔ جج منصفانہ فیصلے کرے تو اچھی بات ہے، اور اگر انصاف کا خون کرے تو اللہ پوچھے گا۔
میں اوریا مقبول جان کے حالیہ مضمون کا وہ حصہ ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ سود کے معاملے میں ہم نے جو کیا ہے، وہ دردناک ہے۔ ہم ایک خوفناک انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے یکم جولائی 1948ء کو اسٹیٹ بینک کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا تھا ’’میں بینک کے تحقیقی کام کا خود باریک بینی سے جائزہ لوں گا کہ وہ ایک ایسا بینکنگ نظام وضع کرے جو اسلام کے معاشرتی اور معاشی نظام زندگی سے ہم آہنگ ہو۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے لا ینحل مسائل پیدا کیے ہیں۔ مغرب کا معاشی نظام سودی ہے۔‘‘ اس تقریر کے ڈھائی ماہ کے بعد قائد اعظم کا انتقال ہوگیا۔ ان کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد سترہ سال تک طویل خاموشی رہی۔ آئین میں نظریاتی کونسل ہر دور حکومت میں موجود رہی لیکن کسی کو سود کے بارے میں کبھی کوئی خیال نہیں آیا۔ ایوبی آمریت کے دوران 1964-66 کے عرصے میں اسلامی نظریاتی کونسل نے بینکنگ کے نظام کا جائزہ لیا اور اسے خلاف اسلام قرار دیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل دستور کا حصہ ہے اور اسے اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ ملک میں قانون سازی قرآن و سنت کے دائرے میں ہوگی۔ یہ ادارہ اس لیے بنایا گیا تھا کہ وہ نشان دہی کرے گا کہ کون کون سے قوانین غیر اسلامی ہیں اور ایسے قوانین کے متبادل تجویز کرے گا۔ اس ادارے میں ملک کے بڑے بڑے اسکالرز اور مکاتب فکر کے علماء کو شامل کیا گیا۔ 700 سے زیادہ قوانین کے بارے میں کونسل نے رائے دی کہ یہ غیر اسلامی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے جمہوری دور میں آئین میں یہ شق شامل کی گئی جس کے ذریعے حکومت کو ذمہ داری دی گئی کہ سود کو جلد از جلد ختم کیا جائے۔
افسوس آج تک بانی پاکستان کی خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا ہے۔ اور ہم نے جب اللہ اور رسولؐ کے خلاف جنگ کے الٹی میٹم کو قابل اعتناء نہیں سمجھا تو مسلسل عذاب کے کوڑے برس رہے ہیں۔ نا اہل حکمرانوں کا مسلط ہو جانا بھی اللہ کے عذاب کی ایک صورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں درست راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
(بشکریہ روزنامہ ’’اسلام‘‘)

اردو پر کرم یا ستم؟ سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

جسٹس ج۔س۔ خواجہ نے اردو کو بطور سرکاری زبان رواج دینے کے دستوری تقاضے کے بارے میں بطور چیف جسٹسً اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک روز پہلے جو فیصلہ دیا ہے، اس پر تحسین و تعریف کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اردو کی دادرسی کا کس حد تک ذریعہ بنتا ہے ، یہ وقت بتائے گا ۔ ماضی تو بہرصورت مایوس کن ہے۔ کوئی بابائے اردو بھی نہیں جو صورت حال کو بدلنے کے لئے میدان لگائے۔ ہم اس فیصلے میں پائے جانے والے inherent omissions پر کچھ کہنا چاہیں گے۔ مقصود بہتری کے امکانات سامنے لانا ہے۔
اردو کا موجودہ کیس سپریم کورٹ میں دو آئینی درخواستوں کا نتیجہ ہے۔ درخواست نمبر ۵۶ سال ۲۰۰۳ میں جناب محمدکوکب اقبال صاحب کی جانب سے دائر ہوئی جو سپریم کورٹ کے وکیل اور شہری حقوق کی ایک این جی او کے چیئرپرسن ہیں۔ دوسری درخواست نمبر ۱۱۲، سال ۲۰۱۲میں سید محمود اختر نقوی نے دائر کی۔ موجودہ فیصلہ ج۔س۔ خواجہ نے صادر فرمایا ہے۔ وہ چوبیس روز کے لیے پاکستان کے چیف جسٹس رہے۔ اس کیس کا فیصلہ انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک روز پہلے فرمایا۔ کمال یہ ہے کہ اردو کی تقدیر کا فیصلے کرنے بیٹھے ہیں مگر یہ فیصلہ بھی انہوں نے آدھا اردو میں اور آدھا انگریزی میں تحریر کیا۔ یہ امر بھی ان کے کریڈٹ میں ہے کہ انہوں نے اپنی سروس کے دوران دوچار فیصلے اردو میں تحریرکیے ہیں۔ یہ ان کا اردو پر احسان عظیم ہے۔ جسٹس جواد خواجہ کے چند اردو فیصلے خود ان کے لیے کسی incentive کا باعث نہیں ہوئے تو کسی اور پر کیا اثر ڈالیں گے۔
بہرحال جناب جسٹس خواجہ صاحب کے آخری فیصلے کا سرسری مطالعہ کرنے پر سب سے پہلے جو چیز بری طرح کھٹکتی ہے، وہ یہ ہے کہ فیصلہ میں بارہ تیرہ سال لگے۔ انصاف میں تاخیر انصاف کی نفی ہے۔ اب اس تاخیر کے ذمہ دار کون ہیں، اس کا تعین کرنے کی ضرورت نہیں ۔اگر وکلا یا فریقین کا اس میں کوئی حصہ ہے تو ادارے کے طور پر تمام تر ذمہ داری عدلیہ پر ہی عائد ہو گی۔ فیصلے کے متن سے واضح ہے کہ دائری کے بعد بارہ تیرہ سال میں ایک بار ہی سماعت ہو ئی۔ یہ سماعت ۲۰۱۵۔۸۔۲۶کو ہوئی۔ فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ سال رواں میں اٹھارہ بار کیس سماعت کے لیے لگا ۔ پھر ان پیشیوں پر کیا ہوا؟ عدالت نے چودہ پیشیوں کی کارروائی کا چارٹ مرتب کر کے اسے فیصلے کا حصہ بنایا ہے۔ اس کو دیکھ کر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ فریقین اور فاضل عدالت نے وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ کیا کوئی وقت کا حساب لے سکتا ہے؟ اس سے status quo مزید طاقت ور ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں تمام ادارے یہی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
اردو کی ترویج کے لیے لوگوں کی طرف سے جتنی عرضیاں اعلیٰ عدالتوں کے ڈبوں میں ڈالی گئیں، شاید کوئی پسند نہیں کرے گا کہ ان کی تفصیلات جمع اور جاری کی جائیں۔ فیصلہ کے بارے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ دستور کے آرٹیکل ۲۵۱ (۱) کے الفاظ بڑے واضح ہیں کہ اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔ اس آرٹیکل میں انتظامات کی ذمہ داری پورا کرنے کے لیے حکومت یا کسی ادارے کا تذکرہ نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مملکت کا ہر ادارہ، اپنے اپنے دائرہ کار میں، اس کے لیے ذمہ دار ہے۔ جناب جواد خواجہ صاحب چوبیس روز تک پاکستان کے چیف جسٹس رہے۔ کاش وہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کو ہدایت جاری کر دیتے کہ وہ اپنی ذمہ داری پورا کرتے ہوئے اردو کو سماعت اور فیصلے کی زبان کے طور پر اختیار کریں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چیف جسٹس صاحب نے ایسا اس لیے نہ کیا کہ درخواست گذاروں نے اس کے لیے اپنی درخواستوں میں کوئی دادرسی نہیں مانگی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے suo moto کس بیماری کا نام ہے؟
جناب ج۔ س۔ خواجہ صاحب نے فیصلے میں سائلان کے دلائل اور اپنی آبزرویشنز کے حوالے سے حکومتوں کے غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کو کافی نمایاں کیا ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:
5. Indeed, the importance of this issue cannot be emphasized enough. Yet, the way in which this issue is being dealt with by the Government, has been very casual and non serious.
6. During the course of this year alone, these petitions have come up for hearing before this Court eighteen times. However, despite the time the Court dedicated to this crucial issue, no substantial progress was made. On 12.5.2015, for instance, Mr Abdul Rashid Awan, Deputy Attorney General for Federation clearly submitted that in spite of his best efforts the Secretary Cabinet and the Secretary Information, Government of Pakistan, and other concerned functionaries were not paying any heed to the Constitutional imperative in Article 251.
’’۵۔ بے شک اس تنازعے کی اہمیت پر زیادہ زور بیان صرف کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے باوجود حکومت اور سیکریٹری کیبنٹ اور سیکریٹری انفرمیشن نے اس بارے میں جو طرز عمل اختیار کیا ہے، وہ بہت معمولی اور غیر سنجیدہ ہے۔‘‘
’’۶۔ صرف رواں سال میں یہ درخواستیں اٹھارہ بار سماعت کے لیے لگائی گئیں۔ عدالت نے ہر حال میں اپنے کام میں پوری یکسوئی سے کام لیا۔ اس کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہو ئی۔بطور مثال مورخہ ۲۰۱۵۔۵۔۱۲ کو جناب عبدالرشید ڈپٹی اٹارنی جنرل نے وفاق کی جانب سے واضح طور پر فرمایا کہ ان کی بہترین کوششوں کے باوجود حکومت پاکستان کے سیکریٹری کیبنٹ اور سیکریٹری انفرمیشن اس آرٹیکل ۲۵۱ کے دستوری تقاضے پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘‘
اس کے بعد فیصلے کے سات سے نو صفحات پر ادارہ فروغ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) کی سفارشات ۱۹۸۱درج کی گئی ہیں۔ یہ سفارشات جزو الف، ب اور ج کی صورت میں ہیں۔ جزو الف اردو کی ترویج بطور دفتری زبان ،جزو ب اردو کو ذریعہ تعلیم اور جزو ج مقابلے کے امتحانات اردو میں لینے کی بابت ہیں۔ ہم طوالت کے خوف سے یہ سفارشات درج نہیں کر رہے۔ فیصلے کا یہ حصہ لائق توجہ ہے۔ مزید براں حکومت پاکستان کی جانب سے کابینہ سیکریٹیریٹ کابینہ ڈویژن کا خط مورخہ ۶۔جولائی ۲۰۱۵ء بھی فیصلہ کا حصہ ہے۔ اس سب کچھ کے بعد عدالت پیرگراف نمبر ۱۶ میں لکھتی ہے:
We may also emphasis here that implementing Article 251 is not just a matter of obeying the constitution; it has real practical implications for Pakistani public. In this regard, we may refer to a highly relevant historical fact. In 1972, the provincial government in Balochistan led by the Chief Minister and the provincial government N W F P led by CM Maulana Mufti Mahmud, took some concrete steps towards introducing Urdu as the official language in their respective Provinces. 
’’ہم اس بات پر زور دے سکتے ہیں کہ آرٹیکل ۲۵۱ کا معاملہ صرف دستور کے اتباع کا معاملہ نہیں، یہ لوگوں کے لیے بہت سے عملی اور حقیقی مضمرات کا حامل ہے۔ یہاں ہم تاریخ کے ایک بہت ہی متعلق واقعے کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ ۱۹۷۲ میں بلوچستان کی صوبائی حکومت اور شمال سرحدی صوبہ کے وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود نے اپنے اپنے صوبوں میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے تھے۔‘‘
اس کے بعد فاضل جج ایم ایم اے کی حکومت کے دوران اردو کے نفاذ کا بھی ذکر کرکے کہتے ہیں کہ اس سے دفتری خط و کتابت اور noting میں کافی سہولت اور بہتری آئی۔ اس پس منظر میں عدالت فیصلے کے پیراگراف نمبر ۱۹ میں نو ہدایات جاری کرتے ہیں۔ ہم متعلقہ حصہ یہاں نقل کرنا وقت کا ضیاع خیال نہیں کرتے۔ ہدایت نامہ اس طرح ہے:
19 Therefore, bearing in mind the constitutional commands in Article 5 and 251 reproduced above and noting the in-action and failure of successive governments to implement this important provision, we have no option but to order as under:
’’ ۵۔لہٰذا دستور کے آرٹیکل ۵ اور ۲۵۱ کی دستوری ہدایات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور حکومتوں کے ان دفعات پر عمل کرنے میں مسلسل ناکامی کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے پاس درج ذیل ہدایات کے صادر کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں:
i) The provisions of Article 251 shall be implemented with full force and without unnecessary delay by the Federal and Provincial Governments;
ii) the time-lines (given in letter dated 6-7-2015 reproduced below) which are given by the Government itself must be considered for implementation by the Government in line with Article 251 for implementation;
iii) the Federal Government as well as Provincial Governments should coordinate with each other for uniformity in the (رسم الخط)"rasmulkhat" for the National language;
iv) Federal as well as provincial laws should be translated in the National language within three months;
v) statutory, regulatory and oversight bodies shall take steps to implement Article 251 without unnecessary delay and also ensure compliance by regulatees;
vi) In the competitive examinations at Federal level, the recommendations of government bodies noted above, should be considered by the Government for implementation without unnecessary delay;
vii) Judgments in cases relating to public interest, litigation and judgments enunciating a principle of law in terms of Article 189 must be translated in Urdu and should be published in line with Article 251 of the constitution;
viii) In Court cases, government departments should make all reasonable efforts to submit their replies in Urdu to enable citizens to effectively enforce their legal rights;
ix) If, subsequent to the judgment, any public bodies or public officials continue to violate the constitutional command contained in Article 251, citizens who suffer a tangible loss directly and foreseeably resulting from such violation shall be entitled to enforce any civil rights which may accrue to them on this account.
(I) وفاقی اور صوبائی حکومتیں آرٹیکل ۲۵۱ کو پوری قوت سے بلا غیر ضروری تاخیر نافذ کریں گی۔
(II) خط مورخہ ۲۰۱۵۔۷۔۶ (منجانب ڈاکٹر ارم انجم خان، جوائنٹ سیکریٹری کابینہ)اور آرٹیکل ۲۵۱ میں درج مہلت کا لحاظ رکھتے ہوئے آرٹیکل ۲۵۱ کو نافذ کیا جائے گا۔
(III) وفاقی اور صوبائی حکومتیں رسم الخط کی یکسانی کے لیے باہم مربوط اقدامات کریں گی۔
(IV) وفاقی اور صوبائی قوانین کو قومی زبان میں تین ماہ کے اندر اندر ترجمہ کرایا جائے گا۔
(V) قانون کے تحت قائم نظامتیں، قواعد وضوابط بنانے اور نگرانی کا کردار ادا کرنے والے ادارے آرٹیکل ۲۵۱ پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کریں گے۔
(VI) وفاقی اور صوبائی حکومت کے زیر اہتمام مقابلے کے امتحانات کے بارے میں مختلف اداروں کی جانب سے پیش کردہ سفارشات پر بغیر کسی تاخیر عمل کیا جائے گا۔
(VII) مفاد عامہ اور اہم اصول قانون بیان کرنے والے فیصلوں کا ترجمہ کرانے اور ان کو چھاپنے کا اہتمام کیا جائے گا۔
(VIII) عدالتوں کے سامنے مقدمات میں حکومتیں اپنے جوابات ممکنہ حد تک اردو میں پیش کریں گی،تاکہ لوگ اپنے قانونی حقوق کا تحفظ کر سکیں۔
(IX) موجودہ فیصلے کے بعد، اگر کوئی حکومتی ادارہ یا حکومتی افسران دستور کے آرٹیکل ۲۵۱ کی عدم اطاعت جاری رکھیں تو بالواسطہ یا بلا واسطہ متاثرہ شہری اپنے شہری حقوق نافذ کروانے کا حق رکھتے ہیں۔
فاضل عدالت نے دستور کے آرٹیکل ۲۵۱ میں لفظ shall کا اطلاق کر کے حکومت کو نو ہدایات جاری کی ہیں جو اوپر درج کر دی گئی ہیں۔ کاش اسی shallکا اطلاق کر کے سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور ماتحت عدالتوں کو اردو میں کام (سماعت اور فیصلہ) کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دیتے۔ معقولیت اور انصاف کا تقاضا یہی معلوم ہوتا ہے۔ وفاق کو نو ہدایات پر مشتمل طویل ہدایت نامہ کتنا ہی مکمل ہو، اس میں تعبیرات اور توجیہات کی ہر طرح کی گنجائش ہے۔ حکومت اور انتظامیہ فیصلے پر عملدرآمد سے بچنے کے لیے چور دروازے ڈھونڈ نکالیں گے جس کی ماضی میں کئی مثالیں موجود ہیں۔ اگر کوئی چیف جسٹس کچھ کرنا چاہے تو ہر دور میں کام کرنے والوں نے کام کیا ہے۔ عدلیہ اور انتظامیہ کو الگ کرنے کے لیے سابق چیف جسٹس جناب جسٹس محمد افضل ظلہ نے جو اقدامات (3a)کئے اور ان کو حکومتوں سے موثر طور پر منوایا ، وہ ہماری عدلیہ کی تاریخ کا یقینی طور پر سنہرا باب ہے۔ اسی طرح جب سپریم کورٹ نے قصاص و دیت کے حوالے سے یہ قرار دیا کہ اگر پارلیمان شریعت کے منافی قرار دیے گئے قانون کو دی گئی مہلت کے اندر قانون سازی نہیں کرتی یا حکومت کا جاری کردہ آرڈنینس کسی وجہ سے ختم ہو جاتا ہے تو بھی قصاص و دیت سے متعلقہ قرآن و سنت کے احکام موثر ہوں گے۔ (قصاص دیت کیس، پی ایل ڈی ۱۹۹۰، سپریم کورٹ ۱۱۷۲)
۱۹۸۶ کے سید کمال کیس میں۱۹۱۳ سے رائج قانون شفعہ کو خلاف شریعت قرار دے دیا گیا۔ اسے شریعت کے مطابق بنانے کی ہدایات میں جو سفارشات درج کی گئیں، وہ اس حق کو ختم کر دینے والی تھیں۔ اس کے باوجود صوبائی حکومتوں نے جس طرح کا بلی چوہے کا کھیل شروع کیا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ خاص طور پر پنجاب حکومت نے تو انتہا کر دی۔ ۱۹۸۶ تا ۱۹۹۰ کوئی قانون ہی نہ بنایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جاتی عمرا کے لیے شریفوں کی جانب سے اراضی کی وسیع خریداریاں کی جا رہی تھیں۔ آخر کار سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے شفعہ کا نیا قانون بنوا ہی لیا۔ یہ کس حد تک اسلامی ہے اور کس حد تک جاگیردارانہ ذہن کا آئینہ دار ہے، ایک الگ موضوع ہے۔ 
کاش جسٹس ج۔ س۔ خواجہ کو اللہ تعالیٰ بابائے اردو مولوی عبدالحق کے عزم کا عشرِ عشیر ہی عطا کر دیتا تو اور وہ اپنے ادارے کو دستوری پابندی کی ہدایت جاری کرد یتے ۔ اتنا کر دینے کے بعد صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے لیے کوئی ہدایت نہ بھی جاری کرتے تو ان کے اقدامات کو ہر شہری اپنے لیے ریلیف محسوس کرتا۔ اس کے بعد اگر وفاق اور صوبائی حکومتوں کو اتنی ہی ہدایت کر دیتے کہ قانون کاقابلِ نفاذ متن اردو میں جاری ہو گا تو ان کا فیصلہ تاریخ کا دھارا بدل دیتا۔ یہاں ہم سوچنے پر مجبور ہیں کہ حکومتوں اور ان کے اداروں نے اردو کے ساتھ جو کچھ کیا، وہی کچھ عدلیہ بھی کرتی آ رہی ہے۔ چیف جسٹس جواد صاحب نے اس کے بارے میں کیوں کچھ کہا نہ کیا؟یہاں فیصلہ سے پیراگراف نمبر ۱۰ اور ۱۱ کا کچھ حصہ نقل کرنا چاہتے ہیں:
’’یہاں رہنمائی کے لیے بابا فرید شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کا ایک واقعہ درج کیا جاتا ہے:
ایک بچے کی ماں اپنے بچے کو بابا صاحب کے پاس لائی۔ اس نے شکایت کی کہ بچہ گڑ بہت کھاتا ہے، اسے نصیحت کریں۔ بابا جی نے ایک ہفتے بعد آنے کے لیے کہا۔ جب وہ دوبارہ بچے کو ساتھ لائی تو بابا جی نے اس کو گڑ نہ کھانے کی نصیحت کی۔ بچے نے اسے مان لیا اور گڑ کھانا چھوڑ دیا۔ اس موقع پر بچے کی ماں نے بابا جی سے دریافت کیا کہ انہوں نے یہی نصیحت پچھلے موقع پر کیوں نہ کر دی؟ اس پر بابا جی نے جواب دیا کہ ان دنوں وہ خود کثرت سے گڑ استعمال کر رہے تھے، اس وجہ سے وہ بچے کو گڑ کھانے سے منع نہیں کر سکتے تھے۔‘‘
یہاں کیسے کہوں کہ دیگراں را نصیحت خود میاں فضیحت کی مثال جسٹس صاحب پر ہی نہیں بلکہ ان کے پورے ادارے پر صادق آتی ہے۔
اردو کے نفاذ کے لیے دستور کے آرٹیکل ۲۵۱میں ۱۹۷۳ پانچ سال کی میعاد مقرر کی گئی تھی۔ بعد میں اسے پندرہ سال کر دیا گیا۔ میعاد کا تعین، پرلے درجے کی منافقت تھی۔ یہ دستور اس طرح کی منافقتوں سے بھرا پڑا ہے۔ اس کی بنیاد پر اسے متفقہ دستور کہا جاتا ہے۔ اردو تو ہمارے اندر ہمیشہ سے موجود ہے۔ اسے بولنے، لکھنے اور اختیار کرنے کے لیے ہمیں کسی میعاد کی ضرورت نہیں۔ ایک زمانے میں ایک سابق چیف جسٹس نے کہا تھا کہ اردو میں کام کرنے کے لیے ہمیں صرف حکم کی ضرورت ہے۔ حکم ہوتے ہی تمام جج اردو میں کام شروع کر دیں گے۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ابھی ۱۹۷۳ کا دستورنہیں بنا تھا۔ اصل پریشانی یہ ہے کہ ہم تقدیر کے فیصلے عدالتوں سے لینے لگے ہیں۔ ہمیں اپنی تقدیر اپنے ہاتھ سے نہیں دینا چاہیے۔ اردو کی تقدیر تو روزِ اول سے طے ہے۔ ضرورت ہے کہ کوئی بابائے اردو جیسا عزم لے کر اٹھے، ڈاکٹر سید محمد عبداللہ کا شوق ہو اور پھر دیکھئے اردو کی تقدیر۔ 
میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ دستور میں اردو کے ترویج کے لیے میعاد کا تعین در اصل اس کے نفاذ کو ٹالنے والے بات تھی۔ حکومتوں اور افسر شاہی نے ہی نہیں، اعلیٰ عدالتوں نے بھی ٹالنے کے اس عمل میں اپنا اپنا حصہ خوب ڈالا ہے۔ اگر جسٹس ج۔س۔ خواجہ کے بعد آنے والے چیف جسٹس صاحبان ٹالنے کے اسی عمل کا حصہ بنے رہتے ہیں تواردو کی تقدیر نہیں بدلے گی۔ اوپر درج ہدایت نامہ ایک بار پھر پڑھ لیں۔ میں نے اسے بار بار پڑھا ہے، ہر بار میرا گمان پختہ ہوا کہ اس پر عمل نہیں ہو گا۔ یہ مبہم ہدایات پر مشتمل ہے۔ عمل درآمد سے فرار کے ہزار راستے ان کے اندر موجود ہیں۔ مزید براں حکومتوں کی نالائقیاں اور نوکر شاہی کی بد نیتی اپنی جگہ ہو گی۔ ان ہدایات میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ مقدموں میں جوابات، فیصلہ جات اور قوانین کے تراجم کیے جائیں۔ کیا یہ تراجم سند ہوں گے؟ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایسا ہو گا۔ اہم ترین بات یہی ہو سکتی تھی کہ سماعت، فیصلوں اور قانون کی زبان فوری طور پر آئندہ کے لئے اردو کر دی جائے۔ 
قصہ مختصر، اب ہم صرف دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ غریب اردو کے لیے راہ نکالے۔ اس طرح ہر شہری کے لئے سہولت کا راستہ پیدا ہو گا۔ یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے۔ افسوس یہ ہے کہ مفاد عامہ کا سپریم کورٹ کو خیال ہوتا تو کم کورٹ فیس پر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے (کورٹ فیس کیس،پی ایل ڈی ۱۹۹۲ وفاقی شرعی عدالت ۱۹۵) کے خلاف اپیل ۱۹۹۲ سے تعطل کا شکار نہ ہوتی۔ ربع صدی گزر چکی ہے۔ کبھی سنا نہیں کہ یہ اپیل سماعت کے لیے لگی ہو۔

اک چراغ اور بجھا: مولانا سید نظام الدینؒ

مولانا عبد المتین منیری

۱۷  اکتوبر کی شام کو خبر آئی کی حضر ت مولانا سید نظام الدین صاحب بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ انتقال کے وقت مولانا ملت اسلامیہ ہندیہ سے وابستہ اہم اور باوقار ذمہ داریوں اور امیر شریعت امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ اور جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جیسے کئی ایک معزز عہدوں پر فائز تھے ۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر ۸۸ سال تھی۔ آپ کی ولادت با سعادت مورخہ ۳۱ مارچ ۱۹۲۷ء محلہ پرانی جیل، گیا بہار میں ہوئی تھی۔ مولانا کی رحلت کے ساتھ امت مسلمہ ہندیہ ایک سلجھے ہوئے، پرہیزگار، بردبار اور امانت دار قائد سے اس وقت محروم ہوگئی جب کہ آپ جیسی قیادت کی ملت کو پہلے سے زیادہ ضرورت تھی ۔
مولانا کے والد ماجد قاضی سید حسین صاحب ایک جید عالم دین اور علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگردوں میں تھے۔ آپ کی والدہ کی وفات ۱۹۳۰ء میں اس وقت ہوئی جب آپ نے ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا۔ ابھی آپ کی عمر دودھ پینے کی تھی ۔ چار سال کی عمر ہوئی تو ۱۹۳۱ء میں بسم اللہ خوانی سے آپ کی تعلیم کا آغاز ہوا اور گھریلو تعلیم ختم کرنے کے بعد ۱۹۴۱ء میں بہار کی مشہور دینی درسگاہ مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں آپ کا داخلہ ہوا ۔ ابھی عمر پندرھویں سال میں تھی کہ والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس کے ایک سال بعد ۱۹۴۲ء میں آپ نے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ، مولا نا اصغر حسین وغیرہ اساطین علم سے کسب فیض کیا۔ جون ۱۹۴۲ء میں آپ کو حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے شرف ملاقات حاصل ہوا ۔ ۱۹۴۶ء میں آپ کی فراغت ہوئی اور آپ نے شیخ الادب مولانا اعزاز علی کے زیر سایہ ۱۹۴۶ء میں تخصص فی الادب کی تکمیل کی ۔ فراغت کے بعد آپ ریاض العلوم ساٹھی ، چمپارن میں تدریس سے وابستہ ہوگئے جہاں آپ نے ۱۹۴۸ء سے ۱۹۶۲ء تک بحیثیت صدر مدرس خدمات انجام دیں ۔۳۱ مارچ ۱۹۵۰ء کو آپ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوگئے۔
امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ کے تیسرے امیر مولانا ابو المحاسن سجاد صاحب کے انتقال کے بعد جب امارت جمو د اور انتشار سے دوچار ہوگئی تھی تو حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒ اور دیگر اکابر کے اصرار پر مولانا منت اللہ رحمانی صاحبؒ نے امیر شریعت کا منصب قبول کیا جس کے بعد آپ نے ۱۹۵۷ء میں مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب کو قاضی شریعت کے جلیل القدر عہدے پر فائز کیا۔ قاضی صاحب اس وقت نئے نئے دیوبند سے فارغ ہوکر آئے تھے اور عمر کے پچیسویں سال میں ابھی داخل نہیں ہوئے تھے۔ ۱۹۵۸ء میں مولانا سید نظام الدین صاحب کی امیر شریعت مولانا رحمانی صاحب کے قائم کردہ ادارے میں آمد ہوئی اور یہیں پہلی مرتبہ حضرت امیر شریعت اور مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ ۱۹۶۰ء میں جامعہ رحمانیہ میں آپ کی دوبارہآمد ہوئی او ر ۱۹۶۳ء ۔ ۱۹۶۴ء میں آپ نے مدرسہ رشید العلوم چترا میں صدر مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔ اس دوران قاضی صاحب سے آپ کا ربط و ضبط بڑھا جو ۴ ؍ اپریل ۲۰۰۲ ء کو قاضی صاحب کی رحلت تک اس طرح قائم رہا جیسے دو جان ایک قالب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی رفاقت میں امت اسلامیہ ہندیہ کے بڑے بڑے کا م لیے۔
۱۹۶۵ء میں قاضی صاحب کے مسلسل اصرار پر آپ نے ناظم امارت شرعیہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ۱۹ مارچ ۱۹۹۱ء کو امیر شریعت مولانا رحمانی کی رحلت کے بعد جب مولانا عبد الرحمن صاحب امیر شریعت بنے تو آپ کا بحیثیت نائب امیر شریعت انتخاب عمل میں آیا جن کی رحلت کے بعد آپ کو امیر شریعت بہار و اڑیسہ منتخب کیا گیا ۔ امارت شرعیہ سے یہ تعلق آخری دم تک قائم رہا ۔
قاضی اور ناظم کی جوڑی نے امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی صاحب کی زیر سرپرستی امارت شرعیہ کو اعتبار بخشنے اور اسے اوپر اٹھانے کی ان تھک کوششیں کیں۔ ان حضرات کی قربانیوں سے یہ ادارہ ایک کمرہ سے اٹھ کر ملک کا معتبر ترین ادارہ بن گیا۔ اس کی عالیشان عمارت کھڑی ہوئی اور اس کے ماتحت کئی ایک ادارے قائم ہوئے جنھوں نے مسلمانان بہار کی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دیں ۔ مولانا سید نظام الدین صاحب مرنجاں مرنج بزرگ تھے۔ انہیں سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر آتا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ نہایت ہی امانت دار اور دیانت دار تھے۔ جب تک رہے، امارت کی مالیات کا نظام اپنے ہاتھ میں رکھا جس کی وجہ سے چالیس سال پر محیط طویل عرصہ میں مالیات کے کسی تنازعہ نے امارت شرعیہ کو میلا ہونے نہیں دیا۔ قاضی و ناظم میں افہام و تفہیم کی روح کارفرما تھی، لہٰذا ان کے تعلقات میں انا کی خلیج کبھی آڑے نہیں آئی۔ انہوں نے ملت کے مفاد کو ہمیشہ ہر مفاد سے بلند رکھا اور جس ادارے کی بارآوری کے لیے انہوں نے اپنا خون خشک کیاتھا، اس پر آنچ نہ آنے دی۔ ایسی رفاقت کی مثال شاذ و نادر ہی ملے گی ۔
اس کی بات کی اہمیت کا انداز ہ اس بات سے آپ لگا سکتے ہیں کہ مولانا سید نظام الدین صاحب کو امارت شرعیہ میں لانے والے قاضی صاحب تھے۔ آپ بھی معاملہ فہمی اور ماہرانہ صلاحیت میں اپنی مثال آپ تھے۔ جب تک زندہ رہے، فقہی گتھیاں سلجھانے میں کم ہی لوگ ان کی برابری کرسکے۔ ایک بڑا حلقہ مولانا منت اللہ رحمانی صاحب کی رحلت کے بعد آپ کو امیر شریعت کے منصب کا سب سے زیادہ حقدار سمجھتا تھا ، لیکن کسی تنازعہ سے بچتے ہوئے ایک بہ نسبت غیر معروف شخصیت کا انتخاب بحیثیت امیر شریعت عمل میں آیا اور مولانا سید نظا م الدین صاحب کو نائب امیر شریعت منتخب کیا گیا۔ اس انتخاب سے ان حضرات کے تعلقات میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ امارت شرعیہ کے امور بھی حسب سابق چلتے رہے ، کیونکہ عملاً انہی دو حضرات کے ہاتھوں میں امارت شرعیہ کی باگ ڈور تھی۔ پھریکم نومبر ۱۹۹۸ء کوامیر شریعت پنجم کی رحلت کے بعد آپ کو نیا امیر شریعت منتخب کیا گیا اور قاضی صاحب آپ کے نائب بن گئے ۔
۲۸ ؍ ڈسمبر ۱۹۷۲ء کو ممبئی میں کل ہند مسلم پرسنل لا کنونشن منعقد ہوا ۔ کنونشن کی تحریک پر ۸ ؍ اپریل ۱۹۷۳ء میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔ حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ ا س کے اولین صدر منتخب ہوئے ا ور امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ اس کے جنرل سکریٹری۔ بورڈ کے روز اول سے آپ نے قاضی صاحب کے ساتھ امیر شریعت کا سایہ بن کر خدمات انجام دیں اور بورڈ کے مقاصد کے حصول اور اسے کامیاب کرنے کے لیے امکان بھر اپنی بھر پور صلاحیتیں صرف کیں۔ لہٰذا امیر شریعت مولانا رحمانی کے انتقال کے بعد آپ کا مئی ۱۹۹۱ء میں بورڈ کا جنرل سکریٹری کی حیثیت سے انتخاب عمل میں آیا۔ ان چوبیس سالوں کے دوران جو بحران اٹھے ، جن مسائل و مشکلات سے امت اسلامیہ ہندیہ دوچار ہوئی، بورڈ کو توڑنے اور کمزور کرنے کی جتنی سازشیں ہوئیں، مولانا نے کمال حکمت اور دانائی کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور بورڈ کی لڑی کو پروئے رکھنے کی کامیاب کوششیں کیں ۔ 
مولانا نے کبھی عہدوں کا پیچھا نہیں کیا، عہدے ان کے پیچھے بھاگتے رہے ۔ ۳۱ ڈسمبر ۲۰۰۰ء کو مفکراسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی صاحب کی رحلت کے بعد جب مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ بورڈ کے صدر منتخب ہوئے تو ایک موقع ایسا آیا جب کہ بورڈ کے صدر اور جنرل سکریٹری دونوں کلیدی عہدوں پر امارت شرعیہ کے عہدیدار ، امیر شریعت اور نائب امیر منتخب ہوئے۔ چونکہ بورڈ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہے ، لہٰذا آپ کو احساس ہوا کہ ایک ہی حلقے سے کلیدی عہدیداران کا انتخاب بورڈ کی روح کے منافی ہے، لیکن قاضی صاحب کے اصرار اور ممبران کی خواہش پر مولانا اپنے فرائض منصبی انجام دیتے رہے۔ ۴ ؍ اپریل ۲۰۰۲ء میں قاضی صاحب کی رحلت تک چند سال صورت حال یہ رہی کہ امارت شرعیہ میں مولانا امیر شریعت تھے تو قاضی صاحب نائب امیر، اور پرسنل لا بورڈ میں قاضی صاحب صدر تھے تو مولانا جنرل سکریٹری۔ ا س طرح معاملات میں شخصیت کے ساتھ منصب کا احترام دوسری جگہ مشکل سے نظر آئے گا۔
مولانا نے قاضی صاحب کے رفاقت میں جن اداروں کے قیام میں حصہ لیا، ان میں نومبر ۱۹۸۸ء میں سجاد اسپتال کا قیام، اپریل ۱۹۸۹ء میں اسلامی فقہ اکیڈمی کا قیام، مئی ۱۹۹۶ء میں وفاق المدارس کا قیام، اور ۱۹۹۸ء میں المعہد العالی للتدریب فی القضاء و الافتاء کی تاسیس بہت اہم ہے۔آپ ۱۹۹۶ء سے دارا لعلوم ندوۃ العلماء لکھنو ، اور ۱۹۹۷ء سے دارا لعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ مولانا نے جن شخصیات کے ساتھ کام کیا، انہیں اپنا گرویدہ بنایا۔ بورڈ کے موجود ہ صدر حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم کے ساتھ بھی آپ کی خوب جمی۔ ان دونوں کے رجحانات اور فکری انداز اور تحمل اور براشت کی قوت نے امت کو بہت سہارا دیا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ مولانا کا داغ مفارقت مولانا سید محمد رابع صاحب کے لیے بھی کتنا بڑا ذاتی نقصان ہے ۔ 
مولانا نے عمر طبعی پائی ۔ باوجود اس کے آپ کا جدا ہونا ملت اسلامیہ ہندیہ کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی مشکل ہی سے ہوسکے گی ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مولانا نے اپنی زندگی میں اپنے اخلاق، مروت، صلاحیت، للہیت اور قربانی کے جو چراغ جلائے تھے، ان کی لو کبھی نہ بجھے۔ چراغ سے چراغ جلتے رہیں، اسی میں امت کی بھلائی ہے ۔ یہی ان کے درجات بلند سے بلند کرنے کا ذریعہ بھی ہے ، اللھم اغفرلہ وارحمہ۔

بہار کا عالم

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

ایک دفعہ کا ذکرہے کہ ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کردیا۔ یہ 6 ستمبر 1965ء کی بات ہے۔ اگلے روز 7 ستمبر کو پاکستان کی مایہ ناز ایئر فورس کے پائلٹ ایم ایم عالم نے صرف 10 سیکنڈ میں ہندوستان کا لڑاکا طیارہ مار گرایا جبکہ صرف 38 سیکنڈ میں مزید چار طیارے کرگس بنا کر انہیں ہواؤں سے زمین پر پٹخ دیا اور یوں محض 48 سیکنڈوں میں 5 طیارے مار گرانے کا ایسا ریکارڈ قائم کیا کہ ابھی تک سے کوئی توڑ نہیں سکا۔ مستقبل کے حالات تو خدا ہی جانتا ہے۔
کیامردم خیزعلاقہ ہوگاپٹنہ کا جس نے سیدعطاء اللہ شاہ بخاری جیسا خطیب اعظم اورامیرشریعت بھی پیداکیا۔ اس پائے کی خطابت کا ریکارڈ بھی آج تک کوئی نہیں توڑ سکا ۔سوچتا ہوں کہ کیاخطابت ہوگی جسے مولانا محمد علی جوہر،ابوالکلام آزاد،نواب بہادریارجنگ اورمولانا ظفرعلی خان کا زمانہ ملا مگروہ سب پربھاری نکلے۔ مختارمسعودنے درست کہا کہ ’’ان کے ہم عصرتوکئی تھے مگرہمسرکوئی نہ تھا۔‘‘
ایم ایم عالم سے نہ صرف پاکستانیوں نے ٹوٹ کر محبت کی بلکہ عالم اسلام نے بھی زہرہ ودل میں جگہ دی جب انہوں 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بھی اسرائیل کے دو طیارے مار گرائے اور اسرائیل کی فضاؤں پر بھی حکمرانی کی۔ آج بھی شائد اسرائیلی فضائیہ کے کسی ہیڈکواٹر میں ایم ایم عالم کا ذکر ہوتا ہوگا، کیونکہ یہودی اپنے دوست کو تونہیں دشمن کو ضروریادرکھتے ہیں۔ وہ غایت درجہ بلندحوصلہ اوربلاکے دلیرتھے۔ شاید اسی وجہ سے خوداپنی فضائیہ میں ان کے بہت حریف پیداہوگئے جو خودتوکچھ نہ کرسکتے تھے ماسوائے اس مردجری کی مخالفت کے، جنہوں نے اپنے دل میں سوچا اوردعائیں بھی کیں کہ اللہ کرے کہ کسی بھی وقت وہ بنگلہ دیش چلے جائیں، مگر ایم ایم عالم نے بنگلہ دیش ایئرفورس کا سربراہ بننے کی بجائے پاکستان میں زندہ اوریہیں مرنا پسند کیا۔
انہوں نے ساری عمرشادی نہیں کی مگرزندگی میں سب سے کاری اوربھاری ضرب ان کے دل پر دوعورتوں نے لگائی۔ ہوا یوں کہ بیگم ایئرمارشل انورشمیم اوربیگم جنرل شفیقہ ضیاء الحق نے پشاورمیں متعین ایئرکموڈورایم ایم عالم سے کہا کہ پاکستان ایئرفورس کا طیارہ چکلالہ ایئرپورٹ سے کراچی بھیجو جو وہاں سے ہمارے اورہماری سہیلیوں کے لیے نئے فیشن کے کپڑے، جوتے، پرس، پرفیوم اور سامان ہارسنگھارکے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ بیوٹیشنز کو بھی لے کر آئے۔ میدان جنگ میں48سیکنڈزمیں دشمن کے 5طیارے مارگرانے والا غیرت مندایم ایم عالم تویہ حکم سن کرغصے سے لال بھبھوکا ہوگیا اور نہایت سختی سے یہ حکم ماننے سے انکارکردیا۔ ایسی منہ چڑھی اورمنحوس بیگمات بھلا کہاں نچلا بیٹھنے والی ہوتی ہیں۔ جھٹ ایئرمارشل انور شمیم کو اورانہوں نے آگے ’’مرد مومن مرد حق‘‘ ضیاء الحق کو اس نافرمانی سے آگاہ کیا اوردونوں نے فیصلہ کیا کہ اسے ایک چھوٹی غلطی سمجھ کر نظراندازکرنا درست نہیں ہوگا، لیکن کیا کریں، آخروہ قوم کا ہیرو ہے۔ 
شاید روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘کے قاری ہوں گے جوروزانہ یہ پڑھتے ہیں کہ’’ سب سے افضل جہادجابرسلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے‘‘۔ ایک بارایسا ہواکہ ضیاء الحق نے اپنے اپنے عزیزوں کو ہرجگہ کلیدی عہدوں پرفائزکرنا شروع کیا تویہ شیطانی سلسلہ پاکستان ایئرفورس تک درازہوگیا جس پراس مردجری نے اپنی دونوں آنکھیں ضیاء الحق کی ایک آنکھ میں ڈال کر جابرسلطان کوکہا کہ’’سر! آپ یہ سب کچھ غلط کررہے ہیں۔ آپ کی وفاداری ملک وقوم کی بجائے اپنی ذات برادری کے لیے ہے‘‘۔ بیگمات والے واقعے کے بعدیہ کلمہ حق ضیاء الحق کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ لہٰذا ایم ایم عالم کو پاکستان ایئرفورس سے ’’باعزت‘‘ ریٹائر کرکے اطمینان کا سانس لیا۔ 
ایئرمارشل (ر)اصغرخاں جب پاکستا ن ایئرفورس کے سربراہ بنے توانہوں نے ایئرفورس میں بھرتی کا مطلوبہ معیار تھوڑاسا نرم کردیا کیونکہ مشرقی پاکستان کے بنگالی اوربہاری اس پرکم ہی پورااترتے تھے۔ اس فیصلے کے بعدمشرقی پاکستان سے بہت لوگ ایئرفورس میں شامل ہوئے اوروقت آنے پراصغرخاں کا فیصلہ درست ثابت کردیا۔
بڑے اورچھوٹے ذہن کے کمانڈراورانسان میں کیا فرق ہوتا ہے؟ واقعات تو بہت سے ہیں مگرایک واقعہ سنانے پرہی اکتفاکروں گا۔جب مادرملت محرمہ فاطمہ جناح اورجنرل ایوب خاں کے درمیان64 ؁ء کے اواخرمیں انتخابی معرکہ ہوا تو بطورصدارتی امیدوارایوب خان نے رسالپوراکیڈمی میں ایئرفورس کے جوانوں اورافسروں سے خطاب کرتے ہوئے اپناانتخابی پروگرام پیش کیا۔ ان کے خطاب کے بعدایئرمارشل اصغرخاں نے اپنا طیارہ کراچی بھیجا اور مادر ملت سے درخواست کی کہ آپ ہماری خواہش پررسالپوراکیڈمی میں انتخابی تقریرفرمائیں کیونکہ یہ صرف ایوب خان کا ہی نہیں، آپ کا بھی حق ہے کہ آپ بھی خطاب فرمائیں اورہمارابھی حق ہے آ پ کو سنیں۔ جب مادرملت خطاب کرنے رسالپور پہنچیں توانہیں مکمل پروٹوکول دیا گیا اوران کے خطاب کو سننے کے لیے تمام جوانوں اورافسروں کی حاضری کو یقینی بنایا گیا۔ یہاں جنرل ایوب خان کو دادنہ دینا بھی بخیلی ہوگی جنہوں نے اصغرخاں سے کوئی بازپرس نہ کی۔ 
ریٹائرمنٹ کے بعدایم ایم عالم پنڈی فوجی (MEXX )کے ایک باتھ روم نماکمرے میں گوشہ نشین سے ہوگئے۔ کتابوں اورسگریٹوں کوجیون ساتھی بنالیا۔ ملکی حالات پرکڑھتے رہے۔ شیطان بھی بہکاتا ہوگا کہ میاں تم بنگلہ دیش ہی چلے جاتے جہاں تم خود ایئرفورس کے سربراہ ہوتے مگراندرکا پاکستانی بہت مضبوط ثابت ہوا۔ اللہ کی رضا پرراضی یہ جگرداروبلند کردار اور دلیر وجری افسرزندگی کے77ویں سال میں تھا کہ اللہ نے ایک چھوٹے سے کمرے سے اپنی وسیع وعریض جنت میں بلالیا۔ قدرت کا فیصلہ بڑا منصفانہ ہوا۔ آج لاہورکے ایم ایم عالم روڈکے علاوہ پورے ملک میں کئی مقامات ایسے ہیں جو ان کے نام سے موسوم ہیں۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۲)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۶۹) سَحَر کا مطلب

سحر رات کے آخری پہر کو کہتے ہیں، امام لغت ازہری کہتا ہے: سحر رات کا ایک ٹکڑا ہے، والسَّحَرُ قِطْعَۃٌ مِنَ الْلَّیْلِ۔ تہذیب اللغۃ۔جوہری لکھتا ہے: سحر صبح سے کچھ پہلے کا وقت ہے، والسَّحَرُ: قُبَیْلَ الصُّبحِ۔الصحاح۔
لسان العرب میں ہے:صبح سے پہلے رات کا آخری حصہ، ایک اور قول ہے کہ رات کے آخری تہائی سے طلوع فجر تک کا وقت۔

والسَّحْرُ وَالسَّحَرُ: آخِرُ اللَّیْلِ قُبَیْلَ الصُّبْحِ، وَالْجَمْعُ أَسْحَارٌ۔۔۔ وَ قِیْلَ: ھُوَ مِنْ ثُلُثِ اللَّیْلِ الآخِرِ اِلیٰ طُلُوْعِ الْفَجْرِ۔

چونکہ سحر کا وقت طلوع فجر تک جاتا ہے، اس لئے کبھی کبھی طلوع فجر کے وقت کو بھی اس میں ضمناََ شامل کرلیا جاتا ہے، لیکن سحر کا اصل وقت طلوع فجر سے پہلے کا ہے۔
قرآن مجید میں یہ لفظ ایک جگہ واحد یعنی سحر، اور دو جگہ جمع یعنی اسحار آیا ہے۔ مترجمین کے یہاں اس لفظ کے مختلف ترجمے ملتے ہیں۔

(۱) إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمْ حَاصِباً إِلَّا آلَ لُوطٍ نَّجَّیْْنَاہُم بِسَحَرٍ۔ (سورۃ القمر:۳۴)

’’بھیجا ہم نے اوپر ان کے مینہ پتھروں کا مگر لوگ لوط کے، نجات دی ہم نے ان کو وقت سحر کے‘‘۔(شاہ رفیع الدین)
’’بھیجی ان پر باؤ پتھراؤ کی سوائے لوط کے گھر کے، ان کو بچادیا ہم نے پچھلی رات سے‘‘۔(شاہ عبدالقادر)
’’اور ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا اس پر بھیج دی صرف لوطؑ کے گھر والے اُس سے محفوظ رہے۔ اُن کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا‘‘۔(سید مودودی)
’’بیشک ہم نے ان پر پتھراؤ بھیجا سوائے لو ط کے گھر والوں کے، ہم نے انہیں پچھلے پہر بچالیا‘‘۔(احمد رضا خان)
Lo! We sent a storm of stones upon them (all) save the family of Lot, whom We rescued in the last watch of the night (Pickthall)
’’ہم نے ان پر سنگ ریزے برسانے والی ہوا مسلط کردی۔ صرف آل لوط (اس سے بچے)۔ ہم نے ان کو نجات دی سحر کے وقت‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
We sent against them a violent Tornado with showers of stones, (which destroyed them), except Lut's household: them We delivered by early Dawn,-(Yousuf Ali)
’’تو ہم نے ان پر کنکر بھری ہوا چلائی مگر لوط کے گھر والے کہ ہم نے ان کو پچھلی رات ہی سے بچا لیا‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

(۲) وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالأَسْحَارِ۔ (سورۃ آل عمران:۱۷)

’’اور بخشش مانگنے والے بیچ پچھلی رات کے‘‘۔(شاہ رفیع الدین)
’’اور گناہ بخشوانے والے پچھلی رات کو‘‘۔(شاہ عبدالقادر)
’’اور اخیر شب میں اٹھ کر گناہوں کی معافی چاہنے والے‘‘۔(اشرف علی تھانوی)
’’اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں‘‘۔(سید مودودی)
those who pray for pardon in the watches of the night.(Pickthall)
and implore the forgiveness of Allah before daybreak.(Maududi)
’’اور اوقات سحر میں مغفرت چاہنے والے ہیں‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
’’ اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
and who pray for forgiveness in the early hours of the morning.(Yousuf Ali)
and the praying ones at early dawn for forgiveness.(Daryabadi)

(۳) وَبِالْأَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُون۔ (سورۃ الذاریات:۱۸)

’’اور وقت صبح کے وہ استغفار کرتے تھے‘‘۔ (شاہ رفیع الدین)
’’اور صبح کے وقتوں میں معافی مانگتے‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’اور آخر شب میں استغفار کیا کرتے تھے‘‘۔(اشرف علی تھانوی)
’’پھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے‘‘۔(سید مودودی)
And ere the dawning of each day would seek forgiveness (Pickthall)
And in the hours before dawn, they were (found) asking (Allah) for forgiveness, (Hilali&Khan)
’’اور صبح کے وقتوں میں مغفرت مانگتے تھے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اور پچھلی رات استغفار کرتے‘‘۔(احمد رضا خان)
’’اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
مذکورہ بالا تینوں آیتوں کے ترجموں میں رات کا آخری پہر یا رات کی آخری گھڑی سحر کا درست ترجمہ ہے، اسی طرحbefore dawn, , ere the dawning, watches of the night, before daybreak بھی سحر کا صحیح مفہوم ہے۔
جن ترجموں میں صبح کا وقت یا at dawn, early hours of the morning ہے، وہ سحر یا اسحار کا درست ترجمہ نہیں ہے۔ کیونکہ سحر صبح کے وقت کو نہیں کہتے ہیں، بلکہ صبح سے پہلے کے وقت کو کہتے ہیں۔
اردو زبان میں ترجمہ کرتے ہوئے سحر یا اسحار کا ترجمہ سحر کا وقت یا اوقات سحر کرنا اس لئے موزوں نہیں ہے کہ اردو میں سحر کا لفظ صبح کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، فرہنگ آصفیہ میں ہے: ’’صبح کے پہلے کا وقت، چار گھڑی کا تڑکا، بھور، تڑکا، نور کا تڑکا، صبح دم، تاروں کی چھاؤں، صبح، فجر، روز روشن۔‘‘ اس لئے لفظ سحر سے قاری کو تو اشتباہ ہوہی سکتا ہے، خود یہ بھی نہیں معلوم ہوپاتا ہے کہ مترجم کے ذہن میں کیا ہے، اسی لئے مذکورہ بالا ترجموں میں دیکھیں کہ صاحب تدبر نے اسحار کا ترجمہ ایک آیت میں سحر کے اوقات اور دوسری آیت میں صبح کے وقتوں کیا ہے۔ علامہ فراہی نے سحر کا مطلب بیان کیا ہے: السَّحَرُ قُبَیْلَ الِاسْفَارِ۔ (تفسیر سورۃ الذاریات) ممکن ہے کہ اس سے صاحب تدبر نے صبح کا وقت مراد لیا ہو۔
نَّجَّیْْنَاہُم بِسَحَرٍ میں سحر سے مراد رات کا وقت ہے، اس کی تائید سورہ ہود کی حسب ذیل آیت سے ہوتی ہے جس میں حضرت لوط کو رات کے حصے میں نکلنے کا حکم دیا گیا: 

فَأَسْرِ بِأَہْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّیْْلِ۔ (سورۃ ھود:۸۱)

’’اپنے گھر والوں کے ساتھ کچھ رات رہے نکل جاؤ‘‘۔
مذکورہ بالا بعض ترجموں میں سحر یا اسحار کا ترجمہ پچھلی رات بھی کیا گیا ہے،اردو لغات کے مطابق پچھلی رات سے رات کا دوسرا آخری حصہ مراد ہوتا ہے، اس لحاظ سے یہ ترجمہ درست ہے۔
مذکورہ بالا ترجموں میں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعض مترجمین جیسے شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر نے اسحار کا ترجمہ ایک آیت میں پچھلی رات کیا ہے، تو دوسری آیت میں صبح کے وقت کیا ہے۔
سید مودودی نے آخری آیت میں سحر کا ترجمہ رات کے پچھلے پہروں کیا ہے، جو درست ہے مگر ان کے ترجمے کا درج ذیل انگریزی ترجمہ درست نہیں ہوا۔
and would ask for forgiveness at dawn,(Maududi)

(۷۰) ضمیر کے مرجع کا تعین

وَمَا یَذْکُرُونَ إِلَّا أَن یَشَاءَ اللَّہُ ہُوَ أَہْلُ التَّقْوَی وَأَہْلُ الْمَغْفِرَۃِ۔ (سورۃ المدثر: ۵۶)

اس آیت میں ھو کا مرجع اللہ تعالی کی ذات ہے، یہی رائے عام مفسرین اور مترجمین نے اختیار کی ہے، جیسے:
’’اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے الا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے وہ اس کا حق دار ہے کہ اُس سے تقویٰ کیا جائے اور وہ اس کا اہل ہے کہ (تقویٰ کرنے والوں کو) بخش دے‘‘۔(سید مودودی)
’’اور وہ کیا نصیحت مانیں مگر جب اللہ چاہے، وہی ہے ڈرنے کے لائق اور اسی کی شان ہے مغفرت فرمانا‘‘۔(احمد رضا خان)
زمخشری کے الفاظ ہیں: ھُوَ حَقِیْقٌ بِأَنْ یَتَّقِیْہ عِبَادُہُ وَ یَخَافُوْا عِقَابَہُ، فَیُؤمِنُوْا وَیُطِیْعُوْا، وَ حَقِیْقٌ بِأَنْ یَغْفِرَ لَھُمْ اِذَا آمَنُوْا وَأَطَاعُوْا۔
البتہ صاحب تدبر قرآن نے ایک اور رائے اختیار کی، اور ھو کا مرجع فَمَن شَاء ذَکَرَہُ میں لفظ مَن کو یعنی نصیحت اختیار کرنے والوں کو قرار دیا۔
’’اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے، مگر یہ کہ اللہ چاہے، وہی اہل تقوی اور وہی سزاوار مغفرت ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
لیکن یہ رائے سیاق کلام سے مطابقت نہیں رکھتی، کیونکہ آیت میں نصیحت اختیار کرنے والوں کا تذکرہ جمع کے صیغے سے آگیا ہے، اس کے بعد پھر انہی کے لئے واحد کی ضمیر لانے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہے۔ ایسی صورت میں قرین قیاس یہی ہے کہ ھو کی ضمیر کا مرجع اس سے متصل لفظ اللہ کو بنایا جائے۔
علامہ فراہی نے بھی تعلیقات القرآن میں جمہور مفسرین کی رائے کے مطابق رائے ذکر کی ہے: أَناَ أَھْلٌ أنْ أُتَّقیٰ، فَمَنْ اتَّقاَنِی فَلَمْ یَجْعَلْ مَعِیَ اِلٰھاََ غََیْرِی، فَأَناَ أَھْلٌ أِنْ أَغْفِرَ لَہُ۔
(جاری)

موجودہ دور کے فکری چیلنجز اور فضلا کی ذمہ داری

مولانا سمیع اللہ سعدی

چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی کی ستیزہ کاری روز اول سے تا امروز جاری ہے۔حق و باطل کی کشمکش قدیم تاریخ رکھتی ہے۔ مختلف میدانوں میں اسلام اور کفر کی جنگ صدیوں سے جاری و ساری ہے۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوتے ہی اسلام کی فصیلوں میں دراڑیں ڈالنے کا ابلیسی عمل شروع ہوا جو بلا تعطل کے آج تک جاری ہے۔حق و باطل کی اس طویل کشمکش میں جہاں اہل باطل اور اہل کفر کی ریشہ دوانیوں ،سازشوں ،نت نئے طریقوں سے حق کو ختم کرنے کی کوششوں، اپنے تمام تر وسائل و ساز و سامان کے ساتھ حق کو ملیامیٹ کرنے کی تگ و دو اور عسکری، فکری، علمی، سیاسی، تہذیبی اور دیگر میدانوں میں حق پر حملہ آور ہونے کی داستانوں کی ایک طویل تاریخ ہے، وہاں باطل کے خلاف اہل حق کی کاوشوں، حق پر ڈٹنے اور مر مٹنے کے مبارک جذبوں، غلبہ حق کے لیے جان ومال کی قربانیوں، باطل کے ایوانوں میں گرجدار للکاروں اور ہر میدان میں باطل کو منہ توڑ جواب دینے کی داستانوں کی بھی ایک حسین اور قابل رشک تاریخ ہے۔ دعوت و عزیمت کی یہ صبر آزما تاریخ ہمارے لیے مشعل راہ اور مایوس کن حالات میں شمع امید ہے اور دین اسلام کی حفاظت کے خداوندی وعدے کا مظہر اتم ہے۔ خلیفہ بلا فصل ،جانشین پیغمبر اور یار غار و مزار کا الہامی جملہ ’’اینقص الدین و انا حی‘‘ رہتی دنیا تک امت مسلمہ کے سرفروشوں اور دین کے غمخواروں کے لیے دستور، لائحہ عمل اور ماٹو کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر دور میں دین اسلام کے محافظوں نے سنت صدیقی پر عمل کرتے ہوئے دین میں رخنہ ڈالنے والوں کا تعاقب کیا ہے۔
عصر حاضر میں سنت صدیقی دہرانے کی پھر اشد ضرورت ہے۔ آج کی دنیا علوم و فنون کی دنیا ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز ترقی کا دور ہے، فلسفہ و عقلی موشگافیوں کا زمانہ ہے،آزاد خیالی اور نفس پرستی کا دور دورہ ہے، مادیت اور سرمایہ ہی اس دور کے انسان کا معبود اعظم ہے ۔انٹر نیٹ اور میڈیا نے دور اور قریب کے فرق کو مٹا دیا ہے۔ آج ماضی کے برعکس زیادہ تنوع،وسعت اور جامع منصوبہ بندی کے ساتھ باطل اسلام پر حملہ آور ہے۔ مزید براں مسلمان ماضی کی طرح قوت و طاقت میں نہیں ہیں۔ خلافت کا سائبان مسلمانوں کے سر پر سایہ فگن نہیں ہے ۔آج کی دنیا کے اختیارات کی باگ ڈور مغرب کے ہاتھ میں ہے اور سیاست ،معیشت ،سائنس ،ٹیکنالوجی ،فلسفہ ،فکر، تہذیب، غرض ہر میدان میں مغرب حاکم،امام اور کلی اختیارات کا مالک ہے۔ مغرب نے اپنی حاکمیت کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام پر چو طرفہ حملہ کر رکھا ہے۔ آج کے مسلمان خصوصاً ایک عالم دین اور فاضل کی ذمہ داری ماضی کے برخلاف کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ امت مسلمہ کی بقاء، تحفظ اور دینی و ایمانی حفاظت وارثین انبیاء کے کندھوں پر ہے ۔موجودہ دور کے بڑے چیلنجز سے ہر عالم و فاضل کو باخبر رہنا چاہیے، اور ان کے سد باب اور توڑ کے لیے ہمہ جہت تیاری کرنی چاہیے۔ امت مسلمہ کو علمی و فکری حوالے سے درجہ ذیل بڑے چیلنجز کا سامنا ہے:

۱۔ سیکولرزم

سیکولرزم عصر حاضر کے بڑے اور خطرناک فتنوں میں سر فہرست ہے۔سیکولرزم کا مطلب دین کی دنیاوی معاملات، معاشرتی امور اور ریاستی مسائل سے علیحدگی ہے ۔دوسرے لفظوں میں سیکولرزم دین کو محض فرد کا ذاتی،پرسنل اور پرائیویٹ معاملہ سمجھتا ہے اور اجتماعی ،معاشرتی و ریاستی معاملات میں دین و مذہب کی مداخلت کا سختی سے مخالف ہے۔ جبکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور کامل دستور زندگی ہے، انسانی زندگی کا کوئی گوشہ خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اسلامی شریعت سے باہر نہیں ہے۔ سیکولرزم اسلام کی کاملیت، جامعیت اور ابدیت کے لیے عصر حاضر کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔ آج امت مسلمہ مجموعی طور پر دانستہ یا ناداستہ سیکولرزم سے متاثر ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ستاون اسلامی ممالک میں سے کسی میں بھی اسلام مکمل طور پر ریاستی سطح پر نافذ نہیں ہے۔ آج کا اسلام صرف چند عبادات تک محدود ہے ۔آج اسلامی معاشروں میں اسلام کے ریاستی و معاشرتی نفاذ کی بات ایک اجنبی اور ناقابل عمل نعرہ بن گیا ہے۔ان حالات میں امت کے فکری و علمی رہنماوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عصر حاضر کے سب سے بڑے فتنے کے خلاف علمی ہتھیار اٹھائیں اور اسلام کی جامعیت ،کاملیت اور ابدیت کو عصر حاضر کے اسلوب ،زبان اور اصطلاحات میں پیش کریں ۔

۲۔ الحاد 

انسانی معاشروں میں ایسے لوگوں کا وجود ہمیشہ سے رہا ہے جو مذہب اور خدا کے منکر تھے ،لیکن عصر حاضر کی حیرت انگیز مادی ترقی اور سائنسی ایجادات کے بطن سے الحاد کی ایک عالمگیر تحریک نے جنم لیا ہے۔ الحاد روئے زمین پر تمام مذاہب کے انکار کانام ہے ۔مذہب ،دین ،خدا ،اور ایک برتر ہستی کے مطلق انکار کانام الحاد ہے ۔ملحدین کے نزدیک مابعد الطبیعیات نام کی دنیا ایک وہم ہے۔ کائنات صرف موجود اور محسوس کانام ہے ۔غیر محسوس ،غیر مرئی ،مابعد الطبیعی اور روحانی دنیا کا کوئی وجود نہیں ہے ۔یہ سب انسانی توہمات اور خیالات ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق الحاد معاصر دنیا کا مقبول ترین نظریہ ہے اور روزانہ ہزاروں لوگ الحاد کی بھینٹ چڑھ کر خدا اور مذہب کے مطلق انکار کا نظریہ اپنا رہے ہیں ۔انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی ایجاد سے تو الحاد کا فتنہ ایک منظم اور مربوط تحریک میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ نیٹ پر ملحدین کی بے شمار ویب سائٹس، فورمز اور سوشل میڈیا پر متعدد پیجز اور گروپس موجود ہیں جن میں لاکھوں لوگ شامل ہیں۔ آج کے ملحدین کا سب سے بڑا ٹارگٹ دین اسلام ہے،کیونکہ باقی مذاہب اپنی عبادتگاہوں تک محدود ہیں اور خود ان کے ماننے والوں کے نزدیک وہ معاصر دنیا کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں ۔صرف دین اسلام ہی دنیا کا وہ واحد نظریہ اور یکتا دین ہے جو آج بھی انسانیت کے مسائل کا سب سے جامع اور کامل حل پیش کرتا ہے ۔الحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہونے کے ناطے ملحدین کی توپوں کا رخ مکمل طور پر اسلام کی طرف ہے اور نت نئے شبہات، اعتراضات اور تاریخ و سیرت سے ضعیف و موضوع روایات و عبارات کی بنیاد پر دین اسلام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ جدید الحاد کا ایک منظم و مربوط رد پیش کیا جائے۔ملحدین کی دسیسہ کاریوں کے مسکت جوابات دیے جائیں اور ان کے اعتراضات و اشکالات کی بنیادوں پر علمی و تحقیقی کام کیا جائے۔ملحدین کے کام کا اگر ایک جائزہ لینا ہے تو نیٹ پر جرا ء ت تحقیق کے نام سے ویب سائٹ، فورم اور فیس بک پیج پر نظرڈالنے سے اس فتنے کی خطرناکی ،ہولناکی اور عالمگیریت کا اندازہ ہو سکتا ہے ۔

۳۔ جدیدیت

مغرب صدیوں سے پادریوں اور کلیسا کی غلامی میں جکڑا ہوا تھا ۔اس جکڑ بندی کے خلاف سولہویں صدی میں مارٹن لوتھر نے ایک مضبوط تحریک شروع کی جس نے آگے چل کر پروٹسٹنٹ کے نام سے ایک مستقل مکتب کی شکل اختیار کر لی۔اس کے بعد کلیسا و پاپائیت کے خلاف متنوع تحاریک اٹھیں اور ان تحاریک کی کوکھ سے ماڈرن ازم کی ایک ہمہ گیر تحریک نے جنم لیا ۔ مغرب کے نامی گرامی فلاسفہ نے عقلی و فلسفیانہ بنیادوں پر ماڈرن ازم کی راہ ہموار کی اور زندگی گزارنے کے متعدد فلسفے خالص عقلی بنیادوں پر مغربی دنیا میں وجود میں آئے ۔ ان تمام فلسفوں کا جامع عنوان ماڈرن ازم ہے جن میں قدر مشترک موجودہ دور کے انسان کو زیادہ سے زیا دہ آزادی اور خود مختاری کا علمبردار بنا نا تھا۔ یوں جدید مغربی دنیا نے آزادی، مساوات اور ترقی کے تین بنیادی اصولوں پر نظام زندگی کی تشکیل کی جس کے بطن سے سرمایہ دارانہ نظام، لبرل مغربی جمہوریت، انسانی حقوق کا عالمی چارٹر، سوشل سائنسز اور دیگر جدید نظام ہائے زندگی وجود میں آئے۔ سرمایے کو اس جدید نظام زندگی کا جزو اعظم اور روح کی حیثیت دی گئی ہے جس سے آگے چل کر دنیا کے وسائل پر ہر قیمت پر قبضہ کرنے اور ہر جائز و ناجائز طریقے سے دولت اکٹھا کرنے کی عالمگیر سوچ پیدا ہوئی اور حرص و ہوس کی ایک ہمہ گیر فکر نے جنم لیا۔ جدیدیت کے اس فکری طوفان نے مغرب سے آگے نکل کر مشرقی و اسلامی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں جدیدیت اپنے تمام مظاہر و آثار کے ساتھ قائم ہے ،اور دنیا کے سب سے کامل و جامع دین کے علمبرداروں نے اسے نظام زندگی کے طور پر مکمل قبول کر لیا ہے ۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جدید مغربی فلسفے اور اس کی حقیقت کو سمجھا جائے ،اور اس جدید فلسفے کی کھوکھ سے پیدا شدہ نظام ہائے زندگی کا ایک بھر پور تنقیدی جائزہ لیا جائے۔

۴۔ مابعد جدیدیت

ما بعد جدیدیت کا فلسفہ جدیدیت کے رد عمل میں وجود میں آیا ۔جدیدیت کے علمبرداروں نے آزادی، ترقی اور مساوات کی بنیاد پر ایک عالمگیر نظام تشکیل دیا اور جبر، قوت، طاقت، لالچ اور مکر و فریب کے ذریعے پوری دنیا پر جدیدیت کا نظام مسلط کرنے کی کوشش کی ۔جدیدیت کے ماننے والوں کے نزدیک اس وقت جدیدیت کے اصول ایک آفاقی سچائی کی حیثیت رکھتے ہیں اور دنیا کے ہر خطے ،ہر قوم ،ہر مذہب اور ہر رنگ و نسل کے لوگوں کو جدیدیت کا نظام اپنا نا ہوگا ۔اس ظلم و استبداد کے رد عمل میں ما بعد جدیدیت کا نظریہ و فلسفہ وجود میں آیا ۔ما بعد جدیدیت کی تعریف ایک فلسفی لیوٹارڈ کے الفاظ میں ’’مابعد جدیدیت عظیم بیانیوں پر عدم یقین ‘‘ ہے۔ مابعد جدیدیت کے علمبرداروں کے نزدیک اس دنیا میں اصول،نظریات ،روایات ،اقدار اور سچائی و حقیقت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے اور نہ ہی دنیا میں آفاقی سچائی اور حقیقت مطلقہ کا کوئی وجود ہے ۔یہ سب چیزیں اضافی ہیں۔ اضافی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سچائی، حقیقت اور حق و خیر کا تعلق محض انفرادی پسند و ناپسند کے ساتھ ہے۔ ہر شخص کی سچائی،ہر شخص کا خیر اور ہر شخص کا حق الگ الگ ہے۔ اس لیے آفاقی سچائی کا تصور محض ایک دعویٰ اوردیو مالائی داستان ہے۔
مابعد جدیدیت کے فلسفے کا اثر یہ ہے کہ آج کے انسان کی دلچسپی محض اپنے احساسات، جذبات اور عملی مسائل تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ آج کے انسان کے نزدیک زندگی کی تمام بحثیں مسئلہ اور حل کانام ہیں۔ افکار ،نظریات اور آئیڈیالوجی کے مباحث محض نظری ہیں جن کا عملی زندگی کی تشکیل اور مسائل کے حل میں کوئی کردار نہیں ہے۔آج کے انسان کے نزدیک اصول ،نظریات ،اقدار ،قواعد ،ضوابط ماضی کی باتیں ہیں۔اس لئے بعض مفکرین نے موجودہ دور کو ’’عدم نظریہ کا عہد‘‘ کہا ہے۔مابعد جدیدیت کا فلسفہ جدیدیت سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے۔ جدیدیت میں تو اصول کا مقابلہ اصول سے تھا،دلائل کے مقابلے میں دلائل تھے ،جبکہ فلسفہ مابعد جدیدیت سرے سے اصول و دلائل کا ہی منکر ہے۔ جو انسان دلیل و نظریے کے وجود کا ہی منکر ہو ،اسے کسی نظریے پر آمادہ کرنا اور کسی مذہب و عقائد پر لانا ایک کٹھن کام ہے۔جدیدیت زدہ انسان کا مقابلہ تو اسلام کی آفاقیت ،افادیت اور اسلامی نظام کو عقلی و فلسفیانہ بنیادوں پر ثابت کرنے پر موقوف ہے،جبکہ مابعد جدیدیت سے متاثر انسان کو قائل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسلام کے نظری پہلو کی بجائے اس کے عملی پہلو پر بھر پور توجہ دی جائے ،انسان کی عملی زندگی کے ساتھ اسلامی احکام کے مضبوط اور لا ینفک تعلق کو ثابت کیا جائے اور اسلامی احکام پر عمل پیرا نہ ہونے کی صورت میں انسان کی عملی زندگی کے نقصانات اور اس کے درہم برہم ہونے کی بھر پور وضاحت کی جائے۔ الغرض زعمائے امت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اسلام کو محض ایک نظریہ اور آئیڈیالوجی کے طور پر پیش کرنے کی بجائے اسے ایک عملی اور پریکٹیکل نظام کے طور پر پیش کریں۔

۵۔ تجدد پسندی 

سیکولرزم ،الحاد ،جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے افکار کی اٹھان مغرب سے ہوئی اور مغرب سے بقیہ دنیا میں پھیل گئے۔ان فلسفوں نے دنیا کے ہر مذہب اور ہر نظام کو متاثر کیا۔اسلامی دنیا میں ایک بڑا طبقہ زندگی ان جدید فلسفوں سے متاثر ہوا، خصوصاً وہ طبقہ جس نے مغربی تعلیمی اداروں یا اس طرز پر بنی ہوئی مسلم ممالک کی تعلیم گاہوں میں تعلیم حاصل کی۔ ان فلسفوں خصوصاً جدیدیت سے تاثر کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلامی دنیا کے ایک بڑے طبقے نے دین اسلام کو ان جدید نظریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس میں قطع و برید اور کانٹ چھانٹ کا سلسلہ شروع کرد یا۔ دین اسلام میں موجود حالات کے مطابق تبدیلی ،تغیر اور قطع و برید کلی و جزوی دونوں سطح پر ہوئی ۔دین اسلام میں جزوی یا کلی تبدیلی، ترمیم اور اصلاح کے علمبرداروں کو تجددد پسند اور متجددین کہتے ہیں۔ ان متجددین میں سے کسی نے معجزات و کرامات کے اسلامی تصور کو عہد جدید کے متضاد سمجھا تو اس کا انکار کیا، احادیث کو مطابقت میں رکاوٹ سمجھا تو اس پر ہاتھ صاف کیا، کسی نے اسلامی اصطلاحات پر ہاتھ ڈالا، کسی نے اسلام کے سیاسی نظام میں عہد حاضر کے لبرل سیاسی نظاموں کے مطابق تبدیلی کی ضرورت محسوس کی، تو کسی نے اسلام کے فقہ المعاملات میں تغیر کا بیڑا اٹھا یا اور سود جیسے قطعی و اجماعی حرمت رکھنے والے حکم کی حلت کا نظریہ پیش کیا۔کسی مفکر نے اسلام کے نظام عفت و عصمت پر تیشہ چلایا، تو کسی نے اسلام کے عائلی نظام کو نشانہ بنایا۔ کسی نے فقہ الجہاد میں تغیر کی ضرورت محسوس کی، تو کسی نے اسلام کے نظام تزکیہ و احسان کو اپنا ہدف بنایا۔ 
چونکہ ان ترمیمات و تغیرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ علمائے دین اور اسلاف سے مضبوط رشتہ تھا، اس لیے اسلاف کے تذکرے اور علماء پر روایت پسندی کی پھبتی کسی گئی اور ہر ممکن طریقے سے راسخ العلم قدیم علماء کی اہانت، مخالفت اور تمسخر و مذاق اڑانے کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔ ان متجددین نے موجودہ دور میں دنیاوی سطح پر مسلمانوں کے زوال میں سب سے بڑی رکاوٹ علمائے دین اور اسلام کی اس تشریح اور اس فہم کو سمجھا جو نسل در نسل ،سینہ بسینہ اور طبقہ بہ طبقہ صحابہ کرام کے دور سے اب تک چلا آرہا ہے۔ان متجددین کی مجالس ،اقوال اور تصانیف میں مشترک طور پر مغرب کی مدح سرائی، مغربی نظام کی اصلحیت ،نافعیت ،مسلم دنیا کے مستقبل کے بارے ما یوسی، دین اسلام کے متفقہ و اجماعی احکام پر اشکالات، اعتراضات اور اسلامی تاریخ اور اسلاف امت کی تحقیر نظر آئے گی۔ متجددین کی تحریروں و تقریروں میں تجدید، جدت ،احیاء، اصلاحات، زمانے کے ساتھ ہم آہنگی ،اجتہاد اور اس جیسے الفا ظ کی کثرت ہے۔ ان کی نظر میں زوال کا سبب دین کی اصلی شکل و صورت پر اصرار ہے اور جس دن دین میں زمانے کے ساتھ تبدیلی و ترمیم کا راستہ کھل گیا، اس دن سے مسلمان ترقی کی دوڑ میں شامل ہوکر ترقی کی معراج پر پہنچ جائیں گے۔یا للعجب
متجددین دنیائے اسلام کے ہر خطے اور ہر ملک میں پیدا ہوئے،لیکن برصغیر ،ترکی اور مصر کو متجددین کے مراکز کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ برصغیر میں مرزا ابوطالب خان سے لے کر سرسید احمد خان ،قیام پاکستان کے بعد تمنا عمادی، ڈاکٹر فضل الرحمن سے ل کر جاوید احمد غامدی تک متجددین کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ترکی میں سلیم ثالث ،محمود ثانی ،مصطفی کمال اتاترک سے لے کر شیخ احمد آفندی تک متجددین کی ایک لمبی کڑی ہے ۔مصر میں جمال الدین افغانی (موصوف اگرچہ اصلاً مصری نہیں تھے ،لیکن چونکہ ان کی فکر کو سب سے زیادہ فروغ مصرمیں ملا ،اس لیے مصری متجددین میں ان کا تذکرہ کیا )، مفتی محمد عبدہ ،رشید رضا مصری سے لے کر مصر کے نامور ادباء تک ایک وسیع سلسلہ ہے۔عالم اسلام کے مختلف خطوں کے متجددین کے افکار اور کام سے واقفیت کے لیے جامعہ کراچی کے شعبہ تصنیف و تالیف کے سربراہ، جدیدیت و تجدد کی تردید میں قابل رشک مقالات لکھنے والے اور مغربی فکر و فلسفہ کے نبض شناس محترم خالد جامعی صاحب کا ایک طویل مقالہ ’’عالم اسلام، معرکہ ایمان و مادیت، جدیدیت و روایت قرن اول سے عصر حاضر تک‘‘ مفید رہے گا جو جامعہ کراچی سے نکلنے والے تحقیقی رسالے ’’جریدہ‘‘ کے پینتیسویں شمارے میں مکمل شائع ہوچکا ہے۔

فضلاء کی ذمہ داری 

عصر حاضر کے ان بڑے فکری چیلنجز کا مقابلہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ علمائے امت چونکہ حدیث کے مطابق انبیاء کے وارث ہیں، اس لیے ان کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمارے فضلاء کو پانچ میدانوں میں ان تھک محنت کی ضرورت ہے :

۱۔اسلامی علوم میں کامل رسوخ و مہارت

آج کے فضلاء کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اسلامی علوم میں مکمل مہارت اور کامل استعداد سے تہی دامن ہوتے ہیں جس کی بنا پر عصر حاضر کے فکری مسائل کا کما حقہ رد نہیں کر سکتے۔آج اس بات کی ضرورت ہے کہ تفسیر ،حدیث ،فقہ ،اصول تفسیر، اصول حدیث ،اصول فقہ اور دیگر علوم الیہ میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق استعداد پیدا کی جائے۔ اسلامی علوم پر مکمل گرفت ہی عہد حاضر کے پیدا کردہ اشکالات و اعتراضات کے قابل اطمینان حل کا ذریعہ ہے۔ اس کے لیے جہاں نصاب میں قابل ذکر تبدیلیوں کی ضرورت ہے (جس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں )وہاں مدارس میں ایسی فضاء بنانی چاہیے جس میں طلباء کو نصابی کتب سے ہٹ کر دیگر مراجع تک رسائی ہو،اور خارجی مطالعے کا ایک حوصلہ افزاماحول میسر ہو۔

۲۔ فرق و افکار کی تاریخ کا مطالعہ

اسلامی تاریخ میں پیدا ہونے والے مختلف فرقے اور متنوع افکار کے حاملین افراد و گروہوں کی تاریخ کا مطالعہ بھی بے حد ضروری ہے۔ خصوصاً ان فرقوں کے رد کے لیے اسلاف امت کے مختلف مناہج،طریقہ کار اور طر ز تردید کا ایک مبسوط مطالعہ کرنا چاہیے۔ فتنوں کے تعاقب میں اسلاف امت کے مختلف طبقات نے اپنے اپنے فہم و اجتہاد کی بنا پر مختلف طرز اپنائے۔ محدثین کا منہج الگ تھا ،متکلمین کا طرز اور تھا ،صوفیا کا طریقہ کار الگ تھا ۔پھر ان کے اندر قابل قدر شخصیات کے اسالیب مختلف تھے۔ان سب سے باخبر رہنا ضروری ہے تاکہ موجود فتن میں مفید حل کی طرف رہنمائی مل جائے۔

۳۔ مغربی فکر و فلسفہ سے واقفیت

عصر حاضر کی جملہ فکری گمراہیوں کا شجرہ نسب کسی نہ کسی صورت میں مغربی فکر و فلسفہ سے ملتا ہے، اس لیے مغرب کا تحقیقی مطالعہ بھی بے حد ضروری ہے۔اس سلسلے میں مغربی افکار کی تاریخ ،ارتقاء اور ان میں حالات و اسباب کی بنا پر متنوع تبدیلیوں سے واقفیت ہونی چاہیے۔ خصوصاً مارٹن لوتھر کی تحریک کے بعد مغربی دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کی چار سو سالہ تاریخ اورمغربی فلسفے کے مختلف مناہج کا مطالعہ مووجودہ فکری چینلجز سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ مغرب سے ناواقفیت بسا اوقات فکری مسائل کو حل کرنے کی بجائے مزید الجھا دیتی ہے۔

۴۔ عالم اسلام کی احیائی و فکری تحریکات کا مطالعہ 

تقریباً پچھلے پانچ سو سال سے عالم اسلام رو بہ زوال ہے اور مغرب ترقی کی راہ پر گامز ن ہے۔ اس سلسلے میں عالم اسلام کے مختلف خطوں میں متعدد فکری و احیائی تحریکیں اٹھیں جن کا مقصد امت مسلمہ کو ان کا کھویا ہوا مقام دوبارہ دلانا تھا۔ ان تحریکوں کا ایک مبسوط مطالعہ ضروری ہے۔ان کے بانیوں کے حالات ، تحریکوں کے مدو جزر، نشیب و فراز اور ناکامی یا کامیابی پر منتج ہونے کی وجوہات سے واقفیت ہونی چاہیے تاکہ موجودہ فکری چیلنجز سے نمٹنے میں ان غلطیوں سے بچنا آسان ہو جائے اور وہی غلطیاں دوبارہ نہ دہرائی جائیں جن کی وجہ سے کئی سو سال سے ہماری فکری و علمی تحریکیں ناکام ہوتی آرہی ہیں۔

۵۔ عصر حاضر کے اسالیب تحریر و تقریر اور جدید علوم سے بقدر ضرورت سے واقفیت

آج عمومی طور ہمارے فضلا کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ تقریر و تحریرکے جدید اسالیب سے نابلد ہیں۔آج کے محاورے، زبان، اصطلاحات اور جدید نسل کی علمی و ذہنی سطح کے مطابق دین اسلام کے ابلاغ و تفہیم سے قاصر ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کمپیوٹر و ٹیکنالوجی سے مانوس نسل جب خطباء کے سامنے بیٹھتی ہے تو ان کی زبان سمجھ آتی ہے نہ ان کے طرز و اسلوب سے مانوس ہوتے ہیں جس سے دوری میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔اس کے علاوہ جدید علوم خصوصاً جدید علم سیاست، معیشت اور سوشل سائنسز کا بقدر ضرورت مطالعہ کرنا چاہیے، کیونکہ ان جدید علوم سے بے خبری بسا اوقات جدید نسل کے مسائل اور معاصر فکری آرا کو سمجھنے میں غلطی کا باعث بنتی ہے، اس کے لیے اصحاب مدارس اور دین اسلام کا درد رکھنے والے مخلص جدید تعلیم یافتہ حضرات کو مل کر ایک عام فہم نصاب بنانا چاہیے جن سے ان علوم و افکار کے مبادیات سے بقدر ضرورت واقفیت میں مدد ملے اور وہ مزید مطالعہ و تحقیق کے بل بوتے پر ان علوم میں مہارت اور گہرائی پیدا کرنے پر قادر ہوں۔

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۱)

غازی عبد الرحمن قاسمی

تعارف

اس کائنات کی رنگ وبو میں بہت سے افراد واشخاص پید ا ہو ئے اور اپنی مقررہ زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہوگئے،ان کی وفات کے بعد ان کا ذکر کچھ عرصہ ہوا اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ ان کے تذکرے ختم ہوگئے ،مگر کچھ ہستیاں اور شخصیات ایسی بھی گزر ی ہیں جن کی علمی کاوشوں ،مجتہدانہ صلاحیتیوں اوربلندپایہ استنبا ط واستدلال سے مزین کتب کی بدولت وہ آج بھی اہل علم کے حلقہ میں زندہ ہیں ۔ان کے بیان کردہ تحقیقی مضامین اسلامیات کے محقق کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ان میں نمایاں نام مجد د الملت ،حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کا ہے ۔آپ ۱۷۰۳ء میں پیدا ہوئے ۔اللہ تعالیٰ نے آپ ؒ کو جو اطراف عالم میں شہرت عطافرمائی اس کی ایک اہم وجہ آپ ؒ کی علمی جلالت ہے ۔
آپ کی تحریروں میں اتقان وثقاہت اور تحقیقی وعلمی نکات پائے جاتے ہیں ۔اور اس کے ساتھ عوام الناس کی خیرخواہی،ان کی دینی اصلاح اور روحانی واخلاقی تربیت کا سامان بھی ملتاہے ۔آپ اپنے زمانہ کے بہترین عالم ومعلم تھے اور اتباع نبوی ﷺکے جذبہ سے سرشار تھے ۔شب وروز دین متین کی تبلیغ کے لئے وقف کررکھے تھے ۔بلا شک وشبہ آپ اپنے وقت کے مجدداعظم،مصلح اعلی اور حکیم دانا تھے ۔جو نہ صرف شریعت کے رمز شناس تھے بلکہ اپنے زمانہ کی عوام کے بھی نبض شناس تھے ۔آپ کے علمی و عملی کمالات کے اتنے گوشے ہیں کہ ہرایک مستقل تصنیف کا محتاج ہے۔شریعت اسلامیہ کی خدمت اور عوام الناس کی بہبود واصلاح کے لیے آپ ؒ نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا اور نہایت قیمتی و تحقیقی تصانیف بطور یاددگار کے چھوڑیں۔جن میں سے شہرہ آفاق اور معرکۃ الآرا تصنیف’’ حجۃ اللہ البالغہ ‘‘ہے۔اس کتاب میں آپ ؒ کا منہج واسلو ب کیاتھا ۔؟اس پر تفصیلی بحث مابعد السطور میں آرہی ہے ۔

حجۃ اللہ البالغہ کاموضوع اور مضامین

’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کابنیادی موضوع احکام شریعت کی مصالح وحکمتیں اور ان کے اسرار ہیں ۔
’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں فنی لحاظ سے آپ نے متعدد مضامین کو بیان کیاہے جن میں تعلیمات ربانی ، عقائد،احادیث، فقہ،اصول فقہ،عبادات و معاملات ،اخلاقیات،تمدن وتہذیب ،سیاسیات،کسب معیشت کے طریقے ،تدبیر منزل، خلافت وقضا ،جہاد ،آداب صحبت ،معاشرت ،فتن ، حوادث مابعد ،اور علامات قیامت وغیرہ کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔اورا ن مختلف موضوعات وابواب کے اسرار و مقاصد اس طرح بیان کیے ہیں کہ ان مسائل کا تعلق انسانی زندگی سے مربوط نظر آتاہے ۔اور احکا م شرعیہ کی حکمتیں اور اسر ار وبھید عقلی ونقلی دلائل سے بیان کیے ہیں ۔
یہ کتاب دو بڑے حصوں میں منقسم ہے پہلاحصہ اوامر ونواہی کے مفید اصولوں پر محیط ہے اور اس میں سات مباحث ہیں اور ان میں بھی ہر بحث متعدد ابواب میں بیان ہوئی ہے ۔اور دوسرے حصہ میں اسلامی احکام کی عقلا تعبیر وتشریح کی گئی ہے جن میں پیش نظر فقہی موضوعات کی ترتیب ہے ۔

حجۃ اللہ البالغہ کی خصوصیات

شاہ صاحب ؒ کی یہ عظیم الشان تصنیف اپنے موضوع پر جدت اور ندرت کا عنصر لیے ہوئے ہے ۔اس کے صرف ادبی اسلوب کو اگر زیر بحث لایا جائے تو اس پر مستقل ایک مقالہ کی ضرورت ہے ۔اور جن دلائل وبراہین سے آپ نے استدلال کیاہے اگر صرف اس استنباط واستدلال پرغوروفکر کیا جائے تو یہ بھی بڑے اعلی درجے کا کام ہوگا ۔اور دینی واسلامی فکر کو جس انداز میں آپ نے پیش کیاہے اگر اس پر بات کی جائے تو آپ ؒ کا یہ ایساکارنامہ ہے جو آپ ؒ کو عالم اسلام کی ان شخصیات میں شامل کرتا ہے جن پر تاریخ اسلام کو فخر ہے ۔
جب سے یہ کتاب منصہ شہود پر آئی ہے ہر دور میں اس کی درس وتدریس کے سلسلے جاری رہے اور اس سے راہنمائی حاصل کی جاتی رہی ۔جو عربی زبان وادب سے شغف رکھنے والوں کے لیے نہ صرف ذوق تسکین کا باعث ہے بلکہ اہل علم کے لیے بھی ایک ایسی دوا ہے جو فکری اور عقلی راستوں میں شکوک وشبہات کے زہریلے کانٹوں بھرے میدانوں سے گزرتے وقت تریا ق کا باعث ہے ۔تشنگان علوم اسلامیہ کے لیے ایک ایسا جام ہے جو ایک دفعہ اس کا ذائقہ چکھ لیتاہے وہ اس کی حلاوت سے مخمور نظر آتاہے ۔

اسلوب کتاب

’’حجۃ اللہ البالغہ ‘‘میں اک نیا اسلوب اور منفرد طرز تحریر سامنے آیاہے ،جو جامعیت ،زوربیان ،تحکم واعتماد اور فصا حت وبلاغت کا شاہ کار ہے ۔جس میں انشاء کا ایک خاص انداز ہے جو پوری کتاب پر چھا یا ہوا ہے ۔مختصر اور جامع کلمات کے استعمال کے ساتھ ایسی خوبصورت تراکیب ومحاوارت اور استعارات وتشبیہات اور تمثیلات سے کام لیا گیا ہے جن میں اک خاص توازن واعتدال ہے ۔
حجۃ اللہ البالغہ کے مطالعہ سے شاہ صاحب ؒ کاجومنہج واسلوب بیان سامنے آتاہے اس کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
۱۔متعدد مقامات پر بصیغہ امر استعمال کرتے ہوئے ’’ اِعْلَم‘‘ (جان لیجئے )سے بات شروع کرتے ہیں ۔۲۰۰سو سے زائد مقامات پر’’ اِعْلَم‘‘ کو لائے ہیں ۔جس کا مقصد مخاطب کو متوجہ کرکے اہم فوائد ونکات بیان کرنا ہوتاہے ۔
عصرحاضر میں تحقیق کرنے والے محقق کو نگران مقالہ کی طرف سے یہ ہدایت ہوتی ہے کہ وہ مقالہ لکھنے سے پہلے اپنا میدان منتخب کرے، کہ کس شعبہ میں اسے مناسبت ہے اوروہ زیادہ بہتر کام کرسکتاہے ۔ اسی کے مطابق وہ موضوع کاانتخاب کرے اور مسائل کو زیر بحث لاتے ہوئے مقالہ تحریر کرے ۔یہی بات شاہ صاحب نے اپنے خاص انداز اِعْلَم (جان لیجئے )سے شروع کی ہے ۔ لکھتے ہیں:
فاعلم ان لکل فن خاصۃ ولکل موطن مقتضی فکما انہ لیس لصاحب غریب الحدیث ان یبحث عن صحۃ الحدیث وضعفہ ولا لحافظ الحدیث ان یتکلم فی الفروع الفقھیہ وایثار بعضھا علی بعض فکذالک لیس للباحث عن اسرار الحدیث ان یتکلم بشئی من ذلک انما غایۃ ھمتہ ومطمح بصرہ ھو کشف السر الذی قصدہ النبی ﷺ فیما قال سواہ بقی ھذاالحکم محکما او صار منسوخا او عارضہ دلیل آخر فوجب فی نظر الفقیہ کونہ مرجوحا نعم لا محیص لکل خائض فی فن ان یعتصم باحق ما ھنالک بالنسبۃ الی ذالک الفن (۱)
’’جان لیجئے ہرفن کی ایک خاصیت اور ہر جگہ کا کوئی مقتضی ٰ ہوتاہے ۔پس جس طرح یہ بات کہ فن غریب الحدیث کے مصنف کے لیے مناسب نہیں کہ وہ حدیث کی صحت و ضعف کو زیر بحث لائے ،اور نہ حافظ الحدیث کے لیے مناسب ہے کہ وہ فقہی مسائل کے بارے میں اور بعض احادیث کو بعض پر ترجیح دینے کے لیے کلام کرے ، پس اسی طرح حدیث کے اسرار سے بحث کرنے والے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ان میں سے کسی بھی چیز کے بارے میں کلام کرے ،اس کی پوری توجہ اور اس کے پیش نظر اس راز کو ہی کھولنا چاہیے جس کا نبی کریم ﷺ نے اپنے ارشاد میں قصد فرمایاہے ۔عام ازیں وہ وہ حکم محکم باقی ہو ،یا منسوخ ہوگیا ہو ،یااس کے معارض کوئی اوردلیل آگئی ہو جس کی وجہ سے مجتہد کی نظر میں وہ روایت مرجوح قرار پائی ہوالبتہ یہ ضروری ہے کسی بھی فن میں داخل ہونے والے کے لیے کہ وہ اس چیزکو پکڑے جو اس فن میں سب سے زیادہ قابل اعتماد ہے ۔‘‘
شاہ صاحب نے ایک بہت اہم فائدہ بیان کیاہے کہ ہرفن کی ایک خاصیت ہوتی ہے اور ہر مقام کا اپنا تقاضا ہوتاہے ۔اسی کے مطابق مسائل کو زیر بحث لانا چاہیے ۔یعنی محد ث کاکام ہے احادیث بیان کرنا اگر وہ فقیہ نہیں ہے اور فتوی نویسی کے فرائص سرانجام دینا شروع کردے تو اس کانتیجہ ٹھیک نہیں ہوگا ۔اور اسی طرح فقیہ کاکام مسائل کااستخراج اور احکام کااستنباط ہے وہ اپنا کام چھوڑ کر غریب الحدیث پر توجہ شروع کردے تو اس کا بھی فائدہ نہیں ہوگا ۔علی ہذاالقیاس احکام اسلام کی مصالح اورحکمتیں بیان کرنے والے کوبھی اپنے موضوع پر توجہ کرنی چاہیے۔اور اسی طرح اگر کوئی کسی فن پر کام کررہاہو اور دوسرے فن کی طرف مراجعت کی نوبت آئے تو اس فن کی قابل اعتماد اور راجح باتوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ مثلاً فقہ پر کام کرتے ہوئے حدیث نقل کرنی ہے تو ان احادیث کا انتخاب کیا جائے جو صحیح اور قابل اعتماد ہیں ۔
۲۔ شاہ صاحب کئی مقامات پر صیغہ متکلم استعمال کرتے ہوئے ’’اَقُولُ‘‘ (میں کہتا ہوں)سے کلا م کرتے ہیں ۔اور ۲۷۵سے زائد مقامات پر اس کو لائے ہیں جس کے متعدد مقاصد ہوسکتے ہیں تاہم چند مقاصد کاذکر کیاجاتاہے ۔
۱۔ آیات قرآنیہ کی تفسیر ۔
۲۔ احادیث کی تشریح۔
۳۔ آیات میں مطابقت۔
۴۔ فقہی مسالک کے درمیان قرب پیدا کرنا ۔
آیت قرآنیہ کی تفسیر کی مثال :
ارشاد باری تعالی ہے:
( ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ) (۲)
’’وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں اور وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہہ ہیں۔‘‘
شاہ صاحب اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
اقول الظاہر ان المحکم مالم یحتمل الا وجھا واحد مثل:( حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُکُمْ وَ بَنٰتُکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ)(۳) والمتشابہ ما احتمل وجوھا وانما المراد بعضھا کقولہ تعالی:( لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰت) (۴) حملھا الزائعون علی اباحۃ الخمر ما لم یکن یعنی او افساد فی الارض والصحیح حملھا علی شاربھا قبل التحریم (۵)
’’ میں کہتا ہوں آیت کے ظاہر اورواضح معنی یہ ہیں کہ محکم آیت وہ ہے جس کے اندر صرف ایک ہی وجہ کا احتمال ہو۔مثلا ’حرام کر دی گئیں تم پر تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں۔‘ اور متشابہہ آیت وہ ہے جس میں چند وجوہ کا احتمال ہو اور مقصود ومراد ان میں سے بعض وجوہ ہوں جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ’جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھا چکیجب کہ انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے اور نیک کام کئے۔‘اس آیت سے بعض کج فہموں نے خمروشراب کی اتنی مقدار مباح کردی جو زمین میں فساد اور شروفتنہ کے درجہ کو نہ پہنچے اور صحیح مطلب یہ ہے کہ یہ حکم ان لوگوں کے حق میں ہے جو خمر وشراب کی حرمت سے پہلے شراب پیاکرتے تھے ۔‘‘
شاہ صاحب نے’’اَقُولُ‘‘ سے بات کا آغاز کیااور محکم ومتشابہ کی مع مثا ل وضاحت فرمائی اور ساتھ ہی ان لوگوں کی غلطی پر متنبہ کیا جنہوں نے آیت سے غلط مفہوم نکالا ۔

دوسری مثال

ارشاد باری تعالی ہے:
(وَمَنْ قَتَلَ مُوْمِنًا خَطًَا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّوْمِنَۃٍ ) (۶)
’’اور جس نے کسی مومن کو غلطی سے قتل کردیا تو ایک مومن غلام آزاد کرے۔‘‘
شاہ صاحب اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
اقول انما وجب فی الکفارۃ تحر یر رقبۃ مومنۃ او اطعام ستین مسکینا لیکون طاعۃ مکفرۃ لہ فیما بینہ وبین اللہ فان الدیۃ مزجرۃ تورث فیہ الندم بحسب تضییق الناس علیہ والکفارۃ فیما بینہ وبین اللہ تعالی (۷)
’’میں کہتا ہوں اس قتل کے کفارہ میں مومن غلا م آزادکرنا یا ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلانا اس لیے واجب کیا گیا تاکہ اس کے اور اللہ کے درمیان یہ طاعت اس کے لیے گناہ مٹانے والی عبادت بن جائے ،بے شک دیت زجر کاذریعہ ہے وہ اس پر ندامت پیدا کرتی ہے لوگوں کی تنگی کے اعتبار سے اور کفارہ اس کے اور اللہ کے درمیان ندامت پیدا کرتاہے ۔‘‘
شاہ صاحب کے مذکورہ کلام سے معلوم ہوا کہ شریعت نے قتل خطا میں مومن غلام کا آزاد کرنا یا دوماہ کے روزے رکھنا بطور کفارہ اس لیے مقرر کیا تاکہ اس نیکی سے اس کاگناہ مٹ جائے ،کفارہ بندے اور اللہ کے درمیان ندامت کا معاملہ ہوتاہے ۔اور دیت اس لیے واجب کی کہ اس کا ادا کرنا عاقلہ کے ذمہ ہوتاہے اور وہ اس کے ساتھ خوب ڈانٹ ڈپٹ کامعاملہ کریں گے کہ تمہاری وجہ سے ہم سب مشکل میں پڑگئے ہیں ۔اس سے اسے شدید ندامت کا سامنا ہوتاہے اور وہ آئندہ ایسی غلطی نہیں کرے گا ۔
واضح رہے کہ شاہ صاحب نے قتل خطا کے کفارہ میں جو ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلانے کا ذکر کیاہے۔ یہ ان سے تسامح ہوا ہے اس لیے کہ سورۃ النساء کی آیت نمبر ۹۲میں صرف اتنا ہے کہ مومن غلام آزاد کرے یا ساٹھ روزے رکھے ۔

حدیث کی تشریح کی مثال

حضورﷺکا ارشاد عالی ہے:
مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا یُبْتَغَی بِہِ وَجْہُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ لَا یَتَعَلَّمُہُ إِلَّا لِیُصِیبَ بِہِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْیَا، لَمْ یَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَعْنِی رِیحَہَا (۸)
’’جس شخص نے وہ علم کہ جس سے اللہ تبارک تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اس لیے سیکھا کہ اس کے ذریعہ اسے دنیا کا کچھ مال و متاع مل جائے تو ایسا شخص جنت کی خوشبو کو بھی نہیں پا سکے گا قیامت کے دن، یعنی جنت کی ہوا۔‘‘
شاہ صاحب اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
اقول یحرم طلب العلم الدینی لاجل الدنیا ویحر م تعلیم من یری فیہ الغرض الفاسد لوجوہ :منہا ان مثلہ لا یخلوغالبا من تحریف الدین الدنیا بتاویل ضعیف فوجب سد الذریعۃ ومنھا ترک حرمۃ القرآن والسنن وعدم الاکتراث بھا (۹)
’’ میں کہتا ہوں دنیا کے لیے دینی علم حاصل کرنا حرام ہے ۔اور اس شخص کو سکھانا بھی حرام ہے جو فاسد غرض رکھتاہے ۔اور ان میں سے یہ کہ اس طرح کا آدمی عام طور پر دنیا کمانے کے لیے کمزور تاویلات کے ذریعے دین کی تحریف سے باز نہیں آتا ،پس اس راستہ کا بند کرنا ضروری ہوا ۔اور ان حرمت کے اسباب میں سے دوسرایہ کہ ایسے شخص کو تعلیم دینا قرآن وسنت کا احترام نہ رکھنا ہے اور ان کی پروا ہ نہ کرناہے۔‘‘
معلوم ہوا حصول دنیا کے لیے دینی علم حاصل کرنا حرا م ہے اس لیے کہ ایسا شخص اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے باطل تاویلوں کا سہارا لے گا ۔اور ایسے شخص کو تعلیم دینا قرآن وسنت کے احترام میں کمی کا باعث ہے ۔

دوسری مثال

حضوراکرم ﷺنے فرمایا:
مَنْ سُءِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَہُ ثُمَّ کَتَمَہُ اُلْجِمَ یَوْمَ القِیَامَۃِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ (۱۰)
’’جس شخص سے ایسا سوال کیا گیا جس کو وہ جانتا ہے اور اس نے اسے چھپایا تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔‘‘
شاہ صاحب اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
اقول یحرم کتم العلم عند الحاجۃ الیہ لانہ اصل التھاون وسبب نسیان الشرائع واجزیۃ المعاد تبنی علی المناسبات فلما کان الاثم کف لسانہ عن النطق جوزی بشبح الکف وھو اللجام من نار(۱۱)
’’میں کہتا ہوں ضرورت کے وقت علم چھپانا حرام ہے ۔اس لیے کہ وہ لاپروائی اور سستی کی جڑ ہے اور احکام شرعیہ کوبھولنے کا سبب ہے اور اخروی جزائیں مناسبتوں پرمبنی ہیں ۔پس جب بولنے سے زبان کو روکنا گناہ تھا تو وہ سزا دیا گیا روکنے کی شکل وصورت کے ذریعے اور وہ آگ کی لگام ہے ۔‘‘
شاہ صاحب کی اس تشریح سے تین اہم باتیں معلوم ہوئیں۔
(الف) علم چھپانا دین کی اشاعت سے لاپروائی برتناہے ۔اس لیے کہ ایسی صورت حال میں لوگ علم حاصل کرنا چھوڑدیں گے ۔
(ب) باتیں دہرانے سے یاد رہتی ہیں جب علم کو چھپایا جائے گا ،خرچ نہیں کیا جائے گا تو وہ رفتہ رفتہ بھول جائے گا۔ احکام شرعیہ کو بھلانا نقصان عظیم کا باعث ہے ۔
(ج) اخروی جزاوں کے بارے میں ضابطہ بیان کیاہے کہ وہ عمل کی جنس سے ہوتی ہیں یعنی عمل اور اس کی جزا میں مناسبت ہوتی ہے۔ چونکہ اس نے علم بیان کرنے کی بجائے زبان کو روکا اور منہ بند کیا ہے ۔جو کہ شریعت کی نظر میں گناہ ہے اس لیے آخرت میں اسی کی شکل وصورت میں بدلہ دیا جائے گا اوروہ یہی ہے کہ اس کے منہ پر آگ کی لگام چڑھائی جائے جس سے اس کامنہ بند ہوگا ۔ 

قرآنی آیات میں مطابقت کی مثال

قرآن کریم میں عورتوں کو پردہ کرنے کاحکم ہے ۔ارشاد ربانی ہے :
( یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَاءِ الْمُوْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ اَدْنآی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُوْذَیْنَ )(۱۲)
’’اے نبی!اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکایا کریں ۔اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر ستائی نہ جائیں گی۔‘‘
اسی طرح دوسرے مقام پر ارشاد ربانی ہے:
(وَاِذَا سَاَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَسَْلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابٍ ) (۱۳)
’’جب تم ازواج مطہرات سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔‘‘
اور سورۃ النور میں ارشاد ربانی ہے :
(قُلْ لِّلْمُوْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ ) (۱۴)
’’ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھا کریں۔‘‘
اس آیت میں مردوں کو حکم دیا گیاہے کہ وہ نگاہیں نیچی رکھیں ،اگر عورتوں کے لیے پردہ اور حجاب کا حکم ہے تو پھر نگاہیں نیچی رکھنے کا کیامطلب ؟ 
چنانچہ آیات کے درمیان موافقت پیدا کرتے ہوئے شاہ صاحب لکھتے ہیں :
اقول:۔۔۔۔واذاامر الشارع احد بشئی اقتضی ذلک ان یومر الاخر ان یفعل معہ حسب ذالک ،فلما امرت النساء بالتستر وجب ان یرغب الرجال فی غض البصر، وایضا فتہذیب نفوس الرجال لا یتحقق الا بغض الابصار ومواخدۃ انفسہم (۱۵)
’’اور جب شارع کسی کو کسی بات کا حکم دیتاہے تو وہ حکم تقاضا کرتا ہے کہ دوسرے کو بھی حکم دیا جائے کہ وہ اس کے ساتھ اس حکم کے موافق معاملہ کرے پس جب عورتوں کو پردہ کرنے کاحکم دیا گیا تو ضروری ہوا کہ مرددں کو ترغیب دی جائے نظریں نیچی رکھنے کی اور نیز مردوں کے نفوس کا سنورنا متحقق نہیں ہوتا مگر نظریں جھکانے سے اور اپنے نفوس کو پکڑنے سے اس چیز کے ساتھ۔‘‘
شاہ صاحب ؒ نے شریعت اسلامیہ کا ایک بہت اہم اصول بیان کیاہے ۔جب کسی معاملہ کا تعلق دو افراد سے ہو اورشریعت اسلامیہ جب ایک شخص کو کسی بات کا حکم دیتی ہے تو اس حکم کا مقتضی یہ ہوتاہے کہ دوسرے فرد کو بھی ویسا حکم دیا جائے تاکہ وہ پہلے فرد کو دیے گئے حکم کے موافق عمل کرے ۔جب عورتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ مردوں سے پردہ کریں تو ساتھ ہی مردوں کو حکم دیا گیا کہ وہ بھی اپنی نظریں نیچی رکھیں ۔نیز مردوں کے اپنے نفس کی تہذیب کا بھی اسی پر انحصار ہے کہ وہ عورتوں کو بلاوجہ نہ دیکھیں اور غض بصر کی پابندی کریں ۔ اور اپنے نفوس سے مواخذہ و باز پرس کریں ۔
اور اس قسم کی اور مثالیں بھی شریعت اسلامیہ میں موجود ہیں ۔جیسا کہ عورتوں کو حکم دیا کہ وہ اپنا نکاح خود نہ کریں اولیاء کی وساطت سے تمام امور سرانجام ہونے چاہییں تو ساتھ ہی اولیاء کو بھی حکم دیدیا کہ عورتوں کی پسند وناپسند اور رضامندی معلوم کیے بغیر ان کا نکاح نہ کریں۔جیسا کہ آگے بحث آرہی ہے ۔اسی طرح حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺنے مردوں کے حقوق بیان کیے تو ساتھ ہی عورتوں کے حقوق بیان کیے ۔
ارشاد نبوی ﷺہے:
اَلَا إِنَّ لَکُمْ عَلَی نِسَاءِکُمْ حَقًّا، وَلِنِسَاءِکُمْ عَلَیْکُمْ حَقًّا، فَاَمَّا حَقُّکُمْ عَلَی نِسَاءِکُمْ فَلَا یُوطِءْنَ فُرُشَکُمْ مَنْ تَکْرَہُونَ وَلَا یَاْذَنَّ فِی بُیُوتِکُمْ لِمَنْ تَکْرَہُونَ اَلَا وَحَقُّہُنَّ عَلَیْکُمْ اَنْ تُحْسِنُوا إِلَیْہِنَّ فِی کِسْوَتِہِنَّ وَ طَعَامِہِنَّ (۱۶)
’’جان لو کہ تمہارا تمہاری بیویوں پر اور ان کا تم پر حق ہے تمہارا ان پر حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر ان لوگوں کو نہ بٹھائیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو بلکہ ایسے لوگوں کو گھر میں داخل نہ ہونے دیں اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں بہترین کھانا اور بہترین لباس دو۔‘‘

فقہی مسالک کے درمیان تقریب کی مثال

فقہاء کے درمیان یہ مسئلہ بڑ ی شد ومد سے زیر بحث رہاہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر عاقلہ وبالغہ اپنا نکاح خود کرسکتی ہے یا نہیں؟
اس مسئلہ میں حنفیہ کا موقف یہ ہے کہ عاقلہ وبالغہ عورت ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کفو میں کرسکتی ہے۔(۱۷) امام مالک ؒ کے نزدیک اس قسم کانکاح جو ولی کی اجازت کے بغیر کیا جائے وہ سرے سے منعقد ہی نہیں ہوگا۔(۱۸) اوردیگر جمہور فقہاء کے نزدیک ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوگا تاہم اگر کسی عورت نے ایسا کر لیا تو وہ ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا ۔اگر اس نے اجازت دیدی تو نکاح صحیح ہوگا وگرنہ جائز نہ ہوگا ۔(۱۹)
حنفیہ کے موقف سے معلوم ہوتاہے کہ ولی کی اجازت کے بغیرعاقلہ وبالغہ عورت اپنا نکاح کرسکتی ہے ۔جبکہ جمہور فقہاء کے مؤقف سے معلو م ہوا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوگا ۔احناف اور جمہور کے موقف میں بہت فاصلہ ہے ۔فقہاء کرام کی مذکورہ بالا بحث کے بعد اب شاہ صاحب کی کلام کو مد نظر رکھا جائے تو احناف اور جمہور فقہاء کی رائے میں فاصلہ کم ہوتا نظر آئے گا ۔جیسا کہ یہ بات پیچھے گزر گئی ہے کہ شاہ صاحب جب کوئی اہم بات یا فائد ہ بیان کرتے ہیں تو ’’اِعْلَم‘‘ سے بات شروع کرتے ہیں ۔چنانچہ اس معرکۃ الاراء مسئلہ میں ’’لا نکاح الا بولی‘‘کے تحت لکھتے ہیں:
اعلم انہ لایجوز ان یحکم فی النکاح النساء خاصۃ لنقصان عقلھن وسوء فکرھن فکثیرا مالا یھتدین المصلحۃ ولعدم حمایۃ الحسب منہن غالبا، فربما رغبن فی غیر الکف ء وفی ذلک عار علی قومھا ،فوجب ان یجعل للاولیاء شیئی من ھذا الباب لتسدالمفسدۃ (۲۰)
’’جان لیجئے نکاح میں صرف فیصلہ کرنے کااختیار عورتوں کو دیدیا جائے تو یہ جائز نہیں ہے ۔اس لیے کہ ان کی عقل ناقص اور سوچ ادھوری ہوتی ہے ۔کئی مرتبہ ان کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ ان کے لیے کونسا قد م اٹھا نا بہتر ہے۔اور عام طور پران خاندانی خصوصیات کا لحاظ بھی نہیں کرتیں جو خاندانوں میں اہم ہوتی ہیں چنانچہ وہ کبھی غیر کفو میں نکاح کرلیتی ہیں جو ان کے خاندان کے لیے شرمندگی بنتاہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ یہ تمام معاملات اولیاء کے ہاتھوں سرانجام ہوں تاکہ ہرقسم کی خرابی اور فساد سے بچاجاسکے۔‘‘
آگے شاہ صاحب مزید لکھتے ہیں جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
’’اور عام طور پر فطرت کی طرف سے لوگوں میں رائج طریقہ یہی ہے کہ مرد عورتوں کے ذمہ دار ہوں ،اور ان کے ہاتھ میں ہی معاملات کو کھولنا اور لپیٹنا ہو ،ان کے ذمہ مصارف ہوں ،اورعورتوں کے نکاح میں اولیا ء کا ہونا مردوں کی شا ن بڑھاتاہے اور عورتوں کا خود نکاح کرنا بے شرمی کی بات ہے جس کا سبب حیاء کی کمی ہے اور اس میں اولیاء کی حق تلفی ہوتی ہے جو ان کی بے قدری کا باعث ہے ۔اور اہم بات یہ ہے کہ نکاح کی تشہیر بھی ضروری ہے تاکہ نکاح اور بدکاری میں فرق ہوجائے اور شہرت کا بہترین طریقہ ہے کہ اولیاء کو نکاح میں شامل کیا جائے۔‘‘(۲۱)
آخر میں شاہ صاحب نے ایک اور اہم بات کی طرف اپنے مخصوص انداز ’’اَقُولُ‘‘کے ساتھ مخاطب کیا ہے :
اقول لایجوز ایضا ان یحکم الاولیاء فقط لانہم لایعرفون ما تعرف المراۃ من نفسھا ولان حار العقد وقارہ راجعان الیھا والاستئمار طلب ان تکون ھی الآمرۃ صریحا، والاستئذان طلب ان تاذن ولاتمنع وادناہ السکوت (۲۲)
’’میں کہتا ہوں یہ بھی جائز نہیں کہ صرف اولیاء کو ہی حاکم بنا کر عورتوں کے نکاح کا پورا اختیار دیدیا جائے ،اس لیے کہ وہ نہیں جانتے اس بات کو جسے عورت اپنی ذات کے بارے میں جانتی ہے ۔اور اس لیے کے عقد کا نقصان اور نفع عورت کی طرف لوٹنے والاہے ۔اور استمار اس بات کی طلب ہے کہ وہ ہی صراحتا حکم دینے والی ہو ۔اور استیذان اس بات کی طلب ہے کہ وہ اجازت دے اور وہ انکار نہ کرے اور اجازت کا ادنی درجہ خاموشی ہے۔‘‘
شاہ صاحب کے اس محققانہ کلام سے احناف اور جمہوردونوں کی رائے قابل عمل ہوگئیں کہ نہ توبالکلیہ صرف عورت کے ہاتھ میں شادی و بیاہ کا اختیار ہو اور نہ ہی اولیاء کو مکمل طور پر اختیار ہو بلکہ آپس کی مشاورت سے ،عورت کی اجازت ورضامندی سے شادی وبیاہ کا یہ مسئلہ حل ہونا چاہیے تاکہ بعد میں کسی قسم کی تلخیا ں اور لڑائی جھگڑے سکون زندگی برباد نہ کرسکیں۔
مذکورہ مثالوں سے واضح ہواکہ ’’اقول‘‘سے شاہ صاحب عمدہ فوائد ونکات بیا ن کرتے ہیں۔
۳۔ بسااوقا ت ’’وَالْاَصْل‘‘ کہہ کر اپنے دعوی کا اثبات کرتے ہیں ۔اور اسے۵۰ سے زائد مقامات پر لائے ہیں ۔جو بنیادی دلیل کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔کہیں تو ’’والاصل‘‘  کہہ کر آیت کریمہ لاتے ہیں اور کبھی حدیث رسول ﷺنقل کرتے ہیں اورکہیں عقلی دلیل پیش کرتے ہیں ۔

آیت کی مثال

شاہ صاحب نے باب قائم کیا : 
باب اسباب نزول الشرائع الخاصۃ بعصر دون عصر وقوم دون قوم (۲۳)
’’وہ اسباب جن کی وجہ سے مخصوص زمانوں میں مختلف قوموں کے لیے خاص شریعتیں نازل ہوئیں۔‘‘
اس کے بعد شریعتوں کے مختلف ہونے کے وجوہ اسباب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
والاصل فیہ قولہ تعالی ( کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلا لِبَنِی إِسْرَاءِیلَ إِلا مَا حَرَّمَ إِسْرَاءِیلُ عَلَی نَفْسِہِ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزِّلَ التَّوْرَاۃُ قُلْ فَاْتُوا بِالتَّوْرَاۃِ فَاتْلُوہَا إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ )(۲۴)
اوربنیاداس میں اللہ تعالی کا قول، بنی اسرائیل کے لیے سب کھانے کی چیزیں حلال تھیں مگر وہ چیز جو اسرائیل نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر حرام کی تھی کہہ دو تورات لاو اور اسے پڑھو اگر تم سچے ہو۔‘‘
ا س کے بعد شاہ صاحب نے باب سے متعلقہ بحث کی ہے اور اس پر مفصل روشنی ڈالی ہے ۔
اور اسی طرح شاہ صاحب نے باب قائم کیا :
باب اسباب النسخ (۲۵)
’’نسخ کے اسباب کا بیان ۔‘‘
اس کے بعد لکھتے ہیں:
والاصل فیہ قولہ تعالی(مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِہَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْہَآ اَوْ مِثْلِہَا) (۲۶)
’’اور بنیادی دلیل اس میں اللہ تعالی کاقول ہم جو کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کے برابر لاتے ہیں۔‘‘

حدیث کی مثال

لوگوں کی جبلت اور فطرت کے بارے میں کلام کرتے ہوئے شاہ صاحب نے ایک باب قائم کیا :
باب اختلاف الناس فی جبلتھم المستوجب لاختلاف اخلاقہم واعمالہم ومراتب کمالہم (۲۷)
’’جبلت میں لوگوں کے مختلف ہونے کا بیان جو ان کے اخلاق واعمال اور کمال کے مرتبو ں کے مختلف ہونے کا سبب ہے۔‘‘
مذکورہ باب کے قائم کرنے سے شاہ صاحب ؒ کا مقصد لوگوں کے اخلاق و اعمال اور کمال میں مختلف ہونے کی وجہ بیان کرنا ہے ۔کہ اس کا سبب لوگوں کی جبلت اور فطرت کا مختلف ہوناہے جس کی وجہ سے ان کے کمالات و اخلاقیات اور عملیات میں یکسانیت نہیں ہے۔
اس بات کو مزید مدلل کرنے کے لیے شاہ صاحب لکھتے ہیں:
والاصل فیہ ماروی عن النبی ﷺ انہ قال اذا سمعتم بجبل زال عن مکانہ فصدقوہ ،و اذا سمعتم برجل تغیر عن خلقہ فلا تصدقوا بہ فانہ یصیر الی ما جبل علیہ (۲۸)
’’اور بنیادی دلیل اس میں وہ روایت ہے جو نبی کریم ﷺ سے مروی ہے آپ ﷺ نے فرمایا جب تم کسی پہاڑ کے بارے میں سنو کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے تو اس کو مان لو اورجب تم کسی آدمی کے بارے میں سنو کہ اس کی فطرت بدل گئی ہے تو اس کو مت مانو پس بے شک وہ لوٹنے والا ہے اس فطرت کی طرف جس پر وہ پید ا کیاگیاہے ۔‘‘
اسی طرح متعدد مقامات پر شاہ صاحب احادیث سے استدلال کرتے ہیں ۔مگر احادیث کے نقل کرنے کے بعد ان کی صحت وسقم پر بالکل کلام نہیں کرتے ،بلکہ بسا اوقات احادیث ضعیفہ سے بھی استدلال کرتے ہیں ۔مثلا شاہ صاحب نے ایک حدیث نقل کی:
لَا نِکَاح إِلَّا بولِی (۲۹)
’’ولی کے بغیرنکاح نہیں ہوتا۔‘‘
جبکہ محققین نے اس حدیث کی صحت پر کلام کیاہے ۔ امام علاء الدین کاسانی (م- ۵۸۷ھ)لکھتے ہیں :
لا نکاح إلا بولی مع ما حکی عن بعض النقلۃ ان ثلاثۃ احادیث لم تصح عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعد من جملتہا ہذا ولہذا لم یخرج فی الصحیحین (۳۰)
’’لا نکاح إلا بولی کے بارے میں بعض اہل علم نے نقل کیاہے کہ تین احادیث نبی کریم ﷺسے صحیح روایت نہیں کی گئیں اوران میں ایک یہی حدیث ہے اسی لیے صحیحین میں اس کی تخریج نہیں ہے۔‘‘
شیخ جمال الدین رومی البابرتی (م-۷۸۶ھ)لکھتے ہیں :
روی عن یحیی بن معین رحمہ اللہ انہ قال: الاحادیث الثلاثۃ لیست بثابتۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احدہا قولہ علیہ الصلاۃ والسلام: لا نکاح إلا بولی وشاہدی عدل (۳۱)
’’یحییٰ بن معین سے روایت کی گیا کہ تین احادیث حضوراکرم ﷺسے ثابت نہیں ہیں ان میں سے ایک لا نکاح إلا بولی وشاہدی عدل ہے۔‘‘
امام بدرالدین عینی (م- ۸۵۵ھ)لکھتے ہیں :
وقال یحیی بن معین واسحاق بن راہویہ تنسب إلیہ ثلاثۃ احادیث لم تثبت عن رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ احدہا لا نکاح إلا بولی (۳۲)
’’یحییٰ بن معین اور اسحاق بن راھویہ نے کہا تین احادیث کی نسبت حضورﷺکی طرف کی جاتی ہے مگر وہ آپ ﷺسے ثابت نہیں ہیں ان میں سے ایک ہے۔ لا نکاح إلا بولی ‘‘
علامہ ابن نجیم (م-۹۷۰ھ)نے بھی اس حدیث کوضعیف قرار دیاہے ۔(۳۳)اور یہی رائے علامہ شامی (م ۱۲۵۲ھ) کی ہے(۳۴)
اسی طرح شرک کی صورتیں بیان کرتے ہوئے ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے شاہ صاحب لکھتے ہیں:
فی الحدیث اَن حَوَّاء سمت وَلَدہَا عبد الْحَرْث وَکَانَ ذَلِک من وَحی الشَّیْطَان وقد ثبت فی احادیث لاتحصی ان النبی ﷺ غیر اسماء اصحابہ عبدالعزیز وعبدشمس ونحو ھما الی عبداللہ وعبدالرحمن وما اشبھھما فھذہ اشباح وقوالب للشرک نھی الشارع عنھا لکونھا قوالب لہ واللہ اعلم (۳۵)
’’اورحدیث میں آیاہے کہ حضرت حواء نے اپنے بیٹے کانام عبدالحارث رکھا اوریہ نام رکھنا شیطان کے اشارے سے تھا اور بے شمار احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے صحابہ کے ناموں کو بدل دیا اورعبدالعزی،اور عبدالشمس اور ان کے مانند ناموں کی جگہ عبداللہ ،عبدالرحمن اور ان سے ملتے جلتے نام رکھے۔غرض یہ شرک کی صورتیں اور سانچے ہیں شریعت نے ان سے اس لیے منع کیا کہ شرک ان سانچوں میں ڈھل کر تیار ہوتاہے ۔باقی اللہ بہترجانتے ہیں ۔‘‘
شاہ صاحب نے حضرت حواء کے واقعہ والی جو حدیث نقل کی ہے اس کومحققین نے ضعیف اور اسرائیلات میں شمار کیاہے ۔
امام بن کثیر )م- ۷۷۴ھ )لکھتے ہیں :
والغرض ان ہذا الحدیث معلول من ثلاثۃ اوجہ احدہا ان عمر بن إبراہیم ہذا ہو البصری وقد وثقہ ابن معین، ولکن قال ابو حاتم الرازی لا یحتج بہ،۔۔۔ الثانی انہ قد روی من قول سمرۃ نفسہ لیس مرفوعا، کما قال ابن جریر:حدثنا ابن عبد الاعلی، حدثنا المعتمر عن ابیہ، حدثنا بکر بن عبد اللہ بن سلیمان التیمی عن ابی العلاء بن الشخیر عن سمرۃ بن جندب قال: سمی آدم ابنہ عبد الحارث. الثالث ان الحسن نفسہ فسر الآیۃ بغیر ہذا، فلو کان ہذا عندہ عن سمرۃ مرفوعا لما عدل عنہ قال ابن جریر حدثنا ابن وکیع حدثنا سہل بن یوسف عن عمرو عن الحسن جعلا لہ شرکاء فیما آتاہما قال کان ہذا فی بعض اہل الملل ولم یکن بآدم(۳۶)
’’اور خلاصہ یہ کہ یہ حدیث کئی وجہوں سے معلول (کمزور )ہے ۔پہلی وجہ اس حدیث کے راوی عمر بن ابراہیم کو اگرچہ ابن معین نے ثقہ کہاہے مگر ابوحاتم رازی نے کہا اس کی روایت قابل حجت نہیں ،دوسری وجہ یہی روایت حضرت سمرۃ سے موقوفا روایت کی گئی ہے ۔جیسا کہ ابن جریر نے کہا کہ سمرہ بن جندب کہتے ہیں کہ حضرت آدم نے اپنے بیٹے کانام عبد الحارث رکھا ۔اور تیسری وجہ اس حدیث کے راوی حضرت حسن بصری نے اس کے علاوہ تفسیر کی ہے ۔اگر یہ حضرت سمرہ نے مرفوعا بیان کی ہوتی تو یہ اس سے اعراض نہ کرتے ۔ابن جریر نے کہا کہ حضرت حسن فرماتے ہیں کہ یہ حضرت آدم کا واقعہ نہیں بلکہ دیگر مذاہب والوں کا واقعہ ہے ۔‘‘
امام ابن کثیر ؒ کے کلام کا حاصل نکات کی صورت میں درج ذیل ہے ۔
۱۔ اس حدیث کے راوی عمر بن ابراہیم کی روایت کو امام ابو حاتم رازی ؒ نے ناقابل حجت قرار دیاہے۔
۲۔ حضرت سمرہ بن جندبؓ سے یہ روایت موقوفا نقل کی گئی ہے ۔
۳۔ اس حدیث کے راوی حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں یہ حضرت آدم ؑ کا واقعہ نہیں ہے بلکہ دیگر مذاہب والوں کا واقعہ ہے۔
ان وجوہ کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے ۔

حوالہ جات

(۱) شاہ ولی اللہ،احمد بن عبدالرحیم،حجۃ اللہ البالغہ،کراچی ،نور محمد کارخانہ تجارت کتب آرام باغ ،س ن ،جلد۱،صفحہ۱۰
(۲) القرآن،آل عمران:۷
(۳) القرآن،النساء :۲۳
(۴) القرآن،المائدہ:۹۳
(۵) شاہ ولی اللہ،حجۃ اللہ البالغہ،جلد ۱،صفحہ ۱۷۲
(۶) القرآن،النساء :۹۲
(۷) شاہ ولی اللہ،حجۃ اللہ البالغہ،جلد ۲،صفحہ ۱۵۳
(۸) ابو داؤد ،سلیمان بن الاشعث،السجستانی،السنن،بیروت،المکتبۃ العصریہ،س ن ،جلد۳،صفحہ۳۲۳
(۹) شاہ ولی اللہ،حجۃ اللہ البالغہ،جلد ۱،صفحہ ۱۷۱
(۱۰) ایضا ،جلد ۱،صفحہ ۱۷۱
ابو داؤد،السنن ،جلد۳،صفحہ۳۲۱
(۱۱) ایضا،جلد ۱،صفحہ ۱۷۱
(۱۲) القرآن،الاحزاب :۵۹
(۱۳) القرآن،الاحزاب:۵۳
(۱۴) القرآن،النور:۳۰
(۱۵) حجۃ اللہ البالغہ،جلد۲،صفحہ۱۲۶
(۱۶) الترمذی،ابو عیسی محمد بن عیسی ،السنن،مصر ،مطبعہ مصطفی البابی الحلبی ،۱۳۹۵ھ،جلد۳،صفحہ۴۵۹
(۱۷) الزیلعی ،فخرالدین،تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق،قاہرہ ،المطبعۃ الکبری الامیریۃ،۱۳۱۳، جلد ۲، صفحہ ۱۱۷
(۱۸) ابن رشد ،محمد بن احمد ،ابو الولید ،بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد ،قاہرہ، دار الحدیث ،۱۴۲۵ھ،جلد۳، صفحہ ۳۶
(۱۹) ابن قدامہ المقدسی، عبداللہ بن احمد ،المغنی ،مکتبۃ القاہرہ،۱۳۸۸ھ،جلد۷،صفحہ۷
(۲۰) شاہ ولی اللہ،حجۃ اللہ البالغہ،کراچی ،جلد ۲،صفحہ ۱۲۷
(۲۱) حجۃ اللہ البالغہ،جلد۲،صفحہ۱۲۷
(۲۲) ایضا،جلد۲،صفحہ۱۲۷
(۲۳) ایضا،جلد۱،صفحہ۸۸
(۲۴) القرآن،آل عمران:۹۳
حجۃ اللہ البالغہ ،جلد۱،صفحہ۸۸
(۲۵) حجۃ اللہ البالغہ ،جلد۱،صفحہ۸۸
(۲۶) ایضا،جلد۱،صفحہ۸۸
القرآن،البقرہ:۱۰۶
(۲۷) حجۃ اللہ البالغہ ،جلد۱،صفحہ۲۶
(۲۸) ایضا،جلد۱،صفحہ۲۶
احمد بن حنبل ،الامام،المسند،موسسۃ الرسالۃ،۱۴۲۰ھ،جلد۴۵،صفحہ۴۹۱
(۲۹) حجۃ اللہ البالغہ،جلد۲،صفحہ۱۲۷
ابوداود،جلد۲،صفحہ۲۲۹
(۳۰) الکاسانی،علاء الدین،بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع،بیروت،دارالکتب العلمیہ،۱۴۰۶ھ،جلد۲، صفحہ ۲۴۹
(۳۱) البابرتی،جمال الدین،محمد بن محمد،العنایہ شرح الہدایۃ،دارالفکر،س ن ،جلد۱۰،صفحہ۹۳
(۳۲) العینی،بدرالدین،محمود بن احمد،البنایہ شرح الہدایہ،بیروت ،دارالکتب العلمیہ،۱۴۲۰ھ،جلد۵، صفحہ ۷۶
(۳۳) ابن نجیم ،زین الدین ابراہیم، البحرالرائق شرح کنزالدقائق،دارالکتاب الاسلامی،س ن،جلد۳، صفحہ ۱۱۷
(۳۴) شامی،ابن عابدین،محمد امین،ردالمحتار علی الدرالمختار،بیروت،دارالفکر،۱۴۱۲ھ،جلد۳،صفحہ۵۶
(۳۵) حجۃ اللہ البالغہ ،جلد۱،صفحہ۶۳
الترمذی،السنن،جلد۵،صفحہ۲۶۷
(۳۶) ابن کثیر،اسماعیل بن عمر،ابوالفداء ،تفسیر القرآن العظیم،بیروت،دارالکتب العلمیہ،۱۴۱۹ھ،جلد۳، صفحہ ۴۷۵
 (جاری)

’’اللہ پوچھے گا‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سپریم کورٹ کے محترم جج جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی اپنی مدت ملازمت پوری کر کے عدالت عظمیٰ سے رخصت ہوگئے ہیں مگر جاتے جاتے ملک کے دینی حلقوں کو بے چین اور متحرک کر گئے ہیں۔ سابق چیف جسٹس جناب جواد ایس خواجہ نے رخصت ہوتے ہوئے قومی زبان اردو کے بارے میں تاریخی فیصلہ صادر کر کے ایک کریڈٹ اپنے نام تاریخ میں محفوظ کر لیا تھا، جبکہ جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی نے بھی جاتے ہوئے سودی نظام کے خلاف حافظ عاکف سعید کی رٹ مسترد کر کے اور متنازعہ ریمارکس دے کر ایک ’’کریڈٹ‘‘ اپنے نام ریکارڈ کرا دیا ہے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے جج کے طور پر فرمایا کہ سودی نظام ختم کرانا سپریم کورٹ کا کام نہیں او رنہ ہی وہ سپریم کورٹ میں مدرسہ کھول کر کے سود کے حرام ہونے کی تعلیم دے سکتے ہیں۔ اور یہ کہ جو سود نہیں لینا چاہتے وہ نہ لیں اور جو لے رہے ہیں ان سے خود اللہ تعالیٰ پوچھ لے گا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔
جسٹس عثمانی کے ان ریمارکس نے ملک بھر کے دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی فکرمند اور بے چین کر دیا ہے جو قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ارشاد کے مطابق ملک کے معاشی نظام کو اسلامی اصولوں پر استوار ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ اپنی اپنی قسمت کی بات ہے کہ کوئی شخص رخصت ہوتے ہوئے اپنے بارے میں کیا تاثر چھوڑ کر جاتا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’’العبرۃ بالخواتیم‘‘ کہ آخرت میں نجات کا دارومدار انسان کی دنیوی زندگی کی آخری کیفیات پر ہوتا ہے۔ جبکہ قومی شخصیات کی معاشرتی زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما دکھائی دیتا ہے کہ اپنی سروس مکمل کر کے جس کیفیت میں وہ رخصت ہوتے ہیں وہ قوم کو ہمیشہ یاد رہتی ہے اور تاریخ بھی اسے اپنے ریکارڈ میں محفوظ کر لیتی ہے۔
تنظیم اسلامی کے امیر حافظ عاکف سعید نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی تھی کہ حکومت سے کہا جائے کہ وہ دستور کی واضح ہدایت کے مطابق ملک میں سودی نظام کے خاتمے کا وعدہ پورا کرے۔ مگر جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے بینچ نے دوسرے فریق کو طلب کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں فرمائی اور یہ کہہ کر رٹ سرسری سماعت میں ہی مسترد کر دی کہ یہ فیصلہ کرنا وفاقی شرعی عدالت کا کام ہے جو اس کے بارے میں کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ بات یہاں تک رہتی تو کسی حد تک سمجھ میں آرہی تھی مگر جسٹس (ر) عثمانی کا یہ ارشاد سب کو حیران کر گیا کہ سودی نظام کے خاتمے کے لیے سپریم کورٹ کی سرے سے کوئی ذمہ داری ہی نہیں ہے۔ حالانکہ سودی نظام کے فوری خاتمہ کے لیے دستور پاکستان نے واضح طور پر حکومت کو پابند کر رکھا ہے اور حکومت کو دستوری احکامات کی تعمیل و تکمیل کی ہدایات دینا اور ان کی نگرانی کرنا عدالت عظمیٰ کی بنیادی ذمہ داری شمار ہوتا ہے۔ 
بہرحال ہم اس بحث میں سردست نہیں پڑنا چاہتے۔ حافظ عاکف سعید اگر اس فیصلہ اور ریمارکس کے خلاف اپنا دستوری حق استعمال کرتے ہوئے نظر ثانی کے لیے عدالت عظمیٰ میں گئے اور اس پر فریقین کو بلا کر دونوں کا موقف سنا گیا تو سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ البتہ ملک بھر میں اس پر جس پریشانی اور بے چینی کا اظہار ہو رہا ہے، اس کی ایک جھلک قارئین کے سامنے پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ متعدد دینی جماعتوں کے راہ نماؤں کے اخباری بیانات قومی پریس کی زینت بن چکے ہیں جبکہ مختلف مکاتب فکر کا ایک مشترکہ فورم ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ موجود ہے جس کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر کی حیثیت سے ذمہ داری دوستوں نے مجھے سونپ رکھی ہے۔ اس لیے جہاں جاتا ہوں دوست پوچھتے ہیں، رد عمل معلوم کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلہ میں آئندہ لائحہ عمل کی بات کرتے ہیں۔ 
11 اکتوبر کو سیالکوٹ گیا تو وہاں کے معروف دینی و سماجی راہ نما پیر سید شبیر احمد گیلانی نے علماء کرام کی ایک محفل اسی حوالہ سے سجا رکھی تھی جس میں اس مسئلہ پر باہمی مشاورت ہوئی اور دوستوں نے مختلف تجاویز و تاثرات سے نوازا۔ 
13 اکتوبر کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں مختلف دینی جماعتوں کے راہ نماؤں کا ایک مشترکہ اجلاس مولانا خالد حسن مجددی کی صدارت میں ہوا جس میں طے پایا کہ شہر کے بڑے مراکز میں سودی نظام کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے لیے کنونشن منعقد کیے جائیں گے۔ جبکہ چیمبر آف کامرس کے راہ نما میاں فضل الرحمن چغتائی نے بتایا کہ چیمبر میں بھی اس سلسلہ میں کنونشن کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا۔ 
15 اکتوبر کو لاہور میں متحدہ علماء کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف ملک کی رہائش گاہ پر ان کی صدارت میں دینی جماعتوں کے سرکردہ حضرات کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں مولانا محمد امجد خان، حافظ عاکف سعید، مولانا محمد رمضان، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، جناب امیر العظیم، ڈاکٹر حافظ حسن مدنی، مولانا مجیب الرحمن انقلابی، مولانا حافظ محمد سلیم، مولانا یونس حسن، جناب عابد محمود قریشی اور دیگر حضرات شریک ہوئے۔ راقم الحروف بھی حاضر تھا اور باہمی مشاورت سے طے پایا کہ دینی حلقوں اور رائے عامہ کو بیدار و منظم کرنے کے لیے تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ اور تمام طبقات بالخصوص تاجر برادری، صحافی حضرات اور اساتذہ و طلبہ کو توجہ دلائی جائے گی کہ ملک سے سودی نظام کا خاتمہ شرعی ذمہ داری ہونے کے ساتھ ساتھ دستوری تقاضہ بھی ہے اور اس سلسلہ میں حکومت اور دیگر ریاستی اداروں کی بے پرواہی افسوس ناک ہے۔ 
اجلاس میں حافظ عاکف سعید، جناب اوریا مقبول جان اور راقم الحروف کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ سودی نظام کے خاتمہ کے لیے قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل جاری تحریک اور اس کے تقاضوں کے حوالہ سے ایک جامع ’’بریفنگ رپورٹ‘‘ مرتب کر کے تمام طبقات اور اداروں کو بھجوائی جائے اور اس سلسلہ میں مختلف مقامات پر ’’علماء کنونشنوں‘‘ کا اہتمام کیا جائے۔ اس بات پر بطور خاص زور دیا گیا کہ سب سے زیادہ علماء کرام کو اس کے لیے متحرک ہونا چاہیے جبکہ علماء کرام کو سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد کے پس منظر اور پیش رفت سے آگاہ رکھنے کے لیے منظم محنت کرنا ہوگی۔ کیونکہ علماء کرام سود کی حرمت اور نحوست سے تو بخوبی واقف ہیں مگر ان کی اکثریت سودی نظام کے خلاف جدوجہد کی صورت حال سے آگاہ نہیں ہے۔ 

’’مقالات ایوبی‘‘ پر ایک نظر

مولانا عبد الغنی مجددی

مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی آزاد کشمیر کے بزرگ علماء میں سے ہیں۔ انھوں نے جامعہ اشرفیہ میں متعددعظیم شخصیات سے علم حاصل کیا جن میں مولانا رسول خان اور مولانا محمد ادریس کاندھلوی جیسی عظیم المرتبت شخصیات شامل ہیں۔ ایک عرصہ تک اسلام آباد میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اس کے بعد کئی سال ام القری یونیورسٹی مکہ مکرمہ میں تعلیم حاصل کی اور حرم مکہ کی برکات وفیوض سے فیضیاب ہوتے رہے۔ مکہ مکرمہ سے واپسی پر آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے میر پور کے ضلع مفتی مقرر کیے گئے اورریٹائر منٹ تک حکومت اور عوام کی شرعی راہ نمائی کرتے رہے۔ اس وقت موصوف کشمیر میں شرعی افتاء اور دینی راہ نمائی کے میدان میں وقیع علمی و فقہی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ 

مقالات ایوبی کا مختصر تعارف

’’مقالات ایوبی‘‘ مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی کے مقالات کا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے دعا کے آد ا ب سے لے کر فقہ وقضا ء کے نازک مسائل، اسلام اور دہشت گردی اور اسلام اور جمہوریت کے باہمی تعلق جیسے حساس عنوانات کے امور پر بحث کی ہے۔ 
مرتب نے کتا ب کے مقالات کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے کا تعلق اصلاح وتربیت سے ہے، دوسرا حصہ فقہ و قضاء سے متعلق ہے اور تیسرے حصے میں متفرقات شامل ہیں۔ 
مولانا کے اسلوب تحریر کی چند نمایاں خصوصیات حسب ذیل ہیں: 
  • مولانا کسی نکتے کو اصل ما خذ سے ثابت کرنے کو اولیں حیثیت دیتے ہیں، تاہم مسائل کے اثبات میں فقہی جزئیات کو بھی پیش کرتے ہیں ۔ 
  • مولانا بعض مسائل میں اپنی اجتہادی رائے کا بھی اظہار کرتے ہیں جس کا کلی طور پر فقہی روایت کے مطابق ہونا ضروری نہیں۔
  • مولانا مسئلہ کے ضمن میں اس سے متعلقہ واقعات کو بھی ذکر کرتے ہیں جس سے مقصود اصلاح احوال ہوتا ہے ۔ 
  • مولانا بات کی توضیح اچھی طر ح کرتے ہیں ۔ مسئلہ سے ملتی جلتی صورتیں بھی ذکر کر تے ہیں جس سے مسئلہ کی تنقیح اچھی طرح ہو جاتی ہے ۔ 
تاہم اس کے ساتھ ساتھ بعض مقامات پر یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ مولانا نے بے جا سختی سے کام لیا ہے جو اسلام کے عمومی اصول تیسیر اور دفع حرج کے خلاف ہے ۔ مولانا نے کئی مقامات پر ان باتوں کو جو مکروہات کے ضمن میں آتی ہیں، حرام کا درجہ دے دیا ہے اور اس حوالے سے کوئی ایسے ٹھو س دلائل و شواہد بھی پیش نہیں کیے جن کی بنا پر ان چیزوں کو فقہاء کے عمومی موقف سے ہٹ کر، حرام کہا جا سکتا ہو۔ 
۱۔ مثال کے طور پر مولانا لکھتے ہیں کہ 
’’اسلام نے جعلی بولی لگانے سے منع کیا ہے اور اس طرح جو سودا ہو گا، اس کی اصل قیمت اور نفع سب حرام ہو گا۔ فقہ کی اصطلاح میں اس کونجش کہتے ہیں۔‘‘ (ص ۵۲) حالانکہ فقہی طور پر یہ صورت حرمت میں نہیں، بلکہ کراہت کے ذیل میں آتی ہے۔ چنانچہ صاحب ہدایہ نے متعدد چیزوں کو ایک ساتھ ذکر کیا جن میں جعلی بولی، تلقی رکبان اور شہری کی بیع دیہاتی کے لیے شامل ہیں۔ پھر ان پر حکم لگایا کہ یہ سب مکروہ ہیں اور ان کی وجہ سے بیع فاسد نہ ہو گی، کیونکہ فساد صلب عقد میں موجود نہیں ہے اور نہ ہی صحت کی شرائط میں ہے، بلکہ خارج اور زائد معنی میں فساد ہے۔ (جلد ۵ ص ۱۴۲)
۲۔ اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہیں: 
’’مبالغہ آمیز اشتہار بازی، ایسے فوائد کا اشتہار جو حقیقتاً موجود نہ ہوں، اس طرح کی اشیاء فروخت کر کے نفع کمانا بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔‘‘ (ص ۴۸ )
اگر اوپر بیان کردہ قاعدہ کو ملحو ظ رکھا جائے تو ان چیزوں میں بھی صلب عقد میں فساد موجود نہیں بلکہ خارجی اور زائد معنی میں فساد ہے جس کی وجہ سے ان چیزوں کی تجارت کو حرام قرار دینا محل نظر ہے۔ مزید برآں فقہ کی کتابوں میں ایک جز ئیہ ملتا ہے کہ: بائع نے غلام بیچا اس شرط پر کہ وہ خباز ہے یا کاتب ہے او رنکلا اس کے خلاف تو مشتری کو اختیا ر ہے، اگر چاہے تو لے لے اس کو پورے ثمن کے ساتھ یا چھوڑدے۔ صاحب ہدایہ اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ اگر کوئی ایساوصف ہے جس کی وجہ سے مبیع کو خریدنے میں رغبت پیدا ہوتی ہے تو عقد میں شرط لگانے سے مشتری اس کا حق دار ہو گا۔ پھر اس کا ایسا نہ ہو نا خیا ر کو واجب کر دیتا ہے کیونکہ مشتری اس کے بغیر راضی نہیں ہوا اور یہ لوٹتا ہے نوع کے اختلاف کی طرف۔ اغراض میں تفاوت کے کم ہونے کی وجہ سے تو نہیں فسد ہو گا عقد اس کے معدوم ہو نے کی صورت میں۔ (ص ۵۰ باب خیا ر الشرط )
اس عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ وصف کے معدوم ہونے کی صورت میں عقد فاسد نہ ہوگا ۔ 
۳۔ ایک اور عبارت ملاحظہ ہو:  
’’بعض تاجر گاہک کو بازار کے بھاؤ نہیں بتاتے اور اپنا سودا قسمیں اٹھا کر مہنگے داموں فروخت کر کے دیہاتی اورغیر ملکی گا ہکوں کو لوٹتے ہیں۔ اسلام نے اس طرح کی کمائی کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘ (ص ۵۰)
بخاری ومسلم کی روایت میں تلقی رکبان سے منع کیا گیا ہے۔ اس کو مولانا نے دلیل حرمت کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن فقہی ذخیرے میں اگر دیکھا جائے تو تلقی رکبان کو کراہت کے درجے میں رکھا گیا ہے نہ کہ حرام کے درجہ میں۔ اس کو حرام کہنا بایں وجہ بھی درست نہیں کہ اس میں بھی صلب عقد میں فساد نہیں ہے۔ صاحب ہدایہ نے اس مسئلہ اور اس طرح کے کچھ دیگر مسائل کو باب فی ما یکرہ کے تحت نقل کیا ہے ۔ 
۴۔ اسی طرح مولانا فرماتے ہیں کہ ہر قسم کی ذخیرہ اندوزی حرام ہے، اس میں کسی قسم کی تخصیص نہیں ہے؛ عبارت ملاحظہ ہو :
’’حدیث شریف کے الفاظ ہیں کہ ذخیرہ اندوز گناہ گار ہے اور اس میں کسی شے کی تخصیص نہیں ہے، لہٰذا جو اشیاء بھی عوام النا س کے لیے ضروری ہیں، ان کی ذخیرہ اندوزی حرام ہے۔‘‘ 
مولانا نے یہاں بھی مبالغہ کیا ہے اور مکروہ کو حرام قرار دیا ہے۔ امام قدوری لکھتے ہیں : 
’’اور مکروہ ہے ذخیرہ اندوزی کرنا آ دمیوں اور چوپایو ں کی خوراک میں۔ ‘‘
اور ہدایہ میں ہے کہ اصل اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے۔ نیز اس وجہ سے بھی کہ عوام کا حق اس کے ساتھ متعلق ہو گیا ہے اور بیع سے رکنے میں ان کے حق کو باطل کرنا ہے اور ان پر معاملے کو تنگ کر نا ہے، پس یہ مکروہ ہو گا جبکہ ان کو نقصان دیتاہو ۔ 
اس عبارت سے واضح ہے کہ ذخیرہ اندوزی مکروہ ہے، حرام نہیں ہے ۔
قاضی صاحب نے دوسرا مبالغہ یہ کیا کہ ہر قسم کی ذخیرہ ہ اندوزی کو حرام قرار دیا کہ اس میں کسی شے کی تخصیص نہیں کی ہے، جبکہ فقہاء نے بعض صورتو ں کی تخصیص کی ہے ۔ اما م قدوری لکھتے ہیں: 
’’اور جس نے ذخیرہ اندوزی کی اپنی زمین کے غلہ کی یا جس کو لایا ہو دوسرے شہر سے تو اس کو ذخیرہ اندوزی کرنے والا شمار نہیں کریں گے۔‘‘ (ص ۲۶۰ کتاب الحظر والاباحۃ )
اس عبارت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ بعض صورتیں ایسی بھی ہیں جن میں ذخیرہ انددزی کرنے میں کوئی قباحت نہیں، اس لیے کہ یہ صورتیں در حقیقت ذخیرہ اندوزی میں داخل ہی نہیں ہیں۔ 
۵۔ قاضی صاحب کی ایک عبارت سے یوں محسوس ہو تا ہے کہ دوسرا نکا ح جائز ہی نہیں۔ فرماتے ہیں :
بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ھشام بن مغیرہ نے حضور اکرم ﷺ سے حضرت علیؓ کے با رے عرض کیا کہ ہم اپنی بیٹی حضرت علی کی زوجیت میں دینا چاہتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا میں ہر گز اجازت نہ دوں گا ، ہر گز اجازت نہ دوں گا ، فاطمہؓ میرے جگر کا ٹکڑا ہے ۔ 
مولانا اس پر یوں تبصرہ کرتے ہیں : 
’’اگر حضرت علیؓ جیسی عظیم المرتبت ہستی کے بارے یہ خد شہ ہو سکتا ہے کہ وہ فاطمہؓ سے انصاف نہ کر سکیں گے اور حضور ان کو دوسری شادی سے روک دیں تو آ ج کون مائی کا لعل ہے جو عدل کے تقاضے پورے کر سکے؟‘‘
مولانا کی یہ عبارت بظاہر یہ کہہ رہی ہے کہ مولانا کے ہا ں ایک سے زائد شادی کی اجازت نہیں ہے، کیونکہ آج عدل کے تقاضے پورے ہونا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے ۔ بجائے اس کے کہ مولانا اس جزوی واقعہ کی کوئی ایسی تعبیر پیش کرتے جس سے اصول و ضابطہ اسی طرح رہتا، مولانا نے اس جزوی واقعہ کی بنا پر اصولی حکم کو ہی بدل دیا۔ اگر حضرت علیؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس لیے منع کیا تھا کہ ان سے عدل کے تقاضے نہیں پورے ہو سکتے تو کیا حضرت علی نے سیدہ کے انتقال کے بعد متعدد نکاح نہیں کیے؟ اگر مولا نا کی بات درست ہے تو حضرت علی نے متعدد نکاح کیوں کیے ؟ یہ بات تسلیم کر لینے کی صو رت میں تو حضرت علیؓ کے ما بعد کی امت میں سے کسی فرد کو بھی دوسری شادی کی اجازت نہ ہو نی چاہیے، جبکہ دور صحابہ سے آج تک لوگ متعدد شادیاں کرتے چلے آ رہے ہیں اور فقہا ء امت میں سے بھی کسی نے اس کے متعلق حرمت یا کراہت کا قول اختیا ر نہیں کیا۔ 
۶۔ اگر کوئی مرد خود کو کنوارا ظاہر کرے جبکہ شادی شدہ ہو اور کسی عورت سے اس طرح نکا ح کر لے تو کیا بیوی کو فسخ نکاح کا حق ہوگا؟ قاضی صاحب اس کے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں ؛
’’اگر محمد جہانگیر سراج بی بی کو شادی سے قبل بتادیتا کہ وہ انجم پروین مرزا کا شوہر ہے تو کیا سراج بی بی قبو ل کر لیتی؟ ہر گز نہیں، خاص طور پر انگلستان جیسے معاشرہ میں جہاں قانوناً دوسری شادی ممنوع ہے ۔۔۔ یوں اس نے دھوکہ دہی اور تدلیس کا ارتکاب کیا ۔ شریعت نے اگر فسخ نکاح کا حق خاوند کے بغلوں کی بدبو، خراٹوں اور جنسی تسکین کی عدم تکمیل پر دیا ہے تو پہلی بیوی کی موجو دگی کو اخفاء میں رکھ کے شادی کرنے پر فسخ کا حق کیوں نہیں، جبکہ سوکن پر یہ تمام عیوب سے زیادہ مضر ہے۔‘‘ (ص ۷۵)
مولانا کی عبارت اپنے مطلب ومفہو م میں بالکل عیا ں ہے ۔ اس پرا عتراض یہ پیداہو تا ہے کہ مولانا نے شوہر کے، نکاح کو مخفی رکھنے کو عیب شمار کیا ہے۔ اولاً تو اس کا عیب ہو نا محل نظر ہے۔ فقہاء نے عیوب کی فبرست میں کہیں اس کا ذکر نہیں کیا۔ اگر عیب ہو بھی تو کیا یہ ایسا عیب ہے جس کی وجہ سے عورت کے لیے خیار ثابت ہو؟ 
صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ اگر شوہر کو جنون ، جذام یا برص ہو تو عورت کو کوئی اختیار نہیں ہے، امام اعظم ابو حنیفہ اور ابو یو سف کے نزدیک۔ اور امام محمد فرماتے ہیں کہ عورت کے لیے خیار ہے تاکہ وہ خود سے خاوند کو دور کر سکے جیسا کہ مجنون اور عنین میں اختیار ہے۔ بخلاف مرد کی جانب کے، کیونکہ وہ خو د سے ضرر کو طلاق کے ذریعے دفع کر سکتاہے۔ شیخین فرماتے ہیں کہ اصل، خیا ر کا نہ ہونا ہے کیونکہ اس میں شوہر کے حق کو باطل کرنا ہے اور ثابت ہو گامجبوب اور عنین میں کیونکہ یہ مقصود نکاح کو پورا کرنے میں خلل انداز ہیں، جبکہ مذکورہ عیوب اس میں خلل واقع نہیں کر تے۔ اس لیے دونوں جدا ہیں۔‘‘ (باب العنین جلد ۳ ص۲۸۰)
جب بڑے اور مرکزی عیو ب کے بارے میں ائمہ کا اختلاف ہے اور دو بڑے امام یہ کہتے ہیں کہ ان کی بنا پر عورت کو خیار نہیں ملے گا تو تدلیس کے بارے میں کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس کی بنا پر عورت کو فسخ نکاح کا اختیار ملے گا ؟ باقی مولانا کی یہ بات کہ عورت سوکن کو برداشت نہیں کر پاتی اور یہ اس کے لیے باعث تکلیف و مضرت ہے تو اس پر سوال یہ ہے کہ بعینہ یہی مضرت و تکلیف اس وقت بھی پائی جاتی ہے جب خاوند پہلی بیوی کو بتا کر دوسری شادی کرے۔ تو کیا اس صورت میں بھی پہلی بیوی کو خیار فسخ دیا جائے گا ؟ اگر نہیں تو یہاں کیوں؟
۷۔ مولانا نے بعض امور میں ایک ہی جگہ ایک ہی بات کو اور انداز میں جبکہ دوسری جگہ اسی بات کو دوسرے وانداز میں بیان کرتے ہیں جس سے دونوں باتوں میں تضاد نظر آتا ہے۔ نتیجتاً قاری ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ مثلاً پاکستان کے عدالتی وقانونی نظام کے متعلق کتاب کے ایک ہی صفحہ پر دو مختلف باتیں یوں لکھتے ہیں :
’’جہاں تک عدالتی سسٹم کا تعلق ہے تو وہ ہر گز اسلام سے متصادم نہیں ہے۔ عدالتی نظام انہی بنیادوں پر استوار ہے جو بنیادیں مسلم فقہا ء نے متعین کر رکھی ہیں ۔‘‘
مزید لکھتے ہیں :
’’نہ کفر پر مبنی ہے نہ مکمل اسلام کے مطابق ہے۔ درمیانہ سا ہے، قابل برداشت ہے۔‘‘ (ص ۷۹)
اسی طرح غیر مسلم عدالتوں کی طرف سے فسخ نکاح کی شرعی حیثیت سے متعلق ایک جگہ مولانا نے یہ لکھا ہے کہ:
’’موضوع زیر بحث میں اگر چہ برطانوی قانون کے مطابق انگلستان میں عدالتیں قائم ہیں اور وہی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے فیصلے بلا تفریق مذہب کرتی ہیں، مگر چونکہ ایسے معاملات میں فقہاء اسلام نے دوسری راہیں متعین کی ہیں جن سے فائد ہ اٹھایا جا سکتا ہے، اس لیے نکاح و طلاق کے معاملات میں ان عدالتوں کی شرعی حیثیت کو نظریہ ضرورت کے تحت تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے۔‘‘ (ص ۶۹، ۷۰)
جبکہ دوسرے مقام پر لکھتے ہیں : 
’’پاکستان اسلامی ملک ہے اسکی عدالتوں کے فیصلے تسلیم کر نے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ ہم نے تو ۱۹۹۰ میں انگلستان کی عدالتوں کے فیصلوں کو بھی تسلیم کرنے کا فتویٰ دیا ہے کہ وہاں کا ماحول یہاں سے زیادہ خوفناک ہے۔ اگر وہاں خاوند تعنت کا مظا ہرہ کر تا ہے اور طلاق نہیں دیتا تو وہاں بدکاری کے لیے راستے کھلے ہیں، اس لیے دونوں میاں بیوی عدالت میں حاضر ہو کر اپنا موقف بیان کرتے ہیں تو فیصلے بھی قابل عمل ہیں۔‘‘ (ص ۸۲)
ان دو عبارتوں میں تضاد بالکل واضح ہے۔ پہلی میں مولانا نے غیر مسلم عدالتوں سے نکاح و طلاق کے مسائل حل کروانے کی نفی کی ہے جبکہ دوسری میں اس کی اجازت بیان کی ہے۔
یہاں اس بحث سے متعلق ایک ضمنی نکتہ یہ ہے کہ مولانا نے اپنی کتاب میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا غیر مسلم عدالتیں مسلمانوں کے نکاح فسخ کر سکتی ہیں یا نہیں؟ اس ضمن میں مولانا نے متعدد آیات قر آنیہ سے یہ بات ثابت کی کہ قانون اللہ رب العزت کا ہی ہونا چاہیے اور اسلام کفر کی بنیاد پر قائم کردہ عدالتو ں کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کے بعد مولانا نے فقہاء کی بیان کر دہ قاضی کی شرائط لکھیں جس میں ایک شرط مسلمان ہو نا بھی ہے۔ مولانا کا ان شرائط کو بیان کرنے سے مقصود سابقہ مسئلہ کو موکد کرنا ہے ۔ میرے خیال میں یہاں مولانا نے دو مسئلوں کو خلط کر دیا ہے۔ ایک مسئلہ ہے کفار کی عدالتو ں اور کتاب اللہ سے متصادم قانونی نظام کا اور دوسرا مسئلہ ہے ایک مسلمان اور اسلامی ملک میں غیر مسلم قاضی کا۔ پہلے مسئلہ میں تو قدیم وجدید فقہا یہی کہتے چلے آرہے ہیں کہ اللہ کے قائم کردہ اصول وضوابط سے ہٹ کر فیصلہ کروانا کسی مسلمان کے لیے درست نہیں۔ دوسرا مسئلہ بھی اگر چہ قدیم فقہاء کے ما بین متفق علیہ ہے، لیکن دور جدید بدلتے ہوئے تقاضوں کے تحت بہت سے اہل علم نے قدیم موقف سے ہٹ کر نیا موقف اختیا ر کیا ہے اور آج اکثر مسلم ممالک میں اس نئے موقف پر عمل کیا جاتا ہے۔ مثلاً مجلۃ الاحکام العدلیہ میں بھی قاضی کے مطلوبہ اوصاف میں مسلمان ہو نے کی شرط شامل نہیں کی گئی۔ پاکستان میں ایک سے زیادہ غیر مسلم جج (جسٹس کارنیلیس، جسٹس بھگوان داس) اعلیٰ عدالتوں میں قضا کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید جمہوری ممالک میں عموماً قانون، مقننہ کی طرف طے شدہ ہوتا ہے۔ قاضی مسلمان ہو یا کافر، وہ اس طے شدہ قانون کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔ اس کا کام صرف قانون کو عدالت میں پیش کردہ مقدمے پر منطبق کرنا ہوتا ہے۔ (دیکھییے ’’حدود و تعزیرات‘‘ از محمد عمار خان ناصر، ص ۳۱۶، ۳۱۸)
بہرحال ان چند طالب علمانہ ملاحظات سے ہٹ کر ’’مقالات ایوبی‘‘ کے عنوان سے یہ مجموعہ اہم دینی وفقہی مسائل پر قاضی محمد رویس خان ایوبی صاحب کے غور وفکر اور وقیع نتائج تحقیق کو قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ہم نے بعض امور سے متعلق قاضی صاحب کے نقطہ نظر سے اختلاف کی جسارت کی ہے۔ امید ہے کہ وہ اسے ایک طالب علم کا علمی حق سمجھتے ہوئے بزرگانہ شفقت سے نوازیں گے۔

مکاتیب

ادارہ

ماہنامہ الشریعہ ستمبر 2015ء کے شمارے میں مولانا حافظ محمد رشید کا لکھا ہوا ایک مضمون ’’سید احمد شہیدؒ کی خدمات پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا احوال‘‘ پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ مضمون ہزارہ یونیورسٹی میں قائم ’’ہزارہ چیئر’’ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے سید احمد شہیدؒ کی تحریک اور خدمات کے حوالے سے ایک بین الاقوامی سیمینار کی رپورٹ ہے۔ مضمون پڑھ کر دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا کہ ہمارے اصلی قومی و ملی محسنین کو یاد رکھنے والے الحمد اللہ آج بھی زندہ ہیں۔ آج جب ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اسلاف کے کارناموں سے قوم کو آگاہ کرنے کے حوالے سے مسلسل چشم پوشی کے جرم کا ارتکاب کر رہا ہے، ایسے دور میں اس نوعیت کے سیمینار منعقد کرنا نہ صرف یہ کہ پوری قوم پر احسان ہے بلکہ آخرت میں سر خروئی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ سیمینار کے منتظمین کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین 
راقم امیر المومنین مجاہد کبیر سید احمد شہیدؒ کی شخصیت اور ان کی بپا کردہ تحریک سے خصوصی دلچسپی رکھتا ہے۔ امسال 6 مئی 2015ء کو تحریک شہدائے بالاکوٹ کے 127 سال مکمل ہونے پر راقم نے اپنی قائم کردہ الشاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اکادمی کے زیرِ اہتمام اٹک میں ’’برصغیر میں احیاء اسلام کی جدوجہد سید احمد شہیدؒ کے افکار کی روشنی میں‘‘ کے عنوان پر ایک فکری و نظریاتی مجلس مذاکرہ کا انعقاد کروایا تھا۔ اور جس سکول میں راقم تدریس کے فرائض سر انجام دے رہا ہے، وہاں اسی روز سید احمد شہیدؒ کی تحریک کے حوالے سے ایک کوئز مقابلہ (Quiz Competition) طلبہ کے مابین منعقد کروایا۔ یہ بھی اسی سلسلے کی ایک مختصر سی کاوش تھی۔ بہر صورت، اللہ تعالیٰ ہم سب کی ان کاوشوں کو اپنی بارگاہ عالی میں قبول و منظور فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
فی الوقت میں اپنے معزز قارئین کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ اس مسئلے پر بحث شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ اکادمی کے زیرِ اہتمام ہونے والے مجلس مذاکرہ میں بھی کی گئی تھی۔ یعنی کیا تحریک سید احمد شہیدؒ اور تحریک طالبان پاکستان میں کسی قسم کی فکری مماثلت پائی جاتی ہے؟ یہی بحث ہزارہ یونیورسٹی میں منعقدہ سیمینار میں بھی ہوئی۔ بقول مولانا حافظ محمد رشید، ’’سید صاحبؒ کی تحریک کے عصر حاضر کے ساتھ تعلق پر جو سوال بار بار زیرِ بحث آیا، وہ ان کی تحریک اور طالبان تحریک خصوصاً پاکستانی طالبان کے نظریات کے درمیان مماثلت کا سوال تھا۔ یعنی سید صاحبؒ اگر ہتھیار اٹھا کر ایک خطہ لینا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں مسلح کوشش کرتے ہیں تو وہ جہاد کہلاتا ہے اور طالبان اگر یہی کام کرتے ہیں تو وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ گویا طالبان تحریک سید صاحبؒ کی جدوجہد ہی کا ایک تسلسل ہے۔ (’’الشریعہ: ستمبر2015ء ص 55) 
درج بالا شذرہ میں پاکستانی تحریک طالبان کو تحریک سید احمد شہیدؒ کا تسلسل قرار دیا گیا ہے اور دلیل یہ دی گئی ہے کہ سید صاحبؒ بھی مسلح جدوجہد کے ذریعے ایک خطہ زمین حاصل کرنا چاہتے تھے اور طالبان بھی یہی چاہتے ہیں۔ ہمیں اس دعویٰ سے مکمل اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک سید احمد شہیدؒ اہل سنت ہیں اور پاکستانی طالبان خوارج ہیں۔ پاکستانی طالبان اور تحریک سید احمد شہیدؒ میں فکری مماثلت کی یہ ہر گز دلیل نہیں بنتی کہ دونوں ایک خطہ زمین مسلح جدوجہد کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان دونوں تحریکات میں فکری مماثلت کے وجود و عدم وجود کے لیے ان کے افکار و نظریات سے آگاہی ضروری ہے۔ دنیا میں ہمیں اور بھی بہت سی ایسی تحریکات مل جائیں گی جو مسلح جدوجہد کے ذریعے ایک خطہ زمین حاصل کرنا چاہتی تھیں یا ہیں، لیکن کوئی ذی شعور انسان ان تحریکات اور سید صاحبؒ کی تحریک کو ایک تسلسل نہیں قرار دے گا کیوں کہ سید صاحبؒ کی تحریک اور ان تحریکات کے افکار و نظریات میں بہت زیادہ بعد ہے۔ تحریکات کا تسلسل افکارونظریات کی ہم آہنگی سے ثابت ہوتا ہے نہ کہ کسی خاص طرز عمل کی یکسانیت کی بنیاد پر۔ 
سید احمد شہیدؒ کے تحریکی نظریات اور پاکستانی طالبان کے نظریات میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں درج ذیل تین سوالات کے جوابات چاہییں:
i۔ کیا سید احمد شہیدؒ فاسق و فاجر کلمہ گو مسلمانوں کی تکفیر کرتے تھے؟ 
ii۔ کیا سید احمد شہیدؒ عامۃ المسلمین کو مباح الدم قرار دیتے تھے؟ 
iii۔ کیا سید احمد شہیدؒ بچوں، عورتوں اوربوڑھوں کے قتل کو جائز سمجھتے تھے؟ 
جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے، سید احمد شہیدؒ اور آپ کی تحریک پر قلمبند کی گئی تمام کتب کا مطالعہ اس بات کا گواہ ہے کہ سید صاحبؒ فاسق و فاجر کلمہ گو مسلمانوں کو مسلمان ہی سمجھتے تھے نہ کہ کافر ۔سرحد کے خوانین کی سید صاحبؒ سے بے وفائی اور غداری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، جن کے بارے میں علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں کہ ’’پشاور کے پٹھان امرا اگر وفاداری سے کام لیتے تو آج ہندوستان کا نقشہ ہی دوسرا ہوتا۔ ‘‘ (سیرت سید احمد شہیدؒ حصہ اول ، ص 41)۔ اِن پٹھان خوانین نے بارہا سید صاحبؒ کو دھوکہ دیا۔ بیعت کر کے بیعت توڑ دی جاتی، وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتے اور بالآخر انہی خوانین کی مسلسل بے وفائیوں کے نتیجے میں مجاہدین کو شکست ہوئی۔ لیکن کیا تاریخی طور پر کوئی شخص یہ ثابت کر سکتا ہے کہ سید صاحبؒ یا آپ کے متعلقین نے اُن بے وفا اور غدار خوانین کی تکفیر کی ہو؟ حالانکہ حضرتؒ کے اکثر مریدین و متعلقین ان پٹھان امرا کے منفی رویوں اور سوچ سے سید صاحبؒ کو آگاہ کرتے رہتے تھے اور ان خوانین پر اعتماد نہ کرنے کا کہا کرتے تھے۔ سلطان نجف علی خان جو کہ شہادت سے کچھ دن قبل سید صاحبؒ کے پاس آیا اور اپنی حمایت کا یقین دلایا تو سید صاحبؒ نے اس کو معاف کر دیا۔ تو آپؒ کے مریدین نے کہا کہ یہ بے اعتماد آدمی ہے، اس پر اعتماد نہ کیا جائے۔ تو سید صاحبؒ نے فرمایا کہ دل کا حال اللہ کو معلوم ہے، ہم صرف ظاہر کے مکلف ہیں۔ اگر سید صاحبؒ کی جگہ پاکستانی طالبان کا کوئی لیڈر مثلاً فضل اللہ عرف ریڈیو ہو تا تو ان تمام فاسق و فاجر خوانین پر کفر کے فتوؤں کی توپ چلائی جاتی۔ لیکن تاریخ تحریک شہدائے بالاکوٹ کا تمام لٹریچر اس بات کا گواہ ہے کہ سید صاحبؒ اور آپ کے متعلقین نے کبھی فساق و فجار مسلمانوں کی تکفیر نہیں کی۔ 
بالکل اسی طرح سید صاحبؒ عامۃ المسلمین کو مباح الدم نہیں قرار دیتے تھے۔ سید صاحبؒ یا آپ کے متعلقین نے کبھی بے گناہ انسانیت کا قتل نہیں کیا جس طرح آج پاکستانی طالبان بم دھماکوں اور خوش کش حملوں کے ذریعے بے گناہ انسانیت کے خون سے ہاتھ رنگین کر رہے ہیں، اور نہ ہی سید صاحبؒ یا آپ کے متوسلین و متعلقین نے کبھی بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے قتل کو جائز سمجھا۔ تاریخ اس حوالے سے مکمل خاموش ہے اور سید صاحبؒ کی پاک دامنی ثابت کرتی ہے۔ 
آج جو لوگ پاکستانی طالبان کو سید احمد شہیدؒ کی تحریک کا تسلسل قرار دے رہے ہیں، انہوں نے کبھی سوچا ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور کا انسانیت سوز واقعہ ، اور ماضی میں ہونے والے ملک کے طول و عرض میں دہشت گردی کے واقعات، جن میں سینکڑوں بے گناہ انسان قتل ہوئے، سید احمد شہیدؒ کی مقدس تحریک جہاد کا تسلسل ہیں؟یہ ایک بہت بڑا تاریخی ظلم اور زیادتی ہے کہ سید احمد شہیدؒ کی تحریک کو تحریک طالبان پاکستان کا فکری ہم نوا قرار دیا جائے۔ 
تاریخی حوالے سے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ سید احمد شہیدؒ نے کبھی اپنے مخالف خوانین سرحد کی تکفیر کی ہو، جہاد کے نام پر بے گناہ اور نہتے عوام الناس کا قتل عام کیا ہو یا بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کا قتل کیا ہو۔ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو پیش کرے۔ جبکہ طالبان کی جانب سے فاسق و فاجر کلمہ گو مسلمانوں کی تکفیر کی گئی ہے جس پر طالبان لٹریچر ’’نوائے افغان جہاد‘‘ ’’حطین‘‘ اور almawahideen.com  ویب سائٹ پر موجود کتب گواہ ہیں جن میں مسلمان ریاستوں کے حکمرانوں، سیکورٹی اداروں، پولیس، فوج اور سرکاری اداروں کے ملازمین کی تکفیر کی گئی ہے، آرمی پبلک سکول پشاور، انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد اور ملک کے بیشتر پبلک مقامات پر طالبان کی جانب سے خود کش حملوں اور بم دھماکوں میں بے گناہ انسانیت کا قتل اور بچوں عورتوں کا قتل، پھر طالبان (پاکستانی) کی جانب سے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنا، جس کے تمام ثبوت موجود ہیں، اس بات کی دلیل ہیں کہ طالبان کی فکر اور سید احمد شہیدؒ کی فکر میں زمین و آسمان کا بعد ہے۔ جب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پاکستانی طالبان اور سید صاحبؒ کی فکر میں زمین و آسمان کا فرق ہے تو پھر تحریک طالبان پاکستان کو تحریک سید احمد شہیدؒ کا تسلسل قرار دینے کا دعویٰ اپنے اندر کوئی وزن نہیں رکھتا۔ 
نوٹ:۔ ہم نے جو طالبان پر تنقید کی ہے اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم افغان طالبان کے بھی مخالف ہیں بلکہ ہم افغان طالبان کے حامی اور پاکستانی طالبان کے مخالف ہیں۔ 
محمد یاسر اعوان 
مدیر الشاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ اکادمی ، اٹک 

فتویٰ کے نظام کے لیے قانون سازی کی ضرورت

ادارہ

اسلام آباد (عمر فاروق سے) حکومت نے مختلف مدارس اور دار الافتاؤں کی طرف سے جاری ہونے والے فتوؤں پر پابندی عائد کرنے اور مستند فتوؤں کے اجراء کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔ قانون سازی کے بعد وہی دارالافتاء فتویٰ دے سکیں گے جن کے پاس سرکاری لائسنس ہوگا۔ وزارت مذہبی امور نے اس حوالے سے مشاورت و اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ گلی محلوں سے جاری ہونے والے فتوؤں پر پابندی عائد کی جائے اور ایسے مستند دارالافتاؤں کو فتویٰ دینے کے حوالے سے لائسنس دیا جائے جن کی عوامی اور دینی حلقوں میں کوئی حیثیت ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ نیشنل ایکشن پلان کی روشنی میں کیا ہے۔ حکومت کے مطابق ہر مسجد اور مدرسے سے جاری ہونے والے فتوے ملک میں خلفشار، انتشار اور فرقہ وارانہ تصادم کا سبب بن رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر گلی محلے میں دارالافتاء کھول دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں فتوے اور مفتی کی حیثیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بعض لوگ ایسے فتوے بھی دے رہے ہیں کہ جس سے ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں اور بعض عناصر ریاست مخالف فتوے بھی دے دیتے ہیں جس کی وجہ سے ریاست اور دفاعی اداروں کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بلاضرورت ہر بات پر بغیر تحقیق کے فتویٰ دے مارتے ہیں اور بعض لوگ سیاسی مفادات کے لیے فتوؤں کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف دارالافتاؤں میں جو لوگ فتوے کے لیے تعینات کیے گئے ہیں ان کی علمی قابلیت بھی نہیں دیکھی جاتی اور نہ مفتیوں کے تقوے کو معیار بنایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں مسلکی خلفشار بڑھ رہا ہے۔ اس لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کے جید علماء کرام کی مشاورت سے گلی محلوں کے دارالافتاؤں کو بند کر کے مستند دارالافتاؤں کو لائسنس جاری کیا جائے جو فتوے جاری کر سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حکومت مختلف مسالک کے علماء کرام سے مشاورت کر رہی ہے اور ان کی طرف سے سامنے آنے والی تجاویز کی روشنی میں پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جائے گی۔ اس حوالے سے وزارت مذہبی امور نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ حکومت فتوے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے، بلکہ حکومت چاہتی ہے کہ فتویٰ غیر سرکاری ہی رہے مگر مستند فتویٰ دیے جائیں تاکہ عوام میں فتوؤں کا معیار برقرار رہے۔ اس حوالے سے حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلامی تاریخ میں مفتیان کے فتوؤں کی بہت بڑی حیثیت اور قدر ہوتی تھی۔ ایک ایک فتوے سے حکومتیں ہل جاتی تھیں مگر ان فتوؤں میں کہیں بھی تعصب کی بو نہیں آتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فتوے کی حیثیت ختم ہوتی جا رہی ہے، اس حیثیت کو بحال کرنے کے لیے حکومت ایسے اقدامات اٹھانا چاہتی ہے۔ اسی حوالے سے منگل کو وزارت امور مذہبی کے زیر اہتمام ہونے والے اجلاس میں جب کچھ علماء نے مختلف دارالافتاؤں کی طرف سے جاری ہونے والے فتوؤں کی نشاندہی کی تو وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر امین الحسنات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فتاوٰی کے اجراء کے لیے جلد قانون سازی کی جائے گی اور ایسے معروف دارالافتاؤں کو لائسنس جاری کیا جائے گا جو مستند ہوں۔
(روزنامہ اوصاف لاہور۔ 14 اکتوبر 2015ء)