مئی ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور سعودی سلامتیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷)ڈاکٹر محی الدین غازی 
دورِ جدید کا فقہی ذخیرہ: عمومی جائزہ (۲)مولانا سمیع اللہ سعدی 
شعبہ مساجد ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی لاہور کا نظم و نسق ۔ دیگر نظام ہائے مساجد کے لیے راہنما اصولحافظ محمد سمیع اللہ فراز 
متبادل بیانیہ ’’اصل بیانیے‘‘ کی روشنی میں (۲)محمد زاہد صدیق مغل 
کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۴)مولانا حافظ صلاح الدین یوسف 
الشریعہ اکادمی میں دورۂ تفسیر قرآنمولانا وقار احمد 
تمغۂ امتیازمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
پاکستان شریعت کونسل کا اجلاسادارہ 
الشریعہ اکادمی کے اساتذہ کا دو روزہ مطالعاتی دورہمولانا محمد عبد اللہ راتھر 

مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور سعودی سلامتی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مشرق وسطیٰ میں صورت حال کس رخ پر جا رہی ہے، اس کے بارے میں ۱۹؍ اپریل کے اخبارات میں شائع ہونے والی دو خبریں ملاحظہ فرما لیں۔ ایک خبر کے مطابق ایران کے صدر محترم جناب حسن روحانی نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے یمن پر فضائی حملہ کر کے نفرت کے بیج بو دیے ہیں جس کے نتائج اسے سمیٹنا پڑیں گے۔ جبکہ دوسری خبر میں لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد حریری نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایرانی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور سعودی حکمرانوں کے خلاف نفرت انگیزی کی مہم چلا رہے ہیں۔ اس کے بعد ۲۱؍ اپریل کے اخبارات میں ایرانی افواج کے کمانڈر بریگیڈیر احمد رضا بوردستان کا یہ بیان شائع ہوا ہے کہ یمن کے باغیوں کے خلاف فضائی حملے نہ روکنے کی صورت میں سعودی عرب پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔
مگر ہم آج اس کی بجائے امریکہ کے صدر باراک اوبامہ کے ایک اہم انٹرویو کا تذکرہ کرنا چاہیں گے جو انہوں نے گزشتہ دنوں ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے صحافی تھامس فریڈمین کو دیا ہے اور مشرق وسطیٰ کی سنی آبادی کے حوالہ سے اپنے موقف اور احساسات کا اظہار فرمایا ہے، امریکی صدر محترم کا ارشاد ہے کہ:
’’جہاں تک ہمارے سنی عرب اتحادیوں مثلاً سعودی عرب کی حفاظت کا سوال ہے تو میرے خیال میں سعودیوں کو واقعی چند حقیقی بیرونی خطرات کا سامنا ہے لیکن ان کو کئی اندرونی خطرات بھی لاحق ہیں۔ مثلاً سعودی آبادیاں ہیں کہ جو ملک کے معاملات سے بیگانہ محض بنا دی گئی ہیں۔ سعودی نوجوان (مرد اور خواتین) بے روز گار ہیں۔ سعودی آئیڈیالوجی ہے جو کہ انتہائی تباہ کن اور غیر حقیقی ہے اور ایک حد تک سعودیوں کا وہ یقین ہے کہ ان نوجوانوں کی شکایتوں اور ناراضگیوں کے نکاس کے لیے کوئی جائز سیاسی راستہ موجود نہیں ہے۔ چنانچہ ہمارا کام یہ ہے کہ ان ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں اور ان کو سمجھائیں کہ ہم بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ان کی کیا مدد کر سکتے ہیں اور ان کی دفاعی صلاحیتوں کو کیسے مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھائیں کہ ان ریاستوں کی اندرونی سیاست کو کیسے مستحکم بنایا جا سکتا ہے، تاکہ سنی نوجوان یہ جان سکیں کہ اسلامی ریاست (ISIS) جوائن کرنے کے علاوہ بھی ان کے پاس کئی دوسرے آپشنز موجود ہیں جن کا انتخاب وہ کر سکتے ہیں ۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ سنی عربوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ ایران ان پر چڑھائی کر دے گا بلکہ اصل اور بڑا خطرہ ان ممالک کی آبادیوں کا وہ اندرونی خلفشار اور اضطراب ہے جو وہاں پروان چڑھ رہا ہے۔ ان ممالک کے ساتھ ان موضوعات پر بحث کرنا بہت مشکل تر ہے لیکن ایسا کرنے کے سوا ہمارے پاس کوئی اور چارہ کار بھی نہیں۔‘‘
صدر اوبامہ کے اس انٹرویو کے بہت سے مضمرات پر بحث و تمحیص کی ضرورت ہے لیکن ہم نے سر دست اس کا ایک اقتباس اس لیے نقل کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعہ کی مجموعی صورت حال کیا ہے اور اسے صرف یمن کا داخلی معاملہ یا زیادہ سے زیادہ یمن کے ساتھ سعودی عرب کی علاقائی کشمکش کا درجہ دے کر قومی پالیسی تشکیل دینے والے عناصر نے کس قدر بھولپن کے ساتھ اس خطہ کے علاقائی تناظر سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
جہاں تک امریکہ اور اس کے حواری عالمی استعماری حلقوں کا تعلق ہے ان کی تو پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ کشمکش کی آب یاری اور اس کی آڑ میں اپنے مفادات کے حصول کا اس سے بہتر کوئی موقع اسے شاید کبھی ملا ہو۔ چنانچہ وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
گزشتہ روز ایک دوست نے کہا کہ سنی شیعہ کشیدگی امریکہ کی پیدا کردہ ہے، ہم نے عرض کیا کہ نہیں یہ کشیدگی اور باہمی جنگ و جدال امریکہ کی دریافت سے بھی صدیوں پہلے سے چلا آرہا ہے۔ البتہ اسے استعمال کرنے اور اس سے اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے جس چابکدستی اور ہنر مندی کا امریکہ مظاہرہ کر رہا ہے اس سے قبل اس کی کوئی مثال اس سطح پر دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کشیدگی کو اس سطح پر لے جانے کے لیے ہمارے داخلی ماحول میں کس کس کا کیا کیا کردار ہے، کیونکہ اس کا جائزہ لیے بغیر اور اس داخلی کردار کا راستہ روکے بغیر عالمی استعمار کے ایجنڈے کی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ستم ظریفی کی بات ہے کہ صدر امریکہ کو آج عرب سنی آبادیوں کا حکومتی معاملات سے بے گانہ ہونے کا غم کھائے جا رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ عرب عوام کو حکومتی معاملات سے لا تعلق رکھنے کے ماحول کو عالمی سطح پر سرپرستی کس کی حاصل رہی ہے؟
آج بھی صورت حال یہ ہے کہ جمہوریت اور عوام کی حکمرانی کے علمبردار امریکہ کے لیے پورے مشرق وسطیٰ میں شخصی حکومتیں خواہ وہ ملوکیت کے نام سے ہوں یا فوجی آمریت کی صورت میں ہوں یا ان پر ’’ولایت فقیہ‘‘ کا مقدس ٹائٹل آویزاں کر دیا گیا ہو، پوری طرح قابل قبول ہیں۔ مگر امارت اسلامی یا خلافت کسی بھی صورت میں قابل برداشت نہیں ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک مشرق وسطیٰ کے تنازعہ کی اصل جڑ ہی یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے حواری استعماری ممالک عالم اسلام اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں خلافت یا امارت کا ہر قیمت پر راستہ روکنا چاہتے ہیں۔ اسی کے لیے انہوں نے ملوکیت اور فوجی آمریت کی ہمیشہ سرپرستی کی ہے اور اسی رکاوٹ کو یقینی بنانے کے لیے اب وہ ’’ولایت فقیہ‘‘ کی طرف دوستی اور تعاون کا ہاتھ بڑھاتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ہم ایک عرصہ سے دھائی دے رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سنی قیادت کو خواب غفلت سے بیدار ہو کر کھلی آنکھوں سے حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔ سنی قیادت سے ہماری مراد حکومتیں اور حکمران طبقات نہیں بلکہ ارباب علم و دانش ہیں۔ ہم بھی اسے اصلاً سنی شیعہ تصادم نہیں سمجھتے لیکن اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ عالمی استعمار کے ایجنڈے کی تکمیل کا موجودہ وقت میں عنوان اور ذریعہ بہرحال یہی ہے۔ ہم اس سے قبل بھی عرض کر چکے ہیں کہ ایران کے مذہبی انقلاب کے بعد اگر ایرانی قیادت خود کو اردگرد کے ممالک کی دینی تحریکات کے حریف کے طور پر سامنے لانے کی بجائے رفیق و معاون کا کردار ادا کرتی تو یہ عالم اسلام میں عالمی استعمار کے مذموم ایجنڈے کے لیے موت کا پیغام ہوتا۔ مگر بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور استعماری قوتوں کو اسی بد قسمتی کے مین گیٹ سے اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے کا موقع ملا ہے۔ ہم ایران کے پڑوسی ممالک کی دینی تحریکات کو بھی اس سلسلہ میں بے قصور نہیں سمجھتے، لیکن ہمارے نزدیک ٹرننگ پوائنٹ وہی تھا جہاں سے گاڑی غلط رخ پر مڑ گئی اور اسی رخ پر اب تک چلی جا رہی ہے۔ 
اس حوالہ سے ایرانی قیادت کو احساس دلانے کی ضرورت ہے اور اگر ایرانی قیادت اپنے اس یک طرفہ اور حریفانہ طرز عمل پر نظر ثانی کے لیے تیار ہو تو اسے قبول کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ استعماری قوتوں کے عزائم کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے کا اور کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔ لیکن اس سے پہلے اور اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ سنی قیادت حالات و واقعات کے صحیح اداراک کے ذوق سے بہرہ ور ہو اور پورے شعور و ادراک کے ساتھ پہلے عالم اسلام اور پھر اہل سنت کے نفع و نقصان کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے کر اپنے لیے کوئی واضح رخ اور پالیسی طے کرنے کی پوزیشن میں آئے، ورنہ اس وقت ہماری صورت حال اس سے مختلف نہیں ہے کہ ؂
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے 
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۵۶) أَلَدُّ الْخِصَامِ کا مفہوم

لفظ خصومۃ کے معنی ہوتے ہیں بحث ومباحثہ کے، جس میں جھگڑے کی کیفیت بھی کبھی شامل ہوسکتی ہے۔ فیروزآبادی نے لکھا ہے، الخُصومَۃُ: الجَدَلُ۔ 
قرآن مجید میں اس لفظ کے متعدد مشتقات استعمال ہوئے ہیں، جہاں مترجمین نے جھگڑنے کے لفظ سے ترجمہ کیا ہے، خود لفظ خصام کا ترجمہ بحث مباحثہ اور جھگڑے سے کیا ہے، جیسے:

أَوَمَن یُنَشَّأُ فِیْ الْحِلْیَۃِ وَہُوَ فِیْ الْخِصَامِ غَیْْرُ مُبِیْنٍ۔ (الزخرف :۱۸)

’’کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث و حجت میں اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کر سکتی؟‘‘۔ (سید مودودی)
’’کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے (خدا کی) بیٹی ہوسکتی ہے؟‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’کہ کیا (وہ پیدا ہوئی ہے) جو زیوروں میں پلتی اور مفاخرت میں بے زبان ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، لیکن یہاں مفاخرت کا ترجمہ درست نہیں ہے، کیونکہ اس لفظ کے اندر مفاخرت کا مفہوم بالکل نہیں پایا جاتا ہے، صرف بحث تکرار اور جھگڑے کا مفہوم ہے) 
مترجمین نے عموما خصام کا ترجمہ بحث وحجت اور جھگڑا کیا ہے، تاہم مندرجہ ذیل آیت میں جہا ں لفظ الد الخصام  آیا ہے، بہت سارے مترجمین نے بدترین دشمن کا ترجمہ کیا ہے، یہ ترجمہ درست نہیں ہے ، کیونکہ اس لفظ میں دشمنی کا مفہوم نہیں پایا جاتا ہے۔

وَمِنَ النَّاسِ مَن یُعْجِبُکَ قَوْلُہُ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیُشْہِدُ اللّہَ عَلَی مَا فِیْ قَلْبِہِ وَہُوَ أَلَدُّ الْخِصَام۔ (البقرۃ : ۲۰۴)

’’انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے، جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار خد ا کو گواہ ٹھہرا تا ہے، مگر حقیقت میں وہ بد ترین دشمن حق ہوتا ہے‘‘۔ (سید مودودی)
محمد حسین نجفی، علامہ جوادی، ، پیر محمد کرم شاہ نے بھی بدترین دشمن ترجمہ کیا ہے، جبکہ امین احسن اصلاحی نے کٹر دشمن ترجمہ کیا ہے۔ اشرف علی تھانوی کا ترجمہ ہے: حالانکہ وہ (آپ کی) مخالفت میں (نہایت) شدید ہے۔ 
وہیں بعض دوسرے مترجمین نے سخت جھگڑالو سے ترجمہ کیا ہے اور یہی ترجمہ درست ہے، جیسے:
’’اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ترجمہ کے لیے وہ الفاظ اختیار کیے ہیں جو لفظ سے قریب ترین ہیں، ’’درحقیقت وہ بہت زیادہ باتونی اور کٹھ حجتی کرنے والا ہے‘‘۔
دراصل الد الخصام کا مطلب تو جھگڑا اور کٹ حجتی کرنا ہی ہے، جیسا کہ طبری نے ذکر کیا ہے؛ (وَہُوَ أَلَدُّ الْخِصَام) أی ذو جدال اذا کلمک وراجعک۔لیکن زمخشری نے لفظ کی تفسیر کرتے ہوئے غالبا تفنن کلام کے طور پر عداوت کا بھی ذکر کردیا،ان کے الفاظ ہیں: وَہُوَ أَلَدُّ الْخِصَام، وھو شدید الجدال والعداوۃ للمسلمین۔ اور لگتا ہے کہ یہاں سے بعض مترجمین اور مفسرین نے یہ خیال کیا کہ یہ لفظ سخت دشمن کے معنی میں ہے۔

(۵۷) خَصِیْمٌ مُّبِیْن کا مطلب

لفظ خصیم مبین  کا ذکر قرآن میں دو مقامات پر ہوا ہے، عام طور سے اردومترجمین نے اس کاترجمہ یہ سمجھ کر کیا ہے کہ گویا دونوں مقامات پر ان کفارکی مذمت کی جارہی ہے جو اللہ سے جھگڑا کرتے ہیں۔

(۱) خَلَقَ الإِنسَانَ مِن نُّطْفَۃٍ فَإِذَا ہُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْن۔ (النحل :۴)

’’اُس نے انسان کو ایک ذرا سی بوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے صریحاً وہ ایک جھگڑالو ہستی بن گیا‘‘۔(سید مودودی)
’’اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

(۲) أَوَلَمْ یَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاہُ مِن نُّطْفَۃٍ فَإِذَا ہُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْن۔ (یس: ۷۷)

’’یا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفے سے پیدا کیا۔ پھر وہ تڑاق پڑاق جھگڑنے لگا‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’کیا انسان نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اس کو پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا تو وہ ایک کھلا ہوا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ دونوں آیتوں کا سیاق اللہ کی انسان پر نعمت بیان کرنے کا ہے، خصیم مبین  کا ترجمہ ہوگا: ’’بے تکلفی سے بحث کرنے والا‘‘۔ اور یہاں وہ کٹھ حجتی مراد نہیں ہے جو ایک منکر اللہ کی آیتوں کے ساتھ کرتا ہے، بلکہ بحث ومباحثہ کی وہ عام صلاحیت مراد ہے جو ہر انسان کو حاصل ہوتی ہے۔یعنی جس انسان کی تخلیق ایک قطرے سے ہوتی ہے، وہ دیکھتے دیکھتے کلام اور مباحثہ کی کتنی گونا گوں صلاحیتوں کا حامل ہوجاتا ہے۔ 
یہاں عام انسانوں کے لئے خصیم مبین کی تعبیراختیار کی گئی جبکہ دوسرے مقام پر عورتوں کے لئے وَہُوَ فِیْ الْخِصَامِ غَیْْرُ مُبِیْن کی تعبیر اختیار کی گئی۔وہاں جس طرح بحث ومباحثہ میں عورتوں کی کمزوری کی طرف اشارہ ہے یہاں دونوں مقامات پر بحث ومباحثہ کے تعلق سے عام انسان کی قوت وصلاحیت کی طرف اشارہ ہے، جو اللہ تعالی محض ایک نطفہ سے انسان کو پیداکرنے کے بعد ایک عظیم نعمت کے طور پر عطا کرتا ہے۔ اور جب انسان اپنی تخلیق کی ابتدا اور اپنی صلاحیت کو یکجا کرکے دیکھتا ہے، تو اس شدید استعجاب سے دوچار ہوتا ہے، جس کی تعبیر لفظ اذا  فجائیہ سے کی گئی ہے۔
ان دونوں آیتوں کا ترجمہ شیخ الہند مفتی محمود الحسن نے کچھ اسی انداز سے کیا ہے:
’’بنایا آدمی کو ایک بوند سے، پھر جبھی ہوگیا جھگڑا کرنے والا بولنے والا‘‘۔
’’کیا دیکھتا نہیں انسان کہ ہم نے اس کو بنایا ایک قطرہ سے، پھر تبھی وہ ہوگیا جھگڑنے بولنے والا‘‘۔
بعض مفسرین نے اس تفسیر کو ایک احتمال کے طور پر ذکر کیا ہے، زمخشری سورہ نحل والی آیت کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:

’’فاذا ھو خصیم مبین فیہ معنیان، أحدھما: فاذا ھو منطیق مجادل عن نفسہ مکافح للخصوم مبین للحجۃ، بعدما کان نطفۃ من منیّ جمادا لا حس بہ ولا حرکۃ، دلالۃ علی قدرتہ۔ والثانی: فاذا ھو خصیم لربہ، منکر علی خالقہ، قائل: من یحیی العظام وھی رمیم، وصفا للانسان بالافراط فی الوقاحۃ والجھل، والتمادی فی کفران النعمۃ۔‘‘ (تفسیر الکشاف)

(۵۸) ایمان لانے اور ایمان رکھنے کے محل کی رعایت

ایمان لانے کا مطلب ہوتا ہے غیر ایمانی حالت سے ایمان میں داخل ہونا، جبکہ ایمان رکھنے کا مطلب ہوتا ہے ایمان سے متصف ہونا۔ عربی لفظ ایمان کا مطلب ایمان لانا بھی ہوتا ہے اور ایمان رکھنا بھی ہوتا ہے۔ میں اللہ پر ایمان لایا، اور میرا اللہ پر ایمان ہے یا میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں، دونوں تعبیروں میں فرق ہے۔
قرآن مجید میں لفظ ایمان اور اس کے مشتقات متعدد مقامات پر استعمال ہوئے ہیں، اور مذکورہ دونوں معنوں میں استعمال ہوئے ہیں، کلام میں لفظ کا محل خود یہ طے کرتا ہے کہ کیا مراد ہے، ایک عام انسان جب ایمان کو قبول کرکے اس میں داخل ہوتا ہے تو وہ ایمان لانا ہوتا ہے، اور جب ایک آدمی ایمان کی صفت سے متصف ہوجاتا ہے تو یہ ایمان رکھنا ہوتا ہے، گویا جہاں اہل ایمان کے وصف کے طور پر بیان ہو وہاں ایمان رکھنا کہیں گے۔
ایک آیت سے اس کو بآسانی سمجھا جاسکتا ہے:

وَجَاوَزْنَا بِبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُہُ بَغْیْاً وَعَدْواً حَتَّی إِذَا أَدْرَکَہُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّہُ لا إِلِہَ إِلاَّ الَّذِیْ آمَنَتْ بِہِ بَنُو إِسْرَائِیْلَ وَأَنَاْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (یونس: ۹۰)

’’اور ہم بنی اسرائیل کو دریا پار لے گئے تو فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا کیا سرکشی اور ظلم سے یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے آ لیا بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں، سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں‘‘۔(احمد رضا خان)
اس ترجمہ میں دونوں الفاظ کا ترجمہ ایمان لانے سے کیا گیا ہے، لیکن اگر یہ حقیقت ذہن میں رکھی جائے کہ فرعون ایمان میں داخل ہونے کا اعلان کررہا ہے، جبکہ بنی اسرائیل پہلے سے ایمان والے تھے، تو ترجمہ اس طرح ہوگا۔
’’اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر پار لے گئے تو فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا کیا سرکشی اور ظلم سے یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے آ لیا بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان رکھتے ہیں، اور میں مسلمان ہوں۔‘‘
انگریزی کے مندرجہ ذیل دو ترجموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ اول الذکر یعنی اسد کے ترجمہ میں اس فرق کا بڑی باریکی سے لحاظ کیا گیا ہے:
[Pharaoh] exclaimed:" I have come to believe that there is no deity save Him in whom the children of Israel believe. (Asad)
He exclaimed: I believe that there is no Allah save Him in Whom the Children of Israel believe. (Pickthal)
سورہ بقرہ کی ابتدائی آیتوں کے ترجمے میں مترجمین نے اس فرق کا کہاں تک لحاظ کیا ہے ، اس کا جائزہ بطور مثال مفید ثابت ہوگا۔

الم۔ ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ۔ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْْبِ وَیُقِیْمُونَ الصَّلاۃَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُون۔ والَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ وَبِالآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُون۔ أُوْلَئِکَ عَلَی ہُدًی مِّن رَّبِّہِمْ وَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ۔ (البقرۃ:۱۔۵)

’’الف لام میم، یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہدایت ہے اْن پرہیز گار لوگوں کے لیے، جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے اْن کو دیا ہے، اْس میں سے خرچ کرتے ہیں، جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں، ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں‘‘۔(سید مودودی)
’’یہ الم ہے۔ یہ کتاب الٰہی ہے۔ اس کے (کتاب الہی ہونے) میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لئے۔ (ان لوگوں کے لئے) جو غیب میں رہتے ایمان لاتے ہیں۔ نماز کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور( ان کے لئے ) جو ایمان لاتے ہیں اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی ہے اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور آخرت پر یہی لوگ یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
عام طور سے مترجمین نے ان آیتوں میں (یُؤْمِنُون) کا ترجمہ ’’ایمان لاتے ہیں‘‘ کیا ہے، جبکہ سیاق کلام کا تقاضا ہے کہ’’ ایمان رکھتے ہیں‘‘ ترجمہ کیا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی سیاق میں (یُوقِنُون)کا ترجمہ عام طور سے مترجمین نے’’ یقین رکھتے ہیں‘‘ کیا ہے۔ 
مذکورہ آیات بالکل واضح ہیں کہ تذکرہ ان لوگوں کا ہورہا ہے جن کے اوصاف میں ایمان شامل ہوچکا ہے، بلکہ ایمان کے ثمرات بھی ان کی شخصیت کا مظہر بن چکے ہیں۔
اکثریت کے برعکس بعض مترجمین نے خاص اس مقام پر اس کی رعایت کی ہے ، ایک مثال پیش ہے:
’’الف۔ لام۔ میم۔ یہ (قرآن) وہ کتاب ہے جس (کے کلام اللہ ہونے) میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے۔ (یہ) ہدایت ہے ان پرہیزگاروں کے لیے۔ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور پورے اہتمام سے نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ (میری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ اور جو ایمان رکھتے ہیں اس پر جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے (سابقہ انبیاء) پر نازل کیا گیا۔ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ اپنے پروردگار کی ہدایت پر (قائم) ہیں اور یہی وہ ہیں جو (آخرت میں) فوز و فلاح پانے والے ہیں‘‘۔ (محمد حسین نجفی)
(جاری)

دورِ جدید کا فقہی ذخیرہ: عمومی جائزہ (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

آٹھویں قسم :ابواب فقہیہ پر تفصیلی کتب 

عصر حاضر اختصاص و تخصص کا دور ہے۔ پورے فن کی بجائے فن کے مندرجات میں سے ہر ایک پر علیحدہ مواد تیار کرنے کا رجحان ہے ،بلکہ ایک باب کے مختلف پہلووں میں سے ہر پہلو پر الگ الگ کتب لکھنے کا رواج ہے ۔یہ رجحان فقہ اسلامی کے عصری ذخیرے میں بھی نظر آتا ہے۔ پوری فقہ اسلامی پر کتب لکھنے کی بجائے فقہ اسلامی کے ابواب میں سے ہر ایک پر تفصیلی کتب لکھی گئی ہیں ۔ذیل میں مختلف ابواب فقہیہ پر اہم عصری تصنیفات کی ایک فہرست دی جاتی ہے۔

فقہ العبادات پر اہم کتب 

۱۔العبادۃ فی الاسلام، مولف :ڈاکٹر یوسف القرضاوی 
۲۔مقاصد المکلفین فیما یتعبد بہ لرب العالمین،مولف: ڈاکٹر عمر بن سلیمان الاشقر
۳۔نظام الاسلام :العقیدۃ و العبادۃ ،مولف :محمد المبارک 
۴۔احکام العبادات فی التشریع الاسلامی ،مولف :فائق سلیمان دلول 
۵۔فقہ الزکوۃ ،مولف :ڈاکٹر یوسف القرضاوی 
۶۔الارکان الاربعہ ،مصنف :مفکر اسلام ابو الحسن علی ندوی

فقہ الاحوال الشخصیہ یعنی اسلام کے نظام نکاح و طلاق اور خاندانی نظام پر کتب 

۱۔ الاحوال الشخصیہ ،مصنف : عبد الوہاب الخلاف 
۲۔الاحوال الشخصیہ ،مصنف :شیخ ابو زہرہ مرحوم 
۳۔خلاصہ الاحوال الشخصیہ ،مصنف : محمد سلامۃ 
۴۔احکام االاسرۃ ،مصنف :محمد مصطفی الشلبی 
۵۔الزوجہ فی التشریع االاسلامی ،مصنف :ڈاکٹر ابراہیم عبد الحمید 
۶۔المفصل فی احکام المراۃ و البیت المسلم ،مصنف: ڈاکٹر عبد الکریم زیدان۔ آٹھ جلدوں پر مشتمل اس موضوع پر عصر حاضر کی سب سے مفصل تصنیف ہے ۔

فقہ المعاملات و الاقتصاد پر کتب 

۱۔ المعاملات االمعاصرۃ المالیہ ،مصنف ڈاکٹر علی سالوس 
۲۔مصاد ر الحق فی الفقہ الاسلامی ،مصنف :ڈاکٹر عبد الرزاق السنہوری 
۳۔الاموال و نظریۃ العقد فی الفقہ الاسلامی ،مصنف :ڈاکٹر محمد یوسف موسی 
۴۔البنوک الاسلامیۃ ،مصنف:ڈاکٹر شوق اسماعیل شحاتۃ 
۵۔الاقتصاد الاسلامی مذہبا و نظاما،مصنف :ابراہیم الطحاوی 
۶۔مفاہیم و مبادی فی الاقتصاد الاسلامی ،مصنف :ڈاکٹر اسماعیل شحاتۃ 
۷۔اصول الا قتصاد الاسلامی ۔مصنف :ڈاکٹر رفیق العمری 
۸۔المعجم الاقتصادی لاسلامی ،مصنف :ْداکٹر احمد الشرباصی 
۹۔بحوث فقہیۃ فی قضایا اقتصادیہ معاصر ہ،مصنف :ڈاکٹر عمر سلیمان الاشقر 
۱۰۔معجم المصطلحات المالیہ و الاقتصادیہ فی لغۃ الفقہاء ،مصنف :نزیہ حماد 
اسلام کا نظام معاملات معاصر فقہاء کا اختصاصی موضوع ہے ،اور بلا شبہ اس پر عصر حاضر میں ایک ضخیم مکتبہ وجود میں آچکا ہے ،پاکستانی علماء بھی اس میدان میں عالم اسلام سے پیچھے نہیں ہیں ،سید ابو الاعلی مودودی ،ڈاکٹر تنزیل الرحمن ،ڈاکٹر محمود احمد غازی کی خدمات اور خاص طور پر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کو اگر فقہ الاقتصاد کا ’’مجدد‘‘کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا ،حضرت شیخ الاسلام صاحب کی اس میدان میں خدمات جلیلہ کا اعتراف صرف اسلامی ممالک کی سطح پر نہیں ،بلکہ عالمی سطح پر کیا جاچکا ہے ۔اللہ تعالی حضرت کا سایہ تا دیر عالم اسلام پر قائم و دائم رکھیں ۔

فقہ الجنایات و الحدود پر کتب 

۱۔ التشریع الجنائی الاسلامی مقارنا بالقانون الوضعی ،مولف :عبد القادر عودہ 
۲۔دراسات فی الفقہ الجنائی الاسلامی ،مصنف:عوض محمد عوض 
۳۔نظریات فی الفقہ الجنائی الاسلامی ،مصنف :احمد فتحی بھنسی 
۴۔القصاص فی الفقہ الاسلامی ،مصنف :احمد فتحی بھنسی 
۵۔التعزیر فی الاسلام ،مصنف :احمد فتحی بھنسی 
۶۔التعزیر فی الشریعۃ الاسلامیۃ ،مصنف :عبد العزیز عامر 
۷۔نظام العاقلۃ فی الفقہ الاسلامی ،مصنف :عوض محمد عوض 
۸۔الدیۃ فی الشریعۃ الاسلامی ،مصنف :احمد فتحی بھنسی 
۹۔جرائم الاحداث فی الفقہ الاسلامی ،مصنف :محمود شحٓت الجندی 
۱۰۔الفقہ الجنائی فی الاسلام ،مصنف :امیر عبد العزیز
فقہ الدولۃ یعنی نظام حکومت و سیاست پر کتب 
۱۔مبادی نظام الحکم فی الاسلام ،مصنف عبد الحمید المتولی 
۲۔الدولۃ فی الاسلام ،مصنف :عبد الحمید المتولی 
۳۔النظریات السیاسیہ الاسلامیہ ،مصنف :ضیاء الدین الریس 
۴۔فقہ الخلافہ و تطورہا ،مصنف ،عبد الرزاق السنہوری 
۵۔الحاکم و اصول الحکم فی النظام السیاسی الاسلامی ،مصنف :صبحی عبدہ سعید 
۶۔مراجعات فی الفقہ السیاسی الاسلامی ،مصنف سلیمان بن فھد العودہ 
۷۔نظریۃ الدولۃ و ادابھا فی الاسلام ،مصنف :سمیر عالیہ 
۸۔قواعد نظام الحکم فی الاسلام ،مصنف :محمدود الخالدی 
فقہ الاقتصاد کی طرح فقہ الخلافۃ معاصر فقہاء کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے ،پاکستانی علماء میں سے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب، مولانا گوہر رحمان ،سید ابو لاعلی مودودی ،مولنا امین احسن اصلاحی ،مولانا محمد زاہد اقبال کی تصانیف (نمونے کے طور پر چند علماء کا نام لیا ،ورنہ اس میدان میں برصغیر کے علماء کی خدمات جلیلہ کافی زیا دہ ہیں ،جو مستقل مضمون کا متقاضی ہیں ) اور خاص طور پر جامعہ حقانیہ کے سابق استاد مولانا عبد الباقی حقانی کی ضخیم اور مایہ ناز تصنیف ’’السیاسۃ و لادارۃ فی لاسلام‘‘ اہم عصری کاوشیں ہیں ۔

فقہ القضاء پر کتب 

۱۔نظام القضاء فی ا لشریعۃ الاسلامیہ ،مصنف :عبد الکریم زیدان 
۲۔النظام القضائی فی الفقہ الاسلامی ،مصنف :محمد رافت عثمان 
۳۔السلطات الثلاث فی الاسلام ،مصنف :عبد الوہاب الخلاف 
۴۔التنظیم القضائی فی الفقہ الا سلامی ،مصنف :محمد مصطفی الزحیلی 
۵۔القضاء و نظامہ ،مصنف :عبد الرحمن ابراہیم عبد العزیز
۶۔طرق الاثبات الشرعیہ ،مصنف :احمد ابراہیم بک 
۷۔القضا فی الاسلام ،مصنف :علی مشرفہ 
برصغیر کے علماء میں سے ڈاکٹر محمود احمد غازی کی ’’ادب القاضی ‘‘مجاہد الاسلام قاسمی صاحب کی مایہ ناز کتاب ’’اسلام کا عدالتی نظام ‘‘اس سلسلے کی اہم کتابیں ہیں ۔

فقہ العلاقات الدولیہ یعنی اسلام کے قانون بین الممالک پر کتب 

۱۔سیاسۃ الدولۃ الاسلامیہ ،مصنف :ڈاکٹر محمد حمید اللہ 
۲۔العلاقات الدولیہ فی الاسلام ،مصنف :ابراہیم عبد الحمید 
۳۔القانون و العلاقات الدولیہ فی الاسلام ،مصنف :صبحی محمصانی 
۴۔الشریعہ و القانون الدولی العام ،مصنف :علی علی المنصور
۴۔اثار الحرب فی الفقہ الاسلامی ،مصنف :وہبہ الزوحیلی 
۵۔العلاقات الدولیہ فی الاسلام ،مصنف :محمد ابوزہرہ 
۶۔احکام القانون الدولی فی الشریعہ الاسلامیہ ،مصنف :حامد سلطان 
۷۔الاسلام و العلاقات الدولیہ ،مصنف :احمد مبارک 
۸۔اسلام کا قانون بین الممالک ،محاضرات ڈاکٹر احمد محمود غازی 

نویں قسم :معدوم فقہی مسالک کا احیاء

فقہ کے دور تدوین میں عالم اسلام کے معروف بلاد سے قابل قدر مجتہدین اٹھے ،اور ہر ایک نے قرآ ن و سنت سے مسائل فقہیہ کے اسنتباط و استخراج کے سلسلے میں ناقابل فراموش خدمات سر انجام دیں ،چنانچہ ائمہ اربعہ کے علاوہ شام سے امام اوزاعی ،مصر سے امام لیث بن سعد،عراق سے امام داود ظاہری ،خراسان سے امام اسحاق بن راہویہ ،اور طبرستان سے امام جریر بن طبری قابل ذکر ہیں ۔لیکن مختلف اسباب اور عوامل کی بنا پر ائمہ اربعہ کے علاوہ بقیہ مسالک معدوم ہوگئے۔ ان ائمہ مجتہدین کے اقوال فقہیہ ،اصول استنباط تفسیر ،حدیث اور کتب فقہ میں بکھرے ہوئے ہیں ۔عصر حاضر میں ایک رجحان یہ پیدا ہوا ہے کہ ان ائمہ مجتہدین کی بکھری فقہی کاوشوں کو یکجا کیا جائے اور نت نئے مسائل میں ان کے اقوال اور فقہی بصیرت سے استفادہ کیا جائے ۔کیونکہ ان کے اصول استنباط سے حوادث و نوازل پر حکم شرعی لگانے سے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں درجہ ذیل عصری کاوشیں قابل ذکر ہیں :
۱۔امام اوزاعی کی فقہی اقوال کے بارے میں محقق شہیر محمد رواس قلعہ جی کی ضخیم کتاب ’’موسوعۃ فقہ الامام الاوازعی ‘‘قابل ذکر ہے،اس کے علاوہ عبد المحسن بن عبد العزیزکی کتاب ’’مذہب الامام الاوازاعی ‘‘اور عبد العزیز سید الاہل کی مفید کتاب ’’الامام اوزاعی فقیہ اہل الشام ‘‘اہم کاوشیں ہیں ۔
۲۔امام لیث بن سعد کے حوالے سے محقق قلعہ جی ’’موسوعۃ فقہ اللیث بن سعد‘‘، ڈاکٹر عبد الحلیم کی ’’اللیث بن سعد امام اہل مصر‘‘اور ڈاکٹر سعد محمود کی مایہ ناز کتاب ’’فقہ اللیث بن سعد فی ضوء الفقہ المقارن ‘‘اہم کتب ہیں ۔
۳۔معدوم فقہی مسالک کے بارے میں اہم عصری تصنیف جامعہ جزائر سے چھپا مقالہ ’’المذاہب المفقہیہ المندثرۃ اثرہا فی التشریع الاسلامی ‘‘قابل ذکر ہے ۔اس میں مقالہ نگار نے ان تمام ائمہ مجتہدین اور ان کی فقہ سے بحث کی ہے ،جن کے مسالک حوادث زمانہ کی نظر ہوگئے ۔
۴۔سلف کے فقہی اقوال کو جمع کرنے کے سلسلے میں محقق معروف محمد رواس قلعہ جی کی خدمات ہمیشہ رکھی جائیں گی ،موصوف نے صحابہ و تابعین میں سے معروف حضرات کے فقہی اقوال جمع کرنے بیڑا اٹھایا اور تقریبا اٹھا رہ کے قریب موسوعات تیار کر گئے ۔اللہ مصنف کو اس پر اجر جزیل عطا فرمائے ۔

دسویں قسم :ماجستیر ،ایم فل اور پی ایچ ڈی مقالات 

عصر حاضر کی فقہی بیدار ی اور انقلاب میں عالم اسلام کی مشہور جامعات سے فقہی موضوعات پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات کا بنیادی کردار ہے ۔جامعۃ الازہر ،جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ،جامعہ الامام محمد بن سعود،جامعہ ام القریٰ، دمشق یونیورسٹی ،جامعہ زرقاء ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد،ع لامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ،پنجاب یونیورسٹی کا اسلامک ڈیپارٹمنٹ شیخ زید اسلامک سنٹر ،جامعہ کراچی اور عالم اسلام کی دیگر معروف جامعات سے مختلف فقہی موضوعات پر بے شمار مقالات لکھے گئے ۔ان مقالات میں فقہ و اصول فقہ کے مختلف جوانب اور متنوع پہلووں کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ان مقالات کی بدولت قدیم فقہی ذخیرے کے مکنون خزانے منصہ شہود پر آئے اور سینکڑوں کتب سے جمع شدہ نوادرات ان مقالات میں یکجا ہوئے جو ظاہر ہے فقہ و اصول فقہ پر تحقیق کرنے والے حضرات کے لیے بیش بہا اور قیمتی سرمایہ ہیں ۔نامور فقہیہ شیخ مصطفی زرقاء ان مقالات کی افادیت کے حوالے سے لکھتے ہیں :
و بذلک وجدت رسائل ماجستیر و دکتوراہ فی موضوعات فقہیۃ کثیرۃ ،تستوعب کل موضوع و تنقاشہ بتعمق من مختلف جوانبہ ،و تغنی الباحثین و المراجعین (المدخل الفقہی العام :۱؍۲۵۰)
’’یوں ایم ائے اور پی ایچ ڈی کے مقالات بے شمار فقہی موضوعات پر وجود میں آئے ۔جو ہر قسم کی فقہی موضوعات پر مشتمل ہیں ۔ان مقالات میں موضوع کے مختلف جوانب کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا جاتا ہے ۔ ان مقالہ جات نے محققین اور طویل کتب کی طرف مراجعت کرنے والوں کی ضروریات کو پورا کیا ۔‘‘

گیارہویں قسم:قدیم فقہی کتب کی نئے طرز پر تحقیق کے ساتھ اشاعت 

عصر حاضر میں فقہی کتب کی نئے طرز پر اشاعت کی داغ بیل ڈالی گئی ،اس مقصد کے لئے ہر ملک میں کچھ افراد نے مستقل طور پر اپنے آپ کو اس کام کے لیے وقف کیا ،کتب پر کام کرنے والے ان حضرات کو محققین کا نام دیا گیا ۔یہ محققین کسی فقہی کتاب کو منتخب کرکے درجہ ذیل جہات اس پر کام کرتے ہیں ،پھر اشاعتی ادارے دیدہ زیب ٹائٹل ،عمدہ کاغذ اور کمپیوٹرائز کتابت کے ساتھ اس کو شائع کرتے ہیں:
۱۔کتاب کے مخطوطات کے درمیان تقابل اور ان مخطوطات میں اختلافات کی نشادہی 
۲۔کتاب میں وارد شدہ آیات ،احادیث اور آثار کی تخریج 
۳۔کتاب میں مذکور اعلام اور شخصیات کا مختصر ترجمہ 
۴۔کتاب کے مشکل الفاظ کی حاشیے میں وضاحت
۵۔ہر جلد کے آخر میں موضوعات کی تفصیلی فہرست اور آخری جلد میں کتاب کے جملہ مضامین کی ابجدی فہرست واشاریہ 
۶۔آخری جلد میں تخریج شدہ آیات اور روایات کی الفبائی فہرست 
۷۔کتاب کے شروع میں ’’مقدمۃ التحقیق‘‘ کے نام سے ایک جامع مقدمہ ،جس میں مصنف کے تفصیلی حالات، دیگر تصانیف ،مذکورہ کتاب کا تعارف اوراپنی تحقیق کا منہج ذکر کیا جا تا ہے ۔
مذکورہ طرز تحقیق کے ساتھ عالم عرب خصوصا بیروت سے تقریبا تمام مسالک کی فقہی کتب تحقیق کے ساتھ شائع ہو چکی ہیں ۔

بارہویں قسم :فقہی ویب سائٹس اور سافٹ وئیرز 

عصر حاضر سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے ،کتب و رسائل کی اشاعت کے ساتھ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی کو انتہائی آسان بنادیا ۔ہر موضوع سے متعلق بلا مبالغہ ہزاروں ویب سائٹس وجود میں آچکی ہیں۔ آج کے بالغ نظر فقہاء اور اہل علم اس اہم ٹیکنالوجی کی اہمیت اور افادیت سے بخوبی آگاہ ہیں ،اور اس میدان میں فقہ اسلامی کے حوالے سے قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں ۔فقہ اسلامی تک رسائی اور فقہ اسلامی سے استفادہ ہر عام و خاص کے لیے آسان بنانے کے لیے معاصر فقہاء نے ٹیکنالوجی کے میدان میں متنوع کام کیے ہیں ۔ایک طرف ایسی فقہی ویب سائٹس بنائی گئیں ہیں جن پر چاروں مسالک کی اہم کتب ،فقہی رسائل و مقالہ جات اور آج کے نت نئے مسائل سے متعلق مفید ابحاث موجود ہیں ۔اس کے ساتھ ایسے فقہی سافٹ ویئرز اور پروگرام ترتیب دیے ہیں ،جن میں فقہ اسلامی کا معتد بہ ذخیرہ سرچ کی جدید سہولت کے ساتھ موجود ہے۔ ان مفید اقدامات کا نتیجہ یہ ہے کہ محققین اور مراجعت کرنے والوں کے لیے کسی فقہی مبحث کی تلاش آج کے دور میں پہلے زمانوں کی بہ نسبت انتہائی آسان ہے۔ذیل میں اس حوالے سے چند اہم ویب سائٹس اور سافٹ ویئرز کا ذکر کیا جاتا ہے :
۱۔ نیٹ کی دنیا میں قاضی ابویعلی المغربی کا نام اجنبی نہیں ہے ،اسلاف کے علمی ذخیرے کو نیٹ پر منتقل کرنے کے حوالے سے موصوف کی قابل قدر خدمات ہیں ،موصوف نے چاروں مسالک کے فقہی ذخیرے کے حوا لے سے الگ الگ چار بلاگ بنائے ہیں ،یہ بلاگز ’’خزانۃ الفقہ الحنفی ‘‘خزانۃ الفقہ المالکی ‘‘’’خزانۃ الفقہ الشافعی ‘‘اور ’’خزانۃ الفقہ الحنبلی ‘‘کیانام سے موسوم ہیں ۔ان بلاگز میں ہر مسلک کی اہم کتب تین طرح کے عنوانات کے ساتھ رکھی گئیں ہیں ،تاکہ مطلوب کتاب کی تلاش میں کسی قسم کی دقت پیش نہ آئے :
۱۔ زمانی ترتیب کے ساتھ کتب رکھی گئیں ہیں ،چنانچہ ہر بلاگ میں دوسری صدی سے لیکر پندروہیں صدی تک ہر صدی کی اہم کتب موجود ہیں ۔
۲۔اہم ،معروف اور کثیر التصانیف مصنفین کی ترتیب سے بھی کتب دستیاب ہیں ۔
۳۔ موضوعات کی ترتیب سے بھی کتب رکھی گئیں ہیں ۔
ان بلاگز کے ویب ایڈریس یہ ہیں :
۱۔خزانۃ الفقہ الحنفی : http://hanafiya.blogspot.com
۲۔ خزانہ الفقہ المالکی : http://malikiaa.blogspot.com
۳۔خزانہ الفقہ الشافعی : http://chafiiya.blogspot.com
۴۔خزانہ الفقہ الحنبلی : http://hanabila.blogspot.com
۲۔فقہ اسلا می کے حوالے سے نیٹ کی دنیا کی غالبا سب سے بڑی ویب سائٹ ’’الشبکۃ الفقہیہ ‘‘ ہے ۔اس ویب سائٹس پر درجنوں عنوانات کے ساتھ فقہی کتب،مقالہ جات،اہم مضامین ،رسائل اور دیگر فقہی کتب موجود ہیں ۔اس کے اہم عنوانات کا یک خاکہ پیش کیا جاتا ہے ،تاکہ اس ویب سائٹ کی وسعت اور افادیت کا ایک خاکہ سامنے آئے :
۱۔الملتقی الفقہی العام 
۲۔ملتقی الفقہ المقارن 
۳۔ملتقی المذہب الحنفی 
۴۔ملتقی المذہب المالکی 
۵۔ ملتقی المذہب الشافعی 
۶۔ملتقی المذہب الحنبلی 
۷۔ملتقی فقہ الاصول 
۸۔ملتقی التنظیر الاصولی 
۹۔ملتقی المناہج الاصولیہ 
۱۰۔ملتقی الاعلام و الاصطلاحات الاصولیہ 
۱۱۔ملتقی فقہ المقاصد 
۱۲۔ملتقی القواعد و الضوابط الفقہیہ 
۱۳۔ملتقی التخریج و النظائر و الفروق
۴۱۔ملتقی النظریۃ الفقہیہ و التقنین المعاصر
۱۵۔ملتقی فقہ الارکان 
۱۶۔ملتقی فقہ المعاملات 
۱۷۔ملتقی فقہ الاوقاف
۱۸۔ملتقی فقہ الاسرۃ 
۱۹۔ملتقی فقہ الجنایات ، الحدود 
۲۰۔ملتقی فقہ الاقضیہ و االاحکام 
۲۱۔ملتقی فقہ السیاسۃ الشرعیۃ 
اس کے علاوہ بھی مفید عنوانات کے ساتھ فقہی مواد موجود ہے ۔ا سکا ایڈریس یہ ہے :
http://www.feqhweb.com
۳۔فقہی مواد کے حوالے سے ’’جامع الفقہ الاسلامیْ ‘‘بھی اچھی ویب سائٹ ہے ۔اس کاویب ایڈریس یہ ہے :
http://feqh.al-islam.com
۴۔کتب فقہیہ اور خاص طور پر جدید فتاوی کی ایک اہم ویب سائٹ ’’موقع الفقہ الاسلامی ‘‘ ہے ،اس کا ویب ایڈریس یہ ہے :
http://www.islamfeqh.com
۵۔ فقہی کتب اور مختلف فقہی موضوعات پر مواد کے حوالے سے ’’موقع الفقہ ‘‘ ایک مفید ویب سائٹ ہے ۔
http://www.alfeqh.com
۶۔ سینکڑوں موضوعات پر اہم فتاوی کے حوالے سے ’’الفتوی‘‘ایک اہم ویب سائٹ ہے ۔اس ویب سائٹ پر عالم عرب خاص طور پر سلفی حضرات کے اہم علماء کے فتاوی کی کثیر تعداد موجود ہیں ۔
http://www.alftwa.com
۷۔ فقہ المعاملات پر ایک اہم ترین ویب سائٹ ’’ مرکز الابحاث فقہ المعاملات المالیہ ‘‘ ہے ،اس ویب سائٹ پر معاملات کے حوالے سے سینکڑوں مقالات ،کتب اور مضامین موجود ہیں ۔
http://www.kantakji.com
۸۔نیٹ کی دنیا کی معروف اور وسیع ویب سائٹ ’’ملتقی اھل الحدیث‘‘میں بھی فقہ اسلامی کے حوالے سے وسیع ذخیرہ موجود ہے ۔اس ویب سائٹ میں ’’منتدی الدراسات الفقہیہ‘‘اور ’’منتدی اصول الفقہ‘‘ کے عنوان کے تحت کثیر ذخیرہ موجود ہے ۔
http://www.ahlalhdeeth.com/vb
۹۔مرکز علم و عمل دارالعلوم دیوبند کے ارباب دار الافتاء نے آن لائن فتاوی کی ایک وسیع ویب سائٹ بنائی ہے ،جس میں ایک اجمالی جائزے کے مطابق تقریبا دس ہزار فتاوی موجود ہیں اور ان فتاواجات میں تلاش کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے ۔
http://www.darulifta-deoband.org
۱۰۔فقہی سافٹ وئیرز کے حوالے سے ایک جامع سافٹ وئیر’’موسوعۃ الفقہ الاسلامی ‘‘ ہے ،جس میں فقہی کتب کی تقریبا چار ہزار مجلدات کو اکٹھا کیا گیا ہے ۔اس سافٹ وئیر میں متنوع طریقوں سے تلاش کی سہولت کے ساتھ کسی کتاب کی عبارت کو کاپی پیسٹ کا آپشن بھی موجود ہے ۔یہ سافٹ وئیر بندہ نے کافی عرصہ پہلے ڈاونلوڈ کیا تھا ۔لیکن اب اسکا لنک کافی تلاش کے باوجود نہیں مل سکا ۔کسی صاحب کو مل جائے تو بندہ کو بھی مطلع فرمادیں ۔

تیرہویں قسم :فقہی مسائل پر اجتماعی غور و فکر کے لیے اداروں کا قیام 

عصر حاضر کے اہل علم اور فقہاء میں فقہ اسلامی کے حوالے سے ایک رجحان یہ سامنے آیا ہے ،کہ دور جدید کے پیدا کردہ مسائل کا شریعت کی روشنی میں جائزہ لینے اور فقہ اسلامی پر مختلف پہلووں پر کام کرنے کے لیے اجتماعی فقہی ادارے قائم کیے جائیں ،جن میں عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیات اور مختلف مکاتب فقہیہ کے سر کردہ افراد شامل ہوں تاکہ فقہی مسائل پر اجتماعی غور و فکر کیا جاسکے اور مذاہب اربعہ کی روشنی میں عصری مسائل اور فقہی چینلجز کا آسان اور اقرب الی الصواب حل ممکن ہو سکے۔ اجتماعی فقہی اداروں کے قیام کی کوششیں ہر سطح پر ہو ئیں ، مختلف اسلامی ممالک میں ملکی سطح کے فقہی ادارے بن گئے۔ اس کے ساتھ عالم اسلام کی سطح پر بھی عالمی اداروں کے قیام کی کوششیں ہوئیں۔ ذیل میں مختلف ممالک میں قائم کردہ معروف اداروں کی ایک فہرست دی جارہی ہے ۔
۱۔اسلامی نظریاتی کونسل (اسلام آباد،پاکستان)
۱۔المرکز العالمی الاسلامی (بنوں ،پاکستان )
۲۔مجلس تحقیق مسائل حاضرہ (کراچی ،پاکستان )
۳۔اسلامی فقہ اکیڈمی (انڈیا )
۴۔مجلس تحقیقات شرعیہ (ندوۃ العلماء )
۵۔ادارۃ المباحث الفقھیہ (جمیعت العلماء ھند)
۶۔مجمع البحوث الاسلامیہ (مصر )
۷۔ ہیءۃ کبار العلماء (سعودی عرب )
۸۔یورپی مجلس برائے افتاء و تحقیق (لندن )
۹۔مجمع الفقہ الاسلامی الدولی (او آئی سی )
۱۰۔المجمع الفقہ الاسلامی (رابطہ عالم اسلامی )
۱۱۔فقہائے شریعت اسمبلی (امریکہ )
۱۲۔شمالی امریکی فقہ کونسل (شمالی امریکہ )
۱۳۔الادارۃ العامۃ للا فتاء (کویت)
ان میں سے بعض ادارے اب غیر فعال ہیں ،البتہ بعض ادارے جیسے مجمع الفقہ الاسلامی ،اسلامی فقہ اکیڈمی ،ھیءۃ کبار العلماء اور یورپی مجلس افتاء و تحقیق کی فقہی کاوشیں عالم اسلام کی سطح پر ممتاز حثیت کی حامل ہیں ۔اور بلا شبہ درجنوں مسائل پر ان فقہی اداروں نے مفید مواد تیار کیا ہے ۔
عالم اسلام کے ممتاز اجتماعی اداروں کی خدمات ،اجتماعی اجتہاد کی عصری کاوشوں اور اس سلسلے میں ہونے والی کوششوں کے حوالے سے ادار ہ تحقیقات اسلامی اسلام اباد کی طرف سے شائع کردہ کتاب ’’اجتماعی اجتہاد ،تصور ،ارتقاء اور عملی صورتیں‘‘، ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب کا دو جلدوں پر مشتمل پی ایچ ڈی کا ضخیم مقالہ ’’عصر حاضر اور اجتماعی اجتہاد‘‘، جامعۃ الامارات العربیہ المتحدۃ کی طرف سے دو جلدوں پر مشتمل کتاب ’’الاجتہاد الجماعی فی العالم الاسلامی‘‘ اور معروف عالم ڈاکٹر محمد اسماعیل شعبان کی کتاب ’’الاجتہاد الجماعی و دور المجامیع الفقہیہ فی تطبیقہ ‘‘اہم کتب ہیں۔

شعبہ مساجد ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی لاہور کا نظم و نسق ۔ دیگر نظام ہائے مساجد کے لیے راہنما اصول

حافظ محمد سمیع اللہ فراز

DHA لاہور، پاکستان آرمی کا ماتحت بااختیار ادارہ ہے، جس کا مقصد اپنے رہائشیوں کو عالمی سطح کے معیار کے مطابق رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ بنیادی طور پر آرمی آفیسرز کے لیے بننے والے اس رہائشی منصوبہ کو بعد ازاں عوام الناس کے لیے وسعت دے دی گئی۔ اسی نام سے کراچی اور اسلام آباد میں بھی ادارے موجود ہیں۔ 
DHA لاہور، نہ صرف رہائشی سہولیات کے لحاظ سے ایک ممتاز حیثیت کاحامل ہے بلکہ دینی امور اور مساجد کا مستحکم ومنظم شعبہ، 25 سال سے یہاں آباد لوگوں کی مذہبی و روحانی ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔ اس وقت کل 35 مساجد موجود ہیں جو ’’مسجد ۔ تمام مسلمانوں کے لیے‘‘ کے غیر فرقہ وارانہ اور وحدتِ امت کے وسیع تر سلوگن اور مقصد کے تحت قائم ہیں۔

شعبہ مساجد کی خصوصیات

1۔ منفرد طرزِ تعمیر:

ڈی ایچ اے لاہور کی جملہ مساجد، جدید مسلم فن تعمیر کا شاندار شاہکار ہیں جن کے طرزِ تعمیر میں ترکی، عرب، ملائیشیا، ایران کی مساجد کے طرزِ تعمیر اور ڈیزائن کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ موسمی تبدیلیوں کے پیش نظر ہر مسجد کے ڈیزائن اور تعمیر پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

2۔ جملہ سہولیات کی فراہمی:

نمازی حضرات کی سہولت کے پیش نظر ، تمام مساجد میں دورِ جدید کی ہر وہ سہولت موجود ہے جس سے نمازی حضرات مکمل اطمینان وسکون سے عبادات اور دینی امور انجام دے سکیں۔مساجد کا عملہ مستعدی سے دن بھر صفائی میں مصروف رہتاہے۔

3۔ غیرفرقہ وارانہ اور مسلکی تعصبات سے مبرّا ماحول:

ڈی ایچ اے لاہور کی مساجد اور شعبہ دینی امورکی سب سے منفرد خصوصیت اس کا ہرقسم کے فرقہ وارانہ اور مسلکی تعصب سے پاک ہونا ہے۔ کوئی مسجد کسی نام سے منسوب نہیں بلکہ محلوں اور سیکٹرز کے نام سے مساجدمنسوب ہیں(مثلاًجامع مسجد فیز ۲، جامع مسجد Xسیکٹر وغیرہ)۔ کسی بھی قسم کی مسلکی علامت یا شعار سے مبرّا مساجد نہ صرف خود مسلمانوں کی وحدت کا پیغام ہیں بلکہ ان میں کسی بھی قسم کی مسلکی یا گروہی سرگرمی بھی ممنوع ہے۔

4۔ ائمہ وخطباء کا تقرر:

ڈی ایچ اے لاہور وہ واحدادارہ ہے جہاں شعبہ مساجد کا جملہ عملہ یعنی امام وخطیب، مؤذن وخادم اور سویپر حضرات کا تقرر ایک باقاعدہ نظم اور پروسیجر کے تحت عمل میں آتا ہے۔محدود نشستوں کے لیے معروف قومی اخبارات میں اشتہار دیا جاتا ہے جس میں امام وخطیب کے لیے حفظِ قرآن کریم، تجوید،آٹھ سالہ درسِ نظامی کے علاوہ کسی بھی عصری یونیورسٹی سے ایم اے پاس ہونا جبکہ مؤذن وخادم کے لیے حفظ، تجوید، میٹرک اور درسِ نظامی ترجیحاً ہونا لازمی ہے۔ آمدہ درخواستوں کو تمام سرٹیفکیٹس سمیت چیک کیاجاتاہے۔ اہل امیدواران کو تحریری ٹیسٹ اور انٹرویو کی اطلاع دی جاتی ہے۔ مقررہ تاریخ کو ایم اے اور درجہ دورۂ حدیث سطح کا تحریری امتحان ہوتا ہے ، جس کے بعد حفظ وتجوید کا امتحان لیاجاتاہے۔ دونوں مرحلوں میں پاس شدہ امیدواران کی فہرست نمازِ عصر کے بعد آویزاں کردی جاتی اور اگلے ہی روز ان کو انٹرویو کے لیے بلایا جاتاہے ۔ آرمی آفیسرز اورعلماء کرام کا ایک بورڈ ان کی علمی، فنی اور شخصی قابلیت کا امتحان لیتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں منتخب امیدواران سے سیکرٹری اور ایڈمنسٹریٹر ڈی ایچ اے انٹرویو کرتے ہیں۔ کسی بھی مرحلے پر کوئی بھی مجاز فرد ،کسی پہلو میں کمی کو دیکھتے ہوئے امیدوار کا انتخاب منسوخ کرسکتا ہے۔ 

5۔ ائمہ وخطباء کے فرائضِ منصبی:

منتخب ہونے والے ائمہ وخطباء کو ان کے فرائضِ منصبی تحریری صورت میں ان کے اقرار کے ساتھ ان کو دے دیے جاتے ہیں۔ جس میں سرفہرست مساجد کے غیرفرقہ وارانہ ماحول کو برقرار رکھنا اور کسی بھی قسم کی مسلکی وابستگی اور اس کے کسی بھی طرح اظہار سے اجتناب کرنا ہے۔ اس کے علاوہ نماز پنجگانہ کی امامت، روزانہ درسِ قرآن (جس کی ہفتہ وار رپورٹ ڈائریکٹر دینی امور ملاحظہ کرتے ہیں)، جمعۃ المبارک وعیدین کے خطبات، نمازِ تراویح کی امامت ائمہ وخطباء کی ذمہ داری ہے۔ مساجد کی صفائی اور انتظام کی نگرانی، نمازی حضرات سے بہترین اور مثالی اخلاقی رویہ روا رکھنا، ذاتی شخصیت کو مثالی بنائے رکھنا، صاف اور شرعی لباس زیب تن رکھنا بھی ائمہ وخطباء کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ ملازمت کے دوران کسی بھی موقع پر کسی فرقہ وارانہ سرگرمی میں مشغولیت یا خلافِ منصب کسی بھی حرکت پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

6۔ خطباتِ جمعہ وعیدین کی تیاری:

شعبہ مساجدڈی ایچ اے لاہوراس لحاظ سے بھی منفرد اور ممتاز ہے کہ یہاں خطبات کی تیاری کا ایک منظم ومربوط اہتمام ہے ۔سال بھر کے جملہ خطبات کے عنوانات قمری سال کے آغازسے قبل ہی طے کرنے کے لیے علماء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جو باقی ائمہ وخطباء سے تجاویز لے کر دورِ حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آمدہ سال کے جملہ خطبات کے عنوانات اور ان کے مرتبین کی فہرست ڈائریکٹر دینی امور کی تصدیق سے تمام خطباء میں تقسیم کردیتی ہے۔ ہر خطیب صاحب سال میں تقریباً تین عدد خطبات تحریر کرتے ہیں۔جس کو متعلقہ فیز کے خطیبِ اعلیٰ کی تصدیقات اور ضروری تصحیحات کے بعد ڈائریکٹر دینی اموردیکھتے ہیں ،ضروری تبدیلیوں اور ان کی تصدیق کے بعد اس کی کاپیاں کروا کر کم از کم ایک ہفتہ قبل تمام خطباء کو دے دی جاتی ہے۔ جس کی تیاری کے لیے ، ڈائریکٹر دینی امور کی موجودگی میں شعبہ مساجد کے تمام عملہ کی دو میٹنگز ہوتی ہیں ۔ بروز پیر،تمام خطباء کی موجودگی میں، تحریر شدہ خطبہ لفظ بہ لفظ پڑھا جاتا ہے۔ اس پر علماء اصلاح کے لیے اپنی مزید تجاویز دیتے ہیں۔ ہفتہ میں دوسری بار جمعرات کے روز ایک خطیب اور ایک مؤذن اسی خطبہ کو تمام ائمہ ومؤذنین کے سامنے ویسے پیش کرتا ہے جیسے آئندہ جمہ کو ڈلیور ہوناہوتاہے۔ یوں ہفتہ بھرجہاں خطبہ جمعہ کی تیاری کا سلسلہ جاری رہتا ہے وہاں ائمہ وخطباء کا باہمی ربط وتعلق بھی ایک خوشگوار ماحول میں مزید پروان چڑھتاہے۔

7۔ مذہبی اجتماعات:

جمعۃ المبارک اور عیدین کے علاوہ ، ہرسال چار مزید اجتماعات ایسے ہیں جو اپنی نوعیت میں منفردہیں۔ اولاً: ہر ماہ کی تیسری بدھ کو ڈی ایچ اے کی مختلف مساجد میں ماہانہ اصلاحی پروگرام ہوتے ہیں جن میں عوام الناس کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ ماہانہ اصلاحی پروگرامز کے مقررین اور ان کے عنوانات بھی خطباتِ جمعہ کی طرح سال کے آغاز میں طے کر دیے جاتے ہیں۔ ثانیاً:۸تا۱۲ ربیع الاول میں محافلِ ذکرِ حبیبﷺ کے سلسلہ میں ڈی ایچ اے کی مرکزی مساجد میں پانچ اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جس میں روایتی جلسوں سے ہٹ کر، سیرت نبوی کے روشنی میں اصلاحی پہلو ؤں پر بیان کے لیے ملک بھرسے ان انتہائی علمی وسنجیدہ شخصیات کو دعوت دی جاتی ہے جو تعصب سے پاک اور وحدتِ امت کے لیے معتدل سوچ رکھنے والے ہوتے ہیں۔ثالثاً: ہرسال عازمین حج کے لیے دوروزہ’’تربیتِ حج سیمینار ‘‘ منعقد کیاجاتاہے جس میں ’گھر سے واپس گھرتک‘ تمام سفر کے لیے شرعی راہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔رابعاً: گذشتہ سالوں میں سالانہ محفلِ حسنِ قراء ات منعقد ہوتی رہی جو فی الحال سیکورٹی کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر منعقدنہیں ہورہی۔
شعبہ مساجد ڈی ایچ اے لاہور کی مذکور ودیگر خصوصیات کی بناء پر لاہور اور مضافات کی کئی رہائشی کالونیوں مثلاً گرین سٹی، پیراگون سٹی، بحریہ ٹاؤن، سنٹرل پارک وغیرہ کی انتظامیہ کی طرف سے ، DHA شعبہ مساجد کا ضابطۂ اخلاق نافذ کیاگیا ہے۔ کئی سوسائیٹیز اس کو عملاً نافذ کرنے میں ہماری مدد کی خواہشمند ہیں۔

دیگر نظام ہائے مساجد کی مشکلات اور ان کے حل کے لیے تجاویز

دیگر علاقوں یا آبادیوں میں لوگوں کی دینی وروحانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مصروف ائمہ وخطباء اور خدام کے متنوع قسم کے مسائل ہیں جس کو تین اقسام میں بیان کیا جا سکتا ہے: انتظامی، معاشی اور علمی مسائل۔

انتظامی مسائل:

ڈی ایچ اے لاہور کے برعکس دیگر علاقوں یا آبادیوں میں موجودزیادہ تر مساجد کسی منتظم فرد یا کمیٹی کی سربراہی میں چلتی ہیں ۔ ان مساجد میں ائمہ وخطباء کا انتخاب ذاتی تعلقات یا پھر مسجد کمیٹی کی منظوری کے ساتھ ہوتاہے۔ اکثرائمہ کچھ عرصہ بعد اسی کمیٹی یا منتظم فرد سے نالاں نظر آتے ہیں۔ہرچند تمام مساجد کی کمیٹیاں یا منتظم افراد ہرگز ایسے نہیں تاہم ایسی شکایات کا انکار بھی نہیں کیاجاسکتا۔ بہرصورت ان اختلافات کی بنیادی وجہ : کمیٹی کے اختیارات اورائمہ مساجد کے فرائضِ منصبی کا پہلے سے طے نہ ہونا ہے۔کیونکہ امام مسجد کو کمیٹی یا اس کے کسی فرد کے اختیارات کے ناجائز استعمال جبکہ کمیٹی کو امام صاحب کی دیگرمصروفیات پر اعتراض ہوتاہے۔ ایسی صورت میں اگر تقرری سے قبل امام صاحب اور مساجد کے انتظامی ذمہ داران اس بات کا اہتمام کرلیں کہ ہر دو کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین تحریری صورت میں ہوجائے تو بہت حد تک، بعد کے اختلافات سے بچا جاسکتاہے۔ 

معاشی مسائل:

ائمہ کے دوسرے قسم کے مسائل معاشی ہیں۔ تنخواہ کا کم ہونا، اس کمی کو پورا کرنے کے لیے دیگر علمی مصروفیات اوراس کی وجہ سے ذمہ داریوں میں کوتاہی، کمیٹی یا منتظم افرادکے ساتھ اختلافات یا پھر ’رخصت‘ پر منتج ہوتی ہیں۔ اس سلسلہ میں اولاً تو مذکورہ اصول کہ تمام باتیں طے ہونی چاہئیں ورنہ اس کے لیے جدید معاشیات کے فارمولے کو زیرغور لانا پڑے گا۔
معاشیات کا مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی چیز کی قدر بڑھانے کے لیے دو کاموں میں سے کوئی ایک کام کیاجاتا ہے: یا تو طلب ورسد کے قدرتی نظام میں واضح فرق ڈال دیا جائے۔ یعنی عام مسلمانوں کو جس قدر ائمہ وخطباء کی ضرورت ہو اس قدر مہیا نہ ہوں۔ ظاہر ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں بلکہ الحمدللہ ائمہ وخطباء کی ’بہتات‘ ہے۔دوسرا یہ کہ مہیا چیز کے معیار اور کوالٹی کو اتنا بڑھا دیاجائے کہ عوام الناس اس کو کسی بھی قیمت پر حاصل کرنے کے لیے راضی ہوں۔مؤخر الذکر کام آسانی سے ممکن ہے ۔ لیکن اس کے لیے کئی سطحوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، مثلاً جو ائمہ وخطباء کے شعبہ سے منسلک ہونا چاہیں، ان کے لیے وفاق کی سطح پر باقاعدہ نصاب ترتیب دیاجائے، جس کی تکمیل پر ہی وہ امام وخطیب مقرر ہوسکتے ہوں اورعوام الناس اس سے آگاہ بھی ہوں۔ دوسرے ،مدارس کی سطح پر شعوری طور پر ایسانظام ہو جو طلبہ کی علمی واخلاقی تربیت کو عملی میدان میں آنے سے قبل یقینی بنائے۔ تیسرے، انفرادی سطح پر علماء اس منصب اورذمہ داری کے لیے حسّاس ہوں اور حادثاتی طور پر نہیں بلکہ شعوری طور پر اپنی شخصیت کو سنواریں جو ان کوامام وخطیب کے منصب کے اہل بنا دے۔ اس کے لیے ایسا لٹریچر زیرِ مطالعہ رہے جوان کوعملی راہنمائی فراہم کرے۔ مثلاًحضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا تمام لٹریچر، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ کے خطبات کے علاوہ مولانا عبدالرؤف چشتی کی ’خطیب اورخطابت‘، اورمولانا مفتی محمد زید صاحب کی ’تحفۃ العلماء‘ اس سلسلے میں قابل ذکر ہیں۔ ان اقدامات کے بعد امید ہے کہ ’مارکیٹ‘ میں آنے والی ’پروڈکٹ‘یعنی ائمہ وخطباء ،کی قدر میں اضافہ ہوگا۔

علمی مسائل:

مجھ سمیت کم وبیش اکثر علمائے کرام فراغت کے بعد اپنی علمی ترقی کو ، مصروفیات کا بہانہ بنا کرروک دیتے ہیں۔ کسی بھی مسجد میں کسی خطیب کے کم از کم ایک سال کے خطبات اوران کے مندرجات کو سنا، یا دیگر حالات میں ’برداشت‘ کیاجاتاہے ، روایتی طرزِ بیان یا روایتی خطبات کو بار بار دہرانا اور عدمِ مطالعہ کے سبب دورِ حاضر کے جدید مسائل سے چشم پوشی اور ان کے حل کے لیے اپنے سامعین کی تشنگی دور نہ کرنا بھی امام وخطیب کے مقام ومرتبے کو متأثر کرتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر امام وخطیب نہ صرف فراغت اور عملی میدان میں آنے کے بعد اپنے دورِ طالبعلمی کے نقائص کو دور کرے بلکہ مزید علمی ترقی کے لیے دینی جرائد، روزانہ کا اخبار، اور علمی وتحقیقی کتب زیر مطالعہ رکھے اور ہر خطبہ جمعہ کی تیاری جمعہ سے دوگھنٹے قبل نہیں بلکہ چھ روز پہلے سے شروع کردے۔ مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ، فرماتے تھے کہ میں آئندہ جمعہ کی تیاری پچھلے جمعہ کی نمازِ عصر سے شروع کردیتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ نیلاگنبدلاہور کی مسجد میں ان کے ۲۰ منٹ کے بیان کے لیے جمعہ کی پہلی آذان کے وقت مسجد بھرچکی ہوتی تھی۔
ہمارے معاشرے میں اکثر مساجدمیں عقائد وعبادات پر بہت گفتگو ہوتی ہے لیکن روزمرہ کے معاشی، معاشرتی اور اخلاقی مسائل، شخصی کردار کی تعمیر، سماجی مشکلات اور عام مسلمان کی زندگی میں اس کو درپیش فقہی مسائل مثلاً طلاق، خلع، نکاح، بیوعِ فاسدہ وغیرہ کے بارے میں شاید کبھی خطیب صاحب بیان فرمائیں۔چنانچہ خطباء کرام کو دورِ حاضر میں عوام الناس کو درپیش ان مسائل کو ضرور پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔
علاوہ ازیں ان تمام مشکلات کے حل کے لیے ایک قابل عمل تجویز یہ بھی ہے کہ ایک علاقے کے ہم خیال علماءِ کرام باہمی ربط کو مضبوط بنائیں۔ ہفتہ میں کم ازکم ایک بار اپنے انتظامی، معاشی اور علمی مسائل کو ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کریں۔ اور باہمی اصلاح کے اس نظم کو وسعت دیں۔ اس سے نہ صرف دوسرے حضرات سے علمی استفادے کا موقع ملے گا بلکہ انتظامی حوالے سے بھی افرادی قوت میں اضافہ ہوگا، جس کے باعث مقامی اختلافات میں دیگر علمائے کرام بھی مدد کرسکیں گے۔
چند گذارشات، اپنے محدود تجربہ کی روشنی میں عرض کی ہیں ، قوی امید ہے کہ ان پر عمل کرنے کی صورت میں ہم اپنے بہت سے مسائل ومشکلات پر قابو پاسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ دین مبین کی خدمت کے لیے استقامت اور جملہ مسائل کے حل کے لیے وسائل دستیاب فرمائیں۔ آمین، 
واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العٰلمین۔

متبادل بیانیہ ’’اصل بیانیے‘‘ کی روشنی میں (۲)

محمد زاہد صدیق مغل

قومی سیاسی پہلو پر چند اصولی کلمات

اصل شرع کی بالادستی ہے، ریاست بنانے کے طریقے ظروف ہیں۔ غامدی صاحب دراصل ظروف کو اولیت دے کر گفتگو کی ترتیب کو بدل رہے ہیں۔ جس بیانئے کو رد کرنے کے لیے غامدی صاحب نے بیانیہ وضع فرمایا ہے، اس کے تناظر میں اس کا سادہ سا جواب کچھ اس طرح ہے: 
’’’نیشن سٹیٹ‘ کا فارمیٹ بدلنا کوئی 'دین شکنی' نہیں ہے۔ ریاستی عمل (قوانین کے اجراء اور نفاذ) کو اسلام کا پابند کردینے کی جو بھی صورت مسلمانوں کی استطاعت میں ہو، مسلمان اْسے کیوں اختیار نہ کریں؟ 98 فیصد مسلم آبادی اپنی ’’سماجی قوت‘‘ اور ’’سیاسی رِٹ‘‘ کو اس کا ذریعہ بنائے، یہ ’’فتح‘‘ کی نسبت ایک کہیں نرم تر عمل ہے۔ مسلمانوں کو ’’غاصب‘‘ گرداننے کے معاملہ میں ’اصل بات‘ بہت پیچھے تک جاتی ہے جو شاید BJP کے زاویہ مطالعہ تاریخ سے جا ملے اور راجہ داہر کے ’حق‘ تک پہنچے! اصل یہ ہے کہ ہمارے ان شہروں کا اذانوں سے گونجنا جن فتوحات کا مرہونِ منت ہے، انہی کو صاف ظلم گردانیں۔ ورنہ اتنی بڑی مسلم جماعت (اسلامیانِ پاکستان) کا اپنی ناقابل مزاحمت سماجی و سیاسی برتری کے بل پر ریاستی عمل کو خدا کی عبادت میں دے دینا ’فتح‘ کی نسبت ایک کہیں زیادہ سمجھ آنے والی بات ہے۔ کسی زمین پر شریعت کی رِٹ قائم کرنے کے معاملہ میں اصل چیز مسلمانوں کے پاس اس بات کی ’’قدرت‘‘ ہونا ہے؛ جبکہ ’’فتح‘‘ یا ’’سیاسی و سماجی برتری‘‘ اِس قدرت کی ایک صورت۔ ’’قراردادِ مقاصد‘‘ ایسے کسی اقدام سے البتہ ’نیشن سٹیٹ‘ کی ساخت میں کچھ فرق آگیا ہے تو کوئی شریعت کی خلاف ورزی نہیں ہوگئی ہے۔ اصل بحث وہیں پر پہنچے گی: بارہ صدیوں تک نصف معمورہ ارض کا اسلام کی قلمرو بنا رہنا ’’غصب‘‘ کی ایک داستان ہے اور اسلام کا نصف جہان میں پھیلنا بڑی حد تک ’ظلم و بربریت‘ کا نتیجہ! ہمارا مشورہ ہے کہ ان کالموں میں مسئلہ کو اس کے پورے حجم کے ساتھ کھول دیا جائے۔ 
’ریاست‘ اور ’حکومت‘ میں آپ جیسے مرضی فرق کریں، اصل چیز ریاستی عمل کو اسلام کے تابع کرنا ہے؛ بایں طور کہ یہ ’افراد‘ کے موڈ اور مزاج پر نہ رہ جائے بلکہ یہاں کا باقاعدہ آئین ہو جو افراد کو آپ سے آپ پابند کرے۔ ریاستی عمل میں اسلام کی یہ مستقل حیثیت دورِحاضر کی بحثوں میں ’حکومت‘ سے زیادہ ’ریاست سے متعلق ہو گی، گو ہمیں اس کی شکلی صورت سے غرض نہیں۔‘‘ (از حامد کمال الدین صاحب) 

۳) متبادل بیانئے کے اثرات 

قرار داد مقاصد" کے جس بند کو توڑنے کی باتیں ہورہی ہیں، عملاً اس بند کے پیچھے کیا ہے، اسے بھی سمجھ لینا چاہئے، یک رخی مجرد و نظریاتی گفتگو نفس معاملہ کو واضح نہیں کرسکتی۔ 
’’یہاں اگر اسلام کا بہت کچھ بچ رہ گیا ہے تو وہ اس لیے کہ یہاں کوئی قراردادِمقاصد خاصے بھلے وقتوں میں پاس کرا لی گئی تھی، ورنہ پچھلے کئی عشروں سے یہاں جو خاک اڑنا شروع ہوئی ہے، وہ سب گرد آلود کرنے میں زیادہ دیر لگانے والی نہیں ہے۔ دیے ہوئے حالات میں یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ عملاً اسلامیانے کے عمل میں گو اس کی کوئی خاص افادیت نہیں رہی؛ کہ اسکے بعد یہ مسئلہ ’’ریاست‘‘ کا نہیں ’حکومت‘ کا رہ گیا تھا (ہمیں ریاست اور حکومت کا فرق سمجھانے والے توجہ فرمائیں!!!) البتہ اس ملک کے اندر کھلے کفر کا راستہ روکنے میں بے شمار پہلوؤں سے یہ چیز ایک ناقابل عبور بند کا کام دیتی رہی ہے اور یہ پہلو بھی کچھ کم خیر نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان لوگوں کے لیے صبح شام دعائے خیر کریں جو قراردادِمقاصد جیسا ایک آئینی اقدام آپ کی قوم کے لیے بروقت کر گئے۔
کسے نہیں معلوم کہ اکثر تھرڈ ورلڈ ملکوں میں ’الیکشن‘ ایک مہذب ورادات کا نام ہے۔ این جی اوز، ملٹی نیشنلز، میڈیا، بینکرز، انٹرسٹ گروپس، تہذیبی ساخت کرنے والی لابیاں اس عمل کو اپنی مرضی کی جہت دینے میں یہاں کیسی کیسی سرگرمیاں نہیں دکھاتیں اور کیسی کیسی اثرانگیزی نہیں رکھتیں۔ اِس ’جمہوری‘ عمل سے ۔۔ ’’قرادادِمقاصد‘‘ جیسے کسی انتظام کی غیرموجودگی میں ۔۔ عالمی تقاضوں کے تحت یہاں ایک ہیومن اسٹ سٹیٹ آپ کو ضرور مل جانے والی ہے۔ جس بے بھروسہ جمہوری عمل پر آپ اسلام کی تقدیر کو معلق ٹھہرانا چاہتے ہیں، اس کا کوئی تجربہ آپ آج ہی کیوں نہیں کرلیتے؛ قراردادِمقاصد اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ تو بہرحال نہیں ہے!‘‘ (از حامد کمال الدین صاحب)
یعنی سوچنا یہ ہے کہ اس قرار داد مقاصد کو ’’ہٹا کر‘‘ آخر یہ حضرات ’’کون سا خیر‘‘ برآمد کرنا چاہتے ہیں؟ کبھی یہ بھی غور کیجیے کہ اگر یہ کوئی رکاوٹ ہے تو کس کے خلاف؟ ہیومنسٹ سٹیٹ سٹرکچر کے یا اسلام کے؟ چنانچہ بات نہایت واضح ہے کہ دنیا ویسی نہیں جیسے ہمارے یہ ارباب علم فرض کرتے ہیں۔ اگر تو یوں ہوتا کہ دنیا میں لوگ واقعی ’’کھلے طور پر‘‘ اس معاملے میں آزاد ہوتے کہ بغیر کسی بیرونی مداخلت، بغیر کسی علمی ڈسکورس کے جبر نیز بغیر کسی استعماری قوت کی موجودگی کے اپنی اپنی مرضی سے اپنے اپنے نظریات کے مطابق اپنی اپنی اجتماعی زندگیوں کے فیصلے کررہے ہوتے، گویا جیسے یہ سب ایک دوسرے سے کٹے ہوئے الگ الگ جزیروں میں بس رہے ہوتے، تو شاید مسلمانوں سے بھی یہ تقاضا کسی معنی میں معنی خیز ہوتا کہ آخر تم ان سب آزاد لوگوں پر کیوں اپنے تصور خیر کو بالادست کردینا چاہتے ہو؟ تم بس انکے درمیان بس جاؤ اور جو تمہاری بات واقعی مان لے گا، وہاں تمہاری مرضی چلنے لگے گی اور بس۔ آخر یہ جھگڑا کس سے اور کیوں؟ سردست معاملہ تو یہاں یہ ہے کہ دنیا پر ’’لوگوں کی رائے‘‘ کے نام پر ایک ’’مخصوص تاریخ و علمیت سے برآمد ہونے والے جبر‘‘ کو مسلط کرنے کا پورا پورا بندوبست موجود ہے۔ اگر دنیا کے کسی خطے میں کہیں چند کمزور غلطی سے بھی اس جبر کے خلاف اجتماعی رائے کا اظہار کرلیں تو اسے تلپٹ کردینے کا پورا پورا انتظام بھی موجود ہے؛ مگر اس سب کے باجود بھی مسلمانوں سے یہ شکوہ کہ ’’آخر تم جو چاہتے ہو، وہ کیوں چاہتے ہو‘‘ کا کیا معنی؟ یہ جو حاضر و موجود ہے، یہ ایک عالمگیر ’’فتنہ‘‘ ہے، اور اس معاملے میں درحقیقت کوئی چوائس ہے ہی نہیں کہ یا تو اسکی بالادستی کو قبول کرکے اس کے تحت ’’صاغرون‘‘ ہوکر رہنا قبول کرلیا جائے اور یا پھر اس سے کشمکش جاری رکھی جائے یہاں تک کہ ’’دین اللہ کے لیے ہو جائے‘‘۔ مولانا مودودی (رح) نے کیا خوب کہا تھا کہ ’’دنیا والوں کے دین‘‘ کے معاملے میں درحقیقت کوئی چوائس ہوتی ہی نہیں، یہاں اگر مسلمان آگے بڑھ کر مداخلت نہیں کریں گے تو ایسا نہیں ہوگا کہ دنیا خلا میں معلق ہوکر کسی نیوٹرل مقام پر جا کھڑی ہوگی جہاں جو جو چاہے گا وہ ہوتا رہے گا، بلکہ جو باطل ہے، وہ آگے بڑھ کر زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لے کر رہے گا۔ جنہیں لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہے، وہ حاضر و موجود کی نوعیت کو سمجھے ہی نہیں۔ پس اگر آپ ان سیکولروں، عالمی لابیوں اور استعماری قوتوں کو ’’ریاست کے معاملے‘‘ میں پیچھے ہٹا لیں اور پھر ان سے ’’نیوٹرل‘‘ رہنے کا پختہ عہد و پیمان لے لیں تو شاید ہم بھی ’’ریاست کے معاملے‘‘ سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ دشمن کی فوجیں سرحد پر حملے کے لیے تیار کھڑی دکھائی دے رہی ہوں اور کوئی ہمیں اس بنا پر اپنے دستے ہٹا لینے کی صلاح دے رہا ہو کہ ’’اس سے تمہارے کچھ سرحدی علاقے کے لوگوں کو نفسیاتی گرہ محسوس ہورہی ہوگی‘‘ تو ایسی صلاح آخر کس عقلمند کے لیے قابل قبول ہوگی؟
یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب ’’اقلیتوں کے مساوی حقوق کی مجروحیت‘‘ کی دہائی پر یہاں کچھ ’’مذہبی بیانئے‘‘ دینے والے یہ بھی کہیں گے کہ اپنے یہاں کے اسکولوں کے نصاب سے ان باتوں کو حذف کرنا بھی ’’شرعاً لازم‘‘ ہے کہ ’’اس کائنات کا خالق خدا ہے‘‘، ’’’انسان کی ہدایت کے لیے خدا نے پیغمبر بھیجے‘‘۔ کیوں جی، کیا ہمارے یہاں ملحد نہیں بستے؟ تو کیا عالمی معاہدوں کی رو سے وہ بھی اس ملک میں برابر کے حصے دار نہیں؟ آخر مسلمانوں کو حق ہی کیا ہے کہ ان ملحدوں کے بچوں پر اپنے ایسے مذہبی نظریات مسلط کرکے ان کی ذہن سازی کریں؟
چنانچہ آئین کی چند اسلامی شقوں سے علماء نے یہ کامیابی حاصل کی ہے کہ ملک میں سیکولرائزیشن کا عمل سست روی کا شکار ہے، یہ شقیں اسکی راہ میں کیسے کیسے روڑے اٹکاتی ہیں، یہ کوئی دیسی لبرلز سے پوچھے۔ مگر چند ارباب علم ’’اقلیتوں کے حقوق‘‘ (وہ اقلیتیں جنہیں اس ملک میں بہترین سکول و کالج چلانے، یہاں کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے، نوکریاں کرنے، یہاں تک کہ عدالت عظمی کے جج تک بننے جیسے کھلے حقوق و مواقع میسر ہیں) کے غم میں اس بند کو ہٹادینے کے درپے ہیں۔ بعض اوقات ایک جگہ پر کھڑے رہنے بلکہ مخالف کی آگے بڑھنے کی رفتار کو کم کرنے کے لیے بھی بہت ساری قوت و محنت درکار ہوتی ہے جس کا اندازہ صرف اس وقت ہوتا ہے جب وہ قوت و محنت بھی ضائع کردی جائے۔ قرار داد مقاصد سے حاصل ہونے والے عملی فوائد کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ یہ کھلے کفر کے اظہار کے آگے بند باندھنے نیز ملک میں سیکولرائزیشن کی رفتار کو سست روی کا شکار کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ علماء نے بڑی محنت سے اس نظام کو چلانے والوں کے ارادوں کو قرآن و سنت کے کلے سے باندھنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت بنچ جیسی جو کامیابیاں حاصل کیں، جدید ارباب علم انہیں اپنی نکتہ شناسیوں میں بہا لے جانا چاہتے ہیں۔ جبکہ علماء کی اس جمہوری جدوجہد سے نالاں ملک کے ایک مسلح طبقے کی شکایت ہی یہ ہے کہ اس نظام کے اندر اسلامیت تلاش کرنے کا جو یہ راستہ آپ نے تلاش کیا ہے، یہ ذرا ہی دور جا کر ختم ہوجاتا ہے۔ گویا ملک کے اس ناراض طبقے کو واپس لانے کے لیے علماء اب تک جو جواب دیتے آئے ہیں، یہ جدید ارباب علم ’’اقلیتوں کی ذہنی تسکین بحال کرنے کے لیے‘‘ ان شقوں کو آئین سے ختم کرکے علماء کو ان ناراض طبقوں کے سامنے بالکل ہی لاجواب کردینا چاہتے ہیں اور اس کے بعد یہ امید رکھتے ہیں کہ ملک سے ریاست کے خلاف شدت پسندانہ رویہ ختم ہوجائے گا۔ 
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ’’آئین میں قرآن و سنت کی بالادستی‘‘ کی شق کی اس لیے ضرورت نہیں کیونکہ جب پارلیمنٹ میں اکثریت مسلمانوں کی ہوگی تو قرآن و سنت کی بالادستی تو گویا ان کے عقیدے کا لازمی حصہ ہی ہوگا، تو وہ جو بھی قانون ’’باہمی مشورے‘‘ سے بنائیں گے، اسے ’’’عملی طور پر‘‘ قبول کرلینا چاہیے۔ اگر کوئی فرد یا گروہ سمجھتا ہے کہ وہ قانون قرآن و سنت کی غلط تشریح ہے تو وہ چاہے تو اس سے اختلاف کرے اور رائے عامہ کو ہموار کرے۔ الغرض اس قسم کی کسی شق کی بنیاد پر پارلیمنٹ کی رائے کو عدالت عظمی میں چیلنج کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ 
گویا ہمارے یہ احباب اب الطاف حسین، نواز شریف، عمران خان، و زرداری جیسوں کے مشوروں سے بننے والی تشریح اسلام کو امت سے ’’فائنل اتھارٹی‘‘ منوالینا چاہتے ہیں، وہ بھی ایسی جسے کسی قانونی فورم پر قرآن و سنت کی بنیاد پر چیلنج بھی نہ کیا جاسکتا ہو۔ (ویسے خود نواز شریف و عمران خاں بھی اس تجویز کو سن کر ایک لمحے کے لیے شاید چونک اٹھیں کہ یہ تو ہم پر ایسا بار ڈالا جارہا ہے جس کی ہم نے کبھی تمنا ہی نہ کی)۔ اگر ایسا ہی ہے، تو پھر آئین نامی ہر شے ہی کو ختم کردینا چاہیے کہ اسکی بھی کیا ضرورت؟ اور ہمارے یہ ارباب علم ذرا ایسی ہی کوئی بات عاصمہ جہانگیر و اعتزاز حسن جیسوں سے آئین میں لکھے ہوئے ’’بنیادی انسانی حقوق‘‘ کے بارے میں بھی تو منوا کر دکھائیں۔ کیا خیال ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ کیا انسان نہیں کہ وہ انسانوں کے حقوق متعین کرنے کے لئے ’’انسانی حقوق‘‘ نامی کسی مسودے کے محتاج ہوں گے؟ جب یہ لوگ اعتراض کریں تو ان کا منہ بھی اسی دلیل سے بند کرا کر دیکھیں کہ ’’جاؤ ان انسانی حقوق کے بارے میں عوامی رائے ہموار کیجئے‘‘۔ پھر آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا۔ 

ایک الزامی سوال 

’’متبادل بیانئے والوں‘‘ کے نظریہ ریاست کی رو سے یورپ و امریکہ کی جدید سیکولر ریاستیں ’’سیکولرانہ جنرل ول‘‘ کو ریاست کا وظیفہ قرار دے کر اپنی عوام پر جبر و استبداد کا باعث بنتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ان کے نظریہ ریاست کی رو سے یہ ریاستیں بھی استبدادی و جابرانہ ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے نظریے کی رو سے بھی تاریخ کی بدترین استبدادی160ریاستیں ہیں کہ یہ لوگ خود اپنے اوپر ہی نہیں بلکہ گلوبل ولیج بنانے کے شوق میں ’’باہر والوں‘‘ پر بھی اپنے نظریات کو مسلط کرتے آرہے ہیں۔ اب اس قسم کے استبداد کے خلاف ’’انسداد فتنہ‘‘ کے تحت جہاد کے مشروع ہونے کے یہ حضرات بھی قائل ہیں۔ تو کیا یہ حضرات ان ریاستوں کے خلاف اپنے نظریہ جہاد و ریاست کی روشنی میں امت مسلمہ پر ’’جہاد کی اصولی مشروعیت‘‘ کا اعلان فرمائیں گے؟ کیا ایک ’’متبادل بیانیہ‘‘ اس پر بھی نہیں ہونا چاہیے؟ 
اگر ہمارے ان محترم اہل علم کا خیال ہے کہ ان سیکولر ملکوں میں عوام کو ’’ووٹ ڈالنے کا حق‘‘ ہونا ان ریاستوں کے غیر استبدادی ہونے کی گویا دلیل ہے تو کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، یہ استبدادی قوتیں اپنوں کی ’’ول آف آل‘‘ کو بھی ’’اصولاً‘‘ یہ حق نہیں دیتیں کہ وہ ریاست کی طرف سے مسلط شدہ ’’مخصوص جنرل ول‘‘ کے خلاف جا سکیں، چاہے عوام کی رائے کچھ بھی ہو یا رہی ہو یا ہو جائے۔ ان عالمی معاہدوں کی جنم بھومی یعنی امریکی آئین ریڈ انڈینز کی ’’اجتماعی مرضی‘‘ سے جاری نہیں کیا گیا تھا بلکہ ان کی ’’اجتماعی قبر‘‘ پر کھڑے ہوکر امریکی ریاست پر مسلط کیا گیا تھا۔
نیز کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے یہاں آئین میں جو ’’اسلامی شقیں‘‘ لکھی ہوئی ہیں انہیں عالمی سیکولرازم کے یہ ٹھیکیدار ’’عالمی معاہدوں‘‘ کے تحت اپنی کسی ’’اصولی رائے‘‘ کے تحت قبول کیے بیٹھے ہیں؟ ہرگز نہیں، یہ ’’کڑوا گھونٹ‘‘ فی الوقت صرف اس لیے پینا گوارا کر رکھا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ہمارے یہاں جو موجودہ و متوقع اہل اقتدار و حکومت ہیں، وہ ان شقوں کے نفاذ میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے۔ جس دن انہیں یہ خوف محسوس ہوا کہ ہمارے یہاں کی ’’ول آف آل‘‘ سے کسی ایسی جماعت کا برسر اقتدار آنا یقینی ہوچلا ہے جو ان شقوں کو ’’سنجیدگی سے‘‘ برتنے کا ارادہ رکھتی ہے تو دنیا ان استبدادی قوتوں کا وہی ’’اصلی چہرہ‘‘ پھر سے دیکھے گی جس کا مظاہرہ الجزائر اور مصر میں ہوا تھا۔
پس ہمارے یہ حضرات اپنے ’’متبادل بیانیہ جہاد‘‘ کے ذریعے ’’اصل بیانئے‘‘ میں جہاد کی جس مشروعیت کو شعوری طور پر کالعدم ٹھہرانے نکلے تھے، ’’متبادل بیانیہ ریاست‘‘ کی رو سے غیر شعوری طور پر خود اسی موڑ پر آن پہنچے؛ بس اتنا سا فرق ہے کہ ’’اصل بیانئے‘‘ میں یہ ذمہ داری قیام اسلام کے لیے قبول کرنا پڑتی ہے جبکہ متبادل نظریے میں یونانی جمہوریت کے قیام کے لیے۔

اسلام اور تصور خلافت

غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ نہ صرف یہ کہ خلافت کوئی دینی اصطلاح نہیں بلکہ مسلمانوں پر کسی عالمی خلافت یہاں تک کہ کسی عالمی سیاسی وحدت (مثلاً کنفیڈریشن) کا قیام بھی کوئی دینی تقاضا نہیں (اس قسم کی کسی وحدت کے قیام کی خواہش کو زیادہ سے زیادہ بس ایک نیک خواہش کہا جاسکتا ہے نہ کہ دین کا کوئی حکم) کیونکہ ازروئے اسلام قومیت کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ دیگر عناصر (مثلاً تاریخی نسلی شناخت وغیرہم) ہوا کرتے ہیں؛ مسلمانوں کے درمیان باہمی تعلق اخوت کا ہے نہ کہ قومیت کا۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن و حدیث میں اس قسم کی خلافت کا کوئی تصور موجود نہیں۔ ذیل میں اختصارکے ساتھ ان کے ان دعووں کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ 

قرآن میں تصور خلافت

خلافت (رسول اللہ کی سیاسی نیابت) کا تصور یہ ہے کہ امور ریاست اس حق کے مطابق چلائے جانے چاہئیں جسے شارع نے حق کہا نہ کہ اپنی طرف سے وضع کردہ کسی تصور حق (یعنی ہوائے نفس) کے تحت۔ دیکھئے، خدا نے اپنے برگزیدہ رسول کو بعینہ یہی تلقین فرمائی:
یَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَۃً فِیْ الْأَرْضِ فَاحْکُم بَیْْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوَی فَیُضِلَّکَ عَن سَبِیْلِ اللّٰہِ
’’اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا، پس آپ لوگوں کے درمیان حق کی بنیاد پر فیصلے کریں اور (اس حق کے مقابلے میں کسی کی) خواہشات کی پیروی نہ کریں کہ (اگر فرض محال آپ نے ایسا کیا تو) اللہ کی راہ سے ہٹ جائیں گے‘‘۔
بتائیے خلافت کا تصور، جسے امت کے فقہاء نیز سیاسی مفکرین امام ماوردی سے لے کر مولانا مودودی تک "قولی تواتر" کے ساتھ بیان کرتے چلے آئے ہیں، اسکا مفہوم اسکے سواء اور کیا ہے؟ خدا نے قرآن میں اپنے نیک بندوں اور پسندیدہ قوموں کو زمین میں اقتدار عطا کرکے فیصلے کرنے کا جب ذکر کیا تو اسے بالعموم "خلافت" (خلیفہ، استخلاف) سے تعبیر کیا، اسی طرح احادیث میں بھی خلفاء کا ذکر ہوا؛ لہٰذا علماء نے اس تصور کو بیان کرنے کے لئے یہ اصطلاح استعمال کی۔ اب اگر کسی کو اس تصور کو بیان کرنے کے لئے "خلافت" کی یہ اصطلاح پسند نہیں تو وہ چاہے تو اسکے لئے اپنی طرف سے کوئی دوسرا نام رکھ لے، بھلا اصطلاح میں کیا لڑائی؟ لیکن کیا وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ "خلافت کا یہ تصور" ہی خدا کو مطلوب نہیں؟
آیت شوریٰ اور عالمی خلافت (جمہوریت)۔۔۔۔۔ خود آپ کے اصول سے دلیل
دیکھئے "امرھم شوری بینھم" کے تحت آپ دعوی کرتے ہیں کہ "جمہوریت خدا کے حکم" کا درجہ رکھتی ہے۔ غامدی صاحب اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
"پھر اِس مقام پر چونکہ قرآن مجید نے اِسے ضمیر غائب کی طرف اضافت کے سوا کسی دوسری صفت سے مخصوص نہیں کیا، اِس لیے نظام کا ہر پہلو اِس میں شامل سمجھا جائے گا۔بلدیاتی مسائل، قومی و صوبائی امور ، سیاسی و معاشرتی احکام، قانون سازی کے ضوابط ،اختیارات کا سلب و تفویض، امرا کا عزل و نصب، اجتماعی زندگی کے لیے دین کی تعبیر ،غرض نظام ریاست کے سارے معاملات اِس آیت میں بیان کیے گئے قاعدے سے متعلق ہوں گے۔ ریاست کا کوئی شعبہ اِس کے دائرے سے باہر اور کوئی حصہ اِس کے اثرات سے خالی نہ ہو گا۔" (میزان)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں "ھم" کا مصداق کون ہے؟ آپ کے اصول تفسیر کی رو سے یہاں "ھم" کا اشارہ "تمام مسلمانوں" کی طرف مانا جانا چاہیے یا کہ پاکستان، ایران یا فلسطین کے مسلمانوں کی طرف الگ الگ؟ (اس دوسری صورت میں دلیل درکار ہے)۔ توکیا خود آپ کے اصولوں کے مطابق آیت کا مطلب یہ نہیں بنا کہ مسلمانوں کی ایک "عالمی جمہوریت" ہونی چاہیے جہاں "سب مسلمانوں کے مشورے" سے ان کے حکمران چنے جائیں؟ اب دیکھیے، ان قومی ریاستوں میں تو ایسا ہرگز نہیں ہورہا؛ نیز اس جمہوریت (آپکے "نظام شوری") کے قیام کا مقصد یہی تھا نا کہ "تمام مسلمانوں" کے اجتماعی مفادات انکی اجتماعی رائے سے طے ہونا چاہئے؟ تو کیا ان قومی ریاستوں میں ایسا ہوتا ہے نیز کیا ایسا ہوسکنا ممکن ہے؟ آخر اس "ھم" کے مصداق کو جغرافیائی لکیروں ۔۔ وہ بھی ایسی لکیریں جو خود مسلمانوں نے اپنی مرضی سے نہیں کھینچیں تھیں بلکہ استعمار نے ان انکے لیے طے کیں۔۔ کا پابند بنانے کی کیا دلیل ہے کسی مفسر کے پاس؟ تو اب بتایا جائے کہ اگر "امرھم شوری بینھم" کا مطلب جمہوریت کا خدائی حکم ہے تو اسکا مطلب "عالمی جمہوریت" کا حکم کیوں نہیں؟ آپ اسے عالمی خلافت نہیں کہنا چاہتے نہ کہیں، عالمی جمہوریت کہہ لیں مگر اپنی اس دلیل کے تحت آپ اسے جمہوریت ہی کی طرح کا خدائی حکم کیوں نہیں مانتے؟ یہاں ضمیر کے مراجع طے کرکے جس ریاست کی بات ہورہی ہے "وہ ریاست" کونسی ریاست ہے، قومی یا عالمی؟ نیز یہاں جس طرز کی ریاست کی بات ہورہی ہے اس کا مزاج کس ریاست کا متقاضی ہے؟اگر "نظام" (امور ریاست) نیز "اس کے ہر پہلو" کو اس آیت سے کشید کیا جاسکتا ہے تو اس" نظام" کے معاملے میں "ھم" سے "تمام مسلمانوں کو ایک ساتھ" کیوں نہیں مراد لیا جاسکتا؟ آخر وہ کونسا قرینہ ہے جو "نظام کے ہر پہلو "کے استدلال کے لئے تو قطعی دلیل کا درجہ رکھتا ہے مگر "تمام مسلمانوں" کو مراد لینے کے لیے دلیل نہیں؟ یا تو کسی قرآنی دلیل یا قرینہ صارفہ سے یہ ثابت کردیا جائے کہ آیت شوری سے "عالمی جمہوریت" کا مفہوم نکالنا قطعا غلط ہے اور یا پھر اسے "حالیہ قوموں " تک محدود کرنے کی دلیل دے دی جائے۔ بصورت دیگر اگر کوئی اس آیت میں مراد "قوم" لینا چاہتا ہے تو یہ اسکی ذاتی رائے ہے اور بس جسکی بنیاد پر اسے یہ حق نہیں مل سکتا کہ وہ یہاں "تمام مسلمانوں کی عالمی جمہوریت" مراد لینے والوں کو غلط کہے اور ایک "خدائی حکم" کو اپنی طرف سے دین سے خارج کردے کیونکہ کوئی امر جس طرح کسی کے کھنے سے دین نہیں بن جاتا بالکل اسی طرح کسی کے کہہ دینے سے خارج بھی نہیں ہوجاتا۔ 1
اگر اس کے جواب میں کسی کا استدلال یہ ہے کہ "جہاں بھی مسلمان ایک جماعت (بشمول قوم) کی شکل میں ہیں اور معاملہ ان کی اجتماعیت سے متعلق ہے، وہاں وہ یہ بات باہمی مشورے سے طے کریں گے۔ اگر مسئلہ گلی محلے کی سطح کا ہے تو اس سطح پر طے ہوگا۔ اگر شہر کا ہے تو شہر کی سطح پر؛ اگر ملک کا ہے تو ملک کی سطح پر اور اگر پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے تو ظاہر ہے عالمی سطح پر طے ہوگا"؛ گویا "امرھم" کے الفاظ سے واضح ہے کہ جن لوگوں سے متعلق "امر" ہوگا مشاورت کا عمل انھی تک محدود ہوگا۔ اس جواب سے ہمارے یہ محترم ہمارے بہت قریب آگئے کہ اس سے اتنی بات تو معلوم ہوگئی کہ مسلمانوں کی عالمی جمہوریت نہ سہی، مگر کم از کم مثلا "ایک کنفڈریشن ٹائپ کسی شے کا قیام" تو بہرحال اس آیت کا مصداق ضرور ہے، یعنی جس سطح کا مسئلہ ہوگا اسی سطح کی مشاورت ضروری ہوگی۔ اب ’’مسائل‘‘ کی کوئی سطح ظاہر ہے مقامی ہوگی، کوئی علاقائی، تو کوئی ملکی تو کوئی اقلیمی، تو کوئی عالمی۔ غرض "ھم" کی ضمیر مسلمانوں کی طرف ہے یعنی جہاں تک ’’مسلمان‘‘ وہاں تک ’’شوریٰ‘‘۔ کوئی فرق ہو گا تو صرف مسئلہ کی سطح اور نوعیت کے لحاظ سے۔تو کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہو گیا کہ وہ امور جو مسلمانوں کے عالمی مصالح سے متعلق ہوں، ان کی بابت نیشنل سطح پر ’’فیصلے" (decision) لینا شرعاً ممنوع ہوگا؟ بے بسی اور بدنظمی میں عذر کی بات الگ ہے، اصولاً ممنوع ہوگا یا نہیں؟ کیا اس بدنظمی کے خاتمہ کی جانب پیش قدمی مستحسن ہوگی یا نہیں؟ مگر اسکا کیا کیا جائے کہ محترم غامدی صاحب تو اس دینی فریضے کے بھی قائل نہیں۔ چنانچہ اگر تھوڑی دیر کے لیے یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ روئے زمین پر مسلمانوں کے 58 انتظامی یونٹ بن جانا جائز ہے پھر بھی مسلمانوں کو اس آیت کی رو سے "ایک عالمی شوریٰ" کا پابند کیوں نہ کیا جائے؟ جس یونٹ کے مسلمان اس عالمی شوریٰ کا حصہ بننے سے انکاری ہوں، انہیں معصیت کا مرتکب کیوں نہ کہا جائے؟ اس کا حل یہ ہے کہ آپ ’’شوریٰ‘‘ کو واجب ہی قرار نہ دیں؛ لیکن اس صورت میں جمہوریت کا دینی حکم بھی خودبخود ساقط ہو جاتا ہے۔
اس پہلو پر بھی غور فرمانا چاہیے کہ غامدی صاحب اس آیت کے تحت فرماتے ہیں جب کہتے ہیں کہ "اِس مقام پر چونکہ قرآن مجید نے اِسے ضمیر غائب کی طرف اضافت کے سوا کسی دوسری صفت سے مخصوص نہیں کیا، اِس لیے نظام کا ہر پہلو اِس میں شامل سمجھا جائے گا؛ "بلدیاتی مسائل، قومی و صوبائی امور 133133 غرض نظام ریاست کے سارے معاملات اِس آیت میں بیان کیے گئے قاعدے سے متعلق ہوں گے"۔ تو یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ آخر یہاں صرف "صوبائی و قومی تک" کے معاملات آیت میں شامل ہونے جبکہ "امت" (عالمی) کے معاملات شامل نہ ہونے کی آخر کونسی دلیل ہے؟ الغرض غامدی صاحب کو تو اپنے فلسفے کے تحت سب سے آگے بڑھ کر کہنا چاہئے کہ "یہاں ضمائر کی روشنی میں یہ بات قطعی ہے کہ مسلمانوں کی کم از کم ایک کنفڈریشن کا قیام دینی فریضہ ہے جو انکے عالمی مسائل کو انکے مشورے سے نمٹا سکے"۔الغرض انکے اپنے اصول تفسیر کی رو سے یہ آیت اس معاملے میں بالکل قطعی ہے کہ "ھم" کا "امر"جس سطح کا ہوگا مشاورت بھی اسی سطح پر مطلوب ہے، اسے محدود کرنے یا ضروری نہ سمجھنے کی کوئی دلیل موجود نہیں۔ 

مسلم وحدت اور عالمی خلافت۔۔۔۔۔ آپ کی بیان کردہ نصوص کے مقاصد سے استدلال

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ قومیت کی بنیاد اسلام نہیں بلکہ جغرافیائی و تاریخی نسلی شناختیں ہوا کرتی ہیں تب بھی یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا قرآن و حدیث میں مسلمانوں کو "اخوت" کے جس رشتے میں باندھا گیا ہے اسکا کوئی "سیاسی تقاضا" بھی ہے یا نہیں؟ کیا قرآن و حدیث میں ایسی کوئی نص موجود ہے جس میں مسلمانوں کو موجودہ معنی میں "قومی وحدت" اور "قومی مفادات" کے فروغ کی پرزور تلقین کی گئی ہو؟ اسکے برعکس قرآن پلٹ پلٹ کر کہیں "امت وسط و خیر امۃ تو کہیں "اخوۃ و ملۃ" جیسی اصطلاحات "مسلم اکائی" کے لیے استعمال کرکے مسلم ذہن کو اپنی اس "بنیادی شناخت" کی طرف متوجہ کرتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح احادیث میں بھی یہ تھیم تسلسل کے ساتھ مل جاتی ہے؛ مثلاً ایک حدیث میں مسلم اکائی کو "ایک جسم" سے تشبیہ دے کر یہی بات سمجھائی گئی ہے کہ:
اخوت اسکو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستاں کا ہر پیر و جواں بیتاب ہوجائے
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث میں یہ تھیم جو اس قدر تسلسل کے ساتھ بیان ہوئی ہے، کیا یہ مسلمانوں سے کوئی سیاسی تقاضا نہیں کرتی؟ کیا قومیت کے یہ جدید تصورات ۔۔ جہاں ایک "قومی مسلم ملک" اپنے قومی مفاد میں دوسرے قومی ملک کی گویا جڑ تک کاٹنے میں مصروف ہوجاتا ہے۔۔ شارع کے بیان کردہ مطلوبہ تصور وحدت کا سیاسی اظہار ہیں؟ تو آخر یہ بات کس منطق پر کھی جارہی ہے کہ خدا مسلمانوں سے ان قومی ریاستوں سے آگے کوئی دینی تقاضا نہیں کرتا؟ فی الوقت ہم طریقے کی بحث نہیں کررہے کہ یہ کرنا کیسے ہے، بلکہ فی الوقت تو گفتگو اس پر ہے کہ اس "ذمہ داری" کو اتنی آسانی سے کوئی کس طرح مسلمانوں کے کاندھوں سے اتار کر انہیں حاضر و موجود پر راضی کرسکتا ہے؟ چنانچہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اس ضمن میں امت کے فقہاء نے نصوص کے منشا کو سمجھنے میں غلطی کہ پھر بھی سوال تو اپنی جگہ قائم ہے کہ اس معاملے میں "خدا چاہتا کیا ہے؟" یہ کہ مسلمان ایک گلوبل سرمایہ دارانہ نظم میں سرمایہ دارانہ قومی ریاستوں کی صورت میں بٹ کر سرمائے کی دوڑ میں دوسروں سے آگے بڑھ جانے کی جدوجہد میں لگے رہیں؟ فی الوقت نفس امری۔۔ جس پر آپ کو بظاہر کوئی خاص اعتراض نہیں ۔۔ تو یہی ہے۔ یا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خدا کو اس سوال سے کوئی غرض نہیں کہ مسلمانوں کو اس معاملے میں کیا کرنا چاہیے، بس جو بھی دنیا کا چلن ہو اسی پر عمل کرلو؟ اس صورت میں بھی گھوم پھر کر پہلا ہی جواب لوٹ آتا ہے۔ 

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۴)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

حد رجم اللہ کا حکم ہے

اللہ تبارک و تعالیٰ نے تو واضح الفاظ میں اپنے پیغمبر کے بارے میں فرمایا ہے:
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ (الحاقہ: 44۔46)
’’اگر وہ ہم پر کچھ باتیں گھڑ کر لگا دیتا تو ہم اسکے دائیں ہاتھ کو پکڑ لیتے ،پھر ہم اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔‘‘
یہ اللہ نے کوئی اصول بیان نہیں کیا بلکہ خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت بتلایا ہے کہ اگر یہ کوئی بات اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردیتے توہم سخت مواخذہ کرتے؛ اس آیت میں گویا اس بات کی وضاحت ہے کہ آپ نے اپنی طرف سیکوئی بات بنا کر اللہ کے ذمے نہیں لگائی۔
اس آیت کی روشنی میں آپ رجم کی احادیث دیکھ لیں؛ ان میں آپ نے ایک تو اس بات کو واضح فرمایا ہے کہ رجم کی یہ حد ان زانیوں کے لیے ہے جو شادی شدہ ہونے کے باوجود اس فعل شنیع کا ارتکاب کرتے ہیں۔ دوسرے،یہ بھی واشگاف الفاظ میں فرمایاکہ یہ سزا میں اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے دے رہاہوں؛جب سورۂ نساء کی آیت وَاللاَّتِی یَاتِینَ الفَاحِشَۃَ  میں بیان کردہ عبوری سزاے زنا ختم کرکے زنا کی مستقل سزا مقرر کی گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خذوا عنی، خذوا عنی فقد جعل اللہ لھن سبیلا (صحیح مسلم،رقم۱۶۹۰)
مجھ سے لے لو ؛مجھ سے لے لو؛مجھ سے لے لو!اللہ نے ان زانی عورتوں کے لیے راستہ بنا دیا ہے،یعنی مستقل سزا مقرر کر دی ہے۔
اور پھر آپ نے یہی دو سزائیں ،ایک غیر شادی شدہ کے لیے سوکوڑے اور شادی شدہ کے لیے رجم بیان فرمائیں؛نیز اسے ’کتاب اللہ‘کے فیصلے سے بھی تعبیر فرمایاجیسا کہ پہلے گزرچکااور مزید تفصیل آگے آرہی ہے۔
اگرہمارے پیغمبر کی یہ سزائیںیا صرف ایک سزا یرجماپنی طرف سے گھڑی ہوتی تو آپ یقیناًمواخذہ الٰہی سے محفوظ نہ رہتے؛ آپ کا اس مواخذے سے محفوظ رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ حد رجم کی یہ سزا وعدہ الٰہی کے مطابق عبوری سزا کے بعد مستقل سزا اللہ تعالیٰ ہی نے وحیِ خفی کے ذریعے مقرر فرمائی ہے؛اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نئے حکم کو بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کیا ہے۔ اور بھی بعض مواقع پر آپ نے شادی شدہ زانیوں کے لیے یہ حد رجم بیان فرمائی اور اسے کتاب اللہ کا فیصلہ قرار دیا جیسے حدیث میں ایک مزدور کے والد ایک عورت کے خاوند کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ اس کے بیٹے اس کی بیوی سے زنا کر لیاتھا؛ دونوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ یک زبان یہ کہا کہ اللہ کی کتاب کے ساتھ ہمارے درمیان فیصلہ فرمائیے! ایک نے کہا : انشدک باللہ الا قضیت لی بکتاب اللہ  (میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں کہ آپ صرف اللہ کی کتاب کے ساتھ میرا فیصلہ فرمائیں)دوسرے نے کہا: نَعَم، فَاقضِ بَینَنَا بِکِتَابِ اللَّہ ( ہاں ،ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ فرمائیں)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی باتیں سن کر فرمایا:
والذی نفسی بیدہ لاقضین بینکما بکتاب اللہ 
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ،میں یقیناًتم دونوں کے اللہ کی کتاب کے ساتھ ہی فیصلہ کروں160گا۔
پھر آپ نے فیصلہ کیا فرمایا؟ یہی کہ ’’تیرے بیٹے کو سوکوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہے اور عورت کے لیے اگر وہ اعتراف جرم کرلے تو رجم کی سزا ہے۔‘‘
چنانچہ آپ نے حضرت انس کو یہ حکم دے کر بھیجا کہ جا کر پوچھو؛ اگر عورت اعتراف کرلے تو اس کورجم کردو !حضرت انس گئے ،پوچھا تواس نے اعتراف کرلیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس کو رجم(سنگ سار)کردیاگیا۔(صحیح مسلم، الحدود، رقم ۱۶۹۸ )
اس واقعے کو دیکھ لیجیے اور عہد رسالت اور خلافت راشدہ کے عہد کے واقعات رجم کو دیکھ لیجیے!کسی واقعے میں بھی آپ کو یہ بات نہیں ملے گی کہ یہ تفتیش و تحقیق کی گئی ہو کہ زنا کا ارتکاب کرنے والا مرد یا عورت قحبہ(زناکی عادی مجرم،پیشہ ور زانی) اور غنڈہ ،اوباش (زناکا عادی مجرم)ہے؟ صرف اس امر کی تحقیق کی گئی کہ مجرم کنواراہے یا شادی شدہ؟ اس کے مطابق کوڑوں کی یا رجم کی (اگروہ شادہ شدہ ہوتا یا ہوتی)سزادی گئی۔ 

فراہی گروہ کی جراَت رندانہ یا شوخ چشمانہ جسارت 

اب یہ کہنا کہ سزایرجم الفاظ قرآن کی دلالت سے ثابت نہیں ہوتی اور ایسا کوئی استنباط یا استدلال جس کے الفاظ قرآن متحمل نہ ہوں، قطعاً جائز نہیں ہے حتیٰ کہ پیغمبر بھی ایسا کرنے کا مجاز نہیں ہے اور پیغمبر کا یہ فعل تبیین قرآنی میں نہیں آتا بلکہ یہ (نعوذ باللہ) قرآن میں تغیر اور تبدل ہے جس کا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں ہے۔
یہ فراہی ، غامدی یا اصلاحی گروہ کا موقف ہے جس کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رجم کی حد نافذ کرنا اور اسے اللہ کا حکم قرار دینا، قرآن کے خلاف اور اس سے تجاوز ہے۔
اسی طرح خلفاے راشدین سمیت پوری امت کے علما و فقہا ، ائمہ و محدثین جو شادی شدہ زانی کی حد سزاے رجم سمجھتے آئے ہیں ، غلط ہیں؛ نہ انھوں نے قرآن کو سمجھا ہے اور نہ اس سے متعلقہ حدیثی روایات کو؛اس رجم کی حقیقت کو چودہ سو سال بعد اگر کسی نے سمجھا ہے تو سب سے پہلے مولانا حمید الدین فراہی ہیں جن کی ولادت ۱۸۶۳ء اور وفات ۱۹۳۰ء کو بھارت میں ہوئی اور دیدہ دلیری کی انتہا یہ دعویٰ ہے کہ انھوں نے اس سزاے رجم کا ماخذ قرآن سے تلاش کیا ہے؛ یعنی قرآن اللہ کے پیغمبر پر نازل ہوا لیکن پیغمبر بھی یہ نہ سمجھ سکاکہ رجم کا حکم کس آیت یا آیت کے کس لفظ سے نکلتا ہے؟ صحابہ کرام بھی اس کا مبنیٰ نہ سمجھ سکے؛چودہ سو سال سے قرآن کی تفسیریں مختلف اندازسے بڑے بڑے ائمہ تفسیر و حدیث لکھتے آرہے ہیں حتیٰ کہ احکام قرآن پر بھی متعدد کتابیں لکھی گئیں جیساکہ احکام القرآن للقرطبی ، احکام القرآن لابن العربی ، احکام القرآن للجصاص ، احکام القرآن للتھانوی اور نیل المرام فی تفسیر آیات الاحکام (نواب صدیق حسن خان ) وغیرہ ہیں۔
عام تفاسیر میں بھی آیات احکام سے متعلقہ احکام ومسائل کا استنباط ہے لیکن احکام القرآن نامی تفاسیر کا تو تمام تر موضوع ہی وہ آیات ہیں جن سے احکام شرعیہ کا اثبات یا استنباط ہوتاہے ؛ان کے مفسرین و موَلفین ایک ایک آیت سے دسیوں مسائل کا استنباط و استخراج کرتے ہیں لیکن کسی عالم، فقیہ ، امام ، محدث نے آج تک یہ نہیں بتایا کہ حکم رجم کا ماخذ یہ احادیث نہیں ہیں بلکہ یہ تو غیر معتبر ہیں،رجم کا اصل ماخذ تو فلاں آیت قرآنی کا فلاں لفظ ہے حتیٰ کہ قرآن فہمی کا یہ ملکہ جو مولانا فراہی کو ملا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی (نعوذ باللہ) نصیب نہیں ہوا؛اس لیے آپ یہ تو فرماتے رہے کہ رجم کا یہ حکم اللہ کی کتاب کا فیصلہ یا اس کا حکم ہے لیکن آپ نے مولانا فراہی یا اصلاحی اور غامدی کی طرح یہ نہ بتایا کہ اس کا ماخذ قرآن کی فلاں آیت اور اس کا فلاں لفظ ہے۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ امریکا کولمبس کی دریافت ہے ،اسی طرح رجم کے ماخذ قرآنی کی دریافت ، حمید الدین الدین فراہی کا’کارنامہ‘ ہے۔
بتلائیے! اس جراَت رندانہ یا شوخ چشمانہ جسارت کو کیا کہا جائے؟ ع کاش کرتا کوئی گستاخ کا منہ بند!

عجیب و غریب تضاد یا منصب رسالت کے ساتھ مذاق؟

ہم یہ باتیں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے ہیں؛ الفاظ ضرور ہمارے ہیں لیکن غامدی صاحب نے جو خامہ فرسائی کی ہے او ر لالہ و گل بکھیرے ہیں ، ان کا خلاصہ یہی ہے ؛ان کے اپنے الفاظ ملاحظہ فرمائیے: 
’’سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۳۳۔۳۴ میں اللہ تعالیٰ نے فساد فی الارض کے مجرموں کی یہ سزا بیان کی ہے کہ انھیں بد ترین طریقے سے بھی قتل کیا جاسکتا ہے؛ سولی بھی دی جاسکتی ہے ؛ان کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب بھی کاٹے جاسکتے ہیں اور انھیں جلا وطن بھی کیا جاسکتاہے؛ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کا اطلاق اپنے زمانے کی عورتوں پر کیااور فرمایا:
مجھ سے لو ، مجھ سے لو ، مجھ سے لو ؛ اللہ نے ان عورتوں کے لیے راہ نکال دی ہے ؛اس طرح کے مجرموں میں کنوارے کنواریوں کے ساتھ ہوں گے اور انھیں سو کوڑے اور جلا وطنی کی سز ا دی جائے گی؛ اسی طرح شادی شدہ مرد وعورت بھی سزا کے لحاظ سے ساتھ ساتھ ہوں گے اور انھیں سو کوڑے اور سنگ ساری کی سزا دی جائے گی۔ (مسلم، رقم ۴۴۱۴)
آپ کا منشا یہ تھا کہ یہ عورتیں محض زنا ہی کی مجرم نہیں ہیں بلکہ اس کے ساتھ آوارہ منشی اور جنسی بے راہ روی کو اپنا معمول بنا لینے کی وجہ سے فساد فی الارض کی مجرم بھی ہیں؛ اس لییان میں سے جواپنے حالات کے لحاظ سے نرمی کی مستحق ہیں، انھیں زنا کے جرم میں سورہ ۂ نور کی آیت ۲ کے تحت سو کوڑے اور معاشرے کوان کے شر وفساد سے بچانے کے لیے ان کی اوباشی کی پاداش میں مائدہ کی آیت ۳۳ کے تحت نفی، یعنی جلاوطنی کی سزا دی جائے۔ اس طرح جن کے ساتھ کوئی نرمی برتنا ممکن نہیں ہے ، وہ اس آیت کے حکم ان یقتلوا کے تحت رجم کر دی جائیں۔‘‘
سزاے رجم کے بارے میں یہ غامدی کا موقف ہے جسے ہم نے بعینہ مکمل شکل میں پیش کردیا ہے۔ اس میں سب سے پہلے غامدی صاحب کی جراَت رندانہ کی داد دیجیے کہ انھوں نے صحیح مسلم کی حدیث ا پنے استدلال میں پیش کی ہے جس میں واضح طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کنواریاور شادی شدہ دونوں کی الگ الگ سزائیں بیان فرمائی ہیں، یعنی دو قسم کے مجرموں کے لیے ایک دوسرے سے مختلف دو سزائیں تجویز کی ہیں (جس کی تائید آپ کے عمل سے بھی ہوتی ہے) اور ان مجرموں کی نوعیت بھی واضح کردی ہے کہ ایک نوعیت کنوارے کی ہے اور دوسرے کی نوعیت شادی شدہ کی ہے۔حدیث میں کوئی ابہام یا خفا نہیں ہے اور جرم کی نوعیت میں بھی کوئی ابہام نہیں ہے، یعنی وہ صرف اور صرف زنا ہے؛ اس کے علاوہ حدیث میں کوئی اشارہ ایسا نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ زنا کرنے والی عورت اگر زنا کی عادی اور پیشہ کرانے والی، یعنی قحبہ ہوتو پھر رجم کی سزا دی جائے گی اوراگر وہ قحبہ نہ ہو ، یعنی آوارہ منش اور اوباش نہ ہو تو اس کو صرف کوڑوں کی سزا دی جاے گی۔لیکن غامدی صاحب بیان تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کر رہے ہیں لیکن آپ کے ذمے وہ بات لگا رہے ہیں جو اس فرمان کے کسی لفظ سے نہیں نکلتی ؛اسی طرح حدیث میں زانی مرد ہو یا عورت ، دونوں کے لیے سزا کا بیان ہے لیکن غامدی صاحب اس کا اطلاق صرف زانیہ پرکر رہے ہیں،یعنی آپ نے اس میں زانیہ کی سزا بیان کی ہے۔
نبی نے تو کوئی حدیث اپنی طرف سے گھڑ کر آپ کی طرف منسوب کرنے پر جہنم کی شدید وعید بیان فرمائی ہے ؛غامدی صاحب کا جرم تو اس سے بھی شدید تر ہے کہ آپ کی حدیث بیان کر کے اپنا من گھڑت نظریہ آپ کے ذمے لگا رہے ہیں جس کا اس حدیث میں کوئی اشارہ تک موجود نہیں ہے: ع چہ دلاور است د زدے کہ بہ کف چراغ دارد
وہ بات ان کو بہت اچھی لگی ہے	
’ساری حدیث ‘میں جس کا کوئی ذکر نہیں ہے
موصوف حدیث مذکورہ بیان کر کے کتنی بے باکی سے کہتے ہیں:
’’آپ کا منشا یہ تھا کہ یہ عورتیں چوں کہ محض زنا ہی کی مجرم نہیں ہیں بلکہ آوارہ منشی اور جنسی بے راہ روی کو اپنا معمول بنالینے کی وجہ سے فساد فی الارض کی مجرم بھی ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘
سوال یہ ہے کہ نبی کایہ منشا آپ کو کس طرح معلوم ہوا؟ حدیث میں تو اس کا کوئی قرینہ اور اشارہ نہیں ہے؛کیا آپ کو وحی کے ذریعے بتلایا گیاہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ اوباشی، آوارہ منشی ،غنڈہ گردی یا جنسی بے راہ روی کی کوئی الگ سزا کااسلام میں کوئی تصور ہے؟ اسلامی لٹریچر میں حدود وتعزیرات پرجو کتابیں تحریر کی گئی ہیںیا احادیث کی کتابوں میں حدود کے ابواب ہیںیا مفسرین نے آیات حدود کی جو تفسیریں کی ہیں، کیا کہیں بھی اوباشی وآوارہ منشی کی کوئی سزا کسی نے بیان کی ہے؟ 
قرآن مجید میں یقیناًآیت محاربہ موجود ہے اور اس کے مرتکبین کو جمع کے صیغے کیساتھ ذکر کیا گیا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس میں ایسے منظم جتھے یا ٹولے کا ذکر ہے جو اسلامی حکومت کے خلاف باغیانہ سر گرمیوں میں ملوث ہو یا لوگوں کے جان و مال کے لوٹنے اورقتل و غارت گری کے مرتکب ہوں ، ان کے لیے یہ چارسزائیں بیان کی گئی ہیں کہ خلیفہ وقت اس ٹولے کے جرائم کے مطابق ان میں سے کوئی بھی ایک سزا ان کو دے سکتا ہے لیکن فراہی گروہ سے پہلے کسی مفسر، کسی فقیہ ،کسی امام اور عالم نے اس محاربہ کے مرتکبین میں زنا کے مرتکبین کو بھی شامل نہیں کیا ؛کیوں؟اس لیے کہ زنا کاری تو ایک خفیہ کاروائی ہے؛اس سے فساد فی الارض کس طرح برپا ہوگا؟فسادفی الارض تو ایسے منظم جتھے سے پھیلتا ہے جس کے پاس کچھ قوت و طاقت ہوجس کی وجہ سے وہ حکومت کے لیے یا عوام کے جان و مال کے لیے چیلنج بن جائے۔ ہمارے ملک میں قحبہ خانے کھلے ہوئے ہیں ؛وہاں پیشہ ور عورتیں بدکاری کرواتی ہیں؛مرد بھی وہاں جاکر اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں؛ایسے لوگوں کو نہ اوباش اور آوارہ منش کہا جاتا ہے اور نہ ان سے زمین میں فساد پھیلتا ہے ؛پھر ان کو محاربین قرار دے کر کس طرح ان پر محاربہ کی سزا نافذ کی جاسکتی ہے؟
خیال رہے قحبہ عورتیں غارت گر دین و ایمان یقیناًہیں؛ رہ زن تمکین وہوش بھی ہیں؛علاوہ ازیں اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے ان کا عملِ بدکاری زمین میں فساد اور بگاڑ کا بھی یقیناًباعث ہے جس کی اجازت ایک اسلامی ملک میں نہیں دی جاسکتی لیکن محاربین کا فساد فی الارض اور نوعیت کا ہے ؛اس سے ملک میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوجاتا؛راستے پرخطر ہو جاتے ہیں؛حکومت کم زور ہو توملک کی سالمیت و بقا بھی داو پر لگ جاتی ہے؛اسی لیے اس جرم کی سخت سزا مقرر کی گئی ہے۔ اس کے برعکس گناہوں اور معصیت کاری سے جو فساد فی الارض رونما ہوتا ہے،اس کی نوعیت حرابے کے فساد سے یک سر مختلف ہے ؛اسی لیے شریعت نے اندونوں فسادوں کا حکم ایک ہی بیان نہیں کیا ہے۔ 
پھر سب سے بڑھ کر سوال یہ ہے کہ محاربہ کی سزا رجم آج سے پہلے کس نے بیان کی ہے؟یہ کہنا کہ ’تقتیل‘مبالغے کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے :برے طریقے سے قتل کرنا ،اس لیے رجم بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے لیکن یہ گروہ عرب کے جاہلی ادب کو قرآن فہمی میں سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے ؛جاہلی ادب سے کوئی ایک مثال پیش کر کے دکھائے کہ کسی شاعر نے یا کسی بڑے ادیب نے ’تقتیل‘کو رجم کے معنی میں استعمال کیا ہے۔
محض ایک گروہ کے تحکم اور دھاندلی سے تو ’تقتیل‘کا معنی رجم نہیں ہو سکتا؛یہ قرآن کا لفظ ہے جسے چودہ سو سال سے علما،فقہا اور ائمہ و محدثین پڑھتے اور اس کی تفسیرووضاحت کرتے آئے ہیں؛ آخر کس نے اس کا معنی رجم کیا ہے؟یا یہ کہا ہے کہ اس کے مفہوم میں رجم بھی آسکتا ہے؟ اسی طرح یہ عربی زبان کا لفظ ہے؛عربی لغت میں ،عرب کے اہل کلام میں، عرب کے دیوان جا ہلیت میں اس کا معنی کسی نے رجم کیا ہے یا رجم کو اس کے مفہوم میں شامل کیا ہے؟
پھر ان سب سے بڑھ کریہ سوال ہے کہ قرآن میں معنوی تحریف کرکے شریعت سازی کا حق اس گروہ کو کیسے حاصل ہو گیا؟ اَن یْقَتَّلْوا  کے مفہوم میں رجم کو شامل کرنا قرآن میں تحریف معنوی ہے اور اس تحریف معنوی کی بنیاد پر اسلام میں اوباشی اور آوارہ منشی کی ایک نئی سز امقرر کرنا شریعت سازی نہیں تو اور کیا ہے؟ اس کو تشریح و تفسیر تو نہیں کہا جاسکتا؛ کسی لفظ کی تشریح میں ایک شرعی حکم کا ایجاد کرنا تشریح نہیں ، شریعت سازی کہلائے گا۔
زانی او زانیہ کا چاہے وہ زنا کے کتنے عادی ہوں ، اول تو بالعموم عادی یا غیر عادی کا پتا چلانا ہی مشکل ہے ؛ اگر پتاچل بھی جائے تو اس کونہ محارب کہا جاتا ہے ،نہ سمجھا جاتا ہے اور نہ کسی نے عادی زانی کے کے لیے رجم کی سزا تجویزکی ہے ؛ پھر ستم بالاے ستم، اسے قرآنی سزا کہنا ایسی شوخ چشمانہ جسارت ہے جس کی جراَت چودہ سو سال کی تاریخ میں کسی کو نہیں ہوئی۔ اسی لیے ہم پورے یقین و اذعان سے کہتے ہیں کہ فراہی گروہ کی یہ جسارت قرا?ن کریم کی معنوی تحریف بھی ہے جو یہودیانہ تلبیس کاری ہے اور شریعت سازی بھی ہے جس کا حق اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کوحاصل نہیں۔ 

شریعت سازی کا حق ابو بکر و عمر کو نہیں تو فراہی گروہ کو کیسے حاصل ہوگیا؟

غامدی صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں کہ شریعت سازی کا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کوحاصل نہیں حتیٰ کہ حضرت ابو بکر و عمر کو بھی یہ حق حاصل نہیں؛ چناں چہ وہ شراب کی حدچالیس کوڑے کو پہلے تو حضرت ابو بکر کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے دور خلافت میں مقرر کی؛ پھر کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے اپنے دور خلافت میں یہ دیکھا کہ لوگ اس جرم سے باز نہیں آتے تو اس کواسی کوڑے میں بدل دیا ؛ پھر ابن رْشد کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’جمہور کا مذہب اس معاملے میں صحابہ کرام کے ساتھ سیدنا فاروق کی مشاورت پر مبنی ہے جو اس وقت ہوئی جب ان کے زمانے میں لوگ کچھ زیادہ شراب پینے لگے اور سیدنا علی نے مشورہ دیا کہ حد قذف پر قیاس کرتے ہوئے اس کی سزا بھی اسی کوڑے مقرر کر دی جائے؛ چناں چہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس کے استدلال میں انھوں نے فرمایا:یہ جب پیے گا تو مدہوش ہوگا اور مدہوش ہوگا تو بکواس کرے گا اور بکواس کرے گا تو دوسروں پر جھوٹی تہمتیں بھی لگائے گا۔(بدایۃ المجتہد ۲/۳۳۲)
ابن رشد کا یہ اقتباس نقل کر کے غامدی صاحب فرماتے ہیں:
’’اس سے واضح ہے کہ یہ (سزا) ہر گز شریعت نہیں ہوسکتی؛اس زمین پر قیامت تک کے لیے یہ حق صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے کہ وہ کسی چیز کو شریعت قرار دیں اور جب ان سے کوئی چیز شریعت قرار پاجائے توپھر صدیق و فاروق بھی اس میں تغیر و تبدل نہیں کرسکتے۔یہ (سزا) اگر شریعت ہوتی تو نہ سیدنا صدیق اسے چالیس کوڑوں میں تبدیل کرتے ،نہ سیدنا فاروق ان چالیس کو اسی میں بدلتے؛ اس صورت میں یہ حق ان میں سے کسی کو بھی حاصل نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔چناں چہ ہم پورے اطمینان کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی حد نہیں ہے بلکہ محض تعزیر ہے جس سے مسلمانوں کا نظم اجتماعی (حکمران ) اگر چاہے تو بر قرار رکھ سکتا ہے اور چاہے تو اپنے حالات کے لحاظ سے اس میں تغیر و تبدل کر سکتا ہے۔‘‘ (برہان، ص 1۱۳۸، ۱۳۹، طبع پنجم)
اس پورے اقتبا س کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شرابی کو صرف زدو کو ب کیا گیا ہے، کوڑے نہیں مارے گئے ؛ سب سے پہلے سیدنا ابو بکر صدیق نے ۴۰ کوڑے مارے، پھر حضرت عمر نے ۴۰ کو ۸۰ کوڑوں میں بدل دیا، لہٰذا معلوم ہوا کہ شراب نوشی کی حدچالیس کوڑے نہیں ہے بلکہ یہ کوڑے تغیری سزا ہے جو حاکم وقت کی صواب دید پر منحصر ہے ؛وہ کوئی بھی سزا دے سکتا ہے۔
شراب نوشی کی سزا کو حد شرعی سے خارج کرنے کے لیے غامدی صاحب نے پہلے تو ان صحیح احادیث کا ذکر نہ کرکے گویا ان کا رد کردیا ہے جن میں صراحت ہے کہ ۴۰ کوڑوں کی یہ سزا خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ؛چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپ نے اس کو دو چھڑیوں کے ساتھ تقریباًچالیس کوڑے لگائے؛ اسی روایت میں آگے ہے کہ ابو بکر نے بھی ایساہی کیا، پھر جب عمر کا دور آیا تو انھوں نے لوگوں سے مشورہ کیا؛ عبدالرحمان (بن عوف) نے کہا:سب سے ہلکی حد ۸۰ کوڑے ہیں؛ چناں چہ عمر نے اسی کا حکم دیا۔ (صحیح مسلم، رقم ۱۷۰۶)
اسی مسلم میں یہ واقعہ بھی مذکور ہے کہ حضرت عثمان کی خلافت میں حضرت ولید کو لایا گیاجن کی شراب نوشی پر دو شخصوں نے گواہی دی۔ حضرت عثمان نے حضرت علی سے کہا :اٹھیے!اور اس کو کوڑے ماریے ! حضرت علی نے حضرت حسن کو کہا : اے حسن ! اٹھ اور اس کو کوڑے مار ! حضرت حسن نے کہا : یہ ناخوش گوار کام بھی وہ ہی کرے جو اس حکومت سے فائدہ اٹھا رہا ہے؛گویا انھوں نے ناراضی کا اظہار کیا۔ حضرت عثمان نے حضرت عبداللہ بن جعفر سے کہا: آپ اسے کوڑے ماریے! چناں چہ انھوں نے کوڑے مارنے شروع کیے؛ حضرت علی گنتے رہے تو جب چالیس کوڑے پورے ہوگئے تو حضرت علی نے کہا: بس اب رک جائیں؛ پھر کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے مارے، حضرت ابو بکر نے بھی چالیس مارے، اور عمر نے ۸۰ مارے، اور سب سنت ہیں اور یہ مجھے زیادہ محبوب ہیں۔(صحیح مسلم، رقم ۱۷۰۷)
ان دونوں روایتوں میں صراحت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق نے شراب نوش پر جو حد جاری کی، وہ چالیس کوڑے تھی تاہم عہد رسالت کے بعض واقعات میں صرف زدو کو ب کرنے کا بھی ذکر ہے، کوڑے مارنے کا نہیں؛ اس کی بابت علما نے وضاحت کی ہے کہ یہ واقعات اس کی حد مقرر کرنے سے پہلے کے ہیں لیکن بعد میں مذکورہ حد مقرر کر دی گئی جس پر حضرت ابوبکر کے دور میں بھی عمل کیا گیا۔ حضرت عمر نے چالیس کے بجائے ۸۰ کر دیے اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ انھوں نے اس کو حد نہیں سمجھا بلکہ اس اضافے کی وجہ بھی خود غامدی صاحب کے نقل کردہ اقتباس میں موجود ہے کہ ان کے دور میں اس سزا کو ناکافی سمجھتے ہوئے شراب نوشی میں اضافہ ہوگیا تھا جس کے سد باب کے لیے حضرت عمر نے اس سزا کو دو گنا کردیا جس کا مطلب یہ تھا کہ چالیس تو حد شرعی ہے اور مزید چالیس یہ بہ طور تغیر ہے تاکہ لوگ اس جرم سے بعض رہیں۔
علاوہ ازیں حضرت عمر کے اس اقدام پر کسی صحابی نے بھی نکیر نہیں کی اور حضرت علی نے بھی اسے سنت ہی سے تعبیر کیا کیوں کہ یہ اضافہ خلیفہ راشد نے کیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین۔ (الحدیث)
حضرت عمر کا یہ اضافہ بھی سنت ہی کہلائے گا؛ حضرت عمر کے اس اقدام کی وجہ سے شراب نوشی کی حد،حدنہیں رہے گی بلکہ تعزیر بن جائے گی ، ایسا سمجھنا یا باور کرانا یک سر غلط ہے، تاہم دونوں صورتیں سنت ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ اصل حدچالیس کوڑے ہی ہے اور اگر تادیب و تنبیہ کے طور پر اس میں اضافے کی ضرورت محسوس کی جائے تو ۸۰ کوڑے بھی مارے جاسکتے ہیں اور یہ بھی سنت ہی ہوں گے۔

انکار حدیث کا مطلب اور فراہی گروہ کی حیثیت

اس تفصیل سے یہ بات تو واضح ہوئی کہ غامدی صاحب کا یہ دعویٰ کہ حدیث کے بارے میں ان کے موقف اور ائمہ سلف کے موقف میں بال برابر بھی فرق نہیں ،سراسر جھوٹ اور فریب ہے۔ائمہ سلف کا شیوہ یہ کبھی نہیں رہا کہ وہ پہلے اپنے طور پر ایک نظر یہ گھڑیں ، پھر اس کی تائید میں کیسی بھی روایت مل جائے ، چاہے وہ یک سر ضعیف ہی ہو ، وہ اس کو قبول کر لیں اور خودساختہ نظریہ کے خلاف ہو، اس کو رد کردیں ؛یہ رویہ ان کا نہیں ، منکرین حدیث کا ہے۔ جن کو منکرین حدیث قرار دیا جاتا ہے، یہ نہیں ہے کہ وہ حدیث کو بالکل نہیں مانتے ؛ان کی کتابیں دیکھ لیجیے، وہ بھی احادیث سے استدلال کرتے اور ان کو پیش کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کو منکرین حدیث سمجھا اور کہا جاتا ہے ؛ کیوں ؟اس کی تین وجوہ ہیں :
پہلی یہ کہ حدیث کو ماخذ شریعت نہیں سمجھتے اور وہ اس کی تشریعی حیثیت کے منکر ہیں۔ 
دوسری، وہ حدیث کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلاتے اور اس کی عدم محفوظیت کے دعوے کرتے ہیں۔
تیسری وجہ ،حسب ضرورت وہ ہر گری پڑی روایت کو تو اپنا لیتے ہیں کہ اس سے ان کے خود ساختہ نظریات کو کچھ سہارا میسر آ جا تا ہے، لیکن صحیح روایا ت کو وہ پرکا ہ کے برابر بھی حیثیت دینے کے لیے تیار نہیں جیسے غامدی صاحب نے ’بدایۃ المجتہد‘ کے حوالے سے حضرت علی کا جو اثر نقل کیا ہے ، وہ معضل (منقطع) ہے اور منکر بھی ہے ؛ اس کے معنی میں بھی نکارت ہے ، اس لیے کہ ہذیان گوئی تو بے ارادہ ہوتی ہے اور افترا تو وہ ہے جو عمداً ہو، اس لیے ۸۰ کوڑوں کے لیے یہ معقول دلیل نہیں ہے۔
آپ سرسید سے لے کر غلام احمد پر ویز تک دیکھ لیجیے ، ان کے افکار ونظریات اور ان کے لٹریچر میں یہ تینوں باتیں نمایاں طور پر ملیں گی اور ہمیں یہ کہتے ہوئے نہایت دکھ اور افسوس ہو رہا ہے کہ فراہی گروہ کے اکابر و اصاغر سب کا رویہ بھی حدیث کے بارے میں بالکل یہی ہے ؛ یک سر مو فرق نہیں ہے۔

حدیث اور ائمہ سلف کا طرز فکروعمل 

ائمہ سلف کا رویہ حدیث کے بارے میں کیا رہا ہے اور اب بھی ان کے پیرو کار اہل اسلام کا رویہ کیا ہے؟
1۔ وہ یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے کوئی نظریہ گھڑ کر دلائل تلاش نہیں کرتے بلکہ قرآن کریم اور اس کی قولی اور عملی تفسیر، حدیث نبوی سے جو کچھ ملتا اور ثابت ہوتاہے ، اس کو وہ حرز جان اور آویزہ گوش بنا لیتے ہیں اور اس پر عمل کو دین و دنیا کی سعادت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
2۔ دوسرے نمبر پر ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ نے قرآن کی حفاظت فرمائی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اس قرآن کے اجمال کی تفصیل اور اس کے عموم کی تخصیص کرنے والی احادیث کو بھی محفوظ کردیا ہے کیوں کہ اس کے بغیر قرآن کی حفاظت کا مقصد ہی پورا نہ ہوتا؛جب اس کا سمجھنا ہی مشکل بلکہ ناممکن ہوتا تو اس کو محفوظ کردینے سے کیا ہوتا؟اس کی محفوظیت کا فائدہ تو تب ہی ہے جب اس کی تبیین بھی محفوظ ہوتی جس کوحدیث کہا جاتا ہے؛اس لیے اہل اسلام کا بجا طور پر یہ عقیدہ ہے کہ حدیث رسول بھی الحمداللہ اسی طرح محفوظ ہے۔
3۔ تیسرے ، حدیث رسول کے محفوظ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جن محدثین نے ان احادیث کو جمع اور مدون کیا ہے، انھوں نے اپنے طور پر چھان پھٹک اور نقد و تحقیق کے بعد احادیث کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے تاہم نقد و تحقیق میں کچھ نے تو نہایت اعلیٰ معیار سے کام لیا ہے جس کی وجہ سے ان کا مجموعہ احادیث اصح الکتب بعد کتاب اللہ کا درجہ پاگیا جیسے صحیح بخاری ہے اور اس کے بعد صحیح مسلم ہے؛ان دونوں کی صحت بلکہ اصحیت امت مسلمہ میں مسلم اور متفق علیہ ہیں؛ اسی لیے ان کو صحیحین (صحیح حدیث کی دو کتابیں)کہا جاتا ہے؛چناں چہ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں:
اما الصحیحان: فقد اتفق المحدثون علی ان جمیع ما فیھما من المتصل المرفوع صحیح بالقطع وانھما متواتران الی مصنفیھما و انہ کل من یھون امرھما فھو مبتدع متبع غیر سبیل المومنین
’’صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی بابت محدثین کا اتفاق ہے کہ ان میں جتنی بھی متصل مرفوع احادیث ہیں، وہ قطعی طور پر صحیح ہیں اور وہ اپنے مصنفین تک متواتر ہیں ؛نیز یہ کہ جو شخص بھی ان دونوں مجموعہ ہاے حدیث کی شان گھٹا تا ہے ،وہ بدعتی ہے اور مومنوں کا راستا چھوڑ کر کسی اور راستے کا پیرو کار ہے۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ ۱/۱۳۴،طبع لاہور)
4۔ چوتھی بات یہ کہ محدثین نے نقد وتحقیق کے اصول و قواعد اورجرح وتعدیل کے ضوابط مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ راویان احادیث کے مکمل حالات زندگی بھی جمع اور مرتب فرمائے ہیں؛ ان دونوں قسم کے علوم کو اصول حدیث اور اسماء الرجال کہا جاتا ہے۔ ان دونوں بے مثال علوم کی کتابوں سے احادیث کی نقد و تحقیق کا کام ہر وقت کیا جا سکتا ہے اور یہ کام اب تک جاری بھی ہے؛ چناں چہ انھی اصولوں کی روشنی میں سنن اربعہ(ابوداود،ابن ماجہ، نسائی اور ترمذی) کی روایات کی چھان پھٹک اس دور میں ہوئی ؛ مسند احمد اور الجامع الصغیر اور دیگر کئی کتب کو چھانا اور پھٹکا گیا ہے اور صحیح و ضعیف کو الگ الگ کردیاگیا ہے۔
5۔ اہل اسلام حدیث کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار نہیں ہیں بلکہ نقد و تحقیق حدیث کے محدثانہ اصول و ضوابط کی روشنی میں جو احادیث پایہ ثبوت کو پہنچتی ہیں، ان کو تسلیم اور جو ان کے معیار صحت پر پوری نہیں اترتی، ان کو رد کر دیتے ہیں۔
6۔ اہل اسلام احادیث کے اس ذخیرے کو مجموعہ رطب ویابس قرار دے کر یہ نہیں کہتے : ’ایں دفتر بے معنی ،غرق مےِ ناب اولیٰ‘ بلکہ اس کی غواصی کر کے اس سے لولو ولالہ نکالنے کی جستجو کرتے رہتے ہیں اور یہ غواصی الل ٹپ نہیں ہوتی بلکہ انھی بے مثال اصولوں کی روشنی میں ہوتی ہے جو محدثین نے وضع اور مرتب کیے ہیں ؛ رحمھم اللہ وشکر مساعیھم.

خود ساختہ نظریہ رجم کی بے ثباتی اور شریعت سازوں کی بے چارگی 

غامدی صاحب کے انداز تحقیق سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کارویہ منکرین حدیث کے رویے سے مختلف نہیں ہے؛ انھوں نے شراب نوشی کے بارے میں یہ نظریہ گھڑا کہ اس کی کوئی حد مقرر نہیں ہے بلکہ اس میں تعزیر ہے؛اس کے لیے انھوں نے صحیح حدیثیں نظر انداز کردیں اور حضرت علی کی طرف منسوب بے بنیاد قول کو مدارِ استدلال بنا لیا جس کا ترجمہ خود انھوں نے کیا ہے: ’’چناں چہ بیان کیا جاتا ہے۔‘‘ اس کے عربی الفاظ ہیں : کما قیل عنہ اور قیل کے ساتھ جو بیان کیا جاتا ہے، اس کی حیثیت خود غامدی صاحب کی زبان سے سنیے!
وہ اپنے خلاف ایک تنقیدی مضمون کے جواب میں لکھتے ہیں:
’’خود مصنف نے اسے قیل کے ساتھ ذکر کیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کسی مجہول شخص کی رائے ہے جس کے بارے میں کچھ میں کہاجاسکتا کہ کون تھا اور کہاں اس نے یہ معنی بیان کیے تھے۔‘‘ (برہان، ص ۲۸۴)
اسی طرح حدّ رجم کا معاملہ ہے؛ انھوں نے یا ان کے اکابر نے یہ نظریہ گھڑا کہ یہ شادی شدہ زانی کی حد نہیں ہے بلکہ ہر قسم کے زانی کی ایک ہی حد ہے اور وہ ہے سو کوڑے ؛چناں چہ انھوں نے اس سے متعلقہ تمام صحیح روایات کی تغلیط و تردید کو اپنا مشن بنالیا اور آیت محاربہ میں لفظ’ تقتیل‘سے اوباش قسم کے زانی مرد اور زانی عورت کے لیے رجم کی سزا کا استنباط فرمایالیکن : ع ’کیابنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے‘کے مصداق بے چارے ہاتھ پیر مار رہے ہیں لیکن سوائے نامرادی و ناکامی کے کچھ حاصل نہیں ہورہااور نہ ان شا ء اللہ حاصل ہی ہوگا؛اس لیے کہ اسلاف اور امت کے اجماع سے ہٹ کر جو بھی اپنی الگ راہ اپنائے گا، ذلت اور رسوائی کے سوا اس کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا: 
وَمَن یْشَاقِقِ الرَّسْولَ مِن بَعدِ مَا تَبَیّنَ لَہ الھْدَی وَیَتَّبِع غَیرَ سَبِیلِ المْومِنِینَ نْوَلِِّہ مَا تَوَلَّی۔۔۔..(النساء 4:115)
چناں چہ رجم کے بارے میں غامدی صاحب کی بے چارگی قابل دید ہے؛ جب ان پر یہ واضح کیا گیا کہ ’تقتیل‘ کے لفظ یا اس کے مفہوم میں رجم کسی طرح بھی شامل نہیں ہوسکتا تو بالآخر یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے کہ وحیِ خفی کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا کہ ’ تقتیل‘ کے مفہوم میں رجم بھی شامل ہے، لیکن یہاں پھر یہ سوال منہ کھولے سامنے آکھڑا ہوا کہ جناب من! آپ تو یہ بات ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحیِ خفی سے کوئی ایسا حکم دے سکتے ہیں جو قرآن میں نہ ہو؛ آپ کے نزدیک تو ایسا حکم قرآن میں تغیر و تبدل ہے جس کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے ؛ توکیا قرآن کے لفظ ’ تقتیل‘ سے رجم مراد لینا جس کا ذکر قرآن میں نہیں ہے، قرآن میں تغیر و تبدل نہیں ہے؟ یا شریعت سازی نہیں ہے؟ شریعت سازی کا یہ حق صدیق و عمرکے لیے آپ نہیں مانتے تو آپ کے امام اول اور آپ کو شریعت سازی کایہ حق کیسے حاصل ہوگیا؟ 
(جاری)

الشریعہ اکادمی میں دورۂ تفسیر قرآن

مولانا وقار احمد

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ مولانا زاہد الراشدی کی زیر نگرانی گذشتہ پچیس سال سے کام کر رہی ہیں۔الشریعہ اکیڈیمی نے مذہبی حلقوں میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ انہیں معاشرے میں دینی و دنیاوی طبقات میں تفریق کو ختم کرنے اور اسلام کے پیغام کا مؤثر انداز میں ابلاغ کرنے کے لیے عصر حاضر کے اسلوب، مناہج اور طریقہ کار سے آگاہی حاصل کر نے کی اشد ضرورت ہے۔ ۷۰ء کی دہائی کے بعد مخصوص عوامل کے تحت پاکستان میں شدت پسندی اور عدم برداشت کی فضاء کو فروغ ملا ہے اور بہت سے حلقوں کو غیر شعوری طور پر اس کے لیے استعمال بھی کیا گیا۔ اس حوالے سے الشریعہ کے متوازن طرز فکر نے نوجوان اہل علم کو سوچنے پر مجبور کیا اور فکری میدان میں اس شدت پسندی کے سد باب کے لیے قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ 
الشریعہ کا بنیادی میدان فکری تربیت اور تعلیمی نظام میں اصطلاحات ہے اور اکادمی کا زیادہ تر کام بھی انہی دائروں میں ہے ۔ نظام تعلیم میں تبدیلی کے عصری تقاضوں کی تفہیم کے لیے مولانا زاہد الراشدی نے ایک طویل جدوجہد کی ہے جس کے اثرات بعض نئے بننے والے مدارس کے رجحانات میں واضح نظر آتے ہیں۔ 

اکادمی کا دورۂ تفسیر 

۲۰۱۱ء میں الشریعہ اکادمی میں دورہ تفسیر کا آغاز کیا گیا جس کی اب تک چار کلاسیں ہو چکی ہیں۔ اس دورہ سے استفادہ کرنے والوں میں مدارس کے اساتذہ، سکول وکالج کے اساتذہ اور مدارس کے منتہی درجات کے طلباء شامل ہیں۔ اس کلاس کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: 
۱۔ترجمہ و تفسیر 
۲۔ مختلف قرآنی موضوعات پر سلسلہ محاضرات 
یہ دورہ تفسیر امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر ؒ کے جاری کردہ دورۂ تفسیر کا تسلسل ہی ہے جو انہوں نے جامعہ نصرۃ العلوم میں شروع کیا تھا اور ان کی وفات سے چند سال پہلے ان کے ضعف و کمزوری کی وجہ سے منقطع ہوا۔ اس دورہ میں کچھ مزید اصلاحات کے ساتھ کافی حد تک انھی کے انداز کی پیروی کی جاتی ہے۔ دورہ تفسیر کے تقریباً سبھی اساتذہ امام اہل سنت ؒ کے شاگرد ہیں اور تفسیر کے باب میں ان کے فیض یافتہ ہیں۔ ان اساتذہ کرام کی کچھ انفرادی خوبیاں حسب ذیل ہیں ۔ 

شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم 

مولانا زاہد الراشدی کے درس تفسیر کی خوبیوں میں سے ایک اہم خوبی جدید ذہن کے پیدا کردہ اشکالات اور ان کا جواب ہے۔ مولانا مولانا ان اشکالات کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور حقیقی صورت حال کو واضح کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک کے معروف قانون دان ایس ایم ظفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں :
’’اقوام متحدہ کے معاہدات اور ہدایات کی پابندی کے لیے انہوں نے قرآنی حکم یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ (المائدۃ: ۱) اور خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ (الاعراف: ۱۹۹) سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کا عرف اقوام متحدہ کا قانون ہے۔ ‘‘
قرآن حکیم میں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے معاملات بما انزل اللہ کی بنیاد پر طے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن حکیم میں ہے: وَ اَنِ احْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُمْ (المائدۃ: ۴۹)
اب اس آیت کریمہ پر متعدد اعتراضات مغرب کی طرف سے کیے گئے ہیں۔ ان اعتراضات میں سے ایک "وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُم" پر بھی ہے۔ مولانا راشدی اس کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں: 
’’لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُم  کی بھی حد ہے۔ کیا سوسائٹی کی ہر خواہش کی ہم نفی کر دیں گے؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ بلکہ سوسائٹی کی جو خواہش حق کے مقابلے پر ہوگی،وہ رد کر دی جائے گی۔ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُمْ عَمَّا جَآءَ کَ مِنَ الْحَق۔ فقہی اصطلاح میں ہم یوں کہتے ہیں کہ منصوصات کے مقابلے میں سوسائٹی کی خواہشات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ہاں، اگر منصوصات کے خلاف کوئی خواہش نہیں ہے تو ٹھیک ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سوسائٹی کی کوئی بات ماننی ہی نہیں۔ بد قسمتی سے ہم بھی اس معاملے میں دوسری انتہا پر چلے جاتے ہیں۔ قرآن نے خود یہ حد بیان کر دی کہ آپ کے پاس جو وحی آ گئی، جو نصوص قطعیہ آ گئیں، ان معاملات میں سوسائٹی کی خواہشات کی پیروی نہیں ہوگی۔ اگر سوسائٹی قرآن وسنت کے کسی فیصلہ کے مقابلے پر آتی ہے تو اس کی بات رد ہوجائے گی۔ باقی جو معاملات ہیں ان میں سوسائٹی کا حق ہے، وہ جیسے چاہے کرے۔‘‘

مولانا ظفر فیاض صاحب 

مولانا ظفر فیاض صاحب مدرسہ نصرۃ العلوم کے فاضل اور استاذ حدیث ہیں۔ مولانا نے تفسیر کئی بار شیخ مولانا سرفراز خان صفدرؒ سے پڑھی اور مفسر قرآن مولانا عبد الحمید خان سواتی اور شیخ عبد القیوم ہزاروی سے بھی طویل عرصہ تک استفادہ کیا ہے۔ مولانا نے شیخ مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے درس تفسیر کی کاپی بھی لکھی ہے۔ مولانا تفسیر پڑھانے میں شیخ صفدرؒ کے منہج کی پیروی کرتے ہیں۔ مولانا کے درس کے امتیازی خصائص درج ذیل ہیں: 
۱۔ مولانا طوالت کلامی سے بچتے ہوئے انتہائی اختصار کے ساتھ مباحث قرآنیہ کو پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
۲۔ مولانا دورہ تفسیر کے درس میں یہ کوشش کرتے ہیں کہ طلباء کو لفظی و بامحاورہ ترجمہ کرنے کی صلاحیت حاصل ہو جائے۔ اس وجہ سے وہ ترجمہ پر خاص توجہ دیتے ہوئے مختلف انداز سے ترجمہ کرتے ہیں، لفظی ترجمہ ، بامحاورہ ترجمہ، محاورے کا ترجمہ اردو یا پنجابی کے محاورے میں ، وغیرہ ، ترجمہ کے لیے وہ شیخ صفدر کے نوٹس اور مولانا سواتی کے ترجمہ و تفسیر سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ 
۳۔ مولانا ظفر فیاض صاحب قرآن حکیم سے مختلف مسلم گروہوں کے استدلالات کو ذکر کر کے قوی رائے کو بیان کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ طلباء کو پرزور تاکید کرتے ہیں کہ جس رائے پر آپ کو شرح صدر ہے، یا جس شیخ پر آپ کو اعتماد ہے، مضبوطی سے اس رائے پر قائم رہو، مگر دوسرے کو نہ چھیڑو۔ 
۴۔ مولانا ظفر فیاض صاحب اپنے درس میں شیخ سرفراز خان صفدر ؒ کے انداز تفسیر کی پیروی کرنے کو کوشش کرتے ہیں، اور بسااوقات شیخ صفدر اور مفسرقرآن مولانا عبد الحمید خان سواتی کے انداز کو جمع کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ 

مولانا محمد عمار خان ناصر 

مولانا محمد عمار خان ناصر نے تفسیر مولانا محمد سرفراز خان صفدر سے پڑھی ہے اور علم تفسیر میں حلقہ فراہی کے ممتاز محقق جناب جاوید احمد غامدی صاحب سے بھی طویل عرصے تک استفادہ کیا ہے۔ مولانا عمار ناصر عربی زبان و ادب کا خاص ذوق رکھتے ہیں۔ مولانا کے درس تفسیر کے اہم خصائص درج ذیل ہیں: 
۱۔ مولانا ناصر قرآن پاک کی زیر مطالعہ سورت کو ایک مربوط ومنظم شکل میں پیش کرتے ہیں۔ سورت کے مرکزی مضمون کا تعین کر کے اس کے مختلف حصوں کا تعلق مرکزی مضمون کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ زیادہ تر مولانا امین احسن اصلاحی کی تفسیر تدبر قرآن سے استفادہ کرتے ہیں اور اپنے غور وفکر سے مزید نئے پہلو بھی تلاش کر کے پیش کرتے ہیں۔ 
۲۔ مولانا عمار ناصر کو عربی کے ساتھ ساتھ اردو زبان پر بھی عبور حاصل ہے، دونوں زبانوں کی باریکیوں اور نزاکتوں کو سمجھتے ہیں، اسی وجہ سے فہم قرآن کی اکثر مشکلات کو ترجمہ میں سمو دیتے ہیں۔ ترجمہ ایسا مربوط اور بامحاورہ ہوتا ہے کہ بہت کم مقامات پر توضیح مزید کی ضرورت پڑتی ہے۔ 
۳۔ مولانا کے درس تفسیر میں لغوی تشریحات اور بلاغی دلالات پر بحث کی جاتی ہے جس کے لیے وہ عموماً الکشاف للزمخشری اور دیگر کتب سے استفادہ کرتے ہیں۔
۴۔ مولانا تذکیر کو قرآن حکیم کے بنیادی موضوعات میں شامل کرتے ہیں اور تذکیر اور اس کے لوازمات پر دوران درس میں خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ اسی طرح قرآن حکیم کے فلسفہ اخلاق اور اس کے عملی نتائج وغیرہ پر بحث کی جاتی ہے۔ 

مولانا فضل الہادی 

مولانا زاہد الراشدی کے بعد تفسیر قرآن کا زیادہ حصہ مولانا فضل الہادی پڑھاتے ہیں۔ مولانا فضل الہادی آلائی بٹگرام کے رہنے والے ہیں، مدرسہ نصرۃ العلوم اور دارالعلوم کراچی سے درس نظامی کے درجات علیا کی تعلیم حاصل کی ہے۔ تفسیر قرآن مولانا سرفراز خان صفدر اور مولانا زاہد الراشدی سے پڑھی، جب کہ دورہ حدیث دارالعلوم کراچی سے کیا ہے۔ مدرسہ اشاعت الاسلام مانسہرہ کے استاذ حدیث ہیں۔ الشریعہ اکادمی کے دورہ تفسیر میں تدریس کے لیے پابندی سے تشریف لاتے ہیں۔ ان کے درس تفسیر کی اہم خصوصیات حسب ذیل ہیں: 
۱۔ مولانا قرآن پاک کی تفسیر میں چارفنون کا بکثرت استعمال کرتے ہیں : علم صرف و علم نحو اور علم لغت و علم بلاغت ۔ 
۲۔ قرآنی مطالب کے تجزیہ وتحلیل کے لیے وہ امام شاہ ولی اللہ کے بیان کردہ علوم خمسہ، ، مولانااحمدعلی لاہوری، مولاناحسین علی اوران کے تلامذہ مولانا محمد عبداللہ درخواستی ومولاناسرفرازخان صفدرکے منہج وافادات سے استفادہ کرتے ہیں۔ جو تفاسیر ان کے زیر مطالعہ رہتی ہیں، ان میں بیان القرآن از مولانا اشرف علی تھانوی، تدبر قرآن از مولاناامین احسن اصلاحی ، صفوۃ التفاسیرللصابونی، تفسیر ماجدی از مولانا عبد الماجد دریا آبادی، ذخیرۃ الجنان از مولانا محمد سرفراز خان صفدر، معالم العرفان فی دروس القرآن از مولانا عبد الحمید خان سواتی اور آسان ترجمہ قرآن از مولانامحمدتقی عثمانی قابل ذکر ہیں۔ 
۳۔ مولانا مذکورہ بالا امور میں ان بزرگوں سے استفادہ کرتے ہیں اور جو قول دلیل کے ساتھ مضبوط ہو اسے اختیار کرتے ہوئے اپنے استنباطات اور غور وفکر کے نتائج بھی پیش کرتے ہیں۔
۴۔ شریعت کے عائلی ،دیوانی، فوجداری قوانین کی توضیح بھی مولانا فضل الہادی کے درس تفسیر کا اہم حصہ ہے۔
۵۔ ارض القرآن مولانا فضل الہادی کے درس تفسیر کا اہم موضوع ہے۔ اس کے لیے وہ عموماً تاریخ ارض القرآن از مولاناسیدسلیمان ندوی، جغرافیہ قرآنی از مولاناعبد الماجد دریابادی، اطلس القرآن (شائع کردہ دار السلام) وکتاب الجغرافیہ از مفتی ابولبابہ شاہ منصور سے استفادہ کرتے ہیں۔ 

مولانا محمد یوسف 

مولانا محمد یوسف صاحب مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل اور الشریعہ اکادمی کے سابقہ ناظم ہیں۔ اس وقت مدرسہ ابو ایوب انصاری گنگنی والا گوجرانوالہ اور کلیۃ الاسلامیہ گرین ٹاون گوجرانوالہ کے مہتمم ہیں۔ مولانا بھی دورہ تفسیر میں کم وبیش پانچ پارے پڑھاتے ہیں۔ مولانا کے درس تفسیر کے اہم خصائص درج ذیل ہیں: 
۱۔ مولانا اردو کی جدید تفاسیر کا مطالعہ کر کے ان کا ماحصل پیش کرتے ہیں، جن میں وہ پاکستان میں اہلسنت والجماعت کے تمام مسالک کی نمائندہ کتب تفسیر کو لیتے ہیں: خصوصاً معارف القرآن از مولانا مفتی محمد شفیع، ضیاء القرآن از پیر محمد کرم شاہ ، تفہیم القرآن از مولانا ابو الاعلیٰ مودودی، تیسیر القرآن مولانا عبد الرحمن کیلانی، تدبر قرآن از مولانا امین احسن اصلاحی۔ 
۲۔ مولانا کے درس کے اہم امتیازات میں سے ایک تراث اسلامی کا تعارف اور اکابر امت خصوصا علماء دیوبند پر اعتماد کی تلقین ہے۔
۳۔ مولانا یوسف صاحب اپنے درس میں مولانا سرفراز خان صفدر کے افادات تفسیریہ کو بکثرت بیان کرتے ہیں۔ 

سلسلہ محاضرات قرآنیہ 

دورہ تفسیر کا دوسرا اہم حصہ سلسلہ محاضرات قرآنیہ ہے۔ قرآن حکیم اور علوم القرآن کے مختلف موضوعات پر قرآنیات کے ماہرین نماز ظہر سے نماز عصر تک بحث کرتے ہیں جس میں پہلے محاضر کی گفتگو ہوتی ہے اور پھر اس پر سوال جواب کا سلسلہ چلتا ہے۔ محاضرین میں عصری جامعات اور مدارس کے اساتذہ شامل ہوتے ہیں۔ سلسلہ محاضرات میں عموما پندرہ سے بیس محاضرات ہوتے ہیں۔ محاضرات کے عنوانات کا انتخاب کرتے ہوئے اس بات کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ طلبہ اپنے قدیم علمی وفکری سرمایہ سے واقفیت کے ساتھ ساتھ جدید چیلنجز کا ادراک بھی کریں۔ محاضرات کے لیے ہر سال بعض عنوانات اور اساتذہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں، جب کہ بعض عنوانات مستقل ہیں، جیسا کہ مبادیات تفسیر، علوم خمسہ وغیرہ ۔

دورہ ارض القرآن وارض السیرۃ 

الشریعہ کے دورہ تفسیر کا ایک مستقل حصہ ارض القرآن و ارض السیرۃ کا تعارف ہے۔ یہ کلاس نماز مغرب سے نماز عشاء تک ہوتی ہے جس کا دورانیہ ایک ہفتہ ہوتا ہے۔ اس کلاس میں باقاعدہ تدریسی فرائض مولانا فضل الہادی سرانجام دیتے ہیں، جب کہ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا عمار خان ناصر کے محاضرات بھی ہوتے ہیں۔ مولانا فضل الہادی اس کلاس میں نقشوں اور تصاویرکی مدد سے ارض القرآن وارض السیرۃ کا مکمل تعارف کراتے ہیں۔ اس کلاس میں درج ذیل عنوانات ہوتے ہیں: 
۱۔ مبادیات جغرافیہ
۲۔ قرآنی مقامات
۳۔ قرآنی شخصیات و اقوام 
۴۔ مقامات سیرۃ
۵۔ عہد نبوی کے عرب قبائل اوران کے مقامات
۶۔ عربی اور اردو میں کتب جغرافیہ قرآنی، تعارف منہج و خصائص
امسال اس کلاس میں تدریس کے لیے ملٹی میڈیا؍پروجیکٹر کا بھی استعمال کیا جائے گا۔ 

اصول تحقیق 

الشریعہ اکادمی کے دورہ تفسیر کے امتیازات میں سے اصول تحقیق پر سلسلہ محاضرات بھی ایک اہم سلسلہ ہے جو کہ دورہ کے دوران مغرب تا عشاء منعقد ہوتے ہیں۔ اس میں اصول تحقیق کے مختلف موضوعات پر ڈاکٹر محمد اکرم ورک ، مولانا حافظ محمد رشید اور مولانا حافظ محمد سرورکے محاضرات ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ محاضرات کے عنوانات درج ذیل ہیں:
۱۔ تحقیق، تعارف و مبادیات 
۲۔ اصول تحقیق قرآن و حدیث کی روشنی میں مع امثلہ 
۳۔ محقق کے اوصاف 
۴۔ خاکہ تحقیق بنانے کا طریقہ و عملی مشق
۵۔ رسمیات تحقیق 

اکابر علماء ہند اور ان کی جدو جہد کا تعارف 

دورہ تفسیر کے موضوعات میں اکابر علماء ہند اور ان کی جدوجہد کا تعارف بھی شامل ہے۔ اس موضوع پر تین سے چار لیکچر بعد از نماز مغرب ہوتے ہیں، جو کہ عموماً راقم الحروف کے ذمہ ہوتے ہیں۔ اس سال کے مجوزہ موضوعات درج ذیل ہیں : 
۱۔ حضرت مجدد الف ثانی ، تعارف و خدمات 
۲۔ امام شاہ ولی اللہ، تعارف و خدمات قرآنیہ
۳۔ امام الہند مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور سرسید احمد خانؒ ، ایک تقابلی مطالعہ 
۴۔ مفسر قرآن مولنا عبد الحمید خان سواتی کی تفسیری مساعی
۵۔ علماء برصغیر کی خدمات علوم القرآن امام ولی اللہ سے اب تک ( اہم کتب، خصائص و امتیازات، اولیات ) 

اہم اداروں کی سیر اور ممتاز شخصیات سے ملاقاتیں

دورہ کے دوران جمعرات کو طلباء اور اساتذہ کا وفد شہر کے مطالعاتی دورہ پر جاتا ہے۔ ہر جمعرات کو کسی ادارے اور دو ، تین شخصیات سے ملاقات کی ترتیب بنائی جاتی ہے۔ یوں طلبہ کو مختلف شخصیات اور ان کے افکار سے مستفید ہونے کا موقع میسر ہو جاتا ہے۔ 

شرکاء کی آراء اور تجاویز

دورہ تفسیر کے اختتام پر ہر سال طلباء کی آراء (feedback) تحریراً حاصل کی جاتی ہیں اور ان کی روشنی میں مزید اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے۔ 
یہ دورہ تفسیر ملک بھر کے دورہائے تفسیر میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، جس کی اب تک چار کلاسیں ہو چکی ہے۔ جب کہ پانچویں کلاس انشاء اللہ حسب سابق رجب اور شعبان میں ۲۵ مئی بروز پیر تا۳۰ جون بروز منگل منعقد ہو گی۔ 

تمغۂ امتیاز

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ۲۳ مارچ کو میں نے زندگی میں دوسری بار شیروانی پہنی۔ اس سے قبل شادی کے موقع پر ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۷۰ء کو شیروانی پہنی تھی جو حضرت والد محترم رحمہ اللہ تعالیٰ نے بطور خاص میری شادی کے لیے سلوائی تھی۔ خود میرے ساتھ بازار جا کر ٹیلر ماسٹر کو ناپ دلوایا تھا اور ایک قراقلی ٹوپی بھی خرید کر دی تھی۔ یہ دونوں شادی کے دن میرے لباس کا حصہ بنیں۔ قراقلی تو میں اس کے بعد بھی ایک عرصہ تک خاص تقریبات میں پہنتا رہا ہوں لیکن شیروانی دوبارہ پہننے کا حوصلہ نہیں ہوا اور وہ میں نے شادی کے دوسرے دن چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس قارن کو دے دی۔ اپنے اپنے مزاج کی بات ہے، شیروانی اور بند کوٹ میں خود کو گھٹا گھٹا سا محسوس کرتا ہوں، حتیٰ کہ واسکٹ کے بٹن بند کرنے میں بھی مجھے الجھن ہوتی ہے، جبکہ مایہ والے سوتی کپڑوں میں لباس کے ساتھ خود بھی اکڑے رہنا پڑتا ہے اس لیے اس سے حتی الوسع بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ لیکن اس سال صدر پاکستان کی طرف سے ’’یوم پاکستان‘‘ کے موقع پر جن حضرات کو صدارتی تمغوں کے لیے نامزد کیا گیا ان میں تمغۂ امتیاز پانے والوں میں میرا نام بھی شامل تھا۔ یہ تمغہ ۲۳ مارچ کو گورنر ہاؤس لاہور میں ایک تقریب کے دوران گورنر پنجاب کے ہاتھوں ملنا تھا۔ اس تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ ملا تو اس میں یہ شرط درج تھی کہ شیروانی اور جناپ کیپ پہن کر شریک ہونا ہے۔ میرے پاس یہ دونوں موجود نہیں تھیں، اس لیے جناح کیپ تو بازار سے خریدی اورشیروانی کے لیے کسی دوست کی تلاش شروع کر دی جس سے ایک دن کے لیے عاریتاً حاصل کر سکوں۔ گزشتہ ہفتے فیصل آباد جانا ہوا تو شام کا کھانا جامعہ اسلامیہ امدادیہ میں مولانا مفتی محمد زاہد صاحب کے ساتھ کھایا اور انہی سے فرمائش کر دی کہ اگر ایک روز کے لیے کوئی مناسب شیروانی مل جائے تو فقیروں کا کام چل جائے گا۔ انہوں نے اپنی شیروانی عطا کی جو پہننے پر مناسب لگی تو ساتھ لے آیا۔ 
حسن اتفاق سے اسی روز (۲۳ مارچ) صبح بخاری شریف کے سبق میں یہ روایت پڑھنے میں آئی کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ نے اپنی ایک خادمہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنی قمیص کی طرف اشارہ کیا کہ یہ لڑکی اس جیسی قمیص گھر کے اندر پہننے میں بھی ہتک محسوس کرتی ہے۔ حالانکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اسی قسم کی قمیص میرے پاس تھی اور مدینہ منورہ میں کسی خاتون کو تقریب کے لیے بننا سنورنا ہوتا تھا تو مجھ سے وہ قمیص منگوا کر پہنتی تھی۔ یہ روایت پہلے بھی کئی بار نظر سے گزر چکی تھی لیکن اس روز صبح ایک بار پھر پڑھ کر تسلی ہوئی کہ مانگے کی شیروانی پہن کر تقریب میں شریک ہونا کوئی غلط بات نہیں ہے۔ بہرحال اس روز شام کو اپنے ایک قریبی دوست حافظ محمد یحییٰ میر کے ہمراہ گورنر ہاؤس کی تقریب میں شریک ہوا اور بہت سے دیگر حضرات کے ساتھ تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ قائم مقام گورنر پنجاب رانا محمد اقبال جب میرے سینے پر تمغۂ امتیاز آویزاں کر رہے تھے تو ایک لمحہ کے لیے یہ سوچ کر میرے لبوں پر مسکراہٹ سی پھیل گئی کہ گورنر صاحب محترم تمغہ تو مجھے دے رہے ہیں لیکن جس شیروانی پر آویزاں کر رہے ہیں وہ مفتی محمد زاہد صاحب کی ہے۔ بہرحال اس تقریب میں تمغہ امتیاز اور اس کے ساتھ صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف سے دی گئی سند امتیاز سے بہرہ ور ہوا جو ان الفاظ میں ہے کہ:
’’میں بحیثیت صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب محمد عبد المتین خان زاہد (زاہد الراشدی) کو تعلیم کے شعبہ میں امتیازی مرتبہ حاصل کرنے پر ’تمغۂ امتیاز‘ کا اعزا عطا کرتا ہوں۔‘‘
اس تقریب میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی بہت سی شخصیات کو مختلف تمغوں سے نوازا گیا جن میں سے میرے پرانے دوستوں میں مولانا قاری احمد میاں تھانوی، سید تابش الوری اور جناب عبد الرؤف طاہر بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ان سے مل کر مبارک باد کا تبادلہ کیا اور ہم باہمی دعاؤں سے فیض یاب ہوئے۔سند امتیاز کے ساتھ سرکاری گزٹ میں تمغہ پانے والے ہر صاحب کے ساتھ کچھ تعارفی کلمات درج ہیں، ان میں سے ایک معروف شخصیت سیالکوٹ کے پروفیسر اصغر سودائی مرحوم بھی ہیں جن کا تمغہ ان کے فرزند نے وصول کیا۔ ان کے لیے لکھے گئے چند تعارفی کلمات اس کالم کے ذریعہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ اس لیے کہ آج کے دور میں جبکہ پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت اور دستور پاکستان کی اسلامی اساس کو مجروح کرنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں، پروفیسر اصغر سودائی مرحوم کا یہ تعارف نامہ ایک تاریخی شہادت کا درجہ رکھتا ہے۔ اس تعارف میں لکھا ہے کہ:
’’آپ نے جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر شرکت کی اور طلبہ اور عام لوگوں سے خطاب کیا تاکہ ان میں آزادی کی روح اور جذبے کو تقویت دی جائے۔ ایک بار آپ سیالکوٹ میں رام تلائی گراؤنڈ میں تقریر کر رہے تھے کہ ایک ہندو طالب علم نے آپ سے پاکستان کا مطلب پوچھا جس پر پروفیسر اصغر سودائی نے فورًا ان تاریخی الفاظ میں جواب دیا کہ لا الٰہ الا اللّٰہ۔ آپ نے یہ نعرہ اپنی ایک نظم میں لگایا اور اپنی شاعری کا ۱۹۴۴ء میں حصہ بنا لیا۔ اس نعرہ نے پوری تحریک پاکستان کو متحرک کر دیا۔ بزرگ کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے خود ایک بار کہا کہ اصغر سودائی کا تخلیق پاکستان میں ۲۵  فی صد حصہ ہے۔ یہ لازوال اور قومی نعرہ لا الٰہ الا اللّٰہ  محترم جہاں آرا بیگم کی کتاب کا حصہ بن گیا جو ’’پاکستان کے قومی گیت‘‘ کے عنوان سے ۱۹۴۶ء میں دہلی سے شائع ہوئی۔‘‘
گورنر پنجاب سے ’’تمغۂ امتیاز‘‘ وصول کرتے ہوئے میری نگاہوں کے سامنے ایک تصویر مسلسل جھلملاتی رہی جو کہ کراچی کے ڈاکٹر محمد شکیل اوج شہیدؒ کی تھی، وہ بھی ہمارے ساتھ ’’تمغۂ امتیاز‘‘ کے لیے نامزد کیے جانے والوں کی فہرست میں شامل تھے اور مجھے سب سے پہلے اس کی اطلاع اور مبارک باد انہوں نے ہی دی تھی۔ ان کا یہ تمغہ گورنر سندھ سے ان کے فرزند نے وصول کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور ہم سب کو ملک و قوم کی مسلسل خدمت کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ 

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

ادارہ

۳۱ مارچ کو جامع مسجد سیدنا عثمان غنیؓ اسلام آباد میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس مشاورت کا ایک اہم اجلاس مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس کے شرکاء میں مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مفتی محمد نعمان، مفتی محمد سیف الدین، جناب صلاح الدین فاروقی، حافظ سید علی محی الدین، جناب سعید اعوان، مولانا تنویر احمد علوی، قاری عبید اللہ عامر، مولانا محمد ادریس ڈیروی، مولانا سعید اللہ خان قاسم، مولانا محمد ادریس علوی، مولانا عبد الرزاق، حافظ پیر ریاض احمد چشتی، مولانا عبد الخالق، قاری محمد اکرم مدنی، پروفیسر حافظ ظفر حیات اور مولانا ممتاز الرحمن بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ مولانا محمد رمضان علوی اجلاس کے میزبان تھے جبکہ راقم الحروف نے ملکی صورت حال اور مشرق وسطیٰ میں یمن کے تنازعہ کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کی۔ 
اجلاس میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں اٹارنی جنرل کی طرف سے پیش کردہ اس بیان کا جائزہ لیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ دستور پاکستان کا کوئی ایسا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے جس کی پابندی پارلیمنٹ کے لیے ضروری ہو۔ اس کے مضمرات و نتائج پر تفصیلی غور و خوض کے بعد اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ قیام پاکستان کا مقصد مسلمانوں کی جداگانہ تہذیب کا تحفظ، اسلامی احکام و قوانین کے مطابق معاشرہ کی تشکیل اور امت مسلمہ کے دینی و نظریاتی تشخص کا اظہار تھا اور اس سلسلہ میں تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر قائدین کے واضح بیانات پاکستان کے بنیادی دستوری ڈھانچہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جبکہ قیام پاکستان کے بعد منتخب دستور ساز اسمبلی نے ’’قرارداد مقاصد‘‘ منظور کر کے اسی بنیادی ڈھانچہ کو دستوری شکل دی تھی۔ اس لیے دستور پاکستان کے کسی بنیادی ڈھانچے کی موجودگی سے انکار نظریہ پاکستان اور وطن عزیز کے اسلامی تشخص کی نفی کے مترادف ہے جس پر وفاقی حکومت کو اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہیے اور اٹارنی جنرل کے بیان سے پیدا ہونے والے ابہام کو دور کرنا چاہیے ورنہ اسے پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی طرف قدم قرار دیا جائے گا۔ اجلاس میں طے پایا کہ اس سلسلہ میں پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریری طور پر یادداشت پیش کی جائے گی۔
اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کی سا لمیت و وحدت کے دفاع کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ حالات گزشتہ تین عشروں کی طویل کشمکش کا نتیجہ ہیں جس کے دوران سعودی عرب کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا ہے۔ مگر اس مہم کے آخری لمحہ میں عرب لیگ کو ہوش آیا ہے کہ اس نے عرب ممالک کی متحدہ فوج کی تشکیل اور یمن کی خانہ جنگی میں باغیوں کا راستہ روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ان حالات سے سعودی عرب کی سا لمیت و وحدت اور خاص طور پر حرمین شریفین کے لیے جو خطرات سامنے آئے ہیں انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حرمین شریفین کے تقدس کا مسئلہ صرف سعودی عرب اور عرب ممالک کا نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا ہے، حرمین شریفین کے مستقبل کے حوالہ سے جو امکانات نظر آرہے ہیں وہ دنیا کے ہر مسلمان کے لیے شدید تشویش و اضطراب کا باعث ہیں اور حرمین شریفین کا تحفظ و دفاع باقی تمام امور پر مقدم ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ان حالات میں حکومت پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کے دفاع کا اعلان وقت کی اہم ضرورت اور ملت اسلامیہ کے جذبات کی نمائندگی ہے۔ پاکستان شریعت کونسل اس کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے اور اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم میاں نواز شریف سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس سلسلہ میں عالم اسلام کی رائے عامہ اور اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم کو متحرک کیا جائے اور مسلم حکمرانوں کا اجلاس فوری طور پر طلب کر کے مشرق وسطیٰ کے مسئلہ میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا جائے۔ 
اس موقع پر اجلاس میں پاکستان شریعت کونسل کی تنظیم نو کا فیصلہ کیا گیا اور امیر مرکزیہ مولانا فداء الرحمن درخواستی کو اختیار دیا گیا کہ وہ ملک بھر میں کونسل کی تنظیم نو کے لیے اقدامات کریں۔ نیز یہ بھی طے پایا کہ مختلف شہروں میں پاکستان شریعت کونسل کے حلقے قائم کیے جائیں جو انتخابی اور گروہی سیاست سے الگ تھلگ رہتے ہوئے خالصتاً علمی و فکری بنیادوں پر نفاذ اسلام کے لیے محنت کریں گے اور اس میں کسی بھی جماعت کے اصحاب فکر شامل ہو سکیں گے۔ جبکہ پاکستان شریعت کونسل دینی و سیاسی جماعتوں کے باہمی تنازعات میں فریق بننے سے گریز کرے گی بلکہ ان میں باہمی رابطہ و تعاون کے فروغ کے لیے کام کرے گی۔

الشریعہ اکادمی کے اساتذہ کا دو روزہ مطالعاتی دورہ

مولانا محمد عبد اللہ راتھر

اپریل کو الشریعہ اکادمی کے اساتذہ ورفقاء کے لیے اسلام آباد کے ایک مطالعاتی دورے کا اہتمام کیا گیا۔ وفد الشریعہ اکیڈمی کے چھ اساتذہ اور ایک رفیق کار پر مشتمل تھا۔ مطالعاتی دورہ کا مقصد مختلف تعلیمی اداروں کے نظام ونصاب کا مطالعہ کرنا اور ان سے استفادہ کی صورتوں پر غور کرنا تھا۔ وفد کے سفر کی پہلی منزل ہری پور میں مولانا وقار احمد کی رہائش گاہ تھی جہاں اس دو روزہ دورہ کی اگلی منازل مشاورت سے طے کی گئیں۔ 
وفد کی پہلی ملاقات ہائی ٹیک یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے صدر ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب سے ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب موصوف سے متعلقہ موضوع پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ملاقات کے آخر پر وہ وفد کو رخصت کرنے کے لیے اپنے دفتر سے نکل کرکافی دور تک ہمراہ تشریف لائے اور الوداعی مصافحہ سے پہلے فرمایا:
’’مولانا عبیداللہ انور رحمہ اللہ میرے استاذ ہیں۔انہوں نے مجھے بتایاکہ مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ جب کوئی کام کرنے نکلو تو اس کو پورا کر کے ہی واپس لوٹو ورنہ تم خود نہ لوٹنا (یعنی زندہ نہ پلٹو)۔ حضرت سندھی نے یہ بھی فرمایا: مجھے میری والدہ نے دہی لینے بھیجا۔ قریب سے نہ ملا،اگلے چوک سے بھی نہ ملا،میں چلتا رہا،یہاں تک کہ بھاٹی دروازہ تک آیا اور دہی لے کر ہی گیا۔‘‘
دوسری ملاقات مدرسہ ایجوکیشن بورڈکے چیئرمین جناب عامر طاسین صاحب سے ہوئی۔ وہ علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے نواسے ہیں اور ان کا تعلق اور وابستگی بھی مذہبی حلقوں سے بہت گہری ہے۔ موصوف نے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اور اس کے تحت چلنے والے تین ماڈل مدارس کا تفصیلی تعارف کروایا اور اس ادارہ کو مزید بہتر اور فعال بنانے میں اپنی حالیہ کاوشوں کا بھی ذکر کیا۔
تیسری ملاقات محترم الیاس ڈار صاحب (سابق جائنٹ سیکرٹری حج وعمرہ؍ بانی وچیئرمین دعوت فاؤنڈیشن) سے ہوئی۔موصوف نے ان تمام کورسز کا تعارف کروایاجو ’’ دعوت فاؤنڈیشن‘‘ کی طرف سے مختلف شعبوں سے منسلک افراد کو کروائے جاتے ہیں۔
چوتھی ملاقات جناب مفتی محمد سعید خان صاحب سے ندوۃ لائبریری(نزدچھتر پارک)میں ہوئی۔ایک لاکھ کے قریب کتب پر مشتمل یہ لائبریری ایک پُر فضا مقام پر واقع ہے اور اصحابِ ذوق کو وہاں قیام ،طعام کی سہولت کے ساتھ لائبریری سے مکمل استفادہ کی اجازت ہے۔ یہ لائبریری اپنے مؤسس ومنتظم مفتی سعیدخان صاحب کے ذوق وجستجوکا مظہر اور تحقیق کا ذوق رکھنے والے علماء کے لیے ایک خاص نعمت ہے۔جب مفتی صاحب کو وفد کی حاضری کا مقصدبتایا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ تین چیزوں کا خیال رکھیں:
۱۔طلباء کی تربیت،رویوں کی اصلاح کا اہتمام کریں ،رمضان کہیں گزارنے کا بندوبست کریں۔
۲۔طلباء میں قدیم عربیت اور عربی ادب کی استعداد پیدا کریں۔
۳۔تاریخ سے استنباط سکھائیں۔
مفتی صاحب نے تاریخ سے استنباط کے حوالے سے دو تاریخی واقعات کا تذکرہ کیا:
مامون الرشید کو جب احساس ہوا کہ اپنا جانشین مقرر کرے تو ایک ماہ تک مشاورت کرتا رہااور اس نتیجے پر پہنچا کہ عباسیوں میں کوئی اس کا اہل نہیں تو اپنے خاندان کو چھوڑ کر سادات میں تلاش کی۔ اس کی نظر انتخاب حضرت علی رضا رحمہ اللہ پر پڑی اور اس نے ان کو اپنا ولی عہد مقرر کر دیا لیکن عباسیوں نے اس پر بغاوت کردی۔ مامون الرشیدبغاوت کو فرو کرنے راتوں رات سفر کرکے بغداد پہنچا، لیکن تین سال کے اندراندر حضرت علی رضا رحمہ اللہ انتقال فرما گئے (یا انہیں زہر دیا گیا)اورخلافت دوبارہ عباسیوں میں چلی گئی۔ علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ یہاں فرماتے ہیں کہ:
’’اگر کوئی قوم کسی خیر کے کام کو نہ چاہتی ہو تو وہ ان پر جبراً مسلط نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
دوسرا واقعہ شاہ اسحق رحمہ اللہ کا ہے۔حضرت کی زبان میں لکنت تھی اور بولنے میں دشواری ہوتی تھی۔ایک عیسائی پادری نے مغل بادشاہ، شاہ عالم کے دربار میں آکر دعویٰ کیا کہ اگر ہماری انجیل میں تحریف ہوئی ہے توآپ کی کتاب قرآن مجید میں بھی تحریف ہوئی ہے اورآپ کا کوئی عالم میرے اس دعوے کو رد نہیں کر سکتا۔شاہ عالم نے علماء سے رجوع کیا تو انہوں نے شاہ اسحق کا نام پیش کر دیا کہ وہی اس پادری سے مناظرہ کر سکتے ہیں۔شاہ صاحب کو طلب کیا گیا۔آپ نے بات شروع فرمائی اور بالآخر عیسائی مناظر کو شکست ہوئی اور آپ نے اسے لاجواب کر دیا۔جب شاہ اسحق رحمہ اللہ دربار سے باہر آئے تو عوام اور علماء کا ایک جمِ غفیر استقبال کے لیے موجود تھا اور سب مبارکباد دے رہے تھے۔شاہ صاحب ایک بلند جگہ پر کھڑے ہو کر علماء سے مخاطب ہوئے اور فرمایا :ارے مولویو! مجھے معلوم ہے تم نے پادری کے ساتھ مناظرہ کے لیے میرا نام اس لیے پیش کیا تھا کہ مجھے شکست ہو اور بادشاہ کے ہاں میرا مرتبہ گر جائے اور تمہاری جگہ بن جائے، لیکن بے وقوفو! تم نے ذرا یہ نہ سوچا کہ اگر میں ہار جاتا تو لوگ یوں نہ کہتے کہ شاہ اسحق ہارگیا ہے بلکہ یہ کہا جاتا کہ اسلام ہار گیا ہے۔مفتی سعید خان صاحب نے فرمایا کہ یہ حسد کی بیماری ہمیں اپنے سے نکالنا ہوگی۔
مفتی سعید خان صاحب نے مزید فرمایا: ہماری شدید خواہش تھی کہ مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘کی ایک اور جلد لکھ کر اسے مکمل فرما دیں اور سیّد احمد شہید رحمہ اللہ کے بعد کی تحریکا ت کے حالات بھی قلمبند ہو جائیں (جیسے جمال الدین افغانی، الجزائر کے سنوسی، ترکی کے فتح اللہ گولن، مصر کے حسن البناء، حجاز کے محمدبن عبدالوہاب اور مولانا محمد الیاس کاندہلوی رحمہ اللہ وغیرہ)۔ ایک مجلس میں عرض کیا گیاتو سرد آہ بھری اور فرمایا: بھائی، اب کوئی کرے تو کرے، ہم سے تو اب نہیں ہوتا۔
دورہ کے آخر میں ادارۂ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے مجلہ ’’فکر ونظر‘‘ کے نائب مدیر جناب مولانا سید متین شاہ صاحب سے بھی مختصر ملاقات ہوئی۔
اس دورے کے دوران میں مدارس کے نصاب ونظام کے حوالے سے جو تجاویز سامنے آئیں، انھیں الگ مرتب کیا جا رہا ہے اور الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام فکری مجالس میں ان پر غور وفکر کیا جائے گا۔