مارچ ۲۰۱۵ء

عالم اسلام اور تکفیر و قتال کا فتنہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
منافقین کے حوالے سے اسوۂ نبویؐمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵)ڈاکٹر محی الدین غازی 
ملت اسلامیہ کا بھولا ہوا ایک اہم فریضہمولانا محمد عیسٰی منصوری 
امام لیث بن سعدؒ ۔ حیات و خدمات (۱)محبوب عالم فاروقی 
کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۲)مولانا حافظ صلاح الدین یوسف 
معاصر تناظر میں غلبہ دین کے لیے عسکری جدوجہد / معاصر جہاد ۔ چند استفساراتمحمد عمار خان ناصر 
مولانا عبد المجید لدھیانویؒ اور مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کا انتقالمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مکاتیبمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 

عالم اسلام اور تکفیر و قتال کا فتنہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عالم اسلام میں باہمی تکفیر اور اس کی بنیاد پر قتل و قتال کی روایت نئی نہیں ہے بلکہ شروع دور سے ہی چلی آرہی ہے۔ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خلاف بغاوت کرنے والے خوارج نے تکفیر کو ہی اپنے امتیاز و تشخص کی علامت بنایا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف قتل و قتال کا بازار گرم کر دیا تھا۔ وہ نہ صرف حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان مصالحت کے لیے حکم اور ثالث کے تقرر کے فیصلے کو کفر قرار دیتے تھے بلکہ کبیرہ گناہ کے مرتکب عام مسلمانوں کو مرتد قرار دے کر ان کے قتل کو بھی ضروری سمجھتے تھے۔ ان کا استدلال بعض قرآنی آیات کے ظاہری بلکہ خود ساختہ مفہوم سے ہوتا تھا اور قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ ان کا شغف اتنا عام تھا کہ انہیں قاریوں کا گروہ کہا جانے لگا تھا۔ حتیٰ کہ جب انہوں نے بصرہ پر قبضہ کر کے کم و بیش چھ ہزار افراد کو قتل کر ڈالا تو اسے بصرہ پر قاریوں کے قبضہ سے تعبیر کیا گیا۔ خارجیوں کے معروف کمانڈر ضحاک نے ایک مرحلہ میں کوفہ پر فوج کشی کر کے اس پر بھی قبضہ کر لیا تھا اور کوفہ کی جامع مسجد میں تلوار لہراتے ہوئے ہزاروں مسلح ساتھیوں سمیت کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دیا تھا کہ کوفہ کے سب لوگ باری باری اس کے سامنے آ کر کفر سے توبہ کریں ورنہ وہ بصرہ کی طرح یہاں کے لوگوں کو بھی قتل کر دے گا۔ یہ حضرت امام ابوحنیفہؒ کا حوصلہ و تدبر اور ان کی فراست و حکمت تھی جو ضحاک کمانڈر کے اس مکروہ عزم کی راہ میں حائل ہوگئی ورنہ اس کے ہاتھوں کوفہ میں بصرہ کی تاریخ دہرائے جانے میں کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی تھی۔ اس واقعہ کی تفصیل مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے ’’امام ابوحنیفہؒ کی سیاسی زندگی‘‘ میں بیان کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہؒ نے ضحاک خارجی کا سامنا کر کے اس سے دریافت کیا کہ اس نے کوفہ کی عام آبادی کے قتل عام کا یہ حکم کیوں دیا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ لوگ مرتد ہوگئے ہیں او رمرتد کی سزا قتل ہے، اس لیے اگر یہ لوگ توبہ نہیں کریں گے تو میں سب کو قتل کرا دوں گا۔
امام صاحبؒ نے فرمایا کہ مرتد وہ ہوتا ہے جو اپنا دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کر لے، جبکہ کوفہ کے لوگ تو اسی عقیدہ و ایمان پر قائم ہیں جس پر پیدا ہوئے تھے، اور انہوں نے اپنے دین اور عقیدہ و ایمان میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اس لیے انہیں مرتد قرار دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ بات ضحاک خارجی کی سمجھ میں آگئی اور اس نے ’’اخطأنا‘‘ کہتے ہوئے نہ صرف اپنی تلوار جھکا لی بلکہ ساتھیوں کو بھی تلواریں جھکانے کا حکم دے دیا، جس سے کوفہ والوں کی جاں بخشی ہوگئی۔ خوارج نے اس دور میں تکفیر اور قتل و قتال کا جو وسیع تر بازار گرم کیا، وہ تاریخ کے کئی تلخ ابواب کی صورت میں ہمارے ماضی کا ناخوشگوار حصہ ہے۔ 
تکفیر و قتال کی اسی روش اور نفسیات کی تازہ لہر نے عالم اسلام کے بہت سے حساس علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس سے عالمی اسلام دشمن قوتوں نے فائدہ اٹھانے کی ایسی منظم منصوبہ بندی کر رکھی ہے کہ ملت اسلامیہ کی اجتماعی دانش کرب و اضطراب کی شدت سے تلملا کر رہ گئی ہے۔ اب سے ربع صدی قبل الجزائر کی اسلامی جماعتوں نے ’’اسلامک سالویشن فرنٹ‘‘ کے نام سے متحدہ محاذ بنا کر قومی سیاست میں فیصلہ کن قوت حاصل کر لی تھی اور عام انتخابات کے پہلے مرحلہ میں اسی فیصد ووٹ حاصل کر کے عالمی سیکولر قوتوں کو چونکا کر رکھ دیا تھا۔ مگر اس کی راہ روکنے کے لیے عام انتخابات کی بساط لپیٹ دی گئی، فوج نے اقتدار سنبھال لیا اور اسلامی قوتوں کو غیر مؤثر بنانے کے لیے جبر و مکر کے تمام ممکنہ حربے استعمال کیے گئے جن میں ایک حربہ یہ بھی تھا کہ اسلامی جماعتوں کے درمیان تکفیر اور خانہ جنگی کی دیواریں کھڑی کی گئیں اور دس سال کے عرصہ میں ایک لاکھ کے لگ بھگ الجزائری شہریوں کی قیمتی جانیں اس کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ میں نے فکر و تحقیق کے محاذ پر کام کرنے والے متعدد اداروں اور شخصیات سے بار بار یہ درخواست کی ہے کہ اگر الجزائر میں تکفیر کی بنیاد پر گزشتہ پندرہ سال کے دوران ہونے والے خونریز خانہ جنگی کی مستند اور جامع رپورٹ مرتب کر کے قوم کے سامنے لائی جا سکے تو بہت سے حلقوں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہوگی۔ مگر بد قسمتی سے تحقیق، مطالعہ، مستند رپورٹنگ اور حقیقی معروضی صورت حال سے آگاہی حاصل کرنے کا ہم میں ذوق ہی نہیں رہا جس کے تلخ نتائج پوری امت کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ خود اپنا حال یہ ہے کہ اسباب و وسائل اور فرصت دونوں حوالوں سے اس قسم کے کام شجر ممنوعہ کی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور عملاً چیخنے چلانے اور کڑھنے جلنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر پاتا۔
الجزائر کے بعد مصر و شام اور عراق وغیرہ دیگر ممالک کے ماحول میں اب اسی تجربہ کا اعادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ شام اور عراق میں حکمرانوں کے مسلسل جبر و تشدد کے رد عمل میں منظم ہونے والے گروہوں کو بھی تکفیر اور قتل و قتال کی اسی ڈگر پر چلا دیا گیا ہے اور خوارج کی مخصوص نفسیات کی انتہائی گہری تکنیک کے ساتھ آبیاری کی جا رہی ہے۔
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے کچھ عرصہ قبل مغرب کی فکری و ثقافتی یلغار کا نشانہ بننے والی نئی نسل کی فکری بے راہ روی کا رونا روتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ردۃ ولا أبابکر لہا‘‘ ارتداد ہر طرف پھیل رہا ہے مگر روکنے کے لیے کوئی ابوبکرؓ موجود نہیں ہے۔ جبکہ آج کا المیہ یہ ہے کہ تکفیر و قتال کا فتنہ عالم اسلام کو لپیٹ میں لیتا جا رہا ہے مگر وقت کے ضحاکوں کو سمجھانے کے لیے کوئی ابوحنیفہؒ سامنے نہیں آرہا۔ فالی اللّٰہ المشتکی۔

منافقین کے حوالے سے اسوۂ نبویؐ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور اسے اپنا مرکز بنایا تو یہود اور مشرکین کے مختلف قبائل کے ساتھ ساتھ آپ کو ایک ایسے طبقہ سے بھی واسطہ پڑا جو کلمہ پڑھ کر بظاہر مسلمانوں میں شامل ہوگیا تھا لیکن دل سے مسلمان نہیں ہوا تھا، اور دل سے اس کی تمام تر ہمدردیاں اور معاونتیں کفار کے ساتھ تھیں جن کا تذکرہ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر موجود ہے۔ 
غزوہ احد میں یہ لوگ تین سو کی تعداد میں عبد اللہ بن ابی کی سرکردگی میں میدان چھوڑ کر واپس چلے گئے تھے جس سے آبادی میں اس وقت ان کے تناسب کا اندازہ ہوتا ہے۔ پھر مختلف اوقات میں ان کی شرارتیں او رمنافقانہ حرکات سامنے آتی رہیں جن میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹی تہمت بھی شامل ہے۔ اور ان کے اس شرپسندانہ الزام کی صفائی قرآن کریم نے پیش کی۔ ایک موقع پر انہوں نے مل بیٹھ کر یہ سازش بھی کی کہ وہ مدینہ منورہ سے مہاجرین کو واپس چلے جانے پر مجبور کر دیں گے۔ اس سازش کی خبر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زید بن ارقمؓ نے دی تو ان لوگوں نے قسمیں اٹھا اٹھا کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی سچائی کا اتنی شدت سے اظہار کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ارقمؓ کو ڈانٹ دیا۔ اس پر قرآن کریم کی سورۃ ’’المنافقون‘‘ نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ زید بن ارقمؓ کی رپورٹ سچی ہے اور یہ لوگ جھوٹی قسمیں اٹھا رہے ہیں۔ ایک مرحلہ میں ان منافقین نے مدینہ منورہ میں ’’مسجد‘‘ کے نام سے اڈہ قائم کر لیا جسے قرآن کریم نے مسجد ضرا ر سے تعبیر کر کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں جانے سے منع کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مسجد کے نام پر قائم ہونے والا یہ مرکز مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کے لیے اور دشمنوں کو گھات فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسمار کرنے کا حکم دے دیا۔ 
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سالہ مدنی زندگی کے دوران منافقین کی اس قسم کی شرارتیں اور سازشیں عام رہیں جن کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے اور احادیث میں بھی ان کی بہت سی تفصیلات مذکور ہیں۔ جبکہ قرآن کریم نے ’’وما ھم بمؤمنین‘‘ اور ’’انھم لکاذبون‘‘ کہہ کر واضح طور پر کہہ دیا کہ یہ مسلمان نہیں ہے، اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ان سے بچ کر رہنے کے ساتھ ساتھ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ التحریم میں یہ کہہ کر ان کے خلاف سخت جہاد کرنے کا حکم بھی دیا گیا کہ ’’جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم‘‘ کہ ان کے ساتھ جہاد کریں اور ان پر سختی کریں۔ 
لیکن یہ بات توجہ طلب ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کے خلاف ’’جہاد‘‘ کا کون سا طریقہ کار اختیار کیا؟ یہ لوگ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے ساتھ رہے، مسجد نبویؐ میں نمازیں پڑھتے تھے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے تھے، اور معاشرتی زندگی میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ پوری طرح شریک کار رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ حضرت عمرؓ اور حضرت خالد بن ولیدؓ نے بعض منافقین کو قتل کرنے کی اجازت مانگی مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔ اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ بظاہر کلمہ پڑھتے ہیں اس لیے انہیں قتل کرنے سے دنیا والوں کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کلمہ گو ساتھیوں کو بھی قتل کرنے لگے ہیں۔ ان میں سے کسی کو قتل کرنا تو درکنار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درجن سے زائد ان منافقین کے نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا جنہوں نے ایک سفر سے واپسی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کے لیے ویرانے میں گھات لگائی تھی اور ننگی تلواروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ ان کا یہ حملہ ناکام ہوا مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو پہچان لیا تھا اور اپنے ساتھی حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کو اس شرط پر سب کے نام بتا بھی دیے تھے کہ وہ کسی اور کو ان میں سے کسی کا نام نہیں بتائیں گے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگوں بالخصوص حضرت عمرؓ کے شدید اصرار کے باوجود انہوں نے زندگی بھر ان میں سے کسی کا نام افشاء نہیں کیا۔ 
یہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی تھی کہ منافقین کی تمام تر شرارتوں اور سازشوں کے باوجود ان کے خلاف ’’جہاد اور سختی‘‘ کے قرآنی حکم کی تعمیل کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تدبر اور حکمت کا راستہ اختیار کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مدینہ منورہ میں کوئی معاشرتی خلفشار پیدا نہیں ہوا اور منافقین رفتہ رفتہ بے اثر ہو کر سوسائٹی میں تحلیل ہوتے چلے گئے۔ حتیٰ کہ خلفاء راشدینؓ کے دور میں ایک طبقہ کے طور پر ان کا کوئی وجود نہیں پایا جاتا تھا اور وہ نسیاً منسیا ہو کر رہ گئے تھے۔
منافقین کے ساتھ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکیمانہ طرز عمل سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جہاد صرف لڑنے کا نام نہیں بلکہ حکمت عملی کے ساتھ دشمن کو ناکام بنا دینا بھی جہاد کہلاتا ہے اور کھلے کافروں کے ساتھ جو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ان کا ’’کلمہ گو کافروں‘‘ کے ساتھ اختیار کرنا نہ صرف یہ کہ ضروری نہیں بلکہ یہ بات نقصان دہ اور اسلام کی دعوت و تبلیغ میں رکاوٹ بھی بن جاتی ہے۔ اس لیے آج کے حالات میں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے راہ نمائی حاصل کرتے ہوئے ان معاملات پر اپنے طرز عمل کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۵)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۴۶) حال کا ایک خاص استعمال

عربی زبان میں حال کا عام استعمال تو فعل کی انجام دہی کے وقت ذو الحال کی حالت بیان کرنے کے لئے ہوتا ہے، جیسے جاء زید راکبا یعنی زید سوار ہوکر آیا۔ لیکن حال کا ایک استعمال اس وقت بھی ہوتا ہے جب ایک فعل کے فورا بعد دوسرا فعل شروع ہوتا ہے، ترجمہ میں اس کی رعایت سے ترجمہ کی معنویت بڑھ جاتی ہے۔ بعض مترجمین نے کچھ مقامات پر اس استعمال کے مطابق ترجمہ کیا ہے، جبکہ بعض دوسرے مقامات پر اس طرح ترجمہ نہیں کیا گیا، حالانکہ وہاں بھی اسی طریقہ پر ترجمہ کرنا زیادہ مناسب لگتا ہے، مثالیں حسب ذیل ہیں:

(۱) فَکَیْْفَ إِذَا أَصَابَتْہُم مُّصِیْبَۃٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَیْْدِیْہِمْ ثُمَّ جَآؤُوکَ یَحْلِفُونَ بِاللّٰہِ إِنْ أَرَدْنَا إِلاَّ إِحْسَاناً وَتَوْفِیْقاً۔ (النساء :۶۲)

’’پھر اس وقت کیا ہوتا ہے جب اِن کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر آ پڑتی ہے؟ اُس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تو صرف بھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہو جائے‘‘۔ (سید مودودی)
’’پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو پھر یہ آپ کے پاس آکر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا‘‘۔(محمد جونا گڑھی) 
پہلے ترجمہ میں’’ قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں‘‘ ہے، جس کے مقابلے میں دوسرا ترجمہ زیادہ مناسب ہے، یعنی آکر قسمیں کھاتے ہیں۔

(۲) مَا یَأْتِیْہِم مِّن ذِکْرٍ مَّن رَّبِّہِم مُّحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوہُ وَہُمْ یَلْعَبُون۔ (الانبیاء :۲)

’’ان کے پاس کوئی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
اس ترجمے کے مقابلے میں ذیل کے ترجمے زیادہ مناسب ہیں:
’’ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نئی یاد دہانی نہیں آتی مگر یہ کہ کان لگا کر سن لیتے ہیں اور پھر کھیل تماشے میں لگ جاتے ہیں‘‘۔(ذیشان جوادی)
’’ان کے پروردگار کے پاس سے کوئی بھی نئی سے نئی نصیحت آئے ، یہ اسے سن کر کھیل تماشے میں لگے رہتے ہیں‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۳) وَنَادَیْْنَاہُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَیْْمَنِ وَقَرَّبْنَاہُ نَجِیّاً۔ (مریم : ۵۲)

’’ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے ندا کی اور راز گوئی کرتے ہوئے اسے قریب کر لیا‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
’’اور اسے ہم نے طور کی داہنی جانب سے ندا فرمائی اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیا‘‘۔(احمد رضا خان)
’’راز گوئی کرتے ہوئے‘‘، یا ’’راز گوئی کرنے کو‘‘، کے بجائے ترجمہ حسب ذیل ہونا چاہئے:
’’اور ہم نے اس کو طور کے مبارک کنارے سے آواز دی اور قریب کرکے اس سے سرگوشی کی‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۴) وَلاَ تَقْعُدُواْ بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ مَنْ آمَنَ بِہِ وَتَبْغُونَہَا عِوَجًا۔ (الاعراف:۸۶)

’’اورہر راہ میں دھمکیاں دیتے، اہل ایمان کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس راہ کو کج کرتے نہ بیٹھو‘‘۔ (اصلاحی)
اس آیت میں تین افعال بطور حال آئے ہیں ، ان کا ترجمہ حسب ذیل ہونا چاہئے:
’’اور ہر راستے میں بیٹھ کر جو ایمان لائے انہیں دھمکیاں نہ دو اور اللہ کی راہ سے نہ روکو اس میں کجی کی خواہش کے ساتھ‘‘۔(امانت اللہ اصلاحی)

(۵) وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِیْنَ إِلَی جَہَنَّمَ وِرْدا۔ (مریم: ۸۶)

’’اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے‘‘۔(احمد رضا خان)
درست ترجمہ حسب ذیل ہے:
’’اور مجرموں کو ہانک کر جہنم کے گھاٹ پر پہنچائیں گے‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۵) فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیِّیْنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنذِرِیْن۔ (البقرۃ : ۲۱۳)

’’پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’تو اللہ نے اپنے انبیاء بھیجے جو خوشخبری سناتے اور خبردار کرتے آئے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
درست ترجمہ یوں ہوگا:
’’تو اللہ نے اپنے انبیاء بھیجے جنھوں نے آکر خوش خبری سنائی اور خبردار کیا‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی)
بعض مترجمین نے یہاں حال کے بجائے صفت کا ترجمہ کردیا ہے لیکن ایسا کرنا زبان کے قواعد سے مطابقت نہیں رکھتا، جیسے:
’’تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے‘‘(سید مودودی)

(۴۷) سَرِیعُ الحِسَابِ اور سَرِیعُ العِقَابِ کا مطلب

قرآن مجید میں اللہ تعالی کی ایک صفت کے طور پر سَرِیعُ الحِسَابِ  کئی جگہ استعمال ہوا ہے۔ ایک جگہ سَرِیعُ العِقَابِ بھی آیا ہے۔ سَرِیعُ الحِسَابِ کے مفہوم کی تشریح کرتے ہوئے علامہ قرطبی نے لکھا ہے:

والمعنی فی الآیۃ: ان اللہ سبحانہ سریع الحساب، لایحتاج الی عد ولاالی عقد ولا الی اعمال فکر کما یفعلہ الحساب...فاللہ جل وعز عالم بما للعباد وعلیہم فلا یحتاج الی تذکر وتأمل، اذ قد علم ما للمحاسب وعلیہ، لان الفائدۃ فی الحساب علم حقیقتہ۔۔۔ وقیل: معنی الآیۃ سریع بمجیء یوم الحساب، فالمقصد بالآیۃ الانذار بیوم القیامۃ. (تفسیر القرطبی،البقرۃ،الآیۃ:۲۰۲)

اس سے پتہ چلتا ہے کہ قرطبی نے آیت کے جس مفہوم کو اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ جب کسی کا حساب کرتا ہے تو اسے حساب کرنے میں دیر نہیں لگتی۔ دوسرا مفہوم جو بعض لوگوں نے لیا ہے، وہ یہ ہے کہ حساب کا دن اللہ بہت جلدی لے آئے گا۔ لیکن اس دوسرے مفہوم کے لئے جو تکلف آمیز تاویل کرنا پڑتی ہے، وہ مخفی نہیں ہے، اسی لیے قرطبی نے اسے صیغہ تضعیف سے ذکر کیا ہے۔
شبیر احمد عثمانی نے دونوں مفہوم بیک وقت مراد لیے ہیں، وہ لکھتے ہیں: ’’یعنی حساب کا دن کچھ دور نہیں ، جلد آنے والا ہے اور جب حساب شروع ہوگا، تمام دنیا کا پائی پائی کا حساب بہت جلد بے باق کردیا جائے گا‘‘۔(شبیر احمد عثمانی)
لیکن یہ دونوں معنی بیک وقت لینا صحیح نہیں ہے، بلکہ قرآن مجید میں ایسے ہر مقام پر ایک ہی مفہوم لینا درست ہے اور وہ یہ کہ اللہ کو حساب لینے میں دیر نہیں لگتی ہے۔کیونکہ لفظ سریع کسی کام کو جلدی سے انجام دینے کے لئے آتا ہے، نہ کہ کسی کام کے وقت کے قریب آجانے کے لئے۔مثال کے طور پر اگر یہ کہنا ہو کہ زید کھانا جلدی کھالیتا ہے تو کہیں گے: زید سریع الاکل۔ لیکن اگر یہ کہنا ہو کہ زید جلد ہی کھانا کھالے گا ( مراد یہ ہو کہ وہ عنقریب کھانا کھالے گا) تو اس کے لیے زید سریع الاکل نہیں کہا جائے گا۔ سریع کے لفظ کا مفہوم انگریزی مترجمین نے زیادہ تر Swift کے لفظ سے کیا ہے، واقعہ یہ ہے کہ یہ سریع کے مفہوم کی انگریزی زبان میں ادائیگی کے لئے بہت مناسب لفظ ہے۔
تراجم قرآن کا جائزہ لیتے ہوئے کبھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی ترجمۂ قرآن میں مختلف مقامات پر اس ایک لفظ کا مختلف طرح سے ترجمہ کیا گیا ہے، مثالیں حسب ذیل ہیں:

(۱) وَالَّذِیْنَ کَفَرُوا أَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍ بِقِیْعَۃٍ یَحْسَبُہُ الظَّمْآنُ مَاءً ا حَتَّی إِذَا جَاء ہُ لَمْ یَجِدْہُ شَیْْئاً وَوَجَدَ اللَّہَ عِندَہُ فَوَفَّاہُ حِسَابَہُ وَاللَّہُ سَرِیْعُ الْحِسَاب۔ (النور:۳۹)

’’اورجو لوگ کافر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے ایک چٹیل میدان میں چمکتا ہوا ریت کہ پیاسا (آدمی) اس کو (دور سے) پانی خیال کرتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آیا تو اس کو (جو سمجھ رکھا تھا) کچھ بھی نہ پایا اور قضاء الٰہی کو پایا، سو اللہ تعالی نے اس (کی عمر) کا حساب اس کو برابر سرابر چکادیا (یعنی عمر کا خاتمہ کردیا) اور اللہ تعالی دم بھر میں حساب (فیصل) کردیتا ہے‘‘۔(اشرف علی تھانوی، یہاں ترجمہ صحیح کیا ہے)

(۲) أُولَئِکَ لَہُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُواْ وَاللّہُ سَرِیْعُ الْحِسَاب۔ (البقرۃ:۲۰۲)

’’ایسے لوگوں کو (دونوں جہان میں) بڑا حصہ ملے گا، بدولت ان کے عمل کے، اور اللہ تعالی جلد ہی حساب لینے والے ہیں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی، یہاں ترجمہ صحیح نہیں ہے)

(۳) أُوْلَئِکَ لَہُمْ أَجْرُہُمْ عِندَ رَبِّہِمْ إِنَّ اللّہَ سَرِیْعُ الْحِسَاب۔ (آل عمران:۱۹۹)

’’ایسے لوگوں کو ان کا نیک عوض ملے گا ان کے پروردگار کے پاس، بلاشبہہ اللہ تعالی جلدی ہی حساب کردیں گے‘‘۔(اشرف علی تھانوی، یہاں ترجمہ صحیح نہیں ہے)
بہت سارے مترجمین سریع الحساب  کا ترجمہ کرتے ہیں : بے شک اللہ جلد حساب چکانے والا ہے، یا جلدی حساب چکانے والا ہے، اس ترجمہ سے واضح نہیں ہوتا کہ مراد کیا ہے، کیونکہ اردو زبان کے لحاظ سے ذہن دونوں طرف جاسکتا ہے، یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ حساب کا وقت جلدآنے والا ہے، اور یہ بھی کہ جب اللہ حساب چکائے گا تو بہت جلدی چکادے گا اور اس کام میں اس کو ذرا دیر نہیں لگتی ہے۔ ذہن کو دوسری طرف جانے سے بچانے کے لئے ترجمہ یہ ہونا چاہیے کہ ’’اللہ کو حساب چکاتے دیر نہیں لگتی‘‘، بعض مترجمین اس امر کا لحاظ کرتے ہیں لیکن بعض کے یہاں اس کا لحاظ نہیں ملتا۔
سریع الحساب  کی طرح سریع العقاب  کا مطلب بھی یہ ہوگا کہ اس کو سزا دینے میں دیر نہیں لگتی، نہ یہ کہ وہ جلد اورعنقریب سزا دینے والا ہے:

إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ۔ (الانعام:۱۶۵)

’’بیشک تمہارے رب کو عذاب کرتے دیر نہیں لگتی اور بیشک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)

(۴۸) فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ 

فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْْسَرَ مِنَ الْہَدْی۔ (البقرۃ:۱۹۶)

اس آیت کا ترجمہ لوگوں نے عام طور سے یوں کیا ہے:
’’تو جو کوئی حج تک عمرہ سے فائدہ اٹھائے تو وہ قربانی پیش کرے جو میسر آئے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
عام طور سے مترجمین اور مفسرین نے اس آیت کا یہی مفہوم بیان کیا ، اور پھر تکلف سے بھرپور تاویلوں پر مجبور ہوئے، کیونکہ حج تک عمرہ سے فائدہ اٹھانے کا مطلب واضح نہیں ہوپاتا۔ کیونکہ جب ایک شخص عمرہ کرکے احرام کی پابندیوں سے حج تک کے لیے آزاد ہوگیا، تو اس میں حج تک عمرہ سے فائدہ اٹھانے کا کیا مطلب ہوا؟
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے آیت کا ترجمہ اس طرح تجویز کیا ہے :
’’تو جو کوئی حج کے ساتھ ساتھ پہلے عمرہ سے فائدہ اٹھائے تو وہ قربانی پیش کرے جو میسر آئے‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی) 
حج کے ساتھ عمرہ سے فائدہ اٹھانے کا مطلب بہت واضح ہے کہ جو ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں کرلے۔ اس مفہوم کو اختیار کرنے سے سارے اشکالات اور تکلفات ازخود دور ہوجاتے ہیں، اور مطلب یہ ہوا کہ اس نے ایک ہی سفر میں عمرہ کا بھی فائدہ حاصل کیا اور ساتھ ہی حج کا بھی فائدہ حاصل کرلیا۔
مخصوص مقامات پر الی، مع کے معنی میں آتا ہے، اس پر نحو قرآنی کے امام فراء نے بہت اچھی گفتگو کی ہے ،وہ کہتے ہیں:

وانما یجوز ان تجعل (الی) موضع (مع) اذا ضممت الشیء الی الشیء مما لم یکن معہ؛کقول العرب: ان الذود الی الذود ابل، أی اذا ضممت الذود الی الذود صارت ابلا. فاذا کان الشیء مع الشیء لم تصلح مکان مع الی، ألا تری أنک تقول: قدم فلان ومعہ مال کثیر، ولا تقول فی ھذا الموضع: قدِم فلان والیہ مال کثیر. (معانی القرآن للفراء:۱/۲۱۸)

الی بمعنی مع کی کچھ مثالیں حسب ذیل ہیں: 

(۱) وَلاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَہُمْ إِلَی أَمْوَالِکُمْ۔ (النساء :۲)

’’اور اُن کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ‘‘۔ (سید مودودی)

(۲) وَأَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ فَزَادَتْہُمْ رِجْساً إِلَی رِجْسِہِمْ وَمَاتُواْ وَہُمْ کَافِرُون۔ (التوبۃ : ۱۲۵)

’’اور جن کے دلوں میں روگ ہے اس سورت نے ان میں ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی بڑھا دی‘‘۔(محمد جونا گڑھی)

(۳) وَیَزِدْکُمْ قُوَّۃً إِلَی قُوَّتِکُم۔ (ھود : ۵۲)

’’اور تمہاری موجودہ قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا‘‘۔(سید مودودی)

(۴) قَالَ لَقَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِکَ إِلَی نِعَاجِہ۔ (ص :۲۴)

’’آپ نے فرمایا! اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بیشک تیرے اوپر ایک ظلم ہے‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)

(۴۹) إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِن شَعَآئِرِ اللّہِ 

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِن شَعَآئِرِ اللّہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْہِ أَن یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔ (البقرۃ:۱۵۸)

اس آیت کا ترجمہ عموماً یوں کیا گیا ہے:
’’یقیناًصفا اور مروہ ، اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے، اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ اِن دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کر لے‘‘۔(سید مودودی)
’’صفااور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لئے بیت اللہ کا حج وعمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کرلینے میں بھی کوئی گناہ نہیں‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی حرف باء کو معیت کا مان کر اس آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں:
’’یقیناًصفا اور مروہ ، اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے، اس پر کوئی حرج نہیں کہ (بیت اللہ ) کا طواف ان دونوں (صفا ومروہ) کے ساتھ کرے‘‘۔ 
اس کی وجہ یہ ہے کہ طواف کا لفظ خانہ کعبہ کے گرد چکر لگانے کے لئے تو آتا ہے، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کے لئے نہیں آتا، مزید یہ کہ حرف باء دو چیزوں کے درمیان کے معنی میں نہیں آتا ہے۔ اس ترجمہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کوئی علیحدہ اور مستقل عمل نہیں ہے بلکہ خانہ کعبہ کے طواف سے ملحق عمل ہے۔یعنی یا تو صرف خانہ کعبہ کا طواف ہوگا، جو عام حالات میں ہوتا ہے، اور یا پھر حج اور عمرہ کے ذیل میں خانہ کعبہ کا طواف صفا اور مروہ کی سعی کے ساتھ ہوگا۔

(۵۰) دُعِیَ اللہ کا ترجمہ

دعا کا مطلب بلانا اور پکارنا ہوتا ہے، جس کو بلایا جائے وہ مفعول بہ یا نائب فاعل بنتا ہے، اگر کسی کی طرف بلایا جانا مقصود ہو تو جس کی طرف بلایا جانا ہے اس پر الی کا صلہ لگتا ہے، اس کی مثالیں قرآن مجید میں خوب ہیں، جیسے:

وَإِذَا دُعُوا إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ لِیَحْکُمَ بَیْْنَہُمْ إِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُم مُّعْرِضُون۔ (النور:۴۸)

’’جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف، تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے‘‘۔(سید مودودی)
یہاں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جانے کی بات ہے اس لئے الی کا استعمال کیا گیا ہے۔

وَلَکِنْ إِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوا۔ (الاحزاب:۵۳)

’’ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو‘‘۔(احمد رضا خان)
یہاں مخاطب کو بلائے جانے کی بات ہے اس لئے مخاطب کی ضمیر بغیر الی کے مذکور ہے۔
مذکورہ ذیل آیت میں دعی کے بعد اللہ کا لفظ بغیر الی کے آیا ہے، اس کے باوجود بعض مترجمین نے اللہ کو پکارنے کے بجائے اللہ کی طرف بلانے کا ترجمہ کیا، جو زبان کے قواعد کے خلاف ہے۔

ذَلِکُم بِأَنَّہُ إِذَا دُعِیَ اللَّہُ وَحْدَہُ کَفَرْتُمْ وَإِن یُشْرَکْ بِہِ تُؤْمِنُوا فَالْحُکْمُ لِلَّہِ الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ۔ (غافر:۱۲)

’’یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو، اِس وجہ سے ہے کہ جب اکیلے اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کر دیتے تھے اور جب اُس کے ساتھ دوسروں کو ملایا جاتا تو تم مان لیتے تھے اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ ہے‘‘۔ (سید مودودی)
’’یہ انجام تمہارے سامنے اس وجہ سے آیا کہ جب اللہ واحد کی دعوت دی جاتی تو تم اس کا انکار کرتے اور اگر اس کے شریک ٹھہرائے جاتے تو تم مانتے۔ تو اب فیصلہ خدائے بلند وعظیم ہی کے اختیار میں ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
یہ دونوں ترجمے درست نہیں ہیں، دراصل آیت میں نہ اللہ کی طرف بلایا جانا مراد ہے اور نہ اللہ کی دعوت دینا، کیونکہ دونوں صورتوں میں الی کا صلہ آنا ضروری تھا، دراصل آیت میں تو تنہا اللہ کو پکارنا مراد ہے۔ اور پکارنے سے بھی دراصل عبادت کرنا مراد ہے۔
اکثر مترجمین نے آیت کا درست ترجمہ کیا ہے جیسے:
’’یہ اس پر ہوا کہ جب ایک اللہ پکارا جاتا تو تم کفر کرتے اور ان کا شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے تو حکم اللہ کے لیے ہے جو سب سے بلند بڑا‘‘۔(احمد رضا خان)
آیت کے دوسرے حصے وَإِن یُشْرَکْ بِہِ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ پہلے حصے میں تنہا اللہ کی عبادت کی بات کی جارہی ہے نہ کہ اللہ کی طرف دعوت دینے کی بات۔
اس آیت کے مضمون سے ملتا جلتا مضمون سورہ زمر کی مذکورہ ذیل آیت میں بیان ہوا ہے:

وَإِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَۃِ وَإِذَا ذُکِرَ الَّذِیْنَ مِن دُونِہِ إِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُونَ۔ (الزمر:۴۵)

’’جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں، اور جب اُس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں‘‘۔ (سید مودودی)

ملت اسلامیہ کا بھولا ہوا ایک اہم فریضہ

مولانا محمد عیسٰی منصوری

اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کر کے اس کی رہنمائی کے لیے حضرات انبیاء کا سلسلہ شروع فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء دنیا میں تشریف لائے۔ ان سارے انبیاء کے بنیادی کام تین تھے۔
۱۔ نبی انسانوں میں محنت وکوشش کر کے اللہ تعالیٰ کا تعارف وپہچان کرا کے ان کے دلوں میں اللہ کی عظمت ومحبت بٹھاتے، اللہ سے رشتہ جوڑ کر انھیں اللہ تعالیٰ کے لیے جینا ومرنا سکھا کر اس کو اللہ والا بنا دیتے۔ اس کے بعد انسان دنیا میں اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جیتا تھا۔
۲۔ حضرات انبیاء انسانوں کو بتاتے کہ موت کے بعد ایک ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی آنے والی ہے جو کروڑوں، اربوں، کھربوں سال سے زیادہ اور ابدی ہوگی اس لیے اے انسان! تو اپنی اس زندگی (آخرت) کو سنوارنے کے لیے دنیا میں محنت کرے۔ اس مختصر سی عارضی زندگی میں تیرا کوئی کام، کوئی حرکت، کوئی زبان کا بول، کوئی قدم ایسا نہ اتھے جس سے تیری آخرت بگڑ جائے۔ تو انسان آخرت کی فکر کے ساتھ جیتا تھا۔
۳۔ انبیاء انسانوں کو سمجھاتے کہ دنیا کی عارضی زندگی اپنی خواہشات، دل کی چاہت یا لوگوں کی دیکھا دیکھی یا اپنی سمجھ وعقل کے مطابق گزارنے کے بجائے اس کو اللہ کے احکامات کے مطابق گزارنے سے تو دنیا وآخرت میں کامیاب ہوگا۔ تو انسان کو خواہشات پرچلنے کے بجائے اللہ کے احکامات پر چلنے والا بناتے۔ 
دنیا میں جتنے بھی انبیاء آئے، سارے ہی نبیوں کے بنیادی کام یہی تین تھے۔ (۱) اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرنا (۲) آخرت کی فکر کے ساتھ رہنا (۳) خواہشات کے بجائے احکامات پر چلنا۔
اس کے علاوہ دین کے جتنے بھی کام او رشعبے ہیں جیسے درس وتدریس، وعظ وتذکیر، تصنیف وتالیف، تزکیہ واصلاح نفس، یہ تمام شعبے اللہ کے خاص بندوں، اہل اللہ اور علماء امت نے اپنے اپنے زمانے میں مسلمانوں کی تعلیم وتربیت، دین سکھانے اور دین پر چلنے کے لیے اپنے اجتہاد سے شروع فرمائے۔ حضرت مولانا الیاس صاحبؒ فرماتے تھے کہ یہ تمام اجتہادی شعبے اصل کے ساتھ (حضرات انبیاء کے مذکورہ تینوں کاموں کے ساتھ) ہوں گے تو ان کے منافع، فوائد وبرکات ہزاروں گنا بڑھ جائیں گے اور جب اصل کے بغیر صرف یہی شعبے رہ جائیں گے تو ان کا نفع وفائدہ بہت محدود ہو جائے گا۔ پھر آہستہ آہستہ ان میں رَسمیت آ کر یہ شعبے اپنی اصل روح کھو کر بے جان رہ جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان ان اجتہادی شعبوں میں لگا ہو جیسے درس وتریس، وعظ وتذکیر، تزکیہ واصلاح نفس، تبلیغ وارشاد تو اس کے لیے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے معاشرہ میں ایمان واسلام بھی غیروں تک پہنچائے او رمسلمانوں میں محنت کر کے ان میں آخرت کی فکر پیدا کرے۔ ان کا رشتہ تعلق اللہ سے جوڑنے اور انھیں خواہشات سے ہٹا کر احکامات پر لانے کی جدوجہد بھی کرنی ہوگی۔
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کا اصل تقاضا یہی ہے کہ ہر نبی کا اصل کام اور اصل دعوت ایمان واسلام یعنی خدا کو ماننے اور خدا کی ماننے ہی کی تھی۔ کسی نبی نے کبھی نماز، ذکر یا کسی اور چیز کی دعوت نہیں دی۔ وہ انسانوں کو اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کی زندگی کے سب سے بنیادی اور اصل کام دو ہیں۔ (۱) غیر مسلموں کو ایمان واسلام کی دعوت دینا۔ (۲) اور مسلمانوں میں آخرت کی فکر، اللہ سے رشتہ جوڑنے اور اللہ کے احکامات پر لانے کی فکر کرنا۔ پہلا اور اصل کام آج تقریباً بالکل چھوٹ گیا ہے۔ چند لوگ انفرادی حیثیت سے ضرور کر رہے ہیں، لیکن من حیث الامۃ پورے مسلمان اس فریضہ سے غافل ہیں۔ اچھے اچھے صالحین، اللہ والوں، دین دار وعبادت گزاروں کو اس کا خیال تک نہیں کہ ہم جس ملک ومعاشرہ میں رہ رہے ہیں، اس کے باشندوں تک اسلام وایمان پہنچانا بھی ہماری ذمہ داری وفریضہ ہے۔ اس اصل کام کے چھوٹنے کی وجہ سے آج پوری امت مسلمہ اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے گر کر ہر قسم کی پریشانیوں، مصیبتوں، تباہی وبربادی اور اللہ کی ناراضگی وغضب میں گھر چکی ہے۔
مثلاً یہاں برطانیہ میں ہم نے درجنوں دار العلوم، جامعات قائم کر لیے بلکہ متعدد شہروں اور بستیوں میں دو دو تین تین دار العلوم بنتے جا رہے ہیں، مگر ہمارے پاس ایک بھی ایسا ادارہ نہیں ہے جہاں کسی نومسلم کو دو تین سال رکھ کر ضروریات زندگی سے بے فکر کر کے اسلام کی بنیادی تعلیم دے کر اس کے اپنے معاشرے میں اسلام وایمان کا داعی بنا کر بھیجا جائے، جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جو ایمان لاتا، اسے تھوڑے دنوں دین کی بنیادی تعلیم وتربیت فرما کر اس کے قبیلہ وقوم اور علاقہ میں ایمان کا داعی بنا کر بھیجتے۔ چنانچہ صحابہ کی دعوت پر ان کا قبیلہ وقوم یا اکثر افراد یا بعض افراد مسلمان ہو جاتے۔ ایسا بھی ہوا کہ کسی صحابی کے اسلام کی دعوت دینے پر ان کی قوم وقبیلہ نے شہید کر دیا۔ جیسے طائف میں حضرت عروہ بن مسعود ثقفیؓ کے ساتھ ہوا۔ غرض ایمان لانے کے بعد براہ راست اسلام کی دعوت اختیار کرنے کی برکت تھی کہ آناً فاناً اسلام دنیا میں پھیلتا رہا۔ 
مدینہ منورہ کے دس سال میں روزانہ ۲۷۴ میل کے حساب سے اسلام پھیلا۔ آپ کی وفات کے وقت تقریباً دس لاکھ مربع میل کا علاقہ اسلام کے زیر نگیں آ گیا۔ دور فاروقی میں ۲۳ لاکھ مربع میل، دور عثمانی میں ۴۴ لاکھ مربع میل اور حضرت معاویہ کے دور میں ۶۵ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح ہوا۔ یعنی صرف ۳۵، ۳۷ سال کی مختصر مدت میں اس دور کی بیشتر دنیا، ایشیا وافریقہ کے بڑے حصہ میں اسلام پہنچ گیا۔ دور عثمانی میں مکران (سندھ) او ربلوچستان اور دریائے جیحوں کو عبور کر کے چین میں مسلم آبادیاں قائم ہو گئی تھیں اور مسلمان یورپ میں پہنچ گئے تھے۔ آج جسے مسلم ورلڈ یا عالم اسلام کہا جاتا ہے، وہ درحقیقت حضرات صحابہ کرام کی دعوت کاپہن ہے۔ بعد کے ادوار میں اصل طرز دعوت (غیروں کو ایمان واسلام کی براہ راست دعوت کا عمل) چھوڑ جانے کی وجہ سے ایک تو اشاعت اسلام کی رفتار بہت دھیمی اور سست پڑ گئی۔ دوسرے عسکری یا دوسرے ذرائع سے جو خطے مسلمانوں کی عمل داری میں آئے، عسکری طاقت کمزور پڑتے ہی وہاں کفر کی عمل داری واقتدار قائم ہو گیا اور براہ راست غیر مسلموں میں ایمان کی دعوت چھوٹ جانے کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر طرح طرح کی خرابیاں اور فتنے پیدا ہو گئے۔ اس کے برخلاف جہاں جہاں اسلام حضرات انبیاء کے اصل طرز، دعوت الی اللہ سے پھیلا، وہاں آج تک اسلام ومسلمان محفوظ ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس آخری دور میں ہم دوبارہ اپنے اولین اور اصلی دور کے طرز عمل کی طرف لوٹیں۔ حضرت امام مالکؒ کا مقولہ مشہور ہے کہ جس طریقہ اور طرز سے اولین دور (دور نبوت وصحابہ) میں کامیابی وفلاح حاصل ہوئی تھی، آخری دور میں بھی اسی طرز (دعوت الی اللہ) کے ذریعہ حاصل ہوگی۔ دین کے دوسرے شعبوں کا کماحقہ فائدہ ایمان کی دعوت کے ساتھ ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ ایمان واسلام کی غیروں کو دعوت کے عمل کے بغیر دین کے اجتہادی شعبے بے جان وبے روح اور رسمی بن کر رہ جاتے ہیں۔ عصر حاضر کی ایک بڑی غلط فہمی یہ بھی ہے کہ دین کے اجتہادی مختلف شعبہ والوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم بھی تو دعوت ہی کا کام کر رہے ہیں جبکہ وہ انسانوں کو براہ راست ایمان واسلام کی دعوت کے بجائے دین کے دیگر اجتہادی شعبوں میں لگے ہوئے ہیں۔ 
سیرت اور قرآن وسنت کی رو سے ایک مسلمان کا سب سے پہلا فریضہ اپنے معاشرہ میں ایمان کی دعوت دینا ہے۔ اسلام کے مثالی معاشرہ (دور نبوت) میں حضرات صحابہ کرام میں چند افراد متخصص فی التجوید وقراء ت یا متخصص فی الفقہ یا متخصص فی المغازی (سیرت) تھے، لیکن سو فی صد صحابہ کرام متخصص فی الدعوۃ تھے۔ یعنی ہر صحابی جہاں رہا، اس نے اپنے معاشرہ میں بے شمار لوگوں تک ایمان واسلام پہنچایا۔ آج ہم مولوی، حافظ، قاری، مفتی سب کچھ بناتے ہیں، نہیں بناتے تو غیر مسلموں کو ایمان کی دعوت دینے والے نہیں بناتے، جبکہ دین کے دیگر شعبوں کا مقصود اصل کام ایمان کی دعوت ہے۔ جیسے وضو ذریعہ ہے نماز کا۔ اگر کوئی زندگی بھر وضو بناتا رہے، نماز نہ پڑھے۔ ہم وہی کر رہے ہیں۔ متعین رسمی کام کے لیے علمی صلاحیت پیدا کر رہے ہیں، لیکن اصل کاموں سے غافل ہیں۔
ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ دور نبوت میں جب کوئی ایمان لاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ظاہر کے بجائے دل وباطن بدلنے پر ساری توجہ مرکوز فرماتے۔ دیکھیے صحابہ کرامؓ کے نام ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر وغیرہ سب اسلام کے پہلے کے ہیں۔ آپ نے چند ہی لوگوں کے نام تبدیل کیے جن کے نام میں شرکیہ یا گندے معنی نکلتے تھے۔ اسی طرح زبان اور لباس سب عربوں (مسلمان وکافر) کا ایک ہی جیسا تھا۔ آپ کی پوری کوشش ان کے اندر اللہ کا تعلق پیدا کرنے، اندرون اور دلوں کے بدلنے کی ہوتی تھی۔ کفر کی جگہ ایمان، جہالت کی جگہ علم، غفلت کی جگہ اللہ کا دھیان پیدا کرنے کی ہوتی۔ پھر چند دنوں کی تربیت فرما کر انھیں دوسروں کو ایمان واسلام کی دعوت کے عمل پر گام زن فرما دیتے۔ لیکن آج مثلاً کوئی شخص یہاں (لندن میں) مسلمان ہو تو میں اس کے دل اور اندرون کو بدلنے کی کوشش کے بجائے پہلے اس کا نام بدلوں گا۔ پھر لباس شلوار کرتا پہناؤں گا۔ پھر ٹوپی پہنا کر اس پر عمامہ باندھ کر سمجھ لوں گا کہ میرا پورا کام ہو گیا۔ یعنی بڑھیا کے باز کی طرح جس نے شاہی باز کے ناخن چونچ کتر کر اسے اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے معاشرہ اور سوسائٹی میں واپس جا سکے، ہم اس نومسلم کو اس کے معاشرہ میں جا کر دعوت دینے کے قابل نہیں چھوڑتے۔
اگر حضرات صحابہ دنیا کو ایمان کی دعوت دینے کے بجائے اس دور کی کفر کی دو عظیم سلطنتوں اور اس دور کے سپر پاور (رومن ایمپائر اور پرشین ایمپائر) کے عسکری مقابلہ کے لیے اسباب، سازو سامان، اسلحہ وسواریاں اکٹھی کرنے پر توجہ دیتے تو شاید صدیوں تک ان کے مقابلہ کا ساز وسامان اور اسلحہ نہیں جمع کر پاتے۔ حضرات صحابہ نے نہایت مختصر راستہ (Short way) اختیار فرمایا، یعنی سب کو ایمان کی دعوت دی۔ جب کوئی ایمان کی دعوت دے تو دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو سامنے والا دعوت قبول کر کے اللہ کو مان کر مسلمان بن جائے گا یا انکار کرے گا۔ انکار کے بعد اللہ کا غیبی نظام اس کے خلاف ہو جائے گا اور وہ اللہ کی پکڑ میں آ کر تباہ ہو جائے گا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنے سے دس گنا زیادہ طاقتور دشمن کو تدبیر اور حکمت عملی سے اس سے کئی گنا زیادہ طاقت ور دشمن سے بھڑا دیں۔ صحابہ نے یہی کیا۔ ایران اور روم کی عظیم سلطنتوں کو، جن کے پاس ہزار ہا سال کے جمع شدہ خزانے، اسلحہ اور ساز وسامان تھا، ایمان کی دعوت دے کر ان کو اللہ کی طاقت سے ٹکرا دیا جو ان سے کروڑوں گنا زیادہ طاقت وقدرت والا ہے۔ غرض دعوت، دنیا میں کامیابی کی شاہ کلید (Master key)ہے۔
یہاں ایک بات اور سمجھنے کی ہے۔ عصر حاضر میں اسلام اور کفر کی طاقت وقوت کا توازن پھر اس لیول (درجہ) پر آ گیا ہے جو دور نبوت میں تھا۔ اگر اس دور میں مسلمان اور کفار کے درمیان اسلحہ وطاقت کا فرق ایک اور دس کا تھا تو یہ فرق مزید بڑھ کر ایک اور سو کا ہو گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ عالم کفر نے سائنسی ترقی سے طاقت وقوت کے فرق کو کمیت سے کیفیت تک وسیع کر دیا، یعنی کوانٹٹی (Quantity) سے کوالٹی (Quality) تک بڑھا دیا۔ دیکھیے اس دور میں فرق صرف تعداد کا تھا۔ مثلاً غزوۂ بدر میں ادھر تین سو تیرہ تو ادھر گیارہ سو، مگر اسلحہ کی کوالٹی میں فرق نہیں تھا۔ دونوں طرف دستی اسلحہ تھے۔ اب سائنس وٹکنالوجی نے دور مار الیکٹرانک اور کیمیاوی اسلحہ دے کر اسلحہ کی کوالٹی میں بھی بڑا فرق (Difference) پیدا کر دیا۔ اب ایک عورت ہوائی جہاز سے ایٹم بم گرا کر پورے ملک کے لاکھوں بہادر وشجاع افراد کو ختم کرسکتی ہے۔ اس لیے دور صحابہ کی طرح آج کے مسلمان کے پاس بھی صرف ایک ہی راستہ بچا ہے۔ وہ ہے ایمان کی دعوت کا راستہ۔ دنیا کے طاقت وقوت والے، جدید اسلحہ وسائنس وٹکنالوجی والے اللہ پر ایمان لے آئیں۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ طرز عمل رہا ہے کہ آپ نے عسکری ٹکراؤ پر ایمان کی دعوت کو ترجیح دی۔ ۶ھ میں آپ عمرہ کی نیت سے مکہ کے پاس حدیبیہ تک پہنچ گئے۔ کفار مکہ کی پوری کوشش تھی کہ آپ کو اس میدان میں لے آئیں جس میں انھیں برتری حاصل تھی (یعنی عسکری میدان) مگر آپ نے ان کی کوششوں کو ناکام بنا کر انھیں اس میدان میں آنے پر مجبور کر دیا جس میں مسلمانوں کو مطلقاً فوقیت وبرتری حاصل تھی (یعنی دعوت وفکر)۔ اس کی خاطر آپ نے ان کی یک طرفہ اشتعال انگیز قابل گرفت تمام شرائط مان لیں۔ صحابہ کرام میں صدیق اکبر کے علاوہ تقریباً سب ایسی یک طرفہ شرائط جو مسلمانوں کے خلاف اور کفار کے حق میں تھیں، ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، مگر آپ کا صلح سے مقصد یہ تھا کہ مختلف قبائل اور دنیا بھر کو ایمان کی دعوت پہنچانے کے لیے فضا بنے، ٹینشن وٹکراؤ کا ماحول ختم ہو اور دنیا اسلام کی دعوت پر غور کر سکے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ صلح حدیبیہ کے بعد صرف دو سال میں اتنے لوگ ایمان لائے جتنے گزشتہ بیس سال میں نہیں لائے تھے۔ دعوت کے مواقع ملنے کی برکت سے ایسا غلبہ وفتح حاصل ہوئی کہ دو سال بعد ۸ھ میں مکہ خود ہی فتح ہو گیا۔ اس صلح کا مقصد دنیا میں ایمان پہنچانے کے لیے فضا کو سازگار بناناتھا۔ اسی کو قرآن نے فتح کہا ہے۔
ہماری چودہ سو سالہ تاریخ درحقیقت دعوت کی تاریخ ہے۔ ہم نے جو کچھ حاصل کیا، ایمان کی دعوت ہی سے حاصل کیا اور جو کھویا، لوگوں کو ایمان پہنچانے کی دعوت ہی میں کوتاہی سے کھویا۔ چودہ سو سالہ تاریخ میں جب کبھی ملت پر نازک وقت آیا تو ایمان کی دعوت ہی سے حالات نے مسلمانوں کے حق میں پلٹا کھایا۔ پروفیسر آرنلڈ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ میں دو مواقع ایسے آئے تھے جب وحشی کافروں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کی گردنوں پر پاؤں رکھ دیے تھے۔ گیارہویں صدی عیسوی میں سلجوقی ترکوں نے اور تیرہویں صدی عیسوی میں منگول ترکوں نے، لیکن تعجب کی بات ہے کہ دونوں مواقع پر فاتح نے من حیث القوم مفتوح کا مذہب قبول کر لیا۔ مورخ پروفیسر ہٹی لکھتا ہے، جہاں مسلمانوں کے ہتھیار ناکام ہو گئے، ان کی دعوت نے فتح حاصل کر لی۔
تیرہویں صدی عیسوی کی ابتداء اسلام اور مسلمانوں کی دنیا بھر میں شکست وتباہی سے ہوئی تھی۔ ایک طرف پانچ سو سالہ خلافت عباسیہ ریزہ ریزہ ہو رہی تھی۔ ہر شہر میں مسلمانوں کے سروں کے منارے اور ہر مسجد لاشوں سے اٹی پڑی تھی۔ تاریخ میں یہ وقت (تیرہویں صدی عیسوی کی ابتدا) اسلام اور مسلمانوں کے لیے مکمل شکست وتباہی کا تھا۔ مورخین دنیائے اسلام کے مکمل خاتمہ کا اندازہ لگا رہے تھے۔ یہی وقت تھا جب اسپین سے مسلمانوں کو نکالا جا رہا تھا، زندہ جلایا جا رہا تھا اور قتل عام ہو رہا تھا۔ غرض یہ وقت مسلمانوں کی عسکری وسیاسی طور پر مکمل شکست، ناکامی وتباہی کا تھا۔ مگر یہی وقت تھا جب ایمان کی دعوت نے پورے مشرق بعید انڈونیشیا، ملائیشیا، جاوا اور سماترا کو فتح کر لیا۔ اس خطے میں مسلمانوں نے عسکری اقدام کبھی نہیں کیا۔ آج پھر دنیا بھر میں مسلمانوں کو اسی طرح کی عالمی شکست وہزیمت اور تباہی ک اسامنا ہے جس کا حل آج بھی صرف اور صر ف ایمان کی دعوت ہے۔ یاد رکھیے، جہاد دعوت ہی کا بالکل آخری مرحلہ ہے۔ جب دعوت کو طاقت سے روکا جائے تو طاقت ہی سے رکاوٹ دور کر دی جائے، جس طرح ڈاکٹر آخری آپریشن کے طور پر کینسر زدہ عضو کو کاٹ دیتا ہے کہ کینسر پورے جسم تک نہ پھیلے۔ آج کے جہادیوں کے پا س کوئی دعوت نہیں اور دعوت کے دعوے داروں کے نزدیک جہاد منسوخ۔ 
ملت کے تمام مسائل کا حل صرف ایمان کی دعوت ہے۔ دیکھیے، ۸۵۷اء میں شاملی کے میدان میں انگریز سے عسکری طور پر جن علماء نے شکست کھائی، ان میں حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ بھی تھے۔ سات آٹھ سالوں کے بعد جب مقابلہ عسکری کے بجائے دعوت وفکر کا پیش آیا اور عیسائی دنیا کے سب سے بڑے پادری (فنڈر) نے مسلمانوں کو للکارا تو انھی مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ نے اسے ایسی شکست دی کہ وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ بد قسمتی سے آج دین کے تینوں شعبوں (مدارس، خانقاہوں، تبلیغ) پر اہل مال (بنیوں) کا مکمل تسلط ہو گیا ہے اور تینوں شعبوں والے اہل مال کی خوشامد وطواف میں مشغول۔ بندہ اسے بنیوں والا دین کہتا ہے۔ یاد رکھیے، ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں میں سے کسی ایک نبی نے اہل ثروت سے پیسہ لے کر کوئی مسجد مدرسہ، خانقاہ بنا کر نہیں دی۔ بیسویں صدی کے سب سے بڑے داعی الی اللہ حضرت مولانا الیاسؒ نے میوات میں نہ کوئی مسجد بنا کر دی نہ مدرسہ۔ آپ نے صرف ایمان دیا، آخرت کی فکر پیدا کی اور ان کا اللہ سے رشتہ جوڑا۔ آج بھی آپ یہ کام کر دیجیے۔ ہر جگہ کے مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق مساجد، مدرسے، جامعات ، خانقاہیں خود بنا لیں گے۔ جس طرح ہر شخص (امیر وغریب) اپنا مکان بنانا، بچی کی شادی کرنا، اپنے بچوں کی پرورش کرنا کام سمجھتا ہے، اسی طرح آپ ایمان، آخرت کی فکر دے دیں، وہ اپنی حیثیت کے مطابق سارے دینی ادارے خود بنا لے گا۔ ملت اسلامیہ کو ہندو پنڈتوں اور عیسائی پادریوں کی طرح ایسے مذہبی دلالوں کی ضرورت نہیں کہ فلاں فلاں علاقہ میں ہم مسجد، مدرسہ، جامعہ، ادارہ بنا رہے ہیں، لہٰذا پیسے دو۔ ایسے مولویوں نے اسلام کو، علم وذکر کو ذلیل کر کے دین کو اہل ثروت کی باندی بنا کر رکھ دیا ہے۔
بندہ یہاں (برطانیہ میں) تقریباً چالیس سال سے دیکھ رہا ہے کہ جتنے لوگ مسلمان ہوئے (ہر سال ہزارہا مسلمان ہوتے ہیں) خواہ از خود مسلمان ہوئے ہوں یا کسی کے ہاتھ پر مسلمان بنے ہوں، وہ کہاں ہیں؟ تحقیق پر معلوم ہوا کہ بیشتر ترکی کے شیخ ناظم جیسے لوگوں کا شکار ہو گئے (جس کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے)۔ یہ شخص نومسلم انگریز بچے بچیوں کو اذکار واوراد کے ایسے چکر میں ڈالتا تھا کہ زندگی بھر ذکر کے حلقوں میں سر دھنتے رہیں اور آپس میں روزانہ شادی طلاق میں لگے رہیں اور یہاں کے معاشرہ کو ایمان کی دعوت نہ دے سکیں۔ اس شخص نے شہروں سے دور متعدد مقامات پر نومسلموں کے لیے بستیاں بسائی ہوئی ہیں۔ یہ نومسلم یہاں کے معاشرہ سے کٹ کر آپس میں مشغول رہیں۔ ایمان واسلام کی دعوت دوسروں تک نہ پہنچا سکیں۔ بندہ کی تحقیق کے مطابق یہ شخص صہیونی طاقتوں کا ایجنٹ تھا اور اس کا شیخ مراکش میں صہیونی طاقتوں کا پروردہ ایجنٹ۔ اسلام دشمن طاقتوں نے ایسے لوگ تیار کر کے ان کو مغرب میں اس مشن پر لگا رکھا ہے کہ اگر کچھ گورے مسلمان بھی ہو جائیں تو وہ آگے برطانوی، یورپین معاشرہ میں ایمان واسلام نہ پھیلا سکیں۔ اس شخص کے نزدیک امام حرم، عرب علماء، تبلیغی جماعت، علماء دیوبند، جماعت اسلامی، اہل حدیث سب گمراہ وکافر ہیں۔ ہاں قبر پرست لوگ مسلمان ہیں۔ برونائی سے لے کر کویت وامارات تک کے بے توفیق حکمران اسے ہر سال کئی کئی ملین پاؤنڈ دیتے ہیں۔
غرض یہ قیمتی اثاثہ (نومسلم) جو گوروں کے معاشرہ میں ہزاروں لوگوں کے ایمان واسلام کا ذریعہ بن سکتے تھے، باطل تصوف کے نرغہ میں پھنس کر اسلام کے لیے خود ایک مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف بعض عاقبت نا اندیش سلفی حضرات ان بے چارے نومسلموں کو فروعی مسائل میں الجھا کر رکھ دیتے ہیں۔ بندہ حیرت سے دیکھتا ہے کہ نومسلم ایمان واسلام کی نعمت اس معاشرے میں دوسروں تک پہنچانے کے بجائے رفع یدین، آمین بالجہر اور قراء ت خلف الامام جیسے فروعی مسائل میں بحث کرتے نظر آتے ہیں۔ ان غریبوں نے اپنے موقف پر احادیث تک زبانی رٹ رکھی ہیں، جبکہ ان مسائل کی حیثیت زیادہ سے زیادہ اولیٰ اور غیر اولیٰ کی ہے۔
ہمارا حال یہ ہے کہ ہندو پاک کے ہر دینی رسالہ میں شد ومد سے نومسلموں کے اسلام لانے کی لمبی لمبی داستانیں چھپ رہی ہیں اور لوگ مزے لے لے کر پڑھ رہے ہیں۔ لگتا ہے ان دینی رسالہ والوں کو مضامین پر محنت کے بجائے یہ بنا بنایا مواد مل گیا ہے۔ مجھے شیخ الازہر شیخ عبد الحلیم محمودؒ کی یہ بات یاد آتی ہے (۱۹۷۶ء میں بندہ یہاں مختلف مجالس میں ان کا ترجمان بن کر چند روز ساتھ رہا ہے)۔ فرمایا، ’’یہ بھی باطل طاقتوں کی ایک سازش معلوم ہوتی ہے کہ پروپیگنڈے اور مبالغے کے ساتھ اس کو عام کریں کہ امریکہ، یورپ میں اتنے لاکھ لوگ ازخود مسلمان ہو رہے ہیں تاکہ ملت اسلامیہ کو اس فریضے سے غافل کر دیں۔‘‘ 
یہاں برطانیہ میں ہمارا یہ حال ہے کہ ان نومسلموں کو اسلام کی بنیادی تعلیم دے کر داعی بنا کر ان ہی کے معاشرہ میں ایمان پھیلانے کا کام لینے کی سوچ تک نہیں، کیونکہ ہمیں مختلف عنوانات پر جلسے جلوس، اپنے اپنے اکابر کے طریقوں کی تبلیغ جیسے بہت سے اہم کام ہیں اور آج ہمارے اکابر حضور، صحابہ، تابعین، تبع تابعین (جن کے دور کے خیر ہونے کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے) کے بجائے بیسویں صدی کے اکابر اصل ہیں۔ چونکہ حضرت فلاں اور فلاں نے گوروں میں اسلام کی دعوت کا کام نہیں کیا، ا س لیے یہ فضول کام ہے۔ بس دار العلوم پر دار العلوم، ختم خواجگان، رمضان میں سینکڑوں اعتکاف کرنے والوں کے میلوں سے کیا دین زندہ ہوگا؟ بھئی جب ایک مسجد میں دنیا کے مختلف ملکوں کے تین سو آدمی ہوں گے تو وہ اعتکاف (یکسوئی سے خدا کی طرف متوجہ رہنا) کہاں رہا؟ ہم اہل بدعت پر بڑے شیر ہیں۔ فلاں فلاں کام حضور، صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین، محدثین نے نہیں کہا، لہٰذا بدعت ہے۔ یہ جو دن بدن اعتکاف کے میلے بڑھتے جا رہے ہیں، کیا یہ شروع کے ۳، ۴ سو سال میں ہوا؟
ظاہر ہے جب کوئی شخص مسلمان ہوتا ہے تو مختلف مسائل، مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ ماں باپ گھر سے نکال دیتے ہیں، معاشرہ دھتکار دیتا ہے، بعض اوقات نوکری چھوٹ جاتی ہے، دوست احباب اور رشتہ دار منہ پھیر لیتے ہیں۔ ایسے میں یہ بے چارے شیخ ناظم جیسے یہودی ونصاریٰ کے ایجنٹوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہمارے پاس ایک بھی ادارہ ایسا نہیں ہے جو سال دو سال ان کو عزت کے ساتھ رکھ کر ان کی ضروریات پوری کرے اور انھیں دین کی بنیادی تعلیم دے کر انھی کے معاشرے میں واپس بھیجے۔ مختلف وجوہات سے یہ لوگ ہم سے سیکڑوں گنا زیادہ کام کر سکتے ہیں۔
گزشتہ دنوں (۱۱ سے ۲۰؍ اگست ۲۰۱۴ء) بندہ نے برطانیہ کے دو اہم حصوں (صوبوں) مڈلینڈ اور یارک شائر (Midland & Yorkshire) کے شہروں او ربستیوں کا دورہ کیا۔ مقصد عوام اور خواص کو اس طرف توجہ دلانا تھا کہ دین کے جتنے کام ہم لوگ کر رہے ہیں، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرات صحابہ کرامؓ سے لے کر حضرت شاہ ولی اللہؒ ، حضرت سید احمد شہیدؒ ، حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ ، حضرت شیخ الہندؒ وغیرہ وغیرہ نے اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کیا ہے۔ اس معاشرہ کا، یہاں کے لوگوں کا بھی ہم پر حق ہے۔ ملت اور انسانیت کی اجتماعی ذمہ داریوں کو ادا کیے بغیر ہم خدا کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔ اسپین میں ہم نے آٹھ سو سال تک حکومت کی۔ وہاں بڑے بڑے علمی ودینی کام ہوئے۔ سب سے اچھی تفسیر قرطبی، سب سے مثالی تاریخ، تاریخ ابن خلدون، فلسفیانہ انداز میں سب سے متاثر کن تصوف پر ابن عربی کی کتب، فتوحات مکیہ وغیرہ سب اسپین میں لکھی گئیں۔ مگر سارا کام عربی زبان میں ہوا، ایک لفظ اسپینش زبان میں نہیں ہوا نہ ان میں اسلام کی دعوت قائم کی گئی۔ اس کا نتیجہ بھگتنا پڑا۔ بچہ بچہ قتل ہوا۔ لاکھوں زندہ جلائے گئے۔ جہاز بھر بھر کر سمندر میں ڈبوئے گئے۔ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام، حضور کے امتیوں تک حضور کی امانت نہ پہنچانے کا ایسا حشر آج بھی یہاں (یورپ، امریکہ) میں ہو سکتا ہے۔ قرآن کی رو سے اللہ کا عذاب صالح بن کر نہیں، مصلح بن کر ہی ٹالا جا سکتا ہے۔ جس جس ملک اور معاشرہ میں ہم رہتے ہیں، ان لوگوں کا حق ادا کیے بغیر خدا کی پکڑ سے ہم نہیں بچ سکیں گے، خواہ کتنی ہی عبادت نوافل، ذکر وتلاوت، حج وعمرے کر لیں اور جتنے چاہے دار العلوم اور دینی جامعات بنا لیں۔
الحمد للہ ہر جگہ خواص وعوام، علماء کرام، تعلیم یافتہ حضرات اور لوگوں نے کہا کہ اس کام میں ہم پوری طرح آپ کے ساتھ ہیں۔ سب سے بڑھ کر مولانا رضاء الحق صاحب آف نوٹنگھم جو پہلے ہی دو بڑے جامعات اور متعدد مساجد چلا رہے ہیں، انھوں نے فرمایا کہ آپ اس کام کے داعی بنیں اور ہمیں نصاب بنا کر دیں کہ کیا پڑھانا ہے اور کس طرح پڑھانا ہے۔ تمام انتظامات واخراجات ہم کریں گے، کبھی آپ سے ایک پیسہ نہیں طلب کریں گے۔ ایک بڑا سا پورا جامعہ اس کام کے لیے خاص کر دیتے ہیں۔ اس پر بندہ نے برصغیر کے ان اکابرین اور احباب سے جن سے بندہ کا دلی تعلق اور ذہنی ہم آہنگی ہے، جیسے مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب، مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی صاحب، مولانا زاہد الراشدی صاحب، مولانا عدنان کاکاخیل وغیرہ وغیرہ کو متوجہ کیا کہ یہاں نو مسلموں کے لیے نصاب اور نظام تعلیم کا خاکہ بنا کر دیں اور یہاں لندن میں مولانا علی انور صاحب، مفتی سیف اللہ صاحب، مفتی زبیر صاحب کی ایک کمیٹی بنا کر کہا کہ تین ہفتوں میں بنیادی خاکہ بنا کر پیش کریں۔ ایک سال، دو سال اور تین سال کا کورس، کیا پڑھایا جائے، کس طرح پڑھایا جائے اور خارجی مطالعہ میں کن کتب کو رکھا جائے۔
بندہ نے عرض کیا کہ ہم مروجہ درس نظامی کے صرف ونحو، ادب وبلاغت، منطق وفلسفہ اور فقہ وحدیث میں فروعی اختلافی مسائل کی بحثوں کا ایک لفظ بھی نہیں چاہتے۔ نصاب تعلیم کے لیے شروع کے تین دور، صحابہ، تابعین، تبع تابعین کو سامنے رکھیں۔ نہج وترتیب شروع (دور عروج) سے اخذ کریں۔ ہمیں مولوی، قاری، حافظ نہیں، ان معاشروں او رممالک کو اللہ کی طرف ،یمان کی طرف بلانے والے داعی تیار کرنے ہیں۔ خدا کرے یہ دوست ایسا نصاب ونظام تعلیم تیار کر سکیں جو عصر حاضر میں امریکہ یورپ سمیت پورے مغرب میں اچھا نمونہ وماڈل بن سکے اور ملت اسلامیہ کو اصل فریضہ ایمان واسلام کی دعوت پر آنے کا ذریعہ بنے۔ آمین یا رب العالمین

امام لیث بن سعدؒ ۔ حیات و خدمات (۱)

محبوب عالم فاروقی

[اس تحریر میں بنیادی طور پر حافظ ابن حجرؒ کے رسالہ ’’الرحمۃ الغیثیۃ فی الترجمۃ اللثیۃ‘‘ سے استفادہ کیا گیا ہے۔]

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حفاظت دین کے لیے ہر دور میں ایسے رجال پیدا کیے ہیں جنہوں نے اس مقصد کے لیے اپنی زندگیاں کھپا دیں۔ اس چشمہ صافی کو گدلاکرنے کے لیے کتنے ہی طالع آزما میدان میں آئے اور فکر اسلامی کا شیرازہ بکھیرنے کے درپے ہوئے، لیکن ہر دور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے رجال پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے ان فتنوں کا رَد کیااور شریعت اسلامیہ کے چشمہ صافی کو اسی طرح مصفی رکھا جس طرح کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم امت کو دے کر گئے تھے۔ 
امام اللیث بن سعد بھی امت کے ان عظیم علماء اور فقہاء کے طائفہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

نام و نسب اور خاندانی پس منظر 

آپ کا نام لیث اور کنیت ابو الحرث ہے۔ آپ کے والد کا نام سعد اور دادا کا نام عبدالرحمان ہے۔ آپ کا تعلق ایک غلام خاندان سے تھا جو کسی معرکہ میں قبیلہ قیس کی شاخ ’ فہم ‘کا غلام بن گیا تھا ۔ آپ کا آبائی وطن اصفہان ہے۔ اسی غلامی کی وجہ سے آپ کے آباؤاجداد مصر میں آباد ہو گئے تھے اور امام لیث کی پیدائش مصر کے ایک گاؤں ’’ قرقشندہ‘‘ میں ہوئی۔ یہ علاقہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے نواح میں واقع ہے۔ امام لیث 94ھ میں تولد ہوئے۔ اسی وجہ سے آپ کے دادا کا ذکر مولیٰ بنی فہم کے الفاظ سے کیا جاتا ہے۔ امام صاحب کو اصفہان سے زندگی بھر خاص لگاؤ رہا۔ فرمایا کرتے تھے کہ اہل اصفہان سے نیک برتاؤ کیا کرو۔ (ابن حجر العسقلانی، الرحمۃ الغیثیۃ بالترجمۃ اللثیۃ، ص ۳)
اسی قرقشندہ بستی میں ان کی زرعی زمینیں تھیں جن سے ان کو سالانہ چالیس سے پچاس ہزار درہم آمدن ہوتی تھی۔ یہ بات ان کے چچا ابن رفاعہ کے لیے قابل برداشت نہیں تھی اور وہ ان کی مخالفت میں لگے رہتے تھے اور آخر کا ان کا گھر بھی تباہ کردیا تھا۔ امام صاحب کے نام سے مصر میں ایک محلہ زقاق لیث بن سعد کے نام سے ہے جہاں ان کا اپنا گھر اور ایک بہت بڑی مسجد بھی ہے جو امام لیث نے خود تعمیر کروائی تھی۔ (ابو الفرج ابن الجوزی، صفۃ الصفوۃ، ج ۴، ص ۳۰۹ و ۳۱۰)

اساتذہ وشیوخ

ان کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں تفصیل نہیں ملتی، مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے کی مروجہ تعلیم انہوں نے حاصل کی جس میں عربی زبان واد ب، صرف ونحو اور عربی میں شعر وسخن شامل ہے۔ بعد میں انہوں نے علم حدیث اور فقہ پر دسترس حاصل کی اور ان کی وجہ شہرت یہی علوم بنے۔ سن شعور کوپہنچتے ہی انہوں نے حدیث وفقہ کی طرف توجہ کی۔ سب سے پہلے اپنے وطن مصر کے مشائخ فقہ وحدیث سے استفادہ کیا، پھراسلامی ممالک کے دوسرے مقامات کا سفر کرکے تمام معروف ومشہور اساتذہ سے مستفیض ہوئے۔ 
امام لیث بن سعد نے کثیر اساتذہ سے اکتساب فیض فرمایا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی ملاقات پچاس سے زائد تابعین سے ہوئی۔ ان کے بعض شیوخ کے نام درج ذیل ہیں: 
عطاء، نافع، ابو الزبیر، زہری، ابن ابی ملیکہ، سعید بن ابی سعید المقبری، مشرح ابن ہاعان، ابو قبیل المعافری، یزید بن ابی حبیب، جعفر بن ربیعہ، عبید اللہ بن ابی جعفر، بکیر بن عبد اللہ بن الاشج، عبد الرحمن بن القاسم، حارث بن یعقوب، عقیل بن خالد، یونس بن یزید، حکیم بن عبد اللہ بن قیس، عامر بن یحییٰ المعافری، عمر مولیٰ غفرۃ، عمران بن ابی انس، عیاش بن عباس، کثیر بن فرقد، ہشام بن عروۃ، عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی حسین، ایوب بن موسیٰ، بکر بن سوادۃ، ابو کثیر الجلاح، حارث بن یزید الحضرمی، خالد بن یزید، صفوان بن سلیم، خیر بن نعیم، ابو الزناد، قتادہ، محمد بن یحییٰ بن حبان، یزید بن عبد اللہ بن الہاد، یحییٰ بن سعید انصاری۔
مشہور تابعی نافع جوحضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کے خاص تربیت یافتہ تھے، لیث بن سعد کے زمانہ میں مرجع خلائق تھے۔یہ ان کی خدمت میں بھی پہنچے۔ حضرت نافع نے ان کا نام ونسب اور وطن پوچھا۔ جب یہ بتاچکے توعمردریافت کی۔ لیث نے کہا:بیس برس۔ فرمایا مگرداڑھی سے تومعلوم ہوتا ہے کہ تمہاری عمر چالیس سال سے کم نہ ہوگی۔ (الرحمۃ الغیثیۃ، باب دوم، ص ۳) 
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ میں نے لیث بن سعد کا ایک مرتب کردہ حدیث کا ایک مجموعہ دیکھا تھا جس میں انہوں نے سو (۱۰۰) کے قریب حدیثیں صرف نافع کی روایت سے جمع کی تھیں۔
نافع مولیٰ ابن عمر کے علاوہ ان کے چند تابعی شیوخ کے نام یہ ہیں:امام زہری، سعید المقبری، عبداللہ بن ابی ملیکہ، یحییٰ الانصاری رحمہم اللہ وغیرہ۔ ان کے علاوہ بے شمار اتباع تابعین سے بھی انہوں نے فیض حاصل کیا، امام نووی رحمہ اللہ ان کے چند ممتاز شیوخ کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: وخلائق لا یحصون من الائمۃ۔ (ان کے علاوہ اتنے ائمہ سے انہوں نے استفادہ کیا ہے کہ ان کا شمار مشکل ہے۔) (تہذیب الاسماء)
امام لیث بن سعد کو کوامام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے بھی سماع حدیث حاصل ہے یا نہیں، اس کے متعلق تاریخی روایات مختلف ہیں۔ بغدادی نے لکھا ہے کہ یہ سنہ۳۱۱ھ میں حج کے لیے گئے تھے اور اسی سال مکہ میں امام زہری رحمہ اللہ سے سماع کیا تھا۔ حافظ ابن حجرعسقلانی رحمہ اللہ نے بھی تہذیب میں یہی لکھا ہے، مگرالرحمۃ الغیثیۃ میں اس کے خلاف کوئی ایک روایت نقل کی ہے۔ ابن خلکان نے ان سے استفادہ کا توذکر کیا ہے، مگرسماع کا نہیں کیا۔ 
صحیح بات یہ ہے کہ امام زہری رحمہ اللہ کے علم وفضل سے انہوں نے فائدہ ضرور حاصل کیا تھا، لیکن یہ استفادہ بالواسطہ تھا، بالمشافہہ نہیں تھا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ لیث، امام زہری کی روایتیں کبھی ایک، کبھی دواور تین اور اس سے زائد واسطوں سے روایت کرتے ہیں۔ خود لیث کا یہ قول متعدد تذکروں میں منقول ہے:
کتبت من علم الزھری کثیراً (یعنی عن غیرہ) فاردت ان ارکب البرید الیہ الی الرصافۃ فخفت ان لایکون ذالک للہ فترکت ذالک (یعنی فصار یروی عنہ بالواسطۃ)۔ (الرحمۃ الغیثیۃ، ص ۴)
ترجمہ: ’’میں نے زہری کی روایتوں کی ایک کثیر مقدار لکھ لی تھی، یعنی دوسروں کے واسطے سے۔ پھرمیں نے ارادہ کیا کہ رصافہ جاکر ان سے بالمشافہہ روایت کروں مگراس خوف سے باز آ گیا کہ ممکن ہے کہ میرا یہ عمل اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو۔ مراد یہ ہے کہ پھروہ بالواسطہ ہی روایت کرتے رہے ۔‘‘

تلامذہ اور شاگرد

امام لیث بن سعد کے سامنے بڑے بڑے ائمہ کرام کو زانوے تلمذ تہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ امام شافعی رحمہ اللہ اس زمانے میں تھے، لیکن وہ فیض حاصل نہ کرسکے اور ساری زندگی اس پر افسردہ رہے۔ 
اوپرذکرآچکا ہے کہ امام عنفوانِ شباب ہی میں اہلِ علم کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔ اس وقت سے لے کر وفات تک وہ مصر ہی میں رہے۔ پوری عمر میں بمشکل دو یا تین بار وہ مصر سے باہر گئے۔ اس پوری مدت میں وہ اپنے اوقات کا نصف حصہ تعلیم وافادہ، تحدیث روایت اور تفریع مسائل میں صرف کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اتنی لمبی مدت میں ان سے ہزاروں آدمیوں نے اکتساب فیض کیا ہوگا۔ ان تمام مستفیدین اور تلامذہ کا استقصا توناممکن ہے، چند ممتاز فیض یافتگانِ درس کے نام یہاں درج کیے جاتے ہیں:
شعیب، محمد بن عجلان، ہشام بن سعد، (یہ دونوں بزرگ ان کے شیوخ میں تھے)، ابن لہیعہ، ہشیم بن بشیر، قیس بن الربیع، عبداللہ بن مبارک، عبداللہ بن وہب، ابوالولید بن مسلم، ابوسلمہ الخزاعی، عبداللہ ابن الحکم، سعید بن سلیمان، آدم بن ایاس، عبداللہ بن یزید المقری، عمروبن خالد، عیسیٰ بن حماد رحمہم اللہ وغیرہ۔
حافظ ابن حجر نے تقریباً ۵۰ ثقہ تلامذہ کا تذکرہ کیا ہے۔ 

سخاوت، فیاضی اور مہمان نوازی

ان کے صحیفہ زندگی کا یہ باب نہایت ہی روشن ہے۔ وہ اپنے اخلاق واوصاف اور سیرت وکردار میں اسلامی زندگی کا نمونہ تھے۔ ابن مریم فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے زیادہ جامع اوصاف آدمی نہیں دیکھا۔ ہروہ عادت وخوبی جس سے خدا کا قرب حاصل ہوسکتا ہو، وہ ان میں موجود تھی۔ (الرحمۃ الغیثیۃ ص ۹)
ایک بار مصر کا ایک قافلہ امام مالک کی خدمت میں گیا۔ انہوں نے ملنے میں کچھ تاخیر کی۔ یہ لوگ آپس میں چہ مے گوئیاں کرنے لگے۔ کسی نے کہا کہ یہ اخلاق میں ہمارے امام کی طرح نہیں ہیں۔ امام مالک نے یہ بات سنی توان کوفوراً اندر بلالیا اور پوچھا، تمہارے امام کون ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ لیث بن سعد۔ فرمایا، مجھے ان کے ساتھ تشبیہ نہ دو۔ پھران کے کچھ اخلاقی اوصاف بیان کیے۔ (صفۃ الصفوۃ، ج ۴ ص ۳۱۱)
ایک بار بعض تاجروں نے ان سے کچھ پھل خریدے۔ خریداری کے بعد ان کوپھل گراں محسوس ہوئے، اس لیے آپ سے پھل واپس کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ آپ نے پھل واپس لے لیے۔ جب معاملہ ختم ہوگیا توروپیے کی تھیلی مانگی اور اس میں سے پچاس دینار نکال کرتاجروں کوہدیتاً دے دیے۔ ان کے صاحبزادے بھی موجود تھے۔ ان کویہ برامعلوم ہوا اور انہوں نے حضرت لیث سے اس کا ظہار بھی کیا، مگرآپ نے فرمایا کہ خدا تمھیں معاف کرے، یہ پھل انہوں نے فائدے ہی کی اْمید سے توخریدا تھا، مگرجب ان کوفائدہ محسوس نہیں ہوا توانہوں نے واپس کردیا اور واپس کرنے کے بعد ان کے فائدے کی اْمید بھی ختم ہوگئی تومیں نے یہ مناسب سمجھا کہ ان کی اس اْمید وتوقع کا کچھ توبدلہ دے دوں۔ (صفۃ الصفوۃ، ج ۴ ص ۳۱۱)
سخاوت وفیاضی گویا ان کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی۔ وہ اپنی دولت مستحقین پربے دریغ صرف کرتے تھے۔ ان کے سوانح نگار لکھتے ہیں کہ ان کی سالانہ آمدنی ۷۰، ۸۰ ہزار دینار تھی، مگراس پوری آمدنی پرکبھی زکوٰۃ دینے کی نوبت نہیں آتی تھی۔ یہ پوری آمدنی فقراء ومساکین اور مستحق اہل علم پرخرچ ہوجاتی تھی۔ خود فرماتے تھے کہ میں جب سے بالغ ہوا ہوں، مجھ پرایک درہم بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوئی۔
کسی سال آمدنی کم ہوتی تھی توقرض کی نوبت آجاتی تھی۔ جب تک زندہ رہے، سودینار سالانہ تسلسل سے امام مالک رحمہ اللہ کے پاس بھیجتے رہے۔ ایک بار امام مالک نے انہیں لکھا کہ مجھ پرکچھ قرض ہوگیا ہے تو فوراً پانچ سودینار ان کے یہاں بھجوادیے۔ ایک بار امام مالک نے ان سے تھوڑی سی عصفر (پیلے رنگ کی گھاس) لڑکوں کے کپڑے رنگنے کے لیے مانگی (غالباً یہ مصر کی خاص پیداوار تھی)۔ انہوں نے اتنی مقدار میں بھیجی کہ امام مالک رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ہم نے اپنے گھرکے بچوں کے کپڑے رنگے، پڑوسیوں نے استعمال کیا۔ پھربھی اتنی بچ گئی کہ ایک ہزار دینار میں اْسے فروخت کیا گیا۔ (خطیب نے اس واقعہ کے بیان میں بہت زیادہ مبالغہ سے کام لیا ہے۔)
امام لیث بن سعد ۱۱۳ھ میں حج کوگئے تھے۔ حج سے فارغ ہوکر زیارتِ نبوی کی غرض سے مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ وہاں پہنچے توامام مالک نے عمدہ کھجوروں کا ایک طشت ان کے پاس ہدیہ بھیجا۔ انہوں نے اس طشت میں ایک ہزار دینار رکھ کرواپس کیا۔
ابن لہیعہ مشہور محدث تھے۔ اتفاقاً ان کے گھر میں آگ لگ گئی اور سارا اثاثہ جل گیا۔ حضرت لیث بن سعد کواطلاع ہوئی توایک ہزار دینار بطورِ اعانت ان کے پاس بھیج دیے۔ بسااوقات وہ اپنی اس دادودہش کواپنے لڑکوں سے بھی پوشیدہ رکھتے تھے تاکہ پانے والے کویہ ذلیل نہ سمجھیں۔ ایک بار منصور بن عمار کوانہوں نے ایک رقم دی اور کہا کہ دیکھو میرے لڑکے کونہ معلوم ہو، ورنہ تم اس کی نگاہ میں حقیر ہوجاؤ گے۔ جب ان کے صاحبزادے شعیب کومعلوم ہوتا تواس کی تلافی میں انہوں نے بھی اپنے والد کی رقم سے ایک دینار کم رقم منصور کودی اور کہا کہ میں نے ایک دینار کم اس لیے کردیا ہے کہ عطیہ میں والد کے برابر نہ ہوسکوں۔
اسدبن موسیٰ کا بیان ہے کہ جب عراق میں عباسیوں نے بنوامیہ کوقتل کرنا شروع کیا تومیں بھاگ کرمصر چلا گیا۔ مصر میں بڑی بے سروسامانی اور پریشانی کی حالت میں پہنچا تھا۔ اتفاق سے اسی حالت میں لیث بن سعد کی مجلس درس میں گیا۔ جب مجلس برخاست ہوگئی توان کا خادم میرے پاس آیا اور کہا کہ میں جب تک واپس نہ آجاؤں، تم یہیں ٹھہرو۔ تھوڑی دیر بعد وہ آیا اور اس نے مجھے سودینار کی ایک تھیلی دی اور کہا کہ امام نے فرمایا کہ اس سے اپنا سامان درست کرلیجیے۔ اسد کا بیان ہے کہ اس وقت میری کمر میں ایک ہزار دینار بندھے ہوئے تھے۔ میں نے اس کونکالا اور خادم سے کہا کہ میں شیخ سے ملنا چاہتا ہوں، تم جاکر اجازت لے آؤ۔ چنانچہ میں ان کے پاس گیا، اپنا نام ونسب بتایا اور پھراس رقم کوواپس کرنا چاہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہدیہ ہے، صدقہ نہیں ہے، اس لیے قبول کرنے میں تامل نہ ہونا چاہیے۔ میں نے معذرت کی اور کہا کہ جس چیز سے میں مستغنی ہوں، نفس کواس کا عادی بنانا نہیں چاہتا۔ شیخ نے فرمایا کہ اچھا اگرتم لینا پسند نہیں کرتے تومستحق اصحاب حدیث میں یہ رقم تقسیم کردینا۔ اسد کہتے ہیں کہ میں نے مجبور ہوکر یہی کیا۔
ایک عورت ایک پیالہ لے کرآئی اور اس نے کہا کہ میرا شوہر بیمار ہے۔ (بعض تذکروں میں لڑکے کا ذکر ہے اور بعض تذکروں میں مطلقاً یہ واقعہ مذکور ہے)۔ معلوم ہوا ہے کہ آپ کے یہاں شہد ہے، اس کے لیے پیالہ بھر شہد دے دیجیے۔ فرمایا، وکیل (ناظم اْمورِ خانہ داری یاپرائیوٹ سکریٹری کووکیل کہتے تھے) کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ تمھیں ایک مطر شہد دے دے۔ عورت جب وکیل کے پاس پہنچی تووکیل امام کے پاس آیا اور غالباً شہد کی اتنی بڑی مقدار دینے پرکچھ کہا۔ مگرآپ نے فرمایا کہ جاؤ، اس کودے دو۔ اس نے اپنے ظرف کے بقدر مانگا تھا، ہم اس کواپنے ظرف کے بقدر دیتے ہیں۔ (ایک مطر کا ایک سوبیس رطل ہوتا ہے۔ ) (الرحمۃ الغیثیۃ وصفۃ الصفوۃ)
سخاوت وفیاضی کا ایک مظہر مہمان نوازی بھی ہے۔ بخل کے ساتھ یہ صفت شاذ ونادر ہی جمع ہوتی ہے۔ لیث بن سعد جس درجہ کے فیاض تھے، اسی درجہ کے مہمان نواز بھی تھے۔ عبداللہ ابن صالح ان کے خاص شاگرد اور کاتب تھے۔ ان کا بیان ہے کہ میں تقریباً بیس برس ان کی خدمت میں رہا، مگرکبھی ان کوتنہا کھانا کھاتے نہیں دیکھا۔ ابوحاتم کا بیان ہے کہ لیث کے پاس جب کوئی مہمان باہر سے آجاتا تھا تووہ جب تک رہتا تھا، اس کووہ اپنے اہل وعیال کی طرح اپنی کفالت میں لے لیتے تھے۔ جب وہ جانا چاہتا تھا پورازادِ سفر دے کرواپس کرتے تھے۔
یہ مہمان نوازی صرف حضر ہی تک محدود نہیں تھی، بلکہ سفر میں بھی مہمانوں کا ہجوم ان کے یہ ساتھ ہوتا تھا۔ ان کے شاگرد قتیبہ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ ایک بار امام لیث بن سعد کے ساتھ اسکندریہ سے سفر کرنے کا اتفاق ہوا تواس سفر میں تین کشتیاں تھیںؒ ایک کشتی میں کھانے کا سامان تھا، دوسری میں اہل وعیال اور تیسری کشتی مہمانوں کے لیے مخصوص تھی۔
اشہب کا بیان ہے کہ لیث بن سعد کبھی کسی سائل کوواپس نہیں کرتے تھے اور ان کے یہاں ایک لنگر خانہ جاری رہتا تھا۔ عموماً جاڑوں میں ان کے یہاں ہریسہ (یہ گیہوں کوکوٹ کراس میں گوشت کی آمیزش کرکے بناتے تھے) شہد اور گائے کے گوشت کے ساتھ مہمانوں کوملتا تھا اور گرمی میں اخروٹ کا ستوشکر کے ساتھ۔ ان کا معمول تھا کہ ہرنماز کے بعد مساکین پرکچھ رقم صدقہ ضرور کرتے تھے۔ 
ان کی زندگی کی جامعیت کی وجہ سے ہرطبقہ اور ہرزمرہ کے لوگ ان کی خدمت میں آتے اور اپنی ضرورت پوری کرتے تھے۔ حکومت کے ذمہ دار اور اہلِ علم سے لے کرعوام تک اس میں شامل تھے۔ روزانہ ان کی چارمجلسیں ہوتی تھیں۔ ایک مجلس حکومت وارکانِ حکومت کی ضروریات کے لیے مخصوص ہوتی تھی، دوسری مجلس میں وہ تشنگانِ حدیث نبوی کی پیاس بجھاتے تھے اور تیسری مجلس ان لوگوں کے لیے ہوتی تھی جوفقہ ومسائلِ فقہ دریافت کرنے آتے تھے اور چوتھی مجلس عام لوگوں کے لیے مخصوص ہوتی تھی۔ ان مجلسوں میں ان کا سلوک نہایت ہی فیاضانہ ہوتا تھا، نہ توافادہ وتعلیم میں کسی کی دل شکنی کرتے تھے اور نہ اہل حاجت روائی میں دلگیر ہوتے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ :
لا یسئلہ احد فیردہ صغرت حاجۃ اوکبرت۔ (الرحمۃ الغیثیۃ ص ۹)
ترجمہ:یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ کوئی شخص سوال کرے اور وہ اسے ردکردیں؛ خواہ اس کی وہ ضرورت چھوٹی ہویابڑی ہو۔ 
لیکن یہ ساری فیاضی اور سیرچشمی دوسروں کے لیے تھی، ان کی ذاتی زندگی نہایت سادہ تھی۔ محمد بن معاویہ کا بیان ہے کہ ایک بار اپنے گدھے پرسوار ہوکر جارہے تھے تومیں نے ان کی سواری اور سامان وغیرہ کا اندازہ کیا توسب کی قیمت ۱۸، ۲۰ درہم سے زیادہ نہ تھی۔

دنیاوی عہدوں سے بیزاری

خلافت راشدہ کے بعد اموی حکومت جب ملوکیت کا شکار ہوئی اور حق وناحق کا فیصلہ ایک شخص کی رائے کے تحت ہونے لگا، اس وقت سے ممتاز صحابہ رضی اللہ عنہم اور محتاط تابعین نے حکومت سے تعلق رکھنا پسند نہیں کیا۔ تبع تابعین کے زمانہ میں گویہ احتیاط کم ہوگئی تھی مگرپھربھی ممتاز اور خداترس تبع تابعین کی اکثریت نے حکومت کے ساتھ تعاون وتعلق میں صحابہ وتابعین ہی کی روش اختیار کی۔ لیث بن سعد کا رویہ اس بارے میں ذرامعتدل تھا۔ انہوں نے نہ تواتنا تعلق پیدا کیا کہ وہ درباری عالم ہوکر رہ گئے اور نہ اتنے بے تعلق رہے کہ اس شجرممنوعہ کے قریب جانا بھی پسند نہ کرتے۔ انہوں نے نہ توحکومت کی کوئی ذمہ داری قبول کی اور نہ اس کے سامنے اپنی کوئی غرض لے گئے کہ اظہارِ حق میں یہ مانع ہو، مگراسی کے ساتھ وہ خلفاوامراء سے ملتے اور ان کی بہت سی ملکی وانتظامی مشکلات میں ان کا ہاتھ بھی بٹاتے رہے۔ اوپرذکر آچکا ہے کہ ان کی ایک مجلس خاص طور سے ارکانِ حکومت کی حاجت روائی کے لیے ہوتی تھی۔
ان کی اسی اعتدال پسندی کی وجہ سے عوام اور حکومت دونوں پران کا اثر تھا۔ ان کے مشورے پرمصر کے امراء وقضاۃ کا عزل ونصب ہوتا تھا۔ ایک بار قاضی اسماعیل بن الیسع نے ایک مسئلہ میں ایسا فتویٰ دے دیا جسے اہل مصر پسند نہیں کرتے تھے۔ اس پر ان کے خلاف ایک ہنگامہ ہوگیا۔ جب امام لیث کواطلاع ہوئی تووہ ان کے پاس گئے اور کہا کہ آپ نے یہ فتویٰ کیسے دے دیا، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کا عمل اس کے خلاف موجود ہے؟ غالباً قاضی صاحب نے رْجوع نہیں کیا، اس لیے لیث بن سعد نے ان کو معزول کرنے کی سفارش کر دی۔
یہ بات بھی یہاں قابل ذکر ہے کہ پہلے مصر میں قضاۃ کا تقرر مصر کے اْمراء کے ہاتھ میں تھا، مگربعد میں یعنی سنہ ۱۵۵ھ سے براہِ راست خلفاء ان کا تقرر کرتے تھے۔ اسماعیل دوسرے قاضی تھے جن کومہدی نے خود مقرر کیا تھا۔ کندی نے کتاب القضاۃ میں اس کی تفصیل دی ہے چنانچہ ان کے معزول کیے جانے کا شاہی فرمان آگیا۔ چونکہ اس معزولی میں قاضی اسماعیل کی ہرطرح کی بدنامی تھی، اس لیے خط میں خاص طور سے یہ بات امام نے لکھ دی تھی کہ ہم کونہ توان کی دیانت داری میں کوئی شبہ ہے اور نہ انہوں نے درہم ودینار میں کوئی خیانت کی ہے، مگران سے شکایت یہ ہے کہ انہوں نے ایک سنت جاریہ کے خلاف فتویٰ دیا اور فیصلہ کیا ہے۔ (کندی نے کتاب القضاۃ میں ان کے معزول کیے جانے کی ایک وجہ اور بھی لکھی ہے۔ ممکن ہے کہ دونوں وجہیں جمع ہوگئی ہوں۔ )
خلیفہ منصور نے ان سے خواہش کی تھی کہ وہ پورے ملک میں اس کی نیابت قبول کرلیں۔ بعض روایتوں میں ہے کہ پورے ملک کی نیابت نہیں بلکہ مصر کی امارت پیش کی تھی، مگرانہوں نے انکار کیا۔ اس نے پھراصرار کیا تواپنی کمزوری کا اظہار کیا۔ اس پرمنصور نے بڑے زور دار الفاظ بلکہ شاہانہ انداز میں کہا کہ میری موجودگی میں آپ کوکسی کمزوری کا احساس نہ کرنا چاہیے، مگراس شدید اصرار کے باوجود وہ اپنے فیصلہ پرجمے رہے اوور یہ ذمہ داری قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔
اگرپہلا بیان صحیح ہے (جو حافظ ابن حجر اور امام ذہبی کا ہے) تومنصور ان کے سامنے پوری مملکت اسلام کی وزارت عظمیٰ پیش کررہا تھا اور اگردوسرا بیان صحیح ہے تواسلامی سلطنت کے سب سے بڑے اور مالدار صوبہ کی گورنری انھیں پیش کی جارہی تھی، مگرانہوں نے اس سے گریز کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ گواس وقت نظام حکومت اسلامی ہی تھا، مگراقتدار جمہوری نہیں، شخصی تھا، اس لیے حکومت سے منسلک ہونے کے بعد اظہارِ حق کی پوری آزادی نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ محتاط بزرگوں نے دربار سے بالکل بے تعلقی رکھی یاکم ازکم اس کی کسی ذمہ داری کے قبول کرنے سے گریز کیا اور جن بزرگوں نے قبول کیا، وہ بڑی آزمائش میں رہے۔ اس آزمائش میں پڑنے کے بعد چند ہی بزرگ ایسے تھے جواپنی حق گوئی اور جرات سے سلامت بچ گئے؛ ورنہ زیادہ ترلوگوں کا دامن اس آزمائش میں داغدار ہوکر رہا۔ (الرحمۃ الغیثیۃ ص ۸)

کیا عہدۂ قضا قبول کرلیا تھا؟

ابن خلکان اور صاحب شذرات الذہب نے لکھا ہے کہ امام لیث بن سعد نے عہدۂ قضا قبول کرلیا تھا، مگریہ صحیح نہیں ہے۔ اس کی متعدد وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ اوپرذکر آچکا ہے کہ انہوں نے امارت کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔ ظاہر ہے کہ جب انہوں نے امارت کی ذمہ داری قبول نہیں کی توپھر اس سے کم درجہ کا عہدہ یعنی عہدہ قضا قبول کرنے کے کیا معنی؟ دوسرے یہ کہ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے کہ جب ان کے حکم سے مصر کے امرا ء اورقضاۃ کا عزل ونصب تک ہوتا تھا توپھران کواس عہدہ کے قبول کرنے کے کی کیا ضرورت تھی جوخود ان کے اثر واختیار کے تحت ہو؟ تیسری وجہ یہ ہے کہ کندی نے مصر کے قضاۃ کی مکمل تاریخ لکھ دی ہے۔ اس میں ولاۃ یاقضاۃ کی جوفہرست دی ہے، اس میں کہیں لیث بن سعد کا نام نہیں ملتا۔ بخلاف اس کے کتاب میں ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے ان کی تردید ہوتی ہے۔
بہرحال عہدۂ قضاء قبول نہ کرنے کے باوجود امام لیث بن سعد دربار میں جاتے اور حسب موقع خلفاء کو نصیحت وموعظت بھی کرتے تھے۔ ایک بار ہارون الرشید سے ملنے گئے۔ اس نے ان سے پوچھا کہ مصر کی خوش حالی اور فارغ البالی کا دارومدار کس چیز پر ہے؟ نہایت صفائی سے فرمایا کہ: ’’نیل کے جاری رہنے اور مصر کے امیر کے صلاح وتقویٰ پر۔‘‘ پھرفرمایا کہ نیل کے منبع کی طرف سے گندگی آتی ہے جس کی وجہ سے پوری نہر پٹ جاتی ہے۔ اس کی صفائی کی ضرورت ہے۔ یہ باتیں سننے کے بعد ہارون نے کہا کہ آپ نے بہت صحیح فرمایا۔
اس زمانہ میں خلفاء وامراء کی مدح سرائی اور قصیدہ خوانی کا عام رواج تھا۔ بسااوقات یہ بدعت مسجدوں تک میں کی جاتی تھی۔ ایک بار معروف شاعر عمار بن منصور مصرآیا اور اس نے مسجد میں خلیفہ وقت کی مدح میں ایک قصیدہ پڑھا۔ ابھی اس نے اپنا قصیدہ ختم ہی کیا تھا کہ دوآدمی اس کے پاس آئے اور کہا کہ تم کوامام لیث ابن سعد بلارہے ہیں۔ جب یہ ان کے پاس آیا توآپ نے اس سے کہا کہ تم مسجد میں کیا پڑھ رہے تھے؟ اس نے قصیدہ دہرایا۔ سننے کے بعد ان پرافسوس اور رقت کی کیفیت طاری ہوئی۔ کچھ دیر کے بعد جب یہ کیفیت دور ہوئی تونام پوچھا۔ پھراس کوروپیے کی ایک تھیلی دی اور اس سے کہا کہ اپنے کلام کوسلاطین کے دربار سے بچائے رکھو اور کسی مخلوق کی مدح نہ کرو، بس خدا کی حمدوثنا تمہارے لیے کافی ہے۔ ان شاء اللہ میں ہرسال تم کواتنی ہی رقم بھیجتا رہوں گا۔غالباً اس کے بعد سے اس نے کسی کی مدح نہیں کی اور امام کے حلقہ تلامذہ میں داخل ہوگیا۔
امام لیث بن سعد نے اہل مصر کوحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تنقیص سے روکا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جہاں اور بہت سے فتنے پیدا ہوئے، وہاں ایک فتنہ بزرگوں پرطعن وتشنیع اور سب وشتم کا بھی تھا۔ جولوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حامی تھے، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرنا ضروری سمجھتے تھے اور جولوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مددگار تھے، وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پرچھینٹے اڑانا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ مصر کے باشندے عام طور پرحضرت علی رضی اللہ عنہ کے حمایتی تھے، اس لیے وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مذمت وتنقیص کیا کرتے تھے۔ مصر میں جب امام لیث بن سعد کا اثرورسوخ بڑھا توانہوں نے اس کے خلاف آواز اْٹھائی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل عام طور پربیان کرنے شروع کردیے، یہاں تک کہ تنقیص عثمان رضی اللہ عنہ کی بدعت سیۂ مصر سے ختم ہوگئی۔ (الرحمۃ الغیثیۃ وتاریخ بغداد)
(جاری)

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۲)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

صحابہ کرام کا عمل اور رویہ

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن کریم اور احادیث رسول میں کوئی فرق نہیں کیا اور دونوں کو نہ صرف یکساں واجب الاطاعت جانا بلکہ احادیث کو قرآن ہی کا حصہ گردانا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا واقعہ مذکور ہے۔ انھوں نے ایک موقع پر فرمایا:
لعن اللہ الواشمات والموتشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ 
’’اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں، چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور حسن کے لیے آگے کے دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر لعنت کرے کہ یہ اللہ کی پیدا کی کوئی صورت میں تبدیلی کرنے والی ہیں۔‘‘ (صحیح البخاری، التفسیر، حدیث ۴۸۸۶)
حضرت عبد اللہ بن مسعود کی اس بات کا علم قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت (ام یعقوب) کو ہوا تو وہ حضرت ابن مسعود کے پاس آئی او رآ کر کہا:مجھے معلوم ہوا کہ آپ نے اس اس قسم کی عورتوں پر لعنت کی ہے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا:
ما لی لا العن من لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ومن ھو فی کتاب اللہ 
’’آخر میں کیوں نہ ان پر لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق بھی ملعون ہیں؟‘‘
اس عورت نے کہا: میں نے تو سارا قرآن پڑھا ہے۔ اس میں تو کہیں بھی (مذکورہ) عورتوں پر لعنت نہیں ہے جس طرح کہ آپ کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:
لئن کنت قراتیہ لقد وجدتیہ، اما قرات ’’ما آتاکم الرسول‘‘ الآیۃ
’’اگر تو نے قرآن کو پڑھا ہوتا تو یقیناًتو وہ بات اس میں پالیتی۔ کیا تو نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی؟ ’’رسول تمھیں جو دے، اسے لے لو اور جس سے تمھیں روک دے، اس سے رک جاؤ۔‘‘
عورت نے کہا، کیوں نہیں۔ یہ آیت تو پڑھی ہے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا: تو یقیناًاللہ کے رسول نے ان سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری، حوالہ مذکور)
اس حدیث میں دیکھ لیجیے، حضرت ابن مسعود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو اللہ کا فرمان اور کتاب اللہ کا حکم قرار دیا اور جب اس دور کی پڑھی لکھی خاتون کو بھی یہ نکتہ سمجھایا گیا تو اس نے بھی اسے بلاتامل تسلیم کر لیا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ قرآن ہی کی طرح وحی الٰہی کا درجہ رکھتے تھے۔ 
گفتہ او گفتہ اللہ بود
گرچہ از حلقوم عبد اللہ بود
قرآن کے الفاظ میں: وَمَا یَنطِقُ عَنِ الْھَوَی، إِنْ ھُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحَی (النجم ۳، ۴)

قرآن کریم سے ایک مثال

قرآن کریم سے بھی اس امر کی مثالیں ملتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کے علاوہ بھی وحی خفی کا نزول ہوتا تھا جس کے مطابق بھی آپ عمل کرتے تھے۔ یہاں ہم صرف ایک مثال پیش کرتے ہیں۔
یہودیوں کا قبیلہ بنو نضیر، جس سے یہودیوں کے دوسرے دو قبیلوں کے ساتھ ساتھ، مسلمانوں کا ایک دوسرے ک مدد کرنے کا معاہدہ تھا۔ لیکن اس قبیلے نے منافقین اور مشرکین مکہ سے مل کے عہد شکنی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلاک کرنے کی سازش کی جس سے اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ کو مطلع فرما دیا اور آپ نے اپنا بچاؤ کر لیا، لیکن ان کے اس غدر کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ جنگ کرنے کی تیاری کا حکم دے دیا اور آپ مسلمان مجاہدین کا لشکر لے کر ان کی طرف روانہ ہو گئے۔ یہودی مسلمان لشکر دیکھ کر اپنے قلعوں میں بند ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا اور ان پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان کے باغ میں لگے کھجوروں کے درخت کاٹ دیے جائیں۔ یہ دیکھ کر انھوں نے واویلا مچایا کہ آپ تو اصلاح کے علم بردار ہیں، لیکن یہ فساد والا کام کر رہے ہیں۔ عام حالات میں اگرچہ اس قسم کے کاموں کی ممانعت ہے، لیکن یہ چونکہ جنگ کا موقع تھا اور دشمن کو جلد از جلد زیر کرنا تھا، کیونکہ تاخیر میں مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے کچھ درختوں کو جلا یا کاٹ دیا جائے۔ آپ نے اس حکم الٰہی کے مطابق صحابہ کو یہ حکم دیا۔ بالآخر یہودی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلے کو یہاں سے نکال دیا۔ 
اس کی بابت اللہ نے قرآن کریم میں فرمایا:
مَا قَطَعْتُم مِّن لِّیْنَۃٍ أَوْ تَرَکْتُمُوھَا قَاءِمَۃً عَلَی أُصُولِھَا فَبِإِذْنِ اللّٰہِ وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِیْنَ

’’تم نے جو کھجور کے کچھ درخت کاٹے یا (کچھ کو) ان کی جڑوں پر ہی قائم رہنے دیا، یہ اللہ کے اذن (حکم) سے ہوا اور تاکہ اللہ تعالیٰ کافروں کو ذلیل ورسوا کرے۔‘‘ (الحشر ۵)

لیکن یہ حکم (اذن) قرآن میں کہا ں ہے؟ کہیں نہیں ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کے علاوہ بھی وحی آتی رہی ہے اور اس وحی خفی کے مطابق بھی آپ نے احکام صادر فرمائے ہیں جو یقیناًقرآن کے علاوہ ہیں۔ قرآن میں ان کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ ایسے احکام کو زائد علی القرآن کہہ کر یا قرآن کے خلاف باور کرا کے کیوں کر رد کیا جا سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایسے فیصلوں اور حکموں کو جو قرآن میں منصوص نہیں ہیں، کتاب الٰہی کا فیصلہ قرار دیا ہے۔ جس طرح شادی شدہ زانی کی سزا حد رجم ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے عموم میں تخصیص کر کے مقرر فرمائی اور اس کو عملی طور پر نافذ بھی فرمایا۔ آپ نے اس حد رجم کو ’’کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ‘‘ قرار دیا:
لاقضین بینکما بکتاب اللہ (صحیح البخاری، الحدود، حدیث ۶۸۲۸)

صحابہ نے اپنے اختلافات میں حدیث کو حکم قرار دیا

صحابہ کرام کے بابرکت د ور کو دیکھ لیجیے۔ آپ کو نمایاں طور پر یہ چیز ملے گی کہ ان کے مابین مسائل میں اختلاف ہوتا تو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معلوم ہوتے ہی وہ اختلاف ختم ہو جاتا اور حدیث کے آگے سب سر تسلیم خم کر لیتے۔ 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی تدفین اور آپ کی جانشینی کے مسئلے میں اختلاف ہوا۔ جب تک ان کی بابت حدیث کا علم نہ ہوا، اس پر گفتگو ہوتی رہی، لیکن جوں ہی حدیث پیش کی گئی، مسئلے حل ہو گئے۔ تدفین کے مسئلے میں بھی اختلاف ختم ہو گیا اور جانشینی جیسا معرکہ آرا مسئلہ بھی پلک جھپکتے میں حل ہو گیا۔
اس طرح متعدد قضایا اور واقعات ہیں جن میں اس امر کی صراحت موجود ہے کہ حدیث رسول کو بلاتامل حجت شرعیہ سمجھا گیا اور اس کا علم ہوتے ہی بحث وتکرار کی بساط لپیٹ دی گئی۔ عہد صحابہ کے بعد تابعین وتبع تابعین اور ائمہ محدثین کے ادوار میں بھی حدیث رسول کی یہ تشریعی حیثیت قابل تسلیم رہی، بلکہ کسی دور میں بھی اہل سنت والجماعت کے اندر اس مسئلے میں اختلاف ہی نہیں رہا۔ حدیث رسول کی یہی وہ تشریعی اہمیت تھی جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر محدثین کا ایسا بے مثال گروہ پیدا فرمایا جس نے حدیث رسول کی حفاظت کا ایسا سروسامان کیا کہ انسانی عقلیں ان کاوشوں کو دیکھ کر دنگ رہ گئیں اور محدثین نے حدیث کی تہذیب وتنقیح کے لیے ایسے علوم ایجاد کیے جو مسلمانوں کے لیے سرمایہ صد افتخار ہیں۔ اگر حدیث رسول کی یہی تشریعی اہمیت نہ ہوتی جس طرح کہ آج کل باور کرایا جا رہا ہے تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ محدثین رحمہم اللہ کو حفاظت حدیث کے لیے اتنی عرق ریزی اور جگر کاوی کی پھر ضرورت کیا تھی؟

احادیث کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟

واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم جس قسم کا انسانی معاشرہ تشکیل دینا چاہتا ہے، جو تہذیب وتمدن انسانوں کے لیے پسند فرماتا ہے اور جن اقدار وروایات کو فروغ دینا چاہتا ہے، اس کے بنیادی اصول اگرچہ قرآن کریم میں بیان کر دیے گئے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس کی عملی تفصیلات وجزئیات سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے مہیا کی ہیں۔ اس لیے یہ اسوۂ رسول ، اسوۂ حسنہ جو احادیث کی شکل میں محفوظ ومدون ہے، ہر دور کے مسلمانوں کے لیے بیش قیمت سرمایہ رہا ہے۔ اسی اتباع سنت اور پیروئ رسول کے جذبے نے مسلمانوں کو ہمیشہ الحاد وزندقہ (بے دینی) سے بچایا ہے، شرک وبدعت کی گرم بازاری کے باوجود توحید وسنت کی مشعلوں کو فروزاں رکھا ہے، مادیت کے جھگڑوں میں روحانیت کے دیے جلائے رکھے ہیں اور یوں شرار بو لہبی پر چراغ مصطفوی غالب رہا ہے۔
آج جو لوگ سنت رسول کی تشریعی حیثیت کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں، وہ دراصل اسی اتباع سنت کے جذبے کو نیست ونابود کرنا چاہتے ہیں جو قرآن کریم کے بپا کردہ اسلامی معاشرے کی روح اور بنیاد ہے اور جس کے بعد انسانوں کے اس معاشرے کو، جس میں مسلمان بستے ہیں، مغربی تہذیب وتمدن میں ڈھالنا مشکل نہیں ہوگا۔ چنانچہ ہمارے معاشرے کا یہی وہ طبقہ ہے جو اپنے لبرل نظریات اور اباحیت پسندانہ رویے کی وجہ سے حدیث رسول کی حجیت کا مخالف ہے اور صرف قرآن کریم کی پیروی کے نام پر مغربی افکار وتہذیب کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ پچھلے مختلف ادوار میں بھی اگرچہ انکار حدیث کا یہ فتنہ کسی نہ کسی انداز سے رہا ہے، لیکن جو عروج اسے اس زمانے میں حاصل ہوا ہے، اس سے پیشر کبھی نہ ہوا اور جو منظم سازش اس وقت اس کے پیچھے کارفرما ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔
اسلام کی ابتدائی دو صدیوں کے بعد معتزلہ نے بعض احادیث کا انکار کیا لیکن اس سے ان کا مقصود اپنے گمراہ کن عقائد ونظریات کا اثبات تھا۔ اسی طرح گزشتہ ایک ڈیڑھ صدی پہلے نیچر پرستوں نے احادیث کی حجیت میں مین میکھ نکالی۔ اس سے بھی ان کا مقصود اپنی نیچر پرستی کا اثبات اور معجزات قرآن کی من مانی تاویلات تھا۔ نیچر پرستوں کا یہی گروہ اب ’’مستشرقین‘‘ اور ’’مستغربین‘‘ کی ’’تحقیقات نادرہ‘‘ سے متاثر، ساحران مغرب کے افسوں سے مسحور اور شاہد مغرب کی عشوہ طرازیوں سے مرعوب یا اس کے غمزہ وادا کے قتیل ہو کر ایک منظم طریقے سے قوم رسول ہاشمی کو ان کی تہذیب ومعاشرت سے محروم کرنا اور اسلامی اقدار وروایات سے بے گانہ کر کے تہذیب جدید کے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ لا قدرہ اللہ ثم لا قدرہ اللہ۔

فراہی، اصلاحی، غامدی گروہ کے گمراہ کن نظریات

احادیث کی حجیت اور تشریعی اہمیت پر ہم نے قدرے تفصیل سے اس لیے روشنی ڈالی ہے کہ اس کے بغیر غامدی یا اصلاحی یا فراہی گروہ کے گمراہ کن نظریات کی وضاحت ممکن نہیں تھی۔ خیال رہے کہ اس گروہ کے لیے یہ تینوں لفظ اہل علم میں متداول ہیں اور شاید مستقبل قریب یا بعید میں یہی گروہ عمار گروہ کے نام سے بھی معنون ہو جائے۔
فراہی کی طرف نسبت، مولانا حمید الدین فراہی کی وجہ سے ہے جنھوں نے سب سے پہلے قرآن کی شرح وتفسیر میں عرب شعراء کے جاہلی کلام کو سب سے زیادہ اہمیت دی بلکہ احادیث کے مقابلے میں اسی کو بنیاد قرار دیا۔ اسی طرح نظم قرآن پر بھی بہت زیادہ زور دیا۔ علاوہ ازیں احادیث کو مشکوک ٹھہرایا اور ان کی تشریعی حیثیت سے انکار کیا، اسی بنیاد پر دیگر احادیث کے ساتھ حد رجم کا نکار کیا۔ اصلاحی کی نسبت کی وجہ مولانا امین احسن اصلاحی کے افکار وتفردات ہیں جن کو اس گروہ نے ایمانیات کی حد تک حرز جان بنایا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں ان کو حمید الدین فراہمی کا سب سے زیادہ ہونہار شاگرد اور ان کے افکار کا سب سے بڑا شارح سمجھا جاتا ہے۔ غامدی گروہ کہلانے کی وجہ غامدی صاحب کا مولانا اصلاحی سے شر ف تلمذ اور ان کے گمراہ کن نظریات کی اندھی تقلید بلکہ ان کے ردے پر مزید ردے چڑھا کر ان کی کجی اور گمراہی کو فلک چہارم تک پہنچانے کا عظیم کارنامہ سرانجام دینا ہے۔ ع ایں کار از تو آید ومرداں چنیں کنند۔
اور عمار گروہ کہلانے کی بھی یہی بنے گی کہ ایک تو وہ بھی ان کی شاگردی کے سلسلۃ الضلال سے نہ صرف منسلک ہیں بلکہ اس پر ان کو فخر بھی ہے۔ دوسرے، وہ بھی اسی راہ کے راہ رَو ہیں جو غامدی صاحب نے اپنائی ہوئی ہے اور یہ وہ راہ ہے جس کے بارے میں ہم پورے یقین واذعان سے کہتے ہیں:
ترسم نہ رسی بکعبہ اے اعرابی
ایں راہ کہ تو می روی بہ ترکستان است

حاملین فکر فراہی اور غامدی سے پانچ سوال

بہرحال اب ہم اصل موضوع، غامدی صاحب کے تصور حدیث وسنت پر گفتگو کرتے ہیں۔
ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں کہ اصطلاحات ہر شخص کی اپنی اپنی نہیں ہوتی، بلکہ ایک خاص عقیدہ وایمان رکھنے والے گروہ کی ہوتی ہیں۔ اہل رفض وتشیع کی ایک اصطلاح ’’امامت‘‘ ہے۔ کوئی شخص یہ کہے کہ میرے نزدیک اس کا مطلب دو رکعت نماز کی امامت ہے، کوئی شیعہ اس شخص کی اس رائے کو تسلیم نہیں کرے گا، حالانکہ یہ لفظ ہمارے ہاں اس معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کا عقیدۂ امامت سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ وہ ایک گروہ کی خاص اصطلاح ہے۔
ختم نبوت، اہل سنت کی ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم واضح ہے لیکن ایک گروہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہم بھی ختم نبوت کے قائل ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اجرائے نبوت کے بھی قائل ہیں۔ کون مسلمان ہے جو یہ تسلیم کرے گا کہ مرزائی واقعی ختم نبوت کے قائل ہیں؟
اسی طرح غامدی صاحب کا حدیث وسنت کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ان کو مانتے یں، لیکن ان کے ان اصطلاحی مفہوم کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جو چودہ سو سال سے حدیث وسنت کی اصطلاح کا مفہوم مسلم چلا آ رہا ہے۔ چودہ سو سالہ مسلمہ اصطلاحات کا ایک نیا مفہوم گھڑ کر کہتے ہیں کہ میں ’’حدیث وسنت‘‘ کو مانتا ہوں، یہ کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟ اور کس طرح یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ وہ واقعی حدیث وسنت کو ماننے والے ہیں؟ اس لیے سب سے پہلے یہ اعتراف کر لینا چاہیے کہ وہ حدیث وسنت کے منکر ہیں اور ان کا یہ دعویٰ کہ میرے اور علماء کے درمیان
’’محض اصطلاحات کا اختلاف ہے، ورنہ حقیقت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو میرے اور ائمہ سلف کے موقف میں سرمو فرق نہیں ہے۔‘‘ (الشریعہ، اپریل ۲۰۰۹ء)
سراسر جھوٹ ہے، بلکہ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ اور فراڈ ہے۔ اگر وہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں تو وہ بتلائیں کہ ’’سنت‘‘ کی یہ تعریف جو انھوں نے کی ہے:
’’سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔‘‘ (میزان، ص ۱۴، طبع سوم، ۲۰۰۸)
اس میں پہلا سوال تو یہ ہے کہ ’’سنت‘‘ کا یہ مفہوم غامدی صاحب سے پہلے کس نے بیان کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو ثابت کریں۔ اور اگر نہیں کیا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ سنت کے منکر ہیں۔ جب تک وہ سنت کے چودہ سو سالہ مسلمہ مفہوم کے مطابق سنت کو تسلیم نہیں کریں گے، وہ سنت کو ماننے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ اگر کرتے ہیں تو ان کا یہ دعویٰ جھوٹ ہی نہیں ہے، بلکہ سراسر دجل وفریب کا مظاہرہ ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ دین ابراہیمی کی وہ اصل روایت کیا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجدید واصلاح کی اور اس میں ’’بعض اضافے‘‘ بھی فرمائے؟ پہلے دین ابراہیمی کی وہ اصل روایت سامنے آنی چاہیے کہ وہ کیا تھی؟ اور پھر بتلایا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہ ’’تجدید واصلاح‘‘ یا اضافہ فرمایا۔ جب تک ان دو چیزوں کی وضاحت نہیں ہوگی، اسے ’’دین کی حیثیت‘‘ کس طرح دی جا سکتی ہے؟ دین تو وہ ہے جس کے دلائل کا تحریری ثبوت ہو۔ وہ تو دین نہیں ہو سکتا جو صرف کسی ایک شخص کے ذہن میں ہو یا وہ اپنی ذہنی اختراع کسی کاغذ پر لکھ دے۔ دین اسلام کا تحریری ثبوت قرآن اور احادیث میں موجود ہے۔ احادیث تو غامدی صاحب کے نزدیک غیر معتبر اور دفتر بے معنی ہے۔ ہاں، عرب کا بے سند جاہلی کلام ان کے نزدیک نہایت معتبر ہے۔ قرآن کے ماننے کے بھی وہ دعوے دار ہیں۔ ہمارے سوال کا جواب وہ قرآن کریم یا شعرائے عرب کے جاہلی کلام سے، یا چلو تاریخ کی کسی کتاب ہی سے دے دیں۔
۳۔ اگر ان کے اور ائمہ سلف کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے تو وہ واضح کریں کہ انھوں نے بھی حدیث اور سنت کے درمیان فرق کیا ہے۔ یہ فرق سلف نے کہاں بیان کیا ہے؟ ائمہ سلف میں کس نے کہا ہے کہ ’’حدیث سے عقیدہ وعمل کا اثبات نہیں ہوتا؟‘‘ ان کے الفاظ میں:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور تقریر وتصویب کی روایتیں جو زیادہ تر اخبار آحاد کے طریقے پر نقل ہوئی ہیں اور جنھیں اصطلاح میں حدیث کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ ان سے دین میں کسی عقیدہ وعمل کا کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ ۔۔۔۔۔۔ یہ چیز حدیث کے دائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے۔‘‘ (میزان، ص ۶۱)
غامدی صاحب یا ان کے حواری بتلائیں کہ حدیث کے بارے میں یہ موقف ائمہ سلف میں سے کس کا یا کس کس کا ہے؟ خیال رہے کہ خبر آحاد کے بارے میں تو بعض فقہاء نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا ہے، لیکن اس وقت یہاں اس بحث کی گنجائش نہیں۔ غامدی صاحب نے تو یہاں اس اصطلاح کا استعمال غالباً اسی ذہنی تحفظ کے تحت کیا ہے کہ اس کی آڑ میں شاید کچھ فقہاء کے حوالے پیش کیے جا سکتے ہیں، لیکن مسئلہ تو ائمہ سلف کا ہے جو لفظ غامدی صاحب نے استعمال کیا ہے۔ ائمہ سلف میں کس نے حدیث کی بابت یہ خامہ فرسائی کی ہے کہ جس سے دین میں حدیث کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی؟ ظاہر بات ہے جب حدیث سے کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ نہیں ہوتا اور وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ نہیں بن سکتی تو حدیث رسول کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے؟
۴۔ علاوہ ازیں ’’نئے حکم‘‘ کا کیا مطلب؟ یہ ان کے اسی گمراہ کن نظریے کا غماز ہے کہ حدیث رسول سے قرآن کے عموم کی تخصیص نہیں ہو سکتی، جبکہ ائمہ سلف، محدثین، فقہائے امت سب حدیث رسول کو قرآن کا مخصص یعنی دینی حکم تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن یہ صاحب اس تخصیص کو قرآن میں تغیر وتبدل سے تعبیر کر کے بظاہر قرآن کی عظمت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن درحقیقت قرآن کے بیان کردہ منصب رسالت، مبین، کا انکار کر کے قرآن کا انکار کرتے ہیں۔
ہمارا اس گروہ سے سوال ہے کہ ائمہ سلف نے قرآن کے عموم میں تخصیص کو تخصیص ہی کہا ہے یا بعض نے اس کے لیے نسخ کا لفظ استعمال کیا ہے، لیکن مراد ان کی بھی اس لفظ سے اصطلاحی نسخ نہیں، بلکہ تخصیص ہی ہے۔ لیکن کیا ائمہ سلف میں سے کسی امام، محدث اور فقیہ نے یہ کہا ہے کہ یہ نیا حکم ہے جو قرآن سے الگ یا زائد علی القرآن یا قرآن میں تغیر وتبدل ہے، لیکن غامدی صاحب کے نزدیک یہ تخصیص، قرآن میں تغیر وتبدل ہے جس کا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں ہے۔ (برہان، ص ۵۶، طبع پنجم، فروری ۲۰۰۸ء)
۵۔ علاوہ ازیں یہ گروہ ’’سنت، سنت‘‘ کی بڑی رٹ لگاتا ہے جس سے اس کا مقصود یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ حدیث گو ان کے نزدیک غیر معتبر ہے، لیکن سنت کی ان کے ہاں بڑی اہمیت ہے۔ لیکن اول تو حدیث وسنت میں یہ فرق ہی خانہ ساز ہے۔ کسی امام، محدث یا فقیہ نے ایسا نہیں کہا ہے۔ ان کے نزدیک حدیث اور سنت مترادف اور ہم معنی ہے۔ جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، عمل اور تقریر سے ثابت ہے، وہ دین میں حجت ہے۔ اسے حدیث کہہ لیں یا سنت، ایک ہی بات ہے۔

پیغمبر کی رہنمائی اور عمل، نہ سنت ہے اور نہ قابل عمل چیز۔ غامدی فلسفہ

لیکن یہ گروہ بظاہر ’’سنت‘‘ کی اہمیت کا قائل ہے، لیکن سنت کے بارے میں بھی ان کا موقف ملاحظہ ہو:
’’دوسرا اصول یہ ہے کہ سنت کا تعلق تمام تر عملی زندگی سے ہے، یعنی وہ چیزیں جو کرنے کی ہیں۔ علم وعقیدہ، تاریخ، شان نزول اور اس طرح کی دوسری چیزوں کا سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سنت کا لفظ ہی اس سے ابا کرتا ہے کہ ایمانیات کی قسم کی کسی چیز پر اس کا اطلاق کیا جائے۔ لہٰذا علمی نوعیت کی کوئی چیز بھی سنت نہیں ہے۔ اس کا دائرہ کرنے کے کام ہیں۔ اس دائرے سے باہر کی چیزیں اس میں کسی طرح شامل نہیں کی جا سکتیں۔‘‘ (میزان، ص ۵۸)
آگے سنیے۔ آگے چل کر سنت کا تعلق عملی زندگی سے بھی ختم۔ پہلے اس کا دائرہ کرنے کے کام تک محدود بتلایا، اب اس کا بھی انکار۔ ملاحظہ فرمائیے: 
’’وہ چیزیں بھی سنت نہیں ہو سکتیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی رہنمائی کے لیے انھیں بتائی تو ہیں، لیکن اس رہنمائی کی نوعیت ہی پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتی ہے کہ انھیں سنت کے طور پر جاری کرنا آپ کے پیش نظر ہی نہیں ہے۔ اس کی ایک مثال نماز میں قعدے کے اذکار ہیں۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے لوگوں کو تشہد اور درود بھی سکھایا ہے اور اس موقع پر کرنے کے لیے دعاؤں کی تعلیم بھی دی ہے۔ لیکن یہی روایتیں واضح کر دیتی ہیں کہ ان میں سے کئی چیز بھی نہ آپ نے بطور خود اس موقع کے لیے مقررکی ہے اور نہ سکھانے کے بعد لوگوں کے لیے اسے پڑھنا لازم قرار دیا ہے۔ یہ آپ کے پسندیدہ اذکار ہیں اور ان سے بہتر کوئی چیز تصور نہیں کی جا سکتی، لیکن اس معاملے میں آپ کا طرز عمل صاف بتاتا ہے کہ آپ لوگوں کو کسی بات کا پابند نہیں کرنا چاہتے، بلکہ انھیں یہ اختیار دینا چاہتے ہیں کہ وہ آپ کی سکھائی ہوئی یہ دعائیں بھی کر سکتے ہیں اور ان کی جگہ دعا ومناجات کے لیے کوئی اور طریقہ بھی اپنا سکتے ہیں۔ لہٰذا سنت صرف یہی ہے کہ ہر نماز کی دوسری اور آخری رکعت میں نماز پڑھنے والا دو زانو ہو کر قعدے کے لیے بیٹھے۔ اس کے علاوہ کوئی چیز بھی اس موقع پر سنت کی حیثیت سے مقرر نہیں کی گئی۔‘‘ (میزان ص ۶۰)
دیکھا آپ نے، اس اقتباس میں غامدی صاحب اصل شارع کے روپ میں فیصلہ فرما رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قعدۂ نماز میں فلاں چیز ضروری اور فلاں چیز غیر ضروری ہے۔ دلیل کیا ہے؟ صرف غامدی صاحب کے ذہنی تحفظات یا ذہنی اپج یا اختراعات۔ ورنہ حدیث میں تو کوئی اشارات ایسے نہیں ہیں جن کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ ان کی حیثیت صرف رہنمائی کی ہے، یہ سنت نہیں ہے۔ یعنی رہنمائی سنت سے الگ چیز ہے۔ پھر اگر پیغمبر کی رہنمائی سنت نہیں تو سنت کیا ہے؟ اور وہ پیغمبر ہی کیا ہے جس کی رہنمائی (سنت) کوئی قابل عمل چیز ہی نہیں ہے۔
یہ فلسفہ بھی خوب ہے ’’آپ نے تشہد اور درود سکھایا ہے، اس موقع کے لیے دعائیں بھی بتلائی ہیں لیکن آپ نے ان کا پڑھنا لازم نہیں کیا ہے‘‘۔ سبحان اللہ، کیا آپ کا نماز میں ان کا پڑھنا اور صحابہ کو پڑھنے کا حکم دینا، امت کے لیے ان پر عمل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے؟
مزید ستم ظریفی: ’’یہ آپ کے پسندیدہ اذکار ہیں اور ان سے بہتر کوئی چیز تصور نہیں کی جا سکتی‘‘، لیکن آپ کسی بات کا پابند نہیں کرنا چاہتے بلکہ یہ اختیار دینا چاہتے ہیں کہ وہ آپ کی سکھائی ہوئی دعائیں بھی کر سکتے ہیں اور ان کی جگہ دعا ومناجات کے لیے کوئی اور طریقہ بھی اپنا سکتے ہیں۔‘‘ لیکن یہ اختیار والی بات آپ کے کس طرز عمل سے جناب غامدی صاحب کو معلوم ہوئی ہے؟ اس کی دلیل کیا ہے؟ ورنہ اس اعتراف کے باوجود کہ ’’یہ اذکار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پسندیدہ ہیں۔ نیز ان سے بہتر کوئی چیز تصور نہیں کی جا سکتی‘‘، کون بدبخت مسلمان ایسا ہوگا کہ وہ ان کو چھوڑ کر دعا ومناجات کا اپنا طریقہ اختیار کرے گا؟ اور زبان رسالت سے نکلے ہوئے مبارک الفاظ کی جگہ اپنے الفاظ میں دعا کرنا پسند کرے گا؟ یہ تو غامدی صاحب ہی کا حوصلہ یا ان کی جسارت بے جا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور دعائیہ کلمات کے مقابلے میں ہر کہ ومہ کو اپنا طریقہ اور خود ساختہ دعائیہ کلمات اپنانے کی اجازت اور ترغیب دے رہے ہیں۔ کبرت کلمۃ تخرج من افواھھم ان یقولون الا کذبا۔
(جاری)

معاصر تناظر میں غلبہ دین کے لیے عسکری جدوجہد / معاصر جہاد ۔ چند استفسارات

محمد عمار خان ناصر

معاصر تناظر میں غلبہ دین کے لیے عسکری جدوجہد 

(بلال اسلامک سنٹر، جھوک نواز (ضلع وہاڑی) میں ایک فکری نشست میں کی جانے والی گفتگو، مناسب ترمیم و اضافہ کے ساتھ۔)
آج کی گفتگو کا موضوع یہ ہے کہ معاشرت یا ریاست کی سطح پر جو تبدیلی اس وقت اہل دین، اہل مذہب لانا چاہتے ہیں، اس کے لیے جو مختلف حکمت عملیاں اب تک اختیار کی گئی ہیں، ان کا ایک جائزہ لیا جائے۔ ان میں جو کچھ کمی کوتاہی، نقص یا نتائج کے لحاظ سے جو عدم تاثیر دکھائی دیتی ہے، اس کے اسباب پر غور کیا جائے۔ یہاں جو گفتگوئیں ہوئیں، خاص طورپر محترم اللہ داد نظامی صاحب نے جو کچھ کہا، تھوڑا تھوڑا ان کا حوالہ دے کر میں اپنی گفتگو کا ایک تناظر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور پھر بہت ہی اختصار کے ساتھ جو ڈسکشن ہوئی، اس میں جو تھوڑا بہت میں اضافہ کر سکتا ہوں، وہ کرنے کی کوشش کروں گا۔
ایک بات جس کی طرف توجہ دلانا مناسب معلوم ہوتا ہے، یہ ہے کہ جن حالات کا ہمیں سامنا ہے اور اس میں جو تبدیلیاں ہم لانا چاہتے ہیں، اس معاملے کو یہ جو بہت جزوی نوعیت کے یا وقتی نوعیت کے بعض واقعات ہیں، ان کے ساتھ مربوط کر کے اور ان کے تناظر میں دیکھنے کی شاید اتنی ضرورت نہیں ہے جتنی کہ ایک بڑی سطح پر بڑی تصویر بنا کر اور اس میں اپنی صورت حال کو ایک جگہ پر رکھ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ غور وفکر کو مہمیز کرنے کے لیے تو وقتی حالات میں سے کوئی بھی چیز داعیہ پیدا کر سکتی ہے، لیکن ظاہر ہے کہ اگر آپ بڑی تصویر سامنے رکھیں جس سے امت کو بحیثیت امت اس وقت سابقہ ہے، جس صورت حال کا سامنا ہے تو اس میں اس طرح کے واقعات بہت چھوٹے چھوٹے ا ور جزوی لگتے ہیں۔ اس بڑے منظر کو اور اس بڑے تناظر کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے اور اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے بھائی زاہد صدیق مغل صاحب نے اپنی گفتگو میں درست رخ پر بات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔
گفتگو کے جو مختلف dimensions ہیں، ان کو مکمل کرنے کے لیے یہ بات شامل کر دوں کہ تبدیلی کی جدوجہد کے دو تین مختلف ماڈلز ہیں جن کا مغل صاحب نے ذکر کیا۔ جمہوریت کے ذریعے سے جدوجہد کا تصور ہے، احتجاجی اور مظاہراتی طریقہ ہے اور عسکری جدوجہد کا طریقہ ہے۔ یہ تین تو وہ ہیں جو اس وقت پبلک ڈسکورس میں کافی آ چکے ہیں۔ اس سے ملتا جلتا ایک تصور اور بھی ہے جو ابھی اس طرح سے شاید عمومی بحث ومباحثہ کا موضوع نہیں بنا، لیکن وہ بھی ایک تصور ہے اور اگر ہم غور کر رہے ہیں ان مختلف طریقوں پر تو اس پر بھی غور ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں حزب التحریر اس تصور کو پیش کرتی ہے اور وہ تصور یہ ہے کہ بہرحال تبدیلی کے لیے آپ کے پاس طاقت ہونی چاہیے۔ طاقت کے بغیر آپ کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے اور چونکہ ہمارے نظام میں، پاکستان کے تناظر میں عملی طاقت اور اصل طاقت فوج ہے تو فوج کو ہم اپنی نظریاتی تعلیم وتبلیغ کا موضوع بنائیں، فوج کی قیادت میں نظری تبدیلی پیدا کریں اور فوج کو اس پر آمادہ کریں کہ وہ آگے بڑھ کر اقتدار پر قبضہ کرے اور پھر نظام کو، ریاست کو ، معاشرت کو ہماری دی ہوئی راہ نمائی کے مطابق استوار کر دے۔
برادرم زاہد صدیق صاحب نے جو دو تین باتیں کہیں، اس کے لیے میں ان کا شکر گذار ہوں کہ جو باتیں میں عرض کرنا چاہ رہا تھا، وہ انھوں نے بڑی تفصیل سے او ربڑ ے منقح طریقے سے بیان کر دیں۔ یہ بات بھی انھوں نے درست فرمائی ، اس سے مجھے کامل اتفاق ہے کہ جو اس وقت ہم جدوجہد کر رہے ہیں، جتنے بھی مختلف طریقے ہیں، جن میں یہ آخری بھی شامل ہے، ان میں ایک خلا پایا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ بنیادی طور پر اس وقت دنیا میں جو تبدیلی آئی ہے، وہ ایک نئی عالمی تہذیب کا ظہور ہے جس نے اپنی لپیٹ میں ہر چیز کو لے لیا ہے۔ یہ مختلف نظام تو سارے اصل میں اس کی manifestations ہیں۔ دنیا میں ایک بڑی تبدیلی جو آئی ہے تہذیب کی سطح پر، اصل میں اس کی ماہیت اور اس کی نوعیت کو اور جس سطح پر اس نے چیلنج کھڑا کیا ہے، اس کا ادراک کرنے میں اب تک ہم نے کافی سادگی سے کام لیا ہے۔ خلوص کے باوجود، دیانت کے باوجود شاید پوری طرح اس کو اپنی گرفت میں نہیں لا پا رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم غور کر رہے ہیں، سارے معاملے کو rethink کر رہے ہیں اور نئی حکمت عملی کے لیے بات کر رہے ہیں تو اس پہلو کو ہمیں ملحو ظ رکھنا ہے کہ پہلے ہمیں اس تہذیب کو اور اس کے بنائے ہوئے نظاموں کو، اس کی دی ہوئی قدروں کو اور وہ فکر کے، معاشرت کے، اخلاقیات کے جو بھی سانچے دیتا ہے، ان کی صحیح ماہیت کو اور ان کے اندر جو تاثیر کی قوت ہے، اس کے منبع وماخذ کو صحیح طریقے سے دوبارہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
دوسری بات انھوں نے یہ کہی اور وہ بھی میرے نقطہ نظر سے بالکل درست ہے اور صحیح ہے کہ طریقہ جدوجہد کوئی منصوص چیز نہیں ہے او رمتعین نہیں ہے۔ طریقہ جدوجہد کا تعلق انسان کو درپیش حالات سے اور اس کے ارد گرد جو مواقع میسر ہیں، ان سے اور آپ کے پاس جو صلاحیت اور استعداد کار ہے، ان دونوں تینوں چیزوں سے ہے۔ اس لیے تاریخ میں یا سیرت میں جو ہمیں ایک خاص نقشہ ملتا ہے، اس سے اخذ کر کے کسی ایک طریقے کو مطلوب یا منصوص یا متعین یا مسنون قرار دینا اور یہ کہنا کہ اسی کو اختیار کرنا ہمارے لیے شرعاً مطلوب ہے یا کسی نتیجے کے لحاظ سے وہ زیادہ موثر ہے تو اس پر بھی دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے میں یہ نکتہ یہاں سامنے لانا چاہوں گا کہ حکمت عملی سے بھی بڑھ کر یہ سوال کہ کسی مخصوص صورت حال میں اہل ایمان کی ذمہ داری کیا ہے اور انھوں نے اپنی جدوجہد کا ہدف کیا طے کرنا ہے؟ یہ بھی متعین او رمنصوص نہیں ہے۔ ہدف کیا ہے، ذمہ داری کیا ہے اور اس کے لیے حکمت عملی ہمیں کیا وضع کرنی ہے، اس کے لیے ہمیں اپنے راہ نمائی کے جو مآخذ ہیں، ان کے دائرے کو وسیع کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ انبیاء کی جو پوری تاریخ ہے، اس کو بھی شامل کرنا پڑے گا۔ یہ شریعت کا مسئلہ نہیں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو ناسخ قرار دے کر باقی تمام جو ماڈل ہیں، ان کی نفی کر دیں۔ یہ حکمت عملی کا مسئلہ ہے۔ شریعت مکمل ہے، شریعت مکمل کر دی گئی ہے، لیکن کسی خاص ماحول میں دین آپ پر دین کی جدوجہد کے حوالے سے ذمہ داری کیا عائد کرتا ہے، آپ مکلف کس بات کے ہیں، آپ نے اپنے لیے ہدف کیا متعین کرنا ہے اور اس کے لیے حکمت عملی کیا اختیار کرنی ہے، اس کے لیے انبیاء کی پوری تاریخی روایت کو ہمیں اپنے سامنے رکھنا پڑے گا اور اس سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے یا آپ کے اختیار کردہ طریق جدوجہد سے کوئی متعین نمونہ اخذ کرنے میں کچھ تو وہ مسائل ہیں جن کا مغل صاحب نے ذکر کیا۔ وہ بالکل اپنی جگہ درست ہیں، خاص طو رپر یہ جو تصور ہے کہ اس خاص طریقے کو اختیار کرنے پر لازماً کامیابی مل جائے گی، میرے خیال میں اس پہلو سے بطور خاص غور کرنے کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کامیابی ملی، نصرت ملی اور جو ایک ذمہ داری آپ کو سونپی گئی تھی، وہ عملاً پایہ تکمیل کو آپ نے پہنچا دی، اس سے اپنے لیے کچھ چیزیں اخذ کرنے کا رجحان بالکل نیا ہے۔ سلف اس معاملے کو اور خاص طو رپر وعدہ نصرت کو اور اس کی تکمیل کو اس طرح سے نہیں دیکھتے۔ سلف اس میں ایک بہت بڑا element تکوینیات کا بھی داخل کرتے ہیں۔ میں نے اس کے کافی شواہد اپنی کتاب میں جمع کر دیے ہیں۔ مثال کے طور پر شاہ ولی اللہ نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں جس مقام پر یہ بحث اٹھائی ہے کہ اللہ تعالیٰ مختلف اوقات میں نبی کیوں بھیجتے ہیں، رسول کیوں بھیجتے ہی اور اس کے پیچھے جو تکوینی مصالح ہوتے ہیں، وہ کیا ہوتے ہیں؟ وہاں پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے یہ بیان کیا ہے کہ انبیاء دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ان کی دو تین اقسام ہیں اور کسی نبی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نظام عالم میں کیا تبدیلی برپا کرنا چاہتے ہیں، ا س کا تعین تکوینی مصالح اور اسباب کے تحت کیا جاتا ہے اور پھر اس کے لیے نبی کی بعثت کا وقت بھی وہی منتخب کیا جاتا ہے جب اس تبدیلی کے لیے دیگر اسباب وعوامل جمع ہو چکے ہوں اور اس میں آ کر ایک فائنل اور حتمی کردار وہ نبی ادا کرتا ہے۔ اس میں انھوں نے حضرت موسیٰ کی مثال دی ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی مثال دی ہے۔ یہ دو بڑے پیغمبر، ان کی بعثت کا وہ وقت اللہ نے منتخب کیا جب وہ اپنی تکوینی حکمتوں اور مصالح کے تحت دنیا کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی لانا چاہتا تھا اور اس کے لیے وہ باقی عوامل اور اسباب تاریخ کے عمل میں ا س جگہ پہنچ چکے تھے جب اس تبدیلی کو برپا کرنا اور اس کے لیے خدا کے فیصلے کو تاریخ کے عمل میں موثر کرنے کا وقت آ چکا تھا۔ اس موقع پر سیدنا موسیٰ کی بعثت ہوئی۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جب بعثت ہوئی تو اس وقت بھی نظام عالم میں ایک بڑی تبدیلی پیدا ہوئی۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے جو انبیاء مبعوث ہوتے ہیں، ان کے ساتھ خدا کا وعدہ ہوتا ہے نصرت کا اور غلبہ کا۔ ان کے علاوہ باقی انبیاء کے لیے بھی یہ وعدہ نہیں ہوتا۔ 
مثلاً آپ دیکھیں، بہت سے انبیاء ہیں جو آئے اور دعوت دے کر چلے گئے۔ کوئی نتیجہ مرتب نہیں ہوا۔ بہت سے ایسے بھی تھے جنھوں نے اپنی جانیں گنوا دیں اور کوئی نتیجہ مرتب نہیں ہوا۔ قیامت کے دن بہت سے انبیاء اپنے پیروکاروں کی بڑی بڑی صفیں لے کر آئیں گے۔ کچھ ایک دو افراد لے کر آئیں گے اور کچھ اکیلے بھی آئیں گے۔ اس لیے شریعت کے دائرے میں یقیناًآخری ماخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت ہے، لیکن کسی خاص صورت حال میں دین کی جدوجہد کے ضمن میں آپ پر ذمہ دار ی کیا عائد ہوتی ہے اور اس کے لیے آپ نے حکمت عملی کیا وضع کرنی ہے تو یہ میرے خیال میں شریعت کی بحث نہیں ہے۔ اس میں اگر ہم راہ نمائی لینا چاہتے ہیں تو انبیاء کے پورے اسوے کو دیکھنا چاہیے۔ اس میں ہمیں کہیں حضرت یوسف علیہ السلام کا اسوہ دیکھنا پڑے گا، کہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دیکھنا پڑے گا، کہیں حضرت مسیح علیہ السلام کے اسوے سے فائدہ اٹھانا پڑے گا اور کہیں حالات اگر اس طر ح کے ہوں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوے سے بھی فائدہ اٹھانا پڑے گا۔
یہ تو ایک اصولی بات تھی جدوجہد کے ان پیراڈائمز کے حوالے سے سے جو عموماً ہمارے موجود ہیں۔ میری گفتگو کا جو خاص ارتکاز ہے، وہ عسکری جدوجہد کے طریقے پر ہے، یعنی یہ کہ اس وقت موجودہ صورت حال میں امت مسلمہ کے اندر اس نظام کی بحالی کے لیے یا عالمی سطح پر اس کے اس کردار کو زندہ کرنے کے لیے جہاد کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے اور یہ زیادہ نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔ اس تصور کے ساتھ بھی کچھ اس طرح کی oversimplifications وابستہ ہیں جس طرح کہ باقی دوسری کوششوں کے ساتھ ہیں۔ اس مفروضے میں یا اس نقطہ نظر میں ایک بات عام طور پر کہہ دی جاتی ہے اور بڑی سادگی سے کہہ دی جاتی ہے کہ امت کا زوال اصل میں اس لیے ہوا ہے کہ ہم نے جہاد چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے امت کے اس وقار اور عروج کو بحال کرنے کا سادہ طریقہ یہ ہے کہ ہم دوبارہ جہاد شروع کر دیں۔ جہاد شروع کرنا ہی اصل میں اس نتیجے تک لے جائے گا اور اس منزل سے ہم کنار کر دے گا جو کہ جہاد ترک کرنے کی وجہ سے کھوٹی ہو گئی ہے۔ یہ بیان بھی اسی طرح سے بہت زیادہ چیزوں کو اوور سمپلی فائی کرنے کا نتیجہ ہے اور اس میں خاص طو رپر یہ پہلو جس کا ابھی میں نے ذکر کیا، نظر انداز کیا گیا ہے کہ دنیا میں قوموں کو یا امتوں کو جب غلبہ ملتا ہے یا ان کو عروج دیا جاتا ہے یا اس کے برعکس زوال کو ان کا مقدر بنایا جاتا ہے تو یہ محض انسانی تدبیر کے اور انسانی منصوبہ بندی کے معاملات نہیں ہوتے۔ بنیادی طو رپر یہ تکوینی سطح پر کچھ فیصلے ہوتے ہیں اور تکوینی پیراڈائم کے اندر انسانی جدوجہد اور انسانی کوششوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ 
چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنے اصولوں کے تحت دنیا میں عروج بخشنا چاہتا ہے اور اس وقت وہ ان پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ تمھیں اس مقصد کے لیے قوت وطاقت کو استعمال کرنا ہے اور جان ومال کی قربانی پیش کرنی ہے اور اس پر میری طرف سے نصرت کا وعدہ ہے جو تمھیں ملے گی تو یہ وعدہ اصلاً اس صورت حال کے تناظر میں ہے جب کسی قوم پر مجموعی حیثیت میں ایک ذمہ داری عائد کی گئی اور یہ کہا گیا کہ آپ کی قومی تقدیر جہاد کے اس راستے سے وابستہ اور اس کے ساتھ مشروط ہے جو آپ کو غلبے کے لیے اور جدوجہد کے لیے اور کامیابی کے لیے بتایا گیا ہے۔ اس چیز کو آپ اس پورے تناظر سے الگ کر کے اس صورت حال میں سادگی کے ساتھ منطبق نہیں کر سکتے جب وقت گزرنے کے ساتھ اور حالات کے بدلنے کے ساتھ تکوینی سطح پر کچھ اور فیصلے ہو چکے ہیں اور اس امت کے بارے میں تکوینی سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسے اپنے اجتماعی کردار کی پاداش میں، اپنی بد اعمالیوں کے نتیجے میں اور اس میثاق اور اس وعدے سے انحراف کے نتیجے میں جس کے ساتھ اس کا غلبہ مشروط تھا، اب اس کو روبہ زوال کرنا ہے اور اس کو اس کے اعمال کی سزدینی ہے۔ اب یہ بات بہت سادہ ہوگی کہ جو باقی تمام چیزیں ہیں، زوال کے جتنے باقی اسباب ہیں، ہماری اخلاقی صورت حال ہے، ہمارے اندر جس طرح کا انتشار کا معاملہ ہے، ہمارے اندر دین کے حوالے سے اللہ کو جو ایک بنیادی مطلوب ہے، اس کا فقدان ہے، یہ سارے کے سارے اسباب اپنی جگہ ہوں او رہم ایک سادہ سا حل یہ سوچیں کہ ہم بس جہاد شروع کر دیں اور اس پر وہی نتیجہ مرتب ہو جائے گا جو چودہ سو سال پہلے صحابہ کرام کی جدوجہد پر مرتب ہوا تھا۔تو اس نقطہ نظر پر میری ایک طالب علمانہ تنقید یہ ہے۔
اگر ہم غور کریں تو قرآن مجید اس حوالے سے بھی ہماری راہ نمائی دیتا ہے۔ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کے ذریعے سے یہ ہدایت دی کہ فلسطین کی سرزمین اللہ نے تمھارے لیے مقدر کر دی ہے، تمھارے حصے میں لکھ دی ہے۔ تم آگے بڑھو اور قبضہ کرو۔ ادخلوا الارض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم۔ اللہ نے تمھارے حق میں لکھ دی ہے اور فرض کر دیا ہے کہ اس پر حملہ کر کے اس کو اپنے تصرف میں لے آؤ۔ قوم اس وقت تھوڑی بزدلی دکھاتی ہے۔ ان میں سے صرف دو افراد ایسے نکلتے ہیں جو دشمن سے مرعوب نہیں ہوتے۔ باقی قوم پیغمبر سے کہتی ہے کہ ہم نہیں جا سکتے۔ آپ اپنے خدا کے ساتھ جائیں اور لڑیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتے ہیں اور ناراض ہونے کے بعد یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب یہ غلبہ یا یہ فتح چالیس سال تک کے لیے موخر کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد تورات میں اس کی تفصیل ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے یہ کہا جاتا ہے کہ اپنی قوم سے کہہ دیں کہ اب چالیس سال سے پہلے یہ حملے کی حماقت نہ کریں۔ کرنے کی کوشش کریں گے تو میری طرف سے نہ صرف یہ کہ مدد کا کوئی وعدہ نہیں ہے، بلکہ الٹا مار پڑے گی اور اس کے ذمہ دار یہ خود ہوں گے۔ اس کے باوجود بنی اسرائیل جوش میں آ کر فلسطین کو فتح کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن نتیجہ وہی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے نصرت وفتح کے وعدوں کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے تکوینیات کا اور کسی گروہ کی اخلاقی اور روحانی اور ایمانی صورت حال کا۔ اب دیکھیں، جہاد فرض ہے، حکم مل چکا ہے، لیکن خدا کہہ رہا ہے کہ اب چالیس سال تک میں نصرت نہیں کروں گا اور اگر اس سے پہلے فتح حاصل کرنے کی کوشش کرو گے تو اپنا نقصان کرو گے۔ تو یہ بات بڑی اہم ہے جو اس حوالے سے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
دو تین چیزیں اس ضمن میں اور بھی ہیں۔ جب ہم احیائے اسلام کی اور احیائے امت کی بات کرتے ہیں تو تاریخ میں ہمیں بڑے اسباق ملتے ہیں۔ اسلام کا غلبہ دنیا میں دوبارہ ہونا چاہیے اور ہوگا۔ لیکن کیا اس کی صورت بس یہی ہے کہ جو امت پہلے اس دین کی اور اس مذہب کی حامل تھی اور جو اپنے کردار کی وجہ سے زوال اور پستی کی مستحق ہو گئی ہے، کیا غلبے کی ایک ہی شکل ہے کہ یہی قوم دوبارہ اٹھے اور اس کو اقتدار اور قوت ملے اور یہ دنیا کی باقی قوموں پر دوبارہ غالب آ جائے؟ تاریخ کے مطالعہ سے عام طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ جب ایک قوم اپنا منصب چھوڑتی ہے تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ دوسری قوموں کو اٹھاتا ہے اور ان کے ذریعے سے اپنا مقصد پورا کراتا ہے۔ یستبدل قوما غیرکم۔
تاریخ میں ہمیں اس کی بڑی واضح مثالیں ملتی ہیں۔ پچھلے مذاہب کی تاریخ میں بھی ملتی ہیں اور اسلام کی تاریخ میں بھی ملتی ہیں۔ آپ دیکھیے، بنی اسرائیل کا جب خاتمہ ہوا ہے او رمسیحی مذہب ان کی جگہ پر آیا اور دنیا میں پھیلا ہے تو رومی سلطنت میں ابتدائی تین صدیوں تک ان پر ظلم وجبر اور تشدد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس کے بعد کہیں جا کر مسیحیت کو طاقت اور اقتدار نصیب ہوتے ہیں، لیکن اس کی صورت یہ نہیں تھی کہ مسیحی بطور ایک سیاسی گروہ کے اپنے دشمنوں یعنی رومیوں پر غالب آجائیں۔ اس کے بجائے ہوتا یہ ہے کہ ان کا مذہب، ان کی تعلیم اس غالب طاقت کومسخر کر لیتی ہے اور رومی سلطنت مسیحی مذہب اختیار کر لیتی ہے۔ یعنی مسیحیوں کو غلبہ نہیں ملتا، بلکہ جو غالب تھے، ان کو مسیحیت کا مذہب قبول کرنے کی توفیق مل جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا میں مسیحیت ایک غالب مذہب اور ایک سیاسی قوت کے طو رپر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ 
یہی حال یورپ کی تاریخ میں ہے۔ جب مغربی رومی سلطنت کا زوال ہوا اور مختلف وحشی قومیں مثلاً ہن وغیرہ یورپ پر حملہ آور ہوئیں تو انھوں نے آ کر رومی سلطنت کو اجاڑ کر رکھ دیا۔ ان قوموں کا مسیحیت سے کوئی واسطہ نہیں تھا، کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہاں بھی مسیحی بطور گروہ کے تو مغلوب ہو گئے اور ان کی سلطنت بکھر گئی، لیکن مسیحیت نے انھی قوموں کو جو وحشی اور اجڈ قومیں تھیں اور بت پرست او رمشرک قومیں تھیں، ان کو اپنے رنگ میں رنگا ہے اور پھر مسیحیت کو دوبارہ اقتدار مل گیا، لیکن اس صورت میں نہیں کہ وہ ان حملہ آور قوموں پر طاقت کے میدان میں غالب آ جائیں، بلکہ اس شکل میں کہ ایک نیا گروہ جو طاقت کے زور پر غالب آیا تھا، اس نے مسیحیت کو اختیار کر لیا۔
ہماری اسلامی تاریخ کا ایک بہت بڑا انقلاب بھی اسی تاریخی اصول کا مظہر ہے جس کے متعلق اقبال نے اپنا مشہور شعر کہا ہے:
ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
تاتاری نسل جو کہ بعد میں ترکی سلطنت کی شکل میں پانچ سو سال تک مسلمانوں کی قیادت اور اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرتی رہی، اصل میں تو وہ مسلمان نہیں تھے۔ انھوں نے پہلے تو آکر مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی، لیکن پھر خدانے انھی سے کام لے لیا اور وہ عالم اسلام کا بازوئے شمشیر زن بن گئے۔
تو یہ جب ہم حکمت عملی کی بات کریں اور ماڈل بنائیں تو تاریخ میں ہمیں جو نمونے ملتے ہیں، ان کو بھی ذرا وسعت سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ غلبہ اسلام اور احیائے اسلام دوبارہ ہوگا اور ہونا چاہیے، لیکن اس کے لیے یہ کوئی ضروری نہیں کہ ہم دوبارہ یہ امیدیں وابستہ کریں کہ وہ غالب گروہ دوبارہ ہم ہی ہوں گے جو ہر لحاظ سے زوال کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے، اس کے لیے اللہ ان قوموں کو ہدایت دے دے، ان کو توفیق دے دے جن کو تکوینی سطح پر اس دنیا کی قیادت سونپی گئی ہے اور بائبل کی تعبیر کے مطابق اس وقت ’’دنیا کے پھاٹکوں کے مالک‘‘ ہیں۔ 
اس طرز جدوجہد پر دو اور سوال بھی بڑے اہم پیدا ہوتے ہیں۔ وہ یہ کہ اگر ہم اس وقت لڑ بھڑ کر مغرب سے فتح حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس کو زیر کرنا چاہتے ہیں تو ظاہر ہے کہ شریعت اور قانون کی رو سے تو جہاد منسوخ نہیں ہوا، نہ قتال ممنوع ہوا ہے۔ بعض مفکرین یہ مفروضہ پیش کرتے ہیں کہ اب دنیا میں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ شاید قتال کی ضرورت یا اس کی اہمیت یا افادیت باقی نہیں رہی۔ مجھے اس سے بالکل اتفاق نہیں ہے۔ یہ دنیا فساد کے لیے بنی ہے اور اس میں قتال کی ضرورت رہے گی، لیکن دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ آپ نے قتال کے لیے وقت کون سا منتخب کرنا ہے؟ اس میں بڑی اہم بات یہ ہے جو ہمیں تہذیبوں کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی تہذیب یا کوئی طاقت دنیا میں اپنے دور عروج میں ہوتی ہے تو عام طور پر اس حالت میں اس سے لڑ کر اور اس سے ٹکرا کر اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔ مسلمانوں کو بھی چیلنجز، مقابلے، لڑائیاں پہلے دن سے درپیش رہیں، لیکن اپنی تہذیب کے دور عروج میں مسلمانوں کو بطور ایک سیاسی طاقت کے دنیا سے ختم نہیں کیا جا سکا۔ مسلمان مغلوب اس وقت ہوئے ہیں جب ان کے اندر جو داخلی توانائی تھی، قوت تھی اور ان کی تہذیب کو اپنے داخل میں قائم رکھنے والی جو فورس تھی، وہ ختم ہوئی ہے۔ یہی معاملہ ہے اس سے قبل روم اور فارس کی سلطنتوں کا۔ یہ اپنی تاریخ کے اس مرحلے پر تھیں کہ اپنے اخلاقی زوال کی انتہا کو پہنچ چکی تھیں اور ان کے اندر داخلی طور پر جو ظلم وجبر اور استبداد کی صورت حال تھی، اس نے انھیں خدا کی نظر میں مبغوض اور پستی وزوال کی مستحق قومیں بنا دیا تھا۔ اسی کو شاہ ولی اللہ یوں بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی نبی کو منتخب کرتے ہیں تو اس کے لیے یہ دیکھتے ہیں ہے کہ وہ باقی اسباب بھی مہیا ہو چکے ہوں، وہ صورت حال پیدا ہو چکی ہو جس میں آ کر پیغمبر کردار ادا کرے اور پہلے سے موجود طاقتوں کو دنیا سے ختم کر کے ایک نئی طاقت کو اٹھایا جائے۔ تو یہ بھی ایک دیکھنے کی چیز ہے کہ اس وقت ہم جس طاقت سے ٹکرا کر اس کو دنیا سے ختم کرنا چاہتے ہیں یا اس کی جگہ لینا چاہتے ہیں، وہ اپنی تاریخ کے کس دور میں ہے؟ اس کی تہذیبی وسیاسی اور اقتصادی طاقت کی صورت حال کیا ہے؟ اور طاقت کا توازن کتنا ہے جو بہرحال فتح وشکست کے مادی عوامل میں ایک اہم عامل ہے؟
پھر ایک بڑی اہم بات اس حوالے سے اور بھی ہے جو فتح ونصرت کے وعدے کے اخلاقی شرائط میں سے ایک ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے او ررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے بھی۔ دنیا میں غلبہ اور نصرت یہ اگر ایک پوری امت کا اور پوری قوم کا مسئلہ ہے تو فتح تبھی ملے گی، اللہ کی طرف سے نصرت تبھی ملے گی جب قوم بحیثیت مجموعی مطلوبہ کردار کی ادائیگی کے لیے تیار اور آمادہ ہو۔ بحیثیت مجموعی سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ اس کا ایک ایک فرد ان اوصاف کا حامل ہو۔ مراد یہ ہوتا ہے کہ اس میں جو کارفرما عناصر ہیں، اس کے سوچنے سمجھنے والے اور فیصلے کی صلاحیت رکھنے والے طبقات ہیں، وہ اس ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ قوم پر تو وہ کیفیت چھائی ہوئی ہو جو وہن کی اور حب دنیا کی کیفیت ہے اور کوئی ایک چھوٹا سا گروہ اٹھے اور وہ یہ توقع کرے کہ میرے اٹھ کھڑے ہونے سے وہ صورت حال برپا ہو جائے گی۔ بنی اسرائیل کا واقعہ اس طرف ہماری راہ نمائی کرتا ہے۔ پوری قوم میں سے اگر دو آدمی اٹھ کر ہمت کرنے والے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی ہمت پر پوری قوم کو غلبے کا صلہ نہیں دیتا۔ اللہ کے جو تکوینی قوانین ہیں، ان کو بہت غور سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
میں شروع میں یہ بات واضح کرنا بھول گیا کہ اس وقت جو ہم عسکری جدوجہد کی بات کرتے ہیں تو اس کی دو سطحیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ کیا ہم دنیا میں اسلام کا غلبہ اور اسلام کا عالمی کردار بحال کرنے کے لیے جہاد کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں؟ اور ایک ذرا محدود پیمانے پر ہوتی ہے کہ کسی خاص خطے یا ملک میں ہم شریعت کا نظام نافذ کرنے کے لیے عسکریت کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ بظاہر یہ دو الگ الگ سطحوں کی بحثیں ہیں، لیکن حقیقت میں دونوں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ آپ اگر جائزہ لیں تو اس وقت جہاں بھی مختلف تحریکیں کسی خطے میں شریعت کے نفاذ کے لیے یا اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، ان کی آئیڈیالوجی اور ان کے فکری محرکات پر آپ غور کریں گے تو اصل میں اس وقت عالمی سطح پر اسلام کے احیاء کا ایک جذبہ نظر آئے گا۔ گویا سطحیں بظاہر الگ الگ ہیں، لیکن پیچھے تصورات، محرکات مشترک ہیں۔ میں نے اب تک جو گفتگو کی، وہ عالمی سطح پر غلبہ اسلام کی بحالی سے متعلق تھی۔ اب میں کچھ اشارات اس دوسری سطح سے متعلق کرنا چاہوں گا۔
کسی ایک خطے میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دین کے نفاذ یا غلبہ شریعت کے لیے فلاں اور فلاں طرز جدوجہد کامیاب نہیں ہوئی اور اس طرز جدوجہد سے بظاہر کامیابی کی توقع بھی نہیں ہے تو اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم عسکری جدوجہد کے طریقے کو استعمال کریں اور جب یہ کریں گے تو اس کے نتیجے میں ہمیں کامیابی مل جائے گی۔ اس سوچ میں بھی اسی طرح سے کچھ اہم پہلووں سے صرف نظر کیا گیا ہے جیسے اس سے پہلے تصور میں کیا گیا ہے۔ 
مثلاً پہلی چیز یہ ہے کہ اس طرح کی کسی بھی جدوجہد کی کام یابی کے راستے میں ہمیشہ کچھ رکاوٹیں ہوتی ہیں۔ کچھ فکری اور نظری ہوتی ہیں اور کچھ عملی ہوتی ہیں۔ رکاوٹوں کو موضوع بنائے بغیر اور ہٹائے بغیر آپ محض ٹکرا کر راستے میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اس وقت امت مسلمہ کو فکری سطح پر سب سے بڑی رکاوٹ جو درپیش ہے، جو نہ صرف ہمارے بارسوخ طبقات کو بلکہ عوام تک کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے، وہ ہے مغربی فکر اور مغربی تہذیب کا دیا ہوا ایک فکری وتمدنی سانچہ جس نے اس طرح سے گرفت میں لیا ہوا ہے کہ آپ کا معاشرہ اور خاص طور پر وہ طبقات جن کے لیے اس میں privileges وابستہ ہیں، وہ اس سے مختلف کوئی سانچہ قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ علم، اخلاق اور فکر کی سطح پر وہ اتمام حجت نہیں ہوا کہ آپ طاقت کے زور پر آئیں، قبضہ کریں اور اس کے بعد زمین آپ کے لیے تیار ہو۔ یہ فکری اتمام حجت، فکر کی سطح پر جس سے آپ کا مقابلہ ہے، اس کو شکست دیے بغیر، اس کی ذہنی مرعوبیت سے لوگوں کو نکالے بغیر آپ محض طاقت کے زور پر ان پر حکومت نہیں کر سکتے۔ 
آپ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیئس سال کا عرصہ دیا گیا اور آخر میں جا کر فتح مکہ کی صورت میں عرب کی سطح پر غلبہ اسلام کی راہ ہموار ہوئی تو آپ دیکھیں، فتح مکہ سے پہلے ایمان کی سطح پر، فکر واعتقاد کی سطح پر اسلام کی حقانیت علیٰ رؤوس الاشہاد واضح کی جا چکی تھی اور اتمام حجت ہو چکا تھا۔ اب لوگوں کو ایک عقیدے کی سطح پر اس سوال کا سامنا نہیں تھا کہ اسلام جو دعوت پیش کر رہا ہے، جو عقائد بیان کر رہا ہے، اس کی حقانیت میں ان کو کوئی تردد ہو۔ اگر یہ معاملہ ہو چکا ہے، آپ فکر، نظریے اور عقیدے کی سطح پر اپنی جنگ جیت چکے ہیں تو پھر طاقت کا استعمال فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ آتے ہیں اور جو لوگ ایک چلے آنے والے نظام میں اقتدار کی مسندوں پر براجمان ہیں، آپ ان کو طاقت سے ہٹا دیتے ہیں اور معاشرہ اس تبدیلی قیادت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا تو یہ کوئی دیرپا کامیابی نہیں ہوگی۔ جلد اس کو ریورس گیئر لگ جائے گا۔ ماضی قریب میں ہم سید احمد شہیدؒ کی تحریک کی صورت میں اس کی ایک مثال دیکھ سکتے ہیں۔ 
اب یہ جو مغربی فکر کے دیے ہوئے سانچوں کو توڑنے اور لوگوں کو ذہنی مرعوبیت سے نکالنے کا کام ہے، ہمارے ہاں یہ کام ابھی تک شاید فرض کفایہ کی حد تک ہی ہے۔ معاشرے پر اور خاص طور پر بااثر طبقات پر اس کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس میدان میں پیش رفت کی ضرورت کا بھی کوئی خاص احساس موجود نہیں ہے۔ 
دوسری چیز یہ ہے کہ فرض کریں، آپ کو اس وقت اقتدار مل جائے، آپ غلبہ حاصل کر لیں اور آپ یہ چاہیں کہ ہم ایک ہی دن میں جو پورا نظام ہے جو ہم اپنی فقہی کتابوں میں پڑھتے ہیں، وہ ہم نافذ کر دیں تو یہ بھی دین کی حکمت کے خلاف ہے۔ معاشرے میں تبدیلی تدریجاً لائی جاتی ہے اور جو پابندیاں آپ لوگوں پر لگانا چاہتے ہیں، ان کے لیے انھیں رفتہ رفتہ ہی آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہی بات فرمائی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر پہلے دن لوگوں سے کہتے کہ بدکاری چھوڑ دو، شراب چھوڑ دو تو کوئی بھی نہ چھوڑتا۔ آپ نے پہلے ان کو ایمان کی دعوت دی، ان کے دل کی زمین ہموار کی کہ وہ اللہ کی عائد کردہ پابندیوں کو قبول کر سکیں۔ پھر بعد میں جا کر ان سے کہا کہ یہ کام بھی چھوڑ دو، یہ بھی چھوڑ دو۔ یہ کام کیے بغیر آپ محض طاقت کے زور پر سب کچھ نہیں کر سکتے۔ ہمارے ہاں کے اسلامی مفکرین یہ کرتے ہیں کہ اسلامی نظام کے ساتھ وابستہ جو benefits ہیں، وہ تو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، لیکن اسلام آ کر جو قدغنیں لگاتا ہے، جو پابندیاں لگاتا ہے اور آپ کی جن خواہشات کو روکتا ہے، انھیں اس طرح نمایاں نہیں کرتے۔ پہلے لوگوں کو اس کے لیے تیار کرنا ہوگا کہ وہ اسلامی نظام کے ساتھ وابستہ منافع بھی حاصل کریں، لیکن اس کی پابندیوں کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ 
تیسری چیز بڑی اہم ہے جس کا ذکر مغل صاحب نے بھی کیا کہ کسی بھی معاشرے میں سیاسی عصبیت کے بغیر آپ اپنا اقتدار قائم نہیں کر سکتے اور اگر کہیں قائم کر لیں تو اسے قائم رکھ نہیں سکتے۔ اس اصول کا لحاظ پیغمبر کو بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ میرے بعد قریش ائمہ ہوں گے، قریش کے پاس اقتدار ہوگا تو اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ عرب کے لوگ قریش کے علاوہ کسی کو لیڈر ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ اب دور قدیم میں سیاسی عصبیت کے تصور میں اور دور جدید کے تصور میں بہت فرق ہے۔ ہمارے فقہا نے یقیناًاپنے دور کے حالات کے تناظر میں قیام حکومت کا ایک طریقہ یہ قرار دیا ہے کہ کوئی گروہ تغلباً اقتدار حاصل کر لے۔ یعنی طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ کر لیں اور اگر وہ چل گیا تو ٹھیک ہے، وہ جائز اقتدار ہے۔ دور جدید میں ، یہ صحیح ہوا یا غلط ہوا، مغرب نے کیا یا کس نے کیا، اس سے قطع نظر زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج اس سیاسی اصول کو دنیا میں ایک قبول عام حاصل ہو چکا ہے کہ اقتدار ان کو ملے جنھیں عوام کی تائید حاصل ہو، وہ عوام کے نمائندہ لوگ ہوں، ان کو معاشرے میں سیاسی عصبیت حاصل ہو۔ 
یہ جو شریعت کے، اخلاق کے، حکمت عملی کے جو اصول ہیں، ان کو نظر انداز کر کے محض طاقت کے زور پر آپ کوئی خاص یا دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔
اس معاملے میں آخری بات میں ان حضرات سے جو عسکری جدوجہد کے راستے سے ملکی نظام کی تبدیلی کے طریقے پر یقین رکھتے ہیں، یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ایک تو آپ معاشرے کی معروضی صورت حال سے صرف نظر کر رہے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ جو کامیابی کے عملی امکانات ہیں، ان پر بھی یا تو توجہ نہیں دے رہے یا کسی خوش فہمی کا شکار ہیں۔ یہاں فوج کی طاقت کا ذکر ہوا، وہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آپ اس کو کیسے حل کریں گے؟ اور بڑی اہم بات یہ ہے کہ دیکھیں،۱س ملک میں اسلام کے نام لیوا، اسلام کے لیے جدوجہد کرنے والے کوئی ایک طبقہ نہیں ہے۔ صرف جماعت اسلامی یا تنظیم اسلامی نہیں ہے یا جو گروہ عسکری جدوجہد کرنا چاہتے ہیں، وہی نہیں ہیں۔ یہ سب اسلام کے نام لیوا ہیں۔ آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں کہ سب اسلام کے لیے کوشش کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی ایک گروہ اٹھ کر اپنی حکمت عملی باقی سب پر ٹھونسے؟ حکمت عملی تو اجتہادی معاملہ ہے۔ آپ نے یہاں آگے بڑھنے کے لیے کیا راستہ اختیار کرنا ہے؟ یہاں کی جو مذہبی قوتیں ہیں، اہل علم ہیں، یہاں کی جو مذہبی قیادت ہے، اس وقت تک کی صورت حال تو یہی ہے کہ وہ اس طریقے سے اتفاق نہیں کرتی، اس کو غلط سمجھتی ہے، اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ سو اگر کوئی گروہ اٹھ کر یہ کہتا ہے کہ میری نظر میں چونکہ یہی طریقہ صحیح ہے، اور باقی سب کی رائے یا ان کا اجتہاد چونکہ ہماری نظر میں غلط ہے تو ہم اس کی کوئی پروا نہیں کرتے، ہم اپنی حکمت عملی ٹھونسیں گے تو یہ طرز فکر ایک اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ اجتہادی معاملات میں آپ اپنی رائے دوسروں پر نہیں ٹھونس سکتے۔ اجتہادی معاملات میں آپ کو اجتماعیت سے کام لینا ہوتا ہے۔ جس رائے پر متعلقہ لوگوں کا عمومی اتفاق ہو، اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
اور آخری بات میں یہ کرنا چاہوں گا کہ جب ہم تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو عام طو رپر فوراً توجہ ریاست اور نظام کی طرف چلی جاتی ہے۔ اس سے نیچے بھی اصلاح کے اور تبدیلی کے بڑے دائرے ہیں اور وہ بنیادی ہیں۔ ہم فرد کو بالکل بھول جاتے ہیں کہ فرد بھی کوئی بدلنے کی چیز ہے۔ معاشرت میں معاشرتی رویے، اخلاق، کردار، ان کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی قدریں لانے کی ضرورت ہے اور وہاں پر بڑی گنجائش اور بڑا موقع بھی ہے۔ اس کو ہم بالکل بھول جاتے ہیں۔ تو یہ اس پورے ڈسکورس کا ایک مستقل مسئلہ ہے کہ تبدیلی کی بات ہوتے ہی فوراً ہمارا ذہن نظام اور ریاست کی طرف چلا جاتا ہے اور اس کے لیے نیچے جو بنیاد چاہیے، فرد سے شروع ہو کر معاشرت کے جو مختلف دائرے ہیں، ان سے ہماری توجہ بالکل ہٹ جاتی ہے اور اس طرز فکر کو جواز فراہم کرنے کے لیے پھر ہم یہ تصور بھی کر لیتے ہیں کہ اصل میں ان سطحوں پر جدوجہد موثر ہی نہیں ہو سکتی جب تک کہ ہم پہلے اوپر سے ایک بڑی تبدیلی نہیں لے کر آئیں گے۔
مجھے اس وقت یہی چند گزارشات پیش کرنا تھیں۔ اقول قولی ھذا واستغفر اللہ لی ولکم ولسائر المسلمین۔

معاصر جہاد ۔ چند استفسارات

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست پاکستان کی شرکت کے حوالے سے ہمارے علماء اور مذہبی قائدین کی طرف سے جو بیانات اور فتاویٰ سامنے آتے ہیں، وہ بالعموم صرف ایک فریق یعنی ریاست کے کردار کو موضوع بناتے ہیں اور ان سے صورت حال کا ایک یک رخا منظر ہی سامنے آتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے کے دوسرے فریق یعنی جہادی قائدین اور تنظیموں کے کردار کے حوالے سے بھی نہایت اہم سوالات کی ایک پوری قطار ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے واضح جوابات کی منتظرہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہمارے جید مفتیان کرام ان سوالات کے جوابات بھی پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیں تاکہ قوم کے فہیم عناصر کو شرعی زاویے سے پوری صورت حال کا تجزیہ کرنے میں آسانی ہو۔ یہاں ہم اپنے طالب علمانہ فہم کے مطابق جواب طلب سوالات کی ایک فہرست اہل علم کے سامنے پیش کرنا چاہیں گے:
۱۔ ایک اسلامی ملک میں کسی غیر مسلم طاقت کے خلاف جنگ کا فیصلہ کرنے کا اختیار کس کو ہے؟ آیا سربراہ حکومت کو یا وہاں مقیم کسی بھی جماعت یا گروہ کے افراد کو؟
۲۔ اگر امیر المومنین کسی اقدام کی اجازت نہ دیں اور پھر بھی کوئی گروہ اپنے تئیں اقدام کر ڈالے جس کے نتائج پورے ملک اور پوری قوم کو بھگتنا پڑیں تو ایسے اقدام کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
۳۔ کیا دشمن کی عسکری طاقت کو ہدف بنانے کی صلاحیت حاصل نہ ہونے کی صورت میں اس کے عام شہریوں اور تجارتی مراکز وغیرہ کو حملے کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟
۴۔ کیا کسی ملک کے شہریوں کو اس استدلال کی بنیاد پر مقاتلین قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہیں؟
۵۔ اگر کسی غیر مسلم ملک کی طرف سے ایک اسلامی ملک میں مقیم چند افراد کی گرفتاری اور حوالگی کا مطالبہ (ان کے کسی کردہ یا ناکردہ گناہ پر) کیا جائے اور ایسا نہ کرنے پر پوری قوم پر تباہی مسلط ہونے کا یقین ہو تو ایسی صورت میں خود ان مطلوبہ افراد سے شریعت کا تقاضا کیا ہوگا؟ آیا انھیں اپنی ذات کی قربانی دے دینی چاہیے یا پناہ فراہم کرنے والی قوم کے ایمان وحوصلہ اور وفاداری کا امتحان لینا چاہیے؟
۶۔ اگر کچھ افراد کی شخصی قربانی کی وجہ سے کسی اسلامی ملک کو جنگ سے بچایا جا سکتا ہو، لیکن وہ ایسا نہ کریں۔ البتہ جیسے ہی جنگ مسلط ہو، وہ میدان جنگ کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں جا پناہ لیں جس سے جنگ کا دائرہ اس ملک تک وسیع ہو جائے تو اس عمل کی شریعت کی نظر میں کیا حیثیت ہے؟
۷۔ ایک مسلمان ملک پر غیر مسلم طاقت کی طرف سے حملہ ہو تو کیا پڑوسی مسلمان ملک پر ہر حال میں مسلمان ملک کا ساتھ دینا شرعاً لازم ہے، چاہے حملے کی وجہ کچھ بھی ہو؟
۸۔ کیا شریعت ایسی صورت حال میں، ہرقیمت پر حملے کا شکار ہونے والے مسلمان ملک کا ساتھ دینے کا حکم دیتی ہے، چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں اور چاہے اس کا نتیجہ مسلمانوں کے جان ومال اور طاقت میں مزید تباہی کی صورت میں نکلتا ہو؟
۹۔ ایک مسلمان ملک کی طرف سے جنگ کی حالت میں دوسرے مسلمان ملک کی مدد کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ آیا حکومت کے پاس، علماء اور اہل فتویٰ کے پاس یا کسی بھی جماعت یا گروہ کے پاس؟
۱۰۔ کیا مسلمان ملک پر حملہ کرنے والی غیر مسلم طاقت کا عملاً ساتھ دینا اور حملے کا نشانہ بننے والے ملک کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کرنا، یہ دونوں ایک ہی حکم رکھتے ہیں؟ یعنی جس طرح غیر مسلم طاقت کا ساتھ دینا ناجائز ہے، کیا اسی طرح مسلمان ملک کا ساتھ دینا بھی لازم ہے یا کوئی مسلمان ملک ان میں سے کوئی بھی فیصلہ کیے بغیر، جنگ سے بالکل الگ تھلگ بھی رہ سکتا ہے؟
۱۱۔ اگر مسلمان ارباب اقتدار دوسرے مسلمان ملک کے خلاف غیر مسلم طاقت کو مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کریں تو اس کی اطاعت کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ آیا اس حکومت کے محض اس مخصوص فیصلے کی اطاعت نہیں کی جائے گی یا وہ حق اطاعت سے کلیتاً محروم سمجھی جائے گی؟
۱۲۔ مسلمان حکومت کسی معاملے سے متعلق دو سیاسی فیصلے کر لے جن میں سے ایک ناجائز ہو، جبکہ دوسرے کی شرعاً گنجائش ہو تو کیا ناجائز فیصلے کی بنیاد پر اس کے اس فیصلے کی بھی پابندی نہیں کی جائے گی جس کی شرعاً گنجائش ہے؟ مثلاً ایک مسلمان حکومت دوسرے مسلمان ملک کے خلاف کسی غیر مسلم طاقت کو مدد فراہم کرے جو ناجائز ہے تو کیا اس بنیاد پر اس حکومت کا یہ فیصلہ بھی شرعاً بے وقعت ہو جائے گا کہ وہ اپنی سرزمین اور وسائل کو مسلمان ملک کی مدد کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی؟ (کیا اس ضمن میں اہل مکہ کے ظلم وستم کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے ساتھ معاہدہ کرنا اور اسی معاہدے کے تحت ابو بصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو مدینہ میں پناہ نہ دینے کا واقعہ کسی شرعی راہ نمائی کا ماخذ بن سکتا ہے؟)
۱۳۔ اگر ارباب اقتدار یہ فیصلہ کر کے کہ وہ جنگ میں دوسرے مسلمان ملک کی مدد نہیں کر سکتے، غیر مسلم طاقت کے ساتھ یہ معاہدہ کر لیں کہ وہ اپنی سرزمین اور باشندوں کو اس کے خلاف جنگ میں استعمال نہیں ہونے دیں گے، جبکہ علماء اور مفتیان فتویٰ دیں کہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا ہمارے لیے لازم ہے تو باشندگان ملک کے لیے ان میں سے کس کے فیصلے کی پابندی ضروری ہوگی؟
۱۴۔ اگر فیصلے کا اختیار حکومت کے پاس ہے تو علماء اور مفتیان کی ذمہ داری کیا ہے؟ کیا یہ کہ وہ خود کو ارباب حکومت کی شرعی راہ نمائی تک محدود رکھیں یا یہ کہ حکومتی فیصلے کے مقابلے میں مختلف فتویٰ جاری کر کے عوام کو حکومتی فیصلے کی خلاف ورزی پر آمادہ کریں؟
۱۵۔ اگر اس ضمن میں فیصلہ کن اتھارٹی علماء اورمفتیان کو حاصل ہے تو مسلم ریاست کے نظم اجتماعی میں ان کے اختیار اور ارباب حل وعقد کے اختیار میں کیا فرق ہوگا؟ نیز اگر اس صورت میں خود علماء اور مفتیان کا ایک گروہ مدد کرنے کے حق میں اور دوسرا اس کے خلاف فتویٰ دے تو پھر معاملے کی نوعیت کیا ہوگی؟
۱۶۔ اگر فیصلے کا اختیار مسلمان ملک کے ارباب اقتدار کو ہے، لیکن مسلمان ملک کا کوئی گروہ اس کے بجائے علماء اور ارباب فتویٰ کے فتوے پرعمل کرتے ہوئے پڑوسی ملک میں جاری جنگ میں شریک ہونا چاہے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ 
۱۷۔ اگر اس گروہ کا یہ فیصلہ شرعاً درست نہیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ خود اس گروہ پر یا فتویٰ دینے والے علماء اور مفتیان پر؟
۱۸۔ اگر اس گروہ کا یہ فیصلہ درست ہے تو کیا جنگ میں شریک ہونے کا دائرہ صرف حملہ آور غیر مسلم طاقت تک محدود رہے گا یا اس کا ساتھ دینے والے مسلمانوں کے خلاف بھی جنگ درست ہوگی؟ اگر غیر مسلم فوجیوں تک محدود ہوگا تو کس اصول پر؟
۱۹۔ اگر اس کے دائرے میں غیر مسلم طاقت کو مدد فراہم کرنے والے مسلمان بھی آ سکتے ہیں تو کیا یہ گروہ جو غیر مسلم طاقت کو مدد فراہم کرنے والی اپنی حکومت کے فیصلے کے برعکس، حملہ آور غیر مسلم طاقت کے خلاف لڑ رہا ہے، اسی بنیاد پر خود اپنی حکومت اور فوج کے خلاف بھی لڑ سکتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟
۲۰۔ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کسی غیر مسلم طاقت کو مدد فراہم کرنا آیا کفر وارتداد کا درجہ رکھتا ہے یا گناہ کبیرہ کا؟ قرآن مجید یا احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کا ساتھ دینے پر جو وعیدیں آئی ہیں، کیا ان کا انطباق ہر ایسی جنگ پر کیا جائے گا جس میں کچھ مسلمان دوسرے مسلمانوں کے خلاف کسی کافر طاقت کی مدد کر رہے ہوں،چاہے جنگ مذہب وعقیدہ کے تناظر میں لڑی جا رہی ہو یا عام دنیاوی اسباب واغراض کے تحت؟
۲۱۔ اسلامی تاریخ میں اندلس اور ہندوستان میں بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں مسلمانوں کی باہمی لڑائیوں میں ایک فریق نے کسی غیر مسلم گروہ کی مدد حاصل کی اور ان کی مدد سے مسلمانوں کا خون بہایا۔ کیا اس دور کے ذمہ دار علماء وفقہاء نے محض اس بنیاد پر کہ مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں کفار کو ساتھ ملایا گیا ہے، اس گروہ پر کفر وارتداد کا فتویٰ لگایا؟ 
۲۲۔ اگر ایک مسلمان گروہ دوسرے مسلمان گروہ پر حملہ کرے یا دباؤ کے تحت کسی غیر مسلم حملہ آور کو ان کے خلاف مدد فراہم کرے تو اپنے دفاع میں اس کے خلاف لڑنا، آیا اس گروہ کا مخصوص حق ہے جو حملے کا نشانہ بنا ہو یا مسلمانوں کا کوئی تیسرا گروہ بھی جس پر پہلے گروہ کی طرف سے حملہ نہیں کیا گیا، ازخود فریق بن کر دوسرے گروہ کی حمایت میں پہلے گروہ کے خلاف جنگ کر سکتا ہے؟ 
۲۳۔ خاص طور پر اگر دوسرا گروہ، جو حملے کی زد میں ہے، صبر اور حکمت سے کام لیتے ہوئے اور پہلے گروہ کی مجبوریوں کو سمجھتے ہوئے اس کے خلاف اپنا یہ حق استعمال نہ کرنا چاہے، بلکہ دوسروں کو بھی اس سے گریز کی تلقین کرے تو ایسی صورت میں تیسرے گروہ کے اس موقف اور استدلال کی شرعی حیثیت کیا ہوگی کہ چونکہ پہلا گروہ دوسرے گروہ کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کر رہا ہے، اس لیے اس کے خلاف لڑنا شرعاً فرض یا جائز ہے؟
بینوا توجروا۔

مولانا عبد المجید لدھیانویؒ اور مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی قدس سرہ العزیز کا سانحۂ ارتحال پورے ملک کے دینی، علمی اور مسلکی حلقوں کے لیے بے پناہ رنج و غم اور صدمہ کا باعث بنا ہے۔ وہ ملتان میں وفاق المدارس العربیہ کے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے کہ اجل کا بلاوا آگیا اور وہ اپنے ہزاروں شاگردوں اور لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ حضرت مولانا مفتی عبد الخالقؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے اور انہیں اپنے استاذ محترم کے ساتھ اس مماثلت کا اعزاز بھی مل گیا ہے کہ علماء کرام کے اجتماع میں مدارس دینیہ کے تحفظ اور دینی اقدار کی سربلندی کی صدا لگاتے ہوئے ان کا انتقال ہوا۔ 
حضرت مولانا عبد المجید لدھیانویؒ کا شمار ملک کے نامور اساتذہ میں ہوتا تھا اور وہ صرف استاذ نہیں بلکہ ’’استاذ گر‘‘ تھے کہ ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے والے سینکڑوں علماء کرام ملک کے طول و عرض میں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں دینی علوم کی تدریس و ترویج اور اسلام کی دعوت و تبلیغ کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ جامعہ باب العلوم کہروڑپکا ان کا مستقل صدقہ جاریہ ہے اور وہ ایک شیخ کامل کے طور پر علماء کرام، طلبہ اور دیگر عقیدت مندوں کی روحانی تربیت میں بھی مصروف رہتے تھے۔ دینی تحریکات میں انہوں نے ہمیشہ سرپرست اور مربی کا کردار ادا کیا۔ تحریک ختم نبوت میں تو وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر کی حیثیت سے قائد کا درجہ رکھتے تھے، مگر تحفظ ناموس صحابہؓ اور نفاذ شریعت کی جدوجہد کے کارکن بھی ان کی سرپرستی، دعاؤں اور راہ نمائی سے مسلسل فیض یاب ہوتے رہے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے وصال کے بعد تحریک ختم نبوت کی قیادت کے لیے ان کا چناؤ ملک بھر کے دینی حلقوں کے اعتماد کا آئینہ دار تھا۔ مسلکی طور پر متصلب دیوبندی تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ میں مسلکی معاملات میں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ کو سند سمجھتا ہوں اور انہی کے موقف اور تعبیرات کو اختیار کرتا ہوں۔ 
حضرت مولانا عبد المجید لدھیانویؒ کی وفات ملک بھر کے اہل دین کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے مگر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے سربراہ اور امیر سے محروم ہوگئی ہے۔ پرانی وضع اور طرز کے علماء کرام جو اپنے مزاج اور انداز کار میں اپنے اکابر اسلاف کی یاد تازہ رکھے ہوئے تھے، اب کم ہوتے جا رہے ہیں اور ماضی قریب میں حضرت مولانا محمد نافع جھنگویؒ اور حضرت مولانا عبد المجید لدھیانویؒ کی وفات نے اس خلا بلکہ گھاؤ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ 
حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، حضرت مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچی، حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، اور ان جیسے چند بزرگ باقی رہے گئے ہیں جن کا وجود غنیمت ہے اور جن کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ ملک و قوم کو تادیر اپنے فیوض سے مستفید کرتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

گزشتہ ماہ کے دوران مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ بھی ہم سے رخصت ہوگئے اور یہ صدمہ علمی و تحقیقی دنیا میں روز بروز بڑھنے والے خلا کا احساس مزید اجاگر ہونے کا باعث ثابت ہوا۔ 
مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کتابی دنیا کے ماحول میں رہتے تھے، لکھنا پڑھنا اور قادیانیت کے محاذ پر نوجوان علماء و طلبہ کو تیار کرنا ان کا محاذ تھا۔ چند ہفتے قبل عمرہ کے لیے گئے اور مکہ مکرمہ میں احرام کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ سے رد قادیانیت کا ذوق پایا تھا اور وہ حضرت چنیوٹیؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے۔ چنیوٹ میں علماء کرام کے لیے سالانہ تربیتی دورہ مولانا چنیوٹیؒ کا زندگی بھر کا معمول رہا ہے جس سے ہزاروں علماء اور طلبہ نے استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی مصروفیت اور علالت کے باعث زندگی میں ہی مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کو اس مسند پر بٹھا دیا تھا جبکہ ان کی وفات کے بعد سالانہ تربیتی کورس کے علاوہ تخصص کا ایک سالہ کورس بھی ان کے معمولات میں شامل ہوگیا تھا۔ عمر زیادہ نہیں تھی، غالباً چوالیس سال کی عمر میں انہوں نے وفات پائی ہے۔ علماء کرام اور طلبہ کی تربیت کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا ذوق بھی رکھتے تھے۔ وسیع المطالعہ اور فاضل و دانش مند عالم دین تھے۔ ان کی متعدد تصنیفات ان کا صدقہ جاریہ ہیں۔ راقم الحروف کے ساتھ مشاورت اور تبادلہ خیالات کا سلسلہ مستقل طور پر رکھتے تھے اور اپنے مسودات مطالعہ اور نظر ثانی کے لیے بھجوانے کے علاوہ میرے بہت سے مضامین پر رائے دیتے تھے، تنقید کرتے تھے اور اصلاح بھی تجویز کرتے تھے۔ مجھے بھی ان کی بعض تحریرات سے اختلاف ہوتا تھا تو حسب عادت اس کا اظہار کر دیا کرتا تھا، اور وہ اس کو محسوس کرنے کی بجائے ہمیشہ مفاہمت و مکالمہ کو ترجیح دیتے تھے۔ 
انہوں نے تحریک ختم نبوت کی تاریخ مرتب کی ہے جو اس موضوع پر کام کرنے والوں کے لیے بہت بڑا معلوماتی مواد اپنے اندر رکھتی ہے اور اپنے استاذ محترم حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کی سوانح مرتب کرنے میں انہوں نے جس ذوق و محنت سے کام کیا ہے، میں اس کا عینی شاہد اور مداح ہوں۔ انہوں نے قادیانیت کے محاذ پر اپنے مطالعہ و تحقیق کو کسی خاص دائرہ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس شعبہ میں علامہ اقبالؒ اور آغا شورش کاشمیریؒ کے لٹریچر سے بھی استفادہ کیا ہے اور اس کا خلاصہ دو معلوماتی کتابچوں کی صورت میں پیش کیا ہے۔ 
مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ تعالیٰ کی معرکۃ الآراء تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ کا اشاریہ انہوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے مرتب کیا جو کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے اور ان کے بہترین علمی و مطالعاتی ذوق کی غمازی کرتا ہے۔
قادیانیت کے بارے میں مطالعہ و تحقیق اور تجزیہ و استدلال میں وہ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کے خاص ذوق کے نمائندہ تھے، مگر اپنی انفرادیت بھی رکھتے تھے اور تربیتی مواد میں اضافہ کرتے رہتے تھے۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کی وفات کے بعد قادیانیت کے حوالہ سے کتابی دنیا میں اور لٹریچر کے حوالہ سے حضرت مولانا اللہ وسایا زید مجدہم کا وجود غنیمت ہے، اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ تا دیر یہ خدمت سر انجام دیتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ ان کے ساتھ جن چند افراد کے وجود اور محنت سے اس بارے میں کچھ نہ کچھ سہارا ہوتا تھا ان میں مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کا نام سرفہرست تھا، دل کو تسلی ہوتی تھی کہ یہ نوجوان اس خلاء کو پر کرنے میں مزید پیش رفت کرے گا، مگر ان کی اچانک وفات سے یہ سہارا ٹوٹ گیا ہے۔
مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کی وفات کے موقع پر مولانا محمد الیاس چنیوٹی بھی مکہ مکرمہ میں موجود تھے اور تجہیز و تکفین کا انتظام انہی کی نگرانی میں ہوا۔ مکہ مکرمہ میں حالت احرام میں وفات، حرم شریف میں نماز جنازہ کی ادائیگی، اور جنت البقیع میں تدفین مولانا مرحوم کی خدمات کی قبولیت کی علامات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور پسماندگان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔ 

مکاتیب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

الشریعہ، فروری ۲۰۱۵ء کے مکاتیب میری جنوری ۲۰۱۵ء کے الشریعہ میں شائع ہونے والی گزارشات پر احبابِ گرامی کے شکوے پر مشتمل ہیں۔ سو میرا حق یا فرض ہے کہ اس ضمن میں ضروری وضاحت کروں۔ سنبھلی صاحب نے جناب مولانا زاہدالراشدی سے دو وضاحتی جملے شائع نہ کرنے کا گلہ کیا ہے۔ ان کے خیال میں شاید انہی جملوں کا نہ ہونا میری تحریر کا محرک تھا، حالانکہ میں نے ان کے الفاظ، جو اپنے مفہوم میں بالکل واضح تھے، نقل کرکے اپنا موقف پیش کیا تھا۔ بہرحال ان کے انتہائی مختصر تازہ ارشادات پرمیں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ انہوں نے اپنے من جملہ اربابِ مدارس ہونے کو میرا بے جا مفروضہ قرار دے کر زیر بحث تناظر میں کم از کم اربابِ مدارس سے متعلق میرے گلے کو ( جو مولانا زاہد الراشدی کے مکرر اور بہ کثرت حوالہ جات پر مبنی تھا) درست ثابت کر دیا ہے۔ 
محمد رشید صاحب نے البتہ میری گزارشات پر اپنے ارشادات ذرا تفصیل سے پیش کیے ہیں۔ اس لیے میری وضاحت زیادہ تر انہی سے متعلق ہے۔ رشید صاحب نے میری معروضات کی بنیاد پر بات پر کرنے کی بجائے میرے بعض عمومی تاثرات کو بھی سنبھلی صاحب کی ذات پر طعن وتشنیع سمجھ لیا ہے (کہ سنبھلی صاحب اگر من جملہ اربابِ مدارس نہیں تووہ میری بہت سی باتوں کے مخاطب ہی نہیں تھے)۔ انہوں نے مجھے ایسی ضمنی بحث پر مطعون کیا ہے جس پر میں نے نفیاً یا اثباتاً اپنی کوئی رائے پیش ہی نہیں کی تھی۔ 
محمد رشید صاحب نے سارا زور لونڈیوں کے معاملے میں میرے اوج صاحب کے پیش کردہ موقف کو رد کرنے پر لگایا ہے، حالانکہ مجھے بحث براہِ راست اس سے نہ تھی بلکہ اس سے تھی کہ کیا کسی صاحبِ علم کا کوئی علمی تفرد اسے اس درجہ ناقابلِ اعتنا ٹھہرا دیتا ہے کہ اس کے قتلِ ناحق پر دو حرفِ تعزیت بھی گوارا نہ کیے جائیں؟ وہ اپنے علم وفضل، داد تحقیق کے باوجود ایسی موت پر بھی ناقابل توجہ ٹھہرے جس پر بڑے عامی اور ان پڑھ بھی قابل توجہ ہو جاتے ہیں؟ رشید صاحب پریشان ہیں کہ میں لونڈیوں کے معاملے پر اپنے موقف میں تضاد کا شکار ہوں ، حالانکہ میں نے اس باب میں اپنا کوئی موقف عرض ہی نہیں کیا تھا ، بلکہ اوج صاحب کا موقف اس گزارش کے سا تھ پیش کیا تھا کہ وہ اس کی بنیاد کتاب وسنت پر رکھتے اور ان سے دلائل پیش کرتے ہیں۔ لہٰذا اسے ناقابلِ توجہ ٹھہرانے کی بجائے پوری توجہ سے سنا جانا چاہیے، خواہ اس کو رد ہی کرنا مطلوب ہو۔ پھر اگر ناقابلِ توجہ ہی ٹھہرانا ہو تو پوری شخصیت کے بجائے اس ایک خاص موقف کو بھی ٹھہرانے سے کام چل سکتا ہے۔
راقم کو تو مکتوب نگار نے جذباتی تحریر پیش کرنے کا طعنہ دیا ہے مگر خودتحریر کی بجائے صرف جذبات پیش کیے ہیں۔ آپ جذبات سے اتنے مغلوب ہیں کہ الا علی ازواجھم او ما ملکت ایمانھم  سے سنبھلی صاحب کے استدلال کو یوں محکم کہہ رہے ہیں گویا کوئی محکم آیت قرآنی ہو۔ میں نے تو اوج صاحب کے استدلال کو ان کے استدلال ہی کے طور پر پیش کیا تھا اور اس کو اپنی رائے قرار نہیں دیا تھا (میری اس حوالے سے رائے اگلی سطور میں سامنے آجائے گی) اس لیے یہ میرے ذمے ہی نہیں تھا کہ میں اوج صاحب کے موقف کے حق میں دلائل پیش کرتا۔ ہاں، رشید صاحب چونکہ سنبھلی صاحب کی وکالت کر رہے ہیں، اس لیے یہ ان کا فرض تھا کہ اوج صاحب کے استدلال کا اپنی طرف سے کوئی جواب پیش کرتے ۔ یہ کہنا تو کوئی جواب نہیں کہ ’’سنبھلی صاحب نے قرآن حکیم کی آیت سے محکم استدلال کرتے ہوئے اوج صاحب کا رد فرمایا۔‘‘ نہ یہ کوئی جواب ہے کہ سنبھلی صاحب نے کہا ہے کہ یہ ’’قرآن حکیم کی آیت کا امر منصوص ہے۔‘‘ بہت سے مدعی اپنے ایک دوسرے سے متضاد دعووں کو امر منصوص پر استوار کہتے آرہے ہیں۔ پھر اگر یہی جواب ہے تو سنبھلی صاحب کی جانب سے آچکا، آپ کو اس پر گرہ لگانے کی کیا پڑی تھی ! چار پانچ صفحات پر پھیلی آپ کی گرمئ جذبات اس کے سو اکچھ ہے بھی کہ تم فضول اور جاہلانہ باتیں کیے جا رہے ہو، بھلا زیر بحث مو ضوع پر مولانا سنبھلی کی دلیل کے علاوہ بھی کوئی دلیل ہو سکتی ہے یا اس ضمن میں کوئی ایسی رائے بھی پیش کی جا سکتی ہے جو آپ کی رائے سے مختلف ہو!
رشید صاحب کے مطابق یہ راقم کی تضاد بیانی ہے کہ وہ ایک طرف اوج صاحب کے موقف کو ناقابلِ توجہ نہیں سمجھتا اور دوسری طرف کہتا ہے کہ اس سے اختلاف کیا جا سکتا اوراسے دلائل کی بنا پر رد بھی کیا جا سکتا ہے۔ گویا کوئی موقف قابلِ توجہ صرف اسی صورت میں قرار دیا جا سکتا ہے جب آپ اس سے کامل اتفاق رکھتے ہوں اور اس سے اختلاف کا مطلب یہ ہے کے آپ اس کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔ یہ رویہ ہمارے اہلِ مذہب میں اس وجہ سے در آیا ہے کہ ہمارے نزدیک دین ہر معاملے میں ہمیں کوئی بلیک اینڈ وائٹ قسم کا حکم دیتا، ہر چیز کے حلال وحرام ہونے سے متعلق چٹ فراہم کرتا، زمانے کے تغیرات کو ناقابل اعتنا سمجھتا ہے۔ حالانکہ دین کا معا ملہ اس کے بر عکس ہے۔ اس کے نزدیک اپنے آج کے جذباتی پیروکاروں کی مانند رنگ صرف دو ( سیاہ یا سفید) ہی نہیں بلکہ اس کی بہت سی قسمیں اور شیڈ ہیں۔ مختلف انواع کے رنگوں کی یہ کہکشاں ہی اسلام کا حسن ہے۔وہ میچنگ کی ضروریات اور تقاضوں کے پیش نظر مختلف اور پیارے پیارے شیڈ نکا ل لیتا ہے۔ مگر ہم ہیں کہ ان رنگوں کے انتخاب اور اپنی زندگی اور معاشروں کو ان رنگوں سے سجانے سے گریزاں ہیں۔
ہم بڑے فخر سے دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام نے غلامی کا خاتمہ کیا یا کم ازکم اس کے خاتمے کی راہ ہموار کی اور یہ حقیقت ہے۔ جو مذہب مالکوں کو حکم دیتا ہو اور یہ عملی اہتمام کرتا ہو کہ اس کے ماننے والے اپنے غلا موں کو اپنے بھائی سمجھیں ، جو خود کھائیں ان کو بھی کھلائیں، جو خود پہنیں ان کو بھی پہنائیں،اگر میرٹ کی بنیاد پر کوئی نکٹا حبشی غلام سربراہِ مملکت بن جائے، اس کی اطاعت کریں، اس کے ہاں غلامی کب تک جاری رہ سکتی ہے اور اگر رہ بھی جائے تو آزادی سے کتنی مختلف ہو سکتی ہے! چنانچہ مسلمانوں میں غلاموں اور ان کی نسلوں کوآقا بننے کا شرف حاصل ہوا۔ اسلام سے اگر غلامی کی اس کی قدیم روح کے مطابق حوصلہ شکنی ہوتی ہے تو عورتوں کو اْسی طرح بھیڑ بکریوں کی طرح لونڈیاں بنا کر رکھنے کی کب اور کہاں حوصلہ افزائی ہوتی ہے! سو لونڈیوں کا سوال اس حوالے سے بھی تو قابل توجہ ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو غلام بنا بنا کے رکھنا اسلام کی روح کے مطابق نہیں تو عورتوں کو لونڈیاں بنا بنا کے رکھنا اسلام کی روح کے کیونکر موافق ہو سکتا ہے! اگر لونڈیوں کے بالکلیہ خاتمے کا نہیں تو یہ کریڈٹ تو ہم لے ہی سکتے ہیں کہ اسلام نے رفتہ رفتہ اس کی راہ ہموار کی۔ لیکن کیا کریں کہ مرد غلام نہ بھی ہوں تو ہمارا کام چل سکتا ہے، مگر عورتوں کی ’’آزادی‘‘ ہمیں گوارا نہیں۔
آپ کا خیال ہو سکتا ہے کہ ہم کب کہتے ہیں: ابھی تک لونڈیوں کا رواج ہے۔ اسلام آج کے حالات میں کب لونڈیاں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تو پرانے زمانے کی ضروریات کے مطابق تھا ۔ آئندہ جب اس طرح کے حالات پیدا ہو جائیں کہ غلاموں اور لونڈیوں کا رواج ہو جائے یا بین الاقوامی قوانین میں اس صورت کو تسلیم کر لیا جائے تو ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ اسی دور میں اور انہی حالات میں ذرا عرب شیوخ کے ہاں دیکھیے۔ آپ کو مطلق احساس نہ ہو گا کہ لونڈیوں کا معاملہ قصہ پارینہ ہے۔ انواع و اقسام کی اور لا تعداد لونڈیاں موجود ہیں۔ جو ذرا ’’محتاط‘‘ ہیں اور لونڈیوں سے تھوڑا جھجکتے ہیں، انہوں نے خادماؤں کو لو نڈیوں کے تمام ’’حقوق‘‘ فراہم کر دیے ہیں۔ پرانے زمانے میں بیویاں اور لونڈیاں اپنے شوہروں اور مالکوں کے گھروں میں ان کے ساتھ رہتی تھیں۔اب وہ جہاں اور جس علاقے اور ملک میں چاہیں، رہ سکتی ہیں۔بس اتنی شرط رکھی جاتی ہے کی شیخ صاحب جب اس ملک میں جائیں، وہ ان کی خدمت کے لیے موجود ہوں۔
اگر روح اور حقیقی تقاضوں کو ملحوظ رکھے بغیر صرف ظاہری احکام کے مطابق عمل ہی اسلام کا مطالبہ ہے تو پھر مثال کے طور پر متعہ کیوں حرام ہے! کیا متعہ میں عورت سے نکاح نہیں ہوتا، اسے اس کا حق مہر نہیں دیا جاتا اور پھر اسے طلاق دے کر الگ نہیں کیا جاتا؟ سب کچھ ہوتا ہے، لیکن ہم کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے اسلام کی یہ روح متاثر ہوتی ہے کہ وہ میاں بیوی کے تعلق کو محض جنسی تسکین کے ذریعے کے طور پر ہر گز نہیں لیتا، بلکہ اس سے ایک خوبصورت خاندان تشکیل کرنا چاہتا ہے اور وہ اس نوع کے عارضی اور ہوس پرستانہ تعلقات کی بنا پر تشکیل نہیں پا سکتا۔ لیکن لگتا ہے ہم متعہ کے خلاف زور آزمائی اس لیے کرتے ہیں کہ شیعوں کے ہاں اس کا جواز موجود ہے۔ ورنہ صنفی تعلقات کے لیے ہر اس طریقے پر معترض ہو نا چاہیے جو اپنے اندر متعہ کی خصوصیات رکھتا اور والدین اور اولاد کی قربت و محبت کے تعلق کو متاثر کرتا ہے۔ یہ جو عرب شیوخ میں دھڑا دھڑ نکاحِ مسیار ہو رہے ہیں اور ایک ایک شیخ کی بیس بیس تیس تیس شادیاں ہوتی ہیں، کیا اسلام کے مقاصد نکاح سے میل کھاتی ہیں؟ بات بات پر فتوے جاری کرنے والے اور اسلام کے بزعم خویش سب سے بڑے محب کبھی اسلام پر ہونے والے اس ستم پر حرکت میں آتے نہیں دیکھے جاتے کہ شیخ صاحب اہلِ کتاب اور کافروں کی عورتیں خریدخرید کر لونڈیوں کے طور پر رکھتے ہیں،نئی شادی کرنے کے لیے چار میں سے ایک عورت کو طلاق دے دیتے ہیں اور یہ سلسلہ وقفے وقفے سے تا دم مرگ جاری رہتا ہے۔ کوئی بتائے تو بلا کسی شرعی جواز کے آزاد خواتین کو اغوا کرا کے یا ان کے مجبورو مقہور وارثوں سے خرید کر لونڈیاں بنا کے رکھنا،دوسرے ملکوں میں حرم بنانا اور طلاق کی نیت سے نکاح کرنا متعہ سے کتنا مختلف اور اسلام کی روح کے کتنا موافق ہے!کیا متعہ یہاں دوسرے عنوانات سے حلال نہیں ہو گیا، اور اہل تشیع اگر یوں کہیں تو کیا غلط ہو گا کہ
تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نامہ سیاہ میں تھی
مگر افسوس اپنے ان محبانِ اسلام میں ڈالروں ، ریالوں ،دیناروں کی قدر اسلام کی روح اور سچ سے زیادہ ہے۔ میں نے ایک بڑے معروف عالم دین اور استاد کے حضور ایک شیخ کی ان گنت بیویوں کا ذکر کیا توتڑخ کر بولے: یہ ان سے متعلق اس طرح کی باتیں کرنے والے حقیقت سے ناواقف ہیں۔ وہ لوگ ایک ہی وقت میں چار سے زیادہ شادیاں نہیں کرتے، پہلی بیویوں کو طلاق دے کر ایسا کرتے ہیں۔ گویا طلاق طلاق کا یہ کھیل اور آدمی کا درجنوں شادیاں کرنا اسلام کی رو سے قابل گرفت ہی نہیں۔
آپ یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتے کہ شیوخِ عرب کی حرکتوں کے ہم ذمہ دار نہیں۔ جب آپ غلام اور لونڈی رکھنے کو اسلام کی کوئی ابدی ومستمر خواہش اور تقاضا باور کرانے پر تلے ہوں تو آپ کو شیوخِ عرب کو فائدہ پہنچانے والے نہ سمجھا جائے تو کیا کیا جائے۔ وہ باقاعدہ دلائل پیش کرتے ہیں کہ پیسوں سے حاصل کی گئی لڑکیاں اور اہل کتاب کی زرخرید عورتیں باندیوں کے حکم میں ہیں۔ آپ ذرا ان کو سمجھا کر دکھائیں کہ زبردست اور مالدار بلا کسی شرعی جواز کے زیر دستوں اور غریبوں کی لڑکیاں خرید کر رکھ لیں تو وہ باندیوں کے حکم میں نہیں کہ یہ نہ کافروں سے شرعی جہاد میں قبضے میں آئیں نہ مجازمسلم سالار و حاکم نے انہیں ان کے حوالے کیا۔
کیا ہم نے کبھی اس پر غور کرنے کی زحمت گوارا کی کہ غلام اور لونڈیوں کا تصور اور سلسلہ فی الاصل اسلام کے مزاج کے خلاف ہے؟ اسلام اس کو شروع کرنے کا ذمہ دار ہے نہ جاری رکھنے کا۔ اس میں کہیں بھی لوگوں کو غلام لونڈی بنانے کا حکم مذکور ہے اور نہ اس پر پسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے، بلکہ الٹااسے ناپسند کیا گیا ہے۔ خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ نے عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد بن عمرو کے ایک قبطی مصری کو نا حق کوڑے لگوانے پر اسے بدلہ دلواتے ہوئے کہا تھا: مذ کم تعبدتم الناس و قد ولدتھم امھاتھم احرارا  (فتوح مصرلابن عبدالحکیم،ربیع الابرارللزمخشری،اخبار عمر لابن الجوزی) پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تو آئے ہی انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر انہیں خداے واحد کا غلام بنانے تھے۔ ویضع عنھم اصر ھم والاغلال التی کانت علیھم۔ اسلام نے پہلے سے موجود سلسلہ غلامی کی تدریجی اصلاح کا طریقہ اختیار کیااور اس کے فوری خاتمے کو خلافِ حکمت و مصلحت سمجھتے ہوئے ایسے بے بہا اقدامات کر دیے گئے کہ کچھ عرصے میں انسانیت کے خلاف اس جرم کا ارتکاب ختم ہو جائے۔ (جی ہاں جرم !) بخاری کی روایت میں محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے تین لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے جن سے آپ قیامت کے روز جھگڑا کریں گے، ایک اس آدمی کا تذکرہ فرمایا جس نے کسی آزاد انسان کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی: رجل باع حرا فاکل ثمنہ۔ کیا آج عربوں اور بعض دوسری مسلم اقوام میں آزاد انسانوں کو خریدنے بیچنے کا کاروبار نہیں ہو رہا؟ یہ غلاموں اور لونڈیوں سے حالات کے تناظر میں ڈیل کے اسلامی تصور کو ہر قسم کے حالات تک ممتد کرنے کی ذہنیت کا شاخسانہ نہیں تو کیا ہے!
آپ اپنی خود ساختہ غیرت اور عفت و حیاکی بنا پر حضور کے طرزِ عمل سے یکسر مختلف طرز عمل اختیار کرتے ہوئے مثلاً یہ کر سکتے ہیں کہ عورتوں کو مسجدوں میں نماز پڑھنے سے روک دیں، اس پر مکروہ ،حرام وغیرہ کے فتوے لگا دیں، اور اسے سدِّ ذریعہ کے اصول کے موافق قرار دیں۔لیکن کوئی خاندان کے ادارے کو اسلام کی روح کے موافق بنانے کی کوشش کرے، ان گنت اور طلاق دے دے کرشادیاں کرنے کے غیر اسلامی اور بیہودہ رویے پر آواز اٹھائے، لونڈیوں کے خیال کو عارضی طور پر ہی سہی بالائے طاق رکھنے کی بات کرے تو سدِّ ذریعہ کا اصول نہ معلوم کہاں غائب ہو جاتا ہے۔کیا السارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما  چور کا ہاتھ کاٹنے میں زیادہ صریح ہے یا الا علی ازواجھم او ما ملکت ایمانھم  لونڈیوں کے سلسلے کو ہر زمانے اور تاقیامت چلانے میں زیادہ صریح؟ اگر ضرورتِ وقت کے لحاظ سے عمر فاروق رضی اللہ عنہ قطعِ ید کے صریح قرآنی حکم سے تمام زمانوں اور تمام حالات میں قطع ید کے لازم نہ ہونے کا استدلال کر سکتے ہیں تو لونڈیوں کے تمام زمانوں اور تمام حالات میں لازم ہونے کے خلاف استدلال کیوں نہیں کیا جا سکتا؟
حضرت عمر کے لیے خاندان کے ادارے کی بقا اور اسے ٹوٹنے سے بچانا اتنا اہم تھا کہ انہوں نے طلاقوں کو روکنے کے لیے ایک وقت کی تین طلاقوں کو پوری طلاق ٹھہرا دیا تھا۔ لیکن ہمارے سدِّ ذریعہ والے اسے وہاں تو نافذ کرنے کو تیار ہیں جہاں علیحدگی کی حقیقی وجوہات موجود ہوں (مثلاً پاکستان ایسے معاشرے کے غریب عوام میں جہاں عیاشی کے لیے پہلی بیویوں سے علیحدہ ہو کر مزید شادیاں کرنے کی صورت کم ہی ہوتی ہے) لیکن وہاں رائج کرنے کے لیے پر عزم دکھائی نہیں دیتے جہاں محض شادی پہ شادی کرنے کے لیے طلاق پہ طلاق دی جاتی ہے۔آپ کو لونڈیوں کے قصہ پارینہ ہو جانے کی فکر ہے، اسلام تو اس سے بھی ابا نہیں کرتا کہ مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی شادیوں کی ایک حد مقرر کر دے، دوسری بیوی کے لیے پہلی بیوی اور اس کے والدین کے جذبات کا لحاظ رکھنے، دوسری شادی کے لیے کوئی معقول وجہ جواز پیش کرنے کی شرط لگا دے۔آخر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں کسی دوسری عورت کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں نہ آنے میں اس بات کو بہت دخل تھا نا کہ اس سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے والدِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچے گی۔شادی برائے تسکینِ جذبہ جنس والوں نے کبھی سوچا یا اربابِ فتویٰ نے کبھی ان کی توجہ اس طرف دلانے کی کوشش کی کہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی شادی ایسی نہ تھی جو جذبہ جنس سے مغلوب ہو کر کی گئی ہو اور جس کی کوئی حقیقی وجہ جواز نہ ہو؟
قرآن و حدیث میں لونڈیوں سے نکاح کی واضح ترغیب اور حوصلہ افزائی ملتی ہے۔قرآن کہتا ہے: 
وَمَن لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنکُمْ طَوْلاً أَن یَنکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مِّا مَلَکَتْ أَیْْمَانُکُم مِّن فَتَیَاتِکُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِإِیْمَانِکُمْ، بَعْضُکُم مِّن بَعْضٍ، فَانکِحُوہُنَّ بِإِذْنِ أَھْلِھِنَّ وَآتُوھُنَّ أُجُورَھُنَّ بِالْمَعْرُوفِ۔ (النساء ۴:۲۵) 
’’تم میں سے جو مومن آزاد عورتوں سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ ان مومن لونڈ یوں سے نکاح کرلے جو تمہارے قبضے میں آئیں۔ اللہ تمہارے ایمان کو جانتا ہے۔ تم ایک دوسرے سے ہو، تو ان لونڈیوں سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کر لو اور انہیں دستور کے مطابق ان کا مہر دو۔‘‘
اس ایک آیت میں دو بار لونڈیوں سے نکاح کا ذکر اور ترغیب ہے۔اس سے پہلی آیت میں بھی نکاح کے لیے حلال عورتوں میں لونڈیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرنے والے کو دہرے اجر کا مستحق قرار دیا۔ آپ کا فرمان ہے: من کانت لہ جاریۃ فعالھا، فاحسن الیھا ثم اعتقھا وتزوجھا، کان لہ اجران۔ (بخاری) ’’جس کی کوئی لونڈی ہو اور وہ اس کی تعلیم و تربیت کرے اور پھر اسے آزاد کرے اور اس سے نکاح کر لے، اس کے لیے دہرا اجر ہے‘‘ یہ اور اس نوع کی دیگر بہت سی نصوص بالکل صریح ہیں کہ اسلام لونڈیوں کو لونڈیوں کے سٹیٹس سے اٹھا کر عام آزاد عورتوں کا سٹیٹس دینا چاہتا ہے اور اس بات کا خواہشمند ہے کہ اہل اسلام انہیں بیویوں کا درجہ دیں۔ ہم کو ہو تو ہو، اسلام کو قطعاً اندیشہ نہیں کہ نکاح کے باوجود (اور وہ بھی متعدد شادیوں کی اجازت کے ساتھ ) لونڈیاں رکھے بغیر دین کا کوئی ’’ تقاضا اور حکمت‘‘ فوت ہو جائے گی۔
بات ختم کرتے ہیں، سنجیدگی سے نکلیے اور ذرا مسکرا لیجیے:اسلام کو فکر لاحق تھی کہ لوگ کہیں ہمیشہ لونڈیاں اور غلام ہی نہ بنے رہیں، آزاد ہو جائیں اور ہم اس فکر میں گھلے جا رہے ہیں کہ لونڈیاں کہیں معدوم نہ ہو جائیں۔ 
ڈاکٹر محمد شہباز منج
شعبہ علوم اسلامیہ
سرگودھا یونیورسٹی، سرگودھا
drshahbazuos@hotmail.com