دینی مدارس کے متعلق پرویز رشید کے خیالات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
پرویز رشید صاحب کے بارے میں ہم زیادہ معلومات نہیں رکھتے، بس اتنا معلوم ہے کہ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اہم راہ نما ہیں۔ اسی وجہ سے میاں محمد نواز شریف کے منظور نظر اور وفاقی وزیر اطلاعات ہیں۔ تحریک انصاف کے راہ نماؤں کے ساتھ ان کی نوک جھونک اخبارات میں نظر سے گزرتی رہتی ہے، یاد نہیں کہ کبھی ان سے ملاقات ہوئی ہو، مگر قومی پریس میں کم و بیش روز ہی ہو جاتی ہے۔ ان کے فکری شجرۂ نسب کے بارے میں بھی اب سے پہلے کچھ علم نہیں تھا، گزشتہ دنوں ایک دوست نے ان کے قادیانی ہونے کا تذکرہ کیا تو ہم نے ٹوک دیا کہ بلا تحقیق کسی کے بارے میں ایسی بات کہنا درست نہیں، پہلے تحقیق کر لیں، اور اگر یہ بات تحقیق سے ثابت ہو جائے تو ہمیں بھی بتا دیں کیونکہ پھر اس سے اگلا کام عام طور پر ہمارا ہوتا ہے اور ہم یہ خدمت سر انجام دینے میں ان شاء اللہ تعالیٰ کوتاہی نہیں کریں گے۔ البتہ انہوں نے کسی محفل میں مساجد و مدارس کے حوالہ سے گزشتہ دنوں جو گفتگو کی ہے اور اس کے جو حصے منظر عام پر آئے ہیں، ان سے ان کی فکری برادری کے بارے میں کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا ہے کہ وہ دانش وروں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس کا کام دینی حلقوں، اداروں اور مراکز کے بارے میں تخیلات و تصورات کی دنیا میں قائم ہونے والے مفروضوں کی جگالی کرتے رہنا ہے۔ اس جگالی کا منظر تقریباً نصف صدی سے ہم بھی مسلسل دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کوئی نئی بات نہیں کہی بلکہ وہی بات دہرائی ہے جو ان کے فکری سرپرست اور اساتذہ گزشتہ دو صدیوں سے کہتے چلے آرہے ہیں۔ مغرب نے انقلاب فرانس کے بعد وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کو معاشرہ کے اجتماعی معاملات سے بے دخل کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ہم نے دورِ جاہلیت سے نکل کر علم کی روشنی کی طرف سفر شروع کر دیا ہے۔ اب ہم اپنے معاملات طے کرتے وقت وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے بلکہ وہی کچھ کریں گے جو ہم سوچتے ہیں اور جو ہم خود چاہتے ہیں۔ البتہ اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے کہ ہماری اجتماعی سوچ کیا ہے اور ہم مجموعی طور پر کیا چاہتے ہیں، اس کا ہم ووٹ کے ذریعہ فیصلہ کر لیا کریں گے۔ اسے روشنی کا سفر قرار دے لیا گیا اور ہر اس بات کو جس کی راہ نمائی آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کے ذریعہ ہوتی ہے اسے جہالت کا عنوان دے دیا گیا۔ یہ سفر مسلسل جاری ہے اور اسی پس منظر میں پرویز رشید صاحب کو مسجد و مدرسہ میں دی جانے والی تعلیم ’’جہالت‘‘ نظر آتی ہے۔ حتیٰ کہ ’’موت کا منظر‘‘ بھی انہیں مضحکہ خیز دکھائی دیتا ہے جو ظاہر ہے کہ اس وقت تک انہیں مضحکہ خیز ہی لگے گا جب تک وہ خود اسے نہیں دیکھ لیں گے۔ اور قرآن کریم (سورۃ المومنون آیت 110) کے ارشاد کے مطابق اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ:
’’تم نے دین اور اہل دین کو تمسخر کا نشانہ بنا لیا تھا حتیٰ کہ تم نے میری یاد بھی بھلا دی تھی اور تم ان کا مضحکہ اڑایا کرتے تھے۔‘‘
مغرب کی اس دانش کے مطابق آسمانی تعلیمات سے انحراف ’’روشنی‘‘ اور وحی الٰہی کا کوئی بھی حوالہ ’’جہالت‘‘ قرار پاتا ہے (نعوذ باللہ)۔ اور پرویز رشید صاحب نے یہی سبق دہرایا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا۔ اس خاندان کے دانش وروں کا یہ سبق ایک عرصہ سے ہم سنتے آرہے ہیں اور ان کے تمسخر اور تضحیک کا انداز بھی نیا نہیں ہے۔ البتہ ایک فرق ضرور پیدا ہوگیا ہے جس کی طرف اس نسل کے لوکل دانش وروں کی توجہ ابھی تک نہیں گئی اور وہ بدستور آنکھیں بند کیے تصور و تخیل کی دنیا میں وہی ’’پکا راگ‘‘ الاپتے چلے جا رہے ہیں جو انہیں ان کے استادوں نے دو صدیاں قبل رٹایا دیا تھا۔ انہیں یہ اندازہ نہیں ہے کہ ان کے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی پہہ چکا ہے اور مغرب کے فکری و تہذیبی سیلاب کی وہ سطح اب قائم نہیں رہی جس نے ان کی آنکھیں بند کر دی تھیں۔ وہ آنکھیں کھول کر زمینی حقوق پر ایک نظر ڈالنے کی زحمت گوارا کر لیں تو انہیں بہت کچھ بدلا بدلا دکھائی دے گا۔ پرویز رشید صاحب اور ان کے قبیلہ کے دانشوروں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ آج کی اعلیٰ دانش ’’سماج کی اجتماعی سوچ اور خواہش‘‘ کا تلخ ذائقہ چکھ لینے کے بعد آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی طرف واپسی کے لیے ’’یو ٹرن‘‘ لینے کو کس قدر بے تاب ہے۔ آنکھیں کھلی رکھتے ہوئے زمینی حقائق پر نظر رکھنے والے اصحاب دانش تو اس منظر سے محظوظ ہو رہے ہیں اور اسے ’’انجوائے‘‘ کر رہے ہیں جس کی بیسیوں جھلکیوں میں سے صرف دو کا اس موقع پر ہم ذکر کرنا چاہیں گے۔
برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس کے وہ لیکچر ریکارڈ پر موجود ہیں جو انہوں نے آکسفورڈ میں عالمی حالات کے بارے میں دیے تھے اور جن میں سے ایک میں انہوں نے اپنے دانشوروں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ موجودہ عالمی نظام کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے متبادل نظام کے بارے میں سوچ بچار کریں اور اس کے لیے اسلام کو ’’متبادل عالمی نظام‘‘ کے طور پر اسٹڈی کریں۔ کیونکہ ان کے خیال میں اسلام ہی ’’سسٹم آف لائف‘‘ کے طور پر دنیا کے لیے بہتر متبادل نظام بن سکتا ہے۔ جبکہ سابق پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ کی قائم کردہ ایک کمیٹی کی وہ رپورٹ ابھی تازہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے موجودہ معاشی نظام نے انسانی سوسائٹی کو نقصان اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے اور عالمی معیشت میں توازن پیدا کرنے کے لیے ان معاشی اصولوں کو اپنانا ہوگا جو قرآن کریم نے بیان کیے ہیں۔
معروضی صورت حال یہ ہے کہ عالمی دانش کی اعلیٰ سطح لا مذہبیت کے بھاری پتھر کو چوم کر واپسی کے راستے تلاش کر رہی ہے۔ جبکہ پرویز رشید صاحب کا فکری قبیلہ ابھی تک دو صدیاں قبل کے فکری ماحول میں مگن ہے اور انہیں ہر طرف ’’ہریالی ہی ہریالی‘‘ دکھائی دے رہی ہے۔ پرویز رشید صاحب سے ہمارا زیادہ تعارف نہیں ہے اس لیے ہم سردست انہیں صرف یہ مشورہ دینے پر اکتفا کریں گے کہ مہربانی فرما کر اب آنکھیں کھول دیں اور آج کے عالمی ماحول کا خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں جو آج کی دانش کو یہ کہتے ہوئے دعوت نظارہ دے رہا ہے کہ:
’’مغرب‘‘ سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
ہمارے بزرگوں میں حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ منفرد مزاج کے بزرگ تھے۔ مشکل سے مشکل بات کو سادہ سے سادہ انداز میں بیان کرنے کے فن میں مہارت رکھتے تھے۔ عام طور پر چھوٹی چھوٹی مثالوں اور کہاوتوں کے ذریعہ بات سمجھاتے تھے اور واقعی سمجھا دیا کرتے تھے۔ میں نے جن بزرگوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور استفادہ کیا ہے ان میں ان کا نام بہت نمایاں ہے۔ وہ ہمیشہ تلقین فرمایا کرتے تھے کہ بات سادہ لہجے میں کہو، آسان الفاظ میں کہو اور علم و خطابت کا رعب جمانے کی بجائے اصل بات سمجھانے کی کوشش کیا کرو۔
وہ بہت سے مواقع پر یاد آتے ہیں اور صرف یاد نہیں آتے بلکہ راہ نمائی بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھی ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے سامنے بیٹھے سمجھا رہے ہوں۔ دینی حلقوں اور مراکز و مدارس نے جب ’’قومی ایکشن پلان‘‘ کے حوالہ سے خطرہ محسوس کیا کہ اس میں انہیں بطور خاص ہدف بنایا گیا ہے اور قومی ایکشن پلان کے ’’ابتدائی ایکشن‘‘ میں دینی مدارس پر چھاپوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ دراز ہونا شروع ہوا تو بہت سے دوستوں نے بہت بے چینی اور اضطراب کا اظہار کیا۔ کچھ حضرات نے متعدد مواقع پر مجھ سے پوچھا تو میرا جواب یہ تھا کہ بھائی ! یہ آزمائش کے مراحل ہیں جو وقتاً فوقتاً آتے رہتے ہیں اور آتے رہنے چاہئیں۔ مگر دینی مدارس کو اور ان کے تعلیمی نظام کو کچھ نہیں ہوگا اور وہ اسی طرح کام کرتے رہیں گے۔ اس لیے کہ یہ مدارس بنیادی طور پر قرآن و سنت کی تعلیم دیتے ہیں جن کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود اٹھایا ہوا ہے۔ جبکہ ہم لوگ صرف سبب کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں جو ہمارے لیے یقیناًسعادت اور اعزاز کی بات ہے، نہ صرف یہ بلکہ قرآن کریم کے سائے میں ہماری حفاظت بھی ہوتی رہے گی۔
ایسے موقع پر مجھے حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی بیان کردہ ایک کہاوت یاد آتی ہے اور میں دوستوں سے ذکر کر دیا کرتا ہوں۔ سابق صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں دینی مراکز اور حلقوں کے خلاف اسی طرح کے دباؤ کا ایک مرحلہ آیا تو حضرت مولانا جالندھریؒ سے ایک مجلس میں پوچھا گیا کہ اس کا مقابلہ آپ کیسے کر سکیں گے جبکہ پوری حکومتی طاقت سامنے ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم اور کچھ نہ کر سکے تو ’’پھرررر‘‘ تو کر ہی لیں گے۔ اس پر انہوں نے کہاوت سنائی کہ ایک دفعہ جنگل میں ایک بدمست ہاتھی گھوم رہا تھا۔ ایک درخت پر بسیرا رکھنے والے پرندوں نے محسوس کیاکہ وہ ان کی طرف آرہا ہے اور اس درخت کو ٹکر مارنا چاہتا ہے جس پر ان کا بسیرا ہے۔ وہ پریشان ہوگئے کہ ان کے گھونسلے اور جمع شدہ پونجی سب کچھ اس ٹکر کی نذر ہو جائے گا۔ ایک چڑیا اور چڑا بھی اپنے گھونسلے میں بیٹھے یہ منظر دیکھ کر بے چین ہو رہے تھے کہ اچانک چڑے نے چڑیا سے کہا کہ فکر نہ کرو، تم آرام سے بیٹھو میں کچھ کرتا ہوں۔ چڑیا نے پوچھا کہ تم اس ہاتھی کو روکنے کے لیے کیا کر لو گے؟ اس نے کہا کہ تم دیکھتی جاؤ میں کیا کرتا ہوں۔ چڑا وہاں سے اڑا اور جونہی ہاتھی درخت کے قریب آیا تو اچانک چڑے نے اس کے کان میں گھس کر اپنے پر پھڑپھڑانے شروع کر دیے۔ اس ناگہانی ’’پھرررر‘‘ سے ہاتھی کا رخ تبدیل ہوگیا اور بہت دور جا کر اسے یاد آیا کہ جس درخت کو وہ ٹکر مارنا چاہتا تھا وہ تو ایک سائیڈ پر رہ گیا ہے۔ وہ دوبارہ پلٹا اور ٹکر مارنے کے لیے درخت کی طرف بڑھا، چڑا تاک میں تھا، جونہی ہاتھی قریب آیا اس نے اس کے دوسرے کان میں گھس کر ’’پھرررر‘‘ کر دی اور اس بار بھی وہ اپنی مستی میں دوسری طرف نکل گیا۔ مولانا جالندھریؒ نے فرمایا کہ ہم اور کچھ کر سکیں یا نہیں مگر ’’پھرررر‘‘ تو ضرور کر سکتے ہیں اور یہ ہم کرتے رہیں گے۔
سچی بات یہ ہے کہ اپنی پچاس سالہ تحریکی زندگی میں کئی بار یہ ’’پھرررر‘‘ ہوتے دیکھ چکا ہوں، اور اس کی تازہ ترین واردات کو بھی ’’انجوائے‘‘ کر رہا ہوں۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں اور ناجائز اسلحہ کی تلاش میں ملک بھر کے دینی مدارس کو چھاپوں اور گرفتاریوں کا ہدف بنا رکھا تھا اور گھیرا تنگ کرتے جا رہے تھے کہ اچانک ’’پھرررر‘‘ ہوئی اور سامنے کا منظر بدل گیا۔ اب وہ ’’نائن زیرو‘‘ کے سامنے کھڑے تھے، دہشت گرد بھی مل گئے اور اسلحہ کی تلاش بھی نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔ جبکہ دینی مدارس میں غریب اساتذہ اور طلبہ کی تلاشی لینے والے ابھی تک حیرت سے آنکھیں مل مل کر دیکھ رہے ہیں کہ ہم گئے کدھر تھے اور نکل کدھر آئے ہیں؟ اس کے ساتھ دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ان کے حسابات کی آڈٹ کا غلغلہ بپا ہوا اور میڈیا کے ساتھ ساتھ بہت سی این جی اوز نے آسمان ایسے سر پر اٹھا لیا کہ جیسے سارے ملک کی دولت یہ دینی مدارس ہی لوٹ کر کھا گئے ہیں۔ اور سویس بینکوں میں پاکستانیوں کی ذخیرہ شدہ رقم ان دینی مدارس ہی کی ہے جو ان کے بہت سے مہربانوں نے ’’ثواب‘‘ کی نیت سے وہاں اپنے ناموں پر جمع کر رکھی ہے۔ مدارس کی نگرانی اور حساب کتاب کی پڑتال تھانوں میں ہونے لگی اور ایس ایچ او کی سطح کے پولیس افسر اس طرح دینی مدارس پر چڑھ دوڑے جیسے وہ اپنا ’’حصہ‘‘ نہ ملنے پر کسی مقدمہ کے فریق کے ساتھ سلوک کیا کرتے ہیں۔ مگر ایک ناگہانی ’’پھرررر‘‘ نے پھر سارا منظر بدل ڈالا اور اب پوری قوم ’’ایگزیکٹ‘‘ کے سامنے کھڑی ہے۔ جعلی ڈگریاں ہیں، اربوں روپے کا فراڈ ہے، خود ساختہ فرضی یونیورسٹیاں ہیں اور دنیا بھر میں پاکستان کے قومی وقار کی طرف اٹھی ہوئی نگاہیں اور انگلیاں ہیں۔ مگر ہمارے بعض دانش ور اب بھی ’’پکے راگ‘‘ کی طرز پر آنکھیں بند کیے یہی الاپے جا رہے ہیں کہ ’’پاکستان کے دینی مدارس عالمی سطح پر ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں اور پاکستان کی شناخت اور ساکھ کو مجروح کر رہے ہیں۔‘‘
ایک چھوٹی سی ’’پھرررر‘‘ کراچی کے ’’سانحہ صفورا‘‘ کے حوالہ سے بھی سننے میں آئی، اس المناک اور شرمناک دہشت گردی کے بعد بہت سے لوگ انتظار میں تھے کہ کراچی کے دینی مدارس اب ’’ایکشن پلان‘‘ کی ہٹ پر ہوں گے اور وہ اس کا تماشہ دیکھیں گے۔ مگر وہ دہشت گرد پکڑے گئے اور ان میں کوئی بھی کسی مدرسہ کا طالب علم نہیں نکلا بلکہ ان کے پاس یونیورسٹیوں کی اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں ہیں جن کے بارے میں یہ ابھی دیکھنا ہے کہ یہ ڈگریاں بھی کہیں ’’ایگزیکٹ‘‘ کے راستہ سے تو نہیں آئیں۔ جبکہ دینی مدرسہ ان سب مناظر کو ایک طرف کھڑا دیکھ رہا ہے اور اس کے لبوں کی یہ گنگناہٹ تاریخ کے کانوں میں گونج رہی ہے کہ
ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے
مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کے ملی افکار
محمد طارق ایوبی
قومی ضمیر پر موت طاری
۱۹۶۷ء کے افسوس ناک المیہ سے مولانا ؒ پر جو اثر ہوا، اس نے ان کی زبان حق ترجمان سے بہت کچھ کہلوایا ،اس وقت مولا نا ؒ کی زبان سے جو جملے ادا ہوئے، آج ان کی معنویت میں مزید اضا فہ ہو گیا ہے ،اس وقت عالم عر بی ہی نہیں خود ہندوستا ن کی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے کہ گویا قو می ضمیر خواب خرگوش میں مبتلا ہے یا پھرحس نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی ہے ،اس پر طرہ وطرفہ یہ ہے کہ اگر کسی نے حا لا ت کی سنگینی پر زبان کھول دی اور حقائق بیان کردیے تو لوگ اس کے در پہ ملامت و استہزاء ہو گئے ،قومی مسا ئل اور اہم مسا ئل کی تنقیدکو شخصی مسئلہ بنا دیا،اس طرح کا دفاعی انداز اور مصلحت پسندی یا خا موشی کس طرح زیب ہے کہ مصر میں اسلامی تحریک (خواہ کسی کا اس سے نظریاتی اختلا ف ہی کیوں نہ ہو)کو اکھاڑ پھینکا گیا ،اور سعودی عرب نے اس پرخوشی کے شادیانے بجائے ،غیرت اسلامی کو جھنجھوڑ کررکھ دیا گیا اور ہمارے قلم وزبان نے احتساب کے لئے حر کت بھی نہ کی ،احتساب تودورصحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کی ہمت بھی نہ ہوئی۔ مولانا ؒ فر ماتے ہیں:
’’میں ان جیسے المیوں سے کوئی خطرہ نہیں محسوس کرتا بلکہ مجھے اصل خطرہ اس ضمیر سے ہے جس نے اپنا کام کرنا چھوڑ دیا ہے ،ضمیر کا کام ہے احتساب اور غلطیوں کی گرفت ،خواہ وہ اپنے باپ اور بھائی سے سرزد ہوئی ہو یا کسی ذی وقار پیشوا اوررہنما سے ،اگر یہ ضمیر مردہ ہو جائے اپنا فطری عمل چھوڑ دے،اپنی افادیت کھو بیٹھے ،اور اس میں حقائق کے اعتراف کی صلا حیت باقی نہ رہ جائے ،تو یہ سب سے بڑا خطرہ ہے،یہ انسانیت کی موت ہے ،ایک انسان مرتا ہے تو ہزاروں انسان پیدا ہو جاتے ہیں ،لیکن جب ضمیر مردہ ہو جائے ،اجتماعی اور قومی ضمیر سے زندگی کے آثا ر نا پید ہو جائیں ،جب قوم سے محا سبہ کی صلا حیت اور جرأت ختم ہو جائے ، جب تنقید و احتساب کی جگہ شابا شی ،اور دادو تحسین کے پھول برسنے لگیں تو یہ ایسا المیہ ہو گا جس کے بعد کسی المیہ کا تصور ہی ممکن نہیں ۔‘‘(عالم عربی کا المیہ ص۱۱۸۔۱۱۹)
یہی نہیں، آگے اور وضاحت سے فر ماتے ہیں:
’’سب سے بڑی مصیبت اور سب سے بڑا خطرہ تو یہ ہے کہ یہ ضمیر اپناکا م کر نا بند کردے،اور یہ صرف عرب کے لئے یا صرف مسلمانوں کے لئے خطرہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے خطرہ ہے کیو نکہ اللہ نے اسی مسلم ضمیر ہی کو اپنے رازوں کا امین بنایا ہے اس نے ہرمسلمان کو دنیا کا متولی اور ہمیشہ کے لئے عدل و انصاف کا میزان بنا یا ہے ،جو کا مل احتیاط اور ایمانداری کے ساتھ اور پوری جرأت و بے باکی کے ساتھ فیصلہ کرے کسی فرد کی رعایت نہ کرے اور نہ کسی کو کسی پر تر جیح دے،لیکن جب یہ میزان ہی اپنا کام چھوڑدے تو پھرعدل و انصاف کی توقع کس سے کی جائے ،جب نمک اپنی نمکینی ضا ئع کر دے تو آپ ہی بتلائیں کھانا کس چیز سے نمکین کیا جائے ؟یہاں یہ مصیبت نہیں کہ کھانا نمکین نہیں ہے بلکہ مصیبت یہ ہے کہ نمک کی نمکینی جاتی رہی ،مصیبت یہ ہے کہ عدل و انصاف کی میزان سے کار کردگی کی صلاحیت ختم ہو گئی ،وہ غیر جانبدارنہیں رہی کسی کی دوست ہو گئی تو کسی کی دشمن۔‘‘ (عالم عربی کا المیہ ص۱۲۱۔۱۲۲)
قیادت کا محا سبہ کیجیے
حقیقت یہ ہے کہ جب قومی و ملی مسائل میں سیا ستدانوں اور حکمرانوں کا احتساب کرنا قوم بند کردیتی ہے تو وہ مطلق العنان ہو جاتے ہیں ،شاہی نظام تو نام ہی ہے مطلق العنانیت کا ،اگر چہ اس پر اسلامیت اور مصنوعی و برائے نام شوری کی خوبصورت چادر ڈالی جائے لیکن دوررہ کر، آزاد ملک میں رہ کر، ایک ملت کے فرد کی حیثیت سے جب کچھ لوگوں نے موجو دہ کشمکش میں بعض عرب مما لک کا احتساب کر نا چاہا تو بہت سے لوگ چیں بہ جبیں ہو گئے ، جب کہ ان کا جرم ایسا تھا کہ ان سے مجرموں کا سا معاملہ کیا جا تا ،انھوں نے اسلام کی تاریخ کو داغدار کر نے کا کام کیا تھا ،ملت اسلا میہ کا سر شرم سے جھکا دیا تھا ،لیکن اب بھی ان کی عقیدت ان کا احترام سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔
اگر قیا دتوں کا احتساب نہ کیا گیا تو حالات کا یہ رخ خراب تر ہو تا جائے گا ،حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کی ہمت پیدا کر نی پڑے گی ،کیونکہ ہمارے عقیدے کے مطابق ملت کا ادنیٰ سا مسئلہ بھی کسی فرد کا نہیں ملت کا ہو تا ہے اور اہم ہوتا ہے چہ جائے کہ قائدین کو با عزت بری ان معاملا ت میں کیا جائے جو ملت کی تاریخ میں ایک اور داغ کا اضا فہ کریں اور اہل حق کے مقابلہ یہود و نصا ریٰ کے مفاد میں کا م کریں:۔
’’ہم رومیوں کی تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ وہ بہت سے دیوتاؤں پر اعتقاد رکھتے تھے،بحرو بر اور جنگ و امن ہر ایک کے لئے ان کا ایک الگ دیوتا تھا ،لیکن ان دیوتاؤں کی پرستش کے باوجودکبھی کبھی ان پر بھی جھنجھلا جاتے تھے ،اگر ان کو کسی مہم میں کامیابی نہ ہوتی یا ان کی امیدیں بر نہ آتیں تو دیوتاؤں پر بھی ان کا غصہ بھڑک اٹھتا تھا ،تاریخ کا واقعہ ہے کہ رومی شہنشاہ آگسٹس (AUGUSTUS)کا بحری بیڑہ سمندر میں غرق ہو گیا تو وہ غصہ سے اتنا مشتعل ہوا کہ سمندر کے دیوتا نیپچون(NEPTUNE)کی مورتی چور چور کر دی ،یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے،ناکامی اور جھنجھلاہٹ انسان کی فطرت ہے ،اور ہم تو مومن و مؤحد ہیں ،اور ایک اللہ کی ذات پر ایمان رکھتے ہیں ،ہمارے لئے تو یہ کسی صورت میں جائز نہیں کہ کسی قیادت پر اللہ و رسول پر ایمان کی طرح کامل ایمان لے آئیں ،ہمارا فرض ہے کہ اپنے قائدین کا محا سبہ کریں اور خود اپنے آپ کا محا سبہ کریں اور اپنے سیا سی ،اخلاقی اور معاشرتی حالات کا غائر نظر سے جائزہ لیں اور انھیں میں مصائب کے اسباب تلاش کریں ،کسی فرد یا جماعت کی اندھی اطاعت و گمراہی کے ایسے غار میں پہونچادے گی جہاں ہدایت کی روشنی نہیں پہنچ سکے گی ،اور نہ اس سے نجات آسان ہوگی اور قیادت کا محاسبہ نہ کرنا اور اس کی غلطیوں کا مؤاخذہ نہ کرنااور اس سے وضاحت نہ طلب کرنا ،یہ ایسی اطاعت ہے ،جس کے بارہ میں قرآن کا فیصلہ ہے: ’’فاتبعوا امر فرعون وما امر فرعون برشید، یقدم قومہ یوم القیامۃ فاوردھم النار وبئس الورد المورود، واتبعوا فی ھذہ لعنۃ ویوم القیا مۃ، بئس الرفد المرفود‘‘ (سورہ ہود ۹۷۔۹۹) پھروہ فرعون کے کہنے میں چلے اور فرعون کی بات درست نہیں تھی ،وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہوگا ،پس ان اکو آگ پر پہونچا دے گا اور یہ پہونچنے کی بری جگہ ہے ،اور پیچھے سے اس دنیا میں اس کو لعنت ملی ،اور قیامت کے دن ،یہ برا انعام ہے جو ملا۔‘‘ (عالم عربی کا المیہ ص۱۲۳۔۱۲۴)
آگے مزید صراحت کے ساتھ فر ماتے ہیں:
’’اگر ہمارے اور آپ کے درمیان اسلامی عقیدہ کااشتراک نہ ہو تا اور یہ با ت نہ ہوتی کہ ہمارا اور آپ کا انجام ایک ہے ،اور ایک وسرے کے ساتھ وابستہ ہے اور یہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا جواب ہم سے طلب کیا جاتا ہے تو شاید مجھے محاسبہ کا حق نہ ہوتا اور حقیقت تو یہ ہے کہ قومیں اسی محاسبہ ہی کے سہارے زندہ رہتی ہیں ،یوروپی اقوام میں اگر اتنی بیداری اور مخلصا نہ تنقید کا چلن نہ ہوتا تو وہ تاریخ ماضی کی کہانی بن چکی ہوتیں ،کڑی تنقید ان کی زندگی کا ایک اہم سبب ہے ،وہ اپنے کسی رہنما کو یہ موقع نہیں دیتیں کہ ہمیشہ اقتدار پر قابض رہے ،اور اس کی تعظیم وتکریم ہوتی رہے ،یہ صرف یوروپی اقوام ہی کی خصو صیت نہیں بلکہ مسلمانوں کے سربراہ اور قائدین کی بھی یہی حا لت تھی۔‘‘ (عالم عربی کا المیہ ص۱۲۶۔۱۲۷)
احتساب اور محا سبہ: ہمارا امتیاز
اس میں کیا شک کہ احتساب سے ہی قومیں زندہ رہا کر تی ہیں ،ان کا ضمیر بیدار رہتا ہے اور اپنا کام کرتا رہتا ہے ،اوراگر محاسبہ نہ ہو تو پھر من ما نیوں کا راج ہوتا ہے،اور رفتہ رفتہ بے ضمیری عام ہو تی ہے ،آج حکومتوں کے سربراہوں کو کچھ کہنے اور ان سے کچھ پوچھنے کی بات درکنار !ادنی سے اداروں اور جماعت کے سربراہان کا حا ل یہ ہے کہ ان کے محا سبہ پر یا کسی خطا کی نشاندہی پر نہ صرف وہ بلکہ بے شمار لوگ چراغ پا ہو جایا کرتے ہیں ،حتی کہ کسی معاملہ میں واضح طور پر استفسار کی گستاخی تصور کی جاتی ہے، کیا ضروری ہے کہ جو بھی صاحب منصب ہو، وہ صائب ہی ہو اور اس کا فیصلہ درست ہی ہو، ذخیرۂ احادیث و سیر صحابہؓ میں واضح اشارات وواقعات موجود ہیں کہ ایک عام صحابی خلیفۂ وقت سے استفسارکر لیا کر تے تھے، اور بر سر منبر ٹوک دیا کرتے تھے بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام کسی بھی واقعہ کے ظہور کے متصلا بعد وضاحت کی درخواست کرتے تھے، اور آپ سوال کی مناسبت سے جواب مرحمت فرمادیا کرتے تھے۔
مصر کا المیہ اوراس میں بعض عرب مما لک با لخصوص سعودی عرب کے کردار پر جب بعض حلقوں نے آواز اٹھائی تو ان آوازوں کو دیوانے کی بڑ اور شدت پسندی سے تعبیر کیا گیا،تائید حق کی جگہ حق بات کہنے والوں کو خا موش رہنے کی تلقین کی گئی اور مصلحت بے جا کو درست و صائب موقف سمجھا گیا، اس میں کیا شک کہ حرمین پر اہل تشیع کے غلبہ کا خطرہ ہے لیکن کیا اس خطرہ کا حل بھی امریکہ پیش کرے گا؟ اور کیا اس خطرہ کو آڑ بنا کر بڑے سے بڑے جرم کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ اسی مصلحت کے سبب موقع پرستوں نے مجرمین کی مداحی کی اور وقتی ورکیک فائدے اٹھا کر جرم و ظلم کو مدح و توصیف کا رنگ دے دیا ،حضرت مولانا ؒ نے کیسا زبردست استشہاد کیا ہے اور کیسی طاقتور بات کہی ہے:۔
’’جب ایک بڑھیا خلیفۂ ثانی کو ٹوک سکتی ہے تو ایک مسلمان یا مؤرخ کو یہ حق کیوں حا صل نہ ہو کہ وہ اپنے قائدین کا محاسبہ کرے ......عمرابن الخطابؓکے زمانہ میں ہر مسلمان کو یہ حق حا صل تھا کہ ان سے جواب طلب کرے ،ایک دفعہ وہ مسجد نبویؐ میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور کہا کہ سنو لوگو!اور اطاعت کرو ،ایک صحا بیؓ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہم نہیں سنتے ،خلیفہ نے کہا کیوں؟لوگوں نے کہا آپ کے جسم پر مال غنیمت کی دو چادریں نظر آرہی ہیں ،جبکہ ہم لوگوں کے حصہ میں ایک ہی ایک آئی ہے ،حضرت عمرؓ نے کہا کیا یہاں عبد اللہ بن عمر موجود ہیں ؟وہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ایک چادر میرے حصہ کی ہے ،جو میں نے انھیں دے دی ہے ،صحا بی نے کہا ٹھیک ہے ،اب ہم ہر حکم کی اطاعت کے لئے تیا ر ہیں۔
اسی ضمیر اور اسی جرأت و ہمت کے ساتھ یہ امت زندہ رہی اور حا دثات و مصائب کا سامنا کرتی رہی اور اپنی طویل تاریخ میں ترقی یافتہ اور بیدار شعور کا ثبوت دیتی رہی ہے اس نے ہمیشہ حق و انصاف کا ساتھ دیا ہے ،اور غلطیوں اور کو تاہیوں کے ارتکاب پر گرفت کی ہے ،اور انہی اوصاف کے ساتھ مستقبل میں بھی زندہ رہ سکتی ہے‘‘۔ (عالم عربی کا المیہ ص۱۲۸)
کمزوریوں پر آزادانہ تنقید
حضرت مولاناؒ نے ہمیشہ کمزوریوں پر بھر پوراور آزادانہ تنقید کی ،اس سلسہ میں وہ کبھی لومۃ ولائم کی پرواہ نہیں کرتے تھے ،ہندوستان میں جب فکرو مطالعہ سے عاری بعض حضرات نے جمال عبدالنا صر کی مخالفت پر مولانا پر تنقید یں کیں تو با وجود اس کے کہ مولانا اپنی ذات پر کی گئی کسی تنقید کا جواب دینے کا مزاج نہیں رکھتے تھے ،لیکن اس پر مولانا سے رہا نہ گیا ،پھر انھوں نے ایک بھر پور مضمون لکھ کر ’’ندائے ملت‘‘ میں شائع کیا ،اس کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجئے:۔
’’۲۳ جو لائی ۱۹۵۱ ء کو میں نے دمشق یونیورسٹی کے ہال میں ممبران پارلیمنٹ،اساتذۂ جامعہ ،علماء اور عمائدین شہر کے جلسہ میں جس کی صدارت یونیورسٹی کے عیسائی وائس چانسلر مشہور عرب فاضل قسطنطین زریق کر رہے تھے ،فلسطین کے مسئلہ اور اس کے حل پر اپنا مقالہ پڑھا جو ’’فلسطین کے المیے کے بنیادی اسباب ‘‘ کے نام سے دمشق،بیروت سے اور بغداد میں باربار چھپا ہے ،میں نے اس مقا لہ میں موجو دہ عربوں کی بنیادی کمزوریوں ،ان کے رہنماؤں کی خا میوں ،اور کوتاہیوں پر آزادانہ تنقید کرتے ہوئے مسئلۂ فلسطین کا حل پیش کیا تھا ،عربوں نے اس مشورے کو جو ایک مسافر اور غیر ملکی کی زبان سے پیش ہوا تھا،اور جس میں تاریخ کی تلخی بھی تھی ،نہ یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ’’یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے،،باہر کے کسی آدمی کے مشورہ دینے کا کیا حق ہے؟‘‘اور نہ وہ اس صاف گوئی اور احتساب پر چیں بہ جبیں ہوئے ،اسی طرح ۵۶ء میں مؤتمر اسلامی دمشق کے جلسہ میں ’’مسئلہ فلسطین کا تعلق عالم اسلام کے دینی شعور کی بیداری سے‘‘کے عنوان سے میں نے پھر ایک مقالہ پڑھا اور اس کی اسی طرح پذیرائی ہوئی ،اسی طرح دمشق ،بیروت،عمان،بغداد اور مکہ معظمہ میں عرب دوستوں کے سامنے اپنے ناقدانہ خیالات ،اپنے مخلصانہ مشورے اور اپنے تأ ثرات و جذبات پیش کر نے کا بار بار اتفاق ہوا،اور انھوں نے ہمیشہ فراخ دلی اور عالی ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے ان کا پر جوش خیر مقدم کیا‘‘۔ (عالم عربی کا المیہ ص۱۵۸)
سیاسی ہلچل پر مومنانہ اور مفکرانہ تبصرہ
۱۹۸۶ء میں مولانا کراچی پہنچے تو وہاں موجودہ حکومت کے خلاف عوام موشگافیاں کر رہے تھے اور بے نظیر کے پاکستان آنے پر اس کا ایسا استقبال ہو رہا تھا مولانا کے الفاظ میں ’’جیسے آسمان سے کوئی نجات دہندہ فرشتہ نازل ہوا ہے‘‘ اس صورت حال سے مولانا کی طبیعت پر اثر پڑا، لیکن پھر مولانا خاموش نہ رہ سکے اور ذاتی ملاقاتوں نہیں بلکہ مجمع میں احقاق حق کیا اور فرمایا:
’’جس معاشرہ کا حال یہ ہو کہ کوئی سریلی صدا لگا دے، کوئی بازیگر آکر سبز باغ دکھائے ، کوئی شخص بھی قیادت کا جھنڈا بلند کردے تو اس کا ایسا استقبال کیا جائے کہ جیسے دیر سے اس کا انتظار تھا، اور یہی ایک خلا تھا، جو پر نہیں ہوا تھا، وہ آواز لگائے تو یہ معلوم ہو کہ جیسے دل سینوں سے نکل پڑیں گے اور سارے حدود و قیود پیچھے رہ جائیں گے، سیدنا علی مرتضیؓ نے اہلِ کو فہ کو مخاطب کر کے کہا تھا، انتم اتباع کل ناعق تم ہر آواز لگانے والے اور زور سے بولنے والے کے پیچھے لگ جاتے ہو‘‘ پھر میں نے بتایا کہ قرآن شریف میں عہد موسوی کا ایک بڑا عبرت انگیز قصہ آتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وجاوزنا ببنی اسرائیل البحر فاتوا علی قوم یعکفون علی اصنام لھم قالوا یٰموسیٰ اجعل لنا الھا کما لھم اٰلھۃ قال انکم قوم تجھلون۔ ان ھؤلاء متبر ما ھم فیہ وبٰطل ما کانوا یعملون
ترجمہ: ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پارا تار دیا پھر وہ ایسے لوگوں پر گذرے جو اپنے بتوں کو لئے بیٹھے تھے (اس پر بنی اسرائیل) کہنے لگے! اے موسیٰ ہمارے لئے بھی ایک دیوتا ایساہی بنا دیجئے جیسے ان کے (یہ ) دیوتا ہیں (موسیٰ) نے کہا واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے، یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں یہ تباہ ہوکر رہے گا اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں ہے بھی (بالکل ) باطل۔‘‘ (کاروان زندگی ج۳ ص ۱۷۳)
۱۹۸۶ء میں پاکستان کے حالات بے نظیر کی آمد، سیاسی گلیاروں میں ہلچل بیرونی دنیا کی سازش اور پاکستان میں اس کے والہانہ استقبال کو ذہن میں رکھتے ہوئے مولانا کی گفتگو کا یہ انداز اور یہ رخ بھی دیکھیے اور مومنانہ فراست وجرأت کو محسوس کیجئے:
’’یہاں آپ کتنی دشواریوں، نگرانیوں، بدگمانیوں، خوردہ گیریوں اور کسی دوسرے فرقہ یااکثریت کے منافرت و مخالفت سے محفوظ ہیں، حدیث میں نسوانی فطرت کی یہ کمزوری بیان کی گئی ہے، اس سے آپ کو دور رہنا چاہیے، حدیث میں کہا گیا ہے کہ عورت کی فطری کمزوری یہ ہے کہ عمر بھر شوہر اس پر احسان کرے پھر کسی وقت اس کی کسی خواہش یا فرمائش کی تعمیل میں تھوڑی سی کمی رہ جائے تو کہے کہ ہم نے تو اس گھر میں آکر کبھی آرام کا منہ نہیں دیکھا، ہم نے اس گھر میں کبھی سکھ نہیں پایا، ھل من مزید کا نعرہ تو خیر ایک معنویت رکھتا ہے لیکن ھل من جدید کا نعرہ خطرناک ہے، جو بہت سے مسلم معاشروں اور آزاد مسلم حکومتوں کا شعار بن گیا ہے، پھر میں نے بتایا کہ کتنے مسلم و عرب ممالک میں اسلام اور دیندار، اسلامی قوانین کے نفاذ کے مطالبہ اور اسلامی تحریکوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جا رہا ہے، آپ کا طریقۂ فکر اور طرز عمل حقیقت پسندانہ، ایجابی و تعمیری ہونا چاہیے، اپنے ملک کے حالات کا دوسرے ملکوں کے حالات سے تقابل کرنا چاہیے، پھر جو کچھ حاصل ہو، اس پر ثبات و دوام اور اس کی دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مزید توفیق عطا فرمائے، جلد ہر چیز کا جواب مایوسی اور محاذ آرائی سے نہیں دینا چاہیے، ذمہ دارانِ حکومت کے خلاف پہلے ہی لمحہ پر صف آرائی کے بجائے افہام و تفہیم سے کام لینا اور ان کو اس مسئلہ میں مطمئن کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘‘ (کاروان زندگی ج۳ ص ۱۷۶)
احقاق حق اور ابطال باطل
ایران میں خمینی انقلاب کے بعد مولانا نے جہاں نقد کیا اور ’’دو متضاد تصویریں‘‘تصنیف کی اور ہندوستان جیسے ملک میں ملت کی متنوع ذمہ داریوں کا بوجھ کا ند ھو ں پر ہونے کے بادجود جس طرح احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ انجام دیا وہ چشم کشا اور رہنما ہے، اسی سلسلہ کا ایک اقتباس پیش ہے:
’’................... لیکن یہ دیکھ کر صدمہ بھی ہوا اور حیرت بھی کہ مسلمانوں کے ایک حلقہ میں ان سے ایسی عقیدت و محبت کا اظہا ر کیا جا رہا ہے، جو اس عصبیت کی حد تک پہنچ گئی ہے، جو تنقید کا ایک لفظ سننے کی روادار نہیں ہوتی، مدح و ذم ارو تاریخ و تنقید کا معیار کتاب وسنت، اسوۂ سلف اور عقائد و مسلک کی صحت نہیں، بلکہ اسلام کے نام مطلق حکومت کے قیام کا نعرہ، طاقت کا حصول، کسی مغربی طاقت کو للکار دینا، اور اس کے لئے (خواہ عارضی و ظاہری طور پر) مشکلات پیدا کرنا، اس کو محبوب اور مثالی قائد بنا لینے کے لئے کافی ہے، آیت اللہ خمینی صاحب کی اس کامیابی سے ( جس کی مدت عمر معلوم نہیں) اور اس انقلاب سے جو ایک مخصوص شکل میں ایران کے معاشرے میں رونما ہوا، ایرانی نوجوانوں کے جذبۂ قربانی اور اس کے ساتھ متعدد مسلم و عرب ممالک کی دینی و اخلاقی کمزوریوں و خامیوں اور وہاں کی ناپسندیدہ صورت حال سے بر صغیر کے مسلمان نوجوانوں کے اس حلقہ میں جو موجودہ حالات سے بے زار تھا، اور جو ہر اس حوصلہ مندی اور مہم جوئی سے مسحور ہوتا ہے جس میں اسلامی حکومت کا نام شامل ہو جائے، خمینی صاحب اس طرح بلکہ اس سے زیادہ مقبول ہورہے ہیں، جیسے کسی زمانے میں کمال اتاترک اور عرب قوم پرستوں کے حلقہ میں جمال عبد الناصر تھے،..................
تاریخ کی شہادت اور انسانی نفسیات کا بار بار کا تجربہ ہے کہ جب بھی بڑے سے بڑے فسادِ عقیدہ ، ضلالت اور کج روی کے ساتھ حوصلہ مندی، مہم جوئی اور تقشف وجفاکشی کے مظاہر جمع ہوجاتے ہیں تو اس تحریک و دعوت میں ایسی دل کشی اور ساحری پیدا ہوجاتی ہے کہ اچھے اچھے عاقل و ذکی، دین پسند اور صاحبِ مطالعہ و نظر اشخاص کو اس کے اثر سے محفوظ رکھنا ارو اس کی ثنا خوانی اور مداحی سے روکنا مشکل ہوجاتا ہے، قرنِ اول کے خوارج کی تحریک، چھٹی ساتویں صدی میں باطنیوں کی تحریک ، اور حسن بن صباح اور قلعۃ الموت کے فدائیوں کے کارنامے اور خود ہندوستان کی بعض نیم عسکری تحریکوں اور تنظیموں کے بارہ میں حوصلہ مند نوجوانوں اور اقتدار وسیاسی طاقت کی شمع کے پروانوں کی والہانہ و خود فراموشانہ کیفیات (جن کو زیادہ زمانہ نہیں گذرا) اس کی گواہ ہیں ، اور یہی مرحلہ حق و ہدایت کو معیار سمجھنے والوں اور عقیدۂ صحیحہ اور منصوصاتِ قرآنی کے بارہ میں حمیت و غیرت رکھنے والوں کے لئے امتحان کا موقعہ ہوتا ہے، اور ان کو اس اعلانِ حق کی دعوت دیتا ہے جو سحر انگریزی کی اس فضا میں ’’کلمۃ حق عند سلطان جائر‘‘ کا ثواب و مقام دلانے کا ضامن ہوتی ہے‘‘ (کاروان زندگی ج۳ ص۲۵۵۔ ۲۵۶)
تفاخر بالاسلاف میں غلو درست نہیں
یہ گفتگو تو پاکستا ن میں ہوئی لیکن جو ذمہ داری علماء پر عا ئد ہوتی ہے وہ بہر حال صفا ئی کے ساتھ بیان کی گئی ہے اور پوری جرأت و صراحت کے ساتھ ان نقائص کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو آج کل تقریبا ہر ملک کے علماء کی اکثریت میں عام ہوگئے ہیں، جس کے سبب حالات کی تبدیلی ایک خواب معلوم ہوتی ہے، جہاں اور نقائص نہیں وہاں اسلاف کے نام پر بہر حال روایت پرستی اس حد تک پہنچی ہوئی ہے کہ سیرت کی روشنی میں کوئی مکمل اسلامی نظام نظر نہیں آتا، جو کچھ اسلامیت نظر آتی ہے، اس کو سیرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے بس پیوند کاری ہی کہا جا سکتا ہے:
’’ان میں سے ایک اعتقادی اور سیاسی انتشار ہے، دوسرا علماء کے عوام کے ساتھ رابطہ کی کمی، تیسرا علماء میں عام طور پر ہمارے اسلاف کی طرح زہد کا رجحان، اس توکل اور استغناء اور زندگی کی سادگی اور ایثار کی کمی ہے جس میں اسی ملک کی تخصیص نہیں، دوسرے اسلامی ممالک بھی شامل ہیں، اس سلسلہ میں قریبی اسلافِ کرام کی کچھ مثالیں بھی دی گئیں۔
چوتھا تہذیبی و لسانی تعصب اس ملک کے لئے سخت خطرناک ہے، اور ہمارے علماء کو اس کو ختم کرنے کے لئے پوری جدو جہد کرنی چاہیے، پھر میں نے تفاخر بالانساب کی طرح تفاخر بالاسلاف میں غلوومبالغہ پر تنقید کی، اور کہا کہ ہر وقت اسی کی رٹ لگائے جانا، اور ہر وقت اسی کا وظیفہ پڑھنا کچھ مفید نہیں کہ ہمارے اکابر ایسے تھے، ہمارے اسلاف ایسے تھے، کوئی ملت اور کوئی دعوت تاریخ سے نہیں چلتی، تحریک سے چلتی ہے۔‘‘ (کاروان زندگی ج۳ ص ۷۳)
مدارس اسلامیہ کا نصب العین
مدارس کا نصب العین تحریک ہونا چاہیے نہ کہ تاریخ کا بیان اور اس پر فخر اور آج کے دور میں جمود بلکہ تعطل پر بھی صبر ورضا بتانے والے بتاتے ہیں کہ اب تو بعض ارباب مدارس اس پر بھی راضی ہیں کہ اگر ایک آدھ افراد بھی پیدا ہو جائیں تو کافی ہے کہ اسی سے مدرسے کے وجود کو کارآمد سمجھنا چاہیے، مولانا اس روش کے خلاف تھے مدرسی نظام کی مروجہ صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے مولانا کے یہ الفاظ پڑھیے:
’’میں نے صفائی سے کہا کہ مدرسے اور دینی دعوتیں تاریخ سے نہیں چلتیں، تحریک سے چلتی ہیں۔ ہر وقت اسلاف و اکابر کا نام لینا اور ان پر فخر کرنا اور ’’پدرم سلطان بود‘‘ کا نعرہ لگانا، سننے والوں کو بھی ملول و متوحش کر دیتا ہے‘‘ (کاروان زندگی ج ۳ ص ۱۷۷)
صرف نصابی کتابیں سمجھنا کافی نہیں
مدارس کی موجو دہ صورت حال یہ ہے کہ ایک آدھ طلبہ کے بامقصد ہونے پر قناعت کر لی گئی ہے،تبلیغی و دعوتی اور تصنیفی وتحقیقی میدان میں پستی کے ساتھ تحریکی اور قائدانہ کردار میں جو کمی واقع ہوئی ہے وہ مخفی نہیں ،ضرورت ہے کہ کام اورپیغام کو یاد رکھا جائے اور تجزیہ کر تے ہوئے آگے کا لائحہ عمل تیار کیا جائے :
’’مدارس دینیہ کا کام صرف اتناہی نہیں کہ نصابی کتابیں سمجھ لی جائیں اورمسئلے مسائل بتاد ئے جائیں ،ہم ان کی ناقدری نہیں کرتے ،اس نظام تعلیم کا ہم احترام کرتے ہیں ،اور اس کے داعی اور ذمہ دار ہیں ،لیکن صرف اتنا کافی نہیں،موجودہ فتنوں کو سمجھنا ان سے اچھی طرح باخبر ہونا اور ان کا مؤثر و طاقت ور زبان اور دلکش اسلوب میں مقابلہ کرنا وقت کا بنیادی تقاضہ ہے ،ہمارے طلبہ و اسا تذہ انگریزی اور کسی غیر ملکی زبان سے بھی واقف ہوں اور ان کے مآخذ سے فائدہ اٹھا سکیں اور ایسا لٹریچر تیار کریں جو جدید تعلیم یافتہ طبقہ کو متأثر کر سکے،ہمارے اساتذہ و طلباء کا مطالعہ وسیع ،متنوع اور اپٹوڈیٹ ہو، ندوۃ العلماء نے عرب قوم پرستی اور علمانیت (سیکولرازم )کے خلاف جو زبر دست محا ذ قائم کیا تھا اور اس کے فرزندوں نے جس طرح پوری تیاری اور قوت کے ساتھ طاقتور اور مؤثر اسلوب میں اس فتنہ پر ضرب کاری لگائی تھی ،اس کا عام طور پر عالم عربی میں اعتراف کیا گیا‘‘۔ (کاروان زندگی ج۶ص۲۶۵)
معیار مدح و ذم
جس وقت حضرت مولانا ؒ کو معیار مدح وذم نے چونکایا تب تک حا لت یہاں تک نہ پہونچی تھی جو آج کی منظر نامہ پر ظاہر ہے،اب تو مذہبی حلقوں میں بھی وہی معیار تعریف و تنقید ہے جو کبھی مادی وسیا سی حلقہ میں ہوا کرتا تھا ،محض شخصیت پر ستی ،خا ندان پرستی ،اقربا پروری اور مادی معیاری مدح وذم کا معیار بن چکا ہے، اسلام کی منفعت اور اسلام کا نقصان ملی نقصان اور ملی مفادکس کے پیش نظر؟بس ہم اور ہماری بات اور ہمارے فائدہ کا زمانہ ہے ،جس کو ایک ادنی حس رکھنے والا بھی محسوس کر رہاہے ،جس کے باعث نقصانات میں دن بدن اضا فہ ہوتا جارہا ہے اور لوگ اب تو صحیح وغلط کی تمیز بھی اس معیار کے سبب نہیں کر پا رہے ہیں ،مولانا نے یہ اہم سطریں ا یک انتہائی حسا س مسئلہ میں ملت کے قائدین کے کردارکو پیش نظر رکھ کر لکھیں:۔
’’مصنف کے درد منددل کو دیکھ کر اور بھی زیادہ صدمہ ہوا کہ بہت سے خا لص دینی حلقوں میں بھی مدح و ذم اورتعریف و تنقید کا معیار کسی شخص کی اسلامیت اور غیراسلامیت اور اسلام و مسلمانوں کا سود وزیاں نہیں رہا، بلکہ خا لص دنیا وی کارنامے ،مادی فتوحات (اورافسوس و حیر ت ہے کہ یہاں اس کا بھی وجود نہیں )سیا سی پرو پیگنڈہ ،اخبار نویسیوں اور اہل سیا ست کا خراج تحسین ،ماتمی جلوس اور جنازہ کی دھوم دھام اوراس طرح کی سطحی اورظاہری شکلیں رہ گئی ہیں ،اس سے مصنف کو یہ انکشاف آمیز احساس ہوا کہ دینی حمیت اور اسلامی غیرت میں جو اس طبقہ کا سب سے بڑا سر مایۂ افتخار تھا تیزی کے ساتھ انحطاط آرہا ہے ،اور یہ وہ نقصان ہے، جس کی تلافی کسی طرح ممکن نہیں ،یہی احساسات ومشاہدات ہیں جنھوں نے ان مضا مین و تقاریر کو ایک مجموعے میں شائع کر نے کی تحریک کی جن کے متعلق خود مصنف کو احساس ہے کہ اس کا اس وقت شائع ہونا بہت سی طبیعتوں پر گراں گذرے گا ،لیکن مصنف اس کی ضرورت سمجھتا ہے ،اور اس کو دین کی ایک اہم خدمت اور اپنی سعادت یقین کرتا ہے ۔
نوارا تلخ تر می زن چوں ذوق نغمہ کم یابی
حدی را تیز تر می خواں چوں محمل را گراں بینی ‘‘
(عالم عربی کا المیہ ص۲۳۔۲۴)
مدارس اور احساس کمتری
مولانا ؒ نے ۱۹۵۴ ء میں تقریر کرتے ہوئے مدارس کی افسردہ فضا کا شکوہ کیا ہے،اور پوری جرأت کے ساتھ انحطاط کا شکوہ کیا ہے،ان سے بھی پہلے اقبال یہ شکوہ کر چکے ہیں،مولاناؒ نے بھی اس پر حقیقت پسندانہ تبصرہ کیا ہے ،لیکن افسوس اس پر ہے کہ آج صورت حا ل اور زیا ہ خطرناک ہو چکی ہے ،شاید ہم ان نقا ئص کا پتہ لگانے کے لئے تیار نہیں جو اس احساس کہتری کا باعث ہیں جس کا تذکرہ قدرے تفصیل سے مولاناؒ نے کیا ہے،یا اگر نقائص معلوم ہیں تو ان کی پرواہ نہیں یا پھر ان کو دور کر نے کی جرأت نہیں ،بہر حال اس پر غور کر نے اور اس کے ازالہ کی از حد ضرورت ہے تا کہ کسی حد تک صحیح لیکن کچھ تو اس افسردہ فضا میں زندگی کی رمق پیدا ہو اور یہ اپنی افادیت ثا بت کر سکیں اور پھر سے دنیا کی امامت کا فریضہ انجام دے سکیں ،زندگی کے ہر شعبہ میں زمانہ کی پیروی کے بجائے زمانہ ان کا غلام ہو :
’’مدارس جو کبھی طاقت اور زندگی کا مر کز تھے ،اور جہاں انقلاب آفریں شخصیتیں پیدا ہوتی تھیں ،وہ مایوسی،افسردگی،اوراحساس کہتری کا شکار ہیں ،آج مدارس کی تعداد میں، درس کی کتابوں کی تعداد میں، کتب خا نے کے مندرجات کی تعداد میں ،وظا ئف کی تعداد میں، بہت بڑا اضا فہ ہے،مگر زندگی کی نبض سست اور قلب کی دھڑکن کمزور ہے،کوئی حساس درد مند کبھی کبھی اس طرف نکل جا تا ہے تو اس کا دم گھٹنے لگتا ہے ،اور وہ اس بحر کاہل کو دیکھ کر کہنے لگتا ہے
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ،کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں
لیکن اب تو مدارس کے حق میں کسی طوفان سے آشنا ہو نے کی دعاکرتے ہو ئے بھی دل ڈرتاہے ،آج مدارس میں طوفان کے آثار نظر آتے ہیں ،لیکن یہ باہر کے طوفان کے تھپیڑے اور موجیں ہیں ،جو مدارس کے درو دیوارسے ٹکرا رہی ہیں، یہ باہر کے ہنگا موں اور سطحی اور عوامی تحریکات کی صدائے باز گشت ہے،جس میں ہمارے مدارس کے طلبہ کا مقام محض نقال یا آلۂ صوت کا ہے‘‘۔ (پاجا سراغ زندگی ص۔۹۶،۹۷)
ایک تاریخی حقیقت
آج اکثر تحریکوں اور اداروں میں جمود پایا جاتا ہے ،بے شمار ٹھوس بنیا دوں پر اٹھنے والی تحریکیں اور قائم ہو نے والے ادارے ایسا لگتا ہے کہ کا م کرتے کرتے تھک چکے ہیں ،اور اب صرف عظمت رفتہ اورایام گزشتہ کی تا ریخ کے سنہرے ابواب پر فخر کر ناہی ان کا مقدر بن گیا ہے ،لیکن ظا ہر ہے کہ اس رویہ سے تحریک و ادارں کا باقی رہنا مشکل ہے ،حضرت مولاناؒ نے اس رویہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے صریح الفاظ میں قرآن کی روشنی میں فر ما یا تھا:
’’دنیا میں کوئی ادارہ محض اس وجہ سے نہیں چل سکتا کہ یہ ادارہ آج سے سو برس دو سوبرس پہلے قائم ہوا ،اور اس نے کچھ مفید خد مت انجام د ی تھی ،محض تاریخ کے بل پر ،محض تا ریخ کے سہارے کو ئی ادارہ ،کوئی تحریک ،کوئی فلسفہ ،کوئی نظام نہ چلا ہے نہ چلے گا ،اگر آپ کسی ادارے کو قا ئم رکھنے کے لئے اور اس کے لئے کچھ مراعات حا صل کر نے کے لئے اس کی تاریخ پیش کرتے ہیں کہ اس نے دور ماضی میںیہ خدمات انجام دیں ،تو لوگ اس کو با لکل نہیں سنیں گے ،اور اگر کو ئی آج خا موش ہو جائے گا ،تو کل اس کے اندر سے نہایت پر زور اور پر جوش تقاضا پیدا ہو گا کہ اس کو ختم کر دینا چاہئے‘‘۔ (پا جا سراغ زندگی۔ص،۱۵۹)
بقاء کے لیے افادیت کا ثبوت لازمی ہے
آج بر صغیر میں دن بدن مدارس کی تعداد میں اضا فہ ہو رہا ہے ،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ غیر ہی نہیں اپنے بھی اور مخلصین بھی مدارس کے قیام اور ان کے کام پر سوال کھڑے کر رہے ہیں، کہیں نہ کہیں نقص ضرور ہے ،اور سچ یہ ہے کہ مدارس کی جو نا فعیت و افادیت نظر آنی چاہئے وہ نہیں نظر آتی ،جس کے سبب لو گوں کو اس کا موقع مل رہا ہے کہ وہ مدارس کے قیام و کام پر سوالیہ نشان لگائیں ۔
وہ مقتضیات زمانہ سے نا واقف ،ضروریات زمانہ کو پو را کر نے سے قاصر اور اپنے مقا صد سے دور ہوتے جا رہے ہیں ،قا نون قدرت میں بھی زندگی کا استحقاق صرف نفع پہونچانے والوں کو ہی ہے،مولانا ؒ نے بڑی جرأت و صراحت کے ساتھ فر مایا:
’’اگر ہمارے مدارس یہ چاہتے ہیں کہ وہ باقی رہیں ،اور وہ اس زندگی میں اپنی جگہ بنانا چاہتے ہیں ،زندگی کا استحقاق ثا بت کر نا چاہتے ہیں تو ان کو اپنے اندر نافعیت پیدا کر نی چاہئے ،یعنی ان کو اپنے جوہر کا ثبوت دینا چا ہئے ،ان کو یہ ثابت کرنا چاہئے کہ زندگی کی کوئی ضرورت ہے جو ان کے بغیر پوری نہیں ہوتی‘‘۔ (پاجا سراغ زندگی ۔ص،۱۶۱)
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۸)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۵۹) جُندٌ مَّا ہُنَالِکَ کا ترجمہ
جُندٌ مَّا ہُنَالِکَ مَہْزُومٌ مِّنَ الْأَحْزَاب۔ (ص:۱۱)
اس آیت میں ایک لفظ (ہُنَالِکَ)ہے، جس کاترجمہ لوگوں نے ظرف مکان یا ظرف مکان سے کیا ہے، کسی نے اسی جگہ اور کسی نے اس وقت کا ترجمہ کیا۔
اس آیت میں ایک دوسرا لفظ ( مَا)ہے ، جس کا ترجمہ بعض لوگوں نے چھوٹا اور بعض لوگوں نے بڑا کیا ہے۔
’’یہ تو جتھوں میں سے ایک چھوٹا سا جتھا ہے جو اِسی جگہ شکست کھانے والا ہے‘‘۔ (سید مودودی)
’’یہاں شکست کھائے ہوئے گروہوں میں سے یہ بھی ایک لشکر ہے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’یہ بھی (بڑے بڑے) لشکروں میں سے شکست پایا ہوا (چھوٹا سا) لشکر ہے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
’’(کفّار کے) لشکروں میں سے یہ ایک حقیر سا لشکر ہے جو اسی جگہ شکست خوردہ ہونے والا ہے‘‘۔(طاہر القادری)
’’(جب میرا عذاب آجائے گا) تو اس وقت جماعتوں میں سے کوئی بڑے سے بڑا لشکر بھی شکست کھا کر رہے گا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
عام طور سے لوگوں نے اس آیت کا یہ مفہوم سمجھا ہے کہ اس میں مکہ کے مشرکین کا لشکر مراد ہے جس کے مستقبل میں شکست پانے کی خبر دی گئی ہے، اور بات مستقبل کی ہے لیکن تاکید کے لئے ماضی کا صیغہ اختیا ر کیا گیا ہے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ان تمام مترجمین سے ہٹ کر ترجمہ تجویزکیا ہے، وہ ترجمہ کرتے ہیں:
’’جتھوں کے کتنے ہی لشکر ہیں جو شکست کھا چکے ہیں‘‘۔
اس ترجمہ کے لحاظ سے لفظ (مَا)کثرت ظاہر کرنے کے لئے ہے، اور لفظ (ہُنَالِکَ) ویسے ہی ہے جیسے انگریزی میں لفظThere آتا ہے، یعنی اس کا ترجمہ نہیں کیا جائے گا۔ مطلب یہ ہوگا کہ انسانی تاریخ میں ایسی بہت ساری قوموں کی داستانیں محفوظ ہیں جنہوں نے رسول کی تکذیب کی اور ان سب کے لشکر شکست سے دوچار ہوئے، اس ترجمہ سے جہاں دوسرے اشکالات ختم ہوجاتے ہیں، وہیں سیاق کلام کا حق بھی بھر پور طریقے سے ادا ہوجاتا ہے، گویا اس آیت میں جو بات اجمال کے ساتھ کہی گئی اس کی تفصیل اگلی تین آیتوں میں بیان کردی گئی یعنی جن جتھوں کے لشکر شکست کھاچکے ہیں ان میں سے بعض کے نام بتادیئے گئے۔چاروں آیتوں کو ملاکر دیکھیں تو مفہوم بالکل واضح ہوجاتا ہے۔
جُندٌ مَّا ہُنَالِکَ مَہْزُومٌ مِّنَ الْأَحْزَابِ۔ کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو الْأَوْتَادِ۔ وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَابُ الأَیْْکَۃِ أُوْلَئِکَ الْأَحْزَابُ۔ إِن کُلٌّ إِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۔ (ص:۱۱۔۱۴)
تیسری آیت کے اختتام پر أُوْلَئکَ الْأَحْزَابُ سے یہ بات متعین ہوگئی کہ احزاب سے مراد کون سے جتھے ہیں۔
(۶۰) ایک جیسے دو افعال کے درمیان تشبیہ کا ایک خاص اسلوب
قرآن مجید میں ایک اسلوب یہ ہے کہ ایک ایسا فعل جو لوگوں کی پریکٹس میں ہوتا ہے اور لوگ کررہے ہوتے ہیں اور اس سے مانوس ہوتے ہیں، اسی کے حوالے سے اور اسی کی تشبیہ دیتے ہوئے لفظاََ اسی جیسے فعل کے بارے میں بتایا جائے۔ یہ اسلوب قرآن مجید میں کئی مقامات پر آیا ہے، مندرجہ ذیل دو مثالوں سے یہ اسلوب آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔
(۱) لَا تَجْعَلُوا دُعَاء الرَّسُولِ بَیْْنَکُمْ کَدُعَاء بَعْضِکُم بَعْضاً۔ (النور:۶۳)
’’رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرالو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
(۲) یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوا لَہُ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ۔ (الحجرات :۲)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو‘‘۔ (سید مودودی)
ان دونوں مقامات پر مترجمین نے ایک ہی انداز کا ترجمہ کیا ہے اور درست کیا ہے ’’جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو‘‘ اور’’ جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو‘‘ کسی نے یہ ترجمہ نہیں کیا کہ ’’جیسا تم کوآپس میں ایک دوسرے کو بلانا چاہئے‘‘ اور’’ جس طرح تم کوآپس میں ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرنا چاہئے‘‘۔
تاہم یہی اسلوب جب کچھ اور آیتوں میں استعمال ہوا، تو وہاں’’کرتے ہو‘‘ کی جگہ’’کرنا چاہئے‘‘ کا بعض مترجموں نے ترجمہ کردیا، حالانکہ ان مقامات پر بھی موقعہ اور اسلوب دونوں کا تقاضا یہی ہے کہ مذکورہ بالا دونوں آیتوں کی طرح ترجمہ کیا جائے۔
(۱) وَیَدْعُ الإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاء ہُ بِالْخَیْْرِ وَکَانَ الإِنسَانُ عَجُولاً۔ (الاسراء:۱۱)
’’انسان شر اُس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے‘‘۔(سید مودودی)
’’اور انسان برائی کا اس طرح طالب بنتا ہے جس طرح اس کو بھلائی کا طالب بننا چاہئے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
مذکورہ بالا ترجموں سے بہتراور اسلوب بالاکے مطابق مذکورہ ذیل ترجمہ ہے:
’’اور آدمی برائی کی دعا کرتا ہے جیسے بھلائی مانگتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے اور زیادہ مناسب پیرایہ اختیار کیا۔
اور انسان برائی کا اس طرح طالب بنتا ہے جیسے وہ بھلائی کا طالب ہو۔
انگریزی مترجمین میں مندرجہ ذیل ترجمہ مناسب معلوم ہوتا ہے:
As it is, man [often] prays for things that are bad as if he were praying for something that is good. (Asad)
(۲) وَمِنَ النَّاسِ مَن یَتَّخِذُ مِن دُونِ اللّٰہِ أَندَاداً یُحِبُّونَہُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ أَشَدُّ حُبّاً لِّلّٰہِ۔ (البقرۃ : ۱۶۵)
’’کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل بناتے ہیں اور اْن کے ایسے گرویدہ ہیں جیسے اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہیے حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں‘‘۔(سید مودودی)
’’بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔‘‘(محمد جوناگڑھی)
یہاں بھی ’’چاہئے‘‘ والا ترجمہ درست نہیں ہے، کیونکہ اللہ سے جتنی محبت ہونی چاہئے اتنی تو کوئی کسی سے نہیں کرتا ہے، کیونکہ اللہ سے محبت کی تو کوئی حد ہی نہیں ہے۔ یہاں تو یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ مشرکین جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو بندگی میں شریک کرتے ہیں، اسی طرح محبت میں بھی شریک کرتے ہیں، اور جس طرح اللہ سے محبت کا دم بھرتے ہیں ، اسی طرح ان سے محبت کا بھی دم بھرتے ہیں۔ یہاں مفہوم اور اسلوب دونوں کا تقاضا ہے کہ مندرجہ ذیل ترجمہ کو درست مانا جائے:
’’اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں‘‘۔(احمد رضاخان)
(۳) أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّواْ أَیْْدِیَکُمْ وَأَقِیْمُوا الصَّلاَۃَ وَآتُوا الزَّکَاۃَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْْہِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّٰہِ أَوْ أَشَدَّ خَشْیَۃً۔ (النساء :۷۷)
’’تم نے اْن لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو؟ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر‘‘۔(سید مودودی)
’’تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا جاتا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو، اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوۃ دیتے رہو؟ تو جب ان پر جنگ فرض کردی گئی تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے اس طرح ڈرتا ہے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے، یا اس سے زیادہ‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
یہاں بھی ’’چاہئے‘‘ والا ترجمہ درست نہیں ہے، کیونکہ اللہ سے جتنی خشیت ہونی چاہئے اتنی تو کوئی کسی سے نہیں رکھتاہے، اور یہاں تو (أَشَدَّ خَشْیَۃ) ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ سے جتنی خشیت ہونی چاہئے ، اس سے زیادہ کسی اور سے خشیت ہوہی نہیں سکتی۔تدبر قرآن کی تلخیص کے ساتھ جو ترجمہ نظر ثانی کے بعد شائع ہوا ہے، اس میں ’’جس طرح اللہ سے ڈرا جاتا ہے‘‘ترجمہ کیا گیا ہے، پیر محمد کرم شاہ ازہری نے بھی اسی طرح ترجمہ کیا ہے، لیکن یہ بھی اسی طرح نا درست ہے، جس طرح ’’چاہئے‘‘ والا ترجمہ درست نہیں ہے۔
ان ترجموں کے بالمقابل مندرجہ ذیل ترجمہ درست ہے:
’’بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
(جاری)
زبور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق پیش گوئی
ریحان احمد یوسفی
قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے متعدد دلائل بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک دلیل جو بار بار دہرائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ پچھلے صحیفوں میں آپ کی آمد کی متعدد پیش گوئیاں بیان ہوئی ہیں اور بلاشبہ آپ ان صحیفوں میں بیان کردہ انبیا علیہم السلام کی پیش گوئیوں کا واحد مصداق ہیں۔
حضرت داؤد اور حج بیت اللہ
مسلمان اہل علم پچھلی کتابوں کا مطالعہ کرکے ان پیش گوئیوں کی تفصیل بیان کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک پیش گوئی اس طرح بیان کی جاتی ہے جو انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ میں کتاب متی ( باب 44-42:21) میں اس طرح بیان ہوتی ہے۔
جس پتھر کو معماروں نے رد کیا
وہی کونے کے سرے کا پتھر ہوگیا
یہ خداوند کی طرف سے ہوا
اور ہماری نظر میں عجیب ہے۔
اس پیش گوئی کا پورا مطلب ہم مضمون کے آخر میں بیان کریں گے ۔سردست یہ بات سمجھ لیں کہ یہ پیش گوئی اصل میں حضرت عیسیٰ کی نہیں ہے۔ بلکہ یہ پہلے ہی سے یہود کی کتب میں لکھی ہوئی موجود تھی۔ چنانچہ ا س پیش گوئی سے پہلے سیدنا مسیح یہودی علماء اور سرداروں سے فرماتے ہیں:
’’کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا۔۔۔‘‘
ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ پیش گوئی کتاب مقدس میں حضرت عیسیٰ کے آنے سے پہلے ہی کردی گئی تھی اور اس کی اہمیت کی بنا پر حضرت عیسیٰ نے اس کو نہ صرف دہرایا بلکہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے اس میں اضافہ بھی کیا۔یعنی اصل میں یہ آنجناب کی پیش گوئی نہیں بلکہ کسی اور ہستی کے الفاظ ہیں جنھیں آپ نے دہرایا اور مزید وضاحت کی ہے۔
قدیم صحف سماوی پر گہری نظر رکھنے والے یہ بات جانتے ہیں کہ یہ پیش گوئی دراصل حضرت داؤد علیہ السلام کی ہے اور یہ زبور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کی جانے والی اہم ترین پیش گوئی ہے۔ تاہم اس پیش گوئی کو جب انجیل سے لیا جاتا ہے تو اس میں استعمال ہونے والی تشبیہ و تمثیل یعنی پتھر اور کونے کا پتھر کی اصل معنویت کسی کو سمجھ میں نہیں آسکتیں جب تک کہ یہ حقیقت معلوم نہ ہو کہ یہ پیش گوئی حضرت داؤد نے حج ادا کرتے ہوئے حرم پاک کے سامنے کی تھی۔
حضرت داؤد کے حالات زندگی
قارئین کو شاید یہ بات کچھ عجیب لگے کہ حضرت داؤد نے حج کب ادا کیا لیکن ان کی اپنی کتاب تورات میں اللہ کی حمد کے جو مزمور(گیت) انھو ں نے گائے ہیں نیز دیگر تاریخی حقائق بھی یہ واضح کرتے ہیں کہ حضرت دادؤ نے نہ صرف یہ سعادت حاصل کی تھی بلکہ اپنی یہ مشہور پیش گوئی بھی اسی وقت کی تھی ۔ یہ پیش گوئی یہودیوں میں اتنی معرو ف تھی کہ سیدنا مسیح نے بغیر کسی خاص حوالے کے بے تکلف اسے ان کے سامنے بیان کردیا۔
حضرت داؤد کے متعلق تاریخی طور پر مسلمانوں کو بہت کم معلومات حاصل ہیں۔ حالانکہ وہ سلسلہ نبوت و رسالت کے اہم ترین لوگوں میں سے ایک ہیں ، زبور جیسی مشہور آسمانی کتاب ان پر اتری اور قرآن کریم میں جابجا ان کا ذکر آیا ہے۔اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس پیش گوئی پر کچھ بات کرنے سے قبل کچھ حضرت دادؤکا ذکر کردیا جائے۔ اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ان کے حالات زندگی کو سمجھے بغیر یہ پیش گوئی سمجھ میں بھی نہیں آسکتی ۔
سیدنا داؤد کا زمانہ ہزار قبل مسیح کا بیان کیا جاتا ہے۔یعنی حضرت ابراہیم کے ایک ہزار برس بعد اور مسیح سے ہزار برس پہلے کا زمانہ ۔حضرت داؤد سے تقریباً پانچ سو برس (بعض محققین کے مطابق دو ڈھائی سو برس )قبل حضرت موسیٰ کی زیر قیادت بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات مل گئی تھی۔آپ کے بعد بنی اسرائیل نے اپنے جانشین یوشع بن نو ن کی زیر قیادت فلسطین کو فتح کرلیا ۔ مگر اس کے بعدانھوں نے ایک منظم ریاست قائم نہیں کی ۔بنی اسرائیل مختلف ٹولیوں میں بٹ کراس مفتوحہ علاقے میں بکھر گئے ۔اس کے بعد آنے والی صدیو ں میں بنی اسرائیل اردگرد موجود مشرک قبائل کا اثر قبول کرکے مختلف انحرافات اور گمراہیوں کا شکار ہوتے چلے گئے۔جس کے نتیجے میں بطور سزا اردگرد کی مشرک اقوام کو ان پر غلبہ دے دیا گیا ۔ان کا مقدس تابوت جسے تابوت سکینہ کہا جاتا تھااور جو ا ن کے مذہبی اعمال کی ادائیگی میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا وہ بھی ان سے چھین لیا گیا۔
یہی وہ زمانہ تھا جس میں حضرت داؤد کی پیدائش ہوئی ۔ ایسے میں یہود نے اپنے پیغمبرشیموئل ( سیموئل )سے درخواست کی کہ وہ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ان کی قوم کے لیے ایک بادشاہ مقرر کردے تاکہ اس کے تحت جنگ کرکے وہ مشرکین کے خلاف فتح حاصل کریں اور اپنا مقدس تابوت اور مفتوحہ علاقے واپس لے سکیں۔ قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو بیان کیا ہے کہ بنی اسرائیل کے اصرار پر طالوت (ساؤل)کو ان کا بادشاہ بنایا گیا۔اور ان کی تقرری من جانب اللہ ہونے کی نشانی یہ مقرر کی گئی کہ ان کے دور میں تابوتِ سکینہ یہود کو واپس مل گیا۔پھران کی زیر قیادت یہود نے جالوت کی مشرک فوج کو شکست دے کر فلسطین پر مکمل قبضہ کرلیا۔ اس جنگ میں حضرت داؤد نے جالوت کو قتل کیا اوربادشاہ نے اپنی بیٹی کی شادی ان سے کردی۔
تاہم بعد میں ان کی مقبولیت اور بحیثیت ایک فوجی جرنل ان کی کامیابیوں سے بادشاہ ان سے خائف ہوگیا اور ان کی جان کے درپے ہوگیا۔ چنانچہ وہ جان بچانے کے لیے محل سے نکل گئے۔اس کے بعد بادشاہ کے ہرکارے ان کے تعاقب میں رہے اور وہ جان بچانے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔یہی وہ زمانہ ہے جس میں کی جانے والی مناجات اور حمدیہ گیتوں سے زبور کا آغاز ہوتا ہے۔ساؤل یعنی طالوت کی وفات کے بعد آپ فلسطین کے بادشاہ بنے اور آخر کار پورے فلسطین کو فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کرلیا۔
حضرت داؤد کا سفر حجاز
جس زمانے میں حضرت داؤد ساؤل بادشاہ سے اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ دوڑ کررہے تھے، ان کے سرپرست سیموئیل نبی کا انتقال ہوگیا۔اس کے بعد فلسطین ان کے لیے بالکل غیر محفوظ ہوگیا۔چنانچہ یہی وہ دور ہے جس میں وہ فلسطین سے ہجرت کرکے دشت فاران تشریف لے گئے ،(کتاب سموئل25:1)۔فاران کے نام سے بائبل میں دو علاقوں کا ذکر آیا ہے۔ ایک مصر کے صحرائے سینا کا وہ علاقہ جس میں حضرت موسیٰ کی قوم فرعون کی غرقابی کے بعد پہنچی تھی۔ دوسرے سرزمین عرب کا شہر مکہ جہاں خود بائبل کے مطابق حضرت ابراہیم نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کو آباد کیا تھا،(کتاب پیدائش21-17:21)۔ حضرت داؤد چونکہ فلسطین کے بادشاہ اور وہاں کی دیگر مشرک اقوام کی پہنچ سے دور نکلنا چاہتے تھے، اس لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ فلسطین کے علاقے صحرائے سینا گئے ہوں۔ بلکہ قرین قیاس یہی ہے کہ وہ مکہ ہی تشریف لائے ہوں گے جو صحرا کے دور دراز سفر کی وجہ سے اہل فلسطین کی پہنچ سے دور ایک محفوظ پناہ گا ہ تھی۔
یہی وہ وقت ہے جب آپ نے حج بیت اللہ ادا کیا ۔ اس روح پرور قیام کی یاد تازیست آ پ کو اس طرح ستاتی رہی کہ بعد میں پورے فلسطین کا بادشاہ بننے کے بعد بھی آپ اسے یاد کرتے رہے اور زبور کا ایک پورا مزمور (زبور :84)اسی سفر حج کی یادوں پر ہے جس میں وہ مکہ کا ذکر اس کے قدیم نام ’’بکہ ‘‘ سے کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ قرآن مجید میں بھی یہود سے مکالمہ کرتے وقت اللہ تعالیٰ نے مکہ کو بکہ کے نام ہی سے بیان کیا ہے،(آل عمران96:3)۔ اس مزمور میں وہ یہ خواہش کرتے ہیں کہ وہ بادشاہ کے بجائے اللہ کے گھر کے دربان ہوتے ۔یہ پوری تحقیق تمام تر تفصیلی دلائل کے ساتھ ،جناب عبدالستار غوری کی کتاب ’’اکلوتافرزند ذبیح اسحاق یا اسماعیل‘‘ میں پڑھی جا سکتی ہے۔
زبور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی
تاہم جس پیش گوئی کا میں نے ذکر کیا ہے وہ زبور کے ایک دوسرے مزمور (زبور :118) میںآئی ہے۔جہاں تک میں سمجھا ہوں یہ مزمور عین حالت حج میں کہا گیا ہے۔قارئین کی سہولت کے لیے اس مزمور کو پورا نقل کررہا ہوں۔ کیونکہ اس سے نہ صرف پوری بات سمجھ میں آئے گی بلکہ یہ واضح کرنے میں بھی سہولت رہے گی کہ یہود و نصاریٰ اس پیش گوئی کا رخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موڑ کر کس طرح دوسروں کی طرف کردیتے ہیں۔ پھر اس سے یہ فائدہ بھی ہے کہ یہ مزمور ریکارڈ پر آجائے گاکیوں کہ یہود و نصاریٰ کا دستور ہے کہ وہ جب یہ دیکھتے ہیں کہ کسی مسلمان نے ان کی کتاب سے نبی عربی کی صداقت کا کوئی ثبوت پیش کردیا ہے تو وہ فوراً اس ترجمے کو متروک قرار دے کر ایک ایسا نیا ترجمہ کرتے ہیں جس میں اصل بات غائب کردی جاتی ہے۔
یہ مزمور نقل کرنے سے قبل یہ بھی واضح کردوں کہ دیگرالہامی کتب کی طرح زبور بھی ترجمہ در ترجمہ کے عمل سے گزری ہے۔ اس کے نتیجے میں اس میں اب وہ تاثیر محسوس نہیں ہوگی جو قرآن مجید نے بیان کی ہے کہ پہاڑ اور پرندے بھی حضرت داؤد کے ساتھ حمد و تسبیح کرتے تھے۔مگر بہرحال وہ معنویت موجود ہے جس کی بنا پر قرآن مجید نے بار بار ان کتابوں کا حوالہ دے کر یہ کہا تھا کہ ہمارے نبی کا تذکرہ تم ان کتابو ں میں لکھا ہوا پاتے ہو،(اعراف157:7)۔
حضرت داؤد کا مزمور
اس مزمور کے کئی حصے ہیں۔میں ذیل میں مزمور نقل کررہا ہوں اور ساتھ ساتھ اہم باتوں کی وضاحت بھی کرتا جاؤں گا۔
خداوند کا شکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے
اور اس کی شفقت ابدی ہے
اسرائیل اب کہے
اس کی شفقت ابدی ہے
ہارون کا گھرانہ اب کہے
اس کی شفقت ابدی ہے
خداوند سے ڈرنے والے اب کہیں
اس کی شفقت ابدی ہے
یہ ابتدائی آیات یعنی 1تا4اللہ کی حمد پر مشتمل ہیں۔جبکہ آخری آیت یعنی 29میں بھی یہی حمدیہ مضمون دہرایا گیا ہے۔یہی حمد یہ انداززبور کی وجہ شہرت بھی ہے۔ پھرآیت 5سے 18تک وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح ان کے دشمنوں نے ان کو گھیرلیا تھا اور فلسطین کی تمام قومیں ان کے خلاف ہوگئی تھیں مگر انھوں نے اللہ سے مدد مانگی اور اسی پر بھروسہ رکھا تو اللہ نے انھیں ان دشمنوں سے نجات عطا فرمادی۔ پھر وہ اپنے لیے اس مزمور میں ایک عظیم پیش گوئی کرتے ہیں کہ وہ اپنے تمام دشمنوں کو شکست دیں گے اور ان کو مارنے والوں کی تمام تر کوششوں کے برخلاف وہ زندہ رہیں گے اور اللہ کی حمد کرتے رہیں گے۔ کس طرح وہ ایک سخت آزمائش سے تو گزرے مگر آخر کار اللہ نے انھیں بچالیا۔فرماتے ہیں:
میں نے مصیبت میں خداوند سے دعا کی
خداوند نے مجھے جواب دیا اور کشادگی بخشی
خداوند میری طرف ہے میں ڈرنے کا نہیں
انسان میرا کیا کر سکتا ہے؟
خداوند میری طرف میرے مددگاروں میں ہے
اس لیے میں اپنے عداوت رکھنے والوں کو دیکھ لوں گا
خداوند پر توکل رکھنا
انسان پر بھروسا رکھنے سے بہتر ہے
خداوند پر توکل رکھنا
امراء پر بھروسا رکھنے سے بہتر ہے
سب قوموں نے مجھے گھیر لیا
میں خداوند کے نام سے ان کو کاٹ ڈالوں گا
انہوں نے مجھے گھیر لیا۔ بیشک گھیر لیا
میں خداوند کے نام سے ان کو کاٹ ڈالوں گا
انہوں نے شہد کی مکھیوں کی طرح مجھے گھیر لیا
وہ کانٹوں کی آگ کی طرح بجھ گئے
میں خداوند کے نام سے ان کو کاٹ ڈالوں گا
تو نے مجھے زور سے دھکیل دیا کہ گر پڑوں
لیکن خداوند نے میری مدد کی
خداوند میری قوت اور میرا گیت ہے
وہی میری نجات ہوا
صادقوں کے خیموں میں شادمانی اور نجات کی راگنی ہے
خداوند کا داہنا ہاتھ دلاوری کرتا ہے
خداوند کا داہنا ہاتھ بلند ہوا ہے
خداوند کا داہنا ہاتھ دلاوری کرتا ہے
میں مروں گا نہیں بلکہ جیتا رہوں گا
اور خداوند کے کاموں کو بیان کروں گا
خداوند نے مجھے سخت تنبیہ تو کی ہے
لیکن موت کے حوالہ نہیں کیا
آیت 19سے وہ سلسلہ کلام ہے جس میں وہ حرم میں داخل ہوتے ہوئے وہ مشہور پیش گوئی کرتے ہیں جس کا شروع میں ذکر ہوا ۔انداز سے صاف ظاہر ہے کہ اس سے قبل کی آیات وہ راستے میں پڑھ رہے تھے، مگر اب وہ حرم میں داخل ہورہے ہیں اور حرم کو سامنے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو براہ راست مخاطب ہوکر گفتگو کررہے ہیں۔فرماتے ہیں:
صداقت کے پھاٹکوں کو میرے لیے کھول دو
میں ان سے داخل ہو کر خداوند کا شکر کروں گا
خداوند کا پھاٹک یہی ہے
صادق اس سے داخل ہوں گے
میں تیرا شکر کروں گا کیونکہ تو نے مجھے جواب دیا
اور خود میری نجات بنا ہے
اب اس کے بعد حرم کے سامنے کھڑے ہوکر حجر اسود کو دیکھ کر فرماتے ہیں۔ یہ وہی پیش گوئی ہے جس کا ذکر سیدنا مسیح نے کیا ہے۔
جس پتھر کو معماروں نے رد کیا
وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا
یہ خداوند کی طرف سے ہوا
اور ہماری نظر میں عجیب ہے
یہ وہی دن ہے جسے خداوند نے مقرر کیا
ہم اس میں شادمان ہوں گے اور خوشی منائیں گے
آہ! اے خداوند! بچا لے
آہ! اے خداوند! خوشحالی بخش
اس کے بعد سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی پیش گوئی اس طرح کرتے ہیں:
مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے
ہم نے تم کو خداوند کے گھر سے دعا دی ہے
یہووا ہی خدا ہے اور اسی نے ہم کو نور بخشا ہے
قربانی کو مذبح کے سینگوں سے رسیوں سے باندھو
تو میرا خدا ہے۔ میں تیرا شکر کروں گا
تو میرا خدا ہے۔ میں تیری تمجید کروں گا
خداوند کا شکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے
اور اس کی شفقت ابدی ہے
اوپر لکھے ہوئے الفاظ پر پھر غور کیجیے۔
مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے،(آیت 26)۔
ہر قرینہ اس بات کا گواہ ہے کہ آنے والی ہستی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی ہے۔ اور یہ الفاظ حرم مکہ میں ادا کیے جارہے ہیں۔ اس کا سب سے بنیادی قرینہ یہ ہے کہ حضرت دادؤ کے زمانے میں ابھی ہیکل سلیمانی کی تعمیر نہیں ہوئی تھی ۔یہود کی کوئی مرکزی عبادت گاہ نہیں تھی۔ مگر دیکھیے کہ اس مزمورمیں خداوند کا پھاٹک یہی ہے(آیت 20) اور ہم نے تم کوخداوند کے گھر سے دعا دی ہے،(آیت 26)کے الفاظ آتے ہیں۔ خداوند کا گھر دراصل بیت اللہ کا ترجمہ ہے۔ حضرت دادؤ کے زمانے میں بیت اللہ کہلانے والی عمارت دنیا کے نقشے پر ایک ہی تھی اور و ہ حرم کعبہ تھا۔ مزید اس مزمور میں وہ قربانی اور قربان گاہ یعنی مذبح کا ذکر کرتے ہیں،(آیت27)۔ کیا یہ بات مسلمانوں کو بتانے کی کوئی ضرورت ہے کہ حج کے موقع پر حرم مکہ میں قربان گاہ اور قربانی کازیارت سے کیا تعلق ہوتا ہے؟
پھر جو پیش گوئی کونے کے پتھر کے تعلق سے بیان ہوئی ہے وہ واضح رہے کہ بنی اسماعیل کے حوالے سے ہے ۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ آج اِس قوم کو دنیا نے فراموش اور رد کررکھا ہے مگر کل یہ حرم پاک کے کونے کے پتھر یعنی حجر اسود کی طرح مقدس اور محترم ہوجائے گی ۔ ہمیں یہ بات آج عجیب لگتی ہے، مگر یہ اللہ کا فیصلہ ہے۔ چنانچہ اس کے بعد وہ بنی اسماعیل کو عافیت اور خوشحالی کی دعا ددیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تم کو خداوند کے گھر سے دعا دی ہے۔
تحریف و تاویل
یہود و نصاریٰ نے بڑی کوششیں کی ہیں کسی طرح اس پیش گوئی کا مصداق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ قرار پائیں۔ چنانچہ یہو د نے اس معاملے میں یہ کام کیا کہ اس مزمور پر سے حضرت داؤد کا نام ہٹادیا(خیال رہے کہ موجودہ زبور میں بعض مزامیر بعد میں آنے والوں کے بھی ہیں)۔غالباً ان کا خیال تھا کہ نہ رہے گا بانس اورنہ بجے گی بانسری کے بمصداق جب حضرت داؤد کی نسبت ہی نہیں رہی تو یہ پیش گوئی اپنی اہمیت کھوبیٹھے گی۔مگر ا س پیش گوئی کو حضرت عیسیٰ نے انجیل میں دہراکر اس کی اہمیت کو اتنا نمایاں کردیا کہ ایسی کوئی کوشش اب موثر نہیں ہوسکتی۔
ایک دوسری تاویل یہ کی جاتی ہے کہ یہ حضرت داؤد کا کلام اس لیے نہیں ہوسکتا کہ اس میں بیت اللہ یا خداوند کے گھر اور قربانی اور قربان گاہ کا ذکر آیا ہے۔ جیسا کہ پیچھے بیان ہوا کہ ہیکل سلیمانی تو حضرت داؤد کے بعد حضرت سلیمان نے بنوایا تھا۔چنانچہ ان لوگوں کے نزدیک یہ بات بالکل واضح ہے کہ ’’خداوند کے گھر ‘‘ جیسے کسی الفاظ کا کوئی مسمیٰ حضرت داؤد کے زمانے میں موجود ہی نہیں تھا، اس نے ان آیات کی یہ تاویل کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ مزمور حضرت داؤد کا ہے ہی نہیں بلکہ اس زمانے کا ہے جب یہود بابل کی اسیری سے واپس یروشلم لوٹ رہے تھے۔ یعنی بخت نصر یروشلم کو تباہ کرکے انھیں ساتھ بابل لے گیا تھا تو کم و بیش ایک صدی کی غلامی کے بعد سائرس یا ذوالقرنین نے انھیں اس غلامی سے نجات دلاکر دوبارہ یروشلم لوٹنے کی اجازت دی تھی۔ ایسے میں کسی نامعلوم شخص نے یروشلم میں داخل ہوتے وقت ہیکل سلیمانی کو دیکھ کر یہ مزمور پڑھا تھا۔
تاہم اس مزمور کا ابتدائی حصہ اس تاویل کی مکمل طور پر نفی کردیتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پیچھے بیان کیا کہ حضرت داؤد بادشاہ وقت کے مسلسل عتاب کا نشانہ بنے رہے اور مستقل اپنی جان بچانے کی جدو جہد کرتے رہے اور آخرکار اپنے تمام دشمنوں پر اللہ کی مدد سے غالب آئے ۔ا س کی پوری داستان بائبل میں موجود ہے۔ اس مزمور میںیہی داستان بہت اختصار سے بیان ہوئی ہے۔اس داستان کا بابل سے لوٹنے والے لوگوں سے بالکل کوئی تعلق نہیں۔ وہ تو خود مغلوب ہوکر عراقیوں کی قید میں تھے جبکہ یہاں داؤد علیہ السلام یہ کھلی ہوئی پیش گوئی کررہے ہیں :
’’سب قوموں نے مجھے گھیر لیا۔ میں خداوند کے نام سے ان کو کاٹ ڈالوں گا۔انہوں نے مجھے گھیر لیا۔ بیشک گھیر لیا۔ میں خداوند کے نام سے ان کو کاٹ ڈالوں گا۔انہوں نے شہد کی مکھیوں کی طرح مجھے گھیر لیا۔وہ کانٹوں کی آگ کی طرح بجھ گئے ۔ میں خداوند کے نام سے ان کو کاٹ ڈالوں گا۔‘‘،(آیت 12-10)
یہ دشمنوں میں گھرے ہوئے شخص کی للکار ہے کہ آج میں بہت مشکل میں ہوں لیکن کل میں کس طرح ان دشمنوں کا صفایا کردوں گا۔ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ میں کوئی دوسری شخصیت نہیں ہے جس کے خلاف اس طرح ساری قومیں اور قبائل اٹھ کھڑے ہوئے ہوں اور وہ تنہا اللہ کی مدد سے غالب آگیا ہو۔اس لیے یہ مزمور پڑھنے والی شخصیت سوائے حضرت دادؤ کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔
مسیحی حضرات کی تاویل
مسیحی حضرات اس کی وہی تاویل کرتے ہیں جو آسمانی صحائف میں موجود نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر پیش گوئیوں کی کرتے ہیں۔ یعنی ا ن کا مصداق حضرت عیسیٰ ہیں ، نہ کہ نبی آخر الزماں۔لیکن اول تو یہی بات کہ یہ پیش گوئی حرم مکہ میں کی گئی ہے اس بات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی کہ جس آنے والے کاذکر ہے وہ نبی عربی کے علاوہ کوئی اور ہو۔ مگر اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انجیل میں اس پیش گوئی کو نقل کرنے کے بعد ا س کی جو شرح خود مسیح نے کی ہے اس کے مطابق ان کی اپنی زندگی اور ان کی قوم کسی طور پر اس پیش گوئی کا مصداق نہیں بن سکتیں۔ مسیحی حضرات کہتے ہیں کہ اس پیش گوئی کا مصداق مسیح ہیں۔ جبکہ اکا دکا وہ مسلمان اہل علم جنھوں نے اس پیش گوئی کو موضوع بنایا ہے یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہمارے نبی ہیں۔ راقم یہ نقطہ نظر پیش کررہا ہے کہ ’’کونے کے پتھر‘‘ کامصداق کوئی فرد نہیں بلکہ قوم ہے۔ یہی بات حضرت داؤد نے زبور میں بیان کی تھی اور یہی چیز انجیل میں سیدنا مسیح نے بالکل کھول کر رکھ دی ہے۔تاہم اس کے لیے انجیل کے بیان کو سمجھنا ہوگا۔
انجیل کی کتاب متی باب 21کی آیت 23 سے یہ واقعہ بیان ہونا شروع ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ہیکل سلیمانی میں کھڑے ہوکر دعوت دے رہے تھے کہ یہود سردار اور کاہن ان کے اردگرد جمع ہوگئے اور ان پر اعتراض کرنے لگے کہ تم یہ کام کس اختیار کے تحت کررہے ہو۔ اس پر حضرت عیسیٰ نے پہلے ان کے کفر پر ان کو تنبیہ کی اور پھر ایک تمثیل کی زبان میں انھیں بتایا کہ اللہ کا عذاب ان پر آیا چاہتا ہے اور اب انھیں فارغ کرکے ایک دوسری قوم کو یہ منصب دے دیا جائے گا۔ ا س کے بعد انھوں نے حضرت دادؤ کی زیر بحث پیش گوئی بیان کی اور ساتھ میں خود اس کی شرح اس طرح کرتے ہوئے فرمایا:
’’اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی۔اور جو اس پتھر پر گرے گاٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔اور جب سردار کاہنوں اور فریسیوں نے ا س کی تمثیلیں سنیں تو سمجھ گئے کہ ہمارے حق میں کہتا ہے۔ اور وہ اسے پکڑنے کی کوشش میں تھے لیکن لوگوں سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ اسے نبی جانتے تھے۔‘‘ (متی 46-43:21 )۔
حضرت عیسیٰ نے صاف واضح کردیا ہے کہ یہاں ایک قوم زیر بحث ہے کوئی فرد نہیں۔یعنی بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ عذاب دے کر جب منصب امامت سے فارغ کردیں گے تو وہ پتھر یعنی بنی اسماعیل جنھیں یہود بے وقعت سمجھتے تھے، کونے کے سرے کا پتھر ہوجائے گا۔ اب اگر یہ بات ذہن میں رہے کہ پیش گوئی کرنے والے نبی داؤد علیہ السلام حر م میں کھڑے ہوئے ہیں تو پھر کونے کے پتھر سے مراد حجر اسود ہی ہوسکتا ہے جو حرم کے ایک کونے کے سرے پر نصب اس کا اہم ترین حصہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بنی اسماعیل کی قوم جو ایک عام پتھر کی طر ح غیر اہم تھی وہ عنقریب حجر اسود کی طرح دنیا میں سب سے زیادہ اہم ہوجائے گی۔ اور پھر مسیح اس کی شرح کرتے ہیں کہ اس قوم کو وہ غلبہ و قوت اور اقتدار ملے گا کہ یہ دنیا کی جس قوم سے ٹکرائے گی اسے پاش پاش کرڈالے گی۔
کون نہیں جانتا کہ داؤد اور مسیح علیہما السلام کی یہ پیش گوئیاں کس طرح حرف بحرف درست ثابت ہوئی ہیں۔ وہ عرب جنھیں یہود حقارت سے اُمی کہتے تھے اور ساری دنیا جنھیں غیر متمدن سمجھتی تھی، جب ایمان لے آئے تو انہوں نے کس طرح بقول حضرت دادؤ کے ،عجیب طریقے پر دنیا کی سپر پاور کے پرخچے اڑادیے اور جو قوم ان سے ٹکرائی ریزہ ریزہ ہوکر بکھر گئی۔اس کے برعکس حضرت عیسیٰ کے اپنے پیروکاروں کا معاملہ یہ تھا کہ ابتدائی کئی صدیوں میں ان کے پیروکاروں پر بدترین ظلم و ستم ہوتے رہے۔ وہ کسی قوم کو کیا پیستے ،دوسری قومیں انھیں پیستی رہیں۔چنانچہ حضرت عیسیٰ یا ان کی قوم سرے سے اس پیش گوئی کا مصداق ہوہی نہیں سکتے۔ مسیحی حضرات لاکھ زور لگالیں، خود سیدنا مسیح اس پیش گوئی کی جو شرح کرکے گئے ہیں وہ ان کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بلاشبہ اس پیش گوئی کا مصداق اگر کوئی ہے تو سرکار دوعالم کی ہستی ہے اور آپ کی قوم یعنی صحابہ کرام ہیں ۔ اللہ ان پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کرے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلائے۔ آمین۔
عدالتی فسخ نکاح کی شرعی حیثیت ۔ دینی جامعات کے ایک فتوے کا جائزہ
قاضی محمد رویس خان ایوبی
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ:
۱۔ مسماۃ فائزہ دختر افسر علی شاہ کا نکاح منظور حسین شاہ سے ہوا، مگر لڑکے کے کردار کو دیکھ کر افسر علی شاہ صاحب نے رخصتی نہ کی۔ مطالبۂ طلاق کیا گیا، مگر منظور حسین نے طلاق دینے سے انکار کر دیا اور خود دوسری شادی کر کے بیٹھ گیا۔
۲۔ اجرائے ڈگری کے بعد رائج الوقت قانون میں مدعا علیہ (خاوند) کو عدالتی فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں 30 دن کے اندر اندر اپیل کرنی چاہیے تھی، مگر اس نے آج مؤرخہ 2013-11-15 تک کوئی اپیل دائر نہیں کی اور نہ ہی فیصلے پر کوئی اعتراض عدالتِ مجاز میں داخل کیا۔ اب دریافت طلب امور مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) کیا عدالتی تنسیخ طلاق کے قائم مقام ہے؟
(۲) کیا عورت اس کی بنیاد پر خاوند سے طلاق لیے بغیر دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے؟
(۳) کیا خلع کی رقم ادا کیے بغیر تنسیخ قابل تسلیم ہے؟
(۴) کیا خلع کے لیے ضروری ہے کہ عورت پیشکش کر ے اور مرد اسے قبول کرے؟
(۵) خلع کے الفاظ عدالت لکھے تو کیا رقم واجب الادا ہوگی؟
المستفتی، افسر علی شاہ
۱۵ ؍ ۱۱ ؍ ۲۰۱۳
الجواب
اسلام دین فطرت ہے اور اس کے قوانین بھی انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے : اطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم (اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور جو تم پر حکمران ہوں، ان کی اطاعت کرو)۔ حدیث میں ارشاد ہے: السلطان ولی من لا ولی لہ۔ فقہی ضوابط میں بنیادی قاعدہ ہے کہ ظالموں کے مقرر کردہ قاضیوں کے فیصلے بھی نافذ العمل ہوتے ہیں، بشرطیکہ وہ شریعت کے خلاف نہ ہوں۔
اب تنقیح طلب امور مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ کیا پاکستان میں قائم شدہ عدالتیں اسلامی نظام اور اس کے اصلِ قضاء سے متصادم ہیں؟
۲۔ کیا ان عدالتوں کا حکم کافر عدالتوں کا ہوگا یا مسلمان عدالتوں کا ہوگا؟
۳۔ کیا پاکستان کا عدالتی نظام کفر پر مبنی ہے یا اسلام کے مطابق ہے؟
۴۔ کیا پاکستان کا طرز حکمرانی اسلامی ہے یا کافرانہ؟
۵۔ کیا پاکستان کے کسی بھی فرقے کے عالم دین نے ان عدالتوں کو غیر اسلامی قرار دے کر عوام کو مطلع کیا ہے کہ نہ ان عدالتوں میں حاضر ہوں اور نہ ان کے احکام کو تسلیم کریں؟
۶۔ کیا پاکستان میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، جماعت اسلامی میں سے کسی بھی فرقے کے علماء نے ان عدالتوں کے فیصلوں کو مسترد کیا ہے؟
ان تنقیحات کا جواب مندرجہ ذیل ہے:
۱۔ ہرگز نہیں۔ فسق کی بناء پر عدالتی نظام کو تلپٹ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ فاسق کی قضاء جائز ہے۔ (ہم نے فاسق کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ ہمارے علماء کے ہاں داڑھی منڈوانے والا فاسق ہے اور ججز کی اکثریت کلین شیو ہے۔)
جہاں تک عدالتی سسٹم کا تعلق ہے تو وہ ہرگز اسلام سے متصادم نہیں۔ عدالتی نظام انہی بنیادوں پر استوار ہے جو بنیادیں مسلم فقہاء نے متعین کر رکھی ہیں۔
۲۔ مسلمان عدالتوں کا حکم ہے، کیونکہ ججز مسلمان ہیں اور آئین پاکستان میں صاف اور واضح شق موجود ہے کہ اسلام سے متصادم کوئی قانون سازی نہ ہوگی۔ جزوی طور پر اگر بعض غیر اسلامی قوانین موجود ہیں تو ان سے ریاستی قوانین کے خلاف بغاوت کی اجازت نہیں دی جا سکتی نہ ہی قانون شکنی کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے، جب تک کفرِ بواح کا ارتکاب نہ ہو۔ اور کفرِ بواح کا مطلب ہے کہ ارتکاب حرام کے لیے حکومت فرمان جاری کرتی پھرے، مگر ایسا اس ملک میں نہیں ہے۔
۳۔ نہ کفر پر مبنی ہے نہ مکمل اسلام کے مطابق ہے۔ درمیانہ سا ہے۔ قابل برداشت ہے۔
۴۔ نہ اسلامی نہ کافرانہ۔ جمہوری ہے، جو نام نہاد جمہوریت کے پردے میں چند خاندانوں کی اجارہ داری پر قائم ہے۔
۵۔ قیام پاکستان کے بعد کے عدالتی نظام کے خلاف کسی عالم دین کا فتویٰ میری نظر سے نہیں گزرا، بلکہ علماء خود ان عدالتوں میں پیش ہوتے رہے اور ان کے فیصلوں کو تسلیم کرتے رہے۔
۶۔ بہت سارے فیصلے مسترد کیے، لیکن وہ اس لیے نہیں کہ ان کا عدالتی نظام سے کوئی اختلاف تھا، بلکہ محض کسی مخصوص فیصلے پر اظہار ناراضگی کیا، جیسے عائلی قوانین کے تحت کیے گئے فیصلے۔
اور اب آپ کے سوالات کا ضمن دار جواب دیا جاتا ہے:
۱۔ عدالت مجاز با اختیار ہے۔ میاں بیوی نے حاضر ہو کر عدالتی اختیار کو تسلیم کیا ہے، اسی لیے جواب دعویٰ اور شہادتیں پیش کی گئیں۔ لہٰذا عدالتی فیصلہ طلاق کے قائم مقام ہے اور یہ تنسیخ طلاق بائن کے حکم میں ہوگی۔
۲۔ ہاں، دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے۔ فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ اگر ماں جوان ہو اور بیوہ ہو اور وہ باہر گھومتی پھرتی ہو اور بیٹے کو شک ہو کہ وہ باہر فساد کے لیے جاتی ہے تو بیٹا اس کو نہیں روک سکتا، البتہ بیٹا عدالت میں مقدمہ دائر کرے گا۔ عدالت بیٹے کو ماں کا گارڈین مقرر کرے گی، تب اسے ماں کو روکنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ (دیکھیے فتاویٰ قاضی خان جلد نمبر ۱ صفحہ ۲۰۱)۔ اس جزی سے معلوم ہوا کہ بیٹا ماں پر کنٹرول کرنے کا حق نہیں رکھتا، مگر عدالت کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے۔ حالانکہ عدالت ماں کی کچھ نہیں لگتی۔ لیکن چونکہ عدالت اولی الامر میں آتی ہے، اس لیے اسے حکم جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
۳۔ عدالت مجاز نے نکاح فسخ کر دیا اور صاف الفاظ میں تحریر کر دیا کہ بعد گزرنے عدت کے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ تو اب کیا اشکال ہے؟ اگر تنسیخ خلع پر موقوف ہوتی تو عدالت مشروط حکم جاری کرتی۔ جو یوں ہونا چاہیے تھا: ’’بعض از ادائے خلع و انقضائے عدت دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے‘‘۔ مگر ایسے الفاظ عدالتی حکم میں موجود نہیں ہیں۔
۴۔ ہاں خلع کے لیے پیشکش ضروری ہے۔ مگر عدالت میں عورت اور مرد دونوں طرف سے عدالت ہی کو فیصلہ کن اختیار حاصل ہیں۔
۵۔ اگر مہر ادا کیا گیا ہو اور تنسیخ کے بجائے خلع ہو تو عورت کو مہر واپس کرنا ہوگا۔ اور اگر مہر نہ ادا ہوا ہو تو کچھ بھی نہیں۔ اذا لم یکن المھر مقبوضًا سقط عن الزوج المھر ولا یتبع احدھما صاحبہ بشئی۔ یعنی اگر مہر ادا نہیں ہوا تو دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے سے کچھ نہیں لے سکتا۔ (قاضی خان ۲۵۳، جلد ۱)
لہٰذا سینئر سول جج کا فیصلہ تنسیخ نکاح ہے، خلع نہیں۔ خلع روایتی طور پر لکھا گیا ہے جو کہ 1964 کے ایکٹ کی ضرورت ہے۔ شرعاً نہ اس کی ضرورت ہے نہ کوئی شرعی حیثیت۔ متعنت خاوند کے لیے عدالتی کاروائی کے سوا کوئی طریقہ نہیں۔ فائزہ کی عدت 22 اکتوبر کو پوری ہوگئی۔ وہ جہاں چاہے، شادی کر سکتی ہے۔ جو علماء کرام عدالتی تنسیخ کو تسلیم نہیں کرتے، وہ بتائیں کہ وہ خاوند جو یہ الفاظ کہتے ہیں کہ ’’جیسے تیرے دانت سفید ہیں، اسی طرح تیرے بال سفید ہوں گے، طلاق نہیں دوں گا‘‘، مجھے علماء بتائیں کہ کیا ایسی عورتیں طلاق کے انتظار میں بدکاری کا ارتکاب کرتی رہیں؟ وہ اپنی جنسی تسکین کے لیے کدھر جائیں؟ استغفر اللہ کہنے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے۔
کعب بن ثور / کعب بن یسارؓ حضرت عمرؓ کے پاس تشریف فرما تھے۔ یہ واقعہ تقریباً 20 ہجری کا ہے۔ ایک عورت دربار خلافت میں حاضر ہوئی اور منہ پر اپنا پلو رکھ کر یوں گویا ہوئی: امیر المومنین! میرا خاوند بہت نیک ہے۔ ساری رات مصلے پر گزارتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ماشاء اللہ! تم جیسی نیک عورتیں اپنے خاوند کی تعریف کرتی ہیں۔ کعب بن یسارؓ بولے: امیر المومنین! آپ اس عورت کی بات نہیں سمجھے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا، تم سمجھے ہو ؟ کہا، ہاں۔ یہ عورت اپنے خاوند کی شکایت کر رہی ہے کہ وہ اس کے جنسی حقوق پورے نہیں کرتا۔ حضرت عمرؓ نے عورت کو دوبارہ بلایا اور کہا، کعب کہتا ہے کہ تم شکایت کرنے آئی ہو۔ کہا، ہاں۔ امیر المومنین مجھے اس چیز کی خواہش ہے جس کی ہر جوان عورت کو خواہش ہوتی ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا، کعب تم ہی فیصلہ کرو۔ خاوند کو طلب کیا گیا اور پوچھا گیا تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ اس نے کہا، مجھے سورۃ واقعہ نے قیامت اور قبر کے خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس لیے رات کو نوافل پڑھتا ہوں اور دن کو روزے رکھتا ہوں۔ حضرت کعبؓ نے فیصلہ دیا کہ تمہیں ہفتے میں ہر چوتھے دن بیوی کے حقوق زوجیت پورے کرنے ہوں گے، کیونکہ اسلام نے چار شادیوں کی اجازت دی ہے۔ تمہاری ایک بیوی ہے۔ تم تین دن عبادت کرو اور چوتھے دن اس کی جنسی تسکین کا اہتمام کرو۔ حضرت عمرؓ اس فیصلے پر خوش ہوئے اور فرمایا: اذھب فقد جعلنٰک قاضیًا علی البصرۃ۔ جاؤ، میں نے تمہیں بصرہ کا جج بنا دیا۔ (اخبار القضاۃ للوقیع صفحہ ۱۷۶ مطبوعہ بیروت، ادب القاضی للخصاف جلد ۲ صفحہ ۳۲۰)
یہ وہ دور تھا جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر القرون قرار دیا تھا اور فرمایا : قرنی، کہ میرا قرن سب سے بہتر ہے۔ اصحاب رسولؐ کا دور حکومت، فاروق اعظم صدر مملکت، نہ ٹی وی نہ ریڈیو، نہ سی ڈیز نہ انٹرنیٹ، نہ سینما ہاؤس، نہ بھڑکیلے لباس، نہ مرد و زن کا اختلاط، نہ موسیقی کی محفلیں۔ ان تمام موجب فتنہ وسائل کی معدومی کے باوجود خاتون اپنے جنسی حق کی شکایت کرنے صدر مملکت کے پاس پہنچ گئی۔ اس واقعے سے اس دور کی حقیقت پسندی کا پتا چلتا ہے۔ آج کا دور ہوتا تو اس خاتون کو بے حیا قرار دیا جاتا۔
دوسرا واقعہ بھی معروف ہے جس میں ذکر ہے کہ حضرت عمرؓ رات کے وقت گشت فرما رہے تھے کہ ایک مکان سے گانے کی آواز آئی جس کا لب لباب یہ تھا کہ شب طویل ہے۔ میرا ہم عمر نہیں ہے کہ میں اس سے پیار کروں۔ اگر عمرؓ اور خدا کا خوف نہ ہوتا تو ۔۔۔ اس پر حضرت عمرؓ نے صبح پوچھا کہ یہ کس کا گھر ہے؟ معلوم ہوا کہ ایک فوجی کا ہے جو علاقہ شام میں جہاد میں مصروف ہے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اسی وقت گشتی مراسلہ جاری فرما دیا کہ کوئی فوجی چار ماہ سے زیادہ گھر سے باہر نہ رہے۔ ہر چار ماہ بعد چھٹی آیا کرے۔ یہ مراسلہ بھی ام المومنین حضرت حفصہؓ سے استفسار کر کے تیار کیا گیا، جبکہ صدر مملکت فاروق اعظمؓ نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ ایک بیوی اپنے خاوند کے بغیر کتنا عرصہ صبر کر سکتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ زیادہ سے زیادہ چار ماہ۔ یہی وجہ ہے کہ ایلاء بھی چار ماہ سے زیادہ نہیں ہوتا ۔یہ اور اس طرح کے درجنوں واقعات خیر القرون قرنی کے ہیں۔ آج تو فحاشی اور بے حیائی بیڈ روم میں گھس گئی ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ لمن اخذ بالساق پر اصرار اور عدالتی تنسیخ سے انکار اور خاوند کے تعنت کو مدنظر نہ رکھنا عورت کو بدکاری کی وادی میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
پاکستان اسلامی ملک ہے۔ اس کی عدالتوں کے فیصلے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ہم نے تو 1990 میں انگلستان کی عدالتوں کے فیصلوں کو بھی تسلیم کرنے کا فتویٰ دیا ہے کہ وہاں کا ماحول یہاں سے زیادہ خوفناک ہے۔ اگر وہاں خاوند تعنت کا مظاہرہ کرتا ہے اور طلاق نہیں دیتا تو وہاں بدکاری کے لیے تمام راستے کھلے ہیں۔ اس لیے دونوں میاں بیوی عدالت میں حاضر ہو کر اپنا موقف بیان کرتے ہیں تو وہ فیصلے بھی قابل عمل ہیں۔ البتہ حکم علی الغائب میں ہر کیس کو علیحدہ دیکھا جائے گا۔ فقہاء اسلام نے عورت کو جو حقوق قرآن و سنت کی روشنی میں دیے ہیں، اتنے حقوق تو یورپ نے نہیں دیے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
مفتی محمد رویس خان ایوبی
ریٹائرڈ ضلع مفتی آزاد کشمیر
۱۹ ؍محرم الحرام ۱۴۳۵ھ / بمطابق 23 نومبر 2013
مکتوب بنام: مولانا مفتی عصمت اللہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جناب مفتی عصمت اللہ صاحب! عصمہ اللہ عن جمیع الزلات والاخطاء۔
برادرم جناب سید افسر علی شاہ صاحب / منظور حسین شاہ صاحب۔
میرے فتوے کے رد میں دارالعلوم کراچی کی مہر اور بنوری ٹاؤن کی مہر اور فاروقیہ کی مہر سے مزین فتویٰ موصول ہوا۔ مندرجہ ذیل تنقیحات معزز اور مکرم مفتیان کرام کی خدمت میں پیش ہیں۔ از راہِ کرم اگر وہ ان کا جواب مدلل اور مبرہن فرما کر دے دیں تو میں اپنا فتویٰ واپس لے لوں گا:
(۱) اسلام میں قاضی کے اختیارات کیا ہیں؟
(۲) کیا قاضی کو عقود میں انشاء اور فسخ کا اختیار حاصل ہے یا نہیں؟
(۳) السلطان ولی من لا ولی لہ میں سلطان میں قاضی شامل ہے یا نہیں؟
(۴) کیا پاکستان اسلامی ریاست ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو اس ریاست میں قائم شدہ عدالتیں بھی اسلامی عدالتیں ہیں یا کافرانہ؟
(۵) ان عدالتوں سے وہ فیصلے جو اسلامی فقہ کے کسی بھی فقہی قاعدہ یا قرآن کے کسی بھی حکم کے مطابق اختلافِ آراء فقہا کیے جائیں، کیا وہ نافذ العمل ہیں یا قابل استرداد؟
(۶) اسلامی فقہ کی کون سی معتبر کتاب ہے جس میں عدالت کو ’’عدالت‘‘ کے بجائے لڑکی یا لڑکے کی طرف سے وکیل مقرر کیا جا سکتا ہے؟
(۷) عدالت کی حیثیت قضاء قاضی کی ہے یا وکیل اور ثالث کی؟ اگر دوسری صورت ہے تو کسی معتبر اسلامی فقہ کی کتاب کا حوالہ تحریر فرما کر راہنمائی فرمائیں۔
(۸) آپ نے مدعیہ کے بیان اور دعویٰ کو خود سنا؟ پڑھا؟ کیا مفتی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ صورت مسئلہ کی تحقیق کے بغیر اور بشرطِ صحت سوال کی قید کے بغیر فتویٰ جاری فرما دے؟
(۹) کیا نفرت، بغض کے لیے فقہا نے شہادت پیش کرنے کا حکم دیا ہے؟ اگر دیا ہے تو نفرت ثابت کرنے کے لیے خاتون کا خاوند کے خلاف تنسیخ کا دعویٰ کافی ہے یا نفرت کے لیے گواہ پیش کرے؟
(۱۰) جناب مفتی صاحب ! مدعیہ نے ایک با اختیار عدالت کے سامنے دعویٰ دائر کیا، اس نے بیان دیا، اس نے الزامات لگائے۔ یہ الزامات غلط تھے تو مدعا علیہ اپنے جواب میں ان کی تردید کرتا اور گواہانِ صفائی پیش کرتا۔ کیا آپ نے عدالت میں پیش کیے جانے والے بیانات اور شہادتوں کی مصدقہ نقول ملاحظہ فرما کر فتویٰ صادر فرمایا؟ کیا آپ نے خاتون کے دعویٰ کی مصدقہ نقل منظور حسین سے طلب فرمائی تاکہ پتہ چلے کہ دعویٰ مباح کیا ہے؟ (دعویٰ کی متعدد اقسام ہے، آپ کو علم ہوگا، رویس)۔ ممکنہ ہے، مستحیلہ ہے، محرم ہے، قابل سماعت ہے بھی یا نہیں؟
(۱۱) شوہر نے جس تحریری بیان کے ذریعے مدعیہ کے الزامات کو مسترد کیا ہے، کیا وہ بیانات عدالتی تصدیق کے ساتھ آپ کے پاس موجود ہیں؟
(۱۲) اگر عورت بقول آپ کے راضی ہونے کے لیے تیار نہیں اور دونوں کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تو فرمائیے، شریعت میں اس کا کیا علاج ہے؟ جو خاتون بوجہ نفرت شوہر کے پاس نہ رہنا چاہے، کیا آپ اسے بندوق کے زور پر بسا سکتے ہیں؟ ’’حیلہ ناجزہ‘‘ مصنفہ مولانا اشرف علی تھانویؒ پڑھ لیں۔
(۱۳) خاوند نہ طلاق دے نہ خلع تسلیم کرے تو فرمائیے، نفرت کرنے والی عورت کو آپ اسلامی فقہ کے کون سے قاعدہ کے تحت آباد فرمائیں گے؟
(۱۴) آپ نے کیسے لکھ دیا کہ شرعی شہادت کے بغیر فیصلہ بیوی کے حق میں کر دیا جو شرعاً درست نہیں؟ رضامندی سے خلع کی ضرورت کیسے باقی رہ گئی جبکہ عدالت خود با اختیار ہے؟ بایں ہمہ لڑکا کہتا ہے کہ اگر میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو مجھے خلق کی بنیاد پر تفریق بین الزوجین پر کوئی اعتراض نہیں۔
(۱۵) عصمت اللہ صاحب ! جائیے اور تقی عثمانی صاحب سے پڑھوا لیں کہ:
On the other hand, the defendant stated that he wants to populate the plaintiff. However if the plaintiff does not want to live with him, he has got no objection upon dissolution of marrying on the basis of KHULA.
’’اگر مدعیہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اسے خلع کی بنیاد پر شادی ختم کرنے پر اعتراض نہیں‘‘۔
یہ جملہ کیا بتا رہا ہے اور اس کا فقہی مفہوم کیا ہے؟ جائیے مفتی تقی عثمانی صاحب سے راہ نمائی حاصل کریں کہ ’’مجھے کوئی اعتراض نہیں‘‘ کا مفہوم کیا ہوتا ہے؟ اور کیا یہ تسلیم خلع اور قبول ہے یا نہیں؟ مندرجہ بالا جملہ کے بغیر بھی عدالت کو فسخ کا اختیار حاصل ہے، لیکن بغرض بحث مان بھی لیا جائے کہ توکیل ضروری ہے تو ’’مجھے کوئی اعتراض نہیں‘‘ کا کیا مطلب ہے؟
شوہر کی رضامندی ظاہر ہے تو پھر خلع کا فیصلہ قبول کرنے میں آپ کو کیا دشواری ہے؟ آپ خود لکھتے ہیں کہ شوہر کی رضامندی ظاہر ہو رہی ہے۔
مفتی صاحب! آپ کی اپنی تحریر آپ کے خلاف جا رہی ہے۔ فیصلہ سے قبل رضامندی کی بنیاد پر عدالت نے فیصلہ کر دیا تو اب آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ’’شرعاً غیر معتبر ہے‘‘۔ ’’کہا جائے گا‘‘ کیا جملہ ہے، اس کی وضاحت فرمائیں۔
قاضی / جج وکیل ہوتے ہیں؟ اس کی دلیل درکار ہے۔ دلیل دیں، کس کتاب میں لکھا ہے کہ عدالتیں اپنے آپ کو وکیل بنائیں اور فیصلہ کرنے کے بجائے لوگوں کی وکالت کریں۔ خلع کے معتبر ہونے کے لیے کیا ضروری ہے اور کیا نہیں؟ آپ کا پورا فتویٰ بغیر حوالہ کے ہے۔ آپ نے فقہ حنفی کی معتبر کتب میں سے کسی کتاب کا کہیں بھی کوئی حوالہ نہیں دیا۔
’’یک طرفہ‘‘ کی تعریف کریں۔ اسے شرعی اصطلاح میں ’’قضاء علی الغائب‘‘ کہتے ہیں۔ کیا مدعا علیہ کا حاضر ہو کر عدالت میں جواب دعویٰ داخل کرنا، مقدمے کی پیروی کرنا قضاء علی الغائب ہے؟
مفتی صاحب! آپ عدالتی اصطلاحات سے ناواقف ہیں۔ ’’دارالعلوم‘‘ ایک بڑا ادارہ ہے۔ آپ کا فتویٰ قطعاً غلط ہے، بے بنیاد ہے، اس ادارے کے نام کو بٹہ نہ لگائیں۔
قضاءِ قاضی مُلْزَمْ ہے۔ کیا آپ نے غور فرمایا کہ ’’عقود‘‘ میں جہاں قاضی کو انشاء کے اختیارات حاصل ہیں، وہیں اسے فسخ کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔ قاضی تو والدین سے زیادہ اختیارات کا مالک ہے۔ پڑھیے ترمذی شریف۔ فان اشتجروا فالسلطان ولی من لا ولی لہ کا کیا مطلب ہے؟ قاضی کتنا با اختیار ہے، پڑھیے بدائع الصنائع، قاضی خان، البحر الرائق، مبسوط سرخسی، فتح القدیر، البنایہ، در مختار، رد مختار، محیط، برہانی۔
فالاصل ان قضا القاضی بشاھدی الزور و فی ما لہ ولایۃ الانشاء فی الجملۃ یفید الحل عند ابی حنیفۃ۔
اگر دو جھوٹے گواہ کسی راہ چلتی خاتون کے بارے میں گواہی دے دیں کہ مسٹر حمید نے عدالت میں دعویٰ کر دیا کہ سلمیٰ میری بیوی ہے، جبکہ حقیقت میں وہ اس کی بیوی نہ تھی۔ عدالت نے گواہ طلب کیے اور جھوٹے گواہوں نے گواہی دی کہ ہاں سلمیٰ اور حمید کا نکاح ہوا ہے تو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک سلمیٰ، حمید کے لیے بطور بیوی حلال ہے۔ قضاءً اور دیانۃً قاضی کا فیصلہ نافذ ہوگا۔ یہ مسئلہ احناف کا مشہور و معروف مسئلہ ہے کہ ھل ینفذ قضاء القاضی ظاھرًا وباطنًا۔ کیا قاضی کا فیصلہ عند اللہ اور اس دنیا میں دونوں طرح سے قابل عمل ہے یا نہیں؟ تو امام صاحب کا موقف تمام فقہ احناف میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جن امور میں قاضی کو ’’دلایت انشاء‘‘ حاصل ہے، ان میں قاضی کا فیصلہ ظاہراً و باطنًا نافذ ہوگا۔
مفتی عصمت اللہ صاحب! یہ ہیں قاضی کے اختیارات۔ فیصلہ زیر سماعت میں مسماۃ فائزہ کے الزامات کا جواب منظور حسین نے عدالت میں دیا ہے۔ خود حاضر ہوا، تردید کی کہ الزامات غلط ہیں۔ آپ اس کی تردید کو تسلیم کرتے ہیں، مگر اس کے اس جملے کو نظر انداز کر رہے ہیں: ’’اور اگر مدعیہ میرے ساتھ رہنے پر راضی نہیں تو مجھے بر بنائے خلع شادی کے خاتمے پر اعتراض نہیں‘‘۔
مفتی صاحب ! آپ بھی یک طرفہ ٹریفک چلا کر دارالعلوم کی ساکھ کو مجروح نہ کریں۔
قال ابوحنیفۃ : اذا حکم الحاکم بعقدا و فسخ او طلاقٍ نفذ حکمہ ظاھرًا و باطنًا۔
امام اعظمؒ نے فرمایا، جب حاکم کسی معاہدے کے ہونے یا ختم کرنے کا فیصلہ صادر کرے یا طلاق کا فیصلہ صادر کرے تو اس کا فیصلہ ظاہراً اور باطنًا نافذ ہوگا۔ (بدائع الصنائع، ۷؍۱۵۔ شرح فتح القدیر ۵؍۴۹۲۔ رد المحتار ۴؍۴۶۲۔ الفقہ الاسلامی، ۵۹۴۶)۔
حق تفریق قاضی کو حاصل ہے یا نہیں؟ ملاحظہ فرمائیں: مرد و عورت کافر تھے۔ عورت مسلمان ہوگئی، مرد نہ ہوا۔ اس پر اسلام پیش کیا جائے گا ۔ اگر وہ بالغ ہے تو اگر اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو قاضی تفریق کا حکم جاری کرے گا۔ خودبخود یا کسی مفتی کے فتوے سے نکاح ختم نہیں ہوگا، تفریق کا اختیار صرف عدالت کو ہے۔ (قاضی خان ۲۶۳ جلد ۳)۔
زوجان مسلمان ارتدا معا لم یقع الفرقۃ بینھما استحسانًا۔
دونوں مرتد ہوگئے تو ان کا نکاح پھر بھی برقرار رہے گا مگر استحسانًا۔ تاہم تفریق کی صورت میں انہیں قاضی کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔
ایلاء، لعان دونوں صورتوں میں تفریق فتوے کی بنیاد پر نہ ہوئی بلکہ قضاء قاضی ضروری ہے۔ جبکہ ایلاء خاوند نے کیا، تہمت خاوند نے لگائی مگر عدالت کے بغیر وہ آزاد نہیں ہو سکتی۔
طلاقِ مکرہ واقع ہے، کیا یہ امام ابوحنیفہؒ کا مسلک نہیں؟ شبانہ کے خاوند کے گلے پر چھری رکھ کر اسے کہا کہ بیوی چھوڑو یا جان دو۔ اس نے طلاق دے دی اور جان بچا لی تو امام صاحب کے ہاں طلاق واقع ہو جائے گی۔ فرمائیے، طلاق واقع ہوگئی؟ مگر کیا جبر سے بیع بھی ہوگی یا نہیں؟ جبر کے تحت کلمہ کفر سے بندہ کافر ہو جائے گا؟ ثلاث جدھن جدوھزلھن جد میں اکراہ کہاں سے داخل ہوگیا؟ رفع عن امتی الخطاء والنسیان و ما استکرھوا علیہ کا کیا مطلب ہے؟ اگر ہزل والی حدیث قابل عمل ہے تو اکراہ والی کیوں نہیں؟
اگر اکراہ سے آپ کے ہاں بیوی جدا ہو جاتی ہے تو ایک قانونی عدالت جسے حاکم وقت نے آئین پاکستان کے تحت قائم کیا ہے اور اس عدالت نے مدعیہ اور مدعا علیہ دونوں کے دلائل سنے، دونوں طرف سے رواج اور عدالتی ضرورت کے مطابق مدعیہ اور مدعا علیہ کے وکیل پیش ہوئے، اور عدالت نے فریقین کو بعد از سماعت اپنا فیصلہ سنا دیا جو کہ تفریق بالخلع ہے تو اس عدالتی حکم سے عدم وقوع طلاق کا فتویٰ کیسے درست ہے؟ پستول کی گولی یا چھری کے دباؤ سے آپ منکوحہ شبانہ کو غیر کے لیے آزادی دلواتے رہیں مگر عدالتی فیصلہ جسے عملاً مدعا علیہ منظور نے تسلیم کیا ہے، اسے آپ بچگانہ الفاظ کے ساتھ طفل تسلیاں دے کر ’’دارالعلوم‘‘ کے عظیم نام کو دھبہ لگاتے ہیں: ’’یہی کہا جائے گا کہ فیصلہ یک طرفہ ہے۔‘‘ یہ ’’جائے گا‘‘ مستقبل کا صیغہ ہے، اس کا مطلب بیان فرمائیے۔ شرعاً کیوں غیر معتبر ہے؟ دلیل دیں، آپ نے کوئی تفصیل اوپر نہیں بیان کی۔
اب منظور حسین کی اس درخواست پر تنقیحات ملاحظہ فرمائیں :
تنقیحاتِ بیان، منظور حسین:
(۱) آپ نے رخصتی کے لیے درخواست کی تو کیا آپ نے عدالت میں گواہ پیش نہیں کیے کہ رخصتی نہ کرنے میں افسر علی شاہ والد فائزہ قصور وار ہے؟
(۲) اگر آپ اصرار کرتے رہے ، وہ انکار کرتے رہے تو آپ نے فائزہ کو چھوڑ کر کسی دوسری لڑکی سے شادی کیوں کی؟ آپ کے دوسری لڑکی سے شادی کر لینا ہی اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ فائزہ کے الزامات درست تھے۔
(۳) کیا آپ نے عدالت کو بھی کہا کہ سارے الزامات غلط ہیں؟ اور میں قرآن پر ہاتھ رکھتا ہوں؟
(۴) اگر لڑکی نے یہ کہا ہے کہ مجھے مردوں سے نفرت ہوگئی ہے تو نفرت کو محبت میں نہ عدالت بدل سکتی ہے نہ ماں باپ۔ اس کا علاج صرف فسخ ہے جو عدالت نے کر دیا۔
(۵) آپ نے دوران سماعت مقدمہ محسوس کیا کہ عدالت صرف لڑکی کی بات سن رہی ہے، آپ کی بات نہیں سن رہی۔ ظاہر ہے یہ کھلی جانبداری ہے۔
(۶) جج صاحبہ نے اپنی طرف سے لکھ دیاکہ مجھے خلع کی بنا پر تفریق میں کوئی اعتراض نہیں۔
محترم! ان باتوں کا جواب درکار ہے کہ معزز عدالت نے آپ کو سنا نہیں، اس نے اپنی طرف سے آپ کی طرف کچھ الفاظ منسوب کیے۔ لڑکی جھوٹی ہے، آپ سچے ہیں۔ آپ کے خلاف بربنائے خلع فیصلہ عدالت غلط ہے۔ آپ مفتیوں کے پاس گھومنے کے بجائے اس فیصلے کے خلاف اس عدالت سے اعلیٰ عدالت میں کیوں نہیں گئے جو کہ اصلی جائے اپیل ہے؟ سینئر سول جج کے فیصلہ کے خلاف مندرجہ ذیل Proper Forum (اصلی داد رسی کی جگہ) ہیں:
سینئر سول جج کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ، ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ، اور شرعی مقدمات کے لیے شریعت کورٹ/ وفاقی شرعی عدالت/اپلیٹ بینچ، اسلامی نظریاتی کونسل۔ مگر افسوس کہ آپ اس فیصلہ کے خلاف کسی بھی ایسے ادارے میں جانے سے گھبراتے ہیں جہاں صحیح طریقے سے مقدمے کی چھان بین ہو۔ آپ رقعہ بدست ’’لقمان شاہ‘‘ ارسال فرما کر عدالتی فیصلہ منسوخ نہیں کروا سکتے۔ عزیزم! یہ Love Letter نہیں، عدالت کا فیصلہ ہے۔ تعویز گنڈا نہیں۔
خلاصہ:
مفتی عصمت اللہ صاحب نے بدون تحقیق فتویٰ صادر فرمایا ہے اور بنوری ٹاؤن والوں نے دارالعلوم کی مہر دیکھ کر مہر لگا دی ہے۔ جامعہ فاروقیہ نے بھی یہی وطیرہ اپنایا ہے۔ اتنے بڑے ادارے کی مہر اس بے دردی سے استعمال کرنا ’’جسارت‘‘ ہے۔ میں جناب تقی عثمانی صاحب کو بھی خط لکھ رہا ہوں۔
میرا فتویٰ یہ ہے کہ:
(۱) فائزہ کا نکاح ختم ہوگیا ہے۔ البتہ اگر اس نے مہر وصول کر لیا تو وہ رقم منظور کو واپس کرے۔ نہیں وصول کیا تو نہ خاوند کا کچھ دینا ہے نہ فائزہ نے لینا ہے۔
(۲) یہ تنسیخ طلاق بائن کے حکم میں ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ: (الف) فائزہ جہاں چاہے، جب چاہے، جس سے چاہے، شادی کر سکتی ہے۔ کسی عدت کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ غیر مدخولہ بہا ہے۔ (ب) ہاں، اگر فائزہ منظور سے صلح کرنا چاہے تو تجدید نکاح کے بعد دوبارہ منظور کے عقد میں جا سکتی ہے۔
قانونی مشورہ، افسر علی شاہ / فائزہ:
منظور نے عدالت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے عدم اعتراض کے الفاظ از خود لکھے ہیں۔ آپ اس عدالت میں درخواست توہین عدالت دائر کر دیں۔ کراچی کے فتویٰ کے خلاف بھی توہین عدالت کا نوٹس مفتی عصمت اللہ صاحب، مفتی ابراہیم صاحب، سعید الرحمن صاحب، انعام الحق صاحب کو بھجوا دیں۔ مجھے بھی نوٹس بھجوا دیں، میں بھی دلائل دینے کے لیے تیار ہوں۔
والسلام
قاضی محمد رویس خان ایوبی
ریٹائرڈ مفتی ریاست جموں و کشمیر
مدیر دار الافتاء میر پور آزاد کشمیر
3 فروری 2014ء
فتویٰ کے حوالہ جات:
فقہ السنہ جلد ۲، ص ۲۴۶، ۲۴۸، ۲۴۹۔
قانون فسخ ازواج ۱۹۲۔ ۱۹۲۹۔ دفعہ نمبر 6
مصری قانون (7) (8)
پاکستان فیملی لاز، ایکٹ 1964ء ۔ دفعہ 10/4
آپ کے مسائل اور ان کا حل از مولانا لدھیانوی، جلد ۶، ص ۱۰۷
فتح القدیر، البنایۃ، البحر الرائق، رد المحتار، در مختار، محیط برہانی، قاضی خان، بدائع الصنائع۔
غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور جناب زاہد صدیق مغل کا نقد (۱)
احمد بلال
محمد زاہد صدیق مغل صاحب دین اسلام پر تدبر کی نگاہ رکھنے والے ایک بالغ نظر دانشور ہیں۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور مدرِّس ہیں اور ان دنوں NUST اسلام آباد کے شعبہ معاشیات میں معاون پروفیسر ہیں۔ انہوں نے غامدی صاحب کے جوابی بیانیہ کے کچھ نکات پر اپنے مفصل اعتراضات و سوالات دو اقساط میں اسی مجلہ میں شائع کیے ہیں، جس کی پہلی قسط اپریل کے شمارہ میں چھپی تھی اور دوسری مئی کے شمارے میں۔ میرے نزدیک ان جیسے ذہین لوگوں کی اس بیانیے کی بحث میں شرکت خوش آئند اور عقدہ کشائی کو سود مند ہو گی۔
میں اگرچہ نہ تو معروف معنی میں غامدی صاحب کا شاگرد ہوں اور نہ ہی المورِد سے میرا کوئی تعلق ہے، مگر چونکہ ایک فکر مند مسلمان ہوں اور غامدی صاحب کے جوابی بیانیے کو درست ہی نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کو درپیش سب نہیں تو اکثر امراض کے لیے اکسیرِ اعظم سمجھتا ہوں، اس لیے جتنی تنقیدات بھی سامنے آ رہی ہیں، ان کے جوابات دینے میں غایت درجہ دلچسپی رکھتا ہوں۔ یہ جوابات میں اس لیے دے رہا ہوں کہ اگرچہ میں نے غامدی صاحب کے اٹھائے گئے تمام نکات کی حقانیت پر چھان پھٹک کے بعد تسلی حاصل کر لی ہے، مگر میں اس امکان کو ہمیشہ قرین قیاس سمجھتا ہوں کہ علما اور دانشوروں کی جانب سے کوئی ایسا وقیع استدلال سامنے آ جائے گا جو شاید کسی غلطی کی نشاندہی کر دے اور پس اس مشق سے جوابی بیانیے کو نِک سْک درست کر نے کا موقع مل جائے گا۔ میں اپنے پروردگار سے امید رکھتا ہوں کہ حق کی اس تلاش میں وہ مجھے ضرور کامیاب کریں گے۔
زاہد صاحب کے نقد سے میرا عمومی احساس یہ ہے کہ زیادہ تر سوال جو انہوں نے اٹھائے ہیں، وہ سوءِ فہم کے عکاس ہیں۔ یعنی وہ غامدی صاحب کے مؤقف کو ٹھیک نہ سمجھ سکنے کا نتیجہ ہیں۔ نیز، کچھ ایسے نکات کو بھی انہوں نے موضوعِ بحث بنایا ہے جو غامدی صاحب نے نہیں بلکہ اور لوگوں نے اٹھائے ہیں۔ چنانچہ اس مضمون میں زاہد صاحب کے وہ اعتراضات موضوعِ بحث ہیں جو دینی و علمی ہیں اور غامدی صاحب کے کسی استدلال کو ہدف بناتے ہیں۔
زاہد صاحب کے ان مضامین پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے ہی سے قاری کو بلا تامل اس حقیقت کا احساس ہو جاتا ہے کہ ان کے زیادہ تر اعتراضات عالمی سیاسی و تمدنی حالات یا فلسفہ سیاست کے تناظر میں ہیں نہ کہ شرعی نصوص کے، جو انہوں نے شاذ ہی کہیں پیش فرمائے ہیں۔ مجھے غامدی صاحب کی طرف سے اکثر یہ تلقین رہتی ہے کہ ناقدین کے صرف شرعی نکات پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ مگر میں نے اس جوابی مضمون میں ان کے تقریباً سارے ہی اعتراضات کے جوابات لکھ دیے ہیں۔ یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ میرا تجربہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں کو کوئی بات سمجھ میں نہ آنے کی اصل وجہ اکثر اس بات کی کوئی خلقی نامعقولیت نہیں ہوتی، بلکہ کوئی ایسی "گرہ" ہوتی ہے جو کہیں اور لگی ہوتی ہے، اور اگر اسے کھول دیا جائے تو کہیں اور ادراک میں تسہیل ہو جاتی ہے۔ اسی امید پر میں نے یہ کاوش کی ہے۔ ورنہ یہ حقیقت ہے کہ غامدی صاحب کے تمام نکات خالص شرعی نوعیت کے تھے ،جن کا ابطال سوائے شرعی نصوص کے کسی خارجی دلیل سے ممکن نہیں۔
آئیے زاہد صاحب کی قابل قدر کاوش کے جوابات فرداً فرداً ملاحظہ کرتے ہیں۔
تنقیدات و جوابات:
i۔خلاصہ تنقید: شق نمبر 1 کے مطابق (جہاں تک میں سمجھا ہوں) غامدی صاحب مسلمانوں کو یونانی طرز کی ’’براہ راست‘‘ جمہوریت اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یعنی لوگوں کی جو بھی اجتماعی رائے ہو، وہ اسے اختیار کرنے میں آزاد ہوں۔ فلسفہ سیاست کی زبان میں دراصل وہ یہ بات کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ معاشرے کے اندر کوئی بھی ’’جنرل ول‘‘ (General Will) نہیں ہونی چاہیے کہ جس کی پابندی بطور قانون لازمی سمجھی جائے۔ نیز ول آف آل (Will of All)بھی جس کی پابند ہو، بلکہ معاشرے میں جو بھی ہو، وہ ’’ول آف آل‘‘ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اگر اس بارے میں غامدی صاحب کا مؤقف صحیح سمجھا گیا ہے تو اس پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
جواب: بصد احترام ، مؤقف کو صحیح نہیں سمجھا گیا۔ نہ غامدی صاحب نے کہیں یونانی طرز کی جمہوریت کے رجحان کی طرف اشارہ کیا ہے اور نہ ہی جنرل ول (General Will) کی کہیں نفی کی ہے۔ جمہوریت کی کسی خاص شکل کی بحث یا اس کی تائید و تنکیر کرنا تو سرے سے ان کے پیش نظر ہی نہیں۔ وہ تو بس جو صورت اس وقت پاکستان اور دیگر قومی ریاستوں میں حاضر و موجود ہے اور تسلیم شدہ ہے، اسی پر کلام کر رہے ہیں۔ ان کے کلام کا مدعا یہ ہے کہ پاکستانی ریاست کی جو بھی موجودہ نوعیت ہے، اس کے حساب سے کون سی وہ اصولی آئینی شقیں ہیں جو عدل و انصاف کے تقاضوں کے منافی یا شرعی اعتبار سے بھی غیر ضروری ہیں۔ یہ بات تو واضح ہے کہ غامدی صاحب نے ان مبینہ باتوں کا دعوی بالصراحت کہیں نہیں کیا۔ پس یقیناًیہ مغالطہ صاحبِ مضمون کو کسی عبارت کی ناقص تفہیم سے لگا ہے۔ میرے اندازے کے مطابق شاید جہاں غامدی صاحب موجودہ دور کی قومی ریاستوں کو مذہبی تشخص دینے کے لیے منظور کی گئی آئینی دستاویزات پر تنقید کر رہے ہیں، وہاں جناب زاہد صاحب نے یہ سمجھا ہے کہ ’’General Will‘‘ کی ہی نفی کی جا رہی ہے۔ حالانکہ وہ فقط یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’کچھ‘‘ اقدامات اصولاً غلط ہیں، چاہے انہیں اکثریت کی تائید ہی کیوں نہ حاصل ہو۔ کوئی ریاست General Will سے چلے یا Will of Allسے، غامدی صاحب کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ نتیجتاً، اس کے بعد کچھ سوال جو صاحب مضمون نے اس مفروضے کو درست مان کر اٹھائے ہیں، وہ تو ظاہر ہے بے بنیاد ہو جاتے ہیں۔ تاہم، وہ سوال جو اس مفروضے کے بغیر بھی قائم رہ سکتے ہیں، انہیں میں نے شامل گفتگو ہی رکھا ہے۔
ii۔ خلاصہ تنقید: غامدی صاحب کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کا کوئی بھی مؤقف (سیکولر، سوشلسٹ، ہندومت، اسلام وغیرہ) نہیں ہونا چاہیے، اسے ’’نیوٹرل‘‘ (معلوم نہیں یہ کس بلا کا نام ہے)ہونا چاہیے۔
جواب: اگرچہ صاحبِ مضمون کا یہ دعوی کہ ’’ معلوم نہیں یہ کس بلا کا نام ہے ‘‘ ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے، کیونکہ جانبداری ایک محتاجِ بیان شے ہوتی ہے نہ کہ غیر جانبداری، کہ وہ تو بالکل بدیہی ہوتی ہے، مگر یہ امکان بھی بہر حال موجود ہے کہ انہیں واقعتا یہ تصور سمجھ میں نہ آسکا ہو۔ اس لیے میں یہاں ایک سعی اس مقصد کی خاطر کیے دیتا ہوں۔ تاہم، اس سے پہلے یہ وضاحت قارئین کے سامنے رہنی چاہیے کہ غامدی صاحب نے نیوٹرل کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ ان کا مؤقف تو یہ ہے کہ خالص جمہوری ریاست کے لیے اس طرح کے تعینات "غیر متعلق" ہو جاتے ہیں۔ بہر حال غیر جانبداری کے تصور کو میں صاحب مضمون کی خدمت میں پیش کیے دیتا ہوں: ریاست کے مذہب سے تعلق کا ایک زاویہ یہ ہے کہ کیا قرآن نے ریاست کو بھی مشرف بہ اسلام کرنے کا کوئی حکم صادر کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن افراد کو مخاطب کرتا ہے اور انہیں ہی ان کی مختلف حیثیتوں میں دین کا پابند بناتا ہے۔ وہ نہ تو یہ تجویز کرتا ہے اور نہ ہی اس کا حکم دیتا ہے کہ اپنے تمام جوارح، اداروں اور مکانات و مقامات کو بھی اس طرح کے تعینات دیے جائیں کہ وہ مسلم ہیں کہ نہیں۔ یہ وہ زاویہ ہے جس سے شرعی اعتبار سے یہ تعین غیر ضروری ہو جا تا ہے۔ دوسرا زاویہ اہم تر ہے۔ وہ یہ کہ چونکہ موجودہ دور کی ریاستوں میں کوئی حاکم و محکوم نہیں بلکہ سب برابر کے شہری ہیں، اس لیے ریاست کے مذہبی تشخص کے بارے میں کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کو یک طرفہ فیصلے کا کوئی حق نہیں (صرف تشخص کی بات ہو رہی ہے، اس لیے لادینیت سے ملتبس نہ کرنا چاہیے)۔ وہ چاہے غالب اکثریت ہی کیوں نہ رکھتے ہوں، ریاست کے تشخص جیسے جزوِ لا ینفک اور سب کی مشترک میراث کے بارے میں سب مذاہب کے ماننے والوں کے اتفاقِ کلی کے محتاج ہیں۔ بصورتِ دیگر، وہ حق تلفی کے مرتکب ہوں گے۔ پھر اس تعین کے نتیجے میں انہیں دوسرے درجے کا شہری بھی آپ سے آپ بنا ڈالا گیا ہے، درآنحالیکہ وہ برابر کے شہری تھے۔ یہ ہیں وہ دو زاویے جن کے تحت موجودہ دور کی ریاستیں تشخص کے اعتبار سے غیر جانبدار ہی رہنی چاہئیں اور اس پر شریعت کو کوئی اعتراض بھی نہیں۔ تاہم، کسی تعین میں اس آخری زاویے کو منہا کر کے اگر ریاست کے تشخص کا اظہار کر بھی دیا جائے تو اس پر عدمِ ضرورت کے علاوہ کوئی فتویٰ نہیں دیا جا سکتا۔ ہاں، دوسرا زاویہ اسے نا انصافی کے زمرے میں لے آئے گا۔ محترم زاہد صاحب سے گزارش ہے کہ ماضی اور دورِ حاضر کی ریاستوں میں جو فرق ہے، اسے سمجھنے کے لیے اور ریاست اور حکومت میں جو تقسیم ہے، اسے بھی مد نظر رکھنے کے لیے، غامدی صاحب کا توضیحی مضمون "ریاست اور حکومت" ضرور دیکھ لیجیے تا کہ دیگر ناقدین کی طرح خلط مبحث میں مبتلا نہ ہوں۔
iii۔ خلاصہ تنقید: غامدی صاحب آئین میں چند اسلامی شقیں شامل کر دینے میں اگر یہ مسئلہ دیکھتے ہیں کہ ’’چاہے پاکستان کے لوگوں کا اجتماعی ارادہ کچھ بھی کیوں نہ ہو، اس طرح تو گویا ریاست ابدالآباد تک کے لیے مسلمان ہو جائے گی‘‘ (اور انہیں دراصل یہی علمی خدشہ لاحق ہے)، تو ان کا یہ استدلال خود ان کی اپنی منطق پر پورا نہیں اترتا۔ اگر کل کو پاکستان کی غالب اکثریت غیر مسلم ہو جائے تو وہ آئین میں تبدیلی کر کے ان شقوں کو نکال باہر کرے (اور ہمارے لبرل طبقے کیا اس کوشش میں مصروف نہیں؟) اس سب میں ان کے اپنے اصول کے مطابق مسئلہ کیا اور کہاں ہے؟
جواب: یہ نکتہ بھی صحیح نہیں سمجھا گیا۔ نہ غامدی صاحب کو ایسا کوئی علمی ’’خدشہ‘‘ لاحق ہے اور نہ ہی اسے خدشہ کہنا مناسب ہے۔ غامدی صاحب نے اپنے پہلے ہی مقالے میں ذمہ داریوں کی ایک پوری فہرست مرتب کر دی ہے جو شریعت نے حکمرانوں پر عائد کی ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ناقدین اس فہرست کو شامل عناصر کیوں نہیں کرتے۔ خیر، عوامی نمائندگان ان ذمہ داریوں میں سے جتنی کو آئینی شقوں میں تبدیل کر کے قانوناً بھی اپنے اوپر لازم کرنا چاہیں تو اس میں کیا حرج ہو سکتا ہے۔ مگر یہ نہیں ہو سکتا، اور جو ہمارے آئین میں کر دیا گیا ہے، کہ ہم اپنے مذہبی تصورات کو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے لیے بھی لازمی کر دیں۔ اس دور کی قومی ریاستیں جس طرح وجود پذیر ہوئی ہیں اور ان کی جو اصولی نوعیت ہے، اس کے تحت چونکہ نہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے ہمارے غلام، نہ ہی ذمی اور نہ ہی معاہد ہیں، اس لیے ہم ان کو اپنے دینی تصورات کا پابند نہیں کر سکتے۔ علم و عقل کا یہی فتویٰ ہے اور ہمارا دین بھی ہمیں جس عدل و انصاف کا پابند کرتا ہے ہم سے یہی تقاضا کرتا ہے۔ اس کے مقابل میں یا تو یہ دلیل پیش کی جائے کہ ہمارے دین کا مؤقف یہ نہیں یا یہ کہا جائے کہ موجودہ دور کی ریاستوں کی یہ نوعیت نہیں۔ ان دو شاہراہوں کے علاوہ کوئی پگڈنڈی ایسی نہیں جس سے غامدی صاحب کی دکھائی گئی منزل سے اجتناب کیا جا سکے۔
iv۔ خلاصہ تنقید: اگر کہا جائے کہ ’’امرھم شوریٰ بینھم‘‘ کا اصول از روئے قرآن مسلمانوں پر لازم ہے تو یہ کہنا خود ریاست کو ایک مذہبی بنیاد پر ہی استوار کرنا ہوا۔ آخر ایک ’’اصولاً نیوٹرل‘‘ اسٹیٹ سٹرکچر کو ایک مذہبی استدلال کا پابند کیونکر بنانا درست ہے؟ اس نیوٹرل سٹیٹ سے قرآن کی آیت کی بنیاد پر یہ مطالبہ چہ معنی دارد؟
جواب: ’’امرھم شوریٰ بینھم‘‘ کا اصول ’’اسٹیٹ سٹرکچر‘‘ پر نہیں، ’’مسلمانوں‘‘ پر لازم ہے۔ اور یہ لزوم قانونی نہیں، دینی و اخلاقی ہے۔ یہ اسی طرح کا شرعی لزوم ہے جس طرح کہ مثال کے طور پر روزہ، حج، صداقت گوئی، پاسداریِ معاہدات، عدل و انصاف وغیرہ کا۔ یعنی اگر مسلمان اس کی پابندی نہیں کریں گے تو وہ اللہ کے حضور جوابدہ ہوں گے۔ اس لیے ہم مسلمانوں پر لازم ہے کہ ریاست کے نظام کو اسی اصول کے تحت چلانے کے علم بردار بنیں۔
v۔ خلاصہ تنقید: کیا کلمہ پڑھنے کا عمل ’’بذاتِ خود‘‘ ایک فرد کے لیے یہ لازم نہیں کرتا کہ وہ ’’اصولاً‘‘ یہ اقرار کرنے کا پابند ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اس پر لازم ہے؟ اگر کلمہ پڑھنے کے بعد وہ یہ ’’اصولی‘‘ رائے رکھے کہ خدا کی بات ماننا مجھ پر تب لازم ہے جب میرا دل کرے گا ورنہ نہیں، تو کیا وہ ’’واقعی‘‘ مسلمان ہے؟ تو اگر ایک کلمہ گو فرد کے لیے اس اصولی اقرار کا اظہار لازم ہے تو آخر ان کروڑوں کلمہ گو مسلمانوں کی ’’مجموعی رائے‘‘ کے لیے یہ اقرار کیوں لازم نہیں؟ تو اِن کلمہ گو انسانوں نے جس خطے میں اپنی اجتماعی رائے کا اظہار کرنا ہو، اگر وہاں وہ اپنے لیے اس لازمی اصولی اقرار کا اقرار کریں تو اس میں مسئلہ کیا ہے؟ کیا اس معاملے میں وہ کوئی دوسری چوائس بھی محفوظ رکھتے ہیں؟
جواب: اوپر بیان کی گئی توضیح کے بعد اس نکتے کے علیحدہ جواب کی چنداں حاجت نہیں، کیونکہ جس طرح شریعت کے واجبات فرد پر ہیں، اسی طرح حکمرانوں پہ بھی ہیں۔ وہ اگر ان اقراروں کو کسی قانونی دستاویز میں درج کرنا چاہیں تو شوق سے کریں، بس اس تخصیص کے ساتھ کہ ایسے تمام اقرار یا ان کے نتائج مسلمانوں تک ہی محدود رہیں۔ غیر مسلموں پر انہیں لاگو کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ مگر یہ باتیں تو اوپر کی بحث سے ہی واضح تھیں۔ میں نے اس نکتے کو اور وجہ سے نقل کیا ہے۔ ایک تو اس لیے کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ اس طرح کے اقرار فرد پر یا مسلمانوں کی ’’مجموعی رائے‘‘ پر قانون کی طاقت سے لازم کیے جا سکتے ہیں ،یا لازم کر دینا ضروری ہیں، یا ان کا مطالبہ ہی درست ہے۔ نہ کسی فرد کو یہ اقرار کرنے کا پابند کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی جماعت کو۔ یہ معاملات دعوت و نصیحت سے متعلق ہیں اور ان کی جوابدہی اللہ ہی کریں گے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ صاحبِ مضمون نے اس اقرار کی بنیاد پر یہ جو تفریق مسلمان اور ’’واقعی‘‘ مسلمان میں کی ہے، اور پھر اس کے نتیجے میں اسے ’’کافر‘‘ تک جا پہنچایا ہے، یہ لائق اصلاح ہے۔ نہ تو مسلمانوں سے شہادت، نماز اور زکوٰۃ کے علاوہ کوئی ایجابی مطالبہ قانون کی طاقت سے کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی اس عالمِ واقعہ میں کسی اور اقرار کا انہیں پابند۔ یہ مسلمان اور ’’واقعی‘‘ مسلمان کی تفریق ہی وہ عقیدہ ہے جس کو بنیاد بنا کر تکفیری جماعتیں مسلمانوں کو ’’واقعی‘‘ مسلمان نہ گردانتے ہوئے قتل کرنے کے لیے دلیل پکڑتی ہیں۔ درانحالیکہ، مسلمان اور واقعی مسلمان میں فرق اس دنیا کی چیز ہی نہیں؛ اگلی دنیا کی چیز ہے۔ اس لیے محترم زاہد صاحب سے گزارش ہے کہ صاحبانِ علم کو، خصوصاً اس دور میں، اپنے الفاظ کے چناؤ میں بہت محتاط ہونا چاہیے۔
vi۔ خلاصہ تنقید: یہ تو بالکل بدیہی بات ہے کہ ’’قرآن و سنت کے خلاف قانون نہ بنانے‘‘ کا قانون دراصل ’’امرھم شوریٰ بینھم‘‘ کے استدلال سے مقدم ہے۔ ’’بنیاد‘‘ کے لکھے جانے پر تو اعتراض (کہ اس سے تو ریاست مسلمان ہو گئی) مگر اس بنیاد سے نکلنے والے جزئیے پر خود ہی اصرار! آخر یہ اصرار کس بنیاد پر؟
جواب: اعتراض اس فعل پہ نہیں کہ بنیاد آئین میں لکھ دی گئی، بلکہ اس پہ ہے کہ اسے غیر مسلموں پر بھی نافذ کر دیا گیا۔ ویسے ایسی بنیادیں آئین میں درج کر دینا بس ایک علامتی حیثیت ہی کی حامل ہوتی ہیں۔ اگر اس سے کوئی قانونی اطلاقات مراد لینے ہوں تو اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کہیں اس کے نتیجے میں پارلیمان کے علاوہ کسی اور کو بالا دستی تو حاصل نہ ہو جائے گی؟ کیونکہ کہنے کو تو یہ اللہ اور رسول کی بالا دستی نظر آتی ہے، مگر بالفعل طبقہ علما کی بالا دستی سے عبارت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ان دساتیر کے بعد یہ مطالبہ علما کی جانب سے کئی مرتبہ سامنے آ چکا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل سفارشات نہیں بلکہ احکامات دینے کی مجاز ہونی چاہیے۔
vii۔ خلاصہ تنقید: پھر دیکھنا یہ بھی ہے کہ خود اللہ کے رسول نیز ان کے جانشینوں نے بھی کیا یونانی طرز کی براہ راست جمہوریت قائم کی تھی؟ وہ جو اس رسول کے جانشین بنے کیا ان کا پہلا خطبہ اسی قسم کی جمہوریت کا پالیسی ڈاکومنٹ ہے؟ سنیے وہ کیا کہتے ہیں: ’’لوگو میری اطاعت کرو، جب تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی اطاعت کروں۔‘‘ یہ کیا یونانی جمہوریت کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا؟ کیا انہوں نے یہ کہا کہ ’’لوگو میں تو بس ازروئے قرآن کرنے کا پابند ہوں جو تم سب کی اجتماعی خواہش ہو گی، چاہے وہ جو بھی ہو‘‘؟
جواب: (’’یونانی طرز کی براہ راست ‘‘ سے صرفِ نظر کرتے ہوئے کہ یہ تو غامدی صاحب نے کہا نہیں) اللہ کے رسول دنیا پر اللہ کی حجت تمام کرنے کے لیے آتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ارض و سما سے یا ان کے ماننے والوں کے ہاتھوں سے منکرین پر عذاب آتا ہے۔ وہ اپنے تمام اہم سیاسی معاملات میں براہ راست خدا کی جانب سے ہدایات پا رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی حکومتی ذمہ داریوں کے لیے اللہ کی ہدایات کے سوا کسی چیز کے پابند نہیں ہوتے۔ وہ اکیلے ہی ہادی، حاکم، قاضی اور سپہ سالار وغیرہ ہوتے ہیں۔ اور اگر ان حیثیتوں میں سے کسی میں ادنی درجے میں بھی لغزش کرتے یا اس کا ارادہ بھی کرتے ہیں تو براہ راست خدا کی طرف سے ٹوک دیے جاتے ہیں۔ ان کے طرزِ حکومت میں اور عام انسانوں کے طرزِ حکومت میں یہ جوہری فرق ہوتا ہے۔ تاہم، اس فرق کے باوجود، چند معاملات جن میں وحی نے براہ راست فیصلہ کر دیا، اللہ کے رسول نے ہمیشہ جمہوری اقدار کی پاسداری کی اور لوگوں سے متعلق تمام معاملات انہی کے نمائندوں کے مشوروں سے چلائے۔ رہی بات ان کے جانشینوں یعنی خلفاءِ راشدین کی، تو ان کی حکومتیں قائم بھی جمہوری طریقوں سے ہوئیں اور انہیں چلایا بھی جمہوری طریقوں سے گیا۔ رہا وہ اقتباس جو محترم زاہد صاحب نے خلفاءِ راشدین کے خطبوں سے نقل فرمایا ہے، تو وہ تو حرف بہ حرف قرآن کے حکم (4:59) کا عکاس ہے۔ مسلم حکمرانوں کی اطاعت اسی سے مشروط ہے اور یہی غامدی صاحب کا صریح مؤقف بھی ہے۔ مگر میں سمجھ نہیں سکا کہ اس کو نظامِ جمہوریت کی نفی کے لیے کیسے استعمال کر لیا گیا ہے۔ نظامِ جمہوریت تو خود قرآن سے ثابت ہے۔ میری محترم زاہد صاحب سے التماس ہے کہ اگر اس اقتباس سے کسی طرح جمہوریت کی نفی ہو رہی ہے تو براہِ مہربانی اپنے استشہاد کو واضح فرمائیے۔
viii۔ خلاصہ تنقید: یہاں اقلیتوں کے ساتھ دھوکے کا استدلال سمجھ سے بالا تر ہے۔ کیا ہم نے بارہا اپنے جلسوں اور نعروں میں یہ بات بالکل واضح نہ کر دی تھی کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الّا اللہ‘‘؟ کیا اقلیتوں کو اس سے معلوم نہ ہوا تھا کہ پاکستان میں کیا ہو گا؟ تو ان سے دھوکا کس بات کا؟
جواب: ’’دھوکے‘‘ کا لفظ غامدی صاحب نے تو استعمال نہیں کیا۔ ہاں انہوں نے اسے تحکم اور استبداد کہا ہے، جس پر ظاہر ہے کہ پہلے سے پتہ ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نا انصافی، ناانصافی ہی رہتی ہے۔ رہی یہ بات کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘ کے نعروں سے انہیں سمجھ جانا چاہیے تھا تو یہ استدلال بھی حد درجہ کمزور ہے۔ اول تو اس لیے کہ ایسے نازک معاملات میں قائدین سے بالمشافہ سرکاری ملاقاتوں میں طے پانے والے سمجھوتے اور یقین دہانیاں فیصلہ کن ہوتی ہیں، نہ کہ سیاسی نعروں سے استنباط۔ اور قائد اعظم کی تقریر کا حوالہ اور ان کے وعدے تو غامدی صاحب بیان کر ہی چکے ہیں۔ دوم اس لیے کہ اس نعرے سے تو عین ممکن ہے کہ غیر مسلم یہ سمجھے ہوں کہ چونکہ مسلمان اپنے دین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا عزم باندھ رہے ہیں اور ان کا دین انہیں عدل و انصاف کا پابند کرتا ہے اس لیے یہ یقیناًعدل کریں گے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ اکثریت کے جس تحکم سے بچنے کے لیے وہ علیحدہ وطن مانگ رہے ہیں، اسی استبداد کا مظاہرہ آزادی کے بعد خود دوسروں کے حق میں کر دیں گے۔
ix۔ خلاصہ تنقید: عالمی معاہدوں کی دلیل پر قراردادِ مقاصد کو معاہدہ شکنی پر محمول کر کے اسے خلاف اسلام قرار دینا (کہ اسلام معاہدہ شکنی کی ممانعت کرتا ہے) بھی ایک کمزور استدلال ہے۔ ان حضرات سے سوال ہے کہ اس عالمی معاہدے کی وہ کونسی ’’قطعی الدّلالت‘‘ شق ہے جس کی صریح دلالت کے مطابق پاکستانیوں کو قراردادِ مقاصد پاس کرانے کا حق نہیں تھا؟
جواب: یہ دلیل بھی غامدی صاحب کی نہیں۔ یہاں نقل کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ قارئین مطلع رہیں کہ یہ ان کا مؤقف نہیں۔
x۔ خلاصہ تنقید: ان حضرات کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قسم کی آئینی شقوں سے مذہبی اقلیتوں پر ظلم کا معاشرتی دروازہ کھلتا ہے۔ مگر یہ سمجھنا درست نہیں کہ ہمارے ملک میں اگر مذہبی اقلیت کے ساتھ کہیں کوئی ناروا سلوک روا رکھ لیا جاتا ہے تو اس کی وجہ آئین میں انہیں اقلیت ڈکلیئر کر دیا جانا ہے۔ اس آئین کی رو سے زیادہ سے زیادہ ان مذہبی اقلیتوں کو صدر یا وزیر اعظم بن سکنے کا حق نہیں، مگر پاکستان کی آبادی میں ان مذہبی اقلیتوں کا تناسب سامنے رکھتے ہوئے یہ بات با آسانی سمجھی جا سکتی ہے کہ انہیں یہ حق نہ دیا جانا کوئی ایسا حق نہیں ہے جو عملاً ممکن تو ہو، مگر صرف آئین میں اجازت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی غیر مسلم صدر یا وزیر اعظم نہیں بن پا رہا۔
جواب: صاحب مضمون نے کچھ الفاظ کے فرق سے غامدی صاحب کا مؤقف تو شاید ٹھیک ہی بیان کر دیا ہے، مگر نہ جانے جواب ایک مختلف فرضی سوال کا کیوں دے دیا ہے۔ وہ سوال غالباً یہ ہے کہ ’’کیا غیر مسلم اقلیتوں پر ہونے والے سب مظالم کی وجہ آئین میں ان کا اقلیت ڈکلیئر کیا جانا ہے؟‘‘ ظاہر ہے یہ تو سرے سے سوال ہی نہیں تھا۔ رہی یہ بات کہ چونکہ اقلیتوں کا صدر اور وزیر اعظم بننا بالفعل ممکن نہیں، اس لیے اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ آئین میں ان سے یہ حق چھین لیا جائے، تو یہ بھی لائقِ تصحیح خیال ہے۔ موجودہ دور کی ریاستوں میں رنگ، نسل، زبان یا مذہب وغیرہ کی بنیاد پر اس طرح کی قانون سازی اصولاً غلط ہے، اور انسانوں کا مجموعی شعور اس کے خلاف فیصلہ دے چکا ہے۔ تاہم، یہ دعویٰ کہ آئین میں درجہ دوم کی شہریت بس صدر اور وزیر اعظم بننے سے روکتی ہے، کمال سادگی کا مظہر ہے۔ میرے خیال سے اس دعوے کی حقیقت قارئین خود ہی جانتے ہیں، کچھ محتاجِ بیان نہیں۔
xi۔ خلاصہ تنقید: متبادل بیانیے کو سپورٹ کرنے والے بعض اہل علم کا یہ استدلال بھی ہے کہ میثاقِ مدینہ میں شامل مسلمانوں سمیت تمام گروہوں کو ’’ایک امت یا ایک قوم‘‘ قرار دے کر مساوی حقوق عطا کیے گئے تھے؛ جبکہ آئینِ پاکستان میں اسلامی شقوں کی رو سے غیر مسلمین منطقی طور پر اقلیت قرار پاتے ہیں جو کہ میثاقِ مدینہ کی حکمت کے خلاف ہے۔ یہ استدلال بوجوہ (متعددہ) غلط ہے۔
جواب: یہ اعتراض بھی غالباً غامدی صاحب کے کسی استدلال پر نہیں، مگر ہے بہت دلچسپ۔ صاحب مضمون ان لوگوں کا جنہوں نے یہ استدلال پیش کیا ہے، ابطال کرتے ہوئے یہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس میثاق کے تحت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں اور فلاں شرعی مطالبات یہود سے بھی منوا لیے تھے۔ پس اس سے کم درجے کی اسلامی شقیں اگر ہم نے آئین میں اقلیتوں کے لیے مقرر کر دیں تو کیا ہوا۔ بصد احترام، زاہد صاحب سے یہ سوال ہے کہ آپ نے میثاق کے متن پر تو یقیناًغور کیا ہے، مگر کیا اس کی نوعیت پر بھی غور کیا؟ یہ ایک معاہدہ تھا، معاہدہ! جس میں فریقین کو پورا اختیار حاصل تھا کہ چاہیں تو کسی شق سے اتفاق کریں یا اختلاف۔ ہم نے جو اقلیتوں کے ساتھ کیا ہے، کسی معاہدے اور میثاق کے تحت کیا ہے؟ کسی سے کوئی معاہدہ کر کے اس سے تھوڑی نہیں ساری شریعت پر اتفاق اگر کوئی کرا لے تو اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ مگر یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ ان اقلیتوں کی درجہ دوم میں تنزلی ہم نے یکطرفہ طور پر طے کر لی ہے اور اپنے مذہبی تصورات ان کی مخالفت کے باوجود ان پر مسلط کر دیے ہیں۔
(جاری)
کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۵)
مولانا حافظ صلاح الدین یوسف
اہل اسلام کہتے ہیں کہ قرآن میں زانی اور زانیہ کی جو سزا(سو کوڑے ) بیان ہوئی ہے، حدیث رسول کی رْو سے وہ کنواروں کی سزا ہے اورشادہ شدہ زانیوں کی سزا رجم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی ہے اور اس کے مطابق آپ نے رجم کی سزا دی بھی ہے؛ آپ کے بعد خلفاے راشدین نے بھی یہی سزا دی اور اس کے حد شرعی ہونے پر پوری امت کا اجماع ہے۔
فراہی گروہ، مولانا حمید الدین فراہی سے لے کر مولانا اصلاحی ، غامدی و عمار ناصر تک ، سب رجم کی صحیح متواتر اور متفق علیہ روایات کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ ان احادیث سے حد رجم کا اثبات قرآن کے خلاف اور قرآن میں رد و بدل ہے اور یہ حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حاصل نہیں ہے۔ امت مسلمہ کے اجماع کے برعکس فراہی گروہ کہتاہے کہ رجم ایک تعزیری سزا ہے، نہ کہ حد شرعی اور یہ شادی شدہ زانیوں کو نہیں بلکہ اوباش قسم کے زانیوں کے لیے ہے اور وہ بھی وقت کے حکمران کی صواب دید پر منحصر ہے۔ اس کی دلیل کوئی حدیث نہیں، کیوں کہ وہ تو ویسے ہی ان کے نز دیک غیر معتبر ہے؛ صرف ان کے امام اول کا قرآن کے لفظ ’تقتیل‘سے استنباط ہے جس استنباط کی کوئی تائید کسی مفسر، محدث، فقیہ ، امام نے نہیں کی اور عربی لغت اورعرب کے دیوان جاہلیت سے بھی اس معنی کی تائید نہیں ہوتی ؛ اس کی تائید صرف ان کے تلامذہ ، پھر تلامذہ کے تلامذہ اور تلامذہ کے تلامذہ کر رہے ہیں۔
امت مسلمہ کا نظریہ رجم قرآن و حدیث کے ٹھوس دلائل پر مبنی ہے؛ اس لیے وہ عہد رسالت سے آج تک مسلم چلا آرہا ہے؛گویا اس کی عمر چودہ سو سال اور ایک ربع صدی ہے۔ فراہی نظریہ رجم یک سر بے دلیل بلکہ قرآن کی معنوی تحریف اور شریعت سازی پر مبنی ہے اور اس کی عمر ایک صدی سے بھی کم ہے یا زیادہ سے زیادہ ایک صدی سمجھی جاسکتی ہے؛ یہ خود ساختہ نظریہ کسی دلیل پر قائم نہیں ہے بلکہ اس کی ساری بنیاد ایک استاد کے سلسلہ تلمذ، اس کے خوان علم کی ریزہ چینی اور اس کی اندھی تقلید پر قائم ہے؛ اعاذنا اللہ منہا۔
لو! آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
ہاں، یاد آیا کہ ہم نے غامدی صاحب کی طرف یہ بات منسوب کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی خفی کے ذریعے سے اوباشی کی سزا ، رجم مقرر کی ہے اور اس پر ہم نے ان سے سوال بھی کیا ہے کہ آپ تو وحی خفی کے ذریعے سے قرآن میں ’اضافے‘ یا’ تبدل وتغیر‘ کو تسلیم ہی نہیں کرتے تو پھر آپ کی خانہ ساز سزاے رجم وحی خفی سے کس طرح ثابت ہوسکتی ہے؟یہ ہمارا سوال قائم ہے؛اب اس کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں! جناب غامدی صاحب سورہ نساء کی آیت میں بیان کردہ عبوری160سزاے زنا اور پھر حدیث: خذوا عنی میں بیان کردہ مستقل سزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ان ہدایات سے واضح ہے کہ ان کا تعلق عبوری دور سے تھا؛ چناں چہ عبادہ بن صامت کی زیر بحث روایت (خذوا عنی۔۔۔) کا مدعا درحقیقت یہی ہے کہ آپ کو وحیِ خفی کے ذریعے سے ہدایت دی گئی کہ یہ چوں کہ زنا ہی کے مجرم نہیں بلکہ اس کے ساتھ اپنی آوارہ منشی اور جنسی بے راہ روی کی وجہ سے فساد فی الارض کے مجرم بھی ہیں، اس لیے ان میں سے ایسے مجرموں کو جو اپنے حالات کی نوعیت کے لحاظ سے رعایت کے مستحق ہیں، زنا کے جرم میں نور کی آیت ۲ کے تحت نفی یعنی جلا وطنی کی سزا دی جائے اور ان میں وہ مجرم جنھیں کوئی رعایت دینا ممکن نہیں ہے، مائدہ کی اسی آیت کے تحت رجم کردے جائیں۔ ‘‘ (برہان ، ص126)
غامدی صاحب کی یہ سخن سازی ہم پہلے بھی ان کی کتاب’میزان‘ کے حوالے سے نقل کر آئے ہیں جس کا حوالہ وہ ہر اہم مبحث میں دیتے ہیں۔ یہاں ان کا یہ موقف ان کی دوسری کتاب’برہا ن‘ سے نقل کیا گیا ہے جو بعینہ وہی ہے جو پہلے بیان ہوا لیکن اسے دوبارہ نقل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ وہ ہر جگہ اور ہر موقع پر بہ تکرار وبہ اصرار یہ کہتے ہیں اور مسلسل کہہ رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ و حیِ خفی کے ذریعے سے بھی کوئی ایسا حکم دے سکتے ہیں جو قرآن میں نہیں ہے؛ وہ اسے قرآن میں تغیرو تبدل قرادیتے ہیں لیکن یہاں بالآخر یہ کہنے اور اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ رجم کا فراہی گروہ کا ساختہ پرداختہ نظریہ و حیِ خفی کے ذریعے سے آپ نے بیان فرمایا ہے ؛ پہلے و حیِ خفی کا انکار تھا، اب اپنی بات منوانے کے لیے اسی کا سہارا لے رہے ہیں ؛چہ خوب!
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
گویا امت مسلمہ اگر یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحیِ خفی کے ذریعے سے قرآن میں بیان کردہ سزا کو کنواروں کے ساتھ خاص کردیا ہے اور شادی شدہ زانیوں کے لیے رجم کی سزا مقر ر فرمائی ہے تو یہ قرآن میں تغیرو تبدل ہے جس کا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں ہے حالاں کہ وحیِ خفی کی یہ روایات رجم تقریباً تین درجن صحابہ سے مروی ہیں۔ لیکن غامدی صاحب پہلے تو مانتے ہی نہیں تھے کہ وحیِ خفی سے بھی آپ کوئی حکم دے سکتے ہیں لیکن جب اس بات کو مانا تو وحی خفی کس کو قراردیا؟ اپنے خود ساختہ امام کے خود ساختہ مفہوم پر خود ساختہ نظریہ رجم کو! اناللہ وانا الیہ راجعون۔ کتنا بڑا اتہام ہے جو اس ظالم شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر باندھا ہے؛ سبحانک ھذا بھتان عظیم۔
تغافل سے جو باز آیا جفا کی
تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی
غامدی صاحب اہل اسلام کی نظریہ رجم کی درجنوں روایات کو تسلیم نہیں کرتے ؛ ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فراہی نظریہ رجم کی ایک حدیث پیش کردیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ جو آوارہ منش اور اوباش قسم کا زانی ہوگا ، اس کو زناکی نہیں بلکہ اوباشی کی پاداش میں سزاے رجم حد کے طور پر نہیں بلکہ تعزیر کے طور پردی جائے گی۔
محترم ! یہ فراہی نظریہ رجم آپ کی یا آپ کے استاذ امام کی سخن سازیوں ، لن ترانیوں اور لاف گزاف باتوں سے ثابت نہیں ہو گا بلکہ ٹھوس دلیل سے ثابت ہو گا اور نہ رجم کی متواتر روایات کو خبر آحاد کہہ دینے سے یا ان کی الٹی سیدھی باطل تا ویلات کے ذریعے سے ان کو کنڈم کرنے کی مذسوم اور نا پاک سعی سے اس بے بنیاد نظریے کو کوئی تقویت ہی مل سکتی ہے؛اس لیے کہ اہل اسلام کا نظریہ رجم شجرۃ طیبۃ اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء کی مثل ہے اور فراہی نظریہ رجم شجرۃ خبیثۃ اجتثت من فوق الارض ما لھا من قرار ( ابرہیم 14 :26 ) کا مصداق ہے ؛ان شاء اللہ العزیز۔
ایک یک سربے بنیاد دعویٰ اور ہمارا سوال
لیکن بایں ہمہ غامدی صاحب کی جراَت بھی دیکھیے اور خوش فہمی بھی ! فرماتے ہیں :
’’امام فراہی کی یہ تحقیق قرآن مجید کے نصوص پر مبنی ہے اور روایات میں بھی ، جیسا کہ ہمارے تبصرے سے واضح ہے، اس کے شواہد مو جود ہیں۔‘‘ ( برہان ، ص92۔91)
اس میں غامدی صاحب نے نہایت بے باکی سے یہ نعرۂ مستانہ لگایا ہے کہ’ امام‘ فراہی کی یہ ’تحقیق‘قرآن مجید کے نصوص پر مبنی ہے۔
اس دعوے میں اولاً قابل غور بات یہ ہے کہ جو بات نصوص قرآن پر مبنی ہو ، اسے کسی شخص کی ’تحقیق ‘ قرا دیا جا سکتا ہے؟ نص صریح سے ثابت شدہ مسئلہ تو حکم قرانی ہے نہ کہ کسی ’امام ‘ کی تحقیق۔ اللہ تعالیٰ نے وراثت کا ایک اصول یہ بیان فرمایا ہے: للذکر مثل حظ الانثیین ( النساء 4 :11) اس کا مفہوم و مطلب کوئی شخص اردو میں بیان کر کے یہ کہے کہ یہ میری ’تحقیق ‘ ہے یا میرے ’ استاذ امام ‘ کی تحقیق ہے؛ جس کے پاس عقل و دانش کا کچھ بھی حصہ ہے ،وہ بہ قا ئمی ہوش و حواس ایسی بات کہہ سکتا ہے ؟
اگر رجم کی مزعومہ ’ تعزیر ی سزا ‘ آیت قرآنی کی نص اور سور ہ نور کی آیت۲ سے ثابت ہے (کیوں کہ آیت نور کو ملائے بغیر تو ’ نصوص‘ ( بہ صیغہ جمع) نہیں کیا جا سکتا ) تو اولاً اس کو تعزیری سزا کیو ں کر قرار دیا جا سکتا ہے ؟ پھر تو یہ حد شرعی ہوئی نہ کہ تعزیری سزا، جب کہ فراہی گروہ اس کو تعزیری سزا قراردیتا ہے ؛ غامدی صاحب نے بھی بڑی وضاحت سے لکھا ہے کہ :
’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی وساطت سے جو شریعت عطا فرمائی ہے اس میں زندگی کے دوسرے معاملات کے ساتھ جان ، مال، آبرو اور نظم اجتماعی سے متعلق تمام بڑے جرائم کی سزا ئیں خود مقرر فرمادی ہیں ؛ یہ جرائم درج ذیل ہیں:
۱۔ محاربہ اور فساد فی الارض، ۲۔قتل و جراحت ، ۳۔ زنا، ۴۔ قذف ، ۵۔ چوری۔ (میزان ،ص61)
پہلی سزا محاربہ اور فساد فی الارض یہ ایک ہی چیز ہے؛ اسی لیے اپنی دوسری کتاب’ برہان‘ میں صرف ’محاربہ ‘ ہی کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ( ص137)
اس اقتباس میں’نبی ‘ کے بجاے ’ نبیوں ‘ کا لفظ بھی قابل غور ہے جسے ہم فی الحال نظر انداز کرتے ہیں، تا ہم اتنا ضرور عرض کریں گے کہ ہماری شریعت تو شریعت محمدیہ ہے نہ کہ شر یعت انبیا؛ یہاں نبی کے بجاے ’ نبیوں ‘ کہنا ان کے گم راہ ذہن کا غماز اور عکا س ہے۔
بہ ہر حال اس اقتباس میں آپ دیکھ لیں؛ شرعی سزائیں جن کو حد کہا جاتا ہے، وہ ان کے نزدیک صرف پانچ ہیں؛ اب ان کا یہ دعویٰ کہ آوار ہ منشی اور اوباشی کی سزا اللہ کے رسول نے وحیِ خفی کے ذریعے سے رجم مقرر فرمائی ہے؛ نیز یہاں دعویٰ کیا کہ یہ’ نصوص قرآنی ‘ پر مبنی ہے تو اللہ رسول کی مقر ر کردہ یہ چھٹی سزا، شرعی سزاؤں میں اس کا ذکر غامدی صاحب نے کیوں نہیں کیا ہے ؟ اگر اوباشی کی یہ سزا ۔ سزاے رجم ۔ وحیِ خفی پر اور ’نصوص قرآنی ‘ پر مبنی ہے تو اسے حدود شرعیہ میں شمار کیوں نہیں کیا گیا ؟ اسے تعزیری سزا کیوں کر کہا جا سکتا ہے ؟
علاوہ ازیں اگر یہ فروہی گر وہ کی مزعومہ’ اوباشی‘ کی مزعومہ تعزیری سزا قرآنی نصوص سے ثابت ہے تو پھر اس کے لیے ’ وحیِ خفی ‘ کی ضرورت کیا تھی ؟ قرآن کریم کی نصوص سے جو احکام ثابت ہیں جن میں تبیینِ رسول کی ضرورت نہیں ہے؛ کیا ان کی بابت کہا جا سکتا ہے کہ ان کا مبنیٰ وحیِ خفی ہے ؟ جیسے ہم نے پہلے مثال دی ہے کہ نص قرآنی ہے کہ وراثت میں لڑکے کا حصہ لڑکی سے دوگنا ہے ؛ کیا اس کی بابت یہ کہنا صحیح ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وراثت میں لڑکے اور لڑکی کے حصے میں یہ فرق وحیِ خفی کے ذریعے سے کیا ہے ؟
ظاہر بات ہے ایسا کہنا سراسر غلط ہو گا ؛ اس فرق کو نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے اور نہ اسے وحیِ خفی سے ثابت ہونے والا حکم ہی قرا ر دیا جا سکتا ہے کیوں کہ حکم تو قرآن مجید میں موجود ہے جو و حی جلی ہے اور بالکل واضح ہے؛ اس میں تبیینِ رسول کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
نبی کی طرف تو وہ خفی احکام منسوب ہو ں گے جن کا ذکر قرآن میں نہیں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحیِ خفی کے ذریعے سے بیان فرمائے ہیں یا قرآن میں مجمل طور پر ہیں، وحیِ خفی کے ذریعے سے آپ نے ان کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ اہل اسلام وحیِ خفی پر مبنی قرآن کریم کی شرح و تفصیل کو بھی مانتے ہیں اور ان احکام کو بھی مانتے ہیں جن کا کوئی ذکر قرآن میں نہیں ہے لیکن وہ صحیح احادیث سے ثابت ہیں جن میں شادی شدہ زانی کی سزا۔ رجم ۔ بھی ہے ؛ اہل اسلام کے نزدیک یہ رجم بھی حدّ شرعی ہے کیو ں کہ احادیث صحیحہ متواترہ سے ثابت ہے۔
فراہی نظریہ اگر’ نصوص قرآنی ‘ پر مبنی ہے تو پھر یہ ’ تعزیر ‘ کیو ں ؟
فراہی گروہ احادیث سے ثابت ہونے والے احکام کو نہیں مانتا بلکہ ان کو قرآن کے خلاف اور قرآن میں رد و بدل قرادیتا ہے ؛ گویا وہ وحیِ خفی کا منکر ہے اور ان تمام احکام کا منکر ہے جو وحیِ خفی یعنی احادیث پر مبنی ہیں ؛ اسی لیے وہ حدرجم کی شرعی حیثیت کا بھی منکر ہے اور ان تما م متواتراحادیث صحیحہ کا بھی منکر ہے جن سے واضح طور پر اس حدرجم کا اثبات ہوتا ہے۔ لیکن اب ان کا خود ساختہ نظریہ رجم کہ یہ اوباشی کی تعزیری سزا ہے ، چھچھو ندر کی طرح گلے کی پھا نس بن گیا ہے جو نہ نگلا جا رہا ہے اور نہ اْگلا جا رہا ہے کیوں کہ اس کو وہ قیامت تک ثابت نہیں کرسکتے: ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً۔
جب ہر طرف ہاتھ پیر مار کر دیکھ لیا کہ کوئی بات نہیں بن رہی ہے؛ بھلا ہوا میں کون گرہ لگا سکتا یا کون آسمان پر تھگلی لگا سکتا ہے ؟ تو تما م ٹا مک ٹوئیاں مارنے کے بعد اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے کہ ہمارا یہ نظریہ رجم وحیِ خفی پر مبنی ہے۔ اس پر اعتراض ہوا کہ وحیِ خفی کو تو آپ مانتے ہی نہیں کہ اس کے ذریعے سے اللہ کے رسول ایسا کوئی حکم دے سکتے ہیں جو قرآن میں نہیں ہے ؛ جب قرآن میں اوباشی کی سزا کا ذکر ہی نہیں ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحیِ خفی کے ذریعے سے کس طرح یہ سزا دے سکتے تھے ؟ یہ تو آپ کے بہ قول قرآن میں تغیرو تبدل ہے۔ اگر رجم کا بہ طور حد شرعی وحیِ خفی کے ذریعے سے اثبات ، قرآن میں تغیر وتبدل ہے تو پھر اوباشی کی من گھڑت سزا کی بابت یہ دعویٰ کہ یہ وحیِ خفی سے ثابت ہے؛ کیا یہ قرآن میں تغیر و تبدل نہیں ہے ؟
اسی طرح اس من گھڑت سزا کو ’ نصوص قرآنی پر مبنی ‘ قراردینااگرصحیح ہے تو پھر اسے حدِ شرعی میں شمار کیوں نہیں کیا ؟ قرآنی نصوص پر مبنی سزا تو تعزیری سزا نہیں ہو سکتی ؛وہ تو حد شرعی ہے۔ اسی طرح غامدی صاحب کا یہ کہنا کہ’’روایات میں بھی جیسا کہ ہمارے تبصرے سے واضح ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔‘‘ روایات کو تو آپ مانتے ہی نہیں؛ علاوہ ازیں اس میں بھی آپ کی روایتی ہوشیاری صاف جھلک رہی ہے کہ روایات پر آپ نے جو غلط تبصرہ کیاہے،اس تبصرے کو آپ ’شواہد ‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اگر روایاتِ حدیث ’ شواہد ‘ ہیں تو صرف خالی روایات کا حوالہ دیں اور اپنے باطل تبصرے کے بغیر روایات نہیں بلکہ صرف ایک ہی روایت پیش کر دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوباشی کی سزا میں فلاں عورت یا فلاں مرد کو رجم کی سزا دی تھی؟
کیا قرآن کی معنوی تحریف کو ’ نصوص قرآنی ‘ کہا جا سکتا ہے؟
ہماری اس تفصیل سے واضح ہے کہ مزعومہ سزاے رجم کو قرآنی نصوص پر مبنی قراردینا بھی اسی طرح بد ترین جھوٹ ہے جیسے ان کا یہ دعویٰ کہ میرے موقف اور ائمہ سلف کے موقف میں بال برابر بھی فرق نہیں ہے؛اس تفصیل سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ خود ساختہ نظریہ رجم قرآنی نصوص پر ہر گز مبنی نہیں ہے بلکہ آیت محاربہ کی معنوی تحریف پر مبنی ہے جس کی ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں۔
اب ہمیں اس نئی ’ دلیل ‘ پر غور کرنا ہے کہ قرآن کریم کے کسی لفظ کی ایسی تشریح جو آج تک کسی صحابی، تابعی، مفسر، محدث، امام و فقیہ نے نہیں کی بلکہ وہ قرآن کی تحر یف معنوی ہو ، کیا ایسی تشریح یا ایسی تحریف معنوی کی بنیاد پر کسی خود ساختہ نظریے کو ’ نصوص قرآنی ‘ پر مبنی قرار دیا جا سکتا ہے ؟ ظاہر بات ہے اس کا جواب نفی میں ہی ہو گا۔
جیسے ’ختم نبوت ‘ کا مسئلہ ہے جو قرآن کے لفظ ’خاتم النّبیین‘ کا صیح مفہوم پر مبنی ہے لیکن مرزائی ’خاتم النّبیین‘ کی غلط تشریح کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ کی مہر سے نبی بن کر آیا کریں گے ؛ اس طرح قرآن کے اس لفظ سے جو ختم نبوت پر نصِ صریح ہے ، مرزائی اس کے بر عکس اس کی غلط تشریح اور اس میں معنوی تحریف کر کے اجراے نبوت کے خود ساختہ نظریے کا اثبات کرتے ہیں ؛ اگر کوئی مرزائی کہے کہ ہمارا اجراے نبوت کا عقیدہ ’نصوص قرآنی‘ پر مبنی ہے؛ کیا یہ دعویٰ یا عقیدہ صحیح ہوگا؟
پرویزی کہتے ہیں : زکات کے معنی نشونما کے ہیں لہٰذا ’ایتاے زکات‘ کے معنی ہوں گے سامان نشو و نما مہیا کرنا اور یہ اسلامی حکومت کا فریضہ ہے کہ وہ افراد معاشرہ کی نشوونما کا سامان فراہم کرے۔ (ماہ نامہ طلوع اسلام ،مئی 1989 ء)
لیجیے ! اس ’قرآنی ‘ مفہوم یا ’نصوص قرا?ن‘سے تمام مسلمان زکات کی ادائیگی سے فارغ ہو گئے؛ رجم کی’فراہی تحقیق‘ کی طرح زکات کی کیا خوب ’تحقیق‘ ہے ! اگر پرویزی بھی غامدی صاحب والی ’قرآنی نصوص‘ پر مبنی رجم کی بحث پڑھ لیں اور وہ دعویٰ کردیں کہ ہماری زکات والی تحقیق ’نصوص قرآنی: اٰتْوا الزَّکَاۃ پر مبنی ہے تو کیا وہ اپنے اس دعوے میں سچے ہوں گے؟اور علم و تحقیق کی دنیا میں اس دعوے کی پرکاہ کے برابر بھی حیثیت ہوگی ؟ غامدی گروہ جواب دے !
اسی طرح اور بھی مثالیں دی جاسکتی ہیں؛ سارے باطل فرقوں کی بنیاد قرآن کی غلط تشریحات اور اس میں معنوی تحریفات ہی پر قائم ہے اور اس کی ہم الحمدللہ دسیوں، بیسیوں مثالیں پیش کر سکتے ہیں؛اگر ان باطل فرقوں کی غلط تشریحات اور معنوی تحریفا ت سے ان کے غلط عقائد و نظریات کا اثبات نہیں ہوسکتا تو غامدی و اصلاحی و فراہی کا خود ساختہ نظریہ رجم قرآن کے لفظ یحاربون (محاربہ) کی یا لفظ’تقتیل ‘کی معنوی تحریف اور باطل تشریح سے کس طرح ثابت ہوجائے گا اور ’نصوص قرآن ‘ پر مبنی کے لیے تسلیم کر لیا جائے گا؟
کچھ غامدی صاحب کی ’ خوش فہمی‘ پر تبصرہ
غامدی صاحب نے فرمایا ہے بلکہ ڈینگ ماری ہے کہ :
’’اس سے اگر کسی کو اختلاف ہے اس دلائل کے ساتھ اس کا محاکمہ کرنا چاہیے ؛ یہ وہ چیز نہیں ہے جسے جذبانی تحریروں اور بے معنی فتووں کے ذریعے سے رد کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت لوگ جو جی چاہیں کہیں لیکن وہ وقت اب غالباً بہت زیادہ دور نہیں ہے جب علم و دانش کی مجالس میں اس تحقیق کے لیے دادو تحسین کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہے گا؛ ان شاء اللہ العزیز۔‘‘ (برہان، ص 91۔92)
الحمد للہ ، اللہ کے فضل اور اس کی توفیق سے ہم نے غامدی صاحب کے بے بنیاد ’دلائل ‘ کا جو پوسٹ مارٹم اور اس کا محاکمہ کیا ہے، اس کو کوئی جذباتی تحریر یا بے معنی فتویٰ قرار دے دے تو یہ اس کا بے جا تعصب اور اپنے ’ائمہ مضلین‘ سے اندھی عقیدت ہے؛ ورنہ ہمارا اندازہ ہے کہ ہمارے محاکمے کا جو ابھی جاری ہے، مزید دلائل پر گفت گو آرہی ہے، فراہی گروہ قیامت تک ان شاء اللہ جواب نہیں دے سکے گا: وادعوا شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صادقین (البقرہ)
اپنی عقل و دانش پر اس طرح کا ناز اور اپنے گم راہانہ افکار پر اس طرح کا ادّعا، اس سے پہلے بھی بہت سے گم راہ فرقوں اور ان کے سرغنوں نے کیا ہے لیکن آج ان کی شخصیتیں بھی تاریخ کے کوڑے دانوں میں تعفن زدہ پڑی ہیں جن کے پاس سے گزرنا بھی کسی صحیح الفکر اور صحیح الدماغ شخص کے لیے ناممکن ہے اور ان کے افکار فاسدہ بھی عجائبات کے میوزموں میں افسا نہ ہائے پارینہ کے طور پر یا نشان عبرت کے لیے محفوظ ہیں ؛ فراہی گروہ کے یہ افکار مضلہ بھی ان شاء اللہ اس عبرت انگیز حشر سے دو چار ہوں گے۔
فراہی افکار کی بنیاد ود چیزوں پر ہے : انکار حدیث اور قرآن کریم کی معنوی تحریف؛امت مسلمہ جب تک اپنے پیغمبر کو ۔ان کے نزدیک جو حامل قرآن، مفسر قرآن اور مبین قرآن ہے ۔ مانتی رہے گی اور اس کو ماننے کا مطلب ، اس کی تفسیر و تشریح اور تبیین قرآنی کو جس کو حدیث کہا جاتا ہے، ماخذ شریعت تسلیم کرنا ہے؛ اس وقت تک مسلمہ کا اجتماعی ضمیر فکر فراہی کو کبھی ہضم نہیں کرسکے گا۔ غامدی صاحب علم و دانش کی کن مجالس کا حوالہ دے رہے ہیں جہاں اس تحقیق کے لیے دادو تحسین کے سوا کچھ نہیں ہوگا؟ یہ مجالس مسلمان اہل علم و دانش کی تو ہر گز نہیں ہوسکتیں؛اس لیے کہ کسی بھی مسلمان کا علم اور اس کی دانش، نہ انکار حدیث کے جرثومے کو پال سکتی ہے اورنہ قرآن کی تحریف معنوی کے زہرہلاہل کو نوش جان کرسکتی ہے۔
دنیا میں ہر چیز کے گاہک اور ہر گم راہی کے خریدار موجود ہیں ؛ الطاف حسین اور طاہر القادری اور ان سے پہلے غلام احمد قادیانی جیسے مریض ذہن کے لوگوں کے بھی بے شمار پرستار ہیں ؛ ان کے افکار باطلہ کے لیے بھی ایسی مجالس موجود ہیں جہاں ان کے اوہام باطلہ اور خیالات فاسدہ کو انبیاے معصومین کی طرح مانا جاتا اوران پر داد وتحسین کے ڈونگر ے برسائے جاتے ہیں ؛ ’طلوع اسلام ‘کے نام پر غروب اسلام کی مجلسیں آج بھی ۔پرویز کے پیوند خاک ہونے کے باوجود ۔ جاری و ساری ہیں ۔ اگر فکر فراہی کی گم راہیوں پر بھی کچھ عفونت زدہ لوگوں کی مجلسیں برپا ہوتی رہیں گی اور اہل مجلس اس ’تحقیق ‘ پر وجد میں آ کر جھومتے اور واہ واہ کرتے رہیں گے تو ایسا ممکن ہے۔ لیکن اس پر فخر کرنے والی کون سی بات ہے؟ اور اس کیااس ’تحقیق‘ کی حقانیت و صداقت ثابت ہو جائے گی؟ گم راہی تو گم راہی ہی رہے گی، چاہے ساری دنیا اس پر مجتمع ہو جائے لیکن امت مسلمہ کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے :
لن تجتمع امتی علی الضلالۃ۔ (میری (ساری) امت ہرگز گم راہی پر مجتمع نہیں ہو گی۔)
یعنی پوری کی پوری امت کسی گم راہی کو اپنالے ، ایسا نہیں ہوگا ؛ اس کا مطلب ہے گم راہ ٹولے نکلتے رہیں گے اور اپنی بازی گری کے کرتب دکھاتے رہیں گے لیکن آفتاب حق کے سامنے جلوۂ آخر شب کی طرح معدوم ہوتے رہیں گے۔ شہر ستانی کی ’الملل والنحل ‘ دیکھ لیجیے؛ ابن حزم کی ’الفصل فی الملل ‘ دیکھ لیجیے ! ایسے بیسیوں فرقے آپ کے مطالعے میں آئیں گے کہ آج ان کا نام بھی ان کتابوں کے علاوہ آپ کو کہیں نہیں ملے گا۔ فراہی گروہ بھی اسی طرح تاریخ کی گزرگاہوں میں نشان عبرت کے طور پر نظر آئے گا یا بادیہ ضلالت کے راہ نورد ’المورد ‘ اور ’دانش سرا‘ جیسے ڈیروں میں اپنی خوے ضلالت کی تسکین کا سامان پائیں گے، لیکن اہل اسلام ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گے اور حق و صداقت کی بار گاہوں میں ان کا مقام وہی ہوگا جو معتزلہ، قدریہ جہمیہ وغیرہ فرقوں کے بانیوں اور ان کے قدیم و جدید پیروکاروں کا ہے۔
سینہ زوری کی انتہا
غامدی صاحب لکھتے ہیں :
’’رجم کی سزا کے بارے میں قرآن و سنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے جو کچھ ہم نے لکھا ہے، اسے پڑھنے کے بعد یہ سوال ہر طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں فقہا کی راے اگر قرآن کے خلاف ہے تو پھر رجم کی اس سزا کے بارے میں کیا کہا جائے گاجس کے متعلق معلوم ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض مجرموں کو دی اور خلفاے راشدین نے بھی دی؟ یہی سوال ہے جس کے جواب میں دور حاضر کے ایک جلیل القدر عالم اور محقق امام حمیدالدین فراہی نے اپنا وہ نقطہ نظر پیش کیا ہے جس سے صدیوں کا یہ عقدہ نہ صرف یہ کہ حل ہو جاتا بلکہ یہ بات بھی بالکل نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ پیغمبر کا کوئی حکم بھی قرآن کے خلاف نہیں ہوتا۔‘‘ (برہان، ص 57)
ملاحظہ فر ما یئے ! سینہ زوری اور فریب کاری کی تکنیک؟ کہ رجم کی حدّ شرعی کی بابت امت مسلمہ کا جو اجماع ہے جس میں خلفاے راشدین و صحابہ سمیت ، تمام ا ئمہ سلف ، محدثین،مفسرین اور فقہا شامل ہیں کیوں کہ اس اجماع کی پشت پر احادیث صحیحہ و متواتر ہ ہیں ؛ اس کو صرف فقہا کی را ے قرار دیا تا کہ ان کا حلقہ ارادت آسانی اس با ت کو قبو ل کر لے جو انھوں نے اگلے جملے میں اسے قرآن کے خلاف کہا ہے کیو ں کہ اگر وہ یہ کہتے کہ یہ رائے جو قرآن کے خلاف ہے، پوری امت مسلمہ کی متفقہ راے ہے اور اہل ا سلام کا اس پر اجماع ہے تو پھرلوگوں کو مغالطہ دینا اور فریب میں مبتلا رکھنا نہایت مشکل ہوتا،اس لیے اسے صرف فقہا کی راے کہا تا کہ لوگ کہی ہو سکتاہے کہ فقہا سے یہ اجتہادی غلطی ہو گئی ہو حالاں کہ بات اس طرح نہیں ہے؛یہ صرف فقہاکی بات یاراے نہیں،ایک اجماعی اور مسلمہ اسلامی عقیدہ ہے اور فقہاکے اجتہاد پر مبنی نہیں ہے بلکہ قرآن و حدیث کے محکم اور نہایت وا ضح دلائل پر مبنی ہے۔
دوسری بات موصوف کے اقتباس سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ چودہ صدیا ں گزر جانے کے بعد اس سزا کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اس عقدے کو امام فراہی نے حل کیا ہے؛اس نکتے پر بحث سے پہلے غامدی صاحب کا ایک اور اقتباس ملاحظہ فرما لیجیے جس میں انھوں نے یہی بات زیادہ کھل کر کہی ہے ؛ موصوف روایات رجم کی الٹی سیدھی تا ویلات، غلط سلط وضاحت، آج کل کی اصطلاح میں ان کا ’ پوسٹ مارٹم ‘ کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’یہ ہیں وہ روایتیں اور مقدمات جن کی بنیاد پر ہمارے فقہا قرآن مجید کے حکم میں تغیر کرتے اور زنا کے مجرموں کے لیے ان کے محض شادی شدہ ہونے کی بنا پر رجم کی سزا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛اس سارے موادپر جو تبصرہ ہم نے کیا ہے،اس کی روشنی میں پوری دیانت داری کے ساتھ اس کا جا ئزہ لیجیے؛ اس سے زیادہ سے زیادہ کوئی بات اگر معلوم ہوتی ہے تو بس یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین نے زنا کے بعض مجرموں کو رجم اور جلا وطنی کی سزا بھی دی ہے، لیکن کس قسم کے مجرموں کے لیے یہ سزا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفا نے کس طرح کے زانیوں کو یہ سزا دی؟اس سوال کے جواب میں کوئی حتمی بات ان مقدمات کی رودادوں اور ان روایات کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔اس سزا کا ما خذ در حقیقت کیا ہے؟ یہی وہ عقدہ ہے جسے امام حمیدالدین فراہی نے اپنے یرسالہ ’احکام الاصول باحکام الرسول‘ میں حل کیا ہے۔‘‘ ((برہان ، ص 88۔89)
اس میں موصوف کی’ زیرکیاں‘ قابل داد ہیں ؛مثلاً :
اس اقتباس میں بھی حد رجم کی شرعی حیثیت کے اثبات کو صرف فقہاکی طرف منسوب کیا ہے؛دوسرے، اسے قرآن مجید کے حکم میں تغیر قرار دیا ہے؛تیسرے ،فقہا نے ان روایات کی بنیاد پر رجم کی سزا ثابت کرنے کی ’کوشش ‘کی ہے یعنی ان روایات سے رجم کی سزا ثابت نہیں ہوتی حالاں کہ وہ اس مفہوم میں نہایت واضح ہیں لیکن ’دیدۂ کو رکوکیا نظر آئے کیا دیکھے‘ کے مصداق فرماتے ہیں :’’کوشش کرتے ہیں‘‘؛ چوتھے،سب سے بڑی کور باطنی یا جسارت کہ ان روایات سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور خلفاے راشدین نے جن زانیوں کو سزاے رجم دی ، ان کا جرم کیا تھا؟ نعوذ با للہ من ذلک الھفوات والھذیانات۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سزا تو دی لیکن جرم کی نوعیت کو سمجھے بغیر دی ؛ کیا پیغمبر کے بارے میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے جو بہ راہ راست اللہ کی حفاظت میں ہوتا ہے اور اس کا کوئی اقدام راہ راست سے ذرا بھی اِدھراْد ھرہوتا ہے تو وحی کے ذریعے سے اس کو متنبہ کر دیا جاتا ہے؛ اس پیغمبرنے اپنی زندگی میں کم از کم چار کیسوں میں حدّرجم نافذفرمائی اور چاروں واقعات کی روایات میں اس امر کی صراحت موجود ہے کہ ان کو رجم کی یہ سزااس جرم میں دی گئی کہ شادی شدہ ہونے کے باوجود انھوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا لیکن موصوف فرما رہے ہیں کہ اللہ کے پیغمبر نے الل ٹپ اور محض رجم کا شوق پورا کرنے کے لیے یہ سزا دی ؛ یہ سمجھے بغیر کہ ان کا ا صل جرم کیا تھا؟ اسی طرح خلفاے راشدین نے بھی یہ سزایوں ہی دے دی اور وہ یہ سمجھنے سے ہی قاصر رہے کہ یہ سزا ہم کس بنیاد پر دے رہے ہیں؟ اسی طرح چودہ سو سال کے عرصے میں ہزاروں ائمہ ، مفسرین، محد ثین اور فقہا ہوئے اور آج بھی الحمدللہ ہزاروں کی تعداد میں قرآن و حدیث پر گہری نظر رکھنے والے موجود ہیں لیکن کسی پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوئی اور نہ اب ہو رہی ہے کہ رجم کی سزا در حقیقت کس جرم کی سزا ہے ؟
اس عقدے کو چودہ سو سال بعد’امام فراہی‘نے حل کیا کہ رجم کی یہ سزا در اصل آوارہ منشی، او باشی اور غنڈہ گردی کی سزا ہے،قطع نظر اس کے زانی کنوارا ہے یاشادی شدہ اور اس کا ماخذ آیت محاربہ کا لفظ ’ان یقتلوا‘ ہے۔
کیا کوئی جاہل سے جاہل مسلمان بھی ۔بہ شرطے کہ فراہی گروہ کی مذکورہ ہفوات نے اس عقل کہ ماؤف نہ کر دیا ہو ۔ یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، خلفاے راشدین اور دیگر صحابہ سمیت پوری امت کے علما و فقہا اس آیت محاربہ کے مفہوم سے بھی نا آشنار ہے اور رجم کی سزا کا مستحق کس قسم کا شخص ہو گا؟ یہ بھی کسی پر واضح نہ ہو سکا؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض مجرموں کو بغیر استحقاق کے یہ سزا شادی شدہ زانیوں کو دے دی جب کہ یہ سزا تو اوباشی کی تھی نہ کہ زانیِ محصن کی اور ساری امت کے علماو فقہا اور محدثین بھی اس ’سرمکنون‘ سے نا آشنا ہی رہے !!
(جاری)