جولائی ۲۰۱۵ء

اراکان کے مظلوم مسلمان اور امت مسلمہ کی ذمہ داریمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
۳۱ علماء کرام کے ۲۲ دستوری نکاتادارہ 
دستوری سفارشات پر مشاہیر علماء کا تبصرہ اور ترمیماتادارہ 
نفاذِ شریعت کے رہنما اصولوں کے حوالے سے ۵۷ علماء کرام کے متفقہ ۱۵ نکاتادارہ 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹)ڈاکٹر محی الدین غازی 
خاندانی نظام کے لیے تباہ کن ترمیمچوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ 
کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ (۶)مولانا حافظ صلاح الدین یوسف 
غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور جناب زاہد صدیق مغل کا نقد (۲)احمد بلال 
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۔ مختصر سالانہ کارکردگیادارہ 

اراکان کے مظلوم مسلمان اور امت مسلمہ کی ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اراکان کے مظلوم مسلمانوں کی بے بسی کے حوالہ سے دنیا بھر میں اضطراب بڑھ رہا ہے اور مختلف ممالک میں اس کا عملی اظہار بھی ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں اس پر بحث جاری ہے اور متعدد مسلم ممالک کے ادارے اور تحریکات اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کر رہی ہیں۔ حکومت پاکستان نے بھی اس سلسلہ میں عملی اقدامات کا عندیہ دیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اراکانی مسلمانوں کا مسئلہ عالمی فورم پر اٹھانے اور وہاں کے مہاجر مسلمانوں کو پاکستان میں پناہ دینے کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں درجنوں دینی جماعتوں کی طرف سے اس سلسلہ میں احتجاجی جلسے اور مظاہرے جاری ہیں۔ 
اراکان بنگلہ دیش اور برما کے ساتھ چٹاگانگ سے متصل ایک پہاڑی سلسلہ کے ساتھ ملحقہ خطے کا نام ہے جہاں صدیوں سے روھنگیا مسلمان آباد ہیں۔ ایک دور میں وہاں مسلمانوں کی مستقل ریاست کم و بیش ساڑھے تین سو برس تک قائم رہی ہے اور چٹاگانگ بھی صدیوں اس کا حصہ رہا ہے۔ یہاں بدھوں اور مسلمانوں کی کشمکش اس زمانہ میں بھی عروج پر رہی ہے اور اس میں ہزاروں مسلمانوں کی قربانیاں تاریخ کے ریکارڈ پر ہیں۔ 
برطانوی استعمار نے برما کی طرح اس ریاست پر بھی قبضہ کر لیا تھا لیکن جب برما کو آزادی دی تو اراکان کو بھی اس کا حصہ بنا دیا، جبکہ چٹاگانگ بنگال میں شامل ہوگیا اور اس طرح مسلمانوں کی صدیوں تک رہنے والی اس آزاد ریاست کو غلامی کے ایک دور کے بعد تقسیم کر دیا گیا۔ مگر برما نے اراکان کے باشندوں کو اپنے ملک کا شہری تسلیم کرنے میں کبھی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ اسے اراکان کے علاقہ سے تو دلچسپی رہی لیکن خطہ پر قبضہ اور تسلط کے بعد وہاں صدیوں سے رہنے والے بلکہ تین سو سال سے زیادہ عرصہ تک حکومت کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کو اس ملک کے باشندے تسلیم کرنے اور شہری کی حیثیت اسے انہیں مسلمہ حقوق دینے کے لیے برمی حکومت کبھی تیار نہیں ہوئی۔ یہی وہاں کا اصل مسئلہ ہے۔ برمی حکومت اپنے ملک میں شامل ایک خطہ کی اکثریتی آبادی کو اگر ملک کا شہری تسلیم نہیں کرتی تو اسے اس خطہ کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لینا چاہیے اور اگر وہ اس خطہ کو آزادی دینے کے لیے تیار نہیں ہے تو وہاں کے باشندوں کو ملک کا شہری تسلیم کر کے انہیں شہری حقوق سے بہرہ ور کرنا چاہیے۔ اس کے سوا اس مسئلے کا اور کوئی حل نہیں ہے۔ 
اراکان کے مسلمانوں کی ایک ’’غلطی‘‘ یہ بھی ہے جو برمی حکمرانوں کو ابھی تک ہضم نہیں ہوئی کہ جب پاکستان کے قیام کی تحریک چلی تو وہاں کے سیاسی قائدین نے یہ خیال کیا کہ مسلم اکثریت کے اصول پر پاکستان کے نام سے ایک مستقل ریاست وجود میں آرہی ہے جو نہ صرف اس کے پڑوس میں ہیں بلکہ صدیوں اراکان کا حصہ رہنے والا چٹاگانگ بھی پاکستان میں شامل ہو رہا ہے، اس لیے انہوں نے تحریک پاکستان کے سربراہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے ملاقات کر کے درخواست کی کہ اراکان کے اس خطہ کو بھی پاکستان میں شامل کیا جائے۔ ہمارے خیال میں یہ بات بہت سے حوالوں سے قرین قیاس تھی لیکن ایسا نہ ہو سکا اور اراکانی مسلمانوں کی اس خواہش نے برمی حکومت کے غیظ و غضب میں اضافہ کر دیا جس کا وہ ابھی تک شکار ہیں اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اراکانی مسلمانوں کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ برما کی حکومت انہیں اپنے ملک کا باشندہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور ان پر ریاستی جبر کا دائرہ مسلسل تنگ کر کے انہیں ترک وطن پر مجبور کیا جا رہا ہے لیکن جب وہ ترک وطن کر کے اپنے قریب ترین پڑوسی اور مسلمان ملک بنگلہ دیش کا رخ کرتے ہیں تو وہاں انہیں قبول نہیں کیا جاتا اور وہ کشتیوں میں بے سروسامانی کی حالت میں سمندر کی لہروں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ لاکھوں اراکانی مسلمان دنیا کے مختلف ممالک میں پناہ گزین ہیں اور سینکڑوں سمندر میں ڈوب چکے ہیں۔ اقوام متحدہ وقتاً فوقتاً برمی حکومت کو تنبیہ کر کے کہ وہ اراکانی آبادی کو شہری حقوق دے، مطمئن ہو جاتی ہے کہ اس کا فرض ادا ہوگیا ہے اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے اخباری بیان اور اعداد و شمار جاری کر کے خود کو اپنی ذمہ داری سے سبکدوش سمجھ رہے ہیں جبکہ اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم کو تو گویا سانپ ہی سونگھ گیا ہے کہ وہ زبانی جمع خرچ کی ضرورت بھی نہیں محسوس کر رہی۔ اس صورت حال میں اگر حکومت پاکستان نے اس طرف توجہ دینے کا فیصلہ کیا تو یہ ’’دیر آید‘‘ کے باوجود خوش آئند ہے اور تحریک پاکستان کے موقع پر قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے اراکان کو پاکستان میں شامل کرنے کی درخواست کے تناظر میں یہ حق پاکستان ہی کا بنتا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں پیش رفت کرے۔ اس لیے ہم حکومت پاکستان کے اس ارادے کا خیر مقدم کرتے ہوئے درخواست کرتے ہیں کہ:
  • سمندر میں بھٹکنے والے اور بے گھر ہو جانے والے اراکانی مسلمانوں کو بچانے اور سنبھالنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ہنگامی بنیادوں پر عملی کاروائی شروع کی جائے۔ 
  • اقوام متحدہ اور عالمی اداروں میں اراکانی مسلمانوں کی مظلومیت کا کیس سنجیدگی کے ساتھ اٹھایا جائے۔
  • اراکانی مسلمانوں کی امداد و تعاون اور ان کی بحالی کے اقدامات کے ساتھ ساتھ ان کے مذہبی اور قومی تشخص کے تحفظ اور اراکان کے اس خطہ کے محفوظ اور باوقار مستقبل کے لیے دیگر مسلمان حکومتوں کو اعتماد میں لے کر عالمی سطح پر کسی معقول فیصلے کا اہتمام کیا جائے۔ 

۳۱ علماء کرام کے ۲۲ دستوری نکات

ادارہ

(اسلامی حکومت کے بنیادی اصولوں کے حوالے سے ۱۹۵۱ء میں سارے مکاتب فکر کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کردہ ۳۱ علماء کرام کے ۲۲ دستوری نکات۔)

ایک مدتِ دراز سے اسلامی دستورِ مملکت کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں لوگوں میں پھیلی ہوتی ہیں۔ اسلام کا کوئی دستورِ مملکت ہے بھی یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کے اصول کیا ہیں اور اس کی عملی شکل کیا ہوسکتی ہے؟ اور کیا اصول اور عملی تفصیلات میں کوئی چیز بھی ایسی ہے جس پر مختلف اسلامی فرقوں کے علماء متفق ہوسکیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے متعلق عام طور پر ایک ذہنی پریشانی پائی جاتی ہے اور اس ذہنی پریشانی میں ان مختلف دستوری تجویزوں نے اور بھی اضافہ کر دیا ہے جو مختلف حلقوں کی طرف سے اسلام کے نام پر وقتاً فوقتاً پیش کی گئیں۔ اس کیفیت کو دیکھ کر یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ تمام اسلامی فرقوں کے چیدہ اور معتمد علیہ علماء کی ایک مجلس منعقد کی جائے اور وہ بالاتفاق صرف اسلامی دستور کے بنیادی اصول ہی بیان کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ ان اصولوں کے مطابق ایک ایسا دستوری خاکہ بھی مرتب کر دے جو تمام اسلامی فرقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
اس غرض کے لیے ایک اجتماع بتاری ۱۲۔۱۳۔۱۴ اور ۱۵ ربیع الثانی ۱۳۷۰ء مطابق ۲۱۔۲۲۔۲۳ اور ۲۴ جنوری ۱۹۵۱ء بصدارت مولانا سید سلیمان ندوی، کراچی میں منعقد ہوا۔ اس اجتماع میں اسلامی دستور کے جو بنیادی اصول بالاتفاق طے ہوئے ہیں انہیں فائدہ عام کے لیے شائع کیا جارہا ہے۔

اسلامی مملکت کے بنیادی اصول

اسلامی مملکت کے دستور میں حسبِ ذیل اصول کی تصریح لازمی ہے:
۱۔ اصل حاکم تشریعی و تکوینی حیثیت سے اللہ رب العالمین ہے۔
۲۔ ملک کا قانون کتاب و سنت پر مبنی ہوگا اور کوئی ایسا قانون نہ بنایا جاسکے گا، نہ کوئی ایسا انتظامی حکم دیا جاسکے گا جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔
(تشریحی نوٹ) اگر ملک میں پہلے سے کچھ ایسے قوانین جاری ہوں جو کتاب و سنت کے خلاف ہوں تو اس کی تصریح بھی ضروری ہے کہ وہ بتدریج ایک معینہ مدت کے اندر منسوخ یا شریعت کے مطابق تبدیل کر دئیے جائیں گے۔
۳۔ مملکت کسی جغرافیائی، نسلی ، لسانی یا کسی اور تصور پر نہیں بلکہ ان اصول و مقاصد پر مبنی ہوگی جن کی اساس اسلام کا پیش کیا ہوا ضابطہ حیات ہے۔
۴۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ قرآن و سنت کے بتائے ہوئے معروفات کو قائم کرے منکرات کو مٹائے اور شعائر اسلامی کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری اسلامی تعلیم کا انتظام کرے۔
۵۔ اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمانان عالم کے رشتہ اتحاد و اخوت کو قوت سے قوی تر کرنے اور ریاست کے مسلم باشندوں کے درمیان عصبیت جاہلیہ کی بنیادوں پر نسلی و لسانی علاقائی یا دیگر مادی امتیازات کے ابھرنے کی راہیں مسدود کرکے ملت اسلامیہ کی وحدت کے تحفظ و استحکام کا انتظام کرے۔
۶۔ مملکت بلا امتیاز مذہب و نسل وغیرہ تمام ایسے لوگوں کی لابدی انسانی ضروریات یعنی غذا، لباس، مسکن، معالجہ اور تعلیم کی کفیل ہوگی جو اکتساب رزق کے قابل نہ ہوں، یا نہ رہے ہوں یا عارضی طور پر بے روزگاری ، بیماری یا دوسرے وجوہ سے فی الحال سعی اکتساب پر قادر نہ ہوں۔
۷۔ باشندگان ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو شریعت اسلامیہ نے ان کو عطا کیے ہیں یعنی حدودِ قانون کے اندر تحفظ جان و مال و آبرو، آزادیِ مذہب و مسلک، آزادئ عبادت، آزادئ ذات، آزادئ اظہارِ رائے،آزادئ نقل و حرکت، آزادئ اجتماعی، آزادئ اکتساب رزق، ترقی کے مواقع میں یکسانی اور رفاہی ادارات سے استفادہ کا حق۔
۸۔ مذکورہ بالا حقوق میں سے کسی شہری کا کوئی حق اسلامی قانون کی سندِ جواز کے بغیر کسی وقت سلب نہ کیا جائے گا اور کسی جرم کے الزام میں کسی کو بغیر فراہمئ موقعۂ صفائی و فیصلۂ عدالت کوئی سزا نہ دی جائے گی۔
۹۔ مسلمہ اسلامی فرقوں کو حدودِ قانون کے اندر پوری مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔ انہیں اپنے پیروؤں کو اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق ہاصل ہوگا۔ وہ اپنے خیالات کی آزادی کے ساتھ اشاعت کر سکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنے فقہی مذہب کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہوگا۔ وہ اپنے خیالات کی آزادی کے ساتھ اشاعت کر سکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنے فقہی مذہب کے مطابق ہوں گے اور ایسا انتظام کرنا مناسب ہوگا کہ انہیں کے قاضی یہ فیصلہ کریں۔
۱۰۔ غیر مسلم باشندگانِ مملکت کو حدودِ قانون کے اندر مذہب و عبادت، تہذیب و ثقافت اور مثہبی تعلیم کی پوری آزادی حاصل ہوگی اور انہیں اپنے شخصی معاملات کا فیصلہ اپنے مذہبی قانون یا رسم و رواج کے مطابق رکانے کا حق حاصل ہوگا۔
۱۱۔ غیر مسلم باشندگانِ مملکت سے حدودِ شریعہ کے اندر جو معاہدات کیے گئے ہوں ان کی پابندی لازمی ہوگی۔ اور جن حقوق شہری کا ذکر دفعہ نمبر ۷ میں کیا گیا ہے ان میں غیر مسلم باشندگانِ ملک اور مسلم باشندگانِ ملک سب برابر کے شریک ہوں گے۔
۱۲۔ رئیس مملکت کا مسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے تدین، صلاحیت اور اصابتِ رائے پر جمہوری ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔
۱۳۔ رئیس مملکت ہی نظمِ مملکت کا اصل ذمہ دار ہوگا، البتہ وہ اپنے خیالات کا کوئی جزو کسی فرد یا جماعت کو تفویض کر سکتا ہے۔
۱۴۔ رئیس مملکت کی حکومت مستبدانہ نہیں بلکہ شورائی ہوگی۔ یعنی وہ ارکانِ حکومت اور منتخب نمائندگانِ جمہور سے مشورہ لے کر اپنے فرائض انجام دے گا۔
۱۵۔ رئیس مملکت کو یہ حق حاصل نہ ہوگا کہ وہ دستور کو کُلاّ یا جزواَ معطل کر کے شوریٰ کے بغیر حکومت کرنے لگے۔
۱۶۔ جو جماعت رئیس مملکت کے انتخاب کی مجاز ہوگا وہی کثرت آراء سے اسے معزول کرنے کی بھی مجاز ہوگی۔
۱۷۔ رئیس مملکت شہر حقوق میں عامۃ المسلمین کے برابر ہوگا اور قانونی مواخذہ سے بالاتر ہوگا۔
۱۸۔ ارکان و عمالِ حکومت اور عام شہریوں کے لیے ایک ہی قانون و ضابطہ ہوگا اور دونوں پر عام عدالتیں ہی اس کو نافذ کریں گی۔
۱۹۔ محکمۂ عدلیہ، محکمۂ انتظامیہ سے علیحدہ اور آزاد ہوگا تاکہ عدلیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ہیئتِ انتظامیہ سے اثر پذیر نہ ہو۔
۲۰۔ ایسے افکار و نظریات کی تبلیغ و اشاعت ممنوع ہوگی جو مملکت اسلامیہ کے اساسی اصول و مبادی کے انہدام کا باعث ہوں۔
۲۱۔ ملک کے مختلف ولایات و اقطاع مملکت واحدہ کے اجزاء انتظامی متصور ہوں گے۔ ان کی حیثیت نسلی، لسانی، یا قبائلی واحدہ جات کی نہیں محض انتظامی علاقوں کی ہوگی جنہیں انتظامی سہولتوں کے پیش نظر مرکز کی سیادت کے تابع انتظامی اختیارات سپرد کرنا جائز ہوگا۔ مگر انہیں مرکز سے علیحدگی کا حق حاصل نہ ہوگا۔
۲۲۔ دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہوگی جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔

اسمائے گرامی حضرات شرکائے مجلس

۱۔ (علامہ) سلیمان ندوی (صدر مجلس ہذا)
۲۔ (مولانا) سید ابوالاعلیٰ مودودی (امیر اسلامی پاکستان)
۳۔(مولانا) شمس الحق افغانی (وزیر معارف۔ ریاست قلات)
۴۔ (مولانا) محمد بدر عالم (استاذ الحدیث۔ داالعلوم اسلامیہ اشرف آباد۔ ٹنڈواللہ یار۔سندھ)
۵۔ (مولانا) احتشام الحق تھانوی (مہتمم دارالعلوم الاسلامیہ اشرف آباد۔ سندھ)
۶۔ (مولانا) محمد عبدالحامد قادری بدایونی (صدر جمعیۃ العلمائے پاکستان۔ سندھ)
۷۔ (مفتی) محمد شفیع (رکن بورڈ آف تعلیماتِ اسلام مجلس دستور ساز پاکستان)
۸۔ (مولانا) محمد ادریس (شیخ الجامعہ، جامع عباسیہ بہاولپور)
۹۔ (مولانا) خیر محمد (مہتمم، مدرسہ المدارس، ملتان ، شہر)
۱۰۔ (مولانا مفتی) محمد حسن (مہتمم مدرسہ اشرفیہ نیلا گنبد، لاہور) 
۱۱۔ (پیر صاحب) محمد امین الحسنات (مانکی شریف، سرحد)
۱۲۔ (مولانا) محمد یوسف بنوری (شیخ التفسیر، دارالعلوم اسلامیہ، اشرف آباد، سندھ)
۱۳۔(حاجی) خادم الاسلام محمد امین (خلیفہ حاجی ترنگ زئی، المجاہد آباد، پشاور صوبہ سرحد)
۱۴۔ (قاضی) عبدالصمد سربازی (قاضی قلات، بلوچستان)
۱۵۔ (مولانا) اطہر علی (صدر عامل جمعیۃ العلماء اسلام مشرقی، پاکستان)
۱۶۔(مولانا) ابوجعفر محمد صالح (نائب صدر جمعیۃ العلماء اسلام، مشرقی پاکستان)
۱۷۔ (مولانا) راغب احسن (نائب صدر جمعیۃ العلماء اسلام، مشرقی پاکستان)
۱۸۔(مولانا) محمد حبیب الرحمن (نائب صدر جمعیۃ المدرسین، سرسینہ شریف، مشرقی پاکستان)
۱۹۔ (مولانا) محمد علی جالندھری (مجلس احرار اسلام، پاکستان)
۲۰۔ (مولانا) داؤد غزنوی (صدر جمعیۃ اہل حدیث، مغربی پاکستان)
۲۱۔ (مفتی) جعفر حسین مجتہد (رکن بورڈ آف تعلیمات اسلام، مجلس دستور ساز، پاکستان)
۲۲۔ (مفتی حافظ) کفایت حسین مجتہد (ادارہ عالیہ تحفظ حقوقِ شیعہ پاکستان، لاہور)
۲۳۔ (مولانا) محمد اسماعیل (ناظم جمعیت اہل حدیث ، پاکستان گوجرانوالہ)
۲۴۔ (مولانا) حبیب اللہ (جامعہ دینیہ دارالہدیٰ، ٹیڑھی، خیرپور میر)
۲۵۔(مولانا ) احمد علی (امیر انجمن خدام الدین شیرانوالہ دروازہ، لاہور)
۲۶۔(مولانا) محمد صادق (مہتمم مدرسہ مظہر العلوم، کھڈہ، کراچی)
۲۷۔ (پروفیسر) عبدالخالق (رکن بورڈ آف تعلیماتِ اسلام، مجلس دستور ساز ، پاکستان)
۲۸۔ (مولانا) شمس الحق فرید پوری (صدر مہتمم مدرسہ اشرف العلوم ڈھاکہ)
۲۹۔ (مفتی ) محمد صاحبداد عفی عنہ (سندھ مدرسہ الاسلام، کراچی)
۳۰۔ (مولانا) محمد ظفر احمد انصاری (سیکرٹری بورڈ آف تعلیماتِ، مجلس دستور ساز پاکستان)
۳۱۔ (پیر صاحب) محمد ہاشم مجددی (ٹنڈوسائیں داد، سندھ)

دستوری سفارشات پر مشاہیر علماء کا تبصرہ اور ترمیمات

ادارہ

پاکستان میں دستور کی اسلامی بنیادوں کے حوالہ سے جنوری 1951ء کے دوران کراچی میں تمام مکاتب فکر کے 31 سرکردہ علماء کرام نے جمع ہو کر ’’22 متفقہ دستوری نکات‘‘ پیش کیے تھے جو کئی بار منظر عام پر آچکے ہیں اور کم و بیش تمام مکاتب فکر کی دینی و سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ مسلسل اتفاق کا اظہار کرتی آرہی ہیں، جبکہ اس کے دو سال بعد جنوری 1953ء میں انہی اکابر علماء کرام کا اجلاس دوبارہ کراچی میں ہوا تھا جو 11 جنوری سے 18 جنوری تک مسلسل جاری رہا اور اس میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام نے مجلس دستور ساز کے تجویز کردہ بنیادی اصولوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے بارے میں متفقہ سفارشات پیش کی تھیں۔ یہ سفارشات شاید دوبارہ منظر عام پر نہیں آسکیں، جبکہ اس وقت کراچی کے حافظ مجددی صاحب (مکان 4 ڈی، بلاک آئی، شمالی ناظم آباد، کراچی) نے یہ پمفلٹ کی شکل میں شائع کی تھیں اور ہمیں اس کی نقل اسلامی نظریاتی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر حافظ اکرام الحق صاحب نے فراہم کی ہے۔ یہ دستاویز پاکستان کی دستور سازی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ہم اسے ڈاکٹر صاحب موصوف کے شکریہ کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ (رئیس التحریر)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جنوری 1951ء میں تمام اسلامی فرقوں اور گروہوں کے معتمد علیہ علماء کا جو اجتماع دستور اسلامی کے مسائل پر غور کرنے کے لیے کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس کے مرتب کردہ 22 اصول ’’اسلامی مملکت کے بنیادی اصول‘‘ کے نام سے منظر عام پر آچکے ہیں اور بفضل خدا مسلم پبلک میں قبول عام بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ابتداء میں یہ خیال تھا کہ کسی قریبی وقت میں دوبارہ یہ اجتماع منعقد کر کے ان اصولوں کے مطابق ایک دستور کا خاکہ بھی مرتب کر دیاجائے، لیکن بعد میں یہی مناسب سمجھا گیا کہ مجلس دستور ساز کی مقرر کردہ بنیادی اصولوں کی کمیٹی جب اپنی رپورٹ پیش کرے، اس وقت ہی یہ اجتماع منعقد کیا جائے اور اس رپورٹ کو مدارِ بحث بنا کر جس قسم کی اصلاحات اس میں ضروری سمجھی جائیں، کر دی جائیں۔ چنانچہ 22 دسمبر 1952ء کو جب مجلس دستور ساز میں مذکورہ بالا رپورٹ پیش ہوگئی تو اس اجتماع کے دوبارہ منعقد کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس میں شرکت کے لیے انہی اصحاب کو دعوت دی گئی جو جنوری 1951ء کے اجتماع میں مدعو تھے۔ 
11 جنوری 1953ء کو کراچی میں یہ اجتماع منعقد ہوا اور 18 جنوری تک 9 اجلاس مختلف اوقات میں حسب ذیل اصحاب کے زیر صدارت منعقد ہوئے:
حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب۔ حضرت مولانا سید سلیمان صاحب ندوی۔ حضرت مولانا ابوالحسنات صاحب۔ حضرت مولانا داؤد غزنوی صاحب۔ حضرت مولانا ظفر احمد صاحب عثمانی۔
ان اجلاسوں میں پوری رپورٹ پر غور کیا گیا۔ اگرچہ مدارِ بحث مذکورہ بالا رپورٹ کا مستند اردو ترجمہ رہا جو حکومت پاکستان کی طرف سے شائع ہوا تھا، لیکن چونکہ ترجمہ میں بکثرت نقائص تھے اس لیے رپورٹ کے مصنفین کا منشا سمجھنے کے لیے اصل انگریزی رپورٹ کو بھی پیش نظر رکھا گیا۔
اجتماع کی کارروائی میں بڑی سہولت ہو جاتی اگر مجلس دستور ساز کے قائم کیے ہوئے تعلیمات اسلامیہ بورڈ کی تجاویز بہم پہنچ جاتیں، لیکن افسوس ہے کہ مجلس دستور ساز کے صدر نے اس اجتماع کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع دینا پسند نہیں کیا۔ 
الحمد للہ اس اجتماع میں تمام فیصلے بالاتفاق کیے گئے ہیں جنہیں اطلاع عام کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔

دستوری سفارشات پر ہر مکتبۂ خیال کے مشاہیر علماء کا متفقہ تبصرہ اور ترمیمات

باب (۲) مملکت کی پالیسی کے رہنما اصول

پیراگراف (۲) شق (۲) ضمن (الف): رپورٹ میں اس ضمن کی موجودہ عبارت سے یہ گنجائش نکلتی ہے کہ حکومت نظامِ تعلیم کو سابق انگریزی دور کی بنیادوں پر برقرار رکھتے ہوئے صرف اس امر کی کوشش کرے کہ مسلمانوں کے لیے بس قرآن مجید کی تعلیم لازم کر دے، اور مسلمانوں کو یہ بتانے کے لیے کہ کس قسم کی زندگی قرآن مجید اور سنت رسول کے مطابق ہوتی ہے دینیات کا ایک کورس مقرر کر دے۔ لیکن یہ انتظام کسی طرح بھی تعلیم اور تربیت کی ان خرابیوں کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں ہے جو سابق ملحدانہ نظام تعلیم کے بدولت پیدا ہو رہی تھیں۔ لہٰذا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس ضمن کے موجودہ الفاظ کو حسب ذیل الفاظ سے بدل دیا جائے۔
’’مسلمانوں کے لیے قرآن مجید اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے اور ملک کے نظامِ تعلیم میں ایسی اصلاحات کی جائیں جن سے مسلمان اپنی زندگی کو قرآن مجید اور سنت رسول کے مطابق ڈھالنے کے قابل ہو سکیں۔‘‘
پیراگراف (۲) شق (۲) ضمن (ب) : اس ضمن میں رپورٹ کی موجودہ تجویز اس لحاظ سے ناقص ہے۔ ایک یہ کہ وہ صرف شراب خوری کو ممنوع کرتی ہے نہ کہ شراب فروشی، شراب سازی وغیرہ کو بھی، اور دوسرے مسکرات کے بارے میں خاموش ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ شراب، جوئے، عصمت فروشی کے انسداد کے لیے کسی مدت کا تعین نہیں کرتی جس سے اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی مملکت پاکستان میں یہ فواحش غیر معین مدت تک جاری رہیں گے۔ لہٰذا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کی موجودہ عبارت کی جگہ یہ عبارت رکھی جائے۔ 
’’ہر قسم کی مسکرات، جوئے اور عصمت فروشی کا تاریخِ نفاذِ دستور سے زیادہ سے زیادہ تین سال کے اندر قانون سازی کے ذریعہ مکمل انسداد کیا جائے۔‘‘
پیراگراف (۲) شق (۴) : اس شق میں رپورٹ کے مصنفین نے موجودہ قوانین ملکی کو کتاب و سنت کے مطابق تبدیل کرنے کے لیے کسی مدت کا تعین نہیں کیا ہے جس سے یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ نفاذِ دستور سے پہلے کے خلافِ اسلام قوانین غیر معین مدت تک ملک میں نافذ رہیں گے، حالانکہ یہ قابل برداشت نہیں ہے۔ اس لیے ہم اس شق کو بدل کر حسب ذیل صورت میں رکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔ 
’’شق (۴) ضمن (الف): موجودہ قوانین کو پانچ سال کے اندر کتاب و سنت کے مطابق تبدیل کر دینے کا مناسب انتظام کیا جائے۔
شق (۴) ضمن (ب): قرآن پاک اور سنت کے وہ احکام جو قانونی صورت میں نافذ کیے جا سکتے ہیں، ان کی تدوین و تنفیذ کے لیے مناسب کارروائی کی جائے۔ البتہ کوئی قانون جو مسلمانوں کے شخصی معاملات سے متعلق ہو، ہر فرقے کے لیے کتاب و سنت کے اس مفہوم کی روشنی میں بنایا جائے گا جو اس کے نزدیک مستند ہو اور کوئی فرقہ دوسرے فرقے کی تعبیر کا پابند نہ ہوگا، نہ کوئی قانون ایسا بنایا جائے گا جس سے کسی فرقے کے مراسم و فرائضِ مذہبی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہو۔‘‘
پیراگراف (۲) شق (۶): اس شق کی موجودہ عبارت کی بجائے ہمارے نزدیک یہ عبارت مناسب ہوگی۔
’’مملکت کی کوشش ہونی چاہیے کہ بلا امتیاز مذہب و ملت پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے کھانے، کپڑے، مکان، تعلیم اور طبی امداد جیسی بنیادی ضروریات زندگی کا نظام کرے۔ خصوصاً ان کے لیے جو بیروزگاری، کمزوری، بیماری یا ایسی ہی کسی دوسری وجہ سے عارضی یا مستقل طور پر اپنی روزی کمانے کے قابل نہ ہوں۔‘‘
پیراگراف (۲) شق (۷): اس شق میں اس امر کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ مملکت کی معاشی پالیسی اسلام کے اصولِ عدل پر مبنی ہوگی۔ اس لیے موجودہ عبارت کی جگہ یہ عبارت ہونی چاہیے:
’’مملکت کی معاشی پالیسی اسلام کے اصول عدل عمرانی پر مبنی ہونی چاہیے، اور بلا امتیاز مذہب، نسل یا رنگ عوام کی ہر قسم کی بہبودی کا انتظام کیا جائے، اور اس پر اس طرح عمل درآمد ہونا چاہیے کہ‘‘
پیراگراف (۲) شق (۷) ضمن (ج): اس شق میں اگرچہ مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کا مفہوم بہت وسیع ہے، لیکن خصوصیت کے ساتھ محنت پیشہ اور زراعت پیشہ لوگوں کے معاوضوں کا معاملہ اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کا الگ ذکر کر دینا اور اس امر کی صراحت کرنا ضروری ہے کہ ملک میں اس طبقہ کے معاوضوں کا معیار کم از کم اس حد تک پر رکھا جائے گا کہ ان کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔ لہٰذا ہماری رائے میں موجودہ عبارت کی جگہ یہ عبارت ہونی چاہیے۔
’’مزدوروں اور کسانوں کے حقوق اور معاوضوں کا ایسا منصفانہ معیار مقرر کیا جائے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہیں اور ان سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جا سکے۔‘‘
پیراگراف (۲) شق (۱۰): اس شق میں رپورٹ کی موجودہ عبارت ناقص ہے اور یہ نقص خصوصیت کے ساتھ نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ لسانی تعصبات کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہمارے نزدیک اس کو حسب ذیل عبارت سے بدلنا چاہیے:
’’مملکت کے لیے لازم ہونا چاہیے کہ وہ پاکستانی مسلمانوں میں سے جغرافیائی، قبائلی، نسلی اور لسانی اور اسی قسم کے دوسرے غیر اسلامی جذبات دور کرنے اور ان میں یہ جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرے کہ وہ ملت اسلامیہ کی سا لمیت، وحدت، استحکام اور اس طرز فکر کے لوازمات اور اس مقصد کو سب سے مقدم رکھیں جس کی تکمیل کے لیے پاکستان قائم ہوا۔ ‘‘

اضافے: 

مذکورہ بالا ترمیمات کے علاوہ ہمارے نزدیک رپورٹ کے رہنما اصولوں پر حسب ذیل امور کا اضافہ بھی ضروری ہے:
شق (۲) ضمن (و): ’’اسلامی علوم و ثقافت کے فروغ کا مؤثر انتظام کیا جائے۔‘‘
شق (۷) ضمن (د): ’’حکومت کے ادنیٰ و اعلیٰ ملازمین کے معاوضوں کا تفاوت اعتدال پر لایا جائے۔‘‘

مزید نئی دو شقیں (۱) 

(الف) ’’مملکت کے لیے اس امر کا اہتمام لازمی ہوگا کہ مسلم امیدوارانِ ملازمت اور ملازمین حکومت کے انتخاب، تقرر اور ترقی کے مواقع پر قابلیت اور کارکردگی اور دیگر متعلقہ عوامل کے ساتھ ساتھ اسلامی کردار اور شعائر اسلام کی پابندی کا مؤثر لحاظ رکھا جائے۔‘‘
(ب) ’’تمام سرکاری ملازمتوں کی ٹریننگ میں خواہ وہ فوجی ہوں یا سول، مسلمانوں کے لیے دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کا خاص انتظام کیا جائے تاکہ ریاستِ پاکستان کے ملازمین کا اخلاقی معیار بھی معیارِ قابلیت کی طرح بلند ہو۔‘‘
(ج) ’’مسلمان ملازمینِ حکومت کو فرائض دینی کی پابندی اور شعائر اسلام کے التزام میں پوری سہولتیں بہم پہنچائی جائیں۔‘‘
’’دہریت و الحاد کی تبلیغ اور قرآن و سنت کی توہین و استہزاء کا بذریعہ قانون سازی انسداد کیا جائے۔‘‘

باب(۳) قرآن پاک اور سنت کے خلاف قانون سازی کا سدباب

پیراگراف (۳) : اس پیراگراف میں صرف سلبی حیثیت سے یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ کوئی قانون سازی قرآن اور سنت کے خلاف نہ ہوگی، بلکہ ایجابی طور پر اس اصولی حقیقت کو دستور میں ثبت ہونا چاہیے کہ اس ریاست میں قرآن و سنت کے احکام و ہدایات ہی قانون کا اصل سر چشمہ ہوں گے۔ اس لیے موجودہ پیراگراف کے بعد اس عبارت کا اضافہ ضروری ہے۔
’’اور مملکت کے قوانین کے ماخذ اساسی، چیف سورس، قرآن و سنت ہوں گے۔‘‘
پیراگراف (۴، ۵، ۶ اور ۸): حضرت مولانا ابوالحسنات صاحب، حضرت مولانا عبد الحامد صاحب بد ایونی اور حضرت مفتی صاحبداد صاحب نے اس کی بجائے ایک دوسری تجویز پیش کی جو ضمیمے میں درج ہے۔
ان میں قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی روک تھام کے لیے علماء کے ایک بورڈ کے قیام کی جو صورت پیش کی گئی ہے، وہ نہ کسی لحاظ سے معقول ہے اور نہ اس طرح کی قانون سازی کو روکنے کے لیے مؤثر ہی ہو سکتی ہے۔ البتہ اس سے بہت سی نئی خرابیوں کے پیدا ہو جانے کا قوی امکان ہے۔ ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ جس طرح دوسرے قوانین کے معاملے میں حدود و دستور سے متجاوز قانون سازی کی روک تھام کے لیے تعبیرِ دستور کے اختیارات سپریم کورٹ کے سپرد کیے گئے ہیں، اسی طرح پیراگراف (۳) کے معاملے کو بھی سپریم کورٹ پر ہی کیوں نہ چھوڑا جائے۔ البتہ یہ امر ضروری ہے کہ جس وقت تک ہمارے ملک میں نئے دستور کے تقاضوں کے مطابق کتاب و سنت میں بصیرت رکھنے والے فاضل جج پیدا نہ ہوں، اس وقت تک کے لیے کوئی ایسا عارضی انتظام تجویز کر دیا جائے جس سے سپریم کورٹ میں پیراگراف (۳) کے منشاء کے مطابق کتاب و سنت کی صحیح تعبیر کی جا سکے۔ لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پیراگراف (۴ تا ۶) کو اور ان سے تعلق رکھنے والے پیراگراف ۸ کو حذف کر دیا جائے اور ان کے بجائے حسب ذیل پیراگراف رکھا جائے:
(۱) ’’پیراگراف (۳) کے تحت مجالس قانون ساز کے بنائے ہوئے قوانین کے خلاف جو دستوری اعتراضات یا تعبیر دستور کے مسائل پیدا ہوں، ان کا فیصلہ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں پانچ علماء مقرر کیے جائیں گے جو سپریم کورٹ کے کسی ایسے جج کے ساتھ جسے امیر مملکت تدین و تقویٰ اور واقفیت علوم و قوانین اسلامی کے پیش نظر اس مقصد کے لیے نامزد کرے گا، مل کر اس امر کا فیصلہ کریں گے کہ قانون کتاب و سنت کے مطابق ہے یا نہیں؟‘‘
(۲) ’’ان علماء کا تقرر اسی طریقے سے ہوگا جو سپریم کورٹ کے ججوں کے لیے بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی سفارشات میں تجویز کیا گیا ہے۔‘‘
(۳) ’’اس منصب کے لیے ایسے ہی علماء ہوں گے جو (الف) کسی دینی ادارے میں کم از کم دس سال تک مفتی کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہوں۔ یا (ب) کسی علاقے میں کم از کم دس سال تک مرجع فتویٰ رہے ہوں۔ یا (ج) کسی باقاعدہ محکمہ قضاء شرع میں کم از کم دس سال تک قاضی کی حیثیت سے کام کر چکے ہوں۔ یا(د) کسی دینی درسگاہ میں کم از کم دس سال تک تفسیر، حدیث یا فقہ کا درس دیتے رہے ہوں۔‘‘
(۴) ’’یہ انتظام پندرہ سال کے لیے ہوگا اور اگر ضرورت ہو تو رئیس مملکت اس مدت میں توسیع کر سکتا ہے۔‘‘
(۵) ’’ان عالم دین ججوں کے لیے جملہ ضوابط وہی ہوں گے جو بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی سفارشات میں دوسرے ججوں کے متعلق تجویز کیے گئے ہیں۔‘‘
پیراگراف (۷): رپورٹ میں اس پیراگراف کو دیکھ کر ہمیں سخت حیرت ہوئی کہ جن لوگوں نے پیراگراف (۳) میں اس اصول کو تسلیم کیا ہے کہ اس مملکت میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بننا چاہیے، ان کے قلم سے یہ بات کیسے نکلی کہ اس مملکت کے مالی معاملات قرآن اور سنت کے احکام کی پابندی سے آزاد رہیں گے۔ اگر یہ ریاست خدا اور رسول کے احکام و فرامین کو بالاتر قانون تسلیم کرتی ہے جیسا کہ پیراگراف (۳) کے الفاظ سے ظاہر ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس ریاست کے مالیات خدا اور رسول کے دائرہ اثر (جورسڈکشن) سے باہر ہوں۔ ہمارے نزدیک جس طرح اسلام دنیا کے ہر معاملے میں ہمارا بہترین رہنما ہے، اسی طرح مالی معاملات میں بھی ہے۔ ہم اس کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں کہ ہمارے دستور کی ایک دفعہ میں مالیات کی حد تک اسلام کی رہنمائی پر صاف صاف عدم اعتماد کا اعلان کر دیا جائے۔ البتہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ سردست کچھ مدت کے لیے ریاست کے مالی معاملات کو اسلام کے مطابق درست کرنے میں عملی مشکلات مانع ہوں گی، مگر اس کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ مالی مسودات قانون پر باب سوم کے احکام کا اطلاق ہونے کے لیے پانچ سال کی مدت مقرر کر دی جائے۔ لہٰذا اس باب کا پیراگراف (۷) حذف کر کے اس کی جگہ پر یہ عبارت ہونی چاہیے۔ 
’’باب ہذا کے احکام کا اطلاق مالی مسودات قانون پر تاریخ نفاذ دستور سے پانچ سال کی مدت کے اختتام پر ہو گا۔‘‘

حصہ (۲) 

وفاقیہ اور اس کے علاقہ جات

پیراگراف (۹): اس دفعہ کی شق (۱) میں مملکت کا نام صرف پاکستان تجویز کیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ کافی نہیں ہے، اس کے بجائے مملکت کا نام ’’جمہوریہ اسلامیہ پاکستان‘‘ ہونا چاہیے۔ 
اس نام پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کی موجودگی اسے اسلامی جمہوریہ کہنے میں مانع ہے۔ آخر جب روس میں کثیر التعداد غیر اشتراکیہ کی موجودگی جمہوریہ روس کو اشتراکی جمہوریہ کہنے میں مانع نہیں ہے، تو پاکستان کے لیے غیر مسلموں کی موجودگی اسے اسلامی جمہوریہ کہنے میں مانع کیوں ہے؟ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کا مفہوم صرف یہ ہے کہ یہ ایک ایسی جمہوریت ہے جو اسلام کے اصولوں پر قائم ہوئی ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کا اظہار قراردادِ مقاصد میں بھی کیا جا چکا ہے اور اس رپورٹ کا پیراگراف (۳) بھی اس پر دلالت کرتا ہے۔ 
علاوہ بریں اس میں حسب ذیل اضافے بھی ہونے چاہئیں۔ شق (۱) کے بعد حسب ذیل عبارت:
’’ملک کے مختلف ولایات و اقطاع مملکتِ واحدہ کے اجزا انتظامی متصور ہوں گے۔ ان کی حیثیت نسل، لسانی یا قبائلی وحدہ جات کی نہیں بلکہ محض انتظامی علاقوں کی ہوگی، جنہیں انتظامی سہولتوں کے پیش نظر مرکز کی سیادت کے تابع اختیارات سپرد کیے جائیں گے۔‘‘
شق (۲) کے بعد حسب ذیل عبارت۔
’’ولایات مملکت کو مرکز سے علیحدگی کا حق حاصل نہ ہوگا۔‘‘
اس کے بعد موجودہ شق (۲) شق (۴) ہو جائے گی۔ 

حصہ (۳) 

باب (۱) عاملہ

پیراگراف (۲۳) شق (۲): اس میں انتخابی عدالتیں مقرر کرنے کا اختیار اُن امور میں داخل کیا گیا ہے جو صدر ریاست کی صوابدید پر چھوڑے گئے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ درست نہیں ہے۔ انتخابات میں انصاف قائم کرنا اس ریاست کے وجود کے لیے غایت درجہ اہمیت رکھتا ہے اور انصاف کے تمام دوسرے شعبوں کی طرح یہ شعبہ بھی انتظامیہ کی مداخلت سے آزاد اور عدلیہ کے دائرہ عمل میں ہونا چاہیے۔ لہٰذا اس پیراگراف کی شق (۲) سے ’’اور انتخابی عدالتوں‘‘ کے الفاظ حذف کر دینے چاہئیں۔ اس کی متبادل تجویز ہم حصہ دوازدھم (۱۲) در باب انتخابات میں پیش کریں گے۔ 
پیراگراف (۲۸) شق (۲ و ۳): ان دونوں شقوں میں اس امر کا امکان رکھا گیا ہے کہ ایسے اشخاص وزیر اعظم اور وزیر بن سکیں جو مجالس قانون میں منتخب ہو کر نہ آئے ہوں یا انتخاب میں ناکام ہوئے ہوں اور پھر اقتدار کی کرسی پر چھ مہینے تک فائز رہنے کے بعد انتخاب جیتنے کی کوشش کریں۔ یہ چیز نہایت قابل اعتراض اور نقصان دہ بھی ہے۔ کسی شخص کو وزارت کی کرسی پر بٹھا کر پھر انتخاب جیتنے کا موقع دینا حکومت کی انتظامی مشینری کو اور رائے دہندوں کو سخت اخلاقی انحطاط میں مبتلا کرنے کا موجب ہوگا۔ لہٰذا اس دروازہ کو قطعی بند ہونا چاہیے اور یہ دونوں شقیں حذف کی جانی چاہئیں۔ 
اس غلطی کا اعادہ پیراگراف (۸۹) شق (۲) میں بھی کیا گیا ہے جہاں ولایات (یونٹس) میں غیر منتخب لوگوں کے وزیر اعلیٰ اور وزیر بن جانے اور پھر انتخاب جیتنے کے امکانات رکھے گئے ہیں۔ لہٰذا پیراگراف (۸۹) شق (۲) کو بھی حذف کیا جانا چاہیے۔ 

باب (۲) وفاقی مقننہ

اس باب میں ایوانِ ولایات (ہاؤس آف یونٹس) اور ایوانِ جمہور (ہاؤس آف دی پیپل) کی ترکیب و تشکیل جس طرح کی گئی ہے اس میں متعدد امور ایسے ہیں جو اس مجلس کے نزدیک سخت قابل اعتراض ہیں اور ان میں بڑی بے اصولی بھی پائی جاتی ہے۔ مگر چونکہ اس وقت مختلف صوبوں کے سیاسی رہنماؤں کے درمیان ان امور میں گفت و شنید ہو رہی ہے اور ہم اس میں خلل ڈالنا پسند نہیں کرتے اس لیے ان کے بارے میں ہم سرِدست اپنی رائے محفوظ رکھتے ہیں۔
پیراگراف (۴۰) شق (۱): اس میں ایوانِ ولایت کی نشست پر کرنے کے لیے کسی شخص کے نا اہل ہونے کے جو چار وجوہ بیان کیے گئے ہیں ان میں مسلم ارکان کے لیے پانچویں وجہ کا بھی اضافہ ہونا چاہیے جس کے الفاظ یہ ہوں:
’’فرائضِ اسلام کا پابند اور فواحش سے مجتنب نہ ہو۔‘‘
اس وجہ کا اضافہ پیراگراف (۴۷) در باب ایوانِ جمہور اور پیراگراف (۱۰۱) در باب مجالسِ مقننۂ ولایات میں بھی ہونا چاہیے۔
پیراگراف (۴۰) شق (۱) ضمن (۴): اس ضمن کی موجودہ عبارت قابل اعتراض ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایوانِ ولایات کا ہر رکن لازماً اس ولایت کا باشندہ ہونا چاہیے کہ جس سے وہ منتخب ہو کر آئے۔ یہ پاکستانیوں کے درمیان صوبائی تعصبات کو مستقل طور پر قائم رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہوگا۔ لہٰذا ہم تجویز کرتے ہیں کہ اس عبارت کو بدل کر یوں کر دیا جائے۔
’’مملکت کے کسی حصہ کی فہرست رائے دہندگان میں اس کا نام درج ہو۔‘‘
اس غلطی کا اعادہ پیراگراف (۴۷) شق (۴) میں بھی کیا گیا ہے اور اس کی بھی مذکورہ بالا طریقے پر اصلاح ہونی چاہیے۔ 
پیراگراف (۴۲) ضمن (۵): اس میں ہر اس شخص کو ایوانِ ولایات کی رکنیت کے لیے نا اہل قرار دیا گیا ہے جسے کسی عدالت مجاز نے کسی جرم کے ارتکاب پر دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا دی ہو۔ یہ ’’کسی جرم‘‘ کا لفظ بہت وسیع ہے، اس کی زد میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جنہیں سیاسی اسباب کی بناء پر سزا دی گئی ہو۔ اس کی بجائے ہم تجویز کرتے ہیں کہ اس شق میں کسی دوسرے جرم کے الفاظ حذف کر کے ’’کسی اخلاقی جرم‘‘ کے الفاظ رکھے جائیں۔
یہی اصلاح پیراگراف (۴۸) شق (۵) اور پیراگراف (۱۰۲) شق (۵) میں بھی ہونی چاہیے۔
پیراگراف (۴۲) شق (ز): اس شق میں ایوانِ ولایات کی رکنیت کے لیے ہر اس شخص کو نا اہل قرار دیا گیا ہے جو سرکاری ملازمت سے ’’بد اطواری‘‘ کی بنا پر برخاست کیا گیا ہو۔ یہ بد اطواری بھی بہت وسیع مفہوم رکھتی ہے اور اس کی زد میں ایسے لوگ بھی آجاتے ہین جن کو کسی وقت کسی پارٹی کی حکومت سیاسی اسباب سے برخاست کر دے، درآں حالیکہ وہ کسی اخلاقی خرابی میں مبتلا نہ پائے گئے ہوں۔ لہٰذا اس شق میں ’’بد اطواری‘‘ کے بعد ’’جو اخلاقی جرم کی نوعیت کی ہو‘‘ کا اضافہ ہونا چاہیے۔ 
یہی اصلاح پیراگراف (۴۸) شق (ز) اور پیراگراف (۱۰۲) شق (ز) میں بھی ہونی چاہیے۔ 
پیراگراف (۵۰) شق (د): اس میں ہر اس شخص کو رائے دہندگی کے حق سے محروم کیا گیا ہے جس نے کسی عدالت مجاز سے ’’کسی جرم‘‘ کے ارتکاب پر دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا پائی ہو۔ اس پر بھی ہم کو وہی اعتراض ہے جو پیراگراف (۴۲) شق (۵) کے سلسلہ میں بیان کیا جا چکا ہے۔ لہٰذا ’’کسی جرم‘‘ کے بعد ’’جو اخلاقی نوعیت کا ہو‘‘ کے الفاظ کا اضافہ ہونا چاہیے۔ یہی اصلاح پیراگراف (۱۰۶) شق (د) میں بھی ہونی چاہیے۔
پیراگراف (۶۶) شق (۱): اس میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ مقننہ کے ہر رکن کے لیے پاکستان کی وفاداری کا حلف اٹھانا لازم ہوگا۔ یہ بالکل مناسب ہے لیکن اس کے ساتھ ہر رکن مقننہ کو یہ حلف بھی اٹھانا چاہیے کہ وہ مقننہ کی کارروائیوں میں اپنا ووٹ دیانتداری کے ساتھ دے گا۔ لہٰذا اس شق میں ’’وہ پاکستان کی وفاداری کا حلف اٹھائے‘‘ کے بعد ان الفاظ کا اضافہ ہونا چاہیے۔
’’نیز اس امر کا حلف اٹھائے کہ وہ اپنا ووٹ دیانتداری کے ساتھ استعمال کرے گا۔ اس فقرے کا اضافہ پیراگراف (۱۱۸) شق (۱) میں بھی ہونا چاہیے۔

حصہ (۱۰ )

در باب عدلیہ

عدلیہ کے باب میں کسی مقام پر حسب ذیل دو دفعات کا اضافہ ضروری ہے۔
(۱) ’’عدلیہ کے ہر اہل منصب کے تقرر و ترقی میں تقرر کرنے والے کے پیش نظر من جملہ دیگر عوامل، متعلقہ کے تقویٰ و تدین اور اصلی ماخذ کے ذریعہ علوم و قوانین اسلامی سے واقفیت بھی مؤثر عوامل اور وجہ ترجیح کی حیثیت رکھیں گے۔‘‘
یہ اس لیے ضروری ہے کہ اسلام انتظامیہ اور مقننہ کے ارکان سے بھی بڑھ کر عدالت ہائے انصاف کے احکام کے تدین و تقویٰ کو اہمیت دیتا ہے، اور جبکہ اس مملکت میں یہ اصول تسلیم کر لیا گیا ہے کہ یہاں کے قوانین اسلام کے اصول و احکام پر مبنی ہوں گے تو یہ نہایت ضروری ہے کہ اس کے حکامِ عدالت قوانین اسلامی سے واقف ہوں۔
(۲) ’’مقننہ یا انتظامیہ کو ٹربیونلز (خاص عدالتیں) مقرر کرنے کے اختیارات نہ ہوں گے۔‘‘
یہ اس لیے ضروری ہے کہ کسی خاص مقدمہ کے لیے یا خاص نوعیت کے مقدمات کے لیے انتظامیہ کا اپنی اغراض اور مصلحتوں کی بنا پر خود یا مقننہ کے ذریعہ سے خاص عدالتیں قائم کرنا اور ان کے اختیارات داد رسی پر من مانی حدود و قیود عائد کرنا قطعاً خلاف انصاف ہے اور اس اختیار کو جس بے جا طریقے سے استعمال کیا جاتا رہا ہے، اس کی نہایت بری مثالیں دیکھی جا چکی ہیں۔ اس لیے خاص عدالتیں مقرر کرنے کے طریقے کو از روئے دستور بند ہونا چاہیے اور ہر قسم کے مقدمات ملک کی عام عدالتوں ہی کی طرف رجوع کیے جانے چاہئیں۔ 

حصہ (۱۰)

باب (۱) عدالت عظمیٰ

پیراگراف (۱۸۲): اس میں سپریم کورٹ کو اس اختیار سے محروم کیا گیا ہے کہ وہ مسلح افواج سے متعلق کسی عدالت یا ٹربیونل کے صادر کیے ہوئے کسی حکم کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت دے۔ ہمارے نزدیک یہ قید غیر منصفانہ ہے جبکہ ہمارے دستور میں سپریم کورٹ کو آخری عدالت انصاف قرار دیا جائے گا تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک کے کسی شخص کو خواہ وہ فوجی ہو، سولین یا عام شہری، انصاف حاصل کرنے کے لیے اس کا دروازہ کھٹکھٹانے کا موقع نہ دیا جائے۔ اگر فوجی عدالتوں میں کسی شخص کو بے انصافی کی شکایت ہو تو آخر کیوں وہ ملک کی آخری عدالت انصاف سے اپیل نہ کر سکے۔ لہٰذا پیراگراف (۱۸۲) کی حسب ذیل عبارت حذف کی جانی چاہیے۔
پیراگراف (۱۸۷): اس پیراگراف میں سپریم کورٹ کے اس اختیار کو کہ وہ انصاف کی غرض کے لیے کوئی شہادت یا دستاویز طلب کر سکے، وفاقی مقننہ کے بنائے ہوئے قوانین سے محدود کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر مقننہ کوئی ایسا قانون بنا دے جس میں کسی خاص قسم کی شہادتیں یا دستاویزیں طلب کرنا ممنوع ہو تو سپریم کورٹ انہیں طلب نہ کر سکے گا، خواہ انصاف کے لیے اس کا طلب کرنا کتنا ہی ضروری ہو۔ یہ بات اسلامی اصول عدل کے قطعاً خلاف ہے۔ اسلام کی رو سے جس شہادت کے بغیر انصاف نہ کیا جا سکتا ہو وہ جس کے پاس بھی ہو عدالت اس کو طلب کرنے کا حق رکھتی ہے، اور اس شخص کے لیے کتمان حق جائز نہیں۔ لہٰذا اس پیراگراف سے یہ الفاظ حذف کر دیے جائیں۔
’’بحفظ احکام موضوعہ مقننہ وفاقی‘‘
نیز پیراگراف کے اختتام پر حسب ذیل عبارت کا اضافہ کیا جائے:
’’البتہ عاملہ کو حق ہونا چاہیے کہ اگر اس کے نزدیک کسی شہادت یا دستاویز کا افشا مملکت کے تحفظ و استحکام کے منافی ہو تو وہ عدالت سے استدعا کر سکتی ہے کہ اس کے اخفا کا خاطر خواہ انتظام کیا جائے۔‘‘

باب (۲) عدالت ہائے عالیہ

پیراگراف (۲۰۵) شق (۲): اس پیراگراف میں ہائی کورٹ کے اختیارات پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت کسی عدالت کے ایسے فیصلوں پر اعتراض کر سکے جن کی اپیل یا نگرانی کسی اور طریقہ سے ہائی کورٹ میں نہ ہو سکتی ہو۔ ہمارے نزدیک یہ پابندی ولایات کی بلند ترین عدالت کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے روکتی ہے۔ ہائی کورٹ کو تو اس امر کے پورے اختیارات حاصل ہونے چاہئیں کہ جب کبھی اس کے علم میں کوئی ایسا معاملہ آئے جس میں اس کی ماتحت عدالتیں انصاف کرنے سے قاصر رہی ہوں، وہ اس کا نوٹس لے اور انصاف بہم پہنچانے کی کوشش کرے۔ لہٰذا اس پیراگراف کی یہ شق پوری کی پوری حذف کی جانی چاہیے۔ 

حصہ (۱۱)

باب ملازمین و ماموریۂ ملازمت سرکاری

پیراگراف (۲۲۲) شق (۱): اس شق میں یہ کہا گیا ہے کہ وفاقی مقننہ میں امیر مملکت کی اجازت کے بغیر اور ولایت (یونٹس) کی مجالس مقننہ میں حاکمان ولایات کی اجازت کے بغیر کوئی ایسا مسودہ قانون نہیں پیش کیا جا سکتا جو اُن تحفظات کو منسوخ یا محدود کرتا ہو جو دفعہ ۱۹۷ ضابطۂ فوجداری اور دفعات ۸۰ تا ۸۲ ضابطہ دیوانی میں سرکاری ملازمین کو دیے گئے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ شق سخت قابل اعتراض ہے۔ اگر ریاست پاکستان کے ملازمین، امیر مملکت اور حاکمان ولایت کے ملازم نہیں بلکہ پاکستان کی پبلک کے ملازم ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پبلک کے نمائندے اس کے ملازموں کے حقوق و اختیارات اور امتیازات میں تغیر و تبدل کرنے کے لیے کوئی مسودہ قانون پیش کرنے میں امیر مملکت اور حاکمان ولایات کی اجازت کے محتاج ہوں۔ آزاد پاکستان میں تو دفعہ ۱۹۷ فوجداری اور دفعات ۸۰ تا ۸۲ ضابطہ دیوانی جیسی صریح غیر منصفانہ دفعات کا کتاب آئین پر موجود رہنا ہی شرمناک ہے۔ کجا کہ دستور میں ان دفعات کو بچانے کے لیے یہ پابندی عائد کر دی جائے کہ ان میں ترمیم اور تنسیخ کرنے کے لیے کوئی مسودۂ قانون نہ پیش کیا جا سکے جب تک کہ امیر مملکت اور حاکمان ولایات اس کی اجازت نہ دیں۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس پیراگراف کی یہ شق حذف کی جائے۔

حصہ (۱۲)

در باب انتخابات

اس باب میں کسی مقام پر حسب ذیل عبارات کا بصورت پیراگراف اضافہ ہونا ضروری ہے:
(الف) ’’امیرِ مملکت، حاکمانِ ولایات اور عمالِ حکومت کے لیے یہ ممنوع ہونا چاہیے کہ وہ انتخابات میں کسی شخص یا پارٹی کے خلاف یا موافق رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کرے۔‘‘
(ب) ’’مرکزی اور صوبائی وزیر اعظم، وزراء مملکتی، وزراء اور نائب وزراء، اور پارلیمنٹری سیکرٹری کے لیے ممنوع ہونا چاہیے کہ وہ کسی شخص یا پارٹی کے موافق یا خلاف سرکاری اثرات اور وسائل کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔‘‘
(ج) ’’مرکزی مقننہ اور ولایات کی مجالسِ مقننہ میں ہر نشست جو خالی ہوگئی ہو، زیادہ سے زیادہ چار ماہ کے اندر اندر بذریعہ ضمنی انتخاب پر کرنی ضروری ہوگی۔‘‘
پیراگراف (۲۳۴) شق (۲): اس میں انتخابی کمیشن کے ’’ارکان کا تقرر بھی چیف کمشنر کے تقرر کی طرح محض امیر مملکت کی صوابدید پر موقوف کر دیا گیا ہے۔‘‘
جہاں تک چیف کمشنر کا تعلق ہے اس کے تقرر کے معاملے میں تو اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ وہ امیر مملکت ہی کی صوابدید پر ہو۔ لیکن انتخابات کی آزادی کے لیے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پورا الیکشن کمیشن محض امیر مملکت ہی کا ساختہ پرداختہ نہ ہو۔ لہٰذا ہم تجویز کرتے ہیں کہ اس شق کے الفاظ ’’اور چیف کمشنر انتخابات سے‘‘ لے کر ’’اپنی صوابدید پر مقرر کرے گا‘‘ تک حذف کر دیے جائیں اور ان کی جگہ یہ عبارت رکھی جائے۔
’’اور امیر مملکت چیف کمشنر انتخابات کو اپنی صوابدید پر اور دوسرے انتخابی کمشنروں کو چیف کمشنر انتخابات کی سفارش پر ایسے قانون کے ۔۔۔۔۔۔ کرے گا جو وفاقی مقننہ اس بارے میں وضع کرے۔‘‘
نیز ۔۔۔۔۔۔ اداروں کو محفوظ کرنے کے لیے پیراگراف (۲۳۴) شق (۲) میں یہ اضافہ ہونا چاہیے۔
’’چیف الیکشن کمشنر کا تقرر مستقل ہونا چاہیے، اس کے سپرد مرکز اور ولایات میں نہ صرف عام انتخابات کا انتظام ہوگا بلکہ وقتاً فوقتاً خالی ہونے والی نشستوں کے لیے ضمنی انتخابات کا انتظام بھی ہوگا۔ نیز انتخابات کے لیے رائے دہندگان کی فہرستوں کو ہر وقت تیار رکھنا بھی اس کا فرض ہوگا۔ چیف الیکشن کمشنر کا مرتبہ سپریم کورٹ کے ججوں کے مماثل ہوگا اور اس پر بھی وہ پابندیاں عائد کی جائیں جو پیراگراف (۲۲۷) شق (۲) و (۳) میں پبلک سروس کمیشن کے صدر پر عائد ہوتی ہیں۔ 
’’چیف الیکشن کمشنر وہی شخص مقرر کیا جائے گا جو کم از کم تین سال کسی ہائی کورٹ میں جج رہ چکا ہو۔‘‘
پیراگراف (۲۳۹) شق (۲): اس شق میں انتخابی عدالتیں مقرر کرنے کا اختیار مرکز میں امیر مملکت اور ولایات میں حاکمان ولایات کو دیا گیا ہے۔ لیکن جیسا کہ حصہ (۳) کے پیراگراف (۲۳) میں ہم کہہ چکے ہیں، یہ چیز انتخابات کی آزادی کے لیے مضر ہے۔ لہٰذا اس شق کی موجودہ عبارت کی بجائے یہ عبارت ہونی چاہیے۔
’’انتخابی عدالتیں مقرر کرنے کا اختیار مرکز میں سپریم کورٹ اور ولایات میں ہائی کورٹ کو ہونا چاہیے۔‘‘

ضمیمہ اول

فہرست اول: اس فہرست میں حسب ذیل مضامین کا اضافہ کیا جائے:
(۱) ’’مملکت کے رہنما اصول کے مطابق تعلیمی پالیسی کا تعین، توافق اور رہنمائی اور علمی و تعلیمی اداروں کا قیام۔‘‘
(۲) ’’رہنما اصول کے مطابق مملکت کی بنیادی آئیڈیالوجی اور نصب العین کا تحفظ۔‘‘
فہرست اول و سوم: ان دونوں فہرستوں میں نمبر (۳) اپنی موجودہ صورت میں سخت قابل اعتراض ہے۔ احتیاطی نظربندی کے اختیارات اب تک جس طریقے سے استعمال کیے جاتے رہے ہیں وہ سیفٹی ایکٹ اور اس قسم کے دوسرے قوانین کی شکل میں ظاہر ہوئے ہیں۔ اور یہ قوانین نہ صرف شریعت کے خلاف ہیں بلکہ عقلِ عام اور انصاف کے عالمگیر تصورات کے بھی خلاف ہیں۔ حتیٰ کہ خود وہ لوگ جنہیں آج ان اختیارات پر اصرار ہے اپنی بے اختیاری کے زمانے میں دوسروں پر شدت کے ساتھ یہ اعتراض کرتے تھے کہ وہ ان کے خلاف سیفٹی ایکٹ ایک جیسے قوانین استعمال کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہمارے نزدیک یہ ضروری ہے کہ ان دونوں فہرستوں کے نمبر (۳) میں ’’احتیاطی نظر بندی‘‘ کے بعد حسب ذیل عبارت کا اضافہ کیا جائے۔
’’بشرطیکہ جس شخص کو اس غرض کے لیے بند کیا جائے اسے پندرہ دن کے اندر اندر عدالت کے سامنے پیش کیا جا سکے اور اس کو صفائی کا پورا موقعہ دیا جائے، اور مدت نظر بندی کی تعین کا اختیار عدالت کو حاصل ہوگا۔‘‘

ضمیمہ دوم

اس ضمیمہ میں مسلم نشستوں کے عنوان کے کالم میں پنجاب کے بالمقابل ۸۸ کی جگہ ۸۷ کا عدد درج کیا جائے اور ایک نئے کالم کا اضافہ کیا جائے جس کا عنوان ’’قادیانیوں کے لیے مخصوص نشستیں‘‘ ہو۔ اس کالم میں پنجاب کے بالمقابل ایک کا عدد درج کیا جائے۔ نیز ضمیمہ دوم کی تشریحات میں حسب ذیل پانچویں دفعہ کا اضافہ کیا جائے۔
’’پنجاب میں قادیانیوں کی ایک نشست پر کرنے کے لیے پاکستان کے دیگر علاقوں کے قادیانی بھی ووٹ دینے اور مذکورہ نشست پر رکن منتخب ہو سکنے کے مستحق ہوں گے۔‘‘
قادیانی کی تشریح یوں کی جائے:
’’قادیانی سے مراد وہ شخص ہوگا جو مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا مذہبی پیشوا مانتا ہو۔‘‘
یہ ایک نہایت ضروری ترمیم ہے جسے ہم پورے اصرار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ملک کے دستور سازوں کے لیے یہ بات کسی طرح موزوں نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات اور مخصوص اجتماعی مسائل سے بے پرواہ ہو کر محض اپنے ذاتی نظریات کی بنا پر دستور بنائیں، لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کے جن علاقوں میں قادیانیوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کے ساتھ ملی جلی آباد ہے، وہاں اس قادیانی مسئلہ نے کس قدر نازک صورت حال پیدا کر دی ہے۔ ان کو پچھلے دور کے بیرونی حکمرانوں کی طرح نہ ہونا چاہیے جنہوں نے ہندو مسلم مسئلہ کی نزاکت کو اس وقت تک محسوس کر کے ہی نہ دیا جب تک متحدہ ہندوستان کا گوشہ گوشہ دونوں قوموں کے فسادات سے خون آلود نہ ہوگیا۔ جو دستور ساز حضرات خود اس ملک کے رہنے والے ہیں، ان کی یہ غلطی بڑی افسوس ناک ہوگی کہ وہ جب پاکستان میں قادیانی مسلم تصادم کو آگ کی طرح بھڑکتے ہوئے نہ دیکھ لیں، اس وقت تک انہیں اس بات کا یقین نہ آئے کہ یہاں ایک قادیانی مسلم مسئلہ بھی موجود ہے جسے حل کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ اس مسئلہ کو جس چیز نے نزاکت کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے، وہ یہ ہے کہ قادیانی ایک طرف مسلمان بن کر مسلمانوں میں گھستے بھی ہیں اور دوسری طرف عقائد عبادات اور اجتماعی شیرازہ بندی میں مسلمانوں سے نہ صرف الگ بلکہ ان کے خلاف صف آرا بھی ہیں، اور مذہبی طور پر تمام مسلمانوں کو علانیہ کافر قرار دیتے ہیں۔ اس خرابی کا علاج آج بھی یہی ہے اور پہلے بھی یہی تھا (جیسا کہ علامہ اقبال مرحوم نے اب سے بیس برس پہلے فرمایا تھا) کہ قادیانیوں کو ۔۔۔۔۔۔ الگ ایک اقلیت قرار دے دیا جائے۔ 
علاوہ برین بنیادی حقوق کی جو رپورٹ 1950ء میں پیش کی گئی تھی اور بسرعت منظور بھی کر لی گئی تھی اس کے پیراگراف (۳) کا یہ حصہ بھی حذف ہونا چاہیے۔ 
’’ماسوا اس صورت کے جب کہ ریاست کی سلامتی کو کوئی بیرونی یا اندرونی خطرہ لاحق ہو یا کوئی نازک ہنگامی حالت رونما ہو جائے۔‘‘
مذکورہ بالا رپورٹ میں یہ استثنائی فقرہ ہیبس کارپس کے حق کو بعض سورتوں میں معطل کر دیتا ہے در آں حالیکہ اسلامی شریعت کسی حالت میں بھی اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ کسی مسلم یا ذمی شہری کو ملک کی سب سے اونچی عدالت انصاف کے پاس حبسِ بے جا کے خلاف داد رسی کے لیے جانے کے حق سے محروم کر دیا جائے۔

اسمائے گرامی حضرات شرکائے مجلس

(۱) حضرت العلامہ مولانا سید سلیمان ندوی۔ صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و صدر تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان۔
(۲) حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب۔ نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور۔
(۳) حضرت مولانا سید ابوالحسنات محمد احمد صاحب۔ صدر مرکزی جمعیۃ علماء پاکستان۔
(۴) حضرت مولانا داؤد غزنوی۔ صدر جمعیۃ اہل حدیث مغربی پاکستان۔
(۵) حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب۔ نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام۔
(۶) حضرت مولانا احمد علی صاحب۔ امیر انجمن خدام الدین لاہور۔
(۷) حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان۔
(۸) حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب۔ نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و رکن تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان، و سرپرست دارالعلوم کراچی۔
(۹) حضرت مولانا شمس الحق صاحب افغانی۔ وزیر معارف ریاست قلات۔
(۱۰) حضرت مولانا عبد الحامد صاحب بد ایونی۔ صدر جمعیۃ علماء پاکستان سندھ۔
(۱۱) حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی۔ شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور۔
(۱۲) حضرت مولانا خیر محمد صاحب۔ مہتمم مدرسہ خیر المدارس ملتان۔
(۱۳) حضرت مولانا حاجی محمد امین صاحب۔ خلیفہ حاجی ترنگ زئی پشاور (سرحد)
(۱۴) حضرت مولانا اطہر علی صاحب۔ صدر جمعیۃ علماء اسلام مشرقی پاکستان۔
(۱۵) حضرت مولانا ابو جعفر محمد صالح صاحب۔ (پیر سر سینہ شریف) نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و امیر جمعیۃ حزب اللہ مشرقی پاکستان۔
(۱۶) حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب۔ ناظم جمعیۃ اہل حدیث پاکستان۔
(۱۷) حضرت مولانا حبیب اللہ صاحب۔ جامعہ دینیہ در الہدیٰ ٹھیٹھری، خیر پور میرس سندھ۔
(۱۸) حضرت مولانا محمد صادق صاحب۔ مہتمم مدرسہ مظہر العلوم کھڈہ کراچی۔
(۱۹) حضرت مولانا شمس الحق صاحب فرید پوری۔ پرنسپل جامعہ قرآنیہ ڈھاکہ۔
(۲۰) حضرت مولانا مفتی محمد صاحبداد صاحب۔ کراچی
(۲۱) حضرت مولانا پیر محمد ہاشم جان صاحب مجددی سرہندی۔ ٹنڈو سائن داد حیدر آباد۔
(۲۲) حضرت مولانا راغب احسن صاحب ایم اے۔ نائب صدر جمعیۃ علماء اسلام مشرقی پاکستان۔
(۲۳) حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب۔ نائب صدر جمعیۃ المدرسین سرسینہ شریف مشرقی پاکستان۔
(۲۴) حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی۔ نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام و صدر جمعیۃ اہل حدیث پاکستان۔
(۲۵) حضرت مولانا حافظ کفایت حسین صاحب۔ مجتہد ادارہ عالیہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان۔
(۲۶) حضرت مولانا مفتی جعفر حسین صاحب مجتہد رکن تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان۔
(۲۷) حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری۔ شیخ التفسیر دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈو الٰہ یار سندھ۔
(۲۸) حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری۔ صدر مجلس احرار اسلام پاکستان۔
(۲۹) حضرت مولانا امین الحسنات صاحب پیر مانکی شریف۔ نائب صدر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام۔
(۳۰) جناب قاضی عبد الصمد صاحب سربازی۔ قاضی قلات بلوچستان۔
(۳۱) جناب مولانا احتشام الحق صاحب۔ مہتمم دارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈو الٰہ۔ خطیب جامعہ مسجد جیکب لائن کراچی۔
(۳۲) جناب مولانا ظفر احمد صاحب انصاری۔ سیکرٹری تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان۔
(۳۳) جناب مولانا دین محمد صاحب۔ نائب صدر جمعیۃ علماء اسلام مشرقی پاکستان۔
نوٹ: اس اجتماع میں حضرت مولانا حماد اللہ صاحب بوجہ علالت، حضرت مولانا بدر عالم صاحب بوجہ ہجرت مدینہ منورہ، اور پروفیسر مولانا عبد الخالق صاحب رکن تعلیمات اسلامی بورڈ دستور ساز اسمبلی پاکستان بعض نجی مصروفیات کے باعث شرکت نہ فرما سکے۔

ضمیمہ

ہمارے نزدیک دفعہ نمبر (۴) کے الفاظ حسب ذیل ہوں:
’’ایسی صورت میں جب کہ مجلس مقننہ میں کتاب و سنت کی تعبیر و تعریف پر اعتراض ہو تو ضروری ہوگا کہ یہ سوال ماہرین قوانین اسلامی (علماء پاکستان) کے بورڈ کے پاس بھیجا جائے۔ یہ بورڈ اپنا جو فیصلہ صادر کرے، مجلس مقننہ اس کی پابند ہوگی۔‘‘
اسی طرح دفعہ نمبر (۵) کی شق نمبر (۱) میں تشکیل بورڈ کے متعلق ہماری ترمیم یہ ہے کہ:
’’حکومت پاکستان علماء کی ان مذہبی جماعتوں سے جو مرکزی اور صوبہ جاتی حیثیت سے قیام پاکستان کے بعد سے کام کر رہی ہیں اور جن کا نظام اس وقت تک باقاعدہ قائم ہے، ان سے علماء پاکستان کے نام طلب کرے اور امیر مملکت ان کا اعلان کر دے۔ 
ماہرین قوانین اسلامی سے مراد علماء دین ہی ہوں تو انہیں ایسا باوقار و با اختیار ہونا چاہیے کہ ان کا فیصلہ ناطق ہو۔ ہمیں علماء کے اجتماع کی اس تجویز سے کہ کتاب و سنت کی تعبیر کا فیصلہ کرنے کے لیے ’’سپریم کورٹ‘‘ کے ساتھ علماء منسلک ہوں، بحالت موجودہ اختلاف ہے۔ اس لیے علماء کا محض کتاب و سنت کی تعبیر و معانی بتانے کے لیے ’’سپریم کورٹ‘‘ کے ججوں کے ساتھ منسلک ہونا بے کار و بے معنی ہے۔ البتہ مسلمانوں کے اہم مسائل دینی کے تصفیہ کے لیے اگر علماء بحیثیت جج یعنی ’’قاضی‘‘ مقرر کیے جائیں (جن کی ضرورت نزاکت حالات کے باعث لازمی ہے) تو موزوں ہو سکتا ہے۔‘‘
مولانا ابوالحسنات قادری۔ مولانا محمد عبد الحامد القادری البدایونی۔ مفتی محمد صاحب داد۔ 

نفاذِ شریعت کے رہنما اصولوں کے حوالے سے ۵۷ علماء کرام کے متفقہ ۱۵ نکات

ادارہ

چونکہ اسلامی تعلیمات کا یہ تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزار یں اور پاکستان اسی لئے بنایا گیا تھا کہ یہ اسلام کا قلعہ اور تجربہ گاہ بنے لہٰذا 1951ء میں سارے دینی مکاتب فکر کے معتمد علیہ 31علماء کرام نے عصر حاضر میں ریاست و حکومت کے اسلامی کردار کے حوالے سے جو 22نکات تیار کیے تھے انہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو ٹھوس بنیادیں فراہم کیں اور ان کی روشنی میں پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کے حوالے سے کئی دستور ی انتظامات بھی کر دیے گئے لیکن ان میں سے اکثر زینت قرطاس بنے ہوئے ہیں اور ان پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ مزید برآں کچھ اور دستوری خلا بھی سامنے آئے ہیں جو پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں چنانچہ نفاذ شریعت کے حوالے سے حکومتی تساہل پسندی کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان کے شمال مغربی سرحدی قبائلی علاقوں کے بعض عناصر نے بزورِ قوت شریعت کی من مانی تعبیرات کو نافذ کرنے کے لیے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس مسلح جدوجہد کے شرکاء نے ایک طرح سے حکومتی رٹ کو چیلنج کر دیا جب کہ اس صورت حال کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دہشت گردی کے ساتھ نتھی کر کے افواج پاکستان کو اس مسلح جدوجہد کے شرکاء کے سامنے لا کھڑا کیا اور یو ں دونوں طرف سے ایک دوسرے کے ہاتھوں مسلمانوں کا ہی خون بہہ رہا ہے حالانکہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ان سرگرمیوں کی پشت پناہی بھی خود امریکہ ، بھارت اور اسرائیل ہی کررہے ہیں۔ پاکستان کے دیگر پُر امن علاقے بھی اس جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں تقریباً تمام بڑے شہروں میں آئے دن دہشتگردی اور خود کش حملوں کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں جن میں اب تک ہزاروں معصوم شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماء کرام ایک مرتبہ پھر مل بیٹھیں اور باہمی غوروفکر اور اتفاق رائے سے ان اُمور کی نشاندہی کر دیں جن کی وجہ سے پاکستان ابھی تک ایک مکمل اسلامی ریاست نہیں بن سکا اور نہ ہی یہاں نفاذ شریعت کاکام پایۂ تکمیل تک پہنچ سکا ہے۔ تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماء کرام کی یہ کوشش اس مرحلہ پر اس لیے ناگزیر ہے کہ ان کی اس کو شش سے ہی نہ صرف ان اسباب کی نشاندہی ہو گی جو نفاذ شریعت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں بلکہ نفاذ شریعت کے لیے متفقہ رہنما اصولوں کے ذریعے وہ سمت اور راستہ بھی متعین ہو جائے گا جس پر چل کر یہ منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔ دراصل نفاذ شریعت کی منزل کا حصول ہی اس بات کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے کہ آئندہ پاکستان کے کسی علاقے سے نفاذ شریعت کے نام پر مسلح جارحیت کا ارتکاب اور حکومتی رٹ کو چیلنج نہ کیا جا سکے چنانچہ اس حوالے سے تجویز کیے گئے اقدامات پیش خدمت ہیں :

۱۔ شریعت پر عمل سب کی ذمہ داری ہے 

ہمارے حکمرانوں کی یہ شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ فرد کو بھی شریعت پر عمل کے قابل بنائیں اور معاشرے اور ریاست کو بھی شریعت کے مطابق چلائیں۔ دینی عناصر کا بھی فرض ہے کہ وہ دعوت و اصلاح اور تبلیغ و تذکیر کے ذریعے فرد کی بھی تربیت کریں، حکمرانوں پر بھی دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی دینی ذمہ داریاں پوری کریں اور جہاں تک قانون اجازت دے خود بھی نفاذِ شریعت کے لئے ضروری اقدامات کریں۔اسی طرح ہر مسلمان کی یہ ذاتی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرے۔

۲۔ ۲۲نکات کی مرکزی حیثیت

یہ کہ پاکستان میں نفاذِ شریعت کی بنیاد ۱۹۵۱ء میں سارے مکاتب فکر کے علماء کرام کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کردہ ۲۲ نکات ہیں اور موجودہ دستاویز کے ۱۵ نکات کی حیثیت بھی ان کی تفریع اور تشریح کی ہے۔

۳۔ نفاذ شریعت بذریعہ پُرامن جدوجہد اور بمطابق متفقہ راہنما نکات 

یہ کہ پاکستان میں شریعت کا نفاذ پر امن جدوجہد کے ذریعے ہونا چاہیے کیونکہ یہی اسلامی تعلیمات اوردستور پاکستان کا مشترکہ تقاضا ہے اور عملاً بھی اس کے امکانات موجود ہیں ۔ نیز شریعت کا نفاذ سارے دینی مکاتب فکر کی طرف سے منظورشدہ متفقہ راہنما اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے ( یہ۱۵ نکات اس قرارداد کا حصہ ہیں)اور کسی گروہ یا جماعت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی کا اسلام سارے معاشرے پرقوت سے ٹھو نس دے۔

۴۔ دستوری اصلاحات

دستور پاکستان کے قابل نفاذ حصے میں بصراحت یہ لکھا جائے کہ قرآن و سنت مسلمانوں کا سپریم لاء ہے اوراس تصریح سے متصادم قوانین کو منسوخ کر دیا جائے۔یہ دستوری انتظام بھی کیا جائے کہ عدلیہ کی طرف سے دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہو گی جو کتاب وسنت کے خلاف ہو اور دستور کی کسی بھی شق اور مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے کسی بھی فیصلے کو کتاب وسنت کے خلاف ہونے کی صورت میں اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکے۔ نیز ان دستوری دفعات کو دستور میں بنیادی اور ناقابل تنسیخ دفعات قرار دیا جائے۔ آئین توڑنے سے متعلق دفعہ 6Aاور عوامی نمائندوں کی اہلیت سے متعلق دفعات 63,62کو مؤثر اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایاجائے۔ کسی بھی ریاستی یا حکومتی عہدیدارکی قانون سے بالا تر حیثیت اور استثنیٰ پر مبنی دستوری شقوں کا خاتمہ کیا جائے ۔
وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ پنج کے جج صاحبان کو دیگر اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان کی طرح باقاعدہ جج کی حیثیت دی جائے اور ان کے سٹیٹس اور شرائط تقرری وملازمت کو دوسری اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان کے سٹیٹس اور شرائط تقرری و ملازمت کے برابر لایا جائے ۔بعض قوانین کو وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار سے مستثنیٰ قرار دینے کے فیصلوں پر نظر ثانی کی جائے اور وفاقی شرعی عدالت کو ملک کے کسی بھی قانون پر نظر ثانی کا اختیاردیا جائے ۔وفاقی شرعی عدالت اور شریعت اپیلنٹ بنچ کو آئینی طور پر پا بند کیا جائے کہ وہ مناسب وقت (Time frame)کے اندر شریعت پٹیشنوں اور شریعت اپیلوں کا فیصلہ کر دیں۔وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کی طرح صوبائی، ضلعی اور تحصیل سطح کی عدالتوں میں بھی علماء ججوں کا تقررکیا جائے اور آئین میں جہاں قرآن و سنت کے بالا تر قانون ہونے کا ذکر ہے وہاں نبی کریمﷺکے شارع ہونے کا ذکر بھی کیا جائے۔ حکومت اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام مکاتب فکر کے جید علماء بطور رکن نامزد کرے۔ ہر مکتبہ فکر اپنا نمائندہ اپنے حلقوں سے مشاورت کے بعد تجویز کرے۔ نفاذِ شریعت کے حوالے سے جن نکات پر ارکان کی اکثریت کا اتفاق ہوجائے حکومت چھ ماہ کے اندر اسے قانون بنا کر پاس کرنے کی پابند ہو۔

۵۔ موجودہ اسلامی قوانین پر مؤثر عمل دارآمد

پاکستان کے قانونی ڈھا نچے میں پہلے سے موجود اسلامی قوانین پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا جائے اور اسلامی عقوبات کے نفاذ کے ساتھ ساتھ مؤثر اصلاحی کو ششیں بھی کی جائیں ۔

۶۔ بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی 

اسلامی اصول و اقدار کے مطابق عوام کو بنیادی ضروریات وسہولیات زندگی مثلاً روٹی ، کپڑا ، مکان ، علاج معالجہ اور تعلیم فراہم کرنے، غربت و جہالت کے خاتمے اور عوامی مشکلات و مصائب دور کرنے اورپاکستانی عوام کو دنیا میں عزت اور وقار کی زندگی گزارنے کے قابل بنانے کو اولین ریاستی ترجیح بنایا جائے۔

۷۔ سیاسی اصلاحات

موجودہ سیاسی نظام کی اسلامی تعلیمات کے مطابق اصلاح کی جائے مثلاً عوامی نمائندگی میں سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کی حوصلہ شکنی اور غریب اور متوسط طبقے کی نمائندگی کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کیے جائیں نمائندگی کے لیے شرعی شہادت کی اہلیت کو لازمی شرط قرار دیاجائے۔ متناسب نمائندگی کا طریقہ اپنایا جائے ۔ علاقائی ، نسلی، لسانی اور مسلکی تعصبات کی بنیاد پر قائم ہونے والی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی جائے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے مناسب پالیسیاں اور ادارے بنائے جائیں

۸۔ نظام تعلیم کی اصلاح 

تعلیمی نظام کی اسلامی تناظر میں اصلاح کے لیے قومی تعلیمی پالیسی اور نصابات کو اسلامی اور قومی سوچ کے فروغ کے لیے تشکیل دیا جائے جس سے یکساں نظام تعلیم کی حوصلہ افزائی اور طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ ہو ، اساتذہ کی نظریاتی تربیت کی جائے اور تعلیمی اداروں کا ماحول بہتر بنایا جائے۔ مخلوط تعلیم ختم کی جائے اور مغربی لباس کی پابندی اور امور تعلیم میں مغرب کی اندھی نقالی کی روش ختم کی جائے۔تعلیم کا معیاربلند کیا جائے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو قومی نصاب اپنانے کا پابند بنانے اور ان کی نگرانی کا مؤثر نظام وضع کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے ۔ تعمیر سیرت اور کردار سازی کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ تعلیم سے ثنویت کا خاتمہ کیا جائے۔ دینی مدارس کے نظام کو مزید مؤثر و مفید بنانے اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ضروری قدامات کیے جائیں تا کہ بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ ملے اور فرقہ واریت میں کمی واقع ہو دینی مدارس کی ڈگریوں کو تسلیم کیا جائے۔ تعلیم کے لئے وافر فنڈز مہیا کئے جائیں۔ملک میں کم ازکم میٹرک تک لازمی مفت تعلیم رائج کی جائے اور چائلڈ لیبر کا خاتمہ کیا جائے۔ 

۹۔ ذرائع ابلاغ کی اصلاح 

ذرائع ابلاغ کی اصلاح کی جائے۔ اسلامی تناظر میں نئی ثقافتی پالیسی وضع کی جائے جس میں فحاشی و عریانی کو فروغ دینے والے مغربی و بھارتی ملحدانہ فکرو تہذیب کے اثرات و رجحانات کو رد کر دیا جائے ۔ صحافیوں کے لئے ضابطۂ اخلاق تیار کیا جائے اور ان کی نظریاتی تربیت کی جائے۔ پرائیویٹ چینلز اور کیبل آپریٹرز کی مؤثر نگرانی کی جائے۔ اسلام اور پاکستان کے نظریاتی تشخص کے خلاف پروگراموں پر پابندی ہونی چاہئے بلکہ تعمیری انداز میں عوام کے اخلاق سدھارنے اور انہیں اسلامی تعلیمات پر عمل کی ترغیب دینے والے پروگرام پیش کیے جائیں اور صاف ستھری تفریح مہیا کی جائے۔

۱۰۔ معیشت 

پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے اور افلاس اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کیے جائیں جیسے جاگیر داری اور سرمایہ دارانہ رجحانات کی حوصلہ شکنی کرنا، شعبہ زراعت میں ضروری اصلاحات کو اولین حکومتی ترجیح بنانا، تقسیم دولت کے نظام کو منصفانہ بنانااور اس کا بہاؤ امیروں سے غریبوں کی طرف موڑنا۔ بیرونی قرضوں اور درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنا۔ معاشی خود کفالت کے لئے جدو جہد کرنا اور عالمی معاشی اداروں کی گرفت سے معیشت کو نکالنا۔ سود اور اسراف پر پابندی اور سادگی کو رواج دینا۔ٹیکسز اور محاصل کے نظام کو مؤثر بنایا جائے اور بینکوں کو پابند کیا جائے کہ وہ بڑے قرضوں کے اجراء کے ساتھ ساتھ مائیکروکریڈٹ کا بھی اجراء کریں تا کہ غریب اور ضرورت مند لوگ ان بلاسودقرضوں کے ذریعے اپنی معاشی حالت بہتر کر سکیں نیز قرضوں کو بطور سیاسی رشوت دینے پر قانونی پابندی عائد کی جائے۔ زکوٰۃ اور عشر کی وصولی اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ دستور پاکستان کے آرٹیکل 38میں درج عوام کی معاشی اور معاشرتی فلاح وبہبود کے متعلقہ اُمور کی تکمیل کے لیے حکومت خود اور نجی شعبے کے اشتراک سے فوری طور پر ٹھوس قدامات کرے ۔ لوٹ مار سے حاصل کردہ اور بیرون ملک بینکوں میں جمع خطیر رقوم کی وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے ۔

۱۱۔ عدلیہ 

عدلیہ کی بالفعل آزادی کو یقینی بنایا جائے اور اسے انتظامیہ سے الگ کیا جائے۔ اسلامی تناظر میں نظام عدل کی اصلاح کے لئے قانون کی تعلیم، ججوں ، وکیلوں، پولیس اور جیل سٹاف کے کردار کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ انصاف سستا اور فوری ہونا چاہیے۔ 

۱۲۔ امن و امان 

امن و امان کی بحالی اور لوگوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو ان مقاصد کے حصول کے لئے ہر ممکن قدم اٹھانا چاہئے۔

۱۳۔ خارجہ پالیسی 

خارجہ پالیسی کو متوازن بنایا جائے۔ تمام عالمی طاقتوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے جائیں اور اپنی قومی خود مختاری کا تحفظ کیا جائے۔ اپنے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ مسلمانان عالم کے رشتہ اخوت واتحاد کو قوی تر کرنے کے لیے او آئی سی کو فعال بنانے میں پاکستان اپنا کردار اد کرے ۔ 

۱۴۔ افواجِ پاکستان 

افواج میں روح جہاد پیدا کرنے کے لئے سپاہیوں اور افسروں کی دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام ہونا چاہیے۔ بنیادی فوجی تربیت ہر مسلم نوجوان کے لئے لازمی ہونی چاہیے ۔ فوجی افسروں کی اس غرض سے خصوصی تربیت کی جائے کہ ان کا فرض ملک کا دفاع ہے نہ کہ حکومت چلانا۔ بیوروکریسی کی تربیت بھی اسلامی تناظر میں ہونی چاہیے تاکہ ان کے ذہنوں میں یہ راسخ ہوجائے کہ وہ عوام کے خادم ہیں حکمران نہیں۔

۱۵۔امربالمعروف و نہی عن المنکر 

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے ایک آزاد اور طاقتور ریاستی ادارہ قائم کیا جائے جو ملک میں اسلامی معروفات اور نیکیوں کے فروغ اور منکرات و برائیوں کے خاتمے کے لئے کام کرے اور معاشرے میں ایسا ماحول پیدا کرے جس میں نیکی پر عمل آسان اور برائی پر عمل مشکل ہوجائے اور شعائر اسلامی کا احیاء و اعلاء ہواوردستور کے آرٹیکل 31میں جن امور کا ذکر کیا گیا ہے ان پرمؤثر عمل در آمد ہو سکے ۔ دفاع اسلام خصوصاً اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات کے ازالے اور مسلمانوں و غیر مسلموں تک مؤثر انداز میں دین پہنچانے کے لئے بھی حکومت پاکستان کو فنڈز مختص کرنے چاہئیں اور وسیع الاطراف کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں۔

فہرست علماء کرام 

جو اتحاد امت کانفرنس میں شریک ہوئے اور جنہوں نے قراردادوں کی منظوری دی
1۔ مولانامفتی محمد خان قادری (مہتمم جامعہ اسلامیہ و صدر ملی مجلس شرعی، لاہور)
2۔ پیر عبدالخالق قادر ی (صدر مرکزی جماعت اہل سنت پاکستان )
3۔ علامہ احمد علی قصوری (صدر مرکز اہل سنت، لاہور)
4۔ صاحبزادہ علامہ محب اللہ نوری (مہتمم جامعہ حنفیہ فریدیہ بصیر پور، اوکاڑہ)
5۔ علامہ قاری محمد زوار بہادر (ناظم اعلیٰ، جمعیت علماء پاکستان، لاہور )
6۔ مولانا حافظ غلام حیدر خادمی (مہتم جامعہ رحمانیہ رضویہ، سیالکوٹ )
7۔ مولانا مفتی شیر محمد خان (صدر دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ، بھیرہ [ضلع سرگودھا])
8۔ علامہ حسان الحیدری (حیدر آباد ، سندھ)
9۔ مولانا راغب حسین نعیمی (مہتمم جامعہ نعیمیہ، لاہور)
10۔ مولانا خان محمد قادری (مہتمم جامعہ محمدیہ غوثیہ، داتانگر، لاہور)
11۔ مولانا محمد خلیل الرحمن قادری (ناظم اعلیٰ جامعہ اسلامیہ ، لاہور)
12۔ علامہ محمد شہزاد مجددی (سربراہ دارالاخلا ص ۔ مرکز تحقیق، لاہور)
13۔ علامہ محمد بوستان قادری (شیخ الحدیث دارالعلوم محمدیہ غوثیہ، بھیرہ [ضلع سرگودھا])
14 ۔ سید منور حسن (امیر جماعت اسلامی پاکستان، منصورہ، لاہور)
15۔ مولانا عبدالمالک (صدر رابطہ المدارس الاسلامیہ، منصورہ لاہور)
16۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ (ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی، منصورہ لاہور)
17۔ ڈاکٹر سید وسیم اختر (امیر جماعت اسلامی پنجاب، لاہور)
18۔ مولانا سید محمود الفاروقی (ناظم تعلیمات رابطہ المدارس الاسلامیہ، لاہور)
19۔ مولانامحمد ایوب بیگ (ناظم نشر و اشاعت تنظیم اسلامی پاکستان، لاہور)
20۔ مولاناڈاکٹر محمد امین (ڈین صفاء اسلامک سنٹرو ناظم اعلیٰ ملی مجلس شرعی، لاہور )
21۔ مولانا محمد حنیف جالندھری (ناظم اعلیٰ، وفاق المدارس العربیہ، ملتان )
22۔ مولانا مفتی رفیق احمد (دارالافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی)
23۔ مولانا حافظ فضل الرحیم (نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ، لاہور)
24۔ مولانا زاہد الراشدی (ڈائریکٹر الشریعہ اکیڈمی، گوجرانوالہ)
25۔ مولانا عبدالرؤف فاروقی (ناظم اعلیٰ جمعیت علماء اسلام، لاہور)
26۔ مولانامحمد امجد خان (ناظم اطلاعات جمعیت علماء اسلام ۔ لاہور)
27۔ مولانامفتی محمد طاہر مسعود (مہتمم جامعہ مفتاح العلوم، سرگودھا)
28۔ مولانا مفتی محمد طیب (مہتمم جامعہ اسلامیہ امدادیہ،فیصل آباد)
29۔ مولانا ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی (نائب مہتمم جامعہ دارالعلوم الاسلامیہ ، لاہور)
30۔ مولانا اللہ وسایا (عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت، ملتان)
31۔ مولانا مفتی محمد گلزار احمد قاسمی (مہتمم جامعہ قاسمیہ، گوجرانوالہ)
32۔ مولاناقاری محمد طیب (مہتمم جامعہ حنفیہ بورے والا، وہاڑی)
33۔ مولانا رشید میاں (مہتمم جامعہ مدنیہ،کریم پارک، لاہور)
34۔ مولانا محمد یوسف خان (مہتمم مدرسۃ الفیصل للبنات،ماڈل ٹاؤن، لاہور)
35۔ مولانا عزیر الرحمن ثانی (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ،لاہور)
36۔ مولانا رضوان نفیس (خانقاہ سید احمد شہید ، لاہور)
37۔ مولانا قاری جمیل الرحمن اختر (مہتمم جامعہ حنفیہ قادریہ، لاہور)
38۔ مولانا حافظ محمد نعمان (مہتمم جامعہ الخیر، جوہر ٹاؤن، لاہور)
39۔ مولانا قاری ثناء اللہ (امیر جمعیت علماء اسلام لاہور)
40۔ پروفیسر مولانا ساجد میر (امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان، لاہور)
41۔ پروفیسر حافظ محمد سعید (امیر جماعت الدعوۃ پاکستان، لاہور)
42۔ مولانا حافظ عبدالغفار روپڑی (امیر جماعت اہل حدیث پاکستان، لاہور)
43۔ مولانا عبید اللہ عفیف (امیر جمعیت اہلحدیث پاکستان، لاہور)
44۔ مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری (ناظم اعلیٰ متحدہ جمعیت اہلحدیث پاکستان)
45۔ مولانا حافظ عبدالوہاب روپڑی (نائب امیر جماعت اہلحدیث پاکستان)
46۔ مولانا محمد شریف خان چنگوانی (نائب امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان)
47۔ مولانا ڈاکٹرمحمد حماد لکھوی (پروفیسرپنجاب یونیورسٹی و خطیب جامع مسجد مبارک اہلحدیث،لاہور)
48۔ مولانا ڈاکٹر حافظ حسن مدنی (نائب مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ[رحمانیہ] لاہور)
49۔ مولانا امیر حمزہ (کنوینر تحریکِ حرمتِ رسول[جماعۃ الدعوۃ]، لاہور)
50۔ مولانا قاری شیخ محمد یعقوب (جماعۃ الدعوۃ ، لاہور)
51۔ مولانا رانا نصر اللہ (امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث لاہور)
52۔ مولانامحمد زاہد ہاشمی الازہری (ناظم اعلیٰ جماعت غرباء اہلحدیث، پنجاب)
53۔ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر (مہتمم ادارہ منہاج الحسین ، لاہور)
54۔ علامہ حافظ کاظم رضا نقوی (تحریک اسلامی، اسلام آباد)
55۔ مولانامحمد مہدی (جامعہ المنتظر ، لاہور)

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۹)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۶۱) فعل  کاد  کا درست ترجمہ

جب کسی فعل سے پہلے کاد فعل آتا ہے تو مطلب ہوتا ہے کہ وہ کام ہونے کے قریب تو ہوگیا لیکن ہوا نہیں، کیونکہ ہوجانے کی صورت میں کاد نہیں لگتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے:

وَأَنَّہُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوہُ کَادُوا یَکُونُونَ عَلَیْْہِ لِبَداً۔ (الجن :۱۹)

’’اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ بھیڑ کی بھیڑ بن کر اس پر پل پڑیں‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
’’اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اُس کو پکارنے کے لئے کھڑا ہوا تو لوگ اُس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہو گئے‘‘۔(سید مودودی۔ اس ترجمے میں ’’تیار ہوگئے ‘‘درست نہیں ہے ، یہ لفظ کاد کی صحیح ترجمانی نہیں کرتا ہے)
جن آیتوں میں فعل کاد آیا ہے، وہاں عام طور سے مترجمین نے اس مفہوم کا لحاظ کیا ہے، البتہ مذکورہ ذیل آیت میں لگتا ہے کہ بعض لوگوں سے اس کی رعایت نہیں ہوسکی۔

لَقَد تَّابَ اللّٰہْ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِیْنَ وَالأَنصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِن بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوبُ فَرِیْقٍ مِّنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْ إِنَّہُ بِہِمْ رَؤُوفٌ رَّحِیْمٌ۔ (التوبۃ :۱۱۷)

’’اللہ نے نبی اور ان مہاجرین و انصار پر رحمت کی نظر کی جنھوں نے نبی کا ساتھ تنگی کے وقت میں دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہوچکے تھے، پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی، بے شک وہ ان پر نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اللہ نے معاف کر دیا نبی کو اور ان مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا اگر چہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہو چکے تھے (مگر جب انہوں نے اس کجی کا اتباع نہ کیا بلکہ نبی کا ساتھ ہی دیا تو) اللہ نے انہیں معاف کر دیا، بے شک اْس کا معاملہ اِن لوگوں کے ساتھ شفقت و مہربانی کا ہے‘‘۔(سید مودودی)
’’بیشک خدا نے پیغمبر اور ان مہاجرین و انصار پر رحم کیا ہے جنہوں نے تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا ہے جب کہ ایک جماعت کے دلوں میں کجی پیدا ہو رہی تھی پھر خدا نے ان کی توبہ کو قبول کر لیا کہ وہ ان پر بڑا ترس کھانے والا اور مہربانی کرنے والا ہے‘‘۔(محمد حسین نجفی)
’’مائل ہوچکے تھے‘‘، یا’’کجی پیدا ہورہی تھی‘‘ کہنا نہ تو صورت واقعہ کی رو سے صحیح ہے، اور نہ ہی آیت کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں حسب ذیل دونوں ترجمے الفاظ کے مطابق ہیں:
’’بیشک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوئیں ان غیب کی خبریں بتانے والے اور ان مہاجرین اور انصار پر جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں ان کا ساتھ دیا بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں کچھ لوگوں کے دل پھر جائیں پھر ان پر رحمت سے متوجہ ہوا بیشک وہ ان پر نہایت مہربان رحم والا ہے‘‘۔(احمد رضا خان)
’’بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھر جانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بیشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)

(۶۲)  فاسلکوہ  کا ترجمہ

خُذُوہُ فَغُلُّوہُ۔ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوہُ۔ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُہَا سَبْعُونَ ذِرَاعاً فَاسْلُکُوہُ۔ (الحاقۃ:۳۰۔۳۲)

’’(حکم ہو گا) پکڑو اِسے اور اِس کی گردن میں طوق ڈال دو، پھر اِسے جہنم میں جھونک دو، پھر اِس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو‘‘۔ (سید مودودی)
’’(حکم ہوگا کہ) اسے پکڑ لو اور طوق پہنا دو، پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دو، پھر زنجیر سے جس کی ناپ ستر گز ہے جکڑ دو‘‘ ۔(فتح محمد جالندھری)
مذکورہ بالا آیتوں کے اوپر دیئے گئے دونوں ترجمہ میں فاسلکوہ  کا ترجمہ’’جکڑ دو‘‘ کیا گیا ہے۔تصویر یہ سامنے آتی ہے کہ پہلے پکڑنا ہے، پھر گلے میں طوق ڈالنا ہے، پھر جہنم میں ڈالنا ہے، پھر ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں اسے جکڑ دینا ہے۔ اس میں سب سے بڑا اشکال یہ آتا ہے کہ اس لفظ میں جکڑنے کا مفہوم کہاں تک پایا جاتا ہے؟
اس کے مقابلے میں مذکورہ ذیل دونوں ترجمے ہیں، جن سے ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے، وہ یہ کہ پہلے پکڑ کر گلے میں طوق ڈال کر جہنم میں ڈال دینا ہے، اور وہاں ایک ستر ہاتھ لمبی زنجیر کو گلے میں پڑی ہوئی طوق میں ڈال دینا ہے۔اس طرح لفظ فاسلکوہ کا حق بھی ادا ہوجاتا ہے، اور جہنم میں ڈالنے کے بعد ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں ناتھ دینے کی معنویت بھی بخوبی سامنے آجاتی ہے۔
’’اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو، پھر اسے بھڑکتی آگ میں دھنساؤ،پھر ایسی زنجیر میں جس کا ناپ ستر ہاتھ ہے اسے پرو دو‘‘۔(احمد رضا خان)
’’(حکم ہو گا) پکڑو اِسے اور اِس کی گردن میں طوق ڈال دو، پھر اِسے جہنم میں جھونک دو، پھر اِس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں ناتھ دو‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی) یعنی اغلال میں زنجیر لگادو۔

(۶۳) سأم کا مطلب

یہ لفظ مختلف مشتقات میں قرآن مجید میں تین مقامات پر آیا ہے۔اس کا ترجمہ بعض لوگوں نے تھکنا کیا ہے، اور بعض لوگوں نے اکتانا کیا ہے، جبکہ عربی لغات کی رو سے اس کا ترجمہ تعب نہیں بلکہ ملل ہے، یعنی اکتانا نہ کہ تھکنا۔ تھکنے میں بیزاری ہونا ضروری نہیں ہے، جب کہ اکتانے میں بیزاری شامل ہوتی ہے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے مذکورہ ذیل آیتوں کے ترجموں پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ اس فرق کی رعایت سے معنی پر کس قدر اثر پڑتا ہے۔

(۱) فَإِنِ اسْتَکْبَرُوا فَالَّذِیْنَ عِندَ رَبِّکَ یُسَبِّحُونَ لَہُ بِاللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ وَہُمْ لَا یَسْأَمُون (فصلت: ۳۸)

’’لیکن اگر یہ لوگ غرور میں آ کر اپنی ہی بات پر اڑے رہیں تو پروا نہیں، جو فرشتے تیرے رب کے مقرب ہیں وہ شب و روز اس کی تسبیح کر رہے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے‘‘۔(سید مودودی)
’’اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو (خدا کو بھی ان کی پروا نہیں) جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (کبھی) تھکتے ہی نہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
’’تو اگر یہ تکبر کریں تو وہ جو تمہارے رب کے پاس ہیں رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اور اکتاتے نہیں‘‘۔(احمد رضا خان)
’’پھر بھی اگر یہ کبر و غرور کریں تو وہ (فرشتے) جو آپ کے رب کے نزدیک ہیں وہ تو رات دن اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور (کسی وقت بھی) نہیں اکتاتے‘‘۔ (محمد جونا گڑھی)
یہاں بات تھکنے کی نہیں ہورہی ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ ایک طرف یہ متکبرین ہیں جن کے دل رب کے ذکر پر آمادہ نہیں ہیں، دوسری طرف وہ فرشتے ہیں جو اس شوق ورغبت کے ساتھ اللہ سے لو لگائے ہیں کہ رات ودن تسبیح کرتے ہیں مگر ذرا نہیں اکتاتے۔

(۲) لَا یَسْأَمُ الْإِنسَانُ مِن دُعَاء الْخَیْْرِ وَإِن مَّسَّہُ الشَّرُّ فَیَؤُوسٌ قَنُوط۔ (فصلت:۴۹)

’’انسان کبھی بھلائی کی دعا مانگتے نہیں تھکتا، اور جب کوئی آفت اِس پر آ جاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہو جاتا ہے‘‘۔(سید مودودی)
’’بھلائی کے مانگنے سے انسان تھکتا نہیں اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
’’آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں اْکتاتا اور کوئی برائی پہنچے تو ناامید آس ٹوٹا‘‘۔(احمد رضا خان)
اس آیت میں بھی بات تھکنے کی نہیں بلکہ اکتانے کی ہے۔

(۳) وَلاَ تَسْأَمُوْاْ أَن تَکْتُبُوْہُ صَغِیْراً أَو کَبِیْراً إِلَی أَجَلِہِ۔ (البقرۃ:۲۸۲)

’’اور قرض کو جس کی مدت مقرر ہے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو لکھنے میں کاہلی نہ کرو‘‘۔(محمد جونا گڑھی)
’’اور اسے بھاری نہ جانو کہ دین چھوٹا ہو یا بڑا اس کی میعاد تک لکھت کرلو‘‘۔(احمد رضا خان)
’’اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اسے اپنی میعاد تک لکھ رکھنے میں اکتایا نہ کرو‘‘۔(طاہر القادری)
’’اور قرض چھوٹا ہو یا بڑا، اس کی مدت تک کے لئے اس کو لکھنے میں تساہل نہ برتو‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
’’اور تم اس (دین) کے (بار بار) لکھنے سے اکتایا مت کرو خواہ وہ (معاملہ) چھوٹا ہو یا بڑا ہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی، إِلَی أَجَلِہ کا ترجمہ نہیں کیا)
یہاں بھی اکتانے کا مفہوم درست ہے۔

(۶۴) العراء کا ترجمہ

فَنَبَذْنَاہُ بِالْعَرَاءِ وَہُوَ سَقِیْمٌ۔ (الصافات:۱۴۵)

’’آخرکار ہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیا‘‘۔(سید مودودی)
’’پس انہیں ہم نے چٹیل میدان میں ڈال دیا اور وہ اس وقت بیمار تھے‘‘۔(محمد جونا گڑھی)
’’پس ہم نے ڈال دیا اس کو خشک زمین پر اور وہ نڈھال تھا ‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
العراء  کا ترجمہ عام طور سے مترجمین نے درست طور سے چٹیل میدان کیا ہے، البتہ صاحب تدبر نے خشک زمین کردیا ہے جو اس لفظ کا درست ترجمہ نہیں ہے، خود صاحب تدبر نے دوسرے مقام پر چٹیل میدان ترجمہ کیا ہے ملاحظہ ہو:

لَوْلَا أَن تَدَارَکَہُ نِعْمَۃٌ مِّن رَّبِّہِ لَنُبِذَ بِالْعَرَاء وَہُوَ مَذْمُومٌ۔ (القلم:۴۹)

’’اگر اس کے رب کا فضل اس کی دست گیری نہیں کرتا تو وہ مذمت کیا ہوا چٹیل میدان ہی میں پڑا رہ جاتا‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
’’اگر اس کے رب کی مہربانی اْس کے شامل حال نہ ہو جاتی تو وہ مذموم ہو کر چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا‘‘۔(سید مودودی)
’’اگر تمہارے پروردگار کی مہربانی ان کی یاوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیئے جاتے اور ان کا حال ابتر ہوجاتا‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
ایک بات اور قابل غور ہے کہ سورہ قلم والی اس آیت میں صاحب تدبر نے لنبذ بالعراء  کا ترجمہ کیا ہے:’’ چٹیل میدان ہی میں پڑا رہ جاتا‘‘، جبکہ دوسرے لوگوں نے کیا ہے: ’’چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا‘‘۔ الفاظ دونوں ترجموں کی گنجائش رکھتے ہیں، لیکن صورت واقعہ سے صاحب تدبر کے ترجمہ کی تائید ہوتی ہے، کیونکہ یہ تو واقعہ ہے کہ وہ چٹیل میدان میں پھینکے گئے تھے ، البتہ اللہ کی مہربانی شامل حال ہوئی اور وہ پڑے نہیں رہ گئے اور راہ نجات حاصل ہوئی، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ وہیں پڑے رہ جاتے۔ 
(جاری)

خاندانی نظام کے لیے تباہ کن ترمیم

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مسلمانوں کے ہاں لے دے کر ایک خاندانی یونٹ بچا ہوا ہے۔ پنجاب اسمبلی نے سال ۲۰۱۵ میں فیملی کورٹس ایکٹ ۱۹۶۴ء میں ایک ترمیم منظور کی ہے جسے گورنر کی منظوری سے باقاعدہ قانون کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ یہ ترمیم خاندانی یونٹ کے لئے انتہائی تباہ کن ہے۔ نتیجہ کے طور پر عدالتوں میں طلاق کے مقدمات کی بھرمار ہو گئی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے خلع کے اصول کو مسخ کیا گیا ہے۔ اس بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین، جناب مولانا خان محمد شیرانی کی جانب سے ۲۸ مئی ۲۰۱۵ کے اخبارات میں تفصیلی وضاحت شائع ہوئی ہے۔ یہ وضاحت کونسل کے دو روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کی صورت میں کی گئی۔ وضاحت میں کہا گیا کہ شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری نہیں کر سکتی۔ عدالتوں کو خلع اور فسخ نکاح میں فرق کرنا چاہیے۔ خلع کی ڈگری جاری کرنے سے پہلے عدالت کا یہ اطمینان شہادت کے ذریعے بھی لازم ہے کہ خلع کا سمجھوتہ فریقین کے درمیان نیک نیتی اور آزاد مرضی سے ہوا ہو۔ اگر اس امر کی شہادت سامنے آئے کہ خاوند نے محض معاوضہ ہتھیانے کے لیے خاتون کو تنگ کر کے خلع کے مطالبے کے لئے مجبور کیا ہو تو ایسی صورت میں زر خلع ڈگری نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح شہادت کے بغیر سرسری طور پر خلع کی ڈگری جاری کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
"Dissolution of marriage by way of Khula was pronounced by Family Court subject to return of dower amount by wife, but said amount returned not accepted by husband. Pronouncement of Khula would amount to single divorce and until third divorce takes place, husband would be at liberty to remarry his wife again and parties could join as husband and wife on solemnization of nikah without intervening marriage. (2000 MLD 447)
’’فیملی کورٹ نے خلع کے طریقے پر نکاح کی منسوخی کا فیصلہ کیا ، اس شرط پر کہ بیوی مہر کی رقم واپس کر دے، مگر واپس کردہ رقم خاوند قبول نہ کرے۔ اس طرح خلع کا فیصلہ ایک طلاق کے مترادف ہو گا۔ تیسری طلاق تک خاوند اسی بیوی سے دوبارہ نکاح کے لیے آزاد ہو گا اور بیوی کے کسی اور شخص سے شادی کیے بغیر وہ دوبارہ نکاح کر کے بطور میاں بیوی کے طور پر رہ سکتے ہیں۔‘‘ 
اس بارے میں پنجاب اسمبلی کی جانب سے کئی گئی ترمیم شریعت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ معقولیت پر بھی مبنی نہیں۔ اس بارے میں خلع کے بارے میں فقہ کی کسی بھی کتاب سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ہم علما اکیڈیمی اور شعبہ مطبوعات محکمہ اوقاف پنجاب کی ۱۹۸۹ء میں شائع کردہ کتاب الفقہ کی چوتھی جلد کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ اس میں صفحہ ۷۰۸ سے لے کر ۷۸۰ تک خلع کی نسبت جامع اور مفصل بحث کی گئی ہے۔ اس بحث میں فقہ کے ہر مسلک کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اس طرح یہ امر متفقہ ہے کہ خلع کا سرچشمہ خاوند کا حق طلاق ہے۔ اس کی رضامندی کے بغیر خلع کا کوئی تصور نہیں ہو سکتا۔
ترمیم میں سب سے خطرناک دفعہ دس میں ذیلی دفعہ پانچ کا اضافہ ہے۔ اس ترمیم کے الفاظ یہ ہیں:
(5) In s suit for dissolution of marriage, if reconciliation fails, the Family Court shall immediately pass a decree for dissolution of marriage and, in case if dissolution of marriage through khula, may direct the wife to surrender up to fifty percent of her deferred dower or up to twenty five percent of her admitted prompt dower to the husband.
’’دعویٰ تنسیخ نکاح کی صورت میں اگر مصالحت ناکام ہو جائے تو فیملی کورٹ فوری طور پر تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کر دے گی۔ اگر یہ ڈگری خلع کی صورت میں ہو گی تو عدالت بیوی کو موجل حق مہر کے نصف سے دستبرداری کی ہدایت کرے گی، جبکہ حق مہر معجل کی صورت میں چوتھائی حق مہر خاوند کو ادا کیا جائے گا۔‘‘
نظریاتی کونسل نے اپنے تفصیلی بیان میں پنجاب کی جانب سے تازہ ترمیم کا ذکر نہیں کیا، صرف عدالتی معمولات پر تنقید کی گئی ہے، حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تازہ ترمیم کا شریعت کی روشنی میں تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ راقم کو امید تھی کہ جماعت اسلامی پنجاب کے امیر اور ممبر پنجاب اسمبلی جناب ڈاکٹر محمد وسیم نے اس ترمیم پر شرعی نقطہ نظر سے بحث کی ہو گی۔ معاملے کی نزاکت کے پیش نظر میں جماعت سے یہ مطالبہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اس ترمیم کی شرعی حیثیت کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اہتمام کرے۔ علاوہ ازیں اس پہلو سے دیگر دینی جماعتوں کو بھی متوجہ کرے اور اسے ایک سنجیدہ مسئلے کے طور پر پیش کرے۔ جماعتی رسائل ماہنامہ ترجمان القرآن اور ہفت روزہ ایشیا وغیرہ میں اس ترمیم اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔
یہ ترمیم ایک دفعہ میں ذیلی دفعہ ایزاد کرتی ہے مگر اس کے نتیجہ میں فیملی کورٹ کے پورے پروسیجر کو تنسیخ نکاح کی حد تک غیر موثر کر دیا گیا ہے۔ اب تنسیخ نکاح کے لئے کوئی معقول وجہ بیان کرنے اور نہ ہی کسی طرح کے شواہد پیش کرنے کی ضرورت رہی ہے۔ مصالحت کی پیشی پر صلح سے انکار ہی کافی ہے، عدالت کی کوئی صوابدید باقی نہیں رکھی گئی بلکہ عدالت کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ صلح کی ناکامی کی صورت میں تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کر دے۔ فیملی کیسوں کے جلد از جلد فیصلے کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا مگر عدالت کے ہاتھ جس طرح باندھ دیے گئے ہیں، اس کے نتیجہ میں اب فیملی کورٹ کے تنسیخ کی حد تک فیصلہ کو عدالتی فیصلہ کہنا ہی غلط ہو گا۔ یہ صوابدید تو اب بیوی کو حاصل ہو گئی ہے۔ عورت کو اتنا باختیار بنا دینا کہ کوئی اصول، ضابطہ، دلیل، ثبوت غرض سب کچھ سے بالا دست ہو جائے، بالکل ناقابل فہم ہے۔ خاندان کے یونٹ کو ایک ہی ضرب میں توڑ کر رکھ دینا یہ ضابطہ ہے نہ قانون، بلکہ یہ ضابطے اور انصاف کی نفی ہے۔ یہ فیصلہ کی صورت پیدا نہیں کی گئی بلکہ فیصلے کے نام پر جھٹکا کا اہتمام کیا گیاہے۔ یہ صورت حال سخت تشویشناک ہے۔ جلد فیصلے کے لیے مختلف نوعیت کے کیسوں کے لیے ضابطے موجود ہیں۔ بنکوں اور کرایہ داری کے مقدمات کی مثالیں موجود ہیں، مگر کہیں یہ نہیں کہ ایک فریق کے مطالبے کا عدالت کو پابند کر دیا جائے۔ اس سے پنجاب اسمبلی کے ممبران کی عقل و دانش پر حیرت کے اظہار کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ صلح کے لیے مرد اور عورت کے دونوں خاندانوں کے ذمہ داران کو طلب کرنا قرآن کا واضح حکم ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ صلح کے لیے قرآن کے اس حکم کو ضابطے کا حصہ بنایا جاتا۔ وجہ یہ ہے کہ عدالت کیسوں کے رش کی وجہ سے کوئی موثر مصالحتی کردار ادا نہیں کر سکتی۔ 
ریاست کو خاندان کے یونٹ کو تحفظ دینے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری کی جانب سنجیدہ توجہ دینا چاہیے۔ پاکستان کے دستور میں پالیسی کے اصول کے طور پر دستور کے آرٹیکل نمبر ۳۵ میں قرار دیا گیا ہے کہ 
The State shall protect the marriage, the family , the mother and the child. 
اس بارے میں اوپر درج کردہ معروضات کا لحاظ رکھتے ہوئے خاندان دشمن ترمیم کو ختم کر کے خاندان کو مزید مستحکم کرنے کے لیے قانون سازی کی جانب توجہ دینا چاہیے۔ اس بارے میں خاوند کے حق طلاق کو بھی معقولیت کی حدود میں لانے کے لیے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ خاندان کے ادارے کومحفوظ بنانے کے لئے خاوند کے حق طلاق کو ہر قید سے آزاد چھوڑے رکھنا حالات کے لحاظ سے مناسب نہیں۔ بلا وجہ طلاق دینے کی صورت میں متاثرہ خاتون کو ہرجانے کا معقول حق دلایا جانا چاہیے۔ بلا معقول وجہ کے طلاق دینے کی کوئی صورت شریعت میں جائز نہیں ہو سکتی۔ طلاق بنیادی طور پر امر ناجائز ہے۔ یہ صرف اس صورت میں جائز ہو سکتا ہے کہ عورت بد کاری، سرکشی یا فرائض کی تارک ہو۔ جس طرح تنسیخ نکاح کے لیے شریعت نے وجوہات کا تعین کیا ہے، اسی طرح طلاق کے لیے بھی وجوہات طے ہیں۔ مرد کے حق طلاق کو عدالتی توثیق سے مشروط کیا جاسکتا ہے۔ اس کی بنیاد کے طور پر ایک روایت عبداللہ بن عمر سے بخاری میں ہے کہ انہوں نے عہد نبوی میں صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی کو ایامِ مخصوص میں طلاق دے دی۔ اس کے متعلق حضرت عمر بن الخطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے حکم دو کہ رجوع کر لے اور رکا رہے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے۔ پھر ایام مخصوص ایام آئیں اور دوبارہ پاک ہو۔ اس کے بعد اگر چاہے تو اس کی زوجیت کو بحال رکھے اور چاہے تو ہاتھ لگانے سے پہلے اسے طلاق دے دے۔ یہاں ہم ’’کتاب الفقہ‘‘ کا ایک طویل اقتباس پیش کرنا چاہتے ہیں:
’’یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص بلا سبب اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ چاروں اماموں کا اس پر اجماع ہے کہ طلاق بنیادی طور پر ممنوع ہے۔ بنا بریں خاوند کے لیے حلال نہیں کہ اپنی بیوی کو بغیر کسی ناگزیر ضرورت کے طلاق دے دے۔ یہ اس لیے ہے کہ طلاق سے عقدِ زوجیت منقطع ہو جاتا ہے حالانکہ شریعت نے اسے بقائے نسل کے لیے رکھا ہے جس کا جاری رہنا اس مدت تک ضروری ہے جس کا ارادہ اللہ تعالی نے فرمایا اور حکم دیا ہے۔ اسی لئے اللہ نے انسان کا جوڑا بنایا اور ان میں باہم مہر ومحبت کا جذبہ رکھا۔ پس بیوی کو بلا سبب طلاق دینا حماقت اور اللہ کی نعمت سے نا شکری ہے، قطع نظر اس اذیت کے جو بیوی کو اور صاحب اولاد عورت کی اولاد کو پہنچتی ہے۔ پس بعض ہوس پرست جن میں حسِ اخلاق نہیں ہے، بلا سبب اپنی بیویوں کو طلاق دے دیتے ہیں۔ مذہب اسلام نہ اس کو مانتا ہے اور نہ اس کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی سزا ضرور دے گا اور ان کے گناہوں کو معاف نہ کرے گا جو اپنی بے قصور اور وفا دار بیویوں اور ان کی بے بس اولاد پر روا رکھتے ہیں اور نہ وہ قصور معاف ہو گا جو بعض ذلیل لوگوں نے مباح لذتوں سے بیش بیش فائدہ اٹھانے کو جائز قرار دے کر کر لوگوں کی نگاہ میں پسندیدہ بنا رکھا ہے کیونکہ با وفا بیویوں کے ساتھ بلا سبب دشمنی کرنے کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے، اسے مباح نہیں رکھا لہٰذا انسان کے لیے روا نہیں کہ اپنی لذت نفس کے لیے لوگوں کو اذیت دے، ورنہ اس میں اور وحشی جانوروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مزید براں ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ازدواجی رشتہ صرف عورت سے لطف اندوز ہونے اور متمتع ہونے کے لیے ہے، اس کے سوا کوئی اور مقصد ان کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ لہٰذا وہ ان نفسانی خواہشات کی تکمیل کے علاوہ بیویوں پر بے شمار مشکلات کا بار ڈال دیتے ہیں۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ در حقیقت ازدواجی رشتہ ان کے ان خیالات سے بالا تر احترام و تقدس کا متقاضی ہے اور کیوں نہ ہوتا جب کہ یہ انسانی عمرانیات کی بنیاد اور انسان کی بقائے نوعی کا سبب ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالی زوجین میں باہم مہر و محبت پیدا نہ کرتا اور دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کشش اور باہمی قلبی لگاؤ نہ ہوتا اور نوع انسانی معرض وجود میں نہ آتی۔ پس مرد کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی کو توہین آمیزنگاہ سے دیکھے اور یہ خیال کرنے لگے کہ بجز لذت اندوزی کے اس اور کوئی مقصد نہیں ہے اور حقیقی سبب کو نظر انداز کر دے جس کے لئے اللہ تعالی نے میاں بیوی میں اختلاط پیدا کیا ہے۔‘‘ (۵۷۳۔۵۷۴)
طلاق کے لیے قرآن حکیم نے مکمل اور واضح ضابطہ بیان کر دیا ہے۔ اسے نافذ کرنے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ بلا سبب طلاق نہیں دی جا سکتی۔ اسے روکنے کے لیے موثر قانون بنایا جانا چاہیے۔ فقہا نے بلا سبب طلاق کو قابل تعزیر قرار دیا ہے۔ قرآن کی رو سے طلاق تین طہر میں ہوتی ہے۔ بیک وقت طلاق دینا قرآنی حکمت کے خلاف ہے۔ گھر میں رکھ کر طلاق دی جا سکتی ہے۔ قرآن کے اس ضابطے کو موثر طور پر قانون کی شکل دے کر نافذ کرنے سے خاندان کے یونٹ کو استحکام دینے کے بجائے مضمون ہذا کے شروع میں درج کردہ ترمیم سے تو یہ حق عورت کے ہاتھوں دے دیا گیا ہے۔ اہل علم اور خاندان کی قدر و قیمت رکھنے والے لوگوں کو اس صورت حال پر تشویش ہونا چاہیے۔ افسوس یہ ہے کہ یہ سب کچھ ان لوگوں کے ہاتھوں ہو رہا ہے جو خاندان کے یونٹ کا ذاتی طور پر احترام کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مرد کی جانب سے بلا سبب طلاق کی روایت موجود تھی۔ اس روایت کو زیر بحث ترمیم کے ذریعے توسیع دے دی گئی ہے۔ اسے بیوی کا حق بنا کر عدالت کو اس نامعقولیت کا پابند بنا دیا گیا ہے۔ اہل قانون کا قانون سازی کے نام پر نامعقولیت کی ترویج اہل قانون کی جانب سے ان کے وقار سے کہیں زیادہ فرو تر ہے۔

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ (۶)

غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

آیت محاربہ کی رْو سے عہد رسالت کے مجرم سزا کے نہیں ،معافی کے مستحق تھے

فراہی گروہ کی سمجھ میں یہ بات بھی نہیں آئی کہ محاربہ کی سزا کی بابت تو ا للہ نے فرمایا ہے کہ فساد فی الا رض کے یہ مجرم اگر قابو میں آنے سے پہلے ہی تائب ہو جائیں توان کی سزا بھی موقوف ہو جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جن بعض صحابہ یا صحابیہ سے زنا کا جرم صادر ہوا تو اس کو شادی شدہ ہونے کی وجہ سے رجم کی سزا دی گئی حالاں کہ انھوں نے بارگاہ رسالت میں آکر از خود اعترافِ جرم اور سزا کے ذریعے سے پاک ہونے پراصرار کیا تھا؛ اگر یہ سزا محاربہ کی سزا یا آیت محاربہ کا اقتضاہوتی تو الا الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیھم کے تحت وہ سزا کے نہیں، معافی کے مستحق تھے کیوں کہ ان کی وجہ سے معاشرے میں نہ کوئی فساد مچا تھا اور نہ ان کو پکڑ کر ہی لایا گیا تھا؛ جب یہ دونوں ہی باتیں ان میں نہیں پائی گئیں تو محاربہ کی سزا تو خود آیت محاربہ کے خلاف ہے؛ انھیں محاربہ کی سزاکیوں دی گئی؟

رسول اللہ اور اللہ پر بھی افترا اور صحابہ وصحابیات پر بھی افترا 

اب اپنی طرف سے یہ بات گھڑنا ۔ جب کہ عہد رسالت کے واقعات میں دور دور تک اس کے نشانات نہیں ملتے ۔کہ یہ سزا نعوذ باللہ ان کی او باشی اور آوارہ منشی کی وجہ سے دی گئی؛یک سر بے بنیاد بات ہے۔ ان واقعات میں صرف ان کا شادی شدہ ہونا ثابت ہوتا ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے جو دیدۂ بینا رکھنے والے دیدہ وروں کو نظر نہیں آرہی ہے اور او باشی اور آوارہ منشی والی بات جو خوردبین لگا کر بھی دیکھنے سے نظر نہیں آتی، اس کو اس سزا کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے؛ کیسی ہٹ دھرمی اور دھاندلی کا مظاہرہ ہے جس کا ارتکاب نہایت بے شرمی اور حد درجہ بے باکی سے کیا جا رہا ہے؛ جیسے آوارہ منشی والی ’وحیِ خفی ‘ حمیدالدین فراہی پر نازل ہوئی تھی، وہاں سے اصلاحی صاحب کو اور پھر غامدی صاحب کو منتقل ہوئی کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ’وحیِ خفی ‘نازل ہوئی ہوتی تو آپ اس کی وضاحت فرماتے لیکن کسی بھی حدیث میں اس امر کی صراحت نہیں ہے کہ مذکورہ صحابہ و صحابیات کو سزاے رجم او باشی کی بنا پر دی گئی؛ یہ فراہی گروہ کی افتراپردازی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر بھی کہ آپ نے یہ سزا او باشی کی بنیاد پر دی تھی جب کہ ایسا قطعاً نہیں ہے اور مذکورہ صحابہ وصحابیات پر بھی کہ وہ (نعوذ با للہ) او باش، آوارہ منش اور غنڈے تھے دراں حالیکہ وہ نہایت مقدس اور پاک با ز لوگ تھے ؛بس بہ تقاضا ے بشریت ان سے غلطی کا ارتکاب ہو گیا تھا جس پر وہ سخت نادم ہوئے اور دنیوی سزا کے ذریعے سے پاک ہونے کے لیے بے قرار ہوگئے تاکہ اخروی سزا سے وہ بچ جائیں ؛ کس قدر پاک لوگ اور کس قدر ان کا جذبہ پاکیزہ تر تھا؟ رضی اللہ عنہم ورضواعنہ۔ اور فراہی گروہ کتنا بے باک اور دریدہ دہن ہے کہ وہ صاحب وحی پیغمبر کو بھی مطعون کر رہا ہے اور پاک بازصحابہ وصحابیات کو بھی بد معاش ثابت کر رہا ہے بلکہ یہ اللہ پر بھی افترا ہے کیوں کہ وحی کا نازل کرنے والا تو اللہ ہے، چاہے وہ وحی جلی ہو یا خفی ؛جب اوباشی والی ’وحیِ خفی‘ اللہ کے رسول پر نازل ہی نہیں ہوئی تو پھر یہ کہنا کہ یہ نازل ہوئی ہے لیکن اس کے نزول کی کوئی دلیل فراہی گروہ کے پاس نہیں ہے تو یہ اللہ پر بھی افترا ہے جب کہ اللہ تعالی اس سے پاک اور بلند تر ہے؛ تعالی اللہ عما یقولو ن علواکبیرا ۔

فراہی نظریہ رجم اور شیعوں کا نظریہ وصی رسول؛اصل میں دونوں ایک ہیں 

ہمارے نزدیک فراہی گروہ کی او باشی والی من گھڑت بات بالکل شیعوں کے گھڑے ہوئے عقیدۂ وصی رسول کی طرح ہے؛ شیعوں نے اپنی طرف سے یہ بات گھڑی کہ اللہ کے رسول نے حضرت علی کی بابت وصیت فرمائی تھی کہ میری وفات کے بعد علی خلیفہ اور میرے جانشین ہوں گے لیکن حقیقت میں ایسی کسی وصیت کا کوئی ثبوت نہیں ہے؛ اگر واقعی ایسی کوئی وصیت ہوتی تو صحابہ کرام یقیناًاس پر عمل کرتے اور آپ کی وفات کے بعد بالاتفاق حضرت علی کو خلیفۃ الرسول تسلیم کر کے ان کو امیر المومنین بنالیا جاتا لیکن چوں کہ ایسی کوئی دلیل نہیں تھی اس لیے صحابہ نے مشاورت کے بعدحضرت ابو بکر صدیق کو خلیفۃ الرسول اور امیر المومنین بنالیا۔ 
حضرات شیعہ نے بجاے اس کے کہ اپنے من گھڑت عقیدے کو چھوڑ دیتے، اپنے عقیدے اور من گھڑت نظریے پر اصرار کیا اور اس کو ثابت کرنے کے لیے خلفاے ثلاثہ کو بالخصوص ظالم ، غاصب اور منافق اور دیگر تمام صحابہ کو بالعموم ۔ سواے پانچ افراد کے ۔ منافق و مرتد قرار دے دیا ؛ صدیاں گزر جانے کے با وجود وہ اپنے اس بے بنیاد باطل نظریہ پر قائم ہیں اور اس کی وجہ سے خلفاے ثلاثہ سمیت تمام صحابہ کو (نعوذ باللہ) منافق اور مرتد قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں۔ اسی طرح فراہی گروہ نے رجم کے حد شرعی نہ ہونے کا نظریہ گھڑا ؛ اس کے لیے درجنوں صحیح، متواتر اور متفق علیہ روایات کا انکار کیا؛جب اس سے بھی بات نہیں بنی کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حد شرعی کا نفاذ فرمایا اور اپنے فرامین میں بھی اسے حد شرعی قرار دیا تو یہ بات بنائی کہ یہ تعزیری سزا ہے (حد شرعی نہیں ہے) جو اوباش اور آوارہ منش زانیوں کو ( اگر وقت کا حکم ران چاہے تو ) دی جا سکتی ہے؛ اس پر اعتراض ہوا کہ یہ سزا تو پاک باز صحابہ و صحابیات کو بھی دی گئی تو یہ جسارت کر لی گئی کہ یہ صحابہ و صحابیات پاک باز نہیں بلکہ ( نعوذ باللہ) غنڈے بدمعاش اور اوباش قسم کے عادی زنا کار تھے اور وہ صحابیہ بھی قحبہ (پیشہ و زانیہ ) تھی؛ کبرت کلمۃ تخرج من افواھھم آن یقولون الا کذبا۔ 
جس طرح شیعہ صحابہ کو بے ایمان اور مرتد سمجھنے میں جھوٹے ہیں،اسی طرح فراہی گروہ مذکورہ صحابہ و صحابیات کو غنڈہ، آوارہ منش اور اوباش سمجھنے میں جھوٹے ہیں؛ فلعنۃ اللہ علی الکاذبین۔ علاوہ ازیں دونوں کا نظریہ کسی دلیل پر مبنی نہیں ہے بلکہ اپنے گھڑے ہوئے نظریے اور ہٹ دھرمی پر قائم ہے؛ فتشابھت قلوبھم وافکارھم، اللّھم لاتجعلنا منھم ۔

سارا اسلام ہی دین فطرت ہے، نہ کہ چند احکام 

یہاں تک الحمدللہ غامدی صاحب کے ضروری نکتوں پر بحث کر کے ان کی حقیقت واضح کر دی ہے؛ اب دو پہلو تشنہ تفصیل رہ گئے ہیں؛ان پر بھی ضروری حد تک مختصراً گفتگو مناسب معلوم ہوتی ہے تاکہ ان پہلوؤں سے بھی وہ نا پختہ ذہنوں کو گم راہ نہ کر سکیں۔
ان میں پہلانکتہ ، ان کا وہ نقطہ انحراف ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت ۔تبیین قرآنی ۔کے مسلمہ مفہوم کے انکار پر مبنی ہے؛اہل اسلام میں اس کامسلمہ مفہوم جو چودہ سو سال سے مسلم چلا آرہا ہے،یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے عموم میں تخصیص کر سکتے ہیں۔اس کو بعض لوگوں نے نسخ سے بھی تعبیر کیا ہے ؛ مرادان کی بھی تخصیص ہی ہے؛ صرف اصطلاح کا فرق ہے۔اس کی متعدد مثالیں ہم اپنے مضمون کے آغاز میں پیش کر آئے ہیں؛یہ ایسے احکام ہیں جو صرف احادیث رسول سے ثابت ہیں؛ قرآن میں ان کا ذکر نہیں ہے؛ انھی میں سے ایک رجم کے حد شرعی کا حکم ہے ؛ اہلِ اسلام ان کو بھی اسی طرح مانتے ہیں جیسے قرآنی احکام کو مانتے ہیں۔فراہی گروہ ایسے احکام حدیثیہ کو قرآن پر زیادتی (قرآن میں اضافہ)، قرآن کے خلاف اور قرآن میں تغیروتبدل قرار دیتا ہے؛جب ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ سب صحیح احادیث میں موجود ہیں جس کا مطلب ہے کہ رسول کے فرامین اور عمل سے ثابت ہیں تو اس گروہ نے کہاکہ یہ سب فطرت کا بیان ہیں؛ یہ نہ قرآن میں اضافہ ہے اور نہ شریعت کا حصہ ہے کیوں کہ اضافہ کرنے کا حق تو رسول کو بھی نہیں ہے حالانکہ اہل اسلام کے نزدیک یہ اضافہ نہیں؛ آپ کے منصب رسالت کا تقاضا ہے۔
اپنے اس نظریہ فطرت پر بھی غامدی صاحب نے لا طائل بحثیں کی ہیں ؛ ان کے مذکورہ دلائل کا نقد و محاکمہ کرنے کے بعد ہمارے نزدیک اس پر بحث غیر ضروری ہے تاہم اس مسئلے میں ہم یہ ضرور عرض کریں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو دین اسلام لے کر آئے ، اسے دین فطرت بھی کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ اسلام کی تعلیمات انسانی فطرت کے مطابق ہیں؛ قرآن کریم کی اس آیت میں بھی اسی بات کا بیان ہے:
فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا
’’اس دین کی پیروی کرو جس پر اللہ نے لوگوں کوپیدا کیاہے۔‘‘
فطرت کے اصل معنی خلقت (پیدایش )کے ہیں ؛ یہاں مراد ملت اسلام ( و توحید)ہے ؛ مطلب یہ ہے کہ سب کی پیدایش، بغیر مسلم وکا فر کی تفریق کے ، اسلام اور توحید پر ہوئی ہے ؛ اسی لیے توحید انسان کی فطرت ، یعنی جبلت میں شامل ہے جس طرح کہ عہدالست سے واضح ہے، لیکن فطرت یعنی اسلام و توحید پر پیدا ہونے کے باوجود انسانوں کی اکثریت کو ماحول یا دیگر عوارض، فطرت کی اس آواز کی طرف نہیں آنے دیتے جس کی وجہ سے وہ کفر ہی پر با قی رہتے ہیں ؛ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے :
’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی، عیسائی یا مجوسی (وغیرہ)بنا دیتے ہیں۔‘‘ (الحدیث۔ بخاری، رقم 4775؛مسلم، رقم 2658)
ایک اور حدیث کا ترجمہ حسب ذیل ہے؛ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’سنو ! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے مجھے میرے آج کے دن میں جو کچھ سکھایا ہے، تمھیں اس میں سے کچھ وہ باتیں سکھاؤں جن سے تم واقف نہیں ہو۔(اللہ فرماتاہے)ہر وہ مال جومیں نے کسی بندے کو عطا کیا ہے،وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف (اللہ کے طرف یک سو ہو جانے والا) پیدا کیا ہے( لیکن اس کے بعد ہوا یہ کہ)ان کے پاس شیاطین آئے اور انھوں نے ان کو ان کے دین (فطرت)سے پھیر دیا اور ان کے لیے وہ چیزیں حرام کر دیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں اور انھوں نے ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک بنائیں جن کی میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔‘‘ (مسلم، رقم 2865)
قرآن کی آیت سے معلوم ہوا کہ تمام انسانوں کی پیدایش فطرت یعنی اسلام اور توحید پر ہوئی ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کے اندر اس کا شعور رکھا گیا ہے تاکہ وہ آسانی سے دین اسلام کو بھی اختیار کر لیں اور عقیدۂ توحید سے بھی انحراف نہ کریں لیکن ماحول (جہاں انسان پیدا ہوا اور وہاں پلا بڑھا ) اس دین کو اسلام کے بجاے دوسرے ادیان کی طرف کھینچ لے جاتاہے اور وہ یہودی ،عیسائی، ہندووغیرہ بن جاتے ہیں۔ دوسرے ،شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے ؛ وہ بھی انسانوں گم راہ کرنے پر تلارہتاہے اور انسان اس کے جل میں پھنس جاتے ہیں اور توحید کے بجاے شرک کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ (احادیث کی بنیاد پر اگر اس مفہوم سے انکار ہے تو اپنے ’استاذ امام ‘ کی وہ تفسیر پڑھ لیں جو اس آیت کے تحت انھوں نے کی ہے اور یہی مفہوم بیان کیاہے۔) اور ان احادیث سے یہ واضح ہوا کہ صرف فطرت کی راہ نمائی کافی نہیں ہے ؛ اسی لیے اللہ نے اس فطری شعور کو اجاگر اور واضح کرنے کے لیے آسمانی کتابوں اور انبیا و رسل کاسلسلہ قائم فرمایا۔
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اس سلسلہ رشد و ہدایت اور وحی ورسالت کے ذریعے سے جو تعلیمات و ہدایات انسانوں کو دی گئیں،ان کو بیان فطرت نہیں بلکہ بیان شریعت کہا گیا ہے: شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْن ۔۔۔ الآیۃ۔
اس لیے پیغمبر کی بعض باتوں کو شریعت ماننااور اور بعض کی بابت غامدی صاحب کا یہ کہنا کہ ’’یہ بیان فطرت ہے؛ لوگوں نے اس کو بیان شریعت سمجھ لیا ہے‘‘ کیسی عجیب بات ہے ؟ دین یا قرآن تو سارا ہی بیان فطرت ہے جیسا کہ آیت مذکور سے واضح ہے؛کیاماحول اور شیطان کی کارستانی سے جو فطرتیں مسخ ہو جاتی ہیں،ایسی فطرتوں کو ان کی اصل فطرت کی یاددہانی کے لیے جو شریعتیں نازل ہوتی رہی ہیں ،کیا وہ دوحصوں پر مشتمل ہوتی تھیں : ایک حصہ بیان فطرت کا اور دوسرابیان شریعت کا ؛ اس تفریق کی بنیاد کیا ہے؟جس طرح احکام شریعت کے جانچنے اور پرکھنے کے لیے کسی کی عقل معیار نہیں ہو سکتی،اس طرح کسی شخص کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی سمجھ کے مطابق شریعت کے بعض احکام کو شریعت قرار دے اور جس کوچاہے شریعت ماننے سے انکار کر دے اور دعویٰ کرے کہ یہ تو بیان فطرت ہے ؛یہ حق حمید الدین فراہی یا مولانا اصلاحی یا غامدی کو کس نے دیا ہے کہ وہ رسول کی احادیث کو جو تبیین قرآنی پر مبنی ہیں، ان کو قرآن میں اضافہ یا قرآن میں رد وبدل قرار دے یا ان کی بابت یہ کہے کہ یہ شریعت کا بیان نہیں،فطرت کا بیان ہے؟
شریعت کو اپنے خیال کے مطابق دو حصوں میں تقسیم کرناکہ یہ شریعت ہے اور یہ فطرت ہے؛یہ بھی تو انسانی عقل ہی کی کار فرمائی ہے؛ اگر آج یہ حق فراہی عقل کو دے دیا گیااور ان کی عقل کے مطابق کچھ احکام کی شرعی حیثیت کو ختم کر دیا گیا تودوسرے منکرین حدیث کا بھی یہ حق تسلیم کر لیاجانا چاہیے جس کی رْو سے وہ کہتے ہیں کہ زکاۃ وصلاۃ اور بہت سے مسلمات اسلامیہ کا وہ مفہوم نہیں ہے جو چودہ سو سال سے امت مسلمہ سمجھتی اور عمل کرتی آرہی ہے؛دین تو پھر ان عقلی بازی گروں کی وجہ سے جس کی بنیاد انکار حدیث پر ہے ، بازیچہ اطفال بن کررہ جائے گا۔
اس لیے امت مسلمہ نے یہ حق آج سے صدیوں قبل معتزلہ،جہمیہ،قدریہ وغیرہ منکرین حدیث اور عقل و دانش کے دعوے داروں کو نہیں دیاجس کی وجہ سے اصل دین الحمدللہ محفوظ ہے؛ تو یہ حق آج کے منکرین حدیث اور نظم قرآن کے نام پر فہم قرآن کے ٹھیکے دار وں کو بھی نہیں دیا جا سکتا؛مذکورہ فرقے جیسے کچھ عرصہ اپنی عقلی شعبدہ بازیاں دکھا کر تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئے،اس گروہِ کاجدید انجام بھی اس سے مختلف نہیں ہو گا اوران کی فکری ترک تازیوں اور احادیث پر چاند ماری سے دین جو قرآن اور حدیث دونوں کے مجموعے کا نام ہے، محفوظ رہے گا؛ اس لیے کہ اس کی حفاظت ہمہ شما کے ذمے نہیں ہے بلکہ خود اللہ نے اس کی حفاظت کاذمہ لیاہے،اور ان اللہ لا یخلف المیعاد۔

روایات رجم میں خردہ گیری ، ہندواور شیعہ کی خردہ گیریوں کی طرح ہے

دوسرا نکتہ جس کی ضروری وضاحت بھی ناگزیر ہے ، وہ یہ ہے کہ غامدی صاحب نے رجم کی ان احادیث کو جو احادیث کے صحیح مجموعوں میں صحیح سندوں کے ساتھ محفوظ ہیں، ان سب کو باہم متنا قض اور ناقابل اعتبار دے کر کنڈم کر دیا ہے حالانکہ یہ وہ روایات ہیں جو صدیوں سے اہل علم میں متداول ہیں؛کسی کو ان میں ایسا باہم تناقض اور تضاد نظر نہیں آیا جس کی توجیہ یا ان میں تطبیق نا ممکن ہو لیکن جب یہ روایات فراہی صاحب کے خانہ ساز نظریہ رجم کے خلاف تھیں تو ان سب کو ناقابل اعتبار قرار دینا ناگزیر ہو گیا کیونکہ اس کے بغیران کے بے بنیاد نظریے کااثبات یک سر نا ممکن تھا ؛ چناں چہ اس ’عظیم خدمت ‘ کی ‘سعادت ‘ ع ’’قرعہ فال بہ نام من دیوانہ زدند ‘‘ کے مصداق غامدی صاحب کے حصے میں آئی جس پر ان کے مریدان با صفا کو بجا طورپر صداے اَحسنتَ  کے ساتھ مل کر یہ پڑھنا چاہیے:
ایں سعادت بہ زور بازو نیست
تا نہ بخشد خداے بخشندہ
لیکن ہمیں یہ ساری بحث جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام فرامین اور فیصلوں کو نہایت بے دردی سے دفتر بے معنی ثابت کرنے کی مذموم سعی کی گئی ہے،پڑھتے ہوئے بار بار ایک ہندو پنڈت کی تحریر کردہ کتاب ’ستیارتھ پرکاش‘ایک سوامی دیا نند (ہندو)کی کتاب ’رنگیلا رسول ‘ اور ایک شیعہ مصنف کی تحریرکردہ کتاب ’سیرت عائشہ ‘ جیسی کتابیں لوح حافظہ پر ابھر ابھر کر سامنے آرہی تھیں اور یہ شرح صدرحاصل ہو رہا تھا کہ جب کوئی شخص یہ ٹھان ہی لے کہ میں نے فلاں چیز کو نا کا رہ ثابت کرنا ہے،فلاں کتاب میں کیڑے نکالنے ہیں تو پھر شیطان اس کو ایسے ایسے گر، ایسے ایسے نکتے اور ایسی ایسی ترکیبیں سجھاتا ہے کہ وہ اپنے ناپاک خاکے میں رنگ روغن بھرنے میں بہ ظاہرکام یاب نظر آتاہے۔
’ستیارتھ پرکاش ‘ میں کیا ہے؟ قرآن مجید پر سیکڑوں اعتراضات ہیں؛ اس کی آیتوں کو باہم متناقض ثابت کیاگیا اور ہر طرح کی خرافات قرآن کے ذمے لگائی گئی ہیں۔ ’رنگیلا رسول ‘میں کیاہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہایت پاکیزہ شخصیت کو ازواج مطہرات اور تعدد ازدواج کے حوالے سے رنگیلا مزاج ثابت کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی جزاے خیر دے مولانا ثناء اللہ امرتسری کو جنھوں نے ان دونوں کتابوں کا مدلل اور نہایت مسکت جواب دیاجن کا نام ’حق پر کاش ‘اور ’مقدس رسول ‘ہے۔
شیعہ مصنف کی کتاب ’عائشہ‘ یا ’سیرت عائشہ‘ کیا ہے؟ اس میں احادیث کی کتابوں سے حضرت عائشہ کی شخصیت کو داغ دار اور ایسے کریہہ اندازمیں پیش کیاگیاہے کہ ایک سنی مسلمان کا خون کھول اٹھتا ہے۔
ہمیں یہ کہتے ہوئے خوشی نہیں ؛بہ صد حسرت وغم کہنا پڑرہاہے کہ غامدی صاحب بھی مذکورہ اصحاب ثلاثہ کی صف میں شامل ہو گئے ہیں اور جس طرح وہ اپنی کتابوں پر نازاں ،شا داں وفرحاں تھے،غامدی صاحب بھی اپنی اس ’تصنیف کثیف‘ یا ’سعیِ غلیظ ‘کو ایک بڑااعزازسمجھتے ہیں اور واقعی ان کا یہ ’کارنامہ ‘ اتنا ’عظیم ‘ہے کہ وہ اہل استشراق، منکرین حدیث اور قرآن کے نام پر ایک تازہ شریعت ایجاد کرنے والو160ں کی طرف سے زیادہ سے زیادہ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان کے راستے کے ایک سنگ گراں کو ان کے نا پاک راستے سے ہٹا کر اس پر بگٹٹ دوڑانے کے لیے راستہ ہموار کر دیا گیا ہے:
ایں کار از تو آید ومرداں چنیں کنند
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں؟
سچ ہے جس نے کہا:
وعین الرضا عن کل عیب کلیلۃ
ولکن عین السخط تبدی المساویا
’’رضامندی کی آنکھ سے دیکھا جائے تو کوئی عیب نظر ہی نہیں آتا اور ناراضی کی آنکھ کو سوائے عیب کے کچھ نظرنہیں آتا۔‘‘ 
(جاری)

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور جناب زاہد صدیق مغل کا نقد (۲)

احمد بلال

xii۔ خلاصہ تنقید: ’’قومی سیاسی پہلو پر چند اصولی کلمات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گو ہمیں اس کی شکلی صورت سے غرض نہیں۔" (از حامد کمال الدین صاحب)
جواب: صاحب مضمون نے حامد کمال الدین صاحب کا اقتباس نقل فرمایا ہے۔ ویسے تو میں نے حامد صاحب کے ان اعتراضات کے حامل شمارہ ایقاظ کا تفصیلی تجزیہ ایک علیحدہ مقالے میں پیش کر دیا ہے، تاہم یہاں بھی نکات کی مناسبت سے چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔ 
پہلی گزارش: یہ دعویٰ اصول میں بالکل درست ہے کہ "نیشن اسٹیٹ کا فارمیٹ بدلنا کوئی دین شکنی نہیں ہے" اور نہ ہی غامدی صاحب نے کبھی اسے دین شکنی کہا ہے۔ تاہم، اس کے اطلاق پر چند کلمات عرض کرنے سے پہلے جو دعویٰ اس کے مقابل میں غامدی صاحب کے بیانیے سے اخذ کیا جا سکتا ہے، وہ بھی دہرانا مناسب معلوم پڑتا ہے، کہ "نیشن سٹیٹ کا فارمیٹ بدلنا کوئی دین کا حکم بھی نہیں ہے"۔ اب رہی بات اس کے اطلاق کی، تو معاملہ یہ نہیں ہے کہ ہم کوئی ریاست ابھی بنانے جا رہے ہیں اور اس کے بننے سے پہلے یہ بحث کر رہے ہیں، کیونکہ اس صورت میں تو متعدد زاویوں سے اس بحث میں خامہ فرسائی کرنا شاید میری بھی دلچسپی کا باعث ہوتا۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ ایک ریاست وجود پذیر ہو چکی ہے، اس لیے موضوعِ بحث یہ ہے کہ کیا ہماری موجودہ نیشن اسٹیٹ کا فارمیٹ اکثریت کے زور پر بدلنا "مؤثر بہ زمانہ ماضی" انداز میں، عقلاً و قانوناً انصاف کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے، ممکن ہے کہ نہیں؟ غامدی صاحب اس پر اپنا مؤقف دے چکے ہیں جو انصاف کے بالکل مطابق معلوم پڑتا ہے کہ اب یکطرفہ طور پر ایسا کرنا استبداد اور تحکم ہو گا۔ تاہم، اگر یہ نا انصافی نہیں ہے تو صاحبِ مضمون سے التماس ہے کہ وہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو دلائل سے یہ باور کرائیں کہ یہ نا انصافی کیوں نہیں ہے۔ میں اْنہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر وہ یہ ثابت کر دیں تو نہ مجھے اور نہ ہی غامدی صاحب کو کوئی شوق ہے کہ اپنے وطن سے شریعت کے حلقہ اثر کو کم کرنا ہمیں بھاتا ہو۔ مگر نا انصافی کی تو ادنیٰ آمیزش بھی ہم شریعت کی رو سے برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ 
دوسری گزارش: جہاں تک مسلمانوں کو غاصب گرداننے کا معاملہ ہے اور اصل بات کے بہت پیچھے تک جانے کاتو یہ ایک ایسی بحث کی طرف رخ موڑنے کی کوشش معلوم پڑتی ہے جس کا شریعت میں حلال و حرام یا مکروہ و مندوب کے تعین سے کوئی تعلق نہیں۔ مسلمانوں کا عمل چودہ صدیوں میں کیا رہا اور شریعت کو کیا مطلوب تھا، یہ دونوں الگ الگ حقیقتیں ہیں اور دونوں کا ایک ہونا کوئی عقلی لازمہ نہیں۔ اگر قرآن کو جمہوری نظام پر اصرار ہے اور مسلمانوں نے خلفاءِ راشدین کے بعد اس کے بجائے بادشاہت کو اپنا نظام بنا لیا، تو اب ہمیں شریعت کا مطالبہ واضح کرنے کے لیے مسلمانوں کے اس دورِ بادشاہت میں اختیار کیے گئے رویے اور اس کے محرکات پر بحث کی کوئی منطقی حاجت نہیں۔ مگر اصل میں ایسی باتیں چونکہ قارئین میں کسی مؤقف کی حامل شخصیت کے خلاف تعصب اور نفرت پیدا کرنے کے لیے کی جاتی ہیں، اس لیے میں اس کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں، تا کہ اگر صاحبِ مضمون کا بھی ارادہ کچھ ایسا ہی ہے تو انہیں اس طرح کے دلائل سے قارئین کے تحت الشعور میں غامدی صاحب کے متعلق ایک عمومی تعصب کا بیج بونے کا موقع نہ دیا جائے۔ نہ غامدی صاحب کا مؤقف BJP کے زاویہ مطالعہ تاریخ سے ملتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کی فتوحات کو ظلم گردانتا ہے۔ مسلمانوں نے جس زمانے میں یہ فتوحات کیں، اس میں ان کے مقابل میں استبدادی حکومتیں ہی تھیں۔ جب مقابل میں استبداد ہو تو جنگ کے علاوہ کوئی صورت رفعِ نزاع کے لیے باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ ان فتوحات کے خلاف اْس دور کے اجتماعی انسانی ضمیر نے کبھی اصولاً غیر اخلاقی ہونے کا فتویٰ نہیں دیا۔ اِس دور میں بھی جن لوگوں نے اس پر کسی قسم کا کوئی اعتراض وارد کیا ہے، انہوں نے دراصل موجودہ دور کی سیاسی اخلاقیات کو ماضی میں بھی مؤثر ماننے کی خطا کی ہے، جس کا ابطال مسلم و غیر مسلم اہل علم متعدد زاویوں سے کر چکے ہیں۔ چنانچہ صاحب مضمون سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ دین کے مطالبات کی جانچ پڑتال کے لیے تاریخی واقعات کا سہارا لینا خلط مبحث کے مترادف ہے۔ ہمارے دین میں مطالبات ایسی شانِ وضاحت سے بیان کیے گئے ہیں کہ اْن کی بحث شریعت کے ماخذوں سے شروع ہو کر انہی پر تمام ہو جانی چاہیے۔ 
تیسری گزارش: جہاں تک بات ہے سیاسی و سماجی برتری کو فتح کے مقابل میں کہیں زیادہ نرم تر عمل سمجھنا اور نیشن اسٹیٹ کے فارمیٹ میں کچھ فرق آنے کو شریعت کی خلاف ورزی نہ سمجھنا، تو توضیح کی خاطر اوپر کی گزارشات پر کچھ مزید اضافہ کیے دیتا ہوں۔ پہلے تو میری اور قارئین کی تفہیم کو یہ فرما دیجیے کہ آپ خلافِ عدل ہونے کو خلافِ شریعت مانتے ہیں کہ نہیں؟ کیونکہ میں تو جب بحث کرتا ہوں تو اِن دونوں کو لازم و ملزوم مانتے ہوئے کرتا ہوں۔ نیشن اسٹیٹ کے فارمیٹ میں یکطرفہ تبدیلی کو چونکہ خلافِ عدل سمجھتا ہوں، اس لیے شریعت کی خلاف ورزی بھی گردانتا ہوں۔ چنانچہ فاضل ناقد سے پھر التماس کرتا ہوں کہ اس کا خلافِ عدل ہونا مفقود دکھا دیجیے، یہ آپ سے آپ خلافِ شریعت بھی نہیں رہے گا۔ رہی بات نرم تر عمل کی، تو اس ضمن میں گزارش ہے کہ یہ بحث زیادہ ناانصافی اور کم ناانصافی کی نہیں ہے کہ میں صاحبِ مضمون کے اس دعوے کی تائید و تنکیر کروں۔ یہ بحث تو اصول میں ناانصافی کی ہو رہی ہے، چاہے وہ زیادہ ہو یا کسی اور طرح کی بڑی ناانصافی سے کم تر۔ چنانچہ اس دور میں جس طرح کسی ملک کو فتح کر کے اس کے عوام کو اپنے دینی تصورات کا پابند کرنا ظلم شمار ہوتا ہے، اسی طرح سیاسی و سماجی اکثریت کے زور پر بھی ایسا کرنا ظلم ہی شمار ہوتا ہے۔ یہی وہ ظلم تھا جس کو بھانپتے ہوئے ہندو مسلم اتحاد کے سب سے بڑے حامی یعنی قائد اعظم نے آخر کار علیحدہ ملک کے مطالبے کا فیصلہ کیا۔ کیا طْرفہ تماشا ہے کہ ہم نے یہی کام اپنی اقلیتوں سے کر ڈالا۔ رہی بات قراردادِ مقاصد کی، تو اس پر غامدی صاحب کے اعتراض کو سمجھنے کی ایک موہوم سی کوشش تو کیجیے۔ قراردادِ مقاصد کو مسلمانوں کے لیے خاص کر دیجیے، اقلیتوں کو اْس کے حلقہ اثر سے باہر کر دیجیے، پھر چاہے تو جو مرضی اکثریت کی رائے سے اس میں شامل کر دیجیے، اس پر خلافِ عدل ہونے کا کوئی اعتراض ہماری جانب سے نہ آئے گا۔
xiii۔ خلاصہ تنقید: قراردادِ مقاصد ایک سیاسی اور عملی ضرورت ہے۔
جواب: قارئین سے گزارش ہے کہ قراردادِ مقاصد کی ضرورت پر وارد اِن اقتباسات کو غور سے پڑھیے اور پھر فیصلہ کیجیے: کیا اِن اقتباسات میں اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے شریعت کے ماخذوں سے کوئی دلیل پیش کی گئی ہے؛ یا پھر دنیا کے سیاسی حالات کے پیش نظر قراردادِ مقاصد کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے؟ اگر دوسری بات ہے، اور یقیناًدوسری ہی بات ہے، تو اس پر کسی کلام کی میں کوئی حاجت محسوس نہیں کرتا۔ کیونکہ چاہے میں اِن سے پوری طرح متفق ہوں یا جزوی طور پر، یا چاہے ان سب سے اختلاف رکھوں ،غامدی صاحب کے مؤقف پر یک سرِ مو فرق نہیں پڑتا۔ مروجہ سیاسی حالات کے تناظر میں جو رائے صاحبِ مضمون نے پیش فرمائی ہے، اس سے شریعت میں مقصود و مطلوب ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اگر صاحبِ مضمون ان دلائل کی بنیاد پر ایسا سمجھتے ہیں کہ قراردادِ مقاصد واقعتا ایک قانونی ضرورت ہے، تو اس طرح کی کسی قرارداد کو اکثریت کی تائید سے نافذ کرا لینے میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔ قباحت ہے تو بس اس میں کہ جبراً غیر مسلموں کو اس کا پابند کر دیا جائے۔
xiv۔ خلاصہ تنقید: یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب "اقلیتوں کے مساوی حقوق کی مجروحیت" کی دہائی پر یہاں کچھ "مذہبی بیانیے" دینے والے یہ بھی کہیں گے کہ اپنے یہاں کے اسکولوں کے نصاب سے ان باتوں کو حذف کرنا بھی "شرعاً لازم" ہے کہ "اس کائنات کا خالق خدا ہے" وغیرہ۔
جواب: جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، وہ اِس بات کے غماز ہیں کہ غامدی صاحب کے تصورِ دینِ ریاست کو لادینیت (secularism) کے مترادف سمجھ لیا گیا ہے اور لادینی ریاستوں میں پیش آنے والے واقعات (اگرچہ ان واقعات کو بھی صحیح نہیں سمجھا گیا) پر قیاس کر کے ان خدشات کو شدنی قرار دے دیا گیا ہے۔ خود غامدی صاحب اور میں بھی متعدد توضیحی مضامین میں یہ بات واضح کرنے کی کوشش کر چکے ہیں کہ جس تصور میں اجتماعی مذہبی ہدایات نہ صرف حکمرانوں کو تاکید اًکی جائیں، بلکہ ان کی ذمہ داری قرار دیا جائے، اسے لا دینیت کے مترادف گرداننا کسی طرح روا نہیں۔ میری تمام ناقدین سے دردمندانہ گزارش ہے کہ ایک مرتبہ غامدی صاحب کے دس کے دس نکات کو تسلی اور تدبر سے سمجھیں اور انہیں اپنے ذہن میں سرایت کرنے دیں، اس کے بعد جیسی چاہیں صنف بندی کریں۔ مگر یقین جانیے کہ اگر تدبر سے اس کا مطالعہ کیا گیا تو پختہ اذہان لا محالہ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ ایک مختلف صنف ہے جو خالص مذہبی ریاست اور لا دینی ریاست کے بین بین ہے۔ اور خالص مذہبی ریاست کے مقابل میں غامدی صاحب اِسے اس لیے پیش نہیں کر رہے کہ اْس کا ظہور وہ دنیا میں دیکھنا نہیں چاہتے، بلکہ صرف اس لیے کر رہے ہیں کہ اِس موجودہ ریاست کی مشترک ملکیت کی نوعیت، اور شریعت کا سکھلایا ہوا عدل و قسط، انہیں اِس اقرار پر مجبور کر رہا ہے کہ ایسا کرنا ناانصافی ہے۔ تاہم میری ناقدین سے گزارش ہے کہ وہ یہ فرما دیں کہ یہ ناانصافی نہیں ہے تو پھر اٹھ کھڑے ہوں خالص مذہبی ریاست بنانے کی خاطر، وہ بالکل حق بجانب ہوں گے۔ رہی بات اْن نتائج کی جو محترم صاحب مضمون نے دکھلائے ہیں، تو وہ واقع ہی نہیں ہوں گے۔ اسلام نے جتنے احکامات مسلمانوں کو کسی شعبہ زندگی سے متعلق بھی دیے ہیں، وہ ضرور لاگو ہو سکیں گے، بس اس فرق کے ساتھ کہ غیر مسلموں کو اْن کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیمی نظام میں بھی مسلمانوں کا پورا حق ہو گا کہ جو مذہبی علوم بھی وہ بچوں کو پڑھانا چاہیں گے، ضرور پڑھا سکیں گے۔ میں چونکہ اس موضوع پر ایک مستقل مضمون لکھ رہا ہوں، اس لیے یہاں اسی اجمال پر اکتفا ہے۔ تفصیل ان شاء اللہ اس دوسرے مضمون میں بیان کروں گا۔ کیونکہ مجھے اس چیز کا پورا احساس ہے کہ لوگوں کا کسی بھی نظریے کو پہلے سے معلوم اصناف میں سے کسی ایک پر محمول کرنے کا ذوق، اور غامدی صاحب سے ایک عمومی سوءِ ظن، اس مختلف صنف کے ادراک میں حائل ہو رہے ہیں۔
xv۔ خلاصہ تنقید: علما نے بڑی محنت سے اس نظام کو چلانے والوں کے ارادوں کو قرآن و سنت کے کلے سے باندھنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت بنچ جیسی جو کامیابیاں حاصل کیں، جدید اربابِ علم انہیں اپنی نکتہ شناسیوں سے بہا لے جانا چاہتے ہیں۔ اور "اقلیتوں کی ذہنی تسکین بحال کرنے کے لیے" علما کو ناراض طبقوں کے سامنے بالکل ہی لاجواب کر دینا چاہتے ہیں۔
جواب: یہ اعتراض اصل میں اس سوچ کی عکاسی پوری دیانت سے کر دیتا ہے کہ غالباً جس کے تدارک کے لیے غامدی صاحب نے اس جوابی بیانیے میں ریاست کے ساتھ مذہب کے تعلق کو واضح کرنا مناسب جانا۔ صاحبِ مضمون کا یہ فرمانا کہ علما نے بڑی محنت سے اس نظام کو چلانے والوں کے ارادوں کو قرآن و سنت کے کلے سے باندھنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت بنچ جیسی جو کامیابیاں حاصل کیں۔۔۔۔ہمارے مروجہ مذہبی بیانیے اور علما کے مؤقف کی جامع عکاسی کرتا ہے۔ اصل میں یہی وہ کامیابیوں کا تصور ہے جو اس مؤقف کے حاملین کی سادہ لوحی کو مبرہن کر دیتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پرانے پاپیوں کے علی الرغم، شب بھر میں مسجد بنا دینے سے انہیں کوئی عظیم کامیابیاں حاصل ہو گئی ہیں۔ انہیں یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ملک کے آئین و قوانین اصل میں لوگوں کی مجموعی علمی و عقلی و دینی کیفیت کے عکاس ہوتے ہیں۔ جس طرح کوئی علمی و عقلی حقیقت ان پر خارج سے تھوپی نہیں جا سکتی اسی طرح کوئی دینی تعبیر یا شق بھی ان پر باہر سے چسپاں نہیں کی جا سکتی، اور اگر کر بھی دی جائے تو وہ نتیجہ خیز ہونے کی بجائے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے، کیونکہ لوگ اسے عملاً قبول نہیں کرتے۔ 
اس دور میں ریاستوں پر حملے کر کے ان پر جمہوریت تھوپنے والے مغربی ممالک بھی یہی غلطی کر رہے ہیں۔ چنانچہ دینی قوانین کا فطری طریقہ بھی یہی ہے کہ جتنے لوگ مسلمان ہوں گے اتنے ہی وہ قوانین بھی اسلامی بنائیں گے۔ اور اگر اس ترتیب کو الٹ دیا جائے، یعنی قوانین تو عین اسلامی بنا ڈالے جائیں لیکن عوام و حکمران بے دین ہوں، تو پھر وہ منافقت پیدا ہوتی ہے جو ہمارے وطن میں ظہور پذیر ہو چکی ہے۔ غامدی صاحب اسی لیے اس طریقہ کار کو غیر حکیمانہ کہتے ہیں اور یہ باور کرا رہے ہیں کہ ایسا کوئی آئینی مسودہ تیار کرنا شرعی اعتبار سے اسی لیے ضروری بھی نہیں رکھا گیا۔ علما کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام سعی کا ہدف عوام کے دینداری کے معیار کو بلند کرنے کو بنائیں۔ کلے گاڑنے اور لوگوں کو اس سے باندھنے کی جو مشق انہوں نے شروع کی تھی اس کے نتائج سے ہی کچھ سبق سیکھ لیں۔ رہی بات ناراض طبقے کی، تو ان کو واپس لانے کے لیے ہی تو غامدی صاحب دین کے ماخذوں کی طرف مراجعت کی تلقین کر رہے ہیں۔ وہ یہی تو باور کرانا چاہتے ہیں کہ قرآن و سنت کے مطابق دینی تعلیمات کا ہدف افراد ہیں، نہ کہ ریاست اور اس کے ادارے۔ یہ جو الٹی ترتیب اِن مخلص و سادہ لوح مسلمانوں کو پڑھا دی گئی ہے اسی کی غلطی واضح کرنے کی جدوجہد تو وہ کر رہے ہیں۔ چنانچہ اگر وہ اس میں کامیاب ہو گئے تو یہ سب ناراض طبقے یہ جان لیں گے کہ ان کی سعی وجہد کا ہدف صرف اور صرف افراد ہیں، چاہے وہ عوام ہوں یا حاکم، اور حکمت سے دعوت اور وعظ و نصیحت ہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ریاست سے بغاوت میں وہ ہتھیار ہی کیوں اٹھائیں گے جب یہ یقین کر لیں گے کہ ایک خالص جمہوری معاشرہ ہی تو شریعت کو مطلوب ہے؟
xvi۔ خلاصہ تنقید: ہمارے یہ احباب اب الطاف حسین، نواز شریف، عمران خان و زرداری جیسوں کے مشوروں سے بننے والی تشریحِ اسلام کو امت سے "فائنل اتھارٹی" منوا لینا چاہتے ہیں، وہ بھی ایسے جسے کسی قانونی فورم پر قرآن و سنت کی بنیاد پر چیلنج بھی نہ کیا جا سکتا ہو۔
جواب: اس نقطے پر کوئی سنجیدہ ردّ عمل دینا فی الحال میرے لیے ممکن نہیں۔ کیونکہ اگر یہ طنز واقعی اسی معنی میں ہے جس میں نظر آ رہا ہے تو پھر مجھے یہ ماننا پڑے گا کہ زاہد صاحب جیسے فاضل محقق کو جمہوری نظام میں آئین سازی یا آئینی ترامیم کے اجرا کے طریقہ کار کا علم نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے اعتراض سے تو ایسا لگتا ہے کہ جن تشریحاتِ اسلام کو ہمارے آئین میں ابتک حصہ ملا ہے، اور جن کی تعریف میں وہ اور ہمارے باقی علما قلابے ملاتے نہیں تھکتے، وہ شاید جمہوری عمل سے نہیں ملا۔ کیا واقعی وہ یہ بات نہیں جانتے کہ الطاف حسین، نواز شریف، عمران خان و زرداری جیسے سیاستدان ہی تھے جنہوں نے ان تمام "تاریخی" شقوں کو آئین کا حصہ بنایا یا آئین کا حصہ رہنے دیا؟ یہ کسے معلوم نہیں کہ آئین میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے معاملات کے بارے میں قانون سازی گو سیاستدان ہی کرتے ہیں ،مگر وہ یہ قانون سازی آسمان پر بیٹھ کر تنہائی میں نہیں کرتے، اور نہ ہی ہر شعبے سے متعلق پورا علم ہی ان کے پاس ہوتا ہے۔ وہ تو ہر شعبے کے ماہرین کی آرا کو ہی بنیاد بناتے ہیں، جیسا کہ آج تک کی منظور شدہ دینی شقوں کے معاملے میں ہوا ہے۔ چونکہ میں جمہوری نظام سے مکمل نا شناسائی کو صاحبِ مضمون کے حق میں فرض نہیں کر سکتا، اس لیے فی الحال اس سے زیادہ تفصیل سے گریز ہی کروں گا۔
xvii۔ خلاصہ تنقید: ایک الزامی سوال یہ ہے کہ متبادل بیانیے والوں کے نظریہ ریاست کی رو سے یورپ و امریکا کی جدید سیکولرانہ ریاستیں بھی استبدادی اور جابرانہ ہیں۔ تو کیا یہ حضرات ان ریاستوں کے خلاف اپنے نظریہ جہاد و ریاست کی روشنی میں امت مسلمہ پر "جہاد کی اصولی مشروعیت" کا اعلان فرمائیں گے؟ کیا ایک "متبادل بیانیہ" اس پر بھی نہیں ہونا چاہیے؟
جواب: بصد احترام، کیا میں یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ اس الزامی سوال کا ہماری موجودہ بحث سے تعلق کیونکر ہے؟ کیا ہمیں مسلمانوں کے مذہبی فکر کی کوئی غلطی بیان کرنے کے لیے پہلے موجودہ زمانے کی اجنبی اقوام کے تمام جرائم اور مظالم کی ایک فہرست مرتب کرنا پڑے گی؟ یہ کون سا علمی طریقہ استدلال ہے؟ عالمی اقوام کے خلاف جہاد تو بہت دور کی بات، "اپنوں" کی غلطی واضح کرنے کے پروسیس (process) میں تو اللہ تعالٰی خود اپنے سفّاک دشمنوں پر حرفِ تنقید بھی بلند کرنے کے روا نہیں(سورۂ بنی اسرائیل کا پہلا رکوع ہی پڑھ کر دیکھ لیجیے)۔ یعنی یہ کس قسم کا علمی مکالمہ ہے کہ پہلے فلاں کی غلطی مانو تب ہماری پر بات ہو سکے گی! اور جہاں تک جہاد کی اصولی مشروعیت اور متبادل بیانیہ جہاد جیسے دلائل کا تعلق ہے، تو ان پر تو مجھے شدید دکھ ہوا ہے۔ یعنی ایک طرف ناقدین کے اشکالات رفع کرنے کی مخلصانہ کوشش جاری ہے۔ ایسی کوشش کے لیے ناقدین کے متعلق بھی خوش گمانی رکھنا کہ وہ بھی پورے اخلاص سے کسی نقطے کو سمجھنا چاہ رہے ہیں ایک مجبوری ہوتی ہے، کیونکہ اس کے بغیر بحث کے لیے اپنے نفس کی تحریک بڑی گراں ہوتی ہے۔ مگر دوسری جانب سے ایسے اعتراض کا سامنے آنا کہ بھئی ہمیں اگر کینسر ہوا ہے اور چاہے ہم آپ کے بھائی بھی ہیں، مگر آپ اس شخص کا علاج کریں جو فلاں بستی میں کوسوں دور بھی رہتا ہے اور آپکا اس سے کوئی رشتہ بھی نہیں اور ہوا بھی اس کو بس نزلہ ہے، تو اس طرح کے اعتراض کے بعد تو گفتگو کا سارا شوق ہی ختم ہو جاتا ہے۔ 
بہر حال چونکہ یہ نقطہ ناقدِ فاضل نے اٹھا دیا ہے تو اس کا بھی جواب پیش خدمت ہے۔ مغربی ممالک کی جمہوریتوں کو کب غامدی صاحب نے مثالی کہا ہے اور کب کہا ہے کہ ان میں حلقہ ہائے اصلاح نہیں؟ بلکہ وقتاً فوقتاً اپنے محل میں ان پر نقد بھی غامدی صاحب کرتے رہتے ہیں۔ مگر جہاں تک اس موضوع پر پورا بیانیہ مرتب کر دینے کی بات ہے تو کیا صاحب مضمون یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اپنی امت کو درپیش زندگی اور موت کی کشمکش کو چھوڑو اور غیر مسلم اقوام کو درپیش "جنرل ول" کو نہ بدل سکنے جیسے کہیں ادنیٰ مسئلے پر توجہ مرکوز کر دو؟ تو معاف کیجیے گا، یہ ہم سے نہ ہو سکے گا۔ ہمارے لیے اوّلیت ہمارے دین کی تعبیرات اور اس کے حاملین کے مسائل ہیں۔ جب ہم ان سے فارغ ہو لیں گے تو شاید اس طرف بھی توجہ کریں۔ اور پھر جہاد کی مشروعیت ۔۔۔ تو نہ جانے ہمارے ذی شعور اہل علم کے یہاں ہر معاملے کا نقطہ آغاز جہاد ہی کیوں ہوتا ہے۔ کیا دعوت و تبلیغ سے لوگوں کو کسی چیز کا قائل کر لینا مسدود ہو گیا ہے؟ میرا تجربہ تو یہ ہے کہ مغرب کے غیر مسلم اس دور کے مسلمانوں سے کہیں زیادہ علمی و عقلی دلائل سے قائل ہونے والے لوگ ہیں۔ تو جب ہم ان کے دلائل سے متاثر ہونے کی روش سے مایوس ہو جائیں گے، اور پھر ان کے ساتھ حربی طاقت کے توازن کے قابل ہو جائیں گے، اور اپنے مسائل سے فارغ ہو لیں گے، تو پھر ضرور اس مشروعیت پر اپنا تبصرہ بھی دے دیں گے۔
xviii۔ خلاصہ تنقید: 38:26 میں اللہ تعالی نے حضرت داود کو خلافت کے جس طرز کی تلقین فرمائی ہے ، تو چاہے غامدی صاحب اس کے لیے اپنی طرف سے کوئی دوسرا نام رکھ لیں ، کہ بھلا اصطلاح میں کیا لڑائی؟ لیکن کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ "خلافت کا یہ تصور" ہی خدا کو مطلوب نہیں؟ بتائیے، خلافت کا تصور حق کی بنیاد پر فیصلے کرنے اور خواہشاتِ نفس کی پیروی نہ کرنے کے سوا اور کیا ہے؟
جواب: جو آیت صاحبِ مضمون نے پیش فرمائی ہے، اور اس کا جو ترجمہ "خلیفہ" کے لفظ کو جوں کا توں رکھ کر نذرِ تحریر فرمایا ہے، اس کا مفصل جواب غامدی صاحب اپنے ایک توضیحی مقالے بعنوان "خلافت" میں دے چکے ہیں جس میں انہوں نے واضح فرمایا تھا کہ یہ لفظ قرآن و حدیث میں ہر جگہ اپنے لغوی مفاہیم یعنی نیابت، جانشینی اور اقتدار میں سے کسی ایک میں ہی استعمال ہوا ہے، نہ کہ کسی دینی اصطلاح کی حیثیت سے۔ میرا اندازہ ہے کہ صاحب مضمون کی نظر سے وہ نہ گزرا ہو، گا اس لیے گزارش ہے کہ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ رہی بات اس اعتراض کی کہ محولہ آیت میں بیان کردہ خلافت کا تصور بھی خدا کو مطلوب ہے کہ نہیں؟ تو اس کا سادہ جواب ہے کہ بالکل مطلوب ہے۔ مگر میں نہیں جانتا کہ میری اس تائید سے فاضل ناقد کیا مراد لے بیٹھیں گے اس لیے وضاحت بھی کر دیتا ہوں۔ ہر مسلمان حکمران کو یہی تلقین کی جائے گی کہ لوگوں کے درمیان حق کی بنیاد پر فیصلے کریں، اور خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ ہماری بحث سے متعلق اس سے زیادہ کوئی بات تو اس آیت سے برآمد نہیں کی جا سکتی۔ اور اگر کی جا سکتی ہے تو ضرور مطلع فرمائیں! اور خلافت کا تصور اگر فاضل ناقد کے خیال میں بس اسی قدر ہے جو انہوں نے بیان فرمایا، اور جمہوریت کے مقابل میں کسی خاص طریقے سے حکومت بنانے اور چلانے کا نام نہیں، اور تمام عالم میں ایک ہی حکومت اور ایک ہی خلیفہ اور اس طرح کے اور بہت سے لوازمات سے عبارت نہیں تو صاحب مضمون سے درخواست ہے کہ بس یہی بات ہمارے طبقہ علما سے بھی منوا دیجیے، ہمارا کام تمام ہو جائے گا۔ ویسے اگر یہ تجاہلِ عارفانہ نہیں ہے تو پھر یہ وضاحت ضروری معلوم پڑتی ہے کہ ہمارے مروجہ مذہبی فکر میں خلافت ایک ایسی دینی اصطلاح ہے جو ایک عالمگیر سلطنت اسلامی سے عبارت ہے، اور جس میں جس طرح حکومت چلانے کے کچھ مخصوص طریقے ہیں، اسی طرح حکومت بنانے کے بھی کچھ منفرد قاعدے ہیں۔
xix۔ خلاصہ تنقید: امرھم شوری بینھم کے تحت آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ "چونکہ اس مقام پر قرآن مجید نے اسے ضمیرِ غائب کے سوا کسی دوسری صفت سے مخصوص نہیں کیا، اس لیے نظام کا ہر پہلو اس میں شامل سمجھا جائے گا"۔ تو پھر خود آپ کے اصولوں کے مطابق "ھم" سے بھی "عالمی جمہوریت" یا کم از کم "کنفیڈریشن" مراد کیوں نہ لیا جائے؟
جواب: اس دلیل پر میں اپنی تمام تر کوشش کے باوجود محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکا، اس لیے اس پر میری معذرت پہلے سے قبول فرمائیں۔ اس "ھم" سے جو "عالمی جمہوریت" یا کم از کم "ایک کنفیڈریشن ٹائپ کسی شے کا قیام" صاحبِ مضمون نے برآمد فرمایا ہے، اس پر حیرت کے اظہار کے لیے میر ے پاس مناسب الفاظ نہیں۔ خیر مجھے ہر چیز کا علمی تجزیہ کرنا ہے، اس لیے جواب پیش خدمت ہے۔ اس ھم میں نہ عالمی جمہوریت چھپی بیٹھی ہے اور نہ کنفیڈریشن۔ اس ھم کا اشارہ مسلمانوں کی طرف بغیر کسی سیاسی وحدت و تقسیم کے ہے۔ ہاں اقتدار اس میں اور اس سلسلہ کی باقی آیات میں لازماً شرط ہے جو کہ بالکل واضح ہے، اور میرا نہیں خیال کہ صاحبِ مضمون کو بھی اس سے انکار ہے۔ یعنی چاہے مسلمانوں کے ہاتھ میں زمامِ اقتدار پوری دنیا میں ہو، یا ایک خطے میں، کسی ایک ملک میں ہو یا متعدد ملکوں میں، یا کسی اور جغرافیائی یا معاشرتی تقسیم کے ساتھ، انہیں اپنے اپنے حلقہ اقتدار میں جو نظام بھی بنانا ہے، وہ باہمی مشاورت سے ہی بنانا ہے۔ یہ آیت ایک اصول دے رہی ہے اور اصول اسی طرح تقسیم و تحدید سے بلند ہو کر ہی دیے جاتے ہیں۔ اس آیت میں اصل اہم نکتہ "امر" سے متعلق تھا، نہ کہ "ھم" سے۔ "امر" کی چونکہ کوئی درجہ بندی نہیں کی گئی اس لیے اس سے یہ نکتہ برآمد کرنا کہ اس میں ہر طرح کا نظام اور قانون سازی شامل سمجھی جانی چاہیے، زبان و بیان کے معیار پر پورا اترتا ہے؛ اور میرے خیال میں صاحبِ مضمون نے بھی اس پر کوئی اعتراض وارد نہیں کیا۔ "ھم" تو فقط ان مسلمانوں کی طرف اشارے کے لیے آیا ہے جو اس حلقہ اقتدار میں آباد ہیں۔ صاحبِ مضمون اس آیت کا اردو ترجمہ کسی اردو زبان کے ماہر کو دکھا لیں اور اس سے پوچھ لیں کہ اس سے عالمی جمہوریت یا کنفیڈریشن مراد ہے کہ نہیں! اور پھر میری یہ طالبعلمانہ خواہش بھی پوری فرما کر ممنونِ احسان فرمائیں کہ یہ بتا دیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عالمی جمہوریت اور کنفیڈریشن مراد نہ لینا ہوتی تو الفاظ کیا ہونے چاہیے تھے؟ 
ممکن ہے کہ قارئین کو یہ بحث کچھ ثقیل لگی ہو، اس لیے ان کی تفہیم کے لیے ایک مثال پیش خدمت ہے۔ فرض کریں کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ "غریبوں کی امداد کا نظام ان کے مشورے پر مبنی ہونا چاہیے"۔ اس سے غامدی صاحب یہ دلیل پکڑ رہے ہیں کہ کیونکہ "امداد کا نظام "کو غریبوں کی طرف اضافت کے علاوہ کسی دوسری صفت سے مخصوص نہیں کیا گیا، اس لیے اس میں امداد کی ہر قسم کا نظام اور نظام کا ہر پہلو شامل ہو گا۔ اور زاہد صاحب یہ فرما رہے ہیں کہ اس میں "ان" کا اشارہ "تمام غریبوں" کی طرف ہے نہ کہ پاکستان، ایران اور فلسطین کے غریبوں کی طرف الگ الگ، اس لیے یہ جملہ تقاضا کر رہا ہے کہ تمام دنیا کے غریب کسی ایک ہی مالیاتی ادارے کے نیچے لے آئے جائیں ، یا کم از کم ایک کنفیڈریشن کے۔ فیصلہ خود فرما لیجیے!
xx۔ خلاصہ تنقید: اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ قومیت کی بنیاد اسلام نہیں بلکہ جغرافیائی و تاریخی نسلی شناختیں ہوا کرتی ہیں، تب بھی یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا قرآن و حدیث میں مسلمانوں کو "اخوت" کے جس رشتہ میں باندھا گیا ہے، اس کا کوئی "سیاسی تقاضا" بھی ہے یا نہیں؟
جواب: یہ واضح ہے کہ صاحبِ مضمون نے کوئی نص ایسی سامنے نہیں رکھی جس میں مسلمانوں کو ایک عالمگیر سیاسی و انتظامی وحدت بنانے کا حکم دیا گیا ہو۔ وہ تو یہ فرما رہے ہیں کہ قرآن و حدیث میں مسلمانوں کو اخوت و مودّت و ہمدردی کی جو نصیحتیں کی گئی ہیں، اور مسلمانوں کو اپنی "بنیادی شناخت" کی طرف جو توجہ دلائی گئی ہے، کیا وہ مسلمانوں سے کوئی سیاسی تقاضا نہیں کرتی؟ تو اس سوال میں ایک تو نا مذکور اعتراف ہے اور وہ یہ کہ قرآن و حدیث میں کوئی صریح حکم ایسا نہیں جو عالمگیر سیاسی وحدت کا تقاضا کرتا ہو؛ اور یہ غامدی صاحب کے مؤقف کی خاموش تائید ہوئی۔ 
رہی دوسری بات تو اس کا سادہ جواب ہے کہ، نہیں! محولہ ترغیبات مسلمانوں سے اس نوعیت کا کوئی سیاسی تقاضا نہیں کرتی جو محترم ناقد مراد لے رہے ہیں! جس طرح ہماری شریعت رحمی رشتہ داروں سے حسن سلوک کی مسلسل تلقین کے باوجود ان سے "مشترک خاندانی نظام" (joint family system)کا تمدنی تقاضا نہیں کرتی، اسی طرح مسلمانوں کو "توادھم و تراحمہم" اور اخوت و محبت و اتحاد کی تلقین کے باوجود "عالمگیر متحدہ سلطنت" (global unified form) کا تقاضا بھی نہیں کرتی۔ ہماری شریعت یہی چاہتی ہے کہ وہ ہر زمانے اور معاشرے میں لاگو ہو سکے۔ اس کا دامن اتنا بسیط ہے اور احکامات میں ایسی عالمگیریت ہے کہ چاہے کوئی زمان ہو یا کوئی مکان، وہ اپنے مطالبات پورے عملی پن (practicality) کے ساتھ واضح کر دیتی ہے۔ اور خاص طور پر وہ چیزیں جن میں ارتقا ہی اصل ہو، ان کے بارے میں تو ایسا آفاقی انداز اپناتی ہے کہ اس دور کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی اسی ایک انداز سے یہ باور کر لیتے ہیں کہ یہ دین لازماً اْس علیم و خبیر ہستی کا ہی ہو سکتا ہے جو چودہ صدیاں پہلے اپنے احکامات کو ایسے الفاظ میں بیان کر دیتی ہے کہ لگتا ہے وہ آج نازل ہوئے ہیں۔ اسی لیے ہماری شریعت ہر دور کے تمدنی، ثقافتی، معاشرتی اور سیاسی حالات و ضروریات کے تحت کوئی سی صورت اختیار کر لینے کی کوئی ممانعت نہیں کرتی۔ اور اگر کرتی ہے، تو براہِ مہربانی کوئی نص قرآن و حدیث سے پیش فرما کر ہماری تصحیح کر دیجیے۔
اختتامیہ: محترم محمد زاہد صدیق مغل صاحب سے التماس ہے کہ اگر کہیں کوئی لب و لہجہ ادب کے منافی پائیں تو اسے نادانستہ سمجھیں اور اس پر میری معذرت قبول فرمائیں۔ تاہم، جو جوابات معقول لگیں ان کو تسلیم کریں اور جو غلط پائیں ان پر ضرور مطلع فرمائیں۔

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۔ مختصر سالانہ کارکردگی

ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کا قیام اب سے ربع صدی قبل عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد دینی حلقوں میں عصری تقاضوں کا شعور پیدا کرنا اور باہمی رابطہ و تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ فکری بیداری کا ماحول قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے تعلیم و تدریس، ابلاغ عامہ کے میسر ذرائع اور فکری و علمی مجالس کے ذریعے جدوجہد جاری ہے۔ الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی اور ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا حافظ محمد عمار خان ناصر ہیں جبکہ مولانا محمد عبد اللہ راتھر، مولانا حافظ محمد عثمان، مولانا حافظ محمد رشید، مولانا محمد کامران حیدر،مولانا محمد زاہدمحمود، مولانا طبیب الرحمن، مولانا محمد لقمان ، قاری محمد زبیر شاہ اور ڈاکٹر محمود احمد پر مشتمل اساتذہ ومنتظمین کی ٹیم ان کے ساتھ مصروفِ کار ہے۔

اکادمی کے شعبہ جات

الشریعہ اکادمی میں درج ذیل شعبوں میں کام جاری ہے:
  • حفظ قرآن کریم اور درس نظامی کی کلاسوں میں کم و بیش پچاس طلبہ اکادمی میں مقیم ہیں جن کے اخراجات کی کفالت اکادمی کے ذمہ ہے۔ 
  • درس نظامی میں ثانویہ عامہ کا کورس میٹرک کے نصاب سمیت پڑھایا جاتا ہے اور میٹرک کا امتحان گوجرانوالہ بورڈ سے امتحان دلایا جاتا ہے۔ سال رواں میں ثانویہ عامہ کے گیارہ طلبہ نے گوجرانوالہ بورڈ سے جماعت دہم اور سات طلبہ نے جماعت نہم سے ثانویہ عامہ کا امتحان دیا ہے۔
  • شعبان اور رمضان المبارک کے دوران سالانہ دورۂ تفسیر قرآن کریم اور محاضرات علوم قرآن کا گزشتہ پانچ سال سے سلسلہ جاری ہے۔ دورہ تفسیر کی ان کلاسز سے درجنوں علماء و طلبہ استفادہ کر چکے ہیں ۔
  • اکادمی کی لائبریری میں مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابیں موجود ہیں جن سے دینی وعصری اداروں کے اساتذہ و طلبہ استفادہ کرتے ہیں۔
  • ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی اشاعت باقاعدگی سے جاری ہے جو علمی حلقوں کے مطابق ملک کے علمی و تحقیقی جرائد میں معروف و ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔
  • شعبہ نشر و اشاعت کے تحت مولانا زاہد الراشدی اور دیگر اہل قلم کی اب تک دو درجن کے لگ بھگ مطبوعات شائع ہو چکی ہیں۔ 
  • اکادمی کے زیر انتظام قائم کردہ درج ذیل ویب سائٹ انٹرنیٹ پر موجود ہے جس سے دنیا بھر کے ہزاروں افراد استفادہ کرتے ہیں: www.alsharia.org
  • اکادمی میں علاقہ کے ضرورت مند افراد کے لیے فری ڈسپنسری روزانہ عصر سے عشاء تک کھلتی ہے جس سے اوسطاً ساٹھ مریض روزانہ استفادہ کرتے ہیں۔
  • ماہانہ فکری نشست میں مولانا زاہد الراشدی کسی تاریخی، علمی یا فکری موضوع پر لیکچر دیتے ہیں۔
  • اسکول اور کالج کے طلبہ وطالبات کے لیے وقتاً فوقتاً عربی گریمر، دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انگریزی بول چال اور ترجمہ قرآن کریم کی کلاسز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

علمی وفکری نشستیں/سیمینارز

  • اکادمی میں وقتاً فوقتاً مختلف علمی و فکری موضوعات پر اہل علم کی نشستوں، سیمینارز اور تربیتی ورک شاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں معروف ارباب علم و فکر اظہار خیال فرماتے ہیں۔ سالِ رواں میں منعقد ہونے والی نشستوں کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے:
  • اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے حسب معمول ماہانہ فکری نشستوں میں مختلف علمی وفکری موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ اس سال یہ نشستیں پندرہ روزہ کے حساب سے ہوئیں جن کے موضوعات حسب ذیل تھے:
    • قرار داد مقاصد کا پس منظر 
    • قادیانی مسئلہ اور اس کی تحریک
    • قادیانی مسئلہ اور دستوری فیصلہ 
    • تحریک نفاذ شریعت 
    • دستور کی اسلامی دفعات 
    • تحفظ ناموس رسالت کا مسئلہ 
    • سنی شیعہ کشمکش (۱) 
    • سنی شیعہ کشمکش (۲) 
    • شریعت بل کی تحریک 
    • وفاقی شرعی عدالت اور اس کا کردار 
    • اسلامی نظریاتی کونسل اور اس کا کردار 
    • حدود آرڈینیس اور تحفظ نسواں بل 
    • تحریک انسداد سود
    • دینی جدوجہد کی معروضی صورت حال
    • دینی جدوجہد کے عصری تقاضے
  • 22 اکتوبر 2014ء کو ادارہ رحیمیہ لاہور کے سربراہ مولانا مفتی عبد الخالق آزاد ایک وفد کے ہمراہ اکادمی میں تشریف لائے۔اور نماز عصر کے بعد علماء سے خطاب کیا۔ 
  • 25 اکتوبر 2014ء کو دعوہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیو رسٹی اسلام آباد سے آرمی کے ائمہ وخطباء کے ایک تربیتی گروپ نے اکادمی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے ’’عصر حاضر کے تقاضے اور علماء کی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر خصوصی خطاب کیا۔
  • سالانہ انگلش لینگویج کورس 6 دسمبر 2014ء تا 8 جنوری 2015ء جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں منعقد ہوا جس میں مدارس کے طلبہ نے شرکت کی۔
  • 18 جنوری کو مدارس اور سکول و کالج کے طلبہ کے مابین مقابلہ مضمون نویسی بعنوان ’’ دور نبوی میں بیت المال کا معاشرتی کردار ‘‘ منعقد ہوا۔ 
  •  21 دسمبر 2015ء کو ایک سیمینار بعنوان ’’ قومی نصاب تعلیم میں ممکنہ تبدیلی تجاویز وآراء ‘‘ منعقد ہوا، جس میں شہر اور بیرون شہر سے اصحاب علم ودانش نے شرکت کی ہے۔ 
  • یکم فروری کو جلسہ دستار فضیلت کا انعقاد کیا گیا، جس میں نئے حفاظ کرام اور تین سالہ درس نظامی پروگرام سے فارغ ہونے والے طلباء میں اسناد تقسیم کی گئی ہیں۔ 
  •  7 مارچ سے اکیڈیمی کے اساتذہ نے ایک ہفتے کا اسلام آباد کا مطالعاتی دورہ کیا، جس میں نصاب و نظام تعلیم میں ممکنہ تبدیلیوں اور بہتریوں کے حوالے سے مختلف اہل علم سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ مختلف تعلیمی اداروں کا وزٹ کیا اور ان کے نظام تعلیم کو قریب سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ 
  •  25 مارچ کو ماہر فلکیات مولانا شبیر احمد کاکا خیل اکیڈیمی تشریف لائے اور اساتذہ وطلبہ سے خطاب کیا۔ 
  • حالیہ دورۂ تفسیر کے دوران میں 7 جون کو اسلامی علوم کے ممتاز محقق اور دانشور جناب ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی اکادمی میں تشریف لائے اور دورۂ تفسیر کے طلبہ سے ’’مذہبی اختلاف کے آداب‘‘ اور ’’مطالعہ قرآن کے اصول‘‘ کے عنوانات پر وقیع خطابات کیے۔
  • 10 جون کو ممتاز اسکالر ڈاکٹر محمد فیروز شاہ کھگہ (سرگودھا یونیورسٹی) نے دورۂ تفسیر کے طلبہ سے ’’دورۂ ترکی کے مشاہدات وتاثرات‘‘ کے عنوان پر گفتگو کی۔
  •  13 جون کو دورۂ تفسیر کے شرکاء نے گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کا مطالعاتی دورہ کیا اور ایم فل وپی ایچ ڈی اسکالرز کے لیے مولانا مفتی محمد زاہد (شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد) کے دو محاضرات بعنوان ’’احکام القرآن کے موضوع پر تصنیفی روایت‘‘ اور ’’مشرق وسطیٰ کی صورت حال‘‘ سے مستفید ہوئے۔