پشاور کا دل دوز سانحہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
۱۶ دسمبر کے سانحۂ پشاور نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پاکستان کی سیاسی و دینی جماعتیں اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دہشت گردی بلکہ درندگی کے خلاف متحد ہوگئی ہیں۔ ملک کے اخبارات اور میڈیا کے بہت سے مراکز نے اس دن سانحہ سقوط ڈھاکہ اور اس کے اسباب و اثرات کے حوالہ سے مضامین اور پروگراموں کا اہتمام کیا تھا، مگر پشاور کے اس المناک سانحہ نے قوم کے غم کو ہلکا کرنے کی بجائے ایک اور قومی سانحہ کے صدمہ سے اسے دو چار کر دیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اس دہشت گردی کے لیے درندگی سے بڑھ کر کوئی تعبیر ممکن ہو تو وہ بھی ایک مسلمان اور پاکستانی کے جذبات کے اظہار کے لیے کم ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد یاد آرہا ہے کہ ایک دور آئے گا جب لوگ بھیڑیے بن جائیں گے، اور جو شخص بھیڑیا بننے سے گریز کرے گا اسے دوسرے بھیڑیے کھا جائیں گے۔ یہ بات بھی بھیڑیا پن ہی ہے کہ کوئی گروہ اپنی بات کہنے کے لیے یا کسی بھی حوالہ سے اپنا غصہ نکالنے کے لیے تعلیمی اداروں میں گھس کر اس کے اساتذہ اور طلبہ کو گولیوں سے بھون ڈالے۔
پاکستان میں اسلحہ برداری اور کلاشنکوف کے ذریعہ مسائل کا حل نکالنے کی یہ افسوس ناک مہم ربع صدی سے زیادہ عرصہ سے جاری ہے۔ کراچی میں لسانی بنیادوں پر، بلوچستان میں نسل و قومیت کے عنوان سے، ملک بھر کے مذہبی ماحول میں سنی شیعہ کشمکش کے نام پر، اور کے پی کے اور اس کے ملحقہ علاقوں میں نفاذ شریعت کے نعرہ کے ساتھ آگ اور خون کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس کے عنوانات الگ الگ ہیں۔ مگر ایجنڈا ایک ہے اور ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ بھی ایک ہی ہے جس کا مقصد پاکستان کو خلفشار اور بد اَمنی سے دو چار کر کے خطہ میں اپنی موجودگی اور تسلط کا جواز باقی رکھنا ہے۔ مگر بد قسمتی سے اس سارے کام کیلئے ایندھن یہیں سے مہیا ہو رہا ہے۔ اور پاکستان کی سا لمیت و وحدت پر کی جانے والی اس خوفناک فائرنگ میں کندھا ہمارا ہی استعمال ہو رہا ہے۔
قارئین کو اگر یاد ہو تو ہم نے افغانستان سے روس کی واپسی کے بعد متعدد ذرائع سے یہ چیخ و پکار کی تھی کہ جن ہزاروں نوجوانوں نے جہاد افغانستان میں شرکت کر کے جدید ترین اسلحہ کی ٹریننگ حاصل کر رکھی ہے ان کے مستقبل کا ایجنڈا انہیں اعتماد میں لے کر قومی و دینی راہ نماؤں کو طے کرنا چاہیے۔ کیونکہ اگر انہیں اپنا ایجنڈا خود طے کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا گیا تو اس کے تلخ نتائج سب کو بھگتنا پڑیں گے۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے ہمارے سامنے اس وقت بھی تھا، اور ہم نے اپنے کالموں کے ساتھ ساتھ بہت سے سربر آوردہ دینی و سیاسی راہ نماؤں کو ذاتی ملاقاتوں میں بھی توجہ دلائی تھی۔ مگر غریب شخص کی کون سنتا ہے؟
آج ہم جس دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں، اس سے نکلنے کے لیے قومی سیاسی کانفرنس کا انعقاد اور مشترکہ پلان طے کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ اور بعد از خرابئ بسیار ہونے کے باوجود امید کا پہلو اس میں بہرحال موجود ہے۔ اس لیے ہم شہداء کے خاندانوں کے رنج و غم بلکہ پوری قوم کے اس مشترکہ صدمہ میں برابر کے شریک ہیں۔ اور قومی کانفرنس کے فیصلوں اور عزائم میں مثبت پیش رفت کے لیے دعاگو ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملک و قوم کو اس خوفناک اور المناک بحران سے نجات دلائیں، آمین یا رب العالمین۔
اس حوالہ سے ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے کہ میڈیا کے بعض اہل کاروں اور کچھ مسلکی طور پر متعصب راہ نماؤں نے اس سارے سلسلہ کا تعلق دیوبندیت کے ساتھ جوڑنے کیلئے مخصوص پلاننگ کے ساتھ مہم شروع کر رکھی ہے اور اپنی تمام تر حب الوطنی، امن دوستی اور قربانیوں کے باوجود بعض دیوبندی دانش ور بھی دفاعی پوزیشن پر کھڑے دکھائی دینے لگے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ہمارے خیال میں یہ بھی ہے کہ ہم نے چند سال قبل جامعہ اشرفیہ لاہور میں تمام دیوبندی جماعتوں، مراکز اور حلقوں کو مجتمع کر کے ایک متفقہ موقف طے کیا تھا، مگر اس کے بعد اسے ’’داخل دفتر‘‘ کر کے پھر سے اپنا الگ الگ راگ الاپنا شروع کردیا تھا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موقف کی فائلوں کی گرد جھاڑ کر اسے ایک بار پھر ہر سطح پر قوم کے سامنے لایا جائے اور واضح کیا جائے کہ ہم نے اپنا متفقہ موقف اتنے سال قبل واضح کر دیا تھا، اس میں کوئی ابہام نہیں ہے، اور ہم آج بھی قومی وحدت، ملکی سا لمیت و خود مختاری، نفاذ شریعت اور دہشت گردی کے حوالہ سے قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آخر ہمیں اس موقف کے اظہار میں ’’حجاب‘‘ کیوں محسوس ہو رہا ہے؟
شیخ الازہر کے نام مکتوب
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
عالم اسلام کے قدیم علمی مرکز جامعہ ازہر قاہرہ میں ۳،۴ دسمبر کو ’’مواجھۃ التطرف والارھاب‘‘ (دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ) کے عنوان پر دو روزہ عالمی کانفرنس ہوئی جس میں مختلف ممالک کے سرکردہ علماء کرام شریک ہوئے۔ جامعہ کے سربراہ شیخ الازہر معالی الدکتور الشیخ احمد الطیب حفظہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے راقم الحروف کو بھی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا، مگر بعض وجوہ کے باعث میں سفر کا پروگرام نہیں بنا سکا، البتہ شیخ الازہر محترم کے نام ایک عریضہ میں اس موضوع کے حوالہ سے اپنے تاثرات و احساسات انہیں بھجوا دیے۔ اس عریضہ کا اردو متن قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
باسمہ سبحانہ
عزت مآب الشیخ الفاضل المحترم احمد طیب صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ
رئیس الجامعۃ الازہر الشریف، قاہرہ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
۳ و ۴ دسمبر ۲۰۱۴ء کو الازہر الشریف میں ’’مواجھۃ التطرف والارھاب‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے دو روزہ مؤتمر میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ یاد فرمائی کا تہہ دل سے شکریہ!میرے لیے اس مؤتمر میں حاضری سعادت و برکت کی بات ہوتی، مگر وقت کی کمی اور دیگر طے شدہ مصروفیات کے باعث اس سعادت سے محروم رہوں گا جس پر صمیم قلب سے معذرت خواہ ہوں والعذر عند کرام الناس مقبول۔
البتہ اس شرکت سے کلیۃً محروم رہنے کو بھی جی نہیں چاہتا، اس لیے مؤتمر کے عمومی موضوع کے حوالہ سے اپنے کچھ تاثرات اور گزارشات تحریری طور پر بھجوانے کی جسارت کر رہا ہوں، اس امید پر کہ غور و فکر کے کسی گوشہ میں شاید ان کو بھی کچھ جگہ میسر آجائے۔
تاریخ کے طالب علم اور نفاذ اسلام کی جدوجہد کے شعوری کارکن کے طور پر الازہر الشریف کی خدمات اور مقام و مرتبہ سے کچھ نہ کچھ آگاہ ہوں اور ایک موقع پر حاضری کی سعادت حاصل ہونے کی وجہ سے ازہر کے علمی و فکری ماحول سے بھی کسی حد تک مانوس ہوں۔ مجھے اکتوبر ۱۹۸۸ء کے دوران لندن جاتے ہوئے چند روز قاہرہ میں گزارنے کا موقع ملا تھا اور شیخ الازہر معالی الدکتور جاد الحق علی جاد الحق رحمہ اللہ تعالیٰ کی زیارت کے لیے الازہر الشریف میں حاضری دی تھی، مگر وہ تشریف فرما نہیں تھے، اس لیے نفاذ شریعت کے حوالہ سے چند علمی و فکری سوالات مکتب الازہر کے سپرد کیے تھے جن کے جوابات معالی الدکتور مرحوم نے ۲ نومبر ۱۹۸۸ء کو تحریر فرما کر ارسال کیے تھے اور ہم نے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے آرگن ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی اشاعت کا آغاز اکتوبر ۱۹۸۹ میں ان کے اسی وقیع علمی مقالہ سے کیا تھا۔ ’’الشریعہ‘‘ بحمد للہ تعالیٰ اس وقت سے پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے اور نفاذ شریعت کی علمی و فکری جدوجہد میں مصروف ہے۔ یہ مجلہ اردو زبان میں شائع ہوتا ہے اور ویب سائٹ alsharia.org پر بھی پڑھا جاتا ہے۔
عالی مرتبت! ارہاب اور تطرف بلا شبہ آج کی دنیا کا اہم ترین مسئلہ ہے جس نے نہ صرف امن عالم کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں بلکہ امت مسلمہ بھی اس کی وجہ سے متنوع مشکلات و مسائل سے دوچار ہوگئی ہے۔ اس صورت حال میں امت مسلمہ کی صحیح سمت راہ نمائی کرنا علماء اسلام کی اہم ترین ذمہ داری ہے اور ’’الازھر الشریف‘‘ کا یہ مؤتمر یقیناًاس سلسلہ میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر میری گزارش ہے کہ ارہاب اور تطرف کی معروضی صورت حال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس کے پس منظر اور اسباب و عوامل پر نظر ڈالنا بھی ضروری ہے، کیونکہ موجودہ صورت حال اچانک نمودار نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی وقتی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، بلکہ اس کے پیچھے صدیوں کی فکری، علمی اور تہذیبی کشمکش کارفرما ہے جسے سامنے رکھے بغیر نہ تو موجودہ صورت حال اور معروضی حقائق تک صحیح طور پر رسائی حاصل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس کے علاج اور اصلاح کے لیے درست حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے۔
علماء اسلام امت کے اطباء ہیں اور سمجھدار طبیب کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ بیماری کے اسباب معلوم کرتا ہے، اس کی مرحلہ وار تدریج پر نظر رکھتا ہے، اس کی جڑوں کو تلاش کرتا ہے اور بیماری کا علاج کرنے سے قبل اس کے اسباب کے راستے بند کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ اسباب کی پیدائش اور افزائش کو روکے بغیر صرف وقتی علاج کرتے چلے جانے سے وقت کے ضیاع اور بیماری میں اضافے کے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
عزت مآب ! میں یہ عرض کرنے کی اجازت چاہوں گا کہ ارہاب اور تطرف کی موجودہ شکل در اصل مغربی استعمار کے اس مسلسل طرز عمل کا فطری رد عمل ہے جو وہ کئی صدیوں سے عالم اسلام اور امت مسلمہ کے بارے میں اختیار کیے ہوئے ہے اور جس کی سنگینی اور شدت میں کمی کی بجائے آج بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ مغربی استعمار کے اس مسلسل طرز عمل کے سیاسی، معاشی، اور سائنسی پہلوؤں سے قطع نظر کرتے ہوئے اس وقت صرف چند دینی، فکری اور ثقافتی دائروں کی طرف توجہ دلانا مناسب سمجھوں گا جو یقیناًآپ جیسے اصحاب علم و دانش کی نظر میں ہیں، مگر میں یاد دہانی کے ثواب سے محروم رہنا پسند نہیں کرتا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ:
- مغرب نے آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کے معاشرتی کردار کی نفی کرتے ہوئے جو فلسفہ زندگی متعارف کرایا ہے، وہ اسے انسانی معاشرت کا قطعی اور آخری معیار قرار دے کر پوری دنیا پر مسلط کرنے کے درپے ہے اور خاص طور پر عالم اسلام میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین اور مسلمانوں کی معاشرتی روایات و اقدار اس کی مخالفانہ مہم اور معاندانہ پروپیگنڈہ کا سب سے بڑا ہدف ہیں۔
- مغرب نے جن وجوہ اور اسباب کے باعث اپنے خاندانی نظام کو خود اپنے ہاتھوں سبوتاژ کر لیا ہے، وہی وجوہ اور اسباب مسلم معاشروں میں عام کرنے کے لیے مغربی طاقتوں کی توانائی اور وسائل بے محابہ استعمال ہو رہے ہیں۔
- عالم اسلام میں ’’خلافت اسلامیہ‘‘ کا منظم منصوبہ بندی کے ساتھ خاتمہ کرنے کے بعد خلافت کے دوبارہ قیام اور شریعت اسلامیہ کے نفاذ کے ہر امکان کو روکنے کے مسئلہ کو مغرب نے موت و حیات کا مسئلہ بنا لیا ہے اور ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ غالب مسلم اکثریت رکھنے والے کسی ملک کو بھی اپنے ماحول میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے نفاذ کا حق دینے سے صاف انکار کیا جا رہا ہے، صرف اس لیے کہ مغرب کے خود ساختہ فلسفہ و ثقافت کے لیے وہ قابل قبول نہیں ہے۔
- اقوام متحدہ کے نام پر عالمی صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے جو نظام قائم کیا گیا ہے، اس میں اسلام اور مسلمانوں کے تشخص اور امتیاز کو کسی شعبہ میں اور کسی سطح پر قبول نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے دنیا کی آبادی کا کم از کم پانچواں حصہ اس نظام میں اپنے مذہبی اور ثقافتی تشخص و امتیاز سے محروم ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی پالیسی سازی اور انتظامی کنٹرول میں بھی مسلم امہ کا سرے سے کوئی کردار موجود نہیں ہے۔
- مغرب نے سوڈان اور انڈونیشیا میں تو اپنے مفادات کے تحت مذہبی بنیاد پر ریفرنڈم کے ذریعہ ملک کی تقسیم اور آزاد مسیحی ریاستوں کی تشکیل کی راہ ہموار کرلی ہے، مگر فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کو یہ حق دینے میں مسلسل ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے۔
- سوویت یونین کے خلاف جنگ میں مغرب کی اپنی ضرورت تھی تو افغانستان میں عسکریت پسندی جہاد کا درجہ رکھتی تھی اور اسے سیاسی، مالی، اخلاقی اور فوجی ہر لحاظ سے مکمل سپورٹ فراہم کی گئی تھی، مگر اس عسکریت نے جب امریکہ سے وہی مطالبہ کیا جس مطالبے پر اس نے روس سے جنگ لڑی تھی تو جہاد نے اچانک دہشت گردی کا عنوان اختیار کر لیا اور فریڈم فائٹرز سب کے سب راتوں رات دنیا کے لیے خطرہ بن گئے۔
عالی مرتبت ! اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مغرب کے مسلسل طرز عمل کے صرف چند تکلیف دہ پہلوؤں کا میں نے ذکر کیا ہے۔ اس فہرست کو بہت طویل کیا جا سکتا ہے مگر نمونے کے لیے شاید یہی کافی ہیں۔ میں انتہائی دکھ اور معذرت کے ساتھ یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ اس صورت حال میں ہم علماء کرام نے امت مسلمہ کو عملی طور پر راہ نمائی فراہم کرنے میں کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا۔ ہم نے خود کو دین کے چند دائروں تک محدود کر کے امت مسلمہ کو انہی گروہوں او رطبقات کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے جن کی تعلیم و تربیت اور کردار سازی خود مغرب نے کی ہے اور وہ امت مسلمہ کو الجھنوں سے نجات دلانے کی بجائے ان الجھنوں کو مزید پیچیدہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔
میرے مخدوم! آج مسلم نوجوان کی زبان سے خلافت کا نعرہ سن کر اور اس کے ہاتھ میں کلاشنکوف دیکھ کر مجھے غصہ آرہا ہے، لیکن مجھے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اسے خلافت کے قیام کے غلط طریق کار سے روکنے سے قبل میں نے قیام خلافت کے صحیح طریق کار کی طرف اس کی راہ نمائی کرنے میں کیا کردار ادا کیا ہے؟
ہم درسگاہ میں نئی نسل کو یہ سبق دیتے ہیں اور منبر رسولؐ پر مسلمان عوام کو یہ بتاتے ہیں کہ شرعی قوانین پر مسلم معاشرہ میں عمل کرنا ضروری ہے اور خلافت کا قیام مسلم امہ کے واجبات میں سے ہے، تو اس کے لیے صحیح طریق کار کی طرف راہ نمائی بھی ہماری ذمہ داری ہے، بلکہ علماء کرام کا کام صرف راہ نمائی کرنا نہیں بلکہ عملی قیادت بھی انہی کے کرنے کا کام ہوتا ہے۔
شیخ محترم! میں اس بات سے پوری طرح متفق ہوں اور اپنی تحریر و تقریر میں اس کا مسلسل ذکر کرتا رہتا ہوں کہ خلافت کا قیام تشدد اور عسکریت کے ذریعہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کے عمومی اعتماد کے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح کسی مسلمان ملک میں نفاذ شریعت کے لیے ہتھیار اٹھانا درست نہیں ہے بلکہ رائے عامہ کی قوت کے ساتھ اس جدوجہد کو آگے بڑھانا ہی موجودہ حالات میں زیادہ مؤثر اور قابل عمل ہے۔ لیکن یہ بات بھی میرے سامنے ہے کہ ہم علماء کرام مسلم عوام اور نئی نسل کو آدھی بات بتاتے ہیں اور آدھی بات گول کر جاتے ہیں۔ ہم یہ تو بتاتے ہیں کہ یہ طریق کار غلط ہے، لیکن یہ نہیں بتاتے کہ کون سا طریق کار صحیح ہے اور اس کے لیے ہم امت کی کیا راہ نمائی کر سکتے ہیں۔
میں خود کو اس میں پوری طرح شامل سمجھتے ہوئے عرض کروں گا کہ تطرف اور ارہاب کی موجودہ مکروہ اور مذموم شکل کے پیچھے خود ہمارا یعنی علماء کرام کا طرز عمل بھی کار فرما ہے، اس لیے ہمیں خود اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اور امت مسلمہ کی مجموعی صورت حال، مشکلات، تقاضوں اور عالم اسلام کی فکری، علمی اور تہذیبی ضروریات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر خود کو اور خاص طور پر ان لوگوں کو جنہیں مستقبل قریب میں علمی و دینی راہ نمائی کا فریضہ سر انجام دینے کے لیے ہم تیار کر رہے ہیں، اس حوالہ سے شعوری راہ نمائی اور بیداری کا ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ ورنہ شاید ہم عند اللہ اور عند الناس سرخرو نہیں ہو سکیں گے۔
آج جس دنیا کو مسلمانوں کے ماحول میں تطرف اور ارہاب کے فروغ کا شکوہ ہے، وہ اس تطرف اور ارہاب کے اسباب فراہم کرنے او ر اس کا ماحول قائم کرنے میں پوری طرح شریک رہی ہے۔ عجیب بات ہے کہ تطرف اور ارہاب کا ماحول قائم کرنے میں تو سب شریک ہیں مگر اسے ختم کرنے کی ذمہ داری صرف مسلمانوں پر بلکہ صرف علماء کرام اور اہل دین پر ڈالی جا رہی ہے۔ ہمیں دنیا کے اس دوھرے معیار کو بھی بے نقاب کرنا ہوگا اور تطرف اور ارہاب کے سدباب کے لیے حقیقت پسندی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، ورنہ ہم امت مسلمہ کے ساتھ بلکہ خود اپنے ساتھ بھی انصاف نہیں کر پائیں گے۔
عالی مرتبت! مجھے احساس ہے کہ میرا لہجہ اور طرز تحریر شاید سخت ہوگیا ہے، اس لیے تہہ دل سے معذت خواہ ہوں، اور درخواست کر رہا ہوں کہ اسے نظر انداز کرتے ہوئے میری گزارشات اور احساسات پر ضرور غور کر لیا جائے۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ الازہر الشریف کے اس وقیع مؤتمر کو امت مسلمہ کی صحیح سمت راہ نمائی کا مؤثر ذریعہ بنائیں۔آمین یا رب العالمین۔
شکریہ! والسلام
ابوعمار زاہد الراشدی
سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل
ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ
یکم دسمبر ۲۰۱۴ء
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۳۴) تَبَیَّنَتِ الجِنُّ کامطلب:
تَبَیَّنَ کامطلب ہوتا ہے کسی چیز کا واضح ہوجانا۔ جو چیز واضح ہوتی ہے، وہ تَبَیَّنَ فعل کا فاعل بنتی ہے، اور جس شخص پر وہ چیز واضح ہوتی ہے، اس کے لیے لام کا صلہ آتا ہے۔ جیسے:
وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ (البقرۃ:۱۸۷)
’’اور کھاؤ پیو، یہاں تک کہ فجر کی سفید دھاری (شب کی) سیاہ دھاری سے تمہارے لئے نمایاں ہوجائے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
قرآن مجید میں تَبَیَّنَ زیادہ تر لام کے صلہ کے ساتھ آیا ہے، جو اس پر داخل ہوتا ہے جس پر کوئی بات واضح ہو جائے۔ جبکہ ذیل کی آیت میں وہ لام کے صلہ کے بغیر آیا ہے:
فَلَمَّا قَضَیْْنَا عَلَیْْہِ الْمَوْتَ مَا دَلَّہُمْ عَلَی مَوْتِہِ إِلَّا دَابَّۃُ الْأَرْضِ تَأْکُلُ مِنسَأَتَہُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ الْغَیْْبَ مَا لَبِثُوا فِیْ الْعَذَابِ الْمُہِیْنِ۔(سبا:۱۴)
اس آیت میں تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ کے ترجمہ میں عام طور سے مترجمین قرآن نے جو مفہوم اختیار کیا ہے، وہ زبان کے قواعد سے میل نہیں کھاتا۔ چند ترجمے بطور مثال پیش کیے جاتے ہیں:
’’پس جب ہم نے اس پر موت کا فیصلہ نافذ کیا تو ان کو اس کی موت سے آگاہ نہیں کیا مگر زمین کے کیڑے نے جو اس کے عصا کو کھاتا تھا۔ پس جب وہ گرپڑا، تب جنو ں پر واضح ہوا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔‘‘(امین احسن اصلاحی)
’’اس طرح جب سلیمان گر پڑا تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے‘‘۔ (سید مودودی)
’’سو جب وہ گرپڑے، تب جنات کو حقیقت معلوم ہوئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کی مصیبت میں نہ رہتے‘‘۔(اشرف علی تھانوی)
اگرآیت میں تبین للجن ہوتا تب تو مذکورہ ترجمے یقیناًدرست ہوتے، لیکن تَبَیَّنَتِ الْجِنُّّْ کا مطلب تو خود جنوں کا واضح ہونا، اور ان کی حقیقت کا سامنے آجانا ہے نہ کہ جنوں پر کچھ واضح ہونا ہے۔ جیسے قَد تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ (البقرۃ:۲۵۶) کا مطلب یہ ہے کہ صحیح بات واضح ہوگئی۔
گوکہ بعض مفسرین کے مطابق تبین، علم کے معنی میں بھی آتا ہے اور اس کی تائید میں کلام عرب سے ایک شعر بھی مثال میں پیش کیا جاتا ہے، ملاحظہ ہو ابوحیان کی تفسیر البحر المحیط۔ لیکن یہ مشہور استعمال نہیں ہے، قرآن مجید میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ اگر ان مفسرین کی بات مان بھی لی جائے تو بھی آیت کا جو مفہوم سامنے آتا ہے، وہ اشکال سے خالی نہیں ہے۔ کیونکہ مطلب یہ سامنے آتا ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے گرنے سے جنوں پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ وہ غیب کا علم نہیں رکھتے ہیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ جن تو اپنے بارے میں جانتے ہی ہیں کہ وہ غیب نہیں جانتے، جس طرح ہرانسان اپنے بارے میں جانتا ہے کہ وہ غیب نہیں جانتا۔ اصلاح کی ضروت تو ان لوگوں کوتھی جنہوں نے جنوں کے بارے میں یہ غلط مفروضہ قائم کررکھا تھا کہ وہ غیب جانتے ہیں، چنانچہ اس واقعہ کے بعد جنوں کے بارے میں یہ حقیقت سب پر واضح ہوگئی کہ وہ غیب نہیں جانتے ہیں۔
حقیقت واقعہ اور عربی کے قواعد دونوں کی رو سے صحیح ترجمہ اس طرح ہوگا:
’’پھر جب سلیمان زمین پر آیا، جنوں کی حقیقت کھل گئی۔ اگر غیب جانتے ہوتے تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے‘‘ (احمد رضا خان)
’’پس جب وہ گرپڑا، تب جنوں کی حقیقت واضح ہوگئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے‘‘(امانت اللہ اصلاحی)
(۳۵) فعل مضارع کے زمانہ کے تعین کا مسئلہ:
فعل مضارع چونکہ حال اور مستقبل دونوں کے لئے آتا ہے، اور بسا اوقات دونوں میں سے کسی ایک کو متعین کرنے کے لئے درکار قرینہ بھی واضح طور سے موجود نہیں ہوتا، ایسے میں زمانہ متعین کرنے میں دشواری ہوتی ہے، حسب ذیل مثال سے اس دشواری کو سمجھا جاسکتا ہے:
وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا جَامِدَۃً وَہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللَّہِ الَّذِیْ أَتْقَنَ کُلَّ شَیْْءٍ إِنَّہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَفْعَلُون۔ (النمل : ۸۸)
اس آیت کے پہلے حصے میں تین باتیں ہیں، پہاڑوں کو دیکھنا، پہاڑوں کو جما ہو اسمجھنا، پہاڑوں کا بادلوں کی طرح اڑنا۔
بعض ترجموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تینوں باتیں زمانہ مستقبل یعنی روز قیامت کی ہیں، جیسے:
’’اور تو دیکھے گا پہاڑوں کو خیال کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں اور وہ چلتے ہوں گے بادل کی چال یہ کام ہے اللہ کا جس نے حکمت سے بنائی ہر چیز، بیشک اسے خبر ہے تمہارے کاموں کی‘‘۔(احمد رضا خان)
’’اور تم پہاڑوں کو دیکھ کر گمان کرو گے کہ وہ ٹکے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
یہ ترجمے کمزور ی سے خالی نہیں ہیں، کیونکہ آخرت میں پہاڑ کو دیکھ کر یہ گمان کرنا کہ وہ جمے ہوئے ہیں جبکہ وہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں ، تکلف سے بھر پور بات ہے کیوں کہ جب وہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے تو انہیں جما ہوا سمجھنے کی کیا وجہ ہوگی۔
بعض ترجموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اول دو باتیں زمانہ حال کی ہیں جبکہ آخری بات زمانہ مستقبل یعنی قیامت کی ہے، جیسے:
’’آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں، مگر اْس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہو گا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو‘‘۔ (سید مودودی)
’’اور تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو خیال کرتے ہو کہ (اپنی جگہ پر) کھڑے ہیں مگر وہ (اس روز) اس طرح اْڑے پھریں گے جیسے بادل (یہ) خدا کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بیشک وہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
ان ترجموں میں سیاق کلام کا لحاظ نہیں رکھا گیا ، سیاق کلام کا تقاضا یہ ہے کہ وَتَرَی الْجِبَالَ کو آخرت کی بات مانا جائے کیوں کہ گزشتہ آیت میں آخرت کا بیان ہے، مزید یہ کہ وَتَرَی الْجِبَالَ کا حال اگر وَہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَاب ہے اور وہ مستقبل سے متعلق ہے تو دونوں کو ایک ہی زمانہ کا ہونا چاہئے، یہ واو حالیہ کا تقاضا ہے۔
پکتھال کے ذیل کے ترجمہ سے لگتا ہے کہ وہ تینوں باتوں کو زمانہ حال یعنی دنیا سے متعلق مانتے ہیں:
And thou seest the hills thou deemest solid flying with the flight of clouds: the doing of Allah Who perfecteth all things. Lo! He is Informed of what ye do. (Pickthall)
مطلب یہ کہ تم اس دنیا میں جن پہاڑوں کو دیکھ کر جما ہوا سمجھتے ہو وہ بادلوں کی طرح اڑتے ہیں۔
لیکن یہ مفہوم ایک تو سیاق کلام سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ سیاق قیامت سے متعلق ہے، اس کے علاوہ اس دنیا میں پہاڑوں کو اس طرح متحرک ماننا جس طرح بادل اڑتے ہیں تکلف سے بھرپور بات ہے۔
ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ پہلی اور آخری بات مستقبل یعنی روز قیامت کی ہے، اور درمیان والی بات زمانہ حال کی ہے، اس کے لحاظ سے ترجمہ ملاحظہ ہو:
’’اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں، سب گھبرا اٹھیں گے۔ صرف وہی اس سے محفوظ رہیں گے جن کو اللہ چاہے گا۔ اور سب اس کے آگے سرفگندہ ہوکر حاضر ہوں گے۔ اور تم ان پہاڑو ں کو بادلوں کی طرح اڑتے ہوئے دیکھو گے جنہیں تم سمجھتے ہو کہ وہ جمے ہوئے ہوئے ہیں‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی)
یعنی جن پہاڑوں کو دنیا میں جما ہو اسمجھتے ہو، انہیں آخرت میں بادلوں کی طرح اڑتے ہوئے دیکھو گے۔ یہ ترجمہ دیگر ترجموں کی کمزوریوں سے پاک ہے، اور اس ترجمہ میں جو قوت وجودت ہے وہ دوسرے ترجموں میں نہیں ہے۔
(۳۶) لَمَّا اور اِذَا کے درمیان فرق:
فَلَمَّا رَأَی الْقَمَرَ بَازِغاً قَالَ ہَذَا رَبِّیْ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لأکُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّیْنَ۔ (الانعام :۷۷)
اس آیت میں دو مرتبہ لَمَّا آیا ہے، اور پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے:
’’پھر جب اس نے چاند کو چمکتے دیکھا، بولا یہ میرا رب ہے، پھر جب وہ ڈوب گیا، اس نے کہا اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ فرمائی تو میں گمراہوں میں سے ہوکر رہ جاؤں گا‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
کسی جملے میں جب لَمّا ظرفیہ آتا ہے تو اسی طرح ترجمہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی ترجمہ یوں کرے کہ ’’جب وہ چاند کو دیکھتا تو بولتا‘‘ تو غلط ہوگا۔ یعنی اس میں کسی عمل کے بار بار ہونے کا مفہوم نہیں بلکہ ماضی میں ایک بار ہونے کا مفہوم ہوتا ہے، فعل کے بار بار ہونے کا مفہوم اذا سے ادا ہوتا ہے ، اورمزید تاکید مطلوب ہو تو کُلَّمَا کا استعمال کرتے ہیں،جبکہ جملہ پر لَمَّا داخل ہو تو’’ایسا ہوا‘‘ کامفہوم پیدا ہوتا ہے نہ کہ ’’ایسا ہوتا‘‘ کا مفہوم۔
البتہ لَمَّا کے اندر اذا کا مفہوم اس وقت پیدا ہوجاتا ہے جب اس سے پہلے اذا آیا ہو، جیسے :
وَإِذَا مَسَّکُمُ الْضُّرُّ فِیْ الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَّ إِیَّاہُ فَلَمَّا نَجَّاکُمْ إِلَی الْبَرِّ أَعْرَضْتُم۔ (الاسراء :۶۷)
’’اور جب تمہیں سمندر میں مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے سوا جن کو تم پکارتے ہو سب غائب ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو خشکی کی طرف بچالاتا ہے تو تم اعراض کرنے لگتے ہو‘‘۔
لَمَّا کے سلسلے میں مذکورہ بالا ضوابط کا لحاظ عام طور سے مترجمین قرآن کے یہاں ملتا ہے، تاہم بعض مقامات پر متعدد مترجمین سے لَمَّا کے مفہوم کی ادائیگی کے سلسلے میں لغزش ہوگئی۔مثالیں ملاحظہ ہوں:
(۱) وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَونَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّن الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُونَ۔ فَإِذَا جَاءَ تْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوا لَنَا ہَذِہِ، وَإِن تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَطَّیَّرُوا بِمُوسَی وَمَن مَّعَہُ، أَلاَ إِنَّمَا طَائِرُہُمْ عِندَ اللّٰہِ وَلَکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ، وَقَالُوا مَہْمَا تَأْتِنَا بِہِ مِن آیَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِہَا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ، فَأَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آیَاتٍ مُّفَصَّلاَتٍ، فَاسْتَکْبَرُوا وَکَانُوا قَوْماً مُّجْرِمِیْنَ، وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوا یَا مُوسَی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِندَکَ، لَئِن کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ، فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ إِلَی أَجَلٍ ہُمْ بَالِغُوہُ إِذَا ہُمْ یَنکُثُونَ (الاعراف :۱۳۰ ۔ ۱۳۵)
’’اور ہم نے آل فرعون کو قحط سالی اور پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا تاکہ ان کو تنبیہ ہو، تو جب خوش حال آتی ، کہتے یہ تو ہے ہی ہمارا حصہ اور اگر ان پر کوئی آفت آتی تو اس کو موسی اور اس کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے۔ سن رکھو کہ ان کی قسمت اللہ ہی کے پاس ہے لیکن ان میں کے اکثر نہیں جانتے۔ اور کہتے کہ خواہ تم کیسی ہی نشانی ہمیں مسحور کرنے کے لئے لاؤ ہم تو تمہاری بات باور کرنے کے نہیں، تو ہم نے ان پر بھیجے طوفان، ٹدیاں ، جوئیں، مینڈک اور خون۔تفصیل کی ہوئی نشانیاں۔ تو انہوں نے تکبر کیا اور یہ مجرم لوگ تھے۔ اور جب آتی ان پر کوئی آفت تو درخواست کرتے کہ اے موسی تم اپنے رب سے ، اس عہد کے واسطہ سے جو اس نے تم سے کررکھا ہے، ہمارے لیے دعا کرو۔ اگر تم نے ہم سے یہ آفت دور کردی تو ہم تمہاری بات ضرور مان لیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دیں گے۔ تو جب ہم ان سے دور کردیتے آفت کو کچھ مدت کے لیے جس تک وہ پہنچنے والے ہوتے تو وہ دفع عہد توڑدیتے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
فَإِذَا جَاءَ تْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوا لَنَا ہَذِہ کا ترجمہ کیا ہے: ’’ تو جب خوش حال آتی ، کہتے یہ تو ہے ہی ہمارا حصہ‘‘۔ چونکہ اس جملے میں اذا ہے اس لئے یہ ترجمہ درست ہے۔ لیکن وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْْہِمُ الرِّجْزُ قَالُواْ یَا مُوسَی کا ترجمہ کیا گیاہے: ’’اور جب آتی ان پر کوئی آفت تو درخواست کرتے کہ اے موسی‘‘۔ یہاں اِذَا نہیں ہے بلکہ لَمَّاہے، اس لیے درست ترجمہ ہوگا:’’اور جب آیا ان پر عذاب تو درخواست کی‘‘۔ مزید برآں الرِّجْزُ معرفہ ہے۔ اس کے ترجمہ میں کوئی کا اضافہ صحیح نہیں ہے۔ اسی طرح فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ کا ترجمہ :’’تو جب ہم ان سے دور کردیتے آفت کو‘‘، درست نہیں ہے، بلکہ درست ترجمہ یوں ہوگا: ’’تو جب ہم نے ان سے عذاب کو ہٹادیا‘‘۔
یہی غلطی سید مودودی کے ترجمہ میں بھی نظر آتی ہے:’’جب کبھی اُن پر بلا نازل ہو جاتی تو کہتے: اے موسیٰ، تجھے اپنے رب کی طرف سے جو منصب حاصل ہے، اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کر۔ اگر اب کے تو ہم پر سے یہ بلا ٹلوا دے تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے۔ مگر جب ہم ان پر سے اپنا عذاب ایک وقت مقرر تک کے لیے، جس کو وہ بہرحال پہنچنے والے تھے، ہٹا لیتے تو وہ یکلخت اپنے عہد سے پھر جاتے‘‘۔ اس ترجمہ میں مذکورہ بالا غلطی کے علاوہ لفظ ’’جب کبھی‘‘ بھی درست نہیں ہے، اس کی جگہ صرف ’’جب‘‘ ہونا چاہیے۔
احمد رضا خان کے یہاں بھی یہ غلطی نظر آتی ہے:
’’جب ان پر عذاب پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے۔ بیشک اگر تم ہم پرسے عذاب اٹھادو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے۔ پھر جب ہم ان سے عذاب اٹھالیتے ایک مدت کے لیے جس تک انہیں پہنچنا ہے جبھی وہ پھر جاتے‘‘۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَی بِآیَاتِنَا إِلَی فِرْعَوْنَ وَمَلَئِہِ فَقَالَ إِنِّیْ رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، فَلَمَّا جَاءَ ہُم بِآیَاتِنَا إِذَا ہُم مِّنْہَا یَضْحَکُونَ، وَمَا نُرِیْہِم مِّنْ آیَۃٍ إِلَّا ہِیَ أَکْبَرُ مِنْ أُخْتِہَا وَأَخَذْنَاہُم بِالْعَذَابِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ، وَقَالُوا یَا أَیُّہَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِندَکَ إِنَّنَا لَمُہْتَدُونَ، فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ إِذَا ہُمْ یَنکُثُونَ (الزخرف:۴۶۔۵۰)
’’اور بے شک ہم نے موسی کو ۔اپنی نشانیوں کے ساتھ۔فرعون اور اس کے اعیان کے پاس بھیجا تو اس نے ان کو دعوت دی کہ میں تمہارے پاس عالم کے خداوند کا رسول ہوکر آیا ہوں تو جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیوں کے ساتھ آیا تو وہ ان نشانیوں کا مذاق اڑاتے۔ اور ہم ان کو ایک سے ایک بڑھ کر نشانیاں دکھاتے رہے اور ہم نے ان کو عذاب میں بھی پکڑا تاکہ وہ رجوع کریں۔ اور انہوں نے درخواست کی کہ اے ساحر اپنے رب سے اس عہد کی بنا پر، جو اس نے تم سے کررکھا ہے ، ہمارے لئے دعا کرو، اب ہم ضرور ہدایت پانے والے بن کر رہیں گے۔ تو جب ہم ان سے عذاب ٹال دیتے تو وہ اپنا عہد توڑ دیتے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
یہاں آیت نمبر ۴۷؍ کے ترجمہ میں لَمَّا کے مفہوم کی رعایت کی گئی ہے، لیکن آیت نمبر ۵۰ کے ترجمہ میں لَمَّا کی رعایت نہیں ہوسکی، اس آیت کا درست ترجمہ یوں ہوگا: تو جب ہم نے ان سے عذاب ٹال دیا تو انہوں نے اپنا عہد توڑ دیا۔
یہی غلطی سید مودودی کے ترجمہ میں بھی نظر آتی ہے:’’مگر جوں ہی کہ ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے وہ اپنی بات سے پھر جاتے تھے‘‘۔
عجیب بات یہ ہے کہ سورہ اعراف کی آیت ۱۳۴؍ اور ۱۳۵؍ اور سورہ زخرف کی آیت ۵۰؍کا اسلوب بھی ایک ہے اور ایک ہی واقعہ کی طرف اشارہ بھی ہے، اس کے باوجود بہت سارے مترجمین جیسے احمد رضا خان، فتح محمد جالندھری، محمد جونا گڑھی اور طاہر القادری وغیرہم نے سورہ زخرف کی آیت کا درست ترجمہ کیا ہے مگر اسی سے ملتی جلتی سورہ اعراف کی دونوں آیتوں کے ترجمہ میں لَمَّا کے بجائے اذا کاترجمہ کردیا ہے۔
غلطی کی وجہ غالبا یہ ہے کہ دونوں آیتوں میں ایک تو آیات کا ذکر ہے یعنی طوفان، ٹڈیاں ، جوئیں، مینڈک اور خون، اوراس کے بعد ایک مقام پر عذاب اور ایک مقام پر رجز کے نازل ہونے کا ذکر ہے، لگتا ایسا ہے کہ لوگوں نے عذاب اور رجز سے ان نشانیوں کو مراد لے لیا جو یکے بعد دیگرے آئیں، حالانکہ عذاب اور رجز سے وہ عذاب مراد ہے جو ان نشانیوں سے اعراض کرنے کے بعد نازل کیا گیا تھا، اور وہ ایک بار نازل کیا گیا تھا اور پھر ان کے قول و قرار کے بعدان پر سے اسے ہٹالیا گیا تھا۔
غلطی کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ دونوں مقامات پر إِذَا ہُمْ یَنکُثُون مضارع کا صیغہ آیا ہے، جس کا ترجمہ بعض لوگوں نے کیا ہے : ’’ تبھی وہ وعدہ توڑڈالتے‘‘ (محمود الحسن) حالانکہ موقعہ کے لحاظ سے ترجمہ ہوگا ،’’ تو وہ لگے وعدہ توڑنے‘‘اس کی قریب ترین مثال سورہ زخرف میں ٹھیک اسی اسلوب کی آیت نمبر۴۷ ہے، فَلَمَّا جَاءَ ہُم بِآیَاتِنَا إِذَا ہُمْ مِّنْہَا یَضْحَکُون (۴۷) شیخ الہند نے یہاں ترجمہ کیا ہے، ’’پھر جب لایا ان کے پاس ہماری نشانیاں وہ تو لگے ان پر ہنسنے‘‘۔ یہ ترجمہ صحیح ہے اور اسی طرح سے ترجمہ آیت نمبر ۵۰؍ کا ہونا چاہئے تھا، لیکن شیخ الہند نے یہاں ترجمہ کیا: ’’پھر جب اٹھالی ہم نے ان پر سے تکلیف تبھی وہ وعدہ توڑ ڈالتے‘‘۔اس ترجمہ کی کمزوری صاف ظاہر ہے۔شیخ امین احسن اصلاحی سے یہی غلطی آیت نمبر ۴۷؍ میں ہوئی :’’تو جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیوں کے ساتھ آیا تو وہ ان نشانیوں کا مذاق اڑاتے‘‘۔ یہاں ’’مذاق اڑاتے‘‘ کے بجائے ’’لگے مذاق اڑانے‘‘ درست ہے۔
(۲) ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ إِلَیْْہَا فَلَمَّا تَغَشَّاہَا حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِیْفاً فَمَرَّتْ بِہِ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللّہَ رَبَّہُمَا لَئِنْ آتَیْْتَنَا صَالِحاً لَّنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْن۔ فَلَمَّا آتَاہُمَا صَالِحاً جَعَلاَ لَہُ شُرَکَاءَ فِیْمَا آتَاہُمَا فَتَعَالَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُون۔ (الاعراف :۱۸۹۔ ۱۹۰)
’’وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک ہی جان سے اور اسی سے پیدا کیا اس کا جوڑا کہ وہ اس سے تسکین پائے۔ تو جب وہ اس کو چھالیتا ہے تو وہ اٹھالیتی ہے ایک ہلکا سا حمل، پھر وہ اس کو لئے (کچھ وقت گزارتی ہے)۔ تو جب بوجھل ہوتی ہے، دونوں اللہ، اپنے رب ، سے دعا کرتے ہیں: اگر تونے ہمیں تندرست اولاد بخشی، ہم تیرے شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔ تو جب اللہ ان کو تندرست اولاد دے دیتا ہے تو اس کی بخشی ہوئی چیز میں وہ اس کے لیے دوسرے شریک ٹھہراتے ہیں۔ اللہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
اس ترجمہ میں بھی لَمَّا کے استعمال کی رعایت نہیں کی جاسکی ہے۔ فتح محمد جالندھری کے ترجمہ میں بھی یہی غلطی ہے، البتہ اکثر مترجمین نے اس کا لحاظ کیا ہے۔ ذیل کا ترجمہ اس کی ایک مثال ہے:
’’وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی اِس بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے اللہ بہت بلند و برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں‘‘۔(سید مودودی)
(۳۷) فعل ماضی کے ترجمہ میں غلطی:
کبھی کبھی بعض مترجمین بغیر کسی وجہ اور قرینہ کے فعل ماضی کا ترجمہ حال اور مستقبل کا کردیتے ہیں، مثالیں ملاحظہ ہوں۔
(۱) أَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ أَن یَسْبِقُونَا سَاء مَا یَحْکُمُون۔ (العنکبوت:۴)
’’کیا جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کررہے ہیں وہ گمان رکھتے ہیں کہ ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
یَسْبِقُونَا فعل مضارع ہے اور اس کے لحاظ سے یہ ترجمہ درست ہے، تاہم ذیل کی آیت میں یہی فعل ماضی کے صیغہ میں آیا ہے اور اس کا ترجمہ ماضی کا ہونا چاہئے تھا مگر بعض مترجمین نے مستقبل کا ترجمہ کیا، جیسے:
(۲) وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ سَبَقُواْ إِنَّہُمْ لاَ یُعْجِزُون۔ (الانفال:۵۹)
’’اور یہ کافر یہ گمان نہ کریں کہ وہ نکل بھاگیں گے، وہ ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکیں گے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
درست ترجمہ یوں ہے:’’اور ہرگز کا فر اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ وہ ہاتھ سے نکل گئے بیشک وہ عاجز نہیں کرتے‘‘۔ (احمد رضاخان)
(۳) أَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنَاہُمَا۔ (الانبیاء :۳۰)
’’کیا ان کفرکرنے والوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین دونوں بند ہوتے ہیں، پھر ہم ان کو کھول دیتے ہیں‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
اس آیت میں بھی فعل ماضی ہے لیکن اس کا ترجمہ حال کا کردیا ہے۔
صحیح ترجمہ یوں ہوگا: ’’کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان وزمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا‘‘۔ (محمد جونا گڑھی)
’’کیا ان کفرکرنے والوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین دونوں باہم جڑے ہوئے تھے، پھر ہم نے ان کو جدا جدا کر دیا‘‘۔(امانت اللہ اصلاحی)
(۴) وَجَاءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِکَ مَا کُنتَ مِنْہُ تَحِیْدُ۔ وَنُفِخَ فِیْ الصُّورِ ذَلِکَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ۔ وَجَاءَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَہَا سَائِقٌ وَشَہِیْد۔ (ق:۱۹؍تا۲۱)
’’اور موت کی غشی شدنی کے ساتھ آپہونچی، یہ ہے وہ چیز جس سے تو کتراتا رہا تھا۔ اور صور پھونکا جا ئے گا۔ وہ ہماری وعید کے ظہور کا دن ہوگا۔ اور ہر جان اس طرح حاضر ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا اور ایک گواہ‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
’’اور موت کی بیہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی۔ (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔اور صور پھونکا جائے گا۔ یہی (عذاب کے) وعید کا دن ہے۔ اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا۔ ایک (فرشتہ) اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اس کے عملوں کی) گواہی دینے والا‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
یہاں تین آیتیں ہیں جن میں سے ہر ایک فعل ماضی سے شروع ہوئی ہے، مذکورہ ترجموں میں پہلی آیت کا ترجمہ تو ماضی سے کیا گیاہے مگر بعد کی دونوں آیتوں کا ترجمہ مستقبل کا کیا گیا ہے۔ حالانکہ تینوں آیتوں کا ماضی کا ترجمہ نہیں کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔محمدجوناگڑھی، اشرف علی تھانوی اور طاہر القادری کے ترجموں میں بھی یہی طرز اختیار کیا گیا ہے۔
جبکہ بعض لوگوں نے تینوں آیتوں کے ماضی کے افعال کا ترجمہ ماضی ہی کا کیا ہے اور یہی درست ہے جیسے:
’’اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا، اور صْور پھونکا گیا یہ ہے وعدہ عذاب کا دن۔ اور ہر جان یوں حاضر ہوئی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہ‘‘(احمد رضا خان) سید مودودی اور شیخ الہند کے ترجموں میں بھی یہی انداز ہے۔
(۵) وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَن فِیْ الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللّٰہُ، ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ أُخْرَی فَإِذَا ہُم قِیَامٌ یَنظُرُونَ۔ وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّہَا وَوُضِعَ الْکِتَابُ وَجِیْءَ بِالنَّبِیِّیْنَ وَالشُّہَدَاءِ وَقُضِیَ بَیْْنَہُم بِالْحَقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُونَ۔ وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَہُوَ أَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُونَ۔ وَسِیْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا إِلَی جَہَنَّمَ زُمَراً، حَتَّی إِذَا جَاؤُوہَا فُتِحَتْ أَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا أَلَمْ یَأْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنکُمْ یَتْلُونَ عَلَیْْکُمْ آیَاتِ رَبِّکُمْ وَیُنذِرُونَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ ہَذَا، قَالُوا بَلَی وَلَکِنْ حَقَّتْ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الْکَافِرِیْنَ۔ قِیْلَ ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَہَنَّمَ خَالِدِیْنَ فِیْہَا، فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ۔ وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ إِلَی الْجَنَّۃِ زُمَراً، حَتَّی إِذَا جَاؤُوہَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا سَلَامٌ عَلَیْْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوہَا خَالِدِیْنَ۔ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْْثُ نَشَاءُ، فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِیْنَ۔ (الزمر:۶۸تا ۷۴)
’’اور صُور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہوجائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے۔ اور زمین جگمگا اٹھے گی اپنے رب کے نور سے اور رکھی جائے گی کتاب اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کی امت کے ان پر گواہ ہوں گے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا، اور ہر جان کو اس کا کیا بھرپور دیا جائے گا اور اسے خوب معلوم جو وہ کرتے تھے ، اور کافر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے گروہ گروہ یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن سے ملنے سے ڈراتے تھے، کہیں گے کیوں نہیں مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیک اترا ، فرمایا جائے گا جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے، تو کیا ہی برا ٹھکانا متکبروں کا، اور جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کی سواریاں گروہ گروہ جنت کی طرف چلائی جائیں گی، یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے سلام تم پر تم خوب رہے تو جنت میں جاؤ ہمیشہ رہنے، اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں رہیں جہاں چاہیں، تو کیا ہی اچھا ثواب کامیوں (اچھے کام کرنیوالوں) کا۔ (احمد رضا خان)
مذکورہ بالا آیتوں میں زیادہ تر افعال ماضی کے صیغہ میں آئے ہیں، اور ان کا ترجمہ ماضی کا ہونا چاہئے تھا، لیکن عام طور سے مترجمین نے ان کا ترجمہ مستقبل کا کیا ہے، یہ درست ہے کہ ان آیتوں میں جن واقعات اور مناظر کا بیان ہے ان کا تعلق مستقبل میں واقع ہونے والے قیامت کے دن سے ہے، لیکن ان کو ماضی کے صیغہ سے بیان کرنا بھی بلاسبب تو نہیں ہے کہ ترجمہ میں اس کا لحاظ نہ رکھا جائے۔دراصل جب اس طرح کی آیتوں کا ترجمہ مستقبل کا کردیا جاتا ہے تو ترجمہ پڑھتے وقت وہ حکمت ذہن میں آنہیں سکتی ہے جو ماضی کے صیغہ سے مستقبل کے واقعات کو بیان کرنے کے پیچھے موجود ہوا کرتی ہے۔
(۳۸) مفعول بہ موجود یا محذوف:
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کلام کے اندر مفعول بہ موجود ہوتا ہے لیکن مترجم کا دھیان ادھر نہیں جاتا اور وہ کسی محذوف کو مفعول بہ ماننے کی کوشش کرتا ہے۔ محذوف کو مقدر ماننے میں پھر اختلاف بھی ہوتا ہے۔ کسی کاذہن ایک چیز کی طرف جاتا ہے تو کسی کا ذہن کسی دوسری چیز کی طرف۔مثال ملاحظہ ہو:
وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِی الْآخِرِیْنَ۔ سَلَامٌ عَلَی نُوحٍ فِیْ الْعَالَمِیْن ۔ (الصافات : ۷۸۔۷۹)
سورہ صافات میں یہ آیت چار مقام پر آئی ہے، تین جگہوں پر واحد اور ایک جگہ مثنی کی ضمیر کے ساتھ۔ بعض مترجمین کو اس میں حیرانی ہوئی ہے کہ ان آیتوں میں ترکنا کا مفعول بہ کیا ہے اور کس چیز کو چھوڑنے یا رہنے دینے کی بات کہی گئی ہے ۔ کسی نے مفعول بہ کی جگہ ایک گروہ کو مقدر مانا : ’’ اور ہم نے اس (کے طریقہ) پر پچھلوں میں (ایک گروہ کو) چھوڑا‘‘(امین احسن اصلاحی)۔کسی نے تعریف وتوصیف اور ذکر جمیل کو مقدر مانا: ’’اور بعد کی نسلوں میں اس کی تعریف و توصیف چھوڑ دی‘‘ (سید مودودی) ’’اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (جمیل باقی) چھوڑ دیا‘‘ (فتح محمد جالندھری)
مفسرین ومترجمین کے ایک دوسرے گروہ نے مفعول بہ کو محذوف ماننے کے بجائے اگلی پوری آیت کو مفعول بہ قرار دیا۔
(۱) وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِیْ الْآخِرِیْنَ، سَلَامٌ عَلَی نُوحٍ فِی الْعَالَمِیْن (الصافات : ۷۸۔۷۹)
’’اور ہم نے ان کے لیے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات رہنے دی کہ نوح پر سلام ہو عالم والوں میں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
(۲) وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِیْ الْآخِرِیْنَ۔ سَلَامٌ عَلَی إِبْرَاہِیْمَ۔ (الصافات : ۱۰۸۔۱۰۹؍)
’’اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں یہ بات ان کے لیے رہنے دی کہ ابراہیم پر سلام ہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
(۳) وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِمَا فِیْ الْآخِرِیْن۔ سَلَامٌ عَلَی مُوسَی وَہَارُون۔ (الصافات : ۱۱۹۔۱۲۰)
’’اور ہم نے ان دونوں کے لئے پیچھے آنے والوں میں یہ بات رہنے دی کہ موسیٰ اور ہارون پر سلام ہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
(۴) وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِیْ الْآخِرِیْن، سَلَامٌ عَلَی إِلْ یَاسِیْن (الصافات : ۱۲۹۔۱۳۰)
’’اور ہم نے الیاس کے لئے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات رہنے دی کہ الیاسین پر سلام ہو‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
امام زمخشری لکھتے ہیں:
’’وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِی الْآخِرِیْن من الأمم ھذھ الکلمۃ، وھی: سَلَامٌ عَلَی نُوح یعنی یسلمون علیہ تسلیما، ویدعون لہ، وھو من الکلام المحکی، کقولک: قرأت سورۃ أنزلناھا‘‘۔
کسی محذوف کو مفعول بہ ماننے کے بجائے موجود کو مفعول بہ مان لینا زیادہ مناسب ہے، بطور خاص اگر کوئی مانع نہ ہو۔ مزید برآں یہاں سلام والی آیت کو ترکنا کا مفعول بہ مان لینے کے لیے ایک مضبوط قرینہ یہ بھی ہے کہ سلام والی آیت بھی چار مرتبہ ہی آئی ہے اور چاروں مقامات پر وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِی الْآخِرِیْن کے فوراً بعد آئی ہے۔نہ کہیں دونوں کے درمیان فصل ہوا ہے اور نہ ہی کہیں تقدیم وتاخیر ہوئی ہے۔ اس پر مزید یہ کہ اس نحوی ترکیب کے نتیجہ میں جو معنی سامنے آتا ہے، وہ خوب تر ہے۔
(۳۹) فعل اور مفعول بہ کے درمیان فصل کا اسلوب:
یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَیَہْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ۔ (النساء :۲۶؍)
اکثر مترجمین نے پہلے فعل یعنی لِیُبَیِّنَ لَکُمْ کے مفعول بہ کومحذوف مان کر اس طرح ترجمہ کیا ہے:
’’اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ تم پر (اپنی آیتیں ) واضح کردے اور تمہیں ان لوگوں کے طریقوں کی ہدایت بخشے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لیے بیان کردے اور تمہیں اگلوں کی روشیں بتادے‘‘۔(احمد رضا خان)
بعض لوگوں نے سُنَنَ کو دونوں فعلوں کا مفعول بہ مان لیا ہے اور ترجمہ اس طرح کیا ہے:
’’اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اْن طریقوں کو واضح کرے اور اْنہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے‘‘۔(سید مودودی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال یہ ہے کہ سُنَن کو لِیُبَیِّنَ لَکُمْ کا مفعول بہ مانا جائے، اور یہ مان لیا جائے کہَ یَہْدِیَکُمْ کے ذریعہ دونوں کے درمیان فصل ہوگیا ہے، مزید یہ کہَ یَہْدِیَکُمْ کا ترجمہ مفعول بہ کے بغیر کیا جائے۔ اس طرح آیت کا مطلب بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تمہارے سامنے اگلوں کی روش بیان کرنا چاہتا ہے، مزید یہ کہ ہدایت سے بھی نوازنا چاہتا ہے۔ ہدایت سے مراد عمومی ہدایت ہے نہ کہ اگلوں کی روش کی ہدایت۔ دوسرے ترجموں پر اشکال یہ وارد ہوتا ہے کہ اگلوں کی روش کو بیان کرنا تو بخوبی سمجھ میں آتا ہے، البتہ ان کی روش کی ہدایت دینے کی بات تکلف سے خالی نہیں ہے۔
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ فعل اور مفعول بہ کے درمیان ایک جملے کے ذریعہ فصل ہوسکتا ہے، اس کی مثال خود قرآن مجید میں ہے، جیسے:
فاغْسِلُوا وُجُوہَکُمْ وَأَیْْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْن۔ (المائدۃ :۶)
بظاہر یہاں وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِکُمْ کے ذریعہ معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان فصل ہے، ابوالبقاء عکبری کے بقول:
ھو معطوف علی الوجوہ والأیدی أی فاغسلوا وجوھکم وأیدیکم وأرجلکم وذلک جائز فی العربیۃ بلا خلاف۔ (التبیان فی اعراب القرآن)
لیکن درحقیقت یہاں وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِکُمْ کے ذریعہ فاغْسِلُوا فعل اور اس کے ایک مفعول بہ یعنی وَأَرْجُلَکُمْ کے درمیان فصل کیا گیا ہے۔
(۴۰) مصدق لہ اور مصدق بہ میں فرق:
لفظ مُصَدِّقٌ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے، اور اکثر مقامات پر لام کے صلہ کے ساتھ آیا ہے۔ اس کا ترجمہ کسی خبر یا پیشین گوئی کا مصداق ہونا ہے جیسا کہ علامہ فراہیؒ کی مشہور تحقیق سے ثابت ہوتا ہے۔ صاحب تدبر قرآن نے عموماً ترجمہ کرتے ہوئے اس رائے کی پابندی کی ہے، البتہ سہواً کہیں کہیں تفسیر تدبر قرآن میں تصدیق کرنے کا ترجمہ کردیا ہے۔ ایسے بعض مقامات کی تصحیح بعد میں اس ترجمہ میں کردی گئی ہے جو نظر ثانی کے بعد خالد مسعود کی تلخیص کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ (مثال کے لیے ملاحظہ ہو سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۸؍ کا ترجمہ) اور بعض مقامات پر یہ غلطی ہنوز باقی ہے۔ (مثال کے لیے ملاحظہ ہو سورہ احقاف کی آیت نمبر ۳۰ کا ترجمہ)۔
قرآن مجید میں ایک مقام پر لفظ مُصَدِّقٌ باء کے صلہ کے ساتھ آیا ہے، اور صاحب تدبر قرآن نے وہاں بھی مصداق والا مفہوم اختیار کیا ہے، ترجمہ ملاحظہ ہو:
فَنَادَتْہُ الْمَلآئِکَۃُ وَہُوَ قَائِمٌ یُصَلِّیْ فِیْ الْمِحْرَابِ أَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحْیَی مُصَدِّقاً بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَسَیِّداً وَحَصُوراً وَنَبِیّاً مِّنَ الصَّالِحِیْن۔ (آل عمران:۳۹)
’’تو فرشتوں نے اس کو ندا دی جبکہ وہ محراب میں نماز میں کھڑا تھا کہ اللہ تجھ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو اللہ کے ایک کلمہ کے مصداق، سردار ، لذت دنیا سے کنارہ کش اور زمرہ صالحین سے نبی ہوں ہوں گے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کی رائے یہ ہے کہ مُصَدِّقٌ جب لام صلہ کے ساتھ آتا ہے تب تو مصداق ہونے کا مفہوم ہوتا ہے، لیکن جب باء صلہ کے ساتھ آتا ہے تو مصداق ہونے کا مفہوم نہیں ہوتا ہے بلکہ تصدیق کرنے کا مفہوم ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہاں ترجمہ ہوگا: ’’اللہ کے ایک کلمہ کی تصدیق کرنے والا‘‘ اللہ کے ایک کلمہ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، جیسا کہ ان کے سلسلے میں خود قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے: إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِکَۃُ یَا مَرْیَمُ إِنَّ اللّہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْہاً فِیْ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْن۔ (آل عمران:۴۵)
(جاری)
عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور مقامی نظام
حافظ محمد زبیر
حافظ محمد زبیر / ندیم غفور چوہدری
اس وقت عالم اسلام ہو یا غیر مسلم ممالک، ایشیا ہو یورپ ہو یا افریقہ، اگرچہ نچلی سطح پر لوگوں کے عقائد اور عبادات میں تو فرق موجود ہے لیکن اوپر کی سطح پر سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام کے طور پر ساری دنیا اس وقت ایک ہی نظام کی چھتری کے نیچے کھڑی ہے۔ سیاسی سطح پر ڈیموکریسی، معاشی میدان میں سرمایہ داری (capitalism) اور معاشرت میں مغربی کلچر نے جس تیزی سے دنیا میں رواج اور غلبہ حاصل کیا ہے اس سے اجتماعیت کے میدان میں ساری دنیا ایک ہی عالمی مذہب کی حامل نظر آتی ہے۔ البتہ فرد کی سطح پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ عقائد اور عبادات میں کوئی عالمیت (globalism) نہ ہونے کی وجہ سے ہندو، مسلم، مشرقی اور مغربی معاشروں میں فرق نظر آتا ہے لیکن معاشی، سیاسی اور معاشرتی سطح پر اب ہندو مسلم یا مشرقی مغربی معاشروں کا فرق بہت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ نہ ہندومت میں کوئی سیاسی نظام ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے پاس ڈیموکریسی کا کوئی متبادل موجود ہے۔ سرحد کے اس پار اور اس پار عقائد اور عبادات کا فرق تو نمایاں ہے لیکن سیاسی اور معاشی نظام ایک ہی رائج ہے۔مشرق ومغرب میں سیاسی میدان میں ڈیموکریسی اور معاشی میدان میں سرمایہ دارانہ نظام کو ایک الہامی مذہب کے طور قبول کر لیا گیا ہے۔ جن نظاموں کی جگہ ڈیموکریسی، سرمایہ دارانہ نظام یا مغربی کلچر نے لی، انہیں ہم مقامی نظاموں کا نام دے رہے ہیں، چاہے وہ مشرق وسطی کے ہوں یا جنوبی ایشیا کے، افریقہ کے ہوں یا مشرق بعید کے۔
جس معاشی نظام نے ساری دنیا کے مقامی معاشی نظاموں کو ختم کر کے ایک گلوبل نظام قائم کر لیا ہے، وہ سرمایہ دارانہ نظام کہلاتا ہے۔ مقامی معاشی نظام وہ نظام تھے جو مقامی افراد کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے فطری طور وجود میں آئے تھے جبکہ سرمایہ دارانہ نظام وہ ہے جو مقامی نظاموں کو ختم کرکے سرمایہ دار کے مفادات کے تحفظ اور اس کے سرمایے میں لامتناہی قسم کے اضافے کے لیے دھکے سے وجود میں لایا گیا۔ ذیل میں ہم اس عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور مقامی نظاموں کا ایک تقابلی جائزہ پیش کر رہے ہیں تا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے استحصالی پہلووں پر روشنی ڈالی جا سکے۔
وال مارٹ ایک ایسا سپر سٹور ہے کہ جس کی تقریبا ۰۰۳۴ شاخیں امریکہ اور ۸ہزار سے زائد ساری دنیا میں ہیں۔والٹن فیملی جو کہ اس سپر سٹور (retailer)کی مالک ہے وہ امریکہ کی چالیس فی صد آبادی کی مجموعی دولت سے زیادہ دولت کی حامل ہے۔امریکہ میں وال مارٹ کے معاشی اثرات پر کافی تحقیقی کام ہوا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق شکاگو میں ۶۰۰۲ء میں وال مارٹ کی ایک شاخ کھلنے سیاگلے دو سالوں میں ارد گرد کے چھوٹے چھوٹے ۸۸ بزنس ختم ہو گئے کیونکہ آٹھ سے دس کلومیٹر کے نصف قطر(radius) میں لوگوں کا رجوع چھوٹے سپر سٹورز کی بجائے اس بڑے سپر سٹور کی طرف بہت بڑھ گیا تھا کہ جس کے بارے ان کا گمان یہ تھا کہ وہاں سے انہیں چیزیں سستی اور ایک ہی جگہ اکھٹی مل جاتی ہیں۔ ایک ہی چھت کے نیچے سب کچھ بکتا ہے، کا دعویٰ تو شاید درست ہو اور اس میں سہولت اور آسانی کے پہلو کے پیش نظر لوگوں کا رخ ایسے مقامات کی طرح زیادہ ہونا بھی سمجھ میں آتا ہے لیکن دوسری بات کہ وال مارٹ سے چیز سستی مل جاتی ہے، ایک محدود مدت تک کے لیے ہی درست ہو سکتا ہے۔ کیونکہ انتہائی بھاری سرمایہ کاری (investment) کے ساتھ شروع کیے جانے والے کاروبار کی وجہ سے جب ارد گرد کے چھوٹے چھوٹے کاروبار خود ہی بند ہو جائیں گے تو اب لوگوں کے لیے کوئی زیادہ آپشن باقی نہ رہے گا۔ اورمارکیٹ میں مقابلہ (competition) نہ ہونے کی وجہ سے دو چار سپر سٹورز کو یہ اجازت ہو گی کہ ملی بھگت سے جو چاہیں، اشیاء کی قیمت مقرر کر لیں۔
سرمایہ دارانہ نظام کے ثمرات میں سے یہ بھی ہے کہ افراد کا ہنر اور معاش دونوں ختم ہو تے جا رہے ہیں۔ کتنے ہی ہنر یا پیشے ایسے ہیں جو ہمارے ہاں قصہ ماضی بن چکے ہیں۔کبھی وہ زمانہ تھا کہ ہر محلے میں ایک عدد موچی ہوتا تھاجس کا کام لوگوں کے جوتے بنانا ، گاٹھنا اور سینا ہوتا تھا۔ یہ اپنے کام میں اس قدر ماہر ہوتا تھا کہ ایسا جوتا بناتا جو دس سال بڑے سکون سے گزار جاتا تھا۔ راقم (حافظ محمد زبیر) نے اپنے والد صاحب کو اپنا جوتا پندرہ سال تک پہنتے دیکھا کہ جسے نیا کرنے کے لیے صرف اس پر سوکھا کپڑا پھیرنے کی دیر ہوتی تھی۔ پھر جب سرمایہ دارانہ نظام کا غلبہ ہوا تو شہروں سے یہ ہنرمند افراد رخصت ہو تے چلے گئے اور اب دیہی علاقوں میں بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ جوتوں کی ملکی اور ملٹی نیشنل کمپنیاں وجود میں آئیں تو موچی کا پیشہ ، ہنر اور معاش سب ختم ہوتا چلا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کمپنیوں نے کافی لوگوں کو روزگار فراہم کیا لیکن جتنوں کو ملازمت دی، اس سے کئی گنا زیادہ افراد ان کی وجہ سے معاش سے محروم ہو گئے۔
اب یہ بھی ایک امر واقعہ تھا کہ ملکی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جوتوں کی پیداوار لوگوں کی ضرورت سے زائد تھی۔ اب اس کا ایک حل تو یہ تھا کہ وہ جوتوں کی پیداوار (production)کم کر لیتے، لیکن انہوں نے اس کے برعکس اس کا ایک عجیب حل نکالا کہ جوتوں کی پیداوار کم کرنے کی بجائے لوگوں میں یہ خواہش پیدا کرنے یا بڑھانے کی مہم چلائی کہ وہ ہر سال نیا جوتا خریدیں، چاہے ان کا پہلا جوتا موجود بھی ہو۔ خواہش پیدا کرنے اور بڑھانے کے لیے میڈیا کی اشتہار بازی ( media advertisement) سے کام لیا گیا۔ اب جوتا ضرورت نہ رہا بلکہ فیشن بن گیا۔پائیداری سے زیادہ اسٹائل اور برانڈ(brand) اہم ہو گئے اور کمپنیاں اپنے جوتوں کے منہ مانگے دام وصول کرنے لگیں۔لاکھوں افراد نہ صرف بے روزگار ہو گئے بلکہ اپنے باپ دادا کے ہنر سے بھی گئے۔
یہ معاملہ صرف ہمارے موچی کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ ہر قیمتی ہنر مند شخص اس المیے سے دوچار ہوچکا ہے یا ہونے جا رہا ہے۔ مثلا گوالا ہمارے کلچر کا ایک نمایاں فرد ہے جو آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ وہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں جو گوالے سے اس کا دودھ اس کے گھر پر خرید کر اسے ڈبے میں بند کر کے گوالے سے مہنگا فروخت کرتی ہیں۔ اب اس میں بھی بحث ہے کہ وہ کیا کچھ اس میں ملا کر فروخت کرتی ہیں لیکن ہم اس میں نہیں جا رہے البتہ یہ تو ذاتی تجربہ ہے کہ گوالے کا ستر روپے لٹر والا دودھ اور نیسلے کے ایک سو دس روپے لٹر والے دودھ میں کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ گوالے کے بارے تو یہ بہت معروف ہو چکا کہ وہ دودھ میں پانی ملاتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ملاتے ہیں لیکن ان کی اکثریت نے دودھ کی کئی قسمیں بنا رکھی ہیں اور ہر ایک کا ریٹ علیحدہ ہے۔ وہ اپنے گاہک پر یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ پچاس روپے والا دودھ ہے اور یہ ساٹھ اور یہ ستر والا ہے۔ اس کے برعکس ڈبہ پیک دودھ پی کر کسی خارجی گواہی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ اس میں کتنے فی صد خالص دودھ ہے لیکن اس کے باوجود لوگ خریدتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو ان کمپنیوں کی اشتہار بازی ہے اوردوسرا اس دودھ کے حصول میں آسانی اور سہولت کا پہلو ہے۔
اسی طرح قصاب کو دیکھ لیں۔ یہ بھی ہمارے معاشرے کا ایک اہم ہنر ہے کہ جس کے خاتمے کا آغاز ان کمپنیوں کے قیام سے شروع ہو گیا ہے جو مارکیٹ میں موجود ہیں اور نہ صرف آپ کو ہر قسم کا چھوٹا بڑا صاف گوشت فراہم کرتی ہیں بلکہ عید الاضحی کے موقع پر آپ کے قربانی کے جانور کو خود ہی سے ذبح کر کے آپ کے گھر میں صاف گوشت بھی پہنچا دیتی ہیں۔ کہاں قربانی کا جانور خریدنا، اسے گھر میں دو چار دن رکھنا، اس جانور سے مانوسیت کا پیدا ہونا، اسے اپنے ہاتھ سیذبح کرنا یا اپنے سامنے ذبح ہوتے دیکھنا، چھوٹے بچوں کا ذبح کے وقت موجود ہونا اور اپنے والدین سے اس بارے سوال کرنا وغیرہ اور کہاں یہ کلچر کہ عام دنوں میں آپ بازار سے ایک شاپر گوشت کا لاتے تھے اور عید الاضحی کے موقع پر کمپنی والے دس شاپر آپ کے گھر پہنچا دیتے ہیں۔
کبھی ہمارے ہاں پکوتے ہوتے تھے جو شادی بیاہ کے موقع پر کھانا پکاتے تھے، لیکن آج یہ لوگ ختم ہوتے چلے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ اعلیٰ ہوٹلوں میں کام کرنے والے باورچی پیدا ہو رہے ہیں۔ پہلے لوگ شادی بیاہ کے موقع پر گھر میں کھانے پکانے اور کھلانے کا انتظام کر لیتے تھے۔ محلے کے بچے کھانا لگانے اور کھلانے کے انتظام وانصرام میں شریک ہو جایا کرتے تھے۔ پھر میرج ہالز کا رواج آ گیاکہ جس میں سہولت کا پہلو تھا لہٰذا مڈل اور ہائر کلاس کے لوگوں نے اسے ترجیح دی لیکن لوئر کلاس میں اس قدر خرچے کی استطاعت نہ تھی تو ان کے مسائل اور بڑھ گئے۔ پھر کچھ لوگوں نے اس میں کسی قدر تخلیقی کام کیا کہ مسجد میں نکاح کو رواج دیاکہ جس سے بارات اور اس کے کھانے کے اضافی خرچوں سے جان چھوٹ گئی۔اسی طرح درزی ہی کے پیشے کو لے لیں۔ پینٹ شرٹ، تھری پیس سوٹ اور ریڈی میڈ کپڑوں کے رواج کے علاوہ لوگوں کا کپڑوں کی سلائی میں برانڈ کو مقصود بنا لینے( brand conscious) نے بھی عام درزی کے پیشے کو بہت متاثر کیا ہے۔ کچھ بعید نہیں ہے کہ مستقبل قریب میں محلے گلیوں سے درزی تقریبا ختم ہو جائیں اور لوگ مشینوں پر تیار شدہ صرف ریڈی میڈ کپڑے ہی استعمال کریں۔ کبھی ہم اپنی والدہ کو اپنے لیے اونی سویٹر بنتے دیکھتے تھے لیکن اب اگلی نسل میں کتنے بچے اپنی والدہ کو یہ کام کرتے دیکھیں گے؟ کبھی لوگ اس بات پر حیران ہوتے تھے کہ اچھا کیا یہ پانی بھی بکا کرے گا اور آج لوگ منرل واٹر کے علاوہ پانی پینے کو صحت کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ آج ہمیں یہ عجیب محسوس ہوتا ہے کہ چین میں تازہ ہوا (fresh air ) ڈبوں میں بکتی ہے، لیکن کل ہمارے معاشرے بھی میڈیا کی اشتہاری مہم سے اس کے قائل ہو جائیں گے کہ شہر کی آلودہ فضا میں کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی تیارہ کردہ ڈبہ پیک تازہ ہوا ان کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کی کامیابی کا دارومدار تین چیزوں پر ہے : انسان میں دبی ہوئی جبلتوں اور خواہشات کو بھڑکانا، سہولت اور خالص ہونے کا پہلو اور قانون کا جبر اور احترام۔اسلام نے انسان کے تزکیہ نفس کے عمل میں جن جبلتوں کے دبانے یا انہیں کنٹرول کرنے کا حکم دیا تا کہ شخصیت میں توازن اور اعتدال پیدا ہو، سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دار انہی جبلتوں کو بھڑکا کر انسانی شخصیت میں ایک عدم توازن پیدا کرتا ہے تا کہ اپنے سرمایے کو زیادہ سے زیادہ بڑھا سکے۔مثلاً انسان میں ایک فطری کمزوری کہ جس کی طرف قرآن مجید نے بھی اشارہ کیا ہے، یہ ہے کہ وہ جلد باز واقع ہوا ہے یعنی عجلت پسند ہے۔ تزکیہ نفس کا تصور یہ ہے کہ انسان اپنی اس فطری کمزوری کو دبائے اور اسے کنٹرول میں رکھے جبکہ سرمایہ دارانہ نظام کا تصور یہ ہے کہ انسان کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی جیب سے زیادہ سے زیادہ سرمایہ نکال کر اپنے بینک بیلنس میں منتقل کیاجائے۔ جدید دور کے انسان کا المیہ یہ ہے کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں مارکیٹنگ کے موضوع نے عجلت کی کمزوری کو اسی طرح بھڑکا دیا ہے کہ جیسے سلگتا ہوا کوئلہ پٹرول کے چھڑکنے سے بھڑک اٹھتاہے۔ نیا موبائل، نیا آئی فون، نیا ٹیبلٹ نیا لیپ ٹاپ، نئی گاڑی اورنیا گھران میں سے کیا کچھ انسان کی ضرورت میں داخل ہے؟ لیکن اس کے باوجود انسانوں کی اکثریت ٹیلی ویڑن ایڈز، اخباری اشتہارات اور شاہراہوں پر لگے بل بورڈز سے متاثر ہو کر وہ سب کچھ خرید لینے میں عجلت سے کام لیتے ہیں کہ جو نہ تو ان کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی ان میں اس کی خرید کی استطاعت (purchasing power )ہوتی ہے۔ جن کے پاس قوت خرید ہوتی ہے لیکن ان کی ضرورت نہیں ہوتی تو ان کا معاملہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ جلد ہی اس چیز سے اکتا جاتے ہیں اور نئے ماڈل کا انتظار کرنے لگ جاتے ہیں۔ اور جن کی قوت خرید نہیں ہوتی وہ مہینے کے شروع میں خرید تو لیتے ہیں لیکن مہینے کے آخر میں قرض ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام کا دوسرا پہلو اس میں سہولت اور خالص ہونے کا پہلو ہے۔ جہاں تک سہولت کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان سہولت پسند واقع ہوا ہے اور سرمایہ دار ایک ایسا نظام قائم کرتاہے کہ جس سے انسان کے لیے اپنی ضروریات یا خواہشات کی تکمیل میں سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔ مثلا روزانہ گوالے سے دودھ لینا یا کسی سپر سٹور سے مہینے بھر کا نیسلے کا دودھ پکڑ لینے میں فرق یہ ہے کہ دوسری صورت میں سہولت کا عنصر بہتر طور شامل ہے۔ گوالے سے دودھ لینے کے لیے دروازے تک جانا ہو گا اور یہ جانا گوالے کے وقت کے مطابق ہو گا نہ کہ ہمارے اپنے وقت کی سہولت اس میں مدنظر ہو گی۔ پھر گوالے کے لیے روزانہ برتن دھو کر رکھنا ہو گا۔ علاوہ ازیں اس کے دودھ کوروزانہ ابالنا بھی پڑے گا وغیر ذلک۔انسان چونکہ طبعاً سہولت پسند واقع ہوا ہے لہٰذا وہ اس چیز کو ترجیح دیتا ہے کہ جس کے حصول میں اسے سہولت ہو، چاہے اسے اس کے لیے معیار سے کچھ نیچے بھی آنا پڑ جائے۔ خود گھر میں قربانی کرنے اور زینتھ (zenith)سے قربانی کروانے میں بھی یہی فرق ہے کہ زینتھ والے شاپروں میں ڈال کر صاف گوشت آپ کے گھر پہنچا دیتے ہیں جبکہ خود قربانی کرنے کی صورت میں پہلے تو ایک دو دن جانور گھر رکھنے کی ٹینشن لینی ہو گی۔ پھر اس جانور کو ذبح کرنے کے لیے قصائی تلاش کرنا ہو گا۔ پھر اس جانور کے ذبح کرنے سے گھر میں جو گند وغیرہ پڑے گا، اس کی صفائی کا معاملہ ہے، وغیر ذالک۔ تو سرمایہ دارانہ نظام میں سہولت کا پہلو تو ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
جہاں تک اس کے دوسرے پہلو کا تعلق ہے کہ چیز آپ کو خالص ملتی ہے تو اس میں بحث کی گنجائش ہے۔ اس کے خالص ہونے کی بنیاد صرف یہی ہے کہ لوگوں کا اس کے خالص ہونے پر اعتماد قائم ہوگیا ہے ورنہ تو کتنے لوگ نیسلے کی پانی یا کوک کی بوتل کے غلاف (wrapper) پر لکھے گئے اجزاء (ingredients)کی تصدیق کے لیے لیبارٹری کی طرف رجوع کرتے ہیں؟ کہ اس میں واقعتا یہ اجزاء شامل ہیں بھی یا نہیں۔ اور لوگوں کیاس اعتماد کی بنیاد ان کمپنیوں کی میڈیا اشتہار بازی ہے۔ اورسرمایہ دارانہ نظام اس اعتبار سے بھی کامیاب ہے کہ اس نے لوگوں کا اعتماد(trust) حاصل کر لیا اور مقامی نظام کے خاتمے کی وجہ بھی یہ ہے کہ لوگوں کا باہمی اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے اور اس اعتماد کے ختم ہونے کی ایک وجہ تو میڈیا بھی ہی ہے۔ مثلاً کسی مقامی فوڈ ریسٹورنٹ کے بارے یہ خبر تو شاید کسی ٹیلی ویڑن چینل پر نشر کر دی جائے کہ وہ اپنے ریسٹورنٹ میں غیر معیاری کھانا فراہم کرتے ہیں لیکن کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے بارے ایسی خبر کا جاری ہونا بہت مشکل ہے۔ گوالے سے لوگوں کا دودھ نہ لینے کی وجہ اس پر عدم اعتماد ہے اور اس عدم اعتماد کی اگرچہ کچھ ٹھوس بنیادیں ہیں کہ وہ دودھ میں پانی ملاتے ہیں لیکن اس عدم اعتماد کو بڑھانے میں سرمایہ دارکا بھی اہم کردار ہے۔ اور سرمایہ دار کی مصنوعات(products) پر اعتماد کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہے سوائے اس کے کہ اس کی مصنوعات کے اشتہارات ٹیلی ویڑن پر چلتے ہیں۔ آج اگر ہماریہاں صرف ایک پی ایچ ڈی اس موضوع پر ہو جائے کہ گوالے کے دودھ اور نیسلے کے دودھ میں باعتبار دودھ کے معیاری کون سا ہے؟ تو شاید اس کے نتائج کو شائع کرنا مشکل ہو جائے گا۔
تیسرا پہلو قانون کا جبر اور اس کااحترام ہے۔ قانون کے جبر یاصحیح معنوں میں نفاذ کا معاملہ صرف مغربی ممالک تک محدود ہے۔ ہمارے لوگوں کا تصور یہ ہے کہ اہل مغرب اپنی اخلاقیات میں اہل مشرق سے بہتر ہیں سوائے بے حیائی کے، حالانکہ یہ تصور سراسر غلط مشاہدے اور تجزیے پر مبنی ہے۔ اول تو اخلاقیات دو قسم کی ہیں: فطری اور دینی۔ فطری اخلاقیات کا مادہ اور جوہر حیاء ہے اور جس میں حیاء نہیں ہے، اس سے کسی قسم کے بھی اخلاق کی توقع نہیں کی جا سکتی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب حیاء نہ رہے تو پھر جو چاہے مرضی کرتا پھرے۔ یہ منطقی بات ہے کہ حیاء کے خاتمے سے بقیہ اخلاق بھی رخصت ہو جاتے ہیں۔ البتہ ظاہر میں ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ مغرب میں ایک چیز مشرق کی نسبت خالص ملتی ہے، اس میں ملاوٹ نہیں ہوتی وغیرہ وغیرہ۔ تو اس بہتری کی وجہ خارجی ہے یعنی قانون کا جبر ہے نہ کہ داخلی یعنی خیر خواہی۔ امریکہ میں یا کسی اور یورپی ملک میں چند گھنٹوں کے لیے بجلی کے منقطع ہونے یعنی بلیک آوٹ کی صورت میں جنم لینے والے فتنہ وفساد اور لوٹ مار کی کسی قریبی تاریخ کا مطالعہ کر لیں تو اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ وہاں لوگ ایک دوسرے کے کتنے خیرخواہ ہیں؟ پھر اہل مغرب کا المیہ صرف بے حیائی نہیں ہے کہ وہ بے حیائی میں اہل مشرق سے آگے ہیں بلکہ جرائم (crimes)میں بھی وہ ہم سے آگے ہیں اور معاصر شماریاتی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ مغرب میں جرائم کی جو شرح یا نوعیت ہے، مشرق میں وہ بالکل بھی نہیں ہے۔ اگر اس پر یقین نہ آئے تو وہی ملٹی نیشنل کمپنیاں جو یورپ میں ہیں تو ان کی یورپی مصنوعات کا افریقہ اور ایشیا کے لیے تیار کی جانے والی مصنوعات سے تقابل پر کوئی تحقیق کروا لیں تو حقیقت مبرہن ہو جائے گی۔ قانون کا جبر یا احترام سرمایہ دارانہ نظام کا یہ وہ پہلو ہے جو ابھی تک ہمارے غیر ترقی یافتہ معاشروں نے نہیں دیکھا ہیاوریہ ہم پر اللہ کا کوئی خاص فضل یا احسان ہے۔ مغرب میں ملاوٹ یا ناقص چیز فروخت کرنے پر جو سزا ہے یا اس بنیاد پر دعویٰ دائر کرنے (sue) کی جو روایت ہے یاناقص چیز واپس لے لینے کا جو اعتماد قائم ہے، اگر ہمارے معاشرے اس کو دیکھ لیں تو اندھے بہرے ہو کر اس نظام پر گر نہ پڑیں گے؟
نظام بینکاری کی مثال لے لیں، سرمایہ دارانہ نظام نے کیا کیاہے؟ اس نے مقامی نظام کو ختم کر کے روایتی بینکاری (conventional banking )کے نظام کو رائج کیا۔ مقامی نظام کیا تھا؟کم از کم مشرق کے مسلم معاشروں کے تناظر میں ہم اسے فقہ اسلامی کی دو معروف اصطلاحات مضاربہ اور مشارکہ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ جب تک نظام بینکاری نہیں تھا، لوگ باہمی اعتماد کی بنیاد پر مل جل کر چھوٹا موٹا کاروبار کر لیتے تھے۔ ایک کا کاروبار ہے، دوسرے نیاس میں اپنی رقم لگا لی اور منافع کسی نسبت سے تقسیم ہونے لگا۔ایک کے پاس رقم ہے ، دوسرے کے پاس ہنر تو دونوں نے باہمی رضامندی سے ایک کاروبار شروع کر لیا وغیرہ۔ یہ نظام چھوٹے پیمانے پر رشتہ داروں، گلی محلوں، گاوں اورحلقہ احباب وغیرہ کی سطح پر قائم تھا اور بہت مفید تھا۔ اس سے سرمایہ نچلی سطح میں ایسے ہی گردش کر رہا تھا جیسا کہ مقامی حکومت (local government ) کی صورت میں اختیارات کسی حد تک نچلی سطح تک منتقل ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ لوگوں میں باہمی اعتماد کا رشتہ ختم ہوتا چلا گیا۔ کچھ تو اس باہمی بے اعتمادی کی ٹھوس بنیاد تھی کہ معاشرے مجموعی طور اخلاقی بگاڑ کا شکار ہوتے چلے گئے تھے لیکن اس اخلاقی بگاڑ یا کمزوری کی وجہ بھی در اصل سرمایہ دارانہ نظام کی پیدا کردہ حرص اور لالچ تھی۔ اوردوسرا یہ کہ اس بے اعتمادی کے بیان میں بھی کچھ مبالغہ ہوا ہے۔ جہاں تک لوگوں کے باہمی اعتماد میں کمی کا معاملہ ہے تو اس میں سرمایہ دارانہ نظام کی کامیابی یہ ہے کہ اس نے یہ اعتماد فرد سے ادارے کی طرف منتقل کر دیا ہے یعنی اب اعتماد ادارہ جاتی (institutionalize)ہو گیا ہے۔
یہ تو ایک بات ہوئی جو شاید اتنی منفی نہ تھی لیکن دوسری بات جس سے اصل بگاڑ نے جنم لیا ہے ، یہ ہوئی کہ صرف انہی اداروں کوعوام میں اعتماد حاصل ہوا جو سرمایہ دارانہ نظام کے مقاصدکسی بھی درجے میں پورے کر رہے تھے۔ اعتماد کا کلیتاً کسی معاشرے سے اٹھ جانا تو ناممکن امر ہے۔ باہمی کاروبار کی بنیاد ہی اعتماد ہے لہٰذا اس کا ختم ہونا کیسے ممکن ہے؟ اگر اعتماد ختم ہو جائے تو کاروبار زندگی ہی ختم ہو جائے۔ یہ اعتماد اصل میں منتقل ہوا ہے، فرد سے ان اداروں کی طرف جنہیں سرمایہ دارانہ نظام اعتماد دینا چاہتا ہے۔ لوگ آج بھی اعتماد کرتے ہیں، بلکہ اندھا اعتماد کرتے ہیں لیکن اپنوں پر نہیں بلکہ اداروں پر۔ ایک حکیم کی حکمت پر لوگوں کا اعتماد نہیں ہے، چاہے وہ اپنے فن یا میدان میں کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو لیکن ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر پر اعتماد ہے، چاہے وہ کتنا ہی نااہل کیوں نہ ہو کیونکہ اس ڈاکٹر پر اعتماد در اصل ایک فرد پر اعتماد نہیں بلکہ اس ادارے پر اعتماد ہوتا ہے جس نے اس فرد کو سند عطا کی ہے۔ حکیموں نے بھی اپنے ادارے بنا لیے لیکن ان کے اداروں کو اعتماد حاصل نہ ہو سکا حالانکہ ہزاروں سال تک صحت کا شعبہ انہی لوگوں کے پاس تھا اور کروڑوں افراد انہی کی ادویہ اور طریقہ علاج سے صحت حاصل کرتے چلے آئے تھے۔ ایشیا ہو یا یورپ، بادشاہوں کا علاج بھی یہی حکیم کیا کرتے تھے اور اتنا عظیم تاریخی ادارہ کس قدر تھوڑے وقت میں اپنا اعتماد کھو بیٹھا ہے۔ ایک یونیورسٹی کی سند کو جو اعتماد حاصل ہے، وہ مدرسے کی سند کو حاصل نہیں ہے اور اس کی وجہ بھی صاف ظاہر ہے کہ یونیورسٹی اس نظام کا حصہ ہے جسے ہم سرمایہ دارانہ نظام کہتے ہیں۔ آج پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کے پروفیسرز سے سروے کروا لیں کہ کیا یونیورسٹی تعلیم ایک بزنس ہے اور طالب علم ایک کسٹمر ہے ؟ تو جواب شایدہ وہی ہو جو ہمارے اپنے دل کی آواز ہے۔اس بحث میں ہماری خواہش یہ نہیں ہے کہ ڈاکٹر کو اعتماد حاصل نہ ہو بلکہ جذبہ یہ ہے کہ حکیم کا بھی اعتماد بحال ہو۔ اسی طرح مقصود یہ ہے کہ ڈاکٹر ہو یا حکیم دونوں کا اعتماد سرمایے یا پیسے کی بنیاد پر قائم نہ ہو بلکہ صاحب فن کی صلاحیت وقابلیت، عوام کے لیے خیر خواہی اورافادیت اور اعلی اخلاقی قدروں کی بنیاد پر قائم ہو۔ ڈاکٹر پر اعتماد میں اگر سرمایہ دارانہ نظام ملوث نہ ہوتا تو آج سوسائٹی میں یہ سوال اتنی شدت سے کیوں جنم لیتا کہ ہر دوسری حاملہ عورت یہ سوچتی ہے کہ اس کی ڈیلوری کا کیس محض سرمایے کے حصول کے لیے سی سیکشن میں لے جایا جائے گا۔ تو آج ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کاروبار نے عوام کا اعتماد حاصل کرلیا ہے جبکہ عوام نے ایک دوسرے کے ساتھ باہمی اعتماد کھو دیا ہے۔
ہمیں یہ بھی دعویٰ نہیں ہے کہ جن اداروں کو سرمایہ دارانہ نظام نے اعتماد دیا ہے، وہ سارے نااہل ادارے ہیں۔ ہمیں تو اعتماد دینے اور حاصل کرنے کے اس سارے نظام سے اختلاف ہے کہ جس کی بنیاد نہ تو فرد کی خیرخواہی ہے اور نہ ہی اہلیت وقابلیت اور نہ ہی کوئی اعلی اخلاقی قدر۔ اس کی بنیاد صرف ایک ہے اور وہ سرمایہ یعنی پیسہ ہے۔ ہر شعبہ میں سرمایہ دار کی اجارہ داری (monopoly) قائم ہے اور وہ جس کو چاہتا ہے اعتماد دیتا ہے اور جس سیچاہتا چھین لیتا ہے اور عوام اس معاملے میں گویا کہ ان کی ذہنی غلام ہے۔ علم کے علاوہ تحقیق جیسے مقدس فن پر ہی نظر دوڑا لیں۔ راقم (حافظ محمد زبیر) ایک کتاب ‘‘تحقیق کا المیہ’’ کے نام سے مرتب کر رہا ہے جس میں عالمی سطح پر تحقیق کی قبولیت اور اشاعت (Recognition and publication )میں سرمایہ داروں کی کیسی اجارہ داری قائم ہے،اس کا ایک تجزیاتی مطالعہ پیش کیا جائے گا۔
روایتی بینک لوگوں کو وہ منافع نہیں دیتے جو مقامی سطح پر مضاربہ یا مشارکہ کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جو تھوڑا بہت روایتی مضاربہ یا مشارکہ اعتماد اور امانت داری کے دو اصولوں پر ہو رہا ہے ، وہاں ایک شخص کو ایک لاکھ کے پیچھے تین سے چار ہزار تک فائدہ ہو جاتا ہے جبکہ بینک اتنا فائدہ کبھی بھی نہیں دیتا۔روایتی بینکاری کا متبادل ہر گز اسلامی بینکاری نہیں ہے بلکہ مقامی سطح کا مضاربہ اور مشارکہ ہے کہ لوگ مقامی سطح پر اپنا باہمی اعتماد بحال کریں اور ایک دوسرے کو فائدہ پہنچائیں۔ اسلامی بینکاری ہو یا غیر سودی بینکاری، یہ بھی عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی چھتری کے نیچے داخل ہے۔ اور اب تواسلامی بینکاری ایک مذاق بنتا جا رہا ہے۔ پہلے تو کچھ ایسے بینک تھے جو صرف اسلامی بینکاری ہی کر رہے تھے لیکن اس کے بعد کچھ روایتی بینکوں نے بھی اسلامی بینک کھول لیے۔ اور تو اور جن روایتی بینکوں نے علیحدہ اسلامی شاخیں نہ کھولیں، انہوں نے کم ازکم اسلامی بینکاری کے لیے ونڈوز(windows) کھول لیں۔ اب اس سب سرگرمی (activity)میں سرمایہ کی اپنے اکاونٹ میں کھینچ تان کی دوڑ میں شامل ہونے کے علاوہ کچھ اور مقصد نظر آتا ہے؟ اور اب شنید یہ بھی ہے کہ اسٹیٹ بینک کے آڈر کے تحت یہ سب روایتی بینک چند ایک سالوں میں اسی طرح اسلامی بننے والے ہیں جیسا کہ پوری سلطنت روما ایک وقت میں عیسائی بن گئی تھی۔ٹھیک ہے، اپنے مقاصد (objectives)کہ غیر سودی تجارت کو فروغ دیا جائے، کے اعتبار سے اسلامی بینکاری قابل قدر کام تھا لیکن اس کے معمولات (practices) پرسنجیدہ سوالات آج بھی قائم ہیں؟ اوراس کاماضی، حال اور مستقبل معاشرے کے پس ماندہ طبقات کے معاشی مسائل یا غربت کا حل نہ رہا ہے اور نہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس کے مقاصد میں پس ماندہ طبقے کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ شامل ہے، چاہے وہ ان کی مادی یا دنیاوی خیر خواہی ہی کیوں نہ ہو، سوائے اس کے کہ مڈل کلاس کے چند ایک لوگوں کی کچھ خواہشات پوری ہو جائیں اور اس کے بدلے معتد بہ سرمایہ (capital)، سرمایہ کار (capitalist)کے اکاونٹ میں منتقل ہو جائے۔
یہی وجہ ہے کہ مغرب میں جو لوگ اپنے نظام سے تنگ آ چکے ہیں،مغربی ماہرین معاشیات کی ایک جماعت جو کمیونزم کے علاوہ سرمایہ دارانہ نظام کا متبادل چاہتی ہے اور اس کی تلاش میں ہے، وہ اسلامی ماڈل کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے کیونکہ وہ یہ بات دل سے سمجھتے ہیں کہ جس سے اہل مغرب بھاگنا چاہ رہے ہیں یعنی سرمایہ دارانہ نظام، مشرق اسی پر سبز چادر ڈال کر اس کا ایک اسلامی ورڑن پیش کررہا ہے۔ ہم فطرت کے بھگوڑے ہیں۔ چلیں فطری اور مقامی نظام سے بھاگے تھے تو کوئی تخلیق (creativity)ہی دنیا کے سامنے لے آتے۔ کیا روایتی بینکاری کا ایک ادنی طالب علم بھی اسلامی بینکاری کے مروجہ نظام کو ایک تخلیقی ماڈل کہنے کی جرات کرسکتا ہے؟ مسئلے کاحل فطرت کی طرف واپسی ہے یاپھر تخلیق ہے۔ اسی طرح ہم اپنے معاشروں کے مسائل بھی حل کر سکتے ہیں اور دنیا کو بھی اپنی طرف اس معنی میں متوجہ کر سکتے ہیں کہ اسلام کے پاس جملہ مسائل کا حل موجود ہے۔ مقامی نظام کی طرف واپسی کا رستہ تو یہ ہے کہ افراد میں باہمی اعتماد کی فضا کو واپس لایا جائے اور تخلیق کے لیے بڑے ذہن کی ضرورت ہے اور بڑا ذہن کسی معاشرے کے نمائندہ اہل علم کے عاجزی اور انکساری کے احوال میں رہنے سے پیدا ہوتا ہے۔
یہ چند ایک معروضات ہیں جو معاصر نظام کے بارے ایک تجزیہ پر مبنی ہیں۔ اس مضمون میں مصنفین کا ہر گز یہ اصرار نہیں ہے کہ ان کا تجزیہ یا تبصرہ ہی صد فی صد حق ہے۔یہ بات اس لیے کر دی ہے کہ اگر کسی شخص کی طبیعت پر یہ مضمون گراں گزرے تو اسے یہ سوچ کر اپنے لیے اطمینان کا سامان پیدا کر لینا چاہیے کہ اس کے برعکس مضامین اور افکار بھی نہ صرف موجود ہیں بلکہ شائع ہو رہے ہیں۔ لوگ اپنے مزاج، پس منظر، علمی معیار، مشاہدے اور تجزیہ کی صلاحیت کے اعتبار سے ایک جیسے نہیں ہوتے لہٰذا ان کے فکری وتحقیقی نتائج میں فرق ہوتا ہے اور یہ فرق ہی بعض اوقات کسی مسئلے میں حسن پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہمیں بحیثیت معاشرہ اس حقیقت کو اب قبول کر لینا چاہیے۔ اس سے ایک تو غیر ضروری تنقید معاشرے سے ختم ہو جائے گی اور دوسرا ہم ایک دوسرے کے بارے غم وغصہ کے جذبات اور کیفیات سے نکل کر گفتگو کرنے کے بھی اہل ہو سکیں گے۔ ہر شخص کی رائے، تجزیے اور مشاہدے میں صحت اور خطا کا امکان ہوتا ہے۔ مکالمہ اسی کا نام ہے کہ ایک مسئلے کو مختلف زاویوں، جہات اور مناہج سے دیکھنے اور اس پر بحث کرنے کی کوشش کی جائے تا کہ اس میں نکھار پیدا ہو اور معاشرہ کسی معتدل موقف کی طرف پیش قدمی کرے۔ اللہ تعالی نے ہمیں چند ایک کلمات کو جوڑ کر ایک بات کہنے کی توفیق دی، سو ہم نے کر دی۔
’’سوچا سمجھا جنون‘‘؟ سانحۂ پشاور کے فقہی تجزیے کی ضرورت
محمد مشتاق احمد
کیا جو کچھ پشاور میں ہوا یہ بعض جنونیوں کی کارروائی تھی جو بھلے برے کی تمیز کھو بیٹھے تھے ؟ کیا یہ کسی اور کارروائی کا رد عمل تھا ؟ کیا یہ بدلے کی کارروائی تھی ؟ کیا یہ یہود و نصاری کی سازش تھی تاکہ اسلام اور مسلمانوں کو مزید بدنام کردیں ؟ کیا واقعتاً اسلامی قانون میں کچھ ایسے اصول و ضوابط ہیں جن کی رو سے یہ کارروائی مستحسن ، یا کم سے کم جائز ، تھی ؟ یہ اور اس طرح کے دیگر سوالات اس وقت سنجیدہ غور و فکر کے متقاضی ہیں اور اب اہلِ علم ان کے جواب سے پہلو تہی نہیں کرسکتے۔
قانونی حیثیت کا تعین : مجرم ، باغی یا خارجی؟
قانونی تجزیے کے لیے سب سے پہلے اس بات کا تعین کرنا پڑتا ہے کہ ان لوگوں پر اسلامی قانون کے کس حصے کا اطلاق ہوتا ہے ؟ کیا یہ دیگر مفسدین اور مجرموں کی طرح ہیں جن پر فوجداری قانون کے تحت مقدمہ چلایا جاتا ہے اور پھر جرم ثابت ہونے پر ان کو سزا دی جاتی ہے ؟ یا یہ باغی ہیں جن پر جنگ کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے ؟ ڈاکووں کے گروہ کے پاس بھی طاقت ہوتی ہے ، ایک مضبوط جتھا ہوتا ہے اور مقابلے کی صلاحیت ہوتی ہے ؛ یہی کچھ باغیوں کے پاس بھی ہوتا ہے ۔ تاہم عام مفسدین اور باغیوں میں فقہاے احناف اس طرح فرق کرتے ہیں کہ باغیوں کے پاس ’’تاویل‘‘ بھی ہوتی ہے ، یعنی وہ خود کر برسرحق اور حکمران کو ناجائز سمجھتے ہیں اور اپنے تئیں باطل کو حق کے ذریعے تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔ قانونی اصطلاح میں بات اس طرح کی جاتی ہے کہ ڈاکووں کے پاس صرف ’’منعۃ‘‘ ہوتا ہے ، جبکہ باغیوں کے پاس ’’منعۃ‘‘ کے علاوہ ’’تاویل‘‘ بھی ہوتی ہے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی تاویل صحیح ہو ۔ کیا حکمران مسلمانوں پر حکمرانی کا حق کھو بیٹھا ہے یا نہیں ؟ اس معاملے میں اختلافِ راے ممکن ہے اور اسی وجہ سے بعض کے نزدیک باغیوں کی تاویل صحیح اور بعض کے نزدیک فاسد ہوگی لیکن بہرصورت ان پر بغاوت کے قانون کا اطلاق ہی ہوگا ۔
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ بغاوت کی صورت میں باغی اور حکمران دونوں ’’مومن‘‘ ہی رہتے ہیں اور اسی لیے فریقین پر ’’کفار‘‘ سے لڑنے کے دوران میں عائد ہونے والی پابندیوں کے علاوہ بعض مزید پابندیاں بھی عائد ہوتی ہیں ۔ مثال کے طور پر مسلمان کا مال ’’غنیمت‘‘ نہیں قرار دیا جاسکتا ، نہ ہی مسلمان عورت پر ’’ملکِ یمین ‘‘ کا اطلاق ہوتا ہے ۔ اس لیے اگر باغیوں کا موقف یہ ہو کہ ان کے مخالفین کا خون بہانا ان کے لیے ویسے ہی حلال ہے جیسے کفار کا ہے ، یا وہ ان کے مخالفین پر غنیمت یا ملکِ یمین کے احکام کا اطلاق ہوتا ہے ، تو ایسی صورت میں وہ محض باغی نہیں ، بلکہ ’’خارجی‘‘ کہلاتے ہیں ۔
پس قانون توڑنے والے کسی گروہ کے پاس محض ’’منعۃ‘‘ ہو تو وہ ڈاکو ہیں اور ان پر فوجداری قانون کا اطلاق ہوتا ہے ؛ اگر اس ’’منعۃ‘‘ کے علاوہ ان کے پاس تاویل بھی ہو تو وہ باغی ہیں اور ان پر جنگ کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے ؛ اور اگر ’’منعۃ‘‘ اور تاویل رکھنے کے علاوہ یہ گروہ اپنے مخالفین کی تکفیر بھی کرتے ہوں تو پھر یہ خارجی ہیں ۔ خوارج پر بھی جنگ کے قانون کے اطلاق ہوتا ہے لیکن ان کا مسئلہ صرف ’’عملی‘‘ نہیں بلکہ ’’اعتقادی‘‘ بھی ہوتا ہے ۔
حملہ آورجس گروہ کا حصہ تھے اس کے پاس ’’منعۃ‘‘ ہے ، یہ حقیقت تو سالہاسال سے تسلیم شدہ ہے ۔ اس گروہ نے اپنے برسرحق ہونے کے لیے تاویل کا سہارا لیا ہے ، یہ بات بھی کافی عرصے سے ، کم از کم اہلِ علم کے لیے ، ایک معلوم حقیقت کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس لیے اس گروہ کی حیثیت باغیوں کی ہے ، یہ بات اہلِ علم کے لیے واضح تھی ۔ سانحۂ پشاور نے ایک اور حقیقت واشگاف کردی ہے جس سے کئی لوگ اب تک نظریں چرارہے تھے ۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ اس گروہ کے نزدیک ان کے مخالفین ، بلکہ وہ سبھی لوگ جو اس گروہ میں شامل نہیں ہیں خواہ وہ اس گروہ کی مخالفت بھی نہ کریں ، ’’کافر‘‘ ہیں ۔ جیسا کہ آگے واضح کیا جائے گا ، اس گروہ کا طرزِ عمل اور اس طرزِ عمل کے جواز کے لیے ان کا استدلال دونوں ہی یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں کردیتے ہیں کہ اس گروہ سے باہر کے افراد اس گروہ کے نزدیک مسلمان نہیں رہے ۔ پس اس گروہ کی حیثیت صرف باغیوں کی نہیں رہی ، بلکہ ان پر خوارج کے احکام کا اطلاق ہوتا ہے ۔
کفار کے ساتھ جنگ کے حدود و قیود
یہ سوال کہ اپنے گروہ سے باہر کے افراد کی تکفیر کے بارے میں اس گروہ کا موقف کس حد تک صحیح ہے ، ہم علمِ کلام کے ماہرین کے لیے چھوڑ دیتے ہیں اور بحث کو صرف اس فقہی سوال تک محدود کرلیتے ہیں کہ کیا کفار کے ساتھ جنگ میں ’’سب کچھ ‘‘ جائز ہوجاتا ہے ؟ یا اس میں جائز و ناجائز کے کچھ پیمانے مقرر کیے گئے ہیں ؟
اصولی طور پر تو یہ گروہ بھی ’’سب کچھ ‘‘ کے جواز کا قائل نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جو کچھ ہماری فقہ کی رو سے ناجائز ہے کیا وہ ان کی فقہ کی رو سے بھی ناجائز ہے ؟ اہلِ علم کے لیے یہی اصل سوال ہے ۔ اسی سوال کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اس گروہ کی اپنی ایک مخصوص فقہ ہے جو کم سے کم فقہِ حنفی سے یکسر مختلف ہے ۔
مثال کے طور پر فقہِ حنفی کی رو سے عین حالتِ جنگ میں بھی کفار کے بچوں کا قتل ناجائز ہے ، الا یہ کہ بچہ حملہ کرے اور دفاع کے لیے سواے اس کے قتل کے اور کوئی راستہ نہ ہو ۔ امام محمد بن الحسن الشیبانی نے السیر الصغیر کی ابتدا اس مشہور روایت سے کی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ صحابۂ کرام کو جنگ پر روانہ ہونے سے قبل ہدایات دیتے ہیں اور جسے فقہائے احناف جنگ کے قانون کے لیے گویا اصلِ اصول کے طور پر مانتے ہیں ۔ اس روایت میں ایک ہدایت یہ مذکور ہوئی ہے : و لا تقتلوا ولیداً ( اور کسی بھی بچے کو قتل نہ کرو ) ۔ فقہاے احناف کا اصول ہے کہ نفی کے سیاق میں نکرہ آئے تو وہ عموم کے لیے ہے ۔ اس کے ساتھ فقہاے احناف کا دوسرا اصول ملائیے کہ عام اپنی دلالت پر قطعی ہوتا ہے اور اس کی تخصیص کے لیے قطعی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔
تاہم اس گروہ کے نزدیک جنگ میں کفار کے بچوں کا قتل جائز ہے اور استدلال اس روایت سے کرتے ہیں جس میں آیا ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے جنگ میں کفار کے بچوں کے قتل ہونے کے بارے میں فرمایا : ھم منھم (وہ ان میں سے ہیں) ۔اب حنفی فقہا کے نزدیک پہلی روایت اصلِ اصول کی حیثیت رکھتی ہے اور نیز وہ دیگر آیات ، احادیث اور اسلامی قانون کے قواعدِ عامہ کی رعایت ضروری سمجھتے ہیں ، اس لیے وہ اس حدیث کا مفہوم یہ بیان کرتے ہیں کہ اس میں بچوں کو نشانہ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ ان تک پہنچنے والے غیر ارادی نقصان کو اضطراراً برداشت کیا گیا ہے ۔ تاہم اس گروہ کی فقہ یہ نہیں کہتی ، بلکہ وہ ھم منھم کا مفہوم کچھ اور متعین کرتی ہے اور اسی کو اصلِ اصول مانتی ہے۔
اسی طرح فقہِ حنفی کی رو سے بدلے کی کارروائی میں ، یا معاملۃ بالمثل کے نام پر، بھی بچوں اور عورتوں کو نشانہ بنانا قطعاً ناجائز ہے ۔ امام شیبانی نے یہ جزئیہ کفار کے ساتھ معاہدات کے ضمن میں بھی ذکر کیا ہے اور باغیوں کے ساتھ معاہدات کے باب میں بھی کہ اگر ان کے ساتھ معاہدے میں طے پایا کہ فریقین ایک دوسرے کو اپنے بعض افراد ضامن کے طور پر دے دیں گے اور اگر ایک فریق نے دوسرے کے ضامنوں کو قتل کیا تو دوسرا فریق بھی جواباً اس کے ضامنوں کو قتل کرسکے گا ، تب بھی ہمارے لیے یہ ناجائز ہوگا ۔ امام سرخسی نے عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کے ایک اسی طرح کے معاہدے کا ذکر بھی کیا ہے جس کے بعد دوسرے فریق نے مسلمانوں کے ضامنوں کو قتل کردیا تھا اور منصور نے اس فریق کے ضامنوں کے قتل کے جواز کے بارے میں فقہا سے رہنمائی طلب کی ۔ امام ابو حنیفہ نے واضح کیا کہ یہ شرط ہی شریعت کے خلاف تھی اوریہ کہ ایک شخص کے جرم کی سزا دوسرے شخص کو نہیں دی جاسکتی ۔ تاہم اس گروہ کی فقہ کی رو سے اگر ایک فریق دوسرے کے بچوں کو نشانہ بنائے تو دوسرے فریق کو بھی پہلے فریق کے بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت مل جاتی ہے اور اس نوعیت کی کارروائی کو یہ گروہ برابر کا بدلہ ، قصاص اور معاملہ بالمثل قرار دیتا ہے۔
پھر فقہِ حنفی کی رو سے تو کفار میں بھی وہ تمام لوگ ، بشمول بچوں ، عورتوں ، بوڑھوں ، معذوروں ، کسانوں اور تاجروں کے ، جو جنگ میں ’’براہِ راست حصہ نہیں لیتے ‘‘، غیر مقاتلین ہیں اور ان کو جنگ میں عمداً نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح فقہِ حنفی مباشر اور متسبب کے حکم میں فرق کرتی ہے اور فعل کو مباشر کی طرف ہی منسوب کرتی ہے ، الا یہ کہ مباشر کی حیثیت متسبب کے ہاتھ میں محض ایک آلے کی سی ہو ۔ نیز فقہِ حنفی فعل کو قریب ترین اور قوی ترین سبب کی طرف منسوب کرتی ہے ۔ ان قواعد کا لازمی نتیجہ ہے کہ فقہِ حنفی کی رو سے کفار کا ہر ’’عام شہری‘‘ اور ’’ٹیکس ادا کرنے والا‘‘ مقاتل نہیں ہوسکتا بلکہ صرف وہی لوگ مقاتل ٹھہرتے ہیں جو جنگ میں براہِ راست حصہ لیں ۔ تاہم اس گروہ کی فقہ کی رو سے ہر شہری، یہاں تک کہ سکول میں پڑھنے والے لڑکے اور لڑکیاں بھی محض اس بنا پر مقاتل قرار دیے جاتے ہیں کہ وہ طبعی بلوغت کی عمر تک پہنچ چکے تھے!
اس گروہ کی فقہ کی رو سے جنگ میں ہر وہ کام جائز ، بلکہ مستحسن اور باعثِ ثواب ، ہے جس سے دشمن کو تکلیف پہنچتی ہو ، جو نکایۃً للعدو کیا جائے ،اور اس کے جواز کے لیے مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ چنانچہ اس گروہ کے نزدیک عام طور پر بچوں اور عورتوں کو نشانہ بنانے سے گریز بہتر ہے لیکن اگر اس طرح دشمن کو دلی اذیت ملتی ہو تو یہ کام باعثِ ثواب بن جاتا ہے ۔ اس کے برعکس فقہِ حنفی کی رو سے شریعت کے حرام کردہ بعض کام جنگ میں بھی ، اور اضطرار اور اکراہِ تام کی صورت میں بھی ، بدستور حرام ہی رہتے ہیں ۔
چنانچہ حنفی فقہا کا موقف یہ ہے کہ خودکشی اضطرار کی صورت میں بھی ناجائز ہی ہوتی ہے اور یہ کہ شہید صرف اسی شخص کوکہا جائے گا جس کی موت دشمن کے فعل سے واقع ہو یہاں تک کہ اگر کسی مسلمان کے سینے میں دشمن نے نیزہ گھونپ دیا ہو اس پر اس وقت بھی یہ سوچنا لازم ہے کہ آگے بڑھنے کی صورت میں کہیں وہ خودکشی کا مرتکب تو نہیں ہوجائے گا ، جبکہ اس گروہ کی فقہ کی رو سے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے ، یا خود کو گرفتاری سے بچانے کے لیے ، خود کشی نہ صرف جائز بلکہ شہادت کی اعلی قسم ہے ۔
اس گروہ کی فقہ کی رو سے دشمن کو اذیت دینے کے لیے عورتوں کو زندہ جلانے کی سزا دی جاسکتی ہے ، جبکہ حنفی فقہا کے نزدیک آگ کے ذریعے جلانے کی سزا صرف آگ کا پروردگار ہی دے سکتا ہے ۔
اس گروہ کی فقہ کی رو سے اگر کسی شخص کی جان کی حرمت اور حلت میں شبہ ہو تو حلت کو ترجیح حاصل ہے ، جبکہ فقہِ حنفی کی رو سے ایسی صورت میں حرمت کو ترجیح حاصل ہے ۔
کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا؟
یہ جملہ میڈیا پر کچھ زیادہ ہی چل پڑا ہے اور حقیقت پسندی پر نہیں بلکہ رومانویت پر مبنی ہے ۔ جس قدر جلد ہم اس رومانس سے نکل کر حقیقت سے آنکھیں ملائیں اس قدر ہی اس قوم کے حق میں بہتر ہوگا ۔ بعض دوستوں سے سنا کہ اس واقعے کے پیچھے انڈیا کا ہاتھ ہے ! میں نے عرض کی کہ اگر انڈیا کا ہاتھ نہ ہو تو حیرت کی بات ہوگی ۔ ظاہر ہے کہ تنور گرم ہو تو ہر کوئی اس میں روٹی لگانے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس لیے اگر اس واقعے کے پیچھے انڈیا ، امریکا یا اسرائیل کا ہاتھ ہو تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی لیکن سوال یہ ہے کہ جو لوگ ان بچوں کا نشانہ بنارہے تھے اور پھر خود بھی نشانہ بنے ، یا انھوں نے خودکشی کرلی ، کیا وہ انڈیا کی خوشنودی یا امریکا کا ویزا چاہتے تھے ؟ یا جنت میں جانا چاہ رہے تھے ؟ پس اصل سوال یہی ہے کہ کس بنیاد پر ان لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ بچوں کو ذبح کرکے ، یا قتل کرکے ، یا عورتوں کو زندہ جلا کر ، وہ جنت جاسکیں گے ؟ یہ بات سمجھ میں آجائے تو بہت سی غلط فہمیوں ، اور خوش فہمیوں ، کا ازالہ ہوجائے گا ۔
جنونی رد عمل یا ’’سوچا سمجھا جنون‘‘؟
ایک رائے جو اس وحشت اور بربریت کو جواز عطا کرنے ، یا اس کی سنگینی کم کرنے ، کے لیے پیش کی جاتی ہے ، یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہوا دراصل اس ظلم اور سفاکی کا رد عمل ہے جس کا مظاہرہ ان لوگوں کے خلاف پاکستانی افواج نے کیا ہے۔ اس بحث میں جائے بغیر کہ افواج کے خلاف اس الزام میں کتنی صداقت ہے ، یا یہ کہ اس کے جواب میں افواج کی اخلاقی ذمہ داری کیا بنتی ہے ، اس وقت جو سوال مجھے پریشان کررہا ہے یہ ہے کہ کیا یہ واقعی ’’جنونی رد عمل ‘‘ تھا ؟ رد عمل تو فوری ہوتا ہے ، اور بغیر سوچے سمجھے ہوتا ہے ، جسے قانون ’’سنگین اور فوری اشتعال‘‘ کا عنون دیتا ہے ۔ سنگین اور فوری اشتعال کے نتیجے میں بعض اوقات انسان کوئی بہت ہی ناجائز کام کربیٹھتا ہے جسے جواز تو نہیں دیا جاسکتا لیکن کم از کم سمجھ میں تو آجاتا ہے کہ یہ اس وجہ سے ہوا ۔ یہاں تو جو کچھ ہوا ہے وہ پوری منصوبہ بندی اور تیاری کے بعد کیا گیا ہے اور ، جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ، اس کے جواز بلکہ استحباب کے لیے فقہی و قانونی استدلال کا ایک پورا نظامِ فکر ہے ۔ اس لیے اگر یہ جنون ہے بھی تو بہت ہی ’’سوچا سمجھا جنون‘‘ ہے! اس جنون کی فکری بنیادیں درج ذیل ہیں:
- اس گروہ نے جن لوگوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں، وہ مرتد ہیں ؛
- اس گروہ کے مخالفین کی حمایت کرنے والے سبھی لوگ ، خواہ وہ فوج میں ہوں ، پولیس میں ہوں ، یا عام شہری ہوں ، مرتد ہیں ؛
- اس گروہ کے مخالفین اور ان مخالفین کے حامیوں میں عاقل بالغ سبھی انسان مقاتلین ہیں ، خواہ انھوں نے زندگی میں ایک بار بھی ہتھیار نہ اٹھایا ہو ، یہاں تک کہ محض ٹیکس ادا کرنے سے بھی وہ مقاتلین بن جاتے ہیں ، اور ٹیکس تو ٹافی خریدتے ہوئے بھی ادا کیا جاتا ہے، اس لیے میٹرک کا وہ طالب علم جو طبعی بلوغت کی عمر تک پہنچ چکا ہو، مقاتل ہے ؛
- جب مخالفین اور ان کے لیے ٹیکس ادا کرنے والے سبھی عاقل بالغ انسان مرتد اور مقاتل ہیں تو اس کے بعد حملے کو صرف ’’فوجی ہدف‘‘ تک محدود رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے؛ کسی بھی جگہ ان ’’نام نہاد شہریوں‘‘ پر ، جو دراصل ’’مقاتلین‘‘ ہیں ، حملہ کیا جاسکتا ہے ؛
- کبھی ’’جنگی مصلحت ‘‘ کی بنیاد پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے اجتناب بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اصلاً ان کو نشانہ نہیں بنایا جاسکتا ؛( چنانچہ اگر ’’آرمی پبلک سکول ‘‘ کی جگہ ’’گورنمنٹ ہائی سکول‘‘ کے طالب علموں کو نشانہ نہیں بنایا گیا تو کسی بہت بڑی خوش فہمی میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔)
- پس ہدف کے انتخاب میں صرف اور صرف ’’جنگی مصلحت‘‘ کو دیکھا جاتا ہے ؛ کس ہدف پر کم سے کم وقت اور توانائی کے استعمال سے زیادہ سے زیادہ ’’جنگی فائدہ‘‘ اٹھایا جاسکتا ہے ؟ فوجی کیمپ ؟ چیک پوسٹ ؟ سکول ؟
- مخالفین ، یا ان کے حامیوں ، میں اگرچہ بعض ’’غیر مقاتلین‘‘ بھی ہیں ، جیسے نابالغ بچے ، لیکن ان کے والدین ، یا مخالفین کے دیگر ’’عاقل بالغ مقاتلین ‘‘کو اذیت دینے ، یا ان کا حوصلہ پست کرنے ، کے لیے ان نابالغ بچوں کو بھی عمداً نشانہ بنایا جاسکتا ہے کیونکہ ’’یہ انھی میں سے ہیں ‘‘!
- مخالفین نے اگر اس گروہ کے بچوں کو نشانہ بنایا ہے تو پھر مخالفین ، یا ان کے حامیوں ، کے ان غیر مقاتلین بچوں کو نشانہ بنانے کے جواز کے لیے صرف ’’برابر کے بدلے‘‘ کا اصول ہی کافی ہے ؛ ان کے ساتھ وہی کچھ ، اور ویسا ہی کچھ کرو جو انھوں نے تمھارے ساتھ ، جس طرح ، کیا ہے !
- باقی رہیں مخالفین ، یا ان کے حامیوں ، کی عاقل بالغ عورتیں تو چونکہ وہ عاقل بالغ ہیں اور ٹیکس بھی ادا کرتی ہیں ، نیز بعض دیگر کام بھی کرتی ہیں جن سے مخالفین کو کسی طور مدد ملتی ہے ، اس لیے وہ بھی مقاتلین ہی ہیں اور ان کے ساتھ وہی کچھ کیا جاسکتا ہے جو مقاتلین کے ساتھ کیاجاتا ہے ؛
- جنگ میں ہر وہ کام باعث اجر و ثواب ہے جس سے مخالفین ، یا ان کے حامیوں ، کو اذیت ملتی ہے ، یا ان کا حوصلہ پست ہوتا ہے ، خواہ یہ کسی مقاتل عورت کو زندہ جلانا ، یا کسی غیر مقاتل بچے کو ذبح کرنا ، ہو ؛
- خود کش حملہ کمزور فریق کا بہترین ہتھیار ہے ؛ خود کش حملے کے خوف سے مخالفین تمھارے قریب نہیں آئیں گے اور تم زیادہ سے زیادہ آگے بڑھ کر ان کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچاسکتے ہو ؛ پھر چونکہ تم موت کے خوف سے نہیں ، بلکہ اپنے لوگوں کے رازوں کی حفاظت ، یا دشمن کو نقصان پہنچانے کی خاطر ، اپنی جان کی قربانی دوگے ، اس لیے یہ شہادت کی اعلی و ارفع قسم ہوگی ؛ پس یہ سب کچھ کرنے کے بعد یہ آخری کام بھی کرگزرو تو جنت تمھاری ہے !
یہ ہے وہ سوچا سمجھا استدلال جو اس جنون اور وحشت کے پیچھے کارفرما ہے ۔ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام اس طرح کے حملوں کو ناجائز قرار دیتا ہے ، ان پر لازم ہے کہ وہ اس استدلال کے ہر جز کا عدم جواز ثابت کریں ، ورنہ محض جذباتی نعروں سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔
خاطرات
محمد عمار خان ناصر
برصغیر کی ماضی قریب اور معاصر تاریخ میں دیوبندی مکتب فکر نے دین کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اور علمی وفکری ترجیحات سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود، بحیثیت مجموعی اس مکتب فکر میں راستی اور توازن فکر نمایاں نظر آتا ہے۔ دینی تعبیر کے علاوہ دیوبندی تحریک کا تعارف اس خطے میں اپنے مخصوص سیاسی کردار کے حوالے سے بھی ہے۔ اس ضمن میں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں اکابر دیوبند کے کردار کو دیوبندی تحریک کے سیاسی تعارف کے ایک بنیادی حوالے کی حیثیت حاصل ہے۔
معاصر تناظر میں، دیوبندی مسلک سے نسبت رکھنے والے جو عناصر افغانستان میں روس کے خلاف جہاد کے جلو میں بعض غیر مقامی عناصر کے زیر اثر جنم لینے والی جہادی فکر سے متاثر ہوئے ہیں، وہ بسا اوقات اس طرز جدوجہد کا تاریخی وفکری رشتہ ۱۸۵۷ء میں علماء دیوبند کی جدوجہد سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ ایک ایسی گمراہ کن غلطی ہے جسے تاریخ اور دیوبندی فکر کا معروضی مطالعہ کرنے والا کوئی صاحب فکر قبول نہیں کر سکتا، اس لیے کہ انیسویں صدی کے وسط میں برطانوی اقتدار سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اکابر دیوبند نے جس مسلح جدوجہد میں حصہ لیا، اس کی نوعیت، فکری بنیاد اور خصوصیات بالکل اور تھیں، جبکہ القاعدہ کی فکر کے زیر اثر موجودہ جہادی لہر جوہری طور پر اس سے مختلف ہے اور اس کا فکری شجرۂ نسب دیوبندی فکر کے ساتھ ہرگز نہیں ملایا جا سکتا۔
علماء دیوبند کی اس جدوجہد کی پانچ نمایاں اخلاقی خصوصیات تھیں:
۱۔ اس کا محرک طفلانہ جذباتیت نہیں، بلکہ آزادئ وطن کے لیے عملی کردار ادا کرنے کا ذمہ دارانہ احساس تھا۔
۲۔ عملی طو رپر اسلام کی جنگی اخلاقیات کی پاس داری کی گئی تھی۔ (میرے علم کی حد تک اس تحریک میں بعض دوسرے مقامات پر تو ناجائز قتل وغارت اور لوٹ مار ہوئی، لیکن شاملی کے محاذ پر ایسے کسی واقعے کا رونما ہونا ثابت نہیں)۔
۳۔ ان حضرات نے اپنے اس فیصلے کو ایک اجتہادی فیصلہ سمجھا اور اسی روح کے ساتھ اس پر عمل کیا۔ ساتھ نہ دینے والوں یا مخالفت کرنے والوں پر کسی قسم کے کفر ونفاق کے فتوے نہیں لگائے گئے، بلکہ ان کے لیے حق اختلاف تسلیم کیا گیا۔
۴۔ قائدین میں خلوص وللہیت کے اوصاف نمایاں تھے۔ لیڈر شپ اور قیادت وسیادت کے حصول کے محرکات دکھائی نہیں دیتے اور نہ اپنی شخصی عقیدت کے گرد گھومنے والے جہادی جتھے تیار کیے گئے۔
۵۔ جدوجہد ناکام ہونے کے بعد علیٰ وجہ البصیرت طرز جدوجہد تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور عسکری جدوجہد کا طریقہ ترک کر کے آزادئ وطن کے لیے متبادل حکمت عملی اختیار کی گئی۔ (اس ضمن میں مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمود حسن، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا عبید اللہ سندھی رحمہم اللہ کی واضح تصریحات موجود ہیں)۔
معاصر جہادی فکر بدقسمتی سے ان تمام خصوصیات سے یکسر محروم اور اس کے بالکل برعکس اوصاف سے متصف ہے:
۱۔ اس کی قوت محرکہ، سنجیدہ احساس ذمہ داری نہیں بلکہ غصے اور جذبہ انتقام سے پیدا ہونے والی فرسٹریشن ہے۔
۲۔ اس کی عملی اخلاقیات حدود شریعت کی پاسداری سے نہیں، بلکہ جاہلانہ استدلالات کی بنیاد پر غیر شرعی اقدامات کو جواز فراہم کرنے سے عبارت ہے۔
۳۔ یہ اپنے اختیار کردہ طرز عمل کو ایک اجتہادی رائے نہیں سمجھتی او رنہ اجتہادی اختلاف کے آداب کو ملحوظ رکھتی ہے۔ اس کے برعکس، یہ خود کو اسلام اور امت مسلمہ کی ٹھیکے دار سمجھتی اور اپنے اختیار کردہ طریقے سے گریز کرنے والوں کو غیر معیاری (بلکہ منافق ومداہن) مسلمان تصور کرتی ہے۔
۴۔ اس کی عملی تنظیم اجتماعیت اور قائدانہ بے نفسی کے اصول پر نہیں، بلکہ جہادی لیڈروں کی شخصیت پرستی اور گروہی حزبیت کے اصول پر ہوئی ہے۔
۵۔ یہ کہ اپنی اختیار کردہ حکمت عملی پر پے درپے مرتب ہونے والے تباہ کن نتائج کے باوجود یہ اس پر نظر ثانی کے لیے تیار نہیں، بلکہ اسی قسم کے مزید احمقانہ اقدامات پر آمادہ نظر آتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی آئیڈیالوجی ہرگز وہ نہیں تھی جو اس وقت خاص طو رپر القاعدہ کے زیر اثر جہادی تحریکوں نے اپنا رکھی ہے۔ اس کے اہداف ومقاصد بالکل مقامی اور قومی تھے اور یہ جنگ ہندوؤں کی شراکت سے لڑی گئی تھی، کسی نام نہاد عالمی خلافت کا قیام ہرگز اس کا مقصد نہیں تھا اور نہ دنیا بھر سے بھانت بھانت کی جہادی بولیوں کو یہاں لا کر ٹھکانا فراہم کرنا اور اس خطے کو عالمی فساد کا مرکز بنا دینا ان حضرات کے پیش نظر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزی اقتدار کے خاتمے کی صورت میں ان حضرات کی ایک بہت بڑی اکثریت نے اس خطے کا جو سیاسی نقشہ پیش کیا، اس میں اسلامی ریاست کا کوئی ذکر اذکار نہیں تھا، بلکہ مسلم لیگ نے قیام پاکستان کے لیے ’’شرعی ریاست‘‘ کی ضرورت کو بطور دلیل پیش کیا تو جمعیۃ علماء ہند کے اکابر نے یہ کہہ کر اس کا جواب دیا کہ شرعی ریاست کے قیام کا تعلق حالات وامکانات سے ہے اور یہ کہ ہر جگہ اس کا قیام کوئی شرعی مطالبہ نہیں۔
مجھے ذرہ برابر شبہ نہیں کہ یہ طرز فکر دور جدید میں خارجیت کی نئی پیدائش ہے۔ قرن اول کی خارجی تحریک اور معاصر جہادی فکر، بالکل ہم شکل جڑواں بھائی (یا شاید بہنیں) ہیں، اس فرق کے ساتھ کہ ایک کی ولادت صدیوں پہلے ہوئی تھی اور ایک کی آج صدیوں بعد۔ صدر اول میں علمی بحث کے میدان میں اس فتنے کی سرکوبی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے کی تھی اور اس کے بعد بھی ضد پر اڑے رہنے والے ہٹ دھرموں کی کمر سیدنا علیؓ نے جنگ نہروان میں توڑ دی تھی، لیکن آج حالات ضلالۃ ولا ابن عباس لہا اور فتنۃ ولا ابا حسن لہا کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ فالی اللہ المشتکی۔
دہشت گردی کے خلاف پاکستانی ریاست کی جنگ کے متعلق ہمارے ہاں عمومی طور پر دو طرح کے رویے پائے جاتے ہیں:
پہلا رویہ یہ ہے کہ چونکہ اس کے پس منظر اور اسباب وعوامل کے لحاظ سے خود ریاست بڑی حد تک ذمہ دار ہے اور اس خطے میں امریکی فوجوں کی موجودگی اور اہداف کے حولے سے باغی اصولاً درست جگہ پر جبکہ ریاست غلط جگہ پر کھڑی ہے، اس لیے ہمدردی (یا تائید) کی مستحق بھی ریاست نہیں، بلکہ باغی ہیں اور یہ کہ ان کے خلاف چھیڑی جانے والی جنگ اصل میں صرف ’’امریکہ کی جنگ‘‘ ہے۔
اس کے بالمقابل دوسرا رویہ یہ ہے کہ چونکہ باغی ریاست کے وجود کو مٹانے کے لیے پرعزم ہیں اور بے گناہ انسانوں کا قتل عام ان کا ہدف ہے، اس لیے سارا زور بیان اور استدلال صرف ان کی مخالفت پر صرف کیا جائے اور ریاست کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو ’’الا اللمم‘‘ کی سطح سے زیادہ موضوع بحث نہ بنایا جائے۔
میری نظر میں دونوں رویے نادرست ہیں۔ پہلے رویے کی غلطی یہ ہے کہ اگرچہ اس ساری صورت حال کے پیدا کرنے میں ریاستی نظم کی سنگین غلطیاں بھی شامل ہیں، لیکن ان کے رد عمل میں باغیوں نے اپنا جو ہدف متعین کیا ہے، یعنی ریاستی نظم کا خاتمہ اور ملک میں خوف ودہشت کی فضا عام کر دینا، اس کی تائید تو کجا، کسی بھی درجے میں اس سے ہم دردی بھی محسوس نہیں کی جا سکتی۔ صورت حال کی ذمہ داری یک طرفہ طور پر صرف ریاست پر ڈال دینا بھی ہرگز منصفانہ نہیں۔ اس کے ذمہ دار بہت سے دوسرے عناصر بھی ہیں اور صورت حال بہت پیچیدہ ہے۔ ریاست نے بڑی حد تک حالات کے جبر کے تحت ایک راستہ اختیار کیا ہے اور تمام تر کوتاہیوں اور غلطیوں کے باوجود اس کا یہ بنیادی فیصلہ سو فی صد درست ہے کہ ریاست کی رٹ کو ہر حال میں قائم کرنا اور ملک میں انارکی پھیلانے اور لوگوں کا بے دریغ خون بہانے والے عناصر کی سرکوبی ضروری ہے۔ چنانچہ درپیش صورت حال میں شریعت وحکمت اور اخلاقیات کے تمام اصول یہی راہ نمائی کرتے ہیں کہ اس جنگ میں ریاست ہی کا ساتھ دیا جائے اور اس کی طرف سے کیے جانے والے بہت سے غلط فیصلوں کو باغی گروہوں کے اہداف ومقاصد کی وجہ جواز ہرگز تسلیم نہ کیا جائے۔
دوسرا رویہ اس اعتبار سے غلط ہے کہ ایک بنیادی فیصلے میں ریاست کی تائید کرنے کا تقاضا کسی بھی اعتبار سے یہ نہیں بنتا کہ ریاست کی غلطیوں سے بھی صرف نظر کیا جائے۔ ریاست نے پچھلی تین چار دہائیوں میں جو پالیسیاں اختیار کیے رکھی ہیں، ان کا قومی سطح پر بے لاگ جائزہ لینے اور غلطیوں کومتعین کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اس پر مسلسل نظر رکھنا لازم ہے کہ ریاستی ادارے کوئی بھی غیر قانونی اور غیر اخلاقی قدم نہ اٹھائیں۔ اہل علم ودانش اور اہل قلم کا ذمہ دارانہ منصب انھیں کسی دھڑے بندی کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کی وابستگی اصولوں اور اخلاقیات اور ملک وملت کے مفاد سے ہونی چاہیے اور کسی بھی گروہ کی غلطیوں کی نشان دہی اورمحاسبہ اسی احساس ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔
بہرحال اس صورت حال میں پاکستان کے مذہب پسند طبقے کی اکثریت ایک مخمصے سے دوچار ہے۔ ایک طرف انتہا پسندی نے دہشت گردی کا روپ اختیار کر کے ایک ایسی پوزیشن لے لی ہے جس کا دفاع کرنا مخمصہ زدہ طبقے کے لیے ممکن نہیں۔ دوسری طرف اس صورت حال سے لبرل انتہا پسند جو نتائج نکالنا چاہتے ہیں، وہ بھی اس درمیانی طبقے کے لیے قابل قبول نہیں۔ سو اس کی مجبوری ہے کہ وہ انتہا پسندوں سے اپنا فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے بھی کوئی ایسا موقف اختیار نہ کرے جس سے اس کا وزن لبرل انتہا پسندی کے پلڑے میں پڑ جائے۔ مزید یہ کہ یہ درمیانی طبقہ، سماجی تقسیم کے اعتبار سے، اپنی شناخت میں اس گروہ سے قریب تر ہے جو انتہا پسندی کی طرف مائل ہے اور اس کے اہداف ومقاصد اورمطالبات سے بھی اسے اصولاً ہمدردی اور اتفاق ہے۔ یہ چیز ان کی اختیار کردہ پوزیشن میں فیصلہ کن عامل کا درجہ رکھتی ہے، چنانچہ صورت حال کی کوئی سنگینی اور انتہا پسندوں کی طرف سے ظاہر کی جانے والی کسی بھی درجے کی جارحیت اس طبقے کو وقتی طور پر، دباؤ کے تحت تو لبرل انتہا پسندی کی جزوی تائید پر آمادہ کر سکتی ہے، لیکن اس کی مستقل پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتی، بلکہ اگر دباؤ ایک حد سے زیادہ بڑھے گا تو خود اس درمیانی طبقے میں موجود تقسیم ابھر کر سامنے آئے گی اور انتہا پسندی کی طرف جھکاؤ رکھنے والے، اعتدال پسندوں کی بہ نسبت زیادہ بلند آہنگ (vocal) ہوتے چلے جائیں گے۔ یہ چیز کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کوئی بھی طبقہ جب سماج میں کوئی پوزیشن اختیار کرتا ہے تو اس میں بنیادی اور فیصلہ کن کردار اس سماجی نظام کے ساتھ وابستہ اس کے مفادات (Stakes) ادا کرتے ہیں۔ یہ مفادات اگر خطرے میں ڈال دیے جائیں اور سماج کے کسی موثر طبقے کو سماج کے مرکزی دھارے سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کا وزن دوسرے پلڑے کی طرف منتقل ہوتے چلے جانا ایک ناگزیر نتیجہ ہوتا ہے۔
گویا یہ ایک بہت نازک صورت حال ہے اور ملکی قیادت اور سیاسی وعسکری مدبرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں موجود تقسیم کو اس طرح سے handle کرے کہ انتہا پسندی کو تقویت اور حمایت ملنے کے بجائے اس کے خلاف زیادہ سے زیادہ اجتماعی یکسوئی پیدا ہو سکے۔
پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں ، حملے کے ذمہ داران کی طرف یہ استدلال بھی منسوب کیا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے نابالغ بچوں کو چھوڑ کر پورے قبیلے کو تہہ تیغ کروا دیا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس گروہ کے ساتھ جنگ ہو، اس کے مقاتلین کے علاوہ عام افراد کو بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔ معلوم نہیں، ذمہ داروں نے واقعی یہ استدلال کیا ہے یا نہیں، لیکن اگر کیا ہے تو یہ افلاس علم کے باوجود تحکم اور خود اعتمادی کے اسی رویے کی ایک مثال ہے جو اس پورے طبقے میں علی العموم دکھائی دیتا ہے۔ بنو قریظہ کے جن مردان جنگی کے قتل کا فیصلہ، خود انھی کے مطالبے پر مقرر کردہ حکم نے کیا اور جو خود تورات کی شریعت کے مطابق تھا، وہ یہودیوں کے کسی مدرسے میں بیٹھ کر تعلیم حاصل نہیں کر رہے تھے جن پر اچانک جا کر دھاوا بول دیا گیا اور کہا گیا کہ زیر ناف بال دیکھ کر بالغوں اور نابالغوں کو الگ کر دیا جائے اور بالغوں کو قتل کر دیا جائے۔ بنو قریظہ نے مسلمانوں کے ساتھ عہد شکنی کی تھی اور ایک نہایت نازک موقع پر مدینہ پر حملہ آور مشرکین کے ساتھ ساز باز کر کے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی سازش کی تھی۔ ان کا باقاعدہ جنگی قوانین کے مطابق محاصرہ کیا گیا اور پھر انھی کے مطالبے پر انھیں اس شرط پر ہتھیار ڈالنے کی اجازت دی گئی کہ ان کے متعلق فیصلہ ان کے اپنے منتخب کردہ حکم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کروایا جائے گا۔ چونکہ بنو قریظہ کی پوری آبادی اس جنگی جرم میں ملوث تھی، اس لیے ان کے عورتوں اور بچوں کوچھوڑ کر تمام مردان جنگی کو یہ سزا دیا جانا کسی بھی لحاظ سے جنگی اخلاقیات کے منافی نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کرنا کہ دشمن کے کیمپ سے متعلق غیر مقاتلین پر اور وہ بھی ایک تعلیمی ادارے میں جمع ہونے والے معصوم بچوں پر حملہ آور ہو کر انھیں قتل کر دینا، سنت نبوی کی پیروی ہے، جہالت اور سفاہت کی ایک عبرت ناک مثال ہے۔
بنو قریظہ کے مذکورہ واقعے کی نوعیت سے متعلق جدید ذہن میں عمومی طور پر چند اشکالات پیدا ہوتے ہیں جن میں سے بنیادی اشکالات دو ہیں:
۱۔ کیا بنو قریظہ کے سارے قبیلے کو یوں تہہ تیغ کرنا جنگی اخلاقیات کی رو سے درست تھا؟ کیونکہ عہد شکنی کا فیصلہ تو ان کے سرداروں نے کیا ہوگا جس کا ذمہ دار ہر ہر فرد کو قرار دے کر پر سارے قبیلے کو گردن زدنی قرار دینا درست نہیں ہو سکتا۔
۲۔ اگر اس کا کسی درجے میں کوئی جواز تھا بھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عام طور پر اپنے دشمنوں کے ساتھ عفو وودرگزر کا جو رویہ دیکھنے کو ملتا ہے، وہ اس معاملے میں کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟
پہلے اشکال کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ یہ فیصلہ ان کے سرداروں نے کیا تھا، لیکن اگر سرداروں کے فیصلے کے بعد پوری قوم اس کی تائید کرے اور عہد شکنی کے عمل میں شریک ہو جائے تو پھر ساری قوم ذمہ داری ہوتی ہے، سوائے ان افراد کے جو خود کو کسی واضح عمل کے ذریعے سے اس سے الگ کر لیں۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو یہ ہدایت دی ہے کہ اگر کوئی گروہ اپنی قوم کے ساتھ مجبوراً ان کے خلاف میدان جنگ میں آ جائے لیکن عملاً لڑنے سے گریز کرے تو ایسے لوگوں کے خلاف اقدام نہ کیا جائے، بشرطیکہ وہ بھی مسلمانوں کے خلاف خلاف اقدام نہ کریں۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر وغیرہ میں مشرکین کے کیمپ کے متعدد افراد کو قتل کرنے سے اس بنیاد پر منع فرما دیا تھا کہ وہ دل سے لڑنا نہیں چاہتے، لیکن اپنی قوم کے دباؤ کے تحت میدان میں آ گئے ہیں۔ اس کے باوجود اگر بنو قریظہ کے سب بالغ افراد کو قتل کیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فیصلہ کرنے والوں کے نزدیک وہ سب عہد شکنی کے مجرم تھے۔ اگر ان میں سے کچھ افراد اپنا استثنا ثابت کر دیتے تو ان کے ساتھ یقیناًالگ معاملہ کیا جاتا۔
دوسرے سوال کے جواب میں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پیغمبر کے ساتھ محاربہ کرنے والے گروہوں کے لیے ان کے جرم کی نوعیت اور سرکشی کے لحاظ سے براہ راست عرش بریں سے سزا اور عذاب کے فیصلے بھی نازل ہو رہے تھے۔ اس سے پہلے بنو نضیر کو جب جلا وطن کیا گیا تو قرآن نے وہاں بھی یہ تنبیہ فرمائی تھی کہ ’ولولا ان کتب اللہ علیھم الجلاء لعذبھم فی الدنیا‘، یعنی اگر اللہ کی حکمت کا تقاضا نہ ہوتا کہ انھیں بس مدینہ سے جلا وطن کر دیا جائے تو وہ انھیں اس دنیا میں ہی عذاب دے سکتا تھا۔ بنو قریظہ کے معاملے میں، جرم کی سنگینی کے باعث، منشائے الٰہی یہی تھا کہ ان کا وجود صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پیغمبر نے رحم دلی سے کام لے کر انھیں معاف نہیں کیا۔ بعض جگہ معافی اور درگزر منشائے الٰہی ہوتا ہے اور بعض دفعہ عذاب کا نفاذ اور سیرت نبوی میں موقع بہ موقع ان دونوں اصولوں کی مثالیں ملتی ہیں۔ پوری سیرت میں رحم دلی کا اصول، عذاب الٰہی کے اصول کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتا، لیکن ہر ایک کا موقع اپنا اپنا ہے۔
سورۂ ہود کی آیات ۳۶ تا ۴۷ میں حضرت نوح علیہ السلام کے واقعے کے بیان میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ جب قوم پر طوفان آ گیا اور کشتی نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو لے کر چل پڑی تو اس موقع پر حضرت نوح نے اپنے ایک بیٹے کو دیکھا جو الگ تھلگ کھڑا تھا۔ آپ نے اسے اپنے ساتھ کشتی میں سوار ہونے کی دعوت دی جسے اس نے قبول نہیں کیا اور نتیجتاً غرق ہو گیا۔ نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے سامنے شکوہ پیش کیا کہ جب مجھے اپنے اہل خانہ کو کشتی میں سوار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تو پھر بیٹے کو کیوں غرق کر دیا گیا۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے انھیں تنبیہ فرمائی اور کہا کہ یہ آپ کے اہل خانہ کے ان افراد میں سے نہیں تھا جن کے لیے نجات کا وعدہ تھا۔ چنانچہ نوح علیہ السلام نے اس پر استغفار کیا اور اپنی اس شکایت پر ندامت ظاہر کی۔
مفسرین نے حضرت نوح علیہ السلام کے یوں شکوہ کناں ہونے کی متعدد توجیہات پیش کی ہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ اسے اپنا حقیقی بیٹا سمجھتے تھے، لیکن اس واقعے کے ذریعے سے اللہ نے ان پر واضح فرما دیا کہ وہ درحقیقت ان کا بیٹا نہیں، یا یہ کہ وہ ’’اہل خانہ‘‘ کو کشتی میں سوار کرنے کی اجازت سے یہ سمجھے کہ ان کے تمام افراد خانہ کے لیے نجات کا وعدہ ہے، چاہے وہ مومن ہوں یا کافر، یا یہ کہ بیٹے کو ڈوبتا دیکھ کر محض شفقت پدری کے زیر اثر انھوں نے بارگاہ الٰہی میں شکوہ پیش کر دیا۔
قرآن مجید کا یہ مقام کئی سال سے راقم کے زیر غور ہے اور ہر دفعہ پڑھنے پر مفسرین کی مذکورہ توجیہات غیر تشفی بخش محسوس ہوتی ہیں۔ طالب علمانہ غور وفکر سے ایک متبادل توجیہ سامنے آتی ہے جس پر بڑی حد تک دل جم جاتا ہے۔ چنانچہ راہ نمائی اور تنقید کے لیے اسے اہل علم کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ ان یکن صوابا فمن اللہ وان یکن خطا فمنی ومن الشیطان۔
وہ توجیہ یہ ہے کہ حضرت نوح کا مذکورہ بیٹا درحقیقت کافر اور منکر نہیں تھا، بلکہ اپنے والد پر ایمان رکھتا تھا، البتہ وہ عذاب الٰہی کے آجا نے کے بعد قوم کو چھوڑ دینے اور کشتی میں سوار ہو کر اس علاقے سے ہجرت کرنے کے لیے تیار نہیں تھا جو کہ عذاب سے نجات کی بنیادی شرائط میں سے تھا۔ نوح علیہ السلام نے اسی پہلو سے آخری وقت میں اسے اپنے ساتھ کشتی میں سوار ہونے کی دعوت دی جسے اس نے ٹھکرا دیا اور قوم کے ساتھ ہی غرقاب ہو گیا۔ چونکہ نجات کی ایک بنیادی شرط یعنی ایمان موجود تھی، اس لیے نوح علیہ السلام کو رنج ہوا اور انھوں نے اللہ کے سامنے شکوہ پیش کر دیا جس پر انھیں تنبیہ کی گئی اور گویا یہ واضح کر دیا گیا کہ ایمان کے تقاضوں پر عمل کیے بغیر اور خاص طور پر عذاب الٰہی کا فیصلہ ہو جا نے کے بعد نجات کی شرائط پوری کیے بغیر اللہ تعالیٰ کسی کے لیے نجات مقدر نہیں فرماتے۔
سیاق کلام میں اس توجیہ کے حق میں بظاہر جو قرائن ہیں، وہ حسب ذیل ہیں:
۱۔ نوح علیہ السلام پر ابتدا ہی سے یہ بات بار بار واضح کی گئی تھی کہ نجات انھی کو ملے گی جو ایمان لے آئیں گے۔ چنانچہ کشتی بنانے کے حکم کے ساتھ یہ فرمایا گیا کہ : وَلاَ تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوا إِنَّہُم مُّغْرَقُونَ (آیت ۳۷)پھر جب انھیں کشتی میں اپنے اہل خانہ اور دیگر اہل ایمان کو سوار کرنے کا حکم دیا گیا تو بھی یہ یاد دہانی کرائی گئی کہ: احْمِلْ فِیْہَا مِن کُلٍّ زَوْجَیْْنِ اثْنَیْْنِ وَأَہْلَکَ إِلاَّ مَن سَبَقَ عَلَیْْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ (آیت ۴۰)
ان واضح تصریحات کے باوجود یہ بات بعید معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کے پیغمبر محض شفقت پدری سے مغلوب ہو کر اپنے ایک کافر بیٹے کے ڈوب جانے پر اللہ کے سامنے شکوہ کناں ہونے کا جواز محسوس کریں۔
۲۔ نوح علیہ السلام نے اپنے اہل خانہ میں سے صرف اسی بیٹے کی غرقابی پر شکایت کی، حالانکہ سورۂ تحریم کی آیت ۱۰ کے بیان کے مطابق آپ کی اہلیہ بھی ایمان نہیں لائی تھیں اور اسی وجہ سے قوم کے ساتھ عذاب کا شکار ہو گئی تھیں۔ اگر نوح علیہ السلام کی شکایت کی وجہ محض اپنے بیٹے کا، اپنے ’’اہل‘‘ میں سے ہونا سمجھی جائے تو پھر اس کے ضمن میں انھیں اپنی بیوی کا (اور دیگر اولاد کا) بھی ذکر کرنا چاہیے، جبکہ قرآن کے مطابق انھوں نے صرف اپنے ایک ہی بیٹے کا ذکر کیا جس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔
۳۔ نوح علیہ السلام نے بیٹے کو طوفان کی زد میں دیکھ کر جو دعوت دی، اس کے الفاظ بھی قابل توجہ ہیں۔ آپ نے فرمایا: یَا بُنَیَّ ارْکَب مَّعَنَا وَلاَ تَکُن مَّعَ الْکَافِرِیْنَ (آیت ۴۲) یعنی ہمارے ساتھ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کافروں کا ساتھ چھوڑ دو۔ اگر بیٹا صریحاً کافر اور منکر ہوتا تو اسے دعوت ایمان دی جانی چاہیے تھی، کیونکہ اس شرط کے بغیر اسے کشتی میں سوار ہونے کی دعوت دینے کا کوئی جواز نہ تھا۔ اسی طرح ’مع الکافرین‘ کی جگہ غالباً ’من الکافرین‘ ہوتا جو زمرۂ کفار میں شامل ہونے کے مفہوم میں زیادہ صریح ہے۔ ’مع الکافرین‘ کی تعبیر سے بھی اس طرف اشارہ نکلتا ہے کہ دراصل بیٹے کو (ایمان لانے کے باوجود) عملاً کافروں کا ساتھ دینے اور ان سے اظہار براء ت کر کے اہل ایمان کا ساتھ اختیار نہ کرنے پر تنبیہ کی گئی تھی۔
واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
مستشرقین نے جب علوم اسلامیہ کا گہرائی کے ساتھ نیا نیا مطالعہ شروع کیا تو مغربی ذہن کی برتری کے نفسیاتی احساس کے ساتھ دانستہ یا نادانستہ، یہ باور نہ کر پائے کہ عرب کے صحرا سے اٹھنے والی ایک سادہ ذہن قوم انسانی تہذیب کو اتنا منظم اور اعلیٰ فکری ورثہ دے سکتی ہے۔ چنانچہ اس کی توجیہ یہ کی گئی کہ مسلمانوں نے دراصل پہلے سے موجود مختلف فکری اور قانونی نظام کو مستعار لے کر انھیں اسلامی اصطلاحات کا جامہ پہنا دیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اور علمی بحث ومباحثہ کے آگے بڑھنے سے اس طرز فکر میں کچھ تبدیلیاں بھی رونما ہوئیں، لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ کافی حد تک اس کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔ دو سال قبل مجھے لیسٹر کے مشہور جریدہ مسلم بک ریویو کی طرف سے ایک کتاب تبصرہ کے لیے بھیجی گئی۔ اپنی نالائقی اور مصروفیات کی وجہ سے تبصرہ تو لکھ کر نہ بھیج سکا، لیکن کتاب کو بہرحال اطمینان سے پڑھ لینے اور تجزیہ کرنے کا موقع مل گیا۔
یہ کتاب عراق کی ایک مسیحی مصنفہ Amal. E. Marogy کی تصنیف ہے اور Kitab Sibawayhi: Syntax and Pragmatics کے نام سے مشہور اشاعتی ادارے Brill نے شائع کی ہے۔ بنیادی موضوع یہ ہے کہ کسی بھی زبان کی گریمر کی تشکیل سے متعلق مغربی علم لسانیات میں جو جدید ترین نظریات پیش کیے گئے ہیں، ان میں بہت سے تصورات بڑی واضح شکل میں عربی علم نحو کی ام الکتاب یعنی سیبویہ کی ’’الکتاب‘‘ میں بھی ملتے ہیں۔ ان میں سے بعض اہم نظریات کا کتاب سیبویہ کے مختلف اقتباسات کی روشنی میں عملی مثالوں کی مدد سے مطالعہ کیا گیا ہے اور کام، مصنفہ کی محنت کا عکاس ہے۔
کتاب کے مقدمے میں، مصنفہ نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ بظاہر علم نحو پر اتنی جامع اور واضح تصورات پر مشتمل کتاب کا، کسی پیشگی علمی نمونے کے بغیر، ایک دم سامنے آجانا کیونکر ممکن ہے؟ اس کے جواب میں مصنفہ نے ایسے عجیب وغریب قیاسات کی مدد سے مسلمان علماء نحو کے فکری استفادہ کا تعلق عراق وغیرہ میں موجود مسیحی مدارس ومکاتب اور ان کے ہاں رائج مباحث سے جوڑا ہے کہ سچ مچ ’’ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ‘‘ کا محاورہ صادق آتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی مقامات پر کتاب سیبویہ کی عبارت کا مفہوم سمجھنے اور اس کا انگریزی ترجمہ کرنے میں بھی مصنفہ نے غلطیاں کی ہیں۔
بہرحال کتاب کافی محنت سے لکھی گئی ہے اور اگرچہ انگریزی میں ہونے اور جدید علم لسانیات کی اصطلاحات کی وجہ سے شاید مدارس عربیہ کے لیے استفادہ کافی مشکل ہو، لیکن بہرحال یہ ہمارے لیے اپنے علمی ورثے پر ایک نئے زاویے سے غور کرنے اور اس کی علمی قدر وقیمت متعین کرنے کے کئی دروازے کھولتی ہے۔ اللہ کرے، جدید لسانیات سے دلچسپی رکھنے والے کوئی ماہر نحوی عالم اس طرف متوجہ ہوں اور مسلمان علمائے نحو نے لسانیات کے میدان میں جو گہری اور عمیق تحقیقات کی ہیں، انھیں علمی سطح پر اجاگر کرنے کی سبیل پیدا ہو۔
ڈاڑھی سے متعلق ایک اشکال کا حل
مولانا مفتی محمد راشد ڈسکوی
مولانا عمار خان ناصر صاحب حفظہ اللہ کی کتاب ’’براہین‘‘ (استفسارات، داڑھی کامسئلہ، ص: ۷۰۱-۷۰۳، دارالکتاب) میں داڑھی کے حکمِ شرعی کے بارے میں ایک سوال وجواب موجود ہے، جس میں مولانا عمار خان ناصر صاحب فرماتے ہیں: ’’میری طالب علمانہ رائے میں داڑھی کو ایک امرِ فطرت کے طور پر دینی مطلوبات میں شمار کرنے کے حوالے سے استاذِ گرامی کا قولِ قدیم اَقرب الی الصواب ہے۔ البتہ اس میں داڑھی کو ’’شعار‘‘ مقرر کیے جانے کی جو بات کہی گئی ہے، اس پر یہ اِشکال ہوتا ہے‘‘۔یعنی: مسئلہ داڑھی کے بارے میں مولانا عمار خان ناصر صاحب جمہور فقہاء کرام کی طرح حکمِ شرعی ہونے کے قائل ہیں، تاہم! انہیں داڑھی کو شعار قرار دئیے جانے پر اشکال ہے، داڑھی کا شعائرِ اسلام، فطرتِ انسانی، فطرتِ اسلامی سے ہونااور داڑھی کا وجوب یا شرعی حکم ہونا قرآن وسنت سے پوری طرح واضح اور صاف ہے،چنانچہ! زیرِ نظر تحریر میں مولانا عمار خان ناصر صاحب کا اشکال حل کرنے کی ایک طالب علمانہ کوشش کی گئی ہے۔ امید ہے کہ بنظرِ انصاف اسے دیکھا جائے گا۔
ذیل میں اوّلا: مولاناعمار خان ناصر صاحب سے کیا گیا سوال اور اس کا جواب اور اس کے بعد اس کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔
سوال: میں نے غامدی صاحب کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ داڑھی کا دینی احکام سے کوئی تعلق نہیں اور داڑھی رکھنا واجب نہیں، لیکن علامہ راشدی صاحب نے اپنے خطاب میں ایک حدیث کا حوالہ دیا ہے کہ ’’مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ میں داڑھی بڑھاؤں اور مونچھوں کو گھٹاؤں۔‘‘ اس ضمن میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: دین میں داڑھی کی حیثیت کے بارے میں استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے دو قول ہیں: قولِ جدید کے مطابق یہ اُن کے نزدیک کوئی دینی نوعیت رکھنے والی چیز نہیں ، جب کہ قولِ قدیم یہ ہے کہ اسے دین کے ایک شعار اور انبیاء کی سنت کی حیثیت حاصل ہے۔ ۱۹۸۶ء میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ:
’’داڑھی نبیوں کی سنت ہے۔ ملتِ اسلامی میں یہ ایک سنتِ متواترہ کی حیثیت سے ثابت ہے۔ نبی ﷺ نے اسے اُن دس چیزوں میں شُمار کیا ہے جو آپ کے ارشاد کے مطابق اس فطرت کا تقاضہ ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور قرآن مجید نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی کرنا جائز نہیں ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: (لا تبدیل لخلق اللہ ذٰلک الدین القیم ولٰکن أکثر الناس لا یعلمون) ’’اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہے۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘
بنی آدم کی قدیم ترین روایت ہے کہ مختلف اقوام وملل اپنی شناخت کے لیے کچھ علامات مقرر کرتی ہیں۔ یہ علامات اُن کے لیے ہمیشہ قابلِ احترام ہوتی ہیں۔ زندہ قومیں اپنی کسی علامت کو ترک کر تی ہیں، نہ اس کی اہانت گوارا کرتی ہیں۔ اس زمانے میں جھنڈے اور ترانے اور اس طرح کی دوسری چیزوں کو ہر قوم میں یہی حیثیت حاصل ہے، دین کی بنیاد پر جو ملت وجود میں آتی ہے، اس کی علامات میں سے ایک یہ داڑھی ہے۔ نبی ﷺ نے جن دس چیزوں کو فطرت میں سے قرار دیا ہے، ان میں سے ایک ختنہ بھی ہے۔ ختنہ ملتِ ابراہیمی کی علامت یا شعار ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ داڑھی کی حیثیت بھی اس ملت کے شعار کی ہے، چنانچہ کوئی شخص اگر داڑھی نہیں رکھتا تو گویا وہ اپنے اس عمل سے اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ وہ ملتِ اسلامی میں شامل نہیں ہے۔ اس زمانے میں کوئی شخص اگر اس ملک کے عَلَم اور ترانے کو غیر ضروری قرار دے تو ہمارے یہ دانش ور امید نہیں ہے کہ اُسے یہاں جینے کی اجازت دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔ لیکن اسے کیا کیجیے کہ دین کے ایک شعار سے بے پروائی اور بعض مواقع پر اس کی اہانت اب ان لوگوں کا شعار بن چکا ہے۔ ہمیں ان کے مقابلے میں بہر حال اپنے شعار پر قائم رہنا چاہیے۔‘‘ (اشراق، ستمبر: ۱۹۸۶ء)
میری طالب علمانہ رائے میں داڑھی کو ایک امرِ فطرت کے طور پر دینی مطلوبات میں شمار کرنے کے حوالے سے استاذِ گرامی کا قولِ قدیم اَقرب الی الصواب ہے۔ البتہ اس میں داڑھی کو ’’شعار‘‘ مقرر کیے جانے کی جو بات کہی گئی ہے، اس پر یہ اِشکال ہوتا ہے کہ روایات کے مطابق صحابہ کرام وتابعین کے عہدمیں بعض مقدمات میں مجرم کی تذلیل کے لیے سزا کے طور پر اس کی داڑھی مونڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس نوعیت کے فیصلے سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سعد بن ابراہیم اور عمرو بن شعیب سے منقول ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم الحدیث: ۳۳۵۲۸۔ اخبار القضاۃ لوکیع: ۱/۱۵۹)اگر یہ حضرات داڑھی کو کوئی باقاعدہ شعار سمجھتے تو یقیناًمذکورہ فیصلہ نہ کرتے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے: کسی علاقے کے مسلمان اجتماعی طور پر کوئی جرم کریں اور سزا کے طور پر ان کی کسی مسجد کو منہدم کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہو گا۔ اسی طرح داڑھی کو دینی شعار سمجھتے ہوئے اسے تعزیراً مونڈ دینے کا فیصلہ بھی ناقابلِ فہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے فقہاء کے ہاں عام طور پر یہی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تعزیر کے طور پر کسی مسلمان کی داڑھی نہیں مونڈی جا سکتی۔ واللہ اعلم۔‘‘ (براہین، استفسارات، داڑھی کامسئلہ، ص: ۷۰۱-۷۰۳، دارالکتاب)
جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے داڑھی سے متعلق خیالات پر تو کسی اور مجلس میں روشنی ڈالیں گے، فی الحال تو جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب کے مذکورہ جواب کا جائزہ لینا پیش نظر ہے۔ مولاناعمار خان ناصر صاحب کے وسعت مطالعہ کی گواہی شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب زید مجدہ کے قلم سے سامنے آ چکنے کے بعد مذکورہ جواب کو دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اعتراض کسی جگہ مولاناعمار خان ناصر صاحب کی نظر سے گذرا ہو گا، وہاں سے ہی بلا تحقیق ، اصل کی طرف مراجعت کیے بغیر ہی نقل کر دیا، اس لیے کہ ’’المصنف ‘‘ میں موجود اس اثر پر ’’شیخ عوامہ ‘‘کی تحقیق پر ہی ایک نظر ڈال لینا جناب عمار خان ناصر صاحب کے اِشکال کا قلع قمع کر دیتا ہے تو پھر ایک اہم ترین امرِ شرعی سے متعلق تشکیک پیدا کرنے والے انداز تحریر کو اپنانا کسی طرح بھی مناسب معلوم نہیں ہوتا،اس لیے کہ کسی بھی بات کا کسی اثر یا حدیث میں محض موجود ہونا، مسئلہ شرعی کے اثبات کا ذریعہ نہیں بن سکتا ہے۔ اِس کے لیے اُس اثر یا حدیث کی اِسنادی حیثیت، اُس کے ناسخ ومنسوخ، راجح ومرجوح یا شاذ ومنکر وغیرہ دیکھنے کی بہت بڑی حیثیت ہے۔
دینیات کا ایک مبتدی طالب علم ، یا منتہی (جو از خود تحقیق وغیرہ سے دور محض شخصیات پر ہی اعتماد کا عادی ہو) یا عصری علوم وفنون سے متعلق کوئی فرد اس جواب اور بالخصوص خط کشیدہ تعبیرات (اس پر یہ اِشکال ہوتا ہے کہ روایات کے مطابق صحابہ کرام وتابعین کے عہدمیں بعض مقدمات میں مجرم کی تذلیل کے لیے سزا کے طور پر اس کی داڑھی مونڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس نوعیت کے فیصلے سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سعد بن ابراہیم اور عمرو بن شعیب سے منقول ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم: ۳۳۵۲۸۔ اخبار القضاۃ لوکیع: ۱/۱۵۹)اگر یہ حضرات داڑھی کو کوئی باقاعدہ شعار سمجھتے تو یقیناًمذکورہ فیصلہ نہ کرتے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح داڑھی کو دینی شعار سمجھتے ہوئے اسے تعزیراً مونڈ دینے کا فیصلہ بھی ناقابلِ فہم ہے۔) کو پڑھے گا، تو داڑھی سے متعلق اُس کا ذہن سلامت نہیں رہے گا، بلکہ وہ ذہنی طور پر اس مسئلہ داڑھی سے متعلق متزلزل ہو کر دوسروں کے سامنے یہ مسئلہ کھل کر واضح طور بیان بھی نہیں کر سکے گا، اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ خطرہ ہو گا کہ کہیں وہ خود بھی اس امر شرعی کا تارک ہی نہ ہو جائے۔
مذکورہ تمہید کے بعد آئیے دیکھتے ہیں کہ ایسا فیصلہ کرنے والے حضرات کون کون ہیں ، اُن کے یہ فیصلے ایک بار ہوئے یا متعدد بار، ان فیصلوں کی سند یا مأخذ کیا ہے؟
مجرم کی تذلیل کے لیے سزا کے طور پر اس کی داڑھی مونڈ دینے کے فیصلہ سے متعلق ایک اثر ’’المصنف لابن ابی شیبہ‘‘ میں دو مقامات پر حضرت عمرو بن شعیب سے منقول ہے: ایک کتاب الحدود میں اور دوسرا کتاب السیر میں ، دونوں جگہ سند ایک ہی ہے۔ مکمل اثر ملاحظہ فرمائیں:
حدثنا عبد الوھاب الثقفي، عن المثنی، عن عمرو بن شعیب قال: إذا وُجِد الغلول عند الرجل أُخذ وجُلد ماءۃ وحُلق رأسُہ ولِحیتُہ، وأُخذ ما کان في رِحلہ من شیئ إلا الحیوان، وأُحرق رحلُہ، ولم یأخذ سھما في المسلمین أبدا، قال: وبلغني أنّ أبا بکر وعمر کانا یفعلانہ‘‘۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ، کتاب الحدود، باب في الرجل یؤخذ وقد غل، رقم الحدیث: ۲۹۲۷۹، ۱۴/۵۰۴، ۵۰۵، وکذا في کتاب السیر، الرجل یوجد عندہ الغلول، رقم الحدیث: ۳۴۲۲۵، ۱۸/۱۶۶،۱۶۷، إدارۃ القرآن بکراتشي)
اسی اثر کو علامہ سیوطیؒ نے ’’جمع الجوامع‘‘ میں اور علامہ علی متقی الھندی ؒ نے ’’کنز العمال‘‘ میں ’’المصنف ‘‘کے ہی حوالے سے نقل کیا ہے، ملاحظہ ہو:
(جمع الجوامع، مسند أبي بکر الصدیق رضي اللہ عنہ، رقم الحدیث: ۸۴۱، ۱۱/ ۱۶۹، دار الکتب العلمیۃ)
(کنز العمال، کتاب الجہاد، باب الغلول، رقم الحدیث: ۱۱۵۹۳، ۴/ ۲۳۱، دار الکتب العلمیۃ)
مذکورہ اثر سے تعزیراً حلقِ لحیہ کے اثبات پر استدلال کرنا بوجوہ درست نہیں ہے:
(۱) مذکورہ اثر کی سند میں ایک راوی ’’المثنیٰ‘‘ ہیں،ان کا پورا نام ’’المثنیٰ بن الصباح الیمانی‘‘ ہے، یہ اکثر ائمۂ رجال (امام احمد بن حنبل، یحیٰ بن معین، امام ترمذی، امام نسائی، ابن عدی، امام دارقطنی، الجوزجانی رحمہم اللہ وغیرہ )کی تصریحات کے مطابق ضعیف راوی ہیں، (کتبِ رجال میں ان کے بارے میں ’’لا یسوی حدیثہ شیئا، مضطرب الحدیث، لیس بثقۃ، متروک الحدیث، ضعیف اختلط بأخرۃ، والضعف علیٰ حدیثہ بیّن، لیّن الحدیث‘‘، جیسے اقوالِ جرح منقول ہیں)چنانچہ! تعزیراً حلقِ لحیہ کا حکم مذکورہ اثر سے ثابت نہیں ہو گا۔ (ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال، رقم الترجمہ: ۵۷۷۳، ۲۷/۲۰۳، الجرح والتعدیل، رقم الترجمہ: ۱۴۰۴، الکامل لابن عدي: ۳/ ۱۵۰، الکاشف، رقم الترجمہ: ۵۲۸۰، ۴/ ۲۴۰، تقریب التہذیب، رقم الترجمہ: ۶۴۷۱، ص: ۵۱۹)
(۲) مذکورہ اثر کے راوی ’’حضرت عمرو بن شعیب‘‘ ہیں، یہ صحابئ رسول نہیں ہیں، اور ان کے تابعی ہونے میں بھی ائمۂ رجال کا اختلاف ہے، امام دارقطنیؒ نے ان کے تابعی ہونے کا انکار کیا ہے، البتہ امام مزیؒ نے انہیں تابعین میں شمار کیا ہے، کہ ان کا دو صحابیات (ربیع بنت معوذ بن عفراء اور زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما) سے سماع ثابت ہے، لہٰذا امام مزیؒ کی تصریح کے مطابق ان کا تابعی ہونا ثابت ہو تو بھی ان کا شمار صغار تابعین میں ہو گا۔ (تہذیب الکمال، ترجمہ: عمرو بن شعیب، رقم: ۴۹۶۹، ۱۴/ ۲۴۴، دار الفکر)لہٰذا ان کی ذکر کردہ روایت کا درجہ مرفوع روایات کے برابر نہیں ہو گا،بالخصوص جب کہ راویِ حدیث غلول (یعنی: خیانت )کی سزا میں (’’حلقِ لحیہ‘‘ کی) ایسی زیادتی ثابت کر رہا ہو، جو مذکورہ حدیث کے علاوہ اس موضوع کی دیگر روایات میں نہیں پائی جاتی۔
(۳) علاوہ ازیں مذکورہ اثر میں منقول الفاظ (کانا یفعلانہ) سے اس عمل کی مداومت معلوم ہوتی ہے، جو کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔ اس حال میں کہ یہ امر (حلقِ لحیہ) سوائے اس اثر کے جو ’’المصنف لابن ابی شیبہ ‘‘میں موجود ہے، کہیں بھی اصحابِ سنن و اربابِ روایات سے نقل نہیں کیا گیا، اور اس پر مستزاد یہ کہ اس اثر کے دوسرے اجزاء میں سے ’’احراق متاعِ الغالّ‘‘ پر بھی فقہاءِ احناف اور دیگر کبار محدثین کرام رحمہم اللہ نے تنقیدی وتحقیقی کلام کر کے غیر معتبر اور ناقابلِ عمل قرار دیا ہے،چنانچہ! جس حدیث میں خیانت کرنے والے کے سامان کو جلا دینے کا حکم منقول ہے، اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے امام ترمذی، امام بخاری، امام دارقطنی، امام محمد، علامہ سرخسی ، حافظ ابن حجر اور ملا علی قاری وغیرہ رحمہم اللہ نے اسے ناقابلِ استدلال اور شاذ قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: نیل الاوطار، کتاب الجہاد والسیر، باب: التشدید في الغلول، تحریق رحل الغالّ، رقم الحدیث: ۳۴۱۳، ۳۴۱۴، ۷/ ۳۵۲۔عون المعبود، کتاب الجہاد، باب: في عقوبۃ الغلول: رقم الحدیث: ۲۷۱۳، ۷/۲۷۳۔ تحفۃ الأحوذی، ابواب الحدود، باب: ما جاء في الغال ما یصنع بہٖ، رقم الحدیث: ۱۴۶۱، ۵/۲۴۔ شرح کتاب السیر الکبیر، ما جاء في الغلول، ۴/۵۹، ۶۰۔ فتح الباری،کتاب الجہاد والسیر، باب: القلیل من الغلول، رقم الحدیث: ۳۰۷۴، ۶/ ۲۳۰۔ مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجہاد، باب: قسمۃ الغنائم والغلول فیھا، رقم الحدیث: ۳۹۹۷، ۱۲/ ۱۹۷) چنانچہ! جس طرح جمہور ائمہ کرام رحمہم اللہ کے نزدیک خیانت کرنے والے کے سامان کو تعزیراً جلا دینا قابلِ قبول نہیں، اسی طرح تعزیراً اس کی داڑھی کو مونڈ دینا بھی قابلِ قبول نہیں ہو گا۔
واضح رہے اس حدیث پر امام احمد، اوزاعی اور حسن رحمہم اللہ کا عمل بھی ہے، اس کے باوجود اس پر بے شمار ائمہ کا کلام ہے تو اس کے برعکس جس اثر کو نہ کسی نے نقل کیا اور نہ ہی اس پر کسی کا عمل رہا، اس کا کیا حال ہو گا؟!
(۴) مذکورہ اثر ؛ انقطاع کی وجہ سے بھی ضعیف ہے، وہ اس طرح کہ حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کی طرف نسبت کرتے ہوئے ذکر کیا: ’’وبلغني أنّ أبا بکر وعمر کانا یفعلانہ‘‘ (یعنی: حضرت عمرو بن شعیب فرما رہے ہیں کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے۔) حالانکہ ! ان کا حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما سے سماع تو درکنار، رؤیت بھی ثابت نہیں ہے اور حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ کے علاوہ کسی سے بھی حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کا یہ عمل منقول نہیں ہے، شیخ عوامہ ’’المصنف ‘‘کی تعلیقات میں مذکورہ اثر کے تحت لکھتے ہیں: ’’ونسبۃ عمرو بن شعیب ھٰذا الفعل إلی أبي بکر وعمر ضعیفۃ السند أیضاً، للانقطاع بینہ وبینھما‘‘.(المصنف لابن أبي شیبۃ، کتاب الحدود، باب في الرجل یؤخذ وقد غل، رقم الحدیث: ۲۹۲۷۹، ۱۴/۵۰۴) لہٰذا اس جہت سے بھی اس اثر کا غیر مقبول ہونا ثابت ہو رہا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ مذکورہ اثر کی حیثیت ایسی نہیں ہے کہ اس سے استدلال کرتے ہوئے داڑھی کے شعار ہونے کی نفی کی جائے، یہ استدلال درست اور قابلِ تسلیم نہیں ہے۔
مذکورہ اثر کی اسنادی حیثیت واضح ہو جانے کے بعد جناب عمار خان صاحب کے اس جملے کہ ’’اس نوعیت کے فیصلے سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سعد بن ابراہیم اور عمرو بن شعیب سے منقول ہیں۔‘‘ پر بھی غور کر لیا جائے کہ مذکورہ اثر کے صحیح ہونے کی صورت میں اِسے لفظِ ’’فیصلے‘‘ کی بجائے لفظِ ’’فیصلہ‘‘ سے تعبیر کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
نیز اس فیصلہ کا صدور (قطع نظر اس بات کے کہ اس کی حیثیت کیسی ہے) اس اثر کے مطابق حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما سے ہوا یا عمار خان صاحب کے ذکر کردہ چار اَفراد سے؟ مذکورہ اثر میں تو صرف حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کا ذکر ہے، ثانی الذکر دو افرادکے فیصلوں کا ذکر ہمیں نہیں ملا، اگر وہ بھی سامنے آ جائے تو ان کی اسنادی حیثیت پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں! مذکور الذکر چار افراد میں سے ’’عمرو بن شعیب ‘‘فیصلے کو نقل کرنے والے راوی ہیں(جیسا کہ المصنف کی روایت سے معلوم ہو رہا ہے) یا خود فیصلہ کرنے والے (جیسا کہ عمار خان ناصر صاحب کی تحریر سے معلوم ہو رہا ہے)؟ یہ قضیہ بھی حل طلب ہے۔
آخر میں جناب عمار خان صاحب کا یہ نتیجہ نکالنا کہ ’’اگر یہ حضرات داڑھی کو کوئی باقاعدہ شعار سمجھتے تو یقیناًمذکورہ فیصلہ نہ کرتے۔ ‘‘ اور اپنے اس نتیجے کی دلیل کے لیے ایک عقلی نظیر (اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے: کسی علاقے کے مسلمان اجتماعی طور پر کوئی جرم کریں اور سزا کے طور پر ان کی کسی مسجد کو منہدم کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہو گا۔ )پیش کرنا بھی درست نہیں ، اس لیے کہ مسجد کے شعار ہونے میں اور داڑھی کے شعار ہونے میں فرق ہے، وہ اس طرح کہ اول الذکر کا تعلق مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور اجتماعی مفاد سے ہے، اس لیے کسی جرم کی بنا پر اس کو منہدم کرنا یقیناًجائز نہیں ہو گا، لیکن اس کے برخلاف داڑھی کا تعلق ایک شخصی زندگی سے ہے ، لہٰذا بر تقدیر صحتِ اثر اگر داڑھی کا حلق کیا بھی گیا تو تعزیر کے مقاصد کے عین مطابق ہے، کیوں کہ تعزیر سے مقصود زجر ہوتا ہے، جس کا (ایک ایسے معاشرے میں جہاں کوئی بھی داڑھی منڈا نہیں ہوتا تھا، لہٰذا وہاں حلقِ لحیہ کی صورت میں بدرجہ اتم )حاصل ہو جانا عین قرینِ قیاس ہے۔
اور بالفرض جناب عمار خان ناصر صاحب کے قضیے کے مطابق مسجد کے شعار ہونے اور داڑھی کے شعار ہونے میں کوئی فرق نہ بھی ہو تو بھی عمار خان ناصر صاحب کا یہ کہنا ’’ کسی علاقے کے مسلمان اجتماعی طور پر کوئی جرم کریں اور سزا کے طور پر ان کی کسی مسجد کو منہدم کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہو گا۔ ‘‘ٹھیک نہیں ہو گا، اس لیے کہ جب کسی مسجد کی بنیاد شر وفتنہ کے لیے رکھی گئی ہو تو اسے منہدم کر دینا جائز ہے، جیسا کہ مسجدِ ضرار کو جناب رسول اکرم ﷺ نے منہدم کروا دیاتھا۔
الغرض! اگر تعزیراً حلقِ لحیہ ثابت بھی ہو تو اس سے داڑھی کا عدمِ شعار ہوناثابت نہیں ہوتا۔ اللہم أرنا الحق حقاً، وألھمنا اتباعہ، وأرنا الباطل باطلًا، وألھمنا اجتنابہ.
مکاتیب
ادارہ
(۱)
عزیز گرامی عمار خان ناصر، مدیر ’’الشریعہ‘‘
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گزارش ہے کہ غامدی صاحب کے تصور حدیث وسنت کے عنوان سے آپ کے والد گرامی حفظہ اللہ کے جو دو مضمون الشریعہ میں چھپے تھے، جس کے جواب میں غامدی صاحب نے ایک وضاحتی مضمون تحریر کیا تھا جو الشریعہ ہی میں چھپا ہے، اس میں غامدی صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ:
’’اس بارے میں میرے اور ائمہ سلف کے موقف میں سرمو فرق نہیں ہے۔‘‘
راقم کے خیال میں موصوف کا یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے۔ ان کے اور ائمہ سلف کے موقف میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اسی دعوے کے تناظر میں راقم نے غامدی صاحب کے نظریات پر نقد ومحاکمہ کیا ہے۔ غامدی صاحب کا محولہ دعویٰ بھی ’’الشریعہ‘‘ میں چھپا ہے، اس لیے اصولی طور پر اس پر نقد ومحاکمہ والا مضمون بھی اسی میں چھپنا چاہیے۔ علاوہ ازیں مذہبی رسائل میں ’’الشریعہ‘‘ ہی وہ واحد پرچہ ہے جس کے مباحثہ ومکالمہ والے حصے میں مختلف آراء رکھنے والوں کے مضامین کو احقاق حق کے نقطہ نظر سے شائع کیا جاتا ہے۔ اس لیے راقم کی بجا طور پر یہ خواہش ہے کہ راقم کا یہ مضمون قسط وار ’’الشریعہ‘‘ ہی میں چھپے۔ اس کا جواب بھی بلاشبہ آپ شائع کریں، لیکن جواب کسی نمبر ۲ کا نہ ہو، خود غامدی صاحب کا ہو۔ مضمون قدرے طویل ہے، ۱۰۰ صفحات سے زیادہ۔
جواب آنے پر مضمون ارسال کردیا جائے گا۔ ان شاء اللہ
صلاح الدین یوسف
گڑھی شاہو۔ لاہور
(۲)
گرامی قدر جناب مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب زید مجدہم
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
والد گرامی کے بدست آپ کا عنایت نامہ موصول ہوا تھا۔ جواب میں چند دن کی تاخیر ہوئی جس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔
غامدی صاحب کے موقف پر اپنا نقد ضرور ارسال فرما دیں۔ مضمون کی طوالت بعض پہلووں سے قارئین کے لیے مشکل کا باعث ہوگی، کیونکہ زیادہ اقساط کی صورت میں بحث کا سرا تلاش کرنا شاید عام قارئین کے لیے ممکن نہیں ہوتا، اس لیے اگر اہم نکات کی تلخیص ہو جائے جو دو تین اقساط میں مکمل ہو سکے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ بہرحال یہ آپ کی صواب دید ہے۔ اگر آپ مفصل صورت میں ہی اشاعت ضروری تصور کرتے ہیں تو ایسا ہی کیا جائے گا، ان شاء اللہ۔
جہاں تک جوابی موقف کے، خود غامدی صاحب کے تحریر کردہ ہونے کی شرط کا تعلق ہے تو بطور مدیر ہم ایسی کوئی پابندی کسی بھی فریق بحث پر عائد نہیں کر سکتے۔ جب بحث چھیڑی جاتی ہے تو کوئی بھی صاحب قلم اس میں حصہ لے سکتا ہے، البتہ اسے قبول کرنا یا نہ کرنا اور وزن دینا یا نہ دینا آپ کا حق ہے۔
نیک دعاؤں میں یاد فرمائیے۔ والسلام
محمد عمار خان ناصر
(۳)
عزیز گرامی جناب عمار خان ناصر سلمک اللہ تعالیٰ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا مکتوب گرامی موصول ہوا۔ یہ امر باعث مسرت ہے کہ آپ نے اس مقالے کی اشاعت کو منظور فرما لیا ہے۔ جزاک اللہ احسن الجزاء۔
اس سلسلے میں چند مزید گزارشات پیش خدمت ہیں۔ امید ہے آپ ان کوبھی ضرور ملحوظ رکھیں گے۔
۱۔ اختصار اگر ممکن ہوتا تو ایسا کیا جا سکتا تھا، لیکن یہ ممکن نہیں ہے۔ اس لیے جتنے بھی صفحات آپ ہر ماہ اس کے لیے مختص کر سکتے ہیں، اسے قسط وار شائع فرما دیں۔ تاہم درمیان میں تعطل نہ ہو۔
۲۔ مضمون میں آپ کو متعدد جگہ تکرار بھی محسوس ہوگی۔ اسے آپ مولویوں والی سلیقہ گفتار کی کمی سمجھ لیں کیونکہ اس کا قلم کار بھی بہرحال فرزند تہذیب نہیں، ابلہ مسجد ہی ہے۔ راقم کے خیال میں یہ تکرار بھی ناگزیر ہے۔ بنا بریں گرانی طبع کے باوجود آپ اسے برداشت کر لیں تو مزید احسان ہوگا کہ اس تکرار میں بہتوں کا بھلا ہے۔ ان شاء اللہ
۳۔ یہ تنقیدی مضمون ہے، مدحت نگاری نہیں ہے۔ تنقید اور مدحت دونوں کا اسلوب اور لب ولہجہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ جن صاحب کے افکار وخیالات کو نقد ونظر کا موضوع بنایا گیا ہے، وہ آپ کے استاذ بھی ہیں اور ممدوح بھی اور اس پر مستزاد ان کے افکار سے متاثر اور ان کے وکیل صفائی بھی۔ اس لیے اگرچہ حتی الامکان حد ادب کو ملحوظ رکھا گیا ہے، تاہم بعض جگہ آپ اس میں کچھ تجاوز بھی محسوس کریں تو آپ سے گزارش ہے کہ آپ اسے بھی گوارا کریں کہ: زہر بھی کرتا ہے کبھی کار تریاقی۔
۴۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ غامدی صاحب کا موقف جیسا کچھ ہے، اس کی حیثیت ایک علمی اختلاف کی قطعاً نہیں ہے بلکہ وہ مسلمات اسلامیہ کے منکر ہیں اور ائمہ سلف کے موقف سے یکسر مختلف اور منحرف۔ اور اس پر دعویٰ یہ ہے کہ ان کے اور ائمہ سلف کے موقف میں سرمو فرق نہیں ہے، صرف الفاظ کا فرق ہے یا اصطلاحات کا۔
ائمہ سلف کے منہج وفکر کو سمجھنے والا اتنے بڑے جھوٹ اور ادعا کو کس طرح ہضم کر سکتا ہے؟ یہ قطعاً ناممکن ہے، اس لیے اس کے جذبات کا ارتعاش میں آنا ایک فطری امر ہے۔ اس لیے کہیں کہیں لب ولہجہ کی تندی ایک صحیح الفکر مسلمان کے جذبات کی آئینہ دار ہے، بالخصوص جب کہ اس کی صدائے احتجاج ہی فکر ونظر کی نامسلمانی کے خلاف ہو۔
والد گرامی قدر حفظہ اللہ کی خدمت میں نیاز مندانہ سلام۔
(حافظ) صلاح الدین یوسف
مدیر شعبہ تحقیق وتالیف، دار السلام لاہور
(۴)
الشریعہ ،نومبر ۲۰۱۴ء کے مکاتیب میں جناب مولانا زاہدالراشدی کے لیے جناب مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کا یہ ارشاد دیکھ کر کہ ’’اوج صاحب قابل توجہ ہی نہ تھے جبکہ آپ کی تحریر سے پتہ چلا کہ وہ تو بڑی ذی علم ہستی تھی‘‘ راقم کی توجہ ادھر ادھر بھٹکنے لگی اور ایک ایسی وادی میں جا نکلی جو بڑی ہی حساس، پر خطر اور پْر خار ہے اور وہ ہے ’’اکابرین‘‘ سے اختلاف اور ان کی جناب میں لب کشائی کی وادی۔ خیر! میں اس وادی پر خار میں آنے والا پہلا آبلہ پا بھی نہیں اور اس وادی میں کانٹوں کی زبان اب اتنی سوکھی ہوئی بھی نہیں رہی۔
میرے ذہن سے کئی دنوں سے یہ خیال چپکا ہوا ہے کہ لوگوں کو قابلِ توجہ یا ناقابلِ توجہ ٹھہرانے سے متعلق ہمارے پیمانے کتنے عجیب ہیں !اکابر کا قصیدہ خواں ہو، اکابر سے منسوب کسی دارالعلوم کا مہتمم ہو، اپنے رسائل و جرائد میں اکابر کے ارشادات پر آمنا و صدقنا کہنے اور ان کو وحی آسمانی کی طرح quote کرنے والا ہو تو چاہے علمی دنیا میں کتنا ہی ناکردہ کار ہو، نہ صرف قابلِ توجہ ہے بلکہ خود اکابرین کی فہرست میں شامل ہونے کے لائق ہے، لیکن جس میں یہ ’’ اہلیت‘‘ نہیں، وہ کتنی ہی محنت کردے ،کتنی جان جوکھوں میں ڈال لے، قرآن و سنت اور سیرتِ پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر کتنا ہی تدبر کرکے کتنے ہی گوہر ہائے معانی نکال لائے، یکسر ناقابلِ توجہ ہے۔
اگر کسی صاحبِ جبہ و دستار کے سینکڑوں ہزاروں شاگرد ہوں تو خواہ حضرت نے تحقیق کی وادی میں قدم تک نہ رکھا ہو، شاگردوں کی عصبیت ہی اسے تاقیامت زندہ اور قابل توجہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔لیکن جو کسی دارالعلوم کی ملکیت اور بڑی پگڑی کی اہلیت سے محروم ہو، اس کے سینکڑوں ہزاروں شاگرد بھی ہوں اور وہ بساط بھر دادِ تحقیق بھی دیتا رہا ہو، ہرگز قابلِ توجہ نہیں۔ دراصل مسئلہ اس نفسیات کا ہے جو مخصوص حلقہ تعلیم و تدریس اور درس و مدرسے کی فضا سے باہر نہ کسی کو استاد ماننے کو تیار ہے نہ شاگرد اور نہ دین کا محقق و طالب علم۔مولانا زاہدالراشدی نے اس نفسیات کا تجزیہ کرتے اور اس کے شکار اربابِ مدرسہ کو اصلاحِ احوال کی دعوت دیتے ہوئے خوب لکھا تھا کہ :
’’بد قسمتی سے ہم نے ایک بات کم وبیش حتمی سمجھ رکھی ہے کہ ہمارے روایتی حلقوں سے ہٹ کر کوئی بھی شخص یا ادارہ کوئی علمی یا دینی بات کرتا ہے تو وہ یقیناًگمراہی پھیلاتا ہے اور ہم نے اسے بہرحال مخالف کیمپ میں ہی دھکیلنا ہے۔۔۔ یہ انتہائی پریشان کن صورت حال ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ہمیں اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے، غیر روایتی علمی حلقوں کے حوالے سے ترجیحات قائم کرنی چاہییں اور جہاں افہام وتفہیم سے کام لینا ممکن ہو، اسے موہوم گمراہی کی نذر کر دینے کے بجائے قابلِ قبول غیر روایتی حلقوں سے استفادہ کی صورتیں نکالنی چاہییں۔‘‘
’’تحقیق ومطالعہ کا جدید اسلوب، طریق کار، ذرائع اور بین الاقوامی سطح کے علمی وتحقیقی اداروں کے کام اور طرز سے استفادہ دینی مدارس کے نزدیک ابھی تک شجرِ ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی وجہ صرف بین الاقوامی زبانوں سے ناواقفیت نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ ذہنی اور نفسیاتی کیفیت بھی اس کا باعث ہے کہ ہمیں دنیا کے دیگر تمام حلقوں پر علمی اور فکری برتری حاصل ہے اور ہمیں کسی دوسرے حلقہ کے علمی کام سے واقف ہونے اور اس سے استفادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’دینی مدارس میں عالم اسلام کے علمی حلقوں کی تحقیقات، دوسرے مسالک کے علمی کام اور غیر روایتی علمی مراکز کی تحقیقی مساعی سے استفادہ کو اپنی نفسیاتی برتری کے منافی تصور کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ بْعد اور فاصلہ قائم رکھنے کو بھی تحفظاتی حکمت عملی کا ایک ناگزیر حصہ بنا لیا گیا ہے۔‘‘
ستم ظریفی دیکھیے کہ وہ لوگ قابلِ توجہ ہیں جن کے افکار کا مطالعہ تحصیلِ حاصل سے زیادہ اہمیت نہ رکھتا ہو اور وہ ناقابلِ توجہ جنہوں نے قرآن و سنت میں تدبر کر کے دلیل کی بنیاد پر مختلف رائے اختیار کی ہو، حالانکہ فی الواقع قابلِ توجہ تو موخر الذکر ہیں۔ فرض کریں تحقیق کا ذوق آشنا ایک شخص نہ اوج صاحب سے نام کو واقف ہے اور نہ مولانا سنبھلی سے۔ اس کے سامنے ان دونوں کے جملہ افکار باندیوں سے متعلق ان کے مضامین ہیں ،جن میں سے مولانا سنبھلی کے مضمون میں یہ کہا گیا ہے کہ باندیوں سے بلا نکاح تمتع کا سلسلہ طلوعِ اسلام کے بعد بھی جاری رہا اور رہ سکتا ہے، اور یہ قرآنی تعلیمات کے عین مطابق ہے ،اور اوج صاحب کے مضمون میں کہا گیا ہے کہ زن و شو کا تعلق ملکیت کی بنیاد پر درست نہیں، ملکِ یمین سے مراد فقط وہ عورتیں ہیں جن کو قبل از اسلام غلامی وراثت میں ملی تھی، اور دونوں اپنے اپنے موقف کے حق میں کتاب وسنت سے دلائل پیش کرتے ہیں ،تو اس کے نزدیک غور وفکر کو مہمیز دینے کے پہلو سے کون زیادہ قابلِ توجہ ہو گا؟ ظاہر ہے کہ موخر الذکر، اس لیے کہ اول الذکر نے جو بات کہی ہے، وہ ان کا حاصلِ مطالعہ وتدبر نہیں ،بیسیوں لوگ ان سے پہلے یہ بات کہہ چکے ہیں۔
قرآن و سنت کی دلیل کی بنیاد پرکہی گئی بات ناقابلِ توجہ کیسے ہو سکتی ہے! اوج صاحب کا استدلا ل ہے کہ جنگی قیدیوں کو غلام، جانور اور لونڈی بنانا قرآن حکیم کی تعلیمات سے میل نہیں کھاتا۔ یہ ارشاد خداوندی فَاِمَّا مَنَّا بَعدُ وَ اِمَّا فِدَآءًا کے خلاف ہے۔وہ قرآن کی متعدد آیات کا حوالہ دے کر واضح کرتے ہیں کہ لونڈیوں سے تمتع نہیں، نکاح چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ وَالمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ میں ملکِ یمین سے مراد ملک نکاح ہے، نہ کہ وہ عورتیں جو جنگ میں قید ہو کر ملکِ یمین ہو جائیں۔ قرآن کریم کے مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ کا تعلق ماضی کی باندیوں سے ہے، اسی لیے ہمیشہ اس ضمن میں صیغہ ماضی استعمال کیا گیا ہے۔ اس اسلوب سے قرآن نے موروثی غلامی کو ختم کیا ہے، نہ کہ اسے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔اگر محض ملکیت کی بنا پر مباشرت کا حق تسلیم کر لیا جائے تو مالک ہی نہیں، مالکہ کو بھی یہ حق دینا پڑے گا۔اوج صاحب کے مطابق یہ بات تاریخی حقائق کے خلاف ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ماریہ قبطیہ سے تمتع کیا۔حقیقت یہ ہے کہ وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد آپ کے نکاح میں آئی تھیں، جیسا کہ آپ نے ریحانہ، بریرہ اور صفیہ رضی اللہ عنہن کو آزاد کر کے ان سے نکاح کیا تھا۔
اوج صاحب کے اس استدلال سے اختلاف ہو سکتا ہے اور اسے دلیل کی بنیاد پر رد بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس بات سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے مقدمے کو کتاب و سنت کے دلائل پر استوار کیا ہے۔کتاب و سنت کے دلائل کی بنیاد پر کہی گئی منفرد بات تردید کے لیے ہی سہی، کم از کم قابل توجہ تو مانی جانی چاہیے۔ اگر کسی ایک مسئلے یا چند مسائل میں کسی کی منفرد رائے اسے نا قابلِ توجہ اور نا اہل ثابت کر دیتی ہے تو سلف میں کوئی ایک عالم بھی اہل اور قابل توجہ نہیں بچتا۔ ذرا کسی ایک نمایاں عالم کو نام تو لیجیے جس نے کسی بھی معاملے میں جمہور سے ہٹ کر رائے اختیار نہ کی ہو! علما کے تفردات ایک مسلمہ ہیں۔ لیکن کیا کیجیے کہ اس حقیقت کے باوجود کسی کے نئے یا شاذ نوعیت کے حاصل تدبر کو اجماعی موقف سے انحراف قرار دے کر یکسر ناقابل اعتنا قرار دے دیا جاتا ہے۔یہ اجماعی موقف ایک ایسا ’’ہوا ‘‘ ہے جس کے ذریعے لوگوں کو غور و تدبر سے ڈرایا جاتا اور ابوابِ فکر پر پہرہ بٹھا یا جاتا ہے۔ یہ بات بجائے خود بحث طلب ہے او ر علما کے ہاں اس پر بحث ہوتی آ رہی ہے کہ اجماعی موقف کیا ہوتا ہے؟ جن جن مسائل کو اجماعی کہا جاتا ہے، وہ کس حد تک اجماعی ہیں؟ کیا کوئی اجماعی مسئلہ کبھی غیر اجماعی بھی ہو سکتا ہے؟ایک زمانے کے اجماع کو دوسرے زمانے کا اجماع کا لعدم بھی کر سکتا ہے؟ جب اجماع سے متعلق اس قدر بنیادی امور زیرِ بحث یا بحث طلب ہوں تو یہ سوال کیوں نہ اٹھے کہ کون سے اور کس اجماع سے کیا انحراف؟
اکابر کا ڈر بھی کیا چیز کیا ہے، خود اکابرین کو بھی سہما دیتا ہے اور وہ اچھے بھلے ’’ بہادر ‘‘ ہونے کے باوجود معذرت خواہی پر اتر آتے ہیں۔مولانا سنبھلی کے زیر نظر خطوط کے بعد جناب مولانا زاہد الراشدی کا جو خط شائع ہوا ہے، اس کے بین السطور اس کی ایک جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ صاف دباؤ میں نظر آتے ہیں۔ اوج صاحب سے متعلق جناب کا یہ ارشاد کہ ’’ وہ دینی و عصری علوم پر گہری نظر رکھتے تھے، آج کے دور کے تقاضوں کو سمجھتے تھے اور ان کی روشنی میں نئی نسل کی رہنمائی کے اسلوب سے بہرہ ور تھے‘‘ ان کو کوئی علم کا ہمالیہ دکھانے والی بات نہ تھی کہ ایسی عنایت تو علما کی جانب سے کئی انتہائی معمولی علم کے اربابِ دستارپر بھی ہوتی رہتی ہے۔ لیکن وہ اس سے بھی پسپائی اختیار کر گئے ہیں جس کا ثبوت اجماعی موقف سے انحراف کو درست نہ سمجھنے اور اوج صاحب کو بریلوی مکتبِ فکر کا بندہ (حالانکہ وہ اپنی بہت سی تحریروں میں بریلوی مکتب فکر سے زیادہ دیوبندی مکتب فکر کا بندہ لگتے تھے) اور ان لوگوں میں سے ایک آدمی شمار کرنے ’’جن کا دم غنیمت ہے ‘‘ کے الفاظ میں ملتا ہے۔
بایں ہمہ ہم جناب مولانا زاہد الراشدی کو غنیمت جانتے ہیں اور ان کی اس ’’جرتِ رندانہ‘‘ پر انہیں داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ وہ تفردات کے حامل ایسے لوگوں کی فکری بے راہ روی پر گمراہی کا فتوی دینے کی بجائے افہام و تفہیم کے ذریعے رجوع کی طرف توجہ دلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بلکہ ان کی یہ جرات اس سے بہت آگے تک جاتی ہے کہ وہ اجماعی اور جمہور کے ہاں مسلمہ چلے آنے والے مسئلے میں بھی بعد کے اہلِ علم کو غور وخوض کا نہ صرف حق دیتے بلکہ جمہور کے اس کے موافق رائے اختیار کر لینے کے امکان کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ:
’’جو بات جمہور اہل علم کے ہاں قبولیت کا درجہ حاصل کر لے گی، ہمیں بھی اسے تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوگا۔‘‘
اگر آپ ڈاکٹر شکیل اوج مرحوم کو ناقابلِ توجہ سمجھنے پر ہی مصر ہوں تو سمجھتے رہیے، لیکن خدارااس حقیقت کو توقابلِ توجہ سمجھ لیجیے کہ اگر کوئی صاحبِ علم کتاب وسنت کے دلائل کی بنیاد پر کوئی بات کرتا ہے تواسے علمی انداز میں لینا چاہیے اورعلمی بحث و نظر کو موضوع بنانا چاہیے۔ اسے محض اس وجہ سے ناقابلِ اعتنا قرار نہیں دے دینا چاہیے کہ اس سے پہلے کے زیادہ تر اہل علم اس کے قائل نہیں یا اس کا پیش کنندہ صاحبِ جبہ و دستار نہیں۔ مسلم تاریخ بتاتی ہے، بہت دفعہ یوں بھی ہوا ہے کہ ایک زمانے کے ایک یا چند اہل علم کا تفرد دوسرے زمانے کا مسلمہ بن گیا یا بعد کے زمانے میں پہلے زمانے کے اجماع کے بالکل خلاف اجماع ہو گیا یا مسلمانوں کے مجموعی تعامل نے ایک اجماعی سمجھے جانے والے مسئلے کے صریحاً خلاف فیصلہ دے دیا۔
قرآن وسنت پر براہ راست غور و تدبر، حیرت ہے ،کہ دلیلِ کم علمی و گمراہی کس بنیاد پر بنا دیا گیا ہے! حالانکہ بڑے بڑے علمائے سلف کا بڑا پن اسی غور وتدبر میں مضمر ہے۔یہ الگ بات کے ان کے نتائج فکر کی عظمت کا اقرار اکثر و بیشتر ان کے بعد کے زمانوں ہی میں ہوا ہے،ان کے اپنے زمانے والوں نے ان پر طعن و تشنیع کے تیر ہی چلائے ہیں۔اور کسی کا کیا نام لیں، امام اعظم ابو حنیفہ کا سابقہ بھی اسی صورت حال سے رہا۔ حق یہ ہے کہ صاحبِ عظمت ہوتا ہی وہ شخص ہے جو اپنے زمانے کی مروج مذہبی فکر سے بلند ہو کر سوچتا ہے۔اور بقول مولانا ابوالحسن علی ندوی :
’’وہ صاحب کمال اپنے معاصرین کی طرف سے ایک مسلسل ابتلا اور آزمائش میں رہتا ہے، اور وہ معاصرین اس صاحب کمال کی طرف سے زندگی بھر ایک مصیبت اور زحمت میں مبتلا رہتے ہیں۔ وہ اس کی تازگی فکر، بلندئ نظر، قوتِ اجتہاد کا ساتھ نہیں دے سکتے اور اس کے آفاقِ علم و فکر تک ان کی رسائی نہیں ہوتی اور وہ ان کے معین و محدود اصطلاحات اور مدرسی حدود میں مقید نہیں رہ سکتا۔ وہ علم و نظر کی آزاد فضاؤں اور قرآن و حدیث کے بلند اور وسیع آفاق میں آزادانہ پرواز کرتا ہے۔ اِن کا مبلغِ علم متقدمین اور اہل درس کی کتابوں کا سمجھ لینا ہوتا ہے، وہ واضع علوم اور بہت سے فنون کا مجتہد مجدد ہوتا ہے۔ غرض مدارک اور استعدادوں کا یہ تفاوت اس کے اور اس کے مخلص معاصرین کے درمیان ایسی کشمکش پیدا کر دیتا ہے کہ یہ گتھی کبھی سلجھتی نہیں اور وہ کبھی اپنے معاصرین کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ ہر زمانہ کے صاحب کمال اور مجتہد الفن علماء نے اس کی شکایت کی ہے کہ ان کی تحقیقات اور علوم و مضامین ان کے زمانہ کی علمی و نصابی سطح سے بلند اور ان اہل علم کی دسترس سے باہر ہیں جن کی پروازِ فکر متداول کتابوں سے آگے نہیں اور یہی بہت سے اہل علم کی مخالفت کا سبب اور محرک ہے۔ ‘‘
سو یہ محنت و انفرادیت آدمی کی خوبی و کمال اورحوصلہ مندی کا ثبوت ہے نہ کہ خامی و کمزوری اور کم علمی کا ۔ گویا:
مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
ڈاکٹر محمد شہباز مَنج
شعبہ اسلامیات، یونیورسٹی آف سرگودھا،سرگودھا
drshahbazuos@hotmail.com
مولانا محمد عیسیٰ منصوری کا دورۂ پاکستان
ادارہ
ورلڈ اسلامک فورم لندن کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری ۵ سے ۲۳ دسمبر تک اڑھائی ہفتے کے دورے پر پاکستان تشریف لائے اور لاہور، ملتان، چیچہ وطنی، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ کے علاوہ اسلام آباد میں احباب سے ملاقاتوں کے علاوہ متعدد فکری و نظریاتی محافل میں شرکت کی۔
مولانا محمد عیسیٰ منصوری، اسلام آباد میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی تعلیمات اور افکار کے فروغ کے لیے قائم کی گئی ’’سید ابوالحسن علی ندویؒ اکادمی‘‘ کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔ اس سیمینار کی صدارت الشریعہ اکادمی کے سربراہ مولانا زاہد الراشدی نے کی اور اس میں مولانا منصوری کے علاوہ مولانا سید عدنان کاکاخیل، مولانا محمد رمضان علوی اور یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے استاذ ڈاکٹر عبد الماجد ندیم نے بھی خطاب کیا اور اکادمی کے پروگرام کے سلسلہ میں اپنے تعاون اور حمایت کا اظہار کیا۔ مولانا منصوری نے مولانا علی میاںؒ کی علمی و دینی خدمات پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کو گمراہی سے بچانے اور دینی جدوجہد کے صحیح رخ پر لگانے کے لیے مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے افکار و خیالات کا فروغ ضروری ہے۔ مولانا زاہد الراشدی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ آج مغربی دنیا اور عالم اسلام کے درمیان جو فکری و تہذیبی کشمکش عروج پر ہے، اس سے صحیح طور پر واقفیت کے لیے مولانا ندویؒ کا مطالعہ وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ جنوبی ایشیا کے جن چند مفکرین نے مغرب کے فکر و فلسفہ اور تہذیب و ثقافت کو سمجھا ہے اور اس پر جاندار علمی و فکری نقد کیا ہے ان میں مولانا ندویؒ کا نام سر فہرست ہے۔ مولانا سید عدنان کاکاخیل نے کہا کہ اپنے عصر کو سمجھ کر اور اس کے تقاضوں سے آگاہ ہو کر ہم اپنے لیے راہ عمل صحیح رخ پر متعین کر سکتے ہیں اور اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے بزرگوں اور اسلاف کا مطالعہ کریں اور ان کی جدوجہد اور فکر سے راہ نمائی حاصل کریں۔
مولانا منصوری نے ۱۸ دسمبر کو جامع مسجد سیدنا عثمان علیؓ جی ٹین ون میں علماء کرام اور ارباب فکر و دانش کی ایک محفل میں بھی گفتگو کی۔
لاہور میں مولانا منصوری نے جمعیۃ علماء اسلام ضلع شیخوپورہ کے امیر حافظ محمد قاسم کی طرف سے منعقدہ ایک فکری نشست سے خطاب کیا اور علماء کرام سے کہا کہ وہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی جدوجہد اور افکار و خدمات کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کریں اور ان سے راہ نمائی حاصل کریں، کیونکہ آج کے معروضی حالات میں وہی ہمارے لیے سب سے زیادہ مثالی اور آئیڈیل شخصیت ہیں۔
۲۱ دسمبر کو مولانا منصوری الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں پاکستان کے قومی تعلیمی نصاب کے حوالہ سے ایک سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ سیمینار کی صدارت گوجرانوالہ کے معروف ماہر تعلیم اور پریمئر لاء کالج کے پرنسپل میاں ایم آئی شمیم نے کی اور اس سے مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ مولانا داؤد احمد، پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد ندیم، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، پروفیسر غلام حیدر، مولانا حافظ محمد یوسف، پروفیسر ریاض محمود، مولانا محمد عبد اللہ راتھر اور دیگر حضرات نے خطاب کیا۔ قومی تعلیمی نصاب اور دینی مدارس کے نصاب تعلیم کے حوالہ سے بہت مفید گفتگو ہوئی اور مولانا منصوری نے تفصیلی خطاب کیا۔
مولانا منصوری اس وقت عالم اسلام کی ان ممتاز شخصیات میں سے ہیں جو مسلمانوں میں فکری بیداری اور عصر حاضر کا شعور اجاگر کرنے کے لیے ہمہ وقت متحرک رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت اور عافیت کے ساتھ ملت اسلامیہ کی یہ خدمت تا دیر جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاں
- ۱۳ دسمبر کو اُردن کے الشیخ حسین محمودجبریل حفظہ اللہ نے الشریعہ اکادمی کے علماء وطلباء سے خطاب فرمایا۔
- ۱۵ دسمبر کو پندرہ روزہ فکری نشست میں مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ نے ’’دستور میں اسلامی دفعات‘‘کے عنوان پر گفتگو فرمائی۔
- ۱۷ دسمبر کو مکتب تعلیم القآن، لاہور کے ذمہ دار حضرات دو روزہ دورہ پر الشریعہ اکادمی،گوجرانوالہ تشریف لائے اور گوجرانوالہ میں مذکورہ ادارہ کے نظم کے تحت کام کرنے والے مکاتب کا دورہ کیا۔
- ۱۵ تا ۲۱ دسمبر مدرسۃ الشریعہ کے درسِ نظامی اور درجہ حفظ کے طلباء کا چار ماہی امتحان لیا گیا۔