دسمبر ۲۰۱۵ء

دینی قوتوں کے باہمی انتشار کو کم کرنے کی ضرورتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۳)ڈاکٹر محی الدین غازی 
عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک فیصلے کا تنقیدی جائزہمحمد مشتاق احمد 
حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۲)غازی عبد الرحمن قاسمی 
فرانس نہیں، اسلام پر حملہرعایت اللہ فاروقی 
ممتاز قادری کی سزا ۔ تحفظِ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظرڈاکٹر محمد شہباز منج 
سید احمد شہید کی تحریکِ جہاد: ایک مطالعہڈاکٹر عرفان شہزاد 
عسکریت پسند گروہ اور ہماری قومی پالیسیمحمد عامر رانا 
شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ ۔ مولانا عبد اللطیف انورؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مجلس مذاکرہ ۔ ’’فضلاء مدارس دینیہ کا معاشی مستقبل‘‘مولانا محمد عبد اللہ راتھر 
فضلائے مدارس کا معاشی مستقبل ۔ چند تاثرات اور تجاویزڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی 
ایک سفر کی رودادمحمد بلال فاروقی 
پاکستان شریعت کونسل کا اجلاسادارہ 
گوجرانوالہ کی دینی جماعتوں اور تاجر برادری کا اجلاسادارہ 

دینی قوتوں کے باہمی انتشار کو کم کرنے کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ بعض دینی پروگراموں میں شرکت کے سلسلے میں فیصل آباد جانا ہوا تو النور ٹرسٹ فیصل آباد کے چیئرمین حافظ پیر ریاض احمد چشتی نے فون پر دریافت کیا کہ بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم دین مولانا مفتی سعید احمد اسعد آپ سے ملاقات کے خواہشمند ہیں، انہیں کیا جواب دوں؟ میں نے عرض کیا کہ آج کے پروگرام کا نظم آپ کے ہاتھ میں ہی ہے۔ اگر گنجائش ہو تو ان کے ہاں جانے کی ترتیب بنالیں۔ چنانچہ جاتے ہی پہلے ان سے ملاقات کا پروگرام بن گیا۔ 
مولانا مفتی سعید احمد اسعد بریلوی مکتب فکر کے معروف بزرگ مولانا مفتی محمد امین کے فرزند اور جامعہ امینیہ شیخ کالونی کے مہتمم ہیں۔ مسلکی اختلافات پر ایک بڑے مناظر کی شہرت رکھتے ہیں اور معروف خطباء میں شمار ہوتے ہیں۔ حافظ ریاض احمد قادری، مولانا قاری لائق علی اور سید ذکر اللہ الحسنی کے ہمراہ جامعہ امینیہ میں حاضری ہوئی۔ مفتی صاحب موصوف نے عزت و توقیر سے نوازا اور ملاقات کا مقصد یہ بتایا کہ وہ ایک عرصہ سے اس سوچ میں ہیں کہ دیوبندی بریلوی تفریق اور اختلافات امت کے اجتماعی ماحول اور مقاصد کے لیے نقصان کا باعث بن رہے ہیں، ان کو سمیٹنے کی کوئی صورت نکالنی چاہیے تاکہ ہم مل کر ملک و قوم کے اجتماعی مسائل کے لیے محنت کر سکیں۔ میں نے عرض کیا کہ میں تو گزشتہ نصف صدی سے اس فکر اور کوشش میں ہوں کہ (۱) نفاذ شریعت (۲) تحفظ ختم نبوت (۳) تحفظ ناموس رسالت (۴) ملک کے اسلامی تشخص کے تحفظ (۵) اسلامی تہذیب و ثقافت اور روایات و اقدار کی پاسداری اور (۶) سیکولر ازم کے مقابلہ کے لیے نہ صرف دیوبندی اور بریلوی بلکہ تمام دینی حلقوں کو مل جل کر محنت کرنی چاہیے۔ میں نے اپنی عملی اور تحریکی زندگی کا آغاز 1974ء کی تحریک ختم نبوت سے کیا تھا جس کے لیے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام پر مشتمل آل پارٹیز مجلس عمل تشکیل پائی۔ اس کے ضلعی صدر بریلوی مکتب فکر کے بزرگ عالم دین مولانا ابو داؤد محمد صادق اور سیکرٹری جنرل معروف اہل حدیث بزرگ مولانا حکیم عبد الرحمن آزاد تھے، جبکہ میں شہری مجلس عمل کا سیکرٹری جنرل تھا۔ اس وقت سے اب تک اس طرح کے نصف درجن سے زائد متحدہ محاذوں کا سرگرم کردار رہا ہوں اس لیے اس مثبت سوچ پر مجھ سے زیادہ خوشی اور کس کو ہو سکتی ہے؟ 
مفتی سعید احمد اسعد نے فرمایا کہ اس سلسلہ میں میری تجویز یہ ہے کہ اس سے قبل دونوں طرف کے جن بزرگوں مثلاً مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا عبد الرحمن اشرفی اور دیگر حضرات نے جو کوششیں کی ہیں اور تجاویز پیش کی ہیں، ان سے استفادہ کیا جائے اور باہمی مسلکی اختلافات کے بارے میں مل بیٹھ کر باہمی اتفاق رائے سے ہر مسئلہ میں قدر مشترک طے کر کے اس کا اعلان کیا جائے۔ مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ ہماری طرف سے دیوبندی حضرات کو گستاخ رسولؐ کہا جاتا ہے اور دیوبندی علماء ہم بریلویوں کو مشرک اور بدعتی قرار دیتے ہیں۔ اگر ہم مل کر متفقہ طور پر (۱) شرک (۲) بدعت اور (۳) گستاخ کی کوئی تعریف طے کرلیں اور کسی بھی طرف سے اس متفقہ تعریف کے خلاف کی جانے والی باتوں سے رجوع کا اہتمام کر لیا جائے تو یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ دونوں طرف کے سنجیدہ اہل علم مل بیٹھ کر اس کی کوئی صورت نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امت کی اجتماعی ضروریات کا احساس رکھتے ہیں اور ہمارے اختلافات امت میں اجتماعی دینی جدوجہد میں جس طرح رکاوٹ بنے ہوئے ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہیں۔ لیکن اس کے لیے مسلکی اختلافات کی موجودہ شدت اور نوعیت کو کم کرنا ضروری ہے اور اسی لیے وہ یہ تجویز پیش کر رہے ہیں۔ 
میں نے ان سے عرض کیا کہ ان کی اس تجویز پر غور کیا جا سکتا ہے اور اس کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ مگر میرے خیال میں اس سے پہلے اس کا ماحول بنانا ضروری ہے اور میری تجویز یہ ہے کہ چند اختلافی مسائل سے ہٹ کر جو متفقہ امور و مسائل ہیں ان کے بارے میں مشترکہ جدوجہد کی جائے۔ مثلاً جس طرح ہم تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں اسی طرح سودی نظام کے خاتمہ اور نظام شریعت کے نفاذ کی جدوجہد کے لیے مستقل متحدہ محاذ قائم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپس کی ملاقاتوں اور رابطوں کو بڑھائیں۔ اس لیے کہ باہمی ملاقاتوں، تبادلۂ خیالات اور افہام و تفہیم کے ذریعہ بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اسی طرح اختلافی مسائل کو بلا ضرورت نہ بیان کیا جائے اور جہاں بیان کرنے کی ضرورت محسوس ہو وہاں ان کا اظہار دلیل اور سلیقہ کے ساتھ ہو۔ اس طرح ایک ایسا ماحول قائم ہوگا جس میں ہم متنازعہ مسائل پر باہمی بحث و مباحثہ اور کوئی قدر مشترک طے کرنے کی طرف بھی پیش قدمی کر سکیں گے۔ 
ہم دونوں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کر کے اس بات پر اتفاق کیا کہ وقتاً فوقتاً ہم ملتے رہیں گے اور اس سوچ اور فکر کو آگے بڑھانے کے راستے تلاش کرتے رہیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۳)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۷۱) تاثیم کا مطلب

لفظ تاثیم قرآن مجید میں دو مقامات پر آیا ہے، جبکہ لفظ اثم کئی جگہ آیا ہے۔ اثم کا مطلب گناہ ہے۔ اکثر ائمہ لغت نے تاثیم کو بھی اثم کا ہم معنی بتایا ہے۔ (والتَّأثِیمُ: الاثم) مزید برآں انہوں نے باب افعال سے ایثام کا مطلب کسی کو گناہ میں ڈالنا، اور باب تفعیل سے تاثیم کا مطلب کسی پر گناہ کو چسپاں کرنا بتایا ہے، (وآثمہ بالمد: أوقعہ فی الاثم. وأثمَہُ بالتشدید،أی قال لہ: أَثِمْتَ) جبکہ ایک جدید لغت معجم اللغۃ العربیۃ المعاصرۃ میں تاثیم کا مطلب لکھا ہے: ایسا کام جو گناہ کا موجب بنے (عمل یوجب اثمًا)۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ تاثیم کا مطلب مبالغہ اور تکرار کے مفہوم کے اضافے کے ساتھ وہی ہے جو اہل لغت نے ایثام کا بتایا ہے، یعنی گناہ پر اکسانا اور گناہ میں ڈالنا۔ قرآن مجید کے دونوں مقامات پر اس مفہوم کے ساتھ ترجمہ کرنے سے لفظ کی معنویت بڑھ جاتی ہے، اور اثم کی جگہ تاثیم کے استعمال کی حکمت بھی نمایاں ہوجاتی ہے۔

(۱) یَتَنَازَعُونَ فِیْہَا کَأْساً لَّا لَغْوٌ فِیْہَا وَلَا تَأْثِیْمٌ۔ (الطور: ۲۳)

’’ان کے درمیان (ایسی شراب کے) پیالوں کے تبادلے ہورہے ہوں گے جو لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب لپک لپک کر لے رہے ہوں گے جس میں نہ یاوہ گوئی ہوگی نہ بد کرداری‘‘ (سید مودودی)
’’ایک دوسرے سے لیتے ہیں وہ جام جس میں نہ بیہودگی اور نہ گنہگاری‘‘ (احمد رضا خان)
’’وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب جھپٹ لیا کریں گے جس (کے پینے) سے نہ ہذیان سرائی ہوگی نہ کوئی گناہ کی بات‘‘(فتح محمد جالندھری)
مذکورہ بالا ترجموں میں آخر الذکر ترجمہ کسی حد تک تاثیم کے مفہوم کو ادا کررہا ہے۔
شاہ عبدالقادر کے درج ذیل ترجمہ میں تاثیم کے مفہوم کو بالکل صحیح ادا کیا گیا ہے: ’’جھپٹتے ہیں وہاں پیالہ، نہ بکنا ہے اس شراب میں نہ گناہ میں ڈالنا‘‘۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ترجمہ کیا ہے ’’ان کے درمیان جام کے تبادلے ہورہے ہوں گے جس سے نہ لغویت ہوگی نہ گناہ پر اکساہٹ ہوگی۔‘‘
مذکورہ ذیل انگریزی ترجمہ بھی یہی مفہوم ادا کرتا ہے۔
There they pass from hand to hand a cup wherein is neither vanity nor cause of sin.(Pickthall)

(۲) لَا یَسْمَعُونَ فِیْہَا لَغْواً وَلَا تَأْثِیْماً ۔ (الواقعۃ: ۲۵)

’’اس میں وہ کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’وہاں وہ کوئی بیہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے‘‘(سید مودودی)
’’اس میں نہ سنیں گے نہ کوئی بیکار با ت نہ گنہگاری‘‘(احمد رضا خان)
’’وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ‘‘(فتح محمد جالندھری)
مذکورہ بالا ترجموں سے اثم اور تاثیم کے مفہوم کا فرق ظاہر نہیں ہوتا، مولانا امانت اللہ اصلاحی تاثیم کے مفہوم کو ظاہر کرتے ہوئے ترجمہ کرتے ہیں:’’اس میں وہ کوئی لغو اور گناہ گار کرنے والی بات نہیں سنیں گے‘‘۔
پکتھال نے سورہ طور والی آیت کے ترجمے میں لفظ تاثیم کے لیے ’’گناہ کا سبب بننے‘‘ کا مفہوم اختیار کیا ہے، لیکن یہاں اس مفہوم کو چھوڑ کر ’’گناہ کا الزام عائد کرنے‘‘ کا مفہوم لیا ہے۔ 
There hear they no vain speaking nor recrimination (Pickthall)
شاہ عبدالقادر نے بھی یہاں سورہ طور والی آیت سے مختلف ترجمہ کیا ہے: ’’نہیں سنتے وہاں بکنا اور نہ جھوٹ لگانا‘‘۔

(۷۲) الأخری کا مفہوم

أَفَرَأَیْْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّی۔ وَمَنَاۃَ الثَّالِثَۃَ الْأُخْرَی۔ (النجم:۱۹،۲۰)

شاہ ولی اللہ دہلوی نے الْأُخْرَی  سے درجے میں پیچھے رہ جانے والا مراد لیا ہے، وہ ترجمہ کرتے ہیں ’’آیا دیدید لات را وعزیٰ را ومنات سومی بیقدر را‘‘
صاحب تدبر قرآن نے مذکورہ دونوں آیتوں کا ترجمہ اس طرح کیا:
’’بھلا، کبھی غور کیا ہے لات اور عزیٰ اور منات پر جو تیسری (اور درجہ کے اعتبار سے) دوسری ہے؟‘‘ (امین احسن اصلاحی)
اس ترجمہ میں الْأُخْرَی  کا ترجمہ دوسری اور وہ بھی درجے کے اعتبار سے دوسری کیا ہے۔ یہاں مترجم کو الْأُخْرَی  کا مفہوم طے کرنے میں غلط فہمی ہوگئی۔ لفظ الْأُخْرَی  مؤنث ہے، اس لفظ کا مذکرخ پر زبر کے ساتھ آخَر  بھی ہوتا ہے اور خ پر زیر کے ساتھ آخِر  بھی ہوتا ہے۔ آخَر  خ پر زیر کے ساتھ ہو تو وہ اول کا مقابل ہوتا ہے اور اس کا مطلب ہوتا ہے: بعد والا، اور آخَر  خ پر زبر کے ساتھ ہو تو اس لفظ کے دو محل ہیں۔ اگر دو چیزیں ہوں تو ان میں سے ہر ایک اپنے مقابل کے لحاظ سے آخَر یعنی دوسرا ہے۔ سورہ حجرات میں ہے:

وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَیْْنَہُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاہُمَا عَلَی الْأُخْرَی۔ (الحجرات: ۹) 

’’اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کریں تو ان کے درمیان صلح کرادو، تو اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے‘‘۔۔ یہاں دو گروہ ہیں جن میں سے ہر کوئی دوسرے کے مقابلے میں دوسرا گروہ ہے۔
اس کے علاوہ آخَر غیر کے معنی میں بھی آتا ہے، یعنی مذکورہ چیزوں کے علاوہ ایک اورچیز۔زبیدی لکھتا ہے:

(و) الآخَر: (بفَتْحِ الخاءِ) : أَحَدُ الشّیئین، وَھُوَ اسمٌ علی أَفْعَلَ اِلَّا أَن فِیہِ معْنَی الصِّفَۃِ؛ لأَنّ أَفْعَلَ مِن کَذَا لَا یکُونُ اِلّا فِی الصِّفۃ، کَذَا فِی الصّحاح. (والآخَرُ) بِمَعْنی غَیْرٍ، (کقولکَ: رجلٌ) آخَرُ، وثَوْبٌ آخَرُ. (تاج العروس)

درجے کے اعتبار سے دوسری کے لیے آخَر نہیں بلکہ الثانیۃ آتا ہے۔ زیر نظر آیت میں محل غیر کا ہے، یعنی اس کے سوا ایک اور۔
زیر نظر مقام پر الأخری کو غیر کے معنی میں لیا جائے تو مذکورہ آیتوں کا درست ترجمہ یہ ہے:
’’اب ذرا بتاؤ، تم نے کبھی اِس لات، اور اِس عزیٰ اور تیسری ایک اور دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا؟‘‘ (سید مودودی)
بعض لوگوں نے الأخری کا ترجمہ پچھلا کیا ہے۔
’’بھلا تم دیکھو تو لات اور عزیٰ کو اور منات تیسرا پچھلا‘‘۔ (شاہ عبدالقادر)
’’کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا، اور منات تیسرے پچھلے کو‘‘(محمد جوناگڑھی)
اس ترجمہ میں غالباً الأخری کو خ پر زیر کے ساتھ آخر کا مؤنث مانا ہے، اس کی مثالیں بھی قرآن مجید میں موجود ہیں، جیسے:

قَالَتْ أُخْرَاہُمْ لأُولاَہُمْ (الاعراف: ۳۸) 

’’ان کے پچھلوں نے ان کے اگلوں کے بارے میں کہا‘‘ لیکن زیر نظر آیت میں یہ مفہوم مراد لینا ترجمہ کو پرتکلف اور دشوار بنادیتا ہے۔ 
واقعہ یہ ہے کہ اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ الأخری  کو غیر کے مفہوم میں لیں تو ترجمہ بہت سادہ اور واضح ہوجاتا ہے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ترجمہ یوں کیا ہے:
’’بھلا کبھی تم نے دیکھا ہے لات کو اور عزی کو اور ان کے سوا تیسری منات کو‘‘۔
شیرازی کے فارسی ترجمہ میں بھی یہی مفہوم بیان کیا گیا ہے:
’’آیا خبر دہید مرا بہ لات وعزی ومنات بت سوم دیگر‘‘ (شیرازی)
ربیعہ بن مکدم کا ایک شعر ہے، جو اس آیت کے اسلوب سے بہت قریب ہے:
وَلَقَدْ شَفَعْتُھُمَا بِآخَرَ ثَالِثٍ
وَأَبَی الْفِرَارَ لِیَ الْغَدَاۃَ تَکَرُّمِی
دلچسپ بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے لفظ الأخری  سے مرتبہ کا مفہوم لینے کی کوشش کی، ان میں یہ اختلاف ہوگیا کہ اس لفظ سے مرتبہ کی بلندی مراد ہے یا مرتبہ کی پستی۔ چنانچہ ابن عطیہ نے کہا کہ اس لفظ کو لاکر مناۃ کے باقی دونوں بتوں سے زیادہ بلند رتبہ ہونے کو بتایا گیا ہے، جبکہ زمخشری نے کہا کہ مناۃ کے بے قدرہونے کا بیان ہے۔

’’والأخری ذمّ،وھی المتأخرۃ الوضیعۃالمقدار،کقولہ تعالی قالَتْ أُخْراھُمْ لِأُولاھُم أی وضعاؤھم لرؤساءھم وأشرافھم.‘‘ (تفسیر زمخشری)

وأما مَناۃَ فکانت بالمشلل من قدید، وذلک بین مکۃ والمدینۃ، وکانت أعظم ھذہ الأوثان قدرا وأکثرھا عابدا، وکانت الأوس والخزرج تھل لھا، ولذلک قال تعالی: الثَّالِثَۃَ الأُخْری فأکدھا بھاتین الصفتین،کما تقول رأیت فلانا وفلانا ثم تذکر ثالثا أجل منھما۔ (تفسیر ابن عطیہ)

(۷۳) ذْوالْجَلَالِ وَالاکرَام کا مفہوم

سورہ رحمن میں ایک جگہ ذوالْجَلَالِ وَالاکْرَام (ذو، وجہ کی صفت کے طور پر مرفوع) اور ایک جگہ ذی الْجَلَالِ وَالاِکْرَام (ذی، ربک کی صفت کے طور پر مجرور) آیا ہے۔ اکرام کے معنی نوازش کرنا اور عزت دینا ہوتا ہے،

وَمَن یُہِنِ اللَّہُ فَمَا لَہُ مِن مُّکْرِمٍ (الحج: ۱۸) 

’’جسے اللہ رسوا کرے، اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا ہے۔‘‘ اس طرح ذُوَ الاکْرَام کا مطلب عزت دینے والا ہوگا، لیکن بہت سارے مترجمین نے عزت والا ترجمہ کیا ہے۔

(۱) وَیَبْقَی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ۔ (الرحمن: ۲۷)

’’اور تیرے رب کی عظمت وعزت والی ذات باقی رہنے والی ہے‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی رہ جائے گی‘‘ (محمد جوناگڑھی)
’’اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکات) جو صاحب جلال وعظمت ہے باقی رہے گی‘‘ (جالندھری)
’’اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا‘‘(احمد رضا خان)
There remaineth but the Countenance of thy Lord of Might and Glory. (Pickthall)
مذکورہ بالا ترجموں میں لفظ اکرام کا حقیقی مفہوم نہیں پیش کیا گیا ہے، جبکہ ذیل کے ترجموں میں اس کی رعایت کی گئی ہے:
’’اور (صرف) آپ کے پروردگار کی ذات جو کہ عظمت (والی) اور احسان والی ہے باقی رہ جاوے گی۔‘‘ (اشرف علی تھانوی)
And there will remain the countenance of thine Lord, Owner of Majesty and Beneficence. (Daryabadi)
’’اور تیرے رب کی عظمت والی اور رحم وکرم فرمانے والی ذات باقی رہنے والی ہے‘‘ (امانت اللہ اصلاحی)
شاہ رفیع الدین نے زیر بحث لفظ کا ترجمہ صاحب انعام کیا ہے جو درست ہے جبکہ شاہ عبدالقادر نے صاحب تعظیم کیا ہے جو موزوں نہیں ہے۔

(۲) تَبَارَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِیْ الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ (الرحمن: ۷۸)

’’بڑا ہی بابرکت ہے نام تیرے عظمت والے اور سزاوار تکریم رب کا‘‘ (امین احسن اصلاحی)
’’(اے محمدؐ) تمہاراپروردگارجوصاحب جلال وعظمت ہے اس کانام بڑا بابرکت ہے‘‘(فتح محمد جالندھری)
’’بڑی برکت والا ہے تمہارے رب کا نام جو عظمت اور بزرگی والا‘‘(احمد رضا خان)
’’تیرے پروردگار کا نام بابرکت ہے جو عزت وجلال والا ہے‘‘(محمد جوناگڑھی)
Blessed be the name of thy Lord, Mighty and glorious! (Pickthall)
مذکورہ بالا تمام ترجموں میں لفظ اکرام کا حق ادا نہیں کیا گیا ہے، جبکہ ذیل کے تینوں ترجموں میں اس کی رعایت کی گئی ہے۔
’’بڑا بابرکت نام ہے آپ کے رب کا جو عظمت والا اور احسان والا ہے۔‘‘ (اشرف علی تھانوی)
Blest be the name of thine Lord, Owner Of Majesty and Beneficence! (Daryabadi)
Blessed be the name of thy Lord, full of Majesty, Bounty and Honour. (Yousuf Ali)
یہاں شاہ رفیع الدین نے ترجمہ صاحب بخشش کیا ہے، جبکہ شاہ عبدالقادر نے تعظیم والا کیا ہے، اول الذکر ترجمہ درست ہے۔
علامہ ابن عاشور نے یہاں ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ ذوالجلال یعنی عظمت والا جس کا تقاضا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے، اور ذوالاکرام یعنی نوازشوں والا، جس کا تقاضا ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے۔ گویا ذات باری تعالی ثنا اور شکر دونوں کی سزاوار ہے۔
(جاری)

عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک فیصلے کا تنقیدی جائزہ

محمد مشتاق احمد

پچھلے دنوں کئی ایک اہم عدالتی فیصلے سامنے آئے ہیں جن پر اہلِ علم کی جانب سے تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔ میرا خیال یہ تھا کہ نفاذِ شریعت کے حوالے سے حساس لوگ ان پر ضرور قلم اٹھائیں گے لیکن ہر طرف ہو کا عالم ہی دکھائی دیتا ہے ۔ اس لیے ٹھہرے پانیوں میں پتھر پھینکنے کی نیت سے یہ مختصر مضمون لکھ رہاہوں جس میں فی الوقت صرف ایک فیصلے پر کچھ بحث کروں گا جس کا تعلق نکاح و طلاق کے قانون سے ہے ۔ 
عدالتِ عالیہ لاہور کے فاضل جج جناب جسٹس حافظ شاہد ندیم کہلون نے ایک مقدمے بعنوان : محمد شیر بنام ایڈیشنل سیشن جج /جسٹس آف پیس وغیرہ میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی مطلقہ خاتون نے عدت کے دوران میں کسی دوسرے شخص سے نکاح کیا تو یہ نکاح ’’بے قاعدہ‘‘ (irregular) تو ہے لیکن ’’غیرقانونی‘‘ (illegal) نہیں ہے ۔ فاضل جج صاحب نے مزید یہ بھی فرمایا ہے کہ ایسے جوڑے کے درمیان تعلق کو غیراسلامی یا خلافِ شریعت نہیں کہا جا سکتا ۔ 
اس مقدمے کے حقائق مختصراً کچھ اس طرح ہیں کہ مسماۃ فرزانہ بی بی کو اس کے شوہر محمد سرور نے ۶ فروری ۲۰۱۱ء کو طلاق دی ۔ یکم مئی ۲۰۱۱ء کو فرزانہ بی بی کے والد محمد شیر نے مجاہد اقبال وغیرہ کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرانا چاہا کیونکہ اس کا دعویٰ تھا کہ مجاہد اقبال نے اس کی بیٹی فرزانہ بی بی کو اغوا کیا ہے اور ساتھ ہی ۵ تولے سونا اور مبلغ ۵۰ ہزار روپے بھی چرائے ہیں ۔ اگلے دن ، یعنی ۲ مئی ۲۰۱۱ء کو ، مسمی مجاہد اقبال نے مسماۃ فرزانہ بی بی سے نکاح کیا لیکن فرزانہ بی بی کے والد کا موقف یہ تھا کہ چونکہ ابھی فرزانہ بی بی کی عدت پوری نہیں ہوئی ہے، اس لیے یہ جوڑا زنا کا مرتکب ہورہا ہے ۔ جسٹس آف پیس نے پولیس کا موقف سننے کے بعد ۲۱ جون ۲۰۱۱ء کو فیصلہ سنایا کہ مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا ۔ اس فیصلے کے خلاف محمد شیر اپیل میں عدالتِ عالیہ لاہور گئے جہاں اس کی درخواست کی سماعت ۱۱ ستمبر ۲۰۱۵ء کو ہوئی ، یعنی سوا چار سال بعد ! عدالتِ عالیہ نے بھی اپنے فیصلے میں یہ درخواست مسترد کردی ہے ۔ 
سردست مجھے اس پر بحث نہیں کرنی کہ اگر عدالتِ عالیہ سے مقدمہ درج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرانے میں بھی سوا چار سال لگتے ہیں تو انصاف کا یہ نظام کس طرح ظلم اور لاقانونیت کا باعث بن رہا ہے ۔ نہ ہی مجھے اس مقدمے کے حقائق کی روشنی میں موجودہ پاکستانی معاشرے کی اخلاقی حیثیت پر وعظ دینا ہے ۔ میں صرف اس مقدمے میں بیان شدہ قانونی اصولوں پر بحث چاہتا ہوں ۔ اس لحاظ سے اس فیصلے میں سب سے اہم پیرا ۹ ہے جہاں فاضل جج صاحب فرماتے ہیں : 
It is settled Islamic law that the marriage entered into divorced lady before the completion of Iddat period would be irregular marriage and not void marriage as per law laid down in Mullah's Muhammadan Law. Marriage which is irregular cannot be treated as void marriage. The union of husband & wife in irregular marriage cannot be regarded against un-Islamic or Shariah.
اس پیرا میں زبان و بیان کی جو غلطیاں ہیں، انھیں بھی نظر انداز کیجیے لیکن جو قانونی اصول فاضل جج صاحب بیان فرمارہے ہیں اور ان قانونی اصولوں کی بنیاد کی جس طرح وہ وضاحت فرمارہے ہیں ان پر غور کریں ۔ کیا واقعی عدت کے دوران میں کیا گیا نکاح فاسد ہے ، نہ کہ باطل ؟ کیا اس فاسد یا باطل نکاح کے بعد اس جوڑے کا تعلق غیر شرعی نہیں ہے ؟ ان سوالوں کا جواب جج صاحب نے اسلامی شریعت کے کس ماخذ سے حاصل کیا ہے ؟ 
اس آخری سوال پر پہلے بحث ضروری ہے ۔ فاضل جج صاحب نے اسلامی شریعت کے یہ اصول Mullah's Muhammadan Law سے اخذ کیے ہیں اور فاضل جج صاحب کے بقول اس کتاب نے اسلامی قانون کے یہ اصول حتمی طور پر طے کردیے ہیں (It is settled Islamic law... as per law laid down in Mullah's Muhammadan Law.)۔ ہوسکتا ہے بعض قارئین کے لیے یہ بات موجب حیرت ہو کہ اکیسویں صدی میں عدالتِ عالیہ لاہور کا جج کسی ملا کی اس طرح ’’اندھی تقلید ‘‘کیسے کرسکتا ہے لیکن جو جانتے ہیں کہ یہ ملا دراصل مدرسے کے مولوی یا ’’کٹھ ملا‘‘ نہیں بلکہ ایک غیر مسلم وکیل Dinsha Ferdinand Mullah  ہیں جن کے انتقال کو بھی عرصہ بیت گیا ہے ، تو شاید ان کی حیرت دور ہوجائے کیونکہ اسلامی قانون کے اصولوں کی دریافت میں ’’غیر مسلم مردہ ملا ‘‘کی اندھی تقلید ہمارے فاضل جج صاحبان کو کبھی اقبال کا یہ شعر یاد نہیں آتا : 
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی 
رستہ بھی ڈھونڈ ، خضر کا سودا بھی چھوڑ دے! 
جو قارئین ڈی ایف ملا اور ان کی کتاب سے واقف نہیں ہیں، ان کی مدد کے لیے مختصراً بیان کروں کہ جب انگریز جج صاحبان نے مسلمانوں کے نکاح و طلاق اور دیگر متعلقہ مسائل میں اسلامی قانون کی روشنی میں فیصلے دینے شروع کیے تو اس کے نتیجے میں ’’اینگلو محمڈن لا‘‘ وجود میں آیا ۔ وکیل صاحبان کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ عدالتی نظائر سے باخبر رہیں ۔ اس کام میں ملا کی اس کتاب نے بڑی مدد فراہم کی کیونکہ انھوں نے مختلف عدالت ہائے عالیہ کے فیصلوں کی روشنی میں بننے والے قانون کو دفعہ وار لکھا اور اس مجموعے کو وقت گزرنے کے ساتھ اتنا تقدس حاصل ہوگیا کہ ہمارے فاضل جج صاحبان اسے حرفِ آخر سمجھنے لگے ۔ 
سوال یہ ہے کہ کیا حنفی فقہ کی یہ تعبیر صحیح ہے کہ عدت کے دوران میں کیا گیا نکاح محض ایک بے ضابطگی ہے جس کی بنا پر اس جوڑے کے تعلق کو ناجائز نہیں کہا جاسکتا ؟ اس سوال کے جواب میں درج ذیل امور تنقیح طلب ہیں : 
اولاً : حنفی فقہا جس طرح بیوع میں عقد باطل اور عقد فاسد کے درمیان فرق کرتے ہیں، کیا وہ فرق وہ عقدِ نکاح میں بھی روا رکھتے ہیں ؟ 
ثانیاً : عقدِ نکاح کے باطل یا فاسد ہونے کا حد زنا کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ 
ثالثاً : عقدِ نکاح اگر فاسد ہو تو اس کے قانونی اثرات کیا ہیں ؟ 
رابعاً : کیا فاسد عقدِ نکاح کے بعد نئے عقد کی ضرورت ہوتی ہے یا جوڑے کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق نئے عقد کے بغیر بھی جاری رہ سکتا ہے ؟ 
یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ بیوع میں حنفی فقہا فاسد اور باطل عقد میں فرق کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ۱۰۰ دینار کا تبادلہ ۱۱۰ دینار سے ہو تو اسے وہ عقد فاسد قرار دیتے ہیں جبکہ مردار کی خرید و فروخت کو وہ عقد باطل کہتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ عقد فاسد کا فساد دور کیا جائے تو وہ صحیح ہوجاتا ہے جبکہ عقد باطل کا بطلان دور نہیں کیا جاسکتا بلکہ جس سبب سے عقد باطل ہوا ہو، اس کے دور کردینے کے بعد نیا عقد کرنا پڑے گا ۔ چنانچہ پہلے عقد میں دس دینار کے اضافے کی شرط ختم کی جائے تو عقد صحیح ہوجاتا ہے جبکہ دوسرے عقد میں چونکہ مردار مال ہی نہیں ہے، اس لیے اس کی خرید و فروخت قطعاً باطل ہے اور فریقین اگر خرید و فروخت کا معاملہ کرنا چاہتے ہیں تو انھیں کسی اور ’’مال ‘‘کی خرید و فروخت پر نیا عقد کرنا پڑے گا ۔ 
کیا اس طرح کا فرق حنفی فقہا نکاح کے عقد باطل اور عقد فاسد میں بھی کرتے ہیں ؟ فقہی نصوص کا سرسری جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض غیر صحیح عقودِ نکاح کو حنفی فقہا باطل اور بعض کو فاسد قرار دیتے ہیں ۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک ہی عقد کو وہ کبھی باطل اور کبھی فاسد قرار دیتے ہیں ۔ مثلاً امام مرغینانی ( صاحبِ ہدایہ ) اور امام کاسانی (صاحبِ بدائع الصنائع ) دونوں عقد متعہ کو باطل قرار دیتے ہیں ؛ لیکن امام مرغینانی نکاح موقت کو باطل اور امام کاسانی اسے فاسد کہتے ہیں ۔ تاہم آگے دونوں ائمہ قرار دیتے ہیں کہ نکاحِ موقت قانوناً متعہ ہی ہے اور اس کے تمام احکام متعہ ہی کے ہیں ۔ علامہ تمرتاشی ( صاحبِ تنویر الابصار ) نے متعہ اور نکاح موقت کو ایک ہی جملے میں اکٹھے باطل قرار دیا ہے۔ پس یہاں ظاہر یہی ہے کہ عقد باطل اور عقد فاسد کو ایک ہی مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے ۔ چنانچہ علامہ ابن الہمام نے صراحت کی ہے کہ نکاح میں باطل اور فاسد کا حکم یکساں ہے ۔ یہی حقیقت عقد فاسد کی ایک اور مثال پر امام سرخسی کی بحث سے بھی معلوم ہوتی ہے ۔ 
چنانچہ دو بہنوں کے ساتھ نکاح کے بارے میں امام سرخسی قرار دیتے ہیں کہ ایک ہی عقد میں دونوں کے ساتھ نکاح کیا تو دونوں کا عقد باطل ہے (فان تزوجھما فی عقدۃ واحدۃ ، بطل نکاحھما) ۔ تاہم اگر ایک کے ساتھ پہلے نکاح کیا اور دوسری کے ساتھ بعد میں ، تو امام سرخسی کہتے ہیں کہ پہلا نکاح جائز اور دوسرا فاسد ہے (و ان نکح احداھما قبل الاخری ، فنکاح الاولی جائز ۔۔۔ و نکاح الثانیۃ فاسد) ۔ دوسرا نکاح کیوں فاسد ہے ؟ اس کی تعلیل میں امام سرخسی کہتے ہیں کہ چونکہ اسی نکاح کے ذریعے وہ دو بہنوں کو اکٹھا کرتا ہے اس لیے اس کا باطل ہونا ضروری ٹھہرا (لان بھذا العقد یصیر جامعاً بین الاختین ، فتعین فیہ جھۃ البطلان) ۔ یہاں پھر فاسد اور باطل کو انھوں نے ایک ہی مفہوم میں استعمال کیا ہے اور یہ صرف لفظ کا استعمال ہی نہیں بلکہ آگے وہ حکم بھی یہی بیان فرماتے ہیں کہ اس شخص اور اس دوسری عورت کے درمیان تفریق کی جائے گی ، یعنی انھیں ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہنے دیا جائے گا (فیفرق بینھما) ۔ کیا عدالتِ عالیہ لاہور کے فاضل جج صاحب اس آخری بات پر غور فرمائیں گے؟ 
امام سرخسی آگے مزید واضح فرماتے ہیں کہ اگر اس دوسری عورت کے ساتھ اس شخص نے زن و شو کا تعلق قائم نہ کیا ہو تو اس عقد کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس کے ذریعے کوئی حق قائم نہیں ہوتا (فان لم یکن دخل بھا ، فلا شیء لھا)؛ یعنی یہ عقد قانوناً عدم (nullity) کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہی مطلب ہوتا ہے عقد کے باطل ہونے کا ! تاہم اگر دخول ہوجائے تو پھر کچھ اثرات مرتب ہوں گے ! مثلاً اب اس عورت پر عدت لازم ہوگی ، اور وہ مقررہ مہر یا مہر مثل کی ، جو بھی کم ہو ، مستحق ہوگی (و ان کان قد دخل بھا ، فعلیھا العدۃ ؛ و لھا الاقل من المسمی و من مھر المثل) ۔ ان اثرات کے مرتب ہونے کی وجہ کیا ہے ؟ یہی بات یار لوگ سمجھ نہیں پاتے اور یا تو حنفی فقہا کو سب و شتم کا نشانہ بناتے ہیں ، یا فاضل جج صاحب کی طرح فرض کرلیتے ہیں کہ جو بھی ہوا ، غلط طریقے سے ہوا لیکن اب جو ہوا اسے صحیح سمجھو ؛ مٹی پاؤ ! 
دراصل یہاں آکر خانگی قانون کی سرحدیں فوج داری قانون سے مل جاتی ہیں ۔ اگر یہ دوسرا عقد قانوناً باطل تھا ، اور یقیناًتھا ، لیکن اس کے باوجود اس جوڑے نے زن و شو کا تعلق قائم کیا تو کیا ان پر زنا کی حد لاگو ہوگی ؟ حنفی مذہب یہ ہے کہ چونکہ یہاں بظاہر عقد پایا جاتا ہے ، جسے وہ اصطلاحاً شبھۃ العقد کہتے ہیں ، تو اس کی وجہ سے زنا کی حد ساقط ہوجاتی ہے (لان الدخول حصل بشبھۃ العقد ، فیسقط بہ الحد)۔ اب جبکہ حد ساقط ہوگئی ہے تو مہر اور عدت تو یقیناً واجب ہوں گے (و یجب المھر و العدۃ) کیونکہ قاعدہ یہی ہے کہ جب دخول ہو تو دو میں سے کوئی ایک اثر لازماً ہوگا : حد یا مہر ؛ اور استبراء رحم کے لیے عدت بھی گزارنی پڑے گی تاکہ نسب میں اختلاط کا اندیشہ نہ رہے ۔ یہاں اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ اس مہر کا یہ مطلب نہیں کہ یہ میاں بیوی ہیں ؛ یہ مہر عقد کے نتیجے میں واجب نہیں ہوا ، ورنہ اس صورت میں مقررہ مہر ہی ادا کرنا پڑتا خواہ مہر مثل سے کتنا ہی زیادہ ہو ؛ بلکہ یہ مہر دخول کی وجہ سے واجب ہوا ہے کیونکہ دخول ہوا لیکن حد نہیں دی گئی ؛ اور اسی وجہ سے مہر مثل یا مقررہ مہر میں جو کم ہو وہی دینا پڑے گا (ان المسمی اذا کان اکثر من مھر المثل ، لم تجب الزیادۃ لعدم صحۃ التسمیۃ) ۔ عدت کے بارے میں بھی واضح رہے کہ یہ صحیح عقد نکاح کے خاتمے کے بعد والی عدت نہیں ہے ۔ چنانچہ اگر دخول کے بعد اس مرد کی موت واقع ہوجائے تو اس عورت پر چار ماہ دس دن کی عدت نہیں ہوگی بلکہ تیسرا حیض آنے پر عدت ختم ہوجائے گی ، جیسا کہ علامہ شامی نے تصریح کی ہے (ان الموطوء ۃ بنکاح فاسد ، سواء فارقھا او مات عنھا ، تجب علیھا العدۃ التی ھی عدۃ طلاق ، و ھی ثلاث حیض) ۔
ایک اور اہم جزئیہ اس مسئلے کے بارے میں یہ ہے کہ نکاح فاسد کو فریقین میں کوئی بھی یک طرفہ طور پر ختم ، یعنی ، فسخ کرسکتا ہے ، خواہ دخول ہوا ہو یا نہ ہوا ہو (لکل واحد منھما فسخہ، و لو بغیر محضر من صاحبہ، و دخل بھا او لا) ۔ کیا فاضل جج صاحب بتاسکتے ہیں کہ اسلامی قانون کی رو سے صحیح عقد نکاح میں بیوی کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے ، جبکہ اسے طلاق کا حق تفویض بھی نہ کیا گیا ہو ؟ پھر یہاں کیوں اس خاتون کو یہ حق حاصل ہوتا ہے ، خواہ دخول ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ؟ اس کاجواب یہ ہے کہ یہ معاملہ گناہ کا تھا اور گناہ سے نکلنا واجب ہے (خروجاً عن المعصیۃ) ۔اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ تصریح بھی ملاحظہ کیجیے کہ قاضی پر واجب ہے کہ اگر یہ جوڑا خود ہی اس تعلق کو ختم نہ کرے تو قاضی اس جوڑے کے درمیان تفریق کردے ،یعنی انھیں مزید اکٹھا نہ رہنے دے (بل یجب علی القاضی التفریق بینھما، ای ان لم یتفرقا)۔اس جزئیے کی روشنی میں عدالتِ عالیہ لاہور کے اس فیصلے کی حیثیت کیا ہوجاتی ہے ؟ 
اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جو عورت عدت گزار رہی ہو اس کے ساتھ اس کے سابقہ شوہر کے سوا کوئی دوسرا شخص نکاح کرے گا تو وہ نکاح ، خواہ اسے فاسد کا نام دیا گیا ہو ، اپنے آثار اور احکام کے لحاظ سے باطل ہے جب تک وہ جوڑا زن و شو کا تعلق قائم نہ کرلیں ۔ البتہ اگر عدت میں نکاح کا گناہ کرنے کے بعد اس جوڑے نے ایک اور گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے زن و شو کا تعلق بھی قائم کرلیا تو جرم کی سنگینی کے باوجود اس بظاہر عقد (شبھۃ العقد) کی موجودگی کی وجہ سے اس جوڑے کو حد کی سزا نہیں دی جاسکے گی ۔ تاہم اب اس تعلق پر کچھ اور قانونی اثرات مرتب ہوں گے جنھیں عقد فاسد کے اثرات قرار دیا گیا ہے ۔ چنانچہ اس مرد پر لازم ہوگا کہ مقررہ مہر یا مہر مثل ( جو بھی کم ہو ) اس عورت کو ادا کردے اور اس عورت پرتین حیض کی عدت لازم ہوجائے گی ۔ اسی کا ایک اور لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس تعلق کے نتیجے میں اگر بچہ پیدا ہوجائے تو اسے ناجائز نہیں قرار دیا جائے گا ۔ البتہ یہ تعلق چونکہ ناجائز اور گناہ ہے، اس لیے فریقین میں کوئی بھی اسے یک طرفہ طور پر فسخ کرسکتا ہے اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو عدالت پر لازم ہوگا کہ ان کے درمیان تفریق کرے ۔ اگر فریقین ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے انھیں نیا عقد نکاح کرنا ہوگا جو صحت کی تمام شرائط پورا کرے ۔ 
زیر بحث مقدمے میں فاضل جج صاحب نے آگے یہ بھی قرار دیا ہے کہ حقائق کی رو سے عورت کی عدت پہلے ہی ختم ہوچکی تھی اور یہ نکاح عدت کے خاتمے کے بعدکیا گیا تھا ۔ تاہم عدت کے خاتمے کے لیے جن دلائل پر فاضل جج صاحب نے بھروسا کیا ہے، ان پر الگ بحث کی ضرورت ہے جسے ہم کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں ۔ سردست صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ اگر واقعی ایسا تھا تو پھر عدت میں نکاح کی ساری بحث ہی فاضل جج صاحب کے لیے غیر ضروری تھی ۔ وہ صرف یہی ثابت کردیتے کہ عدت میں نکاح کا دعوی صحیح نہیں ہے اور اسی لیے یہ نکاح بالکل صحیح ہے ۔ اس کے برعکس جب انھوں نے شد ومد کے ساتھ تصریح کی ہے کہ عدت میں نکاح محض بے ضابطگی ہے اور یہ کہ اس جوڑے کا تعلق غیر شرعی نہیں ہے ، تو آئندہ اسی کو اس فیصلے کی بنیاد (ratio decidendi) کے طور پر استعمال کیے جانے کا اندیشہ ہے ۔ اسی لیے یہ وضاحت ضروری سمجھی گئی۔ ھذا ما عندی ، و العلم عند اللہ۔

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۲)

غازی عبد الرحمن قاسمی

اس مقام پر ایک وزنی سوال ہے کہ شاہ صاحب جیسے جلیل القدر عالم جن کی پہچان ہی محدث دہلوی کے نام سے ہے، ان سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ صحیح احادیث کے ساتھ ضعیف احادیث بھی نقل کریں اور ان سے استدلال کریں؟

علامہ زاہد الکوثری ؒ کے شاہ صاحب پراعتراضات

علامہ زاہد الکوثریؒ (م -۱۳۶۸ھ)نے شاہ صاحب پر جواعتراضات کیے ہیں، ان میں سے ایک یہی ہے’’ کہ آپ کی نظر صرف متون حدیث کی طرف ہے ،اسانید کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے ۔‘‘علامہ کوثری ؒ نے شاہ صاحب کی علمی خدمات کو کھلے دل سے سراہا ہے مگر اس کے بعد چند مقامات پر آپ کے بعض افکار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے گرفت بھی کی ہے ۔ علامہ کوثری ؒ لکھتے ہیں :
ولہ رحمۃ اللہ خدمۃ مشکورۃ فی انھاض علم الحدیث فی الھند،لکن ھذا لایبیح لنا السکوت عما ینطوی علیہ من اعمال تجافی الصواب(۳۷)
’’آپ ؒ کی ہندوستان میں علم الحدیث کی اشاعت میں قابل تشکر خدمات ہیں ۔لیکن محض اس بات کی وجہ سے ہم آپ کی بیان کردہ ان باتوں پر خاموشی نہیں اختیار کرسکتے جو درستگی سے دور ہیں ۔‘‘
اس کے بعد علامہ کوثری ؒ نے جو مباحث شروع کی ہیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
۱۔ شاہ صاحب اعتقادی اور فروعی مسائل میں حنفی مذھب پر تھے ۔اورمجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی ؒ کے موقف’’ توحید شہودی ‘‘کے قائل تھے ۔مگر جب آپ ؒ حجاز تشریف لے گئے تو شیخ ابو طاہر ؒ بن ابراہیم سے صحاح سۃ کی تعلیم حاصل کی، اور ان کے والد ابراہیمؒ کی کتب کا گہر ا اثر قبو ل کیا جب کہ ان کی کتب میں ہرقسم کی آراء موجود تھیں ۔چنانچہ آپ ؒ فقہ اور تصوف میں ان کی طرف مائل ہوگئے ۔اور جب ہندوستان لو ٹ کر آئے تو اپنے گھروالوں اور خاندان کے مذہب سے انحراف کیا ۔یعنی فقہ ،تصوف اور اعتقادی مسائل میں خاندانی مذہب(مسلک ) کو چھوڑ دیااور’’ توحید شہودی ‘‘کی جگہ ’’توحید وجودی ‘‘کے قائل ہوگئے ۔
۲۔ شاہ صاحب ؒ اللہ تعالی کے شکل وصورت میں تجلی فرمانے کے قائل ہیں ۔اوراس کے بھی کہ اللہ تعالی کا مظاہر میں ظہور ہوتاہے اور آپ ؒ کے خیال میں یہ اکابر کا عقیدہ ہے ۔جبکہ یہ بات تو ان لوگوں کے مطابق ہے جو حلول کے قائل ہیں ۔ جید علماء کے نزدیک اس قسم کا قول قابل ترک ہے ۔
۳۔ صحاح ستہ کی احادیث کے متون کی طرف آ پؒ کی خاصی توجہ ہے اسانید کی طرف نہیں ہے ۔جبکہ اہل علم کے ہاں صحیحین کی اسانید پر بھی نظر کی جائے گی ۔اور اسی طرح جب فروعی (فقہی )مسائل میں اسناد کو پرکھا جاتاہے جیسا کہ اہل علم کا طریقہ کاررہاہے ۔ تو اعتقادی مسائل میں کس طرح اسناد کی طرف نظر نہ کرنے کو جائز قرار دیا جاسکتاہے؟ جبکہ شاہ صاحب نے فقہی مسائل ہوں یا اعتقادی مسائل ہوں صرف متون حدیث کی طرف توجہ کی ہے اسانید کو نظرانداز کیاہے ۔اور محض صحاح ستہ کے متون پر اکتفاء کرنا اور اسناد کو نظرانداز کرنا یہ مذاہب فقہا ء اور ائمہ کی مسانید میں تحکم پر بڑی جرات ہے ۔تاریخ کے امام اور ماہر محقق پر یہ بات عیاں ہوجاتی ہے ۔
۴۔ شاہ صاحبؒ کا’’ شق قمر‘‘کے بارے میں موقف یہ ہے کہ چاند دو ٹکڑے نہیں ہوا تھا بلکہ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہوا تھا ۔علامہ کوثر ی کہتے ہیں کہ رسولوں ؑ کی شان میں سے نہیں ہے کہ وہ لوگوں کی آنکھوں پر جادوکریں ۔یہ موقف شاہ صاحب کا تفرد ہے ۔
۵۔ حدیث کے مشکل مقامات کی تشریح کرتے ہوئے آپ عالم مثال کے قائل ہیں جس میں معانی (وہ چیزیں جن کا دنیا میں جسم نہیں ہے ۔)جسم کی شکل پاتے ہیں ۔جیسا کہ بعض صوفیہ اس کے قائل ہیں ۔جبکہ شرعا اورعقلا اس قسم کے کسی عالم کا وجود ثابت نہیں ہے ۔اور کسی چیز کو ایسی حالت پر محمول کرنا جس کو قرون اولی کے لوگ نہ سمجھتے ہوں وہ محض ایک خیال اور گمراہی ہے ۔چنانچہ اسناد،رجال اور وجوہ دلالت پر نظر کیے بغیر جو کہ ائمہ صالحین کے ہاں معتبر ہے ،حدیث کے مشکل مقامات کی تشریح کرنے کی کو ئی گنجائش نہیں ہے ۔
۶۔ آپ ؒ کا مطالعہ کتب محدود ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات آپ ؒ ؒ متقدم علماء کے اقوال وموقف پر جو تبصرہ کرتے ہیں وہ ادھوراہوتاہے۔ اس لیے کہ ان کی اصل کتب کی طرف آپ نے مراجعت نہیں کی ہوتی جس کی وجہ سے ان علماء کے اصول مذہب اور موقف میں اختلاف محسوس ہوتاہے ۔مثلاً آپ ؒ نے فقہ حنفی کے بعض فقہی اصولوں پر جوکلام کیا ہے وہ اسی قبیل سے ہے ۔ اگر متقدمین حنفیہ کی کتب اصول مثلا عیسیٰ بن ابان کی الحجج الکبیر، الحجج الصغیر، ابوبکر رازی کی فصول، اتقانی کی شامل ،ظاہرالروایت کی کتب کی شروح کا مطالعہ کیا ہوتا تو یہ صورتحال نہ ہوتی ۔
۷۔ آپ ؒ اس بات کے قائل ہیں کہ عالم قدیم ہے جب کہ جمہور کے ہاں عالم حادث ہے ۔اور سنن ترمذی میں ابو رزین کی حدیث ’’فی العما‘‘سے آپ نے اپنے موقف کو ثابت کیاہے جبکہ اس کے راوی نے جو اس کی تشریح کی ہے اس کو آپ ؒ نے نظر انداز کردیاہے ۔اور اس میں حماد بن سلمہ اور وکیع بن حدس متکلم فیہ راوی موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ امام بخاری ؒ ومسلم ؒ نے اس حدیث کو نہیں لیا ۔اللہ تعالیٰ کے لیے مکان کا اثبات یا عالم کو قدیم ثابت کرنا یہ قرآنی تعلیمات کے منافی ہے، جس شخصیت کی حدیث میں ایسی صورت حال ہو تو احکام کے دلائل میں اسے کیسے منصف مان لیا جائے۔ (۳۸)
علامہ کوثری ؒ کے مذکورہ اعتراضات کے جوابات تفصیل کے متقاضی ہیں ،ان شا ء اللہ تعالی کسی اور مقالہ میں اس پر تفصیلی قلم اٹھایاجائے گا ۔اگرکوئی اور صاحب علم بھی اس پر کام کرنا چاہے تو میدان خالی ہے ۔بہرکیف ان اعتراضات میں سے تین کا تعلق زیر نظر مقالہ کے مباحث سے ہے ۔ان کا اجمالی جواب شاہ صاحب ؒ کے کلام سے ہی پیش کیا جا ئے گا۔ علامہ کوثری ؒ کا یہ اعتراض کہ ’’شاہ صاحب کی نظر صرف متون حدیث تک ہے اسنادپر توجہ نہیں ہے ۔‘‘
اس سوال کا جواب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کی ہی ایک عبارت سے پیش کیاجاتاہے۔
شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں :
وانما الاقرب من الحق با عتبار فن الحدیث ماخلص بعد تدوین احادیث البلاد وآثار فقھا ءھا ومعرفۃ المتابع علیہ من المتفرد بہ والاکثررواۃ والاقوی روایۃ مما ھو دون ذالک علی انہ ان کان شئی من ھذا النوع استطرادا فلیس البحث عن المسائل الاجتہادیہ وتحقیق الاقرب منھا للحق بدعا من اھل العلم ولا طعنا فی احد منھم (۳۹)
’’اور فن حدیث کی رو سے وہ احادیث حق سے زیادہ قریب ہیں جو ممالک اسلامیہ میں مدون ہوئیں اور ان میں سے قابل اعتماد ہو کر سامنے آئیں اور فقہاء نے جن کی تائید کی اور متابعات نے ا ن کے تفرد کو دور کیا جن کے راوی بکثرت رہے اور اسانید وروایات قوی تر رہیں اس قسم کی احادیث حق کے زیادہ قریب ہیں بہ نسبت ان احادیث کہ جن میں یہ صفات نہیں ہیں البتہ اگر اس قسم کی کوئی حدیث تبعا بطورتائید پیش کی جائے توکوئی مضائقہ بھی نہیں ،کیونکہ مسائل اجتہادیہ میں بحث کرنا اورجو حق سے قریب تر اسے ثابت کرنا علماء کرام کے نزدیک کوئی بدعت نہیں ہے نہ اس کی وجہ سے ان علماء کی شان میں کوئی طعن ہوسکتاہے ۔‘‘
شاہ صاحب کے مذکورہ کلام سے معلوم ہوا کہ شاہ صاحب’’ حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں احادیث پر اس لیے کلام نہیں کرتے کہ آپ نے ان احادیث کوہی ذکر کیاہے جن کو مشہور محدثین نے اپنی کتب میں نقل کیاہے ۔اوروہ قابل اعتماد روایات ہیں۔ لہٰذا مذکورہ اعتراض کا جواب ہوگیا کہ شاہ صاحب اس لیے احادیث کی صحت وسقم پر کلام نہیں کرتے کہ آپ کی تحقیق کے مطابق یہ روایات صحیح ہیں ۔اور اگر تسلیم کرلیا جائے کہ یہ روایات ضعیف ہیں تواس کا جواب بھی شاہ صاحب کے کلام سے ملتاہے ۔کہ ایسی احادیث کوضمنا وتبعا بطور تائید کہ پیش کیا جاسکتاہے اس لیے کہ اجتہادی مسائل میں بحث کرنا اور احق کی معرفت اہل علم کے نزدیک بدعت نہیں ہے ۔
باقی آپ ؒ کے تفردات اور مطالعہ کتب کے محدود ہونے کا پس منظر کیاہے ۔؟ان اعتراضات کے جوابات آگے آرہے ہیں ۔

عقلی دلیل کی مثال

شاہ صاحب ؒ تدبیر منزل کے بیان میں فرماتے ہیں :
وھو الحکمۃ الباحثۃ عن کیفیۃ حفظ الربط الواقع بین اھل المنزل علی الحد الثانی من الارتفاق وفیہ اربع جمل الزواج ،والولادۃ والملکۃ والصحبۃ (۴۰)
’’اور تدبیر منزل وہ حکمت ہے جو ارتفاق کی حدثانی پر ایک گھر کے باشندوں میں پائے جانے والے ربط وتعلق کی کی نگہداشت کی کیفیت سے بحث کرنے والی ہے ۔اس فن میں چار جملے ہیں ۔ازدواج، ولادت، ملکیت اور رفاقت ۔‘‘
مرد وعورت کے درمیان قربت ورفاقت کی وجہ جماع کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں ۔اسی بات کو بیا ن کرتے ہوٗے شاہ صاحب لکھتے ہیں :
و الاصل فی ذالک ان حاجۃ الجماع اوجبت ارتباطا واصطحابابین الرجل والمراۃ(۴۱)
’’اور بنیادی دلیل اس ازدواج میں یہ ہے کہ جماع کی ضرورت نے مرد اور عورت کے د رمیان باہمی تعلق اور رفاقت ثابت کی ہے ۔‘‘
۴۔ کئی مقامات پر اجمالا بات کرنے کے بعد وَمِنْہَا(اور ان میں سے )کے تحت اس کی تفصیل بیان کرتے ہیں اور اسے ۲۵۰سے زائد مقامات پر لائے ہیں ۔

مثال

شاہ صاحب دین اسلام کے دیگر مذاہب پر غلبہ کے اسباب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
وغلبۃ الدین علی الادیان لھا اسباب (۴۲)
’’اور دین اسلام کو عالم کے تمام ادیان پر غالب اور بلندوبالا کرنے کے چند اسباب ہیں۔‘‘
اس کے بعد’’ وَمِنْہَا ‘‘سے اس اجمال کی تفصیل بیان کرتے ہیں ۔
چنانچہ لکھتے ہیں :
منھا اعلان شعائرہ علی شعائر سائر الادیان وشعائر الدین امر ظاھر یختص بہ یمتاز صاحبہ بہ من سائر الادیان کالختان وتعظیم المساجد والاذان والجمعۃ والجماعات (۴۳)
’’اور ان اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ ،اسلامی شعائر کو دیگر ادیان کے شعائر پر ظاہرکرنا ۔اور دین کا شعار وہ ظاہری معاملات ہیں جو اس کے ساتھ خاص ہیں ۔جس کے ذریعے صاحب شعار تمام ادیان سے ممتاز ہوتاہے۔جیسے ختنہ کرانا ،مساجد کی تعظیم کرنا ،اذان ،جمعہ اور جماعتیں ۔‘‘
اور آگے لکھتے ہیں :
ومنھا ان یقبض علی ایدی الناس الا یظھروا شعائر سائر الادیان (۴۴)
’’اور ان میں سے یہ کہ امام لوگوں کے ہاتھوں کو پکڑ لے کہ وہ دیگر ادیان کے شعائر کو ظاہر نہ کریں ۔‘‘
یعنی دیگر ادیان کے شعائر کے ظاہرکرنے پا بندی عائد کردی جائے ۔
اور آگے مزید لکھتے ہیں :
ومنھا الایجعل المسلمین اکفاء للکافرین فی القصاص والدیات ولافی المناکحات ولافی القیام بالریاسات لیلجئھم ذالک الی الایمان الجاء (۴۵)
’’اور ان اسباب میں سے ،کہ مسلمان اور کافروں کو قصاص ودیت میں برابر نہ رکھا جائے اور نہ نکاح کے معاملوں میں ،اور ریاست کے انتظام وانصرام میں تاکہ یہ امتیاز ان میں ایمان کی رغبت پیدا کرے ۔‘‘
اور آگے لکھتے ہیں :
ومنھا ان یکلف الناس باشباح البر والاثم ویلزمھم ذالک الزاما عظیما (۴۶)
’’اور ان میں سے یہ کہ لوگوں کو نیکی اور گناہ میں ظاہری اعمال کا حکم دیا جائے اور تاکید کے ساتھ ان کو لازم کیا جائے۔‘‘
شاہ صاحب کے مذکورہ کلام ’’دین اسلام کو دیگر مذاہب پرغالب کرنے کے اسباب ‘‘کا خلاصہ درج ذیل ہے ۔
۱۔ دین اسلام کے شعائر کو دنیا کے تمام ادیان اور مذاہب کے شعائر سے بلندو بالا رکھا جائے اور یہ شعائر بالکل واضح ہوں اور انہی کے لیے مخصوص ہوں کہ ان شعائر کو اختیار کرنے والے دیگر مذاہب سے الگ ہوجائیں ۔مثلا ختنہ،مسجدوں کی تعظیم ،اذان ،جمعہ اور جماعتیں وغیرہ۔اس سے دیگر ادیان پر دین اسلا م کاغلبہ ہوگا ۔
۲۔ دیگر مذاہب والوں کو ممانعت کردی جائے کہ وہ اپنے مذہبی شعائر کو ظاہر اور برملا اختیار نہ کریں ۔
۳۔ قصاص ،دیت ،نکاح اور دیگر ریاست کے اہم عہد وں پر کافروں کو مسلمانوں کے برابر نہ کیا جائے تاکہ وہ ایمان کی طرف رغبت کریں ۔
۴۔ امام وقت لوگوں کو نیکی اور بدی کی ظاہری صورتوں کا پابند کرے کہ اس قسم کے ظاہری کام نیکی ہیں جو کرنے ہیں اور اس قسم کے کام گناہ ہیں جن سے بچناہے ۔
واضح رہے کہ مسلمان اور کافر کی دیت میں جو فرق شاہ صاحب نے کیا ہے ۔احناف کا موقف اس سے مختلف ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک مسلمان کوقصاصا کافرکے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور کافرکی دیت بھی مسلمان کی دیت سے آدھی ہے ۔
شاہ صاحب حدیث نقل کرتے ہیں :
لَا یقتل مُسلم لکَافِر (۴۷)
’’ کافر کے بدلہ مسلمان کوقتل نہ کیا جائے ۔‘‘
اس حدیث کی تشریح میں شاہ صاحب لکھتے ہیں :
اقول والسر فی ذالک ان المقصود الاعظم فی الشرع تنویہ الملۃ الحنیفیۃ ولایحصل الا بان یفضل المسلم علی الکافر ولایسوی بینھما(۴۸)
’’میں کہتا ہوں اس میں یہ حکمت ہے کہ شریعت اسلامیہ کا عظیم ترین مقصد یہ ہے کہ ملت حنیفیہ کی عظمت وشوکت قائم کی جائے ۔اورظاہر ہے کہ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ کافر کے مقابلہ میں مسلمان کی فضیلت وبرتری قائم کی جائے اور کافرومسلمان کے درمیان مساوات نہ رکھی جائے ۔‘‘
اسی طرح دیت کے مسئلہ میں شاہ صاحب حدیث نقل کرتے ہیں :
دِیَۃ الْکَافِر نصف دِیَۃ الْمُسلم (۴۹)
’’کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے آدھی ہے ۔‘‘
اس حدیث کی تشریح میں شاہ صاحب لکھتے ہیں :
اقول السبب فی ذالک ما ذکرنا قبل انہ یجب ان ینوہ بالملۃ الاسلامیۃ وان یفضل المسلم علی الکافر ولان قتل الکافر اقل افساد ا بین المسلمین واقل معصیۃ فانہ کافر مباح الاصل یندفع بقتلہ شعبۃ من الکفر وھو مع ذالک ذنب وخطیءۃوافساد فی الارض فناسب ان تخفف دیتہ (۵۰)
’’میں کہتا ہوں اس کا سبب وہی ہے جو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اس سے ملت اسلامیہ کی شان وشوکت اور عظمت مقصود ہے نیز یہ بھی وجہ ہے کہ مسلمان کوکافر کے مقابلہ میں برتری دی جائے ۔نیز یہ کہ کافر کا قتل مسلمانوں کے درمیا ن فساد پیدا کرنے کے لحاظ سے کم ہے ۔اور کافرکوقتل کرنے کا گناہ بھی بہت کم ہے کیونکہ کافر مباح الاصل ہے ۔اس کے قتل کرنے سے کفر کی ایک شاخ دور ہوجاتی ہے لیکن پھر بھی کافر کو قتل کرنا گناہ،خطا اور زمین میں فسا د پھیلاناہے اس لیے دیت میں تخفیف ہی مناسب ہے ۔‘‘
کافر اور مسلمان کے قصاص ودیت میں فرق کے لحاظ سے شاہ صاحب کا موقف بڑی وضاحت کے ساتھ سامنے آگیا کہ اس میں شریعت اسلامیہ کا مقصود ملت اسلامیہ کی شان وشوکت ہے ۔مالکیہ کا موقف بھی یہی ہے کہ کافر ذمی کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہے ۔(۵۱)اور اسی طرح کافر کے بدلے مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔(۵۲) مگر احناف کے ہاں کافر کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہے ۔ اوراگر کسی مسلمان نے کافر ذمی کو قتل کیا تو اس کے بدلے میں اس مسلمان کو قتل کیا جائے گا۔
امام محمد بن حسن الشیبانی (م-۱۸۹ھ)نے اس مسئلہ پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے وہ لکھتے ہیں:
والاحادیث فی ذالک کثیرۃ عن رسول اللہ ﷺ مشہورۃ معروفۃ انہ جعل دیۃ الکافر مثل دیۃ المسلم وروی ذالک افقھھم واعلمھم فی زمانہ واعلمھم بحدیث رسول اللہ ﷺ ابن شہاب الزھری فذکر ان دیۃ المعاھد فی عھد ابی بکر وعمر وعثمان رضی اللہ عنھم مثل دیۃ الحر المسلم (۵۳)
’’اور اس بارے میں بہت سی مشہور ومعروف احادیث رسول اللہﷺسے مروی ہیں کہ آپ ﷺنے کافر کی دیت کو مسلمان کی دیت کے مثل مقرر کیا ۔اور یہ روایت کرنے والے اپنے زمانہ میں ان سے زیادہ حدیث رسولﷺ کے افقہ واعلم ہیں ۔امام ابن شہاب زہری نے ذکرکیا کہ معاہد کی دیت حضرت ابو بکر وحضرت عمر وحضرت عثمان کے زمانہ میں آزاد مسلمان کی دیت کے مثل تھی ۔‘‘
شیخ جمال الدین ابو محمد علی بن ابی یحییٰ (م -۶۸۶ھ )نے بھی اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کی ہے۔(۵۴)اسی طرح امام زیلعی نے بھی تفصیلی کلام کیاہے ۔(۵۵)اور مسلمان کو کافر کے بدلے قتل کرنے کے بارے میں صاحب ہدایہ نے تفصیلی بحث کی ہے ۔(۵۶)
۵۔ قرآن وسنت کی تفسیر وتشریح اور شریعت اسلامیہ کی تعبیر کرتے وقت شاہ صاحب جو رائے قائم کرتے ہیں وہ اکثر ان کی اپنی ہوتی ہے۔ایسا شاذ ونادر ہے کہ آپ اپنے سے پہلے گزرنے والے اہل علم کی کتب سے اقتباس اور حوالہ دیں۔ جہاں یہ بات آ پ کی علمیت کی دلیل ہے، وہیں پر حجۃ اللہ البالغہ کا مطالعہ کرنے والے کے لیے بہت بڑ ا مشکل مرحلہ ہے۔ اس لیے کہ اکثرمقامات پر آپ کی ذاتی رائے ہوتی ہے اور سابقہ کتب سے آپ نے وہ بات نقل نہیں کی ہوتی بلکہ آپ پر القاء یا الہام ہوتی ہے اور اس کاماخذ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے مضامین کاسمجھنا دشوار ہوتاہے ۔اس لیے کہ اگر وہ رائے کسی سابقہ کتب سے لی گئی ہو تو اس کتاب سے مراجعت کرکے اس کا سمجھنا آسان ہے ۔مگر چونکہ ایسا نہیں ہے، اس لیے بہت سے مضامین تک اچھے خاصے علم رکھنے والے کی رسائی نہیں ہوتی ۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی اس کتاب میں دیگر اہل کے حوالے اوراقتباس ہیں مگر بہت کم تعداد میں ہیں ۔شاہ صاحب کی اس کتاب میں دیگر اہل علم کے زیادہ حوالے کیوں نہیں ملتے ۔؟یا بقول علامہ کوثری ’’ آپ کا مطالعہ محدود تھا‘‘اس کی کیا وجہ ہے ۔؟
اس کا جواب بھی شاہ صاحب ؒ کے کلام سے نقل کیاجاتاہے :
وانہ لایتاتی منی الامعان فی تصفح الاوراق لشغل قلبی بمالیس لہ فواق ولا یتیسر لی التناھی فی حفظ المسموعات لاتشدق بہا عند کل جاء وآت وانما انا المتفرد بنفسہ المجتمع(۵۷)
’’اور میرے لیے کتابوں کی ورق گردانی آسان نہیں ہے کیوں کہ میرا دل ایسے معاملہ میں مشغول ہے جس سے مجھے بالکل فرصت نہیں ہے ۔اور میرے لیے اساتذہ سے سنی ہوئی باتوں کو یاد رکھنے میں آخری حد تک پہنچنا بھی آسان نہیں کہ میں ہرآنے اورجانے والے کے سامنے انہیں بیان کروں ،میں اپنی ذات کے ساتھ تنہا ہونے والا ہوں ۔ ‘‘
چونکہ شاہ صاحب ہروقت اللہ کی یاد میں مصروف ومشغول رہتے تھے اس لیے زیادہ کتابوں کی طرف مراجعت نہیں کرتے تھے ۔ان کے زیادہ تر علوم کسبی و القائی ہیں ۔اس لیے آپ کی کتابوں میں کتب متقدمین کی عبارات واقتباسات بہت کم ہیں ۔
۶۔ شاہ صاحب کا انداز تحریر اور الفاظ کااستعمال فصاحت وبلاغت کے لحاظ اس قدر بلند ہے کہ عام قاری کی اس تک رسائی نہیں ہوسکتی اور بعض مقامات پر عبارت اس قدرمغلق اور دقیق ہے کہ متعدد الفاظ کا مفہوم لغت کا سہارا لیے بغیر سمجھ میں نہیں آتا اور یہ فیصلہ کرنا دشوار ہوتاہے کہ یہاں پر یہ لفظ کن معنوں میں استعمال ہورہاہے ۔اس لیے کتاب سے کماحقہ استفادہ کے لیے عربیت وادبیت میں اعلی استعداد کی ضرورت ہے۔
۷۔ شاہ صاحب اس قدر مختصر انداز میں مضامین کو تحریر کرتے ہیں کہ بڑی طویل بحثوں کو چند جملوں میں سمیٹ دیتے ہیں ۔بعض اوقات اسی حد سے زیادہ اختصار کی وجہ سے مضامین گرفت میں نہیں آتے ۔
۸۔ شاہ صاحب نے’’ حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں ایسا اسلوب اختیار کیاہے جس سے اجتہاد وتحقیق پر طاری جمود کاخاتمہ ہوگیا کہ ہر بات میں وہی حق ہے جو سلف نے کہہ دیاہے مزیدتحقیق کی ضرورت نہیں ہے ۔چنانچہ وہ غیر منصوص فروعی مسائل جن میں علماء کی بحثیں ہوئی ہیں اگر مجبوری اور ضرورت کے وقت اس قسم کے مسائل میں مزید توضیح وتشریح کی ضرورت پیش آئے تو شاہ صاحب کا موقف یہ ہے کہ ہم پر لازم نہیں کہ ہم ان پہلے علماء کی ہر اس بات میں موافقت کریں جوانہوں نے کہی ہے ۔چنانچہ اس بارے میں آپ نے جو تفصیلی کلا م کیاہے وہ بعینہ نقل کیاجاتاہے ۔
شاہ صاحب لکھتے ہیں :
فلیس کل ما استنبطوہ من الکتاب والسنۃ صحیحا او راجحا ولاکل ما حسبہ ھولاء متوفقا علی شئی مسلم التوقف ولا کل ما اوجبوا ردہ مسلم الرد ولا کل ما امتنعوا من الخوض فیہ استصعا با لہ صعبا فی الحقیقۃ ولا کل ما جاوا بہ من التفصیل والتفسیر احق مما جاء بہ غیرھم (۵۸)
’’یہ ضروری نہیں کہ جوکچھ ان علماء نے کتاب وسنت سے مستنبط کیا ہے وہ بالکل صحیح اور راجح ہو ،اورنہ یہ ضروری ہے کہ ان علماء نے کسی مسئلہ کوکسی چیز پر موقوف سمجھا وہ حقیقت میں بھی اس پرموقوف ہو ،یا جس چیز کی انہوں نے تردید واجب سمجھی اس کی تردید واجب سمجھی جائے ،یا جن امور پرغوروغوض انہوں نے دشوار خیال کیا اور واقعہ میں بھی وہ دشوار ہی ہوں،یا جو تفصیل وتفسیر انہو ں نے پیش کی وہ دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ صحیح ہو۔‘‘
شاہ صاحب کی مذکورہ رائے کو نکات کی صورت میں پیش کیا جاتاہے۔
۱۔ یہ بات ضروری نہیں کہ سابقہ علماء کے قرآن وحدیث سے اخذ کیے ہوئے مسائل صحیح اور راجح ہوں جو لوگ ان کے بعد آئے ان کی تحقیقات بھی صحیح اور راجح ہوسکتی ہیں ۔
۲۔ متقدم علماء نے کسی مسئلہ کو کسی دوسری چیز پر موقوف سمجھا ،یہ ضروری نہیں کہ نفس الامر میں ایسا ہی ہو ،یہ بھی ہوسکتاہے کہ ان کی رائے غلط ہو۔
۳۔ سابقہ علماء نے جس چیز کی تردید کرنا لازمی سمجھی، ضروری نہیں کہ بعد میں آنے والے لوگوں پر بھی اس کی تردید واجب ہو ۔اس لیے کہ یہ ان کی رائے ہے جس کی اتباع کرنی دوسروں کے لیے ضروری نہیں ہے ۔
۴۔ ہر وہ معاملہ جس پر غور وفکر کرنے کے بعد سابقہ علماء نے سمجھا کہ یہ مشکل اور حل نہ ہونے والا مسئلہ ہے، ضروری نہیں کہ وہ مسئلہ یا معاملہ حقیقت میں بھی حل نہ ہوسکتاہو عین ممکن ہے بعد والے لوگ زیادہ اچھے طریقے سے اس کاحل پیش کردیں۔
۵۔ علماء متقدمین نے جن آیات واحادیث کی تفسیر وتفصیل بیان کی ہے،ضروری نہیں کہ وہ دیگر بعد میں آنے والے اہل علم کی بیان کردہ تفسیر وتشریح سے زیادہ قبولیت کی حقدار ہو۔عین ممکن ہے کہ بعد والے لوگ ان پر سبقت لے جائیں ۔
آخر میں شاہ صاحب لکھتے ہیں :
اما ھولاء الباحثوں بالتخریج والاستنباط من کلام الاوائل المنتحلون مذھب المناظرہ والمجادلۃ فلا یجب علینا ان نوافقہ فی کل ما یتفوھون بہ ونحن رجال وھم رجال والامر بیننا وبینھم سجال(۵۹)
’’بہر حال وہ لوگ جو متقدمین کے اقوال وکلام سے اخذ واستنباط کے ذریعہ بحث کرنے والے ہیں۔ مناظرہ اور مجادلہ جن کامذہب ہے ۔ان کے منہ سے نکلی ہوئی ہربات سے موافقت کرنا ہمارے لیے واجب نہیں ہے۔کیونکہ اگر وہ آدمی ہیں تو ہم بھی آدمی ہیں ۔اور معاملہ ہمارے اور ان کے درمیان کنویں کاڈول ہے ۔‘‘
شاہ صاحب نے اپنا موقف واضح کردیا کہ وہ لوگ جن کاکام ہی مناظرہ ومجادلہ ہے ان کی ہربات کو ہم کیوں تسلیم کریں وہ بھی انسان ہیں توہم بھی انسان ہیں ۔ان کے اورہمارے درمیان معاملہ بالکل ایسے ہے جیسے کنویں پرلٹکا ہوا ڈول جو بھی پہلے آئے گا وہ پانی بھرلے گا۔
۹۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ بعض مقامات پر شاہ صاحب نے ایسا موقف اختیار کیاہے جس کا جمہور علماء وفقہاء میں کوئی قائل نہیں ہے ۔ان باتوں کے بیان کرنے میں شاہ صاحب منفرد ہیں اور اس قسم کی آراء کو آپ کے تفردات میں شمار کیاجائے گا ۔
شاہ صاحب لکھتے ہیں :
وستجدنی اذا غلب علی شقشقۃ البیان وامعنت فی تمھید القواعد غایۃ الامعان ربما اوجب المقام ان اقول بما لم یقل بہ جمہور المناظرین من اھل الکلام کتجلی اللہ تعالی فی مواطن المعاد بالصور والاشکال وکاثبات عالم لیس عنصر یا یکون فیہ تجسد المعانی والاعمال باشباح مناسبۃ لھا فی الصفۃ وتخلق فیہ الحوادث قبل ان تخلق فی الارض وارتباط الاعمال بھیآت نفسانیہ وکون تلک الھیآت فی الحقیقۃ سببا للمجازاۃ فی الحیات الدنیا وبعد الممات والقو ل بالقدر الملزم ونحو ذالک (۶۰)
’’اورعنقریب آپ مجھے پائیں گے جب مجھ پر زور بیان کا غلبہ ہوگا ،اور میں نہایت غورخوض سے قواعدوضوابط تیار کروں گا ،بسا اوقات اس مقا م کاتقاضا ہوگا کہ میں وہ بات کہوں جو علمائے کلام میں سے کسی نہیں کہی ہوگی،مثلا اللہ تعالی کاآخرت میں شکل وصورت میں تجلی فرمانا،اور ایک ایسے عالم کو ثابت کرنا جس کاوجود ترکیب عنصری سے بالا تر ہے ۔جن میں معانی اور اعمال مختلف حالات میں مختلف قالبوں میں مناسب شکل وصورت میں مجسم اور متشکل ہوکر ظا ہر ہوتے ہیں ۔اور اس عالم مثال میں وہ تمام حوادث وواقعات جو بعد میں جاکر زمین پر ظاہر اور رونما ہونے والے ہیں ،پہلے سے ہی رونما ہوجاتے ہیں ۔اور اعمال انسانی کا قلبی کیفیات سے ایک خاص تعلق اورربط اور انہی حالتوں کادرحقیقت دنیا وآخرت میں جزا وسزا کاموجب ہونا ہے۔اور تقدیر ملز م کا قائل ہونا اور اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں۔‘‘
شاہ صاحب کے تفردات کو نکات کی صورت میں پیش کیا جاتاہے ۔
۱۔آخرت میں اللہ تعالی کا شکل وصورت میں تجلی فرمانا جبکہ جمہور علماء اللہ تعالیٰ کو شکل وصورت سے پاک قرار دیتے ہیں۔
۲۔علماء نے دو عالم بیان کیے ہیں ۔عالم دنیا اورعالم آخرت ،جبکہ شاہ صاحب کے نزدیک ایک عالم مثال بھی ہے جس کا وجود ترکیب عنصر ی سے بالاتر ہے یعنی وہ غیر مادی جہاں ہے اور اس میں معنوی چیزوں اور اعمال کو بھی جسم ملتاہے اور پہلے اس عالم میں واقعات وحوادث کا ظہور ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ دنیا میں رونما ہوتے ہیں ۔
۳۔علماء نے جزا وسز اکا سبب اعمال انسانی کو قراردیاہے جب کہ شاہ صاحب کے نزدیک قلبی کیفیات (نیت وغیرہ) جزا وسزا کا اصل سبب ہیں کیونکہ ان کے ساتھ ہی اعمال کا ربط وتعلق ہوتاہے ۔
۴۔علماء کے نزدیک تقد یر دو قسم کی ہے: تقدیر معلق اور تقدیر ملز م ،جبکہ شاہ صاحب کے نزدیک صرف تقدیر ملز م ہی ہے۔

شاہ صاحبؒ کے تفردات کا پس منظر

شاہ صاحب ؒ کے مذکورہ تفردات محض ان کے وجدانی خیالات کا مجموعہ نہیں ہیں بلکہ قرآن وسنت اور آثار صحابہ وتابعین سے آپ نے یہ مسائل اخذ کرکے اپنا موقف پیش کیا ہے۔چنانچہ علامہ کوثری ؒ کاشاہ صاحب ؒ کے ’’تفردات ‘‘پر اعتراض کا جواب بھی شاہ صاحب کے کلام سے نقل کیا جاتاہے۔
شاہ صاحب لکھتے ہیں:
فاعلم انی لم اجتری علیہ الابعد ان رایت الآیات والاحادیث وآثار الصحابۃ والتابعین متظاھرۃ فیہ ورایت جماعات من خواص اھل السنۃ المتمیزین منھم بالعلم اللدنی یقولون بہ ویبنون قواعدھم علیہ(۶۱)
’’جاننا چاہیے کہ میں نے اس پر لکھنے کی تبھی جرات کی جب میں نے قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اورآثار صحابہ وتا بعین کو اپنا موید پایا،نیز علماء اہل سنت میں سے مخصوص علماء کوجو علم لدنی کی وجہ سے دیگر علماء سے ممتاز ہیں اس میں کلا م کرتے اور ان پر قواعد کی بنیاد رکھتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘
مذکورہ بحث کے بعد یہ کہا جاسکتاہے کہ شاہ صاحب ؒ کے تفردات بلادلیل نہیں ہیں بلکہ نصوص پر گہرے غوروفکر کے بعد آپ ؒ نے وہ رائے قائم کی ہے ۔اور ان تفردات کے کے پیچھے عقلی نقلی دلائل ہیں جو آپ کے موقف کے موید ہیں ۔
شاہ صاحب ؒ سے اختلاف رائے کرتے ہوئے بعض مقامات پر علامہ کوثری ؒ کا قلم زیادہ ہی کاٹ دار واقع ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ عرض ہے کہ محض تفردات سے نہ کسی شخصیت کی علمیت کا انکار کیا جاسکتاہے اورنہ اس کے افکار کی بالکلیہ تردید واجب ہوتی ہے ۔اگر غور کیا جائے توشائید ہی تاریخ اسلام میں کوئی ایسا نامور عالم یا فقیہ ملے جس کے تفردات نہ ہوں تو کیا ان اکابر کی تحقیقات کو ان کے بعض تفردات کی وجہ سے ترک کردیا جائے گا ۔اس پر بھی اگر کوئی اہل علم کام کرنا چاہے تو میدا ن خالی ہے ۔اور کیا خوب ہوگا اگر وہ یہ عنوان رکھ لے ’’مشاہیر امت کے تفردات اور ان کا پس منظر ایک تحقیقی وتنقیدی مطالعہ ‘‘اس پر کام کے بعد معلوم ہوگا کہ تفردات کا آغاز کب ہوا ۔اور کتنی بڑی بڑی علمی شخصیات کے تفردات ہیں جن کو علماء امت نے قبول بھی نہیں کیا مگر ان اہل علم کے احترام میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔
۱۰۔ شاہ صاحب کو اللہ تعالی نے جن خصوصیات سے نواز تھا وہ کسی بھی اہل علم سے مخفی نہیں ہیں ۔ اتباع شریعت کاجذبہ اس قدر راسخ تھا کہ قرآن سنت کی خلاف ورزی تو ایک طرف اس کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے اور کس قدر عاجزی وانکساری کے ساتھ لکھ گئے ہیں کہ اگر میری کوئی بات قرآن وسنت یا قرون اولی کے اجماع کے خلاف تو میں اس سے برا ء ت کااعلان کرتا ہوں، اظہار لاتعلقی کرتاہوں۔
شاہ صاحب لکھتے ہیں :
وھا انا بری من کل مقالۃ صدرت مخالفۃ لآیۃ من کتاب اللہ او سنۃ قائمۃ عن رسول اللہﷺاو اجماع القرون المشہود لھا بالخیر او ما اختارہ جمہور المجتدین ومعظم سوا د المسلمین فان وقع شیی من ذالک فانہ خطا رحم اللہ تعالی من ایقظنا من سنتنا او نبھنا من غفلتنا(۶۲)
’’اور یادر ہے کہ میں ہر اس قول سے بری ہوں کہ جوکتاب اللہ کے خلاف ہو یا رسول اللہﷺکی معمول بہاسنت کے خلاف ہو ،یا ان قرون کے اجماع کے خلاف جن کے لیے خیر کی گواہی دی گئی ،یا اس رائے کے خلاف جس کو جمہور مجتہدین اور مسلمانوں کے سواد اعظم نے اختیار کیاہے ،پس اگر ایسی کوئی بات واقع ہوگئی ہے تو یہ خطا ہے ۔اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو ہمیں اونگھ سے بیدا رکرے اور ہماری غفلت پرتنبیہ کرے ۔‘‘
شاہ صاحب اپنے بعد میں آنے والے محققین کو ایک اچھا اسلوب اور منہج دے گئے ہیں ۔کہ وہی تحقیق معتبر ہوگی جو قرآن وسنت کے مطابق ہواس کے خلاف نہ ہو اور نہ خیرالقرون کے اجماع کے خلاف ہو ۔اور نہ ہی وہ ایسی تحقیق ہو جو جمہور مجتہدین اور مسلمانوں کی اکثریت کے راستہ سے ہٹاد ے ۔اور اگر میرے قلم سے کوئی ایسی بات نکل گئی ہوتو میں اس سے براء ت کا اعلان کرتاہوں۔اور کمال عظمت دیکھیے کہ دوسرے محققین کو دعوت دے رہے ہیں کہ اگر میری کوئی قابل گرفت بات ہو تو وہ ضرور مطلع کریں اور ساتھ ہی دعا بھی دے رہیں کہ اللہ ایسے شخص پر رحم فرمائے ۔

خلاصہ بحث

حضرت شاہ صاحبؒ علوم ومعارف کا بحر بیکراں تھے ۔آپ کی تما م تصانیف اس کا بین ثبوت ہیں ۔’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں آپ نے احکام شریعت کے اسرار وبھیدکی دل نشین اور موثر تشریح کی ہے ۔مصالح وحکم کو بیان کرنے میں آپ نے جو اسلوب اختیار کیاہے وہ بے مثال ہے خاص طور پر ان حالات کے تناظر میں جب زمانہ نئی کروٹ لے رہا تھا ، مسلم اقتدار کا سورج غروب ہونے کو تھا اورعقلیت پرستی کا دور شروع ہورہاتھا ۔آپ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں جو منہج طے کیا اس کے مطابق شروع سے لے کر تا آخر التزام کیا ۔قران وحدیث کے مطابق اپنا موقف پیش کیا اور فہم قران وحدیث میں جو عوارض مانع تھے ان کے تدارک کی تدابیر بیان کیں ۔زندگی کے تمام شعبوں اورپہلووں پر قرآن وسنت کی روشنی میں محققانہ کلام کیاہے ۔اور بعض مقامات پر آپ کی تحقیق ورائے جمہور علما ء سے مختلف ہوگئی ہے تو اس میں کسی نفسانی خواہش کا دخل نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے بھی قرآن وسنت سے اخذ کیے ہوئے دلائل ہیں جن کی وجہ سے آپ ؒ نے یہ موقف اختیار کیا ۔اور اپنے بعد میں آنے والے محققین کو ایک واضح پیغام دیا کہ اسلامی تحقیق اسی عالم کی معتبر ہوگی جو قرآن وسنت اور خیر القرون کے اجماع کی خلاف ورزی نہ کرے اور نہ ہی کوئی ایسی بات بلا دلیل کہے جو اس کو جمہور مجتہدین اورمسلمانوں کی اکثریت کے راستہ سے الگ کردے ۔


حوالہ جات

(۳۷) الکوثری ،محمد زاہد،حسن التقاضی فی سیرۃ الامام ابی یوسف القاضی ،مصر،دارالانوار للطباعۃ والنشر،س ن ،صفحہ ۹۶
(۳۸) ایضا،صفحہ۹۶تا ۹۹
(۳۹) حجۃ اللہ البالغہ ،جلد۱،صفحہ۱۰
(۴۰) ایضا،جلد۱،صفحہ۴۱
(۴۱) ایضا ،جلد۱،صفحہ۴۱
(۴۲) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۱۹
(۴۳) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۱۹
(۴۴) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۱۹
(۴۵) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۱۹
(۴۶) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۱۹
(۴۷) ایضا،جلد۲،صفحہ۱۵۲
(۴۸) ایضا،جلد۲،صفحہ۱۵۲
۴۹) ایضا،جلد۲،صفحہ۱۵۴
(۵۰) ایضا،جلد۲،صفحہ۱۵۴
(۵۱) ابن رشدالحفید،بدایۃ المجتھدونہایۃ المقتصد،جلد۴،صفحہ۱۹۸
(۵۲) ابن رشدالجد،محمد بن احمد،ابو الولید،المقدمات المھدات،دار الغرب الاسلامی، ۱۴۰۸ھ، جلد ۳، صفحہ ۲۸۴
(۵۳) الشیبانی،محمد بن حسن ،الامام،الحجۃ علی اہل المدینہ،بیروت عالم الکتب ،۱۴۰۳ھ،جلد۴،صفحہ۳۵۱
(۵۴) المنجبی ،الخزرجی،علی بن ابی یحییٰ،ابو محمد،اللباب فی الجمع بین السنۃ والکتاب، بیروت،دارالقلم، ۴۱۴۱ھ، جلد۲، صفحہ ۷۲۹
(۵۵) الزیلعی ،تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق،جلد۶،صفحہ۱۲۸
(۵۶) المرغینانی،علی بن ابی بکربن عبدالجلیل،الہدایہ فی شرح بدایۃ المبتدی،بیروت ،داراحیاء التراث العربی، س ن،جلد۴،صفحہ۴۴۴
(۵۷) حجۃ اللہ البالغہ ،جلد۱،صفحہ۴
(۵۸) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۰
(۵۹) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۱
(۶۰) ایضا،جلد۱،صفحہ۹
(۶۱) ایضا،جلد۱،صفحہ۹
(۶۲) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۰،۱۱

فرانس نہیں، اسلام پر حملہ

رعایت اللہ فاروقی

یہ حکمت عملی مسئلہ فلسطین کے پس منظر میں ہم مسلمانوں نے ہی متعارف کرائی تھی کہ قابض فوج کو ہی نہیں بلکہ قابض کی سویلین آبادی کو بھی نشانہ بناؤ۔ وہ ہمارے بچوں کو ماریں تو ہم بھی ان کے بچوں کو ماریں، وہ ہماری عورتوں کو ماریں تو ہم بھی ان کی عورتوں کو ماریں اور صرف ان کے ہی نہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں کی عورتوں اور بچوں کو بھی ماریں۔ پھر اس مقصد کے لیے ہم نے جہاز بھی اغوا کرنے شروع کیے اور بازوروں کو بھی بموں کے نشانے پر رکھ لیا۔ یہ سب اسلام کے نام پر ہماری فخریہ پیشکش تھی اور کسی نے رک کر ایک لمحے کو بھی نہ سوچا کہ کیا اسلام اس کی اجازت بھی دیتا ہے ؟ کرنے والوں نے اس سوال پر غور کیا اور نہ ہی دیکھنے والوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ کہ ہم نے پھر وہ وقت بھی دیکھنا شروع کیا کہ وہی ہمارے بمبار خود ہمیں کافر قرار دے کر قتل کرنے لگے۔ اتنے بم پچھلے ستر سال میں پورے مغرب میں نہیں پھٹے جتنے صرف سات سال میں اکیلے پاکستان میں پھٹ پھٹ کر تباہی مچا چکے۔ کیا کسی کو اس بات کا علم بھی ہے کہ اسلام تو دشمن کے اس سپاہی پر بھی تلوار یا بندوق اٹھانے سے منع کرتا ہے جو بیشک میدان جنگ میں ہو مگر غیر مسلح ہو ؟ دشمن کے جن بچوں اور عورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تحفظ فراہم کرکے رخصت ہوئے ہم مسلمان ہو کر ان سے یہ تحفظ چھین لیں تو کیا یہ بھی ایک درجے کی توہین رسالت نہیں؟ ہم دعویٰ یہ کریں کہ ہماری اس جدو جہد کا مقصد اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ کرنا ہے اور پھر ہم ’’امت تلواتیہ‘‘ اللہ ہی کے احکامات کی دھجیاں اڑا کر خوش رہتے ہیں کہ ہمارے قرآنِ مجید کے نسخے پر گرد نہیں جمتی کیونکہ ہم اس کی خوب خوب تلاوت کرتے ہیں اور اسلام کے نفاذ کی جد و جہد کرتے ہیں۔
میں کہتا ہوں، دہشت گردی اور اس سے پیدا شدہ سوالات کو بھی ایک جانب رکھ دیجئے اور ایک بالکل مختلف سوال پر غور کیجئے ! سوچیے کیا وجہ ہے کہ اسلامی کنگڈم آف سعودی عربیہ یا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سال میں بمشکل ایک درجن لوگ بھی اسلام قبول نہیں کرتے جبکہ ’’ملت کفریہ عیسائیہ مغربیہ‘‘ میں اسلام سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے ؟ صرف امریکہ میں ہر سال بیس سے پچیس ہزار لوگ اسلام قبول کر ہیں، یورپ میں سب سے تیزی سے اسلام اسی فرانس میں پھیل رہا ہے جہاں گزشتہ روز حملے کیے گئے۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جہاں مسلمان تھے ہی نہیں، وہاں تو اسلام تیزی سے فروغ پاتا جا رہا ہے جبکہ جہاں اسلام چاروں طرف پھیلا نظر آ رہا تھا، وہاں غیر مسلم تو کیا، عملاً خود مسلمان بھی اسلام کے قریب نہیں آتا؟ 
عزیزو ! ایک بات سمجھ لو اور اگر سمجھ آجائے تو خدا را اس پر غور کرو ! وہ قرون اولیٰ تھا کہ مسلمان جہاں پہنچتے، ان کے اخلاق اور کردار کی عظمت دیکھ کر پورے پورے ملک کلمہ پڑھ لیا کرتے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ اخلاق سے پھیلا۔ اس زمانے میں قرآن صفحات پر نہیں بلکہ مسلمان کے قول فعل میں چلتا پھرتا نظر آتا تھا، جبکہ آج کی صورتحال یہ ہے کہ جہاں مسلمان موجود ہو، وہاں اسلام کے پھیلاؤ کو بریکیں لگ جاتی ہیں اور جہاں مسلمان نہ ہوں مگر قرآن کے صفحات ہوں تو وہاں اسلام سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن جاتا ہے۔ مغرب میں اسلام کے تیزی سے پھیلنے پر فخر کرنے والو ! یہ فخر نہیں بلکہ شرم کی گھڑی ہے۔ خدا کا شکر ادا کیجیے کہ میں اور آپ مغرب میں نہ تھے، ورنہ وہاں بھی اسلام کے پھیلنے کی رفتار وہی ہوتی جو پاکستان میں ہے۔ پیرس میں بم حملے کرنے والے خوش ہوں گے کہ انہوں نے ایک بڑی عیسائی ریاست کے دارالحکومت پر حملہ کیا، لیکن جہاں سے میں دیکھتا ہوں، وہاں سے صاف نظر آرہا ہے کہ یہ 17 لاکھ مسلم آبادی والے پیرس پر حملہ تھا۔ یہ اس فرانس پر حملہ تھا جہاں اسلام کو دوسرے بڑے مذہب کی حیثیت حاصل ہے۔ ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے ! جن لوگوں نے فرانس میں اسلام قبول کر رکھا ہے، وہ پچھلے اڑتالیس گھنٹوں سے اپنے کرسچین رشتے داروں سے نظریں بھی ملا پا رہے ہوں گے۔ پیرس میں موجود 17 لاکھ مسلمانوں کو ایک رات میں آپ نے آزمائش میں ڈال دیا اور خوش ہیں کہ جہاد کر رہے ہیں ۔ آپ جہاد نہیں کر رہے بلکہ اپنے بموں کے ذریعے مغرب میں اسلام کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پیرس کے یہ حملے فرانس پر نہیں بلکہ وہاں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلتے اسلام پر کیے گئے ! !
(http://inkishaf.tv/2015/11/15/1735)
(کراچی) وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ مولانا سلیم اللہ خان نے کہا ہے کہ پیرس میں ہونے والی دہشت گردی کی عالم اسلام نے جس طرح بیک آواز مذمت کی ہے یہ خوش آئند ہے اور عالمی برادری کو اس پر غور کرنا چاہئے۔ قیام امن کے لئے دوہرا معیار ترک کرنا ہوگا ورنہ قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے کے ہمہ جہتی تحقیقات کے ذریعے پس پردہ مقاصد تک پہنچنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر اب ٹھنڈے دل کے ساتھ غور ہونا چاہئے کہ کس کے ہاتھ کی بوئی ہوئی فصل کا نتیجہ آج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مسلم ممالک، اداروں اور شخصیات کی جانب سے فرانس میں ہونے والے حملے کی مذمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی تمام اقسام کی اسی طرح بلا تفریق مذمت ہونی چاہئے۔ ظلم کی ہر شکل قابل مذمت ہے اس میں کوئی تفریق نہیں ہونی چاہئے۔ 
(http://inkishaf.tv/2015/11/16/1784/?fb_ref=88f7e92f8fd44676b1ba02d1e92a6e7b-Facebook)

ممتاز قادری کی سزا ۔ تحفظِ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظر

ڈاکٹر محمد شہباز منج

’’شاتم رسول کو جہنم رسید کرنے والے ممتاز حسین قادری کی سزا خلافِ قرآن وسنت، اسوہ رسول اکرم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور امت کے 1400 سالہ اجماع کے خلاف ہے، لہٰذا سپریم کورٹ یہ سزا واپس لے۔‘‘
یہ کسی ایک مضمون نگار،عالمِ دین اور دانشور کی رائے یا جذبات نہیں، ملی مجلس شرعی کی منتظمہ کی جانب سے ملک میں سیکولرزم، لبرلزم اور لادینیت کو فروغ دینے والے پاکستانی عدلیہ ،انتظامیہ اور مقننہ کے فیصلوں کے خلاف دینی قوتوں کو مل کر جدو جہد کی دعوت دینے کے لیے 18 اکتوبر 2015ء کو لاہور میں منعقدہ ’’تحفظ شریعت کانفرنس‘‘ میں شریک ہونے والے مختلف مکاتب فکر کے 30سے زیادہ علماکے تحفظ شریعت کے مقصد کے تحت کیے گئے چار اہم فیصلوں میں سب سے پہلا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ جناب ڈاکٹر محمد امین کے رسالے ’’البرہان‘‘ کی اکتوبر 2015ء کی اشاعت میں ان تمام علما کے ناموں اور اداروں کے ذکر کے ساتھ شائع ہوا ہے۔میں نے بڑے بڑے مدارس اور جامعات سے متعلق اتنے بڑے بڑے مذہبی ستونوں کا یہ فیصلہ جب سے دیکھا ہے، حیرت و استعجاب کے سمندر میں غرق ہوں: خدایا یہ کیا ہے! ہضم ہی نہیں ہو رہا کہ اتنے دینی دماغوں نے اس قدر غلط اور غیر معقول فیصلے کی تائید کر دی ہے۔ اس فیصلے کے حوالے سے جناب مولانا زاہد الراشدی کے نام پرسے تو اس خاکسار کی نظر ہٹتی ہی نہیں تھی۔کوشش کے باوجود خود کو اس پر بات کرنے سے روک نہیں پایا۔
آگے بڑھنے سے پہلے میں یہ عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ راقم کے نزدیک توہین رسالت کی سزا موت ہی ہونی چاہیے اور سزائے موت کے قانون کو کسی طور ختم نہیں ہونا چاہیے، بالخصوص آج کے دور اور پاکستان کے حالات کے scenario میں توہین رسالت کے قانون کی مخالفت ہر لحاظ سے غلط، غیر معقول اور سنگین نتائج کی طرف لے جانے والی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود ممتاز قادری کیس کے تناظر میں قادری کی سزا کو خلاف قرآن وسنت اور اسوہ رسول و صحابہ رضی اللہ عنہم اور امت کے چودہ سو سالہ اجماع کے خلاف قرار دینا ہر لحاظ سے غلط ہے۔تفنن کا موقع نہیں مگر اس فیصلے کی عبارت سے یوں لگ رہا ہے کہ خدا نخواستہ کتاب وسنت، اسوہ رسول وصحابہ رضی اللہ عنہم اور چودہ سو سالہ اجماع کا بنیادی مسئلہ اور مقصد وحید ممتاز قادری کیس کا فیصلہ کرنا تھا کہ کہیں کسی کو اس کی سزا کے کے سب کے خلاف ہونے میں شک باقی نہ رہ جائے۔
اسلام سے بڑھ کر اصول و ضوابط اور قانونی تقاضوں کا لحاظ کس مذہب اور نظمِ ریاست و قانون میں متصور ہو سکتا ہے۔ لیکن کوئی ایک اور وہ بھی کمزور و نحیف نظم ریاست و حکومت تو بتایا جائے جس میں متاثرفریق کو ملزم سے از خود نپٹنے کی اجازت دی گئی ہو۔ کوئی بھی نظم کسی بھی درجے میں اس کی اجازت دے کر ایک دن بھی نہیں چل سکتا۔ صاف بات ہے کہ متاثرفریق کا ازخود انصاف لینا اور ریاست و قانون کا اسے انصاف دینا ایک دوسرے کی ضد ہیں۔اگر متاثر فریقوں کو از خود انصاف لینے کی اجازت دے دی جائے تو نظم و قانون ایک بے معنی شے ہو جائے گی۔ جو شخص متاثر ہوگا، وہ خود ہی ظالم سے نپٹ لے گا۔ یہ چیزکبھی انصاف نہیں لا سکتی۔مظلوم بدلے کے وقت ظالم بن جاتا ہے۔ قبائلی معاشرت میں بدلے اور انصاف کے حصول کے اسی نوع کے طریقے رائج رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان میں مدام تباہیاں اور جنگیں رہیں اور کبھی امن کی زندگی میسر نہ آ سکی۔ان تباہیوں ہی نے لوگوں کو قائل کیا کہ کہ نظم و قانون اور ریاست و حکومت ہونی چاہیے جو غیر جانبداررہ کر لوگوں میں ظلم کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی کے لیے کام کرے۔
ہمارے ملک میں توہین رسالت پر سزائے موت کا قانون موجود ہے۔اگر کسی کے علم میں آئے کہ کسی شخص نے توہین رسالت کی ہے تو وہ عدالت جا کر ملزم کو مجرم ثابت کرے اور قانون کے مطابق اسے سزاے موت دلوا دے۔اس کو یہ حق کسی طرح نہیں پہنچتا کہ وہ توہین رسالت کے ملزم کو از خود سزائے موت دے دے۔کہا جاتا ہے :ا جی قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے اور ملزم شک کا فائدہ پا جاتا ہے! اگر قانون کو ہاتھ میں لے کر خود انصاف لینے کے لیے یہ جواز ہے تو اس شخص کے لیے کیوں نہیں جس کے باپ،بھائی،بیٹے وغیرہ کو ظلماً قتل کر دیا گیا اوروہ عدالتوں میں انصاف کے لیے رلتا پھر رہا ہے؟ وہ کیوں نہ اپنا حساب خود چکا لے؟ وہ لوگ کیوں مجرم ٹھہرائے جائیں جو اپنے اہل خانہ اور بچوں کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ریاست کا قانون ماننے سے انکار کر دیں اورریاستی اداروں ،فورسز اور اپنیمزعومہ ملزموں سے خود بدلہ لینا شروع کر دیں؟
اگر عدالتی پروسیجر میں پڑنے کے سبب بڑے او ر با اثر ملزموں کے اپنے اثرو رسوخ کی وجہ سے سزا سے بچ رہنے کے اندیشے کے تحت توہین رسالت کے ملزم کو ذاتی حیثیت میں قتل کرنا جائز کہا جائے تو بااثر قاتلوں اور ظالموں کے ٹرائل میں پڑ کر چھوٹ جانے کے خدشے کی وجہ سے ایک مقتول کے غریب اور بے سہاراورثا اور مظلوموں کے اس سے خود انصاف لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کو کس دلیل کی بنا پر ناجائز کہا جائے گا!
ایک طرف آپ اسلام کے قانونی نظام کا یہ اصول وامتیاز بیان کرتے نہیں تھکتے کہ شک کی بنا پر ملزم کو فائدہ دیا جاتا ہے تو اگر توہینِ رسالت کے کسی ملزم سے متعلق شک ہو جائے تو اس کو فائدہ کیوں نہیں مل سکتا!اگر ثبوت ناکافی ہوں اور ملزم توہین کا انکار کرے تو اس کو سزا دینا اسلامی نقطہ نظر سے غلط ہوگا۔مگر اس کا پتہ تو جب چلے گا جب معاملہ عدالت میں جائے گا۔ اگر عدالت میں پہنچنے سے پہلے ہی ملزم کا کام تمام کر دیا گیا تو کئی چیزیں جمع ہو گئیں؛ اولاًقاتل نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا ؛ ثانیاًملزم کو صفائی کا موقع نہ دیا؛ ثالثاً، ثبوت کے ناکافی ہونے اور اپنے اقرار نہ کرنے کی بنا پر ملزم کو ملنے والے شک کے متوقع فائدے سے محروم کیا۔ یہ سب چیزیں اسلام کے اصولِ انصاف کے منافی اور ملزم کے ساتھ ظلم وزیادتی کے زمرے میں آتی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ججوں کے انصاف کرنے کی کیا گارنٹی ہے؟وہ مختلف مصلحتوں وغیرہ کے تحت ملزم کو چھوڑ دیتے ہیں۔چلیں معاملے کے نسبتاً زیادہ جذباتی پہلو کے پیش نظر ہ یہاں یہ بات نہیں کرتے کہ ایسا تو دیگر بھی بہت سارے کیسوں میں ہوتا ہے، وہاں متاثر فریق کو قانون ہاتھ میں لینے پر معاف کیوں نہ رکھا جائے! ہماری عرض یہ ہے کہ کیا ہمارے ملک کے جج مسلمان نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ویسی ہی عقیدت و محبت کے حامل نہیں جس طرح کوئی بھی مسلمان ہو سکتا ہے؟ کیا وہ توہین ثابت ہونے پر بھی ملزم کو قانون کے مطابق سزا دینے پر تیار نہیں ہوں گے! اور بالفرض وہ سزا دینے سے جان بوجھ کر گریز کرتے ہیں تو انہیں کیا اللہ کے حضور پیش نہیں ہونا اور اپنے اعمال کا حساب نہیں دینا! مزید برآں اگر کوئی جج ملزم کو چھوڑ دیتا ہے تو مدعی کا کوئی قصور نہیں۔ اس کا کام ایک قانونی نظم کے اندر معاملے کو قانون کے نوٹس میں لانا اور اس کے ثبوت پیش کرنا تھا، فیصلہ کرنا نہیں۔وہ شرعی اعتبار سے اپنی استطاعت اور دائرہ اختیار سے باہر کی چیز کے لیے ذمہ دار ہے اور نہ مسؤل و جوابدہ۔اپنے دائرہ استطاعت میں اس کی جو ذمہ داری تھی، وہ ادا کر چکا اور اللہ نے چاہا تو حشر کو ماجور ہوگا۔جج نے اگر فیصلہ جان بوجھ کر غلط دیا تواللہ کی عدالت سے اس کی سزا پائے گا اور اگر اس کی تحقیق میں ملزم مجرم ہی ثابت نہ ہوا تو اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا ،چاہے وہ فی الواقع مجرم ہی ہو۔اس لیے کہ جج کا کام ثبوت اور ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنا ہی ہوتا ہے اورحدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا ہے کہ قاضی کا ملزم کو چھوڑ دینے میں غلطی کرنا اس سے بہتر ہے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کرے۔اگر ملزم فی الواقع مجرم ہو لیکن وہ ہوشیار و چالاک ہو اور قانون کو طرح دے جائے تو بھی فیصلہ ظاہر کے مطابق ہی ہو گا، ملزم عدالت سے چھوٹ جائے گا اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہو جائے گا۔
مشہورحدیث ہے کہ تم میں سے دو لوگ میرے پاس اپنے معاملے کو فیصلے کے لیے لاتے ہو۔ایک بڑا چرب زبان ہے اور اپنی چرب زبانی کی بنا پر مجھ سے بغیر حق کے فیصلہ اپنے حق میں کروا لیتا ہے تو وہ یہ مت سمجھے کہ عنداللہ بھی چھوٹ گیا ہے ،اس نے دوسرے کا حق مار کر اپنے پیٹ میں آگ بھری ہے۔اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ جج کو فیصلہ ظاہری شواہد پر دینا ہوتا ہے۔اسے جان بوجھ کر کبھی نادرست فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، لیکن ہر کیس میں اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ درست فیصلہ ہی کرپائے۔ایسی صورت میں معاملہ اللہ کی عدالت میں پہنچ جاتا ہے۔لیکن فیصلہ نافذ وہی ہوگا جو عدالت نے کر دیا ہے۔ہاں، اگر متعلقہ عدالت سے بڑی عدالت موجود ہو تو وہاں اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
ثبوت اور گواہیوں وغیرہ کے ناکافی ہونے کی بنا پر ملزم کے چھوٹ جانے حتی کہ مدعی کے مسلمان اورایک غیر مسلم کے مقابلے میں متعلقہ مقدمے میں سچا ہونے کے باوصف فیصلہ اس کے خلاف آنے سے شریعت کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی ، نہ ہمارے اسلاف کو ہوتی تھی ،آج کے حاملینِ شریعت کو بھی پریشان نہیں ہونا چاہیے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے زمانہ خلافت میں یہودی کے آپ کی زرہ چرالینے کے مشہور مقدمے میں اپنے ہی قاضی کے ناکافی ثبوت کی بنا پراپنے خلاف دیے گئے فیصلے پر جھنجلائے نہیں تھے،بلکہ اسے خوش دلی سے قبول کر لیا تھا، حالانکہ فی الحقیقت یہ تصور ہی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ حضرت علی کے مقابلے میں یہودی سچا ہو سکتا ہے۔اگر شریعت کو ملزموں کو ہر حال میں سزا دے کر ہی خوشی ہوتی توملزم کے لیے صفائی،ثبوت اور گواہیوں وغیرہ کا جھنجھٹ رکھا ہی نہ جاتا؛ بس کسی پر الزام سامنے آتا اور اس پر سزا نافذ کر دی جاتی۔شریعت کا تو منشا واضح طور پر اس کے الٹ دکھائی دیتا ہے۔اس نے سزاؤں کے معاملے میں ایسی شرطیں رکھ دیں ہیں کہ بعض دفعہ جرم کا ثبوت محال لگتا ہے۔مثلاً زنا کے معاملے میں ثبوتِ جرم کے لیے شرط ہے کہ چار لوگوں نے سرمے دانی میں سلائی کی مانند یہ فعل ہوتے دیکھا ہو اور وہ اس کی گواہی دیں۔سوال یہ ہے کہ قرائن کے پیش نظر ایک دو یا تین کی گواہی ماننے میں کیا حرج تھا؟ بالکل واضح ہے کہ شریعت کو یہ امر پسند نہیں کہ زنا کے ملزم لائے جاتے رہیں اور شریعت ہر وقت کوڑے برساتی اور سنگسار کرتی رہے۔اس کی خواہش ہے کہ لوگ اس کی تعلیمات کے اخلاقی و روحانی طور پر قائل ہوں نہ کہ سزاؤں سے ڈر ڈر کے۔ شک کی بنا پرحد کے ٹلنے کا فقہی اصول بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ شریعت دراصل لوگوں کی اصلاح ان کے جسم کے ذریعے نہیں بلکہ روح کے ذریعے کرنے کو پسند کرتی ہے۔سزا دینا اس کی ضرورت اور مجبوری ہے، خوشی اور دل لگی نہیں۔عجب ستم ظریفی ہے کہ جس شریعت کی خوشی لوگوں پر سے سزائیں ٹالنے میں ہے، ہم اسے سزائیں زبردستی نافذ کر کے خوش کرنا چاہتے ہیں:
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
یہاں ایک ضمنی بات عرض کرنا ضروری ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ سزاٹالنا اچھا ہے تو زیرِ نظر کیس میں ملزمِ توہین رسالت کے قاتل سے رعایت کیوں نہ برتی جائے، لیکن یہاں یہ بات کرنا گویا یہ کہنا ہے کہ جرم میں شک وشبہ اور اس کا ثبوت و یقین ایک ہی شے ہے۔قابلِ التفات یہ امر نہیں کہ کس معاملے میں جرم کتنا واضح اور ملزم کا مجرم ہونا کس قدر بدیہی ہے، اہمیت اس بات کی ہے کہ بعض لوگوں کی خواہش اور تعبیر مذہب کیا ہے! وہ قراردیں تو ملزم مجرم ہے اور اسے بلا تحقیق، بلا ثبوت، بلا ٹرائل سوسائٹی کا جو فردجب چاہے سزا دینے کا حق رکھتا ہے اور ان حضرات کا فیصلہ ہو تو قانون و عدالت ،ملزم کا اقرار،گواہوں کی گواہی اور ہر طرح کے واضح قرائن کوئی معنی نہیں رکھتے۔حقیقت یہ ہے کہ یہاں ملزم کو چھوڑنا اس کے سوا ممکن نہیں کہ جج واضح ثبوت اور قانونی تقاضوں سے آنکھیں بند کر کے کچھ لوگوں کے دباؤ اور خواہشات کے سامنے سپر رکھ دیں۔ 
قانونِ توہین رسالت کا دفاع اور توہین رسالت کے ملزم کو بلا صفائی و ٹرائل اورقانون کو ہاتھ میں لے کر قتل کرنے والے شخص کا دفاع دو یکسر متضاد باتیں ہیں۔یا آپ قانونِ تو ہین رسالت کا دفاع کریں یا توہین رسالت کے ملزم کے قاتل کا۔ قانون کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ متعلقہ الزام کے معاملے میں ثبوت کا تقاضا کرے؛ اگر ثبوت مل جائیں اور ملزم مجرم ثابت ہو جائے تو سزا پائے اور اگر ثبوت نہ ملیں تو بری ہو جائے۔اگر ثبوت و ٹرائل اور ضابطے کے بغیر کسی بھی شخص کو توہین رسالت پر سزاکا اختیار ہے تو قانون کی ضرورت ہی کیا ہے!جو شخص جہاں بھی توہین ہوتی دیکھے یا محسوس کرے گا، معاملے کا فیصلہ کر لے گا۔کیس کو جلدی نپٹانے اور موقعے پر انصاف کرنے کے لیے تو موخر الذکر صورت زیادہ آئیڈیل ہے۔ کیوں خواہ مخواہ قانونی موشگافیوں کے اندیشے کا شکار ہونے کے لیے قانون قانون کی رَٹ لگائی جائے اور اس کا دفاع کیا جائے؟ دین اسلام تو ایک طرف، کسی ہلکے پھلکے قانونی نظام کے نام پر بھی کیا اس سے زیادہ غیر معقول بات کا قائل ہو ا جا سکتا ہے کہ قانون ٹرائل کر کے کسی کو سزا دے دے تو بھی ٹھیک ہے اور اگر متاثرفریق موقع پاکر خود ہی انصاف کر لے تو بھی ٹھیک ہے؛ نظمِ ریاست و قانون کو حق نہیں کہ اس کے اقدام پر اعتراض کرے! فیاللعجب۔
کہا جا سکتا ہے کہ توہین رسالت پر ردعمل کا معاملہ دیگر کیسوں اور ان پر متاثرین کے ردعمل سے مختلف ہے۔لیکن اس صورت میں بھی متاثر فریق کو از خود اقدام کا حق دینے کے بجائے اس بات پر زور دینا چاہیے کہ قانونِ تو ہین رسالت کو موثر بنایا جائے تاکہ لوگ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔قانون پر عمل درآمد میں کمزوریاں بہرحال ذاتی حیثیت میں اقدام کا جواز نہیں بن سکتیں۔مزید برآں کسی کے لیے مخصوص حالات میں اپنے کسی عزیز کا قتل یا اپنی کسی عزیزہ کا ریپ وغیرہ کسی شخص کے بارے میں توہین رسالت کے سنے سنائے معاملے سے زیادہ سنگین اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔اس صورت میں اس کا بدلے کی غرض سے ازخود اقدام کا حق بدرجہ اولیٰ تسلیم کیا جانا چاہیے۔آپ کس دلیل کی بنیاد پر کہیں گے کہ ان دونوں میں سے ایک متاثرفریق تو اپنے اقدام میں حق بجانب تھا اور دوسرا غلط! یہ کہنا ایک لحاظ سے معقول کہا جاسکتا ہے کہ جذبات کی شدت کو سمجھتے ہوئے عدالتوں اور اداروں کو چاہیے کہ توہین رسالت کے کیس کو دیگر کیسوں سے زیادہ اہمیت دیں اور انصاف کے تقاضے جلد از جلد اور ترجیحاً پورے کیے جائیں۔ اگرچہ یہاں بھی یہ سوال ہوگا کہ جس کے جذبات کی شدت دوسرے کیسوں میں زیادہ ہو، وہ اسی زمرے میں کیو ں نہیں آئے گا!
اگر یہ شرط رکھی جائے کہ جب تک قانون پر موثر عمل درآمد کی صورت پید ا نہیں ہوتی، توہین رسالت کے ملزم کے قاتل سے درگزر کرنا چاہیے تو یہ شرط اس لیے غلط ٹھہرے گی کہ ایسا عبوری دور کبھی ختم نہیں ہوگا اور کبھی بھی یہ بات نہیں منوائی جا سکے گی کہ اب قانون پر موثر عمل درآمد ہو رہا ہے، لہٰذا اب مذکوہ نوعیت کے ملزموں کو رعایت نہیں ملے گی۔
سلمان تاثیر کے حوالے سے ذرائع سے یہ باتیں سامنے آئیں کہ اس نے قانون توہین رسالت کے غلط استعمال کے حوالے سے اعتراض کیا تھا، جیسا کہ اْن دنوں ایک ایشو بنا ہوا تھا اور دوسرے بہت سے لوگ بھی اعتراض کر رہے تھے۔ اگر یہی اعتراض فی نفسہ توہین رسالت کے مترادف تھا تو اکیلا سلمان تاثیر نہیں، ایسی باتیں کرنے والے سارے لوگ توہین رسالت کے مجرم تھے۔ دیگر لوگ تو ایک طرف، بہت سے علما بھی اس کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے اور یہ آواز آج بھی اٹھائی جاتی ہے۔ تاہم اگر معاملہ اس سے مختلف تھا اور کسی کا خیال تھا کہ اس نے واقعی توہین کی تھی تو اسلامی نقطہ نظر سے اسے صفائی کا موقع دیا جانا اس کا حق تھا؛ اور یہ کام عدالت ہی کے ذریعے ہو سکتا تھا۔
آنجناب علیہ السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب سے توہین رسالت کے مجرموں کو دی گئی سزائے موت نظم و قانون اور ریاست کے تحت آتی ہے۔ پھر ان کی طرف سے تو ملزموں کو موقع دینے اور باز آجانے پر معاف کر دینے کی بھی بہ کثرت مثالیں ملتی ہیں۔ان کے اسوہ سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ کوئی اپنی انفرادی حیثیت میں جس کو جب چاہے، توہین رسالت کے الزام میں قتل کر دے؟ مسلم سلطنتوں میں توہینِ رسالت پر سزا کے حوالے سے ایک نمایاں تاریخی واقعہ قرطبہ کے ان مسیحیوں کی سزا ے موت کا ہے ، جن کو مسیحیوں کے یہاں ’’شہداے قرطبہ‘‘ (Martyrs of Corodoba) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ان لوگوں نے مسلمانوں کے سامنے بازاروں میں توہین رسالت کی، لیکن مسلمانوں نے ان کو خود قتل نہیں کیا بلکہ مسلم عدالت نے ان کو سزائے موت دی۔ ان کے متعلق یہ بھی آتا ہے کہ انہیں موقع دیا گیا اور توہین سے باز آنے کا کہا گیا تھا۔ جب انہوں نے منع کرنے کے باوجود اور تکرار کے ساتھ توہین کی تو عدالت نے سزائے موت دی۔
ذاتی حیثیت میں ایسے قتل کو سندِ جواز عطا کرنا سوسائٹی کو انارکی اور تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔ کیا دینی قوتوں کو سامنے کی یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ چیز تو ان کے اپنے کاز کو نقصان پہنچانے والی ہے؟ اس نوع کے مواقف اپنانے کے نتیجے میں اہلِ مذہب کو نشانہ تنقید بنایا جاتا؛ سینکڑوں سال پہلے کے معاشروں کے باشندے کہا جاتا؛ دقیانوسی اور معاشرے اور حالات سے ناواقف، جذبات کی رو میں بہہ کر اور معروضی حالات کو نظر انداز کر کے آرا قائم کرنے والے اور سوسائٹی کے امیچور عناصر باور کیا جاتا ہے؛ قانون توہین رسالت کے خاتمے کے لیے آواز اٹھائی جاتی ہے ؛کہا جاتا ہے کہ مذہبی لوگ مذہب کے نام پر اپنے مذہبی یا سیاسی مخالفین سے انتقام لینے کے مرتکب ہوتے ہیں۔نتیجتاً اسلام مذاق بنتا؛ لوگ مذہبی لوگوں کے حوالے سے افرادِ معاشرہ کے عدم تحفظ کا شکار ہونے کا تصور قائم کرتے اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ایسے احساسات سے مملو ہوجاتے ہیں:
جانے کب، کون ،کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے
پاکستان کی مسلم ریاست نے یہ قانون اسی تناظر میں تو بنایا تھا کہ کوئی مسلمان نبی آخر الزمان کی شان میں گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اس امر میں ریاست خاموش یا غیر جانبدار نہیں رہ سکتی؛اسے ایسے ملزم کو خود ہی سزا دینے کا بندو بست کرنا ہوگا،ورنہ لوگ خود اقدام کریں گے جس کے نتیجے میں سوسائٹی اور نظمِ ریاست کو نقصان پہنچے گا۔ آج کے دور میں توہینِ رسالت پر ردِ عمل میں اگر کسی درجے میں ایک مسلمان کے ذاتی حیثیت میں اقدام کا کوئی جواز ہو سکتا ہے تو اس جگہ جہاں توہین رسالت پر قانون موجود نہیں۔اگرچہ آئیڈیل صورت وہاں بھی یہی ہوگی کہ اربابِ بست و کشاد کومعاملے کی حساسیت پر متوجہ اور قائل کر کے قانون بنوایا جائے اور اس وقت تک خود کومعذور سمجھا جائے،البتہ مروجہ ذرائع کو کام میں لاتے ہوئے توہین کی مذمت اور حوصلہ شکنی ضرور کی جائے۔
فرض کریں، قادری نے صحیح کیا تھاتو بھی اس کا ثواب وہ عنداللہ پائے گا۔اس کا معاملہ اللہ کے سپرد کرنا چاہیے۔ قانون کو تو ظاہر کے مطابق ہی فیصلہ کرنا ہے اور ظاہر میں وہ قانون ہاتھ میں لے کر ایک ایسا قتل کرنے کا مجرم ہے جس کا اختیار ملک کے قانون نے اس کو نہیں دیا تھا۔وہ جنتی ہے تو سزا پانے سے اس کا نقصان کیا! اس نے جس منزل کے لیے یہ اقدام کیا، وہاں پہنچنے کے لیے تو غازی علم الدین کی طرح اسے بے تاب ہونا چاہیے۔ فرشتے ہار لے کر کھڑے ہیں اور حوریں سلامی کو، علما خواہ مخواہ راہ کی رکاوٹ بن رہے ہیں۔
تحفظِ شریعت کانفرنس کے مذکورہ فیصلے کے مویدین میں دیگر مسالک کے علاوہ کئی دیوبندی اور بریلوی علما بھی شامل ہیں۔بریلوی علما سے سوال ہو سکتا ہے کہ جس مکتبِ فکر کے اماموں کے خلاف آپ کے امام نے حرمین کے سینکڑوں علما کی تصدیق کے ساتھ گستاخی اور کفر کا فتویٰ دیا تھا،ان کو گستاخ وکافر نہ ماننے والے بلکہ انہیں سر آنکھوں پر بٹھانے اور اکابرین امت قرار دینے والے لوگ تو آپ کے پہلو میں بیٹھے ہیں اور آپ اس شخص کے اور وہ بھی ماورائے عدالت اور ذاتی حیثیت میں قتل کو سندِ جواز عطا کر رہے ہیں جس کے بارے میں سینکڑوں علماے حرمین تو ایک طرف، خود امام احمد رضا خان ایسے کسی بڑے عالم نے اکیلے بھی گستاخی کا فتویٰ نہیں دیا تھا۔اسی نوعیت کے کئی سوالات فیصلے کے موید دیوبندی، اہلِ حدیث اور شیعہ علما سے ان کے اپنے اپنے اہلِ مسلک کے دوسروں کے بارے میں فتاویٰ اور رویوں سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ اس سے اس کے علاوہ کیا نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ کے اس طرح کے فیصلے شریعت کے موقف نہیں، حالات کے جبر اور موضوعی واضافی تصورِ کفر وارتداد کے مظہر ہیں!حالات تقاضا کر یں تو کافر و گستاخ اور مشرک و منافق مومن اور قابلِ معافی ہو سکتے ہیں اور ضرورت داعی ہو تو ایک موہوم سا گستاخ اس قابل بھی نہیں رہتا کہ اسے صفائی کا موقع دیا جائے!
جناب ڈاکٹر محمد امین صاحب اعلیٰ علمی صلاحیت کے حامل عالم اور دانش ور ہیں۔ امت کا بہت درد رکھتے ہیں۔ ’’البرہان‘‘ کی اشاعت ، ملی مجلسِ شرعی کا قیام، ایک اسلامی یو نی ورسٹی کے لیے مہم اور اس کے ابتدائی مراحل سے متعلق کام ان کی دردِ امت کی کوششوں کا مظہر ہیں۔وہ اسبابِ زوالِ امت پر لکھتے اور ماہرین سے لکھواتے رہتے ہیں۔ ’’البرہان‘‘ کی دلچسپی کا یہ خاص میدان ہے۔اس کے اکثر مضامین اسی موضوع کی مناسبت سے ہوتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب محترم کا امراضِ امت کی تشخیص اورعلاج کا جذبہ قابلِ صد تحسین ہے، لیکن مجھے معاف رکھا جائے اگر ان کی دلچسپیوں اور خوابوں کے جزیروں کے فورمز اور تشخیص و علاج گاہوں سے اتنے بڑے بڑے معالجین کی جانب سے اس نوع کی تشخیص اور نسخے لکھے جاتے رہیں گے تو زیرِ تشخیص و علاج امت کو قرنوں تک ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کی کیفیت سے دو چار رہنا پڑے گا:
چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی

سید احمد شہید کی تحریکِ جہاد: ایک مطالعہ

ڈاکٹر عرفان شہزاد

سید احمد شہید کی تحریک جہاد عملی طور پر 1826 سے شروع ہوئی اور 1831 میں آپ کی شہادت پر اختتام پذیر ہوئی۔ تاہم غیر منظم طور پر یہ 1857 کے بعد بھی مسلح جہاد کی صورت میں چلتی رہی۔ اس تحریک نے اور بھی بہت سے تحاریکِ جہاد کو جنم دیا جو اسی انجام کو پہنچیں جو اس تحریک کو پیش آیا، مثلاً بنگا ل میں تیتو میر کی تحریک، تحریک ریشمی رومال اور صادق پور پٹنہ کا مرکزِ جہاد، جہادِ شاملی وغیرہ۔
دورِ حاضر میں ابو الحسن ندوی، مولانا غلام رسول مہر وغیرہ کی تحقیقات اور تصنیفات نے اس تحریک کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ خصوصاً ابو الحسن ندوی کی سیرتِ سید احمد شہید پڑھ کر ایک عام قاری کا یہ تاثر ہوتا ہے کہ اگر کوئی دین کی حقیقی خدمت کرنا چاہتا ہے تو یا تو خود کوئی تحریکِ جہاد اٹھا دے اگر اس قابل ہے یا پہلے سے موجود کسی جہادی تنظیم کا حصہ بن کر اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جان دے کر سرخرو ہو جائے۔ یہ کتب طالبان جیسی تحریکوں کو مسلسل افرادی قوت مہیا کرنے کا مستقل ذریعہ ہیں۔ 
سید صاحب کی تحریک کا نظریاتی اور حکمت عملی کا جامع تجزیہ کرنے کی آج بھی ضرورت ہے، کیونکہ آج بھی یہ تحریک سیاسی دینی تحریکات کے لیے، خصوصاً برصغیر میں، سب سے بڑے محرک کی حیثیت رکھتی ہے۔ سید صاحب کی تحریک شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد العزیز کے نظریات سے مولود ہوئی۔ برصغیر کے بعد پوری دنیا میں غلبہ ء اسلام اس کا مطمحِ نظر تھا۔ پنجاب میں سکھوں کے ظلم وستم کا استیصال اس کا اولین ہدف تھا۔ بالاکوٹ میں سید صاحب اور آپ کے قریبی احباب کی شہادت کے بعد بھی بہت عرصہ مسلح جدوجہد جاری رہی۔ تاہم،1857 کے بعد یہ تعلیمی جدوجہد میں تبدیل ہوئی اور مدرسہ دارالعلوم دیوبند، سہارنپور، ندوۃ العلماء، اہلِ حدیث کے مدارس وغیرہ کی شکل میں ظاہر ہوئی جو اپنے طلباء میں تصور جہاد کی آبیاری کرتے رہے۔ کانگریس کے قیام کے بعد یہ تحریک سیاسی جدوجہد میں تبدیل ہوئی۔ پہلے جمعیت علمائے ہند اور پھر جمعیت علمائے اسلام کی صورت میں اس تحریک کے لواحقین دو الگ راستوں کے راہی بنے۔ جمعیت علمائے ہند نے، ہندوستان کے نئے سیاسی منظر نامے کے معروضی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے، مسلمانوں کے سیاسی غلبے کے نظریے سے دستبردار ہو کر مشترکہ قومیت اور جمہوریت کے اندر سیکولر ازم کے ذریعے مذہبی آزادی کے خیالات کو اپنا لیا۔ لیکن جمعیت علمائے اسلام ،سید صاحب کے نظریے سے زیادہ قریب رہی۔ اس نے مسلم لیگ کے الگ وطن کی جدوجہد میں اسلامی سلطنت کا خواب پھر سے استوار ہوتے دیکھا تو اس میں شامل ہوگئی۔ قیامِ پاکستان کے بعد، حکومتوں کے اسلام نافذ کرنے سے گریز کی روش کی وجہ سے یہ تحریک آئینی جدجہد میں تبدیل ہو گئی۔ پھر یہ بتدریج جارحانہ ہوتی چلی گئی۔ تحریکِ نفاذِ نظامِ مصطفی سے یہ احتجاج میں تبدیل ہوئی اور تحریک نفاذِ شریعت اور طالبان کی صورت میں پھر سے مسلح ہوگئی۔ یوں دیکھیے تو سید صاحب کی تحریک تاریخ کا چکر کاٹ کر پھر اسی نقطہ پر کھڑی ہوگئی جہاں سے چلی تھی۔
سید صاحب کی تحریک کی بنیاد حکومتِ الہٰیہ کے قیام، نجی جہاد، امامت اور شاہ عبد العزیز کے دارالحرب کے فتویٰ پر تھی۔ سید ساحب کے نزدیک، شاہ ولی اللہ کے تعلیمات کی روشنی میں، قیامِ خلافت یا اسلام کا سیاسی غلبہ واجباتِ دین میں سے ہے۔ ہندوستان میں انگریزوں کے بڑھتے اقتدار کے نتیجے میں شاہ عبد العزیز کے فتویٰ کی رْو سے ہندوستان دارالحرب بن چکا تھا۔ اسلامی سیاسی غلبہ کے لیے جہاد فرض تھا اور چونکہ کوئی مسلم حکمران اس کے لیے تیار نہ تھا تو چند لوگوں نے اس کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے نجی طور پر شروع کرنا ضروری سمجھا۔ اس کے لیے دستیاب امام سید احمد شہید تھے۔
راقم الحروف کے مطابق، سید صاحب کی تحریک کی یہ نظریاتی بنیادیں اسلام کی غلط تعبیرات سے پیدا ہوئیں۔ یہی تعبیرات ہمارے دور تک چلی آ رہی ہیں اور بے شمار تحاریکِ جہاد کو جنم دے چکی ہیں۔ راقم کے نزدیک، مسلمانوں کے لیے حالت اقتدار میں نفاذِ شریعت فرض ہے لیکن نفاذِ شریعت کے لیے حصولِ ریاست فرض یا واجب نہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے صاحبِ مال کے لیے ادائیگیِ زکوۃ فرض ہے، لیکن ادائیگیِ زکوۃ کے لیے کسبِ مال فرض یا واجب نہیں۔نیزنجی جہاد کا کوئی تصور اسلام میں نہیں۔ جہاد امامت اور ریاست کے تحت ہی کیا جاسکتا ہے۔ جہاد کی اجازت اور احکامات ہجرتِ مدینہ کے بعد نازل کیے گئے ہیں، اس لیے جہاد و قتال سے متعلق تمام آیات کو ریاستِ مدینہ کے قیام کے بعد کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ حکومت کی کوتاہی سے اگر حدود کا نفاذ نجی شعبہ کے حوالے نہیں کیا جا سکتا تو جہاد کو کیوں کر نجی شعبہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے؟ جہاں تک دارالحرب کے فتوی کا تعلق ہے تو کسی جگہ کا دارالحرب قرار پا جانے کے بعد پہلا تقاضا ہجرت ہوتاہے ، لیکن ہمیں اس وقت کے ہند کے مسلمانوں یا کم از کم پنجاب کے مسلمانوں سے اس کا مطالبہ نظر نہیں آتا۔ لاکھوں مسلمانوں میں سے زیادہ سے زیادہ پندرہ سو مسلمانوں نے سید صاحب کے ساتھ ہجرت کی تھی جو کہ انتہائی ناکافی تعداد ہے۔
سید صاحب کے طریقہ کار میں نوٹ کیا گیا کہ آپ نے جہاد پہلے شروع کیا (اکوڑہ کا شب خون)، بیعت امامت بعد میں لی (جب دیکھا کہ مقامی مجاہدین جنگ کی بجائے مالِ غنیمت کے کر چلتے بنے اور اس کی شرعی تقسیم پر آمادہ نہ ہوئے)، اس کے بعد ریاست کے حصول کی کوشش کی اور اس کے بعد لوگوں پر شریعت کا نفاذ کرنے کی کوشش کی جو اس کے لیے تیار نہ تھے۔ یہ ترتیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے بالکل برعکس ہے۔ آپ کو مدینہ کے لوگوں نے اپنا امام پہلے تسلیم کیا، پھر خود سے ریاست مہیا کردی، آپ نے ان کی مرضی سے ان پر شریعت نافذ کی ، اور جہاد سب سے آخر میں کیا گیا۔ اس کے علاوہ سید صاحب نے دشمن کے مقابلے میں عددی قوت کے فرق کو نظر انداز کیا۔آپ کے پاس قابلِ بھروسہ جنگجوؤں کی تعداد 1500 سے زیادہ نہ تھی جو پوری طرح مسلح بھی نہ تھے اور بنیادی ضروریات کی تکمیل سے بھی تہی تھے، جب کہ سکھوں کی صرف سرحدی فوج آٹھ سے دس ہزار تک تھی۔
اسلامی خلافت کا قیام دین کا کوئی ایسا واجب تقاضا نہیں کہ اس کی خاطر مہمیں چلائی جائیں اور قیمتی جانیں قربان کی جائیں۔ مسلمانوں پر صرف یہ فرض ہے کہ وہ جب بھی پرامن طریقہ سے اقتدار میں آئیں، خواہ مطلق حیثیت سے یا مخلوط حکومت میں، تو مسلم معاشرے کے مسلم افراد پر اسلام کے اجتماعی احکامات کا نفاذ کردیں۔ مگر انہی باتوں کو واجب قرار دے کر جو تحریک برپا کی گئی تھی، وہ آج بھی زندہ ہے۔ یہاں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم پہلے فریق (سید احمد شہید) کو درست قرار دیتے ہیں تو اس دوسرے فریق (طالبان) کو غلط نہیں کہہ سکتے۔ اگر دوسرا غلط ہے تو پہلے کی تغلیط کی ہمت بھی لامحالہ کرنی ہوگی۔ ہمیں اس دوغلے پن سے براء ت کا اعلان کرنا ہوگا۔ سید صاحب کی اس پراثر تحریک کا درست تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ مستقبل کے اولوالعزم مسلمان نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اسلام کی خدمت میں بہتر طور پر استعمال کیا جا سکے۔

عسکریت پسند گروہ اور ہماری قومی پالیسی

محمد عامر رانا

ممکن ہے انتہاپسندی اور تشدد سے نمٹنا آسان ہو مگر عسکریت پسند گروہوں پر قابو پانا ہرگز آسان نہیں ہے۔ کم از کم پاکستان کی حد تک تو یہ بات بالکل درست معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں مگر کالعدم انتہا پسند گروہوں سے نمٹنے کے معاملے میں ہم تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
ممنوع تنظیموں کی میڈیا کوریج پر پابندی کے حوالے سے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے حالیہ نوٹیفکیشن سے مختلف حکومتی محکمہ جات میں اختلافات سامنے آئے ہیں۔ اس سے جہاں مختلف انتہاپسند تنظیموں کی حیثیت کے بارے میں پالیسی کی سطح پر ایہام کا اندازہ ہوتا ہے، وہیں اس صورتحال سے جماعت الدعوۃ اور اس کے فلاحی ونگ جیسے گروہوں کو ایک مرتبہ پھر یہ حکومتی اقدام رد کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان کے خلاف مغرب اور بھارت کی مہم کا حصہ ہے۔یہی نہیں بلکہ پیمرا کے نوٹس سے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے معاملے پر اطلاعات اور داخلہ کی وزارتوں میں اختلافات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ یہ نوٹس جاری ہونے سے چند ہی گھنٹے بعد وفاقی وزارت داخلہ نے تردیدی ردعمل ظاہر کیا۔ بعدازاں یہ بات سامنے آئی کہ پیمرا کا نوٹس وزارت اطلاعات کی ہدایات پر جاری کیا گیا تھا۔
یوں لگتا ہے وزارت اطلاعات کے پاس پاکستان میں انتہاپسند تنظیموں کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں کہ بظاہر اسے کالعدم گروہوں کی کوئی فہرست ہی فراہم نہیں کی گئی۔ وزارت داخلہ کی تردید کے بعد پیمرا نوٹس کے ساتھ منسلک کالعدم تنظیموں کی فہرست مشکوک ہو جاتی ہے۔رواں سال اگست میں وفاقی وزیر اطلاعات چودھری نثار نے فخریہ اعلان کیا کہ ممنوع قرار دی گئی 62 تنظیموں کی جامع فہرست ترتیب دی جا چکی ہے۔ مگر ہم ان کالعدم گروہوں کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں کہ اس حوالے سے سرکاری طور پر کوئی فہرست دستیاب نہیں ہے۔ بظاہر یہ اطلاعات انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) کو مشتہر کرنی چاہئیں مگر یہ ادارہ بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست جاری کرنے میں متذبذب تھا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ جب نیکٹا کی ویب سائٹ پر دی گئی کالعدم تنظیموں کی فہرست نے متنازع صورت اختیار کی تو اسے بند کر دیا گیا۔ کہا گیا کہ یہ فہرست سرکاری نہیں تھی اور اس وقت سے نیکٹا کی ویب سائٹ ’’انڈر کنسٹرکشن‘‘ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیمرا کا نوٹیفکیشن وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ دورہ امریکا میں صدر باراک اوباما کے ساتھ مشترکہ اعلامیے اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1267 کے تحت ملک پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کے عین مطابق تھا۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر وزارت داخلہ اس کی تردید کیوں کرتی ہے؟انتہاپسند گروہوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں ناکامی پر افسرشاہی طرز کے بہانوں سے ہٹ کر آئیے، اس مسئلے کا وضاحت سے جائزہ لیتے ہیں۔
کیا بھارت میں انتہاپسند اور کٹر قوم پرست گروہوں کے ہوتے ہوئے پاکستان میں بھی انتہاپسند گروہوں کی ضرورت ہے؟ کیا بھارت میں پاکستان مخالف نعروں کا جواب دینے کے لیے ہمارے پاس ’’پاکستانی شیو سینا‘‘کا وجود ضروری ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ آیا ہمیں انتہاپسندی کے میدان میں بھی بھارت کی برابری کرنا ہے؟پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں جبکہ ریاست اور معاشرہ ملک میں بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ رحجانات پر قابو پانے کے طریقے ڈھونڈ رہا ہے۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی دیکھ کر ہم اعتدال پسند ذہنیت کی جانب اپنے سفر کو کھوٹا کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہم نے بہت سی تکالیف اور قربانیوں کے بعد یہ راہ اختیار کی ہے۔
یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ پاکستان میں بہت سے انتہاپسند گروہوں نے بھارت مخالف نعروں کی آڑ میں پناہ لے رکھی ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت ہو رہا ہے جب بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو بھی بھارت مخالف پروپیگنڈے کو ہوا دینے میں کوئی سیاسی فائدہ نظر نہیں آتا۔ اسے پاکستان میں مثبت تبدیلی کہا جا سکتا ہے مگر اس سے جماعت الدعوۃ جیسے گروہوں کو صورتحال اپنے حق میں موڑنے کا موقع بھی میسر آتا ہے۔ تاہم ان گروہوں کا انتہاپسندانہ تعارف انہیں قانونی جواز اور عوامی حمایت دلانے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ کیا پاکستان میں ایک عام آدمی کے لیے بھارت سے منفی مسابقت میں عدم شمولیت پر فخر کرنا کافی نہیں ہو گا؟حکومت کی جانب سے مناسب حکمت عملی کا فقدان بھی ان کالعدم گروہوں سے نمٹنے کی راہ میں رکاوٹ ہو سکتا ہے۔ 
کہا جاتا ہے کہ ملک میں کئی عشروں تک انتہاپسند گروہوں کو پنپنے کا موقع دیا گیا اور ان کی بیخ کنی میں بھی وقت درکار ہو گا۔ اگر حکومت نے انہیں کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے ہوتے تو اسی صورت میں یہ بات درست کہی جا سکتی تھی۔ ان گروہوں خصوصاً جماعت الدعوۃ کے فلاحی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا مگر حکومت نے انہیں مناسب طریقے سے سماجی دھارے میں لانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ملک میں موجود انتہاپسند گروہوں میں پرتشدد رحجانات خت کرنے اور انہیں دہشت گردی کے منظرنامے سے ہٹا کر قومی دھارے میں مدغم کرنے کے لیے کثیر رخی طریق کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پروگرام کے تحت حکومت آئین پاکستان پر عمل کرنے اور ہر قسم کے تشدد اور انتہاپسندانہ سرگرمیوں کو ترک کرنے کی یقین دہانی کرانے والے کالعدم گروہوں کو معافی کی پیشکش کر سکتی ہے۔ جو گروہ ہر قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں بشمول نفرت کے پرچار سے احتراز کا وعدہ کریں اور اپنی تنظیموں کو متعلقہ حکام/ محکمہ جات میں رجسٹرڈ کرائیں، انہیں قومی دھارے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی سطح پر ان کی رجسٹریشن اور نگرانی کا الگ طریق کار بھی وضع کیا جا سکتا ہے۔ وزارت داخلہ کو ان گروہوں کی رجسٹریشن سے کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے کہ اب اسے عالمی غیرسرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن کے ذریعے اس عمل کا خاطرخواہ تجربہ حاصل ہو چکا ہے۔
اس حوالے سے جماعت الدعوۃ کا معاملہ خاصا پیچیدہ ہے کہ یہ کالعدم لشکر طیبہ سے کسی قسم کا براہ راست رابطہ نہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ مگر پیمرا نوٹیفکیشن کے مطابق جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن بھی کالعدم لشکرطیبہ کا ہی دوسرا روپ ہیں۔ بہرحال یہ ثابت کرنا جماعت الدعوۃ کی ذمہ داری ہے کہ اس کا دہشت گردی اور دہشت گرد گروہوں سے کوئی تعلق نہیں۔ جب اس کی مطبوعات میں لشکر طیبہ کی سرگرمیوں اور عسکریت پسندی کی تشہیر بند ہو جائے تو اسی صورت میں ہی عوام اور عالمی برادری کو اس کی بات پر اعتبار کرنا چاہیے۔ جماعت الدعوۃ کی قیادت کو اندازہ ہونا چاہیے کہ دنیا اندھی بہری نہیں ہے۔
(http://khabar.sujag.org/column/29261)

شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ ۔ مولانا عبد اللطیف انورؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ کی رحلت

جامعہ حمادیہ کراچی کے حضرت مولانا عبد الواحدؒ کی جدائی کا غم ابھی تازہ تھا کہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ بھی داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت شاہ صاحبؒ ملک کے ان بزرگ اور مجاہد علماء کرام میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف تعلیم و تدریس کی مسند کو آباد کیا بلکہ زندگی بھر نفاذ شریعت کی جدوجہد اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کی محنت میں مصروف رہے۔ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحقؒ کے نامور تلامذہ میں سے تھے اور انہی کی مسند پر بیٹھ کر ایک عرصہ تک حدیث شریف کا درس دیتے رہے جس سے پاکستان، افغانستان اور اردگرد کے دیگر ممالک کے ہزاروں علماء کرام نے فیض حاصل کیا۔ وہ حدیث میں اپنے شیخ حضرت مولانا عبد الحقؒ کے علوم کے وارث و ترجمان، جبکہ تفسیر قرآن میں ایک اور عظیم المرتبت شیخ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے فیوض کے امین تھے۔ اس لیے بخاری شریف کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کے دورہ کی روایت بھی انہوں نے ہمیشہ قائم رکھی۔ انہوں نے مدینہ منورہ میں ممتاز عرب اساتذہ سے استفادہ کیا اور امام التابعین حضرت حسن بصریؒ کے تفسیری فیوضات پر گراں قدر مقالہ لکھ کر مدینہ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ وہ بیک وقت اکوڑہ خٹک، شیرانوالہ لاہور، اور مدینہ یونیورسٹی کی متنوع علمی روایات کے جامع تھے اور دینی صلابت کے ساتھ ساتھ توسع اور علمی رواداری کا عملی نمونہ بھی تھے۔ 
ایک بات میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ روسی استعمار کے خلاف افغان جہاد کو علمی و فکری آب یاری کاماحول اکوڑہ خٹک کی برکت سے میسر آیا اور وہی افغان مجاہدین اور ان کے بعد افغان طالبان کی جدوجہد میں پختگی اور سنجیدگی کا باعث بنا۔ اس سنجیدگی اور پختہ فکری کی قدر و قیمت عالم اسلام کے مختلف حصوں میں نفاذ شریعت کی متعدد تحریکات میں افراط و تفریط کا مشاہدہ کرتے ہوئے صحیح طور پر محسوس ہوتی ہے۔ اور اس پر حضرت مولانا عبد الحقؒ کی علمی عظمت، دینی حمیت اور فکری صلابت کے آگے سر نیاز بے ساختہ خم ہو جاتا ہے۔ حضرت شیخ الحدیثؒ کے اس علمی ورثہ کو سینے کے ساتھ لگانے والے چند گنے چنے افراد میں حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ نمایاں مقام رکھتے ہیں، جبکہ مولانا سمیع الحق اور مولانا انوار الحق کے ساتھ ان کی زندگی بھر کی رفاقت اپنے شیخ کے خاندان کے ساتھ ان کی بے لوث وفاداری کی علامت ہے۔ 
تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں اکثر یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ مستقبل کا کوئی بھی غیر جانبدار مؤرخ جب گزشتہ صدی کے دوران جہاد کے احیاء، خاص طور پر جہاد افغانستان کے پس منظر و نتائج اور دنیا بھر میں اس کے مثبت اور منفی اثرات کا تجزیہ کرے گا تو وہ اس کے علمی و فکری محاذ پر حضرت مولانا عبد الحقؒ ، حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ، اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی خدمات اور کردار کو نظر انداز نہیں کر سکے گا۔ مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ اسی صف بندی کی سیکنڈ لائن کے بزرگ تھے اور ان کی ساری زندگی اسی محور کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔
وہ علماء اور مجاہدین کے صرف استاذ نہیں تھے بلکہ مربی اور پشت پناہ بھی تھے اور صحیح کاموں پر حوصلہ افزائی کے ساتھ غلط کاموں پر ٹوکنے کا ذوق اور معمول بھی رکھتے تھے۔ راقم الحروف کو ان سے نیاز مندی کا شرف حاصل رہا ہے۔ جامعہ نصرۃ العلوم میں متعدد بار تشریف لائے، حضرات شیخینؒ کے ساتھ گہری عقیدت و محبت رکھتے تھے جس کی برکات سے ہم بھی مستفید ہوتے رہے۔ مختلف تحریکات اور اجلاسوں میں ان کے ساتھ رفاقت رہی اور بہت سے معاملات میں مشاورت کا تعلق بھی رہا۔ اب وہ نہیں ہیں تو آنکھوں کے سامنے خلا خلا سا محسوس ہو رہا ہے۔ اس غم میں ان کے خاندان کے علاوہ مولانا سمیع الحقؒ دارالعلوم حقانیہ کے اساتذہ و طلبہ اور حضرت مرحوم کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مستفیدین کے ساتھ شریک ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

مولانا عبد اللطیف انورؒ کا انتقال

شاہکوٹ کے مولانا عبد اللطیف انور گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دینی و مسلکی کارکنوں کی موجودہ کھیپ شاید اس نام سے اتنی مانوس نہ ہو مگر دو عشرے قبل کے تحریکی ماحول میں یہ ایک متحرک اور جاندار کردار کا نام تھا۔ شیرانوالہ لاہور اور جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ گہری عقیدت اور بے لچک وابستگی رکھنے والے مولانا عبد اللطیف انور رحمہ اللہ تعالیٰ کا نام سامنے آتے ہی نگاہوں کے سامنے ایک بے چین اور مضطرب شخص کا پیکر گھوم جاتا ہے جو ملک میں نفاذ شریعت، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس صحابہؓ اور مسلک علماء دیوبند کی ترجمانی و پاسداری کے لیے نہ صرف فکر مند رہتا تھا بلکہ ہر وقت متحرک رہنا اور اپنے مشن کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کرنا اس کے مزاج کا حصہ بن گیا تھا۔ 
مولانا عبد اللطیف انورؒ شاہکوٹ کی ایک مسجد کے خطیب تھے اور ایک عرصہ تک جمعیۃ علماء اسلام ضلع شیخوپورہ کے امیر رہے۔ شاہکوٹ اب نئے بننے والے ضلع ننکانہ صاحب کا حصہ ہے۔ مسجد کے ساتھ جامعہ اشرفیہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ بھی ہے، یہ مسجد اور درسگاہ اس پورے علاقہ میں دینی اور مسلکی سرگرمیوں کا مرکز سمجھی جاتی ہے اور اس کی وجہ مولانا مرحوم کی شبانہ روز محنت اور ان کا عزم و استقلال ہے۔ 
مولانا عبد اللطیف انورؒ دینی و مسلکی محاذ پر متحرک رہنے کے ساتھ ساتھ علاقائی سیاست کا بھی ایک جاندار کردار تھے۔ علاقہ میں ان کی برداری کے خاصے لوگ آباد تھے جو ان کی قوت ہوا کرتے تھے۔ لوکل سیاست سے لے کر قومی انتخابات تک ان کا کردار ہوتا تھا، سماجی خدمات میں پیش پیش رہتے تھے، تھانے کچہری کے کاموں میں ہمیشہ متاثرین اور مظلوموں کے ساتھ ہوتے تھے۔ پنجاب کی سیاست میں کوئی مقام حاصل کرنے کے لیے بنیادی شرط یہی ہوا کرتی ہے اور ہماری دینی جماعتیں اس کی طرف توجہ نہ دینے کی وجہ سے انتخابات میں کوئی پوزیشن حاصل نہیں کر پاتیں۔ ہم مذہبی تعلق اور روحانی وابستگی کے حوالہ سے ووٹ کے طلبگار ہوتے ہیں جو پنجاب کے مزاج کے ہی خلاف ہے۔ میں اکثر عرض کیا کرتا ہوں کہ پنجاب کا عمومی مزاج یہ ہے کہ مولوی کہیں سے آئے یہ اسے قبول کر لیتا ہے، مسجد بنا کر دیتا ہے، مدرسہ بھی بنا دیتا ہے، اس کو چلانے کا خرچہ بھی دیتا ہے، مسلکی محاذ آرائی اور دینی تحریکات میں دست و بازو بھی بن جاتا ہے، حتیٰ کہ رشتہ بھی دے دیتا ہے، مگر ووٹ نہیں دیتا۔ ووٹ صرف اس کو ملتے ہیں جو سماجی خدمت میں اور تھانے کچہری کے کاموں میں پیش پیش ہو، اور بوقت ضرورت لوگوں کے کام آئے۔ مولانا عبد اللطیف انورؒ اس ضرورت اور فن سے آشنا تھے اس لیے علاقائی سیاست میں ان کا نمایاں کردار ہوتا تھا اور بسا اوقات وہ ’’بادشاہ گر‘‘ بھی بن جایا کرتے تھے۔ 
22 اکتوبر کو راقم نے پیر حافظ محمد ریاض قادری، محترم میاں محمد افضل اور حافظ محمد بلال کے ہمراہ شاہکوٹ حاضری دی اور مولانا عبد اللطیف انورؒ کے فرزند و جانشین مفتی محمد طیب اور دیگر احباب سے تعزیت کے ساتھ ساتھ مولانا مرحوم کی قبر پر فاتحہ خوانی اور دعا کی سعادت حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

مجلس مذاکرہ ۔ ’’فضلاء مدارس دینیہ کا معاشی مستقبل‘‘

مولانا محمد عبد اللہ راتھر

8 نومبر 2015ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’فضلاء مدارس دینیہ کا معاشی مستقبل‘‘ کے عنوان پر مجلس مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس مذاکرہ کی صدارت جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد نے کی، جبکہ ایک درجن کے قریب اہل علم وفکر نے مذاکرہ میں حصہ لیا۔
مجلس مذاکرہ کا آغاز گورنمنٹ ظفر علی خان کالج، وزیر آباد کے استاذ حافظ منیر احمد نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ اظہار خیال کرتے ہوئے حافظ منیر احمد نے کہا کہ فضلاء مدارس کو چاہیے کہ اپنے اندر پختہ علمی استعداد پیدا کریں اور احساس کمتری سے نکلیں۔ مدارس کا جاندار کردارمغرب کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ مخالف قوتیں چاہتی ہیں کہ یہ جو انتہائی با ادب درس وتدریس(تپائیوں پربیٹھ کر)کا سلسلہ ہے، اس کو ختم کردیاجائے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں سوسائٹی سے رابطہ رکھنا ہو گا اور معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ گھلنا ملنا ہو گا۔
پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے استاذ ڈاکٹر عبدالماجد ندیم نے کہا کہ فضلاء مدارس دینیہ کے معاشی مستقبل پر گفتگو کے پانچ دائرے بنتے ہیں: ۱۔ حکومتی سطح پر اقدامات، ۲۔ وفاق ہائے مدارس کی حکمت عملی، ۳۔ مدارس کی انتظامیہ کا کردار، ۴۔ خود فضلاء مدارس کا کردار اور ۵۔ معاشرہ۔ 
انھوں نے کہا کہ ہم معاشرے پہ بوجھ نہ بنیں، بلکہ معاشرے کو کچھ دینے والے بنیں۔ انھوں نے اس ماثور دعا کا حوالہ بھی دیا کہ ’’اللھم اصلح لی دینی الذی ھو عصمۃ امری واصلح لی دنیای التی فیھا معاشی واصلح لی اٰخرتی التی فیھا معادی۔‘‘ ڈاکٹر عبد الماجد نے کہا کہ دراصل ہمیں نصاب میں ایک مرتبہ تبدیلی کی نہیں بلکہ تبدیلی کے ایک مستقل نظام کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے بین الاقوامی زبانوں میں مہارت اور استعداد پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ اس ذریعے سے فضلاء اپنے مواقع کار میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فضلاء کو سوشل سائنسز اور معاشرتی افکار پڑھائے جانے چاہییں۔ ڈاکٹر عبد الماجد نے کہا کہ چونکہ مساجد کی تعداد اتنی نہیں، اس لیے اگر سارے فضلاء مساجد کا رخ کریں گے تو وہی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے والا معاملہ ہو گا، اس لیے فضلا کو ان کی صلاحیتوں کے لحاظ سے دوسرے سماجی شعبوں میں خدمات انجام دینے کی ترغیب اور راہ نمائی ملنی چاہیے۔
مولاناحماد انذرقاسمی (جامعہ فاروقیہ، سیالکوٹ) نے کہا کہ طالب علم جوں جوں دورۂ حدیث کے قریب پہنچتا ہے، اس کی پریشانی بڑھنا شروع ہو جاتی ہے کہ اب فراغت کے بعد کیا بنے گا۔ اگر کوئی فاضل مدرسہ کے علاوہ کسی اور شعبہ مثلاً سکول وغیرہ میں چلا جائے تو اس کے دوسرے ساتھی کہتے ہیں کہ اس کو استاذ کی بد دعا لگی ہے اور استاذ بھی کہتا ہے کہ آئندہ مجھ سے مت ملنا۔ ہمیں اس رجحان کو ختم کرنا ہو گا۔
گورنمنٹ ڈگری کالج، کامونکی کے پرنسپل ڈاکٹر محمد اکرم ورک نے کہا کہ معاش کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آنے کے بعد سب سے پہلے معاشی مسئلہ کو حل کیا اور مہاجرین وانصار میں بھائی چارہ قائم فرمایا۔ انھوں نے کہا کہ اگر وفاق یا مدارس انتظامیہ اس مسئلے پر توجہ نہیں دیتی تو فضلاء خود اس طرح کے سیمینار کریں اور اپنے بارے میں خود فیصلے کریں۔ انھوں نے کہا کہ فضلاء کو راہ نمائی فراہم کرنی چاہیے کہ مساجد کے علاوہ بھی وہ مختلف دائروں میں دینی خدمات سرانجام دے سکتے ہیں، مثلاًمحکمہ اوقاف کی مختلف اسامیوں پر، فوج میں، سکول وکالجز میں، سفارتخانوں میں بطور مترجم۔ اس کے علاوہ وہ مختلف کتب کا ترجمہ کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ورک نے کہا کہ اگر حکومتی ادارے فضلاء کو اپنے ہاں جگہ نہ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں تو ہمیں حکومتی اداروں سے رعایتیں طلب کرنے کے بجائے متبادل حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جیسا کہ پیر کرم شاہ صاحب نے بھیرہ شریف میں کیا۔انہوں نے نصاب اور نظام دونوں بدل دیے۔ وہاں طالبعلم کو میٹرک کے بعد درس نظامی میں داخلہ دیا جاتا ہے اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ باقاعدہ کالج اور یونیورسٹی کے امتحانات دلوائے جاتے ہیں۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث گوجرانوالہ کے راہ نما مولانا ابرار احمد ظہیر نے کہا کہ دوران تعلیم میں طلبہ کو صحیح راہ نمائی ملنا بہت اہم ہے۔ انھوں نے پروفیسر ساجد میر صاحب کا بیان کردہ واقعہ سنایا کہ مجھے بچپن میں حفظ کا شوق تھا اور میری والدہ کی بھی یہی خواہش تھی، لیکن ہمارے خاندانی بزرگ مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی نے اس سے روک دیا اور کہا کہ حفظ بعد میں بھی ہو جائے گا، ابھی تم اپنی اسکول کی تعلیم پر توجہ دو۔ پھر آٹھویں جماعت کے بعد میں نے دوبارہ ازخود قرآن یاد کرناشروع کر دیا اور اس بات کا علم مولانا ابراہیم میر کو ہوا تو انھوں نے پھر منع کر دیا۔ پھر جب میں ایم اے اسلامیات کرنے لگا تو مولانا ابراہیم میر نے کہا کہ نہیں، تم ایم اے انگلش کرو۔ میرے لیے یہ سب باتیں اچنبھے کی تھیں، لیکن بعد میں احساس ہوا کہ وہ درست کہتے تھے۔ ایم اے انگلش کی بنیاد پر مجھے مرے کالج،سیالکوٹ میں ملازمت ملی۔ وہاں کے فارغ پیریڈز میں، میں نے قرآن پاک یاد کرنا شروع کیا۔پھر گورنمنٹ ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ لاہور میں ٹرانسفر کرا لی۔وہاں میرے صرف دو پیریڈتھے۔باقی سارا وقت میں قرآن پاک یاد کرتا تھا۔ یوں میں نے مکمل حفظ کر لیا۔ 
گورنمنٹ ڈگری کالج، ڈسکہ کے استاذ مولانا حافظ محمد رشید نے کہا کہ روزگار کا مسئلہ صرف دینی مدارس کے فضلاء کا نہیں بلکہ دوسرے تعلیمی اداروں کے فضلاء بھی اس کا سامنا کر رہے ہیں۔ البتہ دوسرے تعلیمی ادارے کے طلبہ کا میدان شروع سے ان کے سامنے ہوتا ہے، لیکن ہمارے فضلاء کے ذہن میں یہ بات آخر تک واضح نہیں ہوتی۔ حافظ محمد رشید نے کہا کہ فضلاء کو مختلف چھوٹے چھوٹے کاروباروں کے متعلق بتانا چاہیے جن میں وہ حصہ لے سکتے ہیں، مثلاً ڈیری فارمنگ، ٹیوشن اکیڈمی وغیرہ۔ 
محمد تنویر صاحب نے تجویز دی کہ جن کاروباری حضرات سے چندے کے لیے رجوع کیا جاتا ہے، ان سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے کاروبار میں فضلاء کے لیے بھی مواقع پیدا کریں۔ اس کے علاوہ اور مواقع بھی موجود ہیں جن سے فضلاء فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جیسے انٹر نیٹ پر قرآن مجید کی تعلیم وغیرہ۔
الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر نے کہا کہ مدارس کے نظام کے بنیادی اہداف اور مقاصد کا تقاضا یہ ہے کہ فضلاء مدارس میں سے کچھ حضرات صرف اورصرف دینی تعلیم وتدریس اور دینی علوم کی تحقیق سے منسلک رہیں اور یہ کام کلیتاً یکسوئی کا متقاضی ہے۔ تو ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ ایسے حضرات کی کفالت کا کیا بندوبست ہو سکتا ہے تاکہ یہ حضرات معاش کی فکر سے بالکل بے نیاز ہو کرپوری بے فکری سے اپنا کام جاری رکھ سکیں۔
محمدمحسن خواجہ صاحب نے کہا کہ مدارس سے الگ ایک مستقل ادارہ ایسا ہونا چاہیے جو فضلاء کے معاشی مسئلے پر سوچ وبچار اور مشاورت کا اہتمام کرے اور اس حوالے سے متعلقہ حضرات کو راہ نمائی فراہم کرے۔ اسی طرح انھوں نے اس ضرورت کی طرف متوجہ کیا کہ مدارس میں شام کے اوقات میں دینی تعلیم کی کلاسوں کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ معاشرے کے مختلف طبقات جو دین سیکھنے کا شوق رکھتے ہیں، وہ مدارس سے مستفید ہو سکیں۔
الشریعہ اکادمی کے ناظم تعلیمات محمد عبداللہ راتھر نے کہا کہ مدارس میں کچھ ہنر اور فنون بھی سکھائے جانے چاہییں تاکہ فضلاء بوقت ضرورت ان کی مدد سے اپنی کفالت کر سکیں۔اس سلسلہ میں TEVTAکی خدمات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
مجلس مذاکرہ کے صدر مولانامفتی محمد زاہد نے اپنی اختتامی گفتگو میں کہا کہ طلب ورسد کے بنیادی اصول کے تحت ہمیں اس شعبے سے فضلاء کے ہجوم کم کرنا چاہیے، لیکن عملاً جیسے بے روزگار فضلاء کی تعداد بڑھ رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ مدارس کی تعداد بھی غیر ضروری طور پر بڑھ رہی ہے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ مساجد کے منتظمین میں یہ شعور بیدار کرنا چاہیے کہ وہ مسجد میں خدمات سرانجام دینے والے حضرات کی ضروریات کا مناسب اور معقول انتظام کیا کریں۔ نیز حکومت کو چاہیے کہ وہ مساجد کی انتظامیہ کو پابند کرے کہ وہ مسجد کے ملازمین کو مناسب سہولیات مہیا کرے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں خود بھی لوگوں کے اس تصور کو دور کرنے کی ضرورت ہے جو ہم نے خود پیدا کیا ہے کہ شاید مولوی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھوکا مرے اور روکھی سوکھی پر گزارا کرے۔ 
مفتی صاحب نے مولانا محمد شریف کشمیری کا واقعہ دنایا کہ وہ جب پلندری(کشمیر) میں آئے تو ابتدا میں کافی مشکل حالات پیش آئے۔ اس حوالے سے مدرسہ کے اہل حل وعقد کا اجلاس ہوا تو اجلاس میں بات چل نکلی کہ فلاں بزرگ نے یوں مشکلات میں وقت گزارا، فلاں نے یوں مشقت کی زندگی بسر کی، فلاں بزرگ یوں افلاس برداشت کرتے رہے۔ مولانا محمد شریف کشمیری یہ ساری باتیں سن کر کہنے لگے:آپ کو سارے بھوکے ننگے بزرگ ہی یاد آئے ہیں، کیا تاریخ میں کوئی کھاتا پیتا مولوی نہیں گزرا؟
مفتی صاحب نے کہا کہ ہمیں معاشرہ میں یہ شعور بیدار کرنا ہو گا کہ مولوی کی بھی کچھ ضروریات ہوتی ہیں، اس کام صرف بھوکا مرنا ہی نہیں۔ کسی صاحب ثروت سے کہیں کہ مسجد میں قالین بچھانا ہے یا اتنے سو قرآن پاک کے نسخے مسجد میں رکھنے ہیں تو وہ آسانی سے اس کو ثواب کا کام سمجھ کر تیار ہو جائے گا۔لیکن اگر اسے کسی مولوی صاحب کی کفالت یا کچھ ضروریات پورا کرنے کا کہا جائے تو اس پر وہ مشکل سے آمادہ ہوگا، کیونکہ اس کی نظر میں یہ کوئی ثواب کا کام نہیں۔
مفتی صاحب نے کہا کہ معاشرے میں ایک باوقار زندگی گزارنے کے لیے ایک عالم دین کی کم سے کم ضروریات یہ ہیں: ۱۔ روز مرہ کے اخراجات، ۲۔ خاندانی لین دین کے معاملات، ۳۔ عید وغیرہ کے مواقع پر اضافی اخراجات، ۴۔ بچوں کی تعلیم، ۵۔ ایک خاص عمر کے بعد علاج معالجہ، ۶۔ بچوں کی شادیاں، ۷۔ بڑھاپے کے مسائل، ۸۔ سر چھپانے کے لیے ذاتی مکان ۔
انھوں نے بتایا کہ ہمارے والد صاحب (مولانا نذیر احمد رحمہ اللہ)جب کسی قریبی رشتہ دار کی شادی میں جانا کسی وجہ سے مناسب نہ سمجھتے کہ وہاں عین موقع پر خلاف شرع باتیں ہوں گی تو ایک دن پہلے جا کر جو دینا دلانا ہوتا، کر آتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ اس لیے کرتا ہوں کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مولوی شریعت کو بہانا بنا کر کچھ دینے سے بچنا چاہتا ہے۔
مفتی صاحب نے کہا کہ تخصصات تو اْن مخصوص لوگوں کے لیے ہوتے ہیں جنہوں نے آگے چل کر کسی خاص شعبہ میں اپنی مہارت کے جوہر دکھانے ہوں۔ اس لیے اگر سارے طلبہ کو ایک ہی شعبے میں کھپانے کے بجائے ہم مختلف روزگاروں کے مختصرچھ چھ ماہ کے کورسز رکھ لیے جائیں تو ہوگا۔ مثلاً چھ یا نو ماہ کا ایک کورس سکول چلانے کی تربیت کا ہو کہ ایک سکول کیسے چلایا جاتا ہے؟ یہ ایک اہم شعبہ ہے اور خصوصاً دیہات میں اس کی ضرورت بھی بہت ہے۔ اسی طرح کمپیوٹر کی تعلیم کے مختلف کورسز رکھے جا سکتے ہیں اور تجربہ بتاتا ہے کہ مدارس کے فضلاء یہ ہنر جلد سیکھ لیتے ہیں۔ مختلف زبانیں سکھانا بھی بہت اہم ہے۔ خاص طور پر اس زمانے میں ترجمہ کی خاص اہمیت ہے اور اس میں روزگار کے مواقع بھی ہیں اور اس وقت ترجمانی مستقل ایک فن بن چکا ہے۔
مفتی صاحب نے کہا کہ فضلا کو چاہیے کہ اگر ان کے والدین کسی پیشے یا ہنر سے منسلک ہیں تو وہ ان سے وہ ہنر سیکھیں جو کے لیے دوسرے کام سیکھنے کی بہ نسبت زیادہ آسان ہوگا۔ اسی طرح اہل مدارس کاروباری حضرات کی خدمات بھی حاصل کریں جو طلباء کو کاروبار کے حوالے سے اپنے تجربات بتا دیا کریں اور ان کی مناسب راہ نمائی کریں۔
آخر میں مولانازاہد الراشدی نے تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس گفتگو سے بہت سی مفید جہتیں سامنے آئی ہیں اور حوصلہ ہوا ہے کہ ہم اس سلسلے میں کام کو آگے بڑھاسکتے ہیں۔ مولانا راشدی کی دعا پر مجلس مذاکرہ اختتام کو پہنچی۔

فضلائے مدارس کا معاشی مستقبل ۔ چند تاثرات اور تجاویز

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

(فضلاء مدارس کے معاشی مستقبل کے حوالے سے جناب ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی (ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز، ہائی ٹیک یونیورسٹی، ٹیکسلا) نے گزشتہ دنوں فیس بک پر اپنے صفحے پر بعض تبصرے پیش کیے جنھیں موضوع کی مناسبت سے یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔)

دینی مدارس کے فضلاء پچھلے کچھ عرصے سے بڑی تعداد میں ایم فل پی ایچ ڈی کرنے آرہے ہیں۔ بنیادی طور پر ان کی بڑی تعداد بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں آتی ہے جس کے پس منظر میں اس احساس کی تلخی کم و بیش موجود ہوتی ہے کہ دینی نظام تعلیم نے ان کی معاشی ضروریات سے مکمل صرف نظر کیے رکھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ یونیورسٹی ایجوکیشن کے بلاشبہ کچھ سائیڈ ایفکٹس ہوتے ہیں جن میں سب سے اہم یہ بات ہے کہ مدارس کی پیدا کردہ عقیدت طبقہ کے بجائے میرٹ سے وابستہ ہو جاتی ہے اور درس نظامی سے باہر کی کتابیں پڑھنے اور افراد سے ملنے جلنے کے باعث نہ صرف تعصبات دم توڑ دیتے ہیں بلکہ نئی وابستگیاں بھی وجود میں آنے لگتی ہیں اور سابقہ تعلق یا عقیدت میں وہ لا انفصام لھا کی کیفیت باقی نہیں رہتی۔ اس کے نتیجے میں بعض ادارے یا شخصیات ایسے شاگردوں کو ضال و مضل یا ملحد و زندیق قرار دینے میں بھی کو تاہی نہیں کرتے جس کے بعد دوریاں بڑھ جاتی ہیں۔ اگر دینی حلقے ان افراد کو Disown نہ کریں تو یہ تعلق دو طرفہ مفید ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے تھوڑی وسعت نظر کی اور حساسیت کا درجہ کم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ بصورت دیگر اگلے پانچ سات سال میں اس طبقہ کی تعداد معتد بہا ہو جائے گی اور اگر یہ افراد بکھر نہ گئے تو ان کی جدید قیادت سامنے آجائے گی جس کا روایتی مذہبی طبقے سے براہ راست تصادم ہونے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

دینی مدارس کے وہ طلبہ جو میٹرک کرنا چاہتے ہیں، ان کو بورڈز کے درس نظامی گروپ سے متعارف کروایا جائے، ان کو مختلف بورڈز، ان کے محل وقوع اور ان کے طریق کار سے آگاہ کیا جائے، لازمی اور اختیاری مضامین کا فرق بتایا جائے اور ان کے لیے جو کورسز مشکل ہوں، مثلاً انگلش ریاضی اور جنرل سائنس، ان کی آڈیو ویڈیو ان کے لیے تیار کر دی جائیں، لیکن یہ ساری سہولت صرف ان طلبہ کو دی جائے جو اس پروگرام میں رجسٹرڈ ہوں کیونکہ اس نوعیت کی بے شمار چیزیں Net پر موجود ہوتی ہیں، لیکن جب تک کسی فرد کو جبر کی زنجیر میں جکڑا نہ جائے وہ اختیار کو استعمال نہیں کرتا۔پھر On Line ان کے ٹیسٹ رکھے جائیں تاکہ امتحان کے لئے تیار ہو جائیں۔
دینی مدارس کے طلبہ کی اکثریت میٹرک ہوتی ہے لیکن وہ مدارس کے بعض اساتذہ کے رویوں سے ما سبق سے قطع تعلق کر لیتے ہیں۔ ایسے طلبہ کو ایف اے اور بی اے کروانا بہت آسان ہے۔ان کے لیے انگریزی کے اسباق تیار کر دیے جائیں تو بآسانی ایف اے کر لیں گے۔ یا انہیں اوپن یونیورسٹی کے سسٹم سے متعارف کروا کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تو بھی مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔
بی اے کرنا اور بھی آسان ہے، صرف انگریزی کی تیاری کروانا ہوگی۔عربی پڑھے ہوئے طلبہ صرف و نحو سے خاصے واقف ہوتے ہیں۔ تدریس و تعلم زبان میں ایک زبان کی گرامر دوسری زبان کی گرامر میں فائدہ دیتی ہے۔ یوں بھی دینی مدارس والوں سے میں کہا کرتا ہوں کہ دعا یدعو کی گردان اور اس کی تعلیلات میں جتنی محنت آپ نے کی ہے، اس کا دسواں حصہ انگریزی پر محنت کریں تو بسہولت بی اے ہو جائیں۔

درس نظامی کے وہ فضلاء جو وفاق کی ڈگری کے حامل ہیں، ان سے کہا جائے کہ وہ اولین فرصت میں اپنی سند کا معادلہEquivalence کرواکر ایم فل میں داخلے کی تیاری کریں۔ اس کے لیے ان طلبہ کے لیے کچھ اعدادی کورس اور Reading مقررکی جائیں تاکہ آگے جاکر انہیں دقت پیش نہ آئے۔ نیز ان کے لیے ایک گائیڈ تیار کی جائے جس سے وہ معلوم کر سکیں کہ وہ کہاں کہاں کن شرائط کے تحت داخلہ لے سکتے ہیں۔مختلف یونیورسٹیز کے کورسز کے پیش نظر ان کے لیے کتابوں کی ایک فہرست اور ان کے لنک مہیا کر دیے جائیں تاکہ ان کو تعلیمی رفتار میں سہولت میسر رے۔ نیز ایسے عنوانات کی ایک فہرست تیار کی جائے جو ان کی ریسرچ کا موضوع بن سکیں اور مسلم اور انسانی سماج کے لیے مفید نیز ان کی اپنی Credibility کی ضمانت ہوں۔ان موضوعات کے لیے مآخذ و مصادر کی ایک Tentative فہرست بھی تیار کی جائے۔ ریسرچ سکھانے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کہ طلبہ کو زیادہ سے زیادہ ریسرچ پیپرز پڑھنے پر آمادہ یا مجبور کیا جائے۔اس پہلو سے کوئی لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہوگی۔نیز ملک کے بعض نامور سکالرز کے لیکچرز اپ لوڈ کر کے طلبہ کو مہیا کیے جائیں۔

دینی مدارس کے طلبہ فارغ ہوتے ہی بالعموم معاشی مسائل سے دو چار ہو جاتے ہیں۔مدارس میں انہیں مسلسل توکل کی افیون کھلائی جاتی ہے اور فارغ ہوتے ہی انہیں معلوم ہوتا ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے قدرت نے جو اصول وضع کیے ہیں، ان سے صرف نظر کرنا ذات خداوندی کی توہین ہے۔ تاہم اس امر کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دینی مدارس کے طلبہ و فضلاء کے معاشی پہلو کو نظر انداز کرنا ایک قومی و ملی بے اعتدالی ہے۔
جس پروگرام پر ہم بات کر رہے ہیں، اس کے لیے ایسے مخلص تجربہ کار اور درددل رکھنے والے احباب کی ضرورت ہے جن کے علم و تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے کچھ ایسے پروفیشنز کی نشان دہی اور ان کی تربیت کا اہتمام کیا جائے جو کم خرچ ہوں اور بآسانی سیکھے جاسکتے ہوں، مثلاً الیکٹرونکس سے وابستہ کام، ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر سے متعلق، ہومیو، طب، پریس، پبلی کیشنز سے متعلق، صنعتوں کو سپورٹ کرنے والی گھریلو صنعتیں وغیرہ۔ نیز بعض چھوٹی صنعتیں ایسی ہوتی ہیں کہ تھوڑے سے سرمایے سے کام شروع کیا جاسکتا ہے۔ بینظیر حکومت کے پہلے دور میں پاکستان T V نے ایسے بہت سے پراجیکٹ متعارف کروائے تھے جو اس زمانے میں پندرہ بیس ہزار روپے سے شروع کیے جاسکتے تھے۔
میرا یہ فیلڈ نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ فیلڈ میں موجود احباب کے پاس ایسے بہت سے پراجیکٹس ہوں گے جن کی بنا پر درس نظامی کے فضلاء تھوڑی سی توجہ اور محنت سے با عزت معاشی زندگی گزار سکتے ہیں۔دینی مدارس کے طلبہ بہت محنت کے عادی ہوتے ہیں لیکن انہیں دوران تعلیم Misguide کر دیا جاتا ہے جس کے نتائج افراد قوم اور ملک کے لیے نا قابل افتخار نکلتے ہیں۔

ایسے فضلاء جو تعلیمی ادارہ بنانے میں دلچسپی رکھتے ہوں، خالص درس نظامی کا مدرسہ بنانے کے بجائے اسلامی سکول بنانے پر توجہ دیں جو آسان عربی گرامر، ترجمہ قرآن، ریاض الصالحین اور قدوری کی دینی تعلیم کے ساتھ سکول کی ایسی تعلیم دیں کہ میٹرک کے بعد ان کا طالب علم کسی بھی دینی جامعہ یا عصری کالج میں اپنی تعلیم مکمل کر سکے۔ سکول فیس کی اساس پر چلایا جائے البتہ یتیم اور ضرورت مند بچوں کے داخلے کی ایک شرح مقرر کرلی جائے اور ان کے لیے سرکاری اور نجی تعاون حاصل کرنے میں بھی کوئی قباحت نہیں۔
تحقیق کر لیں، درس نظامی کا تھوڑا سا حصہ دینی تعلیم پر مشتمل ہے۔ باقی نصاب اس زمانے کی سول سروس کا نصاب تھا۔ ایک ہی نصاب کے فارغ مجدد و مجتہد اور دوسری طرف حکومت کے پرنسپل سکریٹری ہوتے تھے۔ اسی لیے نصاب کا بڑا حصہ ادبیات منطق وفلسفہ پر مشتمل تھا۔
درس نظامی کا انفرا سٹرکچر مسلمانوں کا کوئی متبرک ورثہ نہیں کہ اس کے شاکلہ کی حفاظت کرنا باعث نجات ہو۔بات صرف یہ ہوئی کہ مسلم اشرافیہ سے ان کی جائیدادیں، جاگیریں، نظام تعلیم، سرکاری عہدے بلکہ ذریعہ تعلیم بھی انگریزوں نے چھین لیا۔ ان نا گفتہ بہ حالات میں اسلام کو زندہ رکھنے کے لیے چندوں، معمولی مشاہروں اور طلبہ کی کفالت کی اسکیم شروع کی گئی جو اضطراری حالت میں ایک مخلص Way outتھا۔ اسے ہرگز کوئی تقدس حاصل نہیں تھا۔ تاہم یہ امر واقعہ ہے کہ انہیں قربانیوں کی وجہ سے بر صغیر میں اسلام زندہ رہا، لیکن اب اسلام خوش حال ہے اور اللہ چاہتا ہے کہ اس خوش حالی کا اثر نظر آئے۔

جو لوگ اسلام کی دعوت و تعلیم سے وابستہ ہیں، انہیں مبارک ہو کہ ان کے میدان عمل میں کبھی Saturation point نہیں آتا یعنی یہ ممکن نہیں کہ ایسا مرحلہ آجائے کہ اس پروفیشن میں مزید افراد کی ضرورت یا گنجائش نہ رہے۔ کیونکہ جب تک اس دھرتی پر کفر وشرک گمراہی اور جہالت باقی ہے، اسلامی تعلیم و تربیت سے وابستہ افراد کی ضرورت باقی ہے۔
پاکستان بڑی تعداد میں بلکہ فاضل تعداد میں دینی نظام تعلیم کے فضلاء تیار کرتا ہے جب کہ دنیا کے بے شمار ممالک کے ان گنت معاشرے ایسے افراد کے محتاج ہیں اور وہ دنیا کی ہر سہولت فراہم کرنے کو تیار ہیں۔گویا اس پیشے سے وابستہ لوگ خوش قسمت ترین لوگ ہیں کہ ان کے رزق کی فراوانی تعلیم دین سے وابستہ کر دی گئی ہے۔ بس اس کے لیے معمولی درجے کے دو چار کام کرنے کی ضرورت ہے:
1۔ فرقہ واریت سے اس طرح الگ ہوجانا کہ جیسے صحابہ کا کسی فرقے سے تعلق نہیں تھا ۔
2۔ اصل دین اور زوائد میں فرق کی اہلیت پیدا کرنا۔
3۔ جس علاقے یا ملک میں کام کرنے کی خواہش ہو، اس کی زبان مذہب اور کلچر سے آگاہی حاصل کرنا۔
4۔کار دعوت سے وابستہ افراد کی معیت میں رہ کر دعوت دین کی بنیادی تربیت حاصل کرنا۔
5۔ علم دین اور مطالعہ قرآن وسنت میں آفاقی سطح کی مہارت بہم پہنچانا۔
آخری جملہ کا تعلق صرف بین الاقوامی شخصیات دعوت سے ہے۔ زبان کلچر سے آگاہی اور بین الاقوامی معلومات NET کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

ایک سفر کی روداد

محمد بلال فاروقی

۱۲ نومبر جمعرات کو استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ہمراہ لاہور اور پھر رائے ونڈ کے ایک روزہ سفر کا موقع ملا۔ لاہور میں ہمیں ملتان روڈ پر اسکیم موڑ کے قریب مولانا محمد رمضان کی مکی مسجد میں رکنا تھا جہاں ظہر کے بعد درس قرآن کی تقریب تھی۔تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ہم منزل پہ پہنچے تو منڈی بہاؤالدین کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا عبد الماجد شہیدی بھی وہاں موجود ہیں۔ مولانا محمد رمضان نے استقبال کیا اور چائے سے تواضع کی۔ استاد جی نے دونوں علماء کو پاکستان شریعت کونسل کا نیوز لیٹر ’’نوائے شریعت‘‘ پیش کیا۔ ساتھ ہی نظر پڑی تو ایک رسالہ ’’نوائے راجپوت‘‘ نظر آیا۔ مولانا عبد الماجد نے اپنا قصہ سنایا کہ میں اپنی اہلیہ کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا۔ اس نے گفتگو سے اندازہ لگایا کہ ہم راجپوت ہیں تو اس نے کریدنا شروع کیا کہ آپ کہاں سے ہیں وغیرہ وغیرہ۔جب یقین ہوا کہ راجپوت ہیں تو کہنے لگا کہ آپ راجپوت ہیں تو پھر یہ پگڑی اور داڑھی کیسی؟ مولانا نے جواب دیا کہ کیا آپ کو یاد نہیں کہ راجپوت مسلما ن ہو گئے ہیں؟
تھوڑی دیر گزری تو دارالعلوم مدنیہ کے سینئر استاد مولانا حمید حسین بھی تشریف لے آئے اور پھر مختلف موضوعات پر اساتذہ کے مابین گفتگو ہوئی۔مختلف مسالک کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی کشمکش کو ختم کرنے پہ بات ہوئی تو مولانا زاہد الراشدی نے بتایا کہ گزشتہ دنوں میں فیصل آباد گیا ۔ساتھیوں نے بتایا کہ یہاں بریلوی مسلک کے معروف مناظر مولانا سعید احمد اسد چاہتے ہیں کہ آپ سے ملاقات ہو۔میں نے کہا، ضرور ملتے ہیں۔ملاقات کا اہتمام حافظ ریاض احمد چشتی چیئرمین النور ٹرسٹ نے کیا تھا۔مولانا سعید صاحب کا کہنا تھا کہ مولانا !کیا ممکن ہے کہ بریلوی دیوبندی علماء آپس کے مختلف فیہ مسائل میں کوئی درمیانی راہ نکال لیں تاکہ صورتحال میں بہتری کی گنجائش نکل سکے۔میں نے ان سے کہا کہ میرے خیال میں سردست دو باتیں ممکن ہیں۔ایک یہ کہ آپس کے اختلاف کو علمی مجالس تک محدود کیا جائے، فتویٰ بازی بند کرکے اختلاف بیان کرنے میں سلیقے سے کام لیا جائے اور دوسری یہ بات کہ مشترکہ دینی مقاصد کے لیے مل جل کر محنت کا ماحول پیدا کیا جائے۔مولانا سعید احمد کا کہنا تھا کہ میں آپ سے مزید مشاورت کے لیے گوجرانوالہ آؤں گا۔ اس موقع پر مولانا مفتی منیب الرحمن کی ایک ویڈیو کا تذکرہ بھی ہوا جس میں انہوں نے مسلکی روادری کے فروغ کے لیے علماء کو ذمہ داری کا احساس دلایا ہے۔
مذہبی سیاست کا تذکرہ چھڑا تو مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ میں یہ بات کئی بار لکھ چکا ہوں اور مختلف مواقع پہ عرض بھی کرتا رہتا ہوں کہ ہمارا مزاج دو انتہاؤں کا عادی ہوچکا ہے۔ یا ہم پارلیمانی سیاست پر قناعت کرلیتے ہیں یا پھر بندوق اٹھا لیتے ہیں، جبکہ ہماری اصل طاقت ’’اسٹریٹ پاور‘‘ ہے، پرامن جلسے، جلوس، ہڑتالیں وغیرہ جس کے ختم ہو جانے کی وجہ سے ہم نقصان اٹھا رہے ہیں۔ باتوں باتوں میں مولانا زاہدا لراشدی نے دو واقعات سنائے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری کے ایک مطبوعہ خطاب میں اس بات کا ذکر ہے کہ سندھ میں انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کے دور میں امروٹ شریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا تاج محمود امروٹی بھی اس کے راہنماؤں میں شامل تھے۔ ان سے ایک بے تکلف مرید نے کہا: حضرت! آپ ساری ساری رات اللہ تعالیٰ سے براہ راست بات چیت کرتے ہیں تو آپ وہاں کیوں نہیں عرض کرتے کہ یا اللہ انگریز حکومت سے نجات عطا فرما۔ یہ کیا ہرروز کے جلسے جلسوں کے چکر میں ہم پڑے ہوئے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ میں نے یہ عرضی ڈالی تھی۔ جواب آیا کہ ’’ان سے لے لوں تو دوں کس کو ؟‘‘ اس کا مطلب یہ تھا کہ کیا تمہارے اندر اتنی صلاحیت ہے کہ دنیا سنبھال سکو ؟
دوسرا واقعہ مولانا مفتی محمود کا ہے۔ تحریک نظام مصطفی کے دوران ان سے روزنامہ نوائے وقت کے ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ مفتی صاحب! کیا یہ ممکن ہے کہ سو فیصد آپ کی حکومت آئے بغیر اسلام کا نفاذ ہوجائے ؟ مفتی صاحب نے فرمایا کہ نہیں یہ ممکن نہیں۔ اس نے دوسرا سوال کیا: کیا یہ ممکن ہے کہ آپ کوسوفیصد حکومت ملے؟ کہنے لگے، یہ بھی ممکن نہیں۔ رپورٹر نے کہا کہ پھر آپ لوگ یہ سیاست کیوں کررہے ہیں ؟ مفتی صاحب نے فرمایا کہ ہم اس پوزیشن میں تو نہیں کہ اپنی خالص حکومت بنا سکیں۔ ہاں یہ پوزیشن ہمیں حاصل ہے کہ کسی کو آرام سے حکومت نہ کرنے دیں، سو وہ ہم کر رہے ہیں۔
مولانا عبد الماجد شہیدی کے ساتھ گفتگو کے دوران مولانا زاہد الرشدی نے فرمایا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اب دہلوی طریقے سے ہٹ کر مجددی طریقے پہ آنا پڑے گا اور میرے خیال میں پاکستان میں اس طریقے کا ایک نمونہ مولانا طارق جمیل ہیں۔چونکہ مزاحمت کا مزاج ختم ہوتا جارہا ہے، اس لیے ہمیں اس پہ سوچنا پڑے گا کہ دہلوی طریقہ شاید اب ممکن نہ ہو اور حضرت مجدد صاحب کے طریقے کی طرف جانا پڑے۔
گفتگو کے دوران شیخ الہند اکادمی کے منتظم مولانا نصیر احمد احرار بھی تشریف لائے۔ استاد جی نے ان سے اکادمی کے حوالے سے پوچھا تو بتایا کہ بس اسی حوالے سے ایک میٹنگ جلد بلارہے ہیں۔ ساتھ ہی کہا کہ اکادمی کا کام کرنے میں رکاوٹیں بہت زیادہ ہیں اور اکثر رکاوٹیں اپنوں کی طرف سے ہیں۔ 
ظہر کی نماز کے بعد درس قرآن کے پروگرام کا باقاعدہ آغاز مولانا محمد عثمان نے قرآن کریم کی تلاوت سے کیا۔ نعت کے بعد مولانا عبدالماجد شہیدی نے سود کی حرمت پہ بیان فرمایا۔ لعن اللہ والی حدیث شریف کی تشریح بیان کی اور ایک بڑا کمال کا جملہ ارشاد فرمایا کہ ’’ سود کھانا روح ایمانی کی موت ہے۔ سود کھانے کے بعد ایمان کا جسم تولیے پھریں گے اور اپنے آپ کو تسلی دیں گے کہ ہم مسلمان ہیں، لیکن ایمان کی روح نہیں ہوگی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس سودی نظام کے خلاف اپنی بساط کے مطابق مزاحمت کرنی چاہیے۔بیان کے اختتام پر انہوں نے مولانا راشدی سے درخواست کی کہ یہ نظام جس نے ہمیں جکڑا ہوا ہے، اس سے نجات کیسے حاصل کی جاسکتی ہے، اس پر ہماری راہنمائی فرمائیں۔
اس کے بعد مولانا راشدی نے بیان فرمایا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ تو ہم سب لوگ جانتے ہیں کہ سود حرام ہے اور شرعاً اس کے کیا نقصانات ہیں۔لیکن یہ اشکال بیان کیا جاتا ہے کہ غیر سودی بینکاری ممکن نہیں ہے۔میں کہتا ہوں کہ سودی بینکاری ممکن ہے اور اس پر چندشہادتیں پیش کرتا ہوں۔
سب سے پہلی شہادت یہ ہے کہ اسلامی بینکاری جس کو یہ حضرات ناممکن کہتے ہیں، دنیا میں اس وقت فرانس اور پرطانیہ کی کشمکش جاری ہے کہ اسلامی بینکاری کا مرکز پیرس بنے گا یا لندن۔ برطانیہ کے وزیراعظم نے پچھلے سال ایک کانفرنس کی اور اس میں یہ وعدہ کیا ہے کہ میں آئندہ چند برسوں تک لندن کو غیر سودی بینکاری کا مرکز بناؤں گا، جبکہ پاکستان میں ابھی تک یہ ماحول نہیں بن رہا۔ اس پر ایک لطیفہ سنایا کہ انگریزی دور میں لاہور میں دو کالج تھے، ایک اسلامیہ کالج اور دوسرا خالصہ کالج۔امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے پاس چند نوجوان آئے تو شاہ جی نے کہا کہ بھئی مسلمان ہو، کوئی ٹوپی پہنا کرو، داڑھی رکھو۔ اس پر یہ نوجوان کہنے لگے کہ ہم کالج میں پڑھتے ہیں، کالج کے ماحول میں یہ ممکن نہیں ہے۔ تو شاہ جی نے فرمایا کہ ہاں بھئی !خالصہ کالج میں ممکن ہے، لیکن اسلامیہ کالج میں ممکن نہیں۔یہی بات ہے کہ برطانیہ پیرس میں توغیر سودی بینکاری ممکن ہے لیکن پاکستان میں ممکن نہیں سمجھی جا رہی۔ 
دوسری شہادت یہ ہے کہ گزشتہ دنوں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک غیر ملکی ادارے کے ساتھ مل کر ایک سروے کیا جس میں یہ سوال پوچھا گیا کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری ہونی چاہے یا نہیں؟ تو سروے کے نتائج کے مطابق پاکستان کے اٹھانوے فی صد عوام چاہتے ہیں کہ ملک سے سودی نظام کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
تیسری شہادت یہ ہے کہ جب چند سال پہلے بین الاقوامی سطح پر معاشی بحران آیا تو عالمی سطح پربعض بینک دیوالیہ ہوگئے۔اس پر مسیحی دنیا کے اس وقت کے روحانی پیشوا پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے مختلف معاشی ماہرین کی ایک کمیٹی بنائی اس لیے کہ اس مسئلے پہ ویٹی کن سٹی کو کیا مؤقف دینا چاہیے۔ اس کمیٹی نے جورپورٹ مرتب کی، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس معاشی بحران کا یک ہی حل ہے کہ معیشت کو ان اصولوں پہ استوار کیا جائے جو قرآن نے بیان کیے ہیں۔
چوتھی شہادت یہ ہے کہ ورلڈ بینک کے ایک سابق صدر سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ دنیا میں امیر، امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور غریب غریب تر، اس کا حل کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا حل ہے کہ سود کی شرح کم کی جائے۔پوچھا گیا کہ اس کی کم ازکم کیا شرح ہونی چاہیے تو ان کا کہنا تھا کہ آئیڈیل پوزیشن تو صفر ہے، یعنی سود کو بالکل ختم کر دیا جائے۔
اس کے بعد مولانا نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو واضح کیا اور بتایا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ یہاں سے اٹھیں اور جلوس نکالیں، لیکن اتنا تو ضروری ہے کہ ہرآدمی اپنی صلاحیت کے مطابق رائے عامہ ہموار کرے، لوگوں کو تیار کرے اور سود کی نحوستوں سے باخبر کرے۔
مولانا محب النبی صاحب کی دعا پر درس قرآن کی یہ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
بعد ازاں استاد جی کے ساتھ رائے ونڈ جانا تھا۔ میرے ایک دوست مولانا محمد فراز بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ مولانا راشدی میری گاڑی میں رائے ونڈ جائیں۔استاد جی ان کے ساتھ تشریف فرما ہوئے اور میں دوسری گاڑی میں بیٹھ گیا۔ راستے میں عصر کی نماز پڑھی اور مغرب سے چند ساعتیں قبل رائیونڈ پنڈال میں پہنچ گئے۔ مولانا فراز کے پاس خواص کے حلقے میں جانے کا ’’پاس‘‘ تھا لیکن استاد جی نے کہا کہ مجھے پروٹوکول سے طبعی مناسبت نہیں، اس لیے سیدھا پنڈال پہنچے جہاں حضرت مولانا نذر الرحمن کا بیان شروع تھا۔ ہم منڈی بہاؤ الدین کے حلقے میں بیٹھے۔ مولانا عبدالماجد شہیدی نے وہاں کے مقامی لوگوں سے ملاقات کروائی۔ استاد جی نے اپنے شاگرد مفتی خالد محمود کا نکاح پڑھانا تھا جو مسلسل رابطے میں تھے۔انہوں نے استاد جی سے کہہ رکھا تھا کہ میرا نکاح آپ نے پڑھانا ہے اور پڑھانا بھی تبلیغی اجتماع میں ہے۔تھوڑی دیر بعد وہ اپنے رفقاء سمیت تشریف لائے۔ استاذ جی نے نکاح پڑھایا اور چھوہارے تقسیم ہوئے۔ مغرب کے بعد مولانا احمد لاٹ صاحب کا بیان تھا ۔بڑے جوش میں بیان فرمارہے تھے۔ میرے ایک دوست مولانا شاہد صاحب بھی سال میں چل رہے تھے۔ ان سے بھی ملاقات ہوئی۔رائے ونڈ اجتماع میں تقریباً تین گھنٹے گزارنے کے بعد ہم گوجرانوالہ واپس روانہ ہوگئے۔

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

ادارہ

پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ایک اہم اجلاس 14 نومبر کو مرکز حافظ الحدیث درخواستیؒ حسن ابدال میں مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (ف) کے قائم مقام سیکرٹری جنرل مولانا محمد امجد خان، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدا لرؤف فاروقی اور متحدہ علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف ملک نے خصوصی دعوت پر شرکت کی اور شرکاء اجلاس کو ملک کی موجودہ صورت حال کے حوالہ سے بریفنگ دی۔ مولانا زاہد الراشدی نے اجلاس میں ملک کی عمومی صورت حال کا جائزہ پیش کیا اور تحریک انسداد سود کی سرگرمیوں سے شرکاء اجلاس کو آگاہ کیا۔
اجلاس میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ملک کو دھیرے دھیرے سیکولر ازم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور اسلامی تشخص کو کمزور کرنے کی مہم ہر سطح پر جاری ہے۔ مگر دینی و علمی حلقوں میں بیداری دکھائی نہیں دے رہی۔ جبکہ دستور پاکستان میں وطن عزیز کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور اسلامی اقدار و روایات کی ترویج کو حکومت کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا جو اکیسویں آئینی ترامیم کے حوالہ سے سامنے آیا ہے اور جس میں دستور کے ناقابل ترمیم حصوں میں اسلامی دفعات کو شامل نہیں کیا گیا۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعہ ملک کی تمام دینی قوتوں اور پاکستان کے اسلامی تشخص پر یقین رکھنے والے حلقوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متحد ہو کر دستور کی اسلامی بنیادوں کا تحفظ کریں اور پاکستان کو لبرل ازم کے نام پر لا دین ریاست بنانے کی سازش ناکام بنا دیں۔ 
اجلاس میں سپریم کورٹ کے ایک محترم جج کے ان ریمارکس کو بھی افسوسناک قرار دیا گیا کہ ملک سے سودی نظام کو ختم کرنا عدالت عظمیٰ کی ذمہ داری نہیں ہے اور جو سود کھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے خود پوچھے گا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ دستور کی عملداری کی نگرانی کرنا سپریم کورٹ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور دستور میں حکومت سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وہ ملک کو جلد از جلد سودی نظام سے نجات دلائے۔
اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعہ صدر پاکستان سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غازی ممتاز حسین قادری کی سزائے موت معاف کرنے کا اعلان کر کے اس سلسلہ میں اسلامی پاکستان کے جذبات کی پاسداری کریں۔ اجلاس میں ملک کی دینی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے اور اس حوالہ سے سربراہی اجلاس کے اہتمام کی کوششوں کا خیر مقدم کیا گیا اور مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق سے اپیل کی گئی کہ وہ اس سلسلہ میں موثر کردار ادا کریں۔ اجلاس میں طے پایا کہ پاکستان شریعت کونسل کے سربراہ مولانا فداء الرحمن درخواستی دینی جماعتوں کے سربراہوں بالخصوص مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق سے ملاقات کر کے ان تک پاکستان شریعت کونسل کے جذبات پہنچائیں گے۔ 
اجلاس میں پاکستان اور بھارت کی سرحد پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیز کاروائیوں کو علاقائی امن کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے عالمی رائے عامہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھارت کے اشتعال انگیز رویے کا نوٹس لے اور امن عامہ کی صورت حال کو بگڑنے سے بچایا جائے۔ ایک اور قرارداد کے ذریعہ بھارت میں مودی حکومت کی فرقہ وارانہ پالسییوں سے پیدا شدہ صورت حال کو تشویش ناک قرار دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ ان کاروائیوں سے فرقہ وارانہ تشدد کو فروغ مل رہا ہے اور بھارت میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کی جان و مال خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ قرارداد میں بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھارت میں فرقہ ورانہ کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ اجلاس میں طے پایا کہ پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام (۱) ملک کے نظریاتی تشخص کے تحفظ (۲) سودی نظام کے خاتمہ (۳) فحاشی کے سد باب اور (۴) نفاذ اسلام میں عملی پیش رفت کے لیے مختلف مقامات پر ’’علماء کنونشن‘‘ منعقد کیے جائیں گے، جبکہ مارچ کے دوران اسلام آباد میں مرکزی کنونشن کا اہتمام کیا جائے گا۔ 

گوجرانوالہ کی دینی جماعتوں اور تاجر برادری کا اجلاس

ادارہ

(گوجرانوالہ) شہر کی مختلف دینی جماعتوں اور تاجر برادری کے راہ نماؤں کے ایک مشترکہ اجلاس میں صدر پاکستان جناب ممنون حسین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اسلامیان پاکستان کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے غازی ممتاز حسین قادری کی سزائے موت کو معاف کرنے کا اعلان کریں، جبکہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دستور کی واضح ہدایات کے مطابق ملک میں سودی نظام کے خاتمہ کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔ یہ اجلاس گزشتہ روز چیمبر آف کامرس کے ہال میں مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے راہ نما مولانا مشتاق احمد چیمہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی، جماعت اسلامی کے راہ نما جناب مظہر اقبال رندھاوا، جمعیۃ علماء اسلام (ف) کے ضلعی سیکرٹری جنرل چودھری بابر رضوان باجوہ، جمعیۃ علماء اسلام (س) کے ضلعی امیر حافظ گلزار احمد آزاد، اور تاجر راہ نماؤں حاجی نذیر احمد جموں والے، اور میاں فضل الرحمن چغتائی کے علاوہ مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا جواد قاسمی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد عبد اللہ راتھر اور دیگر حضرات نے خطاب کیا۔ 
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے اسلامی تشخص کا تحفظ اور ناموس رسالتؐ کی پاسداری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس لیے صدر مملکت کو چاہیے کہ وہ سیکولر حلقوں کے دباؤ میں آنے کی بجائے ملک کے عوام کے جذبات کا خیال رکھیں اور ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے تقاضوں کو پورا کریں۔ 
مقررین نے کہا کہ سودی نظام کا خاتمہ ہماری دینی ضرورت کے ساتھ ساتھ دستوری تقاضا ہے اور ملکی معیشت کو بین الاقوامی استحصال سے نجات دلانے کا راستہ بھی ہے، اس لیے حکومت ٹال مٹول سے کام لینے کی بجائے دستوری ہدایات پر فوری عملدرآمد کا آغاز کرے۔ 
اجلاس میں تحریک انسداد سود پاکستان کی طرف سے ماہ نومبر کو پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور سودی نظام کے خاتمہ کی خصوصی جدوجہد کے طور پر منانے کے فیصلے کی حمایت کی گئی اور طے پایا کہ گوجرانوالہ میں اس سلسلہ میں دو نمائندہ اجتماعات ہوں گے۔ نومبر کے دوسرے ہفتہ کے دوران تاجر برادری کی طرف سے سیمینار منعقد کیا جائے گا اور مہینہ کے آخری عشرہ میں علماء کرام، دینی کارکنوں اور دیگر طبقات کے نمائندوں کا مشترکہ کنونشن منعقد کیا جائے گا جس کی میزبانی مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کرے گی۔ جبکہ خطبات جمعہ میں ملک کے اسلامی تشخص کے تحفظ (۱) سودی نظام کے خاتمہ (۲) عقیدۂ ختم نبوت و ناموس رسالتؐ کی پاسداری (۴) ملکی سا لمیت و دفاع کے دینی تقاضوں کے عنوانات پر علماء کرام تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔ اجلاس میں سیٹلائیٹ ٹاؤن تھانہ گوجرانوالہ میں انسداد سود ایکٹ کے تحت ایک پرائیویٹ سود خور شہری کے خلاف مقدمہ کے اندراج کا خیر مقدم کیا گیا اور دینی کارکنوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے علاقوں میں نظر رکھیں اور انسداد ایکٹ کے تحت مقدمات کے اندراج کا اہتمام کریں۔ 
اجلاس میں بزرگ عالم دین مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی دینی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔