اگست ۲۰۱۵ء

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
تہذیبی کشمکش کا نیا بابخورشید احمد ندیم 
مغرب کا تہذیبی و سیاسی غلبہ اور امت مسلمہ کا رد عملمحمد عمار خان ناصر 
علمی و فکری رویوں میں اصلاح کے چند اہم پہلوڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
ادب میں مذہبی روایت کی تجدیدمولانا محمد انس حسان 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰)ڈاکٹر محی الدین غازی 
کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ (۷)مولانا حافظ صلاح الدین یوسف 
فضلائے مدارس کے روزگار کا مسئلہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مادرِ علمی جامعہ نصرۃ العلوممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دورۂ تفسیر کے طلبہ کا دورۂ مریمولانا وقار احمد 

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا ایک دور مری میں مکمل ہوگیا ہے اور مذاکرات کو جاری رکھنے کے اعلان کے ساتھ دونوں وفد اپنے وطن واپس چلے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان کا کردار اس میں واضح ہے کہ یہ مذاکرات مری میں ہوئے ہیں اور اس سے قبل پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے کابل کے ساتھ مسلسل روابط بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ 
ان مذاکرات کے لیے ایک عرصہ سے تگ و دو کی جا رہی تھی اور امید و بیم کے کئی مراحل درمیان میں آئے۔ مگر یہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے محنت والوں کی کامیابی ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے نمائندے میز پر آمنے سامنے بیٹھے ہیں اور دوبارہ گفتگو کی بات طے کر کے رخصت ہوگئے ہیں۔ مذاکرات میں کون سے امور زیر بحث آئے اور کیا امور طے ہوئے؟ اس سے قطع نظر مل بیٹھنا اور آئندہ مل بیٹھنے کا وعدہ کرنا ہی بہت بڑی کامیابی ہے جس پر دنیا بھر کے امن پسند حلقوں میں اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ 
اب سے کئی عشرے قبل جب افغانستان میں مذہبی اور سیکولر حلقوں کے درمیان کشمکش کا آغاز ہوا تھا اور افغان عوام کی دینی قیادت نے اسلامی اقدار و روایات اور افغان تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے عنوان سے سیکولر قوتوں کے خلاف صف آرائی کا فیصلہ کیا تھا تو اس وقت کا ظاہری منظر صرف اتنا تھا کہ افغانستان کی حدود میں سیکولر عناصر نے اپنے افکار و نظریات کے فروغ اور مغربی تہذیب و ثقافت کی ترویج کے لیے دینی حلقوں کی قائدانہ پوزیشن کو چیلنج کر دیا تھا۔ بقول اقبالؒ 
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو
کے ایجنڈے پر عمل درآمد شروع ہوگیا تھا۔ چنانچہ ملا لوگوں نے بھی افغانستان کے کوہ و دمن کے ساتھ اپنا رشتہ باقی رکھنے کے لیے صف بندی کا پروگرام بنا لیا تھا اور دونوں فریق آمنے سامنے آگئے تھے۔ مگر جب سوویت یونین نے افغانستان میں سیکولر حلقوں کو سپورٹ کرنے کی پالیسی اختیار کی تو یہ کشمکش بین الاقوامی رخ اختیار کرتی چلی گئی اور بہت سے مراحل سے گزر کر افغانستان میں سوویت یونین کی باقاعدہ ’’فوج کشی‘‘ تک جا پہنچی۔ سوویت یونین افغانستان کو وسطی ایشیا کی ان مسلم ریاستوں کے دائرے میں لانا چاہتا تھا جو کمیونسٹ انقلاب کے بعد اس کے زیر تسلط آگئی تھیں، یا افغانستان کو راستہ بنا کر گوادر کے ذریعہ گرم پانیوں تک پہنچنے کا ایجنڈا رکھتا تھا، یا دونوں باتیں بیک وقت ایک ایجنڈے کا حصہ تھیں۔ بہرصورت اس کی مزاحمت میں افغانستان کے دینی حلقوں کے ساتھ پاکستان کے دینی حلقے بھی شامل ہوگئے اور ’’جہاد افغانستان‘‘ کے عنوان سے ایک ایسی جنگ چھڑ گئی جس میں سوویت یونین کے خلاف عالمی مورچہ رکھنے والا امریکی بلاک بھی شریک ہوگیا اور رفتہ رفتہ یہ جنگ ایک طرح کی بین الاقوامی جنگ بنتی چلی گئی۔ 
حضرت مولانا مفتی محمودؒ پاکستان کی قومی سیاست میں دینی حلقوں کی سب سے مؤثر اور توانا آواز تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ روس افغانستان کے ذریعہ بلوچستان میں آنا چاہتا ہے اور گوادر تک رسائی حاصل کر کے گرم پانیوں تک پہنچنے کا ایجنڈا رکھتا ہے اس لیے یہ صرف افغانستان کا نہیں بلکہ پاکستان کی سا لمیت کا مسئلہ بھی ہے، اور اس کی مزاحمت میں ہم بھی افغان مجاہدین کے ساتھ ہیں۔ پھر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے مختلف حصوں سے جہاد کے جذبہ سے سرشار نوجوانوں کی افغانستان میں آمد شروع ہوئی اور طویل جنگ کے بعد روسی افواج کو افغانستان سے واپس جانا پڑا۔ 
یہاں ضمناً ایک بات جملہ معترضہ کے طور پر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حالات کی گردش کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ روس کو گوادر تک پہنچنے سے روکنے کے لیے طویل جنگ لڑی گئی جبکہ چین کو گوادر تک رسائی دینے کے لیے ’’اقتصادی راہداری‘‘ ہم خود تعمیر کر رہے ہیں۔ شاید اسی کو قرآن کریم میں تلک الایام نداولھا بین الناس سے تعبیر کیا گیا ہے۔ 
افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے موقع پر ’’جنیوا معاہدہ‘‘ کی صورت میں مغربی دنیا نے اپنے مقاصد تو حاصل کر لیے مگر افغان مجاہدین اور دنیا بھر سے آئے ہوئے مجاہدین کے بیسیوں گروپوں کو کسی مشترکہ ایجنڈے کے بغیر تنہا چھوڑ دیا گیا۔ جس کا نتیجہ افغانستان میں خانہ جنگی کے ایک نئے دور اور دنیا بھر میں عسکریت کے فروغ کی صورت میں سامنے آیا۔ آج پوری دنیا اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے جس کا اعتراف سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن خود ایک بیان میں کر چکی ہیں۔ 
’’جنیوا معاہدہ‘‘ کی کوکھ سے جنم لینے والی اس افراتفری کے دور میں افغانستان کی وحدت کو بچانے اور ’’جہاد افغانستان‘‘ کے نظریاتی مقاصد کو بروئے کار لانے کے لیے ’’طالبان‘‘ نمودار ہوئے اور اپنے اہداف کے حصول میں وقتی طور پر کامیاب بھی ہوئے۔ مگر افغانستان کی وحدت اور جہاد افغانستان کے نظریاتی اہداف کی تکمیل جن طاقتوں کے مفاد میں نہیں تھی وہ طالبان حکومت کے خلاف سازشوں کا ایک نیا جال بننے میں کامیاب ہوگئیں۔ اس کے نتیجے میں افغانستان میں سابقہ صورت حال صرف اس فرق کے ساتھ واپس آگئی کہ اب وہاں روسی فوجوں کا نہیں بلکہ امریکی اتحاد کی فوجوں کا تسلط تھا۔ چنانچہ حریت پسند افغان عوام ایک بار پھر اپنے ملک کو غیر ملکی فوجوں کے تسلط سے نجات دلانے کے لیے سرگرم عمل ہوگئے۔ 
اب صورت حال یہ ہے کہ امریکی اتحاد بھی اپنی افواج کو افغانستان سے واپس لے جانا چاہتا ہے مگر جانے سے قبل ایک اور ’’جنیوا معاہدہ‘‘ کا اہتمام کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا مقصد پہلے ’’جنیوا معاہدہ‘‘ کی طرح افغان مجاہدین کو ان کی طویل جدوجہد کے نظریاتی اہداف سے دور رکھنا ہے اور اس خطہ میں اپنے ایجنڈے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ 
افغان طالبان نے میدان جنگ میں تو اپنا وجود بلکہ برتری منوالی ہے مگر اب مذاکرات کی میز پر وہ ایک نئے امتحان سے دوچار ہوگئے ہیں۔ ان کی فراست و بصیرت کو اپنی تاریخ کے سب سے زیادہ خطرناک چیلنج کا سامنا ہے۔ ہماری دعائیں افغان طالبان کے ساتھ ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں عسکری میدان کی طرح سیاست و تدبر اور فراست و بصیرت کے محاذ پر بھی کامیابی سے نوازیں۔ اور جہاد افغانستان کے نظریاتی مقاصد کی تکمیل میں فیصلہ کن مدد سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

تہذیبی کشمکش کا نیا باب

خورشید احمد ندیم

۲۶ جون کو امریکہ کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخ ساز فیصلہ دیا۔ عدالت نے شادی کے اس تصور کو یکسر بدل دیا، صدیوں سے انسان جس سے واقف تھا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اب دو مرد اور دو خواتین بھی ایسے ہی ’میاں بیوی‘ شمار ہوں گے، جیسے مرد اور عورت۔ اگر دو مردیا دو خواتین ایک دوسرے سے ازواجی رشتہ قائم کر نا چاہیں تو قانوناً وہ اس کا حق رکھتے ہیں۔
یہ ایک غیر معمولی فیصلہ ہے جو صرف امریکہ پر نہیں، ساری دنیا پر اثر انداز ہو گا۔ اس کے نتیجے میں تہذیبوں کا وہ تصادم امر واقعہ بن سکتا ہے، پروفیسرہنٹنگٹن نے ۱۹۹۳ء میں جس کی پیش گوئی کی تھی۔ تاہم یہ تصادم دو جغرافیائی وحدتوں کے درمیان نہیں ہوگا۔ یہ تصادم معاشرتی ہے جو مغرب کے معاشروں میں ہو گا اور مشرق میں بھی۔ پاکستان کے سوشل میڈیا پر، یہ آج کا سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا موضوع ہے۔ نامور لوگ اس بحث کا حصہ ہیں، اس لیے میرا خیال ہے کہ اسے محض امریکی سماج کا مسئلہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اس کا سامنا کرنا ہو گا، اس سے پہلے کہ تاریخ کا جبر ہمیں اس پہ مجبور کردے۔
ہم جنسیت ایک ایسا رویہ ہے، جس سے کوئی سماج کبھی خالی نہیں رہا۔ تاہم یہ فعل چند افراد یا ایک طبقے تک محدود رہا ہے جسے کبھی سماجی قبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔ انسانی معاشرے کی اجتماعی بصیرت نے اسے فطرت سے انحراف قرار دیا اور یوں اسے ایک اخلاقی برائی تصور کیا گیا۔ قرآن مجید کی شہادت یہ ہے کہ سیدنا لوطؑ کی مخاطب قوم وہ پہلا’ سماج‘ ہے جس نے اسے بطور کلچر اختیار کیا۔ سیدنا لوط، سیدناابراہیم ؑ کے بھتیجے اور ان کے ہم عمر تھے۔حضرت ابراہیم کے بارے میں مورخین کیا خیال ہے کہ وہ سیدنا مسیحؑ سے دو ہزار سال قبل کے عہد سے تعلق رکھتے تھے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ چار ہزار سال پہلے، اس زمین پر ایک ایساسماج مو جود تھا جہاں اس اخلاقی انحراف کو سماجی قبولیت حاصل ہوئی۔
یہ ’ سعادت ‘ پھر اب دور جدید کے مقدر میں لکھی گئی کہ ابن آدم کی ایک بڑی تعداد نے ہم جنسیت کو ایک فطری جنسی رویہ قرار دے کر بطور کلچر اسے اختیار کر لیا۔ امریکا میں یہ بحث برسوں سے جاری ہے۔ ۲۰۰۴ء میں پہلی مرتبہ میسوچیسٹس کی ریاست سے اسے قانون حیثیت دی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ، اب یہ ریاستیں بھی پابند ہو گئی ہیں کہ مرد اور مرد کے تعلق کو نکاح قرار دیں اور اس کی قانونی حیثیت کو تسلیم کر لیں۔ اس سے پہلے یورپ کے اٹھارہ ممالک میں ہم جنس پرستوں کو یہ قانونی حق حاصل تھا۔ نیدر لینڈ پہلا ملک ہے جس نے۲۰۰۱ء میں اس عمل کو قانونی حیثیت دی۔
یہ الہامی روایت اور لبرل ازم کے درمیان جاری کشمکش کا فیصلہ کن موڑ ہے۔ انسان، سماج اور زندگی کے باب میں ، جوہری طور پر دو ہی نقطہ ہائے نظر رہے ہیں۔ ایک یہ کہ انسان خدا کی ایک مخلوق ہے۔ یہ حق خدا کاہے کہ وہ اس کے مقصد حیات کا تعین کرے اور اس کے ساتھ اس کے لیے آداب زندگی بھی طے کرے۔ یہ خدا ہی ہے جس نے انسان کی فطرت کو تخلیق کیا۔ فطرت میں خیر و شر کا تصور رکھا اور پھر اس فطری تصور کی یاد دہانی کے لیے اپنے پیغمبروں کو مبعوث کیا۔ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ انسان کسی خالق کی مخلوق نہیں ۔ زندگی اصلاً ایک ارتقائی عمل ہے ۔ اس کا آغاز ایک سیل (cell)کے جاندار سے ہوا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زندگی کی صورت تبدیل ہوتی گئی۔ انسان اس تبدیل شدہ حیات کا ایک ارتقائی مرحلہ ہے۔ اس کی زندگی کا نصب العین کیا ہے، اس نے جینے کے لیے کن آداب کا لحاظ رکھنا ہے، اس کا فیصلہ وہ اپنی عقل سے کرے گا۔ فطرت کسی مستقل ضابطے کی پابند نہیں ہے۔ یہ خارجی عوامل سے متاثر ہوتی ہے اور یوں اس کے مطالبات تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ 
مغرب میں جن سماجی علوم کو فروغ ملا ہے، وہ اس لبرل روایت کے تحت آگے بڑھے ہیں۔جدید انتھروپالوجی اور علمِ نفسیات ہم جنسیت کو ایک فطری رویہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر اس رجحان کے ساتھ جنم لیتا ہے۔ جیسے پیدائشی طور پر کوئی صنف مخالف کی کشش محسوس کرتا۔ اسی طرح سماجی عوامل ہیں جو اسے فروغ دیتے ہیں۔ دو نوں حوالوں سے اسے ایک فطری رویہ ہی سمجھنا چاہیے۔علمِ نفسیات پہلے اسے ایک سماجی مرض قرار دیتا تھا۔آج وہ اسے فطری رویہ کہتا ہے۔الہامی یا مذہبی روایت میں ہم جنس پرستی کو اخلاقی مسئلہ سمجھا گیا ہے۔یہی سبب ہے کہ نہ صرف ابراہیمی بلکہ دوسرے ادیان بھی اسے قبول نہیں کرتے۔مسیحیت یا یہودیت میں بھی شادی کو مر و زن ہی کا تعلق کہا گیا ہے۔اس سے انحراف،مذاہب کے نزدیک اخلاقی جرم ہے۔
امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے خود امریکہ میں جاری اس بحث میں شدت آگئی ہے۔ الہامی روایت پر یقین رکھنے والے اسے ماننے کے لیے تیار نہیں۔یہ بحث اب یہاں نہیں رکے گی۔لوگ اب کہنے لگے ہیں کہ شادی کی یہ تعریف یہاں تک کیوں محدودرکھی جائے۔اس کے بعد توگروپ سیکس یا تعدرِ ازواج کو بھی قانونی حیثیت حاصل ہو نی چاہیے۔یہ تہذیبی کشمکش اب آگے بڑھے گی۔تاہم اس کی فریقین کا تعین ویسے نہیں ہوگا جیسے ہنٹنگٹن نے کیا یا ہمارے ہاں بعض لوگ کرتے ہیں۔
یہ اسلام اور مغرب کے مابین کشمکش نہیں ہے۔یہ الہامی روایت کو ماننے والوں اور لبرل اقدار کے علم برداروں کے درمیان ہے۔عالمگیریت کے زیرِ اثرآج ہم ایک ایسے تمدن میں جی رہے ہیں جس کی ایک خصوصیت کثیر المدنیت(pluralism) ہے۔دونوں روایات کو ماننے والے ہر سماج میں موجود ہیں۔ یوں یہ کشمکش مغرب کے سماج میں ہونی ہے اورمشرق کے معاشروں میں بھی۔میرے نزدیک اس میں یہودی،مسیحی اور مسلمان ایک طرف کھڑے ہیں اگر وہ اپنی اپنی مذہبی روایت کو مانتے ہیں۔دوسری طرف وہ سب لوگ ہیں جو کسی الہامی روایت کے بجائے،لبرل ازم کے قائل ہیں۔
ہماری سماجی روایت جوہری طور پر الہامی روایت ہے۔ہمارے نزدیک ہم جنسیت فطرت سے انحراف ہے اور یوں ایک اخلاقی مسئلہ ہے۔یہ ممکن ہے کہ بعض افراد میں اس کی نوعیت ایک مرض کی ہو۔مریض کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاملہ اخلاقی ہو تو پھر اس کا حل تعلیم و تربیت اور ایک مرحلے میں سزا ہے۔ہمیں اگر اپنی نئی نسل کو اس اخلاقی انحراف سے بچا نا ہے تو سب سے پہلے ہمیں یہ معرکہ استدلال اور علم کے میدان میں سر کرنا ہے۔ مثال کے طور پر اگر علمِ نفسیات اسے فطری رویہ قرار دیتا ہے توہمیں اس علم کے بنیادی مسلمات کو چیلنج کر نا ہے۔ہمیں بتا نا ہے کہ کیسے یہ علم لبرل اقدار کے زیرِ اثر پروان چڑھا ہے اور یوں غیر اقداری(value free) نہیں ہے۔ ہمیں اس کے جواب میں اس علم کو نئی بنیادیں فراہم کر نا ہوں گی جو مسلمات کہلانے کی مستحق قرار پائیں۔وحی کا علم اس باب میں ہمیں جو راہنمائی دیتا ہے، ہمیں اسے علمی مسلمہ کے طور پر لوگوں کے سامنے رکھنا ہے۔
امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخ ساز ہے۔دنیا کا کوئی معاشرہ اب اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا۔ پاکستان میں ۱۹۹۸ء سے ہم جنسیت کی ایک زیرِ زمین تحریک مو جود ہے۔میرا خیال ہے کہ اس کی سماجی قبولیت کے لیے اب آوازیں بلند ہوں گی۔اگر ہمیں اپنی سماجی اقدار پر اصرار ہے تو ہمیں ابھی سے پیش بندی کرنی ہے۔یہ کام غصے، گالیوں اور جذباتی استحصال سے نہیں ہوگا۔میں عرض کر چکا کہ ہمیں پہلے یہ مقدمہ علم اور استدلال کے حضور میں پیش کر نا ہے۔نئی نسل کو ہم بالجبر کسی رویے کو قبول کرنے پر آ مادہ نہیں کر سکتے۔ 

طبری اور مسلم تاریخ

ایک محترم کالم نگار نے ،چند دن پہلے،ابن جریر طبری کے بارے میں دادِ تحقیق دی ہے۔
طبری مسلم تاریخ کے سب سے مستند مورخ شمار کیے جاتے ہیں۔کالم نگار کو اس سے اتفاق نہیں۔ان کی معروف ترین تصنیف ’’تاریخ الامم والملوک ‘‘ کے بارے میں اُن کا تبصرہ ہے کہ ’’جس کتاب کو بازاری قصوں کی کتاب ہو نا چاہیے تھا،اسے مستند ترین تاریخ سمجھ کر یورپ نے پیش کیا‘‘۔یہی نہیں ’’طبری نے اپنے ذھن کی غلاظت کو تاریخ کی چاشنی بنا کر پیش کیا‘‘۔ کالم نگار کے خیال میں یہ متشرقین ہیں جنہوں نے طبری جیسے ساقط الاعتبار شخص کومستند مورخ قرار دیااوریوں ’’مغرب کے سیکولرانہیں ہتھیار بنا کر، ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں‘‘۔
کالم میں دومقدمات قائم کی گئے ہیں۔ ایک یہ کہ طبری مسلم تاریخ کی ناقابل ذکر اور ناپسندیدہ شخصیت ہیں۔’’عباسی خلفا کے دور میں لوگ نفرت کے طور پرگزرتے ہوئے،ان کے گھر پر پتھر پھینکا کرتے تھے۔‘‘دوسرا یہ کہ انہیں اعتباراہلِ مغرب اورمستشرقین نے دیا اور اس سے ان کا مقصد مسلم تاریخ کو داغ دار کر نا تھا۔علم کی عدالت میں، یہ دونوں مقدمات ثابت نہیں ہیں۔
ابن جریر طبری مسلم اہل علم کے ہاں غیر معمولی قدرو منزلت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔تفسیر، علمِ حدیث اور تاریخ کے باب میں انہیں سند ما نا جا تا ہے۔مو لا نا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے ان کے بارے میں اہلِ علم کی آرا جمع کر دی ہیں۔تاریخ کے باب میں خود مو لانا جس مورخ پر سب سے زیادہ اعتبار کرتے ہیں، وہ یہی طبری ہیں۔’خلافت و ملوکیت‘ کا سب سے بڑا ماخذ’تاریخ الامم والملوک‘ ہے۔مو لا نا لکھتے ہیں:’’۔۔۔ ابن جریر طبری ہیں جن کی جلالتِ قدر بحیثیت مفسر،محدث،فقیہہ اور مؤرخ مسلم ہے۔ علم اورتقویٰ دونوں لحاظ سے ان کا مرتبہ نہایت بلند تھا۔ ان کو فقہا کا عہدہ پیش کیا گیا اور انہوں نے انکار کر دیا۔ دیوان المظالم کی صدارت پیش کی گئی اور اس کو بھی انہوں نے قبول نہ کیا۔ امام ابنِ حُزَیمہ ان کے متعلق کہتے ہیں’’میں اس وقت روئے زمین پران سے بڑے کسی عالم کونہیں جانتا‘‘۔ ابن کثیر کہتے ہیں’’وہ کتاب و سنت کے علم اور اس کے مطابق عمل کے لحاظ سے آئمہ اسلام میں سے تھے‘‘۔ ابن حجر کہتے ہیں’’ وہ بڑے اور قابلِ اعتماد ائمہ میں سے تھے‘‘۔ خطیب بغدادی کہتے ہیں’’وہ آئمہ علما میں سے ہیں۔ ان کے قول پر فیصلہ کیا جاتا ہے اور ان کی رائے کی طرف رجوع کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے علم و فضل کے لحاظ سے اس لائق ہیں۔علوم میں ان کی جامعیت ایسی تھی کہ ان کے ہم عصروں میں کوئی ان کا شریک نہ تھا‘‘۔ ابن الاثیر کہتے ہیں۔’’ابوجعفر تاریخ نگاروں میں سب سے زیادہ بھروسے کے لائق ہیں۔‘‘ حدیث میں وہ خود محدث مانے جاتے ہیں۔فقہ میں وہ خود ایک مستقل مجتہد تھے اور ان کا مذہب اہل السُّنہ کے مذاہب ہی میں شمار ہوتا تھا۔ تاریخ میں کون ہے جس نے ان پر اعتماد نہیں کیا ہے۔ خصوصیت کے ساتھ دورِ فتنہ کی تاریخ کے معاملہ میں تو محققین انہی کی آراپر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔۔۔۔ابن خلدون بھی جنگ جمل کے واقعات بیان کرنے کے بعد آخر میں لکھتے ہیں کہ میں نے واقعات کا یہ ملخص دوسرے مؤرخین کو چھوڑ کر طبری کی تاریخ سے نکا لا ہے کیونکہ وہ زیادہ قابلِ اعتماد ہے اور ان خرابیوں سے پاک ہے جو ابن قتیبہ اور دوسرے مؤرخین کی کتا بوں میں پائی جاتی ہیں‘‘۔(خلافت و ملوکیت،صفحہ۳۱۲،۳۱۳)۔
تاریخ کے باب میں انہوں نے کچھ واقعات ایسے نقل کیے ہیں، جن کی بنیاد پربعض ناقدین نے انہیں شیعہ قرار دیا۔مو لا نا مو دودی کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں ؛’’امام ابنِ تیمیہ کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ جس شخص میں شیعیت کی بُو بھی ہو، وہ اسے معاف نہیں کرتے مگر محمد بن جریر طبری کی تفسیر کے متعلق وہ اپنے فتاویٰ میں کہتے ہیں کہ تمام متداول تفاسیر میں ان کی تفسیر صحیح ترین ہے ۔ولیس فیہ بدعۃ۔ دراصل سب سے پہلے حنابلہ نے ان پر رفض کا الزام اس غصے کی بنا پر لگایا تھا کہ وہ امام احمد بن حنبل کو صرف محدث مانتے ہیں۔ اسی وجہ سے حنبلی ان کی زندگی ہی میں ان کے دشمن ہو گئے تھے، ان کے پاس جانے سے لوگوں کوروکتے تھے اور ان کی وفات کے بعد انہوں نے مقابر مسلمین میں ان کو دفن تک نہ ہونے دیا حتیٰ کہ وہ اپنے گھر پر دفن کیے گئے۔ اس زیادتی پر امام ابنِ خزیمہ کہتے ہیں کہ ’’لقد ظلمت الحنابلہ‘‘ (صفحہ ۳۱۳) ۔
سیرت کے باب میں، مو لا نا شبلی نعمانی کی شہرہ آفاق تصنیف’سیرت النبی‘ اردو زبان کی سب سے مستند کتاب ہے۔چند دن پہلے جامعہ الازہرکے استاذ ڈاکٹر یوسف عامر پاکستان تشریف لائے۔ میری ان سے ملاقاتیں رہیں۔انہوں نے بتا یا کہ اس کتاب کے عربی ترجمے کاشرف انہیں حاصل ہوا ہے۔شبلی نے اس کتاب کے مقدمے میں اپنے ماخذات کا ذکر کیا ہے۔ان میں طبری بھی شامل ہیں۔’امام طبری اور سیرت‘ کے تحت شبلی لکھتے ہیں: ’’ تاریخی سلسلہ میں سب سے جامع اور مفصل کتاب امام طبری کی تاریخ کبیرہے۔طبری اس درجہ کے شخص ہیں کہ تمام محدثین ان کے فضل وکمال،وثوق اور وسعتِ علم کے معترف ہیں۔ان کی تفسیر احسن التفاسیر خیال کی جاتی ہے‘‘۔(صفحہ ۲۷)
طبری کے بارے میں یہ اس امت کے جلیل القدر اہلِ علم کی گواہی ہے۔کوئی ذی شعور یہ نہیں کہہ سکتا کہ شبلی یا مو لا نا مودودی مستشرقین کے زیرِ اثر تھے۔شبلی تو وہ ہیں ،تاریخ جن کا مو ضوع تھا۔انہوں نے تو اس جھاڑ جھنکاڑ کو صاف کیا جو بعض مستشرقین نے مسلم تاریخ کے باب میں پھیلا دیا تھا۔ان معتبرشہادتوں کے بعد اس مقدمے کی حیثیت واضح ہو جاتی ہے کہ طبری اہلِ مغرب کی کسی سازش کاعنوان ہے۔یہ الگ بات ہے کہ طبری کی ہر روایت کو ہم بلاتنقید قبول نہیں کر سکتے۔طبری ہی کیا،اس امت نے تو امام بخاری جیسے عظیم المرتبت لوگوں کی روایت بھی بلاتنقید قبول نہیں کی۔کیا لوگوں نے بخاری کی روایات پر جرح نہیں کی؟ تاہم امام بخاری کی کسی روایت کو رد کردینے سے وہ بحیثیت مجموعی ساقط الاعتبار نہیں ہوجا تے۔یہی معاملہ طبری کا بھی ہے۔
تاریخ فی الجملہ رطب و یابس کو مجموعہ ہے۔یوں بھی مورخ کا کام تنقیح نہیں ہوتا۔وہ تو واقعات کو جمع کردیتا ہے اور حسبِ توفیق ردو وقبول کو فیصلہ کرتا ہے۔یہی سبب ہے کہ تاریخ دین کا ماخذ نہیں ہے۔دین محکمات پر کھڑا ہے جو عقل و نقل کے ہر پیمانے پر پورا اترتے ہیں۔سیرتِ پاک اور صحابہ دین کا حصہ ہیں۔ان کے باب میں تاریخ پر انحصار نہیں کیا جا ئے گا۔ان مو ضوعات پر تاریخ کی وہی شہادت قبول کی جائے گی جو دین کے ماخذ قرآن اور سنت پر پورا اترتی ہے۔محتاط مستشرقین بھی یہی کرتے ہیں۔منٹگمری واٹ نے بھی اپنے ماخذات کو بیان کیا ہے۔ان میں پہلا ماخذ قرآن، پھر حدیث اور اس کے بعد طبری ہیں۔سب مستشرقین کے بارے میں یہ بات بھی درست نہیں کہ وہ قرآن و سنت سے استنباط نہیں کرتے۔میرا تاثر ہے کہ ان علوم میں بھی جو کام مستشرقین نے کیا ہے یا مغرب کے اداروں میں ہوا ہے،اس کی کوئی نظیر مسلم دنیا میں کم ہی ملے گی۔میکگل یونیورسٹی نے اسلام پر تحقیق کے لیے جو کڑا علمی معیار مقرر کیا ہے،مسلم دنیا میں اس کے مثل کوئی ادارہ مو جود نہیں ہے۔
مخالفین سازش کرتے ہیں لیکن اپنی ہر خرابی کا سبب خارج میں تلاش کرنا ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔بطور قوم ہم سب سے زیادہ اس کا شکار ہیں۔طبری کو مطعون کرتے ہوئے، اسے مستشرقین کی سازش قرار دینا بھی اسی مرض کا اظہار ہے۔
(بشکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘ لاہور)

مغرب کا تہذیبی و سیاسی غلبہ اور امت مسلمہ کا رد عمل

محمد عمار خان ناصر

گذشتہ دو صدیوں میں امت مسلمہ کو فکر واعتقاد، تہذیب، سیاست ومعیشت اور تمدن ومعاشرت کی سطح پر جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ مغرب کا عالم انسانیت پر ہمہ جہتی غلبہ واستیلا ہے۔ ان دو صدیوں میں مسلمانوں کی بہترین فکری اور عملی کوششیں اسی مسئلے کے گرد گھومتی ہیں اور ان تمام تر مساعی کا نکتہ ارتکاز یہی ہے کہ اس صورت حال کے حوالے سے کیا زاویہ نظر متعین اور کس قسم کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔
دنیا پر مغرب کا غلبہ چونکہ مختلف ارتقائی ادوار سے گزرا ہے، اس لیے فطری طور پر اس کی نوعیت وماہیت کی تشخیص میں مختلف ادوار کے مسلمان مفکرین میں اختلاف بھی نظر آتا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، یہ غلبہ ابتدا میں عسکری وسیاسی اور معاشی واقتصادی تسلط کا رنگ لیے ہوا تھا اور بیسویں صدی کے وسط تک مفکرین کا عمومی خیال یہی تھا کہ اس تسلط کے جلو میں جو فکری وتہذیب اثرات مسلم معاشروں پر مرتب ہو رہے ہیں، ان کی طاقت کا اصل منبع مغرب کا سیاسی غلبہ ہے او ریہ کہ مسلمان ریاستوں کی آزادی کے بعد اور خاص طور پر اسلامی ریاستوں کے قیام کے بعد مسلمانوں کے لیے خود اپنی تہذیبی اقدار پر مبنی معاشرے تشکیل دینا اور یوں ایک نظام حیات کے مقابلے میں ایک دوسرا نظام حیات اور ایک تہذیب کے مد مقابل ایک دوسری تہذیب کی تشکیل سے نظام عالم میں ایک توازن پیدا کرنا ممکن ہوگا۔ تاہم گزشتہ ساٹھ ستر سال کے تجربے اور سفر کے نتیجے میں اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ صورت حال اس سے مختلف ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر اور اکیسویں صدی میں مغرب کے فکری واقداری غلبہ کا پہلو زیادہ مشخص اور نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے اور اب اس حقیقت کا ادراک کیا جا رہا ہے کہ دو مختلف تہذیبی پیرا ڈائمز کے دنیا میں متوازی طور پر موجود رہنے اور پرامن بقائے باہم کے اصول پر ایک دوسرے سے تعرض نہ کرنے کی بات کم سے کم موجودہ تناظر میں ایک غیر واقعی اور تخیلاتی بات ہے۔ اس حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے کہ اس وقت ہم بنیادی طور پر مغرب کی بنائی ہوئی دنیا میں جی رہے ہیں۔ سیاست ومعیشت، فکر وفلسفہ، معاشرتی اقدار اور بین الاقوامی قانون، ہر دائرے میں مغرب ہی کا سکہ رائج ہے اور دنیا کی قومیں مادی سطح پر مغرب ہی کے مقرر کردہ آئیڈیلز کے حصول کے لیے اجتماعی طور پر کوشاں ہیں۔ مغربی اجتماعی اقدار کے غلبہ وتسلط کی بات محض بالواسطہ اثرات تک محدود نہیں رہی، بلکہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدات کی صورت میں انھیں قانونی سطح پر دنیا پر نافذ کرنے کی علانیہ اور دانستہ کوشش کی جا رہی ہے اور یہ سب کچھ ایک توانا تہذیبی اور اخلاقی جذبے کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ 
اس پس منظر میں غلبہ مغرب کے حوالے سے گذشتہ ڈیڑھ دو صدیوں سے جاری ڈسکورس کو ایک نیا رخ دینے کی ضرورت ہے اور بہت سے اہم اور بنیادی سوالات فکر تازہ کی توجہ کا تقاضا کرتے ہیں۔

غلبہ مغرب: درست تفہیم کی ضرورت

اس حوالے سے یہاں ہم چند بنیادی حقائق کی طرف متوجہ کرنا چاہیں گے جن کا ادراک کسی بھی قسم کی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ 
پہلی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ مسلم تہذیب کے مقابلے میں مغرب کا غلبہ بنیادی طور پر کسی سازش کا نتیجہ نہیں، بلکہ قوموں کے عروج وزوال سے متعلق اٹل سنن الٰہیہ کا ظہور ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس پورے عمل میں انسانی سطح پر سازشوں کا عنصر موجود یا کارفرما اور موثر نہیں رہا اور نہ یہ مراد ہے کہ مغرب نے اس غلبے کے حصول میں کسی قسم کی انسانی واخلاقی قدروں کو پامال نہیں کیا۔ یہ پہلو اپنی جگہ درست اور مسلم ہے۔ یہاں جس نکتے کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے، وہ یہ ہے کہ سنن الٰہیہ کے تحت اگر امت مسلمہ عالمی سیادت واقتدار سے محروم کی گئی ہے تو اس کا بنیادی سبب خود اس کی وہ داخلی کمزوریاں ہیں جن کے جڑ پکڑ جانے کے بعد قانون الٰہی کے تحت سربلندی وسرفرازی کا زوال ونکبت سے مبدل ہونا ناگزیر تھا۔ قانون الٰہی کے مطابق اس بنیادی شرط کے بغیر محض دشمن کی طرف سے کی جانے والی تدبیریں اور سازشیں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتی تھیں۔
دوسری چیز یہ ہے کہ مغرب کا غلبہ واقعاتی سطح پر رونما ہونے والی کوئی معمول کا اتار چڑھاؤ نہیں، بلکہ صفحہ تاریخ پر رونما ہونے والا ایک جوہری تغیر ہے جس کے اسباب ووجوہ اور پس پردہ تیاری کی تفہیم کے لیے سالوں اور دہائیوں کے نہیں بلکہ صدیوں اور ہزاریوں کے پیمانے درکار ہیں۔ دوسرے لفظوں میں غلبہ مغرب کی مثال سطح سمندر پر اٹھنے والی چھوٹی یا بڑی لہروں کی نہیں، بلکہ ایک سمندری طوفان کی ہے۔ یہ کسی ایک ملک کی دوسرے ملک پر فتح نہیں اور نہ ایک سیاسی قوت کے مقابلے میں دوسری سیاسی قوت کا غالب آجا نا ہے۔ یہ زمین کے ایک جغرافیائی خطے سے ابھرنے والی ایک پوری تہذیب کی بالادستی ہے جو فکر وفلسفہ کی طاقت، مادی وسائل کی فراوانی اور تیغ وتفنگ کی قوت سے مکمل طورپر لیس ہے اور اس نے دنیا کی تاریخ کا دھارا بالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ 
تیسری بات یہ ہے کہ مغرب کا غلبہ محض میدان جنگ کا غلبہ نہیں۔ اس میں سائنسی علوم وفنون اور ٹیکنالوجی کے ذریعے سے دنیا میں موجود مادی وسائل کی دریافت وتسخیر اور ان سے استفادہ کے دائرے میں قوت واستعداد کا وہ سرچشمہ دریافت کر لیا ہے جس نے دنیا کی دوسری ساری قوموں کو خود اپنے مملوکہ وسائل سے مستفید ہونے کے لیے بھی مغرب کی نظر کرم کی محتاج بنا دیا ہے۔
چوتھی اور آخری چیز یہ ہے کہ مغرب کا غلبہ محض مادی نہیں، بلکہ فکری اور اقداری بھی ہے اور یہی اس کا سب سے سنگین اور خطرناک پہلو ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مغرب محض زور بازو سے اقوام عالم کو اپنا تابع بنانے میں کامیاب نہیں، بلکہ فکر وفلسفہ اور تصور حیات کے میدان میں بھی انسانی ذہن کو شدید طور پر متاثر کرنے کی صلاحیت اور اس کے لیے درکار ہر قسم کے اسلحہ سے پوری طرح لیس ہے۔
یہ تمام نکات اگرچہ اب بدیہیات کا درجہ رکھتے ہیں جن کی طرف توجہ مبذول کروانا بظاہر تحصیل حاصل معلوم ہوتا ہے، لیکن اس یاد دہانی کی ضر ورت اس لیے ہے کہ اس صورت حال کے حوالے سے مسلم امہ کی قیادت کے زاویہ نظر اور تجویز کردہ حکمت عملی میں ان بدیہیات کے ادراک کی کوئی خاص جھلک نظر نہیں آتی۔ اگر ان کا ادراک ہے بھی تو غیر شعوری، بادل نخواستہ اور مجبورانہ ہے۔ 
اگر غلبہ مغرب سے متعلق مذکورہ حقائق سے اتفاق کیا جائے اور انھیں پیش نظر رکھ کر کوئی حکمت عملی وضع کی جائے تو بدیہی طو رپر اس حکمت عملی کا بنیادی نکتہ یہی قرار پائے گا کہ معروضی حالات میں طاقت کے میدان میں مغرب کے ساتھ تصادم سے گریز کیا جائے اور اسے اپنے خلاف زور بازو آزمانے کا موقع نہ دیا جائے۔ مغربی تہذیب اس وقت اپنے دورِ عروج میں ہے اور ان تمام مادی خصوصیات ولوازم سے متصف ہے جو تاریخ کے عمومی اور قابل مشاہدہ قوانین کی روشنی میں اسے اپنے عروج کو برقرار رکھنے کا اہل ثابت کرتے ہیں۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ کسی قوم سے اس کے دورِ عروج میں ٹکرا کر اسے شکست نہیں دی جا سکتی، خاص طور پر جبکہ شکست کا تصور یہ ہو کہ اس کے غلبہ وتسلط کو مغلوبیت میں بدل کر مغلوب وشکست خوردہ گروہ، اس کے مقابلے میں بالادست ہو جائے۔ تاریخ کا جبر، طاقت کا عدم توازن اور امت مسلمہ کی داخلی صورت حال، یہ تمام عوامل اس وقت تصادم سے گریز ہی کی طرف ہماری راہ نمائی کرتے ہیں۔ بنیادی طو رپر امت مسلمہ اس وقت دورِ اقدام میں نہیں، بلکہ دورِ دفاع میں ہے۔ اس وقت اصل ترجیح دنیا پر دین کا غلبہ قائم کرنا نہیں، بلکہ اسلامی فکر اور طرز معاشرت کی ناگزیر خصوصیات کا تحفظ اور دفاع ہے۔ اس نکتے سے صرف نظر کرتے ہوئے دورِ محکومی میں دورِ حاکمیت کی ترجیحات کو آئیڈیل بنا کر پیش کرنا خیالات اور جذبات میں ایک وقتی قسم کا ابال تو پیدا کر سکتا ہے، صورت حال کی حقیقی وعملی نوعیت میں تبدیلی کی طرف کسی بھی قسم کی پیش رفت کی راہ ہرگز ہموار نہیں کر سکتا۔

مفید تصورات وتجربات سے استفادہ

مغربی تہذیب نے گذشتہ کئی صدیوں میں فکری ارتقا کا جو سفر طے کیا ہے، اس نے متعدد اسباب سے اسے مذہب اور روحانیت سے دور کر دیا ہے اور وہ بلاشبہ اس وقت دنیا میں ایک لادینی تہذیب کا علم بردار ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانی ذہن کو سیاست مدن اور تنظیم معاشرت کے ضمن میں عملی نوعیت کے جو بہت سے سوالات ہمیشہ سے درپیش رہے ہیں، ان کے حل کے لیے مغرب نے کئی مفید تصورات اور تجربات سے بھی دنیا کو روشناس کرایا ہے۔ ان میں مثال کے طور پر حکومت سازی میں رائے عامہ کو بنیادی اہمیت دینے، حکومت کی سطح پر اختیار کے سوء استعمال کو روکنے کے لیے تقسیم اختیارات کے اصول، دنیا کی مختلف اقوام کے لیے اپنے اپنے مخصوص جغرافیائی خطوں میں حق خود ارادیت تسلیم کرنے اور بین الاقوامی تنازعات کے پرامن تصفیے کے لیے عالمی برادری کی سطح پر مختلف اداروں اورتنظیموں کے قیام جیسے تصورات کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ ان تصورات پر عمل کے حوالے سے مغرب کا اپنا طرز عمل کیا ہے، اس پر یقیناًبات ہو سکتی ہے اور مذکورہ سیاسی تصورات کا جو ماڈل مغرب نے پیش کیا ہے، اس میں مزید بہتری کی ضرورت پر بھی بحث ومباحثہ کی پوری گنجائش موجود ہے۔ لیکن اصولی طور پر ان تصورات کی اہمیت اور اجتماعی انسانی تعلقات کی تنظیم کے ضمن میں ان کی افادی صلاحیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 
مغربی غلبے کے رد عمل میں اور اس کے مقابلے میں مسلمانوں کے بعض تاریخی تجربات کی فوقیت ثابت کرنے کے جذبے کے زیر اثر مسلم فکر میں ایک بڑا نمایاں رجحان سرے سے مذکورہ تصورات وتجربات کی نفی کر دینے کا دکھائی دیتا ہے جو ایک غیر متوازن رویہ ہے۔ کوئی بھی مفید اور اچھا تصور انسانیت کا مشترک سرمایہ ہوتا ہے، چاہے اس کا ابتدائی تعارف کسی بھی گروہ کی طرف سے سامنے آئے۔ انسانی تمدن کا ارتقا اسی طرح باہم اخذ واستفادہ سے ہوتا ہے اور مسلم تہذیب نے بھی اپنے دور عروج میں کبھی دوسری قوموں، تہذیبوں اور معاشروں سے اچھے اور مفید تصورات کو لے لینے کبھی کوئی باک محسوس نہیں کیا۔ 
رائے عامہ کو حکومت سازی میں بنیادی اہمیت دینے کا اصول بنیادی طور پر خود اسلام کا اصول ہے جس سے مسلمان اپنی تاریخ کے بالکل ابتدائی دور میں ہی مختلف عملی اسباب سے دست بردار ہو گئے اور رفتہ رفتہ اس سے بالکل غیر مانوس ہوتے چلے گئے۔ امام ابوعبید نے کتاب الاموال میں لکھا ہے کہ اگر مسلمانوں کا لشکر دوران جنگ میں دشمن کے ساتھ صلح کا معاہدہ کرنا چاہے اور اس کی شرائط ایسی ہوں جن کا اثر دشمن کے زیر نگیں عوام الناس پر بھی پڑتا ہو تو ایسی کوئی بھی شرط اسی وقت معتبر سمجھی جائے گی جب براہ راست ان کے عوام سے رابطہ کر کے ان کی رضامندی معلوم کر لی جائے۔ اس کے بغیر محض ان کے سرداروں یا امراء کے اس شرط کو تسلیم کر لینے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ امام ابوعبید نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چونکہ امرا اور سرداروں کو کوئی بھی اجتماعی فیصلہ کرنے کا اختیار عام لوگوں کی طرف سے تفویض کیا جاتا ہے، اس لیے وہ لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کوئی ایسا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے جس سے لوگ متفق نہ ہوں۔ اس فقہی جزئیے سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جب اسلام دشمن قوم کی رائے عامہ کو اتنی اہمیت دیتا ہے تو خود مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں مسلمانوں کی رائے عامہ اس کے نزدیک کتنی اہم ہوگی۔
آج مغرب نے حکمرانوں کے عزل ونصب میں رائے عامہ کو بنیادی اصول کے طور پر تسلیم کر کے اقتدار کے پرامن انتقال کا ایک ایسا طریقہ اختیار کر لیا ہے جسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے اسلامی تاریخ میں ہمیں ایک طرف تو موروثی بادشاہت اور بزور بازور اقتدار پر قبضے جیسے طریقوں کو جواز فراہم کرنا پڑا اور دوسری طرف عملی طور پر پرامن انتقال اقتدار کا کوئی طریقہ باقی نہ رہا۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس سے کھلے دل سے استفادہ کرنا چاہیے، نہ کہ مغرب کی ہر بات کے رد کر دینے کو اسلامیت کا اظہار سمجھ کر ’’لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو‘‘ کی تحریک برپا کرنی چاہیے۔
(بشکریہ ماہنامہ ’’تجزیات‘‘ اسلام آباد)

علمی و فکری رویوں میں اصلاح کے چند اہم پہلو

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

(یہ مقالہ 6-7 اپریل 2015 کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے مرکز برائے فروغ تعلیم و ثقافت مسلمانان ہند کی جانب سے منعقدہ ایک عالمی کانفرنس بعنوان ’’امت مسلمہ کا فکری بحران‘‘ میں پیش کیا گیا تھا۔ جو خیالات اس میں پیش کیے گئے ہیں، ان کی حیثیت کسی حتمی مطالعہ کی نہیں بلکہ وہ غور و فکر کے لیے پیش کیے جارہے ہیں۔)

جب ہم اِس سوال پر غور کرتے ہیں کہ ’’ کیااسلام کسی اصلاح کا طالب ہے یااُسے بس شارحین کی ضرورت ہے ؟‘‘ تو اس کے ساتھ ہی ایک دوسراسوال کھڑاہوجاتاہے کہ کیااسلام کا متن as it is محفوظ ہے؟ اس سوال کا جواب ظاہر ہے کہ اثبات میں ہے ۔اس لیے یہ تو صاف ہوجاتاہے کہ اسلام کسی اصلاح کا طالب نہیں، البتہ اصل اسلام اورتاریخی اسلام میں فرق ضرور کرنا پڑے گا۔ اسلام اصل میں خداکے لیے ایک والہانہ خودسپردگی کا رویہ ( دین )ہے۔ اس رویہ سے اس کی ایک مکمل ومستقل تہذیب تشکیل پاتی ہے۔ تاہم آج مرورزمانہ سے مختلف اسباب کے تحت اسلام کی تہذیبی وکلچرل حیثیت ہی دین ومذہب کی قرارپاگئی ہے، خداکے لیے عبودیت کا رویہ زائل ہوکررہ گیاہے اور اس زوال فکرونظر کی اپنی ایک تاریخ ہے ۔ (۱) اب چونکہ اسلام کے مصدراول قرآن کریم کا متن پورے طورپرمحفوظ ہے، اس لیے یقینی طورپر کہاجاسکتاہے کہ ا سلام بھی محفوظ ہے اورکسی اصلاح کا طالب نہیں ۔اصلاح تودراصل ہمارے رویہ میں مطلوب ہے جو دین کی انسانی تشریحات کی تقدیس کرتاہے جوکہ تاریخی اسلام سے عبارت ہیں۔ سابقہ امتوں میں اصلاح وتبدیلی کی ضرورت اس وقت پیش آتی تھی جب یاتوان کا مقدس والوہی صحیفہ محفوظ نہیں رہ جاتاتھایازمانہ عقلی طورپر زیادہ ترقی کر جاتا تھا۔ آج یہ دونوں محرکات نہیں ہیں لیکن موجودہ دورمیں دوچیزیں ضروری ہیں:ایک ضرورت تواسلام کی عصری تشریح وتعبیرکی ہے اور دوسری فکراسلامی (تاریخی اسلام )کے ذخیرہ میں جورطب ویابس پایاجاتاہے اورجوغث وسمین اکٹھا ہو گیا ہے، اس کوچھانٹنے اوراسلام کی purityکی طرف یعنی صدراول کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے جس کے لیے نئے موازین کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیاپرانے اصولوں اورضابطوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے ؟اس پرسوچنااہل دانش اورارباب علم ونظرکاکام ہے۔ عام طورپر چار چیزوں کو مصادر دین یا مذہبی فکرکے اصل sourcesکی حیثیت سے پیش کیاجاتاہے یعنی قرآن ،حدیث ،اجماع وقیاس (اجتہاد)کو۔ ان مصادردین سے ہم کس طرح استفادہ کرتے ہیں اوران کی واقعی صورت حال کیاہے ،یہاں اس سوال کے پیش نظربعض طالب علمانہ خیالات واشکالات پیش کیے جارہے ہیں:
★ کتاب اللہ دین کا اصل مصدرہے ،کوئی دوسری چیز اس کے ساتھ اس وصف میں شریک نہیں ۔اس لیے کسی چیز کے ردوقبول کے لیے کتاب اللہ کوہی اصل بنیادبنایاجائے گا۔بلاشبہ حدیث اگرصحیح وثابت ہو،سنداًاوردرایتاًدرست ہو اور قرآن سے کسی معنی میں بھی متعارض نہ ہوتووہ اس کی بہترین شرح وتفسیرہوگی۔ صحیح روایات وآثارآیات کریمہ کے شان نزول سے اُس زمانہ کا بیک گراؤنڈہمیں سمجھاتے ہیں جیساکہ زرکشی برہان میں لکھتے ہیں:صحابہؓ وتابعین کایہ معروف طریقہ ہے کہ جب وہ کہتے ہیں کہ فلاںآیت فلاں بارے میں نازل ہوئی تواس کا مطلب یہ ہواکرتاہے کہ وہ آیت اس حکم پر بھی مشتمل ہے ،یہ مطلب نہیں ہوتاکہ بعینہ وہ بات اس آیت کے نزول کا سبب ہے‘‘۔(۲)مطلب یہ ہے کہ یہ روایات وآثارہمیں آیات الٰہی کے عملی انطباق کی صورتوں کے فہم میں مدددیتے ہیں نہ یہ کہ وہ قرآن کے معانی کی حدبندی کردیتے ہیں۔ا س لیے کہ کتاب اللہ کتابِ خالد(زندہ وجاوید)ہے جورہتی دنیاتک انسانیت کے لیے آفاقی دستور ہے اور اسی وجہ سے درست طورپر علماء تفسیرکہتے ہیں کہ: لاتنقضی عجائبہ  (قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے ) ۔
یہیں سے راقم خاکسارکا طالب علمانہ اشکال علماء تفسیرکے اس قاعدہ پرہے کہ السنۃ قاضیۃ علی القرآن (قرآن پر سنت فیصلہ کن ہوگی)۔ یہ قول امام یحییٰ بن کثیرکی طرف منسوب ہے، اسی کوامام اوزاعی نے دوسرے الفاظ میں یوں کہاہے کہ :قرآن کوسنت کی اُس سے زیادہ ضرورت ہے جتنی سنت کوقرآن کی۔ سوال یہ ہے کہ ایساکیوں ہے اوراس کی دلیل کیاہے ؟قرآن تواپنے آپ میں کتاب محکم، کتاب فصلت آیاتہ (ایسی کتاب جس کی آیات کھول کھول کربیان کردی گئی ہیں) اور تبیان لکل شیء ہے،وہ حجۃ من بعد الرسل ہے، موعظۃ وتفصیلا لکل شیء (ہرچیز کی تفصیل اورنصیحت کی کتاب )ہے ا ورنورمبین اور ہدی للناس ہے۔ پھرجہاں ضرورت بھی نہیں، وہاں بھی اُس کوخارج سے کسی شرح وتفسیرکا محتاج وپابندکیوں بنایاجاتاہے؟ جبکہ تمام مفسرین کے نزدیک بھی قرآن کی تفسیرکا اشرف طریقہ تفسیرالقرآن بالقرآن ہے کہ اگر ایک چیز کوقرآن ایک جگہ مبہم رکھتاہے تودوسری جگہ اس کی تفسیروتوضیح کردیتاہے۔ یقیناصحیح حدیث قرآن کریم کی شرح وتفسیرمیں بڑی مدددیتی ہے، خاص کراحکامی آیات کی شرح وتفصیل میں تواس کے بغیرچارہ ہی نہیں۔ تفسیری روایات، احکامی آیات کے ساتھ ہی خاص نہیں ہیں، وہ توپورے قرآن پر حاوی ہوگئی ہیں۔ 
جب ہم اپنے ہاں رائج اصول فقہ کی روشنی میں غورکرتے ہیں توسوال پیداہوتا ہے کہ کیا کوئی تفسیریاشرح متن (text) سے آگے بڑھ سکتی ہے؟ یااُس پر غالب آسکتی ہے ؟یااُس کے ظاہرومتبادرمعنی سے اُسے پھیرسکتی ہے؟ کیا متن شر ح وتفسیرکی بیڑیوں کا پابندہواکرتاہے؟
اسی طرح کہاجاتاہے کہ: متی وقع التعارض بین القرآن والسنۃ وجب تقدیم الحدیث لان القرآن مجمل والحدیث مبین: یعنی قرآن وسنت میں تعارض ہوتوقرآن پر حدیث کومقدم رکھناچاہیے۔ کیونکہ قرآن مجمل ہے اورحدیث اس کوبیان کرنے والی ہے(ملاحظہ ہوتفسیرفتح البیان ج 5ص 422)پہلی بات تویہ ہے کہ اگرحدیث صحیح ہوگی تووہ قرآن سے متعارض ہی نہیں ہوگی۔برسبیل تنزل اگرکہیں تعارض ہوتاہے توقرآن کومقدم رکھیں گے جیساکہ حنفیہ اورمالکیہ کا تعامل بھی ہے، لیکن مذکورہ قاعدہ میں اس حقیقت کوالٹ دیاگیاہے ۔ یہ سوال اس لیے پیداہوتے ہیں کہ قرآن کے متن کوروایات واحادیث کا پابندبنادیاجاتاہے تویہ نتائج نکلتے ہیں:
۱۔بہتیری آیات شان نزول کی روایتوں کی محتاج ہوجاتی ہیں، حالانکہ ان روایتوں کی صحت وثقاہت میں ہی کلام ہے۔
۲۔روایات وآثارکومتن قرآن پر حاکم بنانے کا نتیجہ یہ ہے کہ بہتیری آیات ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہیں۔
۳۔بلاضرورت یہ مانناپڑتاہے کہ مدنی سورتوں کے بیچ مکی اورمکی سورتوں کے بیچ میں مدنی آیات آگئی ہیں۔ ایسا ماننے کا نتیجہ سورتوں کے نظم وترتیب اورتناسق آیات میں خلل ماننے کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
۴۔بلاضرورت یہ تکلف کرناپڑتاہے کہ ایک ہی آیت کئی بارنازل ہوسکتی ہے ۔
۵۔ بلادلیل یہ مانناپڑتاہے کہ ایک آیت مختلف فقروں،مختلف زمانوں اورمجلسوں میں نازل ہوسکتی ہے۔
۶۔بعض اوقات یہ مانناپڑتاہے کہ آیت کریمہ کے الفاظ میں تقدیم وتاخیرہوگئی ہے،جوایک خطرناک بات ہے ۔
۷۔بلادلیل یہ مانناپڑتاہے کہ آیات قرآنیہ مختلف شان نزول کی وجہ سے اورمختلف سوالوں کا جواب ہونے کی وجہ سے ماسبق ومابعدسے مربوط نہیں ہیں اس لیے قرآن ایک منظم کلام نہیں غیرمربوط کلام ہے، جیساکہ اہل تفسیرکے ایک طبقہ کا واقعتا یہی خیال ہے جس کی ترجمانی شیخ عزالدین عبدالسلام کرتے ہیں۔ 
سوال یہ ہے کہ بھلاآدھی آیت، آیت کا کوئی فقرہ جس پر حرف عطف’’ و‘‘ داخل ہے یافائے عطف داخل ہے، آگے پیچھے سے کٹاہوا کس طرح نازل ہو سکتا ہے؟ اللہ کے کلام معجز نظام کی سب سے بڑی خوبی اورجمال وخوبصورتی نیز اس کی حیرت انگیز تاثیراس کے نظم اورصوتی نظام میں ہی توپنہاں ہے اوریہی تواس کی بلاغت کی جان ہے ۔اوراس کے نظم وبلاغت ہی میں توتحدی ہے جس کے آگے سارے فصحاء وبلغائے عرب ڈھیرہوگئے تھے ۔اب اگراُس کانزول ٹوٹے ٹکڑوں، آدھے فقروں، ناقص آیتوں کی شکل میں مان لیاجائے توبڑے سوال پیداہوں گے جن کا جواب دینے سے ہماراتفسیری ذخیرہ عاجزہے۔ (۴)
قرآ ن کریم کتاب ہدی ہے ۔قرآن کی عظمت،ر فعت نزاکت،لطافت اورملاحت تک پور ا بار پانا لفظی ومعنوی ہراعتبارسے انسانی حدود سے ماوراء ہے۔اس کا مرتبۂ بلاغت اعلی ،بے نظیراورحد بشری سے مافوق ہے ۔اس کی ایک ایک آیت میں جس شدت کا زور اورایک ایک ترکیب میں جس غضب کی تاثیرہے، اسی سے یہ ممکن ہوسکاکہ عربوں کے پتھردل موم ہوکررہ گئے ۔ان کے دل ودماغ میں ایک انقلاب برپاہوگیا،اوربڑے سے بڑامخالف عربی ادیب وشاعر پکاراٹھا کہ: ان لہ لحلاوۃ وان علیہ لطلاوۃ، ان اعلاہ لمثمروان اسفلہ لمغدق، انہ یعلو ولایعلی علیہ، مااتی علی شیء الاحطمہ۔ (۵ )
قرآن کی شرح وتفسیر میں تفسیربالماثورکوبڑی بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے جوتفسیری روایات اوراحادیث وآثارپر مبنی ہے، حالانکہ چوٹی کے اہل علم کے نزدیک بھی تفسیری روایات کا بیشترحصہ بے سروپاباتوں پر مشتمل ہے ،اس میں مرفوع احادیث کاحصہ بہت کم ہے ۔یہاں تک صحیح بخاری میں، جوکتب حدیث میں صحیح ترین مجموعہ ہے، تفسیرقرآن کے باب میں جو احادیث وآثار،تفسیری اقوال ولغوی تحقیقات جمع کی گئی ہیں ،ان میں امام بخاری ؒ نے تقریباً مکمل طورپرامام ابوعبیدہ کے لغوی بیانات اور علی بن ابی طلحہ جیسے راویوں کے تفسیری اقوال پر اعتمادکرلیاہے۔اس علی بن ابی طلحہ نے اپنی تفسیرکوحضرت ابن عباس کی طرف منسوب کیاہے، مگراس کا ابن عباس سے سماع ثابت ہی نہیں۔اس پر رفض کا الزام بھی ہے۔ (۵؍۱) ۔
امام احمدکا مشہورقول ہے کہ : تین چیزیں ایسی ہیں جن کی کوئی اصل نہیں: ثلاثۃ لااصل لھا: المغازی والملاحم والتفسیر۔ابن تیمیہؒ نے امام احمدکے قول کی توجیہ یہ کی ہے: ای لا اسناد لھا، اوراس کے بعد لکھاہے: لان الغالب علیھا المراسیل: کہ تفسیری روایات کا بیشترحصہ مرسلات پر مشتمل ہے ۔(۶) لیکن بہت ساری تفسیری روایات جو حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں اور یہاں تک کہ بخاری ومسلم میں بھی، جن کو مفسرین بالعموم نقل کرتے آرہے ہیں، ان میں سے بھی اکثروبیشترغلط سلط روایتیں ہیں جیساکہ علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی ؒ نے تفصیل سے اپنی تفسیرکے مختلف متعلقہ مقامات پر ہرایک روایت کاتفصیلی مطالعہ کرکے اوراپنی کتاب ’بخاری کا مطالعہ‘(تین حصے) میں ثابت ومحقق کردیاہے۔ تفسیری روایات کے تحقیقی مطالعہ وتجزیہ کے اس کام کو مزیدآگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
*حدیث حجت ہے، اس میں دورائے نہیں،مگرجب متوارث فکراسلامی اِس سے اورآگے بڑھ کراس پر اصرارکرتی ہے کہ حدیث کے بعض مخصوص مجموعے بالکلیہ صحیح ہیں،ان میں ایک شوشہ بھی غلط نہیں ہوسکتا،وہ تنقیدسے بالکل مبراہیں اوراگرکوئی یہ جسارت کرتاہے تووہ منکرِحدیث ہے،تومسئلہ پیداہوتاہے ۔اوربعض علماء وفرقے توصحیحین میں مندرج احادیث کی قطعی صحت کے قائل ہیں اوراگرکوئی محقق ومحدث روایت ودرایت کے اعتبارسے ان پر ذرابھی کلام کی جرأت کرتاہے تواُس کومنکرحدیث ،متجدد،بدعتی اورنہ جانے کیاکیاقراردے ڈالتے ہیں۔اوربعض ستم ظریف تو حد ہی کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ صحیح بخاری کی کسی حدیث پر نقدکا معنی ہواکہ وہ انکارِقرآن کا مجرم ہے!!حالانکہ دونوں میں جوفرق ہے، وہ بالکل واضح ہے کہ قرآن کریم خداکی کتاب ہے اوراس کی حفاظت کی خوداللہ تعالی ٰ نے ذمہ داری لی ہے۔ انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون، ہم نے ہی قرآن کونازل کیاہے اورہم ہی اس کے محافظ ہیں( الحجر:9 ) چنانچہ قرآن کے کسی شوشہ اورحرف کے بارے میں بھی کسی غلطی ،خطایاوہم کا خیال بھی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ راجح قول کے مطابق قرآن کی تدوین وترتیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی تکمیل پاچکی تھی جیساکہ خودقرآن کی داخلی شہادتیں بھی یہی کہتی ہیں۔ 
عام خیال یہ ہے کہ عہدنبوی میں ترتیب نہیں دیاگیاتھابلکہ عہدصدیقی میں مرتب ہوا،مگربہت سی تحقیقات منظرعام پرآچکی ہیں جن کی روسے کم ازکم یہ توصاف معلوم ہوتاہے کہ پوراقرآن لخف، چمڑے کے ٹکڑوں اورپتھرکی باریک سلوں پر مکمل لکھا جا چکا تھا اور ترتیب سے لکھاگیاتھا،عہدصدیقی میں اس کوکاغذکے اندرمنتقل کیاگیا اورمصحف (بین الدفتین) کی شکل دی گئی کہ کاغذیااس کا متبادل اس عہدمیں پایاجاتاتھا۔یہ ایک مستنداورباضابطہ سرکاری نسخہ ہوگیا۔ جبکہ عہدعثمانی میں اس کی مختلف نقول بنوائی گئیں اورپوری قلمرومیں ان کی توسیع واشاعت کردی گئی۔ یہ برسبیل تنزل اورمختلف روایات واقوال کے مابین ترجیح کے طورپر راقم کاخیال ہے جبکہ ایک رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ پوراقرآن مصحف کی شکل میں عہدنبوی میں ہی مرتب ہوچکا تھا۔ اس خیال کے حامل مفتی عبداللطیف رحمانی اورتمناعمادی اوربہت سے اہل علم ہیں اوران کے پاس مضبوط دلائل ہیں۔(۷) 
جہاں تک حدیث کا مسئلہ ہے تواس سلسلہ میں ایسی کوئی کوشش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یااجلۂ صحابہ کی جانب سے نہیں کی گئی، بلکہ وہ اس سلسلہ میں غایت درجہ احتیاط سے کام لیتے تھے ۔بعض صحابہ نے فرداًفرداًحدیث کو لکھا، اور اس کی ترتیب وتدوین کا کام بہت بعدمیں عہدعمربن عبدالعزیز ؒ میں شروع ہوا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ خداورسول کویہ منظورنہ تھاکہ خداکی کتاب میں کسی انسانی کلام کی آمیزش ہو۔ تقدس صرف اسی کتاب کا حق تھا کسی اورکتاب کا نہیں۔ اور امام شافعی تویہاں تک کہتے ہیں کہ کتاب اللہ کے علاوہ کسی اورچیز کو’’نص ‘‘نہیں کہاجاسکتا ۔ الام میں امام صاحب نے اس بات کومختلف انداز سے اوربارباردہرایاہے ۔ ( ۸)ظاہرہے کہ قرآن کتاب منزل ہے ۔اس کے حروف اور معانی سب اللہ کی طرف سے ہیں جبکہ حدیث کا معاملہ ایسانہیں ہے۔ حدیث کومن حیث المجموع وحی غیرمتلوکہاجاتاہے۔ حدیث کی کسی ایک متعین کتاب (مثلاً بخاری ومسلم ) کووحی متلوکا کامل مجموعہ نہیں کہاجاسکتاہے ۔(وحی کی متلووغیرمتلوکے درمیان تقسیم خودقابل غورہے ) 
پھریہ ہے کہ حدیث کابہت چھوٹاساحصہ ہے جس کوباللفظ بھی روایت کیاگیاہے۔ زیادہ ترحدیثیں بالمعنی ہیں۔ متواترحدیثوں کی بات الگ ہے جوبہت کم ہیں اور وہ بھی کسی ایک کتاب کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ قرآن کتاب منزل من اللہ ہے، حدیث کی کوئی کتاب بعینہ منزل من اللہ نہیں ہے۔ بحیثیت مجموعی حدیث کتاب اللہ کی شرح یقیناہے، مگرکسی شرح کواصل متن پرفوقیت حاصل نہیں ہوتی ۔امام شافعی کے نزدیک حدیث سراسرکتا ب اللہ ہی سے مستنبط وماخوذہے لہٰذاوہ کتاب اللہ ہی کے تابع ہوگی، اس پر حاکم نہیں۔یہ تواصولی بات ہوئی۔ اب رہی یہ مشہور بات کہ بخاری کے حرف بہ حرف صحیح ہونے پر امت کا اجماع ہے توپہلی بات تویہ ہے کہ صحیح قول کے مطابق جیساکہ امام شافعی ؒ کہتے ہیں، اجماع صرف صحابہ کا معتبرہے (یہی امام ابن تیمیہ کا بھی موقف ہے)، بعدوالوں کا نہیں۔(۹) اور پھر اجماع شرعیات میں ہوتاہے، اخبار ووقائع میں نہیں۔اس لیے یہ کہنااصولی طورپربالکل غلط ہے کہ کہ بخاری ومسلم کی مطلق عصمت وصحت پر اجماع امت ہوچکاہے ۔کیونکہ بخاری ومسلم عہدصحابہ توکجا، عہد تابعین وتبع تابعین کے بھی بعد کے ہیں، یعنی قرون مشہود لہا بالخیر کے بعد کے۔ لہٰذااجماع کا دعویٰ توبالکل ہی درست نہیں۔(اجماع پر مزیدبحث آگے آتی ہے)۔ بخاری کی جلالت شان کے پیش نظرکسی نے یہ بات کہہ دی تھی کہ اس میں کوئی حدیث ضعیف نہیں، اسی کولوگ نقل درنقل کرتے چلے گئے ۔خودبخاری کے سلسلہ میں کبارمحدثین اورامام بخاری کے معاصرین کا رویہ اس کی تقدیس کا نہ تھاجیساکہ آج کے علماء کا ہے ۔اس کی سب سے بڑی مثال خودامام مسلم بن الحجاج القشیری ہیں جو ایک جلیل القدرامام ہیں اورامام بخاری کے مایۂ ناز شاگرداوران سے شدیدمحبت رکھنے والے۔ مگراس کے باوجودانہوں نے استادکے کام کو آخری اورحتمی نہیں سمجھا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کرخودایک اورمجموعۂ حدیث مرتب کیاجوصحیح مسلم کے نام سے مشہورہے۔اگروہ بخاری کوتقدیس کی نظرسے دیکھ رہے ہوتے توبس اس کی شرح کرتے خودصحیح مسلم مرتب کرنے کا نہ سوچتے۔ (۱۰) 
 اسی طرح ہم نے فقہ کے چارمسالک کی تقدیس کررکھی ہے، ان سے باہرجانے کو ایک جرم خیال کیا جاتا ہے۔ بڑے بڑے ائمہ وعلماء یہی دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ محققین کا مسلک کبھی یہ نہیں رہا۔پھربھی کوئی فقیہ ومحقق آزادانہ اجتہادکی کوشش کرتاہے تواس کوگردن زدنی خیال کیاجاتاہے۔ مثال کے طورپر حال ہی میں یمن کے ایک عالم شیخ دکتور محمد فضل اللہ مرادنے ایک فقہی موسوعہ ترتیب دیناشروع کیاہے جس کامقدمہ المقدمۃ فی فقہ العصر  کے نام سے دو جلدوں میں شائع ہوگیاہے ۔کتاب کا اصل موضوع موجودہ دورکے عصری مسائل اوراسلام کا موقف ہے۔ اس میں فقہ الدولہ یافقہ السیاسۃ الشرعیہ پربھی خاصاکلام کیاگیاہے ۔ساتھ ہی فقہ المال یافقہ الاقتصادکے بہت سارے پہلوبھی بیان کیے گئے ہیں۔ شیخ مرادیمن کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسرہیں۔کتاب پر شیخ محمدبن علی عجلان،شیخ یوسف القرضاوی، شیخ عبدالمجیدزندانی اورشیخ محمدبن اسماعیل العمرانی جیسے کبارعرب علماوشیوخ کی تقریظات ہیں۔ کتاب 24 ابواب پر مشتمل ہے۔ ائمہ فقہ اورمعاصرعلماء سے ربا،بیوع ،تامین ،سودوانشورنیس وغیرہ مسائل میں مصنف الگ رائے رکھتے ہیں۔ امام الحرمین الجوینی نے البرہان میں 5 مقاصد شریعت گنوائے ہیں جن کوامام غزالی نے المستصفیٰ میں مزیدشرح وبسط سے بیان کیاہے ۔شیخ فضل اللہ مرادنے ان میں ایک چھٹے مقصدشرعی کا اضافہ کیاہے اوروہ ہے :حفظ الجماعۃ العامہ، یعنی انسانی سماج کی حفاظت۔ (دوسرے مقاصدشرعیہ میں حفظ دین، نفس، عقل، مال اور حفظ عرض (آبرو) شامل ہیں) ۔ (۱۱)
کتاب کے شروع میں مصنف نے وضاحت سے بیان کردیاہے کہ اصول وفروع میں وہ کسی کی تقلیدنہیں کرتے، بلکہ ائمہ اربعہ کی یہ نصیحت سامنے رکھتے ہیں کہ ہم ان کی تقلیدنہ کریں بلکہ وہیں سے لیں جہاں سے انہوں نے لیا ہے۔ مصنف کے الفاظ میں: وقد التزمت فی کتابی ھذا الزام الائمۃ الاربعۃ ونصیحتھم لی ولنا جمیعا وھی: ان لانقلدھم بل ناخذ من حیث اخذوا۔ اس کتاب پر شدیدنقداورمخالفت اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکے نائب صدرمولاناڈاکٹربدرالحسن قاسمی (مقیم کویت )نے کی ہے اورشیخ فضل اللہ کو مجتہد عشوائی  (آوارہ) قراردیاہے ۔ان کا تنقیدی مضمون عربی واردودونوں میں شائع ہواہے ،اردومیں اس کا عنوان ہے :ایک اچھی لیکن خطرناک کتاب ۔(۱۲) تنقیدکا لب لباب یہ ہے کہ انہوں نے عدم تقلیدکا منہج کیوں اختیار کیا، یہی مصنف کا سب سے بڑاجرم ہے۔
ہماری اس سوچ کا مقابلہ صدراول کی حریت فکری کی اس فضا سے کیجیے جب ایک فقیہ کو یہ کہنے کا یاراتھاکہ’’صحیح حدیث اورآراء صحابہؓ کے توہم پابندہوں گے، مگرجب بات ہمارے جیسے معاصرعلماء وفقہاء کی ہو تو ھم رجال ونحن رجال‘‘۔ (وہ بھی انسان ہیں ہم بھی انسان)، جب فقہ میں حنفی ،مالکی ،شافعی اورحنبلی فقہ کے پہلوبہ پہلوفقہ اوزاعی ،فقہ داؤد ظاہری اورفقہ جعفری اورفقہ اباضی بھی پھل پھول رہی تھیں اوربہت سے مکاتب فکرموجودہواکرتے، جب اسحاق بن راہویہؒ ، امام شعبیؒ ، امام سفیان ثوریؒ ،امام حسن بصریؒ امام اوزاعی ؒ اورامام لیث بن سعدؒ اورابن جریر طبریؒ جیسے ائمہ فکروفقہ کے حلقہ ہائے درس قائم تھے اورکسی کو نہ برسرباطل سمجھاجاتانہ حق کو بس کسی ایک فقہ میں محصورخیال کیاجاتا۔ خلیفہ منصورکے عہدمیں امام مالک ؒ نے اپنی کتاب مؤطاکو پوری امت کے لیے دائمی قانون اوردستورالعمل بنانے سے منع کردیاتھاکیونکہ انہیں خوب اندازہ تھاکہ ایساکرنے سے علم وفکراورتحقیق کے رواں دواں قافلہ کو بریک لگ سکتاہے ۔ (۱۳)
اسی طرح ہمارے اس جمودفکری کا تقابل اس حدیث سے کیجیے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب حاکم فیصلہ کرے اوراجتہادکرے اوراس کا فیصلہ درست ہوتواُسے دواجرملیں گے اوراگرفیصلہ میں غلطی کرجائے تواس کے لیے ایک اجرہوگا۔ اذا حکم الحاکم فاجتھد ثم اصاب فلہ اجران، واذا حکم فاجتھد ثم اخطأ فلہ اجر  (بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ اورمسلم کتاب الاقضیہ بروایت عمروبن العاص)حافظ ابن حجرنے اس کی شرح میں لکھاہے کہ :پہلے کودواجرملیں گے ایک اس کے اجتہادکا اورایک اس کے صواب ہونے کااوردوسرے کوفقط اجتہادکااجرملے گا:(۱۴)اس قبیل کی اوربھی احادیث ہیں۔ان نصوص سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اجتہاد اتنامطلوب ہے کہ اس میں غلطی کرنے والے کے لیے بھی ثواب ہے اوریہ بھی کہ اجتہادکا عمل جاری رہناچاہیے بلکہ اس کے لیے غلطی کا رسک لیاجائے گا۔
★ اجتہادکے سلسلہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہماری طالب علمانہ رائے میں اجماع کا غلط استعمال ہے۔ محققین کے قول کے مطابق اجماع صحابہ توایک شرعی حجت ہے، بعدکے زمانوں کا اجماع مختلف فیہ ہے۔بعض ائمہ کے نزدیک حجت ہے، بعض کے نزدیک نہیں۔ (۱۵) )علامہ مصطفی الزرقاء اپنی کتاب المدخل الفقھی العام میں لکھتے ہیں: عہد فاروقی تک کسی مسئلہ پر اجماع کا ہوجاناآسان تھا،کیونکہ حضرت عمرؓ نے اپنے عہدکے ممتازصحابہ کو(کسی شدیدضرورت کے بغیر)مدینہ باہرجانے سے روک دیاتھا تاکہ کوئی نیاعلمی ،سیاسی مسئلہ پیش آئے تواس میں آسانی کے ساتھ مشورہ کیاجاسکے لیکن حضرت عثمانؓ کے عہدخلافت کے آخری دورمیں صحابہ کرام مختلف شہروں اورملکوں میں پھیل گئے ۔۔۔اس لیے اب یہ ناممکن ہوگیاکہ ان تمام مجتہدین کی رائے سے کسی مسئلہ میں اجماع ہوسکے کیونکہ کسی عام علمی مشاورت کا کوئی امکان باقی نہیں رہ گیاتھا۔(۱۶)
ہماری علمی صورت حال یہ ہے کہ چوتھی صدی (یعنی فکری زوال کے بعد)کے فکراسلامی کے ذخیرہ کوبالعموم اور متاخرین کی آراء واجتہادات کوبالخصوص اجماع کا درجہ دے کران پر کسی بھی قسم کی تنقیدواختلاف کوگوارانہیں کیا جاتا۔ کیا صحیحین کی صحت، قرآن کی جمع وتدوین،قرأآت سبعہ ،نزول مسیح،خروج دجال وظہورمہدی وغیرہ کے سلسلہ کے آثار واقوال کواجماع کا درجہ دے کران پر غوروفکراورتحقیق کا راستہ بندکیاجاسکتاہے ؟جب اس طرح کے سوالوں پر اسلاف میں ابن حزم کے ہاں بحث ہوسکتی ہے توآج کیوں نہیں ہوسکتی ؟آج اجماع کا استعمال علماء ،سیرت وتاریخ، اور روایتِ حدیث اورکتب حدیث کے سلسلہ میں بے جااستعمال کرتے ہیں۔ کسی بھی نئی تحقیق اوراجتہادکا راستہ روکنے کے لیے اُسے ایک ہتھیاراورآلہ کے طورپر استعمال کیاجاتاہے کہ فلاں مسئلہ پر امت کا اجماع ہے، فلاں بات اجماعی ہے وغیرہ۔ حالانکہ اجماع کے سلسلہ میں اصول فقہ کی کتابوں میں جوبحث آتی ہے، وہ یوں ہوتی ہے کہ گویایہ متفق علیہ مسئلہ ہے، جبکہ اجماع کے بارے میں ہماری درسیات جوکچھ کہتی ہیں، بحیثیت ادارہ اس کا عملاً وقوع تاریخ سے ثابت نہیں ہوتا۔ 
امام شافعی جن کا کردار اصول فقہ کی تدوین وتشریح میں بہت بنیادی ہے، وہ اس کے بانی ہیں ۔ان کے زمانہ میں بھی صورت حال یہی تھی کہ ہرفریق اپنی اپنی رائے پر اجماع کا دعوی کررہاتھا۔ایسے میں امام شافعی نے اصولی طور پر اجماع کو شرعی حجت تسلیم کیا، کتا ب وسنت میں اس کی بنیاددریافت کی، اس کے مبادی منضبط کیے، تاہم ان کی تحریریں بتاتی ہیں کہ اجماع سے ان کی مرادبھی صحابہ کا اجماع ہے اوراس کے بعدکا اجماع ان کے نزدیک معتبر نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہرمسئلہ پر اجماع کا دعویٰ کرناغلط ہے کیونکہ اس کے عملاً وقوع کی کوئی دلیل نہیں۔اس سلسلہ میں انہوں نے یہاں تک کہ دیاکہ : دعوی الاجماع خلاف الاجماع : (اجماع کا دعویٰ کرناخوداجماع کے خلاف ہے۔ (۱۷) مزید کہا :اجماع کے عیب کے لیے یہی کافی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدلوگوں کی زبانوں پر تمہارے اس زمانہ کے علاوہ کبھی اس کا نام نہیں آیا۔ (۱۸ ) یوں شافعی بعض اجماع کے قائل ہیں اوربالکل اس کا انکارنہیں کرتے، لیکن علی الاطلاق اس کوقبول بھی نہیں کرتے۔
حال کے زمانہ میں ڈاکٹرمحمدحمیداللہ نے اجماع کے عملاً وقوع پر سوال کھڑاکرتے ہوئے کہا: ’’اس سلسلہ میں اتفاق رائے یاکثرتِ رائے سے فیصلہ کرنے کے لیے اجماع کی اصطلاح کا ذکربہت کیاجاتاہے، لیکن علماء کرام مجھے معاف فرمائیں تومیں عرض کرناچاہتاہوں کہ اجماع فقط ایک مفروضہ اورافسانہ ہے۔ اس کا کوئی وجودنہیں اورچودہ سوبرس میں اجماع کے ذریعے فیصلہ کا کوئی طریقہ مقررنہیں کیاگیا۔‘‘(۱۹) جب صورت حال یہ ہوتوکیایہ ضروری نہیں کہ اجماع کے سلسلہ میں اہل علم مروجہ طرزفکرپر نظرثانی کریں؟
اجماع ہی سے متعلق یہ بحث ہے کہ ہمارے علما عام طور پر کہتے ہیں کہ جوبھی فکری وعلمی بحثیں ہوں، جو بھی علمی تحقیقات کی جائیں، ان میں جمہورامت کی رائے کی پابندی ضروری ہے۔ مبادئ دین میں تویہ اصول مسلمہ ہے لیکن فروعی مسائل، علمی مباحث وتاریخی بحث وتحقیق میں بھی اگراس مفروضہ کومان کرچلتے ہیں توپھرکسی نئی تحقیق اورنئے اجتہادکی ضرورت یاگنجائش ہی کہاں رہ جاتی ہے؟ شیخ ناصرالدین البانی اہل علم کے لیے تقلیدکوجائزنہیں سمجھتے۔ وہ علمی و عملی طور پر خود بھی سختی سے اس اصول کی پیروی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:
أن العلم لا یقبل الجمود فھو فی تقدم مستمر من خطأ إلی صواب و من صحیح إلی أصح۔ (۲۰) ’’علم جمودکوگوارانہیں کرتا،وہ ہمہ وقت غلط سے صحیح اورصحیح سے صحیح ترکی طرف گامزن رہتاہے‘‘ ۔
اسلام کی علمی وفکری تاریخ کی گواہی یہ ہے کہ جمہورکی رائے کی پابندی محض ایک مفروضہ ہے اوراسلام میں ائمہ کبار، مصلحین ومجددین اس مفروضہ کا شکارکبھی نہیں ہوئے۔ ائمہ اربعہ(۲۱)، ابن حزم، ابن خلدون، ابن تیمیہ، ابن القیم، شاہ ولی اللہ دہلوی وغیرہم جتنے بھی بڑے نام ہیں، کیا یہ سب جمہورکی رائے کے پابندتھے؟ یا انہوں نے اپنی راہیں الگ نکالیں؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب یہی ہے کہ انہوں نے جمہورکی رائے کی پابندی نہیں کی اور اپنا الگ طریق رکھا۔ اس لیے آپ کسی رائے یاتحقیق کوکتاب وسنت کی میزان میں ضرورتولیں گے مگراُس کا جمہورکے اور مقبول عام تصورکے مطابق ہوناہرحال میں ضروری نہ ہوگا۔ مشہوردنیامیں بہت سی چیزیں ہوجایاکرتی ہیں جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی اوریہ بھی ہوتاہے کہ لوگ مدتوں ان کومتواترتک مانتے رہتے ہیں،ایسے بہت سے مسائل ہیں جن کو لوگ متواتر یا اجماعی مانتے آئے ہیں مگر جدید تحقیقات سے وہ غلط ثابت ہوچکے ہیں۔ علامہ محدث حبیب الرحمن اعظمی کے الفاظ میں ’’ہر افواہ جوپھیل جائے، اُس کو خبر متواترکہناتواترکی سخت توہین ہے‘‘۔(۲۲)خلاصہ یہ ہے کہ فہم سلف کے نام پر یاتقلید ائمہ کے نام پر ہم نے جس جمودعقلی وفکری کودانتوں سے پکڑ رکھا ہے، ہمارا یہی رویہ اصلاح کا طالب ہے۔

حواشی وحوالہ جات

۱۔تفصیلی مطالعہ کے لیے دیکھیے :ابوالحسن علی ندوی ماذاخسرالعالم بانحطاط المسلمین، دارعرفات رائے بریلی، ڈاکٹرراشدشاز،ادراک زوال امت دوجلد،،شکیب ارسلان ،اسباب زوال امت ،شائع کردہ دعوہ اکیڈمی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، ڈاکٹرمحمدعمرچھاپرا:اسلامی تہذیب زوال کے اسبا ب،اصلاح کیونکر،،سیدابوالاعلی مودودی، تجدیدواحیاء دین ۔
۲۔ امام حمیدالدین فراہی،تفسیرنظام القرآن دائرہ حمیدیہ ،فروری 2009ص۴۱۔
۳۔ ملاحظہ ہو:محمداسلم جیراجپوری ،علم حدیث،طبع امرتسرص۱۰،راشدشاز،ادراک زوالِ امت جلداول ملی پبلی کیشنز 2013 ص208۔
۴۔ یہ مفروضے نہیں ہیں بلکہ اس کی تفصیل دیکھنے کے لیے ملاحظہ کریں:علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی ،تفسیرمفتاح القرآن میں تنبیہات کے تحت تفسیری روایات پر کلام ،نیزانہیں کی صحیح بخاری کا مطالعہ پہلا،دوسرااورتیسراحصہ شائع کردہ فاؤنڈیشن فاراسلامک اسٹڈیز نئی دہلی ،خاص کرتیسرے حصہ میں امام بخاری کی کتاب التفسیرپر مفصل کلام ہے۔
(۵)یہ ولیدبن مغیرہ کاقول ہے جو ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیاتوآپ نے اسے قرآن پڑھ کرسنایا۔وہ بڑامتاثرہوااورچپ چاپ چلاگیا۔قریش کوجب یہ خبر ملی تو لوگ چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ ابوجہل ولیدکے پاس آیااوربولا: یاعم! محمدکے بارے میں کچھ ایسی بات کہہ دیجئے جس سے لوگ مطمئن ہوجائیں کہ آپ اس کے دعوے کوسچ نہیں سمجھتے، ولیدنے کہا: آخرکیاکہوں؟ بخدا شعر،رجز ،قصائد ،جنوں کاکلام، یعنی کلام عرب کی ان سب صنفوں کومیں سب سے زیادہ جانتاہوں لیکن خدا کی قسم یہ شخص جوکلام پیش کررہاہے،وہ ان میں سے کسی بھی چیز کے مشابہ نہیں۔ بخدا اس کلام میں عجیب حلاوت ہے، اورایک خاص طرح کا حسن ہے۔اس کی شاخیں پھلوں سے لدی ہوئی اوراس کی جڑیں بالکل شاداب ہیں۔یقیناًوہ ہرکلام سے بلندہے اورکوئی دوسراکلام اسے نیچانہیں دکھاسکتا۔بے شک وہ ہراس چیز کو توڑکررکھ دے گاجس پر وہ آئے گا۔ (الحاکم النیسابوری، المستدرک علی الصحیحین، جلددوم صفحہ ۵۰۶ طبع دائرۃ المعارف دکن ۱۳۳۴ء )
(۵؍۱) دیکھیے علی بن ابی طلحہ کا ترجمہ :حافظ ابن حجرعسقلانی ،تہذیب التہذیب المجلدالسابع ،طبع دارالفکر، الطبعۃ الاولی 1984 ص298۔
(۶) ملاحظہ ہو:ابن تیمیہ الحرانی ،مقدمہ فی اصول التفسیرلابن تیمیہ ؒ صفحہ ۷۰۔
(۷)اس سلسلہ میں مزیدمطالعہ کے لیے دیکھیے :عبداللطیف رحمانی، تاریخ القرآن ،صدیق حسن ،رسالہ جمع وتدوین قرآن ،طبع دارالمصنفین اعظم گڑھ ،راشدشاز ادراک زوال امت جلداول ص۱۵۶تا۱۵۹۔
(۸)ملاحظہ ہو: طٰہٰ جابرعلوانی کی کتاب، مفاھیم محوریہ فی المنھج والمنھجیہ، دوسراباب: مفہوم النص، دارالسلام ،القاہرہ، الطبعۃالاولی ،2009 ۔
(۹)غطریف شہبازندوی ،عالم اسلام کے مشاہیر،فاؤنڈیشن فاراسلامک اسٹڈیز ،مارچ 2014ص22۔
۱۰۔بخاری پر نقدکرنے والے علما بہت ہیں،تفصیل کے لیے دیکھیں: راقم کا مقالہ :علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی حدیث کے ایک اسکالر،جوذیل کی ویب سائٹ پر موجودہے: http://pak.net ۔
۱۱۔کتاب کے مفصل تعارف کے لیے دیکھے :البعث الاسلامی : العدد السادس، المجلد الستون دیسمبر 2014 اورماہنامہ ترجمان دارالعلوم اکتوبر2013تامارچ2014تنظیم ابناء قدیم دارالعلوم دیوبند۔
۱۲۔ایضاً۔
۱۳۔ملاحظہ ہوشاہ ولی اللہ دہلوی،حجۃ اللہ البالغہ ہندی ایڈیشن ،صفحہ 307۔
۱۴۔حافظ ابن حجرالعسقلانی ،فتح الباری شرح صحیح البخاری ،ج۱۳ص۳۳۱)المطبعۃ البہیہ المصریہ 1348ھجریہ 
۱۵۔صباح الدین ملک فلاحی :اجماع ایک تحققی بحث ،مجلہ فکرونظر،جلد37شمارہ ۳ جنوری ۔مارچ2000ادارۂ تحقیقات اسلامی اسلام آبادپاکستان۔
۱۶۔مجیب اللہ ندوی،مولانا،فقہ اسلامی اوردورجدیدکے مسائل ، ،ص۴۸شائع کردہ دارالتصنیف والترجمہ جامعۃ الرشاداعظم گڑھ۔
۱۷۔غطریف شہبازندوی ڈاکٹر ،عالم اسلام کے مشاہیر،فاؤنڈیشن فاراسلامک اسٹڈیز ،مارچ 2014ص22
۱۸۔ایضاً
۱۹۔غطریف شہبازندوی ڈاکٹر،ڈاکٹرمحمدحمیداللہ ،مجددعلوم سیرت ،فاؤنڈیشن فاراسلامک اسٹڈیزنئی دہلی 2013صفحہ78۔
۲۰۔ ناصر الدین البانی ،محدث شیخ ،سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ، المکتب الاسلامی بیروت، ص۴۴۔
۲۱۔ امام اعظم ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں: اذا جاء عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فعلی الراس والعین (احیاء العلوم للغزالی 1/79) (جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول آجائے توسرآنکھوں پر )۔ امام دارالہجرت مالک ؒ نے فرمایا: ما من احد الا یوخذ من قولہ ویترک الا صاحب ھذا القبر واشار الی قبرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم (اس قبروالے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم)کوچھوڑکوئی بھی ایسانہیں جس کے کسی قول کولیانہ جائے اورکسی کوچھوڑانہ جائے ) (حجۃ اللہ البالغۃ 1/157) امام شافعیؒ کا قول ہے : کل ما قلت وکان قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلاف قولی مما یصح فحدیث النبی صلی اللہ علیہ وسلم اولی ولا تقلدونی۔ اگرمیرے کسی قول کے خلاف صحیح حدیث نبوی آجائے تواسی کولینااولی ہے اورمیری تقلیدنہ کرنا۔ (ایضا) اما م احمدؒ سے منقول ہے: لا تکتبوا عنی شیئا ولا تقلدونی ولا تقلدوا فلانا وفلانا، وخذوا من حیث اخذوا  (نہ مجھ سے کچھ لکھو،نہ فلاں وفلاں وفلاں کی تقلیدکرو،بلکہ وہیں سے لوجہاں سے انہوں نے لیاہے)۔ (ابن القیمؒ ،اعلام الموقعین عن رب العالمین2/201۔
۲۲۔علامہ محدث حبیب الرحمن اعظمی ،تبصرہ بر شہید کربلا و یزید، ص 50 دارالثقافہ الاسلامیہ مؤ 2014۔

ادب میں مذہبی روایت کی تجدید

مولانا محمد انس حسان

انسان نے آج تک صدیوں کا سفر طے کیا ہے اور پتھر کے زمانے سے نکل کر وہ خلاء کے عہد تک پہنچ چکا ہے۔ اس دور میں اس کی ترقی سائنس اور ٹیکنالوجی میں نمایاں ہے۔ یہ صنعتی انقلاب تمام دنیا میں پھیل چکا ہے۔ ہم جو کھانا کھاتے ہیں، جو کپڑے پہنتے ہیں اور وہ گھر جس میں ہم رہتے ہیں، وہ الفاظ جو ہم استعمال کرتے ہیں اور وہ ذرائع جن سے ہم لطف اندوز ہوتے ہیں یہ سب صنعت و حرفت اور اجتماعی اختراعات کی پیدا کردہ ہیں۔ ان سب نے مل کر انسانی زندگی کو ایک مقام بخشا ہے اور اس کی آسائش و آرائش کا سامان مہیا کیا ہے لیکن اسی کے ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ زندگی اس قدر عجیب و غریب دور سے گزر رہی ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ایک نئے شعور سے ہم دو چار ہوئے ہیں لیکن انسان کا مستقبل کیا ہو گا اس کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔ اس لیے کہ ایک طرف تو یہ ٹوٹا ہوا تارا ’’مہ کامل‘‘ بننے کی کوشش کر رہا ہے تو دوسری طرف اس کی زندگی کی الجھنیں اس کی ہر نئی صبح ہی سے شروع ہو جاتی ہیں۔ زندگی کا کوئی دن کسی ایسے واقعہ کے بغیر نہیں گزرتا جو حیرت انگیز نہ ہو۔ ہمارا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کچھ دیر میں وہ سب کچھ بتا دیتے ہیں جو پہلے ممکن نہ تھا۔ میڈیا چینلز اور اخبارات انتشار کی خبروں سے ہمیں دہشت زدہ اور ہمارے خیالوں کو پراگندہ کر دیتے ہیں جو ذہن انسانی پر نا امیدی اور مایوسی کے نقوش بٹھا دیتے ہیں۔ اخبار کی صرف سرخیاں ہی دیکھ کر ہم اپنے آپ کو بے بس، لاچار اور مجبور، پانی کے بہاؤ میں ایک تنکے کے مانند محسوس کرتے ہیں اور ہمیں اس بات کا بھی پتہ نہیں چلتا کہ آخر ہم کہاں جا رہے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے عہد کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے وسائل سے بھی ہم واقف نہیں ہوتے اور ہماری شخصیت ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ انسانی شخصیت کے اس بکھراؤ کو سمیٹنے کے لئے ہمارے پاس کوئی علاج بھی نہیں اور اب ایسا لگتا ہے جیسے ہماری ذات کی افسوس ناک الجھنیں مکمل ہو چکی ہیں۔ سائنس دان اپنی لیبارٹریز میں بند ہیں۔ سیاست دان اپنی کرسیوں پر جمے ہوئے ہیں۔ مورخین اپنی کھلی آنکھوں سے صدیوں کی تاریخیں مکمل کر رہے ہیں۔ ماہرین عمرانیات اعداد و شمار میں گم ہیں۔ یہ سب انسانیت کے بہی خواہ اپنی آراء ہمیں پیش کرتے ہیں اور اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ ان کی یہ پیش کردہ آراء اور حقائق میں کم و بیش سچائی بھی ہے لیکن جب ہم ان آوازوں کو بیک وقت سنتے ہیں تو ان میں اس قدر اختلاف اور تضاد پایا جاتا ہے کہ انسانی ذہن اور منتشر ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہمارے عہد کے تاریک مسائل اتنے آسان بھی نہیں جنھیں یہ لوگ مل جل کر حل کر سکیں اور انسانی شخصیتوں کو اپنی نیک خواہشات کی روشنی دکھا سکیں۔ جہاں ذہنی انتشار کی وجوہات اور اسباب پر چند ذہن صاف ہیں وہیں بیشتر اذہان ان کی رہنمائی سے اور گمراہ ہو جاتے ہیں اور ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ آخر سچائی کی جستجو میں کس سمت اور راستے کو اختیار کیا جائے۔
نہ جدید تہذیب پر اب ان کا ایمان ہے اور نہ مستقبل میں کوئی امید۔ ان حالات میں جدید انسان اپنی خواہشوں اور امیدوں کی پیدائش اور موت کا نظارہ کرتا ہے۔ وہ ہمدردی اور سہارے کے لئے دیکھتا ہے لیکن کہیں اسے کوئی چمک نظر نہیں آتی۔ اس کا دل و دماغ نا امیدی اور مایوسی کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں اور یہ سوال اس کے سامنے بار بار آتا ہے کہ کیا ہماری زندگی کے مقصد کی یہی انتہائی منزل ہے جس کی طرف جدید دور نے رہنمائی کی ہے؟
آج سماج جس قدر پست، خود غرض اور بے حس ہو گیا ہے شاید اس سے قبل کبھی ایسا نہ رہا ہو۔ آج غربت اور مفلسی کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ اخلاقی گراوٹ اور لا مذہبیت نے بھی سماج میں وہ برائیاں پیدا کر دی ہیں جن سے عقائد اور خیر و برکت کو ایک زوال سا آ گیا ہے۔ ہمارے سماج کا ایک بڑا حصہ برائیوں میں پہلے سے زیادہ مبتلا ہے اور پہلے سے زیادہ مادہ پرست ہو گیا ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جو ابتداء میں مذہب سے دور تھے آج بھی ویسے ہی ہیں اور بہت سے مذہبی تعلیم اور مذہبی امور میں پڑنا عمل بے لذت تصور کرتے ہیں اور اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ان کے پاس اس کے لئے وقت ہی نہیں ہے۔ جب مذہب و اخلاق کو کمزور کر دیا جائے تو اس کے نتائج برے ثابت ہوتے ہیں۔ جب مذہب کی اندرونی روح ہی غائب ہو جائے اور جب ماضی کا صحت مند ورثہ اور عقائد قدیم نسل کے ساتھ چلے جائیں اور نئی نسل کے لئے بے معنی ہو جائیں تو یہ بات ظاہر ہے کہ سماج کا بیرونی ڈھانچہ انتشار اور جرائم میں مبتلا ہو جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہو گاکہ انسان انفرادی طور پر اپنے ساتھیوں سے بدظن ہو جائے گا۔
اگر ہم اپنے ماضی کے ورثے پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے علماء، صوفیاء اور مفکرین نے ہمارے لئے اپنی زندگی کے بیش بہا تجربات کو اپنی تحریروں میں منتقل کر دیا ہے، کیا آج واقعی یہ اثاثہ ہمارے کسی کام کا نہیں ہے؟ کیا انسانی روح یوں ہی آوارہ سرگرداں گھومتی اور بھٹکتی رہے گی؟ دنیا صدیوں کے تجربات سے آشنا ہے لیکن کیا ہمارے عہد کے مسائل کو حل کرنے میں ان سے ہمیں کوئی مدد نہیں ملے گی؟ کل تک اس بات پر یقین تھا کہ انسانی ذہن قدرت کی جانب رواں دواں ہے لیکن آج بعضوں کا یہ خیال ہے کہ یہ برائیوں اور تخریب کاری کی طرف مائل ہے، تو کیا ان کے اس بیان کو جھٹلایا جا سکتا ہے اور خاص طور پر اس وقت جبکہ جدید عہد کے تباہ کن اور مہلک اثرات نے ہمارے ان عقائد کی بیخ کنی کر دی ہے جن کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ جس شخص نے اپنے عہد میں غیر متوازن رفتار زندگی، مہلک آلاتِ جنگ اور انسانوں کی بد اعمالیاں دیکھی ہوں اس کے لئے یہ کچھ بعید بھی نہیں کہ وہ قدرت اور اس کے نظام کائنات سے اپنا عقیدہ اٹھا لے جبکہ سچائی کا چہرہ مسخ کر دیا گیا ہو۔ نیک افراد کو نا امیدی کے تاریک گڑھوں میں دھکیل دیا گیا ہو اور جب کہ جھوٹ ظلم اور خباثت جیسی برائیاں طاقتور ہو گئی ہوں، تو ان حالات میں انسان کا تشکیک میں مبتلا ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں لیکن اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر انسان ذہنی طور پر زندگی کے متعلق غلط رویہ یا رجحان رکھتا ہو تو اس کی ظاہری شخصیت، سیاسی، سماجی اور عمرانی تعلقات بھی بے راہ روی کا شکار ہوں گے۔ جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسان مجموعی طور پر اپنی معاشرتی زندگی کو کیوں کر کامیاب نہیں بنا سکتا۔ اس لیے بھی کہ آفاقی قوتوں کی کار فرمائی کے بجائے اس کا ایمان تخریبی عناصر پر زیادہ رہتاہے۔
اس مادی ترقی کی دوڑ میں کچھ کرنے اور بنانے کے شوق نے بھی انسانی اعصاب میں ایک قسم کا تناؤ، ذہنی الجھنوں اور پریشانیوں کو پیدا کر دیا ہے، جس سے چھٹکارا پانے کے لئے انسان نے مصنوعی نشاط انگیز دوائیوں کا سہارا لینا شروع کر دیا۔ انجام کار اس سے انسانی شخصیت اور اس کے کردار پر ایک ایسی ضرب پڑی کہ اس کے اخلاق اور کردار کی بنیادیں ہل گئیں۔ جدید صنعت و حرفت سے نئی مشینوں کی ایجاد تو ہوئی جن کے باعث مزدوروں کو روٹی نصیب ہو گئی لیکن ان مشینوں نے فرد کی طمانیت قلب اور اس کی انفرادی آزادی اور انسانی قدر کو بالکل کم کر دیااور اس بات کے لئے مجبور کر دیا کہ وہ بھی مشین کی طرح صبح سے شام تک روزانہ ایک ہی قسم کی حرکت کرتا رہے۔ کام کی اسی یکسانیت نے اسے بھی مشین کا ایک پرزہ بنا دیا، جس نے انسانی اعصاب پر برا اثرکیا اور انسان خود ایک ایسی شے بن گیا جس کی اس کے سوا اور کوئی اہمیت نہیں کہ وہ مشینوں سے اشیاء پیدا کرتا رہے۔ جس کے پاس نہ انسانی جذبہ و احساس ہے نہ فہم و ادراک۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب انسان نے ظاہری زندگی کو سنوارا ہے اور اپنے ذہنی توازن کو برقرار نہیں رکھا ہے تو اسے اپنی عزیز ترین شئے کی قربانی دینی پڑی ہے۔ زندگی کی آسائشوں کو حد سے زیادہ حاصل کرنے کی قیمت روحانی اقدار سے ادا کرنی پڑی ہے۔ سائنس اور صنعت و حرفت کی ترقی سے انسان کا گھر بھرا جا رہاہے لیکن اس کا دل اطمینان اور سکون سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ چونکہ ہم گاڑی، جہاز اور دیگر جدید اختراعات کے حامل ہیں اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے آباؤ اجداد سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور اس میں شک بھی نہیں لیکن ہم صرف اشیاء کے بارے میں زیادہ باخبر ہیں اور اپنی ذات سے بے خبر اور نا آشنا ہیں۔ زندگی کے مقصد اور اندرونی حقائق پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ ہم نے اپنے اسلاف کے کارناموں اور ان کے فلسفوں کو محدود تو کر دیا ہے لیکن خود ہمارے فلسفوں میں گہرائی نہیں ہے۔
جدید معاشرے میں یہ نظریہ عام ہو گیا ہے کہ اگر زندگی کو عیش و عشرت کے اسباب، دوستوں اور مسرتوں سے بھر دیا جائے تو زندگی کا مقصد خود بخود حل ہو جائے گا اور وہ زندگی کی مسرتوں سے ہم کنار ہو جائیں گے لیکن یہ ایک ایسی صریح غلطی ہے جس کا ارتکاب خود مغرب بھی کر چکا ہے۔ بعض لوگ انفرادی طور پر اس بات کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ مغربی تہذیب اپنی روز افزوں ترقی کے باوجود ذہنی سکون نہیں دے سکی۔ اگرچہ اس کے امکانات نئی تہذیب کے لوازمات سے پر ہیں۔ بہترین لباس اور قوی غذاؤں کی ان کے یہاں کمی نہیں لیکن وہ اس بات کو محسوس کرنے لگے ہیں کہ وہ صرف دنیاوی اسباب میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کے ہاں داخلی زندگی میں روحانیت کے فقدان کا اعتراف اب نمایاں طور پر سامنے آنے لگا ہے۔ ادھرہم سائنس اور صنعت و حرفت کی ترقی کے باوجود عدم تحفظ کا شکار ہیں اور زندگی ہمیں بے معنی نظر آنے لگی ہے۔ آج ہمیں پھر ایک ایسے اعتقاد کی ضرورت ہے جو جدید انسان کے اس ذہنی خلفشار کو ختم کرنے میں مدد گار و معاون ثابت ہو سکے۔ اس کے لئے جدید انسان نے مذہب و اخلاق کے دروازوں پر دستک دینے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا ہے اور یہ اس لئے بھی کہ مذہب ماضی میں بھی انسانی تہذیب کے لئے ایک طاقتور آلہ کار رہا ہے اور حال میں بھی اس سے بہت کچھ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ آج انحطاط پذیر سوسائٹی کی اخلاقی گراوٹ سے متاثر ہو کر مذہب و اخلاق کی باتیں موضوع بحث بن رہی ہیں۔
ان حالات میں ادب بے اعتقاد اور منکر مذہب و اخلاق کیسے رہ سکتا تھا۔ ادب میں کئی مذہبی تصورات ایک نئے رنگ میں جلوہ گر ہونے لگے۔ خاص طور پر شاعری سب سے زیادہ متاثر ہوئی اور ہمارے شاعر مذہبی تجربے کی قدر و قیمت کو تسلیم کرنے لگے۔ جدیدیت کے آغاز میں خدا اور مذہب سے بیزاری ایک نمایاں رجحان کی شکل میں ظاہر ہو رہی تھی لیکن جدید ادیب روحانی اور مذہبی تجربے سے بالکل بے گانہ بھی نہیں تھے۔ ایک طرف تو ان کے ذہن پر سائنس کی صداقت چھائی ہوئی تھی دوسری طرف ان کا دل مذہبی عقیدت کے جذبے سے بھی مملو تھا۔ وہ ایک ایسی ذہنی کش مکش سے گزر رہے تھے کہ ان کے خیالات و افکار میں توازن برقرار نہ رہ سکا۔ علوم جدید سے متاثر ہو کر محسوسات کو سب کچھ مان لیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس سے عقائد کا شیشہ پاش پاش ہو جاتا ہے اور مذہب ایک جنون خام کے سوا کچھ نہیں رہتا لیکن بعد کے تجربات نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ صرف مادہ پرستی ہی میں انسانی عظمت کا راز پوشیدہ نہیں ہے بلکہ اس کے لئے روحانی آزادی بھی ضروری ہے۔ اس لئے کہ انسان صرف نفسیاتی وجود ہی نہیں رکھتا بلکہ اس کا مابعد الطبیعاتی وجود بھی ہے جو اپنا حق مانگتا ہے۔ اپنی ذات کو بے پردہ دیکھنے اور مادے کی دلدل سے نکل کر روح کا دست نگر ہونے کا یہ عمل ماضی کی دریافتِ نو ٹھہرا۔ ذاتِ واجب کی طرف یہ مراجعت بحیثیت ایک مذہبی شخص کے نہیں بلکہ مذہبی اور روحانی قدروں کی روشنی میں عرفان ذات و کائنات حاصل کرنا تھا اور جہاں پھیلنے کے بجائے سمٹ جانے کا رجحان پیدا ہو جائے وہاں خواہشوں اور آرزوؤں کی دنیا بھی محدود ہو جاتی ہے اور انسانی ذہنی طور پر پُر سکون اور مطمئن ہو جاتا ہے۔ جدید اردو ادیبوں اور شعراء کے فلسفیانہ افکار میں جو مذہبی رجحان ظاہر ہوا وہ اسی بات کی غمازی کرتا ہے لیکن اظہار و بیان میں ایک ایسا انداز اختیار کیا گیا جو قاری کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے اور ایک تجسس پیدا کر کے اپنی ہم سفری کے لئے آمادہ کر لیتا ہے۔ اب ادیب اور شاعر کے لہجے میں وہ واعظ اور معلم کا آہنگ بھی نہیں سنائی دیتا جو قدیم لوگوں کا مخصوص رنگ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نئی نسل مذہب کو ایک رسمی شے تصور نہیں کرتی بلکہ اس میں زندگی کا اصلی سرچشمہ تلاش کرتی ہے۔ مذہب اس کے لئے ایک ذاتی شئے ہے، خدا اور اپنے درمیان اب وہ کسی واسطے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ فرد اور خدا کے درمیان ایک نا ختم ہونے والے روحانی سلسلے کی اسے تلاش ہے۔ پرانے پنڈتوں، ملاؤں، زاہدوں کے پند و نصائح سے چھٹکارا پانے کے بعد جدید انسان خدا کے وجود کا تجربہ ذاتی طور پر کرنا چاہتا ہے تاکہ خود اپنے طور پر عرفانِ خداوندی سے سکون و اطمینان کی زندگی حاصل کر سکے۔
اسی رجحان کے زیر اثر اب اردو ادب میں انسان کا ذات باری کے وجود پر پورا یقین نظر آتا ہے اور مذہبی فکر ایک نئے رنگ میں جلوہ گر ہوتی ہے جسے پیش کرنے کے لئے ادبی اظہار و بیان میں اسلامی روایات اور ہندومائیتھولاجی سے کافی استفادہ کیا گیا ہے۔ قرآنی آیات کے ترجمے، قرآنی تلمیحات، ارشادات باری کی تفسیر و تشریح اور ان کا شاعرانہ استعمال نئی نظموں میں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے بعض نظمیں دیو مالا کو بنیاد بنا کر لکھی گئی ہیں۔ اساطیر و صحائف کے اسلوب کر برتنے کا یہ میلان عام نظر آتا ہے۔ مولانا شبلی نے بہت پہلے تحریر فرمایا تھا:
’’جب سائنس اور مشاہدات کی ممارست ہم کو سخت دل اور کٹر بنا دیتی ہے اور تمام معتقدات اور مسلمات عامہ کی دل میں حقارت پیدا ہو جاتی ہے، کسی بات پر اعتبار نہیں آتا، کسی چیز کا اثر نہیں رہتا، مادے کے سوا تمام چیزوں کی حکومت دل سے اٹھ جاتی ہے اس وقت شاعری ہمارے دل کو رفیق اور نرم کرتی ہے جس سے تسلیم، اثر پذیری اور اعتقاد پیدا ہوتا ہے۔ مادیت کے بجائے روحانیت قائم ہوتی ہے۔ وہ ہم کو عام تخیل میں لے جاتی ہے جہاں تھوڑی دیر کے لئے مشاہدات کی بے رحم حکومت سے ہم کو نجات مل جاتی ہے۔‘‘ (شعر العجم، ج۴، ص ۸۲)
جدید فن کار کے اندر نجات، نیکی اور صداقت کی یہی سچی خواہش جنم لے چکی ہے اور وہ عالم انفس و آفاق کی رمز شناسی سے زندگی کا توازن تلاش کر رہا ہے۔ سائنس کے ’’خالص افادی نقطہ نظر‘‘ کے خلاف آواز اٹھانے والے بہت سے ادیب اور شعراء ہیں، جن کے تصورات کو ہم اظہار دعا یا عبودیت کا نام دے سکتے ہیں۔ جن کا نصب العین حیوانی اور مادی زندگی نہیں بلکہ ذہنی زندگی کا پہلو ہے جس کا مقصد حق اور صداقت کی تلاش و جستجو ہے۔ یہ لوگ ذہنی آزادی اور مذہبی و اخلاقی قدروں پر زور دیتے ہیں۔ ان کے یہاں قدروں کا مسئلہ ایک عظیم مسئلہ ہے اور انسانی زندگی کی بعض بنیادی حقیقتوں کا شعور ایک اہم ضرورت ہے۔ حیات و کائنات کے اسرار و رموز کو انھوں نے اپنی نگارشات کا موضوع بنایا ہے اور ان کے مختلف پہلوؤں کی نقاب کشائی کی ہے۔ ان کی نظر میں انسان ایک اعلیٰ مقام تک پہنچ سکتا ہے اگر وہ اپنے آپ کو پہچانے اور اپنی ذات کا عرفان حاصل کرے۔ یہی عرفان اس کو عرفان الٰہی و عرفان حیات کی منزلوں تک لے جاتا ہے انسان جس حسن کی تلاش اور جس نور کی جستجو میں ہے وہ خود اس کی ذات میں موجود ہے۔ اگر وہ اس حقیقت کو نہ سمجھے تو اس میں خود اس کا قصور ہے۔ اس طرح ان ادیبوں اور شعراء کے فلسفیانہ افکار کا رشتہ تصوف سے جا ملتا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ جب ادب عرفان کے موڑ پر پہنچتا ہے تو اس کی مڈ بھیڑ تصوف اور مذہب سے ہوتی ہے۔ لیکن تصوف و مذہب کی دنیا میں جتنی باتیں ہوتی ہیں ان سب کی مکمل تفصیل ان کے یہاں موجود نہیں ہے۔ وہ تصوف کے تمام اصول و نظریات کو کھل کر پیش نہیں کرتے۔ وہ بات جو ایک ڈوبے ہوئے صوفی شاعر میں ہونی چاہئے ان کے ہاں نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان ادیبوں کی طبیعت کا میلان تصوف و مذہب کی طرف مائل ہے اور ان کے یہاں انسانی روح کا عمل، انسانی ذہن کی کرشمہ سازیوں کا انکشاف، کائنات اور معاشرہ، خیر و شر، زندگی کی عالمگیر صداقت، انسانی عظمت کا تصور، انسان کا نفسیاتی اور مابعد الطبیعاتی وجود، عرفانِ ذات، عرفانِ خداوندی، عرفانِ کائنات، انسان اور انسانیت کی حقیقت، نئے آفاق کی تلاش اور ادب کو نئی توانائی دینے کا شعور نمایاں ہے۔ اپنی ذات سے ماورا ہونے کے لئے وہ اپنا مقصود و منشا ذاتِ واجب کو ٹھہراتے ہیں جو تمام قدروں کا سرچشمہ ہے۔ اردو ادب میں اس رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیا ادب مذہبی تجربے سے نفسی الجھنوں اور نفسی انتشار کو دور کرنا اور انسان کی شخصیت کی تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ اس کے یہ تجربے اعلیٰ قدروں کی تخلیق بھی کرتے ہیں اور انسان کو حقیقی قدروں سے آشنا بھی اور انھیں میں زندگی کی روشنی اور گہرائی مضمر ہے۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۰)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

(۶۵) ترجمہ میں تفسیری اضافہ

قرآن مجید کے مختلف ترجموں کو پڑھتے ہوئے کہیں کہیں معلوم ہوتا ہے کہ مترجم نے ترجمہ کرتے ہوئے بعض ایسے اضافے کردئے جن کا محل ترجمہ نہیں بلکہ تفسیر ہے، ایسے اضافے اگر قوسین کے اندر کئے جاتے ہیں تو قابل اعتراض نہیں ہوتے ہیں کیونکہ قاری یہ سمجھتا ہے کہ قوسین کے اضافے دراصل تفسیری اور توضیحی نوعیت کے ہوتے ہیں، البتہ جب قوسین کے بغیر ایسے اضافے ہوں تو وہ قابل اعتراض ٹھہرتے ہیں، کیونکہ قاری ان کو عین الفاظ قرآنی کا ترجمہ سمجھتا ہے۔اس کو حسب ذیل مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے:

(۱) وَبَشِّرِ الَّذِیْن آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ کُلَّمَا رُزِقُواْ مِنْہَا مِن ثَمَرَۃٍ رِّزْقاً قَالُواْ ہَذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَأُتُواْ بِہِ مُتَشَابِہاً وَلَہُمْ فِیْہَا أَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَہُمْ فِیْہَا خَالِدُون۔ (البقرۃ:۲۵)

’’اور اے پیغمبر، جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور (اس کے مطابق) اپنے عمل درست کر لیں، انہیں خوش خبری دے دو کہ اْن کے لیے ایسے باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان باغوں کے پھل صورت میں دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہونگے جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے گا، تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے دنیا میں ہم کو دیے جاتے تھے ان کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہونگی، اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے‘‘۔(سید مودودی)
آیت کے آئینے میں ترجمہ دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ترجمہ میں دو مقامات پر دنیا کا تذکرہ ہے جبکہ آیت میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے جس کا ترجمہ دنیا سے کیا جائے، یہ ایک تفسیری اضافہ ہے جس کو قوسین میں مذکور ہونا چاہئے تھا۔ 
اس کے بالمقابل مذکورہ ذیل ترجمے میں الفاظ کی بھر پور رعایت کی گئی ہے:
’’اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے (نعمت کے) باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا۔ اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
یہ ترجمہ آیت کے الفاظ کے مطابق ہے۔ الفاظ کی رو سے یہ بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے کہ آیت میں جنت کے پھلوں کی باہم مشابہت کو بیان کیا گیا ہے، اور اس باہمی مشابہت سے پھلوں کے انواع کی کثرت مراد ہے، کہ ہر نئے پھل کو دیکھ کر لگے گا کہ اس طرح کا پھل پہلے بھی مل چکا ہے۔ 
سید مودودی اور دیگر مفسرین نے جو مفہوم اختیار کیا ہے اس کی گنجائش ہوسکتی تھی اگرآیت میں کُلَّمَا  کی جگہ لفظ لما  ہوتا، کیونکہ کُلَّمَا  کے اندر استمرار کا مفہوم ہوتا ہے اور اس کا ترجمہ ہوتا ہے جب جب اور جب کبھی ، اب ظاہر ہے کہ جنت کی طویل ابدی زندگی میں ہمیشہ ہر پھل کو دیکھ کر دنیا کی مختصر زندگی کے پھلوں کو یاد کرنا قرین قیاس نہیں لگتا، اس لئے لفظ اور صورت حال کے مناسب مفہوم یہی لگتا ہے کہ وہ جنت کے پھلوں کو ان کی بے پناہ کثرت کی وجہ سے ایک دوسرے کے مشابہ قرار دیں گے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ آیت میں پھلوں کے لئے لفظ ما کے بجائے الذی استعمال کیا گیا ہے، جس سے مفہوم یہ نکلتا ہے کہ وہ ہر نیا پھل شوق کے ساتھ لیں گے، اورکسی پھل کے سلسلے میں ناپسندیدگی یا اُکتاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

(۲) فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ مِنْہُمْ قَوْلاً غَیْْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَہُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمْ رِجْزاً مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا کَانُواْ یَظْلِمُون۔ (الاعراف:۱۶۲)

’’تو ان میں سے ان لوگوں نے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے، اس کو بدل دیا کہی ہوئی بات سے مختلف بات سے۔ تو ہم نے ان پر ایک آفت سماوی بھیجی بوجہ اس کے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
اس ترجمہ میں دو باتیں قابل توجہ ہیں ایک تو آیت کے الفاظ میں مطلق ظلم کا ذکر ہے، ’’اپنی جانوں پر‘‘ دونوں مقامات پر مترجم قرآن کا اضافہ ہے، جسے اگر ذکر کرنا تھا تو قوسین میں کرنا چاہئے تھا۔
دوسری بات یہ کہ ’’اس کو بدل دیا کہی ہوئی بات سے مختلف بات‘‘ غلط ترجمہ ہے، کیونکہ کسی اور چیز کو بدلنے کی بات نہیں ہے بلکہ جو بات کہی گئی تھی اس کو دوسری بات سے بدل دینے کا ذکر ہے۔یہ سادہ سی بات ترجمہ کی غلطی سے گنجلک ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس آیت سے ملتی جلتی ذیل کی آیت کے ترجمہ میں مترجم نے ان دونوں پہلوؤں کی پوری رعایت کی ہے:

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ قَوْلاً غَیْْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَہُمْ فَأَنزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ رِجْزاً مِّنَ السَّمَاء بِمَا کَانُواْ یَفْسُقُون۔ (البقرۃ:۵۹)

’’تو جنھوں نے ظلم کیا انھوں نے بدل دیا اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی دوسری بات سے۔ پس ہم نے ان لوگوں پر جنھوں نے ظلم کیا، ان کی نافرمانی کے سبب سے آسمان سے عذاب اتارا‘‘۔(امین احسن اصلاحی)

(۳) أَلَیْْسَ اللَّہُ بِکَافٍ عَبْدَہُ وَیُخَوِّفُونَکَ بِالَّذِیْنَ مِن دُونِہِ وَمَن یُضْلِلِ اللَّہُ فَمَا لَہُ مِنْ ہَادٍ۔ (الزمر: ۳۶)

’’کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے؟ اور یہ تم کو ان سے ڈراتے ہیں جو اس کے سوا انھوں نے بنا رکھے ہیں۔ اور جس کو خدا گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں بن سکتا ہے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
اس ترجمہ میں (بِالَّذِیْنَ مِن دُونِہِ) کا ترجمہ ’’جو اس کے سوا انھوں نے بنا رکھے ہیں‘‘ کیا ہے، اس میں ’’انھوں نے بنا رکھے ‘‘ زائد ہے، درست ترجمہ ہوگا’’جو اس کے سوا ہیں‘‘۔
’’اور یہ (کفّار) آپ کو اللہ کے سوا اُن بتوں سے (جن کی یہ پوجا کرتے ہیں) ڈراتے ہیں‘‘۔(طاہر القادری، اس ترجمہ میں ’’ان بتوں سے‘‘ زائد ہے جس کا آیت کے الفاظ میں ذکر نہیں ہے)
آیت کا درست ترجمہ یوں ہے:
’’(اے نبی) کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟ یہ لوگ اْس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں حالانکہ اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اْسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں"(سید مودودی)

(۶۶) معجزین کا ترجمہ

معجزکا لفظی ترجمہ ہے، بے بس کردینے والا، اور جب سیاق کلام میں اللہ کی پکڑ کے تذکرہ کاہو، تو اس کا مطلب ہوگا اللہ کے قابو سے باہر نکل جانا والا۔وجہ واضح ہے کہ کلام میں اس کی نفی نہیں کی جارہی ہے کہ وہ اللہ کو بے بس کردیں گے، بلکہ یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذاب کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ عام طور سے مترجمین نے عاجز کرنے، تھکادینے اور بے بس کرنے کا مفہوم لیا ہے، جو لفظ کے مفہوم سے قریب ہے، البتہ بعض مقامات پر بعض مترجمین نے ہرانے اور مغلوب کرنے کا ترجمہ کیا ہے، یہ ترجمہ درست نہیں ہے، کیونکہ ہرادینے اور مغلوب کردینے میں جس مقابلہ آرائی کا تصور پایا جاتا ہے اس کا یہاں ذکر نہیں ہورہا ہے۔ حسب ذیل مثالوں میں اس فرق کو محسوس کیا جاسکتا ہے:

(۱) إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لآتٍ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِیْن۔ (الانعام :۱۳۴)

’’کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کر سکتے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ آکے رہے گی، اور تم (ہمارے) قابو سے باہر نہیں جاسکتے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

(۲) وَیَسْتَنبِئُونَکَ أَحَقٌّ ہُوَ قُلْ إِیْ وَرَبِّیْ إِنَّہُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُمْ بِمُعْجِزِیْن۔ (یونس :۵۳)

’’پھرپوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے جو تم کہہ رہے ہو؟ کہو ‘‘میرے رب کی قسم، یہ بالکل سچ ہے اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے ظہور میں آنے سے روک دو‘‘۔(سید مودودی)
’’اور وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات واقعی ہے؟ کہہ دو کہ ہاں ، میرے رب کی قسم، یہ شدنی ہے۔ اور تم قابو سے باہر نہیں نکل سکو گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، چونکہ ما جملہ حالیہ پر لگتا ہے، اس لئے نہیں نکل سکتے ، درست ترجمہ ہے، سورہ انعام والی آیت میں مترجم نے اس کی رعایت کی ہے۔)

(۳) أُولَئِکَ لَمْ یَکُونُواْ مُعْجِزِیْنَ فِیْ الأَرْضِ۔ (ہود : ۲۰)

’’یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) نہیں ہرا سکتے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’نہ یہ لوگ دنیا میں اللہ کو ہرا سکے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
’’یہ زمین میں خدا کے قابو سے باہر نہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

(۴) قَالَ إِنَّمَا یَأْتِیْکُم بِہِ اللّٰہُ إِن شَاءَ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِیْنَ۔ (ہود:۳۳)

’’نوح نے جواب دیا:’’وہ تو اللہ ہی لائے گا، اگر چاہے گا، اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے روک دو‘‘۔(سید مودودی)
’’جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ ہی لائے گااگروہ چاہے اورہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
’’نوح نے کہا کہ اس کو خدا ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔ اور تم (اُس کو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’اس نے جواب دیا کہ اس کو تو تم پر اللہ ہی لائے گا اگر وہ چاہے گا اور تم اس کے قابو سے باہر نہ نکل سکو گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی، یہاں بھی ما کی وجہ سے حال کا ترجمہ کرنا چاہئے ، درست ترجمہ ہے،تم اس کے قابو سے باہر نہیں نکل سکتے)

(۵) لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا مُعْجِزِیْنَ فِیْ الْأَرْضِ وَمَأْوَاہُمُ النَّارُ وَلَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۔ (النور:۵۷)

’’اور ایسا خیال نہ کرنا کہ تم پر کافر لوگ غالب آجائیں گے (وہ جا ہی کہاں سکتے ہیں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’یہ خیال آپ کبھی بھی نہ کرنا کہ منکر لوگ زمین میں (ادھر ادھر بھاگ کر) ہمیں ہرا دینے والے ہیں، ان کا اصلی ٹھکانا تو جہنم ہے جو یقیناًبہت ہی برا ٹھکانا ہے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
’’ان کافروں کی نسبت یہ گمان نہ کرو کہ یہ زمین میں ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے۔ اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بے شک نہایت ہی برا ٹھکانا ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)

(۶) فَأَصَابَہُمْ سَیِّئَاتُ مَا کَسَبُوا وَالَّذِیْنَ ظَلَمُوا مِنْ ہَؤُلَاء سَیُصِیْبُہُمْ سَیِّئَاتُ مَا کَسَبُوا وَمَا ہُم بِمُعْجِزِیْنَ۔ (الزمر :۵۱)

’’پھر ان کی تمام برائیاں ان پر آ پڑیں، اوران میں سے بھی جو گناہ گار ہیں ان کی کی ہوئی برائیاں بھی اب ان پر آ پڑیں گی، یہ (ہمیں) ہرا دینے والے نہیں‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
’’تو ان پر پڑ گئیں ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ جو ان میں ظالم ہیں عنقریب ان پر پڑیں گی ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ قابو سے نہیں نکل سکتے‘‘۔(احمد رضا خان)

(۷) وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِیْنَ فِیْ الْأَرْضِ وَمَا لَکُم مِّن دُونِ اللَّہِ مِن وَلِیٍّ وَلَا نَصِیْرٍ۔ (الشوریٰ: ۳۱)

’’اورتم زمین میں (پناہ لے کراس کو) ہرا نہیں سکتے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی بھی حامی ومددگار نہیں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
’’اور تم زمین میں قابو سے نہیں نکل سکتے اور نہ اللہ کے مقابل تمہارا کوئی دوست نہ مددگار‘‘۔(احمد رضا خان)

(۸) قَدْ قَالَہَا الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ فَمَا أَغْنَی عَنْہُم مَّا کَانُوا یَکْسِبُونَ۔ فَأَصَابَہُمْ سَیِّئَاتُ مَا کَسَبُوا وَالَّذِیْنَ ظَلَمُوا مِنْ ہَؤُلَاءِ سَیُصِیْبُہُمْ سَیِّئَاتُ مَا کَسَبُوا وَمَا ہُم بِمُعْجِزِیْنَ۔ (الزمر:۵۰۔۵۱)

’’ان سے پہلے والوں نے بھی یہ بات کہی تو ان کی کمائی ان کے کچھ کام آنے والی نہ بنی، پس ان کے اعمال کے برے نتائج ان کے سامنے آئے اور ان لوگوں میں سے بھی جنھوں نے شرک کیا ہے، ان کے سامنے ان کے اعمال کے برے نتائج جلد آکے رہیں گے۔اور یہ ہم کو ہرانے والے نہیں بن سکتے‘‘۔(امین احسن اصلاحی، ظَلَمُوا کا ترجمہ شرک کیا کرنا درست نہیں ہے۔)
’’ان سے اگلے بھی یہی بات کہہ چکے ہیں پس ان کی کارروائی ان کے کچھ کام نہ آئی ،پھر ان کی تمام برائیاں ان پر آ پڑیں، اوران میں سے بھی جو گناہ گار ہیں ان کی کی ہوئی برائیاں بھی اب ان پر آ پڑیں گی، یہ (ہمیں) ہرا دینے والے نہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی، وَالَّذِیْنَ ظَلَمُوا کا ترجمہ گناہ گار کرنا درست نہیں ہے)
’’ان سے اگلے بھی ایسے ہی کہہ چکے تو ان کا کمایا ان کے کچھ کام نہ آیا،تو ان پر پڑ گئیں ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ جو ان میں ظالم ہیں عنقریب ان پر پڑیں گی ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ قابو سے نہیں نکل سکتے‘‘۔(احمد رضا خان)
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ (وَالَّذِیْنَ ظَلَمُوا مِنْ ہَؤُلَاء) میں مِنْ تبعیض کا نہیں بلکہ بیانیہ ہے، ’’ان میں جنھوں نے ظلم کیا‘‘ کی بجائے ترجمہ ہوگا ’’اور یہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا‘‘آیتوں کا ترجمہ ہوگا:
’’ان سے پہلے والوں نے بھی یہ بات کہی تو ان کی کمائی ان کے کچھ کام آنے والی نہ بنی، پس ان کے اعمال کے برے نتائج ان کے سامنے آئے اوریہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا ، ان کے سامنے بھی ان کے اعمال کے برے نتائج جلد آکے رہیں گے۔اور یہ ہمارے بس سے نہیں نکل سکتے‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۶۷) فعل ماضی کا ترجمہ حال یا مستقبل سے

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَکَہُ یَنَابِیْعَ فِیْ الْأَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِہِ زَرْعاً مُّخْتَلِفاً أَلْوَانُہُ ثُمَّ یَہِیْجُ فَتَرَاہُ مُصْفَرّاً ثُمَّ یَجْعَلُہُ حُطَاماً إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَذِکْرَی لِأُوْلِیْ الْأَلْبَابِ۔ (الزمر:۲۱)

آیت مذکورہ میں پہلے دو افعال ماضی کے صیغے میں ہیں، جبکہ بعد کے تمام افعال مضارع کے صیغے میں ہیں، اس کی رعایت ترجمہ میں ہونا چاہئے تھی، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مترجمین نے اس فرق کی رعایت نہیں کی ہے، اور تمام افعال کا استمراری حال کا ترجمہ کیا ہے مندرجہ ذیل دو مثالیں ملاحظہ ہوں:
’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچاتا ہے، پھر اسی کے ذریعہ سے مختلف قسم کی کھیتیاں اگاتا ہے پھر وہ خشک ہو جاتی ہیں اور آپ انہیں زرد رنگ دیکھتے ہیں پھر انہیں ریزہ ریزہ کر دیتا ہے، اس میں عقل مندوں کے لئے بہت زیادہ نصیحت ہے‘‘۔(محمد جونا گڑھی)
’’دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی اتارتا ہے آسمان سے پانی، پس اس کے چشمے جاری کردیتا ہے زمین میں۔ پھر اس سے پیدا کرتا ہے کھیتیاں مختلف قسموں کی، پھر وہ خشک ہونے لگتی ہیں اور تم ان کو زرد دیکھتے ہو، پھر وہ ان کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے، بے شک اس کے اندر اہل عقل کے لئے بڑی یاددہانی ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
جبکہ مندرجہ ذیل ترجمہ میں صیغوں کے اس فرق کی پوری رعایت کی گئی ہے:
’’کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں، پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئیں، پھر آخرکار اللہ اْن کو بھس بنا دیتا ہے در حقیقت اِس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے"(سید مودودی)
(جاری)

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ (۷)

غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

روایات رجم میں جمع و تطبیق کے بعدباہم کوئی تعارض نہیں رہتا

روایات رجم کے اس تبصرۂ نا مر ضیہ میں البتہ دو چیزوں نہایت قابل غور ہیں جو ان فی ذلک لعبرۃ لمن کان لہ قلب او القی السمع وھو شھید کی مصداق ہیں:
ایک یہ کہ رجم کی کئی حدیثوں میں اس حد کو اللہ کا فیصلہ یا اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ قرار دیا گیا ہے حتیٰ کہ جس ایک روایت (حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی)سے غامدی صاحب نے بھی استدلال کیا ہے، اگرچہ اسے اپنی روایتی چالاکی کے مطابق غلط رنگ پیں پیش کیا ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارہ کر آئے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حد کو اللہ ہی کی طرف منسوب کیا ہے: قد جعل اللہ لھن سبیلا۔ لیکن ان روایات میں بیان کردہ اس حقیقت ثابتہ کو شیر مادر کی طرح ہضم کر گئے ہیں اور اس پر کچھ خامہ فرسائی نہیں فرمائی؛ صرف روایات کو کنڈم کرنے ہی کو کافی سمجھ لیا کہ جب یہ روایات ہی (نعوذ باللہ ) بے ہودہ یا ’منافق کی گھڑی ہوئی ‘ ہیں۔ (برہان، ص 62۔61) تو پھر ان کے ایک ایک جز پر بحث کی ضرورت ہی کیا ہے؟
دوسری بات؛ جس ایک روایت سے موصوف نے’استدلال ‘ کیا ہے ، اس میں بھی ایک تضاد موجود ہے لیکن اس تضاد کو نہایت آسانی سے ایک توجیہ کر کے خود ہی دور یا حل کردیا ہے ؛ فرماتے ہیں:
’’رجم کے ساتھ اس روایت میں سو کوڑے کی سزا بھی بیان ہوئی ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ محض قانون کی وضاحت کے لیے ہے۔ روایات سے ثابت ہے کہ نبی نے رجم کے ساتھ زنا کے جرم میں کسی شخص کو تازیانے کی سزا نہیں دی ؛اس کی وجہ یہ ہے کہ موت کی سزا کے ساتھ کسی اور سزا کا جمع کرنا حکمتِ قانون کے خلاف ہے ؛قانون کی یہ حکمت اسلامی شریعت ہی نہیں ، دنیا کے مہذب قانون میں ملحوظ رکھی گئی ہے۔ حبس، تازیانہ ، جرمانہ ، ان سب سزاؤں میں دو باتیں پیش نظر ہوتی ہیں : ایک معاشرے کی عبرت، دوسرے آیندہ کے لیے مجرم کی تادیب و تنبیہ ؛ موت کی صورت میں ظاہر ہے کہ تادیب و تنبیہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے؛ اس وجہ سے جب مختلف جرائم میں کسی شخص کو سزا دینا ہو اور ان میں سے کسی جرم کی سزا موت بھی ہو تو باقی سب سزائیں کالعدم ہو جا تی ہیں۔‘‘ (برہان ، ص 127)
حضرت عبادہ بن صامتؓ کی یہ روایت ہے جو اہل اسلام کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ واضح دلیل ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ شادی شدہ زانیوں کے لیے رجم اور غیر شادی شدہ کے لیے کوڑے ہیں لیکن اس روایت میں سو کوڑوں کے ساتھ جلاوطنی کی اور رجم کے ساتھ کوڑوں کی سزا کا بھی ذکر ہے ؛ اس ظاہری تضاد کو بعض دوسری روایات اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل نے دور کردیا کہ رجم کے ساتھ آپ نے عملاًکوڑوں کی سزا نہیں دی۔اس طرح کنوارے کے لیے کوڑوں کے ساتھ جلاوطنی کی سزا کوبھی دوسری روایات کی روشنی میں تعزیر کے زمرے میں رکھ کر حالات وضروریات کے مطابق حاکم وقت کے لیے گنجایش رکھی ہے کہ وہ چاہے تو دے دے ؛ ورنہ کوڑوں کی سزا ہی کافی ہوگی۔ اس طرح نہایت آسانی سے روایات میں سزاؤں میں کمی بیشی کا جو مسئلہ ہے جس کو غامدی صاحب تناقض باور کرا کے سب کو نا قابل اعتبار قرار دے رہے ہیں، آسانی سے حل ہوجاتا ہے اور تعارض اور تناقض باقی نہیں رہتا؛ اس کو محدثین کی اصطلاح میں’جمع وتطبیق ‘ کہا جاتا ہے۔اس طرح اور بھی بعض مسائل کی روایات میں اس طرح کے ظاہری تعارض کو بلکہ قرآن کریم کی بعض آیات کے ظاہری تعارض کو دور کیا گیا ہے لیکن ائمہ سلف اور فقہا و محدثین نے کبھی یہ روش اختیار کر کے یہ نہیں کہا کہ یہ روایات باہم متناقض ہیں؛ ان پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر غامدی صاحب اپنے اس دعوے میں سچے ہوتے کہ ’’میرے اور ائمہ سلف کے موقف میں بال برابر فرق نہیں ہے‘‘تو وہ بھی ان روایات رجم کو اپنی سخن سازیوں کے ذریعے سے ان میں بے معنی اشکالات پیدا کرکے اور ان کو الگ الگ دے کر نہایت بھونڈے انداز میں پیش کر کے ساقط الاعتبار قرار نہ دیتے بل کہ احادیث رسول کا احترام کرتے ہوئے ان کے مابین معمولی سے ظاہری تعارض کو ائمہ سلف کی طرح آسانی سے دور کر سکتے تھے جیسا کہ محدثین اور فقہا نے کیا ہے۔
اس میں دلچسپ لطیفہ یہی ہے کہ موصوف نے ایک روایت رجم کو اپنے مطلب کی سمجھ کر اس سے اپنے مفہوم تو اخذ کر لیا اور اس سے اوباشی کی سزا بھی ’ مستنبط ‘ فرمائی جب کہ اس میں قطعاً اس سزا کااشارہ تک بھی نہیں ہے تاہم انھوں نے جیسا کچھ استدلال کیا ، اس سے قطع نظر، استدلال تو کیا لیکن اس میں بھی تعارض موجود تھا جس کا حل آپ نے ان کے اقتباس میں ملاحظہ کرلیا ہے؛ یہی حل اور جمع و تطبیق کی اسی قسم کی صورتیں ائمہ سلف اور محدثین نے بھی پیش کی ہیں،وہ کیوں ناقابل قبول ہیں؟ اسی لیے ناقابل قبول ہیں کہ اصل مقصود احادیث کا ردّ اور ان کا انکار ہے اور یہ انکار کیوں ہے ؟ کہ اس کے بغیر ان کا خانہ ساز نظریہ رجم ع ’پاے چوبیں سخت بے تمکین بود‘ کامصداق ثابت ہوجاتا ہے۔

اپنے بلند بانگ دعوے کی خود ہی تردید

ذرا دیکھیے غامدی صاحب کتنی بلند آہنگی کے ساتھ احادیث رجم کو ناکارہ ثابت کرنے کے بعد دعویٰ کرتے ہیں:
’’رجم کے بارے میں یہی روایات ہیں جو احادیث کی کتابوں میں مختلف طریقوں سے بیان ہوئی ہیں؛ ان کا ذرا تدبر کی نگاہ سے مطالعہ کیجیے۔ پہلی بات جو ان روایات پر غور کرنے سے سامنے آتی ہے، وہ ان کا باہمی تناقض ہے جسے نہ ان پچھلی تیرہ صدیوں میں کوئی شخص کبھی دور کرنے میں کام یاب ہوا ہے اور نہ اب ہوسکتا ہے۔‘‘ (برہان، ص 60)
غامدی صاحب کا انصاف بھی ملاحظہ ہو اور عقل و دانش کی مقدار بھی (جس کی وہ مدارس دینیہ سے نفی کرتے ہیں) (برہان ، ص 75) کہ جن روایات کو ہدف تنقید بنا کر ان کو ردّ کیا ہے،ان میں سب سے پہلی روایت وہی ہے جس کو خود اپنے استدلال میں انھوں نے پیش کیاہے ؛ اگر ان میں عقل و دانش کی تھوڑی سی بھی مقدار ہوتی تو وہ ان ’مجروح اور مطعون‘ روایا ت میں کم از کم اس روایت کو تو شامل نہ کرتے جس کو خود انھوں نے بناے استدلال بنایا ہے۔
اور ان کا انصاف بھی دیکھیے کہ ایک طرف فرما رہے ہیں کہ ’’ان روایات کا باہمی تناقض پچھلی تیرہ صدیوں میں کوئی شخص کبھی دور کرنے میں کام یاب ہوا ہے اور نہ اب ہوسکتا ہے۔‘‘ لیکن پھر خود ہی عبادہ بن صامت کی ’مجروح و مطعون ‘ روایت کا تضاد بھی ایک توجیہ پیش کر کے دور کر دیا ہے ؛ چہ خوب؟
محترم! آپ تیرہ صدیوں کے ائمہ ، فقہا اور محدثین کی بابت نہایت بلند آہنگی سے دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ ان کا باہمی تناقض دور نہیں کر سکے ؛ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس دعوے کو آپ ہی کی ’زبان مبارک ‘ سے غلط ثابت کر دیا۔ آپ نے جو ایک روایت کی توجیہ کر کے اس کا تناقض دور کیا ہے؛یہ حل آپ کا نہیں ہے، ائمہ سلف ہی کا ہے ؛ اسی لیے توتمام روایات رجم تیرہ صدیوں ہی سے نہیں،چودہ صدیوں سے مسلم چلی آرہی ہیں؛کسی امام،فقیہ ، محدث نے نہیں کہا کہ روایات رجم باہم متناقض ہونے کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہیں ؛ اس لیے کہ جن باہم متعارض روایات کا توجیہ یا جمع و تطبیق کے ذریعے سے محمل تلاش کرلیا جاتا ہے، اس کے بعد نہ ان کے تعارض کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے اور نہ ان کا ردّ کیا جاتا ہے۔

غامدی صاحب کی ایک اور زیرکی و فن کاری

ایک اور نہایت دلچسپ لطیفہ یا غامدی صاحب کی زیر کی یا ہاتھ کی صفائی ملاحظہ ہو کہ پندرھویں صدی ہجری ہے لیکن غامدی صاحب حوالہ دے رہے ہیں’پچھلی تیرہ صدیوں ‘ کا؛ ایک صدی یا سواصدی کا زمانہ درمیان سے ہی خارج کر دیا ہے ؛ یہ کیا ہے ؟ یہ کو ئی ذہول یا نسیان ہے ؟ نہیں ‘ہر گز نہیں، بلکہ یہ ان کے ہا تھوں کی وہ صفائی ہے جس میں وہ بڑے مشاق ہیں ؛ اس عبارت میں بھی انھوں نے اسی فن کاری کا مظاہری کیا ہے ؛ وہ کس طرح ؟ ملاحظہ فرمائیں :
آپ ان کے پچھلے اقتباسات میں پڑھ آئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پوری امت مسلمہ کو رجم کی سزا کا تو علم تھا اور نبی اور خلفاے راشدین نے یہ سزا دی بھی لیکن یہ کسی کو علم نہیں تھا کہ یہ سزا ہے کس جرم کی ؟ اس عقدے کو ’ تیرہ صدیوں ‘ کے بعد امام فراہی نے حل کیا کہ یہ سزا درا صل اوباشی اور آوارہ منشی کی تھی۔
فراہی صاحب کی تاریخ ولادت 1280ھ مطابق 1863ء اور تاریخ وفات 1349ھ ہے؛ گویا ان کا زمانہ آج سے ایک صدی یا اس سے کچھ زیادہ ‘ قبل کا ہے؛ اب یہ پندرھویں صدی ہے ؛ اس پندرھویں صدی سے ایک صدی نکال دیں تو چودھویں صدی نکل جا تی ہے اور تیرھویں اور چودھویں صدی فراہی صاحب کا عرصہ حیات ہے اور جب مسئلہ رجم کی عقد کشائی فراہی صاحب سے پہلے نہیں ہو ئی تو امت مسلمہ کی تاریکی کا دور جس میں وہ اپنے پیغمبر سمیت ڈوبی رہی ، تیرہ صدیوں تک ہی محیط بنتا ہے ؛ اس تاریکی سے صاحبِ وحی و رسالت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اور ان کی امت کو بھی تیرہ صدیوں کے بعد چودھویں صدی میں امام فراہی نے نکالا؛ یو ں غامدی صاحب کے اس فرمان سے کہ ’’روایات کے تناقض کو پچھلی تیرہ صدیوں میں کوئی شخص دور کرنے میں کام یاب ہو اہے اور نہ اب ہو سکتا ہے‘‘ اس تناقض کو دور کرنے کا کریڈیٹ اپنے امام کو دینا مقصود ہے؛ اس لیے انھوں نے چودہ صدی کے بجاے تیرہ صدی کے الفاظ استعمال کرکے نہایت چابک دستی اور فن کاری کا مظاہرہ کیا ہے:
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
’پچھلی تیرہ صدی ‘ کے الفاظ میں یہی پردہ داری تھی جس کی پردہ دری اللہ کی توفیق سے ہم نے کردی ہے ؛ دلوں کے بھید تو یقیناًاللہ ہی جانتا ہے لیکن لفظوں کا ہیر پھیر بھی بسا اوقات باطن کی غمازی کر دیتا اور دلوں کے راز اگل دیتاہے۔
لیکن ہم غامدی صاحب اور ان کے ہم نواؤں سے عرض کریں گے کہ امت کے اس دور ظلمت کو تیرہ صدیوں تک ہی نہ رکھیں بلکہ اس کو از عہد رسالت تا ایں دم ہی رہنے دیں؛ امت مسلمہ کو اپنی اسی تاریکی میں رہنا پسند ہے جس میں اس کے رسول، اس کے خلفاے راشدین اور امت کے تمام ائمہ و فقہا اور محدثین رہے ہیں؛ ان کو اپنی اس تاریکی پر فخر ہے کیوں کہ اس کے پس منظر ، پیش منظر اور تہ منظر میں160رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اور خلفاے راشدین سمیت تمام صحابہ ہیں اور پوری امت کے ائمہ حدیث و فقہ اور اساطین علم ہیں اور ہمارے فخر کے لیے یہی کافی اور بس ہے۔ ہمیں ایسی ’روشنی ‘ نہیں چاہیے جس سے ہمارا سر رشتہ احادیث رسول سے کٹ جا ئے ؛ سنت خلفاے راشدین سے کٹ جائے اور ہماری راہ امت مسلمہ کے جادہ مستقیم سے ہٹ جائے۔ 

مغالطات ، تضادات اور بلادلیل دعوے 

الحمد للہ گذشتہ مباحث سے واضح ہو گیا کہ حدیث و سنت کے معاملے میں مفہوم ومطلب سے لے کر اس کی حجیت تک، فراہی نظریہ ائمہ سلف سے یک سر مختلف ہے۔ اہل اسلام کے نزدیک حدیث و سنت ہم معنی الفاظ ہیں؛ حدیث کہو یا سنت، دونوں سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، اعمال اور تقریرات ہیں۔یہ دین میں حجت ہیں ؛ ان سے قرآن کے عموم کی تخصیص جا ئز ہے ؛ یہ قرآن کی وہ تبیین ہے جس کا حکم اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آیت: وَانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم ( الخل 16: 44)میں دیا اور اس کے مطابق آپ نے ایسے کئی احکام بیان فرمائے جو قرآن میں نہیں ہیں؛ صحابہ کرام نے ان کو تسلیم کیا اور آج تک وہ مسلم چلے آرہے ہیں۔
یہ مباحث علمی دلائل کے ساتھ پچھلے صفحات میں گزرچکے ہیں؛ ان میں بعض جگہ قارئین تکرار بھی محسوس کریں گے لیکن تشریح160و توضیح اور غامدی صاحب کے رنگ بدل بدل کریا پینتر ا بدل بدل کر سخن سازی کی نوعیت و حقیقت واضح کرنے کے لیے نا گزیر تھی۔اب ہم اگلے صفحات میں ان کے دام ہم رنگ زمین کا شکار ہونے والے خام ذہن کے لوگوں کے لیے ان کے چند تضادات، مغالطات اور بلا دلیل دعووں کی وضاحت کریں گے تاکہ اللہ تعالیٰ اگر ان کو سو چنے سمجھنے کی توفیق دے تو وہ ان صاحب کی اصل شخصیت اور روپ بہروپ کو اصل شکل میں دیکھ سکیں؛ ان شاء اللہ اس میں ان کے لیے ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار کا سامان ہو گا۔

مغالطہ انگیزی 

موصوف کی ایک صفت یا مجبوری، دیگر اہل باطل کی طرح، مغالطہ انگیزی ہے جس کے نمونے پچھلے صفحات میں گزرے ہیں؛ اس لیے کہ ان کا سارا موقف یا نظریہ ہی مغالطات پر مبنی ہے؛ مثلاً :
1۔ دیکھے! ان کا یہ دعویٰ کتنا بڑا مغالطہ ہے کہ میرے مو قف اور ائمہ سلف کے موقف میں سرمو ( بال برابر) فرق نہیں ہے ؛ کیا یہ حقیقت ہے یا جھوٹ؟ یقیناًجھوٹ بلکہ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے ؛ پھر یہ مغالطہ انگیزی، فریب کاری اور دجل و تلبیس کے سوا کیا ہے ؟
موصوف لکھتے ہیں:
’’تنقید سے بالا تر اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف کتاب و سنت ہیں اور ان کی تعبیر و تشریحکا حق ہر اس شخص کو حاصل ہے جو اپنے اندر اس کی اہلیت پیداکر لے۔‘‘ (برہا ن، ص 37)
یہاں ’کتاب و سنت ‘ کے الفاظ کا استعمال بھی سراسر فریب کاری اور یہ تاثر دینا ہے کہ وہ بھی اہل اسلام کی طرح کتاب و سنت کو تنقید سے بالا تر سمجھتے اور ان کی حقانیت کے قائل ہیں، لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ہر گز نہیں ؛ ان کے نزدیک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں محفوظ ہی نہیں ہیں۔ احادیث کے مجموعوں160میں سنتیں ہی درج ہیں ؛ اس لیے محدثین نے اپنے مجموعہ احادیث کے ناموں ہی میں ’سنن‘ کا لفظ ساتھ رکھا ہے : سنن ابی داود ، سنن ابن ماجہ،سنن نسائی ، سنن ترمذی وغیرہ اور ان سب میں160احادیث رسول فقہی ابواب کے مطابق جمع ہیں۔ موصوف نے پہلے حدیث اور سنت دونوں کو الگ الگ کردیا ؛ احادیث کو ویسے ہی مشکوک یا غیرمحفوظ یا (نعوذ باللہ) قرآن کے خلاف اور قرآن میں تغیر و تبدل قرار دے دیا۔ جس کو وہ سنت کہتے ہیں،اس کا کہیں کسی کتابی شکل میں وجودیا ریکارڈہی نہیں ہے؛ ان کا وجود اگر کہیں ہے تو صرف غامدی صاحب کے نہاں160خانہ قلب میں ہے یا وہ ان کے لوح حافظہ پر ثبت ہیں اور دونوں جگہیں ایسی ہیں کہ جہاں ان کے علاوہ ان کو کوئی اور ملاحظہ کرہی نہیں سکتا ؛اگر کہا جا ئے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ان سنتوں کی بنیاد عملی تواترہے تو عملی تواتر کی اصلاح تو یک سر مبہم ہے۔ اہل اسلام کے نزدیک تو تمام احادیث صحیحہ عملی تو اتر سے ثابت ہیں؛ اس معنی میں کہ ان احادیث کو اپنی کتابوں میں درج کرنے والوں نے اپنے سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سلسلہ اسناد کا اتصال ثابت کیا ہے ؛ اسی لیے صحیح حدیث کہا ہی اس کو جا تا ہے جو مرفوع و متصل ہو اور سلسلہ روات عادل ، ضابط اور ثقہ افراد پر مبنی ہو ؛ یہ قولی اور عملی تواتر کا ایسا بے مثال نمونہ ہے جس کی کوئی دوسری نظیر تاریخ انسانیت میں نہیں ہے۔
علاوہ ازیں انھوں نے ان سنتوں کی بھی تحدید کردی ہے کہ وہ 27 ہیں؛ اگر کہا جا ئے کہ ان کے عملی تواتر کی بنیاد یا ثبوت کیا ہے؟ ظاہر بات ہے کہ اس کا آغاز صحابہ ہی سے کیا جائے گا؛ سوال یہ ہے کہ صحابہ نے صرف ان 27سنتوں ہی پر عمل کیا تھایاتمام سنتوں( احادیث)پر عمل کیاتھا؟ اس لیے سب سے پہلے تو اس سوال کاجواب اوراس کا ثبوت دیا جائے کہ صحابہ نے صرف ان 27 اعمال ہی کو سنت سمجھ کر عمل کیا اور دوسرے تمام اعمال کو غیر سنت سمجھ کر عمل نہیں کیا۔ اگر صحابہ نے بغیر تحدید (حد بندی) کے ہر سنت و حدیث پر عمل کیا ہے اور یقیناًانھوں نے ایسا ہی کیا ہے اور اس کا ثبوت کتابوں میں محفوظ احادیث نبویہ ہیں اور صحابہ کو دیکھ کر تابعین و تبع تابعین نے کیا؛ وَھَلُمَّ جْرّا۔اسی طرح تمام احادیث رسول پر تمام صحیح العقیدہ و العمل مسلمان عمل کرتے آرہے ہیں؛ اس اعتبار سے تمام احادیث عملی تواتر کا نمونہ ہیں۔ اب یہ غامدی گروپ کی ذمے داری ہے کہ وہ اس ذخیرہ احادیث سے ماورا اپنی 27سنتوں کا تحریری ثبوت نسل در نسل کے حساب سے پیش کریں جیسے الحمدللہ ہمارے پاس تمام سنتوں (حدیثوں ) کا نسلاً بعد نسلٍ تحریری ثبوت موجود ہے۔

غامدی صاحب کے نزدیک ’سنت‘ کیا ہے؟

اس کی وضاحت غامدی صاحب نے اپنی مایہ ناز کتاب ’میزان ‘ میں پوری تفصیل سے کی ہے ؛ اقتباس اگرچہ طویل ہے لیکن انھی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں تو بہتر ہے تاکہ دنیا دیکھ لے کر ان کے موقف اورائمہ سلف کے موقف میں کتنا بعد المشرقین ہے اور ان کے درمیان اتنی وسیع خلیج حائل ہے کہ جسے لفاظی اور سخن سازی سے پاٹنا ناممکن ہے؛ موصوف اپنی نو دریافت 27سنتوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ قرآن سے پہلے ہی(عرب معاشرے میں) یہ سب چیزیں پہلے سے رائج ، معلوم ومتعین اور نسلاً بعد نسلٍ جاری ایک روایت کی حیثیت سے پوری طرح متعارف تھیں ؛ چناں چہ اس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ قرآن ان کی تفصیل کرتا؛لغت عرب میں جو الفاظ ان کے لیے مستعمل تھے، ان کا مصداق لوگوں کے سامنے موجود تھا۔ قرآن نے انھیں نمازقائم کرنے یازکاۃ ادا کرنے یا روزہ رکھنے یاحج و عمرہ کے لیے آنے کا حکم دیا تو وہ جانتے تھے کہ نماز، روزہ،زکات اورحج و عمرہ کن چیزوں کے نام ہیں؛ قرآن نے ان میں سے کسی چیز کی ابتدانہیں کی، ان کی تجدید واصلاح کی ہے اور وہ ان سے متعلق کسی بات کی وضاحت بھی اسی حد تک کرتا ہے جس حد تک تجدید واصلاح کی اس ضرورت کے پیش نظر اس کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔
اس کے بعد موصوف فرماتے ہیں:
’’دین ابراہیمی کی روایت کا یہ حصہ جسے اصطلاح میں سنت سے تعبیر کیا جاتاہے؛ قرآن کے نزیک خداکادین ہے۔ ‘‘(میزان، ص46)
سمجھے آپ؟ آپ غامدی صاحب کی نودریافت سنتوں کی فہرست پر جو ہم پہلے نقل کر آئے ہیں، ایک نظر ڈال لیں؛ ان کی بابت ان کا کہنا یہ ہے کہ عربوں میں یہ پہلے ہی متعارف تھیں ؛ لغت عرب کی رو سے بھی یہ چیزیں ان کامصداق تھیں؛ جب قرآن نے بھی ان کے کرنے کا حکم دیا تو ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف قرآن کا حکم ہے،اس نے ان کی ابتدا کی ہے بلکہ ان کو پہلے ہی معلوم تھا کہ نماز ، روزہ،زکات اور حج و عمرہ کن چیزوں کے نام ہیں؟اس ساری دراز نفسی کا مقصد کیا ہے؟ صرف یہ ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ قرآن میں کہ نماز ، روزہ،زکاۃ وغیرہ کے جواحکام ہیں، ان کی تفصیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی ہے جو احادیث میں محفوظ ہے؛اس اقتباس میں غامدی صاحب نے کمال ہشیاری اور نہایت فن کاری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شرح و تفصیل کے منصب سے بھی فارغ کر دیا ہے۔ جب اس شرح وتفصیل کی ضرورت ہی نہیں ہے؛ عربوں کو معلوم تھا کی اللہ نے نماز پڑھنے کا،زکاۃ ادا کرنے کا،حج وعمرہ کرنے کا حکم دیاہے وغیر ہ وغیرہ تو وہ چوں کہ پہلے ہی ان پر عمل پیرا تھے؛ وہ ان سے متعارف تھے، انھوں نے اس پر عمل شروع کردیا؛ ان کو ان کا طریقہ یا ان کی تفصیل پیغمبر سے معلوم کرنے کی نہ ضرورت تھی اور نہ یہ آپ کا منصب ہی تھا ؛ زیادہ سے زیادہ آپ نے جو کام کیا، وہ صرف ان کی اصلاح وتجدید تھی۔
لیکن اصلاح و تجدید بھی نہایت مبہم اصطلاح ہے اور مقطع میں سخن گسترانہ انداز کی بات ہے۔۔۔۔۔ورنہ اصلاح و تجدیدکا مفہوم تو اس وقت تک واضح نہیں حوسکتا جب تک یہ واضح نہ کیا جائے کہ قرآن کے حکم یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرح وتفصیل سے پہلے عرب معاشرے کے لوگ نما ز کس طرح پڑھتے تھے؛ زکاۃ کس طرح ادا کرتے تھے ؛ قربانی کس طرح کرتے تھے وغیرہ وغیرہ؛ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ یہ تجدید اور یہ یہ اصلاح کی۔اگر ان تمام احکامات کا طریقہ وہی تھا جس پر صحابہ کرام نے نزول قرآن کے وقت یا بعد میں عمل کیا،پھر تو واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شرح و تفصیل یعنی احادیث کی ضرورت نہیں رہتی اور غامدی گروپ جو رسول اللہ کو قرآن کے شارح اور مبین کی حیثیت سے فارغ کرنا چاہتا ہے، اس کی ایک معقول وجہ سمجھ میں آسکتی ہے۔ لیکن اگر غامدی گروپ کی طرف سے یہ وضاحت نہیں کی جاتی تو اس بے بنیاد سخن سازی کا مقصد اس کے سوا کیا ہے کہ دراصل یہ گروہ احادیث رسول کو یک سر بے فائدہ اور ایک دفتر بے معنی باور کرانا چاہتا ہے کہ ان تمام احکامات کو عرب پہلے ہی جانتے تھے؛ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوئی توضیح وتفصیل نہیں کی ہے؛اگر کی بھی ہے توان کی کوئی حیثیت نہیں؛اصل سنت تو دین ابراہیمی کی روایت ہے جسے اصطلاح میں سنت سے تعبیر کیا جاتاہے۔
اس سیاق میں دیکھ لیجیے، سنت سے مراد سنت نبوی ہے جو اہل اسلام میں متعارف ہے یااہل جاہلیت کی سنت ہے جسے دین ابراہیمی کی روایت کا خوش نماعنوان دیاگیاہے؟موصوف نے دین ابراہیمی کی روایت کی جس طرح توضیح کی ہے،وہ تو اس وقت تک اہل جاہلیت ہی کی سنت سمجھی جائے گی جب تک وہ عربوں کے طریقہ نماز و زکاۃ کی تفصیل بھی بیان نہیں کریں گے کیوں کہ قرآن نے مجمل طور پر تو بعض چیزوں کی بابت یقیناًوضاحت کی ہے کہ پچھلی شریعتوں میں بھی ان کا سلسلہ تھا جیسے قربانی کا تصور حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے ہی سے ملتا ہے ؛ نماز،زکاۃ، روزہ،حج ،عمرہ کا بھی ذکر ملتا ہے مگر محض ان چند چیزوں کے ناموں کے ذکر سے کیا معلوم ہوتاہے یاہوسکتا ہے کہ وہ نماز کس طرح پڑھتے تھے ؟ زکاۃ کی ادائیگی کی کیا صورت تھی ؟حج ، عمرہ کس طرح کرتے تھے؟روزہ کس طرح رکھتے تھے؟وغیرہ وغیرہ۔ ان کا طریقہ اور ان کی تفصیلات تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے بیان فرمائی ہیں جس سے جان چھڑانے کے لیے یہ سارے پاپڑ بیلے جا رہے ہیں لیکن ان بے معنی سخن سازیوں اور یک سرے بے بنیاد دعووں اور باتوں سے تو احادیث کی تشریعی حیثیت کو ختم نہیں کیا جا سکتا : ع پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جا ئے گا۔
غامدی صاحب چاہتے ہیں،سانپ بھی مر جائے اور لا ٹھی بھی نہ ٹوٹے ؛حدیث رسول کی تشریعی حیثیت بھی ایک سوالیہ نشان بن جائے اور اس کا الزام بھی ان کے سر نہ آئے ؛ اس لیے وہ بار بار سنت کا نام بھی لیتے ہیں اور اس کے سینے میں چھرا گھونپنے سے باز بھی نہیں آتے:
کیا خوب پردہ ہے چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں
مزید سنیے، سنت کے اسی جاہلی تصور کی بابت لکھتے ہیں :
’’سنت قرآن کے بعد نہیں بلکہ قرآن سے مقدم ہے ؛ اس لیے وہ لازماً اس کے حاملین کے اجماع و تواتر ہی سے اخذکی جائے گی ؛قرآن میں جن احکام کا ذکر ہوا ہے ، ان کی تفصیلات بھی اسی اجماع و تواتر پر مبنی روایت سے متعین ہوں گی ؛ انھیں قرآن سے بہ راہ راست اخذکی کوشش نہیں کی جائے گی جس طرح کہ قرآن کے بہ زعم خود بعض مفکرین نے اس زمانے میں کی ہے اور اس طرح قرآن کا مدعا بالکل الٹ کر رکھ دیاہے۔‘‘ (میزان،ص47)
قرآن سنت سے مقدم ہے،پڑھ کر اس خوش فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیے کہ غامدی صاحب نے سنت کی اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے بلکہ یہاں سنت سے مراد وہی اہل جاہلیت کی سنت ہے جو یقیناًقرآن کے نزول سے پہلے تھی ؛ اس لیے کہ پچھلے اقتباس میں وہ وضاحت کر چکے ہیں کہ عرب نزول قرآن سے پہلے نماز، زکاۃ، روزہ وغیرہ سے متعارف تھے، اس لیے قرآن میں ان کی تفصیلات کاذکر ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شر ح و تفصیل بیان کرنے کی ضرورت تھی۔ اس لحاظ سے ظاہر بات ہے کہ یہ سنت جاہلیہ اور بہ قول غامدی صاحب دین ابراہیمی کی روایت قرآن سے پہلے یعنی قرآن پر مقدم ہے یعنی قرآن میں نازل ہوا ہے اور عرب ان سنتوں پر پہلے ہی سے عمل پیرا تھے ؛ اسی لیے وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ سنت لازماً اس کے حاملین کے اجماع و تواتر ہی سے اخذ کی جا ئے گی؛ قرآنی احکام کی تفصیلات بھی اسی اجماع وتواتر پر مبنی روایت سے متعین ہوں گی ؛انھیں قرآن سے بہ راہ راست اخذکی کوشش نہیں کی جائے گی۔
جب سنّت وہ ہے جس پر اہل عرب قرآن سے پہلے عمل کرتے تھے تو اس سنت کے حاملین کون ہوئے؟ اہل جاہلیت ہی، اس لیے سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل یا صحابہ کے قول سے نہیں، کیوں کہ یہ تو سب نزول قرآن کے بعد کی باتیں ہیں بلکہ اہل جاہلیت کے اجماع و تواتر سے لی جائے گی ؛ اس لیے کہ وہی قرآن سے پہلے دین ابراہیمی کی روایت کے حاملین تھے اور انھی حاملین سنت جاہلیہ کے اجماع و تواتر پر مبنی روایت ہی سے قرآنی احکام کی تفصیلات بھی متعین ہوں گی ؛انھیں قرآن سے بہ راہ راست اخذ کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔
لو! پہلے تو حدیث بھی کی عدم محفوظیت کا دعویٰ تھا؛ اب قرآن بھی ان کی ترک تازیوں کا نشانہ بن گیا ہے اور اس پر بھی سنت جاہلیہ کے حاملین اور ان کے اجماع و تواترکی حکومت قائم ہوگئی ہے؛ سنت نبویہ سے جان چھڑاتے چھڑاتے قرآن سے بھی جان چھوٹ گئی ؛ پہل یتو ان کے خود ساختہ نظریات میں سنت و حدیث رکاوٹ تھی ؛اب قرآن کا سنگ گراں بھی راستے سے ہٹادیاگیاہے۔ 
لیکن ٹھہریے ! قرآنی احکام کی تفصیلات بہ راہ راست قرآن سے اخذ نہیں کی جائیں گی کیوں کہ اہل جاہلیت کا عمل ہی کافی ہے البتہ فراہی گروہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا خود ساختہ اور بے بنیاد نظریہ بہ راہ راست قرآن سے اخذ کریں اور پھر اس پر فخر کریں کہ تیرہ سو سال بعد ہم نے قرآن سے او باشی کی سزا ڈھونڈ نکالی ہے جو آج تک کسی کو نظر نہیں آئی حالاں کہ وہ نصوص قرآنی پر مبنی ہے ؛ یہ کا م ماشاء اللہ !چشم بد دور جو ہم نے کیا ہے ، کسی رستم سے بھی نہ ہوا ہو گا۔
اس تفصیل کی روشنی میں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا یہ فرمان مغالطے کے سوا کیا ہے کہ’’ تنقید سے بالا تر اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف کتاب و سنت ہیں۔ ‘‘(برہان، ص 37)
اس لیے کہ اہل اسلام میں سنت کا جو متعارف معنی اور اصطلاحی مفہوم ہے؛ موصوف اس کو مانتے ہی نہیں ہیں تو پھر ان کا یہ نعرہ مستانہ آنکھوں میں دھول جھونکنا نہیں ہے توکیا ہے؟ 

تشریح و تعبیر کا حق کس کو حاصل ہے؟

پھر یہ بات بھی خوب ہے کہ ’’ان کی تشریح و تعبیر کا حق ہر اس شخص کو حاصل ہے جو اپنے اندر اس کی اہلیت پیداکر لے۔‘‘ (برہان، ص 37)
اس طرح وہ اپنا تو یہ حق سمجھتے ہیں کہ قرآن و سنت کی جس طرح چاہیں ، تشریح و تعبیر کریں ؛چاہے وہ تشریح و تعبیرائمہ سلف سے کتنی ہی مختلف اور اقبال کے ان اشعار کی مصداق ہو:
قرآن کو بازیچہ تاویل بنا کر
چاہے تو خود اک تازہ شریعت کرے ایجاد
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقہیان حرم بے توفیق
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآن کو کر سکتے ہیں پازند
ولے تاویل شاں در حیرت انداخت
خدا و جبریل مصطفےٰ را
لیکن دوسرے مفکرین حدیث کو وہ یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں ؛ چناں چہ لکھتے ہیں:
’’انھیں قرآن سے بہ راہ راست اخذ کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی جس طرح کہ قرآن کے بہ زعم خود بعض مفکرین نے اس زمانے میں کی ہے اور اس طرح قرآن کا مدعا بالکل الٹ کر رکھ دیاہے۔‘‘
ہو سکتا ہے اس سے ان کا اشارہ ان منکرین حدیث کی طرف ہو جو انھی کی طرح ا حادیث کوغیر معتبر اور ماخذشرعی نہیں مانتے؛ جب آپ اور وہ ایک ہی کشتی کے سوار،ایک ہی منہج کے حامل،ایک ہی فکر اور نظریے کے داعی،ایک ہی منزل کے راہی اور سلف کی تفسیر وتشریح دین کے یک ساں دشمن ہیں؛اس مغایرت کے اظہار کے کیامعنی؟اور ان پر نشترزنی کیوں؟ اگر آپ کے اندر یہ اہلیت ہے کہ تمام ائمہ اعلام اور اساطین علم کے موقف کے برعکس سنت رسول کا تیا پانچا کر دیں؛ قرآن میں تحریف معنوی کا ارتکاب کر کے اپنے من گھڑت نظریے کو قرآن کے سر منڈھ دیں تو دوسرا منکر حدیث بھی آپ جیسی اہلیت کا مدعی ہو کر قرآن کے صلاۃ وزکاۃ کے مفہوم کو بدل ڈالے تواس کو اس کی اجازت کیوں نہیں ہے؟ بنا بریں دوسرے منکرین حدیث اور بہ زعم خود مفکر بننے والوں سے اپنے آپ کو مختلف باور کرانا بھی ایک مغالطہ انگیزی اور سراسر دھوکہ اور فریب ہے جب کہ اصل ہیں دونوں ایک ہیں:
کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدائی ہو گی
یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہو گی
تاہم غامدی صاحب کے اس قول سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ قرآن وحدیث کی تشریح و تعبیر کا حق صرف اسی کو حاصل ہے جوائمہ سلف کی تشریح و تعبیر کا پابند ہو؛ اس کی تشریح و تعبیر بھی سلف کے منہج صحیح کی آئینہ دار ہو ؛ گو خود ان کی تشریح و تعبیربھی اس کے بالکل برعکس ہے۔
(جاری)

فضلائے مدارس کے روزگار کا مسئلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عید الفطر کی تعطیلات ختم ہوتے ہی دینی مدارس میں تعلیمی سرگرمیوں کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ چند روز تک داخلوں کا آغاز ہو رہا ہے اور ہزاروں مدارس میں لاکھوں طلبہ و طالبات نئے سال کی تعلیمی ترجیحات طے کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ گزشتہ سال فارغ ہونے والے ہزاروں طلبہ و طالبات اپنے لیے نئی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کی تلاش کر رہے ہیں۔ دینی مدارس کے فضلاء کے لیے روزگار اور مختلف قومی شعبوں میں دینی خدمات کے حوالہ سے ذہن سازی اور منصوبہ بندی ہماری ترجیحات میں عمومی طور پر شامل نہیں ہوتی بلکہ اسے دینی دائرے سے انحراف کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ مگر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے 1937ء کے دوران علی گڑھ میں مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی پچاس سالہ تقریب میں صدارتی خطبہ کے دوران اس مسئلہ کو دینی اداروں کے انتہائی اہم قرار دیا تھا۔ حضرت مدنیؒ کے خطبۂ صدارت کا اس عنوان سے متعلقہ حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس پہلو پر سنجیدہ غور و خوض کی درخواست کے ساتھ کہ دینی مدارس کے فضلاء کے بارے میں جن تجاویز پر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے برطانوی حکومت سے معاملات طے کرنے کی بات فرمائی تھی، کیا ان تجاویز پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مسلمان حکومت کے ساتھ گفتگو نہیں کی جا سکتی؟ 
اس خطبہ صدارت میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر اور دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ:
’’چونکہ اسلامی تعلیمات، اسلامی تواریخ، اسلامی معاشرت، اسلامی تمدن، اسلامی علوم و فنون یہ سب عربی زبان میں ہیں، اس ساڑھے تیرہ سو برس میں مسلمانوں نے بڑے بڑے مذہبی اور تمدنی انقلابات برپا کیے ہیں اور علوم و فنون کے بہت سے شعبوں میں مسلمانوں کا مستقل اور پائیدار اثر قائم ہوا ہے، اور یہ سب کچھ عربی زبان میں ہے۔ مسلمانوں کے خاص خاص علوم ہیں جو اور کسی زبان میں پوری طرح نہ مکمل ہو سکتے ہیں نہ ترجمہ کیا جا سکتا ہے۔ جیسے حدیث، تفسیر، اصول، اسماء الرجال وغیرہ۔ الفرض مسلمانوں کا سارا علمی سرمایہ عربی زبان میں ہے، اس لیے من حیث القوم مسلمان عربی تعلیم کے لیے مجبور ہیں۔ نہ اس کو چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ان کو چھوڑنا چاہیے۔ 
غور طلب یہ امر ہے کہ صرف ہندوستان میں شاید کئی لاکھ مسلمان ہر سال عربی تعلیم میں مشغول رہتے ہیں اور ہر سال ہزاروں طالب علم آٹھ دس برس کی محنت شاقہ کے بعد سند فراغ حاصل کرتے ہیں۔ ان لیے بظاہر معاش کا کوئی ذریعہ نہیں۔ یہی لوگ قومی اور مذہبی رہنما اور قومی رہبر ہوتے ہیں، مگر معمولی بسر اوقات اور اپنی قوت سے قدر کفاف حاصل کرنے کا موقع بھی ان کو حاصل نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رہنما ہوتے ہیں مگر محتاج، رہبر بنتے ہیں مگر مفلس۔ اور احتیاج کی وجہ سے جو جو خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں وہ ہوتی رہتی ہیں۔ 
یہ چیز ناممکن ہے کہ مسلمانوں کو عربی تعلیم سے روک دیا جائے، اور روکنا مناسب اور جائز بھی نہیں۔ ورنہ یہ مسلمانوں کی مذہبی اور ملی تباہی کا باعث ہو جائے گا۔ لہٰذا کیا مسلمانوں کی اس تعلیمی کانفرنس کے لیے یہ امر غور طلب نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کی عربی تعلیم کے مسئلہ کی طرف اپنی مکمل توجہ منعطف کرتی ہوئی عربی تعلیم یافتہ اشخاص کے ذرائع معاش کے مسئلہ کو حل کرے۔ 
یقیناًمسلم ایجوکیشنل کانفرنس نے اس مسئلہ سے اب تک بہت بڑی غفلت برتی ہے۔ شکایت کی جاتی ہے کہ اچھے علماء پیدا نہیں ہوتے، مگر اچھے علماء پیدا ہونے کے اسباب و ذرائع کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور مقولہ ہے لو کلفت بصلۃ ما عرفت مسئلۃ (اگر مجھ کو پیاز کی تکلیف دی جاتی تو ایک مسئلہ کو بھی نہ پہچانتا)۔ ضروری ہے کہ علماء کو احتیاج اور افلاس سے نکالا جائے۔ ان کو اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ اپنی روزی اپنے قوت بازو سے حاصل کر سکیں تاکہ ان میں فارغ البالی، خود داری، آزادی رائے پیدا ہو سکے اور ’’چہ خورد بامداد فرزندم‘‘ سے فی الجملہ آزاد ہو جائیں۔ یہ امر مشکل نہیں ہے مگر اس کے لیے متفقہ قومی آواز کی ضرورت ہے۔ مسلم تعلیمی کانفرنس کا اہم فریضہ یہ ہے کہ وہ اس مسئلہ کو اپنے ہاتھ میں لے۔ مجھ کو قوی امید ہے کہ پوری مسلم قوم اس مسئلہ میں کانفرنس کا ساتھ دے گی۔ 
میں فی الحال حسب ذیل تجاویز عربی تعلیم یافتوں کے لیے پیش کرنے کا شرف حاصل کرنا چاہتا ہوں:
(۱) کچھ کچھ معتد بہ وظائف ان طلبہ کے لیے مقرر کیے جائیں جو عربی سے فراغت حاصل کرنے کے بعد انگریزی پڑھنا چاہیں۔ اور علی ہذا القیاس انگریزی مدارس کے ان فارغ شدہ طلبہ کے لیے بھی جو عربی پڑھنا چاہیں ان کے لیے بھی وہ وظائف امدادیہ جاری کیے جائیں۔
(۲) جس طرح مولوی فاضل وغیرہ کے سند یافتہ صرف زبان انگریزی میں گورنمنٹی امتحانات میں شرکت حاصل کر کے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، اسی طرح مسلم یونیورسٹی اپنے یہاں ایسے قوانین بنائے جن کے رو سے عربی مدارس کے فارغ شدہ طلبہ صرف انگریزی زبان کے امتحان میں شامل ہو سکیں۔ ان کے لیے تعلیم کا مستند انتظام کیا جائے کہ ایف اے کے بعد وہ بی اے کا امتحان دے سکیں۔ 
(۳) عربی مدارس کے طلبہ کے لیے ریلوے وغیرہ سے وہ تمام مراعات ملنی چاہئیں جو انگریزی مدارس کے طلبہ یا ایڈ گرفتہ مدارس کے طلبہ کو ملتی ہیں۔ ایجوکیشنل کانفرنس مستند مدارس عربیہ کی ایک فہرست تیار کرے جس کو گورنمنٹ بھی تسلیم کرے۔ 
(۴) قانون کے امتحانوں میں انگریزی زبان دانی کی شرط نہ رکھی جائے۔ امتحانات ملکی زبانوں میں ہوں، علمی استعداد شرط کی جائے۔ مگر حسب مراتب جن امتحانوں کے لیے میٹرک، انڈر گریجویٹ یا گریجویٹ کی شرط ہے وہ رکھی جائے، اور اسی درجہ کے عربی استادوں کو بھی کافی سمجھا جائے۔ عربی نصاب میں اس کے لیے مدارج قائم ہو سکتے ہیں اور بعض ضروری چیزوں کا نصاب بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ 
(۵) کورٹ کی لینگوئج بدل دی جائے۔ اگر فورًا ہائی کورٹ کی زبان بدلی نہ جا سکے تو وہ انگریزی ہی رہنے دی جائے، لیکن دوسرے تمام کورٹوں کی زبان لازمی طور پر بدل دی جائے۔ 
(۶) رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں عربی کی اسناد کو بھی ملازمت کے لیے کافی سمجھا جائے۔ 
(۷) اوقاف کے تمام ذمہ دار عہدوں کے لیے عربی اور مذہبی تعلیم کی تکمیل کو ضروری سمجھا جائے اور شرط کر دی جائے۔
(۸) محکمہ منصفی اور ججی (صدارتِ اعلیٰ) کے لیے جس میں اکثر قضاء شرعی اور تقسیم وراثت وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے، مذہبی تعلیم کی سند ضروری قرار دی جائے۔ 
(۹) مسلمانوں کو محکمۂ قضاء حسب طلب عطا کیا جائے جس کا مطالبہ عرصہ دراز سے مسلمان کر رہے ہیں۔ 
(۱۰) آرٹ اور صنعت کی تعلیم میں عربی تعلیم کے سند یافتوں کو شرکت کا موقع دیا جائے۔ 
(۱۱) محکمہ ہائے انہار، زراعت، تجارت کی تعلیمات میں عربی تعلیم یافتوں کو شریک کیا جائے۔ 
(۱۲) یونیورسٹیوں کے وہ طلبہ جو عربی پڑھتے ہیں، تھوڑے تھوڑے دنوں کے لیے کسی عربی دینی مدرسہ میں جا کر قیام کریں اور عربی کی اعلیٰ تعلیم سے استفادہ کریں۔ 
محترم حضرات! میں نہایت عدیم الفرصت اور بہت ہی کم مایہ ہوں، بہت کم فرصت میں نہایت جلدی کے ساتھ قلمبند کر کے اپنے مختلف پریشان خیالات کو آپ حضرات کی بارگاہ میں پیش کر رہا ہوں اور امیدوار ہوں کہ اپنی نظر عفو کرم کو کام میں لا کر اگر کوئی چیز خلافِ رائے یا باعث تکدر ہوئی ہو اس سے سماح فرمائیں گے۔ ‘‘

مادرِ علمی جامعہ نصرۃ العلوم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا آغاز 1952ء میں ہوا تھا جب چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے اس کی بنیاد رکھی۔ تھوڑے عرصہ کے بعد حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی ساتھ شامل ہوگئے۔ اہل علم اور اہل خیر میں سے بہت سے سرکردہ حضرات ان کے شریک کار بنے اور یہ قافلہ چلتے چلتے ایک ایسے علمی، مسلکی اور فکری مرکز کی صورت اختیار کر گیا جس کا تعارف اور فیض صرف پاکستان اور جنوبی ایشیا تک محدود نہیں ہے بلکہ مشرق بعید، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، یورپ، امریکہ اور افریقہ کے بہت سے ممالک میں اس کے تعلیم یافتہ اور خوشہ چین حضرات ہزاروں کی تعداد میں مختلف دینی شعبوں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ 
میں گکھڑ میں حفظ قرآن کریم اور فارسی کی ابتدائی تعلیم کے بعد 1962ء کے دوران ایک طالب علم کے طور پر مدرسہ میں داخل ہوا اور 1969ء میں سند فراغت حاصل کر کے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی خدمت و نیابت کی ذمہ داری پر مامور ہوگیا۔ اور بحمد اللہ تعالیٰ اب تک اس سلسلۂ خیر کو جاری رکھنے کی سعادت سے بہرہ ور ہوں۔ دونوں بھائی دار العلوم دیوبند کے فاضل اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد تھے۔ حضرت والد محترمؒ پر ان کے شیخ و استاذ رئیس المؤحدین حضرت مولانا حسین علی قدس اللہ سرہ العزیز کا رنگ غالب تھا، جبکہ حضرت صوفی صاحبؒ مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے خوشہ چین اور حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کے افکار و تعلیمات کے امین تھے۔ ان دونوں اعلیٰ ذوقوں کے امتزاج نے جامعہ نصرۃ العلوم کو ایک ایسے امتیاز سے متعارف کرایا جو علمی حلقوں میں اس کی پہچان بن چکا ہے۔ اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ اس دور میں جب درس نظامی کے باقاعدہ نصاب میں قرآن کریم کا مکمل ترجمہ و تفسیر شامل نہیں تھا۔ حضرت والد محترمؒ نے ترجمہ و تفسیر کو مدرسہ کے نصاب کا لازمی حصہ بنایا، بلکہ مدرسہ کے آغاز سے اب تک روزانہ اسباق کا آغاز ہی ترجمہ و تفسیر کی کلاس سے ہوتا ہے، جس میں دورۂ حدیث، موقوف علیہ اور اس کے بعد کے اعلیٰ درجات کے طلبہ کی شرکت لازمی ہوتی ہے۔ ہمارے طالب علم کے دور میں تو غیر حاضری پر جرمانہ بھی ہوتا تھا اور میری کئی غیر حاضریوں پر حضرت والد محترمؒ کو اپنی جیب سے جرمانہ ادا کرنا پڑتا تھا۔ یہ ترجمہ و تفسیر دو سال میں مکمل ہوتا تھا اور حضرت والد محترمؒ خود پڑھاتے تھے۔ 
عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے اپنے ذوق کا اظہار دورۂ حدیث کے نصاب میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کو شامل کر کے کیا جسے وہ خود پڑھاتے تھے۔ اور اس کے علاوہ دوسرے اسباق کے دوران بھی حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے علوم و افکار کا تذکرہ ان کی نوک زبان پر ہمیشہ رہتا تھا۔ اب یہ دونوں خدمتیں یعنی صبح کا ترجمہ و تفسیر اور ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کی تدریس میرے سپرد ہیں۔ مگر ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ پوری نہیں بلکہ اسباق کے گھنٹے کم ہونے کی وجہ سے اس کے منتخب ابواب کی تعلیم ہوتی ہے اور اس کے بیشتر حصوں کی تدریس کی حسرت دل میں ہی رہ جاتی ہے۔ بلکہ اس سے بڑی ایک حسرت ابھی تک دل میں لیے پھرتا ہوں کہ باذوق فضلاء کی کوئی کلاس مل جائے تو (۱) حجۃ اللہ البالغہ (۲) طحاوی شریف (۳) احکام القرآن عصری تناظر میں اور (۴) تاریخ اسلام کے اہم حصوں کی تدریس کا شوق پورا کر سکوں۔ مگر ان باتوں کا ذوق نایاب ہوتا جا رہا ہے اور اپنی عمر کے ساتویں عشرہ کے اختتامی مرحلہ میں یہ حسرت اب یاس میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعَدَ ذٰلِکَ اَمْرًا۔ 
حضرت والد محترمؒ کا ایک خاص ذوق تدریس و تعلیم کے دوران حنفیت اور دیوبندیت کے مسلکی تعارف و دفاع میں ان کا ممتاز اسلوب بھی تھا جس سے ہزاروں علماء کرام نے استفادہ کیا ہے۔ ان کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم کی تدریس و تعلیم کے ماحول میں اس ذوق کو برادرم مولانا عبد القدوس خان قارن اور عزیزم مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی نے بحسن و خوبی سنبھال رکھا ہے۔ اور وہ بحمد اللہ تعالیٰ ترمذی شریف کی خصوصی تدریس کے اس تسلسل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 
شیخین کریمینؒ کے متنوع ذوق اور اس کے اظہار کا تذکرہ کیا ہے تو ’’تحدیث نعمت‘‘ کے طور پر اپنے ایک ذوق کا بھی ذکر کرنا چاہوں گا کہ آیات قرآنی اور احادیث نبویہؓ کی آج کے دور میں عملی تطبیق کی صورتیں کیا ہو سکتی ہیں اور اسلامی احکام و قوانین کے باب میں آج کی دنیا کے ساتھ ہمارے اختلافات کیا ہیں؟ اس کا اظہار اسباق کے دوران تو ہوتا ہی ہے لیکن اس کے لیے دورۂ حدیث میں جمعرات کے روز ایک مستقل پیریڈ بھی ہوتا ہے جس میں اس طرح کی باتیں ہلکے پھلکے انداز میں کرتا رہتا ہوں اور بہت سے طلبہ کا کہنا ہے کہ اس کا فائدہ بھی ہوتا ہے، فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔
جامعہ نصرۃ العلوم کا شعبہ تجوید و قراء ت بھی ماشاء اللہ امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ مولانا قاری سعید احمد (فاضل نصرۃ العلوم) کی محنت اور راہ نمائی سے اس شعبہ کے متعدد طلبہ بین الاقوامی اور ملکی سطح پر اب تک بہت سی نمایاں پوزیشنیں حاصل کر چکے ہیں جو ہمارے لیے باعث افتخار ہے۔ اللہ تعالیٰ نظر بد سے محفوظ رکھے، آمین یا رب العالمین۔ 
جامعہ کے شعبہ بنات کی صدر معلمہ میری بیٹی ہے جو حضرت والد محترم ؒ کی پوتی اور حضرت صوفی صاحبؒ کی بہو ہے اور تیسری نسل میں دورہ حدیث کی تدریس کا تسلسل قائم رکھنے کا اعزاز اسے حاصل ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے دوسرے اسباق کے علاوہ مسلم شریف بھی پڑھا رہی ہے، فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔ اس سال شعبہ بنات کی ثانویہ عامہ کی دو طالبات نے جو سگی بہنیں ہیں، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سالانہ امتحان میں صوبائی سطح پر دوم اور سوم پوزیشنیں حاصل کی ہیں۔ 
قارئین سے درخواست ہے کہ جامعہ نصرۃ العلوم کی ترقیات و قبولیت کے لیے بارگاہ ایزدی میں دعا کرتے رہیں۔ 

دورۂ تفسیر کے طلبہ کا دورۂ مری

مولانا وقار احمد

گزشتہ شعبان رمضان کے دوران میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں پانچواں سالانہ دورہ تفسیر منعقد ہوا۔ اس سال مری میں قائم مدرسہ فاروق اعظم کے مہتمم قاری سیف اللہ صاحب اور ان کے رفقاء کار کی دعوت پر دورہ کے آخری چار دن مری میں گزارنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ مورخہ 26 جون 2015 بروز جمعہ کو الشریعہ اکادمی کے دورہ تفسیر کے طلبہ اور اساتذہ ، استاذ گرامی علامہ زاہد الراشدی کی قیادت میں رات گیارہ بجے مری مدرسہ فارق اعظم میں پہنچے۔ چار دن وہاں قیام رہا۔ منگل کو مری میں ہی دورہ تفسیر کی اختتامی نشست منعقد ہو ئی جس میں مولانا فداء الرحمن درخواستی تشریف لائے۔ 
جمعہ کے روز پورے قافلے کی افطاری کا انتظام مولانا علی محی الدین کے ہاں ماڈل ٹاون، ہمک، راولپنڈی میں تھا جہاں بھر پور افطاری کی گئی اور تقریباً رات گیارہ بجے مری پہنچے۔ سارا سفر طلبہ سے بصورت اشعار ان کے دل کے داغ اور علامہ زاہد الراشدی و استاد مولانا ظفر فیاض کے لطیفے اور طلبہ کے درد بھرے اشعار پر تبصرے سنتے ہوئے بہت ہی اچھا گزرا۔ گوجرانوالہ اور راولپنڈی کے درمیان سفر کرتے ہوئے پندرہ سال کا عرصہ ہوا چاہتا ہے، مگر یہ سفر بڑا منفرد تھا، استاذ گرامی نے جس طرح طلبہ کو کھل کر بولنے کی اجازت دی، یہ انہی کا ظرف ہے، اللہ ان کو صحت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے۔ 
مدرسہ فاروق اعظم کے ذمہ داران نے ترتیب کچھ اس طرح بنارکھی تھی کہ نماز فجر کے بعد استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم کا مسجد میں مختصر عمومی درس قرآن ہوتا، پھر استاد گرامی اور طلبہ آرام کرتے ۔30: 7پر طلبہ کو جگایا جاتا اور00 : 8 بجے دورہ تفسیر کی کلاس کا آغاز ہوتا۔ ایک گھنٹہ مولانا حافظ محمد رشید پڑھاتے ، پھر00 : 9 بجے سے 00:12 بجے تک استاد گرامی کا سبق ہوتا۔ ظہر کی نماز کے بعد مقامی علماء کرام کے ساتھ نشست رکھی گئی تھی جس کے تین دن کے موضوعات طے تھے جو کہ حسب ذیل ہیں:
۱۔ قرآن کا فلسفہ انسانی حقوق
۲۔ فہم قرآن کے تقاضے 
۳۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذوق و مزاج کا فرق اور امت پر اس کے اثرات
اسی ترتیب کے مطابق صبح 27 جون کو مدرسہ فاروق اعظم میں پر تکلف سحری کے بعد مسجد میں باجماعت نماز فجر ادا کی۔ نماز فجر کے بعد استاد گرامی علامہ زاہد الراشدی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں مال خرچ کرنے کے قرآنی اصول وہدایات بیان کیں۔ استاذ گرامی نے درج ذیل چار اصولوں پر چند منٹ میں جامع اور پرمغز گفتگو کی۔ 
۱۔ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ [البقرۃ: 3] 
کہ جو کچھ دیا اللہ نے ہی دیا اور خرچ کوئی بھی انسان اپنی ملکیت سے نہیں کرے گا بلکہ اللہ کا دیاہوا ہی خرچ کرے گا۔
۲۔ مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗٓ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃ [البقرۃ: 245] 
اللہ کے دئیے سے جو کچھ تم دو گے اس کے بارے میں یہ نہ سمجھو کہ بس یہ دے دیا تو گیا ، نہیں اللہ تعالیٰ اس کو قرض قرار دے رہا ہے اور دنیا میں کوئی عام شریف آدمی قرض لے لے تو وہ واپس کرتا ہے تو اللہ کیوں واپس نہیں کرے گا ، وہ واپس بھی دے گا اور اپنی شان کے مطابق کئی گنا زیادہ بڑھا کر واپس کرے گا۔
۳۔ فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗٓ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً [البقرۃ: 245] 
واپسی بھی اصل رقم نہیں بلکہ کئی گنا سود کے ساتھ واپسی ہو گئی۔ 
۴۔  ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی [البقرۃ: 264] 
اللہ کے دیے سے جو تم نے دیا ہے وہ اللہ کو دیا ہے ، جس کو بظاہر تم دے رہے ہو اس کا تو کوئی معاملہ ہی نہیں رہا ، تمہارا اور اللہ کا معاملہ ہے ، اس لئے اس آدمی پر کوئی احسان جتلانا یا کسی اذیت میں اس کو مبتلا کرنا کسی صورت بھی روا نہیں ہے ، اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ اپنا صدقہ ضائع کر بیٹھے گا۔
درس کے بعد طلبہ اور اساتذہ نے آرام کیا۔ آٹھ بجے مولانا محمد رشید صاحب کا درس تفسیر شروع ہو گیا۔ مولانا نے نو بجے تک پڑھایا۔ نو بج کر پانچ منٹ پر استاد گرامی علامہ زاہد الراشدی صاحب کا درس شروع ہوا، جو کہ دن بارہ بجے تک جاری رہا۔ استاد گرامی نے سورۃ محمد اور سورۃ فتح مکمل پڑھائی۔ سورۃ فتح کی ابتدائی آیت مبارکہ لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَمنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَیَھْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا کی تفسیر میں اس بات پر بڑی عمدہ بحث فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کا کیوں حکم فرمایا۔ ایک تو عام جواب ہے کہ تعلیم امت کے لیے ، لیکن استاد گرامی نے ایک اور جواب یہ ارشاد فرمایا کہ یہ حکم استغفار کے ثمرات سمیٹنے کے لیے بھی تھا۔ پھر انہوں نے قرآن کریم کی مختلف آیات کی رو سے استغفار کے نو ثمرات گنوائے۔ 
اس کے بعد نماز ظہر تک وقفہ تھا۔ پونے دو بجے نماز ظہر پڑھی گئی۔ نماز کے بعدمقامی علماء کرام کے لیے مسجد کے ہال میں ہی خصوصی نشست کا اہتمام تھا۔ استاذ گرامی نے قرآن کے فلسفہ انسانی حقوق پر تفصیلی گفتگو فرمائی جو کہ ساڑھے تین بجے تک جاری رہی۔ اس نشست میں مقامی علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس کے بعد تقریبا چار بجے طلبہ سیر کے لیے نکل گئے۔ مولانا ظفر فیاض، مولانا محمد رشید اور راقم الحروف بھی سیر کے لیے نکلے اور گھنٹہ بھر مری شہر میں گھوم پھر کر واپس آگئے۔ نماز عصر میں مولانا فضل الہادی بھی مانسہرہ سے پہنچ گئے۔ نماز کے بعد استاد گرامی علامہ راشدی کے ساتھ نشست ہوئی۔ اس نشست میں مولانا ظفر فیاض، مولانا فضل الہادی، مولانا محمد رشید، مولانا محمد قاسم ، اور راقم الحروف شریک تھے۔ استاد گرامی نے بڑے خوش گوار موڈ میں اپنی زندگی کے چند یادگار واقعات سنائے جو بڑے دلچسپ تھے۔ 
یہ نشست افطاری سے 10 منٹ پہلے تک جاری رہی۔ افطاری کا انتظام طلبہ و اساتذہ کے لیے مشترک تھا۔ افطاری سے قبل استاد گرامی نے رقت آمیز دعا کرائی، افطاری کے بعد نماز اور پھر کھانا کھایا۔ اللہ جزائے خیر عطا کرے مولانا قاری سیف اللہ سیفی اور ان کے فرزند ارجمند مولانا ظفر الاسلام سیفی کو کہ انہوں نے کھانے کا انتہائی عمدہ اور پرتکلف انتظام کیا۔ کھانے کے بعد راقم الحروف ، مولانا ظفر فیاض، حافظ محمد طاہر، مولانا محمد رشید چائے پینے اور چہل قدمی کرنے باہر چلے گئے۔ واپسی آ ئے تو استاذ گرامی کو طلبہ کے جھرمٹ میں بیٹھے ہوئے پایا ، چنانچہ ہم بھی اس مجلس میں شریک ہو گئے، جو کہ نماز عشاء تک جاری رہی۔ طلبہ بے تکلفانہ استاذ گرامی سے سوالات پوچھتے اور استاذ جی اپنے مخصوص انداز میں چٹکلوں کی شکل میں ان کے سوالات کے جوابات ارشاد فرماتے جاتے۔ انتہائی پر لطف محفل رہی۔ عشاء کے فرض مسجد میں بڑی جماعت کے ساتھ پڑھے، جب کہ تراویح اور وتر کی جماعت کا طلبہ نے الگ انتظام کیا۔ نماز سے جلدی فارغ ہو کر مولانا فضل الہادی نے پارۂ عم کا پہلا پاؤ پڑھایا۔ مولانا کا درس ساڑھے گیارہ بجے ختم ہوا، اس کے بعد طلباء سو گئے اور راقم الحروف طلباء کو سحری کے لیے جگانے کے انتظار میں کمپیوٹر پر کام کرتا رہا۔
اگلے دن 28 جون کو نماز فجر کے بعد استاد گرامی نے رمضان اور قرآن کے تعلق پر گفتگو کی، اور آیت کریمہ : وَقَالَ الرَّسُوْلُ ٰیرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَھْجُوْرًا [الفرقان: 30] کی روشنی میں امام ابن قیم کے حوالے سے بڑے مؤثر انداز میں قرآن حکیم کے پانچ حقوق بیان کیے ہیں۔مقامی نمازیوں کی بڑی تعداد نے اس درس سے استفادہ کیا۔ آٹھ بجے صبح مولانا حافظ محمد رشید صاحب کا ترجمہ وتفسیر کا سبق شروع ہوا جو کہ ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔ نو بجے استاد گرامی نے درس تفسیر شروع فرمایا جو کہ دن بارہ بجے تک جاری رہا۔ استاذ گرامی نے سورۃ الحجرات اور سورۃ ق مکمل پڑھائی۔ سورۃ الحجرات کے ضمن میں اسلامی نظام معاشرت پر بڑی عمدہ بحث فرمائی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے آداب، آداب مجلس ، آپس میں عزت نفس کا احترام اور گھریلو معاملات کے بارے میں بڑی مفید باتیں سبق میں آ گئیں۔ سورۃ الحجرات کا ماقبل سے ربط بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’ ماقبل دونوں سورتوں سورۃ محمد اور سورۃ فتح میں کفار ، منافقین اور اعراب کے ساتھ معاملات ومعاشرت کے اصول وآداب بیان ہوئے ہیں، جب کہ سورۃ حجرات میں مسلم سوسائٹی کے اندر مسلمانوں کے آپس کے معاملات کے بارے راہنمائی دی گئی ہے، اور ضمناً اعرابیوں کے ساتھ معاملات کا تذکرہ بھی آگیا ہے۔ ‘‘
نماز ظہر کے بعد استاد گرامی نے ’’فہم قرآن کے تقاضے‘‘ کے عنوان پر تقریباً ایک گھنٹہ گفتگو فرمائی جس میں دو چیزوں پر بطور خاص زور دیا گیا۔ 
ایک، فہم قرآن کے لیے عربی سیکھنا اور اس معیار کی عربی سیکھنا جو کہ قرآن کریم کا معیار ہے ، لیکن ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم نماز میں جو کچھ پڑھ رہے ہوتے ہیں، اس تک کو سمجھنے پر قادر نہیں ہوتے۔ 
دوسرے، قرآن فہمی میں اگر کوئی الجھن آ جائے تو اس کو کیسے دور کیا جائے؟ اس ضمن میں حدیث کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ 
اس کے بعد علماء علاقہ سے نشست ہوئی۔ آج مقامی علماء کافی تعداد میں تشریف لائے تھے۔ اسی طرح پنڈی سے مولانا علی محی الدین اور ان کے رفقاء، جبکہ مانگا سے مولانا عمران عباسی بھی تشریف لائے۔ پھر استاذ گرامی، مولانا علی محی الدین اور ان کے ساتھ راولپنڈی سے آنے والے مہمانان گرامی کے ہمراہ موہڑہ کے قریبی گاؤں ملوٹ میں مولانا راشد صاحب کے ہاں افطاری کے لیے تشریف لے گئے۔ طلبہ کرام تقریبا ساڑھے تین بجے پتریاٹہ چلے گئے، جبکہ راقم الحروف ، استاذ مولانا ظفر فیاض صاحب اور مولانا محمد رشید موہڑہ شریف میں پیر ہارون الرشید صاحب کی زیارت وملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ موہڑہ شریف میں اچھی خاصی چہل پہل تھی، مگر یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ دربار میں پٹھان اور پنجابی مریدین تو موجود تھے، مگر مقامی لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔ پیر ہارون الرشید صاحب سے ملاقات ہوئی جو بڑے طمطراق سے ایک شاہانہ نشست گاہ پر جلوہ افروز تھے اور ان کے دائیں طرف بڑے پیر صاحب پیر نظیر احمد صاحب کی مسند شریف بھی رکھی تھی جس کو ریشمی منقش چادروں سے ڈھانپا گیا تھا ۔ البتہ پیر قاسم صاحب کی مسند شریف کہیں نظر نہیں آئی۔ مریدین میں سے چند خواص باآدب بیٹھے تھے، اور کچھ ہاتھ باندھے دو مختلف قطاروں میں کھڑے تھے۔ہم سے پہلے جو لوگ پیر صاحب سے ملاقات کے لئے بیٹھے تھے وہ کچھ دیر بعد اٹھے اور انتہائی ادب سے الٹے پاؤں چلتے ہوئے باہر نکلے تو ہمیں اندر جانے کی اجازت ملی۔ بندہ دوران ملاقات تمام وقت حضرت پیر صاحب کے انداز تقدس اور مریدین کے انداز ادب پر سوچتا رہا۔
دوران ملاقات پیر صاحب نے تعارف پوچھا تو ہم نے تعارف میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا بھی تذکرہ کیا۔ مجلس میں بیٹھے ایک شخص نے پوچھا کہ وہ مولوی سرفراز گکھڑوی صاحب والا مدرسہ؟ ان کے لہجہ سے تحقیر جھلک رہی تھی تو پیر صاحب نے ان صاحب کو بطریق احسن خاموش کرا دیا۔ ہم نے پیر صاحب کو جب مولانا ظفر فیاض صاحب کے بارے بتایا کہ یہ ہمارے استاذ ہیں تو پیر صاحب نے ان سے چند غیر معروف سوالات کیے، مثلاً ابو طالب کا نام کیا تھا؟ عبد المطلب کا نام کیا تھا؟ بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم کب ہوا اور کیوں ہوا؟ مولانا ظفر فیاض صاحب نے بطریق احسن پیر صاحب کے سوالوں سے جان چھڑاتے ہوئے عرض کی، حضرت! ہم تو محض آپ سے استفادہ اور زیارت کی غرض سے حاضر ہوئے ہیں۔ اس پر انہوں نے علماء اور علم سے تعلق رکھنے والوں کی تعریف میں دو ایک جملے فرمائے اور ہمیں روزہ اپنے ہاں افطار کرنے کی دعوت دی ۔ ہماری معذرت پر پیر صاحب نے فرمایا، اچھا دعا کریں۔ دعا کے بعد پیر صاحب سے اجازت لے کر وہاں ہی مسجد میں نماز عصر جماعت سے پڑھی۔ نماز کے بعد پیر نظیر احمد اور پیر قاسم صاحب کے مزارات کی زیارت کی۔ مولانا رشید صاحب کے جوتے مسجد سے گم ہوگئے تھے، انہوں نے وہاں سے ایک عام سی چپل پہن لی جس کے دونوں پاؤں میں باوجود کوشش کے بھی کوئی مماثلت پیدا نہ کی جا سکی۔ انہوں نے نقصان کے وقت پڑھی جانے والی دعا پڑھ لی۔ اس کی برکت سے ایسا ہوا کہ جب مزارات کی زیارت سے فارغ ہو کر ٹیکسی میں سوار ہونے کے لیے پہنچے تو پتہ چلا کہ ڈرائیور صاحب کا جوتا بھی گم ہو چکا تھا اور وہ ’’نقصان پورا ‘‘ کرنے کے لیے کسی دوسرے کا جوتا پہن آئے تھے۔ جب ان سے جوتا دکھانے کی گزارش کی گئی تو وہ مولانا رشید صاحب کا جوتا پہنے خوشی سے اترا رہے تھے ۔ ہم نے ان سے جوتا واپس لیا اور دعا کی تاثیر پر حیران بھی ہوئے۔ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے کے مصداق دربار پر جاتے ہوئے مولانا رشید نے میرے اور مولانا ظفر فیاض صاحب کے جوتے اٹھا کر دربار کے احاطہ کے اندر رکھ دیے تو دربار کے خادم نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ تم دربار کی گستاخی کرنا چاہتے ہو؟ اور ہمارے جوتے اٹھا کر باہر پھینک دیے۔ ہمارے معذرت کرنے پر ان کا غصہ کچھ کم ہوا۔ وہاں سے واپسی آ کر راستے میں ایک چشمے پر چند منٹ رکے اور پھر افطاری کے لیے اپنی قیام گاہ مدرسہ فاروق اعظم میں پہنچ گئے۔ نماز عشاء کے بعد مولانا فضل الہادی کا سبق ہوا، جو کہ رات ساڑھے گیارہ پر ختم ہوا۔
مقامی علماء کرام جس طرح استاذ گرامی کے درس اور سبق میں شرکت کے لئے تشریف لاتے تھے، اسی طرح کافی علماء کرام کی خواہش تھی کہ حضرت کچھ وقت نکال کر ہماری مسجد میں درس کے لئے تشریف لے چلیں ۔ اس غرض سے آنے والوں میں ایک قسم کی کھینچا تانی بھی دیکھنے کو ملی جس کا علاج استاذ گرامی نے یہ کیا کہ ان حضرات کو کہا کہ میں مہمان ہوں قاری سیف اللہ صاحب کا۔ یہ میری جو ترتیب طے کریں گے، میں اس کا پابند ہوں ، اس لیے آپ حضرات ان سے اور دورہ تفسیر کے امیر (راقم الحروف)سے مل کر کوئی ترتیب طے کر لیں، میں حاضر ہوں۔ اس سلسلے میں کافی علماء کرام کے اصرار اور قاری سیف اللہ صاحب کی رائے کی روشنی میں 29 جون کو صبح سحری کے بعد استاذ گرامی درس قرآن کے لیے مفتی خالد صاحب کے ہاں مرکزی جامع مسجد حنفیہ تشریف لے گئے۔ وہاں سے ان کی واپسی پانچ بجے ہوئی۔ حسب معمول صبح آٹھ بجے سے نو بجے تک مولانا رشید صاحب نے سبق پڑھایا، جب کہ نو سے بارہ بجے تک استاذ گرامی علامہ راشدی صاحب نے سبق پڑھایا۔ استاذ محترم نے سورۃ فجر سے زلزال تک کے حصے کی تفسیر پڑھائی ، اور ساتھ خلافت عثمانیہ کاتفصیلی تعارف کرایا۔ بارہ بجے سے ظہر تک استاد گرامی کی نجی محفل رہی جس میں مختلف احباب شریک تھے اور مختلف موضوعات پر ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو ہوتی رہی۔
بعد از ظہر ایک گھنٹہ ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذوق و مزاج کا فرق اور امت پر اس کے اثرات‘‘ پر گفتگو فرمائی، اس میں خصوصاً حضرت ابی ابن کعب، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت ابو ہریرہ، حضرت حذیفہ بن الیمان رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذوق اور ان کے امت پر اثرات پر بڑے پر لطف اور معلومات افزا انداز میں تفصیلی گفتگو فرمائی۔ تین سے ساڑھے چار تک پھر نجی محفل تھی جس میں احباب کے سوالات اور ان کے جوابات کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد نماز عصر تک استاذ گرامی نے آرام فرمایا۔ نماز عصر کے بعد افطاری سے چند منٹ پہلے تک استاد گرامی کے ساتھ مدارس کے نظام ونصاب تعلیم اور اساتذہ کے منہج ومزاج پر احباب کی گفتگو ہوتی رہی۔ اسی محفل میں مولانا تحمید جان آف چارسدہ نے چارسدہ کے بعض علماء کی طرف سے کام میں پیش آنے والی رکاوٹوں اور گھریلو جھگڑے پر گمراہی کے فتوے کا تذکرہ کیا جو کہ کچھ دن پہلے وہاں کے متعدد اہل علم کی تقریظ کے ساتھ تحمید جان صاحب کے خلاف شائع ہوا ہے، تو استاد گرامی نے جواباً ان سے فرمایا، ’’اللہ سے معاملہ درست رکھو اور کسی کی پروا کی ضرورت نہیں۔ کام اخلاص اور دیانت سے کرو، اللہ تعالی وہ وہ اسباب اور آسانیاں پیدا کرے گا جو تمہارے گمان میں بھی نہیں ہوں گی۔‘‘ استاد گرامی نے محفل میں کئی اکابر اہل علم کے واقعات سنائے، مدارس کے نصاب تعلیم کے حوالے سے حضرت نانوتوی، مولانا تھانوی، مولانا مدنی، مولانا گیلانی وغیرہ کے ملفوظات سنائے۔ احباب کی طرف سے جب ملک میں رائج مختلف نظام ہائے تعلیم کے حوالے سے بات ہوئی تو حضرت نے ایک بات زور دے کر فرمائی کہ ’’نصاب و نظام کی یہ تبدیلی خود اہل مدارس کی طرف سے ہی ہوگی تو درست سمت میں رہے گی، بصورت دیگر پھر جو لوگ تبدیلی کے نقیب ہوں گئے، ان کی بات ہی چلے گی۔‘‘ اسی طرح جدید نظام تعلیم کے بارے میں فرمایا ’’ یہ نظام قومی اور سماجی ضرورت ہے، قومی اور سماجی ضرورتوں کو کبھی نہیں روکا جاسکتا، البتہ اس کی اصلاح کی جا سکتی ہے، ہمیں اصلاح کرنی چاہیے، جدید نصاب اپنے ماحول میں پڑھانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔‘‘
افطاری کے لیے اساتذہ دورہ تفسیر استاد گرامی کی معیت میں مفتی ندیم صاحب مدرس جامعہ امدادیہ اور مولانا فرحان عباسی صاحب کی دعوت پر ان کے گھر تشریف لے گئے۔ افطاری کے بعد استاد گرامی مفتی ندیم صاحب کے ختم قرآن پر تشریف لے گئے اور وہاں بیان فرمایا۔ مفتی صاحب ہر سال تراویح میں دس دن میں تین تین پارے سنا کر ختم کرتے ہیں۔ مولانا فرحان عباسی ایک مسجد میں تراویح پڑھاتے ہیں، اس لیے انہوں نے جاتے ہوئے استاد گرامی سے دعاؤں میں یاد رکھنے کی درخواست کی تو استاد محترم نے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ’’یہ کہنے کی ضرورت ہے؟‘‘
دیگر اساتذہ افطاری کے بعد واپس اپنی قیام گاہ مدرسہ فاروق اعظم میں آگئے۔ یہاں تراویح پڑھنے کے بعد طلبہ کرام کے ساتھ ایک طویل نشست ہوئی جس میں استاد گرامی مولانا ظفر فیاض، مولانا فضل الہادی، مولانا محمد رشید، راقم الحروف اور تمام طلبہ تفسیر شریک تھے۔ اس محفل میں طلبہ کے شکوے شکایتیں اور تجاویز سنی، طلبہ نے کھل کر اس مجلس میں اپنی آراء کا اظہار کیا اور وہ تمام باتیں کہہ ڈالیں جو دورہ کے درمیان وہ کہنا چاہتے تھے لیکن جھجک کی وجہ سے کہہ نہیں پائے تھے۔ یہ نشست رات ایک بجے تک جاری رہی، اس نشست میں ہمارے لیے سب سے خوشی کی بات یہ تھی کہ شرکاء ے دورہ تفسیر نے لگی لپٹی رکھے بغیر جو ان کے دل میں تھا، اس کا اظہار کر دیا۔ میرے سخت لہجے کی شکایت بھی کی گئی اور مولانا محمد رشید کے حد سے زیادہ نرم ہونے کا بھی تذکرہ ہوا۔ اسی طرح نظام میں دیگر جو کمیاں ہیں، ان پر بھی بات ہوئی۔ یوں بہت سے وہ امور جو انتظامیہ کی نظر میں نہیں تھے یا کم اہمیت کے حامل تھے، وہ نکھر کر سامنے آگئے، جن کو ان شاء اللہ آئندہ دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ 
30 جون کو دورہ تفسیر کی اختتامی نشست تھی۔ استاذ گرامی مولانا راشدی مولانا ندیم صاحب کے ختم قرآن میں شرکت کے بعد حاجی شعیب صاحب کے گھر ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور رات کا قیام بھی وہیں ہوا اور نماز فجر کے بعدقاری سعید صاحب کے ہاں سنی بینک کی مسجدعلی المرتضیٰ میں درس قرآن دیا۔
گزشتہ برسوں میں ہماری یہ ترتیب رہی ہے کہ دورہ کے اختتام پر طلبہ کے ساتھ استاد جی کا ایک مذاکرہ رکھتے ہیں ، موضوع طے کیا جاتا ہے ،استاد گرامی شروع میں تمہیدی سی گفتگو فرماتے ہیں اور پھر اس پر طلبہ کو کھل کر اظہار خیال کا موقع دیا جاتا ہے ، گزشتہ سالوں میں اس مجلس مذاکرہ کے عنوانات کچھ یوں تھے:
۱۔ مدارس سے فارغ التحصیل علماء کرام کی مشکلات اور ان پر قابو پانے کے طریقے۔ اس مجلس میں گوجرانوالہ کے مقامی ان علماء کرام کو بھی دعوت دی گئی تھی جو چار سے پانچ سال پہلے فارغ ہوئے تھے ، انہوں نے اپنے تجربات بتائے کہ ان کو فراغت کے فوری بعد کیا مشکلات پیش آئیں اور انہوں نے کیسے ان پر قابو پایا یا کیسے ان کو بھگت رہے ہیں۔
۲۔ گزشتہ صدی کی دینی تحریکات اور ان کے تناظر میں پاکستان میں جاری تحریکات اور جماعتیں، کامیابی و ناکامی کے تناظر میں۔ اس میں طلبہ نے موجودہ دینی تحریکات اور جماعتوں کی پالیسی اور کامیابی و ناکامی کے اسباب پر اظہار خیال کیا۔ طلبہ کی گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہ ہمارا طالب علم سوچتا بھی ہے اور ان تحریکات کے بارے میں درد دل بھی رکھتا ہے۔ صرف مناسب پلیٹ فارم اور تربیت کی ضرورت ہے۔
۳۔ پاکستان میں دینی مدارس کا کردار اور نظام ونصاب تعلیم ، اس میں مدارس کے کردار ، نظام ونصاب تعلیم پر بحث ہوئی۔ اس مذاکرہ سے طلبہ میں جہاں اس نظام میں مزید بہتری پیدا کرنے کا جذبہ وشعور اجاگر ہوا، وہاں مخالفین کے اعتراض اور اس کی نوعیت کو سمجھ کر مناسب جواب دینے کا طریقہ بھی سمجھ میں آیا۔
اس سال گوجرانوالہ میں نہ ہونے کی وجہ سے اس مجلس مذاکرہ کا اہتما م نہ ہو سکا تاہم متبادل کے طور پر استاذ گرامی سے طلبہ کی ایک نشست رکھی گئی جس میں وہ اپنے مشائخ عظام کے واقعات و نصائح سے طلبہ کو آگاہ فرمائیں۔ نو بجے طلباء تفسیر کے ساتھ یہ تفصیلی نشست ہوئی جس میں استاذ گرامی نے اپنے مشائخ کی طرف سے خود کو کی گئی نصیحتیں طلبہ کو سنائیں۔ اپنے زمانہ طالب علمی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں درجہ ثالثہ کا طالب علم تھا۔ اس زمانہ میں ہم نے ایک ’’انجمن اتحاد طلبہ‘‘ بنائی تھی، اس کے تحت ہفتہ وار پروگرام ہوتے تھے۔ اس انجمن کا میں جنرل سیکرٹری تھا ۔ ایک موقع پر حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب مدرسہ میں تشریف لائے ہوئے تھے ۔ ہم نے ان کو صدارت کی دعوت دی۔ اس مجلس میں میں نے حضرت شیخ الہند اور ان کی تحریک کے تعارف پر تقریر کی۔ وہ زمانہ میری ’’صاحبزادگی‘‘ کا زمانہ تھا اور خوش لباسی کا عالم یہ ہوتا تھا کہ ایک مخصوص درزی سے میرے کپڑے سل کر آتے تھے جو عام درزیوں سے زیادہ اجرت لیتا تھا۔ قاضی صاحب کی خدمت کی ڈیوٹی اکثر میری ہوتی تھی۔ صبح صوفی صاحب کے گھر سے ناشتہ لے کر میں قاضی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا ’’برخوردار ! تقریر تم نے بہت اچھی کی لیکن حضرت شیخ الہند ایسے نہیں ہوتے تھے‘‘ اور میرے لباس کی طرف اشارہ کیا۔ ان کی اس انداز سے کی ہوئی نصیحت اس طرح دل میں پیوست ہوئی کہ اس کے بعد لباس وغیرہ میں تکلف کی وہ کیفیت یکسر جاتی رہی اور سادہ لباس میری زندگی کا حصہ بن گیا۔ 
ایک واقعہ یہ سنایا کہ ایک دفعہ میں حضرت والد صاحب کے ساتھ ایک جلسے میں شرکت کے لیے گیا۔ والدصاحب کی تقریر سے پہلے مجھے بھی کچھ دیر کے لیے تقریر کو کہا گیا۔ میں نے ایک واقعہ بڑے مزے لے کر بیان کیا ۔ والد صاحب کی یہ عادت ہوتی تھی کہ جب کوئی اہم بات ارشاد فرمانی ہوتی تو اپنے ساتھ کھانے پر بلایا کرتے اور کھانے کے دوران وہ بات کیا کرتے۔ واپسی پر مجھے پیغام ملا ’’شام دی روٹی میرے نال کھانی اے‘‘۔ میں کھانے پر پہنچا تو دوران طعام فرمایا " او زاہد ! ایہہ واقعہ کدھرے پڑھیا سی یا کسی مستند بزرگ کولوں سنیا سی یا اینج ای لڑھکا دتا سی؟‘‘ (یہ واقعہ کہیں پڑھا تھا یا کسی مستند بزرگ سے سنا تھا یا ایسے ہی چلا دیا تھا؟) میں نے کہا کہ جی، یاد نہیں۔ تو انہوں نے نصیحت کی کہ کوئی بھی بات اس وقت تک زبان سے نہ نکالو جب تک خود پڑھ نہ لو ، یا پھر کسی ایسے مستند بزرگ سے سن نہ لو کہ جو بات تحقیق سے کرتے ہوں۔ وہ دن اور آج کا دن، میں نے ہمیشہ اس بات کا اہتمام کیا کہ اپنی زبان سے کوئی ایسی بات نہ نکالوں جو خود پڑھ نہ رکھی ہو یا کسی ایسے بزرگ سے سن نہ رکھی ہو۔ 
یہ نشست ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ اس کے بعد مولانا فضل الہادی نے تیسویں پارے کا آخری پاؤ پڑھایا۔ تقریباً 30 11:پر اختتامی نشست شروع ہوئی، جس میں طلبہ کو اسناد وانعامات تقسیم کیے گئے، اور مولانا قاری سیف اللہ سیفی، مولانا فداء الرحمن درخواستی نے بیان کیا۔ مولانا درخواستی نے انتہائی رقت آمیز انداز میں آخری تین سورتیں پڑھائیں جس میں مولانا عبد اللہ درخواستی کے اسلوب پر سورتوں کا آپس میں ربط، سورتوں کا ابتدائے قرآن سے ربط اور ماقبل حصہ سے ربط بیان کیا، جب کہ مولانا راشدی نے مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا۔ اس محفل میں صاحبزادہ شہاب الدین موسیٰ زئی شریف والے بھی تشریف لائے تھے۔ طلبہ کو مولانا فداء الرحمان درخوستی دامت برکاتہم کے دست مبارک سے اسناد اور کتابیں دی گئیں۔ اس نشست کے بعد طلبہ اور اساتذہ اپنے اپنے علاقوں کو روانہ ہو گئے۔ مولانا ظفر فیاض، مولانا محمد رشید اور راقم الحروف طلبہ کو رخصت کرنے کے بعد مفتی محمد سعید خان صاحب کی قائم کردہ الندوہ لائبریری گئے اور وہاں سے مولانا عمران عباسی کے ہاں حاضر ہوئے۔ رات وہیں گزاری اور اگلا دن عمران عباسی صاحب کی رہنمائی میں جنگل میں گھومنے اور چشمے پر نہاتے ہوئے گزارا۔ شام کو ان سے رخصت ہو کر ہم رات کو گوجرانوالہ پہنچ گئے۔ 
اس سفر کے معزز میزبانوں کا اگر شکریہ ادا نہ کیا جائے تو انتہائی ناسپاسی ہو گی۔ قاری سیف اللہ سیفی صاحب نے جس محبت سے اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تھی، اسی محبت و شفقت سے پیش آتے رہے۔ ان کی شخصیت سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ سب سے زیادہ جس چیز سے ہم سب ہی متاثر ہوئے، وہ ان کا بااخلاق اور نستعلیق لب و لہجہ تھا اور دوسرا اس عمر میں بھی تراویح میں خود قرآن کریم اس طرح سنانا کہ تلاوت و خشوع و خضوع کا حق ادا ہو جائے۔ انتہائی خوبصورت انداز و آواز میں تلاوت فرماتے ہیں۔ انہوں نے حقیقی معنوں میں میزبانی کا حق ادا کر دیا جس کے لیے ہم ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے صاحبزادے اور دست راست مولانا ظفر الاسلام کے بھی انتہائی سپاس گزار ہیں جنہوں نے طلبہ کی آسانی ، اساتذہ کی سہولت اور جملہ سہولیات کی فراہمی میں دن رات ایک کیے رکھا ، خصوصاً سحری کے انتظام میں وہ اور ان کی پوری ٹیم جس طرح نصف شب سے پہلے ہی انتظام میں مشغول ہو جاتے اور ہر چیز ہمیں وقت پر فراہم فرماتے، اس کو دیکھ کر ہمیں شرمندگی کا احساس ہونے لگتا۔ اللہ ان حضرات کو دین و دنیا کی تمام نعمتوں اور رحمتوں سے نوازیں اور ان کو زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت کے مواقع اور توفیق مرحمت فرمائیں۔ اٰمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔