مذہبی ہم آہنگی اور باہمی رواداری کے تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(دعوہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام شاہ فیصل مسجد اسلام آباد میں میڈیا اور صحافت سے تعلق رکھنے والے حضرات کے لیے منعقدہ ورکشاپ میں 12 مارچ کو ایک نشست میں کی گئی گفتگو کاخلاصہ۔)
بعد الحمد والصلوٰۃ ! مجھے خوشی ہے کہ آج صحافی برادری کے کچھ دوستوں سے گفتگو کی سعادت حاصل ہو رہی ہے اور اس پر دعوہ اکیڈمی اور جناب مصباح الرحمن یوسفی کا شکر گزار ہوں۔ میرا خود بھی صحافی برادری سے تعلق ہے۔ میں نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران روزنامہ وفاق لاہور کے نامہ نگار کے طور پر صحافتی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ تب سے مسلسل صحافت سے وابستہ ہوں۔ نامہ نگاری، کالم نگاری اور رپورٹنگ کے علاوہ مختلف جرائد و رسائل کا ایڈیٹر رہا ہوں۔ اب بھی ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کا چیف ایڈیٹر ہوں اور متعدد اخبارات میں میرے کالم شائع ہو رہے ہیں۔
آج کی گفتگو کے لیے مجھے ’’مذہبی ہم آہنگی اور باہمی رواداری کے تقاضے‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے اور اس کے حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور غور و فکر کی صلاحیت سے نوازا ہے، اس لیے اختلاف کا ہونا ایک فطری بات ہے۔ عقل و دانش کا معیار ایک نہیں ہے، درجات مختلف ہیں، اور دائرے بھی متنوع ہیں۔ اس لیے زندگی کے ہر شعبہ میں اختلافات موجود ہیں اور قیامت تک رہیں گے۔ آراء و افکار کا تنوع اور خیالات و تاثرات کا اختلاف سیاست میں بھی ہے، تہذیب و ثقافت میں بھی ہے، معیشت و تجارت میں بھی ہے، طب و حکمت میں بھی ہے، اور مذہب میں بھی ہے۔ اس لیے اختلافات کا موجود ہونا کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے بلکہ انسانی عقل و دانش کے مسلسل استعمال کی علامت ہے۔ البتہ اختلاف کا اظہار جب اپنی جائز حدود کو کراس کرنے لگتا ہے تو وہ تنازعہ اور جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ رواداری اور ہم آہنگی کے باب میں یہی نکتہ سب سے زیادہ قابل توجہ ہے۔
مذہبی رواداری کی ضرورت اور تقاضوں کی ایک سطح عالمی ہے اور ایک سطح ہماری داخلی اور قومی صورت حال ہے۔ میں آج قومی اور ملکی حالات کے تناظر میں معروضی حالات اور ان کے تقاضوں کے چند پہلوؤں کا ذکر کروں گا۔ پاکستان کے داخلی ماحول کے حوالہ سے مذہبی کشمکش کا ایک دائرہ ملک میں رہنے والی غیر مسلم اقلیتوں کے حوالہ سے ہے۔ ملک میں ہندو، سکھ، مسیحی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ وہ اس خطے کے باشندے ہیں، ملک کے شہری ہیں اور سوسائٹی کا حصہ ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارے معاملات دستور کی صورت میں طے ہیں جس کا سب احترام کرتے ہیں اور اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ البتہ وقتاً فوقتاً تنازعات سر اٹھاتے ہیں اور باہمی تعلقات منفی صورت اختیار کر جاتے ہیں تو ان کے حل کے لیے دستور و قانون موجود ہے اور کسی نہ کسی طرح ان پر قابو پا لیا جاتا ہے۔ مگر قادیانیوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے، اس لیے کہ انہوں نے دستور پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔ اور وہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہر فورم میں دستور پاکستان اور منتخب پارلیمنٹ کے جمہوری فیصلوں کو قبول کرنے سے نہ صرف انکار کر رہے ہیں بلکہ مختلف عالمی اداروں میں ملک کے دستور و قانون کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر ان کے بارے میں یک زبان ہیں کہ جب تک وہ عالم اسلام کے اجتماعی فیصلوں اور دستور پاکستان کی جمہوری شقوں کو تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کرتے ہیں ان کے بارے میں کوئی لچک پیدا نہیں کی جا سکتی۔ قادیانی گروہ اس وقت درمیان میں لٹکا ہوا ہے۔ امت مسلمہ اسے اپنے وجود کا حصہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ اپنے بارے میں غیر مسلم اقلیت کی معاشرتی حیثیت قبول نہیں کر رہے۔ اس وجہ سے یہ جھگڑا نہ صرف ملک کے اندر بدستور موجود ہے بلکہ عالمی اداروں میں بھی اس کے حوالہ سے سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔
مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی اہمیت و ضرورت کا دوسرا دائرہ مسلمانوں کے باہمی اختلافات اور فرقہ بندی ہے۔ اس کی معروضی صورت حال یہ ہے کہ باہمی اختلافات و تنازعات بھی چلتے رہتے ہیں، جھگڑے اور تصادم کے واقعات بھی ہوتے ہیں، باہمی خونریزی کی نوبت بھی آجاتی ہے، لیکن مشترکہ قومی و دینی مسائل پر آپس میں اکٹھے بھی ہو جاتے ہیں، اور جب بھی کوئی مشترکہ قومی یا دینی مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا ہے تو سنی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور دیگر مکاتب فکر مل بیٹھتے ہیں اور مشترکہ جدوجہد کا اہتمام کر لیتے ہیں۔ اور یہ تجربہ و مشاہدہ کی بات ہے کہ جس مسئلہ پر بھی یہ مکاتب فکر جمع ہو جاتے ہیں اس میں انہیں ہمیشہ پیش قدمی کا موقع ملتا ہے اور وہ کامیاب ہوتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ کشمکش اور تنازعات کی فضا بھی قائم رہتی ہے اور میرے خیال میں سب سے زیادہ اسی پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میں اس سلسلہ میں اپنے نصف صدی کے تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر تین چار باتیں عرض کرتا ہوں۔
پہلی بات یہ ہے کہ ہر اختلاف کو اسی سطح پر رکھا جائے جس سطح کا وہ اختلاف ہے۔ اس لیے کہ اختلافات کے دائرے اور سطحیں الگ الگ ہیں اور سب اختلافات ایک درجہ کے نہیں ہوتے۔ مثلاً ہمارے ہاں فقہی اختلافات کا درجہ حق و باطل کا نہیں بلکہ خطا و صواب کا ہوتا ہے۔ جبکہ بہت سے اختلافات خطا و صواب کے بھی نہیں ہوتے بلکہ صرف اولیٰ و غیر اولیٰ کا فرق ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں ہر اختلاف کو حق و باطل اور کفر و اسلام کے لہجے میں بیان کرنے کا مزاج بن گیا ہے جو درست نہیں ہے۔ یہ ہمارا کلچرل معاملہ ہے۔ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ جس طرح سماجی طور پر ہمارا مزاج یہ بن گیا ہے کہ کہیں معمولی سا جھگڑا بھی ہو جائے تو ہم اسے کم از کم 307 کا کیس بنانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ جھوٹی گواہیاں اور جھوٹے میڈیکل سرٹیفکیٹ لاتے ہیں تاکہ معمولی تنازعہ کو بڑے جھگڑے میں تبدیل کیا جا سکے۔ اسی طرح مذہبی ماحول میں بھی معمولی اختلاف کو حق و باطل اور کفر و اسلام کا رنگ دیے بغیر ہماری تسلی نہیں ہوتی۔ اس حوالہ سے سنجیدہ محنت کی ضرورت ہے کہ ہر اختلاف کو اس کی اصل سطح اور درجے میں رکھنے کی کوشش کی جائے۔ اگر ہم اس کا اہتمام کر لیں تو بہت سے جھگڑے سرے سے وجود میں ہی نہیں آئیں گے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اختلاف کا اظہار مناسب زبان، موزوں الفاظ اور معقول لہجے میں کیا جائے تو اس کے تنازعہ کی صورت اختیار کرنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ علماء کے حلقہ میں میری گزارش یہ ہوتی ہے کہ اختلاف کا اظہار اچھے الفاظ اور مناسب لہجے میں کرنا چاہیے۔ جبکہ صحافیوں کے ماحول میں یہ گزارش اس طرح کر رہا ہوں کہ اختلاف کی رپورٹنگ کے لیے بھی اچھے الفاظ اور مناسب لہجے کی ضرورت ہے۔ ہمارے بہت سے جھگڑے مبالغہ آمیز رپورٹنگ کی وجہ سے کھڑے ہوتے ہیں اور خبر کا ااشتعال انگیز لہجہ بات کو سنوارنے کی بجائے بگاڑنے کا باعث بنتا ہے۔ کسی عقیدہ، موقف اور اختلاف کے اظہار کا صحیح طریقہ کیا ہے اس حوالہ سے صرف ایک بات پر غور کر لیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو نبی بنا کر فرعون کی طرف بھیجا تو فرمایا کہ قولا لہ قولاً لینا کہ فرعون کے ساتھ نرمی سے بات کرنا۔ اختلاف کے اظہار میں شدت اور غلو کا یہ ماحول صرف مذہبی دنیا میں نہیں ہے بلکہ ہمارا سیاسی ماحول بھی یہی منظر پیش کر رہا ہے اور زندگی کے دیگر شعبوں کی صورت حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ اس لیے ہم اگر اختلاف کے اظہار میں اپنی زبان، الفاظ، لہجے اور رویے کو کنٹرول کر سکیں تو بہت سے اختلاف صرف اس تبدیلی کے ساتھ ختم ہو جائیں گے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ہمارے درمیان اختلافات موجود ہیں اور رہیں گے، ان کو ختم نہیں کیا جا سکتا، لیکن قومی اور ملی حوالہ سے ہمارے درمیان مشترکات بھی موجود ہیں اور مشترکات کی فہرست اختلافات سے کہیں زیادہ طویل ہے۔ اگر ہم عوامی محاذ پر ملی اور قومی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے مشترکات پر زیادہ گفتگو کریں تو ہم آہنگی اور رواداری کی فضا قائم کی جا سکتی ہے۔ ہمارے بہت سے قومی، دینی اور معاشرتی مسائل حل طلب ہیں اور ہماری مشترکہ محنت ان کے حل میں مفید ثابت ہو سکتی ہے بلکہ ہماری عدم توجہ کی وجہ سے وہ مسلسل حل طلب چلے آرہے ہیں۔ اس لیے مذہبی راہ نماؤں کو اختلافات کا اپنے دائرہ میں ضرور اظہار کرنا چاہیے، مگر مشترکات کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ مذہبی کشیدگی کم ہوگی بلکہ مسائل کے حل کی راہ بھی ہموار ہوگی اور قوم کو بہت سی مشکلات سے نجات ملے گی۔
جبکہ چوتھی بات یہ ہے کہ ہم نے مذہبی اختلافات کے باعث ایک دوسرے کے معاشرتی بائیکاٹ کا جو ماحول پیدا کر رکھا ہے، وہ محل نظر ہے۔ یہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں یہودیوں اور منافقوں میں سے کسی کے ساتھ معاشرتی بائیکاٹ نہیں کیا تھا۔ ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا ، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا اور معاشرتی معاملات میں مشترکہ طور پر شامل ہونا مدینہ منورہ کا عمومی ماحول تھا۔ اس لیے مختلف مکاتب فکر کے مذہبی راہ نماؤں کو آپس میں معاشرتی بائیکاٹ کا رویہ اختیار کرنے کی بجائے باہمی ملاقاتوں اور معاشرتی معاملات میں شرکت کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ بہت سی غلط فہمیاں آپس کی ملاقات سے دور ہو جاتی ہیں اور مشترکہ قومی و ملی معاملات میں مل جل کر کام کرنے کی راہیں ہموار ہوتی ہیں جو ہماری آج کی ایک اہم معاشرتی ضرورت ہے۔
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶)
مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں
ڈاکٹر محی الدین غازی
(۵۰) لفظ أمثال کے قرآنی استعمالات
لفظ أمثال قرآن مجید میں کئی جگہ آیا ہے اور مختلف معنوں میں آیا ہے، سیاق وسباق سے یہ طے ہوتا ہے کہ کس جگہ کیا مفہوم مراد ہے، جیسے:
أمثال جب مَثَل کی جمع ہوتا ہے تو مثالوں کے معنی میں آتا ہے جیسے:
کَذَلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَہُمْ۔ (محمد:۳)
’’اس طرح اللہ لوگوں کے لئے ان کی مثالیں بیان کررہا ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’اسی طرح خدا لوگوں سے ان کے حالات بیان فرماتا ہے‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
أمثال جب مِثل کی جمع ہوتا ہے تو ’’ اسی طرح‘‘کے معنی میں آتا ہے، جیسے:
إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّٰہِ عِبَادٌ أَمْثَالُکُمْ۔ (الاعراف :۱۹۴)
’’جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں‘‘۔ (فتح محمد جالندھری)
اسی طرح مذکورہ ذیل آیت میں بھی أمثال کا یہی مفہوم لینا درست ہے:
أَفَلَمْ یَسِیْرُوا فِیْ الْأَرْضِ فَیَنظُرُوا کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ دَمَّرَ اللّٰہُ عَلَیْْہِمْ وَلِلْکَافِرِیْنَ أَمْثَالُہَا۔ (محمد :۱۰)
’’ کیا انہوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا؟ خدا نے ان پر تباہی ڈال دی۔ اور اسی طرح کا (عذاب) ان کافروں کو ہوگا‘‘(فتح محمد جالندھری)
صاحب تدبر نے یہاں مثالوں کا ترجمہ کیا جو درست نہیں ہے۔
’’ کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوچکاہے ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے ہیں ، اللہ نے ان کو پامال کرچھوڑا اور ان کافروں کے سامنے بھی انہی کی مثالیں آنی ہیں‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
لفظ کی رعایت سے بالکل صحیح ترجمہ یہ ہے: اور کافروں کے لئے اسی طرح کا انجام ہے‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی )
(۵۱) قوموں کو بدلنا یا انسانوں کی شکل وصورت کو بدلنا
نَحْنُ خَلَقْنَاہُمْ وَشَدَدْنَا أَسْرَہُمْ وَإِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَا أَمْثَالَہُمْ تَبْدِیْلاً۔ (الانسان : ۲۸)
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْْنَکُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِیْن۔ عَلَی أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَکُمْ وَنُنشِئَکُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔ (الواقعۃ :۶۰۔۶۱)
کَلَّا إِنَّا خَلَقْنَاہُم مِّمَّا یَعْلَمُونَ۔ فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ۔ عَلَی أَن نُّبَدِّلَ خَیْْراً مِّنْہُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِیْن۔ (المعارج:۳۹۔۴۱)
مذکورہ بالا تین آیتوں میں عام طور سے مترجمین نے جو ترجمہ کیا ہے، اس سے یہ مفہوم سامنے آتا ہے کہ اللہ اس پر قادر ہے کہ انسانوں کے موجودہ گروہ کی جگہ دوسرے انسانوں کو لے آئے۔
جو بات ان مترجمین و مفسرین نے اختیار کی ہے وہ اپنے آپ میں صد فی صد درست ہے ، اور قرآن مجید کے دوسرے مقامات پر بہت واضح لفظوں میں بیان کی گئی ہے، جیسے:
وَإِن تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَیْْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُونُوا أَمْثَالَکُمْ۔ (محمد:۳۸)
البتہ مذکورہ تینوں آیتوں میں مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ گفتگو ایک گروہ کو ہٹاکر دوسرے گروہ کو لانے کی نہیں ہورہی ہے، بلکہ انسانوں کی تخلیق کی ہورہی ہے، اور موقعہ کا تقاضا اللہ کی اس قدرت کو بتانا ہے کہ انسانوں کی جس طرح کی تخلیق اللہ نے کی ہے ، اس سے مختلف تخلیق پر بھی اللہ قادر ہے۔تینوں آیتوں کے سیاق پر محض سرسری نظر ڈالنے سے بھی بآسانی واضح ہوجاتا ہے کہ تینوں آیتوں میں بدل دینے کے ذکر سے اللہ کی کس قدرت کا بیان ہے۔
ان تینوں آیتوں کا ترجمہ عام طور سے کس طرح کیا گیا ہے اور کس طرح ہونا چاہیے، ذیل کی تفصیل سے سمجھا جا سکتا ہے۔
نَحْنُ خَلَقْنَاہُمْ وَشَدَدْنَا أَسْرَہُمْ وَإِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَا أَمْثَالَہُمْ تَبْدِیْلاً۔ (الانسان : ۲۸)
’’ہم نے انہیں پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے اور ہم جب چاہیں ان جیسے اور بدل دیں‘‘۔(احمد رضا خان)
’’ ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کئے، اور جب ہم چاہیں گے ٹھیک ٹھیک انہی کے مانند بدل دیں گے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
’’ ہم نے ان کو پیدا کیا اور ان کے مقابل کو مضبوط بنایا۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کے بدلے ان ہی کی طرح اور لوگ لے آئیں‘‘(فتح محمد جالندھری)
’’ ہم ہی نے ان کو پیدا کیا ہیاور ہم ہی نے ان کے جوڑ بند مضبوط کئے اور (نیز) جب ہم چاہیں انہی جیسے لوگ ان کی جگہ بدل دیں‘‘۔ (اشرف علی تھانوی)
جبکہ سیاق وسباق اور خود اس جملے کے الفاظ کے لحاظ سے درست ترجمہ یہ ہے:
’’ ہم نے ہی اِن کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں، اور ہم جب چاہیں اِن کی شکلوں کو بدل کر رکھ دیں‘‘۔(سید مودودی)
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْْنَکُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِیْن۔ عَلَی أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَکُمْ وَنُنشِئَکُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔ (الواقعۃ :۶۰۔۶۱)
’’ ہم نے تم میں مرنا ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس (بات) سے عاجز نہیں کہ تمہاری طرح کے اور لوگ تمہاری جگہ لے آئیں اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کر دیں‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’ ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کی ہے اور ہم عاجز رہنے والے نہیں ہیں۔ (بلکہ قادر ہیں) اس بات پر کہ ہم تمہاری جگہ تمہارے مانند بنادیں، اور تم کو اٹھائیں اس عالم میں جس کو تم نہیں جانتے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
درست ترجمہ یہ ہے:
’’ ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے، اور ہم اِس سے عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری شکلیں بدل دیں اور کسی ایسی شکل میں تمہیں پیدا کر دیں جس کو تم نہیں جانتے‘‘۔(سید مودودی)
’’ ہم نے تمہارے درمیان موت کا نظام رکھا ہے، اور ہم اِس سے عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری شکل وصورت بدل دیں اور تم کو نشوونما دیں ایسی حالت میں جسے تم نہیں جانتے‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی )
کَلَّا إِنَّا خَلَقْنَاہُم مِّمَّا یَعْلَمُونَ۔ فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ۔ عَلَی أَن نُّبَدِّلَ خَیْْراً مِّنْہُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِیْن۔ (المعارج:۳۹۔۴۱)
’’ ہرگز نہیں ہم نے جس چیز سے اِن کو پیدا کیا ہے اْسے یہ خود جانتے ہیں۔ پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی، ہم اِس پر قادر ہیں کہ اِن کی جگہ اِن سے بہتر لوگ لے آئیں اور کوئی ہم سے بازی لے جانے والا نہیں ہے‘‘۔(سید مودودی)
درست ترجمہ یہ ہے:
اور ہم پوری قدرت رکھتے ہیں اور ہمارے بس سے باہر نہیں کہ ان کی موجودہ صورت کو اس سے بہتر شکل دے دیں‘‘۔(محمد امانت اللہ اصلاحی)
(۵۲) فَبِأَیِّ آلَاء رَبِّکُمَا تُکَذِّبَان
فَبِأَیِّ آلَاء رَبِّکُمَا تُکَذِّبَان۔ (الرحمن:۱۳)
یہ آیت سورہ رحمان میں اکتیس مرتبہ آئی ہے، عام طور سے مترجمین نے اس آیت میں أَیّ کا ترجمہ کس کس یا کن کن یا کون کون سی کیا ہے، تدبر قرآن میں امین احسن اصلاحی کے ترجمہ میں بھی زیادہ تر یہی ترجمہ ہے، البتہ کچھ آیتوں میں کن کن کے بجائے کتنی یا کتنے ترجمہ کیا ہے جیسے:
’’ تم اپنے رب کی کتنی رحمتوں کو جھٹلاؤ گے‘‘۔ (۹۴)
’’ تو تم اپنے رب کی کتنی نعمتوں کی تکذیب کرو گے‘‘۔(۵۵)
’’ تو تم اپنے رب کی کتنی نوازشوں کو جھٹلاؤگے‘‘۔ (۷۵)
الغرض اکتیس میں سے دس مقامات ایسے ہیں جہاں کن کن کے بجائے کتنی یا کتنے ترجمہ کیا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ ایسا عجلت میں ہوگیا ہے۔
(۵۳) سبق کا ایک خاص مفہوم
لفظ سبق کا ایک معنی کسی سے آگے نکل جانا ہوتا ہے اور اس کی قرآن مجید میں نظیریں بھی ہیں، جیسے:
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُونَا بِالْإِیْمَان۔ (الحشر:۱۰)
’’ اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اْن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں‘‘۔(سید مودودی)
’’ اے ہمارے رب ہم کو بھی بخش اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش جنھوں نے ایمان لانے میں ہم پر سبقت کی‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
تاہم اسی لفظ کا ایک اور معنی ہے ، اور وہ ہے کسی کی پہونچ اور قابو سے باہر نکل جانا۔ اور اس کی بھی قرآن مجید میں نظیریں ہیں۔
وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ سَبَقُواْ إِنَّہُمْ لاَ یُعْجِزُونَ۔ (الانفال :۵۹)
’’ اور کافر یہ گمان نہ کریں کہ وہ نکل بھاگیں گے، وہ ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکیں گے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
اس ترجمہ میں ایک خامی یہ رہ گئی کہ فعل ماضی ہے اور بنا کسی سبب یا قرینے کے ترجمہ مستقبل کا کردیا ہے، درست ترجمہ یوں ہے:
’’ اور کافر یہ گمان نہ کریں کہ وہ اللہ کی پہونچ سے باہر نکل گئے، وہ ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکیں گے‘‘۔ (امانت اللہ اصلاحی )
بعض لوگوں نے یہاں بھی بازی لے جانے کا ترجمہ کیا ہے، جیسے:
’’ منکرینِ حق اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ بازی لے گئے، یقیناًوہ ہم کو ہرا نہیں سکتے‘‘۔(سید مودودی)
یہ ترجمہ درست نہیں ہے، کیونکہ یہاں کوئی دوڑ کا مقابلہ موضوع گفتگو نہیں ہے جس میں کوئی بازی لے جائے، بلکہ اللہ کی پہونچ سے باہرنکلنے کی بات ہورہی ہے۔
أَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ أَن یَسْبِقُونَا سَاءَ مَا یَحْکُمُون۔ (العنکبوت:۴)
’’ کیا جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کررہے ہیں وہ گمان رکھتے ہیں کہ ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
وَقَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَہَامَانَ وَلَقَدْ جَاءَ ہُم مُّوسَی بِالْبَیِّنَاتِ فَاسْتَکْبَرُوا فِیْ الْأَرْضِ وَمَا کَانُوا سَابِقِیْنَ۔ (العنکبوت :۳۹)
’’ اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی ہم نے ہلاک کردیا، اور موسی ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انھوں نے ملک میں گھمنڈ کیا اور وہ ہمارے قابو سے باہر نکل جانے والے نہ بن سکے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
اس آیت میں بھی بعض لوگوں نے آگے بڑھ جانے اور سبقت لے جانے کا ترجمہ کیا ہے جو درست نہیں ہے۔
’’ اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا موسیٰ اْن کے پاس بیّنات لے کر آیا مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے‘‘۔(سید مودودی)
’’ اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی، ان کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھلے کھلے معجزے لے کر آئے تھے پھر بھی انہوں نے زمین میں تکبر کیا لیکن ہم سے آگے بڑھنے والے نہ ہو سکے‘‘۔(محمد جونا گڑھی)
(۵۴) وَلَا اللَّیْْلُ سَابِقُ النَّھَارِ کا ترجمہ
اس سلسلے میں ایک آیت پر خصوصی گفتگو کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، اور وہ سورہ یٰسین کی مندرجہ ذیل آیت ہے:
لَا الشَّمْسُ یَنبَغِیْ لَہَا أَن تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّیْْلُ سَابِقُ النَّہَارِ وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَسْبَحُون۔ (یس: ۴۰)
’’ نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت کرسکتی ہے، ہر ایک اپنے خاص دائرے میں گردش کرتا ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’ نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں‘‘۔ (سید مودودی)
’’ سورج کو نہیں پہنچتا کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جائے اور ہر ایک، ایک گھیرے میں پیر رہا ہے‘‘۔(احمد رضا خان)
’’ نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’ نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پرآگے بڑھ جانے والی ہے، اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
مذکورہ بالا تمام ترجموں کی رو سے آیت میں رات کے دن پر سبقت کرنے ، دن سے پہلے آنے اور دن پر آگے بڑھ جانے کی بات کہی گئی ہے، اور اس کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ دن کے لئے مقرر وقت ختم ہونے سے پہلے رات نہیں آسکتی۔اس پر اشکال یہ وارد ہوتا ہے کہ کسی کے آنے سے پہلے کسی دوسرے کے آجانے کے لئے تو سبق کا استعمال درست ہے لیکن کسی کے جانے سے پہلے کسی دوسرے کے آجانے کے لئے لفظ سبق کا استعمال محل نظر ہے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے اس آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے:
’’نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن کی پہونچ سے باہر ہوسکتی ہے ، ہر ایک اپنے خاص دائرے میں گردش کرتا ہے‘‘۔ گویا یہ نہیں ہوسکتا کہ دن کی پہونچ سے رات اس طرح باہر ہوجائے کہ پھر آئے ہی نہیں ، بلکہ ہر دن کے بعد رات کا آنا ضروری ہے۔ اس ترجمہ سے معنی کا یہ حسن سامنے آتا ہے، کہ ایک طرف تو سورج اور چاند کی گردش ہے کہ سورج چاند کو گرفتار نہیں کرسکتا، دوسری طرف رات اس طرح دن کی گرفت میں ہے کہ اس کی گرفت سے باہر نہیں نکل سکتی، روز دن اس کو جالیتا ہے۔ چاند کبھی سورج کی گرفت میں نہیں آسکتا یہ بھی اللہ کی قدرت کا شاہکار ہے، اور رات کبھی دن کی پہونچ سے باہر نہیں نکل سکتی یہ بھی اللہ کی قدرت کا کمال ہے۔
دن رات کا تعاقب کر کے اس کو جالیتا ہے ، اس کا ذکر بھی قرآن مجید میں موجود ہے، سورہ اعراف میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
یُغْشِیْ اللَّیْْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیْثاً۔ (الاعراف:۵۴)
آیت کے اس حصے کے مختلف ترجمے کئے گئے ہیں:
’’ جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے‘‘۔ (سید مودودی)
’’ رات دن کو ایک دوسرے سے ڈھانکتا ہے کہ جلد اس کے پیچھے لگا آتا ہے‘‘۔ (احمد رضا خان)
’’ وہی رات سے دن کو ڈھانک دیتا ہے (درآنحالیکہ دن رات میں سے) ہر ایک دوسرے کے تعاقب میں تیزی سے لگا رہتا ہے‘‘۔(طاہر القادری)
’’ وہ شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وہ شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
’’ ڈھانکتا ہے رات کو دن پر جو اس کا پوری سرگرمی سے تعاقب کرتی ہے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’ اڑھاتا ہے رات پر دن کہ وہ اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا‘‘۔ (شیخ الہندمحمود الحسن)
ان ترجموں کا جائزہ لینے کے لئے دو باتوں کو پیش نظر رکھنا مناسب ہے، پہلی بات یہ کہ چونکہ لیل پہلے آیا ہے اور نہار بعد میں آیا ہے اس لئے لفظوں کی ترتیب کے لحاظ سے رات کو دن پر ڈھانکنا یا اڑھانا زیادہ مناسب ہے۔ ترتیب کے قرینے کے علاوہ دوسرے مقامات پر اس بات کی صراحت بھی ہے کہ غشی یعنی ڈھانکنے کا عمل رات انجام دیتی ہے، جیسے وَاللَّیْْلِ إِذَا یَغْشَی (اللیل:۱) اور وَاللَّیْْلِ إِذَا یَغْشَاہَا (الشمس:۴) اس لئے رات پر دن اڑھانا، یا دونوں کو ایک دوسرے پر ڈھانکنا ، کمزور ترجمہ ہے۔
دوسری بات یہ کہ قرآن کی رو سے رات کا رول بھاگنے کا ہے نہ کہ پیچھا کرنے کا، وَاللَّیْْلِ إِذْ أَدْبَرَ (المدثر:۳۳) اس پہلو سے تعاقب کرکے پیچھا کرنے کا کام دن کے لئے زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔چنانچہ وہ ترجمے زیادہ موزوں ہیں جن میں یَطْلُبُہُ حَثِیْثًا کا فاعل نہار کو بنایا گیا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ پہلے دن رات کا تعاقب کرتا ہے، اور اس کے بعد رات کو دن پر ڈھانک دیا جاتا ہے، نہ کہ جیسا سید مودودی کے ترجمے میں ہے کہ ڈھانکنے کے بعد دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آئے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی اس جملے کا ترجمہ یوں کرتے ہیں؛
’’ڈھانکتا ہے رات سے دن کو جو اس کا پوری سرگرمی سے تعاقب کرتا ہے ‘‘۔
سورہ یٰسین اور سورہ اعراف کی دونوں آیتوں کو سامنے رکھا جائے تو مطلب یہ بنتا ہے کہ رات پیٹھ پھیر کر بھاگتی ہے ، دن اس کا پیچھا کرتا ہے ، تعاقب کرنے کے بعد جب دن رات کو جالیتا ہے تو اللہ رات سے دن کو ڈھانک دیتا ہے۔صبح رات پھر راہ فرار اختیار کرتی ہے اور پھر دن رات کو جالیتا ہے، اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، رات کبھی دن کی پہونچ سے باہر نہیں نکل پاتی۔
(۵۵) لاَ یَسْتَأْخِرُونَ سَاعَۃً وَلاَ یَسْتَقْدِمُون کا ترجمہ
کسی متعین وقت کے سیاق میں جب بات ہورہی ہو تو لفظ استئخار کا مطلب ہوتا ہے ، کسی کام کا متعین وقت پر انجام نہ پانا بلکہ تاخیر ہوجانا، جبکہ لفظ استقدام یا لفظ سبق کا مطلب ہوتا ہے کسی کام کا اس متعین وقت سے پہلے ہی انجام پاجانا۔ جہاں تک اردو زبان کا معاملہ ہے، کسی کام کا وقت متعین ہو، تو اگر اس وقت سے پہلے وہ کام انجام دے دیا جائے تو اسے وقت سے آگے بڑھ جانا کہتے ہیں، اور اگر وہ کام انجام دینے میں تاخیر ہوجائے تو اسے وقت سے پیچھے رہ جانا کہتے ہیں۔
یہ مضمون کہ اس دنیا میں لوگوں کی زندگی کا ایک متعین وقت ہے، اور کوئی اس متعین وقت سے نہ تو پہلے اس دنیا سے جاسکتا ہے، اور نہ متعین وقت کے بعد یہاں رہ سکتا ہے، قرآن مجید میں مختلف مقامات پر ذکر ہوا ہے، جیسے:
مَا تَسْبِقُ مِنْ أُمَّۃٍ أَجَلَہَا وَمَا یَسْتَأْخِرُون۔ (المؤمنون:۴۳)
’’ کوئی جماعت اپنے وقت سے نہ آگے جاسکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’ نہ کوئی قوم اپنی اجل معین سے آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ اس سے پیچھے رہ سکتی ہے‘‘۔ ( امانت اللہ اصلاحی)
’’ کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ختم ہوئی اور نہ اس کے بعد ٹھیر سکی۔(سید مودودی، اس ترجمہ کی غلطی یہ ہے کہ بنا کسی سبب یا قرینہ کے فعل مضارع کا ترجمہ زمانہ ماضی سے کردیا ہے، اسے حال یا مستقبل ہونا چاہئے۔)
اسی سے ملتے جلتے مضمون کی تین آیتیں قرآن مجید میں ایک خاص اسلوب میں آئی ہیں اور ان کے جو ترجمے کئے گئے ہیں وہ توجہ طلب ہیں۔
وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُہُمْ لاَ یَسْتَأْخِرُونَ سَاعَۃً وَلاَ یَسْتَقْدِمُون۔ (الاعراف :۳۴)
لِکُلِّ أُمَّۃٍ أَجَلٌ إِذَا جَاءَ أَجَلُہُمْ فَلاَ یَسْتَأْخِرُونَ سَاعَۃً وَلاَ یَسْتَقْدِمُون۔ (یونس:۴۹)
فَإِذَا جَاءَ أَجَلُہُمْ لاَ یَسْتَأْخِرُونَ سَاعَۃً وَلاَ یَسْتَقْدِمُون۔ (النحل:۶۱)
ان آیتوں کے ترجمہ سے پہلے ایک بات واضح ہونا ضروری ہے کہ جب سفرکا متعین وقت آجاتا ہے تو اس سے پیچھے ہٹنے کا امکان تو تصور کیا جاسکتا ہے، لیکن اس سے آگے بڑھنے کا امکان ہی ناقابل تصور ہے۔ آگے بڑھنے کا امکان اسی وقت تک متصور ہے جب تک وقت متعین نہ آیا ہو، جب وقت متعین آگیا تو پھر تاخیر تو متصور ہوتی ہے تقدیم متصور نہیں ہوتی ہے۔
اس کے پیش نظر مولانا امانت اللہ اصلاحی نے ایک اہم نکتہ کی نشان دہی فرمائی، وہ یہ کہ إِذَا جَاء أَجَلُہُمْ کا جواب صرف لاَ یَسْتَأْخِرُونَ سَاعَۃً ہے، جبکہ وَلاَ یَسْتَقْدِمُون جواب پر معطوف ہوکر جواب کا حصہ نہیں ہے، بلکہ اس پورے جملے کا تتمہ ہے۔ مطلب یہ کہ آیت میں دو باتیں کہی گئی ہیں ، ایک تو یہ کہ اجل کے آنے کے بعد تاخیر نہیں ہوسکتی، دوسرے یہ کہ اجل کے آنے سے پہلے تقدیم بھی نہیں ہوسکتی ہے۔ گویا اجل کے آنے سے تاخیر کا تو تعلق ہے ، لیکن تقدیم کا تعلق اجل کے آنے سے نہیں ہے۔
اس وضاحت کی روشنی میں ہم الگ الگ تینوں آیتوں کے ترجموں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُہُمْ لاَ یَسْتَأْخِرُونَ سَاعَۃً وَلاَ یَسْتَقْدِمُون۔ (الاعراف:۳۴)
’’ اور ہر امت کے لئے ایک مقررہ مدت ہے، تو جب ان کی مدت پوری ہوجائے گی تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکیں گے نہ آگے بڑھ سکیں گے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
’’ اور ہر گروہ کے لئے ایک میعاد معین ہے سو جس وقت ان کی میعاد معین آجائے گی اس وقت ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے‘‘۔(محمد جونا گڑھی)
لِکُلِّ أُمَّۃٍ أَجَلٌ إِذَا جَاءَ أَجَلُہُمْ فَلاَ یَسْتَأْخِرُونَ سَاعَۃً وَلاَ یَسْتَقْدِمُون۔ (یونس:۴۹)
’’ ہر امت کے لئے ایک وقت مقرر ہے، جب ان کا وقت آجاتا ہے تو پھر نہ ایک گھڑی پیچھے ہوتے نہ آگے‘‘۔ (امین احسن اصلاحی)
’’ ہر امت کے لیے مہلت کی ایک مدت ہے، جب یہ مدت پوری ہو جاتی ہے تو گھڑی بھر کی تقدیم و تاخیر بھی نہیں ہوتی‘‘۔(سید مودودی)
’’ ہر امت کے لیے ایک معین وقت ہے جب ان کا وہ معین وقت آپہنچتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے سرک سکتے ہیں‘‘۔ (محمد جوناگڑھی)
مذکورہ بالا ترجموں کے مقابلے میں فتح محمد جالندھری کا ذیل کا ترجمہ صحیح ہے۔
’’ ہر ایک امت کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
فَإِذَا جَاءَ أَجَلُہُمْ لاَ یَسْتَأْخِرُونَ سَاعَۃً وَلاَ یَسْتَقْدِمُون۔ (النحل:۶۱)
’’ تو جب ان کا وقت معین آجائے گا تو اس سے نہ وہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے‘‘۔(امین احسن اصلاحی)
’’ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں‘‘۔(فتح محمد جالندھری)
’’ جب ان کا وہ وقت آجاتا ہے تو وہ ایک ساعت نہ پیچھے رہ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں‘‘۔(محمد جوناگڑھی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے مذکورہ تینوں آیتوں کے ترجموں کی غلطی کو دور کرتے ہوئے اس طرح ترجمہ کیا ہے:
’’ جب ان کا وقت آجاتا ہے تو اس کے بعد ایک گھڑی پیچھے نہیں ہوسکتے اور نہ پہلے جاسکتے ہیں‘‘۔
(جاری)
دورِ جدید کا فقہی ذخیرہ: عمومی جائزہ (۱)
مولانا سمیع اللہ سعدی
فقہ اسلامی زمانہ تدوین سے لے کر عصر حاضر تک مختلف مراحل سے گزری۔اس پر متنوع انقلابات آئے۔ فقہ اسلامی کے طرز تصنیف اور طریقہ تدریس میں نوع بنوع تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ فقہائے کرام نے ہر دور کے مطابق فقہ اسلامی کے گرانقدر ذخیرے کی تہذیب وتنقیح کی، ہر دور کے علمی مزاج و مذاق کے مطابق کتب فقہ کے طرز تصنیف، اسلوب تحریر، ترتیب مباحث، تحریر مسایل اور تقریر ادلہ میں فقہ اسلامی کے دایرے میں رہتے ہوے مفید تبدیلیاں کیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ اسلامی کی طویل تاریخ پر عمیق نگاہ ڈالنے سے مختلف ادوار سامنے آتے ہیں۔ ان مختلف مراحل سے واقفیت اور ہر دور کی مخصوص خصوصیات سے آگاہی فقہ اسلامی کے طا لب علم کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ان مختلف ادوار و مراحل میں فقہ اسلامی کا دور جدید مختلف وجوہات کی بنا پر سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ،(1)اس مضمون میں ہم دور جدید کے فقہی ذخیرے اور اس کی متنوع خصوصیات پر ایک تحقیقی نگاہ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔
دور جدید کی ابتداء
فقہ اسلامی کی تاریخ کو ادوار و مراحل میں تقسیم کرنے والے کم و بیش تمام معاصر مورخین کے مطابق فقہ اسلامی کے دور جدیدکا آغاز مجلۃا لاحکام العدلیہ کی تصنیف سے ہوتاہے۔ (2) مجلہ کی تصنیف کا پس منظر یہ تھاکہ خلافت عثمانیہ میں عدالتیں فقہ حنفی کے مطابق فیصلے کیا کرتیں تھیں،اس نظام میں جج حضرات کو عموماً فقہ حنفی کے وسیع ذخیرے میں مطلوبہ مبحث کی تلاش اور مفتی بہ قول کی تعیین میں کافی دقت کا سامنا کرنا پڑتا،اس پر مستزاد وقت بھی کافی خرچ ہوتا ۔اسکے علاوہ قدیم مصنفین چونکہ قواعد و ضوابط کو مستقلاً ذکر کرنے کی بجاے جزئیات کے ضمن میں ذکر کرتے تھے ،اس لیے نئے مسائل کا فیصلہ کرتے وقت قواعد کااستخراج بھی انتہا ئی دقت طلب مرحلہ ہوتا،ان مشکلات کو دیکھتے ہوے خلافت عثمانیہ کے وزیر انصاف نے وقت کے جید فقہاء کی ایک کمیٹی تشکیل دی اور معاملات و نکاح کے ابواب کو قانونی ترتیب کے مطابق دفعہ وار مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی ،چنانچہ کمیٹی نے اپنا کام شروع کیا اور سات سال کی محنت شاقہ کے بعد ۱۲۸۵ھ میں ایک مجموعہ تیار کیا ،اس مجموعے کو مجلۃ الاحکام العدلیہ کا نام دیا گیا ،اس کے مقدمے میں فقہ کے مختصر قانونی تعارف کے ساتھ فقہ اسلامی کے ننانوے ایسے بنیادی قواعد ذکر کیے گے ،جن پر تقریباً فقہ کی پوری عمارت کھڑی ہے اور ان قواعد کا فقہ کے تمام ابواب کے ساتھ انتہا ئی مضبوط ربط ہے ۔اس پر مغز کے مقدمے کے بعد سولہ مرکزی عنوانات کے تحت۱۸۵۱ دفعات میں معاملات کے تمام اہم ابواب کا ذکر کیا گیا ہے ،ان تمام مسایل میں مفتی بہ اقوال لینے کی کوشش کی گیی ہے ،البتہ بعض مسائل میں حالات و زمانہ کی ضروریات کے پیش نظر ضعیف و مرجوح اقوال بھی لئے گئے ہیں۔ (3)
مجلہ کی تصنیف نے واقعی فقہ اسلامی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی داغ بیل ڈال دی ،اس وقت سے لیکر آج تک فقہ اسلامی پر اچھا خاصا کام ہوا اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق فقہ اسلامی کا وسیع ذخیر ہ سامنے آیا ،ذیل میں اس جدید ذخیرے کی مختلف انواع و اقسام کا مختصراً ذکر کیا جاتا ہے۔
پہلی قسم: جدید قانونی طرز کے مطابق فقہ اسلامی کی ترتیب و تدوین
فقہ اسلامی کی عام کتب کا طرز اور مباحث کی ترتیب جدید قانونی کتب سے کافی مختلف ہے ،کتب فقہ میں فقہاء کے اختلافات،دلایل ،قواعد کی بجاے فروع و جزئیات اور عموماً راجح و مرجوح کی تعیین کے بغیر مسائل ذکر کیے جاتے ہیں،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کتب سے کامل استفادہ اور راجح اقوال کا انتخاب ایک ماہر اور منجھا ہوا فقیہ ہی کر سکتا ہے ،مجلہ کی تصنیف کے بعد عالم اسلام میں فقہ اسلامی کی دفعہ وار ترتیب و تدوین کے رجحان میں کافی تیزی آئی ،اور فقہائنے تقنین کے جواز و عدم جواز پر طویل بحثیں کیں ،اس کے ممکنہ طرق کا ذکرکیا ،خاص طور پر عالم اسلام کے مایہ ناز فقیہ شیخ مصطفی الزرقاء نے "المدخل الفقہی العام " میں تقنین کے حوالے سے مفصل اور پر مغز بحث کی ہے۔(4)
ذیل میں اس حوالے سے چند مفید کاوشوں کا مختصر ذکر کیا جاتا ہے :
۱۔سعودی عرب کے معروف عالم شیخ احمد بن عبد اللہ القاری نے سعودی حکومت کے ایماء پر فقہ حنبلی کے معاملات کے ابواب کو دفعہ وار مرتب کیا ،یہ مجموعہ "مجلۃ الا حکام الشرعیہ علی مذہب الامام احمد بن حنبل الشیبانی "کے نام سے موسوم ہوا ،اس کی کل دفعات تقریباً ۲۳۸۴ہیں۔
۲۔مشہور فقیہ محمد قدوری پاشا نے احوال شخصیہ یعنی نکاح،وقف اور معا ملات کے ابواب فقہ حنفی کے مطابق دفعہ وار مرتب کیا اور اسے "مرشد الحیران لمعرفۃ احوال الانسان" کا نام دیا ۔اس کی کل دفعات تقریباً ۱۰۴۵ ہیں۔
۳۔شیخ ابو زہرہ مرحوم نے نکاح و طلاق کے مو ضوع پر "الاحوال الشخصیہ "کے نام سے ایک مفصل کتاب لکھی ،اس کے آخر میں بھی مواد کو دفعہ وار لکھا۔
۴۔مصر کے معروف عالم اور اخوان کے مشہور رہنما شیخ عبد القادر عودہ شہید نے اسلام کے نظام جرم و سزا پر "التشریع الجنائی مقارنا با لقانون الوضعی" کے نام سے ایک مفید و مفصل کتاب لکھی ،اس کے آخر میں تمام مسایل کو دفعات کی شکل میں ذکر کیا کل دفعات تقریبا۶۸۹ ہیں۔
۵۔پاکستان کی مشہور شخصیت ڈاکٹر تنزیل الرحمان نے "مجموعہ قوانین اسلام "کے نام سے چھ جلدوں میں اردو میں ایک کتاب لکھی ،جس میں تمام اہم مسائل کو دفعات کی شکل میں لکھا گیا ہے ۔
۶۔ہندو ستان آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کی طرف سے نکاح و طلاق کے مسایل دفعہ وار مرتب کیے گئے ،یہ کاوش "مجموعہ قوانین اسلامی "کے نام سے مشہور ہوئی ۔ اس کی کل دفعات تقریباً ۵۳۰ہیں۔
۷۔ ہندوستان کے معروف عالم مجاہد الاسلام قاسمی صاحب نے اسلام کے عدالتی نظام کو دفعات کی شکل میں مرتب کیا،اس کی کل دفعات تقریباً ۷۴۰ ہیں اپنی افادیت کی بنا پر عربی میں ترجمہ ہوکر بیروت سے بھی چھپ چکی ہے ۔
دوسری قسم: فقہی موسوعات اور انسائیکلو پیڈیاز کی تیاری
دور جدید میں فقہ اسلامی کے حوالے سے ایک رجحان یہ سامنے آیا ھے کہ پوری فقہ اسلامی کو الفبائی ترتیب سے موسوعہ اور انسائیکلو پیڈیا کی شکل میں مرتب کیا جاے ،تا کہ وہ حضرات جو فقہ اسلامی کی کتب سے ممارست نہیں رکھتے اور نہ انہیں فقہی کتب کے ابواب و مسایل کی ترتیب معلوم ہے ،وہ فقہ اسلامی سے آسانی کے ساتھ استفادہ کر سکے۔چنانچہ اس سلسلے میں درج ذیل کوششیں ہوئی ہیں:
۱۔فقہی موسوعہ تیا ر کرنے کی سب سے پہلی تجویز مشہور فقیہ اور ممتاز مفکر داکٹر مصطفی سباعی کی طرف سے آئی۔ جب وہ دمشق یونیورسٹی میں کلیۃ الشریعہ کے صدر بنے ،انہوں نے ایک ضخیم موسوعہ تیار کرنے کا منصوبہ حکومت شام کے سامنے پیش کیا اور حکومت نے اسے منظور بھی کیا ۔اس سلسلے میں شامی حکومت نے عالم عرب کے ممتاز محققین کی ایک کمیٹی تشکیل دی ،لیکن چند وجوہات کی بنا پر یہ منصوبہ چل نہیں سکا اور فقہی موسوعہ تیار کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا ۔
۱۹۶۲ء میں حکومت مصر نے ایک موسوعہ فقہیہ تیار کرنے کا منصوبہ بنا یا ،یہ موسوعہ "موسوعہ جمال عبد الناصر فی الفقہ الاسلامی" کے نام سے موسوم کیا گیا ،چنانچہ اس موسوعہ پر باقاعدہ کا م شروع کیا گیا ،لیکن کام کی سست رفتاری کی وجہ سے ابھی تک اس کی سولہ جلدیں منظر عام پر آئی ہیں ،اس موسوعہ میں مذاہب اربعہ کے ساتھ شیعہ ،زیدیہ ،،زیدیہ ،اباضیہ اور ظاہریہ کے مسالک کے بیان کا بھی اہتمام کیا گیا ہے ۔
۳۔فقہی موسوعہ تیار کرنے کی سب سے کامیاب کوشش وزارت اوقاف کویت کی طرف سے سامنے آی ،حکومت کویت نے ممتاز فقیہ داکٹر مصطفی الزرقا ء کی میں سر براہی ۱۹۶۶ ء میں ایک ضخیم موسوعہ کی منظوری دی ،چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس موسوعہ کی تیاری پر تیزی سے کام شروع کیا ،ڈاکٹر صاحب کی محنت رنگ لائی اور تیزی کے ساتھ اس کی جلدیں منظر عام پر آنے لگیں اور اب تک اس کی پینتالیس جلدیں چھپ چکی ہیں ۔بلا شبہ موضوعات کے استیعاب، اختصار و جامعیت اور تسہیل و ترتیب کے لحاظ سے عصر حاضر کا منفرد و ممتاز ترین کام ہے ۔اس میں مذاہب اربعہ کے بیان کا التزام کیا گیا ہے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی نے اس ضخیم موسوعہ کا اردو میں بھی ترجمہ کیاہے جو یقیناًاردوداں حضرات کے لیے بیش بہا تحفہ ہے۔
۴۔عصر حاضر کے ممتاز محقق ڈاکٹر رواس قلعہ جی نے صحابہ و تابعین کے اقوال فقہیہ یکجا کرنے کا منصوبہ بنا یا ،چنانچہ اس سلسلے میں اب تک صحابہ میں سے حضرت عمرؓ ،حضرت عبد اللہ بن مسعود ،ؓام المومنین حضرت عایشہؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور تابعین حضرت حسن بصری اور حضرت ابراہیم نخعی و دیگر معروف تابعین کے اقوال فقیہہ فقہی ترتیب کے مطابق جمع کیا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر قلعہ جی کی یہ کوشش بلا شبہ ایک مایہ ناز و تاریخی پیشکش ہے ،اس سلسلے سے صحابہ و تابعین کی فقہ ایک مرتب شکل میں سامنے آئی ہے ،اللہ تعالی ڈاکٹر صاحب کو اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ اب تک تقریباً ۱۸ موسوعات منظر عام پر آچکے ہیں۔
۵۔ہندوستان کے معروف عالم مولانا سیف اللہ رحمانی صاحب نے ’’قاموس الفقہ‘‘ کے نام سے اردو میں ایک جامع فقہی موسوعہ ترتیب دیا ہے جو چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے ،اس کے شروع میں فقہ کے تعارف و تاریخ پر ایک مفصل مقدمہ بھی شامل ہے ۔رحمانی صاحب کا یہ عظیم کام ممتاز اہل علم سے خراج تحسین وصول کر چکا ہے ۔
۶۔ نامور عالم ڈاکٹر احمد علی ندوی نے معاملات سے متعلق قواعد و ضوابط فقہیہ کو ایک موسوعہ کی شکل میں جمع کیا ہے ،یہ موسوعہ تین ضخیم جلدوں میں "موسوعۃ القواعد والضوابط الفقیہ الحاکمۃ للمعاملات" کے نام سے چھپ چکا ہے ۔اس میں معاملات سے متعلق مذاہب اربعہ کے قواعد و ضوابط الفبای ترتیب سے ذکر کیے گئے ہیں ۔
۷۔ممتاز محقق محمد صدقی بن احمد البورنو نے پوری فقہ اسلامی کے تمام قواعد و ضوابط کو جمع کرنے کا بیڑا اٹھایا ،چنانچہ یہ موسوعہ "موسوعہ القواعد الفقیہ" کے نام سے تیرہ ضخیم جلدوں میں منظر عام پر آیاہے ،محقق بورنو کے اس عظیم الشان کارنامے کی افادیت اہل علم پر مخفی نہیں ہے ۔
۸۔معروف محقق ڈاکٹر سعدی ابو جیب نے "موسوعۃ الاجماع فی الفقہ الاسلامی" کے نام سے تین ضخیم جلدوں میں ایک منفرد موسوعہ تیار کیا ہے ،جس میں صحابہ کرام ،ایمہ اربعہ و دیگر فقہاء کے متفقہ و اجماعی مسایل فقہی ترتیب کے مطابق جمع کیے ہیں ۔اس ضخیم موسوعہ میں تقریباً نو ہزار سے زائد اجماعی مسائل ذکر کیے گئے ہیں۔
۹۔فلسطین کے محقق ڈا کٹر عبد الرحمن العقبی نے اجماعات اصحابہ کو جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اس سلسلے میں اب تک تیرہ جلدیں تیار ھوچکی ہیں ،اس ضخیم موسوعۃ میں مصنف نے ان تمام مسائل کو جمع کرنے کا اہتمام کیا ہے ،جن پر صحابہ کا اجماع منعقد ہوا ہے ،خواہ اصول دین سے متعلق ہوں یا فروع دین سے ۔اس منفرد و ممتاز کارنامے پر مصنف یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں ۔معروف ویب سائٹ "ملتقی اہل الحدیث" کے مطابق یہ کتاب عنقریب چھپ جائے گی۔
۱۰۔عصر حاضر کے نامور فقیہ جمال الدین العطیہ نے تجدید الفقہ الاسلامی کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے ،اس کے آخر میں مصنف نے ایک ضخیم موسوعہ تیار کرنے کا ایک منصوبہ پیش کیا ہے ،جس میں عنوانات اور متعلقہ کتب کی بھی اپنی استطاعت کے مطابق نشاندہی کی ہے ۔اس موسوعہ کے عنوانات اور اس کی ترتیب سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کسی شخص ،ادارے اور ملک کا کام نہیں ہے ،بلکہ ممالک اسلامیہ کے نامور فقہاء مل کر اسے مرتب کر سکتے ہیں ۔اگر یہ موسوعہ اسی ترتیب کے مطابق منظر عام پر آیا ،تو غالباً دور جدید کی سب سے بڑی فقہی پیشکش ہوگی۔
تیسری قسم: فقہ و اصول فقہ کی تاریخ اور جامع تعارف پر مبنی مفید کتب
عصر حاضر میں فقہ اسلامی کے حوالے سے ایک مفید کام یہ ہوا ہے کہ فقہ و اصول فقہ کی مرحلہ وارتاریخ اور مکمل تعارف پر مبنی متعدد کتب سامنے آئی ہیں ،جن میں عہد نبوت سے لے کر عصر حاضر تک فقہ و اصول فقہ کی مرحلہ وار تایخ ،ہر دور کی خصوصیات ،مختلف فقہی مکاتب خصوصا مذاہب اربعہ کے مناہج استنباط ،ہر فقہی مکتب کے معروف فقہاء اور مشہور فقہی کتب کا تعارف اور فقہ اسلامی کے حوالے سے دیگر مفید مباحث شامل ہوتی ہیں ۔یہ کتابیں عمومی طور پر ’’المدخل الی الفقہ‘‘ یا ’’تاریخ التشریع‘‘ کے نام سے لکھی گئی ہیں۔ ان کتب کے بعض مباحث سے اختلاف کے باوجود یہ بات ماننی پڑے گی کہ ان کتب نے فقہ اسلامی کے وسیع ذخیرے اور فقہ اسلامی کی طویل تاریخ سے آگاہی میں اہم کردار اد اکیا ہے۔ جو مباحث تاریخ کی کتب میں منتشر اور بکھری ہوئی تھیں،ان کتب نے مرتب انداز اور عصری اسلوب میں اسے پیش کیا ۔ذیل میں اس حوا لے سے چند اہم اور مفید کتب کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے:
۱۔ تاریخ التشریع الاسلامی للخضری بک
مصر کے معروف عالم و مشہور مورخ شیخ محمد خضری بک وہ پہلی شخصیت ہیں،جنہوں نے فقہ اسلامی کی مرحلہ وار تاریخ لکھنے کی بنیاد ڈالی۔ شیخ خضری بک نے عہد نبوت سے لے کر عصر حاضر تک فقہ کی تاریخ پر مشتمل ایک ضخیم کتاب ’’تاریخ التشریع الاسلامی‘‘ نام سے لکھی ،جس میں پہلی مرتبہ جدید اسلوب کے مطابق فقہ کی تاریخ کو چھ ادوار میں تقسیم کر کے ہر دور کا مفصل تعارف اپنی کتاب میں پیش کیا۔ چند مقامات سے قابل اعتراض ہونے کے باوجود فقہ اسلامی کی تاریخ کے حوالے سے بنیادی ماخذ شمار ہوتی ہے ۔
۲۔ الفکر السامی فی تاریخ الفقہ الاسلامی
مراکش کے معروف مالکی عالم فقیہ علامہ محمد حجوی الثعالبی کی تصنیف ہے ،فقہ اسلامی کی تاریخ پر مشتمل کتب میں غالبا سب سے مفصل کتاب ہے۔ کتاب چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ فاضل مصنف نے فقہ اسلامی کی تاریخ کو چار ادوار میں تقسیم کر کے ہر جلد میں ایک دور کا مفصل تعارف پیش کیا ہے ،اس کتاب میں ہر دور کے متعدد معروف فقہاء کے تراجم سمیت فقہ اسلامی کے حوالے سے نفیس مباحث شامل ہیں ۔
۳۔ تاریخ التشریع الاسلامی للقطان
مصر کے معروف عالم ،اخوان المسلمین کے رہنما، داعی اور مشہور قاضی شیخ مناع خلیل القطان کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب فقہ اسلامی کی تاریخ پر مبنی کتب کا جامع خلاصہ ہے ،کتاب میں حسن ترتیب اور عبارت میں سلاست نمایاں ہے۔
۴۔ المدخل الفقہی العام
نامور فقیہ شیخ مصطفی الزرقاء کی تصنیف ہے جنہوں نے فقہ اسلامی کو جدید اسلوب میں پیش کرنے کے حوالے سے قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ ’’المدخل الفقہی العام‘‘فقہ کی تاریخ ،مذاہب فقہیہ کے تعارف ،قواعد فقہیہ اور دیگر فقہی مباحث کو عصر حاضر کے اسلوب میں پیش کرنے کی ایک کامیاب تحقیقی اور تاریخی دستاویز ہے۔
ان کتب کے علاوہ معروف مصری عالم و فقیہ محمد سلام مدکور کی ’’المدخل للفقہ الاسلامی‘‘، مصر کے معروف مورخ اور متعدد تاریخی کتب کے مصنف الدکتور احمد شلبی کی ’’تاریخ التشریع الاسلامی‘‘، مشہورعراقی عالم الدکتور عبد الکریم زیدان کی ’’المدخل الی دراسۃ الشریعۃ الاسلامیۃ‘‘، نامور مصری فقیہ عبد الوہاب خلاف کی ’’خلاصۃ تاریخ التشریع الاسلامی‘‘، اردن کے معروف عالم الدکتور عمر سلیمان الاشقر کی ’’تاریخ الفقہ الاسلامی‘‘، شام کے معروف عالم الدکتور عبد اللطیف صالح الفرفور کی ’’تاریخ الفقہ الاسلامی‘‘، معروف سعودی عالم الدکتور ناصر بن عقیل الطریفی کی ’’تاریخ الفقہ الاسلامی‘‘، عمان کے معروف عالم الدکتور صالح محمد ابو الحاج کی مایہ ناز کتاب ’’تاریخ الفقہ الاسلامی‘‘، معروف مصری عالم الدکتور حسین حامد حسان کی ’’المدخل لدراسۃ الفقہ الاسلامی‘‘، معروف سعودی یونیورسٹی جامعہ امام محمد بن سعود کے مدیر الدکتور سلیمان بن عبد اللہ بن حمود ابالخیل کی ’’المدخل الی علم الفقہ‘‘، معروف کویتی عالم الدکتور یوسف احمد محمد البدوی کی ’’مدخل الفقہ الاسلامی و اصولہ‘‘، جامعہ قطر کے دو پروفیسرز الدکتور محمد الدسوقی اور امینہ الجابر کی مشترکہ کاوش’’مقدمہ فی دراسۃ الفقہ الاسلامی‘‘، جامعہ ازہر کے معروف استاد الدکتور محمد علی السایس کی ’’نشاۃ الفقہ الاجتہادی و اطوارہ‘‘اور معروف فقیہ الدکتور علی حسن عبد القادر کی ’’نظرۃ عامۃ فی تاریخ الفقہ الاسلامی‘‘فقہ اسلامی کی تاریخ کے حوالے سے اہم کتابیں شمار ہوتی ہیں ۔
اردو میں اس حوالے سے ہندوستان کے مشہور عالم مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب’’فقہ اسلامی تعارف و تاریخ‘‘، پروفیسر فہیم اختر ندوی اور پروفیسر اختر الواسع کی مشترکہ کاوش’’فقہ اسلامی تعارف وتاریخ‘‘، معروف عالم مولانا محمد تقی امینی کی ’’فقہ اسلامی کا تاریخی پس منظر‘‘، مفتی عمیم احسان القادری کا مختصر رسالہ’’تاریخ علم فقہ‘‘، ڈاکٹر سجاد الرحمن صدیقی کی ’’فقہ اسلامی کا تاسیسی پس منظر‘‘اور مایہ ناز محقق ڈاکٹر محمود احمد غازی کے مشہور زمانہ خطبات ’’محاضرات فقہ‘‘ فقہ اسلامی کی تاریخ اور تعارف پر مشمتل اہم کتابیں ہیں ۔
اصول فقہ کی تاریخ و تعارف کے حوالے سے شام کے معروف عالم الدکتور معروف دوالیبی کی ’’المدخل الی علم اصول الفقہ‘‘، مشہور شافعی فقیہ ڈاکٹر سعید مصطفی الخن کی مایہ ناز کتاب’’دراسۃ تاریخیۃ للفقہ و اصول الفقہ و الاتجاہات التی ظہرت فیھا‘‘، جامعہ ازہر کے معروف پروفیسر ڈاکٹر شعبان محمد اسماعیل کی ’’اصول الفقہ تاریخہ و رجالہ‘‘اور ’’المدخل لدراسۃ اصول الفقہ‘‘ اہم کتب شمار ہوتی ہیں ،جبکہ اردو میں اصول فقہ کی مفصل تاریخ کے حوالے سے ڈاکٹر فاروق حسن کا پی ایچ ڈی مقالہ ’’فن اصول فقہ کی تاریخ‘‘ایک اہم کاوش ہے ۔
چوتھی قسم: الفقہ المقارن یعنی فقہ و اصول فقہ کا تقابلی مطالعہ
عصر حاضر میں فقہ اسلامی کے مختلف مسالک اور مکاتب فکر کے تقابلی مطالعے کا رجحان اہل علم کے حلقوں میں کافی بڑھ گیا ہے۔ فقہ اسلامی کے مطالعے میں اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ فقہ اسلامی کے مختلف ابواب میں فقہاء کے بنیادی اختلافات اور اختلافی مقدمات سے آگاہی ہو ۔اس رجحان کے پیدا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فقہ اسلامی کے معروف عالمی ادارے عصر حاضر کے پیدا کردہ نت نئے مسائل میں کسی خاص مکتب فکر کی بجائے فقہ اسلامی کے چاروں مکاتب کو سامنے رکھ کر ان مسائل کا آسان اور اقرب الی الصواب حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا فقہ اسلامی کے تقابلی مطالعے پر مفید تصانیف منظر عام پر آئی ہیں ۔ان میں سب سے زیادہ مشہور کتاب نامور فقیہ ڈاکٹر وہبہ الزحیلی کی مایہ ناز کتاب’’الفقہ الاسلامی و ادلتہ‘‘ہے جس میں مصنف نے فقہ کے تمام ابواب میں مذاہب اربعہ اور ان کے دلائل کے بیان کا اہتمام کیا ہے ۔اس کے علاوہ مصر کے معروف عالم عبد الرحمن الجزیری کی کتاب’’الفقہ علی المذاہب الاربعہ ‘‘بھی فقہ اسلامی کے تقابلی مطالعے کے لیے اہم کاوش ہے ۔اسی طرح معروف فقہی موسوعات اور انسائیکلوپیڈیاز میں بھی تمام مسالک کے بیان کا التزام کیا گیا ہے۔اصول فقہ کے تقابلی مطالعے کے حوالے سے سب سے مفصل تصنیف معروف یونیورسٹی جامعہ امام محمد بن سعود کے معروف پروفیسر ڈاکٹر عبد الکریم النملۃ کی مایہ ناز کتاب ’’المہذب فی اصول الفقہ المقارن ‘‘ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر وہبہ الذحیلی کی کتاب’’اصول الفقہ الاسلامی ‘‘میں چاروں مذاہب کو سمونے کی کوشش کی گئی ہے ۔اردو میں ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد کی طرف سے شائع کردہ کتاب ’’اصول فقہ ایک تعارف‘‘اصول فقہ کے تقابلی مطالعے کے حوالے سے مفید کتاب ہے ۔
پانچویں قسم: قواعد فقہیہ اور مقاصد الشریعہ کا احیاء
فقہ و اصول فقہ کے ساتھ فقہ سے متعلق دو اہم علوم ’’قواعد فقیہہ‘‘اور ’’مقاصد الشریعہ‘‘آج کے فقہاء کی خصوصی توجہ کا مرکز ہیں، کیونکہ فقہ کا ایک ادنی طالب علم بھی بخوبی جانتا ہے کہ پیش آمدہ مسائل کا شریعت کی روشنی میں جائزہ لینے کے لئے قواعد فقہیہ اور مقاصد الشریعہ سے واقفیت ایک فقیہ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ماضی کے فقہاء نے بھی اس میدان میں اہم کتابیں تصنیف کی ہیں۔ علامہ شاطبی کی الموافقات، معروف شافعی فقیہ عز الدین بن عبد السلام کی قواعد الاحکام فی مصالح الانام اور علامہ ابن نجیم کی الاشباہ و النظائر ماضی کی اہم تصنیفات شمار ہوتی ہیں۔ عصر حاضر میں زیادہ وسعت،جامعیت اور مرتب انداز کے ساتھ ہر دو فنون کا احیاء کیا گیا ہے ۔ان دو فنون کی تاریخ ،مکمل تعارف اور از سر نو ترتیب و تدوین پر مشتمل اہم اور مفید کتب سامنے آئی ہیں ۔ذیل میں اس حوالے سے اہم عصری تصنیفات کا ایک مختصر خاکہ پیش کیا جاتا ہے ۔
قواعد فقہیہ سے متعلق عصر حاضر کی اہم تالیفات
عصر حاضر میں قواعد فقہیہ پر متنوع جہات سے کام ہوا ہے ،قواعد فقہیہ کی تاریخ ،تعارف اور اس میدان میں قدماء کی اہم تالیفات کے تعارف کے حوالے سے عراق کے معروف عالم اور جامعہ امام محمد بن سعود کے معروف پروفیسر ڈاکٹر یعقوب الباحسین کی کتاب’’القواعد الفقہیہ‘‘جامع ترین کتاب ہے۔ اس کے علاوہ معروف محقق ڈاکٹر احمد علی ندوی کی مایہ ناز کتاب ’’القواعد الفقہیہ ،مفہومہا ،نشاتہا ،تطورہا‘‘، ڈاکٹر محمد الزحیلی کا ضخیم مقالہ ’’القواعد الفقہیہ و تطبیقاتہا فی المذاہب الاربعہ‘‘، ڈاکٹر عبد الوہاب ابو سلیمان کی کتاب ’’النظریات و القواعد فی الفقہ الاسلامی‘‘، معروف محقق ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد العزیز العجلان کی کتاب ’’اہمیۃ القواعد الفقہیہ فی الفقہ الاسلامی ‘‘بھی اہم کاوشیں ہیں ۔فقہ کے اہم ابواب کے قواعد فقہیہ کو جمع کرنے کے حوالے سے مصر کے معروف عالم ڈاکٹر بکر اسماعیل کی کتاب’’القواعد الفقہیہ بین الاصالۃ و التوجیہ‘‘ ہے جس میں مصنف نے بار ہ ابواب میں فقہ کے اہم ترین ابواب کے بنیادی قواعد کو تشریح و امثلہ کے ساتھ جمع کیا ہے ۔اسی طرح ڈاکٹر احمد علی ندوی نے ابواب المعاملات کے اہم قواعد کو تین ضخیم جلدوں میں ’’موسوعۃ القواعد و الضوابط الفقہیہ الحاکمۃ للمالیات المالیۃ فی الفقہ الاسلامی ‘‘کے نام سے جمع کیا ہے۔
فقہ اسلامی کے پانچ بنیادی قواعد کی تشریح کے حوالے سے معروف عالم ڈاکٹر صالح بن غانم السدلان کی ضخیم کتاب ’’القواعد الفقہیہ الکبری و ما تفرع منھا‘‘ اور مجلہ کے نناوے قواعد کی تشریح ،توضیح اور مصادر سے متعلق نامور فقیہ مصطفی الزرقاء کے والد احمد الزرقاء کی کتاب’’شرح القواعد الفقہیہ ‘‘اہم کتب ہیں۔قواعد فقہیہ میں اختلاف کی وجہ سے فقہاء کے اختلافات اور اس کے مسائل پر اثرات کے حوالے سے مراکش کے معروف عالم ڈاکٹر محمد الروکی کی کتاب’’نظریۃ التعقید الفقہی و اثرھا فی اختلاف الفقہاء ‘‘اور شافعی فقیہ ڈاکٹر سعید الخن کی مایہ ناز کتاب’’اثر الاختلاف فی القواعد الاصولیہ فی اختلاف الفقہاء‘‘ اہم کتابیں ہیں ۔ قواعد فقہیہ کے حوالے سے عصر حاضر کی سب سے بڑی اور تاریخی کاوش ’’موسوعۃ القواعد الفقہیہ‘‘ہے ۔تیرہ جلدوں کے اس ضخیم موسوعہ کے مصنف معروف محقق ڈاکٹر صدقی البورنو ہے۔ اس میں مصنف نے حروف تہجی کے اعتبار سے پوری فقہ اسلامی کے اہم قواعد و ضوابط کو جمع کیا ہے۔ اس ضخیم موسوعہ میں چار ہزار سے زائد قواعد و ضوابط ہیں ۔
مقاصد الشریعہ کے حوالے سے اہم عصری تالیفات
فقہ کی تاریخ کا عجیب ’’اتفاق‘‘ہے کہ مقاصد شریعت کو بطور ایک فن کے متعارف کروانے میں مالکی فقہاء کی خدمات بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ خاص طور پر معروف مالکی فقیہ علام شاطبی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی مایہ ناز کتاب’’الموافقات‘‘لکھ کر شریعت مطہرہ کے مقاصد کو ایک زندہ جاوید فن کے طور پر متعارف کروایا ۔اسی طرح مقاصد شریعت کے احیاء میں بھی مالکی فقہاء کی خدمات ’’خشت اول‘‘کی مانندہیں۔ مراکش کے معروف عالم ڈاکٹر احمد الریسونی نے مقاصد الشریعۃ کے احیا ء کے حوالے سے تجدید ی خدمات سر انجام دی ہیں۔ الریسونی نے سب سے پہلے ’’نظریۃ المقاصد عند الامام الشاطبی‘‘لکھ کر اما م شاطبی کے نظریہ مقاصد کو عصر حاضر کے اسلوب میں مرتب انداز میں پیش کیا۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اردو،انگلش اورفارسی تینوں اہم زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس کے بعد ’’مدخل الی مقاصد الشریعۃ‘‘، ’’الفکر المقاصدی قواعدہ و فوائدہ‘‘اور ’’من اعلام الفکر المقاصدی‘‘ جیسی اہم کتب لکھ کر اس فن کے مختلف جوانب اور پہلووں سے علمی دنیا کو آگاہ کیا ۔اسی طرح تیونس کے معروف مالکی عالم و مفسر محمد طاہر بن عاشور نے ’’مقاصد الشریعۃ الاسلامیہ‘‘لکھی ،جس میں فلسفہ مقاصد پر عصری اسلوب میں بہترین بحث کی ہے۔
سوڈان کے مشہور عالم ڈاکٹر یوسف حامد العالم نے ’’المقاصد العامۃ للشریعۃ الاسلامیۃ‘‘کے نام سے ایک مفید کتاب لکھی۔اس کے علاوہ تیونس کے معروف مالکی فقیہ ڈاکٹر نور الدین الخادمی کی’’علم المقاصد الشرعیۃ‘‘، معروف مصری عالم ڈاکٹر محمد سلیم العوا کی ’’مقاصد الشریعۃ الاسلامیۃ‘‘، معروف عالم ڈاکٹر جاسر عودہ کی ’’فقہ المقاصد‘‘، معروف فقیہ ڈاکٹر جمال الدین العطیہ کی ’’نحو تفعیل مقاصد الشریعۃ‘‘، مراکش کے معروف عالم ڈاکٹر علال الفاسی کی ’’مقاصد الشریعۃ الاسلامیۃ و مکارمہا‘‘، معروف عالم محمد سعید رمضان البوطی کی ’’ضوابط المصلحہ فی الشریعۃ الاسلامیۃ‘‘، عراق کے معروف عالم ڈاکٹر طہ جابر العلوانی کی ’’مقاصد الشریعۃ‘‘اور معروف مصری عالم داکٹر بکر اسماعیل کی کتاب’’مقاصد الشریعۃ الاسلامیۃ تاصیلا و تفعیلا‘‘ عصر حاضر کی اہم تصنیفات شمار ہوتی ہیں ۔معروف مصری عالم ڈاکٹر محمد کمال الدین الامام نے تین ضخیم جلدوں میں ’’الدلیل الارشادی الی مقاصد الشریعۃ الاسلامیۃ‘‘کے نام سے ایک مفید کتاب لکھی ہے ،جس میں مصنف نے مقاصد الشریعہ پر لکھی گئی قدیم و جدید کتب کا مفصل تعارف پیش کیا ہے ۔اس ضخیم موسوعہ پر مصنف یقیناًمبارکباد کے مستحق ہیں۔
عربی کی طرح اردو کا دامن بھی اس فن سے خالی نہیں ہے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی نے مقاصد الشریعہ کے حوالے سے قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں اور تقریبا اوپر ذکر کردہ اکثر کتب کا اردو ترجمہ اکیڈمی کی طرف سے شائع ہوچکا ہے ، جس میں ڈاکٹر محمد کمال الدین کا تیار کردہ ضخیم موسوعہ ’’الدلیل الارشادی الی مقاصد الشریعۃ ‘‘بھی شامل ہے ۔اس کے علاوہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی کتاب ’’مقاصد شریعت ‘‘اس موضوع پر اردو میں ایک بہترین کتاب ہے۔ کتاب کے آٹھ ابواب میں مصنف نے مقاصد شریعت کے مختلف پہلووں پر فاضلانہ بحث کی ہے۔ یہ کتاب ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد کی طرف سے شائع ہو ئی ہے ۔
چھٹی قسم: مذاہب اربعہ کا مفصل تعارف
عصر حاضر میں فقہ اسلامی کے حوالے سے ایک رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ مذاہب اربعہ کے تفصیلی تعارف پر مواد تیار کیا جائے جس میں مذہب کے بانی، اور اس کے براہ راست تلامذہ ،ناقلین مذہب،اہم متون و شروح ،راجح مرجوح اقوال کے ضوابط ،نامور فقہاء اوراصول استنباط و استخراج کے تعارف سمیت اہم مباحث شامل ہوں ۔اس رجحان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عصر حاضر میں نت نئے مسائل کے حل کے لیے ایک فقہ کافی نہیں ہے ،بلکہ مذاہب اربعہ کو سامنے رکھ کر عصری مسائل کا شریعت کی روشنی میں حل تلاش کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ کسی فقہی مذہب کی روشنی میں فیصلہ کرنے کے لیے اس سے متعلق بنیادی باتوں کا علم ضروری ہے ۔مذاہب اربعہ کے تفصیلی تعارف کے حوالے سے درجہ ذیل عصری کاوشیں قابل ذکر ہیں :
۱۔معروف مصری فقیہ شیخ ابو زہرہ مرحوم نے مذاہب فقہیہ کے تعارف کے حوالے سے قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں ۔موصوف نے ائمہ اربعہ کی مفصل سوانحات لکھیں ہیں ،جن میں ہر امام کے تفصیلی حالات ،معروف اساتذہ ،مشہور تلامذہ ،اہم تصنیفات ،اصول استنباط ،دلائل اربعہ سے متعلق اس امام کی خاص آراء اور اس کی طرف منسوب مذہب کے مختلف پہلووں اور متنوع جوانب پر تحقیقی ابحاث شامل ہیں ۔ان مفصل کتب کے علاوہ شیخ ابو زہرہ مرحوم کی دو اہم کتب ’’تاریخ المذاہب الاسلامیہ ‘‘اور ’’محاضرات فی تاریخ المذاہب الفقہیہ‘‘بھی فقہی مذاہب کے تعارف کے حوالے سے قابل قدر کتب ہیں ۔شیخ ابو زہرہ مرحوم کے علاوہ معروف مصری ادیب احمد تیمور پاشا کی کتاب’’نظرۃ تاریخیۃ فی حدوث المذاہب الاربعہ ‘‘ اورمعروف مصری فقیہ اور مفتی ڈاکٹر علی جمعہ کی ’’المدخل لدراسۃ المذاہب الفقہیہ‘‘اہم کاوشیں ہیں ۔اردو میں اس حوالے سے بر صغیر کے معروف مورخ قاضی اطہر مبارکپوری کی کتاب’’سیرت ائمہ اربعہ‘‘اہم کتاب ہے ۔
۲۔مذہب حنفی کے تعارف کے حوالے سے اردن کے معروف عالم داکٹر احمد سعید حوی کی کتاب ’’المدخل الی مذہب ابی احنیفہ ‘‘اہم کاوش ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ امام محمد بن سعود سے شائع شدہ ضخیم مقالہ ’’المذہب الحنفی ،مراحلہ و طبقاتہ ،ضوابطہ و مصطلحاتہ ،خصائصہ و مولفاتہ‘‘مذہب حنفی کے تعارف کے حوالے سے عصر حاضر کی مفصل ترین کتاب ہے۔ دو ضخیم جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں مصنف نے حنفی مذہب کے تعارف کے حوالے سے کوئی بحث تشنہ نہیں چھوڑی ۔اس کے علاوہ جامعہ قطر کے پروفیسر داکٹر محمد الدسوقی کی مایہ ناز کتاب’’الامام محمد و اثرہ فی الفقہ الاسلامی ‘‘قابل زکر کتاب ہے۔ اس میں مصنف نے خاص طور پر مذہب حنفی کی تدوین کے حوالے سے قابل قدر بحث کی ہے۔ اس کی افادیت کے پیش نظر ادارہ تحقیقات اسلامی ۔ اسلام آباد کی طرف سے ’’امام محمد بن حسن شیبانی اور ان کی فقہی خدمات ‘‘ کے نام سے اس کا اردو ترجمہ شائع ہوا ہے ۔
۳۔ مالکی مذہب کے تعارف کے حوالے سے ’’مرکز زاید للتراث و التاریخ ‘‘(متحدہ عرب امارات)کی طرف سے شائع شدہ مفصل کتاب’’المذہب المالکی ،مدارسہ و مولفاتہ ،خصائصہ و سماتہ‘‘بہترین کاوش ہے ،اس کے علاوہ ’’دار البحوث للداراسات الاسلامیہ (دبئی) کی طرف سے شائع شدہ کتاب’’اصطلاح المذہب عند المالکیہ‘‘مالکی مذہب کے مختلف ادوار اور ہر دور کے علمی ذخیرے کے تعارف کے حوالے سے ایک جامع کتاب ہے ۔مالکی مذہب کے فقہی ذخیرے کے تعارف کے حوالے سے مراکش سے تعلق رکھنے والے عالم ڈاکٹر ابو الزبیر عباد السلام احمد کی کتاب’’امہات الکتب الفقہیہ‘‘قابل زکر ہے ،اس میں مالکی مذہب کی تدوین کے زمانے سے لے کر عصر حاضر تک زمانی ترتیب سے اہم فقہی کتب کا تعارف شامل ہے۔
مالکی مذہب کی خصوصیات سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ مالکی مذہب میں عراقی اور اندلسی دو مستقل مکاتب فکر پائے جاتے ہیں۔ اندلسی مکتب فکر کے تعار ف کے حوالے سے مراکش کی وزارت اوقاف کی طرف سے شائع شدہ کتاب’’المدرسۃ المالکیہ الاندلسیہ نشاۃ و خصائص‘‘جبکہ عراقی مکتب کی خصوصیات کے حوالے سے معروف مراکشی عالم ڈاکٹر عبد الفتاح الزنیقی کا رسالہ ’’المدرسۃ المالکیہ العراقیہ ،نشاتھا ،خصائصھا و اعلامھا‘‘ مفید کتب ہیں۔نیز عبد العزیز بن صالح الخلیفی کی ضخیم کتاب’’الاختلاف الفقہی فی المذہب المالکی مصطلحاتہ و اسبابہ‘‘بھی اس حوالے سے ایک مفید کتاب ہے۔
۴۔شافعی مذہب کے تعارف کے حوالے سے ’’المدخل الی مذہب الامام الشافعی‘‘ایک جامع کتاب ہے ،یہ کتاب اردن سے معروف شافعی فقیہ ڈاکٹر سعید مصطفی الخن کے پیش لفظ کے ساتھ چھپی ہے ،کتاب کے مصنف ڈاکٹر اکرم یوسف القواسمی ہے ،چھ سو سے زائد اس کتاب میں مصنف نے فقہ شافعی کے مختلف جوانب کا جامع تعارف کرایا ہے۔ کتاب شافعی مذہب کے اہم ادوار،معروف فقہاء،فقہ و اصول فقہ کے ذخیرے کا زمانی ترتیب سے تعارف،فقہ شافعی کی خصوصیات واصطلاحات وغیرہ جیسے تحقیقی مباحث پر مشتمل ہے ۔ اس کے علاوہ فقہ شافعی کی کتب کے تعارف کے حوالے سے ’’موسسۃ الرسالۃ ناشرون‘‘کی طرف سے چھپی کتاب ’’الخزائن السنیہ من مشاہیر الکتب الفقہیہ لا ئمتنا الفقہاء الشافعیہ‘‘اہم کتاب ہے۔ دو سو صفحات پر مشتمل اس کتاب میں حروف تہجی کے اعتبار سے فقہ شافعی کے ذخیرے کی فہرست دی ہے۔فقہ شافعی کی خصوصیات سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ فقہ شافعی میں امام شافعی کے قول قدیم و جدید کی تعیین اور اس کے اصول سے معرفت انتہائی اہم ہے، ورنہ فقہ شافعی سے کامل استفادہ نہیں ہوسکتا۔اس حوالے سے سب سے مفصل کتاب ڈاکٹر لمین الناجی کا پی ایچ ڈی مقالہ ’’القدیم و الجدید فی فقہ الشافعی ‘‘اہم ترین کتاب ہے ،دو ضخیم جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں مصنف نے قول قدیم و جدید کے اصول،مصنفات ،قدیم و جدید میں ترجیح کے اصولوں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اس کے علاوہ انڈونیشیاء سے تعلق رکھنے والے عالم ڈاکٹر احمد انحراوی عبد السلام کی ضخیم کتاب ’’الامام الشافعی فی مذہبیہ القدیم و الجدید‘‘اہم کاوش ہے۔ اسی طرح جامعہ ام القریٰ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد بن ردید المسعودی کی کتاب’’المعتمد من قدیم قول الشافعی علی الجدید ‘‘اور ڈاکٹر محمد السمیعی الرستاقی کا مقالہ ’’القدیم و الجدید من اقوال الامام الشافعی ‘‘مفید کتب ہیں ۔
۵۔فقہ حنبلی کے تعارف پر عصر حاضر میں وقیع کام ہوا ہے ، زمانہ تدوین سے لے کر عصر حاضر تک فقہ حنبلی کے فقہاء اور ان کی تصانیف کے تعارف پر مشتمل مفصل کتاب’’معجم المصنفات الحنابلہ‘‘ہے۔ آٹھ جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں فقہ حنبلی کے بارہ صدیوں کے فقہی ذخیرے اور علماء کا جامع تعارف شامل ہے۔ کتاب کے مصنف مدینہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عبد اللہ بن محمد الطریقی ہیں ۔معروف حنبلی فقیہ ڈاکٹر بکر بن عبد اللہ ابو زید نے ’’المدخل المفصل الی فقہ الامام احمد بن حنبل و تخریجات الا صحاب ‘‘کے نام سے دو جلدوں میں ضخیم کتاب لکھی ہے جس میں تفصیل سے فقہ حنبلی کا تعارف شامل ہے۔ دمشق کے معروف عالم علامہ عبد القادر بن بدران کی کتاب’’المدخل الی مذہب الامام احمد بن حنبل‘‘فقہ حنبلی کے تعارف کے حوالے سے ایک جامع کتاب ہے ۔فقہ حنبلی کی کتب اور مخصوص اصطلاحات کے حوالے سے ڈاکٹر عبد الملک بن عبد اللہ کی کتاب ’’المنہج الفقہی العالم للئلماء الحنابلۃ و مصطلحاتہم فی مولفاتہم‘‘اور جامعہ ملک عبد العزیز کے پروفیسر ڈاکٹر سالم کی ضخیم کتاب ’’مصطلحات الفقہ الحنبلی و طرق استفادہ الاحکام من الفاظہ‘‘اہم کاوشیں ہیں ۔
حواشی
(۱) فقہ اسلامی کی مرحلہ وار تاریخ کی داغ بیل مصر کے معروف مورخ و محقق شیخ خضری بک نے اپنی کتاب تاریخ التشریع الاسلامی میں ڈالی ،ان کے بعد تقریبا فقہ اسلامی کی تاریخ پر لکھنے والے کم وبیش تمام مصنفین نے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ شیخ خضری بک کی اقتداء کی۔
(۲) تاریخ التشریع الاسلامی للقطان :ص۳۹۷،تاریخ الفقہ الاسلامی للا شقر :ص۱۸۷،المدخل الی الشریعۃ الاسلامیہ للدکتور الزیدان :ص۱۵۰،خلاصۃ التشریع الاسلامی للخلاف :ص۱۰۳
(۳) فقہ اسلامی ،ایک تعارف : ص۱۰۹
(۴) ص۲۶۹/۱
(جاری)
فرقہ واریت کی نئی دستک؟
خورشید احمد ندیم
مشرقِِ وسطیٰ نئے بحران کی زد میں ہے۔ نئی صف بندی ہورہی ہے۔طاقت کا نیا کھیل شروع ہو چکا اور مفادات کا تصادم ایک نئے منظرنامے کی صورت گری کر رہا ہے۔کہنے کو یہ سب کچھ ’نیا’ہے لیکن دراصل بہت پرا نا ہے۔نئے صرف’ اداکار‘ ہیں،تھیٹر نہیں۔ابنِ آ دم جن جبلی تقاضوں کے ہاتھوں مغلوب رہا ہے، ان میں ایک طاقت کی بے پایاں خواہش بھی ہے۔اسی خواہش کے لیے وہ دلائل تراشتا اوراسی کے زیرِ اثر اقدام کرتا ہے۔سیاست ازل سے طاقت کا ایک کھیل ہے ۔اس آتش کدے کوروشن رکھنے کے لیے مذہب، نسلی عصبیت،ترقی کا خواب،مفاد، آزاد ی کی نیلم پری،ہر شے کو ایندھن بنا یا جا تا رہا ہے۔یہ کام اب بھی ہونے جارہا ہے۔پاکستان کو دیکھنا ہے کہ اس نے اپنے مفاد کا تحفظ کیسے کر نا ہے۔
سعودی عرب، ایران،اسرائیل، ترکی اورداعش ،اصل کر دار یہی ہیں۔یہ چاروں اپنی طاقت کو کسی سرحد تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔وہ اس دائرے کو بڑھانا چاہتے ہیں۔یہ ڈور اس طرح الجھ گئی ہے کہ اس کا سرا ملنا مشکل ہو رہا ہے۔داعش بیک وقت ایران اور سعودی عرب کے لیے خطرہ ہے۔داعش شیعہ مخالف قوت ہے اور اہلِ تشیع کی سیاسی قوت کا مرکز ایران ہے۔یوں ایران کے لیے داعش براہ راست خطرہ ہے۔ یہ بات سعودی عرب کے حق میں ہے کہ خطے میں اثر ورسوخ کے حوالے سے وہ سعودی عرب کا حریف ہے۔دوسری طرف داعش سعودی عرب کے لیے بھی خطرہ ہے کیونکہ وہ عالمی خلافت کی علم بردارہے اوربادشاہت کو نہیں مانتی۔ایران کے باب میں سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل ایک صفحے پر ہیں۔شاہ سلمان سے پہلے سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین ایک خاموش مفاہمت مو جود تھی۔اس کا ظہور مصر کے معاملے میں ہوا جب سعودی عرب نے اپنا سارا وزن اخوان کے خلاف جنرل سیسی کے پلڑے میں ڈال دیا۔سعودی عرب کے لیے مشکل یہ ہے کہ ایران کی کامیابی اس کے حق میں ہے نہ داعش کی۔
ایران کے لیے بھی انتخاب آسان نہیں ہے۔وہ شیعہ شناخت کے ساتھ اس خطے میں اپنا اثر بڑھا نا چاہتا ہے۔بحرین کی اکثریت شیعہ ہے۔سعودی عرب کے سرحدی علاقے میں شیعہ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔پڑوس میں یمن ہے جہاں ان دنوں شیعہ قبیلہ اقتدار پر قبضہ کر چکا ہے۔حزب اللہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔شام کے علوی بشار الاسد بھی ایران کے اتحادی ہیں۔علویت بھی اہلِ تشیع ہی کی توسیع ہے۔ایرانی اثر و رسوخ کی اساس خالصتاً مسلکی بلکہ فرقہ وارانہ ہے اور وہ اسے ہی بطور سیاسی قوت استعمال کر رہا ہے۔سعودی عرب اس کے مقابلے میں،کیا سنی عصبیت کو استعمال کر سکتا ہے؟کیا اس باب میں ترکی اور مصر اس کے معاون ہوں گے جو سنی اکثریت کے حامل ہیں؟کیا یہ امکان مو جود ہے کہ بالآخر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست واضح مفہوم میں شیعہ اور سنی بلاک میں تقسیم ہو جا ئے؟
اب ایک نظر امریکی کانگرس سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی غیر معمولی تقریر پر ڈال لیجیے۔اس تقریر کا مرکزی خیال ایران کا ایٹمی پروگرام اور اس باب میں صدر اوباما کی پالیسی پر تنقید تھا۔اس سے پہلے خود امریکی کانگرس میں کسی غیر ملکی سربراہِ حکومت نے امریکی صدر کے بارے میں اس لب و لہجے میں کلام نہیں کیا۔کانگرس میں جس طرح سے اسرائیلی وزیر اعظم کی پزیرائی ہوئی، وہ بھی غیر معمولی تھی۔یہ اس عالمی دباؤ کا اظہار تھا ،ایران کا آج جس کا سامنا ہے۔ ایران کے معاشی حالات اپنی جگہ نا گفتہ بہ ہیں۔تیل کی قیمتوں میں کمی نے اسے بہت نقصان پہنچا یا ہے۔سعودی قیادت کا ایک خیال یہ بھی ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں اسی طرح کم رہیں تو ایران کیے لیے اپنی معیشت کو سنبھالا دینا مشکل ہوگا۔ ایران کا بجٹ اس تخمینے پر کھڑا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ۱۲۱ڈالر فی بیرل ہو۔یہ قیمت اِس وقت کم و بیش پچاس ڈالر فی بیرل ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے کہ وہ اس معیشت کے ساتھ کیا اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی آب یا ری کر سکے گا؟اس کے پاس اب ایک ہی راستہ ہے: مذہب کاسیاسی استعمال۔شیعہ عصبیت کی بنیاد پر علاقائی سیاست کو آگے بڑھا نا۔سعودی عرب اور دوسری قوتوں کے پاس اس کا توڑ کیا ہو سکتاہے؟سنی عصبیت کا سیاسی استعمال۔توکیا نئی فرقہ وارانہ صف بندی کا آغاز ہو نے والا ہے؟
وزیر اعظم پاکستان سمیت، سنی سربراہان حکومت کے دورہ سعودی عرب کو اس زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کا معاشی استحکام بڑی حد تک سعودی عرب پرمنحصر ہے۔مزید یہ کہ شریف خاندان سعودی فرمارواؤں کا زیرِ احسان ہے۔اہم سوال یہ ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی نئی صف بندی میں پاکستان و کوئی متحرک کردار ادا کرنے کے لیے کہا جا تا ہے توکیا ہماری مو جودہ قیادت اس کی مزاحمت کر پائے گی؟اس سے متصل سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہو تا ہے تو کیا پاکستان کوفرقہ واریت کی نئی لہر کا سامنا نہیں کر نا پڑے گا؟ہم سب جانتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی قوتوں نے یہاں نظری اور عملی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔نظری سطح پر لوگوں کے جذبات کو ابھارنے کے لیے پورا سامان مو جود ہے اورسیاسی مہم جوئی کے لیے معاشی وسائل کی بھی کمی نہیں۔ کیا ہمیں ایسے امکانا ت کا ادراک ہے؟
یہ سوال صرف ریاستی سطح پر ہی نہیں،سماجی سطح پر بھی زیرِ بحث آ نا چاہیے۔یہ محض خارجہ پالیسی کا نہیں،ہمارے لیے سماج کا بھی ایک مسئلہ ہے۔اس ملک میں صرف شیعہ سنی تقسیم نہیں ہے، وزیر داخلہ کے بیانات کے باوجود،داعش کا ہم نوا ایک موثر گروہ بھی مو جود ہے۔یہ گروہ اس وقت مسلمانوں کی عالمی خلافت کا پرچار کر رہا ہے۔اس کے لیے مذہبی کتابوں سے حوالے دیے جارہے ہیں اور عالمی خلافت کے قیام کو ایک دینی فریضہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نظریے کی عملاً علم بردار کوئی قوت اگر ہے تو وہ داعش ہے۔نظری سطح پر اس مقدمے کو مضبوط کرنے کا مطلب داعش کو فکری توانائی فراہم کر نا ہے۔پاکستان میں یہ کام اعلانیہ ہو رہا ہے۔اس کے لیے کالم لکھے جارہے ہیں اور ذرائع ابلاغ پر ایک گروہ شدومد کے ساتھ اسے پیش کر رہا ہے۔مجھے حیرت ہے کہ ان حالات میں بھی لوگ قیامِ خلافت کی بحث کو بے وقت کی راگنی سمجھتے ہیں۔مجھے خدشہ ہے کہ یہ معاملہ اگر مزید آگے بڑھتا ہے تویہ مسلمانوں کے پہلے دور کی طرف مراجعت ہو گی جب امت تین فرقوں میں بٹ گئی تھی: سنی، شیعہ اور خوارج۔اس وقت بھی اس تقسیم کے اسباب سیاسی تھے اور آج بھی سیاسی ہیں۔ اُس وقت بھی سیاسی مقاصد کیے لیے مذہب کو استعمال کیا گیا، آج بھی کیا جا ئے گا۔
ہمارے لیے اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کوفرقہ واریت کی اس نئی لہرسے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟ اس کا پہلا مرحلہ تو مسئلے کا ادراک ہے۔جب تک ہم اس کی شدت کو محسوس نہیں کریں گے،ہم کسی حل کے لیے سنجیدہ نہیں ہو گے۔ نظامِ صلوۃ کاا علان یہ بتا رہا ہے کہ ہماری حکومت اس معاملے کو کس سطحی انداز میں دیکھ رہی ہے۔پاکستان کو مذہب کے نام پر کسی نئے فساد سے بچا نے کے لیے یک سوئی کی ضرورت ہے۔اس کے لیے ریاست کے ساتھ سماج کو بھی متحرک ہو نا ہو گا۔یہ یک سوئی پہلے فکری سطح پر پیدا ہوگی اور پھر کسی حکمت عملی میں ڈھلے گی۔
یوحنا آباد۔ایک علامت
خاموشی کے ساتھ زندہ جل جانے والوں نے زندوں کو جلا دیا۔یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔یہ وہ فصل ہے جو برسوں کی محنت سے تیار ہوئی اورہم اب جسے کاٹنے پر مجبور ہیں۔
گزشتہ چند برس میں، مجھے اقلیتوں کی نفسیات کو سمجھنے کا براہ راست مو قع ملا۔گوجرانوالہ، لاہور اور ملک کے دوسرے علاقوں میں بسنے والے مسیحیوں سے مکالمہ ہوا۔اگر میں اُن کی آبادیوں میں نہ جاتا توکبھی نہ جان سکتا کہ وہ کس حال میں رہتے ہیں۔مجھے اس نوعیت کا پہلا تجربہ اُس وقت ہواجب میں اسلام آباد کی کچی آبادیوں میں گیا۔اس شہر کے عالی شان محلوں کے پہلو میں زندگی اس طرح سسک سسک کر سانس لیتی ہے کہ لوگوں کی سخت جانی پر حیرت ہو تی ہے۔گندے پانی کے نالے کی دیواریں جنہیں کاٹ کر کانس بنا یا گیا ہے۔ان پر برتن رکھے ہیں اور نیچے انسان بستے ہیں۔ جب میں گوجرانوالہ گیاتو معلوم ہو کہ یہ المیہ اسلام آباد تک محدود نہیں،اس کا دائرہ تو دوسرے علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔
اسی دوران میں، میرایوحنا آباد جانا ہوا۔یہ ۲۰۱۴ء کا واقعہ ہے۔فیروز پور کے دامن میں آباد اس بستی کے حالات اسلام آباد کی کچی آبادیوں سے زیادہ مختلف نہیں تھے۔میں جس دن گیا،کچھ دیر پہلے ہی بارش ہوئی تھی۔یہ واقعہ ہے کہ ان گلیوں میں پیدل چلنا ممکن نہیں تھا۔مجھے یہ جان کر مزید حیرت ہوئی کہ یہ شہباز شریف صاحب کا حلقہ انتخاب ہے۔ایک وزیر اعلیٰ کے اپنے حلقے میں لوگ اس حال میں رہ رہے ہیں اور وہ بھی لاہور شہر میں،سچ یہ ہے کہ میرے لیے باور کرنا مشکل تھا،اگر میں اپنی آنکھوں سے نہ دیکھتا۔میں نے انہی دنوں اپنے اس تاثر کا اظہار اپنے کالم میں بھی کیا تھا۔ ۱۵؍ مارچ کے حادثے سے معلوم ہوا کہ اربابِ اقتدار کی بے نیازی میں کوئی فرق نہیں آیا۔اس بستی کے لوگ آج بھی اُسی طرح بے امان ہیں جیسے پہلے تھے۔
بنیادی سہولتوں سے محرومی اس المیے کا ایک پہلو ہے جس میں مذہبی امتیاز سے ماوراکروڑوں شہری مبتلا ہیں۔یہ اقلیتوں کے ساتھ خاص نہیں۔یہ محرومی شایدگوارا کر لی جائے اگرذہنی آزادی میسر ہو۔مجھے اقلیتی آبادی سے مل کر یہ معلوم ہواکہ خوف اور عدم تحفظ کا گہرا احساس ان کے رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے۔توہین مذہب کے باب میں ہونے والے واقعات کے باعث،وہ اس خوف سے نجات نہیں پا رہے کہ کب کوئی ان سے ناراض ہو جائے اور ایک بے رحم انبوہ اُن پرٹوٹ پڑے۔الزام کسی ایک پر ہو اور ان کی پوری بستی اجاڑ دی جائے۔اس طرح کی شکایت پر جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایسے واقعات تو مسلمانوں کے خلاف بھی ہورہے ہیں تو ان کا جواب بڑا سادہ ہو تا ہے:اگر الزام کسی مسلمان پر ہو تو خوف پورے گروہ میں نہیں پھیلتا،ایک فرد یا خاندان تک محدود رہتا ہے۔معاملہ کسی غیر مسلم کا ہو تو اس کی پوری بستی کو اجاڑ دیاجاتا ہے۔
یوحنا آباد کے واقعے پر مسیحی نوجوانوں کا ردِ عمل بتا رہا ہے کہ ان کا خوف اپنی آ خری حدوں کو چھونے لگا ہے۔دو بے گناہ ان کے ردِ عمل کا نشانہ بن گئے۔ ایک ظلم نے دوسرے ظلم کو جنم دیا۔ظلم بھی غلطی کی طرح بانجھ نہیں ہوتا۔اگر جوزف کالونی، پشاور اور کوٹ رادھا کشن جیسے واقعات پر ریاست اور سماج اپنی ذمہ داری ادا کرتے توممکن تھا کہ اقلیتوں میں موجود احساسِ عدم تحفظ کم ہوتا، ایسا نہیں ہوا۔ میرے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ تشدد کا یہ رجحان اگر پھیلتا ہے تواقلیتیں خسارے میں رہیں گی اور ظاہر ہے کہ یہ سماج اور ملک بھی۔ضرورت ہے کہ اسے محض ایک واقعہ نہ سمجھا جائے۔یہ سلسلۂ واقعات کی ایک کڑی ہے۔یہ مسئلہ متاثرین کو چند لاکھ روپے ادا کرنے سے حل ہو نے والا نہیں۔افسوس کہ حکومتیں ہر حادثے کو ایک منفرد واقعہ ہی سمجھتی ہیں۔سماج کا معاملہ تو زیادہ افسوس ناک ہے۔اس کا کوئی وارث ہی نہیں۔
ایک پہلو اور بھی ایسا ہے جو قابل غور ہے۔اس سماج میں زخموں کا کاروبار کر نے والے بھی کم نہیں۔یہاں ہر حادثے کے سوداگر مو جود ہیں۔افغانستان، عراق،کشمیراور فلسطین کے ساتھ ،یہاں انسانی حقوق، اقلیتوں کے حقوق،معلوم نہیں کس کس نام پر کاروبار ہوتا ہے۔اس کی بھی شدید ضرورت ہے کہ ان المیوں کو کاروبار بنانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ہمیں اسے ایک قومی مسئلہ جان کر اس کا حل تلاش کر نا چاہیے۔جب ہم اپنے معاملات حل نہیں کر پاتے تو پھر دوسروں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ مداخلت کریں۔اس کو روکنے کا ایک ہی ذریعہ ہے: خود احتسابی۔
سب سے پہلے تو ہمیں اس غلط فہمی سے نکلنا چاہیے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔عام طور پر لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے عمومی رویے کو زیادہ اصلاح کی ضرورت نہیں۔یہ چند این جی اوز کا پھیلا یا ہوا پروپیگنڈا ہے۔یہ تو چند افراد ہیں۔ واقعات کا تسلسل بتا رہا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ایک حادثے پر خون دینا ایک قابل ستائش عمل ہے لیکن ہماری اجتماعی نفسیات میں مسلم برتری کا احساس اس طرح سرایت کر گیا ہے کہ ہم قومی ریاست کے تناظر میں سوچ نہیں سکتے جو ہر شہری کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتی ہے۔ہم شعوری طور پر غیر مسلموں کو ذمی ہی سمجھتے ہیں اور اس شعور کی تشکیل اس مذہبی لٹریچر اوردینی فہم کا نتیجہ ہے جوہمارے ہاں رائج ہے۔ جب ہم خود کو اسلامی ریاست کہتے ہیں تو اس مقدمے میں یہ شامل ہے کہ جو شہری ریاست کے نظریے کو قبول نہیں کرتا، وہ دوسرے درجے کا شہری ہے۔
ہمارے ہاں اس ضمن میں جو گفتگو ہوتی ہے،وہ اسی شعور کے تحت ہوتی ہے۔اب مسلمان حقوق دینے والے ہیں اور غیر مسلم لینے والے۔یہ ممکن ہو ہے کہ ہم انہیں سب حقوق دے رہے ہوں لیکن جب تک یہ نفسیات باقی ہے کہ ’’ہم ‘‘ دینے والے ہیں،ریاست کے تمام شہری برابر نہیں ہو سکتے۔کوئی اس کو سمجھنا چاہے تو وہ ’’اسلامی ریاست ‘‘ کے نام سے لکھی جانے والی ،مو لا نا سید ابو الاعلیٰ مودودی اور مو لاناامین احسن اصلاحی کی کتب پڑھ لے۔باقی سب کچھ تو ان ہی کی خوشہ چینی ہے۔آئین بڑی حد تک بنیادی حقوق کی ضمانت دیتاہے لیکن آئین خود ناطق نہیں ہوتا۔وہ شہریوں کے رویوں میں بولتا ہے۔یہ رویے جب تک نہیں بدلیں گے ، آئین حقوق کا ضامن نہیں بن سکتا۔
اقلیتوں کو بھی سوچنا ہے کہ تشدد کا راستہ کبھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔انہیں اکثریت کو ہم نوا بنا نا ہے۔انہیں آئین کی بات کرنی ہے۔اقلیتوں کی قیادت کو چاہیے کہ وہ خودکو اپنے مذہبی خول میں بند نہ ہو نے دیں۔اکثریت کو اس باب میں ان کی مدد کرنی چاہیے۔آج ضرورت ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ ملے۔یہ ہم آہنگی رسمی اجتماعات تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔اس کے لیے مذہبی گروہوں،سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اورمیڈیاکو سنجیدگی کے ساتھ اپنا کردار ادا کر نا ہوگا۔میرا اصرار ہے کہ ان مسئلے کی جڑیں سماجی رویے میں ہیں۔اخبارات کے صفحات سے لے کر محراب و ممبر تک،ٹی وی سکرین سے لے کرسیاسی اجتماعات تک، ہمیں مل کر ایک قوم کے تصور کو آگے بڑھا نا ہے۔کسی گروہ میں عدم تحفظ کا احساس ،وہ مذہبی ہو ،علاقائی ہو یا لسانی،قومی وجود کو مجتمع رکھنے میں مانع رہے گا۔
ظلم کا شکارکوئی شہری بھی بن سکتاہے۔لیکن اس میں، اگریہ احساس پیدا ہو جائے کہ اس پر ہونے والے ظلم کا سبب کسی خاص قبیلے یا گروہ کے ساتھ اس کا تعلق ہے،تو یہ احساس ظلم کو ایک نیا رنگ دے دیتا ہے جو انتشار کے بیج بو دیتا ہے۔آج وحدت کا ایک ہی راستہ ہے:تما م شہریوں میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ ان میں کسی حوالے سے کوئی امتیاز نہیں۔
(بشکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘)
امام لیث بن سعدؒ ۔ حیات و خدمات (۲)
محبوب عالم فاروقی
اہل علم کی نظر میں
لیث بن سعد اپنی فطری صلاحیت اور غیرمعمولی ذہانت کی وجہ سے آغازِ شباب میں ہی تابعین اور تبع تابعین دونوں کے علوم کے جامع بن گئے اور ہرطرف ان کے علم وفضل کا چرچا ہوگیا۔ خود ان کے شیوخ ان کے فضل وکمال کا اعتراف کرتے تھے۔ شرجیل بن یزید کا بیان ہے کہ میں نے ممتاز اور معمرائمہ حدیث کودیکھا ہے کہ وہ لیث کے علم وفضل کا اعتراف کرتے تھے اور اْن کوآگے بڑھاتے تھے، حالانکہ وہ ابھی بالکل نوجوان تھے۔ یحییٰ بن سعید ان کے شیوخ میں سے ہیں۔ انہوں نے کسی بات پر ان کوٹوکا اور پھرفرمایا کہ تم امام وقت ہو جس کی طرف نظریں اْٹھتی ہیں۔
عبداللہ بن وہب ایک عظیم محدث تھے۔ فرماتے ہیں کہ اگر لیث اور امام مالک رحمہما اللہ نہ ہوتے تومیں گمراہ ہو جاتا۔ ابواسحاق شیرازی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ مصر میں تابعین کا علم لیث پرختم ہوگیا۔ امام ابن حبان کا قول ہے کہ علم وفضل، تفقہ اور قوتِ حافظہ میں اپنے زمانہ کے ممتاز لوگوں میں تھے۔
امام نووی نے تہذیب الاسماء میں لکھا ہے کہ حضرت لیث بن سعد کی امامت وجلالت شان اور حدیث وفقہ میں ان کے بلند مرتبہ ہونے پرسب کا اتفاق ہے اور درحقیقت وہ اپنے زمانہ کے عظیم فقیہ تھے اور عالم اسلام اور مصر کے امام تھے۔
یعقوب بن داود عباسی خلیفہ مہدی کا وزیر تھا۔ اس کا بیان ہے کہ جب لیث بن سعد عراق آئے تومہدی نے کہا کہ اس شیخ وقت کی صحبت اختیار کرو، اس وقت ان سے بڑا کوئی عالم نہیں ہے۔
علم حدیث میں مقام
ائمہ جرح وتعدیل جب کسی محدث یاامام کی توثیق یاتجریح کرتے ہیں تواس وقت عموماً ان کے پیش نظر نہ ان کی امامت وجلالت ہوتی ہے اور نہ کوئی اور جذبہ، بلکہ ان کے سامنے روایت ودرایت کے وہ اصول ہوتے ہیں جن کوانہوں نے کتاب وسنت سے اخذ کرکے تحدیث وروایت کی اساس قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بسااوقات بڑے بڑے ائمہ کی مرویات پران کوجرح کرنا اور ان کورد کردینا پڑتا ہے اور بہت سے کم درجہ محدثین کی روایتوں کوقبول کرلینا اور ان کی توثیق کرنی پڑتی ہے، اس لیے علم حدیث میں کسی امام ومحدث کے درجہ کی تعیین کرنے میں ان کے اقوال وآراء سے بڑی مدد ملتی ہے اور اْن کی روشنی میں ان کے علم وفضل کے خط وخال بھی بخوبی نمایاں ہوجاتے ہیں۔ اسی وجہ سے جن ائمہ نے حدیث کی تدوین وترتیب اور اس کی حفاظت میں حصہ لیا ہے، ان کے سوانح حیات میں ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال کوبڑی اہمیت حاصل ہے۔
علم حدیث میں امام لیث بن سعد کی حیثیت مسلم ہے۔ حدیث کی کوئی متداول کتاب نہیں ملے گی جس میں لیث بن سعد کی مرویات نہ موجود ہوں۔ ان سے سماع حدیث کوبڑے بڑے ائمہ اپنے لیے باعث فخر سمجھتے تھے۔ امام لیث بن سعد روایت حدیث میں حددرجہ محتاط تھے۔ ابوالزبیر ان کے مشائخ حدیث میں تھے، مگروہ جن روایتوں میں تدلیس کرتے تھے، اْن روایتوں کی تحدیث کولیث ترک کردیتے تھے۔ اس وجہ سے محدثین نے لکھا ہے کہ ابوالزبیر کی وہ مرویات جولیث سے مروی ہیں، بہت زیادہ قابل اعتماد ہیں۔ غیرمعمولی ذہانت اور قوتِ حافظہ کے باوجود وہ تحدیث روایت میں کسی پراعتماد نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ جوروایتیں ان کے یہاں لکھی ہوتی تھیں، انہیں بھی خود اپنی زبان سے روایت کرتے تھے۔ بہت سے محدثین کا یہ طریقہ تھا کہ وہ اپنی مرویات کی دوسروں کے ذریعے تحدیث کراتے تھے۔ ان کے صاحبزادے شعیب کا بیان ہے کہ ایک بارتلامذہ نے ان سے پوچھا کہ آپ بسااوقات ایسی روایتیں بھی بیان کردیتے ہیں جوآپ کے مرتب کردہ مجموعوں میں نہیں ہیں۔ فرمایا کہ جوکچھ میرے سینے میں محفوظ ہے، وہ سب اگرسفینوں میں منتقل کردیا جاتا تو ایک سواری کا بوجھ ہوجاتا۔
حدیث کی روایت اور اس کی حفاظت میں جومقام ان کوحاصل تھا، اس کا اعتراف تمام ممتاز اہل علم اور ائمہ جرح وتعدیل نے کیا ہے۔ امام احمد ابن حنبل فرماتے تھے کہ لیث کثیرالعلم اور صحیح الحدیث تھے۔ امام ابوداود کا بیان ہے کہ میں نے امام احمد سے سنا ہے، وہ فرماتے تھے کہ مصر میں صحیح احادیث کی روایت اور ان کے حفظ واتقان میں ان کا کوئی ہمسر نہیں تھا۔ اس مرتبہ میں عمروبن حارث ان سے کچھ قریب تھے۔ کسی نے ان سے کہا کہ فلاں نے ان کی تضعیف کی ہے۔ فرمایا کہ میں نہیں جانتا، جرح وتعدیل کے امام یحییٰ بن معین ان کوثقہ کہتے تھے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ لیث اور ابن ابی ذہب میں کس کوحدیث کا محافظ پاتے ہیں؟ فرمایا: دونوں کو۔ پھر کہا کہ یزید بن حبیب کی مرویات میں ان کا درجہ محمد بن اسحاق سے بلند ہے۔ ایک شخص نے ابن معین سے پوچھا کہ حضرت نافع سے جواحادیث انہوں نے روایت کی ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا نہایت ہی صالح اور قابل وثوق ہیں۔ امام علی ابن المدینی کا قول ہے کہ لیث ثقہ اور قابل اعتماد تھے۔ اسی طرح عجلی، نسائی، ابوزرعہ، یعقوب بن ابی شیبہ جیسے ائمہ حدیث نے ان کی توثیق کی ہے۔
فقہ میں مقام و مرتبہ
علم فقہ اب ایک مخصوص فن بن گیا ہے، مگر دوسری صدی کے نصف تک یہ کوئی مرتب ومدون فن نہیں تھا اور نہ حلقے اور مدارسِ فقہ قائم ہوئے تھے، بلکہ جن ارباب علم میں ملکہ اجتہاد تھا، وہ ضرورت کے مطابق کتاب وسنت سے اجتہاد کیا کرتے تھے۔ قریب قریب ہراسلامی ملک میں دوچار ایسے ائمہ مجتہدین موجود تھے جوحالات وضرورت کے مطابق پیش آمدہ مسائل کا جواب دیا کرتے تھے۔ جس شخص کوجس امام پراعتماد ہوتا تھا، وہ اس کے مجتہدات پرعمل کر لیتا تھا۔
لیث بن سعد کے زمانہ میں ایک طرف عراق اور شام میں امام اوزاعی اور امام ابوحنیفہ کے مجتہدات کا چرچا تھا تودوسری طرف حجاز میں امام مالک کے تفقہ واجتہاد کا غلغلہ تھا۔ ابھی مصر کی سرزمین میں کوئی ممتاز مجتہد نہیں پیدا ہوا تھا۔ لیث بن سعد کے وجود سے یہ کمی پوری ہوگئی۔ ان میں پورا ملکہ اجتہاد موجود تھا اور انہوں نے بے شمار مسائل قرآن وسنت سے مستنبط کیے، مگرافسوس کہ دوسرے ائمہ کی طرح ان کے استنباطات اور مجتہدات مدون ومرتب نہیں ہوسکے جس کی وجہ سے نہ توان کوشہرت ہی ہوسکی اور نہ ان کے فقہ واجتہاد کا عام چرچا ہی ہوسکا۔ تفقہ واجتہاد میں ان کا جومرتبہ تھا، اس کا اندازہ ائمہ محدثین ومجتہدین کے اقوال سے بخوبی ہوسکتا ہے۔ امام شافعی فرمایا کرتے تھے کہ لیث بن سعد آثار واحادیث کے لیے تفقہ کے اعتبار سے امام مالک سے زیادہ نافع تھے۔ ان ہی کا قول ہے کہ لیث امام مالک سے زیادہ فقیہ تھے، لیکن ان کے تلامذہ نے ان کوضائع کردیا۔ اس جملہ کی تشریح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس طرح امام مالک کی فقہ کی تدوین کی گئی، اس طرح لیث کے شاگردوں نے ان کی فقہ کی نہیں کی۔
یحییٰ بن بکیر کہا کرتے تھے کہ لیث امام مالک سے افقہ تھے (مگرشہرت وعظمت) ان کے حصہ میں آئی۔ مشہور محدث ابن وہب کی مجلس میں لیث بن سعد کے مستنبط مسائل پیش کیے گئے توایک دن ایک مسئلہ پرحاضرین نے بڑی تحسین کی اور کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لیث، امام مالک سے سن کرجواب دیتے ہیں۔ اس پرابن وہب بولے یہ نہ کہو، بلکہ یہ کہو کہ امام مالک، لیث سے سن کرجواب دیتے ہیں۔ میں بخدا کہتا ہوں کہ میں نے لیث سے زیادہ فقیہ نہیں دیکھا۔ یہ ذہن میں رہے کہ ابن وہب امام مالک کے خاص تلامذہ میں ہیں، اس لیے ان کا بیان بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
اسی تفقہ واجتہاد کی وجہ سے عباسی خلیفہ منصور ان کا بڑا احترام کرتا تھا۔ مصر میں قضاہ کا تقرر بغیر ان کی مرضی کے نہیں ہوتا تھا۔ منصور نے یہ بھی خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ مصر کی امارت قبول کرلیں، مگرانہوں نے اس سے انکار کر دیا۔ بعض تذکروں میں ہے کہ یہ مصر کے قاضی بنادیے گئے تھے، مگر بعض قرائن کی بناپریہ بیان صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ کمالِ تفقہ کے باوجود جب اْن کوکوئی مسئلہ نہیں معلوم ہوتا تھا تو وہ دوسرے اہل علم سے دریافت کرنے میں تکلف محسوس نہیں کرتے تھے۔ ایک بار آپ ایک مسجد سے نکلے تویحییٰ بن ایوب ادھر سے گزررہے تھے۔ ان کوروکا اور کسی مسئلہ کے بارے میں ان سے دریافت کیا۔ وہ جواب دے کرواپس چلے گئے۔ گھرپہنچ کرانہوں نے اس احسان کابدلہ یہ چکایا کہ ایک ہزار دینار ان کوہدیۃً بھیج دیے۔
امام لیث بن سعد کا منہج استنباط
امام لیث بن سعد کے منہجِ استنباط کے بارے میں جناب ڈاکٹر رواس قلعہ جی ’’موسوعہ فقہ اللیث بن سعد‘‘ میں لکھتے ہیں کہ مدینہ میں اصحاب الحدیث تھے اور عراق میں اصحاب الرائے۔ امام لیث بن سعد کا تعلق فقہائے اہل الرائے سے تھا جو نصوص کے الفاظ اور ظاہر پر اصرار کرنے کے بجائے شارع کے مقاصد پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ مزید لکھتے ہیں کہ امام لیث نے علم فقہ امام مالک سے سیکھا تھا اور ابتدا میں انھی کے مذہب پر عمل کرتے تھے، تاہم بہت جلد انھوں نے اجتہادی شان پیدا کر لی اور خود اپنے فہم سے مسائل میں رائے قائم کرنے لگے، یہاں تک کہ بعض مسائل میں ان کی رائے دیگر تمام ائمہ فقہ کی رائے سے مختلف ہوتی تھی۔
امام ابن رشد نے بدایۃ المجتہد میں مختلف مقامات پر امام لیث بن سعد کے جو استنباطات نقل کیے ہیں، ان میں سے بعض کا یہاں بطور نمونہ ذکر کیا جاتا ہے:
۱۔امام اللیث بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے 40 یا 45 سال سے قنوت نہیں پڑھی ہے سوائے ت?ایک امام کے پیچھے جو قنوت پڑھا کرتے تھے۔ امام لیث فرماتے ہیں کہ میں نے وہ حدیث مضبوطی سے پکڑ لی جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے ایک ماہ یا چالیس دن ایک قوم کے حق میں اورکسی دوسری قوم کے خلاف دعا فرمائی یہاں تک کہ اللہ تعالی کی طرف سے یہ عتاب نازل ہو ا:
لیس لک من الامر شیء او یتوب علیھم او یعذبھم فانھم ظالمون
ترجمہ ؛ اے پیغمبر! فیصلے کے اختیارات میں آپ کا کوئی حصہ نہیں ہے، اللہ کو اختیار ہے چاہے ان کو معاف کردے یا چاہے ان کو سزا دے اس لیے کہ بلاشبہ وہ ظالم ہیں۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد قنوت کو چھوڑ دیا تھا۔پھر اس کے بعد دنیا سے چلے جانے تک آپ نے قنوت نہیں پڑھی۔ امام لیث کہتے ہیں کہ جب سے مجھے یہ حدیث ملی ہے، میں نے قنوت نہیں پڑھی ہے اور یحییٰ بن یحییٰ کا یہی مذہب ہے۔
۲۔ نماز استسقاء میں خطبہ، نماز سے پہلے ہے یا نماز کے بعد؟ اما م مالک اور امام شافعی اسے عیدین پر قیاس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خطبہ نماز کے بعد ہے مگر امام لیث کے نزدیک خطبہ نماز سے پہلے ہوگا۔ ابن منذر کہتے ہیں کہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا کی اور نماز سے پہلے خطبہ دیا اور حضرت عمر سے بھی اسی طرح منقول ہے اور ہم بھی اسی کے قائل ہیں۔ اسی طرح دعا کے دوران چادر پلٹنے کے بارے میں بھی ان کا اختلاف ہے کہ مقتدی اپنی چادر نہیں پلٹیں گے کیونکہ یہ منقول نہیں ہے۔ یہ قول محمد بن الحسن ، امام لیث اور اصحابِ مالک کا ہے۔
۳۔ علماء کا اتفاق ہے کہ مرد مردوں کو غسل دیں گے اور عورتیں عورتوں کو غسل دیں گی۔ تاہم اگر کوئی عورت مر جائے اور غسل دینے کے لیے کوئی عورت موجود نہ ہو یا کوئی مرد مر جائے اور غسل دینے کے لیے کوئی مرد موجود نہ اس میں تین اقوال ہیں۔ فقہائے ایک گروہ نے کہا ہے کہ ایسے مرد یا عورت کو کپڑے کے اوپر سے غسل دے دیا جائے۔ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ ایسے مرد یا عورت کو صرف تیمم کروا دیا جائے۔ یہ قول جمہور علماء اور امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کاہے۔ جبکہ امام لیث بن سعد کا کہنا ہے کہ نہ غسل دیا جائے اور نہ تیمم کرایا جائے، بلکہ بغیر غسل کے ان کو دفن کر دیا جائے۔
۴۔ شک کے دن میں روزہ رکھنے کے بارے میں امام لیث بن سعد کا انفراد یہ ہے کہ اگر آدمی اس نیت سے روزہ رکھ لے کہ آج رمضان ہے اور بعد میں ثابت ہو جائے کہ واقعی رمضان شروع ہو گیا ہے تو یہ روزہ اسے کفایت کرے گا۔
۵۔ سمندری جانورں کے حلال ہونے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں، سوائے ان جانورں کے جو خشکی کے حرام جانورں کے مشابہ ہیں۔ اما م مالک کا قول ہے کہ سمندر کے تمام جانورں کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ انہوں نے سمندر میں پائے جانے والے سور کو مکروہ کہا ہے۔ یہی ابن ابی لیلیٰ، مجاہد، اوزاعی اور جمہور علماء کا مسلک ہے، البتہ بعض علما مچھلی کے علاوہ باقی جانورں کو ذبح کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ امام لیث بن سعد کہتے ہیں کہ سمندر کے آدمی اور خنزیر کو کھانا کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے۔ ابن رشد لکھتے ہیں کہ اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ لغت اور شریعت کی رو سے خنزیر اور انسان کا پانی کے خنزیر اور پانی کے انسان پر اطلاق ہوتا ہے کہ نہیں؟ اس بحث کا اطلاق ہر اس بحری جانور پر ہوگا جو لغوی اور عرفی طور پر اس بری جانور سے مشابہ ہو جسے حرام کیا گیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ میں نے اختلاف ائمہ پرنظرڈالی تو سوائے ایک مسئلہ کے، لیث بن سعد کوکسی دوسرے مسئلہ میں صحابہ وتابعین سے الگ نہیں پایا۔ وہ مسئلہ جس میں وہ منفرد تھے، یہ ہے کہ وہ مری ہوئی ٹڈی کے کھانے کو حلال نہیں سمجھتے، حالانکہ اس کی تحریم کا کوئی قائل نہیں ہے۔
دیگر علوم و فنون
حدیث وفقہ کے علاوہ دوسرے علوم میں بھی انہیں دستگاہ حاصل تھی۔ یحییٰ بن بکیر کا قول ہے کہ میں نے لیث سے زیادہ جامع آدمی نہیں دیکھا۔ وہ مجسم فقیہ تھے، ان کی زبان خالص عربی تھی، قرآن نہایت ہی اچھا پڑھتے تھے، نحو میں بھی درک تھا اور اشعار عرب اور حدیث کے حافظ تھے، بات چیت بھی بہت عمدہ کرتے تھے۔
یہی قول امام نووی نے امام احمد بن حنبل کی طرف بھی منسوب کیا ہے۔
تصانیف
افسوس ہے کہ امام لیث بن سعد کی مرویات اور ان کے فتاویٰ ومجتہدات باقاعدہ مدون نہیں کیے گئے؛ ورنہ ان کے علم وفضل کا ایک اچھا خاصا ذخیرہ ہمارے سامنے موجود ہوتا۔ اب بھی اگراحادیث وفقہ کی کتابوں سے ان کی مرویات اور ان کے اقوال وفتاویٰ کو الگ کرلیا جائے تو حدیث وفقہ کا ایک اچھا خاصا گل دستہ اس سے تیار کیا جاسکتا ہے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ کثیر التصانیف تھے۔ تذکروں میں ان کی جن تحریری یادگاروں کا ذکر ملتا ہے وہ یہ ہیں:
۱۔ کتاب التاریخ
۲۔ کتاب المسائل فی الفقہ
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تہذیب میں توان کی کسی تصنیف کا ذکر نہیں کیا، مگرالرحمۃ الغیثیۃ میں لکھا ہے کہ میں نے ان کی مرویات کا وہ مجموعہ دیکھا ہے جوحضرت نافع کے واسطہ سے مروی ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں لیث بن سعد کی روایات کردہ چالیس ایسی احادیث بھی نقل کی ہیں جوان تک صرف آٹھ واسطوں سے پہنچی ہیں۔ ایسی روایات جوکم سے کم راویوں کے ذریعے مروی ہوں، ان کومحدثین کی اصطلاح میں عوالی حدیث کہا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹھویں صدی تک ان کی مرویات کے بعض مجموعے متداول تھے۔
دارِ فانی کی طرف روانگی
اس مجسمہ حسن وخوبی اور مجموعہ فضل وکمال نے نصف شعبان بروز جمعہ سنہ ۱۷۵ھ کوفات پائی اور جمعہ کی نماز کے بعد مصر کے ممتاز قبرستان قرافہ صغریٰ میں، جس میں نہ جانے کتنے گنج ہائے گراں مایہ مدفون ہیں، سپردِخاک کیے گئے۔ موسیٰ بن عیسیٰ ہاشمی نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ جنازہ میں بے شمار مجمع تھا؛ مگرپورا مجمع اس طرح پیکرغم بناہوا تھا کہ گویا یہ ہرشخص کے گھر کی میت ہے۔ خالد بن عبدالسلام صدقی کا بیان ہے کہ میں اپنے والد عبدالسلام کے ساتھ جنازہ میں شریک تھا۔ میں نے ایسا عظیم الشان جنازہ نہیں دیکھا۔ پورا مجمع پیکرغم بنا ہوا تھا۔ ہرایک دوسرے سے اظہارِ تعزیت کررہا تھا۔ غم کا یہ عالم دیکھ کر میں نے اپنے والد سے کہا کہ مجمع کا ہرشخص ایسا غم زدہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ جنازہ اسی کے گھر کا ہے۔ والد نے کہا کہ بیٹا! یہ ایسے جامع فضل وکمال عالم تھے کہ شاید تمہاری آنکھیں پھرایسا عالم نہ دیکھیں۔
امام لیث جیسی جلیل القدر شخصیت تاریخ کے گوشہ گمنامی کا حصہ بن چکی ہے۔ اس مضمون میں ان کا مختصر تعارف پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ضرورت ہے کہ تاریخ وسیرت کی کتابوں سے مواد جمع کر کے ان کی سیرت وحالات کا جامع مرقع مرتب کیا جائے اور علم حدیث وعلم فقہ میں ان کی خدمات کا تفصیلی احاطہ کیا جائے۔
کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ (۳)
غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ
مولانا حافظ صلاح الدین یوسف
حدیث و سنت کا مفہوم : اہل اسلام اور غامدی صاحب
غامدی صاحب کے اندراس شوخ چشمانہ جسارت کاحوصلہ کیوں پیدا ہوا ؟ اس لیے کہ وہ آپ کے طریقے اور عمل کو ’سنت ‘ سمجھنے کے لیے تیار نہیں؛ چناں چہ ان کے ٹیپ کا بند ملا حظہ فرمائیں :
’’لہٰذا سنت صرف یہی ہے کہ ہر نماز کی دوسری اور آخری رکعت میں نماز پڑھنے والا دوزانو ہو کر قعدے کے لیے بیٹھے ؛ اس کے علاوہ کوئی چیز بھی اس موقع پر سنت کی حیثیت سے مقرر نہیں کی گئی۔‘‘
ہم نے الحمدللہ مکمل اقتباس دے کر اس کے مختلف ٹکڑوں کی وضاحت کی ہے؛ اس میں کمی بیشی نہیں کی ہے تا کہ ان کا حلقہ ارادت یاوہ خود یہ نہ کہہ سکیں کہ سیاق وسباق کو حذف کر کے ان کے مفہوم یا الفاظ کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔ ہم نے ایسا کیا ہے ،نہ ہم ایسا کر نا جا ئز ہی سمجھتے ہیں؛ یہ علمی بد دیا نتی ہے جو اہل علم کے شایاں نہیں بلکہ ہم تو یہاں تک کہتے ہیں کہ غامدی صاحب یا ان کے ’ استاذامام‘ کے ’ منصوص کلمات ‘ کی شرح و تو ضیح میں بھی کوئی تجاوز ایسا ہوا ہو کہ بات تو جیہ القول بمالا یر ضیٰ بہ القائل کے درجے تک پہنچ گئی ہو تو ہمیں ان شا ء اللہ اس پر بھی معذرت کر نے میں کوئی تامل نہیں ہو گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ استاذ اور شاگرد ان دونوں حضرات نے اپنی گم راہی کا اظہار اور سلف کی راہ ہدایت سے ہٹ کر زیغو ضلال کی راہ نوردی اتنے و اشگاف الفاظ میں اور اتنی بیباکی اور بلند آہنگی سے کی ہے کہ ان کی عبارتوں کو توڑمروڑ کر پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے؛ وہ اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہیں اور چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ہمارا نظریہ حدیث و سنت وہ نہیں ہے جو چودہ سو سال سے امت مسلمہ میں مسلمہ چلا آرہا ہے بلکہ امت کے ائمہ سلف، علما و فقہا اور محدثین کو حدیث و سنت کا نہ مفہوم سمجھ میں آیا ہے اور نہ وہ ان کے مقام و مرتبہ کو پہچان سکے ہیں بلکہ چودہ سو سال کے بعد یہ’ سعادت ‘تو ’امام اول‘ فراہی صاحب، کو دوسرے نمبر پر’ امام ثانی‘ اصلاحی صاحب کو اور’ امام ثالث‘ غامدی صاحب اور ان کے ہم نواؤں کوحاصل ہو ئی ہے : ع یہ نصیب اللہ اکبر! لوٹنے کی جا ہے۔
اور حدیث کا وہ مقام جو ان کی سمجھ میں آیا ہے یہ ہے کہ یہ باسند سلسلہ روایات غیر معتبر اور ثانوی اہمیت کا حامل ہے اور قرآن فہمی میں بے سند شعراے عرب کا جا ہلی کلام یا پھر تحریف شدہ تورات و انجیل و غیرہ کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔اس طرفہ تماشے کے باوجود دعو یٰ یہ ہے کہ ہمارے اور ائمہ سلف کے درمیان سرسوفرق نہیں ہے ،صرف اصطلاحات کا فرق ہے ؛یہ گویا اپنے سوا سب کو بے وقوف سمجھنے والی بات ہے۔
محترم ! اصطلاحات کا فرق ہی تو اختلافات کی اصل بنیاد ہے ؛ جب ائمہ سلف کے نزدیک حدیث و سنت کا مفہوم کچھ اور ہے جس کی رو سے ایک تو حدیث و سنت ایک ہی چیز کا نام ہے ؛دوسرے ، سارے دین کی بنیاد حدیث ہے اور اس کے بغیر نہ قرآن کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ قرآن پر عمل ہی کیا جا سکتا ہے ،نیز تمام احادیث صحیحہ حجت شرعیہ اور ماخذشرعی ہیں۔ احادیث جس طرح قرآن کے اجمالات کی شرح و تو ضیح کر تی ہیں ، اسی طرح قرآن کے عمومات کی تخصیص بھی کرتی ہیں ؛ علاوہ ازیں لغت یا عرب شعرا کے کلام سے حسب ضرورت استفادہ و استشہاد تو کیا جا سکتا ہے لیکن اسے قرآن فہمی میں اصل اہمیت اور اصل بنیاد نہیں بنایا جا سکتا ؛ اصل بنیاد تو صحیح احادیث، آثار صحابہ اور سلف کی تعبیر ہے۔جو تفسیر اس طریقہ ماثور سے ہٹ کر ہوگی، وہ قرآن کی تفسیر نہیں ، قرآن کے نام پر اسی طرح گم راہی ہے جیسے سر سید کی تفسیر یا پر ویز کی تفسیر گم راہیوں کا مجموعہ ہے اور ’تد بر قرآن ‘ بھی اسی سلسلۃ الضلال کی ایک کڑی ہے اور رجم کا بہ طور حد انکار ام الضلال ہے جس کا انکار ’تد بر قرآن‘ میں بڑے شد و مد سے کیا گیا ہے۔
جبکہ غامدی صا حب کی اصطلاح میں سنت و حدیث کا مفہوم مذکورہ مفہوم سے یک سر مختلف ہے ؛ ان کے نزدیک حدیث اول تو معتبر ذرائع سے ثابت نہیں ؛اگرکوئی ثابت ہو جائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں؛ اس سے کو ئی عقیدہ وعمل ثابت نہیں ہو تا۔ اسی طرح سنت ہے ؛ اول تو وہ بھی تعداد میں چند ہی ہیں، اس لیے کہ سنت سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں ہے جو سات، آٹھ ہزار کی تعداد میں صحیحین ( بخاری و مسلم ) میں ہیں اور ایک معقول تعداد سنن اربعہ اور دیگر بعض کتب حدیث میں ہے ؛ ائمہ سلف اور محدثین کے نزدیک ان میں موجود تمام صحیح احادیث دین ہیں اور ان سے ثابت شدہ احکام اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح قرآنی احکام ہیں؛ غامدی صاحب کے نزدیک سنت :
’’دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید و اصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرما یا ہے۔‘‘ ( میزان ، ص14)
سنت کی یہ تعریف ، ائمہ سلف کی تعریف سے یک سر مختلف اور نہات مبہم ہے ؛اس تعریف کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صاحب شریعت پیغمبر تو نہیں رہتے ،صرف دین ابراہیمی کے مجد د اور مصلحقرار پاتے ہیں۔
ثانیاً، دین ابراہیمی کی روایات کیا ہیں؟ان کا ماخذ کیا ہے؟ ہماری احادیث یا سنتیں تو الحمد للہ مذکورہ چھ کتابوں اور کچھ ان کے علاوہ وہ بھی دیگر کتب حدیث میں مدون اور محفوظ ہیں، لیکن غامدی صاحب کی مفروضہ یا موہومہ سنتیں اگر دیکھنی ہوں تو وہ کو ن سی کتاب ہے جس میں ان کو ملاحظہ کیا جا سکے ؟
ان کی تعداد بھی ما شا ء اللہ انھوں نے متعین کی ہوئی ہے؛ وہ تقریباً 27ہیں۔ ان کے نام بھی انھوں نے ’ میزان ‘ میں لکھے ہیں یعنی ان کی مکمل فہرست درج کی ہے ؛ملاحظہ فرمائیں:
عبادات میں :نماز (2 ) زکات اور صدقہ فطر (3) روزہ و اعتکاف (4) حج و عمرہ (5) قربانی اور ایام تشریق کی تکبیریں۔
معاشرت میں :نکاح و طلاق اور ان کے متعلقات (2)حیض و نفاس میں زن و شو کے تعلق سے اجتناب۔
خو رونوش میں : سور ، خون ، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کی حرمت (2) اللہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ۔
رسوم و آداب میں : (1) اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا (2) ملاقات کے موقع پر السلام علیکم اور اس کا جواب (3) چھینک آنے پر الحمدللہ ور اس کے جواب میں یرحمک اللہ (4) نومولود میں دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت (5) مونچھیں پست رکھنا (6) زیر ناف کے بال کا ٹنا (7) بغل کے بال صاف کر نا (8) بڑھے ہوئے ناخن کا ٹنا (9) لڑکوں کا ختنہ کرنا (10)ناک منہ اور دانتوں کی صفائی (11) استنجا (12) حیض و نفاس کے بعد غسل (13) غسل جنابت (14) میت کا غسل (15) تجہیز و تکفین (16) تدفین (17)عید الفطر (18)عید الاضحی۔
اس فہرست پر نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ سوائے ایک آیت قرآنی: حْرِّمَت عَلَیکمُ المیتَۃْ...الآیۃ کے ترجمے کے سب وہ احکام ہیں جو احادیث کی کتابوں میں درج ہیں حالاں کہ یہ کتا بیں ان کے نزدیک غیر معتبر ہیں؛ علاوہ ازیں احادیث کی ان کتابوں میںیہ سارے احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان فر مودہ ہیں ؛ ان میں سے کسی ایک حکم کی بابت بھی یہ وضاحت نہیں ہے کہ یہ دین ابراہیمی کی وہ روایات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح و تجدید یا اضافہ کر کے دین کے طور پر جاری فرمائی ہیں؛ آخر اس دعوے کی دلیل سوایایک شخص کی ذہنی اپچ یا دماغی اختراع کے کیا ہے ؟
ان میں سے بیش تر احکام تو وہ ہیں جو ہر نبی کی شریعت میں رہے ہیں جس کی صراحت خود قرآن میں موجود ہے:
شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّینِ مَا وَصَّی بِہ نُوحًا وَالَّذِی اَوحَینَا اِلَیکَ وَمَا وَصَّینَا بِہ اِبرَاھیمَ وَمُوسَی وَعِیسَی اَن اَقِیمُوا الدِّینَ
’’ تمھارے لیے وہی دین اللہ نے مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا اوروہ جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی اور وہ جس کا حکم ہم نے ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا؛ یہ کہ تم دین کو قائم کرو۔‘‘ (الشوریٰ 42:13)
اس آیت سے واضح ہو اکہ چند جزوی مسائل کے علاوہ تمام انبیا کا دین ایک ہی رہا ہے اور وہ الاسلام ہی ہے ؛ تو کیا مذکورہ احکام دیگر انبیا کے دین میں نہیں رہے ہو ں گے؛ ان سنتوں کا آغاز تو پھر حضر ت نوح سے یا حضرت آدم سے کرنا چاہیے۔ قربانی اور تدفین و غیرہ کا ذکر تو حضرت آدم سے بھی ملتا ہے ؛ پھر ان احکام کو دین ابراہیمی کی روایات کیوں کر کہا جا سکتاہے؟
ان سب سوالات کا جواب غامدی صاحب کے ذمے ہے۔
غامدی صاحب کی مزید و ضاحت اور ہمارے مزید سوالات
مذکورہ فہرست سنن کے بعد غامدی صاحب فرماتے ہیں :
’’سنت یہی ہے اور اس کے بارے میں یہ با لکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے ؛وہ جس طرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے ، یہ اسی طرح ان کے اجما ع اور عملی تواتر سے ملی ہے اور قرآن ہی کی طرح ہر دور میں مسلمانوں کے اجماع سے ثابت قرار پائی ہے لہٰذا اس کے بارے میں اب کسی بحث و نزاع کے لیے گنجایش نہیں ہے۔ دین لاریب، انھی دو صورتوں میں ہے ؛ ان کے علاوہ کو ئی چیز دین ہے ، نہ اسے دین قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘ ( میزان ، ص14۔15)
غامدی صاحب سے ہمارا سوال ہے کہ سنت کی یہ تعریف اور اس کی یہ تحدید ائمہ سلف میں سے کس نے کی ہے؟ کیوں کہ آپ کا د عو یٰ ہے کہ ائمہ سلف میں اور آپ کے درمیان با ل برابر بھی فرق نہیں ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ مذکورہ سنتیں قرآن کی طرح عملی تواتر سے ملی ہیں تو پھر ان میں با ہم اختلاف کیوں ہے ؟ صرف نماز کا اختلاف ہی دیکھ لیجیے! ہا تھ باندھنے کی صورت میں سینے پر باندھے جائیں یا ناف کے نیچے یا ہا تھ چھوڑ کر نماز پڑھی جا ئے ؟ رفع الیدین کیا جا ئییا نہ کیا جائے ؟ اعتدال ارکان ضروری ہے یا نہیں ؟ کسی کے نزدیک ضروری ہے کسی کے نزدیک نہیں ؛ خلف الامام سورہ فاتحہ پڑھنی ہے یا نہیں ؟ ایک کے نزدیک فرض ہے جب کہ دوسروں کے نزدیک غیر ضروری۔ اسی طرح مرد و عورت کی نماز کا مسئلہ ہے؛ ایک فریق ان کے طریقہ نماز میں فرق کا قائل ہے جب کہ دوسرا فریق سوائے دو تین باتوں کے ، ارکان نماز کی ادائیگی میں کسی فرق کا قائل نہیں۔
ان اختلافات کی ایک وجہ تو دلائل کی صحت و ضعف میں اختلاف ہے ؛ دوسری وجہ فہم و تعبیر کا اختلاف اور ایک وجہ فقہی و حزبی جمودیا قرآن کے الفاظ میں بَغیاً بَینَھُم بھی ہے۔ اگر نماز کا اثبات صرف عملی تواتر سے ہو تا تو طریقہ نماز میں یہ اختلاف قطعاً نہیں ہو تا ؛ فریقین دلائل کا انبار اور کتابوں کا ڈھیر جمع نہ کرتے ، پھر تو ان کی صرف ایک ہی دلیل ہوتی کہ نماز کا فلاں عمل یا فلا ں طریقہ نسل در نسل، جیلاً بعد جیلِِ اسی طرح تواتر سے نقل ہوتا آرہا ہے لیکن یہ دلیل آج تک کسی فریق نے پیش نہیں کی۔ سارا اختلاف ان دلائل کی بنیاد پر ہے جو کتابوں میں موجود ہیں ؛ ان دلائل کی صحت و ضعف پر بحثیں ہوتی ہیں ؛ان کے انطباق پر گفت گوہو تی ہے ؛وجوب و استحباب یا افضلیت و غیر افضلیت زیر بحث آتی ہیں لیکن کہیں بھی اور کسی کی بھی طرف سے عملی تواتر کا حوالہ سامنے نہیں آتا ؛ ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے کہ عملی تواتر کا وجود عنقا کی طرح ہے جس کا وجود ہی نا پید ہے ؛ اسی طرح عملی تواتر بھی نا پید ہے۔
اسی طرح غامدی صاحب کا اپنی مزعومہ ’سنتوں‘ کے بارے میں یہ کہنا کہ
’’ثبوت کے اعتبار سے ان میں اور قرآن میں کو ئی فرق نہیں ہے ؛ قرآن جس طرح صحابہ کے اجتماع اور قولی تواتر سے ملا ہے ، یہ سنتیں اسی طرح ان کے اجتماع اور عملی تواتر سے ملی ہیں۔‘‘
اس میں و ضاحت طلب امر یہ ہے کہ قولی تواتر اور عملی تواتر میں کیا فرق ہے ؟اور ان دو اصطلاحوں سے ان کی مراد کیا ہے ؟ اگر قولی تواتر سے مراد تمام صحابہ کا تواتر سے یہ کہنا ہے کہ یہ قرآن وہی کتاب ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو ئی ہے تو قول کی صداقت کے پر کھنے کا طریقہ کیاہو گا ؟ محض دعویٰ کر دینے سے تو مد عا کا اثبات نہیں ہو جاتا بلکہ دعوے کے ثبوت کے لیے دلائل کا وجود ضروری ہے ؛ قولی تواتر کے یہ دلائل کہا ں ہیں ؟ اگر یہ گر وہ کہتا ہے کہ اس کے دلائل کتب حدیث میں ہیں تو کتب حدیث تو ان کے نزدیک غث وثمین کا مجموعہ ہیں،وہ تو معتبر ہی نہیں ہیں؛ کتب تواریخ تو اس سے بھی زیادہ غیر معتبر ہیں ؛ شعراے عرب کا جا ہلی کلا م ہے جو ان کے نزدیک سب سے زیادہ معتبر ہے لیکن اس میں تواس امر کے دلائل ملنے سے رہے ؛ پھر اس قولی تواتر کا اثبات کس طرح ہو گا ؟
اسی طرح ’ مزعومہ سنتوں ‘ کا معاملہ ہے ؛ کہا جا رہا ہے وہ عملی تواتر سے ثابت ہیں لیکن یہاں بھی وہی سوال ہے کہ عملی تواتر کا اثبات کس طرح ہو گا ؟ اس دعوے کو کس بنیاد پرپرکھا جا ئے گا ؟ اس کے لیے کون سی کتاب یا مرجع و ما خذہے جس میں اس کے دلائل درج ہوں؟ ظاہر بات ہے کہ کتب حدیث کے علاوہ اس کا کوئی مرجع یا ماخذ نہیں ہے اور جب ایسا ہے تو دین صرف غامدی صاحب کی مزعومہ سنتیں نہیں ہیں بلکہ کتب حدیث میں درج تمام صحیح حدیثیں اور ان سے مستنبط احکام دین ہیں اور یہ تمام سنتیں اور حدیثیں الحمد للہ متواتر ہیں کیوں کہ یہ عہدبہ عہد ، نسل در نسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر با سند سلسلہ وار مد ونین کتب حدیث تک تواتر سے منتقل ہو تی آئی ہیں اور ان مدونین کتب سے لے کر آج تک کے علما کے پاس و ہ سلسلہ سند محفوظ ہے جس میں امام بخاری ، امام مسلم اور دیگر محدثین تک یہ سلسلہ پہنچتا ہے۔اس لیے ہمارا دین اسلام جو قرآن و حدیث پر مشتمل ہے ، مکمل محفوظ بھی ہے اور متواتر بھی جسے کتب حدیث میں دیکھا جا سکتا ہے جب کہ دین غامدی ، صرف غامدی صاحب کے ذہن میں ہے جس کا وہ کو ئی تحریری ثبوت پیش نہیں کر سکتے۔ کتب حدیث کا حوالہ پیش کر نے کے وہ قطعاً مجاز نہیں ہیں ، اس لیے کہ وہ ہمارے دین کا ماخذ ہیں ؛ ہمارے پیغمبر کے اقوال، افعال اور تقریر ات کا وہ مجموعہ ہیں؛ ان میں درج تمام صحیح احادیث دین ہیں؛ اس لیے کہ وہ قرآن ہی کا بیان اور ان کی تشریح وتوضیح ہے۔
غامدی دین احادیث مصطفی نہیں ہے ؛ دین ابراہیمی کی روایات ہیں جن کاکوئی ماخذ و مصدر نہیں یا قرآن کی وہ من مانی تا ویل ہے جو سراسر تحریف معنوی پر مشتمل ہے۔ ان کا دین صحابہ کرام اور امت کا قرآن نہیں ہے ؛ یہ قرآن ہمارا ہے جس کے اجمالی کے تفصیل اور عموم کی تخصیص ہمارے پیغمبر نے کی ہے ؛ دین غامدی اس قرآن میں یہ حق پیغمبر اسلام کو نہیں دیتا ؛ اس لیے اس قرآن سے اور اس کے اس پیغمبر سے اس کا تعلق نہیں ہے ، گو وہ اس قرآن کو ماننے کا کتنی بھی بلند آہہنگی سے اقرار کر ے ؛ وہ اسی طرح مردودہے جیسے مرزائیوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ماننے کادعویٰ مردود ہے؛ اس مردو یت کی دلیل ان دونوں کا رویہ اور طرز عمل ہے ، نہ کہ ان کا دعویٰ کیوں کہ دعوے اور طرز عمل میں فرق ہے ؛ دونوں میں مطابقت اور موافقت نہیں، اس لیے فیصلہ طرز عمل اور رویے پر ہو گا نہ کہ صرف دعوے پر۔
جن لوگو ں میں منافقت ہو تی ہے یا جراَت کا فقد ان ہو تا ، وہ زبان سے جو کہتے ہیں وہ ان کے دل میں نہیں ہو تا اور جو دل میں ہو تا ہے ، اس کا اظہار وہ بہ و جو ہ زبان سے نہیں کر تے تا ہم ان کا رویہ ان کے دلوں کی کیفیت کی غمازی کرتاہے۔ یہ دعواے غیب دانی نہیں ہے ، نہ اس کے لیے علم نجوم میں کسی مہارت کی ضرورت ہے ؛ ایسے لوگوں کے رویوں سے ان کے نہاں خانہ دل کی کثا فتیں چھن چھن کر باہر آرہی ہو تی ہیں جو ان کے مخفی عزائم کو آشکار اور اہل دانش و بینش پر ان کی اصل حقیقت کو واضح کر دیتی ہیں:
بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش
من اندازِ قدت را می شناسم
حدیث کی حجیت کا واشگاف الفاظ میں انکار
اپنی مز عومہ سنتوں کے بیان کے بعد غامدی صاحب و اشگاف الفاظ میں لگی لپٹی رکھے بغیر فرماتے ہیں :
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کے اخبار آحاد جنھیں با لعموم حدیث کہا جاتا ہے ، ان کے بارے میں ہمارا نقطہ نظریہ ہے کہ ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے ، وہ کبھی درجہ یقین کو نہیں پہنچتا ؛اس لیے دین میں ان سے کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا ؛ دین سے متعلق جو چیزیں ان میں آتی ہیں ، وہ درحقیقت قرآن و سنت میں محصور اسی دین کی تفہیم و تبیین اور اسی پر عمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا بیان ہے۔ حدیث کا دائرہ یہی ہے ؛ چناں چہ دین کی حیثیت سے اس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہو سکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اسے قبول کیا جاسکتا ہے۔‘‘ (میزان،ص15)
اس میں موصوف نے ایک تویہ کہا ہے کہ حدیث سے حاصل ہو نے والا علم کبھی درجہ یقین کو نہیں پہنچتا ؛ اس لیے دین میں ان سے کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ بھی نہیں ہو تا۔
اس رائے میں موصوف کو غالباًبعض فقہا کی اس رائے سے سہارا ملا ہے کہ حدیث سے ملنے والے علم سے علم ظنی حاصل ہو تا ہے لیکن ائمہ سلف اور محدثین نے جن کی بابت غامدی صاحب نے کہا ہے کہ میرا موقف بالکل وہی ہے جو ائمہ سلف کا ہے ، کبھی ایسا نہیں کہا اور بعض فقہا نے جو کہا ہے ، اس کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ حدیث موجب عمل نہیں ہے؛ علم ظنی کے باوجود حدیث ان کے نزدیک واجب العمل ہے۔(ملاحظہ ہو:اصول بزدوی 690۔91/2 )یہ آج تک کسی نے نہیں کہا کہ حدیث سے کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ نہیں ہو تا۔
دوسری بات موصوف نے یہ فرمائی ہے کہ دین سے متعلق جو چیز یں حدیثوں میں آتی ہیں ، وہ ’’قرآن و سنت میں محصور اسی دین کی تفہیم و تبیین اور اسی پر عمل کے لیے اسوہ حسنہ کا بیان ہے۔ ‘‘
اس میں ایک تو احادیث کی دو قسمیں بنا دی گئی ہیں : ایک وہ جو دین سے متعلق ہیں اور دوسری وہ جو دین سے متعلق نہیں ہیں ؛ اس دوسری قسم میں وہ داڑھی ، عورت کا ننگے سر نہ رہنا وغیرہ کو عرب معاشرے کا عرف وعادت قرار دے کر دین سے خارج قرار دیتے ہیں؛ یعنی غامدی گروپ کے نزدیک یہ چیزیں دین کا حصہ نہیں ہیں ، اس لیے ان پر عمل بھی ضروری نہیں ہے۔ رہیں دین سے متعلق حدیثیں تو دین ان کے نزدیک قرآن ہے ( وہ بھی ان کی سمجھ کے مطابق نہ کہ ائمہ سلف کے مفہوم کے مطابق ) اور دین ابراہیمی کی27 روایات سنت ہیں ؛ دین انھی میں محصور ہے ،ان کے علاوہ کوئی چیزدین نہیں ہے ؛ احادیث ’اسی دین ‘ کی تفہیم و تبیین یا اسوۂ حسنہ ہیں اور اس سے بھی ان کا مقصود یہ ہے کہ یہ تفہیم و تبیین اور اسوہ حسنہ ہمارے لیے قابل عمل چیز نہیں ہے؛ کوئی عمل کرے تو اچھا ہے ،ورنہ کوئی ضروری نہیں؛ وہ قرآن کا حدیث کی تفہیم و تبیین کو چھوڑ کر کوئی اور مفہوم بھی اخذ کر سکتا ہے۔ اسی طرح پیغمبر کے اسوۂ حسنہ سے مختلف دوسرا طریقہ بھی اپنا سکتا ہے جیسے انھوں نے نماز کے قعدے اور تشہد کے بارے میں کہا ہے کہ اس میں صرف دوزانوہو کر بیٹھا ضروری ہے؛ درود اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتلائی ہو ئی دعا ئیں ضروری نہیں؛ وہ ان کے بجائے جو چاہے پڑھ سکتا ہے۔
علاوہ ازیں ’دین ‘ سے مراد بھی قرآن و حدیث والا دین اسلام نہیں ہے جسے سارے مسلمان مانتے ہیں بلکہ دین غامدی ہے جو قرآن اور دین ابراہیمی کی ان27 مزعومہ سنتوں میں محصورہے جو غامدی صاحب کی نو دریافت ہیں جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم نے اس کی وضاحت کی ہے۔
سوال یہ ہے کہ دین اور حدیث کے بارے میں ائمہ سلف کا یہی عقیدہ و نظریہ ہے جس کا اظہار غامدی صاحب نے کیا ہے ؟
بہ ظاہر قرآن کی’ عظمت ‘ کا اظہار اور بہ با طن احادیث کا انکار
ایک دوسرے مقام پر دیکھیے کہ غامدی صاحب نے کس زیر کی و فن کاری سے احادیث کوکنڈم کیا ہے کہ لوگ ان کی عظمت قرآن کے راگ میں کھو جا ئیں اور احادیث کو تبیین قرآنی سے خارج کرنے کی زہر نا کی کو سمجھ ہی نہ سکیں ؛ ملا حظہ ہو یہ سادگی و پر کاری !
’’قرآن سے باہر کو ئی وحیِ خفی یا جلی ، یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہو ا ہے ، اس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص یا اس میں کوئی تر میم و تغیر نہیں کر سکتا ؛ دین میں ہر چیز کے ردّ و قبول کا فیصلہ اس کی آیات بینات ہی کی روشنی میں ہو گا ؛ ایمان و عقیدہ کی ہر بحث اس سے شروع ہو گی اور اسی پر ختم کردی جا ئے گی۔ ہروحی ، ہر الہام ، ہر القا، ہر تحقیق اور ہر راے کو اس کے تابع قرار دیا جا ئے گا اور اس کے بارے میں یہ حقیقت تسلیم کی جائے گی کہ بو حنیفہ و شا فعی ، بخاری ومسلم ، اشعری و ما تر یدی اور جنید و شبلی ، سب پر اس کی حکومت قائم ہے اور اس کے خلاف ان میں سے کسی کی کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جاسکتی۔‘‘ (میزان، ص 25)
ملاحظہ فرمائیے !بہ ظاہر قرآن کی عظمت کا کیا و جد آفرین بیان ہے کہ پڑھ کر ایک مسلمان جھوم جھوم اٹھتا ہے لیکن اس قند میں چھپی سمّیت (زہر ناکی ) دیکھیے کہ اس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس منصب رسالت پر نقب زنی ہے جس کی رْو سیرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے بہت سے عموم میں تخصیص کی ہے جس کی مثالیں ہم مضمون کے آغاز میں بیان کر چکے ہیں اور جن کو تمام صحابہ وتابعین سمیت پوری امت کے ائمہ علام ، محدثین عظام اور فقہاء کرام نے تسلیم کیا ہے اور وہ تخصیصات چودہ سو سال سے مسلم چلی آرہی ہیں ؛ موصوف نے ان سب پر نفی کا تیشا چلا دیا ہے اور ان کو بہ یک بینی و دوگوش دین سے خارج کر دیا ہے۔ دوسرے ، ستم بالاے ستم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تبیین قرآنی کو ’ترمیم و تغیر ‘ قراردے رہے ہیں تاکہ یہ جر عہ تلخ ہرمسلمان گو ارا کر لے کہ ہا ں واقعی قرآن میں تر میم و تغیر کا حق تو کسی کو نہیں ہے۔ لیکن اصل سوال تو یہ ہے کہ پیغمبر کی یہ قرآنی تبیین کیا یہ قرآن میں تغیر و ترمیم ہے ؟ یہ مو صوف کی سرا سر تلبیس کاری و فن کاری ہے ؛ پیغمبر اسلام کی تبیین قرآنی یا بہ الفاظ دیگر قرآنی عموم کی تخصیص، قرآن میں تغیر و تبدل یا ترمیم و تنسیخ نہیں ہے بلکہ یہ آپ کا وہ منصب ہے جو اللہ نے آپ کو دیا اور آپ نے اس کے مطابق یہ تخصیصات کیں؛ ان کو قرآن میں ’ترمیم و تغیر‘ کہنا عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا اور سراسر فریب ہے : ع دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا ۔
علاوہ ازیں اس اقتباس میں و حیِ خفی کا بھی انکار ہے جس کی روشنی ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے اجمالات کی تفصیل اور عمو مات کی تخصیص کی ہے ؛ورنہ اس کے بغیر تو قرآن ایک چیستاں ، ناقابل عمل اور لا ینحل معما بنا رہتا۔ نماز ، زکا ت ، حج و عمرہ وغیرہ بیسیوں احکام ہیں جن کا حکم قرآن میں ہے ؛ ان کی جو تفصیل اور شکل و ہیئت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے اور جن پر چودہ سو سال سے امت عمل پیرا ہے ، اس کی بنیاد وحیِ جلی ( قرا?ن ) کے علاوہ اس وحیِ خفی ہی پر ہے ؛ اگر اس وحیِ خفی کی کوئی حقیقت نہیں ہے تو آپ کی شرح و تفصیل کی بنیاد کیا ہے ؟ اور یہ شرح و تفصیل اگر نہ ہو تو قرآنی احکامات پر کس طرح عمل کیا جا ئے ؟
اگر کہا جا ئے کہ امت کا تو اتر عملی قرآن پر عمل کے لیے کا فی ہے ، پیغمبر کی شرح و تفصیل کی ضرورت نہیں تو اس سے زیادہ غیر معقول کو ئی بات نہیں؛ آخر تو اتر کی بنیاد کیا ہو گی ؟ اولین دور کے مسلمانوں کا عمل ہی بنیاد ہوگی اور اولین دور کے مسلمانوں نے کیا یہ اعمال خود قرآن سے سمجھ کر سر انجام دیے تھے یا کسی سمجھانے والے کے کہنے کے مطابق انجام دیے تھے ؟ یہ سمجھانے والا پیغمبر ہی تھا ؛ اس نے وحیِ خفی کی روشنی میں وحیِ جلی ( قرآن ) کی تفصیلات بیان کیں اور صدر اول کے مسلمانوں نے اس کے مطابق یہ کام کیے اور یوں نسلاً بعد نسلِِ یہ کام ہوتے چلے آرہے ہیں؛ پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرامین کو جو قرآن کی تفصیلا ت پر مبنی تھے اور جن کو احادیث کہا جا تا ہے ، مد وّ ن کر کے محفوظ بھی کر لیا گیا تاکہ مرورِ ایام اور لیل و نہار کی گردشوں سے اصل ریکارڈ دیکھ کر مصلحین امت اصلاح کا کام کرتے رہیں ؛اسی کو ایک حدیث میں تجدید دین سے تعبیر کیا گیا ہے :
اِنَّ اللہَ یَبعَثُ لِھٰذِہِ الامۃ عَلیٰ رَاسِ کل مایۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا
’’ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے شروع میں اس امت کے لیے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو اس کے دین کی تجدید کریں گے۔‘‘ ( سنن ابو داود، رقم238؛ ا لصحیحہ للالبانی،رقم599)
یہ امت مسلمہ کا خاص شرف و امتیاز ہے کہ محد ثین کی بے مثال کاوشوں سے اس کا و ہ دین قیامت تک کے لیے محفوظ ہو گیا ہے جو احادیث کی شکل میں اور قرآن کی تشریح و توضیح پر مشتمل ہے،ورنہ پچھلے انبیا کی تعلیمات یا تو دست بردزمانہ کی نذر ہو گئیں یا پھر تحریف اور رد و بدل کا شکار؛ لیکن آخری پیغمبر کی تعلیمات بھی محفوظ ہیں اور اس پر نازل کردہ قرآن کریم بھی۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ اس محفوظ ذخیرۂ حدیث کی بابت یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ اول تو اس کی محفوظیت کا دعویٰ ہی مشکوک ہے اور اگر ان میں کچھ حصہ محفوظ بھی ہے تو وہ دفتر بے معنی ہے کیو ں کہ اس سے کسی عقیدہ یا ایمانیات و عمل کا اضافہ نہیں ہو تا :تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو۔
ایسے ہی ’مفکرین ‘کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا ہے:
ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
ایک وہ ہیں جنھیں تصویر بنا آتی ہے
بہ لطائف الحیل حدیث کا انکار
اس سے اگلا پیرا ملاحظہ فرمائیں ؛ اس میں بھی بہ لطائف الحیل احادیث کا انکار ہے :
’’اس (قرآن ) کے الفاظ کی دلالت اس کے مفہوم پر بالکل قطعی ہے؛ یہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے ،پوری قطعیت کے ساتھ کہتا ہے اور کسی معاملے میں بھی اپنا مدعا بیان کرنے سے قاصر نہیں رہتا۔ اس کا مفہوم وہی ہے جو اس کے الفاظ قبول کر لیتے ہیں ؛وہ نہ ان سے مختلف ہے ،نہ متباین ؛اس کے شہرستان معانی تک پہنچنے کا ایک ہی دروازہ ہے اور وہ اس کے الفاظ ہیں؛وہ اپنا مفہوم پوری قطعیت کے ساتھ واضح کرتے ہیں؛اس میں کسی ریب و گمان کے لیے ہر گز کوئی گنجایش نہیں ہوتی۔‘‘ (میزان، ص 25)
اس ساری دراز نفسی اور الفاظ کی مینا کاری کا مقصدبھی حدیث رسول سے قرآن کے عموم کی تخصیص کا حق سلب کرنا ہے کیوں کہ اس گروہ کے نزدیک نبی کا حکم رجم کا حکم قرآن کے الفاظ سے مختلف ہے؛رجم کے مفہوم کو قرآن کے الفاظ قبول نہیں کرتے لہٰذا رجم کی سزا بہ طور حد قرآن کے خلاف ہے۔اگر موصوف یہ بات سیدھے سادے الفاظ میں کہتے تو اس کی پذیرائی نہ ہوتی ،اس لیے موصوف نے ایک ماہر فن کار کی طرح نہایت چابک دستی سے حد رجم کے انکار کے لیے الفاظ کے طوطا مینااس طرح اڑائے ہیں کہ ایک عام آدمی عبارت آرائی کے حسن اور الفاظ کی جادو گری سے مسحور ہو جائیاور اس کے پس پردہ شعبدہ بازی تک اس کی رسائی ہی نہ ہو سکے، لیکن تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔
الحمدللہ ہم نے اللہ کی دی ہوئی بصیرت سے دونوں پیروں میں انکار حدیث کا جو جرثومہ چھپا ہواتھا،دریافت کرلیا۔ واقعہ یہ ہے کہ دونوں پیرے بہ ظاہر قرآن کی عظمت کے مظہر ہیں لیکن درحقیقت ان میں حامل قرآن کے اس منصب رسالت کاانکار ہے جو اللہ نے تبیین قرآنی کا آپ کو عطا فرمایا ہے جس کی رو سے قرآن میں بیان کردہ ۱۰۰ کوڑوں کی حد زنا کو آپ نے کنواروں کے لیے مخصوص کردیا اور شادی شدہ زانیوں کے لیے حد رجم کا حکماً بھی اثبات فرمایا اور عملاً اس کو نافذ بھی فرمایا۔اسی طرح دیگر کئی عمومات میں آپ نے تخصیص فرمائی اور پوری امت نے آپ کے اس منصب قرآنی کے تحت آپ کی تمام تخصیصات کو قبول کیا ؛انھیں نہ قرآن کے خلاف سمجھااور نہ قرآن سے تجاوز؛بھلا ایک پیغمبر کلام الٰہی میں اس طرح کا تصرف کس طرح کر سکتا ہے جو کلام الٰہی کے منشا کے خلاف یاالفاظ قرآنی کی دلالت کے منافی ہو؟
(جاری)
متبادل بیانیہ ’’اصل بیانیے‘‘ کی روشنی میں (۱)
محمد زاہد صدیق مغل
غامدی صاحب کا حال ہی میں چھپنے والا "متبادل بیانیہ" زیر بحث ہے۔ اس میں بہت سی باتوں کا ذکر ہے؛ سردست صرف اسکی دو شقوں پر گفتگو کرنا مقصود ہے؛ ایک یہ پاکستانی ریاست کو مسلمان بنانا نہ صرف ازروئے شرع مطلوب و مقصود نہیں بلکہ یہ خلاف عقل بھی ہے۔ دوسری یہ کہ خلافت کوئی دینی اصطلاح نیز اسکا قیام کوئی دینی تقاضا نہیں۔
ریاست اور مذہب
اس پر گفتگو کے تین پہلو ہیں، ایک کلامی، دوسرا قومی، تیسرا حاضر و موجود وسیع تر تناظر میں اس کے متوقع نتائج۔ تینوں پر ترتیب وار گفتگو کی جاتی ہے۔
1) متبادل بیانئے کا کلامی سیاسی پہلو
شق نمبر ایک کے مطابق (جہاں تک میں سمجھا ہوں) غامدی صاحب مسلمانوں کو یونانی طرز کی "براہ راست جمہوریت" اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یعنی جب وہ کہتے ہیں کہ "ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اسے مسلمان بنانے کا تصور ہی لغو ہے" تو انکا مطلب یہ ہے کہ ریاست کا کوئی بھی موقف (سیکولر، سوشلسٹ، ہندومت، اسلام وغیرہم) نہیں ہونا چاہیے، اسے "نیوٹرل" (معلوم نہیں یہ کس بلا کا نام ہے) ہونا چاہیے؛ لوگوں کی "جو بھی" اجتماعی رائے ہو، وہ اسے اختیار کرنے میں آزاد ہوں۔ فلسفہ سیاست کی زبان میں دراصل وہ یہ بات کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ معاشرے کے اندر کوئی بھی "جنرل ول" (General Will ) نہیں ہونی چاہئے کہ جسکی پابندی بطور قانون لازم سمجھی جائے۔ نیز ول آف آل (Will of all ) بھی جس کی پابند ہو، بلکہ معاشرے میں جو بھی ہو وہ "ول آف آل" (will of will ) کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔
اس پہلو کے چند مضمرات و سوالات
اگر اس بارے میں غامدی صاحب کا مؤقف صحیح سمجھا گیا ہے تو اس پر چند سوالات پیداہوتے ہیں۔
غامدی صاحب آئین میں چند اسلامی شقیں شامل کردینے میں اگر یہ مسئلہ دیکھتے ہیں کہ "چاہے پاکستان کے لوگوں کا اجتماعی ارادہ کچھ بھی کیوں نہ ہو، اس طرح تو گویا ریاست ابدالاباد تک کے لیے مسلمان ہو جائے گی" (اور انہیں دراصل یہی علمی خدشہ لاحق ہے)، تو انکا یہ استدلال خود انکی اپنی منطق پر پورا نہیں اترتا۔ اگر کل کو پاکستان کی غالب اکثریت غیر مسلم ہوجائے تو وہ آئین میں تبدیلی کرکے ان شقوں کو نکال باہر کرے (اور ہمارے لبرل طبقے کیا اس کوششوں میں مصروف نہیں؟) اس سب میں انکے اپنے اصول کے مطابق مسئلہ کیا اور کہاں ہے؟ آخر یہ کہاں لکھا ہے کہ آئین میں کہ تبدیلی نہیں ہوسکتی؟ اگر آج پاکستان کے مسلمانوں کی غالب ترین اکثریت نے "امرھم شوری بینھم" کے تحت یہ طے کرنا ضروری سمجھا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جانا چاہیے تو کل کو اگر کسی کی تبلیغ سے مسلمانوں کا ارادہ بدل جائے تو وہ آئین میں اسی "امرھم شوری بینھم" کے راہنما اصول کے تحت تبدیلی کرلیں اور بس۔ آخر اس سب میں ایسا کیا ہے جسے وہ غیر عقلی و غیر منطقی بات سمجھتے ہیں؟ آخر اس ول آف آل کو قرآن کے اس اصول کا پابند کیوں بنایا جائے کہ وہ "امرھم شوری بینھم" کی بنیاد پر ریاستی امور طے کرے؟ یہ اصول بھی تو بذات خود ایک "فکسڈ سٹرکچر" ہی ہے۔ اگر کہا جائے کہ یہ اصول ازروئے قرآن مسلمانوں پر لازم ہے، تو یہ کہنا تو خود ریاست کو ایک مذہبی بنیاد پر ہی استوار کرنا ہوا۔ آخر ایک "اصولاً نیوٹرل" سٹیٹ سٹرکچر کو ایک مذہبی استدلال کا پابند کیونکر بنانا درست ہے؟ اس نیوٹرل سٹیٹ سے قرآن کی آیت کی بنیاد پر یہ مطالبہ چہ معنی دارد؟
پھر موجودہ جمہوری ریاستیں تو دوحصوں میں تقسیم ہوتی ہیں؛ ایک جسے "مستقل اسٹیٹ سٹرکچر" کہتے ہیں (یعنی عدلیہ، انتظامیہ، فوج وغیرہم) جبکہ دوسرے کو "غیر مستقل" (یعنی مقننہ) کہتے ہیں۔ یہ تقسیم اسی اصول پر مبنی ہے کہ ایک مخصوص جنرل ول کی بالادستی بہرحال قائم رہے (کیونکہ ریاست کے مستقل حصے میں لوگ مخصوص علمیت کی بنیاد پر آتے ہیں نہ کہ ول آف آل کی بنیاد پر)۔ اب انکی تجویز کردہ ریاست کی تعمیر کے لئے لازم ہے کہ ریاست کے یہ سٹرکچرز بھی تحلیل کردیے جائیں اور ریاست کا ہر فرد ہر مرتبہ نمائندگی کے اصول پرہی ہونا چاہئے۔ کیا وہ اسکے لیے تیار ہیں؟
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس شق میں بیان ہونے والا مطالبہ آخر وہ "کس سے" کر رہے ہیں؟ کیا دنیا بھر میں موجود یہ ریاستیں ول آف آل کی بنیاد پر کھڑی کی گئی ہیں یا ایک مخصوص جنرل ول کی بنیاد پر؟ کیا دنیا بھر کی یہ سٹرکچرڈ ریاستیں انکی بات ماننے کے لئے تیار بیٹھی ہیں کہ ہاں ول آف آل (اگر یہ کچھ ہوتی ہے) جو چاہے اسے وہ کرنے کی اجازت دے دی جائیگی؟" کیا دنیا میں قائم شدہ جنرل ول پر مبنی یہ سٹیٹ سٹرکچرہر جگہ مسلمانوں نے کھڑا کیا ہے کہ مسلمانوں سے مطالبہ کیا جارہاہے کہ وہ انکا بیان کردہ متبادل بیانیہ قبول کرلیں؟ اگر غامدی صاحب واقعی یہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں انکی مجوزہ "یونانی طرز کی براہ راست جمہوریت" قائم ہوجائے تو مسلمانوں کے بجائے اہل مغرب کو یہ سبق دیں کہ دنیا بھر میں انسانیت سے اپنی "مخصوص جنرل ول" (آزادی/ہیومن رائٹس/سرمائے) کے شکنجوں کو اٹھا لو۔ مسلمانوں سے تو جنرل ول رفع کرنے کا یہ مطالبہ یوں کیا جا رہا ہے گویا اس "جدید و گلوبل نظام عالم" کے بانی و کرتا دھرتا مسلمان ہی ہوں۔ مسلمان تو خود اس مخصوص جنرل ول کے سب سے بڑے شکار بنے رہے ہیں کہ پورے خلوص و محنت کے بعد بھی اگر کسی مذہب پسند جماعت نے کہیں "ول آف آل" کے اس پلڑے کو اپنے حق میں جھکا ہی لیا تو بھی ان مخصوص جنرل ول والوں نے ان ملکوں میں انکی ایک نہ چلنے دی۔ پھر بھی شکوہ ہے تو صرف پیچارے مسلمان سے کہ یہ "دنیا بھر میں شدت پسندی" کو فروغ دیتا ہے۔ کیا پچھلے سو سال میں کوئی ایسی مثال بھی ملتی ہے کہ مسلمانوں کے کسی ملک نے کسی غیر مسلم اکثریتی ملک کی عوام کی ول آف آل کو فسخ قرار دے کر ان پر اپنی شرع نافذ کردی ہو؟ یہ پیچارہ اگر اپنی جنرل ول کو صرف اپنے ہی اوپر لازم ٹھہرا لے تو بھی شدت پسند!
جب غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو یونانی طرز کی براہ راست جمہوریت (کہ ول آف آل کسی جنرل ول کی راہنمائی کے بغیر جو کرنا چاہے، وہ کرسکے) اختیار کرلینی چاہیے تو یہ بات جہاں ناممکن العمل ہے (کیونکہ ول آف آل بالذات کچھ نہیں ہوتی، یہ تو ایک مخصوص جنرل ول کے تحت زندگی بسر کرنے سے بس تعمیر ہوجاتی ہے) وہیں اس کا سیدھا سیدھا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ مسلمان اجتماعی زندگی میں اس ’’آفاقی اخلاقی اصول‘‘ کی بالادستی کو قبول کرلیں کہ اجتماعی نظم درحقیقت اس چیز کو تحفظ فراہم کرے گا کہ ’’لوگ جو چاہنا چاہیں انکی وہ چاہت چاہنے کی صلاحیت محفوظ ہوتی و فروغ پاتی رہے‘‘ نہ کہ شرع چاہنے اور اس پر عمل کرنے کی مخصوص چاہت محفوظ و عام ہو (کیونکہ اس اصول کے تحت ریاست کی اصل کمٹمنٹ ول آف آل کی کچھ بھی چاہنے کی بالادستی کو ممکن بناتے رہنا ہوگا)۔ ایسا اگر آزادی بطور قدر میں لامحدود اضافے کا دلدادہ کوئی پوسٹ ماڈرن فلسفی چاہے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے مگر یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر ایک ٹھیٹھ مذہبی ذہن رکھنے والا انسان جو یہ چاہتا ہے کہ لوگ مرنے کے بعد جنت میں جائیں نیز دنیا میں خدا کی اطاعت عام ہو، وہ یہ سب کیسے چاہ سکتا ہے؟ آخر ’’ول آف آل‘‘ کی بالادستی کو فروغ دے کر شرع کا فروغ ہوسکنا بھلا کیسے ممکن ہے؟
اس پہلو پر چند اصولی باتیں
الف) مسلمانوں کی ول آف آل کے لئے "قرآن و سنت کی بالادستی کا اقرار" لازم ہے۔
کیا کلمہ پڑھنے کا عمل "بذات خود" ایک فرد کے لئے یہ لازم نہیں کرتا کہ وہ "اصولا" (عملی کوتاہیاں ایک طرف) یہ اقرار کرنے کا پابند ہے کہ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت اس پر لازم ہے، (یہ الگ گفتگو ہے کہ عملاً ایسا کر رہا ہے یا نہیں)؟ اگر کلمہ پڑھنے کے بعد وہ یہ "اصولی" رائے رکہے کہ خدا کی بات ماننا مجھ پر تب لازم ہے جب میرا دل کرے گا ورنہ نہیں، تو کیا وہ "واقعی" مسلمان ہے؟ تو اگر ایک کلمہ گو فرد کے لئے اس اصولی اقرار کا اظہار لازم ہے تو آخر ان کروڑوں کلمہ گو مسلمانوں کی "مجموعی رائے" کے لیے یہ اقرار کیوں لازم نہیں؟ یعنی جو بات (کہ خدا کی اطاعت کا لازم ہونا میری ول پر نہیں بلکہ بذات خود میرے کلمہ پڑھنے کا منطقی نتیجہ ہے) ایک فرد کے لئے لازم ہے آخر انکے مجموعے کو اس سے رخصت کس منطق سے ملی؟ گویا کروڑوں کلمہ گو مسلمانوں کی "اصولی" اجتماعی رائے اگر یہ ہو کہ خدا کا حکم ہم پر تب لازم ہوگا جب ہمارا دل چاہے گا تو یہ سب مسلمان ہوئے مگر اسی بات کا دعویٰ اگر یہ انفرادی حیثیت میں کریں تو کافر! آخر کلمہ پڑھنے کا مطلب اسکے سوا اور ہے ہی کیا کہ خدا و رسول کی چاہت کلمہ پڑھنے والوں کی چاہت (چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی) پر لازماً فوقیت رکھتی ہے؟ تو ان کلمہ گو انسانوں نے جس خطے میں اپنی اجتماعی رائے کا اظہار کرنا ہو اگر وہاں وہ اپنے لئے اس لازمی اصولی اقرار کا اقرار کریں تو اس میں مسئلہ کیا ہے؟ کیا اس معاملے میں وہ کوئی دوسری چوائس بھی محفوظ رکھتے ہیں؟
ب) "قرآن و سنت کی بالادستی" کا قانون "امرھم شوری بینھم" کے حوالے سے مقدم ہے۔
اگر "امرھم شوری بینھم" کے تحت مسلمانوں کی "ول آف آل کی پابندی" کا اصول "ول آف آل کی تصدیق" کا محتاج نہیں (کہ یہ ول آف آل کے اظہار سے ماقبل لازم ہے*) مگر اسکے برخلاف "قرآن و سنت کی بالادستی" نیز "انکے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا" کا قضیہ ول آف آل کی تصدیق کا محتاج ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسلمان ول آف آل کے اظہار سے ماقبل "قرآن و سنت کے خلاف قانون نہ بنانے" کے اسی طرح "قانونی طور" پر پابند نہیں (جیسے "امرھم شوری بینھم" کے تحت ول آف آل کی پابندی کے پابند ہیں) تو پھر وہ "امرھم شوری بینھم" کے خلاف کیوں نہیں جاسکتے؟ آخر کس دلیل کی بنیاد پر انکی ول آف آل کو "امرھم شوری بینھم" کا پابند بنانے کی بات جاسکتی ہے ؟ یہ تو بالکل بدیہی بات ہے کہ "قرآن و سنت کے خلاف قانون نہ بنانے" کا قانون دراصل "امرھم شوری بینھم" کے استدلال سے مقدم ہے ؛ جس "ول آف آل" کے اظہار سے ماقبل اور اسکے پیچہے "قرآن و سنت کی بالادستی" ماننے کا اقرار موجود نہ ہو، اس ول آف آل کو "امرھم شوری بینھم" کی بنیاد پر خطاب کرنا ہی کلام لاحاصل ہے ۔ آخر مسلمانوں کی ول آف آل کو "امرھم شوری بینھم" کا یہ قضیہ اسی بنیاد پر منوانے کی کوشش کی جارہی ہے نا کہ "قرآن و سنت کے مطابق قانون بنانا لازم ہے"۔ تو پھر اس سب پر اعتراض کیوں؟ یعنی "بنیاد" کے لکھے جانے پر تو اعتراض (کہ اس سے تو ریاست مسلمان ہوگئی) مگر اس بنیاد سے نکلنے والے جزئیے پر خود ہی اصرار! آخر یہ اصرار کس "بنیاد" پر؟ الغرض مسلمان اصلاً امرھم شوری بینھم کی نہیں بلکہ "قرآن و سنت کی اصولی بالادستی" ماننے کے پابند ہیں۔
ج) جانشین رسول کا طرز عمل
پھر دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ خود اللہ کے رسول? نیز انکے جانشینوں نے بھی کیا یونانی طرز کی براہ راست جمہوریت قائم کی تھی؟ وہ جو اس رسول کے پہلے جانشین بنے کیا انکا پہلا خطبہ اسی قسم کی جمہوریت کا پالیسی ڈاکومنٹ ہے؟ سنئے وہ کیا کہتے ہیں: "لوگو میری اطاعت کرو، جب تک کہ میں اللہ اور اسکے رسول کے حکم کی اطاعت کروں۔" یہ کیا یونانی جمہوریت کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا؟ کیا انہوں نے یہ کہا کہ "لوگو میں تو بس ازروئے قرآن کرنے کا پابند ہوں جو تم سب کی "اجتماعی خواہش" ہوگی، چاہے وہ جو بھی ہو؟"
2) متبادل بیانئے کا قومی سیاسی پہلو
بیانئے کے استدلال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آئین پاکستان کی اسلامی شقوں نیز قراد داد مقاصد کو حاضر و موجود دنیا کے قوانین و عرف کی روشنی میں دیکھ کر انکے خلاف استدلال قائم کیا گیا ہے؛ یہ استدلال چند مقدموں پر کھڑا کیا گیا ہے۔ چونکہ دنیا کے قوانین کے مطابق قومی ریاستیں سب کی مشترکہ ملکیت ہوتی ہیں، اور پاکستان بھی انھی قوانین کے تحت قائم ہوا؛ لہٰذا ان ریاستوں میں مذہب کی بنیاد پر کسی مذہبی شناخت کو اقلیت قرار دینا جہاں ان عالمی معاہدات کی خلاف ورزی ہے، وہیں ان مذہبی اقلیتوں کے ساتھ دھوکہ دہی بھی ہے کہ ہم نے قومی ریاست کو مذہبی بنا کر انہیں مساوی حقوق سے محروم کردیا۔ مزید یہ کہ قائد اعظم نے بھی دستور ساز اسمبلی کی اپنی تقریر میں یہی کہا تھا کہ پاکستان میں سب مذاہب کے لوگ سیاسی طور پر مساوی ہونگے۔
اقلیتوں کے ساتھ دھوکہ کی دلیل:
یہاں اقلیتوں کے ساتھ دھوکے کا استدلال سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیا ہم نے بارہا اپنے جلسوں اور نعروں میں یہ بات بالکل واضح نہ کردی تھی کہ "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ؟ کیا اقلیتوں کو اس سے معلوم نہ ہوا تھا کہ پاکستان میں کیا ہوگا؟ تو ان سے دھوکہ کس بات کا؟
عالمی معاہدوں کا حوالہ:
عالمی معاہدوں کی دلیل پر قرارداد مقاصد کو معاہدہ شکنی پر محمول کرکے اسے خلاف اسلام قرار دینا (کہ اسلام معاہدہ شکنی کی ممانعت کرتا ہے) بھی ایک کمزور استدلال ہے۔ ان حضرات سے سوال ہے کہ اس عالمی معاہدے کی وہ کونسی "قطعی الدلالت" شق ہے جسکی صریح دلالت کے مطابق پاکستانیوں کو قرار داد مقاصد پاس کرنے کا حق نہیں تھا؛ یہاں عمومی بات نہیں چاہئے، "صریح نص" دکھائی جانی چاہیے، ایسی نص جو انکا مقدمہ ثابت کرنے میں ناقابل تاویل ہو۔ نیز اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ان "یو این "والوں نے پاکستان کو اس قرار داد مقاصد کے "ہوتے ہوئے" بھی اپنا رکن بنا رکھا ہے اور کبھی وہاں اس بنا پر کوئی پاکستان کو معاہدہ شکنی کا طعنہ نہیں دیتا۔ تو یہ بات بذات خود بتا رہی ہے کہ اس معاملے میں کسی "عالمی قانون" کی ایسی کوئی خلاف ورزی نہیں کرلی گئی جس پر شرع نے وعید سنا رکھی ہو۔ یہ قانون تو بس عرف ہیں؛ تو جنھوں نے عرف بنایا ہے جب انہیں کوئی اعتراض نہیں تو ہمارے ان محترم مفکرین کو کیوں اعتراض ہے؟
قائد کا خطاب:
رہ گئی بات قائد کے خطاب کی، تو اسکی بہت سی توجیہات کی جاتی ہیں، مگر سیدھی بات یہ کہ اس خطاب کی کوئی ’’آئینی و قانونی حیثیت‘‘ نہیں، یہ صرف قائد کے ذاتی خیالات تھے جسکا اظہار انھوں نے دستور ساز اسمبلی کے سامنے بطور سفارشات کیا۔ بعد میں اسی دستور ساز اسمبلی نے قرار داد مقاصد اور پھر بعد میں دساتیر پاس کرکے گویا انکی اس رائے کو مسترد کردیا۔ نیز بانیان پاکستان کے اقوال یا کسی معاہدے سے صرف اتنی بات دکھا دینا کہ ’’یہاں اقلیتوں کو حقوق میسر ہونگے‘‘ ہمارے ان حضرات کی بات ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں کیونکہ یہ بات بالکل معلوم ہے کہ ہر شخص حقوق کی تفصیلات اپنے نظریے کے مطابق ہی طے کیا کرتا ہے۔ ہمارا آئین بھی اقلیتوں کو بے شمار حقوق دیتا ہے۔ ان بانیان پاکستان نے تو درجن سے زیادہ مرتبہ یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کا آئین قرآن و سنت ہوگا۔ تو کیا اب یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ جب یہ بانیان اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتے تھے تو انھی حقوق کی بات کیا کرتے تھے جو قرآن و سنت انہیں عطا کرتا ہے؟ اس ضمن میں بعض احباب یہ عجیب و غریب استدلال بھی کرتے ہیں کہ ’’پاکستان بنانے والوں کا مؤقف تو کچھ اور تھا البتہ قرار داد مقاصد جیسی چیزیں ملائیت کے جبر کے تحت نافذ ہوئیں، یعنی پاکستان کی "تمام اسمبلیوں" نے "پورے اتفاق و تسلسل" کے ساتھ جس بات کو انڈورس کیا وہ تو ٹھہرا "مولویوں کا جبر" اور یہ حضرات جو تاریخ و تشریح بتلائیں، وہ ٹھہرے "جمہوریت"۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان مولویوں کو ایک دن کے لئے بھی ان اسمبلیوں میں اکثریت نہیں ملی۔ اور تو اور خود قائد نے جو اپنی پہلی کیبنٹ بنائی، اس میں بھی مولویوں کی اکثریت نہ تھی۔
ان حضرات کا کہنا یہ بھی ہے کہ اس قسم کی آئینی شقوں سے مذہبی اقلیتوں پر ظلم کا معاشرتی دروازہ کھلتا ہے۔ مگر یہ سمجھنا درست نہیں کہ ہمارے ملک میں اگر کسی مذہبی اقلیت کے ساتھ کہیں کوئی ناروا سلوک روا رکھ لیا جاتا ہے تو اسکی وجہ آئین میں انہیں اقلیت ڈکلیئر قرار دیا جانا ہے (آئین نے تو انہیں بہتیرے حقوق دے رکھے ہیں)۔ کیا ہمارے یہاں چند گھروں میں خواتین کے ساتھ جو ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے تو کیا یہ آئین میں لکھا ہوا ہے کہ ایسا کیا جانا چاہئے؟ لکھا تو امریکہ و یورپی ممالک کے آئین میں بھی نہیں کہ مسلمان برا ہے، مگر نائن الیون کے بعد ان علاقوں میں مسلمانوں نے کئی قسم کے معاشرتی، سیاسی و نفسیاتی مسائل جھیلے۔ یہ معاشرتی رویوں کی چیزیں ہیں، انکی آڑ میں آئین کی اسلامی شقوں پر واردات کا جواز نکالنا علماء کی طویل جدوجہد پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے (جسکی کچھ تفصیل آگے آرہی ہے)۔ اس آئین کی رو سے زیادہ سے زیادہ ان مذہبی اقلیتوں کو صدر یا وزیر اعظم بن سکنے کا حق نہیں، مگر پاکستان کی آبادی میں ان مذہبی اقلیتوں کا تناسب سامنے رکھتے ہوئے یہ بات باآسانی سمجھی جاسکتی ہے کہ انہیں یہ حق نہ دیا جانا کوئی ایسا حق نہیں ہے جو عملاً ممکن تو ہے، مگر صرف آئین میں اجازت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی غیر مسلم صدر یا وزیر اعظم نہیں بن پارہا۔
چند دیگردلائل
الف) میثاق مدینہ سے استدلال کا جائزہ:
متبادل بیانئے کو سپورٹ کرنے والے بعض اہل علم کا ایک استدلال یہ بھی ہے کہ میثاق مدینہ میں شامل مسلمانوں سمیت تمام گروہوں کو "ایک امت یا قوم" قرار دیکر مساوی حقوق عطا کئے گئے تھے؛ جبکہ آئین پاکستان میں اسلامی شقوں کی رو سے غیرمسلمین منطقی طور پر اقلیت قرار پاتے ہیں جو کہ میثاق مدینہ کی حکمت کے خلاف ہے۔
استدلال کرنے والوں نے یہ نہ سوچا کہ یہ اس دور کا معاہدہ ہے کہ جب ریاست سے متعلق احکامات ابھی نازل ہی نہ ہوئے تھے؛ نیز یہ بھی غور نہ کیا کہ اس معاہدے کا مقصد اسلامی ریاست کے لئے قانون سازی کے عمل میں ہر گروہ کی شمولیت کا حق متعین کرنا بھی نہیں تھا، پھر یہ بھی غور نہ کیا کہ ابھی تو وہ آیات نازل ہی نہ ہوئی تھیں جنکی روشنی میں فقہائے اسلام نے اہل الذمہ، اہل الجزیہ، اہل المعاہد وغیرہ جیسی کیٹیگریز ڈیفائن کی تھیں۔ مگر اس سب سے سہو نظر کرکے مان لیتے ہیں کہ یہ ایسا ہی کوئی معاہدہ تھا جسے آج کے معنوں میں "آئین" کہا جاتا ہے۔ پھر بھی ہمارے ان احباب کی نظریں معاہدے کی صرف پہلی شق کے الفاظ "امۃ واحدۃ" پر ہی جاکر رک گئیں۔ مگر خود اس معاہدے میں ہی ایسا بہت کچھ ہے جو انکے نکتہ نظر کی نفی کے لئے بہت کافی ہے۔ چنانچہ معاہدہ یوں شروع ہوتا ہے:
ھذا کتاب من محمد النبی، کہ یہ معاہدہ ہے محمد "نبی کی طرف سے۔ صاف طور پر کہا جارہا ہے کہ یہ معاہدہ محمد بطور ابن عبداللہ نہیں بلکہ رسول اللہ کی طرف سے کیا جارہا ہے۔ تو کیا کسی کا خیال ہے کہ محمد معاہدہ تو نبی کی حیثیت سے کریں گے مگر بعد میں نازل ہونے والے احکامات کے معاملے میں مشورے شروع کردیں گے؟
آگے چل کر یہ اصولی بات بیان ہوتی ہے: "وانّ ما کان بین اھل ھذہ الصحیفۃ مِن حَدث و اشتجار یخاف فسادہ، فانّ مَرَدَہ الی اللہ والی محمد رسول اللہ"۔ یعنی اہل معاہدہ کے درمیان اگر کوئی فساد برپا کرنے والا نزاع ہوجائے تو اسکے حل کے لئے اسے اللہ اور اسکے رسول کی طرف لوٹایا جائے گا۔ اور سنئے؛ طے پاتا ہے کہ "وانکم مھما اختلفتم فی من شیء فانّ مردَّہ الی اللہ والی محمد" یعنی معاہدے میں شامل سب فریقوں کے اختلافات اللہ اور اسکے رسول کے حکم کے پابند ہوں گے۔
آخر "اللہ اور اسکے رسول کی سیاسی حاکمیت" کا اعلان اسکے سوا اور کس چیز کا نام ہے کہ فصل نزاع اللہ اور اسکے رسول کے حکم کے تابع ہوگا؟ آخر آئین پاکستان میں اسکے سوا اور کیا اعلان کیا گیا ہے؟ جب فصل نزاع جیسے اہم معاملے میں تمام معاہدین کی رائے کو مساوی اہمیت ہی نہیں دی گئی تو آخر سب کے مساوی حقوق کا کیا معنی؟ اب یہ تاویل قابل قبول نہیں کہ یہاں نزاع کو اللہ و رسول کی طرف پلٹانے کا معنی محمد بحیثیت حکمران ہے۔ کیا اللہ بھی اس معاہدے میں ایک فریق کے طور پر شامل تھا کہ اسکی طرف پلٹانے کی بات ہوئی؟ پس یہاں اللہ اور اسکا رسول انھی معنی میں لایا گیا ہے جن میں یہ قرآن میں آتا ہے۔
پھر یہ بھی دیکھئے کہ ریاستی امور سمیت ہر قسم کے نزاعات میں اللہ و رسول کی بالادستی کا اعلان کرنے والی سورۂ نساء کی آیت ’’ان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول‘‘ ابھی نازل بھی نہیں ہوئی مگر حکمت نبوی اس کے نزول سے قبل ہی ’’عین یہی فیصلہ‘‘ صادر فرمارہی ہے کہ ’’فصل نزاع کے لئے اللہ اور اسکے رسول کی طرف ہی مراجعت کی جائے گی‘‘۔ کیا یہاں کسی پارلیمنٹ یا مجلس شوری کا ذکر ہوا؟ کیا صحابہ میں سے کسی کو یہ نکتہ سوجھا کہ ’’امرھم شوری بینھم‘‘ کے سنہری قرآنی اصول کے تحت فصل نزاع تو پارلیمنٹ (’’اس میثاق مدینہ سے بننے والی قوم‘‘) یا اسکی مجلس شوری کا حق ہے؟ ذرا غور تو کیجیے کہ اجتماعی زندگی کو ریگولیٹ کرنے والے احکامات کی تفصیل ابھی نازل ہی نہیں ہوئی مگر رسول خدا معاہدین کو اسکی پابندی کا پابند کرلیتے ہیں۔ حکمت نبوی تو دراصل اس میں پنہاں ہے۔ اگر اس معاہدے کی حکمتیں کسی کو اتنی ہی عزیز ہیں تو خدارا مسلمان حکمرانوں سے کہیے کہ یو این کے فورم پر یہ بات منوا لیں کہ ’’اس گلوبل ویلیج میں ہم سب ایک قوم ہیں مگر فصل نزاع اللہ اور اسکے رسول کے حکم سے ہوگا‘‘؛ ہم انکے ہاتھ چوم لیں گے۔
پھر سوچئے کہ کیا رسول اللہ کے براہ راست جانشینوں نے فتح ہونے والے علاقوں میں کہیں کسی قوم سے ایسا "مساوی حقوق" کا کوئی معاہدہ کیا؟ پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ کیا میثاق مدینہ کی اس پہلی شق سے اسلامی تاریخ میں گزر جانے والے ہزارہا فقہاء میں سے کسی نے "مساوی حقوق" والا یہ قیمتی نکتہ مستنبط کیا؟ گویا اس شق سے اخذ کیا جانے والا یہ استدلال منتظر تھا کہ کب دنیا پر ہیومن رائٹس سے نکلنے والا تصور مساوات غالب آئے اور کب مسلمان اسکی رو سے پوری اسلامی تاریخ میثاق مدینہ سے ازسر نوع مرتب کرنا شروع کردیں۔
ب) "اگر وہ بھی ایسا کرلیں تو؟" کے اصول کا جائزہ:
اس ضمن میں بعض احباب نے ایک استدلال یہ بھی وضع کیا کہ "اگر ہندوستان بھی اپنے ملک کو ہندو سٹیٹ ڈکلیئر کردے یا امریکہ عیسائی سٹیٹ ڈکلیئر کردے تو آپ مسلمانوں کو کیسا لگے گا؟ تو اگر آپ ان سے انکے ملکوں میں برابری کے حقوق طلب کرتے ہیں تو اپنے ملک میں یہ حقوق کیوں نہیں دیتے؟'
’’ریسیپروسیٹی‘‘ (Reciprocity) کی عقلیت پر مبنی یہ نہایت عجیب و غریب استدلال ہے۔ ہم انکے ملک میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے سیکولرازم کی بنیاد پر حقوق اس لئے نہیں مانگتے کہ ہم سیکولرازم کو حق سمجھتے ہیں بلکہ اس لئے مانگتے ہیں کہ وہ ’’خود اس کا اقرار کرتے ہیں‘‘۔ اگر ہمیں قوت حاصل ہو تو ہم کب اس سیکولرازم کی دہائی دینے والے ہیں؟
پھر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جو لوگ "خود" سیکولرازم کو پروموٹ کرتے ہیں ہم انکے منہ میں یہ بات کیوں ڈال کر استدلال وضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ "اگر وہ یوں کرلیں یا ووں کرلیں تو؟" ہم تو ان سے انکی پوزیشن پر بات کریں گے، نہ کہ کسی مفروضہ پوزیشن پر، جب وہ ایسا کریں گے تو اس وقت "بطور حکمت عملی" ہمیں حسب استطاعت کیا کرنا ہے ہم دیکھ لیں گے؛ مگر اس بنا پر ہم سے یہ مطالبہ ہرگز جائز نہیں کہ ہم بھی اپنے یہاں اسی اصول پرحقوق دینے کے پابند ہونگے۔ آخر کیوں فرض کیا جائے کہ ایک ہی اصول ہر جگہ لاگو ہونا چاہئے؟ دیکھئے جب آپ امریکہ جاتے ہیں تو امریکی آپ کو "زنا کا حق" دیتے ہیں، تو کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ جب امریکی ہمارے یہاں آئے تو ہم بھی اسے یہ حق عطا کریں؟
کسی نظریے کے خلاف یہ سرے سے کوئی علمی استدلال ہی نہیں ہوتا کہ آیا اس سے وہ نتائج پیدا ہورہے یا ہوسکتے ہیں یا نہیں جو دوسرے نظریے سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس صورت میں دراصل آپ اس پہلے نظریے کو خود اس کی اپنی اساس پر نہیں بلکہ اس دوسرے نظریے کی بنیاد (یعنی اس سے ہم آہنگی) پر جانچنے لگتے ہیں۔ مارکسسٹ حضرات سے یہ کہنا کہ 'چونکہ تمہارا سسٹم نجی ملکیت کا حق نہیں دیتا لہٰذا تمہارا نظریہ درست نہیں' یا یہ مطالبہ کرنا کہ 'تم لوگ روس میں تو نجی ملکیت کا حق نہیں دیتے تو اگر امریکہ بھی اپنے ملک میں تمہارے لوگوں کو نجی ملکیت کا حق نہ دے تو تمہیں کیسا لگے گا؟' بتائیے کیا دنیا کا کوئی مارکسسٹ اس قسم کی باتوں کو اپنے خلاف سرے سے کوئی علمی استدلال بھی تصور کرے گا، چہ جائیکہ ہم انکی بنیاد پر اسے اپنے یہاں نجی ملکیت کے اجرا پر راضی کرلیں؟ تو کیا مسلمانوں کو ہی ایسا بے عقل تصور کرلیا گیا ہے؟
پھر اس استدلال کی نوعیت سے معلوم ہورہا ہے کہ آپ اسلام کو معاملے میں "ایک فریق" بنا کر خود اس سے "باہر کھڑے" ہوکر گویا فریقین کے درمیان منصفی کرانا چاہتے ہیں۔ یہ عین سیکولرانہ طرز استدلال ہے، پھر آپ کہتے ہیں کہ "ہمیں سیکولر مت کہو۔"
حواشی
* یعنی اس سے انحراف کا تو انہیں حق ہی نہیں کہ یہ تو "بائے ڈیفالٹ" قانون ہے، یہ تو کسی بھی آئین کے لکھے جانے کا "مقدمہ و بنیاد" ہے، آئین لکھا ہو ا ہو یا نہ لکھا ہو ا، "ول آف آل" چاہے کچھ بھی ہو اس قضیے کی مخالفت ازروئے شرع وہ کسی صورت نہیں کرسکتی۔
(جاری)
اسلامک تھنک ٹینک اور ورلڈ اسلامک فورم
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
گزشتہ روز ایک قومی اخبار میں اسلامک تھنک ٹینک کی سرگرمیوں کے حوالہ سے دو خبریں نظر سے گزریں۔ ایک خبر میں اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس کا ذکر ہے جس سے خطاب کرنے والوں میں جناب سرتاج عزیز، جناب مشاہد حسین سید اور جناب نیر حسین بخاری شامل ہیں، جبکہ دوسری خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسلامک تھنک ٹینک کے ذمہ دار حضرات نے اپنے فورم کا نام تبدل کر کے ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے نام سے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں تک اس فورم کے مقاصد اور سرگرمیوں کا تعلق ہے، وہ آج کی فکری ضروریات میں سے ہیں اور دنیائے اسلام میں اس قسم کے اداروں کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے جو فکری بیداری کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو درپیش مسائل پر بحث و مکالمہ اور ان کے حل کے لیے مشترکہ علمی، تحقیقی و فکری کاوشوں کا اہتمام کر سکیں، اس لیے کہ آج ہمارے ہاں سب سے زیادہ کمی حالات سے صحیح آگاہی اور حقیقت پسندانہ بنیادوں پر مسائل کے تجزیہ اور ان کے حل کے ذوق کی ہے۔ چنانچہ دنیائے اسلام میں کہیں بھی اس طرز کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو وہ ہمارے لیے خوشی کا باعث ہوتی ہے اور ہم نہ صرف اس کا خیر مقدم کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ تعاون کی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ البتہ اسلامک تھنک ٹینک کو ورلڈ اسلامک فورم کا نام دینے کا فیصلہ ہمارے خیال میں محل نظر ہے اس لیے کہ اس نام سے ایک فورم کم و بیش ربع صدی سے سرگرم عمل ہے۔
1990 کی بات ہے جب لندن میں چند اہل فکر علماء کرام نے مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کی زیر صدارت منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں ورلڈ اسلامک فورم کی بنیاد رکھی تھی اور راقم الحروف کے علاوہ مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا مفتی برکت اللہ اور مولانا محمد عمران خان جہانگیریؒ کو اس کے بانی ارکان ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ کئی برسوں تک راقم الحروف اس کا چیئرمین اور مولانا محمد عیسیٰ منصوری سیکرٹری جنرل رہے، جبکہ کچھ عرصہ سے مولانا منصوری اس کے چیئرمین اور مفتی برکت اللہ سیکرٹری جنرل ہیں۔ ورلڈ اسلامک فورم کی سرگرمیوں کا دائرہ برطانیہ، بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان میں پھیلا ہوا ہے۔ اور عالم اسلام کے مختلف مسائل پر لندن، برمنگھم، ڈھاکہ، سلہٹ، دہلی، لکھنو، اسلام آباد، لاہور، ملتان، گوجرانوالہ اور دیگر اہم شہروں میں بیسیوں علمی و فکری سیمینار ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام منعقد ہو چکے ہیں۔ اور ان سے خطاب کرنے والوں میں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ ، مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ ، جناب محمد صلاح الدین مرحوم، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، ڈاکٹر سید سلمان ندوی، ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم، مولانا سید سلمان الحسنی، ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی اور مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری کے علاوہ آکسفورڈ کے معروف نو مسلم دانش ور ڈاکٹر یحییٰ برٹ بھی شامل ہیں۔ فورم کا صدر دفتر لندن میں ہے اور اس کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری پورا سال مسلسل متحرک رہتے ہیں۔ ابھی دو ماہ قبل انہوں نے بھارت اور پاکستان کا تفصیلی دورہ کیا ہے اور پاکستان میں لاہور، ملتان، اسلام آباد، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ میں درجن بھر اجتماعات سے خطاب کیا ہے۔
ورلڈ اسلامک فورم کے قیام اور سرگرمیوں کا بنیادی ہدف امت مسلمہ میں فکری بیداری پیدا کرنا اور علمی و فکری حلقوں کے درمیان رابطہ و اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ فورم نے کچھ عرصہ قبل دعوہ اکیڈمی اسلام آباد اور مدنی ٹرسٹ نوٹنگھم کے تعاون سے ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کا اہتمام کیا تھا جو کئی سال تک جاری رہا اور یورپی ممالک کے ہزاروں افراد نے بذریعہ ڈاک اس سے استفادہ کیا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ مسائل کے حقیقت پسندانہ تجزیہ، تعلیم کے فروغ، معروضی حالات سے صحیح آگاہی، معاصر فکری حلقوں کی سرگرمیوں اور اہداف سے شناسائی، اسلام اور امت مسلمہ کو درپیش عصری مسائل اور چیلنجز کا تدبر و حوصلہ کے ساتھ سامنا، اور ارباب فکر و دانش کے باہمی رابطہ و مشاورت کے ذریعہ ہی عالم اسلام کو مشکلات و مسائل کے مجوزہ بھنور سے نکالا جا سکتا ہے اور اس میں ہر حلقہ و طبقہ کے ارباب و فکر و دانش اور خاص طور پر علماء کرام، اساتذہ اور میڈیا ماہرین کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ توجہ اور محنت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس لیے اسلامک تھنک ٹینک جس سطح پر اور جس انداز میں کام کر رہا ہے اور اپنے دائرہ میں وسعت اور تنوع پیدا کرنے کی جو منصوبہ بندی کر رہا ہے، وہ خوش آئند ہے جس کے ساتھ ہر صاحب فکر کو تعاون کرنا چاہیے۔ مذکورہ اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس فورم کی آئندہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی ذمہ داری سینیٹ آف پاکستان کے رکن جناب مشاہد حسین اور ترک دانش ور جناب سلیمان سنپے کو سونپی گئی ہے۔ ہم ان دونوں دوستوں کو اس کار خیر میں تعاون کا یقین دلاتے ہوئے دعا گو ہیں کہ وہ اپنے اچھے مقاصد میں مسلسل ترقیات و ثمرات سے بہرہ ور ہوں۔ مگر ساتھ ہی یہ درخواست بھی ہے کہ کسی بڑے محل کی تعمیر کے لیے چند فقیروں کی جھونپڑی کو بلڈوز کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ اس حوالہ سے اگر اسلامک تھنک ٹینک اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کر سکے تو یہ بہرحال فکر و دانش کا درست استعمال تصور کیا جائے گا۔
خصوصی اشاعت بیاد حضرت مولانا محمد نافع ؒ
قارئین کے لیے یہ اطلاع باعث مسرت ہوگی کہ محقق اہل سنت حضرت مولانا محمد نافع جھنگویؒ کی حیات وخدمات کے تذکرہ کے لیے ماہنامہ الشریعہ کی ایک خصوصی اشاعت پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں حضرت رحمہ اللہ کے فرزند جناب میاں محمد مختار عمر کی مشاورت کے ساتھ حافظ محمد عمار خان ناصر، پروفیسر محمد عرفان، پروفیسر اللہ بخش نجمی، جناب افتخار تبسم، حافظ عبد الجبار سلفی اور جناب شبیر احمد میواتی پر مشتمل ٹیم نے کام شروع کر دیا ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حضرت مولانا محمد نافع رحمہ اللہ کے حوالے سے کسی بھی قسم کی معلومات یا مواد کسی دوست کی رسائی میں ہو، اس کی فراہمی میں ادارہ کے ساتھ تعاون فرمائیں۔
ادارہ برائے تعلیم و تحقیق کے زیر اہتمام سیمینار
ادارہ
17 مارچ کو فیصل آباد کے ہوٹل ون میں خورشید احمد ندیم صاحب کے قائم کردہ فکری فورم ادارہ برائے تحقیق وتعلیم (ORE) کے زیر اہتمام ایک فکری نشست منعقد ہوئی جس میں مولانا مجاہد الحسینی مہمان خصوصی تھے۔ مولانا مفتی محمد زاہد نے اسٹیج سیکرٹری کے طور پر اس کا نظم کیا۔ الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کو مذہبی رواداری اور علماء کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے گفتگو کی دعوت دی گئی، جبکہ خورشید احمد ندیم نے اپنے فورم کے مقاصد اور پروگرام کی وضاحت کی کہ علماء کرام اور اہل دانش کا ملی و قومی مسائل کے لیے مل بیٹھنا اور ان کے درمیان باہمی تبادلۂ خیالات کا اہتمام ضروری ہے اور یہ فورم اسی کے لیے سرگرم عمل ہے۔
مولانا زاہد الراشدی نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ اختلافات تو علمی، فکری اور فقہی دنیا میں چلتے ہی رہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف مزاجوں، ذہنی سطحوں اور فکری دائروں سے نوازا ہے، اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ سب ایک ہی طرح سوچیں اور کسی مسئلہ پر سب کی سوچ اور فکر کے نتائج یکساں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے تو اس نعمت کا استعمال بھی ہوگا اور جب عقل کا استعمال ہوگا تو نتائج فکر میں تفاوت اور اختلاف لازمی بات ہے۔ اس لیے اختلاف سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ اختلاف کے اظہار کے طریقوں پر ضرور توجہ دینی چاہیے کہ بات اختلاف سے نہیں بگڑتی بلکہ اظہار کے انداز اور رویے سے خراب ہوتی ہے۔ بڑے سے بڑے اختلاف کو اگر نرمی کے ساتھ افہام و تفہیم کے لہجے میں بیان کیا جائے تو اس سے کوئی الجھن جنم نہیں لیتی۔ لیکن اگر معمولی سے اختلاف کو الفاظ کی تندی اور لہجے کی درشتگی کے حوالہ کر دیا جائے تو تنازعات جنم لیتے ہیں اور جھگڑے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ انھوں نے حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا حوالہ دیا جو وہ اپنے شاگردوں کے سامنے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ موقف مضبوط رکھیں لیکن اظہار کے انداز میں لچک پیدا کریں۔ الفاظ نرم ہوں اور لہجہ مفاہمانہ ہو تو بات بگڑتی نہیں بلکہ فائدہ مند ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کا مخاطب یہ محسوس کر رہا ہو کہ آپ اسے سمجھانے کی فکر میں ہیں تو وہ مشکل سے مشکل بات پر بھی غور کرے گا۔ لیکن اگر اس کا احساس یہ بن جائے کہ آپ اس سے لڑ رہے ہیں یا اس کی تحقیر کر رہے ہیں تو وہ معمولی سی بات سمجھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوگا۔ اس لیے اصل ضرورت رویوں کی اصلاح کی ہے اور مکالمہ کا ایسا ماحول پیدا کرنے کی ہے کہ ایک دوسرے کی بات دلیل کے ساتھ سمجھی جائے اور دلیل کے ساتھ ہی سمجھانے کی کوشش کی جائے۔
مولانا زاہد الراشدی کے لیے ’’تمغہ امتیاز‘‘
صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ممنون حسین نے تعلیم کے شعبہ میں نمایاں خدمات سرانجام دینے پر مولانا زاہد الراشدی کو صدارتی ’’تمغہ امتیاز‘‘ سے نوازا ہے جو ۲۳؍ مارچ ۲۰۱۵ء کو گورنر ہاؤس لاہور میں منعقدہ ایک باوقار تقریب میں گورنر پنجاب جناب رانا محمد اقبال خان نے انھیں عطا کیا۔ تمغہ امتیاز کا مضمون یہ ہے:
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم
میں بحیثیت صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب محمد عبد المتین خان زاہد (زاہد الراشدی) کو تعلیم کے شعبہ میں امتیازی مرتبہ حاصل کرنے پر ’’تمغہ امتیاز‘‘ کا اعزاز عطا کرتا ہوں۔
دستخط
(ممنون حسین)
صدر‘‘
مولانا شبیر احمد کاکاخیل کی الشریعہ اکادمی میں تشریف آوری
معروف دانش ور، ماہر فلکیات اور روحانی پیشوا مولانا شبیر احمد کاکاخیل ۲۵؍ مارچ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں تشریف لائے اور اساتذہ کے ساتھ مختلف امور پر تبادلہ خیالات کیا۔ انھوں نے مولانا زاہد الراشدی کی زیر صدارت منعقد ہونے والی ایک فکری نشست سے بھی خطاب کیا جس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ دینی مدارس کے نصاب ونظام میں بنیادی مقاصد واہداف اور علوم مقصودہ کے دائرے اور معیار کو پوری طرح قائم رکھتے ہوئے ذرائع کے حوالے سے نظر ثانی ضروری ہے، اس لیے حالات وضروریات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ عصری ذرائع کو اختیار کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ مثال کے طو رپر فرائض ومیراث کے احکام ومسائل کو سمجھانے کے لیے ریاضی کے پرانے قواعد کی بجائے جدید ریاضی کے اصول وقواعد استعمال کیے جائیں تو مشکل مسائل کو بھی آسانی کے ساتھ سمجھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح باقی شعبوں میں بھی ذرائع کے حوالے سے نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
مولانا شبیر احمد کاکاخیل نے اس نشست میں الشریعہ اکادمی کے درس نظامی کے شعبہ کے شش ماہی امتحان میں اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ اکادمی کے زیر اہتمام مدرسۃ الشریعہ میں درس نظامی کے ابتدائی دو درجات (مساوی ثانویہ عامہ) کے ساتھ میٹرک کی تعلیم دی جاتی ہے اور میٹرک کا امتحان گوجرانوالہ بورڈ سے دلوایا جاتا ہے۔