ستمبر ۲۰۱۴ء

جمہوریت اور پاکستانی سیاستمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
غزہ کی صورتحال اور عالم اسلاممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
فرضیت جہاد کے نصوص کا صحیح محل / اختلاف اور نفسانیتمحمد عمار خان ناصر 
مسجدِ اقصی کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات ۔ تفصیلی و تنقیدی جائزہ (۱)مولانا سمیع اللہ سعدی 
جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیںمحمد رشید 
مادّی ترقی کا لازمہ: واہمہ یا حقیقت؟ چند توضیحاتمحمد ظفر اقبال 
گوجرانوالہ میں قادیانی مسئلہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
خانقاہ یاسین زئی اور مولانا سید محمد محسن شہیدؒمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
تعارف و تبصرہڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی 
ایک علمی و فکری ورکشاپ کی رودادمحمد عثمان فاروق 

جمہوریت اور پاکستانی سیاست

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلام آباد کے بعد جکارتہ بھی الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سراپا احتجاج ہے اور ہارنے والوں نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے دارالحکومت پر دھاوا بول کر کاروبار زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ جکارتہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا کا دارالحکومت ہے اور وہاں بھی احتجاجی سیاست نے اسلام آباد جیسا منظر قائم کر دیا ہے۔ جکارتہ کی صورتحال کیا ہے؟ اس کی تفصیلات تو چند روز تک واضح ہوں گی، مگر اسلام آباد کی صورت حال یہ ہے کہ وزیر اعظم سے استعفا کا مطالبہ کرنے والے اور کسی قیمت پر مستعفی نہ ہونے کا اعلان کرنے والے وزیر اعظم اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ مذاکرات شروع ہونے کے بعد معطل ہو چکے ہیں اور اب صرف ’’ایمپائر‘‘ کی انگلی اٹھنے کا انتظار ہے جو ان سطور کی اشاعت تک شاید اٹھ چکی ہو یا بس اٹھنے ہی والی ہو۔ وزیر اعظم سے استعفا کا مطالبہ کرنے والوں کی قیادت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری اپنی اپنی افواج کے ساتھ اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے موجود ہیں بلکہ دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ استعفا لیے بغیر وہ یہاں سے نہیں ہٹیں گے، جبکہ پارلیمنٹ کی اکثریت اور سیاسی جماعتوں کی بڑی تعداد کے علاوہ وکلاء برادری اور تاجر برادری بھی استعفیٰ نہ دینے کے موقف پر وزیر اعظم کے ساتھ کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ 
مگر ہمیں اس سارے کھیل میں فٹ بال بن جانے والی ’’جمہوریت‘‘ پر ترس آنے لگا ہے کہ اس میچ میں اس کی جو درگت بن رہی ہے شاید اس سے قبل اسے اس کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔ اس لیے وہ اِدھر سے اُدھر لڑھکتے ہوئے یقیناًیہ گنگنا رہی ہوگی کہ:
؂ ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتی تو میں تو کیا ہوتا
استعفا کا مطالبہ کرنے والوں کے ہاتھ میں بھی جمہوریت کا پرچم ہے کہ ان کے نزدیک جمہوریت کا سب سے بڑا تقاضا وزیر اعظم کا منظر سے ہٹ جانا ہے اور استعفیٰ سے انکار کرنے والوں کی دلیل بھی یہی جمہوریت ہے کہ ان کے پیچھے ہٹ جانے سے جمہوریت ’’ڈی ریل‘‘ ہو سکتی ہے۔ گویا دونوں طرف جمہوریت ہی ایک دوسرے سے نبرد آزما ہے۔ اب تک علماء کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ لوگ جب آپس میں محاذ آرائی کرتے ہیں تو دونوں طرف ’’اسلام‘‘ کا نعرہ ہوتا ہے۔ اب سیکولر سیاست بھی وہی منظر پیش کرنے لگی ہے اور ایک جمہوریت دوسری جمہوریت سے ٹکرا رہی ہے۔ جمہوریت بیچاری کا قصور یہ ہے کہ وہ خود کوئی نظام نہیں ہے بلکہ صرف اتنا بتاتی ہے کہ سوسائٹی کی اکثریت کے جذبات کیا ہیں اور ملک کے شہریوں کی اکثریت کون سا نظام چاہتی ہے۔ جمہوریت کا کردار صرف سوسائٹی کی اکثریتی خواہش کا اظہار کرنا ہوتا ہے، اس خواہش کی عملی تشکیل اکثریت کے نمائندوں نے کرنا ہوتی ہے۔ مگر ایک طرف جمہوریت کے مغربی علمبرداروں نے یہ طے کر رکھا ہے کہ کسی ملک کے عوام کی اکثریت نے مغربی فلسفہ و ثقافت کی حمایت میں فیصلہ دیا ہے تو وہ ’’جمہوریت‘‘ ہے اور اگر کسی ملک کے عوام کی اکثریت مغربی نظام اور ثقافت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے تو وہ ملک جمہوریت کا اہل ہی نہیں ہے اور وہاں جمہوریت کی بجائے بادشاہت، ڈکٹیٹر شپ اور فوجی آمریت مغربی حکمرانوں کی پسندیدہ چیز قرار پا جاتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف ہمارے ہاں معیار یہ بن گیا ہے کہ اگر انتخابی نتائج ہماری مرضی کے مطابق ہیں تو وہ جمہوریت شفاف ہے، لیکن انتخابی نتائج اگر ہماری مرضی کے نہیں ہیں تو سرے سے وہ جمہوریت ہی نہیں ہے اور اس کے خلاف ڈنڈے اٹھا کر دارالحکومت کا رخ کر لینا جمہوریت کا سب سے بڑا تقاضا بن جاتا ہے۔ 
گزشتہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی، اس پر کم و بیش سب سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے، البتہ اس کی کمی بیشی پر بحث کی گنجائش موجود ہے۔ مگر یہ بات بھی حقیقت ہے کہ الیکشن کے نتائج کو سب جماعتوں نے تسلیم کیا ہوا ہے اور ان کے مطابق اپنی اپنی ذمہ داریاں بھی سنبھالی ہوئی ہیں۔ اسمبلیوں کی رکنیت کے ساتھ ساتھ حکومتوں کا وجود بھی ایک سال سے زیادہ عرصہ گزار چکا ہے۔ جبکہ مبینہ دھاندلیوں کے سد باب کے لیے قانونی پراسیس کے علاوہ پارلیمنٹ بھی اس کے لیے طریق کار طے کر چکی ہے اور سد باب کے اس عمل کو مزید مؤثر بنانے کے امکانات اور مواقع سے بھی انکار نہیں کیا جا رہا تو اس سلسلہ میں اس قدر ضد اور ہٹ دھرمی کا کیا جواز ہے؟ اور پھر یہ سوال اپنی جگہ مستقل اہمیت رکھتا ہے کہ ’’ایمپائر کی انگلی‘‘ آخر کون سی جمہوریت کی علامت ہوتی ہے؟

غزہ کی صورتحال اور عالم اسلام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی آنکھ مچولی بھی جاری ہے اور حملوں کے تسلسل میں بھی کوئی فرق نہیں آرہا، اس کا نتیجہ کیا ہوگا اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل عیاض امین مدنی کے اس بیان کے بعد اس کے بارے میں اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے کہ:
’’او آئی سی ایک سیاسی تنظیم ہے، مذہبی نہیں۔ ہم ممبر ممالک کے درمیان تحقیق، تجارت اور دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اگر او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے تو کس لیے؟ اس وقت فوری طور پر قرارداد کی ضرورت ہے مگر اقوام متحدہ میں کیس فائل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ امریکہ اسے ویٹو کر دے گا۔ ہم نے اسرائیلی جارحیت کا معاملہ عالمی عدالت برائے جنگی جرائم میں لے جانے کا سوچا تھا مگر فلسطین اور اسرائیل دونوں اس کے ممبر نہیں۔ ہر ملک کی اپنی ذمہ داری ہے اور او آئی سی تمام ممالک کی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتی۔ پوری دنیا کو دیکھنا چاہیے کہ فلسطینیوں کی کیسے مدد کی جا سکتی ہے؟‘‘
دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ امید تھی کہ جلد یا بدیر او آئی سی کا سربراہی اجلاس ہوگا اور مسلم حکومتوں کے سربراہ فلسطینی ممالک کو اسرائیلی درندگی سے نجات دلانے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کریں گے۔ لیکن سیکرٹری جنرل صاحب نے صاف جواب دے دیا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، ہر ملک اپنی ذمہ داریاں خود پوری کرے۔ ادھر غزہ کی صورت حال یہ ہے کہ مکانات ملبے کے ڈھیر بن چکے ہیں، شہداء اور زخمیوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے۔
اس کے ساتھ ۶؍ اگست کے ایک قومی اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر یہ بھی ہے کہ رمضان المبارک کے ختم ہوتے ہی لندن کی سڑکوں پر ’’سپر کاروں‘‘ کا رش پڑ چکا ہے۔ عرب ممالک کے با اثر ترین افراد اپنی مہنگی ترین گاڑیوں سمیت یہاں پہنچ چکے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں نجی طیاروں پر آنے والی ان گاڑیوں کی فی گاڑی لاکھوں ڈالروں میں قیمت ہے اور اس صورت حال پر مقامی رہائشی بھی سخت برہم نظر آتے ہیں۔ لندن کے مہنگے ترین علاقہ ’’نائٹس برج‘‘ کی جانب سے مقامی پولیس کو مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ پوری رات عرب باشندے سڑکوں پر تیز رفتاری سے گاڑیاں بھگاتے ہیں، ایک طرف تو ان گاڑیوں نے شہریوں کا سونا محال کر رکھا ہے، دوسری طرف تیز رفتاری سے جانوں کو الگ خطرہ ہے۔ پھر دن کے وقت غلط پارکنگ کی وجہ سے شہریوں کو مسائل رہتے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق صرف متحدہ عرب امارات کے شہریوں کو غلط پارکنگ پر کیے گئے جرمانے ایک سال میں دگنے ہو چکے ہیں۔ اسی طرح قطر اور سعودی شہری بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہیں۔ گزشتہ برس مشرق وسطیٰ سے آنے والی گاڑیوں کو اسی ہزار پونڈ سے زیادہ رقم کے جرمانے کیے گئے۔ تاہم اس صورت حال سے مقامی ہوٹل اور ریستوران مالکان بے حد خوش نظر آتے ہیں کیونکہ آنے والے دنوں میں پر تعیش ہوٹلوں میں پیسہ پانی کی طرح بہایا جائے گا۔ اب اسے مسلمانوں کی بے حسی کہیں یا وقت گزارنے کا محبوب مشغلہ! 
او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے بیان اور عرب ممالک کے با اثر اور متمول افراد کی عیش پرستی کے اس منظر کے بعد اب فلسطینیوں کے مستقبل کے بارے میں کچھ سوچنے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ اور کیا عرب ممالک کے حکمران اور عیش پرست طبقے اس بات سے مطمئن ہوگئے ہیں کہ اسرائیل کی یہ درندگی صرف غزہ اور فلسطین تک محدود رہے گی اور اس مورچہ کو سر کرنے کے بعد وہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم بالخصوص ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے نقشے میں رنگ بھرنے کے لیے مزید پیش رفت نہیں کرے گا؟ یہ خبر پڑھ کر ہمیں سورۃ بنی اسرائیل کی آیت ۱۶ یاد آگئی ہے اور ڈر لگنے لگا ہے کہ:
’’اور جب ہم کسی علاقے کو تباہ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہاں کے عیش پرست لوگوں کو ڈھیل دے دیتے ہیں ، اور جب وہ فسق و فجور کی انتہا کر کے حجت پوری کر دیتے ہیں تو ہم اس بستی اور علاقے کو تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔‘‘
البتہ اس سارے تناظر میں ایک اچھی خبر بھی ہے جس نے دل کو تسلی دی ہے کہ مسلم حکمرانوں کی غیرت و حمیت بالکل راکھ نہیں ہوگئی بلکہ کہیں کہیں اس کی چنگاریاں موجود ہیں جنہیں ہوا دی جائے تو حمیت و غیرت کی تپش کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ خبر بھی لندن سے ہے کہ برطانوی حکومت کی پاکستانی نژاد مسلمان خاتون سعیدہ وارثی نے برطانیہ کی اسرائیل نواز پالیسی پر احتجاج کرتے ہوئے استعفا دے دیا ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ غزہ کے بارے میں برطانیہ کی پالیسی کی مزید حمایت نہیں کر سکتیں، اس لیے انہوں نے وزیر اعظم کو استعفا بھجوا دیا ہے۔ 
سعیدہ وارثی کا یہ اعلان جہاں ایک مسلمان بیٹی کی ملی حمیت کا غماز اور مسلمانوں میں غیرت و حمیت کی کسی نہ کسی درجہ میں موجودگی کا اظہار ہے، وہاں او آئی سی کے سربراہوں اور سیکرٹری جرنل کے نام یہ پیغام بھی ہے کہ اگر وہ فلسطینیوں کی حمایت میں عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتے تو او آئی سی کے مردہ گھوڑے کی لاش کو دفنا دینے کا اعلان تو کر سکتے ہیں، اس میں دیر کس بات کی ہے۔ ہمیں عیاض امین مدنی اور سعیدہ وارثی کے ان بیانات پر سودا کا یہ شعر یاد آرہا ہے اور ہم اسے مسلم حکمرانوں کی نذر کرنا چاہتے ہیں کہ:
سودا قمار عشق میں شیریں سے کوہ کن
بازی اگرچہ لے نہ سکا، سر تو دے سکا
کس منہ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشق باز
اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا

فرضیت جہاد کے نصوص کا صحیح محل / اختلاف اور نفسانیت

محمد عمار خان ناصر

فرضیت جہاد کے نصوص کا صحیح محل

قرآن مجید کے متعدد نصوص میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے گروہ پر کفار ومشرکین کے خلاف قتال کو فرض قرار دیتے ہوئے انھیں اس ذمہ داری کی ادائیگی کا حکم دیا گیا اور اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کو قربان کرنے کی مسلسل اور پرزور تاکید کی گئی ہے۔ 
قرآن وسنت کے نصوص سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیرو اہل ایمان کو عہد نبوی کے معروضی حالات کے تناظر میں جہاد وقتال کا حکم دو طرح کے مقاصد کے تحت دیا گیا تھا: ایک اہل کفر کے فتنہ وفساد اور اہل ایمان پر ان کے ظلم وعدوان کا مقابلہ کرنے کے لیے اور دوسرے کفر وشرک کا خاتمہ اور باطل ادیان کے مقابلے میں اسلام کا غلبہ اور سربلندی قائم کرنے کے لیے۔ ان دونوں طرح کے احکام کی نوعیت، قانونی اساس اور دائرۂ اطلاق ایک دوسرے سے مختلف ہے جس کا قرآن کے طالب علموں کے سامنے واضح رہنا ضروری ہے۔
جہاں تک کفر وشرک کا خاتمہ کر کے اسلام کا غلبہ قائم کرنے کی ہدایات کا تعلق ہے تو قرآن مجید میں یہ ہدایات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مخصوص ذمہ داری کے تناظر میں وارد ہوئی ہیں جو آپ پر اہل عرب کی اصلاح کے حوالے سے عائد کی گئی تھی اور اس ضمن میں ملت ابراہیمی کی اصل تعلیمات کے احیا اور مشرکانہ بدعات کے خاتمے کو آپ کی جدوجہد کا ہدف قرار دیا گیا تھا۔ قرآن نے واضح کیا کہ آپ عام معنوں میں کوئی داعی، واعظ اور مبلغ نہیں، بلکہ خدا کے رسول اور اس کے آخری پیغمبر ہیں، چنانچہ خداکے قانون کے مطابق آپ کی جدوجہد کا کامیابی سے ہم کنار ہونا اور جزیرۂ عرب میں خدا کے دین کا غلبہ قائم ہونا ایک طے شدہ فیصلہ ہے جو اہل کفر کی خواہشات، کوششوں اور سازشوں کے علی الرغم قائم ہو کر رہے گا۔ (التوبہ ۹:۳۳)
دین کا یہ غلبہ، ظاہر ہے کہ منکرین حق کے خلاف قائم کیا جانا تھااور اس کی عملی صورت یہ تھی کہ بیت اللہ کو مشرکین کے قبضہ وتصرف سے آزاد کرا کے دوبارہ توحید خالص کا مرکز بنا دیا جائے اور اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین سرزمین عرب میں غالب اور سربلند نہ رہے۔ اس ہدف کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ’قتال‘ کاناگزیر ہونا تاریخ وسیرت سے واقف ہر شخص پر واضح ہے اور قرآن مجید میں کفار کے خلاف جہاد وقتال کے احکام اسی تناظر میں وارد ہوئے ہیں۔ 
قرآن مجید میں جہاد وقتال کی ایک دوسری وجہ فتنہ وفساد اور ظلم وعدوان بیان کی گئی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ زمان ومکان کے کسی مخصوص دائرے سے متعلق نہیں۔ چنانچہ اس ہدایت کو شریعت کی ایک ابدی ہدایت کی حیثیت حاصل ہے اور ان سے یہ اصول اخذ کرنا بالکل بجا ہے کہ کفار کے جو گروہ مسلمانوں پر کسی بھی نوعیت کے ظلم وستم اور جارحیت کا ارتکاب کریں اور بالخصوص عقیدہ ومذہب کے انتخاب واختیار کے معاملے میں ان کی آزادی ان سے چھیننے کی کوشش کریں، ان کے خلاف تلوار اٹھانا نہ صرف جائز ہے بلکہ قوت واستطاعت اور حالات کی موافقت اور جنگ کے اخلاقی اصولوں کی پاسداری کی شرط کے ساتھ ایک اخلاقی فریضے کی حیثیت رکھتا ہے۔ دعوت اسلام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے دینی ودنیاوی مفادات کے تحفظ کے لیے اگر جہاد وقتال کی ضرورت پیش آجائے تو، متعلقہ شرائط وآداب کی پابندی اور عملی مصالح اور حکمتوں کی رعایت کے ساتھ، اس کے جواز میں بھی کوئی کلام نہیں ہو سکتا۔ اس ضمن میں اقدامی اور دفاعی جہاد میں فرق کی بحث، جو ہمارے ہاں ماضی قریب میں پیدا ہوئی، بالکل بے معنی ہے۔ اصل چیز جہاد کا مقصد اور اس کی اصولی وجہ جواز ہے۔ جائز اور مشروع مقصد کے لیے جیسے دفاعی جہاد ہو سکتا ہے، اسی طرح اقدامی بھی ہو سکتا ہے۔ دونوں میں فرق کی کوئی معقول اور قابل فہم بنیاد موجود نہیں۔
البتہ اس ضمن میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ نزول قرآن کے بعد کے زمانوں میں کفار کا کوئی گروہ اگر اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ عناد کی بنیاد پر انھیں ظلم وستم اور ایذا رسانی کا نشانہ بنائے تو حکم کی علت کی رو سے ان کے خلاف جہاد کرنا بھی یقیناًدرست ہوگا، تاہم ظاہر ہے کہ یہ ایک اجتہادی معاملہ ہوگا اور کسی مخصوص گروہ کے عزائم یا صورت حال کی نوعیت متعین کرنے کے حوالے سے رائے اور حکمت عملی کے اختلاف کی گنجایش بھی پوری طرح موجود رہے گی۔ چنانچہ ایسی کسی بھی صورت حال میں جہاد کے عملاً فرض ہونے کے حق میں قرآن وسنت کے ان نصوص سے استدلال نہیں کیا جا سکتاجن میں اصلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے زمانے میں مخصوص صورت حال کے تناظر میں آپ کے مخالف گروہوں کے خلاف جہاد کو فرض اور اس سے گریز کو کفر ونفاق کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک خاص اطلاقی صورت حال میں خدا کا فیصلہ تھا جس کے خلاف کسی دوسری راے کی گنجایش نہیں تھی، جبکہ اس سے ہٹ کر کسی بھی دوسری صورت حال میں جہاد کا یہ حکم اصولی طور پر تو یقیناًموثرہے، لیکن اس کو عملاً فرض قرار دینے کے لیے شرائط کے موجود اور موانع کے مفقود ہونے نیز عملی حالات کے سازگار ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ہر حال میں ایک اجتہادی فیصلہ ہوگا جسے ’منصوص‘ قرار دے کر اس سے اختلاف کرنے والوں کو وعیدیں سنانا یا اسلام دشمن قوتوں کا آلہ کار اور قتل کا مستحق قرار دینا خدا کے دین کے معاملے میں ایک سنگین جسارت کا درجہ رکھتا ہے۔
ماضی قریب کے ممتاز حنفی عالم اور فقیہ مولانا مفتی عبد الشکور ترمذیؒ نے اس نکتے کو واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’کہاں پیغمبر اسلام کے قطعی حکم عام شرکت جہادکی خلاف ورزی اور تعمیل حکم سے بچنے کے لیے حیلہ جوئی اور گفتار سازی اور سب سے بڑھ کر ان کا چھپا ہوا کفر ونفاق اور ارشادات نبوت پر عدم یقین کی دلی کیفیت اور کہاں ایک امتی کی دعوت کے ساتھ عدم تعاون۔ دونوں کو برابر قرار دینا اور دونوں کی خلاف ورزی اور عدم تعمیل پر ایک ہی طرح کا نتیجہ مرتب کر دینا غلو فی الدین ہے اور داعی کی حیثیت کو امتی کی بجائے ایک نبی کی حیثیت میں پیش کرنے کے مترادف ہے۔
جہاد تبوک میں بلا استثناء تمام مسلمانوں کو شرکت کا حکم عام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔ حکم قطعی اور نص رسول کے سامنے کسی تاویل واجتہاد کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں رہی تھی اور اس حکم قطعی عام کی تعمیل سے بچنے کے لیے حیلہ وحوالہ سے کام لینا عدم یقین اور کفر ونفاق کی وجہ سے ہی تھا، اس لیے اگلی آیت وان جہنم لمحیطۃ بالکافرین میں صاف طو رپر اس طرح کی حیلہ جوئی کرنے والوں کو کافر اور جہنمی قرار دیا گیا ہے۔
برخلاف دوسرے کسی ایسے شخص کی طرف سے دعوت جہاد کے جس کی حیثیت محض امتی کی ہو، نہ وہ نبی ہے نہ وہ اس کا نائب وخلیفہ ہے۔ اس کے عدم تعاون کو آیت نفاق کا مصداق قرار دینا یقیناًتفسیر بالرائے اور اپنی خواہش کے مطابق قرآنی آیات کو ڈھالنا اور حدود سے تجاوز کرنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ شرائط جہاد کے پائے جانے میں اختلاف ہو جائے اور ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے نزدیک شرائط نہ پائے جاتے ہوں، ان کے نزدیک اس دعوت جہاد پر لبیک کہناکیوں ضروری ہوگا؟ ایسی حالت میں قعود عن الجہاد کو منافقین کے قعود کے مثل کیونکر قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور اس پر ’’راہ حق میں جہاد کرنے سے جی چرانا‘‘ کا حکم لگانا کیسے درست ہو سکتا ہے؟‘‘  (’’مولانا ابو الکلام آزاد اور ان کی تفسیر علماء عصر کی نظر میں‘‘، مجلہ ’’الحقانیہ، ساہیوال، جولائی/اگست ۲۰۱۴ء، ص ۱۲۴، ۱۲۵)

اختلاف اور نفسانیت

انسانوں کے مابین اختلاف کا پیدا ہوجانا ایک طبعی امر ہے۔ اس کی وجہ کسی مادی مفاد کا ٹکراؤ بھی ہو سکتا ہے، رائے اور نقطہ نظر کا مختلف ہونا بھی اور شخصی اناؤں کا باہمی تصادم بھی۔ علمی وفکری اختلاف اگر دیانت داری سے ہو اور اس میں نفسانی آمیزشیں نہ ہوں تو اختلاف کا اظہار مخصوص آداب کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم انسان ایک کمزور شخصیت کا مالک ہے۔ عام طو رپر اس کے لیے ایسی صورت حال میں اپنی نفسانی کمزوریوں سے بالاتر ہو جانا اور اختلاف کو خالص نظری وعلمی رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ ایسی کیفیت میں رائے یا نقطہ نظر کے اختلاف کو نفسی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور یہیں سے اختلاف کے حدود وآداب پامال ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ 
علم نفسیات کی رو سے اگر انسان اپنی ذہنی کیفیات کا تجزیہ کرنا سیکھ لے اور مختلف رویوں سے پیدا ہونے والی ظاہری علامات پر نظر رکھے تو وہ خود اپنا نفسی علاج کر سکتا ہے۔ بالعموم انسانوں کے لیے غیر جانب داری سے خود اپنی ہی شخصیت کا تجزیہ کرنا ممکن نہیں ہوتا اور وہ خود کو سمجھنے اور اپنی اصلاح وعلاج کے لیے دوسرے ماہرین سے، جو ان کی شخصیت کا بہتر تجزیہ کر کے علاج تجویز کر سکیں، رجوع کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ یہیں سے ماہرین نفسیات اور دینی اصلاح کے دائرے میں صوفیاء کے کردار کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ بہرحال اختلاف رائے کے حوالے سے اپنی نفسیاتی کیفیت کا تجزیہ کرنے کے لیے کچھ عمومی علامات کو اگر سامنے رکھا جائے اور اپنے طرز عمل اور رویے پر نظر رکھتے ہوئے مسلسل تجزیہ کیا جاتا رہے تو خود آموزی کے اصول پر بھی کافی حد تک بہتری پیدا کرنا ممکن ہے۔
راقم کے مشاہدہ وتجربہ کی روشنی میں اگر کوئی شخص اختلاف کی کیفیت میں اپنے اندر درج ذیل علامات میں سے کوئی علامت محسوس کرے تو اسے یقین کر لینا چاہیے کہ اس کا اختلاف بظاہر کتنے ہی علمی، اصولی اور مذہبی نکتے پر مبنی ہو، درحقیقت اس میں نفسانیت کی آمیزش ہو چکی ہے اور شخصی یا گروہی انا بھی اس میں اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے متحرک ہو چکی ہے:
۱۔ آپ کو اپنی ناپسندیدگی کا رخ مخالف رائے سے زیادہ حامل رائے کی طرف محسوس ہو اور آپ رائے کی غلطی اس پر یا دوسرے لوگوں پر واضح کرنے سے زیادہ اس کی شخصیت کو مجروح کرنے میں دلچسپی اور لذت محسوس کریں۔
۲۔ آپ مخالف رائے کو خود اس کے اپنے نقطہ نظر اور پیش کردہ استدلال کے مطابق غیر جانب داری سے پیش نہ کر سکتے ہوں اور اسے اپنے زاویہ نظر سے منفی اور تنقیدی رنگ میں ہی بیان کرنے میں اطمینان محسوس کریں۔
۳۔ آپ کی نظر محض مخالف کی خامیوں اور کمزوریوں پر ہی ٹکتی ہو، جبکہ اس کے ہاں پائی جانے والی خوبیوں کا اعتراف کرنے میں آپ کو انقباض محسوس ہو۔
۴۔ بحث کے دوران میں آپ کو مخالف کی کسی بات میں وزن محسوس ہو، لیکن آپ ہمدردی سے اس پر غور کرنے کے بجائے اپنے ذہن میں پہلے سے قائم منفی تاثر کی بنیاد پر اسے جھٹک دیں۔
۵۔ آپ اختلاف میں دوہرے معیار سے کام لیں۔ ایک بات جسے آپ غلط سمجھتے ہیں، اگر آپ کے پسندیدہ اصحاب فکر نے کہی ہو تو آپ حسن ظن یا تاویل وغیرہ سے کام لیں، لیکن وہی بات اپنے کسی مخالف کی زبان سے سننے یا تحریر میں پڑھنے پر آپ کی ’’دینی غیرت‘‘ جاگ اٹھے۔ 
۶۔ آپٖ مخالف پر تنقید کرتے ہوئے اختلاف کے درجے کو ملحوظ نہ رکھیں اور کم تر درجے کے اختلاف کو بھی سنگین اور ناقابل برداشت ظاہر کیے بغیر آپ کا اطمینان نہ ہوتا ہو۔ (مولانا تھانویؒ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ استاد یا والد کو بچے کی غلطی پر تادیب کا حق ہے، لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا سزا، غلطی کے تناسب سے دی جا رہی ہے؟ اگر غلطی ہلکی تھی، لیکن غصے سے مغلوب ہو کر سزا سخت دے دی گئی تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ عمل اصلاح اور تادیب کے جذبے سے نہیں، بلکہ اپنے غصے کی تسکین کے لیے کیا گیا ہے)۔
۷۔ کسی شخص کے خیالات اور افکار سے آپ کو پہلے بھی اختلاف ہو، لیکن کسی خاص واقعے کے بعد جس میں آپ کو اس شخص سے یا اس کی وجہ سے ذاتی طور پر کوئی دکھ پہنچے، اختلاف کے حوالے سے آپ کے احساسات اور اختلاف کے اظہار میں شدت اور جارحیت پیدا ہو جائے۔ (اس حوالے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ معروف ہے کہ انھوں نے میدان جنگ میں ایک کافر کو زیر کر لیا، لیکن جب کافر نے ان کے چہرے پر تھوک دیا تو سیدنا علی نے یہ کہہ کر اسے چھوڑ دیا کہ اب اگر میں اسے قتل کرتا تو مجھے ڈر تھا کہ اس میں میرا ذاتی انتقام کا جذبہ بھی شامل ہوگا)۔
۸۔ آپ کو کسی سے اختلاف رائے ہو اور آپ اس کی اصلاح کے خواہش مند ہوں، لیکن کسی مرحلے پر آپ ہمدردانہ اصلاح کے بجائے اسے بحث میں زیر کرنے یا لوگوں کی نظر میں اسے نیچا دکھانے یا دوسروں کو اس سے متنفر کرنے کی کوشش کریں جس میں آپ کو کامیابی نہ ہو اور اس کے بعد آپ کے محسوسات اور اظہار اختلاف کے طریقے میں سختی اور تندی در آئے۔
۹۔ آپ اپنے دل میں مخالف کے لیے اصلاح کی حقیقی اور مخلصانہ خواہش رکھتے ہیں، اس کو جانچنے کا ایک سادہ پیمانہ یہ ہے کہ کیا آپ اس کے حق میں دعا اور استغفار کرتے ہیں؟ نیز مخالف کی کوئی ایسی بات سامنے آنے پر جو آپ کی نظر میں قابل اعتراض ہو، آپ کو دکھ محسوس ہوتا ہے اور یہ خواہش پید اہوتی ہے کہ کاش اس نے یہ بات نہ کہی ہوتی یا آپ کو اس بات پر خوشی محسوس ہوتی ہے کہ بہت اچھا، اس پر تنقید کرنے کے لیے ایک اور نکتہ مل گیا؟ (میرے ذاتی مشاہدے کی بات ہے کہ ایک معروف عالم اور مناظر کو میں نے ایک صاحب علم کے متعلق، جن کے بارے میں ان صاحب کی رائے اچھی نہیں تھی، یہ بتایا کہ فلاں مسئلے میں ان کی رائے یہ ہے۔ مناظر صاحب کے نقطہ نظر کے مطابق وہ رائے الحاد کے درجے کو پہنچی ہوئی تھی، لیکن انھوں نے یہ اطلاع ملنے پر کسی افسوس یا دکھ کا اظہار نہیں کیا، بلکہ جوش مسرت سے جیسے ان کی باچھیں کھل گئیں۔ زبان حال سے وہ گویا یہ کہہ رہے تھے کہ بہت خوب، اب اس کو ایسا رگیدوں گا کہ کیا یاد کرے گا!)
نفسانیت ایسی چیز ہے کہ اس کے شر سے ہر حال میں نہ صرف پناہ مانگنی چاہیے بلکہ ہمہ وقت نفس کے شرور پر نظر بھی رکھنی چاہیے۔ یہ بظاہر بڑے اعلیٰ درجے کے دینی کاموں میں بھی شامل ہو کر انھیں خالص دنیوی اور نفسانی سرگرمیاں بنا دیتی ہے۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اہل مدارس کے متعلق لکھا تھا کہ ان کے لیے اپنے اخلاص اور للہیت کو جانچنے کا ایک سادہ سا نسخہ یہ ہے کہ اگر آپ کے قائم کردہ دینی ادارے کے قریب ہی کوئی دوسرا دینی ادارہ بننے لگے تو آپ اپنے محسوسات کا جائزہ لیں۔ اگر آپ کو اس بات پر خوشی محسوس ہو کہ دین کے کام کے لیے ایک اور ذریعہ وجود میں آ رہا ہے جس سے خلق خدا کو فائدہ ہوگا تو آپ کا کام اخلاص پر مبنی ہے۔ اور اگر آپ کو رقابت اور اپنے حلقہ اثر کے متاثر ہونے کے جذبات محسوس ہوں تو یقیناًآپ کا محرک خدمت دین اور رضائے الٰہی کا حصول نہیں ہو سکتا۔ 
اللہم انا نعوذ بک من شرور انفسنا ومن سیآت اعمالنا۔

مسجدِ اقصی کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات ۔ تفصیلی و تنقیدی جائزہ (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

قبلہ اول، انبیائے کرام کا مولد و مدفن اور روئے زمین پر حرمین شریفین کے بعد افضل ترین بقعہ مسجدِ اقصی کے حوالے سے عمار خان ناصر کا ’’عجیب و غریب‘‘ موقف اور ماضی و حال کی پوری امتِ مسلمہ کے برعکس اختیار کردہ ’’نظریہ‘‘علمی حلقوں میں کافی عرصے سے زیرِ بحث ہے ۔امتِ مسلمہ کے بالغ نظرمحققین نے اس موقف اور نظریے کے مضمرات، نقصانات، پسِ منظر اور اس حوالے سے عمار خان ناصر کے’’ ماخذ و مراجع‘‘ کو بخوبی آشکارا کیا ہے۔ذیل کی تحریر میں ہم آنجناب کی اس موضوع پرشائع شدہ دو مرکزی تحریروں’’مسجدِ اقصی،یہوداور امتِ مسلمہ‘‘(ماہنامہ الشریعہ، ستمبر ، اکتوبر2003)اور ’’مسجدِ اقصی،یہوداور امتِ مسلمہ۔ تنقیدی آراء کا جائزہ‘‘ (ماہنامہ الشریعہ ، اپریل، مئی 2004) کا ایک منصفانہ جائزہ لیتے ہیں ،کیونکہ جناب عمار خان صا حب عموما’’ً شاکی‘‘ رہتے ہیں کہ میری تحریروں پر مفصل اور سنجیدہ تنقید کسی نے نہیں کی اور میرے اٹھائے گئے’’نکات ‘‘ اور ’’اعتراضات‘‘ کو کسی نے چیلنج نہیں کیا ۔(۱) لہٰذا مذکورہ تحریروں کا ابتدا سے لے انتہاء تک ایک مربوط جائزہ نکات ، استفسارات اور سوالات کی شکل میں لیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ ہمیں حق بات کہنے ،حق آشکارا ہونے کے بعد اسے ماننے اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ اور ہمت عطا فرمائیں۔ آمین
1۔آنجناب نے سب سے پہلے مضمون کی تمہید میں مسئلے کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
’’اور اس میں انبیائے بنی اسرائیل کی یاد گار کی حیثیت رکھنے والی تاریخی مسجدِ اقصی موجود ہے جس کی تولیت کا مسئلہ مسلمانوں اور یہود کے مابین متنازع فیہ ہے‘‘(براہین صفحہ233 )
ہم آنجناب سے پوچھتے ہیں کہ تمہید میں اس تنازع کا پسِ منظر کیوں واضح نہیں کیا گیا کہ یہ تنازع کب سے ہے؟بعثتِ نبوی سے،حضرت عمرؓ کی فتحِ بیت المقدس کے وقت سے،صلاح الدین ایوبی کے دور سے یا کفریہ طاقتوں کا ایک مخصوص منصوبے کے تحت ارضِ مقدس میں یہودیوں کی آباد کاری کے وقت سے؟تنازع کا وقتِ ابتدا ء اگر آنجناب بیان کر دیتے ،تو مذکورہ تنازع کے کافی پہلو ؤ ں پر روشنی پڑ سکتی تھی۔ یہ تحریر پڑھتے وقت قاری یہ سمجھ لیتا ہے کہ شاید صدرِ اسلام سے آج تک یہ مسئلہ متنازع فیہ ہے ۔آنجنا ب سے سوال ہے کہ حضرت عمرؓ کی فتح سے لیکر اس تنازع کے پیدا ہونے سے پہلے تک کبھی یہودیوں نے اس جگہ کو واپس لینے ، اس پر احتجاج کرنے اور مسلم حکمرانوں سے اس کی تولیت لینے کا باقاعدہ مطالبہ کیا ہے؟آنجناب ضروریہ کہیں گے کہ یہود اس مطالبے کی پوزیشن میں نہیں تھے، تو سوال یہ کہ حضرت کعب احبار بیت المقدس کی فتح کے وقت حضرت عمرؓ کے ساتھ تھے اور ان کے بارے میں سب کو علم ہے کہ اپنے زمانے میں یہود کے کتنے بڑ ے عالم تھے ۔انہوں نے حضرت عمرؓ جیسے ’’عادل ‘‘اور ’’شرعی حکم‘‘ کے سامنے سر جھکا دینے والی شخصیت سے مسجدِ اقصی کی تولیت کا صراحۃً یا اشارۃً ذکر کیوں نہیں کیا؟ خود آپ نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ صدیوں کے سکوت کے بعد یہودیوں کے ہاں اس کی (ہیکل سلیمانی) کی تعمیر کا مطالبہ شدت سے سامنے آیا ہے، تو آنجناب صدیوں کے سکوت کی کیا توجیہ کریں گے؟کہ اچانک اس مطالبے کے پیدا ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟کیا ہماری پوری اسلامی تاریخ میں مسجدِ اقصی کی تولیت کی بحث کبھی اٹھائی گئی؟اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے، تو یہ بات بخو بی واضح ہوتی ہے کہ یہ تنازع فطری اور واقعی نہیں ہے بلکہ مخصوص طاقتوں کی طرف سے پیدا کردہ مصنوعی اور امتِ مسلمہ کو یہود کے ہاتھوں زیر کرنے کا ’’جامع منصوبہ‘‘ ہے۔
2۔ اس ’’مبہم ‘‘اور ’’مغالطہ ‘‘ پر مبنی تمہید کے بعد آنجناب نے مسجدِ اقصی کی مختصر لیکن ’’نا مکمل تاریخ ‘‘ بیان کی ہے۔ یہ تاریخ مکمل طور پر تورات اور اسفارِ یہود سے نقل کی گئی ہے۔ جناب عمار صاحب سے بجا طور پر سوال ہے کہ آنجناب نے اس بارے میں غیر اسلامی ماخذ کو ترجیح کیوں دی؟کیا اسلامی ماخذ مسجدِ اقصی کی تاریخ کے بارے میں خاموش ہیں؟ مفسرین نے سورہ اسراء کے تحت،محدثین نے بخاری شریف کی حدیثِ ابی ذر(۲) اور نسائی شریف کی حدیثِ عبداللہ بن عمرو(۳) کی تشریح میں مسجدِ اقصی کی جو تاریخ بیان کی ہے ۔آنجناب نے اس سے پہلو تہی کیوں اختیار کی ؟ہماری تاریخ کی امہات الکتب میں مسجدِ اقصی کی تاریخ جا بجا بیان ہوئی ہے (۴)آنجناب نے اس کو نظر انداز کیوں کیا؟اس کے علاوہ صدرِ اسلام سے لیکر آج تک مسجدِ اقصی کی تاریخ ، فضائل اور احکام پر بیسیوں کتب لکھی گئی ہیں،اس وقت میرے سامنے شہاب اللہ بہادر کی مایہ ناز کتاب ’’معجم ما الف فی فضائلِ و تاریخِ المسجد الا قصی‘‘ہے ،اس میں فاضل مصنف نے تیسری صدی ہجری سے لیکر چودہویں صدی کے اختتام تک مسجدِ اقصی کے حوالے سے لکھی گئی مطبوعہ و مخطوطہ کتب کا تعارف کرایا ہے ۔ان سب معتبر ، مستند اور معتمد ماخذ کو چھوڑ کر محرف و منسوخ شدہ مصاحف پر اعتماد کیوں کیا گیا؟ خصوصاً دسویں صدی ہجری کے مشہور عالم مجیر الدین الحنبلی کی کتاب ’’الانس الجلیل بتاریخ القدس و الخلیل‘‘ اور باہویں صدی ہجری کے مورخ محمد بن محمد الخلیلی کی ضخیم کتاب ’’تاریخ القدس و الخلیل‘‘مسجدِ اقصی کی تاریخ کے حوالے سے مرجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کو پسِ پشت کیوں ڈال دیا؟صحفِ یہود سے تاریخ نقل کر کے قاری کے ذہن میں غیر محسوس طریقے سے کہیں یہ بات تو نہیں ڈالی جارہی ہے کہ مسجدِ اقصی پر ’’یہود کا تاریخی و مذہبی حق‘‘(واوین کے الفاظ مذکورہ مضمون سے لیے گئے ہیں)کچھ اس طرح سے پختہ ہے کہ اس کی تاریخ کے لئے بھی ہمیں صحفِ یہود کی طرف رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔آنجناب ضرور یہ کہیں گے کہ تاریخ میں سابقہ صحف پر اعتماد کرنے میں کیا حرج ہے؟ یقیناًکوئی حرج نہیں ہے لیکن اولاً تو جب ایک چیز اسلامی ماخذ میں بآسانی مل سکتی ہے تو اس میں ان مصاحف کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت اور ان کی وجہ ترجیح کیا ہے؟ ثانیاًان صحف کا موضوع مسجدِ اقصی کی تاریخ کا بیان نہیں ہے بلکہ مختلف قصوں اور واقعا ت کے ضمن میں متفرق مقامات پر مسجدِ اقصی کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے تو باقاعدہ اس موضوع پر لکھی گئی مفصل تصنیفات کو چھوڑ کر غیر متعلقہ مراجع سے استمداد کسی’’ علمی تحقیق‘‘ کے شایانِ شان نہیں ہے۔ ثالثاً ان میں تحریف صرف احکام میں نہیں ہوئی ہے بلکہ تاریخی حوادث و واقعات میں بھی اہلِ کتاب نے بہت کچھ اپنی طرف سے داخل کیا ہے، قرآن پاک میں انبیائے کرام کے قصوں کے ضمن میں مفسرین کی نقل کردہ اسرائیلی روایات اس کی شاہد ہیں،تو ان سب’’ موانع ‘‘کے ہوتے ہوئے آخر ان پر اعتماد کی وجہ کیا ہے؟
اس پر مستزاد یہ تاریخ بھی نامکمل بیان کی گئی ہے(کیونکہ ان ’’محرف‘‘ صحف میں تاریخ اتنی ہی بیان ہوئی ہے)مسجدِ اقصی کی تاریخ حضرتِ داؤد و حضرتِ سلیمان علیہما السلام سے شروع کی ہے حا لانکہ تمام مصادر اس بات پر متفق ہیں کہ یہ دو جلیل القدر پیغمبر مسجدِ اقصی کے مؤسس و بانی نہیں ہیں، بلکہ ان کی حیثیت محض تجدید کنندہ کی ہیں اور خود عمار صاحب نے بھی مضمون کے حاشیے میں اس کا ذکر کیا ہے،تو آنجناب سے سوال یہ کہ مسجدِ اقصی کی ابتدائی تاریخ اور اس کے اولین مؤسس کو زیر بحث کیوں نہیں لیا گیا؟جبکہ کسی چیز کی تاریخ کے بیان میں اس کی ابتدا اور بانی کا ذکر سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔کیا یہ وجہ تو نہیں کہ اصل بانی و مؤسس کے ذکر سے آنجناب کے ’’موقف ‘‘پر زد پڑسکتی تھی؟کہ جب مسجدِ اقصی کی تاریخ یہودکے زمانے سے پہلے شروع ہوتی ہے، تو انہیں اس پرمحض اپنا حق جتانے اور اسکی تولیت کا دعوی کرنے کا کیا حق ہے؟
3۔مسجدِ اقصی کی نامکمل تاریخ بیان کرنے کے بعد آنجناب نے ’’حقِ تولیت سے یہود کی معزولی‘‘کا عنوان باندھا ہے۔اس عنوان کے تحت آنجناب نے ایک عجیب ’’مقدمہ‘‘تراشا ہے اور اس تحریر کی پوری عمارت اس مقدمے پر کھڑی ہے۔اس مقدمے کا خلاصہ یہ نکاتِ ثلاثہ ہیں:
1 ۔کسی مذہب والوں کو ان کی مخصوص عبادت گاہ اور مرکزِ عبادت کی تولیت سے محروم کرنے کے لئے قرآن و حدیث کی واضح نص کی ضرورت ہے۔
2۔مشرکینِ مکہ کو مسجدِ حرام کی تولیت سے اس وقت تک محروم نہیں کیا گیاجب تک ۹ھ میں سورہ برات کی واضح آیتیں نہیں اتری تھیں۔
3۔مسجدِ اقصی سے یہود کی تولیت کی منسوخی کے بارے میں اس طرح کی کوئی واضح نص نہیں ہے ،جس طرح سے مسجدِ حرام کے بارے میں ہے،اس لئے اس بارے میں جتنے ’’استدلالات‘‘کئے جاتے ہیں وہ سارے کالعدم ہیں، کیونکہ وہ ’’صریح‘‘ نہیں ہیں۔
یہ مقدمہ درجہ ذیل وجوہ سے محض ’’خود ساختہ‘‘ ہے:
1۔مسجدِ اقصی کے بارے میں بحث کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ کسی مذہب کی مرکزی عبادت گاہ کی اہلِ مذہب سے تولیت کی منسوخی کے کیا شرعی احکامات ہیں،بلکہ بحث کا اصل طرز یہ ہے کہ روئے زمین کے وہ چند مقدس مقامات جن کی اہمیت ،فضیلت،برکت اور عظمت صرف اس بنیاد پر نہیں ہیں کہ کسی مذہب والوں نے انہیں مرکزِ عبادت کے طور پر آباد کیا،بلکہ خود حق تعالی نے اپنے جلیل القدر پیغمبروں کے ذریعے ان جگہوں کو بابرکت اور افضل البقاع قرار دیا، ان کو ان مقامات کی تعمیر ،تاسیس ،تجدید اور انہیں مرکزِ عبادت بنانے کے باقاعدہ احکامات دیئے اور ان مقامات کی فضیلت وتقدس تمام ادیانِ سماویہ میں مسلم ہیں ، ایسے ’’مقامات‘‘کی تولیت ،انہیں آباد کرنے اور ان میں عبادتِ صحیحہ ادا کرنے کا حق بعثتِ نبوی کے بعد دنیا میں اب تک موجود تین ادیانِ سماویہ اسلام،یہودیت اور عیسائیت میں کس مذہب کے ماننے والوں کو حاصل ہے۔شرعی نصوص کے مطابق روئے زمین پر ایسے مقدس اور بابرکت مقامات صرف تین ہیں:مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی اور مسجدِ اقصیٰ۔
چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہاللہ شدِرحال والی حدیث کے تحت لکھتے ہیں:
وفی ہذالحدیث فضیلۃ ہذہ المساجدومزیتہاعلی غیرہا لکو نہا مساجد الانبیاء و لان الا ول قبلۃالناس والیہ حجہم والثانی کان قبلۃ الا مم السالفہ والثالث اسس علی التقوی(۵)
اس کے علاوہ اسراء کے موقع پر مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصی تک سفر،لا تشد الرحال والی حدیث(۶)دونوں مسجدوں کی تاسیس والی حدیثِ بخاری(۷)مساجدِ ثلاثہ میں نماز کا ثواب بیان کرنے والی حدیث(۸)اور فقہائے کرام کے ان مقامات میں نذر،اعتکاف اور ان سے عمرہ و حج کا احرام باندنے کے الگ احکامات کابیان(۹)ان مقامات کے مراتبِ فضیلت پر بحث(۱۰)اور اسلامی تاریخ کے جلیل القدر علماء کا مقاماتِ ثلاثہ کے فضائل، تعارف، تاریخ اور احکامات کو بیان کرنے کے لئے الگ تصنیفات(۱۱)اس بات کے واضح شواہدہیں کہ یہ تینوں مقامات مخصوص فضیلت اور ناقابلِ انفکاک تعلق کے حامل ہیں۔قرآن و حدیث کے ادنی طالبِ علم پر ان مقامات کے خاص فضائل اور ان کا تقدس مخفی نہیں ہیں۔ 
ان’’ مقاماتِ مقدسہ‘‘ کے بارے میں تمام ادیانِ سماویہ میں یہ ضابطہ چلا آرہا ہے کہ یہ ہر زمانے کے اہلِ حق کو ملتے ہیں ۔اگرچہ کبھی کھبار اہلِ حق کے کمزور ہونے اور انہیں ان کے کئے کی سزا کے نتیجے میں ان پر اہلِ باطل کا غلبہ بھی رہا ہے،لیکن ان کا ’’شرعی ‘‘حکم یہی چلا آرہا ہے کہ اس کے حقدار صرف اور صر ف زمانے کے اہلِ حق ہوتے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السالام چونکہ ابو الا انبیاء ہیں ،اس لئے ان کے بعد یہ مقدس مقامات ان کی اولاد اور ان کے سچے متبعین میں تقسیم کئے گئے ،چنانچہ مسجدِ حرام بنی اسماعیل اور مسجدِ اقصی بنی اسرائیل کے حوالے کی گئی ،لیکن ساتھ یہ شرط بھی لگا دی گئی کہ تمہارے پاس ان مقدس مقامات کی تولیت اور ذمہ داری دینِ حق پر قائم رہنے ، اللہ کی اطاعت پر کار بند رہنے اور شرک و کفر سے بچنے کی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔چنانچہ انبیائے بنی اسرائیل کی زبانی بنی اسرائیل کو یہ اعلان سنایا گیاجسے آنجناب نے بھی نقل کیا ہے:
’’اگر تم میری پیروی سے برگشتہ ہو جاؤاور میرے احکام اور آئین کو جو میں نے تمہارے آگے رکھے ہیں، نہ مانو،بلکہ جاکر اور معبودوں کی عبادت کرنے اور ان کو سجدہ کرنے لگوتو میں اسرائیل کو اس ملک سے جو میں نے تمہیں دیا ہے ،کاٹ ڈالوں گااور اس گھر کو جسے میں نے اپنے نام کے لئے مقدس کیا ہے،اپنی نظر سے دور کر دوں گااور اسرائیل سب قوموں میں ضرب المثل اور انگشت نما ہو گا‘‘(۱۲)
اس کی تائید قرآنِ پاک سے بھی ہوتی ہے ،چناچہ سورہ مائدہ میں اللہ نے بنی اسرائیل کو حضر تِ موسی علیہ السلام کی زبانی یہ اعلان سنایا:
یَا قَوْمِ ادْخُلُوا الأَرْضَ المُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَلاَ تَرْتَدُّوا عَلَی أَدْبَارِکُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِیْنَ (المائدہ ۵:۲۱)
’’اے میری قوم اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے واسطے لکھ دی ہے اور اپنی پشت کے بل پیچھے نہ لوٹو،ور نہ پلٹ کر نامراد ہو جاؤ گے۔‘‘
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے ولا ترتدوا کی جہاں اور تفسیریں کی ہیں وہاں ساتھ یہ بھی کی ہے کہ اس سے مراد اللہ کی نافرمانی اور سرکشی ہے،چنانچہ علامہ آلوسی لکھتے ہیں:
لا ترجعو ا عن دینکم با لعصیان (۱۳)
امام قرطبی لکھتے ہیں:
لا ترجعوا عن طاعتی و ما امرتکم من قتال الجبارین (۱۴)
اس کے علاوہ سورہ اسراء کی ابتدائی آیات میں بیت المقدس سے بنی اسرائیل کی دو مرتبہ بے دخلی بھی اسی سنت اللہ کی تائید کر رہی ہے کہ یہ مقدس مقام کی تولیت اللہ کی اطاعت کے ساتھ مشروط ہے۔
اسی طرح بنی اسماعیل کو بھی مسجدِ حرام کی تولیت اسی شرط کے ساتھ دی گئی تھی،چونکہ بنی اسماعیل میں قرآن کے علاوہ کوئی کتاب نہیں نازل ہوئی اس لئے اس کا اعلان قرآن پاک میں کیا گیا،چنانچہ سورہ الانفال میں اللہ فرماتے ہیں:
وَمَا لَہُمْ أَلاَّ یُعَذِّبَہُمُ اللّٰہُ وَہُمْ یَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا کَانُواْ أَوْلِیَاءَ ہُ إِنْ أَوْلِیَآؤُہُ إِلاَّ الْمُتَّقُونَ (الانفال۸:۳۳)
’’اور بھلا ان میں کیا خوبی ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے جبکہ وہ لوگوں کو مسجدِ حرام سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ اس کے متولی نہیں ہے ،متقی لوگوں کے سوا کسی قسم کے لوگ اس کے متولی نہیں ہو سکتے۔‘‘
سابقہ صحف اور قرآن پاک کی ان واضح نصوص سے یہ بات بخوبی ثابت ہورہی ہے کہ ان مقاماتِ مقدسہ کے بارے میں سنت اللہ یہی ہے کہ ان کی تولیت کے حقدار صرف اہلِ حق ہیں۔اب آنجناب بتائیں کہ نبی پاک ﷺ کی بعثت کے بعد روئے زمین پر اب امتِ مسلمہ کے علاوہ بھی کوئی حق گروہ ہے؟اس لئے اس سنت اللہ کے مطابق مسجدِ حرام اور مسجدِ اقصی دونوں کی تولیت صرف اس امت کے ذمے ہے ،جبکہ مسجدِ نبوی میں تو ویسے آپ کا شاہی دربار سجا ہے۔آنجناب نے بحث کی پوری ترتیب کو ’’خلط‘‘کیا اور مسجدِ اقصی کو ایک خاص مذہب کا محض مرکزِ عبادت قرار دے کر پھر اسکی تولیت کی بحث کی ہے ،اسی خلطِ مبحث کا نتیجہ ہے کہ آنجناب کو مسجدِ اقصی امتِ مسلمہ کی تولیت میں دینے پر ’’تضادات‘‘نظر آئے،جس کا ذکر اپنے مقام پرآئے گا۔
اس سنت اللہ کے نتیجے میں اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جملہ وراثتوں کا حقدار اس امت کو ٹھہرایا ہے،چنانچہ سورہ آلِ عمران میں فرماتے ہیں:
إِنَّ أَوْلَی النَّاسِ بِإِبْرَاہِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُ وَہَذَا النَّبِیُّ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ (آل عمران ۳:۶۸)
’’ابراہیم کے ساتھ تعلق کے سب سے زیادہ حقداروہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی،نیز یہ نبی ﷺاوروہ لوگ جو ان پر ایمان لائے۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ ہماری پوری تاریخ میں ان مقاماتِ مقدسہ کی تولیت کا سوال کبھی نہیں اٹھایا گیااور نہ ہی اس حوالے سے ’’شرعی دلائل‘‘اکٹھا کرنے کا اہتمام کیاگیا۔اسی طرح ان کی تولیت لینے کے لئے کسی ’’واضح نص‘‘کی ضرورت کبھی محسوس نھیں کی گئی،بلکہ ان مقدس مقامات پر سیاسی غلبہ ہوتے ہی ان مقامات کو تولیت میں لیا گیا،چنانچہ فتحِ مکہ کے موقع پر مسجدِ حرام کی تولیت مسلمانوں کے ہاتھوں میں آگئی اور مسجدِ اقصی کی تولیت آپﷺ کی بشارت کے نتیجے میں حضرت عمرؓ کے دور میں بیت المقدس کی فتح کی صورت میں امت نے سنبھالی۔آنجناب نے اس حوالے سے جو نکات اٹھائے ہیں ان کا ذکر اپنے مقام پر آئیگا۔
2۔اس خود ساختہ مقدمے کا دوسرا حصہ کہ مشرکین کو مسجدِ حرام کی تولیت سے اس وقت تک محروم نہیں کیا گیا،جب تک ۹ھ میں سورہ برات کی واضح آیتیں نہیں اتری تھیں،اسلامی تاریخ سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔اسلامی تاریخ کا ادنی طالبِ علم جانتا ہے کہ آپﷺ کا مکہ کو فتح کرنے کا مقصد ہی دراصل مشرکین سے بیت اللہ کو چھڑانا تھا۔آنجناب بتائیں کہ اس کے علاوہ فتحِ مکہ کا کیا مقصد تھا؟جب آپﷺوہاں ٹھہرے بھی نہیں،وہاں کے باشندوں سے انتقام بھی نہیں لیا،وہاں کے باشندوں کے اسلام پر مجبور بھی نھیں کیا،تو پھر محض اس شہر میں داخل ہو کر واپس نکلنے کا کیا مقصد تھا؟نیز اسلامی تاریخ میں فتحِ مکہ جو مقام و اہمیت حاصل ہے،وہ کس بنیاد پر؟اور صحابہ کرامؓ نے جس جوش و خروش اور جس جذبے کے ساتھ اس میں شرکت کی ،اس کی بنیادی وجہ کیا تھی؟سیرت نگاروں نے فتحِ مکہ کا مقصدِ اعظم ہی بیت العتیق کو مشرکین سے چھڑوانا لکھا ہے،چنانچہ ابن القیم زاد المعاد میں فتحِ مکہ کو الفتح الاعظم لکھ کر اس کا مقصد یوں بیان کیا ہے:
الذی اعز اللہ بہ دینہ و رسولہ و جندہ و حزبہ الا مین،و استنقذ بہ بلدہ وبیتہ الذی جعلہ ھدی للعالمین،من ایدی الکفار و المشرکین(۱۵) 
’’وہ فتح جس کے ذریعے اللہ نے اپنے دین ،اپنے رسول،اپنے لشکراور اپنی امانتدار جماعت کو عزت سے نوازا۔اور اس کے ذریعے اپنے شہر اور اپنے اس گھر کو مشرکین اور کفار سے چھڑایا ،جس کو پوری کائنات کے لئے ہدایت کا زریعہ بنایا ہے۔‘‘
آپ ﷺ کا مکہ فتح کر کے بیت اللہ میں داخل ہو نا،بتوں کو گرانا ،جاء الحق و زہق الباطل کی صدالگانا،وہاں نماز پڑھنا،حضرت بلالؓ کا چھت پر چڑھ کر اذان دینا،کیا یہ سارے کام بیت اللہ کی تولیت کو واپس لینے کے اعلانات نہیں تھے؟اگر جناب عمار صاحب کا خود ساختہ مقدمہ مان لیں تو سوال یہ ہے کہ زبانِ نبوت نے اس موقع پر ایسا کوئی جملہ ارشاد کیوں نہیں فرمایا کہ’’حقِ تولیت چونکہ ایک نازک معاملہ ہے اس لئے کسی واضح نص تک ہمیں انتظار کرنا چاہئے‘‘آپﷺ نے جب حضرت عثمان بن ابی طلحہؓ سے بیت اللہ کی چابیاں لے لیں تو حضرت علیؓ و دیگر صحابہ نے جب درخواست کی کہ یہ چابیاں ہمیں عطا فرمائیں، تو اس وقت آپﷺ نے یہ کیوں نہیں فرما یا کہ ’’حقِ تولیت چونکہ ایک نہایت نازک معاملہ ہے اس لئے کسی واضح نص کا انتظار کرنا چاہئے‘‘بلکہ آپ ﷺ نے چابیاں ان سے لیکر پھر اپنے اختیار سے ان کو واپس کر دیں،جو حافظ ابنِ حجر کے بقول صلحِ حدیبیہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے،(۱۶)کیا کسی مسلمان کو بیت اللہ کی چابیاں دینا مشرکین سے حقِ تولیت واپس لینے کی دلیل نہیں ہے۔
البتہ اتنی بات تھی کہ آپ ﷺ نے چونکہ عام معافی کا اعلان کیا تھا،اس لئے مشرکین کو بھی بیت اللہ میں داخل ہونے کی اجازت تھی۔ سورہ براۃ کی مذکورہ آیتوں کے نزول کے بعد ان کا داخلہ نہ صرف مسجدِ حرام میں بند کیا گیا ،بلکہ پورے حرم کو ان کے لئے ممنوع قرار دیا۔آنجناب نے ان مذکورہ آیتوں کو حقِ تولیت کی منسوخی کی دلیل بنا یا،جو کئی وجوہ سے مخدوش استدلال ہے۔
1۔آنجناب کی پیش کردہ آیتوں میں سے سورہ براۃ کی آیت ۲۸تو اپنے مفہوم کے ساتھ با لکل واضح طور پر دلالت کر رہی ہے کہ اس کا مقصد مشرکین کا مکہ میں داخل ہونے کی ممانعت کا بیان ہے۔آنجناب کے استدلال کی بنیادی ’’غلطی‘‘ یہی ہے کہ آنجناب نے داخل ہونے اور نہ ہونے کی بحث کو تولیت کی بحث کے ساتھ ’’خلط‘‘ کردیا ،حالانکہ ان دونوں میں واضح فرق ہے،کیو نکہ کسی مقام میں کسی کے داخل ہونے کی اجازت سے اس مقام کی تولیت اس کے لئے کیسے لازم آگئی؟چنانچہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہَذَا (براۃ ۹:۲۸)
’’اے ایمان والو!مشرک لوگ تو سراپا ناپاکی ہیں،لہذاوہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ آنے پائیں۔‘‘
علامہ آلوسیؒ لکھتے ہیں:
المراد النھی عن الدخول الاانہ نھی عن القرب للمبالغۃ (۱۷)
یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے ذیل میں مفسرین نے مسجدِ حرام اور بقیہ مساجد میں مشرکین اور اہلِ کتاب کے دخول کے جواز و عدمِ جواز پر بحث کی ہیں ۔اور اس بارے میں فقہاء کے مذاہب تفصیل سے بیان کئے ہیں(۱۸)لیکن تولیت کا مسئلہ قدماء میں سے کسی نے ذکر نہیں کیا۔آنجناب نے کس طرح اس سے تولیت کی منسوخی اخذ کی ہمیں معلوم نہیں ہو سکا؟حالانکہ خود آنجناب نے ’’اصول ‘‘ بنایا تھا کہ اس معاملے میں ’’صریح‘‘دلیل کی ضرورت ہے۔
2۔تولیت کی منسو خی کے لئے اس آیت کے علاوہ آنجناب نے مذکورہ سورہ کی آیت ۱۷ کو بھی دلیل بنایا ہے،اللہ تعالی فرماتے ہیں:
مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ أَن یَعْمُرُواْ مَسَاجِدَ اللّّٰہ شَاہِدِیْنَ عَلَی أَنفُسِہِمْ بِالْکُفْرِ (براۃ ۹:۱۷)
’’مشرکین اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں۔‘‘
اس آیت کو منسوخی کا ’’اعلان ‘‘قرار دینا بھی بوجوہ درست نہیں ہے:
۱۔آنجناب کو علم ہوگا کہ تولیت کے لئے عربی میں’ ’عمر‘‘کا مادہ استعمال نہیں ہوتا بلکہ ’’ولی‘‘کا مادہ آتا ہے،آنجناب آباد کرنے سے تولیت کس ’’دلالت‘‘کی بنیاد پر لے رہے ہیں؟اگربالفرض دلالت کی کسی قسم سے تولیت بھی اس کے مفہوم میں آجائے تو صریح نہ ہونے کی بنیاد پر آنجناب کے اصول کی بنیاد پر ’’کالعدم‘‘ہے۔
۲۔مفسرین اس آیت کے تولیت وغیرہ کی کوئی بحث ہی نہیں کی ہے ،بلکہ اس کا مقصد یہ بیان کیا ہے ،کہ اس آیت میں اللہ تعالی مشرکین کے اس زعم پر رد کر رہے ہیں کہ وہ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ ہم اللہ کے گھر اور اس کے مہمانوں کی خدمت بجا لاتے ہیں ،تو اللہ نے ان آیات میں ان کا رد کیا کہ اصل قابلِ ٖفخر چیز ایمان ہے،نیز جب وہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے تو ان کی ان خدمات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔چنانچہ علامہ آلوسی لکھتے ہیں:
والغرض ابطال افتخار المشرکین بذلک لا قترانہ بما ینافیہ وھو الشرک (۱۹)
اسی بات کو تفسیر طبری میں بھی بیان کیا گیا ہے(۲۰)اگر ان آیات کا مقصد مشرکین سے بیت اللہ کی تولیت کی منسوخی کا اعلان ہے جیسا کہ آنجناب کا ’’گمان‘‘ ہے ،تو پھر اس چیز کو سر فہرست ہونا چاہیئے تھا ،کیونکہ یہ یقیناًًاس امت کی تاریخ میں ایک یاد گار اور سب سے بڑا اعلان تھا۔اور مسلمانوں کو بیت العتیق کی تولیت کے اعلان پر سب سے زیادہ خوشی منانی چاہیئے تھی ،حالانکہ اس طرح کی کوئی بات تواریخ میں منقول نہیں ہے۔
۳۔ ان آیات کے نزول کے بعد اسی سال حج کے موقع پر آپﷺ نے حضرت علیؓ کو مشرکین کے بھرے اجتماع میں کچھ اعلانات کے لئے بھیجا، اس میں بھی تولیت کا اعلان سرے سے غائب ہے ،چنانچہ روایت میں آتا ہے ،کہ حضرت علیؓ نے یہ اعلان کیا:
امرہ ان ینادی فی المشرکین الا یحج بعدالعام مشرک ولایطوف بالبیت عریان (۲۱)
اگر واقعی ان آیات سے مشرکین کا حقِ تولیت منسوخ ہوا تھا تو اس کو تو سر فہرست ہونا چاہیئے ،آنجناب نے یہاں بھی اسی ’’خلطِ مبحث ‘‘سے کام لیتے ہوئے اس اعلان کو حقِ تولیت کی منسوخی کا اعلان قرار دیا۔حالانکہ یہ بات بدیہی ہے کہ حج سے روکنا اور بیت اللہ میں داخل ہونے کی ممانعت اور بحث ہے ،جبکہ تولیت ایک الگ بحث ہے۔
خلاصہ یہ نکلا کہ آنجناب نے جو یہ مقدمہ ’’تراشا‘‘ ہے کہ مشرکین کو مسجدِ حرام کی تولیت سے ایک صریح نص کی بنیاد پر محروم کیا گیا ،سرے سے غلط ہے ،کیونکہ فتحِ مکہ کے موقع پر مشرکین سے تولیت لے لی گئی،اگرچہ ان کا مکمل داخلہ ۹ھ میں مذکورہ آیات کی بنیاد پر بند کیا گیا۔اور یہ تولیت اسی سنت اللہ کے نتیجے میں آپﷺ نے لی ،جس کا ذکر سابقہ صحف اور فرقانِ حمید میں بار بار ہوا تھااورپچھلے انبیاء کی تاریخ بھی اس پر شاہد تھی۔
3۔اس کے علاوہ اس عنوان کے تحت آنجناب نے ایک لمبی بحث کی ہے ،جس میں مشرکین و اہلِ کتاب کے مساجد اور مقاماتِ مقدسہ میں داخل ہونے کے جواز و عدمِ جواز کی بحث فقہاء کے مذاہب کی روشنی میں کی ہے۔کیا حقِ تولیت اور کسی مقام میں داخل ہونے کی اجازت کا مفہوم ایک ہے؟تعجب ہے کہ اس مقام پر آنجناب نے اس حوالے سے فقہاء کے مذاہب، انما المشرکون  والی آیت کے عموم و خصوص میں مفسرین کے اختلافات تو تفصیل سے بیان کئیے ،لیکن مسجدِ اقصی کی تولیت کے اثبات و نفی پر کوئی ایک دلیل نہیں دی۔زیادہ سے زیادہ یہ بات ثابت کی ہے کہ حنفیہ کے ہاں مسجدِ اقصی میں اہلِ کتاب کے داخل نہ ہونے کے حوالے سے کوئی نص نہیں ہے۔کیا اس سے اہلِ کتاب کی تولیت ثابت ہوگئی؟نیز جس جزیئے سے آنجناب نے حقِ تولیت کو اہلِ کتاب کیلئے ثابت ہونے کے بارے میں استدلال کیا ہے ،اسے لطیفہ ہی کہا جاسکتا ہے۔آنجناب کا’’کمال ‘‘ہے کہ یہود کے لئے حقِ تولیت کے اثبات کے لئے تو فقط’’جزئیات ‘‘سے استدلال کریں ،لیکن مسلم امت کے لئے اسے ثابت کرنے کے لئے دو ٹوک اور واضح نص کا مطالبہ کریں۔وہ بھی ایسی جزئیات جو کسی اور سیاق میں بیان ہوئی ہیں اور شاید ان کے واضعین کے حاشیہ و خیال میں بھی یہ بات نہ ہو کہ کوئی ’’ذہین و فطین‘‘ان جزئیات سے یہود کے لئے مسجدِ اقصی کی تولیت ثابت کرے گااور مزید یہ کہ ان واضعین کا موقف بھی یہ ہو کہ مسجدِ اقصی کی تولیت امتِ مسلمہ کا حق ہے ،کیونکہ مسجدِ اقصی پر یہود کے حقِ تولیت کی بقا امتِ مسلمہ میں آنجناب کے علاوہ کسی کا مسلک نہیں ہے۔ جس جزئی پر آنجناب نے استدلال کی عمارت کھڑی کی ہے ،اس میں صرف اتنی بات بیان ہوئی ہے کہ اگر کوئی ذمی مسجدِ اقصی کے لئے کوئی چیز وقف کرے تو اس کا یہ وقف درست ہو گا یا نہیں؟تو فقہاء نے لکھا ہے کہ چونکہ اہلِ کتاب کے ہاں بھی مسجدِ اقصی محترم ہے اس لئے وقف کے بنیادی اصول کے مطابق ان کا یہ وقف درست سمجھا جائیگا۔اب قارئین بتائیں کہ اس سے ان کی تولیت کیسے ثابت ہوتی ہے؟آنجناب نے اس سے یہ ’’نتائج ‘‘اخذ کئے ہیں :
۱۔ اس جزئیے سے ثابت ہو اکہ فقہاء مسجدِ اقصی کو اہلِ کتاب اور مسلمانوں کی مشترکہ عبادت گاہ مانتے ہیں(تعجب ہے کہ فقہاء جب اس کو اہل کتاب کی بھی عبادت گاہ مانتے ہیں تو اس کے لئے فقہاء نے اس جزئیے کے علاوہ پوری فقہ اسلامی میں اور کوئی حکم بیان نہیں کیا ہے!کہ اہلِ کتاب کو اپنی اس عبادت گاہ میں وقف کے علاوہ اور کون کونسے اختیارات حاصل ہیں؟)
۲۔اشتراک سے ثابت ہو کہ ان کا حقِ تولیت بھی باقی ہے ،کیونکہ تولیت کو مانے بغیر اشتراک کا تصور نہیں ہو سکتا(تعجب ہے کہ ایک وقف کے دو متولی کیسے ھونگے؟خصوصاًجبکہ ان کی ملتیں بھی مختلف ہوں۔ہر متولی جب اس کو اپنے دین کے مطابق استعمال کرنا چاہے گا تو اس کا حشر کیا ہو گا ؟آنجناب بتائیں؟اور اگر اس سے صرف اہلِ کتاب کی تولیت ثابت ہوتی ہے، تو عجیب تضاد ہے کہ اہلِ کتاب کا وقف درست ہونا توانکی تولیت کی دلیل ہے اور مسلمان کا وقف درست ہونا اس کی تولیت کی دلیل بالکل نہیں ہے؟یا للعجب)
قارئین اس سے جناب عمار صاحب کے استدلال کی’’ مضبو طی‘‘ کا اندازہ لگائیں۔
4 ۔اس طرح کی ’’لاحاصل ‘‘بحث کے بعدآنجناب نے عنوان باندھا ہے ’’مسلمانوں کے حقِ تو لیت کے شرعی دلائل کا جائزہ‘‘اس عنوان کے بعد آنجناب نے یہ عبارت رقم کی ہے:
’’ہم اوپر تفصیل کے ساتھ واضح کر چکے ہیں کہ مسجدِ اقصی کی تولیت کے منسوخ ہونے کا کوئی اشارہ تک قرآن و سنت اور کلاسیکل فقہی لٹریچر میں نہیں ملتا‘‘۔
جناب عما ر صاحب کا ’’کمال ‘‘ہے کہ آپ ﷺ کو اللہ نے بیت المقدس میں تمام انبیاء کا امام بنا کر نماز پڑھوائی، آپ ﷺ کے لئے مخصوص مدت کے لئے قبلہ بنایا،آپﷺ نے مسجدِ اقصی کے لئے سفر کو باعثِ ثواب قرار دیا،اس میں ’’نماز‘‘پڑھنے کی ترغیب دی،مسجدِ اقصی کو ان بقعات میں شمار کیا جس میں دجال (یہود کا سربراہ)داخل نہیں ہو سکے گا(۲۲)(اور جناب عمار صاحب دجال کے متبعین کو یہ مقدس مقام دینے پر زور دے رہے ہیں)اور قربِ قیامت میں مومنین کے اس میں(یہود کے مرکزِ عبادت میں) محصورہونے کی پیشین گوئی فرمائی(۲۳)فقہاء نے اس میں (یہود کی عباد ت گاہ میں)اعتکاف کے احکامات بیان کئے(۲۴)مسجدِ اقصی اور حرمینِ شریفین میں افضلیت کی بحثیں کیں(۲۵)حضرت عمرؓ نے اس کو فتح کر کے اس میں نماز پڑھی حالانکہ آپ نے دیگر عبادتگاہوں میں ان کی درخواست کے باوجود نماز نہیں پڑھی ،وہاں مسجد بنوائی(۲۶)(یہود کے مرکزِ عبادت میں مسجد بنوانایاللعجب)اس فتح کے بعدصدیوں تک اس کی تولیت مسلمانوں کے پاس رہی،پھر جب عیسائیوں نے اس پر قبضہ کیا تو ’’یہود کے مرکزِ عبادت‘‘کے لئے امتِ مسلمہ نے جانیں دیں،اور یہود در پردہ عیسائیوں کی مدد کرتے رہے،ان سب کے باوجود آنجناب کا ’’دعوی ‘‘ہے کہ نصوص میں امتِ مسلمہ کی تولیت کا ’’اشارہ ‘‘تک نہیں ہے۔ہم آنجناب سے پوچھتے ہیں کہ ان تمام مواقع پر اللہ ،نبی پاک ﷺ ،اورامتِ مسلمہ کے علماء و فقہاء نے یہ ضرورت کیوں محسوس نہیں کی کہ کہیں ان سے امت اس عبادت گاہ پر ’’قبضہ ‘‘نہ کر لے اور ’’استحقاق کی نفسیات سے مغلوب‘‘نہ ہو جائے ،اس لئے ساتھ اس کی بھی وضاحت کردی جائے کہ یہود کا حقِ تولیت منسوخ نہیں ہو ا،اس لئے ان کو بنیاد بنا کر اس عبادت گا پر قابض نہ ہو جاؤ۔کیا آنجناب یہود کے حقِ تولیت کے باقی رہنے اور منسوخ نہ ہونے پر کوئی واضح دلیل دے سکتے ہیں؟آنجناب کے استدلال کا ’’عالم‘‘تو یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے مسجدِ اقصی میں نماز پڑھنے سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ یہود کا حقِ تولیت باقی ہے اور استدلال اس بات سے کر رہے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ایک خاص جگہ صخرہ سے ہٹ کر پر نماز پڑھی(حالانکہ اس کی اصل وجہ کتبِ تاریخ میں منقول ہے)مسجدِ اقصی کی اصل بنیادوں کو تلاش نہیں کیا،معلوم ہوا کہ یہود کا حقِ تولیت باقی ہے۔تعجب ہے کہ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر مختلف ارشادات فرمائے،حضرت کعب احبار سے استفسارات کئے، لیکن یہود کے حقِ تولیت کے بارے میں ایک جملہ بھی ارشاد نہیں فرمایا اور ایک خاص جگہ پر نماز پڑھ کے امت پر چھوڑ دیا کہ خود ’’استنباط‘‘کرلو کہ یہود کا حق باقی ہے (اگرچہ حقِ تولیت کے لئے’’ صریح دلیل ‘‘کی ضرورت ہیے یا للعجب)
اپنے ’’دلائل‘‘ کا تو یہ عالم ہے لیکن واضح نصوص کو رد کر کے کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس اشارہ تک نہیں۔کیا علمی دنیا میں ’’غیر جانبدارانہ تحقیق‘‘اسی کا نام ہے؟صاف واضح ہے کہ آنجناب یہودیوں کا ’’تاریخی و مذہبی حق ‘‘تسلیم کر کے اس کے لئے ’’مواد ‘‘اکٹھا کر رہے ہیں۔

آنجناب کے تعقبات و اعتراضات کا اجمالی جواب

آنجناب نے اپنے ’’زعم ‘‘کے مطابق مسجدِ اقصی کی تولیت کے ’’دلائل ‘‘پر اعتراضات وارد کئے کہ ان دلائل سے یہود کا حقِ تولیت کو منسوخ کرنا درست نہیں ہے،ان تمام تعقبات کی بنیاد دو باتوں پر ہے:
۱۔آنجناب نے جو خود ساختہ مقدمہ اپنے مضمون کی ابتدا میں ’’تراشا‘‘تھا کہ کسی مذہب کی عبادت گاہ کی تولیت لینے کے لئے کسی واضح نص کی ضرورت ہے،اس بنیاد پر آنجناب نے تقریباً تمام دلائل کو اجمالاًرد کردیا کہ ان میں سے کوئی بھی صریح نہیں ہے،۔ اس مقدمے کی حقیقت ہم ماقبل میں واضح کرچکے ہیں کہ اس کی جملہ شقیں آنجناب کی ’’ایجاد‘‘ ہیں۔نیز مسجدِ اقصیٰ پر یہ تعریف ہی صادق نہیں آتی کہ وہ محض کسی خاص مذہب کا’’ مرکزِعبادت‘‘ ہے ،بلکہ یہ تودنیا کے ان مقدس مقامات میں سے ہیں ،جن کی تولیت کے بارے میں تمام ادیان کے بارے میں یہ ضابطہ چلا آرہا ہے کہ وہ ہر زمانے کے اہلِ حق کو ملتے ہیں۔
۲۔آنجناب کے ان تمام اعتراضات میں ایک بنیادی ’’غلطی‘‘یہ ہے کہ آنجناب نے ان تمام واقعات اور نصوص کو یہود کے حقِ تولیت کی منسو خی کے ’’دلائل ‘‘قرار دیا اور انہیں باقاعدہ ’’دلائل ‘‘اور’’اعلانات‘‘ فرض کر کے ان پر اعتراضات کی ایک لمبی فہرست تیار کرلی ، حالانکہ یہ واقعات و نصوص سرے سے دلائل کے ’’زمرے ‘‘میں ہی نہیں آتے، بلکہ یہ تو امتِ مسلمہ کو اس مقدس مقام کی تولیت ملنے کے’’ مظاہر‘‘اس حق کے ’’نتائج‘‘اور اس کے ’’ثمرات‘‘ہیں ۔حقِ تولیت کی دلیل تودنیا کے ان چند مقدس مقامات کے بارے میں وہ ’’سنت اللہ ‘‘اور تمام ادیانِ سماویہ میں مسلم ’’اللہ تعالی کا وہ قانون ‘‘ ہے جس کی وضاحت ہم بار بار کر چکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہماری پوری علمی تاریخ میں مسجدِ حرام اور مسجدِ اقصی کی تولیت کے بارے میں ’’دلائل ‘‘بیان کرنے کا یہ طرز نظر نہیں آتا۔کتبِ تفسیر، کتبِ حدیث ،اور کتبِ فقہ کے اس پورے ذخیرے میں ان مقاماتِ مقدسہ کے دلائل تو کجا یہ مسئلہ ہی بیان نہیں ہوا ،حالانکہ ان کتب میں ہر چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ با لتفصیل بیان ہوا ہے ۔آنجناب نے چونکہ مسجدِ حرام کی تولیت کو بھی ’’صریح دلیل ‘‘کا نتیجہ قرار دیا ہے ،ہم آنجناب سے ایک سوال کرتے ہیں کہ وہ مسجدِ حرام کی تولیت کے ’’دلائل‘‘ اور اس ’’مسئلے‘‘ کی نشاندہی تفسیرِ ،حدیث و شروحِ حدیث اور فقہ اسلامی کے چاروں مکاتب کی کتبِ فقہ میں سے کسی ایک قدیم کتاب میں کردے ،تو ہم آنجناب کے ممنون ہو ں گے۔تعجب کی بات ہے کہ سورہ براۃ کی جن آیتوں کو آنجناب نے مسجدِ حرام کی تولیت کی ’’دلیل ‘‘بنایا اس کے تحت بھی مفسرین نے اس مسئلے کا ذکر نہیں کیا ہے۔

واقعہ اسراء اور سورہ بنی اسرائیل کی ابتدائی آیات

اسلامی تاریخ میں اسراء و معراج کا واقعہ مختلف وجوہات کی بنا پر ایک ممتاز واقعہ ہے،اس تاریخی واقعے کو اللہ تعالی نے سورہ بنی اسرائیل کی ابتدائی آیات میں بیان کیا۔یہ واقعہ بے شمار حکم و مصالح اور اسرار و رموز پر مشتمل ہے ۔یہ یادگار معجزہ اور اس کو بیان کرنے کے لئے مذکورہ سورت کی ابتدائی آیات درجہ ذیل وجوہ سے اس بات کا سب سے بڑا مظہر ہے کہ حرمین کے بعد دنیا کے مقدس ترین مقام مسجدِ اقصی کی تولیت ؔ خیر الامم کے پاس ہے۔پہلے ان کا ذکر کرتے ہیں ،پھر آنجناب کے ’’اعتراضات ‘‘پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
۱۔اس واقعے میں آپ ﷺ کو مسجدِ اقصی کا سفر کرانااور وہاں انبیاء کی امامت کا تاج آپﷺ کے سر پر رکھنا اس بات کامظہر ہے کہ اس گھر میں جہاں یہ نبی امام ہے ،وہاں ان کو ماننے والی امت بھی باقی ملتوں کی امام اور اس مقدس گھر کی تولیت کی ذمہ دار ہے ۔
۲۔مسجدِ اقصی کو اللہ تعا لی اپنی خاص نشانیوں میں شمار کیا ،اس سے اس مقام کی اہمیت، فضیلت،تقدس اور آفاقیت خود بخود آشکارا ہوتی ہے اس سے آنجناب کے اس ’’مفروضے ‘‘کی تردید ہو تی ہے کہ مسجدِ اقصی کی حیثیت صرف ایک مذہب کے مرکزِ عبادت کی ہے۔ جب یہ ایک آفاقی مقدس مقام ہے تو اس کی تولیت ’’سنت اللہ‘‘کے مطابق ہر زمانے کے اہلِ حق کو ملے گی۔
۳۔اس وا قعے کے ذکر کے بعد اللہ تعا لی نے اس مقدس مقام سے یہود کی اپنے معاصی اور سرکشی کی بدولت دو بار جلا وطنی کا ذکر کیا ،جس سے ان مقدس مقامات کے بارے میں اللہ نے اپنے اس خاص سنت کی طرف اشارہ کیا اور اس موقع پرمفسرین کے نزدیک اپنے خاص سنت کو ذکر کرنے کے دوبڑے مقصد ہیں:
۱۔ مشرکینِ مکہ کو تنبیہ کرنی مقصود ہے کہ مسجدِ حرام بھی اللہ کے انہی مقدس مقامات میں سے ہے ،اس لئے اگر تم اپنے کفر و شرک سے باز نہ آئے ،تو تم اللہ کی اٹل سنت کے مطابق اس گھر کی تولیت اور خدمت سے محروم کر دیے جاؤ گے۔
۲۔مسلمانوں کو بھی تنبیہ ہے کہ اگر تم نے اللہ کی نافرمانی اختیار کر لی تو تم کو بھی اللہ مسجدِ اقصی کی تولیت سے بطورِ سزا اسی طرح محروم کر دے گا ،جیسا کہ یہود کو اپنی نافرمانی کے نتیجے میں اللہ نے محروم کردیا۔(۲۸)
۴۔اس کے بعد اللہ تعا لی نے اپنے اس ضابطے کو’’صراحۃً‘‘ بیان کیا چنانچہ ان واقعات کے ذکر کے بعد فرمایا:
عَسَی رَبُّکُمْ أَن یَرْحَمَکُمْ وَإِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا (الاسراء۱۷:۸)
’’عین ممکن ہے کہ (اب ) تمہارا رب تم پر رحم کرے ،لیکن اگر تم پھر وہی کام کرو گے تو ہم پھر وہی کام کریں گے۔‘‘
ّاس آیت کی تفسیر مفسرین نے یہ کی ہے کہ اس میں اللہ کی ’’رحمت ‘‘سے مراد آپﷺ کی بعثت ہے اور ان عدتم سے مراد پچھلے انبیاء کی طرح آپﷺ کی تکذیب اور آپﷺ کو اسی طرح ستانا ہے جیسا کہ اس مغضوبِ علیہم قوم نے اس سے پہلے حضرتِ موسی علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کو ستایا تھا۔اور عدنا سے مراد تیسری مرتبہ اس گھر کی تولیت اور اس ارض مقدسہ سے اخراج ہے۔گویا خلاصہ یہ نکلا کہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو بار جلا وطنی کے بعد اللہ تمہیں ایک موقع اور دیں گے اور آپﷺ کو مبعوث کریں گے ،پھر اگر تم نے اسی خاتم الانبیاء کو اسی طرح ستا یااور ان کی تکذیب کی جیسا کہ اس سے پہلے تم دو جلیل القدر پیغمبروں کے ساتھ کرچکے ہو تو ہم اپنے اصول کے مطابق تمہیں دو بارہ اس گھر کی تولیت سے محروم کر دیں گے۔
امام رازی ؒ ان آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
ای فعلِ ما لا ینبغی وھو التکذیب لمحمد ﷺو کتمانِ ما ورد فی التوراۃ فعاد اللہ علیہم التعذیب علی ایدی العرب(۲۹)
امام طبری ؒ نے حضرت ابن عباسؓ سے اس کی تفسیر یوں نقل کی ہے:
فعادوا فسلط اللہ علیہم المومنین(۳۰)
مفسر ابن ابی حاتم ؒ نے امام ضحاک سے اس کی تفسیر یوں نقل کی ہے:
کانت الرحمۃ التی وعدہم بعث محمدﷺ(۳۱)
اس آیت کی یہی تفسیر حافظ ابنِ کثیر ؒ نے تفسیر ابنِ کثیر میں (۳۲)علامہ آلوسی ؒ نے روح المعانی میں (۳۳)امام قرطبی ؒ نے تفسیرقرطبی میں (۳۴)امام بغوی نے معالم التنزیل میں (۳۵)امام اہل سنت امام ماتریدی ؒ نے تاویلات اہل السنۃ میں (۳۶) اور دیگر تقریبا تمام متقدمین و متاخرین نے بیان کی ہے۔
آنجناب نے اس آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے اللہ تعالی یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ ’’یہودی رہتے ہوئے‘‘تم کو یہ گھر دو بارہ اللہ کی رحمت سے مل سکتا ہے ،آنجناب کی یہ تفسیر ’تحریف ‘‘کہلانے کی زیادہ مستحق ہے۔ آنجناب سے گزارش ہے کہ اس کی تائید خلف و سلف میں سے کسی ایک مفسر سے دکھا دیں ۔نیز آیت کی یہ تفسیر کرنے سے تو خود اس کاا وپر والی آیت کے ساتھ کھلا تعارض لازم آتا ہے کہ عام ’’معاصی ‘‘پر تو اللہ نے انہیں اس گھر کی تولیت سے محروم کر دیا ،لیکن اللہ کے آخری پیغمبر کی تکذیب کے باجود وہ اللہ کی رحمت کے مستحق ہیں اور انہیں یہ گھر مل سکتا ہے۔اپنے ذہنی ’’مقدمات ‘‘سے کتاب اللہ کی من مانی تفسیر کے نتیجے میں اس طرح کے ’’تضادات‘‘اور ’’عجائبات‘‘اچھنبے کی بات نہیں ہے۔صرف جنا ب عمار صاحب ہی نہیں بلکہ تمام متجددین،اپنی عقل کی بنیاد پر شریعت کے متفقہ مسائل پر از سرِ نو ’’تحقیق‘‘ کرنے والے اور سلف کے فہمِ دین کی تغلیط کرنے والوں کی تحریرات ’’ایسی شاہکار ‘‘ہوتی ہیں ۔

آنجناب کے ’’اعتراضات‘‘

آنجناب کے خود ساختہ مقدمہ کے اعتبار سے حقِ تولیت کی منسوخی کے لئے چونکہ ’’صریح دلیل‘‘کی ضرورت ہے اور یہ چونکہ صریح نہیں ہے ،اس لئے آنجناب نے اس کو رد کر دیا ۔دوسراآنجناب نے کہا ہے کہ اس واقعے سے امتِ مسلمہ کی تولیت کی حکمت سلف میں کسی نے بیان نہیں کی ،تو اس کا جواب یہ ہے کہ اولا شرعی احکام کی حکمتوں کے بیان کے لئے سلف کی پابندی کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ،بشرطیکہ وہ دوسرے نصوص کے معارض نہ ہو اور یہ حکمت چونکہ معارض نہیں ہے ،اس لئے کوئی مضائقہ نہیں ہے،ثانیاًمسجدِ اقصی کی تولیت کی بحث چونکہ آج کی ’’پیداوار‘‘ہے ،اس لئے زمانہ حال کے اکابر نے شرعی نصوص کے اس پہلو کو بھی اجا گر کیا،اس کی مثال یہ ہے کہ آج کے علماء قرآن کی بہت ساری آیتوں کو ختمِ نبوت کی دلیل بناتے ہیں،حالانکہ سلف میں کسی نے ان کو اس مسئلے کے لئے دلیل کے طور پر ذکر نہیں کیا ،اس کی وجہ یہی تھی کہ چونکہ یہ مسئلہ یوں اٹھا نہیں تھا، اس لئے ان آیتوں کے اس پہلو کی طرف کسی کاذہن نہیں گیا۔اس کے علاوہ چونکہ آنجناب کے نزدیک یہ حقِ تولیت کی منسوخی کی ’’باقاعدہ دلیل‘‘ہے اس لئے آنجناب نے یہ نکات اٹھائے:
۱۔مسجدِ حرام کی تولیت سے پہلے اس کی تولیت کیوں منسوخ کی حالانکہ وہ بہرحال اس سے افضل اور اہم ہے ۔(حالا نکہ ہم وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ تولیت کی منسوخی کے’’ اعلانات ‘ نہیں ہیں ،بلکہ تولیت کی منسوخی تو ’’سنت اللہ ‘‘کے نتیجے میں ہوگئی،یہ تو فقط اس کے مظاہر ہیں)
۲۔مسجدِ حرام کی تولیت کو ’’۹ھ‘‘میں ’’صراحۃ‘‘ بیان کیا اس کو اشارۃ کیوں بیان کیا۔(اس پر ہم تفصیل سے بحث کر چکے ہیں )
۳۔اگر اسراء کے موقع پر ہی اس کی تولیت منسوخ ھوگئی تو تحویلِ قبلہ کے مقاصد میں سے بڑا مقصد تالیفِ یہود کیونکر حاصل ہو سکتا ہے جبکہ ان کو اس پر تولیت کاحق ہی نہیں ہے۔(اس پر بحث آگے کرتے ہیں )

تحویلِ قبلہ کا واقعہ 

مسجدِ اقصی پر امتِ مسلمہ کی تولیت کے مظاہر میں سے دوسرا بڑا مظہر تحویلِ قبلہ کا واقعہ ہے ۔نبی پاک ﷺ کی جو صفات پچھلی کتابوں میں بیان ہوئی تھیں ،ان میں ایک صفت ’’نبی القبلتین‘‘کا بھی ذکر تھا۔چنانچہ اس پیشین گوئی کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعا لی نے سولہ سترہ مہینے امتِ مسلمہ کا قبلہ بیت المقدس کو بنایا(۳۷)اور خاص طور پر یہ حکم مدینہ منورہ میں اس لئے آیا تاکہ یہود کی تالیف قلب کا مقصد بھی حاصل ہو اور انہیں اسلام کے قریب لایا جائے۔تحویلِ قبلہ سے ان کے اسلام کے قریب آنے کی دو وجہیں تھیں:
۱۔چونکہ ان کی کتابوں میں آپﷺ کی ایک صفت نبی القبلتین کا بیان ہوا تھا ،اس لئے جب آپﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑہیں گے، تو انہیں اپنی صحف کی پیش گوئی سچی نظر آئیگی اور یوں یہود آپﷺ کو وہ نبی ماننے پر آمادہ ہو سکتے تھے ،جن کی خوشخبری ان کی الہامی کتب میں بار بار بیان ہوئی تھی۔
۲۔عمومی طور پر یہود کا گمان تھا کہ ’’نبی مبشر‘‘ان میں سے ہوگا ،لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ یہ نبی تو بنی اسماعیل میں سے آیا تو انہیں مختلف وجوہ کی بنا پر آپﷺ کو ماننے میں تامل ہوا اور وہ آپﷺ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے،تو اس موقع پر تحویلِ قبلہ کا حکم آیا تا کہ انہیں اس بات کا اندازہ ہو کہ یہ پیغمبر اگرچہ بنی اسماعیل میں سے ہے ،لیکن پچھلے انبیاء کے تبرکات اور مقدس مقامات کا احترام بھی ان کے مشن کا مقصد ہے۔گویا یہ نبی ایک اعتبار سے سابقہ انبیاء کے مشن کی تکمیل ہی کے لئے آیا ہے۔اس طرح سے ان کاوہ بغض کافی حد تک کم ہو سکتا تھا،جس کا وہ ہر موقع پر اظہار کرتے تھے اور وہ مشرکین کی بجائے مسلمانوں کے قریب ہو سکتے تھے اور یہی اس حکم کے مقاصد میں سے ایک مقصد تھا۔اب اس حکم کی مختلف حیثیتیں ہو گئیں۔
۱۔آپﷺ کو نبی القبلتین کا تاج پہناناکہ دنیا کے دو مقدس گھر جو پہلے انبیاء میں تقسیم ہوئے تھے ،اب یہ آخری نبیﷺان دونوں گھروں کے وارث اور والی ہیں۔اور ظاہر یہ ایک ایسی خصوصیت ہے ،جو گزشتہ تمام انبیاء میں سے کسی کو نہیں ملی تھی۔ا ور اس کے ضمن میں اس امت کی فضیلت اور اس کا خیر الامم ہونا بالکل واضح ہے۔کہ دنیا کے دو مقدس گھر اس امت کیلئے اللہ نے قبلہ بنا یااور انہیں ان دونوں کا ذمہ دار بنایا، حالانکہ اس سے پہلے یہ خصوصیت کسی امت کو نہیں ملی تھی۔چنانچہ اس واقعے کے نتیجے میں اس امت کا خیر الامم کے منصب پر فائز ہونا اللہ تعالی نے ’’صراحۃً‘‘بیان کیا:
وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُونُواْ شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ (البقرہ ۲:۱۴۳)
اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا
وسطاً کاایک مطلب مفسرین نے جہاں معتدل اور افراط وتفریط سے پاک بیان کیا ہے ،وہاں اس کا مطلب ’’خیر‘‘یعنی بہترین بھی اس کا مطلب بیان کیا ہے ،امام رازی و علامہ زمخشری ؒ نے اس دوسرے مطلب کو مختلف وجوہ کی بنا پر راجح قرار دیا ،کیونکہ خیر کے اندر اعتدال والا معنی خود بخود آگیا۔(۳۸)
۲۔اس واقعے سے یہود کو اسلام کے قریب کرنا تھا ،مذکورہ واقعے سے تالیفِ یہود کا مقصد کیونکر حاصل ہو ا ،اس کو ہم پیچھے ذ کر کر چکے ہیں ۔
۳۔کمزور ایمان والے مسلمانوں اور منافقین کا امتحان لینا مقصد تھا کہ وہ پختہ مسلمانوں کی طرح اس حکم کی اتباع کرتے ہیں یا وہ اس پر گوناگوں اعتراضات و شبہات کرتے ہیں ،کیونکہ یہ واقعہ اسلام میں نسخ کے ابتدائی واقعات میں سے ہے۔الا لنعلم من یتبع الرسول سے اس حکمت کی طرف بھی اشارہ ہے۔

آنجناب کے ’’اعتراضات‘‘

۱۔ آنجناب نے اس پر ایک تو وہی ’’صراحت ‘‘والا ’’پرانا ‘‘اعتراض کیا ، لیکن ظاہر ہے کہ جب اس واقعے کے نتیجے میں اللہ تعا لی نے اس امت کو خیر امت کا لقب دیا،تو اس حکمت کی طرف ایک اعتبار سے ’’صریح‘‘اشارہ ہوگیا ۔ذوق والوں پر اس کی’’ صراحت‘‘ مخفی نہیں ہے۔
۲۔آنجناب نے ایک ’’عجیب ‘‘اعتراض یہ بھی کیا ہے کہ اگر اس واقعے سے مسجدِ اقصی کی تولیت امتِ مسلمہ کے پاس آگئی تو ان کی تالیف کا مقصد کیونکر حاصل ہوگا،کیونکہ اس سے تو آنجناب کے بقول انہیں اشتعال میں آنا چاہئے ،کہ ان کا قبلہ ان سے چھین لیا گیا۔گویا آنجناب کے نزدیک اس واقعے سے تولیت کی منسوخی اور یہود کی تالیفِ قلب دونوں اخذ کرنا ایک قسم کا تعارض ہے۔لیکن آنجناب کو یہ تضاد دو وجہ سے پیش آرہا ہے:
۱۔آنجناب تحویلِ قبلہ کے اس واقعے کو تولیت کا ’’باقاعدہ اعلان‘‘بنا رہے ہیں ،حالانکہ ہم کئی با ر کہہ چکے ہیں کہ یہ باقاعدہ اعلانات اور دلائل نہیں ہیں ،بلکہ یہ تو حقِ تولیت کے مظاہر ہیں ۔حقِ تولیت کی اصل دلیل تو اللہ کا وہ ضابطہ اور خاص ’’سنت‘‘ہے،جو ان مقاماتِ مقدسہ کے بارے میں تمام ادیانِ سماویہ میں مسلم ہے ۔نیز یہ سنت ’’قولی اعلانات‘‘ کی بجائے عام طور پر ’’فعلی ‘‘شکل میں ظاہر ہوتی ہے ،(اگرچہ کتبِ سماویہ میں اس ضابطے کا اعلان بھی مختلف مواقع پر کیا گیا،جیسے ہم ماقبل میں تورات اور قرآن پاک کے حوالے سے دونوں مقدس مقامات کے بارے میں اس سنت کا ذکر کر چکے ہیں )یعنی کہ ان مقدس مقامات پر اللہ تعا لی اہلِ حق کو غلبہ دے دیتے ہیں ۔چنانچہ مسجدِ حرام پر اللہ تعالی نے اس امت کو فتحِ مکہ کی شکل میں تولیت عطا کی ،حا لانکہ آنجناب کا ’’مفروضہ اعلان ‘‘توایک سال بعد ۹ھ میں کیا گیا۔جبکہ مسجدِ اقصی پر تولیت کی آپﷺ نے باقاعدہ خوشخبری دی اور یہ خوشخبری حضرتِ عمرؓ کے ہاتھوں پوری ہوئی اور ان کے دور میں اس مقدس مقام کی تولیت بھی اس امت کے پاس آگئی۔
۲۔آنجناب نے یہاں اس حکم کی مختلف گروہوں کے اعتبار سے مختلف حیثیتوں کے ’’خلط ‘‘کر دیا ،اس لئے آنجناب کو تضاد نظر آیا۔گویا حیثیت کی قید کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے آنجناب کو تعارض نظر آیا۔اس حکم کی حیثیت یہودیوں کے اعتبار سے تالیفِ قلب تھی ،منافقین اور کمزور ایمان والوں کے اعتبار سے ابتلاء و آزمائش کی تھی اور پختہ اور حقیقی ایمان کے حامل آپﷺ کے سچے متبعین کے اعتبار سے انہیں اس مقدس گھر کا ذمہ دار بنا کر انہیں خیر امت کے منصب پر فائز کرنا تھا (اگرچہ اس کا ظہور کئی سال بعد حضرتِ عمر کے دور میں ہوا)اس کی مثال بالکل یوں ہے کہ قرآن پاک کی حیثیت مومنین کے اعتبار سے ذریعہ رحمت ہے اور کفار کے اعتبار سے ذریعہ ضلالت ہے ، جیسا کہ خودقرآن پاک نے اپنی یہ مختلف حیثیات بیان کی ہیں (۳۹)تو آنجناب اس ’’تعارض ‘‘ کے بارے میں کیا کہیں گے ۔یہی وجہ ہے کہ یہ تضاد چودہ سو سالہ تاریخ میں صرف آنجناب کو نظر آیا ،سلف سے اعراض کر کے ،صرف عقل اور محض عقل کو بنیاد بنا کر شرعی نصوص کی تفسیر کرنے سے ایسے تضادات پیش آجایا کرتے ہیں ۔
۳۔آنجناب نے یہود کے حقِ تولیت کے باقی رہنے میں اس سے بھی ’’استدلال‘‘کیا ہے کہ اللہ تعالی نے خود قرآن پاک میں ’’قبلتہم‘‘ کا لفظ کہہ کر گویا یہود کے اس مقدس مقام پر تولیت کی ’’توثیق ‘‘کر دی کیونکہ آنجناب کے بقول تنسیخِ تولیت کے مبحث میں یہ نسبت موزوں معلوم نہیں ہوتی ۔اس’’شاہکار استنباط ‘‘پر ہم صرف اتنا کہتے ہیں کہ آنجناب صرف اس سوال کا جواب دیں کہ اگر مسجدِ اقصی کو یہود کا صرف قبلہ ’’کہنا‘‘(وہ بھی ان کے زعم کے مطابق) ان کے حقِ تولیت کے باقی رہنے کی ’’دلیل ‘‘ہے، تو مسلمانوں کے لئے تو اللہ تعا لی نے اس مقام کو باقا عدہ شرعی حکم کے تحت قبلہ ڈیڑھ سال تک ’’بنایا‘‘کیایہ مسلمانوں کے حقِ تولیت کے لئے موئید نہیں ہے؟تعجب ہے کہ ایک فریق کے لئے صرف قبلہ ’’کہنے ‘‘سے تو حقِ تولیت ثابت ہوتی ہو اور دوسرے فریق کے لئے اسے باقا عدہ قبلہ ’’بنانے ‘‘سے ان کے حقِ تولیت کا اشارہ تک نہ بنتا ہو۔چنانچہ آنجناب لکھتے ہیں:
’’ہم فی الواقع نہیں سمجھ سکے کہ اس پسِ منظر کے ساتھ مسجدِ اقصی کو عارضی طور پر مسلمانوں کا قبلہ مقررکرنے کے اس حکم کودلالت کی کونسی قسم کے تحت مستقل تولیت کا پروانہ قرار دیا جاسکتا ہے‘‘
ہم بھی ’’بجوابِ آن غزل ‘‘کہتے ہیں :
’’ہم فی الواقع نہیں سمجھ سکے کہ اس پسِ منظر کے ساتھ مسجدِ اقصی کو صرف یہود کا قبلہ کہنے سے دلالت کی کونسی قسم کے تحت اس مغضوبِ علیہم قوم کو اللہ کا یہ مقدس و مطہر گھر مستقل طور پر دینے کا پروانہ قرار دیا جا سکتا ہے‘‘

حواشی:

۱۔ملاحظہ ہو آنجناب کا مضمون :مسجدِ اقصی کی بحث اور حافظ محمد زبیر کے اعتراضات(ماہنامہ الشریعہ مارچ ۲۰۰۷)
۲۔بخاری شریف ،۴؍۱۴۶رقم الحدیث ۳۳۶۶ ۔مراد وہ حدیث ہے ،جس میں دونوں مسجدوں کی تعمیر کے درمیان چالیس سال کا عرصہ بیان ہوا ہے۔
۳۔سنن نسائی ،باب فضل المسجد الاقصی رقم الحدیث ۶۹۲ ۔ اس حدیث کی طرف اشارہ ہے ،جس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی تعمیرِِ بیت المقدس کا ذکر ہے۔
۴۔الکامل فی التاریخ ۱؍۱۷۳
۵۔فتح الباری ،۳؍۶۵
۶۔بخاری شریف ،۲؍۶۰ رقم الحدیث ۱۱۸۹
۷۔بخاری ،رقم الحدیث ۳۳۶۶
۸۔سنن ابن ماجہ،الصلاۃ فی المسجد الجامع رقم الحدیث ۱۴۱۳
۹۔بدائع الصنائع ،باب الا عتکاف ؍۱۱۳ ، باب مکان الاحرام ۲؍۱۶۴
۱۰۔فتح الباری ۳؍۶۵
۱۱۔ملاحظہ ہو ،معجم ما الف فی فضائل و تاریخ المسجد الا قصی 
۱۲۔براہین ص۲۴۰
۱۳۔روح المعانی ،۶؍۱۰۶
۱۴۔تفسیر القرطبی ،۷؍۳۹۷
۱۵۔زاد المعاد ،۳؍۴۹۴
۱۶۔الا صابہ ،۴؍۲۲۰
۱۷۔روح المعانی ،۱۰؍۷۶
۱۸۔تفسیر القرطبی ،۱۰ ؍۱۵۴
۱۹۔روح المعانی ،۱۰؍۶۴
۲۰۔تفسیر طبری ،۱۴؍۱۶۸
۲۱۔ابن کثیر ،۷؍۱۷۳
۲۲۔مسند احمد ۳۳؍۳۴۹
۲۳۔ایضاً
۲۴۔بدائع ،۲؍۱۶۴
۲۵۔فتح الباری۳؍۶۵
۲۶۔البدایہ و النہایہ ،۹؍۶۵۵
۲۸۔معارف القران ،۵؍۴۵۱
۲۹۔تفسیرِ کبیر ،۲۰؍۱۶۱
۳۰۔تفسیر طبری ،۱۴؍۵۰۶
۳۱۔تفسیرِ ابنِ ابی حاتم ،۴؍۲۲۱
۳۲۔تفسیر ابن کثیر ،۸؍۴۴۰
۳۳۔روح المعانی ،۱۵؍۲۱
۳۴۔تفسیر قرطبی ،۱۳؍۲۳
۳۵۔معالم التنزیل ،۵؍۸۰
۳۶۔تاویلات اہلِ السنہ ،۷؍۸
۳۷۔روح المعانی ،۲؍ ۱۰
۳۸۔تفسیرِ کبیر،۴؍ ۱۰۸
۳۹۔البقرہ آیت ۲۶

جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں

محمد رشید

اپریل 2014ء کے الشریعہ میں شائع ہونے والے راقم کے مضمون’’جمہوری و مزاحمتی جدوجہد۔۔۔ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ کی تردید میں جون 2014ء کے الشریعہ میں ڈاکٹر عبدالباری عتیقی صاحب کامضمون شائع ہوا ہے۔9صفحات پرمشتمل مضمون کے پہلے دو صفحات میں راقم کے متذکرہ مضمون پر ’’فردجرم‘‘ کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
۱۔محمد رشیدکے مضمون میں جہادی وانقلابی لوگوں کا نقطہ نظربیان کیاگیاہے۔
۲۔یہ نقطہ نظر اول تا آخرغلط ہے۔
۳۔پوری تحریر قرآن وحدیث کے دلائل سے عار ی ہے۔
۴۔پوری تحریر محض جذبات کی شاعری کا اظہار ہے۔
۵۔یہ تحریر ردعمل کی نفسیا ت اورنام نہاد غیرت پر مبنی ہے۔
۶۔یہ دور حاضرکی وہ انقلابی فکر ہے جس میں تباہ کن تشدداوردہشت گردی کومزاحمت اور جہادکا نام دے دیا جاتا ہے۔
۷۔انسانیت کی تاریخ میں جنگ و قتال ایک اضطراری اورہنگامی حالت رہی ہے اور امن ایک مستقل چیز۔محمد رشیدنے جوش جذبات میںیہ ترتیب الٹ دی ہے۔ان کے نزدیک اب جنگ وقتال اور مسلح جدوجہد عین فطری اور مستقل حالت قرار پائی ہے جبکہ پرامن دوراورپرامن جدوجہد اضطراری اور وقتی ٹول قرار پایا ہے۔
ڈاکٹرعتیقی نے اپنے مضمون کے تین صفحات تصور جہادکی’’ مرمت‘‘ اور چار صفحات جمہوریت کی تعریف و دفاع اور خلافت سے لاتعلقی کے اظہارپرسیاہ فرمائے ہیں۔جن لوگوں کی فکری ابتری کا یہ حال ہو کہ قرآن واسلام کے سیاسی اصولوں کی تمام خوبیاں انہیں انگریزکے عطاکردہ ’’جمہوریت‘‘ کے سیاسی نظام میں توبدرجہ کمال نظر آرہی ہوں،لیکن یہی خوبیاں انہیں نبی اکرم ﷺکے عطاکردہ’’خلافت‘‘ کے سیاسی نظام میں نظر نہیں آتیں۔ جمہوریت کے مقابلہ میں خلافت کے سیاسی نظام سے بے تعلقی کااظہاریہ ذہنیت ان الفاظ میں کرتی ہے کہ ’’یہاں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ ایسا نہیں ہے کہ اسلام نے ’’خلافت‘‘ کے نام سے کوئی مخصوص سیاسی نظام قائم کیا ہے‘‘۔ بھلا جوذہنیت نبی اکرم ﷺ کے عطا کردہ اور منہاج نبوت پر قائم ہونے والے خلفائے راشدین کے خلافت کے سیاسی نظام کو یک قلم اسلام سے نکال باہر کرتی ہو،اس ذہنیت کے لیے راقم ایسے نہایت کمتراور حقیر طالب علم پر وہ الزامات لگانا کیسے مشکل ہوسکتاہے جن کا ذکر اوپر کی سطور میں ہوا ہے۔
مضمون نگار کی معقولیت اور دیانت کا اندازہ اس نکتہ سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے کہ راقم نے اپنے مضمون میں علمبرداران جمہوریت پرانتہائی سنگین نوعیت کی جوفردجرم تحریرکی، جناب عتیقی کا مضمون ان انتہائی سنگین جرائم/الزامات کے جواب میں بالکل خاموش ہے۔لیکن جمہوریت پر وارد ہونے والے چند ایسے اعتراضات و نقائص، جن کا ہمارے مضمون میں قطعاً کوئی ذکرتک نہیں، کی زوردار تردیدلکھ مارتے ہیں۔اس زوردار تردیدوتنقید اور جمہوریت کے فرضی دفاع پر چار صفحات سیاہ کردیے جاتے ہیں۔
فرض کریں کہ ایک ’’ملزم‘‘ کے خلاف سنگین دفعات کے تحت کوئی مقدمہ عدالت میں زیرکاروائی ہے۔اس ’’ملزم‘‘کامخالف وکیل دہشت گردی،قتل،اغوااور ڈکیتی وغیرہ کے سنگین جرائم ثابت کرنے کے لیے عدالت میں اس کے خلاف دلائل دیتا ہے تو اس ’’ملزم‘‘کا وکیل ان سنگین جرائم کے جواب اوردفاع میں ایک لفظ بھی عدالت میں نہیں کہتا بلکہ اپنے موکل/ ’’ملزم‘‘کے خلاف سائیکل چوری،کم تولنے، ٹریفک کا اشارہ توڑنے وغیرہ الزامات (جن کا مقدمہ میں کوئی ذکرہی نہیں)کا نہایت مدلل، زورداراور دندان شکن جواب /دفاع عدالت میں پیش کرتا ہے۔اب ایسے وکیل کی دیانت اور معقولیت پرجتنااعتبارکیاجاسکتاہے،اپنی زیر بحث تحریر کے ذریعہ ڈاکٹر عتیقی کا رویہ اتنا ہی معتبر اور معقول ثابت ہوتا ہے۔کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ ڈاکٹر عتیقی نے راقم کے مضمون کا جواب دینے کے لیے ’’جمہوریت ‘‘پر جن اعتراضات کا جواب عنایت فرمایا، ان اعتراضات کا راقم کے زیربحث مضمون میں ذکر تک نہ ہے۔
ڈاکٹر عتیقی علمبرداران جمہوریت پر راقم کے الزامات کے دفاع میں جس ’’معقولیت اور دیانت ‘‘کامظاہرہ کرتے ہیں، بالکل اسی ’’معقولیت اور دیانت ‘‘کا اظہار آنجناب کے ان دیگر الزامات میں ہمیں نظر آتا ہے ،جو انہوں نے راقم کے زیربحث مضمون پر عائد فرمائے ہیں۔
ایک تجزیہ کار/تنقید نگارکی علمی دیانت اس چیزکاتقاضا کرتی ہے کہ فریق مخالف پر جو جوالزامات لگائے جارہے ہیں،ان الزامات/مفروضات کو وہ فریق مخالف کی تحریرکے حوالہ جات سے ثابت کرے اور پھرعلمی دلائل سے ان کا تجزیہ ومحاکمہ کرے۔لیکن ڈاکٹرعتیقی صاحب کا مضمون اپنے الزامات/دعووں اورمفروضات کوثابت کرنے میں اس معقول اور صائب روش سے عاری نظرآتا ہے۔موصوف نے اپنی تحریر میں جابجامغالطہ آمیزیاں پیدا فرمائی ہیں اور پھر اپنی ان خود تراشیدہ مغالطہ آمیزیوں کی تردید میں زوراستدلال کا استعمال فرمایا ہے۔
آنجناب کی دیانت کا حال یہ ہے کہ وہ راقم کے نقطہ نظرکو پورے زوروشور سے غلط قرار دے رہے ہیں ،اسے نرا جذباتی اور قرآن وسنت کامخالف قرار دے رہے ہیں مگر مجال ہے اپنے 9صفحاتی مضمون کے کسی ایک پیرے ہی میں وہ راقم کے نقطہ نظرکا نچوڑاور خلاصہ بیان کردیں۔تاہم انہوں نے راقم کے مضمون کے بعض نامکمل اقتباسات سے اپنی مرضی کا مکمل مفہوم اخذکیااور پھر اس کی تردید میں صفحے سیاہ کرنے میں نہایت مہارت کا مظاہرہ فرمایا۔ذیل میں ہم اپنے 9صفحاتی مضمون (جمہوری ومزاحمتی جدوجہد۔۔۔ایک تجزیاتی مطالعہ)میں بیان کیے گئے نقطہ نظر کا خلاصہ بیان کررہے ہیں:
۱۔ظالم، بے انصاف، بے رحم ، بے حس ،غریب کُش اور کمزوروں کا استحصال کرنے والے معاشروں میں مسلح بغاوت یا مزاحمت ظلم،جبر،بے رحمی اور بے انصافی کی لعنتوں کا ردعمل ہے۔جوطاقت و قوت کے زعم اور تکبر میں مبتلا ایوانوں کے ردعمل میں جنم لیتا ہے ۔
۲۔ہم نہ ہی سیاسی حکومت کا قیام بذریعہ انتخاب(Election) کو حرام سمجھتے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے دینی و دنیاوی استحصال پر احتجاج کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔ہمارا اصل دکھ تو یہ ہے کہ ان ٹولز کو ضرورت اور کام چلانے کے ٹولز کے عام مقام پر رکھنے کی بجائے ہمارے قائدین اور دینی زعماء انہیں انسانیت کی یافت اور مسائل کا واحد حل بناکر پیش کررہے ہیں۔
۳۔آج ساری دنیا کے شیاطین اور مقتدرطبقات (ابلیس کی نمائندہ عالمی طاقتوں )نے دنیا بھرمیں جمہوریت کو اپنی محبوب ترین لونڈی بنایا ہوا ہے۔یہ عالمی طاقتیں اپنی اس لونڈی کے ذریعے اسلام کی بدترین مخالفت کررہی ہیں، اسلام،اہل اسلام، مشاہیر اسلام کا مذاق اڑا رہی ہیں اورمسلمانوں کے محبوب ترین شعائر یعنی رسول رحمتﷺ اور قرآن حکیم کی بدترین توہین کی مرتکب ہورہی ہیں۔ابلیس،اس کی آلہ کارعالمی طاقتیں اور ان عالمی طاقتوں کے آلہ کارمسلم حکمرانوں نے ساری دنیا میں فتنہ اور فساد کا بازاد گرم کیا ہوا ہے۔ یہ ابلیسی ٹولہ انسانیت کی روح کا گلا دبا رہا ہے، انسان کی روحانی زندگی کے لیے یہ ٹولہ ایک عذاب بنا ہوا ہے۔درحقیقت یہ ٹولہ بدترین دہشت گرد ہے، جس نے اپنے اختیارات ،وسائل ،جدید جنگی ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ سے نوع انسانی کو ایک دہشت اور خوف میں مبتلا کیاہوا ہے۔ یہ ابلیسی ٹولہ نہ صرف انسان اور آخرت(انسان کی ابدی مسرت) کے درمیان ایک دیوار بن کرکھڑا ہوگیا ہے بلکہ ابلیس لعین کا یہ پیروکار ٹولہ انسان اور اس کی دنیا کی نہایت محدود زندگی کی مسرتوں کے درمیان بھی ایک دیوار بن کر کھڑا ہے۔
۴۔حقیقت یہ ہے کہ ابلیس نے ’’جمہوریت اور آزادی‘‘ کے عنوان سے اجتماعی سطح پرانسانیت کا جو بدترین استحصال کیا ہے اور انسانیت کو زندگی کی بنیادی ترین ضرورتوں سے جس طرح محروم کیا ہے، ماضی کی بدترین بادشاہتوں کے دور میں بھی اجتماعی سطح پر انسانیت کا اس طرح گلا دبانا ناممکن تھا۔ 
۵۔جب دنیا کا منظرنامہ یہ صورتحال پیش کررہا ہو کہ پوری دنیا میں’’جمہوریت ‘‘ کے نام پر انسانیت کی بدترین تذلیل اور استحصال ہورہا ہو۔ساری دنیا کی حکومتیں جمہوریت کا نام لے کراپنے عوام کی ’’روح اور جسم‘‘ ہردوکا slowly & steadily گلا دبارہی ہوں۔ابلیس کی آلہ کار عالمی طاقتیں اسلام اور جمہوریت کو ایک دوسرے کی ضد ثابت کرنے پر تلی ہوں۔دنیا کے ہر کونے میں ’’جمہوریت ‘‘ کے نام پر اسلامی اقداراور اس کی علامتوں (حیا، پردہ، حجاب،داڑھی)کو چن چن کر ختم کرنے کی کوششیں ہورہی ہوں اورجہاں بس چلے (مثلاً فلسطین، چیچنیا، کوسوو، بوسنیا، میانمار، کشمیر، عراق، افغانستان میں) مسلمانوں کو بھی چن چن کرماردیاجائے۔عالمی ابلیسی قوتوں کے آلہ کارحکمران طبقات کومسلم معاشروں میں جمہوریت کے نام پرکرپشن،بددیانتی،بدعہدی، لوٹ مار، قانون شکنی،غریب کا گلا گھونٹنے، ظلم و فساد کا بازارگرم کرنے، تعلیم، صحت،قانون،عدالت،امن غرض ہرشعبہ زندگی کی ’’حیات’’ کا گلا نہایت مکاری، منافقت، سفاکی اور بے حسی سے گھونٹنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ان مقاصد کے حصول کے لیے عالمی طاقتوں کا ابلیسیت کی تمام طاقتوں سے مسلح ہوکراپنے آلہ کار مسلم حکمرانوں کی مکمل سرپرستی کرنااور بار بار جمہوریت کا راگ الاپنا وہ بدترین فعل ہے جس نے مسلم ممالک میں بدترین فساد،بربادی،تباہی، انارکی کا ایک ناختم ہونے والا منحوس چکر چلایا ہوا ہے۔
۶۔جمہوریت کے نام پر مسلم ممالک کا تعلیمی شعبہ مغربی دہشت گردی کا شکار ہے، ہمارا صحت کا شعبہ ابلیسی دہشت گردی کا شکار ہے، ہمارا عدالتی نظام قانون کے نام پر بے انصافی اورانصاف میں تاخیرکی خوفناک دہشت گردی کا شکار ہے،ہماری معیشت، ہماری معاشرت، ہمارے ذرائع ابلاغ غرض زندگی کا ہر ہر موثروقابل ذکر شعبہ ابلیسی دہشت گردی کا شکار ہے۔اور ہم اس بدترین زوال، اس بدترین دہشت گردی کا شکار ہونے کے باوجود۔۔۔اور تسلسل کے ساتھ مسلم معاشروں کے ہر شعبہ زندگی پر مغرب کے ابلیسی فکری و عملی دہشت گردانہ حملوں کی موجودگی میں تنازعات کو صرف’’جہاد بذریعہ غیرمسلح احتجاجی تحریک‘‘میں سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہ رویہ نہ صرف جہاد بمعنی قتال میں مداہنت کے ارتکاب پر مبنی ہے بلکہ مسلم ممالک اورساری انسانیت کو درپیش ابلیس کے شش اطراف دہشت گردانہ حملوں سے آنکھیں چرانے اور غض بصر کرنے کے مترادف ہے۔
۷۔آج مسلم عوام کو، مسلم اساتذہ کو، مسلم صحافیوں کو، مسلم ذرائع ابلاغ کو، مسلم حکمرانوں کواور مسلم مسلح افواج کو ابلیسیت کے شش اطراف انسانیت کش حملوں سے بچانے کا اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ اان کے فکر و عمل کو ’’ایمان واخلاق‘‘کی ابدی طاقت اور ‘‘جہاد قتال‘‘کی ہنگامی ربانی طاقت سے مسلح کرنے میں ہمارے قائدین اور مفکرین مسلسل، پیہم اور بلاتعطل جدوجہد پر اپنی صلاحیتوں کو مرکوز فرمائیں۔اس جدوجہدسے غفلت اورعدم توجہی نے انسانیت کی روح کو ’’موت و حیات‘‘ کی کشمکش میں مبتلا کیا ہوا ہے۔
۸۔ان جمہوریت پرست درندوں نے براعظم امریکہ کے کروڑوں انسانوں کو چن چن کرجانوروں کی طرح ہلاک کیا۔اور آج تک یہ انسانیت دشمن، ابلیس کے پیروکار، حیا اور اسلام سے دہشت زدہ جمہوری درندے ساری دنیا پر مسلط ہیں۔ اگرجمہوریت نے مغرب کے ان درندہ صفت انسانوں میں کوئی تبدیلی پیدا کی ہوتی (جو Dark Agesمیں بھی بالکل درندوں ہی کی طرح ایک دوسرے کا گلا کاٹتے رہتے تھے)تویہ انسانیت کوعقیدہ و فکر کی آزادی دیتے، انسانیت کے لیے زندگی کی ضروریات وسہولیات کا حصول (ارزاں ترین قیمت پر)آسان ترین کردیتے،اسلام اور حیا کو اپنا سب سے بڑا دشمن نہ سمجھتے، دولت، سائنس اور ٹیکنالوجی کو ساری دنیا کے انسانوں کے دکھ درداور مسائل دور کرنے کے لیے استعمال کرتے، جنگی جنون اور مہلک ایٹمی و کیمیاوی ہتھیاروں سے اپنے آپ کو مسلح نہ کرتے۔مگر آج دنیا کا جو منظر نامہ ہے وہ ان مثبت باتوں کے بالکل الٹ ہے۔ان مہلک نتائج کو دیکھ کر ہی حضرت علامہ اقبال کو آج سے قریباً سو سال پہلے کہنا پڑا:
تیری حریف ہے یا رب سیاست افرنگ
مگر ہیں اس کے پجاری فقط امیر و رئیس
بنایا ایک ہی ابلیس آگ سے تونے
بنائے خاک سے اس نے دوصدہزار ابلیس
راقم کے زیربحث مضمون کا خلاصہ درج بالا نکات میں پیش کیاگیاہے۔کیاجناب ڈاکٹر عبدالباری عتیقی ہمارے مضمون میں بیان کیے گئے ان مرکزی ترین نکات کو دیکھ کربتاسکتے ہیں کہ ان نکات سے وہ نتیجہ فکرکس طرح اخذ ہوتاجس کا اظہاروہ اپنے جوابی مضمون میں ایک الزام کی شکل میں اس طرح کرتے ہیں:
’’استعماری طاقتوں کے ظلم و ناانصافی پرمبنی اقدامات کوبنیاد بناکرہوش وحواس سے عاری اورقید شریعت سے آزادجذبات پرمبنی تباہ کن تشدد اور دہشت گردی کو’مزاحمت اور جہاد‘ کا عنوان دے دیا جاتا ہے۔‘‘ 
اگر وہ اپنے اس الزام کوبشمول دیگرنامعقول الزامات کے ہمارے مضمون پر ثابت نہیں کرسکتے اور یقیناوہ ایسا نہیں کرسکے توانہیں مان لینا چاہیے کہ تنقید نگاری اور تجزیہ کاری کے لیے دیانت اورمعقولیت کی جوکم از کم سطح مطلوب ہے،اس سے انہوں نے اپنے آپ کو عاری ثابت کیا ہے۔موصوف کو معلوم ہونا چاہیے کہ کسی بھی تجزیہ کارکی تنقید اور مخالف نقطہ نظرکا کوئی معقول جواب نہ پاکراس پربلا دلیل وثبوت ’’تباہ کن تشدد اور دہشت گردی ‘‘قسم کے لچر اور بیہودہ الزام لگا دیناعلم اور دلیل کے میدان میں ایک بے قیمت اور اجنبی طرز استدلال ہے۔ہاں! جہالت ودرندگی کے رسیا،طاقت وقوت کے نشوں میں بدمست اورخدائی کی دعویدار قوتوں کا یہ محبوب، مرغوب اور دل پسند طرز استدلال اور مشغلہ رہاہے کہ جب کسی کمزور فریق کا شکار کرنا ہو یا کسی ناپسندیدہ شخص کو مجرم ثابت کرنے کا کوئی جواز اور ثبوت ہاتھ نہ لگ رہا ہو تو اس پر فرضی اور جھوٹا الزام لگا کر اپنے شوق شکار اور ذوق درندگی کی تسکین کرلی جائے۔
اگراپنے اس تجزیہ اور نقطہ نظرکی وجہ سے راقم پرجناب ڈاکٹرعتیقی کااوپر بیان کیا گیا فتویٰ ثابت ہوتا ہے توموصوف تسلی جمع خاطر رکھیں کہ وہ خود بھی اپنے اس فتویٰ کی زد سے بچ نہیں پاتے کیونکہ موصوف تصورجہادکی ’’مرمت‘‘ کرتے ہوئے جہاد کی تعریف ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: 
’’جہاد ظلم وعدوان کے خلاف مسلمان ریاست کے مسلح اقدام کو کہتے ہیں‘‘۔
موصوف کی اس تعریف کے رو سے ریاست کے اندر اور باہر ہر قسم کے ظلم اور زیادتی کو ریاست کا بذریعہ بندوق اور بذریعہ فوجی (جنگی)اقدام ختم کرنا جہاد ہے۔ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ موصوف کی یہ تعریف جہاد کو ایک مذاق اور ایک کھیل بنا کر رکھ دیتی ہے۔لیکن ہم اتنا ضرورکہیں گے کہ جہاد کی اس انوکھی تعریف کی وجہ سے موصوف کا درج بالا فتویٰ زیادہ شدت سے اور پوری شان سے ان پر لاگوضرور ہوجاتاہے۔کیوں کہ مغربی ابلیسی قوتیں امت مسلمہ کی’’جہادوقتال‘‘کے محض تصورات ہی سے وابستگی کو ’’تباہ کن تشدداور دہشت گردی‘‘کا سبب قرار دیتے ہیں۔اور اس معاملے میں ان کے ہاں کوئی فرق نہیں پایا جاتا کہ اگر کوئی فرد ’’جہاد وقتال‘‘کے تصورات سے وابستگی کا اظہار کرے تواسے ’’تباہ کن تشد اور دہشت گردی‘‘ قرار دیاجائے گا اور اگر پوری قوم اور ریاست ’’جہاد وقتال‘‘ سے وابستگی اور عملی تیاری کرے گی تو اسے مغرب کی انسانیت دشمن ابلیسی قوتیں’’تباہ کن تشدد اور دہشت گردی‘‘قرار نہیں دیں گی۔
جہاد وقتال کے قرآنی تصورات کو مسخ کرنے والے اور اس مقدس قرآنی تعلیم کے معاملے میں مداہنت،مصالحت، شرمندگی اور صفائیاں پیش کرنے والے مغرب کی دجالی قوتوں کو اس لیے سازگار ہیں کہ مسلمانوں میں جہاد اور شہادت کے تصورات انسانیت کی کامل تباہی کے ابلیسی ایجنڈے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔مسلمان ریاستوں کے حکمران(چاہے وہ حزب اختلاف میں ہوںیا حزب اقتدار میں)کامل طور پر دجالی تہذیب کے آگے سربسجودہیں۔ایک مسلم ریاست (افغانستان)نے عالمی ابلیسی قوتوں کے جھوٹ،دھوکہ اورفریب کے آگے سرجھکانے سے انکارکیاتھا،تودجال کی نمائندہ قوتیں اس پر ٹوٹ پڑیں اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔بعدمیں افغانستان کی عوام نے اسلام اور جہادکا جھنڈا تھامااور گزشتہ تیرہ سال سے کامل استقامت سے مغرب کی انسانیت دشمن ابلیسی قوتوں سے جنگ آزما ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں دجالی اقدار کا تاحال سب سے بڑا نمائندہ امریکہ افغانستان میں شکست سے دوچار ہے۔پس مسلم ریاستیں اوران کے حکمران عالمی دجالی طاقتوں کا اصل مسئلہ نہیں ہیں۔ان کا اصل درد سروہ مسلم عوام ہیں جو اللہ ورسول سے عشق کا دم بھرتے ہیں،جو مغربی دجالی تہذیب کی بجائے اسلام کو راہ نجات سمجھتے ہیں اورنماز ،روزہ حج اورزکواۃ کی طرح جہاد کو بھی ایک عبادت سمجھتے ہیں۔اس عوام کو گمراہ کرنے کے لیے بے حیائی،دنیا پرستی،عیاشی، آوارگی،خود پرستی اور سودی معیشت کی لعنتوں سے برباد کرنے کی آخری حد تک کوشش کی جاچکی ہے، لیکن اس کے باوجود امت مسلمہ اور انسانیت کے دفاع کے داخلی حصار(ایمان واخلاق)اورخارجی حصار(جہاد)کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں ابلیس تاحال کامیاب نہیں ہوسکا۔
اسی وجہ سے ابلیس کی سکیم تبدیل ہوئی اور امت مسلمہ کے وہ افراد جن کے ایمان واخلاق اور جہاد وقتال کے قرآنی تصورات کوابلیس مکمل طور پر تباہ کرنے میں ناکام ہوگیاتھا،ان میں ایسے مفکرین اور سکالرزکی سرپرستی کی گئی جن کی مساعی کارخ(Shift of emphasis) ایمان واخلاق کی تعمیر کی بجائے فقہی اور فروعی مسائل میں مغرب سے ہم آہنگیاں تلاش کرنے کی طرف پھرچکاہو۔لہٰذا جہاد وقتال کے تصورات کو مسخ کرنے اور اسے عوام کی نظروں سے اوجھل کرنے کے لیے پورے شدومد سے ریاست کے ’’آسمانوں‘‘(جہاں کے حکمران دجالی تہذیب اور اس کے پروگرام کے سامنے کامل طور پر سجدہ ریزہیں)میں چھپانے والے دانشوروں کے لیے دوستی وعنایات کے دروازے کھول دیے گئے۔
یہ نسخہ ابلیسی آلہ کاروں نے اندلس میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے نہایت کامیابی سے آزمائی جانے والی اس سکیم سے اخذ کیاتھا،جس میں مغرب کے گوری چمڑی والے طاقتورعیسائی حکمرانوں نے مسلم عوام کے جذبہ جہادسے محفوظ رہ کراندلس کی چھوٹی چھوٹی کمزور اورنام نہاداسلامی ریاستوں کو زیرکرنے کے لیے خودپرست اور عیاش حکمرانوں کو جھوٹ، دھوکے اور فریب سے لالچ اور طمع دے کر معاہدوں میں جکڑلیا ۔اورپھر ایک ایک کرکے ان مسلم ریاستوں کو ہڑپ کرتے گئے۔رہ گئے مسلم عوام تو وہ ریاست (کے حکمرانوں)سے آخر وقت تک یہی توقع رکھتے رہے کہ وہ ان کی آزادی اور خود مختاری پر سودے بازی اور اسلام سے عظیم غداری کا ارتکاب نہیں کرسکتے ۔ریاست پر حد سے زیادہ انحصاراورمسلم معاشرے کے خارجی دفاعی حصار(جہاد)سے غفلت کے نتیجے میں اندلس کے مسلمانوں کو تاریخ کی عظیم ترین نسل کشی کا سامنا کرنا پڑا۔جس کے نتیجے میں پندرہویں صدی عیسوی کے اختتام کے ساتھ ہی اندلس سے اسلام اور مسلمانوں کا بھی خاتمہ ہوگیا۔انسانی نسل کشی کا یہ نسخہ اندلس کے نئے عیسائی حکمرانوں کے توسط سے نئی دریافت ہونے والی دنیااورنئی کالونی (براعظم امریکہ)برآمد کیاگیا،جسے اگلے تین چار سوسالوں میں امریکہ کے دس کروڑ اصل باشندوں(ریڈ انڈین)کی نسل کشی کے لیے بے حد کامیابی سے آزمایاگیا۔کیونکہ وہاں نہ تو اسلام تھا اور نہ ہی جہاد۔اندلس میں اسلام اور مسلمانوں کے خاتمہ اور انسانیت کی عظیم نسل کشی کے لیے آزمایاجانے والا ابلیسی نسخہ اکیسویں صدی کی عالمی دجالی طاقتوں کا اہم ترین حربہ بن چکا ہے ۔جس کی رو سے عالمی شیطانی تہذیب کے غلبہ کے لیے اورانسانیت کی آخری حد تک تباہی کے لیے ضروری ہے کہ مسلم حکمرانوں(ریاستوں)کو لالچ،فریب اور دھوکہ سے معاہدوں میں جکڑلو اورمسلم ریاستوں کو ابلیسی عالمی مقاصدکی خدمت میں لگادو۔رہ گئے مسلم عوام توان میں ایمان وجہادکی حرارت کو سردکردو۔افسوس مسلم ممالک کے حکمرانوں اور دانشوروں کی عظیم اکثریت دانستہ یا نادانستہ اس ناپاک دجالی منصوبہ کی ادنیٰ خدمتگار بن چکی ہے۔
واضح رہے کہ جس طرح مسلم عوام کو ایمان اور جہاد کی متوازن اور ڈسپلن تعلیم سے روکنا اوردوررکھناابلیسی مشن ہے۔بالکل اسی طرح مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر،مسلم معاشروں میں انارکی،ہلاکت،فسادات اورتباہی پھیلانا بھی ابلیس ہی کا دجالی مشن ہے۔لہٰذا جہاد مسلم معاشرے کی اقدار ،عوام اور سرحدوں کا مقدس ترین دفاعی حصارہے۔مسلم معاشروں کوبم دھماکوں اور خودکش حملوں کے ذریعے تباہی،بدامنی اورانارکی سے دوچارکرنا قطعاً قطعاً جہاد نہیں ہے۔۔۔یہ جہاد کو بدنام کرنے اورجہاد کو فساد ثابت کرنے کا وہ شیطانی منصوبہ ہے میڈیا،دانشور اور صحافیوں کی عظیم اکثریت جس کے ادنیٰ خدمت گار بن چکے ہیں۔ یہ صرف اور صرف ابلیسی آلہ کاروں کا پیدا کردہ فساد ہے،چاہے اس کا ارتکاب اسلام اور ایمان کے کتنے ہی بلند وبانگ دعووں کے ساتھ کیوں نہ کیا جائے۔جہادمسلمانوں کے، کمزور انسانوں کے، اسلامی اقدار کے اور مسلم معاشروں کے امن اورڈسپلن کی حفاظت اور دفاع کانام ہے۔جہاد اہل ایمان کی اجتماعی مسلح قوت کے ذریعے اسلامی اقداراور انسانیت پر حملہ آورمسلح قوت کا اللہ پر یقین اور جنت کی آرزو کے ساتھ مردانہ وار مقابلہ کا نام ہے۔
راقم کا دل اس یقین سے سرشار ہے کہ پاکستان کی پاک افواج اور افغانستان وخیبرپختونخواہ کے پاک دل و پاکبازمجاہدین اپنی تمام تر خامیوں،کمزوریوں اور خطاؤں کے باوجود،انسانیت کی کامل تباہی کے ابلیسی ودجالی منصوبے کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔یہ ابلیسی خونخوار درندوں کے مقابلے میں اسلام اور انسانیت کے دفاع کی وہ آخری چٹان ہے،جسے توڑنا اور تہس نہس کرنامغربی دجالی تہذیب کے نمائندوں کا اہم ترین مشن بن چکاہے۔لہٰذا پاکستانی افواج اورافغانستان ووزیرستان وغیرہ کے مسلم سپاہیوں کونقصان پہنچاناوہ بدترین دہشت گردی ہے،جو عالم مغرب کی عالمی طاقتوں کی آخری تمنا بن چکی ہے۔ جو لوگ اس دجالی منصوبہ بندی کے آلہ کار بن چکے ہیں وہ اسلام اور انسانیت کے بدترین دشمن ہیں۔رہا یہ سوال کہ پاکستانی افواج اور وزیرستان کے مجاہدین (طالبان)کی باہمی آویزش کے نتیجے میں مارے جانے والے سپاہیوں کی کیا پوزیشن ہے تواس میں عادلانہ موقف یہ ہے کہ ہر دومسلم فریقین میں سے جو بھی اسلامی اقدار،اسلامی سرحدوں اوراور مسلمانوں کی جان ومال کی حفاظت کے عزم وارادے سے لڑتا ہواماراگیاوہ شہیدہے۔
تاہم دجالی تہذیب کے اسلام کش و انسانیت دشمن شیطانی ایجنڈاکے مقابل انسانیت کے دفاع کی اس ’’آخری چٹان اور حصار‘‘کی باہمی آویزش کو ہم کسی طور جہاد کا نام نہیں دے سکتے۔ہماری ناقص رائے میں یہ آویزش عالمی استعماری طاقتوں کی طویل منصوبہ بندی اورخوفناک سازش کا نتیجہ ہے۔یہ آویزش غیر فطری اوروقتی ہے۔اس آویزش کے دونوں فریق فطری اتحادی ہیں،لہٰذا یہ آویزش زیادہ دیر چلتی نظر نہیں آتی جس نے بہرحال ختم ہونا ہے اور فطری طور پر ایک عظیم ترین اتحاد کی شکل میں نمودار ہونا ہے،جو ابلیس کے دجالی نمائندوں کے لیے ایک خوفناک ڈراؤنا خواب ہے۔
جہاد بطورتبدیلی کا سیاسی آرگن:راقم کے زیربحث مضمون میں سیاسی تبدیلی کے لیے یا نفاذ اسلام کے لیے جہاد کا تعارف ایک سیاسی ٹول کے طورپرقطعاً نہیں کرایاگیا۔ہاں! ان اہل علم کے رویہ پر نہایت افسوس کا اظہار ضرور کیا گیا ہے جوجہاد کو سیاسی تبدیلی کے آرگن کے طور پرمتعارف کرانے والے حضرات کی جتنی شدت سے نفی کرتے ہیں اتنی ہی شدت سے جمہوریت اور احتجاجی سیاست کے فریب کارانہ کھلونوں کو نفاذ اسلام کے لیے واحد طریق عمل قرار دیتے ہیں۔اوربعض مفکرین اورقائدین (مثلاً تنظیم اسلامی کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم)تو نفاذِ اسلام اور غلبہ دین کانبوی منہاج بیان کرتے ہوئے دورِ نبویﷺ کے جہادمیں اجتہادکا اعلان فرماتے ہیں اور احتجاجی سیاست کو ’’غیرمسلح تصادم‘‘ کا نام دیتے ہوئے اسے عصر حاضرمیں جہاد وقتال کاواحدمتبادل قرار دے ڈالتے ہیں۔جہاد وقتال کی ایک غلط تعبیر ایک نام نہاد اجتہادکو جنم دیتی ہے۔اور پھر عصرحاضرکے فریب کارانہ جمہوری ہتھکنڈوں(احتجاجی سیاست)کواسلامی انقلاب کا واحد منہاج قرار دیتے ہوئے اسے ’’جہاد وقتال‘‘کا تقدس عطا کردیاجاتا ہے۔راقم نے تنظیم اسلامی کی رفاقت کے دنوں میں ڈاکٹراسرار احمد مرحوم سے طویل عرصے(1996سے2002) تک بذریعہ مراسلت اس فکری مغالطہ کی سنگینی اور گمراہی کو مبرہن کرنے کی کوشش کی۔تاہم راقم کو اس کا اعتراف ہے کہ ایک نہایت حقیر کارکن انتہائی بلندیوں پرفائزراہنما کے غلط تیقن اور وجدان کی اصلاح کرنے میں ناکام رہا۔اس راہ میں جوسب جھیلتے ہیں وہ جھیلنا پڑا:
اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری
تنہا پس زنداں، کبھی رسوا سربازار
اپنے زیر بحث مضمون میں بھی راقم نے جمہوریت اور آزادی کے عنوان سے ابلیس کے دجالی فریب کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی ہے۔اور اس فکری خرابی پرنقد کیا ہے جس کے ذریعے ساری دنیا میں فساد کی واحد وجہ مسلمانوں کے ’’جذبہ جہاد‘‘کوقرار دے کر ’’احتجاجی سیاست ‘‘کے جمہوری کھلونوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھمادیاجاتا ہے۔ معاملہ کی خرابی اس وقت نہایت سنگین اور شدید ہوجاتی ہے جب ’’ہمارے نہایت محترم قائدین اور علماء بھی جمہوریت، آئینی جدوجہداورانتخابی و احتجاجی سیاست کواسلام اورمسلمانوں کے لیے بالکل اسی طرح مفید،ضروری اورناگزیر قرار دیتے ہیں جس طرح مغرب کے ملحد،لادین اور سرمایہ پرست اسے اپنے معاشروں کے لیے بے حد مفید،ضروری اور ناگزیر قرار دیتے ہیں۔لہٰذاآج ایک طرف اگرمغرب کے مقتدرابلیسی اور دجالی اذہان دیار مغرب میں رہنے والے انسانوں کی عظیم اکثریت کو جمہوریت ،آئین،انتخابی اور احتجاجی سیاست کے کھلونے دے کران کا ذہنی،جسمانی اور روحانی بدترین استحصال کررہے ہیں تودوسری طرف اہل اسلام کے نہ صرف سیاسی قائدین بلکہ دینی مذہبی راہنما اور مفکرین کی نگاہ میں بھی جمہوریت،آئین، انتخابی اور احتجاجی سیاست کے دجالی کھلونے اہل اسلام کے دکھوں کا واحد علاج اور مداوا ہیں۔‘‘ 
اس تجزیہ کے ساتھ راقم نے اپنے زیر بحث مضمون میں عرض کیا کہ ’’ہماری دینی قوتوں پر ہردم یہ واضح رہنا چاہیے کہ ایمان واخلاق نہ صرف تمام شعبہ ہائے حیات کی اصلاح کا مستقل اورابدی نبویﷺمنہاج اور حل ہے بلکہ انسانی شعبہ ہائے حیات پر ابلیسیت کے جابرانہ اورقاتلانہ حملوں،امن کے خلاف ابلیس کے پیدا کردہ فساد، دہشت گردی اورجنگ کے تدارک کے مستند ترین اور کائنات کے رب کے محبوب ترین علاج ’’جہادوقتال‘‘ کا بھی داخلی محافظ و نگہباں ہے جبکہ جہاد وقتال ایمان واخلاق کا خارجی محافظ ہے۔‘‘۔ نیز یہ کہ ’’ہمارے قائدین اور مفکرین مسلسل، پیہم اور بلاتعطل اس جدوجہد پر اپنی صلاحیتوں کو مرکوز فرمائیں۔اس جدوجہدسے غفلت اورعدم توجہی نے انسانیت کی روح کو ’’موت و حیات‘‘ کی کشمکش میں مبتلا کیا ہوا ہے۔اگرہمارے نہایت محترم قائدین کسی مجبوری یا عذرکی وجہ سے اپنی اصل اور مستقل ذمہ داری نباہنے سے قاصر ہیں تو ہم نہایت ادب سے عرض کریں گے کہ وہ کم از کم امت مسلمہ کے وقاراور اسلام کے نفاذکو ان وقتی ہنگاموں،احتجاجی جلوسوں اور لانگ مارچوں سے مشروط کرنے کا سبق نہ پڑھائیں، جنہیں آزما آزما کرحضرت انسان تھک چکا ہے مگرمنزل ہے کہ ہاتھ لگتی ہی نہیں۔ یہ فرسودہ احتجاجی ہتھکنڈے(بمعنی منظم اورپرامن احتجاجی تحریکیں) کم از کم پچھلے ایک سوسال سے مسلم سیاسی ومذہبی تحریکوں کے زیرعمل ہیں۔۔۔لیکن نتیجہ سب کے سامنے ہے،دنیا میں غلبہ واقتدار اور دین کا احیا تو کیا ہوتا، الٹا ایمان اورمذہب کی رہی سہی قدریں بھی اس راہ میں گم ہوکر رہ گئیں۔سوال کیاجاسکتا ہے کیوں؟ اس کا سادہ سا جواب ہے کہ اضطرار کو اضطرار کے مقام پر رکھنے کی بجائے اسے اوڑھنا بچھونا بنالیاگیا اوراس غیر فطری اصرار اور جنون میں وہ اپنا اصل اور مستقل لائحہ عمل بھلاتے اور پس پشت کرتے چلے گئے۔‘‘
محترم ڈاکٹر عبدالباری عتیقی صاحب دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا ہمارے اس تجزیہ اور تجویز کے کسی ایک جملے سے بھی ان کی طرف سے عائد کیے جانے والے الزامات کو ثابت کیا جاسکتا ہے ۔
آخر میں ہم موصوف کے اس الزام کوجزوی طورپر قبول کرتے ہیں کہ :’’(محمد رشید کی)پوری تحریرقرآن وحدیث کے دلائل سے مکمل طور پر تہی دامن نظر آتی ہے‘‘۔ہم یہ وضاحت پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں کہ ہماری زیربحث تنقیدی تحریر کے براہ راست مخاطب وہ نہایت محترم اہل علم تھے جو ایمان اور جہاد کی اہمیت وعظمت کو براہ راست قرآن وحدیث سے ہم سے بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔تاہم ہمیں خطرہ ہے کہ اگر ہم نے اہل ایمان کی اجتماعی زندگی کے داخلی محافظ ’’ ایمان واخلاق‘‘اورخارجی محافظ’’جہادوقتال‘‘کی اہمیت وعظمت اور تشریح کے لیے قرآن وسنت کے سینکڑوں حوالہ جات سے استدلال کیاتوالشریعہ کو خاص نمبرشائع کرنا پڑجائے گا ،اگرکبھی الشریعہ نے اس موضوع پر خاص نمبر شائع کرنے کا اعلان کیا توڈاکٹر عتیقی کا یہ اعتراض بھی دور کردیاجائے گا،تاہم اس بات کا غالب امکان ہے کہ یہ مقالہ ’’جمہوری ‘‘فریب کاریوں کی تعریف وتحسین، الحاد وآوارگی سے کھیل کوداورخلافت وجہاد کے خالص قرآنی ونبوی تصور کے انکاروفرار سے عاری ہونے کی وجہ سے(ثناخوان مغرب کی نظروں میں) مردودہی قرارپائے گا۔اوراس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ڈاکٹرعبدالباری عتیقی اور اس قبیل کے دیگرلوگ جعلی الزامات اوردیگرخوفناک فتویٰ نما تیروں سے ہمیں چھلنی چھلنی کرنے کے لیے میدان میں نہیں نکل آئیں گے؟
موصوف نے اپنے مضمون کے آخر میں راقم کی ذات پر طعنہ زنی کرتے ہوئے طنزکے نشترچلائے ہیں ۔انسان جب دلیل کے میدان میں ناکام ہوجاتا ہے تووہ اپنی ناکامی کو ہجوگوئی اورطعنہ زنی کی اوٹ میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔اب بھلا ذاتی ہجو گوئی کا کسی کو کیا جواب دیا جائے۔ہم ان کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت فکر عطافرمائے۔درج ذیل دلی کیفیت کے ساتھ ہم اپنے اس طویل وضاحت نامہ کو ختم کرتے ہیں:
غم جہاں ہو،غم دوست ہوکہ تیر ستم
جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں

مادّی ترقی کا لازمہ: واہمہ یا حقیقت؟ چند توضیحات

محمد ظفر اقبال

مئی ۲۰۱۴ء میں وطن عزیزکے مؤقر جریدے ماہنامہ الشریعہ [گوجرانوالہ] میں راقم کا ایک مضمون ’’مادی ترقی کا لازمہ ۔ واہمہ یا حقیقت؟‘‘ شائع ہوا۔ ۱؂ یہ مضمون کسی تحکمانہ جذبے کے زیر اثر نہیں لکھا گیا تھا، بلکہ اس کا واحد مقصد عصر حاضر میں مادی ترقی کے حوالے سے ہم ایسے طالب العلموں کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات و اشکالات کے جوابات کی جستجو تھی۔ راقم نے جو کچھ تھوڑا بہت مطالعہ کیا تھا، اس کے مطابق جو سوالات اور اشکالات قابل جواب معلوم ہوئے وہ اہل علم کی خدمت میں اس خیال سے پیش کردیئے تھے کہ ان کے گراں قدر افکار اس مبحث کو آگے بڑھانے اور خلجان کی رفع کرنے میں ممد و معاون ہوں گے۔ مضمون کی اشاعت کے بعد دو ماہ تک جب اس سلسلے میں کوئی بحث و گفتگو سامنے نہ آئی تو راقم کو یہ احساس ہوا کہ شاید مضمون میں کوئی ایسی بات ہی نہ ہوگی جو عصر حاضر کے سنجیدہ علمی و فکری اذہان کو اس موضوع پر گفتگو کے لیے آمادہ وتیار کرسکے۔ تآنکہ اگست ۲۰۱۴ء میں راقم کے مضمون پر جناب حافظ کاظم عثمان صاحب کا ایک تبصرہ شائع ہوا ۔ ۲؂ یہ امر انتہائی خوش کن ہے کہ حافظ صاحب نے اس مبحث کو آگے بڑھانے میں اپنی معلومات و مطالعے کی حد تک حصہ لیا ۔
حافظ صاحب نے ابتداً ہی اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اسے ’’قابل ستائش‘‘ کی سند سے نوازا اور مغربی عقائد و نظریات کے متعلق راقم کے مؤقف کی ’’مضبوطی‘‘ کا بھی اعتراف فرمایا ۳؂ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راقم نے حافظ صاحب کا مضمون بغور پڑھا۔ حافظ صاحب نے راقم کے پیش کردہ مؤقف پر تو کوئی تنقید نہیں فرمائی البتہ بعض عبارات اور تجزیوں پر اپنا نقطۂ نظر بیان فرمایا ہے۔ ان ہی عبارات کی توضیح اور تجزیوں کی تحلیل میں یہ سطور تحریر کی جارہی ہیں۔ 

مسلمانوں کا مادی زوال: اصل مسئلہ

راقم نے اپنے مضمون کی ابتدا ہی میں لکھا تھا کہ ’’امر واقعہ ہے کہ مسلمان آج مادی ترقی میں بہت پیچھے ہیں‘‘۔۴؂ حافظ صاحب نے اصولی طور پر تو مسلمانوں کی ’’مغلوبیت اور پسپائی ‘‘ کو تسلیم کر لیا ۵؂ مغلوبیت اور پسپائی بالعموم دنیاوی شکست اور مادی زوال ہی کو کہا جاتا ہے آگے چل کر حافظ صاحب نے یہ مؤقف اختیار فرمایا ہے کہ مادی ترقی میں پیچھے ہونا کوئی پریشان کن مسئلہ نہیں ہے حافظ صاحب کا یہ تجزیہ فی الاصل راقم کے سابقہ مضمون کے آخری حصے میں پیش کیے گئے سوالات کے جوابات کی اپنی سی ایک کوشش ہے جو اختلاف کے باوصف قابل قدر ہے۔
اسی بحث میں حافظ صاحب نے طبقہ اشرافیہ [upper class] کے حوالے سے C. Wright Mills کا جو اقتباس درج فرمایا ہے، وہ اسلامی تاریخ کے ضمن میں بالکل ایک اجنبی حوالہ ہے۔ اسلامی تاریخ میں شرف و فضیلت کی بنیاد ’’تقویٰ‘‘ ہے نہ کہ مال و اسباب کی کثرت۔ بلکہ اٹھارویں صدی سے قبل تک قدیم معاشروں میں بھی بڑے لوگ سادگی، فقرو تنگی کو حکمت کا سرچشمہ سمجھتے تھے۔

مسلمان: چار ادوار میں بیک وقت تقسیم: مخمصے کی اصل وجہ

راقم نے مسلمانوں کی بہ یک وقت چار ادوار میں تقسیم پر ایک تجزیہ پیش کیا تھا۔ حافظ صاحب نے اس پر تحریر فرمایا کہ ’’ان چار ادوار کی نشان دہی محترم جناب ڈاکٹر عبد الوہاب سوری صاحب نے اپنے ایک مضمون میں فرمائی ہے ۔۔۔ حیرت ہے کہ اس مضمون کا حوالہ شامل نہیں کیا گیا‘‘۔ ۶؂ حوالہ تو اس وقت درج کیا جاتا جب یہ تقسیم ڈاکٹر عبدالوہاب سوری صاحب کے مضمون سے نقل کی گئی ہوتی۔ اگر توارد اور سرقے میں فرق ملحوظ رہے تو یہ مغالطہ پیش نہیں آسکتا۔ حافظ صاحب کی نشان دہی کے بعد راقم نے ڈاکٹر سوری کا مقالہ پڑھا۔ راقم کے لیے یہ امر انتہائی مسرت و ابتہاج کا باعث ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑے سیکولر علمی ادارے کے شعبہ فلسفہ کے سابق رئیس او ر مغربی افکار و اقدارپر گہری اور بصیرت افروز نظر رکھنے والے بالغ نظر محقق اور استاذ کا تجزیہ بھی وہی تھا ۷؂ جو ایک بوریہ نشین حقیر طالب العلم کا ہے۔۸؂ حافظ صاحب کی کرم فرمائی سے راقم کی ڈاکٹر سوری کے ایک انتہائی قیمتی مقالے تک رسائی ہوئی۔ اب راقم کے لیے یہ امر زیادہ موجب اطمینان و امتنان ہوگا کہ وہ امت مسلمہ کی بہ یک وقت چار ادوار میں تقسیم کو بہ جائے اپنے تجزیے کے ڈاکٹر سوری صاحب کی سند سے بیان کرے، اس سے بات زیادہ مؤکداور مستحکم ہوجائے گی۔ اگر راقم کا یہ مضمون کہیں کتابی مجموعے میں شامل ہوا تو یہ تجزیہ، ان شاء اللہ، ڈاکٹر سوری کی سند پر بیان کیا جائے گا اگر حافظ صاحب ڈاکٹر عبد الوہاب سوری کے فاضلانہ مقالے کی روشنی میں اپنے مضمون کا از سر نو جائزہ لیں تو ان کے بہت سے واہمے دور ہوجائیں گے۔
حافظ صاحب فرماتے ہیں: ’’کیا بیک وقت چار ادوار میں زندہ رہنا صرف مسلمانوں کا مسئلہ ہے؟‘‘ ۹؂ ’’صرف‘‘ مسلمانوں کا مسئلہ ہو یا نہ ہو، مسلمانوں کے لیے مسئلہ ضرور ہے۔ مسلمان روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کے آخری دین اور اس کی بنیاد پر اس مذہب، معاشرے اور تہذیب کے علم بردار ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرما کر اس کی تکمیل کا اعلان فرمایا ۔ مسلمان اللہ تعالیٰ کے آخری پیغام کے حامل اور عالم گیر دین کے داعی ہیں۔ یہ بات اس دین اور اس کے زیر اثر پروان چڑھنے والی تہذیب و معاشرت میں بہ طور جوہر داخل ہے کہ یہ زمانے کی اتباع سے عبارت نہیں بلکہ زمانے کو بدل کر اپنے ساتھ چلادینے کا خوگر ہے اسلام اور امت مسلمہ کے مقابل حافظ صاحب نے جن تہذیبوں کے نشان دہی فرمائی ہے وہ بہ طور دین کسی آخری پیغام کی حامل ہیں اور نہ وہ اپنے اطلاق و نفاذ کے لیے کسی حاکمیت و ریاست کی طالب ہیں۔ جب کہ اسلام شریعت کی تکمیل اورتنفیذ کے لیے لازماً ریاست کا طالب ہے۔

ہندی، چینی و جاپانی تہذیبیں: نظام سرمایہ داری کے ہاتھوں مفتوح

ہندوستانی، چینی اور جاپانی اقوام و تہذیبیں اپنے علامتی وجود کے باوصف مغر ب کے سرمایہ دارانہ نظام کا ایک حصہ بن چکی ہیں۔ ان تہذیبوں کے پیروکاروں کی عملی زندگی میں ان کے داعیان کے تعلیمات مذہبی اعمال اور رسومات کی حد تک تو باقی ہیں لیکن معاشرتی، سیاسی، سماجی، عمرانی اور معاشی زندگی سے ان کی تعلیمات ناپید ہوچکی ہیں تنویری علمیت [Enlightened Epistemology] نے اسلام کے سوا دنیا کے ہر مذہب کو علمیاتی بنیادوں پر اکھاڑ پھینکا۔ عیسائیت نوفلاطونیت [Neo-Platonism]، کانٹ کے ریشنلزم [Rationalism]اور ہیوم کی تجربیت [Empiricism] کا شکار ہوگئی۔ بدھ علمیت، چینی روایات اور رومی قدامت پرستی کسی کو ہیگل اور مارکس کے تصورات [Dialectical Idealism, Historical Materialism] نے مسخر کرلیا قدیم ہندو اور یہودی فکر کو نیطشے اور دیگر وجودی مفکرین [Existentialism] کے فلسفے نے برباد کرڈالا۔ وہ قوم پرستی اور سوشل ڈیموکریسی کا شکار ہوگئیں۔ ۱۰؂
حافظ صاحب نے چین کی مثال خصوصیت کے ساتھ پیش فرمائی ہے۔ عہد حاضر میں اشتراکی ملک ہونے کے باوجود چین کی وابستگی عملاً سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ ہے۔۱۱؂ سرمایہ دارانہ نظم کو اختیار کرلینے کے بعدہی چین نے محیر العقول مادی ترقی ممکن ہوسکی ہے۔ اس ترقی میں عملاً ریاست دخیل نہیں ہے۔۱۲؂

مسلمان: مغربی تہذیب و افکار سے تاثر: ایک تجزیہ

جہاں تک مسلمانوں کا معاملہ ہے تو حافظ صاحب نے خود ارشاد فرمادیا کہ مسلمانوں کا معاشرتی ڈھانچہ دین کی بدولت ’’پوری طرح‘‘ جاہلیت جدیدہ کا شکار نہیں ہوا۔ ۱۳؂ گویا ’’جاہلیت جدیدہ‘‘ سے ’’جزوی‘‘ تاثر قبول کرلینے کو حافظ صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں۔ یہی جزوی تاثر آگے چل کر کلی تبدیلی و تغیر میں ڈھل جاتا ہے۔ مغرب کو بھی یہاں تک پہنچتے، خدا کی موت کا اعلان کرتے اور انسان کو حاکم مطلق گردانتے ۳۰۰سال کا عرصہ لگا۔ تبدیلی کا عمل نجماً نجماً اور جزواً جزواً ہی ہوتا ہے جس کے باعث معاشروں میں پیدا ہونے والی تبدیلی اور مذہب پر رونما ہونے والے تغیر کا احساس نہیں ہوتا مسلمان کس حد تک اس تغیر کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس سلسلے میں جنوبی ایشیا کی تاریخ کے ماہر محقق و مستشرق فرانسس روبنسن کا ایک اقتبا س سابقہ مضمون سے دوبارہ پڑھنا ناگزیر ہے:
For the hundred years Preceding the Muslim revival of the late twentieth century, the Islamic World seemed to be following a path of secularization similar to that on which the Western Christian world embarked some centuries before. Law derived from revelation had been increasingly removed from public life; religious knowledge had steadily lost ground in education; more and more Muslims who were Islamic by Culture but made 'rational' calculations about their lives -- in much the same way as Christians formed in the secular West might to do -- had come forward.۱۴؂ 

مسلمان: تین طبقات کی حتمی تقسیم : ایک الزام

راقم نے عصر حاضر میں مادی ترقی کی بحث میں حصہ لینے والے اہل قلم کو تقریب سخن کے لیے تین طبقات میں تقسیم کرتے ہوئے لکھا تھا:
’’زوال سے دوبارہ کمال کی بازیافت کے لیے حکمت عملی اور لائحہ عمل کے حوالے سے مسلم اہل فکر و قلم بالعموم تین نقاط نظر کے حامی معلوم ہوتے ہیں‘‘۔ ۱۵؂
یہ عبارات بتا رہی ہیں کہ یہ تقسیم حتمی نہیں ہے اس میں اضافہ اور کمی ممکن ہے لیکن حافظ صاحب نے عاجلانہ نتائج تک جست لگاتے ہوئے راقم کے ذمے وہ بات لگادی جو کہی ہی نہیں گئی۔ حافظ صاحب لکھتے ہیں:
’’جب ہم کسی شے کی زمرہ بندی کرتے ہیں اور اس کو ایسے بیان کرتے ہیں کہ جو ہے یہی ہے تو اس سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں‘‘۔ ۱۶؂
راقم کی کسی ایک عبارت سے بھی ایسا مترشح نہیں ہوتا کہ راقم کی پیش کردہ ’’زمرہ بندی‘‘ حتمی، قطعی، یقینی اور ناقابل نظر ثانی ہے تنقید کے وقت اس بات کا تو خیال رکھنا چاہیے کہ مخاطب پر اس ’’جرم ‘‘ کے ارتکاب کی ’’سزا‘‘ جاری نہ کی جائے جو اس نے کیا ہی نہیں۔

مادی ترقی: اہل سنت و جماعت کا نقطہ نظر

حافظ صاحب کا خیال ہے کہ ’’مغرب سے نبرد آزما ہونے کا واحد راستہ مغرب سے کلیۃً بے اعتنا ہوجانا ہے‘‘ ۱۷؂ کفر اور جاہلیت سے بچنے اور محفوظ رہنے کے لیے اس کی اصلیت اور حقیقت سے واقفیت خود دین کی رو سے کس قدر ضروری ہے ، یہ ایک الگ بحث ہے۔ تاہم حافظ صاحب کی مغرب سے کلیۃً بے اعتنائی کی بات اسی وقت ٹھیک ہوگی جب کل امت مغربی افکار و اقدار کی اتباع و تقلید اور اس کی Islamizationکو ترک کر کے بے اعتنائی اختیار کرے۔ صرف چند ایک طبقات کی جزوی بے اعتنائی اسے امت کا اجماعی عمل نہیں بننے دیتی۔حافظ صاحب نے اس زمرے بندی میں تبلیغی جماعت کے عدم ذکر پر بھی شکوہ فرمایا ہے بلا شبہہ تبلیغی جماعت بہت سارے معاملات میں سے کچھ کی جانب ہماری رہ نمائی کرتی ہے جو قابل ستائش اور لائق تقلید ہونے کے باوجود کلی رہ نمائی نہیں ہے۔ جہاں تک حضرات علمائے دیوبند، علمائے بریلوی اور علمائے اہل حدیث کا تعلق ہے تو یہ تینوں طبقات فکر علمی اور فکر ی طور پر منہج اہل سنت سے وابستہ ہیں۔ اصولی و نظری سطح پر یہ تینوں مکاتیب مغرب کے ساتھ خذ ماصفا ودع ما کدر کے اصول کا اطلاق نہیں کرسکتے کیوں کہ اسلام اور مغرب میں وجودیاتی، علمیاتی اور مابعد الطبیعیاتی سطح کا اختلاف ہے امت کا سواد اعظم اہل سنت و جماعت ہی ہے جس کی تفصیل اوپر بیان کی جاچکی ہے۔۱۸؂

صرف مغربی زبان کی تحصیل مادی ترقی کی کلید نہیں

چوتھے نکتے میں حافظ صاحب نے زبان کے حوالے سے راقم کی اس عبارت پر اعتراض فرمایا ہے:
’’مادی ترقی کے حصول کے لیے صرف مغربی زبان اور سائنسی علوم و فنون کی تحصیل و تعلیم کافی نہیں ہے۔ زبان تو علوم کے ابلاغ، اظہار و تفہیم کا محض ایک ذریعہ ہے۔ وہ فکری سرمایہ اور خرد افروزی امر دیگر ہے جو مادی ترقی کا لازمہ ہے۔۱۹؂
حافظ صاحب کا اعتراض یہ ہے کہ زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ وہ کسی تہذیب کی نفسیات، جمالیات اور احساسات کی بھی عکاس ہوتی ہے۔ حافظ صاحب کا بیان راقم کے مؤقف کی تغلیط نہیں، اس پر استدراک و اضافہ ہے۔ زبان کی تحصیل بالعموم علوم عقلیہ کے حصول کے لیے کی جاتی ہے [اسلامی معاشروں میں عربی و فارسی زبان کی تحصیل اس سے مستثنیٰ ہے]، گھروں میں گفتگو کے لیے یہ زبانیں نہیں سیکھی جاتیں۔ یہ عہد حاضر کا جبر ہے کہ مغربی علوم اور اس کے زیر اثر مادی ترقی محض زبان کے سیکھنے پر منحصر نہیں ہے اس کے لیے مغرب کے تین بنیادی عقائد آزادی [freedom]، مساوات[equality] اور ترقی[progress] پر ایمان اور ا س کے مطابق اعمال بجا لانے لازم ہیں۔ ان تین عقائد پر ایمان اورعمل کے بغیر محض مغربی زبان پر عبور مادی ترقی کے لیے نافع نہیں ہوسکتی۔

زبان کی جمالیات اور احساسات کا انعکاس: ایک غلط مثال کا انتخاب

حافظ صاحب نے ’’زبان‘‘ کے مسئلے پر اپنے بیان کو مؤکد بنانے کے لیے ہائیڈگر کا حوالہ پیش فرمایا ہے، قطع نظر اس کے کہ یہ حوالہ معلومات میں اضافے کا سبب بن سکا یہ نہیں اور اس پر کس قدر اضافے اور بحث کی گنجائش موجود ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خودحافظ صاحب پر اس بیان کی تفہیم پوری طرح نہ ہوسکی۔ موصوف نے اس بحث کی تسہیل کی جو مثال دی ہے وہ بہت عجیب ہے۔ حافظ صاحب لکھتے ہیں:
’’اردو میں مخاطب حاضر کے کئی صیغے ہیں، احترام کے رشتوں میں ’’آپ‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے، بے تکلف احباب کو ’’تم‘‘ یا ’’تو‘‘کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے، جب کہ انگریزی میں مخاطب کرنے کے لیے صرف ایک ہی لفظ "You"ہے۔ تو کیا جب انگریز اپنے والد اور احباب کو "You" کہہ کر مخاطب کرتا ہوگا تو ان کی نفسیاتی کیفیت ایک جیسی ہوتی ہوگی؟ کیا یہ دونوں زبانیں بولنے والے اپنے بڑوں کا ایک جیسا احترام کرتے ہوں گے؟‘‘۔۲۰؂
محض لفظ "You"کی مثال سے کسی تہذیب میں فرق مراتب اور ادب آداب کو جانچنے کا حتمی معیار قرار دے دینے کا یہ رویہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ حافظ صاحب کا یہ سارابیان لسانیاتی فلسفے سے عدم واقفیت کا غماز ہے۔۲۱؂ اس سلسلے میں مغربی فلاسفہ کے اقوال سے استناد کی بجائے اگر قرآن مجید ہی سے فیصلہ لے لیا جائے تو سب سے بہتر ہوگا۔ عربی زبان کی تفہیم کے لیے لغت عرب میں قرآن مجید سے برتر و محکم کتاب کوئی اور نہیں ہے۔ قرآن حکیم ہی سے ایک ہی صیغے سے دو متضاد شخصیات سے تخاطب کی مثال دیکھیے، قرآن مجید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اِِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ [۶۸:۴]
اور اسی قرآن پاک میں ابلیس کو خطاب کرتے ہوئے کہا:
فَاخْرُجْ مِنْھَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ [۱۵:۳۴]
اگر کوئی مستشرق پلٹ کر حافظ صاحب والا سوال جزوی تبدیلی کے ساتھ یوں داغ دے کہ جب ایک مسلمان مخاطبت کے لیے ایک ہی صیغے [انک] کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابلیس رجیم دونوں کے لیے پڑھتا ہوگا تو کیا یہاں بھی وہی مسئلہ نہیں پیش آسکتاجو "You" کہہ کر کبھی اس سے باپ اور کبھی بے تکلف دوست مراد لینے والوں کو پیش آتا ہوگا؟ الزامی جواب سے ہٹ خود یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اردو میں ہمیشہ احترام کے رشتوں میں ’’آپ‘‘ ہی کہا جائے۔ اردو بولنے والے مسلمان بالعموم اپنی مناجات اور دعاؤں میں اپنے رب کو ’’تو‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ ماں باپ سے محبت کے اظہار میں بھی ’’تو‘‘ کا لفظ عام مستعمل ہے ، اقبال کا اپنی والدۂ مرحومہ کی یاد میں مشہور شعر ہے:
عمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہی
میں تری خدمت کے قابل جب ہوا، تو چل بسی

مضمون کے اختتام میں ’’ایک گزارش ‘‘کے عنوان سے حافظ صاحب نے جس تندی اور عتاب کا اظہار فرمایا ہے، چوں کہ عصر حاضرمیں یہی اسلوب گفتگو اور انداز تحریر مروج ہے لہٰذا راقم اس سلسلے میں حافظ صاحب کو ایک حد تک معذور خیال کرتا ہے لیکن ایک بات حیران کن ہے اور وہ یہ کہ حافظ صاحب نے راقم کے مضمون پرسکوت اختیار کرنے کے حوالے سے جو اعتراض وارد کیا اور نصیحت فرمائی تھی کہ : ’’اگر ہم خاموش ہوجائیں تو کئی آوازوں سے زیادہ مؤثر ہوجائیں‘‘ ۲۲؂ قطع نظر اس سے کہ یہ اعتراض صحیح بھی ہے یا نہیں، حافظ صاحب نے راقم کے مضمون کی تردید کے لیے وہی طریق اختیار کیا جو طریق خود ان کی نظر میں قابل اعتراض ہے حافظ صاحب کے بہ قول یہ تحریریں عصر حاضر میں لوگوں کے ذہنوں کو مفلوج بنا نے میں مغرب کے ساتھ برابر کی شریک ہیں۔ ۲۳؂ راقم کی تحریر سے کسی کاذہن ملفوج ہوا ہو تو ہوا ہو، حافظ صاحب نے خود اپنی ہی نصیحت کے برعکس سکوت اختیار نہ کر کے ملفوج لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہی فرمایا ہوگا نہ کہ کمی۔
آخر میں ایک سوال یہ ہے کہ پاکستان کے جرائد میں راقم کا ان موضوعات کے حوالے سے شاید یہ پہلا مضمون ہے۔ اس کے باوجود راقم پر یہ تہمت ’’ کہ اس طرح تابڑ توڑ لکھنا بہ ذات خود جدیدیت کی علامت ہے‘‘ حیران کن ہے۔

حواشی

۱- محمد ظفر اقبال، ’’مادّی ترقی کا لازمہ واہمہ یا حقیقت؟‘‘ مشمولہ ماہنامہ الشریعہ، مئی۲۰۱۴ء، صفحات ۳۵-۴۶۔
۲- حافظ کاظم عثمان، ’’مادّی ترقی اور شناخت کا بحران‘‘، مشمولہ ماہنامہ الشریعہ، اگست۲۰۱۴ء، صفحات۳۷-۴۱۔
۳- ایضاً، صفحہ۳۷۔
۴- محمد ظفر اقبال، ’’مادّی ترقی کا لازمہ واہمہ یا حقیقت؟‘‘، صفحہ۳۵۔
۵- حافظ کاظم عثمان، ’’مادّی ترقی اور شناخت کا بحران‘‘، صفحہ ۳۸۔
۶- ایضاً۔
7- Abdul Wahab Suri, "What is Living and What is Dead in Iqbal: A Critical Attempt to Understand Apparently Incommensurable Hermeneutical Circles Prevailing in Iqbal's Thought" in Revisioning Iqbal As a Poet and Muslim Political Thinker, [Gita Dharampal-Frick, Ali Usman Qasmi and Katia Rostetter, eds.], Pakistan: Oxford, 2011. 
۸- محمد ظفر اقبال، ’’مادّی ترقی کا لازمہ واہمہ یا حقیقت؟‘‘، صفحہ۳۵۔
۹- حافظ کاظم عثمان، ’’مادّی ترقی اور شناخت کا بحران‘‘، صفحہ ۳۸۔
۱۰- ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری، ’’عالم اسلام اور مغرب کی کش مکش: نئے تناظر میں نئی تحریکوں کے کام میں تطبیق کی ضرورت‘‘، مشمولہ سرمایہ دارانہ نظام: ایک تنقیدی جائزہ، [مرتب: محمد احمد حافظ]،کراچی: الغزالی پبلی کیشنز، ۲۰۰۹ء، صفحہ۲۲۷۔
۱۱- یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اشتراکیت بھی سرمایہ داری ہی کی ایک شکل ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اشتراکیت کی سرمایہ داری پر تنقید سرمائے کے انفرادی ارتکاز پر ہے اور اشتراکیت سرمایہ داری کی اجتماعی ادارتی صف بندی سے عبارت ہے۔ فی الاصل انفرادی سرمایہ داری [لبرل]اور اجتماعی سرمایہ داری [اشتراکیت] میں کوئی اقداری فرق اور تضاد نہیں۔آزادی [freedom]، مساوات[equality] اور الوہیت سرمایہ پر ایمان لبرل سرمایہ داری اور اشتراکی سرمایہ داری کی اساسی اقدار ہیں۔ لبرل سرمایہ داری جن امور کو فرد [individual] کے لیے روا رکھتی ہے اشتراکی سرمایہ داری ان ہی اقدار کو اجتماعیت [collectivity]کے لیے جائز قرار دیتی ہے۔
12- Jared Diamond, "China, Lurching Giant" in Collapse: How Societies Choose to Fail or Succeed, New York: Viking, 2005, pp. 358-377. 
۱۳- حافظ کاظم عثمان، ’’مادّی ترقی اور شناخت کا بحران‘‘، صفحہ ۳۹۔
14-Francis Robinson, "Secularization, Weber and Islam", in Islam and Muslim History in South Asia, Delhi: Oxford University Press, 2010, p. 122.
۱۵- محمد ظفر اقبال، ’’مادّی ترقی کا لازمہ واہمہ یا حقیقت؟‘‘، صفحہ۳۶۔
۱۶- حافظ کاظم عثمان، ’’مادّی ترقی اور شناخت کا بحران‘‘، صفحہ ۳۹۔
۱۷- ایضاً۔
۱۸- راقم نے عالم اسلام میں گزشتہ دو سو سال سے جاری ’’سائنس زدگی ‘‘اور ’’سائنسی اعتزال ‘‘کے مظاہر اور امت مسلمہ میں زوال کے تجزیوں کے ضمن میں لکھی گئی تالیفات کا ایک تاریخی جائزہ بہ عنوان ’’علوم عقلیہ اور زوال امت‘‘ مرتب کیا ہے۔ یہ لوازمہ ابھی زیر تسوید ہے۔ ان شاء اللہ جلد اشاعت پذیر ہوگا۔
۱۹- محمد ظفر اقبال، ’’مادّی ترقی کا لازمہ واہمہ یا حقیقت؟‘‘، صفحہ۳۷۔
۲۰- حافظ کاظم عثمان، ’’مادّی ترقی اور شناخت کا بحران‘‘، صفحہ ۳۹۔
۲۱- اس سلسلے میں رہ نمائی کے لیے دیکھیے: 
Barry Lee [eds.], Philosophy of Language: The Key Thinkers, New York: Continuum International Group, 2011.
۲۲- حافظ کاظم عثمان، ’’مادّی ترقی اور شناخت کا بحران‘‘، صفحہ ۴۱۔
۲۳-ایضاً۔

گوجرانوالہ میں قادیانی مسئلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گوجرانوالہ شہر کے حیدری روڈ پر رمضان المبارک کی ۲۹ (انتیسویں) شب کو رونما ہونے والے سانحہ کے بارے میں ملک کے مختلف حصوں سے احباب تفصیلات دریافت کر رہے ہیں اور ملکی و بین الاقوامی پریس میں طرح طرح کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے ذمہ دار حضرات کی طرف سے ملنے والی اطلاعات کی روشنی میں میسر معلومات سے قارئین کو آگاہ کر دیا جائے۔ 
حیدری روڈ پر قادیانیوں کے پندرہ بیس خاندان ایک عرصہ سے رہائش پذیر ہیں اور اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ۱۹۹۲ میں اسی محلہ میں ایک واقعہ پیش آیا کہ قادیانیوں نے اپنے مرکز میں ڈش لگا کر احمدیہ ٹی وی کی نشریات کے ذریعہ اردگرد کے نوجوانوں کو ورغلانے کا سلسلہ شروع کیا تو علاقہ کے مسلمانوں نے اس پر احتجاج کیا۔ شہر میں غیر مسلم اقلیتیں ہمیشہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھتی ہیں اور اگر حدود سے تجاوز کی بات نہ ہو تو انہیں برداشت کیا جاتا ہے۔ اس برداشت اور رواداری میں گوجرانوالہ شہر بہت سے دوسرے شہروں سے بہتر روایات رکھتا ہے۔ مگر قادیانیوں کا مسئلہ مختلف ہے اس لیے کہ وہ اپنی دعوت اور سرگرمیاں اسلام کے نام پر کرتے ہیں۔ حالانکہ پوری امت مسلمہ انہیں دائرہ اسلام سے خارج سمجھتی ہے اور پاکستان کے دستور میں بھی انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے۔ لیکن وہ اس فیصلے اور دستور پاکستان کو مسترد کرتے ہوئے اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ و دعوت پر بضد رہتے ہیں جس پر پاکستانی قوم کے ساتھ ساتھ دستور و قانون کو بھی اعتراض ہوتا ہے۔ اس لیے ان کی سرگرمیاں قابل قبول نہیں ہوتیں، اور وہ جہاں بھی ایسا کرتے ہیں اردگرد کے مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔
۱۹۹۲ کے اس واقعہ پر علاقہ کے مسلمان مشتعل ہوئے تو قانون حرکت میں آیا اور قادیانیوں کی ان سرگرمیوں کو روک دیا گیا جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے بین الاقوامی حلقوں سے رابطہ قائم کیا اور کم و بیش ستائیس افراد اس بہانے کینیڈا کا ویزہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور وہ وہیں آباد ہیں۔ اس کے بعد دو عشروں سے زیادہ عرصہ خاموشی کے ساتھ گزر گیا اور ایک محلہ میں رہنے کے باوجود مسلمانوں اور قادیانیوں میں کشیدگی کا کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیا۔ 
رمضان المبارک کی انتیسویں (۲۹) شب کو عاقب نامی ایک قادیانی نوجوان نے صدام حسین نامی مسلمان لڑکے کو فیس بک پر ایک خاکہ بھجوایا جس میں بیت اللہ شریف کی توہین کی گئی ہے۔ یہ تصویر موبائل ریکارڈ پر موجود ہے اور اس کا پرنٹ بھی بعض دوستوں نے سنبھال رکھا ہے۔ دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس میں ایک بد صورت ننگی عورت کو خانہ کعبہ کی چھت پر (نعوذ باللہ) گندگی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک محفل میں وہ خاکہ اور تصویر بعض دوستوں نے مجھے دکھانا چاہی تو میں نے یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ میں اس معاملہ میں بہت کمزور واقع ہوا ہوں۔ یہ توہین آمیز خاکہ جس کیفیت میں بتایا جا رہا ہے میں اسے نہیں دیکھ سکوں گا۔ صدام حسین نے یہ خاکہ دیکھ کر اپنے دو چار دوستوں سے بات کی اور وہ مل کر ڈاکٹر سہیل صاحب کی دکان پر گئے جو پہلے قادیانی تھے اب مسلمان ہیں۔ ان لڑکوں نے ان سے کہا کہ وہ عاقب کو سمجھایں کہ وہ ایسی حرکتیں نہ کرے، یہ ناقابل برداشت ہیں۔ وہیں عاقب بھی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آگیا اور ان کے درمیان خاصی توتکار ہوئی جو بڑھتے بڑھتے اس نوبت تک پہنچ گئی کہ قریب کے قادیانی مکانات کی چھتوں سے اینٹیں اور پتھر برسنا شروع ہوئے۔ عاقب نے صدام اور اس کے ساتھیوں سے کہا کہ جاؤ تم سے جو ہو سکتا ہے کر لو، مجھے کوئی پروا نہیں ہے ، اس کے ساتھ ہی قادیانی لڑکوں میں سے کسی نے فائرنگ بھی کر دی جس سے قریب کی ایک مسجد کے امام مولانا حاکم خان کا تیرہ سالہ لڑکا زخمی ہوگیا جس کی ٹانگ پر گولی لگی تھی۔ علاقہ کے سابق کونسلر مقبول احمد کہتے ہیں کہ وہ اس لڑکے کو اٹھا کر سول ہسپتال لے گئے، اس دوران فائرنگ اور باہمی تصادم کی خبر اردگرد کے محلوں میں پھیل گئی اور لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے۔ محلہ کے پندرہ بیس حضرات یہ دیکھ کر تھانہ پیپلز کالونی گئے اور انچارج تھانہ سے بات کی کہ حالات زیادہ خراب ہونے کا خدشہ ہے اس لیے وہ مداخلت کریں اور وہاں پہنچیں۔ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی دونوں سے ان کی بات ہوئی مگر ان دونوں کو واقعہ میں دل چسپی لینے پر قائل کرنے میں انہیں ڈیڑھ دو گھنٹے لگ گئے۔ 
یہ وہ وقت تھا جب لوگ تراویح کی نماز سے فارغ ہو کر مساجد سے نکل رہے تھے، اس لیے اردگرد محلوں کی بیسیوں مساجد کے نمازی وہاں جمع ہوئے اور ہزاروں افراد کا اجتماع ہوگیا۔ محلہ کے پندرہ بیس سرکردہ حضرات اس وقت تھانے میں پولیس افسران کو قائل کرنے میں مصروف تھے۔ سابقہ کونسلر مقبول احمد زخمی بچے کو لے کر ہسپتال گئے ہوئے تھے۔ ہجوم مشتعل تھا اور کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں تھا، اس لیے مشتعل اور بے قابو ہجوم نے قادیانیوں کے گھروں کا رخ کیا اور انہیں آگ لگانا شروع کر دی۔ اس دوران ضلعی امن کمیٹی کے ارکان قاری محمد سلیم زاہد، مولانا مشتاق چیمہ اور بابر رضوان باجوہ بھی وہاں پہنچ گئے اور صورت حال کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جب پہنچے تو مکانوں کو آگ لگی ہوئی تھی، پولیس ایک طرف کھڑی تھی، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ہجوم نے ایک طرف روکی ہوئی تھیں جبکہ پولیس کے جوان ہجوم کی کاروائیوں سے روکنے اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو راستہ دلوانے میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے تھے۔ اس کے بعد جب ڈی سی او، سی پی او، اور پھر کمشنر صاحب وہاں پہنچے تو انہوں نے کاروائیوں کو رکوانے میں پولیس اور محلہ داروں کی مدد سے موثر کردار ادا کیا اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آگ بجھانے کے لیے وہاں پہنچ پائیں۔ محلہ داروں کا کہنا ہے کہ آتش زنی اور لوٹ مار کے افسوسناک واقعات ہوئے ہیں لیکن محلہ داروں نے اس میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ باہر سے آنے والے نا معلوم حضرات نے ایسا کیا ہے، بلکہ ایک مکان میں پھنسے ہوئے آٹھ دس قادیانی افراد کو محلہ داروں نے ہی وہاں سے نکالا ہے اور اس کوشش میں ایک مسلمان خود بھی جھلس گیا ہے۔ 
اس دوران آتش زنی سے قادیانی گھرانے کی ایک خاتون اور دو بچیاں جاں بحق ہوئیں، رات دو بجے کے لگ بھگ اس صورت حال کو کنٹرول کیا جا سکا اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔ دونوں طرف سے مقدمات تھانے میں درج ہو چکے ہیں اور عید کی چھٹیاں گزارنے کے بعد اس سلسلہ میں سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ 
محلہ کے ذمہ دار حضرات اور امن کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ خانہ کعبہ کی توہین ناقابل برداشت ہے، اس پر عوام کا مشتعل ہونا فطری بات تھی مگر اسے بروقت کنٹرول کرنے میں اگر تھانہ پیپلز کالونی محلہ کے ذمہ دار حضرات سے تعاون کرتا اور ڈیڑھ دو گھنٹے کا وقت وہاں ضائع نہ ہو جاتا تو آتش زنی اور لوٹ مار کے افسوسناک بلکہ شرمناک واقعہ کی نوبت شاید نہ آتی۔

خانقاہ یاسین زئی اور مولانا سید محمد محسن شہیدؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(یہ مضمون مولانا سید محمد محسن شہیدؒ کی زندگی پر لکھی جانے والی ایک کتاب کے لیے تحریر کیا گیا۔)

پنیالہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی خانقاہ یاسین زئی کے بارے میں میرا مبلغ علم اتنا ہی تھا کہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کی زبان سے بارہا اس روحانی مرکز کا تذکرہ سنا ۔ اور اس کی عظمت دل میں بیٹھ جانے کے لیے اتنی بات ہی میرے لیے کافی تھی کہ حضرت مفتی صاحبؒ کی نیاز مندی اور رفاقت میں میری جماعتی اور سیاسی زندگی کے کئی سال گزرے ہیں اور بحمد اللہ مجھے ان کی شفقت و اعتماد کا بھرپور حصہ میسر آیا ہے۔ میں نے انہیں بے پناہ سیاسی زندگی کے دور عروج میں بھی ذاکر و شاغل اور شب زندہ دار پایا ہے جس کی بڑی وجہ اس عظیم روحانی خاندان اور مرکز کے ساتھ ان کی وابستگی بھی ہو سکتی ہے۔ 
اسی طرح درہ پیزو کے جامعہ حلیمیہ کے بارے میں بھی صرف اتنا معلوم تھا کہ وہ صوبہ خیبر پختون خواہ کے بڑے دینی مدارس میں سے ہے۔ وہاں ایک بار حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے ساتھ مجھے بھی حاضر ہونے کی سعادت حاصل ہو چکی ہے اور جامعہ حلیمیہ کے مختلف متعلقین سے وقتاً فوقتاً ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ اس لیے جب حضرت مولانا سید محمد محسن شاہ شہیدؒ ، مہتمم جامعہ حلیمیہ کے بارے میں مجھ سے کچھ لکھنے کی فرمائش کی گئی تو ایک عرصہ تک تردّد رہا کہ جانتا تو کچھ ہوں نہیں لکھوں گا کیا؟ مگر اللہ تعالیٰ بھلا کرے برادر مکرم مولانا ڈاکٹر عبد الحکیم اکبری کا کہ انہوں نے چند ماہ قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں حاضری کے موقع پر حضرت مولانا محمد محسن شاہؒ کے بارے میں اپنی تصنیف مرحمت فرما دی جس کے مطالعہ سے مجھے معلوم ہوا کہ خانقاہ یاسین زئی کا تاریخی پس منظر کیا ہے اور جامعہ حلیمیہ کا اس سے تعلق کیا ہے؟ اور یہ بات پہلی بار میرے علم میں آئی کہ حضرت مولانا سید محمد محسن شاہؒ کا تعلق خانقاہ یاسین زئی کے عظیم روحانی مرکز اور خاندان سے ہے اور جامعہ حلیمیہ بھی در اصل خانقاہ یاسین زئی کے علوم و فیوض کا مظہر ہے۔ 
خانقاہ یاسین زئی میں حاضری کی حسرت رہی ہے جو اب بڑھ گئی ہے جبکہ حضرت مولانا سید محمد محسن شاہؒ کی زیارت و ملاقات کا وہی موقع ذہن میں محفوظ ہے جس کا تذکرہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے ساتھ جامعہ حلیمیہ میں ایک بار حاضری کے حوالہ سے کر چکا ہوں۔ جماعتی پروگراموں میں اور ملاقاتیں بھی ہوئی ہوں گی مگر یاد صرف وہی ہے۔ البتہ جامعہ حلیمیہ کی تعلیمی خدمات اور خانقاہ یاسین زئی کے روحانی فیوض مختلف احباب کے ذریعہ اور متعدد فضلاء کی صورت میں معلوم ہوتے رہتے ہیں اور اس مرکز علوم و فیوض کے لیے مسلسل دعا گو رہتا ہوں۔ 
ہمارے ان اکابر نے اس دور میں جب آج جیسی سہولتیں اور وسائل تصور میں بھی نہیں آسکتی تھیں، دینی علوم اور روحانی فیوض کے فروغ کے لیے دینی مدارس اور خانقاہوں کی صورت میں جو صبر آزما محنت کی ہے وہ یقیناًان حضرات کی کرامت شمار ہوگی جو اسلام کی صداقت و عظمت کا اظہار ہے۔ خاص طور پر برطانوی استعمار کے دورِ استبداد میں جب وہ جنوبی ایشیا میں اسلام کی ہر علامت کو ختم کر دینے کے درپے تھا، ان بزرگوں نے اپنے وجود کو مٹا کر اسلام کی عظمت کا پرچم سر بلند رکھا۔ اور مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے بقول زمانے کی نگاہوں سے اپنی محنت اور جدوجہد کو اوجھل رکھنے کے لیے وہ چٹائیوں اور تپائیوں پر آگئے بلکہ زمین پر بچھ گئے اور اس وقت تک ’کیمو فلاج‘‘ رہے جب تک دنیا کی سازشوں کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں آگئے۔ 
آج کا عالمی استعمار ان مدارس اور خانقاہوں کا سامنا کرنے میں خود کو بے بس محسوس کر رہا ہے اور اس پر اس کی جھنجھناہٹ اب جھلّاہٹ میں بدلتی جا رہی ہے کہ وہ نہ تو ان مدارس اور خانقاہوں کو ختم کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے، نہ ہی ان پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں اسے کامیابی ہو رہی ہے، اور نہ ہی ان کا رخ تبدیل کرنے کے لیے اس کی کوئی سازش کامیاب ہو رہی ہے۔ یہ یقیناًحضرت مولانا سید محمد محسن شاہؒ اور ان جیسے دیگر بزرگوں کے خلوص و محنت پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے صلہ و ثمرہ ہے جس سے نہ صرف اس خطہ کے لوگ بلکہ دنیا بھر کے مسلمان بالواسطہ یا بلا واسطہ فیض یاب ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان اکابر کے درجات بلند سے بلند تر فرمائیں اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ 

تعارف و تبصرہ

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

’’اظہارِ دین‘‘

مصنف: مولانا وحید الدین خاں  
ناشر: 1 نظام الدین ویسٹ نئی دہلی گڈورڈ بکس 110013
صفحات : 719
مولانا وحید الدین خان ہمارے دور کے ایک صاحب طرز ادیب ، انشاء پرداز اور صاحب اسلوب مفکر و مصنف اورداعئ دین ہیں۔ مولانا کی سب سے بڑی خصوصیت مغرب کا وسیع مطالعہ ہے جس میں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔ بدقسمتی سے مولانامسلمانوں کے در میان بعض سیاسی اسباب سے ایک متنازعہ شخص بنے رہے ہیں تاہم ان کے قلم کی تازگی، طبع کی جولانی اور عصری اسلوب میں مضامین تازہ کی آمدمیں کوئی کلام نہیں ۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ ان کے حلقہ میں یہ احساس بڑھاہے کہ مولانا کی متفرق ومنتشر تحریروں کومتعینہ موضوعات کے تحت یک جا کردیا جائے اور حتی الامکان نزاعی بحثوں کو نہ چھیڑا جا ئے ۔ چنانچہ اسی سلسلہ میں پہلے کتاب معرفت آئی اوراب اسی سلسلہ کی دوسری کڑی اظہار دین کے نام سے شائع کی گئی ہے ۔ ان دونوں کتابوں کومیری معلومات کے مطابق مولانا کے معاون خاص مولانا محمد ذکوان ندوی نے جمع کیاہے۔ اظہارِدین دراصل عصری اسلوب میں اسلام کا علمی وفکری مطالعہ ہے۔ یہ کتاب تین ابواب میں منقسم ہے ۔پہلا باب خد ا کی طرف: جدید سائنس کی روشنی میں خدا کے وجود کا اثبات ہے۔ دوسرا باب اسلام اور عصرحاضر ہے۔ اس میں مصنف نے فکرمغرب کی وضاحت کی ہے ساتھ ہی قرآن کا تصورِتاریخ کیا ہے اس سے بھی بحث کی ہے۔ تیسرا باب اسلام اکیسویں صدی میں مختلف عنوانات کے تحت داعیان دین کے لیے لائحہ عمل اور طریقۂ کار کی رہنمائی ہے ۔ خود مولانا کے اپنے الفاظ میں یہ کتاب’’ اسلامی تعلیمات کی عقلی تببین Rational Interpretationکے پہلو سے تعلق رکھتی ہے ۔ اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ اسلام کی اصل آئڈیا لوجی کو اس طرح واضح کیاجائے کہ وہ آج کے ذہن کے لیے قابل فہم Understandable بن سکے۔‘‘(آغازکلام)۔
سائنس اورالحاد ،جدید الحادایک تجزیہ، دورشرک اور دور الحاد ، دورسائنس اور مذہب، حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ، گاڈ پارٹیکل، مذہب اور سائنس ، اسلام اور جدید مغربی تہذیب مغربی کلچر، ماڈرن ایج اور اسلام، انسانی تاریخ کی تعبیر ، قرآن کا تصورِ تاریخ، فکری مستوی کے مطابق خطاب، عصری تقاضے چند قابلِ غورپہلو،تخلیق انسانی کا مقصد ، خلافت کا تصور، قیامت کے دروازے پر، تاریخ انسانی کا خاتمہ اور زندگی کا مقصدوغیرہ اس کتاب کے بڑے اہم مباحث ہیں ۔ ایک بحث میں مصنف نے بتایاہے کہ تاریخ انسانی میں دوعظیم فکری انقلابات آئیں گے جن میں پہلا انقلاب صحابہ کرام سے تعلق رکھتاہے جبکہ دوسرے انقلاب کو مصنف اخوان رسول کے نام سے تعبیر کرتے ہیں ۔اس تقسیم کی بازگشت مولانا کی نئی تحریروں میں باربار ہورہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جس حدیث سے اس سلسلہ میں استدلال کیاجارہاہے وہ سادہ معنوں میں صحابہ کے بعد آنے والے سبھی لوگوں کو اخوان کے لفظ سے تعبیر کرتی ہے۔جس میں تابعین وتبع تابعین بھی آجاتے ہیں۔ اس میں کسی خاص گروہ کو کوئی خاص رول دینے کی بات کہیں نہیں کہی گئی ہے۔پھر اسلامی تاریخ کو دودوروں اصحابِ رسول اور اخوان رسول میں کیونکر تقسیم کیاجاسکتاہے؟
مولاناوحیدالدین خاں کے نزدیک جدیدتہذیب کے تین پہلوہیں۔ ۱۔جدیدسائنسی دریافتیں:یہ ان کے نزدیک اسلام سے مطابقت رکھتی ہیں۔۲۔جدیدکلچر:جس میں بعض چیز یں اسلام سے مطابقت رکھتی ہیں مثلا آزادی اظہاررائے اوربعض اس سے مغایرہیں مثال کے طورپرعریانیت وفحاشی ۳۔جدیدفلسفیانہ افکار :مثلا ڈاورن کا فلسفہ ارتقاء ۔مولانااس تیسرے پہلویعنی فلسفیانہ افکارکوکلیۃً مستردکرتے ہیں۔ارتقاء کا نظریہ ان کے نزدیک مغالطوں پرمبنی ہے اورقطعی طورپرغیرسائنسی نظریہ ہے ۔ جدیدکلچرکی غیراسلامی چیز وں کومصنف مسترد کرتے ہیں لیکن نمبرایک یعنی سائنسی دریافتوں کووہ قبول کرتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو صفحہ 288تا292)۔
یہ بھی واضح رہے کہ سائنس سے مرادمولاناکی نظریاتی سائنس ہے جس کووہ کہتے ہیں کہ: ’’نظریاتی سائنس کامل طورپر معرفت کی سائنس ہے ‘‘جس میں آج کوئی کام نہیں ہورہاہے ۔بیسویں صدی میں اس سائنس میں قابل ذکرپیش رفت ڈاکٹر عبدالسلام 1926-1996 اور سرجمیس جینز 1877- 1946نے کی تھی ۔ ڈاکٹر عبدا لسلام سے پہلے فزکس اورطبیعات کی دنیامیں سائنس دانوں نے یہ مان لیاتھاکہ چارطاقتیں ہیں جوکائنات کوکنٹرول کرتی ہیں ۔ یوں گویا خداکی ضرورت ان سائنس دانوں کی نظرمیں نہیں رہ گئی تھی ۔ مگر ڈاکٹر عبدالسلام نے ’’خالص ریاضیاتی بنیادپر یہ ثابت کیاکہ کائنات کوکنٹرول کرنے والی طاقتیں چارنہیں تین ہیں اسی تحقیق پر ان کونوبل پرائزدیاگیا‘‘۔اوراس کے بعد نظریاتی سائنس میں سب سے بڑاکارنامہ برطانوی سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ 1942) کا ہے جس نے اپنیsingle string theory کے ذریعہ گو یا توحید کوپوری طرح ثابت کردیاہے ۔اس نے بتایاہے کہ ایک ہی قوت ہے جوپوری کائنات کوکنٹرول کرتی ہے ۔ ( صفحہ : 102 )سائنس کی دوسری قسم عملی یا ٹیکنیکل سائنس ہے جس کوانطباقی applied scienceبھی کہتے ہیں اورجوآج دنیامیں ساری ٹیکنالوجی کی ترقیوں کی بنیاد،جدیدمشینی تہذیب کی جنم داتااورسارے شروفسادکی جڑہے۔ ماننزم یا وحدت الوجود(ادویت واد)اورآواگون ( Cycle of life )پر بھی مولانانے مختصرطورپر کلام کیاہے۔ اس کے علاوہ موجودہ مغرب دور میں مقبول تصور انسانی پر وری پر بھی گفتگو کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نظریہ ہیومن ازم کا خلاصہ یہ ہے کہ اس دنیامیں انسان ہی سب کچھ ہے انسان کے اوپر کوئی اورطاقت موجودنہیں ۔ہیومن ازم کے نظریہ کواس طرح بیان کیاجاتاہے سیٹ کی منتقلی خداسے انسان کی طرف (Transfe of seat from God to man)۔ان نظریات کوانہوں نے مؤثراورطاقت وردلائل سے ردکیاہے۔ (دیکھیں صفحہ 184-185 )
اس کتاب میں مختلف عنوانات کے تحت جدید فکر ، جدیدسائنس اورجدید مادی افکارپر مولانانے روشنی ڈالی ہے۔اورخذماصفااوردع ماکدرکے اصول پرعمل کرتے ہوئے مفیدچیزوں کولے لیاہے اور مضر چیزوں کو مسترد کیا ہے ۔اس لیے اسلامی علوم کے طلبہ ،علماء کرام اورداعیان دین کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفیدثابت ہوگا ۔ اس کتاب سے وہ جدیدتہذیب اور مغربی فکرسے اچھی طرح واقف ہوجائیں گے اوراس کے مفید ومضر دونوں پہلوؤں سے ان کوآگاہی حاصل ہوگی ۔مولانانے لکھاہے کہ جدیدالحادکے پیچھے یوں توبہت سے اذہان کام کررہے ہیں لیکن بنیادی طورپر چارمفکرین کواس میں خاص اہمیت حاصل ہے۔وہ چارہیں : آئزاک نیوٹن ، چارلس ڈارون ، سگمند فرائڈ اورکارل مارکس،مولانانے ان چاروں اوران کے نظریات کے بارے میں مختصر اور جامع طورپر جوکچھ لکھ دیاہے وہ بصیرت افروز ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتاہے (ملاحظہ ہوصفحہ 95-99)۔ان کے بارے میں مولانامزیدلکھتے ہیں:
’’وہ چیز جس کوجدیدفکرmodern thoughtکہاجاتاہے اس کے چارنظریاتی ستون ہیں ۔یہ چارنظریاتی ستون خالص علمی اعتبارسے ابھی تک غیرثابت شدہ ہیں لیکن یہی چارنظریات دنیاکے ذہن پر چھائے ہوئے ہیں دنیاکی بیشترآبادی کے لیے یہ چارنظریات گویاسیکولرعقیدہ Secular belief کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔۔۔ان میں سے ایک نظریاتی ستون وہ ہے جس کونظریہ ارتقاء evolution theory کہاجاتاہے جس کے تحت موجودہ زمانہ میں تمام حیاتیاتی مظاہرکی توجیہ کی جاتی ہے ۔۔۔دوسرانظریاتی ستون وہ ہے جس کواصول تعلیل principle of causationکہاجاتاہے اورجس کے تحت تمام طبیعی واقعات کی توجیہ کی جاتی ہے۔۔۔۔تیسرانظریاتی ستون وہ ہے جس میں انسانی شخصیت کی توجیہ خواہش کی بنیادپر کی جاتی ہے یعنی مبنی برخواہش فکرdesire-based thinking۔اس نظریہ کے مطابق انسان کے اندرجوخواہش ہے، وہ اس کی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے ۔۔۔چوتھانظریاتی ستون وہ ہے جوکارل مارکس کے افکارپر مبنی ہے۔ اس کے نظریاتی ستون کومیں اپنے الفاظ میں مبنی برنظام فکر system- based thinkingکہوں گا‘‘(صفحہ 608باختصار)
مولانانے لکھاہے :یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان پوری تاریخ میں بے خبری کے اندھیروں میں بھٹکتارہاہے۔ انسان کی اس بے خبری کوتین عنوان کے تحت بیان کیاجاسکتاہے : 
۱۔آئیڈیل ازم Idealism
۲۔بہیویرازمBehaviourism
۳۔یوٹلٹیرین ازم(افادیت) Utili tarionism مؤخرالذکرکوآسان لفظوں میں کھاؤپیواورخوش رہوکہا جاسکتاہے جس کی ترجمانی بابرنے یوں کی تھی کہ :بابربہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست ۔اس کے بعدانہوں نے جامع ومرکز انداز میں ان تینوں چیزوں کوانسانی تاریخ کے تناظرمیں جائزہ لیاہے ۔
عقل ووحی کے بارے میں مولانانے ایک بڑی خوبصورت بات کہی ہے: ’’عقل reasonاوروحی revelationکوایک دوسرے کا حریف بتانابلاشبہ ایک غلطی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ وحی ایک مستقل ذریعۂ علم ہے جبکہ عقل بذات خود کوئی ذریعۂ علم نہیں ۔خودوحی کی صحت پر جب کوئی شخص یقین کرلیتاہے تووہ بھی یہی کرتاہے کہ اپنی خدادادعقل کواستعمال کرکے اس پر غورکرتاہے اوریقین کے درجہ میں پہنچ کروہ وحی کی صداقت کودریافت کرتاہے ۔اس اعتبارسے یہ کہنا در ست ہوگاکہ عقل وحی کی مددگارہے نہ کہ وحی کی مدمقابل ‘‘(صفحہ 115)
کتاب میں بعض ان خیالات کا اظہاربھی کیاگیاہے جس میں اہل علم کی دورائیں ہوسکتی ہیں۔ مولاناکے اپنے مخصوص تصوردین اوراصلاح ملت یااحیاء دین اوردعوتِ دین کی جھلکیاں بھی جابجااس میں نظرآتی ہیں، مثلاً مولانا کا کہنا ہے کہ اسلامی حکومت کی اصل ضرورت قرآن کی حفاظت کے لیے تھی اوراس زمانہ میں اس کی کوئی ضرورت نہیں رہ گئی ہے وغیرہ، ان خیالات پر اہل علم کواپنی رائے ظاہرکرنی چاہیے۔
مولانا وحید الدین خاں صاحب کے بارے بہت سے لوگ الزام دیتے ہیں کہ وہ ہمیشہ مغرب کی تعریف میں رطب اللسان رہتے ہیں، مگرعلی الاطلاق ایسانہیں ہے جیساکہ اس کتاب کے متعددمباحث سے معلوم ہوتاہے اورجس کی طرف اوپر مختصراًاشارہ کیا گیا ہے ۔
راقم نے اس کتاب کو بے حد مفید پایا۔ تاہم ایک کمی جو واضح طورپر محسوس ہوئی وہ یہ ہے کہ اس پوری کتا ب میں کہیں بھی مرتب کتاب جناب مولانا محمد ذکوان ندوی کا نام نہیں ہے ۔کسی علمی وتحقیقی کتاب کے لیے یہ ایک نقص کی بات ہے۔ مرتب ومدون کا نام نہ دینا سراسر جدید اصولِ تصنیف کے خلاف ہے۔مولانا کو بڑی شکایت یہ ہے کہ مسلمانوں نے ان کا اعتراف نہیں کیا، لیکن خود ان کے ہاں اعتراف تو کجا، چھوٹوں کی حوصلہ افزائی تک نہیں ہوتی۔یا د رہے کہ بین الاقوامی معیار کے جو ناشرین ہیں وہ بھی اکنالجمنٹ کا زبردست اہتمام کرتے ہیں ۔گڈورڈ جیسے بڑے ادارے میں اس چیز کا عدم اہتمام حیرت انگیز ہے۔

ایک علمی و فکری ورکشاپ کی روداد

محمد عثمان فاروق

لاہور کے ایک تعلیمی ادارے النّحل نے 11 جون تا 21 جون 2014ء ایک اہم ورکشاپ کا انعقاد کیا جس کا عنوان حسب ذیل تھا: ’’دینی فکر اور علم جدید: تنازعات کی وجوہات اور مفاہمت کی ممکنات‘‘۔کم و بیش تیس طلبہ نے اس میں شرکت کی جس میں NUST یونیورسٹی اسلام آباد، LUMS یونیورسٹی لاہور، پیر محمد کرم شاہ ازہریؒ کے قائم کردہ ادارہ دارالعلوم غوثیہ بھیرہ شریف اور قرآن اکیڈمی لاہور کے فارغ التحصیل طلبہ سر فہرست تھے۔ادارہ النحل کے سربراہ اور LUMS یونیورسٹی کے پروفیسر جناب ڈاکٹر باسط بلال کوشل صاحب نے تعلیم و تدریس کی ذمہ داری سر انجام دی۔ 
ڈاکٹر صاحب وسیع المطالعہ مفکر، محقق و نقاد، اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔ (واضح رہے کہ ڈاکٹر صاحب کی کتب انگریزی زبان میں ہیں)۔ مذہب، فلسفہ، سماجیات (Sociology) اور مغربی علوم و افکار پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ 2003ء میں انہوں نے Drew یونیورسٹی امریکہ سے ڈاکٹریٹ (Ph.D) کی۔ آپ کے تحقیقی مقالے (Thesis) کا موضوع Sociology of Religionتھا۔ 2011ء میں Virginia یونیورسٹی سے مندرجہ ذیل عنوان پر دوسری پی ایچ ڈی کی:
Max Weber, Charles Peirce and the Integration of Nature and Geisteswissenschaftern 
ڈاکٹر صاحب کی دین کے ساتھ بے پناہ وابستگی اور دعوت و نصرت دین کا جذبہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ سے تعلق کا مرہون منت ہے۔ ان کی ابتدائی دینی تعلیم و تربیت قرآن اکیڈمی ماڈل ٹاؤن لاہور میں ہوئی۔ اگرچہ انہیں دین کی انقلابی فکر سے کچھ زیادہ اتفاق نہیں ہے اور نہ ہی باضابطہ طور پر ڈاکٹر اسرار صاحب کی قائم کردہ جماعت سے رفاقت کا تعلق ہے لیکن وہ ڈاکٹر اسرار صاحب کی اولین تحریروں میں سے ایک مختصر مگر جامع تحریر ’’اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور کرنے کا اصل کام‘‘ میں پیش کیے گئے نکات اور نتائج فکر کو خاصی اہمیت دیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ماضی قریب کے مفکرین میں سے علامہ اقبال، ڈاکٹر رفیع الدین، Charles Peirce اور Max Weber سے خاصا استفادہ کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ان مستثنیات میں سے ہیں جو عصر حاضر کے علوم و افکار خاص طور پر مغربی فکر و فلسفہ اور سماجیات و سائنس سے براہ راست اولین مصادر و مآخذ (Sources) کے ذریعے واقف ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بہت کم شخصیات ایسی ہیں جو دینی علم کے ساتھ ساتھ جدید علم پر بھی گہری نظر رکھتی ہوں۔ 
ورکشاپ میں منتخب مطالعاتی مواد (Reading Pack) کا مطالعہ کروایا گیا جس کے اجزا یہ تھے:
۱۔ امام غزالیؒ کی آپ بیتی ’’المنقذ من الضلال‘‘ کے منتخبات جس میں امام صاحب نے تلاش حقیقت کے اپنے سفر کو پوری شرح و بسط سے لکھا ہے۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادیؒ کی آپ بیتی کا وہ حصہ جس میں انہوں نے اپنے دس سالہ دورِ الحاد و تشکیک کی مفصل روداد بیان کی ہے۔ اور ان عوامل و محرکات کا جائزہ لیا ہے جو ان کی راہ راست سے انحراف کا باعث بنے۔ بعد میں اسلام کی طرف بازگشت کو موضوع بنا کر قدرے تفصیل سے اپنے تاثرات اور مشاہدات کا اظہار کیا ہے۔ 
ج۔ ڈاکٹر رفیع الدین صاحب کی کتاب ’’قرآن اور علم جدید‘‘ کے منتخب مقامات بھی پڑھائے گئے جس میں ڈاکٹر رفیع الدین صاحب نے عصر حاضر میں مغربی فکر و فلسفہ اور جدید سائنسی علوم کے زیر اثر اسلام کو علمی و نظریاتی سطح پر درپیش تحدیات (Challenges) کا جائزہ لیا ہے اور اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جہد و عمل کا ایک خاکہ (Outline) پیش کیا ہے۔ 
د۔ عالم مغرب کے معروف فلسفی اور مفکر تعلیم جان ڈیوی کی کتاب ’’فلسفے کی نئی تشکیل‘‘ کے منتخب ابواب (Selected Cahpters) بھی شامل نصاب تھے، جس میں فلسفے کی تاریخ، مقاصد و اہداف، ارتقائی علمی و فکری مراحل، فلسفے اور سائنس کا باہمی تعلق، حقیقت تک رسائی کے لیے عقل محض کے ذریعے فلسفیانہ طریقہ کار، فلسفے کی نئی تشکیل کے لیے تاریخی و سماجی عوامل اور سائنسی محرکات جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔ 
ڈاکٹر صاحب نے اس خشک اور دقیق موضوع کو بڑی خوبصورتی اور دل نشین انداز میں واضح کیا۔ ڈاکٹر باسط کوشل صاحب کی فکر اور دعوت کے بارے میں راقم کا احساس یہ ہے کہ یہ عوام سے کہیں زیادہ خواص سے متعلق ہے، یعنی وہ معاشرے کے ذہین اور تعلیم یافتہ طبقے جسے ذہین اقلیت کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا، کو اس بات کی ترغیب ہے کہ وہ ایک طرف کتاب و سنت کا صحیح فہم حاصل کریں، دینی روح اور اس کے مزاج سے شناسائی حاصل کریں، اور دوسری طرف جدید علوم و افکار سے گہری واقفیت حاصل کر کے اسلام کے آفاقی پیغام کو پورے اعتماد، فکری وضوح (Clarity) اور بہترین عقلی استدلال کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں اور دور جدید کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے دعوت دین کا فریضہ بحسن و خوبی سر انجام دینے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔ 
المنقذ من الضلال اور مولانا دریا آبادی کی آپ بیتی (Autobiography) کا مطالعہ کرواتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے اس بات کی طرف بطور خاص توجہ دلائی کہ امت مسلمہ کی دینی علمی روایت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں مسلمان اہل علم و دانش نے اپنے عہد کے مروجہ علوم و افکار اور نظریات پر کامل دسترس حاصل کی اور پھر اسلام کی ایسی متوازن علمی و نظریاتی تعبیر پیش کی جس سے لوگوں کے قلوب و اذہان اسلام کی تعلیمات سے ہم آہنگ ہوئے اور وہ لوگ جو غیر اسلامی افکار سے متاثر ہو کر الحاد، دہریت، لا ادریت، شک و ارتیاب کی دلدل میں پھنس گئے تھے، جلد ہی صحت یاب ہوگئے اور اسلام پر ان کا قلبی و عقلی اعتماد نہ صرف بحال ہوا بلکہ اس میں پہلے سے کہیں زیادہ پختگی پیدا ہوگئی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اسلام کو ہر دور اور ہر زمانے میں مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن مسلمان مفکرین و علماء بھی اس سے بے خبر نہیں رہے، بلکہ انہوں نے اسلام پر ہونے والے ہر نظریاتی حملے کا مسکت جواب دیا ہے۔ امام ابن تیمیہؒ کی ’’الردّ علی المنطقیین‘‘، امام غزالیؒ کی ’’تہافۃ الفلاسفہ‘‘ اور شاہ ولی اللہؒ کی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ڈاکٹر رفیع الدین صاحب کی کتاب ’’قرآن اور علم جدید‘‘ کے اقتباسات کا مطالعہ کرواتے ہوئے ڈاکٹر باسط صاحب نے ایک چشم کشا بات کہی کہ مغربی فکر و فلسفہ کے گمراہ کن افکار و تصورات کے زیر اثر مسلم سماج میں عوام میں بالعموم اور خواص بالفاظ دیگر جدید تعلیم یافتہ طبقہ میں بالخصوص ایک طرح کا ذہنی ارتداد ایک عرصے سے شروع ہو چکا ہے۔ خدا، وحی، روح اور آخرت جیسے بنیادی دینی مقدمات اب لوگوں کو فرسودہ اور بے معنی معلوم ہوتے ہیں۔ شکم و فرج کے تقاضوں کو پورا کرنے کی دھن ہر عام و خواص پر سوار ہے جس کے نتیجے میں دنیا، عقلِ محض، مادی جسم ہی سب کچھ سمجھا جانے لگا ہے۔ 
دور جدید کے افکار میں الحاد، لا ادریت، لا دینیت، مادہ پرستی، تحلیل نفسی، منطقی اثباتیت، وجودیت، تجرباتیت، کرداریت، میکانکی ارتقاء، اور سیکولر ازم کے باطل نظریات کی تند و تیز یلغار نے ہمیں دین سے برگشتہ کر دیا ہے اور ہماری نئی نسلوں کو شکوک و شبہات کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان مغالطہ انگیز اور غارت دین و ایمان افکار و نظریات کا باریک بینی سے مطالعہ کریں اور ایسا بیانیہ جواب (Counter Narrative) تیار کریں جو نہ صرف اسلام کے چہرے سے بد نما دھبوں کو دور کرے بلکہ اس میں ایسی دل کشی اور جاذبیت پیدا ہو کہ دنیا اسلام کی فطری کشش کو محسوس کرے اور خدا رخی زندگی گزارنے کے قابل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں دین کی تعبیر جدید پیش کرنا ہوگی جو ایک طرف ہماری مستند علمی و دینی روایت کی مظہر ہو اور دوسری طرف جس میں جدید دور کے تقاضوں اور سماجی عوامل کا پورا پورا خیال رکھا گیا ہو۔ دین کو مختلف آمیزشوں اور افراط و تفریط سے پاک کر کے اعلیٰ علمی، عقلی اور نظریاتی سطح پر پیش کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر صاحب نے روایتی دینی حلقوں، جماعتوں اور تحریکوں پر بھی کڑی تنقید کی جو اپنے اپنے خولوں میں مقید ہو کر بس اپنی مخصوص فکر، ضابطے کی سرگرمیوں اور فروعی و فقہی نزاعات میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ ان کی ترجیحات میں اپنی تحریک کا فروغ اور اپنے مسلک کی نشوونما و بقا ہی رہ گیا ہے اور مسلم سماج کو درپیش مسائل سے انہوں نے صرف نظر کیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی نقد اپنے تلخ لب و لہجہ کے باوجود اصولی طور پر درست ہے، لیکن راقم کا مشاہدہ ہے کہ بعض اوقات مخلص علماء و محققین اور داعیان کے بارے میں شدید غلط فہمی پیدا کرتی ہے اور سننے والا یہ تاثر لیتا ہے کہ شاید علماء دین تو بس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور کچھ بھی بات نہیں کر رہے۔ حالانکہ یہ حقیقت واقعہ ہے کہ قحط رجال کے اس گئے گزرے دور میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دین کی حفاظت، دعوت، اشاعت اور تحقیق و تعلیم کا کام پورے اخلاص، محنت سے کر رہے ہیں جو نہایت قابل قدر اور حوصلہ افزا بات ہے۔ 
ڈاکٹر صاحب نے ایک اہم بات یہ بھی کہی کہ بعض لوگ جو دین کی نصرت و دعوت کا بے پناہ جذبہ رکھتے ہیں اور جن کا خلوص ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے وہ علم جدید خصوصاً سائنس کی ہر تحقیق اور مثبت ایجاد و دریافت کی تردید کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں جس سے لوگوں میں دین کا یہ منفی تاثر جاتا ہے کہ شاید مذہب ہر نئی بات کی، خواہ وہ کتنی معقول اور مدلل ہو، نفی کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایسے مخلص و جذباتی مگر کوتاہ نظر لوگوں کے لیے ’’نادان دوستوں کی نصرت دین‘‘ کی تعبیر اختیار کی جو در حقیقت امام غزالیؒ کے الفاظ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہ طرز عمل اختیار کرنے سے ہم لوگ خود اپنے مقدمے کو کمزور کر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیا:
الکلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن فحیث وجدھا فھو احق بھا۔ (جامع الترمذی)
ترجمہ: حکمت و دانائی تو مومن کی گمشدہ متاع ہے، وہ اسے جہاں پائے، وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ علم و تحقیق کی بات کو مشرق و مغرب میں نہیں بانٹنا چاہیے، یہ تو ساری انسانیت کی مشترکہ میراث ہے جس سے بغیر تعصب و امتیاز کے استفادہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہر حال میں علمی دیانت کے اصولوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ یہ کوئی علمی اور اخلاقی طریقہ نہیں ہے کہ ہر کسی بات یا تحقیق جدید کو محض اس وجہ سے قبول نہ کریں کہ وہ مغرب سے منسوب ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ہم کسی نظریہ یا فکر کو دین مخالف سمجھ کر رد کر دیتے ہیں، لیکن وہ ہو سکتا ہے فی الواقع دین سے متضاد نہ ہو بلکہ ہمارے فہم یا تعبیر و توجیہ سے ٹکرا رہی ہو اور ظاہر بات ہے کہ تعبیر و تشریح دین ایک انسانی اور اجتہادی معاملہ ہے جس میں غلطی و خطا کا امکان برابر موجود رہتا ہے۔ ویسے بھی یہ بات تو بدیہی ہے کہ وحی اور عقل سلیم میں کوئی تضاد و نزاع نہیں ہے، خدا کی معرفت آیات انفسی و آفاقی پر غور کرنے سے ملتی ہے اور جدید سائنس انفس و آفاق پر غور و تدبر کی طرف ہی گامزن ہے۔ ڈاکٹر رفیع الدین مرحوم نے بالکل بجا کہا کہ قرآن خدا کا کلام ہے اور کائنات خدا کا کام (صنعت و کاریگری) ہے۔ لہٰذا خدا کے کلام و کام میں فرق و تفاوت نہیں ہو سکتا۔ 
ورکشاپ شیڈول کے مطابق نماز عصر سے مغرب تک روزانہ کسی مہمان مقرر کا لیکچر ہونا تھا، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر ایسا نہیں ہو سکا۔ صرف دو مہمان مقرر تشریف لائے جن میں علامہ اقبال مرحوم کے نواسے میاں اقبال صلاح الدین صاحب نے اقبال کے حالات زندگی اور قرآن سے شغف و انہماک پر گفتگو کی جبکہ LUMS سے تشریف لانے والے ڈاکٹر طارق جدون صاحب نے سائنسی طریقۂ تحقیق پر روشنی ڈالی۔ ادارہ النحل کی انتظامیہ سے گزارش ہے کہ آئندہ ایسی ورکشاپس دیگر علمی و تحقیقی شخصیات کو بھی مختلف موضوعات پر محاضرات کی دعوت دی جائے جن میں جناب احمد جاوید صاحب (ڈپٹی ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی لاہور)، ڈاکٹر ابصار احمد صاحب (شعبہ فلسفہ پنجاب یونیورسٹی)، ڈاکٹر محمد امین (مدیر البرہان، لاہور) اور مولانا یوسف خان صاحب (شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ) جیسے اصحاب علم و فضل شامل ہیں۔ 
جناب ڈاکٹر باسط بلال صاحب اور ادارہ النحل کی پوری ٹیم کا بے حد شکریہ جنہوں نے اس ورکشاپ کا اہتمام کیا، طلبہ کے قیام و طعام اور دیگر سہولیات کا خاطر خواہ بندوبست کیا۔ جناب ڈاکٹر احمد بلال صاحب بھی خصوصی شکریے کے مستحق ہیں جو طلبہ کے ساتھ نہایت محبت اور تواضع کے ساتھ متعلق رہے اور وقتاً فوقتاً طلبہ سے تجاویز و آرا (Feedback) لیتے رہے اور Assignments بھی لیتے رہے۔