اکتوبر ۲۰۱۴ء

’’دہشت گرد‘‘ کا موقف اس کی زبانیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دستور پاکستان اور عالمی لابیاںمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اسلامی ممالک میں مذہبی انتہا پسندی: اسباب اور حلمولانا مفتی محمد تقی عثمانی 
ڈاکٹر محمد شکیل اوج شہیدخورشید احمد ندیم 
علماء دیوبند کا اجتماعی مزاج اور فکری رواداریحافظ خرم شہزاد 
مسجدِ اقصی کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات ۔ تفصیلی و تنقیدی جائزہ (۲)مولانا سمیع اللہ سعدی 
قرآنی تدبرِ کائنات: روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی؟ (کرم فرماؤں کی خدمت میں جوابی توضیحات)مولانا محمد عبد اللہ شارق 
تحریک انسداد سود کی رابطہ کمیٹی کا اجلاسمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
مولانا مسعود بیگ اور ڈاکٹر شکیل اوج کا المناک قتلمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
علماء دیوبند ۔ مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی کا مکتوبادارہ 
الشریعہ اکادمی میں علمی و فکری نشستیںمولانا محمد عبد اللہ راتھر 
انسانی صحت کے لیے حرارت کی اہمیتحکیم محمد عمران مغل 

’’دہشت گرد‘‘ کا موقف اس کی زبانی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

میری اس گزارش پر بعض دوستوں کو الجھن ہوتی ہے کہ کسی کے بارے میں یک طرفہ بات نہیں کرنی چاہیے اور اگر کسی فرد یا گروہ کے بارے میں کوئی شکایت یا اعتراض ہو تو اس سے بھی پوچھ لینا چاہیے کہ تمہارا موقف کیا ہے؟ اس کا موقف از خود طے کرنے کی بجائے اس سے دریافت کرنا چاہیے اور اگر وہ کوئی وضاحت پیش کرے تو اسے یکسر مسترد کر دینے کی بجائے اس کا سنجیدگی اور انصاف کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے۔ ہمارے ساتھ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے یہ معاملہ جاری ہے کہ اکابر علماء دیوبند پر گستاخ رسولؐ ہونے کا الزام مسلسل دہرایا جا رہا ہے۔ عبارات پیش کی جا رہی ہیں اور فتوؤں پر فتوے جاری ہو رہے ہیں۔ مگر اس حوالہ سے خود ان اصحابِ عبارات نے جو تحریری وضاحتیں پیش کی ہیں اور اکابر علماء دیوبند نے متنازعہ مسائل پر جو موقف بیان کیا ہے، اسے قبول نہیں کیا جا رہا اور یہ کہا جا رہا ہے کہ علماء دیوبند کا موقف وہ نہیں ہے جو وہ خود بیان کرتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو معترضین نے ان کی عبارات سے سمجھ رکھا ہے۔ 
اس تناظر میں آج کا ایک اہم مقدمہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں جو رفتہ رفتہ دنیا کا سب سے بڑا مقدمہ بنتا جا رہا ہے، اور وہ ہے اس نوجوان کا مقدمہ جو خود کو مجاہد کہتا ہے لیکن دنیا نے اسے دہشت گردی کا ٹائٹل دے رکھا ہے اور اسے صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لیے دنیا میں ہر طرف نہ صرف طاقت کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر متحدہ محاذ قائم کر کے یہ عزم ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کو دنیا میں کہیں بھی زندہ رہنے کا حق نہیں دیا جائے گا۔ 
آج جی چاہتا ہے کہ اس مجاہد یا دہشت گرد کا مقدمہ خود اس کی زبان میں پیش کروں، خاص طور پر اس لیے بھی کہ اسے اپنی پوزیشن واضح کرنے یا اپنا موقف اور جذبات پیش کرنے کے لیے ابلاغ اور لابنگ کا کوئی فورم میسر نہیں ہے اور میڈیا کے تمام مؤثر ذرائع کے دروازے اس کے لیے شجر منوعہ کا درجہ اختیار کر چکے ہیں۔ البتہ یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ اس موقف سے یا اس میں سے کسی بات سے میرا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ میں اپنا موقف متعدد تحریروں میں بیان کر چکا ہوں اور ضرورت محسوس ہونے پر پھر بھی کسی موقع پر بیان کر سکتا ہوں۔ اس لیے آج صرف اس نوجوان کی بات کرنا چاہتا ہوں جو ہتھیار بکف ہے اور اپنے زعم میں اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی، اسلام کے غلبہ، کفر و طاغوت کے خاتمہ اور قرآن و سنت کی روشنی میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھے ہوئے دنیا کے مختلف محاذوں پر صف آرا ہے۔ وہ فلسطین میں بھی ہے، عراق و شام میں بھی ہے، افغانستان میں بھی ہے، کشمیر میں بھی ہے، نائجیریا اور صومالیہ میں بھی ہے، شیشان و ترکستان میں بھی ہے، اور فلپائن و اراکان میں بھی ہے۔ اسے مجاہد کی فریاد کا عنوان دیں یا دہشت گرد کا مقدمہ کہہ لیں آپ کی مرضی ہے۔ لیکن اس کی بات ضرور سنیں اور اس پر غور بھی کریں کہ جس صورت حال سے وہ دوچار ہے اس کے اسباب و عوامل کیا ہیں اور وہ کون سے حالات ہیں جنہوں نے اسے اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ 
اس کا کہنا ہے کہ:
  • میں ایک مسلمان ہوں اور قرآن و سنت پر ایمان رکھتا ہوں۔ مجھے قرآن و سنت میں بتایا گیا ہے کہ ایک مسلمان معاشرے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات و فرامین کی عملداری قائم ہونی چاہیے اور ایک مسلمان حکومت کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ میں قرآن و حدیث کو کسی دینی مدرسہ میں پڑھوں، کالج اور یونیورسٹی میں اس کی سہولت میسر آجائے، یا قرآن و سنت کی تعلیمات تک رسائی کا کوئی اور ذریعہ مل جائے، احکام و قوانین اور نظام کے حوالہ سے قرآن و سنت کی تصریحات میں مجھے کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا اور دنیا میں کہیں بھی چلا جاؤں ان کے معنی و مفہوم میں یکسانیت ہی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن جب عملاً دیکھتا ہوں تو مجھے یہ عملداری کسی مسلمان معاشرے میں نظر نہیں آتی اور کوئی مسلمان حکومت اس کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔ مجھے بتایا جاتا ہے کہ مسلمان حکومتیں اس وجہ سے اس کے لیے تیار نہیں ہیں کہ آج کا عالمی نظام ان کو اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اور مروجہ بین الاقوامی سسٹم اور معاہدات میں اس کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ 
  • میں یہ منظر دیکھ رہا ہوں کہ دنیا کے ہر ملک میں عوام کو یہ حق دیا گیا ہے کہ ان کی اکثریت اپنے وطن کے لیے جس نظام کو پسند کرے اور جن احکام و قوانین کو نافذ کرنا چاہے، انہیں اس کا حق حاصل ہے۔ لیکن کسی مسلمان ملک کا یہ حق تسلیم نہیں کیا جا رہا کہ اس کے عوام کی اکثریت خود اپنے ملک میں اپنے دین و مذہب کے احکام و قوانین کا نفاذ کر سکے۔ دنیا نے دیکھا ہے کہ الجزائر اور مصر میں عوام کے اکثریتی فیصلوں کو مسترد کر کے ان پر آمریت مسلط کر دی گئی ہے اور پاکستان کے عوام کی اکثریت اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے نفاذ اسلام کا دستوری حق حاصل کرنے کے باوجود اس سے محروم ہے، بلکہ سیکولر عالمی فورمز پاکستانی عوام کے منتخب نمائندوں کے طے کردہ اس دستور کو ختم کرانے کے درپے ہیں۔
  • یہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ دو مسلمان ملکوں انڈونیشیا اور سوڈان کی تقسیم ہوئی ہے اور غیر مسلم مسیحی آبادی کو اکثریتی مسلم آبادی سے الگ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ذریعہ ریفرنڈم کروا کر ان کی الگ ریاستیں قائم کر دی گئی ہیں، لیکن کشمیر میں اقوام متحدہ کے باضابطہ فیصلہ کے باوجود اس ریفرنڈم سے عمداً گریز کیا جا رہا ہے اور اس سلسلہ میں بین الاقوامی معاہدات اور جنرل اسمبلی کی قراردادیں عالمی استعمار کے سامنے بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ 
  • فلسطین میں وہاں کی قدیمی آبادی کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے میں اسے نہیں بھول سکتا۔ اسرائیل گزشتہ نصف صدی سے امریکہ اور یورپ کی سرپرستی بلکہ پشت پناہی سے مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و ستم کا جو بازار گرم رکھے ہوئے ہے، اس سے عالمی امن کے چودھریوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اور خاموشی کے ساتھ یہ انتظار جاری ہے کہ آہستہ آہستہ فلسطینیوں کی قوت مزاحمت بلکہ ان کا وجود بھی ختم ہو جائے تاکہ پورے مشرق وسطیٰ پر اسرائیل کی چودھراہٹ مسلط کرنے اور مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے بارے میں عالمی استعمار کے ایجنڈے کو مکمل کرنے کی راہ ہموار ہو۔ 
  • مجھے یہ کہا جا رہا ہے کہ فلسطین ہزاروں سال قبل یہودیوں کا وطن تھا اس لیے اس زمین پر ان کا حق ہے، لیکن کوئی یہ بتانے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اندلس پر مسلمانوں نے کئی صدیاں حکومت کی ہے، وہاں ان کا حق کیوں نہیں ہے۔ اور بنگلہ دیش کے پڑوس میں اراکان پر صدیوں مسلمانوں کی حکومت رہی ہے، آج بھی اس پٹی میں مسلم آبادی اکثریت میں ہے، لیکن انہیں وہاں کا باشندہ تسلیم نہیں کیا جا رہا، اور انہیں بے وطن کرنے کے لیے قتل و غارت اور ریاستی دہشت گردی کا عذاب ان پر مسلط کیا گیا ہے، اس پر اقوام متحدہ زبان جمع خرچ سے آگے کیوں نہیں بڑھ رہی؟
  • افغانستان میں روسی استعمار کے تسلط کے خلاف جہاد شروع ہوا تو اس میں میری شرکت کو سراہا گیا۔ مجھے مجاہد قرار دیا گیا، میری حمایت و امداد کے لیے پوری دنیا ایک طرف ہوگئی اور مجھے حریت پسند اور فریڈم فائٹر کے خطابات سے نوازا گیا، لیکن میں نے اسی افغانستان میں امریکی فوجوں کی آمد اور تسلط کے خلاف ہتھیار اٹھائے تو مجھے دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے اور میں دنیا کا سب سے بڑا مجرم قرار پا گیا ہوں۔
  • مجھے بتایا گیا کہ افغانستان میں روسی افواج کی آمد جارحیت تھی اور اس کے خلاف مسلح مزاحمت جہاد تھا۔ لیکن مشرق وسطیٰ میں، تیل کے چشموں پر اور اسرائیل کے جبر و تشدد کے تحفظ و دفاع میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجوں کی موجودگی جارحیت کیوں نہیں ہے؟ مجھے اس سوال کا جواب نہیں دیا جا رہا، صرف یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ فوجیں اس خطہ کی حکومتوں کی دعوت پر آئی ہیں، جبکہ تاریخ بتاتی ہے کہ افغانستان میں روسی افواج کی آمد بھی اس وقت کے افغان حکمران حفیظ اللہ امین کی باقاعدہ دعوت پر معاہدہ کے تحت ہوئی تھی۔ 
  • مجھے یہ کہا جاتا ہے کہ بین الاقوامی نظام کے خلاف ہتھیار اٹھانا جرم ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلمان ملکوں میں مسلمان حکومتوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا جائز نہیں ہے، لیکن اس سوال کا کوئی بھی جواب نہیں دے رہا کہ بین الاقوامی نظام یک طرفہ جارحیت کا سب سے بڑا ہتھیار بن جائے تو پھر بے بس اور مظلوم قوموں کے پاس ہتھیار اٹھانے کے سوا کیا چارۂ کار باقی رہ جاتا ہے؟ اور اس عقدہ کا حل بھی کوئی پیش نہیں کر رہا کہ مسلمان ملکوں میں مسلمان عوام کے منتخب نمائندوں کے جمہوری فیصلوں کو طاقت کے زور پر مسترد کر دیا جائے تو وہ عوام اپنے فیصلوں کی بحالی کے لیے کیا راستہ اختیار کریں؟
  • میرا عقیدہ ہے اور صرف میرا عقیدہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے تمام فقہی مذاہب کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ’’خلافت اسلامیہ‘‘ کا قیام ملت اسلامیہ کا اجتماعی دینی فریضہ ہے، جبکہ عملی صورت حال یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں اسلامی خلافت یا امارت کے قیام کو برداشت نہیں کیا جا رہا۔ بلکہ اوباما اور ٹونی بلیئر جیسے عالمی لیڈر برملا کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو خلافت قائم نہیں کرنے دیں گے۔ 
  • میرا مقدمہ سادہ سا ہے کہ:
    1. مسلمان ممالک میں غیر ملکی مداخلت کا سلسلہ بند کر کے ان کے عوام کو اپنے نظام و قوانین کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے اور ان کے اجتماعی فیصلوں کو مسترد کرنے کا مکروہ سلسلہ ختم کیا جائے۔ 
    2. عالمی لیڈر اور حکومتیں اسلام اور اسلامی تعلیمات کے خلاف بین الاقوامی معاہدات کی آڑ میں محاذ آرائی ختم کر کے مسلمانوں کے دین اور ثقافت کا احترام کریں اور طاقت کے زور پر مسلم ممالک میں مغربی فلسفہ و تہذیب کو مسلط کرنے سے باز آجائیں۔ 
    3. فلسطین، کشمیر، اراکان اور دیگر ایسے مظلوم خطوں کے مسلمانوں کو ان کے مسلمہ حقوق دلوانے کا اہتمام کیا جائے اور منافقت کا سلسلہ ترک کر کے انہیں عملاً انصاف مہیا کیا جائے۔ 
    4. عراق اور افغانستان سے غیر ملکی فوجیں واپس بلائی جائیں اور مشرق وسطیٰ کے عوام و ممالک کو آپس میں لڑانے کی مذموم اور شرمناک سازش سے باز رہا جائے۔ 
    5. مسلمان حکومتیں مغربی استعمار کی کاسہ لیسی ترک کر کے ملت اسلامیہ کے اجتماعی ضمیر اور جذبات کے مطابق اپنی خود مختاری بحال کریں اور ملی حمیت و غیرت کا مظاہرہ کریں۔ 
    6. خلافت اسلامیہ کا قیام ملت اسلامیہ کا اجتماعی دینی فریضہ ہے ور اس وقت پوری امت اس شرعی فریضہ کی تارک اور گنہ گار ہے۔ اس پر توبہ و استغفار کا اہتمام کیا جائے اور خلافت اسلامیہ کے عملی قیام کی طرف موجودہ حالات کی روشنی میں پیش رفت کی جائے۔
      مسلمان حکومتیں اور سیاسی قیادتیں اگر اس ایجنڈے پر سنجیدہ ہو جائیں اور عملاً بھی کچھ کریں تو مجھے ہتھیار اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن اگر مسلمان حکومتیں بھی کچھ نہ کریں، مسلم ممالک کے عوام کے جمہوری فیصلوں کو بھی قوت کے بل پر سبوتاژ کیا جاتا رہے، اسلام اور اسلامی عقائد و روایات کے خلاف ثقافتی یلغار بھی دن بدن بڑھتی رہے، اور مسلمانوں کی سیاسی قیادتیں بھی ’’اسٹیٹس کو‘‘ پر قناعت کر کے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہیں، تو پھر مجھے بتایا جائے کہ کیا میں بھی اس موقف اور ایجنڈے سے دست بردار ہو جاؤں؟؟؟

دستور پاکستان اور عالمی لابیاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ملک کے دستور و آئین کے خلاف جو قوتیں ایک عرصہ سے سرگرم عمل ہیں، موجودہ سیاسی بحران کی طوالت سے ان کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ شاید اس مہم کا اصل مقصد یہی ہو۔ ہم نہیں سمجھتے کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری ارادتاً وطن عزیز کو بے آئین کر کے پاکستان کے نظریاتی تشخص اور جغرافیائی وحدت کو داؤ پر لگا سکتے ہیں، لیکن غیر شعوری طور پر بہت کچھ ہو سکتا ہے اور گزشتہ چند سالوں میں ’’عرب بہار‘‘ کے سیاسی اور عوامی ریلے سے عالمی منصوبہ بندوں نے جو نتائج انتہائی انجینئرڈ طریقہ سے حاصل کر لیے ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی نتیجہ غیر متوقع نہیں ہے۔ اس لیے کہ منصوبہ بند بھی وہی ہیں، ایجنڈا بھی وہی ہے اور طریق واردات میں بھی کچھ زیادہ فرق دکھائی نہیں دے رہا۔ 
وطن عزیز کو ۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۲ء کے دساتیر کی منسوخی کے بعد ۱۹۷۳ء میں یہ متفقہ دستور میسر آیا تھا جس کی تشکیل میں اس وقت کی تمام جمہوری اور نمائندہ سیاسی قوتیں شریک تھیں۔ یہ دستور تمام سیاسی، مذہبی اور علاقائی طبقات کی تائید و حمایت سے نافذ ہوا تھا، جبکہ ملک کی جمہوری، سیاسی اور مذہبی قوتیں آج بھی اس پر متفق اور اس کی بقا و تحفظ کے لیے کمر بستہ ہیں، لیکن کچھ لوگوں نے مختلف حوالوں سے ابتداء سے ہی اس کی مخالفت کو اپنا مشن اور وطیرہ بنا رکھا ہے اور پوری قوم کے ایک طرف ہونے کے باوجود وہ دستور کے خلاف محاذ آرائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ محاذ آرائی در اصل عالمی فورم پر ہے اور پاکستان کی نظریاتی شناخت اور قومی وحدت کے مخالف عالمی حلقوں کو ملک کے اندر ایسے ’’بوسٹر‘‘ ہمیشہ میسر رہے ہیں جو دستور پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلانے اور اس کی خدانخواستہ ناکامی کا ڈھنڈورا پیٹنے میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ 
بین الاقوامی سیکولر حلقوں کو یہ اعتراض ہے کہ پاکستان کے دستور کی بنیاد پاکستانی قوم کی مذہبی شناخت اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ پر ہے اور اس میں قرآن و سنت کے قوانین کے نفاذ کی ضمانت دی گئی ہے، جو اگرچہ عملاً دکھائی نہیں دے رہی لیکن دستور پاکستان میں اس کی موجودگی بھی ان عناصر کو برداشت نہیں ہے اور اس کے خلاف زہر اگلتے رہنے کا کوئی موقع بھی یہ لوگ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ دوسری طرف پاکستانی عوام کا موقف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور قرآن و سنت پر ایمان رکھتے ہیں جس کا بنیادی تقاضہ مسلم معاشرہ میں شرعی احکام کی عملداری ہے۔ پھر پاکستان کے نام سے الگ ملک کے قیام کا مقصد اور بنیاد ہی جنوبی ایشیا کے اس خطہ کے مسلمانوں کی الگ مذہبی اور تہذیبی شناخت ہے، جس سے دست برداری کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اسی حوالہ سے خود ان کے اپنے منتخب نمائندوں نے یہ دستور متفقہ طور پر تشکیل دیا ہے جو پاکستانی قوم کے نظریاتی تشخص کے ساتھ ساتھ ان کے جمہوری موقف اور جذبات کا بھی آئینہ دار ہے۔ اور اس کی مخالفت پاکستانی عوام کی نظریاتی شناخت کے ساتھ ساتھ ان کے جمہوری موقف اور حق کی بھی نفی ہے جو ان کے لیے کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے۔ 
پاکستان کے دستور کی نظریاتی بنیادوں کے ساتھ ساتھ عالمی سیکولر حلقوں کو ناموس رسالتؐ کے تحفظ کا قانون بھی مسلسل چبھ رہا ہے، حالانکہ یہ مسلمہ اصولوں کے مطابق ہے اور ملک کی منتخب پارلیمنٹ کا منظور کردہ ہے۔ مگر جمہوریت اور رائے عامہ کے نام نہاد علمبردار پاکستانی عوام کا یہ حق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہ اور ان کے منتخب نمائندے اپنی قوم کے اجتماعی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے دستور و قانون کی تشکیل و تدوین کر لیں، اور اپنی مذہبی و تہذیبی شناخت کے دستوری تحفظ کا اہتمام کر سکیں۔ 
قادیانی گروہ بھی ملک و قوم اور دستور و قانون کے خلاف اسی عالمی مہم کا حصہ ہے اور عالمی سیکولر قوتوں کے شریک کار بلکہ آلۂ کار کی حیثیت سے اس دستور و قانون کے خلاف محاذ آرائی کے لیے بین الاقوامی کمین گاہوں میں مورچہ بند ہے۔ قادیانی گروہ کا موقف ہے کہ وہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا اور امت مسلمہ کے عالمی سطح پر اجتماعی موقف کی بھی اسے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ۱۹۷۴ء کے دوران جب ملک کی منتخب پارلیمنٹ قادیانی مسئلہ پر بحث کر رہی تھی اس وقت کے قادیانی سربراہ مرزا ناصر احمد نے پارلیمنٹ کے فلور پر اس موقف کا اعلان کیا تھا کہ دنیا میں صرف ان کا گروہ مسلمان ہے اور ان کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہ لانے والے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کو مسلمان کہلانے کا حق نہیں ہے۔ کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہ لانے کے باعث (نعوذ باللہ) دائرہ اسلام سے ان کے بقول خارج ہو چکے ہیں۔ 
آج کی عالمی سیکولر قوتیں دنیا بھر کے مسلمانوں کے خلاف قادیانی گروہ کے اس موقف کی حمایت کر رہی ہیں اور ان کے ساتھ مل کر پاکستان کے دستور کو ختم کرانا چاہتی ہیں۔ اس لیے ہم عمران خان اور طاہر القادری سے یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ ملک کے نظام اور دستور کے خلاف اپنی مہم کو اس حد تک آگے نہیں لے جائیں گے کہ اس سے قادیانیوں اور ان کے ہمنواؤں کے مذموم مقاصد کی تکمیل ہوتی ہو۔

اسلامی ممالک میں مذہبی انتہا پسندی: اسباب اور حل

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

تلخیص وترجمہ: مولانا مدثر جمال تونسوی

(مارچ ۲۰۱۴ء میں دبئی میں شیخ عبد اللہ بن بیہ حفظہ اللہ اور اور امیر عبد اللہ بن زاید کے زیر اہتمام قیام امن کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں کیے گئے خطاب کے اہم نکات۔)

1۔ میری گفتگو عدم اطاعت کے عنوان سے ہوگی کیوں کہ کانفرنس کے عنوان میں یہ پہلو بھی شامل ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اطاعت کے وجوب اور اثبات کے موضوع کو مفتی مصر شیخ احمد شوقی علام حفظہ اللہ تعالی نے تفصیل سے بیان فرمادیا ہے۔ 
2۔ عصرحاضر کی بڑی مشکل یہی عدم طاعت ہے یعنی مسلم معاشروں اور مسلم ملکوں میں حکمرانوں کی اطاعت نہ کرنے کا رجحان زیادہ ہے اور اسی سے مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
3۔ اس سلسلے میں قرآن و سنت کی بعض نصوص کو غلط طور پر بیان کیا جارہا ہے اور ان کے ذریعے سے حکمرانوں کی اطاعت کی سرے سے نفی کی جارہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکمرانوں کی طاعت واجب ہے اگرچہ مباح کام میں ہی اس کا حکم کیوں نہ ہو ! یہاں تک کہ فقہاء نے ذکر کیا ہے کہ اگر حکمران اپنی رعایا کو کسی دن روزہ رکھنے کاحکم دے دے تو عوام پر ضروری ہوگا کہ اس دن روزہ رکھیں۔
4۔ لیکن چونکہ حدیث میں لا طاعۃ فی معصیۃ  (اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں) کے الفاظ موجود ہیں، اسی طرح حدیث میں یہ بھی موجود ہے : الا ان تروا کفرا بواحا لکم فیہ من اللہ حجۃ و برھان (یعنی ایسا کھلا کفر دیکھو جس کے خلاف تمھارے پاس اللہ کی طرف سے حجت اور برہان موجود ہو) او کما قال صلی اللہ علیہ وسلم تو ان نصوص سے غلط معانی مراد لیے جاتے ہیں اور نوجوانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔
5۔ یہاں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کی ایک بات کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ: حدیث: الا ان تروا کفرا بواحا۔۔۔ میں فعل رؤیت بغیر کسی واسطے کے متعدی بیک مفعول ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس رؤیت سے مراد رؤیت عینی ہے، رؤیت اجتہادیہ نہیں ہے۔ یعنی جب تم اپنی آنکھوں سے بغیر کسی شک وشبہ اور بغیر کسی اجتہاد اور اختلاف کے دیکھ لو کہ وہ کفر ہے تو وہی کفر بواح ہوگا۔ لیکن اگر وہ ایسا معاملہ ہے جو اجتہاد اور غور و فکر کا محل ہے تو وہ کفر بواح میں داخل نہیں ہوگا۔
6۔ اسی لیے تقریبا تمام علماء کا اتفاق ہے کہ اسلامی حکومتوں کے خلاف مسلح خروج جائز نہیں ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : فقہاء کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ بزور و قوت تخت حکومت پر براجمان ہوجانے والے کی طاعت واجب ہے بلکہ اس کی طاعت اس کے خلاف خروج کرنے سے بہتر ہے، کیوں کہ اسی میں مسلمانوں کے خون کی حفاظت اورمصیبتوں سے چھٹکارا ہے۔
7۔آج اکثر اسلامی ملکوں میں جو مسئلہ ہمیں درپیش ہے، وہ یہ ہے کہ متعدد انتہا پسند جماعتیں اسی مسلح بغاوت کے رخ پر چل پڑی ہیں اور بعض نصوص سے اپنے اس مسلح خروج کو تائید پہنچاتی ہیں۔
8۔ چنانچہ اس مشکل سے نکلنے کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم محض یہ مقالات پڑھ کر سنادیں یا محض انہیں وعظ کہہ دیں بلکہ اس مشکل کے حقیقی حل کی طرف توجہ دینا ہوگی اور یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ مسئلہ پیدا کیوں ہوا ؟
9۔ وہ حقیقی سبب جس کی وجہ سے ہمارے نوجوانوں کو دھوکہ میں ڈال میں دیا جاتا ہے، یہ ہے کہ اس وقت الحمد للہ یہ امت اسلامی بیداری کی طرف سفر کر رہی ہے اور نوجوان یہ چاہتے ہیں کہ وہ خالص اسلامی بنیادوں پر اپنی زندگی گزاریں، لیکن جب وہ گھروں سے نکلتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ باہر کی زندگی میں عملی طور پر مسلم معاشرے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ان حقائق کے بالکل مخالف ہے جو کچھ ہم نے قرآن و سنت میں پڑھا ہے۔ یہ سب دیکھ کر ان کے دلوں میں ایک سخت غم و غصہ پیدا ہوتا ہے۔ بعد ازاں ان نوجوانوں کی اسی کیفیت سے بعض انتہا پسند رہنما فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پھر ان میں سے بعض تو اپنے نظریات ہی کی وجہ سے انتہا پسند ہوتے ہیں اور بعض کے بارے میں یہ بھی امکان ہوتا ہے کہ وہ دشمنان اسلام کی طرف سے مسلمانوں کی صفوں میں داخل کیے گئے ایجنٹ ہوں۔
10۔ الغرض وہ اس طرح نوجوانوں کو ورغلاتے ہیں۔ مثلاً ان سے کہتے ہیں : اے نوجوانو ! دیکھو قرآن یہ کہہ رہا ہے: وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰہُ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ (المائدۃ 44) ، وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰہُ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ (المائدۃ 47)، وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰہُ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ (المائدۃ 45) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یوں فرمایا ہے : میرے بعد کچھ ایسے حکمران آئیں گے جو ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کرے گا تو وہ مجھ سے نہیں ہوگا اور نہ مجھے اس سے کچھ تعلق ہوگا۔ 
11۔ یہ وہ نصوص ہیں جن کی بنیاد پر سادہ لوح نوجوانوں کو ورغلایا جاتا ہے۔ چنانچہ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مشکل کا حل کیا ہے ؟ اور اس سلسلے میں ہمیں بالکل کھل پر اس کی وضاحت کرنا ہوگی۔ اس کے لیے فقط یہ کافی نہیں کہ اس طرح کا کوئی اجتماع رکھ لیا جائے اور اس میں وہ آیات واحادیث پڑھ دی جائیں جن میں امن و سلامتی کی تاکید ہے اور جو حکمران کی اطاعت کو ضروری قرار دیتی ہیں، بلکہ اس مشکل کے حل کے لیے دو نکات پر توجہ دینا لازمی اور ضروری ہے : 
پہلا نکتہ : ہم اپنے اجتماعات، اپنے جامعات اور اپنے مدارس میں محض امن و سلامتی کی ضرورت کے بیان پر اکتفا نہ کریں بلکہ ضروری ہے کہ ہم ان نصوص کی وضاحت کریں جن سے وہ انتہا پسند استدلال کرتے ہیں اور ان کے فہم کی تردید کریں اور جب ہم باہمی بحث و مباحثہ کی بات کرتے ہیں تو وہ صرف غیر مسلموں کے ساتھ نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان انتہا پسند جماعتوں کے ساتھ بھی ہونا چاہیے جن کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ اعتدال پسندوں اور انتہا پسندوں کے مابین مکالمہ سنجیدہ علمی بنیادوں پر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ہونا چاہیے اور اس میں ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ان نصوص کا صحیح محمل بیان کیا جائے جن سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں۔ مثلاً قرآنی آیت : وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰہُ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْکَافِرُون کا محمل کیا ہے؟ اسی طرح حدیث : لا طاعۃ فی معصیۃ  کا کیا مطلب ہے؟ اگرچہ بعض نوجوان عملی طور پر منحرف ہیں، لیکن وہ اپنے دین کے لیے مخلص ہیں۔ پس جب علمی رسوخ رکھنے والے علماء کرام اور ان سادہ لوح نوجوانوں کے مابین باہمی بحث و مباحثہ ہوگا تو کچھ بعید نہیں کہ وہ حق کو تسلیم کرلیں۔ الغرض میرے نزدیک پہلی جو چیز ضروری ہے، وہ مکالمہ ہے جس کا انتظام ہمارے اجتماعات میں ، ہمارے مدارس میں اور ہماری مساجد میں ہونا چاہیے۔
12۔ دوسری بات بھی بہت وضاحت کے ساتھ کہنا چاہوں کہ جب اسلامی ممالک مغربی استعمار سے آزاد ہوئے تو اس کے بعد ان کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ شریعت اسلامیہ کو عملی طور پر نافذ کرنے کی طرف توجہ دیتے، کیوں کہ جب تک مغربی استعمار نے ہمارے ہاتھ روکے ہوئے تھے تو معاملہ جدا تھا، مگر جب ہم ان سے آزاد ہوگئے اور زمام اختیار ہمارے ہاتھ میں آگئی، تمام قوانین ہمارے ہاتھ میں آگئے تو ہمارے بس میں تھا کہ ہم قرآن و سنت کی بنیادوں پر قائم معاشرے کو تشکیل دیتے، مگر ایسا نہ ہوا۔ گویا کوتاہی صرف اس دوسری جانب سے نہیں ہوئی بلکہ ہم بھی کوتاہی میں پڑگئے اور ہم سے یہی کوتاہی ہوئی کہ ہم نے اپنی نسل نو کی تربیت قرآن و سنت کی بنیادوں پر نہیں کی بلکہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم تمام شعبہ ہائے زندگی میں مغربی افکار کے دلدادہ بن گئے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ مغرب سارا کا سارا شر ہے اور نہ یہ کہتا ہوں کہ مغرب سارا کا سارا خیر ہے بلکہ اس میں شر بھی ہے اور خیر بھی ہے۔ ہم بہت سے جدید سائنسی علوم میں مغرب کے قرض دار ہیں جن میں ان سے استفادہ کیا ہے، لیکن بہرحال اس میں بہت سے شرور بھی ہیں اور ہم نے آنکھیں بند کر کے ان کی ہر چیز لے لی ہے چنانچہ یہ مغربی طرز زندگی ہمارے نوجوانوں کے دلوں میں حکومتوں اور حکمرانوں کی طرف سے بد اعتمادی اور انتہا پسندی پیدا کرتا ہے۔ 
خلاصہ اس دوسری بات کا یہ ہوا کہ ہم سلامتی والے راستے پر چلتے ہوئے شریعت اسلامیہ کے عملی نفاذ کی طرف گامزن ہوں اور ہمارے نوجوانوں کو اس کا احساس ہو جائے کہ حکومت اس ذمہ داری کو نبھانے کی طرف گامزن ہوچکی ہے۔ اگرچہ یہ سب تدریجی انداز سے ہی ہوگا، لیکن اگر ایسا کر لیا گیا تو مجھے یقین ہے کہ اس مکالمے کے بعد اور ان اقدامات کے بعد اس قسم کی تباہ کن تحریکات اپنی موت آپ مر جائیں گی۔ ان شاء اللہ
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ دو بنیادی باتیں ہیں جو ہمیں اس اندرونی مشکل (مسلح بغاوت ) سے نجات دلا سکتی ہیں : ایک تو یہ کہ ان تحریکات سے متاثر ہونے والے نوجوانوں کے ساتھ سنجیدہ اور صبر آزما بحث مباحثہ کا ماحول بنایا جائے اور دوسری بات یہ ہے کہ حقیقی طور پر تمام اسلامی ممالک میں شریعت اسلامیہ کی عملی تنفیذ کے راستے پر گامزن ہوا جائے۔ واللہ سبحانہ ہو الموفق

ڈاکٹر محمد شکیل اوج شہید

خورشید احمد ندیم

’’افکارِ شگفتہ‘‘ بہت دنوں سے میرے سامنے رکھی ہے۔ ڈاکٹر شکیل اوج کا محبت بھرا اصرار اور پھر میری افتادِ طبع، دونوں متقاضی رہے کہ اس پر کچھ لکھوں۔ موضوعات کا تنوع اور دلچسپی مجھے اپنی طرف کھینچتے رہے مگر غمِ دوراں نے مہلت ہی نہ دی۔ آج افکار باقی ہیں مگر وہ شگفتہ چہرہ میری نظروں سے اوجھل ہو چکا، ہمیشہ کے لیے۔
ڈاکٹر فاروق خان کی شہادت کے بعد، یہ دوسرا گھاؤ ہے جو رگِ جاں میں اتر گیا ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ ڈاکٹر شکیل اوج سے پہلی ملاقات کب ہوئی، لیکن یہ یاد ہے کہ برسوں سے ایک ہی ملاقات چلی آتی تھی۔ ۱۶ستمبر تک، جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ شاید اس کے بعد بھی کہ ان کا علمی کام اور محبت بھری یادیں، آنے والی مسافت کے لیے زادِ راہ بنی رہیں گی۔یہاں تک کہ داعیِ اجل اس طرف کا رخ کرے اور یہ سفر تمام ہو۔ یہ میرے جذبات ہیں، لیکن میں جانتا ہوں کہ اس زمین پر بہت سے لوگ ایسے ہیں، جو یہی سوچ رہے ہیں۔ محبت جب بوئی جاتی ہے تو وہ دل کے ویرانوں کو وادئ گل میں بدل دیتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایسی بہت سی وادیاں آباد کر گئے ہیں جہاں ان کی یاد کے گلاب برسوں مہکتے رہیں گے۔علم کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ایک بہتا دریا جس کی روانی دائمی ہے۔
ڈاکٹر شکیل اوج کی فکری آنکھ بریلوی مکتب فکر کی آغوش میں کھلی۔ درسِ نظامی سے فراغت ہوئی تو جدید تعلیم کی طرف رخ کیا اور مروجہ مفہوم میں اس کی چوٹی کو ہاتھ لگایا۔ پی۔ایچ۔ڈی تو تھے ہی، ’ڈی لیٹ ‘کی ڈگری بھی انہیں مل چکی تھی۔ پاکستان میں ان کے علاوہ ایک آدھ ہی اس اعزاز کا حامل ہوگا۔ علم کے اس سفر میں دیانت ان کے ہم رکاب رہی اور یوں وہ فکری ارتقاء کی منازل طے کرتے گئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بر صغیر میں کوئی دوسرا ایسا نہیں جس نے مولانا احمد رضا خان کا ان کی طرح بالاستعیاب اور دقتِ نظر کے ساتھ مطالعہ کیا ہو۔ ان کی کوئی تحریر ایسی نہیں جو منصہ ء شہود پر آ ئی ہو اور ان کی نظر سے نہ گزری ہو۔یہ مگر ان کے علمی سفر کا پہلا پڑاؤ تھا۔ اس وادی میں اترے تو ان پر تین باتیں واضح ہو تی چلی گئیں اور پھر یہ ان کے علمی کام کی پہچان بن گئیں۔ایک یہ کہ دین کے باب میں قرآن مجید فرقان ہے۔ اس کی حاکمیت، روایت اور قول سلف سمیت ہر شے پر قائم ہے۔ دوسرا یہ کہ علم کی دنیا میں تعصب اور کسی خاص مکتب فکر سے غیر مشروط وابستگی، دیانت کے خلاف اور نظری ارتقاء میں مانع ہے۔ ایک سکالر سب سے استفادہ کرتا ہے لیکن کسی رائے کے رد و قبولیت کا فیصلہ مسلکی تعصب کی بنیاد پر نہیں، دلیل اور استدلال کی اساس پر کرتا ہے۔ تیسرا یہ کہ علمی اختلاف باہمی احترام اور سماجی تعلقات میں رکاوٹ نہیں ہوتا۔ ہم لوگوں سے اختلاف کرتے ہیں،مکالمہ کرتے ہیں اور بایں ہمہ ان کی علمی جلالت کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ کوئی شبہ نہیں کہ اس باب میں وہ اسلاف کا نمونہ تھے۔
فکری ارتقاء کے سفر میں اب وہ اس منزل پر تھے کہ قرآن مجید ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔وہ حافظِ قرآن بھی تھے۔قرآن مجید کی آیات مستحضررہتیں۔ کسی موضوع پر گفتگو کرتے تو قرآن مجید کے حوالے قابل رشک بے تکلفی سے دیتے چلے جاتے ۔ قرآن مجید سے یہ محبت انہیں مکتب فراہی کے بہت قریب لے آئی۔ مولانا امین احسن اصلاحی کی ’’تدبر قرآن‘‘ کے تو وہ عاشق تھے۔ ان کی دو اہم اور آخری تصانیف ’’ تعبیرات‘‘ اور ’’نسائیات‘‘ اس کی شاہد ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ انگلیوں پر گنے جانے والے ان چند صاحبان علم میں سے تھے جو اپنی تحقیق میں قرآن مجید کی حاکمیت کا عملاً قبول کرتے تھے۔تاہم اس فکری ارتقا کے باوجود قدیم حلقے سے ان کا تعلق خاطر تادمِ آخر قائم رہا۔اپنی آخری کتاب بھی اپنے استاد مولانا محمد اعظم سعیدی کے نام معنون کی۔
چند ماہ پہلے انہوں نے کراچی یونیورسٹی میں بین الاقوامی سیرت کانفرنس کا اہتمام کیا۔ مجھے بھی اس شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔ پاک و ہند سے جید علما اور سکالرزمدعو تھے۔ انتخاب میں مسلک کا امتیاز تھا نہ فقہ کی تمیز۔ بھارت سے تشریف لانے والے ڈاکٹر ابو سفیان اصلاحی نے کلیدی خطبہ دیا۔ یہ ڈاکٹر صاحب کی وسعت قلبی کا اعتراف تھاکہ انہوں نے جسے شرکت کی دعوت دی، اس نے رد نہیں کیا۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہیں ڈاکٹر صاحب کی کئی آراء سے اتفاق نہیں تھا۔ تاہم وہ ان کے علم، محبت اور سماجی رکھ رکھاؤ کے معترف تھے۔ ان کے حلقۂ ارادت میں سب لوگ شامل تھے۔ چند روز پیشتر جب ڈاکٹر طاہر مسعود کی تصنیف’’ کوئے دلبراں‘‘ پر میرا کالم شائع ہوا تو ان کا فون آیا۔ اس وقت وہ مکرمی مفتی منیب الرحمن صاحب کے پاس بیٹھے تھے۔ اُن کے فون سے ازراہ شفقت مفتی صاحب نے بھی بات کی۔ دونوں نے کالم کے بارے میں اپنی رائے اور محبت کا اظہار کیا۔ میں جانتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کااسی طرح کے احترام کاتعلق دوسرے مسلک کے لوگوں کے ساتھ بھی تھا۔
ان کے ہاں تفرد ات یا شذوذعلمی آراء کی قبولیت میں مانع نہیں تھے۔ ان کی ادارت میں نکلنے والے شاندار علمی جریدے ’’التفسیر‘‘ کا ایک منفرد اور ضخیم ’’ تفردات نمبر‘‘ شائع ہوا۔ اس میں انہوں نے مسلمانوں کی علمی تاریخ کی جلیل القدر شخصیات کے تفردات پر مبنی بہت سے علمی مقالات کو جمع کر دیا۔ چند روز پہلے ’’ التفسیر‘‘کا ایک اور شاندار نمبر’’ برصغیر کے مفسرین اور ان کی تفاسیر‘‘مو صول ہوا۔ ان کا محبت بھرا اصرار تھا کہ یہ دونوں نمبر میرے کالم کا موضوع بنیں۔ اس سے پہلے کہ میں ان کی خواہش کی تکمیل کرتا ، وہ آرزوؤں کی اس دنیا سے رخصت ہو کر جزا و سزا کے دروازے پر جا کھڑے ہوئے۔ شاید میں کبھی ان پر لکھوں لیکن مجھے معلوم ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے لیے اب یہ بے معنی ہے کہ اب وہ تمناؤں کی اسیری سے رہا ہو چکے۔
ڈاکٹر صاحب طاہر مسعود اور ڈاکٹر آمنہ آفریں بھی ان کے ساتھ گاڑی میں تھے، جب ڈاکٹر شکیل اوج کو ہدف بنا کر مارا گیا۔ایک گولی ڈاکٹر آمنہ کے بازوکو گھائل کر گئی لیکن اﷲ نے ان کی جان بچائی اور طاہر مسعود کی بھی۔ اﷲ کے اس احسان پر ہم اس کے شکر گزار ہیں۔ ڈاکٹر طاہر مسعود کے علمی کمالات اور شخصی اوصاف سے سب واقف ہیں۔ ڈاکٹر آمنہ آفرین ان کے ہونہار شاگردوں میں سے ہیں۔ ان کی نگرانی میں پی۔ ایچ۔ ڈی کی۔ ڈاکٹر صاحب ان کے علمی اوصاف اور ذہانت کے باعث انہیں عزیز رکھتے۔ چند ماہ پہلے ڈاکٹر فضل الرحمٰن مرحوم پر ڈاکٹر آمنہ کی کتاب شائع ہوئی۔ 
۱۴ ستمبر کی سہ پہر بی بی سی سے فون آیا کہ وہ ڈاکٹر شکیل اوج کے بارے میں میرے تاثرات ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں۔ چند منٹ ہی بات کر سکا۔مجھے اعتراف ہے کہ میں دریا کو کوزے میں بند نہیں کر سکا۔ کالم کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ محض ۵۴ سال کے سفر حیات میں انہوں نے جو علمی سنگ ہائے میل عبور کیے، ان کا ذکر ایک کالم میں نہیں ہو سکتا اور یہ مقصود بھی نہیں۔ ’’افکار شگفتہ‘‘ کی دل کشی باقی رہے گی اور اہل علم ان کی طرف رجوع کرتے رہیں گے، یہ الگ بات کہ ڈاکٹر صاحب خود نہیں ہوں گے۔
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے 

علماء دیوبند کا اجتماعی مزاج اور فکری رواداری

حافظ خرم شہزاد

بریلوی علما وعوام سے اختلاف میں اعتدال

بہاول پور کے مشہور مقدمے میں ’’مختار قادیانی نے اعتراض کیا کہ علماء بریلی، علمائے دیوبند پر کفر کا فتویٰ دیتے ہیں اور علمائے دیوبند علمائے بریلی پر۔ اس پر شاہ صاحب نے فرمایا: ’’میں بطور وکیل تمام جماعت دیوبند کی جانب سے گذارش کرتا ہوں کہ حضرات دیوبند ان کی تکفیر نہیں کرتے۔ اہل سنت والجماعت اور مرزائی مذہب والوں میں قانون کا اختلاف ہے اور علماء دیوبند وعلماء بریلی میں واقعات کا اختلاف ہے، قانون کا نہیں۔ چنانچہ فقہاء حنفیہ رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی شبہ کی بنا پر کلمہ کفر کہتا ہے تو اس کی تکفیر نہ کی جائے گی۔ دیکھو رد المحتار، بحر الرائق غیرہ۔‘‘ (ملفوظات محدث کشمیری ص ۶۹، مرتب: مولانا سید احمد رضا بجنوریؒ )
’’تبلیغ میں الاہم فالاہم پر توجہ ضروری ہے۔ مسائل اختلافیہ کی بنا پر مخالف پارٹی کے لوگ پروپیگنڈہ شروع کر کے عوام کو بدظن بنا دیتے ہیں۔ پھر امور متفقہ علیہا پر بھی موثر تبلیغ نہیں ہو سکتی۔ اس لیے نمازی بنانا اور اصول وعقائد اسلام واہل سنت کو سمجھانا اولاً وبالذات ضروری ہے۔ شرک سے نفرت دلاتے وقت عبادت اصنام واحجار واشجار وحیوانات وغیرہ کو جو کہ ہنود اور دیگر کفار کرتے ہیں اور جن میں ابنائے وطن غیر مسلم مبتلا ہیں، ان کو ذکر کیا جائے اور اس سے قوم کو سمجھایا جائے۔ اس مقام پر قبور، تعزیہ وغیرہ کو صراحتاً نہ ذکر کیا جائے۔ جب نفرت عبادت غیر اللہ ان کے قلوب میں خوب راسخ ہو جائے اور وہ مانوس ہو جائیں، اعمال مفترضہ کے عادی ہو جائیں، تب ان کو آہستہ آہستہ شرور حالیہ سے بھی آگاہ کیا جائے۔‘‘ (ملفوظات حضرت مدنی، مرتبہ ابو الحسن بارہ بنکوی، ص ۷۲)
’’جن صاحب کے یہاں میلاد اور عرس ہوتا ہے اور چونکہ خلاف شرع ہوتا ہے، اس لیے اولاً ان کی اصلاح ہونی چاہیے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو آپ ان کے اعمال میں شرکت نہ فرمائیں۔ ہاں اگر ظن غالب ہو کہ وہ لوگ اس کی وجہ سے آپ کے ایذا کے درپے ہوں گے یا تعصب وغیرہ میں پڑ کر اس سے زائد گناہ میں مبتلا ہو جائیں گے یا مسلمانوں میں افتراق کا زہریلا بازار گرم ہو جائے گا تو شریک ہو جانا جائز ہے۔‘‘ (ملفوظات حضرت مدنی، مرتبہ ابو الحسن بارہ بنکوی، ص ۸۶)
’’حضرت مولانا حسین علی مرحوم کے متوسلین میں تشدد بہت زیادہ ہے جو کہ غلط درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔ یسرا ولا تعسرا وبشرا ولا تنفرا (الخ) کے خلاف ہے۔ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوب انوار القلوب کے بالکل مخالف ہے، اگرچہ بریلویوں کے غلو کا جواب اسی طرح ہوتا ہے۔‘‘ ((ملفوظات حضرت مدنی، مرتبہ ابو الحسن بارہ بنکوی، ص ۱۳۱)
’’کانپور میں ایک شخص نے میرے سامنے اہل بدعت کی برائی کرنا شروع کیا۔ میں نے ان کی طرف سے تاویلات کرنا شروع کر دیں۔ پھر اس نے غیر مقلد کی برائیاں شروع کیں۔ میں ان کی طرف سے تاویلات کرنا شروع کر دیں۔ اس نے متحیر ہو کر پوچھا، آخر آپ کا مذہب کیا ہے؟ میں نے کہا میرا مذہب یہ آیات قرآن ہیں:
کُونُواْ قَوَّامِیْنَ لِلّہِ شُہَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی۔
’’نہ بھڑکائے غصہ تم کو کسی قوم کا اس بات پر کہ نہ تم انصاف کرو بلکہ تمھیں انصاف کرنا چاہیے۔ وہی تقویٰ کے قریب ہے۔‘‘ (تحفۃ العلماء، (افادات وملفوظات حکیم الامت مولانا تھانویؒ ) مرتبہ مولانا مفتی محمد زید جلد دوم، ص ۲۲۳)

عدم تقلید اور ائمہ سے اختلاف

’’ابن تیمیہ اور ابن قیم استاد شاگرد ہیں۔ دونوں بڑے عالم ہیں۔ بعض افاضل کا ان کے بارے میں قول ہے کہ علمہما اکثر من عقلہما۔ یہ دونوں حنبلی مشہور ہیں، مگر حنبلی ہیں نہیں۔ ان کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ خود مجتہد ہونے کے مدعی ہیں۔ ایسا محقق کسی بات میں ائمہ مجتہدین کے خلاف کرے تو ۔۔۔ مضائقہ نہیں۔‘‘ (تحفۃ العلماء (افادات وملفوظات حکیم الامت مولانا تھانویؒ ) مرتبہ مولانا مفتی محمد زید جلد دوم، ص ۴۰۷)
’’مقلد کو اجازت نہیں کہ ایسے شخص کو برا کہے جس نے بعذر مذکور اس مسئلہ میں تقلید [ترک] کر دی ہو، کیونکہ ان کا یہ اختلاف ایسا ہے جو سلف سے چلا آیا ہے جس کے باب میں علماء نے فرمایا ہے کہ اپنا مذہب ظناً صواب محتمل خطا اور دوسرا مذہب ظناً خطا محتمل صواب ہے۔ ۔۔۔ اگر کوئی اہل حدیث تقلید کو حرام نہ سمجھے اور بزرگوں کی شان میں بدزبانی اور بدگمانی نہ کرے تو خیر یہ بھی بعض سلف کا مسلک رہا ہے۔ اس میں بھی تنگی نہیں کرتا ہوں۔ ہاں، دل کا پوری طرح ملنا نہ ملنا اور بات ہے۔‘‘ (تحفۃ العلماء، (افادات وملفوظات حکیم الامت مولانا تھانویؒ ) مرتبہ مولانا مفتی محمد زید جلد دوم، ص ۴۵۸)

معاملات میں عوام کی سہولت کا لحاظ

’’میرا ارادہ تھا کہ ایک رسالہ احکام معاملات میں ایسا لکھوں کہ جن معاملات میں عوام مبتلا ہیں، اگر وہ صورتیں کسی مذہبی میں بھی جائز ہوں تو اس کی اجازت دے دوں تاکہ مسلمانوں کا فعل کسی طرح سے تو صحیح ہو سکے۔ میں نے احتیاطاً اس کے بارے میں حضرت مولانا گنگوہیؒ سے بھی دریافت کیا کہ ایسے مسائل میں دوسرے مذہب پر فتویٰ دینا جائز ہے یا نہیں؟ تو حضرت نے اجازت دے دی۔ مولانا بہت پختہ حنفی تھے۔‘‘ (تحفۃ العلماء، (افادات وملفوظات حکیم الامت مولانا تھانویؒ ) مرتبہ مولانا مفتی محمد زید جلد دوم، ص ۱۶۸)
’’فرمایا کہ ہمارے استاد حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کے مزاج میں ایسے اختلافی مسائل کے بارے میں بڑا توسع تھا۔ میں نے ان سے ایک مسئلہ پوچھا جس میں حضرت مولانا کا فتویٰ حضرت گنگوہی کے فتوے سے مختلف تھا۔ اپنی تحقیق کے مطابق مسئلہ بتلا دیا اور پھر یہ بھی فرما دیا کہ مولانا گنگوہی کا فتویٰ اس کے بارے میں یہ ہے۔ اب تمھیں اختیار ہے جس کو چاہو اختیار کرو۔ ۔۔۔(ایضا، ج ۲، ص ۲۲۴)
’’حضرت حاجی [امداد اللہ مہاجر مکی] صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہم لوگوں کو جو خدا تعالیٰ سے محبت ہے، ان کے احسانات کی وجہ سے ہے۔ اس واسطے ہمارے حضرت کا مسلک یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے، آرام سے رہو مگر حد سے نہ نکلو، اس لیے مختلف فیہ مسائل میں وسعت دینی چاہیے۔ اس طرح ایک تو شریعت سے محبت ہوگی، دوسرے آرام رہے گا۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی امر کی دو شقوں میں اختیار دیا جاتا تو جو شق زیادہ آسان ہوتی تھی، آپ اسی کو اختیار فرماتے تھے اور فطرت سلیمہ کا بھی یہی مقتضا ہے۔
فرمایا محققین کا مسلک یہ ہے کہ اپنے نفس کے عمل میں تو تنگی برتے اور اعلیٰ وادنی کو عمل کے لیے اختیار کرے، مگر رائے اور فتویٰ میں وسعت رکھے اور لوگوں کے لیے مقدور بھر آسانی (اور جواز) کو تلاش کرے۔‘‘ (ایضاً، جلد دوم، ص ۲۲۴، ۲۲۵)

مسجدِ اقصی کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات ۔ تفصیلی و تنقیدی جائزہ (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

مشرکین مکہ پر قیاس 

جناب عما ر صاحب نے حقِ تولیت کے ’’مزعومہ شرعی دلائل ‘‘کا ذکر کرتے ہوئے تیسرے نمبر پر یہ ’’دلیل ‘‘ذکر کی ہے اور یہ’’دعوی ‘‘کیا ہے کہ مسلم مفکرین یہود کی تولیت کی منسوخی کے لئے مسجدِ اقصی کو مسجدِ حرام پر اور یہود کو مشرکینِ مکہ پر ’’قیاس ‘‘کرتے ہیں۔کہ جس طرح مشرکینِ مکہ اللہ کی نافرمانی کے نتیجے میں مسجدِ حرام کی تولیت سے محروم کئے گئے ،اسی طرح یہود بھی اپنی نافرمانیوں کی بدولت مسجدِ اقصی کی تولیت سے محروم ہونگے۔
آنجناب نے یہ استدلال حضرت قاری طیب صاحب ؒ کی مایہ ناز کتاب ’’مقاماتِ مقدسہ اور ان کا اجتماعی نظام ‘‘کے ایک اقتباس سے اخذ کیا ہے ،ہم سب سے پہلے حضرت قاری صاحبؒ کی وہ عبارت قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں ،پھر آنجناب کے ’’حسنِ استنباط ‘‘سے متعلق چند باتیں عرض کریں گے ۔حضرت قاری صاحب لکھتے ہیں :
’’یہ تینوں مرکز اسلام کی جامعیت کی وجہ سے مسلمانوں کو کسی کے دیے سے نہیں ملے ،بلکہ خدا کی طرف سے عطا ہوئے ا ور انہی کے قبضہ و تصرف میں دیے گئے ہیں ، جن میں کسی غیر کے دخل یا قبضے کا از روئے اصول سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حجاز میں مشرکین ملتِ ابراہیم کے نام سے عرب پر قابض و متصرف تھے ،لیکن جب انہوں نے شعائر اللہ کی جگہ بے جان مورتیوں اور پتھر کے سنگ دل خداؤں کو جگہ دی،تو سنت اللہ کے مطابق ان کا قبضہ تبدیل کر دیا گیا ۔شام کی مقدس سرزمین بلا شبہ اولاً یہودکو دی گئی اور فلسطین ان کے قبضے میں لگا دیاگیا ،جیسا کہ قرآن ’’کتب اللہ لکم‘‘ سے اس کا انہیں دے دیا جانا ظاہر کیا ہے،لیکن انہوں نے عہد شکنی کی اور الٰہی میثاق کو توڑ ڈالا ۔ان حرکات کے انتہاء پہنچ جانے پر حق تعالی نے انہیں بیت المقدس کی تولیت اوراس ملک کی ملکیت سے محروم کرکے ان پر نصاری کو مسلط کر دیا ،چنانچہ بعثتِ نبوی سے تین سو سال پہلے نصاری شام اور فلسطین کی ارضِ مقدس پر قابض ہو گئے ،لیکن اقتدار جم جانے کے بعد ردِ عمل شروع ہوااور با لا خر وہ بھی قومی اور طبقاتی رقابتوں میں مبتلا ہو کر اسی راہ پر چل پڑے تھے ،جس پر یہود چلے تھے ،صخرہ معلقہ کو جو یہود کا قبلہ تھا ،غلاظت کی جگہ قرار دیا اور اس کی انتہائی توہین شروع کر دی ،محض اس لئے کہ وہ یہود کا قبلہ تھا،اس پر پلیدی ڈالی اور اسے مزبلہ (کوڑی)بناکر چھوڑا۔ظاہر ہے کہ شعائر الہیہ اور نشاناتِ خداوندی کے بعد کوئی قوم بھی پنپ نہیں سکتی ،اس لئے بالا خر نصاری کا بھی وقت آگیا،ان کا اقتدار یہاں ختم ہوا اور حق تعالی نے مسلمانوں کو غلبہ دے کر انہیں بیت المقدس کا متولی بنا یا۔‘‘ (بحوالہ مذکورہ مضمون)
آنجناب نے اس عبارت سے یہ نتیجہ اخذ کیاہے :
’’اس میں اہلِ کتاب کو مشرکینِ مکہ پر اور اس کے نتیجے میں مسجدِ اقصی کی تولیت کے معاملے کو مسجدِ حرام کی تولیت کے معاملے پر قیاس کیا گیا ہے‘‘
قارئین سے درخواست ہے کہ وہ حضرت قاری صاحب کی عبارت کو دوبارہ غور سے پڑھیں اور خصوصاً تحریر میں نمایاں کردہ جملوں اور الفاظ کو توجہ سے دیکھیں ،ہھر جناب عمار صاحب کے اخذ کردہ نتیجے کو دیکھیں اور انصاف سے فیصلہ کریں کہ کیا واقعی حضرت کا مقصد ایک’’ عقلی قیاس ‘‘پیش کرنا ہے ،جیسا کہ آنجناب نے ’’دعوی ‘‘کیا ہے یا حضرت قاری صاحب اس عبارت میں اس ’’سنت اللہ ‘‘اور’’ خداوندی ضابطے‘‘ کو بیان کرنا چاہتے ہیں ،جس کو ہم نے اس تحریر میں بار بار بیان کیا ہے۔
حضرت نے اس اس عبارت میں سب سے پہلے ان عبادتگاہوں کے لئے ’’مرکز ‘‘کا لفظ استعمال کیا ،اس سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ جن مقامات کی ہم بات کر رہے ہیں ،وہ کسی مخصوص قوم ،ملت اور مذہب کی’’جاگیر ‘‘نہیں ہیں ،بلکہ یہ مقامات اللہ کے منتخب کردہ مراکز ہیں ۔اس سے آنجناب کے اس نظریے کی تردید ہو گئی کہ مسجدِ اقصی کی حیثیت محض بنی اسرائیل کے قومی قبلہ اور مرکزِ عبادت کی ہے ،چنانچہ آنجناب لکھتے ہیں :
’’اس کے برعکس مسجدِ اقصی کی حیثیت محض بنی اسرائیل کے قومی قبلہ اور مرکزِ عبادت کی تھی ‘‘
اس کے بعد حضرت نے مشرکین کے حقِ تولیت کے ختم ہونے کو یوں بیان کیا :
’’تو سنت اللہ کے مطابق ان کا قبضہ تبدیل کیا گیا ‘‘
کیا جناب عمار صاحب بتائیں گے کہ ’’سنت اللہ ‘‘سے کیا مراد ہے اور حضرت اس لفظ سے ان مراکز عبادت کے لئے اللہ کی کونسی سنت اور ضابطے کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں ۔
پھر حضرت نے مسجدِ اقصی کی تولیت یہود سے نصاری کی طرف منتقل ہونے کو یوں بیان کیا:
’’انہوں نے عہد شکنی کی اور الٰہی میثاق کو توڑ ڈالا ،ان حرکات کے انتہا کو پہنچ جانے کی بنا پر حق تعالیٰ نے انہیں بیت المقدس کی تولیت اور اس ملک کی ملکیت سے محروم کر دیا‘‘۔
اس عبارت میں قاری صاحب نے پھر اس سنت اللہ کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالی نے خود انہیں ان کی مذکورہ حرکات کی بنا پر مسجدِ اقصی کی تولیت سے محروم کر دیا۔
اس کے بعد اس مقدس مقام کی تولیت مسلمانوں کی طرف منتقل ہونے کو کچھ یوں بیان کیا:
’’ظاہر ہے کہ شعائر الہیہ اور نشات خداوندی کے بعد کوئی قوم پنپ نہیں سکتی ،اس لئے با لا خر نصاری کا وقت آگیا، ان کا اقتدار ختم ہوا اور حق تعالی نے مسلمانوں کو غلبہ دے کر انہیں بیت المقدس کا متولی بنا دیا ۔‘‘
اس پوری عبارت کا تجزیہ کرنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت قاری صاحب مسجدِ اقصی اور مسجدِ حرا م دونوں کو شعائر اللہ ،نشاناتِ خداوندی ،مراکزِ عبادت اور مقدس مقام مانتے ہیں ۔پھر ان مقاماتِ مقدسہ کے بارے میں اس سنت اللہ اور خدائی ضابطے کو بیان کیا ،جس کی طرف ہم کئی بار اس تحریر میں اشارہ کر چکے ہیں ،چنانچہ حضرت قاری صاحب مشرکین سے بیت اللہ کی تولیت چھیننے ،یہود کے مسجدِ اقصی کی تولیت سے محروم ہونے ،نصاری کے مسجدِ اقصی کی تولیت سے معزولی اور آخر میں مسلمانوں کا ان مقدس مقامات کی تولیت سنبھالنے کو سنت اللہ اور اسی خداوندی ضابطے کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں ۔لیکن آنجناب کا ’’حسنِ استنباط ‘‘ ہے کہ اس عبارت سے ایک ’’عقلی قیاس ‘‘ ثابت کر رہے ہیں ۔
اس کے بعد آنجناب نے اپنے ’’غلط نتیجے ‘‘ کی بنیا د پر بحث کی پوری عمارت کھڑی کردی اور اس ’مزعومہ قیاس ‘‘ کے رد میں درجہ ذیل نکات اٹھائے :
۱۔حقِ تولیت کے لئے ’’صریح دلیل ‘‘ کی ضرورت ہے ،اسے صرف قیاس سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
۲۔مشرکینِ مکہ اور اہلِ کتاب کے جرائم ،احکامات اور ان دو مسجدوں کی نوعیت میں خاصا فرق ہے ،اس لئے ان کے حقِ تولیت کے احکام الگ ہونگے،چنانچہ مفصل بحث کر کے آ خر میں لکھتے ہیں :
’’دونوں عبادت گاہوں کے درجے ،اور احکام میں پائے جانے والے ان اصولی و فروعی فرق کو حقِ تولیت کے معاملے میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتابلکہ اس پر بھی گہرے طور پر اثر انداز ہوتے ہیں ‘‘
تعجب ہے کہ مسلم مفکرین کو تو حقِ تولیت قیاس سے ثابت کرنے پر کوس رہے ہیں ،لیکن خود یہ فرق بھی قیاس سے نکال رہے ہیں کہ ان دونوں گروہوں کے نام الگ الگ رکھنا ،جزیہ کے حکم میں فرق،عبادت گاہوں کی بقا و ہدم میں فرق اور اس جیسے دیگر فروق ’’دلالت ‘‘ کرتے ہیں کہ حقِ تولیت میں بھی فرق ہے ،اگر قاری صاحب با لفرض اپنی عبارت میں ’’اشتراک العلۃیدل علی اشتراک الحکم‘‘والا ’’قیاس ‘‘ پیش کر رہے تھے ،تو آنجناب ’’افتراق العلۃ یدل علی افتراق الحکم ‘‘ والا قیاس پیش نہیں کر رہے ہیںیا للعجب ۔
تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی 
وہ تیرگی جو میرے نامہ اعمال میں تھی 
اس پوی مفصل بحث میں آنجناب نے اپنے اس ’’قیاس ‘‘ پر پورا زور صرف کرنے کے علاوہ حقِ تولیت کے حوالے سے اپنے موقف پر ایک بھی ’’صریح دلیل ‘‘ نہیں دی ۔
۳۔ آنجناب نے اپنا سارا زور اس پر صرف کیا کہ مشرکینِ مکہ کی تولیت سے محرومی کی واحد وجہ ’’شرک ‘‘ ہے اور اہلِ کتاب چونکہ قرآنی اصطلاح کے اعتبار سے مشرکین نہیں ہیں اس لئے یہ ’’قیاس ‘‘ غلط ہے۔ہم آنجناب سے پوچھتے ہیں کہ پھر مسجدِ حرام کی تولیت کے معاملے میں اہلِ کتاب کا کیا حکم ہے ؟ کیونکہ وہ مشرکین نہیں ہیں !ظاہر ہے کہ اللہ نے مسجدِ حرام سے صرف مشرکین کی بے دخلی کے بارے میں’’صریح نص‘‘ نازل کی ہے ؟کیا آنجناب کے پاس اس حوالے سے ایک بھی ’’صریح نص‘‘ ہے کہ اہلِ کتاب مسجدِ حرام کی تولیت کے حق دار نہیں ہیں ۔آنجناب ’’اخرجوا الیہود و النصاری من جریرۃ العرب‘‘ جیسی نصوص پیش کریں گے، لیکن عرض یہ ہے کہ جب حضرت عمر کی بیت المقدس کے بارے میں یہود کے حوالے سے لگائی جانے والی ایک شرط ’’ولا یسکن بایلیا معہم احد من الیہود‘‘ مسجد اقصی پریہود کی تولیت سے آنجناب کے بقول مانع نہیں بنتی تو ’’اخرجو الیہود و النصاری ‘‘ والی نص اہلِ کتاب کی تولیت سے مانع کیسے بنے گی؟ نیز اگر اہلِ کتاب اس پر اپنے ’’مذہبی حق‘‘ کایوں دعوی کریں کہ یہ گھر ’’بنی اسرائیل کے جد امجد حضرت ابرایہم علیہ السلام نے تعمیر کیا ہے اور جب بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو گھر بنا یا ،آپ اس پر ہمارا ’’تاریخی و مذہبی حق ‘‘تسلیم کرتے ہیں، تو جو اس گھر پر ہمارا حق کیونکر نہیں ہوگا ،جو سب بنی اسرائیل کے جد امجد نے تعمیر کیا ہے ؟آنجناب اس حوالے سے کیا ’’تحقیق‘‘ پیش فرمائیں گے؟
۴۔اصل بات یہ ہے کہ نصوص میں بطورِ علت شرک کا جو بیان ہوا ہے ،اس میں مقصود اہلِ کتاب سے احتراز ہے ہی نہیں ،جیسا کہ آنجناب کا گمان ہے ،بلکہ وہ علت ایمان کے مقابلے میں بیان ہوئی ہے ۔گویا اس میں مشرکین کا تقابل مومنین کے ساتھ کیا گیا ہے نہ کہ اہلِ کتاب کے ساتھ،یعنی مشرکینِ مکہ کو اس لئے مسجدِ حرام کی تولیت نہیں مل سکتی ، کیونکہ وہ مشرک ہیں یعنی مومن نہیں ہیں ۔علمی اصطلاح میں اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ حصر اضافی ہے نہ کہ حقیقی،چنانچہ علامہ آلوسی ؒ سورہ الانفال کی آیت ’’ان اولیاء ہ الا لمتقون ‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
وما اولیا ء المسجد الحرام الا المتقون من الشرک الذی لا یعبدون فیہ غیر ہ تعالی وا لمراد بہم المسلمون وہذہ المرتبۃ الا ولی من التقوی (۴۰)
اسی طرح مفسرین نے سورہ براۃ کی آیت ’’شاہدین علی انفسہم بالکفر‘‘ میں صرف مشرکین کا ذکر نہیں کیا ،بلکہ اہلِ کتاب کا بھی ذکر کیا ،چنانچہ امام ابنِ کثیر ؒ کی جو عبارت آنجناب نقل کی ہے ،اس سے آگے عبارت یوں ہے :(جو آنجناب کو شاید’’نظر ‘‘ نہیں آئی )
وہم شاہدون علی انفسہم بالکفر ای بحالہم و قالہم کما قال الذی لو سالت النصرانی ما دینک ؟لقال نصرانی ،والیہودی ما دینک ،لقال یہودی ،والصائبین و المشرک لقال مشرک (۴۱)
نیز اس بات کی تائید اگلی آیت سے بھی ہوتی ہے اس میں ’’مساجد اللہ ‘‘ کی تولیت صرف غیر مشرکین یعنی مومنین کا حق بتلایا گیا ہے:
إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللّٰہَ (البراء ۃ ۹: ۱۸) 
’’اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائے ہوں اور نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں ۔‘‘
۵۔ اس موقع پر آنجانب نے مسجدِ اقصی و مسجدِ حرام اور مشرکین و اہل کتاب کے درمیان جتنے ’’فروق‘‘ بیان کیے ہیں اور دونوں کے جد ا جدا احکامات پر جتنا ’’زور ‘‘ صرف کیا ہے ، ان کو یہاں زیرِ بحث لانا بے فائدہ ہے ،کیونکہ ان فروق کی وجہ سے ان دو مقدس مقامات کی تولیت میں فرق نکالنا آنجناب کا ’’قیاس ‘‘ہے ،جس پر آنجناب نے پوری بحث میں کوئی ’’دلیل‘‘نہیں دی ۔اس کے علاوہ یہ سارے فروق واقعی حق تولیت میں بھی ’’علتِ موثرہ ‘‘ کا کردار ادا کرتے ہیں ،اس پر بھی ’’دلیل‘‘ کی ضرورت ہے ،کیونکہ مقیس و مقیس علیہ کا تمام اوصاف میں کلی ’’اشتراک ‘‘ صحتِ قیاس کے لئے کسی کے نزدیک بھی شرط نہیں ہے ۔ 
۶۔آنجناب نے مسجدِ حرام کی تولیت سے مشرکین کی محرومی کی علت ’’شرک ‘‘ نکالی ہے ،اس پر سوال یہ ہے کہ اس حکم کی علۃ العلۃ کیا ہے ؟یعنی شرک کیوں ایک مقدس گھر کی تولیت سے بے دخلی کی علت ہے؟تو اس بارے میں گزارش یہ ہے اس حکم کی اصل علت ’’اللہ کی نافرمانی اور تکذیبِ پیغمبر‘‘ہے کہ مشرکین چونکہ اپنے شرک کی آڑ میں اللہ کی نافرمانی اور اللہ کے ایک جلیل القدر پیغمبر کی تکذیب کر رہے تھے ،تو اللہ نے انہیں اس گھر کی تولیت سے محروم کردیااور یہی علت اہلِ کتاب میں بھی پائی جاتی ہے، اس لئے وہ بھی ایک مقدس گھر کی تولیت سے محروم ہونگے۔اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ یہود کی بیت المقدس سے دو مرتبہ جلاوطنی کی وجہ اللہ کی نافرمانی اور اس کے جلیل القدر پیغمبروں کی تکذیب اور ان کی اطاعت سے انکار کی وجہ سے ہوئی تھی ۔سورہ اسراء کی ابتدائی آیات اس پر شاہد ہیں ۔اور یہی علت آج کے یہودیوں میں موجود ہے ،اس لئے وہ اس مقدس گھر کی تولیت کے قطعاً حقدار نہیں ہونگے۔
۷۔اس بحث کے آخرمیں آنجناب نے ایک ’’تضاد ‘‘کا دعوی بھی کیا ہے ،چنانچہ لکھتے ہیں :
’’علاوہ ازیں اس تضاد کا کیا حل ہے کہ جب اسلام میں اہلِ کتاب کی عام عبادت گاہوں کو تحفظ دیا گیا اور ان پر اہلِ مذہب کی تولیت و رصرف کا حق تسلیم کیا گیا ،تو ان کے قبلہ اور مرکزِ عبادت کے بارے میں یہ فیصلہ کیوں کیا گیا کہ وہ اس پر تولیت ، تصرف اور اس میں عبادت کا حق نہیں رکھتے۔‘‘
آنجناب کو یہ تضاد اس لیے نظر آرہا ہے ،کہ آنجناب کے نزدیک مسجدِ اقصی کی حیثیت محض یہود کے ایک قومی عبادت گاہ اور مرکزِ عبادت کی ہے اور آنجناب اس کو صرف یہود کا مرکزِ عبادت ’’فرض‘‘ کر کے ساری بحث کر رہے ہیں۔ حالانکہ ہم اس کی وضاحت بار بار کر چکے ہیں کہ مسجدِ اقصی صرف یہود کا قبلہ و مرکز نہیں ہے ،بلکہ وہ دنیا کے ان چند مقدس مقامات میں سے ایک مقدس مقام ہے جس کی بنیاد،تعمیر ،اور تجدید اللہ کے حکم سے اللہ کے جلیل القدر انبیاء نے کی ہے اور ایسے مقدس مقامات کے بارے میں ’’سنت اللہ ‘‘یہی ہے کہ وہ ہر زمانے کے اہلِ حق کو ملتے ہیں ۔یہود کو بھی ایک زمانے میں یہ مقام اسی لئے ملا تھا کہ وہ اس وقت اہلِ حق تھے ۔اگر آنجناب اپنا زاویہ نظر تبدیل کر لیں ،تو اس میں ایک رتی کے برابر تضاد نہیں ہے۔اپنے ذہن سے ’’غلط مقدمات ‘‘ فرض کر کے جب احکاما تِ شریعت پر نظر ڈالیں گے ،تو تضادات کے سوا کیا نظر آئے گا؟

فتحِ بیت المقدس کی بشارت

جناب عمار صاحب نے ’’دلائلِ شرعیہ ‘‘ پر نقد کرتے ہوئے ایک ’’دلیل ‘‘ یہ بھی بیان کی ہے کہ بعض حضرات احا دیث میں بیت المقدس کی فتح کی بشارت کو بھی مسجدِ اقصی کی تولیت کی دلیل بناتے ہیں ۔ آنجناب نے اس پر اعتراض یہ کیا ہے کہ بیت المقدس شہر کی فتح کی بشارت سے وہاں پر موجود عبادت گاہوں پر تولیت کاحق کہاں سے لازم آیا؟کیونکہ کسی شہر کا فتح ہو کر مسلمانوں کے قبضے میں آنا اور بات ہے ، جبکہ ہاں پر موجود عبادت گاہوں پر تولیت ایک اور بحث ہے ۔
آنجناب سے گزارش ہے کہ نصوص شرعیہ میں بیت المقدس کا لفظ مسجدِ اقصی کے لیے ہی استعمال ہوا ہے، اس لفظ کا بلد اقدس کے لیے استعمال کا رواج محققین کے نزدیک خلافت عباسیہ کے دور میں خصوصاً ہارون الرشید کے دور میں شروع ہوا (۴۲) لہٰذا جب اس سے مراد ہی مسجدِ اقصی ہے ،تو پھر ان احادیث کو تولیت کی دلیل کیوں نہیں بنا یا جاسکتا؟ ذیل میں چند نصوص ذکر کرتے ہیں جن میں مسجدِ اقصی کے لئے بیت المقدس کا لفظ استعمال ہوا ہے:
۱۔نسائی شریف میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں مسجدِ اقصی کی تعمیر کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:
لما فرغ سلیمان من بناء بیت المقدس سال اللہ ثلاثاً (۴۳)
۲۔معراج کی رات آپ ﷺ مسجدِ اقصی میں داخل ہوئے اور آپﷺ کے اعزاز کے لیے انبیاء کو جمع کیا گیا ،اس کا ذکر یوں ہے :
ثم دخلت بیت المقدس ،فجمع لی الانبیاء (۴۴)
۳۔ جب آپ ﷺ معراج سے واپس تشریف لائے اور علی الصباح یہ واقعہ بیان کیا،تو مشرکین نے امتحاناً مسجدِ اقصی کے بارے میں سوالات شروع کر دیے ،تو اللہ نے مسجدِ اقصی کو آپ کے سامنے ظاہر کر دیا ،اس کا ذکر یوں ہوا ہے :
فجلا اللہ لی البیت المقدس (۴۵)
۴۔امام ابو داؤد ؒ نے باب باندھا ہے :
باب من نذر ان یصلی فی بیت المقدس (۴۶)
۵۔امام ابنِ ماجہ ؒ نے باب باندھا ہے :
باب من اہل من بیت المقدس (۴۷)
۶۔ترمذی شریف میں حضرت یحیی اور حضرت عیسی علیہما السلام کا ایک لمبا واقعہ مذکور ہے ،اس میں حضرت یحیی علیہ السلام نے مسجدِ اقصی میں بنی اسرائیل کو جمع کیا ،اس کا تذکرہ یوں آیا ہے :
فجمع الناس فی بیت المقدس فامتلاء المسجد (۴۸)
۷۔حضرتِ حذیفہ بن یمانؓ کی روایت میں ہے :
اصلی رسول اللہ ﷺ فی بیت المقدس؟ (۴۹)
۸۔امام رازیؒ تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں :
وقولہ(الی المسجد الااقصی) اتفقواعلی ان المرادمنہ بیت المقدس(۵۰)
۹۔روح المعانی میں علامہ آلوسی ؒ لکھتے ہیں :
( الی المسجد الاقصی) وھو بیت المقدس (۵۱)
۱۰۔امام ابنَ کثیر ؒ لکھتے ہیں :
(الی المسجد الا اقصی ) وھو بیت المقدس (۵۲)
ان نصوص سے یہ بات واضح طورپرثابت ہوتی ہے ،کہ بیت المقدس کا لفظ قرآن و حدیث میں مسجدِ اقصی کے لئے ہی بولا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ آنجناب نے شاید ’’قصداً‘‘اس بشارت اور پیش گوئی پر اکتفاء کیا ،حالانکہ اس حوالے سے مزید نصوص بھی آئی ہیں ،کاش آنجناب ان پر بھی ’’خامہ فر سائی ‘‘ فرماتے۔اب ان میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے:
۱۔مسجدِ اقصی میں دجال (یہود کا سربراہ)داخل نہیں ہو سکے گا(۵۳)
۲۔ بیت المقدس میں مسلمان قربِ قیامت میں محصور ہونگے(۵۴)
۳۔بیت المقدس کی خرابی و بربادی کے ساتھ مدینہ منورہ کی خرابی و بربادی کا بڑا گہرا تعلق ہے(۵۶)
۴۔ابوابِ بیت المقدس پر جو لشکر جہاد کرے گا وہ حق لشکر ہو گا(۵۷)

تکوینی مشیت اور تشریعی حکم میں فرق

جناب عمارصاحب نے مسجدِ اقصی سے یہود کی بے دخلی کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے ،کہ یہود پر ان کی نافرمانی کے نتیجے میں بخت نصر اور دوسرے فاتحین کا مسلط ہونا خالص ایک تکوینی معاملہ ہے ،اس لئے اسے اپنے حق میں دلیل نہیں بنایاجاسکتا ۔آنجناب نے یہاں بھی ’’خلطِ مبحث ‘‘ سے کام لیا ،حالانکہ سورہ اسراء میں مذکور واقعات تشریعی اور تکوینی دونوں قسم کے احکام پر مشتمل ہیں :
۱۔حکمِ تشریعی تو یہ ہے کہ نافرمانی اور سرکشی کی وجہ سے یہود سے مسجدِ اقصی کی تولیت چھین لی گئی ،یہ وہی ضابطہ ہے ،جو کتب سماویہ میں بار بار بیان ہواہے۔لہذا آئندہ جو بھی گروہ اور جماعت اس طرح نافرمانی کا ارتکاب کرے گی وہ اس گھر کی تولیت سے یہود کی طرح محروم ہو گی۔
۲۔اس نافرمانی کے نتیجے میں ان پر ایسے فاتحین مسلط ہونا ،جنہوں نے بیت المقدس کو ویراں و برباد کیا ،یہ ایک خالص تکوینی معاملہ ہے اور اللہ تعا لی نے اسی کی مذمت ’’ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ‘‘ میں بیان کی ہے ۔اس لئے اگر اب کوئی ان واقعات سے استدلال کرتے ہوئے اس مقدس مقام کی بے حرمتی روا رکھے گا ،تو وہ یقیناً مذمت کا مستحق ہو گا۔اب امتِ مسلمہ کے مفکرین اس تکوینی معاملے سے استدلال کرتے ہوئے مسجدِ اقصی کی حرمت کو پامال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا وہ اس میں بیان کیا ہوا حکم اور اللہ کی سنت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں ،کہ یہ مقدس گھر اس مغضوبِ علیہم قوم کو نہ دیا جائے۔آنجناب خود فیصلہ کر لیں ۔

’’ما کان للمشرکینِ ان یعمروا مساجد اللہ‘‘ کی تعمیم 

آنجناب نے لکھا ہے کہ اس آیت کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے تمام مساجد اور تمام کفار کو اس حکم میں شامل کرنا درست نہیں ہے ،کیونکہ یہ صرف مسجدِ حرام کے بارے میں ہے اور یہ حکم صرف مشرکین کے ساتھ خاص ہے ۔آنجناب سے گزارش ہے کہ اگر استدلال کرنا بھی ہے، تو وہ اس آیت کی بجائے اگلی آیت سے ہوتا ہے ،وہ اس میں اللہ نے اپنے گھروں کے بارے میں ایک عمومی ضابطہ بیان کیا ہے ،اللہ تعالی فرماتے ہیں :
إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللّٰہَ (البراء ۃ ۹: ۱۸) 
’’اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں ،جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائے ہوں اور نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔‘‘
اس کی تفسیر میں اما مِ اہل سنت اما م ماتریدی ؒ لکھتے ہیں:
فذلک کلہ علی المسلمین ای علیہم عمارۃ المساجد و بہم تعمر المساجد ولہم ینبغی ان یعمروھا (۵۸)
یہ سارے کام مسلمانوں کا فریضہ ہیں ،یعنی ان کی ذمہ د اری مساجد کو آباد کرنا ہے ،اور انہی سے مساجد حقیقت میں آباد ہوتے ہیں اور انہی کا حق ہے کہ وہ مساجد کو آباد کریں ۔

بیت المقدس میں یہود کا قیام 

حضرت عمرؓ نے بیت المقدس کی فتح کے وقت جو شرائط لگائیں تھیں ،ان میں ایک شرط یہ بھی شامل تھی کہ یہود میں سے کوئی بھی بیت المقدس میں قیام نہیں کر سکے گا ۔اب یہ شرط کتنی صراحت کے ساتھ یہود کی تولیت کی نفی کر رہی ہے ،کیونکہ اگر واقعی از روئے ’’شریعت ‘‘مسجدِ اقصی پر یہود کا حق ہو تا ،تو حضرت عمرؓ اس میں ضرور کوئی ایسا استثناء کرتے ،جس سے ان کا یہ ’’شرعی حق ‘‘ پامال نہ ہوتا۔یہ کونسی ’’عدالت‘‘ ہے کہ عیسائیوں کی عام عبادت گاہ کا تو اتنا خیال رکھ رہے ہیں ،کہ ان میں نماز بھی پڑھنا گوارا نہیں کر رہے ہیں ،لیکن یہود کو نہ صرف ان کی ’’مرکزی عبادت گاہ‘‘ سے محروم رکھ رہے ہیں ،بلکہ انہیں اس شہر میں قیام کی اجازت نہیں دے رہے ہیں ،کہ وہ کم از کم اسے دیکھ ہی لیا کریں ۔
آنجناب نے جو اس کا ’’شاہکار جواب ‘‘ دیا ہے ،قارئین بھی اس سے لطف اندوز ہوں ،آنجناب نے لکھا ہے کہ یہ شرط اصل میں عیسائیوں کی درخواست پر لگائی گئی،جو پرانے زمانے میں ایک رومی بادشاہ نے لگائی تھی اور عیسائی اسی شرط کو برقرار رکھناچاہ رہے تھے ۔اب جناب عمار صاحب کو کون بتائے کہ کیا اس شرط کا پسِ منظر اور سبب بتانے سے کیا یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضرت عمرؓ کی نظر میں ان کا حقِ تولیت باقی ہے ؟نیز مسلمان فاتح تھے یا مفتوح ،کہ عیسائیوں کی درخواست پر ایک ’’غیر شرعی ‘‘شرط لگانے پر آمادہ ہو گئے ؟حقیقت یہ ہے کہ یہ شرط اور مسجدِ اقصی پر یہود کی تولیت ایک دوسرے کے بالکل معارض ہے ۔اگر آنجناب کا موقف تسلیم کرلیں کہ مسجدِ اقصی پر یہود کا تاریخی و مذہبی حق باقی ہے اور از روئے شریعت ان کا یہ حق منسوخ نہیں ہوا ،تو حضرت عمرؓ کی عدالت پر ایسا دھبہ لگتاہے ،جس کی امت کے تمام مفکرین مل کر بھی مناسب توجیہ نہیں کر سکتے ، کیونکہ مسجدِ اقصی پر یہود کا حق تسلیم کرتے ہوئے اس شرط کی اس کے سوا کوئی توجیہ نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے یہ شرط لگا کر یہود کا یہ حق ’’غصب ‘‘کر لیاجو شریعت کی رو سے انہیں عطا ہوا تھا۔ 

فتح بیت المقدس کے موقع پر حضرت عمرؓ کا طرزِ عمل 

حضرت عمرؓ نے جب بیت المقدس کو فتح کیا ،تو مسجد ااقصی میں حاضر ہو ئے ،عیسائیوں نے صخرہ کو یہود کی نفرت میں مزبلہ یعنی کوڑا دان بنایا تھا،حضرت عمرؓ نے خود اسے صاف کیااور اذان کا حکم دیا ،چنانچہ وہاں اذان دی گئی اور حضرت عمرؓ نے اسی احاطے میں ایک خاص جگہ پر نماز ادا کی ،حضرت عمرؓ کے اس طرز عمل میں یہ پس منظر بھی پیش نظر ہونا چاہیئے کہ آپؓ نے بیت المقدس میں اہلِ کتاب کی عبادت گاہوں میں ان کی درخواست کے باوجود نماز ادا نہیں کی ،کہ کل کہیں مسلمان میرے اس فعل کی آڑ میں ان عبادت گاہوں پر مستقل قبضہ نہ کر لیں ،لیکن آپ نے نہ صرف مسجدِ اقصی میں نماز ادا کی ،بلکہ وہاں پر مسجد کی تعمیر کا بھی حکم بھی دے دیا ۔ اب اس طرز عمل کی اس کے سوا کیا توجیہ ہوسکتی ہے کہ یہ مقدس مقام اب یہود کی بجائے مسلمانوں کی عبادت گاہ بن چکا ہے ،آنجناب نے اس عمل کی توجیہ تین نکات کی شکل میں کی ہے اور لکھا ہے کہ ان نکات کی بنا پر حضرت عمرؓ کا یہ طرزِ عمل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہود کا اس پر حق باقی ہے ،قارئین بھی یہ ’’نکات ‘‘ ملاحظہ کریں : 
۱۔حضرت عمرؓ نے مسجدِ اقصی کی اصل بنیادوں کو تلاش نہیں کیا ،معلوم ہوا کہ امتِ مسلمہ کی طرف اس کی تولیت منتقل نہیں ہوئی ،چنانچہ لکھتے ہیں:
’’اب اگر یہود کے حقِ تولیت کے امتِ مسلمہ کو منتقل ہونے کے تصور کو درست مان لیا جائے،تو سیدنا عمرؓ کو اس عبادت گاہ پر تصرف حاصل کرنے کے بعداس بات کا اہتمام کرنا چاہیئے تھا کہ جس طرح انہوں نے کعب احبار کی رہنمائی میں صخرہ بیت المقدس کو کوڑا کرکٹ اور ملبے کے نیچے سے دریافت کیا ،اسی طرح مسجد کی اصل بنیادوں کو تلاش کر کے ان کو محفوظ کرنے کا اہتمام فرماتے ،لیکن اس طرح کی کوئی کوشش انہوں نے نہیں کی ،چنانچہ اصل مسجد کا رقبہ اور بنیادیں متعین طور پر آج بھی معلوم نہیں ہے ۔‘‘
آنجناب کی اس’’ توجیہ‘‘ اور یہود کے حقِ تولیت میں کیا ’’تعلق ‘‘اور کونسی ’’نسبت ‘‘ ہے ؟مسجدِ اقصی کی اصل بنیادوں کو تلاش نہ کرنے سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ حضرت عمرؓ اس پر یہود کا حق تسلیم کرتے ہیں؟آنجناب حضرت عمرؓ کے اس فعل سے دلالت کی کونسی قسم کے تحت یہ ثابت کر رہے ہیں کہ آپؓ اس پر امتِ مسلمہ کا حق نہیں مانتے؟نیز جب آنجناب نے خود لکھا ہے کہ بار بار انہدام اور تعمیر کی بنا پر مسجدِ اقصی کی اصل بنیادوں کو گہری کھدائی اور اثریاتی تحقیق کے بغیر معلوم کرنا ممکن نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ آنجناب کے بقول اس کی اصل بنیادیں آج تک معلوم نہیں ہوسکیں،تو حضرت عمرؓ اسے ایک مجلس میں کیسے معلوم کرتے ؟ْقبۃ الصخرہ کو حضرت عمرؓ نے باقاعدہ معلوم کیا ،اس پر آنجناب اپنے ’’اصول ‘‘ کے مطابق امتِ مسلمہ کی تولیت کا حق تو تسلیم کریں۔یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اتنا اہم معاملہ اور مسئلہ ہے ،لیکن حضرت عمرؓ جیسا مدبر اور صاحبِ فراست آدمی ’’زبان ‘‘ سے کچھ فرمانے کی بجائے اپنے ’’مبہم افعال ‘‘ سے اس کا ’’فیصلہ ‘‘ کر رہے ہیں کہ اس مقدس مقام پر امتِ مسلمہ اور یہود میں سے کس کا حق ہے ؟
۲۔آنجناب نے حضرت عمرؓ کے فعل کی توجیہ میں دوسرا نکتہ یہ لکھا ہے کہ آپ مسجدِ اقصی کے اس پورے احاطے میں ایک جگہ کو عبادت کے لئے مخصوص کیوں کیا؟خاص جگہ کو متعین کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ اس پر یہود کا حق بھی مانتے تھے۔
۳۔ آنجناب نے مزید لکھا ہے کہ قبۃ الصخرہ جب حضرت عمرؓ نے دریافت کیا تو اس سے اصل مسجد کے محلِ وقوع کا علم بھی تقریباً ہوگیا ،تو حضرت عمرؓ پھر اس صخرہ سے ہٹ کر کسی اور جگہ کو کیوں عبادت کے لئے مخصوص کیا ؟معلوم ہوا وہ اس پر یہود کا حق بھی تسلیم کر تے تھے ۔(اگرچہ اس کی اصل وجہ تمام توریخ میں منقول ہے(۵۹) 
آنجناب نے حضرت عمرؓ کے فعل کی جو ’’تو جیہات ‘‘ کی ہیں اور اس سے جو ’’نتیجہ ‘‘ نکالا ہے وہ قارئین نے ملاحظہ کر لیا ،کہ آنجناب اس پر یہود کا مذہبی و تاریخی حق ثابت کرنے کے لئے ’’کتنی تگ و دو ‘‘ کر رہے ہیں ۔’’استدلال ‘‘کی دنیا میں قارئین نے کبھی اس طرح کے ’’عجوبے ‘‘ملاحظہ نہیں کئے ہونگے ۔
آنجناب اس پر موقع پر صرف ایک سوال کا جواب دیں کہ جب آپ کے بقول امتِ مسلمہ کا مسجدِ اقصی پر کوئی حق نہیں ہے اور از روئے شریعت اس پر یہود کا حق ہے ،تو حضرت عمرؓ سے اس بارے میں کوئی ایک ایسا قول نقل کر دیں جس سے صراحۃ، دلالۃ یا اشارۃً یہ ثابت ہوتا ہو کہ اس جگہ پر یہود کا حق باقی ہے ؟

قانونی اور اخلاقی حق میں فرق

آنجناب نے یہ بھی لکھا ہے کہ اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ مسجدِ اقصی یہودیوں کے حوالے کی جائے ،کیونکہ دوسرے فریق کے احساسات اور جذبات کی رعایت رکھنا اخلاقیات کا اعلی اور بلند مقام ہے ۔ 
آنجناب کے اس ’’شگوفے ‘‘ پر ہم تبصرہ نہیں کرتے ،کیونکہ اس کی زد میں حضرت عمرؓ سے لیکر عصرِ حاضر تک پوری امتِ مسلمہ آتی ہے۔کہ چودہ صدیوں میں حضرت عمرؓ سمیت اس ’’خیر امت ‘‘ میں کوئی ایک ایسا شخص پیدا نہیں ہو ا ،جو اعلی اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسجدِ اقصی یہود کے حوالے کرتا ۔البتہ اس موقع پر آنجناب ’’یہود کی خیر خواہی ‘‘کے جذبے سے کچھ اتنا مغلوب ہوگئے ،کہ’’ جوش‘‘ میں آنجناب کے قلم سے یہ عبارت نکلی ،چنانچہ لکھتے ہیں :
’’اس لئے کسی گروہ کو ان کی عبادت گاہ میں جو اس کے روحانی اور قلبی جذبات کا مرکز ہے ،عبادت کرنے سے نہ روکا جائے ،بالخصوص جبکہ وہاں سے اس کی بے دخلی ’’ظلماًو قہراً‘‘اور ’’مذہبی و اخلاقی اصولوں کی پامالی ‘‘ کے نتیجے میں عمل میں آئی ہو‘‘۔
آنجناب بتائیں کہ یہود کو اپنی عبادت گاہ سے بے دخل کس نے کیا ؟کیا اللہ تعالی جس قوم کو کسی عبادت گاہ سے بے دخل کردے اسے ظلم کہا جا سکتا ہے ؟اور کیا اس بے دخلی کو مذہبی و اخلاقی اصولوں کی پا مالی کہنا درست ہے؟آنجناب ’’توجیہ ‘‘ کریں گے کہ میں نے بخت نصر اور دوسرے فاتحین کے افعال کو ظلم کہا ،لیکن یہاں تو آنجناب نے ان فاتحین کے افعال اور مظالم کو ظلم کہنے کی بجائے یہود کی بے دخلی کو ظلم کہا ،حا لانکہ ان کی اس مقدس مقام سے بے دخلی ظلم نہیں ،بلکہ عینِ انصاف کا تقاضا تھا ،کیونکہ اس بے دخلی کو اللہ تعالی نے سورہ بنی اسرائیل میں اپنا فیصلہ قرار دیا ہے ،کہ یہود کو ان کے برے افعال کی بنا پر ہم نے انہیں اس مقام سے نکال دیا ۔آنجناب سے گزارش ہے کہ وہ یا تو اس عبارت پر نظر ثانی فرمائیں یا اس کی مناسب توجیہ سے قارئین کو آگاہ فرمائیں۔

مذکورہ تحریرات پر ایک اجمالی نظر 

جناب عمار صاحب کے لکھے گئے ہر دو مضامین کا تفصیلی جائزہ قارئین کے سامنے آچکا ہے ،اب قارئین فیصلہ کریں کہ آنجناب کے اس ’’موقف ‘‘ میں استدلال کی کتنی ’’مضبوطی ‘‘ ہے، ان تحریرات میں آنجناب نے تاویل اور توجیہ کی کیسی ’’عمدہ ‘‘مثالیں قائم کی ہیں اور اس ’’غیر جانبدارانہ تحقیق ‘‘ میں آنجناب نے کتنی ’’جانبداری ‘‘ کا مظاہرہ کیا ہے ۔یہ تفصیلی جائزہ سردست ہم نے صرف آنجناب کے اہم ’’مزعومہ شرعی دلائل ‘‘ پر’’ نقد‘‘ تک محدود رکھا اور اس حوالے سے آنجناب نے جو مزید ابحاث کی ہیں ، ان کوچھوڑ دیا۔اب ان مضامین کے بارے میں چند متفرق باتیں اجمالی جائزے کے عنوان سے پیشِ خدمت ہیں :
۱۔آنجناب نے مسجدِ اقصی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو عبادت گاہ تعمیر کی ،وہ ’’تاریخ ‘‘ میں ہیکلِ سلیمانی کے نام سے معروف ہے ۔آنجناب سے گزارش ہے کہ تاریخ سے کونسی تاریخ مراد ہے ؟اسلامی تاریخ میں تو اسے مسجدِ اقصی اور بیت المقدس کہا جاتا ہے ۔جبکہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں اسے ’’بیت یہوہ‘‘اور ’’بیت المقدس ‘‘ کہتے ہیں(۶۰)نیز آنجناب سے عرض ہے کہ ایک تو ’’ہیکل ‘‘ کی لغوی و تاریخی تحقیق سے ہمیں آگاہ کریں،دوسرا ہیکل کے ساتھ ’’سلیمانی ‘‘کا لفظ کیوں اور کیسے لگا اور کن قدیم مصادر میں یہ لفظ آیا ہے؟
۲۔آنجناب نے لکھا ہے کہ مسجدِ اقصی سے یہود کے حقِ تولیت کی منسوخی کا نظریہ مولانا امین احسن اصلاحی ،مولانا سید سلیمان ندوی اور قاری طیب صاحب ؒ نے اختیار کیا ہے اور یہ نظریہ ہماری تاریخ میں پہلے کسی نے ظاہر نہیں کیا ،تو گویا آنجناب کے نزدیک تاریخ میں یہود کے حقِ تولیت کی عدمِ نسخ کی شہادتیں موجود ہیں ،گزارش ہے کہ کوئی ایک حوالہ پیش فرمادیں ،جس میں تصریح ہو کہ یہود کا حق منسوخ نہیں ہوا۔تعجب ہے کہ جس نظریے پر امت چودہ سو سال سے متفق ہے ،آنجناب اس کو صرف تین علماء کی رائے کہہ رہے ہیں ۔نیز خود آنجناب نے اپنے موقف کو عام موقف سے بالکل مختلف موقف کہا ہے (۶۱)کیا صرف تین علماء کی رائے کو ’’عام موقف ‘‘کہنا درست ہے ؟اس کے علاوہ آنجناب نے یہود کے حق کی نفی والے موقف کو ’’امت مسلمہ کی نمائندگی کرنے والے کم و بیش تمام مقتدر اہلِ علم اور علمی سیاسی ادراوں‘‘ کاموقف کہا ہے ۔(۶۲)تعجب ہے کہ ایک طرف اسے صرف تین علماء کا موقف کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف اسے’’تمام مقتدر علماء‘‘ اور’’ عمومی نظریہ‘‘بھی کہتے ہیں !
۳۔آنجناب نے اس مضمون میں بھر پور کوشش کی ہے کہ مسجدِ اقصی کو صرف یہود کی ایک عبادت گاہ،مرکزِ عبادت اور قبلہ کے طور پر متعارف کروائے،چنانچہ لکھتے ہیں:
’’اس کے برعکس مسجدِ اقصی کی حیثیت محض بنی اسرائیل کے قومی قبلہ اور مرکزِ عبادت کی تھی‘‘
حالانکہ قرآن و حدیث کے مطابق اس کی’’ محض‘‘ یہ حیثیت بالکل نہیں ہے ۔ بخاری کی حدیث کے مطابق دنیا میں بیت اللہ کے چالیس سال بعد اس کی بنیاد رکھی گئی ،اس طرح سے اس کے بانی حضرت آدم علیہ السلام یاحضرت ابراہیم علیہ السلام قرار پاتے ہیں نیز ایک قول کے مطابق حضرت یعقوب علیہ السلام اس کے موسس ہیں ،جو بھی قول مان لیں (اگرچہ دلائل کے اعتبار سے پہلے دونوں قول اصح ترین ہیں ) اتنی بات تو ثابت ہوتی ہے ،اس عبادت گاہ کے ساتھ صرف یہود کا تعلق نہیں ہے ،کیونکہ یہود حضرت موسی علیہ السلام کی اتباع کا دعوی کرنے والوں کو کہتے ہیں اور یہ تینوں حضراتِ انبیاء حضرت موسی علیہ السلام سے قطعی طور پر پہلے مبعوث ہوئے تھے ۔یہود کو بھی یہ عبادت گاہ اس لئے ملی تھی کہ وہ زمانے کے اہلِ حق تھے اورمقدس مقامات کے بارے میں خداوندی اصول یہی ہے کہ وہ زمانے کے اہلِ حق کوملتے ہیں ۔
اب ظاہر ہے کہ اسے ایک مقدس مقام ماننے کی صورت میں بحث کا انداز اور ہوگا ،جبکہ اسے صرف اہلِ کتاب کی عبادت گاہ ماننے کی صورت میں بحث کا طرز مختلف ہوگا۔چونکہ دوسرا طرز(جو اصل میں یہودی مراجع کا طرز ہے)آنجناب کے ’’موقف ‘‘ کے لئے مفید تھا ،اس لئے آنجناب نے اس پر بہت زیادہ زور لگایااور مسجدِ اقصی کے دوسرے پہلو کو بالکل نظر انداز کر دیا۔یہی وجہ ہے کہ آنجناب بار بار اہلِ کتاب کی عبادت گاہوں سے متعلقہ نصوص سے ذکر کرتے ہیں اور ان کے ’’عموم‘‘میں مسجدِ اقصی کو شامل کر کے بحث کی پوری عمارت کھڑی کر دیتے ہیں ۔
۴۔آنجناب نے یہ بھی لکھا ہے کہ مسلمانوں نے اس کی تولیت امانتاًاٹھائی تھی ۔اتنے ’’بڑے دعوے‘‘ پر آنجناب نے کوئی ایک دلیل بھی نہیں دی ۔کیا کسی اور مذہب کی ’’عبادت گاہ‘‘کو امانتاًلینے کا تصور اور اس کے احکامات فقہ اسلامی میں ملتے ہیں؟نیز ہماری تاریخ میں کیامسجدِ اقصی کے علاوہ اور بھی کسی عبادت گاہ کو امانتاً تولیت میں لیا گیا؟یہود جب خود روئے زمین پر موجود تھے ،تو ان کی سب سے ’’مرکزی عبادت گاہ‘‘کو کیوں امانتاًلیا گیا ،جبکہ ان کی باقی عام عبادت گاہوں سے کسی حوالے سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا؟
۵۔آنجناب نے اس پوری بحث میں امتِ مسلمہ کے حقِ تولیت کے ’’دلائل ‘‘پر تو بے شمار ’’اعتراضات ‘‘کئے ، لیکن خود اپنے ’’مدعا‘‘کہ اس پر یہود کا مذہبی وتاریخی حق ہے اور ان کی تولیت بالکل منسوخ نہیں ہوئی،اس پر کوئی ایک دلیل بھی نہیں دی ۔آنجناب سے گزارش ہے کہ اپنے موقف پر قرآن پاک کی کوئی آیت،کسی حدیث کا حوالہ ؛کسی فقہی کتاب سے اقتباس یا کسی ایک عالم کا کوئی قول پیش فرمادیں،تا کہ ہمیں اندازہ ہو کہ آنجناب کے دلائل کتنے قوی ہیں ؟فریق مخالف کے استدلالات پر نقد سے تو مسئلے کا اثبات نہیں ہوتا ،جب تک اپنے دلائل پیش نہ کئے جائیں۔
۶۔آنجناب نے اس مضمون کے آخر میں اس موضوع پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کے فقدان کا بھی شکوہ کیا ہے ،لیکن کیاآنجناب کی تحقیق غیر جانبدارانہ ہے؟کیا یہ انصاف ہے کہ اگر کوئی محقق اس پر امتِ مسلمہ کا حقِ تولیت ثابت کرے تو آنجناب کی نظر میں وہ ’’جانبدارانہ تحقیق ‘‘ ہے اور اگر خود یہود کو اس کا حق دار ٹھہرائیں ،تو وہ ایک ’’غیر جانبدارانہ تحقیق‘‘ ہے؟کیا صرف ایک فریق کے ماخذ سے تعارف،تاریخ وغیرہ نقل کر کے دوسرے فریق کے دلائل پر ’’محض نقد کرنا ‘‘غیر جانبدارانہ رویہ ہے ؟آنجناب کا فرض بنتا تھا کہ امت مسلمہ کے بالغ نظر محقیقین نے یہود کے مذکورہ دعاوی پر جو تعقبات کئے ہیں ،ان کو بھی ذکر کرتے ،پھر موازنہ کر کے کوئی فیصلہ کرتے،لیکن آنجناب نے اس قسم کی تمام تحقیقات کو یکسر نظر انداز کر دیا۔پوری امت کو ’’انصاف و اخلاق کی تاکید کرنے والا‘‘خود اتنی بڑی ناانصافی کرے گا ،اس کی توقع نہیں تھی۔
۷۔آنجناب نے اس پورے مضمون میں اس بات پر تو خوب زور لگایا کہ امتِ مسلمہ استحقاق کی نفسیات سے مغلوب ہوگئی ہے،تاریخی حوادث کے نتیجے میں مسجدِ اقصی کو سنبھالنے کے نتیجے میں اب انہوں نے مستقل طور پر یہودیوں کے اس حق کو غصب کیا ،فریقِ مخالف کی مرکزی عباد ت گاہ پر یوں قبضہ کرلینا اعلی اخلاق کے منافی ہے ،لیکن اس پورے مضمون میں کسی جگہ اشارۃً تک اس کا ذکر نہیں کیا کہ یہود نے اپنا ’’مزعومہ حق ‘‘لینے کے لئے فلسطین کے مسلمانوں پر کیا دردناک مظالم ڈھائے؟ہزاروں فلسطینیوں کو بلا کسی جرم کے کس طرح بے دردی سے شیہد کیا؟اپنے مزعومہ حق کو لینے کے لئے کونسے غیر اخلاقی اور غیر انسانی کام کئے؟بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا مخالفت کر کے فلسطینیوں کے ساتھ کون سا سلوک روا رکھا؟آنجناب نے امتِ مسلمہ کی ’’بداخلاقی ‘‘ کا تو شکوہ کیا ،لیکن یہود کے مظالم سے چشم پوشی اختیار کی ۔ گزشتہ نصف صدی سے اسرائیل نے تمام بین الاقوامی قوانین اور مسلمہ انسانی و اخلاقی اصولوں کو پامال کر تے ہوئے مظلوم و نہتے فلسطینیوں پر جو ظلم کشی روا رکھی ہے ،کاش اس ’’غیر جانبدارانہ تحقیق ‘‘میں اس کا بھی کچھ ذکر آجاتااور آنجناب امتِ مسلمہ کے ساتھ یہود کو بھی کچھ اخلاق کی تلقین فرمادیتے۔آنجناب نے ’’مسجدِ اقصی میں سلسلہ عبادات کے احیا ء کے حوالے سے یہود کے سینوں میں صدیوں کی تڑپ‘‘تومحسوس کر لی ،لیکن مظلوم فلسطینیوں کی دلدوز چیخیں آنجناب کے کانوں تک نہیں پہنچ سکیں(واوین کے الفاظ مذکورہ مضمون سے لئے گئے)
۸۔آنجناب نے اس مضمون میں عرب علماء کے اس موقف پر بھی کڑی تنقید کی ہے ،جو ہیکلِ سلیمانی کے وجود سے انکار کرتے ہیں ۔آنجناب نے اس موقف کو ’’کتمانِ حق‘‘اور ’’تکذیبِ آیات اللہ ‘‘سے تعبیر کیا،ہم آنجناب سے پوچھتے ہیں ،کہ یہاں پر ’’حق ‘‘اور ’’آیات اللہ‘‘سے آنجناب کیا مراد لیتے ہیں ؟اگر اس سے قرآن و حدیث کے نصوص مرادہیں ،اور ایک مسلمان کے شایانِ شان بھی یہی ہے کہ اس کے نزدیک حق اور آیات اللہ سے قرآن و حدیث مراد ہوں ،تو کس نص میں یہ بات آئی ہے کہ یہودی جس ہیکل کا دعوی کرتے ہیں ،اس سے مراد مسجدِ اقصی ہے؟مسجدِ اقصی کے بارے میں جو تفصیلات نصوص میں آئی ہیں ،ان کے مطابق یہ مسجد ،بیت اللہ کے بعد دنیا کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے بیت اللہ کے چالیس سال بعد اس کی تعمیر ہوئی ،اس طرح سے اس کے موسس اول حضرت آدم علیہ السلام ،یا حضرت ابراہیم علیہ السلام یا حضرت یعقوب علیہ السلام قرار پاتے ہیں ،اور پھر سلیمان علیہ السلام نے اس کی تجدید کی اور اسے دوبارہ تعمیر کیا ،حضرت زکریا علیہ السلام ،حضرت یحییٰ علیہ السلام ،حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام و دیگر انبیائے کرام اسی کو اپنی عبادت کا مرکز بنایا(یاد رہے یہ سارے پیغمبر وہ ہیں جنہوں نے یہود کے ہاتھوں سخت تکالیف اٹھائیں اور بعض کو یہود نے بے دردی سے شہید کیا )اورآخر میں آپﷺ نے اسراء کے موقع پر اس میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔
جبکہ ہیکلِ سلیمانی اور اس کے بانی حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں اسفارِ یہو د اور ان کی دیگر کتب میں یہ تفصیلات ہیں :
۱۔ سلیمان علیہ السلام کے بارے میں صحفِ یہود میں متعارض روایتیں ہیں،اکثر کے ہاں آپ پیغمبر کی بجائے ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
۲۔آپ نے اس وقت کے فرعون کی بیٹی سے نکاح کیا اور آپ کی بہت ساری بیبیاں تھیں ،ان میں سے کچھ مشرک تھیں اور ان کی وجہ سے آپ بھی نعوذ باللہ شرک کی طرف مائل تھے۔
۳۔آپ نے سات سال کے عرصے میں ایک عظیم الشان عبادت گاہ تعمیر کی ،اور آپ ہی اس کے بانی و موسس ہیںآپ سے پہلے اس کا نام و نشان تک نہیں تھا،اس عبادت گاہ کے رقبے ،حجم،اس میں استعمال ہونے والے سامان اور اس کی دیگر تفصیلات کے بارے میں بیشمار متعارض روایتں ان کی صحف میں بکھری ہوئی ہیں ،جن میں تطبیق کسی طرح ممکن نہیں ہے۔
۴ ۔یہ ہیکل کس جگہ پر بنایا گیا، اس بارے میں ان کے صحف میں چھ روایتیں ہیں ۔
۵۔فلسطین میں کس جگہ پر اس کی تعمیر ہوئی ،اس بارے میں پانچ روایتیں ہیں ،جن میں سے ایک روایت موجودہ مسجدِ اقصی کے عین نیچے کی ہے ۔
۶۔یہ عبادت گاہ ہمیشہ سے یہود کا مرکز رہا ہے (یاد رہے اگر دونوں کو ایک مان لیں تو لازم آئے گاکہ اس مرکز کو ان کے دشمن انبیاء یعنی حضرت زکریا،حضرت یحیی،اور حضرت عیسی و ان کی والدہ ، نے بھی ’’مرکزِ عبادت ‘‘ بنایا تھا ،آنجناب ان دونوں باتوں کی تطبیق فرمائیں)
۷۔اس عبادت گاہ کی تیسری مرتبہ تعمیر ہوگی ،اور اس کی تعمیرہوتے ہی یہود کی نشاۃ ثانیہ کا آغازہو جائیگا۔(اور مسجدِ اقصی تو کب سے تعمیر ہے ،تو ان کی نشاۃثانیہ کیوں نہیں ہورہی ہے،نیز جب وہ پہلے سے تعمیر ہے تو دوبارہ تعمیر کا کیا مطلب؟آنجناب سے ان کے جوابات مطلوب ہیں ،کیونکہ آنجناب مسجدِ اقصی اور مزعومہ ہیکل کو ایک قرار دیتے ہیں )
۸۔اس کے مقام کے بارے میں چونکہ متعارض روایتیں ہیں ،اس لئے یہود اپنے تمام وسائل کے ساتھ جدید ترین مشنریوں اور ماہرین کے ساتھ اس کے آثار ڈھونڈ رہے ہیں (اگر جگہ متعین ہوتی تو آثار ڈھونڈنے کا کیا مطلب؟ آنجناب سے سوال ہے )
۹۔اس تلاش میں انہوں نے مختلف طریقوں سے مسجدِ اقصی کے نیچے بھی مختلف تحقیقات کی ہیں ۔
۱۰۔ان تمام تحقیقات میں اب تک مسجدِ اقصی اور اس کے گرد اب تک ایک نشان اور کسی قسم کی کوئی تائید نہیں مل سکی اور اس کا اقرارمتعدد یہودی اور امریکی ماہرین کر چکے ہیں ،یہاں تک کہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔
ہیکلِ سلیمانی کے بارے میں ان تفصیلات کو دیکھتے ہوئے کیا یہ موقف زیادہ درست ہے ،کہ ہیکل اور مسجدِ اقصی دونوں ایک عبادت گاہ کے نام ہیں ،یا یہ موقف زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے ،کہ دونوں مختلف عمارتوں کے نام ہیں؟ فیصلہ آنجناب فرمائیں ۔
اب جن عرب علماء نے مذکورہ بالا حقائق کے نتیجے میں یہ بات کہی ہے کہ ہیکل کا وجود محض انکا مفروضہ ہے ،خصوصاً مسجدِ اقصی کے نیچے تو اس کا وجود تو کا فی محلِ نظر ہے ،تو اس میں کونسے حق کا کتمان اور کونسی آیتوں کی تکذیب لازم آتی ہے؟ مذکورہ تفاصیل کی بنا پر تو دونوں کے ایک ہونے کا نظریہ کتمانِ حق اور تکذیب آیات اللہ کے زیادہ قریب نظر آتا ہے، کیونکہ ہیکل کے بارے میں یہود کے محرف صحف میں منقول تفصیلات اور مسجدِ اقصی کے بارے میں نصوص میں واضح تباین ہے اور دونوں کو ایک ماننے سے متعدد اشکالات اور تضادات کا لزوم ہوتا ہے ،جبکہ الگ الگ ماننے سے کوئی ایک اشکال لازم نہیں آتا۔ سمجھ نہیں آتا کہ آنجناب نے ہیکل کے بارے میں مکمل تفصیلات کا مطالعہ کیے بغیر عالمِ اسلام کے چوٹی کے محققین پر آیات اللہ کی تکذیب جیسا سخت ’’فتوی ‘‘ کیونکر لگایا؟جس کو دوسرے لفظوں میں ’کفر کا فتوی ‘‘ کہہ سکتے ہیں،کیونکہ آیات اللہ کی تکذیب کا دوسرا نام کفر ہے۔ علمی و تاریخی بحث پر ’’کفر کا فتوی ‘‘لگانا کیا ’’متوازن و معتدل رویہ ‘‘ہے؟(۶۳)
۹۔آنجناب کے اس مضمون میں ایک ’’المیہ ‘‘یہ بھی ہے کہ آنجناب یہود کے ’’دعاوی‘‘اور ’’مطالبات‘‘کو ’’تاریخی حقیقت‘‘اور ’’مسلمہ تحقیق‘‘تسلیم کر کے امتِ مسلمہ کی اخلاقی و علمی حیثیت پر ماتم شروع کر دیتے ہیں ۔چنانچہ مسجدِ اقصی کے بارے میں تھوڑی سی معلومات رکھنے والے کے علم میں بھی یہ بات ہے ،کہ دیوارِ براق ،جسے یہود دیوارِ گریہ کہتے ہیں ،کا پس منظر کیا ہے ،ہم پہلے اس دیوار اوراس کے بارے میں پیدا شدہ تنازع کے حوالے سے کچھ مختصراً عرض کرتے ہیں ،پھر اس بارے میں آنجناب کی ’’تحقیق ‘‘پر ایک نظر ڈالتے ہیں :
آپﷺ نے معراج کے موقع پر بیت المقدس تک سفر براق پر کیا اور جب مسجدِ اقصی میں آپ ﷺ نے اللہ کے حکم سے انبیاء کرام کو نماز پڑھائی، تو صحیح مسلم کی روایت (۶۴)کے مطابق آپﷺ نے براق ایک حلقے کے ساتھ باندھا،امام نووی نے حلقے کی تشریح دروازے کے حلقے سے کی ہے کہ مسجدِ اقصی کے کسی دروازے کے حلقے سے براق آپﷺ نے باندھا ،علامہ مجیری ؒ نے الانس الجلیل میں مسجدِ اقصی کے مختلف دروازوں کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جس دروازے کے حلقے سے براق باندھا گیا ،اس کا نام باب الجنائز اور باب الا سباط ہے(۶۵)اور مزید یہ لکھا ہے کہ یہ دروازہ مسجدِ اقصی کی مغربی جانب میں ہے اور اسی مناسبت سے اسے ’’باب المغاربہ ‘‘بھی کہتے ہیں(۶۶)اس طرح سے مسجدِ اقصی کی مغربی جانب کے بارے میںیہ بات اسلامی تاریخ میں طے تھی کہ اس میں وہ حلقہ بھی تھا ،جس سے براق باندھا گیا،اور اسی کی یاد میں مسجدِ اقصی کی مغربی جانب میں ایک مسجد ’’مسجدِ براق ‘‘کے نام سے امویوں کے دور میں تعمیر کی گئی ،اور بعد میں مختلف ادورا میں اس مسجد کی تجدید بھی ہوتی گئی (۶۷)پھر سقوط ہسپانیہ کے بعد جب اسپین میں عیسائیوں کی حکومت آئی ،تو انہوں نے سارے یہودیوں کو اسپین سے جلا وطن کر دیا ،اس وقت کے مشہور عثمانی خلیفہ سلیمان قانونی نے یہود کو پناہ دی اور انہیں مسجدِ اقصی کی مغربی دیوار کے ساتھ ایک جگہ دی اور انہیں یہاں اپنی عبادات اور دینی مشاغل کی اجازت دی ،لیکن چونکہ دھوکہ و فراڈ اس قوم کی سرشت میں داخل ہے ،اس لئے انہوں نے آہستہ آہستہ یہ بات مشہور کردی ،کہ جس دیوار کے ساتھ ہم عبادت کر رہے ہیں ،یہ اصل میں مفروضہ ہیکل کی وہ دیوار ہے جو محفوظ رہ گئی ہے۔ ابتدا میں تو مسلمانوں نے اپنی روایتی تسامح کی بنا پر اس بات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا ،لیکن جب یہود کی چیرہ دستیاں حد سے بڑھ گئیں ،تومسلمانوں کا اشتعال میں آنا ایک لازمی بات تھی ،اس طرح سے اس بات نے ایک سنگین تنازع کی حیثیت اختیار کرلی۔ آخرکار ۱۹۳۰ء  میں اس تنازع کو حل کرنے کے لئے برطانوی حکومت نے ایک کمیشن تشکیل دیا جس میں دونوں فریقوں کے منتخب نمائندوں کے علاوہ آثارِ قدیمہ کے ماہرین شامل تھے۔ اس کمیشن نے کئی دن فریقین کا موقف سنااور اپنے ذرائع سے تحقیقات کیں اور آخر میں اس نے دیوار سے متعلق ان الفاظ میں فیصلہ سنایا:
’’مغربی دیوار کی ملکیت صرف مسلمانوں کی ہے، کیونکہ یہ بھی بقیہ دیواروں کی طرح مسجدِ اقصی کی ایک دیوار ہے اور مسجد کے باقی حصوں کی طرح وقف مال ہے ،نیز اس دیوار کے سامنے کا پورا حصہ بھی مسلم وقف میں شامل ہے۔‘‘(۶۸)
لیکن یہود نے متفقہ کمیشن کا یہ فیصلہ بھی نہیں مانا اور آج تک اپنے اس ’’باطل موقف ‘‘پر قائم ہیں ۔اس کے علاوہ اس موقف کے بطلان پر مزید شواہد بھی ہیں :
۱۔پورے اسلامی ذخیرے میں یہ بات کسی جگہ نہیں ملتی کہ مسجدِ اقصی کی یہ دیوار زمانہ اسلام سے پہلے کی ہے ،اور اس کی پرنی تعمیرات میں سے ہے ،حالانکہ اگر واقعی یہ دیوار اسلامی تعمیر سے پہلے بھی قائم تھی ،تو اس کا ذکر اسلامی ماخذ میں واضح طور پر ہونا چاہئے تھا۔
۲۔سلیمان قانونی کے زمانے سے پہلے تاریخ میں یہ بات ثابت نہیں ہے ،کہ کبھی یہودیوں نے اس جگہ پر باقاعدہ عبادت کا اہتمام کیا ہو۔
۳۔یہودیوں کے پرانے ماخذ میں دیوارِ گریہ یا حائط المبکی کے نام سے کسی دیوار کا ذکر نہیں ملتا ،حالانکہ اگر واقعی یہ مفروضہ ہیکل کی باقیات ہوتی ،تو ان کے ہیکل کی اہمیت کی بنا پر اس کا ذکر سرِ فہرست ہونا چاہئے تھا۔
۴۔خود یہود کے انصاف پسند محققین نے اس کا اعتراف کیا ہے ،کہ جب پرانے اور بنیادی ماخذ میں یہ بات نہیں ملتی ،تو یہ دعوی محلِ نظر ہے ۔
۵۔آج تک آثارِ قدیمہ کی تحقیق میں یہ بات ثابت نہیں ہو سکی کہ یہ دیوار مفروضہ ہیکل کی باقیات میں سے ہے۔ (۶۹)

آنجناب کی رائے

آنجناب نے اپنے مضمون میں اس پر یہ خامہ فرسائی کی ہے :
۱۔آنجناب نے ایک تو تاریخ بیان کرتے ہوئے بلا کسی حوالہ کے یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی ،کہ اس کی مغربی دیوار بالکل محفوظ رہ گئی اور اس حوالے سے مذکور ہ مباحث اور اس کے حوالے سے مشہور تنازع کا اشارۃً تک ذکر نہیں کیا ،یقیناً یہ آنجناب کی ’’دیانت ‘‘اور ’’غیر جانبداری ‘‘کی ’’اعلی مثال ‘‘ ہے۔ (براہین ص۲۴۲)
۲۔آنجناب نے مزید لکھا ہے کہ عرب علماء کا اس کو دیوار براق کہنا اور اس بات کا انکار کرنا کہ یہ ہیکل کی باقیات میں ہے، یہ ایک ایسا موقف اور رویہ ہے ،کہ اس کی علمی اور اخلاقی حیثیت ناقابلِ فہم ہے اور یہ امتِ مسلمہ کی اخلاقی حیثیت پر بہت بڑا سوال ہے کہ وہ ایک متفقہ بات کا انکار کر ہے ہیں (اب قارئین انصاف کریں کہ اس حوالے سے یہودیوں کا موقف ناقابلِ فہم ہے یا امتِ مسلمہ کا ،نیزآنجناب کا یہود کے موقف کو متفقہ کہنا، کس قدر حقائق کو چھپانے اور یہود کی بے جا وکالت کرنے کی دلیل ہے ۔آنجناب سے سوال ہے کہ ایک متنازعہ مسئلے کو متفقہ ظاہر کرنے کی اخلاقی و علمی حیثیت کتنی ناقابلِ فہم ہے ؟)
۳۔آنجناب نے یہ بات بھی لکھی ہے کہ بیسویں صدی سے پہلے اس بنیاد پر اس دیوار کے تقدس کا کوئی تصور مسلمانوں کے ہاں نہیں پایا جاتا تھا کہ یہاں آپﷺ نے براق باندھا تھا (اس سے پہلے الانس الجلیل کے حوالے سے یہ بات گزر چکی ہے کہ انہوں نے مغربی جانب کو براق کے باندھنے کی جگہ قرار دیا ہے ،اب اسے عمار صاحب کا تجاہلِ عارفانہ کہیں یا اسلامی ماخذ سے بے خبری ،نیز اس جانب میں مسجدِ براق تعمیر کرنے کی بات بھی گزر چکی ہے ،اب قارئین ہی آنجناب کی اس ’’عمدہ تحقیق‘‘پر کوئی تبصرہ کریں ۔)
۴۔آنجناب نے ایک بے بنیاد بات یہ بھی کہی ہے کہ اس دیوار کی دریافت کا سہرا عثمانی خلیفہ سلطان سلیم کے سر ہے کہ انہوں نے سولہویں صدی میں ملبے کے نیچے سے اسے دریافت کیا (اب آنجناب سے کون پوچھے کہ جب آ پ کے بقول یہ ہیکل کی باقیات میں سے ہے ،تو یہودیوں کو پندرہ صدیوں تک اس کا علم کیوں نہیں ہو سکا؟نیز کیا یہ صدیوں پرانی دیوار ملبے کے ہٹانے سے ہی برآمد ہوگئی اور اس موقع پر سلطان سلیم نے بھی اس کو ہیکل کی باقیات تسلیم کیا؟اس کے دریافت والی بات کس معتبر تاریخ میں لکھی ہے ؟آنجناب نے اس کے لئے مودودی صاحب کی ایک تقریر کا حوالہ دیا ،کیا اتنی بڑی اور تاریخی تحقیق کے لئے صرف تقریر کا حوالہ کافی ہے؟
۱۰۔آنجناب نے اس مضمون میں مکمل طور پر یہود کے موقف کی وکالت کی ہے ،اس طرح سے اسے ایک غیر جانبدارانہ تحقیق کہنا محلِ نظر ہے ،حا لانکہ آنجناب نے اپنے مضمون کو تعصبات و جذبات سے بالاتر تجزیہ کہا ہے ۔آنجناب کا ’’اخلاقی فرض ‘‘بنتا تھا کہ جب آنجناب کے نزدیک یہود کا موقف درست ہے اور آنجناب انہیں کے لئے اس مضمون میں مواد اکٹھا کر رہے تھے تو اسے غیر جانبدارانہ تحقیق کہنے سے گریز کرتے۔
۱۱۔آنجناب نے اس مضمون میں بار بار امتِ مسلمہ کی اخلاقی کمزوری کا رونا تو رویا ،لیکن اس پہلو کا ذکر نہیں کیا کہ امتِ مسلمہ نے انبیاء کے اس مقدس مقام کا کس طرح غیر جانبداری سے کما حقہ تحفظ کیا،اس کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں دیں اور آج تک دے رہے ہیں اور محض یہود کے بغض میں آکر اس مقدس مقام کا تقدس پامال نہیں کیا۔یہ یقیناً اس امت کی وہ اخلاقی فتح ہے جو اس سے پہلے یہود و نصاری کی پوری تاریخ میں معدوم ہے ،کہ ان دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کا کیا حشر کیا۔
۱۲۔آنجناب نے اس پورے مضمون میںیہود کی مظلومیت اور ان کی بے چارگی کا عنصر تو خوب نمایاں ہے،لیکن اس میں ان کی کرتوتوں ،انبیاء ساتھ اس قوم کے ناروا سلوک ،نبی پاکﷺ اور صحابہ کرام کے خلاف ان کی گھناونی سازشوں اور اللہ کی نظر میں اس قوم کی حیثیت اور مقام کا بالکل ذکر نہیں کیا ،آنجناب کا یہ طرز انتہائی قابلِ افسوس ہے ۔
۱۳۔آنجناب نے اس مضمون میں انصاف کی بہت تلقین کی ہے ،لیکن خود نصوص اور تاریخی واقعات میں جو واضح ناانصافیاں کی ہیں (جن میں سے کچھ کا ذکر اس مضمون میں آچکا) جو دور دراز کی بے جا تاویلات کی ہیں اور ’’یحرفون الکلم عن مواضعہ‘‘ کا جو مظاہرہ کیا ہے ،کیا وہ انصاف کے زمرے میں آتا ہے ؟ 
۱۴۔آنجناب نے اس مضمون میں مسجدِ اقصی کی تولیت پر تو ’’پر زور بحثیں ‘‘کی ہیں ،لیکن اسرائیل کے ناجائز وجود اور ایک قوم کو زبردستی جلاوطن کر کے ان کی سرزمین پر بلا جواز قبضہ پر کسی قسم کے تبصرے سے ’’گریز‘‘کیا ہے ۔حالانکہ ان دونوں مسئلوں میں کافی مضبوط ربط واور گہرا تعلق ہے ۔

آخری گزارش ،کرنے کا اصل کام 

علمی و فکری مسائل پر تحقیق کرنا اور کسی مسئلے کے تمام جوانب و پہلو ؤ ں پر بحث کرنا یقیناًایک مستحسن امر ہے ،لیکن کسی بھی علمی و فکری مسئلے پر بحث سے پہلے اپنے گرد و پیش کے ماحول اور خارجی احوال کو پیشِ نظر رکھنا بہت ضروری ہو تاہے اور یہ بھی دیکھنا بہت ضروری ہے کہ اس ’’تحقیق ‘‘ کے اظہار میں نفع و نقصان کا تناسب کیا ہے ؟خصوصاً امتِ مسلمہ آج داخلی اعتبار سے تقسیم در تقسیم کا شکار ہے ،اس پر مستزاد مغربی دنیا نے عسکری،سیاسی ،اور فکری و ثقافتی طور پر پوری امت پر یلغار کر رکھی ہے ۔ ان حالات میں کیا یہ مناسب ہے کہ امتِ مسلمہ کے متفقہ مسائل کو ’’تحقیق ‘‘کے نام پر از سر نو چھیڑا جائے ،اسلاف کے فہمِ دین اور ان پر قائم اعتماد کی اس مبارک فصیل میں دراڑیں ڈالی جائیں اور امت کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر مفکرین کو ایک لا یعنی بحث میں الجھایا جائے؟پہلے سے فرقوں ،جماعتوں اور گروہوں میں بٹی امت کو مزید تقسیم کرنے کا ’’سنہرا کارنامہ ‘‘سر انجام دیا جائے ۔
اس دور میں یہ ’’کمال ‘‘کی بات نہیں ہے کہ ’’محقق‘‘بن کر جمہور امت سے ہر مسئلے میں اختلاف کو اپنا وطیرہ بنا لیا جائے، کیو نکہ اب ان ’’شواذ ‘‘آراء کے بارے میں پچھلی دو صدیوں میں کثرت سے ’’مواد‘‘‘ متجدیدین اور مستشرقین تیار کر چکے ہیں تو اسی مواد کی جگالی کرنا اسلام کی کونسی خدمت ہے؟اور اسی مواد کو دوبارہ نئے انداز میں پیش کرنا کونسی ’’تحقیق‘‘ ہے ؟جناب عمار صاحب سے مقتدر علمی حلقوں کو یہی گلہ ہے کہ آنجناب کی ہر تحریر منفی و تنقیدی مواد پر مشتمل ہوتی ہے اور تعمیری پہلو کی بجائے اس میں تخریب کا عنصر نمایاں ہوتا ہے ۔اس لئے آنجناب سے گزارش ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو ان لایعنی اور لا حاصل بحثوں پر صرف کرنے کی بجائے عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کے حقیقی مسائل کو حل کرنے پر صرف کرے۔امتِ مسلمہ مغرب کا مقابلہ کیسے کرے ؟مغرب کی فکری یلغار کو کیسے روکے ؟امتِ مسلمہ کے ایک بڑے طبقے کا ایمان شریعت کی ابدیت و کاملیت سے تقریباً اٹھ چکا ہے اور یہ طبقہ مکمل طور پر لبرل بن چکاہے ،اس طبقے کو دوبارہ’’ اسلام‘‘ کے قریب کیسے لایا جائے ؟دنیاوی تعلیم کے اعتبار سے کالجو ں اور یونیورسٹیوں میں جو مسترد شدہ اور مغرب سے مرعوب کرنے والا نصاب پڑھایا جا رہا ہے ،اس کی اصلاح کیسے کی جائے ؟خود علماء اور دینی طبقات اس بات کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ وہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید نصاب کا خاکہ تیار کریں ،اس میں صاحبِ صلا حیت افراد کی ضرورت ہے کہ وہ اس میں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرے ۔امتِ مسلمہ کو دوبارہ عروج دلانے کی ان’’ مثبت کوششوں‘‘ میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے ۔کاش آنجناب کے قلم سے ان مثبت و تعمیری موضوعات پر بھی ’’تحقیق ‘‘ نکلے۔
آخر میں آنجناب سے گزارش ہے کہ اس پورے مضمون میں کوئی واقعی کمزوری آنجناب کو نظر آئے، تو ہمیں اس پر مطلع فرمائیں ،ہم آنجناب کے ممنون ہوں گے اور اسے کھلے دل سے تسلیم بھی کریں گے اور ساتھ یہ عرض ہے کہ اگر ہمارا تبصرہ آنجناب کے دل کو لگے ،تو اپنی اجتہادی خطا کو تسلیم کریں ،کیونکہ اجتہاد کی غلطی واضح ہوجانے کے بعد اس پر ڈٹے رہنا اہلِ علم کے شایانِ شان نہیں ہے ۔اللہ تعا لی ہم سب کو اپنے دین کی صحیح خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ سید الرسلینﷺ۔

حوالہ جات

۴۰۔روح المعانی ،۹؍ ۲۰۲
۴۱۔ابنِ کثیر ،۷؍۱۵۸
۴۲۔المدخل الی دراسۃ المسجد الا قصی ص۳۱
۴۳۔سنن نسائی ،فضل المسجد الاقصی ،رقم الحدیث ۶۹۲
۴۴۔نسائی ،فرض الصلاۃ،رقم الحدیث۴۴۹
۴۵۔بخاری، حدیث الاسراء ،رقم الحدیث ۳۸۸۶
۴۶۔ابو داؤد ،ص۳۷۱
۴۷۔ابنِ ماجہ ،۲؍۹۹۸
۴۸۔ترمذی ،مثل الصلوۃوالصیام والصدقۃ،رقم الحدیث۲۸۶۳
۴۹۔ترمذی ،کتا ب التفسیر ،رقم ۳۱۴۷
۵۰۔تفسیرِ کبیر،۲۰؍۱۴۷
۵۱۔روح المعانی ،۱۵؍۹
۵۲۔ابن کثیر ،۸؍۳۷۳
۵۳۔مسند احمد ،۳۲؍۳۴۹
۵۴۔ایضاً
۵۵۔ابو داؤد ،باب فی اماراتِ الملاحم،۴۲۹۴
۵۶۔مسندِ احمد ،۳۶؍۶۵۷
۵۷۔ایضاً
۵۸۔تاویلات ،۵؍۳۱۷
۵۹۔البدایہ و النہایہ ،۹؍۶۵۵
۶۰۔المدخل الی دراسۃ المسجد لاقصی ص۱۴۰
۶۱۔ملاحظہ ہو ،آنجناب کا مضمون :مسجدِ اقصی ،یہود اور امتِ مسلمہ تنقیدی آراء کا جائزہ ص۱
۶۲۔براہین ص۲۳۳
۶۳۔ان تمام نکات کے لئے ملاحظہ ہو:
۱۔ نقض المزاعم الیہودیہ فی الہیکل السلیمانی از ڈاکٹر صالح راقب
۲۔المسجد الاقصی و الہیکل الثالث ،تاریخ،عمارہ ،ادعاء ات ازمصطفی احمد
۳۔الہیکل المزعوم بین الوہم و الحقیقۃاز ڈاکٹر عبدالقاسم فرا
۴۔http://www.almoslim.net/node/109235
۵۔http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=53612
۶۔http://www.ahewar.org/debat/show.art.asp?aid=105719
۷۔http://www.almoslim.net/node/10923
۸۔ہیکل السلیمان و عبادۃ اشیطان
۶۴۔صحیح مسلم،باب الاسراء ،رقم الحدیث ۱۶۲
۶۵۔الانس الجلیل،۲؍۲۶
۶۶۔ایضاً،۲؍۲۸
۶۷۔بیت المقدس اور اس کے مضافات ص۶۱
۶۸۔ حائط البراق ام الحائط المبکی از ڈاکٹر غنیم حسن 
۶۹۔ حائط براق کے بارے میں ملاحظہ ہو:
۱۔ ڈاکٹر غنیم حسن کا مذکورہ تحقیقی مقالہ 
۲۔ حائط البراق وکی پیڈیا ،
۳۔ http://forum.sh3bwah.maktoob.com/t448675.html
۴۔ http://forum.sh3bwah.maktoob.com/t448675.html

قرآنی تدبرِ کائنات: روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی؟ (کرم فرماؤں کی خدمت میں جوابی توضیحات)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

اپنے گذشتہ مضمون ’’تدبرِ کائنات کے قرآنی فضائل ۔۔۔‘‘ پر بالترتیب جناب عاصم بخشی اور ڈاکٹر شہباز منج کے دو ناقدانہ تبصرے ’’الشریعہ‘‘ کے شمارہ اگست ۲۰۱۴ء میں نظر سے گذرے۔ دونوں صاحبان نے میرے مضمون میں مذکور اصل علمی نکات سے ذرا بھی مس نہیں کیا اور نہ ہی میرے اصل موقف ومدعا کو موضوعِ بحث بنایا ہے جسے میں ان کی طرف سے نیم دلانہ ’’اعترافِ حقیقت‘‘ سمجھتا ہوں۔ تاہم کچھ مغالطے ہیں اور کچھ سوالات ہیں جو خصوصا اول الذکر ناقد نے اٹھائے ہیں اور ہماری گفتگو کے اصل منشاء سے غیر متعلق ہونے کے باوجود زیرِ بحث موضوع سے ہی کچھ کچھ متعلق ہیں اور ان کا جواب دینا بھی اس ضمن میں فائدہ سے خالی نہ ہوگا، اس لیے ہم ان پر بات کریں گے تاکہ بحث میں پیدا ہوجانے والا الجھاؤ اور بوجھل پن دور ہوسکے اور ہمارے ناقدین کی تشفی کا سامان بھی ہوسکے۔

گذشتہ تحریر میں میرا موقف:

گذشتہ تحریر میں ہمارا مقصد صرف یہ واضح کرنا تھا کہ دنیاوی مقاصد واغراض کے لیے اور مادی حقائق کو منکشف کرنے کے لیے کائنات میں کیا جانے والا تدبر جو کہ سائنس دان کرتے ہیں، یہ ہماری اصطلاح میں سائنسی تدبر ہے اور یہ جائز ہے، بلکہ اگر نیک نیتی کے ساتھ ہو تو ’’واعدوا لہم مااستطعتم من قوۃ‘‘جیسی آیات کی وجہ سے فی زمانہ امتِ مسلمہ کے لیے کسی درجہ مستحسن بھی ہوسکتا ہے۔مگر قرآن میں جس تدبرِ کائنات کی مکرر تلقین کی گئی ہے اور جس سے اعراض کرنے والوں کی سخت مذمت کی گئی ہے، اس سے مراد مذکورہ بالا سائنسی تدبر نہیں، بلکہ وہ تدبر ہے جس کا مقصدمعرفتِ الہی، توجہ الی اللہ کا حصول اور قلب ونظر کا تزکیہ ہو۔ اب ہوا یہ کہ ہمارے ’’مفکرین‘‘ کی ایک بڑی کثرت جو لاشعوری طور پر مادی اسباب ووسائل کو عروج وزوال کا فیصلہ کن معیار سمجھتی ہے ، ’’قرآنی حکم: تدبرِ کائنات‘‘ سے سائنسی تدبر مراد لینے لگی اور بقول ان کے، قرآن ہی کی رو سے عروج وزوال کا واحد سبب بھی یہی سائنسی تدبر ہے۔ بقول ان کے جو قوم اس تدبر کو اپنائے گی، قرآن کی رو سے وقت کی زمامِ کار اس کے ہاتھ میں ہوگی اور موجودہ دور میں زوالِ امت کا اصل سبب یہی ہے کہ سائنسی، مادی وتجربی تدبرِ کائنات کا جو حکم قرآن نے اسے دیا تھا، وہ ہمارے حلیف اپنا کر ہم سے آگے نکل چکے ہیں۔ دور نہ جائیے، الشریعہ ہی کے شمارہ جولائی ۲۰۱۴ء میں ’کتاب العروج‘ نامی ایک کتاب پر ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی کا تبصرہ شائع ہوا ہے، اسے دیکھ لیجئے ۔ یہ مذکورہ طرزِ فکر کی بھر پور نمائندگی کرتا ہے۔ میرا مقصد اپنے مضمون میں یہ واضح کرنا تھا کہ قرآن میں دیے گئے ’’تدبرِ کائنات‘‘ کے حکم سے کسی غیر روحانی تدبر پر اکسانا بالکل مقصود نہیں ہے جس کا ایک ثبوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے رویے ہیں، کجا یہ کہ اسے عروج وزوال کا اکلوتا اور حقیقی سبب قرار دینے کی تہمت بھی قرآن کے سر ڈالی جائے۔ بس اتنی سی بات واضح کرنا مقصود تھا، مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ناقدین نے اسے ’’مسئلہ کشمیر‘‘ بنا دیا۔
باقی رہی زوالِ امت کی بات تو شاید اس کا حقیقی سبب سائنسی تدبر کو کھو دینا نہیں، بلکہ ان عظیم الشان روحانی واخلاقی صفات کو کہیں کھو دینا ہے جن کی اہمیت کے پیشِ نظر قرآن میں بیسیوں بار ان کا تکرار ہوا، جن پر رب العلمین کی طرف سے جہاد میں نصرت ومعیت کا وعدہ تھا اور جس کے نتیجہ میں مومنوں کی تدبیروں نے کامیاب، جبکہ غیروں کی تدبیروں نے ناکام ہونا تھا۔ بے شک امت کو سائنسی تحقیقات سے تعرض کرنا چاہئے، مگر یقین جانئے کہ امت اِس وقت مادی تنزلی سے کہیں زیادہ روحانی واخلاقی تنزلی کا شکار ہے۔ حقیقی اورپائے دار عزت وشوکت خدا کی رضامندی سے حاصل ہوسکتی ہے اور اس کی سب سے پہلی شرط سائنسی تحقیق نہیں، تعلق مع اللہ (اللہ کے ساتھ قلبی تعلق) کا احیاء ہے۔ تعلق مع اللہ کے بغیر ممکن ہے کہ وقتی طور پر کسی کو کچھ عروج حاصل ہوجائے جس میں خدا کی کوئی حکمت مضمر ہوگی، مگر اس سے اللہ کے ہاں سرخروئی کا ملنا مشکل ہے اور ہر وہ عروج جس میں رضاءِ الہی شامل نہ ہو، وہ پانی کے بلبلے کی طرح ہے جو صرف نظر کا دھوکا ہے، تھوڑا وقت گذرنے کے بعد، یا تو اِس دنیا میں ہی یا پھر آخرت میں سب کچھ آشکار ہوجائے گا۔ 
*۔۔۔*
اب آتے ہیں پہلے اول الذکر ناقدکی طرف۔ ان کو سب سے پہلے میری ’’تمہید‘‘ پر اعتراض ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر کوئی چیز غلط ہو اور اس کی نادرستگی کو سمجھنے کے لئے بالکل معمولی سی توجہ کی ضرورت ہو تو اس کو غلط کہنے سے مکالمہ کا آغاز نہ کیا جائے اور نہ ہی یہ کہا جائے کہ لوگ اس حوالہ سے خواہ مخواہ کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے بقول ان کے، مکالمہ کی اور علمی تنقید کی ’’موت‘‘ واقع ہوجاتی ہے۔ خیر، تفنن بر طرف! فاضل ناقد کو ہمارے مضمون میں مذکور دو الفاظ ’روحانی تدبر‘ اور ’سائنسی تدبر‘ کا اطلاق سمجھنے میں مغالطہ لگا ہے اور اسی سے پھر انہوں نے کچھ سوالات اٹھائے ہیں۔ آئیے، اِن سوالات پر ذرا غور کرتے ہیں:

سائنسی تدبر کے دو مفہوم اور روحانی تدبر کی دو شکلیں:

(۱) تدبر کے ساتھ ’سائنسی‘ اور ’روحانی‘ کا سابقہ ہم نے تحقیق وتدبر کے مختلف اغراض ومقاصد کو واضح کرنے کے لیے لگایا تھا کہ اگر تدبر کرتے ہوئے مادی اغراض ومقاصد پیشِ نظر ہیں تو یہ تدبر ’سائنسی ومادی‘ ہے اور قرآنی تدبرِ کائنات کا مصداق نہیں، جبکہ اگر اس سے مقصود قلب ونظر کا تزکیہ، طاری غفلت کا ازالہ اور معرفت الٰہی کی تحصیل ہے تو یہ تدبر روحانی ہے اور یہ قرآنی تدبرِ کائنات کا مصداق بھی ہے۔ اس کی تصریح ہمارے مضمون میں ہی موجود تھی۔ فاضل ناقد اس معاملہ میں تو ہمارے ساتھ متفق ہیں کہ قرآنی تدبر کا مقصود معرفت الٰہی ہے لیکن ان کو مغالطہ یہ لاحق ہوا ہے کہ ’سائنسی ومادی تدبر‘ سے اِس راقم کا مقصود کوئی مادی ، تجربی، حسی اور ٹھوس عقلی بنیادوں پر قائم باضابطہ اسلوبِ تحقیق تھا جو نہ تو بقول ان کے میرے نزدیک معرفتِ باری کا ذریعہ بننے کے قابل ہے اور نہ ہی قرآنی تدبرِ کائنات کے فضائل کا مصداق بن سکتا ہے، کیونکہ میرے نزدیک قرآنی تدبرِ کائنات کا مصداق ’روحانی تدبرِ کائنات‘ تھا، نہ کہ ’سائنسی تدبر‘ اور بقول ان کے اس روحانی تدبرسے میری مراد کوئی ایسا غیر حسی وغیر تجربی اسلوبِ تدبر تھا جو کبھی بھی ٹھوس عقلی بنیادوں پر قائم نہیں ہوتا اور نہ ہی دوسروں کے لیے قابلِ ابلاغ یا قابلِ تفہیم ہوتا ہے، بلکہ یہ کوئی ایسا باطنی تجربہ یا سری کیفیت ہے جو انسان کو خدا کی موجودگی کے ایک روحانی احساس سے سرشار کردے۔ مثلا ایک جگہ ان کے الفاظ ہیں:
’’یہ تصور کہ حضورِ حق کا ایک خاص قسم کا عارفانہ تجربہ ہر صورت میں ٹھوس عقلی بنیادوں پر قائم ایک سائنسی فکری تجربے سے متضاد کوئی الگ شے ہے، اتنا معقول معلوم نہیں ہوتا ۔۔۔ کسی بھی سائنسی یا فلسفیانہ رجحان کے تدبر کا مطلب ہرگز روحانی مقاصدواحوال کا انکار نہیں ہے۔‘‘ (صفحہ۴۵)
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ موصوف میرے موقف کو کیا سے کیا سمجھ گئے ہیں۔ اطلاعا عرض ہے کہ مادی اور دنیاوی اغراض ومقاصد کے لئے کیا جانے والا ’سائنسی تدبر‘ جوکہ ہمارے علم کے مطابق سائنس دان کرتے ہیں اور جو ہماری مراد بھی تھا ، یہ واقعی نہ تو روحانی تدبر کی کوئی شکل ہے اور نہ ہی اسے قرآنی تدبرِکائنات کے فضائل کا مصداق ٹھہرانے کا کوئی جواز ہے۔ تاہم اگر ’سائنسی تدبر‘ کا وہ معنی لیا جائے جو آپ نے بیان کیا ہے تو وہ محض ایک اسلوبِ تدبر ہے، اگر اس اسلوبِ تدبر کو معرفتِ الہی تک پہنچنے کے لیے اختیار کیا جائے گا تو یہ روحانی تدبر ہوگا اور قرآنی فضائل کا مصداق بھی، (بلکہ شاید یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ خود قرآن معرفتِ الہی تک کامل رسائی کے لیے اسی واحد اسلوب کی طرف غالبا سب سے زیادہ متوجہ کرتا ہے)، لیکن اگر اسی اسلوبِ تدبر کو مادی اغراض کے لیے اختیار کیا جائے گا تو یہ ہماری اصطلاح میں غیر روحانی تدبر ہوگا اور قرآنی ترغیبات کا مصداق بھی نہیں ہوگا۔
’روحانی تدبر‘سے ہمارا مقصود ہر وہ ’تدبرِ کائنات‘ تھا جس کا مقصد رب العالمین کی معرفت اور اس کی یاد ہو، خواہ وہ تدبر اپنی ابتدائی شکل میں عرفانی ہو یا عقلی واستدلالی۔ (جی ہاں، عقلی بنیادوں کی بحث تبھی ہوگی کہ جب عقلی استدلال اور اس کے نتیجہ میں عقلی اطمینان مطلوب ہوگا۔) چنانچہ قرآن میں تدبرِ کائنات کا مطالبہ کافر اور مومن دونوں سے کیا گیا ہے، اب مومن کا تدبر از اول تا آخر عرفانی ہو تو ہو، مگر ایک کافر کو ابتداء استدلالی تدبر کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے اور چونکہ ان دونوں میں مقصود معرفتِ الہی ہی ہے اس لئے یہ دونوں ہی قرآنی تدبرِ کائنات کی شکلیں ہیں، معیاری شکلیں ہیں اور دونوں ہی ٹھوس عقلی بنیادوں پر قائم ہوں گی، بس فرق یہ ہے کہ پہلے میں جب عقلی اطمینان ابھی مطلوب ہے تو عقلی واستدلالی بنیادیں زیر غور بھی آسکتی ہیں ، جبکہ دوسرا چونکہ پہلے سے موجود عقلی اطمینان پر قائم ہوگا، اس لیے عقلی بنیادیں اس میں زیرِ غور لانے کی شاید ضرورت ہی نہیں ہوگی۔ ’روحانی تدبر‘ کا سری کیفیت والا وہ معنی جو ہمارے ناقد نے بیان کیا ہے، یقین جانئے کہ ہماری مراد تو کیا ہوتا، ہمیں ابھی تک سمجھ بھی نہیں آیا۔
جی ہاں،’ عرفانی‘ اور ’عقلی واستدلالی‘ دونوں ہی روحانی تدبر کی شکلیں ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ استدلالی تدبر کا سفر اِس ضمن میں زیادہ طویل نہیں ہوگا کیونکہ اسلام کی مبادیات کچھ زیادہ گاڑھے، ثقیل اور ناقابلِ فہم ’’عقلی دلائل‘‘ کے سمجھنے پر موقوف نہیں، خدا نے اِن کا راستہ آسان کردیا ہے اور تبھی تو اِن پر ایمان نہ لانے پہ جہنم کی سخت ترین سزا مقرر فرمائی ہے۔ ان مبادیات کی صداقت کو سمجھنے کے لیے فلسفیانہ پیچ وتاب کھانے کی نہیں، سنجیدگی، ہوش مندی اور قبولِ حق کے جذبہ کی ضرورت ہوتی ہے اور بس۔ مثلا دیکھئے، رب العالمین کا وجود کسی بھی بدیہی سے زیادہ بڑی بدیہی حقیقت ہے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فی الجملہ و اصولی صداقت کو ان کی نبوت کے منکر بھی ہر دور میں تسلیم کرتے رہے ہیں۔ دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیے کہ اِن دو باتوں کے بعد اسلام کے بارہ میں مزید کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟ یوں تو دلائل اور بھی بہت ہیں، مگر کیا ابتداءً اسلام کی حقانیت کو سمجھنے کے لئے اتنی سی توضیح کافی نہیں اور کیا اِس توضیح کا کوئی بھی معقول جواب موجود ہے؟ میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ عقلی اطمینان کا سفر اس ضمن میں نسبتا مختصر ہوگا اور اس کے بعد کا سفر عرفانی ہی عرفانی ہوگا جو عقلی اطمینان کے ہی مطابق اس کے عمل اور کردار کو صحیح رخ پہ استوار کرے گا۔ یہ اس کے اندر تعلق مع اللہ کے ضمن میں خوف، محبت، ممنونیت، عبدیت، یکسوئی اور خشوع ورقت جیسی ایمانی کیفیات کو پختہ کرے گا۔ الا یہ کہ وہ خود بے سروپا شیطانی وساوس میں مشغول ہوکرعقلی اطمینان کو پنپنے نہ دے یا اس اطمینان کو پانے کے لیے ناقص فلسفیانہ استدلالات کی جوڑ توڑ میں مشغول رہے۔
اسی طرح ان کی گفتگو سے یہ تاثر لینا بھی درست نہیں ہوگا کہ میرے نزدیک روحانی تدبر اور مادی اغراض کے لیے ہونے والے ’’سائنسی تدبر‘‘ کی آمیزش ناممکن ہے کیونکہ ایک ہی تدبر میں روحانیت اور مادیت کی یوں آمیزش ہوسکتی ہے کہ اس کا جتنا حصہ ’’روحانی‘‘ ہوگا، وہ ’’قرآنی تدبرِ کائنات‘‘ کے فضائل کا مصداق ہوگا اور جو حصہ غیر روحانی ہوگا، اس کا حکم ’’سائنسی ومادی تدبر‘‘ والا ہی ہوگا۔ یہ عین ممکن ہے کہ سائنسی تدبر ہی کے دوران ایک صاحبِ تدبر اپنا کام بھی کررہا ہو اور ساتھ ہی ساتھ توجہ الی اللہ کو بھی اپنے دل میں سموئے ہوئے ہو، طبیعی عوامل پر غور کرتے ہوئے بھی یادِ الٰہی سے غافل نہ ہو اور اس کے سامنے موجود سائنسی وتحقیقی منظر نامہ ’’حجاب‘‘ بننے کی بجائے معرفت الٰہی میں بڑھوتری ہی کا ایک ذریعہ ثابت ہورہا ہو۔ اب ظاہر ہے کہ اِس صورت میں روحانی وسائنسی تدبر یکجا ہیں، اس میں جتنا حصہ اللہ کے لیے ہوگا، اس کا اجر اسے اللہ کے ہاں ملے گااور جو حصہ غیر روحانی ہوگا، وہ قرآنی تدبرِ کائنات کے فضائل کا مصداق نہیں ہوگا۔

روحانی تدبر اور سائنسی ورلڈ ویو:

اسی سلسلہ کی ایک مزید کڑی ان کا یہ بیان ہے کہ چونکہ اس راقم کے نزدیک سائنسی اسلوبِ تدبر روحانی مقاصد کے لیے قابلِ استعمال نہیں، لہٰذا گویا ہمارے نزدیک موجودہ دور کا سائنسی تدبر کرنے والا یا سائنسی ورلڈ ویو رکھنے والا ایک انسان اس وقت تک قرآنی وروحانی تدبر کا حامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ سائنسی تدبر اور سائنسی ورلڈ ویو سے بالکل ہی تہی دامن نہ ہوجائے۔ گویا ہم (بالفاظِ ناقد) گردشِ ایام کو پیچھے کی طرف دوڑانا چاہتے ہیں اور روحانی تدبر کے لیے ہزاروں سال پہلے کے تصورِ کائنات میں پہنچنا ضروری سمجھتے ہیں۔ میرے بارے میں یہ مغالطہ بھی شاید ان کو اصطلاحات ہی کے فرق کی وجہ سے اور مضمون میں مذکور اولین دور کے مسلمانوں کے کچھ حوالوں سے لاحق ہوا ہے۔ ان کے الفاظ ہیں:
’’اگر عصر حاضر کا انسان اِس قابل ہے کہ محض خلا میں گھورنے سے ازلی حقائق پر غور وخوض کرتے ہوئے حقیقتِ مطلقہ کا احاطہ کرسکے اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے آپ کو نورِ ربانی کی حضوری سے سرشار محسوس کرے تو اس میں ظاہر ہے کہ کچھ قابلِ اعتراض نہیں، مگر آج کے انسان کی ذہنی وفکری ساخت اور تجربہ کو قدیم اور قبل از دورِ وسطی کے انسان جن میں انبیاء وصالحین وصحابہ کرام وغیرہ بھی شامل ہیں، پر قیاس کرنا اور اس سے عمومی طور پر اس قسم کے تدبر کا مطالبہ ایک عجیب وغریب طرح کی سادہ لوحی ہے ۔۔۔ اب اگر پورا تجرباتی تناظر ہی بدل چکا ہے تو پھر یا تو گردشِ ایام کو پیچھے کی طرف دوڑائیے اور یا پھر اپنی تدبرانہ نگاہ کو بدلیے۔۔۔ قرآن کوئی طبیعیات، کیمیا، حیاتیات یا نفسیات کی کتاب تو ہے نہیں، مگر چوں کہ قرآن ہدایت کی خاطر جابجا ہمیں مظاہر انفس وآفاق کی طرف متوجہ کرتا ہے، لہٰذا عصر حاضر کا قاری ان علوم کے دلائل کو استعمال کیے بغیر شاید تدبر کائنات کے مطالبے مکمل حق ادا نہیں کرسکتا ۔۔۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایک بدو اور ایک ریاضی دان قرآن کے یکساں مخاطب ہیں۔ مگر تدبر کائنات کے پس منظر میں ان کی ذہنی واردات کا ایک دوسرے سے قطعا مختلف ہونا اس بات پر ہرگز دلیل نہیں کہ حضورِ حق کے احوال، انسانی قلب وذہن پر منکشف ہونے سے پہلے کسی ایک خاص ذریعہ علم ہی کے متقاضی ہیں اور اس پر اصرار کرتے ہیں۔‘‘ (صفحہ۴۸،۴۹، ۴۳)
ہمارا مقصد اپنے مضمون میں کہیں پر بھی یہ ثابت کرنا نہیں تھا کہ جدید دور کا سائنسی انسان جو سائنسی ورلڈ ویو رکھتا ہے، وہ روحانی تدبر کا اہل نہیں۔ آپ جان چکے ہیں کہ ہم نے سائنسی تدبر کو مباح بلکہ ایک لحاظ سے مستحسن بھی لکھا ہے، پس اگر یہ تدبر خدا نخواستہ مطلوب روحانی تدبر کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہو تا جوکہ حکمِ خداوندی ہے تو ہم سائنس کو آخر کیوں کر مباح ومستحسن کہتے، اِس صورت میں تو ایک خداوندی حکم کی تعمیل میں رکاوٹ ہونے کی وجہ سے اسے واجب الترک اور قابلِ نفرین ہونا چاہئے تھا۔( ضروری ہے کہ یہاں پر ہم ’’سائنسی ورلڈ ویو‘‘ کی بھی قدرے وضاحت کردیں۔ ہم ’’سائنسی ورلڈ ویو‘‘ سے اپنی گفتگو میں صرف وہ نیامنظرنامہ لے رہے ہیں جس میں عصرِ حاضر کا انسان ماضی کے انسان کے مقابلہ میں نظامِ کائنات کو سرسری آثار ووقائع کی روشنی میں دیکھنے کی بجائے قدرے گہرائی سے دیکھتا ہے، مگر اس میں کوئی الحادی کیفیت نہیں ہوتی۔ )

روحانی تدبر اور کائنات کا بدویانہ تناظر:

تاہم بعینہ اسی طرح، دوسری طرف ہم یہ بات بھی درست نہیں سمجھتے کہ موجودہ دور کا کوئی انسان محض ’’خلاء میں گھورنے‘‘ سے یا بالفاظِ دیگر، کائنات کے بدویانہ تناظر سے اللہ تک رسائی اور حضورِ حق کی سری سرشاری حاصل نہیں کرسکتا اور یہ کہ اِس مقصد کے حصول کے لئے موجودہ دور میں اسے کیمیا، طبیعیات، حیاتیات یا نفسیات کے دلائل سے مدد لینا ہی ضروری ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ آنکھوں کے سامنے موجود زمین وآسمان کے جن عظیم، محکم اور ہوش ربا آثار وتغیرات کو ہمارے داعی نظر انداز کردیتے ہیں، یقین جانئے کہ ان کو خود اپنی آنکھوں سے خواہ بدویانہ نگاہ کے ساتھ ہی دیکھنا آج بھی کسی وضعی علم کی نظامِ کائنات کو بیان کرنے والی پیچیدہ تحقیقات سے زیادہ عام فہم ، زیادہ دل نشین اور زیادہ پائیدار مشعلِ راہ ثابت ہوسکتا ہے، بس ہوا یہ کہ چونکہ ہم آسمان وزمین کو ہروقت دیکھتے ہیں، مسلسل دیکھتے چلے آرہے ہیں اور شروع ہی سے انہیں سطحی نگاہ سے دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں، جبکہ ہمارے دل ودماغ پر چند سفلی خواہشات کا کل وقتی بسیرا ہوتا ہے، انہی کو ہم سوچتے ہیں اور انہی کے خواب دیکھتے ہیں، پھر کائنات میں آنکھوں کے سامنے موجود رب العلمین کی طرف متوجہ کرنے والی عظیم نشانیوں کو کوئی بیان نہیں کرتا تو ان وجوہات کی بناء پر زمین وآسمان میں آنکھوں کے سامنے موجود ’’آیات اللہ‘‘ کی خرد افروزی، ہوش ربائی اور ہیبت ناکی کی طرف ہمارا خیال ہی نہیں جاتا اور نہ ہی ہم ان سے اثر لیتے ہیں، ہاں! نئے سے نئے سائنسی انکشافات پھر بھی دل پہ کچھ اثر کر جاتے ہیں۔ 
انبیاء کی آمد کا ایک مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ بنی نوع انسان کو اِن ’’آیات اللہ‘‘ کی طرف متوجہ کریں اور خود اپنی آنکھوں سے ایک عاقلانہ، حقیقت پسندانہ وعارفانہ نگاہ کے ساتھ انہیں ان پہ غور کرنے کی تعلیم دیں تاکہ ان پر طاری غفلت جو مختلف شکلوں کی کفریات یا فسق وفجور کی شکل اختیار کرچکی ہے، اس کا ازالہ ہو۔ ہم لوگ ’’تدبر کائنات‘‘ کی تلقینات پڑھ کر بھی یہ کرتے ہیں کہ ان بعض کتابوں کو پڑھ لینا کافی سمجھتے ہیں جن میں چند مناظرِ کائنات کی نقشہ کشی کی گئی ہوتی ہے، یعنی عملا کچھ وقت فارغ کرکے خود اپنی نگاہوں کے ساتھ کائنات کو دیکھنے کے لئے تیار نہیں اور ایسا ہم کریں بھی کیسے؟ ہمیں تو بند کمروں اور مصنوعی روشنیوں سے ہی نکلنے کی فرصت نہیں جو انسان کی خدمت اور نصیحت کے لیے طلوع وغروب ہوتے اجالوں، گھٹتے بڑھتے چاندوں، زمین سے ابلتے خزانوں، اڑتی پھدکتی، رینگتی، تیرتی اور قلانچیں بھرتی زندگی کی شکلوں، موسم کی بدلتی رتوں، دور تلک پھیلی کائناتوں یا خود اپنی صورت مورت پر ہی آئینہ سامنے رکھ کر کچھ غور کریں جو آج بھی انسان ہی کو دعوتِ فکر دینے کے لیے موجود ہیں، ہم تو خوب صورت قدرتی مناظر کو بھی اس لئے دیکھنے جاتے ہیں کہ محض اپنی جمالیاتی حس کی تسکین ہوجائے۔ اس لیے ہمیں یہ عجیب محسوس ہوتا ہے کہ وضعی علوم کے دلائل پر غور کیے بغیر ’’محض خلاء میں گھور لینے ‘‘ (یعنی کائنات کے بدویانہ مشاہداتی تناظر) سے جدید انسان کو کیسے معرفتِ حق حاصل ہوسکتی ہے؟ یقین جانئے کہ ’’گلشن میں علاجِ تنگیء داماں بھی ہے۔‘‘ نظامِ قدرت کے چند مخفی اصولوں اور پہلوؤں کو بیان کرنے والے وضعی علوم کے دلائل سے ناواقفیت کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔(بدویانہ اور غیر سائنسی تصورِ کائنات کے موجودہ دور میں کار آمد ہونے کی بحث ضمنا چھڑ گئی، ورنہ اصل مقصود تدبر ہے جو معرفتِ الٰہی کی خاطر ہو، خواہ وہ سائنسی ورلڈ ویو کے ساتھ ہو یا بدویانہ ورلڈ ویو کے ساتھ، جیساکہ ہم عرض کرچکے ہیں۔)

اسلام، عیسائیت اور ایک ناقابلِ ابلاغ سری کیفیت:

(۲) مذکورہ غلط فہمیوں کے نتیجہ میں ہی پھر ایک اور سنگین مغالطہ ناقد کو میرے موقف کے بارہ میں یہ لاحق ہوا ہے کہ شاید میں (بالفاظِ ناقد) عیسائیت کی طرح اسلام کے مابعد الطبیعی عنصر کو مذکورہ اس پیچیدہ، مخفی اور ناقابلِ ابلاغ عارفانہ تجربہ کا نتیجہ مانتا ہوں جسے انہوں نے ’روحانی تدبر‘ کا نام دے رکھا ہے اور حسی وعقلی تجربات کے خلاف ہوں یا مبادیاتِ اسلام کو ان کی بنیاد پر ثابت نہیں مانتا(دیکھئے ناقد کا عنوان اور متعلقہ شمارہ میں صفحہ ۴۵ و ۴۸پر ان کی گفتگو)، حالانکہ ایسی کوئی بات میرے حاشیہء خیال میں بھی نہیں تھی۔ وجہ اس مغالطہ کی بھی شاید وہی رہی ہے کہ میرے مضمون میں سائنسی تدبر اور روحانی تدبر کااطلاق سمجھنے میں انہیں مغالطہ لگا ہے۔ اب اس کے جواب میں پہلی عرض تو یہ ہے کہ خود ورحانی تدبر بھی ہمارے نزدیک تدبرِ کائنات کی ایک قسم ہونے کی وجہ سے حسی ومشاہداتی اور قابلِ تفہیم تدبر ہی ہے، جبکہ دوسری بات یہ کہ اس روحانی تدبر میں ہی ’عقلی واستدلالی‘ تدبر بھی شامل ہے۔ روحانی کیفیات کی سری سرشاری دلیل سے زیادہ نتیجہ ہے ملکوتی وآفاقی حقائق کے ادراک کا، نیز اسی کے ہم قائل ہیں۔ امید ہے کہ اتنی وضاحت کافی ہوگی۔

روحانی تدبر کی معراجی کیفیات اور سائنسی انہماک:

(۳) ایک جگہ ناقد موصوف کہتے ہیں کہ
’’یہ اس زمانہ کا خاصا تھا کہ ناقابلِ ابلاغ اور ناقابلِ فہم علل کو فوق الفطرت قوتوں سے منسوب کیا جائے ۔۔۔ ایک دس سالہ بچے کا ذہن بھی جدید درس گاہوں میں آج اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ فطرت کو مابعد الطبیعیاتی یا دینیاتی مقصد کے تابع سمجھنے کے بجائے اسے انسانی غرض کا مطیع سمجھا جائے ۔۔۔ سورۃ الملک کی وہ عظیم آیات جن میں دو بار افلاک کی طرف نطر دوڑانے کا ذکر ہے، کیا آج کا انسان ایک قدیم انسان کے ذہن سے پڑھ سکتا ہے؟ یا پھر وہ آخری آیت جس میں پانی کے بند ہوجانے کی تنبیہ ہے، کیا ہماری ہنسلی کی ہڈی میں بھی وہی سنسناہٹ دوڑا سکتی ہے جو ایک صحابی کو محسوس ہوتی ہوگی؟‘‘ (صفحہ۴۷، ۴۸)
میں ان کی اس مبینہ صورتِ حال سے شاید اتفاق کرتا ہوں، مگر میں سمجھ نہیں سکا کہ موصوف اس سے ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟ بہر حال یاد رکھئے کہ جس طرح تدبرِ کائنات کا قرآنی حکم ہر زمانہ کے لیے ہے، خواہ اس زمانہ کا ورلڈ ویو سائنسی ہو یا بدویانہ، بالکل اسی طرح اس کی وہ آیات بھی ہر زمانہ کے لیے ہیں جن میں انسان کو خدا مستی، بے خودی، کائنات کے ہر ذرہ میں خدا کا نور تلاش کرنے اور نہ صرف ناقابلِ فہم وناقابلِ ابلاغ علل کو بلکہ عام فہم وقابلِ ابلاغ علل کو بھی ایک فوق الفطرت ذات سے منسوب کرنے کا سبق دیا گیا ہے۔ مثلا یہ کہ شجر وحجر اللہ سبحانہ وتعالی کی تسبیح وثناخوانی میں مشغول ہیں، جھکے ہوئے سائے در اصل خدا کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور پہاڑ کی اونچائی سے جو پتھر نیچے آگرتے ہیں، یہ در اصل اللہ کے خوف سے نیچے آگرتے ہیں۔ حالانکہ سایہ کے جھکنے اور پتھر کے نیچے آگرنے جیسے امور کی ’مادی علل‘ پردہء خفاء میں نہیں، بلکہ آنکھوں کے سامنے موجود ہیں جنہیں قدیم دور کا ایک بدو بھی دیکھ کر بتا سکتا ہے۔ یہ غیبی حقائق جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں، محض زیب داستان بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ مومن ہی کو ایک خاص زاویہ نگاہ عطا کرنے کے لیے ہیں کہ وہ شجر وحجر کو، جھکے ہوئے سایوں کو اور اوپر سے نیچے آگرنے والے پتھروں تک کو کس زاویہ سے دیکھے؟ اسی زاویہء نگاہ کی آبیاری کے نتیجہ میں ہی ایک مومن کسی مخلوق کے ہاتھوں پہنچنے والی بھلائی کو بھی پہلے خدا کی طرف منسوب کرتا اور اسی کا شکر بجا لاتا ہے۔ اِس زاویہء نگاہ کا خوگر بننے کے لیے تھوڑی سی نفسانی مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ جو اللہ کو اللہ سمجھتا ہے، اس کے لئے یہ معمولی سی مشقت کوئی معنی نہیں رکھتی، لیکن جو اللہ کو اللہ نہیں سمجھتا، اپنے اندر احساسِ بندگی نہیں رکھتا اور ایسے عارفانہ زاویہء نگاہ کا مذاق اڑاتا ہے (میری مراد کافرہے) تو روزِ قیامت نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے اندر یہی زاویہء نگاہ از خود پیدا ہوجائے گا اور ہر چیز میں خدا کی بادشاہی صاف نظر آجائے گی، مگر تب کا عارف بننا کسی کام نہیں آئے گا، حقیقی عارف وہی ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہوئے اس دنیا میں ہی عارف بن جائے اور خدا کے امتحان میں پورا اتر آئے، یہ آدمی آخرت کی رسوائی سے بچ جائے گا۔ جس طرح تدبرِ کائنات کا قرآنی حکم ہر زمانہ کے لیے ہے، اسی طرح خدا کے خوف سے دل میں رقت پیدا ہونے، آنکھوں کے راستے بہہ پڑنے، اس کا نام سن کر دل لرز جانے، خدائی تنبیہات کو سرسری نہ لینے، آیاتِ الہی کو سن کر ایمان بڑھنے اور روتے ہوئے سجدہ میں جاگرنے جیسی قرآنی تعلیمات بھی ہر زمانہ کے لیے ہیں۔
باقی بعض آیات کے بارہ میں یہ کہنا کہ ان کو سن کر ایک صحابی ہی کی ہنسلی کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا ہوسکتی تھی اور آج یہ ممکن نہیں کیونکہ جدید درس گاہوں کی ذہن سازی اور طرح کی ہے، کہیں اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ہم جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی درس گاہوں کی اس کم زوری پر سمجھوتہ کرلیں اور سائنسی انہماک کے مضر روحانی اثرات کو نظر انداز کردیں؟ میں نے گذشتہ مضمون میں عرض کیا تھا کہ ’’سائنسی تدبر ایک مباح سرگرمی ہے بشرطیکہ اس کا انہماک انسان کو خدا پرستی کے تقاضوں سے غافل نہ کردے۔‘‘ مذکورہ شرط کو ذکر کرنے کا منشاء ہی یہی تھا کہ ہماری درس گاہوں میں، جیساکہ ناقد موصوف نے لکھا ہے، سائنسی منہجِ تدبر کی تعلیم وتربیت کا اہتمام تو بخوبی کیا جاتا ہے، مگر خدا پرستی کے تقاضوں کی تعلیم و تربیت کا ذرا بھی اہتمام نہیں ہوتا اور نہ ہی نبوی منہجِ تدبر کی کوئی تبلیغ وتفہیم ہوتی ہے جو کہ امرِ ربی ہے۔ ہاں، سارا زور اان سرگرمیوں پر صرف ہوتا ہے جن کا جواز بھی اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ ان کا انہماک انسان کو خدا پرستی کے تقاضوں سے غافل نہ کردے۔ اب یہ چیز خدا پرستی کے تقاضوں میں سے ہی تو ہے کہ ایک مومن تدبرِ کائنات کے نبوی منہج کا حامل ہو، آیاتِ قرآنی اس کے وجود کو ہلا دیں، مطلوبہ خدا پرستی کی کیفیات کو ہر زمانہ سے متعلق سمجھتا ہو اور خدا پرستی کے اِن تقاضوں کی ادائیگی میں جو کوتاہی ہوجائے، اس پر فکرمند ونادم رہتا ہو۔ انبیاء کا منہجِ تدبر کوئی پیچیدہ منہج نہیں، بلکہ خود ساری کائنات کسی بھی اور منہج سے زیادہ انسان کو اسی منہجِ تدبر پر اکساتی ہے، مگر چونکہ ہم ایک مستقل غفلت کے عادی ہوچکے ہیں، اس لیے یہ منہج سیکھے بنا ہمیں آتا نہیں۔ ایک صحابی اور ایک جدید انسان کی کیفیات کا مذکورہ بالا فرق ہماری نظر میں بدویانہ قدامت اور سائنسی جدیدیت سے زیادہ ایمانی استعداد کم زور و نحیف ہوجانے کے بسبب ہے۔ اگرکسی ملک کے فانی اور ناقص الاختیار حکم ران یہ اعلان کردیں کہ ہم ہنگاہی صورتِ حال میں فلاں فلاں سہولیات کو اپنی مملکت سے ختم کرسکتے ہیں تو لوگوں کو واقعی اس بات پر یقیں آجاتا ہے، وہ سہولیات ان کو ڈوبتی ہوئی نظر آتی ہیں اور یہ سن کر ان کی ’’ہنسلی کی ہڈی میں سنسناہٹ‘‘ بھی پیدا ہوتی ہے، لیکن اگر یہی بات رب العلمین کہے کہ میں پانی کے خزانے خشک کرسکتا ہوں اور ایسا کرنے کی صورت میں تم اپنی زندگی کا سامان کہاں سے لاؤ گے تو ہمارے اوپر اس کا کوئی اثر ہی نہیں پڑتا، اس کا سبب تعلق مع اللہ کی کم زوری اور غیر سنجیدگی ہے۔ ہم گنہ گاروں کو اس کا جواز تلاش کرنے کی بجائے، اس پر شرمندہ ہونا چاہئے۔
آج کا کوئی کافر ہو یا نام کا مسلمان، اگر اسے یہ عظیم الشان کائنات معرفتِ حق کی طرف متوجہ نہیں کرتی یا تدبرِ کائنات والی قرآنی تنبیہات اس کی ’’ہنسلی کی ہڈی میں سنسناہٹ‘‘ نہیں دوڑاتیں تو اِس کا سبب سنجیدگی اور ہوش مندی کا فقدان ہے۔ اگر کوئی انسان سرکشی پر اترا ہوا ہے، نہ بدلنے کا اس نے فیصلہ کر رکھا ہے اور نورِ حق کی روشنی میں عارفانہ نگاہ کے ساتھ کائنات کو دیکھنے کے لئے تیار ہی نہیں تو ایسا انسان خواہ وہ چودہ سوسال پہلے پیدا ہوا ہو یا آج، وہ قرآنی آیات سن کر بھی جامد کا جامد اور پتھر کا پتھر رہے گا، چنانچہ قدیم انسان جو اللہ کے منادیوں کی سیدھی سادی عام فہم باتوں کو ہوش مندی سے نہیں سنتا تھا، سنجیدگی سے ان پہ غور نہیں کرتا تھا اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلینے میں اپنی عافیت سمجھتا تھا، وہ بھی طرح طرح کی کفریات میں مبتلا ہوتا تھااورمحض قدامت کی وجہ سے تدبرِ کائنات والی قرآنی آیات وتنبیہات اس کے لیے سامانِ ہدایت نہیں بن جاتی تھیں، کیا یہ سچ نہیں؟ جبکہ اس کے برعکس اگر کوئی آدمی آج بھی پوری ہوش مندی کے ساتھ قرآنی آیات کو سنے گا تو یہ آیات اس کے لیے خاطر خواہ تاثیر کا موجب بنیں گی اور محض اس وجہ سے کہ یہ کوئی سائنسی دور کا انسان ہے، وہ ان کی برکت سے محروم نہیں رہے گا اور خدا کی کائنات بھی اس پر اپنی پرتیں کھولے گی۔ ہماری حالت تو یہ ہے کہ ہم اپنے اس سائنسی انہماک کی اصلاح تک کے لیے بھی آمادہ نہیں ہیں جس میں خدا پرستی کے تقاضوں کو مقدم تو کیا، شاید بعض اوقات ملحوظ بھی نہیں رکھا جاتا۔واضح یہ کرنا مقصود ہے کہ ایک صحابی میں اور ’’جدید‘‘ مسلمان میں اصل فرق ہوش مندی و سنجیدگی کا ہے، کچھ اور نہیں۔ ( باقی ’افلاک میں نظر دوڑانے والی آیت‘ کے بارہ میںیہ واضح کردوں کہ اس آیت میں افلاک کے اندر نہیں، بلکہ رحمن کی تخلیق میں نظر دوڑانے کی بات ہے، تاہم اگر کوئی قدیم یا جدید انسان سیاق وسباق میں افلاک کا ذکر ہونے کی وجہ سے اس ’تخلیق‘ سے مراد افلاک ہی لیتا ہے تو کوئی حرج نہیں، لیکن قرآن کے لفظ ’تخلیق‘ میں بے انتہا عموم اور توسع پایا جاتا ہے۔ نیز ہم عرض کر چکے ہیں کہ روحانی تدبر کرتے ہوئے انسان کی ذہنی سطح بدویانہ ہو یا جدید سائنسی، اس میں بھی کم از کم ہمیں تو کوئی اشکال نہیں ہے۔ )

’’نبوی منہجِ تدبر‘‘ کی تعلیم وتربیت:

محض کلمہ پڑھ لینے سے تو کوئی بھی آدمی قربِ الہی کے مدارج طے نہیں کرلیتا۔ اگر آج کا کوئی مسلمان بھی کسی کافر کی طرح تدبرِ کائنات کی عرفانی برکات سے محروم ہے تو اس کا سبب غیر سنجیدگی ہے، اپنی غیر سنجیدگی کو اولا سنجیدگی میں بدلنے کے لیے تو محض ایک دفعہ ہی نبوی وقرآنی دعوت کو بیدار مغزی سے سن لینا کافی ہے، لیکن اس سنجیدگی کو اچھی طرح جمانے، نبوی، ایمانی اور روحانی منہجِ تدبر کی تربیت پانے، قلب ونظر کا تزکیہ کرنے اور شیطانی غفلتوں کے مکمل انسداد کے لیے اسی نبوی وقرآنی دعوت کو بار بار سننے، سوچنے اور دوہراتے رہنے کا عمل کرنا ہوگا اور اس کو اپنے اہم ترین یومیہ مشاغل میں شامل کرنا ہوگا۔مذکورہ نبوی وقرآنی دعوت سے میری مراد ذکر و نصیحت کی وہ موٹی موٹی باتیں ہیں جن کو ابنیاء بار بار دوہراتے تھے، جن کا قرآن بھی بار بار تذکرہ کرتا ہے اور جو مسلم وغیر مسلم کے لیے یکساں مفید ہوتی ہیں، جن میں اللہ کا تعارف کرایا جاتا ہے، اس کی عظمت، قدرت اور رحمت کی تشریح کی جاتی ہے، اس کی تخلیقات میں تدبر کی دعوت دی جاتی ہے، کائناتی نقوش ومناظر کی عارفانہ نقشہ کشی کی جاتی ہے، آخرت کا تذکرہ ہوتا ہے، رسولوں کی صداقت کا بیان ہوتا ہے، حق وباطل اور نور وظلمت کا فرق بتایا جاتا ہے، پھر ان امورپر غور کرتے ہوئے اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے، جبینِ نیاز ٹیک دینے اور مومنین کی صفات اپنانے کو کہا جاتا ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ یہ ’’نبوی دعوت‘‘ شاید صرف کفار کے لیے ہے اور مومن ایک دفعہ قبول کرلینے کے بعد اِس ’’دعوت وتذکیر‘‘ کو باربار سننے کا محتاج نہیں، مگر یہ سوچ یکسر غلط ہے۔ مثلا دیکھئے کہ قرآن سارا کا سارا ’’مذکورہ دعوت وتذکیر‘‘ پر ہی مشتمل ہے اورقرآن میں بے شک کفار کوبھی مخاطب کیا گیا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ شب وروز اس کی تلاوت مومنین نے ہی کرنی ہے اور قرآن میں ان کی ہی یہ صفت بتلائی گئی ہے۔ یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ ایک ایمان والا بھی ’’دعوت وتذکیر‘‘ پر مبنی مذکورہ مضامین کو بار بار سننے سنانے کا پورا پورا محتاج ہے اور یہی اس کی ایمانی ترقی کا راستہ ہے۔ یہ کرنے سے انسان میں غافلانہ جمودات کی برف پگھلتی ہے اور وہ بہت کچھ نظر آنے لگتا ہے جو پہلے نظر نہیں آرہا تھا۔ 
یہ تو رہا اِس تربیت کا ایک مرحلہ، اس کے بعد ایک دوسرا مرحلہ بھی ہے جس پر ہم بات کرتے ہیں، لیکن اس سے پہلے تھوڑی سی تمہید سن لیجئے۔ شاید اس کو موجودہ دور کے انسان کی بدقسمتی کہنا چاہئے کہ اس میں انسان مصنوعی چیزوں کے نرغے میں پیدا ہوتا، پلتا بڑھتا اور پھر مر جاتا ہے، جبکہ خدا کی نکھری ہوئی کائنات کو عاقلانہ نگاہ کے ساتھ دیکھنے کی اس کو فرصت ہی نہیں ملتی۔ انسان کا انسان ہی کی ’’ہاتھ لگی‘‘ مصنوعی چیزوں کو دیکھنا، دیکھتے رہنا، ہروقت انہی میں گھرے رہنا، بند کمروں ومصنوعی روشنیوں سے باہر قدم نہ رکھنا ، دنیا کے جھوٹے تفکرات میں جکڑے رہنا یا چند مادی وطبیعی عوامل کو دریافت کرکے انہی پہ قناعت کرلینااس کو کنوئیں کا مینڈک بنا دیتا ہے جو اپنے کنوئیں کو ہی کل کائنات سمجھتا ہے۔ آپ کو میری اس بات کی تصدیق کرنی چاہئے کہ مادی وطبیعی توجیہات اس کائنات کی کوئی بھی معقول اور مکمل توجیہ نہیں کرپاتے۔ ان توجیہات کی حیثیت زیادہ سے زیادہ فقط اتنی ہے کہ کوئی آدمی پہلی دفعہ پانی والی ٹونٹی کے پیچھے کوئی واٹر ٹینک تلاش کرلے اور یہ نہ سوچے کہ اس واٹر ٹینک کو بھی اپنے پیچھے کسی ’’سورس‘‘ کی ضرورت ہے اور جس نے یہ بجلی، موٹر پمپ، واٹرٹینک، پائپ اور ٹونٹی کا حسین جال ایک ترتیب اورا ہتمام سے بچھایا ہے، وہ بھی ضرور کوئی دانا، زندہ وموجود، تدبیر وحکمت کا مالک، ہمارا محسن اور قابلِ تعریف شخصیت ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ سائنسی ایجادات اور مصنوعی چیزوں کو دیکھ کر ہمارا رویہ ایسا ’’بھولا بھالا‘‘ نہیں ہوتا، وہاں ہم سیانے بن جاتے ہیں۔ چنانچہ ہم میں سے کتنے ہی لوگ ہیں جو موبائل فون، ہوائی جہاز، برقی سیڑھی اور ٹیلی ویژن جیسے سائنسی کھلونوں کو بدویانہ نگاہ سے دیکھتے ہیں، میرا مطلب ہے کہ ان کھلونوں میں کارفرما وضعی علوم کی تفصیلی کدو کاوش سے مطلق آگاہی نہیں رکھتے، لیکن ان چیزوں کو دیکھ ان کی پہلی نگاہ ہی ان کے ’’تخلیق کار‘‘ کی طرف جاتی ہے،وہ سائنس کی، سائنسدانوں کی اور سائنسی علوم کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہیں اور سائنسی کھلونے انہیں حیران بھی کرتے ہیں سوال یہ ہے کہ یہی نگاہ مبہوت کردینے والی خدائی تخلیقات کے معاملہ میں جاکر کیوں مردہ ہوجاتی ہے؟ کیوں اسے ان تخلیقات کے خالق کی طرف متوجہ نہیں کرتی؟ کیوں اس خالق کو قابلِ ذکر تک نہیں رہنے دیتی؟ کیوں دیکھنے والے کے دل میں ممنونیت ومرعوبیت کے احساسات پیدا نہیں کرتی؟ کیوں اسے حیران نہیں کرتی؟ کیوں اسے اللہ کے آگے جھکنے پر مجبور نہیں کرتی؟ یہاں آکر وہی نگاہ اتنی ’’بھولی بھالی‘‘ کیوں بن جاتی ہے؟
ہماری ان ایمانی کم زوریوں کا ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے شیطان کی طرف سے مسلط کردہ غفلت۔ اس غفلت کے ازالہ کے لیے اور قلب ونظر کا تزکیہ کرنے کے لیے ایک تو یہ ہے کہ انبیاء کے منہجِ تدبر کو سمجھنا ہوگا اور اس کے لیے ان کی دعوت وتذکیر کو بار بار سننا ہوگا، جبکہ دوسرا کام اور دوسرا مرحلہ (جس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا)یہ ہے کہ خود کو ذرا مصنوعی ماحول اور مصنوعی روشنیوں کی فضاء سے نکالنا ہوگا، اپنے اپنے بنائے ہوئے کنؤں سے باہر آنا ہوگا، مادی تدبر کے انہماک کو ایک حد کا پابند بنانا ہوگا، خدا کو اس کائنات کا کوئی عضوِ معطل سمجھنے کی روش ترک کرکے کائنات کی ہی گواہی کے مطابق ایک عظیم وعلیم اور قادرِ مطلق ہستی سمجھنا ہوگا، پھر اس کے بعد جب آنکھوں کے سامنے موجود فطری مشاہدات ان شاء اللہ اس پہ اپنی اصل معنویت کھولیں گے اور جب ایک مرتبہ نگاہ نورِ حقیقت کو محسوس کرنے لگے گی تو مصنوعیت کے نام سے موجود خدا کی تخلیقات ( جی ہاں، سائنسی ایجادات بھی اللہ ہی کی تخلیق ہیں) بھی ا س کے لیے حجاب نہیں بنیں گی کیونکہ انسانی عقل اور سائنس بھی خدا ہی کی تخلیق کا ایک ادنی کرشمہ ہیں اور تزکیہ والی نگاہ انہیں اسی نگاہ سے دیکھے گی۔جب دل میں اللہ کی عظمت وہیبت ایک بار جم جائے تو طبیعی عوامل میں بھی خدا کا وجود تلاش کرنے کے لیے چالیس دن کا چلہ نہیں کاٹنا پڑتا۔
آج کل ہمارے بعض دانش وراصلاحِ تعلیم کے لیے کچھ خود ساختہ ’’اسلامی معیار‘‘ قائم کرنے میں مشغول ہیں، مثلا یہ کہ سات سال سے کم عمر کے بچے کے لیے دنیاوی تعلیم کا انتظام کرنا غیر اسلامی ہے، تعلیم کے میدان میں طلبہ سے فیس وصول کرنا غیر اسلامی ہے اور فیسیں وصول کرنے کی حد تک دنیاوی تعلیم کے سب ادارے غیر اسلامی حرکت کا ارتکاب کررہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اگر ہماری درس گاہیں ’’اصلاحِ تعلیم‘‘ کے لمبے چوڑے پروگرام بنانے اور اِن خود ساختہ اسلامی معیارات پر کان دھرنے سے پہلے صرف ایک سادہ سا کام کرلیں کہ قرآن جن ایمان افروز مضامین کو بار بار مومن کے کان میں ڈالنا چاہتا ہے، وہ مضامین کسی نصابی کتاب کے ضمن میں ایک دو بار پڑھا دینے کی بجائے، یومیہ بنیادوں پر پورے وقارا ور احترام کے ساتھ عام فہم زبان میں بچوں کے کانوں میں دیر تک ڈالیں اور بچوں کو دین کے نام پر چند وظائف کا ’’رٹو طوطا‘‘ بنا دینے کی بجائے انہیں سورۃ البروج والے واقعہ کے ’ ویرانہ نشین عابد کی طرح‘ اپنے رب کی معرفت کے حقیقی ومعنوی احساس سے ہم کنار کریں تو ایک ہزار ایک برائیاں ان شاء اللہ خود بخود دم توڑ جائیں گی اور خدا نے چاہا تو اسلامی اسکولوں کی یہ پریشانی بھی دور ہوجائے گی کہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی ان کے بچوں کا آئیڈیل ’’مغرب‘‘ کیوں ہوتا ہے۔ ہماری درس گاہوں میں بچوں کو سائنسی تحقیق کا سبق تو زور وشور سے دیا جاتا ہے، مگر یہ سبق بار بار نہیں دہرایا جاتا کہ ’’سائنس اور انسانی عقل بھی اللہ ہی کی تخلیق کا ایک ادنی کرشمہ ہیں، لہذا سائنس وانسانی عقل کی ہیبت ومرعوبیت سے زیادہ ہمیں اپنے باطن میں رب العلمین کی قوت وقدرت کا احساس راسخ کرنا ہے اور اسی کا ہر لمحہ وہر لحظہ استحضار پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہے ۔‘‘
*۔۔۔*

قرآن سائنسی اسلوبِ تدبر کا مخالف نہیں، مگر:

رہے ہمارے دوسرے ناقد تو وہ ہمارے مضمون کو سمجھ کر بھی نہ جانے کیا سمجھے ہیں۔ انہوں نے میری طرف ایسا بہت کچھ منسوب کیا ہے، جسے پڑھ کر دلی افسوس ہوا۔ ان کی تنقید بعض ایسی وضاحتوں کی متقاضی ہے جو اگر کسی بچہ کے سامنے دینی ہوتیں تو حرج نہیں تھا، لیکن الشریعہ کے صفحات پر ایسا کرتے ہوئے دل میں گھٹن پید اہوتی ہے۔مثلا میں نے گذشتہ مضمون میں تفصیل سے لکھا تھا کہ ’’قرانی حکم: تدبرِ کائنات‘‘ سے اگر معروف سائنسی ومادی تدبر مراد ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس خداوندی حکم کی بجا آوری کی خاطر سائنسی تدبر کی کوئی سرگرمی ضرور نظر آتی، مگر ایسا نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا رویہ اس حوالہ سے الٹا عدمِ دلچسپی کا نظر آتا ہے۔ ناقد موصوف اس پر لکھتے ہیں کہ ’’کیا حضور اور آپ کے صحابہ ہماری طرح مضمون نگاری کیا کرتے تھے؟ (وغیرہ وغیرہ کی ایک لمبی داستان)‘‘ (صفحہ۵۴) یعنی سوال چنا، جواب گندم۔سوال کا منشاء تو یہ تھا کہ اگر ’’قرآنی حکم: تدبرِ کائنات‘‘ سے سائنسی تدبر مراد ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی زندگی میں اس امرِ ربی کی تعمیل کیوں نظر نہیں آتی؟مگر وہ ثابت یہ کرنا شروع کردیتے ہیں کہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مضمون نگاری نہیں فرمائی اور ہمارے لیے یہ جائز ہے، اسی طرح سائنسی تدبر بھی خواہ آپ نے نہ کیا ہو، مگر ہمارے لیے یہ کرنا جائز ہے ۔ حالانکہ سائنسی تدبر کی فی الجملہ اباحت میں ان کا اور میرا سرے سے کوئی اختلاف ہی نہیں، اس کے تو ہم بھی قائل ہیں۔اسی طرح بعض جگہ ناقد نے یوں لکھا ہے کہ گویا میں سائنسی تدبر کو (بلفظہ) نہ صرف ناجائز، بلکہ ملت کے ساتھ دشمنی کے مترادف اور خلافِ قرآن سمجھتا ہوں، (دیکھئے: صفحہ ۵۴) بلکہ میں بقول ان کے یہ بھی سمجھتا ہوں کہ سائنسی تدبر انسان کو ملحد بنادیتا ہے۔ (صفحہ ۵۱) اس الزام اور اتہام پر میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ جناب ! اللہ کا نام لیجئے۔ کیا میں نے سائنسی ومادی تدبر کو اپنے مضمون میں جائز اور کسی درجہ مستحسن نہیں لکھا تھا اور کیا اسی سے متعلقہ سطور بیرونی صفحہ پر شائع نہیں ہوئی تھیں جن پر آپ نے مدیر الشریعہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا؟ تو پھر یہ سب کہنے کا جواز کیا ہے اور میرے بارہ میں یہ سب آپ نے کہاں سے سمجھ لیا ہے؟ 
ان کی ’’خلافِ قرآن‘‘ والی بات البتہ کچھ تنقیح کا تقاضا کرتی ہے۔ موصوف کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’قوم وملت کے مفاد میں ایسی سرگرمی جس کی قرآن وسنت میں ممانعت نہ ہو ثواب ہے یا گناہ؟ اگر گناہ ہے تو اس کی فضیلت نہیں، اگر ثواب ہے تو یہ خلافِ قرآن نہیں، موافقِ قرآن ہے اور موافقِ قرآن ہے تو آپ کا مقدمہ باطل۔‘‘ (صفحہ۵۲، ۵۳) یعنی ایک بار پھر وہی بات کہ سائنسی تدبر کو جائز اور مرغوب تسلیم کیا جائے جس میں میرا اور ان کا کوئی اختلاف نہیں۔ گذارش یہ ہے کہ جو چیز مباح اور کسی درجہ مستحسن ہو، وہ آپ ہی کے بقول خلافِ قرآن نہیں، بلکہ موافقِ قرآن ہے اور اسی کے ہم قائل ہیں۔ لیکن یاد رکھئے کہ کسی چیز کے موافقِ قرآن ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب اس پر قرآن کی کوئی بھی آیت منطبق کردینے کا کسی کو فری ہینڈ مل گیا ہے۔ مثلا جسمانی ورزش ایک مباح ومستحسن سرگرمی ہے اور اس لیے اسے خلافِ قرآن بھی نہیں کہا جاسکتا، مگر اب اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ’’اقیموا لصلوۃ‘‘ کے قرآنی حکم سے بھی یہی ورزش مراد لینا جائز ہے۔ یہی معاملہ اس سائنسی تدبر کا ہے جو مادی اغراض ومقاصد کے لیے اور مادی حقائق کو منکشف کرنے کے لیے سائنس دان کرتے ہیں، یہ جائز ہے اور خلافِ قرآن بھی نہیں۔ مگر قرآن جس تدبرِ کائنات کا مطالبہ کرتا ہے، یہ مادی تدبر اس کا ہرگز ہرگز مصداق نہیں، نہ تو اصولی طور پر اور نہ ہی ضمنی طور پر کیونکہ ضمنی مطالبہ ہونے کی صورت میں بھی پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کے اس ضمنی مطالبہ کو نبی اور اس کے شاگردوں نے پورا کیوں نہیں کیا اور جس ضمنی مطالبہ کی تکمیل کے لیے ہمیں عباسی خلفاء کے ہاں مخصوص ’’علمی سرگرمیاں‘‘ نظر آتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے شاگردوں نے موقع ملنے کے باوجود ان علمی سرگرمیوں میں بے رغبتی کیوں دکھائی اور خود قرآن میں بھی اس ضمنی مطالبہ کا کوئی قرینہ نطر کیوں نہیں آتا؟ ہاں، البتہ یہ ممکن ہے کہ کوئی سائنس دان مادی اغراض کے لیے ہونے والے اپنے مذکورہ تدبر کو قلب کی بیداری، ہوشیاری، ابدی وبدیہی صداقتوں کی بازیابی، ظلمتوں کی سرکوبی اور طاری غفلت کے ازالہ کے لیے استعمال کرے تو سائنسی تدبر کا یہ ملکوتی استعمال خدائی مطالبہء تدبر کی تکمیل کہلائے گا۔
حقیقت معاملہ فقط یہ ہے کہ قرآن مشاہداتی اور تجرباتی طرزِ استدلال کا مخالف نہیں جسے ’’سائنسی طرزِ استدلال‘‘ بھی کہا جاتا ہے، بلکہ قرآن خود اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لیے اسی طرزِ استدلال کو اختیار کرتا ہے ۔ اب اگر بعض مذاہب دنیا میں ایسے ہیں جو اس طرزِ استدلال کے مخالف ہیں اور یوں مروجہ سائنس کے ساتھ ان کی یک گونہ آویزش ہے تو ٹھیک ہے، ناواقف لوگوں کو بتائیے کہ اسلام کو ان مذاہب پر قیاس مت کرو، یہ اس طریقِ استدلال کا ہرگز ہرگز مخالف نہیں۔ یہاں تک تو معاملہ ٹھیک ہے، مگر یہ مت کہئے کہ قرآن جس تدبرِ کائنات کا مطالبہ کرتا ہے، سائنس دانوں کا کائنات پر مادی تدبر اسی خداوندی مطالبہ کی تکمیل ہے اور یہ مادی وسائنسی تدبر کیے بغیر امرِ ربی کی تکمیل نہیں ہوسکتی کیونکہ قرآن جس مقصد کے لیے تدبر کی تعلیم دیتا ہے وہ معرفتِ الہی ہے، مادی حقائق اور طبیعی عوامل کو منکشف کرنا نہیں۔

کفار کو ’’روحانی تدبر‘‘ کی دعوت دینا ’’چہ معنی دارد؟‘‘

موصوف کا صرف ایک سوال ایسا ہے جو ہمارے موقف سے براہِ راست متعلق ہے اور ہم اس کی وضاحت کیے دیتے ہیں۔ ان کا سوال ہے:
’’قرآن کے مخاطب تو وہ لوگ بھی ہیں جو روحانیت سے واقف ہیں اور نہ خدا ورسول سے۔ آپ مطمئن ہوں یا نہ ہوں، اسے معلوم تھا کہ ایسے لوگوں کو صرف تدبر کی ترغیب دی جاسکتی ہے، آپ کے وضع کردہ روحانی تدبر کی نہیں۔ جس شخص کو حقیقت وروحانیت تک پہنچنا ہی تدبر کے ذریعہ سے ہے، اسے آپ روحانی تدبر کی دعوت کیونکر دے سکتے ہیں؟ نتیجہ ہاتھ میں تھما کر تدبر کی دعوت ایک صاحبِ ایمان کو تو دی جاسکتی ہے اور اس کے لئے کارگر بھی ہوسکتی ہے، لیکن ایک خدا ناشناس کو نہ ایسی دعوت فائدہ مند ہوسکتی ہے اور نہ ہی ایسی دعوت پر لبیک کہنے کے لئے تیار ہوسکتا ہے۔‘‘
اطلاعاً عرض ہے کہ آپ بھی مطمئن ہوں یا نہ ہوں، لیکن قرآن نے جہاں بھی تدبرِ کائنات کی تعلیم دی ہے، وہیں اس کی غایت، اس کا مقصد، اس کا منہج اور اس کا مطلوبہ نتیجہ بھی ساتھ بیان کیا ہے کہ اے بنی نوع انسان! یہ ساری کائنات تمہیں اس نہج پر غوروفکر کی دعوت دے رہی ہے، مثلا یہ کہ خدا کی قدرت کو پہچانو اور اس کی ہیبت ومرعوبیت اپنے اوپر طاری کرو، اس کی لاتعداد نعمتوں کو دیکھو اور اس کے لیے ممنونیت وشکر گذاری کا کما حقہ احساس اپنے دل میں آباد کرو، اس کی عظمتوں کا احساس اپنے اندر راسخ کرو اور اس سے تعظیم واحترام کا قلبی تعلق قائم کرو، صرف اسی کی بندگی بجا لاؤ اور اس بجا آوری میں جو کوتاہی ہو جائے، اس پر استغفار کرو۔ یہ یا اس سے ملتا جلتا کوئی مضمون آپ کو تدبر والی ہر آیت کے آس پاس مل جائے گا۔ مطلق تدبر کہ خواہ دنیاوی غرض سے ہو یا روحانی غرض سے، اس کا حکم قرآن میں آپ نے کہیں پڑھا ہے؟ کافر کو جب تدبر کا کہا جائے گا تو مطلق تدبر مطلوب نہیں ہوگا، بلکہ مقصود یہ ہوگا کہ وہ مطلوبہ منہج پر غور کرکے اپنی کفریات سے توبہ کرے۔
جہاں تک میں ان کے مضمون سے سمجھا ہوں، وہ قرآنی تدبرِ کائنات سے معروف سائنسی ومادی تدبر مراد لینے کے معاملہ میں شش وپنج کے اندر مبتلا ہیں، تبھی تو وہ کبھی ہر دور کی اپنی ضروریات کا حوالہ دے کر محض اسے جائز ثابت کرنے کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں جس میں ان کا اور میرا کوئی جھگڑا ہی نہیں اور کبھی وہ اس کو تدبرِکائنات کے قرآنی مطالبہ کا مصداق قرار دے دیتے ہیں جو کہ امرِ ربی اور مطالبہء خداوندی ہے اور جس کا مخاطب ہر زمانہ میں ہر انسان رہا ہے۔ انہیں ایک فیصلہ کرلینا چاہئے۔ جلدی نہیں، ذرا ٹھہر کر سوچئے۔ اللہم انی اعوذ بک من الفتن ماظہر منہا وما بطن۔ آمین

تحریک انسداد سود کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تحریک انسداد سود پاکستان کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ۱۳ ستمبر کو بعد نماز ظہر آسٹریلیا مسجد لاہور میں منعقد ہوا جس میں مولانا عبد الرؤف ملک، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، علامہ خلیل الرحمن قادری، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، ڈاکٹر محمد امین، پروفیسر حافظ ظفر اللہ شفیق، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا حافظ محمد سلیم، مولانا مجیب الرحمن انقلابی، قاری محمد یوسف احرار اور دیگر حضرات نے شرکت کی۔ جبکہ صدارت کے فرائض راقم الحروف ابو عمار زاہد الراشدی نے سر انجام دیے۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ عمومی صورت حال اور انسداد سود مہم کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ سود کی لعنت کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے گا اور وفاقی شرعی عدالت میں مقدمہ کی پیروی کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر پرائیویٹ سود کے مسلسل پھیلاؤ کے نقصانات کی طرف رائے عامہ کو توجہ دلاتے ہوئے علماء کرام، دینی کارکنوں اور مراکز کو اس سلسلہ میں جدوجہد کے لیے تیار کیا جائے گا۔ 
اجلاس میں اس حوالہ سے شدید تشویش اور اضطراب کا اظہار کیا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح فیصلہ کے باوجود ملک میں سودی نظام اور قوانین کا تسلسل جاری ہے اور ملک کے معاشی نظام میں اس کی بے برکتی اور نحوست بڑھتی جا رہی ہے۔ اجلاس کی رائے میں ملک کے معاشی عدم توازن اور بڑھتے ہوئے پریشان کن معاشی مسائل کی سب سے بڑی وجہ شرعی قوانین کے نفاذ سے گریز اور سودی نظام و قوانین کو باقی رکھنا ہے۔ اس لیے جب تک حکومت اس سلسلہ میں اپنی روش اور پالیسی میں بنیادی تبدیلی نہیں کرتی، مسائل کے حل کی کوشش کامیاب ہونے کی امید نظر نہیں آتی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مختلف مکاتب فکر کے راہ نماؤں کا ایک وفد اس کے لیے جلد از جلد وزیر اعظم اور وزیر خزانہ سے ملاقات کر کے ان سے مطالبہ کرے گا کہ سودی قوانین کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کے واضح فیصلہ کے خلاف دائر کی جانے والی اپیلوں کو واپس لینے اور غیر سودی معاشی نظام کی ترویج و نفاذ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس میں طے پایا کہ سرکاری سطح سے ہٹ کر پرائیویٹ دائروں میں سود کی جو مختلف صورتیں رائج ہیں اور جن میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہ معاشرہ کے اخلاقی اور معاشی نظام کے لیے کینسر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس لیے ان کے خلاف عوامی بیداری کی مہم چلائی جائے گی اور مساجد و مدارس کے ساتھ ساتھ ابلاغ اور لابنگ کے دیگر مؤثر ذرائع کو بھی اس مقصد کے لیے متحرک کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مختلف شہروں میں سود کی ممانعت اور نحوست کے بارے میں سیمینار منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا اور اس کا آغاز عید الاضحی کے بعد گوجرانوالہ میں سیمینار منعقد کر کے کیا جائے گا، جس کے انتظامات کی ذمہ داری ابو عمار زاہد الراشدی کو سونپ دی گئی ہے۔ 
ملی مجلس شرعی پاکستان کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے اجلاس کو بتایا کہ سودی نظام کے سلسلہ میں وفاقی شرعی عدالت کے سوالنامہ کا تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام کی طرف سے متفقہ جواب تیار کر لیا گیا ہے جسے جلد عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔ مولانا عبدا لرؤف ملک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دینی جماعتوں اور مراکز کے درمیان رابطوں اور اشتراک عمل میں اضافے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اسی طریقہ سے اسلام اور پاکستان کے خلاف عالمی استعماری قوتوں کی سازشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے مرکزی راہ نما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ حکمرانوں کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ جب تک قومی سطح پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے اسباب کو ختم کرنے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات نہیں کیے جائیں گے اس وقت تک ملکی حالات میں بہتری کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ 
اجلاس میں موجودہ سیاسی بحران کے دوران دستور پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کا نوٹس لیا گیا اور کہا گیا ہے کہ ملک کے حالات میں خرابی دستور کی وجہ سے نہیں بلکہ دستور پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ جبکہ یہ دستور ملکی سا لمیت، قومی وحدت اور جغرافیائی تحفظ کے ساتھ قوم کی نظریاتی شناخت کی علامت و بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے بین الاقوامی سیکولر حلقے اور لابیاں دستور کے خلاف مہم جوئی کر رہی ہیں جس کا مقصد پاکستان کو دستور سے خدانخواستہ محروم کر کے وطن عزیز کے وفاق، نظریاتی شناخت اور وحدت کو داؤ پر لگانا ہے، اور اس کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اجلاس میں تمام محب وطن حلقوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ دستور پاکستان کے خلاف ان سازشوں پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں ناکام بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ 
پاکستان شریعت کونسل کے راہ نما مولانا قاری جمیل الرحمن اختر نے کہا کہ ملک میں پرائیویٹ سطح پر گلی گلی اور محلہ محلہ میں سودی حلقے موجود ہیں جن کی نشاندہی کرتے ہوئے اس حوالہ سے قرآن و سنت کی تعلیمات کو پھیلانے کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں علماء کرام اور خطباء کرام کو بھرپور محنت کرنی چاہیے۔
ممتاز اہل حدیث راہ نما مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی نے کہا کہ سود جیسی لعنت کے خلاف جدوجہد کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے اور تمام مکاتب فکر اس مہم میں ملی مجلس شرعی اور تحریک انسداد سود کے ساتھ ہیں۔
اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قانون سازی کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں جلد از جلد پیش کیا جائے اور سودی نظام کے بارے میں اپیل در اپیل اور ٹال مٹول کا طرز عمل ختم کر کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کا اہتمام کیا جائے۔
اجلاس میں سیلاب سے ہونے والے وسیع تر جانی و مالی نقصانات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مختلف اداروں اور حلقوں کی طرف سے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں کو سراہا گیا اور دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائیں اور متاثرین کی بحالی اور نقصانات کے ازالہ کی کوششوں کو کامیابی سے نوازیں۔ اجلاس میں شمالی وزیرستان کے آپریشن کے متاثرین کے ساتھ بھی ہمدردی کا اظہار کیا گیا اور ان کی جلد از جلد اپنے گھروں میں واپسی اور بحالی کے لیے دعا کی گئی۔

مولانا مسعود بیگ اور ڈاکٹر شکیل اوج کا المناک قتل

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جامعہ بنوریہ کراچی کے استاذ مولانا مسعود بیگ کی شہادت کا غم ابھی تازہ تھا کہ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ ڈاکٹر محمد شکیل اوج کی شہادت کی خبر سننا پڑی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کراچی ایک عرصہ سے مختلف حوالوں سے قتل وغارت کی آماج گاہ بنا ہوا ہے۔ قومیتوں کے اختلافات اور فرقہ وارانہ تنازعات کے علاوہ سیاسی اور لسانی جھگڑے اس قتل وغارت کے محرکات میں سرفہرست ہیں اور اس میں سب سے زیادہ غم واندوہ اور رنج وصدمہ کا پہلو یہ ہے کہ عام شہریوں اور کارکنوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے ارباب علم ودانش خاص طور پر اس کا نشانہ بن رہے ہیں اور ارباب فضل وعلم کی ایک طویل فہرست ہے جو ہر دردمند او رمحب وطن مسلمان اور پاکستان کو مضطرب اور بے چین کیے ہوئے ہے۔
مولانا مسعود بیگ ہمارے محترم دوست مولانا مفتی محمد نعیم کے داماد اور ایک صاحب فکر عالم دین تھے، جبکہ ڈاکٹر محمد شکیل اوج کا شمار ان ارباب علم ودانش میں ہوتا ہے جو اسلام کی علمی وفکری روایات کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ وابستہ رہتے ہوئے جدید مسائل میں نئی نسل کو علمی وفکری راہ نمائی فراہم کرنے میں مصروف رہتے تھے اور ہزاروں طلبہ نے دینی علم وفکر میں ان سے استفادہ کیا ہے۔
چند ماہ قبل کراچی یونیورسٹی کی سیرت کانفرنس میں ان کی دعوت پر شریک ہونے کا موقع ملا تھا۔ اس سے قبل بھی ان سے متعدد ملاقاتوں اور فون پر تبادلہ خیالات کا سلسلہ جاری رہا۔ وہ دینی اور عصری علوم پر گہری نظر رکھتے تھے، آج کے دور کے تقاضوں کو سمجھتے تھے اور ان کی روشنی میں نئی نسل کی راہ نمائی کے اسلوب سے بہرہ ور تھے، اس لیے ان کی وفات بلاشبہ علمی دنیا کا نقصان ہے اور ہم سب کے لیے باعث رنج والم ہے۔ 
اللہ تعالیٰ مولانا مسعود بیگ، ڈاکٹر شکیل اوج اور قتل وغارت کا نشانہ بننے والے دیگر حضرات کی مغفرت فرمائیں اور کراچی کو اس عذاب سے نجات عطا فرمائیں جس نے پوری قوم کو بے چین کر رکھا ہے۔ آمین یا رب العالمین

علماء دیوبند ۔ مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی کا مکتوب

ادارہ

عزیز گرامی میاں عمار صاحب۔
شکریہ کہ الشریعہ کے شمارے تا اگست موصول ہو گئے۔ امید ہے اب ماہ بماہ آتے رہیں گے۔ پیکیٹ کھولنے پر جو ذرا سی ورق گردانی فوراً ہی کی تو خاص اشاعت اور جون ہی کی عام اشاعت میں دو باتیں توجہ دلانے کے قابل نظر آئیں۔ خاص نمبر کے اسامہ مدنی صاحب کے مضمون (در دفاعِ مولانا راشدی) میں حضرت مولانا علی میاں صاحب کو فاضل دیوبند بتا دیا ہے جو واقعہ نہیں ہے۔ مولانا نے صرف چار مہینے دیوبند میں رہ کر بخاری اور ترمذی کے درس کی سماعت کی تھی۔ (پرانے چراغ جلد اول، تذکرہ حضرت مدنی)۔ جبکہ عام شمارہ میں انس حسان صاحب نے حضرت شیخ الہند کو جمعیۃ العلماء کا بانی بتا دیا ہے، جبکہ جمعیۃ جب 1919ء میں قائم کی گئی تو حضرت شیخ الہند مالٹا میں محبوس تھے۔ الشریعہ جیسے رسالوں میں تاریخی باتیں تحقیق سے آنے کی امید کی جاتی ہے نہ کہ سنی سنائی۔ 
جمعیۃ العلماء ہند کی بنیاد رکھنے والے علماءِ دیوبند نہیں تھے، زیادہ تر تو دوسرے علماء تھے اور ان کے سرخیل مولانا عبد الباری فرنگی محلی۔ البتہ رفتہ رفتہ ایسی صورت ہوئی کہ علماء دیوبند ہی حاوی ہو گئے حتیٰ کہ مولانا عبد الماجد بدایونی نے ایک موقع پر مولانا ابوالکلام آزاد سے کہا کہ صاحب، یہ تو اب جمعیۃ علماء دیوبند ہوئی جا رہی ہے جس پر مولانا نے فرمایا کہ ہاں میرے بھائی، جب دیوبند ہی علماء پیدا کر رہا ہوگا تو پھر وہ جمعیۃ علمائے دیوبند ہو ہی جائے گی۔ یہ بات میں نے کہیں پڑھی بھی تھی، اس کے علاوہ والدِ ماجد سے سنی بھی تھی۔
والسلام اور حضرت مولانا کی خدمت میں بھی نیاز۔
عتیق 

الشریعہ اکادمی میں علمی و فکری نشستیں

مولانا محمد عبد اللہ راتھر

یہ بات مسلم ہے کہ ’’انسان‘‘ تحریر شدہ کتابوں سے اِتنا نہیں سیکھتا جتنا کتابِ زندگی کے تلخ و شیریں تجربات انسان کو سکھادیتے ہیں اور پھر ’’سفر‘‘ کا تو معنی ہی ’’کھولنا‘‘ ہے۔ سفر انسانی ذہن کے لیے معلومات و تجربات کے اَن گنت دریچے کھول دیتا ہے ۔ 
شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ اپنی عمر کے ۶۷ ویں برس میں ہیں اور اُن کی زندگی کا اکثر حصہ تدریس، خطابت اور دینی تحریکات کے مقاصد کی خاطراسفار میں گزراہے ۔ اندرون و بیرون ممالک کے سینکڑوں یادگار اسفار اُن کی زندگی کا حصہ ہیں۔ اسفار کی کثرت کے باوجود ۱۹۷۰ء سے باقاعدہ تدریس اور تب سے لے کر اب تک صحافتی شعبہ سے منسلک رہنا، بلکہ اِن شعبوں میں کمال کا حصول آپ کا خاص امتیاز ہے۔ آپ پاکستان کی مختلف دینی تحریکات کا حصہ بلکہ بنیادی کردار رہے ہیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خاں صفدر رحمہ اللہ اور شیخ التفسیر حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خاں سواتی کے علاوہ حضرت مولانا عبیداللہ انوررحمہ اللہ، حافظ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمہ اللہ اور حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ وغیرہ اکابر کا مکمل اعتماد اور رفاقت بھی آپ کو نصیب ہوئی ۔ اِس کے علاوہ اپنے دَور کی سینکڑوں نابغۂ روزگار شخصیتوں سے ملاقاتیں آپ کی یادداشتوں کا حصہ ہیں۔ 
آپ کے اِنہی علمی، فکری ، صحافتی اور تجرباتی مشاہدات سے استفادہ کے لیے کچھ عرصہ سے علماء و طلبہ کے لیے بالخصوص اور عوام الناس کے لیے بالعموم الشریعہ اکادمی میں ماہانہ فکری نشستوں کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ یہ نشست الشریعہ اکیڈمی ، ہاشمی کالونی ، کنگنی والا میں منعقد ہوتی ہے جس میں مولانا موصوف کسی موضوع پر لیکچر اِرشاد فرماتے ہیں۔ گذشتہ برس اِن نشستوں کا موضوع ’’تصوف اور عصر حاضر ‘‘ تھا اور سامعین کے اصرار پر اسے ماہانہ سے پندرہ روزہ میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ یہ نشست جہاں علماء اور طلباء کے لیے انتہائی پر مغز معلومات، قیمتی تجربات ، بامقصد لطائف، سبق آموز واقعات، مشفقانہ نصائح، تاریخی حقائق، ملکی و بین الاقوامی حالات پر جاندار تبصروں پر مشتمل ہوتی ہے، وہیں ایک عام آدمی کے لیے بھی انتہائی مفید ہوتی ہے اور عام فہم روز مرہ کی زبان میں ہونے کی وجہ سے ہر شخص اس سے آسانی سے استفادہ کرسکتا ہے ۔ 
اِن نشستوں کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں :
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بارے میں فرماتے ہیں :
بٹ دری فیکٹری (گکھڑ) کے اوپر ایک چوبارہ سا تھا، اس میں ہماری رہائش تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، والد صاحب رحمہ اللہ خود گرفتاری دینے کے لیے تھانہ گئے ۔ ایک طالب علم مولوی عزیز الرحمن صاحب نے آپ کا بستر اُٹھایا ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے ، میری نظروں میں ہے وہ منظر ۔۔۔ سیڑھیوں سے اُترتے ہوئے۔ تقریباً دس ماہ کے لگ بھگ آپ رحمہ اللہ جیل میں رہے ۔ واپسی کا منظر بھی مجھے یاد ہے ۔۔۔
۱۹۶۸ء کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 
سعودی عرب میں خانہ کعبہ کے غسل میں ظفر اللہ خان (قادیانی) شریک ہوئے۔ اس پر بڑا احتجاج ہوا۔ اگلے سال سعودی گورنمنٹ نے قادیانیوں کے حج پر آنے پر پابندی لگادی۔ اس پر آغا شورش کاشمیری نے چٹان کا چھ یا سات سطروں کا ایک شذرہ لکھا ۔’’ الحمد للہ ‘‘ اس کا عنوان تھا کہ شکر ہے سعودی عرب کو خیال آیا ‘ یہ فیصلہ کیا۔ اس پر چٹان پریس ضبط ہوگیا ۔ چٹان کا ڈیکلریشن منسوخ ہوگیا ۔ آغا شورش کاشمیری کے خلاف گرفتاری کے آرڈر جاری ہوگئے ۔ ایک طوفان مچ گیا۔
۶ مئی ۱۹۶۸ء کو جمعیت علماء اسلام کے جلسے میں آغا شورش نے بڑی خوفناک تقریر کی، اپنے پورے عروج پر ۔ مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ کو میں نے زندگی میں کبھی شعر پڑھتے نہیں سنا کہ تقریر میں کوئی شعر پڑھیں ۔ صرف وہاں آغا شورش کو خطاب کی دعوت دیتے ہوئے مولانا نے ایک شعر پڑھا ۔ میرے ذہن میں وہ نقش ہو گیا۔ مولانا نے کہا کہ آغا شورش کاشمیری کا جرم کیا ہے؟ یہ کہ اس نے سعودی عرب کے ایک فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور چار سطریں لکھی ہیں؟ آپ یہ بھی برداشت نہیں کرسکتے ؟تو وہاں یہ شعر پڑھا :
نزاکت کس قدر ہے دِلربا کو 
اُٹھا سکتے نہیں رنگ حنا کو 
زندگی میں، میں نے ایک ہی شعر مولانا سے سنا۔ اس جلسے میں پھر آغا صاحب گرفتار ہوگئے ۔
امریکا میں علامہ زاہد الراشدی صاحب کی ایک لاٹ پادری سے ملاقات اور اُس سے دلچسپ اور فکر انگیز مکالمے کی تفصیلات ۔۔۔ اور برمنگھم (برطانیہ)میں سکھوں کے گوردوارہ میں علماء کے وفد کا داخلہ کیسے ممکن ہوا ، حالانکہ وہاں داخلہ کے لیے گرو گرنتھ صاحب کے سامنے ماتھا ٹیکنا لازمی شرط تھا۔
سمر قند اور بخارا کے دورہ کے دوران ایک بڑھیا کا رِقت آمیز واقعہ ۔۔۔اور وہاں کے زمیں دوز مدرسوں کی رُوداد۔۔۔ دورۂ بنگلہ دیش کے دوران سلہٹ کے مدرسہ سے حضرت مدنی رحمہ اللہ کے مرتب کردہ ۱۶سالہ نصاب تعلیم کی نقل کا حصول ۔۔۔ (یہ نصاب عام مدارس کے مروجہ نصاب سے ہٹ کر ہے جس میں دنیاوی و عصری علوم کو بھی نمایاں حیثیت دی گئی ہے ) ۔۔۔ اور دوسرے بہت سے اہم و دلچسپ واقعات۔ 
مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ کے سینے میں بعض ایسی روایات ہیں جن کے بارے میں اُن کا کہنا ہے کہ اِن رازوں کی امین اَب میرے سوا دنیا میں صرف ایک دو شخصیتیں ہیں ۔ راقم الحروف کا خیال ہے کہ وہ کچھ ہماری تاریخ کی راز کی باتیں ہیں جنہیں وہ بتانا مناسب نہیں سمجھتے یا ہمارے دِل اُن کو اُٹھانے کی وسعت نہیں رکھتے ۔ لیکن جتنی باتیں وہ بتا رہے ہیں، اُن کو سننے اور حفاظت کا اہتمام تو بہرحال ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں اس میں کوتاہی نہیں کرنا چاہیے۔ 
تمتّع من شمیم عرار نجد 
فما بعد العشیّۃ من عرار

انسانی صحت کے لیے حرارت کی اہمیت

حکیم محمد عمران مغل

کرۂ ارضی پر انسانی زندگی اور انسانی صحت کے لیے سورج کی فراہم کردہ تپش اور حرارت بے حد اہم ہے۔ اگر سورج کی تپش نہ ہو تو زندگی کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ جائے۔ اگر سورج کی تپش کی زیادتی سے جسم کو بیماریاں لاحق ہوتی ہیں تو صحت کا گلشن بھی اسی تپش سے کھلتا ہے۔ پھلوں میں مٹھاس، غلے میں بڑھوتری اور پھولوں میں رنگ ، خوشبو اور چمک جو پیدا ہوتی ہے، وہ سورج کی گرمی سے ہوتی ہے۔ انسان کو جب بخار ہوتا ہے تو خون کے کئی مادے پگھل کر ضائع ہوتے ہیں۔ 
جسم میں ٹھنڈک کی زیادتی کی وجہ سے جوڑ جکڑے جاتے ہیں اور شوگر کے مرض کی زیادتی بھی ٹھندک کی وجہ سے ہے۔ اطباء نے اپنے تجربات میں لکھا ہے کہ ایک مریض کو ٹی بی کا مرض لاحق ہو جائے اور دوسرے کو جوڑوں کے درد اور گنٹھیا کا تو ٹی بی کا مریض شفا یاب ہو کر لمبی عمر پا سکتا ہے، لیکن قوت باہ کے مریض کا چراغ ٹمٹمانا شروع کر دیتا ہے۔ 
الغرض جس قدر ہو سکے، ٹھنڈی اشیاء سے اجتناب برتیں۔ کھانے کے بعد جوارش کمونی ضرور استعمال کریں۔اگر ہو سکے تو جوارش جالینوس بھی استعمال کرتے رہیں۔ طب یونانی میں بعض ادویہ سال ہا سال تک کھائی جاتی ہیں۔