نومبر ۲۰۱۴ء

اکابر دیوبند کی فکر اور معاصر تناظر میں اس سے استفادہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱)ڈاکٹر محی الدین غازی 
تہذیب مغرب: فلسفہ و نتائج (۱)محمد انور عباسی 
مولانا ابو الحسن علی ندویؒ : ایک ملی مفکر (۱)محمد طارق ایوبی 
سائنسی تدبر کی بحث: مان کر نہ ماننے کی روشڈاکٹر محمد شہباز منج 
مکاتیبادارہ 
الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاںادارہ 
نشہ اور اس کا سدبابحکیم محمد عمران مغل 

اکابر دیوبند کی فکر اور معاصر تناظر میں اس سے استفادہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دیوبندی مکتب فکر کا تذکرہ کیا جائے تو تین شخصیتوں کا نام سب سے پہلے سامنے آتا ہے اور تاریخ انہی تین بزرگوں کو دیوبندیت کا نقطہ آغاز بتاتی ہے۔ امام الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کو دیوبندیت کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت حاصل ہے، جبکہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے دیوبندیت کے علمی، فکری اور مسلکی تشخص کی ابتدا ہوتی ہے اور یہ تین شخصیات دیوبندی مکتب فکر کی اساس اور بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔ 
حضرت نانوتویؒ دیوبندیوں کے سب سے بڑے متکلم اور حضرت گنگوہیؒ فقیہ اعظم تھے۔ جبکہ ان کے قائم کردہ علمی، فقہی، فکری، روحانی اور سیاسی ڈھانچے میں رنگ بھرنے کا کام شیخ الہندؒ ، حضرت مولانا محمود حسنؒ ، مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ ، مولانا اشرف علی تھانویؒ ، مولانا سید حسین احمد مدنیؒ ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ، مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ ، اور مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ جیسے اکابر نے سر انجام دیا ہے اور ان گلہائے رنگا رنگ کے حسین گلدستے کو دنیا ’’دیوبندیت‘‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ مگر ہماری نئی نسل کا المیہ یہ ہے کہ ان سب بزرگوں کا نام عقیدت و احترام کے دائرہ میں تو سرفہرست ہے، لیکن ان کے تعارف اور افکار و تعلیمات سے با خبر ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔ بلکہ ہم اپنے ماحول میں خود اپنے قائم کردہ فکری خولوں میں ان شخصیتوں کو بند کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں جس سے نہ صرف یہ کہ دیوبندیت کا صحیح تعارف آج کی دنیا کے سامنے پیش نہیں ہوتا بلکہ بہت سے معاملات میں ہم خود بھی کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ 
دیوبندیت آج کی علمی و فکری دنیا کا ایک اہم موضوع ہے۔ مغرب کی بہت سی یونیورسٹیوں میں دیوبندیت کے علمی و فکری خدوخال اور انسانی معاشرے پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات میں انہیں زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ مگر خود ہمارے ہاں اس محنت بلکہ سوچ تک کا فقدان ہے اور اگر کہیں اس سلسلہ میں کوئی مجلس یا فورم ہوتا بھی ہے تو روایتی اور جذباتی طرز پر عقیدت و محبت کے اظہار کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور ہم اپنے بزرگوں کے فضائل اور مناقب بیان کر کے خوش ہوتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے بزرگوں کے نام یاد ہیں اور ان سے محبت و عقیدت کا اظہار ہمارے معمولات میں شامل ہے۔ خاص طور پر دینی مدارس کے اساتذہ کی بڑی تعداد اور طلبہ کی غالب اکثریت میں اس بات کا شعور اور احساس موجود نہیں ہے کہ جن بزرگوں کو ہم اپنے تعارف کا ذریعہ بناتے ہیں اور جن کے نام پر عزت حاصل کرتے ہیں، ان کی علمی و فکری جدوجہد کا دائرہ کیا تھا، طریق کار کیا تھا، معاشرے پر اس کے اثرات کیا ہیں، اور آج کے معروضی حالات میں ان سے استفادہ کی صحیح صورتیں کیا ہیں؟ 
اس پس منظر میں کچھ عرصہ قبل شیخ الہندؒ اکیڈمی کے نام سے کچھ نوجوانوں نے اس خلا کو پر کرنے کی ضرورت کا احساس کیا اور شیخ الہندؒ حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے حوالہ سے ملک بھر میں سیمینارز اور مقالات کا اہتمام کیا تو ہمیں خوشی ہوئی اور بعض مجالس میں شرکت کے علاوہ ہم نے اپنے مضامین اور کالموں میں اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پھر دیوبند اور دہلی میں حضرت شیخ الہندؒ کے موضوع پر بین الاقوامی اجتماعات میں حاضری کا موقع ملا تو اس خوشی اور اطمینان کا لطف دوبالا ہوگیا۔ گذشتہ دنوں ہمارے فاضل دوست حافظ نصیر احمد احرار اور ان کے رفقاء نے اس سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے شیخ الہند اکیڈمی کی طرف سے قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ پر ایک سیمینار کا اہتمام کیا جو ۱۹؍ اکتوبر کو ایوان اقبالؒ لاہور میں منعقد ہوا اور اس میں دیوبندی مکتب فکر کے اکابر زعماء نے شرکت اور خطاب کیا۔
پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ حضرت مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ ہمارے روحانی پیشوا ہیں جبکہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ فکری قائد اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ فقہی امام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے آج کی دنیا میں فقہی حوالوں سے جو چیلنجز درپیش ہیں اور جن مشکلات و مسائل کا سامنا ہے ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے حضرت گنگوہیؒ کی فقہی کاوشوں کے ساتھ ساتھ ان کے اجتہادی منہج اور طریق کار سے استفادہ بھی انتہائی ضروری ہے۔ امید ہے کہ اس طرح کے علمی وفکری سیمینار اس اہم ضرورت کو پورا کرنے میں مثبت پیش رفت کا ذریعہ ثابت ہوں گے۔ 

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱)

مولانا امانت اللہ اصلاحیؒ کے افادات کی روشنی میں

ڈاکٹر محی الدین غازی

اس مضمون میں اس کی ضرورت نہیں محسوس کی گئی کہ قرآن مجید کے ترجمہ کا اہم اور عظیم کام کرنے والوں کی تحسین میں کچھ رقم کیا جائے کہ اتنی عظیم خدمت مختلف شخصیات کے ذریعہ جس قدر ہمت واہتمام سے انجام دی گئی، وہ محتاج بیان وستائش نہیں ہے۔
پیش نظر تحریر میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن مجید کے ترجمہ کا کام بہت ضروری مگر نازک عمل ہے، اس میں غلطی کے امکانات کو کم سے کم کرتے رہنے کی مسلسل کوشش ضروری ہے، قرآن اللہ کا کلام ہے، تاہم اس کلام کا ترجمہ ایک انسانی کوشش ہوتی ہے، جس میں غلطیوں کا امکان ہمیشہ باقی رہتا ہے، اسی لئے جو ترجمہ جتنا زیادہ مشہور ومتداول ہے اس کا بار بار گہرائی اور باریک بینی سے جائزہ لیتے رہنا بھی اسی قدر زیادہ ضروری ہے۔ اس جائزہ میں نہ کسی طرح کا احترام مانع ہونا چاہئے اور نہ کوئی نسبت حائل ہونی چاہئے، راقم کی رائے میں ہونا تو یہ چاہئے کہ ترجمہ قرآن کا کام اجتماعی طور پر اکیڈمی کی سطح پر اور متعدد بار متعدد ماہرین لغت کی نظر سے گذرنے کے بعد قابل اشاعت سمجھا جائے، اور اشاعت کے بعد بھی نظر ثانی کا کام جاری رہے۔ لیکن بوجوہ تراجم قرآن کے ساتھ ایسا اہتمام نہیں ہوسکا۔ عام طور سے ہر ترجمہ قرآن ایک انفرادی کوشش رہی ہے، اوراس لئے غلطیوں کا امکان کسی نہ کسی حد تک ہر ترجمہ میں پایا جاتا ہے۔
تراجم قرآن کے جائزوں کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ بسا اوقات ایک غلطی شروع کے کسی مترجم سے ہوئی اور وہ آگے بھی نقل ہوتی رہی، اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ ابتدائی دور کے مترجمین نے غلطی نہیں کی اور وہ بعد میں در آئی۔
راقم کا مقصود غلطیوں کو نمایاں کرنا نہیں، بلکہ ترجموں کے تقابلی مطالعہ کی افادیت دکھانا ہے، اور ترجمہ کے عمل میں نظر ثانی اور اجتماعی کاوش کی اہمیت پر زور دینا ہے، کہ فقہی مسائل میں اجتماعی اجتہاد جس قدر ضروری ہے، اس سے زیادہ ضرورت ترجمہ قرآن میں اجتماعی مساعی کی ہے۔
تقابلی مطالعہ بڑی حد تک یہ تأثر بھی قائم کرتا ہے کہ بیشتر مقامات پر اگر بعض مترجمین سے کوئی چوک ہوئی ہے تو دوسرے مترجمین کے یہاں اس چوک کا تدارک کر لیا گیا ہے۔ اس مختصر مقالہ میں کچھ مثالوں کے ذریعہ مختلف نوعیت کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس مضمون کی تیاری میں سب سے اہم حصہ عم محترم مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی حفظہ اللہ کے افادات کا ہے جنہیں تفہیم القرآن اور تدبر قرآن کے ریویو کے دوران نوٹ کرنے کا موقعہ ملا۔ زیر نظر تحریر میں جن غلطیوں کی طرف نشان دہی کی گئی ہے وہ عموما مذکورہ دونوں ترجموں میں پائی جاتی ہیں۔

(۱) کبھی ضمیر غائب کا مرجع متعین کرنے میں غلطی ہوجاتی ہے:

أُوْلَئِکَ لَہُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہِمُ الْأَنْہَار۔ (الکھف: ۳۱)

متعدد مترجمین نے اس آیت کا یوں ترجمہ کیا: ’’ان کے لئے سدا بہار جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی‘‘۔ 
اس ترجمہ کی رو سے جنتوں کے یا بعض تراجم میں جنتوں میں ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہنے کا بیان ہے۔ جبکہ آیت میں اہل جنت کے نیچے نہریں بہنے کی بات ہے، کیونکہ تَحْتِہِمُ میں ضمیر ’ھم‘ ہے جو اہل جنت کی طرف ہی لوٹ سکتی ہے، اگر ضمیر ’ھا‘ ہوتی تو جنتوں کی طرف لوٹتی۔
شاہ عبدالقادر کے ترجمہ میں اس کا خیال کیا گیا ہے، ان کا ترجمہ ہے: ’’ایسوں کو باغ ہیں بسنے کے، بہتی ان کے نیچے نہریں‘‘۔ جوناگڑھی نے بھی ایسا ہی ترجمہ کیا : ’’ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی‘‘۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ قرآن میں مذکورہ ذیل دو اور مقامات پر بھی جنتیوں کے نیچے نہریں بہنے کا ذکر ہے ، اور وہاں جنت کا ذکر نہیں صرف جنتیوں کا ذکر ہے، یعنی قطعی طور سے اہل جنت کے نیچے نہریں بہنا مراد ہے:

إِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ یَہْدِیْہِمْ رَبُّہُمْ بِإِیْمَانِہِمْ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہِمُ الأَنْہَارُ فِیْ جَنَّاتِ النَّعِیْمِ۔ (یونس: ۹)

وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُورِہِم مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہِمُ الأَنْہَار۔ (الاعراف: ۴۳)

اگر کوئی یہ سوال کرے کہ جنت کے نیچے نہریں بہنے کا مطلب سمجھ میں آتا ہے، گرچہ اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ جنت اوپر ہوگی اور نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جنت میں درختوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اہل جنت کے نیچے نہریں بہنے سے کیا مراد ہے، اس کا جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ جس طرح قرآن کے بعض مقامات پر جنت کے نیچے نہریں بہنے کا ذکر کیا گیا اور اس سے جنت کے حسن وجمال کو ظاہر کیا گیا، اسی طرح اہل جنت کی خوشحالی ظاہر کرنے کے لئے مذکورہ مقامات پر خود ان جنتیوں کے نیچے نہریں بہنے کا ذکر کیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ فرعون نے جب موسی کے مقابلے میں اپنی خوشحالی اور اقتدار میں اپنی برتری ظاہر کرنا چاہی تو یہی بات کہی۔ اس نے کہا:

وَہَذِہِ الْأَنْہَارُ تَجْرِیْ مِن تَحْتِیْ۔ (الزخرف:۵۱) 

(اور یہ نہریں میرے نیچے بہتی ہیں۔)

(۲) کبھی نحو کے کسی قاعدے کو برتنے میں غلطی ہوجاتی ہے:

قُل لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَاداً لِّکَلِمَاتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہِ مَدَداً۔ (الکھف: ۱۰۹)

اس کا ترجمہ عام طور سے مترجمین نے یوں کیا ہے : ’’اگر میرے رب کی نشانیوں کو قلم بند کرنے کے لئے سمندر روشنائی بن جائے تو میرے رب کی نشانیوں کے ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجائے گا، اگرچہ ہم اس کے ساتھ اس کے مانند اور سمندر ملادیں‘‘۔ 
اس میں زمانہ مستقبل کا ترجمہ کیا گیا ہے، حالانکہ لو شرطیہ کے بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ وہ زمانہ ماضی کے لئے آتاہے،خواہ جملہ شرط میں فعل ماضی ہو یا فعل مضارع ہو۔
قاعدہ کی رو سے درست ترجمہ یوں ہوگا: ’’اگر میرے رب کی نشانیوں کو قلم بند کرنے کے لئے سمندر روشنائی بن جاتا تو میرے رب کی نشانیوں کے ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجاتا، اگرچہ ہم اس کے ساتھ اس کے مانند اور سمندر ملادیتے‘‘۔

(۳) کبھی کسی لفظ کے معنی کے سلسلے میں تساہل ہوجاتا ہے:

سورۃ الناس اور سورۃ الفلق اور دیگر مقامات پرمتعدد مترجمین نے أعوذ کا ترجمہ کیا ہے: ’’میں پناہ مانگتا ہوں‘‘، حالانکہ پناہ مانگنے کے لئے استعاذہ آتا ہے، کچھ مترجمین نے ’’پناہ میں آتا ہوں‘‘، اور ’’پناہ لیتا ہوں‘‘ کیا ہے، لفظ کے لحاظ سے یہی ترجمہ درست ہے۔بعض مترجمین نے ’’پناہ میں آیا‘‘، یعنی ماضی کا ترجمہ کیا ہے، جبکہ یہاں فعل ماضی نہیں ہے۔

(۴) کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک لفظ کے دو معنی ہوسکتے ہیں، لیکن مترجم سے سیاق کے لحاظ سے مناسب معنی اختیار کرنے میں لغزش ہوجاتی ہے:

إِنَّ اللّہَ لاَ یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَاءُ۔ (النساء : ۴۸)

إِنَّ اللّہَ لاَ یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَاءْ ۔ (النساء: ۱۱۶)

بعض مترجمین نے ترجمہ کیا : ’’اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا، اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے‘‘۔ 
شاہ عبدالقادر کا ترجمہ ہے: ’’اور بخشتا ہے اس سے نیچے جس کو چاہے‘‘۔ 
دون کا ترجمہ اس کے سوا بھی ہوسکتا ہے، اور اس سے کمتر بھی ہوسکتا ہے، دوسری نصوص کی روشنی میں کم تر کا ترجمہ درست ہے۔
صحیح ترجمہ یہ ہوگا: ’’اللہ شرک کو معاف نہیں کرتا۔ اس سے کمتر درجہ کے جوگناہ ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے‘‘۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض گناہ شرک سے بھی بڑے ہوتے ہیں، جیسے خدا کے حضور کبر شرک سے بڑا گناہ ہے، ابلیس کا گناہ شرک نہیں ہے، اس کے لئے قرآن مجید میں استکبر کا لفظ آیا ہے۔ 

کَعَصْفٍ مَّأْکُول۔ (الفیل:۵)

’’مَّأْکُول‘‘کے دو معنی ہوسکتے ہیں، کھائی ہوئی چیز، یا کھانے کی چیز۔
عام طور سے مترجمین نے آیت کے اس ٹکڑے کا ترجمہ کیا ہے: ’’کھائے ہوئے بھس کی طرح‘‘۔
ترجمہ بالا پر اشکال یہ آتا ہے کہ کھائے ہوئے بھس سے کیا مراد ہے،کھانے کے بعد تو بھس گوبر بن جاتا ہے، سیاق کے لحاظ سے مناسب یہ ہے کہ یہاں ماکول کا ترجمہ ’’کھایا ہوا‘‘ کے بجائے ’’کھانے کے قابل‘‘ کیا جائے، ترجمہ ہوگا : ’’کھانے کا بھس بناکر رکھ دیا‘‘۔محمدفاروق خان کے ہندی ترجمہ میں ہے: ’’جیسے کھانے کا بھوسا ہو‘‘۔

(۵) دو ملتے جلتے الفاظ کے درمیان باریک فرق میں تساہل بھی غلطی کا سبب بن جاتا ہے:

ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۔ (التکاثر:۸)

’’النَّعِیْمِ‘‘ کا ترجمہ عام طور سے لوگ نعمت کردیتے ہیں، حالانکہ نعمت اور نعیم میں فرق ہے۔ نعمت کے لئے عربی میں ’’نعمۃ‘‘ آتا ہے جس کا مطلب ’’اللہ کی بخشی ہوئی چیزیں‘‘ ہوتا ہے، جبکہ نعیم کا مطلب ہوتا ہے ’’آرام وآسائش‘‘۔ بخشش اور آسائش میں جو فرق ہے، وہ زبان کا ذوق رکھنے والے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔
شاہ عبدالقادر نے اس آیت میں آرام ترجمہ کیا ہے، سورہ یونس آیت ۹؍ میں بھی جنات النعیم کا ترجمہ ’’باغوں میں آرام کے‘‘ کیا ہے۔لیکن مائدہ ۶۵؍ میں جنات النعیم کا ترجمہ نعمت کے باغوں کیا ہے۔
سورہ تکاثر میں ’’نعیم‘‘ سے مراد آسائش ہے اس کی تائید سورہ انبیاء کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے:

لا تَرْکُضُوا وَارْجِعُوا إِلَی مَا أُتْرِفْتُمْ فِیْہِ وَمَسَاکِنِکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْأَلُون۔ (الانبیاء: ۱۳)

جو مفہوم ’’مَا أُتْرِفْتُمْ فِیْہِ‘‘کا ہے تقریبا وہی نعیم کا بھی ہے۔ یعنی آرام وآسائش کی وہ حالت جو اس دنیا میں حاصل رہی۔ 

فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاہُ رَبُّہُ فَأَکْرَمَہُ وَنَعَّمَہُ فَیَقُولُ رَبِّیْ أَکْرَمَنِ۔ (الفجر:۱۵)

آیت مذکورہ میں’’َنَعَّمَہُ‘‘ کا لفظ آیا ہے جس کا ترجمہ عموماََ نعمت دینے سے کیا گیا ہے، دراصل نعم نعیم کے لئے ہوتا ہے، اور نعمت کے لئے انعم ہوتا ہے، آیت مذکورہ میں نعمہ کا ترجمہ آسائش دینے سے کیا جائے گا۔

(۶) کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی آیت میں ضمیر کا استعمال ہوتا ہے، اور مترجم اپنی تفسیر کے مطابق ضمیر کے بجائے ضمیر کا مرجع ذکر کردیتا ہے، یہ طریقہ درست معلوم نہیں ہوتا، اس سے قاری کے غوروفکر کے وہ امکانات محدود ہوجاتے ہیں جو خود آیت نے فراہم کئے تھے:

فَنَادَاہَا مِن تَحْتِہَا أَلَّا تَحْزَنِیْ۔ (مریم:۲۴)

اس کا ترجمہ ہوگا: ’’پس اس نے اس کے نیچے سے اسے آواز دی کہ مغموم نہ ہو‘‘۔ جیسا کہ شاہ عبدالقادر نے کیا ہے کہ: پھر آواز دی اس کو اس کے نیچے سے کہ غم نہ کھا۔
بعض مترجمین نے ترجمہ کیا: ’’پس (کھجورکے) نیچے سے فرشتہ نے اس کو آواز دی کہ مغموم نہ ہو‘‘۔
اگر آیات پر غور کیا جائے تو یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی ماں مریم کے نیچے سے اس کو آواز دی اور کہا کہ مغموم نہ ہو۔ اور یہی مفہوم زیادہ صحیح لگتا ہے، کیونکہ عیسیٰ کی اس ندا کے بعد ہی مریم کو معلوم ہوا کہ عیسیٰ بولتے ہیں، اور اسی لئے انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کے سوالوں کے جواب میں عیسیٰ کی طرف اشارہ کردیا تھا۔ اگر ترجمہ میں ضمیر کی جگہ فرشتہ ذکر کردیا جائے تو قاری کے لئے دوسرے امکان پر سوچنے کا موقعہ ختم ہوجاتاہے۔ حالانکہ وہ امکان آیت کے الفاظ خود فراہم کررہے ہیں۔ ہاں اگر قاری کی سہولت پیش نظر ہے تو ضمیر کو ذکر کرکے اس کا مرجع قوسین میں ذکر کردینا چاہیے۔

(۷) بسا اوقات فعل کے بعدآنے والا حرف فعل کے معنی کو تبدیل کردیتا ہے۔ مترجم کی نگاہ کبھی اس تبدیلی کا خیال کرنے میں چوک جاتی ہے۔ ذیل کی مثالیں ملاحظہ ہوں:

وَقَالُواْ مَہْمَا تَأْتِنَا بِہِ مِن آیَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِہَا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْن۔ (الاعراف: ۱۳۲)

قَالُواْ یَا ہُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَۃٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِکِیْ آلِہَتِنَا عَن قَوْلِکَ وَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْن۔ (ھود:۵۳)

وَمَا نَحْنُ لَکُمَا بِمُؤْمِنِیْن۔ (یونس:۷۸)

فَمَا آمَنَ لِمُوسَی إِلاَّ ذُرِّیَّۃٌ مِّن قَوْمِہ۔ (یونس:۸۳)

ایمان کے ساتھ جب ’’باء‘‘ آتا ہے تو مطلب ہوتا ہے اس پر ایمان لانا جس کا ’’باء‘‘ کے بعد ذکر ہے جیسے آمنت باللہ۔ اور جب لام آتا ہے تو مطلب ہوتا ہے اس کی ’’بات ماننا‘‘ جس کا لام کے بعد ذکر ہے۔مذکورہ بالا آیتوں میں لام آیا ہے، اس لئے چاروں جگہ ترجمہ ’’بات ماننے‘‘ کا ہونا چاہئے،ترجمہ نگاروں میں سے بعض نے ایسے سارے مقامات پرمذکور نبی پر ’’ایمان نہ لانا‘‘ یا اس کو’’ نہ ماننے‘‘ کا ترجمہ کیا ہے۔بعض مترجمین نے کچھ مقامات پر اس کی رعایت کی ہے اور بعض مقامات پر نہیں کی۔
اسی طرح کفر کے ساتھ جب ’’باء‘‘ آتا ہے تو کفرو انکار کے معنی میں ہوتا ہے ، اور براہ راست مفعول کی ضمیر آتی ہے تو ناشکری کرنے کا معنی ہوتا ہے۔ 

أَلا إِنَّ عَاداً کَفَرُواْ رَبَّہُم۔ (ھود:۶۰)

أَلاَ إِنَّ ثَمُودَ کَفرُواْ رَبَّہُمْ۔ (ھود:۶۸)

مذکورہ دونوں آیتوں کا درست ترجمہ یہ ہے: ’’سنو عاد نے اپنے رب کی ناشکری کی‘‘، ’’سنو ثمود نے اپنے رب کی ناشکری کی‘‘۔ لیکن عام طور سے لوگوں نے کفر اور انکار کا ترجمہ کیا ہے۔حالانکہ سورہ بقرہ میں وَاشْکُرُواْ لِیْ وَلاَ تَکْفُرُون۔ (البقرہ: ۱۵۲)کا ترجمہ میرے علم کی حد تک سارے مترجمین نے ’’ناشکری نہ کرو‘‘، یا ’’کفران نعمت نہ کرو‘‘، کیا ہے۔ 

وَلاَ تَعْزِمُواْ عُقْدَۃَ النِّکَاحِ حَتَّیَ یَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَہ۔ (البقرہ: ۲۳۵)

بعض مترجمین نے مذکورہ ٹکڑے کا ترجمہ کیا: ’’اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ نہ کرو‘‘ ، یا ’’عقد نکاح کا عزم نہ کرو‘‘۔
دراصل عزم کے ساتھ علی ہوتا تو یہ ترجمہ درست ہوسکتا تھا، لیکن یہاں علی مذکور نہیں ہے، اس لئے ترجمہ ہوگا: ’’عقد نکاح کو پختہ نہ کرو‘‘۔ یعنی نکاح کی گرہ نہ باندھو۔ شاہ عبدالقادر نے یہی ترجمہ کیا ہے: ’’اور نہ باندھو گرہ نکاح کی‘‘۔

(۸) بعض الفاظ انسانوں کے شایان شان ہوتے ہیں ، لیکن اللہ کے لئے ان کا استعمال مناسب نہیں ہوتا ہے:

اسی طرح کا ایک لفظ ’’کاش‘‘ ہے، جس کے لئے عربی میں ’’لو ‘‘آتا ہے۔

لَبِئْسَ مَا شَرَوْاْ بِہِ أَنفُسَہُمْ لَوْ کَانُواْ یَعْلَمُون۔ (البقرہ: ۱۰۲)

وَلَوْ أَنَّہُمْ آمَنُواْ واتَّقَوْا لَمَثُوبَۃٌ مِّنْ عِندِ اللَّہ خَیْْرٌ لَّوْ کَانُواْ یَعْلَمُون۔ (البقرہ:۱۰۳)

وَلَوْ یَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ إِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّہِ جَمِیْعا۔ (البقرہ: ۱۶۵)

مذکورہ تینوں مقامات اور ان جیسے دیگر مقامات پر بعض مترجمین نے ’’لو‘‘ کا ترجمہ ’’کاش‘‘ سے کیا ہے، ’’کاش‘‘ کا لفظ انسانوں کے لئے تو درست ہے، لیکن اللہ تعالی کے لئے اس لفظ کا استعمال مناسب نہیں ہے، اس کی جگہ (اگر کہیں) کہنا مناسب ہے۔ ’’کاش وہ جانتے‘‘ کے بجائے، ’’اگر کہیں وہ جانتے‘‘۔

(۹) کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لفظ کے اندر تو ایک مفہوم کی گنجائش ہوتی ہے لیکن پورے جملہ کا مفہوم لفظ کے اس مفہوم کو اِبا کرتا ہے:

فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْْہِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّٰہِ أَوْ أَشَدَّ خَشْیَۃ۔ (النساء:۷۷)

کچھ مترجمین نے اس کا ترجمہ کیا ہے: ’’اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا کہ خدا سے ڈرنا چاہئے، یا اس سے بھی بڑھ کر‘‘۔
اس ترجمہ پر اشکال یہ وارد ہوتا ہے کہ اللہ سے جو ڈر مطلوب ہے کیا اس سے زیادہ کسی اور سے ڈرا جاسکتا ہے، ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے، اللہ تعالی سے جتنا ڈرنا چاہئے اس کی کوئی حد ہی نہیں ہے کہ یہ کہا جا ئے کہ اس سے بھی بڑھ کر۔ یعنی اللہ سے جتنا ڈرنا چاہئے اس سے زیادہ کسی اور چیز سے ڈرا ہی نہیں جاسکتا ہے۔
درست ترجمہ یہ ہے کہ :’’لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرتے ہیں یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر‘‘۔

(۱۰) قرآن مجید میں ایجاز کے اسلوب کو اختیار کیا گیا ہے، کم الفاظ میں زیادہ مفہوم کی ادائیگی دراصل قرآن مجید کا ایک خوبصورت انداز ہے۔ کبھی اس اسلوب سے مترجم کی نگاہ چوک جاتی ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاء لِلّٰہِ۔ (النساء: ۱۳۵)

متعدد مترجمین اس کا ترجمہ کرتے ہیں : ’’انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو‘‘۔
دراصل اس آیت میں قوامین آیا ہے، اور شہداء آیا ہے، اس کے علاوہ بالقسط آیا ہے جو بیک وقت دونوں سے متعلق ہے، اور لِلّٰہ آیا ہے۔ وہ بھی دونوں سے متعلق ہے۔ اگر عبارت کو کھولا جائے تو یوں ہوگی: کُونُوا قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ لِلّٰہ شُہَدَاءَ بِالْقِسْطِ لِلّٰہِ۔گویا اللہ کی خاطر انصاف کے علم بردار بنو اور اللہ کی خاطر انصاف کے گواہ بنو۔ یعنی دونوں ہی آیتوں میں للہ اور بالقسط دونوں الفاظ قوامین سے بھی متعلق ہیں اور شہداء سے بھی۔ قوامین سے مراد عملی کردار اور شہداء سے مراد قولی شہادت ہے۔ جبکہ مترجمین عام طور سے بالقسط کو صرف قوامین سے جوڑتے ہیں، اور للہ کو صرف شھداء سے متعلق بناتے ہیں۔
درست ترجمہ یوں ہوگا: ’’خدا واسطے انصاف کے علمبردار اور اس کے گواہ بنو‘‘۔

وَلاَ تَقْعُدُوا بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِہِ وَتَبْغُونَہَا عِوَجا۔ (الاعراف: ۸۶)

بعض مترجمین نے ترجمہ اس طرح کیا: ’’اور ہر راستے پر یوں نہ بیٹھو کہ راہگیروں کو ڈراؤ اور اللہ کی راہ سے انہیں روکو جو اس پر ایمان لائے اور اس میں کجی چاہو‘‘۔
درست ترجمہ: ’’اور ہر راستے میں بیٹھ کر جو ایمان لائے انہیں دھمکیاں نہ دو اور اللہ کی راہ سے نہ روکو اس میں کجی کی خواہش کے ساتھ‘‘۔ 
دراصل ’’من آمن بہ‘‘ دونوں افعال سے متعلق ہے، یعنی وہ دھمکیاں بھی اہل ایمان کو دیتے ہیں اور روکتے بھی اہل ایمان کو ہیں۔
شاہ عبدالقادر کا ترجمہ یوں ہے: ’’اور مت بیٹھو ہر راہ پر ڈر کے، اور روکتے اللہ کی راہ سے، اس کو جو کوئی یقین لاوے اس پر، اور ڈھونڈتے اس میں عیب‘‘۔یہ ترجمہ عمدہ ہے، البتہ اس میں (ڈرکے) لگتا ہے کتابت کی غلطی ہے، ڈراتے ہوگا۔

(۱۱) کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو افعال آتے ہیں اور اس کے بعد جار مجرور آتا ہے، اور وہ جار مجرور کس فعل سے متعلق ہے یہ طے کرنے میں چوک ہوجاتی ہے، اگر سیاق وسباق پر غور کریں اور نحو کے قواعد کو باریکی سے ملحوظ رکھیں تو درست ترجمہ تک رسائی ہوسکتی ہے:

إِذْ أَنتُم بِالْعُدْوَۃِ الدُّنْیَا وَہُم بِالْعُدْوَۃِ الْقُصْوَی وَالرَّکْبُ أَسْفَلَ مِنکُمْ وَلَوْ تَوَاعَدتَّمْ لاَخْتَلَفْتُمْ فِیْ الْمِیْعَادِ وَلَکِن لِّیَقْضِیَ اللّہُ أَمْراً کَانَ مَفْعُولاً لِّیَہْلِکَ مَنْ ہَلَکَ عَن بَیِّنَۃٍ وَیَحْیَی مَنْ حَیَّ عَن بَیِّنَۃٍ وَإِنَّ اللّہَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْم۔ (الانفال: ۴۲)

عام طور سے مترجمین نے آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے: ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو، اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے‘‘۔
جبکہ درست ترجمہ یہ ہے:’’تاکہ جو حجت سے (دلیل روشن کی رو سے) ہلاک ہوچکا ہے وہ ہلاک ہوجائے، اور جو حجت سے (دلیل روشن کی رو سے) زندہ رہنے کا مستحق ہے وہ زندہ رہے‘‘۔
یعنی لِّیَہْلِکَ مَنْ ہَلَکَ عَن بَیِّنَۃٍٍ میں عَن بَیِّنَۃٍٍٍ متعلق ہے ہَلَکَ سے نہ کہ لِّیَہْلِکَ سے جیسا کہ عام مترجمین نے لیا ہے۔ 
اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ عام ترجمہ کے لحاظ سے ’’ھلک‘‘ اور ’’حی‘‘ کی جگہ فعل مضارع یعنی ’’یھلک‘‘ اور ’’یحیی‘‘ آتا۔ موقع ومحل سے بھی عام ترجمہ کی تائید نہیں ہوتی۔ کیونکہ حجت تو جنگ بدر سے پہلے تمام ہوچکی تھی۔ اب تو ہلاکت کے مستحقین کو ہلاکت سے دوچار ہونا تھا۔

(۱۲) ایک مشہور ترجمہ کے بالمقابل کبھی ایک غیر مشہور ترجمہ مفہوم کے لحاظ سے زیادہ مناسب لگتا ہے:

لاَ تُضَآرَّ وَالِدَۃٌ بِوَلَدِہَا وَلاَ مَوْلُودٌ لَّہُ بِوَلَدِہ۔ (البقرہ: ۲۳۳)

اس آیت کا ترجمہ عام طور سے لوگوں نے یہ کیا ہے کہ : ’’نہ تو ماں کو اس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچہ اس کا ہے، اور نہ باپ ہی کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے‘‘۔
اس آیت کا ترجمہ شاہ عبد القادر نے اس سے بالکل مختلف کیا ہے، : ’’نہ ضرر چاہے ماں اپنی اولاد کا اور نہ لڑکے والا اپنی اولاد کا‘‘۔
بالفاظ دیگر نہ تو ماں ایسا رویہ اختیار کرے کہ اس کے بچے کو نقصان پہنچے اور نہ ہی باپ ایسا رویہ اختیار کرے جو اس کے بچے کے لئے نقصان دہ ہو۔ یہ ترجمہ اس لئے بھی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ماں باپ میں بچہ کو لے کر جو تنازعات ہوتے ہیں ان کا راست نقصان اصل میں بچہ ہی کو پہنچتا ہے۔ والدین اپنی اپنی انا کے لئے اس قدر شدت اختیار کرلیتے ہیں کہ خود بچہ کا مفاد داؤں پر لگ جاتا ہے۔ بولدہ میں حرف ’’باء‘‘ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔کیونکہ فعل ضار یضار کا صلہ ’’باء ‘‘آتا ہے۔ اگر علت کا مفہوم ہوتا جیسا کہ مذکورہ بالا ترجمہ میں ہے تو اس کے لئے ’’لام‘‘ آتا۔

وَلاَ یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَلاَ شَہِیْد۔ (البقرہ: ۲۸۲)

اس ٹکڑے کا ترجمہ عام طور پرمترجمین نے یہ کیا ہے کہ: ’’اور کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے‘‘۔ اس کا ایک اور ترجمہ ہوسکتا ہے، اور وہ یہ کہ ’’کاتب اور گواہ نقصان نہ پہنچائیں‘‘۔ احمد رضا خاں نے مشہور ترجمہ کے ساتھ اسے بھی ذکر کیا ہے۔ یہ ترجمہ زیادہ مناسب اس وجہ سے ہے کہ کاتب کو نقصان پہنچانے کی کوئی صورت عام طور سے نہیں بنتی، وہ تو قرض کے لین دین کے وقت کتابت کرکے اپنی راہ لیتا ہے، اس وقت کوئی اس سے ناراض بھی نہیں ہوتا ہے کہ اسے نقصان پہنچائے، اس کے برعکس کاتب لکھتے وقت اور شاہد گواہی دیتے وقت فریقین میں سے کسی کوبھی ناحق نقصان پہنچاسکتے ہیں۔

وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُون۔ (الاعراف:۸)

عام طور سے مترجمین نے مذکورہ ٹکڑے کا ترجمہ اس طرح کیا: ’’اس دن وزن دار صرف حق ہوگا‘‘۔یا ’’اس دن وزن بر حق اور یقینی ہے‘‘۔ مفہوم اور زبان کے قواعد کی رو سے شاہ عبدالقادر کا ترجمہ درست ہے گو کہ وہ مشہور نہیں ہوسکاکہ : ’’تول اس دن ٹھیک ہے‘‘۔یعنی اس دن صحیح صحیح تولا جائے گا، اور اس میں کوئی غلطی نہیں ہوگی۔

(۱۳) کسی آیت کا یا آیت کے جزء کا ایسا ترجمہ بھی اہل علم کے لیے قابل توجہ ہوسکتا ہے جو مترجمین میں سے کسی نے اب تک اختیار نہیں کیا:

فَکَأَیِّن مِّن قَرْیَۃٍ أَہْلَکْنَاہَا وَہِیَ ظَالِمَۃٌ فَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلَی عُرُوشِہَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَقَصْرٍ مَّشِیْد۔ (الحج: ۴۵)

اس آیت کا ترجمہ طاہر القادری نے یوں کیا ہے: ’’پھر کتنی ہی (ایسی) بستیاں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کرڈالا اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں پس وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں، اور (ان کی ہلاکت سے) کتنے کنویں بے کار (ہوگئے) اور کتنے مضبوط محل اجڑے پڑے (ہیں)‘‘ عام طور سے مترجمین نے ایسا ہی ترجمہ کیا ہے۔
اس میں غور طلب حصہ خَاوِیَۃٌ عَلَی عُرُوشِہَا ہے، ’’خَاوِیَۃٌ‘‘ کے اصل معنی ویران اور خالی کے آتے ہیں، لیکن کسی نے بھی اس آیت میں اس کا ترجمہ ویران سے نہیں کیا بلکہ گری ہوئی اور ڈھی ہوئی ترجمہ کیا۔ حالانکہ قَصْرٍ مَّشِیْد  سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ بہت سارے محل ہیں جو ویران تو ہیں مگر ڈھے اور گرے ہوئے نہیں ہیں۔
غالبا عَلَی عُرُوشِہَا کی وجہ سے مترجمین اس معنی کی طرف گئے، کیونکہ سورہ نمل کی آیت فَتِلْکَ بُیُوتُہُمْ خَاوِیَۃً بِمَا ظَلَمُوا۔ (۵۲) میں ’’خَاوِیَۃً‘‘ کا ترجمہ بہت سارے مترجمین نے خالی ویران اور اجڑے ہوئے کیا ہے۔ 
مولانا امانت اللہ اصلاحی حفظہ اللہ نے اس آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے: 
’’پھر کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کرڈالا اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں پس وہ اپنی چھتوں کے برقرار رہتے ہوئے ویران پڑی ہیں‘‘۔ خَاوِیَۃً یعنی ویران اور عَلَی عُرُوشِہَا یعنی چھتوں کے ہوتے ہوئے۔
مذکورہ ذیل قرآنی آیتوں میں بھی خَاوِیَۃٌ عَلَی عُرُوشِہَا کااسی طرح کا ترجمہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔

أَوْ کَالَّذِیْ مَرَّ عَلَی قَرْیَۃٍ وَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلَی عُرُوشِہَا قَالَ أَنَّیَ یُحْیِیْ ہََذِہِ اللّہُ بَعْدَ مَوْتِہَا۔ (البقرہ: ۲۵۹)

وَأُحِیْطَ بِثَمَرِہِ فَأَصْبَحَ یُقَلِّبُ کَفَّیْْہِ عَلَی مَا أَنفَقَ فِیْہَا وَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلَی عُرُوشِہَا۔ (الکھف:۴۲)

فَتِلْکَ بُیُوتُہُمْ خَاوِیَۃً بِمَا ظَلَمُوا۔ (النمل:۵۲)

(۱۴) لام برائے تعلیل اور لام برائے تبیین کے درمیان اشتباہ:

عربی زبان میں لام کے متعدد استعمالات ہیں ، ان میں سے ایک استعمال علت کا ہے جیسے لِإِیْلَافِ قُرَیْْش  قریش کے مانوس کئے جانے کی وجہ سے، اسی طرح ایک اسلوب یہ بھی ہے کہ فعل یا دوسرے مشتقات فعلیہ کے عمل میں زور پیدا کرنے کے لئے (معمول اور خاص طور سے )مفعول بہ پر لام کا اضافہ کردیتے ہیں، اس سے فعل اور مفعول بہ میں تعلق اور گہرا ہوکر ظاہر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر شکرتک  اور نصحتک  کا مطلب ہے میں نے تمہارا شکر ادا کیا اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی۔ اسی کو لام کے اضافہ کے ساتھ شکرت لک  (میں نے تمہارا شکریہ ادا کیا)اور نصحت لک  بھی کہتے ہیں۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے مطابق جب نصحت لک  کہیں گے تومطلب ہوگا : میں نے عملاً تمہاری خیرخواہی کی، اور جب نصحتک  کہیں گے تو ترجمہ ہوگا: میں نے تمہاری خیرخواہی کی بات کہی۔ گویا لام کے اضافے سے خود فعل کے مفہوم میں بھی اس طرح کی تبدیلیاں ہوجاتی ہیں جن سے واقفیت کے لئے عربیت کا ذوق ہونا ضروری ہے۔اس لام کو ابن ہشام نے مغنی اللبیب  میں خاص طور سے ذکر کیا ہے اوراسے لام تبیین کا نام دیا ہے۔
قرآن مجید میں اس کی مثالیں بہت ہیں، مثال کے طور پر ذیل کی دو آیتیں ملاحظہ ہوں: 

إِنَّ الَّذِیْنَ عِندَ رَبِّکَ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِہِ وَیُسَبِّحُونَہُ وَلَہُ یَسْجُدُون۔ (الاعراف:۲۰۶) 

فَإِنِ اسْتَکْبَرُوا فَالَّذِیْنَ عِندَ رَبِّکَ یُسَبِّحُونَ لَہُ بِاللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ وَہُمْ لَا یَسْأَمُون۔ (فصلت: ۳۸)

پہلی آیت میں یسبحونہ ہے اور دوسری آیت میں یسبحون لہ ہے۔ دونوں کا مطلب ایک ہے، البتہ ایک جگہ لام کے اضافہ سے زیادہ زور پیدا ہوگیا۔
اس مقام پر مولانا امانت اللہ اصلاحی نے یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ تسبیح استکبار کی ضد ہے جیساکہ مذکورہ آیتوں میں نمایاں ہے، جب بغیرلام کے ہوتو قولی تسبیح مراد ہوگی،اور لام کے ساتھ ہو تو تسبیح کے عملی مظاہر کی طرف اشارہ ہوگا، اسی لیے پہلی آیت میں عملی پہلو کو اجاگر کرنے کے لیے سجود کا ذکر ہے۔
قرآن مجید میں اس اسلوب کا استعمال جگہ جگہ ملتا ہے جیسے:

(۱)ّ فَاذْکُرُونِیْ أَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُواْ لِیْ وَلاَ تَکْفُرُون۔ (البقرۃ :۱۵۲)

واضح رہے کہ شکر کے ساتھ جب لام آتا ہے تو لام اس ذات پر داخل ہوتا ہے جس کا شکریہ ادا کیا جائے اور جس امر پر شکرکیا جائے وہ بطور مفعول ہوتا ہے جیساکہ فرمایا کان سعیہم مشکورا۔ (الاسراء :۱۹) اسی طرح کہتے ہیں شکر اللہ لک سعیک۔

(۲) وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَک۔ (البقرۃ : ۳۰) 

(۳) وَأُمْلِیْ لَہُمْ إِنَّ کَیْْدِیْ مَتِیْن۔ (الاعراف : ۱۸۳)

یہ لام کبھی مفعول پر داخل ہوتا ہے جیسا کہ اوپر کی مثالوں میں ہے، اور کبھی مفعول کا تعلق جس سے ہوتا ہے اس کی ضمیر پر داخل کرتے ہیں۔ جیسے ساقطع رقبتک  میں تیری گردن کاٹ دوں گا، اور ساقطع لک رقبتک  میں تیری گردن کاٹ ڈالوں گا، دونوں کا مفہوم ایک ہے البتہ دوسرے جملے میں مخاطب جس کی گردن کی بات ہورہی ہے اس کی ضمیر لاکر اس پر لام لگا دیا گیا، اور اس طرح کلام میں زورپیدا ہوگیا، یہاں لک  کا مطلب تمہارے لئے اگر لیں گے تو ایک مہمل سی بات ہوگی، اس لئے کہ یہاں علت کا محل نہیں بلکہ تاکید کا محل ہے۔ البتہ ایسی صورت میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ اس لام تبیین اور لام تعلیل میں مترجمین فرق نہیں کرتے، اور جہاں لام تبیین وتاکید کے لئے ہے وہاں بھی علت کا ترجمہ کردیا جاتا ہے۔
زیر نظر اسلوب کی کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:

(۱) یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُم۔ (الاحزاب:۷۱)

یہاں مفعول بہ تو اعمال اور ذنوب ہیں لیکن لام تبیین مخاطب کی ضمیر پر داخل کیا ہے ، کہ وہ اعمال اور وہ ذنوب اسی مخاطب سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعض مترجمین جیسے فتح محمد جالندھری کا ترجمہ درست ہے: 
’’وہ تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔‘‘
احمد رضا خاں کا ترجمہ ہے: 
’’تمہارے اعمال تمہارے لیے سنواردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔‘‘
مترجم نے پہلا لام تو علت کا مانا مگر دوسرا لام تبیین کا مان لیا۔
طاہر القادری کا ترجمہ ہے: 
’’وہ تمہارے لئے تمہارے (سارے) اعمال درست فرما دے گا اور تمہارے گناہ تمہارے لئے بخش دے گا۔ ‘‘
یہاں مترجم نے دونوں کو لام تعلیل مانا ہے۔

(۲) إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحاً مُّبِیْنا۔ (الفتح :۱)

لام تبیین کے لحاظ سے ترجمہ ہوگا: 
’’بے شک ہم نے تم کو ایک کھلی ہوئی فتح عطا کردی۔ ‘‘
جن لوگوں نے لام کو علت مانا ہے وہ ترجمہ کچھ یوں کرتے ہیں: 
’’بے شک ہم نے تمہارے لئے کھلی ہوئی فتح عطا کی۔‘‘

(۳) وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِیْ ارْتَضَی لَہُم۔ (النور:۵۵)

فتح محمد جالندھری کا ترجمہ درست ہے: 
’’اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم وپائیدار کرے گا۔‘‘
جبکہ سید مودودی، امین احسن اصلاحی اور دوسرے مترجمین نے لام کو برائے علت مان کر ترجمہ کیا: 
’’اْن کے لیے اْن کے اْس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اْن کے حق میں پسند کیا ہے۔‘‘

(۴) وَأَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِی۔ (الاحقاف:۱۵)

یہاں فتح محمد جالندھری نے لام کو علت مان کر ترجمہ یوں کیا: 
’’اور میرے لئے میری اولاد میں صلاح (وتقویٰ) دے۔‘‘
جبکہ محمد جونا گڑھی نے درست ترجمہ کیا: 
’’اور تو میری اولادبھی صالح بنا۔‘‘

(۵) یَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ الشَّفَاعَۃُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَہُ الرَّحْمَنُ وَرَضِیَ لَہُ قَوْلا۔ (طہ:۱۰۹)

عام طور سے مترجمین نے یہاں علت کا ترجمہ نہیں کیا ہے، احمد رضا خاں نے جو عام طور سے ایسے لام کا ترجمہ علت کے لحاظ سے کرتے ہیں یہاں تبیین کے لحاظ سے ترجمہ کیا ہے: 
’’اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی، مگر اس کی جسے رحمن نے اذن دے دیا ہے اور اس کی بات پسند فرمائی۔‘‘
جبکہ امین احسن اصلاحی نے یہاں علت کے لحاظ سے ترجمہ کیا ہے: 
’’اور جس کے لئے کوئی بات کہنے کو پسند کرے۔‘‘

(۶) قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِی۔ وَیَسِّرْ لِیْ أَمْرِی۔ (طہ:۲۵۔۲۶)

’’عرض کیا : پروردگار، میرا سینہ کھول دے ، اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے۔‘‘ (سید مودودی : پہلا لام تبیین، دوسرا لام تعلیل)
’’اس نے دعا کی اے میرے رب، میرے سینے کو میرے لئے کھول دے اور میری مہم کو آسان کر۔‘‘ (امین احسن اصلاحی: پہلا لام تعلیل دوسرا لام تبیین)
’’کہا میرے پروردگار میرا سینہ کھول دے، اور میرا کام آسان کردے۔‘‘ (فتح محمد جالندھری: دونوں لام تبیین)
’’عرض کی اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے، اور میرے لیے میرا کام آسان کر۔‘‘ (احمد رضا خان: دونوں لام تعلیل)

(۷) أَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَک۔اور ورفعنا لک ذکرک۔ (الم نشرح)

ان دونوں آیتوں کے ترجمے میں بھی مترجمین کا ملا جلا رویہ رہا ہے۔
سرسری جائزہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عام طور سے مترجمین نے اس سلسلے میں کسی ایک استعمال کی پابندی نہیں کی، بلکہ ایک ہی مترجم بسا اوقات ایک ہی سیاق میں کہیں ایک استعمال کو اختیار کرتا ہے تو کہیں دوسرے استعمال کو۔بہر حال صحیح بات یہ ہے کہ مذکورہ تمام مثالوں میں لام برائے تبیین وتوکید ہے نہ کہ برائے تعلیل۔
لام تبیین اور لام تعلیل کے درمیان اشتباہ کا امکان اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ ابن عاشور نے جو قرآنی اسالیب پر اپنے وقت کے امام مانے جاتے ہیں، دوسری کئی آیتوں میں لام تبیین کا ذکر کرتے ہوئے أَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ  کا بار بارحوالہ دیا، اور کہا کہ جیسے وہاں لام برائے تبیین ہے ویسے ہی یہاں ہے۔ لیکن جب وہ خود أَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکََ  کی تفسیر لکھنے چلے تو وہ سارے حوالے فراموش کردیئے اور کہا کہ یہاں لام برائے تعلیل ہے۔
مذکورہ مثالوں میں لام کو برائے تبیین وتاکید مان لینے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ ترجمہ میں اس تاکید کا اظہار کیسے کیا جائے۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی ایسی تمام مثالوں میں حسب گنجائش فعل کو تاکید کے صیغے میں استعمال کرنے کی تجویز دیتے ہیں، جیسے کیا کے بجائے کردیا، اور کر کے بجائے کردے۔ جیسے وَیَسِّرْ لِیْ أَمْرِی  کا ترجمہ: "اور میری مہم کو آسان کر" کے بجائے "اور میری مہم کو آسان کردے" کیا جائے گا۔اسی طرح یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُم۔ (الاحزاب:۷۱) میں فتح محمد جالندھری کا ترجمہ ہے: وہ تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔جبکہ امین احسن اصلاحی کا ترجمہ ہے: اللہ تمہارے اعمال سدھارے گا اور تمہارے گناہوں کو بخشے گا۔ اول الذکر نے بجا طور پر فعل میں تاکید کا اضافہ کیا ہے۔جبکہ موخرالذکر نے لام کی رعایت کی ہی نہیں نہ بطور تعلیل نہ بطور تاکید۔

(۱۵) لام برائے ظرف اور لام برائے تعلیل کے درمیان اشتباہ:

لام کبھی فی کے معنی میں بھی آتا ہے، موقعہ کے لحاظ سے لام برائے ظرف اور لام برائے علت میں فرق کرنا ہوتا ہے۔
مثال کے طور پرمندرجہ ذیل دو آیتیں ملاحظہ ہوں:

وَلَمَّا جَاء مُوسَی لِمِیْقَاتِنَا۔ (الاعراف:۱۴۳)

اور جب موسی ہماری مقررہ مدت پر حاضر ہوا۔ (امین احسن اصلاحی)

وَاخْتَارَ مُوسَی قَوْمَہُ سَبْعِیْنَ رَجُلاً لِّمِیْقَاتِنَا۔ (الاعراف:۱۵۵)

اور موسی نے اپنی قوم کے ستر آدمی چنے، ہمارے وقت مقرر کے لئے۔ (امین احسن اصلاحی)
دونوں آیتوں میں میقاتنا  سے پہلے لام ہے، مگر موقعہ کلام سے معلوم ہورہا ہے کہ پہلی آیت میں لام بمعنی فی ہے، جبکہ دوسری آیت میں لام برائے تعلیل ہے۔اس لام کو بعض لوگ عند کے معنی میں لے کر لام توقیت کا بھی نام دیتے ہیں۔ لام ظرف یا توقیت کے ترجمہ میں ہمیشہ میں (فی) کا آنا ضروری نہیں جیساکہ مثال سے ظاہر ہے۔ 
مذکورہ لام کے سلسلے میں بھی مترجمین کو کبھی کبھی اشتباہ ہوجاتا ہے اور وہ لام توقیت کو لام برائے علت سمجھ کر ترجمہ کردیتے ہیں۔ کچھ مثالیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں:

(۱) أَلَا یَظُنُّ أُولَئِکَ أَنَّہُم مَّبْعُوثُون۔ لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ۔ (المطففین :۴۔ ۵)

اس آیت میں بعض مترجمین نے لام کو برائے تعلیل سمجھ کر ترجمہ اس طرح کیا ہے :
کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے، ایک عظمت والے دن کے لیے (احمد رضاخان)
کیا انہیں اپنے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں اس عظیم دن کے لئے (محمد جونا گڑھی)
لیکن یہاں لام برائے توقیت ہے۔ درست ترجمہ یوں ہے:
کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن، یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں؟ (سید مودودی)

(۲) فَجُمِعَ السَّحَرَۃُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُومٍ۔ (الشعراء: ۳۸)

تو ساحر ایک معین دن کے مقررہ وقت کے لئے جمع کئے گئے(امین احسن اصلاحی) کے بجائے ، درست ترجمہ یوں ہوگا: تو ساحر ایک معین دن کے مقررہ وقت پر جمع کیے گئے۔ (امانت اللہ اصلاحی)

(۳) یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذَلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ۔ (التغابن :۹)

جب وہ اکٹھے کئے جانے کے دن کے لئے تم کو اکٹھا کرے گا (امین احسن اصلاحی) کے بجائے ، درست ترجمہ یوں ہوگا: جب وہ اکٹھے کئے جانے کے دن تم کو اکٹھا کرے گا۔ (حافظ نذر احمد)

(۴) ذَلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّہُ النَّاس۔ (ہود : ۱۰۳)

وہ ایک ایسا دن ہوگا جس کے لیے سارے ہی لوگ اکٹھے کئے جائیں گے (امین احسن اصلاحی) کے بجائے درست ترجمہ یہ ہے:
وہ ایک ایسا دن ہوگا جس دن سارے ہی لوگ اکٹھے کئے جائیں گے۔ (حافظ نذر احمد) 

(۵) لاَ یُجَلِّیْہَا لِوَقْتِہَا إِلاَّ ہُوَ۔ (الاعراف : ۱۸۷)

وہی اس کے وقت پر اس کو ظاہر کرے گا۔ (امین احسن اصلاحی) اس آیت میں میرے علم کی حد تک سارے مترجمین نے لام توقیت کا ترجمہ کیا ہے۔

(۶) إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِن۔ (الطلاق :۱) 

جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو اْنہیں اْن کی عدت کے لیے طلاق دیا کرو۔(سید مودودی) کے بجائے درست ترجمہ ہوگا:جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر انہیں طلاق دو۔ (احمد رضا خان)
سرسری جائزہ سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ حافظ نذر احمد کے ترجمہ میں لام بمعنی فی کی تقریبا ہر جگہ رعایت کی گئی ہے۔ باقی ترجموں میں صورتحال یہ ہے کہ کسی مقام پر اس کی رعایت ہوسکی تو کسی مقام پر رعایت نہیں ہوسکی۔

(۷) أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ إِلَی غَسَقِ اللَّیْْل۔ (الاسراء: ۷۸)

اس آیت کا ترجمہ عام طور سے مترجمین نے اس طرح کیا ہے کہ: نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر اندھیرے تک۔ (سید مودودی) 
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں بھی لام فی کے ہم معنی ہے، ترجمہ ہوگا: نماز قائم کرو سورج کے ڈھلنے پر (یا زوال آفتاب کے اوقات میں )، شب کے تاریک ہونے تک۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ لام سے کا مفہوم ادا کرنے کے لئے نہیں آتا ہے۔ ابن عاشور لکھتے ہیں:

واللام فی (لِدْلْوکِ الشَّمسِ) لام التوقیت. وھی بمعنی(عند).

(۱۶) باء برائے ملابست اور باء برائے سببیت کے درمیان اشتباہ:

جس طرح لام کے متعدد استعمالات ہیں اسی طرح باء کے بھی کئی استعمالات ہیں، ترجمہ میں ان کی رعایت کرنا ضروری ہے۔ سورۃ الشمس کی مندرجہ ذیل آیت کے ترجمہ کے بارے میں مولانا امانت اللہ اصلاحی کا نقطہ نظر بہت اہم ہے۔

کَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاہَا۔ (الشمس:۱۱) 

کا ترجمہ کرتے ہوئے عام طور سے مترجمین نے باء کو برائے سببیت مانا ہے اور ترجمہ اس طرح کیا ہے : ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر جھٹلایا (سید مودودی)۔ بعض لوگوں نے باء استعانت کے لحاظ سے ترجمہ کیا جو یوں ہے: ثمود نے اپنی سرکشی سے جھٹلایا (احمد رضا خان)۔ باء استعانت جیسے کتبت بالقلم، میں نے قلم سے لکھا۔ عربی تفاسیر میں بھی عام طور سے یہی دو اقوال ہیں، بعض نے باء تعدیہ کا قول بھی ذکر کیا ہے۔
مولانا امانت اللہ اصلاحی کا خیال ہے کہ یہاں باء برائے ملابست یا برائے مصاحبت ہے۔ اس کے لحاظ سے ترجمہ ہوگا: ثمود نے سرکشی کرتے ہوئے جھٹلایا، یا جھٹلانے کے ساتھ ساتھ سرکشی دکھائی۔ واضح ہوکہ با برائے ملابست ماننے کی صورت میں آیت کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں، تکذیب کے ساتھ سرکشی کی یا سرکشی کے ساتھ تکذیب کی، مگر چونکہ آگے سرکشی کی وضاحت آرہی ہے، اس لیے زیادہ موزوں ترجمہ ہوگا، تکذیب کے ساتھ ساتھ سرکشی کی۔ آگے کی ایک آیت میں فکذبوہ فعقروھا  کہا گیا جس میں تکذیب کا بھی ذکر ہوگیا اور سرکشی یعنی عقر ناقہ کا بھی ذکر ہوگیا۔ 
اس کی نظیر یں قرآن مجید میں بہت واضح طور سے موجود ہیں جیسے: 

(۱) یَوْمَ یَدْعُوکُمْ فَتَسْتَجِیْبُونَ بِحَمْدِہ۔  (الاسراء :۵۲)

جس دن وہ تمہیں بلائے گا تو تم اس کی حمد کرتے چلے آؤ گے (احمد رضا خان) جس دن وہ تمہیں بلائے گا تم اس کی تعریف کرتے ہوئے تعمیل ارشاد کرو گے (محمد جونا گڑھی)۔

(۲) وَإِن مِّن شَیْْءٍ إِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدَہِ۔ (الاسراء: ۴۴)

کوئی چیز نہیں مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ (فتح محمد جالندھری)

(۳) وَسَبِّحْ بِحَمْدِہِ۔ (الفرقان : ۵۸) 

اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو (سید مودودی)
مذکورہ تینوں مثالوں میں عام طور سے مترجمین ومفسرین نے بحمدہ کی باء کو برائے ملابست یا مصاحبت مانا ہے۔ اور اسی لحاظ سے ترجمہ کیا ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ سورۃ الشمس کی آیت مذکورہ میں لوگوں کا ذہن ادھر نہیں گیا، حالانکہ سورہ الشمس والی آیت ٹھیک اسی اسلوب پر آئی ہے۔ سورہ نساء کی آیت نمبر ۱۶۶؍ میں انزلہ بعلمہ  میں بھی باء مصاحبت کی ہے، نہ کہ استعانت کی۔ ترجمہ ہوگا: اس نے اس کو اپنے علم کے ساتھ نازل کیا ہے(امین احسن اصلاحی) نہ کہ: اسے اپنے علم سے اتارا ہے۔ (محمد جوناگڑھی)

(۱۷) ثم بالفتح اور ثم بالضم کے درمیان اشتباہ:

ثُمَّ  جب ضمہ کے ساتھ ہو تو حرف عطف ہوتا ہے اور اس میں حسب موقع پھر یا بھی یا پھر بھی کا مفہوم ہوتا ہے۔ جبکہ ثَمَّ  جب فتحہ کے ساتھ ہو تو اشارہ مکان کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا ترجمہ وہاں سے کیا جاتا ہے۔
ثَمَّ فتحہ کے ساتھ قرآن مجید میں چارمقامات پر آیا ہے، تین مقامات پر تو سبھی مترجمین نے وہاں کا ترجمہ کیا ہے، لیکن چوتھے مقام پر محسوس ہوتا ہے کہ کئی مترجمین کو اشتباہ ہوگیا۔ وہ مقام ہے: مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِیْن۔ (التکویر : ۲۱)
اس کا ترجمہ مترجمین نے یوں کیا ہے: 
(۱) سردار (اور) امانت دار ہے (فتح محمد جالندھری، ثَمَّ کا ترجمہ نہیں کیا)۔
(۲) (تمام جہانوں کے لئے) واجب الاطاعت ہیں (کیونکہ ان کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے)، امانت دار ہیں (وحی اور زمین و آسمان کے سب اْلوہی رازوں کے حامل ہیں)۔ (طاہر القادری، قابل غور بات یہ ہے کہ غیر ضروری طور پرقوسین کے ذریعہ موصوف اپنے فکری مسلک کی تبلیغ میں ایسا مصروف ہوئے کہ لفظ ثَمَّ کا ترجمہ ہی نہیں کیا)۔
(۳) وہ وہاں قابل اطاعت اور پھر امانت دار ہے (جوادی، ثَمَّ کا ترجمہ دوبار کیا، پہلا صحیح دوسرا غلط)
(۴) جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے امین ہے (محمد جونا گڑھی، ثَمَّ  کا لفظی ترجمہ نہیں کیا،بلکہ قوسین میں اس کی تشریح کی ہے آسمانوں میں کہہ کر)۔
(۵) (وہاں) اس کا حکم مانا جاتا ہے اور پھر وہ امانتدار (بھی) ہے۔ (محمد حسین نجفی، ثَمَّ  کا ترجمہ دوبار کیا۔ پہلا قوسین میں جو صحیح ہے، دوسرا متن کے اندر جو غلط ہے)۔
اس کی بات مانی جاتی ہے اور وہ نہایت امین بھی ہے۔ (امین احسن اصلاحی، ثَمَّ کا ترجمہ غلط کیا)۔
آیت مذکورہ پر گفتگو کرتے ہوئے ثَمَّ  (زبر کے ساتھ) کے بارے میں صاحب تدبر قرآن لکھتے ہیں: ’’صفت سے پہلے جب یہ آتا ہے تو اس کی عظمت و اہمیت کو نمایاں کرنے کے لئے آتا ہے ، یہاں یہ صفت امین سے پہلے آیا ہے تو اس سے مقصود حضرت جبریل علیہ السلام کی اس صفت کی طرف خاص طور پر توجہ دلانا ہے۔ یعنی مذکورہ صفات کے ساتھ ان کی خاص اہمیت رکھنے والی یا خاص طور پر ذکر کے لائق صفت یہ بھی ہے کہ وہ نہایت امانت دار ہیں‘‘۔ (تدبر قرآن) 
صاحب تدبر کا مذکورہ بیان بالکل درست ہے مگر وہ ثَمَّ (زبر کے ساتھ) پر صادق نہیں آتا ہے بلکہ ثُمَّ  (پیش کے ساتھ) پر صادق آتا ہے، جبکہ آیت میں اول الذکر استعمال ہوا ہے۔ یہاں ثَمَّ  کا ترجمہ وہاں سے کیا جائے گا، البتہ چونکہ ایک صفت کے بعد دوسری صفت بغیر حرف عطف کے آئی ہے، اس کا اظہار ’’اور‘‘ سے بھی کرسکتے ہیں، اور ’’بھی‘‘ سے بھی کرسکتے ہیں۔ درست ترجمہ یوں ہوگا: وہاں اْس کا حکم مانا جاتا ہے، وہ با اعتماد ہے۔ (سید مودودی)وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے، امانت دار ہے۔ (احمد رضا خان) یہاں یہ بھی واضح رہے کہ ثَمَّ  کا تعلق بعد کی صفت امین سے نہیں بلکہ سابق صفت مطاع سے ہے۔

(۱۸) خسف بہ الارض کا مطلب:

اگر کوئی جگہ زمین میں اندر جا دھنسے تو کہتے ہیں: خسف المکان، تاہم خسف متعدی بھی استعمال ہوتا ہے اور خسف بہ الارض کا مطلب ہوتا ہے اس کو زمین میں دھنسادیا۔ اس ترکیب میں دو مفعول ہوتے ہیں ایک پر باء لگی ہوتی ہے اور دوسرا منصوب ہوتا ہے، کیونکہ فعل کا اثر دو چیزوں پر ہوتا ہے۔ ایک تو زمین پر کہ اس میں شگاف کیا جائے اور دوسرا اس چیز پر کہ اس کو اس شگاف میں دھنسا کر غائب کردیا جائے۔ فیروزآبادی کے الفاظ میں و(خسف) اللہ بفْلانٍ الارضَ: غیَّبہ فیھا۔ قرآن مجید میں یہ لفظ اسی طرح کی ترکیب کے ساتھ کئی مقامات پر آیا ہے، اور عام طور سے مترجمین نے اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے، جیسے :

(۱) أَفَأَمِنَ الَّذِیْنَ مَکَرُواْ السَّیِّئَاتِ أَن یَخْسِفَ اللّٰہُ بِہِمُ الأَرْض۔ (النحل : ۴۵)

کیا جو لوگ بری بری چالیں چلتے ہیں اس بات سے بے خوف ہیں کہ خدا ان کو زمین میں دھنسا دے۔ (فتح محمد جالندھری)

(۲) فَخَسَفْنَا بِہِ وَبِدَارِہِ الْأَرْض۔ (القصص : ۸۱)

آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دَھنسا دیا۔ (سید مودودی)
البتہ یہاں اور ایسے اکثر مقامات پر صاحب تدبر قرآن نے ایک دوسری راہ نکالی ہے، انہوں نے فعل کے بعد آنے والی باء کو مصاحبت کا مان کرپہلی آیت کا ترجمہ اس طرح کیا: اللہ ان کے سمیت زمین کو دھنسادے۔ اور دوسری آیت کا ترجمہ اس طرح کیا: پس ہم نے اس کے اور اس کے گھر سمیت زمین کو دھنسادیا۔ 
لیکن صحیح ترجمہ وہی ہے جو عام مترجمین نے اختیار کیا، کیوں کہ خسف کے اس عمل میں زمین نہیں دھنستی ہے، بلکہ زمین پھٹتی ہے اور جو چیز اس میں جاکر سماجاتی ہے وہ دھنستی ہے، زمین تو پھٹنے کے بعد دوبارہ برابر ہوجاتی ہے۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ اسی آیت میں

لَوْلَا أَن مَّنَّ اللّٰہُ عَلَیْْنَا لَخَسَفَ بِنَا۔  (القصص : ۸۲) 

کا ترجمہ صاحب تدبر نے عام مترجمین کے طرزپر یوں کیا: اگر اللہ کا ہم پر فضل نہ ہوا ہوتا تو ہمیں بھی دھنسادیتا۔
دیکھنے کی چیز یہ بھی ہے کہ صاحب تدبر نے سورہ سبا آیت نمبر ۹، سورہ اسراء آیت نمبر ۶۸؍ اور سورہ ملک آیت نمبر ۱۶؍ میں ترجمہ عام مترجمین سے ہٹ کر اپنے انداز سے کیا ہے،لیکن سورہ عنکبوت میں 

وَمِنْہُم مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْأَرْض۔  (العنکبوت : ۴۰) 

کا ترجمہ کرتے ہوئے عام مترجمین کے اندازکو اختیارکرلیا اور یوں ترجمہ کیا: اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسادیا۔
ابن عاشور نے بھی کہیں کہیں یہی راہ اختیار کی ہے:
سورہ ملک والی آیت پر گفتگو کرتے ہوئے باء کو مصاحبت کا بتاتے ہیں:

 والباء فی قولہ: (بکم) للمصاحبۃ،أی یخسف الارض مصاحبۃلذواتکم۔

جبکہ سورہ نحل والی آیت میں باء کو برائے تعدیہ قرار دیتے ہیں:

وخسف من باب ضرب. ویستعمل قاصرا ومتعدیا. یقال: خسفت الارض،ویقال: خسف اللہ الارض، قال تعالی: (فَخَسَفنَابِہِ وَبِدَارہ الارضَ) (القصص:۸۱)، ولا یتعدی الی ما زاد علی المفعول الا بحرف التعدیۃ، والاکثر ان یعدی بالباء کما ھنا وقولہ تعالی: (فَخَسَفنَابِہِ وَبِدَارِہ الاَرض)، أی جعلناھا خاسفۃ بہ، فالباء للتعدیۃ، کما یقال: ذھب بہ۔

(۱۹) مھین کا موزوں ترجمہ:

مھین  کا لفظ قرآن مجید میں چار مقامات پر آیا ہے۔ اس کا ترجمہ مترجمین کے یہاں کہیں حقیر اور ذلیل جیسے الفاظ سے ملتا ہے اور کہیں معمولی ، بے وقعت اور بے قیمت کے الفاظ سے۔ لغت کے لحاظ سے حقیر اور ذلیل جیسا مفہوم اس لفظ کے اندر نہیں ہے بلکہ معمولی اور بے وقعت ہی درست مفہوم ہے۔ کہا جاسکتا ہے ہے کہ اردو میں حقیر اور ذلیل جیسے الفاظ معمولی اور بے قیمت کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی غالب اور عام استعمال کے لحاظ سے دونوں طرح کے لفظوں میں ایک بڑا فرق محسوس ہوتا ہے۔اس فرق کی رعایت ترجمہ میں کرنا ضروری ہے۔ ابن عاشور نے مھین کی توضیح اس طرح کی ہے، والمھین: الشیء الممتھن الذی لایعبأ بہ۔ ایسی بے وقعت چیز جو کسی کی توجہ کی سزاوار نہ بنے۔ یہ بات بھی سامنے رہنا چاہئے کہ عربی میں حقیر اصلا چھوٹے اور معمولی کے ہم معنی ہوتا ہے، جبکہ اردو میں آکر وہ ذلیل سے قریب ہو گیا ہے۔ اسی لئے عربی کی تفسیروں میں جہاں مھین کا مفہوم حقیر سے بیان کیا گیا ہے تو وہاں معمولی اور بے قیمت کا مفہوم ہے، وہ آیتیں جن میں مھین کا لفظ آیا ہے حسب ذیل ہیں:

(۱) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہُ مِن سُلَالَۃٍ مِّن مَّاء مَّہِیْنٍ۔ (السجدۃ : ۸)

پھر اْس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے (سید مودودی)
پھر اس کی نسل ایک بے وقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی (محمد جوناگڑھی)

(۲) أَلَمْ نَخْلُقکُّم مِّن مَّاء مَّہِیْن۔  (المرسلات : ۲۰)

کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا (محمد جوناگڑھی)
کیا ہم نے تمہیں ایک بے قدر پانی سے پیدا نہ فرمایا (احمد رضاخان)
کیا ہم نے تمہیں ایک ذلیل پانی سے نہیں پیدا کیا (احمد علی)
مذکورہ دونوں آیتوں میں اس پانی کا ذکر ہے جس سے انسان کی تخلیق کی گئی ہے، ظاہر ہے یہاں اس پانی کی تذلیل و تحقیر مقصود نہیں ہے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ وہ معمولی اور بے قیمت ہے۔ انسان جسے اللہ نے تکریم سے نوازا ہے، اور اس کی بہترین تخلیق کی ہے، اس کی تخلیق کا مادہ ذلیل وحقیر کیسے ہوسکتا ہے۔

(۳) أَمْ أَنَا خَیْْرٌ مِّنْ ہَذَا الَّذِیْ ہُوَ مَہِیْنٌ وَلَا یَکَادُ یُبِیْن۔ (الزخرف : ۵۲)

یا میں بہتر ہوں اس سے کہ ذلیل ہے اور بات صاف کرتا معلوم نہیں ہوتا (احمد رضا خان)
بلکہ میں بہتر ہوں بہ نسبت اس کے جو بے توقیر ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا (محمد جونا گڑھی)
یہاں بھی فرعون کو یہ بتانا ہے کہ موسیٰ ایک عام سے آدمی ہیں، جن کے پاس کچھ نہیں ہے۔ ذلیل کا محل یہاں بھی نہیں ہے۔

(۴) وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْن۔ (القلم : ۱۰)

ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے (سید مودودی)
اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے (فتح محمد جالندھری)
اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیل (احمد رضا خان)
مذکورہ آیت میں بھی اس شخص کے بے وقعت ہونے کا ذکر ہے، جسے اپنی بات کی تصدیق کے لئے بار بار قسمیں کھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔

(۲۰) نکرہ کی معنویت کا اظہار:

ایک لفظ کے معرفہ والے پہلو اور اس کے بالمقابل ایک دوسرے لفظ کے نکرہ والے پہلو کو اجاگر کرنا بھی مترجم کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کیونکہ معانی کے کچھ گوہر آبدار اس پہلو میں بھی نہاں ہوتے ہیں۔ذیل کی مثال سے یہ بات واضح ہوتی ہے:

إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً۔ (الم نشرح :۶)

اس کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے:
ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ (امین احسن اصلاحی) 
تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے(سید مودودی)
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے آیت کا ترجمہ اس طرح بتایا: ہر دشواری کے ساتھ کوئی نہ کوئی آسانی ہے۔ اس طرح العسر  معرفہ کے ساتھ یسر کو نکرہ ذکر کرنے کی معنویت نمایاں ہوجاتی ہے، العسر  کو معرفہ ذکر کرکے تمام دشواریوں کا احاطہ کیا تو یسر کو نکرہ ذکر کرکے دشواریوں سے نکلنے کے لامتناہی امکانات کی طرف اشارہ کردیا۔

(۲۱) باء بمعنی عن:

قرآن مجید میں قیامت کے موقع پر آسمان کے پھٹ پڑنے کا ذکر کیا گیا ہے، اس کے لیے انفطار  کا نیز انشقاق  اور تشقق  کافعل استعمال کیا گیا ہے۔ انفطار  اور انشقاق  دونوں کا مطلب پھٹ جانا ہے۔ اور اگر کسی چیز کے پھٹ جانے کے بعد اس کے اندر سے کوئی چیز ظاہر ہو تو اس پر عن لگاتے ہیں۔ جیسے زمین سے کونپل نکلتی ہے تو اس کے لیے کہتے ہیں: انفطرت الارض عن النبات اور انشقت الارض عن النبات، یعنی زمین نے پھٹ کر پودے کو ظاہر کردیا۔ قرآن مجید میں فعل تشقق کا عن کے ساتھ استعمال اسی مفہوم کو بیان کرتا ہے، قرآن کی ایک آیت ہے:

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْہُمْ سِرَاعاً ذَلِکَ حَشْرٌ عَلَیْْنَا یَسِیْرٌ۔ (ق : 44) 

اس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ جھٹ پٹ نکل کھڑے ہوں گے۔(فتح محمد جالندھری)
عن سے جو مذکورہ مفہوم ادا ہوتا ہے اسے کبھی باء کے ذریعہ بھی ادا کیا جاتا ہے۔ جیسے انفطرت الارض بالنبات اور انشقت الارض بالنبات۔ البتہ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے مطابق دونوں میں یہ فرق ہے کہ جس پر عن داخل ہو اس میں صرف نمودار ہونے کا مفہوم ہوتا ہے، جبکہ باء کے استعمال سے اس کے نکل کر باہر آجانے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ لیکن لوگوں کا ذہن ایسے موقع پر عن والے مفہوم کے بجائے باء برائے سببیت کی طرف چلا جاتا ہے، یا کسی اور طرف۔
مثال (۱) 

فَکَیْْفَ تَتَّقُونَ إِن کَفَرْتُمْ یَوْماً یَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْباً۔ السَّمَاء مُنفَطِرٌ بِہِ کَانَ وَعْدُہُ مَفْعُولاً۔ (المزمل:17 ۔ 18)

اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تو اْس دن کیسے بچ جاؤ گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا ، اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جا رہا ہوگا؟ اللہ کا وعدہ تو پورا ہو کر ہی رہنا ہے۔ (سید مودودی)
آسمان اس کے صدمے سے پھٹ جائے گا۔ (احمد رضا خان)
آسمان اس کے بوجھ سے پھٹا پڑ رہا ہے۔ (امین احسن اصلاحی)
(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔(فتح محمدجالندھری)
آسمان پھٹ جائے گا اس دن میں۔ (محمود حسن)
مولانا امانت اللہ اصلاحی نے آیت کا ترجمہ اس طرح کیا: آسمان پھٹ کر اس کو ظاہر کرنے والا ہے۔ مطلب واضح ہے کہ آسمان پھٹے گا اور اس میں سے قیامت کے مناظر ظاہر ہوجائیں گے، جس طرح زمین میں شگاف ہوتا ہے اور پودا اس میں سے ظاہر ہوجاتا ہے۔ اس مفہوم کو سمجھنے میں ذیل کی آیت بھی مدد کرتی ہے۔

یَسْأَلُونَکَ عَنِ السَّاعَۃِ أَیَّانَ مُرْسَاہَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُہَا عِندَ رَبِّیْ لاَ یُجَلِّیْہَا لِوَقْتِہَا إِلاَّ ہُوَ ثَقُلَتْ فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ لاَ تَأْتِیْکُمْ إِلاَّ بَغْتَۃ۔ (الاعراف:187) 

وہ تم سے قیامت کے باب میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ کہہ دو کہ اس کا علم تو بس میرے رب ہی کے پاس ہے وہی اس کے وقت پر اس کو ظاہر کرے گا۔ آسمان وزمین اس سے بوجھل ہیں، وہ تم پر بس اچانک ہی آدھمکے گی۔( امین احسن اصلاحی)
مثال (۲)

وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ۔ (الفرقان : 25)

اس آیت میں بھی باء عن کے معنی میں ہے، مگر مترجمین نے مختلف دوسری توجیہات اختیار کی ہیں:
اور جس دن کہ آسمان ایک بدلی کے ساتھ پھٹے گا۔ (امین احسن اصلاحی ، یہاں باء برائے ملابست کے لحاظ سے ترجمہ کیا گیا ہے۔)
اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان بادلوں سے۔ (احمد رضا خان، یہاں باء برائے سببیت کے لحاظ سے ترجمہ کیا گیا ہے۔)
اور اس دن آسمان پھٹ کر بادل (کی طرح دھوئیں) میں بدل جائے گا۔ (طاہر القادری، غور طلب ہے، نہ جانے کس قاعدہ کی رو سے کیا گیا۔) 
اور جس دن آسمان بادل سمیت پھٹ جائے گا۔ (محمدجوناگڑھی، یہاں بھی باء برائے ملابست کے لحاظ سے ترجمہ کیا گیا ہے، جسے بعض مفسرین نے اختیار کیا ہے، لیکن مترجم کے برعکس ان کے پیش نظر یہ تھا کہ اس وقت ایک خاص بادل کی موجودگی میں آسمان پھٹے گا، نہ یہ کہ آسمان کے ساتھ ساتھ بادل بھی پھٹ جائے گا، جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔)
اس آیت میں باء کو عن کے معنی میں لیں گے تو ترجمہ یہ ہوگا کہ ’’اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں سے ایک بادل نمودار ہوگا‘‘، سید مودودی کا ترجمہ اسی تاویل کے مطابق ہے: 
آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل اس روز نمودار ہو گا۔ 
اسی طرح اشرف علی تھانوی کا بھی : اور جس روز آسمان ایک بدلی پر سے پھٹ جائے گا۔ 
اس مفہوم کو سمجھنے کے لئے ذیل کی آیت سے مدد لی جاسکتی ہے:

ہَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ أَن یَأْتِیَہُمُ اللّہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآئِکَۃ۔ (البقرۃ:210)

کیا لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ ابر کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی۔(محمد جونا گڑھی)
زمخشری کے الفاظ میں: 

والمعنی: أن السماء تنفتح بغمام یخرج منہا، وفی الغمام الملائکۃ ینزلون وفی أیدیہم صحائف أعمال العباد۔۔۔ وفی معناہ قولہ تعالی ہَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ أَن یَأْتِیَہُمُ اللّہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآئِکَۃ۔ (تفسیرالکشاف: 3 / 275)

(جاری)

تہذیب مغرب: فلسفہ و نتائج (۱)

محمد انور عباسی

تمہید:

انسان کا مطالعہ اہم سہی لیکن مغرب کے انسان کا مطالعہ اس لحاظ سے زیادہ اہم ہے کہ چند صدیاں قبل کا مغربی انسان آج کے اس انسان سے یکسر مختلف ہے۔ اس کے فلسفہِ حیات نے اسے ایسا فرد Human being) ) بنا کر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس کی پیروی کی خواہش آج کل دنیا کے اکثر انسانوں کے دلوں میں خواب بن کر تڑپ رہی ہے، یہ سمجھے بغیر کہ مغرب کا انسان کس طرح سے آزاد ہے، اس کی زندگی کا فلسفہ کیا ہے اور اس کے نتائج کیا ہیں؟ لبرل ازم نے اس کے رویّوں میں کیا تبدیلی پیدا کردی ہے اور اس کی سمت کیا ہے؟ 
ہم مسلمانوں کے لیے یہ مطالعہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہمارے پاس اپنا ایک فلسفہ ہے ۔ اس کے باوجود اب ایک فیشن سا ہو چلا ہے کہ ہر چمکتی ہوئی چیز کو سونا سمجھ کر ہم اس کی طرف لپک کر پکڑنابہت بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ سترھویں صدی کی تحریکِ تنویر یعنی روشن خیالی کی تحریک کے بعدمغربی انسان نے کیا حاصل کیا اور کیا گنوا بیٹھا، اس کی آگاہی ہمارے لیے بہت ضروری ہے تا کہ ایک باشعور شخص سوچ سمجھ کر اپنے لیے جو راستہ اختیار کرنا چاہے وہ چن لے۔
انسانی زندگی کا کوئی بھی پہلو ہو اس کا تعلق انسان کے فلسفہِ حیات سے لازماًجڑتا ہے چاہے اسے اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔ انسان کا تصورِکائنات کیا ہے؟ اس کی اپنی حیثیت کیا ہے؟ وہ کہاں سے آیا ہے ، کیوں آیا ہے اور کہاں جا رہا ہے؟ ان ہی سوالات کے جوابات نے انسان کی عملی زندگی کی تشکیل کی ہے۔ بالعموم اس کا تجزیہ نہیں کیا جاتا۔ عام آدمی سے پوچھیں تو شاید وہ ان میں سے کسی ایک کا بھی جواب نہ دے سکے لیکن اس کے شب و روز کا اگر مطالعہ کیا جائے تو اس کے ہر فعل، ہر رویّے،ہر سوچ و فکر کے پیچھے ان ہی سوالات کی عملی صورت نظر آئے گی۔
سترھویں صدی سے قبل کی مغربی دنیا پر چرچ کا اقتدارتھا۔ مسیحی مذہب جیسا تیسا بھی تھا، خاصا توانا و طاقتور تھا۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مذہب کی یہ مسخ شدہ صورت انتہائی جمود و تعطل کا سبب بھی تھی اور نتیجہ بھی۔یہ دنیا ایک مکروہ چہرہ لیے ہوئی تھی۔ راہبوں کے مسکن بدمعاشی اور عیاشی کے اڈے بن گئے تھے۔ انتہائی نا معقول عقائد کلچر کا رنگ دھار چکے تھے۔ جنت کے ٹکٹ اور مغفرت کے سر ٹیفکیٹ جاری کرنا مذہبی قیادت کے اختیار میں تھا۔کھلی چھٹی تھی کہ معاشرے کے صاحبِ اختیار اور کھاتے پیتے لوگ ہر قسم کی کرپشن، لوٹ مار اور بدمعاشی کر کے مذہبی قیادت سے لین دین کر کے پاک صاف بن سکیں۔ ان حالات میں ایک بغاوت کا رونما ہونا ایک فطری امر تھا، اور یہ بغاوت روشن خیالی (Enlightenment)کی تحریک کی صورت میں سامنے آ گئی۔ فلاسفر، سائنسدان، عمرانی علوم کے ماہر سب ہی میدان میں آ گئے۔
اس تحریک کے علمبرداروں نے لبرل ازم اور ماڈرن ازم کی بنیاد رکھی۔ دعویٰ کیا گیا کہ حقیقت وہی ہو سکتی ہے جس کا مشاہدہ کیا جاسکے۔ ان دلائل کے بل بوتے پر مذہب کے مقابلے میں ایک اورجدید مذہب سامنے لایا گیاجسے ہم ہیومنزم (Humanism)کے نام سے جانتے ہیں۔ اب مافوق الفطرت عقائدکی کوئی حیثیت رہی نہ ضرورت۔ مادّہ ہی اس کائنات کی سب سے اعلیٰ و ارفع حقیقت قرار پائی۔جان لاک سے روسو تک، آدم سمتھ سے مارشل، فرائیڈمین، کینز اور کارل مارکس تک، سر فرانسس بیکن سے آئین سٹائین اور ڈارون سے آج تک کے تمام فلاسفہ، سائنسدان اور علومِ عمرانی کے ماہرین و مفکرین نے کچھ اتفاق سا کر لیا ہے کہ فلسفہِ مادّیت سے جان چھڑانا کچھ آسان کام نہیں، اگرچہ اب مغرب سے ہی ان کے دانشور اب کچھ اور ہی کہانیاں بیان کر رہے ہیں۔

دلیل کا دور (Age of Reason):

سترھویں صدی میں یورپ میں روشن خیالی (Enlightenment)کی تحریک کے عہد کو دلیل کا دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں قدامت پسند تصورات پر جنہیں کلیسا کی سرپرستی حاصل تھی سوالات اٹھائے گئے۔ سولھویں صدی کے ابتدائی نصف عشرے میں پروٹسٹنٹ تحریک کے آغاز اور اس کے بعد ہونے والی مذہبی جنگوں کے نتیجے میں ۱۶۴۸ ؁ء میں معاہدہِ ویسٹ فیلیا عمل میں لایا گیا جس میں ریاست اور کلیسا کی علیحدگی پر اتفاق ہوا اور یورپ میں سیکولر نظام کی داغ بیل پڑی اور یہ مغربی تہذیب کا غالب تہذیبی و ثقافتی نظریہ بن گیا۔ (۱)
روشن خیالی کی یہ تحریک نیوٹن اور جان لاک سے لے کر والٹیر اور روسو کے نظریات پر مبنی فلسفے سے غذا حاصل کر کے پروان چڑھی۔ چنانچہ اٹھارویں صدی کو روشن خیالی کی صدی کہا گیا۔ اسے ذہنی پختگی کے دور سے بھی عبارت کیا گیا جو انسانی یقین کی صورت میں اس طور سامنے آئی کہ عقل ہی انسانیت کے لیے حق کی پہچان قرار پائی اور ّ ّّّ "عالمگیر سچائی" کی تلاش اور دریافت کا سبب بھی۔ روشن خیالی کی تحریک عقل کو مذہب کے متبادل کے طور پر مغرب میں سامنے لانے کے لیے اس لیے کامیاب ہوئی کہ اس کے سامنے لایعنی عقائد او ر عقل دشمن تصورات پر مبنی مذہب بر سرِ کارتھا۔ جدید مذہب آزادی اور مساوات کے دلکش نعروں کے ساتھ سامنے آیا۔یورپ سے باہر ہم لوگوں کی اکثریت اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ ہر انسان کو یہ حقوق حاصل تھے۔ مگر حقیقت یہ نہیں ہے ۔ 
حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔یہ حقوق صرف یورپی اقوام اور وہ بھی صرف مرد حضرات کو ہی حاصل تھے۔ اس موضوع پر لکھنے والی ایک مشہور ہستی کے الفاظ میں:
"The seeming paradox at the heart of Liberalism, which asserted equality and liberty for all yet maintained a rigorous inequality in relation to certain groups, should be understood in terms of the particular meanings given these words. Equality and liberty (from intervention by government) refer to human beings capable of reason. Only they can be granted the status of belonging to the universal human. Only they are to be regarded as autonomous persons, as individuals, and therefore able to be granted public rights and freedoms. Those who are deemed outside reason -that is, the 'uncivilised' or those closer to nature and therefore more animal-like- are not quite Human, and thus not capable of receiving these rights and freedoms." (2)
یعنی لبرل ازم جس نے آزادی اور مساوات کا نعرہ دیا، حیرت انگیز طور پر خلافِ قیاس بڑی سختی سے چند گروپوں کے لیے غیر مساوی رویّہ اپنانے پر مصر رہی۔ مساوات اور آزادی جیسی نعمت، بتایا گیاکہ، ان لوگوں کے لیے ہی ہو سکتی ہے جو استدلال کی قوت رکھتے ہوں۔ صرف وہی اس رتبے پر فائز ہو سکتے ہیں اور انسانی اور عوامی حقوق کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ غیر مہذب لوگ یا وہ لوگ جو فطرت کے زیادہ قریب ہیں (یعنی یورپی نہیں) اس لیے جانوروں جیسے ہی ہیں در اصل ہیومن ہیں ہی نہیں اس لیے وہ آزادی اور اس طرح کے دوسرے حقوق حاصل کرنے کے اہل ہی نہیں! یورپی اقوام میں بھی صرف مرد حضرات، عورتیں بھی ان حقوق سے محروم تھیں!! غالباً ان ہی وجوہ کی بنا پر پوسٹ ماڈرن مفکرین نے ماڈرن ازم اور ہیومن ازم کی تحریک یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ یہ در اصل یورپی اقوام کے کلچر کو دنیا پرحکمرانی کی تحریک ہے جس سے آزادی اور مساوات جیسی اقدارکو آڑ بنایا گیا ہے۔ 
یہ تھا جدید مذہب جو روشن خیالی(Enlightenment) کی تحریک نے لبرل ازم اور ماڈرن ازم کے خوش کن نعروں سے مزین ہو کر ہیومن ازم کے نام سے سامنے آیا۔ 

ہیومن ازم (Humanism):

مغربی تہذیب کے اصل معماریونانی فلاسفہ بالعموم ہیومن ازم کے داعی تھے۔ جدید مغرب میں جب مذہب کو رد کرنے کا عام رجحان پیدا ہوا تو اس فلسفے کو نئی زندگی ملی اور اس نعرے کو ہر دلعزیز بنایا گیا کہ ایک انسان کسی خاص مذہب،خدا یا کسی بھی ما فوق الفطری نظریات کا ترک کر کے اپنے موجودہ معاشرے کو ایک انسان کی حیثیت سے دیکھے اور دوسروں کو محض اسی حیثیت سے پرکھے اور ان سے سلوک ،تعلق یا معاملہ کرے۔ان دیکھے نظریات اور رہنمائی کے تصورات کو ایک طرف رکھ کر عالمی سچائی، اخلاقی اقدار وغیرہ کو عقل و منطق کے ذریعے دریافت کرے اور یوں مذہب کے متبادل کے طور پر عقل کے ذریعے ایک جدید قابلِ عمل اخلاقی نظام کے تحت زندگی بسر کرنے کے لیے ہیومن ازم کے نام سے نیا فلسفہ وجود میں آیا۔ 
جیک گراسبی (Jack Grassby) لکھتا ہے:
"Humanist start from the premise that there are no accessible gods, spirits or non-material 'souls'. There are no supernatural beings to instruct or inform us. There is no transcendent entity, religious or ideological, that we can turn to for comfort, validation or support".(3)
یعنی ہیومن ازم کے پیروکاروں کا بنیادی مقدمہ ہی یہ ہے کہ یہاں کوئی قابلِ رسائی خدا، روح یا غیر مادّی ہستی نہیں۔یہاں کوئی مافوق الفطرت وجود نہیں جو ہمیں ہدایت دے سکے یا کوئی اطلاع ہی بہم پہنچا سکے اور نہ کوئی ایسی بالاتر ہستی، مذہبی یا نظریاتی، پائی جاتی ہے جس سے ہم کسی قسم کی تسکین پا سکیں یا کوئی جواز یا حمایت ہی حاصل کر سکیں۔ اس کی ایک اور تعریف ہمیں ان الفاظ میں ملتی ہے: 
"Humanism is a secular alternative to religion in our quest for a good, moral life. It is a view of life which does not count upon any God, religion or life after death. (Thomas W. Clork (1993): Humanism and Post-modernism; a Reconciliation.)
یعنی ہیومن ازم ایک اچھی اور اخلاقی زندگی کی تلاش میں مذہب کی جگہ لینے والا اس کا متبادل سیکولر طرزِ زندگی ہے ۔ یہ ایک مکمل فلسفہِ حیات ہے جو کسی خدا، مذہب یا موت کے بعد کسی زندگی کا قائل ہے نہ ان پر انحصار کرتا ہے ۔اس مذہب میں ہمارے وجود کا مقصداعلیٰ اخلاقی اقدار کے تحت زندگی گزارنا نہیں بلکہ مادّی وجود کے ہیجان انگیز احساسات کی بھوک مٹانا ہے۔ ایک اور مفکر Dean Koontz کے مطابق
"The sole purpose of existence is to open oneself to sensation and to satisfy all appetites as they arise. No values can be attached to pure sensation.... No consideration of good or bad, right or wrong with no fear but only our fortitude." (Intensity: Pp. 142, 317)
ہمارے وجود کا واحد مقصد اس کے ہیجان انگیز احساسات اور بھوک کی تسکین ہے۔ اس سعی میں کسی اخلاقی قدر کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی نہ کسی نیک و بد یا صحیح یا غلط کا خیال کیا جائے گا۔
اس نئے مذہب نے جس عملی نظام کی بنیاد رکھی اس کو جدیدیت (Modernism) کے نام سے موسوم کیا گیا۔

جدیدیت (Modernism):

جدیدیت کی مختصر تعریف بل کراؤزاس طرح کرتا ہے:
"Modernism is synonymous with the humanist philosophy of the Enlightenment which began in the 17th Century, and ended with the fall of communism. In its very basic summation it was a movement that was optimistic about discovering universal truth that would explain all of life." (4)
یعنی جدیدیت روشن خیالی تحریک کے ہیومن ازم کے فلسفے کے ہم معنی ہے جو سترھویں صدی میں شروع ہوئی اور کمیون ازم کے زوال کے ساتھ ہی اختتام کو پہنچی۔اپنے بنیادی فلسفے کے اعتبار سے مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی تحریک تھی جو زندگی کے ہر پہلو کی وضاحت اور عالمگیر سچائی کی دریافت کے لیے پر امید تھی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جدیدیت لبرل ازم کا عملی پرتو تھی جس کا مقصد ماضی سے نجات، حالات سے مفاہمت، نئے پن کا جنون اور مذہب کا خاتمہ تھا۔ جدید انسان ہی اصل لبرل کہلانے کا مستحق بنا۔ 
معروف محقق و دانشور مرزا محمد الیاس لکھتے ہیں:
’’جدیدیت کی اس تحریک کا سب سے پہلا شکار چرچ تھا۔ اس تحریک نے انسان کے اعتقادی رویوں کو مسترد کر دیا ۔ خدا کی نفی کردی اور اچھائی و برائی، نیکی و بدی کی جنگ کو مضحکہ خیز قرار دے دیا۔ چرچ کے علم سے فاصلوں نے اس تحریک کو زیادہ اہمیت دی۔ زمین کا سورج کے گرد گھومنا چرچ کو منظور نہ تھا لیکن جدیدیت نے اسے سچ ثابت کر دیا۔ یہ کام اس کی فکری ماں سائنس نے کیا۔ استدلال کی بنیاد سائنسی تجربہ تھا۔ سائنسی تجربے کی بات قبول نہ کرنے والے کو جدیدیت کا دشمن قرار دیا گیا۔ اس تحریک کے راہنماؤں کا موقف تھا کہ ہر بات اور ہر رویہ، ہر مظہر اور واقعہ سائنس کے دیے استدلال سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ روایت، رواج، تاریخ، فنِ لطیفہ ہر کچھ اور سب کچھ استدلال کا محتاج ہے۔ استدلال ان کو ثابت کر دے تو درست، اگر استدلال ان کو غلط کہہ دے تو یہ غلط ہوں گے۔ جدیدیت کا سب سے بڑا نعرہ یہ تھا کہ وہ ایک بہتر اور اچھا معاشرہ بنا سکتی ہے۔ یہ معاشرہ کس طرح سے بنے گا؟ اس کی بنیاد ۱۸ویں صدی کی روشن خیالی تھی۔ اس روشن خیال ذہن کو ہی اس قابل سمجھا گیا کہ وہ سچائی کو پا سکے۔‘‘ (۵)
اسی طرح ایک مغربی دانشور نے لکھا کہ:
"Modernism denies any spiritual nature of mankind. Man has set himself and his material desires above all else, including God."
یعنی جدیدیت انسان کے روحانی وجود کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ جدید انسان نے اپنے آپ اور اپنی مادّی خواہشات کو خدا سمیت ہر شے سے بالاتر سمجھ لیا ہے۔ اس دور کے مروجّہ مذہب عیسائیت اور جدیدیت با قاعدہ ٹھن گئی۔ اس کی تفصیل کرتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ برطانوی مورّخ کیرن آرمسٹرانگ اپنی کتاب Battle for God میں لکھتی ہیں:
’’ ڈارون کی کتاب Origin کی اشاعت مذہب اور سائنس کے درمیان ایک ابتدائی نوعیت کی جھڑپ کا سبب بنی، تاہم پہلے حملے مذہبی لوگوں نے نہیں بلکہ زیادہ جارحیت پسند سیکولر لوگوں نے کئے تھے۔ انگلینڈ میں تھامس ہکسلے (۱۸۲۵۔۱۸۹۵) اور بقیہ یورپ میں کارل ووگٹ (۱۸۱۷۔۱۹۱۹) اور ارنسٹ ہیکل (۱۸۳۴۔۱۹۱۹) نے دوسرے شہروں میں جا جا کر اور بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کر کر کے ڈارون کے نظریے کو مقبول کیا، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ سائنس اور مذہب کو تو ایک دوسرے سے الگ کیا ہی نہیں جا سکتا ۔ درحقیقت وہ مذہب کے خلاف ایک صلیبی جنگ (crusade) کی تبلیغ کر رہے تھے۔
ہکسلے کو واضح طور پر اس امر کا احساس تھا کہ وہ ایک جنگ میں شریک ہے۔ اس نے زور دے کر کہا کہ عقل کو سچ کی واحد کسوٹی ہونے کے مسئلے پر مصالحت بالکل نہیں ہو سکتی۔ ’نامعلوم عرصے پر محیط کشمکش کے بعد کسی ایک کو مٹنا ہو گا۔‘ ہکسلے کے نزدیک سائنسی عقلیت پسندی ایک نیا سیکولر مذہب تھا۔ یہ تبدیلیِ مذہب (conversion) اور کامل وابستگی کا تقاضا کرتا ہے کہ ’عقلی معاملات میں کسی بھی فکرسے دوچار ہوئے بغیراپنی عقل کی پیروی کرو۔‘ ہکسلے کے لیے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ ہی نہیں تھا۔ صرف عقل ہی سچی تھی اور مذہب کی اساطیر سچ سے عاری تھیں۔یہ قدامت پسندانہ دور کی اساطیری پابندیوں سے آزادی کا آخری اعلامیہ تھا۔ اب عقل کسی اعلیٰ دربار کے تابع نہیں رہی تھی۔ اخلاقیات اس کو پابند نہیں کر سکتی تھی بلکہ اسے تو اس کو’کسی اور شے کی پروا کیے بغیر‘ اختتام تک جانے کی تحریک دینا تھی۔
انگلستان کے علاوہ باقی یورپ سے تعلق رکھنے والے یہ صلیبی جنگجو مذہب کے خلاف اپنی جنگ میں مزید آگے چلے گئے۔ لڈوگ بکنر(Ludwig Buchner) نے ایک بہت سخت کتاب Force and Matter لکھی جس کی (اور تو اور) خود ہکسلے نے بھی مذمت کی۔ بکنرنے کہا کہ کائنات کا کوئی مقصد نہیں ہے، دنیا کی ہر شے کا محرک محض ایک خلیہ ہوتا ہے اور محض کوئی احمق ہی خدا کو مان سکتا ہے۔‘‘ (ص: ۱۴۸۔۱۴۹)
جدیدیت اس دعوے کے ساتھ میدان میں اتری تھی کہ استدلال سے دریافت کردہ صداقتوں سے انسان کی زندگی بہتر ہوگی۔ اس کو ہر طرح کی غلامی سے نجات مل جائے گی جس میں سب سے بڑی مذہب کی غلامی ہے جو انسانوں کے دل و دماغ کو اپنے شکنجے میں کس لیتی ہے۔ مرزا محمد الیاس’ جدیدیت کا مقصد‘ کے عنوان کے تحت رقمطراز ہیں: 
’’جدیدیت کا سب سے بڑا نعرہ یہ تھا کہ وہ ایک بہتر اور اچھا معاشرہ بنا سکتی ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے علم اور استدلال کی ضرورت سمجھی گئی۔ یہ ایک سائنسی عمل جس سے مزید علم حاصل ہوتا تھا، استدلال کی قوت سے بدعنوان مذہبی اور سیاسی تصورات سے نجات مل سکتی ہے او ر تعلیم سے سچائی مل سکتی ہے۔ کہاگیا کہ تعلیم ہمارے ذہن کو روشن کرتی اور اچھا آدمی بناتی ہے۔ تعلیم یافتہ اور روشن خیال لوگ نئے معاشرے کی بنیادیں استوار کرتے ہیں‘‘ (ہفت روزہ آئین ، اشاعت خاص، سوئم، ص:۲۸)
یہ اچھا معاشرہ کس طرح وجود میں آیا اور جدیدیت نے کس طرح اس کی تشکیل میں حصہ لیا، ہم ان دو نمایاں اور ممتاز میدانوں میں اس کا جائزہ لیں گے جس میں جدیدیت نے خصوصی توجہ دی جو اس کے عقائد کا لازمی نتیجہ تھے ۔ یہ دو میدان سیاسی اور جنسی تھے۔ سیاسی میدان میں سیکولرزم اور جنسی میدان میں نسوانیت کی تحریک(Feminism) تھی۔ مغربی تہذیب کی تعمیر و تشکیل میں ان کا جو نتیجہ سامنے آیا یا آرہا ہے اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

سیکولرزم (Secularism):

روشن خیالی کی تحریک کے زیرِ اثر ہیومن ازم کے عملی نظامِ جدیدیت نے جب فرد کی مکمل آزادی اور عقلیت پسندی کا اعلان کیا تو اس کے سامنے اپنے معاشرے میں ایک ہی مذہب عیسائیت بر سرِ اقتدار تھا۔ اس مذہب میں بد عنوانی تو خیر آ ہی چکی تھی مگر اس کی تعلیمات (چرچ کو اس کا حصہ دو اور قیصر کو اس کا حصہ) میں عملاًسیکولرنظام کی بنیادیں پائی جاتی تھیں۔
سیکولرزم کی تعریف و تفہیم میں خاصا تنوع یا کنفیوژن پایا جاتا ہے۔ اس میں مذہب کی تکریم سے لے کر مذہب کی توہین تک کے سبھی قسم کے نظریات مل جاتے ہیں۔ اگر معاملے کو انتہائی سادہ لیں تو بعض دانشور ہمیں یہ تک بتا سکتے ہیں کہ مذہب کی اپنی بھلائی اور اس کی تکریم کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے ریاستی امور کی ’’گندگی‘‘ سے بچا کر الگ رکھا جائے، سنبھال کرکسی اونچی جگہ بڑی عزت کے ساتھ رکھ کراسے انسان کی پرائیویٹ اور ذاتی زندگی تک محدود رکھا جائے۔ وہ جس طرح کے چاہے عقائد بنائے، بگاڑے، اسے اس کی مکمل آزادی ہولیکن ریاستی امور میں اسے کسی قسم کی مداخلت کی ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے نزدیک یہ تصور لا دینیت نہیں بلکہ مذہب کا حقیقی مقصدہی یہی ہے اور بہترین ’’مذہبی‘‘ رویّہ ہے۔ بعض کا اس سے بڑھ کر دعویٰ یہ ہے کہ مذہب کو ریاستی امور سے دور رکھ کر ہی مغرب نے موجودہ ترقی کی ہے لہٰذا یہی نسخہ تمام اقوام و ملل کے لیے یکساں مفید ہے۔
بعض مغربی دانشور یہ یقین دلاتے ہیں کہ سیکولرزم مذہب کے خلاف ہرگز نہیں۔ Graeme Smith نے اپنی کتاب A short History of Secularism میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ کے سیکولر نظام میں لوگ زبردست ’’مذہبی‘‘ ہیں۔ مصنف ۲۰۰۱ ؁ء کے حکومتی سروے کو سامنے لا کر ارشاد فرماتے ہیں کہ شمال مشرقی و مغربی انگلینڈ میں ۸۰ فیصد لوگوں نے اپنے عیسائی ہونے کا اعلان کیا ہے اور صرف پانچ فیصد افراد غیر مذہبی پائے گئے ۔(ص: ۱۔۲) مصنف کے نزدیک سیکولرزم کا لازمی مطلب عیسائیت کا خاتمہ نہیں ۔ غالباً اس کی وجہ عیسائیت کے بارے میں ان کا اپنا حقیقت پسنداہ یہ تجزیہ رہا ہو کہ:
"Christian identity is fluid because it changes whenever it enters a new context. Christian's history demonstrates this point repeatedly." (p.10)
یعنی عیسائیت کی شناخت سیّال اور تغیّر پذیر واقع ہوئی ہے کیونکہ جب بھی اسے نئے حالات سے سابقہ پڑا اس نے اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیا۔ عیسائیت کی پوری تاریخ نے متعدد بار اس بات کی شہادت دی ہے۔ 
جب مغربی معاشرے میں ان کے مروّجہ مذہب کی صحیح شناخت ہی یہی ہوتو سیکولرزم کو اس سے یا اس کو سیکولرزم سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں تو بلا شبہ ایک فردسیکولر ہونے کے ساتھ ساتھ ’’زبردست مذہبی‘‘ بھی ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ذہنی ساخت (Mindset) کے حامل افراد سیکولرزم کو مذہب کے خلاف نہیں سمجھتے اور بسا اوقات یہ دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ سیکولرزم کا مطلب لا دینیت قطعاً نہیں ہے۔ مسلم معاشرے کے سیکولر دانشور بالخصوص اسی طرح کے خیالات رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس نظام میں افراد کو اس کی مکمل آزادی ہوتی ہے کہ اپنے اپنے مذہب پر عمل کرتے رہیں۔ لہٰذا اس صورتِ حال میں اسے مذہب دشمن یا لادینیت نہیں کہا جا سکتا۔سیکولر ’’مسلمانوں‘‘ کے خیالات کو ایک طرف رکھتے ہوئے جب ہم اصل اور بنیادی مآخذ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں ایک دوسری ہی حقیقت ملتی ہے۔ بریان ٹرنر (Bryan S. Turner) کے الفاظ میں ’’ سیکولرائزیشن نفسِ انسانی کے متعلق اُن نہایت ہی روایتی تصورات کا ترکیبی جزو ہے، جو نفس کو اس کے بے ساختہ جوابی عمل سے پہچانتے ہیں ،جس کی وجہ سے انفرادیت پسندی اور ذاتی رویّوں نے ایک واضح سماجی رجحان اختیار کر لیا ہے جن کا محور مذہبی فکر سے نفرت اور اس سے مکمل آزادی ہے۔‘‘ (۶)
جی ہاں! مذہبی فکر سے نفرت اوراس سے مکمل آزادی۔ ابتدائی مرحلے میں ریاستی امور سے بے دخلی کے بعد مذہب کس حیثیت میں کتنے عرصے تک یہ ’’آزادی‘‘ برقرار رکھ سکے گا، یہ سمجھنا شاید اب کچھ مشکل نہیں ہونا چاہیے۔جس خدا کی حاکمیت اجتماعی معاملات میں ناقابلِ قبول ہو اس کی حاکمیت انفرادی میں معاملات کیوں کر قبول کی جا سکتی ہے۔ انسان چونکہ ناقابلِ تقسیم وحدت ہے اس لیے یہ متضاد رویّہ زیادہ عرصے تک معقول انسان نہیں سنبھال سکتا۔ انسان مختلف اور متضاد خانوں میں اپنے آپ کو نہیں بانٹ سکتا، وہ ایک کُل ہے۔ وہ اگر ایک سیکولر ہے تو اس کے مطابق ہی اپنی زندگی ڈھالے گا۔ اس کے لیے ضروری ہو گا کہ مذہبی عقائداور نظریات سے جان چھڑائے کیونکہ بقول طارق جان ’’مذہب کو زندہ رہنے کے لیے لازم ہے کہ وہ پہاڑوں اور غاروں سے اترے اور زندگی کے بہاؤ میں آئے۔ سیکولرزم کو زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ مذہب پہاڑوں پر اور مزاروں اور خانقاہوں میں ہی رہے، تا کہ وہ اپنی من مانی کرتے ہوئے انسانی آورشوں کو ان کے اخلاقی اور روحانی متن سے محروم کر دے۔‘‘ (۷)
وکی پیڈیا کے مضمون نگار کے مطابق سیکولرزم حکومتی اداروں اور نمائندوں کا مذہبی اداروں سے مکمل علیحدگی کا نام ہے۔ اس میں مذہبی احکامات و تعلیمات سے آزاد ہونے کے حق پر زور دیا جاتا ہے۔ جدیدیت کے ابتدائی ایام میں جب ہولی اوک (George Jacob Holyoak) نے برطانیہ میں اس نظریے کی بنیاد رکھی تو اس نے اپنا ہاتھ ذرا نرم رکھا۔ اس نے مذہبی عقائد کو چھیڑے اور تنقید کئے بغیر سیکولرزم پیش کیا۔ اس نے کہا کہ یہ عیسائیت کے خلاف نہیں بلکہ الگ سے ایک آزاد فکر ہے۔ اس کو اس بات کا احساس تھا کہ اس نظریے میں بنیادی طور پر مذہب مخالف رجحان پایا جاتا تھا تب ہی تو اس کو وضاحت کی ضرورت محسوس ہوئی۔لیکن جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ سیکولرزم کی اپنی بقا کے لیے یہ ضروری تھا کہ مذہب کی جگہ لے لے اور عین منطقی نتیجے کے طور پر ایک وقت آیا جب یہ مذہب کے خلاف نفرت کا اعلان کرنے لگا، حتی کہ ۱۹۶۱ ؁ء میں Gabriel Vahanian نے ایک کتاب شائع کی جس کا عنوان تھا God is Dead، جس میں کہا گیا کہ جدید سیکولر کلچر میں خدا کی راہنمائی کا تصور ہی غائب اور عملاً ہماری زندگی سے مذہبی اخلاقیات خارج ہو چکی ہیں۔ ایسے غیر متعلق وجود کو اگر مُردہ نہ سمجھیں تو کیا کہیں۔ ایسی مافوق الافطر ت ہستی جوہماری زندگی کے معاملات کے لیے نہ تو کوئی راہنمائی دے سکے بلکہ جس کے وجود کو ہم سائنسی انداز میں سمجھ ہی نہ سکیں وہ اگر عملاً لاتعلق ہی ہے تو اس کی زندگی بہرحال ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
ان ہی ایام میں امریکہ میںDeath of God Movement خداکی موت کی تحریک نمودار ہوئی۔ وان بیوران (Paul Van Buranاور ہیملٹن(William Hamilton) نے ’’تحقیق‘‘ پیش کی کہ ایک ماورائی وجود (Transcendence) کے لیے جدید فکر میں کوئی بامعنی جگہ نہیں مل سکتی ۔J.J. Atlizer، جو خدا کی موت کی تحریک کا ایک بڑا موید تھا، نے دعویٰ کیاکہ مذہب ایک قسم کی شاعری ہے جسے خدا کے وجود کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ جدیدیت کے عہد میں سیکولرزم کے زمانہِ طفولیت یں کچھ نہ کچھ پردہ تھا، جومابعد جدیدیت (Post Modernism)میں سیکولرزم کا نظریہ بلوغت کی منزلیں طے کر کے ایک تناور درخت بن کر نمودار ہو چکاتھا۔ ڈیونڈ رینڈ (David Rand)جو کینیڈا کی Quebec Secular Movement کے رکن ہیں، اپنے ایک مضمونDoes Secularism imply Religious neutrality? میں لکھتے ہیں کہ لوگوں نے مذہب کے معاملے میں سیکولرزم کی غیر جانبداری کا غلط مفہوم سمجھ رکھا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ:
"However, the Secular State must not remain neutral in the operation of its institutions. Indeed, it must reject any and all supernatural or pseudo scientific hypothesis, as well as all religious dogmas."
یعنی ایک سیکولر ریاست کو اداروں کے معاملات میں غیر جانبدار نہیں ہونا چاہیے۔ یقیناًاسے تمام مافوق الفطرت یا مصنوعی سائنسی مفروضوں اور تمام مذہبی اصول و قوانین کو رد کر دینا چاہیے۔ ایساکیوں کرنا ضروری ہے؟ اس کی دو وجوہات بتاتے ہیں۔ اولاً یہ کہ:
"Without that orientation, how could one justify the exclusion of religious principles from the operations of the state."
یعنی اس واضح سمت کو اپنائے بغیر مذہبی اصولوں کو ریاستی معاملات سے کیسے خارج کیا جاسکتا ہے؟ دوسرے الفاظ میں یہ پہلے سے طے کر لیا گیا ہے کہ مذہب کو بہرحال باہر رکھنا ہی ہے تواس کے لیے جواز یا فلسفہ پیدا کردینا کون سا مشکل کام ہے۔ دوسری وجہ کہ ریاست کو مذہب مخالف کیوں ہونا چاہیے، یہ صاحب ہمیں بتاتے ہیں کہ:
"Without its anti-religious aspect Secularism would inevitably be truncated and weekend." (8)
یعنی اگرریاست مذہب مخالف رویّہ نہ اپنائے گی تو سیکولرزم لازمی طور پر کمزور ہو کر ختم ہو جائے گا۔ جدیدیت میں اگر انسان لبرل کہلوانے کے شوق میں عقل کو مذہب کے خلاف استعمال کر کے کوئی معقول فلسفہ سامنے لاتا تو ایک بات بھی تھی۔ لیکن یہا ں تو یہ ہو رہا ہے کہ مذہب کو ریاست بدری کے احکامات اس لیے نہیں جاری کرنا پڑ رہے کہ سیکولرزم کو ئی مضبوط بنیادیں رکھتا ہے بلکہ ایک کمزور فلسفے کو اس لیے ریاست کے سہارے کی ضرورت ہے ، نہ صرف محض سہارے کی ضرورت ہے بلکہ اس کی بھی ضرورت ہے کہ ریاست مذہب خلاف رویّہ اپنائے تاکہ ایک فلسفہ ناتواں ہو کر گر نہ پڑے۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو ظاہر ہے کہ اس کا مطلب سیکولرزم کو ختم کرنا ہو گا۔ 
سیکولرزم کی اس حقیقت کے باوجود بعض ’’مسلم سیکولر‘‘ حضرات کا یہ ارشاد کہ سیکولرزم لا دینیت نہیں ہے، محض ان کا مخمصہ ہی ہو سکتا ہے۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ مغربی معاشرے کے تجربے کو مسلم معاشرے میں فٹ کرنا چاہتے ہیں۔ مغرب کے سامنے اسلام نہیں، عیسائیت کا تجربہ تھا جس کایہ دعویٰ ہی نہیں تھا کہ زندگی کے مختلف شعبوں وہ راہنمائی دیتا ہے۔ وہ اگر چند انفرادی عقائد ہی تک ہی محدود ہے توایک حد تک اس کی سمجھ آسکتی ہے۔ لیکن ایسا دین (نظامِ زندگی) جو عقائد سے اوپر اٹھ کر ان کا تعلق زندگی کے دیگر شعبوں تک محیط کرنا چاہے، اپنی شناخت اور وفا کا محور ایک بر تر ہستی سے جوڑدے اور باقی سب سے بیزار کر دے وہ انفرادی سطح تک کس طرح محدود ہونا پسند کرے گا۔ ایک مذہب اگر چند مذہبی رسوم ادا کر کے ان کا تعلق انسانی معاشرتی و معاشی زندگی سے منسلک کرتا ہے نہ کوئی راہنمائی دیتا ہے، اس کا ان ہی رسوم کی ادائیگی تک محدود ہو کر انفرادی مسئلہ بن جانا فطری اور منطقی نتیجہ ہے، لیکن اگر وہ ان رسومات کو وسعت دے کر معاشرتی و معاشی زندگی تک پھیلاتا ہے تو سیکولر حضرات کو بجا طور پر حیرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ پکار اٹھتے ہیں کہ:
قَالُوا یَا شُعَیْبُ أَصلَاتُکَ تَأمُرُکَ أَنْ نَتْرُکَ مَا یَعْبُدُ آبَا ؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِی أَمْوَا لِنَا مَا نَشَاءُ اِنَّکَ لَأَنْتَ الْحَلِیمُ الرَّشِیْدُ ۔ (سورہ ہود، آیت ۸۷)
وہ اس شخص (حضرت شعیبؑ ) کو بڑی حیرت سے دیکھ کر پوچھتے ہیں کہ بھئی تم تو بڑے معقول شخص لگتے ہو، تمہاری نماز وغیرہ ہمیں زندگی کے دوسرے معاملات ، مثلاً کہ ہم معاشی زندگی کس طرح بسر کریں، میں کس طرح مداخلت کر سکتی ہے۔ سیکولر ذہن کوئی جدید ذہن نہیں، یہ ہر دور کے مادّہ پرست ذہن کا مخمصہ رہا ہے۔حضرت شعیبؑ کی قوم کو بھی یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ مذہب کے کسی عقیدے یا کسی رسم وغیرہ کا انسانی زندگی سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔وہ بھلے جس طرح کا انفرادی عقیدہ رکھے، جس طرح کی مذہبی رسومات چاہے ادا کرے، لیکن ان عقائد اور رسومات کا معاشی یا معاشرتی زندگی سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ ہزارہا سال گزرنے کے باوجود یہ مخمصہ آج بھی قائم ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ آج اس نظریے یا مخمصے کو فلسفے و منطق کی زبان کا سہارا مل گیا ہے۔ ہر دور میں اس کا مشورہ یہی رہا ہے کہ خالقِ کائنات، اگر کوئی ہے، تو اسے انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں راہنمائی کرنے ، اجتماعی معاملات میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں، لہٰذا اسے ان معاملات سے دور رکھو۔ تم کمرے کے اندر یا مسجد یا چرچ جا کر اپنے اپنے طریقوں سے مذہبی رسومات، نماز وغیرہ ادا کرنا چاہتے ہو تو بھلے یہ کام کرتے رہو، باقی اجتمائی معاملات کو چند لوگوں کی سوچ اور سمجھ پر چھوڑ دو۔
اس نامعقول رویے کے متعلق ایک برطانوی دانشور لکھتے ہیں: 
’’انسانی تفہیم کو د و چیزیں محدود کرتی ہیں، ایک تو مخصوص تربیت کی کمی یا کسی مخصوص علم سے ناواقفیت اور دوسرا کسی موضوع کو گرفت میں لانے کی عملی استعداد۔۔۔ کسی سچائی کو نہ سمجھ پانے میں ہماری قلت استعداد کا دخل بھی ہو سکتا ہے لیکن ہم یہ تسلیم نہیں کرتے اور یہ فرض کر لیتے ہیں کہ جو کچھ ہماری سمجھ سے باہر ہے، وہ بیکارِ ہے یا وجود ہی نہیں رکھتا۔ یہ رویہ قدیم اقوام کے علامتی نظریات اور دینی کتابوں دونوں کے بارے میں آج کل روارکھاجاتاہے۔‘‘(Gai Eaton: King of the Castle; p.123) 
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی اصطلاح کو اپنے ماحول اور پس منظر سے کاٹ کرالگ کرکے کسی دوسرے معاشرے، ماحول اور پس منظر میں منطبق کریں گے تو اس اصطلاح کے ساتھ انصاف کریں گے نہ اس معاشرے کے ساتھ جس میں ہم اس کا اطلاق چاہتے ہیں۔ سیکولرزم اپنے دعوے کے مطابق ایسا نظامِ زندگی ہے جس میں انسان نامی مخلوق کو زندگی بسر کرنے کے لیے کسی مافوق الفطرت ہستی، مذہب یا اخلاقیات وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ اس کی پہلی وجہ اس کے نزدیک تو یہ ہے کہ اس بات کا کوئی عقلی یا سائنسی ثبوت نہیں ہے کہ کسی بالاتر ہستی نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ یہ مادّے ہی کی ترقی یافتہ شکل ہے جو ارتقاء کی نتیجہ ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے انسان اس قابل ہے کہ وہ اپنی عقل استعمال کر کے اپنے بارے میں خیر اور شر کے پیمانے وضع کر سکتا ہے، اس کے ذریعے اپنے اجتماعی مفاد اور فائدے کے لیے بہتر فیصلے کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ اس کے نزدیک زندگی اسی دنیا تک محدودہے، کسی دوسری دنیا یا زندگی کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ۔ یہ اس زندگی کے ساتھ نا انصافی ہو گی اگر اس کو کسی دوسری دنیا میں جوابدہی کے خوف سے ڈر ڈر کر بسر کیا جائے اور کھل کر من مانی کے مواقع ضائع کر دیے جائیں۔ 
اس بحث کو سمیٹتے ہوئے ہم طارق جان کے چند سوالات قارئین کرام کے سامنے رکھ دیتے ہیں:
۱۔ سیکولرزم کو کس نے یہ حق دیا کہ وہ ایک مسلمان معاشرے میں انسانی معاملات کو اپنی جکڑ میں لے؟
۲۔ وہ کیوں خود تو ریاستی امور کو کنٹرول کرنے اور مذہب کو سیاست سے باہر رکھے، جبکہ مذہب بھی یہ دعویٰ رکھتا ہو کہ وہ انسانی مسائل کہ بہتر طریقے سے حل کر سکتا ہے؟
۳۔ عقل کا وہ کون سا پیمانہ جس سے سیکولرزم کو حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ خود تو کلیت پسند بن جائے اور خدا اور اخلاقیات کوانسانی دائرہِ کارسے بے دخل کر کے اپنے آپ کو واحد سچائی قرار دے؟ (۹) 

حوالہ جات

۱۔ ڈاکٹر مونس احمر: جنگ سنڈے میگزین، ۲۰ جنوری ۲۰۱۳ء
2- Prof. Christine C. Beakley: Modernist Emancipatory Feminism; (p. 30)
3- Jack Grassby: Post-Modern Humanism; (p. 16)
4- Bill Crouse: Post Modernism - a new paradigm.
۵۔ہفت روزہ آئین، جون ۲۰۰۵ء، (ص ۲۷ا۔۲۸)
6- Bryan S. Turner: Orientalism,Post-Modernism and Globalism,1994 (p,183)
۷۔ طارق جان: سیکولرزم؛ مباحث اور مظالطے، (ص۔۲۴)
۸۔ 
۹۔ طارق جان: (ص ۱۰۴۔۱۰۵)
(جاری)

مولانا ابو الحسن علی ندویؒ : ایک ملی مفکر (۱)

محمد طارق ایوبی

مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے 
کہ زندگی ہی عبارت ہے تیرے جینے سے
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی جس وقت اس دار فانی سے رحلت ہوئی تو یہ ایک عام تأثر پایا گیا کہ ملت اسلامیہ ایک عظیم، جرأت مند وبے باک اور دینی غیرت و ایمانی حمیت سے سرشار و مخلص اورحق گو داعی سے محروم ہوگئی ہے اور بالخصوص ہندوستان کی ملت اسلامیہ یتیم ہو کر رہ گئی ہے۔ میری ناقص نظر میں مولانا اس سلسلہ میں یکتا تھے کہ ایک طرف اخلاص کی دولت سے مالا مال، ملی تڑپ ان کے سینہ میں موجزن، علم و مطالعہ سے ان کی زندگی عبارت، سلوک و تزکیہ میں کندن بنی شخصیت،وسیع نظر اور بیش قیمت تجربات کا سرمایہ ان کے پاس تھا۔ دینی غیرت اور ایمانی حمیت آپ کا سرمایۂ افتخار تھی، خم ٹھونک کر حق کا اظہار آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ مولانا کی پوری زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا ؒ نے ہمیشہ مذہبی مفاد، دین کی بالا دستی، ملی مفاد اور حق گوئی کو اپنا شعار بنایا اور کبھی بھی اس میں کسی فرد وادارے یا شہرت و جاہ طلبی اور ادنیٰ درجہ کی مادیت پسندی یااور کوئی مصلحت حائل نہ ہوئی۔ درحقیقت مولانا کے اخلاص و استغناء میں ہی ان کی جرأت و حق گوئی کا راز مضمر ہے۔ جامعیت کے ساتھ خانقاہ و مدرسہ، ملی مسائل و عصری جامعات اور علمی و تصنیفی میدان کو اپنی دعوتی سر گرمیوں کی جولانگاہ بنایا۔ وفات کے بعد جوں جوں وقت گزرتا گیا، مذکورہ بالا شعر (جو خود مولاناؒ نے ایک جگہ ذکر کیا ہے) اپنی معنویت کا احساس دلانے لگا، کہ وہ بے لوثی، وہ اضطراب و تڑپ، وہ اخلاص اور فکرو عمل جس سے مولانا کی زندگی عبارت تھی ،ان کی زندگی اسی زندہ دلی کا سحر انگیز نتیجہ تھی، اب وہ زند دلی ہی نہیں نظر آتی تو مولاناؒ جیسا بلند کردار، ان کے جیسی جرأت گفتار، ملی مسائل پر تڑپ جانے اور تڑپادینے کا وصف اور وسیع القلبی و و سیع النظری کہاں نظر آئے۔
اب تک مفکر اسلامؒ کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور مختلف زبانوں میں لکھا گیا ہے۔ ان کے منہج تنقید پر اور ان کے ادبی نظریہ پر عربی میں ایم ، فل و پی، ایچ ،ڈی کے مقالے لکھے گئے۔ عبدالقادر چوغلے (ساؤتھ افریقہ) کی دو ضخیم کتابیں انگریزی میں شائع ہو چکی ہیں۔ اس لئے زیر نظر سطور میں قطعی نہ ہی مولانا کی مکمل سوانح پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور نہ ہی آپ کی جملہ علمی فتوحات اور کارہائے نمایاں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔۔ اس سطور میں ایک خاص داعیہ کی بنیاد پر چند کتابوں سے مولاناؒ کی تڑپ ،بے پناہ اخلاص،بے لوثی ، عملی پیش رفت ،دینی حمیت و غیرت ایمانی کے واقعات اور جرأت مندانہ اقدامات اور منہج نقد و اصلاح کو پیش کرنے کے لیے اقتباسات پیش کیے گئے ہیں جس میں صاف طور پر مولانا کی شخصیت ایک حق گو مومن ومفکر کے طور پر نظر آئے گی۔ بالخصوص مولانا کی خود نوشت سوانح ’’کاروان زندگی‘‘ سے اقتباسات پیش کیے گئے ہیں، کیونکہ اس میں مولانا کی زندگی کا خلاصہ اور ان کی مبارک مساعی کا عطر موجود ہے۔ مولانا نے خود اپنی ترجمانی کی ہے، اس لیے وہ بنیادی مصدر ہے۔ ہر اہم سفر، کتاب و خطاب کا اس میں خلاصہ ہے۔ آپ کی سیکڑوں کتابوں کے بجائے اس دور میں صرف’’ کاروان زندگی‘‘ کی ضخیم جلدوں کا مطالعہ بھی مشکل ہوتا ہے۔ اور پھر مولانا کے فکر کو سمجھنے کے لیے آپ کی عربی تحریروں تک رسائی ضروری ہے، کیونکہ آپ کی علمی جولانیوں اور دعو تی سر گرمیوں کا اصل میدان عرب اور حقیقی وسیلہ عربی ہے۔
اس دور میں جبکہ زندہ دلی مفقود ہوئی جاتی ہے، ہر تحریک اور عمل کسی مفاد سے وابستہ ہوا جاتا ہے۔ اخلاص و بے لوثی ناپید ہوئی جاتی ہے، جاہ ومنصب کی طلب اور مادیت پسندی سے کوئی خالی نظر نہیں آتا۔ حق گوئی و بیباکی اور جرأت مندانہ تنقید برائے اصلاح سے بھی اعراض کیا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں کوشش کی گئی کہ حضرت مولاناؒ کی زندگی کے ان تابناک پہلووں کو ’’کاروان زندگی‘‘ کی روشنی میں پیش کیاجائے۔ ’’کاروان زندگی‘‘ میں اجمالی طور پر مصنف ؒ کے تمام افکار و خیالات اور احساسات کا اجمالی طور پر در آنا ایک فطری بات ہے۔ حیرت کی انتہائی نہ رہی جب دوران مطالعہ خود حضرت مولانا کے قلم سے یہی بات لکھی دیکھی :
’’ اس تصنیف کا محرک یہ خیال تھا کہ اپنے فکری شعور ،ذہنی ارتقاء، تحریروتصنیف کی تاریخ،اور اپنے زمانہ کے اہم واقعات وحوادث اور دعوتوں اور تحریکوں کا ذ کر کرنے کے سلسلہ میں اپنے ان خیالات وافکار ،مشاہدات و تاثرات اور دعوت و تحریک کو (اجمالاًو اختصاراً سہی) اور اپنی تحریرو ں اور کتابو ں کے مرکزی نقطۂ خیال اور ان کے اہم اقتباسات کو پیش کرنے کا موقعہ ملے گا جو کثیر التعداد مضامین اور ان کتابوں میں بکھرے ہوئے ہیں (جن کی تعداد اب دو سو سے اوپرہو چکی ہے) اور جن پر بیک وقت ہر صاحب ذوق کی نظر پڑنی مشکل ہے۔‘‘ (کاروان زندگی ج۶ ص ۱۰)
میں نے چند کتابوں اور بالخصوص’’ کاروان زندگی‘‘ کو سامنے رکھ کر محض مولانا کے مجاہدانہ کردار، جرأت گفتار، صریح تنقیدیں، واضح مشورے، اصلاح و تغیر کے عمل میں حرکت و پیش قدمی، ملی تڑپ ، مسائل کے حل کی تلاش میں تگ و دو، اخلاص و بے لوثی، لوگوں کو برتنے کا انداز، تما م تر مفادات سے بالا ہوکر اپنی ساری زندگی کو اسلام کی خدمت میں لگا دینے اور کسی پل بھی خالی اور چین سے نہ بیٹھنے کی ایک مؤثر و متحرک اور دلکش و دلآویز تصویردکھانے کی کوشش کی ہے۔ میری نظر میں اس کوشش سے ایک طرف تو مولانا کے افکار و انداز کی اشاعت و و ضاحت ہوگی تو دوسری طرف اس عہد میں مولانا کے افکار ، ان کی کوششوں اور طریقۂ عمل کی معنویت و ضرورت اور اہمیت بھی اجاگر ہوگی اور اس کا اندازہ ہو سکے گا کہ ان حالات میں اس تڑپ ، حرکیت و جامعیت اور بے لوث خدمت کی کس قدر ضرورت ہے، ورنہ اگر مولانا ؒ کی خدمات اور علمی و عملی زندگی کا مکمل جائزہ پیش کرنا مقصد ہوتا تو محض کوئی ایک ہی پہلو ضخیم کتاب کا متقاضی ہے۔ اس کا یہ موقع بھی نہیں اور اس کی ضرورت بھی نہیں، کیو نکہ مولانا ؒ کی خدمات و حیات پر متعدد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ عالم اسلام کی ایک مؤثر شخصیت مجا ہد وقت وچراغ سحر ڈاکٹر یوسف القرضاوی حفظہ اللہ نے انتہائی محبت و احترام میں اپنے قلم کو ڈبو کر اپنی تصنیف ’’ابو الحسن الندوی کما عرفتہ‘‘ پیش کی۔ ڈاکٹر عبداللہ عباس ندویؒ نے سب سے پہلے ایک جامع کتا ب ’’میر کارواں‘‘ پیش کی، جو ان کے قلم کی روانی، اسلوب کی شگفتگی اور حقائق نویسی میں ممتاز ہونے کے ساتھ سوانحی ادب میں گراں قدر اضافہ ہے۔ مولاناؒ کے جانشین، سفر وحضر کے رفیق اور طویل رفاقتوں میں قریب سے دیکھنے والے متاع عہد آخر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحب نے بھی ’’مولانا علی میاں: عہد ساز شخصیت ‘‘ کے نام سے مولانا کی حیات پر مفصل کتاب پیش کی۔ اس کے علاوہ عربی میں نوجوان فاضل سید عبدالماجد غوری نے بھی ضخیم ومعلوماتی کتاب تیار کی۔ پرفیسر محمد اجتباء ندوی،ؒ پروفیسر محسن عثمانی ندوی، مولانا سید محمد واضح رشید ندوی کی کتابیں بھی لائق استفادہ ہیں۔ مولانا کے فکری پہلووں پر متعدد مقالات اور کتابوں میں ترکی عبدمجید السلمانی کی کتاب ’’الفکر والسلوک السیاسی عندابی الحسن الندوی‘‘ اور احمد الوشمی کی ’’منہج النقد عند أبی الحسن‘‘ لائق مطالعہ ہیں۔ مولانا کے افکار و دعوت کو سمجھنے کے لیے ان کے ہی فرد خاندان مولانا بلال عبدالحی حسنی صاحب کی کتاب ’’حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی دعوت و فکر کے اہم پہلو‘‘ کافی ضخیم ومفصل ہو نے کے ساتھ بہت مفید ہے۔ کیا ہی خوب ہو کہ اس کو عربی میں منتقل کرکے عالم عربی میں عام کیا جائے۔ یہ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے ، مولانا کے تقریبا تمام افکار اور خدمات کا احاطہ کرتی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ مولاناؒ جس جامعیت کے حا مل و داعی تھے، اس کو کسی ایک کتاب میں جمع کرنا بہر حال مشکل ہے، اور جب اس مشکل کو ممکن بنایا جاتا ہے تو کتاب ضخامت کے سبب عام قارئین کی دسترس سے باہر ہوجاتی ہے۔ یہی بنیادی سبب ہے کہ اس وقت جس چیز کا سب سے زیادہ تقاضا تھا، اس کو الگ سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔
مولاناؒ جس جامعیت کے حامل تھے اس کے سبب ان کے تصنیفی شوق کو کبھی بھی دعوت و تبلیغ کے فریضہ نے رکنے نہ دیا اور نہ ہی اس کے برعکس ہوا کہ ان کی دعوتی زندگی علمی فرائض کی ادائیگی سے متأثر ہوئی ہو، تقریری و تحریری عمل ایک ساتھ جاری تھا، علمی انہماک اور دعوتی سر گرمیوں کے ساتھ اجتماعی مسائل سے کبھی بچنے کی کوشش نہیں کی، گوشۂ عافیت کو ملی مسائل پر کبھی حاوی نہ ہونے دیا، ضرورت و بساط بھر ملک و ملت کے لئے سیاسی کوششیں بھی کیں، کہ مولانا ہی کے الفاظ میں ’’تعمیری سیاست کے ذریعہ ملت کے تحفظ میں حصہ لینا ضروری ہوتا ہے‘‘۔ مولانا کی یہی جامعیت تھی جس نے ان کو ہر دلعزیز ومثالی کردار کی حامل شخصیت بنا دیا۔
حضرت مولاناؒ ابتدا میں جماعت اسلامی سے متعلق ہوئے، پھر تبلیغی جماعت سے تعلق ہوا بلکہ اس فکر و دعوت کو دنیا بھر میں عام کرنے میں آپ کا بڑا حصہ رہا۔ آخرتک مولانا نے اس سے اپنا تعلق باقی رکھا۔ جماعت اسلامی سے علیحدگی اور مولانا مودودیؒ سے بعض اختلافات کے باوجود کبھی کوئی ایسی بات زبان پر نہ آئی جو فکری اختلاف سے آگے بڑھ سکے ۔ مولانانے ان دونوں طریقہائے دعوت کے درمیان سے ایک اور راستہ اختیار کیا اور سب کو ساتھ لے کر اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے ساری زندگی مصروف عمل رہے۔ آپ نے امراء و ملوک ، علماء ودانشوران اور عوام الناس کے ہر حلقہ میں اپنی دعوت پہنچانے کی کوشش کی اور ہر طبقہ کو اپنا مخاطب سمجھا اور کسی حد تک متأثر بھی کیا۔ ابتد سے ہی مولانا نے انقلا بی طبیعت پائی تھی جس کا اظہار آخر تک حرکیت کی شکل میں بار بار ہوتا رہا اور جس کی جھلک ’’کاروان زندگی‘‘ کی آخری جلد میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
مولانا کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ کام کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی، بس اس کے لیے کردار، تڑپ اور اخلاص درکار ہے۔ آزادی کے بعد متصلاً جب کبار علماء ملک میں موجود تھے اور مولانا نوجوان تھے، تب بھی مولانا کو ملک کی صورت حال نے بے چین کیا تو ’’نشان راہ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون تیار کیا اور ندوۃ العلماء میں ایک اجتماع بلایا اور مستقبل میں ملت اسلامیہ کے مسائل پر گفتگو کی۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کسی بات کو کہنے کے لئے وہ مقام، وہ عمر و مرتبہ چاہیے جہاں سے کوئی تبصرہ کیا جا سکے اور کوئی بڑی اور حق بات کی جا سکے، کسی حد تک بجا اوربالکل بجا! لیکن جب مصلحت پسندی اور سچ یہ ہے کہ سکوتِ بے جا اور اپنے آپ میں گم رہنے کی روش عام ہوجائے تو پھر کیا کیا جائے! کوئی تو ہو جو حق گوئی کرے اور حق کا غلغلہ ہر جگہ بلند کرے۔ مولانا نے بے شمار ایسے نقوش چھوڑے ہیں کہ اخلاص وانابت اور جرأت مومنانہ کے ساتھ اصلاح و حق گوئی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔ ہمیشہ حکمت کے ساتھ مدلل انداز میں حق بات کہی جائے۔ ابتدائی عملی زندگی میں تو یہ نقوش ملتے ہی ہیں، آخری عمر میں امراض و ضعف بھی ملی مسائل میں اس حق گوئی اور مواقع تلاش کر اپنی بات کہنے کے عمل سے نہ روک سکے۔ علم و ادب کی وادیوں کو سیراب کرنے کے ساتھ خانقاہ کو آباد کرنا اور اجتماعی و ملی مسائل میں دلچسپی لینا ہی مولاناؒ کا وصف امتیازی ہے۔
وہ ہمیشہ دعوت و اصلاح کے مواقع ڈھونڈا کرتے تھے۔ بسا اوقات تو طبیعت کے آمادہ نہ ہونے کے باوجود مختلف مجالس اور کانفرنسوں میں صرف اس جذبہ سے مجبور ہوکر شرکت کرتے تھے کہ حکومت کے نمائندوں اور امت کے منتخب مجمع کے سامنے ایمانی دعوت پیش کرنے اور اصل حقائق کو واشگاف کرنے کا یہ موقع کہیں ہاتھ سے نہ چلا جائے۔ آئندہ صفحات میں پیش کیے گئے اقتباسات میں اس کی دلیل ملے گی۔ مولانا کے یہاں حکمت اور تنقیدی بصیرت کے ساتھ اپنی پوری بات پیش کرنے کی بے شمار مثالیں ہیں۔ مولانا اکثر جب کسی پر تنقید کرتے، اس کے کمزور پہلووں پر انگلی رکھتے اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے تو اس سے قبل وہ اس کی خدمات کو سراہنے اور اس کی اچھائیوں کو پیش کرنے کے قائل تھے۔ بد قسمتی سے علمی انحطاط کے اس دور میں بہت سے لو گ اس انداز کو سمجھ نہیں پائے اور اس کو مدح و توصیف سمجھ بیٹھے۔ اسی لیے بہت سے لوگوں کو میں نے خود کہتے ہوئے سنا اور لکھتے دیکھا کہ مولانا عرب کے بعض حکام (خواہ وہ نا اہل ہوں) کی تائید کرتے تھے۔ سعودیہ سے ان کا دوستانہ تعلق تھا۔ ہر موقع پر انہوں نے اس کے موقف کی تائید کی۔ یہ سراسر غلط اور حقیقت فہمی سے دور ہونے پر مبنی خیال ہے۔ مولانا نے ہمیشہ حکام سے ملاقات و مراسلت ان کی اصلاح کے لیے کی تاکہ ان تک دین اور دینی دعوت پہنچائی جاسکے۔ مولانا کے خطوط و خطابات اس پر دلالت کرتے ہیں جن کے اقتباسات جا بجا نظر آئیں گے۔ مولانا کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود بھی صریح تنقید پر مبنی بعض مضامین پر خود حکومت سعودیہ نے حکم امتناعی نافذ کیا اور مملکت میں ممنوع قرار دیا۔ مولانا ہمیشہ حکمرانوں کو عمر بن عبد العزیز اور صلاح الدین ایوبی کی مثال دیا کرتے تھے۔
در حقیقت مولانا کا اخلاص، بے لوثی اور استغناء اس درجہ کا تھا کہ اس نے انہیں نقد و اصلاح کی مکمل آزادی دے رکھی تھی۔ کبھی وہ اپنے یا اپنے افراد خاندان اور اپنے ادارے کے لیے کوئی سوال نہ کرتے۔ حتی الامکان آسانی کے ساتھ کسی سے کچھ قبول نہ کرتے، بلکہ کانفرنس و غیرہ میں جاتے تو بھی منتظمین کے ذریعہ مہیا کرائی گئی قیام و طعام کی اعلیٰ سہولیات کو نظر انداز کرکے اپنے اہل تعلق کے یہاں قیام و طعام کو ترجیح دیتے اور حجاز کے سفر میں تو بیشتر یہی معمول رہا۔ جہاں یہ خدشہ ہوتا کہ اس سے اپنی بات کہنے یا کہنے کے بعد سننے والے پر اثر پڑنے میں کمی ہو سکتی ہے، وہاں تو خاص خیال رکھتے اور آخری درجہ کے استغناء کا مظاہرہ کرتے، اگر چہ یہ استغناء آپ کی عادت ثانیہ تھی۔ آج کی مجبوری یہ ہے کہ بسا اوقات غلط کو غلط صرف اس لیے نہیں کہا جاتا یا صحیح کی تصدیق صرف اس لیے نہیں کی جاتی کہ مولانا جیسے اصحاب دل حضرات کی سیرت کو محض واقعات و عقیدت کی بنا پر پڑھ لیا جاتا ہے۔ ذاتی و خاندانی مفادات پر ملی و اجتماعی مفادات کی ترجیح اور استغناء و بے لوثی یوں تو عنقا ہو چکی ہے۔ بڑے بڑے ادارے اور تحریکیں ان کے فقدان کا شکار ہوکر رہ گئی ہیں، بلکہ بسا اوقات تو محسوس ہوتا ہے کہ ان خصوصیات کا فقدان بر وقت اقدامات اور لازمی کوششوں، ابطال باطل اور تائید حق سے بھی روک دیتا ہے۔ حضرت مولاناؒ کے استغناء و بے لوثی کا یہ عالم تھاکہ شاہ فیصل سے ملاقات ہوئی، آپ نے بڑی مؤثر گفتگو کی یہاں تک کہ شاہ فیصل کی چیخیں نکل پڑیں۔ ملاقات کے اختتام پر شاہ فیصل نے ندوۃ العلماء کے لیے ایک خطیر رقم کی پیش کش کی تو مولانا نے اس کو نظر انداز کر دیا۔ شاہ فیصل ایوارڈ لینے تک نہ گئے، بلکہ مصلحتا اس کو قبول کیا اور ساتھ ہی اس کے دعوت اسلامی اور دینی تعلیم سے متعلق اداروں میں تقسیم کا اعلان کرا دیا اور کمال حیرت ہے کہ اس رقم کا ادنیٰ حصہ بھی ہندوستان نہ آنے دیا۔ دبئی اور برونائی کا ایوارڈ بھی بڑے اصرار کے بعد قبول کیا اور ساری رقم اداروں اور تنظیموں میں تقسیم کر دی۔ چندر شیکھر اور نرسمہا راؤ نے پدم بھوشن کی پیشکش کی۔ نرسمہا راؤ نے خود فون کرکے پیشکش کی، لیکن مولانا نے اس کو خوبصورتی کے ساتھ ٹال دیا۔ ۱۹۸۰ء میں شاہ فیصل ایوارڈ ملنے کے بعد اسی سال دارالمصنفین میں مولانا کے لیے ان کو اطلاع دیے بغیر ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا تو آپ نے اپنے کلمات تشکر میں ایاز کا مشہور جملہ دوہرا کر اپنی گفتگو کا آغاز کیا جو تقریباً ضرب المثل ہے ، ’’ایاز قدر خود را بشناس‘‘۔ اس جملہ کے پس منظر میں ایاز کا وہ مکمل و منفرد واقعہ بھی نقل کیا جو بہت معروف ہے۔ حضرت مولانا کی یہ تواضع ان کی بلند پایہ شخصیت، حد درجہ استغناء و بے نیازی اور بے لوثی و اخلاص کی غماز ہے اور یہی سب چیزیں عظمتوں کا پتہ دیتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا کی شخصیت مختلف الجہات ہے۔ سب سے خاص جہت یہ ہے کہ وہ مفکر تھے، وقت کے تقاضوں کوملحوظ رکھتے تھے، تاریخ و سیرت اورقرآن و سنت پر گہری نظر رکھنے کے سبب پیش آنے والے حالات پر محکم تبصرہ کرتے تھے، اور صحیح اسلامی موقف اختیار کرتے تھے، مولانا کی بیشتر تصانیف ایک خاص فکری خاکے کے تحت ہی لکھی گئی ہیں۔ مولانا کی بیشتر جہتیں خاندانی مزاج اور موروثی ذوق کا حصہ ہیں۔ مولانا اگر داعی تھے تو یہ ان کے خاندانی مزاج کا حصہ تھا۔ تصنیفی و علمی ذوق ورثہ میں ملا تھا۔ خانقاہ کے ذریعہ اصلاح حال کی کوشش بھی خاندانی صفت تھی۔ مولانا کی پوری زندگی کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا میں تحریکی عنصر اس درجہ کا نہ تھا کہ خود کوئی تحریک چھیڑتے۔ مولانا نے حتی الامکان تحریکات کی صدارت و ذمہ داری قبول کرنے سے اپنے کو الگ رکھا، لیکن پھر بھی ملی تڑپ اور جذبۂ دعوت سے مغلوب ہوکر جا بجا آپ کی حرکیت اور طبیعت کی انقلاب پسندی ظاہر ہوجاتی تھی،اور یہی وجہ ہے کہ جب آپ کے سامنے کسی تحریک و تنظیم کا خاکہ آتا تو پھر بتقاضائے وقت اس تحریک کا ہر ممکن تعاون فرماتے اور گویا حالات کی تبدیلی کے ساتھ تحریکات اور بروقت و مناسب اقدامات کے منتظر رہتے۔ سیاسی رہنمائی اور سیاسی تجزیات اور تحریکی و تنظیمی امور و مسائل میں جو بھی دلچسپی مولانا کو تھی، وہ خاندان میں صرف ان کو سید احمد شہیدؒ کے واسطہ سے ملی تھی۔ اس حرکیت میں مولانا کے رفقاء کا بھی بڑا دخل تھا۔ مولانا کی تحریکی پیش رفت میں مولانا محمد منظور نعمانی ؒ کی رفاقت کا ذکر بار بار آتاہے۔ دیگر رفقاء کار میں مولانا محمد الحسنی اور مولانا اسحق جلیس ندوی رحمہما اللہ رحمۃ واسعۃقابل ذکر ہیں جو عملی خاکے تیار کرنے میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔
مفکر اسلامؒ ، اسلام کو اقتدار میں دیکھنے کے خواہاں تھے۔ اس کے لیے بقدر استطاعت جو کچھ کر سکتے تھے، وہ کیا۔ سیاسی سوجھ بوجھ پیدا کرنے کی کوشش کی، علماء کو حالات سے واقفیت اور بے لوث سیاسی خدمت وبصیرت کی ترغیب دی، کبھی امراء کو خطاب کیا، کبھی بادشاہوں اور مملکت کے سر براہوں کو مخاطب کیا،خود ہندوستان کے مختلف وزرائے اعظم کو خطوط لکھے۔ مولانا کی نظر میں اسلام کو اقتدار تک پہنچانے کے دو راستے تھے۔ ایک تو یہ کہ اسلام پسند لوگوں کو کرسی تک پہنچایا جائے اور دوسرا یہ کہ کرسی والوں تک اسلام پہنچایا جائے۔** اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلا راستہ مشکل اور ٹکراؤ پیدا کرنے کا ہے اوردوسرا پر امن و پائیدارہے۔ مولانا ؒ نے پوری زندگی دوسرے موقف پر عمل کیا اور اپنی تمام تر کوششوں ، اسفار، دوروں، خطابات، خطوط اور علمی و ادبی صلاحیتوں کو اس کے لئے استعمال کیا، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب لینا صحیح نہیں کہ مولانا پہلے راستہ کے مخالف تھے یا اس کو غلط سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنی علمی و تصنیفی زندگی کا آغاز ہی ’’سیرت سید احمد شہید‘‘ سے کیا جن کی تحریکِ اصلاح و تجدید کی بنیاد ہی جہا داور قیام حکومت ہے اور جو کتاب مکمل داستان انقلاب سے عبارت ہے۔ ابتدا میں ہی ان پر ایسے مضامین لکھے جو ان کی داستان عزیمت اور جذبۂ صادق کے ترجمان تھے۔ مفصل کتا ب کو بھی اس کا یہی پہلو سید احمد شہید پر لکھی جانے والی دوسری کتا بوں سے ممتاز کرتا ہے کہ اس میں دعوت و عزیمت کے عنصر کو اجاگر کرکے پیش کیا گیا ہے۔ مولانا اس موقف کے مخالف کیوں کر ہو سکتے تھے جبکہ وہ موقف خود حضرت سید احمد شہید ؒ کا تھا۔ خود مولانا کے قلم سے نکلا کہ شہداء بالا کوٹ کا پیغام یہ ہے کہ ساری زندگی ایک ایسے قطعہ زمین کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جس پر اللہ کا دین قائم کیا جا سکے۔
پاکستان میں ایک مرتبہ آپ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام کو اقتدار کی ضرورت ہے اس لیے کہ امر ونہی استعلاء وغلبہ کے بغیر ممکن نہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں خود استعلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مولانا نے ساری زندگی الاخوان المسلمون کی تائید کی اور اخوانی حلقہ نے بھی مولانا کی خوب پذیرائی کی بلکہ کہنا چاہیے اور اعتراف کرنا چاہیے کہ چوٹی کے علماء اور بڑے بڑے ادباء جنہوں نے مولانا کو سر آنکھوں پر بیٹھایا، ان میں سے اکثر کا تعلق اخوان سے تھا۔ مولانا آخر تک اس سحر انگیزتحریکِ دعوت کے معترف و مداح رہے، بلکہ حسن البناء کے داماد و معتمدخاص ڈاکٹر سعید رمضان کو مولانا نے اپنے گھر کا سا فرد قرار دیا اور ان سے گھر کے سے تعلق کا ذکر کیا۔ مولانا نے لکھا ہے کہ عربوں میں جیسا محبت واپنائیت کا تعلق میرا ڈاکٹر سعید رمضان سے ہوا، ویسا کسی اور سے نہ ہوا۔ اپنی جگہ پر دونوں طریقے یقیناًمؤثر اور اہمیت کے حامل ہیں، ایک کی تایید دوسرے کی نفی نہیں ہو سکتی اور مولانا کے یہاں تو طریقہ عمل کے ساتھ دوسرے موقف کے حاملین کی تائید بھی ہے۔ پھر ظاہر ہے کہ تاریخ اسلام میں دونوں موقف کی مثالیں ملتی ہیں۔ کبھی دعوت و تبلیغ اور افہام و تفہیم ہتھیار رہے، اور کبھی دعوت پیش کرنے کے بعد غلبۂ اسلام کے لیے طاغوتوں سے پنجہ آزمائی کرنی پڑی۔
یوں تو مفکر اسلام ؒ کی پوری زندگی علم و عمل اور فکر و تدبر اور یقیں محکم، عمل پیہم و محبت فاتح عالم سے عبارت ہے، لیکن مولانا کی بصیرت اور اجتماعی و ملی تڑپ کو بطور مثال پیش کرنے کے لئے بلکہ قابل تقلید نمونہ کے طور پر ایک دو چیزوں کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔ یوں تو مولاناؒ ہمیشہ پاکیزہ سیاست کی اہمیت کو سمجھتے تھے اوراس کو ایک رخ دینے کی کوشش کرتے تھے۔ اس کے لیے وہ عوام کے نمائندوں سے رابطہ کرتے تھے، امراء اورو زیروں سے مراسلت کرتے تھے، ممکن حد تک نقدو احتساب بھی کرتے تھے، افہام و تفہیم اور وضاحتوں کے ذریعہ راہ ہموار کرنے کی کوششیں کرتے تھے، فسادات کا بے لاگ تجزیہ کرتے تھے۔ مولانا نے پوری جرأت کے ساتھ ۱۹۹۰ء میں ایک مضمون میں یہ بھی لکھا کہ فسادات کے منجملہ اسباب میں سے ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ ’’ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں، اس کے مقابلہ میں صف آرا (Confront) ہوجانیوالوں ، اور اس کو روکنے کے لیے ہر خطرہ مول لینے والوں کی کمی، خاص طور پر اس موقع پر مذہبی پیشواؤں کا میدان میں نہ آنا اور حالات سے مقابلہ نہ کرناہے‘‘۔ مولانا ہمیشہ اپنے آپ کو محدود کر لینے کے خلاف رہے اور عملی اقدامات سے اس کا ثبوت دیا ۔مولاناؒ ’’مسلم مجلس مشاورت‘‘ کے قیام کی دعوت اور اس کی تاسیس میں نہ صرف پورے طور پر شریک رہے،بلکہ اسکے داعی اور سرپرست سمجھے گئے ،اور اس کی سر پرستی کی۔ اس کی مجلسوں میں علالتوں کے با وجود شرکت کی اور اس کے دوروں میں شریک ہوکر انہیں مؤثر بنایا۔ مولانا کے جذبۂ دروں اور جذبۂ صادق اور ملی تڑپ، اجتماعی مفاد اور قومی تشخص کی حفاظت کے اشتیاق و تڑپ کی اس وقت انتہا نہ رہی جب ان کو اندیشہ ہوا کہ یہ مجلس بکھر جائے گی۔ اس دوران مولاناؒ سیتاپور میں تھے، آنکھ کا آپریشن ہوا تھا، ڈاکٹروں نے سفر تو دور زور سے بولنے کو بھی منع کیا تھا لیکن یہ اللہ کا بندہ جس کا مسلک تھا، ؂
اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں
کسی کے منع کرنے سے نہ مانے اور دہلی کا سفر اختیار کیا اور وہاں مجلس کی میٹنگ میں مؤثر تقریر کی اور اپنا دل نکال کر رکھ دیا۔ اس وقت تو یہ تقریر کامیاب رہی اور مجلس کسی بکھراؤ کا شکار نہ ہوئی، لیکن ملت کے اس درد نے آنکھ کا ایسا در د دیا کہ وہ ضائع ہوکر رہی اور زندگی بھر اس دردکا احساس باقی رہا۔
حضرت مولانا کے سلسلہ میں یہ کہا جانا انتہائی غلط ہے کہ وہ کسی منکَر کی تردید نہ کرتے تھے اور کسی تنظیم یا فرقہ پر تنقید نہ کرتے تھے۔ مولانا کی جرأت گفتار اور دینی غیرت و حمیت ہی ان کی تحریر و تقریر کا اصل جوہر ہے۔ مولانا نے بہت واضح تنقیدیں کی ہیں۔ عربوں کی بے راہ روی، عیش و عشرت پسندی، مادیت پرستی، حقیقی اسلام سے بعد، تقریباً آپ کے ہر عربی مضمون و خطاب کا حصہ رہا ہے۔ ہندوستان میں صحیح و غلط موقف کی وضاحت میں آپ نے اپنے قلم و زبان کو ہمیشہ استعمال کیا ہے۔ آپ کے رسالہ احادیث صریحۃ مع اخواننا العرب  اور سلسلہ إسمعیات  آپ کی تنقیدوں اور صحیح تعبیر میں اصلاح کی غرض سے کی گئی تنقیدوں کا مجموعہ ہے۔ ملک و بیرون ملک کے کسی مسئلہ میں بھی مولانا مجاملت و مداہنت سے کام نہیں لیتے تھے۔ موقع پڑا تو اتحاد کی علامت سمجھے جانے والے اس داعی حق کو ’’دو متضاد تصویریں‘‘ لکھنے سے بھی کوئی امر مانع نہ رہا۔ وہ آوازۂ حق نہایت شان و صراحت سے بلند کیا کرتے تھے۔ مولانا کا رسالہ من الجبایۃ إلی الھدایۃ  مولانا کی دینی غیرت اور منہج نقد و اصلاح کا غماز ہے۔ یہ رسالہ در حقیقت مولانا کے ان ہی جذبات کا عکاس ہے جن کا اظہار انہوں نے اپنے سفر حجاز ۱۹۵۰ء میں اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر عبدالعلیؒ صاحب کے نام لکھے گئے خط میں کیا ہے۔ اس رسالہ میں مولانا نے جن امراض کی نشاندہی کی اور جن کوتاہیوں اور برائیوں کو اجاگر کیا، وہ ختم نہ ہوئیں بلکہ دن بدن بڑھتی گئیں اور مولانا تھے کہ آخر تک منکر کی نکیر کرتے رہے۔ رابطہ عالم اسلامی کے جلسوں میں بسا اوقات حضرت مولانا اپنا دل نکال کر رکھ دیا کرتے تھے، اور زبان دل سے گفتگو کیا کرتے تھے، لیکن ان لوگوں پر کیا اثر ہوتا جنہوں نے ایک نیک انسان کے مخلص جذبات کے تحت ۱۹۶۲ء میں وجودآنے والی اس تنظیم کو محض اپنا ترجمان بنالیا اور ہمیشہ اس تنظیم کا استحصال کیا ۔ حد یہ کہ جو شخص اس کا فکری مؤسس تھا، اس کو چند سال کے بعد اس کی حق بیانی اور صاف گوئی کے سبب ایسا معتوب قرار دیا کہ آخری عمر یعنی ۱۹۹۵ء تک ان کا حجاز آنا جانا موقوف رہا۔ بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگا کہ رابطہ عالم اسلامی کے فکری مؤسس شیخ حسن البناء کے داماد و معتمدِ خاص ڈاکٹر سعید رمضانؒ تھے اور ان ہی کی دعوت پر اس کا قیام عمل میں آیاتھا۔ 
حضرت مولاناؒ حق گوئی میں ایک لحظہ بھی چوکتے نہ تھے، بلکہ بر وقت جواب دے دیا کرتے تھے۔ مولانا نے خود بیان کیا کہ ان کا رسالہ’’ردۃ ولا أبا بکر لھا‘‘ بہت عام ہوا اور خوب پڑھا گیا۔ رابطہ عالم اسلامی کے جلسہ میں وہ تشریف رکھتے تھے کہ خمینی صاحب داخل ہوئے تو مفتی امین الحسینیؒ نے بڑھ کران کا استقبال کیا۔ پھر مولانا کو ان سے متعارف کرایا تو خمینی صاحب گویا ہوئے، جی! آپ کا رسالہ ردۃ ولا ابا بکر لھا  پڑھا ہے لیکن اس کا نام ردۃ ولا ابا حسن لھا ہونا چاہیے تھا۔ خمینی صاحب نے اپنی روایتی عداوت اور عقیدے کی ترجمانی کردی، لیکن مولانا کی ظرافت و حق گوئی نے ان کو یوں خاموش کیا کہ یہ تو ایسے ہی ٹھیک ہے۔ عربی محاورہ قضیۃ ولا أبا حسن لھا ہے۔ 
ڈاکٹر حسن الأمرانی نے اپنے ایک مقالہ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ ’’شیخ ابو الحسن نے خود مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ خمینی صاحب میرے ساتھ خانۂ کعبہ کا طواف کررہے تھے اور دعا یو ں پڑھتے تھے ربنا اغفرلنا ولإخواننا الذین سبقونا بالإیمان یہاں پہنچ کر رک جاتے اور آیت نہ پوری کرتے۔ پھر اسی کو دوہراتے تو میں ان سے قریب ہوا اور کہا: ’’ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین آمنوا‘‘۔ شیخ نے فرمایا کہ گویا میں نے ان کو کچوکا لگایا‘‘۔
یہاں اس کا ذکر ضروری ہے کہ یہ صرف میرا احساس نہیں کہ مولانا کی دعوت اور ان کے دینی جذبات سے جن لوگوں کو ہوش کے ناخن لینا چاہیے تھا انہوں نے نہ لیا، البتہ ایسا بھی نہیں کہ اس کا اثر نہ ہوا لیکن حکومتی سطح پر وہ نہ ہوا جس کی خود حضرت مولانا کو امید تھی، من الجبایہ الی الھدایۃ جو ابتداءً ایک خط تھا، اسکو مولانانے مولانا عبیداللہ صاحب کے حوالے کیا، انہوں نے شیخ عمر بن الحسن کو پہنچا دیا کہ وہ مملکت سعودیہ کے ولی عہد کو پڑھ کر سنا دیں، مولانا یہ لکھنے کے بعد کہ معلوم ہوا کہ وہ انہوں نے سنا دیا یوں افسوس و حسرت کا اظہار کرتے ہیں: 
’’ کاش! کہ اس خط کا کوئی عملی نتیجہ نکلتا ، اور اسی وقت سے راستہ کی تبدیلی کی کوشش کی جاتی تو آج نہ صرف مملکت سعودیہ بلکہ عالم اسلام کی صورت حال بہت مختلف ہوتی‘‘ (کاروان زندگی ج۱ ص ۳۴۱)
مولانا کا ملی جذبہ اور دینی غیرت و حمیت ’’عرب قومیت‘‘ کے خلاف تحریک چلانے میں بھی قابل دید و لائق تقلید ہے، اس وقت مولانا پر اس فتنہ کی تنقید کا ایسا غلبہ تھا کہ جو لوگ مولانا اور ان کے خاندان کے مزاج سے واقف تھے وہ کہتے تھے ان کو کیا ہو گیا ہے، مولانا نے ایسی جرأت مندانہ تنقید کی کہ حکومت مصر کی شکایت پر حکومت ہند نے استفسار تک کیا، کہا جا سکتا ہے کہ عرب قومیت کے باطل نظریہ کے خلاف سب سے طاقتور آواز ہندوستان سے ہی بلند ہوئی، یہی نہیں بلکہ عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کی ذلت آمیز شکست کا مولانا نے بے لاگ تجزیہ کیا ہے اور اس ضمن میں مولانا نے جزیرۃ العرب میں بیٹھ کر عربوں پر سخت تنقیدیں کی ہیں، اس سلسلہ کے مضامین کا مجموعہ ’’عالم عربی کاا لمیہ‘‘ حقائق کے انکشاف، حالات کا مومنانہ تجزیہ اور صاف گوئی کی جرأت پر دلالت کرتا ہے، مولانا نے اس وقت عربوں کی شکست کے جن اسباب کی نشاندہی کی وہ آج عربوں میں پہلے سے کئی سو فیصد زیادہ ترقی کرگئے ہیں، آپسی انتشار ، مادیت پسندی ، اقتدار کی حفاظت ، اسلام سے دوری اور اسلام پسند لوگوں سے نفرت و عداوت نے انکو امریکہ کا غلام اور اسرائیل کا نمائندہ بنا دیا ہے، طبعی اور دینی و اخلاقی دونوں نظامہا ئے زندگی سے ان کی بغاوت عروج پر پہنچ گئی ہے، اسرائیل سے جنگ کے موقع پر بقول مفکر اسلامؒ ’’ان پر بے چینی و اضطرارطاری رہتا اور وہ اپنے اوپر اللہ کی مباح کردہ لذتیں بھی حرام کر لیتے‘‘ لیکن اب تو بات یہاں تک آ پہنچی ہیکہ وہ ان ہی لذتوں کے لئے جیتے ہیں، بلکہ ان ہی اسباب تلذذ کی حفاظت کے لئے انہوں نے دین کو امریکہ و اسرائیل کی پسند کے مطابق بقدر ضرورت استعمال کرنے اور اسکا پروپیگنڈہ کرنے تک محدود کر دیا ہے،اسلامی ممالک اغیار کے دست نگر بنا دیے گئے ہیں، دینی شعائر پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں! بے حیائی و فحاشی اور عریانیت ولذت کوشی نے ان کو اپنے شکنجہ ضلالت میں گرفتارکرکے دین کے نور بصیرت سے ہزاروں کوس دور کر دیا ہے، مدینہ طیبہ میں جوار مسجد نبوی میں مولانا کی یہ حق گوئی ملاحظہ کیجئے:
’’صرف زمانۂ جنگ اور اس سے چند دن قبل کے اخبارات و رسائل پڑھئے کیا یہ اخلاق اور یہ طریقۂ زندگی اللہ اور اس کے رسول کی رضا کامو جب ہو سکتا ہے؟ کیا ام کلثوم کے گیت اللہ تعالیٰ اور رسولؐ کی رضا اور فتح و کامرانی کے نزول کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟ کیا یہ نائٹ کلب، عریانی وبے حیائی کے اڈے، جسے ہمارے بھائیوں نے اس ملک میں نئی زندگی بخشی جس پر مقدس اسلامی مقامات کے دفاع کی سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ہمیں رسوائی وہزیمت سے بچا سکتے ہیں؟‘‘ (عالم عربی کا المیہ ص ۷۸؍ ۷۹)
مولاناؒ نے ایک طرف مغربی تہذیب پر تنقید کی تو دوسری طرف امت اسلامیہ کو اپنی تہذیب پر فخر کرنے کی دعوت دی، اسلامی تمدن کو اختیار کرنے پر ہر جگہ زور دیا، تعلیم ، نظام تعلیم اور نصاب تعلیم پر اپنی قیمتی آراء پیش کیں، نظام تعلیم کو اسلامی بنانے اور نصاب میں دینی عنصر داخل کرنے کی تاکید کی، نصاب میں تجدید و اصلاح کی رائے دی،مولانا در حقیقت مفکر تھے ، وقت کے تقاضے پیش نظر رہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ عہد حاضر کے مفکرین میں مولانا منفرد ہیں، جن کی زبان سے یہ جملہ نکلا کہ علم میں دوئی کا کوئی تصور نہیں، یہ کہہ کر گویا انہوں نے ایک بہت بڑے انقلاب کی دعوت دی، ملی مسائل میں بڑھ کر حصہ لینے کے ساتھ علماء کو حالات سے جڑنے کی بھر پور و مؤثر دعوت دی، موقع پڑا تو شیعیت و قادیانیت کی تردید میں سارا زور صرف کر دیا، وسیع النظری اور وسعت فکری کا یہ مطلب سمجھنا مولانا کے نزدیک قطعی درست نہ تھا کہ حق کو حق اور باطل کو باطل نہ کہا جائے، وہ اس کو دعوت اتحاد کے منافی بھی نہ سمجھتے تھے بلکہ جب ’’دو متضاد تصویریں‘‘ کی تصنیف پر بعض اہل تعلق نے اعتراض کیا تو مولانا نے اس کو زندگی بھر کا سرمایہ اور باعث نجات قرار دیا اور اس کو علماء ربانیین و مجددین کا طریقہ قرار دیا،مولانا کی غیرت ایمانی انکی جرأت گفتارکو ہمیشہ رواں دواں رکھتی تھی ،وہ باطل کی زیا دتیوں پر مضطرب ہو جایا کرتے تھے اور یہ جذبات پھرزبان و قلم سے سیل رواں کی طرح جاری ہوجایا کرتے تھے اور عبارت کو جو ش وغیرت سے معمور کردیا کرتے تھے،دعوتِ اتحاد اپنی جگہ ،جادۂ اعتدال کی پاسداری کا اپنا مقام لیکن مفکر وہی ہے جو مو ضوع اور وقت کی نزاکت کا لحاظ کرتے ہوئے مسائل کو پوری جرأت کے ساتھ بیان کرے۔ ’’سیرت سید احمد شہید‘‘میں مولانا کا جو رنگ ہے وہ تا دم آخر باقی رہا،اگر آج بھی حضرت والا بقید حیات ہوتے تو ان کا قلم مجاہد کی تلوار کی طرح چلتا اور خون ناحق بہانے والوں پر انکی زبان دنیا بھر کو متوجہ کردینے کے لیے کافی ہوتی۔ جو خون ناحق بہایا گیا اور جس طرح علماء کے ایک گروہ نے حق کو باطل ثابت کرنے کی کوشش کی اور مظلوم و امن پسند اور اسلام پسند مظاہرین کو بھیانک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد مفسدودہشت گرد قرار دیا گیا،اے کاش کہ یہ متحمس وغیرت مند اورمومن قلم زندہ و متحرک ہوتا تو پوری دنیا میں اہل حق کے محاذ کی قیادت کا فریضہ انجام دیتا۔ نفوس قدسیہ کے دفاع اور مظلوموں کی حمایت کا یہ غیرت سے لبریز رنگ دیکھئے۔ سب جانتے ہیں کہ ہندوستان میں ایک طبقہ مجاہد اسلام حضرت مولانا اسماعیل شہید ؒ کو کافرو گمراہ ثابت کرتا ہے، اس امر کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا ؒ کے قلم سے جو جملے نکلے ہیں وہ ہمارے لیئے دفاع حق کا نمونہ اور اعتدال و غیرت ایمانی سے مرکب ایک حسین تصویر ہیں، مولانا تحریر فرماتے ہیں:۔
’’مولانا کی دوسری فضیلتیں تو رہیں بر طرف، ان کی شہادت مسلم ہے اور شہداء کی مغفرت مسلم ،لیکن ۲۴؍ذو القعدہ ۱۲۴۸ء ؁سے لے کر آج تک کم وبیش ۱۳۶برس کے طویل عرصہ میں شاید ہی کوئی ایسا دن طلوع ہوا ہو ،جس کی صبح کو اس شہید اسلا م کی تکفیر و تضلیل کا کوئی فتویٰ نہ نکلا ہو، لعنت اور سب و شتم کا کوئی صیغہ استعمال نہ کیا گیا ہو، فقہ و فتاویٰ کی کوئی دلیل ایسی نہیں جو اس کے کفر کے ثبوت میں پیش نہ کی گئی ہو۔ وہ ابو جہل و ابو لہب سے زیادہ دشمن اسلام ، خوارج مرتدین سے زیادہ مارق من الدین و خارج از اسلام، فرعون وہامان سے زیادہ مستحق نار ، کفر و ضلالت کا بانی ، بے ادبوں اور گستاخوں کا پیشوا ، شیخ نجدی کا مقلد و شاگرد بتایاگیا۔ یہ ان لوگوں نے کہا ، جن کے جسم نازک میں آج تک اللہ کے لئے ایک پھانس بھی نہیں چبھی ، جن کے پیروں میں اللہ کے راستے میں کبھی کوئی کانٹا نہیں گڑا، جن کو خون چھوڑ کر (کہ اس کا ان کے یہاں کیا ذکر؟)اسلام کی صحیح خدمت میں پسینے کا ایک قطرہ بہانے کی سعادت بھی حاصل نہیں ہوئی! یہ ان لوگوں نے کہا، جن کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و عصمت بچانے کے لئے اس نے سر کٹایا ، کیا اس کا یہی گناہ تھا، اور کیا دنیا میں احسان فراموشی کی اس سے بڑھ کر نظیر مل سکتی ہے؟ جس وقت پنجاب میں مسلمانوں کا دین و ایمان ، جان و مال ، عزت وآبرو محفوظ نہ تھی ، سکھ اپنے گھروں مسلمان عورتیں ڈال لیتے تھے، مساجد کی بے حرمتی ہورہی تھی، اور ان میں گھوڑے باندھے جاتے تھے، اس وقت یہ غیرت ایمانی وحمیت اسلامی کے مدعی کہاں تھے؟ 
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے‘‘
(سیرت سید احمد شہید ج ۲ ص ۴۸۶۔۴۸۷) 
مولانا کی خدمات کا دائرہ بے حد وسیع ہے۔ باطل ادبی نظریات کے مقابلہ کے لیے اسلامی نظریہ ادب جو پہلے سے کسی نہ کسی صورت میں موجود تھا، اس کو ایک مستقل ادبی اسکول کی شکل دینے کا تجدیدی کارنامہ انجام دیا۔ ندوۃ العلماء کے سبزہ زار کو کئی مرتبہ عرب وعجم کے علماء اور عمائدین کے اجتماع سے معمور و منور کیا۔ امت اور بالخصوص اس کے مثقف طبقہ نیز امراء و حکام کی فکری رہنمائی کی کوشش کی۔ دینی تعلیم کی ضرورت و اہمیت کی وضاحت کے ساتھ عصری تعلیم کو ایمان و اخلاقیات سے مربوط کرنے کی کوشش کی۔ عصری اور بالخصوص ملی دانش گاہوں کو ان کے فرائض و واجبات یاد دلائے۔ دینی تعلیمی تحریک کی صدارت کی، اصلاح نصاب کی آواز بلند کی، تعلیم کے وسائل کو سراہا، خود مؤثر نصابی کتابیں تیار کیں، مدارس ویونیورسٹیز کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔ مولاناؒ کو اس کا سخت احساس تھا کہ جس طبقہ میں دین ہے، وہ اقتدار سنبھالنے سے قاصر ہے اور جس طبقہ کے ہاتھ میں نظام حکومت اور کم از کم نظام تعلیم آتا ہے وہ دین سے دور ہے۔ اس کے سبب معاشرہ جس تضاد کا شکار ہوتا ہے، اس سے کرب و بے چینی اور بے اطمینانی کی کیفیت اور ٹکراؤ کی حالت پیدا ہوجانا نا گزیر ہے۔ مولانا نے دیندار طبقہ کو مشورہ دیااور خود انتھک محنت کی کہ اس طبقہ تک دین پہنچا یا جائے اور اس کو اسلامی اخلاقیات سے متصف کیا جائے۔
مولانا کی ذات بے شمار خوشنما خوبیوں کا حسین مرقع تھی، ان کی خدمات نہایت وقیع اور سنجیدہ و بے لوث تھیں، ان کو اخلاص کی جو دولت نصیب ہوئی تھی اور روح کی جو پاکیزگی میسر تھی اس کے سبب لوگوں کو بے انتہا متأثر کرتے تھے، لوگ ان کے ہمنوا ہوجاتے تھے، کار آمد افراد کی ناز برداری کا ہنر مولانا جانتے تھے بلکہ مخالفین کو بھی ملت کے کام کا بنا لیتے تھے، رعایت ومروت مولانا کا خاص وصف تھا، لوگوں کو جوڑنے اور ان سے کام لینے کی حکمت معلوم تھی، آج بہت سے افراد کا ر آمد ہیں،لیکن افسوس کہ قحط الرجال کا شکوہ ہے، لیکن کار آمد لوگوں کو استعمال کرنے کا ہنر گویا معدوم ہو چکا ہے،اور افراد سازی تو تقریبا مفقود ہے، بے کار لوگوں کو کار آمد بنانا تو دور قریب آئے ہوئے لوگوں کو جوڑ کر رکھنے کا وصف بھی نظر نہیں آتا۔ لیکن حضرت مولانا ؒ کی زندگی ان خوبیوں سے عبارت تھی اسی لیے انہیں جاں نثاروں اور لائق و فائق افراد کا ر کی ایک جماعت ہاتھ آگئی تھی، اسمیں ان کی فراخ دلی، بے لوثی ، ذاتی اور خاندانی مفادات سے آخری درجہ کی دوری ، وسعت قلبی ، دور اندیشی ، متفکرانہ مزاج ، دوسروں کے ساتھ حسن سلوک ، طبیعت کی شرافت ، دسروں کا اعتراف ، بڑوں کے احترام کے ساتھ معاصرین کی عزت افزائی اور چھوٹوں کی دلجوئی کو بڑا دخل تھا، ظاہر ہے کہ ان تمام خصوصیات پر الگ الگ مقالات لکھے جا سکتے ہیں مگر یہاں سوانح لکھنا اور مولانا کی شخصیت و خدمات کا احاطہ کرنا مقصد نہیں ہے ،مولانا کی پوری زندگی اس سے عبارت ہے کہ ؂
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
اگر ان لوگوں کی روایات اور واقعات کو بہت احتیاط کے ساتھ جمع کیا جائے تو بھی الگ ایک کتاب تیار ہو سکتی ہے جن کو حضرت مولانا نے ان کی صلاحیت و حیثیت کے اعتبار سے استعمال کیا، وہ بہت بڑے بڑے کام لوگوں سے لیا کرتے تھے اور ان کو آگے بڑھایا کرتے تھے، ان کی مدد کرتے اور انہیں ملت کے لئے استعمال کرتے، اسمیں مولانا کی فردشناسی کے ساتھ ان کے انقلابی مزاج و حرکیت اور ملی تڑپ کو بڑا دخل تھا۔
بس چلتے چلتے یہ اور عرض کرنے کا دل چاہتا ہیکہ مولانا کو عنداللہ جو مقبولیت حاصل ہوئی اس کا پر تو دنیا میں یوں نظر آیا کہ وہ خلق خدا میں بے پناہ مقبو ل ہوئے، انکو اہل دل کی دعائیں ملیں ، اہل علم کی نظر میں قدر و منزلت حاصل ہوئی ، ایک قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کو وہ نفوس ملے جنہوں نے اپنی زندگیاں آپ پر نثار کردیں، مخلص و دور اندیش اور متحرک رفقاء کار کا ہاتھ آنا بھی بڑی نعمت ہے، مولانا کو ایسے مخلصین ملے کہ جو آپ کے علمی و فکری معاون ہونے کے ساتھ ساتھ ملی کاموں، ملک وبیرون ملک کے دعوتی دوروں اور اسفار کے اچھے مشیرو معاون رہے، کیا ہی خوب ہوکہ کوئی صاحب قلم اس پہلو پر بھی ایک دلآویز کتاب پیش کر دے تاکہ اس دور آخر میں ایثار کرنے والے مخلصین کا بھی ایک پر کشش مجموعہ منظر عام پر آکر لوگوں کے لئے قابل تقلید ثابت ہو سکے، کہ اب تو ایثار و اخلاص عنقاء ہوئے جاتے ہیں اور ہر کس و ناکس مشیرو معاون بنا جاتا ہے ، جس کے سبب عمل اور تحریک عمل کا متأثر ہونا یقینی ہے۔ مفاد پرستی جس قدر بڑھ گئی ہے، افراد شناسی اسی قدر مفقود ہے۔ 
(جاری)

مولاناؒ نے اپنے یمن کے سفر ۱۹۸۴ء کی روداد لکھتے ہوئے شیخ یاسین عبدالعزیز کی ایک گفتگو نقل کی ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کو یہاں نقل کر دیا جائے: ’’انہوں نے دین کی دعوت دینے والی اور اس کے غلبہ کی کوشش کرنے والی جماعتوں پر تبصرہ کیا اور کہا کہ دو طریق کا رہیں، ایک یہ کہ اہل ایمان (حکومت کی) کرسیوں تک خود پہونچ جائیں (یعنی ان کو براہ راست اقتدار حاصل ہوجائے)۔ دوسرے یہ کہ ایمان ان کر سیوں تک پہونچ جائے (یعنی اہل حکومت دین کی دعوت قبول کر لیں اور اس کی ترویج و تنقید کا خود ذمہ لے لیں)۔ انہوں نے فرمایا کہ میں آپ کی کتابوں کے مطالعہ سے سمجھا ہوں کہ آپ اس دوسرے طریق کارہی کو ترجیح دیتے ہیں۔ میں نے اس سے اتفاق کیا اور کہا کہ ہمارے یہاں بر صغیر ہند میں حضرت مجدد الف ثانیؒ شیخ احمد فاروقیؒ (م۱۰۳۴ھ ) نے یہی طریق کار اختیار کیا تھا، اور اس کو جو کامیابی حاصل ہوئی وہ ہمارے علم میں عالمِ اسلام میں کسی انقلابی و اصلاحی تحریک کو حاصل نہیں ہوئی۔ پھر انہوں نے شمالی یمن کی موجودہ صورتِ حال، کام کے امکانات اور تقاضوں پر مختصر تبصرہ کیا۔ اس کے بعد مجلس برخواست ہوئی اور ہم لوگ ان سے رخصت ہوئے۔ معلوم ہوا کہ ان کا نام شیخ یٰسین عبدالعزیز ہے‘‘۔ (کاروان زندگی ج ۳ ص ۳۳ )

سائنسی تدبر کی بحث: مان کر نہ ماننے کی روش

ڈاکٹر محمد شہباز منج

عصرِ حاضر اور بالخصوص برصغیر کے اربابِ مذہب کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ اپنے فہمِ مذہب کو مذہی متن کی آخری و حتمی مراد سمجھنے میں کچھ زیادہ ہی حساس واقع ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اپنی تعبیرِ متنِ مذہب کے خلاف کوئی بات دیکھ پڑھ کر جذباتی صدمے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ اپنی رائے سے کسی علمی اختلاف پر ان کا دل بیٹھ بیٹھ جاتا ہے کہ یہ تنقید کرنے والے کیسے لوگ ہیں، "قرآن و حدیث" کے خلاف دلائل دینے پر تلے ہیں۔
قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ ہماری اس بات کو جناب عبداللہ شارق سے ہماری بحث سے الگ کر کے دیکھ لیں، وہ پہلے ہی ہماری یاوہ گوئیوں سے رنجیدہ ہیں، انہیں ہماری گزارشات پڑھ کر دلی افسوس ہوا ہے۔ (الشریعہ اکتوبر 2014،ص 50) ہم یہاں ان کے حوالے سے انتہائی ہلکی پھلکی (Light) گفتگو کے موڈ میں ہیں، اور ہماری جس بات سے بھی ان کے دل کو "چوٹ" لگی ہے ہم اس پر معذرت خواہ ہیں۔ ہماری جنابِ شارق سے گزارش ہے کہ ہمارے درمیان کوئی "مسئلہ کشمیر" (ایضاً،ص40) حل طلب نہیں۔ ہمارا مسئلہ نہایت سادہ تھا اور وہ ماشاء اللہ حل ہو گیا ہے۔ آپ نے ہماری اس گذارش کو تسلیم کر لیا ہے کہ آپ کے پیش کردہ سائنسی و روحانی تدبر دریا کے دو کنارے نہیں جو مل نہ سکتے ہوں، ایک سے دوستی دوسرے سے دشمنی کا تقاضا نہیں کرتی۔ (دیکھیے الشریعہ اگست 2014 میں ہمارا مضمون " روحانی تدبرِ کائنات؟"،ص52) آپ نے فرمایا ہے:
"یہ تاثر لینا درست نہیں ہو گا کہ میرے نزدیک روحانی تدبر اور مادی اغراض کے لیے ہونے والے "سائنسی تدبر " کی آمیزش ناممکن ہے۔ کیونکہ ایک ہی تدبر میں روحانیت او ر مادیت کی یوں آمیزش ہو سکتی ہے کہ اس کا جتنا حصہ "روحانی " ہو گا وہ " قرآنی تدبرِ کائنات" کے فضائل کا مصداق ہوگا اور جو حصہ غیر روحانی ہو گا،اس کا حکم "سائنسی و مادی تدبر" والا ہی ہو گا۔یہ عین ممکن ہے کہ سائنسی تدبر ہی کے دوران ایک صاحبِ تدبر اپنا کام بھی کر رہا ہو اور توجہ الی اللہ کو بھی اپنے دل میں سموئے ہوئے ہو،طبیعی عوامل پر غور کرتے ہوئے بھی یادِ الٰہی سے غافل نہ ہواور اس کے سامنے سائنسی و تحقیقی منظر نامہ "حجاب" بننے کی بجائے معرفتِ الٰہی میں بڑھوتری ہی کا ایک ذریعہ ثابت ہو رہا ہو۔اب ظاہر ہے کہ اس صورت میں روحانی و سائنسی تدبر یکجا ہیں،اس میں جتنا حصہ اللہ کے لیے ہوگا ،اس کا اجر اسے اللہ کے ہاں ملے گا اور جو حصہ غیر روحانی ہوگا، وہ قرآنی تدبر کائنات کے فضائل کا مصداق نہیں ہوگا۔"(الشریعہ اگست 2014، ص 42)
ہم اس ڈر سے کہ کہیں آپ دلی افسوس میں مبتلا نہ ہو جائیں، اس بحث میں نہیں پڑتے کہ ایک ہی تدبر کی یہ دو باریک موضوعی تقسیمیں آپ کیسے کریں گے؟ ایک صاحبِ تدبر کے ایک ہی تدبر کا کونسا حصہ کب روحانی اور کب مادی قرار پائے گا؟صرف یہ کہنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ آپ کے اس ارشاد سے ہمارا یہ موقف ثابت ہوگیا کہ روحانی ومادی تدبر یکجا ہیں۔اور آپ کا الشریعہ ،جون 2014،ص38پر یہ ارشاد منسوخ ہو گیا کہ روحانی و مادی تدبر میں زمین و آسمان کا فاصلہ ہے۔اسی پر بس نہیں بلکہ آپ نے تو اب کے" روحانی تدبر" کو یہ کہہ کر" سائنسی تدبر" سے واصل کر دیا کہ "روحانی تدبر بھی ہمارے نزدیک تدبرِ کائنات کی ایک قسم ہونے کی وجہ سے حسی و مشاہداتی اور قابلِ تفہیم تدبر ہی ہے۔" (الشریعہ اکتوبر2014،ص45)
ہم نے عرض کیا تھا کہ جس تدبر کو آپ "سائنسی تدبر "کہہ کر غیر روحانی یا محض ایک مباح سرگرمی بنانے کے درپے ہیں وہ ،عین ممکن ہے کہ کسی صاحبِ تدبر کے لیے خدا کے عرفان و ایقان کا ذریعہ بن جائے۔ (دیکھیے "روحانی تدبر کائنات؟"،ص52) آپ نے بھی اقرار کر لیا ہے کہ "سائنسی تدبر" خدائی مطالب? تدبر کی تکمیل ہو سکتا ہے۔آپ کا ارشاد ہے:
"یہ ممکن ہے کہ کوئی سائنسدان مادی اغراض کے لیے ہونے والے اپنے مذکورہ تدبر کو قلب کی بیداری، ہوشیاری ،ابدی و بدیہی صداقتوں کی بازیابی ،ظلمتوں کی سرکوبی اور طاری غفلت کے ازالہ کے لیے استعمال کرے تو سائنسی تدبر کا یہ ملکوتی استعمال خدائی مطالبہ تدبر کی تکمیل کہلائے گا۔"(الشریعہ اکتوبر 2014، ص 51) 
تدبر کو سائنسی اورروحانی خانوں میں تقسیم کرنے کی بنیاد دراصل یہ مفروضہ تھا کہ "سائنسی تدبر"، "روحانی تدبر " کی راہ میں رکاوٹ ہے۔اگر آدمی " سائنسی تدبر" میں منہمک ہو جائے تو وہ "روحانی تدبر" کی برکات سے محروم ہو جاتا ہے۔ اسی تناظر میں آپ نے استدلال کیا تھا کہ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا رویہ " سائنسی تدبر" سے میل نہیں کھاتا۔ (الشریعہ جون 2014،ص38۔41)لیکن اب آپ نے یہ بھی تسلیم کر لیا ہے کہ "سائنسی تدبر" روحانی تدبر" کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔آپ کے الفاظ ہیں :
"آپ جان چکے ہیں کہ ہم نے سائنسی تدبر کو مباح بلکہ مستحسن بھی لکھا ہے ،پس اگر یہ تدبر خدا نخواستہ مطلوب روحانی تدبر کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہوتا جو کہ حکمِ خداوندی ہے تو ہم سائنس کو آخر کیوں مباح اور مستحسن کہتے،اس صورت میں تو ایک خداوندی حکم کی تعمیل میں رکاوٹ کی وجہ سے اسے واجب الترک اور قابلِ نفرین ہونا چاہیے تھا۔" (الشریعہ اکتوبر 2014، ص 43)
آپ نے صرف یہی حقیقت بیان نہیں کی کہ "سائنسی تدبر " "روحانی تدبر" کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس حقیقت کو بھی واضح کر دیا کہ جدید دور کے سائنسی انسان کے سائنسی تدبر سے اس کی روحانیت کو ئی خطرہ لا حق نہیں۔ آپ کا کہنا ہے :" ہمارا مقصد اپنے مضمون میں کہیں پر بھی یہ ثابت کرنا نہیں تھا کہ جدید دور کا سائنسی انسان جو سائنسی ورلڈ ویو رکھتا ہے، وہ روحانی تدبر کا اہل نہیں۔"(ایضاً) 
ہمارا بحث میں ایک مدعا یہ تھا کہ سائنسی تدبر کو محض مباح سرگرمی قرار دینے سے اس کی مذہبی اہمیت ختم یا کم ہو جاتی ہے، حالانکہ اس کے بہت سے بدیہی نتائج کی غیر معمولی مذہبی اہمیت ناقابلِ انکار ہے۔اس مقدمے کے ثبوت میں ہم نے عرض کیا تھا:
"دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے حالاتِ زمانہ کے تحت توپیں ،بم اور ٹینک وغیرہ سامانِ حرب کی تیاری تقریباً تمام اہل علم کے نزدیک قرآن کی تعلیمِ اعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ کی مصداق ہے۔کیا یہ اسی نہج پر تدبر کے بغیر ممکن ہے ؟ اور کیا اسلحہ کے لیے بے شمار انواع کے علوم و فنون کی ضرورت نہیں ،جو ظاہر ہے کہ تدبر ہی کی بنیاد پر استوار ہو سکتے ہیں۔ کیا اس تدبر کے نتیجے میں وجود پذیر ہونے والی چیزیں سائنسی دریافتیں نہیں کہلائیں گی ؟ان اشیا کے حوالے سے کیے گئے تدبر پر آپ کا فتویٰ کیا ہو گا؟روحانی تدبر یا سائنسی تدبر؟اگر روحانی تدبر ہے تو سائنسی دریافتیں روحانی ہو گئیں اور اگر سائنسی تدبر ہے تو واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ ایک مباح سرگرمی ٹھہری۔" ("روحانی تدبر کائنات؟"، ص 55)
آپ کو گو اس بات سے اتفاق نہیں کہ سائنسی تدبر کی کوئی مذہبی اہمیت ہو سکتی ہے،تاہم آپ کو یہ تسلیم ہے کہ یہ فضیلت والی اور مستحسن سرگرمی ہے۔آپ اپنے تازہ مضمون میں گذشتہ مضمون کے حوالے سے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :
"گذشتہ تحریر میں ہمارا مقصد صرف یہ واضح کرنا تھا کہ دنیاوی مقاصد و اغراض کے لیے اور مادی حقائق کو منکشف کرنے کے لیے کائنات میں کیا جانے والا تدبر جو کہ سائنسدان کرتے ہیں ،یہ ہماری اصطلاح میں سائنسی تدبر ہے اور یہ جائز ہے ،بلکہ نیک نیتی کے ساتھ ہو تو واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ جیسی آیات کی وجہ سے فی زمانہ امت مسلمہ کے لیے کسی درجہ مستحسن بھی ہو سکتا ہے۔" (الشریعہ اکتوبر 2014، ص 39) 
ضمنی گزارش سے اگر ہمارے ممدوح تنقید نگار کبیدہ خاطر نہ ہوں تو عرض کیے دیتے ہیں کہ واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ کا حوالہ جناب نے اپنے گذشتہ مضمون میں کہیں نہیں دیا۔(دیکھیے: الشریعہ جون 2014، ص 37۔41) یہ حوالہ ہم نے اپنے مضمون "روحانی تدبرِ کائنات؟" میں دیا ہے،جیسا کہ ہمارے اوپر درج اقتباس سے واضح ہے۔ شاید اپنے مضمون پر ہماری تنقید سے ان کو یہ شبہ ہوا کہ یہ حوالہ انہوں نے دیا ہوگا۔بہر حال ہم اس سہو کو ناقابل گرفت سمجھتے ہیں۔ساتھ ہی ایک چھوٹی سی ضمنی گزارش یہ ہے کون سا تدبر نیک نیتی سے ہو رہا ہے اور کون سا بد نیتی سے، اس کا فیصلہ کرنے کا ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں ،اسے اللہ کے اختیار ہی میں رہنے دیجیے۔ایسا کرنے سے ہم دوسروں کے بارے میں ایسے فیصلوں سے بچ جائیں گے جو دوسروں کے کردار و عمل سے متعلق حقائق کی بجائے ہمارے ان کے بارے میں تخمینوں ،مفروضوں اور بغض و نفرت پر مبنی ہوتے ہیں۔ (اس سے متعلق کچھ گزارش ہم آخر میں پیش کریں گے)۔ ہمارا مقصد جناب کے مذکورہ اقتباس سے یہ ہے کہ جناب نے اب سائنسی تدبر کو محض مباح اور فضیلت والی سرگرمی سے اٹھا کر مستحسن سرگرمی کے درجے پر فائز کر دیا ہے۔ سوجناب اگر لفظوں پر نہ جائیں تو اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ وہ سائنسی تدبر کی مذہبی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہیں اور یہی ہماری بحث سے مقصود تھا۔
جہاں تک جناب عبداللہ شارق کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ ہماری "تنقید بعض ایسی وضاحتوں کی متقاضی ہے جو اگر کسی بچہ کے سامنے دینی ہوتیں تو حرج نہیں تھا ،لیکن الشریعہ کے صفحات پر ایسا کرتے ہوئے گھٹن پید ا ہوتی ہے۔" (الشریعہ اکتوبر 2014،ص50)اس پر ہم ان سے کوئی وضاحت طلب نہیں کریں گے کہ ہم گفتگو کو "لائیٹ" رکھنا چاہتے ہیں اور اپنے ممدوح کو پھر "سیریس "نہیں کرنا چاہتے۔لیکن اتنا عرض کریں گے کہ کم از کم الشریعہ کو، جتنا ہم جانتے ہیں، آپ کی وضاحتوں سے کوئی گھٹن محسوس نہیں ہو سکتی۔وہ ہم ایسے بچوں ہی کو تو بالغ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم میچور ہونے کو تیار ہی نہیں ہو رہے۔
ہماری ایک بات جو جناب کو گھٹن آمیز اور بچگانہ لگی ہے، وہ یہ کہ چونکہ ہم مذہب کے نام پر ایسے بہت سے کام کرتے ہیں جو آنجناب علیہ السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہیں کیا کرتے تھے ،اور ہم ان کاموں کو غلط نہیں سمجھتے اس لیے ہمارا ایسا سائنسی تدبر جو وہ اصحاب نہیں کیا کرتے تھے ،غلط کیسے ہو سکتا ہے! لیکن اس بچگانہ بات کو ہم بالغ نظر سمجھنے سے یکسر قاصر ہیں ، اور پھر وہی دلیل دیتے ہیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں آنجناب? اور صحابہ نے ایسا کیو ں نہ کیا! جناب کی خدمت میں عرض ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ ہر اس کام کو غلط نہیں سمجھتے جو حضور اور آپ کے اصحاب نے نہیں کیا، لیکن یہاں معاملہ یہ نہیں۔ یہاں بحث کسی کام کے مطلق رسول? اور اصحاب رسول کے بعد واقع ہونے کی نہیں بلکہ اس کی مذہبی اہمیت کی نفی یا اثبات کی ہے۔یہاں مسئلہ یہ ہے کہ کیا صرف اسی کام کی مذہبی اہمیت ہے جو بعینہ حضور اور صحابہ کے سے طور و انداز سے انجام پائے یا اس کے علاوہ بھی کوئی عمل مذہبی اہمیت کا سزاوار ہے؟ہمارا مقدمہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے امور و اعمال بھی مسلمہ مذہبی اہمیت کے حامل ہیں جو ہ بعینہ حضور اور صحابہ کے سے طور و انداز سے انجام نہیں پاتے۔ جب ایسا ہے تو زیرِ بحث سائنسی تدبر اس سے مستثنیٰ کیسے ہو سکتا ہے!ہماری جس بات کو جناب عالی "سوال چنا جواب گندم" سے تعبیر فرما کر ہوا میں اڑا رہے ہیں وہ آپ کی اصل "مشکل کشا "ہے۔ آپ جس فہرست کو "وغیرہ وغیرہ کی ایک لمبی داستان"(ایضاً،ص50)کہہ کرفضول باور کرارہے ہیں،وہ ہم نے کچھ یوں بیان کی تھی: 
"کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں وہ سرگرمیاں نظر آتی ہیں جو ہم اور آپ آج کل ببانگ دہل دین کی خدمت کے نام پر انجام دے رہے ہیں ؟کیا حضور اور آپ کے صحابہ ہماری طرح مضمون نگاری کیا کرتے تھے؟کیا انہوں نے بڑے بڑے مدارس اور اداروں کی ادارت سنبھال رکھی تھی ، اور ان کے لیے وہ نصاب وضع کر رکھا تھا جو ہمارے نزدیک قریب قریب الہامی ہے؟ کیا وہ اشعری ، ماتریدی ،حنفی ،شافعی ،دیوبندی ،بریلوی کہلایا کرتے تھے ؟ کیا وہ غزالی اور ابن رشد کی کلامی بحثوں پر وقت ضائع کیا کرتے تھے ؟ کیا ان میں سے بہت سی بحثیں کبھی صحابہ کے خواب و خیال میں بھی آئی تھیں ؟ انہوں نے ایسی مذہبی سیاسی جماعتیں بنا رکھی تھیں جو اسلام کی خدمت کے نام پر ان سیکولرلوگوں کے ساتھ مل کر حکومت کیا کرتی تھیں جن کی کرپشن اور اسلام دشمنی کا خود ہی ڈھنڈورا پیٹا کرتی تھیں ؟"
صحابہ نے تو آپ کے بقول " قرآنی لفظ "اب"کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں نہیں بنائی تھی "لیکن ہمارے فقہا اور متکلمین نے قرآن کے ایک ایک لفظ کے فقہی و کلامی مصداق ڈھونڈنے میں عمریں کھپا دیں ،ہم اس پر بھی مطمئن نہ ہوئے اور ان کی مزید کرید کے لیے تھوک کے حساب سے دارالافتا ،مفتی اور متکلم بنا دیے، اور مسلسل بنائے جا رہے ہیں۔ دفتروں کے دفتر سیاہ کر دیے اور کرتے جا رہے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے کھجوروں سے مسجدیں بنائیں۔ ہم نے بھوک سے بلکتی مخلوق کی سنی ان سنی کر کے قومی دولت کو تزئین ممبر و محراب میں جھونک دیا۔ "شاگردانِ رسول نے مفتوحہ علاقوں میں پڑے کتا بوں کے انبار سے دلچسپی نہ لی" اور ہم ہیں کہ اپنی للہیت اور خدارسیدگی کو داو پر لگا کر مدارس اور کتب خانوں میں انواع واقسام کی کتابیں جمع کر تے رہتے ہیں ؛اوران کتابوں میں بہت سی ایسی بھی ہیں جن میں ہمارے عقائد کے لحاظ سے کفر بھرا ہوا ہوتاہے۔ یہ فہرست بہت طویل ہے۔یہ سب چیزیں اگر عہدِ نبوی و صحابہ میں موجود نہ ہونے کے باوجوددین و ملت کی خدمت ہیں تو سائنس بے چاری ؛جس نے آپ کی ان دینی خدمات کے لیے اپنی بہت سی سروسز پیش کی ہیں، اس سے متعلق غور و فکر ہی دشمنی ملت اور مخالفتِ قرآن کیوں ٹھہری!"
لیکن اس داستان کی کسی بات سے متعلق آپ یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ آج کل اس کی مذہبی اہمیت نہیں اور اس کے حامل وقائل اس کو اسلام کی مطلوب و مقصود بات خیال نہیں کرتے،حالانکہ حضور علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کا اس میں کوئی کردار نہیں۔جب اس لمبی داستان کی ہر بات اسلام کا مطلوب و مقصود ہے تو اس کی آخری بات یعنی سائنسی تدبر کومحض مباح کہنے اور اسلام کا مقصود و مطلوب نہ ماننے کا بھی کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔
آپ سائنسی تدبر کے حوالے سے ہمارے اس استدلال سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ مرغوب و پسندیدہ اور موافقِ قرآن ہے، لیکن آپ کو یہ ماننے میں تامل ہے کہ موافق قرآن پر آیاتِ قرآنی کا انطباق بھی ہو سکتا ہے۔ آپ نے ہمارے استدلال کے حوالے سے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’گزارش یہ ہے کہ جو چیزمباح اور کسی درجہ مستحسن ہو، وہ آپ ہی کے بقول خلافِ قرآن نہیں بلکہ موافقِ قرآن ہے اور اسی کے ہم قائل ہیں۔ لیکن یاد رکھیے کہ کسی چیز کے موافق قرآن ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب اس پر قرآن کی کوئی بھی آیت منطبق کر دینے کا کسی کو فری ہینڈ مل گیا ہے۔ مثلاً جسمانی ورزش ایک مباح و مستحسن سرگرمی ہے اور اس لیے اسے خلافِ قرآن بھی نہیں کہا جا سکتا، مگر اب اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ "اقیموا الصلوۃ" کے قرآنی حکم سے بھی یہی ورزش مراد لینا جائز ہے۔" (ایضاً، ص 51) 
ہمارے لیے جناب عبداللہ شارق بہت محترم ہیں ،اس لیے ہم انہیں "سوال چنا جواب گندم" یا"بچگانہ وضاحتوں کی متقاضی تنقید" کا طعنہ نہیں دیں گے۔ ہم بڑے ادب سے گزارش کریں گے کہ جناب آیتوں کے مختلف مفاہیم پر انطباق کے لیے لوگوں کو فری ہینڈ دینے کا کوئی بھی قائل نہیں۔ہم تو بات اس تدبر کی کر رہے ہیں جس پر قرآن کی سینکڑوں آیات بڑے بڑے مفکرین قرآن کے نزدیک بالبداہت منطبق ہو رہی ہیں،لیکن آپ اس کا کوقرآن کی ضمنی مراد بھی ماننے کو تیار نہیں۔ آپ کو سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ ضمنی مراد اور " یہی مراد" میں بہت فرق ہے۔ضمنی مراد اضافی ہوتی ہے اور اس سے متن کے بنیادی و اصلی مفہوم میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ضمنی مراد لینے والا کوئی بھی شخص کبھی یہ نہیں کہتا کہ متن کی یہی مراد ہے ،بلکہ وہ ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ اس سے یہ مفہوم بھی نکل سکتا ہے۔
کسی بات کو قرآن کے نقطہ نظر سے مستحسن اور موافق قرآن مان لینے کے بعد یہ کہنے کی کوئی گنجایش ہی نہیں رہتی کہ وہ بات قرآن کی ضمنی مراد بھی نہیں ہو سکتی۔جو بات قرآن کی ضمنی مراد بھی نہ ہو اس کے مستحسن اور موافق قرآن ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔قرآن کے نقطہ نظر سے صرف اسی بات کو مستحسن اور موافقِ آیاتِ ربانی قرار دیا جاسکتا ہے جو اس کی آیاتِ بینات سے ثابت ہوتی ہو۔ اگرچہ "اقیموا الصلوۃ" سے جسمانی ورزش مراد لینے کی مثال کا تدبر سے متعلق سینکڑوں آیاتِ قرآنی سے سائنسی وتحقیقی تدبر مراد لینے سے کچھ علاقہ نہیں۔ تاہم اگر ہمارے ممدوح تنقید نگار گھٹن محسوس نہ کریں تو نماز کے قیام سے اللہ کی یہ ضمنی حکمت مراد لینے میں بھی کوئی امر مانع نہیں کہ نمازی جسمانی طور پر صحت مند وتوانارہیں، زندگی کو بھرپور انداز سے گزاریں،دشمن کا تر نوالہ نہ بنیں، عبادتِ الٰہی کو رغبت اور دلجمعی کے ساتھ ادا کرسکیں۔ جسمانی ورزش اگر مخالفِ قرآن نہیں اور مستحسن ہے تو اس کا قرآن کی اس نوع کی آیات سے ثابت ہونا کسی طرح بعید از قیاس نہیں۔ "اقیموا الصلوۃ" میں اگر اس حوالے سے آپ کو تکلف محسوس ہو تو "زادہ بسطۃ فی العلم والجسم" اور "واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ" وغیرہ بہت سی دیگر آیات سے استشہاد کیا جا سکتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ جناب عبداللہ شارق کے استدلالات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ سائنسی و روحانی تدبر یکجا ہیں۔ سائنسی تدبر قرآن کے نقطہ نظر سے مستحسن ہے، اس کی مذہبی اہمیت مسلمہ ہے ،اورقرآن سے اس کا جواز فراہم ہوتا ہے،اور یہی ہمارا استدلال ہے۔ہمارے ممدوح تنقید نگار معناً تو ان باتوں کو صاف مان رہے ہیں، البتہ لفظاً وہ کہیں مان لیتے اور کہیں انکار کر دیتے ہیں۔ہم لفظوں پر نہیں جاتے اور سمجھتے ہیں کہ مقصود ومدعا کے اعتبار سے وہ ہمارے نقطہ نظر سے زیادہ دور نہیں۔انہیں مان کر نہ ماننے کی روش نہیں اپنانا چاہیے۔
تاہم ہمیں اس بات پر اصرار نہیں کہ وہ ہماری رائے کو لازماً تسلیم کریں۔ہم اپنے دیانتدرانہ فہمِ مذہب کی بنیاد پر اپنی رائے پیش کر چکے۔وہ جس رائے کو دیانتداری سے صحیح سمجھتے ہیں، اسے اختیار اور بیان کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ البتہ ضد اور اختلاف برائے اختلاف کی بنا پر نہ ماننا کسی طرح روا نہیں ،اور یہ فیصلہ ہر صاحبِ علم و ہوش مسلمان خو د کر سکتا ہے کہ وہ کسی بات کو ضد کی بنا پر نہیں مان رہا یا واقعی اس سے مختلف رائے کو مذہب کا منشا خیال کرتا ہے۔ پہلی صورت میں وہ مواخذے کا سزاوار ہے اور دوسری صورت میں منشا ے الہی تک پہنچنے کی دیانتدارانہ جد و جہد کے حوالے سے دی گئی ثواب کی نوید کی بنا پر اجر کا،لیکن یہ کام نیت سے عبارت ہے اور نیتوں کا حال اور اس پر فیصلے کا اختیار خدوندِ قدوس کا ہے۔ ہم نہ ان سے واقف ہو سکتے ہیں اور نہ اس بنیاد پر کوئی فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔

مکاتیب

ادارہ

(۱)
بخدمت محترم مولانا زاہد الراشدی، تمغہ امتیاز
بعد از سلام مسنون، فقیر کا نام بھی مبارک باد دینے والوں میں شامل کیجیے۔ دعا ہے کہ مبارک ہی رہے۔
ایوارڈ کی خبر عزیزم جعفر نے مجھے روزنامہ اسلام کا اداریہ بھیج کر دی۔اور اس سے ایک ایسی بات معلوم ہوئی کہ ذرا سا فکر میں ڈال گئی۔ اور وہ تھی مرحوم اوج صاحب کے بارے میں آپ کے خیالات۔ میں موصوف سے نام کو بھی واقف نہ تھا۔ ان سے اولین واقفیت ان کے ایک مضمون نے کرائی جو معارف اعظم گڈھ میں نکلا تھا اور دوماہ ہوئے، میرے دوست ڈاکٹر سید سلمان ندوی نے اس کی نقل مجھے بھیجی۔ مضمون اسلام میں باندیوں (ما ملکت اَیمانکْم) کے مسئلہ سے متعلق تھا اور سلمان صاحب نے مجھے یہ بھیج کر یہ چاہا تھا کہ میں جو اس سے مختلف رائے رکھتا ہوں جس کا علم بھی انھیں معارف ہی سے ہوا تھا، اس پر از سر نو غور کروں۔ میں نے یہ مضمون پڑھ کر ڈاکٹر سلمان صاحب کو جو جواب لکھا، آپ کی تحریر مجھے اس کے بارے میں پریشانی میں ڈال گئی۔ میرے جواب کی روسے اوج صاحب قابلِ توجہ ہی نہ تھے جبکہ آپ کی تحریر سے پتہ چلا کہ وہ تو بڑی ذی علم ہستی تھی۔ میں ممنون ہوں گا اگر آپ ذرا وقت نکلا ل کریہاں اٹیچ کردہ میرا خط پڑھ لیں اور میں نے جس بنیاد پر مرحوم کے خیالات کو رد کیا، اس کے بارے میں بے تکلف بتائیں کہ کیا میں اس میں غلطی کا مرتکب ہوا ہوں۔ ڈاکٹر سلمان صاحب نے اختلاف کیا نہیں، دبے لہجے میں مان ہی لیا۔ امید ہے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے گا۔
والسلام 
نیازمند ، عتیق سنبھلی
(لندن)
(۲)
لندن ۲۴؍اگست ۲۰۱۴ء
بخدمت سیدِ والا جاہ محبِ مکرم مولانا ڈاکٹر سید سلمان ندوی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ،
میرا ای میل عریضہ مل گیا ہوگا۔ تو جناب وہ آپ کا مرسلہ مضمون ملا اورپڑھا گیا۔ آپ نے اس کے ساتھ یہ لکھ کر کہ آپ خود بھی اسی طرح سوچتے ہیں، مجھے مشکل میں ڈال دیا کہ اس مضمون کے بارے میں اپنا تأثر کیسے ظاہر کروں اور نہیں توکیسے نہ کروں۔ بہرحال عذاب ثواب آپ کے سر۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجیے کہ ان پروفیسر صاحب نے ایک ایسی وادی میں قدم رکھ دیا ہے جس کی اہلیت نہیں بہم پہنچائی تھی۔ اس کی صرف ایک مثال کافی سمجھتا ہوں۔ وہ ہے موصوف کا ’’ما ملکت ایمانُکُم‘‘ میں صیغۂ ماضی سے اس دعوے پر استدلال کہ یہ ان باندیوں سے متعلق حکم ہے جو ماقبل اسلام سے چلی آرہی تھیں، ورنہ اسلامی جنگوں کے قیدیوں کو بھی اگرغلام باندی بنا کر رکھنا جائز ہوتا اور مسئلہ کا تعلق ان سے بھی ہوتاتو ماضی کے بجائے مضارع کا صیغہ لایا گیا ہوتا۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ نے مضمون کو غور سے نہیں دیکھا، ورنہ یہ استدلال تو قرآن کی زبان سے بالکل بے خبری کا نتیجہ ہے۔ یہ اگر صحیح ہو تو جو لوگ قرآن نازل ہونے پر ایمان لائے، ماضی سے نہیں لائے ہوئے تھے، وہ تو قرآن کی اِنَّ الّذینَ اٰمَنُوا وعَمِلُوا الصٰلحات کے ذیل میں آنے سے رہے۔ ہم آپ کجا!کاش ان صاحب کو کوئی بتائے کہ قرآن تو مستقبل میں حشر و نشر اور جنت و دوزخ تک کے واقعات اور معاملات کے لیے ماضی کے صیغے استعمال کرتا ہے۔
سلمان صاحب! مجھے اگریہ نہ معلوم ہوتا کہ ارباب معارف بھی اسی طرح سوچتے ہیں تو میں کہتا کہ کیا معارف کا معیار اب یہ ہوگیا ہے کہ ایسے مضامین اس میں جگہ پائیں؟
یہ تو ہوئی پروفیسر صاحب سے متعلق گزارش۔ اب اجازت ہو تو آپ سے ایک سوال کی سورۂ مؤمنون کی آیت (۵) صریح طور پر قابلِ تمتّع عورتوں کی دو کیٹیگریز قائم کی گئی ہیں ۔اِلّا عَلیٰ ازواجِھِمْ او ما ملکتْ ایمانُھُم فَاِنَّھُم غَیرُ مَلومین آپ اس دوئی کو کس دلیل سے کالعدم کریں گے؟ 
والسلام
گستاخ نیازمند، عتیق
(۳)
باسمہ سبحانہ
محترمی حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلی صاحب زیدت مکارمکم
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مبارک باد کا شکریہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اسے خیر کا ذریعہ بنا دیں۔ آمین
ڈاکٹر شکیل اوج مرحوم کے بارے میں ڈاکٹر سلمان ندوی صاحب کے نام آپ کا گرامی نامہ پڑھا۔ مجھے آیت کریمہ کے مصداق کے حوالے سے آپ کے موقف سے کلی اتفاق ہے اور میرا موقف بھی یہی ہے جس کا متعدد بار اظہار کر چکا ہوں، بلکہ کسی بھی قرآنی حکم پر جمہور اہل علم کے اجتماعی موقف سے انحراف کو درست نہیں سمجھتا۔
ڈاکٹر شکیل اوج صاحب کا تعلق بریلوی مکتب فکر سے تھا اور وہ یونیورسٹی کے ماحول میں کام کرنے والے ان حضرات میں سے تھے جو مطالعہ وتحقیق کا ذوق رکھتے ہیں اور اپنے ماحول کے مخصوص دائرہ سے باہر نکل کر کھلی فضا میں بھی افادہ واستفادہ کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ میری کمزوری یہ ہے کہ میں ایسے لوگوں کو غنیمت سمجھتا ہوں اور ان کی اس قسم کی فکری بے راہ روی پر گمراہی کا فتویٰ دینے کی بجائے افہام وتفہیم کے ذریعے رجوع کی طرف توجہ دلانے کو ترجیح دیتا ہوں جس پر بعض مفتیان کرام کے غیظ وغضب کا نشانہ بھی بنتا رہتا ہوں۔
میں نے ڈاکٹر صاحب مرحوم کے افکار کی تائید نہیں کی بلکہ ان کے مطالعہ وتحقیق کے ذوق اور قدرے کھلے ماحول میں بحث ومباحثہ کی سرگرمیوں کا ذکر کیا ہے، بالخصوص اس پس منظر میں کہ اس قسم کے ذوق اور محنت پر ’’واجب القتل‘‘ ہونے کے فتووں کی بجائے افہام وتفہیم کا راستہ ہی میرے نزدیک صحیح راستہ ہے۔ اس لیے میری گذارشات کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
امید ہے کہ دعاؤں اور شفقتوں میں آئندہ بھی یاد رکھیں گے۔ شکریہ
والسلام
راشدی
۱۰؍ اکتوبر ۲۰۱۴ء

الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاں

ادارہ

12 اکتوبر 2014ء بروز اتوار بعد نمازِ مغرب ’’تحریک انسدادِسود‘‘ کے مرکزی راہنمااور تنظیم اسلامی پاکستان کے امیر جناب حافظ عاکف سعید نے ’’سودی نظام کے خلاف جدوجہدکی موجودہ صورتحال‘‘ کے موضوع پر خطاب فرمایا۔
13 اکتوبر کو اکادمی کے زیر انتظام مدرسۃ الشریعہ میں عید الاضحی کی تعطیلات کے بعددوبارہ تعلیم کا آغاز ہوا۔
18 اکتوبر کو اکادمی کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد شیرانوالا باغ،گوجرانوالہ میں دینی مدارس کے طلباء کے لیے چالیس روزہ’’عربی بول چال کورس‘‘ کا آغاز ہوا۔
19 اکتوبر کو جامع مسجد احمد،رتّہ روڈ میں سکول وکالج کے طلباء کے لیے ’’عربی بول چال کورس‘‘شروع ہوا جس کی کلاس ہفتے میں صرف دو دن،جمعہ اور اتوار کو ہوا کرے گی۔
20 اکتوبر کو مولانا زاہدالراشدی صاحب نے اس سال کی تیسری پندرہ روزہ فکری نشست میں’’قادیانی مسئلہ اور اس کی تحریک‘‘کے عنوان پر لیکچر دیا۔
23 اکتوبر کو ادارہ رحیمیہ لاہور کے سربراہ مولانا مفتی عبد الخالق آزاد الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے اور اساتذہ وطلبہ سے گفتگو کی۔

نشہ اور اس کا سدباب

حکیم محمد عمران مغل

فی زمانہ نشہ کا مرض معاشرے میں بڑھتا جا رہا ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے نشہ کی تعریف اس طرح کی ہے کہ اگر کوئی شخص چاول کھانے کا عادی ہو اور اسے روٹی کھانی پڑ جائے اور اس سے وہ مشقت میں پڑ جائے تو یہ نشہ ہی ہے۔ ایسی عادت سے بچنا چاہیے۔
نشے میں عموماً ایسے لوگ مبتلا ہوتے ہیں جن میں قوت مدافعت ختم ہو چکی ہو۔ خانگی معاملات، اقتصادی ناہمواری، گھریلو لڑائی جھگڑے، ٹھیک نہ ہونے والی بیماری، اگر ایسی کوئی بھی صورت حال ایک عرصے تک قائم رہے تو اس سے اعضائے رئیسہ کمزور ہو جاتے ہیں اور طبیعت میں بوجھل پن آ جاتا ہے۔ اس کے کے ازالے کے لیے اور ذہنی سکون کے لیے کوئی چارہ کرنا پڑتا ہے۔ نشہ یہی کام کرتا ہے۔
اگر خدا نخواستہ شراب، افیون، چرس، بھنگ، سگریٹ یا نسوار نے آپ کو اپنے چنگل میں پھنسا لیا ہو تو اس سے چھٹکارے کے لیے اطباء کا بتایا ہوا ایک بے خطا اور انمول علاج پیش کرتا ہوں۔ ان شاء اللہ نشے کی عادت بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ صرف خالص شہد مہیا کرنا ہوگا۔ اگر شہد خالص نہ ہو تو سارا کھیل بگڑ جائے گا۔
جب بھی نشے کی طلب محسوس ہو تو خالص شہد بچوں کی طرح ہتھیلی پر ڈال کر چاٹنا شروع کر دیں۔ دن میں تین چار بار تو ضرور ایسا کریں۔ ان شاء اللہ آپ کو محسوس بھی نہیں ہوگا اور نشہ آپ کا پیچھا چھوڑ دے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ شہد میں رائی برابر بھی ملاوٹ نہ ہو۔ یہی اصل محنت ہے اور شہد کو چاٹ کر استعمال کرنا شرط ہے۔