اقبالؒ کا پاکستان
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
حضرت مولانا بشیر احمد پسروریؒ کے پوتے مولانا حافظ محمد عثمان نے پسرور ڈسکہ روڈ پر دارالعلوم رشیدیہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ وہاں مسجد اقصیٰ کی طرز پر اسی عنوان سے ایک وسیع مسجد کی تعمیر کا پروگرام ہے۔ مولانا محمد عثمان کی خواہش تھی کہ مسجد کے سنگ بنیاد کی اینٹ رکھنے کی سعادت میں حاصل کروں جو میرے لیے اعزاز کی بات تھی اور میں اس پر ان کا شکر گزار ہوں۔ جبکہ اس سے چند میل کے فاصلہ پر بَن باجوہ میں معہد الرشید الاسلامی کے نام سے ایک دینی مرکز قائم ہے۔ ہمارے محترم دوست بھائی ذوالفقار صاحب اپنے دوستوں کے ہمراہ اس کا نظام چلا رہے ہیں۔ مڈل کے ساتھ حفظ القرآن کریم کا امتزاج قائم کر رکھا ہے اور مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔ شہر کے محلہ امید پورہ میں بھی اس کی ایک شاخ مسجد بلال میں کام کر رہی ہے۔ وہاں تقسیم اسناد کا جلسہ تھا، معہد الرشید الاسلامی میں تعلیم حاصل کرنے والے چار حفاظ کی دستار بندی تھی، مجھے اس میں حفظ قرآن کریم کی اہمیت اور دینی مدارس کی خدمات پر گفتگو کرنا تھی۔ لیکن جب مسجد میں داخل ہوا تو کلاس کے لڑکے کھڑے ہو کر اجتماعی صورت میں علامہ محمد اقبالؒ کا مشہور ترانہ پڑھ رہے تھے جس کا ایک معروف شعر یہ ہے کہ
چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
بچوں سے یہ ترانہ سن کر میرے ذہن کا رخ بھی اقبالؒ کی طرف مڑ گیا اور میں نے گفتگو اقبالؒ اور قرآن کریم کے عنوان سے شروع کی جو چلتے چلتے ’’اقبالؒ کا پاکستان‘‘ کے موضوع میں تبدیل ہوگئی۔
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نوجوانوں کو نصیحت کیا کرتے تھے کہ وہ قرآن کریم کا مطالعہ ضرور کریں، اگر سید احمد شہیدؒ کی طرح نہیں کر سکتے تو اقبالؒ کی طرح ہی مطالعہ کرلیں۔ اس کا حوالہ دے کر میں نے گزارش کی کہ آج کل ہمیں تلقین کی جا رہی ہے کہ اقبالؒ کے پاکستان کی بات کریں اور اقبالؒ نے پاکستان کا تصور پیش کرتے ہوئے پاکستان کا جو ذہنی نقشہ پیش کیا تھا، اسے سامنے رکھیں۔ میں یہ بتانا چاہوں گا کہ اقبالؒ کا پاکستان کیا تھا اور مفکر پاکستان نے ایک نئی اسلامی ریاست کی تجویز پیش کر کے اس ریاست کے جو خدو خال بیان کیے تھے ان کو کس نے سامنے رکھا ہے اور کون ان سے منحرف ہوگیا ہے۔ ذرا ترتیب سے میری بات نوٹ کر لیں، تاکہ آپ اندازہ کر سکیں کہ اقبالؒ اور اقبالؒ کا پاکستان کا نعرہ لگانے والوں نے اقبالؒ کے افکار و تعلیمات کا کیا حشر کر رکھا ہے۔ اور کون لوگ اقبالؒ کے تصورات کے مطابق پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
- اقبالؒ نے پنجاب اسمبلی میں سب سے پہلے یہ بل پیش کیا تھا کہ توہین رسالتؐ جرم ہے جس کی سزا مقرر ہونی چاہیے۔ توہین رسالتؐ پر سزا کی بات ہماری قانونی دنیا میں وہیں سے شروع ہوئی تھی جو 295-C تک پہنچی۔ مگر آج اقبالؒ کے نام پر توہین رسالتؐ پر سزا کے قانون کی مخالفت کی جا رہی ہے اور اقبال اقبال کا ورد کرنے والے بہت سے دانش ور اس قانون کو ختم کرانے کے درپے ہیں۔
- اقبالؒ نے کہا تھا کہ پاکستان کے نام سے قائم ہونے والی نئی ریاست میں نفاذِ اسلام پارلیمنٹ کے ذریعہ ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کا اعلان کرتے ہوئے منتخب پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کی حدود میں قانون سازی کرنی چاہیے۔ ملک کے دینی حلقوں نے اجتماعی طور پر اقبالؒ کے اس تصور کو قبول کر لیا مگر اقبالؒ کے پاکستان کا نعرہ لگانے والے بہت سے لوگ پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کا پابند قرار دینے کو پارلیمنٹ کی خود مختاری کے منافی کہہ کر پاکستان کے دستور کی اس نظریاتی اساس کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔
- اقبالؒ نے کہا تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور انہیں مسلم معاشرہ کا حصہ سمجھنے کی بجائے غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا جائے۔ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے اقبالؒ کی اسی تجویز کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا، مگر اس دستوری فیصلے کے خلاف مہم چلانے والے عناصر میں بعض اقبال اقبال پکارنے والے لوگ بھی نمایاں ہیں۔
- اقبالؒ نے کہا تھا کہ چونکہ پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کے دائرہ اور روشنی میں قانون سازی کرنی ہے جس کے لیے قرآن و سنت کا علم ضروری ہے۔ جبکہ عوامی نمائندوں کے لیے قرآن و سنت کا اس درجے کا عالم ہونے کی شرط موجودہ حالات میں قابل عمل نہیں ہے۔ اس لیے جید علماء کرام اور ماہرین قانون پر مشتمل ایک کونسل ہونی چاہیے جو اس سلسلہ میں پارلیمنٹ کی راہ نمائی کرے۔ دستور میں اقبالؒ کی اسی تجویز پر ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ مگر بہت سے اقبالی اسلامی نظریاتی کونسل کو غیر ضروری قرار دے کر اس کو ختم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔
- اقبالؒ نے اسپین کے دورے سے واپسی پر کہا تھا کہ یہ دینی مدارس جس حالت میں کام کر رہے ہیں، انہیں اسی طرح کام کرنے دو۔ یہ اگر اس طرح کام نہ کرتے تو ہمارا بھی وہی حشر ہوتا جو اسپین پر عیسائیوں کے قبضے کے بعد وہاں کے مسلمانوں کا ہوا تھا کہ آج وہاں مسلمانوں کی تعداد برائے نام ہے۔ مگر آج اقبالؒ کے کچھ نام لیوا دینی مدارس کے اس کردار اور محنت کو ختم کر دینا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ انہیں قومی دھارے میں لانے کی آڑ میں ان کے آزادانہ تعلیمی و دینی کردار سے محروم کر دیا جائے۔
حضرات گرامی قدر! ان باتوں سے آپ خود فیصلہ کریں کہ کون اقبالؒ کے پاکستان کی بات کر رہا ہے اور کون اقبالؒ سے منحرف ہوگیا ہے؟
میں ان لوگوں سے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ہی کی زبان میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم مولویوں کی بات تم نہیں سنتے، تمہاری مرضی۔ لیکن اقبالؒ سے دست بردار کیوں ہو رہے ہو؟ اس کی تو سنو کہ اسی کی فکر پر تمہیں پاکستان کی یہ عظیم نعمت ملی ہے۔ اور اسی کے نام کے نعرے لگا کر تم اپنا قد بڑھاتے ہو۔
بچوں کی زبان سے اقبالؒ کا ترانہ سن کر میرا ذہن اس طرف گھوم گیا اور میں نے یہ باتیں عرض کر دی ہیں۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمت پر دین، قوم اور ملک کی خدمت کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
ارکان پارلیمنٹ کے نام پاکستان شریعت کونسل کی عرض داشت
ادارہ
(پاکستان شریعت کونسل کا ایک اہم اجلاس 3 اپریل 2014ء کو اسلام آباد میں کونسل کے مرکزی امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی کی قیام گاہ پر ان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے چند اہم مسائل پر ارکان پارلیمنٹ کو توجہ دلانے کے لیے مندرجہ ذیل عرضداشت پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔)
’’بگرامی خدمت معزز ارکان پارلیمنٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان
السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ
پاکستان شریعت کونسل جو کہ نفاذِ اسلام کی جدوجہد کے لیے غیر انتخابی فکری و علمی فورم کے طور پر ایک عرصہ سے سرگرم عمل ہے، وطن عزیز کی تازہ ترین صورت حال کے حوالہ سے قوم کے منتخب نمائندگان کو اس عرضداشت کے ذریعہ توجہ دلانا چاہتی ہے۔ امید ہے کہ معزز ارکان پارلیمنٹ ان گزارشات پر ہمدردانہ غور فرما کر ایوان میں انہیں مناسب صورت میں پیش کرنے کی زحمت فرمائیں گے۔
- کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ حکومتی مذاکرات میں بظاہر محسوس ہونے والی پیش رفت اطمینان بخش ہے جس سے یہ توقع بڑھتی جا رہی ہے کہ باہمی گفت و شنید کے ذریعہ حکومتی رٹ کے قیام کے ساتھ ساتھ دستور پاکستان کی بالادستی، نفاذِ شریعت، امن عامہ کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ دستور پاکستان کی بالادستی، نفاذِ شریعت، امن عامہ کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے مقاصد ان شاء اللہ تعالیٰ ضرور حاصل ہوں گے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت ان مذاکرات کو وطن عزیز کے نظریاتی تشخص کے تحفظ، مکمل استحکام و سلامتی اور امن عامہ کی مکمل بحالی کا ذریعہ بنائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
ہم فریقین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد اور بہتر مستقبل کی خاطر ان مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو، آمین۔
- گزشتہ دنوں قومی اسمبلی آف پاکستان نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قانون سازی کے لیے متعلقہ ایوانوں میں پیش کرنے کی جو قرارداد منظر کی ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور وزارت قانون سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی دستوری و قانونی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کا اہتمام کرے تاکہ ملکی قوانین کو دستور کے مطابق قرآن و سنت کے مطابق بنانے کا مبارک عمل جلد از جلد مکمل کرے۔
- نیز اسلامی نظریاتی کونسل کو ختم کر دینے کے بارے میں سندھ اسمبلی کی حالیہ قرارداد پاکستان شریعت کونسل کی نظر میں افسوسناک اور پاکستان کے دستور کی نظریاتی اساس سے بے خبری اور بے پروائی کا نتیجہ ہے۔ اس لیے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کی اس تجویز کے مطابق قانون سازی کو یقینی بنانے کے لیے جید علماء کرام اور قانون دانوں پر مشتمل ایک کونسل کو پارلیمنٹ کے ساتھ شریک کار ہونا چاہیے تاکہ پارلیمنٹ قرآن و سنت کے دائرہ میں قانون سازی کے لیے اپنی ذمہ داری کو صحیح طور پر ادا کر سکے۔ اس لیے ہم سندھ اسمبلی کے معزز ارکان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ نفاذِ اسلام کے سلسلہ میں مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے خطبات کا مطالعہ کریں اور دستور پاکستان کے اسلامی تقاضوں کی تکمیل کے لیے ناگزیر فورم کے طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کے وجود و کردار کی نفی کرنے کی بجائے قومی اسمبلی کی قرارداد کے مطابق کونسل کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کے لیے پیش رفت کریں۔
- ملک کے قومی نظام تعلیم اور نصاب میں اس وقت پائی جانے والی تقسیم در تقسیم نے جو فکری خلفشار اور ذہنی انتشار کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے وہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ سکولوں اور کالجوں کی طبقاتی درجہ بندی کے ساتھ ساتھ مختلف بلکہ متضاد نصاب ہائے تعلیم قومی یک جہتی کے لیے زہر قاتل کی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ جبکہ حکومتی پالیسیوں کا رخ اس خلفشار کو ختم کرنے کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی کی طرف دکھائی دے رہا ہے۔ اس لیے قومی وحدت اور ہم آہنگی کا اولین تقاضہ ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے اور قوم کو مختلف طبقات اور ثقافتی دائروں میں تقسیم ہونے سے بچانے کے لیے دستور پاکستان کے مطابق اسلامی تعلیمات کی اساس پر یکساں تعلیمی نظام و نصاب تشکیل دیا جائے۔ تاکہ ملک کے تہذیبی و نظریاتی تشخص کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قومی وحدت اور ملکی استحکام کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
- دینی مدارس اس وقت ملک بھر میں قرآن و سنت کی تعلیمات کے فروغ اور دینی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے جو خدمات سر انجام دے رہے ہیں وہ انتہائی قابل قدر ہیں۔ ان کا موجودہ معاشرتی کردار اس وجہ سے محفوظ بنیادوں پر مصروف کار ہے کہ وہ سرکاری کنٹرول سے باہر رہتے ہوئے عوام کے رضاکارانہ تعاون کے ساتھ آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ جبکہ ماضی میں محکمہ تعلیم اور محکمہ اوقاف کی تحویل میں لیے جانے والے بیسیوں دینی مدارس (مثلاً جامعہ عباسیہ بہاول پور اور جامعہ عثمانیہ اوکاڑہ وغیرہ) اپنا وجود اور تشخص کھو چکے ہیں۔ اور غالباً اسی وجہ سے دینی مدارس کے وفاق اپنے نظام و نصاب کے حوالہ سے کسی سرکاری مداخلت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جو مذکورہ بالا پس منظر میں بالکل بجا نظر آتا ہے۔
پاکستان شریعت کونسل یہ سمجھتی ہے کہ دینی مدارس کے نظام و نصاب کا سرکاری کنٹرول سے الگ رہنا ان کے تعلیمی و دینی کردار کے تسلسل اور ان پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ جبکہ انہیں سرکاری کنٹرول میں لانے کے نتیجے میں موجودہ حالات میں ان مدارس کے موجودہ تعلیمی، دینی اور رفاہی کردار کو خدانخواستہ باقی نہیں رکھا جا سکے گا۔ اس لیے معزز ارکان پارلیمنٹ سے درخواست ہے کہ وہ دینی مدارس کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی بجائے ان کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔ اور دینی مدارس کے نظام کو خطرات و خدشات سے دو چار کرنے کی بجائے ان کی کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے میں ان سے تعاون کریں۔
دینی مدارس کے نصاب و نظام کے حوالہ سے ضروری اصلاحات کی اہمیت سے کسی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کا صحیح طریقہ یہ نہیں ہے کہ سرے سے ان کے نظام و نصاب کے بنیادی ڈھانچے کو ہی معرض خطر میں ڈال دیا جائے۔ بلکہ دینی مدارس کے وفاقوں کو اعتماد میں لے کر باہی مذاکرات اور گفت و شنید کے ذریعہ مبینہ کمزوریوں، خامیوں او رخلاء کو پر کرنے کا طریق کار ہی موجودہ حالات میں قابل عمل ہو سکتا ہے۔
- اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور اس کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح فیصلوں کے باوجود ملک میں سودی نظام کے خاتمہ کا وہ وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا جا سکا جس کا دستور پاکستان وعدہ کیا گیا ہے اور اپیل در اپیل میں سالہا سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام کے خلاف کیس کا از سر نو سماعت شروع ہوتے ہی اس کے پھر سے غیر معینہ التواء نے اس سلسلہ میں قوم کی مایوسی میں اضافہ کیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ حکومت پاکستان اور متعدد عالمی مالیاتی ادارے غیر سودی بینکاری کی افادیت اور اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے خود اس کی طرف پیش رفت کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ اور بین الاقوامی مالیاتی حلقوں میں غیر سودی بینکاری کا رجحان دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔
اس لیے ہم وفاقی شرعی عدالت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس کیس کی سماعت کو جلد از جلد مکمل کر کے قوم کو سودی نظام کی نحوست سے نجات دلائے۔ اور ارکان پارلیمنٹ سے گزارش ہے کہ وہ بھی اس سلسلہ میں کردار ادا کریں تاکہ قرآن و سنت کے صریح احکام پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی اس خواہش کی تکمیل کا بھی اہتمام ہو سکے جس کا اظہار انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں کیا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ پاکستان کے معاشی و مالیاتی نظام کو مغرب کے معاشی اصولوں کی بجائے اسلامی تعلیمات کے مطابق تشکیل دیا جائے۔
- وفاقی وزیر امور مذہبی سردار محمد یوسف خان کا یہ اعلان خوش آئند ہے کہ حکومت نے میٹرک تک عربی زبان کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے حکومت سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس مستحسن فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے جلد از جلد اقدامات کرے اور اس سلسلہ میں دینی مدارس کے وفاقوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ ‘‘
روس کے خلاف افغانوں کا جہاد: ایک مغالطے کا ازالہ
اکرم تاشفین
روس کے خلاف افغانوں کا جہاد ، امریکا کا تعاون اور روس کی شکست۔یہ موضوع اب شاید مزید اس قابل نہیں کہ اس پر بحث ومباحثہ کا میدان گرم رکھا جائے کیوں کہ ’’اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘۔ دنیا بھر میں تیزی سے بدلتے حالات میں عالم اسلام کو اس وقت جن فکری اور نظریاتی چیلنجوں کا سامنا ہے، ایسے حالات میں روس کی شکست کے پارینہ قصے کو دہرا نا ضیاع وقت کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ تاریخ کے اس حساس عصر میں مسلمان اہل فکر وقلم کو آگے بڑھتے رہنا چاہیے اور مسلمانوں خصوصاً نوجوان نسل کو جن فکری پیچیدگیوں کا سامنا ہے، ان گتھیوں کو سلجھاتے رہنا چاہیے۔ آج کی نشست میں روس کے خلاف افغانوں کی مزاحمت کا قصہ دہرانے کا مقصد ایک مغالطہ کا ازالہ کرنا ہے جو عموماً ہمارے نوجوانوں کو ہمارے اہل قلم کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ ہمارے ایک دانشوراور کالم نگار نے گذشتہ دنوں ایک معروف روزنامے میں یہی مغالطہ دہرایا۔ انہوں نے اس بات کا ایک بارپھر تکرار کیا کہ سوویت یونین کو شکست دراصل امریکا نے دی تھی اور افغان عوام اس جنگ کی بھٹی میں جلنے والے ایندھن کے طورپر استعمال کیے گئے۔ وہ اس بات پر نالاں تھے کہ ’’روس کا سوشل ازم دنیا بھر میں یورپ کے سرمایہ دارانہ نظام میں نقب لگا چکا تھا اور ہر میدان میں سرمایہ داریت کو چیلنج کررہا تھا۔ سوویت یونین کے خاتمے سے امریکا کے لیے دنیا بھر میں میدان صاف ہو گیا اور وہ چند ارب ڈالر خرچ کرکے واحد سپر پاور بن بیٹھا اور مسلمان واحد سپر پاور کے پنجے میں آگئے۔ ‘‘
مذکورہ کالم نگار نے یہ بات ذرا طویل الفاظ میں کی ہے، ہم نے ان کا خلاصہ یہاں لکھا ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیوں ایک اچھا تجزیہ کار حقائق سے نظریں پھیرتا ہے؟ کسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ہم ایک ہی جانب اور ایک ہی زاویے سے کیوں کسی معاملے کو دیکھتے ہیں؟ معاملے کا ایک پہلو بے شک یہی ہے کہ امریکا اور روس ایک دوسرے کے بڑے حریف تھے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ امریکا اور روس دونوں اپنے ساتھ ایک خاص نظام بھی لیے ہوئے دنیا پر چھا جانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ اس میں بھی کوئی دورائیں نہیں کہ روس کی شکست امریکا کی فتح تھی اور امریکا کی شکست روس کی فتح، کیوں کہ اس وقت دونوں ممالک اور دونوں نظام دو مقابل قطب بن کر دنیا کے افق پر کھڑے تھے۔ گویا دونوں، ترازو کے الگ الگ دوپلڑوں میں تھے۔ ایک کا بھاری ہونا یقینی طورپر دوسرے کا ہلکاہونا تھا۔ یہ ایک بدیہی معاملہ تھا جس سے کوئی مفر بھی نہ تھا۔ اس زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو وہ بات کسی حد تک ٹھیک لگتی ہے جو مذکورہ قلم کار نے کی مگر اس معاملے کا ایک پہلو اور بھی ہے اور یہی وہ پہلو ہے جس سے آج تک ہمارے مصنفین اور رائٹرز صرف نظر کرتے آرہے ہیں۔ وہ یہ کہ اشتراکیت اور سرمایہ داریت کی جنگ کو افغانستان میں ایک افغان کی نظر سے دیکھ کر فیصلہ کیا جائے۔
۱۹۷۹ء میں روس نے افغانستان پر حملہ کیا۔ اس وقت افغانوں کے سامنے ایک ہی سوال تھا کہ روسی جارحیت کے مقابلے میں کیا کیا جائے ؟افغانوں میں کچھ تو وہ تھے جو روسی جارحیت سے قبل ہی اس کے اشتراکی نظریے کے حامی بن چکے تھے۔ ایسے لوگوں کے لیے روس کا افغانستان پر قبضہ کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہ تھا، کیوں کہ ایسے لوگوں کو اپنے مفادات کی تکمیل کا ایک بہترین موقع ہاتھ آگیا تھا۔ مسئلہ تو ان دیندار مسلمانوں کا تھا جنہوں نے کمیونزم کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ خلق وپرچم کے کمیونسٹوں کے علاوہ اکثر افغان عوام کے سامنے اب بس یہی سوال تھا کہ روسی جارحیت کے بعد کیا کیا جائے ؟ ان کے سامنے دو مسائل تھے جو بار بار انہیں اپنے آپ سے یہ سوال دہرانے پر مجبور کررہے تھے۔ پہلا مسئلہ تھا روسیوں اور ان کے کٹھ پتلی کمیونسٹوں کے بے انتہا مظالم کا۔ وحشیانہ مظالم کی یہ کہانیاں آج بھی لوگوں کو از بر ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ جن لوگوں نے روسیوں کے مظالم سہے، وہ نسلیں آج بھی زندہ ہیں۔ ایسے حالات میں جب محض اسلام پسندی کی بنا پر لوگوں کا قتل عام کیا جائے ، مال واملاک چھین لیے جائیں اور اشتراکی نظریے کے علاوہ کسی بھی عقیدے کا نام لینا جرم بن جائے ،انسان نما وحشی درندوں کے غول گھر کی دہلیز پار کرکے آپ کے حرم میں داخل ہو جائیں، بیٹی ، بہن اور بیوی کی عزت محفوظ نہ ہو۔ صبح اٹھیں تو شام تک یقین نہ ہو کہ کب یہ خون آشام درندے آئیں گے اور معصوم بیٹیوں کی عصمت کی چادر تار تار کرکے چلے جائیں گے۔ ایسے سینکڑوں واقعات ہوئے کہ روسی فوجی ہیلی کاپٹر میں آئے، چھاپہ مارکرچلے گئے اور جاتے جاتے گاؤں کی دوشیزاؤں کو ریوڑ کی طرح ہنکا کر لے گئے اور پھر جب ہیلی کاپٹر فضا میں بلند ہوا تو ان کے کپڑے ہوا میں لہراتے ہوئے نیچے گرے اور صحراؤں اور ریگستانوں میں بکھر گئے۔ قرآن کریم کی بے حرمتی، مساجد کی تباہی، کیا کیا مظالم ہیں جو میری مظلوم قوم نے نہ سہے؟ کتنے بے آسرا والدین کے جوان بیٹوں کی لاشیں ان کے کندھوں پر لادی گئیں۔
افغانوں کا دوسرا مسئلہ فکری اور نظریاتی تھا۔ دراصل اشتراکیت اور سرمایہ داریت کے نام سے دنیا میں جوجنگ چل رہی ہے جس میں روس کی شکست کے بعد آج بظاہر سرمایہ داریت ہی کا تسلط قائم ہے ، یہ جنگ دونظاموں کی نہیں، تین نظاموں کی جنگ ہے، یعنی اشتراکیت ، سرمایہ دارنہ نظام اور اسلام۔ اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ نظام کی جنگ تو ظاہر ہے کہ معاشی اور عسکری اعتبار سے دنیا کی دو طاقتور قوتیں ان نظاموں کے پشت پر ہیں، اس لیے ان کی قوت سب کے سامنے ہے۔ تیسرا فریق اسلام ہے۔ اگرچہ بظاہر اس کا علمبردار کوئی مضبوط معاشی یا عسکری ملک نہیں جس کی وجہ سے دنیا میں سرمایہ داری یا اشتراکیت کی طرح اسے بھی غلبہ ملے، مگر روس اور امریکا دونوں اس راز سے واقف ہیں کہ اسلام دنیا میں ایک تیسرے مضبوط نظام کی حیثیت سے ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ابھرنے کی یہ صلاحیت اسے بیرونی عوامل نے اسے نہیں بخشی بلکہ فی ذاتہ یہ ایک مکمل نظام ہے جو دنیا کی کامیاب رہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے بظاہر ’’رِنگ‘‘ میں نہ ہونے کے باوجود اشتراکیت اور سرمایہ داریت نے اسے اپنے لیے خطرہ سمجھا۔ روس کی شکست کے بعد امریکیوں نے کہا تھا کہ ’’اب ہمارے سامنے اسلام ہی واحد خطرہ ہے جو ہماری راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے‘‘ اور یہی بات روس کے لاشعور میں بھی کہیں موجود تھی، یعنی وہ امریکا کے بعداسلام ہی کو اپنا دشمن سمجھتا تھا۔ اس لیے روس کا اشتراکی نظریہ امریکا کے سرمایہ دارانہ نظام کے لیے جتنا بڑا خطرہ تھا، اپنے دوسرے حریف اسلام کو بھی وہ اتنا ہی بڑا دشمن سمجھتا تھا۔
عام طور پر ہمارے دانشورسرمایہ دارانہ نظام کی دشمنی کی بات تو کرتے ہیں، مگر روس کی اسلام دشمنی کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ افغانستان آنے سے قبل روس نے وسطی ایشیائی ممالک پر قبضہ کیا تھا۔ وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ روس نے جو کیا، اس کی تاریخ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کاش ہمارے دانشور افغانستان پر تبصرہ کرنے سے پہلے وسطی ایشیائی ممالک میں ہونے والے روسی مظالم کی بھیانک تاریخ پڑھ لیں۔ روس کی مزاحمت صرف افغانوں نے نہیں کی، وسطی ایشائی ممالک قفقاز اور چیچنیا وغیرہ میں روس کے خلاف بڑی مزاحمتی تحریکیں چلیں۔ قفقاز میں امام شامل اور چیچنیا میں شامل بسایوف نے بھی روس کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ ان کی جنگیں بھی سالہا سال پر محیط رہیں، مگر افسوس وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ سوویت یونین کی شکست وریخت افغانوں کے ہاتھوں لکھی تھی۔افغانستان میں سوویت یونین کو اشتراکیت کے علاوہ اور کوئی نظریہ قبول ہی نہ تھا۔ ماہنامہ ’’شریعت‘‘ میں شائع ہونے والے ہمارے ایک دوست کے مضمون کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے جنہوں نے اس صورتحال کا بہت جامع الفاظ میں نقشہ کھینچا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’افغان اتنے پاگل تھے اور نہ اس حد تک زندگی ان پر بوجھ تھی کہ کسی لایعنی مقصد کے لیے دوملین بھائیوں اوربیٹوں کی قربانی دیتے۔ کمیونسٹ یلغار کے بعد افغانوں کو بڑے اندرونی وبیرونی دشمن کا سامنا تھا۔ افغانوں کے وطن پر سیلاب بہہ نکلا تھا اور انہیں اپنے سب سے بڑے سرمایے یعنی اسلامی عقیدے کے خاتمے کا خطرہ درپیش تھا۔ افغانستان کا شمالی طاقتور پڑوسی یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ طوعاً وکرہاً ہر افغان بچے ،بڑے، مرد اورعورت کے ذہن کومارکس ازم کے دَہری عقیدے کا انجکشن لگایا جائے۔ نماز ،روزہ ، حج ، زکوٰۃ، مسواک، اذان، مسجد، قرآن، اللہ، رسول، مذہب اور تمام عربی اصطلاحات کو عقیدے اورعمل سے نکال دیا جائے۔ افغانوں کو روسی تعاون کے بدلے اپنا ڈیڑھ ہزارسالہ قبلہ لینن گراڈ کی جانب موڑلینا چاہیے، کیوں کہ نئے مارکسسٹ معاشرے کا یہی تقاضا ہے۔ بریگ نوف نے کہا ’’کمیونزم کے پڑوسیوں کو صرف کمیونسٹ ہی ہونا چاہیے اور بس‘‘۔ یہی واقعہ اور یہی یک طرفہ کفری یلغار تھی جس نے افغانوں کو دیوار سے لگادیا۔ کسی طرح کا استثنا،کوئی راستہ اور کوئی مصلحت افغان عوام کے لیے نہ چھوڑی گئی۔ بریگ نوف نے حفیظ اللہ امین کی زبانی اعلان کیا کہ’’ دو کروڑ مخالفین کو قتل کردینا چاہیے تاکہ61 ہزار افراد پر مشتمل معاشرے کے لیے راہ ہموار ہوجائے‘‘۔ افغان عوام مجبور تھے کہ یا تو عقیدے کی موت قبول کریں اور یا جسمانی موت۔ چونکہ جسمانی موت آسان ہے اور اس کا انجام بھی عقیدے کی موت کے بہ نسبت صرف ظاہری اور وقتی ہے، اس لیے ڈیڑھ ملین افغانوں نے جسمانی موت کوگلے لگالیا تاکہ اپنی قوم کو عقیدے کی موت سے بچاسکیں۔‘‘
افغانوں نے جب اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھائے تو کوئی بھی امریکی ان کے درمیان موجود نہیں تھا جو انہیں یہ راستہ دکھا رہا تھا۔ افغان حریت پسندوں نے اگر اس وقت ہتھیار اٹھائے تو وہ صرف روسی مظالم اور اسلام دشمنی تھی جس نے افغانوں کو لڑنے پر مجبور کردیا۔ افغان مجاہد ین نے جہاد کا آغازسوکھے پیٹ اور پرانے ہتھیاروں سے کیا تھا۔ وہ بوتل سے گرنیڈ بناکرروسی لشکر کا ٹینک اڑانے کی کوشش کررہے تھے۔ کلہاڑی ، بیلچہ اور پتھر لے کر وہ روسی ٹینکوں کے سامنے سینہ سپر ہو رہے تھے، کیوں کہ نہتے عوام کے پاس اب صرف یہی راستہ بچا تھا۔
افغانوں کی مزاحمت کے آغاز کے بعد دنیا کے سامنے ایک نیا منظر نامہ بن رہاتھا۔ ایک جنگ چھڑگئی تھی جس میں ایک جانب دنیا کی طاقت ور ترین قوت سوویت یونین اور دوسری طرف نہتے افغان عوام تھے۔ جہاں دیگر حقائق قابل تسلیم ہیں، وہاں یہ بات بھی مان لینی چاہیے کہ دونوں فریق اپنی اپنی تاریخ ، مضافات و متعلقات ، دوست و دشمن ، اپنی اپنی ترجیحات اور اپنا اپنا بیک گراؤنڈ رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ روس ایک عالمی سپر پاور تھا جس کی جنگ کے اثرات اس کے دوستوں اور دشمنوں سب پر پڑنے والے تھے۔ ایک جانب وسطی ایشائی ممالک تھے جو براہ راست روسی جارحیت کا شکار تھے۔ دوسری جانب پاکستان تھا جو افغانستان کے بعد روسی جارحیت کا شکار بننے والا تھا۔ پاکستان کے بلوچستان اور کراچی کے ساحلوں سے ٹکرانے والے بحیرہ عرب کے اس پارعرب ممالک پھیلے ہوئے ہیں جن کا خیال تھا کہ روس کی استعماری جد وجہد کا اصل ہدف عرب ممالک ہی ہیں جہاں سوشل ازم کے بڑے حریف مذہب ’’اسلام‘‘ کے روحانی مرکز کے ساتھ ساتھ تیلکے وسیع ذخائر بھی ہیں۔ دوسری طرف مغربی یورپی ممالک تھے جو سرمایہ دارانہ نظام کے حامی تھے اور روس کو اپنا فطری حریف سمجھتے تھے۔ادھرسوویت یونین تھا کہ پوری دنیا کو تاراج کرنے کا سودا سر میں لیے بے لگام ہوکر نکل پڑا تھا۔
’’دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے‘‘، اس لیے سوویت یونین کے ہر بدخواہ کی خواہش تھی کہ افغانوں کے ہاتھوں سوویت روس کی شکست ہوجائے۔ مگر مشکل یہ تھی کہ روس کے عتاب اور قہر آلود نگاہوں کے سامنے کسی کا بس بھی نہ چلتا تھا۔ اس لیے افغانوں کی جنگ شروع ہونے کے بعد ایک عرصہ تک دنیا دم بخود کھڑی دیکھتی رہی۔ سوویت یونین کے رعب اور دبدبے کے سامنے کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ یوں علی الاعلان افغانوں کی مدد کے لیے آگے آتا۔ افغان مجاہدین کو امداد پہلے دن ہی سے ملنا شروع نہیں ہوئی۔ ساری دنیا اس انتظار میں تھی کہ یہ جنگ آگے جاکر کیا رخ اختیار کرے گی ؟ کسی کو یہ یقین نہیں آرہا تھا کہ افغان اتنا مضبوط عزم لے کر اٹھے ہیں کہ روس اپنی تمام تردرندگی کے باوجود انہیں شکست نہیں دے سکے گا۔ آخر یہ انہونی بھی ہونی ہوگئی ، دنیا کو یقین آگیا کہ افغانوں کی مزاحمت کوئی وقتی وبال یا دو روزہ جذبہ انتقام نہیں۔ تب ہی افغانوں کی جانب عرب دنیا اور امریکا نے تعاون کا ہاتھ بڑھا یا۔فکری اعتبار سے یہ تعاون تین دشمنوں میں سے ایک طاقتور دشمن کے خلاف دو کا آپس کا اتحاد تھا جس میں ایک نے اپنا سر پیش کیا کیوں کہ اس کے پاس اس کے سوا کچھ تھا ہی نہیں۔ دوسرے نے اپنی ٹیکنالوجی پیش کی کیوں کہ سرجاتے ہوئے اس کی جان جاتی ہے۔
یہ تھا وہ باعث جس نے افغانوں کو ہاتھوں میں ہتھیار تھمادیے۔ شریف النفس افغانوں کے خلاف روس نے ہی سازشوں کے جال بنے تھے اور پھر خود ہی جارحیت ہی کی تھی۔ اس کے باوجود ہمارے دانشور وں کے پاس لعنت ملامت کے لیے افغان عوام ہی ہیں۔ روس کی تو جیسے معصومیت قسم کھانے کے قابل ہو۔ دنیا میں اگر کوئی اپنے حق کے لیے آواز یا ہتھیار اٹھائے تو ساری دنیا اس کی حمایت میں کھڑی ہوجاتی ہے۔ اس کو انصاف دلانے کی بات کی جاتی ہے، مگر ہم افغانوں نے اپنی آزادی اور حق کے لیے ہتھیار اٹھاکر ایسا کون سا بڑا گناہ کردیا کہ غیر تو غیر، اپنے مسلمان بھی مسلسل کوستے چلے جارہے ہیں؟ سرخ ریچھ کو موت کی گھاٹ اتارنا کیا اتنا بڑا جرم ہے کہ بیس سال بعد بھی قابل معافی نہیں؟ روس کی تباہی سے اگر امریکا کو فائدہ ہونا تھا تو یہ اس جنگ کا خود بخود حاصل ہونے والا ایک ناگزیر نتیجہ تھا، افغانوں کی جنگ ہرگز اس مقصد کے لیے نہیں تھی۔ افغانوں نے اس وقت بھی اسلام کے دفاع کی جنگ لڑی، اس وقت بھی کافروں کو اسلام کا دشمن سمجھا، آج بھی کفر کو اسلام کا دشمن سمجھتے ہیں۔ آج ہم اس بات پر نالاں ہیں کہ امریکا کا کوئی حریف نہیں جو اسے نکیل ڈالے! تو کیا روس جیسا وحشی مقابل ہونے کی صورت ہم مسلمان محفوظ اور پر امن رہ جاتے؟ دو عالمی طاقتوں کی رسہ کشی میں ہماری کمزور اقوام کیا پامال نہ ہوجاتیں؟ اسلام اور مسلمانوں کو آج جو پریشانیاں درپیش ہیں، کیا اشتراکیت کے وجود سے وہ دوگنی نہ ہوتیں؟
اوپر کی سطورکا مقصد صورت حال کی تھوڑی سی وضاحت تھی ۔ روس کے خلاف افغانوں کی جنگ میں افغانوں کو محض ایندھن یا مجاہدین رہنماؤں کو امریکی آلہ کار کہنے سے قبل اس جنگ کو ایک عام افغان کی نظر سے دیکھا جائے اور اس پہلو پر بھی سوچا جائے کہ اس وقت افغانوں کے پاس امریکا سے اسلحہ لے کر لڑنے کے سوا اور بچا بھی کون سا راستہ تھا!
جناب عبد الستار غوریؒ
محمد عمار خان ناصر
جناب عبد الستار غوری بھی اپنے وقت مقرر پر اللہ کے حضور میں حاضر ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ۔ آمین
ان سے پہلی ملاقات آج سے کوئی بائیس چوبیس برس قبل گوجرانوالہ میں ، جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں ہماری رہائش گاہ پر ہوئی۔ وہ اپنے کسی دوست کے ہمراہ والد گرامی سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ (میری یادداشت کے مطابق یہ ڈاکٹر سفیر اختر صاحب تھے، لیکن ایک موقع پر غوری صاحب نے تصحیح کرتے ہوئے غالباً افتخار بھٹہ صاحب کا نام لیا تھا)۔ اس زمانے میں مجھے مسیحیت اور بائبل وغیرہ کے مطالعے کا نیا نیا شوق، بلکہ کسی حد تک جنون تھا اور میری علمی دلچسپی کا بنیادی دائرہ یہی تھا۔ غوری صاحب اپنے ساتھ اپنا ایک ۷۰ صفحات کا مقالہ لائے تھے جو کتاب استثناء کی اس مشہور پیشین گوئی کی تشریح پر مبنی تھا جس میں کوہ فاران سے دس ہزار قدسیوں کے جلوہ گر ہونے کی بات ذکر کی گئی ہے۔ غوری صاحب نے میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ازراہ عنایت اس کی ایک نقل مجھے بھی دی اور کہا کہ یہ ابھی نامکمل اور غیر مطبوعہ ہے اور صرف مطالعے کے لیے تمھیں دے رہا ہوں۔ اسی موقع پر انھوں نے بتایا کہ انھوں نے یہودیت ومسیحیت کے مطالعہ وتحقیق سے متعلق نادر ونایاب کتب کا ذخیرہ اپنے پاس جمع کر رکھا ہے۔
اس موضوع کے حوالے سے میری شناسائی اس وقت تک زیادہ تر محمد اسلم رانا صاحب مرحوم سے تھی جو پہلے ’’طب وصحت‘‘ کے نام سے ایک رسالے میں یہودیت ومسیحیت سے متعلق اپنے نتائج تحقیق شائع کیا کرتے تھے۔ بعد میں انھوں نے ’’المذاہب‘‘ کے نام سے ایک مستقل رسالے کا ڈیکلریشن لے لیا جس کی اشاعت کا سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا۔ رانا صاحب کی تحریر تحقیقی حوالہ جات سے مزین ہونے کے ساتھ ساتھ کافی حد تک مناظرانہ اسلوب میں لکھی ہوتی تھی۔ وہ وقتاً فوقتاً گوجرانوالہ آتے رہتے تھے اور کھوکھرکی گوجرانوالہ میں مسیحی دینیاتی تعلیم کے عالمی سطح کے ادارے فیتھ تھیولاجیکل سیمنری میں بھی مختلف حضرات سے ملاقات کے لیے جایا کرتے تھے۔ یاد پڑتا ہے کہ گوجرانوالہ کے معروف مسیحی عالم ڈاکٹر پادری کے ایل ناصر اور ان کے جریدہ ’’کلام حق‘‘ سے مجھے رانا صاحب نے ہی متعارف کروایا تھا اور میں غالباً ۱۹۹۰ء میں ایک مرتبہ ڈاکٹر کے ایل ناصر سے ملاقات کے لیے ان کے دفتر بھی گیا تھا۔
بہرحال غوری صاحب سے ملاقات کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اس موضوع پر زیادہ اعلیٰ سطحی تحقیقی کام کرنے والے حضرات بھی موجود ہیں۔ تاہم اس کے بعد ان کے ساتھ ربط ضبط یا استفادہ کا کوئی خاص موقع مجھے نہیں ملا تا آنکہ ۲۰۰۴ء میں، میں نے جناب جاوید احمد غامدی کے قائم کردہ ادارے ’’المورد‘‘ کے ساتھ بطور ریسرچ اسکالر وابستگی اختیار کر لی۔ غور ی صاحب بھی اس وقت سینئر ریسرچ اسکالر کے طور پر المورد سے وابستہ تھے اور خاص اپنے موضوع کے دائرے میں تحقیقی کام میں مصروف تھے۔ مجھے المورد کی ہفتہ وار علمی نشستوں میں شرکت کے لیے ہفتے میں ایک دو دن جانا ہوتا تھا۔ چنانچہ اگلے پانچ چھ سالوں میں غوری صاحب سے میل ملاقات، نشستوں اور گفتگووں کے مواقع مسلسل ملتے رہے۔ ان کی نہایت قیمتی ذاتی لائبریری کا بھی کچھ حصہ المورد میں ان کے دفتر میں موجود تھا اور وقتاً فوقتاً اس کی کتابیں الٹ پلٹ کر دیکھنے کا موقع بھی مجھے میسر آتا رہا۔
المورد کے ساتھ غوری صاحب کی بطور محقق وابستگی کا ایک خوب صورت پہلو یہ تھا کہ وہ خود مسلکاً اہل حدیث تھے اور مولانا اصلاحی کے اسلوب تفسیر پر ان کی ناقدانہ تحریریں بھی بعض جرائد میں چھپ چکی تھیں، لیکن یہ چیز اہل المورد کے لیے ان کے علم وفضل کی قدر دانی میں مانع نہیں ہوئی۔ ان کا شمار ادارے کے سینئر محققین اور بزرگوں میں ہوتا تھا اور وہ کسی قسم کی انتظامی جواب دہی سے بالکل بالاتر ہو کر اپنی ذاتی صواب دید پر اپنے تحقیقی کاموں کی انجام دہی میں مشغول رہتے تھے۔ المورد میں نماز باجماعت کی امامت بھی عام طور پر غوری صاحب ہی کراتے تھے اور مجھے بے شمار نمازیں ان کی اقتدا میں ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔
غوری صاحب قیام پاکستان کے موقع پر ریاست پٹیالہ کے کسی علاقے سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔ وہ تقسیم کے موقع پر ہونے والی قتل وغارت کے بعض چشم دید واقعات سنایا کرتے تھے اور اس موضوع کے حوالے سے خاصے حساس تھے۔ ۲۰۰۵ء میں بھارت سے ہمارے ایک دانش ور دوست یوگندر سکند پاکستان آئے تو میرے ایما پر ان کے ساتھ المورد میں بھی ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ غوری صاحب بھی اس میں موجود تھے۔ لاہور میں یوگندر سکند کی میزبان دیپ نامی ایک خاتون تھیں جو پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ایک خاص نقطہ نظر رکھتی تھیں۔ مذکورہ نشست میں انھوں نے غالباً تقسیم کے حوالے سے کوئی ایسی بات کہہ دی تو میں نے دیکھا کہ غوری صاحب خاصے جذباتی ہو گئے اور کافی سخت لہجے میں ان کی تردید کرتے ہوئے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ غالباً یہ واحد موقع تھا جب میں نے انھیں غصے کی حالت میں دیکھا۔ اس کے علاوہ عمومی طور پر وہ بڑے خوش گوار موڈ میں رہتے تھے۔
علمی وتحقیقی کتابوں کی تلاش اور پھر دوسرے اہل علم تک انھیں پہنچانا، غوری صاحب کا خاص ذوق تھا۔ اس مقصد کے لیے شہر کے کتب فروشوں ، خاص طور پر پرانی کتابیں بیچنے والوں اور کتابوں کی عمدہ ومعیاری فوٹو کاپی اور جلد بندی کرنے والے حضرات کے ساتھ ان کے خصوصی روابط تھے۔ الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے دائرۂ معارف امریکیہ (Encyclopedia Americana) کا ایک نسبتاً پرانا نسخہ غوری صاحب ہی کی عنایت سے نہایت ارزاں داموں مہیا ہوا۔ اس کے علاوہ بھی ان کی طرف سے فراہم کردہ متعدد علمی کتابوں کے مجلد عکسی نسخے میری ذاتی اور اکادمی کی لائبریری میں محفوظ ہیں۔ وہ کتاب کی عکسی نقل اور جلد بندی ایسے خوب صورت انداز میں کرواتے تھے کہ ایک نظر دیکھنے پر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا تھا کہ یہ اصل چھپی ہوئی کتاب ہے یا اس کی عکسی نقل۔
یہودیت ومسیحیت اور بائبل کا تحقیقی مطالعہ، جیسا کہ عرض کیا گیا، ان کا خاص موضوع تھا اور وہ اس کے نہایت بلند پایہ متخصص کا درجہ رکھتے تھے۔ اس حوالے سے ان کے متعدد نتائج تحقیق مقالات اور کتابوں کی صورت میں شائع ہو چکے ہیں۔ کتاب استثناء کی پیشین گوئی پر ان کا پرانا مقالہ معلوم نہیں کہ پایہ تکمیل کو پہنچا اور کہیں شائع ہوا یا نہیں، لیکن وہ نامکمل حالت میں بھی خاصے کی چیز ہے۔ ’’ذبیح کون ہے؟‘‘ کے موضوع پر ہمارے دینی لٹریچر میں اب تک کی آخری چیز مولانا حمید الدین فراہی علیہ الرحمہ کا رسالہ سمجھا جاتا ہے اور قرآن مجید اور تورات کے داخلی شواہد کی حد تک یقیناًاب بھی ہے، تاہم غوری صاحب نے اس بحث میں یہودی تاریخی لٹریچر سے متعلق بعض نکات کی تحقیق کے ضمن میں نمایاں علمی اضافہ کیا ہے اور ان کی یہ تحقیق المورد کے زیر اہتمام اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں شائع ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ کتاب زبور کے ایک پیراگراف پر مبنی ان کی تحقیقی کتاب بھی سامنے آ چکی ہے جس میں، غوری صاحب کی تحقیق کے مطابق، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کو بیان کیا گیا ہے۔ غوری صاحب اپنی شائع ہونے والی ہر نئی تصنیف بڑے اہتمام کے ساتھ مجھے عنایت فرماتے تھے اور یہ وعدہ بھی لیتے تھے کہ میں اس پر ’الشریعہ‘ میں تفصیلی تبصرہ کروں گا۔ افسوس ہے کہ ان کی طرف سے متعدد بار یاددہانی کے باوجود میں ان کی یہ فرمائش پوری نہیں کر سکا۔
۲۰۰۳ء؍۲۰۰۴ء میں جب میں نے مسجد اقصیٰ کی تولیت کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا تو اس پر غوری صاحب کا رد عمل خلاف توقع تھا۔ یہودیت ومسیحیت کے مطالعے سے ان کے خصوصی شغف کے تناظر میں میرا گمان یہی تھا کہ وہ بھی اس مسئلے کو ’’اسلامی غیرت‘‘ کے زاویہ نظر سے دیکھتے ہوں گے اور میرا نقطہ نظر انھیں پسند نہیں آئے گا، لیکن مجھے حیرانی ہوئی جب ایک موقع پر انھوں نے میرے نقطہ نظر سے اتفاق کیا اور کہا کہ مسلمانوں کو ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے اس معاملے میں یہودیوں کی مدد کرنی چاہیے۔
غوری صاحب نے مطالعہ یہودیت ومسیحیت کا یہ ذوق اپنی اگلی نسل کو بھی منتقل کیا ہے۔ ان کے فرزند برادرم ڈاکٹر احسان الرحمن غوری صاحب (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ علوم اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی، لاہور) کو اپنے والد محترم سے اس موضوع پر براہ راست تربیت پانے کا موقع ملا ہے اور انھوں نے اپنا ایم فل اور ڈاکٹریٹ کا تحقیقی کام بھی انھی موضوعات سے متعلق ان کی زیر نگرانی مکمل کیا ہے۔مجھے پوری امید ہے کہ وہ اس روایت کو نہ صرف زندہ رکھیں گے بلکہ اس میدان میں تحقیق ومطالعہ کی وسعتوں میں مزید اضافہ کریں گے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے مرحوم بزرگ کی دینی خدمات کا اعلیٰ سے اعلیٰ صلہ عطا فرمائے، ان کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے اور ان کے اَخلاف کو ان کے کیے ہوئے علمی وتحقیقی کام کا فیض زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
الشریعہ اکادمی میں بیتے دن
محمد عثمان فاروق
(دورۂ تفسیر قرآن ومحاضرات قرآنی سے متعلق مشاہدات وتاثرات)
۱۷ جون تا ۲۵ جولائی ۲۰۱۳ء، الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام علوم قرآنیہ کے شائقین کے لیے قرآن مجید کے ترجمہ وتفسیر اور توسیعی محاضرات کا اہتمام کیا گیا۔ ملک کے طول وعرض سے چالیس کے قریب طلبہ نے شرکت کی۔ جن دینی مدارس وجامعات سے طلبہ نے شرکت کی، ان میں جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ دار العلوم کراچی، جامعہ فاروقیہ کراچی، جامعہ فریدیہ اسلام آباد، جامعہ معارف القرآن اسلام آباد اور مدرسہ اشاعت الاسلام مانسہرہ قابل ذکر ہیں۔
دورہ کے نصاب میں بنیادی طور پر قرآن مجید کا مکمل ترجمہ اور تفسیری مباحث شامل تھے۔ جن اساتذہ نے تدریس کی ذمہ داری انجام دی، ان کے نام حسب ذیل ہیں:
۱۔ مولانا زاہد الراشدی (سورۂ فاتحہ تا التوبہ)
۲۔ مولانافضل الہادی (سورۂ یونس تا بنی اسرائیل، سورۃ الانبیاء تا النور)
۳۔ مولانا ظفر فیاض صاحب (سورۃ الکہف تا الانبیاء، سورۃ الفرقان تا فاطر)
۴۔ مولانا محمد یوسف صاحب (سورۂ یس تا الحجرات)
۵۔ مولانا محمد وقار صاحب (سورۂ ق تا القمر)
۶۔ مولانا حافظ محمد رشید صاحب (سورۃ الرحمن تا التحریم)
۷۔ مولانا عمار خان ناصر صاحب (سورۃ الملک تا الناس)
یہ کورس کل وقتی تھا او رطلبہ کے قیام وطعام کا انتظام اکادمی میں ہی تھا، اس لیے وقتاً فوقتاً علوم قرآنی سے متعلق مختلف عنوانات پر محاضرات بھی رکھے گئے جن کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے:
۱۔ استاذ گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب نے احکام القرآن اور معاصر وضعی قوانین پر ۲۰ خطبات دیے جن میں انسانی حقوق کا عالمی منشور، اسلام اور مغربی قوانین کا تقابلی مطالعہ، پاکستان کے تین دساتیر (۵۶ء، ۶۲ء اور ۷۳ء) کا اجمالی تعارف، حدود آرڈیننس، تحفظ حقوق نسواں بل، پاکستان میں نفاذ شریعت کی کوششوں کی تاریخ اور علماء کے مرتب کردہ ۲۲ دستوری نکات جیسے اہم مباحث پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
۲۔ گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ کے شعبہ سیاسیات کے استاذ میاں انعام الرحمن صاحب نے جدید معاشی وسیاسی تصورات اور تحریکوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ میاں صاحب نے طلبہ کو مروجہ افکار ونظریات سے واقفیت حاصل کرنے کی خاص طور پر ترغیب دی۔ وہ دوران گفتگو اکثر قدرے مسکراتے ہوئے کہتے تھے کہ ’’بھائی! معاصر افکار کو پڑھ لیا کریں۔ اس سے آپ کے ایمان ویقین پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔ پڑھ لیا کریں، فائدہ ہی ہوگا۔‘‘ میاں صاحب یہ بات مدارس کے طلبہ کو جگانے کے لیے کرتے تھے جو عام طور پر ضرورت سے زیادہ ذہنی تحفظات کا شکار اور نامعلوم خوف کے احساس میں مبتلا ہوتے ہیں۔
۳۔ حافظ محمد سلیمان اسدی صاحب نے قدیم اور جدید تفاسیر کا تعارف کروایا اور مفسرین کے اسالیب ومناہج پر روشنی ڈالی جس سے طلبہ کو سلف وخلف کی اہم تفسیری کاوشوں سے شناسائی ہوئی۔ یہ گفتگو اس لحاظ سے بھی دلچسپ تھی کہ کم وقت میں اسدی صاحب نے طویل موضوع کو سمیٹ لیا۔
۴۔ سرگودھا یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فیروز شاہ کھگہ صاحب نے، جو جامعہ اشرفیہ لاہور سے فارغ التحصیل ہیں، تحریک استشراق اور قرآن مجید پر مستشرقین کے اعتراضات کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ ڈاکٹر صاحب کی تقریر بہت فکر انگیز، لبہ ولہجہ بے حد شستہ اور اسلوب دل نشین تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے پنجاب یونیورسٹی سے اسی موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے اثنائے گفتگو میں عربی مدارس کے نصاب اور طریقہ تدریس کے کمزور پہلوؤں کی طرف نہایت دردمندی اور خلوص کے ساتھ توجہ دلائی اور کہاکہ دور حاضر میں اسلام کو مختلف چیلنج درپیش ہیں جن میں الحاد، اباحیت پسندی، اسلام اور پیغمبر اسلام کے متعلق مستشرقین کے پھیلائے ہوئے شبہات وغیرہ شامل ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ مسلکی اور فقہی وفروعی اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں اور مسلم امہ کو جو اصل خطرات درپیش ہیں، ان سے نظریں چرائے بیٹھے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ قرآن وسنت کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ جدید علوم مثلاً نفسیات، معاشیات، سماجیات اور مغربی فکر وفلسفہ بھی پڑھیں اور حکمت، تدریج اور خیر خواہی کے ساتھ معاشرے میں دعوت واصلاح کا کام کریں۔
۵۔ جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد صاحب نے ’’قرآن فہمی میں حدیث وسنت سے استفادہ کے مختلف پہلو‘‘ کے عنوان پر تفصیلی لیکچر دیا۔ مفتی صاحب نے تحقیقی اور فنی تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے بہت سادہ اور دل نشین پیرایے میں قرآن مجید اور حدیث وسنت کے باہمی تعلق کی وضاحت کی اور بتایا کہ قرآن مجید اور حدیث کا تعلق متن وشرح، اجمال وتفصیل، دعویٰ ودلیل کا ہے۔ ہدایت منبع وسرچشمہ قرآن اور صاحب قرآن دونوں ہیں اور یہ نقطہ نظر درست نہیں کہ راہ نمائی کے لیے قرآن مجید کافی ہے۔ مفتی صاحب نے قرآن مجید اور احادیث وآثار کے مختلف دلائل سے حدیث وسنت کی حجیت اور اس کی استنادی حیثیت کو اجاگر کیا۔
۶۔ ڈاکٹر عبد الماجد حمید مشرقی صاحب نے ’’دعوت دین کی راہ میں رکاوٹیں اور ان کا حل‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔ انھوں نے آسان اور عملی مثالوں کی مدد سے یہ بات سمجھائی کہ دعوت وتبلیغ کا کام کرنے والوں کو اخلاص، خیر خواہی اور حکمت وفراست کا حامل ہونا چاہیے، اس راہ کی مزاحمتوں اور موانع کو خندہ پیشانی اور صبر وتحمل کے ساتھ برداشت کرنا چاہیے اور اس معاملے میں داعئ اعظم کے اسوہ اور آپ کے صحابہ کرام کی سیرت کو مشعل راہ بنانا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب نے دعوت کے اس تصور کو ناقص قرار دیا جس میں صرف صوم وصلوٰۃ کو پیش نظر رکھا جاتا ہے اور لوگوں کے سماجی ومعاشی مسائل ومشکلات کو حل کرنے، ان کے دکھ درد میں شریک ہونے اور ان کے مسائل نمٹانے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے یہ واقعہ سنایا کہ جب پہلی مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبریل علیہ السلام سے سامنا ہوا اور پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ خوف کی حالت میں گھر واپس تشریف لائے۔ حضرت خدیجہ کے پوچھنے پر آپ نے سارا ماجرا سنایا۔ اس موقع پر حضرت خدیجہ نے ان الفاظ میں آپ کو تسلی دی کہ:
کلا واللہ لا یخزیک اللہ ابدا، انک لتصل الرحم وتحمل الکل وتکسب المعدوم وتعین علی نوائب الحق (صحیح بخاری)
’’ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بے یار ومددگار نہ چھوڑے گا، کیونکہ آپ تو صلہ رحمی کرنے والے ہیں، بے سہاروں کا سہارا ہیں، غریبوں کے دکھوں کا مداوا کرتے ہیں اور ہر جائز کام میں لوگوں کی امداد واعانت کرتے ہیں۔‘‘
مشرقی صاحب نے کہا کہ قرآن مجید میں دعوت کے لیے دعوت الی اللہ کی تعبیر وارد ہوئی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دعوت، اللہ کی بندگی اور عبدیت کی طرف دی جانی چاہیے نہ کہ کسی مخصوص گروہ یا نظریات کی طرف۔ دعوت دین کا موضوع ایمان، اخلاق، ترک رذائل اور اکتساب فضائل ہونا چاہیے۔ دعوت بالکل سادہ اور فطری اسلوب میں ہونی چاہیے اور ہر قسم کے تکلف، تصنع اور بناوٹ سے پاک ہونی چاہیے۔
۷۔ ادارۂ تحقیقات اسلامی ، اسلام آباد سے مولانا سید متین احمد شاہ صاحب تشریف لائے اور ’’قرآن مجید کا ابلاغی اعجاز‘‘ اور ’’قرآن مجید کی سائنسی تفسیر کا جائزہ‘‘ کے عنوانات پر پرمغز گفتگو کی۔ مولانا نے بڑے مدلل اورمفصل انداز سے قرآن کی فصاحت، بلاغت، ایجاز، اختصار اور اثر انگیز کلام ہونے کو آیات قرآنیہ کی مثالوں سے بیان کیا۔ سائنسی تفسیر کے ضمن میں انھوں نے کہا کہ دور حاضر میں سائنس اور اس کی ایجادات ودریافتوں کے زیر اثر کچھ اہل علم نے آیات کی تشریح وتفصیل کرنی شروع کر دی ہے جو غیر محتاط رجحان ہے کیونکہ سائنسی نظریات میں آئے روز تغیر وتبدل ہوتا رہتا ہے اور مفروضات، تجربات اور مشاہدات میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ اس لیے خدا کے لاریب کلام کو انسانی نظریات کی آمیزش سے الگ ہی رکھنا چاہیے۔ مولانا نے کہا کہ علم کے ذرائع میں وحی، وجدان، تجربہ، مشاہدہ ، اسناد وروایات میں بے خطا اور حتمی ذریعہ علم صرف اور صرف وحی ربانی یعنی قرآن مجید ہی ہے۔
۸۔ دورۂ تفسیر کے طلبہ کے لیے گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں بھی ایک محاضرے میں شرکت کا اہتمام کیا گیا جس کا انعقاد شعبہ علوم اسلامیہ میں ایم فل کے طلبہ کے لیے کیا گیا تھا۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ فقہ وقانون کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد مشتاق احمد صاحب نے ’’جہاد اور اس کی عصری تطبیقات: چند سوالات‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔ مشتاق صاحب قدیم فقہی ذخیرے کے ساتھ ساتھ مروجہ بین الاقوامی قانون پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے عصر حاضر میں جہاد، مزاحمت اور مختلف جہادی سرگرمیوں پر تفصیلی خیالات پیش کیے اور موجودہ زمانے کے بعض اہل علم کے افکار پر نقد بھی کیا۔ آخر میں شرکاء کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات واشکالات کے جواب بھی دیے۔ الشریعہ اکادمی کی طرف سے موصوف کی کتاب ’’جہاد، مزاحمت اور بغاوت‘‘ بھی شائع کی گئی ہے جس کا مقدمہ استاذ گرامی مولانا زاہد الراشدی صاحب نے لکھا ہے۔
۹۔ جمعیت علماء اسلام کے راہ نما حافظ نصیر احمد احرار صاحب نے ’’شیخ الہند کی تفسیری خدمات‘‘ پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ مولانا محمود الحسن صاحب نے کس طرح مختصر حواشی میں معانی وحکمت کا دریا کوزے میں بند کر دیا ہے۔ ان کی گفتگو مجموعی طور پر مفید تھی، البتہ راقم کا طالب علمانہ احساس ہے کہ تحقیق واستدلال کا عنصر کم اور عقیدت وتقدس کا پہلو غالب تھا۔
دورۂ تفسیر کے تمام اساتذہ علم وفضل اور اخلاق وکردار کا مثالی نمونہ تھے اور طلبہ نے سب سے استفادہ کیا، لیکن راقم تین اساتذہ سے متعلق قدرے تفصیل سے اپنے تاثرات وجذبات کا اظہار کرنے کی جسارت کرنا چاہے گا جن سے نجی مجالس میں بھی سیکھنے او رمختلف امور پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا۔ ان میں (۱) مولانا زاہد الراشدی صاحب، (۲) مولانا فضل الہادی صاحب اور (۳) مولانا عمار خان ناصر صاحب شامل ہیں۔
مولانا زاہد الراشدی صاحب
مولانا اخلاص، سادگی، بے نفسی اور توازن واعتدال کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ مزاج میں شگفتگی، تواضع اور رواداری غالب ہے۔ پوری توجہ سے سوالات اور اشکالات سنتے اور محبت آمیز انداز میں جواب دیتے ہیں۔ جو سوال ان کے ذوق یا مطالعہ کے میدان سے باہر ہو تو صاف کہہ دیتے ہیں کہ ’’مجھے معلوم نہیں۔ آپ فلاں عالم سے پوچھ لیں یا فلاں صاحب علم کی کتاب دیکھ لیں۔‘‘ جب کسی فاضل ومحقق کی بات پر نقد کرتے تو ساتھ ازراہ تفنن یہ کہتے کہ ’’مغالطہ لگتا ہے اور بڑوں بڑوں کو لگتا ہے۔‘‘ اسی طرح وہ اپنے سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والوں سے بھی مناظرے کے بجائے مکالمے کا اسلوب اختیار کرتے ہیں۔ طلبہ سے اکثر ایک بات بہ تکرار واعادہ کہتے تھے کہ ’’اپنے سے مختلف سوچ رکھنے والوں کا موقف غور سے سننا چاہیے اور ان کی زبانی سننا چاہیے۔‘‘ ایک مرتبہ اہل علم کے باہمی اختلافات او رمعاصرت کے حوالے سے انھوں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ حکیمانہ قول سنایا کہ:
استمعوا علم العلماء ولا تصدقوا بعضہم علی بعض فو الذی نفسی بیدہ لہم اشد تغایرا من التیوس فی زروبہا (جامع بیان العلم لابن عبد البر)
’’اہل علم سے علم کی بات سیکھا کرو، لیکن ان کی باہمی چپقلش سے محتاط رہا کرو۔ خدا کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، یہ آپس میں ایسے اختلاف کرتے ہیں جیسے باڑے میں بندھے ہوئے بکرے سینگ لڑاتے ہیں۔‘‘
استاذ گرامی مولانا راشدی صاحب کی صحبت سے ایک بات یہ بھی سیکھی کہ امت کے تمام دبستان فکر اور مخلص ومحقق علماء وداعیان دین اور ان کا علمی وفکری کام ہم سب کی مشترکہ میراث ہے اور ایک طالب علم کو ہر قسم کے تعصبات، گروہ بندیوں اور شخصی وفاداریوں سے بالاتر ہو کر ان سے اخذ واستفادہ کرنا چاہیے اور یہ اصول ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ’خذ ما صفا ودع ما کدر‘۔
مولانا کسی عالم ومحقق کی چند منفرد آرا ونظریات پر تنقید کرتے ہوئے اس کی تنقیص پر اتر آنے اور پھر اسے ’لاخیرا‘ قرار دینے کے رویے پر بھی ماتم کناں نظر آتے۔ مولانا نے کہا کہ جہاں تک تفردات وشذوذات کا تعلق ہے تو وہ تقریباً تمام اہل علم کے ہوتے ہیں۔ اگر ہم چند اختلافات کی وجہ سے استفادہ کرنا چھوڑ دیں تو پھر کسی عالم سے بھی کچھ نہ سیکھ پائیں گے، کیونکہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی بھی شخص معصوم اور خطا سے پاک نہیں۔ امام دار الہجرت امام مالک نے بالکل بجا فرمایا ہے:
کل یوخذ قولہ ویرد الا صاحب ہذا القبر۔
’’ہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی، سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے۔‘‘
مولانا نے ایک بات یہ بھی سمجھائی کہ دین کے مسلمات اور نصوص میں تو ہمیں آخری، قطعی اور حتمی یقین وجزم رکھنا چاہیے، لیکن جہاں تک ان کی تعبیرات، تفصیلات اور فروعات کا تعلق ہے تو اس معاملے میں دل ودما غ کو کھلا رکھنا چاہیے، غور وفکر کرنا چاہیے اور اہل علم سے مسلسل سیکھنا چاہیے۔ اسلاف کے ساتھ ساتھ اخلاف اور روایت پسند اہل علم کے ساتھ ساتھ معتدل جدید مفکرین ومحققین سے بھی سیکھنا چاہیے۔
ایک نجی مجلس میں دوران گفتگو میں راقم نے مصر کے مصنف ڈاکٹر عبد الحلیم ابو شقہ کی کتاب ’’تحریر المراۃ المسلمۃ فی عہد الرسالۃ‘‘ کی بابت مولانا کی رائے معلوم کی تو مولانا کہنے لگے، بہت اچھی کتاب ہے اور مصنف نے بڑی عرق ریزی سے کتاب وسنت کی روشنی میں اسلام میں عورت کا مقام، معاشرتی زندگی میں اس کا دائرہ عمل، پردہ، ملازمت، ازدواجی زندگی، غرضیکہ عورت سے متعلق تمام امور پر بحث کی ہے اور بڑی اجتہادی شان سے لککھا ہے۔ اباحیت پسندی اور شدت پسندی کی دو انتہاؤں کے مابین راہ اعتدال اختیار کی ہے۔ ایک طالب نے یہ باتیں سن کر کہا کہ مولانا! ہمارے معاشرے میں تو اس طرح کے جدید اہل علم اور مصنفین کو تجدد پسند، جدت پسند اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا جاتا ہے۔ مولانا نے جواب دیا کہ جس طرح تجدد پسندی کا رویہ غلط ہے، اسی طرح تجمد پسندی بھی قابل اصلاح ہے۔ ہماری مذہبی فکر اس وقت بہت افراط وتفریط کا شکار ہے۔ مثلاً مغرب کے بارے میں رویے کو ہی دیکھ لیں۔ کچھ لوگ مغرب سے منسوب ہر چیز کو حتیٰ کہ اس کی ایجادات کو بھی غلط سمجھتے ہیں۔ انھیں کسی معاملے میں خیر اور استفادے کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔ دوسری طرف کچھ طبقات ایسے بھی ہیں جو مغرب اور اس سے منسوب ہر چیز کو عین معیار حق سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی چیز یا نظریہ کے صحیح اور غلط ہونے کا معیار صرف مغرب ہے۔ اب یہ دونوں رویے اور زاویہ نگاہ عدم توازن کا شکار ہیں۔ ہمیں تجزیہ وتحلیل کر کے مفید بات کو لینا ہے اور ناقص یا غلط بات کو ترک کر دینا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کو ہر وقت مستحضر رکھنا چاہیے کہ خیر الامور اوسطہا۔ بہترین معاملات وہی ہیں جن میں میانہ روی اختیار کی جائے۔
مولانا نے کہا کہ انسان جس طرح اخلاقی، مادی اور روحانی وجود رکھتا ہے، اسی طرح اس کا ایک نفسیاتی وجود ہے اور انسانی نفسیات بہت پیچیدہ ہے۔ اس لیے حب وبغض، قرب وبعد کے معاملے میں بہت احتیاط اور مزاج کا ٹھہراؤ چاہیے۔ نہ محبت اور عقیدت میں اندھا ہونا چاہیے اور نہ اختلاف ونفرت میں شدت اختیار کرنی چاہیے۔ پھر انھوں نے امام شافعی کا شعر سنایا:
وعین الرضا عن کل عیب کلیلۃ
ولکن عین السخط تبدی المساویا
ترجمہ: جب انسان محبت ورضا کی نظر سے دیکھے تو ہر عیب ونقص سے نظر اٹھ جاتی ہے، لیکن جب نفرت وناراضگی کی نظر ڈالتا ہے تو خامیاں اور عیوب ونقائص ہی نظر آتے ہیں۔
مولانا اکثر کہتے تھے کہ توازن اس دنیا کا سب سے مشکل کام ہے اور حقیقت کو پالینا اور اس پر قائم رہنا بہت بڑی سعادت ہے۔
مولانا کی ایک بڑی خوبی جو انھیں دوسرے داعیان وقائدین سے ممتاز کرتی ہے، وہ ان کی حق پسندی، اپنے سے اختلاف کرنے والوں سے حسن ظن رکھنا اور ان کے کارناموں کا اعتراف کرنا ہے۔ ایک مرتبہ ایک طالب علم نے ہندوستان کے مشہور عالم و مصنف مولانا وحید الدین خان صاحب کی شخصیت اور کام کے متعلق مولانا کی رائے پوچھی تو مولانا کہنے لگے، خان صاحب بڑے عبقری انسان، بہترین مصنف، وسیع المطالعہ عالم اور داعی الی اللہ ہیں۔ ان کا اصل میدان تزکیہ و اصلاح اور دعوت و تبلیغ ہے اور وہ تمام معاملات پر اسی دائرے میں گفتگو کرنے کے خوگر ہو گئے ہیں۔ ان کا لٹریچر دور حاضر کی نفسیات، مزاج اور ذہنی سطح کے عین مطابق ہے اور وہ جدید محاورے اور اسلوب سے پوری طرح آشنا ہیں۔ تذکیر القرآن (دو جلدوں میں قرآن مجید کی تفسیر)، مذہب اور علم جدید کا چیلنج، تعبیر کی غلطی (دین کی انقلابی تعبیر پر مفصل نقد) اور سفر نامے و ڈائریاں وغیرہ قابل استفادہ ہیں۔ لیکن چونکہ ہر انسانی کام اجتہادی ہوتا ہے جس میں عدم توازن اور غلطی کا پورا امکان ہوتا ہے اس لیے خان صاحب کے بعض افکار و نظریات سے مجھے اختلاف ہے، جس میں ان کا تصور جہاد، دین کے دیگر شعبوں میں ہونے والے کام کی نفی، علماء سلف پر ان کی تند و تیز تنقیدات، توہین رسالت کے مرتکب کے لیے سزائے موت کا انکار وغیرہ شامل ہیں۔
راقم الحروف مولانا کی بات سن کر سوچ رہا تھا کہ خود پسندی و خود رائی کے اس دور میں جبکہ ہر گروہ کل حزب بما لدیھم فرحون کا عملی مظاہرہ کر رہا ہے، اور ہر با صلاحیت شخص جو کچھ پڑھ لکھ کر بول لیتا ہے، اعجاب کل ذی رأی برأیہ کی پیش گوئی کے مصداق کامل بنا ہوا ہے، ایسے میں مولانا کی شخصیت گوہر نایاب ہے۔ اگرچہ انہوں نے کوئی جماعت یا انجمن نہیں بنائی لیکن وہ اپنی ذات میں انجمن ہیں۔ ان کے ذہن پر کوئی مخصوص فکر، رجحان یا ’ازم‘ بھی مسلط نہیں ہے۔ وہ تزکیہ و احسان، دعوت و تبلیغ، جہاد و قتال، اصلاح معاشرہ اور اسلامی حکومت کے قیام غرضیکہ ہر شعبے اور میدان میں ہونے والی خدمت دین کی تحسین کرتے ہیں اور ہر شخص کو اپنی صلاحیت، استعداد، مزاج اور افتاد طبع کے مطابق ان کاموں میں تعاون کی ترغیب دیتے ہیں۔
ایک طالب علم نے سبق کے بعد مولانا سے کہا کہ آج کل علمی حلقوں میں آپ کے افکار کے حوالے سے بہت باتیں ہو رہی ہیں اورفلاں عالم دین تو آپ پر بہت شدید تنقید کرتے ہیں اورآپ کے نظریات، عمار صاحب اور بالخصوص آپ کے مجلہ الشریعہ کی ’’آزادانہ غور و فکر‘‘ اور ’’مکالمہ و مباحثہ‘‘ کی پالیسی پر برستے ہیں۔ مولانا نے یہ ساری بات بڑے اطمینان اور ٹھیراؤ کے ساتھ سنی اور پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگے، بیٹا! کوئی بات نہیں۔ وہ سب ہمارے دوست ہیں اور دوستوں کا حق ہوتا ہے۔ جس بات کو وہ درست سمجھتے ہیں پوری جرأت، متانت اور سنجیدگی سے اپنی بات کہنے کا حق رکھتے ہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ امت کے مختلف مکاتب فکر اور زاویۂ نگاہ رکھنے والے لوگوں میں مکالمہ ہو، بات چیت ہو تاکہ اختلافات کم ہوں اور غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات دور ہوں۔ مسلم معاشرے میں ہونے والی علمی و تحقیقی، دعوتی و اصلاحی، رفاہ عامہ اور معاشرے کی اسلامی تشکیل نو، غرضیکہ دین کے لیے ہونے والی ہر سنجیدہ کاوش کے حوالے سے مولانا نے کہا کہ ان سب میدانوں اور سطحوں پر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سب کاموں میں وقت لگانے والے لوگوں میں سے یہ دعویٰ نکل جائے کہ ’’جو جدوجہد ہم کر رہے ہیں، وہی بالکل ٹھیک اور مطلوب کام ہے۔‘‘
اصلاحِ فرد و معاشرہ اور اسلامی انقلاب و اقامتِ دین کے علمبرداروں کی باہمی کشمکش کی بابت مولانا کہنے لگے کہ اصل میں جن لوگوں کا رخ فرد اور معاشرے کی اصلاح کی طرف ہے وہ حکومت و نظم اجتماعی کو اسلام کے قوانین کے مطابق ڈھالنے اور ریاستی و انتظامی اداروں میں دین کی بالادستی کی طرف وہ توجہ نہیں دیتے جو فی الواقع دینی چاہیے۔ اور اس کے برعکس جو لوگ تبدیلئ حکومت اور نفاذِ شریعت کی بات کرتے ہیں وہ مقاصد و وسائل کے فرق کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے۔ اور فرد کے تزکیہ و تطہیر کو جو دین کا مقصود و مطلوب ہے، کی دین میں فیصلہ کن حیثیت کو بعض اوقات نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ حکومت و ریاست، کسی بھی معاشرے کا عکس ہوتی ہے اور معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے۔ مولانا کے نزدیک حکومت کو اسلامیانے کے عمل سے قبل معاشرے میں تزکیہ و احسان، تعلیم و تربیت، تحقیق و اجتہاد اور دعوت و اصلاح کا کام بڑی حکمت، دل سوزی، تدریج اور محنت سے کرنے کی ضرورت ہے اور ایک سیاسی انقلاب سے قبل تہذیبی، ثقافتی اور سماجی تبدیلی از بس ضروری ہے۔
مولانا فضل الہادی صاحب
استاذ محترم فضل الہادی صاحب مرنجان مرنج طبیعت کے مالک ہیں، طلبہ سے نہایت مشفقانہ بلکہ دوستانہ برتاؤ کرتے ہیں۔ جامعہ دارالعلوم کراچی سے فارغ التحصیل ہیں اور مولانا سرفراز خان صفدر صاحبؒ سے ترجمہ و تفسیر پڑھنے کی سعادت حاصل ہے۔ عربی زبان و ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں اور فی البدیہہ عربی اشعار کہتے ہیں۔ ایک مرتبہ دوران سبق داعی اور دعوت کا جو موضوع زیر بحث آیا تو کہنے لگے کہ داعی کو تین چیزوں کا خصوصی التزام کرنا چاہیے:
ا) اللہ تعالیٰ سے عبدیت و استعانت کا خصوصی تعلق۔
ب) مخاطبین کو اپنے سے بہتر سمجھنا۔
ج) دعوت و تبلیغ کے بعد توبہ و استغفار کی کثرت۔
پھر آپ نے بانئ تبلیغی جماعت مولانا الیاسؒ کا ملفوظ سنایا:
’’بندہ مومن کے ہر نیک عمل کا آخری جزو، اعتراف تقصیر اور خشیت رب ہونا چاہیے۔‘‘ (ملفوظات مولانا الیاسؒ ، مرتبہ مولانا منظور نعمانیؒ )
دین کے داعیان اور معلمین پر نفس اور شیطان کا سب سے مہلک اور قوی حملہ خود نمائی، شہرت پسندی اور انانیت کا ہوتا ہے۔ استادِ محترم نے اس ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں تین منجیات اور تین مہلکات کا ذکر ہے، کہا کہ ہلاک کرنے والی چیزوں میں تیسری چیز نام و نمود اور خود پسندی ہ جسے رسول اکرم ؐ نے واعجاب المرء بنفسہ وھی اشدھنّ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی حب جاہ تو پہلی دو مہلکات (خواہش نفس کی پیروی اور بخل و کنجوسی) سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے سلف صالحین میں سے کسی کا قول سنایا کہ ’’کاملین کے ہاں سے جو چیز سب سے آخر میں رخصت ہوتی ہے، وہ حب جاہ و خود پسندی ہے۔‘‘
اس مرض کا علاج تجویز کرتے ہوئے استاد محترم نے طلبہ کو ادعیہ ماثورہ، مسنون اذکار، تنہائی میں طویل نفل نماز اور محاسبۂ نفس کی ترغیب دی۔ استاد محترم قرآن مجید کی تفسیر کرتے ہوئے قدیم عربی تفاسیر کے حوالہ جات بھی دیتے ہیں۔ ان میں روح المعانی، کشاف، زاد المسیر،قرطبی اور طبری وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ’انشراحِ صدر‘ کی تعریف کرتے ہوئے آپ نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا یہ اثر سنایا:
التجافی عن دار الغرور، و الانابۃ الی دارالخلود و استعداد الموت قبل نزولہ۔
ترجمہ: ’’انشراح صدر کا مطلب ہے کہ انسان اس دارِ فانی سے دل نہ لگائے بلکہ آخرت جو ہمیشہ ہمیش کا گھر ہے، اس کی طرف یکسو ہو اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے تیاری کی فکر کرے۔‘‘
اسی طرح خدا کے متعلق استواء علی العرش ہونے کی تفصیل امام مالکؒ کے اس قول کی روشنی میں بتائی:
الاستواء معلوم، و کیفیتہ مجھول، والسوال عنہ بدعۃ۔
ترجمہ: ’’خدا کے عرش پر مستوی ہونے کا مطلب معلوم ہے، لیکن اس کی ہیئت اور کیفیت ہمیں معلوم نہیں اور اس بارے میں سوال اور کھود کرید کرنا بدعت ہے۔‘‘
ایک مرتبہ دوران تدریس استاد محترم نے اکابرین دیوبند میں سے مولانا قاسم نانوتوی صاحبؒ اور مولانا اشرف علی تھانوی صاحبؒ کی کتب کی بعض عبادات پر ’مہربان دوستوں‘ (جس سے استاد محترم کی مراد بریلوی مکتبہ فکر کے علماء ہیں) کے کفر و فسق کے فتاویٰ کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلاف کی تحریروں میں اگر کوئی بات کمزور یا خلاف تحقیق معلوم ہو تو پہلے حتی الوسع تاویل و توجیہ کرنی چاہیے۔ کیونکہ اہل ایمان اور خصوصًا گزرے ہوئے نیک صالحین اہل علم سے حسن ظن اور عقیدت رکھنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ان کی بات کو موقع محل اور اس خاص پس منظر میں سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے، پھر اس کے بعد کوئی رائے قائم کرنی چاہیے۔ ویسے بھی ہماری امت کی علمی روایت میں یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ ’’ہمیں سلف صالحین کی خامیاں اپنی طرف اور اپنی خوبیاں ان کی طرف منسوب کرنی چاہئیں‘‘۔ حدیث میں آتا ہے کہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ:
لعن آخر ھذہ الامّۃ اوّلھم۔
ترجمہ: ’’اس امت کے آخری دور کے لوگ، گزرے ہوئے لوگوں پر زبانِ طعن دراز کریں گے۔‘‘
ایک طالب علم نے پوچھا کہ کیا ہم اپنے بزرگوں اور اساتذہ سے اختلاف رائے کر سکتے ہیں؟ استاد محترم نے جواب دیا کہ اگر ایک طالب علم وسیع مطالعہ کا حامل ہے اور تجزیہ و تحلیل کی صلاحیت سے بھی بہرہ ور ہے تو ادب و احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے بزرگوں اور والدین و اساتذہ کی تمام تر علمی عظمت و جلالت کے با وصف مختلف سوچ رکھ سکتا ہے۔ ویسے بھی امام مالکؒ کا قول ہے:
کل یؤخذ قولہ و یرد الّا صاحب ھٰذ القبر۔
’’ہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی، ما سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے۔ ‘‘
پھر کہنے لگے، غالباً امام ابن قیمؒ نے الفوائد میں اپنے استاد امام ابن تیمیہؒ کی نسبت لکھا ہے کہ ’’ہمیں اپنے استاد (ابن تیمیہؒ ) سے بہت محبت ہے لیکن حق بات سے محبت ان سے بھی بڑھ کر ہے۔‘‘
محقق علماء سے استفادے کے ضمن میں استاد محترم نے ایک اہم بات یہ بھی سمجھائی کہ یہ دور تخصص کا ہے، لہٰذا کسی بھی علم اور فن کے ماہر سے اس کے متعلقہ میدان میں جس کا وہ شہ سوار ہے، استفادہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ ہر شخص ہر میدان کا اہل نہیں ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ ایک عالم حدیث کے علم پر مہارت رکھتا ہو، لیکن فقہ یا تاریخ میں اس کا علم اتنا عمیق نہ ہو۔
الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے اس دور میں دانشوروں اور مقررین کی بھیڑ ہوگئی ہے جو آئے روز دین کی من پسند اور نت نئی تاویلات کرتے نظر آتے ہیں۔ استاد محترم نے اس تناظر میں کہا کہ سوائے چند مستثنیات کے میڈیا پر آنے والے زیادہ تر صاحبان علم ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہوتے ہیں اور ہر سوال کا آخری و حتمی جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی معاملے میں لا علمی کا اظہار اپنی شان کے منافی سمجھتے ہیں۔ یہ کوئی علمی اور متواضع رویہ نہیں ہے۔ سلف صالحین کا مزاج بالکل مختلف تھا۔ اگر ان سے کوئی ایسی بات پوچھی جاتی جس کا جواب انہیں معلوم نہ ہوتا تھا تو وہ صاف کہہ دیتے تھے کہ ’’لا ادری‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ ’لا ادری‘ کہنے کو ’نصف العلم‘ کہا گیا ہے۔
ٹی وی چینلز پر مختلف موضوعات پر ہونے والے ٹاک شوز اور مذاکروں پر نقد کرتے ہوئے استاد محترم نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں نے تو قوم کا مزاج بگاڑ دیا ہے اور بے حسی اور انتشار ذہنی میں اضافہ کیا ہے۔ شرکاء مذاکرہ کی حالت بھی یہ ہوتی ہے کہ ان میں سے ہر شخص ’عقل کل‘ ہونے کا مدعی ہوتا ہے (الا ما شاء اللہ)۔ مخاطب کی بات توجہ سے سننے کی بجائے ’دندان شکن‘ جواب سوچنے لگتا ہے اور افہام و تفہیم کی بجائے سارا زور ’لینا، پکڑنا اور جانے نہ دینا‘ پر ہوتا ہے۔ استاد محترم نے ائمہ سلف میں سے کسی کا واقعہ سنایا کہ جب کبھی ان کا اپنے سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والے شخص سے کسی بات پر مباحثہ ہوتا تو وہ بارگاہِ خداوندی میں پہلے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ یا اللہ میرے مخالف کی زبان پر حق جاری کر دے اور میری سوچ کی غلطی مجھ پر کھول دے۔
مولانا عمار خان ناصر
استاد گرامی جناب عمار خان ناصر صاحب صالحیت اور صلاحیت کا حسین امتزاج ہیں۔ وسعت مطالعہ، غور و فکر، عاجزی و تواضع اور تحمل و رواداری آپ کی نمایاں صفات ہیں۔ سلف کے ساتھ ساتھ خلف اور روایت پسند اہل علم کے ساتھ ساتھ معتدل جدید محققین اور مفکرین سے بھی بھرپور اور یکساں استفادہ کرتے ہیں۔ وہ ’ہم غیر جانبدار نہیں بلکہ حق کے طرفدار ہیں‘ کا مصداق ہیں۔ حق پسندی کا یہ عالم ہے کہ جس بات کو حق سمجھتے ہیں، اپنوں اور بیگانوں کی مخالفت کی پروا کیے بغیر کہتے اور لکھتے ہیں۔
معاصر مفکرین اور داعیان سے استفادے کے حوالے سے عمار صاحب نے کہا کہ میں نے مولانا وحید الدین خان صاحب اور جناب جاوید احمد غامدی صاحب سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ خاص طور پر خان صاحب کی فکر انگیز تحریریں اور تزکیہ و دعوت پر ان کا قیمتی لٹریچر بڑا قیمتی ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب سے تلمذ کے تعلق کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ جاوید صاحب کی شخصیت، علم و تحقیق کی گہرائی و گیرائی اور خاص طور پر ان ے علمی رویے نے جس میں حد درجہ تواضع و انکساری ہے، مجھے بے حد متاثر کیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خان صاحب اور غامدی صاحب کی ہر بات اور ہر تحقیق درست ہے۔ مجھے ان دونوں اصحاب علم کے بہت سے نقطہ ہائے نظر سے اختلاف ہے اور میں نے اپنی تحریروں میں اس اختلاف کا اظہار بھی کیا ہے۔ استاد محترم نے کہا کہ ایک طالب علم کے لیے سیکھنے کے اعتبار سے مخصوص نتائج فکر سے زیادہ اہم چیز کسی صاحب علم کا زاویۂ نگاہ ہوتا ہے۔ استاد گرامی نے رجال دین سے اخذ و استفادہ اور تلمذ کے حوالے سے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا قول سنایا:
لا یقلدنّ احدکم دینہ رجلًا، فان آمن آمن، وان کفر کفر، وان کنتم لا بدّ مقتدین فاقتدوا بالمیّت فانّ الحیّ لا تؤمن علیہ الفتنۃ۔ (معجم طبرانی)
ترجمہ: ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے دین کے معاملے میں اپنی باگ کسی کے ہاتھ میں نہ دے دے کہ اگر وہ ایمان لائے تو ایمان لے آئے اور اگر وہ کفر پر راضی وہ جائے تو یہ بھی کفر پر راضی ہو جائے، اور اگر تمہیں پیروی کرنی ہی ہے تو کسی گزرے ہوئے شخص کی کرو کیونکہ جو شخص زندہ ہے وہ آزمائش سے محفوظ نہیں ہے۔‘‘
تزکیہ و احسان اور تصوف و سلوک کی بابت پوچھنے پر استاد محترم نے کہا کہ بلاشبہ دین کا مقصد فرد کے علم، عمل اور مزاج تینوں جہات سے تزکیہ و تطہیر ہے اور دین کا اصل مخاطب بھی فرد ہی ہے، لہٰذا تزکیہ کی حیثیت دین میں بنیادی اور اساسی ہے۔ باقی جہاں تک تصوف و سلوک کا اور خاص طور پر اس کی تعبیرات کا تعلق ہے تو اصطلاح سے قطع نظر مقاصد بالکل ٹھیک ہیں، یعنی ذوق عبادت، حسن معاشرت، اللہ کی مخلوق سے ہمدردی و غمگساری، خدمت خلق، رفاہ عامہ، فرد میں انکساری، عفو، ایثار اور نفئ ذات کے جذبات کو پروان چڑھانا وغیرہ۔ لیکن تصوف کے علم کلام، فلسفیانہ مباحث اور بالخصوص ایسے افکار جو کتاب و سنت سے ہم آہنگ نہیں ہیں، ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں استاد محترم نے مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تجدیدی و اصلاحی مساعی کا ذکر کیا اور کہا کہ مولانا نے بڑی حد تک تصوف و سلوک کو شریعت کا پابند بنایا ہے اور یہ ان کی بڑی خدمت ہے۔ امام غزالیؒ کا تصوف جو صرف خواص کے لیے تھا، مولانا تھانوی نے عوام الناس کی سطح پر اور ان کی نفسیاتی وعملی ضروریات کے لحاظ سے اس کی تفہیم کی ہے اور اصلاح نفس اور اصلاح معاشرہ کے لیے قابل قدر اور قیمتی مواد تصنیف کیا ہے۔ استاد گرامی نے مزید کہا کہ دور حاضر میں سندھ کے ایک صوفی منش عالم حافظ موسیٰ بھٹو صاحب نے مولانا تھانویؒ کی مشکل اور ادق تحریروں کو آسان اور عام فہم بنانے کے لیے بڑی تگ و دو کی ہے اور تصوف کی مروجہ خرافات اور ناقص تشریحات کو بڑی حکمت اور دلسوزی کے ساتھ ہدف تنقید بنایا ہے۔ موسیٰ بھٹو صاحب کی شخصیت کے حوالے سے استاد محترم نے کہا کہ ان کے مزاج میں بہت ٹھیراؤ ہے اور ان کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ قدیم علماء اور محقق صوفیاء کے ساتھ ساتھ جدید اہل علم کے کام پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور جدید ذہن کی نفسیات سے بھی آگاہ ہیں۔
ایک مرتبہ ایک طالب علم نے عمار صاحب سے پوچھا کہ ہمارے محلے کی مسجد کی دیوار پر یہ اشتہار لکھا ہوا ہے کہ ’’اپنے مسلک کے علماء کے علاوہ کسی دوسرے کی کتاب نہیں پڑھنی چاہیے، کیونکہ اس سے انسان گمراہ ہو جاتا ہے‘‘۔ طالب علم نے پوچھا ، استاد محترم! یہ بات کس حد تک درست ہے؟ تو عمار صاحب نے (قدرے مسکراہٹ کے ساتھ) جواب دیا کہ یہ بات بس اس دیوار پر لگے اشتہار کی حد تک درست ہے۔ سب طلبہ یہ سن کر مسکرانے لگے۔ پھر استاد گرامی نے کہا کہ ایک عام آدمی کو آپ ذہنی خلفشار سے بچانے کے لیے یہ بات کہیں تو کسی حد تک اس کا جواز بنتا ہے،لیکن دین کے طالب علم جو کل معاشرے میں جائیں گے اور سماج کی راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیں گے، ان کو آخر یہ آپ کیا ذہنیت دے رہے ہیں؟ کیوں ان کے سروں پر کنٹوپ چڑھا رہے ہیں؟ عالم کی صفات میں ایک نمایاں وصف جو قدیم فقہی لٹریچر میں بیان کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ: ان یکون بصیرًا بزمانہ۔ عالم وہ ہے جو اپنے زمانے سے واقف ہو۔ استاد محترم نے طلبہ سے کہا کہ دین کا مطالعہ ہر قسم کی تنگ نظری، جانبداری اور تعصب سے بالاتر ہو کر کرنا چاہیے۔ جو خیر جہاں سے ملے، ضرور لینی چاہیے اور اس معاملے میں عرفی تاثر اور لوگوں کی کڑوی کسیلی باتوں کی بالکل پروا نہیں کرنی چاہیے۔
استاد محترم نے ایک نوجوان فاضل اور محقق مبشر نذیر صاحب کے کام کو بھی سراہا جنہوں نے تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، اسلامی تحریکات، تصوف اور مذاہب عالم کے تقابلی مطالعہ پر تعلیم وتدریس کے پہلو سے قابل قدر کام کیا ہے اور ان کی بڑی خوبی یہ ہے کہ تمام دبستان فکر اور اہل علم و فکر سے یکساں استفادہ کیا ہے اور غیر جانبدارانہ اور تقابلی (Comparative) اسلوب اختیار کیا ہے۔
دین کی انقلابی تعبیر پر بات کرتے ہوئے، جسے عام طور پر ’’اقامت دین‘‘ کے عنوان سے معنون کیا جاتا ہے، استاد گرامی نے کہا کہ یہ احساس کہ مسلمانوں کو اپنا نظم اجتماعی یا بالفاظ دیگر حکومت و ریاست کے امور دین کی تعلیمات کے مطابق چلانے چاہئیں، اپنی اصل کے اعتبار سے بالکل ٹھیک ہے، بلکہ دین کے مطالبات میں سے ہے۔ مسلمان جس طرح بحیثیت فرد اللہ اور رسول کی تعلیمات کا پابند ہے۔ اسی طرح ایک مسلم معاشرے میں ریاستی و انتظامی معاملات بھی کتاب و سنت کے قوانین و احکام کے مطابق ہونے چاہئیں۔ لیکن یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اسلامی حکومت کا قیام حالات، امکانات اور مواقع کے لحاظ سے ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ حکومت و ریاست بالذات مقصود نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ دین کے نفاذ سے قبل ایک خاص حد تک دین کا نفوذ ہونا چاہیے۔ تزکیہ، دعوت، تعلیم اور تدریس کے نتیجے میں جب معاشرہ میں اسلامی تعلیمات سے قلبی و ذہنی ہم آہنگی پیدا ہوگی تو اللہ تعالیٰ کو اگر منظور ہوا تو ہماری حکومت بھی انصاف اور مساوات کے اصولوں کو پیش نظر رکھ کر معاملات سر انجام دے گی۔
استاد محترم نے کہا کہ مرور ایام کے ساتھ اس فکر میں عدم توازن پیدا ہوتا گیا جس سے اس فکر کے حاملین میں انقلاب کی سوچ اتنی غالب ہوتی گئی کہ دین کی روح اور اس کا داخل نظر انداز ہوتا گیا اور جدوجہد کا سارا مرکز و محور خارج میں منتقل ہوگیا۔ نتیجتاً دین قریب قریب اسٹیٹ کے مترادف ہوگیا اور اس کا روحانی پہلو کمزور ہوتا چلا گیا۔ اس تعبیر کے اثرات دین کے مقاصد، دعوت دین اور غیر مسلموں سے تعلقات کی نوعیت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے حدود و شرائط، نظم اجتماعی میں خروج، جہاد و قتال کا تصور اور اس کی نوعیت و دائرہ کار، انبیاء کی دعوت اور ان کا مقصد بعثت، یہ اور اس طرح کے دوسرے بہت سے اہم امور پر پڑے۔ چنانچہ ہندوستان کے جلیل القدر مفکر مولانا علی میاں ندویؒ کو قلم اٹھانا پڑا اور انہوں نے ’’عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح‘‘ لکھ کر انقلابی فکر کے ناقص پہلوؤں کی طرف بڑی سنجیدگی، اخلاص اور درد مندی سے توجہ دلائی۔ اس کے علاوہ مولانا وحید الدین خان صاحب نے ’’تعبیر کی غلطی‘‘ کی شکل میں اس فکر پر مفصل نقد کیا۔
راقم نے استاد گرامی سے ان کی پسندیدہ کتب کے متعلق پوچھا تو جواب دیا کہ علم دین کے دائرے میں قرآن مجید کے بعد مجھے تین کتابیں بہت پسند ہیں:
(ا) مسند احمد بن حنبل
(ب) کتابِ مقدس (بائبل )
(ج) صفۃ الصفوۃ لابن الجوزی (جو ابو نعیم کی ’حلیۃ الاولیاء‘ کی تلخیص ہے)
رمضان کے مہینے میں تراویح عمار صاحب کی اقتدا میں پڑھنے کا موقع ملا۔ تراویح کی نماز کے بعد وہ نماز میں پڑھے گئے قرآن مجید کے حصے کا خلاصہ بھی بیان کرتے تھے۔ ایک مرتبہ تراویح و خلاصہ کے بعد گفتگو کے دوران راقم نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ صاحب کے جاری کردہ دورۂ ترجمہ قرآن کے پروگرام کی طرف استاد گرامی کی توجہ مبذول کرائی تو استاد محترم نے کہا کہ عوام الناس کا قرآن مجید سے تعلق جوڑنے کے لیے یہ بہت اچھا پروگرام ہے اور ڈاکٹر صاحبؒ کی حسنات میں سے ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن مجید کے پیغام کو سادہ اور دلنشین اسلوب میں فقہی اور فنی باریکیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے لوگوں تک پہنچایا جائے۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر صاحبؒ کا درس قرآن عوامی سطح پر بہت مؤثر ہوتا تھا۔ ہمارے ہاں بہت کم لوگ ہیں جو جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے سامنے اتنے موثر پیرایے میں قرآن مجید کا ترجمہ و تشریح کر سکتے ہیں۔
سبق کے بعد ایک مرتبہ ایک طالب علم نے استاد محترم سے کہا کہ آج کل آپ کی شخصیت مختلف حلقوں کی طرف سے اعتراضات کا نشانہ ہے، اس حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں؟ عمار صاحب نے کہا کہ میں بھی انسان ہوں اور میری کسی تحریر میں غلطی اور نقص کا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اختلاف رائے فطری چیز ہے۔ بس طالب علمانہ اسپرٹ کے ساتھ سیکھتے رہنے اور خوب سے خوب تر کی جستجو کرتے رہنا اصل چیز ہے۔ ہمارے معاشرے میں بد قسمتی یہ ہے کہ یہاں علمی رویہ مفقود ہے۔ غور و فکر کرنا اور مخاطب کی بات کو سننا، نہ ہونے کے برابر ہے۔ لوگ اپنے اپنے خول اور مسلکوں کے حصار بنا کر انھی میں جی رہے ہیں اور ان سے باہر نکل کر دوسرے کی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ لیکن اس چیز سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ قرآن مجید میں سورۃ رعد میں ایک قاعدہ کلیہ بیان کیا گیا ہے:
فامّا الزّبد فیذھب جفآءً وامّا ما ینفع النّاس فیمکث فی الارض۔
ترجمہ: ’’سو جو جھاگ ہوتا ہے، وہ سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے، لیکن جو چیز لوگوں کے لیے نفع بخش ہوتی ہے، وہ زمین میں ٹھیری رہتی ہے‘‘۔
پھر کہنے لگے کہ ہم نے الشریعہ کی صورت میں ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے کی ایک ادنیٰ سی کاوش کی ہے تاکہ امت کے مختلف طبقات کے درمیان مکالمہ کی صورت پیدا ہو، کشیدگی ختم ہو اور ایک دوسرے کی بات کو سننے اور غور و فکر کرنے کی راہ ہموار ہو۔
استاد محترم سے پوچھا گیا کہ لوگوں سے ہمارا اختلاف ہوتا ہے اور بعض اوقات بات کشیدگی تک پہنچ جاتی ہے تو اس ضمن میں ہمیں کیا رویہ اور طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟استاد محترم نے کہا کہ جب غور و فکر اور مطالعہ و تحقیق کرتے ہوئے آپ کسی نئے نقطہ نظر یا فکر سے متاثر ہوں تو فوراً انھی نتائج فکر پر قانع ہو کر اس کے پر جوش داعی و علمبردار نہیں بننا چاہیے، بلکہ غور و مطالعہ کا سلسلہ مزید جاری رہنا چاہیے اور چیزوں کو ایک لگے بندھے انداز میں دیکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ مخاطب کو اپنی بات زیادہ سنانے کی بجائے تواضع سے اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دین کا سچا طالب علم کبھی خود پسند، متکبر اور جلد باز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کثرت مطالعہ اور کثرت دعا و استغفار کے التزام سے اللہ تعالیٰ انسان کے دل میں نور بصیرت پیدا کر دیتے ہیں جس سے الجھنیں اور اشکالات دور ہو جاتی ہیں۔
دورہ کے نصاب کی بہتری کے لیے چند تجاویز
راقم اپنے محدود علم، مشاہدے اور تجربے کی بنا پر چند تجاویز و مشورے پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہے:
ا) تزکیہ و احسان کے مباحث پر بھی محاضرات رکھے جائیں۔ خاص طور پر امام نوویؒ ، ابن قدامہؒ ، ابن قیمؒ ، ابن جوزیؒ اور ابن عبد البرؒ جیسے اساطین علم و فضل کی کتابوں کے منتخبات کا مطالعہ کروایا جائے تاکہ ایک تو سلف صالحین کے دینی فہم، ذوق، ترجیحات اور اسلوب سے آگاہی حاصل ہو اور ساتھ ساتھ طلبہ میں عربی دانی کی استعداد بڑھے۔
ب) دعوت دین اور معاشرہ و حکومت کی اسلامی تشکیل نو کے لیے اصول و مبادی اور طریقۂ کار کے موضوعات کو بھی خصوصی جگہ دی جائے تاکہ علم دین سیکھنے کے بعد طلبہ اپنے سماج اور ماحول میں جا کر اپنی استعداد، میلان طبع اور ذوق کے مطابق دعوت و اصلاح کا کام کر سکیں اور انذار، دعوت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے حوالے سے دین کی تفویض کردہ ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
ج) جدید مغربی فکر و فلسفہ کے تعارف پر مبنی کچھ محاضرات کا بھی انعقاد کیا جائے تاکہ طلبہ حالات کے رخ اور تقاضوں سے واقف ہوں۔
د) نفسیات کے موضوع پر بھی کچھ مواد شامل نصاب ہونا چاہیے تاکہ دین کے طالب علم جنہوں نے کل معاشرے میں راہ نمائی کا فریضہ سر انجام دینا ہے، انسان کی نفسیات، محرکات، افتاد طبع اور رجحان سے واقف ہوں۔
اکیڈمی کی انتظامیہ خاص طور پر ناظم اکیڈمی مولانا محمد عثمان صاحب، مولانا وقار احمد، مولانا حافظ محمد رشید اور ان کی پوری ٹیم بے حد شکریے کی مستحق ہے جنہوں نے طلبہ کے قیام، طعام اور دوسری ضروریات کا خاطر خواہ بندوبست کیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان سب کو ایمان، صحت اور عافیت کی دولت حاصل ہو، آمین۔
مکالمے کی نئی راہیں
محمد عامر خاکوانی
پچھلے ڈیڑھ دو برسوں کے دوران سوشل میڈیا سے میرا رابطہ خاصا بڑھا ہے۔ میری دلچسپی دوسری ویب سائیٹس میں پیدا نہیں ہو سکی، فیس بک البتہ شروع ہی سے مجھے دلچسپ لگی۔ میرے کئی دوستوں کو ٹوئٹر زیادہ پسند ہے اور ان کے خیال میں اس کے ذریعے زیادہ بہتر ابلاغ ہو سکتا ہے۔ ایسا ہوتا ہوگا، مگر مجھے تو ٹوئٹر خاصا بور لگا۔ جو بات فیس بک میں ہے، وہ ادھر نہیں۔ ممکن ہے آگے جا کر ٹوئٹر میں دلچسپی پیدا ہو جائے۔ فیس بک کا ایک بڑا فائدہ میں نے یہ دیکھا کہ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کا باہمی رابطہ او ر انٹرایکشن اس نے ممکن بنا دیا۔ متضاد سوچ کے حامل وہ لوگ جو کبھی ایک محفل میں اکٹھے نہیں ہو سکتے، ان کے لیے مخالف نقطہ نظر کو سننا اور سمجھنا بھی ممکن نہیں، فیس بک نے ان کی مشکل آسان کر دی ہے۔ کئی جگہوں پر تو اتنی عمدہ بحث دیکھی کہ دل خوش ہو گیا۔ اہم فکری ایشوز پر دوستوں نے بات کی اور نہایت تحمل کے ساتھ دوسروں کے جواب بھی سنے۔ اس طرح کے فورمز پر گفتگو کا اسلوب یہی ہونا چاہیے کہ اپنا نقطہ نظر پوری طرح وضاحت اور دلائل کے ساتھ بیان کر دیا جائے اور پھر جواباً بھی ایسا ہی کیا جائے۔ چیٹ کی طرز پر ایک ایک دو دو فقروں میں سوال جواب سے خلط مبحث ہوتی ہے، کوئی کارآمد چیز برآمد نہیں ہوتی۔ ایک اچھا کام یہ ہوا کہ بہت سے لوگوں نے اردو ٹائپنگ سیکھ لی یا وہ گوگل ٹرانسلیٹر وغیرہ استعمال کر کے اردو میں طویل نوٹ لکھتے ہیں۔ اس سے ابلاغ میں زیادہ آسانی ہو جاتی ہے۔
ایک بات البتہ مجھے شدت سے محسوس ہوئی کہ یہاں بھی بیشتر لکھنے والوں نے اپنے اپنے ڈیرے ہی بنا رکھے ہیں۔ وہ اپنے صفحات پر کالم وغیرہ پوسٹ کر دیتے ہیں اور ان کے مداح ان پر تبصرے کر دیتے ہیں۔ متبادل یا اختلافی رائے کم ہی نظر آئی۔ مجھے لگتا ہے کہ ایسے مشترکہ فورم کی ضرورت ہے جہاں کالم نگار اور تجزیہ نگار اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کر سکیں اور کالموں پر ہونے والے سنجیدہ نوعیت کے سوالات کے جوابات بھی دے سکیں۔ اس طرح کے کسی فورم پر جانے میں کم از کم مجھے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ میں دانستہ طور پر ساتھی کالم نگاروں کے فیس بک صفحات پر کمنٹس کرتا رہتا ہوں تاکہ ان صفحات کو وزٹ کرنے والوں کے لیے مختلف آرا ایک ہی جگہ پر میسر آ سکیں۔ برادرم رؤف کلاسرا نے ایک ویب سائٹ کی بنیاد ڈالی تھی جہاں مختلف لکھنے والے اپنی تحریریں بھیجتے رہتے، مگر اپنی مصروفیت کے باعث وہ اسے وقت نہیں دے پائے۔ اس سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے کسی کو آگے آنا چاہیے۔
اسی طرح بہت سے صفحات ایسے ہیں جہاں پر کسی خاص مکتب فکر یا سکول آف تھاٹ کے لوگ ہی اکٹھے ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی سے متاثر فکر کے نوجوانوں کے اپنے پیج ہیں اور وہ ایک دوسرے کی پوسٹ ہی آگے بڑھاتے ہیں۔ کم وبیش یہی حال علامہ طاہر القادری یا زید حامد وغیرہ کے حامی کرتے ہیں۔ ایک خوشگوار تبدیلی میں نے روایتی دینی حلقوں میں دیکھی۔ چونکہ اب کئی جامعات میں کمپیوٹر کی تعلیم دی جا رہی ہے اور وہاں سے فارغ التحصیل افراد کی تعداد بھی خاصی ہو چکی، دینی مدارس سے فارغ التحصیل یہ لوگ اب فیس بک پر آ چکے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ دینی مدارس اور ان کے طلبہ کا حلقہ مین اسٹریم سے کٹا ہوا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں کا مدارس کے ساتھ کہیں پر، کسی بھی نوعیت کا انٹر ایکشن موجود نہیں۔ مختلف پبلک یونیورسٹیوں کے طلبہ کے وفود جب دوسرے صوبوں یا شہروں کی یونیورسٹیوں کا وزٹ کرتے ہیں، اس سے باہمی مکالمہ کی فضا قائم ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ جامعہ کراچی یا جام شورو یونیورسٹی جائیں تو یہ صرف طلبہ کے ایک وفد کا وزٹ نہیں، بلکہ دو مختلف ماحول اور مختلف مزاج میں کام کرنے والی جامعات کے طلبہ کا انٹر ایکشن بھی ہے۔ اس کی اپنی افادیت ہے۔ اس طرح کا انٹر ایکشن دینی مدارس اور جدید یونیورسٹیوں کے طلبہ کے درمیان موجود نہیں۔ اگر لمز، فاسٹ اور نسٹ وغیرہ کے طلبہ جامعہ رشیدیہ یا جامعہ بنوریہ جائیں تو ان کی بہت سی غلط فہمیوں کا خاتمہ ہوگا اور مدارس کی حقیقی تصویر سامنے آئے گی۔ کم وبیش یہی صورت حال مدارس کے طلبہ کے پبلک یا نجی یونیورسٹیوں کے وزٹ کے بعد پیدا ہوگی۔
ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ روایتی دینی حلقوں کا ہمارے سماج کے ساتھ بھی قریبی تعلق نہیں۔ روایتی طور پر جسے مولوی کہا جاتا ہے، اسے ہم نے اپنے سماج کا حصہ بنایا ہی نہیں۔ صرف اسے نماز پڑھانے، بچوں کو قرآن پاک پڑھانے یا پھر مخصوص مواقع پر مختلف رسومات کی ادائیگی کے قابل ہی سمجھا ہے۔ انھوں نے فلم یا کسی کلچرل فیسٹیول میں تو کیا جانا ہے، ان کے بارے میں ازخود تصور کر لیا جاتا ہے کہ انھوں نے کسی علمی ادبی سرگرمی میں حصہ نہیں لینا۔ کچھ قصور ان کا بھی ہوگا، مگر ہم نے بھی انھیں ساتھ ملانے کی سعی نہیں کی۔ مولوی یا مدارس کے طلبہ اور فارغ التحصل طلبہ، حتیٰ کہ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کے نوجوانوں کو کھیلوں وغیرہ سے بھی دور ہی رکھا جاتا ہے۔ محلے کی کرکٹ ٹیم میں اگر کوئی باریش لڑکا شامل ہو جائے تو اس کا مذاق اڑایا جاتا اور حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اگرچہ جامعۃ الرشید جیسے چند ایک مدارس ایسے ہیں جنھوں نے جدید ترین تعلیم کو اپنے اداروں کا حصہ بنایا، یوں آئی ٹی، بزنس ایڈمنسٹریشن اور مینجمنٹ جیسے میدانوں کے لیے تربیت یافتہ نوجوان تیار کیے، مسئلہ مگر یہ ہے کہ اس معیار کے مدارس دو چار ہی ہیں۔ ہمارے دانش وروں اور گھنٹوں نان ایشوز پر ضائع کرنے والے اینکروں کو اس سوال کا جواب ڈھونڈنا چاہیے کہ معاشرے سے کٹے ہوئے اس حصے کو کس طرح مین اسٹریم کے ساتھ شامل کرنا ہے۔ ویسے مدارس کی داخلی دنیا کے حوالے سے بھی خاصا کچھ کرنے کی ضرورت ہے، مگر یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔
فیس بک نے البتہ یہ کمی کسی حد تک پوری کی ہے۔ مجھے بعض مدارس سے تعلق رکھنے والی ممتاز دینی شخصیات کے صفحات نظر آئے ہیں۔ اگرچہ ان میں زیادہ تر دینی اور اصلاحی نوعیت کا مواد ہی دیا جا رہا ہے، مگر چلو یہ لوگ فیس بک پر تو آ گئے۔ مفتی ابو لبابہ شاہ منصور جیسے ممتاز لکھاری جن کی خاصی بڑی ریڈر شپ ہے، وہ اگر سنجیدہ بحث ومباحثہ کے لیے کوئی پیج بنائیں جہاں روایتی دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ ہم جیسے دنیا دار بھی اپنی رائے دے سکیں، ایسی صورت میں باہمی مکالمے کی اچھی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ محترم المقام مولانا زاہد الراشدی نے اپنے ماہانہ جریدے ’الشریعہ‘ کی صورت میں بڑا عمدہ اور معیاری علمی، فکری فورم مہیا کر رکھا ہے۔ ان کے اسکالر صاحب زادے عمار ناصر فیس بک پر خاصے فعال ہیں۔ وہ الشریعہ کے فورم کو سوشل میڈیا پر بھی متحرک کر سکتے ہیں۔ فیس بک کے نقصانات اپنی جگہ ہیں، اس کی زیادتی وقت کے ضیاع کا باعث بنتی ہے، اس لیے توازن ضروری ہے، مگر اس نے مکالمے کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ان امکانات کو کس قدر بروئے کار لاتے ہیں۔
(بشکریہ روزنامہ دنیا)
کیا مرزا قادیانی ہوش مند اور ذی فہم شخص تھا؟
مولانا محمد یوسف لدھیانوی
مولانا عبد الماجد دریاآبادیؒ مرزا قادیانی کو غیر معمولی عقل و علم کا شخص اور فہیم و ذی ہوش کا لقب پوری سادگی کے ساتھ دیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کی شخصی زندگی کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے، اس کی طفلی، شباب اور پیری کے واقعات اور احوال پر نظر غائر رکھنے، اس کے تمام معاملات پر غور کرنے، اور اس کی تحریرات کو بنظر صحیح دیکھ جانے کے بعد میرا خیال تھا کہ کوئی شخص بشرطِ عقل سلیم اس کو زیرک، دانا، عاقل، عالم، ذی فہم اور ہوش مند قرار نہیں دے سکتا، الّا یہ کہ خود اسی کے حواس ماؤف ہوگئے ہوں۔ پہلی دفعہ مولانا کی تحریر پڑھ کر یہ جدید انکشاف ہوا کہ مرزا صاحب کے ثناخوانوں اور اس کو فہیم و ذی ہوش قرار دینے والوں میں مولانا دریا آبادی جیسے فہیم اور ذی علم لوگ بھی شامل ہیں:
سوخت عقل ز حیرت کہ ایں چہ بو العجبی است
خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ مولانا کے ذہن میں فہیم اور ذی ہوش کا مفہوم کیا ہے؟ اور وہ کن بنیادوں پر مرزا صاحب کو فہیم اور ذی ہوش لکھ ڈالنے پر اپنے کو بے بس پاتے ہیں؟
کسے نکشو دونکشاید بحکمت ایں معمارا !
شواہد فہم مرزا !
مرزا غلام احمد قادیانی جن کے نزدیک ۔۔۔ بقول مرزا محمود ۔۔۔ ہر شخص بڑے سے بڑا مرتبہ حاصل کر سکتا ہے، حتیٰ کہ ۔۔۔ خاک بدہن گستاخ ۔۔۔ محمد رسول اللہ ۔۔۔ بآبائنا و أمہاتنا ۔۔۔ سے بھی بڑھ سکتا ہو۔ ان کے فہم و ہوش اور غیر معمولی عقل و علم کا اندازہ لگانے میں مولانا دریا آبادی اب تک قاصر ہیں۔
جس کے نزدیک مسیح علیہ السلام کو ’’کنجریوں سے میلان اور صحبت رہی ہو‘‘۔ ایک متقی انسان کی صفات سے وہ عاری ہوں‘‘، ’’زنا کار کسبیاں زنا کاری کا پلید عطر ان کے سر پر اور اپنے بالوں کو ان کے پاؤں پر ملتی ہوں‘‘، مولانا دریا آبادی مصر ہیں کہ وہ ذی علم اور ہوش مند تھا ۔۔۔!
جو گستاخ، سیدنا مسیح علیہ السلام کے پورے خاندان کو بطور تعریض و تہکم ’’پاک اور مطہر‘‘ بتلاتا ہو، ان کی تین دادیوں اور نانیوں کو ۔۔۔ العیاذ باللہ ۔۔۔ ’’زنا کار اور کسبی‘‘ بتلاتے ہوئے شرم نہیں کرتا، اور زنا کار خانوادے سے آپ کے وجود کے ظہور پذیر ہونے کو انکشاف کرتا ہو، وہ مولانا کے نزدیک غیر معمولی عقل مند تھا ۔۔۔!
جو بد زبان، حضرت مسیح علیہ السلام کو شرابی، یوسف نجار کا بیٹا، ان کے قرآن میں ذکر کردہ معجزات کو مکروہ عمل، قابل نفرت، اعجوبۂ نمایاں قرار دیتا ہو، اور ان کے معجزات کو مٹی کے کھیل سے زیادہ وقعت نہ دیتا ہو، مولانا چند آزاد ذہنوں سے مرعوب ہو کر اسے ’’فہیم اور ذی ہوش‘‘ مانتے ہیں ۔۔۔ !
جو ’’ہوش مند‘‘ اعلان کرتا ہو کہ ’’مسیح علیہ السلام ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں اتارنے سے قریب قریب ناکام رہے‘‘ اور ان سے کوئی معجزہ نہ ہوا‘‘، حیف ہے کہ وہ مولانا دریا آبادی کے نزدیک ’’غیر معمولی عقل و علم کا شخص‘‘ تھا ۔۔۔!
جو فرعون صفت بار بار قسم کھا کھا کر مسیح علیہ السلام سے افضلیت کا دعویٰ رکھتا ہو، اور جو یہ اعتقاد نہ رکھے، اسے ’’مبتلائے وسوسۂ شیطانی‘‘ قرار دیتا ہو، کون دانش مند اس کے حق میں مولانا دریا آبادی کا یہ خطاب تسلیم کرے گا کہ وہ فہم و ہوش اور عقل و علم کا تھا‘‘ ۔۔۔!
جس غیر معمولی عقل و علم کے شخص نے اپنی تصنیفات میں بار بار یہ لکھا ہو کہ ’’مریم بتول نے ایک مدت تک بے نکاح رہ کر اور حاملہ ہو جانے کے بعد بزرگان قوم کی ہدایت اور اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر کے تعلیم توراۃ کی خلاف ورزی کی، بتول ہونے کے عہد کو توڑا، تعدد ازواج کی قبیح رسم ڈالی‘‘، اس کو ’’فہیم اور ذ ی ہوش‘‘ تسلیم کرنا، اور پورے ’’شرح صدر‘‘ کے ساتھ تسلیم کرنا، مولانا دریا آبادی ہی کی ہمت ہے ۔۔۔!
(مرسلہ: مولانا اللہ وسایا صاحب، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان)
مادی ترقی کا لازمہ ۔ واہمہ یا حقیقت؟
محمد ظفر اقبال
یہ زمانہ انسانی فکر اور معاشرے کی ہر سطح پر مغربی افکار اور تہذیب کے غلبے کا زمانہ ہے۔ جدید مغربی تہذیب اپنی ابتدا سے اب تک خالص مادیت کی علم بردار رہی ہے۔ مادی ترقی [material progress] ہی کے باعث مغرب آج پوری دنیا پر عملاً متصرف ہے۔ ماریہ سبرٹ لکھتی ہیں:
It was progress which had permitted Europeans to 'Discover' the whole world, and progress which would explain their growing hegemony over the global horizon.۱
اس حقیقت کے بالمقابل یہ بھی امر واقعہ ہے کہ مسلمان مادی ترقی میں بہت پیچھے ہیں۔ مغرب کی مادی ترقی اور فتوحات کا عروج، امت مسلمہ پر مغرب کے تسلط اور یلغار کی مسلسل اور متواترسرگرمیاں اور مسلمانوں کی استخلاف فی الارض سے محرومی نے مسلم دنیا کو عجیب و غریب صورت حال سے دو چار کر رکھا ہے۔ مسلمان اس وقت بیک وقت چار ادوار میں ایک ساتھ زندہ ہیں:
[۱] مسلمانوں کا دینی و مذہبی پس منظر تقریباً ۱۵۰۰ سال قدیم ہے۔
[۲] مسلمانوں کا معاشرتی ڈھانچہ کم و بیش سترھویں اٹھارویں صدی کا ہے۔
[۳] مسلمان عملاً بیسویں صدی میں جی رہے ہیں۔
[۴] مسلمانوں کی معلومات اکیسویں صدی کی ہیں ۔
اس صورت حال نے مسلم دنیا کو عجیب مخمصے میں مبتلا کررکھا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہ حیثیت قوم مسلمان ایک شکست خوردہ دنیا کے باسی ہیں جو اپنی سمت اور مقام کے تعین میں سرگرداں ہو۔ گزشتہ ڈیڑھ صدیوں میں امت مسلمہ کے علمی نمائندوں نے زوال امت کے تعین کی جستجو میں جو تحریری سرمایہ جمع کیا ہے، اسے پڑھ کر بہ طور امت مسلم شناخت کاسوال پوری شدت کے ساتھ سامنے آجاتا ہے۔کیا واقعی مسلمان اپنی شناخت کا غالب حصہ کھو چکے ہیں؟ اورباقی ماندہ مسلسل کھو رہے ہیں؟ زوال امت کے اسباب اور تجزیوں کا غالب حصہ آپس میں متضاد اور متصادم معلوم ہوتا ہے۔ اور اس پوری بحث کے تفصیلی مطالعے کے بعد سوائے الجھاؤ کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
زوال سے دوبارہ کمال کی بازیافت کے لیے حکمت عملی اور لائحہ عمل کے حوالے سے مسلم اہل فکر و قلم بالعموم تین نقاط نظر کے حامی معلوم ہوتے ہیں:
مادّی ترقی اصل الاصول اور مذہب چند کلیات کا نام ہے: مفکرین کا پہلا طبقہ:
پہلا طبقہ قلیل افراد کے ایسے گروہ پر مشتمل ہے جس کے نزدیک مادی ترقی[material progress] کا حصول اصل الاصول ہے۔ غالب تعقل [dominant discourse] کے ساتھ چلنا ہی حقیقی دانش مندی ہے۔ مذہب اگر انسانوں کے لیے آیا ہے تو اس کے قابل قبول ہونے کی شرط لازم یہ ہے کہ وہ زمانے کے کسوٹی پر کسے جانے کے بعد اس سے کھرا نکل آئے۔ بہ صورت دیگر مذہب اکیسویں صدی میں رہنے والے معراج ارتقا پر فائز عقلیت اور تجربیت پسند انسانوں کے لیے اپنے اندر کشش کا کوئی سامان نہیں رکھتا۔ دنیا میں کامل انہماک، تمتع فی الارض اور تسخیر کائنات ہی فی الحقیقت دانش مندی اور فطرت کا تقاضا ہے۔ مذہب چند اصولی ہدایات اور کلیات کا نام ہے۔ اس کا تعلق انسان کی ذاتی اور انفرادی زندگی سے ہے۔ انسان کی اجتماعی زندگی اور معاشرتی معاملات کے ہر ہر پہلو میں مذہب کی ’’دراندازی‘‘ ہر گز قابل قبول نہیں۔ عہد جدید میں معاشرے مذہب کی بنیاد پر تعمیر و تشکیل نہیں پاتے بلکہ ترقی، ارتقا، معیار زندگی، سہولت، آسائش، طاقت، اقتدار اور سرمائے کی بنیاد پر قائم کیے جاتے ہیں۔ اور ان ہی اصولوں پر جانچے اور پرکھے جاتے ہیں۔ اگر اس مسلّمہ حقیقت کے باوجود بھی انسانی معاشرے کا کوئی طبقہ مذہب سے اپنا تعلق استوار اور قائم رکھنے پر مصر ہوتو اسے چاہیے کہ جرمن اور فرنچ قومیتوں کی طرح مسلم قومیت کی وحدت کو اپنے ساتھ ملحق رکھ کر مادی ترقی کے کسی بھی سیاسی، سماجی، عمرانی، معاشی یاقانونی ماڈل کو اختیار کر لے۔ اگر مادی ترقی کی راہ میں اسلامی علمیات [Islamic Epistemology] اور مابعد الطبیعیات [Metaphysics] میں تبدیلی، ترمیم یا تنسیخ کرنی پڑے تو اسے بے خوف و خطر قبول کرلینا چاہیے۔ عزت اور ذلت کافیصلہ کن اور حتمی معیار ’’مادی ترقی‘‘ ہے۔
یہ طبقہ مغربی افکار و تہذیب اور فکر و فلسفے کو ایک عالم گیر سچائی اور فطری حقیقت کے طور پر قبول کرتا ہے۔ مذہب اوردینی اخلاقیات اس طبقے کی نظر میں ازکار رفتہ باتیں ہیں، اور ذہن انسانی کی عدم بلوغت [immaturity] کی یادگار ہیں۔ اس طبقے سے وابستہ مفکرین بالعموم ادب، فلسفہ، عمرانیات اور معاشیات کے شعبوں سے وابستہ ہوتے ہیں، اس طبقے کے وہ افراد جو بر عظیم سے وابستہ ہیں، ان کی اکثریت اسلامی علوم اور دینی مصادر علمی تک بہ راہ راست رسائی نہیں رکھتے۔ اسلامی فکر سے متعلق ان کے خیالات کا بنیادی حوالہ مستشرقین ہی کی کتابیں ہیں۔ اس وقت اسلامی دنیا میں مغرب کے زیر اثر ’’بنیاد پرستی‘‘ کے خلاف جنگ میں اس طبقے سے وابستہ افراد کی خدمات وسیع پیمانے پر حاصل کی جارہی ہیں۔ عصری تعلیمی اداروں میں ’’روشن خیالی‘‘ کی ترویج کے لیے ایسے افراد کی افزائش مسلسل کی جارہی ہے تاکہ اسلامی دنیا میں لادینیت [Secularism] کو فروغ حاصل ہوسکے۔
اسلام کے دفاع اور ترویج کے لیے ترقی ایک ناگزیر ضرورت: مسلم مفکرین کا دوسرا طبقہ:
دوسرا طبقہ مخلص مسلم مفکرین کے ایسے گروہ پر مشتمل ہے جن کے نزدیک اسلام کے ساتھ مسلمانوں کی وابستگی غیر مشروط اور اٹوٹ ہے۔ مسلمانوں کی کامیابی اور ناکامی کا واحد پیمانہ اسلام ہے۔ اسلام کو ماننے اور اس پر عمل کا تقاضا اسلام کی ترویج، اشاعت اور اس کے عملی نفاذ سے عبارت ہے۔ امت مسلمہ کے دینی اور معاشرتی تشخص کو قائم رکھنے ، اسلام کو ریاستی سطح پر نافذ کرنے اور عسکری سطح پر مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے مادی ترقی [material progress] کا حصول ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ بالفاظ دیگر اسلام اصل ہے اور ترقی اس اصل کو مضبوط، محفوظ اور مستحکم کردینے کی ’’شاہ کلید‘‘ہے۔
مغربی فکر و تہذیب کے بے شمار پہلو مثلاً سیکولرازم، قوم پرستی، اباحیت پرستی، اخلاقی بے اعتدالی، جنسی بے راہ روی وغیرہ صریحاً مسترد کردینے کے قابل ہیں۔ اس کڑی تنقید کے باوجود مادی ترقی کا ’’قفل ابجد‘‘ بہ ہر حال مغرب ہی کے پاس ہے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں مغرب کے بے شمار پہلو لائق رد سہی، لیکن اس کے بہت سے اجزا سے استفادہ خود اسلام کے دفاع و ترویج اور ملت اسلامیہ کے تہذیبی تشخص کی ناگزیر مجبوری ہے۔ مغربی تجربات اور اکتشافات خصوصاً سائنسی علوم و فنون اور سائنسی منہاج کا اخذ و کسب بہت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں تعلیم و تحصیل ہی وہ راہ ہے جس پر چل کر مطلوب و مقصود میں کامیابی کا امکان ہے۔ مغرب سے علوم و فنون سے اکتساب اور استفادے کے وقت نہایت حزم اور احتیاط اور چھان پھٹک کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں خذ ما صفا و دع ما کدر کا اصول پیش نظر رہنا چاہیے۔مسلمانوں کو چاہیے کہ اسلامی مابعد الطبیعیات، علمیات اور اخلاقیات کے حصار میں ان علوم و فنون کی تحصیل کریں۔ اس طرح ان مغربی علوم و فنون کی تحصیل کے نتائج اور اثرات ہر گز وہ نہ ہوں گے جن کا اظہار مغرب سے ہوا ہے۔ ایک بار جب ان علوم فنون کی تکمیل و تحصیل ہوجائے گی تو اس وقت مسلم سائنس دانوں کو چاہیے کہ وہ مغرب کے فلسفیانہ نظریات سے دامن جھاڑ کر اسلامی مابعد الطبیعیات، علمیات اور اقدار کے زیر اثر ایسے نتائج پیدا کریں جو مغرب سے الگ ہوں۔
مادی ترقی اور سائنسی علوم و فنون اصلاً غیر اقداری [value neutral] ہیں۔ بالفاظ دیگر سائنسی علوم اور اس کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی ترقی فی نفسہٖ کوئی اچھائی یا برائی نہیں رکھتی، بلکہ اس کے استعمال کا مقصد اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔
مخلص مفکرین کا یہ گروہ اسلامی علمیات پر تو گہری نظر رکھتا ہے، لیکن مغربی فکر و فلسفے پر ، الاماشاء اللہ، تجزیاتی اور تنقیدی نظر نہیں رکھتا۔
دین اور مادی ترقی دو الگ مابعد الطبیعی دائروں کے رہین: مفکرین کا تیسرا طبقہ:
تیسرا طبقہ مخلص مسلم مفکرین کے ایسے گروہ پر مشتمل ہے جو اسلامی علوم اور مغربی فکر و تہذیب کی اصلیت اور حقیقت کو اس کے بنیادی ماخذ اور سیاق و سباق کے ساتھ نہ صرف جانتا ہے، بلکہ اسلامی علوم کی روشنی میں اس کے محاکمے کی بھی اہلیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق مغربی طرز کی مادی ترقی کے حصول کے لیے صرف مغربی زبان اور سائنسی علوم و فنون کی تحصیل و تعلیم کافی نہیں ہے۔ زبان تو علوم کے ابلاغ، اظہار اور تفہیم کا محض ایک ذریعہ [medium]ہے۔ وہ فکری سرمایہ اور خرد افروزی امر دیگر ہے جو مادی ترقی کا لازمہ ہے۔ ترقی پذیر اقوام آج وہیں کھڑی ہیں، جہاں مغرب اب سے ۳۰۰ سال پہلے کھڑا تھا۔ ترقی کے حصول کے سفر میں ترقی پذیر اقوام کو بھی عملاً ان تمام راستوں اور مراحل سے گزرنا ہوگا، جن سے غیر ترقی یافتہ مغرب گزر کر ترقی یافتہ ہوا ہے۔
انسان مرکز کائنات: مادی ترقی کے حصول کا پہلا ہدف:
اس سفر کا پہلاہدف انسان اور کائنات کا رُخ ’’خدا مرکزی‘‘سے ’’بشر مرکزی‘‘ [Humanism] کی طرف پھیردینا ہے۔ ترقی کا حصول اور جدیدیت کی تشکیل جن فکری عناصر کی مرہون کرم ہے ان میں کلیدی عنصر ’’بشرمرکزی‘‘ [Humanism] ہے۔ چارلس سنگر کے مطابق جدید فکر [modern thought]، جدید سائنس [modern science]، جدید آرٹ [modern art] اور جدید ادب [modern letters] سب ’’بشر مرکزی‘‘ کی پیداوار ہیں۔ ۲ مغرب پر نظررکھنے والا ہر طالب العلم اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ سولہویں صدی سے یورپ میں لادینیت کے نشروفروغ نے یورپ بلکہ پورے مغربی ذہن میں یہ بات راسخ کردی کہ معاشی عروج اور تہذیبی برتری کی واحد راہ مذہبی بندشوں اور تحدیدات سے آزادی اختیار کرلینے میں ہی پنہاں ہے۔اس لیے ترقی کا مغربی ماڈل اسلام کے ساتھ غیر مشروط وابستگی اور عملی و محسوس تعلق کے ساتھ ممکن نہیں۔ جہاں توحید ہی مقدمہ ہے اور توحید ہی نتیجہ ہے۔ ماریہ سبرٹ لکھتی ہیں:
Progress is more than just a journey or an ideal. It is modern destiny. To modern man, and those who want to share his identity, rejecting faith in progress is unbearable. Modern man is defined by progress. His self-esteem is rooted in it and it is his deepest justification for the ruthlessness he displays towards his fellow men and nature.۳
آزاد منڈی کی معیشت، ترقی کا اصلی میدان:
دوسری بات یہ کہ اسلامی مابعد الطبیعیات کے زیر اثر مادی ترقی اس لیے بھی ممکن نہیں کہ حصول ترقی کا سب سے سریع العمل اور زرخیز میدان مارکیٹ [market] ہے۔ مارکیٹ میں صرف ایک ہی اصول کار فرما ہوتا ہے: زر سے زر کا حصول اور سرمائے کی بڑھوتری برائے بڑھوتری [accumulation of capital for the sake of accumulation]۔ جب بھی ترقی کے مارکیٹ ماڈل پر خارج سے کوئی نظریہ [ideology] مسلّط [impose] کیا جائے گا، شرح ترقی گر جائے گی اور آزاد منڈی کی معیشت [free market economy] کے ذریعے حاصل ہونے والی ترقی کا مقابلہ نہیں کرسکے گی۔ بالفاظِ دیگر ترقی کے عمل میں اگر اسلامی احکام اور فرامین کے تحت حدود و قیود عائد کی جائیں گی[جو کہ اسلام کے ماننے والوں کے لیے ناگزیر ہیں] تو ترقی لازماً محدود ہوگی اور لامحدود ترقی کے آگے کھڑی نہیں رہ سکے گی اور اگر بالفرض اس عمل پر کوئی قدغن عائد نہ کی جائے تو اس کے نتیجے میں پروان چڑھنے والی اقدار [values] سرمایہ دارانہ ہوں گی، اسلامی نہیں۔
مادّی ترقی مخصوص اقدار اور مستقل تہذیب ہی میں ممکن ہے:
تیسرا اہم ترین اور غور طلب پہلو یہ ہے کہ سائنسی ایجادات اور اکتشافات ہر گز غیر اقداری [value neutral] نہیں ہیں۔ جدید اکتشافات کو مغرب کے نظام اقدار سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تمام علوم و فنون اور اس کے مظاہر ایک خاص تہذیب و تمدن، اقدار و روایات اور مابعد الطبیعیات میں پیدا ہوئے اور پھلے پھولے ہیں۔ یہ جہاں بھی جائیں گے اپنی اقدار، روایات، اسلوب حیات اور طرز زندگی ساتھ لے جائیں گے۔ ضیاء الدین سردار لکھتے ہیں:
’’جدید سائنس واضح طور پر مغربی ہے۔ پوری دنیا میں جہاں بھی سائنس کو اہمیت حاصل ہے وہ اپنے اسلوب اور طریق کار میں مغربی ہے۔ سائنس داں کا رنگ اور اس کی زبان خواہ کچھ بھی ہو‘‘۔۴
مغربی سائنس اور نیچرل فلاسفی: بنیادی فرق:
ممکن ہے بعض طبائع ’’مغربی سائنس‘‘ کا لفظ سن کر کچھ وحشت محسوس کریں کہ آیا سائنس بھی مشرقی یا مغربی ہوتی ہے؟ یہ امر واقعہ ہے کہ مغرب کی مادی ترقی [material progress]، جدید سائنس [modern science] کی مرہون کرم ہے۔ جدید سائنس قبل از جدید معاشروں میں مروج نیچرل فلاسفی سے اپنی ماہیت اور غایت دونوں میں مختلف بلکہ متضاد ہے۔ قبل از جدید معاشروں کی سائنسی سرگرمی فطرت اور اس کے تقدس کو قائم رکھتے ہوئے اس کے پس پشت کار فرما اسرار کو جاننے سے عبارت تھی۔اس کا مقصود کائنات اور فطرت کی سچائی، رعنائی، حسن اور شان کو عیاں کرناتھا۔ جدید سائنس کی ترقی ایک خاص مابعد الطبیعیات کے زیر اثر ممکن ہوسکی ہے۔ اس کا مقصد اور محرک کائنات اور فطرت پر ارادۂ انسانی کا تسلّط ہے اوراس کا استحصال کی حد تک استعمال ہے۔ ہائیڈگر کے افکار اس طرف بڑا واضح اشارہ کرتے ہیں، اس کے مطابق:
The essence of technology, which he names "the enframing," reduces the being of entities to a calculative order. Hence, the mountain is not a mountain but a standing supply of coal, the Rhine is not the Rhine but an engine for hydro-electric energy, and humans are not humans but reserves of manpower. The experience of the modern world, then, is the experience of being's withdrawal in face of the enframing and its sway over beings.۵
قبل از جدید معاشروں میں فطرت اپنے اندر ایک شان تقدیس رکھتی تھی اور جدید معاشروں میں فطرت محض ایک ’’شے‘‘ [commodity] ہے۔ تسخیر کائنات اس کے مقاصد میں شامل نہیں بلکہ کائنات کا استحصال کی حد تک استعمال دنیائے جدید کا عزم ہے۔ مادی ترقی کے حصول کے پس پشت کار فرما دانش بدترین قسم کی سفاکی کی مظہر ہے، مارکوزے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتا ہے:
We submit to the peaceful production of the means of destruction, to the perfection of the waste, to being educated for a defense which deforms the defenders and that which they defend.۶
ٹیکنالوجی، جو جدید سائنسی ترقی اور تعیشات کا سب سے فعال مظہر ہے، کی حقیقت کے متعلق ضیاء الدین سردار لکھتے ہیں:
Technology is like fire. As long as it is under your control, you can derive benefit from it. Let it get out of hand, and you will be the first one it will destroy. And then the trees, and then the wood. And finally the earth itself.۷
اس لیے جدید سائنس کو غیر اقداری[value neutral] ان معنوں میں سمجھنا کہ اس کے ثمرات کو جس ظرف میں ڈال دیا جائے گا وہ اسی کی شکل اختیار کر لے گا اور ہم ان ثمرات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے اثرات سے متاثر نہیں ہوں گے، نادانی ہے۔ حسین نصر فرماتے ہیں:
’’حقیقت یہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اپنے ساتھ ایک خاص تصور کائنات، ایک خاص طرز زیست، ایک خاص طرز عمل اور ایک خاص تصور وقت بھی لاتی ہے ۔۔۔ میں سوچ نہیں سکتا کہ اسلامی تہذیب مغربی ٹیکنالوجی کا ایک اچھا حصّہ اختیار کرے اور کہے کہ یہ اچھا اور کار آمد ہے اور دوسرا حصہ مسترد کردے اور کہے یہ برا اور بے کار ہے۔ آپ جدید ٹیکنالوجی کا جوبھی حصہ اختیار کریں و ہ اپنے ساتھ منفی اثرات بھی لائے گا‘‘۔۸
مزید کہتے ہیں:
’’مجھے ایسے حضرات سے سخت اختلاف ہے جو کہتے ہیں یورپ جاؤ وہاں بندوقیں بنانا سیکھو، واپس آؤ۔ بندوق بردار فوجیں کھڑی کرو اور باقی ہر چیز بھول جاؤ۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ ہم ایسا نہیں کرسکتے۔در اصل تمام چیزیں اکھٹی آتی ہیں۔ بندوق سازی سے لے کر کمپیوٹر اور سیل فون بنانے کی ٹیکنالوجی تک فولاد سازی، جہاز سازی یہ سب صنعتیں آتی ہیں۔ کیوں کہ ان سب کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔ ٹیکنالوجی اپنا ایک تصور کائنات رکھتی ہے اور انسان پر عائد کرتی ہے‘‘۔۹
ترقی کے فعلی محرکات اور دین کا اقداری نظام:
اسلامی مابعد الطبیعیات کے زیر اثر پروان چڑھنے والی مادی ترقی مغرب کے لیے کوئی خطرہ[threat]بن سکے گی یانہیں۔ یہ سوال تو رہا ایک طرف لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ یہ ترقی مسلمانوں کی اسلام کے ساتھ وابستگی میں ایک بڑا رخنہ ضرور ڈال دے گی۔
مادی ترقی[material progress] کے تمام تر فعلی محرکات ہوس[lust]، لالچ[greed] اور خود غرضی[self-interestedness] سے عبارت ہیں، جو مذاہب خصوصاً اسلام کی بنیادی تعلیمات صبر و شکر، فقر و توکل، غنا و عطا سے بہ راہ راست متصادم ہیں۔اس لیے ان میں جبرو مقابلہ ناگزیر ہے۔ ماریہ سبرٹ لکھتی ہیں:
Leniency bordering on approval towards such a sin, which is now perceived as the vertiable psychological engine of material progress.۱۰
مزید لکھتی ہیں:
Greed and arrogance in individual turn into prosperity and justice for nations and all mankind an invisible hand, a cunning reason that will do him humanity good even its members indulge in evil.۱۱
ان وجوہات کی بنا پر تیسرے طبقے کے مطابق مغربی ترقی کے حصول کی کوشش اور اسلام کے ساتھ وابستگی بہ یک وقت ممکن نہیں۔
اسلامی دنیا: مادّی ترقی کا حصول مغربی مفکرین کے بیانات کی روشنی میں:
یہ تو مادی ترقی کے حوالے سے اسلامی تہذیب کے علمی نمائندوں کے بیان فرمودہ خطوط اور مجوزہ احتیاطیں اور دوسرے طبقے کے خدشات، اعتراضات اور نتائج پر گفتگو تھی اس مبحث کو اگر ایک اور زاویہ نظر سے دیکھا جائے تو بات زیادہ واضح ہوسکے گی۔ اہل مغرب جن سے مادی ترقی کے حصول کے لیے استفادہ کیا جائے گا، خود وہ مسلمانوں کے اس طرز عمل کو کس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ آیا وہ اس تعلیم و تحصیل کو بلا کسی شرط اور قید کے مسلمانوں تک منتقل کردینے پر تیار ہیں؟کیا یہ ممکن ہے کہ مسلمان مغرب سے علوم و فنون سیکھ کر الگ ہوجائیں اور مغرب کو اس کی خبر بھی نہ ہو؟ یا انھیں مسلمانوں کی تمام سرگرمیوں، عزائم، خواہشات، جذبات، احساسات کی پوری پوری خبر ہے اور وہ نہایت کڑی شرائط اور قیود کے ساتھ اہل اسلام کو مغربی علوم و فنون سے استفادے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں چند شواہد او ر نظائر کا مطالعہ ضروری ہے۔
مغربی مفکرین کا متفقہ اعلان: مادی ترقی اور غرب زدگی لازم و ملزوم:
مرحوم ڈاکٹر محمود غازی [سابق صدر بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد] اپنی آپ بیتی بیان فرماتے ہیں کہ:
’’آج سے چند سال پہلے جرمنی میں ایک اجتماع میں جانے کا موقع ملا۔ میرے علاوہ باقی مفکرین یورپ سے بلائے گئے تھے۔ اس اجتماع کا عنوان تھا:’’کیا اسلام مغرب اور یورپ کے لیے خطرہ ہے؟‘‘ جس کے ایک سوال کے جواب میں میں نے اپنا تجزیہ پیش کیا کہ اب مسلمان مفکرین اور دانش وروں کی بڑی تعداد اس بات کی نمائندگی کرتی ہے کہ مغربی تہذیب کے مثبت پہلوؤں سے مسلمانوں کو استفادہ کرنا چاہیے۔ ان کی سائنس اور ٹیکنالوجی، ان کی سہولتیں یہ مسلمانوں کے لیے قابل قبول ہونی چاہییں اور ان کو اپنانا چاہیے۔ جب کہ ان کے جومنفی پہلو ہیں مثلاً اخلاقی اقدار کے متعلق ان کے خیالات و نظریات یا سیکولرازم اور لامذہبیت یا مردوزن کی آزادی جو ان کے یہاں ہے، یہ چیزیں دنیائے اسلام کو قبول نہیں کرنی چاہییں۔ تو اس کے جواب میں اجتماع کے شرکانے تقریباً بالاتفاق میر ی بات کو مسترد کردیا اور کہا کہ ٹھیک ہے، آپ اس رویّے کو درست سمجھتے ہوں، لیکن مغرب ان شرائط پر اپنی ٹیکنالوجی سے آپ کو استفادہ کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہ ہوگا۔ انھوں نے کہا یہ ایک پورا پیکج ہے، جسے آپ کو جوں کا توں قبول کرنا پڑے گا۔ اس میںآپ کو اخذ و انتخاب[pick and choose]کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔۱۲
اگراس سلسلے میں مستند مغربی مفکرین کے چند ایک بیانات بہ راہ راست پڑھ لیے جائیں تو بات زیادہ واضح اور مؤکد ہوجائے گی۔
معروف مغربی ماہر معاشیات اور مؤرخ ٹائن بی لکھتا ہے:
Possibly experience has already shown that this attempt to pick and choose [aimed at receiving from the West the maximum amount of Western technology while taking the minimum amount of the rest of our civilization] may not be practicable in the long run. If you once commit your self to taking one element from some alien civilization you may find yourself led on, in unexpected ways, into being constrained also to receive other elements which, at first sight, might seem to have no connection with the element that you have originally taken intentionally and deliberately. In the long run, it may not be possible to take a part and leave the rest; What that is ۔۔۔ all non-western civilization have been trying to do during the last two hundered years. They have been trying to take as much possible of our technology and as little as possible of the rest of our civilization.۱۳
معروف امریکی تجزیہ نگار اور مسلمانوں کے خلاف امریکی عسکری یلغار اور تہذیبی حملے کو جواز فراہم کرنے والا مفکر سیمویل ہن ٹنگٹن صاف لفظوں میں لکھتا ہے:
Only when Muslims explicitly accept the Western model will they be in a position to technicalize and then to develop.۱۴
ایک اور مغربی مفکر ہملٹن گب کی یہ حتمی رائے ہے کہ جدید کاری[modernization]اور غرب زدگی[westernization]دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ عالم اسلام کے در پیش مسائل کا واحد حل مغربی اقدار و تہذیب کو ترقی اور ٹیکنالوجی کے ساتھ جوں کا توں اختیار کرلینے میں ہے۔ ۱۵
گب تصریح کرتا ہے کہ جن ممالک میں مغرب سے مستعار اور ماخوذ مادی ترقی اور صنعتی ترقی رواج پکڑ رہی ہے ان ملکوں کا بہ یک وقت مغربی تہذیب و اقدار سے محفوظ رہنا اور اس کے بالمقابل اسلامی تہذیب، اقدار اور روایات سے اپنا تعلق استوار رکھنا امر محال ہے:
A wave of antipathy, if not contempt, for everything to do with Western civilization has to late become manifest in the Arab World ۔۔۔ The plain truth of the matter that "modernization" means "westernization". But on the other hand, it would be impossible for the Arabs [Muslims] to follow the path taken by the Turkish Republic without losing their identity completely. This, then, is the question: how in a world in which technology is making progress at a ever vaster scale, can the social values and cultural ideals of Islam be reaffirmed in such a way as to rebuild a stable society endowed with vigorous and homogeneous social order capable of playing an active and constructive role.۱۶
مغرب: مادی ترقی کے نتیجے میں درپیش مسائل:
متذکرہ بیانات اور شواہد کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ترقی کا حصول ترک واخذ کے اصول پر تو ممکن نہیں۔ کیا اب اس کی واحد متبادل صورت وہی رہ جاتی ہے جس کا مشورہ زوال کے تجزیے کے ضمن میں مسلم مفکرین کے پہلے طبقے نے دیا تھا؟ کیا اس بات کو نظر انداز کردینا آسان ہے کہ مغرب نے اس ترقی کے حصول کی خاطرغیر شعوری طور پر ہی سہی اپنی تمام مذہبی[religious]، معاشرتی[social]، اخلاقی[moral] اورخاندانی[family]اقدار کو قربان کردیا۔زندگی اور معاشرے سے متذکرہ اوصاف کے انخلانے مغرب کو مختلف النوع مسائل اور مشکلات سے دو چار کردیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مغربی معاشرے کو خود غرضی[self -interestedness]، تشویش[anxiety]، دل شکستگی[despair] اور individuality جیسے اوصاف رذیلہ مادی ترقی کے ’’تحفے‘‘کے طور پر عطا ہوئے ہیں۔ مغربی معاشرے کا انسان، انسانی تعلقات کی سلک میں منسلک نہیں بلکہ قانونی تعلقات کا اسیر بن کر رہ گیا ہے۔ دو سو سال تک مادیت اور ترقی کے دفاع کے باوجود اب مغرب میں خاندان اور مذہبی اخلاقیات کے احیا کی کوششیں شروع ہورہی ہیں۔ ہائیڈگر جیسا فلسفی کہہ رہا ہے کہ مغربی تہذیب اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوچکی ہے۔ وہ جدید دنیا کے مسائل کے حل کے لیے the other thinkingکا قائل ہوگیا تھا۔ Der spiegel نے جب ہائیڈگر سے سوال کیا کہ دنیا کیسے بدلی جاسکتی ہے تو اس نے کہا:
No! I know of no path toward a direct change of the present state of the world, assuming that such a change is at all humanly possible.۱۷
اسلامی دنیا: مادی ترقی کا حصول: چند سوالات اور حقائق:
مسلم مفکرین کے مختلف نقطہ ہائے نظر اور مغربی مفکرین کے بیانات کے مطالعے سے جو صورت حال سامنے آتی ہے اس کو سامنے رکھ کر چند نتائج اور چند سوالات کا پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ یہ بات ہر شبہے سے بالا ہے کہ امت مسلمہ کا مجموعی مزاج، چند مستثنیات کے ساتھ، یہی ہے کہ وہ اگرچہ مغرب جیسی مادی ترقی کے خواہاں ہیں، لیکن دوسرے طرف من حیث الکل اب تک اپنے مذہبی، اخلاقی، تہذیبی اور روایتی اقدار سے بھی دست بردار ہونے کو تیار نہیں، ملٹن ویورسٹ [Milton Viorst] جیسے مغربی مفکرین جس بات کو ’’عربوں کی مقفل سوچ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں وہ یہی ہے کہ مسلمان اس دور میں بھی مذہب کو قابل عمل سمجھ رہے ہیں۔۱۸ خواہشات اور جذبات کی حد تک یہ رویہ بہت خوش نما معلوم ہوتا ہے۔ اگرچہ اسلام سے غیر مشروط وابستگی میں اب بہت حد تک تبدیلی آگئی ہے، مذہب کی گرفت مسلم معاشرے سے بہ تدریج ڈھیلی ہوتی جارہی ہے۔ جنوبی ایشیاکی تاریخ کا ماہر محقق فرانسس رابنسن [Francis Robinson] ، گزشتہ سو سالوں میں مسلمان معاشروں میں پیدا ہونے والی اس تبدیلی کا تجزیہ کرتے ہوئے، اسے ٹھیک وہی راستہ قرار دیتا ہے جس پر چل کر عیسائیت نے سیکولرازم کی راہ اپنائی تھی۔ وہ بتاتا ہے کہ اب مسلم معاشروں میں بھی سماجی و معاشرتی قوانین کے لیے وحی کی رہ نمائی کو بالعموم عوامی زندگی میں لائق اعتنا نہیں سمجھا جاتا، مذہبی علم کو ارزاں باور کیا جاتا ہے، وہ لوگ جو تہذیبی سطح پر مسلمان تھے، عملی طور پر مکمل ’’عقلی‘‘ ہوگئے ہیں۔ سیکولرازم تک لے جانے والا یہی وہ راستہ ہے جو مسلمانوں سے قبل عیسائیت اختیار کرچکی تھی۔رابنسن لکھتا ہے:
For the hundered years preceding the Muslim revival of the late twentieth century, the Islamic World seemed to be following a path of secularization similar to that on which the Western Christian world embarked some centuries before. Law derived from revelation had been increasingly removed from public life; religious knowledge had steadily lost ground in education; more and more Muslims who were Islamic by Culture but made 'rational' calculations about their lives -- in much the same way as Christians formed in the secular West might to do -- had come forward.۱۹
کیا کوئی قوم آزادی[freedom] اور ترقی[progress]کو بہ طور قدر[value] اختیار کرلینے کے بعد مذہب[خصوصاً اسلام]سے اپنا رشتہ برقراررکھ سکتی ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اسلام کا تصور بندگی آزادی کو سلب کرلیتا ہے اور ترقی کا مغربی ماڈل دنیا کو دار الامتحان ماننے کے انکار اور Kingdom of Heavenکے اصرار پر قائم ہے؟ یہ مبحث انتہائی غور و تدبر کا متقاضی ہے ۔ کیا اس کے جواب میں، تمام خطرات و مسائل سے صرف نظر کرتے ہوئے،جذبات میں آکر فقط اتنا کہہ دینا کافی ہوجائے گا کہ ’’مضمون نگار مسلمانوں کو فقرو افلاس میں دھکیلنے کے متمنی اور پتھر کے زمانے میں بھیج دینے کے خواہاں ہیں‘‘؟ اس وقت مسلم امّہ کا اپنی مجموعی دانش سے یہ سوال ہے کہ کیا مسلم تہذیب اس بات کی متحمل ہوسکتی ہے کہ وہ ترقی کی خاطر اپنی اخلاقی، تہذیبی، معاشرتی اور مذہبی اقدار کو قربان کردے؟ کیا مغرب کے لیے اصل خطرہ[threat] مذہب سے غیر مشروط وابستگی میں پنہاں نہیں ہے؟ یہ بات قابل غور ہے کہ مسلمان مغرب سے ترقی کی تحصیل کے بعد مغرب ہی کے لیے ترقی کے میدان میں خطرہ بن جائیں، کیا یہ بات فی الواقع اتنی ہی سادہ ہے؟ جب مسلمان ، اپنے زعم میں، ترقی کی دوڑ میں مغرب سے آگے بڑھ رہے ہوں گے تو مغرب سو رہا ہوگا؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ خطرہ تو اس وقت ہوگا جب دو بنیادی مابعد الطبیعی تصورات [’’خدا مرکزی‘‘ اور ’’انسان مرکزی‘‘] کے مابین معرکہ آرائی الحق اور الخیر کی سطح پر ہو؟کیا ترقی کے مغربی ماڈل کو اختیار کرلینے کے بعد مسلمانوں کے لیے بدیہی طور پر وہی طرز زندگی پر کشش اور بامعنی نہیں ہوگا جو ترقی کا لازمہ ہے اور جس کا عملی اظہار مغرب میں ہورہا ہے؟ اس صورت حال میں تصادم یا ٹکراؤ کا کیا سوال؟ یہاں تو اصل جنگ مادی میدان میں مسابقت[competition] سے عبارت ہے۔ جو جتنا اچھا صارف[consumer] اور آزاد مارکیٹ کی معیشت[free market economy] کو فروغ دینے والا ہوگا وہ زیادہ طاقت ور کہلائے گا۔ کیا یہاں خدا سپردگی، خود فراموشی، توکل، غیبی مددوغیرہ مضحکہ خیز تصورات معلوم نہیں ہوں گے؟کیا یہاں اصل پیمانہ، قدر، فرقان ، برہان، حق، خیر اور سچ صرف اور صرف سرمایہ[capital] نہیں ہوگا؟ کیا فکری اور نظریاتی سطح کی یہ تبدیلی مسلمانوں کو اس قابل چھوڑے گی کہ وہ اسلام کو اس کی اصل صورت اور تعبیر کے ساتھ دنیا میں پورے تحکم اور قوت کے ساتھ غالب اور نافذ کرنے کی کوشش کرسکیں؟ کیا ترقی کا یہ ماڈل غیر اقداری[value neutral]ہے؟ کیا یہ اقدار ایک علیحدہ تہذیب اور اسلوب حیات کی داعی نہیں ہیں؟ کیا ہمارا مضبوط اسلامی اقداری اور خاندانی نظام اس مزعومہ ترقی کے بعد قائم رہ سکے گا؟کیا ہمارے پاس مغرب کی طرح ایسے ادارے [institutions] موجود ہیں جو اخلاقی طور پر بدعنوان اور بگڑے ہوئے معاشرے کو سہارا دے سکیں؟ ہمارا آخری فعال ادارہ جواب تک بہت مضبوط ہے: خاندانی نظام کیا وہ اسprogress اور developmentکی خاطر پاش پاش نہیں ہوجائے گا؟
ترقی اور اسلام: مجموعی مسلم دانش کا ذہنی خلجان:
یہ چند اہم اور قابل غور سوالات ہیں۔ ان سوالات کو جذبات کی سطح پر نہیں مسائل اور درپیش صورت حال کی تفہیم کی غرض سے واقعیت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ امت مسلمہ کی یہ خوش قسمتی ہے کہ وہ pre-industrialعہد میں جیتے ہوئے post-industrialمعاشرے کے مسائل اور مصائب سے آگہی اور واقفیت رکھتی ہے۔ ان سوالات و اشکالات سے قطع نظر یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ صنعتی انقلاب نے مسلم دانش ورانہ ذہن کو مجموعی طور پر تشکیک کا خوگر بنادیا ہے۔ آج کا دانش ور ذہناً مفلوج معلوم ہوتا ہے۔ اسے اسلام اور ترقی کے مابین تطبیق و تلفیق کی کوئی تسلی بخش راہ نہیں مل رہی۔ یا غالباً ان میں تطبیق کے عدم امکان نے مسلمانوں کو دانش ورانہ سطح پر’’ کیا ہورہاہے‘‘ اور ’’کیا ہونا چاہیے ‘‘کے درمیان stuck کردیا ہے۔ ماریہ سبرٹ کا ترقی کے خواہاں تیسری دنیاکے لوگوں کو دیا گیا مشورہ بہت اہم اور قابل توجہ ہے کہ :
The third world had to develop first before even think about REAL PROGRESS.۲۰
اس سلسلے میں مغربی مابعد الطبیعیات و علمیات اور بلا تاویل اسلامی حقائق و نکات پر مسلسل اور سنجیدہ غور و فکر کے بعد امید ہے کسی ایسے نتیجے تک پہنچا جاسکے جو رومانویت اور جذباتیت سے زیادہ حقیقت اور واقعیت پر مبنی ہو۔
حواشی
1- Jos233 Maria Sbert, "Progress" in The Development Dictionary: A Guide to Knowledge as Power, [ed., Wolfgang Sachs], London & New Jersey: Zed Book Ltd., 1993, p. 197.
2- Charles Singer, A Short History of Science: to the Nineteenth Century, Oxford: Clarendon Press, 1941, p. 167.
3- Jos233 Maria Sbert, op.cit., 195.
4- Ziauddin Sardar, Explorations in Islamic Science, London: Mansell Pub., 1989, p. 6.
5- Stanford Encyclopedia of Philosophy Online, s.v. "Postmodernism", accessed Feb, 4, 2014. http://plato.stanford.edu/entries/postmodernism/
6- Herbert Marcuse, One-Dimensional Man, London & New York: Routledge, 1964, p. xxxix.
7- Ziauddin Sardar, Science, Technology and the Development in the Muslim World, London: Croom Helm, 1977, p. 128.
۸- حسین نصر/ مظفر اقبال، ’’اسلام، سائنس اور مسلمان‘‘، مشمولہ اقبالیات، جنوری-مارچ، ۲۰۰۷ء، صفحہ۱۰۔
۹- ایضاً،صفحہ۱۲۔
10-Jos233 Maria Sbert, op.cit., p. 196.
11-Ibid.
۱۲- محمود احمد غازی، ’’مغرب کا فکری و تہذیبی چیلنج اور علما کی ذمے داریاں‘‘ مشمولہ ماہنامہ الشریعہ، مارچ ۲۰۰۵ء، صفحہ۱۲۔
13-Arnold J. Toynbee, Christianity Among the Religions of the World, New York: Charles Scribner's Sons., 1957, p. 51.
ٹائن بی نے اپنی بعض دیگر تصانیف میں بھی اسی نقطہ نظر کا اظہار کیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے:
Arnold J. Toynbee, The World and the West, New York: Oxford University Press, 1954, pp. 66-84, pp. 99-100.
Arnold J. Toynbee, Idem, Civilization on Trial, New York: Oxford University Press, 1949, pp. 184-212.
14-Samuel P. Huntington, The Clash of Civilization and the Remarking of World Order, Penguine Books, 1997, p. 74.
۱۵- ملاحظہ کیجیے:
Hamilton Gibb, Modern Trends in Islam, Chicago: Chicago University Press, 1972.
16-Hamilton A.R. Gibb, Studies on The Civilization of Islam, Lahore: Islamic Book Services, 1987, p. 331.
17-"Spiegel Interview with Martin Heidegger," in Martin Heidegger and National Socialism: Questions and Answers, eds. G252nther Neske and Emil Kettering, trans. Harries Lisa, New York: Paragon House, 1990, p. 60.
۱۸- تفصیل کے لیے دیکھیے:
Milton Viorst, "The Shackles on the Arab Mind", The Washington Quarterly, Spring 1998, Vol. 2, pp. 168-175.
19-Francis Robinson, "Secularization, Weber and Islam", in Islam and Muslim History in South Asia, Delhi: Oxford University Press, 2010, p. 122.
20-Jos233 Maria Sbert, op.cit., p. 195.
’’سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ‘‘ کا قیام
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
جامعۃ الرشید ایک بار پھر سبقت لے گیا ہے کہ اس نے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے تحقیق اور مکالمہ کی اہم ملی و قومی ضرورت کے لیے قومی سطح پر ایک نیا فورم تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے اور ’’نیشنل سنٹر فار اسٹڈی اینڈ ڈائیلاگ‘‘ کے عنوان سے ’’تھنک ٹینک‘‘ کی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ۳؍ اپریل کو اسلام آباد کے ایک معروف ہوٹل میں اس فکری و علمی فورم کا افتتاحی پروگرام علمی و فکری دنیا میں تازہ ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا تھا جس نے مستقبل کے لیے امید کی نئی کرن روشن کی ہے اور تحقیق و جستجو کے متلاشی ارباب علم و فکر کے لیے مطالعہ و تحقیق اور اظہار و مکالمہ کا ایک نیا دَر وا کر دیا ہے۔
مکالمہ و تحقیق ہماری قدیم علمی روایت ہے جس کی جھلکیاں تاریخ میں جا بجا بکھری پڑی ہیں اور جس کے آثار قیامت تک ارباب فکر و نظر کی راہ نمائی کا سامان رہیں گے۔ امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کی وہ تاریخی علمی و فقہی مجلس اسی تحقیق و مکالمہ کی اساس تھی جس میں بیسیوں فقہاء کرام اور مختلف شعبوں کے ماہرین مل بیٹھ کر مسائل کی نشاندہی کرتے تھے، ان کی تحقیق و تجزیہ کے مراحل سے گزرتے تھے، بحث و مکالمہ کا سلسلہ ہوتا تھا اور اجتماعی مشاورت کے ساتھ مسئلہ کا حل تجویز کرتے تھے۔ اختلاف ہوتا تھا، مختلف نقطہ ہائے نظر کا اظہار ہوتا تھا، نقد و تبصرہ ہوتا تھا اور ان مسائل کا بھی انفرادی آراء کے طور پر فقہی ریکارڈ میں اندراج کیا جاتا تھا جن پر اتفاق رائے نہیں ہو پاتا تھا۔
عقائد و مذہب کی دنیا میں ہم نے اس تحقیق و مکالمہ کا ایک منظر متحدہ ہندوستان میں ’’میلہ خدا شناسی‘‘ کی صورت میں دیکھا جو ہر سال پبلک اجتماع کے طور پر کئی روز جاری رہتا تھا اور مختلف مذاہب کے راہ نما وہاں اپنے عقائد اور مذہب کی ترجمانی کرتے تھے۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا اسی میلہ خدا شناسی میں اسلام کی حقانیت پر بیان کئی بار شائع ہو چکا ہے۔
پاکستان کے قیام کے بعد ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کا اجتماع اور قادیانیوں کے بارے میں اجتماعی موقف کا باہمی مشاورت سے تعین اسی مکالمہ کا تسلسل تھا۔ اور پاکستان کے دستوری ڈھانچے کی تشکیل کے لیے مختلف مکاتب فکر کے ۳۱ علماء کرام کی طرف سے ۲۲ متفقہ دستوری نکات کی تدوین بھی اسی تحقیق و مکالمہ کی ایک جامع صورت تھی، جبکہ سرکاری سطح پر تعلیمات اسلامیہ بورڈ، اسلامی مشاورتی کونسل اور پھر اسلامی نظریاتی کونسل میں مختلف مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام کے ساتھ ساتھ عصری قانون کے ماہرین اور مختلف شعبوں کے بارے میں تجربہ و مہارت رکھنے والے حضرات کا اجتماع اسی تسلسل کا حصہ ہے۔
ایک عرصہ سے اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ جس طرح پاکستان کے دستور کی نظریاتی بنیادیں طے کرنے کے لیے ۳۱علماء کرام کا باہمی مشاورت اور بحث و مکالمہ کا اہتمام کیا گیا تھا، اسی طرح ملک و قوم کو درپیش مسائل پر بحث و مباحثہ اور مشاورت کی کوئی صورت پرائیویٹ سطح پر ضرور ہونی چاہیے۔ حکومتی سطح پر وقتاً فوقتاً ایسی مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے جن کی افادیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، لیکن حکومتی دائروں سے ہٹ کر پرائیویٹ طور پر ایسی علمی و تحقیقی مجالس کا اہتمام اور اس کے لیے کسی باقاعدہ نظم کا قیام بھی ایک اہم ملی و قومی ضرورت ہے۔ ہمارے خیال میں ’’نیشنل سنٹر فار اسٹڈی اینڈ ڈائیلاگ‘‘ کا قیام اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔
’’تھنک ٹینک‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں راقم الحروف بھی حاضر تھا اور کچھ گزارشات پیش کرنے کی سعادت بھی حاصل کی مگر زیادہ وقت مختلف راہ نماؤں اور مفکرین کے خیالات سننے اور آرا و افکار کے تنوع سے لطف اندوز ہونے میں گزرا اور اس پر جو خوشی ہوئی، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان اس فورم کے چیئرمین اور سید عدنان کاکاخیل سیکرٹری جنرل ہیں جو فورم تشکیل دینے والوں کی سنجیدگی اور عزم کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ افتتاحی نشست کی صدارت کے لیے مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا انتخاب اور ان کی تشریف آوری اس ’’تھنک ٹینک‘‘ کی علمی و فکری سطح اور ثقاہت کی علامت ہے۔ اسی طرح مولانا محمد خان شیرانی، مولانا مفتی منیب الرحمن، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر اور دوسرے علماء کرام کی موجودگی و خطاب اس فورم کے دائرہ کار کی وسعت کا غماز ہے۔
اس نشست میں ’’نیشنل سنٹر‘‘ کے مقاصد و اہداف کا ذکر کیا گیا اور عزائم کا اظہار کیا گیا، مگر میرے لیے سب سے زیادہ دچسپ وہ مکالمہ تھا جو کسی ایجنڈے کے بغیر ہی میڈیا کے موضوع پر پہلی نشست میں ہوگیا۔ مولانا مفتی منیب الرحمن نے میڈیا سے دینی حلقوں کی شکایات کا ذکر کیا جس پر جناب حامد میر اور ڈاکٹر شاہد مسعود نے میڈیا کے دفاع کی پوزیشن اختیار کی، مگر ضیاء شاہد صاحب نے اپنی گرما گرم گفتگو سے اس کو ایک نیا رخ دے دیا۔ یہ نشست مکالمہ کے لیے نہیں تھی مگر مکالمہ ہوگیا اور بہت دلچسپ اور خوب ہوا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے آزادانہ بحث و مکالمہ کی ضرورت کی سطح کیا ہے اور اربابِ فکر و دانش اس کے لیے کس قدر بے تاب ہیں؟
اگر اس افتتاحی نشست میں شریک کوئی دوست میڈیا کے کردار، اس سے عوامی حلقوں کی شکایات، میڈیا کی مجبوریوں، عوامی نفسیات، میڈیا کی پشت پر کام کرنے والے عوامل و محرکاتاور میڈیا کے کردار میں اصلاح کے لیے تجاویز پر مشتمل اس گفتگو کو مرتب صورت دے سکیں تو یہ ہمارے قارئین کے لیے ایک بڑا فکری تحفہ ہوگا اور مفتی منیب الرحمن، حامد میر، ڈاکٹر شاہد مسعود، اور ضیاء شاہد کی گفتگو عوامی حلقوں کے لیے بہت چشم کشا ہوگی۔
بہرحال اس کامیاب پیش رفت پر جامعۃ الرشید اور تمام متعلقہ بزرگوں اور دوستوں کو مبارک باد دیتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک عزائم میں اس فورم کو کامیابی سے ہمکنار کریں، آمین یا رب العالمین۔
مکاتیب
ادارہ
(۱)
جناب ایڈیٹر ماہنامہ الشریعہ
السلام علیکم
ماہنامہ ’الشریعہ‘ اس وقت الحمد للہ بہت سے فکری موضوعات کے لیے اہل علم وفکر کے درمیان علمی مباحثے کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ فورم کا کردار ادا کر رہا ہے۔ چونکہ الشریعہ کے قارئین بھی تقریباً سبھی اہل علم احباب ہیں، اس لیے خیال ہوا کہ سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد کے حوالے سے معروف صحافی سلیم صافی کے کالم کا طالب علمانہ جواب آپ کے اور ’الشریعہ‘ کے تمام اہل نظر قارئین کی خدمت میں پیش کردوں۔ امید ہے مضمون آپ کے اور ’الشریعہ‘ کے قارئین کی نظر التفات کے قابل ہوگا۔
اکرم تاشفین
کالم نگار ماہنامہ ’شریعت‘
(ترجمان امارت اسلامیہ، افغانستان)
(۲)
This is in reference to the essay by Muhammad Abdullah Shariq titled "Ghazali aur Ibn Rushd ka Qaziyyah" in last two issues of Al-Shariah.
The premise of the essay is flimsy, since the author aims to defend Ghazali against a hypothetical attack without caring to cite even one source. In fact, there is more than one way in which criticisms have been extended on Ghazali from variety of perspectives such as scientific, philosophical or religious, some of which may are given as,
- Less informed and reductionist criticisms by the so-called Muslim rationalists or modernists.
- Minimalist critical attempts by Non-Muslims (including atheists) who kind of see Ghazali-Averroes tussle as a manifestation of struggle between dogma and rationalism.
- Nuanced criticisms waged from the point of view of extending critique on Asharite cosmology and the nature of its causal underpinnings.
- Formal all-encompassing criticisms from epistemological point of views where Ghazali and Averroes seem to be coming from different paradigms as far as theory of knowledge is concerned; of course, there are also far reaching sociological implications as different Weltanschauungs are seem to be purported.
In my humble view, the author is only defending Ghazali against the first kind of criticisms but that too remains elusive to a reader who is already aware about this classical historical debate. As far as the less informed lay-reader is concerned, the whole exposition besides being misleading, presents a simplistic and distorted picture of Muslim intellectual activity in medieval period, as well as history of philosophy and science as well.
Consequently, these Muslim intellectuals are shown by the author to belong to two distinct camps, that is, those who didn't involve themselves with ultimate metaphysical questions and those who did. Of course, this is certainly his authorial discretion; however the division presented by the author is generally superfluous. It is merely a matter of fact and interest that some of them cared to indulge in metaphysics and others restricted themselves to pure empirical disciplines. The author does not care to note the fact that it was primarily the Greek science that was passed to Arabs through the translation movement; and because the complete medieval scientific tradition was deeply rooted in Hellenistic philosophy, its metaphysical foundation could not be just overlooked. Moreover, if it is not entirely erroneous, it is at least remarkably arguable and simplistic to attribute an original compartmentalization of knowledge in physics and metaphysics within the Greek paradigm.
Therefore, when we analyze the whole intellectual tradition of medieval era, it is merely a matter of interest that Al-Farabi, Al-Jahiz, Al-Kindi, Ibn Tufail, Avicenna or Averroes indulged in humanistic disciplines and others (some of which the author mentioned) indulged in empirical disciplines. In fact, all of them were polymaths in varying degrees and were essentially multidisciplinary. Considering for instance the case of Muhammad Bin Zakariah Razi - whom the author chooses to introduce as an example of his contributions in Chemistry - which student of Muslim medieval philosophical tradition is not aware of the infamous Rhazes, the so-called free-thinker? Hasn't he written scores of works on metaphysical questions? Wasn't he declared a heretic and a free-thinker by the religious zealots of his time? Or if Abbas Ibn Farnas - whom the author erroneously mentions as Muslim Ibn Faras - is better known as the first aviator (arguably), he was also a physician and musician; and if author chooses to present Albeiruni as a representative indulgence in Geometry, he is far better known as an Indologist too.
A more realistic and plausible contention, therefore, is that all of these myriad intellectuals were multidisciplinary polymaths. As unbiased readers of Muslim tradition we must be able to rise above the medieval herseography, try to get into the shoes of Avicenna, Averroes or Ibn Tufail's, and empathetically view them struggling with the onslaught of the challenge of Hellenistic tradition.
Considering that the author himself acknowledges the historical convergence of science and philosophy as a single academic discipline, his subsequent insistence on division between utilitarian-empirical and metaphysical-philosophical seems superfluous. Of course, he is right in contending that Ghazali is targeting the arguments which affect the religious side of truth; however, he refuses to acknowledge that inquisitive human minds are seldom able to compartmentalize truth in this vulgar fashion to keep its higher dimensions and purely utilitarian sides separately. It is a feat only achieved by ordinary masses the or exceptionally extraordinary minds such as Ghazali himself. It is no wonder, then, that his immediate detractors, for instance Averroes, find it hard to interweave all threads of his thought into a common fabric. Hence, it is not merely an acerbic disparaging comment, when Averroes contended that,
"He was an Asharite with the Asharites, a sufi with the sufis, and a philosopher with the philosophers, so that he was like a man in the following verse:
One day you are a Yamanite, when you meet a man of Yaman
But when you meet a man of Ma'add, you assert you are from Adnan"
Moreover, if Muslim culture and civilization end up being compartmentalized and atomistic in terms of knowledge and thought, and being proud of it too, Ghazali deserves to take a large part of the blame. That however, is fortunately arguable and in recent few decades, it has been extensively shown that there is a lot more unification of thought in Ghazali then classically perceived.
More remarkably, when seen from a philosophical and scientific standpoint, the present review of Ghazali - Averroes dispute ends up making a case against any possibility of finding a holistic unified trend of Ghazalian scheme. Taking for instance the author's claim that Ghazali is not refuting 'science'. Can such a claim be warranted without any objective definition of science? Authors bent on classical discourse must realize that those who criticize Ghazali are basically coming with their own definitions of science and how it attempts to answer the questions related to higher reality and ultimate fabric of the universe, its origin as well as its destiny. Any reading of Ghazali-Averroes dispute disregarding these intricate issues, not attempting to disentangle them neatly and bordering on polemics through boisterous ridicule against supposed philosophers and scientists would prove to be simply reductionist, just like its counterparts in radical scientism and New Age militant atheism.
At the same time, it is pertinent to argue that among the two Ghazali is perhaps more novel even in his system of natural philosophy - whatever than can be deduced from his writings such as Tahafah or Iqtisad fi al-Aitiqaad - as compared to Averroes who is primarily an interpreter indulged in Aristotelian exegesis. The comparison, however, is incomplete and unfair to Averroes unless we try to see the so-called dispute from their respective standpoints.
If Ghazali, who is primarily speaking from the position of a theological defense, aims to safeguard religious belief from speculative contamination of philosophers - specifically targeting Al-Farabi and Avicenna -, Averroes takes it as an attack on the whole Peripatetic tradition and appropriately rises to its defense. While Ghazali is justified in his objection to the notion of eternality of world as it conflicts with the omnipotent agency of God, Averroes is not entirely wrong in his notion of differentiation between temporal and eternal agents. Can we speak of qualitative aspect of time, or for that matter time itself, when ascribing action to God? Is it temporally sensible at all to utter that God suddenly created the world? Does God differentiate between this hour and next hour in terms of quality, since he is beyond a notion of temporality at first place? When Ghazali extends the analogy of a hungry man, sitting ambivalent in front of two similar dates, confronted with the choice, Averroes questions whether it's truly a choice between dates or between eating and not eating since there is nothing in the qualitative domain that differentiates one date from the other; as soon as we are forced to make a qualitative difference, it would not remain a choice between two similar options. While Ghazali is creating a space in natural philosophy for God as an active agent, Averroes keeps falling back to the problem of differentiating between God's will and His knowledge.
In the same manner, through juxtaposing their texts, we can visualize them debating complex issues related to agency, nominalism, contingency, causation, the nature of soul and cosmology. It is also important to note for the sake of completion that their exchange is not restricted to these two books but Averroes extensively quotes Al-Ghazali in his other works as well, sometimes questioning his theories and at other times presenting them in support of some contention. As a recent commentator on their interaction aptly notes, Ghazali gave birth to a new philosophy while criticizing philosophies of his predecessors. Averroes, on the other hand, never projects himself as someone too sure on his convictions. If all his literature is reduced to a singular contention, it would be an unassailable belief that divinely revealed knowledge cannot be in contradiction with acquired knowledge through reflection and reason.
Lastly, in my humble opinion, if the underlying contention by religious intelligentsia is to call for submission of scientific discourse to a so-called Shar'i limits, it is not warranted, may it be through rational or theological justifications. One both these grounds, such a demand would remain questionable unless a curious soul is forced to submit in front of an ecclesiastical order, as in medieval Christianity. Quran incessantly calls man to search for truth within himself and outside in the universe. As Iqbal notes in the start of his celebrated lectures, the ultimate nature of this world, its permanence or extinction, our relationship to it and our conduct are important questions equally belonging to the domains of religion, philosophy and higher-poetry. And even though science can afford to ignore or forget the underlying metaphysics, religion can hardly function without an ultimate reconciliation of human experience with his environment.
Since the advent of modernity, most of these questions are now being increasingly thrown into the domain of science, or at least being equally commented upon from a scientific standpoint. In this respect, while a post-modern inclination towards scientism and the so-called new-age Atheism is unwarranted on purely intellectual grounds, arguing for a regulated or coerced compartmentalization of knowledge for theological considerations is equally unjustifiable. Science does have its metaphysical foundations and inherent in its spirit of enquiry is the resolve that it cannot simply remain indifferent to higher aspects of reality, restricting strictly to the questions of utilitarian domains. One thing we learn from Averroes, Ghazali and other Muslim philosophers is the spirit of enquiry and the resolve to defend their faith in an unseen higher reality when challenged by science or philosophy. Liberals as well as conservatives in Muslim societies must learn to look beyond the heresiographic aspects of medieval disputes and instead reflect upon the right questions of contemporary relevance.
Asim Bakhshi
asembuxi@gmail.com
مولانا حکیم محمد یاسین کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حکیم محمد یاسین صاحبؒ ہمارے پرانے اور بزرگ ساتھی تھے، طویل عرصہ سے جماعتی رفاقت چلی آرہی تھی اور مختلف دینی تحریکات میں ساتھ رہا، ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔جھنگ صدر کے محلہ مومن پورہ کی مسجد اشرفیہ نہ صرف ان کی مسلکی، دینی اور تحریکی سرگرمیوں کا مرکز تھی بلکہ اسے جھنگ کے اہم تحریکی اور جماعتی مرکز کا مقام حاصل تھا۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان کے فاضل اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے معتمد شاگرد تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کے حضرت مفتی صاحبؒ کے دور سے ہی ممبر تھے۔ مجھے طالب علمی کے زمانے میں ان کے مرکز میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت والد مکرم رحمہ اللہ تعالیٰ نے وہاں جلسہ میں تقریر کا وعدہ کر رکھا تھا لیکن علالت کی وجہ سے سفر کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ مدرسہ نصرۃ العلوم میں ان دنوں چھچھ کے مولانا حافظ محمد دلبر صاحب زیر تعلیم تھے۔ اچھے مقرر تھے، تلاوت بھی خوب کرتے تھے اور نعت و نظم کا بھی بھرپور ذوق رکھتے تھے۔ وہ اور میں دونوں مختلف دیہات میں جایا کرتے تھے اور دینی مجالس کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ ہماری دونوں کی ٹولی اس دور میں بہت مشہور تھی۔ حضرت والد محترمؒ نے جھنگ کے اس جلسہ کے لیے اپنی جگہ ہم دونوں کو بھجوایا اور ہم نے اس جلسہ میں جا کر خطاب کیا۔ حضرت مولانا حکیم محمد یاسینؒ کے ساتھ میری وہ پہلی ملاقات تھی اور اس کے بعد ملاقاتوں کا وہ سلسلہ چلا کہ میں ان کی تعداد اندازے سے بھی نہیں بتا سکتا۔ اپنے اسفار کے دوران موقع ملنے پر میں جھنگ میں ضرور رکا کرتا تھا اور حضرت مولانا مفتی عبد الحلیم پانی پتیؒ کی بزرگانہ شفقتوں کے ساتھ ساتھ مولانا حکیم محمد یاسینؒ کی میزبانی سے مستفید ہوتا۔ وہ اکثر میری حاضری پر علماء کرام اور کارکنوں کی کوئی نہ کوئی نشست رکھ لیتے تھے اور کسی تازہ مسئلہ پر اظہار خیال کا موقع مل جاتا تھا۔
وہ اچھے طبیب تھے اور مسجد کے ساتھ ان کی حکمت کی دوکان تھی جو اب ان کے بیٹے چلا رہے ہیں۔ جمعیۃ علماء اسلام کے اجلاسوں، کانفرنسوں اور دیگر پروگراموں میں مختلف مقامات پر ان سے ملاقات ہوتی تھی اور اکثر مسائل پر ہمارے درمیان ذہنی ہم آہنگی رہتی تھی۔ اصابت رائے اورا پنے موقف پر استقامت کی صفات سے بہرہ ور تھے اور جمعیۃ علماء اسلام (س) کے اہم راہ نماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ زندگی کا اکثر حصہ انہوں نے دینی جدوجہد اور مسلکی تگ و تاز میں بسر کیا اور جھنگ کے علاقہ میں جمعیۃ علماء اسلام کو منظم کرنے اور ساتھیوں کو بیدار رکھنے کے لیے ہر وقت متحرک رہتے تھے۔ حتیٰ کہ علالت کے دور میں بھی ان کی ہر ممکن کوشش ہوتی تھی کہ جماعتی سرگرمیوں کا تسلسل قائم رہے۔
ان کی وفات سے ہم ایک مخلص دوست، متحرک جماعتی راہ نما اور مسلکی حمیت سے متصف بزرگ ساتھی سے محروم ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائیں اور سیئات سے درگزر کرتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کے گھر پر چھاپہ
گزشتہ دنوں خفیہ اداروں کے اہل کاروں نے گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کے فرزند مولانا حافظ احمد اللہ گورمانی کے گھر میں دروازے توڑ کر گھس جانے کے بعد خوف و ہراس کی فضا قائم کی اور مفتی صاحب محترم کے داماد مولانا حافظ محمد آصف کو اٹھا کر لے گئے۔ ان سطور کے تحریر کیے جانے تک مسلسل رابطوں کے باوجود ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو رہا کہ انہیں کس ادارے نے اٹھایا ہے، وہ کہاں ہیں اور کس حالت میں ہیں؟ حافظ محمد آصف مفتی محمد عیسیٰ خان صاحب کے داماد ہیں اور لاہور کے ایک دینی مدرسہ میں خدمات سر انجام دیتے ہیں۔وہ اکابر اور اسلاف کی یادگاریں اور نوادرات جمع کرنے کا ذوق رکھتے ہیں جس کے لیے انہوں نے اپنے گھر میں چھوٹی سی گیلری بنا رکھی ہے۔ بڑے بڑے بزرگوں کی یادگاریں مختلف شکلوں میں سنبھالی ہوئی ہیں، کسی کی کوئی تحریر، کسی کی دستار کا ٹکڑا، کسی بزرگ کی قمیص، کسی کی لاٹھی اور کسی کی کوئی اور استعمال شدہ چیز بڑے سلیقے سے رکھی ہوئی ہے۔
مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کے گھر میں خفیہ اداروں کی اس کارروائی نے شہر کے دینی حلقوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ہے اور ہر شخص پریشانی اور اضطراب کا شکار ہے۔ اس سے قبل شہر میں دارالعلوم جلیل ٹاؤن، مدرسہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد اور مدرسہ مظاہر العلوم چمڑا منڈی میں اسی قسم کی کاروائیاں ہو چکی ہیں اور سب لوگ حیرت میں ہیں کہ اگر پولیس یا کسی ادارے کو حافظ محمد آصف کی کسی معاملہ میں ضرورت تھی تو اس کے لیے نارمل ذرائع اختیار کیے جا سکتے تھے اور گوجرانوالہ کے اداروں اور علماء کرام نے ایسے معاملات میں ہمیشہ سرکاری اداروں سے تعاون کیا ہے۔ لیکن اب یہ خیال عام ہو رہا ہے کہ شاید اسی تعاون کی یہ سزا دی جا رہی ہے کہ گوجرانوالہ کے بڑے دینی مدارس اور شخصیات کو نشانے پر رکھ لیا گیا ہے اور وقفے وقفے کے بعد انہیں اس قسم کی کارروائیوں کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔
ملک بھر کے احباب اور دینی راہ نماؤں سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس سلسلہ میں آواز اٹھائیں اور اپنے اپنے ذرائع سے حکومت پر زور دیں کہ وہ اس قسم کی کاروائیوں کی روک تھام کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرے اور حافظ محمد آصف سمیت ان تمام افراد کو بازیاب کرایا جائے جنہیں ایسی کاروائیوں کے ذریعے غائب کر دیا گیا ہے۔
مولانا زاہد الراشدی کے اسفار اور خطابات
ادارہ
- ۲۵ مارچ کو بعد نماز عشاء مولانا قاری سعید احمد کے ہمراہ حافظ آباد میں محفل قرأت میں شرکت اور خطاب۔
- ۲۶ مارچ کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعیۃ شبان اہل سنت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی محفل قرأت میں شرکت۔
- ۲۷ مارچ کو گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں ’’عالمی رابطہ ادب اسلامی‘‘ کے زیر اہتمام برصغیر کی نعتیہ شاعری کے حوالہ سے ایک سیمینار کی پہلی نشست کی صدارت۔ سیمینار سے پروفیسر ڈاکٹر سعد صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف، پروفیسر حافظ سمیع اللہ فراز، پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک، مولانا محمد یوسف خان، حافظ محمد عمار خان ناصر اور دوسرے مقررین نے خطاب کیا۔
- ۲۷ مارچ کو عشاء کے بعد جامعہ امداد العلوم شاہ کوٹ کے سالانہ جلسہ سے خطاب۔
- ۳۱ مارچ کو گکھڑ میں ایک مدرسہ کے جلسۂ دستار بندی سے خطاب۔
- یکم اپریل کو بیدیاں ضلع قصور میں بنات کے ایک مدرسہ کے سالانہ جلسہ سے خطاب۔
- ۲ ؍اپریل کو ظہر کے بعد مدینہ مسجد، مسلم کالونی گوجرانوالہ میں حفظ قرآن کریم کی کلاس کے افتتاح کے موقع پر خطاب ۔
- ۲ ؍اپریل کو عشاء کے بعد نواب چوک میں مولانا عبد الواحد رسول نگری کے مدرسۃ البنات میں طالبات کو مشکوٰۃ شریف کے آخری سبق کی تدریس۔
- ۳؍ اپریل کو اسلام آباد میں ’’سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ فورم‘‘ کی افتتاحی تقریب میں شرکت۔ جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان اس فورم کے چیئرمین اور سید عدنان کاکاخیل سیکرٹری جنرل ہیں۔ افتتاحی نشست کی صدارت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے کی، جبکہ مولانا محمد خان شیرانی، مولانا مفتی منیب الرحمن، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کے علاوہ جناب حامد میر، ڈاکٹر شاہد مسعود اور ضیاء شاہد صاحب نے بھی گفتگو کی۔
- ۴ ؍اپریل کو عشاء کے بعد الٰہ آباد، وزیر آباد میں مولانا محمد یونس کی مسجد میں حفاظ کرام کی دستار بندی کی تقریب میں شرکت اور خطاب۔
- ۵ ؍اپریل کو معہد الرشید الاسلامی، پسرور میں حفاظ کرام کی دستار بندی کی تقریب سے خطاب اور دارالعلوم رشیدیہ میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر کا سنگ بنیاد۔
- ۷ ؍اپریل کو مغرب کے بعد سادھوکی میں درس قرآن کریم ۔
- ۷ ؍اپریل کو عشاء کے بعد مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں مجلس احرار اسلام کی سالانہ شہدائے ختم نبوت کانفرنس کی صدارت۔ کانفرنس سے مولانا سید کفیل شاہ بخاری اور حاجی عبد اللطیف چیمہ نے خطاب کیا۔
- ۸ ؍اپریل کو مدرسہ سراجیہ سرگودھا کی سالانہ تقریب میں شرکت۔ صدارت حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد سجادہ نشین کندیاں شریف نے فرمائی اور مولانا راشدی نے تفصیلی خطاب کیا۔
- ۹ ؍اپریل کو عشاء کے بعد گوندلانوالہ کے ایک مدرسہ میں تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب۔
- ۱۰ ؍اپریل کو ظہر کے بعد جامعہ اشرفیہ لاہور میں اصول حدیث کی کلاس میں لیکچر۔
- ۱۰ ؍اپریل کو عشاء کے بعد منچن آباد ضلع بہاول نگر کی مسجد پراچہ میں سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ کی یاد میں جلسہ سے خطاب۔ صدارت مولانا معین الدین وٹو نے کی۔
- ۱۱ ؍اپریل کو شہباز کالونی کنگنی والا گوجرانوالہ میں ایک دینی درسگاہ کا سنگ بنیاد اور خطاب۔
- ۱۲ ؍اپریل کو ظہر کے بعد مرکزی جامع مسجد واہنڈو میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب ۔
- ۱۳ ؍اپریل کو اعوان چوک گوجرانوالہ میں مدرسہ عثمانیہ کے سالانہ جلسہ دستار بندی سے خطاب ۔
- ۱۴ ؍اپریل کو مغرب کے بعد جامعہ عبد اللہ بن عمرؓ مدنی روڈ کھیالی میں درس ۔
- ۱۵ ؍اپریل کو ظہر کے بعد اقراء ، قائد آباد میں بنات کے ایک مدرسہ میں بخاری شریف کے آخری سبق کی تدریس۔
- ۱۶ ؍اپریل کو معہد الرشید الاسلامی، بن باجوہ، ضلع سیالکوٹ کی سالانہ تقریب سے خطاب۔
- ۱۷ ؍اپریل کو مدرسہ ام المومنین أم سلمہؓ کھیالی گوجرانوالہ میں طالبات کو بخاری شریف کے آخری سبق کی تدریس۔
- ۱۷ ؍اپریل کومغرب کے بعد جامعہ سعدیہ پیپلز کالونی فیصل آباد میں طالبات کو بخاری شریف کے آخری سبق کی تدریس۔
- ۱۸ ؍اپریل کو عشاء کے بعد پراگ پور سیالکوٹ کی جامع مسجد میں سیرت النبیؐ کانفرنس سے خطاب۔
- ۱۸؍ اپریل کو جمعۃ المبارک کے موقع پر مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں ختم بخاری شریف کے پروگرام میں گفتگو اور شیخ الحدیث مولانا محمد داؤد کے ہمراہ طلبہ کی دستار بندی۔ مہمان خصوصی کے طورپر شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ مدعو تھے، مگر عین وقت پر اچانک علالت میں اضافہ کی وجہ سے سفر نہ فرما سکے۔
- ۱۹ ؍اپریل کو مغرب کے بعد مسجد شیخاں لالہ موسیٰ میں ایک تقریب سے خطاب۔
- ۱۹ ؍اپریل کو عشاء کے بعد جہلم کے ایک پبلک پارک میں جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ عام میں جامعہ کے دورۂ حدیث کے طلبہ کو بخاری شریف کے آخری سبق کی تدریس۔ جلسہ سے تحریک خدام اہل سنت کے امیر مولانا قاضی ظہور حسین اور وفاق المدارس کے راہ نماؤں مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور مولانا قاضی عبد الرشید نے بھی خطاب کیا۔
- ۲۰ ؍اپریل کو نوشہرہ سانسی گوجرانوالہ میں بنات کے ایک مدرسہ کی طالبات کو بخاری شریف کے آخری سبق کی تدریس۔
- ۲۰ ؍اپریل کو مغرب کے بعد جامعہ رشیدیہ ساہیوال کی سالانہ تقریب ختم بخاری شریف میں شرکت۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی نے بخاری شریف کا آخری سبق پڑھایا، جبکہ ان سے پہلے مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کیا۔
- ۲۲ ؍اپریل کو گکھڑ کے قریب چوڑہ کے ایک مدرسہ کی تقریب سے خطاب۔
- ۲۳ ؍اپریل کو ایمن آباد شہر میں ایک دینی مدرسہ کی طالبات کو بخاری شریف کے آخری سبق کی تدریس۔
- ۲۳ ؍اپریل کو مغرب کے بعد مدرسہ اجمل المدارس فیروز وٹواں کی طالبات کو مشکوٰۃ شریف کے آخری سبق کی تدریس۔
الشریعہ اکادمی کی سرگرمیاں
- ۲۹ مارچ تا ۲؍اپریل الشریعہ اکادمی میں درس نظامی اور حفظ کے ششماہی امتحانات کا انعقاد ہوا۔
- ۱۴؍ اپریل کو برطانیہ سے میسج ٹی وی کے مینیجنگ ڈائیریکٹر جناب کامران ڈاراور ان کے بھائی محمد فاروق اکادمی میں تشریف لائے اورٹی وی چینل کے لیے مولانا زاہد الراشدی کے بیانات کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں مشاورت کی گئی۔
- ۱۴؍ اپریل کو اکادمی کی پندرہ روزہ فکری نشست میں مولانا زاہدالراشدی صاحب نے’’تصوف اور شریعت کا تلازم‘‘ کے عنوان پرخصوصی لیکچر دیا۔
- ۱۹؍ اپریل کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں بادشاہی مسجد لاہور کے سابق خطیب مولانا عبد الرحمن جامی رحمہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں احباب کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ محترم پروفیسر خالد ہمایوں اور مولانا زاہد الراشدی نے جامی صاحب مرحوم کے بارے میں اپنی یادداشتوں اور تأثرات پر گفتگو کی۔
- ۲۴؍ اپریل کو اکادمی کے اساتذہ وطلبہ تفریحی ومعلوماتی دورے پر قلعہ روہتاس(جہلم)اور منگلاڈیم(میر پور) گئے۔
شوگر کا بڑھتا ہوا مرض اور اس کے اسباب
حکیم محمد عمران مغل
تقریباً تمام انسانی امراض کا تعلق کام ودہن سے ہے، لیکن شوگر کے مرض کا تعلق خاص طور پر خور ونوش کی عادات اور معدہ سے ہے، اس کے علاوہ کسی جسمانی عضو سے نہیں۔ کوئی چیز معدہ میں پھنس گئی اور آپ نے ازالہ کے لیے پھکی، چورن یا ہاضمے کی گولی کھا لی۔ معدہ کی کیفیت کا ازالہ ہو گیا۔ پھر کبھی یہی تکلیف محسوس ہوئی تو آپ نے پھر یہی کام کیا۔ اسی طرح آپ کو ہاضمہ کی خرابی دور کرنے کے لیے بار بار کوئی چیز استعمال کرنا پڑی تو سمجھ لیں کہ رفتہ رفتہ شوگر کا مرض آپ کے جسم میں جگہ بنا رہا ہے، کیونکہ جو کچھ آپ نے کھایا پیا ہے، وہ انسانی صحت کے اصول کے مطابق ازخود ہضم ہونا چاہیے۔ اس ہاضمے کے لیے آپ بار بار متبادل ادویہ کھائیں گے تو معدہ اس کا عادی ہو کر اپنا اصل عمل چھوڑ دے گا۔ یاد رکھیں، یہی شوگر کے مرض کی ابتدا ہے۔ جو کام معدے کے ذمے تھا، وہ آپ نے ہاضمہ کی ادویہ سے لینا شروع کر دیا۔
ایک نکتہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسانی گردہ ایک دن برف کی طرح ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ جس دن یہ ٹھنڈک آپ کے گردے میں برابر آ گئی تو اللہ کی ذات کے سوار کوئی طاقت آپ کو شوگر کے مرض سے نہیں بچا سکتی۔ کوکا کولا یا دیگر بند بوتلوں کا پانی بھی کچھ عرصے کے بعد آپ کو خون کے آنسو رلائے گا۔ ہم نے ایسے مریض بھی دیکھے ہیں جو کھانے کے ایک آدھ گھنٹے کے بعد پاخانہ کر دیا کرتے تھے۔ پوچھنے پر بتایا کہ یہ اس تیزابی پانی کا نتیجہ ہے جو ہم بوتلوں میں پیتے تھے۔
تمام مشروبات، میدہ کے بنی ہوئی مصنوعات، پکے پکائے کھانے، ہر قسم کے جام، اچار، مربے، چٹنیاں، ان میں ایسے کیمیکل ملائے جاتے ہیں جن سے انتڑیوں کا اَستر اتر جاتا ہے۔ پھر یہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ کھانے کے بعد فوراً بیت الخلا جانا پڑتا ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر اپنے مطبخ میں میدہ رکھنا گوارا نہ کرتے تھے۔
تانبہ کے برتن میں قلعی کروا کر استعمال کریں، یہ کئی ادویہ کا ملغوبہ ہے۔ مٹی کے برتنوں سے بھی شوگر کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کھانے کے بعد ایک چٹکی کالی زیری پانی کے ساتھ کھا لیں، معدہ واش ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ