مارچ ۲۰۱۴ء

سودی نظام کے خلاف دینی حلقوں کی مشترکہ مہممولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
حکومت طالبان مذاکرات اور دستور کا مسئلہمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
شریعت کی تعبیر اور دستور کی اسلامیت اور کی بحثپروفیسر عمران احسن خان نیازی 
دیسی سیکولروں کی مغالطہ انگیزیاں (۱)محمد زاہد صدیق مغل 
فرانس کے ایک مختصر دورے کے تاثراتمحمد عمار خان ناصر 
فکرِ مغرب: بعض معاصر مسلم ناقدین کے افکار کا تجزیہ (۲)ڈاکٹر محمد شہباز منج 
غزالی اور ابن رشد کا قضیہ ۔ اصل عربی متون کی روشنی میں (۲)مولانا محمد عبد اللہ شارق 
مکاتیبادارہ 
’’کہانی کی دنیا‘‘ نئی ڈائری کی متقاضیپروفیسر شیخ عبد الرشید 
گنٹھیا یا بڑے جوڑوں کا دردحکیم محمد عمران مغل 

سودی نظام کے خلاف دینی حلقوں کی مشترکہ مہم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قائد اعظم محمد علیؒ جناح نے ۱۵ جولائی ۱۹۴۸ء کو کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا تھا کہ:
’’میں نہایت اشتیاق کے ساتھ آپ کی ریسرچ فاؤنڈیشن کے تحت موجود بینکنگ نظام کو اسلامی معاشی اور معاشرتی افکار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی سعی و کوشش کو دیکھنا چاہوں گا۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے کچھ ناقابل حل مسائل پیدا کیے ہیں اور بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ کوئی معجزہ ہی اسے تباہی سے بچا سکتا ہے۔ یہ نظام انسانوں کے مابین معاشی عدل قائم کرنے اور عالمی سطح پر ہونے والی کشمکش کے تدارک میں ناکام ہو چکا ہے۔ اس کے برخلاف یہی نظام ماضی میں ہونے والی دو عالمی جنگوں کا سبب بنا ہے۔ دنیائے مغرب اپنی صنعتی ترقی اور مشینی ایجادات و اختراعات کے باوجود بدترین انتشار میں مبتلا ہے جو تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد معاملہ ہے۔ مغربی معاشی نظریے اور عمل کو اختیار کرنا ہمیں اس آسودہ معاشرے تک پہنچانے کا باعث نہیں ہو سکتا جو ہماری منزل ہے۔ ہمیں اپنی تقدیر خود اپنے ظروف و احوال کے مطابق لکھنی ہوگی اور اسلام کے معاشرتی عدل اور انصاف پر مبنی ایک معاشی نظام کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا جس کے ذریعہ ہم بحیثیت مسلمان اپنا فرض ادا کر سکیں اور انسانیت کے سامنے پیغام امن پیش کر سکیں جو اس کی فلاح و بہبود، انبساط اور ترقی کا ضامن ہوگا۔‘‘
مگر بانی پاکستان کی اس واضح ہدایت کے باوجود ملک کا معاشی نظام ابھی تک مغرب کے معاشی نظریات اور اصول و ضوابط کے مطابق چل رہا ہے اور اس میں اصلاح کی کوئی کوشش کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم قومی معیشت میں سودی نظام اور مغرب کے معاشی اصولوں کے تمام تر تلخ نتائج، نحوستوں اور تباہ کاریوں کو دیکھتے بلکہ بھگتتے ہوئے بھی میر تقی میر مرحوم کے اس شعر کا مصداق بنے ہوئے ہیں کہ:
میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
جس معاشی نظام نے ہماری قومی معیشت کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے اور جو ہمارے ایمان و عقیدہ سے متصادم ہونے کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کے بھی منافی ہے، بدستور ہم پر مسلط ہے اور رولنگ کلاس قوم کو اس دلدل سے نجات دلانے کے لیے کوئی راستہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ 
پاکستان میں نافذ ہونے والے ہر دستور میں اس کا وعدہ کیا گیا کہ قوم کو سودی نظام سے جلد از جلد نجات دلائی جائے گی۔ حتیٰ کہ 1973ء کے دستور کے آرٹیکل 380 کی ذیلی دفعہ F میں کہا گیا ہے کہ ’’حکومت جس قدر جلد ممکن ہو سکے ربا کو ختم کرے گی۔‘‘
قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے دستوری طور پر قائم ہونے والے ادارہ اسلامی نظریاتی کونسل نے 3 دسمبر 1969ء میں قرار دیا تھا کہ:
’’موجودہ بینکاری نظام کے تحت افراد، اداروں اور حکومتوں کے درمیان قرضوں اور کاروباری لین دین میں اصل رقم پر جو اضافہ یا بڑھوتری کی جاتی ہے وہ ربا کی تعریف میں آتی ہے، سیونگ سرٹیفیکیٹ میں جو اضافہ دیا جاتا ہے وہ بھی سود میں شامل ہے، پراویڈنٹ فنڈ اور پوسٹل بیمہ زندگی میں جو سود دیا جاتا ہے وہ بھی ربا میں شامل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صوبوں، مقامی اداروں اور سرکاری ملازمین کو دیے گئے قرضوں پر اضافہ بھی سود ہی کی ایک قسم ہے لہٰذا یہ تمام صورتیں حرام اور ممنوع ہیں۔‘‘
اسلامی نظریاتی کونسل نے اس کے بعد سودی نظام کے خاتمے اور متبادل معاشی نظام کے حوالہ سے ایک جامع رپورٹ 25 جون 1980ء کو حکومت کے سامنے پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ ان تجاویز پر عمل کی صورت میں دو سال کے اندر پاکستان کی معیشت کو سود سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ 
وفاقی شرعی عدالت نے 1990ء میں اس سلسلہ میں ایک واضح فیصلہ صادر کیا جس میں تمام مروّجہ سودی قوانین کا جائزہ لے کر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ 30 جون 1992ء تک ان قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق تبدیل کر لیں ورنہ یہ سب قوانین یکم جولائی 1992ء تک خود بخود کالعدم ہو جائیں گے۔
وفاقی شرعی عدالت کے اس تاریخی فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی گئی جس کی سماعت میں سات سال کی مسلسل تاخیر کے بعد 1999 میں اس کے لیے بینچ تشکیل دیا گیا اور سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کی توثیق کرتے ہوئے کہ وہ جون 2001ء تک وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عمل مکمل کر کے ملک کو سود سے پاک کر دے۔ مگر یہ فیصلہ بھی اب اپیل در اپیل کے مراحل میں ہے اور حکومت نے اس پر عمل کرنے کی بجائے تاخیری حربوں کا سہارا لے رکھا ہے۔
اس پس منظر میں ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کی تحریک پر گزشتہ دو تین ماہ کے دوران مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ راہ نماؤں کے درمیان مرکز جماعت الدعوۃ، دفتر جماعت اسلامی، دفتر تنظیم اسلامی اور مسجد خضراء لاہور میں باہمی مشاورت کی متعدد نشستیں ہوئی ہیں جن میں یہ طے پایا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت میں زیر سماعت اپیل کے حوالہ سے ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ جماعت اسلامی اور تنظیم اسلامی کے تعاون سے علمی و فکری جدوجہد جاری رکھے گی جبکہ ملک کے دینی حلقوں میں اس مقصد کے لیے باہمی ربط و تعاون کے فروغ اور عوام میں بیداری و آگہی پیدا کرنے کی غرض سے ایک مستقل فورم ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کے نام سے قائم کیا گیا ہے اور اس کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر کی ذمہ داری راقم الحروف کو سونپی گئی ہے۔
رابطہ کمیٹی میں مولانا عبد المالک خان، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا امیر حمزہ، علامہ خلیل الرحمن قادری، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، ڈاکٹر محمد امین، مولانا عبد الرؤف ملک، سردار محمد خان لغاری، قاری محمد یعقوب شیخ، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، جناب حافظ عاکف سعید، مولانا مجیب الرحمن انقلابی، میاں محمد اویس، مولانا حافظ محمد نعمان، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، اور سید جواد حسین نقوی کے علاوہ ممتاز دانش ور جناب اوریا مقبول جان بھی شامل ہیں، جبکہ جن حضرات نے خطوط اور زبانی پیغامات کے ذریعہ تائید و حمایت کی ہے، ان میں مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا محمد اویس نورانی، مولانا قاری زوار بہادر، ڈاکٹر زاہد اشرف، مولانا عبد القیوم حقانی اور مولانا پیر عبد الرحیم نقشبندی بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ اس مہم کے آغاز کے طور پر 21 فروری کو ’’یوم انسداد سود‘‘ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور خطباء نے جمعۃ المبارک کے خطبات میں سودی نظام کی نحوست و حرمت کے ساتھ ساتھ مقتدر طبقات کے تاخیری حربوں کا ذکر کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کو سودی نظام کی لعنت سے نجات دلا کر بابرکت اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کی راہ ہموار کرے۔
ملک بھر میں تمام مکاتب فکر اور طبقات کے علماء کرام، ارباب دانش، راہ نماؤں اور کارکنوں سے گزارش ہے کہ اس کار خیر میں ہمارے ساتھ شریک ہو کر ملکی نظام معیشت کو سود کی لعنت سے نجات دلانے میں کردار ادا کریں۔

حکومت طالبان مذاکرات اور دستور کا مسئلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹوں اور وقتی تعطل کے باوجود سنجیدہ حلقوں میں امید ابھی تک قائم ہے اور وہ مسلسل دعاگو ہیں کہ دونوں فریق امت مسلمہ کی وحدت اور ملک کے امن وسلامتی کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کے حل کی ہر ممکن کوشش کریں۔ البتہ مذاکراتی ٹیموں اور ان سے زیادہ میڈیا کے مختلف ذرائع نے شریعت اور آئین کو آمنے سامنے کھڑا کر دینے کا جو ماحول بنا دیا ہے، وہ تشویشناک ہے اور اس کے بارے میں بہت زیادہ محتاط طرز عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ شریعت اور آئین دونوں ملک کی ضروریات میں سے ہیں بلکہ وطن عزیز کے قیام اور بقا کی اساس کی حیثیت رکھتی ہیں لیکن اس سلسلہ میں جو کنفیوژن بڑھتا جا رہا ہے یا عمدًا بڑھایا جا رہا ہے وہ دونوں طرف کے اصحابِ فکر و دانش کے لیے قابل توجہ ہے۔ 
دستورِ پاکستان کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ پر ہے، اس میں جمہور اور ان کے نمائندوں کو حاکم اعلیٰ تسلیم کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور قرآن و سنت کی بالادستی کا پابند قرار دیا گیا ہے اور ملک میں غیر شرعی قوانین کو ختم کر کے تمام قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس لیے اس دستور کو شریعت سے متصادم قرار دینے کی بات دستور اور اس کی تشکیل کے لیے اکابر علماء کرام کی جدوجہد کی نفی اور اس سے انحراف کے مترادف ہے۔ کیونکہ اس دستور کی تدوین و ترتیب اور اسے اسلامی دستور قرار دینے والوں میں مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا عبد الحکیمؒ ، مولانا نعمت اللہؒ ، مولانا صدر الشہیدؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مولانا محمد ذاکرؒ ، مولانا عبد المصطفیٰ ازہریؒ ، اور پروفیسر غفور احمدؒ جیسے اکابر اہل علم و دانش شامل ہیں اور اس دستور کی وفاداری کا حلف اٹھانے والوں میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ مولانا سمیع الحق، مولانا قاضی عبد اللطیفؒ ، مولانا حسن جانؒ ، مولانا معین الدین لکھویؒ ، مولانا نور محمدؒ ، مولانا محمد احمدؒ ، اور مولانا عبد المالک خان کے نام نمایاں ہیں۔
دستور کے حوالہ سے اہل دین کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دستور اسلامی ہے یا نہیں بلکہ اصل مسئلہ بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کا منافقانہ رویہ ہے جس نے دستور کی اسلامی دفعات کو عملاً معطل رکھا ہوا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ سرے سے دستور سے انکار کر دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ تمام اہل دین متحد ہو کر ایک زبردست عوامی تحریک کے ذریعہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنا رویہ تبدیل کرنے اور دستور کی اسلامی دفعات پر عمل درآمد پر مجبور کریں۔ شریعت کے نفاذ کے خواہاں حلقے اگر اس کا اہتمام کر سکیں تو نفاذِ شریعت کی منزل زیادہ دور نہیں ہے۔
دستور کے حوالہ سے ایک مغالطہ عام طور پر یہ پایا جاتا ہے کہ اسلام میں تحریری دستور اور تحریری قوانین کی کوئی روایت موجود نہیں ہے بلکہ براہ راست قرآن و سنت ہی دستور اور قانون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ اسلامی تاریخ میں دستور و قانون کا پہلا باضابطہ مجموعہ حضرت امام ابو یوسفؒ نے امیر المومنین ہارون الرشیدؒ کی فرمائش پر ’’کتاب الخراج‘‘ کے نام سے مرتب کیا تھا جس میں اگرچہ بنیادی امور بیت المال اور اس سے متعلقہ مسائل پر مشتمل ہیں۔ جبکہ انتظامی اور امارتی امور بھی اس میں بہت حد تک شامل ہیں۔ یہ دستور و قانون امیر المومنین کی فرمائش پر لکھا گیا تھا اور عباسی سلطنت میں باقاعدہ نافذ العمل رہا ہے۔ اسی طرح ’’الأحکام السلطانیہ‘‘ کے نام سے الماوردیؒ اور قاضی ابویعلیؒ کی معرکۃ الآراء تصانیف قانون و دستور کی باقاعدہ تدوین و تشکیل کا درجہ رکھتی ہیں اور یہ دورِ جدید کی بات نہیں بلکہ قرون اولیٰ کے دور کی علمی خدمات ہیں جن سے اب تک مسلسل استفادہ کیا جا رہا ہے۔ پھر سلطان اورنگزیب عالم گیرؒ کے دور میں ’’الفتاویٰ الہندیہ‘‘ کے نام سے جو علمی کام ہوا وہ صرف فتاویٰ نہیں تھے بلکہ ملک کے دستور و قانون کے طور پر مرتب کیے گئے تھے اور پورے برصغیر میں 1857ء تک نافذ العمل رہے ہیں۔ 
قیام پاکستان کے بعد ملک کے جمہور علماء کرام نے قرارداد مقاصد، 22 متفقہ دستوری نکات اور دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کی صورت میں جو اجتہادی کام کیا ہے وہ نئی اختراع نہیں ہے۔ بلکہ امام ابو یوسفؒ ، قاضی ابو یعلیؒ ، الماوردیؒ ، اور اورنگزیب عالمگیرؒ کے دور کے ان سینکڑوں علماء کرام کی اجتماعی علمی جدوجہد کا تسلسل ہے جو اسلام کے اصولوں اور تقاضوں کے عین مطابق ہے اور اس سے انحراف درست طرز عمل نہیں ہے۔
دوسری طرف یہ تاثر دینا بھی گمراہ کن بات ہے کہ شریعت کا نفاذ صرف طالبان کا مطالبہ ہے اور اس کا دائرہ صرف شورش زدہ علاقوں تک محدود ہے۔ اس لیے کہ شریعت اسلامی کا نفاذ خود دستور پاکستان کا تقاضہ ہے، قیام پاکستان کا مقصد ہے اور پوری قوم کی اجتماعی ضرورت ہے۔ اس کی صرف دو تازہ مثالیں نمونہ کے طور پر پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ ایک یہ کہ سود کے مسئلہ پر خود حکومت اب اس ضرورت کو محسوس کر رہی ہے کہ غیر سودی نظام کو اپنانا ملکی معیشت کو صحیح رخ پر لانے کے لیے ناگزیر ہے اور دوسری یہ کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ میں واضح طور پر کہا تھا کہ ملک میں کرپشن کو ختم کرنے کے لیے حضرت عمرؓ کے نظام کو اختیار کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ یہ حضرت عمرؓ کا نظام اور غیر سودی بینکاری کیا ہے؟ یہ دونوں شریعت اسلامیہ ہی کے اہم شعبے ہیں جو نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کے لیے ناگزیر ضرورت بنتے جا رہے ہیں۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے پچھلے دور حکومت میں پارلیمنٹ سے ’’شریعت بل‘‘ کے نام سے جو بل منظور کرایا تھا وہ یقیناًانہیں یاد ہوگا، اس میں اگرچہ قرآن و سنت کو سپریم لاء قرار دیتے ہوئے حکومتی نظام کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا جس پر ہم نے تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن کیا میاں محمد نواز شریف نے یہ بل واپس لے لیا ہے اور کیا ان کی حکومت اس ’’شریعت بل‘‘ پر عمل درآمد کو ضروری نہیں سمجھتی؟ سردست حکومتی نظام کو کچھ عرصہ کے لیے مستثنیٰ سمجھ کر قومی زندگی کے باقی شعبوں میں ہی اس ’’شریعت بل‘‘ کے نفاذ اور عملدرآمد کا اہتمام کرلیں۔ لیکن اس سے آنکھیں بند کر لینا اور شریعت کو صرف طالبان کا مسئلہ قرار دے کر مسلسل نظر انداز کیے چلے جانا دینی، قانونی اور اخلاقی لحاظ سے کوئی جواز نہیں رکھتا۔ میاں صاحب محترم کو سیکولر لابیوں اور عالمی استعمار کی ان سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے جو انہیں بتدریج شریعت اور شریعت بل سے دور لے جانے کے لیے کر رہی ہیں اور میاں صاحب کے گرد بھی ایک مخصوص حصار ہے جو اس ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ 
ہماری ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو اپنے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ طالبان کو دستور پاکستان کے بارے میں مغالطوں کے دائرے سے نکل کر حقیقت پسندانہ موقف اختیار کرنا چاہیے۔ اور حکومت کو شریعت سے مسلسل بے اعتنائی کے طرز عمل کا جائزہ لے کر سیکولر لابیوں کے خول سے باہر نکلنا چاہیے۔ اگر دونوں فریقوں نے حقیقت پسندی سے کام لیا تو کوئی وجہ نہیں کہ مذاکرات کامیاب نہ ہوں اور پاکستان امن و سلامتی اور شریعت کی بالادستی کے حوالہ سے ایک خوشگوار مستقبل کا آغاز نہ کر سکے۔

شریعت کی تعبیر اور دستور کی اسلامیت اور کی بحث

پروفیسر عمران احسن خان نیازی

ترجمہ : ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ان دنوں مختلف حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کون سی شریعت پاکستان میں نافذ کی جائے گی ؟ اعتراض کیا جاتا ہے کہ بہت سے فرقوں اور شریعت کی بہت سی تعبیرات کی موجودگی میں کس کی تعبیر نافذ کی جائے گی ، بالخصوص اب جبکہ بعض لوگوں نے شریعت کے نفاذ کے لیے ہتھیار بھی اٹھالیے ہیں ؟ اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ پاکستان کے دستور اور قانون کی رو سے پاکستان میں "عدلیہ کی شریعت " نافذ کی جائے گی۔ اس بات کی مختصر توضیح ذیل میں پیش کی جاتی ہے۔ 
دستور کی دفعہ 227 ( ا) دو ذمہ داریاں عائد کرتی ہے : 
اولاً یہ کہ ’’تمام موجودہ قوانین کو قرآن و سنت میں مذکور احکامِ اسلام سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ ‘‘
ثانیاً یہ کہ’’ ان احکام سے متصادم قانون سازی نہیں کی جائے گی۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی غیر اسلامی قانون نہیں بنایا جائے گا۔ 
پہلی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل نے دستوری تقاضوں کے مطابق اپنی رپورٹیں تیار کی ہیں۔ نیز جن بعض قوانین کی جزئیات احکامِ اسلام سے متصادم نظر آتی ہیں انھیں کالعدم قرار دینے کے لیے وقتاً فوقتاً وفاقی شرعی عدالت میں بھی کا رخ کیا جاتا ہے۔ 
نئی یا مجوزہ قانون سازی کے متعلق دوسری دستوری ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے دستور کی دفعہ 229 میں جو طریق کار طے کیا گیا ہے اس کی رو سے مجوزہ قانون کے مسودے کی احکامِ اسلام سے ہم آہنگ بنانے کے لیے کونسل کی رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ تاہم اگر مفادِ عامہ کا تقاضا ہو تو کونسل کا جواب موصول ہونے سے قبل بھی پارلیمنٹ مجوزہ قانون کا مسودہ منظور کرسکتی ہے۔ (دفعہ (3) 229) وفاقی یا صوبائی مجلس ہاے قانون ساز اس بات کی پابند نہیں ہیں کہ وہ کسی مجوزہ قانون کا مسودہ لازماً کونسل کو بھیجیں ، اور بالعموم وہ ایسا کرتی بھی نہیں ہیں۔ مقننہ عام طور پر قانون سازی کے امور کونسل کی مشاورت کے بغیر ہی انجام دیتی ہے۔ اس وقت ہمارے لیے موضوعِ بحث یہی قوانین ہیں جو کونسل کی مشاورت کے بغیر بنائے جاتے ہیں۔ 
چونکہ اسلام سے متصادم کوئی قانون نہیں بنایاجاسکتا اس لیے اس دستوری امر کی پابندی کرتے ہوئے مقننہ قانون ایسا بناتی ہے جو اسلام سے ہم آہنگ ہو۔ پس مفروضہ یہ ہے کہ مقننہ کے بنائے ہوئے تمام قوانین اسلامی ہیں ، خواہ انھیں وضع کرنے کے دوران میں کونسل سے مشورہ لیا گیا ہو یا نہیں۔ پس پاکستان میں تمام قوانین اسلامی ہیں۔ اگر ہم ان قوانین کو غیر اسلامی کہیں گے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مقننہ دستور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر اسلامی قوانین وضع کررہی ہے۔ ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کی مقننہ کے متعلق یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا۔ پس یہ مفروضہ ماننا پڑے گا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک میں موجود تمام عدالتیں اس مفروضے کا ’’عدالتی نوٹس‘‘ لیں گی کہ مقننہ کے وضع کردہ تمام قوانین اسلامی ہیں۔ 
ذرا ترمیم شدہ شکل میں یہ مفروضہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے قبل انگریزوں کی جانب سے بنائے گئے قوانین پر بھی منطبق ہوتا ہے۔کونسل اور شرعی عدالت نے تقریباً ان تمام قوانین کا جائزہ لیا ہے اور ربا جیسے معدودے چند مسائل کے سوا رائج الوقت تقریباً تمام قوانین کو اسلام کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔ جن چند قوانین کو غیر اسلامی قرار دیا گیا ہے ان کو بھی بتدریج اسلامی قانون کے سانچے میں ڈھال دیا جائے گا جب ان کے متعلق کونسل کی رپورٹ آجائے گی ، یا جب شرعی عدالت ان کے متعلق فیصلہ کرلے گی۔ قوانین کی غالب اکثریت کے متعلق کونسل اور شرعی عدالت ، یا بہ الفاظِ دیگر پاکستان کے عوام ، کا مفروضہ یہ ہے کہ یہ اسلامی ہیں۔ پس عدالتیں ان قوانین کے متعلق بھی عدالتی نوٹس لیں گی کہ انھیں اسلامی فرض کرتے ہوئے ان کی تعبیر کی جائے۔ 
نئی قانون سازی اور پہلے سے رائج قوانین کے متعلق ان دو مفروضوں کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں موجود تمام قوانین اسلام سے ہم آہنگ کیے جاچکے ہیں۔ مستقبل میں بھی جو قوانین بنائے جائیں گے وہ اسلام سے ہم آہنگ ہوں گے۔ پس قوانین کو اسلامیانے کا عمل تکمیل کو پہنچ چکا ہے اور ہمارے تمام قوانین اسلامی ہیں۔ یہ حقیقت ہماری عدالتوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ اب اس بات کی توضیح ضروری ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ عدالتیں ان مفروضوں کا اور اس اہم حقیقت کا عدالتی نوٹس لیں تو اس سے ہماری مراد کیا ہے ؟ اس مقصد کے لیے ہم امریکی جج جسٹس کارڈوزو پر انحصار کریں گے جو ہمارے لیے عدالتی طرز عمل کی توضیح کرتے ہیں۔ 
جسٹس کارڈوزو کہتے ہیں : 
’’پس ہمارے لیے پہلا سوال یہ ہونا چاہیے کہ : جج جس قانون کا اظہار اپنے فیصلے کے ذریعے کرتا ہے وہ اسے کہاں سے حاصل کرتا ہے ؟ بعض اوقات یہ مآخذ بالکل واضح ہوتے ہیں ؛ [جیسے مثال کے طور پر کسی] جزئیے سے متعلق حکم دستور یا قانون فراہم کردیتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو جج کسی اور چیز کی طرف نہیں دیکھتا۔ جب متعلقہ حکم معلوم ہوجائے تو اس پر عمل پیرا ہوناہی اس کا کام ہے۔ دستور قانون پر بالادست ہوتا ہے ؛ لیکن قانون اگر دستور سے ہم آہنگ ہو تو جج کے وضع کردہ قانون پر بالادست ہوتا ہے۔ اس مفہوم میں جج کا وضع کردہ قانون مقننہ کے وضع کردہ قانون کی بہ نسبت ثانوی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ [تاہم] یہ [بھی] صحیح ہے کہ ضوابط اور قوانین جج کو غیر ضروری نہیں بنادیتے ؛ نہ ہی اس کے کام کو لگا بندھا اور مشینی بنادیتے ہیں؛ [بلکہ] قانون میں موجود خلاؤں کا پر کرنا ضروری ہوتا ہے ؛ [اور اسی طرح] اشکالات اور احتمالات کا خاتمہ کرنا پڑتا ہے۔‘‘ (The Nature of Judicial Process)
قانون میں جن خلاؤں، اشکالات یا احتمالات کا جسٹس کارڈوزو ذکر کررہے ہیں وہ عام آدمی کی سوچ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ جج کو ہر قانون کی تعبیر کرنی پڑتی ہے اور تمام خلاؤں ، اشکالات اور احتمالات کو دور کرکے قانون کو شکل دینا اور معانی پہنانا ہوتا ہے جس کے بعد ہی وہ لوگوں کے مسائل کو منصفانہ اور متوازن حل دیتا ہے۔ 
یہ خلا ، اشکال اور احتمال جن کا ذکر جسٹس کارڈوزو کررہے ہیں ، اور بھی بڑھ جاتے ہیں جب ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ تمام قوانین اب اسلامی ہوچکے ہیں۔ کیا یہ اشکالات دور کرنے میں ہمارے ملک کا قانون ہماری کچھ مدد کرتا ہے ؟ یقیناً ، کرتا ہے۔ اس مسئلے پر جس قانون کا اطلاق ہوتا ہے ، لیکن جس پر بوجوہ عمل نہیں کیا جارہا ، "قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء" کی دفعہ 4 میں مذکور ہے۔ اس دفعہ کا متن حسبِ ذیل ہے : 
’’قوانین کی تعبیر شریعت کی روشنی میں کی جائے گی : اس قانون کے مقصد کے لیے ( الف ) جب کسی قانون کی دو تعبیرات ممکن ہوں تو عدالت وہ تعبیر اختیار کرے گی جو اسلامی اصولوں اور نظری? قانون سے ہم آہنگ ہو ؛ ( ب ) جب دو یا زائد برابر کی تعبیرات ممکن ہوں تو عدالت وہ تعبیر اختیار کرے گی جو دستور میں مذکور پالیسی کے رہنما اصول اور اسلامی دفعات سے ہم آہنگ ہو۔ ‘‘
ان دونوں ذیلی دفعات میں لفظ shall آیا ہے ، نہ کہ may ، اور اسی لیے اس حکم پر عمل لازمی ہے ، نہ کہ اختیاری۔ " اس قانون کے مقصد کے لیے " سے بالبداہت مراد یہ ہے کہ " نفاذِ شریعت کے مقصد کے لیے ، جیسا کہ اس قانون اور دستور کا تقاضا ہے۔ " باقی رہا یہ سوال کہ اس لازمی تعبیر کی شکل عدالتی اصطلاح میں کیا ہوگی ، تو اس کا جواب دینا خود عدالتوں پر ہی لازم ہے۔ قانون دان حضرات پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس دفعہ کی رو سے لازم ہونے والی تعبیر کے متعلق عدالتوں کے سامنے سوال اٹھائیں۔ 
اگر اس دفعہ کی روشنی میں قانون کی تعبیر شریعت کی روشنی میں کی جائے تو ملک کا پورا قانون اسلامی عدل اور انصاف کے رنگ میں رنگ جائے گا اور یہ رنگ چار پانچ سال میں واضح طور پر سامنے آجائے گا۔ بعض اوقات عدالتیں شریعت کی طرف اشارہ کرتی ہیں لیکن ایسا ہر معاملے میں نہیں ہوتا۔ ضروری ہے کہ تمام قوانین کی تعبیر شریعت کے مطابق کی جائے۔ اس سے مراد ہر طرح کے قوانین ہیں ، جیسے ٹیکس کا قانون ، کمپنی کا قانون، معاہدے کا قانون ، تلافی کا قانون وغیرہ۔ ہر قانونی تصور کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا جائے گا۔ قانونی تصور کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کا مفہوم یہ ہے کہ خلاؤں کو پر اور اشکالات کو دور کرنے کا کام شریعت کی روشنی میں کیا جائے گا۔ اگر یہ قانونی لحاظ سے لازمی کام 1991ء میں شروع کیا جاچکا ہوتا تو آج ہم اس صورت حال سے دوچار نہ ہوتے کہ قانونی نظام کے اسلامی ہونے سے ہی انکار کیا جارہا ہے۔ آخر میں اس بات کا بھی اضافہ کروں کہ شریعت کے بامعنی نفاذ کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اس کے نتیجے میں شریعت کا نفاذ تدریج اور سہولت کے ساتھ ہوجائے گا۔ آج جو لوگ شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کررہے ہیں انھیں نفاذ کے اسی طریقے پر اصرار کرنا چاہیے۔ ’’کس کی شریعت کا نفاذ کیا جائے گا ؟ ‘‘ اس سوال کا جواب عدالتوں کو یہ کہہ کر دینا چاہیے کہ کسی فرقے کی شریعت نہیں ، بلکہ شریعت کی دستوری شکل کا نفاذ کیا جائے گا۔ 

کیا ہمارا دستور اسلامی ہے؟

وفاقی حکومت نے ایک ممتاز عالم دین سے فتوی حاصل کیا ہے جس کی رو سے ہمارا دستور مکمل طور پر اسلامی ہے کیونکہ اس میں وہ 22 ’’اسلامی‘‘ دفعات شامل ہیں جو اس ملک کے ممتاز علماے کرام نے متفقہ طور پر تجویز کیے تھے۔(ایکسپریس ٹربیون، ۹ فروری) سابقہ سطور میں ہم نے تجویز کیا ہے کہ محض قوانین وضع کرنے سے وہ اسلامی نہیں ہوجاتے ؛ بلکہ یہ تبھی اسلامی ہوں گے جب عدالتیں ان کی اسلامی تعبیر کریں گی۔ زیر نظر سطور میں یہ واضح کیا جارہا ہے کہ ان 22 نکات کی شمولیت سے دستور اسلامی نہیں ہوجاتا؛ دستور تبھی اسلامی ہوگا جب عدالتیں صرف ان 22 نکات کی ہی نہیں بلکہ دستور کی ہر ہر دفعہ کی اسلامی تعبیر کریں گی۔ 
سوال یہ ہے کہ عدالتیں کیوں دستور کی اسلامی تعبیر نہیں کررہیں؟ ہمارے علماے کرام اور صحافی حضرات کو ، جو اس موضوع پر لکھ رہے ہیں ، معلوم ہونا چاہیے کہ اگر عدالتیں دستور کی ہر شق کی اسلامی تعبیر نہیں کرپارہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس سوال کا جواب عدالت عظمی نے حاکم خان بنام حکومتِ پاکستان میں دیا ہے۔ (PLD 1992 SC 559) اس مقدمے میں یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ قصاص کے مقدمات میں قاتل کی معافی کا اختیار صرف مقتول کے ورثا کے پاس ہے یا ورثا کی مرضی کے بغیر بھی صدر قاتل کو معاف کرسکتا ہے ؟دستوری اصطلاح میں بظاہر دفعہ2۔ الف ، جو دستور کو اسلامی بنانے کی کوشش کرتی ہے ، اور دفعہ 45 ، جو صدر کو ہر سزا کی معافی کا اختیار دیتی ہے ، کے درمیان تصادم تھا۔ 
اگر یہ فرض کرتے ہوئے کہ دستور اسلامی ہے ، دفعہ 45 کی بھی اسلامی تعبیر کی گئی ہوتی تو معزز عدالت نے قرار دیا ہوتا کہ دفعہ 45 کا اطلاق قصاص کی سزا پر نہیں ہوتا۔ تاہم عدالت نے یہ نہیں کہا۔ اس کے برعکس اس نے قرار دیا کہ دفعہ 2150 الف "دستور پر حاوی " نہیں ہے اور دفعہ 2150 الف دستور کی کسی دوسری شق کی تخصیص یا تقیید نہیں کرسکتی۔ بہ الفاظ دیگر ،صرف وہ "22 نکات" ہی اسلامی ہیں ؛ باقی ہر شق اپنا انفرادی مفہوم رکھتی ہے۔ 
پورے دستور کو اسلامی بنانے کا طریقہ پھر کیا ہے ؟ معزز عدالت نے اس کے لیے یہ طریقہ سجھایا ہے : 
پس اگر دستور کی موجودہ شقوں میں سے کسی کے متعلق یہ سوال اٹھایا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی مقررکردہ جن حدود کے اندر لوگوں کو قانون سازی کا اختیار ہے یہ شق ان حدود سے تجاوز کی بنا پر ناجائز ہے ، تو اس مسئلے کا حل صرف مجلس شوری ( پارلیمنٹ ) کے پاس ہے جو اگر اس رائے سے متفق ہو تو متعلقہ شق کو ٹھیک کرکے اسے واپس اللہ تعالیٰ کی مقررکردہ حدود کے اندر لانے کے لیے مناسب ترمیم کرسکتی ہے۔ (PLD 1992 SC 559, 621)
یہ موقف دستوری لحاظ سے انتہائی دوررس نتائج کا حامل ہے اور اس کا تفصیلی تجزیہ ضروری ہے۔ 
برطانیہ میں دستور عام قوانین کی صورت میں بکھرا پڑا ہے جس کی وجہ سے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہاں [یکجا صورت میں] تحریری دستور موجود نہیں ہے۔ دستور کی جگہ وہاں پارلیمنٹ کا فیصلہ بالادست حیثیت رکھتا ہے۔ اس بنا پر وہاں جج کہا کرتے تھے کہ : " ہم ملکہ عظمیٰ اور پارلیمنٹ کے معزز اراکین کے خادم ہیں۔ " چنانچہ کسی قانون میں ترمیم کی ضرورت ہوتی تھی تو جج اسے واپس پارلیمنٹ بھیجا کرتے تھے۔ تعبیر قانون کے لیے وہ لفظ کے ظاہری مفہوم پر اصرار کرتے تھے اور قانون میں اپنی جانب سے کسی مفہوم یا پہلو کا اضافہ نہیں کرتے تھے۔ تمام فیصلے پارلیمنٹ سادہ اکثریت کے ذریعے کرتی تھی۔ جہاں تحریری دستور ہو ، جیسا کہ امریکا میں ہے ، وہاں ایسا نہیں کیا جاتا۔ برطانیہ میں بھی اب یہ موقف بتدریج تبدیل ہوتا جارہا ہے اور وہاں بھی جج بعض اوقات مدون دستور کے مفروضے پر عمل کرتے ہیں۔ 
غیر مدون دستور کے برعکس تحریری طور پر مدون دستور قانون کے مآخذ کے درمیان ترتیب مقرر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں تحریری دستور کو بالادستی حاصل ہوتی ہے۔ دستور کو عام قانون پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ اسی بالادستی کے مفروضے کی بنا پر عدالتوں کے لیے یہ اختیار تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ دستور سے تصادم کی بنیاد پر قوانین کو کالعدم قرار دیں۔ پاکستان میں بھی ماضیِ قریب میں عدالت عظمیٰ نے اس قاعدے کا کاکثرت سے استعمال کیا ہے۔ چونکہ برطانیہ میں قوانین کے درمیان اس نوعیت کی ترتیب کا عنصر مفقود ہے ، اس لیے وہاں عدالتوں کے پاس اس طرح کا اختیار موجود نہیں جس طرح امریکا میں ماربری بنام میڈی سن کے مشہور مقدمے سے عدالتِ عظمیٰ نے حاصل کیا۔ برطانیہ میں یہ عدالتی اختیار صرف انتظامی فیصلوں کے جائزے تک ہی محدود ہے۔ اگر ہم اپنے دستور کی شقوں کے مفہوم کے تعین اور اسلام کے ساتھ ان کی ہم آہنگی کا فیصلہ کرنے کے لیے اسی طرح پارلیمنٹ کی طرف بھیجیں گے تو اس سے قوانین کے درمیان اس ترتیب اور عدالتوں کے اس اختیار کی نفی ہوتی ہے جسے ہمارے دستور نے تسلیم کیا ہے۔ 
یہ امر قابل ذکر ہے کہ حاکم خان کیس میں معاملہ پارلیمنٹ کی طرف بھیجنے کے بجاے اگر عدالتِ عظمیٰ نے اپنے اس اختیار کا استعمال کیا ہوتا تو وہ یہ فیصلہ بھی سنا سکتی تھی کہ مقتول کے ورثا کے پاس قاتل کو معاف کرنے کا حق دستور کی دفعہ 45 سے متصادم ہے ! عدالت نے ایسا نہیں کیا اور پورا معاملہ پارلیمنٹ کی طرف بھیج دیا۔ پارلیمنٹ نے دستور میں ترمیم کرنے کے بجاے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان میں ایک نئی شق کا اضافہ کیا۔ چنانچہ 1997ء میں اس مجموعے کی دفعہ 54 میں ، جو سزاوں کی معافی کے بارے میں حکومت کے اختیار کے بارے میں ہے ، حسبِ ذیل ترمیم کی گئی : "البتہ اگر مجرم کو قتل کے کسی جرم میں سزاے موت سنائی جاتی ، تو مقتول کے ورثا کی مرضی کے بغیر ایسی سزا میں تخفیف نہیں کی جائے گی۔ " اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کام عدالت نہیں کرسکی وہ عدالت نے ایک عام قانون کے ذریعے کردیا کہ اس نے دستور کی دفعہ 45 کی تخصیص ایک عام قانون کے ذریعے کی۔ گویا دستور میں ترمیم سادہ اکثریت کے ذریعے کی گئی ! 
دفعہ 45 کی تخصیص اس طریقے سے ، یعنی ایک عام قانون کے ذریعے ،کی گئی حالانکہ اس کے الفاظ عام ہیں اور اس میں ’’قانون کے تحت‘‘ جیسی کوئی ترکیب بھی استعمال نہیں کی گئی۔ اگر اس کے باوجود پارلیمنٹ یہاں یہ کرسکتی ہے تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ بنیادی حقوق سے متعلق دفعات کے ساتھ وہ کیا کچھ کرسکے گی کیونکہ ان دفعات میں تو یہ ترکیب بھی استعمال کی گئی ہے ! مثال کے طور پر ’’مفاد عامہ کی خاطر قانون کے تحت عائد کی گئی مناسب قید کے اندر‘‘ (دفعہ 15)، ’’نظم اجتماعی کے مفاد کی خاطر قانون کے تحت عائد کی گئی مناسب قیود کے اندر‘‘ (دفعہ 16)، ’’ قانون کے تحت عائد کی گئی مناسب قیود کے اندر‘‘۔ (دفعہ 17) چنانچہ پارلیمنٹ قانون سازی کے ذریعے بنیادی حقوق پر کئی قیود عائد کرسکتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان دفعات میں پنکچر لگے ہوئے ہیں۔ ( پنکچر میں کسی اور بات کی طرف تلمیح نہ سمجھی جائے) ۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر صدارتی اور دیگر نوعیتوں کی استثنا سے متعلق دفعہ 248 کا جائزہ اسلامی قانون کی روشنی میں لیا گیا تو اس کی تعبیر کیسی ہوگی ؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ ماضیِ قریب میں جب عدالت میں اس دفعہ پر بحث ہورہی تھی تو اس پہلو کو نظر انداز کیا گیا۔ تاہم دفعہ 6 تو اس وقت بھی عدالتوں میں زیر غور ہے۔ ہمارے دستور کی اسلامیت جانچنے کا یہ ایک اور موقع ہے۔ ہمیں انتظار ہے اس بات کا کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں عدالت " غداری " کا کیا مفہوم متعین کرتی ہے ؟ 
پس بنیادی نکتہ یہ ہے کہ محض قانون سازی کافی نہیں ہے ؛ نہ ہی قوانین میں محض یہ تصریح کرنے سے کہ یہ اسلامی ہیں ، کام چل سکتا ہے۔ دستور یا قانون میں اسلامی دفعات کی شمولیت سے صرف آدھا کام ہی ہوا ہے۔ اصل میں اہمیت اس امر کی ہے کہ عدالتیں دستور اور قوانین کی تعبیر کس طرح کرتی ہیں ۔ شاید حاکم خان کیس کا فیصلہ اب بھی نافذ ہے۔ تاہم اسلامی قانون کی روشنی میں دستور کی عدالتی تعبیر کی راہ میں یہ فیصلہ رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ 
1898ء کے ایک فیصلے کی بنا پر 1966ء تک انگلستان میں برطانوی دار الامراء پر خود اس کے اپنے فیصلوں کی پابندی لازم تھی۔ یہ اصول پہلی دفعہ لندن سٹریٹ ٹرام ویز بنام لندن سٹی کونسل کے مقدمے میں طے کیا گیا۔ دار الامراء نے قرار دیا کہ ’’کسی قانونی امر کے متعلق اس ایوان کا فیصلہ حتمی ہے اور۔۔۔ پارلیمنٹ کے قانون کے سوا کوئی چیز بھی اس ایوان کے فیصلے میں موجود کسی مزعومہ غلطی کی تصحیح نہیں کرسکتی۔‘‘ 1966ء میں دار الامراء نے ایک ’’تعامل کی دستاویز‘‘ کے ذریعے یہ موقف تبدیل کرلیا اور قرار دیا کہ ’’ایوان کے سابقہ فیصلوں کو عام طور پر لازمی ماننے کے باوجود ایوان ان سے انحراف کرسکتا ہے اگر اسے یہ انحراف صحیح معلوم ہو۔‘‘ پس اس وقت زیادہ سے زیادہ جو کچھ چاہیے وہ صرف عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے جاری کردی ایک ’’تعامل کی دستاویز‘‘ ہے جس میں یہ قرار دیا جائے کہ آج سے پاکستان کے دستور اور قوانین کی تعبیر اسلامی قانون کی روشنی میں کی جائے گی۔ اس کے بعد کوئی یہ سوال نہیں کرسکے گا کہ کیا پاکستان کا دستور اسلامی ہے؟ 

دیسی سیکولروں کی مغالطہ انگیزیاں (۱)

محمد زاہد صدیق مغل

(۱) کون سا اسلام جناب، کیونکہ مولویوں کا اسلامی احکامات کی تشریح میں اختلاف ہے، لہٰذا جب تک یہ اختلافات ختم نہیں ہوجاتے اسلام کو اجتماعی نظم سے باہر رکھو ۔
(۲) ٹھیک ہے اختلافات ہمارے درمیان بھی ہیں، مگر ہم لڑتے تو نہیں نا ، مولوی تو لڑتے ہیں ایک دوسرے کو کافر و گمراہ کہتے ہیں ۔
(۳) عقل پر مبنی نظام مذہب کی طرح ڈاگمیٹک نہیں ہوتا ۔
(۴) عقلی نظام تبدیل ہوسکتا ہے، لہٰذا یہ اختلافا ت رفع کا بہتر فریم ورک فراہم کرتا ہے ۔
(۵) سیکولر ریاست خیر کے معاملے میں غیر جانبدار ہوتی ہے ۔
(۶) چونکہ سیکولر ریاست کا کوئی اخلاقی ایجنڈا نہیں ہوتا، لہٰذا یہ کسی تصور خیر کی بیخ کنی نہیں کرتی ۔
(۷) سیکولر ریاست تمام مذاہب کا فروغ ممکن بناتی ہے ۔
(۸) سیکولر ریاست مذہبی اختلافات کا خاتمہ کرکے پر امن بقائے باہمی ممکن بناتی ہے ۔
(۹) سیکولر ریاست فرد کی پرائیویٹ لائف میں مداخلت نہیں کرتی ۔
(۱۰) لبرل سیکولر ریاست غیر استعماری اور پر امن ہوتی ہے ۔
یہ اور اسی قبیل کے چند مزید نکات ہمارے دیسی سیکولر حضرات مذہبی طبقے کے خلاف بطور ’علمی دلیل‘ پیش کرکے رعب جماتے ہیں ۔ درحقیقت سیکولرازم کے بارے میں اس قسم کے دعوے یا تو سیکولرازم سے جہالت کا غماز ہوتے ہیں اور یا پھر جانتے بوجھتے کذب بیانی۔ پہلی صورت میں ان کی حیثیت علمی دلائل نہیں بلکہ ’مغالطہ انگیزیوں’ کی ہے جبکہ دوسری صورت میں فریب کاری کی۔ البتہ ہمارے یہاں کے دیسی سیکولر لوگوں کی علمی کم مائیگی کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں مغالطہ انگیزیوں پر محمول کرنا قرین قیاس ہے کیونکہ یہ تو ’مقلدین محض ‘ ہیں، ان بچاروں کو تو اتنی بھی خبر نہیں کہ سیکولرازم کی بڑائی ثابت کرنے والے جن دعووں پر یہ تکیہ کیے بیٹھے ہیں آج خود مغربی اہل علم کے ہاں ان کی کوئی مسلمہ علمی و عقلی توجیہ باقی نہیں رہی۔ اس سلسلہ مضمون میں ہم چند ایسی ہی غلط العام مغالطہ انگیزیوں کا مختصر جائزہ پیش کریں گے۔ دھیان رہے ان میں سے اکثر و بیشتر عذر ایسے ہیں جو ہمارے دیسی سیکولر لوگ مذہب کو اجتماعی زندگی سے برطرف کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، مگر ہم یہ دکھائیں گے کہ وہ تمام عذر جو یہ لوگ مذہب سے برات کے لیے استعمال کرتے ہیں خود ان کے اپنے تراشیدہ عقلی نظریات میں بدرجہ اتم بلکہ زیادہ بھیانک صورت میں موجود ہیں، لہٰذا دیانت کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ لوگ فورا سے قبل اپنے ان تراشیدہ نظریات سے بھی توبہ کرلیں۔ وما توفیقی الا باللہ 

(۱) کون سا اسلام جناب؟

ایک زمانہ تھا جب دنیا میں لبرل طبقے تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر سمجھے جاتے تھے، مگر نجانے ہمارے یہاں کے لبرل طبقے فکری طور پر اسقدر بانجھ کیوں ہو گئے ہیں کہ آج تک ہر اسلامی شق ، اصلاح یا ترمیم کے خلاف پچاس سال پرانی ایک ہی دلیل پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں: ’ کون سا اسلام جناب، کیونکہ مولویوں کا اسلامی احکامات کی تشریح میں اختلاف ہے لہٰذاجب تک یہ اختلافات ختم نہیں ہوجاتے اسلام کو ایک طرف کرو اور اجتماعی نظام عقل کی روشنی میں طے کیا جائے گا نہ کہ مذہب کی‘۔ مگر یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ اسلامی احکامات کی تشریح میں اختلاف کوئی ایسی شے نہیں جس کا ظہور آج پہلی دفعہ ہوگیا ہے، یہ تو قرون اولیٰ سے لے کر آج تک چلتا رہا ہے، تو اگر ان تمام تر اختلافات کے باوجود مسلمان تیرہ سو سال تک حکومتیں چلاتے رہے ہیں تو آج یہ یکا یک کیوں ناممکن نظر آنے لگا ہے؟ ان داعیان عقل و فکر کا مفروضہ یہ ہے کہ جس امر اور اصول میں اختلاف ہو اجتماعی زندگی میں نا صرف یہ کہ وہ قابل عمل نہیں بلکہ اس سے باہر رکھنا بھی ضروری ہے، جب تک کہ متعلقہ ماہرین علم کا اس پر اجماع نہ ہوجائے۔ درحقیقت یہ علمی دلیل نہیں بلکہ دین پر عمل نہ کرنے کا بہانہ ہے کیونکہ اگر یہ اصول زندگی کے ہر پہلو اور شعبے پر لاگو کردیا جائے تو یقین مانئے زندگی کا وجود صفحہ ہستی سے ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔ مثلاً اسی منطق کی بنیاد پرکہا جاسکتاہے کہ: 
  • چونکہ ماہرین معاشیات کا اس امر میں اختلاف ہے کہ زری و مالیاتی پالیسی کس طرح بنائی جانی چاہیے، لہٰذا اسٹیٹ بینک، پلاننگ کمیشن، ایف بی آراور فنانس منسٹری وغیرہ کو اس وقت تک تالا لگا دیا جائے جب تک تمام ماہرین معاشیات کا اجماع نہ ہوجائے۔ 
  • چونکہ ماہرین معاشیات کا غربت کی تعریف، اس کے اسباب و وجوہات اور اس کا سدباب کرنے کے طریقوں کے بارے میں اختلاف ہے، لہٰذا ساری دنیا میں غربت مٹانے والے پروگرام فی الفور بند کر دئیے جائیں جب تک کہ اجماع نہ ہوجائے ۔
  • چونکہ ماہرین معاشیات کا اس امر میں اختلاف ہے کہ ملکیت کا کون سا نظام (نجی یا پبلک) اجتماعی ترقی کا ضامن ہے لہٰذا دنیا میں ملکیتوں کے تمام نظام معطل کر دیے جائیں جب تک کہ اجماع نہ ہوجائے ۔
  • چونکہ ماہرین طب (ایلوپیتھ، ہومیوپیتھ، حکمت) کا بیماریوں کی تشخیص اور ان کے علاج کے درست طریقہ کار کے بارے میں اختلاف ہے، لہٰذا تمام ماہرین طب کو فی الفور علاج سے روک دیا جائے جب تک کہ اس پر اجماع نہ ہوجائے۔
  • چونکہ ماہرین سیاسیات کا اس امر میں اختلاف ہے کہ ریاست کی تعمیر و تشکیل کے لیے کون سا نظام ریاست (آمریت، جمہوریت، اور اگر جمہوریت تو اس کی کون سی شکل ) درست ہے لہٰذا دنیا میں ریاست کاری کے عمل کو اس وقت تک معطل رکھا جائے جب تک کہ اجماع نہ ہوجائے ۔
  • چونکہ ماہرین قانون کا آئین کی بہت سی بنیادی شقوں کی تشریح میں اختلاف ہے، لہٰذا آئین کو ایک طرف کردیا جائے ۔
یہ لسٹ درحقیقت نہ ختم ہونے والی کڑی ہے۔ ذرا تصور تو کیجئے یہ تمام امور کس قدر اہم شعبہ جات زندگی سے متعلق ہیں۔ انسانی زندگی و صحت کی قدر وقیمت سے کون انکاری ہوسکتا ہے اور ان اطباء کی آئے دن کی فاش علمی غلطیوں سے لوگ اپنی زندگی و مال و دولت سے محروم ہورہے ہیں، اسی طرح غربت کا خاتمہ، نظام ملکیت کی بنیاد، ریاستی زری و مالیاتی پالیسی کا انتظام و انصرام اور سب سے بڑھ کر خود نظم ریاست کی بنیاد میں سے کون سا امر غیر ضروری ہے؟ اب سوچئے کہ اگر ان شعبہ جات و علوم کے یہ ’بنیادی اختلافات‘ ہمیں دنیا بھر میں ان کی معاشرتی و ریاستی ادارتی صف بندی (institutionalization) سے نہیں روک رہے تو دینی طبقے کے اختلافات کیوں ہمیں اس عمل سے روکتے ہیں؟ اصل بات نیت کی ہے اور سچ ہے کہ جب ایک عمل کرنے کے لیے انسان کی نیت نہ ہو تو اسے بہانہ بھی دلیل نظر آتا ہے۔ 

(۲) مولوی تو لڑتے ہیں، ہم نہیں لڑتے 

اس مقام پر سیکولر لوگ تمام مذاہب (یا تمام مذہبی گروہوں) کو ’ایک گروہ ‘ بنا کر پینترا بدل کر بڑی چالاکی سے اہل مذہب کویہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’ٹھیک ہے اختلافات ہمارے درمیان بھی ہیں مگر ہم تم لوگوں کی طرح ایک دوسرے کو کافر نہیں کہتے اور نہ ہی لڑتے ہیں‘۔ گویا یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ عقلی نظامہائے زندگی کے اختلافات کے نتیجے میں اس طرح جنگ و جدل کی کیفیت برپا نہیں ہوتی جس طرح مذہبی اختلافات سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر امر واقعی ایساہی ہے تو ہم پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جب سب عقل پرست (درحقیقت مذہب مخالفین) ’فروغِ آزادی کا ہی نعرہ لگاتے ہیں‘ (جس طرح اہل مذہب فروغِ عبدیت کا نعرہ لگاتے ہیں) تو یہ نہ صرف آپس میں بلکہ دوسروں سے بھی جنگ و جدل کی کیفیت میں کیوں مبتلا رہے ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ تھمنے کا نام کیوں نہیں لے ر ہا؟ مثلاً لبرلز نے فرقہ مارکسزم کے بانی مارکس کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ انہی لبرلز نے نطشے کو یہودی اور پاگل کیوں کہا تھا (جب اس نے ان کی یہ پول کھولی تھی کہ تم عقل کے نام پر نئی قسم کی امپیرئیل ازم کو فروغ دے رہے ہو) ؟ لینن اور ماؤ نے روس اور چائنہ میں لبرلز اور قوم پرستوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ جرمنی کے نسل پرستوں نے ان دونوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ پھر ان دونوں نے نسل پرستوں کے ساتھ کیاسلوک کیا تھا؟ آج تک ان آپسی جنگوں میں جو کروڑوں انسان قتل کردیے گئے، ان نظریات کے فروغ کے لیے جن قوموں کی نسل کشی کردی گئی (مثلا ریڈ انڈین اور ابورجینز) وہ کس کھاتے میں گئے؟ آج بھی یہ تمام فرقے ایک دوسرے کے ساتھ کیا معاملہ کررہے ہیں؟ کیا یہ سب ایک دوسرے کو ’اپنا بھائی‘ سمجھ کر ایک دوسرے کی ’خیر خواہی کے لیے ‘ کوشاں ہیں؟ تو پھر یہ کس منہ سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’ہم نہ تو آپس میں کسی کو کافر کہتے ہیں اور نہ ہی لڑتے ہیں‘ نیز ’مذہب کی تاریخ خونی تاریخ ہے‘؟ 
پھر کوئی ان سے پوچھے کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ ’آزادی‘ کا جو نعرہ تم بلند کررہے ہو کیا اس کے فروغ کا کوئی ’ایک اجماعی طریقہ‘ ہے تمہارے پاس؟ چنانچہ معاملہ یہ ہے کہ جب ان سے یہ پوچھا جائے کہ ’آزادی کیسے حاصل ہوتی ہے‘، تو اس امر میں ہر کسی کا ’اپنا اپنا فرقہ ‘ ہے، مثلا انارکزم، لبرٹیرنزم، لبرلزم،ڈیموکریٹک سوشل ازم ، کمیونزم، نیشنل ازم، نسل پرستی، فیمینزم، پوسٹ ما ڈرنزم وغیرہم ہر ایک کی فروغ آزادی کی اپنی ایک تشریح ہے اور ان میں یہ طے کرنے کا کوئی اصول موجود نہیں کہ ’آزادی کی درست تشریح ‘ کون سی ہے۔ تو جب ان لوگوں میں اس امر میں کوئی اجماع ہی نہیں (اور نہ ہی ہوسکتا ہے) کہ ’آزادی کس طرح حاصل ہوتی ہے‘ اور جب حصول آزادی کا درست طریقہ ہی ان کے درمیان نزاعی امر ہے تو پھر کس بنیاد پر یہ لوگ ریاست کو کسی ’ایک طریقے ‘ کا پابند بنانے کی بات کرتے ہیں؟ اگر مذہبی اختلافات ریاست کو کسی ایک طریقے کا پابندبنانے میں مانع ہیں تو یہ اختلافات کیوں نہیں؟ (یہاں علم معاشیات و سیاسیات کی درج بالا مثالیں پھر عود آتی ہیں کہ ان سب کا مقصد بھی فروغ آزادی ہی ہے)۔ 
اس مقام پر سیکولر لوگ بڑی ہوشیاری سے اہل مذہب کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’ہم ہر ملک کی عوام کو حق دیتے ہیں کہ وہ اپنے لیے جو بھی طرز حکومت اختیار کرنا چاہیں کرلیں‘۔ لیکن اگر یہ بات واقعی درست ہے تو پھر یہ سب آج تک ایک دوسرے کی ریاستوں میں نقب زنی کیوں کرتے چلے آرہے ہیں؟ کبھی کمیونزم کے توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ تو کبھی ہیومن رائٹس و جمہوریت کے دفاع کے نام پر تم لوگ دنیا بھر میں استعمارانہ دھماچوکڑی کیوں مچا رکھتے ہو؟ آخر پوری دنیا کی معیشت و ذرائع پر گرفت مضبوط رکھنے کے لیے عالمی نگران ایجنسیوں کا دائرہ کیوں بڑھاتے جارہے ہو؟ گلوبلائزیشن کے نام پر قومی ریاستوں کو کمزور کرنے کا سلسلہ کیوں چلا رکھا ہے تم نے؟ 

(۳) عقل پر مبنی اجتماعی نظم ڈاگمیٹک نہیں ہوتا 

جب ان باتوں کا جواب نہیں بنتا تو عقل پرست و سیکولر لوگ ایک نئے قسم کا داؤ پیچ کھیلتے ہیں اور وہ یہ کہ ’مذہبی عقیدہ چونکہ معین، غیر متبدل و آفاقی ہونے کا مدعی ہوتا ہے لہٰذا یہ اپنے ماننے والوں میں ڈاگمیٹک (متشدد) رویے کو فروغ دیتا ہے جو بالآخر نزاع و جنگ وجدل کی کیفیت اختیار کرجاتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اجتماعی نظم مذہبی عقیدے کے بجائے عقل پر استوار کریں کیونکہ عقلی نظریات مذہب کی طرح ڈاگمیٹک نہیں ہوتے‘۔ اگر واقعی اسی بنیاد پر یہ لوگ مذہب کو رد کرتے ہیں تو لازم ہے کہ فورا سے قبل عقلی تراشیدہ نظریات (بشمول غالب لبرل سیکولرازم) کو بھی رد کردیں کیونکہ عقلی نظریات بھی انتہائی متشدد اور کنزرویٹوہوتے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آزادی کی نیلم پری کے پرستار اسے اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ ’پوری انسانیت‘ کو ’اس مقدس خیر و سچ‘ سے بہراور کرائیں۔ یہی وجہ ہے کہ اشتراکیت کا چمپئن روس ہو یا ہیومن رائٹس کا داعی امریکہ، ہر ایک ’انسانیت کی بھلائی‘ کے نام پر (In the name of people) اپنے نظریات کے فروغ کے لیے لازما ’علم جہاد ‘ بلند کرتا ہے۔ ان عقلی تراشیدہ نظریات کی تین سو سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ عقل کے نام پر جتنے انسانوں کا قتل عام کیا گیا، جس منظم طریقے سے پوری پوری اقوام کی نسل کشی کردی گئی، جس استحصال اور لوٹ کھسوٹ سے کام لیکر پورے پورے براعظم ہڑپ کر لیے گئے، جس طرح خود اپنی تراشیدہ اخلاقی اقدار کی دھجیاں بکھیری گئیں اس کی نظیر پوری انسانی تاریخ مل کر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آخر یہ ڈاگمیٹزم نہیں تو اور کیا ہے ؟ 
پھر یہ ڈاگمیٹزم کوئی اتفاقی امر یا کسی انسانی اخلاقی کمزوری کا اظہار نہیں بلکہ اس کی خالص علمی بنیادیں موجود ہیں۔ درحقیقت عقل کا نعرہ لگانے والا خود کو ’عقل کے جبر‘ کا شکار پاتا ہے۔ ’عقل کے ہر مخصوص تصور‘ پر یقین رکھنے کے نتیجے میں وہ تمام لوگ جو اس مخصوص تصور پر ’یقین نہیں رکھتے ‘ خود بخود ’غیر عقلی‘ (irrational) ٹھرتے ہیں، یعنی وہ ’دائرہ عقل سے باہر ‘ اور عقل کے دشمن ‘ قرار پاتے ہیں، اور چونکہ اس فریم ورک میں ’انسانیت‘ (civilization) ’فروغ عقلیت کے مخصوص تصور‘ کا ہم معنی ہوتا ہے لہٰذا ’عقل کے دشمن‘ ’انسانیت کے دشمن‘ قرار پاتے ہیں (چنانچہ یہی وجہ ہے کہ عقل کے نام لیوا انتہائی ڈاگمیٹک اور کنزرویٹو ہوتے ہیں، اپنے علاوہ ہر کسی کو جاہل اور بے وقوف سمجھتے ہیں)۔ مثلا جو لوگ ہیومن رائٹس پر ایمان نہیں لاتے لبرل سیکولرز کے نزدیک وہ غیر عقلی، جاہل اور وحشی لوگ ہیں، اسی طرح جو لوگ مادی طبقاتی کشمکش کے قائل نہیں اشتراکی سیکولروں کے نزدیک وہ عقل کے دشمن ہیں وغیرہ۔ ہر ’عقلی نظریہ ‘ ایک مخصوص انفرادی و اجتماعی رویے کو فروغ دیتا ہے اور دنیا کا کوئی نظریہ ’عقلی‘ (civilized) اور غیر عقلی (barbaric) رویے کو کبھی مساوی اقداری حیثیت نہیں دیتا۔ ’عقل ‘ تقاضا کرتی ہے کہ ’غیر عقلی‘ کو مغلوب کرکے چھوڑا جائے کیونکہ وہ تو ہے ہی غیر عقلی، اس کے غالب وجود کا کیا مطلب، ایسا غالب وجود تو ’عقل اور انسانیت ‘ کے لیے خطرہ ہے، لہٰذا ’تحفظ عقل‘ کے لیے ’غیر عقلی‘ کی مغلوبیت ناگزیر ہے ۔ جب تک ’غیر‘ (the others) کا غالب وجود باقی ہے ’عقل‘ کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہیومن رائٹس کی چمپئن یورپی اقوام نے ریڈ انڈینز کا قتل عام اسی بنیاد پر روا رکھا کہ (جان لاک اور جیفرسن کے الفاظ میں) یہ ہیومن نہیں بھینسے اوربھیڑیے ہیں۔ اسی طرح آج امریکہ مجاہدین اور اس کے حواریوں کو نان ہیومن سمجھ کر مارتا ہے۔ 
یہ دلیل دیتے وقت عقل پرست پس پردہ یہ جھانسا دینے کی کوشش کرتے ہیں گویا دنیا میں عقل کا کوئی ایک ہی تصور ہے جس پر ساری دنیا ایمان رکھتی ہے لہٰذا اس کی بنیاد پر کوئی اختلاف نہیں ہوگا ، ظاہر بات ہے یہ تو صرف ایک سفید جھوٹ ہے کیونکہ اس دنیا میں عقل کے اتنے ہی تصورات ممکن ہیں جتنی انسانی عقلیں موجود ہیں۔ اب چونکہ عقل کا کوئی آفاقی تصور ممکن ہی نہیں اور نہ ہی کسی مخصوص تصور عقلیت کی کوئی آفاقی عقلی توجیہ پیش کی جاسکتی ہے لہٰذا عقلیت کے مختلف و متضاد تصورات ہمیشہ اور لازما کشاکش کا شکار رہتے ہیں اور عقل کے فریم ورک میں اس نزاع کا کوئی حل ممکن نہیں۔ گویا یہاں ’الجہاد ماض الی یوم القیامۃ‘ (جہاد تو روز قیامت تک جاری رہے گا) والی کیفیت برپا رہتی ہے۔ 

(۴) عقل پر مبنی نظام رفع اختلاف کا بہتر انتظام ہے 

اس ضمن میں عقل پرست اور سیکولر لوگ ایک دوسری قسم کی توجیہ بھی پیش کرتے ہیں، وہ یہ کہ ’چونکہ عقلی تراشیدہ نظام تجربات کی روشنی میں متبدل ہوتے ہیں لہٰذا یہ رفع نزاع کا بہتر فریم ورک فراہم کرتے ہیں‘۔ مگر یہ محض لفاظی ہے کیونکہ اگر امر واقعی ایسا ہی ہے تو تین سو سال میں ان کے آپسی اختلافات کیوں رفع نہ ہوگئے؟ کیا یہ سیکولر لوگ دوسو سال قبل ’دریافت ہونے والے ‘ ہیومن رائٹس سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں؟ دستبردار ہونا تو درکنار ان ہیومن رائٹس کے حوالے سے ان کی ڈاگمیٹزم کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اگرچہ آج ان کے اکابرین فلاسفہ خود مانتے ہیں کہ ہیومن رائٹس اور جمہوریت وغیرہ کسی شے کی کوئی آفاقی عقلی توجیہ پیش کرنا ممکن نہیں البتہ یہ ہمیں جمالیاتی طور پر اچھے لگتے ہیں لہٰذا یہ جاری و ساری رہنا چاہیے۔ مثلاٍ مشہور پوسٹ ماڈرن فلسفی چارلس ٹیلر (Charles Taylor)کہتا ہے کہ آزادی، مساوات وترقی کا فروغ ہماری لبرل معاشرت کے ارتقا کی تاریخ ہے لہٰذا، ان کا فروغ ہماری شناخت کے ہم معنی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ان قدار سے میرا لگاؤ ایسا ہی ہے جیسے کلاسیکی موسیقی، آرٹ، ادب اور رقص سے لگاؤ ہے، یہ لگاؤ ہی ٹیلر کو ٹیلر بناتے ہیں اور ان اقدار سے غداری اپنی تاریخ اور تہذیب سے غداری ہے۔ رارٹی (Rorty) کہتا ہے کہ اگرچہ میں آزادی کی کوئی آفاقی عقلی توجیہ نہیں دے سکتا البتہ یہ مجھے جمالیاتی سطح پر اچھی لگتی ہے۔ تو جناب ’اصول ‘ (مابعدالطبیعیاتی ایمان) تو آپ کے یہاں بھی نہیں بدلتے تو پھر فوقیت کی وجہ جواز کیا رہی؟ 
پھر معاملہ اتنا ہی نہیں جتنا اوپر بیان کیا گیا بلکہ یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ اہل اسلام کے پاس کوئی ’ایسی بنیاد‘ (قرآن وسنت) تو موجود ہے جس کے آگے وہ سب سر نگوں ہونے کے لیے تیار ہیں، جس کی بات ثابت و متحقق ہوجانے کے بعد اس کے آگے کوئی لب کشائی کی اور ’اپنی رائے دینے‘ کی جرات بھی نہیں کرتا (یہی وجہ ہے کہ اس کاایک بڑا حصہ قطعی الدلات ہونے کی بنا پر متفق علیہ ہے جبکہ دوسرا حصہ مجتہد فیہ امور پر مبنی ہونے کی وجہ سے اختلافات کا دائرہ رہا ہے )۔ اس کے مقابلے میں ان عقل پرستوں کے پاس تو ’سرے سے رفع نزاع کی کوئی بنیاد ہے ہی نہیں‘، ہم پھر کہے دیتے ہیں ’سرے سے کوئی بنیاد ہے ہی نہیں‘۔ یہاں عقلی لم ٹٹول ہے اور بس، اور چونکہ عقلی تصورات بے شمار ہیں نیز ان میں تمیز و ترجیح کا پیمانہ نا ممکن ہے، لہٰذا یہاں ’تمام تر‘ اختلافات ابدی ہیں کہ یہاں کچھ بھی قطعی طور پر طے کرنا ممکن نہیں ۔ ’وقت اور مطلب‘ پڑنے پر یہ لوگ خود اپنی ہی گھڑی ہوئی ہر بات اور اصول کو اپنے ہی پیروں تلے روند کر آگے بڑھ جانے میں کوئی مضائقہ محسوس نہیں کرتے کہ آج ’ان کی عقل میں ارتقاء ہوگیا‘۔ اور چونکہ یہ اپنے نفس کے سوا کسی کے آگے جوابدہ نہیں ہوتے (اور نفس بھی وہ جو شہوت و غضب سے مغلوب ہے) لہٰذا یہ خود کو ہر اخلاقی خلاف ورزی کے لیے معاف کردینے میں حق بجانب سمجھتے ہیں (رارٹی کہتا ہے کہ یہ درست ہے کہ ہم نے ریڈ انڈینز کا قتل عام کیا لیکن چونکہ ہم خود مختار ہیں اور کسی کو جوابدہ نہیں لہٰذا یہ ہمارا حق ہے کہ خود کو معاف کردیں)۔ 
درحقیقت ہر نظام زندگی میں اپنے داخلی اختلافات کو سمونے اور حل کرنے کی ایک حد تک لچک اور صلاحیت موجود ہوتی ہے اور اسلامی تاریخ اس کابین منہ بولتا ثبوت ہے جہاں بے شمار کلامی، فقہی و صوفی گروہ و سلسلے اپنے اپنے طرز پر کام کرتے رہے اور آج بھی کرتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں خلافت اسلامیہ میں ذمی بھی اسلام کے عطا کردہ حقوق کے تحت موج سے زندگی گزارتے رہے ہیں (یہی وجہ ہے کہ اندلس میں خلافت اسلامی کے سقوط کے بعد ذمیوں نے پوری دنیا چھوڑ کر خلافت عثمانیہ کے زیر سایہ رہنے کو ترجیح دی)۔ یقیناًاسلام کی قائم کردہ ایمپائر میں بھر پور رحمت اور وسیع الظرفی موجود ہے، لیکن اسلام اس وسیع الظرفی کو کسی خارجی پیمانے (مثلا ہیومن رائٹس) پر نہیں قرآن وسنت پر تول کر پرکھتا ہے۔ اگر یہ سوال پوچھا جائے کہ ’پھر یہ اسلامی گروہ آپس میں لڑتے ہوئے کیوں پائے جاتے ہیں‘ تو اس کاجواب ’فی الحال ایک پختہ (mature) اسلامی خلافت (ایسی ریاست جو رسول اللہ کی سیاسی نیابت سر انجام دے) کا وجود نہ ہونا ہے‘۔ جب ریاستی نظم نہ ہو تو انفرادیت و معاشرت دونوں انتشار کا شکار ہونے لگتی ہیں، خلیفہ کو انہی معنی میں ظل اللہ کہا جاتا ہے کہ وہ تمام دینی کام کو سمو دیتا ہے نیز انتشار پھیلانے والی قوتوں کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ اگر آج لبرل سیکولر سرمایہ دارانہ ریاست لبرل معاشرتی و معاشی تنظیم (سول سوسائٹی و مارکیٹ) کی پشت پناہی اور ریگولریشن سے ہاتھ کھینچ لے تو یہ زمین بوس ہوجائے، مثلاٍ اگر یہ ڈاکٹری ، وکالت، تعلیم، بینکوں، کمپنیوں وغیرہ پر نظر نہ رکھے تو آپ دیکھ لیں گے کہ کس طرح ڈاکٹر، وکیل، سکول کالج و یونیورسٹیاں نیز مالیاتی ادارے عوام کا مال لوٹتے ہیں نیز کس طرح یہ کرپشن کا شکارا ور باہمی طور پر دست و گریبان ہوتے ہیں (ان کے نظارے تو آئے دن ہم اس قدر سخت ریگولیشن کے باوجود بھی دیکھتے رہتے ہیں)۔ پس جب پختہ اسلامی خلافت قائم ہوجائے گی تو یہ چھوٹے چھوٹے گروہ خود بخود ڈسپلن اور سیدھے (align) ہو جائیں گے۔ (جاری)

فرانس کے ایک مختصر دورے کے تاثرات

محمد عمار خان ناصر

(یہ تاثرات الشریعہ اکادمی میں منعقدہ ایک مجلس میں بیان کیے گئے جنھیں ٹیپ ریکارڈر سے مولانا محمد کامران نے منتقل کیا اور ایڈیٹنگ کے بعد انھیں یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔)

۱۲ سے ۱۴ دسمبر ۲۰۱۴ء، مجھے تین دن کے لیے فرانس کے شہر Lyon میں امیر عبد القادر الجزائریؒ کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک سلسلہ تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ پروگرام مختلف قسم کی سرگرمیوں پر مشتمل تھا اور اس کا اہتمام بنیادی طور پر فرانس میں مقیم الجزائری مسلمانوں کی ایک مقامی تنظیم نے کیا تھا، جبکہ امیر عبد القادر الجزائری کی شخصیت اور تاریخی کردار سے مختلف حوالوں سے دلچسپی رکھنے والی بعض دوسری تنظیموں نے اس میں معاونت کی تھی۔ الجزائر میں، جو امیر عبد القادر کا اصل وطن ہے، کئی فورمز پر اور کئی حوالوں سے مختلف سطحوں پر امیر عبد القادر کی شخصیت پر کام ہو رہا ہے۔ ان میں سے ایک تنظیم موسسۃ الامیر عبد القادر ہے، وہ بھی اس پروگرام کی ترتیب اور انتظام میں شریک تھی۔ اسی طرح امریکہ کی ریاست آئیووا (Iowa) میں ایک چھوٹا سا قصبہ Elkader امیر عبد القادر کے دور میں ہی ان کے نام سے موسوم کیا گیا تھا۔ وہاں ایک تنظیم ’’عبد القادر ایجوکیشن پروجیکٹ‘‘ کے عنوان سے امریکی اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کو امیر عبد القادر کی شخصیت اور کردار سے متعارف کروانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کے سرکردہ افراد بھی اس پروگرام میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر آئے تھے۔ اس کے علاوہ دعوت نامے پر کئی اور تنظیموں کا نام بھی لکھا ہوا تھا، لیکن بنیادی طور پر اس کی منتظم فرانس میں الجزائری مسلمانوں کی مذکورہ تنظیم ہی تھی۔
Lyon ، یہ پیرس کے بعد فرانس کا دوسر ابڑا شہر ہے، آبادی کے لحاظ سے بھی اور تاریخی اہمیت کے لحاظ سے بھی۔ کئی صدیاں پہلے یہ علاقہ فرانس کے نام سے معروف نہیں تھا، بلکہ تاریخی طور پر اس خطے کو Gaul کہا جاتا تھا۔ قرون وسطیٰ میں فرانکس کی ایک خاص نسل یہاں آ کر آباد ہوئی تو اس کے بعد اس نے کسی مرحلے پر فرانس کا نام اختیار کر لیا۔ رومی سلطنت کے دور میں Lyon کو گال کا دار الحکومت قرار دیا گیا۔ بعد میں پھر دار الحکومت پیرس میں منتقل ہو گیا۔ اس لحاظ سے اس شہر کی تاریخی لحاظ سے بھی اور بعض دوسرے حوالوں سے بھی بڑی اہمیت ہے۔ امیر عبد القادر الجزائری کو فرانسیسی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دینے کے بعد ترکی کی طرف جلاوطن کرنے سے پہلے جب کچھ عرصے کے لیے فرانس میں نظر بند رکھا گیا اور پھر رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو رہائی کے بعد فرانس سے رخصت ہونے سے پہلے وہ ۱۸۵۲ء میں دسمبر کی ۱۲ اور ۱۳ تاریخ کو اس شہر میں آئے تھے۔ اسی مناسبت سے انھی تاریخوں میں ان کی یاد میں Lyon میں یہ تقریبات منعقد کی گئیں جن میں شرکت کی غرض سے میرا یہ سفر ہوا۔
مجھے جب اس پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی تو میں نے فوراً قبول کر لی۔ مجھے پچھلے چند سالوں سے عبد القادر الجزائری کی شخصیت میں خاص دلچسپی رہی ہے اور پاکستان میں ان کی شخصیت کو عمومی طور پر متعارف کروانے کے لیے ایک امریکی مصنف جان کائزر کی کتاب کا اردو ترجمہ یہاں چھپوانے میں بھی میرا کردار رہا ہے۔ چنانچہ میں نے اس پروگرام میں شرکت کی پیش کش کو فوراً قبول کر لیا۔ الجزائری کی شخصیت سے دلچسپی کے علاوہ خاص طور پر اس پروگرام میں شرکت کے بھی کئی محرکات تھے۔ مجھے دلچسپی تھی کہ یہ دیکھا جائے کہ آج دنیا میں مختلف سطحوں پر مختلف ذہنی پس منظر رکھنے والے لوگ عبد القادر کی شخصیت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں تو وہ کون سے مختلف پہلو ہیں جو ان کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں اور جن کی وجہ سے آج عبد القادر کی شخصیت کو یوں کہہ لیں کہ نئے سرے سے دریافت کیا جا رہا ہے۔ اپنے دور میں تو عبد القادر عالمی شہرت یافتہ شخصیات میں شامل تھے۔ ۱۸۳۲ء سے ۱۸۴۸ء تک کا دور وہ ہے جس میں وہ الجزائر میں فرانس کے خلاف جنگ آزادی لڑ رہے تھے۔ تقریباً اسی دور میں ہمارے ہاں برصغیر میں سید احمد شہید نے تحریک مجاہدین برپا کی تھی اور وسط ایشیا میں اسی زمانے میں امام شامل روسی افواج کے خلاف برسر پیکار تھے۔ امام شامل کا عرصہ جہاد ذرا لمبا ہے اور وہ تیس سال تک روس کے خلاف جہاد کرتے رہے ہیں۔ ان دونوں راہ نماؤں کے آپس میں قریبی روابط بھی تھے۔ 
اپنے دور میں امیر عبد القادر دنیا کی ایک قدر آور شخصیت تھے جس کی وجہ ایک تو فرانس کے خلاف جدوجہد آزادی تھی۔ پھر انھوں نے جلاوطنی کے دور میں ۱۸۶۰ء میں دمشق میں مسلم مسیحی فسادات میں غیر معمولی کردار ادا کیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہزاروں بے گناہ مسیحیوں کو شر پسندوں کے ہاتھ قتل ہونے سے بچایا اور اپنی حویلی میں لا کر انھیں پناہ دی۔ جو گروہ شر وفساد پھیلانے اور مسیحیوں کا قتل عام کرنے کے لیے نکلے ہوئے تھے، انھیں اپنے مقاصد میں کامیابی سے روکنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت مڈل ایسٹ میں مغربی طاقتوں کی سیاست خاص طور پر اس نکتے پر مرکوز تھی کہ یہاں مقیم مختلف مسیحی گروہوں کی حفاظت کون سی طاقت کرے گی۔ برطانیہ اور فرانس میں خاص طو رپر اس کے لیے سیاسی مسابقت چل رہی تھی اور مسیحیوں کے تحفظ کے دعوے کے ساتھ یہ طاقتیں اس مسئلے کو سلطنت عثمانیہ کے ساتھ مذاکرات میں بھی اٹھاتی تھیں۔ اس ضمن میں بعض اہم معاہدے بھی ہوئے اور یہ مغربی طاقتیں اس مسئلے کو سلطنت عثمانیہ کے خلاف ایک سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کر رہی تھیں۔ ۱۸۶۰ء کے واقعے سے قبل الجزائری کا تعارف مسلمان دنیا، خاص طور پر عرب دنیا میں تو تھا ہی اور مغربی دنیا بھی عمومی طور پر ان کے نام سے واقف تھی، لیکن دمشق کے اس کردار کی وجہ سے مغربی پریس نے انھیں بہت زیادہ کوریج دی اور بڑے بڑے عالمی لیڈروں نے ان کے اس اقدام کو سراہا اور تحسین کے کلمات کہے۔ اسی دور میں امریکہ کی ریاست آئیووا (Iowa) میں آباد کاری ہو رہی تھی تو ایک قصبے کا نقشہ بنانے والے انجینئر کو پریس میں خبروں اور مضامین کے ذریعے سے عبد القادر کا تعارف ہوا اور وہ ان کے کردار سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اس قصبے کا نام Elkader رکھ دیا۔ 
اپنے دور میں امیر عبد القادر کا سیاسی اثر ورسوخ بھی کافی تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس دور میں جب اس امکان پر باقاعدہ گفتگو چل رہی تھی کہ شام کا علاقہ سلطنت عثمانیہ سے الگ ہو کر ایک آزاد عرب ریاست کی شکل اختیار کر لے تو مختلف سطحوں پر شام کے گورنر کے طور پر امیر عبد القادر کا نام لیا جانے لگا۔ گویا انھیں ایک ایسی شخصیت تصور کیا جا رہا تھا جن کی قیادت کو شام کے مختلف سیاسی گروہ اپنے داخلی اختلافات سے بالاتر ہو کر قبول کرنے کے لیے تیار ہو سکتے تھے۔ تاہم عبد القادر نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ وہ آخری عمر میں سیاست کے دھندوں سے الگ ہو کر تعلیم وتدریس، تصنیف اور روحانی مشاغل کی طرف یکسو ہو چکے تھے۔
میں عرض کر رہا تھا کہ عبد القادر اپنے دور کی ایک عالمی شہرت یافتہ اور قابل احترام شخصیت تھے۔ اگر آپ امیر عبدالقادر کے حالات پر اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر مواد تلاش کرنا چاہیں تو سب سے زیادہ لٹریچر فرانسیسی زبان میں ملے گا، کیونکہ عبد القادر نے جلاوطنی سے پہلے کچھ عرصہ فرانس میں نظر بندی کی حالت میں گزارا ہے۔ اس عرصے میں ان کے فرانس کے مذہبی راہ نماؤں ، کیتھولک چرچ کے پادریوں اور فرانس کے سیاسی لیڈروں سے بڑے اچھے ذاتی روابط قائم ہو گئے۔ انھوں نے اپنے مسیحی حلقہ احباب کے لوگوں سے مذہبی مسائل پر گفتگو اور تبادلہ خیال بھی کیا اور خطوط کا تبادلہ بھی کرتے رہے۔ انھوں نے عربی میں تنبیہ العاقل وذکری الغافل کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں ایک کیتھولک بشپ کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو اس نے عقلی لحاظ سے اسلام کی تعلیمات پر کیے تھے اور کہا تھا کہ اسلام کی تعلیمات عقلی لحاظ سے محل نظر ہیں۔ یعنی فرانس کے علمی اور مذہبی حلقوں میں ان کا خاصا تعارف ہے اور فرانس میں کافی لوگ عبد القادر کی شخصیت اور افکار پر تحقیقی وتصنیفی کام کرتے رہتے ہیں۔ ابھی اسی سفر میں میری ملاقات وہاں کے ایک کیتھولک بشپ Christian Delorme سے ہوئی جنھوں نے حال ہی میں امیر عبد القادر پر فرانسیسی زبان میں L'Emir Abd El-Kader a Lyon (امیر عبد القادر لے آن میں) کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کا ایک نسخہ انھوں نے میری فرمائش پر مجھے بھی دیا۔ مجھے اگرچہ فرانسیسی نہیں آتی، لیکن میں نے ان سے اس کتاب کا نسخہ لے لیا۔ تو الجزائری پر سب سے زیادہ کام فرانسیسی زبان میں ہوا ہے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر عربی زبان میں کام ہوا ہے جو زیادہ تر علمی حلقوں تک محدود ہے۔ 
بہرحال ۱۸۸۳ء میں ان کی وفات کے بعد یوں لگتا ہے کہ تاریخ انھیں بھول گئی ہے۔ گویا انھیں فراموش کر دیا گیا ہے، لیکن اب پچھلے چند سالوں سے دوبارہ ان کی شخصیت کا احیا ہوا ہے۔ الجزائر کی حکومت، الجزائر کی سول سوسائٹی کے مختلف طبقات ان کی شخصیت اور کردار کے تعارف میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ باقی عرب دنیا میں بھی ان کا ازسر نو تعارف ہو رہا ہے اور عرب سے جو لوگ امریکہ اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں گئے ہیں، وہ بھی اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ گویا آپ کہہ سکتے ہیں کہ مختلف سطحوں پرامیر کی شخصیت دوبارہ توجہ کا مرکز بن رہی ہے اور یہی چیز میرے لیے اس سفر میں دلچسپی کی ایک خاص وجہ تھی۔ مجھے اندازہ تھا کہ مختلف پس منظر کے لوگ وہاں آئے ہوں گے اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال سے یہ سمجھنے کا موقع ملے گا کہ الجزائری میں کس کس حوالے سے دلچسپی لی جا رہی ہے اور ان کی شخصیت کے کون کون سے پہلو موضوع مطالعہ ہیں۔ الحمد للہ کافی لوگوں سے ملاقات ہوئی اور تبادلہ خیال کا موقع بھی ملا اور بہت سے اہم پہلو سمجھنے میں مدد ملی۔
یہ تین دن کا پروگرام تھا جس میں مختلف طبقات کے ذوق اور مزاج کے لحاظ سے دو تین الگ الگ انداز کی مجالس اور سرگرمیاں منظم کی گئی تھیں۔ پہلے دن جب میں پہنچا تو ایئر پورٹ سے مجھے سیدھا ایک ہال میں لے جایا گیا جہاں ابتدائی تعارفی تقریب منعقد کی جا رہی تھی۔ یہ تقریب فرانس کی عام کمیونٹی کے لیے تھی جس میں مسلمان، غیر مسلم، مرد، عورتیں، طلبہ اور عام لوگ شریک تھے۔ دو تین مقررین نے امیر عبد القادر کی شخصیت اور آج کے دور کے حوالے سے ان کی اہمیت پر مختصر بات کی۔ اگلے دن اس پروگرام کے آرگنائزر فواد چرغی نے اپنے گھر میں الجزائری مسلمانوں کے مختلف گھرانوں اور فرانس کی بعض مقامی فیملیوں کو جمع کیا ہوا تھا۔ یہ ایک طرح کا Social get-together تھا، ایک بہت ہی غیر رسمی قسم کا اکٹھ تھا جس میں فیملیاں آپس میں بیٹھ کر گپ شپ اور تبادلہ خیال بھی کرتی ہیں۔ کھانے پینے کا بھی بندوبست تھا اور مہمانوں کو عربوں کی مشہور ڈش ’’کس کس‘‘ پیش کی گئی جو بالکل پھیکی تھی اور مجھے تو بہت ہی بدذائقہ لگی۔ اس میل جول کی تقریب کو ہلکا سا touch امیر عبد القادر کے تعارف کا دے دیا گیا تھا۔ مختلف فلیکس آویزاں کیے گئے تھے جن میں امیر عبد القادر کی تصویر کے ساتھ چھوٹے چھوٹے اقتباسات درج تھے۔ مکان کے باہر دو تین منزلہ عمارت کی دیوار پر الجزائری کی ایک بہت بڑی تصویر لگائی گئی تھی جس کی باقاعدہ نقاب کشائی کی گئی۔
پروگرام کے تیسرے اور آخری دن Lyon کی ژاں ملاں یونیورسٹی (Jean-Mullen University) میں اساتذہ اور طلبہ اور پڑھے لکھے طبقات کے لیے ایک علمی نوعیت کی نشست رکھی گئی تھی۔ مجھے اس آخری نشست میں آخری گفتگو کے لیے کہا گیا۔ اس گفتگو کا عنوان تھا: امیر عبد القادر الجزائری کا تصور جہاد۔ میں نے اپنی مختصر گفتگو میں عبد القادر کے تصور جہاد اور اس وقت ہمیں پاکستان اور افغانستان میں جہاد کا جو تصور اور نمونہ دیکھنے کو مل رہا ہے، ان کے مابین تقابل کیا اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ان میں سے کون سا تصور جہاد فقہی وشرعی اصولوں کی درست نمائندگی کرتا ہے۔ امیر نے سولہ سال تک جن اصولوں کے تحت جہاد کیا، اس سے ہمارے سامنے جہاد کا جو نقشہ آتا ہے اور جہاد کی جو شکل ہم اس وقت اپنے خطے میں دیکھ رہے ہیں، دونوں کے مابین تضاد کی نسبت ہے۔ عبد القادر کے بعض فیصلوں سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن میری رائے میں ان کا تصور جہاد بڑی حد فقہی اور شرعی اصولوں کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ ہم اس وقت جو نقشہ دیکھ رہے ہیں، وہ ان اصولوں کی کسی بھی درجے میں نمائندگی نہیں کرتا۔ میں نے اسی پہلو سے گفتگو کے لیے یہ عنوان منتخب کیا کہ جہادکے ان دونوں تصورات میں ہم کن کن پہلووں سے تقابل کر سکتے ہیں اور یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اگر شرعی اصولوں کی روشنی میں جہاد کیا جائے تو اس کا عملی نقشہ کیا ہوگا۔ میں نے اپنی تقریر انگریزی میں لکھی ہوئی تھی، لیکن فرانس میں انگریزی سمجھنے والے لوگ بہت کم ملیں گے۔ ایک مقامی خاتون نے، جن کی اپنی انگریزی اتنی اچھی نہیں تھی، میری تقریر کا فرانسیسی میں ترجمہ کیا اور بحیثیت مجموعی میرا تاثر یہ ہے کہ میں جو کچھ کہنا چاہ رہا تھا، وہ لوگوں تک پہنچ گیا۔ تقریر کے بعد انفرادی ملاقاتوں میں میری گفتگو کے حوالے سے پسندیدگی ظاہر کی گئی اور کہا گیا کہ اس تقریر میں بہت مختصر اور ٹو دی پوائنٹ یعنی بالکل متعین طریقے سے اسلام کے تصور جہاد کے ضمن میں پانچ چھ اہم اصول بیان کر دیے ہیں جن کا لحاظ الجزائری کے ہاں نظر آتا ہے، جبکہ موجودہ تصور جہاد میں انھیں پامال کیا جا رہا ہے۔
میں نے اپنی گفتگو میں اسلام کے تصور جہاد کے ضمن میں جو نکات واضح کیے، ان میں سے نکتہ یہ تھا کہ جہاد کے حقیقی تصور کی روح یہ ہے کہ جہاد کو ذاتی اقتدار یا دولت یا اثر ورسوخ کے حصول کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ یہ تو ایک فریضہ ہے جو مسلمانوں کو مخصوص حالات میں ایک ذمہ داری کے طور پر ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس میں personal ambitions اور دولت واقتدار کی خواہش شامل ہو جائے تو اللہ کی نظر میں وہ جہدوجہد اپنی روح کے لحاظ سے بے وقعت قرار پاتی ہے۔ امیر کے ہاں جہاد کی یہ اسپرٹ بہت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ انھوں نے دو مرحلوں پر اس وقت جب کہ وہ باقاعدہ امیر المومنین بن چکے تھے اور الجزائر کا ایک پورا علاقہ ان کے زیر تصرف تھا جس پر ان کی حکومت قائم تھی، مراکش کے بادشاہ کو یہ درخواست کی کہ یہ علاقے جو ہمارے زیر نگیں ہیں، آپ ان کو اپنی قلمرو میں شامل کر لیں اور یہاں اپنا کوئی نمائندہ مقرر کر دیں جو معاملات کا انتظام وانصرام کرے۔ امیر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ واپس اپنی خانقاہی زندگی اور تعلیم وتدریس کی مشغولیت کی طرف لوٹ جاؤں۔ اس حوالے سے شاہ مراکش کے نام امیر کے جو خطوط ہیں، وہ ہنری چرچل نے اپنی کتاب میں نقل کیے ہیں۔ ہنری چرچل ایک برطانوی مصنف تھا جس نے امیر کے قیام دمشق کے زمانے میں مسلسل کئی مہینے تک امیر عبد القادر سے ملاقاتیں کر کے ان کی یادداشتیں قلم بند کیں اور انھیں ایک کتاب کی صورت میں مرتب کر دیا۔ یہ کتاب انگریزی میں ہے، جبکہ اس کا عربی ترجمہ حیاۃ الامیر عبد القادر  کے نام سے انٹر نیٹ پر دستیاب ہے اور عبد القادر کے حالات سے متعلق ایک بنیادی ماخذ کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں ہنری چرچل نے امیر کے وہ خطوط نقل کیے ہوئے ہیں جو انھوں نے شاہِ مراکش کو لکھے تھے۔ امیر کا یہ اقدام یقینی طور پر جہاد کی صحیح اسپرٹ کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اس وقت ہم خاص طور پر اپنے خطے میں جہاد کے نام پر جو سرگرمیاں دیکھ رہے ہیں، اس میں حقیقی جہادی روح کا واضح فقدان دکھائی دیتا ہے اور واقفان حال جانتے ہیں کہ اب تو اس نے دولت اور اقتدار کے ایک گھناؤنے کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہے۔ 
دوسری چیز جو میں نے اپنی گفتگو میں واضح کی، یہ تھی کہ جہاد چند اخلاقی اصولوں کی پابندی کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ان اصولوں کی پابندی ہوگی تو شریعت کی نظر میں وہ جہاد ہے، ورنہ نرا فساد ہے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ جنگ کے دوران میں بے گناہوں پر اور ان لوگوں پر جو جنگ میں شریک نہیں، ہاتھ نہیں اٹھائیں گے۔ قیدیوں کے ساتھ آپ کا برتاؤ اخلاقی اصولوں کے دائرے میں ہونا چاہیے اور آپ دشمن کے ساتھ جو بھی معاہدہ کریں، اس کی لفظ ومعنی کے اعتبار سے آپ نے پابندی کرنی ہے۔ عبد القادر الجزائری کے ہاں ان اصولوں کی بڑی غیر معمولی پاس داری دکھائی دیتی ہے۔ جنگی قیدیوں کے حوالے سے تو ان کا کردار اتنا غیر معمولی ہے کہ اس وقت دنیا میں جنگی قیدیوں کے حوالے سے جو بین الاقوامی قانون ہے، اس کے بارے میں اب یہ بات بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جانے لگی ہے اور اقوام متحدہ کے زیر اہتمام بعض کانفرنسیں اس موضوع پر منعقد ہوئی ہیں کہ قیدیوں کے حقوق سے متعلق اخلاقی تصورات کو بین الاقوامی سطح پر معاہداتی شکل دینے میں اور جدید بین الاقوامی قانون کی بنیاد رکھنے میں عبد القادر الجزائری کی کوششوں کو جنیوا کنونشنز پر سبقت حاصل ہے اور عبد القادر نے اس ضمن میں فرانسیسی حکومت کے ساتھ جو معاہدات کیے، وہ دور جدید میں اس نوعیت کی پہلی کوشش کا درجہ رکھتے ہیں۔ عبد القادر نے اپنی قید میں آنے والے فرانسیسی فوجیوں کی نہ صرف جسمانی دیکھ بھال اور حفاظت کا بندوبست کیا، بلکہ ان کی مذہبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فرانسیسی حکومت سے پادریوں کو بھیجنے کی درخواست کی اور فرانس کے ساتھ قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے باقاعدہ معاہدات کیے۔ اس موضوع پر اسی سفر میں مجھے ایک عرب مصنف کی لکھی ہوئی ضخیم کتاب بھی دستیاب ہوئی جو الجزائر کی موسسۃ الامیر عبدالقادر کی ایک اعلیٰ عہدیدار خاتون زہور بو طالب نے دی جو امیر عبد القادر کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور تیسری چوتھی پشت میں ان کا رشتہ عبد القادر کے ننھیال سے جا ملتا ہے۔ کم وبیش چھ سو صفحات پر مشتمل یہ ضخیم کتاب مصطفی خیاطی نے لکھی ہے اور فرانسیسی زبان میں L'Emir Abd El Kader: Fondateur du Droit Humanitaire International (امیر عبد القادر: بین الاقوامی قانون انسانیت کا بانی) کے عنوان سے دو سال قبل الجزائر میں منعقد ہونے والی ’’امیر عبد القادر اور جدید بین الاقوامی قانون انسانیت‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر شائع کی گئی ہے۔ مصنف نے اس میں تفصیل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ عبد القادر الجزائری جدید بین الاقوامی انسانی قانون کے بانی ہیں۔ 

میرے لیے اس سفر میں دلچسپی کا ایک خاص پہلو یہ بھی تھاکہ اس میں جان ڈبلیو کائزر شریک ہو رہے تھے۔ یہ وہی مصنف ہیں جنھوں نے الجزائری کی داستان حیات پر چند سال قبل انگریزی میں Commander of the Faithful کے عنوان سے ایک مقبول اور دلچسپ کتاب لکھی ہے۔ میں نے اس کتاب کا اردو ترجمہ ایڈٹ کر کے اسے پاکستان میں چھپوانے میں کافی کام کیا تھا۔ کائزر امریکہ کی ریاست ورجینیا میں شہری ماحول سے دور اپنے ایک فارم پر الگ تھلگ زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کی عمر ستر سال سے زیادہ ہے، لیکن صحت اور جوش وجذبہ کے لحاظ سے بالکل جوان ہیں۔ ان کی کتاب کے مسودہ پر نظر ثانی اور پھر اردو ترجمہ کی ایڈیٹنگ اور اشاعت کے اس سارے عرصے میں میری ان سے ملاقات نہیں ہو سکی، جبکہ ایک خاص تناظر میں مجھے کائزر سے ملاقات کی خواہش تھی۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے کائزر کی کتاب کے حوالے سے ہمارے ہاں بعض مذہبی اخبارات میں امیر عبد القادر کی شخصیت کے متعلق ایک بحث چھیڑی گئی اور امیر کے کردار کے مختلف پہلوؤں پر کئی سوالات اٹھائے گئے۔ اردو میں چونکہ الجزائری کی شخصیت کے متعلق کوئی تفصیلی ماخذ ابھی تک دستیاب نہیں، اس لیے بحث میں سارا حوالہ کائزر کی کتاب ہی کا تھا۔ میں نے جب اس کتاب پر کام کیا تو میرے ذہن میں بھی بہت سے سوالات آئے تھے، تاہم کائزر سے براہ راست ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر سوالات ذہن میں ہی رہے۔ میں نے کتاب کے مندرجات کے حوالے سے اور یہ کہ کائزر نے یہ کیسے مرتب کی اور کن کن مآخذ سے فائدہ اٹھایا اور خاص طور پر یہ کہ انھیں الجزائری کی شخصیت سے کیسے دلچسپی پیدا ہوئی، کئی سوالات کی فہرست اپنے پاس لکھی ہوئی تھی تاکہ کائزر سے ملاقات کے موقع پر تو ان سوالات کے حوالے سے ان سے گفتگو کر سکوں۔ اس سفر میں یہ مقصد کافی حد تک پورا ہوا۔ ہمارا قیام چونکہ ایک ہی ہوٹل میں تھا، اس لیے مختلف نشستوں میں کائزر سے تفصیلی تبادلہ خیال کا موقع ملا اور جو سوالات میرے ذہن میں تھے، تقریباً ان سب پر بات ہوئی۔
ایک بڑا اہم سوال یہ تھا کہ کائزر نے یہ کتاب تاریخی تحقیق کے اسلوب میں نہیں لکھی، بلکہ ایک کہانی یا داستان کے انداز میں لکھی ہے اور جو شخص بھی اس کو پڑھے گا، اس کو نظر آئے گا کہ اس کا تاریخی پس منظر اور بیان کردہ واقعات کی تفصیلات بنیادی طور پر تاریخی ہیں یعنی افسانوی نہیں ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ جب آپ تاریخی واقعات کو کہانی کی شکل دیتے ہیں تو اس میں آپ کو کچھ فکشن بھی شامل کرنا پڑتا ہے۔ میرے سامنے سوال یہ تھا کہ کائزر نے واقعات کی تحقیق میں کتنا کام کیا ہے۔ میں نے جب کائزر کے سامنے یہ سوال رکھا تو اور بعض اہم واقعات جو انھوں نے کتاب میں درج کیے ہیں، ان کے اصل مآخذ سے متعلق دریافت کیا تاکہ ان سے رجوع کر کے تحقیق کی جا سکے تو کائزر نے کہا کہ میں نے اس کتاب میں محقق کا کام نہیں کیا، یعنی میں نے عبد القادر کے حالات کی کوئی تاریخی تحقیق نہیں کی، اس لیے کہ تحقیقی نوعیت کی کتابیں بہت سے لوگوں نے لکھی ہوئی ہیں اور خاص طور پر فرانسیسی زبان میں ا س حوالے سے کافی بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ 
کائزر نے کہا کہ مجھے یہ کتاب لکھنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ اگرچہ فرانسیسی زبان میں امیر عبدالقادر کی شخصیت پر کافی کام ہوا ہے، لیکن ایک تو فرانسیسیوں کا جو اسلوب کلام ہے، وہ condescending tone میں لکھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں فرانسیسیوں کا احساس برتری جھلکتا ہے۔ چونکہ امیر کو فرانسیسیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی اور پھر انھیں فرانس میں لا کر محبوس رکھا گیا اور پھر جلا وطن کیا گیا تو قدرتی طور پر فرانسیسی جب عبدالقادر کے بارے میں لکھتے ہیں تو اگرچہ اس میں کوئی تحقیر یا تضحیک نہیں ہوتی، لیکن condescending toneبہرحال ہوتی ہے۔ اس وجہ سے فرانسیسی میں لکھی گئی کوئی کتاب مجھے ایسی نہیں ملی جسے امیر عبد القادر کی شخصیت کے غیر جانب دارانہ تعارف کے لیے پیش کیا جا سکے اور خاص طور پر عرب دنیا میں جس کا کوئی اچھا تاثر ہو۔ کائزر نے کہا کہ اس وجہ سے مجھے یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ غیر جانب دارانہ انداز میں امیر کی داستان حیات تحریر کی جائے۔
کائزر نے دوسری بات یہ کہی کہ امیر پر لکھی گئی بیشتر کتابوں کا انداز تحقیقی کتاب کا ہے جس میں حوالہ جات اور تحقیق کے دیگر لوازمات شامل ہونے کی وجہ سے وہ ایک عام آدمی کی دلچسپی کی نہیں رہتی۔ میں نے یہ چاہا کہ ایک عام آدمی کے لیے جسے تاریخی تحقیق میں کوئی دلچسپی نہیں، لیکن اس کے سامنے امیر کی شخصیت اور کردار کا ایک نقشہ آنا چاہیے، ایک کتاب لکھی جائے۔ چنانچہ میں نے اس کتاب میں ایک محقق کی ذمہ داری انجام نہیں دی اور نہ بہت زیادہ اصل مآخذ سے رجوع کیا ہے۔ میرا انحصار ثانوی مآخذ پر رہا ہے اور میں نے واقعات کی تاریخی تحقیق پر اتنی توجہ نہیں دی جتنا اس بات پر دی ہے کہ اسے ایک عام آدمی کے لیے قابل فہم، آسان اور دلچسپ بنایا جائے۔ اس تناظر میں، میں نے جب کائزر سے کتاب میں درج بعض بڑے اہم واقعات کے ماخذ سے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا کہ میں نے مآخذ تو نوٹ نہیں کیے۔ جب میں مطالعہ کر رہا تھا تو جو چیزیں مجھے اپنے مقصد کے لحاظ سے دلچسپ اور مفید لگیں، وہ میں نے لے لیں، لیکن اب میرے ذہن میں بالکل نہیں ہے کہ میں نے کون سی بات کہاں سے لی ہے۔ البتہ کتاب کے انگریزی نسخے کے آخر میں کائزر نے فرانسیسی اور انگریزی کے ان مآخذ کی ایک عمومی فہرست دے دی ہے جن سے انھوں نے اس کام کے دوران میں استفادہ کیا۔
میں جن واقعات کی تحقیق کے لیے ان کے اصل تاریخی ماخذ سے متعلق جاننا چاہ رہا تھا، وہ کم وبیش وہی تھے جن کا ذکر کچھ عرصہ قبل ہمارے ہاں امیر کی شخصیت پر کیچڑ اچھالنے کے لیے ایک ناگوار اور سطحی قسم کی صحافیانہ مہم میں کیا گیا اور انھیں بطور اعتراض نمایاں کیا گیا۔ مثلاً کائزر نے اپنی کتاب میں بعض لوگوں کے بیانات نقل کیے ہیں کہ انھوں نے امیر کے گھر میں ان کی پانچ بیویاں دیکھیں۔ کائزر نے اگرچہ اس پر حاشیے میں یہ وضاحت کی ہوئی ہے کہ اس بیان کی تصدیق کا اس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ ہمارے پاس نہیں، لیکن بہرحال ایک بیان تو آ گیا اور اس کی بنیاد پر کوئی شخص پیالی میں طوفان اٹھانا چاہے تو اٹھا سکتا ہے۔ کائزر نے کہا کہ میرا اپنا خیال بھی یہ ہے کہ امیر کی بیویاں چار ہی تھیں، جبکہ پانچویں شاید ان کی کوئی باندی ہوگی، کیونکہ عربوں میں اس وقت تک لونڈیوں کا سلسلہ موجود تھا۔ ظاہر ہے کہ جس خاتون نے بتایا کہ اس نے امیر کے گھر میں پانچ بیویاں دیکھیں، اس نے محض ایک مشاہدہ بیان کیا ہے۔ یہ تو نہیں بتایا کہ اس نے باقاعدہ اس کی تحقیق کی تھی اور امیر کے اہل خانہ سے یہ پوچھا تھا کہ گھر کے افراد میں سے فلاں کون ہے اور فلاں کون۔ عین ممکن ہے کہ اس نے قیاس سے کام لیتے ہوئے یہ سمجھا ہو کہ یہ پانچوں امیر کی بیویاں ہیں، اس لیے یہ بات قرین قیاس نہیں لگتی کہ امیر نے (شریعت کے واضح اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے) بیک وقت پانچ بیویاں اپنے نکاح میں رکھی ہوں گی۔
کائزر سے دوسرا سوال میں نے یہ پوچھا کہ انھوں نے کتاب کے آخری حصے میں ایک آزاد خیال برطانوی خاتون جین ڈگبی کے امیر عبد القادر کی مجالس میں آنے جانے اور ان کے باہمی روابط کا ذکر کیا ہے۔ ان کی درج کردہ تفصیلات سے بعض بیمار ذہنوں نے یہ اخذ کرنے کی کوشش کی ہے کہ امیر کے اس خاتون کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔ میں نے کائزر سے پوچھا کہ کیا واقعتا تاریخی لحاظ سے ان کے تعلقات اس نوعیت کے تھے یا کیا خود کائزر نے ان دونوں کے باہمی تعلقات کے متعلق کتاب میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔ کائزر یہ سوال سن کر بے ساختہ مسکرائے اور فوراً نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہنے لگے کہ نہیں، یہ تاثر بالکل درست نہیں۔ میں نے تو ان دونوں کی باہمی ملاقاتوں کا ذکر اس پہلو سے کیا ہے کہ میرے خیال میں یہ دونوں شخصیات اپنے ماحول سے باغی شخصیات تھیں اور میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ خود ایک جرات مند اور حریت فکر رکھنے والی شخصیت ہونے کی وجہ سے امیر کے حلقہ احباب میں بھی بعض ایسے افراد شامل تھے جو اپنی اپنی ثقافت او رماحول سے باغی تھے۔
ایک اور اہم سوال امیر عبد القادر کی فری میسنری میں شمولیت سے متعلق تھا۔ فری میسنری مغرب میں کئی صدیوں سے قائم ایک تنظیم ہے جس کے فکری رجحانات وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ عبد القادر کی شخصیت کے متعلق تاریخی طور پر جو متنازع فیہ سوالات ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آیا انھوں نے فری میسنری میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی تھی یا نہیں۔ عبد القادر کے خاندان کے لوگ اس کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ فری میسنری میں ان کی شمولیت تاریخی طور پر ثابت نہیں۔ اس حوالے سے عربی زبان میں بعض تفصیلی تحریریں انٹرنیٹ پر بھی موجود ہیں۔ تاہم بعض دیگر مورخین امیر کی اس تنظیم میں شمولیت کے قائل ہیں۔ کائزر کا اپنا رجحان یہ تھا کہ چونکہ فری میسنری کی اپنی بعض کتابوں اور فہرستوں میں امیر عبد القادر کی شمولیت کا ذکر ملتا ہے، اس لیے غالب گمان یہی ہے کہ انھوں نے فری میسنری کی طرف سے شمولیت کی دعوت قبول کی ہوگی اور اس میں کوئی اچنبھے کی بات اس لیے نہیں ہے کہ اس وقت یعنی آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے فری میسنری کے متعلق وہ تصور عام نہیں تھا جو آج مسلم دنیا میں پایا جاتا ہے۔ اس کے متعلق یہ تصور موجود نہیں تھا کہ یہ کوئی صہیونی ایجنڈے پر بنائی گئی تنظیم ہے یا اس کا مقصد کچھ خفیہ مقاصد کی تکمیل ہے۔ اس وقت یوں سمجھ لیں کہ اسے دانش وروں کا ایک فورم سمجھا جاتا تھا۔ دنیا بھر کے بڑے بڑے سیاسی، مذہبی، سماجی اور فکری راہ نما جنھیں علمی وفکری بحثوں میں دلچسپی ہوتی تھی، وہ ان کا حصہ ہوتے تھے اور اپنی مجا لس میں مذہب اور معاشرے سے متعلق ایسے سوالات پر آزادانہ بحث ومباحثہ کرتے تھے جو عمومی سطح پر زیر بحث نہیں لائے جا سکتے تھے۔ ہر مذہب اور ہر نقطہ خیال کے لوگ ان مجلسوں میں بیٹھ کر اس طرح کے مسائل پر باہم تبادلہ خیال کرتے تھے۔ کائزر کا خیال یہ تھا کہ عبد القادر چونکہ خود ایک بہت بڑے مفکر تھے او ر فلسفہ اور مذہب سے متعلق بڑے اہم او رنازک سوالات پر مخصوص آرا رکھتے تھے، اس لیے یہ کوئی بعید بات نہیں لگتی کہ انھوں نے فری میسنری کی طرف سے اس تنظیم میں شمولیت کی دعوت قبول کی ہو اور ان کی مجالس میں شریک ہوتے رہے ہوں، کیونکہ فری میسنری کے بارے میں اس وقت کوئی منفی تصور نہیں پایا جاتا تھا۔ البتہ کائزر نے کہا کہ میں اس کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ تعلق باقاعدہ فری میسنری کا رکن بننے کی صورت میں قائم ہوا یا عبد القادر کی رہائش پر ان کی بعض مجالس میں شرکت تک محدود رہا، لیکن بہرحال ایک نوعیت کا تعلق ضرور رہا ہے۔
اس بحث سے متعلق ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ کائزر کی کتاب کے اردو ترجمہ کا جو مسودہ مجھے بھیجا گیا، اس میں اس مقام پر یہ لکھا ہوا ہے کہ ۱۸۷۷ء میں عبدالقادر نے میسونی تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ’’جب اس سوسائٹی میں الحاد پرستوں کو بھی شامل کر لیا گیا تو عبد القادر کے نزدیک یہ اس تنظیم کا ناقابل قبول اقدام تھا جس کے ارکان نے عیسائیت سے الگ ہو کر محض توحید پرستی کی راہ اپنائی تھی اور اب سوسائٹی بے خدا انسان پرستی کو قبول کرنے کے راستے پر چل نکلی تھی، چنانچہ عبد القادر نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔‘‘ (ص ۴۴۱) یہ پیراگراف کتاب کے انگریزی نسخے میں یہ شامل نہیں ہے۔ میں نے کائزر سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ تھوڑی دیر اپنی کتاب کے انگریزی متن اور پھر کتاب کے آخر میں درج تعلیقات کو دیکھتے رہے۔ پھر وہ کچھ کنفیوز سے ہو گئے اور کہنے لگے کہ مجھے یاد نہیں آ رہا کہ یہ بات میں نے لکھی ہے اور یہ کہ اگر یہ نوٹ میرا لکھا ہوا ہے تو انگریزی متن میں کیوں شامل نہیں۔ یوں اس نکتے پر کائزر کے ساتھ گفتگو سے بات واضح ہونے کے بجائے الجھ سی گئی۔ میں نے پوچھا کہ ان تمام باتوں کا تاریخی ماخذ کیا ہے اور یہ تفصیلات کہاں مل سکتی ہیں تو کائزر نے کہا کہ یہ چیزیں اب مجھے مستحضر نہیں۔ 
کائزر کے ساتھ گفتگو میں ایک اور بڑی اہم بات سامنے آئی جو کتاب کے انگریزی متن میں تو شامل ہے، لیکن افسوس ہے کہ اردو ترجمے میں شامل نہیں ہو سکی اور اس کی وجہ سے ہمارے ہاں ہونے والی صحافیانہ بحث میں ایک بڑا سوال اٹھا دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ چونکہ عبد القادر نے شکست قبول کرنے کے بعد جلا وطنی کے دور میں فرانسیسی حکومت سے وظیفہ لینا شروع کردیا تھا، اس لیے ان کی ساری جہادی جدوجہد ہی مشکوک ہو جاتی ہے۔ تاریخی طور پر یہ ایک حقیقت ہے کہ جلا وطنی کے بعد امیر کی زندگی میں اور اس کے بعد ۱۹۵۴ء تک فرانسیسی حکومت امیر کے خاندان کو سالانہ ایک متعین رقم ادا کرتی رہی ہے۔ میرے ذہن میں بھی اس کی حقیقی نوعیت پوری طرح واضح نہیں تھی، لیکن اس سفر کے دوران میں مجھے کائزر کی کتاب کے انگریزی نسخے کو دوبارہ دیکھنے کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ ایک بڑا اہم حاشیہ کائزر نے لکھا ہوا ہے جس کی انھوں نے زبانی تصدیق بھی کی اور کچھ مزید معلومات بھی فراہم کیں۔ وہ یہ کہ یہ رقم جو امیر کو اور ان کے خاندان کو دی جاتی رہی، درحقیقت الجزائر میں امیر کے خاندان کی ملکیت ان زمینوں کا معاوضہ تھی جو فرانسیسی حکومت نے ضبط کر لی تھیں۔ ان کی جلاوطنی کے موقع پر فرانسیسی حکومت نے یہ فیصلہ کیا، جس میں بہرحال فرانسیسی حکومت کی good willبھی جھلکتی ہے، کہ چونکہ ہم نے امیر کی خاندانی زمینیں ضبط کر لی ہیں، اس لیے امیر کے خاندان کو اپنے خرچ اخراجات کے لیے اس کے معاوضے کے طور پر سالانہ ایک متعین رقم دی جائے گی تاکہ وہ جہاں بھی رہیں، اسے اپنے اخراجات پر صرف کر سکیں۔ 
کائزر نے بتایا کہ امیر کی وفات کے بعد ایک موقع پر فرانس میں یہ بات زیر بحث آئی کہ جب عبد القادر وفات پا چکے ہیں تو کیا اس رقم کی ادائیگی ان کی زندگی تک محدود تھی یا ان کے بعد ان کے خاندان کو بھی دی جائے گی؟ اس پر فرانس کی عدالت میں ایک مقدمہ چلا اور عدالت نے یہ قرار دیا کہ چونکہ یہ عبد القادر کی ذاتی زمینیں نہیں تھیں، بلکہ ان کے خاندان کی مشترکہ ملکیت تھیں اور یہ رقم بھی عبد القادر کو ذاتی حیثیت میں، بلکہ خاندان کے سربراہ کی حیثیت سے دی جا رہی تھی، اس لیے یہ ان کے بعد ان کے خاندان کو بھی بدستور ادا کی جاتی رہے گی۔ چنانچہ اس فیصلے کے مطابق ۱۹۵۴ء تک فرانسیسی حکومت امیر کے خاندان کویہ رقم ادا کرتی رہی۔ پھر ۱۹۵۴ء میں فرانس کی سینیٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ اب یہ سلسلہ ختم ہو جانا چاہیے۔ میری خواہش تھی کہ اس مقدمے سے متعلق کچھ مزید تفصیلات دستاویزی صورت میں مل جائیں، تاہم کائزر اس ضمن میں کوئی مدد نہیں کر سکے۔ ان کے حافظے میں بس اتنی ہی بات محفوظ تھی۔

سوالات وجوابات

سوال: کیا جان کائزر مسلمان ہیں؟
جواب: نہیں، وہ مسلمان نہیں۔ البتہ وہ مسیحی ہیں یا نہیں اور مسیحی تعلیمات پر کس حد تک عمل پیرا ہیں، یہ میں ان سے نہیں پوچھ سکا۔ میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ وہ مسیحی ہیں۔ بنیادی طور پر کائزر جو سوچ رکھتے ہیں، وہ یہ ہے کہ مغرب نے جس رخ پر ترقی کی ہے، اس میں مادیت پر بہت زور ہے اور روحانی قدروں کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اس اندھا دھند ترقی کے نتیجے میں انسانی زندگی میں سکون اور اطمینان ناپید ہو گیا ہے اور ماحولیاتی آلودگی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ سوچ رکھنے والے تعداد میں محدود ہیں، لیکن اس کے ترجمان آپ کو مغربی معاشروں میں مل جائیں گے۔ کائزر بھی اسی طرز فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے موبائل فون نہیں رکھا ہوا اور وہ ریاست ورجینیا میں شہر سے دور اپنے ایک فارم پر رہتے ہیں۔ وہ جدید طرز معاشرت کے سخت ناقد ہیں جس میں اخلاقی قدریں مفقود ہوتی جا رہی ہیں اور انسانی زندگی کو ایک مشینی زندگی بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جو سرمایہ دارانہ نظام ہے اور اندھا دھند ترقی کا جو رجحان ہے، یہ انسانیت کو بالکل تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ کائزر نے ایک دلچسپ بات یہ کہی، جس سے ان کے انداز فکر کا کسی حد تک اندازہ کیا جا سکتا ہے، کہ طالبان کا جو انصاف فراہم کرنے کا طریقہ ہے، وہ مجھے اچھا لگتا ہے، کیونکہ ایک تو وہ فوری انصاف پر یقین رکھتے ہیں اور دوسرے ان کا سزا دینے کا طریقہ جرائم کو روکنے میں موثر ہے۔ مثلاً کائزر نے کہا کہ اگر عورت کے ساتھ زیادتی کرنے والے مجرم کو خصی کر دیا جائے تو یہ سزا اس جرم کو روکنے میں بہت موثر ثابت ہوگی۔
سوال: عبد القادر نے جب خلافت عثمانیہ سے الگ ہو کر قائم ہونے والی مجوزہ عرب ریاست کی قیادت قبول کرنے سے انکار کیا تو اس کی وجہ کیا تھی؟ کیا ان کی مصروفیات ا س میں رکاوٹ تھیں یا وہ مسلمانوں کے سیاسی اتحاد میں دراڑ نہیں ڈالنا چاہتے تھے؟
جواب: نہیں۔ انھوں نے اس سے متعلق سوال کے جواب میں یہ کہا تھاکہ ’’مجھے اب دنیاوی جاہ وجلال کی کوئی تمنا نہیں ہے۔ میں اب صرف خاندان کے ساتھ رہنے، عبادت کرنے اور سکون سے وقت گزارنے جیسے خوشیاں حاصل کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ امیر طبعاً ایک سیاسی اور ہنگامہ خیز زندگی کو پسند نہیں کرتے تھے۔ اس سے پہلے انھوں نے الجزائر میں جو کردار ادا کیا، وہ بھی اس لیے تھا کہ اس صورت حال میں اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے کوئی متبادل میسر نہیں تھا۔ طبعاً وہ خلوت کی زندگی کو پسند کرتے تھے۔ وہ ابن عربی کے فلسفے سے متاثر بھی تھے اور اس کے بہت بڑے شارح بھی۔ ابن عربی کی فلسفیانہ تعلیمات کی تشریح میں عبد القادر نے اپنی مشہور اور ضخیم کتاب ’’المواقف‘‘ تصنیف کی ہے۔ جلاوطنی کے بعد انھوں نے اپنے آپ کو مطالعہ اور روحانی مشاغل میں مصروف کر لیا تھا اور اب دوبارہ وہ سیاسی میدان میں قدم نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ میرے خیال تو انکار کی بنیادی وجہ یہی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ یہ محسوس کرتے ہوں کہ انھیں پیش کش کرنے والے جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ عرب ان کی قیادت قبول کرنے پر متفق ہو جائیں گے، وہ اتنا قابل عمل خیال نہیں ہے۔ 
بہرحال آپ نے سوال میں جو وجہ ذکر کی ہے، وہ قرین قیاس نہیں لگتی، کیونکہ عبد القادر ان لوگوں میں سے تھے جو ترکوں اور ترک حکام کے طرز حکومت سے سخت نالاں تھے ۔ ہمارے ہاں تو عام طور پر اس مسئلے کو اس حوالے سے دیکھا جاتا ہے کہ انگریزوں نے عربوں میں قومیت کا جذبہ بیدار کر کے انھیں ترکی خلافت کے خلاف ابھارا، لیکن عربوں کے زاویہ نظر سے آپ دیکھیں تو ان کے لیے آخری دور میں ترکوں کی حکومت اسی طرح کی ایک imperialist حکومت بن چکی تھی جس طرح ہم ہندوستان میں برطانوی حکومت کو سمجھتے تھے۔ ترک عربوں اور اپنے زیر نگیں دوسری قوموں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ترک حکام میں بدعنوانی اور کرپشن عام ہو چکی تھی اور بدانتظامی پھیلی ہوئی تھی۔ انگریزوں نے یقیناًاپنے مقاصد کے تحت عربوں میں اس احساس کو بڑھاوا دیا اور منافرت کو تقویت پہنچائی، لیکن بہرحال ترکوں سے عربوں کو بہت سی جینوئن شکایات بھی تھیں۔ عبد القادر کا ذہنی رجحان بھی یہی تھا کہ ترک حکام متکبر اور نااہل ہیں اور ہمیں گڈ گورننس نہیں دے رہے۔ اس لحاظ سے مجھے نہیں لگتا کہ عبد القادر نے اسلامی اتحاد جیسے مفروضے کے زیر اثر مجوزہ عرب ریاست کی قیادت قبول کرنے سے انکار کیا ہو۔
سوال: ترکوں کا رویہ اور طرز حکومت کیا تھا جس سے ان لوگوں کو شکایت تھی؟
جواب: دیکھیں، جیسے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ برطانوی باہر سے آ کر ہندوستان پر مسلط ہو گئے ہیں، اگرچہ انھوں نے یہاں کافی انتظامی سہولتیں بھی فراہم کیں، لیکن ہم انھیں ذہنی طور پر قبول نہیں کرتے۔ اسی طرح خلافت عثمانیہ کے آخری دور میں عربوں کے احساسات ترکوں کے متعلق اسی طرح کے ہو چکے تھے۔ اس کی بڑی وجہ خود ترکوں میں ایک نخوت کا رویہ تھا جو پیدا ہو چکا تھا۔ قومی مفاخرت کا احساس ترکوں، عربوں اور ایرانیوں، ان تینوں قوموں میں بڑی شدت سے موجود ہے۔ عرب سمجھتے ہیں کہ ہم اسلام کے اصل وارث ہیں۔ ایرانی یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں جتنی تہذیبی، علمی اور فکری ترقی ہے، اس میں تو عربوں کا کوئی کردار ہی نہیں۔ کتب حدیث کے مدونین بیشتر عجمی ہیں، تمام نامور مسلمان فلسفی سرزمین ایران سے تعلق رکھتے ہیں، حتیٰ کہ عربی زبان سے متعلق علوم کو مرتب اور مدون کرنے والے اہل علم بھی زیادہ تر عجمی ہیں۔ ہمارے دوست میر احمد علی ایرانیوں کا یہ مقولہ سناتے ہیں کہ عربوں نے تو دنیا کو صرف نبی دیا ہے، اسلام کے لیے باقی سارا کام تو ہم نے کیا ہے۔ اسی طرح کی قومی نخوت ترکوں میں بھی تھی جس کا اظہار ترک حکام کے رویے اور انداز حکومت میں بھی ہوتا تھا اور عرب آخری دور میں اس سے سخت نالاں ہو چکے تھے۔
سوال: اس کی کیا وجہ ہے کہ امیر عبد القادر الجزائری اتنا اہم آدمی ہے، لیکن اس کو دنیا کے سامنے ہم نے متعارف نہیں کرایا، بلکہ ایک مغربی مصنف نے اس کو دوبارہ دریافت کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم اس کی طرف متوجہ نہیں ہوئے؟ اگر اہل مغرب اس کے تعارف میں دلچسپی محسوس کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ امیر عبد القادر کا تصور جہاد انھیں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے زیادہ موزوں لگتا ہے اور انھیں اس میں کم خطرہ نظر آتا ہے، جبکہ طالبان کو جو تصور جہاد ہے، وہ ان کے لیے زیادہ خطرناک ہے؟ جیسے وہ صوفی ازم کو فروغ دینا چاہتے ہیں، کیا اسی طرح کا معاملہ امیر عبد القادر کے حوالے سے تو نہیں؟
جواب: دیکھیں، اس وقت امیر عبد القادرکی شخصیت میں بہت سے حلقے دلچسپی لے رہے ہیں جس میں مغرب کے بعض حلقے بھی شامل ہیں، لیکن یہ بات صحیح نہیں کہ ان کے تعارف کی ابتدا اہل مغرب نے کی ہے۔ کائزر کی کتاب تو کوئی تین چار سال قبل لکھی گئی ہے۔ ان کی شخصیت کو دوبارہ دریافت کرنے کا آغاز الجزائر سے ہوا ہے اور الجزائری حکومت اور خود امیر عبد القادر کے خاندان کے لوگ اس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ الجزائر کے لوگ امیر عبد القادر کو جدید الجزائر کا بانی سمجھتے ہیں، یعنی قدیم قبائلی طرز زندگی کی جگہ الجزائر کو جدید خطوط پر ایک منظم ریاست بنانے کا آغاز عبد القادر کے دور حکومت میں کیا گیا تھا۔ عبد القادر صرف ایک مجاہد نہیں تھے، بلکہ بہت زبردست منتظم بھی تھے۔ اس کی تفصیلات پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں کہ انھوں نے الجزائر کی قبائلی معاشرت کوبالکل جدید طرز پر استوار کرنے کے لیے کیا کیا اقدامات کیے۔ اس لحاظ سے الجزائری قوم امیر عبد القادر کو وہی حیثیت دیتی ہے جو ہم اپنی تاریخ میں سرسید احمد خان، علامہ اقبال یا قائد اعظم کو دیتے ہیں۔ سو ان کی شخصیت کے تعارف میں اس وقت initiative اہل مغرب نے نہیں لیا، البتہ اہل مغرب کی دلچسپی یقیناًاس میں ہے اور ظاہر ہے کہ اس میں ان کا اپنا مفاد بھی شامل ہے۔ انھیں جہاد کے صحیح یا غلط تصور سے دلچسپی نہیں ہے۔ ان کا مطمح نظر یہ ہے کہ مسلمانوں میں اس وقت جو انتہا پسندی کی ایک سوچ ہے، اس میں کمی آئے۔ 
تو اہل مغرب کو اس لحاظ سے عبد القادر کے تصور جہاد سے دلچسپی ہو سکتی ہے کہ وہ کم سے کم ایسا تصور جہاد نہیں ہے جس میں عام شہریوں کو مارنا بھی درست سمجھا جاتا ہو اور جس میں ہر حال میں لڑنے مرنے ہی کو منتہائے مقصود قرار دیا گیا ہو۔ پھر یہ کہ عبد القادر کا جو طرز فکر ہے دوسرے مذاہب، خاص طور پر مسیحیت کے بارے میں، وہ بھی اہل مغرب کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ مثال کے طو رپر کائزر نے مجھے الجزائری کی شخصیت میں دلچسپی کی دو وجوہ بتائیں۔ ایک یہ کہ عبد القادر یہ کہتے ہیں کہ یہودیت، مسیحیت اور اسلام، ان تینوں کا آپس میں بڑا گہرا رشتہ ہے، کیونکہ یہ ایک ہی ماخذ سے پھوٹے ہیں اور انبیاء کے ایک ہی سلسلے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے مابین کزنز کا رشتہ ہے۔ میں نے کائزر سے کہا کہ یہ عبد القادر کا کوئی منفرد خیال نہیں ہے۔ سارے مسلمان یہی مانتے اور سمجھتے ہیں، البتہ اس کا عملی اثر ان مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ آپ کے رویے اور طرز عمل میں کس طرح دکھائی دیتا ہے، اس میں عبد القادر کسی حد تک مختلف جگہ کھڑے ہیں اور وہ چیز ہمیں عام مذہبی رویے میں دکھائی نہیں دیتی۔ بہرحال اصولی طور پر یہ تصور عبد القادر کا کوئی منفرد تصور نہیں ہے۔
کائزر نے دوسری وجہ یہ بتائی، جو زیادہ دلچسپ ہے، کہ میرے لیے یہ بات بڑی حیران کن تھی کہ عبد القادر یہ کہتے ہیں وہ جو ایک مسیحا نے آنا ہے جس نے آ کر مسلمانوں کو غلبہ دلانا ہے، وہ وہی یسوع مسیح ہے جس پر مسیحی ایمان رکھتے ہیں۔ میں نے کائزر سے کہا کہ یہ بھی عبد القادر کا کوئی منفرد خیال نہیں۔ سارے مسلمان یہی مانتے ہیں کہ آخری زمانے میں آنے والے مسیح، وہی یسوع مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے جو بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے۔ کائزر نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیا سارے مسلمان، چاہے وہ عوام ہوں یا پڑھے لکھے لوگ، یہی مانتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ یہ بات کائزر کے لیے مزید حیران کن تھی۔
سو عبد القادر کی شخصیت میں دلچسپی کے مختلف پہلو ہیں اور مختلف حلقے مختلف حوالوں سے ان میں دلچسپی محسوس کر رہے ہیں۔ مثال کے طو ر پر فرانس میں الجزائری کمیونٹی جس نے اس تین روزہ پروگرام کے انتظامات کیے، ان کی دلچسپی الجزائری میں نہ اس حوالے سے ہے کہ وہ ایک بہت بڑے عالم تھے، نہ اس حوالے سے ہے کہ وہ ایک بڑے مجاہد تھے۔ ان کی دلچسپی ایک دوسرے پہلو سے ہے۔ فرانس میں الجزائری کمیونٹی بہت زیادہ احساس محرومی کا شکار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نہ تو الجزائری حکومت اپنا سمجھتی ہے اور نہ فرانس کے لوگ اپناتے ہیں۔ الجزائر کے لوگ کہتے ہیں کہ تم لوگ فرانس میں رہتے ہو اور فرانسیسی ہو، جبکہ فرانس کے لوگ ہمیں اس طرح دیکھتے ہیں کہ ہم الجزائر سے آئے ہیں اور الجزائری ہیں۔ یوں الجزائری مسلمانوں کی نئی نسل بے حد احساس محرومی کا شکار ہے۔ اب یہ لوگ عبد القادر میں اس وجہ سے دلچسپی محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہماری نئی نسل کو یہ معلوم ہوگا کہ ہماری ماضی قریب کی تاریخ میں ایک ایسی شخصیت تھی جسے بین الاقوامی سطح پر اتنا احترام حاصل تھا تو اس سے ان کے اندر ایک خود اعتمادی پیدا ہوگی اور اگر ہم اس شخصیت کا آج کی فرانسیسی کمیونٹی کے سامنے تعارف کروائیں گے تو اس سے دونوں کمیونٹیوں کے مابین جو ایک فاصلہ ہے، اس کو پاٹنے میں مدد ملے گی۔
اب آپ دیکھیں کہ شخصیت ایک ہے، لیکن اس میں مختلف حلقوں کے لیے دلچسپی کے مختلف پہلو موجود ہیں۔ اگر اہل مغرب یا امریکہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں میں الجزائری کے تصور جہاد کو عام کرنا انھیں زیادہ suit کرتا ہے تو ضرور وہ ایسا سمجھتے ہوں گے، لیکن اگر یہ تصور جہاد خود فقہ وشریعت کے معیارات کے لحاظ سے ایک درست تصور ہے تو ہم صرف اس وجہ سے تو اس کو رد نہیں کر سکتے کہ اہل مغرب بھی اس کا فروغ چاہتے ہیں۔ اگر وہ جہاد کا صحیح تصور ہے اور شرعی اصولوں کی درست نمائندگی کرتا ہے اور اس وقت ہم جس مسخ شدہ تصور جہاد کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں، ا س کے مقابلے میں ایک متبادل تصور اور نمونہ ہمیں دیتا ہے تو ہم کیوں نہ اس کو قبول کریں اور لوگوں کو اس سے متعارف کروائیں؟ اگر امریکہ کی تائید سے عملاً جہاد کا فریضہ انجام دیا جا سکتا ہے اور اس سے اس کے استناد پر کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تو جہاد کے ایک صحیح تصور اور نمونے کو محض اس بنیاد پر کیسے مسترد کیا جا سکتا ہے کہ اسے فروغ دینے میں، اپنے مقاصد کے تحت، اہل مغرب کو بھی دلچسپی ہے؟
سوال: امام شامل اور امیر عبد القادر، ان دونوں کے آپس میں کس نوعیت کے تعلقات تھے؟ اگر ہم ان کی جدوجہد کے حوالے سے دیکھیں تو دونوں کا طرز عمل ایک جیسا نظر آتا ہے، یعنی امام شامل نے بھی بعد میں جہادی سرگرمیاں ترک کر دیں۔ 
جواب: امام شامل اور امیر عبد القادر نے اپنی جدوجہد کے آخری مرحلے میں ہتھیار ڈال دیے اور دونوں نے اپنی قوم کو یہ مشورہ دیا کہ وہ یہ راستہ چھوڑ دیں، کیونکہ مزید جانیں گنوانے کے علاوہ اس کا کوئی نتیجہ نکلتا دکھائی نہیں دیتا اور کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ اس وجہ سے بعض انتہا پسند چیچن گروہ امام شامل کو بھی ’’غدار‘‘ شمار کرتے ہیں کہ انھوں نے جدوجہد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بجائے درمیان میں چھوڑ دیا۔ بہرحال ان دونوں ہم عصر لیڈروں کے مابین ذاتی دوستی کا تعلق تھا اور دونوں کے مابین خطوط کا تبادلہ بھی ہوتا رہا ہے۔ کائزر نے بتایا کہ فرانسیسی زبان میں ایک پوری کتاب لکھی گئی ہے جس میں تاریخی دستاویزات کی روشنی میں امام شامل اور امیر عبد القادر کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کائزر نے اس کتاب کا نام اپنی کتاب کے انگریزی نسخے کے آخر میں مراجع ومصادر میں درج کیا ہوا ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ اس کتاب کو حاصل کیا جائے اور کسی فرانسیسی جاننے والے کی مدد سے اس استفادہ کیا جائے۔ 
کائزر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب نہر سویز کا افتتاح ہوا تو افتتاحی تقریب میں امیر عبدالقادر کے ساتھ امام شامل بھی موجود تھے۔ امام شامل ان دنوں روسی حکومت کی اجازت سے حج کے لیے آئے ہوئے تھے او ر سعودی عرب میں مقیم تھے۔ مدینہ میں ان کی وفات ہوئی اور وہ جنت البقیع میں مدفون ہیں۔ انھیں نہر سویز کے افتتاح کے موقع پر دعوت دی گئی اور امیر عبد القادر کے ساتھ ان کی ایک تصویر بھی موجود ہے۔ ہمارے ہاں امیر عبدالقادر کے خلاف جو طوفان بدتمیزی اٹھایا گیا، اس میں ان کے خلاف یہ نکتہ بھی پیش کیا گیا کہ چونکہ وہ نہر سویز کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے تھے اور نہر سویز کا سارا منصوبہ ہی یہودی اور صہیونی سازش تھا، اس لیے اس موقع پر جو لوگ بھی موجود تھے، ان کی موجودگی ان کے یہودی ایجنٹ ہونے کا ثبوت ہے۔ اگر اس سطحی طرز استدلال کو مانا جائے تو صرف عبد القادر کو نہیں، بلکہ امام شامل کو بھی صہیونی ویہودی ایجنٹ باور کرنا پڑے گا۔
سوال: مسلمان جو مزاحمت کر رہے ہیں اور جہاد کے نام پر جو کچھ بھی کر رہے ہیں، ان کو بتانے کے لیے تو ہمارے پاس اصول موجود ہیں کہ شریعت یہ کہتی ہے۔ لیکن جو ان کی مخالف قوتیں ہیں، ان کے لیے کیا معیار ہے؟ کیا بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹر کو ہم بنیاد بنائیں گے یا عیسائیت جو راہنما اصول دیتی ہے، وہ بتا کر ان سے یہ کہیں گے کہ جنگ کے یہ اصول ہیں جن کی تم خلاف ورزی کر رہے ہو؟
جواب: دیکھیں، یہاں دو باتیں ہیں۔ ایک بات یہ کہ اگر آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ دنیا میں اس وقت یا کبھی بھی قانون یا اصول کی حکمرانی رہی ہے یا کبھی ہوگی تو یہ بڑی سادگی کی بات ہے۔ دنیا میں اصلاً طاقت کی حکمرانی ہے اور طاقت اپنے طرز عمل کا جواز اخلاقیات سے نہیں، بلکہ اپنی طاقت سے ہی اخذ کیا کرتی ہے۔ تو پہلا کام جو اس وقت ہمیں کرنا ہے، وہ یہ ہے کہ ہم کوئی ایسی حماقت نہ کریں جس کے نتیجے میں ہم دشمن کو، جس کے ساتھ ہمارا طاقت کا کوئی توازن ہی نہیں ہے، موقع دیں کہ وہ ہم پر چڑھ دوڑے۔ مخالف قوتوں کے پاس کوئی واقعی جواز ہو یا محض ایک بہانہ، ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم اپنی کسی حماقت سے دشمن کو طاقت کے استعمال کا موقع نہ دیں جس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ حماقتیں کیے بغیر، اس وقت دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ جہاں جہاں ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے، ان کی داد رسی کے لیے دنیا میں جو نظم بنا ہوا ہے، ہم اس کا جتنا بہتر سے بہتر استعمال کر کے مسلمانوں کے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں، نکالنے کی کوشش کریں۔ مثلاً اقوام متحدہ کی سطح پر دنیا میں بعض اصول مان لیے گئے ہیں۔ جمہوریت کا اصول ہے، قوموں کے لیے حق خود ارادیت کا اصول ہے۔ اب یہ ہماری صلاحیت پر ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو مشکلات سے نکالنے کے لیے ان سے کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ہمارا مسئلہ اس وقت یہ نہیں ہے کہ قانون میں یا نظام کے دائرے میں سرے سے کوئی راستے ہی موجود نہیں۔ راستے موجود ہیں اور راستے نکالے جا سکتے ہیں۔ یہ ہماری حکومتوں کی مفاد پرستیاں اور سیاسی ترجیحات ہیں جو آڑے آ جاتی ہیں۔ مثلاً فلسطین کا جو مسئلہ ہے، آپ کا کیا خیال ہے کہ ا س کو بگاڑنے میں ارد گرد کی عرب حکومتوں کا اور خود فلسطینیوں کا تھوڑا ہاتھ ہے؟ اسرائیل کو تو ہم سامنے رکھ لیتے ہیں کوسنے اور اپنی کمزوریوں سے توجہ ہٹانے کے لیے۔ فلسطین کا مسئلہ پیدا کرنے میں، اس کو بگاڑنے میں اور مشکلات میں اضافہ کرنے میں اسی نوے فی صد کردار ارد گرد کی عرب حکومتوں کا اور خود فلسطینیوں کے داخلی افتراق وانتشار اور باہمی لڑائیوں کا ہے۔ تو یہ ہماری داخلی کمزوریاں ہیں، ورنہ اس وقت دنیا میں جو بھی نظام بنا ہوا ہے، اس کے تحت پر امن طریقے سے مشکلات کے حل کے لیے راستے نکالے جا سکتے ہیں۔ ہم خود اس سے فائدہ اٹھانے اور راستے نکالنے کے لیے ذہنی طور پر آمادہ نہیں ہے اور اس کے لیے جو ضروری کوشش ہے، خود کو اس کا اہل ثابت نہیں کرپا رہے۔
سوال: عبد القادر فرانس کے خلاف لڑتے رہے، اس کے باوجود فرانس میں ان کی یاد میں تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ تو کیا فرانسیسی حکومت اس کی اجازت دے رہی ہے؟
جواب: دیکھیں، مغربی ملکوں میں جو آزادئ رائے کا تصور ہے، وہ ہمارے یہاں سے کافی مختلف ہے۔ یورپی ملکوں میں سے فرانس میں شہری آزادیوں کا دائرہ نسبتاً محدود ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کا معاملہ کافی مختلف ہے۔ فرانس کو سارے یورپی ملکوں میں ایک الگ نمونے کے طور پر دیکھا جا تا ہے۔ وہ اپنے سیکولرزم میں اور جو فرانسیسی قومیت کا تصور ہے، اس میں کافی سخت ہے۔ لیکن بہرحال فرانس تاریخی طو رپر انقلاب فرانس جیسے سیاسی واقعات اور روشن خیالی جیسی فکری تحریکات کا مرکز رہا ہے اور اس روایت کے اپنے کچھ مسلمات اور تقاضے ہیں جس کے مظاہر آپ کو فرانس میں بھی ملیں گے۔ مثلاً امیر عبد القادر کی یاد میں جو یہ تقریبات منعقد ہوئیں، ان کا انتظام تو فرانسیسی حکومت نے نہیں کیا، لیکن مقامی انتظامیہ نے منتظمین کو اتنی سہولت ضرور بہم پہنچائی کہ مجھے کانفرنس میں شرکت کی غرض سے ویزا کے حصول میں مدد دینے کے لیے جو دعوت نامہ آیا، وہ Lyon کے ڈپٹی میئر کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ 
ایک اور حوالے سے بھی عبد القادر کی داستان سے دنیا کو متعارف کروانا فرانس کے لوگوں کے لیے باعث دلچسپی ہو سکتا ہے۔ ایک دن کائزر اور تقریبات کے مقامی منتظمین کا وفد ایک فرانسیسی بزنس مین سے ملاقات کے لیے گیا تو یہ لوگ مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ اس ملاقات کامقصد یہ تھا کہ فرانس میں عبد القادر کے تعارف کے لیے جو کام ان کے پیش نظر ہے، اس کے لیے الجزائری حکومت سے تعاون طلب کرنے کے بجائے فرانس کی مقامی کمیونٹی وسائل مہیا کرے۔ میں نے دیکھا کہ کافی دیر تک، تقریباً گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ وہ اس سے بات کرتے رہے، لیکن اس نے کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ پھر کائزر نے اس سے کہا کہ یہ جو داستان ہے، اس میں فرانسیسی قوم کے لیے بھی دلچسپی کا ایک بڑا اہم پہلو ہے اور وہ یہ کہ فرانس نے اپنے ایک دشمن کو جس نے اس سے شکست کھائی تھی، یہاں فرانس میں لا کر کسی جیل میں نہیں، بلکہ ایک بڑے تاریخی قلعے میں رکھا۔ پھر اس سے بات چیت کے لیے بہترین نمائندے بھیجے جو عبد القادر کے لیے ہمدردی اور احترام کے جذبات رکھتے تھے۔ پھر جب عبد القادر کو رخصت کیا تو ان کے اور ان کے خاندان کے لیے سالانہ وظیفہ مقرر کیا جو اس کی وفات کے بعد بھی فرانسیسی حکومت ۱۹۵۴ء تک انھیں ادا کرتی رہی۔ کائزر نے کہا کہ آپ لوگ اس داستان کے ذریعے سے دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ ہم اپنے دشمنوں کے ساتھ کم سے کم وہ معاملہ نہیں کرتے جو (دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ میں) امریکیوں نے کیا ہے۔ کائزر کی اس بات سے وہ بزنس مین ایک دم بڑا پرجوش ہو گیا اور اس نے فوراً یہ تجویز پیش کی کہ جن فرانسیسی طلبہ نے عبد القادر کے حوالے سے انعامی تحریری مقابلے میں حصہ لیا ہے، اگلے سال انھیں قلعہ آمبواز کی سیر کے لیے لے جایا جائے جہاں عبد القادر کو نظر بند کیا گیا تھا اور اس دورے کے اخراجات میرے ذمے ہوں گے۔
سوال: عبد القادر کی شخصیت بہرحال بعض حلقوں کے نزدیک ایک متنازعہ شخصیت ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ جو لوگ اس وقت جہاد کے نام سے غلط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں، انھیں راہ راست پر لانے کے لیے اس کے علاوہ دوسری شخصیات کو حوالہ بنایا جائے جو متنازعہ نہیں ہیں؟
جواب: دیکھیں، کسی بھی معاملے کو دیکھنے کے ایک سے زیادہ زاویے ہو سکتے ہیں۔ جب ہم جہاد کے تناظر میں عبدالقادر کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم جہاد کے صحیح تصور کا ایک نمونہ پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ جہاد کے اس تصور سے اختلاف رکھتے ہیں، انھیں عبد القادر کی شخصیت سے بھی چڑ ہوگی۔ لیکن اس بحث کا فریق صرف وہی ایک حلقہ تو نہیں جسے مخاطب بنانے کی ضرورت ہے۔ آپ کی سوسائٹی میں اور دنیا میں اور بھی بہت سے لوگ ہیں۔ اگر عبدالقادر ایک مخصوص حلقے کے لیے ناقابل قبول ہے یا اس کے ساتھ گفتگو میں ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا تو نہ سہی۔ وہ آج کی دنیا کو اور آپ کی نئی نسل کو بہت سی باتیں سمجھانے اور بہت سی غلط فہمیاں دور کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ایک مخصوص حلقہ جو عبد القادر کے تصور جہاد سے سے نفور ہے، اس کے ساتھ بات کرتے ہوئے آپ بے شک عبد القادر کا حوالہ نہ دیں۔ ان سے آپ اصولوں کے حوالے سے بات کریں کہ جہاد کے یہ اصول ہیں جو قرآن، حدیث اور فقہ اسلامی میں بیان ہوئے ہیں۔ آئیے، ان اصولوں پر بات کرتے ہیں۔ تو ان لوگوں کے سامنے آپ بے شک عبد القادر کا حوالہ پیش نہ کریں، لیکن باقی سارے لوگ تو اس طرح کے تعصب میں مبتلا نہیں۔ ان کے سامنے عبد القادر کا نمونہ پیش کرنا کئی پہلوؤں سے مفید ہو سکتا ہے۔ 
مقصد یہ کہ کوئی ضروری نہیں کہ ایک ہی بات یکساں طور پر سب کے لیے مفید ہو۔ عبد القادر پر جو کتاب لکھی گئی ہے، وہ القاعدہ کے ساتھ مکالمے کے لیے نہیں لکھی گئی اور نہ اس آئیڈیالوجی کے متاثرین کے لیے مفید ہے۔ یہ کتاب تو آج کی نئی نسل کے لیے لکھی گئی ہے جسے اس وقت جہاد کا ایک ہی یک طرفہ تصور اور نمونہ دنیا میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس کو یہ سمجھانے کے لیے اور دنیا کو یہ بتانے کے لیے کہ جہاد کا صحیح تصور اس سے مختلف ہے، ہمیں دوسرے نمونے پیش کرنے ہوں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس خاص پہلو سے امیر عبد القادر کی شخصیت ہمارے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ ہے کہ جدید دنیا میں ایک ایسا آدمی، ایسا عالمی شہرت یافتہ شخص جس کا مغرب میں تعارف بھی ہے اور احترام بھی، وہ اسلام کی جنگی اخلاقیات کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔ دور جدید میں جہاد کے حوالے سے جو غلط تصورات دنیا میں پھیلے ہیں، اور ان میں سے بہت سوں کا تعلق خود ہمارے بعض طبقات کی حماقتوں سے بھی ہے، ان کو دور کرنے کے لیے ہمارے پاس قریبی تاریخ میں ایک ایسا نمونہ موجود ہے جس کو دنیا کے سامنے لا کر ہم اسلام کے تصور جہاد کے حوالے سے شکوک وشبہات اور غلط فہمیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں۔

فکرِ مغرب: بعض معاصر مسلم ناقدین کے افکار کا تجزیہ (۲)

ڈاکٹر محمد شہباز منج

جہاں تک سائنس اور اخلاقی اقدار کے باہمی تعلق کا سوال ہے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی چیز جو حقیقتِ مطلقہ کے عرفان کااہم ذریعہ ہواسے لازماً اعلی اخلاقی اقدار کے حصول کا ذریعہ بھی ہونا چاہیے۔لیکن حادثہ یہ ہوا کہ مغرب میں نشأۃِ ثانیہ کے دور میں جب مذہب اور سائنس میں جدائی واقع ہوئی تو اہلِ سائنس نے ردعمل میں جہاں مذہب کو سائنس کی راہ میں رکاوٹ خیال کرتے ہوئے رد کردیا وہاں مذہبی اخلاقی اقدار سے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی ۔جب سائنس کا مذہبی اخلاقیات سے کوئی علاقہ نہ رہا تو ظاہر ہے اس میں وہی اخلاقیات داخل ہونا تھیں جو اس سے متعلق لوگوں کی اخلاقیات تھیں ،یعنی غیر مذہبی اور آزادانہ اخلاقیات۔اب چونکہ سائنس پر غیر مذہبی لوگوں کا قبضہ تھا تو لامحالہ سائنس کو انہی کی اخلاقیات کا حامل ہونا تھا۔مگراس سے یہ کیسے طے ہو گیا کہ سائنس فی نفسہ غیر مذہبی اخلاقیات کی حامل ہے،جیسا کہ ہمارے سائنس مخالف دانشور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔واقعہ یہ ہے کہ سائنس میں غیر مذہبی اخلاقی اقدار اکے دخول کے اصل ذمہ دار اہلِ کلیسا ہیں۔کیا ہمارے سائنس مخالف دانشور بھی انہی کی روش اپنانے کے درپے ہیں۔اگر اہلِ مذہب سائنس کی زمامِ کار ملحددین ہی کے ہاتھوں میں دینے پر مصر ہوں تو انہیں کس طرح یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ سائنس اور اہلِ سائنس کی غیر مذہبی اخلاقیات کی شکایت کریں !
بلاشبہ عصر حاضر کی ایک نہایت اہم ضرورت سائنس کو مذہب و اخلاق سے مربوط کرنا ہے۔دورِ جدید کے بڑے بڑے مفکرین اس کا گہرا احساس رکھتے ہیں۔میں اس ضمن میں یہاں ڈاکٹر رفیع الدین کے توسط سے دو مفکرین کی آرا پیش کروں گا:پروفیسر سوادکن ۔ہارورڈ یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات کا سابق صدر۔ لکھتا ہے:’’ مذہب اور سائنس کا موجودہ تضاد خطرناک ہی نہیں بلکہ غیر ضروری بھی ہے۔ اگر خدا اور اخلاقی اقدار کا صحیح تصور میسر آ جائے تو اس کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جائے گی کہ مذہب اور سائنس دونوں ایک ہیں اور ایک ہی مقصد کی پیش برد کے لیے اپنا وجود رکھتے ہیں ۔یعنی یہ کہ تجربات کی اس قریبی دنیا میں خدائے مطلق کی قدرتوں کو بے نقاب کیا جائے تاکہ انسان کی شرافت اور خدا کی عظمت دونوں کا اثبات عمل میں آئے۔‘‘؛ فیلڈ مارشل سمٹس۔ فلسفہ کی بلند پایہ کتاب ہولزم Holismکا مصنف ۔کہتا ہے:’’ صداقت کی مخلصانہ جستجو اور نظم او رحسن کے ذوق کے اعتبار سے سائنس مذہب اور فن کے اوصاف سے حصہ لیتی ہے ... اصل بات یہ ہے کہ یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ شائد سائنس ہمارے اس عہد کے لیے خدا کی ہستی کی واضح ترین نقاب کشائی ہے... سچی بات تو یہ ہے کہ نوعِ انسانی کو جو کارہائے نمایاں سر انجام دینے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہو گا کہ وہ سائنس کو اخلاقی قدروں کے ساتھ ملحق کرے گی اور اس طرح سے اس بڑے خطرے کا ازالہ کرے گی جو ہمارے مستقبل کو درپیش ہے۔‘‘ (۳۱)
راقم کی رائے میں آج کے دور میں سائنس کے مذہب اور اخلاق سے ربط کے سلسلے میں عامۃ الناس کی نفسیات کے تحت، غیر شعوری طور پر ہی سہی ، بہت کچھ کام جاری ہے۔وہ وقت ضرورآئے گاجب سائنس مذہبی اخلاقیات سے مربوط ہو کر کل شی یرجع الی اصلہ  کے مصداق اپنی اصل کی طرف لوٹ آئے گی ۔
اگر ہم اپنی عملی زندگی میں سائنس اور سائنسی ایجادات و اکتشافات کے ناقابلِ انکار کردار اور ہمارے ممدوح دانشوروں کے اس سے متعلق عملی رویے کے تناظر میں دیکھیں تو ان کے نقطہ نظر کی غلطی اور سطحیت اور نمایاں ہوتی ہے اور وہ مذاق بن کر رہ جا تے ہیں۔ یہ اپنی تحریروں میں شد ومدسے سائنس اور سائنسی مظاہر کی برائیاں گنواتے اور مسلمانوں کو ان سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں،لیکن خود ان میں بری طرح ملوث ہوتے ہیں۔کیایہ تبلیغ و اصلاح کے تناظر میں اتنی سی بات سے بھی ناواقف ہیں کہ مبلغ کو پہلے خود اپنی دعوت پر عمل کر کے دکھانا چاہیے۔یہ موبائل فون اور انٹر نیٹ وغیرہ کو اہلِ اسلام کے لیے زہرِ قاتل بتاتے اور ان کے استعمال کو مغرب کی مادی تہذیب و اقدار کے فروغ میں حصہ ڈالنے کے مترادف قرار دیتے ہیں، لیکن خود ان چیزوں کو اس طرح بے دریغ استعمال کرتے ہیں ،جیسے انہیں اس معاملے میں کوئی خصوصی استثنا حاصل ہے۔بندہ پوچھے یہ پریس ،یہ چھاپہ خانے،یہ کمپیوٹراور اس کے ذریعے اپنے مافی الضمیر کی نشر واشاعت،یہ بڑی بڑی بلڈنگزاورٹاورز،یہ یونیورسٹیاں اور ان کے ادراوں میں خدمات،یہ کانفرنسز اور اور ان کے لوازمات،یہ ائر کنڈیشنڈ آفس،یہ کاروں اور ہوائی جہازوں کے سفر و علی ہذ القیاس اس ’’منحوس ‘‘سائنس کی کوئی ایک چیز بھی ہے جس سے جناب بے نیاز ہوں !ستم ظریفی دیکھیے کہ ہمارے یہ ممدوح سائنس اور اس کے مظاہر کی برائیاں سائنس اور اس کے مظاہر ہی کے ذریعے بیان کرتے ہیں،لیکن پھر بھی انہیں برا کہتے ہیں۔کیا ان احباب نے کبھی غور کیا کہ موبائل انٹر نیٹ اور ٹی وی وغیرہ چیزیں فی نفسہ بری ہیں توان کا انہی اشیا کو استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف واویلا کیسے نیکی و بھلائی قرار پاتا ہے۔انہیں دو میں سے ایک بات ماننی ہو گی ؛یا یہ کہ یہ چیزیں نفس الامر میں بری نہیں، اور یا یہ کہ ان چیزوں کو استعمال کرکے وہ بھی دوسروں کی طرح برائی کے فروغ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔(بلکہ ان کا جرم اس وجہ سے شدید تر ہو جاتا ہے کہ دوسرے ان کو برائی سمجھ کر استعمال نہیں کر رہے جبکہ یہ انہیں برائی یقین کرکے استعمال کر رہے ہیں) اوروہ جس بات کو بھی مانیں گے ان کا مقدمہ باطل ہو جائے گا۔

تاریخ ،فطرت اور عقل بطور ماخذ اخلاق

تاریخ، فطرت اورعقل سے متعلق ہمارے زیر نظر دانشوروں کا دعویٰ ہے کہ یہ اخلاقیات کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ان میں سے کسی میں بھی یہ اہلیت نہیں کہ وہ یہ بتا سکے کہ خیر کیا ہے اور شر کیا؟حق کس چیز کا نام ہے اور باطل کس چیزکا؟کون سا کام آدمی کو کرنا چاہیے اور کون سا نہیں کرنا چاہیے؟ایسا ثابت کرنے کی کوشش کے پیچھے یہ مفروضہ کارفرما ہے کہ ان تمام چیزوں کو اخلاقیات کی بنیاداہلِ مغرب اور ان سے متاثر مسلمان بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن نہ یہ مفروضہ کلی طور پرصحیح ہے اور نہ اس کی بنیاد پر حاصل کردہ مذکورہ نتیجہ،ہاں اس میں جزوی صداقت موجود ہے۔مفروضہ میں جزوی صداقت یہ ہے کہ عقل وفطرت وغیرہ سے درسِ اخلاق کے دہریہ اور مذہب بیزاراہلِ مغرب اور مغرب سے مرعوب مسلمان بھی قائل ہیں ۔لیکن اس میں غلطی یہ تسلیم نہ کرنا ہے کہ ان سے اخلاقی اسباق کے صرف یہی لوگ قائل نہیں بلکہ مذہبی لوگ حتی کہ خود مذہب بھی اس کا قائل ہے۔ اور نتیجے میں جزوی صداقت یہ ہے کہ مذکورہ اشیا یا ان میں سے بعض اخلاقیات کی تنہا بنیاد نہیں ۔لیکن اس میں غلطی یہ خیال کرنا ہے کہ ان میں سے کسی کااخلاق سے کچھ علاقہ ہی نہیں۔یہ حقیقت درج ذیل نکات سے نمایاں ہو کر سامنے آ جائے گی :

تاریخ اور اخلاق

ہمارے ان دوستوں کا کہنا ہے کہ تاریخ انسان کو اخلاقی سبق سکھانے سے قاصر ہے ۔ تاریخی عمل سے نتائج اخذ کرنے کا کوئی منہج متعین کرنا ناممکن ہے ۔مختلف فلسفی مطالعۂ تاریخ سے مختلف نتائج اخذ کرتے ہیں۔لیکن یہ نتیجہ بھی مذہباً اورعقلاً ہر دو لحاظ سے نادرست ہے۔مذہب باربار مطالعۂ تاریخ اور اس سے اخلاقی نتائج اخذ کرنے پر زور دیتا ہے۔قرآن کی بیسیوں آیا ت اس پر شاہد ہیں ۔تذکیر بایامِ اللہ قرآن کا ایک نہایت اہم مضمون ہے ۔ارشاد ہے : وَ ذَکِّرْھُمْ بِاَیَّامِ اللّٰہِ (ابراہیم۱۴:۵)’’اور انہیں اللہ کے ایام یاد کراو۔‘‘اور یہ اقوامِ سابقہ کے حشر کے مطالعے اور اس سے عبرت حاصل کرنے کی ترغیب ہی تو ہے۔ قرآن حکیم نے جس واحد تاریخی واقعہ کو سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ ایک ہی جگہ بیان کیا ہے وہ قصۂ یوسف علیہ السلام ہے ۔لیکن اس سے اس کا جو مقصود ہے وہ سورہ یوسف کی آخری آیت کہ ان الفاظ میں ملاحظہ فرمایے: لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ۔ (یوسف۱۲:۱۱۱) ’’ان کے قصے میں اہلِ عقل کے لیے(سامانِ)عبرت ہے۔‘‘ زمین میں چل پھر کر پہلوں کے انجام سے سبق سیکھنے کی تاکیداتنی زیادہ آیات میں کی گئی ہے کہ ان کا استقصا اس مضمون کی بساط سے باہر ہے۔چند آیات دیکھ لیجیے:
قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ۔ (الروم۳۰:۴۲)’’کہو:زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کے پہلے لوگوں کا کیاانجام ہوا۔‘‘؛ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ۔(آل عمران۳:۱۳۷)’’تم سے پہلے لوگوں کے طور طریقے گزر چکے ہیں، سو زمین میں چل پھر کر دیکھ لوکہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔‘‘؛ فَھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحْوِیْلًا۔ اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَکَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّۃً وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعْجِزَہٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ اِنَّہٗ کَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا۔ (فاطر۳۵:۴۳۔۴۴)’’کیا یہ اس چیز کے انتظار میں ہیں کہ ان کے ساتھ وہی کیا جائے جو پہلوں کے معاملے میں کیا گیا ؟سو تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاو گے،اور اس کی سنت کو بدلتا نہ دیکھو گے ۔کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے تھے !حالانکہ وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے،اللہ ایسا نہیں کہ زمین وآسمان کی کوئی چیز اسے عاجز کر سکے،وہ علم والا،قدرت والا ہے۔‘‘
مطالعۂ تاریخ ہی آپ کو بتاتا ہے کی مذہب کی فراہم کردہ اخلاقیات کا نتیجہ(Out put)کیا رہا۔اسی سے آپ غیر مذہبی اقدار پر مذہبی اقدار کی فوقیت ثابت کرتے ہیں ۔قرآن واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ جھوٹ ،فریب اور دغا چھوڑ دو اس لیے کہ اس کانتیجہ تباہی ہے اور یہ نتیجہ قرطاسِ تاریخ پر رقم ہے۔کیا اس میں کوئی ابہام ہے کہ قرآن کے نزدیک نہ صرف تاریخ سے اخلاقی سبق حاصل ہوتا ہے ، بلکہ اس سے اخلاقی سبق کا حصول قرآ ن کا نہایت اہم تقاضا ہے ۔آخر قرآن نے یہ کہنا کیوں کافی نہیں سمجھا کہ جھوٹ اور بد اخلاقی اس لیے چھوڑ دو کے اللہ نے اسے چھوڑنے کا حکم دیا ہے اور اس کے نتیجے میں تمہیں جنت حاصل ہو گی۔اس کا سادہ سا جواب یہی ہے کہ یوں کہنا اہلِ ایمان ہی کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے ۔اس سے ان لوگوں کو کچھ نفع حا صل نہیں ہو سکتا جو ذاتِ باری کو جانتے اور مانتے ہی نہیں ۔انہیں تو آپ کو انہی چیزوں سے اخلاقیات نکال کر دکھانی پڑے گی،جنہیں وہ جانتے اور مانتے ہیں،اور ان میں سے ایک نہایت اہم چیز تاریخ ہے۔

فطرت اور اخلاقیات

ہمارے ممدوح سکالریہ نظریہ بھی پیش کرتے ہیں کہ فطرت بھی اخلاق کا ماخذ نہیں بن سکتی۔ دلیل وہی تاریخ والی دلیل جیسی ہے کہ یہ متعین ہی نہیں کیا جاسکتا کہ انسانی فطرت کیا ہے۔مختلف ادوار اور حالات سے گزرنے والے انسانوں کی فطرت مختلف ہوتی اور مختلف نتائج دیتی ہے۔لیکن یہ نظریہ بھی مذہب واخلاق کی کسوٹی پر پرکھنے سے باطل قرار پاتا ہے۔اولاً اس لے کہ قرآن میں فطرت کے خیر و شر معلوم کرنے کا پیمانہ ہونے کے واضح شواہد ہیں۔ ارشاد ہے : فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ۔ (الروم۳۰:۳۰)’’پس اپنا رخ پورے طور پر دینِ حنیف کی طرف رکھیے۔خدا کی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پید کیا۔ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہو سکتی ،یہی صحیح دین ہے۔‘‘ایک اور جگہ فرمایا: وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰہَا۔ فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا۔(الشمس۹۱:۸)’’اور نفس کی اور اس ذات کی قسم جس نے اس کی تکمیل کی۔پھر اسے اس کی نیکی و بدی سمجھادی۔‘‘حدیث میں بھی واضح طور پر کہا گیا کہ : کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الُفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہٗ یُھَوِّدَانِہ اَوْ یُنَصِّرَانَہِ اَوْ یُمَجِّسَانِہِ ۔ (۳۲)’’ ہر بچہ فطرت پر پیداہوتا ہے،پھر اس کے والدین اس کو یہودی،نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔‘‘ان نصوص سے اس دعوے کی واضح تردید ہو رہی ہے کہ انسان کی’ اصلی حالت‘کے تعین کا کوئی پیمانہ نہیں،اور اس حقیقت کو واشگاف کر رہے ہیں کہ انسان کی اصلی حالت کا مسئلہ محض فلاسفہ اور مغربی مفکرین کا ڈھکوسلہ نہیں بلکہ خالص مذہبی تصور ہے۔مذکورہ نصوص کی شرح میں بہت سے شارحین نے لکھا ہے کہ اگر آدمی کو اس کی اصلی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو وہ مشرک وکافر نہیں بلکہ موحد گاجبکہ ہمارے دانشور انسان کو سوسائٹی سے کاٹ کر دیکھنے کوسیکولر مفکرین کی’’لامتصور شے کو متصور کرنے کی لا حاصل کوشش‘‘سے تعبیر کرتے ہیں۔
اگر ہمارے ممدوح دانشوروں کو فطرت سے اس لیےَ بیر ہے کہ مختلف ماحول کے لوگوں کی فطرتیں مختلف ہوتی ہیں اورانسان کی فطرت مسخ ہوسکتی ہے، تو ہم ان کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسی چیز بتائیے جو مختلف فیہ نہ ہو اور مسخ نہ ہو سکتی ہو۔مسخ کرنے پر آئیں تو سیکولر ولبرل ہی نہیں خود اہلِ مذہب اللہ کی آخری کتاب کو اس کی تعبیر وتشریح کے نام پر مسخ کر ڈالیں۔اقبال نے اس کا جگہ جگہ رونا رویا ہے۔کہیں وہ کہتے ہیں:
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند 
کہیں شکوہ سنج ہیں:
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
اور کہیں نوحہ کناں ہیں:
زمن بر صوفی وُ ملا سلامے 
کہ پیغامِ خدا گفتند مارا
ولے تاویلِ شاں در حیرت انداخت
خداو جبرائیل ومصطفی را
پھر قرآن نے باربارتاکید کی کہ معروف کو اختیار کرو اور منکر سے بچو۔نیز اس نے انبیا کو حکم دیا اور داعیانِ حق کا فریضہ ٹھہرایاکہ وہ معروف کا حکم دیں اور منکر سے روکیں ۔یہ معروف ومنکر کیا ہے؟کوئی بھی معتبرلغت اور شرحِ الفاظِ ربانی اٹھا کر دیکھ لیںآپ کو نظر آئے گا کہ معروف سے قرآن کی مراد جانی بوجھی ہوئی اچھائی ہے۔یعنی معروف وہ ہے جس کو فطرت اچھا قرار دے ۔اسی طرح منکر جانی بوجھی ہوئی برائی ہے،جسے فطرت براٹھہراتی ہے۔مزید برآں قرآن نے متعدد جگہ مختلف قانونی امور کو عرف کے مطابق طے کرنے کا حکم دیا ہے،جس سے مراد متعلقہ مہذب معاشرے کے شرفا کا دستور ہوتا ہے۔ یہ دستو ر بھلائی کی فطری قوتِ تمیز ہی سے ترکیب پاتا ہے۔ اگر فطرت برائی بھلائی میں تمیز کی اہل نہ ہوتی تو قرآن اس کی بنیاد پر وجود پذیر ہونے والے دستور پر اعتماد نہ کرتا۔

اخلاقیات اور عقل

ہمارے ان اسکالرز کا ایک دعویٰ یہ ہے کہ عقل بھی اخلاق کا ماخذ نہیں ۔لیکن یہ دعوی اس قدر بودا ہے کہ عقل پر تنقید کرنے والوں کے سارے دلائل ،تنقیدات اور داخلی محاکموں کو مہمل بنا دیتا ہے۔ ان سے اگر کوئی یہ کہے کہ جناب ہم آپ کی تمام تر تنقیدات کو من وعن مان لیتے ہیں ،آپ صرف اتنا بتا دیجیے کہ کس بنیاد پر؟تو ان کے پاس صرف ایک جواب ہو گا کہ عقلی دلائل کی بنیاد پر،اس لیے کہ نہ یہ وحی سے جواب دینے کے دعویدار ہیں اور نہ اُن لوگوں کو وحی سے جواب دیا سکتا ہے جن کے افکار کا یہ محاکمہ کر رہے ہیں۔ اور یہ جواب ان کے سارے دلائل کا قاتل ہے۔ ظاہر ہے کہ جو چیز آپ کے نزدیک معتبر ہی نہیں اس سے آپ کسی چیز کو غیر معتبر کیسے ٹھہرا سکتے ہیں!گویا :
میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں (۳۳)
تاہم وحی کی بنیاد پرعقل کو نامعتبر ٹھہرانا بھی کچھ کم قابلِ گرفت نہیں،خاص طور پر وحئ قرآنی کی بنیاد پر۔ قرآن سے عقل کے حجت ہونے کے جواز پر دلائل لانا کیا معنی وہ توعقل وفکر سے کام لینے کی جگہ جگہ ترغیب دیتاہے۔ اس قبیل کی سینکڑوں آیات میں سے چند دیکھیے:
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِ وَ الْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِیْ الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَ بَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ۔(البقرہ ۲:۱۶۳) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات دن کی تبدیلی اور ان کشتیوں میں، جو لوگوں کے فائدے کی چیزوں کے ساتھ دریا میں چلتی ہیں اور آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو، اس کی موت کے بعد، زندہ کرنے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلانے اور ہواؤں کے چلنے ا ور بادلوں کے آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہنے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ؛ سَخَّرَ لَکُمُ الَّیْلَ وَ النَّھَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌم بِاَمْرِہٖ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْن (النحل۱۶:۱۲)’’ اور اس نے تمہارے لیے رات اور دن اور سورج اور چاند کو مسخر کیااور ستارے (بھی )اس کے حکم سے مسخر ہیں۔بلا شبہ اس میں عقل سے کام لینے والوں کے لیے (بہت سی )نشانیا ں ہیں۔‘‘وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ۔ وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ (الذریت ۵۱:۲۰۔۲۱) ’’اور زمین میں بھی نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے، اور تمہاری اپنی ذات میں بھی، تو کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا۔‘‘؛ اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْءٍ۔ (الاعراف۷:۱۸۵) ’’کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پر، اور ان اشیا پر، جو اللہ نے بنائیں، نگاہ نہیں ڈالی؟‘‘ ؛ قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنْشِئُ النَّشْاَۃَ الْاٰخِرَۃَ۔(العنکبوت ۲۹:۲۰) ’’آپ فرمائیے! زمین میں چل پھر کر دیکھو۔ اللہ کیونکر خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اسے دوسری اٹھان اٹھاتا ہے۔ ‘‘ ؛ اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا۔(محمد۴۷:۲۴) ’’تو کیا وہ قرآن میں غوروفکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ 
قرآن کے نزدیک صاحبانِ ایمان و تقوی کی نمایاں علامت یہ ہے کہ اِِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا۔ (الفرقان۲۵:۷۳)’’جب انہیں ان کے رب کی آیات سے نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے۔‘‘یہی نہیں بلکہ قرآن کے مطابقعقل سے کام نہ لینے والے بد ترین خلائق ہیں۔ (اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ۔الانفال۸:۲۲)اسی پر بس نہیں قرآن تو یہاں تک کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عقل و فکر سے کام نہ لینے والوں پر گندگی ڈال دیتا ہے۔(وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ۔یونس ۱۰:۱۰۰)
ہمارے دانشور کہتے ہیں کہ عقل میں خیر و شر میں تمیز کی اہلیت نہیں ۔سوال یہ ہے کہ پھر خالقِ کائنات نے اس کے ذریعے حقیقتِ کبری تک رسائی حاصل کرنے پر اتنی زیادہ آیات میں اس غیر معمولی انداز سے زور کیوں دیا ہے؟اس نے کیوں صرف اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیاکہ جب میں اور میرے نبی کہہ رہے ہیں کہ اللہ ہے ،اس نے تمہیں ایک خاص مدت تک لیے دنیا میں بھیجا ہے،تمہیں ایک روز اللہ کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے،تو بس اور کیا دلیل چاہتے ہو،سرِ تسلیم خم کردو۔کس قدر حیرت انگیز بات ہے کہ اللہ اپنے سینکڑوں ارشادات میں نہایت غیر مبہم طریق سے عقل کو خیر و شر ہی نہیں خود خالقِ خیر وشر کی پہچان کا ذریعہ بتارہا ہے اور ہم اسی کے نام پر یہ باور کرانے پر زور لگا رہے ہیں کہ خوب وزشت کی معرفت عقل کا وظیفہ ہی نہیں۔ 
عقل کے خلاف آپ کی ساری سر پھٹول اس بنا پر ہے کہ ہمیں ایک ایسی چیز میسر ہے جو عقل سے بہت اعلی درجے کی ہے اور ہم ان امور سے متعلق خبر دیتی ہے جن کا ادراک عقل کی مجال نہیں۔یہ چیز ایمان ہے۔لیکن آپ نے کبھی غور فرمایا کہ یہ ایمان کہاں سے آیا ہے؟ ایک آدمی ہے جس پر نہ وحی آتی ہے اور نہ وہ وجودِ باری اوروحی ونبوت کا قائل ہے۔آپ اس کو کیسے سمجھائیں گے کہ اللہ تعالی موجود ہے،اس نے وحی و نبوت کا سلسلہ قائم فرمایا اور انسانوں کو تعلیم دی ہے کہ وہ وحی ونبوت اور اس کے پیش کردہ عقائد و تصورات پر ایمان لائیں۔ عقل کے سوا اس کا کوئی دوسراذریعہ نہیں۔ہمارے دانشوروں کو خبر ہو نہ ہو اللہ علیم وخبیر ہے،اسے تو پتہ ہے کہ بے ایمان عقل ہی کی بنیاد پر ایمان لا سکتا ہے،سو اس نے اپنی آخری کتاب میں اسی کے ذریعے ایمان لانے پر زور دیا۔اوپر درج اوران کی قبیل کی سینکڑوں دیگرآیا ت اس حقیقت کی ناطق شہادتیں ہیں۔اب ذرا ارشاداتِ باری اور ان کے بدیہی نتائج اورہمارے عقل مخالفین کے نظریے کو ملا کر دیکھیے :عقل اللہ کو پا سکتی ہے لیکن خیر وشر کو نہیں! 
ناطقہ سر بگریبا ں ہے اسے کیا کہیے
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیے
بلاشبہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایمان عقل کا رہبر ہے۔بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہم ایمان کے اعتماد پرمان لیتے ہیں ،حالانکہ وہ ہماری عقل میں نہیں آتیں۔لیکن ایمان کو عقل کی رہبری کا اختیار بھی تو عقل ہی نے دیا ہے۔بنابریں ایمان کے حاصلات فی الاصل عقل کے حاصلات ہیں ۔پھریہ بات بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ ایمان اورعقل میں باہم کوئی تسابق وتصادم نہیں،سمجھوتا وموافقت اور اپنائیت ہے۔بلکہ یوں کہیے کہ عقل عاشق ہے اور ایمان محبوب ۔ایمان جن چیزوں پر اعتقاد کا کہتا ہے عقل اس لیے مان لیتی ہے کہ وہ اس کے محبوب کی پسند ہیں۔ایمان بھی اس کو دھوکا نہیں دیتا اور اپنے سارے معاملات اس کو اعتماد میں لے کر طے کرتا ہے۔ا گر کہیں اختلاف ہو جائے تو ڈائیلاگ ہوتا ہے، اور بالآ خر دونوں ایک متفقہ نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں۔ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ اختلاف برقرار رہے،تاہم اختلاف باقی رہے تو امرِ فیصل، جیسا کہ محبوب ومحب کے معاملے کا عام دستور ہے،محبوب ہی کا ہوتا ہے۔اور وہ بھی اس وجہ سے کہ عقل ایمان کے فیصلے کو مان لیتی ہے۔نہ مانے تو جیسے معاملۂ عشق میں عاشق عاشق نہیں رہتا اور محبوب محبوب نہیں ،عقل عقل نہیں رہتی اور ایمان ایمان نہیں رہتا۔
اس میں شبہ نہیں کہ مغرب کو معیارِ حق ٹھہراتے ہوئے دینی عقائد و نظریات کو کھینچ تان کر اس سے موافق کرنے کی کا رویہ گمراہی ہے ۔لیکن یہ بھی کوئی دلیلِ علم و ہدایت نہیں کہ مغرب کو معیارِ باطل سمجھتے ہوئے اس سے متعلق یا منسوب ہر چیز کوجہالت اور دین ومذہب اور اس کے پیروکاروں کے لیے زہرِ قاتل قرار دیا جائے اور اس میں یہاں تک غلو ہوکہ شریعت کے بہت سے واضح نصوص کا انکار لازم آئے یاان کی دوراز کا ر تاویلات کرنا پڑیں۔ مغرب معیارِ حق نہیں تو معیارِ باطل بھی نہیں۔اسلام میں حق و باطل کو مشرق ومغرب کے خانوں میں بانٹ کر دیکھنے کا کوئی جواز نہیں۔حق مغرب کے اپنا لینے سے باطل ہوجاتاہے نہ باطل مشرق کے اختیار کر لینے سے حق۔

حوالہ جات وحواشی

۳۱۔ سیارہ ڈائجسٹ، قرآن نمبر(س۔ن)،۲/۸۲۔
۳۲۔ محمد بن اسماعیل البخاری،صحیح البخاری ،ت ۔محمد زہیر بن ناصر الناصر(دارطوق النجاۃ:۱۴۲۲ھ )،۲/۱۰۰،حدیث رقم۱۳۸۵،کتاب الجنائز،باب ماقیل فی اولاد المشرکین۔
۳۳۔ واضح رہے کہ میر کا ذکر کردہ شعردرست طور پر ایسے ہی ہے۔ جو لوگوں میں یوں مشہور ہے:میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب۔ اسی عطار کے لونڈے سے دوالیتے ہیں،وہ غلط ہے۔

غزالی اور ابن رشد کا قضیہ ۔ اصل عربی متون کی روشنی میں (۲)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

(۳)
آپ جان چکے ہیں کہ غزالی نے ’’مسلم‘‘ فلسفیو ں کی طرف جن ہفوات کی نسبت کی ہے، ابنِ رشد ان ہفوات کی ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کی طرف نسبت کو غلط ثابت نہیں کرپائے، بلکہ لگتا ہے کہ یہ ان کا مقصد ہی نہیں تھا۔ ’’مسلم‘‘ فلسفیوں سے منسوب جن دو ہفوات کا ہم نے حوالہ دیا ہے، ان کے ضمن میں ابن رشد کا رویہ سامنے آچکا ہے کہ وہ ان جیسے مسائل میں بوعلی سینا وغیرہ کو ناقل کی بجائے الٹا موجدِ اول نام زد کردیتے ہیں اور یوں بوعلی سینا وغیرہ کے خلاف غزالی کی ’’چارج شیٹ‘‘ کو اور بھی زیادہ مضبوط بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی آپ جان چکے ہیں کہ غزالی نے جہاں فلاسفہ کی الہیات کو غیر قطعی ثابت کرنے کے لیے اور محض فلاسفہ کے استدلالات میں تشکیکات دکھانے کے لیے مخالف استدلال کیے ہیں، ان سے ان کا مقصود اپنے استدلال کو قطعی ثابت کرنانہیں، بلکہ صرف یہ بتانا ہے کہ ایسے مسائل میں کسی ایک جانب کو ترجیح دینے کے لیے کوئی قطعی دلیل کسی کے پاس نہیں ہے۔ لہٰذا ابن رشد کا کوشش کرکے ایسے موقعوں پر غزالی کے استدلالات کو غیر حتمی ثابت کرنا غزالی کے لیے مضر نہیں، بلکہ ان کے موقف کو اور زیادہ مضبوط کرتا ہے۔
تیسری بات جو ہم یہاں عرض کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ مختلف مسائل میں یونانی فلاسفہ کے ہاں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔ غزالی نے تہافت الفلاسفۃ میں اس اختلاف سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تردید کے لیے صرف ارسطو کے اقوال کو چنا ہے اور ایسا عمداً کیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی اس کتاب کے ذریعہ بنیادی طور پر اعتقادی انحراف کا شکار مسلم فلسفیوں کو دعوتِ دین و دعوتِ توبہ دینا چاہتے ہیں اور مسلم فلسفیوں کے ہاں ارسطو کو ہی اپنا مرشد وسالار سمجھا جاتا تھا۔ اگلی بات یہ ہے کہ پھر اسی ارسطو کے کلام کو سمجھنے میں اس کے ’’مسلم‘‘ عقیدت مندوں کا خاصا اختلاف رہا ہے۔ غزالی نے اس اختلاف سے بھی صرفِ نظر کرتے ہوئے مسلم فلسفیوں میں سے صرف فارابی اور بوعلی سینا کی تشریحات وتفہیمات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے انہی کی تردید کرتے ہیں اور یہ بھی انہوں نے عمداََ کیا ہے، وجہ یہ ہے کہ ’’مسلم‘‘ فلسفیوں میں جو اثر ورسوخ فارابی اور بوعلی کی آراء کو حاصل تھا، وہ کسی اور کو نہ تھا اور غزالی کا مقصود فلسفیوں کی ہی ہدایت ہے۔ فی الواقع کون سے مسئلہ میں ارسطو کی رائے کو کون سے فلسفی نے زیادہ درست انداز میں بیان کیا ہے، یہ توضیح اور ’’کلامِ ارسطو‘‘ کی تشریح کے ضمن میں مسلم فلسفیوں کے مابین محاکمہ کرنا غزالی کا مقصود نہیں۔ 
غزالی خود اس بات کو جانتے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ ’’لیعلم ان الخوض فی حکایۃ اختلاف الفلاسفۃ تطویل، فان خبطہم طویل، ونزاعہم کثیر، وآراء ہم منتشرۃ وطرقہم متباعدۃ متدابرۃ، فلنقتصر علی اظہار التناقض فی رای مقدمہم الذی ہوالفیلسوف المطلق والمعلم الاول۔۔۔وہو ارسطاطالیس‘‘ مزید لکھتے ہیں: ’’ثم المترجمون لکلام ارسطاطالیس لم ینفک کلامہم عن تحریف وتبدیل محوج الی تفسیر وتاویل، حتی اثار ذالک ایضا نزاعا بینہم، واقومہم بالنقل والتحقیق من المتفلسفۃ فی الاسلام الفارابی ابو نصر وابن سینا۔۔۔فلیعلم انامقتصرون علی رد مذاہبہم بحسب نقل ہذین الرجلین ‘‘ (تہافت الفلاسفۃ۔ صفحہ۷۶۔۷۸) یعنی ’’فلاسفہ کا باہمی اختلاف اور نزاع بہت زیادہ ہے اور اس سب کا تعاقب کرنے سے بات طویل ہوجائے گی۔ ان کی آراء میں اتحاد نہیں اور نہ ہی ان کے دلائل میں کوئی یگانگت ہے۔ اس وجہ سے ہم نے یہاں صرف ارسطو کی آراء کو مو ضوع تنقید بنایا ہے جو ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کا مقتدا ہے اور ان کے ہاں اسے فلسفہ کے پہلے باضابطہ استاد کا درجہ حاصل ہے۔ پھر ارسطو کے شارحین اور ترجمانوں کے کلام میں بھی تحریف اور تبدیلی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ توجیہ وتاویل کی محتاج ہے اور جس کی وجہ سے ارسطو کے شارحین میں بھی اختلاف پھیل گیا ہے۔ ارسطو کے شارح ’’مسلم‘‘ فلسفیوں میں سب سے زیادہ بااثر اور معتمد فارابی اور بوعلی سینا سمجھے جاتے ہیں۔ لہٰذا واضح رہے کہ ہم ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کی تردید انہی دو آدمیوں کی نقول کی بنیاد پر ہی کریں گے اور بس۔ ‘‘
اب بڑی بدیہی سی بات ہے کہ اگر ابن رشد غزالی کا جواب لکھنا چاہتے تھے تو انہیں اپنے جواب میں بوعلی سینا اور فارابی کی طرف سے بھر پور صفائی دینا تھی، مگر معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ان کی گفتگو سے کہیں بھی یہ تاثر نہیں ملتا کہ وہ ابن سینا اور فارابی کے وکیل ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس ابن رشد‘ ابن سینا اور فارابی ہی سے شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے حکماءِ یونان کے اصل مذہب کو بگاڑ دیاہے اور اس کی درست تشریح نہیں کی۔ انہوں نے ابن سینا کے موقف، استدلال اور اقوال کو سفسطائی (تہافت التہافت۔صفحہ۲۷۳)، خطاء (۲۹۸)، غلط (۳۲۶)اور غیر صادق (۴۰۷) لکھا۔ جی ہاں، یہ سب انہوں نے لکھا ہے۔ کچھ مسائل کے بارہ میں لکھا کہ حکماء میں کوئی بھی اس کا قائل نہیں، سوائے ابن سینا کے، لہٰذا حکماء کی طرف اس کی نسبت کرنا درست نہیں۔ (صفحہ۱۹۵) بعض مسائل کے بارہ میں لکھا کہ فارابی اور ابن سینا نے حکماءِ یونان کی طرف یہ مسائل غلط طور پر منسوب کیے ہیں۔ (صفحہ۸۹، ۱۲۱،۳۰۶، ۳۰۹)ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’فانظر ہذا الغلط ما اکثرہ علی الحکماء، فعلیک ان تتبین قولہم ہذا ۔۔۔فی کتب القدماء لا فی کتب ابن سینا وغیرہ الذین غیروا مذاہب القوم فی العلم الالہی حتی صار ظنیا‘‘ (صفحہ۳۰۱)یعنی ’’دیکھو، یہ غلط فکر کتنی کثرت سے حکماءِ یونان کی طرف منسوب کی گئی ہے، لہٰذا تم پر لازم ہے کہ ان کے اقوال کو متقدمین کی کتابوں میں دیکھا کرو، ابن سینا وغیرہ کی کتابوں میں نہیں جنہوں نے علم الٰہی میں یونانی فلاسفہ کے مذہب کو بدل کراتنی تحریف کی کہ یہ قطعی کی بجائے ظنی ہوکر رہ گیا۔‘‘ اس عبارت میں کئی دلچسپ مگر غور طلب باتیں ہیں:
  • ارسطو کے افکار کی تشریح میں ابن سینا کے ساتھ ابن رشد کا یہ اختلاف کوئی نئی بات نہیں۔ آپ جان چکے ہیں کہ غزالی شارحین ارسطو کے اس اختلاف سے پہلے ہی واقف ہیں۔ انہوں نے جان بوجھ کر فارابی اور بوعلی سینا کی تشریحات کو اپنی تنقید کا موضوع بنایا کیونکہ ’’مسلم‘‘ فلسفیوں میں ان کو جو مقام حاصل تھا، وہ کسی اور کو نہ تھااور غزالی کا مقصد ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کو ہی دعوتِ اصلاح دینا ہے۔ فی الواقع ارسطو یا حکماءِ یونان کے افکار کیا ہیں اور کیا نہیں، یہ چیز ان کی بحث سے خارج ہے کیونکہ اب وہ ارسطو کی قبر میں جاکر اس کو دعوتِ دین دینے سے تو رہے۔
  • ابن رشد کا جواب واقعتا جواب کہلانے کا مستحق تب ہوتا جب ابن رشد نے ’’مسلم‘‘ فلسفیوں اور خصوصا بوعلی سینا وغیرہ کی طرف سے کوئی صفائی دی ہوتی اور ان کے داغوں کو دھودیا ہوتا کیونکہ غزالی کے اپنے الفاظ کے مطابق، غزالی کا مقدمہ انہی کے خلاف تھا۔ یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ غزالی کا مقدمہ جن فلسفیوں کے خلاف ہے، ابن رشد ان کی طرف سے سرے سے صفائی ہی نہیں دیتے ، بلکہ انہیں الٹا دوہرا مجرم بناتے چلے جاتے ہیں، یہ کہہ کر کہ یہ مسائل ارسطو کی طرف غلط منسوب ہوئے ہیں اور یہ بوعلی سینا وغیرہ کی اپنی ایجاد ہیں۔ 
  • اس عبارت سے غزالی کے اس دعویٰ کی تائید بھی ہوگئی کہ فلسفی اپنی الہیات کو ریاضی کی طرح قطعی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ابن رشد بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ بوعلی سینا کی تشریحات نے فلاسفہ کے علم الہیات کو ظنی بنا چھوڑا ہے (ورنہ وہ فی الواقع تو قطعی تھا۔)
مزید سنئے، وہ غزالی پر غصہ نکالتے ہوئے بھی یہی کہتے ہیں کہ ’’لم ینظر الرجل الا فی کتب ابن سینا فلحقہ القصور فی الحکمۃ من ہذہ الجہۃ‘‘ (صفحہ ۴۰۹) یعنی ’’اس آدمی (غزالی) نے صرف ابن سینا کی کتب پر اکتفاء کیاجس کی وجہ سے فلسفہ کو سمجھنے میں وہ ناقص رہا ہے۔‘‘ یعنی قصور ان ’’مسلم ‘‘فلسفیوں کا نہیں جو ابن سینا کو ارسطو کا سب سے بڑا شارح سمجھتے ہیں اور نہ ہی ابن رشد کا ہے جو ان فلسفیوں کو سمجھانے کی بجائے اور ابن سینا کی تردید لکھنے کی بجائے غزالی کو کوس رہا ہے، قصور ہے تو غزالی کا ہے کہ انہوں نے بوعلی سینا کی بنیاد پر اس کے پیروکار فلسفیوں کے خلاف مقدمہ دائر کیوں کیا ہے؟ میں ان لوگوں پر حیران ہوں جو اب بھی ابن رشد کے جواب کو ’’جواب‘‘ کہتے ہیں۔ 
ابن رشدکے رویہ کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر سلیمان دنیا لکھتے ہیں: ’’کنا ننتظرمن ابن رشد فی ہذا المقام الا یدخل علی ہذہ الادلۃ التی حکاہا الغزالی تعدیلا من عندہ۔۔۔ بل ان یشیر الی الادلۃ التی لابن سینا والفارابی فی ہذا المجال لانہما الذان ینقدہما الغزالی۔۔۔اما ان یغفل ابن رشد بیان ذالک ویحاول ہو ان یعرض ادلۃ الفلاسفۃ فی صورۃ اکثر قوۃ واشد حجیۃ فلیس یثبت بذالک ادانۃ الغزالی‘‘ (تہافت التہافت۔ صفحہ۸۳) ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ’’ابن رشد لاینصب نفسہ مدافعا عن ابن سینا والفارابی وحدہما۔۔۔ وارسطو اغلی علی ابن رشد من الفارابی وابن سینا ، ولذلک حین یختلف الفارابی او ابن سینا مع ارسطو نجد ابن رشد یناصر الغزالی علی الفارابی او ابن سینا لا حبا فی الغزالی، ولکن لان وجہہ وجہہ نظرہ فی ہذہ الحالۃ تتلقی مع ارسطو الذی ہو احب مخلوق الیہ فی عالم الفلسفۃ‘‘ یعنی ’’ہم اس انتظار میں تھے کہ ابن رشد کا جواب پڑھیں گے تو وہ اس میں اپنی جانب سے دلائل دینے کی بجائے بوعلی سینا اور فارابی کے دلائل کی طرف اشارہ کریں گے اور ان کو تقویت دیں گے کیونکہ غزالی کی تنقید انہی دو اشخاص پر ہے (لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے)، ابن رشد اس نکتہ سے غافل ہوکر مسلسل اس چکر میں رہتے ہیں کہ بوعلی سینا وغیرہ کے دلائل سے زیادہ قوی دلائل اپنی جانب سے دے کر غزالی کو نیچا دکھائیں، جبکہ یہ ممکن نہیں۔ ابن رشد اپنے جواب میں اپنے آپ کو صرف بوعلی سینا اور فارابی کا وکیل نہیں سمجھتے،ان کے نزدیک فارابی اور ابن سینا سے زیادہ قیمتی ارسطو ہے، لہٰذا جہاں ابن رشد کو فارابی اور ابن سینا کا ارسطو کے ساتھ اختلاف محسوس ہو (کہ انہوں نے اس کے مذہب کی صحیح توجیہ نہیں کی) تو ابن رشد بھی فارابی اور ابن سینا کے خلاف بیان دے کر غزالی کی مدد کرتے رہتے ہیں، اس وجہ سے نہیں کہ انہیں غزالی سے محبت ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ فلسفہ کے جہان میں ان کے لیے سب سے زیادہ محبوب مخلوق ارسطو ہی ہے۔‘‘
ابن رشد کا خواہ مخواہ کئی جگہوں پر یہ کہنا کہ یونانی فلاسفہ کی طرف اس کی نسبت درست نہیں اور یہ بوعلی سینا وغیرہ کی غلطی ہے جس کی تردید کرکے غزالی مطمئن ہیں،اپنا مذاق بنوانے والی بات ہے۔ غزالی کو خود بھی معلوم ہے کہ یونانیوں کے ہاں ایسے مسائل میں اختلاف رہا ہے اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ’’مرشد ارسطو‘‘ کے کلام کو سمجھنے میں ان کے ’’مسلم‘‘ عقیدت مندوں کا بھی شدید اختلاف ہے، انہوں نے جان بوجھ کر صرف بوعلی سینا اور فارابی کو مدنظر رکھا ہے کیونکہ ’’مسلم‘‘ فلسفیوں میں ان کی آراء کا جو اثرورسوخ ہے، وہ کسی اور کو حاصل نہیں اور غزالی کا مقصود فلسفیوں ہی کی اصلاح اور انہیں رجوع الی اللہ کے لیے آمادہ کرناہے۔ فرض کرلیا جائے کہ اگر ابن رشد واقعی سچ کہتے ہیں اور جو ابن سینا نے ارسطو کے کلام سے سمجھا ،وہ غلط ہے تو یہ ان کا بوعلی سینا سے اختلاف ہے اور انہیں چاہیے کہ ابنِ سینا کی تصانیف ’’الاشارات‘‘ اور ’’الشفاء‘‘ کا رد لکھیں، اس کے لیے ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ کا جواب لکھنے کی کیا ضرورت پیش آگئی؟ یا پھر اپنے فلسفی بھائیوں کو سمجھائیں جو ابن رشد کی بجائے بوعلی سینا کو ارسطو کا جانشین سمجھتے ہیں۔ غزالی فلسفیوں کی فکری تدقیقات سے غافل نہیں، وہ ان سے واقف ہیں او رانہوں نے ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ سے پہلے ایک تمہیدی کتاب ’’مقاصد الفلاسفۃ‘‘ کے نام سے تحریر کرکے فلسفیوں سے بھی زیادہ اچھے انداز میں فلسفیوں کے مذہب اور فکر کو تفصیل سے اور بغیر کسی تنقید کے بیان کیا ہے۔
ابن رشد کے دلائل خواہ کتنے ہی قوی ہوں، دیکھنا یہ ہے کہ انہوں نے مسلم فلسفیوں اور بوعلی سینا وغیرہ کی طرف سے کتنی وکالت کی ہے اور کتنا کامیاب مقدمہ لڑا ہے؟ تب ہی ان کا جواب ’’جواب‘‘ کہلانے کا مستحق ہوگا۔ 
(۴)
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ غزالی کے برعکس ابن رشد کا لہجہ نرم ہوتا ہے اور اس نے کہیں بھی غزالی کے لیے ناشائستہ الفاظ استعمال نہیں کیے۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ غزالی کے لہجہ میں کتنی تلخی ہے اور کیوں؟بس ان حضرات کی اطلاع کے لیے اتنا بتانا چاہتے ہیں کہ ابن رشد نے بھی ’’غزالی‘‘ (جو رشتہ میں شاید ابن رشد کے دادا استاد بھی ہیں)کے لیے شریر اور جاہل کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ (صفحہ۱۹۵، ۱۹۶) 
(۵)
غزالی کے اٹھائے گئے بعض جزوی نکات پر ابن رشد کی تنقید بجا بھی ہوسکتی ہے، لیکن فی الجملہ یہ سمجھنا کہ انہوں نے ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کے سارے داغ دور کر دیے ہیں، اس بات کی دلیل ہے کہ ابن رشد کے ہم نوا اس سے زیادہ اس کے وفادار بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ ساری بحث کو ایک طرف رکھ دیجئے ، مجھے اس صرف سوال کا جواب دے دیجئے کہ ابن رشد نے ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کی طرف منسوب ہفوات کو کیسے ان سے دور کیا ہے، جن میں سے دینی عقائد پر براہِ راست ضرب لگانے والی دو مثالوں کا ذکر مضمون کی ابتدائی سطور میں ہوچکا ہے؟
(۶)
غزالی کی حمایت سے شاید یہ محسوس ہو کہ انہوں نے فلاسفہ کی تکفیر کا جو فتوی دیا، ہم اس کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن واضح ہوجائے کہ ایسا نہیں۔ جب تک کسی کا کفر نکلے ہوئے دن کی طرح میرے اپنے سامنے روشن نہ جائے، میرے اندر کسی کے کفرو ایمان کے بارہ میں سوچنے کی بھی ہمت نہیں، مبادا کہ اونچ نیچ ہوجائے اور میری اپنی نجات خطرہ میں پڑ جائے۔ خصوصا فلسفیوں کے بارہ میں جو ہمیشہ گول مول کرکے بات کرتے ہیں، تاویلوں کے چکر میں رہتے ہیں اور خود کہتے ہیں کہ ہم ان باتوں کو کھل کر بیان کرنا درست نہیں سمجھتے۔ مجھے اپنا ایمان زیادہ عزیز ہے۔ میں ان کی ہفوات کو ہفوات محسوس کرتا ہوں، مگر ان کے لفظوں کی لاگ لپیٹ اور نیت کی خیانتوں کو اللہ کریم کے سپرد کرتا ہوں۔ ہاں، غزالی کے بارہ میں اتنا کہا جاسکتا ہے کہ انہیں اپنی ذات کی حد تک شرحِ صدر ہوا ہی ہوگا تو انہوں نے تکفیر کا حوصلہ کیا۔ واللہ اعلم
(۷)
’’تہافت التہافت‘‘ غزالی کی علمی وفکری زندگی کا مطالعہ کرنے کے لیے کوئی واحد آئینہ نہیں اور نہ ہی خود غزالی کی پیروی کا شوق رکھنے والوں کو صرف اس کی حد تک خود کومحدود رکھنا چاہیے۔ غزالی کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے جن کو انہوں نے خود غالبا ’’المنقذ من الضلال‘‘ میں بیان کیاہے۔ اسی دوران ان پہ ایک عرصہ مناظرانہ گرما گرمی کا بھی گزرا، تہافۃ الفلاسفۃ شاید اسی دور کی یادگار ہے۔ (تہافت الفلاسفہ۔ صفحہ۵۷) جبکہ ان کی زندگی کا آخری حصہ خانقاہ نشینوں کی صحبت میں ایمانی صفات کو اپنانے کی فکر کرتے ہوئے گذرا۔ ان کی سب سے گراں مایہ کتاب ’’احیاء العلوم‘‘ اسی آخری دور سے تعلق رکھتی ہے۔ (اس نکتہ کی مزید وضاحت کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں)

ابن رشد سے پیار کیوں؟

مذکورہ بالا صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے، میں ابن رشد کے مریدوں سے پوچھتا ہوں کہ آخر کس امتیازی خوبی کی بناء پر وہ ابن رشد کے نام سے اپنا رشتہ جوڑتے ہیں؟ کیا محض اس وجہ سے کہ ’’تردیدِ غزالی‘‘ کا ’’سہرا‘‘ ان کے سر ہے؟ مجھے شک ہے کہ ابن رشد کوبطورِ مرشد پیش کرنے والے اس کے چالاک مرید اور غیر مسلم ’’لبرلز‘‘ اس کی جس خوبی سے متاثر ہیں وہ اس کی آزاد خیالی ہے جو تاریخی روایات میں اس سے منسوب کی گئی ہے۔ اگر ابن رشد کو راہ نما بنانا ہے اور اسی ابن رشد کو جو تاریخی روایات کے اندر نظر آتا ہے تو سنئے، وہ قومِ عاد کے وجود کا منکر تھا جس کا ذکر قرآنِ مجید میں ہے۔ (تاریخ فلاسفۃ الاسلام۔ صفحہ۱۴۸)میں نہیں کہتا کہ یہ بات ضرور سچ ہے جو اس سے منسوب کی گئی ہے، ہاں البتہ میں یہ سوچتا ہوں کہ اس کے تاریخی چہرے پر لگے ان جیسے ’’تاریخی داغوں‘‘ کو دھوئے بغیر اس کے تاریخی چہرہ کو مرشد وراہ نما بنانے کی کیا حکمت ہوسکتی ہے؟ ابن رشد کے مرید اس بات کا جواب نہیں دیتے۔ ابن رشد کی ذات ہماری نظر میں ایک معما ہے۔ اس کی زندگی میں بھی اس کی طرف بہت کچھ منسوب ہوا اور اس کی صفائیاں بھی ملتی رہیں۔ مسلم امراء کے ہاں اسے کبھی عزت اور کبھی ذلت نصیب ہوتی رہی۔ (دیکھئے: تاریخ فلاسفۃ الاسلام) اس معمہ کو حل کیے بغیر اس کو راہ نما بنانے سے کیا مقصود ہے؟
بتایا جاتا ہے کہ ابن رشد نے سائنس وفلسفہ کے لیے بہت سی قربانیاں دیں، اس نے جوتے کھائے اور اس پہ تھوکا گیا۔ سوال یہ ہے کہ جس تاریخ میں اس کی یہ ’’قربانیاں‘‘ مذکور ہیں، کیا اسی تاریخ میں وہ ’’سائنسی انکشافات‘‘ مذکور نہیں ہیں جن کی وجہ سے اسے عام مسلمانوں کے غیظ وغضب کا شکار ہونا پڑا؟ یا تو دونوں کو سچ کہئے یا پھر دونوں کو غلط۔اگر بات قربانیوں کی ہے تو سنئے، مسلم معاشرہ سے فلسفہ کے برے اثرات کو رد کرنے کے لیے امام احمد ابن حنبل نے بھی بہت کوڑے کھائے تھے، کیا محض اس بناء پر آپ یونانی فلسفہ کے مضر اثرات کو تسلیم کریں گے؟ اگر ہاں تو پھر غزالی کا قصور کیا ہے؟ انہوں نے انہی مضر اثرات کو ہی تو نشان زد کیا ہے۔ مزید سنئے، خود غزالی کے بارہ میں منقول ہے کہ ان کی بعض کتابیں بعض علاقوں میں جلائی گئیں۔ (طبقات الشافعیۃ۔ جلد۶، صفحہ ۲۵۸) پس فرق کیا ہوا؟ اپنے موقف کے لیے قربانیاں تو سب نے دی ہیں۔ 

رہنے کا گھر آخرت ہے

اس دنیا کی خوشحالی کے لیے سائنس وٹیکنالوجی کو اختیار کرنا منع نہیں، بلکہ شاید کسی درجہ میں مفید بھی ہے۔ مگر یہ اس قیمت پر نہیں کہ ہم اسلام سے ہی دست بردار ہوجائیں۔قرآن کی نگاہ سے تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دنیا رہنے کا اصل گھر نہیں، غیر مسلم کی کسی نیکی اور رفاہی کام پر اللہ پاک اسے اس دنیا میں ہی اس کا بدلہ دے دیتے ہیں کیونکہ آخرت کا ابدی گھر اس کے لیے نہیں۔ جبکہ مسلمان کی کسی بدعملی پر اسے دنیا میں ہی سزا دے دی جاتی ہے کہ یہ آخرت کی بڑی سزا سے بچ جائے۔ ایسی صورت میں غیر مسلم دنیا پاکر بھی ناکام اور مسلمان دنیا سے محروم ہوکر بھی اس سے بہتر ہوتے ہیں۔ مغرب کی ’’مادی عزت‘‘ اور مسلمانوں کی ’’مادی کم تری‘‘ اس لیے نہیں کہ اللہ ان سے راضی اور ہم سے ناراض ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف راضی ہوکر ہی نہیں، ناراض ہوکر بھی کچھ دے سکتے ہیں۔آج آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم غزالی کی بجائے ابن رشد کو اپنا راہ نما بناتے تو مغرب کی طرح سائنس میں ترقی کرتے اور ذلت کے یہ دن دیکھنے نہ پڑتے، اگر ہمیں یہ دنیا اور اس کی مادی چکا چوند اتنی ہی عزیز ہے تو خطرہ ہے کہ کل کوئی صاحب اٹھیں گے اور یہ بھی کہیں گے کہ اگر ہم مسلمان کی بجائے کچھ اور ہوتے تو ذلت کے یہ دن نہ دیکھتے۔ اگر ہمیں آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا کی حقیقی عزت بھی چاہیے تو اس کے لیے ہمیں اپنی غلطیوں کا تدارک کرنا ہوگا، جن کی وجہ سے ہم خدا کی مدد اور نیک سمجھ سے محروم ہیں۔ ان میں سے ایک غلطی دنیا پرستی بھی ہے۔ ہماری سب سے قیمتی متاع محمدِ عربی کا کلمہ ہے اور اسی کے ساتھ ہمارا رہنا مرنا ہے۔

استدراک

ہمارے ہاں ’’ماہنامہ ساحل‘‘ (مرحوم) کے وابستگان کا حلقہ سائنس اور سائنسی علوم کی مطلقاً تردید کے حوالہ سے خاصی شہرت رکھتا ہے۔ یہ حضرات اس معاملہ میں غزالی کو اپنا پیش رو اور خود کو ان کا متبع سمجھتے ہیں، ہمیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اہل مغرب کی طرح یہ حضرات بھی غزالی کوسائنس کی مطلق تردید کے الزام سے ’’متہم‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں، حسنِ ظن یہی ہے کہ اس میں ان کے کچھ نیک مقاصد ہوں گے، مگر میں حیران ہوں کہ غزالی خود علومِ حکمیہ (سائنسیہ وفلسفیہ) کو تقسیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’میں ان علوم کے صرف چند مخصوص اجزا پر تنقید کا قائل ہوں جو دین سے متصادم ہیں، ان علوم پر مطلقاً تردید کرنا درست نہیں۔‘‘ ان کے بیان کے مطابق ’’پہلے نمبر پہ ان علوم میں کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ ان کے اور دین کے درمیان اختلاف صرف لفظی نوعیت کا ہے، دوسرے نمبر پہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو دین کی کسی اصولی بات سے متصادم نہیں ہیں، مثلا یہ کہ زمین گیند کی طرح گول ہے، آسمان نے اس کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے، وغیرہ وغیرہ تو یہ بھی ہماری بحث سے خارج ہیں کیونکہ دین زمین اور آسمان کے بارہ میں صرف یہ تقاضا کرتا ہے کہ ان کو مخلوق سمجھا جائے، بعد ازاں فی الواقع یہ زمین گول ہو، چٹائی کی طرح بچھی ہوئی ہو، چھ کونوں والی ہو یا آٹھ کونوں والی، اس سے دینی عقائد اور دین کی کسی اصولی بات پہ بہرحال کوئی ضرب نہیں پڑتی، ان امور کی تردید بھی ہمیں مطلوب نہیں، بلکہ اس بارہ میں بعض اوقات سائنسی توجیہات اتنی قطعی ہوتی ہیں کہ ان کا انکار ہی ممکن نہیں ہوتا۔‘‘ ان کی رائے میں ’’ جو آدمی ایسی چیزوں کے اندر بھی ان کے ساتھ دینی جوش وخروش کے ساتھ مناظرہ کرے اور سمجھے کہ یہ دین ہے تو ’’فقد جنی علی الدین وضعف امرہ‘‘ یعنی اس آدمی نے دین کی دوستی میں دراصل دین کے خلاف ایک جرم کا رتکاب کیا ہے اور دین کے مقدمہ کو ہی اس نے کم زور کردیا ہے۔‘‘ مزید کہتے ہیں: ’’تیسرے نمبر پہ کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ دین کی کسی اصولی بات پہ ان کی زد پڑتی ہے، مثلا کائنات کے ابدی ہونے، خالق کی صفات کے تعین اور بعث بعد الموت کے جسمانی صورت میں ہونے کی باتیں جن کا انکار فلسفیوں نے کیا ہے، صرف اور صرف انہی مخصوص مسائل میں ان کے نظریات کی بیخ کنی تک خود کو محدود رکھنا چاہیے۔‘‘ (تہافت الفلاسفۃ۔ صفحہ۷۹۔۸۱) میں حیران ہوں کہ اتنی واضح تصریحات کے بعد سائنس کے ’’مطلق رد‘‘ کا گجرا غزالی کو کیسے پہنایا جاسکتا ہے اور ساحل کا حلقہ یا ابن رشد کے مرید کیسے ان کو دین وسائنس میں ہم آہنگی کے خلاف کہہ سکتے ہیں؟ اس نکتہ پہ کچھ گفتگو مضمون کی ابتداء میں بھی ہوچکی ہے۔ اللہم انی اسئلک حبک وحب من یحبک وحب عمل یقربنی الیک، آمین

مراجع

۱۔مقاصد الفلاسفۃ، امام غزالی، تحقیق: محمود بیجو۔ ط:مطبعۃ ایضاح، دمشق
۲۔تہافت الفلاسفۃ، امام غزالی، تحقیق: ڈاکٹر سلیمان دنیا۔ ط: دار المعارف، مصر
۳۔تہافت التہافت، ابن رشد، تحقیق: ڈاکٹر سلیمان دنیا۔ ط:دار المعارف، مصر
۴۔ہدایۃ الحکمۃ، اثیر الدین ابہری، حواشی:محمد عبیداللہ قندھاری وسعادت حسین، ط: مکتبہ رشیدیہ، کوئٹہ
۵۔طبقات الشافعیۃ، تاج الدین السبکی۔ ط:دار احیاء الکتب العربیۃ
۶۔تاریخ فلاسفۃ الاسلام، لطفی جمعہ، ترجمہ:ڈاکٹر میر ولی محمد۔ ط: نفیس اکیڈمی، کراچی
۷۔مقدمہ ابن خلدون، ترجمہ:مولانا عبدالرحمن دہلوی۔ ط: الفیصل لاہور
۸۔حکمائے اسلام، مولانا عبدالسلام ندوی۔ ط: نیشنل بک فاؤنڈیشن
۹۔علم الکلام، علامہ شبلی نعمانی۔ ط: نفیس اکیڈمی، کراچی

مکاتیب

ادارہ

(۱)
محترم جناب سید متین احمد شاہ صاحب 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ 
ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ میں مسلمان عورت کا غیر مسلموں کے ساتھ نکاح کے موضوع پر آپ کا مقالہ پڑھا۔ ماشاء اللہ خوب لکھا ہے ، اگرچہ کہیں کہیں مجھے طرز استدلال سے اختلاف ہے۔ تاہم مقدمات اور نتائج سے مجھے بنیادی طور پر اتفاق ہے۔ آخر میں برادرم جناب عمار خان ناصر کا مکتوب بھی شائع کیا گیا ہے اور مجھے یہ چند سطور لکھنے پر اسی مکتوب نے مجبور کیا ہے کیونکہ اندیشہ یہ ہے کہ کہیں ان کے مکتوب کی وجہ سے آپ کی رائے میں بھی کچھ تبدیلی نہ آگئی ہو۔ 
عمار بھائی کے مکتوب میں مجھے سب سے دلچسپ بات یہ لگی کہ اس نوعیت کے تعلق کو ’’قطعی طور پر منصوص کہنا ازروئے اصول فقہ کافی مشکل ہے۔‘‘
اولاً : مجھے یہ بالکل بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ ’’قطعی طور پر منصوص‘‘ سے ان کی مراد کیا ہے ؟ جہاں تک ان کے استاد گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے "اصول فقہ "کا تعلق ہے ، اس کی رو سے تو قرآن سارا کا سارا ’’قطعی الدلالۃ‘‘ ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس طرح کے مسائل میں انھیں وہ قطعیت نظر نہیں آتی ؟ 
ثانیاً : ’’منصوص‘‘ سے ان کی مراد کیا ہے ؟ ان کے مکتبِ فکر کے اصول فقہ میں کیا ظاہر ، نص ، مفسر اور محکم ؛اور اسی طرح خفی ، مشکل ، مجمل اور متشابہ ؛ نام کی تقسیمات مقبول ہیں یا نہیں ؟ بظاہر تو نہیں کیونکہ وہ تو صرف دو ہی اصطلاحات مانتے ہیں : قطعی الدلالۃ اور ظنی الدلالۃ۔ اس لیے ان کے لیے قطعیت (محکم ) اور ظنیت ( متشابہ ) کے درمیان کے چھ مدارج ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیا یہ حکم صرف اسی صورت میں ’’منصوص‘‘ ہوتا جب قرآن طعام کی طرح نکاح کے متعلق بھی ’’دو طرفہ‘‘ ممانعت کا ذکر ’’قطعی الفاظ‘‘ میں کرتا ؟ اگر ہاں تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہوا کہ قرآن کہیں کہیں قطعی الدلالۃ نہیں ہے؟ 
ثالثاً : یہ بات بھی حیران کن ہے کہ تحریم کے لیے تو وہ ’’قطعی طور پر منصوص‘‘ ہونا لازمی ٹھہراتے ہیں لیکن یہی شرط وہ تحلیل کے لیے نہیں لگاتے۔اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو فقہاے کرام ’’اشیا‘‘ میں اصلاً اباحت کے قائل ہیں، وہ بھی کم از کم نکاح میں اصلاً حرمت کے ہی قائل ہیں ؛ یعنی ان کے اصول فقہ کی رو سے کسی سے نکاح کی حرمت کے لیے نہیں ، بلکہ اس کی حلت کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اصولاً تو بارِ ثبوت جناب عمار خان ناصر صاحب پر تھا کہ وہ اس ’’نکاح‘‘ کی حلت کا ’’قطعی طور پر منصوص ہونا‘‘ ثابت کردیتے ؟ یا پھر وہ تصریح کرلیتے کہ ان کے اصول فقہ کی رو سے نکاح میں بھی اصل حکم حلت کا ہے۔ 
رابعاً : یہیں سے وہ اصل بات نکھر کر سامنے آجاتی ہے جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں ؛اور وہ یہ کہ جب وہ کہتے ہیں کہ ’’ ازروے اصول فقہ‘‘ یہ معاملہ ایسا ہے یا ویسا ہے تو وہ ’’اپنے اصول فقہ‘‘ کی بات کرتے ہیں، نہ کہ حنفی ، شافعی یا کسی اور معروف فقہی مسلک کے اصول کا۔ اگر وہ مثال کے طور پر حنفی اصول فقہ کی روسے یہ بات کررہے ہیں تو یہ بداہتاً غلط ہے کیونکہ حنفی اصول فقہ کی رو سے تو یہ طے شدہ مسئلہ ہے جسے از سر نو کھولا نہیں جاسکتا۔ یہی معاملہ شافعی اصول فقہ کا بھی ہے اور مالکی اصول فقہ کا بھی۔ البتہ ’’غامدی اصول فقہ‘‘ کی روسے ہوسکتا ہے کہ یہ طے شدہ مسئلہ نہ ہو۔ 
خامساً : اس مکتب فکر کے اصول فقہ کا کچھ اندازہ اس ایک قاعدے سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں نکاح کے احکام مردوں کے لیے بیان کیے جاتے ہیں اور عورتوں کا حکم ان سے بالتبع اخذ کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ قاعدہ کلیہ ہے ؟ اگر ہاں تو اس کے دلائل کیا ہیں ؟ پھر کیا دیگر قواعد کی طرح اس سے کچھ مستثنیات بھی ہیں یا نہیں ؟ مثلاً مردوں کو چار شادیوں کی اجازت ہے (خواہ آپ اس جازت پر کتنی ہی قیود عائد کریں ) لیکن عورتوں کو کسی بھی صورت میں ، کسی بھی شرط پر ، دو نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مسئلہ زیر بحث کو آپ قاعدے کے تحت لاتے ہیں، نہ کہ استثناء ات میں ؟ 
اس لیے اگر آپ عمار بھائی سے اس موضوع پر بحث کرنا چاہتے ہیں تو اپنے اصول فقہ کی رو سے نہ کریں کیونکہ یہ اصول تو وہ مانتے ہی نہیں ہیں ؛ اور اگر ان سے ’’ان کے اصول فقہ‘‘ کی روشنی میں بحث کرنے کا ارادہ ہے تو : 
اولاً : اس کے لیے آپ کو ان کے اصول فقہ میں مہارت حاصل کرنی ہوگی ؛ 
ثانیاً : پھر ان کے اصول فقہ کی غلطی واضح کرنی ہوگی ، الا یہ کہ آپ خود ہی ان کے اصول فقہ کے قائل ہوجائیں ؛ 
ثالثاً: چونکہ ان کے اصول فقہ ابھی پوری طرح منقح اور مدون ہوکر نہیں آئے ، اور ابھی ان کا مکتبِ فکر طفولیت کے عہد میں ہے ، اس لیے ابھی ان کے اصول فقہ خام ہیں اور ان میں اخذ و رد کا سلسلہ بھی جاری ہے؛ انھیں باقاعدہ اصول فقہ بننے میں ابھی بہت وقت لگے گا ؛ آپ خود بھی جانتے ہیں کہ زلف کے سر ہونے تک ، یا قطرے کے گہر بننے تک کتنے مراحل ہوتے ہیں۔ اس لیے ابھی اس عہدِ طفولیت میں ان اصولوں کی بنیاد پر ان سے بحث محض وقت کا ضیاع ہے ، اور اصول کے بغیر ان کی فقہ پر بحث لایعنی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: من حسن اسلام المرء ترکہ ما لایعنیہ۔ 
باقی رہا ’’مقاصد شریعت‘‘ سے استدلال کرتے ہوئے ’’تیسیر‘‘ کی بنیاد پر شرعی احکام رفع کرنے کا معاملہ تو یہ طرز فکر انتہائی حد تک سنگین نتائج کا حامل ہے اور اس کی وجہ سے شریعت کے ساتھ جس نوعیت کا مذاق شروع ہوگیا ہے اس کا کچھ اندازہ ’’اسلامی بینکاری ‘‘ کے ڈرامے سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہ ایک مستقل بحث ہے جسے میں کسی اور وقت کے لیے چھوڑ دیتا ہوں۔ صرف اتنی سی بات عرض کروں گا کہ مسیحی تاریخ کی اس گواہی سے نتائج کا اندازہ لگائیے کہ جب پولس نے ’’ غیر قوموں‘‘ کو مسیحی بنانے کی خاطر ختنے کے حکم سے ان کو مستثنی قرار دینے کا فتوی حاصل کرلیا تو اس کے بعد اس کی تان ٹوٹی اس بات پر کہ شریعت ایک لعنت ہے اور مسیح کی آمد کا مقصد ہی اس لعنت سے لوگوں کو نجات دلانا تھا۔ یوں ’’تیسیر‘‘ اور ’’رفع حرج‘‘ اور لوگوں کو راہِ حق قبول کرنے کی طرف مائل کرنے کے نام پر جب ایک حکم شرعی اٹھا لیا گیا تو پھر وہ سلسلہ کہیں نہیں رکا، بلکہ اس کا اختتام پوری شریعت سے جان چھڑانے پر ہوا۔ 
محمد مشتاق احمد
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد

’’کہانی کی دنیا‘‘ نئی ڈائری کی متقاضی

پروفیسر شیخ عبد الرشید

ہمارے ہاں عام تاثر یہی ہے کہ ہمارے عہد کے بچے شریر زیادہ اور ذہین کم ہو گئے ہیں ،حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ میرا گمان یہ ہے کہ آج کے عہد کے بچے حقیقی معنوں میں اکیسویں صدی کے بچے ہیں ۔ ان بچوں کی ذہانت، فطانت اور کارکردگی ہی اس گھمبیرتا کا شکار سماج میں جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ہمارے ہاں ارفع کریم اور ملالہ یوسف زئی جیسے بچوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا عالمی سطح پر منوایا ۔ دہشت، خوف ، فرقہ واریت اور مقلدانہ جاہلیت کے اندھیروں میں یہ قابل فخر بچے ہی ہیں جو روشنی کی کرن اور ہمارے روشن مستقبل کی نوید دکھائی دیتے ہیں۔ 
گذشتہ روز میرے دوست، عظمت رفتہ کی روایات اور لگن کے حامل استاد برادرم پروفیسر میاں انعام الرحمن جو گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ کے شعبہ ء سیاسیات سے وابستہ ہیں، میرے ہاں آئے ۔ میاں انعام الرحمن ہنس مکھ، خوش گفتار، حلیم الطبع، علمی و ادبی مزاج، تحقیقی و تنقیدی انداز اور اجتہادی فہم و فکر رکھنے والے حسن کردار کا ایسا متوازن نمونہ ہیں کہ ان کی آمد و اقعتامیرے لیے ایسے ہی تھی جیسے چپکے سے ویرانے میں بہار آجائے ۔میں کئی ہفتوں سے اپنے نو سالہ بیٹے عبدالمعید کی علالت کے باعث ہسپتالوں کے چکر لگا کر تھکا تھکا اور مایوس تھا۔ یقین مانیے، میاں انعام الرحمن جیسے پاکباز اور نیک سیرت اور مخلص دوست کی اچانک آمد سے ایسے ہی تھی جیسے بے وجہ بیمار کو قرارآ جائے ۔ دل باغ باغ ہوا تو انہوں نے فوراً اپنا ہاتھ اپنے ہینڈ بیگ کی طرف بڑھایا اور کتاب نکال کر فخریہ مسکراہٹ سے کہا: شیخ صاحب! یہ میری بیٹی کی کتاب ہے ۔ میرا ماتھا ٹھنکا کہ میاں صاحب کے بچے تو ابھی چھوٹے ہیں، پرائمری یا ثانوی سطح کے طالب علم ہیں۔ میں نے بصد شکریہ ان کی گیارہ سالہ بیٹی فاطمہ انعام کی کہانیوں کی کتاب ’’کہانی کی دنیا‘‘ وصول پائی۔ 
میاں انعام الرحمن خود علمی و ادبی مجلات میں لکھتے ہیں۔ ایک اخبار میں عرصہ تک کالم نگاری بھی کی۔ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ سے ان کی کتب بھی چھپ کر داد و تحسین وصول کر چکی ہیں ۔ میں یہی توقع کر رہا تھا کہ میاں صاحب کی کوئی نئی کتاب چھپ کر آئی ہو گی، لیکن ان کی بیٹی فاطمہ انعام کی کتاب وصول پا کر زیادہ خوشی ہوئی کہ میاں انعام الرحمن نہ صرف اپنے حصے کا علمی و ادبی کام کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے گھرانے کی علم دوستی کی روایت کو بحسن و خوبی نئی نسل تک کامیابی سے منتقل کر دیا ہے ۔ یہی ایک صالح باپ کی معراج ہے کہ وہ اپنا علمی و فکری اثاثہ بھی اپنے بچوں کو سونپنے میں کامران ٹھہرے۔ میاں انعام الرحمن مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ان کی یہ کامرانی مجھ سمیت بہت سے والدین کے لیے لمحہ فکریہ اور قابل تقلید ہے ۔ 
’’کہانی کی دنیا‘‘ ایک کتاب نہیں بلکہ میرے لیے ایک نئی دنیا کا دروا کرنے کا ذریعہ تھا۔ ہمارے ہاں عمومی خیال یہ ہے کہ سرکاری سکول نالائق بچوں کا مرکز ہیں جہاں تدریس و تعلیم میں تربیت و تخلیق کا فقدان مثال بن چکا ہے، مگر ننھی گڑیا کی اس کتاب نے میرا یہ مفروضہ بھی غلط ثابت کر دیا ۔ میاں انعام الرحمن سرکاری ملازم ہیں اور اپنے تمام بچوں کو سرکاری سکول میں پڑھا رہے ہیں ۔ میں نے جب بھی انہیں بچوں کو ’’انگریزی میڈیم‘‘ یا ’’برانڈڈ اسکول‘‘ میں داخل کروانے کا مشورہ دیا، وہ ہمیشہ گویا ہوئے کہ اگر میں اور میرے جیسے لوگ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں نہیں بھجوائیں گے تو سرکار اور ریاست پر ہمارا یقین اور کمزور ہوتا رہے گا۔ میاں صاحب کی صاحبزادی فاطمہ انعام گورنمنٹ ایف ڈی اسلامیہ گرلز ہائی اسکول گوجرانوالہ میں کلاس ششم کی طالبہ ہیں۔ سرکاری اسکول ان کی تخلیقیت اور تخلیقی تحریروں کے لیے ذہن تیار کرنے میں رکاوٹ نہیں بنا، بلکہ اس کے تخلیقی حوصلے کو جرات بخشنے کا ذریعہ بنا۔ فاطمہ انعام کی اس کتاب سے سرکاری اسکولوں کے حوالے سے میرے خیالات میں ارتعاش پیدا ہوا ہے۔
کہانی کی دنیا میں کل پینتالیس کہانیاں ہیں۔ فاطمہ انعام نے پہلی کہانی پانچویں جماعت میں لکھی جس پر اس کے علم پرور والد نے اسے ڈائری تحفے میں دی۔ اس سے ننھی کہانی کار کے عزم میں مزید بلندی پیدا ہوئی اور اس نے پانچویں جماعت میں ہی پندرہ کہانیاں لکھ ڈالیں۔ چھٹی جماعت میں اس نے مزید تیس کہانیاں لکھیں او رپھر ڈائری ختم ہو گئی ۔ میاں صاحب کے گھر کا ماحول کتنا ادب دوست ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بڑی بہن کی ڈائری ختم ہونے پر چھوٹی بہن نابغہ رحمن جو جماعت دوم کی طالبہ ہے، اس کی تجویز پر کہانیاں کتابی شکل میں چھاپنے کا فیصلہ ہوا۔ 
پینتالیس مختصر کہانیوں کے موضوعات میں تنوع نمایاں ہے۔ یہ ہماری روایتی نانی اماں کی محیر العقول ماورائی کہانیاں نہیں ہیں بلکہ موضوعات اور اسلوب عیاں کرتا ہے کہ کہانی کار کا شعور سماجی سطح سے جڑا ہوا ہے جو خوش آئند بات ہے ۔ فاطمہ انعام کا اسلوب اور زبان بچوں کے روز مرہ سے مزین ہے ۔ زبان کا روز مرہ کہانیوں کو دلکش او ر دلچسپ بناتا ہے ۔ سنڈریلا، مکی ماؤس اور Tweety جیسے کئی کردار مستقل ہیں ۔ ایک کردار لے کر مستقل کئی کہانیاں لکھنا ، کہانی نویسی کا مغربی اسٹائل ہے ۔ یہ انداز تحریر بتاتا ہے کہ ہماری ننھی مصنفہ جدید طرز تحریر سے آشنا ہے ۔ یہ اس طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ ہمارے سرکاری سکولوں کے بچے بھی جدید رجحانات سے آگاہ ہیں۔ فاطمہ انعام کی فکر اور تحریر پر ان کے گھر کے علمی ماحول کا اثر بھی صاف دکھائی دیتا ہے ۔ 
ہمارے ہاں کہانی لکھنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے ۔ پاکستان میں بچوں کے لیے لکھنے والے بڑے تو ہیں، تاہم بچوں کا کہانیاں لکھنے کی روایت بہت کمزور ہے ۔ اخبارات میں بچوں کے صفحات پر کئی بچوں کی چند کہانیاں تو چھپتی ہیں، لیکن بچوں کی لکھی کہانیوں کو کتابی شکل میں پیش کرنا عام نہیں ہے ۔ فاطمہ انعام کی کہانیوں کی یہ کتاب اس روایت کا اچھا آغاز ہے جس پر وہ مبارکباد اور خراج تحسین کی مستحق ہیں۔ ان کی کہانیاں پڑھنے کے بعد میرے دل سے فوراً نکلا کہ کاش فاطمہ انعام کی ڈائری ابھی ختم نہ ہوتی اور ہمیں مزید کہانیاں پڑھنے کو ملتیں۔ 
فاطمہ نے اپنے حصے کا کام کیا اور میاں انعام الرحمن نے اسے کتابی شکل میں چھپوا کر کار خیر انجام دیا ہے ۔ کتاب کا انتساب فاطمہ نے اپنی دادو اور حمنہ ماما کے نام کیا ہے ۔ کتاب دیکھ کر بیٹی کی تربیت میں دادو اور حمنہ ماما کا کردار بھی ہم سب کے لیے مثالی ہے ۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ فاطمہ انعام کی تربیت کرنے والے اہل خانہ اور اساتذہ کو اجر عظیم دے اور فاطمہ انعام کے زور قلم میں اور اضافہ کرے ۔ یہ کتاب تمام اسکولوں کی لائبریری میں ہونی چاہیے۔ کتاب کی قیمت صرف 100 روپے ہے۔ ننھے بچوں کے لیے یہ کتاب اچھا تحفہ اور انعام ہے ۔ والدین بھی یہ کتاب اپنے بچوں کو دے کر تخلیق، تحریر، عزم اور حوصلے کی پوری روایت اپنے بچے کے ہاتھ میں تھما سکتے ہیں اور اسے پڑھ کر ان کا بچہ کچھ لکھے تو سمجھ لیجیے کہ ان کا بچہ بھی ڈائری کا تقاضا کر رہا ہے۔

گنٹھیا یا بڑے جوڑوں کا درد

حکیم محمد عمران مغل

اس مرض کو عام طور پر وجع المفاصل بھی کہتے ہیں۔ جوڑوں کے اندر تغیرات سے ان کی اندرونی غشا (جھلی)، ان کے اوتار، عضلات اور جوڑوں کا غلاف متاثر ہو جاتا ہے۔ جوڑوں میں درد کے ساتھ سوزش ہونے لگتی ہے۔ جسمانی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا کرتا ہے۔ اسباب میں سردی لگنا، کسی قسم کی موروثی بیماری، نظام انہضام کا نقص، سوزاک اور آتشک کے امراض، چوٹ لگنا یا گرنا، خون میں زہروں کا آ جانا، بعض بخاروں کے اثرات، کثرت شراب نوشی، موسمی تغیرات، نم ناک جگہوں پر آرام کرنا، سخت جسمانی محنت، یورک ایسڈ کی زیادتی، غذائی بے اعتدالی وغیرہ شامل ہیں۔ 
آتشک کا صحیح علاج نہ ہونے سے خون میں زہریلے مادے بکثرت پیدا ہو کر جوڑوں کو متاثر کرتے ہیں۔ گرمیوں میں سخت ٹھنڈی اشیا کا بار بار استعمال بھی اس کا سبب بن جاتا ہے۔ عموماً اس مرض میں بلغمی مزاج جن کا وزن بڑھ چکا ہے، زیادہ مبتلا دیکھے گئے ہیں۔ خفیف بخار کے ساتھ اکڑاؤ، ورم اور عموماً گھٹنے یا کلائی میں درد کے ساتھ اس تکلیف کا اظہار دیکھا گیا ہے۔ قبض کی شکایت عموماً جوانی سے رہتی ہے۔ ہاضمہ خراب، پیشاب تیز رنگ کا اور پسینہ بدبودار ہوتا ہے۔ نیند کی کمی بھی ہو جاتی ہے۔ بعض دفعہ متاثرہ مقام پر کپڑا لگ جانے سے بھی بے پناہ تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ کبھی اس مرض کے ساتھ سوزاک کا حملہ بھی ہو جاتا ہے، اسی لیے اس کو سوزاکی گنٹھیا کہتے ہیں۔ آج کل سوزاکی گنٹھیا اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ اکثر مریضوں کو سوزاکی گنٹھیا ہوتا ہے، مگر لاعلمی برتی جاتی ہے۔ مرطوب آب وہوا میں گزر بسر کرنے والوں کو یہ مرض موروثی ہوا کرتا ہے۔
پرہیز: چاول، گوبھی، آلو، گوشت تمام اقسام ترک کر دیں، خصوصاً فارمی مرغ بالکل استعمال نہ کریں۔ تمام بادی، کھٹی اور باسی اشیاء سے مکمل پرہیز رکھیں۔ کالے چنے اور ان کا شوربا جتنا ہو سکے، استعمال کریں۔ 
ہو الشافی: معجون سورنجاں پانچ گرام صبح شام کھانے کے بعد لیں۔ ہمدرد دواخانہ کی اوجاعی صبح دوپہر شام ایک ایک قرص تازہ پانی کے ساتھ استعمال کریں۔ ہمدرد کے روغن سورنجاں سے متاثرہ مقام پر مالش کریں۔ کھانے کے بعد جوارش جالینوس پانچ گرام تازہ پانی کے ساتھ لیں۔