جون ۲۰۱۴ء

مغربی معاشروں میں مذہب کی واپسیمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
دینی موضوعات پر تعلیمی و تربیتی کورسزمولانا ابوعمار زاہد الراشدی 
حصول علم کا جذبہ اور ہمارے اسلافمولانا نور الحسن راشد کاندھلوی 
مذہبی فرقہ واریت: اسباب، نقصانات اور اصلاحی تجاویزمولانا محمد تہامی بشر علوی 
خیبر پختون خوا میں سود کی ترویج کی ایک مذموم کوشش ۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کا موقف؟محمد مشتاق احمد 
جمہوری و مزاحمتی جدوجہد ۔ محمد رشید کے جواب میںڈاکٹر عبد الباری عتیقی 
تدبر کائنات کے قرآنی فضائل ۔ روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی؟مولانا محمد عبد اللہ شارق 
دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصد اور موجودہ مدارس کا کردارمولانا محمد انس حسان 
مکاتیبادارہ 
مولانا زاہد الراشدی کے اسفار و خطاباتادارہ 

مغربی معاشروں میں مذہب کی واپسی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں 7 مئی کو شائع ہونے والی ایک دلچسپ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلے کے ذریعے سرکاری اجتماعات میں مذہبی دعا مانگنے کو درست تسلیم کیا ہے اور عیسائی طریقے پر دعا مانگنے کے خلاف ماتحت عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نیویارک ریاست کے ٹاؤن ’’گویس‘‘ کی ٹاؤن کونسل کے اجلاسوں میں عیسائی طریقے کے مطابق دعا مانگے جانے کے خلاف دو خواتین نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا تو وفاقی اپیل کورٹ نے ان کے حق میں یہ لکھ کر فیصلہ صادر کر دیا کہ ٹاؤن کونسل کے اجلاس میں عیسائی عقیدے کے مطابق دعا مانگنے کا طریقہ در اصل اس کے مذہبی نقطہ نظر کی توثیق کرتا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ کے 9 میں سے 5 ججوں نے اکثریتی فیصلہ صادر کر کے اس فیصلے کو رد کرتے ہوئے ٹاؤن کونسل کے اجلاسوں میں عیسائی طریقے کے مطابق دعا مانگنے کو درست عمل قرار دے دیا ہے۔ البتہ چار ججوں نے اس فیصلہ سے اختلاف کیا ہے۔ مزید دلچسپی کی بات یہ ہے کہ عیسائی طریقے پر دعا مانگنے کی اجازت دینے والے پانچوں جج عیسائی ہیں، جبکہ اختلاف کرنے والے چاروں جج یہودی ہیں۔ مگر اکثریتی فیصلہ ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ نافذ ہوگیا ہے جس سے ریاستی اسمبلیوں کی طرح ٹاؤن کونسلوں کو بھی یہ حق مل گیا ہے کہ وہ کسی ایک مذہب کے مطابق دعا کے ساتھ اپنے اجلاس کا آغاز کر سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ کے 9 ججوں نے اس فیصلہ میں یہ بات متفقہ طور پر لکھی ہے کہ ’’سرکاری اداروں کو مذہب سے آزاد علاقے قرار نہیں دیا جا سکتا‘‘ مگر اکثریتی فیصلہ صادر کرنے والے ججوں کا اس کے ساتھ یہ بھی کہنا ہے کہ:
’’رسمی دعا مانگنے کی روایت امریکہ کے قیام کے وقت سے جاری ہے جو اس امر کا اعتراف ہے کہ امریکی اپنے وجود کو حکومت کی اتھارٹی سے کہیں زیادہ بلند اپنے نظریات کے تابع سمجھتے ہیں‘‘۔ 
یہ رپورٹ پڑھ کر مجھے چند سال قبل واشنگٹن ڈی سی کے نواح میں واقع ایک دینی مرکز ’’دارالہدیٰ‘‘ کی لائبریری میں ہونے والی ایک گفتگو یاد آگئی جس میں چند امریکی دوستوں نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ امریکی معاشرہ میں مذہب کی طرف واپسی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور ہم اس کے بارے میں یہ سوچ رہے ہیں کہ مذہب معاشرے میں دوبارہ اثر و نفوذ کے بعد کہیں سوسائٹی کے اجتماعی معاملات میں دخل اندازی تو شروع نہیں کر دے گا؟ انہوں نے اس کے بارے میں میرا نقطہ نظر دریافت کیا تو میں نے عرض کیا کہ اگر تو وہ فی الواقع مذہب ہے تو ضرور کرے گا۔ اس لیے کہ مذہب صرف فرد کی راہ نمائی نہیں کرتا بلکہ سوسائٹی کا راہ نما بھی ہوتا ہے۔ اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعہ نسل انسانی کی راہ نمائی کے لیے نازل ہونے والی آسمانی تعلیمات میں فرد، خاندان اور سوسائٹی تینوں کے لیے راہ نمائی کا سامان موجود ہے، اور تینوں اس راہ نمائی کے محتاج ہیں۔ 
اب سے تین سو سال قبل یورپی معاشرے میں مذہب کے نام پر ہونے والے مظالم اور بادشاہت اور جاگیرداری کے جبر کو مذہب کے نام پر فراہم کیے جانے والے جواز کے رد عمل میں مذہب کی حکمرانی سے بغاوت کی جو تحریک شروع ہوئی تھی اور جس نے انقلاب فرانس کے بعد ایک باقاعدہ فلسفہ و نظام کی شکل اختیار کر لی تھی، اس کی بنیاد مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی پر تھی جس نے آہستہ آہستہ پوری دنیا کو اپنے اثر و رسوخ کے دائرے میں لے لیا۔ حتیٰ کہ وہ دنیا کا رائج الوقت سکہ بن گیا۔ لیکن چونکہ مذہب انسانی فطرت کا حصہ ہے اور انسان زندگی کے بیشتر معاملات میں آسمانی تعلیمات کی راہ نمائی کی ضرورت محسوس کرتا ہے اس لیے مذہب کے معاشرتی کردار سے انحراف کی یہ روایت کم و بیش دو صدیوں تک انسانی معاشرے پر حکمرانی کے بعد اب واپسی کے راستے تلاش کر رہی ہے۔ اور امریکی سپریم کورٹ تک کو یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ سرکاری اداروں کو مذہب سے آزاد علاقے قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ہمارے خیال میں یہ بحث اب ایک اور دلچسپ مرحلہ میں داخل ہوتی نظر آرہی ہے۔ اب تک یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ریاستی اداروں اور حکومتی اداروں میں سرے سے مذہب کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ مگر اب یہ کہا جا رہا ہے کہ سرکاری اور حکومتی اداروں کو معاشرے میں موجود مذاہب میں سے کسی ایک کی طرفداری نہیں کرنی چاہیے اور مذہبی تنازعات میں فریق کا کردار ادا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ چنانچہ امریکی سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کے نکات میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے کہ مطلقاً مذہبی دعا منع نہیں ہے۔ لیکن کسی ایک مذہب کے مطابق دعا مانگنے سے اختلاف کیا گیا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ کے 5 ججوں نے اس اختلاف کو بھی تسلیم نہیں کیا اور کہا ہے کہ کسی ایک مذہب کے طریقے پر دعا مانگنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اس طرح یہ بات اس رخ پر مزید آگے بڑھ گئی ہے کہ ریاستی اداروں کو سوسائٹی میں موجود مذاہب میں سے کسی ایک مذہب کو ترجیح دینے کا حق بھی حاصل ہوگیا ہے۔ 
ہم ایک عرصہ سے مغربی معاشروں میں مذہبی رجحانات کی واپسی کے عمل کو دیکھ رہے ہیں اور اس میں مسلسل پیش رفت کا مشاہدہ کرتے ہوئے زیر لب یہ بھی گنگناتے جا رہے ہیں کہ:
؂ اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں
البتہ اس کشمکش کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جہاں مغربی معاشروں کے رجحانات کا رخ مذہبی اقدار و روایات کی طرف واپس مڑ رہا ہے اور مغرب ’’وجدانیات‘‘ کے نام سے آسمانی تعلیمات کی طرف واپسی کے راستے تلاش کرنے میں مصروف ہے، وہاں ہمارے مسلم معاشروں کے بہت سے دانش ور ابھی تک سوسائٹی کی اجتماعیت کو مذہبی رجحانات سے ’’نجات‘‘ دلانے کی تگ و دو میں اپنا اور قوم کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اور جس ’’پتھر‘‘ کو بھاری سمجھ کر صرف چومنے کے بعد مغرب واپسی کے موڈ میں ہے، ہمارے ان دانش وروں نے اسی پتھر کو اٹھا لینے کے عزم کے ساتھ اس کی طرف دوڑ لگا رکھی ہے۔

دینی موضوعات پر تعلیمی و تربیتی کورسز

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شعبان المعظم اور رمضان المبارک دینی مدارس میں درجہ کتب کے طلبہ کے لیے تعطیلات کے ہوتے ہیں اور شوال المکرم کے وسط میں عام طور پر نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس دوران حفاظ اور قرا کا زیادہ وقت قرآن کریم کی منزل یاد کرنے اور رمضان المبارک کے دوران تراویح میں سننے سنانے میں گزرتا ہے۔ جبکہ عام طلبہ کو تعلیمی مصروفیات میں مشغول رکھنے اور ان کے وقت کو مفید بنانے کے لیے مختلف کورسز کے اہتمام کی روایت کافی عرصہ سے چلی آرہی ہے۔ زیادہ تر قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کے دورے ہوتے ہیں جو شعبان کے آغاز سے شروع ہو کر رمضان المبارک کے وسط تک جاری رہتے ہیں۔ ان میں اساتذہ کرام اپنے اپنے ذوق کے مطابق طلبہ کو قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر مختصر دورانیہ میں پڑھاتے ہیں۔ ان میں حضرت مولانا حسین علیؒ ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ، حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ، حضرت مولانا حماد اللہ ھالیجویؒ ، حضرت مولانا محمد عبد اللہ بہلویؒ ، حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ اور حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے دوروں نے بطور خاص شہرت حاصل کی، اور ہزاروں علماء و طلبہ نے ان سے استفادہ کیا۔ 
والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے ۱۹۷۶ء سے ۲۰۰۰ء تک مسلسل پچیس سال دورہ تفسیر پڑھایا۔ اس کے علاوہ بھی ان کا ذوق یہ تھا کہ جامعہ نصرۃ العلوم میں درس نظامی کی آخری کلاسوں کو پابندی کے ساتھ ترجمہ قرآن کریم پڑھاتے تھے جو دو سال میں مکمل ہوتا تھا۔ اور مدرسہ میں روزانہ تعلیم کا آغاز اسی سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ جبکہ عم محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کا خصوصی ذوق یہ تھا کہ وہ دورۂ حدیث کے طلبہ کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ مکمل یا کچھ ابواب ضرور پڑھاتے تھے جو مدرسہ کے نصاب کا باقاعدہ حصہ ہے۔ یہ دونوں کام اب بھی جاری ہیں اور دونوں بزرگوں کی یہ روایت جاری رکھنے کی سعادت بحمد اللہ تعالیٰ مجھے حاصل ہے۔ دورۂ تفسیر قرآن کریم کے علاوہ مختلف مقامات پر میراث، صرف و نحو، منطق، اصول فقہ اور دیگر علوم و فنون کے ماہرین ان تعطیلات کے دوران اپنے اپنے فنون میں مختصر دورانیے کے کورسز کراتے ہیں جو بہت مفید اور ضروری ہیں۔ اب کچھ عرصہ سے عربی بول چال اور تحریر و تقریر کے کورسز کا اہتمام بھی ہونے لگا ہے، جس میں ہمارے فاضل دوست مولانا مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کی شبانہ روز محنت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ سب کورسز ہماری اجتماعی ضرورت کا درجہ رکھتے ہیں اور ان سے تعلیمی ذوق بڑھنے کے ساتھ ساتھ چھٹیوں کے اوقات کا صحیح مصرف بھی مل جاتا ہے اور تعلیمی ترقی بھی ہوتی رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے ادیان اور فرق باطلہ سے طلبہ کو متعارف کرانے کے لیے بھی کورسز ہوتے ہیں جن میں چناب نگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور چنیوٹ میں ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے تربیتی دورے بطور خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں دوسرے مذاہب کے ساتھ ساتھ قادیانیت کے دجل و فریب سے علماء و طلبہ کو واقف کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ 
اس قسم کے کورسز کا دائرہ مسلسل پھیلتا جا رہا ہے جو بہت خوش آئند ہے۔ لیکن ان میں نظم و ضبط اور باہمی رابطہ و تعاون کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ اکثر اوقات ایک طرز کی دینی ضرورت کی طرف تو سب کی توجہ ہوجاتی ہے اور ایک ایک شہر میں متعدد کلاسیں لگ جاتی ہیں، مگر دوسری طرز کی دینی ضرورت جو اسی درجہ کی اہمیت رکھتی ہے، نظر انداز ہو جاتی ہے اور اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہوتی۔ ہمارے خیال میں اگر کوئی بڑا دینی اور علمی ادارہ اس سال ملک بھر میں ایک سروے کا اہتمام کر سکے کہ کہاں کہاں کون کون سے مضامین میں یہ دورے ہوتے ہیں اور ملک کی عمومی دینی ضروریات کے حوالہ سے ان کا تناسب کیا ہے تو یہ بہت بڑی دینی خدمت ہوگی۔ یوں اگلے سال ان کاموں کی ترجیحات اور درجہ بندی کرنے میں آسانی رہے گی۔ 
گزشتہ دنوں ایک بڑے مدرسہ میں بخاری شریف کے آخری سبق کے موقع پر میں نے طلبہ سے عرض کیا کہ وہ فارغ ہونے کے بعد اور تعطیلات کے دوران اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ اور کسی نہ کسی کورس میں اپنے ذوق کے مطابق ضرور شریک ہوں، یا کچھ وقت تبلیغی جماعت کے ساتھ لگا لیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ خود اپنے اوقات اور معمولات کی ترتیب قائم ہو جاتی ہے اور طرح طرح کے لوگوں کے ساتھ میل جول اور گفتگو سے پبلک ڈیلنگ کا ذوق بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ 
ہمارے خیال میں دینی مدارس کے طلبہ کے ذوق، ضروریات اور نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے جس قسم کے کورسز کی ضرورت ہے، ان میں اہم عنوانات یہ ہو سکتے ہیں: 
  • ترجمہ قرآن کریم اور تفسیر۔ خاص طور پر انہیں عوام میں درس قرآن کی طرز اور ذوق سے بہرہ ور کرنا۔ 
  • غیر اسلامی ادیان اور فرق باطلہ سے تعارف اور اس میں مسائل میں مناظرہ سکھانے کے ساتھ ساتھ ان مذاہب کی تاریخ، مسلمانوں کے ساتھ ان کے تعلقات کی نوعیت، متنازعہ معاملات اور ان کی موجودہ پوزیشن سے متعارف کرانا بھی ضروری ہے، تاکہ باہمی معاملات کی صحیح پوزیشن سامنے آئے۔ 
  • صرف، نحو، میراث اور دیگر فنون کے مطالعاتی اور تعارفی دورے۔
  • آج کے دور میں اسلام کی دعوت و تعارف کی ضروریات اور تقاضوں سے آگاہی۔
  • عربی بول چال اور تحریر و تقریر کی مشق اور اس کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے عملی تربیت۔
  • موجودہ فکری تحریکات کے فکری اور تاریخی پس منظر اور ان کے نقصانات سے آگاہی۔
  • اصول فقہ، اصول تفسیر اور اصول حدیث کے تعارفی کورسز۔
  • موجودہ بین الاقوامی ماحول، عالمی قوانین و نظام اور مسلمانوں پر ان کے اثرات سے آگاہی۔
  • اسلام اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مغربی مفکرین بالخصوص مستشرقین کے اعتراضات کا جائزہ۔ 
  • شریعت اسلامیہ کے احکام و قوانین پر جدید اعتراضات و اشکالات کا جائزہ۔
  • پاکستان میں نفاذ شریعت کی جدوجہد اور اس کے تقاضوں سے آگاہی۔ وغیر ذالک۔
ان مقاصد کے لیے اصل میں تو درس نظامی سے فراغت کے بعد بڑے جامعات کو ایک ایک سال کے کورسز کا اہتمام کرنا چاہیے جو ان میں سے کسی ایک موضوع پر ہوں۔ لیکن تعارفی سطح پر سالانہ تعطیلات کے دوران مختصر کورسز بھی فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ میرے خیال میں جامعۃ الرشید نے گزشتہ دنوں جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان اور مولانا سید عدنان کاکاخیل کی سربراہی میں جو تھنک ٹینک قائم کیا ہے وہ اس کی منصوبہ بندی میں موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ 
ایک تجربہ محدود سطح پر ہم نے بھی الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں گزشتہ سال سے شروع کر رکھا ہے جو ’’دورہ تفسیر قرآن کریم و محاضرات قرآنی‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس سال یہ کلاس 3 شعبان سے 28 شعبان تک ہوگی اور اس میں قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے تقاضوں، بین الاقوامی قوانین اور خلافت و شریعت سمیت مختلف عنوانات پر بیسیوں محاضرات ہوں گے۔ اس سلسلہ میں زیادہ تر خدمت راقم الحروف خود سر انجام دے گا جبکہ معاون اساتذہ میں مولانا فضل الہادی، مولانا حافظ محمد یوسف، مولانا ظفر فیاض، مولانا حافظ وقار احمد اور حافظ محمد عمار خان ناصر شامل ہوں گے، ان شاء اللہ العزیز۔ 

حصول علم کا جذبہ اور ہمارے اسلاف

مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

(کچھ عرصہ قبل بھارت کے نامور محقق اور مورخ مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے اور اہل علم کی ایک نشست سے خطاب کیا جس کی صدارت استاذ العلماء حضرت مولانا محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی۔ مولانا کی گفتگو کا نقل شدہ مسودہ کاغذات میں دب جانے کے باعث نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا۔ اب دوبارہ ملنے پر اسے افادۂ عام کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ اما بعد!
حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم اور حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان صاحب مدظلہ العالی۔
میں یقیناًاس لائق نہیں ہوں جس طرح کے کلمات خیر سے ازراہِ محبت ذکر کیا گیا ہے، لیکن چونکہ یہ بڑے حضرات ہیں، اکابر حضرات ہیں، اس لیے دعا و تمنا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے خیالات کو حقیقت میں بدل دے اور ان کے یہ کلمات ہمارے لیے ایسی دعا ثابت ہوں جو حقیقت ہو جائیں۔ یہ بات میرے لیے بڑی خوش نصیبی اور سعادت کی ہے کہ اس مبارک مدرسہ میں حاضری ہوئی۔ میں جب پڑھتا تھا، اس وقت میں نے حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی کتاب ’’راہ سنت‘‘ پڑھی تھی اور پھر تو بار بار پڑھنے کا موقع ملا۔ مولانا کی جتنی کتابیں ہیں، میرے خیال میں تقریباً ساری ہی ایک ایک کر کے پڑھیں۔ حضرت مولانا سواتی صاحب کی بیشتر کتابیں بھی دیکھنے اور ہمارے اندر تھوڑی بہت جتنی لیاقت تھی، اس کے مطابق ان کو سمجھنے اور ان سے استفادہ کی توفیق نصیب ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جو بے شمار عنایات اور انعامات ہیں، ان میں سے ایک بڑا انعام اور فضل و کرم یہ ہے کہ آج اس مبارک مدرسے اور ان حضرات کے زیر سایہ حاضر ہونے کی توفیق ملی اور آپ سے ملاقات ہوئی۔ 
یہ بھی بڑی سعادت ہے اور یہ بھی بڑی خوشی کی بات ہے کہ آج یہاں مدرسے کی لائبریری کا افتتاح ہو رہا ہے۔ یہ بات بڑی تعجب کی ہوگی کہ لائبریری کے افتتاح کے لیے ایک ایسے آدمی کو طلب فرمایا گیا جو بہت ہی ادنیٰ درجہ کا طالب علم ہے اور اس کا اہل بھی نہیں ہے، لیکن بعض اوقات آپ حضرات جانتے ہیں کہ حکم کے بعد گنجائش کم رہتی ہے۔ تو حکم ہوا تو میں حاضر ہوگیا۔ لائبریری کا قائم کرنا بہت مبارک ہے اور بے حد ضروری بھی ہے۔ مدارس کا اصل ورثہ علم ہی تھا۔ ہمارا دین جو یہاں تک پہنچا، یہ جو علم ہے، وہ اصل میں ہمارے اسلاف کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ان حضرات نے علم اور کتاب دونوں کو مفاد سے بالاتر ہو رکھا۔ کسی کام کو نہ اپنی ذات کے لیے کیا اور نہ کسی دنیا کے مفاد کے لیے کیا۔ ہر بات میں وہ دو چیزوں کی رعایت رکھتے تھے۔ ایک اللہ تعالیٰ کی رضا اور دوسرا علم کی خدمت۔ اسی لیے ہمارے علماء نے ایسے ایسے کام کیے ہیں کہ آج بڑی بڑی اکیڈمیاں اور ادارے کروڑوں روپے کے بجٹ سے وہ کام نہیں کر سکتے جو ان میں سے ایک ایک نے کر دیے ہیں۔ 
ابھی پچھلے مہینے ہمارے ہاں ایک کتاب شائع ہوئی ہے ’’فتاویٰ تاتار خانیہ‘‘۔ اس کے مصنف آٹھویں صدی کے عالم ہیں، ۷۸۶ھ میں ان کی وفات ہے۔ ان کی کتاب کو قاضی سجاد صاحب نے مرتب کرنا شروع کیا تھا، لیکن اجل نے ان کو مہلت نہیں دی اور ان کی وفات ہوگئی۔ اب ہمارے ہاں ایک اور عالم مفتی شبیر صاحب نے اس کو مرتب کر کے شائع کیا ہے جو ۲۳ جلدوں میں ہے۔ یہ ایک فرد کا کام ہے۔ آپ کہیں گے کہ اس وقت بادشاہ سرپرستی کرتے تھے۔ آپ حضرات نے سنا ہوگا کہ ٹونک کے ایک عالم تھے، مولانا محمود حسن صاحب۔ انہوں نے ان علماء کے جو عربی میں صاحب تصنیف ہیں، جنہوں نے عربی میں کوئی قابل ذکر کتاب لکھی ہے، صرف ان کے حالات جمع کیے ہیں۔ یہ ’’معجم المصنفین‘‘ کے نام سے ۸۰ جلدوں میں ہے اور اس کتاب کے مؤلف کوئی پرانی صدی کے آدمی نہیں ہیں۔ غالباً ابھی ۱۳۷۰ھ یا اس کے بعد ان کی وفات ہوئی ہے۔ 
ایک بات اور یاد آئی۔ ہمارے شبیر میواتی صاحب کو اچھی طرح معلوم ہوگی۔ ہمارے ہاں ایک ہندو راجہ تھا، راجندر لاؤ۔ اردو کا بڑا دلدادہ تھا۔ اس نے اردو کا ایک لغت مرتب کیا جس کا ایک نسخہ دستیاب ہوگیا ہے جو پچاس جلدوں میں ہے۔ اردو کا لغت پچاس جلدوں میں اور ہندو لکھ رہا ہے۔ جن لوگوں کو آپ نے بہت قریب سے دیکھا ہے، ان میں ہمارے مولانا ادریس صاحب کاندھلوی ہیں۔ ان کی شرح بخاری شریف۳۰ جلدوں میں ہے اور شرح بیضاوی ۳۰ جلدوں میں ہے۔ مشکوۃ شریف کی شرح التعلیق الصبیح ۸ جلدوں میں ہے۔ ان کی تفسیر معارف القرآن دیکھی ہوگی اور ان کی سیرت پر جو کتاب ہے، مجھے یہ کہنا چاہیے کہ پورے برصغیر میں غالباً علامہ شبلی کی کتاب کے بعد سب سے بڑی مرجع ہے۔ بتائیے مولانا ادریس صاحب کو کس کا تعاون تھا؟ وہ کس سے تنخواہ لیتے تھے؟ کہاں سے وظیفہ ملتا تھا؟ وہ ایک فرد تھے، ارادہ رکھتے تھے، خدا کے لیے کام کرتے تھے، خدا کی طرف سے مدد ہوتی تھی۔ ہم لوگ اول تو کام کرنا نہیں چاہتے، اگر کرنا چاہتے ہیں تو ہماری ترتیب الٹی ہوتی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے مدرسوں کے بارے میں بھی یہ کیا اور علم کے بارے میں بھی یہ کیا کہ وہ پہلے کام کرتے تھے، وسائل بعد میں خود بخود آتے تھے۔ ہم پہلے وسائل ڈھونڈتے ہیں اور کام کچھ نہیں ہوتا۔ اس لیے کام شروع کر دینا چاہیے۔ میں نے ابھی دیکھا تو نہیں، لیکن سنا ہے کہ مولانا موسیٰ خانؒ روحانی بازی کی ایک تقریر ہے بیضاوی کی جو شاید ۶۰ جلدوں میں ہے اور اب اس کی طباعت کا اہتمام ہو رہا ہے۔اس طرح کی بہت ساری باتیں ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آدمی کرنا چاہے تو بہت کچھ کر سکتا ہے۔ 
حضرت مولانا ادریس کو آپ نے دیکھا ہوگا۔ مولانا کی صفات کیا تھیں؟ مولانا کی صفت یہ تھی کہ مولانا نے پوری زندگی کبھی انگریزی قلم کو ہاتھ میں نہیں لیا۔ بازار سے آنے والی روشنائی سے نہیں لکھا۔ وہ کہتے تھے کہ یہ روشنائی ناپاک ہے، میں اس سے حدیث کس طرح لکھوں؟ خدا کو کیا جواب دوں گا؟ تب ان کے کام میں برکت ہوتی تھی۔ مولانا ہمیشہ تاحیات سرکنڈے کے قلم سے لکھتے تھے، خود بناتے تھے۔ اسی طرح سے اور بھی سب حضرات اس طرح کام کرتے تھے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب کو ہم نے خود دیکھا، زمین پر بوریا بچھا کر بیٹھتے تھے۔ آپ کے ہاں تو ہم جانتے نہیں کیا کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو ۵، ۷ روپے کا آتا ہے بوریا اور وہاں قربانی کا گوشت رکھنے کے کام آتا ہے۔ شیخ الحدیث صاحب اس پر بیٹھتے تھے، اسی پر بیٹھ کر سارے کام کیے ہیں۔ وہیں بیٹھ کر اوجز المسالک لکھی گئی ہے، وہاں اس کمرے میں نہ بجلی ہے، نہ دنیاوی شوکت ہے اور نہ ہی کوئی پنکھا ہے۔ وہاں بیٹھے رہتے تھے۔ چاروں طرف کتابوں کا ہجوم ہوتا تھا۔ ترتیب سے کتابیں لگی ہوتی تھیں اور جب کوئی ضرورت پڑتی تو ان کے پاس جو طلبہ تھے، مولانا یوسف صاحب تھے یا دوسرے حضرات، ان کو کہتے تھے کہ کتاب اٹھاؤ۔ کتاب دیکھی، پھر رکھ دی۔ شیخ نے اپنے اس کمرے میں پوری زندگی نہ بجلی لگنے دی، نہ پنکھا لگنے دیا۔ حافظ صاحب اور شیخ صاحب لنگی باندھتے تھے اور وہ لنگی پسینے سے تر ہو جاتی تھی۔ جب دیکھتے کہ پسینہ بنیان میں سے ٹپکنے لگا تو اس کو بدل کر دھوپ میں ڈال دیا، لیکن کام میں نہیں فرق پڑتا تھا۔ ہمارے ہاں سہولیات تو بہت ہیں، لیکن وہ لگن نہیں، وہ تڑپ نہیں، وہ جذبہ نہیں۔ 
علم تو اس امت کا خاصہ ہے۔ اس امت نے جس طرح علم کو آگے بڑھایا اور جتنے علم کے پہلو ایجاد کیے، پوری دنیا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ یورپ نے آپ کے پاس جو معلومات تھیں، ان کو نکھارا سنوارا اور آگے بڑھایا۔ ہمارے ہاں ایک بہت بڑے مغربی اسکالر ہیں اور ان کی دنیا میں بڑی شہرت ہے اس بات میں کہ انہوں نے اہرام مصر میں اور دوسری جو عمارتیں ہیں، ان کے کتبات اور مہروں کو پڑھا ہے اور دنیا میں ان کو سند سمجھا جاتا ہے۔ چار، پانچ سال پہلے ایک کتاب چھپی تو پتہ چلا کہ آٹھویں صدی کے ایک عالم تھے، وہ سارے کتبے حل کر چکے تھے۔ اس بندۂ خدا کے وہ کتاب ہاتھ لگ گئی اور اس نے وہ ساری چیزیں اپنی طرف منسوب کرلیں۔ تو اس طرح سے ہوتا ہے۔ 
ہم نے وہ راستہ چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے اندر سے وہ لگن ختم ہوگئی۔ ہمارے اندر سے وہ جذبہ چلا گیا، ہمارے اندر سے وہ تڑپ جاتی رہی۔ اب کام نہیں ہوتا۔ یہ جو ادارہ قائم کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ مبارک کرے۔ مزید ترقیات سے نوازے اور بڑے ادارے قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ساتھ ساتھ کچھ افراد بھی تیار کریں اور افراد کون ہوں؟افراد وہ ہوں جوبالکل کشتیاں جلا کر کام کریں۔ دنیا کے کسی مفاد کو سامنے نہ رکھیں اور بالکل سراپا علم کے اندر ڈوب جائیں۔ پھربات بنتی ہے۔ جب تک یہ بات نہ ہو تو بات نہیں بنتی۔ آج کل آپ دیکھیں کہ اتنی کتابیں چھپ رہی ہیں کہ پہلے کبھی نہیں چھپتی تھیں۔ لیکن شاید دو سو چار سو کتابوں میں سے کوئی دو چار کتابیں ایسی ہوں کہ آدمی پڑھ کر یہ سمجھے کہ اس کو پڑھ کر کوئی فائدہ حاصل کیا۔پہلے لوگوں کی کتابیں ایسی ہیں مثلاً مولانا محمد قاسم صاحب،ؒ مولانا اشرف علی تھانویؒ ، ان کے بعد مولانا ادریس صاحب کو بھی، ان کی کتابوں کو آپ جتنی مرتبہ پڑھیں گے تو ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی نیا فائدہ حاصل ہوگا اور آپ سوچیں گے کہ یہ بات تو میں نے پڑھی ہی نہیں۔ میرا ذہن اس طرف گیا ہی نہیں۔ بعض فقرے ایسے ہیں ان کی کتاب میں کہ ایک فقرے کی شرح میں پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ یہ ان کے علم کی گہرائی، ان کی جامعیت تھی کہ انہوں نے یہ فقرات لکھے۔ ہمارے اندر یہ بات نہیں۔ ہم کبھی کسی کتاب کے دو سو تین سو صفحے پڑھتے ہیں، پڑھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ کیوں وقت ضائع کیا ۔ ان میں سے دو صفحے بھی ایسے نہیں نکلتے کہ جن کو پڑھ کر آدمی کچھ فائدہ حاصل کرے۔ 
اب یہ ہے کہ آپ حضرات کے ہاں وسائل بھی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہاں طلبہ کی توجہ بھی ہے، اور کسی چیز کی کسی طرح کی دقت نہیں ہے۔ یہاں ایسا ادارہ قائم ہو جو ہمارے اسلاف خاص طور پر حضرت شاہ ولی اللہ سے اب تک کے حضرات پر کام ہو۔ ان پر تحقیق ہو، ان پر تنقیح ہو۔ حضرت شاہ ولی اللہ کی جملہ تصانیف، مجھے معلوم ہے کہ اس برصغیر میں کسی مقام پر بھی ایک جگہ موجود نہیں ہیں۔ اگر ہوں تو میری راہنمائی فرمائیں۔ ان کی کتابیں موجود ہیں، لیکن کسی کے اندر وہ جذبہ نہیں۔ میں ایک ناچیز سا طالب علم ہوں، ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتا ہوں، اور میرے پاس شاہ صاحب اور مولانا قاسم کی سو فیصد کتابیں موجود ہیں۔ میرے پاس حضرت شاہ ولی اللہ کی سو فیصد کتابیں موجود ہیں۔ مطبوعہ بھی اور غیر مطبوعہ بھی، ہاتھ سے لکھی ہوئی بھی۔ اسی طر ح حضرت مولانا قاسم نانوتوی کی سو فیصد کتابیں میرے پاس ہیں۔ الحمد للہ اس وقت ہمارے ذخیرے میں ۱۶ سو تو مخطوطے ہیں اور ۱۲،۱۴ ہزار کتابیں ہیں اور استفادے کے لیے پوری دنیا سے لوگ آتے ہیں۔ اگر یہاں لوگ اس طرح کی کوشش کریں تو اس کو کامیابی کیوں حاصل نہ ہو۔ اس لیے کوئی ایسا ادارہ ہو جہاں ان تمام حضرات کی چیزیں جمع کی جائیں اور طلبہ کو ان پر کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ مثلاً حضرت شاہ صاحب ہیں، ان کی اپنی اصطلاحات ہیں جن کو وہ مختلف جگہ پر استعمال کرتے ہیں اور مختلف مطلب لیتے ہی۔ اب اگر ایسی لغت مرتب کی جائے کہ اس بات کو شاہ صاحب فلاں جگہ فرمائیں تو یہ مطلب ہے، فلاں جگہ فرمائیں تو یہ مطلب ہے تو ان کی کتابوں سے استفادہ کرنا بہت آسان ہو جائے گا اور یہ جو بات کی جاتی ہے کہ صاحب ! شاہ صاحب کے ہاں اختلاف بہت ہے، اس کا جواب ہو جائے۔ اسی طرح شاہ صاحب اجتہاد و تقلید پر خوب لکھتے ہیں، ان کی ساری چیزوں کو جمع کیا جائے تو وہ مفہوم ہرگز نہ ہو جو آج لیا جا رہا ہے۔ ان پر حضرت مولانا عبید اللہ سندھی نے کام کیا تھا، لیکن ان کی کتابیں اس وقت چھپنی شروع ہوئی ہیں جب ان کے پڑھنے والے چلے گئے۔
ہمارے ہاں یہ بات بہت مشہور ہے کہ حضرت علامہ کشمیری نے فرمایا کہ مولانا گنگوہی تفقہ میں شامی سے بڑھے ہوئے ہیں، لیکن اس کا کوئی دستاویزی ثبوت بھی چاہیے۔ حضرت کشمیری نے فرمایا، بہت اچھا ہے لیکن یہ ثابت کیسے ہو؟ اس کی صورت یہ ہے کہ ان کے فتاویٰ کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے اور اس بات کو ثابت کیا جائے۔
پہلے علماء یہ کیا کرتے تھے کہ آدمی ہزار صفحے پڑھے، پھر دس صفحے لکھے۔ اب کام الٹ ہوگیا ہے کہ پہلے سو صفحے لکھے، پھر پڑھنا شروع کرتے ہیں۔ اس کے لیے طلبہ کو تیار کرنا ہوگا۔ اسی طرح ہمارے دیگر حضرات کے ملفوظات میں بھی بہت سارے نوادر موجود ہیں۔ ہمارے قریب کے بزرگ ہیں حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری، ان کے ہاں غیر معمولی باتیں ہیں۔ حضرت شاہ یعقوب کے ہاں بھی اسی طرح چیزیں ہیں۔ اس کے لیے طلبہ کو تیار کرنے کی ضرورت ہے اور طلبہ اس وقت تیار ہوتے ہیں کہ جب استاد ان سے ان چیزوں میں فائق ہو۔ ان کی ہر موقع پر راہنمائی کر سکتا ہو۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ ہر جگہ باقاعدہ طلبہ ہوں، ذہین طلبہ رکھے جائیں، ان کو معقول وظیفے دیے جائیں، ان کے لیے تمام علمی مواد جمع کر دیا جائے۔ علم کا تو معاملہ یہ ہے کہ آدمی جب اس میں لگ جاتا ہے تو یہ خود بخود آپ کو ترقی دیتا ہے۔ ہم نے اور چیزوں کو مقصد بنا لیا ہے، علم کو چھوڑ دیا ہے۔ 
لین پول یونیورسٹی ہے برطانیہ میں جو آکسفورڈ اور کیمبرج کے بعد سب سے بڑی سمجھی جاتی ہے۔ اس کے شعبہ علوم اسلامیہ کے جو صدر ہیں، وہ ہمارے ہاں آئے تھے۔ یہ صاحب وزیر اعظم برطانیہ کے اسلامی ممالک کے لیے مشیر ہیں۔ مجھے اس بات پر تعجب ہوا کہ وہ کیوں آئے تھے؟ اس بات پر ریسرچ کرنے کے لیے کہ یہ ہندوستان کے جو مدارس ہیں، ان کے مقاصد کیا ہیں؟ اور کیا یہ اپنے مقاصد پورے کر رہے ہیں؟ اور اب ان کا نقطۂ نظر کیا ہے؟ اتنا بڑا آدمی جس کی حیثیت برطانیہ کے ایک وزیر کی ہے، وہ صوفے پر نہیں بیٹھا، دری پر بیٹھا اور وہیں پر سویا۔ وہ کہتا تھا کہ طالب علم کو ان باتوں سے کیا تعلق۔ ہم نے کہا تو کہنے لگا کہ نہیں نہیں، جہاں تم بیٹھو گے، وہیں بیٹھوں گا۔ جو کھلاؤ گے، کھاؤں گا۔ مقصد تو باتیں کرنا ہے اور وہ دیر تک، رات دو بجے تک سوالات پوچھتا رہا اور ایسے ایسے سوالات کہ ہمارے بڑے بڑے اچھے حضرات کا ذہن بھی اس طرف نہیں جا سکتا کہ مدرسوں کے مزاج میں فرق کیوں ہے؟ ان کے نصاب میں فرق کیوں ہے؟ فلاں آدمی فلاں آدمی کے طریقہ تعلیم میں کیوں فرق ہے؟ فلاں فلاں کے پاس بیٹھنے والے طلبہ کے مزاج میں کیوں فرق ہے؟ اور ایسے سوالات کے انبار تھے کہ بس۔ بہرحال جو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی، وہ ہم نے عرض کیا۔ 
بہرحال ضرورت اس بات کی ہے کہ کچھ افراد تیار کیے جائیں۔ یہاں مولانا زاہد الراشدی صاحب کی زیر سرپرستی اور مولانا عمار صاحب کی زیر نگرانی بہت سا کام ہو سکتا ہے۔ اللہ اس ادارے کو ترقی دے اور اس کو ہم جیسے لوگوں کے لیے مرجع بنائے۔ ان شاء اللہ اس سلسلے میں جو خدمت مجھ سے ہو سکے گی، میں حاضر ہوں۔

مذہبی فرقہ واریت: اسباب، نقصانات اور اصلاحی تجاویز

مولانا محمد تہامی بشر علوی

انسانی مزاج ومذاق کے تنوعات، فکر ونظر کی نے رنگیاں، عقل وفہم کی اونچ نیچ، اسا لیب غور وخوض میں کھلا تفاوت اور تاثرات و احساسات کااپنا اپنامستقل جہاں، یہ وہ ناقابل انکار حقیقتیں ہیں جو تعبیر مذہب کے ضمن میں بھی پوری طرح جلوہ گر دیکھی جاسکتی ہیں۔ مذہبی تعبیر کے تنوعات، افکار کاجہاں آباد کرتے ہیں تو افکار نظریہ واعتقاد کا جزو بن جاتے ہیں۔ یوں ہر نظریہ وعقیدہ اپنے حاملین تلاش کرتاہے۔ نتیجہ معلوم کہ مذہبی برادری مختلف عقائد ونظریات میں بٹ جاتی ہے۔پھر بتدریج یہ تنوع، غلو و تعصب کی اور یہ تعصب ،تفرق وتشتت کی مکروہ صورتوں میں ظہور پذیر ہونے لگتا ہے جسے ہم تفہیم کی خاطر ’’فرقہ واریت ‘‘کا عنوان دے سکتے ہیں ۔ یہی وہ مرحلہ ہوتاہے جب مذہب کے نام پر خود مذہب سمیت ہر انسانی قدر خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ’’فرقہ وارانہ‘‘ تجاوزات ور اُس کی ہلاکت آفرینیاں! بس الامان والحفیظ! لیکن اہل مذہب اس ہلاکت آفریں اور پُر خطر مقام پر کیوں پہنچے؟ اُس کے بنیاد ی ا سباب کیاتھے؟ ذیل کی سطور میں اس بات کا جا ئزہ لیاجاتاہے ۔

(۱) ترکِ قرآن 

مذہبی فرقہ واریت کابنیادی سبب یہی ہے کہ اہل مذہب قرآن کو خدا کے نازل کردہ ایک ’’نصب العین‘‘کے طور پر لینے کی بجائے محض میراث میں ملی ایک ایسی کتاب کی صورت میں قبول کیے ہوئے ہیں کہ جسے محض اپنے نظریات کی تائید کے طور پر پیش کیاجاسکتاہے ۔ اُن کا معاملہ قرآن کے ساتھ یہ نہیں کہ بالکل خالی الذہن ہوکر آئیں اور قرآن سے عقیدہ ونظریہ کے باب میں راہنمائی لے لیں۔ بلکہ یہاں ترتیب یہ قرارپاچکی ہے کہ پہلے دل ودماغ میں مزعومہ عقائد ونظریات پوری پیوستگی کے ساتھ جماکر قرآن کے حضور آیاجائے اور پھر انہیں مزعومہ عقائد ونظریات کو قرآن سے کشیدکرنے میں مہارتوں کے جوہر دکھلائے جائیں۔ قرآن کو حق تدبر نہ دینا وہ مجرمانہ غفلت ہے جس کاخمیازہ ’’فرقہ واریت‘‘ کی صورت میں ہمیں بھگتناپڑ رہاہے۔ وہ عقائد جو کسی مسلمان کے لیے ضروری ہوسکتے ہیں، جن پر نجات کامدار ہے، قرآن نے انہیں بیان کرنے میں کوئی ابہام چھوڑ ااور نہ ہی کوئی خفا۔ یہ نہیں ہوسکتاکہ رب تعالیٰ انسانیت کے نام ہدایت نامہ بھیجے اوراس میں انساں کی نجات کے لیے ضروری عقائد کو ہی بیان نہ کرے یا اُس میں کوئی اجمال وابہام چھوڑ دے، یہاں تک کہ انسانیت گمراہی کی وادیوں میں بھٹکتی پھرے ۔اس حوالہ سے قرآن صریح اور واضح ہے۔ اگر کوئی کمی ہے تو یہی کہ ’’رجوع الی القرآن‘‘ کوکماحقہ اہمیت نہیں دی گئی۔ یقیناًً وہ مزعومہ نظریات بھی قرآن کی تعبیر و تشریح کے نام سے رواج پا چکے ہیں۔ لیکن ’الفرقان‘ کہ جو حق و باطل میں خط امتیاز کھینچ دے اور ’المیزان‘ کہ جو تمام نظریات و عقائد کی جانچ پرکھ کی کسوٹی بن سکے، وہ تو بس بہرحال ’القرآن ‘‘ ہی ہے ۔ قرآن افتراق سے بچنے کے لیے ’’واعتصموا بحبل اللہ‘‘ کا نسخہ اسی لیے تجویز کرتاہے اور ترک قرآن کے انجام سے ’’ولا تفرقوا‘‘ کی صورت میں خبرادر کرتاہے ۔

(۲) ’ ’غلو‘‘ 

مذہبی فرقہ واریت کا دوسرا بنیادی سبب مذہبی معاملات میں مختلف طرح سے برتاجانے والا ’’غلو‘‘ ہے۔ کبھی تو اپنے فہم دین کو ’’الفرقان‘‘اور ’’المیزان‘‘کی حیثیت دے کرسارے جہاں کی اسلامیت اور’’ مذہبیت‘‘ کو اسی کسوٹی پرلا کھڑا کر دیا جاتاہے اور اپنے فہم سے ٹکراتے ہردوسرے فہم کو گمراہ، ضلالت، باطل اور نامعلوم کن کن عنوانوں سے تعبیر کیاجاتاہے۔ اپنے فہم کے حوالہ سے یہ وہ بڑھا ہواغلوہے کہ اسلام میں اس کی تعلیم تودرکنار، وہ محض رسمی طور پر بھی ساتھ کھڑا ہونے سے صاف انکار ی ہے۔’’غلو‘‘کے شعبوں میں ایک شعبہ ’’جماعتی غلو‘‘کابھی ہے جس کا لازمی نتیجہ دوسری تنظیموں اور شعبہ جات کو غیر اہم سمجھنے کارویہ ہے۔ اس نوع کے غالی لوگ کسی ’’دینی مقصد‘‘ کی خاطر اپنائی جانے والی مخصوص ترتیب وطریق کو مقصدسے زیادہ عزیزرکھتے ہیں اور ایک وقت میں تو مقصد ان کی نگاہوں سے بالکل ہی اوجھل ہوجاتاہے ۔ اسی غلو کاایک نمونہ ’’تعظیمی ومدحیاتی‘‘غلو کی صورت میں بھی دیکھا جاسکتاہے جب کسی شخصیت کی یوں تعظیم کی جائے کہ کسی دوسری بڑی ہستی کی تنقیص لازم آنے لگے یاتقابل کی فضا قائم کر کے ’’مدح وثنا‘‘ کے پُل باندھتے باندھتے مقابل کی تنقیص کاپہلو نکل آئے۔ دیکھیے، اہل اسلام کے مرکزی مرجع ومنبع محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مدحیاتی غلو کی جڑ کیسے کاٹی۔ فرمایا: ’’لاتطرُونی کما اطرت النصاریٰ المسیح بن مریم‘‘، ’’یعنی نصاریٰ کی مانند تم بھی پیغمبر کی مدح میں اتنے آگے نہ نکل جانا کہ اللہ کی تنقیص لازم آنے لگے۔ اور فرمایاکہ ’’لاتقولوا انا خیر من یونس بن متیٰ‘‘ یعنی تقابل کی فضا قائم کرکے مجھے یونس علیہ السلام پر فضیلت نہ دیا کرو۔غور کیجیے! کیایہ وہی بات نہیں ،جو قرآن نے یوں سمجھاناچاہی کہ ’’ لانفرق بین احد من رسلہ‘‘ کہ اعتقاد وتعظیم کا حق تمام پیغمبروں کو مساوی دیاجانا چاہییے۔ اس جہت سے تفریق بین الرسل قرآنی نظریہ بہر حال نہیں ہوسکتا۔ 

(۳) پیغمبرانہ دعوت سے انحرف

تیسرے سبب کے طور پر دعوتی نقص کو گنوایاجاسکتاہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے پیغمبر وں کی دعوت دین ہمیشہ صحیح جذبہ ، صحیح طریقہ اور صحیح نیت پر مبنی رہی۔ ناصحانہ اسلوب ، سچی تڑپ ، بے آمیز کھری نیت ، حکیمانہ طرز، قول لین، مجاد لہ بالاحسن ا ور بشارت وانذار اس کے لوازمات سمجھے جاسکتے ہیں ۔ مگرا فسوس اہل مذہب نے عموماً اس مثبت اور تعمیری دعوت کی ساری چولیں ہلاکر رکھ دیں۔ اہل مذہب کی اکثریت کے ہاں مناظرانہ کج بحثی، تنقیدی تلخ نوائی اور کرخت لہجہ وللکار قریباً معمول کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں ۔نتیجہ معلوم کہ تلخیاں بامِ عروج تک جاپہنچیں۔ اب تو مختلف الخیال اہل مذہب کے مابین مباحثے ومناظرے تک بھی پولیس انتظامیہ کی نگرانی کے بغیر قریباً ناممکن ہوچکے ہیں ۔

(۴) بے مہار خطابت

بلاشبہ فن خطابت اپنی ضرورت و افادیت کے پیش نظر ہر دور میں اہم رہاہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خطابت ایک دو دہاری تلوار کی مانند ہے۔ اگر باقاعدہ حکمت عملی کے ساتھ اہل افراد کے ہاتھوں یہ ضرورت پوری ہوتی رہے تو عوام کے لیے ترغیب ، ترہیب اور تعلیم کاذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کے ذریعہ رائے عامہ کو منظم کیا جاتاہے اور یہی خطابت جذبات کورخ دے کر اہم مقاصد کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔ لیکن یہی فریضہ نااہل ، ناقص العلم اور بے مہار خطبا انجام دینے لگ جائیں تویقیناًعوامی جذبات کا بے دردی سے استحصال شروع ہونے لگتاہے ، دلوں میں عصبیتوں کے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں۔ پھر انہیں شعلوں کی روشنی میں ’’فرقہ واریت‘‘ کے ناجائز محلات تعمیرکرکے ان کی پیشانی پر ’’قصرِ غیرت دینی‘‘ لکھ دیاجاتاہے ۔ چنانچہ اطراف میں پھیلی فرقہ واریت کارنگ گہراکرنے میں سب سے زیادہ دخل اسی علم واخلاق سے عاری منہ زور خطابت کابھی ہے ۔

(۵) بغی

فرقہ وارانہ فضا قائم بلکہ پختہ کرنے میں کارفرماعناصر میں مضبوط ترین عنصر ’’بغی‘‘ ہے۔ اس مرض کے مریض اہل مذہب معاونت کی بنیادوں پر تعمیری سفر کرنے کی بجائے معاندت کا کلہاڑااٹھائے پہلے سے موجود تعمیرکو بھی پیوند خاک کردیناچاہتے ہیں۔ اسلام کی خاطر کوشاں کسی دوسرے فردیاجماعت کورفیق سمجھنے کی بجائے اپنافریق وحریف یقین کرتے ہیں۔ یہ وہ مہلک مرض ہیں جن کے ہوتے ہوئے ‘’’وحدت امت‘‘ کاکوئی تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔ شاید اسی وجہ سے قرآن نے اس طرف متوجہ کرنا ضروری سمجھا: ’’کان الناس امۃ واحدۃ ۔۔۔ وما اختلف فیہ الا الذین اوتوہ من بعد ما جاء ھم العلم بغیاً بینھم‘‘ یعنی ا نسانیت میں موجود وحدت کاجنازہ اسی بغی کے ہاتھوں نکلا تھا۔ 

(۶) نیم مذہبی قیادت

کسی دینی غرض سے بنائی جانے والی تنظیموں اور جماعتوں کے لیے معقول معیار نہ ہونا بھی ’’فرقہ واریت ‘‘ کاسبب بن رہاہے ۔ جماعت ، تنظیم یاتحریک کن شرائط پر بننی چاہیے؟ ان کے سربراہ کے لیے میرٹ کیاہے؟ یہ اور اس طرح کے دیگر لوازمات جماعت تاحال ہماری سنجیدہ توجہ کے مستحق نہ بن سکے ۔’’ مطلوبہ دینی مقاصد‘‘ شاید اتنے نہیں جتنی ہمارے ہا ں تنظیموں اور جماعتوں کی بھرمار ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اکثر جماعتوں کے سربراہان اور قائد ین اہلیت وصلاحیت کے اعتبار سے شایدبیسویں لائن کے لوگ بھی نہیں ہوتے جنہیں منصب قیادت نے بہت نمایاں کرکے ’’صف اول‘‘ کا جز لاینفک ‘‘بنا رکھاہوتاہے۔ ’’نیم ملا خطرہ ایمان‘‘کاعملی ظہور انہیں جماعتوں کے کئی اعتبارات سے ’’نیم ‘‘ قائدین کی صورت میں ہمارے سامنے ہوچکاہے۔ مذہب کے نام پر کسی فساد کی نشاندہی کیجیے اور اس کی بنیادوں تک پہنچنے کاسفر جاری رکھیے، یقیناہر مذہبی فساد کے پیچھے کوئی نہ کوئی ’’نیم‘‘ ضرور کھڑا نظر آئے گا، عام اس سے کہ وہ علم میں نیم ہو، عمل میں ، اخلاق میں یا پھر عقل وحکمت کے لحاظ سے۔ بہر حال اس نی مذہبی قیادت نے بھی ’’ فرقہ واریت ‘‘ کا ماحول تشکیل دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

(۷) ترجیحات کی غلط ترتیب

انسان اعلیٰ سے اعلیٰ نظام سے وابستگی اختیار کرلے، چاہے جتنی عمدہ سے عمدہ تربیت حاصل کرلے ، کبھی اپنے سے قہر وغضب کی مطلقاًنفی نہیں کرسکتا۔ ان صفات کے خالق نے انسانی فطرت کی حقیقت کے پیش نظریوں ارشاد فرمایاکہ ’’ان الشیطٰن لکم عدو فاتخذوا ہ عدو۱‘‘! یعنی قوت قہرو غضب کویوں ہی محل بے محل میں چھڑکتے نہ پھرو، بلکہ صرف وصرف شیطان اور شیطانی طاقتوں کی طرف اپنے غضب کارخ موڑے رکھو۔ خدانخواستہ یہی رخ امت کی طرف مڑ گیاتو’’وحدت ‘‘ کی کمرٹوٹ جائے گی۔ اسے یوں سمجھیے کہ کچی چھت پر جمع شدہ پانی کسی پرنالہ کے ذریعہ نہ نکالاجائے تو چھت توڑ کر اندر ٹپکنے لگ جاتاہے۔ یوں ہی انسانی فطرت میں جمع شدہ غیظ وغضب کو اظہار کی متعین جگہ نہ ملے تواپنوں پرہی ظاہر ہوجاتاہے۔ دیکھیے قرآن کس پیرایے میں سمجھانا چاہتا ہے: ’’اشداء علی الکفار رحما ء بینھم‘‘ یعنی شدت کا رخ کفار کی طرف موڑ دینے والے نتیجتاً افراد امت کے ساتھ نرم خوہی رہتے ہیں۔ اصحاب محمد علیہم الرضوان اسی حقیقت کامظہر اتم تھے۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ ہماری ترجیحات ’’اسلام ‘‘کی بنیاد پر ترتیب دی جائیں۔ اس سے لازماً ’’اسلامی عصبیت ‘‘کا ظہور ہوتا جس کا لازمی نتیجہ کفر سے نفرت ہوتا، لیکن یہاں ترجیحات مسلک کی بنیاد پر طے کی گئیں جس کی کوکھ سے خوفناک مسلکی تعصب نے جنم لیا اور یہی تعصب قینچی بن کر امت کی وحدت کومسلسل کاٹتاچلاگیا ۔ سو اہل مذہب کواپنی مذہبی ترجیحات اسلام کی بنیاد پر طے کرنی ہوں گی۔
اس تناظرمیں پڑھیے، قرآن کیاکہتاہے: ’’ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ‘‘ اپنی جدوجہد کاہدف ’’الدین‘‘ کاقیام بناؤ، ورنہ تفرق وتشتت سے نہ بچ سکوگے ۔ ایسانہیں ہے کہ تمہارامسلک ’’الدین‘‘ کے قائم مقام کی حیثیت اختیار کرلے اور تمہارے مسلک سے باہر ’’الدین ‘‘کااحاطہ بھی نہ پہنچ سکے ۔ ایساہوگاکہ تمہارے مسلک کادائرہ تونہ پہنچ سکے گا البتہ ’’الدین‘‘ کاحصار اسے بھی حاوی ہوگا۔’’الدین‘‘پرفوکس ہوگاتو نفرت کارخ بھی ’’غیر الدین‘‘کی طرف ہوگا۔ ’’الدین ‘‘ کے علاوہ پر فوکس کرنے والے یقیناًنفرت کا رخ کسی نہ کسی لحاظ سے خود ’’الدین‘‘ہی کی طرف موڑ لیں گے۔ ہمارامدعایوں سمجھیے کہ ہم اگر مسلک احناف سے وابستہ ہیں توحنفیت کے حصار میں آگئے، لیکن ’’الدین‘‘کادائرہ حنفیت کے دائرہ سے بہت وسیع ہے۔ چنانچہ مثلاً حنابلہ ، شوافع اور مالکیہ گو حنفیت کے دائرہ میں نہ آسکے، بہر حال ’’الدین‘‘کے دائرہ سے باہر نہیں۔ اہل مذہب ’الدین‘پر فوکس کیے بغیر امت کو ’’تفرقہ‘‘ سے نہیں بچا سکتے۔

(۸) اسوۂ سلف کوملحوظ رکھنا

اہل مذہب جن عظیم ہستیوں سے اپنی نسبتوں کا دم بھرتے نہیں تھکتے، عملاً مذہبی اختلافات کے مرحلہ میں ان کے ا سوہ کو ملحوظ نہیں رکھتے۔ جنگ صفین کاتصور ایک خونی مذہبی اختلاف سے مرکب ہے۔ اس شدید مذہی اختلاف کے باوجود رومیوں کی ناپاک خواہش کاجو جواب سیدناامیر معاویہؓ نے دیا، اس جواب کاایک ایک لفظ ’’مقاصد شریعت‘‘ پر گہری نظر اور شرعی تقاضا بدلتے ہی حکمت عملی بدل لینے کی طرف راہنمائی کرتا ہے ۔ یعنی اگر کفر نے حملہ کیا توتقاضا علیؓ سے اتحاد کاہوجائے گا، جس کے لیے معاویہؓ نہ صرف اتحاد کرلے گا بلکہ بطور سپاہی اپنی تمام ترتوانائیاں کفر کے خلاف صرف کردے گا۔ کم از کم پاکستان کی سُنی اکثریت کے پیش نظر دیوبندی ، بریلوی اور اہل حدیث طبقہ میں بھی مسلکی برداشت کے گراں قدر لائق تقلید نمونے موجود ہیں جن کا بخوف طوالت سر دست ذکر نہ ہوسکے گا۔ ضروری ہے کہ جن ہستیوں سے نسبت اہل مذہب کاتشخص قرارپاتا ہے اُن کے رویوں کی جھلک بھی ہمارے رویوں میں نظر آنی چاہیے۔ 

(۹) اشاعت کا غیرمحتاط اسلوب

فرقہ واریت کا پوداتنا ور درخت بننے سے پہلے غیر محتاط لٹریچر سے خوب پانی چوس لیتاہے ۔ یہی غیرمحتاط لٹریچر نااہل خطبا کو آب ودانہ مہیاکرتاہے یوں خطیبانہ جواہراپنے کمال تک پہنچنے سے پہلے ’’فرقہ واریت‘‘ کو کمال تک پہنچا دیتے ہیں ۔ غیر ضروری اختلافی مسائل کی عوام میں اشاعت ، طعن وتشنیع پر مشتمل جارحانہ طرزتحریر، مخالف پر طنزیہ فقرے چست کرنے کی ریت وغیرہ ذالک امور مذہبی لٹریچر کا ناگزیر حصہ بن کر بدترین پھوٹ کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔ 

(۱۰) مشترکات کو نظر اندز کرنا

مذہبی روایت میں مخالف یا مختلف نظریہ کے حامل افراد کے محاسن عموماً بلکہ کلیتاً نظر انداز کرلیے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں کامذہبی ذہن کریدکریدکر وجوہ نزاع نکالنے میں بڑی دلچسپی سے مگن رہتاہے ، یوں صلاحیتیں تخریب میں کھپنے لگتی ہیں ۔ اسی اختلاف کی تلاش کانشہ اور تضلیل وتفسیق کا جنون مشترکات کی طرف متوجہ ہونے سے مانع رہتاہے ۔ حالانکہ امت میں شامل افراداور جماعتوں کے مابین ایسی اساسات اتفاق ضرور پائی جاتی ہیں جن پر وحدت امت کی بنیادیں اٹھائی جاسکتی ہیں ۔ آج ’’تعالو الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم‘‘ میں موجود کھلی ہدایت اپنے ماننے والوں سے عمل درآمد چاہتی ہے ۔
اب آئندہ سطور میں ’’فرقہ واریت‘‘ کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیاجاتاہے ۔

(۱) اسلامی واخلاقی احکامات کی حکم عدولی

فرقہ واریت کاماحول دلوں میں غلو پر مبنی عقیدت قائم کرواتاہے جس کا رد عمل دوسرے فرقوں سے شدید نفرت کے اظہار کی صورت میں ہوتاہے۔ اس موقع پر کئی اسلامی حقوق ، فرقہ وارانہ جذبات کی تسکین کی خاطر بلا تردد پامال کرلیے جاتے ہیں۔ اختلافی مسائل میں اپنی برتری اور حقانیت ثابت کرنے کے جنون میں متفق علیہ ناجائز امور بھی بآسانی برت لیے جاتے ہیں۔ غیبت، بدگمانی ، اہانت، تذلیل ، طعن و تشنیع جیسے قبیح اخلاقی جرائم بھلاکون سا مذہبی مسلک اسلام کی روسے جائز کہہ سکتاہے؟ تمام اہل مذہب نے اسلام کے نام پر اپنی اپنی جماعتیں تشکیل دیں۔ پھر اسی اسلام کے بنیادی احکامات اس موڑ پر بالکلیہ نظر انداز کرڈالے۔بغض وحسد کے وہ شعلے بھڑکائے کہ ’’حبل اللہ‘‘ بھی جلا ڈالی۔ ’’حبل اللہ‘‘کی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی عصبیتی خواہشات بے لگام ہوگئیں، بداخلاقی کے ریکارڈ قائم کرنے میں باہمی مسابقت کا ماحول پیداہوگیا جس میں ہر فریق دوسرے پر بازی لینے کے لیے اخلاق وشرافت سے کوسوں دور ہوجاتاہے ۔ تفرقہ واختلاف کاایک ہولناک طوفان اٹھا جس نے وابستگانِ مذہب کواخلاقی کسمپرسی کے لق ودق بیاباں میں بے یار ومددگار چھوڑ دیا۔

(۲) دیانت دارانہ فہم واستدلال کی حکومت کاخاتمہ

فرقہ واریت کے بڑھنے کی وجہ سے عصبیتی جذبات بھی شدت اختیار کرتے چلے گئے جس کا برانتیجہ یہ نکلاکہ عقل واستدال انہی منفی جذبات کے خادم بن کررہ گئے ۔ قرآن وسنت سے راہنمائی ملنے کی بجائے عصبیتی جذبات کی تسکین کا سامان تلاشا جانے لگا ۔ چنانچہ وہی قرآن جس سے معمولی فہم رکھنے والے کے لیے بھی ہدایت مل جانابآسانی ممکن تھا ، فرقہ واریت کی شامت سے کئی افلاطونی دماغ بھی اس کی ہدایت تک نہ پہنچ سکے ۔ بڑے بڑے دماغ لے کر قرآن کے حضورتو آئے مگر جب واپس لوٹے تو قرآنی آیات کو مزعومات کی تائیدمیں کھڑاکرکے لوٹے ۔ قرآن نے کیاکہا؟ اس کی منشاکیاتھی؟اس سے نابلد رہے۔

(۳) علمی بددیانتی کا چلن

علمی خیانت فرقہ واریت کالازمی نتیجہ ہے۔ ایسا ماحول دوسرے کی بات پر کماحقہ غور کرنے سے ہی مانع بن جاتاہے ۔ مخالف کے مؤقف کومن گھڑت غلط سلط مفاہیم کاجامہ پہنا کرپروپیگنڈہ کی ساری سنتیں زندہ کرلی جاتی ہیں، پھر اس پر افسانہ آرائیوں کا اک نہ تھمنے والا سلسلہ چل پڑتاہے۔ دوسرے کو بہر حال گمرہ اور غلط ثابت کرنے کے لیے سینہ زوری اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ اخلاق ودیانت ماتم کناں جبکہ جبین حیا عرق عرق ہوجاتی ہے۔ جبکہ اسلام میں دیانت کا ایسا پیمانہ مطلوب ہے جس میں اپنے خلاف بھی گواہی دینا پڑ جائے تو بلاتأمل دی جاسکے۔

(۴) ابہامات کا فروغ

مذہبی تعبیرات میں خیانت در آنے سے جھوٹ شوشے اور ادھورے سچ کے نمونے کئی بار دیکھنے کوملتے ہیں ۔ پوری حقیقت لینے کی بجائے ادھوری حقیقت لے لی جاتی ہے یا پھر حقیقت کو بالکل ہی نظر انداز کردیاجاتاہے۔ اس صورت حال میں لوگوں کے لیے درست رائے قائم کرنا دشوار ہوجاتاہے۔ پھر یہ ابہامات تضادات کو جنم دیتے ہیں اور تضادات تصادم کی راہ ہموار کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ سماجی زندگی میں انتشار، بے چینی ، افراتفری اور خوف کی صورت میں نکلتاہے۔ مجموعی زندگی کانظام اتھل پتھل ہوکر رہ جاتاہے ۔ ابہام کی موجودگی علمی ونظریاتی سطح پر بدبودار جمود پیدا کردیتی ہے عقل وفہم کاپہیہ جام ہوکر فکری ارتقاء معطل ہوجاتاہے ،بے سروپاگمانوں کی بہتات سے عقل و علم مجروح کردیے جاتے ہیں۔ پھر یہی عقل وفکر کابحران اک خوفناک المیہ بن کر ہمارے لیے ترقی کے سارے امکانات ختم کرلیتاہے ۔ قرآن اس موقع پر واشگاف الفاظ میں یوں راہنمائی کرتاہے کہ ’’وقولوا قولا سدیدا‘‘ کہ کچھ کہنے سے پہلے اپنی بات کو سچائی اور دیانت کے پیمانوں میں اچھی طرح تول لیاکرو۔ 

(۵) تعمیری سوچ کا فقدان

متعصب ذہن ہر ممکن حدتک مخالف سے تقابل کی فضا قائم رکھنے کاعادی ہو جاتا ہے۔ اس کے پیش نظر اپنی برتری کا اثبات اور مخالف کو نیچا دکھاناہوتاہے۔ اس طرز فکر وعمل سے باہمی تلخیاں پروان چڑھتی ہیں، امت کی طاقت سے کوئی تعمیری کام لیناناممکن ہوجاتاہے۔ لوگ تخریبی طور پر سوچنے کے عادی بن جاتے ہیں، طبیعتیں مثبت طرز کے کاموں میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں کرتیں۔ قرآن وسنت سے صرف نزاعی موضوعات کے اثبات وتردیدکی غرض سے استناد کیاجاتاہے ۔ مثبت وتعمیری رخ پہ غور طلب سینکڑوں احکامات شرع نظر انداز کر دیے جاتے ہیں، صرف اس وجہ سے کہ عموماً اہل مذہب کی دلچسپی کاسامان رد ودفاع کا میدان کارزار گرم کرناہوتاہے ۔ اسلام کے بنیادی تقاضے سمجھنے میں بھی ایساذہن نارساثابت ہوتاہے ۔ 

(۶) ناحق قتل وقتال کاسلسلہ

فرقہ واریت کازہر پوری طرح سرایت کرجانے کے بعد مخالف کاقتل مباح سمجھ لیاجاتاہے ۔ سینوں میں دھکتی یہ تعصب کی آگ خونِ ناحق بہائے بغیر بجھنے کا نام نہیں لیتی۔ پھر یہ سلسلہ انتقام در انتقام کی صورت میں قتل وقتال کی طویل خونی داستانیں رقم کرنے لگتاہے۔ 

(۷) اسلام سے اعتماد اٹھ جانا

فرقہ وارانہ کشمکش کے ماحول نے امت کے بڑے طبقہ کواسلام سے ہی بیزار کرڈالاہے ۔وہ اسلام جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے دنیا بھر کے انسانوں کو اپنے میں سمیٹنے کی صلاحیت رکھتاتھا ،اس کشمکش سے متاثر امت کا ایک بڑا طبقہ اسلام سے ہی بدظن ہوابیٹھاہے ۔ یوں فرقہ واریت کی یہ زد براہ راست اسلام کے مقاصد پر جاپڑتی ہے ۔ اسلام کے حسین خد وخال کافی حد تک متاثر ہو کربدنماہوجاتے ہیں ۔ لوگ اسلام سے متنفر ہوکر ابدی خیر سے ہی محروم ہوجاتے ہیں ۔ 

(۸) مالی نقصانات

علمی ، فکری، دینی ،اخلاقی اور جانی نقصانات کے ساتھ ساتھ ’’فرقہ واریت‘‘ کا ایک نقصان مالی نوعیت کابھی ہے ۔ مخالف کے سامنے اپنی شان وشوکت کے اظہار کیلئے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں ۔ اس مقصد کے لیے اسراف وتبذیرکی ساری راہیں کھول دی جاتی ہیں۔ مذہب کے نام پر جمع شدہ پونجی کا خطیر حصہ فرقہ وارانہ مقاصدمیں ضائع کردیاجاتاہے ۔ غیر معیاری لٹریچر کی اشاعت، غیر ضروری جلسے جلوس وغیرہ کے مصارف کو اسراف کے علاوہ کوئی نام نہیں دیاجاسکتا۔ 

اصلاحی تجاویز

حالات سنگین ہوچکنے کے بعد بھی قابل تغیررہتے ہیں ۔ اگر انسان راست فکر اور درست عمل کو پذیرائی دیناشروع کردے توبگاڑ سے سدھار کاسفر یقیناًممکن ہوجاتاہے ۔ ذیل میں چند تجاویز ’’فرقہ واریت‘‘کے خاتمہ کی غرض سے حوالہ قرطاس کی جاتی ہیں۔
(۱) ایسی تقریرو تحریر سے اجتناب جس سے عقیدہ توحید مجروح ہوتاہو،کسی بھی طبقہ کی محترم شخصیات وعقائد (رسول خدا، ازواج نبی، اصحاب پیغمبر‘اہل بیت سلف صالحین ، اولیاء کرام، ائمہ مجتہدین اور شعائر دین وغیرہ) کی اہانت کاتاثر ابھرتا ہو۔ 
(۲) ہر مسلک اور جماعت کے ذمہ داران خطبا حضرات کے لیے میرٹ وحدود متعین کیے جائیں،ایسا ضابطہ طے کرنا ضروری ہے جس کے ذریعے نااہل اور بے مہار خطباء منبر ومحراب سے دور رکھے جاسکیں ۔ اس مقصد کے لیے چند ممکنہ صورتیں یوں ہوسکتی ہیں ۔ 
(الف) تخصص فی الافتاء وتخصص فی الحدیث وغیرہ کی طرح کاتخصص فی الخطابہ کورس بھی باضابطہ مدارس میں کروایاجائے جس میں خطبا کے علمی واخلاقی معیار کوبہتر بنایاجائے پھر بتدریج کسی بھی خطیب کے لیے اس کورس کے بغیر خطابت ممنوع قراردی جائے ۔
(ب) یاکسی بھی مسلک یا جماعت کے ذمہ داران کی طرف سے باضابطہ اجازت نامہ حاصل کرنے کے بعد خطابت کی اجازت دی جائے ۔
۳۔ریاٍست اور علماء کے تعاون سے ایک بورڈ تشکیل دیاجائے جس کی تصدیق کے بغیر کوئی لٹریچر شائع کرنا جرم قراردے دیاجائے ۔
۴۔ ہر مسلک کے علماء کی سپریم کونسل تشکیل کی جائے جوہنگامی صورت حال اور دیگر مسلکی تنازعات میں مصالحتی کمیشن کا کردار اداکرے۔ 
۵۔ مذہبی تعلیمی اداروں میں وحدت امت ، انسانی حقوق ، اخلاقی اہمیت ، دوسرے مسالک کے حقوق کی اہمیت کواجاگر کرنے والامفید لٹریچر شامل نصاب کیاجائے کیونکہ تعلیم وتربیت کے بغیر انسان کی اصلاح کا مؤثر ذریعہ کوئی اور نہیں۔ 
۶۔ مدارس کے اساتذہ علماء میں یہ شعور بطور مہم اجاگر کیاجائے کہ خود بھی اپنے طلبا کے سامنے مخالف مسالک وشخصیات کی اہانت سے باز رہیں اور طلبا کو بھی باز رکھنے کی عملی تربیتی کوشش کریں ۔ 
۷۔ بین المسالک مشترکہ سیمینارزاور نشستیں وقتاً فوقتاً منعقد کی جایاکریں ۔ طلبا وعلما ایک دوسرے کے اداروں اور جامعات کے دورے کااہتمام کریں۔ باہمی دوریوں کی وجہ سے پیداشدہ غلط فہمیاںآپ ہی دور ہوجائیں گی۔ 
۹۔ مختلف نشستوں اور پمفلٹس اور دیگر ذرائع سے علماء میں اسلام کی اساسات پر حملہ آور فتنوں (الحاد، اباحیت، دہریت، مغربیت وغیرہ)سے آگاہ کیاجاتارہے تاوقتیکہ علماء طبقہ اپنی مخالفتوں کا رخ درست سمت موڑ لے ۔ 
۱۰۔ اسلامی اخلاقی اصولوں کی پابندی یقینی بنائی جائے ۔ 
۱۱۔ اختلافات کے دائروں میں فرق واضح طور پر سمجھا اور سمجھایاجائے کہ کہیں اختلاف کفر واسلام کہیں حق وباطل کا کہیں اہل قبلہ کے مابین کہیں اولیٰ غیراولیٰ ، وغیرہ ہر اختلاف کااپنا دائرہ آداب اور احکامات ہیں۔ اس فرق کو خوب ملحوظ رکھاجائے ۔ 
۱۲۔ اس شعور کو عام کیاجائے کہ کسی بڑے سے بڑے مخالف کے بھی آپ کے ذمہ کچھ حقوق اسلام نے لازم کیے ہیں ۔ اختلاف کی آڑ میں ان حقوق کو تلف کردیناکسی طرح جائز نہیں ہوسکتا۔
۱۳۔ مستند اور تربیت یافتہ جید علماء کرام کے علاوہ اختلافی مسائل چھیڑنے سے حتی الامکان باز رکھاجائے ۔ چونکہ اختلافی مسائل ڈھنگ اور سلیقہ سے بیان کرنا کسی طرح افتراق کاذریعہ نہیں بنتا ۔
۱۴۔ باہمی مکالمہ کیلئے تربیت یافتہ علماء کرام کی زیر نگرانی تحریری وزبانی فورمز مہیاکیے جائیں جس کے ذریعہ علمی واستدلالی بنیادوں پر علمی مباحث کو فروغ دیاجاسکے۔ 
۱۵۔ اہل مذہب یہ طے کرلیں کہ بہرحال صداقت اور باہمی انصاف پر قائم رہاجائے ۔ ’’جنگ میں سب کچھ جائز‘‘ کاابلیسی اصول اختیار کرکے مخالف پر جھوٹے الزامات لگانے اور افسانے تراشنے کی دل شکنی کی جائے۔ اس طرز کے بے ہودہ طریقوں کا چلن ایک غلط ماحول تشکیل دیتاہے ۔ اہل مذہب کوبار بار آگاہ کیاجاتارہے کہ پھر ایسا ماحول کبھی بھی تعاون ومفاہمت کے لیے نہیں بلکہ تصادم ومزاحمت کیلئے ہی سازگار رہے گا۔ پھر نتیجہ اس کے سوانہ نکلے گاکہ اس بے ہودہ طریقے کو مفید سمجھنے والے خود بھی نہ بچ سکیں گے۔ 
۱۶۔ اہل مذہب کو اب علمی ناز بہرحال ترک کرنا ہو گا۔ رائے رکھنے کے جملہ حقوق اپنے ہی نام محفوظ کر لینا یقیناًانفرادیت کا وہ مبالغہ ہے جو اجتماعی زندگی میں کبھی بھی نبھ نہیں سکتاہے ۔ اب اپنی رائے کا وزن دھونس دھاندلی کی بجائے علم واستدلال کی بنا پر تسلیم کروایاجاسکتاہے ۔ جبروتشدد کے زور پر کشمکش، مزاحمت ، بدمزگی کاماحول پیداکرکے اپنی رائے شاید وقتی طور پر کہیں مسلط توہوسکے مگر کامیاب نہ ہوسکے گی۔ کامیابی کے لیے بہر حال امت کی طرف سے قبولیت اور دلی رضامندی ناگزیرہے ۔
۱۷۔ انفراد ی عصبیت کی بجائے ملی واسلامی مفادات پیش نظر رکھناضروری ہیں چونکہ ہر تعصب جواب میں ایک دوسرے تعصب کو پیداکردیتاہے، یوں تعصب کے مقابلے میں تعصب کشمکش پیداکیے بغیرنہیں رہ سکتا۔ 
۱۸۔ جماعت یاپارٹی بنانے کاعمل اتناآزادانہ نہیں ہوناچاہیے۔ اس کے لیے شرائط طے کرناضروری ہیں، بالخصوص پارٹی سربراہ کے لیے شرائط ومیرٹ طے کرناضروری ہے ۔کم از کم ہر مذہبی جماعت کا سربراہ ایک مستند عالم دین ، ملی واسلامی مفادات پر گہری نظر رکھنے والا عصری تقاضوں کا ادراک رکھنے والاتوہوناچاہیے۔ 
۱۹۔ بین المسالک حقوق کا تعین انتظامیہ اور علماء کی مشاورت سے طے کرکے مساویانہ عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ مذہبی جلسے جلوس کی حدود متعین کی جائیں ۔ 
۲۰۔ ملی یکجہتی کونسل کی (17) نکاتی سفارشات پر عملدرآمد کیاجائے ۔ 
۲۱۔ بعض مسلکی تنازعات مٹانے کی غرض سے سابق میں کی گئی کاوشوں پر عملدرآمدبھی ضروری ہے۔ ’’المہندعلی المفند‘‘، ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘، ’’31 علماء کے 23 نکات‘‘، ’’تحریک نفاذ نظام مصطفی‘‘، ’’’تحریک ختم نبوت ‘‘وغیر ذالک۔ ان کاوشوں وتجربات کی روشنی میں وحدت امت کے ہدف کی طرف سفر کاپھر سے آغاز کیاجاء۔
۲۲۔ سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال انگیز مواد کی سرکولیشن روکی جائے۔ 
آخرمیں قرآن مقدس کی روشنی میں ’’تفرق ‘‘ سے بچنے کے نسخہ پر بھی غور کرلیتے ہیں جسے قرآن حکیم نے یوں بیان فرمایاہے: ’’واعتصموا بحبل اللہ‘‘ یعنی پھر سے رجوع الی القرآن کیاجائے۔ آگے فرمایا: ’’ولاتفرقوا‘‘۔ قابل غور امر یہ ہے کہ ’’ولاتختلفوا‘‘ نہیں فرمایا۔ مطلب یہ کہ اختلاف کا مٹنا تو ممکن نہیں، البتہ اختلافات کو تحزب وتفرق کا ذریعہ مت بناؤ۔ ایک دوسرے موقع پر یوں ارشاد ہوتاہے ’’ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقاناً‘‘ یعنی دلوں میں اللہ کاڈر رکھنے والے اور خود کو برائی سے دور رکھنے میں سنجیدہ افراد ’’تقویٰ ‘‘ کی پونجی بڑھاتے جائیں ، اللہ اختلافات میں امتیاز کی قوت عطاے فرمائے گا۔ یہ تقویٰ کیاہے؟ چھوٹے بڑے ، کھلے چھپے، حقوق اللہ وحقوق العباد اور اعضاوقلب کے گناہوں سے بچنا۔ ایسی صفات والاشخص کبھی اختلافات میں نہ الجھے گا۔ 
اب یہ تقویٰ حاصل کیسے ہو؟ ایک موقع پر یوں ارشاد ہوتاہے: ’’یا ایہاالذین اٰمنو اتقوا اللہ وکونو مع الصادقین‘‘ یعنی ان لوگوں کی معیت اختیار کی جائے جو زبان، دل ، عقیدہ، فکروعمل اورکردار کے سچے ہیں ۔ قرآن کی مطلوب ان صفات کواپنے میں پیدا کرنے والے فرقہ واریت جیسے سنگین گناہ میں مبتلا ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ شریعت اسلام میں مجبوری کی حالت میں خنزیر کا گوشت کھانا تو حلال ہو سکتا ہے مگر فرقہ واریت اور تفرقہ بازی کسی صورت جائز قرار نہیں دی جا سکتی۔ 

خیبر پختون خوا میں سود کی ترویج کی ایک مذموم کوشش ۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کا موقف؟

محمد مشتاق احمد

قرآنِ کریم نے صراحتاً سودخوروں کے خلاف اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے اعلانِ جنگ کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا اور بعد میں وہاں کے لوگوں نے دار الاسلام کا حصہ بننے کے لیے شرائط رکھیں تو آپ نے ان کی ہر شرط قبول کی ، سواے اس شرط کے کہ وہ سودی لین دین برقرار رکھیں گے۔ اسی طرح اہلِ خیبر اور اہل ِ نجران کے لیے شرط رکھی تھی کہ وہ سودی لین دین نہیں کریں گے۔ اسی بنا پر فقہاے کرام نے قرار دیا ہے کہ دار الاسلام میں سودی لین دین کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی ، یہاں تک کہ غیر مسلموں کے ساتھ کیے گئے معاہدات میں بھی اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امام سرخسی نے اس قاعدے کی تصریح کی ہے : الربا مستثنیً من کل عھد۔ چنانچہ کسی خطے کو دار الاسلام قرار دینے کی کم سے کم شرائط میں ایک یہ ہے کہ وہاں قانوناً سودی لین دین کی ممانعت ہو۔ 
وطنِ عزیز میں آبادی کی انتہائی غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے ؛ اسلامی شریعت کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش خود کو مسلمان کہلوانے والوں کی ذمہ داری ہے ؛ اسی لیے پاکستان کے دستور کی دفعہ 227 میں واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں اسلامی قانون سے متصادم قانون نہیں بنایا جائے گا اور یہ کہ موجود تمام قوانین کو بھی اسلامی قانون سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ ان دستوری وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دستور کی رو سے اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کے ادارے قائم کیے گئے ہیں جن کی کاوشوں کے نتیجے میں کئی قوانین میں غیراسلامی دفعات کو ختم کیا گیا ہے۔ تاہم بعض غیر اسلامی قوانین اب بھی مختلف وجوہات کی بنا پر اس ملک میں رائج ہیں اور ان میں سب سے زیادہ سنگین مسئلہ ان قوانین کا ہے جو سود اور سودی نظام کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ 
مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال نے جب قائدِ اعظم محمد علی جناح کو انگلستان سے واپس آکر مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے کے لیے خطوط لکھے تو ان میں خصوصاً اس بات کا ذکر کیا کہ مسلمانوں کی معیشت پر ہندوساہوکار نے سود کے ذریعے قبضہ کیا ہوا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد 1948ء میں جب قائدِ اعظم نے اسٹیٹ بینک کا افتتاح کیا تو اسلامی معاشی نظام کے لیے کام کرنے پر خصوصی زور دیا۔ اس کے باوجود پاکستان میں نہ صرف بینکوں کے ذریعے اور حکومتی سطح پر سود کا آسیب مسلط رہا ہے ، بلکہ انفرادی اور نجی سطح پر بھی قانونی طور پر سود وصول کرنے کی اجازت ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم قانون "مغربی پاکستان نجی سودی قرضوں کا آرڈی نینس" (West Pakistan Moneylenders Ordinance 1960) ہے جس کے ذریعے نجی قرضوں پر بھی ساڑھے سات فی صد سالانہ تک شرحِ سود جائز قرار دیا گیا ہے۔ 

نجی قرضوں پر سود کے امتناع کا قانون 2007ء

اگرچہ حکومتی یا بینکوں کے سود کو بھی عملی مشکلات کے لولے لنگڑے عذر کی بنا پر کسی طور پر جواز نہیں دیا جاسکتا ، لیکن نجی سودی کاروبار کی ممانعت کی راہ میں آخر کیا رکاوٹ ہے ؟ ہمیں اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب 2005ء میں میرے والد گرامی جناب اکرام اللہ شاہد صاحب نے ، جو اس وقت صوبائی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر تھے ،اسمبلی میں نجی قرضوں پر سود کے خاتمے کے لیے ایک بل پیش کیا۔اس وقت صوبہ سرحد میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد ، متحدہ مجلسِ عمل ، کی حکومت تھی ؛ اس لیے توقع یہ تھی کہ یہ بل فوراً ہی قانون بن جائے گا لیکن مختلف حیلوں بہانوں سے اسے دو سال تک لٹکائے رکھا گیا اور یہ بل دو سال تک محکمہ قانون، محکمہ خزانہ اور محکمہ داخلہ کے پاس رہا لیکن ان دو سالوں میں ان محکموں کی جانب سے اسمبلی سیکرٹریٹ کو کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ بالآخر والد صاحب کی بھرپور کوششوں کے بعد جولائی 2007ء میں اسمبلی نے اسے بالاتفاق منظور کرلیا۔ اس قانون کی رو سے نہ صرف 1960ء کے اس قانون کو منسوخ کیا گیا جس کی رو سے نجی قرضوں پر سود کی اجازت دی گئی تھی ، بلکہ اس فعل کو قابلِ دست اندازیِ پولیس اور ناقابلِ ضمانت اور ناقابل ِ صلح جرم قرار دیا گیا۔ اسی نوعیت کا ایک قانون پنجاب اسمبلی نے بھی منظور کیا۔

سیاسی جماعتوں کا کردار 

جیسا کہ عرض کیا گیا ، مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت کے باوجود اس قانون کی منظوری میں عدم دلچسپی کا یہ عالم رہا کہ اسے منظور ہونے میں دو سال کا عرصہ لگ گیا۔ اس قانون کی منظوری کے چند مہینے بعد اکتوبر 2007ء4 میں حکومت کی مدت پوری ہوگئی۔ 
2008ء میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت آگئی۔ بعض عوامل کی وجہ سے ، جن کا ذکر غیر ضروری ہے ، حکومت نے کبھی اس قانون کو عملاً نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے قانونی طور پر جرم قرار دیے جانے کے بعد بھی سودی لین دین کا سلسلہ بلا روک ٹوک کے جاری رہا۔ 2012ء میں عدالتِ عالیہ پشاور کے بعض احکامات کی بنا پر ، جن کا ذکر آگے آئے گا ، حکومت کو اس قانون کے خاتمے کے لیے کوشش کرنے کا موقع ملا۔چنانچہ ایک مسودۂ قانون Khyber۔Pukhtunkwa Prohibition of Usurious Loans Bill 2013 اس مقصد کے لیے بنایا گیا اور اسے 7 مارچ 2013ء کو اسمبلی میں پیش بھی کیا گیا لیکن اس کی منظوری سے قبل ہی حکومت کی مدت پوری ہو گئی۔ 
پاکستان تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کی نئی حکومت پر عدلیہ کی جانب سے دباؤ برقرار رہا۔ نومبر 2013ء میں اسلام آباد میں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے مسلح تصادم اور اندرونی خلفشار کی صورتوں میں طبی سہولیات کے تحفظ کے لیے ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماے کرام کو گفتگو کے لیے بلایا گیا۔ اس سیمینار میں ایک مقالہ میں نے بھی پیش کیا۔ اس سیمینار میں میری ملاقات جناب مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمان صاحب سے ہوئی جن کا تعلق میرے ہی شہر مردان سے ہے۔ ڈاکٹر صاحب جماعتِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین جناب مولانا گوہر رحمان کے فرزند ہیں اور مردان سے جماعتِ اسلامی کے ایم این اے بھی رہے ہیں۔ ایم ایم اے کی صوبائی حکومت کے دور میں وہ "نفاذِ شریعت کونسل " کے رکن بھی رہے اور سنجیدہ اور فہمیدہ اہلِ علم و سیاست میں شمار ہوتے ہیں۔ 
ڈاکٹر عطاء الرحمان صاحب نے مجھے بتایا کہ نجی سودی قرضوں کی لعنت کے خاتمے کے لیے عدالتِ عالیہ پشاور نے سخت احکامات جاری کیے ہیں اور حکومت پر لازم کیا ہے کہ وہ اس قبیح فعل کو قانونی طور پر جرم قرار دے۔ ڈاکٹر صاحب اس ضمن میں مجھ سے مدد کے خواہاں تھے اور ان کا کہنا تھا کہ جناب سراج الحق صاحب نے انھیں اس سلسلے میں اہلِ علم سے رابطے کے لیے کہا ہے۔ مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی اور میں نے انھیں بتایا کہ جب اخبارات میں جناب چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے ریمارکس میں نے پڑھے تھے تو مجھے دھچکا لگا تھا کیونکہ صوبہ خیبر پختون خوا میں تو پہلے ہی سے یہ فعل قانوناً جرم ہے ؛ اور مجھے مزید حیرت آج اس لیے ہورہی ہے کہ آپ کو بھی اس کا علم نہیں ہے جبکہ آپ نفاذِ شریعت کونسل کے رکن تھے اور سراج صاحب کو بھی اس کا علم نہیں جبکہ وہ اس وقت بھی سینئر وزیر اور وزیرِ خزانہ تھے اور آج بھی ہیں ! ڈاکٹر صاحب کو بھی حیرت ہوئی اور کئی بار پوچھا کہ کیا واقعی یہ قانون ہے ؟ میں نے اسی وقت اپنا لیپ ٹاپ کھول کے اس قانون کا مسودہ ا نھیں یو ایس بی میں دے دیا۔ 
جنوری 2014 ء میں روزنامہ "ایکسپریس" کے کالم نگار جناب شاہد حمید کے کالم کے ذریعے معلوم ہوا کہ موجودہ صوبائی حکومت اسی مسودۂ قانون کو منظوری کے لیے پیش کرنے جارہی ہے جو عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے تیار کیا تھا اور جس کا مقصد نجی سودی لین دین کو ایک دفعہ پھر جواز دینا تھا۔ ڈاکٹر عطاء الرحمان اور سراج الحق صاحب کے متعلق حسنِ ظن کی بنا پر مجھے اس پر یقین نہیں آیا۔ اگلے کالم میں جناب شاہد حمید نے صوبائی حکومت کے ذمہ داران کے ایک خط کا ذکر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت 2007 کے قانون کو مزید موثر بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ مجھے بھی اس پر یقین کرنا پڑا تاآنکہ پچھلے ہفتے والد صاحب نے مجھے وہ مسودۂ قانون دے دیا جسے صوبائی سمبلی میں پیش کیا گیا ہے۔ اس مسودۂ قانون پر جناب سراج الحق صاحب کے دستخط بحیثیت منسٹر انچارج کے ثبت ہیں جو انھوں نے 14 اپریل 2014ء کو کیے ہیں ، یعنی جماعت اسلامی کے امیر کا حلف اٹھانے کے بعد پہلے ہفتے میں۔ 
یہ مسودۂ قانون وہی ہے جو 2013ء میں عوامی نیشنل پارٹی نے پیش کیا تھا؛ صرف 2013ء کو 2014 کردیا گیا ہے۔ یہ مسودۂ قانون نجی سودی لین دین پر پابندی کو موثر بنانے کے لیے نہیں ، بلکہ سودی کاروبار کے احیا کے لیے بنایا گیا ہے۔ اگر یہ قانون بنا تو صوبہ خیبر پختون خوا میں ایک دفعہ پھر نجی قرضوں پر سود کو قانونی طور پر جواز مل جائے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ 124 ارکان پر مشتمل صوبائی اسمبلی میں، جن میں جمعیت علماے اسلام کے 16 اور جماعت اسلامی کے 8 ارکان بھی ہیں، کسی ایک رکن کو بھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اس کا ایک مرتبہ سرسری مطالعہ ہی کرلیتا۔ ہمارے علم کی حد تک کسی رکن اسمبلی نے آج تک اسمبلی سیکرٹریٹ میں بھی اس بل کی کسی شق پر کوئی اعتراض پیش نہیں کیا گیا۔ 
ذیل میں اس مجوزہ قانون کی بعض شقوں پر تبصرہ پیش کیا جارہا ہے لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ اس ضمن میں عدالتِ عالیہ پشاور کے احکامات کا بھی جائزہ لیا جائے کیونکہ عدالتِ عالیہ کے احکامات کو ہی اس مجوزہ قانون کی بنیاد کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ 

عدالتِ عالیہ پشاور کے احکامات 

2012ء میں ایک از خود نوٹس کی سماعت کے دوران میں عدالتِ عالیہ پشاور کے اس وقت کے چیف جسٹس جناب جسٹس دوست محمد خان نے اس امر پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ نجی قرضوں پر نہایت ظالمانہ انداز میں سود وصول کیا جارہا ہے اور اس کی روک تھام میں حکومت اپنا کردار ادا نہیں کررہی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اور بینکوں کی سطح پر سود کے خاتمے کی راہ میں جو بھی رکاوٹیں ہوں ، نجی سودی کاروبار کا فوری خاتمہ ممکن ہے۔ جب اخبارات میں ان کے یہ ریمارکس آئے تو ابتدا میں مجھے یہی خیال آیا کہ شاید انھیں معلوم نہیں ہے اور نہ ہی انھیں ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا ہے کہ 2007ء میں نجی سودی کاروبار کو قانونی جرم قرار دیا گیا ہے۔ تاہم عدالتِ عالیہ کے متعلقہ آرڈر شیٹ نکال لینے کے بعد معلوم یہ ہوا کہ وہ اس قانون کو مزید موثر بنانا چاہتے تھے اور اسی مقصد سے انھوں نے حکومت کو احکامات جاری کیے تھے۔ 
تاہم چونکہ ان کے احکامات میں بار بار اس بات کا ذکر ہوا کہ نجی سود لینے والے لوگ بڑی ظالمانہ شرح سے سود وصول کررہے ہیں ، اس لیے بیوروکریسی نے ان احکامات کی تعبیر یہ کی کہ عدالتِ عالیہ چاہتی یہ ہے کہ نجی سودی کاروبار جاری رہے لیکن صرف "ظالمانہ شرحِ سود "ہی کو ممنوع قرار دیا جائے ! چنانچہ نیا مسودۂ قانون بنانے کے لیے مختلف محکموں کے سیکریٹریز کی جو میٹنگ ہوئی، اس کے منٹس میں یہی قرار دیا گیا ہے کہ 2007ء کا قانون اس لیے ختم کرنا چاہیے کہ اس نے "مناسب شرحِ سود" کو بھی ممنوع کردیا ہے؛ اور یہ کہ ایسا قانون ہونا چاہیے کہ مناسب شرحِ سود جائز ہو اور ظالمانہ شرحِ سود جرم ہو ! یہی "فلسفہ" اس مجوزہ قانون کے ایک ایک شق کی بنیاد ہے اور یہی اس مجوزہ قانون کی روح ہے۔
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اگر عدالتِ عالیہ کی مراد واقعتا وہی تھی جو بیوروکریسی نے سمجھی ہے تو عدالتِ عالیہ نے بھی نہ صرف اپنی دستوری ذمہ داری پوری کرنے سے گریز کیا ہے بلکہ اپنے دستوری اختیارات سے تجاوز بھی کیا ہے۔ دستور کی رو سے پاکستان میں شریعت سے متصادم قانون سازی نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے عدالتِ عالیہ حکومت کو یہ حکم نہیں دے سکتی تھی۔ اگر عدالتِ عالیہ کا موقف یہ ہے کہ قرآن و سنت کی رو سے صرف ظالمانہ شرحِ سود ہی حرام ہے تو اس موقف کی صحت و عدم صحت کی بحث جائے بغیر ، بہ صد ادب گزارش کی جاتی ہے کہ موجودہ نظام میں قرآن و سنت کی تعبیر کا اختیار عدالتِ عالیہ کے پاس نہیں ، بلکہ وفاقی شرعی عدالت کے پاس ہے۔ اگر عدالتِ عالیہ یہ اختیار حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے اسے عدالتِ عظمی کے کئی نظائر کے تبدیل ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ 
دوسری بات یہ ہے کہ دستور کی رو سے قانون سازی اسمبلی کا کام ہے ، نہ کہ عدالتِ عالیہ کا۔ ہاں ، جب اسمبلی قانون منظور کرے تو عدالتِ عالیہ اس کا جائزہ لے سکتی ہے کہ کہیں وہ دستور سے متصادم تو نہیں اور اس کے بعد وہ دستور سے تصادم کی حد تک اسے کالعدم بھی قرار دے سکتی ہے۔ عدالتِ عالیہ کسی موضوع پر قانون سازی کے لیے اسمبلی کو کہہ سکتی ہے لیکن عدالتِ عالیہ کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ قانون سازی کے خدوخال متعین کرکے اسمبلی کو ان کی پابندی پر مجبور کرے۔ 

مناسب یا ظالمانہ شرح سود 

مجوزہ قانون کی اساس یہ مفروضہ ہے ، جیسا کہ اس کے دیباچے کے دوسرے پیرا میں تصریح کی گئی ہے ، کہ "مناسب شرحِ سود" کے ساتھ سودی لین دین جائز ہے اور قانوناً صرف "ظالمانہ شرحِ سود " کی ممانعت ہونی چاہیے۔ 
چنانچہ دفعہ 3 ( 1) کی رو سے " محض سود " نہیں بلکہ " ظالمانہ سود " کی وصولی کو ہی جرم قرار دیا گیا۔ اول الذکر کو interest اور ثانی الذکر کو usurious interest سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس ظالمانہ سود کی تعریف دفعہ 2 (این) میں یہ پیش کی گئی ہے کہ وہ سود جو " بینک ریٹ " سے زائد کی شرح پر وصول کیا جائے۔ پھر دفعہ 2 (اے) میں Karachi Inter۔bank Offer Rate (KIBOR) سے تین فیصد زائد کو بینک ریٹ قرار دیا گیا ہے۔ آگے کئی دفعات میں " بینک ریٹ سے زائد " کی ترکیب استعمال کی گئی ہے ؛ جیسے دفعات 6 ، 7 اور 13۔ سوال یہ ہے کہ کیا دستخط کرنے سے پہلے ہمارے محترم وزیرِ خزانہ اور نو منتخب امیرِ جماعتِ اسلامی کی نظر ان دفعات پر نہیں پڑی تھی ؟ 
یہاں اس بات کی طرف بھی توجہ دلانی ہے کہ "مناسب " اور "ظالمانہ" شرحِ سود کے تصورات سرمایہ دارانہ نظام سے درآمد کیے گئے ہیں اور مسلمان و غیر مسلم اہل علم نے اس پر بہت کچھ لکھا ہے۔ مولانا مودودی نے بھی اپنی کتاب "سود" میں شرحِ سود کی "معقولیت " پر تفصیلی تنقید کی ہے اور مجھے یقین ہے کہ محترم نومنتخب امیرِ جماعتِ اسلامی نے وہ بحث ضرور پڑھی ہوگی۔ پاکستان میں "مناسب شرحِ سود " کے تعین کے لیے 1959ء میں ایک آرڈی نینس West Pakistan Usurious Loans Ordinance 1959 لایاگیا تھا جس کی رو سے عدالت کو اختیار دیا گیا تھا کہ اگر کسی مقدمے میں وہ محسوس کرے کہ شرح سود " ظالمانہ" ہے تو وہ اسے "مناسب" حد تک لے آئے اور اس ضمن میں مناسب حد کے تعین کے لیے بینک ریٹ کا حوالہ دیا گیا تھا۔ 1960ء میں نجی سودی قرضوں کے آرڈی نینس West Pakistan Moneylenders Ordinance 1960 نے اس چکر میں جانے سے روکنے کے لیے نجی قرضوں کے لیے شرح سود کی زیادہ سے زیادہ حد ساڑھے سات فیصد سالانہ تک مقرر کرلی۔ 2007ء کے قانون کے ذریعے یہ سود کلیتاً ممنوع قرار دیا گیا۔ اس نئے مجوزہ قانون کے ذریعے ایک بار پھر اس سود کو قانوناً زندہ کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔ 

کیا عدالت راس المال کی ادائیگی معاف کرسکتی ہے؟ 

عدالتِ عالیہ پشاور نے اپنے ایک آرڈر میں قرار دیا تھا کہ نئے قانون میں عدالت کے پاس کا اختیار ہونا چاہیے کہ وہ بطورِ سزا راس المال کی ضبطی کے احکامات جاری کرسکے۔ مجوزہ قانون کا مسودہ بنانے والے اس سے بھی ایک قدم آگے گئے۔ چنانچہ مجوزہ قانون کی دفعہ 10 میں قرار دیا گیا ہے کہ عدالت کو اگر معلوم ہو کہ قرض خواہ مقروض کو تنگ کررہا ہے تو وہ بطورِ سزا یہ کرسکتی ہے کہ راس المال کو بحقِ سرکار ضبط کرلے ، یا مقروض کو باقی ماندہ راس المال کی ادائیگی معاف کردے ! 
سوال یہ ہے کہ شرعاً کیا عدالت راس المال ضبط کرسکتی ہے ؟ عدالتِ عالیہ کے پاس تعبیرِ شریعت کا اختیار کہاں سے آگیا؟ نیز عدالت کس قاعدے کے تحت مقروض کو راس المال کی ادائیگی معاف کرسکتی ہے ؟ فقہی لحاظ سے تو سودی معاہدہ " عقدِ فاسد" ہے جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ رقم دینے والے کو اس کا اصل زر لوٹایا جائے گا ؛ مقروض کسی طور بھی اصل زر کی ادائیگی سے انکار نہیں کرسکتا ؛ نہ ہی عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی اور کا حق معاف کرے۔ امام سرخسی نے اس قاعدے کی تصریح کی ہے : لیس للامام ولایۃ اسقاط حق العبد۔ قرآنِ کریم کی نصِ صریح ہے : و ان تبتم فلکم رؤوس اموالکم، لا تَظلمون و لا تْظلمون۔ (سورۃ البقرۃ ، آیت 279) اس آخری ٹکڑے پر نظر رہے : جس طرح قرض دینے والا اصل زر سے زائد کا مطالبہ کرکے ظلم کرتا ہے ، اسی طرح مقروض اصل زر روک کر ظلم کرے گا۔مسئلہ بس یہی ہے ، اور کچھ نہیں کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے قانون سے گریز کرکے خود ہی ظلم اور عدل کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ 

دیگر قابلِ اعتراض دفعات 

اس مجوزہ قانون کی دیگر کئی دفعات بھی شرعاً ناقابلِ قبول ہیں ، بالخصوص دفعہ 2 ( جی ) میں جس طرح " قرض " کی تعریف پیش کی گئی ہے ، یا نجی قرضہ دینے والے کی جو تعریف دفعہ 2 (آئی) میں دی گئی ہے اسے کسی طور بھی قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اول الذکر کی رو سے بیعِ سلم ناجائز ہوجاتی ہے جبکہ "مناسب شرحِ سود " پر قرضہ جائز ہوجاتا ہے۔ ثانی الذکر کی رو سے صرف نجی قرضوں کا "کاروبار "کرنے والوں پر ہی اس قانون کا اطلاق ہوگا اور عام افراد اگر قرضہ دیں گے تو ان کو کھلی چھٹی ہوگی۔ 
خلاصہ بحث یہ ہے کہ یہ پورا مسودہ شریعت سے واضح طور پر متصادم ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ مسودۂ قانون واپس لیا جائے اور 2007 کے قانون کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک ایک نیا مسودہ لایا جائے تاکہ "ظالمانہ سودی قرضوں کے امتناع" کے نام پر ایک دفعہ پھر نجی قرضوں پر سود کو قانونی جواز نہ مل سکے۔ 

پس چہ باید کرد؟ 

اگر یہ قانون بن گیا تو پھر اس کا خاتمہ نہایت مشکل ہوجائے گا کیونکہ اس کے لیے یا تو اسمبلی سے پھر ایک نیا قانون منظور کروانا پڑے گا ؛ اور یا پھر اسے عدالتِ عالیہ کے ذریعے دستور کے ساتھ تصادم کی بنیاد پر ، اور یا وفاقی شرعی عدالت سے قرآن وسنت کے ساتھ تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار دینا پڑے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں ہی راستے نہایت طویل اور دشوار گزار ہیں۔ 
اس لیے دینی حمیت رکھنے والے تمام افراد کی ذمہ داری ہے کہ جماعتی تعصبات سیبالاتر ہو کر اس مسود? قانون کو منظور ہونے سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اسی جذبے کے تحت میں نے اپنے استادِ محترم پروفیسر عمران احسن خان نیازی کے ذریعے پاکستان تحریکِ انصاف کے ذمہ داران سے رابطہ کرکے ان کے سامنے اس مسودے کا شق وار جائزہ پیش کیا جس کے بعد انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ یہ مسودہ ایک کمیٹی کے سامنے پیش کریں گے اور مجھے اس کمیٹی کے سامنے اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع دیں گے۔ میں برادرم عمار خان ناصر کا بھی مشکور ہوں جنھوں نے "الشریعہ" کے فورم پر اس سنجیدہ اور فوری نوعیت کے مسئلے کو اہلِ علم کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ 
کیا مذہبی سیاسی جماعتیں اور اہل علم اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری کریں گے؟ 

جمہوری و مزاحمتی جدوجہد ۔ محمد رشید کے جواب میں

ڈاکٹر عبد الباری عتیقی

الشریعہ اپریل ۲۰۱۴ء کے شمارے میں محمد رشید صاحب کا مضمون ’ جمہوری و مزاحمتی جدوجہد‘ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ فاضل مضمون نگار نے اس میں انتہائی وضاحت سے اور لگی لپٹی رکھے بغیر اپنا اور دوسرے جہادی و انقلابی لوگوں کا نقطہ نظر بیان کردیا ہے۔ ہم اس نقطہ نظر کو اول تا آخر غلط سمجھتے ہیں اور اس غلطی کی وضاحت کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ 
فاضل مضمون نگار کی تحریر میں جہادی و انقلابی نقطہ نظر انتہائی وضاحت سے بیان کر دیے جانے کے باوجود پوری تحریر قرآن و حدیث کے دلائل سے مکمل طور پر تہی دامن نظر آتی ہے۔ پوری تحریر واضح طور پر محض جذبات کی شاعری کا اظہار ہے۔ اس بات کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ یہ پورا نقطہ نظر اصلاً قرآن و حدیث کی تعلیمات پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس نقطہ نظر کے حاملین کی اپنی خواہشات، پر جوش ذہنیت، رد عمل کی نفسیات ، نام نہاد غیرت اور اسی طرح کے کچھ دوسرے جذبات پر مبنی ہے۔ فاضل مضمون نگار بھی بس علامہ اقبالؒ کے کچھ زبان زد عام اشعار ہی کو استدلال کے طور پر پیش کرسکے ہیں۔ ہماری نظر میں دور حاضر کی اس جہادی اور انقلابی فکر کی اصل خامی ہی یہی ہے کہ یہ فکر قرآن و سنت پر مبنی نہیں ہے بلکہ رد عمل کی نفسیات کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے۔ استعماری طاقتوں کے ظلم و ناانصافی پر مبنی اقدامات کو بنیاد بنا کر ہوش و حواس سے عاری اور قید شریعت سے آزاد جذبات پر مبنی تباہ کن تشدد اور دہشت گردی کو ’مزاحمت‘ اور ’جہاد‘ کا عنوان دے دیا جاتا ہے۔ 
اس پر مستزاد یہ کہ خود فاضل مضمون نگار کے اعتراف کے مطابق اسلام کے پیروکاروں کی عظیم اکثریت اوربہت سے مذہبی قائدین اور محترم علمائے دین جمہوریت اور پر امن جدو جہد کے قائل ہیں تو پھر آپ آخر کس کا اتباع کر رہے ہیں ؟ خود علامہ اقبالؒ جن کے اشعار بہت دہرائے جاتے ہیں ، ان کی پوری زندگی برطانوی استعمار کے خلاف پر امن اور آئنی اور قانونی جدوجہد کی آئینہ دار ہے۔ علامہ اقبال ؒ کی پوری زندگی میں مسلح جدوجہد اور مزاحمت کانام و نشان نہیں ملتا۔ ۱۹۲۰ء کے بعد سے بر صغیر پاک و ہند کے ہرمکتب فکر کے تما م قابل ذکر علما ئے کرام بھی اسی پر امن اور قانونی جدو جہد کے علم بردار رہے ہیں۔ بر صغیر پاک و ہند میں ’اسلامی انقلاب‘ کے ایک بہت بڑے داعی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’ غلطی سے تاریخ نگاروں نے غزوات کو اتنا نمایاں کر دیا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں عرب کا یہ انقلاب لڑائیوں سے ہوا۔ حالانکہ آٹھ سال کی تمام لڑائیوں میں جن سے عرب جیسی جنگجو قوم مسخر ہوئی ، طرفین کے جانی نقصان کی تعداد ہزار بارہ سو سے زیادہ نہیں ہے۔ انقلابات کی تاریخ اگر آپ کے پیش نظر ہے تو آپ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ انقلاب غیرخونی انقلا ب(bloodless revolution) کہے جانے کا مستحق ہے۔‘‘ (تحریک آزاد ی ہند اور مسلمان۲:۱۸۷) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جہادی و انقلابی فکر جس طرح قرآن و سنت کے دلائل سے محروم ہے اسی طرح اسلاف و اکابرین علما کی اجماعی حمایت سے بھی بڑی حدتک خالی ہے۔ 
فاضل مضمون نگار ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ : ’’ پہاڑوں پر رہنے والے آزاد اور بہادر مسلم قبائل ابلیسی قوتوں کے اس بہکاوے اور لالچ میں آنے سے جب انکار کرتے ہیں اور مغربی ابلیسیت کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں تو انہیں دہشت گرد قرار دے کر ان پر جنگ مسلط کر دی جاتی ہے۔‘‘ دوسری طرف وہ عالمی ابلیسی قوتوں کو یہ الزام دیتے ہیں کہ وہ جعلی جہاد اور جعلی مجاہدین کے ذریعے اصلی جہاد اور اصلی مجاہدین کو بدنام کر رہے ہیں ۔ اب یہ فیصلہ کیسے کیا جائے کہ کون جعلی مجاہد ہے اور کون اصلی؟ کون سی کاروائی جعلی مجاہدین کر رہے ہیں اور کون سی اصلی مجاہدین؟ ہماری رائے میں یہ بات صرف اس لیے کی جاتی ہے تاکہ شریعت کی قید سے آزاد اور نقل و عقل کے دلائل سے عاری اس مسلح جدو جہد کے اگر بظاہر کچھ اچھے پہلو اور مثبت نتائج ہوں تو ان کا کریڈٹ لے لیا جائے اور برے پہلوؤں اور منفی نتائج کو عالمی ابلیسی قوتوں اور جعلی مجاہدین کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ آج تک اس طرح کی کسی جہادی کاروائی کے متعلق متعین طور پر یہ نہیں بتایا جا سکا ہے کہ یہ کس ابلیسی قوت یا جعلی مجاہدین یا بیرونی طاقتوں کی کارستانی ہے۔ دہشت گردی کی کاروائیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے خیبر پختونخواہ میں پہلے پانچ سال ایم ایم اے کی حکومت رہی جو جہادیوں کی حامی سمجھی جاتی تھی اور آج بھی صوبے کی مخلوط حکومت جہادیوں کی کھلم کھلا حامی ہے۔ کیا اس دوران کبھی ایسا ہوا کہ کسی خود کش دھماکے یا دہشت گردی کے الزام میں ایسے لوگوں کو پکڑا گیا ہو جو ان ابلیسی قوتوں یا غیر ملکی ایجنسیوں کے ایما پر یہ کام کر رہے ہوں ۔ اس کے برعکس کم و بیش ہر کاروائی کی ذمہ داری جہاد ی گروہ کھلم کھلا قبول کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود جعلی مجاہدین، تیسرے ہاتھ اور بیرونی دشمنوں کا واویلا کیا کھلے جھوٹ کا درجہ نہیں رکھتا؟ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب مرکزی حکومت اور جہادیوں کے درمیان باقاعدہ مذاکرات شروع ہوئے اور جہادیوں نے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا توایسی تمام کاروائیاں مکمل طور پر بند رہیں۔ کہاں گئے جعلی مجاہدین اور کہاں گئیں ابلیسی قوتیں؟ 
انسانیت کی تاریخ میں جنگ و قتال بجا طور پر ہمیشہ ایک غیر مطلوب، اضطراری اور ہنگامی حالت رہی ہے اورامن و سکون کا زمانہ بالکل فطری، مطلوب اور مستقل چیز سمجھا جاتا رہا ہے۔ کسی بھی قسم کی تبدیلی کی جدوجہد کے لیے بھی یہی اصول فطری اور عین مطلوب ہے۔ مگر فاضل مضمون نگار نے جوش جذبات میں یہ ترتیب بالکل الٹ دی ہے۔ ان کے نزدیک اب جنگ و قتال اور مسلح جدو جہد عین فطری اور مستقل حالت قرار پائی ہے جبکہ پر امن دور اور پر امن جدو جہد اضطراری اور وقتی ’ٹول‘ قرار پایا ہے۔ 
جنگ کے اصلاً ایک غیر مطلوب حالت ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان دلیل ہے۔ عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جن ایام میں دشمنوں سے ملاقات ہوئی تو آپ نے انتظار کیا ، یہاں تک کہ آفتاب ڈھل گیا تو آپ ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا، اے لوگو! دشمنوں سے ملاقات کی تمنا مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے سلامتی مانگو ، لیکن جب دشمن سے سامنا ہوجائے تو پھر ثابت قدم رہو ، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا! الٰہی،کتاب کے نازل کرنے والے، بادل کے چلانے والے، لشکروں کو شکست دینے والے، ان کو شکست دے اور ہمیں ان پر غالب کر۔‘‘ (مسلم۲: ۲۰۳۶)
فاضل مضمون نگار فرماتے ہیں: ’’ ازل سے ایسا ہوتا رہا ہے کہ انسان کی انانیت، تکبر اور اس میں چھپا ہوا ابلیس اسے اپنے سے کمزوروں کا استحصال اور ان کا دائرہ حیات تنگ کرنے پر آمادہء پیکار کرتا رہا ہے۔ جس کا نہایت مسکت جواب قوانین فطرت کے عین مطابق ’مسلح بغاوت یا مسلح مزاحمت‘ کی صورت میں ہر دور کے نمرودوں اور فرعونوں کو ملتا رہا ہے۔‘‘ اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے، اور یہی تاثر دینا غالباَمقصود بھی ہے ، گویا نمروداور فرعون کے خلاف ان کی طرف بھیجے جانے والے رسولوں نے مسلح جدوجہد کی تھی اور جہاد و قتال کے ذریعے ان پر غلبہ پایا تھا۔ اور یہی وہ واحد منہاج ہے جو ہر دور کے ’نمرودوں‘ اور ’فرعونوں‘ کے خلاف اختیار کیا جانا چاہیے۔ قرآن مجید اس تاثر سے بالکل خالی ہے۔ نمرود کی طرف بھیجے جانے والے جلیل القدر رسول سیدنا ابراہیمؑ تھے۔ آپؑ کا تذکرہ قرآن کی کم و بیش ۲۵ سورتوں میں کیا گیا ہے مگر اشارۃََ بھی کہیںیہ ذکر نہیں کیا گیا کہ آپؑ نے نمرود کے خلاف کوئی مسلح جدوجہد کی تھی۔ اس کے برعکس آپؑ کی پوری جدوجہد واضح طور پر اول تا آخر دعوت و تبلیغ اور ہجرت پر مشتمل ہے۔ مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب سیوہارویؒ لکھتے ہیں: ’’ غرض حضرت ابراہیم ؑ نے سب سے پہلے اپنے والد آذرکو اسلام کی تلقین کی ،پیغام حق سنایا اور راہ مستقیم دکھائی۔اس کے بعد عوام اور جمہور کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور سب کو امر حق تسلیم کرانے کے لیے فطرت کے بہترین اصول و دلائل کو پیش فرمایا اور نرمی، شیریں کلامی مگر مضبوط و محکم اور روشن حجت و دلیل کے ساتھ ان پر حق کو واضح کیا اور سب سے آخر میں بادشاہ نمرود سے مناظرہ کیااور اس پرروشن کردیا کہ ربوبیت والوہیت کا حق صرف خدائے واحد ہی کے لیے سزاوار ہے اور بڑے سے بڑے شاہنشاہ کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس کی ہمسری کا دعویٰ کرے کیونکہ وہ اور کل دنیا اسی کی مخلوق ہے اور وجود و عدم کی قید و بند میں گرفتار ۔ مگر اس کے باوجود کہ بادشاہ آذر اور جمہور حضرت ابراہیم ؑ کے دلائل سے لاجواب تھے اور دلوں میں قائل بلکہ بتوں کے واقعہ میں تو زبان سے بھی اقرار کرنا پڑا کہ ابراہیم ؑ جو کچھ کہتا ہے وہی حق ہے اور صحیح و درست، تاہم ان میں سے کسی نے راہ مستقیم کو اختیار نہ کیا اور قبول حق سے منحرف ہی رہے۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس کے برعکس اپنی ندامت و ذلت سے متاثر ہو کر بہت زیادہ غیض و غضب میں آگئے اور بادشاہ سے رعایا تک سب نے متفقہ فیصلہ کر لیا کہ دیوتاؤں کی توہین اور باپ دادا کے دین کی مخالفت میں ابراہیم ؑ کو دہکتی آگ میں جلا دینا چاہیے کیونکہ ایسے سخت مجرم کی سزا یہی ہو سکتی ہے اور دیوتاؤں کی تحقیر کا انتقام اسی طرح لیا جاسکتا ہے ..... اس مرحلہ پر پہنچ کر ابراہیم ؑ کی جدوجہد کا معاملہ [نمرود کی حد تک ] ختم ہوگیا۔‘‘(قصص القرآن۱: ۱۵۰)
یہی معاملہ فرعون کی طرف بھیجے جانے والے جلیل القدر رسول سیدنا موسی ؑ کا ہے۔ آپؑ کا تذکرہ قرآن کی کم و بیش ۳۷ سورتوں کی سیکڑوں آیات میں کیا گیا ہے۔ فرعون کے تمام تر مظالم اور زیادتیوں کے باوجود اس کے خلاف کسی قسم کی مسلح جدو جہد کا سراغ نہیں ملتا۔ قرآن سے واضح ہے کہ سیدنا موسی ؑ فرعون کے خلاف ’مسلح بغاوت‘ کرنے کے لیے نہیں بھیجے گئے تھے بلکہ اسے اللہ کی بندگی کی دعوت پہنچانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کا مطالبہ کرنے پر مامور تھے۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہے کہ فرعون کا عبرت ناک انجام کسی ’مسلح مزاحمت‘ کے نتیجے میں نہیں بلکہ اس دعوت کو ٹھکرانے اور اللہ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرنے کے نتیجے میں براہ راست اللہ کی جانب سے عذاب مسلط کرنے سے ہوا تھا۔ہم اس حوالے سے صرف دو آیات پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں: ’’ جا، تو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ۔ اور دیکھو، تم میری یاد میں تقصیر نہکرنا۔ جاؤ تم دونوں فرعون کے پا س کہ وہ سرکش ہو گیا ہے۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا۔شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔‘‘ (طٰہٰ ۲۰: ۴۴۔۴۲) ’’ہم ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اسی آزمائش میں ڈال چکے ہیں ۔ ان کے پاس ایک نہایت شریف رسول آیا ، اور اس نے کہا، اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو۔ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے سامنے (اپنی ماموریت کی ) صریح سند پیش کرتا ہوں۔ اور میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں اس سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو۔ اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہو۔ آخرکار اس نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ مجرم ہیں ۔(جواب دیا گیا) اچھا تو راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑو۔ تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا۔ سمندر کو اس کے حال پر کھلا چھوڑ دے۔ یہ سارا لشکر غرق ہونے والا ہے۔‘‘ (الدخان ۴۴: ۲۴۔۱۷)قرآن کی اس واضح شہادت کے بعد فاضل مضمون نگار کا مندرجہ بالا بیا ن کس زمرے میں آتا ہے اس کا فیصلہ قارئین خود کرسکتے ہیں۔ اس پر اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ ’ خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں‘ کے ساتھ ساتھ رسولوں کی سیرت کو بھی ہم اپنے ہی خیالات کے آئینے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ 
ہم چاہتے ہیں کہ جہاد و قتال کا قرآنی و نبوی اسلوب بھی مختصراً یہاں بیان کردیں ۔ ’جہاد‘ ظلم و عدوان کے خلاف مسلمان ریاست کے مسلح اقدام کو کہتے ہیں۔ اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ جہاد کے اس حکم کے مخاطب مسلمان اپنی انفرادی حیثیت میں نہیں ہیں بلکہ ، جہاد قتال سے متعلق قرآن کی آیات کے اسلوب سے واضح ہے کہ، جہاد کا یہ حکم ان کو بحیثیت جماعت کے دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاد کا حق اور اختیار صرف مسلمانوں کے نظم اجتماعی(ریاست) کو حاصل ہے ۔کوئی فرد یا غیر ریاستی گروہ کسی حال میں بھی اس کا حق نہیں رکھتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پرارشاد فرمایا ہے کہ’’ مسلمانوں کا حکمران ان کی سپر ہے، قتال اسی کے پیچھے رہ کرکیا جاتاہے اور لوگ اپنے لیے اسی کی آڑ پکڑتے ہیں۔‘‘(بخاری، ۲۹۵۷)۔ دوسری بات یہ کہ یہ جہاد نہ خواہشات نفسانی کے لیے ہوتا ہے اور نہ ہی کسی قومی عصبیت و عداوت کے جذبے کے تحت۔ بلکہ یہ جہاد، فی سبیل اللہ  کی قید سے واضح ہے کہ، محض اللہ کے لیے ہوتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ اللہ کی راہ میں یہ قتال اخلاقی حدود سے بے پروا ہو کر نہیں کیا جاسکتا۔کسی قسم کی زیادتی، عہد شکنی، تکبر و نمائش، غیر مقاتلین اور عورتوں اور بچوں کا قتل ،آگ میں جلانا، لوٹ مار، مثلہ، راستوں کو تنگ کرنا وہ چیزیں ہیں جن کا ارتکاب کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے،’’ جو تم پر زیادتی کریں ، تم بھی ا ن کی اس زیادتی کے برابر ہی انہیں جواب دواور اللہ سے ڈرتے رہواور جان لو کہ اللہ ان کے ساتھ ہے جو اس کی حدود کی پابندی کرتے ہیں۔‘‘ (البقرہ ۲: ۱۹۴) یہ جہاد ہے اور جب یہ صبر وثبات، ایک خاص حد تک مادی طاقت اور بھرپور ایمانی قوت کے ساتھ کیا جائے تو اللہ کی نصرت بھی شامل حال ہو جاتی ہے۔ اب ہر شخص بچشم سر دیکھ سکتا ہے کہ آج کی ’جہادی‘ اور ’مزاحمتی‘ سرگرمیوں میں کس حدتک ان آداب و شرائط کی پابندی کی جاتی ہے۔ یہاں تو عملاً حال یہ ہے کہ ،
بادۂ عصیاں سے دامن تر بہ تر ہے شیخ کا
اس پہ دعویٰ ہے کہ اصلاحِ دو عالم ہم سے ہے
ہم فلسفیانہ اور پیچیدہ مباحث سے بچتے ہوئے ’جمہوریت‘ کے بارے میں بھی سادہ انداز میں کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جمہوریت کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ عوام کے اجتماعی معاملات کو چلانے کے لیے عوام کی اکثریت کی رائے پر عمل کیا جائے۔ ہماری نظر میں یہ نہ صرف انتہائی فطری اور واحد قابل عمل طریقہ ہے بلکہ دین کے تقاضوں کے بھی عین مطابق ہے۔ قرآن کا حکم امرھم شوریٰ بینھم  اسی کا بیان ہے۔ اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ مسلمانوں کے معاملات انکے مشورے /رائے سے چلائے جانے چاہییں ۔اس حکم کا تقاضہ محض یہ نہیں ہے کہ ان سے رسمی طور پر مشورہ کر لیا جائے بلکہ ان کے مشورہ کے مطابق ہی فیصلہ بھی کیا جائے۔ اور یہ مشورہ بھی کسی خاص طبقے یا گروہ تک محدود نہ ہو بلکہ تمام لوگوں کو مشورے/رائے کا یکساں حق دیا جائے۔ اسی کا نام جمہوریت ہے۔ یہاں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ ایسا نہیں ہے کہ اسلام نے ’خلافت‘ کے نام سے کوئی مخصوص سیاسی نظام قائم کیا ہے۔ اسلام نے تو امرھم شوریٰ بینھم  کا اصول دیا ہے جس میں حکمرانوں کا نصب و عزل بھی اور باقی اجتماعی معاملات بھی لوگوں کی مرضی سے طے کیے جاتے ہیں۔ خلافت راشدہ میں بھی یہی اصول کارفرما رہا اور تمام خلفائے راشدین اصلاََ لوگوں کی مرضی سے ہی حکمران بنے،چاہے اس اصول پر عمل درآمد کا عملی طریقہ ہر دفعہ مختلف ہی رہا ہو۔ حتی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے بھی اپنی نامزدگی کے باوجود لوگوں کی آزاد مرضی کے بعد ہی اس ذمہ داری کو قبول کیا تھا۔ لہٰذا یہ سمجھنا کسی صورت درست نہیں ہے کہ جمہوریت، خلافت کا متبادل یا اس کے بالمقابل کوئی نظام ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یہی دین کا عین تقاضا ہے۔
جمہوریت کا متبادل صرف اور صرف آمریت ہے۔ یعنی محض طاقت کے بل بوتے پرعوام کے حق حکمرانی کو غصب کر لینا۔ اگر اس اصول کو مان لیا جائے تو جس طرح آج ’خلافت‘ کے مدعی اقلیت میں ہونے کے باوجود طاقت اور جبر کی بنیاد پر اپنا غلبہ حق بجانب سمجھتے ہیں ،اسی طرح کل کوئی مغرب زدہ یا کمیونسٹ اقلیت یا کسی اقلیتی مسلک کے ماننے والے بھی اگر طاقت حاصل کرلیتے ہیں تو کیا آپ انہیں یہ حق دینے کے لیے تیار ہیں کہ و ہ بالجبر آپ پر مسلط ہوجائیں۔ طاقت کے قانون کے اس اصول کو اگر مان لیا جائے تو اس کا نتیجہ مستقل انتشار اور انارکی کے سوا اور کیا نکل سکتا ہے۔ 
جمہوریت کو خلاف اسلام سمجھنے والے قرآن کی چند آیات سے استدلال کرتے ہیں۔ جن میں یہ کہا گیا ہے کہ اکثریت کی پیروی نہ کرو کیونکہ اکثریت گمراہ ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ایک آیت یہ ہے، ’’ اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہنا مان لو گے تو وہ تمہیں خد اکا رستہ بھلا دیں گے ۔ یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔‘‘ ( الانعام ۶: ۱۱۶) اس آیت اور اس مفہوم کی دوسری آیات سے واضح ہے کہ یہاں ا ن لوگوں کا ذکر ہورہا ہے جو رسول کے منکرین ہیں اور جانتے بوجھتے رسول کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ رسولوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے لوگ عموماََ اکثریت میں رہے ہیں اور رسولوں پر ایک قلیل تعداد ہی ایمان لاتی ہے۔ رسولوں اور ان کے ماننے والوں کو منکرین اور معاندین کی اس اکثریت کی پیروی سے منع کیا جارہا ہے۔ اس بات کا اس سے کیا تعلق ہے کہ جب رسول کے ماننے والے ایک معاشرہ منظم کر لیں تو اب کے معاملات ان ہی کی اکثریت کی رائے سے چلائے جائیں۔ 
یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اکثریت کی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اکثریت حق و باطل کا معیار بن گئی ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ اکثریت کی رائے ہمیشہ صحیح ہوتی ہے۔ صحیح اور غلط کا معیار تو صرف دلیل ہے۔ اکثریت کی رائے تو اصل میں فصلِ نزاعات کا ایک طریقہ ہے۔ بلکہ صحیح تر الفاظ میں واحد قابل عمل او ر دوسرے تمام ممکنہ طریقوں کے مقابلے میں سب سے بہتر اور کم نقصان دہ طریقہ ہے۔ اگر فیصلہ سازوں کے درمیا ن رائے کا اختلاف ہو جائے تو فیصلہ کرنے کا اس کے سوا کیا مہذب راستہ باقی بچتا ہے کہ اکثریت کی رائے کے مطابق فیصلہ کر لیا جائے۔ اس کے سوا تمام طریقے انتشار اور انارکی پر منتج ہوتے ہیں۔ اس بات کو ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
فرض کیجیے فیصلہ سازوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کسی تعلیمی ادارے میں مخلوط تعلیم کا انتظام کیا جائے یا لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ انتظام کیا جائے۔ فیصلہ ساز دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہیں ۔ قلیل گروہ کی رائے یہ ہے کہ دین کی تعلیمات کسی صورت مخلوط نظام کی اجازت نہیں دیتیں۔ کثیر گروہ کی رائے میں دین ہی کی تعلیمات کی روشنی میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ شائستگی اور وقار کے ساتھ حدود کے اندر رہتے ہوئے مخلوط نظام کو قبول کیا جاسکتا ہے۔ اب قطع نظر اس سے کہ صحیح رائے کس گروہ کی ہے ، فیصلہ کی فطری بنیاد اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ اکثریت کی رائے کے مطابق فیصلہ کرلیا جائے۔ یہ کسی صورت باطل کی پیروی نہیں ہے۔ اس طریقے میں یہ امکان بہرحال موجود ہے کہ غلط فیصلہ عمل میں آجائے۔ لیکن ساتھ ہی یہ راستہ بھی کھلا ہے کہ قلیل گروہ دلائل سے کثیر گروہ کو اپنی رائے کے حق میں قائل کرلے اور فیصلہ ا س رائے کے حق میں تبدیل ہوجائے۔ 
غلط فیصلہ ہو جانے کا امکان اگر کوئی نقص ہے تو یہ نقص آپ کے مفروضہ ’خلافت‘ کے نظام میں بھی بعینہِ موجود ہے۔ خلیفہ یا اس کی شوریٰ پر وحی تو نازل ہوگی نہیں۔ تمام تر تقویٰ اور تدین کے باوجود وہ ہونگے تو بہرحال انسان ہی، جن سے ہر وقت خطا کا وقوع ممکن ہے۔ یہ خطا فیصلوں میں بھی ممکن ہے اور بالکل اسی طرح ممکن ہے جس طرح جمہوریت میں ۔ سیدناعمرؓ نے ایک موقع پر مہر کی تحدید کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن ایک خاتون کے توجہ دلانے پرآپؓ نے اس فیصلہ کو غلط مانتے ہوئے واپس لے لیا۔ بہت ممکن تھا کہ بعد میں کسی دوسرے فرد کے توجہ دلانے پریا خود ہی اپنی رائے تبدیل ہوجانے پر سیدنا عمرؓ پھر پہلی رائے کے قائل ہوجاتے۔ کیونکہ یہ رائے تو بہر حال موجود ہے کہ حکمران مخصو ص حالات میں مہر کی تحدید کا اختیار رکھتا ہے۔ مختصراً یہ کہ جب ’خلافت‘ کے نظام میں بھی غلط فیصلے ہو سکتے ہیں اور ان کی اصلاح کے لیے کوئی انتظام بنانا پڑ سکتا ہے تو یہی انتظام ’جمہوریت ‘ میں بھی ہو سکتا ہے۔
جمہوریت کا ایک اور نقص یہ بتایا جاتا ہے کہ اس میں ایک فرد ایک ووٹ کا نظام ہوتا ہے جو انتہائی غیر فطری، غیرمنصفانہ اور بیہودہ طریقہ ہے۔ آخر ایک جاہل ، گنوار، غیر متقی فرد کی رائے ایک عالم، متقی ،ذہین اور قابل فرد کی رائے کے برابر کیسے ہو سکتی ہے؟ ہماری رائے میں یہ نقطہ نظر بھی مغالطوں پر مبنی ہے۔شریعت اور فقہ دونوں کی نظر میں قانونی طور پر ہر مسلمان برابر ہے۔ اللہ کی نظر میں اور آخرت میں اجرکے لحاظ سے لوگوں کے درجات جو بھی ہوں، قانونی حقوق و فرائض کے لحاظ سے سب برابر ہیں۔لہٰذا سب کا ووٹ/مشورہ/رائے بھی برابر ہے۔ قرآن مجید کے حکم امرھم شوریٰ بینھم کا لازمی تقاضہ ہے کہ جن لوگوں کے معاملات ہوں ان سب کی رائے فیصلہ میں شامل ہو۔ اگر مثلاََ پاکستان کا حکمران بنانے کا معاملہ ۱۸ کروڑ لوگوں سے متعلق ہے تو لازماً ۱۸ کروڑ لوگوں کی رائے سے ہی فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ آخر کسی محدود طبقے یا گروہ کو یہ حق کیسے اور کس اصول کے تحت دیا جائے کہ وہ ۱۸ کروڑ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ خود کردیں؟ یہ یقینی طور پر امرھم شوریٰ بینھم  کے اصول کی خلاف ورزی ہوگی۔ اور فرض کریں آپ یہ حق،مثال کے طور پر، علما کے طبقے کو دیتے ہیں کہ وہ ۱۸ کروڑ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ محض اپنی رائے سے کریں تو یہ اعتراض پھر اٹھتا ہے کہ علما بھی عمر، علم، تقویٰ اور اہلیت کے لحاظ سے مختلف درجوں کے ہونگے تو ان سب کی رائے یا ووٹ کیوں برابر ہو؟ ایک عالم آج درس نظامی کی تکمیل کر کے فارغ ہوا ہے اور دوسرا عالم ۳۰ سال پہلے عالم بنا تھا اور تخصص کر کے آج شیخ القرآن، شیخ الحدیث یا مفتی کے درجے پر فائز ہے ۔ ان دونوں کو رائے یا ووٹ کا یکساں حق کس اصول کی بنیاد پر دیا جائے؟ اسی طرح ایک ڈاکٹر آج ڈاکٹر بنا ہے اور دو سرا ۳۰ سال کا تجربہ رکھنے والا اسپیشلسٹ ہے۔ ان دونوں کو رائے یا ووٹ کا یکساں حق کیوں دیا جائے؟ علیٰ ھذہ القیاس۔ مختصراََ یہ کہ آپ ووٹ دینے کے لیے جو بھی تحدید کر دیں آپ کو بہر حال ووٹ کے حقدار طبقے یا گروہ کے معاملے میں یہ سمجھوتہ کرنا پڑے گا کہ بلا لحاظ علم ،تقویٰ و تدین، تجربہ اور مہارت اس طبقہ کے ہر فرد کا ووٹ برابر تسلیم کریں۔ تو آخر یہ سمجھوتہ ۸ ۱ کروڑ عوام کے بارے میں کرنے میں کیا قباحت ہے ، جبکہ معاملات بھی ان تمام کے تمام ۱۸ کروڑ عوام سے متعلق ہوں۔
سیاسی نظام کے حوالے سے علامہ اقبالؒ کے اشعار تو بہت دہرائے جاتے ہیں ۔ آئیے تصویرکا دوسرا رخ بھی دیکھتے ہیں۔ علامہ اقبال ؒ اپنے خطبات ’تجدید فکریات اسلام‘ (The Reconstruction of religious thought in Islam) میں فرماتے ہیں:
’’ گزشتہ پانچ سو برس سے اسلامی فکر عملی طور پر ساکت و جامد چلی آرہی ہے۔ ایک وقت تھا جب مغربی فکر اسلامی دنیا سے روشنی اور تحریک پاتا تھا۔ تاریخ کا یہ عجب طرفہ تماشہ ہے کہ اب دنیائے اسلام ذہنی طور پر نہایت تیزی سے مغرب کی طرف بڑھ رہی ہے ، گو یہ بات اتنی معیوب نہیں کیونکہ جہاں تک یورپی ثقافت کے فکری پہلو کا تعلق ہے ، یہ اسلام ہی کے چند نہایت اہم ثقافتی پہلوؤں کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔ ڈر ہے تو صرف یہ کہ یورپی ثقافت کی ظاہری چمک کہیں ہماری اس پیش قدمی میں حارج نہ ہو جائے اور ہم اس ثقافت کی اصل روح تک رسائی میں ناکام نہ ہو جائیں۔ہماری ذہنی غفلت کی ان کئی صدیوں میں یورپ نے ان اہم مسائل پر سنجیدگی سے سوچا ہے جن سے مسلمان فلاسفہ اور سائنس دانوں کو گہری دلچسپی رہی تھی۔‘‘ 
’’توحید کا جوہر اپنے عملی تصور میں مساوات ، یکجہتی اور آزادی ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے ریاست ان اعلیٰ اصولوں کو زمانی اور مکانی قوتوں میں تبدیل کرنے کی جدوجہد سے عبارت ہے یعنی اسے ایک مخصوص انسانی ادارے میں عملی صورت دینے کی خواہش کا نام ہے۔ صرف اسی اکیلے مفہوم میں اسلام میں ریاست تھیاکریسی ہے، اس مفہوم میں ہرگز نہیں کہ ریاست کا سربراہ زمین پر خدا کاکوئی نائب یا نمائندہ ہوگاجو اپنی مطلق العنان استبدادیت پر اپنی مٖفروضہ معصومیت کا پردہ ڈال دے ۔‘‘ 
’’ آئیے اب دیکھیں کہ [ترکی کی] قومی اسمبلی نے خلافت کے ادارے کے بارے میں اجتہاد کے اختیار کا کس طرح استعمال کیا ہے۔ اہل سنت کے قوانین(فقہ) کی رو سے امام یا خلیفہ کا تقرر ناگزیرہے۔اس سلسلے میں جو پہلا سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا خلافت فرد واحد تک محدود رہنی چاہیے۔ ترکوں کے اجتہادکی رو سے یہ اسلام کی روح کے بالکل مطابق ہے کہ خلافت یا امامت افراد کی ایک جماعت یا منتخب اسمبلی کو سونپ دی جائے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں مصراور ہندوستان کے علمائے اسلام اس مسئلے پر ابھی تک خاموش ہیں ۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ ترکوں کا موقف بالکل درست ہے اور اس کے بارے میں بحث کی بہت کم گنجائش ہے۔ جمہوری طرز حکومت نہ صرف یہ کہ اسلام کی روح کے عین مطابق ہے بلکہ یہ عالم اسلام میں ابھرنے والی نئی طاقتوں کے لحاظ سے بہت ضروری ہے۔‘‘ 
’’ آج کے مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنی اس اہمیت کو سمجھیں،بنیادی اصولوں کی روشنی میں اپنی عمرانی زندگی کی از سر نو تشکیل کریں،اور اسلام کے اس مقصد حقیقی کوحاصل کریں جس کی تفصیلات تا حال ہم پر پوری طرح واضح نہیں ہیں یعنی روحانی جمہوریت (Spiritual Democracy) کا قیام۔‘‘ 
ضروری نہیں ہے کہ اقبالؒ کی ہر بات آنکھ بند کرکے مان لی جائے لیکن بہرحال تصویر کا یہ رخ بھی سامنے رہنا چاہیے۔
جمہوریت پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ہمارے عوام کی اکثریت بدعنوان، بدکردار اور کم علم لوگوں پر مشتمل ہے لہذا وہ اپنے ہی جیسے لوگوں کو منتخب کریں گے۔ یہ تو بہر حال حقیقت ہے کہ جیسا معاشرہ ہوتا ہے عموماََ ویسے ہی اس کے حکمران ہوتے یں۔ اس کا علاج یہ نہیں ہے کہ غیر فطری اور مصنوعی طریقہ سے طاقت کے زور پر کسی دیندار فرد کو ’خلیفہ‘ بنا دیا جائے۔ایسا حکمران یا تو معاشرے کی طرف سے مسترد کر دیا جائے گا یا معاشرے جیسا ہی بن جائے گا۔ صحیح اور فطری طریقہ صرف یہ ہے کہ معاشرے کے اخلاق و کردار کی تربیت کی جائے ۔ جس حد تک معاشرہ بہتر ہوگا اسی کے بقدر اجتماعی نظام بھی بہتر ہوتا جائے گا۔ یہی بات علامہ اقبال ؒ اپنے خطبات میں ان الفاظ میں کہتے ہیں،’’ جدید مسلم اسمبلی کی قانونی کارکردگی کے بارے میں ایک اور سوال بھی پوچھا جا سکتا ہے۔ کم از کم موجودہ صورت حال میں اسمبلی کے زیادہ تر ممبران مسلم فقہ(قانون) کی باریکیوں کے بارے میں مناسب علم نہیں رکھتے۔ ایسی اسمبلی قانون کی تعبیرات میں کوئی بہت بڑی غلطی کر سکتی ہے۔ قانون کی تشریح و تعبیر میں ہونے والی ان غلطیوں کے امکانات کو ہم کس طرح ختم یا کم سے کم کر سکتے ہیں ......... غلطیوں سے پاک تعبیرات کے امکانات کی واحد صورت یہ ہے کہ مسلمان ممالک موجودہ تعلیم قانون کے نظام کو بہتر بنائیں، اس میں وسعت پیدا کریں اور اس کو جدید فلسفہ قانون کے گہرے مطالعے کے ساتھ وابستہ رکھا جائے۔‘‘
اپنے نظریات و خیالات پر مبنی نظام کو اقلیت میں ہونے کے باوجود طاقت کے زور پر اکثریت پر مسلط کرنے کی خواہش نہ صرف صبر و استقامت جیسی اعلیٰ قدر کے فقدان کا ثبوت ہے بلکہ اس خوف کا اظہار بھی ہے کہ آپ کے نظریات اتنے بے وزن ہیں کہ دلائل کی بنیاد پر کسی کو ان کا قائل ہی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دوسرے نظریات کے مقابلے میں کھلا اعتراف شکست نہیں تو اور کیا ہے؟ 
اس نظریے نے سو ڈیڑھ سو سال پہلے ہی جنم لیا ہے کہ اسلام کی اصل دعوت اور منتہائے مقصود ہی یہ ہے کہ اقتدار پر قبضہ کر کے ایک’اسلامی ریاست‘ قائم کی جائے۔اور یہ کہ دین ریاست کے ہم معنی ہے۔ اور یہ کہ یہ صالح اقلیت ہے جو اکثریت پر حکمرانی اور ان پر اپنے خودساختہ تصورات بالجبر مسلط کرنے کا حق اور اختیار رکھتی ہے،بلکہ یہ اس کا فریضہ ہے کہ وہ ایسا کرے۔ دین میں اس نظریے کی اجنبیت،فکر کے اس انحراف اور تعبیر کی اس غلطی کو آج کے دور میں اس حد تک واضح کیا جاچکا ہے کہ اب اس باطل نظریے کے حق میں عقل اور نقل کی شاید ہی کوئی دلیل باقی بچی ہو۔
آخر میں ہم فاضل مضمون نگار کویہ مخلصانہ مشورہ دیں گے کہ وہ ایک دفعہ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ قرآن و سنت کی روشنی میں اس جہادی و انقلابی فکر کا جائزہ لیں۔ انہوں نے اپنے مضمون کا اختتام جس شعر پر کیا ہے (گفتار کے اسلوب پر قابو نہیں رہتا ، جب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالات) اس میں جہاں ان کے گفتار کے اسلوب کے بے قابو ہونے کی وجہ بیان ہوئی ہے وہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ، ان کی فکر کے عدم توازن اور انحراف کی اصل وجہ بھی پوشیدہ ہے۔ اور وہ وجہ ہے جذبات اور خیالات کا تلاطم ، طوفان خیزی اور حدود سے متجاوز ہونا۔ ظاہر ہے کہ جب جذبات کا یہ تلاطم گفتار کے اسلوب کو قابو میں نہیں رہنے دیتا تو فکر اور نظریات کو کس طرح صراط مستقیم پر باقی رہنے دے سکتا ہے۔ استعماری اور طاغوتی طاقتوں کا ظلم اور ناانصافی اپنی جگہ، لیکن اس کا مقابلہ کس طرح کیا جائے اگر اس کا فیصلہ غصے، بے قید جوش و جذبات اور تلاطم کی اس نفسیات میں کیا جائے گا تو اسلام کی صراط مستقیم کبھی ہاتھ نہیں آسکتی اور انسان فکر اور تعبیر کی غلطیوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہے گا۔ مومن کی تو صفت یہ بیا ن ہوئی ہے کہ وہ الکظمین الغیظ  ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ،’’ قوی وہ نہیں کہ جو (کشتی میں کسی کو) پچھاڑے بلکہ قوی وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔‘‘ (بخاری ۳: ۱۰۴۷) قرآن کا یہ ارشاد بھی ہر وقت یاد رہنا چاہیے کہ ،’’ کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں اس پر نہ ابھارے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ انصاف کرو، یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔بے شک اللہ تمہارے ہر عمل سے باخبر ہے۔‘‘ (المائدہ ۵:۸)

تدبر کائنات کے قرآنی فضائل ۔ روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی؟

مولانا محمد عبد اللہ شارق

بعض چیزیں اتنی واضح اور غیر مبہم ہوتی ہیں کہ ان کے لئے قلم اٹھاتے ہوئے بھی عجیب سا محسوس ہوتا ہے، لیکن لوگوں میں ان کے حوالہ سے پائی جانے والی خواہ مخواہ کی غلط فہمیاں تقاضا کرتی ہیں کہ ان کو بیان کیا جائے، ورنہ وہ بے سروپا غلط فہمیاں بڑھتے بڑھتے بہت تناور ہوجائیں گی اور پھر ان کا تدارک مشکل ہوگا۔ اللہ تعالی نے قرآنِ مجید میں بے شمار جگہوں پر انسانوں کو کائنات میں تدبر کرنے کی ترغیب دی ہے، اس کے فضائل بیان کئے ہیں، اسے مومنین کی صٖفت بتایا ہے اور تدبرِ کائنات سے اعراض کرنے والوں کی مذمت کی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کائنات کے اس تدبر سے مراد سائنسی ومادی تدبر ہے جو کہ سائنس دان کرتے ہیں۔ واقفانِ حال جانتے ہیں کہ یہ نکتہ قرآن کے سر تھوپنے والے’’نکتہ دان‘‘ در اصل قرآن سے کتنے نا آشنا ہیں، لگتا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی خود قرآنی آیات کو ان کے سیاق وسباق میں سمجھ کر پڑھنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر کیا کیجئے کہ یہ خیال آج اچھے بھلے ذہین وفہیم لوگوں میں بھی مقبول ہورہا ہے۔ 
قرآن جابجا اپنی آیات میں جس ’’تدبر‘‘ کی دعوت دیتا ہے، وہ ہرگز ہرگز سائنسی ومادی تدبر نہیں، اس سے سے مراد وہ تدبر ہے جو انسان کو کائنات کے خالق کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس میں توجہ الی اللہ پیدا کرتا ہے، جس کے ساتھ انسان کو اس کائنات کے ہر ہر ذرہ میں خداوند جل وعلا کا نور نظر آتا ہے اور دیکھنے والا خود اس نور میں نہا جاتا ہے، جس تدبر کے دوران، تدبر کرنے والا زمین وآسمان کو دیکھتے دیکھتے خدا کی ذات میں محو ہوجاتا ہے، اللہ کی قدرت وعظمت کے احساس سے مغلوب ہوجاتا ہے اور تعلق مع اللہ کی کیفیات اس میں موج زن ہوتی ہیں۔کسی بھی سائنسی انکشاف کے بغیر انسان اس تدبر کی معراج کو پاسکتا ہے اور کوئی بدو بھی اس تدبر کی معراج کو پاکر قرآن کا مطلوبہ عارف باللہ بن سکتا ہے، خواہ وہ زمین کو ساکن، سورج کو متحرک اور زمین کو چپٹی سمجھتا ہو۔ یہ بات اتنی روشن ہے کہ اس کو الگ سے ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، قرآن کا ایک بار ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ مطالعہ کرلینا ہی کافی ہے۔ یہ روحانی تدبر اور وہ مادی تدبر، بادی النظر میں خواہ کتنے ہی قریب قریب محسوس ہوں، درحقیقت ان میں زمین وآسمان کا فاصلہ ہے۔ علم وتدبر کے قرآنی فضائل کو سائنسی ومادی تدبر پر فٹ کرنا میرے نزدیک ایک تہمت اور تحریف سے کم نہیں۔اس چیز کو واضح کرنے کے لئے ایک نہیں، ایک سو ایک شواہد قرآن ہی سے پیش کئے جاسکتے ہیں جو مطالبہ پر ان شاء اللہ حاضر ہوجائیں گے۔ قرآنی ’’تدبرکائنات‘‘ سے اصولی طور پر تو کیا، ضمنی طور پر بھی سائنسی تدبر مراد نہیں ہوسکتاہے،جبکہ ان حضرات کی طرف سے یہاں تک کہا جاتا ہے کہ جو آدمی کائنات میں سائنسی نہج پر تدبر نہیں کرتا، وہ قرآن کے مطابق اللہ کی ’’آیات‘‘ اور تخلیق سے اعراض کرنے والا ہے۔ معاذ اللہ!
گذشتہ دنوں’ البرہان‘(جنوری ، فروری ۲۰۱۴ء) اور ’ الشریعہ‘ (فروری ، مارچ ۲۰۱۴ء) میں سائنس اور فکرِ مغرب کے موضوع پر ڈاکٹر شہباز منج کے قسط وار مضامین شائع ہوئے، ان دونوں میں متعلقہ موضوع کے حوالہ سے انہوں نے فی الجملہ کافی متوازن رائے پیش کی اور سائنس کے حوالہ سے مسلم اہل علم کے خودساختہ افراط وتفریط پر انہوں نے بجا تنقید کی، مگر قرآنی تعلیم ’’تدبرِ کائنات‘‘ کے حوالہ سے نہ جانے ان کی رائے میں بھی کیوں عدمِ توازن پیدا ہوگیا ہے اور نہ جانے کس بنیاد پر انہوں نے اس ’’تدبرِ کائنات‘‘ سے سائنسی تدبر مراد لینے پر اصرار کیا ہے، ان کے الفاظ ہیں: ’’کسی مظہرِ قدرت یا آیۃ اللہ پر غور وفکر ترک کردینا ، اس سے پہلے کہ اس کی حقیقت پوری طرح منکشف ہو، اس سے اعراض کے زمرہ میں آتاہے۔۔۔۔ مسلمان کو حکم ہے کہ جب موجوداتِ قدرت میں سے کوئی چیز اس کے نوٹس میں آئے تو اسے نظر انداز نہ کرے، اس کی حقیقت اور اصلیت کو پوری طرح سمجھے اور خدا کی حکمتیں جو اس کے اندر پوشیدہ ہیں ان سے پوری طرح واقف ہونے کی کوشش کرے۔۔۔۔ ‘‘ (الشریعہ،فروری۔ صفحہ۲۸۔۔ البرہان،جنوری۔ صفحہ۳۹)
میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ، صرف اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کا رویہ اس حوالہ سے کیا تھا؟ قرآن کے سب سے اولین اور شایانِ شان مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب تھے، اصحابِ کرام اہلِ لسان تھے، ہم سے کہیں بڑھ کر اہلِ ایمان بھی تھے، قرآن کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ہم سے کہیں زیادہ متفکر رہتے تھے، صاحبِ وحی صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست شاگرد تھے اور فہمِ قرآن میں یقیناًہم سے ہزار درجہ آگے تھے۔ اگر ’’تدبرِ کائنات‘‘ کی قرآنی تعلیم سے سائنسی ومادی تدبر ہوتا اور اسی کی ترغیب دینا قرآن میں مقصود ہوتا تو مادہ پر صحابہ کی سائنسی وتحقیقاتی سرگرمیاں کبھی گوشہء خفاء میں نہ ہوتیں۔ جبکہ یہاں معاملہ برعکس ہے، اس حوالہ سے ان کی دلچسپی تو نہیں، البتہ بے رغبتی اور عدمِ دلچسپی کے کئی شواہد موجود ہیں۔ 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دلچسپی تو اس حوالہ سے بس اس قدر تھی کہ آپ نے کسی خیال سے کھجوروں کو گشنی کرنے کے بارہ میں صحابہ کو ایک تجویز دی، لیکن جب اس کے مطلوبہ نتائج ظاہر نہ ہوئے تو یہ کہہ کر آپ اس معاملہ سے ہی الگ ہوگئے کہ ’’تم جانو اور تمہاری دنیا، تم اپنی دنیا کے امور کو خود بہتر سمجھ سکتے ہو۔‘‘ اسی طرح شاگردانِ رسول کی اس حوالہ سے رغبت اور دلچسپی بھی بس اس قدر تھی کہ دینی جوش وجذبہ کے ساتھ مادہ پر ’’سائنسی تدبر‘‘ تو دور کی بات ہے، اگر ان کو بعض اوقات قرآن کے کسی لفظ کا معنی ومفہوم سمجھ نہیں آسکا تو اس کو سمجھنے کے لئے بھی انہوں نے زیادہ تکلف کو غیر مناسب سمجھا۔ سورۃ عبس کی آیت ۳۱ میں نباتات کی مختلف اقسام کے ساتھ ایک چیز ’’أبّ‘‘ کا ذکر آیا ہے، اب جو حضرات تدبرِ کائنات کی قرآنی تعلیم سے لازما سائنسی تدبر مرادلیتے ہیں اور ان کے نزدیک جب تک کسی چیز کی حقیقت پوری طرح منکشف نہ ہوجائے، اس وقت تک اس پہ غور وفکر ترک کرنا اس سے اعراض کے زمرہ میں آتا ہے، ان کے نزدیک نباتات کی باقی اقسام کی طرح اس خاص قسم ’’اب‘‘ پر پوری یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ مادی وسائنسی طرز کا تدبر ہونا چاہئے، اس تدبر کے بغیر ان کو چھوڑ کر آگے چلے جانا گویا اللہ کی تخلیق سے اعراض اور قرآن کی رو سے قابل مذمت ہے، لیکن اب ذرا غور سے سنئے کہ ان نباتات پر سائنسی ومادی تدبر تو درکنار، صحابہ میں سے دو بزرگ ترین شخصیات ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو سرے سے یہ تک معلوم نہیں تھا کہ اس ’’اب‘‘ سے نباتات کی کونسی خاص قسم مراد ہے اور اس کا صحیح مصداق کونسا پودا ہے، جبکہ یہ بھی کہیں منقول نہیں کہ اس کا صحیح مصداق جاننے کے لئے انہوں نے کوئی تحقیقاتی کمیٹیاں بٹھائی ہوں، بلکہ اس کے برعکس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ منقول ہے کہ اس حوالہ سے زیادہ متفکر ہونا گویا ایک طرح کا تکلف ہے۔
صحیح سند کے ساتھ منقول ہے کہ ’’ایک مرتبہ حضرت عمر ’’سورہ عبس ‘‘ کی تلاوت کر رہے تھے ، جب وہ آیت ۳۱ میں ’’وفاکہۃ وأبا‘‘ پر پہنچے تو فرمایا کہ ’’فاکہۃ‘‘ کا معنی تو ہمیں معلوم ہے، مگر یہ ’’أبّ‘‘ کیا ہے؟ پھر خود کلامی کے سے انداز میں خود ہی اپنے آپ کو کہنے لگے کہ اے خطاب کے فرزند!یہ سوچ بچار کرکے تم محض تکلف کررہے ہو۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر۔ سورہ عبس، آیت۳۱) ایک اور روایت کی رو سے یہ واقعہ تب پیش آیا جب آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر یہ سورت تلاوت فرمائی۔ اور اس میں مزیدیہ ہے کہ ’’آپ نے ہاتھ میں پکڑی چھڑی کو زور سے زمین پر مارا اور فرمایا کہ اے عمر! اگر ’’أبّ‘‘ کا معنی تمہیں معلوم نہ ہو تو اس میں تمہارا کیا نقصان ہے؟اس کتاب کی جو بات تمہیں سمجھ آجائے، اس کی پیروی کرو، اور جو نہ آئے تو اسے اللہ کے سپرد کرو۔‘‘ (روح المعانی۔ عبس:۳۱) اب حضرت عمر کے اس رویہ کو سنی علماء کس نظر سے دیکھتے ہیں، اسے چھوڑ دیجئے کہ وہ تو وہیں ہی ’’روایت پسند‘‘ ، اپنے دور کے روشن خیال اعتزالی طبقہ سے تعلق رکھنے والے معروف مفسر علامہ جار اللہ زمخشری کی سنیے کہ وہ بھی حضرت عمر کے اس رویہ کو قابل تقلید سمجھتے ہیں: ’’صحابہ کی توجہات کا اصل رخ عمل کی طرف تھا،نری معلومات سے بے جا شغف اور ان کی تدقیق کو وہ تکلف ہی سمجھتے تھے، الا یہ کہ اس تدقیق کا کوئی تعلق عمل سے ہو۔ حضرت عمر کی مراد یہ ہے کہ ’’عبس‘‘ کی وہ آیات جن میں ’’أبا‘‘ کا ذکر بھی ہے، ان میں انسان پر اللہ کے احسانات کو بیانات کیا گیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالی نے انسان کے لئے اور اس کے مویشیوں کے لئے آسمان سے پانی نازل کیا، زمین کو سیراب کیا، پھر زمین کے سینے کو چیر کر اندر سے غلے اور اناج، انگور اور ترکاریاں، زیتون اور کھجوریں، گھنے گھنے باغ اور طرح طرح کے پھل نکالے۔ اسی ضمن میں اللہ نے نباتات کی ایک خاص قسم ’’أب‘‘ کا ذکر بھی کیا ہے۔انسان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان نعمتوں پر غور کرے اور اپنے اندر اپنے رب کے لیے احساس تشکر پیدا کرے۔ آیت کے سیاق وسباق سے اتنا تو صاف واضح ہوجاتا ہے کہ ’’أب‘‘ بھی نباتات کی ایک قسم ہے جو انسان کے نفع کے لئے اللہ نے نکالی ہے۔حضرت عمر کی لاعلمی فقط اس قدر ہے کہ یہ کونسی خاص قسم ہے۔ تو اس موقع پر کرنے کا جواہم کام ہے اور جو واضح بھی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا احساس کرکے اس کا شکر ادا کیا جائے، ’’أب‘‘ کے خاص پودے کی خاطر توجہ اصل مقصد سے نہ ہٹا لی جائے، اس پودے کے تعین کوچھوڑ دیا جائے کہ کسی موقع پر اس کی وضاحت ہوگئی تو ہوگئی ورنہ اللہ جانے۔ بعد ازاں حضرت عمر نے قرآنی مشکلات میں اسی طریقہ کو اختیار کرنے کی تلقین باقی لوگوں کو بھی کی۔‘‘ (الکشاف۔ عبس:۳۱) ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیے کہ حضرت عمر کا یہ رویہ کسی بھی طرح ’’سائنسی تدبر‘‘ کے رویہ سے میل کھاتا ہے؟ 
مزید سنیے، خلافت راشدہ کے تقریباً ایک سو سال بعد عباسی خلفاء کے دور کو سائنس دوستی اور ’’علوم وفنون کا دور‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس دور میں روم وفارس کے علو م وفنون او ران کے کتابی ذخیروں کو بڑے اہتمام سے عربی میں ترجمہ کیا گیا‘ خصوصاً یونان کے علمی ورثہ پر بہت زیادہ توجہ دی گئی جو روم اور مصر میں پڑ ا ہواتھا۔ ان کے علمی ذخیرے کو وہاں سے منگوایا گیا اور عربی میں ان کے ترجمہ وتشریح کے لیے باقاعدہ سرکاری ادارے قائم کیے گئے۔ اسی سلسلہ میں مسلمانوں نے بعد میں جو کارنامے انجام دیے ‘ ان کی وجہ سے مسلمانوں کو سائنس کی تاریخ میں یونان کا شاگرد اور جانشین باور کیا جاتا ہے۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ روم ‘ فارس اورمصرتو اس سے بہت پہلے حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ہی فتح ہوچکے تھے‘ تو اولین دور کے ان فاتح مسلمانوں نے روم اور فارس میں پڑے ہوئے کتابوں کے ان انباروں کے ساتھ کیا سلوک کیا جنہیں سو سال بعد کے مسلمان حکم ران بڑی دلچسپی لے کر عربی میں منتقل کرتے رہے؟ اگر شاگردانِ رسولِ دینی جوش وجذبہ کے ساتھ سائنسی تدبر میں رغبت رکھتے تھے تو مفتوحہ علاقوں میں پڑے کتابوں کے وہ انبار ان کی دلچسپی کا محور ہونا چاہئے تھے جو در اصل سائنسی ومادی تدبر پر ہی مبنی تھے اور جن کی ’’قدر‘‘ کو پہچان کر عباسی خلفا نے اپنا نام روشن کیا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب علمی ذخائر ان کی آنکھوں سے اوجھل رہ گئے جو ان علاقوں کے اولین اور حقیقی فاتح تھے؟ کیا فتوحات کے بعد اپنی ہی مفتوحہ اقوام کے ان علوم وفنون پر ان کی نظر نہ جاسکی جنہوں نے بعد میں آنے والے مسلم فرماں رواؤ ں کی آنکھوں کو خیرہ کردیااور وہ سونا اور چاندی میں تول کر ان کے ہاں کی کتابوں کو اپنے ہاں درآمد کرتے رہے؟کیا وہ ایسے ہی غافل اور نادان تھے؟ ظاہر ہے کہ کوئی بھی معقول آدمی اس کی تائید کرسکتاہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تاریخی شہادت پیش کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ انہوں نے ان علوم فنون میں عباسی خلفاء کی طرز پرکوئی دلچسپی لی یا ان پہ توجہ دی ہوکیونکہ اگر ایسا ہوتا تو تاریخ میں اس کی کوئی ایک آدھ مثال تو ضرور ہی محفوظ ہوتی جیساکہ عباسی خلفاء کی اس دلچسپی کے واقعات بکثرت موجود ہیں‘ مگر ایسا نہیں ہے۔تو پھر سوال وہی کہ اسلام کے اولین ادوار میں ان علوم وفنون کا آخر کیا بنا؟ اور اس دور کے مسلمانوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟کیا یہ بات درست ہے کہ اولین دور کے مسلمان ان علوم وفنون میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے ؟ ان کے انہماک کو ناپسند کرتے تھے؟ ظاہر ہے کہ اس حوالہ سے تاریخ کی خاموشی تو کم از کم یہی بتاتی ہے، بلکہ بعض صریح تاریخی روایات سے بھی ان کے اسی رویہ کی تائید ہوتی ہے کہ مفتوحہ علاقوں میں کتابوں کے انبار ان کی نظر سے گذرے بھی مگر انہوں نے عمدا ان میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ کتاب نویسی کی مستند تاریخ ’’کشف الظنون‘‘ (کاتب چلپی)، مقدمہ ابن خلدون، الافادۃ والاعتبار (عبداللطیف البغدادی)، اخبار العلماء باخیار الحکماء (قفطی) اور المواعظ والاعتبار (مقریزی) میں ایسی روایات موجود ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ان کی عبارات بھی نقل کی جاسکتی ہیں۔ میں جاننا صرف یہ چاہتا ہوں کہ اگر ’’تدبرِ کائنات‘‘ کے قرآنی فضائل کا مصداق سائنسی ومادی تدبر ہی ہے تو شاگردانِ رسول کے اس رویہ کی آخر کیا توجیہ کی جائے گی؟ ڈاکٹر شہباز منج کے بقول نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو باقاعدہ خدا سے چیزوں کی سائنسی حقیقت منکشف کرنے کی دعا مانگی کہ ’’اللہم ارنا الاشیاء کما ہی‘‘ اب ان کو خود ہی بتانا چاہیے کہ اگر اس نبوی دعا میں وہی کچھ مانگا گیا ہے جو کہ وہ سمجھ رہے ہیں تو آخر نبی کی پوری زندگی میں اس نوع کی کوئی سائنسی سرگرمی کہیں کیوں نظر نہیں آتی، وہ اس حوالہ سے صرف دعا مانگنے تک ہی کیوں محدود رہ گئے؟ ان کے شاگردوں کا رویہ اس حوالہ سے ’’منفی‘‘ اور عدمِ رغبت کا کیوں ہے اور عباسی خلفاء کی طرح انہوں نے روم وفارس کے بھرے ہوئے کتب خانوں میں دلچسپی کیوں نہیں لی؟
یہاں ایک مغالطہ کا ازالہ بھی انتہائی ضروری ہے۔ جب کبھی یہ بتایا جائے کہ قرآنی ’’تدبرِ کائنات‘‘ سے سائنسی تدبر مراد نہیں ہے تو بعض لوگ اس کا معنی یہ لیتے ہیں کہ شاید سائنسی تدبر کی مخالفت کی جارہی ہے اور اس کو شرعاً ناجائز ٹھہرایا جارہا ہے، حالانکہ یہ بات بھی ایسے ہی غلط ہے جیسا کہ قرآنی ’’تدبرِ کائنات‘‘ سے سائنسی تدبر مراد لینا۔ معاملہ کی اصل نوعیت بس اتنی ہے کہ قرآن نے نہ تو سائنسی ومادی تدبر کی کہیں کوئی ترغیب دی ہے اور نہ ہی اس سے کوئی ممانعت فرمائی ہے۔ سائنسی تدبر ایک مباح سرگرمی ہے بشرطیکہ اس کا انہماک انسان کو خدا پرستی کے تقاضوں سے غافل نہ کردے۔ نہ تو قرآنی تدبر کائنات کا مصداق یہ تدبر ہے اور نہ ہی شاید اس کی ممانعت کی کوئی شرعی دلیل موجود ہے۔ یہ دونوں شکلیں افراط وتفریط کی ہیں۔ ہاں، البتہ موجودہ دور میں جبکہ امت کو ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے تو اس دور میں مسلمانوں کے سائنسی تدبر کی طرف متوجہ ہونے کی کوئی فضیلت بھی ہوسکتی ہے، مگر یقین جانیے کہ امت کی موجودہ بدحالی کا اصل سبب میڈیا، معیشت اور دفاعی ٹیکنالوجی جیسے میدانوں میں اس کی کم تری نہیں ہے، بلکہ سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ہمیں اللہ کی توجہ کی ضرورت ہے۔ غالباً اسی کی ناراضگی کی وجہ سے ہم اس وقت ناسمجھی اور بدتدبیری کا شکار بھی ہیں، اسی کی ناراضگی کی وجہ سے ہمیں کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا، جب اس کو راضی کرنے کی فکر ہم نے اپنا لی، اپنی عملی ودینی حالت بہتر کرلی، مومنین کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرلیا تو ان شاء اللہ خود بخود راستے آسان ہوجائیں گے، مادی اسباب کی کمی ’’کمی‘‘ نہیں رہے گی، نیک سمجھ عطا ہوگی اور اللہ کی غیبی نصرت وولایت کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ ہذا ما عندی والعلم عنداللہ ، ولاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم

دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصد اور موجودہ مدارس کا کردار

تاریخی و تجزیاتی مطالعہ

مولانا محمد انس حسان

دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی دینی فراست اور علمی ذکاوت کا عملی نمونہ تھا۔ انقلاب 1857ء کی نا کامی کے بعد جب مسلمان انتہائی کس مپرسی کے عالم میں تھے مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ نے ایک ایسے دینی مرکز کی نیو اٹھائی جس کا مقصد مسلمانوں کی مذہبی اقدار کی حفاظت اور وقت کی جابر سلطنت یعنی حکومت برطانیہ کے خلاف ایسی جماعت تیار کرنا تھا جو مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی یاد تازہ کردے۔ سید محبوب رضوی لکھتے ہیں کہ: 
’’اس وقت بنیادی نقطۂ نظر یہ قرار پایا کہ مسلمانوں کے دینی شعور کو بیدار رکھنے اور ان کی ملی شیرازہ بندی کے لیے ایک دینی وعلمی درسگاہ کا قیام ناگزیر ہے ۔ چنانچہ طے ہوا کہ اب دہلی کی بجائے دیوبند میں یہ دینی درسگاہ قائم ہونی چاہیے۔‘‘ (1)
حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کو جب بتایا گیا کہ دیوبند میں ایک مدرسہ قائم کیا گیا ہے تو اس پر آپ نے فرمایا کہ : 
’’سبحان اللہ! آپ فرماتے ہیں ہم نے مدرسہ قائم کیا ہے۔ یہ خبر نہیں کہ کتنی پیشانیاں ، اوقات سحر میں سربسجود ہوکر گڑگڑاتی رہیں کہ خدا وندا! ہندوستان میں بقاءِ اسلام اور تحفظِ علم کا کوئی ذریعہ پیدا کر۔ یہ مدرسہ ان ہی سحرگاہی دعاؤں کا ثمرہ ہے۔‘‘ (2) 
مولانا نانوتویؒ نے 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد کے نامساعد حالات میں جو طریقہ کار وضع کیا اس کے بنیادی اصول اور مقاصددرج ذیل تھے:
(1) شاہ ولی اللہ کے اسلوب تدریس کی اساس پر دینی علوم وفنون کی طرف دعوت دینا۔ 
(2) عیسائیت اور ہندووں کی جانب سے اسلام کے حوالے سے پھیلائے گئے شکوک وشبہات کا ازالہ کرنا۔
(3) کتاب وسنت کو مسلم و غیر مسلم طبقات میں پھیلانے کے لیے جدوجہد اور کوشش کرنا۔ 
(4) قابض اور مسلط حکومت سے تعاون لیے بغیر دین اسلام کی بیداری کے لیے اپنا مال اور جان خرچ کرنا۔ 
(5) شاہ ولی اللہ کے فلسفے میں تجدید کرکے ہندوستان میں دین کے غلبے کی تحریک کو نئے رخ پر ڈالنا۔ 
(6) قدیم علوم وفنون میں انتہائی عمیق غوروخوض کرکے اسے ہندوستان کے لوگوں کی ذہنیت کے قریب بنانا۔ 
(7) ماہرین فلسفہ کی ’’مخصوص اصطلاحات‘‘ کو چھوڑ کر ، عام ہندوستانیوں کی زبان میں بات کرنا۔ 
(8) عدم تشدد کے اصول پرقائم رہتے ہوئے منظم علمی وفکری شعور بیدار کرنا۔
ان اصول ومقاصد کے حصول کے لیے ہی دار العلوم دیوبند قائم کیا گیا تھا۔بتانا یہ مقصود ہے کہ دارالعلوم کوئی رسمی علمی ادارہ نہیں تھا بلکہ یہ اعلی مقاصد کے حصول کے لیے قائم کیا گیا تھا۔اگرچہ مولانا نا نوتوی ؒ کے وصال کے کچھ عرصہ بعد ہی دارالعلوم کے مقاصد کی تعیین کے حوالے سے معروضی بحث کاسلسلہ شروع ہوگیا تھا اور بعض اکابرین کی رائے یہ تھی کہ دارالعلوم کو محض تعلیم وتعلم تک محدود رکھنا مناسب ہوگا کیونکہ یہی اس کی علت غائی تھی۔تاہم بعض اکابرین کی رائے یہ تھی دارالعلوم کا مقصد محض تعلیم و تعلم ہی نہیں تھابلکہ قومی و سیاسی نوعیت کے گھمبیر مسائل سے نبرد آزما ہونے اورحکومت برطانیہ سے آزادی کے حصول کے لیے منظم جماعت تیار کرنا تھا۔مولانا نانوتویؒ خود فرماتے ہیں:
’’ہم نے دارالعلوم کے اصل مقصد پر درس و تدریس ، علوم اسلامی کا پردہ ڈال دیا ہے۔‘‘ (3) 
چنانچہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ (جو کہ اس مدرسہ کے سب سے پہلے طالب علم تھے ) نے ایک موقع پر فرمایا:
’’حضرت الاستاذ نے اس مدرسہ کو کیا درس و تدریس ، تعلیم و تعلم کے لئے قائم کیا تھا؟ مدرسہ میرے سامنے قائم ہوا،جہاں تک میں جانتا ہوں ۱۸۵۷ء کے ہنگامے کی نا کامی کے بعد یہ ارادہ کیا گیا کہ کوئی ایسا مرکز قائم کیا جائے، جس کے زیر اثر لوگوں کو تیار کیا جائے تا کہ ۱۸۵۷ء کی ناکامی کی تلافی کی جائے۔‘‘ (4) 
حضرت شیخ الہندؒ نے مزید فرمایا:
’’تعلیم و تعلم، درس و تدریس جن کا مقصد اور نصب العین ہے ،میں ان کی راہ میں مزاحم نہیں ہوں، لیکن خود اپنے لئے تو اسی راہ کا میں نے انتخاب کیا ہے، جس کے لئے دارالعلوم کا یہ نظام میرے نزدیک حضرت الاستاذ نے قائم کیا تھا۔‘‘(5) 
مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ دارالعلوم کے قیام کے پس منظر کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’جس وقت شاملی کے میدان سے وہ خود (مولانا نانوتویؒ ) اور ان کے رفقائے کار بہ ظاہر ناکامی کے ساتھ واپس ہوئے تویقیناًان کی یہ واپسی یاس ونامرادی کی واپسی نہ تھی اور نہ ہو سکتی تھی۔ واپس تو وہ بیشک ہوئے تھے لیکن یقیناًیہ واپسی مُتَحَرِّفاً لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزاً اِلٰی فِئَۃٍ (الانفال) ’’جنگ ہی کے لئے کتراتے ہوئے یا کسی ٹولی سے ملنے کے لئے ‘‘ہو سکتی تھی اور یقینااسی کے لئے تھی۔‘‘(6) 
دارالعلوم کے قیام کو انگریز سامراج کے خلاف نئے محاذ اور میدان کی تیاری سے تعبیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’۱۸۵۷ء کی کشمکش کی نا کامی کے بعد قتال اور آویزش کے نئے محاذوں اور میدانوں کی تیاری میں آپ (حضرت نانوتویؒ ) کا دماغ مصروف ہو گیا۔ دارالعلوم دیوبند کا تعلیمی نظام اس لائحہ عمل کا سب سے زیادہ نمایاں اور مرکزی وجوہری عنصرتھا۔‘‘(7) 
دیوبندمکتب فکر سے تعلق رکھنے والے حضرات کو موجودہ دور کے تناظر میں دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
(الف) پہلا طبقہ وہ ہے جو دارالعلوم کو محض ایک رسمی تعلیمی ادارے کے طور پر پیش کرتا ہے۔اکابرین علماء دیو بند کا حقیقی تعارف اوران کی مساعی جمیلہ کا شعور نئی نسل میں منتقل کرنا ان کے مقاصد سے خارج ہے۔
(ب) دوسرا طبقہ وہ ہے جوتحریک بالاکوٹ اور معرکہ شاملی جیسی عسکری مثالوں کو اکابرین دیوبندکی سنت قرار دیتے ہوئے فی زمانہ غلبہ دین کے لیے عسکری طریقہ کار اختیار کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔شیخ الہند ؒ کی قائم کردہ جمعےۃعلماء ہند کی پالیسی ان کی نظر میں بے معنی ہے۔
ہمارے خیال میں یہ دونوں مکاتب فکر دار العلوم دیوبند کے مقاصدسے کما حقہ آگاہی نہیں رکھتے ۔چنانچہ پہلا طبقہ تو محض اپنے مدارس کی چار دیواری اور اس سے بھی بڑھ کر اپنی موروثی شہنشاہیت اور امارت قائم رکھنے کے لیے نئی نسل کو بے شعور رکھنا چاہتا ہے۔جبکہ دوسرا طبقہ اپنی کم علمی اور بے شعوری کے باعث غلبہ دین کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ حالانکہ یہ بات آشکار ہے کہ حضرت شیخ الہندؒ نے مولانا نانوتویؒ ؒ کے مقاصد کے حصول کے لیے عدم تشدد کے اصول پرپر امن جدوجہدکا طریقہ اختیار کیا تھا اور اسی مقصد کے تحت جمعےۃعلماء ہند کا قیام عمل میں آیاتھا۔
بدقسمتی سے ہمارے مدارس میں تاریخ و مقاصد دیوبند کے حوالے سے کچھ زیادہ آگاہی نہیں دی جاتی۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارے مدارس اس نظریاتی دیوبند سے دور ہوتے جارہے ہیں جس کی بنیاد مولانا نانوتویؒ نے رکھی تھی۔ چنانچہ آج یہ بات شدت سے محسوس کی جارہی ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ اس کا تقاضہ پیدا ہو رہا ہے کہ ہم جائزہ لیں کہ کیا ہمارے مدارس مولانا نانوتویؒ کے وضع کردہ اصولوں پر چل رہے ہیں یا نہیں؟
یقیناًاس گئے گزرے دور میں قال اللہ و قال رسول  کی صدائیں غنیمت ہیں مگر کیا ہمارا دینی تقاضا بس یہی ہے کہ ہم اسی پر اکتفا کرکے بیٹھ جائیں اوراقامت دین کے لیے اپنے اکابرین کے طرز عمل کو یکسر نظر انداز کر کے تحفظ مدارس کی فکر میں خود کو ہلکان کرتے رہیں؟ یہ کتنی بد نصیبی کی بات ہے کہ جو دارالعلوم اقامت دین کے لیے مورچے کاکردار ادا کرنے کے لیے قائم ہوا تھا، آج اس کے نام لیوا وں کو یہ فکر کھائے جاتی ہے کہ مدارس کا وجود مٹادیا جائے گا۔در حقیقت یہ مسئلہ مدارس کے وجود وعدم وجود کا نہیں بلکہ اپنی وراثت اور امارت کی بقاء ودوام کا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ مولانا نانوتویؒ کے قائم کردہ دارالعلوم دیوبند کی نسبت سے آج ہم دیوبندی کہلاتے ہیں، لیکن ہم میں سے اکثر یہ نہیں جانتے کہ دیوبند کسی عمارت یا رسمیت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مستقل نظریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسا نظریہ جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بتلائے ہوئے راستے پر چل کر ایک آزاد اسلامی نظام کے قیام کے لئے منظم جدو جہد کی دعوت دیتا ہے۔ چنانچہ ہمارے اکابرین کی جدو جہدِ آزادی اور وقت کی ظالمانہ اور طاغوتی طاقتوں کے خلاف قربانیاں اس نظریے کی زندہ مثالیں ہیں۔
مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے دارالعلوم دیوبند کے جو اصول و ضوابط وضع کئے تھے وہ ’’اصول ہشتگانہ ‘‘ کے نام سے موسوم ہیں۔ذیل میں ہم محض پہلے اصول پر اپنی معروضات پیش کرتے ہیں۔ پہلے اصول کی پہلی شق کے الفاظ یہ ہیں :
’’آزادیِ ضمیر کے ساتھ ہر موقع پر کلمۃ الحق کا اعلاء ہو۔ کوئی سنہری طمع ، مربیانہ دباؤ یا سرپرستانہ مراعات اس میں حائل نہ ہوسکے۔‘‘(8) 
لیکن آج بدقسمتی سے محض چند مدارس کو چھوڑ کر ہمارے مدارس کی اکثریت مولانا کے اس اصول پر پورانہیں اترتی۔ ہمارے مدارس میں آہستہ آہستہ آزادیِ ضمیر کے ساتھ وقت کی جابر طاقتوں کے خلاف’’ اعلاء کلمۃ الحق‘‘ کی اہلیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ دارالعلوم دیوبند اس لئے قائم ہوا تھا کہ1857ء کی جنگِ آزادی میں مسلمانوں کو ہونے والے عظیم نقصان کاازالہ کیا جا سکے۔جنگِ آزادی کی نا کامی کے بعد مسلمانانِ ہند ہندوستان میں جس کسی مپرسی کی حالت میں زندگیاں گزار رہے تھے اور عیسائی مشنریاں جس دیدہ دلیری سے شعائر اسلام کا مذاق اڑانے اور مسلمانوں کو عیسائی بنانے میں سرگرم تھیں، اس کا تقاضہ تھا کہ ایک ایسا مرکز قائم کیا جائے، جہاں مسلمانوں کی دینی، سیاسی اور اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ وقت کی جابر طاقت یعنی حکومتِ برطانیہ کے خلاف ایسے رجال تیار کئے جائیں جو انہیں اس شکست کا مزا چکھادیں۔
بنا بریں دارالعلو م کے قیام کا مقصد صرف درس وتدریس نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا مرکز قائم کرنا مقصود تھا جہاں مسلمانوں کی بچی کھچی انفرادی صلاحیتوں کو اجتماعی شکل دیدی جائے۔ اور یہ اجتماعی طاقت اس مقصد کا احیاء کرے اور اس کام کو مکمل کرے، جو حضرت سیدین رحمہم اﷲ کے ہاتھوں انجام نہ پاسکاتھا۔ چنانچہ حضرت حاجی امداد اﷲ مہاجر مکیؒ ، مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ اور خود مولانا نانوتویؒ کی زندگیاں اور کردار اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ ان کی زندگی کا طویل حصہ انگریز حکومت کے خلاف علمی وعملی جہاد میں گزرا۔نیز حضرت نانوتویؒ کا وضع کردہ پہلا اصول ہی ایسا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سنہری طمع، سرپرستانہ مراعات اور مربیانہ دباؤ میں آئے بغیر آزادی ضمیر کے ساتھ حق گوئی سے باز نہیں آنا۔ لہذا یہ اصول ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ ایک ایسے غلام ملک میں جہاں مذہب، حکومت اور آزادی رائے پر کسی جابر وقت کا تسلط ہو، کیا یہ اصول بلواسطہ نہ سہی بلاواسطہ ایک انقلابی دعوت نہیں ہے۔
اگر ہم اپنے گرد وپیش کا جائزہ لیں تو آج ملک بھر میں ہزاروں مدارس درس و تدریس میں مشغول ہیں اور ان سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کی تعدادلاکھوں میں ہوتی ہے۔ لیکن اگر ان طلباء سے اپنے اکابرین کی جد وجہد کے بارے میں پوچھیں تو سخت مایوسی اور ناخوشگوار حیرت ہوتی ہے۔در حقیقت ہمارے مدارس نظریہ دیوبند سے بہت دور ہو چکے ہیں اور اس کی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔
(1) آج ملک بھر میں کوئی ایک مدرسہ بھی ایسا نہیں جو آزادیِ ضمیر اور حریت رائے کے ساتھ مربیانہ دباؤ اور سرپرستانہ مراعات میں آئے بغیر عصرِ حاضرکے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے حوالے سے واضح لائحہ عمل یا پروگرام رکھتا ہو۔ اگر کوئی حق گو ’’ اعلاء کلمۃ الحق ‘‘ کرتا بھی ہے تو اس کی اس انفرادی صدا کو مجذوب کی بڑ سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔
(2) آج ہمارے مدارس کے مسندنشینوں کی حق گوئی محض اخباری بیانات اور جذباتی تقریروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ ایک دوسرے پر تکفیر کے فتاوی جاری کرنے کو’’ اعلاء کلمۃ الحق ‘‘ سمجھ لیا گیا ہے۔جہاں ایک طرف دہشت گردی کا عذاب مسلط ہے وہیں فتوی گردی کے عمل سے بھی کوئی دامن محفوظ نہیں رہاہے۔
(3) ایک طرف تو تکفیری فتاویٰ کی بھر مار ہے تو دوسری طرف سرمایہ داروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بڑی فراخ دلی سے من پسند فتاویٰ جاری کیے جاتے ہیں۔انہی سرمایہ داروں کے مال سے اگر مدارس چلانے ہوتے تو حضرت نانوتویؒ سمیت بہت سے اکابرین کے لیے یہ عمل ناممکن نہیں تھا۔مضاربہ اسکینڈل جیسی دو نمبریوں سے معصوم عوام کو دھوکہ دینے کے عمل میں بعض جیدمدارس کے’’دار الافتاء‘‘ کا بڑا نمایاں کردار رہاہے جو سب پر آشکار ہے۔
(4) اکابرین دیو بند کاعمل تو یہ تھاکہ تنخواہ کے حوالے سے خود کو بطور مثال پیش کرتے تھے اور مالی حوالے سے بہت احتیاط برتتے تھے۔لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ مدارس کے مہتممین اور ان کی اولادیں توشاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ غریب مدرس کی انتہائی بری حالت ہے۔اگر مالی حوالے سے کوئی احتجاج کی آواز بلند ہوتی بھی ہے تواسے اکابرین کے اخلاص وتقویٰ کے وعظ پر ٹرخا دیا جاتا ہے۔
(5) آج ہمارے مدارس کی اکثریت مذہب اور سیاست کو الگ الگ رکھنے پر مصر ہیں۔ چنانچہ اس رویے نے ہمارے معاشرے میں دین و دنیا کی تفریق کے تصور کومزید مستحکم کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں مدارس اورسماج کے درمیان وسیع خلیج حائل ہوگئی ہے ۔عوام میں یہ تاثر قائم ہوگیا ہے کہ علماء کا کام محض نکاح و وفات کی رسوم سر انجام دینا ہے،دیگر سماجی مسائل کا حل ان کے پاس نہیں ہے۔
(6) ہمارے وہ احبابِ مدارس جنہوں نے افغانستان کے حوالے سے جہاد کے فتاویٰ شائع کروا کر بلکہ اس میں خود عملاً شریک ہو کر ’’ شیخ المجاہدین ‘‘ اور ’’ سرپرست مجاہدین ‘‘ کے القابات پائے اور اس عمل کو ’’ اعلاء کلمۃ الحق‘‘ کا عظیم فریضہ قرار دیا، آج پاکستان کے معروضی حالات میں ان کی فقہی بصیرت نے انہیں خاموش کرا رکھا ہے ۔
(7) ہمارے مدارس کے وہ لوگ جو سیاست کو دین سے الگ تصور نہیں کرتے اور مذہبی سیاست کی دعوت دیتے ہیں،آج ملک کے سیکولر اور لا دینی نظام کا حصہ بن چکے ہیں اور بزعم خویش اسی پر مطمئن ہیں کہ نظام کا حصہ بن کر نظام کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ایک طرف تو ’’کچھ دو کچھ لو ‘‘ کا نعرہ لگایا جاتا ہے اور دوسری طرف اسلامی شریعت کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے۔ اس دو عملی نے ناصرف آزادیِ ضمیر کو متاثر کیا ہے بلکہ عوام بھی مدارس کی پروردہ مذہبی و دینی جماعتوں سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔ 
(8) فرو عی مسائل پر بحث شر وع دن سے رہی ہے لیکن آج ہمارے دینی مدارس دین کے اس ایک محاذ کو محاذ کل سمجھے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم معمولی اختلافات کا شکار ہو کر فرقہ درفرقہ بٹتے چلے جا رہے ہیں۔اس پر مستزادیہ کہ یہ فرقہ بندی مسلکِ دیوبند سے باہر کی نہیں بلکہ آج دیوبندی کہلوانے والی بیسیوں جماعتیں ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ چنانچہ نظریہ دیوبند انہی جماعتوں کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر رہ گیا ہے۔
بہرحال مولانا نانوتویؒ کے گذشتہ ذکر کئے گئے پہلے اصول کی دوسری شق کے الفاظ یہ ہیں:
’’اس کا (دیوبند ) کا تعلق عام مسلمانوں کے ساتھ زائد سے زائد ہو۔ تاکہ یہ تعلق خود بخود مسلمانوں میں ایک نظم پیدا کردے جو ان کو اسلام اور مسلمانوں کی اصل شکل پر قائم رکھنے میں معین ہو۔اور اس طرح اسلامی عقائد اور اسلامی تہذیب ہمیشہ کے لئے ورنہ کم از کم اس وقت تک کے لئے محفوظ ہو جائے ۔ جب تک کہ یہ مرکز اپنے صحیح اصول پرقائم رہے، نیز توکل علی اﷲ اور عوام کی طرف سے احتیاج خودکارکنانِ مدرسہ کو اسلامی شان پر باقی رکھ سکے اور جابرانہ استبدادیا ریاست کا ٹھاٹھ ان میں قطعاً نہ پیدا ہو، بلکہ ایک جمہوری تعلق ہو جو ایک کو دوسرے کا محتاج بنائے رکھے۔ اور اس طرح آپس میں خود ایک دوسرے کی اصلاح ہوتی رہے ۔‘‘ (9) 
بدقسمتی سے ہمارے موجودہ مدارس مولانا نانوتویؒ کے اس اصول پر بھی پورا نہیں اترتے۔دیوبند کا مقصد تو یہ تھا کہ عوام الناس سے زیادہ سے زیادہ تعلق پیدا ہو اور اس کا سیاق و سباق یہ تھا کہ 1857ء کی تحریک آزادی میں انقلابی سوچ کی حامل ایک جماعت صفحہ ہستی سے مٹائی جا چکی تھی اور مسلمان قوم ہر جگہ انگریزوں کے شکوک و شبہات اور ظلم و ستم کانشانہ بنی ہوئی تھی۔ ان حالات میں مسلمانوں کے علمی حلقوں میں دو سوچیں ابھر کر سامنے آئیں۔ 
(الف) پہلی سوچ کے حامل وہ لوگ تھے جو انگریز سامراج سے قطعی مرعوب نہیں تھا بلکہ ان سے شدید نفرت کے جذبات رکھتے تھے اور اپنی مذہبی ، ثقافتی اور علمی روایات کو کسی طور پر چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ اس فکر کی نمائندگی ’’مدرسہ دیوبند‘‘ کررہا تھا۔ 
(ب) دوسری سوچ کے حامل وہ لوگ تھے جو انگریز سامراج سے متاثرہو کر ہر میدان میں مدافعانہ اور غلامانہ سوچ کو پروان چڑھا رہے تھے اور اس فکر کی نمائندگی سرسید احمد خان کا قائم کردہ کالج علی گڑھ کررہا تھا۔ 
ہمارے لیے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ’’علی گڑھ‘‘ کا ادارہ ’’دارالعلوم‘‘ کے مقابلے میں قائم کیا گیا، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ انگریز سامراج نے اپنی حکمت عملی سے ان ہر دواداروں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا اور ان کی باہمی رقابت سے سیاسی فوائد حاصل کیے۔ اس باہمی رقابت کو ولی اللّٰہی جماعت کے تیسرے دور کے امام شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے دور کیا اور اجتماعی ترقی وملی آزادی کے لیے ایک دوسرے کو مل جل کر کام کرنے کی دعوت دی ۔ تاہم اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ مولانا نانوتویؒ جدید علوم وفنون یا انگریزی زبان کے مخالف تھے۔ حضرت نانوتویؒ اور سر سید احمد خاںؒ کے ایک استاد مولانا مملوک علی نانوتویؒ تھے جو کہ شاہ عبد العزیز دہلویؒ کے شاگرد تھے۔ حضرت نانوتویؒ جدید علوم وفنون کے قائل تھے اور ان علوم کا حصول طلباء کے لیے ضروری خیال فرماتے تھے۔ چنانچہ سید محبوب رضوی نے مولانا نانوتویؒ کی یہ تحریر نقل کی ہے کہ: 
’’اگر طلباء مدرسہ ہذا ، مدارس سرکاری میں جاکر علومِ جدید حاصل کریں تو ان کے کمال میں یہ بات زیادہ موید ہوگی۔‘‘(10) 
مولانا احمد عبدالمجیب قاسمی حضرت نانوتویؒ کے تصور علوم جدیدہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : 
’’جدید تعلیم کے حصول سے حضرت نانوتویؒ نے منع نہیں فرمایا اور کیسے منع کرتے وہ تو باخبر، زمانہ شناس اور صاحب بصیرت عالم تھے اورتقاضائے زمانہ سے آگاہ تھے، بلکہ ایک گونہ ترغیب بھی دلائی۔‘‘ (11) 
تاہم ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولانا نانوتویؒ نے عصری اور دینی تعلیم کے مشترکہ نصاب کو دارالعلوم میں کیوں جاری نہیں فرمایا ؟ تو اس کا جواب مولانا نے خود یہ دیا ہے کہ: 
’’زمانہ واحد میں علوم کثیرہ کی تحصیل، سب علوم کے حق میں باعثِ نقصان استعداد رہتی ہے۔‘‘(12) 
مولانا کے اس جملہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ بیک وقت دینی وعصری تعلیم کی تدریس کو استعداد پیدا نہ ہونے کا باعث قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ ان کا مقصد یہ تھا کہ دینی تعلیم کے حاملین فراغت کے بعد عصری تعلیمی اداروں میں آئیں اور عصری تعلیم کے حاملین مدارسِ دینیہ میں آئیں۔ اگر وہ جدید علوم وفنون کے حوالے سے عصری تعلیمی اداروں کے مخالف ہوتے تو خود مولانا مملوک علیؒ سے کیوں پڑھتے جو شاہ عبدالعزیزؒ کے فتویٰ کی روشنی میں انگریز کے قائم کردہ کالج میں نوجوانوں کی تربیت کا محاذ سنبھالے ہوئے تھے۔ بلکہ مولانا گیلانیؒ کے مطابق تو مولانا نانوتویؒ خود انگریزی زبان سیکھنے کے خواہش مند تھے اور دارالعلوم دیوبند میں سنسکرت زبان سیکھنے کا اہتمام بھی تھا۔ (13) 
ان دونوں مکاتب فکر کا مقصد آزادی تھا لیکن حصول مقصد کے طریقے میں اختلاف تھا اور یہ اختلاف وقت کے ساتھ ساتھ اس قدر طویل ہوا کہ انگریزوں کے خلاف دو الگ محاذ جنگ قائم کرنے کی بجائے مسلمان خود آپس میں محاذ آرا ہوگئے اور یہ فکری محاذ آرائی اب تک قائم ہے۔ حالانکہ ان دونوں فکری تحریکوں کا ملاپ سماجی تبدیلی کا صحیح راستہ متعین کرنے میں معاون و مددگار ہوسکتا تھا۔
حضرت شیخ الہند ؒ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اس کمی کو شدت سے نہ صرف محسوس کیا بلکہ ان دونوں تحریکات کے اشتراک کے نتیجے میں ایک قومی انقلاب برپا کرنے کے لیے کئی عملی اقدامات کیے۔مولانا اپنی مستقبل بینی اور عبقریت کی بناپر بھانپ گئے تھے کہ غلبہ دین کو جدید دور کے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اس کی بنیاد پر حریت وآزادی کی جدوجہد کو کامیاب بنانے کے لیے دارالعلوم (دینی) اور علی گڑھ (عصری) کے اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنی اس سوچ کا اظہار جامعہ ملیہ کے تاسیسی جلسے میں اپنی آخری تقریر میں کیا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ: 
’’اے نونہالانِ وطن! جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غم خوار (جس میں میری ہڈیاں پگھلی جارہی ہیں) مدرسوں اور خانقاہوں میں کم اور سکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا ۔اور جس طرح ہم نے ہندوستان کے دو تاریخی مقاموں (دیوبند اور علی گڑھ) کا رشتہ جوڑا، کچھ بعید نہیں کہ بہت سے نیک نیت بزرگ میرے اس سفر پر نکتہ چینی کریں اور مجھ کو محروم بزرگوں کے مسلک سے منحرف بتلائیں۔ لیکن اہلِ نظر سمجھتے ہیں کہ جس قدر میں بظاہر علی گڑھ کی طرف آیا ہوں، لیکن اس سے کہیں زیادہ علی گڑھ میری طرف آیا ہے ۔‘‘ (14) 
حضرت شیخ الہند نے مزید فرمایا:
’’آپ میں سے جو حضرات محقق اور باخبر ہیں ، وہ جانتے ہوں گے کہ میرے اکابر سلف نے کسی وقت بھی کسی اجنبی زبان کے سیکھنے یا دوسری قوموں کے علوم و فنون حاصل کرنے پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا۔ ہاں! یہ بیشک کہا گیا کہ اگر انگریزی تعلیم کا آخری اثر یہی ہے جو عموماً دیکھا گیا ہے کہ لوگ نصرانیت کے رنگ میں رنگے جائیں یا ملحدانہ گستاخیوں سے اپنے مذہب اور مذہب والوں کا مذاق اڑائیں ..........تو ایسی تعلیم پانے سے ایک مسلمان کا جاہل رہنا ہی اچھا ہے ازراہ نوازش آپ ہی انصاف کیجیے کہ یہ تعلیم سے روکنا تھا یا اس کے اثر بد سے ۔‘‘ (15) 
حضرت شیخ الہند ؒ نے ہی علی گڑھ کے فاضل اور شہرہ آفاق مقرر مولانا محمد علی جوہر مرحوم کو دیوبند آنے کی دعوت دی اور باوجود اس کے کہ وہ کوئی عالم دین یا فقیہہ نہیں تھے اپنی دستار ان کے سر پر رکھ دی۔ حضرت شیخ الہندؒ کے اس عمل سے دو نتائج برآمد ہوئے۔
(الف) اول مولانا کی وسیع القلبی اور اخلاق و محبت کے اس عظیم مظاہرہ سے بہت سے علیگ یا غیر درسی حضرات تحریک دیوبند کے حوالے سے اپنے نکتہ نظر پر نظر ثانی کے لئے آمادہ نظر آنے لگے۔ چنانچہ حضرت شیخ الہندؒ کا وسیع حلقہ ایسے حضرات کا تھا جو مذہبی معاملات میں محض نمودو نمائش کا قائل نہیں تھا۔ نیز حضرت کی انہی پالیسیوں کی بدولت (جو کہ دراصل حضرت نانوتویؒ ہی کے پہلے اصول کی دوسری شق کا احیاء تھا ) ما سوائے انگریز حکومت اور اس کے گماشتوں کے کوئی دو سرا دشمن نہ تھا۔
(ب) دوسرا نتیجہ مولانا کے اس عمل کا یہ ہوا کہ ارباب دیوبند کا ایک مخصوص ذی اقتدار طبقہ ان کا مخالف ہو گیا اور ان کی راہ میں مزاحم ہوگیا۔ چونکہ مولانا کی ذاتی علمی و جاہت اورمقام و مرتبہ کی وجہ سے کسی کو یہ جرأت تو نہ ہوئی کہ وہ علی الاعلان ان کی مخالفت کرتا لیکن شیخ الہند ؒ کی پالیسیوں کو ناکام بنانے اور ان کی طاقت ختم کرنے کے لئے ان کے قریبی ساتھیوں کو ان سے الگ کرکے اور دارالعلوم بدر کرکے حضرت کی طاقت اور زور بازو کو کمزور کردیا گیا۔ اس حلقہ نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا لازمی جواب یہی ہے کہ یہ حلقہ دارالعلوم کی عمارت اور طریقہ تعلیم کو ان تخریبی عوامل سے بچانا چاہتے تھے جو حضرت شیخ الہندؒ کی پالیسیوں کے نتیجے میں مدرسہ کو لاحق تھے۔
وہ لوگ جو حجرہ نشینی کے قائل تھے اوراقامت دین کے حوالے سے عملی جد وجہدسے فرار اختیار کرتے ہوئے دار العلوم کو محض درس وتدریس تک محدود رکھنا چاہتے تھے، ان کے بارے میں حضرت شیخ الہندؒ نے فرمایا: 
’’اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ وہ تمام مذہبی، تمدنی ، اخلاقی ، سیاسی ضرورتوں کے متعلق ایک کامل ومکمل نظام رکھتا ہے ۔ جو لوگ کہ زمانہ موجودہ کی کشمکش میں حصہ لینے سے کنارہ کشی کرتے ہیں اور صرف حجروں میں بیٹھ رہنے کو اسلامی فرائض کی ادائیگی کے لیے کافی سمجھتے ہیں ، وہ اسلام کے پاک وصاف دامن پر ایک بدنما دھبہ لگاتے ہیں ۔ ان کے فرائض صرف نماز ، روزہ میں منحصر نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی اسلام کی عزت برقرار رکھنے اور اسلامی شوکت کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے۔ ‘‘(16) 
بہر حال آج اکثر مدارس حضرت نانوتویؒ کے پہلے اصول کی دوسری شق پربھی پورا نہیں اترتے ۔حضرت نانوتویؒ کا فرمانا تو یہ تھا کہ عام مسلمانوں سے زیادہ تعلق ہولیکن آج ہمارے ارباب مدارس عام مسلمانوں سے اتنے ہی دور ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دوریاں ختم ہوتیں مگر یہ جوں کی توں قائم ہیں بلکہ ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے استاد کی وضع کردہ اس شق کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مساعی کیں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا تا کہ وہ اس اجتماعی نظام کا حصہ بن سکیں اور خود کو الگ جنس تصور نہ کریں۔ لیکن بدقسمتی سے ان کی مساعی سے انحراف ان کی موت کے کچھ ہی عرصے بعد شروع ہوگیا تھا۔ ’’مولوی‘‘ اور ’’بابو‘‘ کی اصطلاحات نے اسے مزید ہوا دی اور آج یہ حال ہے کہ ہمارے ارباب مدارس کالج اور یونیورسٹی کے نیم مذہبی طلباء کو بنظرِ حقارت دیکھتے ہیں۔نیز اسلام اور عصری تقاضوں سے متعلقہ ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرنے کی بجائے اپنے اخلاقی ، سماجی اور معاشرتی رویوں سے انہیں خود سے مزید دور کرتے جا رہے ہیں، جس کا لازمی نتیجہ یہی برآمد ہوا ہے کہ آج ہمارے کالج اور یونیورسٹیوں کے قابل قدر اور مستقبل کے سیاسی و معاشرتی معمار اپنی لگامیں لا دینی قوتوں کے سپرد کر چکے ہیں اور یہ سب حضرت نانوتویؒ کے اصول سے انحراف کا نتیجہ ہے۔
حضرت نانوتوی ؒ کے اس زریں اصول میں یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اللہ پر توکل اور عوام کی طرف سے احتیاج کی وجہ سے مدرسہ کے کارکنوں میں جابرانہ استبداد اور ریاست کا ٹھاٹھ پیدا نہ ہو گا۔ کراچی کے بعض بڑے مدارس کے وارثین اور مفتیان سے ملنے کا اتفاق ہوا تو احساس ہوا کہ شاید گورنر سے ملنا اتنا مشکل نہ ہوتا جتنا ان حضرات سے ملنے میں دقتیں پیش آئیں۔علماء حق اور صوفیاء کا شیوہ تو یہ تھا کہ وہ امراء سے کتراتے او رغرباء کے پاس خود چل کر جاتے تھے۔ اسی وجہ سے ایک بوسیدہ جھونپڑی میں بیٹھے حق گو عالم و صوفی کی حق گوئی سے قصرِ خلافت کانپتا تھا۔ لیکن آج کی صورتحال اس کے برعکس ہے۔
حضرت نانوتویؒ کا یہ فرمانا بھی قابل توجہ ہے کہ اس طرح کا ٹھاٹھ اور جابرانہ تعلق پیدا نہ ہو بلکہ ایک جمہوری تعلق ہو جو فریقین کو ایک دوسرے کا محتاج بنا کر رکھے اور اس طرح خود ایک دوسرے کی اصلاح ہوتی رہے۔ لیکن آج یہ احتیاج اور اصلاح یکطرفہ ہو کر رہ گئی ہیں۔ یعنی مدارس عوام کی مالی امداد کے محتاج ہیں لیکن عوام ان کی طرف سے اپنی اصلاح کے نہ محتاج ہیں اور نہ اس پر آمادہ نظر آتے ہیں اور اس ساری خرابی کی اصل یہ ہے کہ آج ہمارے مدارس اس زعم میں بری طرح مبتلاء ہیں کہ اصلاح کرنا صرف انہی کا حق ہے۔ عوام کو یہ حق حاصل نہیں کہ اگر وہ ان میں کوئی خامی دیکھیں تو ان کی اصلاح کردیں۔چنانچہ اس عمل نے مذہبی اجارہ داری کی فکر کو ہوا دی ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہی برآمد ہوا ہے کہ آج ہمارے علماءِ مدارس کے اصلاحی احکامات مدارس تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور عوام پر اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے۔
غرض اربابِ مدارس کو آج اس بات پر سنجیدگی سے غورکرنے کی ضرورت ہے کہ آج کے مدارس اس نظریاتی دارالعلوم دیوبند سے کس قدر دور ہیں جس کی نیو حضرت نانوتویؒ نے اٹھائی تھی۔ اگر دارالعلوم کسی نظریاتی جدوجہد کا نام ہے تو آج ہمارے مدارس بانجھ کیوں ہو گئے ہیں؟ ہمیں سوچنا چاہئے کہ آج ہندوستان کی سب سے بڑی تحریک آزادی (دارالعلوم دیوبند) کے نام لیوا اسلامی نظام کے قیام میں اپناکیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ آج کتنے مدارس ایسے ہیں جو حضرت نانوتویؒ کے اس پہلے اصول پر عمل پیرا ہیں؟ یہ بات بھی سوچنے کے قابل ہے کہ ارباب مدارس دیوبند کی تاریخ، اس کے مقاصد اور ان مقاصد کے حصول کے لئے علماء دیوبند کی شاندار اور بے مثال قربانیوں کو اپنے نصاب تعلیم کا حصہ کیوں نہیں بناتے؟آخر کیا وجہ ہے کہ منطق وفلسفہ کی فرسودہ کتابیں اوراراکین وفاق المدارس کی کتب تو نصاب کا حصہ بن سکتی ہیں مگر شاہ ولی اللہ(الفوز الکبیر کے علاوہ) ،شاہ عبد العزیز،مولانا نانوتوی ،مولانا گنگوہی،شیخ الہند،مولانا مدنی اور سید محمد میاں رحمہم اللہ جیسے اکابر علماء دیوبند کی کتب کیوں نہیں پڑھائی جاتیں؟حقیقت تو یہ ہے کہ آج ہمارے مدارس کے فاضلین اپنے اکابرین کے حقیقی تعارف سے محروم ہوچکے ہیں اور یہ ایک المیہ ہے جس کی ذمہ داری ارباب مدارس اور اس سے بھی بڑھ کر وفاق المدارس پر عائد ہوتی ہے۔اگر آج ہم اس نظریاتی دیوبند کے اصول و ضوابط وحصول و مقاصد پر عمل پیرا ہیں تو اس کی عملی توجیہ ہو، بصورت دیگر ہمارے ان بانجھ اداروں کو اپنا تعلق اس عظیم نظریاتی دارالعلوم کے ساتھ جوڑنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

حواشی

(1) محبوب رضوی، تاریخ دارالعلوم دیوبند، ج 1، ص 169،المیزان،لاہور،2005ء
(2) گیلانی، مناظر احسن، سوانح قاسمی، ج 2، ص 223،مکتبہ رحمانیہ، لاہور
(3) ماہنامہ الولی حیدر آباد،ج 14،شمارہ11،ص27،1991ء
(4) گیلانی،مناظر احسن ،احاطہ دارالعلوم میں بیتے ہوئے ایام،ص170،ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان،1997
(5) ایضاً ،ص171
(6) گیلانی، مناظر احسن، سوانح قاسمی، ج 2، ص 222-223
(7) ایضاً ،ص223
(8) سید محمد میاں،علماء ہند کا شاندار ماضی ،ج5،ص48،مکتبہ رشیدیہ ،کراچی، 1992ء
(9) ایضاً
(10) محبوب رضوی، تاریخ دارالعلوم دیوبند، ج2، ص 302
(11) حجتہ الاسلام الامام محمد قاسم نانوتوی: حیات۔ افکار۔ خدمات (مجموعہ مقالات)، ص 280، تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند، نئی دہلی، 2005ء
(12) ایضاً،ص281
(13) گیلانی، مناظر احسن، برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت، ج 2، ص 40
(14) مدنی،حسین احمد،مولانا،نقشِ حیات ،ج2،ص677،دارالاشاعت ،کراچی
(15) ایضاً
(16) شاہجہان پوری، شیخ الہند مولانا محمود حسن: ایک سیاسی مطالعہ، ص 211،مجلس یادگار شیخ الاسلام، کراچی، 1988ء

مکاتیب

ادارہ

محترم ومکرم عمار خان ناصر صاحب
السلام علیکم!
الشریعہ کے اپریل 2014ء کا شمارہ نظروں سے گزرا۔ اس شمارہ میں راقم کا مضمون ’’جمہوری و مزاحمتی جدوجہد۔ ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ شائع کیا گیا۔ یہ یقیناً آپ لوگوں کی روایتی اعلیٰ ظرفی ہے کہ باوجود اس کے کہ اس مضمون میں الشریعہ کے رئیس التحریر پر بدویانہ انداز میں تنقید کی گئی تھی، آپ لوگوں نے اسے شائع فرمایا۔ یقینا یہ حسن اخلاق اور اعلیٰ ظرفی ہمارے دینی و مذہبی حلقوں کے لیے ایک عمدہ معیار اور مثالی نمونہ ہے۔ اگر ہمارے مذہبی و دینی حلقے اس حسن اخلاق واعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنے لگ جائیں تو اس لڑتی بھڑتی قوم کے لیے یہ بہت مبارک اور نیک شگون ہوگا۔ ایک اچھا نمونہ اور مثال بننے پر یہ عاجز الشریعہ کے منتظمین کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ آپ نے راقم کا اختلافی مضمون شائع کیا۔ یہ تو آپ کی روایت ہے۔ بلکہ یہ خراج تحسین اس بنا پر پیش کررہا ہوں کہ آپ نے اپنے نقطہ نظر کی شدت سے نفی کرنے والے ایک جاندار مدلل مضمون کو الشریعہ میں جگہ دی۔ مجھ سمیت کسی بھی تجزیہ نگار کی کوئی بھی رائے حرف آخر قطعاً نہیں۔ تاہم اگر مختلف آرا کی پشت پر موجود دلائل کا تبادلہ و مذاکرہ ہوتا رہے تو اتفاق واتحادکی منزل کو قریب کیا جا سکتا ہے۔
اے کاش! امت کا دین پسند اور مذہب کا علمبردار طبقہ اختلافی امور میں اعتدال کی راہ اپنانے اور اپنے اپنے اختلافات کو دلائل کی بنیاد پر پرکھنے کے ساتھ ساتھ ڈائیلاگ اور مکالمہ کی راہ اپنا لے اوردعوت ایمان، قیام عدل اورظلم کی مخالفت پر متحد و متفق ہوجائے تو اس امت کی ذلت و ضلالت کے طویل دورانیے پر کامیابی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو ایمان کی بہترین حالت میں زندہ رکھے اور ہردم حق بات کہنے اور سننے پر آمادہ رکھے۔ آمین۔
محمد رشید
abu_munzir1999@yahoo.com

مولانا زاہد الراشدی کے اسفار و خطابات

ادارہ

۲۴ اپریل ۲۰۱۴ء کو بعد از مغرب جامعہ اسلامیہ محمدیہ فیصل آباد میں بخاری شریف کا آخری سبق اور ختم بخاری کی تقریب سے خطاب۔
۲۵ اپریل کو جمعۃ المبارک کے موقع پر جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب۔
۲۵ اپریل کو جامعہ اسلامیہ محمدیہ فیصل آباد میں جامعہ کے فضلاء کے سالانہ اجتماع میں ’’عصر حاضر میں علماء کرام کی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر تفصیلی گفتگو۔
۲۶ اپریل کو جامعہ عائشہ صدیقہ، شاہین چوک گجرات میں بخاری شریف کا آخری سبق اور ختم بخاری کی تقریب سے خطاب۔
۲۶ اپریل کو بعد از عصر مسجد فاروقیہ کچی پمپ والی گوجرانوالہ میں ایک اسکول کی تقریب سے خطاب۔
۲۷ اپریل کو صبح ۱۱ بجے جامعہ بناء العلم رائے ونڈ میں ختم بخاری شریف کی تقریب سے خطاب
۲۷ اپریل کو بعد از مغرب مکی مسجد، ڈیوڑھا پھاٹک گوجرانوالہ میں مدرسہ فاطمۃ الزہراء کی طالبات کو بخاری شریف کے آخری سبق کی تدریس۔
۲۸ اپریل کو بعد از مغرب جامعہ مسجد قاسمیہ، نوشہرہ روڈ گوجرانوالہ میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر گفتگو۔
۲۹ اپریل کو ۱۱ بجے ضلع کونسل ہال گوجرانوالہ میں معذور شہریوں کے حوالے سے ایک تقریب سے خطاب۔
۲۹ اپریل کو بعد از ظہر مرکزی جامع مسجد واہنڈو میں ختم نبوت کانفرنس میں گفتگو۔
یکم مئی کو پینسرہ، جھنگ روڈ، فیصل آباد میں بعد از عشاء حضرت مولانا صادق الامین نقشبندی کے مدرسہ میں سالانہ تقریب سے خطاب۔
۲ مئی کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اسلامک رائٹرز فورم پنجاب کے سیمینار سے گفتگو۔ سیمینار میں وفاقی وزیر مملکت جناب عثمان ابراہیم اور معروف دانش ور جناب خورشید احمد ندیم نے شرکت کی۔
۳ مئی کو بعد از ظہر جامعہ حسینیہ نکودر، دینہ میں ختم مشکوٰۃ شریف کی تقریب سے خطاب۔
۳ مئی کو بعد از مغرب مسجد امن، باغبانپورہ لاہور میں پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام شہداء بالاکوٹ سیمینار سے گفتگو۔
۳ مئی کو بعد از عشاء جامعہ سرور کونین، بادامی باغ لاہور میں محفل حمد ونعت میں ’’نعت رسول کے آداب اور تقاضے‘‘ کے موضوع پر گفتگو۔ اس محفل میں مولانا حافظ فضل الرحیم (نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ، لاہور) اور مولانا مفتی محمد حسن (استاذ الحدیث جامعہ مدنیہ جدید، لاہور) نے بھی شرکت اور خطاب کیا۔
۵ مئی کو بعد از مغرب مسجد حدیبیہ، زاہد کالونی، گوجرانوالہ میں ایک دینی محفل میں گفتگو۔
۶ مئی کو صبح ۱۱ بجے جامعۃ المتین گوجر خان کے سالانہ جلسہ سے خطاب۔
۶ مئی کو بعد از مغرب گجرات میں جمعیۃ علماء اہل سنت کے زیر اہتمام ماہانہ نشست میں درس قرآن کریم۔
۸ مئی کو صبح ۱۱ بجے جامعہ عائشہ، بھاؤ عثمان پور، کھاریاں میں ختم بخاری شریف کی تقریب سے خطاب۔
۸ مئی کو بعد از ظہر جامعہ صدیقیہ تعلیم القرآن، پنجن کسانہ میں ختم بخاری شریف کی تقریب سے خطاب۔
۱۰ مئی کو بعد از مغرب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام کھیالی گوجرانوالہ میں منعقدہ دو روزہ تربیتی کورس سے خطاب۔
۱۰ مئی کو دار العلوم جلیل ٹاؤن گوجرانوالہ میں بخاری شریف کے آخری سبق کی تدریس۔
۱۱ مئی کو بعد از ظہر لاہور کینٹ میں جامعہ عمر بن عبد العزیز کی سالانہ تقریب سے خطاب۔ تقریب میں حضرت مولانا محمد نواز قادری مدظلہ آف ملتان نے بھی گفتگو کی۔
۱۱ مئی کو بعد از مغرب شیراکوٹ لاہور میں مولانا عبد القیوم خان نیازی مدظلہ کے جامعہ احیاء العلوم کی سالانہ تقریب دستار بندی سے خطاب۔
۱۲ مئی کو صبح ۱۱ بجے پراچہ دار العلوم، انجرا، ضلع اٹک میں ختم بخاری شریف کی تقریب سے خطاب۔
۱۲ مئی کو بعد از مغرب جامعہ رحمانیہ، ماڈل ٹاؤن، ہمک اسلام آباد میں درس قرآن کریم۔
۱۳ مئی کو صبح نماز فجر کے بعد جامع مسجد الیاس، ماڈل ٹاؤن اسلام آباد میں درس۔
۱۳ مئی کو ۱۱ بجے مانگا بائی پاس روڈ، مری میں ختم بخاری شریف کی تقریب سے خطاب۔
۱۳ مئی کو بعد از مغرب مدرسہ انوار العلوم، دھیر کوٹ آزاد کشمیر میں دورۂ حدیث کے طلبہ سے خطاب۔
۱۴ مئی کو ۱۱ بجے گورنمنٹ سائنس کالج رنگلہ میں اساتذہ سے خطاب۔
۱۴ مئی کو ۱۲ بجے بیس بگلہ میں مولانا مفتی عبد الرشید کے مدرسۃ البنات میں تقریب سے خطاب۔
۱۴ مئی کو بعد از ظہر مدرسہ امداد الاسلام، تھب میں بخاری شریف کے آخری سبق کی تدریس۔
۱۴ مئی کو بعد از مغرب مدرسہ حفصہؓ جگلڑی میں تقریب سے خطاب۔
۱۵ مئی کو صبح ۱۰ بجے گلستان کالونی راولپنڈی میں مولانا قاری فضل ربی کے مدرسہ میں بخاری شریف کے آخری سبق کی تدریس۔
۱۵ مئی کو بعد از ظہر جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر میں ختم بخاری شریف کی تقریب سے خطاب۔ تقریب میں مولانا فضل الرحمن اور مولانا سید عبد المجید ندیم نے بھی گفتگو کی۔
۱۵ مئی کو بعد از مغرب شیخہ بانڈہ، ایبٹ آباد میں ایک دینی مدرسہ کی تقریب سے خطاب۔
۱۶ مئی کو جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ میں طالبات کو بخاری شریف کے آخری سبق کی تدریس۔
۱۶ مئی کو بعد از نماز جمعہ کنور گڑھ، کالج روڈ گوجرانوالہ میں صوفی محمد عالم صاحبؒ کے مدرسہ میں طالبات کو بخاری شریف کے آخری سبق کی تدریس۔
۱۷ مئی کو بعد از ظہر جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ختم بخاری شریف کی سالانہ تقریب سے خطاب۔
۱۸ مئی کو بعد از مغرب کوٹ عبد المالک، شاہدرہ میں مولانا قاری غلام مصطفی کے مدرسہ کی سالانہ تقریب سے خطاب۔