علوم اسلامیہ میں تحقیق کے جدید تقاضے
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
(۱۷ جون ۲۰۱۴ء کو علامہ اقبالؒ اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں پی ایچ ڈی اسکالرز کی نشست سے خطاب۔)
بعد الحمد والصلوٰۃ! یہ میرے لیے خوشی اور افتخار کی بات ہے کہ علامہ اقبالؒ اوپن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اسکالرز کے اس کورس میں ارباب فہم و دانش سے گفتگو کا موقع مل رہا ہے اور اس پر میں یونیورسٹی انتظامیہ کا شکر گزار ہوں۔ میں آج اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی علوم میں تحقیق کا ذوق رکھنے والے احباب کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔
پہلی بات یہ ہے کہ اسلامی علوم و فنون کے حوالہ سے تحقیق اور ریسرچ کے شعبہ میں ہم ایک عرصہ سے تحفظات اور دفاع کے دائرے میں محصور چلے آرہے ہیں۔ مستشرقین نے اسلام، قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اعتراضات اور شکوک و شبہات پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا تو ہم ان کے جوابات میں مصروف ہوگئے اور تحقیق کے میدان مین ابھی تک ہمارا رخ وہی ہے۔ کم و بیش تین صدیاں گزر گئی ہیں کہ ہماری علمی کاوشوں کی جولانگاہ کم و بیش یہی ہے۔ میرے خیال میں اب ہمیں اس دائرے سے باہر نکل کر اقدام اور پیش قدمی کے امکانات کا جائزہ لینا چاہیے اور defense سے offence کی طرف بڑھنا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذہب کے معاشرتی کردار سے انحراف کے اس فلسفہ کے تلخ نتائج بھگتنے کے بعد اب مغرب کو اس سے واپسی کے راستے تلاش کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور اس کی جھلکیاں وقتاً فوقتاً دکھائی دینے لگی ہیں۔ اس لیے ہمیں عالمی سطح پر دکھائی دینے والی اس فکری تبدیلی پر نظر رکھتے ہوئے تحقیق اور ریسرچ کے نئے موضوعات تلاش کرنا ہوں گے اور امت مسلمہ کی راہ نمائی کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا۔
اس سلسلہ میں دو تین میدانوں کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا جن کو علمی و فکری جدوجہد کی جولانگاہ بنایا جا سکتا ہے اور جن کے مختلف پہلو مسلم محققین اور مفکرین کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مثلاً معاشیات کے شعبہ میں سابق پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ کی قائم کردہ ایک کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دنیا میں معاشی طور پر توازن اور انصاف قائم کرنے کے لیے قرآن کریم کے بیان کردہ معاشی اصولوں کی طرف رجوع ضروری ہے اور یہ بات صرف کمیٹی کی رپورٹ تک محدود نہیں رہی، بلکہ آج کی عملی صورت حال یہ ہے کہ مغربی دنیا میں اسلامی یا غیر سودی بینکاری کا مرکز بننے کے لیے لندن اور پیرس میں کشمکش عروج پر ہے۔ گزشتہ دنوں لندن میں منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا ہے کہ وہ لندن کو غیر سودی بینکاری کا مرکز بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، جبکہ پیرس کے بارے میں معلومات یہ ہیں کہ فرانس کی حکومت نے غیر سودی بینکاری کی مرکزیت کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے اپنے معاشی قوانین میں ترامیم کی ہیں۔ یہ تحقیق و تجزیہ کا ایک بڑا موضوع اور میدان ہے اور ہمارے اسکالرز کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس تبدیلی کا جائزہ لیں اور دنیا کو بتائیں کہ مغرب کو اتنی بڑی تبدیلی تک لے جانے کے عوامل کیا ہیں اور کون سے اسباب نے مغربی دنیا کو غیر سودی بینکاری کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے؟
اسی طرح خاندانی نظام کے منتشر ہوجانے کے حوالہ سے بھی مغرب کی پریشانی قابل دید ہے اور بہت سے مغربی دانش ور مسلسل اس بات پر اضطراب کا اظہار کرتے ہوئے خاندانی نظام کی بحالی کے لیے بے چین دکھائی دیتے ہیں۔ روسی دانش ور میخائیل گوربا چوف نے اب سے ربع صدی قبل اپنی کتاب ’’پرسٹرائیکا‘‘ میں کہا تھا کہ ہم نے جنگ عظیم اول میں لاکھوں افراد کے قتل سے پیدا ہونے والے افرادی قوت کے خلا کو پر کرنے کے لیے عورت کو گھر سے نکال کر فیکٹری اور دفتر کی زینت بنایا تھا۔ اس سے ہم نے افرادی قوت کے خلا کو تو کسی حد تک پر کر لیا مگر ہمارا گھریلو نظام تتر بتر ہوکر رہ گیا ہے، اور اب ہمیں عورت کو گھر واپس لے جانے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا ہے، جبکہ برطانیہ کے ایک سابق وزیر اعظم جان میجر باقاعدہ ’’Back to Basics‘‘ کے نعرے کے ساتھ فیملی سسٹم کی بحالی اور خواتین کو گھریلو ذمہ داریوں کو ترجیح دینے کی طرف راغب کرنے کی مہم چلاتے رہے ہیں۔ یہ بھی تحقیق اور ریسرچ کا ایک بڑا دائرہ ہے کہ مغرب میں فیملی سسٹم کے بکھرنے کے اسباب کیا ہیں اور خاندانی رشتوں اور نظام کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے اسلام دنیا کی کیا راہ نمائی کرتا ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندانی زندگی کے بارے میں اسوۂ حسنہ آج بھی نسل انسانی کی راہ نمائی کے لیے کافی ہیں، لیکن اسے دنیا کے سامنے آج کی زبان و نفسیات کے مطابق پیش کرنے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ مگر ہمیں اس کے لیے اپنے کردار اور طرز عمل کی نئی ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔
میڈیا اور ذرائع ابلاغ ایک مستقل موضوع بحث کی حیثیت رکھتے ہیں کہ میڈیا کے مختلف شعبوں کی کارکردگی نے انسانی سوسائٹی پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں؟ مثال کے طور پر اس کے ایک جزوی پہلو کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ کچھ عرصہ قبل بھارتی صوبہ ہریانہ کی ایک سکھ خاتون نے طلاق کی شرح میں مسلسل اضافے کو پی ایچ ڈی کے مقالہ کا موضوع بنایا اور اس کے مختلف اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے موبائل فون کو طلاق کی شرح میں ہوشربا اضافے کا سب سے بڑا سبب قرار دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ شادی سے ایک سال قبل اور ایک سال بعد تک لڑکی کے پاس موبائل فون نہیں ہونا چاہیے، جبکہ چند ماہ قبل برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کی تباہ کاریوں کی یہ کہہ کر دھائی دی ہے کہ ہماری نئی نسل برباد اور ناکارہ ہوتی جا رہی ہے، اس لیے ہمیں نیٹ اور موبائل کے بارے میں قانون سازی کرنا ہوگی۔ اس سے ہٹ کر فحاشی اور عریانی کے فروغ اور اسلامی اور مشرقی اقدار و روایات کو کمزور کرنے میں میڈیا کا کردار سب کے سامنے ہے۔ ہمارے دانش وروں کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے اور موبائل، نیٹ، چینل اور دیگر ذرائع ابلاغ کے غلط استعمال کی مختلف صورتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کی تباہ کاریوں کو اجاگر کرنا چاہیے۔
اس کے ساتھ ہی میں ان بین الاقوامی معاہدات اور قوانین کا بھی تذکرہ کرنا چاہوں گا جو اس وقت دنیا کے عملاً حکمران ہیں۔ میں یہ بات اکثر کہا کرتا ہوں کہ دنیا پر آج حکومتوں کی حکومت نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی معاہدات کی حکمرانی ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ طاقت ور اور دولت مند ملک اپنے لیے راستہ نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر کمزور ممالک خود کو ان کے سامنے بے بس پاتے ہیں اور معاہدات کی پابندی پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان معاہدات کا اسلامی تعلیمات کی رو سے جائزہ لینا ضروری ہے اور ہمارے اسکالرز کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی معاہدات کا اسلامی تعلیمات کے ساتھ تقابلی مطالعہ کر کے قرآن و سنت کی روشنی میں امت مسلمہ کی راہ نمائی کریں۔ اس سلسلہ میں مثال کے طور پر ایک بات عرض کروں گا کہ مجھے گزشتہ چند سالوں کے دوران ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے زیر اہتمام مختلف سیمیناروں میں شرکت کا موقع ملا ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ جنگی متاثرین کی امداد کے سلسلہ میں اپنی سرگرمیوں کے بارے میں مسلم علاقوں میں ریڈ کراس کو دشواریاں پیش آرہی ہیں اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی ان دشواریوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں نے اس سلسلہ کے ایک سیمینار میں عرض کیا کہ اگر ریڈ کراس کی تشکیل اور اس کے قوانین اور طریق کار کی تدوین کے وقت اسلام کو ایک زندہ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے اس کے نمائندوں کو بھی شامل کر لیا جاتا تو آج یہ مشکلات پیش نہ آتیں۔ اس وقت یہ سمجھ لیا گیا کہ مسیحی دنیا کی طرح مسلمان بھی اسلام کے معاشرتی کردار سے بالآخر دست بردار ہو جائیں گے، اس لیے بین الاقوامی قوانین کی تشکیل و تدوین میں مذہب کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا مگر عملاً ایسا نہیں ہو سکا، اس لیے کہ مسلمان دنیا کے کسی بھی حصے میں مذہب کے معاشرتی کردار سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اسلام آج بھی انسانی معاشرہ کی ایک زندہ اور متحرک قوت و حقیقت ہے۔ اس لیے اس مسئلہ کا حل آج بھی یہی ہے کہ انسانی سوسائٹی میں اسلام کو ایک زندہ حقیقت اور نسل انسانی کے ایک بڑے حصے کے راہ نما کے طور پر تسلیم کیا جائے اور آج کے زمینی حقائق کی بنیاد پر بین الاقوامی قوانین و معاہدات کا از سرِ نو جائزہ لیا جائے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے مسلم محققین اور دانش ور حضرات اسی ایک میدان کو اپنی علمی تگ و تاز کا مرکز بنا لیں تو تحقیق و تجزیہ کے سینکڑوں موضوعات ان کی توجہ کے طالب دکھائی دیتے ہیں۔ ان گزارشات کا مقصد اور خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں اسلام کے دفاع کے ساتھ ساتھ اب اقدام اور پیش رفت کو بھی موضوع بنانا چاہیے اور مغربی فلسفہ و نظام کی ناکامی کے اسباب و عوامل کو بے نقاب کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی افادیت و ضرورت کو واضح کرنے کی علمی و فکری محنت کرنی چاہیے کہ یہ آج کی اہم ضرورت ہے اور ہماری ذمہ داری بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمت محنت کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
میری علمی و مطالعاتی زندگی
پروفیسر خورشید احمد کے مشاہدات و تاثرات
پروفیسر خورشید احمد
مرتب : عرفان احمد
مرتب: عرفان احمد بھٹی / عبد الرؤف
اللہ تعالیٰ کا میرے اوپر یہ بڑا فضل رہا ہے کہ میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی، وہ دینی اور علمی دونوں اعتبار سے ایک اچھا گھرانا تھا۔ میرے والد مرحوم علی گڑھ کے پڑھے ہوئے تھے۔ انہوں نے سیاسی زندگی میں تحریک خلافت مسلم لیگ اور قیام پاکستان کے لیے جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔ والد محترم کے دینی، سیاسی اور ادبی شخصیات سے گہرے روابط تھے اور ایسے سربرآوردہ حضرات کا ہمارے ہاں آنا جانا تھا، اس لیے بچپن ہی میں دہلی کی ادبی اور ثقافتی زندگی سے استفادے کا موقع ملا۔ بچوں کی ایک انجمن دلی میں تھی جس کا میں سب سے کم عمر صدر منتخب ہوا۔ جامعہ ملیہ میں سپورٹس‘ مباحثوں اور بیت بازی میں شرکت کی۔ گھر کی فضا میں مجھے اقبال، حالی، غالب کے کلام کو پڑھنے کا موقع ملا۔ بیت بازی میں شرکت کرنے کے لیے سینکڑوں اشعار یاد کرنے کا موقع ملا۔ اس پہلو سے ایک ایسی فضا تھی جس سے مجھے اوائل عمر ہی سے علمی اور ادبی ذوق سے مناسبت پیدا ہوئی۔ اس وقت یہ ٹھیک سے یاد نہیں ہے کہ میں نے پہلی کتاب کون سی پڑھی، لیکن اس دور میں چونکہ اشعار بہت یاد کیے تھے، اس لیے ممکن ہے حالی کی مسدس اور اقبال کی بانگ درا بہت چھوٹی عمر میں پڑھی ہو اور اشعار بھی یاد کیے ہوں۔ باقاعدہ کتابی مطالعہ میں نے اپنے کالج کے دنوں میں شروع کیا، لیکن انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں مجھے پرائمری اور سیکنڈری میں ہی لکھنے اور بولنے کا شوق پیدا ہوا۔ چناں چہ محمد علی ٹرافی نو یا دس سال کی عمر میں حاصل کی۔
جن لوگوں سے میں پہلے پہل متاثر ہوا، ان میں ابوالکلام آزاد، محمد علی جوہر، جواہر لال نہرو، مولانا حسرت موہانی تھے اور اتفاق کی بات ہے کہ نہرو کی دو کتابیں میں نے میٹرک کی عمر میں پڑھ لی تھیں‘ ایک (Glimpes of History) اور دوسری (Letters of Father to Daughter)۔ یہ دونوں دراصل خطوط ہیں جو اندرا گاندھی کو نہرو نے لکھے تھے۔ ان میں بہت خوب صورت انداز میں تاریخ کو بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ جواہر لال نہرو کو میں نے پڑھا، اس لیے میرا تھوڑا سا رجحان اشتراکیت کی طرف ہوا لیکن سا تھ ساتھ چونکہ تحریک پاکستان میں میرے والد سرگرم تھے‘ اس لیے میں ’’بچہ مسلم لیگ‘‘ میں بھی شامل تھا۔ یہ بڑا دلچسپ معاملہ تھا جس کے تحت اسلام‘ پاکستان‘ مسلمانوں کی آزادی اور قومی تشخص کی طرف جھکاؤ تھا۔ اس لیے میں جب پاکستان آیا تو یہاں مجھے پہلی مرتبہ مولانا مودودیؒ سے ملنے اور ان کے لٹریچر کو پڑھنے کا موقع ملا۔ مولانا کو میں نے بچپن میں دیکھا ہوا تھا۔ 1938یا 1939کی بات ہے جب مولانا ہمارے ہاں تشریف لائے۔ میرے والد صاحب کے ان سے دوستانہ مراسم تھے اور میں نے ان کو اس زمانے میں ایک انقلابی غزل سنائی تھی۔ اس کے بعد میں نے جب مولانا مودودی صاحب کی تصانیف کا مطالعہ کیا تو بالکل ایک دوسری دنیا مجھ پر کھلی۔ مولانا کی جن دو کتابوں نے جو مجھے بہت متاثر کیا وہ خطبات اور تنقیحات ہیں۔ تنقیحات اگرچہ ذرا مشکل کتاب ہے، لیکن چونکہ میرا ذہنی رشتہ اشتراکیت سے تھا اس لیے اس کتاب نے مجھے بہت متاثر کیا۔ بالخصوص اس کے دو مضامین ’’ہماری ذہنی غلامی اور اس کے اسباب‘‘ اور ’’ہندوستان میں اسلامی تہذیب کا انحطاط‘‘۔ اس زمانے میں، میں نے نو مسلم علامہ محمد اسد کی تحریروں کو پڑھا۔ پاکستان بننے کے بعد 1947 تک ان کے رسالے عرفات کے 6یا 7 شمارے شائع ہوئے تھے جو میں نے بڑی تلاش کے بعد حاصل کیے۔
اقبال، مولانا مودودی اور علامہ محمد اسد، یہ تین ایسے لوگ ہیں جو مجھے زندگی کے اس موڑ پر کہ جب میرا جھکاؤ اشتراکیت کی طرف تھا، مجھے اسلام کی طرف لانے کا ذریعہ بنے۔ بعد میں اسلامی جمعیت طلبہ میں شریک ہوا اور بہت جلد اس کی اہم ذمہ داریوں کا سزاوار ٹھہرا۔
جمعیت کے زمانے میں انگریزی ہفت روزہ Students Voice نکالا جو پاکستان میں طلبہ کا پہلا رسالہ تھا۔ اس پلیٹ فارم نے مجھے بہت اچھے مواقع دیے۔ مباحثوں میں حصہ لینا، اسلام کی دعوت پیش کرنا اور پھر اس وقت کی غیر اسلامی تحریکوں کو سمجھنا اور ان یک مقابلے میں اسلام کی بالادستی کو پیش کرنے کی کوشش کرنا۔ مغرب کے لکھنے والوں میں سب سے پہلے میں جس سے متاثر ہوا، وہ پروفیسر سی ایم جوڈ تھے۔ ان کی ایک کتاب تھی Modern Thought، اگرچہ یہ بہت اونچے درجے کے فلسفی نہیں تھے، لیکن ان کا اہم کارنامہ مغرب کی فکر کو بڑے صاف ستھرے انداز میں اور آسان انداز میں پیش کرنا ہے۔ پھر وہیں سے برٹرینڈرسل سے متعارف ہوا، اس کو پڑھا اور اس سے تاثر بھی لیا۔ میرا خیال یہ ہے کہ برٹرینڈرسل بیسویں صدی کے فلسفیوں میں بہت ہی نمایاں نام ہے۔ اس دوران میں معاشیات میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی۔ اللہ کا فضل تھا کہ اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ کی وجہ سے مغربی فکر کو پڑھنے اور مغرب کو سمجھنے کے باوجود اس کے حملے سے میں بچ گیا۔ میرے پاس ایک معیار تھا، اپنے دین کا اسلامی فکر کا جس پر میں چیزوں کو جانچتا تھا، اس لیے کبھی میں ان چیزوں سے مرعوب نہیں ہوا۔ مولانا مودودیؒ نے قرآن کریم سے میرا رشتہ استوار کیا۔ دینی تعلیم میں اہم کردار ماسٹر محمد اکرم مرحوم و مغفور کا ہے جو حافظ قرآن بھی تھے اور خوش الحان قاری بھی۔ ان کی حیثیت ہمارے لیے ایک اتالیق کی تھی۔ قرآن مجید کو پڑھنے اور سمجھنے میں پہلے محمد اکرم صاحب اور پھر مولانا کی تفہیم القرآن نے ایک کلید کا کام سرانجام دیا۔
قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے میں نے بہت سی تفاسیر جن میں کلاسیکل اور جدید دونوں شامل ہیں، پڑھی ہیں تاہم مولانا کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد کی تفسیر ترجمان القرآن نے متاثر کیا۔ تفہیم القرآن کے علاوہ مجھے جس تفسیر نے متاثر کیا وہ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی ’’تدبر قرآن‘‘ ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیر بھی بڑے شوق سے پڑھی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی ترجمان القرآن کی تین جلدوں میں سب سے اہم پہلی ہے جو سورہ فاتحہ کی تفسیر ہے، دوسری میں دیگر مباحث ہیں اور تیسری جلد کو غلام رسول مہر نے مرتب کیا ہے۔ کلاسیکل کتب کے جو ترجمے ہیں، ان میں تفسیر ابن کثیر کو میں نے بڑی اچھی طرح مطالعہ کیا۔ امام رازی کی تفسیرکبیر کو مکمل نہیں پڑھا، لیکن اس کے کچھ حصے ترجمے کی شکل میں پڑھے ہیں۔ ابن تیمیہؒ میرے بہت ہی محبوب مفکر ہیں۔ ان کی قرآن فہمی کا مطالعہ کیا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد سے مجھے خاندانی نسبت ملی۔ میرے والد صاحب سے ان کے تعلقات تھے۔ ان کی سب سے پہلی کتاب جو میں نے پڑھی وہ ’’غبار خاطر‘‘ اور پھر ’’تذکرہ‘‘ ہے‘ غبار خاطر سیاسی خطوط کے بجائے زیادہ علمی اور ادبی موضوعات کو لیے ہوئے ہے۔ انہوں نے مجدد الف ثانی کی تحریک کا جو تذکرہ کیا ہے، اس سے میں بہت زیادہ متاثر ہوا تھا۔ اسی طرح مولانا شبلی نعمانی اور مولانا سید سلیمان ندوی کا میں نے مطالعہ کیا۔ شبلی سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ خاص کر مسلم تاریخ، مسلم شخصیات اور ان کے کارنامہ زندگی سے واقفیت اور وابستگی میں شبلی کی تحریروں نے گہرا اثر ڈالا۔
سیرت النبیﷺ میں سب سے زیادہ سید سلیمان ندوی کی کتاب سے متاثر ہوا۔ سیرت کا دوسرا حصہ انہوں نے مکمل کیا، اس میں شبلی کا انداز اور لہجہ پوری طرح پایا جاتا ہے اس کے علاوہ Wistoron, History of the world اور مختلف انسائیکلوپیڈیا جن میں سے ان سے مجھے مختلف علوم کو سمجھنے اور ان کے متعلق ایک دروازہ کھولنے کا موقع ملا۔ ان کے علاوہ امین حسن اصلاحی، صدرالدین اصلاحی، سید قطب شہید، پروفیسر عبدالحمید صدیقی اور نعیم صدیقی کو میں نے دل کی آنکھوں سے پڑھا۔ تصوف کے سلسلے میں مولانا اشرف علی تھانوی کی کتابیں بڑے شوق سے پڑھیں۔ تاہم تصوف میرے لیے دلچسپی کا موضوع نہیں رہا، اس کے باوجود امام غزالی ’’احیاء العلوم اور کیمیائے سعادت‘‘ نے مجھے بہت متاثر کیا۔ ان کتابوں میں سماجی، نفسیاتی اور متصوفانہ امور کا امتزاج بڑے توازن سے جلوہ افروز ہے۔ شاہ ولی اللہ کی حجتہ اللہ البالغہ کی پہلی جلد باعث کشش شاہ کار ہے اور اس میں اللہ اور رسولﷺ کے دین کے دعوت ہے۔
میں نے تاریخ میں سید ابوالحسن علی ندوی کی کتابوں کے علاوہ اکبر شاہ خاں نجیب آبادی اور مولانا احمد سعید اکبر آبادی کی کتابیں پڑھی ہیں۔ مغربی فکر میں جن لوگوں کا بڑا نام ہے، تقریباً سب کو پڑھا ہے بالخصوص ول ڈیورانٹ اور ایچ جی ویلز کی کتب اور مسلمانوں میں خاص طور پر ابن خلدون اور پھر شاہ ولی کی ازالۃ الخفاء، اس میں اسلامی تاریخ کا بڑا ذکر آتا ہے۔ اس کے علاوہ آرنلڈ ٹوائن بی کی A Study of History تو 12 جلدوں کو میں نے پڑھا ہے، لیکن اس کی دو جلدیں جو کہ تلخیص ہیں انھیں میں نے خاص طور پر دیکھا ہے۔
ول ڈیورانٹ کی A Story of Civilization میرے خیال میں تاریخ پر سب سے اچھی کتاب ہے۔ اس میں پرانی تہذیبوں سے لے کر بیسویں صدی تک پوری تاریخ کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ایک اور جرمن مورخ ہے اس کی ایک کتاب جس نے مجھے بہت متاثر کیا، وہ The clashes of our age ہے۔ اس میں اس نے 36تہذیبوں کے بارے میں گفت گو کی ہے۔ وہ بہت ہی سود مند ثابت ہوئی۔ اس مطالعے سے مجھے مغرب کو سمجھنے میں بہت مدد ملی اور پھر یہ نتیجہ اخذ کرنے میں سہولت ہوئی کہ مغرب کی تہذیبی، سیاسی، معاشرتی، معاشی ترقی کس طرح ہوئی۔
یہ ایک عجیب معاملہ ہے کہ میری ابتدائی تربیت تو شاعری سے ہوئی ہے مگر میں شعر نہیں کہتا بلکہ بہت سے اشعار اور نظمیں یاد ہیں۔ پھر اردو نثر اور انگریزی ادب پڑھنے کا موقع ملا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو میں میں نے سب سے زیادہ فیض نسیم حجازی کے ناولوں سے اٹھایا۔ اس بات سے قطع نظر کہ ان کی تحریروں میں لمبی لمبی تقریروں کی بھرمار ہے، لیکن بحیثیت مجموعی جو جذبہ محرکہ ان ناولوں سے ملا ہے، وہ کہیں اور سے ملنا مشکل ہے اور جو انسانیت انسان کے اندر دبی ہوتی ہے وہ اسے نکھار دیتے ہیں۔ داستان مجاہد، یوسف بن تاشفین، آخری چٹان ، شاہین، ادب کے مقصد اور پیغام کے حوالے سے شاہ کار ناول ہیں۔ یہ ناول زبان کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ تاریخی عوامل اور علم و تہذیب کو سمجھنے میں مدد گار ہیں۔ مزاح میں شوکت تھانوی کا میں نے بڑے شوق سے مطالعہ کیا ہے۔ رشید احمد صدیقی، اسٹیفن لی کاک اور پطرس بخاری بھی بہت پسند ہیں۔ اسی طرح طالب علمی کے زمانے میں جاسوسی ناول بہت شوق سے پڑھتا تھا۔ اس ذوق کا آغاز ہواتھا شرلاک ہومز سے۔ کوئی ایک آدھا ہی ناول بچا ہو گا ان کا۔ پھر اردو میں ابن صفی کو بھی پڑھتا رہا۔
ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی سے میں نے زبان سیکھی۔ انگریزی شاعری میں خاص طور پر ملٹن اور ایذار پاؤنڈ کو میں نے بہت شوق سے پڑھا۔ کارلائل کی چیزیں بھی میں نے دیکھی ہیں، انگریزی لٹریچر پر تنقید بھی پڑھی، لیکن انگریزی میں ادب سے زیادہ سنجیدہ اور علمی چیزوں کو پڑھنے میں زیادہ دلچسپی رہی ہے۔
اقبال میری روح میں ہے۔ اقبال کے ساتھ حالی، میر تقی میر، اکبر الہ آبادی، حسرت موہانی کا مطالعہ میں نے شوق سے کیا ہے۔ میں انہیں مسلم ثقافت کا بہت قیمتی سرمایہ سمجھتا ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ غالب، مومن کا بھی مطالعہ کیا ہے۔
افسانہ اور افسانوی ادب بہت کم زیر مطالعہ رہا ہے، البتہ منٹو کے کچھ افسانے پڑھے ہیں۔ محمد حسین آزاد کی ’’آب حیات‘‘ کے علاوہ ’’طلسم ہوش ربا‘‘ کو شوق سے پڑھا۔ ٹالسٹائی، پریم چند، جیلانی بی اے اورم نسیم میرے پسندیدہ افسانہ نگار ہیں۔
اہم رسائل و جرائد کو باقاعدگی سے پڑھا، شروع ہی سے The Economistاور Encounter وغیرہ کو میں باقاعدگی سے پڑھتا رہا ہوں۔
روزنامہ ’’ڈان‘‘ سے میرا تعلق اس کی اشاعت کے پہلے روز سے ہے اور جب میں محمد علی جوہر کی تحریر کا عاشق ہوا تو کامریڈ کی ساری فائلیں بڑی محنت کر کے حاصل کیں۔
اسی طریقے سے جب بھی مجھے موقع ملا میں نے ’’لندن ٹائمز‘‘ کو پڑھا ہے۔ رسائل میں مجھے علی گڑھ میگزین کا علی گڑھ نمبر اور غالب نمبر، نقوش کا شخصیات نمبر، نگار کی خصوصی اشاعتیں اور الفرقان کا شاہ ولی اللہ نمبر بہت پسند آئے۔ ذاتی چیزوں میں مجھے اپنے ہی مرتب کردہ چراغ راہ کے ’’اسلامی قانون نمبر‘‘ اور ’’نظریہ پاکستان نمبر‘‘ بہت پسند آئے تھے۔
میٹرک میں، میں نے اختیاری مضمون کے طور پر عربی پڑھی ہے، تاہم میری ابتدائی تعلیم عربی میں نہیں ہوئی اور فارسی کی بھی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی۔ باقی تھوڑی بہت فارسی میں نے اپنی ذاتی کاوش سے سیکھی لیکن استفادے کی حد تک میرے لیے زیادہ بڑا ذریعہ اردو، اور انگلش ہی ہیں۔
میں ہر وقت پڑھ سکتا ہوں اور جب بھی موقع ملے پڑھ سکتا ہوں، ایک عرصہ تک تو صبح کا تمام وقت مطالعے میں ہی گزرتا تھا، اب دوسری مصروفیات میں کم ہی ایسا موقع ملتا ہے، اس لیے اب رات کے اوقات میں کتابوں کے ساتھ بسر کرتا ہوں۔ عموماً کرسی، میز یا پھر صوفے پر بیٹھ کر پڑھتا ہوں۔ رات کو تین تکیے سر کے نیچے رکھ کر نیم دراز حالت میں پڑھنے کی عادت بھی رہی ہے۔ رفتار مطالعہ اچھی ہے، اس لیے کم وقت میں زیادہ مطالعہ ہوتا ہے۔ شروع میں بڑی محنت کے ساتھ میں نے کتابوں کا مطالعہ کیا ہے، اور اس میں ایک طریقہ یہ استعمال کیا ہے کہ ہر اہم علم کی ایک دو بنیادی کتب اس طرح پڑھی جائیں کہ ایک باب پڑھنے کے بعد آنکھ بند کر کے اور کتاب بند کر کے سوچا جائے کہ کیا پڑھا؟ شروع ہی سے ذہن کو اخذ اکتساب و حفاظت کی عادت پڑ گئی، اس طرح تیز مطالعہ اور ضروری باتوں کو اخذ کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔
مطالعے کے لیے تنہائی اور خاموشی مطلوب ہے، لیکن شور و شغب میں بھی پڑھ لیتا ہوں۔ ماحول کی ناسازگاری سے طبیعت مکدر ہوتی ہے۔ اگر مطالعے کے وقت دنیا مجھے نہیں چھوڑتی تو میں اس کو چھوڑ دیتا ہوں، ذہن کو سب سے کاٹ کر کتاب سے جوڑ لیتا ہوں۔ سفر میں برابر پڑھتا ہوں، بالعموم لائٹ لٹریچر، سفر نامہ، ناول، افسانہ اور نظمیں وغیرہ۔
پڑھنے کے ساتھ ساتھ ذاتی لائبریری میں اچھی کتب جمع کرنے کا شوق بھی مجھے شروع سے رہا ہے اور طالب علمی کے زمانے ہی سے میرے پاس اچھی خاصی لائبریری رہی ہے۔ میں جب کراچی میں تھا 1965میں، میرے پاس 20ہزار کتابیں ہوں گی جن میں سے کچھ اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی کو عطیہ کیں۔ لندن میں بھی میرے پاس 7یا 8ہزار کتابیں تھیں جن کا بیشتر حصہ میں نے اسلامک سنٹر فاؤنڈیشن کو عطیہ کیا ہے اور یہاں بہت سی کتب انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز اسلام آباد کے سپرد کی ہیں۔
جن لوگوں کو پڑھا، اللہ کے فضل و کرم سے سب لوگوں سے میرا رابطہ رہا، ملاقاتیں رہیں اور ایسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد ہے۔ بہت ساروں کے ساتھ میرے تعلقات ذاتی بھی رہے اور خط و کتابت بھی رہی۔ ان میں علامہ یوسف القرضاوی، مصطفی احمد زرقا سے لے کر آرنلڈ ٹوائن بی جیسے دراز قامت لوگ شامل ہیں۔ پھر خدا کا شکر ہے کہ علمی کانفرنسوں کے مواقع پر سینکڑوں شخصیات سے ملا ہوں۔
باقی زندگی کے لیے اگر تین کتابیں ساتھ رکھنے کی بات کی جائے تو سیرت پاکﷺ اور تاریخ پر کوئی کتاب رکھنے کے ساتھ کلیات اقبال رکھنا چاہوں گا۔
سینکڑوں ایسی تحریریں پڑھی ہیں جن کے مطالعے سے خون کھولتا ہے اور ان کے جوابات بھی لکھے ہیں۔ ایسی تحریریں جو بدی اور گناہ کی طرف ترغیب دیں، ہمیشہ ناپسند رہی ہیں۔
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ڈاکٹر رضوان علی ندوی کی تنقید (۱)
مفتی امان اللہ نادر خان
مؤرخہ 7 اور 8 جولائی (2013) کے روزنامہ ’’امت‘‘ میں ’’ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی ‘‘صاحب کا ایک مضمون بعنوان ’’ حضرت معاویہؓ اور قدیم مؤرخین اور محدثین‘‘ شائع ہوا ، جس میں ڈاکٹر صاحب نے ’’ اہلسنت والجماعت ‘‘ کے مؤقف سے انحراف کر کے بزعمِ خویش حضرت سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے ’’صحیح حالات ‘‘پر ’’تاریخی حقائق ‘‘اور ’’قدیم مؤرخین و محدثین ‘‘ کی آراء کی مدد سے روشنی ڈالی ہے اور یہ ثابت کرنے کی نا کام کو شش کی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زبان زد عام مشہور فضائل و مناقب من گھڑت ہیں ،قدیم مؤرخین و محدثین میں سے کسی نے انہیں ذکر نہیں کیا، اس ضمن میں ’’ڈاکٹر صاحب ‘‘نے مولانا اورنگزیب صاحب کے مضمون ( یا بالفاظ دیگر حضرت امیرمعاویہؓ ) پر جو اعتراضات کیے ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ:
(۱) سیدنا امیر معاویہ ایک عام صحابی تھے، ’’جلیل القدر‘‘ اور ’’عظیم المرتبت‘‘ نہیں تھے۔
(۲) وہ آپ ﷺ کے خطوط و معاہدات لکھا کرتے تھے، البتہ ’’کاتبِ وحی‘‘ نہیں تھے۔
(۳) وہ ’’مؤلفۃ القلوب‘‘ اور ’’طُلَقآء‘‘ میں سے تھے اور فتح مکہ کے بعد اسلام لائے۔
(۴) وہ ’’اول الملوک‘‘ تھے، ’’خلیفہ‘‘ نہیں تھے۔
(۵) حضور اکرم ﷺ سے ان کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث مروی نہیں۔
نوٹ: اعتراضات کا جواب دینے سے قبل قارئین کے لیے ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے، وہ یہ کہ ہماری یہ تحریر ڈاکٹر رضوان علی ندوی صاحب کے مضمون کے جواب میں لکھی گئی تحریر کا خلاصہ، تلخیص، بلکہ اُس کا اجمالی خاکہ ہے، اصل تحقیقی وتفصیلی جواب میں ہم نے ڈاکٹر صاحب کے اٹھائے گئے اعتراضات کو تفصیل سے ذکر کرنے، پھر ان کا تجزیہ وتحلیل کرنے، مولانا اورنگزیب صاحب کے مضمون سے ان کا موازنہ کرنے، ان کے درمیان محاکمہ کرنے کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کے ذکر کردہ اقتباسات کی اصل کتاب کی طرف مراجعت کرکے سیاق وسباق سے انہیں مکمل دیکھ کر ان کے صحیح مفاہیم ومطالب بیان کرنے کا کام کیا ہے۔ اور اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کے تسامحات کی نشاندہی کی ہے جب کہ موجودہ تلخیص خالص علمی انداز میں اُس تفصیلی جواب کا خلاصہ اور لب لباب ہے، جسے اہلِ علم اور اسی طرح وہ حضرات جنہوں نے ڈاکٹر صاحب کی تحریر بغور پڑھی ہو اور ان کے ذہنوں میں اس کا مفہوم باقی ہو، وہ تو قدرے آسانی سے سمجھ جائیں گے، البتہ جن حضرات نے ڈاکٹر صاحب کی تحریر نہیں پڑھی، یا ان کے ذہنوں میں اس کا مفہوم محفوظ نہ ہو، تو وہ حضرات شاید ہماری اس تحریر میں کچھ تشنگی (جو بوجہ تلخیص کے پائی جائے گی) محسوس کریں گے، اس کے لیے ہم پیشگی معذرت خواہ ہیں،لیکن اگر وہ اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب کی تحریر بھی سامنے رکھ کر مطالعہ کریں گے، تو انشاء اللہ وہ تشنگی بھی باقی نہیں رہے گی۔
پہلے اعتراض کا جواب
جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے ،سو اس سلسلے میں ’’ڈاکٹرصاحب‘‘ دلیل تو کوئی بھی پیش نہ کر سکے، البتہ اپنے اندر کے غصہ و کینہ کا خوب اظہار کر کے ایک صحابی رسول ﷺکی شان میں زبان درازی کی ہے، جس سے ان کا مدعا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔
مختصراً عرض یہ ہے کہ ’’جلیل القدر‘‘ اور ’’عظیم المرتبت‘‘ یہ دونوں صیغہ صفت ہیں اور کلی مشکک کے طور پر ان کا اطلاق اپنے تمام افراد پر اولیت و اولویت (کمی و زیادتی) کے اختلاف سے ہوتا ہے اور اس بات پر تمام اہلسنت متقدمین و متأخرین کا اتفاق واجماع ہے کہ خود ’’صحابیت‘‘ ایک ایسا بلند مقام ہے کہ نبوت کے بعد اس سے اونچا کوئی مقام نہیں۔ اور یہی معنیٰ ہے ’’جلیل القدر‘‘ اور ’’عظیم المرتبت‘‘ ہو نے کا۔
تمام انبیاء علیھم السلام اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سب سے زیادہ مقرب لوگ ہیں، لیکن ان کے درجات میں پھر بھی تفاوت ہے اور یہ تفاوت ’’تقرب‘‘ کے اس مقام کے منافی ہرگز نہیں، لہذا تمام صحابہ رضی اللہ عنہم ’’جلیل القدر‘‘ اور ’’عظیم المرتبت‘‘ ہیں اور کسی صحابی کے ’’جلیل القدر‘‘ اور ’’عظیم المرتبت‘‘ ہونے سے دوسرے کسی صحابی کی’’جلالتِ قدر‘‘ اور ’’علو مرتبت‘‘ کی نفی پر استدلال کرنا ایک ’’مضحکہ خیز‘‘ بات ہے۔
اب ذرا ’’ڈاکٹر صاحب‘‘ کی عبارت ملاحظہ فرمایئے:
’’اگر حضرت معاویہؓ ہی ’’جلیل القدر‘‘ اور ’’عظیم المرتبت‘‘ خلیفہ تھے تو پھر حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمر فاروقؓ کے لیے کون سے الفاظِ مدح باقی رہ گئے‘‘؟!
لفظ ’’ہی‘‘ سے حصر کا مفہوم بیان کرنا مولانا اورنگزیب صاحب پر غلط الزام ہے، جس سے وہ بری ہیں اس پر مزید تبصرہ اہلِ علم حضرات کی خدمت میں چھوڑ دیا جاتا ہے،
سورۃ الحدید آیت ۱۰ کا مفہوم یہی ہے کہ فتح مکہ سے قبل قتال و انفاق کرنے والوں کا مقام فتح مکہ کے بعد قتال و انفاق کرنے والوں سے زیادہ ہے اور یہی مسلّم بھی ہے ۔ مولانا اورنگزیب صاحب نے بھی اس سے انکار نہیں کیا، مگر اس سے حضرت امیر معاویہؓ کی ’’جلالتِ قدر‘‘ اور ’’علو مرتبت‘‘ کی نفی پر وجہ استدلال کیا ہے؟
جہاں تک سورۃ التوبۃ آیۃ نمبر ۱۰۰ کا تعلق ہے تو اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ’’السابقون الأولون‘‘ کا مصداق نہیں تو ’’والذین اتبعوھم‘‘ میں شامل ہو کر ’’رضی اللہ عنھم‘‘ کا مصداق ہو نے میں تو کسی بھی قدیم و جدید مفسر کو کوئی کلام نہیں۔
’’اتباع بالإحسان‘‘ کی تفسیر ’’اتباع قبل از فتح مکہ‘‘ سے کرنا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس خوشنودی (رضی اللہ عنہ) سے خارج قرار دینا یہ ’’ڈاکٹر صاحب‘‘ کی ’’خانہ زاد تفسیر‘‘، ’’انوکھی تحقیق‘‘،بلکہ آیت کے مفہوم میں واضح ’’تحریف ‘‘ ہے، جس سے چودہ (۱۴) صدیوں کے تمام مفسرین (جدیدو قدیم )علماء بری ہیں ۔
آیت کی تفسیر میں قدیم و جدید مفسرین کرام نے جو کچھ لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ :
(۱) ’’السابقون الأولون‘‘ کے مصداق میں چھ(۶) مختلف اقوال ہیں: ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس سے مراد تمام صحابہ کرامؓ ہیں۔
(۲) سابقہ قول کے مطابق تمام صحابہ مراد لینے کی صورت میں ’’والذین اتبعوھم‘‘ سے مراد تابعین ہیں اور جنہوں نے اول الذکر (السابقون الأولون) سے مراد قدماء صحابہ لیے ہیں، ان کے نزدیک آخر الذکر (والذین اتبعوھم )سے مراد وہ صحابہؓ ہیں جنہوں نے قسمِ اوّل کے افعال میں ان کی اچھی پیروی کی ۔
(۳) ’’والذین اتبعوھم‘‘ کا مصداق ’’السابقون الأولون‘‘ کے بعد ایمان لانے والے تمام صحابہ کرامؓسمیت قیامت تک آنے والے تمام مسلمان ہیں ،جو ایمان لاکر ان کی اچھی پیروی کریں۔
(۴) ’’اتباع بالإحسان‘‘ کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اعمالِ صالحہ میں قسمِ اول (السابقون الأولون)کی پیر وی کی جائے۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ قسمِ اول کے بارے میں اچھی رائے و اعتقاد رکھا جائے ،ان پر طعن و تشنیع نہ کی جائے ۔
تیسری تفسیر یہ ہے کہ قسمِ اوّل کے محاسن ذکر کیے جائیں اور ان کے لیے رحمت وغیرہ کی دعا کی جائے۔
اب اس کا حاصل یہ ہے کہ :
(الف) ’’والذین اتبعوھم‘‘ سے مراد ’’ سابقین اولین ‘‘ کے بعد والے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں ۔
(ب) یا اس سے مراد صحابہ کرامؓ سمیت قیامت تک آنے والے تمام وہ مسلمان ہیں، جو ایمان لاکر سابقین اولین کے طریقے پر چلیں اور ان کی پیروی کریں ۔
تفصیلی اقوال کے لیے مذکورہ آیت کے تحت ملاحظہ فرمائیں : التفسیر الکبیر(۱۶؍۱۳۷)،روح المعانی(۶؍۹)،فتح القدیر (۲؍۵۰۷،۵۰۸)،زادالمسیر (۳؍۳۷۰،۳۷۱)، الصاوی علی الجلالین (۲؍ ۶۷)،تفسیر جلالین ،تفسیر سمر قندی ،تفسیر المنار ،تفسیر أبی السعود،الکشف والبیان المعروف بہ ’’تفسیر ثعلبی ‘‘ ،الجامع لاحکام القرآن للامام القرطبی ، تفسیر عثمانی ،بیان القرآن ، معار ف القرآن للکاندھلوی ،مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ رحمۃ اللہ (۴؍۲۳۵۔ ۲۴۹)
علاوہ ازیں ’’رضی اللہ عنہم ‘‘کا پروانہ مذکورہ آیت کے علاوہ قرآن کریم میں چار اور مقامات پر بھی ہے:
ایک سورۃ الفتح آیت نمبر ۱۸ہے ، جس میں یہ خوشنودی ’’اہل بیعت رضوان ‘‘کے لیے ہے ۔(ڈاکٹر صاحب کہیں گے کہ حضرت معاویہؓ ان میں سے نہیں ،ٹھیک ہے ،ہمیں بھی اس پر اصرار نہیں )
لیکن یہی خوشنودی سورۃ المائدۃآیت نمبر ۱۱۹،سورۃ المجادلۃ آیت نمبر ۲۲،اور سورۃ البینۃ آیت نمبر ۸میں بھی مذکور ہے، جو تمام صحابہ کرام کے لیے عام ہے۔ اب ہم ’’ڈاکٹر صاحب ‘‘ کا مبلَغِ علم دیکھتے ہیں کہ مذکورہ آیت کی تفسیر میں وہ کون سی نئی اور’’ انوکھی تحقیق‘‘پیش کر کے ان تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کواس خوشنودی کے زمرے سے خارج قرار دیتے ہیں، جو فتح مکہ کے بعد اسلام لائے ۔
دوسرے اعتراض کا جواب
دوسرا اعتراض یہ تھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے لیے دیگر خطو ط و معاہدات کی کتابت تو کیا کر تے تھے ،البتہ ’’کاتبِ وحی ‘‘ نہیں تھے ۔
یہاں بھی ’’ڈاکٹر صاحب‘‘ نے کسی بھی معتبر یا غیر معتبر قدیم یا جدید مؤرخ و محدث کے حوالے سے کوئی ایک حوالہ بھی ایسا پیش نہیں کیا،جس میں کتابتِ وحی کی نفی ہو ، خواہ صراحۃًیا دلالۃً یا کنایۃً یا اشارۃً،البتہ ایسی عبارات ضرور ذکر کی ہیں، جو اس حوالے سے مجمل تھیں، جن میں نفسِ کتابت کا تذکرہ تھا،البتہ کتابتِ وحی کی نفی یا اثبات سے وہ عبارات ساکت تھیں ۔
’’ڈاکٹرصاحب‘‘نے سارا زور الفاظ و تعبیرات پرَ صرف کیا ہے، مثلاً:
’’ قدیم ترین مؤرخ المدائنی (وفات ۲۰۵ھ )‘‘ اور’’ امام ذہبیؒ جو انتہائی ثقہ محدث اور وسیع الا طلاع قدیم مؤرخ ہیں (وفات ۷۴۸ھ)‘‘ وغیرہ۔
ہم ’’غیر جانبدارانہ ‘‘انداز میں اس سے متعلق تمام عبارات کا مفہوم یہاں اختصار سے پیش کریں گے ،چنانچہ کتابتِ وحی سے متعلق دو طرح کی عبارات ہیں :
پہلی قسم کی وہ عبارتیں ہیں جو مجمل ہیں، جن میں اثبات و نفی کا ذکر نہیں،البتہ نفسِ کتابت کا ذکر ہے، جو کتابتِ وحی و غیر وحی دونوں کو محتمل و شامل ہیں ، جن کا حاصل یہ ہے کہ :
(الف) آپﷺ کے جملہ کا تبین میں حضرت معاویہ ر ضی اللہ عنہ بھی ہیں ۔
(ب) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خطوط و معاہدات و دیگر امور کی کتابت کیا کرتے تھے ۔
(ج) کتابتِ وحی کے بارے میں مذکورہ تمام عبارات مجمل ہیں ۔
حوالہ جات کے لیے ملاحظہ فرمائیں:
الإصابۃ (۳؍۴۳۳)،فتح الباری(۷؍۱۰۴)، مجمع الزوائد (۹؍۳۵۷)، زاد المعاد (۱؍ ۱۱۷)،سیر الأعلام النبلاء (۳؍۱۲۰)، تاریخ الاسلام الذہبي( ۲؍ ۳۴۲)، الکامل في التاریخ (۲؍ ۱۷۹)، تاریخ بغداد (۱ ؍۲۲۲)،الاستیعاب (۳؍ ۳۵۹)، تاریخ الطبري(۲؍ ۲۱۸)، مسند أحمد (۱؍ ۴۷۹،۸۴۴) اور الطبقات الکبریٰ (۷؍ ۴۰۶)
دوسری قسم کی وہ عبارات ہیں،جن میں کتابتِ وحی کی تصریح ہے۔
آٹھویں صدی ہجری کے امام ذہبیؒ کا حوالہ
چنانچہ آٹھویں صدی ہجری کے ’’انتہائی ثقہ محدث اور وسیع الاطلاع قدیم مؤرخ ‘‘ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ (وفات۷۴۸ھ) اپنی مشہور کتاب ’’تاریخ الإسلام ‘‘ میں اس عبارت سے بالکل متصل جو ’’ ڈاکٹر صاحب ‘‘ نے اپنے مضمون میں نقل کی ہے ، کہتے ہیں :
وقد صح عن ابنِ عباس ، قال: کنت ألعب، فدعاني رسول ﷺ وقال: ’’أدع لی معاویۃ‘‘ وکان یکتب الوحي‘‘.
کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے صحت کے ساتھ یہ ثابت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں کھیل رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ جاؤ معاویہ کو بلاؤ ، حضرت ابنِ عباس فرماتے ہیں کہ معاویہ آپ ﷺ کے لیے وحی کتابت کیا کر تے تھے (۲؍ ۳۴۲)
یہی روایت امام ذہبی ؒ نے اپنی دوسری کتاب ’’سیر الأعلام ‘‘میں ’’ڈاکٹرصاحب ‘‘ کی نقل کردہ عبارت سے دو سطر بعد ذکر کی ہے ۔پھر امام ذہبی نے مذکورہ روایت نقل کرکے اس کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’رواہ أحمد في مسندہ‘‘۔اور امام احمد ؒ نے اپنی مسند میں یہ روایت چار مقامات پر ذکر کی ہے ۔(حدیث:۲۱۵۰،۲۶۵۱،۳۱۰۴،اور ۳۱۳۱) جن میں دو مقامات پر ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، ’’وکان کاتبہ‘‘.
حافظ ذہبی ؒ کی تصریح سے یہ بھی معلوم ہو گیاکہ مسند احمد میں کتابت سے’’ کتابت وحی ‘‘مراد ہے ،اس لیے کہ روایت ایک ہی ہے ۔ نیز اس کی تائید پانچویں صدی ہجری کے مشہورمحدث امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی :۴۵۸ھ سے بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے بھی اسی روایت کو اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے ، جس میں یہ صراحت ہے :’’وکان یکتب الوحي‘‘. (دلائل النبوۃ :۶؍ ۲۴۳)
قارئین یقیناً’’ڈاکٹر صاحب ‘‘ کی اس ’’دیانت‘‘ پر انہیں داد دینا چاہیں گے کہ کتنی جرأت کے ساتھ انہوں نے کہا کہ’’حافظ ذہبیؒ نے کہیں بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی کتابت وحی کا ذکر نہیں کیا ‘‘ حالانکہ ہم نے امام ذہبی ؒ کی دونوں کتابوں سے دکھایا کہ انہوں نے بڑی صراحت کے ساتھ کتا بتِ وحی کا اثبات کیا ہے ،اگر فاضلِ موصوف کو اس پر اعتماد نہیں تھا ،تو تب بھی دیانۃًان کی یہ ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ اس کو ذکر کرتے ،پھر اصولی و فنی اعتبار سے اس پر نقد و جرح کر کے اس کی تضعیف و تردید (اگر ہوتی،تو)کر تے ۔
اگر یہ کہاجائے کہ ’’ڈاکٹر صاحب ‘‘مذکورہ عبارت پر نظر نہیں پڑی تو
اولاً :یہ عرض ہے کہ وہ عبارت توآ نجناب کی ذکر کردہ عبارت سے بالکل متصل ہے۔
ثانیاً: پھر اس سے ’’ڈاکٹر صاحب ‘‘کی پوری تحریر مشکوک ٹھہرادی جا ئے گی کہ انہوں نے سیاق و سباق اور بحث کی پوری تفصیل سے صرَفِ نظر کرتے ہو ئے ’’جانبدارانہ ‘‘ انداز میں صرف اپنے مطلب کی بات لی ہے ،بہر کیف !واقعہ جو بھی ہے ڈاکٹر صاحب نے یہاں ’’زبر دست علمی خیانت ‘‘کا ارتکاب کیا ہے، جس کی مناسب و معقول تو جیہ کرنا خود انہی کے ذمہ ہے، ’’ہم کچھ عرض کریں گے ، تو شکایت ہو گی ‘‘۔
نویں صدی ہجری کے نامور محدث شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ
امام ذہبی ؒ کے بعد نویں صدی ہجری کے نامور محدث شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ (وفات :۸۵۲ھ)نے بھی ’’تقریب التہذیب‘‘میں یہ تصریح کی ہے :
’’معاویہ بن أبي سفیان رضي اللہ عنہ صخر بن حرب بن أمیہ الأموي ،أبو عبد الرحمن، الخلیفۃ، صحابي، أسلم قبل الفتح وکتب الوحی‘‘
کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنھما ایک صحابی اور خلیفہ ہیں،فتح مکہ سے قبل مشرف با سلام ہوئے اور کتابت وحی کے فرائض انجام دئیے ہیں ۔
حافظ ابنِ حجر کے بارے میں ڈاکٹر صاحب خود فر ما چکے تھے :’’ وہ ابنِ کثیر سے زیادہ وسیع العلم اور حافظ حدیث و مؤرخ ہیں ‘‘ اس لیے حافظ صاحب رحمہ اللہ کا مذکورہ حوالہ دیکھنے کے بعد وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر مذکورہ حوالے کا بڑی صراحت و جرأت کے ساتھ انکار ہی کر دیا ، فر ماتے ہیں :
’’ مضمون نگار (مولانا اورنگزیب صاحب)نے یہ غلط لکھا ہے کہ ’’شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجرؒ کہتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان ایک صحابی اور خلیفہ راشد ہیں ،فتح مکہ سے قبل مشرف با سلام ہو ئے ،یہ نہ ان کی بڑی کتاب ’’ الإصابۃ في تمیز الصحابہ‘‘میں ہے اورنہ چھوٹی مختصر کتاب’’تقریب التہذیب ‘‘میں ہے، مضمون نگار (مولانا اورنگزیب صاحب)کا حوالہ غلط ہے۔‘‘
خدا گواہ ہے کہ ’’ڈاکٹر صاحب ‘‘کی اس تحقیق کو’’صریح جھوٹ ‘‘تحریر کرتے ہوئے، ان کا مقام و منصب ملحوظِ خاطر رکھ کر دل اجازت نہیں دیتا ، نہ ہی قلم ساتھ دیتا ہے ، مگر اس کی تو جیہ کریں توپھر کیا کریں ؟
حافظ ابن حجر کی وہ بات جو ’’ الإصابۃ ‘‘اور ’’ فتح الباري ‘‘ میں مجمل تھی، یہاں ’’ التقریب‘‘ میں اس کی وضاحت بھی ہو گئی، جس سے معلوم ہوا کہ ’’ الإصابہ‘‘ اور ’’فتح الباري‘‘کی مجمل عبارت سے ڈاکٹر صاحب کا نفی کتابتِ وحی پر استدلال کرنا سراسر غلط ہے ، یہاں ڈاکٹر صاحب نے ’’ الإصابہ‘‘ اور ’’فتح الباري‘‘کی عبارت نقل کرکے آخر میں کہا کہ
’’انہوں نے یہ قطعاً نہیں لکھا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے وحی کی کتابت کی ‘‘اس طرح ابنِ حجر کا بیان ’’الاصابہ‘‘ اور ’’فتح الباری‘‘ دونوں میں یکساں ہے ،یعنی صرف ’’ کتابت ‘‘ کا ذکر ہے ،کتابتِ وحی کا ذکر سرے سے نہیں ‘‘ ۔
ڈا کٹر صاحب سے کوئی پو چھے کہ ا گر حافظ ابنِ حجر نے ’’قطعاً نہیں لکھا ‘‘اور’’ کتابت وحی کا ذکر سرے سے نہیں کیا‘‘ تو پھر ’’ التقریب‘‘ میں کس نے لکھا ؟ اور یہ کہ ’’التقریب‘‘ کس کی تصنیف ہے؟ہمارا خیال ہے کہ اسے بھی بلا تبصرہ قارئین کی خدمت میں چھوڑ دینا ہی بہتر ہو گا۔
یہاں یہ بات بھی قارئین پر خوب واضح ہونی چاہیے کہ مذکورہ بالا دونو ں حوالے ان قدیم ’’انتہائی ثقہ،وسیع الاطلاع ، حافظ حدیث و مؤرخ‘‘ کے ہیں، جن سے ڈاکٹر صاحب نے اپنی پوری تحریر میں جابجا تائید حاصل کی ہے، جب کہ ان دو نو ں بزرگوں کا مؤقف اس کے بالکل بر خلاف ہے جسے ڈاکٹر صاحب نے دانستہ یا نادانستہ طور پر ان کی طرف منسوب کیا ہے ۔
آٹھویں صدی ہجری کے مایہ ناز مفسر ،محدث اور مؤرخ حافظ ابن کثیر دمشقی رحمہ اللہ کا حوالہ
اسی طرح آٹھویں صدی ہجری کے مایہ ناز مفسر ،محدث اور مؤرخ حافظ ابن کثیر دمشقی رحمہ اللہ( وفات : ۷۷۴ھ)نے بھی ’’البدایہ والنھایہ‘‘ میں کتابتِ وحی کی تصریح اور وضاحت سے اثبات کیا ہے، فرماتے ہیں :
’’وکاتب وحي رب العالمین‘‘. (۸؍۲۲)
ڈاکٹر صاحب سے اس کا جواب نہ بن سکا تویہ کہہ کر چل دیئے:
’’افسوس کی بات ہے کہ حافظ ابن کثیرؒ بھی اس رو میں بہہ گئے ہیں ‘‘۔
اس پر تبصرہ کے حقوق بھی اہلِ علم کے لیے محفوظ ہیں ۔
پانچویں صدی ہجری کے مشہور فقیہ اور محدث علامہ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ کا حوالہ
پانچویں صدی ہجری کے مشہور فقیہ، اصولی اور محدث علامہ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ ( وفات : ۴۵۶ھ) آپﷺ کے کاتبین کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’علي ابن أبي طالب و عثمان و عمر و أبو بکر و معاویۃ بن أبي سفیان، وکان زید ابن ثابت من ألزم الناس لذالک، ثم تلاہ معاویۃ بعد الفتح ، فکانا ملازمین للکتابۃ بین یدیہ ﷺفي الوحي وغیر ذلک، لا عمل لھماغیر ذلک ‘‘. (جوامع السیر ۃ :ص:۲۷،دار المعارف)
مذکورہ عبارت کا حاصل یہ ہے کہ:
(الف) دیگر کاتبین کی طرح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی کتابتِ وحی کے فرائض انجام دیئے ہیں ۔
(ب) یہ دونو ں حضرات (زید بن ثابت اور معاویہ رضی اللہ عنھما )ہر وقت آپ ﷺ کی خدمت میں کتابت کے لیے حاضر رہا کرتے تھے۔
(ج) ان دونوں حضرات نے وحی اور غیر وحی دونوں کی کتابت کی ہے۔
(د) ان دونوں حضرات کا وحی وغیر وحی کی کتابت کے علاوہ دوسرا کام نہ تھا ۔
یہی بات علی بن برھان الدین ، علامہ حلبی ؒ نے سیرت کی مشہور کتاب ’’السیرۃ الحلبیۃ‘‘ میں ذکر کی ہے ۔(۳؍ ۳۲۷)
یہ عبارت مکمل مع مفہوم کے ذکر کر نے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ’’ڈاکٹر صاحب ‘‘ نے مولانا اورنگزیب ’’مظلوم‘‘ کو اس عبارت کے حوالے سے ’’قطع وبرید و اضافے ‘‘ کا بے بنیاد اور غلط الزام دیا ہے ، ورنہ مولانا نے اپنی تحریر میں وہی بات ذکر کی ہے، جو ہم ابھی اصل مراجع سے ذکر کر آئے ہیں۔
تیسری صدی ہجری کے مشہور لغوی مفسر اور محدث امام ابو بکر الخلال رحمہ اللہ کا حوالہ
تیسری صدی ہجری کے مشہور لغوی مفسر اور محدث امام ابو بکر الخلال رحمہ اللہ( متوفی: ۳۱۱ھ) نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ ابو الحارث کہتے ہیں:
’’ ہم نے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ’’کاتبِ وحی ‘‘ اور ’’ خال المؤمنین‘‘نہ کہتا ہو ،تو انہوں نے فرمایا ’’یہ بُری اور بے کار (بلا سند ) بات ہے، ایسی بات کر نے والوں سے دور رہا جائے گا ، ان کی ہم نشینی اختیار نہیں کی جائے گی ، اور ہم ان کا حکم لوگوں کو بتا ئیں گے‘‘۔ (السنۃ :۲؍ ۴۳۴)
کتاب کے محقق دکتور عطیہ الزھرانی نے اسناد کی توثیق اور متن کی تائید میں لکھا کہ
’’ اس کی اسناد صحیح ہے اور اس میں کسی بھی قسم کے شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ، کاتبِ وحی اور ام المؤمنین امِ حبیبہؓ کے بھائی ہیں ‘‘۔
اگر یہی بات ہم کہہ دیں کہ ’’ڈاکٹر صاحب‘‘ کی با ت بُری، بیکار، بلا سنداور رد ی میں پھینکنے کے قابل ہے اور ایسے لوگوں سے دور رہنا چاہیے، توشاید ’’ڈاکٹر صاحب‘‘اس کی تاب نہ لا کرآپے سے باہر ہو جائیں ،مگر الحمد للہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے ابتدائے تیسری ہجری کے ایک ایسے امام مجتہد اور محدث سے کہلوائی ہوئی ہے ،جن کی جلالتِ شان بلا استثناء تمام مسلمانوں کے علاوہ خود ’’ڈاکٹر صاحب ‘‘ کو بھی مسلَم ہے ۔
ان مذکورہ حوالوں کے بعد طوالت کے خوف سے مزید عبارات ذکر کرنے اور ان پرتجزیہ کرنے کے بجائے صرف حوالہ جات پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔
مذکورہ بالا جلیل القدر قدیم محدثین و مؤرخین کے علاوہ
آٹھویں صدی ہجری کے مؤرخ و ادیب علی بن محمد خزاعی رحمہ اللہ علیہ(متوفی : ۷۸۹ھ) نے ’’تخریج الدلالات الشرعیۃ‘‘ (ص: ۶۳)میں
آٹھویں صدی ہجری کے مایہ ناز متکلم ،فقیہ اور محدث شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ علیہ (وفات: ۷۲۸ھ) نے’’مجموع الفتاویٰ‘‘(۴؍ ۲۴۵)میں،
ساتویں صدی ہجری کے مشہورمفسر و فقیہ امام قرطبی رحمہ اللہ علیہ (وفات:۶۷۱ھ)نے ’’الجامع للأحکام القرآن‘‘ میں،
چھٹی صدی ہجری کے مشہور فقیہ و محدث ابن العربی مالکی رحمہ اللہ علیہ (وفات:۵۴۳ھ)نے ’’أحکام القرآن‘‘ میں،
پانچویں صدی ہجری کے مشہور مؤرخ و مفسر قاضی محمد بن سلامۃ قضاعی رحمہ اللہ علیہ (وفات ۴۶۴ھ) نے ’’الأنباء بأنباء الأنبیاء و تواریخ الخلفاء و ولایات الأمراء (ص:۱۴۱) میں،
تیسری صدی ہجری کے اواخر اور چوتھی صدی کے ربع اول کے مشہور فقیہ و ادیب ابن عبد ربہ اندلسی رحمہ اللہ علیہ (وفات : ۳۲۸ھ) نے اپنی عربی ادب کی مشہور کتاب ’’العقد الفرید‘‘ (۵؍۸) میں،
ابنِ حجر ہیثمی مکی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’تطہیر الجنان واللسان‘‘ (ص:۳۸؍ ۳۹)میں
مرکز الاسانید ، امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’إزالۃ الخفاء‘‘ (۱؍۴۷۲)میں ،
ماضی قریب کے فنِ رجال کے ماہر مشہور محدث عبد الحئی کتانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’التراتیب الإداریۃ‘‘ (۱؍۱۵۱) میں،
دکتور اکرم ضیاء العمری رحمہ اللہ علیہ نے ’’عصر الخلافۃ الراشدۃ‘‘ میں
شیخ عبد العظیم الزرقانی رحمہ اللہ علیہ نے ’’مناھل العرفان في علوم القرآن‘‘ (ص:۲۳۹)میں،
مولانا ابو الحسن الاعظمی نے ’’کاتبینِ وحی‘‘(ص:۱۳)میں
دکتورعلاء بکر نے ’’عقیدۃ أہل ا لسنۃ والجماعۃ‘‘ (۱؍ ۹۴)میں
اور مفتی محمد تقی عثمانی مد ظلہ نے ’’علوم القرآن‘‘(ص:۱۷۹)میں حضر ت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے کتابت وحی کا اثبات کیا ہے ۔
یہ نا قابل تردیدصحیح ،صریح اور واضح بائیس حوالہ جات ہیں جو ہم نے ماضی قریب کے علاوہ آٹھویں صدی سے لیکر اوائل تیسری صدی ہجری کے قدیم ترین مؤرخین ،محدثین، فقہاء اور جلیل القدر ائمہ کرام رحمہم اللہ کے حوالے سے ذکر کیے ہیں، جن سے یہ بات بخوبی ثابت ہوئی کہ حضرت امیر معاویہؓ نہ صرف یہ کہ کاتبِ وحی تھے، بلکہ انہوں نے اسلام قبول کر نے کے بعد بڑے لزوم ،مواظبت اور انتہائی ذمہ داری کے ساتھ اس فریضہ کو انجام دیا اور ہمیشہ اس خدمت کی انجام دہی کی فکر میں رہے۔اور آپﷺ کو بھی انکی دیانت وامانت پر کامل اعتماد تھا۔
علاوہ ازیں وہ’’یار لوگ‘‘جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ’’مسلمان ‘‘ بھی سمجھنے کو تیار نہیں ،بلکہ اس سے بھی بڑھ کر حضرات خلفاء ثلاثہ، امہات المؤمنین اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تکفیر اور ان پرلعن و طعن کو اپنے ایمان کا حصہ قرار دیتے ہیں، وہ بھی اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکے ،چنانچہ شیعوں کے مشہور ترین اور قدیم ثقہ مؤرخ احمد بن أبی یعقوب(وفات:۲۵۷ھ)الکاتب العباسی نے ’’تاریخ یعقوبی‘‘(۱؍ ۴۰۱،۴۰۲) میں اس بات کا بر ملا اعتراف کیا ہے کہ’’ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی تھے ‘‘۔
شیخ محب الدین الخطیب نے ’’العواصم من القواصم ‘‘کی تعلیق میں وضاحت کی ہے کہ
حضرات صحابہ کرامؓ اور بالخصوص بنو امیہ سے بغض و کینہ رکھنے والوں سے جب اس بات کا انکار نہ ہو سکا کہ آپﷺ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کتابت پر مامور کیا تھا، تو انہوں نے یہ فرق اپنی طرف سے گھڑ لیاکہ انہوں نے خطوط و معاہدات کی کتابت کی ہے، نہ کہ وحی کی ،یہ فرق ان کی ذہنی اختراع ،خبثِ باطن کا نتیجہ اور شیطانی القاء ہے، اس پر ان کے پاس کوئی بھی مستند دلیل نہیں ، اگر یہ تفریق آپ ﷺ کی طرف سے ہوتی، تو ناقلین اسے تواتر کے ساتھ ذکر کرتے، جیسا کہ دیگر امور میں اس طرح ہوا ہے ۔(ص:۵۸؍ ۵۹)
ایک مسلمہ اصول ہے کہ جو چیز عقلاً ممکن ہو ،اگر اس کے اثبات میں کوئی دلیل نقلی صحیح آجائے تو اس کے اثبات کا قائل ہو نا واجب اور ضروری ہے۔ ( الانتباہات المفیدۃ،ص:۵۷)
اور حضرت معاویہؓ کا کاتبِ وحی ہونا ’’ڈاکٹر صاحب ‘‘کے ہاں بھی عقلاً ممکن ہے اور اثبات پر ہم نا قابلِ تردید ٹھوس دلائل پیش کر چکے ، جبکہ نفی پر’’ڈاکٹر صاحب ‘‘ کے پاس کو ئی دلیل نہیں ،لہذا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ’’کاتب وحی ‘‘ قرار دینا واجب اور لازم ہے۔
رہی بات ڈاکٹر مصطفی الاعظمی کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتبینِ وحی میں ذکر نہ کر نے کی ،سو ’’عدم ذکر الشئ لا یستلزم عدم وجودہ‘‘ یہ ایک مسلمہ اصول ہے ، ہاں ’’ذکر عدم الشء‘‘ اور چیز ہے جس کا اثبات ’’ڈاکٹر صاحب ‘‘ نہ کر سکے ۔
اس کے علاوہ ’’ ڈاکٹر صاحب ‘‘نے آخر میں ایک عقلی دلیل یہ دی کہ
’’حضرت معاویہ ؓ ظہورِ اسلام کے اکیس سال بعد اسلام لائے اور ان اکیس برسوں میں بہت زیادہ قرآن لکھا جا چکا تھا ،یہ کون لکھتا رہا؟ آخر کے دو برسوں میں تو بہت کم قرآن لکھا گیا ‘‘۔
’’ڈاکٹر صاحب‘‘ کا یہ ’’واویلا‘‘اس وقت کار آمد ہوگا، جب مولانا اورنگزیب ’’فقیر ‘‘ نے یہ دعویٰ کیا ہوتا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پورے یا اکثرِ قرآن کی کتابت کی ہے ، جب کہ ان کا مدعا تو یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا تبِ وحی تھے ، بس ،ڈاکٹر صاحب اس بات سے تو بخوبی واقف ہوں گے ہی کہ سالبہ جزئیہ موجبہ کلیہ کی نقیض بنتی ہے ، جب کہ موجبہ جزئیہ کی تردید سالبہ جزئیہ سے نہیں ہوتی ۔
اب اصولی طور پر ’’ڈاکٹر صاحب‘‘ کا مدعا دو باتوں میں سے کسی ایک کے ثبوت سے ثابت ہو گا :
یا تو ڈاکٹر صاحب یہ ثابت کریں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔
یا وحی تو نازل ہوئی مگرحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کی کتابت نہیں کی ۔
ڈاکٹر صاحب قیامت تک ان میں سے کوئی بھی ایک بات ثابت نہیں کر سکتے ، اور اس کے بغیر صفحات کے سا تھ اپنا ’’ نامہ اعمال‘‘ بھی سیاہ کر نے سے کچھ حا صل نہیں ہوسکتا۔
اس سلسلے میں ’’ڈاکٹر صاحب کی آخری دلیل جو ان کے زعم میں بہت مضبوط ہے ( جبکہ حقیقت میں اس کی حیثیت تارِ عنکبوت سے بھی زیادہ نہیں ، جو صرف ’’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ‘‘کے مترادف ہے ) وہ یہ کہ
’’حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے عہد میں ’’جمع قرآن ‘‘ کی خدمت انجام دینے والے حضرت زید بن ثابت ،عبد اللہ بن زبیر ،سعید بن ابی العاص اور عبد الرحمن بن الحارث بن ہشام رضی اللہ عنھم ہیں ، اگر حضرت معاویہؓ بھی کاتبِ وحی ہو تے ،تو وہ بھی اس مہم میں شریک ہو تے ‘‘۔
عوامی سطح کے لحاظ سے تویہ یقیناً مضبوط دلیل ہو گی، جب کہ علمی و تحقیقی نقطہ نظر سے یہ نہ صرف یہ کہ کوئی کمزور دلیل ہے ، بلکہ اس سے استدلال کر نا بھی انتہائی مضحکہ خیز بات ہے ،جس کی وضاحت یہ ہے کہ ’’ڈاکٹرصاحب ‘‘ نے یہاں ’’تلبیس ابلیس‘‘اور ’’خلط بحث ‘‘ کا ارتکاب کیا ہے کہ ہماری بحث تو ’’ کتابتِ وحی ‘‘کے اثبات اور نفی سے ہے اور استدلال جس واقعہ سے کیا جا رہا ہے اس کا تعلق ’’جمع قرآن ‘‘ سے ہے ۔
ہمیں حیرت ہے کہ ’’ عربی زبان اور دیگر علوم پر اتھارٹی کا درجہ رکھنے والے ’’ڈاکٹر صاحب اتنی موٹی با ت بھی سمجھنے سے قاصر ہیں !! کہاں کی بات کہاں سے جوڑرہے ہیں !! اگر جمع قرآن کی مہم میں عدمِ شرکت دلیل ہے، عدمِ کتابتِ وحی پر، تو پھر ’’ ڈاکٹر صاحب ‘‘ سے مؤدبانہ التماس ہے کہ وہ تھوڑی سی مزید جرأت کرکے حضرت علی ، عثمان ، ابو بکر ، عمر ، ابی بن کعب ،حنظلہ بن الربیع ، جابر بن سعید بن العاص ، خالد بن سعید ،ابان بن سعید،العلاء بن الحضرمی، عبد اللہ بن سعد بن ابی السرح ،زبیر بن العوام ،معیقیب بن ابی فاطمہ ،عبد اللہ بن الارقم الزہری،شرحبیل بن الحسنہ اور عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو بھی بیک جنبشِ قلم ’’ کاتبینِ وحی ‘‘کی فہرست سے خارج فرمادیں،اس لیے کہ یہ تمام حضرات بھی اس مہم میں شریک نہیں تھے ، جبکہ قدیم ترین محدثین و مؤرخین نے ان تمام اصحاب کو ’’کاتبینِ وحی ‘‘ میں شمار کیا ہے ۔
تیسرے اعتراض کاجواب
تیسرا اعتراض یہ تھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ۸ ھ میں فتح مکہ کے بعد اسلام لائے اور وہ مؤ لفۃ القلوب اور طلقاء میں سے تھے ۔
اس ضمن میں ڈاکٹر صاحب کی تحریر’’جانبدارانہ‘‘ ہے، جس کااندازہ آگے آنے والی تفصیل سے بخوبی ہو جائے گا ۔
بحث کی ’’غیر جانبدارانہ ‘‘تفصیل یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کے سَن کی تعیین میں مؤرخین میں تھوڑا سا اختلاف پایا جاتا ہے ،جس کا حاصل یہ ہے کہ حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے ’’ البدایۃ والنھایۃ ‘‘ (۸؍۲۲)میں ، ابن عبد البر رحمہ اللہ نے ’’الاستیعاب‘‘ (۳؍ ۳۹۵)میں اور حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے ’’تہذیب التہذیب‘‘ (۱۰؍۲۰۷)میں دو قول ذکر کیے ہیں :
پہلا یہ کہ وہ ۸ھ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے ۔
اور دوسرا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا خود اپنا بیا ن کہ میں عمرۃ القضاء کے موقع پر اسلام لایا اور آپﷺ سے اسلام کی حالت میں ملا،لیکن فتح مکہ تک اپنے اسلام کو والد سے چھپائے رکھا ۔
حافظ مزی رحمہ اللہ نے ’’تہذیب الکمال ‘‘ (۲۸؍ ۱۷۷)میں ایک تیسرا قول بھی ذکر کیا ہے کہ وہ ’’ صلح حدیبیہ‘‘ کے موقع پر اسلام لائے۔
ان تینوں حضرات نے فتح مکہ والے قول کو پہلے ذکر کیا ہے ،اس صنیع سے مترشح ہوتا ہے کہ یہی قول ان کا پسندیدہ اور مختار ہے ۔
حافظ صاحب رحمہ اللہ نے ’’ الإصابۃ‘‘ میں ابن سعد کا قول ’’قبل عمرۃ القضیہ‘‘ اور واقدی کا قول’’بعد الحدیبیہ‘‘ ذکر کیا ہے اور یہ صرف تعبیر کا فرق ہے ، جبکہ مصداق دونو ں کا ایک ہی ہے ۔
ڈاکٹرصاحب نے اس ضمن میں لکھا کہ :
’’پھر یہ کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مفصل حالات الاصابہ میں ہیں وہی لائقِ اعتبار ہیں ‘‘۔
اس اصرار سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حافظ صاحب رحمہ اللہ نے ۸ھ کے قول کو اختیار کیا ہو ، جب کہ اختیار کر نا اور راجح قراردینا تو دور کی بات ہے، یہا ں تو حافظ صاحب نے ۸ھ کے قول کو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا ، پھر یہی نہیں بلکہ ’’تقریب التہذیب‘‘ میں حافظ صاحب نے یہ تصریح کی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ سے قبل اسلام لائے :
’’صحابي،أسلم قبل الفتح وکتب الوحی‘‘. (ص:۵۳۷)
اس سے معلوم ہوا کہ حافظ صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک راجح یہی ہے کہ وہ فتح مکہ سے قبل اسلام لائے ، جبکہ’’ تہذیب التہذیب ‘‘ میں تصریح کے ساتھ کسی قول کی ترجیح نہیں، صرف صنیع سے استیناس کیا گیا تھا ۔
’’الإصابۃ‘‘ میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت سے جو تعارض حافظ صاحب نے بیان کیا تھا ،آگے بخاری و مسند احمد کے حوالے سے اس کا جواب بھی دیا ہے ، جو ڈاکٹر صاحب کی ’’ دیانت ‘‘ کی نذر ہو گیا ۔
علاوہ ازیں پانچویں صدی ہجری کے مشہور ثقہ مؤر خ حا فظ ابو نعیم اصفہانی رحمہ اللہ (وفات : ۴۳۰ھ)نے ’’ معرفۃ الصحابۃ ‘‘ (۴؍ ۲۲۳) میں ،
امام ذہبی رحمہ اللہ نے ’’ سیر الأعلام النبلاء ‘‘( ۳؍ ۱۲۰)میں ،
خطیبِ بغدادی رحمہ اللہ نے ’’ تاریخِ بغداد ‘‘(۱؍ ۲۲۲) میں ،
امام ذہبی رحمہ اللہ نے دوسری تصنیف ’’ تاریخ الإسلام ‘‘ (۲؍ ۳۴۱) میں
اور تیسری صدی ہجری کے مشہور مؤرخ ابنِ سعد رحمہ اللہ نے ’’الطبقات الکبری‘‘(۷؍ ۴۰۶)میں ۷ھ عمرۃ القضاء والے قول کو اختیار کیا ہے اور اسے ترجیح دی ہے
اب ان تمام حوالہ جات کا خلاصہ یہ ہوا کہ :
(۱) حافظ ابنِ کثیر،حافظ مزی اور ابن عبد البر رحمہم اللہ نے ۸ھ کے قول کو لیا ہے ۔
(۲) مذکورہ حضرات نے اس اختیار پر کوئی تصریح نہیں کی، بلکہ یہ ان کے صنیع کا مفہوم ہے ، جبکہ ساتھ ہی ان حضرات نے قبل الفتح والے قول کو بھی ذکر کیا ہے ۔
(۳) حافظ ابنِ حجر ،امام ذہبی ، خطیبِ بغدادی ،ابو نعیم اصفہانی اور ابن سعد رحمہم اللہ ان تمام حضرات نے الفاظ و تعبیر کے تھوڑے سے فرق سے ۷ھ والے قول کو لیا ہے ۔
(۴) ان حضرات نے اس اختیار و ترجیح کی تصریح بھی کی ہے ، جس کی دلیل یہ ہے کہ فتح مکہ والے قول کو سوائے ’’ تہذیب التہذیب‘‘ کے، انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا، نیز اس کے راجح ہو نے کی ایک وجہ راوی کااپنا بیا ن ہو نا ہے ۔
علاوہ ازیں ترجیح کی بات بھی اس صورت میں ہو گی ، جب کہ تعارض ہو اور تطبیق کی صورت ممکن نہ ہو، جب کہ مذکورہ عبارات میں ادنی تأمل (بشرطِ انصاف) سے بھی تطبیق بالکل آسانی سے سمجھ آجاتی ہے اور وہ یہ کہ عمرۃ القضاء ۷ھ میں حقیقت اسلام کا اعتبار ہے ، جب کہ فتح مکہ ۸ھ میں اظہارِ اسلام کا ،پس دونوں میں کوئی منافات نہیں، پھر یہ بھی واضح رہے کہ انھیں ’’متأخر الاسلام ‘‘ثابت کر نے کا اصل مقصد کتابتِ وحی اورجلالتِ قدر کا انکار ہے، جس کی تردید ہم سابق میں کر چکے ہیں۔
اگر چہ’’ متأخر الاسلام ‘‘ ہو نا بھی فی نفسہ کوئی عیب کی بات نہیں، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ’’متأخر الاسلام ‘‘ قدیم الاسلام سے رتبہ میں آگے بڑھ جاتا ہے ، جیسا کہ حضرت ’’عمر فاروق ‘‘حضرت عثمان ، حضرت طلحہ ،زبیر ، سعد اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنھم سے بڑھ گئے ،صرح بہ شیخ الإسلام ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ. (مجموع الفتاوی : ۴؍ ۲۴۰)
اب انہیں ’’ طُلَقاء ‘‘ میں سے شمار کرنا عبث ہے، رہی بات ’’ مؤلفۃ القلوب ‘‘ میں سے ہونے کی ،سو اس سلسلے میں ڈاکٹرصاحب نے ’’حسبِ عادت‘‘ جانبدارانہ انداز میں بحث کی پوری تفصیل سے صرَف نظر کرتے ہوئے ’’مؤلفۃ القلوب ‘‘ کا ذہنی اختراع سے ایسا نقشہ کھینچا ہے کہ جس سے قارئین کے ذہن پر انتہائی منفی اثر پڑتا ہے ،بہر حال ! ڈاکٹرصاحب کااپنا ’’تحقیقی معیار ‘‘ ہے۔ ہم انہیں اس میں معذور سمجھتے ہیں ۔ اب ہم اس بحث کے جملہ متعلقات اختصاراً ذکر کرتے ہیں۔
ابن العربی المالکی رحمہ اللہ (أحکام القرآن:۲؍ ۵۲۹)اور امام قرطبی رحمہ اللہ (تفسیر القرطبي: ۸؍۱۴۶)نے ان کا’’مؤلفۃ القلوب‘‘میں سے ہونے سے انکار کیا ہے، اس کے بر عکس کئی مؤرخین واصحاب السیرنے ان میں شمار کیا ہے ،ساتھ ہی یہ تصریح بھی کی ہے کہ ’’مولفۃ القلوب‘‘اپنی قوم کے سردار اور معزز ترین لوگوں میں سے تھے ،انہیں عطایا دینے سے انہیں اور ان کے ذریعے ان کی قومو ں کو مانو س کر ناہوتا تھا۔
ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
’’وأعطی رسول اللہ ﷺ المؤلفۃ قلوبھم وکانو أشرافا من أشراف الناس ،یتألفھم و یتألف بھم قومھم ،فأعطی أبا سفیان بن حرب ماءۃبغیر، وأعطی ابنہ معاویہ ماءۃ بعیر .......(السیرۃ النبویۃ: ۴؍۴۹۲،۴۹۳)
اسی طرح ابنِ کثیر نے ’’البدایۃ والنہایۃ ‘‘.(۴؍ ۳۸۸)،طبری نے اپنی تاریخ (۲؍ ۱۷۵)، امام ذہبی نے ’’سیرالأعلام‘‘(۳؍۱۲۲)،ابن خلدون نے اپنی تاریخ(۲؍ ۴۴۹)،ابنِ سعد نے ’’ الطبقات الکبریٰ‘‘ (۷؍۴۰۶)، ابن الاثیر نے’’الکامل في التاریخ ‘‘(۲؍۱۴۳)، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ’’مجموع الفتاوی ‘‘ (۴؍۲۳۵) اور ابن عبد البر نے ’’الاستیعاب‘‘ (۳؍ ۳۹۵)میں ذکر کیا ہے، ڈاکٹر صاحب کی ’’دیانت ‘‘ نے اس تذکرہ کی اجازت نہیں دی ۔
نیز مفسرین نے یہاں مؤلفۃ القلوب کی چار مختلف اقسام ذکر کی ہیں :
پہلی قسم: وہ لوگ جو کفار تھے اور انہیں عطایا دینا اسلام کی طرف مائل کرنے کی غرض سے تھا۔
دوسری قسم :وہ جو حدیث العہد بالإسلام ،تھے انہیں عطایا دینا اس غرض سے تھا کہ اسلام ان کے دلوں میں راسخ ہو جائے ۔
تیسری قسم : جو اپنی قوم و قبیلے میں سردار ، معزز ترین لوگ ، اثر ورسوخ رکھنے والے تھے اور اسلام لا چکے تھے ، اپنی قوم میں ان کی بات کو ماناجاتا تھا ،انہیں عطایا دینے کی غرض یہ تھی کہ ان کے دیگر ساتھی ،قوم و قبیلے والے اپنے معززلو گوں کے ساتھ اکرام و تکریم کے معاملے سے متأثر ہوکر اسلام لے آئیں ۔
چوتھی قسم : وہ لوگ جنہیں عطایا اس غرض سے دئیے جاتے تھے کہ وہ کفار سے قتال کر کے مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھیں ۔
تفصیل کے لیے دیکھیے:’’تفسیر أبي سعود ‘‘سورۃ التوبۃ :آیت نمبر ۶۰،(۳؍ ۱۶۱،۱۶۲)۔’’تفسیر القرطبي ‘‘(۸؍ ۱۴۵)۔ ’’تفسیر الجلالین ‘‘، ’’ تفسیر الصاوي ‘‘(۲؍ ۵۳)۔ ’’تفسیر بیضاوي‘‘ (۴؍۵۸۷)۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنی تحریر میں صرف دوسری قسم کا تذکرہ کیا ہے اور یہ تأثر دیا ہے کہ تمام مؤلفۃ القلوب اسی قبیل سے تھے ، یہ مذکورہ تصریحات کے خلاف ہے،اب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا قسم اول میں سے نہ ہو ناتو یقینی اور متفق علیہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب بھی انہیں ’’ کفار ‘‘ میں سے نہیں گردانتے اور قسمِ ثانی بھی مراد نہیں کہ ہم سابق میں یہ ثابت کر چکے کہ تحقیقی اور راجح قول کے مطابق وہ ۷ھ عمرۃ القضاء کے موقع پر اسلام لائے ، لہذا وہ ان نو مسلموں میں سے بھی نہیں جو فتح مکہ کے بعد اسلام لائے ، جہاں تک تیسری اور چوتھی قسم کا تعلق ہے، سو اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حالات پر گہری نظر ڈالی جائے، تو قرینِ قیاس یہی ہے کہ وہ تیسری قسم سے تھے، اس لیے کہ وہ اور ان کے والد ماجد اپنی قوم کے سردار، معزز ترین اور خواندہ لوگوں میں سے تھے ۔
لہٰذا انہیں عطایا دینا ان کی قوم کو مانوس کر نے کی غرض سے تھا، نہ کہ انہیں اسلام پر بر قرار رکھنے کی غرض سے، اس تقدیر پر کہ ان کا اسلام کمزوریا ا س پر بر قرار رہنامشکوک تھا ، جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے ذکر کیا ہے اور اس کی ایک بہت بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ فتح مکہ کے بعد اور مؤلفۃ القلوب میں غنائم تقسیم ہو نے سے پہلے ’’غزوہ حنین ‘‘ اور ’’ غزوہ طائف‘‘ پیش آیا،اور ثقہ مؤرخین کی تصریحات کے مطابق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان دونو ں غزوات میں بنفسِ نفیس شریک تھے ،یہ شرکت بتلاتی ہے کہ وہ ضعیف الایمان ،متردد فی الاسلام یا ان لو گو ں میں سے نہیں تھے، جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام کی شوکت سے مرعوب ہو کر مجبوراً اسلام قبول کیا ، بلکہ وہ پہلے ہی اسلام لا چکے تھے ، کما حققناہ، دیکھیے: ’’الطبقات الکبریٰ‘‘ (۷؍ ۴۰۶)،’’ تاریخ الخلفاء ‘‘للسیوطي (ص:۱۵۵)،’’سیر الأعلام ‘‘( ۳؍ ۱۲۲)،’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ (۸؍ ۱۲۴)اور’’ مجموع الفتاوی‘‘(۴؍ ۲۳۷)۔
چوتھے اعتراض کا جواب
چوتھا اعتراض یہ تھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ’’ اول الملوک‘‘ ( اسلام کے پہلے بادشاہ) تھے ، خلیفہ نہیں تھے ، استدلال حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے کہ ’’ خلافت میرے بعد تیس سال رہے گی، پھر بادشاہت ہو گی‘‘۔
یہاں بھی ڈاکٹرصاحب نے انتہائی ’’جانبداری ‘‘ کا مظاہرہ کر کے خلافت کے مو ضوع پر اپنی پسند کی ایک روایت ذکر کر لی اور اس کے مقابل دیگر بہت سی صحیح احادیث چھوڑ دیں ، جن میں سے چند ہم ذکر کرتے ہیں تاکہ مسئلہ کے دوسرے پہلو پر بھی ’’غیر جانبدارانہ ‘‘ ا ورتحقیقی طور پر غور کیا جا سکے ۔
(۱) بخاری و مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’بنی اسرائیل میں ان کے امور کے متولی انبیا ء علیہم السلام ہوتے تھے، جب ایک نبی فوت ہو جاتا دوسرا آجا تا اور یقین میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ، البتہ خلفاء ہو ں گے اور کثرت سے ہو ں گے ‘‘۔ (بخاري :۱؍ ۴۹۱) و( مسلم: ۲؍۱۲۶)و(شرح السنۃ :۱۰؍ ۵۵)و ( مشکوۃ:ص: ۳۱۰) و(المصنف لابن شیبہ:۱۵؍ ۵۸)
سماک بن حرب ،جابر بن سمرۃ،اور ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ :
’’دین اسلام بارہ ’’خلفاء‘‘تک غالب رہے گااور یہ تمام قریش سے ہوں گے ‘‘. دیکھیے( مسلم ،رقم الحدیث: ۴۷۰۸،۴۷۰۹)و( مجمع الزوائد :۵؍ ۱۹۰) و ( مسند احمد :۲؍۸۲)
ان دونوں قسم کی احادیث میں ظاہری تعارض کو رفع کر نے کے لیے کبا ر علماء محدثین نے تطبیق کی راہ اختیا ر کی ہے، چنانچہ حافظ ابن حجرؒ نے ’’فتح الباري‘‘ (۱۳؍۲۶۲)،محقق عینی نے ’’ عمدۃ القاري ‘‘(۲۴؍ ۴۱۹)،علامہ شمس الحق عظیم آبادی نے ’’ عون المعبود ‘‘ ( ۱۲؍ ۳۹۸)،علامہ تفتازانی نے ’’شرح العقائد ‘‘( ص : ۳۰۹) اور علامہ احمد بن اسماعیل کو رانی نے ’’ الکو ثر الجاري‘‘(۴؍ ۱۱۰) میں جو تطبیق بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حدیثِ سفینہ میں ’’ خلافتِ نبوت اور ’خلافتِ کاملہ‘‘مراد ہے اور یہ پانچ خلفا ء تک جا ری رہی ،جبکہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ و دیگر کی حدیث میں ’’ مطلق خلافت‘‘ مراد ہے، جو ’’ خلافت علی منہاج النبوۃ ‘‘سے کم درجے کی ہے، لیکن وہ بھی ’’ خلافت ‘‘ہی کا فرد ہے، اب تعارض باقی نہ رہا ، اس لیے کہ خلافتِ کاملہ اخص ہے، جس کی نفی سے اعم ( مطلق خلافت) کی نفی لازم نہیں آتی ۔
ہمارا دعویٰ ’’ مطلق خلافت ‘‘کا ہے، جو ’’ امارت ‘‘ ،’’ ولایت ‘‘اور ’’ ملک ‘‘ کے منافی نہیں، ایک شخص ’’والی ‘‘،’’ ملک‘‘ اور ’’خلیفہ‘‘ ہو سکتا ہے ، لہذا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا خود کو ’’ اول الملوک ‘‘ کہنا، ابن حزم کا ان کے عہدِ حکومت کو ’’ ولایت ‘‘ سے تعبیر کرنا ، امام ذہبی کا ان کو ’’ خیر الملوک ‘‘ کہنا اور ان کا شان و شوکت کے ساتھ رہنا ’’ خلافت‘‘ کے منافی نہیں، ان میں سے کسی بات سے بھی ڈاکٹر صاحب کا مدعا ثابت نہیں ہوتا، اس کے لیے داکٹر صاحب کو پہلے ’’ مطلق خلافت ‘‘ اور ’’ ولایت و امارت ‘‘ میں منافات ثابت کر نا ہو گا،صرف الفاظ و تعبیرات کے زور سے بات نہیں بنتی ۔
ڈاکٹر صاحب نے لکھا کہ
’’ بیالیس صفحا ت میں ان کے حالا ت لکھنے کے بعد ذہبی کا آخری فیصلہ ہے ‘‘
آگے لکھتے ہیں :
’’ملحوظ رہے کہ امام ذہبی نے انہیں خلیفہ نہیں، ’’ خیر الملوک ‘‘ کہا ہے ‘‘
ان دونو ں عبارات کا حقیقت سے کوئی مجازی تعلق بھی نہیں ، یہ صرف الفاظ کی بازی گری ہے ، اس لیے کہ امام ذہبی نے نہ تو خلافت وولایت کے موضوع پر بحث کر کے ولایت کو ترجیحاً ذکر کیا ہے ، نہ ہی اس موضوع پر مؤرخین کا اختلاف ذکر کر کے ان کے ما بین محاکمہ کیا ہے اور نہ ہی ’’ ولایت ‘‘ کا اثبات کر کے ’’ خلافت ‘‘ کی نفی کی ہے کہ اسے ان کا ’’ فیصلہ ‘‘ قرارا دیا جائے۔ اور یہ تأثر بھی حقیقت کے بالکل بر عکس ہے کہ انہوں نے ’’ ملک ‘‘ کا اثبات اور خلافت کی نفی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امام ذہبی نے جا بجا اور دیگر مؤرخین نے بھی ان کے عہدِ حکومت پر ’’خلافت‘‘ کا اطلاق کیا ہے جس سے ہمارا یہ مدعا واضح ہو جا تا ہے کہ ان تمام مؤرخین کے نزدیک ’’مطلق خلافت‘‘ اور ’’ولایت و امارت‘‘میں کوئی منافات نہیں۔
ہم ذیل چند عبارات مختصراً ذکر کرتے ہیں :
امام ذہبی نے ’’سیر الأعلام‘‘ میں لکھا :
’’بایعہ أھل الشام بالخلافۃ‘‘ (۳؍ ۱۳۷)
اس کے چھ صفحات بعد لکھتے ہیں:
’’وأقبلو بعد بیعۃ معاویۃ بالخلافۃ‘‘ (۳؍۱۴۳)
اس کے تین صفحات بعد لکھتے ہیں:
’’وتسلم معاویۃ الخلافہ في آخر ربیع الآخر‘‘ (۳؍ ۱۴۶)
اسی کے ایک سطر بعد لکھتے ہیں:
’’وقال ابن اسحاق: ’’یویع معاویۃ بالخلافۃ‘‘ (۳؍ ۱۴۶)
بلکہ امام ذہبی کا جو ’’حقیقی فیصلہ ‘‘ ہے، جو انہوں نے ’’ قلتُ ‘‘ کے ساتھ ذکر کیا ہے، اس میں بھی ’’ خلافت ‘‘ کا ذکر ہے، جو ایک طویل اقتباس ہے، جسے امام ذہبی نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مدح و منقبت میں ذکر کیاہے، لیکن ڈاکٹر صاحب نے اس میں قطع و برید کر کے اس سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کیا ہے۔ امام ذہبی نے لکھا ہے:
’’قُلتُ‘‘حسبک بمن یؤمرہ عمر ......عمل نیابۃ الشام عشرین سنۃ، والخلافۃ عشرین سنۃ‘‘ (۳؍ ۱۲۳،۱۳۳)
خلافت کے اثبات کے لیے مزید دیکھیے:’’تقریب التہذیب ‘‘(ص:۵۳۷)، ’’الطبقات الکبریٰ‘‘ (۷؍۴۰۶)، ’’تہذیب التہذیب‘‘ (۱۰؍ ۲۰۷)، ’’تہذیب الکمال‘‘ (۲۸؍ ۱۷۹)، ’’ الإصابہ‘‘ (۳؍۴۳۳)، ’’الاستیعاب‘‘ (۳؍ ۳۹۸)، ’’تاریخ بغداد‘‘(۱؍ ۲۲۲،۲۲۴) اور’’ الکامل في التاریخ ‘‘ (۳؍ ۳۷۲،۳۷۴).
شیخ الاسلام ابن تیمیہ لکھتے ہیں: ’’وأما إسلام معاویۃ وولایتہ علی المسلمین والإمارۃ والخلافۃ، فأمر یعرفہ جماھیر الخلق‘‘.(مجموع الفتاوی،۴؍ ۲۴۷)
ابن تیمیہ کے اس آخری حوالے سے نہ صرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت ثابت ہو تی ہے بلکہ اس سے یہ بات بھی بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ ’’ ولایت ‘‘، ’’امارت‘‘اور’’ خلافت ‘‘میں کوئی منا فات نہیں ۔
آٹھویں صدی ہجری کے عظیم مؤرخ ابن خلدون (وفات :۸۰۸ھ)کے تجزیہ کا حاصل یہ ہے کہ ’’حق یہی ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ خلفاء کی جماعت میں شامل ہیں ،البتہ مؤرخین نے ان کا تذکرہ خلفائے سابقین کے تذکرے سے دو وجوہات کی بنا پرمؤخر رکھا :
ایک یہ کہ ان کی خلافت بطریق تغلب وجود میں آئی تھی، جب کہ سابقہ خلفاء کی خلافت اختیاری واجتماعی طریقے سے آئی تھی۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم نسب ہو نے کی وجہ سے خلفائے بنو امیہ کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا گیا اور حضرت عثمان ر ضی اللہ عنہ کوخلفائے سابقہ کے ساتھ اس لیے رکھا گیا کہ و ہ فضیلت میں ان کے قریب تھے‘‘۔
ابن خلدون کے اس تاریخی ،تحقیقی اور مبنی بر اعتدال تجزیہ کے بعد’’ڈاکٹر صاحب ‘‘کی یہ شکایت بھی دور ہو جاتی ہے کہ ابن حزم نے اپنے رسالے میں تمام اموی حکمرانوں کا تذکرہ ’’ولا یت ‘‘ کے ساتھ کیا ہے اور ان سے سابقین کا تذکرہ ’’خلافت ‘‘ کے ساتھ۔
(جاری)
مکاتیب
ادارہ
(۱)
مشفقی ومکرمی جناب عمار ناصر صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مزاجِ گرامی بخیر!
مئی 2014ء کے شمارہ ’’الشریعہ‘‘ میں جناب عاصم بخشی کا مکتوب نظر سے گذرا جس میں غزالی اور ابنِ رشد کے حوالہ سے میرے مضمون (فروری، مارچ 2014ء) پر کچھ تعریضات پیش کی گئی ہیں۔ زیرِ نظر مکتوب کے اندر انہی تعریضات کے جواب میں کچھ توضیحات پیش کرنا مقصود ہیں۔
۱۔ مکتوب نگار کو اعتراض ہے کہ غزالی کا دفاع کرتے ہوئے میں نے اپنے مضمون میں ناقدینِ غزالی کے جس ’’فرضی حملہ‘‘ کے خلاف جوابی کار روائی کی ہے، اس حملہ کا کوئی حوالہ اور ماخذ نہیں بتایا اور نہ ہی اس حملہ کے کسی ذمہ دار کی نشان دہی کی ہے۔ اطلاعا عرض ہے کہ غزالی پر یہ ’’فرضی حملہ‘‘ آج روشن خیالوں کے ہر دوسرے جتھے کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کا اعتراف خود مکتوب نگار نے بھی چند سطروں کے بعد کیا ہے۔ ویسے میرے مضمون کی ابتداء میں ڈاکٹر سلیمان دنیا کی عبارت بھی موجود ہے جو اس بات کی شہادت ہے کہ غزالی پر یہ حملہ عالمی اور غیر علاقائی نوعیت کا ہے اور بعض اوقات اس میں بڑے بڑے دانش ور بھی ملوث ہوتے ہیں۔ اب وہ خود ہی بتائیں کہ اس صورتِ حال میں اس ’’حملہ‘‘ کی فی الواقع موجودگی کو ثابت کرنے کے لئے آخر کسی ایک مخصوص مقالہ کا حوالہ دینے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
۲۔ مکتوب نگار کی رائے میں غزالی پر مختلف الخیال حلقوں کی طرف سے مختلف نوعیت کی تنقیدات کی جاتی ہیں، ان میں سب سے غیر علمی اور سطحی تنقید وہی ہے جو ہمارے نام نہاد مسلم معقولیین اور متجددین کی طرف سے ہوتی ہے اور جس کے خلاف جوابی کارروائی کا بیڑا میں نے اٹھایا ہے۔ مذکورہ تنقیدی حملہ کو سطحی اور غیر علمی قرار دینا بالکل بجا، لیکن اگر اس طرح سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس غیر علمی تنقید کا جواب دینا بھی ایک فضول اور زائد از ضرورت کا م ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ مکتوب نگار کی سادہ لوحی ہے۔ گم راہ کن غلط فہمیوں کو اگر صرف سطحی اور غیر علمی کہہ کر چھوڑ دیا جائے تو بعض اوقات وہ اتنی تناور ہوجاتی ہیں کہ ان کے خلاف بولنا بے اثر ہوجاتا ہے۔ غزالی کو پوری عقلی روایت کا مخالف گرداننا اور سائنس ومذہب کی ہم آہنگی کے خلاف سمجھنا ایک غلطی ہے اور یہ غلطی آج صرف غزالی کے نقد کاروں سے ہی نہیں، بلکہ غزالی کے بعض سادہ لوح مریدوں سے بھی اسی غلطی کا ارتکاب ہوتا ہے اور وہ بزعمِ خود اس ’’رویہ‘‘ کو غزالی کی خوبی سمجھتے ہیں۔ یعنی غزالی خود اپنی کتاب ’’تہافت‘‘ اور ’’المنقذ‘‘ میں جس رویہ کی باربار مذمت کرتے ہیں کہ ’’حکمت وفلسفہ‘‘ کی مطلق تنقید سے اسلام کو کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں، جس رویہ کو وہ ’’صدیق للاسلام جاہل‘‘ یعنی اسلام کے نادان دوست کا رویہ کہتے ہیں اور جس کے خلاف غزالی کے بعض مذمتی بیانات ہم اپنے مضمون میں نقل کرچکے ہیں، اسی رویہ کو غزالی کے ’’اپنے‘‘ اور مخالف، دونوں ہی غزالی کی طرف منسوب کرتے ہیں، اس کو ’’ثابت‘‘ کرنے کے لیے باقاعدہ مورچے لگاتے ہیں اور پھر داد کے منتظر ہوتے ہیں۔ ہمارے مکتوب نگار دوست کا خیال ہے کہ اپنوں اور غیروں کی اس سنگین علمی غلطی کو ابھی بھی صرف سطحی اور غیر علمی کہنے پر اکتفاء کیا جائے۔
۳۔ مسلم ’’حکیموں‘‘ اور فلسفیوں میں کچھ تو وہ تھے جنہوں نے خود کو غیر مابعد الطبیعیاتی علوم تک محدود رکھا، جبکہ کچھ نے ما بعد الطبیعیات (الہیات) میں بھی ٹانگ اڑائی اور یوں دین کے دائرہ میں دخل اندازی کی۔ یہ دخل اندازی کیوں ناروا تھی، اس موضوع پر کچھ گفتگو میں اپنے مضمون میں کرچکا ہوں۔ مکتوب نگار کا نکتہ اعتراض یہ ہے کہ’’مسلم ‘‘ حکماء کے مابین یہ خطِ تقسیم غیر حقیقی ہے۔ ’’مسلم‘‘ حکماء کا علمی منبع وماخذ یونانی علمیت تھی اور یونانی علمیت ایک اکائی کا نام تھاجس کا ایک لازمی جزو مابعدالطبیعیات بھی تھی۔ یونانی علمیت کا کوئی بھی قاری، متعلم اور ماہر اس کے کسی خاص جزو کو نظر سے گذارے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ یہ بہت مشکل تھا کہ یونانی علمیت کے تمام اجزاء اس کی نظر سے گذریں مگر اسی علمیت کا ایک لازمی جزو ’’مابعد الطبیعیات‘‘ اس کی نظر سے اوجھل رہ جائے۔ مکتوب نگار کی یہ ساری گفتگو اغلبا درست ہے اور میں نے ایسی کوئی بات سرے سے نہیں کی جس کے جواب میں وہ یہ سب کہنے کی ضرورت محسوس کررہے ہیں۔ بعض حکماء کے بارہ میں میرا یہ موقف اور حسنِ ظن کہ’’ انہوں نے خود کو غیر الہیاتی علوم تک محدود رکھا‘‘ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ سرے سے یونانی الہیات ان کی نظر سے ہی نہیں گذری۔ اس کا م مفہوم اور مدعا فقط یہ تھا کہ انہوں نے اس مابعد الطبیعیات کے لئے تائید وحمایت کی کوئی پوزیشن اختیار نہیں کی اور اس معاملہ میں خود کو یونانی الہیات کا دفاعی فریق نہیں بننے دیا۔ یوں بھی دیکھا جائے تو فی نفسہ کفریات کا مطالعہ نہیں، بلکہ ان کی تائید وتصدیق اصل میں قابلِ اعتراض چیز ہے، ورنہ تو وہ بہت سے فلسفی بھی اس کی زد میں آجائیں گے جو در اصل یونانی الہیات کے ناقد ہیں مثلا خود غزالی اور ابوالبرکات بغدادی وغیرہ، کیونکہ یہ حضرات یونانی الہیات کا مطالعہ ہی نہیں، اس پہ عبور رکھتے تھے اور کم از کم ان لوگوں کو تو برے فلسفیوں کی کیٹیگری میں شامل کرنا ہمارا مدعا ہرگز نہیں تھا۔ اگر مضمون کے اندر میرے مدعا کے ابلاغ میں کوئی سقم رہ گیا تھا تو امید ہے کہ اب اس کا ازالہ ہوچکا ہوگا۔ میری پہلی قسط میں صفحہ ۱۶ کی ساری گفتگو کو اگر سیاق وسباق کے ساتھ پڑھ لیا جائے تو وہ ’’محدود رکھنے‘‘ کے اسی مفہوم کی متقاضی ہے اور اس میں مذکورہ حکماء کے ساتھ ہمارے حسنِ ظن کے قرائن بھی موجود ہیں جن سے مذکورہ بالا خط تقسیم کی موجودگی بھی ثابت ہوتی ہے۔
مکتوب نگار کی رائے میں، اِس راقم نے خود ہی سائنس اور فلسفہ کو گذشتہ تاریخ کے اعتبار سے مرتکز اور ہم معنی تک کہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یونانی علمیت بشمول اپنی الہیات وغیر الہیات کے ’’مسلم‘‘ حکماء کے سامنے ایک ’’کل‘‘ اور اکائی کی حیثیت سے موجود تھی اور مسلم حکماء کی اس سے مشغولیت بھی ایک اکائی ہی کی حیثیت سے تھی۔ اطلاعا عرض ہے کہ فلسفہ اور سائنس کے جس ارتکاز اور وحدتِ اطلاق کی بات مکتوب نگار میری طرف منسوب کرکے ’’خطِ تقسیم‘‘ کو غیر حقیقی ثابت کرنا چاہتے ہیں، اس حوالہ سے میرے مضمون کا مواد بھی در حقیقت ’’خطِ تقسیم‘‘ کی نشان دہی کرتا ہے اور اس بات کا قرینہ ہے کہ ’’مسلم‘‘ حکماء و فلاسفہ میں دلچسپی کے دائرے مختلف رہے تھے، وہ بے شک ’’جامع العلوم‘‘ رہے ہوں گے مگر ضروری نہیں کہ الٰہیات میں نفیاً یا اثباتاً ان کی دلچسپی بھی یکساں رہی ہو۔ چنانچہ پہلی قسط میں صفحہ۱۶ کے درمیانی پیراگراف کو دوبارہ پڑھ لیجئے۔
۴۔ بشمول کچھ اور فلاسفہ وحکماء کے، میں نے محمد بن زکریا رازی، البیرونی اور عباس بن فرناس (اس کا نام مسلم بن فرناس لکھنا شاید میری غلطی تھی) وغیرہ کے بارہ میں یہ لکھا تھا کہ ’’ہمارے علم کے مطابق‘‘ انہوں نے خود کو غیر مابعد الطبیعیاتی علوم تک محدود رکھا۔ اب ان میں سے کسی کے بارہ میں اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ فی الواقع خالصتا غیر الہیاتی ’’حکیم‘‘ نہیں تھا تو اس میں کوئی حرج نہیں، ہمیں بھی ہر ایک کو بہ ہر صورت یہ ثابت کرنے پر اصرار نہیں اور اسی وجہ سے ہی ہم نے ڈھیلے ڈھالے انداز میں ’’ہمارے علم کے مطابق‘‘ کی شرط کا اضافہ مضمون کے متن میں ہی کردیا تھا۔ثابت تو صرف یہ کرنا مقصود تھا کہ کچھ حکماء بہر حال ایسے بھی تھے کہ جنہوں نے خود کو غیر الہیاتی علوم تک محدود رکھا اور اس کے قرائن بھی موجود ہیں۔ باقی دی گئی مثالوں میں سے اگر کوئی مثال اس صورت کے مطابق نہیں ہے تو اس سے ہمارے اساسی موقف پر بہرحال کوئی زد نہیں پڑتی۔ رازی اور عباس بن فرناس کے بارہ میں مکتوب نگار کی دی گئی معلومات درست ہوسکتی ہیں کہ انہوں نے خود کو غیر الہیاتی علوم تک محدود نہیں رکھا، مگر البیرونی کے بارہ میں ان کا یہ کہنا کہ وہ ’’ہندویات‘‘ کا ماہر تھا، کیا معنی رکھتا ہے؟وہ ہندویات کا ماہر تو تھا، لیکن کیا ہندی کفریات کی کوئی تصدیق وتائید یا اس ضمن میں کوئی قابلِ اعتراض بیان بھی اس سے منقول ہے؟ اگر نہیں تو پھر اس کا شمار انہی ’’حکماء‘‘ میں ہونا چاہئے جنہوں نے خود کو الہیات میں کوئی نئی اور متنازعہ’’ ایجاد‘‘ پیش کرنے سے محفوظ رکھا اور جنہیں کبھی بھی مسلم معاشرہ میں کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مکتوب نگار کو یہاں پر ایک بار پھر ’’محدود رکھنے‘‘ کا معنی سمجھنے میں مغالطہ ہوا ہے۔
۵۔ مکتوب نگار کی رائے میں اگر ہم غیر متعصب ہوکر دیکھیں تو دیکھیں گے کہ بوعلی سینا وغیرہ مسلم فلاسفہ‘ افلاطونی روایت کے غضب ناک حملہ کے خلاف مسلسل بر سرِ پیکار ہیں جس کی بہرحال تحسین ہونی چاہئے۔ مکتوب نگار کو چاہئے کہ وہ خود ان کی اس جدوجہد پر ذرا تفصیلی کلام کریں اور یہ بھی بتادیں کہ اگر کسی ملحد میں صدقہ وسخاوت جیسی کچھ اچھی صفات پائی جاتی ہوں تو کیا ان کی وجہ سے اس کے الحاد وبے دینی سے چشم پوشی کرلینی چاہئے؟
۶۔ میں نے لکھا تھا کہ ایک مسلمان کے فلسفیانہ غور وفکر کو شرعی حدود وقواعد کا پابند ہونا چاہئے۔ مکتوب نگار کو اعتراض ہے کہ ’’قرآن میں باقاعدہ تلقین کی گئی ہے کہ حق وسچ کو تلاش کرنے لئے انفس وآفاق میں غور کیا جائے، لہذا فلسفیانہ غور وفکر کو نام نہاد شرعی حدود کا پابند بنانے کا کوئی جواز نہیں ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ متجسس دماغ اس کو قبول کرلیں، الا یہ کہ ماضی کے کلیسائی جبر کی تاریخ دہرائی جائے۔‘‘ اطلاعا عرض ہے کہ فلسفیانہ غور وفکر میں حتمیت وقطعیت کوئی چیز نہیں ہوتی جس کا اعتراف خود مکتوب نگار بھی کریں گے اور یونانیوں و’’اسلامیوں‘‘ کا علمِ الہیات تمام کا تمام ظن وتخمین پر ہی مبنی ہے۔ اس میں ان مسائل کو قطعی عقائد کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے جن کی کوئی قطعی دلیل قطعا موجود نہیں ہے۔ جن چیزوں کا حتمی علم نہ ہو، ان کے بارہ میں فلسفیانہ غور وفکر جاری رکھنا اور پھر بالآخر محض ظن وتخمین کی بنیاد پر کوئی رائے بھی قائم کرلینا کیسا ہے اور قرآنی تعلیم اس کے بارہ میں کیا ہے؟ سنئے: ’’ولا تقف مالیس لک بہ علم، ان السمع والبصر والفواد کل اولئک کان عنہ مسؤلا‘‘ یعنی ’’جن چیزوں کا کوئی حتمی علم تمہیں نہیں ہے ان کے پیچھے مت پڑو اور نہ ان کی پیروری کرو، کیونکہ دید، شنید اور دھڑکتا دل، ان سب کو اپنی اپنی طرف سے جواب دہ ہونا ہے۔‘‘ (الاسراء:۳۶) یعنی اسی جواب دہی کا احساس کرتے ہوئے مشتبہ امور میں بے مقصد اور بے نتیجہ غور وفکر کرکے اپنی توانائیاں ضائع نہ کرو، خصوصا جبکہ معاملہ مقدس الہیاتی شعائر کا ہو تو غیبی حقائق کے بارہ میں اٹکل پچو لگانا ان مقدس شعائر کی بے حرمتی اور حق تلفی کا سبب بن کر ایمان کے لئے بھی خطر ناک ہوسکتا ہے۔ مشرکینِ مکہ کا ملائکہ کو مؤنث سمجھناظن وتخمین پر مبنی اسی فلسفیانہ غور وفکر کا ہی نتیجہ تھا اور اسی پہ اللہ نے فرمایا تھا کہ کیا تم فرشتوں کی تخلیق کے وقت سامنے موجود تھے؟ یونانیوں کی الہیات بھی تمام کی تمام ظنی وفرضی چیزوں پر مبنی ہے، معدودے چند باتوں کے علاوہ کسی بھی چیز کی کوئی قطعی وحتمی دلیل موجود نہیں ہے۔ غزالی کی تہافت کا ایک بڑا حصہ محض یہی ثابت کرنے کے لئے ہے جس کی تفصیلی نشان دہی ہم اپنے مضمون میں کرچکے ہیں۔ اسلام کا خدا فلسفیوں کے خدا کی طرح کوئی سائنسی فارمولا ٹائپ کی چیز نہیں ہے جس کاکوئی وقار اور احترام نہ ہو۔ یہاں تو ہر اس چیز کا بھی احترام ہے جو خدا کی طرف سچائی کے ساتھ منسوب ہوجائے۔ اسلامی عقائد اور غیبی تصورات جہاں تک ثابت ہیں، وہ سب کے سب عقلا بلکہ بداہۃ ثابت ہیں اور کسی بھی انسانی رشتہ سے زیادہ ان کا تقدس اور احترام واجب ہے۔ کیا کوئی بھی معقول انسان اپنے محترم اور عزیز رشتوں کو ظن وتخمین پر مبنی فلسفیانہ غور وفکر کا میدان بنانا پسند کرسکتا ہے؟ اگر نہیں تو قطعیت کے ساتھ ثابت ان اسلامی عقائد کو فلسفیانہ غور وفکر کا شوق پورا کرنے کے لئے تختہء مشق بنانا اور بنا کسی معقول دلیل کے ان کے بارہ میں رائے قائم کرلینا بھی قابلِ مذمت ہے اور مذکورہ بالا آیت کی رو سے اس پہ سخت جواب دہی کا اندیشہ ہے۔
قرآن میں انفس وآفاق اور کائنات کے اندر جو غور وفکر کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اس کے حاصلِ معنی پر ہم اپنے مضمون ’’تدبرِ کائنات کے قرآنی فضائل‘‘ (الشریعہ۔ جون 2014ء) میں تفصیلی کلام کرچکے ہیں۔ اس سے نہ تو الہیاتی امور میں ہونے والا ظن وتخمین پر مبنی فلسفیانہ غور وفکر مراد ہے اور نہ ہی طبیعیاتی امور کے اندر ہونے والا سائنسی وتجرباتی غور وفکر۔ ہاں ، البتہ وہ روحانی اور الہیاتی غور وفکر ضرور مراد ہے کہ جس کی طرف خود کائنات بھی پورے زور وشور کے ساتھ انسان کو دعوتِ التفات دے رہی ہے،جس سے انسان میں خالقِ کائنات کی عظمت، قوت ، قدرت، بادشاہت، رحمت، حکمت، علمی وسعت اور لامحدود بڑائی کے تصورات راسخ ہوں، جس غور وفکر کے نتائج بالکل قطعی وعام فہم ہیں اور ان میں کوئی فلسفیانہ جھول یا اشتباہ نہیں پایا جاتا جیسے وجودِ باری تعالی، توحیداور خالق کی تقدس آمیز صفات (قدیر، عظیم، علیم، کریم وغیرہ) اور جس غور وفکر کے نتیجہ میں ہی اسلامی الہیاتی تصورات کا اتنا تقدس طے پایا ہے کہ ان کے بارہ میں اٹکل پچو لگانا، بغیر یقین کے لب کشائی کرنا اور فلسفیانہ غور وفکر کا میدان بنانا ان کی بے حرمتی قرار پاتا ہے۔
فلسفیانہ غوروفکر ایک مشغلہ ہے اور یہ مشغلہ کسی حد تک مباح بھی ہوسکتا ہے، بشرطیکہ اپنی جائز حدود تک محدود رہے۔ الہیات کے تقدس کے پیشِ نظر اس میں ایسی کوئی رائے قابلِ قبول تو کجا ، قابلِ برداشت بھی نہیں ہے جو ظنی وتخمینی اندازوں پر مبنی ہو، صرف وہی آراء یہاں قابلِ قبول اور معتبر ہیں جو عقلا پوری قطعیت کے ساتھ ثابت ہوں یا پھر وحی کے قطعی ذریعہ سے ماخوذ ہوں، باقی جتنے مشتبہ احتمالات ہیں، ان کے بارہ میں کچھ کہنے اور سوچنے سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہی عافیت کا راستہ ہے اور کم از کم مقدس الہیاتی شعائر کے بارہ میں ایمان کے لئے خطرناک اور خدا کی ناراضگی کا باعث بننے والے ایسے رویہ کا تحمل کوئی مسلمان تو بالکل نہیں کرسکتا۔ مثلا وقت اور ’’زمان‘‘ کے ’’قِدم وحدوث‘‘ کی بحث کو لے لیجئے جو مکتوب نگار نے بلاوجہ چھیڑی ہے اور پھر خود اظہار کیا ہے کہ اس بحث کا کوئی تسلی بخش ، حتمی اور قطعی فلسفیانہ جواب ممکن نہیں ہے۔ یہ بحث مذکورہ آیت کی رو سے قابلِ مذمت ہے۔ اپنے ایمان کے لئے اتنی سی بات کافی ہے کہ ’’اللہ خالق کل شیء‘‘ یعنی ’’اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔ (الانعام: ۱۰۲) اس کی تفصیل میں جاکر ہم ان بہت سی چیزوں کا نام بھی لے سکتے ہیں جو عام فہم ہیں، جن کا تصور کرنے کے لئے کوئی فلسفیانہ پیچ وتاب کھانے کی ضرورت نہیں ہے اور جن کا ذکر خود خدا نے انسان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے کیا ہے، مثلا سورج وچاند، زمین وآسمان، ستارے اور سیارے، پہاڑ ودریا، بادل وبارش، گرمی وسردی، صحت وبیماری، جن وانسان، چرند پرند، شجر وحجر، دن ورات، ہفتے ومہینے اور دوسری بہت سی چیزیں۔ باقی رہیں ’’زمان‘‘ جیسی پیچیدہ تصوراتی اور خیالی چیزیں جن کے بارہ میں پہلے دن سے طے ہے کہ ان پر جتنی بھی بحث کرلی جائے وہ بے نتیجہ رہے گی، ان کا کوئی قطعی حل انسانی فہم وادراک کے پاس نہیں ہے (الا یہ کہ تانیثِ ملائکہ کی طرح کا کوئی ’’حل‘‘ فرض کرلیا جائے)، بلکہ محض ان جیسی چیزوں کا تصور کرنے کے لئے ہی انسانی عقل کا پہلے مصنوعی وغیر فطری تفکرات کا عادی ہونا ضروری ہے تو جب ایسی چیزوں کا تعلق مقدس دینیاتی امور سے بھی ہوتو ایسی چیزوں کے بارہ میں نہ سوچنا اور ان کے پیچھے نہ پڑنا ہی سلامتی کا راستہ ہے۔خود ساختہ ’’نتیجہ‘‘ اخذ کرنے میں اگر کوئی اونچ نیچ ہوگئی یا بارگاہِ الوہیت کے آداب کی کوئی حق تلفی ہوگئی تو اپنی نجات ہی خطرے میں پڑ جائے گی، کسی دوسرے کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ جبکہ دماغی بوکاٹوں کے وقتی تلذذ کے لئے اپنی ابدی نجات کو خطرے میں ڈالنا سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ بہ الفاظِ اقبال:
خرد ہوئی ہے زمان ومکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لاالہ الا اللہ
رہا معاملہ متجسس دماغوں کا اور ماضی کے کلیسائی جبر کا تو گذارش یہ ہے کہ شرعی نقطہ نظر متجسس دماغوں کی پسندیدگی کو دیکھ کر طے نہیں کیا جاتا، البتہ سائنسی تدبر کے خلاف کلیساکے جبر کو ہم بھی قابلِ مذمت سمجھتے ہیں، لیکن مابعد الطبیعیاتی شعائر کے بارہ میں فلسفیانہ تخمینہ بازی پر عائد کی گئیں مدلل اور بامقصد شرعی قدغنوں کو ماضی کے کلیسائی جبر کے ساتھ جوڑنا ناقابلِ فہم اور افسوس ناک ہے۔ہمارے مسلم اہلِ علم مثلا غزالی وغیرہ تقریبا ایک ہزال سال پہلے ہی یہ وضاحتیں کرچکے ہیں کہ (جس طرح کی چیزوں میں کلیسا نے جبر کا مظاہرہ کیا تھا) ایسی چیزوں میں فلسفیوں کے ساتھ مناظرہ کرنا ہی نامعقول اور خود دین کے مقدمہ کو کم زور کرنے کے مترادف ہے۔ میری دوسری قسط کے آخری پیراگراف کو ذرا توجہ سے پڑھ لیجئے۔
۷۔ مکتوب نگار نے سائنس کی تعریف کا سوال بھی اٹھایا ہے تو ہمارے نزدیک سائنس نام ہے مادی کائنات پر غیر روحانی وغیر الہیاتی تدبر کرنے اور اس سے نتائج اخذ کرنے کا۔ اب اگر مابعد الطبیعیاتی سوالات سائنس کا جزو سمجھے جاتے ہیں تو ٹھیک ہے، ہمیں اس پہ کوئی اعتراض نہیں، مگر جو اعتراض پہلے فلسفہ پر ہوتا تھا، اب وہی سائنس پر ہوگا کیونکہ اصل اعتراض اس سرگرمی پر ہے جو الہیاتی تقدسات کے خلاف ہے، خواہ وہ فلسفہ کہلائے یا سائنس۔ الہیات میں صرف قطعی اور حتمی بات قابلِ قبول ہے، اگر فلسفہ یا سائنس کوئی قطعی اور نیا ’’انکشاف‘‘ کرتے ہیں جو واقعتا قطعی ہو اور نیا بھی تو اسلام کو اس پہ کیا اعتراض ہوسکتا ہے، مگر عملا کوئی انکشاف ایسا ہوگا نہیں۔ فلسفہ کہیں، سائنس کہیں، دماغی کاوش کہیں،عقلی روایت کہیں یا کچھ اور، اسلام کے ساتھ ان کی ہم آہنگی کی یہی ایک صورت ہے کہ یہ قطعیت کے ساتھ ثابت اسلامی شعائر کا احترام ملحوظ رکھیں اور ان پہ غیر یقینی مشتبہات کی نشانہ بازی سے باز رہیں، یہی ہم آہنگی منصفانہ ہے، مطلوب بھی اور اس کے اثبات ہم نے غزالی کے حق میں کیا تھا۔
۸۔ مکتوب نگار نے غزالی اور ابنِ رشد کے جن چند ضمنی اختلافات کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ غزالی کا اصل مقدمہ جیسا کہ ہم مضمون میں عرض کرچکے ہیں، فارابی، بوعلی سینا اور ان کے پیروکاروں کے خلاف تھا۔ اس کے مقابلہ میں ابنِ رشد کا جواب اب اسی صورت میں جواب کہلانے کا مستحق ہوتا کہ وہ فارابی اور بوعلی سینا کی طرف سے کوئی تسلی بخش قسم کی صفائی دیتے، لیکن ہم عرض کرچکے ہیں کہ وہ اس حوالہ سے بالکل ناکام رہے ہیں۔ پس چند ضمنی اور لفظی اختلافات کو نمایاں کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟
میرا اندازہ ہے کہ مکتوب نگار نے میرے مضمون سے متعلق جو قابلِ ذکر اور دریافت طلب نکات اٹھائے تھے، ان کی مناسب وضاحت ہوچکی ہے۔
والسلام
محمد عبداللہ شارق
mabdullah_87@hotmail.com
(۲)
برادرم جناب محمد مشتاق احمد صاحب
اسسٹنٹ پروفیسر قانون بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے آج (2جون 2014ء) کو ایک ای میل کے ذریعے ماہنامہ الشریعہ کے جون 2014ء کے شمارے میں صوبہ خیبر پختونخوا اسمبلی سے حال ہی میں صوبے میں نجی قرضوں پر سود کی روک تھام کے حوالے سے منظور کردہ بل پر آپ کا مضمون پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ آپ نے اس مضمون کا عنوان رکھا ہے ( خیبر پختونخوا میں سود کی ترویج کی ایک مذموم کوشش) اور اس میں ایک مقام پر آپ نے لکھا ہے کہ اس مسودہ قانون پر جناب سراج الحق صاحب کے دستخط بحیثیت منسٹر انچارج کے ثبت ہیں جو انہوں نے 14 اپریل 2014ء کو کیے ہیں یعنی جماعت اسلامی کے امیر کا حلف اٹھانے کے بعد پہلے ہفتے میں۔ میں اس حوالے چند معروضات آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔
1۔ مضمون کے ابتدائیہ میں آپ نے سود کی ممانعت، حرمت اور شناعت کے حوالے سے جو تحریر کیا ہے، اس سے مجھ سمیت جماعت اسلامی پاکستان کے ہر کارکن اور ہر مسلمان کو اتفاق ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ ربا اور سود کا حرام قطعی ہونا قرآن وسنت کی واضح نصوص سے ثابت ہے اور اس کی حرمت پر دور نبوی سے لے کر آج تک فقہاء دین اور ائمہ مجتہدین کا اجماع موجود ہے۔ قرآن کریم میں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 275 ربا کے حرام قطعی ہونے کی صریح دلیل ہے اور اس آیت میں ہر قسم کے سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔(خواہ وہ سود مفرد ہو یا سود مرکب)۔ اسی طرح سود سے متعلق قرآنی آیات کی تشریح و توضیح اور قباحت میں احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ بھی موجود ہے۔
ان مختصر جملوں کو تحریر کرنے سے آپ جیسے صاحب علم کے سامنے سود کی حرمت پر دلائل دینا مقصود نہیں ہے بلکہ غرض صرف اور صرف یہ ہے کہ سود کی ممناعت اور حرمت پر ان واضح نصوص شرعیہ کی موجودگی میں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی کس طرح اس کی حرمت سے انکار کرسکتا ہے؟ یا دیدہ ودانستہ اور جان بوجھ کر سود کو جاری رکھنے کی مذموم کوشش کرسکتا ہے؟
2۔ اس موجودہ بل پر اپنا موقف دینے سے پہلے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس بل کو پیش کرنے کے اس بنیادی سبب کا اعادہ کروں جس کا ذکر آپ نے بھی اپنے مضمون میں واضح طور پر کیا ہے اور وہ یہ کہ سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جناب دوست محمد صاحب کے ریمارکس مختلف اخبارات میں چھپے تھے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں نجی سود کے امتناع کے حوالے سے کسی قانونی خلاء کی وجہ سے ایسے سود خوروں کو عملاً سزا نہیں دی جاسکتی جنہوں نے معاشرے میں لوگوں کی مشکلات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ظلم وبربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ 2012ء میں ایک ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران معزز سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے ریمارکس اور اظہار ناراضگی کا بھی آپ نے اپنے مضمون میں ذکر فرمایا ہے۔ میں نے آپ سے اسلام آباد کے سیمینار میں ملاقات سے قبل ایک تحریر (ریکارڈ میں موجود) کے ذریعے موجودہ سینئر وزیر(وزیر خزانہ) اور اس وقت جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر محترم جناب سراج الحق صاحب کی توجہ اس حوالے سے ضروری قانون سازی کے علاوہ کئی دیگر امور کی طرف بھی دلائی تھی جس پر انہوں نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی تھی۔ اس کمیٹی میں دیگر ماہرین کے علاوہ مجھ جیسے طالب علم کا نام بھی شامل تھا لیکن میں بیرون ملک سفر کی وجہ سے شرکت نہ کرسکا۔
3۔ آپ نے لکھا ہے کہ اس موضوع پر توآپ کے والد محترم جناب اکرام اللہ شاہد صاحب کی طرف سے پیش کردہ بل جولائی 2007ء میں اس وقت کی صوبائی اسمبلی سے پہلے ہی منظور ہوچکا تھا اور حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اسکا علم اس وقت کے سینئروزیر محترم سراج الحق صاحب اور مجھے کیوں نہیں تھا جبکہ میں اس وقت ممبر قومی اسمبلی اور ایم ایم اے حکومت کی تشکیل کردہ نفاذ شریعت کونسل کا رکن بھی تھا۔ اپنے بارے میں آپکے تحریر کردہ تعریفی جملوں کو میں آپ کے حسن ظن سے تعبیر کرتا ہوں، ورنہ من آنم کہ من دانم کے مصداق میں اپنے آپکو اچھی طرح جانتا ہوں۔ بہر حال میں آپ کے اس حسن ظن کے لیے آپ کا مشکور ہوں اور آپ کے بارے میں یہ رائے رکھتا ہوں( جس کا میں کئی مرتبہ دوستوں کی مجالس میں اظہار بھی کرچکا ہوں) کہ اللہ تعالی نے آپ کو علمی دانش وبصیرت سے نوازا ہے۔ نومبر 2013 کو اسلام آباد کے سیمینار میں میرے سابق کلاس فیلو اور اس پروگرام کے میزبان جناب ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی صاحب کو میں نے بتا دیا تھا کہ اپنے موضوع پر مدلل، مربوط اور علمی مقالہ برادرم محمد مشتاق احمد نے پیش کیا ہے۔
جہاں تک شریعت کونسل کے ممبر ہونے کی حیثیت سے مجھے آپ کے والد محترم اور ہمارے مشفق بزرگ محترم اکرام اللہ شاہد صاحب کے پیش کردہ بل کا علم کیوں نہ ہوسکا تو اس حوالے سے میں عرض کروں کہ آپ کے والد محترم کے بل کا مسودہ شریعت کونسل میں برائے غور وخوض آیا ہی نہیں تھا۔ اس لیے اس پر رائے دینے یا اسکا علم ہونے کی بات تو یہیں پر ختم ہوجاتی ہے۔ جماعت اسلامی کی طرف سے اس وقت میرے علاوہ محترم پروفیسر محمد ابراہیم خان صاحب اور جناب ارباب عثمان صاحب ایڈوکیٹ بھی اس کونسل کے اراکین تھے اور ان سے اس بات کی تصدیق کرائی جاسکتی ہے۔
آپ کے والد محترم اس وقت حکمران جماعت ایم ایم اے کی پارلیمانی پارٹی کے ایسے رکن تھے جن کو صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی حیثیت سے ایک اہم اور باعزت منصب سے بھی نوازا گیا تھا۔ اس لیے مناسب تو یہی ہوتا کہ ایک سرکاری ممبر کی حیثیت سے باہمی مشاورت سے یہ بل اسمبلی میں آتا، لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر آپ کے جہاندیدہ اور پارلیمانی روایات سے اچھی طرح باخبر والد محترم نے ایسا نہیں کیا تو ان کے پاس اس کی معقول وجہ بھی ہوگی۔ میں ذاتی طور پر ان کی طرف سے اس اہم موضوع پر قانون سازی کی کاوش کو نہایت تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس دینی کاوش پر اجر عظیم سے نوازے،آمین۔
4۔ آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ آپکے والد محترم کے پیش کردہ اس بل کو ایم ایم اے حکومت میں دو سال تک لٹکائے رکھا گیا تو اگر واقعی کسی فنی، انتظامی یا کسی دیگر معقول وجہ کے بغیر ایسا ہوا ہے تو میں اس کی مذمت کرتا ہوں اور یہ یقیناً اچھا نہیں ہوا ہے۔ لیکن اگر اس کو بالآخر اسی اسمبلی سے متفقہ طور پر پاس بھی کرایا گیا ہے تو دیر آید درست آید کے مصداق یہ بھی ایک قابل تحسین کام ہوا ہے۔
5۔ جہاں تک پھر بھی محترم سراج الحق صاحب اور ہماری طرف سے اس بل کے بارے میں ہماری لاعلمی کو ہماری ایک کمزوری کے طور پر بتاکر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے تو آپکو معلوم ہے کہ جب کسی اسمبلی سے کوئی بھی قانون بنتا ہے تو اسکو فوری طور پرقانون کی سرکاری کتاب یا دستاویز کا حصہ بنایا جاتا ہے اور جج حضرات سمیت وکلاء بھی ان قوانین سے اپنے آپکو باخبر رکھتے ہیں کیونکہ انہی قوانین سے تو انکو تقریبا روزانہ واسطہ پڑتا ہے۔ جبکہ آپکے والد محترم چونکہ خود ایک سیاست دان ہیں، اسلئے آپ یہ بھی یقیناًجانتے ہونگے کہ سیاست سے وابستہ ایسے لوگوں کا زیادہ وقت مختلف النوع مصروفیات اور خدمات کے حوالے سے عوامی میدان میں گزرتا ہے۔یہ پھر بھی اپنے آپکو باخبر نہ رکھنے کے لیے یہ کوئی Excuse اور معقول وجہ نہیں ہونی چاہیے، لیکن اگر واقعی ایسا ہے کہ امتناع سود کے حوالے سے واقعتا ایک مکمل اور قابل عمل قانون سازی موجود تھی اور اسکا ہمیں علم نہیں تھا تو مشتاق بھائی، از راہ تفنن عرض کردوں کہ سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سمیت صوبے کے ان دیگر جج اور وکلاء صاحبان کو اگر اسطرح کی قابل عمل قانون سازی کا علم نہ ہوسکا جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور قانونی پس منظر کی وجہ سے ہمہ وقت قانون کی تعبیر وتشریح اور مطالعے میں مصروف رہتے ہیں تو ہم جیسے کمزور انسانوں کی لاعلمی زیادہ اچنبھے کی بات نہیں ہونی چایے اور اس بنا پر ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری اس کمزوری اور غلطی پر ہمیں معافی مل جائے گی۔
6۔ لیکن امر واقعہ ایسا نہیں ہے بلکہ سابق چیف جسٹس ہائی کورٹ کو بھی اس قانون کی موجودگی کا علم تھا جسکا حوالہ آپ نے دیا ہے اور سینئر وزیر صوبہ محترم سراج الحق صاحب کی قائم کردہ اس کمیٹی کو بھی علم تھا جس نے اس نئے بل کے مسودے پر اپنے اجلاس میں غور کیا تھا۔ اس اجلاس کے ریکارڈڈ منٹس کے علاوہ پشاور سے کمیٹی کے رکن پروفیسر سید محمد عباس صاحب سے بھی اس بات کی تصدیق کرائی جاسکتی ہے کہ بل کی منظوری سے قبل کمیٹی کے علم تھا کہ اس موضوع پر ایک قانون پہلے سے موجود ہے لیکن بقول سابق چیف جسٹس ہائی کورٹ کے اس میں موجودنقص کی وجہ سے اس قانون کے مطابق مجرموں کو سزا نہیں دلائی جاسکتی۔ آپ نے لکھا ہے کہ( عدالت عالیہ کے متعلقہ آرڈر شیٹ نکال لینے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ اس قانون کو مزید موثر بنانا چاہتے تھے اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے حکومت کو احکامات جاری کیے تھے) سوال یہ ہے کہ سابق چیف جسٹس صاحب کے ریمارکس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس قسم کے سودی کاروبار والوں کو سزا دلوانا چاہتے تھے لہٰذا اگر مذکورہ قانون زیادہ موثر نہیں تھا تو تھوڑا موثر تو ضرور ہوگا لیکن ہم نے کسی ایسے مجرم کو اس قانون کے تحت تھوڑی سزا پاتے بھی نہیں دیکھا۔ اس لیے اس قانونی خلا کو پر کرنے یا آپ کے بقول اس قانون کو زیادہ موثر بنانے کے لیے نئی قانون سازی یہ کا اقدام کیا گیا۔
7۔ اب آیئے اس اہم نکتے کی طرف کہ اس بل میں تو ایک لحاظ سے سود کو جواز دینے کا تاثر پایا جاتا ہے تو میں بلاتامل اس بات سے متفق ہوں اور یہی تاثر میں نے بھی لیا ہے لیکن یہ تاثر میں نے آپ کا مضمون پڑھنے سے پہلے اس وقت لیا تھا جب میں نے 13 مئی 2014ء کے اخبارت میں اس بل کی منظوری سے متعلق پڑھا۔میرے پاس منظور شدہ بل کی نقل تو نہیں تھی لیکن بل سے متعلق اخبار میں موجود ایک جملے کو اسی وقت میں نے نوٹ کرکے 15 مئی 2014ء کو محترم سراج الحق صاحب کی خدمت میں ایک خط لکھ کر ای میل کیا اور اسکی کاپی جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا کے امیر محترم پروفیسرمحمد ابراہیم خان صاحب کے ذاتی ای میل پر بھیج دی۔ (محترم سراج الحق صاحب کو ارسال کردہ خط کی نقل اس تحریر کے ساتھ منسلک ہے)۔ اخبارکے مطابق وہ جملہ جس سے میں نے یہ تاثر لیا کہ اس سے سود کو جواز فراہم ہورہا ہے، یوں ہے :’’نجی قرضوں پر سود کی روک تھام کے بل کے مطابق نجی سطح پر قرضوں کی فراہمی بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی پر مقرر کردہ شرح منافع سے زائد پر نہیں دیے جاسکیں گے۔‘‘
اس پر صوبائی وزیر خزانہ محترم سراج الحق صاحب کی خدمت میں تحریر کردہ خط میں عرض کیا تھا کہ ’’ لیکن اس بل میں اس نکتے سے مجھے پریشانی اور تشویش بھی پیدا ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے (یہاں اوپر والا جملہ نقل کیا گیا ہے)۔ ظاہر ہے کہ قرض پر جو منافع لیا جائے تو وہی تو سود ہے اور عملاً پاکستان کے بینکوں میں یہی کچھ ہورہا ہے۔ بل کے مذکورہ جملے سے گویا ہم خود سود کو جواز فراہم کر رہے ہیں۔‘‘ اور پھر میں نے اصلاح کی تجویز دی ہے جو آپ ملحقہ خط میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
اگر ہماری تربیت متعصبانہ ماحول میں ہوتی اور ہم جماعتی تعصب کا شکار ہوتے تو ہم اس غلطی کے لیے تاویلیں پیش کرکے اس کا دفاع کرتے لیکن الحمدللہ ہم پہلے مسلمان ہیں اور بعد میں جماعت اسلامی میں اس لیے شامل ہیں کہ یہ ہمیں منہج رسول کے مطابق اقامت دین کے لیے مخلصانہ جدوجہد کرنے والی جماعت نظر آرہی ہے۔
8۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی جماعت اسلامی اقامت دین کے لیے کام کرنے والی جماعت ہے تو اس بل میں موجود اس غلطی کی وجہ کیا ہے؟ تو میں بالکل شرح صدر اور پورے اعتماد کے ساتھ یہ سمجھتا ہوں کہ اسکی وجہ یہ قطعا نہیں ہے کہ خدا نخواستہ جماعت اسلامی سودی نظام کو جائز سمجھتے ہوئے اسکو جاری رکھنے کے لیے ارادتاً کوشش کر رہی ہے۔ آپکو معلوم ہے کہ میرے والد مرحوم شیخ القرآن حضرت مولانا گوہررحمن رحمہ اللہ کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا لیکن نہوں نے 1991 میں وفاقی شرعی عدالت میں عملاً پیش ہوکر سودی نطام کے خاتمے اور حرمت سود پر مدلل اور جامع بیانات ریکارڈ کرائے تھے جس کی روشنی میں وفاقی شرعی عدالت نے 14 نومبر 1991ء کو متفقہ فیصلہ سنا دیا تھا کہ بینکوں کا سود وہی ربا ہے جسے قرآن نے حرام قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ نے بھی 23 دسمبر 1999ء کو اس فیصلے کی توثیق کردی تھی اور حکم دیا تھا کہ جون 2001ء تک سودی معیشت کا مکمل خاتمہ کردیا جائے۔ لیکن عملاً کیا ہوا؟ اس کی پوری تفصیل آپ کو معلوم ہے جس کے اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وقت پھر اسی حوالے سے ایک پیٹیشن وفاقی شرعی عدالت میں زیر سماعت ہے جس میں جماعت اسلامی کے دیگر افراد کے علاوہ میرا نام بھی عدالت کے سامنے پیش ہونے والے افراد کی فہرست میں شامل ہے۔ لہٰذا یہ تو ایک کھلے تضاد کی کیفیت ہے کہ ایک طرف تو جماعت اسلامی سودی نظام کے خاتمے کی کوشش کررہی ہے اور دوسری طرف صوبہ خیبر پختونخوا کی اپنی وزارت میں سودی نظام کے تحفظ کی دانستہ کوشش کر رہی ہے۔
میرے نزدیک اسکی واحد وجہ بے توجہی ہے کہ متعلقہ ذمہ داران اور ارکان اسمبلی نے اسکا پورے انہماک اور توجہ سے مطالعہ نہیں کیا اور محض امتناع سود کا عنوان دیکھ کر اس کو ووٹ دیا۔ میرا یہ بھی اندازہ ہے کہ ہماری بیوروکریسی ابھی تک اسلامی نظام کے عملی نفاذ اور سودی نظام کے خاتمے کے لیے تیا رنہیں ہے اس لیے یہ بعید نہیں ہے کہ ڈرافٹنگ کے دوران متعلقہ بیوروکریسی نے اسکی یہ شکل بنادی ہو۔اس نکتے سے میں صوبائی حکومت اور متعلقہ ذمہ داران کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش نہیں کر رہا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ قانون سازی جیسے اہم معاملے میں بے توجہی بھی کوئی معمولی غلطی نہیں ہے لیکن عدم توجہ کی وجہ سے ایک کام کے ہوجانے اور عقیدہ وفکر کی بنیاد پر دانستہ طور پر ایک عمل کے اصدار میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔
9۔ میں نے اپنے والد مرحوم کے وقت سے لے کر اب تک جماعت اسلامی کے نظام کا جتنا مشاہدہ کیا ہے تو اسکی روشنی میں یہ کہ سکتا ہوں کہ جماعت کے شورائی اداروں اور مجالس میں جب کسی معاملے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک واضح صورت سامنے آجائے تو اسی کو اختیار کیا جاتا ہے، چاہے اس سے پہلے کسی غلط فہمی کی وجہ سے جماعتی طور پر کوئی دوسرا موقف ہی کیوں اختیار نہ کیا گیا ہو۔ یعنی انسانی کمزوری کی بنیاد پر کی گئی غلطی سے رجوع کرکے اسکی اصلاح کی جاتی ہے اور ایسا عملاً ہوتا رہا ہے جسکی میں آپکی خدمت میں ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ 1991ء میں جناب نواز شریف صاحب کی سابقہ حکومت میں اس وقت کے پارلیمنٹ سے نفاذ شریعت بل منظور کرایا گیا تھا۔ اس وقت میرے والد مرحوم پارلیمنٹ کے رکن نہیں تھے لیکن جماعت اسلامی کے دیگر اراکین پارلیمنٹ نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا تھا۔جب اخبارات سے معلوم ہوا کہ اس بل میں خلاف اسلام دفعات بھی شامل ہیں تو میرے والد مرحوم نے جماعت اسلامی کے ایک اہم ذمہ دار اور مرکزی شوریٰ کا رکن ہوتے ہوئے ’’نفاذ شریعت ایکٹ 1991ء کا شرعی جائزہ‘‘ کے عنوان سے ایک مفصل مضمون لکھا (چھپی ہوئی شکل میں اب بھی موجود ہے) اور جماعت کے مرکزی شوری میں اس پر قرآن وحدیث کی روشنی میں دلائل پیش کے لیے جس کے بعد جماعت نے بطور وضاحت مرکزی شوری سے ایک باقاعدہ قرارداد منظور کرائی جس میں اس بل کو نفاذ شریعت سے فرار کا بل قرار دیا گیا۔
10۔ غلطیوں کا شکار ہونے کے اس معاملے پر بھی تنقید کی جاسکتی ہے لیکن ایک عرصے سے جماعت کے کارکنان اور ذمہ داران کو قریب سے جانتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس کی وجہ بھی وہ پیاس، تڑپ، لگن اور بے قراری ہے جو جماعت کے ذمہ داران اور تمام کارکنان کے دلوں میں شریعت کے عملی نفاذ کے حوالے سے موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی شریعت کے پیاسے یہ کارکنان شریعت کے حوالے سے کسی بھی پیشرفت کا موقع پاتے ہیں تو اس طرح بے اختیار دوڑتے ہیں جس طرح پیاسا کنویں کی طرف دوڑتا ہے۔ اس لیے موجودہ بل میں خامی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم سراج الحق صاحب خدانخواستہ صوبے میں سودی نظام کی ترویج وبقاء چاہتے ہیں بلکہ اسکی وجہ محترم سراج الحق صاحب اور ان کے رفقاء کے دلوں میں شریعت کیلئے موجود وہ شدید پیاس اور تڑپ ہے جس نے محترم سراج الحق صاحب کو مجبور کیا کہ جونہی ان کو معلوم ہوا کہ نجی سود کے امتناع کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے تو انہوں نے فوری طور پر اس حوالے سے عمل درآمد کا آغاز کرایا اور اسی سرعت اور تیزی کی وجہ سے اس قانون سازی میں ایک ٹھوس غلطی صادر ہوگئی۔ میں پھر اس بات کا اعادہ کروں کہ سرعت یا بے توجہی کی وجہ سے کی گئی غلطی بھی بہر حال غلطی ہے جس کی اصلاح کی فوری کوشش ہونی چاہیے۔ میں دوبارہ اس طرف محترم امیر جماعت اور دیگر قائدین کی توجہ دلاؤں گا اور اپنی جماعت کو جانتے ہوئے مجھے امید ہے کہ اسکی اصلاح ضرور ہوگی، ان شاء اللہ۔
11۔ آخر میں بڑے ادب واحترام کے ساتھ آپکی خدمت میں یہ بھی عرض کروں کہ کسی خامی کی اصلاح یا کسی معاملے کی طرف توجہ دلانا آپکا حق بھی ہے اور بحیثیت مسلمان ایک ذمہ داری بھی ہے لیکن ایک رسالے میں اس تنقیدی انداز میں مضمون شائع کرانا میرے خیال میں مناسب نہیں تھا۔ جماعت اسلامی پاکستان، جمعیت علماء اسلام(ف) اور (س) اور دیگر دینی جماعتوں کے درمیان بعض اختلافات کے باوجود کم ازکم اس اہم قدر مشترک پر تو اتفاق موجود ہے کہ یہ سب جماعتیں اپنے منشور اور پروگرام میں واضح طور پر ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہیں اور پاکستان کو سیکولر سٹیٹ بنانے والی قوتوں کے راستے میں مزاحم ہیں۔ لہٰذا اسطرح کی پبلک تنقید سے ان سیکولر قوتوں کو ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ مناسب ہوتا کہ اگر آپ اپنی اسی تحریر میں اٹھائے گئے نکات کو شائع کرانے سے قبل محترم سراج الحق صاحب اور جماعت کی قیادت کے علم میں لاتے اور پھر دیکھتے کہ اگر وہ اس غلطی کو برقرار رکھنے پر اصرار کرتے یا ایک مناسب وقت گزرنے کے باجود اسکی اصلاح نہ کرتے تو پھر آپکو حق پہنچتا کہ اس طرح پبلک میں اس پر کھل کر تنقید کرتے۔
اللہ تعالی ہمیں اخلاص کے ساتھ اپنے دین کی اتباع اور خدمت کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔ شکریہ
ڈاکٹر عطاء الرحمن
مدیرجامعہ اسلامیہ تفہیم القرآن مردان
رکن مرکزی مجلس شوریٰ وعاملہ جماعت اسلامی پاکستان
(۳)
برادرم محمد مشتاق احمد صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
14 جون 2014ء کوآپکا ای میل ملا جس میں آپ نے نجی قرضوں پر سود کی ممانعت کے حوالے سے صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی سے حال ہی میں پاس کردہ بل کے بارے آپکے نام میرے خط مورخہ 2 جون 2014ء کو ماہنامہ الشریعہ میں شائع کر وانے کے بارے میں پوچھا ہے۔ میں اس کے لیے آپ کا شکرگذار ہوں لیکن میرے خیال میں تو یہ کسی علمی اختلاف کا موضوع نہیں تھا اور نہ ہی بل میں موجود سقم اور غلطی کے بارے میں ہمارے درمیان کوئی اختلاف تھابلکہ اس خط کا مقصد آپکے مضمون میں بعض نکات کے حوالے سے ایک خط کے ذریعے اپنے احساسات کا اظہار کرنا تھا جس پر آپ نے اپنے جوابی ای میل میں نہایت ہی اچھے انداز میں اپنے رد عمل کا اظہار بھی کیا تھا۔ اس لیے میں اسکو شائع کرانے کے حق میں نہیں تھا، البتہ میں نے اس کی کاپی امیر جماعت اسلامی پاکستان و صوبائی وزیر خزانہ صوبہ خیبر پختونخوا محترم جناب سراج الحق صاحب کی خدمت میں صرف اس مقصد کے لیے ارسال کردی تھی کہ اس بل میں وہ اہم تبدیلیاں لائی جاسکیں جن کے بارے میں میں نے اپنے خط میں امید کا اظہار کیا تھا۔
بہر حال اگر آپ اس کو شائع کروانا چاہتے ہیں تو جواب درجواب کی صورت اختیار نہ کرنے کی صورت میں اس کی اشاعت میں کوئی حرج بھی نہیں ہے بلکہ اس وقت تو اس کی اشاعت اس لحاظ سے مفید بھی ہوگی کہ اس دوران ہونے والی ان مفید اور مثبت developments کا تذکرہ بھی ساتھ ہی شایع ہو جائے گا جن کے حوالے سے میں نے اپنی قیادت کے بارے میں حسن ظن اور مثبت امید کا اظہار کیا تھا، فالحمد للہ علی ذالک۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا کہ اخبارات کے ذریعے موجودہ بل کی صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بارے میں پڑھ کر میں نے 15 مئی 2014ء کو محترم جناب سراج الحق صاحب کو ایک خط کے ذریعے اپنی تشویش سے آگاہ کردیا تھا اور باقاعدہ ایکٹ بننے سے قبل اس پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی تھی۔ اسی طرح ماہنامہ الشریعہ میں آپکے مضمون اور اس حوالے سے اپنے اس خط سے بھی آگاہ کردیا تھا جس میں مذکورہ بل میں ضروری تبدیلیوں کے حوالے سے امید کا اظہار کیا تھا۔
مجھے بہت اطمینان حاصل ہوا اور میں اس بات پر اللہ رب العالمین کاشکر اداکرتا ہوں کہ محترم سراج الحق صاحب نے اس اہم معاملے کا فوری نوٹس لے کر 5 جون 2014ء کو پشاور میں ایک اہم اجلاس بلایا جس میں سرکاری ذمہ داران کے علاوہ بعض جید علماء کرام کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ مجھ جیسے طالب علم کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی لیکن میں بیرون ملک سفر کی وجہ سے اس اجلاس میں شرکت نہیں کرسکا۔ دعوت نامے کے ساتھ اسمبلی سے موجودہ منظور شدہ بل کی کاپی بھی ارسال کردی گئی تھی، لہٰذا میں نے 4 جون 2014ء کو دوران سفر کچھ ضروری تجاویز بذریعہ ای میل ارسال کردی تھیں۔ ان تجاویز میں ایک تجویز یہ بھی دی تھی کہ اس موضوع پر ایک نئے بل کی بجائے 2007ء والے ایکٹ میں ضروری ترامیم لائی جائیں۔ (میری طرف سے ارسال کردہ تجاویز کی نقل منسلک ہے)۔ اس بل کی اہمیت کے پیش نظر محترم جناب سراج الحق صاحب نے خود اس اجلاس کی صدارت کی اور صوبے سے سود کی اس لعنت کو دور کرنے کے لیے موجودہ بل میں ضروری ترامیم تجویز کرنے کے لیے جید علماء کرام اور ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل کرنے کا اعلان کیا۔ مجھے امید ہے کہ ان مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں ہم نجی سطح پر سود ی لین دین میں ملوث افراد کو قانوناً عبرت ناک سزا دلوانے میں کامیاب ہوجائیں گے، ان شاء اللہ۔
میری طرف سے محترم مولانا زاہد الراشدی مد ظلہ اور برادرم عمار ناصر حفظہ اللہ کی خدمت میں سلام عرض کیجیے گا۔
ڈاکٹر عطاء الرحمن
مہتمم جامعہ اسلامیہ تفہیم القرآن مردان
ناظم اعلیٰ رابطۃ المدارس الاسلامیہ پاکستان
(۴)
"خیبر پختون خوا میں سود کی ترویج کی ایک مذموم کوشش : جماعتِ اسلامی اور جمعیت علماے اسلام کا موقف؟ "کے عنوان سے ماہنامہ "الشریعہ" کے جون کے شمارے میں راقم کا مضمون شائع ہوا اور حسبِ توقع اس کی اشاعت بہت مفید ثابت ہوئی۔ یکم جون کو ہی ملک کے اندر اور باہر سے بعض دوستوں نے ای میل اور فون کے ذریعے رابطہ کرکے تفصیلات کا مطالبہ کیا۔ بعض دوستوں نے یہ مضمون سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا جس کی وجہ سے بھی بہت سے لوگوں تک یہ مضمون پہنچا۔ زیادہ تر جماعتِ اسلامی ، یا یونی ورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے حلقے سے ہی لوگوں نے رابطہ کرکے اپنے رد عمل کا اظہار کیا اور نہایت خوش آئند امر یہ رہا کہ یہ رد عمل بالعموم مثبت رہا۔ 2 جون کو ہمارے مخدوم جناب مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمان صاحب نے دورانِ سفر ہی ملائشیا سے ایک طویل مراسلہ ای میل کے ذریعے بھیجا جسے اس شمارے میں شائع کیا جارہا ہے۔ زیر نظر مضمون میں "الشریعہ" کے معزز قارئین کو اس سلسلے میں حکومتی سطح پر کی گئی تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا جارہا ہے۔ تاہم اس سے پہلے ضروری ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے مکتوب میں اٹھائے گئے بعض نکات پر اپنے موقف کی توضیح کی جائے۔ مقصود مباحثہ یا مناظرہ نہیں ، بلکہ غلط فہمی کا ازالہ ہے۔
میں نے اپنے مضمون میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ، نہ ہی یہ میرا موقف ہے ، کہ جماعتِ اسلامی (یا جمعیت العلماء) خدانخواستہ "دیدہ و دانستہ" سودخوری کی ترویج کررہی ہے۔ پاکستان میں اسلامی قانون اور اسلامی معیشت کے نفاذ کے سلسلے میں جماعتِ اسلامی کے کام سے میں کیسے انکار کرسکتا ہوں ؟ مولانا گوہر رحمان رحمہ اللہ کو تو میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سمجھتا ہوں اور ہمیشہ ان سے کچھ سیکھنے کی ہی کوشش کی۔ ان کی حق گوئی و بیباکی کی تو ایک دنیا معترف ہے۔ نہ ہی خدا نخواستہ مجھے جناب سراج الحق صاحب کی دینداری پر کوئی شبہ ہے۔مسئلہ یہ نہیں تھا ، بلکہ صرف یہ تھا کہ ایسے دیندار شخص جو ایسی جماعت کے سربراہ ہیں کیسے بغیر پڑھے مسودۂ قانون پر دستخط کرکے اسے منظوری کے لیے اسمبلی میں پیش ہونے دیتے ہیں ؟ جب میں نے یہ کہا کہ جماعت کے امیر کا حلف اٹھانے کے بعد پہلے ہفتے میں انھوں نے اس مسودے پر دستخط کیے ہیں تو مقصود یہی تھا کہ جماعت کا امیر بننے کے بعد تو ان کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ اگر پہلے بھی وہ بغیر سوچے سمجھے اس مسودے پر دستخط کرتے تو غلط کرتے لیکن اب انھوں نے یہ کیا تو بہت ہی غلط کیا۔ آپ کہتے ہیں یہ عدم توجہی کی بنا پر ہوا ، نہ کہ دیدہ و دانستہ۔ مجھے اس سے سو فیصد اتفاق ہے ، اور میرا گلہ بھی بس یہی ہے ، اور کچھ نہیں ۔
اگر مضمون کے عنوان ، یا اس نوعیت کے بعض جملوں سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو مجھے افسوس ہے لیکن ازراہِ تفنن عرض ہے کہ اگر مضمون کا عنوان یہ نہ ہوتا ، یا مضمون میں یہ چند (بے ضرر قسم کے ) جملے نہ ہوتے تو کیا اس پر اس نوعیت کا فوری اور شدید ردعمل ہوتا؟ مجھے بچپن سے ہی ابنِ صفی کی تحریرات سے لگاو رہا ہے۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ اگر کسی ادبی مضمون کا عنوان "جوش کی شاعری " ہو تو شاید ہی کوئی اسے پڑھنے کی زحمت گوارا کرے لیکن اگر عنوان ہو "جوش اور پاپوش" تو ہر کوئی اس پر کم ازکم ایک نظر تو ڈال ہی لیتا ہے۔ پشتو کے ایک مقولے کا مفہوم ہے کہ ماں بھی اس وقت تک بچے کو دودھ پلانے کے لیے گود میں نہیں لیتی جب تک بچہ رونا نہ شروع کردے۔ میرا مضمون بھی بس اسی نوعیت کا تھا۔ پشتو ہی کا ایک اور مقولہ ہیکہ گلہ اپنوں سے ہی ہوتا ہے اور چچا غالب نے بھی کہا تھا :
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
پس مجھے سراج صاحب ، یا جماعتِ اسلامی اور جمعیت علماے اسلام کے معزز ارکان ، سے گلہ تھا تو صرف اسی وجہ سے کہ ان سے یہ توقع نہیں تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ اس شکوے کا فائدہ بہرحال ہوا۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میرے مضمون کی اشاعت سے قبل ہی اس مسودۂ قانو ن کے بارے میں اخبار میں خبر پڑھ کر انھوں نے 15 مئی کو سراج صاحب کو خط لکھ کر عدم اطمینا ن کا اظہار کیا تھا۔ بالکل صحیح ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد بھی اس مسودۂ قانون کے حوالے سے کوئی پیش رفت اس وقت تک نہیں ہوئی جب تک "الشریعہ" میں میرا مضمون شائع نہیں ہوا۔ چنانچہ اس مضمون کی اشاعت کے بعد ہی 3 جون کو جناب سراج الحق صاحب نے اس مسودے کا جائزہ لینے اور نیا مسودہ بنانے کے لیے ایک سات رکنی کمیٹی بنائی جن میں ڈاکٹر صاحب کے علاوہ میرے والد محترم اور جناب پروفیسر سید محمد عباس صاحب بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی کا پہلا اجلاس 5 جون کو ہوا اور اجلاس کا جو ایجنڈا ارکان کو بھیجا گیا اس کے ساتھ میرا مضمون بھی منسلک تھا جس سے اس اجلاس کا "شان نزول" خود بخود معلوم ہوا۔جناب سراج الحق صاحب نے اس کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی اور اس میں متفقہ طور پر طے پایا کہ مسودے سے ایسی تمام شقیں دور کردی جائیں گی جن سے کسی طور بھی سود کو جواز ملتا ہے۔ جناب سراج الحق صاحب نے واشگاف الفاظ میں قرار دیا کہ سودی لین دین حرام ہے اور ہم اس نظام کو ختم کردیں گے۔ ( بحوالہ روزنامہ "ایکسپریس " پشاور ، مورخہ 7 جون 2014 ء) ڈاکٹر عطاء الرحمان صاحب بیرون ملک سفر کی وجہ سے اس میٹنگ میں شریک نہ ہوسکے لیکن انھوں نے اپنی تجاویز ای میل کیں۔ کمیٹی کی ایک اور میٹنگ 11 جون اوراس کے بعد 16 جون کو ہوئی جس میں نئے مسودے کے بنیادی خدوخال طے کیے گئے۔ بجٹ اجلاس کی وجہ سے اگلی میٹنگ میں تھوڑی تاخیر ہوئی لیکن امید ہے کہ جون کے آخری ہفتے میں مسودے کو حتمی شکل دی جائے گی۔
جمعیت علماے اسلام کے حلقے سے کسی نے بھی براہِ راست رابطہ نہیں کیا ، نہ ہی باضابطہ ردعمل سے آگاہ کیا۔ پچھلے مضمون میں یہ شکوہ بھی کیا گیا تھا کہ مضمون تحریر کیے جانے تک ( 24 مئی تک ) جمعیت علماے اسلام کے 16 ارکان میں کسی ایک نے بھی اس مسودے میں ترمیم کے لیے اسمبلی سیکرٹریٹ میں کوئی تجویز پیش نہیں کی۔ مضمون کی اشاعت کے بعد یہ ہوا کہ 6جون کو جمعیت سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی جناب مولانا فضل غفور صاحب نے اس مسودۂ قانون میں ترامیم کے لیے اپنی بعض تجاویز اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائیں۔ یہ تجاویز بنیادی طور پر انھی نکات پر مشتمل ہیں جو میرے پچھلے مضمون میں پیش کیے گئے تھے۔
اس دراز نفسی سے مقصود ہر گز یہ نہیں ہے کہ میں سارا "کریڈٹ" لینا چاہتا ہوں۔ اجر کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہ نیتوں اور اعمال سے بخوبی باخبر ہے۔ میں اصل میں یہ نکتہ اٹھانا چاہتا ہوں کہ بعض اوقات "پبلک تنقید " سے وہ فائدہ ہوتا ہے جو نجی خطوط سے نہیں ہوتا۔ پچھلے مضمون میں بھی صراحت کی گئی تھی اور یہاں بھی مکرراً عرض ہے کہ یہ معاملہ فوری نوعیت کا تھا اور اس قانون کی منظوری کے نتائج انتہائی خطرناک ہوتے۔ اس لیے اس کا راستہ روکنے کے لیے "الشریعہ" سے زیادہ مناسب فورم اور کوئی نہیں تھا ، اور الحمد للہ اس کا مثبت نتیجہ برآمد ہوا۔
باقی رہا اسلامی قانو ن کے نفاذ کے معاملے میں عدالتِ عالیہ اور بیوروکریسی کا رویہ اور انداز ، تو ان کے متعلق الگ سے اپنی معروضات تفصیلاً پیش کروں گا ، ان شاء اللہ۔ یار زندہ، صحبت باقی!
محمد مشتاق احمد
mushtaqahmad@iiu.edu.pk
’’کتاب العروج‘‘ ۔ تہذیب کے قرآنی سفر کا ایک چشم کشا تذکرہ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
اب سے کوئی سات دہائی پہلے لبنان کے ایک مسلمان ادیب اورمصنف امیرشکیب ارسلان نے ایک مختصرسی کتاب لکھی تھی : لماذاتأخرالمسلمون وتقدم غیرہم (مسلمانوں کے زوال اوردوسروں کے عروج کے اسباب)۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ سوال آج تک مسلمانان عالم کے تعاقب میں ہے اوران کے پڑھے لکھے حلقہ کے زیرغور ہے مگراس کے جوابات جو مختلف علماء نے دیے ہیں، ان میں جواب کم اور مزیدسوال زیادہ کھڑے ہوتے ہیں۔ راشد شازنے اس مسئلہ کو بہت گہرائی سے لیاہے اوران کی اکثر تحریروں میں یہ تجزیہ راہ پاجاتاہے۔ راشدشاز ہمارے زمانہ کے ایک عہدساز مفکرومصنف ہیں۔ عربی ،انگریزی اوراردومیں ان کی متعددفکرانگیزکتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ فقہ ظاہر (فقہ ) اور فقہ باطن (تصوف)،روایت پرستی، ملوکیت ،مشائخیت اور استبدادفکر کے حجابات میں حقیقتِ اسلام کچھ چھپ سی گئی ہے کہ اس کی تہ بہ تہ گردکوجھاڑنے اوراس کی بازیافت کے عمل میں پوری پوری زندگیاں لگانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی تفصیل سے ان اسباب کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے جن کے باعث اسلام وقت کی غالب تہذیب بن گیا اورپھریہ کہ وہ کیااسباب وعوامل ہیں جن کے باعث آج امت مسلمہ یوں لگتاہے جیسے معزول ہوکررہ گئی ہو۔
راشدشاز کی تازہ بتازہ کتاب اسی ضرورت کوپوراکرتی ہے۔کتاب العروج کو بجاطورپر تہذیب کے قرآنی سفرکا ایک چشم کشاتذکرہ قراردیاجاسکتاہے ۔ یہ کتاب محض ایک تاریخی بیانیہ نہیں، گواس میں ایک عظیم تاریخ کا پورالوازمہ موجودہے۔ اس کے پہلے باب میں مصنف نے بیان کیاہے کہ الٰہی تصورحیات کے جلومیں جو تحریک اکتشاف قرآن کے دیے ہوئے علمی منہج سے برپاہوئی ،جووحی ربانی اورانفس وآفاق میں غوروفکرسے عبارت تھا، اس نے انسانی ذہن کو استقرائی طریقہ نکال کراسے استخراجی منہج سے آشنا کیااورانسانی عقل کوتجربہ ومشاہدہ اورتحلیل وتجزیہ کی راہ پر ڈال دیاجس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے روم اورہندویونان کے قدیم علوم کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ یوں کہیے کہ انسانی تہذیب کی کل جمع پونجی تحلیل وتجزیہ کی میز پر لے آئی گئی۔دیکھتے ہی دیکھتے عالم اسلام کا وسیع وعریض خطہ اکتشافی تمدن کی ضیا باریوں سے جگمگا اٹھا ۔
الکندی ،ابن سینا، ابوبکر زکریا رازی ،ابن الہیثم ،عباس بن فرناس ،الخوارزمی ،جابربن حیان ،البتانی ،ابوریحان البیرونی،ابن رشد،ابن نفیس، نصیر الدین طوسی ،قطب الدین شیرازی ،ابوعبیدالجوزجانی ،عبدالرحمن ،الخازنی ،کمال الدین الفارسی ،ابوالقاسم الزہراوی ،یحییٰ المغربی، جمشید الکاش، ابوالحسن الطبری، یاقوت الحموی، ابن جبیر، ابن بطوطہ، ابن خلدون، عمرخیام، قاضی زادہ الرومی، ابن شاطر، محمدعلی السمرقندی، ابوجعفرالبطروجی، ابن الجزری، شریف الادریسی، ابن العوام ،ابن بطلان ،ابن مسکویہ اور تقی الدین اوران جیسے سیکڑوں علماء،دانشور،تحقیق کاراوراساطین اسلامی تہذیب کے نمائندے تھے کہ آج کی ساری سائنسی ترقی اورچمک دمک جن کی کاوشوں کی رہین منت ہے۔ ان میں سے کتنے تھے جوقرآن وحدیث اورفقہ جیسے علوم کے بھی ماہرتھے کہ تب علم دین اورعلم دنیاکی ثنویت قائم نہ ہوئی تھی اور یہ علماء علمِ دنیابھی دینی جزبہ اورضرورت کے تحت ہی حاصل کرتے تھے۔غیروں کو توچھوڑیے، آج خودمسلمانوں کی نئی نسلیں بھی ان کے نام اورکام سے واقف نہیں ۔ ان اصحاب علم وفکرواختراع کے کتنے ہی کارنامے تومغربی علماء وسائنس دانوں کی طرف منسوب کردیے گئے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج اسلام اورسائنس میں دنیاکو تضادنظرآتاہے کہ ر وایتی علماء اسلام کے اجارہ دار بن کررہ گئے ہیں۔ راشدشازلکھتے ہیں:
’’آج کسے اس با ت پر یقین آئے گاکہ تہذیب کا سائنسی قالب جس کے دم سے جدیددنیاکی چمک دمک قائم ہے، ہمارے اکتشافی طرزفکرکی پیداوارہے جس کی جڑیں کہیں اورنہیں بلکہ عین وحی ربانی کے صفحات میں پائی جاتی ہیں‘‘ (صفحہ ۱۱)
اس باب کے اخیر میں مصنف نے ان تما م اسباب کا احاطہ بھی کیاہے جن کے سبب اکتشافی ذہن نے عالم اسلام سے مراجعت کرلی اور اساطیری ذہن اس پرمسلط ہوگیا،جس کا نقطہ عروج یہ تھا کہ جب 1580میں استنبول کے اندرتقی الدین کی بنائی ہوئی رصدگاہ جامدعلماء کے زیر اثر خودمسلمانوں نے مسمارکردی اورر اس کے کچھ دنوں بعد 1675 میں برطانیہ میں گرین وچ کے ٹیلہ پر رصدقائم ہوئی توگویااس بات کا اشارہ تھی کہ اب وقت کی زمام مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلاچاہتی ہے۔ اوریوں تحریک اکتشاف مغرب کومنتقل ہوگئی ۔
کتاب کے دوسرے حصہ میں مصنف نے اکتشافی تحریک کی عالم اسلام سے مغرب کو ہجرت اوراس کے اسباب ومحرکات پر روشنی ڈالی ہے ۔قرطبہ وطلیطلہ ،استنبول وصقلیہ کے ذریعہ عرب علوم کے وسیع پیمانہ پر ترجموں نے یورپ والوں کے آگے علم وآگہی اوراکتشاف واختراع کی ایک نئی دنیاکے دروازے واکردیے اوریوں سولہویں وسترہویں صدیوں میں پورامغرب علوم عرب کے سہارے ایک نئی دنیاکی تعمیرمیں جوش وخروش سے لگ گیا۔یہ وہ وقت تھا کہ جب عالم اسلام رجعت قہقریٰ کے باعث اساطیری اورمتصوفانہ طرزفکرکا اسیرہوچکاتھا اورتحریک اکتشاف کے غلغلے ماندپڑچکے تھے۔ وہ علمی وفنی زوال کے ساتھ اقتصادی ابتری کابھی شکار ہوگیا اور بالآخراٹھارویں صدی کے آتے آتے اس کی سیاسی وعسکری قوت بھی ڈانواڈول ہوچکی تھی۔ اب مغرب نئی ٹیکنالوجی سے سرشارہوکرمسلم دنیاکو یکے بعددیگرے تہ وبالاکرنے لگا اور انیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں تک وہ مسلم دنیاکے حصے بخرے کرچکاتھا۔ کتاب میں مصنف نے بڑی جامعیت سے نہ صرف اسلامی تہذیب کے محیرالعقول کارناموں کو قاری کے سامنے مجسم کردیاہے بلکہ اسلامی تہذیب اورتاریخ اسلام سے متعلق مغرب کے پھیلائے ہوئے بعض مغالطوں اورکذب بیانیوں کا ناقدانہ جائزہ بھی لیاہے۔
کہاجاتاہے کہ چوتھی صدی ہجری کے بعدمسلمان ہمہ جہتی زوال سے دوچار ہوچکے تھے، مگرحقیقت تویہ ہے کہ عثمانی ترکوں کی فوجیں تو 1782 میں ویاناکے دروازوں پر دستک دے رہی تھیں اورتین تین اسلامی قوتوں مغل تہذیب ،صفوی ایران اورعثمانی ترکوں کا دبدبہ پوری دنیاپرقائم تھا۔یہ الگ حقیقت ہے کہ جب اساطیری ذہن مسلم فکرپر چھا گیا اور اکتشافی ذہن نے مات کھائی تومسلمانان عالم کے زوال کی رفتاربڑی تیز ترہوگئی۔ بہرحال مشرق (اسلام )کا سقوط اور مغرب کا عروج ابھی دو صدیوں قبل کا سانحہ ہے۔ نشأۃ ثانیہ ،تحریک اصلاح وغیرہ کی آڑ میں ۵،۶صدیوں سے چلے آرہے مغرب کے فکری اور پھر عملی عروج کی کہانی ایک اسطورہ سے زیادہ نہیں ہے۔اس اسطورہ کے پردے میں مغرب نے ترجمہ کے نام پر مسلمان علما ء کی کتابوں کے سرقے کیے ،ان کی تحقیقات کو اپنے علماء کی طرف بڑی دھاندلی سے منسوب کرلیااوریوں زوروشورسے مغربی ذہن کی برتری کا راگ الاپا گیااورمغرب کے علاوہ جو اقوام ہیں، ان کو دوسرے درجہ کے انسان بنادیا گیا ۔ یہ پروپیگنڈاکیاگیاکہ مسلمانوں نے اپنی ترجمہ کی تحریک میں دانش یونانی کے ترجمہ اورچربہ پیش کرنے کے سوااورکیاکیاہے ۔بڑے طمطراق سے دعویٰ کیاگیاکہ سائنس کواصل فروغ اہل مغرب نے دیاہے ۔ راشد شازلکھتے ہیں:
’’جب تک اکتشافی علوم کے لیے ’’العلوم العربیہ ‘‘کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی، یہ تاثرعام تھا کہ سائنسی تہذیب کا عربوںیامسلمانوں سے رشتہ گہراہے البتہ جب اکتشافی علماء کے لیے سائنٹسٹ یاسائنس داں کی اصطلاح چل نکلی توہمارے لیے یہ یقین کرنامشکل ہوگیاکہ ہماری فکروتہذیب سے اس نئی مخلوق سائنٹسٹ کا بھی کبھی کوئی تعلق رہاہے‘‘۔ (صفحہ ۱۱)
کتاب العروج میں اس پوری بحث کو دل چسپ جامع اورمختصرانداز میں سمیٹ دیاگیاہے ۔کتا ب کے شروع میں ظہورنبوت محمدی کے نتیجہ میں ہمہ گیراسلامی انقلاب اوردنیاکے اوپراس کے خوشگورتہذیبی وتمدنی اثرات کو بیان کیاگیاہے۔ یہ بیان مختصرمگرجامع بھی ہے ۔ فکر انگیز اور انبساط بخشنے والاہے مگراس پرہیروورشپ کا ذرابھی گمان نہیں ہوتا۔ راشدشازکی ناقدانہ بصیرت قاری کو اس گمراہی میں پڑنے سے روکتی رہتی ہے اورطربناک ماضی کی جھلکیاں دکھانے کے ساتھ ہی وہ قدم قدم پر اس کواپنے تاریک حال اوراس کے اسباب سے روشناس کراتی اورکچوکے لگاتی رہتی ہے۔ ان کی رائے اس بارے میں یہ ہے:
’’قرآن مجیدتوآج بھی ہمارے درمیان موجودہے لیکن تقدیس وتکریم کے لبادے میں ہم نے اس کی معطلی کا پختہ انتظام کررکھاہے،ہمارے اردگردمذہبی زندگی کی بساط کچھ اس طرح سجائی گئی ہے کہ اس نے عملامذہب کے لبادے میں دین کی نفی اورقرآن کے انکارکا ماحول قائم کر رکھاہے ۔یہی وجہ ہے کہ مذہبی زندگی کی چہل پہل اور تجدیدواصلاح کے فلک شگاف نعروں کے باوجودہم پر ایک نئی صبح طلوع نہیں ہوتی ‘‘ ۔ (صفحہ ۲۱)
زیرنظر’’کتاب العروج ‘‘( ایک جلداوردوحصوں پر مشتمل ) کے پہلے باب میں راشدشاز نے ایک الہامی جملہ لکھاہے کہ ’’خداکا تجربہ اگر خلاقانہ ہوتووہ انسان کو تسخیر کائنات کے فریضہ پر آمادہ کرتاہے،اوراگرمقلدانہ ہوتوانسانی ذہن وجدنا آباء نا کذلک یفعلون کے پیداکردہ توہمات کا شکارہوجاتاہے اوریہی تجربہ اگرتکبروغرورکے آمیزہ سے تشکیل پائے توبغاوت وسرکشی کو جنم دیتاہے ‘‘۔ چنانچہ قرون اولیٰ کی مسلمان نسلوں کو اگرپہلے کی مثال میں پیش کیاجاسکتاہے تودورزوال کے مسلم معاشرے دوسرے رویہ کی نمائندگی کرتے ہیں اورآج کاترقی یافتہ لبرل مغرب ٹھیٹھ تیسرے رویہ کا ترجمان بناہواہے۔
کتاب اپنے بیش قیمت مندرجات کی طرح ظاہرحسن سے بھی آراستہ ہے اوراعلیٰ درجہ کی کتابت وطباعت سے مزین ہے۔ کتاب کا مصوراوررنگین ہونابھی قاری کے اندراعتمادپیداکرنے کا بڑاذریعہ ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ قارئین اس پوری کتاب کوسانس روکے اورمسلسل نشستوں میں پڑھتے چلے جائیں گے اورنئے نئے انکشافات اور تاریخی حقائق سے دوچارہوں گے ۔توقع ہے کہ کتا ب پڑھنے والوں کے دل میں جہاں امیدکی نئی جوت جگائے گی، وہیں ان کو انقلابی شعور اورولولہ انگیز نشاط وعمل کی کیفیت سے آشناکرے گی ۔
300سے زاید صفحات پر مشتمل یہ کتاب ملی پبلی کیشنز ملی ٹائمز بلڈنگ،ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگرنئی دہلی 110025 نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت پانچ سو روپے ہے۔
غیر سودی بینکاری پر ایک سیمینار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
۲۸ مئی کو ڈیرہ اسماعیل خان پاکستان شریعت کونسل اور میزان بینک کے باہمی تعاون سے ’’غیر سودی بینکاری‘‘ کے مسئلہ پر منعقدہ سیمینار میں راقم الحروف نے درج ذیل معروضات پیش کیں:
بعد الحمد والصلوٰۃ ! غیر سودی معاشی نظام اور غیر سودی بینکاری اس وقت دنیا بھر میں مختلف سطحوں پر زیر بحث ہے اور اسی حوالہ سے آج کا یہ سیمینار بھی منعقد ہو رہا ہے۔ غیر سودی بینکاری کے فقہی اور فنی پہلوؤں کے بارے میں تو اس وقت کچھ عرض نہیں کر سکوں گا، البتہ اس کی معروضی صورت حال کے تناظر میں کچھ معروضات پیش کرنا چاہوں گا۔
غیر سودی بینکاری کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے واضح طور پر کہا تھا کہ ہم اپنے معاشی نظام کی بنیاد مغرب کے معاشی فلسفہ پر نہیں بلکہ اسلام کے اصولوں پر رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ مغرب کے معاشی نظام نے انسانی سوسائٹی کو جنگوں اور تباہی سے دوچار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قائد اعظمؒ نے ملک کے معاشی ماہرین کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسلامی اصولوں کے مطابق ملک کے معاشی نظام کی تشکیل کی طرف پیش رفت کریں۔ لیکن چھ عشروں سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود ہمارے معاشی ماہرین اس کے لیے سنجیدہ نہیں ہوئے اور ملک کا معاشی نظام سود اور سٹہ کے مغربی اصولوں کے مطابق ہی چل رہاہے۔
اس دوران عالمی سطح پر یہ تبدیلی ضرور آئی ہے کہ سابق پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ کی قائم کردہ معاشی ماہرین کی ایک کمیٹی نے رپورٹ دی ہے کہ دنیا کے معاشی نظام کو قرآن کریم کے بیان کردہ معاشی اصولوں کے مطابق چلا کر ہی صحیح رخ دیا جا سکتا ہے اور اس کے بعد عالمی سطح پر غیر سودی بینکاری کی طرف نہ صرف یہ کہ مغربی ملکوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے بلکہ اس وقت مغرب میں غیر سودی بینکاری کا مرکز بننے کے لیے لندن اور پیرس میں کشمکش جاری ہے اور چند ماہ قبل برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ وہ لندن کو غیر سودی بینکاری کا مرکز بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ ایک وقت وہ تھا جب ہم غیر سودی بینکاری کی بات کرتے تھے تو ہمیں سادہ لوحی اور بے خبری کا طعنہ دیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ غیر سودی معیشت آج کے دور میں قابل عمل نہیں ہے، لیکن آج غیر سودی بینکاری کا مرکز بننے کے لیے لندن اور پیرس میں مقابلہ جاری ہے۔ یہ یقیناًاسلام کا اعجاز اور اسلامی تعلیمات کی صداقت و ابدیت کا اظہار ہے۔
ہمارے ملک میں غیر سودی بینکاری اور معیشت کے عمومی تناظر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل نے طویل بحث و مباحثہ و تجزیہ کے بعد ملک میں رائج سودی قوانین کو غیر اسلامی اور غیر دستوری قرار دے کر حکومت کو انہیں اسلام کے مطابق تبدیل کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے جس کی توثیق سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی کر دی تھی۔ لیکن ہمارے حکمران طبقے اور بینکار حلقے اسے قبول کرنے کی بجائے اپیل در اپیل کے چکر میں ٹالتے چلے جانے میں مصروف ہیں اور خاصے عرصے کے بعد وفاقی شرعی عدالت نے اس کیس کی دوبارہ سماعت شروع کی ہے تو اس کے لیے دینی حلقوں کے متحرک ہونے کی وجہ سے کیس کو پھر معرض التواء میں ڈال دیا گیا ہے۔
میں اس سلسلہ میں آپ حضرات سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کے مشترکہ علمی و فکری فورم ’’ملی مجلسی شرعی پاکستان‘‘ نے وفاقی شرعی عدالت میں مشترکہ موقف پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی تیاری کے لیے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام کا گروپ کام کر رہا ہے اور یہ متفقہ موقف کچھ دنوں تک سامنے آجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ملی مجلس شرعی پاکستان کی تحریک پر دینی اور عوامی حلقوں میں اس سلسلہ میں آگہی اور بیداری پیدا کرنے کے لیے ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کے نام سے ایک الگ فورم تشکیل دیا گیا ہے جس کی رابطہ کمیٹی کا کنوینر مجھے بنایا گیا ہے اور اس کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں عوام، تاجر حلقوں اور علماء کرام میں غیر سودی اسلامی نظام معیشت کے فروغ اور سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد کے بارے میں آگاہی اور بیداری کے لیے سیمیناروں کا سلسلہ جاری ہے۔ میں علماء کرام، تاجر حضرات اور غیر سودی بینکاری سے دلچسپی رکھنے والے بینکاروں سے گزارش کروں گا کہ وہ اس تحریک میں شریک ہوں اور اسے آگے بڑھانے میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔
غیر سودی بینکاری کے حوالہ سے تیسرا پہلو یہ ہے کہ پاکستان سمیت مختلف مسلم ممالک میں عملی طور پر غیر سودی بینکاری کے تجربہ کا آغاز ہو چکا ہے اور عالم اسلام کی معروف دینی و علمی شخصیات اس کی سرپرستی کر رہی ہیں، مگر بعض علمی حلقوں کے اس سلسلہ میں تحفظات بھی پائے جاتے ہیں۔ میں اس سلسلہ میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ چونکہ اسلامی معاشی نظام کے سوسائٹی میں عملی کردار کے تعطل پر خاصا دور گزرا ہے، اس لیے اسے نئے سرے سے روبہ عمل میں لانے میں کچھ عرصہ تو تجربات کے دور سے گزرنا ہی پڑے گا اور اس کے مکمل شکل تک پہنچنے تک تحفظات بھی سامنے آتے رہیں گے۔ اس لیے اس تجربہ کے کسی پہلو سے علمی اور دینی طور پر اختلاف ہو تو اس کا اظہار ضرور کیا جائے، لیکن اس بات کو غنیمت سمجھا جائے کہ ملک کے معاشی نظام کے ایک حصے کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کا جذبہ موجود ہے اور اسے عملی شکل دینے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ فرمایا کرتے تھے کہ آج کے دور میں اگر کوئی اپنا کام اسلام کے مطابق کرنے کی خواہش رکھتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اس کی راہ نمائی کی جائے تاکہ اس کی اس خواہش کو عملی جامہ پہنایا جا سکے، بلکہ جائز حدود میں رہتے ہوئے اسے سہولت بھی دی جائے اور اس کے لیے قابل عمل راستے تلاش کیے جائیں۔ حضرت مفتی صاحبؒ کے اسی ارشاد کو سامنے رکھتے ہوئے میں یہ گزارش کروں گا کہ ملک میں غیر سودی بینکاری کے تجربہ کی حوصلہ افزائی اور اس کی کامیابی کے لیے تعاون کرنا ہی بہتر راستہ ہے اور اگر کسی پہلو سے اختلاف ہو تو اس کا اظہار کیا جائے اور کام کرنے والوں کی راہ نمائی کا اہتمام کیا جائے، لیکن اختلاف کو مخالفت اور رکاوٹ بننے سے بچایا جائے۔
اس حوالہ سے ایک اور بات دونوں حلقوں سے عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ اس تجربہ میں ہم ناکام ہوگئے اور باہمی کشمکش کے باعث اسے بہتری اور کامیابی کی طرف نہ لے جا سکے تو وہ سابقہ پوزیشن پھر سے بحال ہو جائے گی کہ اسلام کے معاشی نظام کو ناقابل عمل قرار دیا جانے لگے گا۔ میرے خیال میں ہم سب کو اس صورت حال کی واپسی کو روکنے کے لیے اپنے اپنے دائرے میں مخلصانہ محنت کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دیں۔ آمین یا رب العالمین۔
الشریعہ اکادمی میں دورۂ تفسیر و محاضرات قرآنی
ادارہ
الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ہر سال مدارس کی سالانہ چھٹیوں کے موقع پر مدارس کے فضلا اور منتہی طلبا کے لیے دورہ تفسیر کا اہتمام کرتی ہے۔ امسال بھی چوتھے سالانہ دورۂ تفسیر کا افتتاح ۲ جون بروز سوموار صبح نو بجے ہوا ۔ افتتاحی تقریب میں اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے مہتمم مولانا محمد فیاض خان سواتی اور مدرسہ اشرف العلوم کے استاذ الحدیث مولانا مفتی فخر الدین بطور مہمان خصوصی شریک تھے۔ تلاوت و نعت کے بعد اکادمی کے استاذ مولانا حافظ محمد رشید نے دورۂ تفسیر کا مختصر تعارف اور امتیازی خصوصیات سامعین کے سامنے پیش کیں۔ اس کے بعد مولانا محمد فیاض خان سواتی نے خطاب کیا جس میں انہوں نے مدرسہ نصرۃ العلوم کے نصاب میں شامل تفسیر قرآن کے نصاب پر روشنی ڈالی اور یہ واضح کیا کہ جامعہ نصرۃ العلوم اور الشریعہ اکادمی کی سند تفسیر ایک ہی ہے اور اکادمی کا دورۂ تفسیر جامعہ نصرۃ العلوم کے دورۂ تفسیر کا ہی تسلسل ہے۔ مولانا محمد فیاض خان سواتی نے قرآن کریم کی تفہیم کے لیے عصر حاضر کے ضروری لوازمات پر عمدہ اور عالمانہ گفتگو فرمائی۔ ان کے بعد مولانا مفتی فخرالدین نے قرآن کریم کے حقوق پر روشنی ڈالتے ہوئے طلبہ کو تاکید کی کہ وہ قرآن کریم کے تلفظ کی درستی اور تصحیح پر بھی کچھ وقت صرف کریں کہ یہ بھی قرآن کریم کے حقوق میں سے ایک بڑا حق ہے۔ مولانا زاہد الراشدی نے اپنے مختصر خطاب میں طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اکادمی کے قیام کے دوران اپنا وقت ضائع ہونے سے بچائیں اور زیادہ سے زیادہ علمی مصروفیات میں وقت صرف کریں۔ آخر میں مولانا مفتی جمیل احمد گجر نے اجتماعی دعا کروائی اور دعا پر افتتاحی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
الشریعہ اکادمی میں دورۂ تفسیر کے نصاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ایک، ترجمہ و تفسیر اور دوسرا، محاضرات علوم القرآن۔ پہلے حصے کے تحت اساتذہ کرام نے قرآن کریم کی مکمل تفسیر درساً پڑھائی اور اس کے منتخب کتب تفسیر کے مطالعہ کو شامل نصاب کرتے ہوئے طلبہ کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ فلاں فلاں تفاسیر سے مقررہ سورتوں کا مطالعہ کریں اور پھر اپنے نتائج مطالعہ کو کلاس میں طلبہ اور استاد کے سامنے پیش کریں۔
دورۂ تفسیر میں مختلف اساتذہ نے قرآن مجید کے مختلف پاروں کی تدریس کی جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
مولانا زاہد الراشدی : سورہ فاتحہ تا اختتام سورہ نساء، سورہ والضحیٰ تا آخر قرآن کریم
مولانا فضل الہادی (استاذ الحدیث جامعہ اشاعت الاسلام مانسہرہ ): سورۃ المائدہ تا اختتام سورہ یوسف، سورۃ المؤمن تا اختتام سورۃ الاحقاف
مولانا محمد ظفر فیاض (استاذ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم): سورہ الرعد تا اختتام سورۃ النمل
مولانا حافظ محمد یوسف : سورۃ القصص تا اختتام سورۃ الزمر
مولانا محمد عمار خان ناصر : سورۂ محمد ، سورۃ الفتح ، سورۃ الحجرات۔ سورۃ الجن تا اختتام سورۃ اللیل
مولانا وقار احمد : سورہ ق تا اختتام سورۃ الحدید
مولانا حافظ محمد رشید : سورۃ المجادلہ تااختتام سورہ نوح
اس سال دورۂ تفسیر کا دورانیہ تقریباً پچیس دن (۲ جون تا ۲۶ جون) تھا۔ الحمد للہ اس مختصر وقت میں اساتذہ کرام نے اپنے اپنے اسباق مکمل فرمائے۔
دورہ کا دوسرا حصہ محاضرات علوم القرآن پر مشتمل تھا۔ اکادمی کے دورۂ تفسیر کی یہ خصوصیت ہے کہ طلبہ کو علوم القرآن کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کروانے کے لیے ملک کے مختلف اہل علم کو منتخب موضوعات اظہار خیال کی دعوت دی جاتی ہے جس سے طلبہ علوم القرآن سے متعلقہ قدیم و جدید مباحث سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔ امسال اس حصے کو تین ذیلی شعبوں میں تقسیم کیا گیا:
۱۔ احکام القرآن اور اقوام متحدہ کا چارٹر اور عالمی و پاکستانی قوانین کا تقابلی مطالعہ
۲۔ ارض القرآن و جغرافیہ قرآنی پر سلسلہ محاضرات
۳۔علوم قرآنی کے مختلف موضوعات پر لیکچرز
پہلے عنوان کے تحت مولانا زاہد الراشدی نے تقریباً محاضرات پیش کیے جن میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی مختلف شقوں کا احکام القرآن کے ساتھ تقابل کیا گیا اور دونوں کے مابین مخالفت و موافقت کے پہلوؤں کو واضح کیا گیا۔ اس کے علاوہ مولانا راشدی نے مختلف موضوعات مثلاً خلافت و حکومت، خاندانی نظام،اسلام میں غلامی کا تصور اور عصر حاضر میں موجود مختلف ادیان و مذاہب کے تعارف وغیرہ پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔
دوسرے عنوان ’’ارض القرآن و جغرافیہ قرآنی‘‘ کے عنوان پر ایک مختصر کورس ترتیب دیا گیا جو پانچ دن تک جاری رہا۔ اس کے موضوعات میں دنیا کے جغرافیہ کا اجمالی تعارف، نقشہ سمجھنے کا طریقہ ،نقشہ کی مددسے قرآن کریم میں مذکور انبیاء کرام اور ان کے مقامات دعوت کی نشاندہی اور قرآن میں مذکوراقوام کا تعارف اور ان کے مقامات کی نشاندہی وغیرہ شامل تھے۔ اس کورس میں مولانا فضل الہادی نے تدریس کے فرائض سر انجام دیے۔ طلبہ نے اس سلسلے کا بے حد فائدہ محسوس کیا اور گلوب اور نقشوں کی مدد سے مقامات قرآنی کو سمجھا۔ کورس کے درمیان میں استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی نے ’’قرآن فہمی میں ارض القرآن کی اہمیت اور اس موضوع کے مآخذ کا تعارف‘‘ کے عنوان سے بڑی اہم اور پرمغز گفتگو فرمائی۔ کورس کی اختتامی تقریب مولانا محمد عمار خان ناصر مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اس تقریب میں طلبہ کرام نے کورس کے مختلف اسباق کاخلاصہ اساتذہ کے سامنے پیش کیا۔ آخر میں مولانا عمار خان ناصر نے علم ارض القرآن کے علمی، اعتقادی، تاریخی اور دعوتی فوائد کے عنوان سے جامع خطاب فرمایااور انھی کی دعا پر تقریب کا اختتام ہوا۔
دورۂ تفسیر کے دوران میں علوم قرآنی کے منتخب موضوعات پر دروس کا سلسلہ بھی رہا جس کی تفصیل اس طرح ہے:
ڈاکٹر اکرم ورک (پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج کامونکی): مستشرقین کا تعارف اور حدیث پر ان کے اعتراضات کا جائزہ
ڈاکٹر حافظ محمود اختر (سابق صدر شعبہ علوم اسلامیہ ، جامعہ پنجاب، لاہور): مستشرقین کے اصول تحقیق
ڈاکٹر جنیداحمد ہاشمی (اسسٹنٹ پروفیسر ، انٹر نیشنل یونیورسٹی ، اسلام آباد ): تاریخ علوم القرآن (۲ محاضرے)
مولانا سید متین شاہ (فاضل جامعہ امدادیہ ، فیصل آباد ، ریسرچ سکالر IRI، اسلام آباد ):
۱۔ تفاسیر میں وجوہ اختلاف : علامہ ابن تیمیہ کے مقدمۃ التفسیر کی روشنی میں
۲۔مولانا اصلاحی کا نظریہ نظم قرآن
مولانا حافظ محمد سرور (فاضل جامعہ اشرفیہ ، لیکچرار اسلامیات ، PIEAS، یونیورسٹی ، اسلام آباد ): الحاد ی فکر کے معاشرے پر اثرات
مولانا وقار احمد(فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم ، لیکچرر گورنمنٹ کالج ، ہری پور ):
۱۔ امام شاہ ولی اللہ اور ان کی خدمات قرآنیہ کا تعارف
۲۔مولانا محمد قاسم نانوتوی اور علم التفسیر
حافظ محمد رشید (فاضل جامعہ دار العلوم کراچی ، لیکچرر ، گورنمنٹ ڈگری کالج ڈسکہ): جدید اصول تحقیق کا تعارف اسلامی تعلیمات کی روشنی میں (۲ محاضرے)
مولانا محمد عبد اللہ راتھر(فاضل جامعہ دار العلوم کبیر والہ ، ناظم تعلیمات الشریعہ اکادمی ): اسلامی تہذیبی ورثہ اور ہماری ذمہ داریاں
اکادمی میں دورہ تفسیر کے اختتام پر شرکا کو ایک سوال نامہ دیا جاتاہے جس میں دورہ کے نصاب، مختلف اساتذہ کے طریقہ تدریس، انتظامی معاملات ، محاضرات کے لیے تشریف لانے والے اہل علم اور دورہ سے متعلق مجموعی تاثر کے حوالے سے آرا اور تجاویز طلب کی جاتی ہیں۔ اس سال بھی طلبہ سے feedback لینے کا اہتمام کیا گیا۔ طلبہ نے پوری آزادی کے ساتھ سوالات کے جوابات تحریر کیے جن پر اکادمی کی سالانہ میٹنگ میں غور کیا جائے گا۔
اس سال دورۂ تفسیر میں ملک کے مختلف حصوں سے شریک ہونے والے طلبہ کرام کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ حضرت عمر جامعہ مدنیہ، چارسدہ
۲۔ عبد الغفور خان ۔
۳۔ عبد الرحمان ۔ جامعہ امداد العلوم، پشاور
۴۔ عاقب عبد الرزاق ۔ جامعہ علوم القرآن، راول پنڈی
۵۔ فواد فاروق ۔ جامعہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک
۶۔ عتیق الرحمان ۔ جامعہ حنفیہ، جہلم
۷۔ شاہد اقبال ۔ گورنمنٹ ڈگری کالج، کروڑ لعل عیسن
۸۔ عبد الرب ۔ جامعہ حبیبیہ تعلیم القرآن، کروڑ لعل عیسن
۹۔ فیصل محمود عباسی ۔ جامعہ دار العلوم، کراچی
۱۰۔ فرمان اللہ ۔ جامعہ حلیمیہ، درہ پیزو، لکی مروت
۱۱۔ عمر فاروق ۔ مدرسہ معمورہ ، دار بنی ہاشم، ملتان
۱۲۔ محمد اعجاز ۔ مدرسہ معمورہ، دار بنی ہاشم، ملتان
۱۳۔ عمر فاروق ۔ مدرسہ عربیہ، شفیع مسجد، نوشہرہ
۱۴۔ میاں محمد عبید اللہ ۔ گورنمنٹ ڈگری کالج، ڈسکہ
۱۵۔ کفایت اللہ ۔ جامعہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
۱۶۔ محمد الیاس ۔ جامعہ دار العلوم نصیریہ، حضرو
۱۷۔ محمد یاسر خان ۔ جامعہ علوم القرآن، راول پنڈی
۱۸۔ سہیل احمد ۔ جامعہ علوم القرآن، راول پنڈی
۱۹۔ اعجاز حسین ۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
۲۰۔ عبد المجید ۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
۲۱۔ محمد عمر ۔ جامعہ رحمانیہ، شمع کالونی، گوجرانوالہ
۲۲۔ عبد الغفور ۔ جامعہ دار الہدیٰ، اسلام آباد
۲۳۔ مشتاق احمد ۔ جامعہ دار الہدیٰ، اسلام آباد
۲۴۔ فخر الاسلام ۔ جامعہ اشاعت الاسلام، مانسہرہ
۲۵۔ ثناء اللہ ۔ جامعہ اشاعت الاسلام، مانسہرہ
۲۶۔ عطاء اللہ ۔ جامعہ عمر بن الخطاب، مانسہرہ
۲۷۔ محمد دانش ۔ جامعہ غفوریہ، جھنگ روڈ، فیصل آباد
۲۸۔ احسان الرحمان ۔ جامعہ اسلامیہ امدادیہ، فیصل آباد
۲۹۔ محمد ابوبکر ۔ جامعہ اشرفیہ، لاہور
۳۰۔ محمد عمر ۔ مدرسہ عبد اللہ بن مسعودؓ، ہری پور
۳۱۔ فواد الرحمان ۔ دار العلوم اسلامیہ، چارسدہ
۳۲۔ سید اکبر ۔ جامعہ دار الہدیٰ، اسلام آباد
۳۳۔ فرحان ارشد عباسی ۔ جامعہ اسلامیہ امدادیہ، فیصل آباد
۳۴۔ محمد فیاض ۔ جامعہ اشاعت الاسلام، مانسہرہ
۳۵۔ سید احسان شاہ ۔ جامعہ اشاعت الاسلام، مانسہرہ
۳۶۔ محمد فہیم ۔ جامعہ اشاعت الاسلام، مانسہرہ
۳۷۔ حسنین معاویہ ۔ گورنمنٹ اسلامیہ کالج، گوجرانوالہ
۳۸۔ جنید احمد حقانی ۔ جامعہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک
۳۹۔ محمد فاروق ۔ گوجرانوالہ
۴۰۔ محمد بلال ۔ جامعہ دار الہدیٰ ، اسلام آباد
۴۱۔ محمد عارف ۔ مدرسہ مفتاح العلوم، ہری پور
۴۲۔ محمد خبیب ۔ مدرسہ مفتاح العلوم، ہری پور
۲۶ جون بروز جمعرات بعد از مغرب دورۂ تفسیر کی اختتامی نشست منعقد ہوئی جس میں اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ جامعہ پنجاب کے شعبہ علوم اسلامیہ کے صدر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی مدرسہ مظاہر العلوم و انوار العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث مولانا محمد داؤد اور علامہ زاہد الراشدی نے شرکت کی اور طلبہ کو اسناد تقسیم کی گئیں۔
ملی مجلس شرعی کا ایک اہم اجلاس
ادارہ
۱۵ جون کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کے مشترکہ علمی و فکری فورم ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ کا ایک اہم اجلاس مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں مولانا مفتی محمد خان قادری، علامہ احمد علی قصوری، مولانا عبد المالک خان، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، مولانا سید عبد الوحید، حافظ عاکف سعید، پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، مولانا سید قطب، مولانا قاری احمد وقاص، اور مولانا زاہد الراشدی نے شرکت کی۔
وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام و قوانین کے خلاف کیس کی از سر نو سماعت شروع ہونے کے بعد عدالت کی طرف سے ملک بھر کے علمی و دینی حلقوں کے لیے جو سوالنامہ جاری کیا گیا ہے، ملی مجلس شرعی نے مختلف مکاتب فکر کی طرف سے اس کا متفقہ جواب بھجوانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی کئی ماہ تک کام کرتی رہی ہے اور اس نے متفقہ جواب تیار کر لیا ہے۔ کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امین نے اس کی رپورٹ پیش کی جس پر اجلاس میں اس متفقہ جواب کی منظوری دیتے ہوئے اسے وفاقی شرعی عدالت کو باضابطہ طور پر بھجوانے اور شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس میں مولانا زاہد الراشدی نے تحریک انسداد سود پاکستان کے کنوینر کی حیثیت سے ملک کے مختلف شہروں میں اس سلسلہ میں منعقد ہونے والے اجتماعات کی رپورٹ پیش کی اور طے پایا کہ رمضان المبارک کے بعد عوامی و دینی حلقوں میں سود کے بارے میں بیداری اور آگہی کو فروغ دینے کے لیے تحریک انسداد سود پاکستان کی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے گا۔
اجلاس میں ملک کی عمومی صورت حال اور مختلف عوامی مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا اور سرکردہ علماء کرام نے اس سلسلہ میں اپنی تجاویز پیش کیں۔
مولانا مفتی محمد خان قادری نے کہا کہ اس وقت ہمارے ملک کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ غربت اور مہنگائی کا ہے اور غریب آدمی اس چکی میں بری طرح پستا چلا جا رہا ہے۔ مگر دینی حلقوں اور علماء کرام کی اس طرف پوری طرح توجہ نہیں ہے۔ حالانکہ معاشرے کے غریب اور مستحق لوگوں کا خیال رکھنا اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ اس لیے علماء کرام، دینی جماعتوں، مدارس اور مساجد کو اپنے پروگرام میں اس بات کو بھی شامل کرنا چاہیے اور ہر مسجد میں ایک ایسی کمیٹی ہونی چاہیے جو اردگرد کے نادار اور غریب لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھے اور ان کو اجتماعی طور پر پورا کرنے کا اہتمام کرے۔
مولانا حافظ فضل الرحیم نے اس طرف توجہ دلائی کہ میڈیا اور ابلاغ کے ذرائع کی طرف سے فحاشی اور عریانی کے فروغ کا دائرہ جس طرح وسیع ہوتا جا رہا ہے، اس سے ہماری دینی اور اخلاقی قدریں تباہ ہو رہی ہیں، فحاشی کا احساس ختم ہوتا جا رہا ہے اور ثواب و گناہ کا فرق مٹنے لگا ہے۔ اگر اس کا بروقت سدباب نہ کیا گیا تو نئی نسل کے ایمان اور اخلاق کی حفاظت مشکل ہو جائے گی۔
مولانا حافظ عاکف سعید نے کہا کہ ہمارے تمام مسائل کی اصل جڑ یہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد سے اب تک ہم ملک میں اقامت دین اور دینی احکام و قوانین کے نفاذ کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔ بلکہ سودی نظام کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔ جب تک اس صورت حال کو تبدیل نہیں کیا جاتا ہمارے مسائل کی سنگینی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور ایک ایک مسئلہ کو لے کر اسے حل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو پائیں گی۔
علامہ احمد علی قصوری نے اس بات پر زور دیا کہ دینی حلقوں نے جب بھی کسی مشترکہ قومی اور دینی مسئلہ پر اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اور متفق ہو کر تحریک چلائی ہے انہیں اس میں ہمیشہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسئلہ پر بھی اسی اتحاد اور عزم کا اظہار کیا جائے جس کا مظاہرہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے مسئلہ پر کیا گیا تھا۔
مولانا سید عبد الوحید نے کہا کہ ہمیں عوام میں یہ شعوربھی پیدا کرنا چاہیے کہ امارت اور تعیش کے بے جا مظاہرے اور معیار زندگی میں بے تحاشہ فرق کو ختم کیا جائے۔ اس لیے کہ اس سے غریب عوام میں مایوسی پھیلتی ہے اور معیار زندگی کی دوڑ میں بہت سی خرابیاں جنم لیتی ہیں۔
مولانا عبد المالک خان نے کہا کہ قومی اور عوامی مسائل کے لیے دینی حلقے اور علماء کرام اپنی اپنی جگہ تو کام کر رہے ہیں لیکن ان میں اجتماعیت اور مشاورت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کوئی بھی کام اجتماعی طور پر سر انجام دینے سے اس میں قوت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ برکت بھی ہوتی ہے۔
اجلاس میں ان امور کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ان مسائل کی طرف دینی اور عوامی حلقوں کو توجہ دلانے کے علاوہ ان کے بارے میں منظم جدوجہد کے لیے ایک رپورٹ مرتب کی جائے گی اور رمضان المبارک کے بعد ملی مجلس شرعی کے اجلاس میں اس کا جائزہ لے کر اس مہم کو آگے بڑھانے کا طریق کار طے کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
مولانا زاہد الراشدی کے اسفار و خطابات
ادارہ
25 مئی کو اٹھیل پور قصور میں مدرسہ عربیہ اشرف العلوم کے سالانہ اجلاس سے خطاب۔
27 مئی کو ڈیرہ اسماعیل خان میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل مولانا محمد یوسف ثانی کی دستار بندی کی تقریب سے خطاب اور اسلامیہ کالونی میں مولانا عبد الحفیظ محمدی کی مسجد کی تعمیر نو پر دعائیہ تقریب میں شرکت۔
28 مئی کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام سود کے موضوع پر سیمینار سے خطاب اور بزرگ عالم دین شیخ الحدیث مولانا علاء الدینؒ کی وفات پر ان کے صاحبزادگان سے مدرسہ نعمانیہ میں تعزیت۔
29 مئی کو ڈیرہ اسماعیل خان میں جامعہ نصرۃ العلوم کے سابق استاذ مولانا حبیب اللہ ڈیرویؒ کے مدرسہ کا دورہ اور بزرگ عالم دین حضرت مولانا قاری محمد یوسف سے ملاقات۔
30 مئی کو بعد نماز مغرب اڈیالہ راولپنڈی میں دارالعلوم دیوبند کی خدمات پر ایک سیمینار سے خطاب۔
31 مئی کو تراڑ کھل آزاد کشمیر کی مرکزی جامع مسجد میں علماء اہل سنت کی علاقائی جماعت تنظیم اہل سنت کے سالانہ اجتماع سے خطاب۔
5-4 جون کو ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ میں سالانہ ختم نبوت کورس کی تین نشستوں سے خطاب۔
6 جون کو اٹاوہ گوجرانوالہ میں جمعہ کی نماز کے بعد بنات کے مدرسہ میں بخاری شریف کے آخری سبق کی تقریب سے خطاب۔
8 جون کو صبح دس بجے مدرسۃ فاطمۃ الزہراء واپڈا ٹاؤن میں خواتین کے تربیتی کورس سے خطاب۔ ظہر کے بعد حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ کے ادارہ جامعہ ملّیہ شاہدرہ لاہور میں علماء کے تربیتی کورس کی اختتامی نشست سے خطاب۔ اور عصر کی نماز کے بعد مریدکے میں ایک مسجد کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت۔
10 جون کو جامعہ اسلامیہ امدادیہ منڈی دار ہرٹن ضلع ننکانہ صاحب میں علماء کرام کے علاقائی اجتماع سے خطاب۔
12-11 جون کو جامعہ محمدیہ اسلام آباد میں حضرت مولانا ڈاکٹر محمد الیاس فیصل آف مدینہ منورہ کے زیر انتظام منعقد ہونے والے تربیتی کورس کی دو نشستوں سے خطاب۔ اور مغرب کے بعد جامعہ حنفیہ تعلیم القرآن سرائے عالمگیر میں علماء کرام سے ملاقات۔
13 جون کو بعد نماز عشاء جامعہ حنفیہ قادریہ جامع مسجد امن باغبان پورہ لاہور کے سالانہ جلسہ دستار بندی سے خطاب۔
14 جون کو ظہر کے بعد دُھنی تحصیل حافظ آباد میں طالبات کے ایک مدرسہ میں خواتین کے لیے منعقد ہونے والے تربیتی کورس سے خطاب۔
15 جون کو لاہور ٹاؤن شپ میں جامعہ القدسیۃ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے علماء کرام کے تربیتی کورس کی اختتامی نشست سے خطاب۔ اور عصر کے بعد جامعہ اشرفیہ لاہور میں ملی مجلس شرعی پاکستان کے اہم اجلاس میں شرکت۔
16 جون کو دارالعلوم انوریہ اجمل ٹاؤن گوجرانوالہ کے سالانہ جلسہ دستار بندی سے مغرب کے بعد خطاب۔
17 جون کو ظہر کے بعد علامہ اقبالؒ اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں پی ایچ ڈی اسکالرز کے لیے منعقدہ کورس کی ایک نشست میں گفتگو۔ مغرب کے بعد منڈیاں ایبٹ آباد کی مرکزی جامع مسجد میں جلسہ عام سے خطاب۔
18 جون کو جامع مسجد الیاسی نواں شہر ایبٹ آباد میں حضرت مولانا شیخ نذیر احمد زئی مدظلہ کے سالانہ دورہ تفسیر قرآن کریم کی ایک نشست سے فہم قرآن کریم کے عصری تقاضے کے موضوع پر تفصیلی گفتگو اور عشاء کے بعد حویلیاں کے قریب بانڈہ میں ایک مدرسہ کی سالانہ تقریب سے خطاب۔
19 جون کو اسلام آباد میں بعد نماز ظہر مجلس صوت الاسلام کراچی کے زیر اہتمام سال بھر جاری رہنے والے خطابت کورس کی آخری نشست سے خطاب۔
21 جون کو نماز عصر کے بعد ڈی سی کالونی گوجرانوالہ کے قریب ایک مسجد کے سنگ بنیاد کی تقریب میں مولانا مفتی محمد حسن کے ہمراہ شرکت اور مغرب کے بعد ڈی سی روڈ گوجرانوالہ میں تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام استقبال رمضان المبارک کی تقریب سے خطاب۔
22 جون کو مولانا عبد الرؤف فاروقی کے جامعہ اسلامیہ کامونکی میں حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی یاد میں قائم کیے جانے والے الرحمت ٹرسٹ ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب۔
پانی پینے کے طبی اصول
حکیم محمد عمران مغل
پانی کا سب سے اہم کام خون کو پتلا کرنا ہے جس سے یہ رگوں میں دوڑتا ہے۔ چین کے لوگ ساری زندگی گرم پانی پیتے ہیں، ہماری طرح برف کے گولے حلق میں نہیں ٹھونستے۔ پانی کا برتن گہرا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ کشادہ ہونا چاہیے تاکہ اس میں خاکی ذرات ہوں تو نظر آ سکیں۔
آدمی کو پانی کب پینا چاہیے؟ پرانے اطبا نے انسانی مزاجوں کے لحاظ سے درجات مقرر کیے ہیں۔ مرطوب مزاج تھوڑا صبر کر کے پیے، لیکن خشک مزاج فوری پیے۔ اگر ایسا نہ کرے گا تو تب دق، احتراق اخلاط، ضعف دماغ اور سرد کا اندیشہ ہے۔ غذا کے ساتھ پانی پینے کے متعلق اطبا کا کافی اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے غذا کچی رہ جاتی ہے اور بعض کا خیال ہے کہ ہاضمہ تیز ہوتا ہے۔ اس بات پر سب متفق ہیں کہ مرطوب مزاج والا بہرکیف نقصان اٹھاتا ہے۔ صرف خشک مزاج والے کو اطبا نے اجازت دی ہے کہ پیاس کو فوری بجھائے۔ صفراوی مزاج والا غذا کھانے کے دو گھنٹہ بعد، سوداوی مزاج تین گھنٹہ بعد، بلغمی مزاج چار گھنٹہ بعد اور بعض اطبا نے گھنٹہ دو گھنٹہ بعد کی بھی پابندی عائد کی ہے۔ اگر معدہ او رجگر میں گرمی ہو تو پھر فوری پئیں۔
بدن کے مسامات کھلے ہوں یا معدہ خالی ہو تو پانی کی سردی بلا اصلاح اعضائے رئیسہ اور اعصاب میں سرایت کر جاتی ہے جو حرارت غریزیہ کے لیے باعث نقصان ہے۔ جماع کے بعد پانی پینے سے حرارت غریزیہ بجھتی ہے۔ رعشہ، تشنج پیدا ہوتا ہے اور بھوک بھی مر جاتی ہے۔
نہار منہ پانی پینے سے اگر دل کی طرف چلا گیا تو دل کی حرارت بجھا کر باعث موت ہو سکتا ہے۔ جگر کی طرف چلا گیا تو خطرناک مرض استسقا (پانی کا بھر جانا) پیدا کرتا ہے۔ نہارمنہ ٹھنڈا پانی پینے سے معدہ اور اعضاء تنفس سکڑ جاتے ہیں، لیکن خشک مزاج اور طاعون کے مریض کو نہار منہ پینا جائز ہے کیونکہ پانی ان کی اندرونی حرارت کی اصلاح کرتا ہے۔
ریاضت، حمام یا اسہال کے بعد ٹھنڈا پانی پینے سے وہی عوارض ہوں گے جو جماع کے بعد ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی ناقابل برداشت جگر کا درد بھی ہوا کرتا ہے۔ نیند سے بیدار ہو کر فوری طور پر پانی پینے سے زکام اور دماغی امراض ہوں گے۔ قے کے بعد پانی پینے سے ضعف معدہ ہوا کرتا ہے۔ رات کو تھوڑا پینا چاہیے۔ کھڑے کھڑے یا اوندھے منہ یا تکیہ کی ٹیک لگا کر پینے سے احشا اور اعصاب متاثر ہوتے ہیں۔ جنھیں اعصابی دردیں ہوں، وہ یہی لوگ ہوتے ہیں۔
کنویں او رنہر کا پانی ملا کر کبھی نہ پئیں۔ دو مختلف کنووں کا پانی بھی ملا کر نہ پئیں۔ اس سے تبخیر اور قراقر پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح بارش، کنویں اور نہر کا پانی قطعاً ملا کر نہ پینا چاہیے۔ یہ لطیف اور کثیف کا اجتماع ہے۔ تربوز کا پانی پینے سے برص کا مرض ہوتا ہے۔ یہ برس ہا برس کی تحقیقات ہیں۔
نوٹ: مئی کی اشاعت میں کتابت کی غلطی سے یہ جملہ شائع ہو گیا ہے کہ ’’مٹی کے برتنوں سے بھی شوگر کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔‘‘ مٹی کے برتنوں کا استعمال ہرگز شوگر کا باعث نہیں بنتا۔