شیخ الہند عالمی امن کانفرنس
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
جمعیۃ علماء ہند کی دعوت پر مولانا فضل الرحمن امیرجمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی سربراہی میں بھارت جانے والے تیس رکنی وفد کے ساتھ راقم الحروف کو بھارت جانے اور کم وبیش ایک ہفتہ وہاں رہنے کا موقع ملا۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز کی زیر قیادت ایک صدی قبل منظم کی جانے والی ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ کے حوالے سے جمعیۃ علماء ہند نے صد سالہ تقریبات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اسی پروگرام کے تحت ’’شیخ الہند ایجوکیشنل چیرٹی ٹرسٹ‘‘ کے زیر اہتمام ۱۳، ۱۴ دسمبر کو دیوبند میں اور ۱۵ دسمبر کو رام لیلا میدان دہلی میں مختلف نشستوں کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برما، نیپال، سری لنکا، مالدیپ، ماریشش اور خطے کے دیگر ممالک کے علماء کرام کے علاوہ برطانیہ سے بھی جمعیۃ علماء برطانیہ کے وفد نے شرکت کی۔ سیکڑوں علماء کرام سہ روزہ ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ کی خصوصی نشستوں میں شریک ہوئے جبکہ ہزاروں افراد نے عیدگاہ گراؤنڈ دیوبند اور رام لیلا میدان دہلی میں پبلک جلسہ کی صورت میں منعقد ہونے والی عمومی نشستوں میں شرکت کی۔
دار العلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابو القاسم نعمانی، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن اور دیگر سرکردہ علماء کرام نے کانفرنس کی مختلف نشستوں کی صدارت کی جبکہ خطاب کرنے والے سرکردہ علماء کرام میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، جمعیۃ علماء ہند کے سیکرٹری جنرل مولانا سید محمود اسعد مدنی، اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری کے علاوہ مولانا مفتی عبد الرؤف (بنگلہ دیش)، مولانا مفتی نور محمد (برما)، مولانا مفتی محمد رضوی (سری لنکا) اور مولانا حافظ محمد اکرام (برطانیہ) بھیشامل ہیں۔ بھارت کے مختلف علاقوں کے ممتاز علماء کرام نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔
اس موقع پر ’’امن عالم کانفرنس‘‘ کی طرف سے ایک متفقہ اعلامیہ کی منظوری دی گئی جس کی ترتیب و تدوین میں دیگر حضرات کے ساتھ مجھے بھی شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ جمعیۃ علماء ہند کے سیکرٹری جنرل مولانا سید محمود اسعد مدنی نے یہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اعلامیہ درج ذیل ہے:
’’ہند و بیرون ہند کے ممتاز علمائے کرام، دانشوران اور رہنمایانِ ملک و ملت کا یہ عالمی اجلاس برصغیر ہند کی آزادی میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ ، ان کے رفقاء اور تمام مجاہدین آزادی کی سنہری خدمات و بے مثال قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے اور حضرت شیخ الہند کے عطا کردہ رہنما خطوط کی روشنی میں اپنے اس عہد کا اعلان کرتا ہے کہ:
۱۔ ہم انسانیت کی فلاح و بہبود اور عالمی امن کے قیام کے لیے ہر سطح پر دوستانہ تعلقات اور صلح و آشتی کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے۔
۲۔ اپنے اپنے ملک کی سا لمیت اور وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک دوسرے کی خوشحالی اور خیر سگالی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
۳۔ ہر قسم کے تنازعات کا پر امن ذرائع سے حل تلاش کرنے کے لیے ذہن سازی اور کوشش کریں گے۔
۴۔ اسلام کی نظر میں ہر طرح کا فتنہ و فساد، بد اَمنی و خوں ریزی اور بے قصوروں کو قتل و غارت گری کا نشانہ بنانا، بد ترین انسانیت سوز جرم ہے، اس لیے ہم ہر قسم کی دہشت گردی کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ اور اس بارے میں دارالعلوم دیوبند کے فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ اور تمام انصاف پسندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف دہشت گردی سے برأت کریں، بلکہ ان اسباب و محرکات کو بھی ختم کرنے کی فکر کریں، جن کی وجہ سے دنیا میں دہشت گردی پنپتی ہے۔
۵۔ اقلیتوں، ناداروں، کمزور طبقات اور خواتین کے حقوق کی پاسداری کے بغیر خوشحالی، ترقی اور امن کا تصور ناممکن ہے۔ اس لیے ہم انہیں ان کے حقوق دلانے اور سماجی انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔
۶۔ اخلاق سوز رسم و رواج، فضول خرچی اور جرائم سے پاک معاشرہ کی تشکیل; خاص کر شراب نوشی، منشیات، عیش پرستی، فحاشی، عریانیت اور جنین کشی کے خلاف تحریک چلانے کے لیے ہم تمام مذاہب کے رہنماؤں اور مصلحانہ تنظیموں کو اشتراک اور تعاون کی دعوت دیتے ہیں۔
۷۔ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ مسلکی تنازعات میں تشدد اور خوں ریزی اسلامی تعلیمات کے قطعاً خلاف ہیں۔ ہم اس معاملے میں تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے عہد کرتے ہیں کہ مسلکی تشدد کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
۸۔ حضرت شیخ الہندؒ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کے موقع پر جو وقیع خطبہ ارشاد فرمایا تھا، اس کی روشنی میں ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ملت سے دینی و دنیوی جہالت دور کرنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے; خاص طور پر اسلامی ماحول میں عصری تعلیم کے ادارے قائم کرنے کی ہر ممکن جدوجہد کریں گے، جیسا کہ جمعیۃ علماء ہند کے سابق صدر محترم امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی نور اللہ مرقدہ اس موضوع کو مشن بنا کر پورے عالم میں پھیلاتے رہے۔
۹۔ ہم یہ بھی عہد کرتے ہیں کہ اہل حق کے تمام دینی اداروں اور تحریکات میں ایک دوسرے کے معاون بن کر رہیں گے۔‘‘
کانفرنس میں اس پروگرام کے پس منظر کے طور پر شیخ الہندؒ کے ایک خطاب کا اہم اقتباس اوردہشت گردی کے بارے میں دار العلوم دیوبند کا ایک فتویٰ پیش کیا گیا جو درج ذیل ہے:
جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے تاسیسی اجلاس منعقدہ ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۲۰ء (علی گڑھ) کے خطبہ صدارت میں حضرت شیخ الہندؒ نے فرمایا کہ:
’’میں خیال کرتا ہوں کہ میری قوم اس وقت فصاحت و بلاغت کی بھوکی نہیں ہے۔ اور نہ اس قسم کی عارضی مسرتوں سے اس کے درد کا اصلی داماں ہو سکتا ہے؛ اس لیے ضرورت ہے ایک قائم و دائم جوش کی، نہایت صابرانہ ثبات قدمی کی، دلیرانہ مگر عاقلانہ طریق عمل کی، اپنے نفس پر قابو پانے کی غرض سے ایک پختہ کار بلند خیال اور ذی ہوش محمدی بننے کی۔
اے فرزندان توحید! میں چاہتا ہوں کہ آپ انبیاء و مرسلین اور ان کے وارثوں کے راستے پر چلیں اور جو لڑائی اس وقت شیطان کی ذریت اور خدائے قدوس کے لشکروں میں ہو رہی ہے اس میں ہمت نہ ہاریں اور یاد رکھیں کہ شیطان کے مضبوط سے مضبوط آہنی قلعے خداوند قدیر کی امداد کے سامنے تار عنکبوت سے زیادہ کمزور ہیں۔ کامیابی کا آفتاب ہمیشہ مصائب و آلام کی گھٹاؤں کو پھاڑ کر نکلا ہے۔
الم، أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ یُّتْرَکُوا أَنْ یَّقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ، وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکَاذِبِیْنَ o (عنکبوت : ۲۔۳)
ترجمہ: ’’کیا یہ سمجھتے ہیں لوگ کہ چھوٹ جائیں گے اتنا کہہ کر کہ ہم یقین لائے، اور ان کو جانچ نہ لیں گے۔ اور ہم نے جانچا ہے ان کو جو ان سے پہلے تھے، سو البتہ معلوم کرے گا اللہ جو لوگ سچے ہیں اور البتہ معلوم کرے گا جھوٹوں کو۔‘‘
خوف کھانے کے قابل اگر کوئی چیز ہے تو خدا کا غضب اور قاہرانہ انتقام ہے، اور دنیا کی متاع قلیل خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے انعامات کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔
قُلْ مَتَاعُ الدَّنْیَا قَلِیْلٌ وَالآخِرَۃُ خَیْْرٌ لِّمَنِ اتَّقَی وَلاَ تُظْلَمُونَ فَتِیْلاً (سورہ نساء : ۷۷)
ترجمہ: ’’کہہ دے کہ فائدہ دنیا کا تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے پرہیزگار کو اور تمہارا حق نہ رہے گا ایک تاگے کے برابر۔‘‘
مطلق تعلیم کے فضائل بیان کرنے کی ضرورت اب میری قوم کو نہ رہی، کیوں کے زمانے نے خوب بتلا دیا ہے کہ تعلیم سے ہی بلند خیالی اور تدبر اور ہوش مندی کے پودے نشو و نما پاتے ہیں اور اسی کی روشنی میں آدمی نجات و فلاح کے راستے پر چل سکتا ہے، ہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ تعلیم مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو اور اغیار کے اثر سے بالکل آزاد ہو۔ کیا باعتبار عقائد و کیا خیالات کے اور کیا باعتبار اخلاق و اعمال کے اور کیا باعتبار اوضاع و اطوار کے اثرات سے پاک ہو۔ ہمارے کالج نمونے ہونے چاہئیں، بغداد اور قرطبہ کی یونیورسٹیوں کے اور ان عظیم الشان مدارس کے جنہوں نے یورپ کو اپنا شاگرد بنایا اس سے پیشتر کہ ہم ان کو اپنا استاذ بناتے۔‘‘
دہشت گردی سے متعلق دار العلوم دیوبند سے کیا جانے والا ایک استفسار اور اس کا جواب حسب ذیل ہے:
استفتاء:
’’آج کل منصوبہ بند طریقہ پر مذہب اسلام، قرآن پاک اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو دہشت گردی سے جوڑ کر بدنام کیا جا رہا ہے اور قرآنی آیات اور احادیث شریف کو غلط معانی میں ڈھال کر عوام وخواص کو مذہب اسلام سے بدظن کرنے کی مہم پوری شدت سے جاری ہے۔ اس لیے وضاحت فرمائیں کہ امن عالم کے سلسلہ میں اسلام کا واضح موقف کیا ہے؟ اور قرآن وحدیث میں اس بارے میں انسانیت کو کیا ہدایتیں دی گئی ہیں؟
محمود اسعد مدنی
باسمہ سبحانہ وتعالیٰ
الجواب وباللہ التوفیق:اسلام امن وسلامتی کا مذہب ہے، اس کی نظر میں روئے زمین کے کسی بھی خطہ پر فتنہ وفساد، بدامنی اور خوں ریزی اور بے قصوروں کے ساتھ قتل وغارت گری بد ترین انسانیت سوز جرم ہے۔ قرآن پاک میں کئی جگہ دنیا میں بدامنی پھیلانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا (الاعراف ۵۶) (اور روئے زمین میں بعد اس کے کہ اس کی درستی کر دی گئی، فساد مت پھیلاؤ) اور ایک جگہ فساد کی مذمت کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا گیا: وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِیْ الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیِہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّٰہُ لاَ یُحِبُّ الفَسَادَ (البقرۃ ۲۰۵) (اور جب وہ (فسادی) پیٹھ پھیرتا ہے تو اس دوڑ دھوپ میں رہتا ہے کہ دنیا میں فساد مچائے اور کسی کے کھیت یا جانوروں کو تلف کر دے اور اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتے) اور ایک جگہ فرمایا: وَلاَ تَعْثَوْا فِی الأَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (البقرۃ ۶۰) (اور دنیا میں فساد نہ مچاتے پھرو)۔ قرآن اور اسلام کی نظر میں ایک قتل ناحق پوری انسانیت کے قتل کے مرادف ہے، کیونکہ یہ دروازہ جب کھل جاتا ہے تو پھر کسی کے قابو میں نہیں رہتا، جبکہ ایک آدمی کی جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے قائم مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ کَتَبْنَا عَلَی بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ أَنَّہُ مَن قَتَلَ نَفْساً بِغَیْْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعاًَّ (المائدہ ۳۲) (اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی شخص کو بلامعاوضہ کسی دوسرے شخص کے یا بغیر فساد کے جو زمین میں اس سے پھیلا ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جو شخص کسی شخص کو بچا لیوے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو بچا لیا)۔ اور ایک جگہ واضح طور پر یہ حکم دیا: وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلاَّ بِالحَقِّ (بنی اسرائیل ۳۳) (اور جس شخص کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، اس کو قتل مت کرو، ہاں مگر حق پر)۔
اسلام کی امن پسندی کی انتہا یہ ہے کہ وہ اگرچہ مظلوم کو اپنے دفاع کی اجازت دیتا ہے، لیکن ساتھ میں یہ ہدایت بھی کرتا ہے کہ مظلوم بدلہ لینے میں اپنے حدود سے تجاوز نہ کرے اور بے قصوروں کو نشانہ نہ بنائے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: وَقَاتِلُوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُوا إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبِّ الْمُعْتَدِیْنَ (البقرۃ ۱۹۰) (اور جو لوگ تم سے لڑنے کو آئیں، تم بھی ان سے اللہ کے راستے میں لڑو اور حد سے تجاوز مت کرو، بے شک اللہ تعالیٰ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے)۔
چنانچہ احادیث شریف میں جنگی حالات میں بھی انسانی حقوق کی پوری رعایت رکھنے کی تلقین کی گئی ہے جس کی تفصیلات احادیث میں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ خدا کی مخلوق بمنزلہ ایک کنبہ کے ہے۔ جو شخص اللہ کے کنبے پر احسان کرے گا، وہ خدا کے یہاں سب سے زیادہ محبوب ہوگا۔ (بیہقی) ہمارے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ دوسروں پر رحم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرتا ہے۔ تم لوگ زمین پر بسنے والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ (ترمذی، ابوداود)
الغرض اسلام ہر طرح کے بے جا تشدد، بد امنی، خوں ریزی اور قتل وغارت گری کی قطعاً نفی کرتا ہے اور کسی بھی شکل میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کا یہ اصول ہے کہ اچھی اور نیک باتوں میں ایک دوسرے کا تعاون کیا جائے اور گناہ اور ظلم میں کسی کا ساتھ نہ دیا جائے۔ ارشاد خداوندی ہے: وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُوا عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدہ ۲) (آپس میں مدد کرو نیک کام پر اور پرہیزگاری پر اور مدد نہ کرو گناہ پر اور ظلم پر)۔
قرآن پاک کی ان واضح ہدایات سے یہ معلوم ہو گیا کہ اسلام جیسے امن عالم کے ضامن مذہب پر دہشت گردی کا الزام لگانا قطعاً جھوٹ ہے، بلکہ مذہب اسلام تو دنیا سے ہر قسم کی دہشت گردی کو مٹانے اور پورے عالم میں امن کو پھیلانے کے لیے آیا ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم‘‘
یہ فتویٰ پانچ سال قبل جاری ہوا تھا۔ اس پر دار العلوم دیوبند کی مہر کے ساتھ مولانا مفتی حبیب الرحمن، مولانا مفتی زین الاسلام قاسمی، مولانا مفتی وقار علی اور مولانا مفتی محمود حسن بلند شہری کے دستخط ثبت ہیں، جبکہ مولانا مفتی حبیب الرحمن کے دستخط کے ساتھ اس کے اجراء کی تاریخ ۲۳؍ جمادی الاولیٰ ۱۴۲۹ھ درج ہے۔
’’شیخ الہند عالمی امن کانفرنس‘‘ کی مختلف نشستوں میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری نے اظہار خیال کیا اور رام لیلا میدان کے کھلے جلسے میں خطبۂ صدارت بھی پیش فرمایا۔ راقم الحروف کے خیال میں ان کی گفتگو سب سے زیادہ فکر انگیز تھی۔ انہوں نے اپنے مختلف خطابات میں نہ صرف علماء کرام کو حضرت شیخ الہندؒ کے مشن اور پروگرام سے متعارف کرایا بلکہ عمل کی طرف بھی توجہ دلائی۔ مولانا قاری محمد عثمان کے خطبۂ صدارت کے بعض اہم حصے یہاں افادۂ عام کے لیے نقل کیے جا رہے ہیں:
’’آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ علماء آگے بڑھ کر اپنے حصے کا کردار ادا کریں، تاکہ ملک و ملت کی صحیح رہ نمائی ہو سکے۔ ایک متحرک عالم دین کے لیے عوام تک رسائی، دوسروں کے مقابلے زیادہ آسان ہے۔ وہ مختلف حیثیتوں سے عوام کے رابطے میں رہتے ہیں۔ سماج میں عوام کو درپیش مسائل میں مثبت رہ نمائی، وقت کی بڑی ضرورت ہے۔
- ان کی ایک بڑی اہم ذمہ داری اسلام کی بہتر و مثبت شبیہ کو پیش کرنا بھی ہے۔ دہشت گردی مٹانے کے نام پر؛ خصوصاً 9/11 کے بعد سے اسلام کی منفی، دہشت گردانہ اور جارحانہ تصویر پیش کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اسلام کی موجودگی میں مختلف مذاہب اور فرقے کے لوگ پر امن زندگی نہیں گزار سکتے۔ اس کے ماننے والے عدم برداشت اور علاحدگی و نفرت کے جذبے کے ساتھ رہتے ہیں۔ رہی سہی کسر اس کے جہاد کے تصور و تعلیم نے پوری کر دی ہے۔ اس پروپیگنڈا سے وہ لوگ بھی متاثر ہو جاتے ہیں، جو بالکل خالی الذہن ہوتے ہیں۔ ٹوپی داڑھی والے آدمی کو ایک خاص نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ بچے تک اشارہ کر رہے ہیں کہ اس کا اس خاص گروہ سے تعلق ہے جو دہشت گردی کی کاروائیوں میں لگا ہوا ہے۔ ایسی صورت حال میں اسلام کے تصور امن اور دہشت گردی کی مذمت پر مبنی تعلیمات کو سامنے لانے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ اہل علم کو یہ بار بار بتانا ہوگا کہ اسلامی شریعت میں ایک بے قصور انسان کا قتل تمام انسانوں کے قتل کے ہم معنٰی ہے۔ اللہ رب العزت زمین پر فساد کو پسند نہیں کرتا ہے۔ فسادی کبھی جہادی نہیں ہو سکتے۔ اس کو دارالعلوم دیوبند اور دیگر تعلیمی و ثقافتی اداروں اور علمائے کرام کی بڑی تعداد نے موقع بہ موقع ظاہر بھی کیا ہے، لیکن اپنی باتوں کو تسلسل کے ساتھ کہنے کی ضرورت ہے۔
- یہ آپ سے مخفی نہیں ہے کہ مخالفین اپنے پروپیگنڈے کو تقویت دینے کے لیے، اقلیتوں کو درپیش مسائل و واقعات کا بھی حوالہ دیتے ہیں کہ مسلم اکثریت والے ممالک میں غیر مسلم اقلیتوں کا جان و مال محفوظ نہیں ہے۔ اس تشہیری مہم کا صحیح توڑ اور مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر ملک کی اقلیتوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ مسائل اور مشکلات ہوتی ہیں اور اکثریت جو بذات خود طاقت ہوتی ہے، کی طرف سے نا انصافی و زیادتی ہوتی ہے؛ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ملک میں انصاف اور انسانی حقوق اور کمزوروں کی مدد کے سلسلے میں عمومی رجحان کیا ہے۔ گرچہ علماء کا طبقہ براہ راست اقتدار و حکومت میں عموماً دخیل نہیں ہے، تائم وہ اقلیتوں اور دیگر امور سے متعلق اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے کی پوزیشن میں یقیناًہے۔ غیر مذاہب اور اقلیتوں کے حقوق کی رعایت کے سلسلے میں اسلام کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں؛ بلکہ یہ کہا جائے کہ غلط فہمیاں عملاً پیدا کی گئی ہیں۔ بہت سے ممالک جیسے ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ اقلیت کا مسئلہ کسی ایک مذہبی اکائی کا نہیں ہے؛ بلکہ یہ عالمی نوعیت کا مسئلہ ہے، کوئی کہیں اقلیت میں ہے، کوئی کہیں، ہندوستانی مسلمان آئین ہند کے تحت، بحیثیت اقلیت کے اپنے حقوق و اختیارات کے حصول کے لیے برابر جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ اگر عالمی طور پر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ و رعایت کے سلسلے میں ماحول تیار ہو جاتا ہے تو سب جگہوں کی اقلیتوں کے لیے جدوجہد اور اپنے حقوق حاصل کرنے کی راہ آسان ہو جائے گی۔
- سماج میں امن کے قیام اور ایک اچھے معاشرے کی تشکیل میں پڑوسی؛ خصوصاً غیر مسلم پڑوسی کے حقوق کی پاسداری و رعایت بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اسلامی شریعت میں ہر قسم کے پڑوسی کا خیال رکھنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا لگتا تھا کہ پڑوسی کو وراثت میں شامل کر دیا جائے گا۔ پڑوسی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ جس طرح پڑوسی، گھر، محلہ اور سفر کا ہوتا ہے، اسی طرح ہر شہر، ضلع، ریاست اور ملک کے لحاظ سے بھی پڑوسی ہوتا ہے۔ اگر شریعت کے مطابق تمام قسم کے پڑوسیوں سے بہتر تعلقات بنا کر اور حقوق کی رعایت کرتے ہوئے زندگی گزاری جائے تو سماج سے فساد، تخریبی کاری اور بد امنی ختم ہو سکتی ہے۔ آج ایک دوسرے کے پڑوسی ممالک میں بہتر تعلقات نہ ہونے کے سبب فوج اور اسلحہ جات کی خریداری پر حد سے زیادہ مالی صرفہ آرہا ہے اور نتیجے میں بہت سے اقتصادی، تعلیمی و تعمیری کام مطلوبہ سطح پر نہیں ہو پاتے۔ پڑوسیوں کے معاملے میں مسلم، غیر مسلم کے درمیان شرعی و اخلاقی لحاظ سے امتیاز کرنا صحیح نہیں ہے۔ بلکہ پڑوسی ہونے اور انسانیت کے ناتے بہتر تعلقات اور حسن سلوک ضروری ہے۔ فرقہ وارانہ فساد اور فرقہ پرستی، باہمی تعلقات کی خرابی اور نفرت و تعصب سے پیداوار فروغ پاتی ہے۔ فرقہ وارانہ فساد اور فرقہ پرستی پر کانفرنس کے عنوان کے مد نظر زیادہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے ہماری کوشش ان اسباب کو دور کرنے کی ہونی چاہیے، جو فرقہ وارانہ نفرت و تشدد، فساد اور فرقہ پرستی کو جنم اور بڑھاوا دیتے ہیں۔
- اس سلسلے میں مسلکی تشدد کو بھی ان اسباب سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ فسادات جہاں مذہب و فرقہ کے نام پر کیے جاتے ہیں، وہیں ایک ہی مذہب کے افراد کی طرف سے مسلکی اختلافات کو حد سے باہر لے جانے کے سبب بھی فسادات ہوتے ہیں۔ بے شک مختلف مکاتب فکر والے اپنا موقف دلائل کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں، لیکن سماج کے امن میں خلل ڈالنے والے پر تشدد مسلکی اختلافات کا کوئی جواز نہیں ہے۔ مزید یہ کہ مشترک مسائل میں مسلکی اختلافات کے باوجود متحدہ جدوجہد کی پوری گنجائش ہے۔ اس لیے مل جل کر مشترک امور کے لیے اتحاد و اتفاق کے نکات نکالنے کی ضرورت ہے۔
- ہم اس اہم کانفرنس کے موقع پر ایک دو اور ایسی ضروری باتوں پر بھی شرکاء کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں جو بہتر معاشرہ کی تشکیل میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں ایسے بین مذاہبی مکالمات و مذاکرات بہت ہو رہے ہیں جن میں ایسے امور بھی زیر بحث آتے ہیں جو اختلافات کے کئی پہلو رکھتے ہیں؛ لیکن کچھ مشترک مسائل ایسے بھی ہیں جن پر اتفاق پایا جاتا ہے، صالح معاشرہ کی تشکیل میں تعاون و اشتراک اور عورتوں، بچوں کے حقوق کی حفاظت و رعایت بھی انہیں متفق علیہ اور مشترک باتوں میں سے ہیں۔ مغربی تہذیب و تمدن کے غلبے، جنسی آزادی اور بے راہ روی کی وجہ سے عورتوں، بچوں کی زندگی اور عزت بھیانک طریقے سے پامال ہو رہی ہے۔ سماج میں فحاشی کے سیلاب نے ان کو آزادی دینے کے بجائے غیر محفوظ بنا دیا ہے اور مختلف طریقوں سے جنسی اور جسمانی استحصال ہو رہا ہے۔ شراب سے اس میں مزید شدت پیدا ہوگئی ہے۔ پوری دنیا میں یوم اطفال اور یوم خواتین منائے جاتے ہیں اور ان کو سماج میں طاقت ور بنانے کے لیے مختلف عنوانات سے تحریکات بھی چلتی رہتی ہیں، تاہم ان کی توقیر و تحفظ یقینی ہونے کے بجائے معرض خطر میں ہے۔ یہ ایک حد تک صحیح ہے کہ قانون، جنسی جرائم کو روکنے اور صالح معاشرہ کی تشکیل میں معاون ہوتا ہے، لیکن وہ پوری طرح آدمی کو جرم کے ارتکاب سے روکنے اور صالح معاشرہ کے قیام کے لیے ذہن و دل سے تیار نہیں کر سکتا ہے، اس کے لیے کسی ایسی ہستی کا خوف و تصور ضروری ہے جس سے آدمی کا باطنی رشتہ اور جواب دہی کا احساس وابستہ ہوتا ہے۔ اور یہ کام مذہب کے تصور اور احساس کا ہے۔ مذہب اسلام نے خالق کائنات کے سامنے جزا و سزا کے حوالے سے جواب دہی کے تصور سے اسی طرف توجہ دلائی ہے۔ دیگر مذاہب اور اصلاحی تحریکات سے وابستہ افراد بھی جنسی استحصال، شراب نوشی، تعیش پرستی اور فحاشی کے مضر اثرات کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے ان کے خاتمہ اور انسداد میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ کچھ تحریکیں نشہ سے پاک سماج بنانے کے لیے بھی چل رہی ہیں۔
ہم اس کانفرنس کے توسط سے جملہ مذاہب اور مصلحانہ تحریکات سے وابستگان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ سماجی و جنسی جرائم کے خلاف ہمارے ساتھ آئیں۔ ہم اس سلسلے کی چلائی جانے والی تمام تحریکات کی حمایت کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون دینے کا یقین دلاتے ہیں، ہم نے چند امور کی طرف، بلا امتیاز مذہب و فرقہ تمام لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے۔ وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے دیگر ضروری مشترک مسائل میں بھی تعاون لینے دینے کا عمل جاری رہے گا۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہماری کوششوں کے بہتر نتائج مرتب کرے اور عزم و خلوص سے کام کی توفیق مرحمت فرمائے۔‘‘
ہم سمجھتے ہیں کہ دار العلوم دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے حوالے سے ان تقریبات کا انعقاد اور مذکورہ بالا اعلامیہ کی منظوری وقت کی اہم ضرورت تھی جس کے اہتمام پر جمعیۃ اور دار العلوم دونوں مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ ’’شیخ الہند عالمی امن فورم‘‘ مذکورہ بالا اعلامیہ کے عزائم کی تکمیل کے لیے موثر اور مثبت پیش رفت کرے گا جس سے اہم مسائل پر عالم اسلام بالخصوص جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی علمی وفکری راہ نمائی کا مناسب اہتمام ہو سکے گا۔
پاکستانی جامعات میں قرآنیات کا مطالعہ
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر
(گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں ایم فل علوم اسلامیہ کے طلبہ سے گفتگو۔)
میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ مجھے آپ حضرات سے مخاطب ہونے کا موقع ملا ہے۔ مجھے جو موضوع دیا گیا ہے، وہ ہے ’’پاکستانی جامعات میں قرآنیات کا مطالعہ‘‘۔ یعنی پاکستان کی یونیورسٹیوں کے اندر اس وقت قرآن کریم کے مطالعہ کے حوالے سے جو نصابات موجود ہیں اور جو اس مطالعے کے نتائج ہیں، میں نے ان پر اظہار خیال کرنا ہے۔ لیکن موضوع پر گفتگو سے قبل ایک دو باتیں میں چاہوں گا کہ آپ کے سامنے عرض کر دوں۔
ما شاء اللہ آپ لوگ ایم فل کی سطح پر آ گئے ہیں۔ آپ شعوری طور پر اس چیز کا ادراک کریں اور اپنے دل میں یہ احساس پیدا کریں کہ اب آپ بی اے، ایم اے سے اوپر ایک ایسی اسٹیج پر پہنچ گئے ہیں جہاں زمین و آسمان کا فرق پڑ جاتا ہے۔ اب آپ ہائیر اسٹڈی میں آگئے ہیں۔ اب آپ کا مطالعہ اور علمی ذخیرہ اس سے پہلے کا جو دور تھا، اس سے کہیں بہتر ہونا چاہیے اور کہیں زیادہ بلند ہونا چاہیے، آپ کی سوچ کا معیار پہلے سے کہیں بہتر ہونا چاہیے۔ اب آپ اپنے مطالعے اور اپنی سوچ کے اندر اور سوچ کی نہج کے اندر تبدیلی لائیں۔ پہلے آپ ایک چیز سنتے تھے اور سن کر اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتے تھے، لیکن اب آپ کے اندر یہ رجحان طبع پیدا ہونا چاہیے، اپنی طبیعت میں یہ رجحان پیدا کریں کہ اب آپ نے محض سنی ہوئی اور پڑھی ہوئی باتوں کو اپنے حافظے کے اندر محفوظ نہیں کرنا، بلکہ جو چیز بھی پڑھیں اور سنیں، اس کے متعلق کیا، کیوں اور کیسے، یہ سوالات بھی اٹھائیں۔ پہلے آپ کی نظر کسی بات کے استناد کا حوالہ یہ تھا کہ یہ فلاں کتاب میں لکھی ہوئی ہے، اب آپ کی نگاہ فوری طور پر اس بات پر آنی چاہیے کہ اس کتاب کا مصنف کون ہے؟ اس نے یہ روایت کس سے لی ہے؟ جس سے یہ روایت لی ہے، اس کا مقام و مرتبہ کیا ہے اور جو بات یہ کر رہا ہے، یہ عقل میں بھی آتی ہے کہ نہیں؟ جو بات یہ کر رہا ہے، وہ ممکن بھی ہے کہ نہیں؟ اگر آپ کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوا ہے کہ یہ چیز صحیح بھی ہے یا نہیں تو آپ اس کے صحیح ہونے کا کھوج لگائیں گے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو کن بنیادوں پر صحیح ہے اور اگر غلط ہے تو کس بنیاد پر غلط ہے۔ اگر آپ کہیں پڑھیں کہ فلاں بزرگ نے ایک رات میں تین مرتبہ قرآن پاک ختم کر لیا تو آپ کے ذہن میں یہ چیز پیدا ہونی چاہیے کہ کیا عملاً اور عقلاً ایسا ممکن ہے؟ آپ کو غور و فکر کرنا ہے۔ تو اپنے اندر یہ تبدیلی پیدا کریں۔ اگر آپ اسی ذہنی لحاظ سے اسی اسٹیج پر رہے جس پر آپ اس سے پہلے ایم اے کے درجے میں تھے تو پھر آپ نے کچھ بھی نہیں پایا، پھر آپ کی شخصیت اور علم کے اندر اور ذہن میں کوئی ارتقا اور improvement نہیں ہوئی۔
میں وضاحت کے لیے ایک مثال دیتا ہوں۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ کی اہلیہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میرے خاوند جو کہ تنگ دست ہیں، کیا میں ان کو زکوٰۃ دے سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، دے دیا کرو۔ یہ بات ہم سنتے اور پڑھتے آئے ہیں۔ اب آپ کے ذہن میں اس روایت کو پڑھ کر کئی طرح کے سوالات پیدا ہونے چاہییں۔ مثلاً یہ کہ کیا بیوی اپنے خاوند کو زکوٰۃ دے سکتی ہے؟ اگر دے سکتی ہے تو کیوں دے سکتی ہے؟ اور کیا خاوند اپنی بیوی کو زکوٰۃ دے سکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں دے سکتا؟ وہ اسے زکوٰۃ دے سکتی ہے تو یہ کیوں نہیں دے سکتا؟ یہ سوال اٹھائیں۔ پھر اس کے جواب آئیں گے۔ پھر یہ بات ذہن میں آئے گی کہ عورت بھی مال کی ملکیت کا حق رکھتی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ عبد اللہ ابن مسعودؓ کی بیوی ہے تو ان کی دولت بیوی کی ہوگئی اور بیوی کی دولت خاوند کی ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام نے عورت کے معاشی حقوق کو تسلیم کیا ہے۔ جب اس کے حقوق کو تسلیم کیا ہے تو ظاہر بات ہے، اس پر زکوٰۃ بھی آئے گی۔ آپ کے ذہن میں یہ بات بھی آنی چاہیے کہ اس دور میں معاشی تفاوت موجود تھا۔ کوئی امیر تھا، کوئی غریب تھا۔ اور آپ کے ذہن میں یہ سوال بھی آنا چاہیے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ غربت کا کیوں شکار تھے؟ بیوی کے پاس جو دولت آئی، وہ کہاں سے آئی؟ کیا ان کو جہیز میں ملی؟ کیا کسی نے ہبہ کر دی؟ یا ان کا کوئی کاروبار تھا؟ تو ان ساری باتوں کا جواب آپ تلاش کریں گے تو آپ کے ذہن کا ارتقا ہوگا اور آپ کی سوچ پختہ اور گہری ہوگی۔
ہمارے نظام تعلیم کی ایک بہت بڑی کمی ہے کہ ہم اپنے بچوں کے اندر تخلیقی استعداد پیدا نہیں کرتے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم چیزیں رٹتے اور یاد کرتے جاتے ہیں۔ بہرحال اب آپ تخلیقی رجحان پیدا کریں اور جس اسٹیج پر آپ آئے ہیں، اس کے تقاضوں کا ادراک اپنے اندر پیدا کریں اور مطالعے کا شوق پیدا کریں۔ ایک مطالعہ ہوتا ہے بندش کا یعنی مجبوری کا مطالعہ۔ وہ اتنے اثرات مرتب نہیں کرتا جتنا شوق سے کیا گیا مطالعہ اثرات کرتا ہے۔ دیکھیں، مکان بنانے کے لیے بہت سی چیزیں پہلے ضروری ہوتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ زمین ہموار ہو۔ ایسا نہیں کہ کسی جوہڑ میں آپ مٹی ڈال کر اس کو ہموار کر لیں اور اس پر مکان بنانا شروع کر دیں۔ اگر ایسی زمین پر مکان بنائیں گے تو اس کی دیواریں بہت جلد بیٹھ جائیں گی، اس کا فرش بیٹھ جائے گا۔ عمارت کے لیے پہلے بنیاد ضروری ہے۔ اور بھی بہت سی ضروریات پوری کریں گے، ورنہ اس کے اندر سے سیم نکل آئے گی اور وہ مکان کو لے ڈوبے گی۔ اس مثال کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے اعلیٰ تعلیم کی عمارت تعمیر کرنی ہے تو اس کے لیے زمین ہموار کرنی ہوگی۔ اپنا مطالعہ وسیع کریں، اپنے اساتذہ سے پوچھیں۔ اگر آپ کا محدود مطالعہ ہے اور آپ کسی سے معلوم نہ کریں تو یہ جہالت کی ایک شکل ہے۔ اس لیے پوچھنے میں کوئی شرم نہیں۔ ہمارے دین میں تو یہ ہے کہ ’’ماں کی گود سے لے کر قبر تک پڑھتے رہیں‘‘۔ تو پوچھنے میں بالکل بھی جھجھک نہیں ہونی چاہیے۔
اس سلسلے میں سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ آپ قرآن مجید کی طرف رجوع کریں۔ اگر تلاوت صحیح نہیں کر سکتے تو کسی سے پڑھ لیجیے۔ اس کی تلاوت صحیح کریں۔ پھر اگر آپ کو قرآن مجید کا ترجمہ نہیں آتا تو کسی کے پاس بیٹھ کر ترجمہ پڑھیے۔ اگر آپ خود پڑھیں گے تو اس کا اتنا زیادہ اچھا امپیکٹ نہیں ہوگا۔ یہ باتیں جو میں کر رہا ہوں، ضروری بنیادی باتیں ہیں جن کا لحاظ کرنا بہت ضروری ہے۔ ہمارا اپنا یہ تجزیہ ہے کہ دینی علوم مثلاً قرآن، حدیث اور فقہ اور سیرت طیبہ، ان کا اپنا ایک مزاج ہے۔ کسی نے مجھے کہا تھا کہ یہ قرآن و حدیث اور عربی کرسیوں پر بیٹھ کر نہیں آتی اور انگریزی صفوں پر بیٹھ کر نہیں آتی۔ اس کے لیے ماحول اپنانا پڑتا ہے۔ تو دینی علوم کی خاصیت یہ ہے کہ جب تک استاد کے سامنے بیٹھ کر نہ پڑھے جائیں، یہ دل میں نہیں اترتے۔ بنیادی ضرورت عربی جاننا اور اس پر دسترس حاصل کرنا ہے اور یہ ناگزیر ہے۔ آج تک جو وقت گزر گیا، سو گزر گیا۔ جن کو گزارے کی عربی آتی تھی، ان کا کام چل رہا تھا۔ اب اگلا دور بہت کمپی ٹیشن کا دور ہے۔ اب جس کو عربی نہیں آتی، وہ سمجھے کہ وہ بالکل خالی خالی ہے اور اردو مآخذ سے اسلامیات پڑھنے کے بعد وہ اسلامیات کا اسکالر نہیں کہلا سکتا۔ آپ ایم فل میں آئے ہیں اور ایم فل کی بنیادیں تبھی مضبوط ہوں گی جب آپ عربی زبان میں مہارت پیدا کریں گے۔ اگر عربی نہیں آتی تو کوئی بات نہیں، اس کو ابھی سے سیکھنا شروع کر دیں۔ قرآن حکیم کا ترجمہ اور عربی زبان کو ملا کر اپنے آپ کو تیار کریں۔ کچھ محنت کرنے سے جب آپ کو عربی آنا شروع ہو جائے گی تو آپ کے اندر ایک کانفیڈنس ابھرے گا، انشاء اللہ۔ جن کو عربی آتی ہے، ان میں کانفیڈنس ڈیولپ ہو جاتا ہے، اعتماد پیدا ہو جاتا ہے۔ اللہ کرے جو عربی نہیں جانتے، وہ عربی سیکھ جائیں۔ بعد میں ذرا اپنا جائزہ لیں کہ اگر مجھے عربی نہ آتی ہوتی تو کیا میں عربی کے ان مآخذ سے فیض یاب ہو سکتا تھا؟
مجھے بقدر ضرورت عربی آتی ہے، میں اتنا ماہر نہیں ہوں لیکن میں کہا کرتا ہوں کہ مجھے دو چیزوں کی بڑی حسرت ہے۔ ایک یہ کہ میں نے کسی استاد کے سامنے بیٹھ کر حدیث نہیں پڑھی اور دوسرا مجھے ’’فتح الباری‘‘ (شرح صحیح البخاری) کا بہت اشتیاق ہے کہ مجھے یہ ایسے پڑھنی آجائے جیسے میرے ذہن میں ہر چیز مستحضر ہو۔ آپ جب بنیادی مآخذ سے علوم کو پڑھیں گے تو اعتماد پیدا ہوگا۔ قرآن مجید، عربی کے ساتھ ساتھ حدیث کا مطالعہ بھی شروع کریں، اگرچہ آپ ’’معارف الحدیث‘‘ سے ہی آغاز کر لیں۔ ’’بلوغ المرام‘‘ اور ’’الترغیب والترہیب‘‘ سے شروع کردیں۔ ’’مشکوٰۃ‘‘ سے شروع کردیں۔ ان کتابوں کے تراجم موجود ہیں۔ اب تو ان غیر معروف کتابوں کے بھی تراجم موجود ہیں جو پہلے اردو میں دستیاب نہیں تھیں۔ ایک وقت مختص کر لیں کہ کچھ وقت میں نے قرآن مجید اور حدیث نبوی کے مطالعے پر صرف کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نصاب بھی رکھ لیں۔ کیونکہ سیرت قرآن و حدیث کا مجموعہ ہے، اس میں صاحب قرآن کی زندگی ہے۔ ان تین چیزوں کو سامنے رکھ کر ابھی سے مطالعہ شروع کر دیں تو انشاء اللہ العزیز آپ کو کوئی دقت پیدا نہیں ہوگی اور اگر اس کے بغیر چلیں گے تو پھر خالی خالی ہی رہیں گے اور اعتماد، کانفیڈنس ڈویلپ نہیں ہوگا۔
اب میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں کہ ’’پاکستان کی یونیورسٹیوں میں قرآنیات کا مطالعہ‘‘ کس انداز میں ہو رہا ہے۔ اس وقت ہماری جامعات میں قرآن کا جو مطالعہ کیا جا رہا ہے، عموماً ہر یونیورسٹی کے اندر نصاب یکساں ہے اور اس کے نصاب میں اصول تفسیر اور قرآنیات یا تفسیر اور متن تفسیر شامل ہیں۔ اصول تفسیر میں جو مرکزی کتاب پڑھائی جاتی ہے، وہ شاہ ولی اللہؒ کی ’’الفوز الکبیر‘‘ ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے کہ اس کے بغیر اصول تفسیر کا حصہ cover ہی نہیں ہوتا۔ کتاب ایسی ہے کہ لوگ کہتے ہیں دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ شاہ ولی اللہ نے سمندر کو کوزے میں بند کیا ہوا ہے۔ یہ مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ شاہ ولی اللہؒ نے بڑی جامعیت کے ساتھ اس رسالے میں اصول تفسیر کو جمع کیا ہے اور بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو دوسرے علماء نے بیان نہیں کیں، انہوں نے اس رسالہ میں جمع کر دی ہیں۔ ایک جامع کتاب اور اصول تفسیر میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ لیکن ہمارا جو طریقہ تدریس ہے، اس میں کہیں بھی ایسا نہیں کہ ’’الفوز الکبیر‘‘ کو سبقًا سبقًاپڑھا جاتا ہو یا پڑھایا جاتا ہو۔ کتاب اتنی اہم ہے، لیکن ہمارے ہاں تدریس کا جو دورانیہ ہے، اس کے مختصر ہونے کی وجہ سے ’’الفوز الکبیر‘‘ سبقًا سبقًا نہیں پڑھائی جاتی۔ آخر میں طلبہ اس کے نوٹس کی مدد سے تیاری کر کے ایم اے پاس کر جاتے ہیں۔ ہمارا اصول تفسیر کا نصاب الفوز الکبیر کے گرد ہی گھومتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں چند سالوں سے ہم نے اس کے ساتھ امام ابن تیمیہؒ کا رسالہ اصول تفسیر بھی شامل کیا ہے۔ اسی طرح علوم القرآن پر مولانا گوہر رحمن کی کتاب بھی شامل کر دی ہے تاکہ الفوز الکبیر کے مباحث سمجھنے میں آسانی ہو۔
تاریخ تفسیر میں بھی جامعات کا نصاب تقریباً ایک جیسا ہے اور اس میں ہم آہنگی اور مماثلت پائی جاتی ہے۔ پنجاب کے علاوہ بلوچستان اور پشاور یونیورسٹیز کا نصاب ایسا ہی ہے۔ جن کتب تفاسیر کا تعارف کروایا جاتا ہے، وہ بھی ایک ہی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں چونکہ دورانیہ تھوڑا ہوتا ہے، اس لیے تاریخ تفسیر کے ضمن میں تفصیل کے ساتھ اصولی باتیں پڑھا دی جاتی ہیں اور باقی چیزیں طلبہ خود ہی تیار کرتے ہیں۔ ان کو نوٹس دے دیے جاتے ہیں یا طلبہ کہیں سے نوٹس حاصل کر لیتے ہیں۔ گویا ان دونوں دائروں، اصول تفسیر اور تاریخ تفسیر کی تدریس میں یونیورسٹیز کے نصاب اور طریقہ تدریس میں زیادہ گہرائی نہیں ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہمارے اسلامیات کے پیپرز کے انچارج کہہ رہے تھے کہ طلبہ کے اصول تفسیر اور تاریخ تفسیر کے حصے بہت کمزور ہیں۔ اس لیے کمزور ہیں کہ سارا وقت متن میں گزر جاتا ہے اور معاملہ مطالعے کے لحاظ سے اتنا گہرائی تک نہیں پہنچتا۔
متن قرآن مجید کی تدریس کے سلسلے میں، میں معافی چاہتے ہوئے تھوڑا سا تقابل کرنا چاہوں گا۔ دینی مدارس کے ساتھ اگر موازنہ کیا جائے تو دیکھنے میں یہ بات آتی ہے کہ یونیورسٹیز میں جو اسٹڈی ہوتی ہے، اس میں مطالعہ متن کے ساتھ قرآن مجید کا موضوعاتی مطالعہ بھی ہوتا ہے۔ یہ بہرحال تسلی اور اطمینان کی بات ہے کہ ہمارے ہاں آیت کی تشریح مانگی جائے یا ٹاپیکل اسٹڈی کی جائے تو دونوں صورتوں میں مطالعہ گہرا ہوتا ہے اور کوشش یہ کی جاتی ہے کہ اس میں قدیم اور جدید تمام مکاتب فکر سے طلبہ کو واقفیت حاصل ہو۔ یہاں بنیادی طور پر یہ بات آڑے آجاتی ہے کہ ہمارے اکثر طلبہ کو عربی نہیں آتی۔ اب ہم نے پنجاب یونیورسٹی میں اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ ساتھ ہی عربی کا ڈپلومہ بھی شروع کر دیا ہے اور طلبہ کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ عربی سیکھیں۔ ایم کے سال اول میں سو نمبر کا ایک پرچہ عربی کا پہلے ہی موجود ہے۔ یہ دونوں چیزیں مل جائیں گی تو امید ہے کہ اس حوالے سے کچھ بہتری آئے گی۔
پنجاب یونیورسٹی میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ تدریج کے ساتھ ہم بچوں میں عربی پڑھنے کی صلاحیت پیدا کریں اور عربی پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ عادت ڈالنے کا ایک طریقہ ہم نے یہ اختیار کیا ہے کہ امتحانی پرچہ اس انداز سے سیٹ کیا جائے کہ بچوں کو مجبورًا عربی پڑھنی پڑے۔ اس سے پہلے زیادہ سے زیادہ یہ تھا کہ خط کشیدہ الفاظ کی تشریح دے دی جاتی تھی۔ اس میں مضمون کے اعتبار سے خط کشیدہ حصے کی تشریح تو ہو جاتی تھی لیکن عربی گریمر میں مہارت نہیں جانچی جاتی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی نے اب یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ اگر بیس نمبر کا سوال ہے تو اس میں پانچ نمبر خط کشیدہ حصوں کی صرف ونحو کے اعتبار سے تشریح کے لیے مختص ہیں۔ مثلاً اس لفظ کا باب کون سا ہے، کون سا صیغہ اور مادہ ہے۔ ماضی، مضارع، امر یا نہی ہے۔ طالب علم نے یہ سب کچھ بیان کرنا ہے۔ گویا ایم اے میں اگر ساٹھ نمبر کا پرچہ ہے اور چار سوال ہیں تو ہر سوال میں عربی گریمر کے پانچ نمبر ہیں اور یہ لازم ہوگیا ہے۔ اگر بچے نے عربی گریمر کو حل نہیں کیا تو اس نے پانچ نمبر ضائع کر دیے۔ باقی پندرہ نمبروں میں ا س کی مارکنگ ہوگی۔ اس کے ساتھ ہم نے پنجاب یونیورسٹی میں یہ کیا ہے کہ علامہ وہبہ الزحیلی کی ’’التفسیر المنیر‘‘ کا منتخب متن (دو رکوع) ایم اے کے نصاب میں شامل کر دیا ہے۔ دو رکوع کے تقریباً ساٹھ ستر صفحات بن جاتے ہیں۔ اسی طرح حدیث کے پرچہ میں فتح الملہم (شرح صحیح مسلم) کی کتاب الایمان اور فتح الباری (شرح صحیح بخاری) کا منتخب حصہ بھی شامل کر دیا ہے جنھیں طلبہ عربی میں ہی پڑھیں گے اور عربی ہی میں جواب دیں گے۔ تو یہ ہم نے ایک قدم اٹھایا ہے تاکہ بچوں کو عربی پڑھنے کی طرف متوجہ کیا جائے۔
ڈاکٹر حمید اللہؒ عالم اسلام کے بہت بڑے اسکالر تھے۔ میرے علم کے مطابق وہ سات آٹھ زبانوں کے ماہر تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ ایک اسلامی اسکالر کو کم از کم بنیادی طور پر عربی اور اس کے ساتھ کم از کم ایک یورپین لینگویج آنی چاہیے۔ اس حوالے سے ہمارے پاس انگریزی ہی بچتی ہے۔ لاہور میں تو چینی زبان سیکھنے کا رجحان بھی کافی ہے۔ لوگ چینی سیکھنے کی طرف بہت جا رہے ہیں۔ ہمارے وزیر اعلیٰ نے جرمنی میں جا کر جرمن زبان میں تقریر کی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں جرمن زبان کا ایک چھوٹا سا شعبہ ہے۔ وہاں سے ہمارے استاد وزیر اعلیٰ صاحب کو پڑھانے آتے ہیں۔ ان میں اتنی استعداد پیدا ہوگئی ہے کہ انہوں نے جرمن میں گفتگو کی ہے، یہ اچھی بات ہے۔ تو انگریزی آنی چاہیے اور جب ہم انگریزی پڑھاتے ہیں یا پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ادھر سے جواب آتا ہے کہ مومنوں کو انگریزی نہیں آتی۔ یہ آنی چاہیے، اس کے بغیر ہم نہیں چل سکتے۔ ہم نے اس حوالے سے بندوبست کیا ہے اور پنجاب یونیورسٹی میں انگریزی کا بھی کچھ حصہ شامل کر دیا ہے جس کا امتحان پاس کرنا طلبہ کے لیے ضروری ہوگا، لیکن ہوگا نان کریڈٹ، یعنی رزلٹ میں شامل نہیں ہوگا۔
ہماری یونیورسٹیز میں قرآنیات کا جو مطالعہ ہو رہا ہے، وہ ایک حوالے سے ہمارے لیے اطمینان بخش ہے اور ایک اعتبار سے پریشان کن ہے۔ اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ ہمارا ٹیچر جب کلاس کے اندر لیکچر دیتا ہے تو وہ پانچ سات تفسیریں پڑھ کر آتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ عربی گریمر کا حصہ ہم نے ہر سوال کے اندر لازم کر دیا ہے۔ اسی طرح پہلے ہمارے ہاں موضوعاتی مطالعے پر مبنی سوالات ہوتے تھے۔ اب ہم نے لازم کر دیا ہے کہ ٹاپیکل اسٹڈی والا سوال نہیں آیا کرے گا۔ مثلاً ’’سورہ نحل کی روشنی میں توحید کے دلائل بیان کیجیے‘‘، یہ سوال نہیں آئے گا بلکہ آیت دی جائے گی اور طالب علم نے یہ تلاش کرنا ہے کہ اس آیت کے اندر کون کون سے سوال ہیں؟ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک آیت میں ایک سے زیادہ موضوعات ہوں۔ بہرحال ہمارے سسٹم میں بظاہر جو اطمینان کا پہلو ہے، وہ یہ ہے کہ ہمارا استاد اگر ایک آیت کی تفسیر کرتا ہے تو پانچ چھ تفسیریں اس نے پڑھی ہوتی ہیں اور اس کے مطابق وہ طلبہ کو پڑھاتا ہے۔ بچوں سے نوٹس بھی تیار کرواتا ہے اور بعض اوقات بچوں کے پاس پہلے سے نوٹس موجود ہوتے ہیں۔ تو اس حوالے سے متن والا سوال خاصا وزنی ہو جاتا ہے۔ اگر میں موازنہ کروں دینی مدارس سے تو ان کا اپنا ایک انداز ہے، ہمارا اپنا انداز ہے۔ یہاں طالب علم کو چار پانچ تفسیروں کا بہرحال علم ہوجاتا ہے کہ مولانا مودودیؒ نے آیت کے بارے میں کیا لکھا ہے؟ بلکہ جب پیپر مارکنگ ہوتی ہے تو اس کے اندر ایک طالب علم جو ترجیحی نمبر حاصل کرتا ہے تو اس میں ایک پوائنٹ یہ بھی ہوتا ہے کہ طالب علم نے کتنی تفاسیر کے ریفرنس دیے ہیں۔ مثلاً مولانا مودودیؒ اس آیت کے بارے میں یہ لکھتے ہیں۔ مفتی محمد شفیعؒ (مصنف معارف القرآن) یہ لکھتے ہیں۔ پیر کرم شاہ (مصنف تفسیر ضیاء القرآن) یہ لکھتے ہیں۔
میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ تقریباً تمام جامعات کے اندر یہ بات موجود ہے اور مجھے اس بات کا مشاہدہ ہے کہ مطالعہ قرآن میں کسی مسلکی رجحان کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ ہمارے ایسے ساتھی موجود ہیں جو پنجاب یونیورسٹی میں پڑھ کر آئے۔ وہ جہاں مولانا مودودیؒ کے حوالے دیتے ہیں، وہاں وہ مفتی محمد شفیعؒ کے حوالے بھی دیتے ہیں۔ جہاں پیر کرم شاہ صاحبؒ کے حوالے ہوتے ہیں، وہاں مولانا امین احسن اصلاحیؒ کے حوالے بھی ہوتے ہیں۔ تو ہمارے ہاں مسلکی رجحانات سے بالاتر ہو کر جو چیز جہاں سے بھی ملتی ہے اور جس صحیح لٹریچر میں سے ہمیں کوئی چیز ملتی ہے، ہم طلبہ کو اس کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یونیورسٹیز میں متن قرآن کے حوالے سے یہ بڑی حوصلہ افزا چیز ہے کہ اللہ کے فضل سے بڑی مفید اسٹڈی ہوتی ہے۔ اگرچہ وہاں بحث و تمحیص تو نہیں ہوتی، مثلاً یہ مسئلہ کیسے پیدا ہوا، فلاں نے کیا کہا، فلاں نے کیا کہا، اور ان کے کیا دلائل ہیں۔ ایم اے کی سطح پر یہ بات نہیں ہو پاتی، بلکہ کسی کی رائے کا حوالہ دینے اور بیان کرنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔ دلائل کی سطح پر تقابل کرنا، یہ ایم اے کی سطح پر نہیں ہو پاتا۔ اس حوالے سے یہ ہمارے مطالعہ قرآن کا بہت مثبت پہلو ہے۔ وسیع المشربی کا مطلب ہے کہ جہاں کہیں بھی کوئی مفید بات ملتی ہے، ہر ایک سے استفادہ کرنا۔ آپ دیکھیے کہ بظاہر کتنا فرق ہے کہ ایک طرف پیر کرم شاہ بریلوی مکتبہ فکر کے ہیں، مولانا مفتی شفیع دیوبندی مسلک کے ہیں، مولانا امین احسن اصلاحی، ان کا الگ تفسیری مکتبہ فکر ہے، لیکن ہمارے ہاں ان سب سے استفادہ کیا جاتا ہے۔
ایک دفعہ میں نے کلاس میں طلبہ کو ’’تدبر قرآن‘‘ پڑھنے سے منع کیا کہ ان کو نہ پڑھنا۔ فوراً ایک طالب علم بولا کہ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں نے کہا کہ پہلے میری وضاحت سن لیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی کا تفسیر کا اپنا ایک انداز ہے اور ان کا اپنا تفسیری مسلک ہے۔ میں کہتا ہوں کہ پہلے اپنے اسلاف کا نقطہ نگاہ پڑھ لیجیے! کوئی بندہ عالم نہیں بن سکتا جب تک ’’تدبر قرآن‘‘ نہ پڑھ لے، لیکن ’’تدبر قرآن‘‘ پڑھنے کے لیے ایک علمی سطح چاہیے۔ اگر ہر بندہ اسے براہ راست پڑھے گا تو ہو سکتا ہے، کئی چیزیں اس کے ذہن میں نہ آسکیں۔ لیکن جب آپ تھوڑا سا علمی سطح پر اوپر چلے جائیں گے تو پھر آپ کہیں گے کہ اس تفسیر کے بغیر میں عالم بن ہی نہیں سکتا۔ اس تفسیر کا اپنا ایک مقام ہے۔ تو یونیورسٹی میں ان تمام مکاتب فکر کی تفسیر سے استفادہ کیا جاتا ہے اور کھلے دل سے لوگوں کو سب کچھ سمجھایا جاتا ہے، بشرطیکہ راست فکر کاحامل ہو۔
بہرحال ہم نے یہ کیا ہے کہ کچھ تفسیریں مختص کر دی ہیں کہ فلاں سورت اس تفسیر کی روشنی میں اور فلاں اس تفسیر کی روشنی میں پڑھنی ہے اور کوشش کر رہے ہیں کہ بچے کو سوال دیا جائے کہ فلاں آیت کی تفسیر ’’التفسیر المنیر‘‘ کی روشنی میں یا معارف القرآن کی روشنی میں کرو۔ اس طرح طالب علم متعلقہ تفسیر پڑھنے پر مجبور ہوگا۔ ایک قدم ہم نے یہ اٹھایا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے اندر چار شعبے اسپیشلائزیشن کے رکھے ہیں۔ ان میں قرآن میں سپیشلائزیشن کا شعبہ ہے۔ اسی طرح فقہ، مطالعہ مذاہب عالم اور حدیث اور سیرت کے شعبے ہیں۔ ایم اے کے دس پرچے ہیں۔ طالب علم کو مذکورہ مضامین میں سے کسی ایک مضمون میں اسپیشلائزیشن کے تین پرچے پڑھنے پڑیں گے۔ اس طرح ہماری یونیورسٹیز میں قرآنیات کی تعلیم مزید پروموٹ ہوگی اور مزید بہتری آئے گی۔ اسی طرح کئی اور پہلووں سے بھی مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ حال ہی میں ہم نے چھ دن کی ورکشاپ کی ہے اور اس میں بہت ساری چیزیں سامنے آئی ہیں۔ اساتذہ مل بیٹھ کر قرآن مجید کے نصابات میں جو عصری تقاضے ہیں، سب سے پہلے ان کا تعین کریں کہ ہم نے بچوں کے سامنے کیا کیا چیزیں لانی ہیں، کن کن چیزوں سے بچوں کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔ یہ اساتذہ پہلے بیٹھیں، نکات متعین کریں، پھر اس پر ڈسکس کریں کہ بچوں کو ان موضوعات پر کیسے علم دینا ہے اور اس پر فیڈ بیک دیں اور جب تک ہم فیڈ بیک کا نظام نہیں بنائیں گے تو اس وقت تک یہ ممکن نہیں کہ ہم اچھے نتائج حاصل کر سکیں۔
مثبت پہلووں کے ساتھ ہمیںیونیورسٹیز میں کچھ مسائل کا بھی سامنا ہے۔ مثلاً ایک بہت بڑا مسئلہ طلبہ کے اندر علمی استعداد و صلاحیت پیدا کرنے اور جو وہ پڑھیں، اسے ان کے دماغ میں محفوظ کرنے کا ہے۔ یہ سب کچھ پڑھنے کے بعد ایم اے پاس طالب علم کی لیاقت میں کیا اضافہ ہوتا ہے؟ یہ ہمارے لیے ایک سوال ہے کہ آخر وہ علم جو ہم یونیورسٹیز کے اندر انہیں پڑھاتے ہیں، ان کے ذہنوں میں محفوظ کیوں نہیں ہوتا؟ دینی مدارس میں ایک خاص ماحول ہوتا ہے۔ اس ماحول میں بچے پہلے سے مطالعہ کر کے جاتے ہیں۔ پھر استاد سبق دیتا ہے، پھر وہ سبق کا آپس میں مذاکرہ یعنی تکرار کرتے ہیں تو اس سے چیزیں ذہن نشین ہو جاتی ہیں۔ طلبہ ایک دوسرے سے سنتے ہیں، میں پڑھ رہا ہوں باقی سن رہے ہیں تو اس سے بھی ذہنوں میں چیز محفوظ ہوتی ہے۔ کالجز اور یونیورسٹیز کے اندر یہ چیز موجود نہیں۔ اگر قرآن مجید پکڑا ہے تو وضو کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ اگر وضو کے چکر میں پڑے تو کلاس رہ جائے گی۔ ادب و احترام ملحوظ نہیں۔ میں نے پہلے بھی کہا کہ صفوں پر بیٹھ کر دین آتا ہے اور دین سیکھنے کے کچھ ضروری آداب بھی ہیں۔ یہ سب چیزیں ہوں گی، تب دین کا علم آئے گا ورنہ یہ ساری باتیں اوپر سے گزر جائیں گی۔ یونیورسٹی میں وہ ماحول ہی نہیں ہوتا جو دین کا علم سیکھنے کے لیے ضروری ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے ذہن میں مطالعہ کا مقصد صرف یہی ہے کہ امتحان میں نمبر کیسے لینے ہیں۔ ہم ہدایت لینے یا علم کے حصول کے لیے نہیں پڑھتے۔ ایک چیز ادھر سے سنی اور ادھر سے نکال دی۔ تو نہ ماحول ہوتا ہے اور نہ ہی اعلیٰ مقاصد ہوتے ہیں۔ طلبہ میں قرآنیات اور دیگر علوم کے حوالے سے خود مطالعہ کرنے کا ذوق نہیں ہوتا۔ نوٹس نہیں بنا سکتے، پرانے نوٹس سالہا سال سے چل رہے ہیں۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے پاس کس سال کے نوٹس ہیں؟ چونکہ طلبہ کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا اور انہیں بہت سے کام ہوتے ہیں، لہٰذا زیادہ تر طالبات کے تیار کردہ نوٹس ہی چلتے ہیں۔ ہم اندازہ کر لیتے ہیں کہ ان نوٹس کی کتنے سال عمر ہوگئی ہے، وہی چلتے رہتے ہیں۔ اصل کتابوں اور مآخذ سے پڑھنا مشکل ہے۔
ایم فل، پی ایچ ڈی میں یوں سمجھنا چاہیے کہ طالب علموں کے پاس موضوع سے متعلق علم موجود ہے اور اب انھوں نے اس علم کا عملی انطباق کرنا ہے۔ میں ایم فل کو علوم القرآن پڑھاتا ہوں اور میرا اپنا پڑھانے کا طریقہ یہ ہے کہ میں ’’الفوز الکبیر‘‘ کو بنیاد بنا لیتا ہوں۔ ایک تو یہ بڑی بنیادی کتاب ہے، دوسرا ان بچوں نے ایم اے میں اس کو پڑھا بھی ہوا ہے۔ اسی طرح مولانا گوہر الرحمن کی کتاب علوم القرآن بھی آگئی ہے، اس کے اندر بہت زیادہ معلومات ہیں۔ اسی طرح علوم القران پر مولانا مالک کاندھلویؒ اور مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کی کتابیں ہیں تو میں نے ان کتابوں کو سامنے رکھ کر تیاری کرتا ہوں۔ مثال کے طور پر اسباب نزول کی جو بحث ہے، اس میں ایک تو روایتی انداز ہے کہ ان لوگوں نے اسباب نزول بیان کیے ہیں۔ اسباب نزول کی اہمیت کیا ہے؟ ان کی اہمیت تفسیر قرآن میں کیا ہے؟ یہ تو ایک روایتی سوال ہے۔ میں اس میں یوں سوال کرتا ہوں کہ مولانا اصلاحی فرماتے ہیں کہ بہت سارے تفسیری اختلافات محض اس لیے پیدا ہوگئے ہیں کہ لوگوں نے اسباب نزول کا التزام کیا، لہٰذا کمزور اور ضعیف روایتیں لے لیں۔ مفسرین نے ہر آیت کی تفسیر میں اس کے شان نزول کی روایتیں لانا شروع کر دیں، لہٰذا کمزور روایتیں بھی شان نزول میں شامل ہوگئیں۔ تو میں طلبہ کو یہ اسائنمنٹ دیتا ہوں کہ آپ وہ مقامات تلاش کریں جہاں کمزور روایتیں داخل ہونے کی وجہ سے تفسیری اختلافات پیدا ہوگئے۔ ساتھ ہی مولانا اصلاحیؒ یہ فرماتے ہیں اور بہت سے مقامات پر مولانا نے صحیح فرمایا ہے کہ اگر نظم قرآن کو بنیاد بنایا جائے تو بہت سے تفسیری اختلافات ختم ہو سکتے ہیں۔ میں طلبہ میں یہ کام تقسیم کر دیتا ہوں کہ پانچ، پانچ مقامات تلاش کر کے لائیں جہاں تفسیری اختلافات تھے اور نظم قرآن کی وجہ سے وہ اختلافات ختم ہوگئے۔
اسی طرح نسخ کی بحث ہے۔ طلبہ نے اس پر بہت کچھ پڑھ رکھا ہے۔ اس کو بھی مستحضر رکھیں، لیکن اس سطح پر اپنے مطالعہ میں نئے پہلووں کو بھی شامل کریں۔ نئی بات یہ ہے کہ قرآن مجید کے موجودہ نسخہ میں کوئی ناسخ ہے، نہ منسوخ ہے، یہ قرآن مجید بالکل سُچا ہے۔ یہ کس کا نقطہ نگاہ ہے اور اس کے دلائل کیا ہیں؟ میں نے ایک جگہ یہ بات کی کہ اس موجودہ قرآن میں نہ کوئی ناسخ ہے اور نہ ہی منسوخ ہے تو مجھے کہا گیا کہ یہ تو معتزلہ کا نظریہ ہے۔ پوری امت میں واحد شخص ابو مسلم اصفہانی ہے جس نے یہ نقطہ نگاہ اختیار کیا۔ میں نے کہا کہ مجھے معتزلی نہ بنا دینا، میں اپنی بات کی وضاحت کردوں گا۔ تو علمی مباحث میں یہ بھی ڈر ہوتا ہے کہ اگر میں نے فلاں موقف اختیار کیا تو مجھ پر کوئی فتویٰ نہ لگ جائے۔ میں نے طلبہ کو مولانا سعید احمد اکبر آبادی کی کتاب فہم قرآن اور اسی طرح دوسری کتابیں پڑھائیں تو ان کا ذہن کھلا اور وہ اس سوال کو وسعت نظری کے ساتھ سمجھنے کے قابل ہوئے۔ بہرحال طلبہ کو اپنا مطالعہ وسیع کرنے پر مجبور کیا جائے۔ جب تک آپ خود مطالعہ نہیں کریں گے، کوئی قابل سے قابل استاد بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
آخر میں، میں آپ کا پھر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے اپنی معروضات پیش کرنے کا موقع اور اعزاز دیا۔
نواب صدیق حسن خاں بھوپالی اور ان کی علمی خدمات
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
(خود نوشت ’ابقاء المنن بالقاء المحن‘ کے خصوصی حوالے سے)
نواب صدیق حسن خان سادات قنوج سے تعلق رکھتے ہیں، وہ حسینی سید ہیں (۱) اور ان کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ 33نفوس کا واسطہ ہے۔(۲) یہ خاندان بلادعرب سے ایران کے راستہ ملتان آیا اور وہاں سے اس کی شاخیں دہلی، حیدرآباد اور اودھ منتقل ہوئیں۔ اس خاندان میں متعدد لوگ ائمہ، صلحاء، اولیاء ہونے کے علاوہ دنیوی ثروت ووجاہت سے مالامال ہوئے ہیں۔ (۳) صدیق حسن خان کے والد ماجد سیداولادحسن تھے، جو شیعیت سے تائب ہوکر سنی ہوئے، اور دہلی آکر شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالعزیز سے اکتساب فیض کیا۔ انہوں نے شاہ عبدالعزیز کے ممتاز خلیفہ اور مجاہد کبیرسیداحمدشہید ؒ کے ہاتھ پر بیعت کی اور قنوج اور اس کے اطراف میں ہزارہا آدمی ان کی تبلیغی و اصلاحی کوششوں سے مشرف بہ اسلام ہوئے۔
نواب صدیق حسن خان 19جمادی الاولیٰ 1248ھ مطابق 1832ء کو اپنے نانیہال بانس بریلی میں پیداہوئے، پھر ان کی والدہ انہیں قنوج لے کر آئیں۔ صدیق حسن خان ابھی چار پانچ برس کے ہی تھے کہ 1253ھ میں ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ والدہ محترمہ اور والد کے بعض مریدوں کی سرپرستی میں صدیق حسن نے تعلیم وتربیت اور نشوونما پائی۔ والدہ نے ایک معلم کا انتظام گھر میں کیا۔ والد کا کتب خانہ موجودتھا۔ ان کے بڑے بھائی احمد حسن عرشی بھی بڑے لائق فائق اور ذہین تھے۔ صدیق حسن نے ان سے بھی چند کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد فرخ آباد کانپور اور بریلی میں مختلف علماء سے استفادہ کیا اور مواعظ واصلاحی مجالس میں شریک رہنے لگے۔ اس کے بعد دہلی گئے جہاں مختلف علماء سے اخذ علم کیا، بطور خاص صدرالافاضل مفتی محمد صدرالدین آزردہ سے علوم آلیہ کے علاوہ تفسیر وفقہ کی کتابیں پڑھیں۔ دہلی کے علماء ومشاہیر کی زیارت کی اور زیادہ تر اوقات علماء، عقلاء، امراء اور صلحاء کی تربیت میں گزرے۔ نوجوان صدیق حسن کھیل کود، لہوولعب وغیرہ میں کبھی وقت ضائع نہیں کرتے تھے،کیونکہ ان کی والدہ محترمہ ننے بچپن میں بہت ہی اہتمام کے ساتھ ان کی دینی واخلاقی تربیت کی تھی۔(۴)
مفتی صدرالدین آزردہ نے انہیں فراغت کی سند دی، وہاں سے بھوپال آئے، جہاں فقہ الحدیث اور صحاح ستہ کی سند شیخ زین العارفین بن محسن یمانی اور شیخ محمدحسین سے پائی۔ انہوں نے تلمیذشوکانی مولانا عبدالحق نیوتنوی سے بھی اجازت حدیث لی۔ اسی طرح خانوادہ ولی اللٰہی کی سند (بذریعہ مراسلت) مولانا محمدیعقوب نواسہ شاہ عبدالعزیز سے حاصل کی ۔جوانی میں ہی صدیق حسن کو تفسیر وحدیث سے خصوصی شغف پیداہوگیا جو تاحیات برقرار رہا۔
کارگاہ حیات میں
1850ء میں نوجوان صدیق حسن تلاش معاش میں بھوپال آئے۔ وہاں کے مدارالمہام منشی جمال الدین کے ذریعہ تاریخ بھوپال کی تدوین کے لیے آپ کا تقرر ہوا، تاہم جلد ہی اس ملازمت کو چھوڑنا پڑگیا۔ اب وہاں سے ٹونک گئے اور کافی عرصہ وہاں گزرا مگر وہاں کی فضا بھی زیادہ راس نہ آئی۔ اسی اثناء میں نواب بھوپال کا دعوت نامہ پھرملا، اور اب کی اچھے منصب پر تقرر ہوا۔ حتی کہ مدارالمہام نے ، جو صدیق حسن خاں کے ہم مشرب بھی تھے، اپنی صاحبزادی ذکیہ بیگم کا نکاح بھی آپ سے کردیا۔ 1285ھ میں صدیق حسن خان حج بیت کے سفرپر روانہ ہوئے۔ آٹھ مہینے کا یہ سفر ان کے لیے علمی لحاظ سے بڑا مبارک ثابت ہوا۔ حجاز کے علماء سے استفادہ کے علاوہ صاحب سبل السلام علامہ محمد بن اسماعیل الصنعانی کے 25رسالے اپنے ہاتھ سے نقل کرلیے اور متعدد بلند پایہ علمی کتابیں خریدیں۔ صدیق حسن اپنی گراں قدر خدمات کے باعث ارباب حکومت کی نظرمیں پسندیدہ ٹھہرے۔وہ ملکہ بھوپال شاہ جہاں بیگم کے دفتر خاص میں کاغذات وغیرہ پیش کرنے کے سلسلہ میں برابر آتے جاتے رہتے تھے۔ اللہ نے ملکہ کے دل میں آپ کی محبت ڈال دی۔ چونکہ وہ بیوہ تھیں، ان کے شوہر نواب باقی محمد خان کا چندسال پہلے ہی انتقال ہواتھا، اس لیے برطانوی حکومت کی تجویز پر انہوں نے عقدثانی کا ارادہ کرلیا۔ صدیق حسن خان کے علمی مرتبہ، علونسب اور استقامت کردار پر پورے بھروسہ کے بعد انہوں نے 1871ء میں ان سے نکاح کرلیا ،بعد ازاں بیگم صاحبہ کی جانب سے انہیں پچاس ہزار روپے سالانہ آمدنی والی جائداد عطاہوئی۔(۵)
نواب صدیق حسن خان نے ملکہ کے تعاون سے مملکت میں اہم اصلاحات کیں، نفاذ شریعت، علوم کی نشرواشاعت اور بدعات کے خاتمہ کے لیے اہم اقدامات کیے۔پورے 15سال نواب صاحب نے مملکت اور عوام کی دل وجان اور پورے اخلاص کے ساتھ خدمت کی مگر ’’المعاصرۃ اصل المنافرہ‘‘ کے تحت ان کے بہت سے دشمن اور حاسدین بھی پیداہوگئے۔ خاص قرابت داروں میں بھی بعض نے سخت مخالفت کی مثلاً ان کی سوتیلی بیٹی اور ولیۂ عہد سلطان جہاں بیگم بھی ان کے خلاف ہوگئیں، حالانکہ نواب صدیق حسن تاحیات ان سے حقیقی باپ جیسا مشفقانہ برتاؤ کرتے رہے۔ ان کی شکایات انگریز سرکارتک بھی پہنچائی گئیں۔ چنانچہ دشمنوں کی ان ریشہ دوانیوں اور سازشوں کے باعث نواب صاحب کے اختیارات، اعزازات اور القاب واپس لے لیے گئے اور تین سال تک سخت تکلیف اور کوفت کے عالم میں گزرے۔ (۶) تاہم علمی انہماک اور مطالعہ وغیرہ اس مدت میں بھی جاری رکھا۔ البتہ ان کی اہلیہ محترمہ رئیسہ بھوپال شاہجہاں بیگم نے ان کاپورا ساتھ دیا اور پوری وفاشعاری کا ثبوت دیا۔ اسی عالم میں 1307ھ مطابق 1890ء کو نواب صاحب نے دنیا کو خیربادکہا۔ وفات کے کچھ ہی دن بعد ان پر لگے الزامات غلط ثابت ہوئے اور ان کے القاب واعزازات بھی پسِ مرگ واپس کردیے گئے۔
علمی خدمات
علامہ نواب صدیق حسن خان بھوپالی ہندوستان کے ان چند علماء کبار میں سے ہیں، جن سے پورا عالم اسلام واقف ہے۔ وہ ایک نابغۂ روزگار تھے جنہیں جملہ علوم اسلامیہ میں کامل عبور حاصل تھا، لیکن ان کے تخصص کے موضوعات قرآن، علوم القرآن، سنت، فقہ الحدیث اور تصوف تھے۔ انہوں نے کم وبیش 200سے زائد چھوٹے بڑے رسائل اور اصلاحی وعلمی اور تحقیقی کتابیں تالیف کیں جن میں ان کی طبع زاد کم اور تلخیص، تدوین ایڈیٹنگ اور Compilation زیادہ ہے۔ ان میں سے متعدد کتابیں اب مختلف عرب ممالک بطور خاص مملکت قطرسے نہایت آب وتاب کے ساتھ شائع ہوگئی ہیں۔ نواب صدیق حسن کی علمی جلالتِ قدر کے لیے یہ بات کافی ہے کہ علامہ شوکانی کے رسالہ دُرَرِ بہیہ کی ان کی شرح الروضۃ الندیۃ کا محدث عصر علامہ ناصرالدین البانیؒ منجملہ دوسری کتب کے، درس دیا کرتے تھے۔ (۷) متاخرین میں برصغیر کے جن چند بڑے علماء سے عالم عرب بخوبی واقف ہے، نواب صاحب کا شمار انہیں علماء میں ہوتاہے۔
عربی زبان میں ان کی حیات و خدمات پر پروفیسر اجتباء ندوی مرحوم نے ایک وقیع کام کیاہے جنہیں اس کام کی تحریک شیخ البانیؒ کے درس میں شرکت سے ملی تھی۔ (۸) نواب صاحب کا بہت بڑا امتیاز یہ ہے کہ برصغیر راست رجوع الی القرآن والسنۃ کی جس فکروتحریک کے اصول ومبادی حضرت امام ولی اللہ الدہلویؒ نے وضع کیے تھے (اپنی متعدد تالیفات خاص کر حجۃ اللہ البالغۃ، القول الجمیل اور الانصاف فی بیان سبب الاختلاف میں)مذاہب فقہ اربعہ میں سے کسی مذہب کی پابندی نہ کرنے اور ائمہ فقہ میں کسی معین امام کی تقلید جامد کے غیرضروری ہونے کے نظریات کی اشاعت میں نواب صدیق حسن نے خوب حصہ لیا اور اس راہ کی تمام پریشانیوں اور فتنوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔
صدیق حسن خان کو بچپن سے ہی پڑھنے اور مطالعہ کا شوق دامن گیرتھا، چنانچہ عربی واسلامی کتب متداولہ اور اسلامی علوم وفنون کی اساتذہ سے باقاعدہ تحصیل کے ساتھ ہی خارجی مطالعہ جاری رکھا۔ اپنی طالب علمی کے زمانہ کے بارے میں رقم طراز ہیں:
’’اس زمانہ میں ہرکتاب کے دیکھنے اور سمجھنے کا شوق دامن گیررہتاتھا، حتیٰ کہ شعروداستان کی بھی کوئی کتاب خواہ نظم ہو یا نثر ایسی نہیں جس کا ایک بار اول سے آخرتک مطالعہ نہ کیاہو، حتیٰ کہ فسانہ عجائب، مثنوی، میرتقی میر، شعراء ہند کے دواوین، شعراء فارسی کے متداول فارسی دواوین، مثنوی غنیمت زلیخا، سکندر نامہ ابوالفضل، توقیعات اور سہ نثرظہوری وغیرہ کا بھی مطالعہ کیا‘‘۔ (۹)
اسی خارجی مطالعہ کے شوق نے نواب صاحب کو امام محمد بن علی الشوکانی، (جوان کے سب سے محبوب مصنف ہیں) شاہ ولی اللہ الدہلویؒ ،محمد بن اسماعیل الامیر الصنعانیؒ ، امام ابن تیمیہؒ اور ابن القیم الجوزیہ وغیرہ کی کتب اور علوم سے استفادہ تک پہنچادیا۔ اس چیز کی اہمیت اس وقت معلوم ہوگی جب یہ ذہن میں رہے کہ یہ متاخرین علماء صاحب نظر اور مجتہد علماء ہیں۔ ان میں کوئی بھی مقلد جامد نہیں، اور برصغیر میں اس وقت ان علماء کے علوم غیرمتداول، کتابیں نایاب اور ان کے اجتہادات وتحقیقات سے عدم اعتنائی وتغافل کیشی کا رویہ تھا۔ علامہ ابن تیمیہؒ اور ان کے علوم سے استفادہ بھی اولاً شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے شروع کیاتھا اور ان سے برصغیر کو روشناس کرایاتھا۔ پھر نواب صدیق حسن نے اس فکرکوعام کیا۔
نواب صدیق حسن خان کا سب سے بڑا کارنامہ علوم کتاب وسنت کی اشاعت ہے۔ چنانچہ جب بھوپال میں انہوں نے کاروبار سلطنت سنبھالا تو دوسرے صیغوں میں اصلاحات کے ساتھ ہی اس شعبہ پر بھی بہت توجہ کی ۔ممتاز ائمہ اور علماء اسلام کی کتابیں بیرونی ممالک سے منگوائیں، انہیں شائع کیا۔ خود لکھتے ہیں:
’’میرااکثرمال علوم کتاب وسنت کی اشاعت میں صرف ہواہے۔ میں نے ہرکتاب کو ایک ہزار کی تعداد میں طبع کراکر قریب وبعید کے تمام ممالک میں تقسیم کرایاہے۔ اگرچہ ان پر ہزاروں روپے صرف ہوئے ہیں تاہم کبھی کسی کتاب کی قیمت وصول نہیں کی‘‘۔ (۱۰)
فتح الباری (مکمل) ہندمیں دستیاب نہ تھی، نواب صاحب نے جدہ سے 600روپے میں ابن علان کا قلمی نسخہ خریدلیا اور پھر اس کو مطبع بولاق مصر سے شائع کرادیا، جس پر 50ہزار روپے کا صرفہ آیا۔ اسی طرح انہوں نے تفسیر ابن کثیر کو فتح البیان کے ساتھ شائع کرایا۔ (۱۱)
نواب صاحب نے علامہ ابن حجرعسقلانیؒ ، علامہ ذہبیؒ ، امام شعرانیؒ ، امام منذریؒ ، سفارینیؒ ، حافظ ابن تیمیہؒ ان کے تلمیذ رشید حافظ ابن القیمؒ ، ابن رجب حنبلیؒ ، ابن الجوزیؒ ، سیوطیؒ ، سید محمدبن اسماعیل الامیر الصنعانیؒ ، قاضی محمدبن علی الشوکانیؒ کی تالیفات لاکھوں روپے صرف کرکے منگوائیں، ان کی اشاعت کی اور ان سے استفادہ کو عام کیا، حالانکہ ان میں سے اکثر برصغیر میں متداول نہ تھیں بلکہ عنقائے مغرب کی طرح نایاب ومفقود تھیں۔ (۱۲)
اس کے علاوہ نواب صدیق حسن نے ان میں سے بہت سی کتابوں کے قلمی نسخے یاخود مصنف کے قلم سے لکھے گئے مخطوطے جمع کرلیے خاص کر ابن حجرؒ ، شوکانیؒ اور امیر الصنعانیؒ کی کتابیں، بعض ایسی کتابیں بھی نواب صاحب کے کتب خانہ کی زینت بنیں جن کے سو، دوسو، تین سو، چار سو حتی کہ چھ سات سو اور آٹھ سو برس کے قدیم نسخے بھی تھے۔ ان کے کتب خانہ میں ہزاروں کتابیں جمع ہوگئی تھیں اور ان کا فیض عام ہورہاتھا۔(۱۳)
عرب ممالک میں نواب صاحب کے بہت سے معاونین اسی مقصد پرمامور ومتعین تھے، ان کا کام یہ تھاکہ وہ دیارعرب کے کونہ کونہ کتابیں تلاش کرکے ان کی خدمت میں بھیجتے رہتے تھے۔ (۱۴)
اپنی خودنوشت سوانح عمری ’ابقاء المنن بالقاء المحن‘ میں نواب صاحب نے علوم کی مختلف شاخوں اور فروع میں اپنی پسندیدہ کتابوں کی مختصر سی فہرست بھی دی ہے، جس سے ان کے بلند علمی ذوق، وسعتِ مطالعہ، دراکی، سرعت فہم، قوت اخذ اور تجزیہ کی قوت کا پتہ چلتاہے۔ اس فہرست میں انہوں نے بالترتیب مواعظ میں احیاء علوم الدین للغزالی کو، شروح حدیث میں فتح الباری لحافظ ابن حجرکو، فقہ السنۃ میں قاضی محمد بن علی الشوکانیؒ کی نیل الاوطار، السیل الجرار، وبل الغمام اور اپنی کتاب مسک الختام کو نیز فتح العلام (ان کے صاحب زادہ نور الحسن کی تصنیف) اور اپنی کتاب الروضۃ الندیۃ کو، تفسیرمیں ابن کثیر، فتح القدیر اپنی کتابوں فتح البیان اور ترجمان القرآن کو ،تذکرہ میں طبقات الصوفیۃ شعرانیؒ کو، نیز شعرانی ہی کی لطائف المنن کو اور تراجم میں ابن حجرکی الدررالکامنۃ، شوکانی کی البدر الطالع اور اپنی کتاب التاج المکلل کو بہترین کتاب قراردیاہے۔ (۱۵)
مسلک وفکری منہج
کسی باوثوق ذریعہ سے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ عبادات وغیرہ میں نواب صاحب مسلک محدثین پر عمل پیراتھے یا فقہ حنفی کے مطابق عمل کیاکرتے تھے۔ تاہم اپنے فکری منہج کے بارے میں نواب صدیق حسن کا ذہن بالکل صاف تھا، انہوں نے صراحت سے لکھاہے کہ ’’میں تو مشہوراہل الحدیث ہوں اور تقویۃ الایمان ورسائل توحید کا پابندہوں‘‘۔ (۱۶)
مسئلہ تقلید کے سلسلہ میں انہوں نے بہت کچھ لکھاہے اور کبھی بھی جادۂ اعتدال نہیں چھوڑا۔ ان کے نزدیک کتاب وسنت مذمت تقلید جامد سے بھرے پڑے ہیں، تاہم ایک عامی اور مقلد جاہل تقلید کرسکتاہے۔جو قرآن وحدیث کے دلائل نہ جاننے کی بناپر ان پر براہ راست عمل نہیں کرسکتا اور کتب فقہ سے بھی منتفع نہیں ہوسکتا بشرط یہ کہ وہ کسی امام کے مذہب پر بالکل اس طرح نہ جم جائے کہ بس اسی کو حق سمجھے کیوں کہ اس طرح کی تقلید سلف سے ثابت نہیں..... تمام دنیا بھی دلیل کے خلاف کہتی رہے تو کہتی رہے معترض پر اس کا جواب واجب نہیں ہوگا۔ (۱۷)
نواب صاحب نے میزان شعرانی کا قول نقل کرکے لکھاکہ ’’فقہاء کا مسائل میں اختلاف تشدید وتخفیف پرمحمول ہے اور سوئے ظن کی بنسبت سب کے ساتھ حسنِ ظن رکھنا سلامتی کا راستہ ہے۔ (۱۸)
مزید لکھتے ہیں:
’’میں صرف اہل سنت کو فرقہ ناجیہ سمجھتاہوں، شافعی، مالکی، حنبلی، ظاہری اہل الحدیث اور اہل سلوک میں سے کسی کے متعلق گمان بدنہیں رکھتا۔ مجھے معلوم ہے کہ ان میں سے ہر گروہ کے کچھ مسائل خلاف دلائل ہیں اور کچھ موافق نصوص، ان کے بعض فتاویٰ صحیح اور بعض ضعیف ومردود ہیں لیکن حکم اکثر کے مطابق ہوتاہے اقل کے مطابق نہیں۔‘‘ (۱۹)
نواب صدیق حسن خاں کے نزدیک ائمہ سلف پر مخالفت سنت کا طعن کرنا انصاف کا خون بہانا ہے، البتہ ان کے جو مقلد کتاب وسنت کے دلائل واضح ہوجانے کے بعد بھی ان کی محض رائے کی تقلید پر جمے ہوئے ہیں وہ ان کوغلطی پر توسمجھتے ہیں گمراہ نہیں۔ (۲۰)
ان کے نزدیک عبادات ومعاملات میں اہل علم کا اختلاف کفرواسلام کا اختلاف نہیں زیادہ سے زیادہ اسے اجتہاد یا فہم کی غلطی سے تعبیر کیاجاسکتاہے، البتہ اصول دین میں ان کا اختلاف غالباً کفرتک لے جاتاہے اور اسلام میں متعدد گمراہ فرقے اصول وعقائد میں اختلاف کے سبب ہی ہوتے ہیں۔ (۲۱) وہ لکھتے ہیں:
’’میں نے کسی کتاب میں بھی مقلدین مذاہب کے حق میں طعن وتشنیع کا کوئی لفظ نہیں نکالا چہ جائے کہ حضرات ائمہ اربعہ کے حق میں کوئی نازیبا لفظ استعمال کروں.... میرا چاروں ائمہ فقہ، جمیع محدثین جملہ علماء پاک دین کے حق میں اسی طرح کا اعتقاد ہے، جیساکہ صحابہؓ تابعین تبع تابعینؒ اور تمام سلف صالحین کے حق میں ہے ..... بے شک میں اس وقت تک کسی کی مجرد رائے اور اجتہاد کو نہیں مانتا جب تک اسے دلیل سنت کے موافق نہ پاؤں خواہ اس کا تعلق علم ظاہر سے ہو یا علم باطن سے ...... میں معانی آیات واحادیث میں جملہ علماء اکابر، صلحاء اور ائمہ سلف کے اقوال واحوال پر اعتماد کرتاہوں خواہ حنفیہ ہوں یا شافعیہ، حنابلہ ہوں یامالکیہ ،علماء صوفیہ ہوں یا مشائخ طریقت....... رہی بات کہ رد تقلید یا ذم مقلدین سے سوئے ادب لازم آتاہے جو اس کا جواب یہ ہے کہ لازم مذہب کسی کے نزدیک بھی مذہب نہیں۔ طعن تقلید ائمہ دین پر نہیں ہوتا اس لیے کہ وہ تو تقلید کی دعوت نہیں دیتے تھے بلکہ اس سے منع کرتے تھے ..... میں نے فعل تقلید کی تردید کی ہے متعین مقلدین کی نہیں۔۔۔۔ (۲۲) امت مسلمہ میں سے کسی شخص کا اتباع بجز اللہ ورسول کے واجب نہیں ہے اسی وجہ سے سارے سلف تقلید رجال سے منع کرتے آئے ہیں۔‘‘ (۲۳)
مسئلہ تقلید پر نواب صاحب کے زمانہ میں بھی خوب بحثا بحثی جاری تھی، انہوں ننے بھی مخصوص انداز میں اس پر تبصرہ کیا، ان کے مطابق یہ مسئلہ اس لائق نہیں کہ اس پر بحث تضلیل وتکفیرتک پہنچ جائے لکھتے ہیں:
’’یہ علم اصول فقہ کا ایک جزوی مسئلہ ہے، اور نہایت واضح ہے کہ تقلید اس کو کہتے ہیں کہ آدمی دوسرے شخص کی بات کو حلت وحرمت کے سلسلہ میں بلادلیل ونص شارع قبول کرلے۔ سو یہ بات ظاہرہے کہ سب مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں اور کسی شئی کی حلت وحرمت آپ کے بتائے بغیرمعلوم نہیں ہوسکتی۔ تو اتباع آپؐ ہی کا چاہیے کسی اور شخص کا نہیں، ورنہ اسے پیغمبرماننا پڑے گا۔ اگر کسی مجتہد نے کسی شیے پر اپنے اجتہاد،رائے یا قیاس سے حکم لگایا اور بعد میں کسی دوسرے شخص پر قرآن و حدیث سے دلیل واضح ہوگئی تو وہ مجتہد معذور ہے، لیکن اسے جہدوسعی کا ایک اجر ضرور ملے گا،مگر وہ شخص جسے قرآن یا سنت صحیحہ پہنچ گئی، ہرگز معذورنہ ہوگا اور اگر دیدہ ودانستہ نص کی مخالفت کرے گا تو خدا ورسول کا مخالف ٹھہرے گا... ہم نے فقہ مذاہب اربعہ کی ساری کتابیں دیکھی ہیں۔ کسی امام مجتہد سے یہ بات منقول نہیں کہ ہمارے اجتہاد کے آگے تم قرآن وحدیث کوْ چھوڑ دینا۔۔۔اس صورت میں ظاہر ہے کہ ان کامقلد صحیح وصادق وہی مسلمان ہے جو اس قول حق میں ان کی پیروی کرے، نہ کہ وہ جو ان کے اس قول کی مخالفت کرے ۔۔۔علاوہ ازیں ائمہ اربعہ سے فقہ کے جتنے مسائل منقول ہیں ۔۔۔ وہ سارے احکام قرآن و حدیث کے خلاف نہیں بلکہ سنت صحیحہ سے جتنے مسائل ثابت ہیں، وہ ان چاروں مذاہب کے اندر منتشر اور موجود ہیں۔‘‘ (۲۴)
اتباع ایسی چیز ہے جو شرعاً مامور بہ ہے اور تقلید نصاً منہی عنہ ہے.....
نواب صدیق حسن خاں اہل سنت کے تمام مکاتبِ فکر کو صحیح سمجھتے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ:
’’ائمہ اربعہ کے اصول ایک ہیں اور فروعی اختلاف ضلالت وکفر کا موجب نہیں ہوتا...... امت کو ظاہری اور باطنی اعتبار سے کتاب وسنت کی اتباع کا حکم دیاگیاہے اور اللہ ورسول کے سوا کوئی متبوع نہیں، امت کے جس قدر علماء ومشائخ ہیں ان کے اقوال مقبول بھی ہیں اور مردود بھی۔‘‘ (۲۵)
حق مذاہب اربعہ میں دائر ہے منحصر نہیں اس لیے اہل الحدیث، ظاہریہ اور صوفیہ بھی حق پر ہیں بلکہ یہ لوگ حق میں سب سے افضل ہیں۔ (۲۶)
نواب صدیق حسن خاں مسلکی تحزب اور فرقہ بندی سے دورتھے، وہ شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے مسلک اعتدال کے قائل تھے (بعض اختلافات کے ساتھ) کیسے یہ انہیں کی زبانی دیکھتے ہیں:
’’ائمہ اربعہ کے مذاہب پر عبور حاصل کرنے کے بعد میں نے اپنے لیے دلیل کے اتباع کو پسند کیاہے، یعنی دلیل کے اعتبار سے جو مذہب قوی اور صحیح تر ہو، میں اسے اختیار کرتاہوں،خواہ وہ مذہب حنفی ہو یاشافعی، مالکی ہو یا حنبلی۔ میں کسی مذہب کو محض تعصب کے پیش نظر رد نہیں کرتا اور نہ کسی مذہب کو محض خواہش کے مطابق اختیار کرتا ہوں۔ مثلاً مسئلۂ آب میں مذہب مالکؒ زیادہ قوی ہے، تشہد کے صیغوں کے بارے میں امام ابوحنیفہؒ کامذہب زیادہ قوی ہے اور مسئلۂ صفات میں امام احمد بن حنبلؒ کا مسلک سب سے صحیح ہے، لہٰذا میں نے انہیں اختیار کیاہے۔ علی ہذا القیاس میں نے اپنی تمام تالیفات میں اسی قاعدہ کو پیش نظررکھاہے۔ اس اعتبار سے میں اپنے آپ کو حنفی کہوں یا شافعی، مالکی کہوں یا حنبلی تو کذب لازم نہیں آئے گا اور اگر محض سنی کہوں تو بھی بالکل سچ ہے۔ ائمہ اربعہ اور دیگر مجتہدین کا محب اور خادم ہونے کی حیثیت سے اگر میں اپنے آپ کو ان میں سے کسی امام کی طرف منسوب کروں تو بھی درست ہے، چنانچہ سلف امت کی طرف اہل علم کی اکثر نسبتیں اسی قبیل سے ہیں۔‘‘ (۲۷)
سلف سے اختلاف
نواب صدیق حسن خاں چونکہ صاحب رائے اور وسیع النظر عالم تھے، اس لیے علماء سلف سے بعض مسائل میں اختلاف بھی کیاہے۔ لکھتے ہیں:
’’دنیا میں کوئی مؤلف اور مصنف ایسا نہیں ہوا کہ اس پر کسی معاصر یا متأخرنے تنقیدنہ کی ہو۔ ہرفقیہ اور ہرمحدث کی ہرکتاب پر تنقید کی گئی ہے، مثلاً شروح حدیث میں فتح الباری بے مثال ہے، کہاگیا ہے ’’لا ہجرۃ بعد الفتح‘‘ (یعنی فتح الباری کے بعداب اسے چھوڑکرکسی اورکتاب کارخ نہیں کیاجائے گا)۔ اس کے باوجود علامہ شوکانی نے اس کے بعض مقامات پر سخت تنقید کی ہے۔ سید محمد بن اسماعیل صنعانی نے ’’احالات فتح‘‘ میں مؤلف کا نسیان ثابت کیاہے۔‘‘
خود نواب صدیق حسن خاں نے بھی شوکانی کے بعض مسائل پر تنقید کی ہے اور بعض جگہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ا ور حافظ ابن قیمؒ کی بعض تقریرات کو بھی تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے بارے میں بھی اہل علم سے یہی اپیل کی کہ:
’’میری کتاب کا جومسئلہ کتاب وسنت کی صحیح نص کے خلاف ہو اسے اٹھاکر دیوار پر ماردیں اور جو قرآن وحدیث کے موافق ہو اسے قبول کریں۔‘‘(۲۸)
نواب صدیق حسن خاں کا کہناہے کہ وہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کا یہ قول تسلیم نہیں کرتے ’’ایک دن نار بھی فنا ہوجائے گی‘‘ شیخ ابن عربی کا یہ قول قبول نہیں کرتے کہ فرعون حالت ایمان میں ہے، البتہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی یہ بات قبول کرتاہوں کہ بدعت اگرچہ حسنہ ہو اس سے ظلمت پیداہوتی ہے اور سنت اگرچہ چھوٹی ہو تو اس سے دل میں نور ہی نور پیدا ہوتا ہے۔(۲۹)
نواب صاحب نے مسک الختام اور شروح تجریدالصحیحین میں بہت جگہوں پر مذہب امام عالی مقام امام ابوحنیفہؒ کو راجح لکھاہے اور دوسرے مذاہب کو مذہب مرجوح، ضعیف یا مردود لکھاہے۔ (۳۰) البتہ نواب صاحب کو اپنے علم پر اعتماد کامل حاصل ہوگیاتھا چنانچہ بعض جگہوں پر تحدیث نعمت کے بطور اس کا اظہار بھی کردیا :
’’معاصرین میں سے کسی کو بھی ائمہ اسلام کی کتابوں پر اس قدرعبورحاصل نہیں جتنامجھ کو ہے، کیوں کہ میں نے ہزارہا کتابوں کا مطالعہ کیاہے اور ہرموضوع کی اکثرکتابوں کو از اول تاآخر پڑھاہے، فقہ السنۃ، اصول فقہ اور علم تفسیر میں جو دستگاہ مجھے حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں۔‘‘(۳۱)
’’ایسی کوئی کتاب نہیں جو تالیف ہوئی یا طبع ہوئی یا عرب وعجم کے شہروں میں دستیاب ہوتی ہو اور میرے مطالعے میں نہ آئی ہو، اگرچہ میں اسے اپنے پاس نہ رکھ سکاہوں گا۔‘‘ (۳۲)
یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ نواب صاحب طباع مصنف نہیں بلکہ ملخص ہیں۔ ان کی کتابیں علم تفسیر، حدیث، فقہ الحدیث سلوک واحسان، ادب اور تاریخ سے متعلق ہیں،تاہم ان کی بہت سی کتابوں میں متقدمین کے منتخب اقتباسات واقوال ہیں اور بعض میں علماء سلف میں سے کسی مؤلف کی تلخیص البتہ ان میں اپنے بعض فوائد کا اضافہ کیاہے۔ مثلا ان کی تفسیر فتح البیان اصلاً فتح القدیر للشوکانی کی تلخیص ہے، البتہ جابجا دوسری کتب تفسیر سے اضافے کیے ہیں۔ حصول المأمول، ارشاد الفحول شوکانی کی تلخیص ہے۔ مثیر ساکن الغرام الی روضات دارالسلام ابن قیمؒ کی حادی الارواح کی تلخیص ہے۔ بعض کتابوں کے اردو یا فارسی ترجمے بھی کیے ہیں، ان کی طبع زادتصنیفیں بہت کم ہیں۔ (۳۳)
نواب صاحب کے پاس چونکہ موہبت خداوندی سے وسعتِ علمی کے ساتھ وجاہت ریاست بھی جمع ہوگئی تھی، اس لیے کتابوں کی نشرواشاعت کا زبردست کام ان کے ذریعہ انجام پایا۔ ہندوستانی علماء میں وہ اس لحاظ سے بہت ممتاز ہیں کہ ان کے حین حیات ہی ان کی تصنیفات بلاد عرب وعجم میں مشہور ہوگئیں، چنانچہ عدن، یمن، صنعاء، زبید، حدیدہ، بغداد، حرمین شریفین، مصر، القدس، دمشق، بیروت، قسطنطنیہ اور فارس تک ان کی کتابیں پہنچیں اور ہر جگہ اہل علم نے ان کو پسندکیا، ان پر تقاریظ لکھیں۔ (۳۴) نواب صاحب نے یہ بھی لکھاہے کہ انہوں نے ائمہ سلف اور علماء سابقین کی کتب سے زیادہ استفادہ کیاہے، کتب خلف سے بہت کم اخذ کیاہے اور بالخصوص معاصرین کی کتب کے مطالعہ کا توبہت کم اتفاق ہواہے۔ (۳۵) لیکن راقم کے خیال میں ان کے اس بیان میں تسامح ہواہے، اس لیے کہ خود انہی کی تصریح کے مطابق محمد بن اسماعیل الامیرالصنعانیؒ اور علامہ قاضی محمدبن علی شوکانیؒ سے انہوں نے زیادہ استفادہ کیاہے جبکہ یہ دونوں ان کے معاصر نہ سہی، لیکن ان سے ذراسا پہلے ہی ہوگزرے ہیں، اور ان دونوں فضلاء کو علمی لحاظ سے انہوں نے شیخ محمد بن عبدالوہابؒ پر ترجیح دی ہے۔ (۳۶)
نواب صاحب نے فکر اسلامی کی خدمات انجام دی ہیں، لیکن انہیں مجتہد یا مجدد ہونے کا ہرگز دعویٰ نہیں تھا، وہ اپنے آپ کو متبع کتاب وسنت کہلانا پسند کرتے تھے۔ بعض لوگ انہیں مجتہدیا مجدد کہدیتے تھے، لیکن نواب صاحب اس قسم کے الفاظ سے سخت پریشان خاطر ہوتے وہ کہتے ہیں :
’’مجھ میں کوئی شرط اجتہاد اور کوئی صورت تجدید نہیں ہے میں مروجہ وظائف علم سے بالکل علیحدہ رہتاہوں، نہ کبھی درس وتدریس کرتاہوں، نہ کسی کو شاگرد بناتاہوں، نہ آج تک کسی فتویٰ پر دستخط کیے، نہ کسی کا مرید ہوں اور نہ کسی کو مرید ومعتقد کرنا چاہتا ہوں، بلکہ خادم کتاب وسنت ہوں۔‘‘ (۳۷)
خلاصہ یہ ہے کہ نواب صدیق صاحب قنوجی بھوپالی ان بڑے علماء میں سے ہیں، جنہوں نے جملہ علوم اسلامیہ کے مطالعہ میں بڑی وسعت پیداکی اور تدوین، تلخیص اور ترتیب وتالیف کے ذریعہ اسلاف کرام کے علوم سے ایک جہاں کو متعارف کرایا، خاص کر برصغیر میں فقہاء محدثین، متاخرین مجتہدین امت اور مشاہیر اسلام کے فکروتجدید کی روشنی پھیلائی، علم اسلامیہ کی اس نشرواشاعت میں ان کا کوئی ثانی اور شریک وسہیم نہیں ہے۔ (۳۷)اس لیے بعض علماء نے ان کو کبار مصلحین ومجددین اسلام میں شمار کیاہے، علامہ عبدالحی الکتانی الجزائری نواب صاحب کے بارے یں لکھتے ہیں:
وبالجملۃ فہو من کبارمن لہم الید الطولیٰ فی احیاء کثیر من کتب الحدیث وعلومہ بالھند وغیرہا جزاہ اللہ خیراً (ابقاء المنن، صفحہ 362)
پروفیسراجتبا ء ندوی مرحوم نے لکھا ہے:
’’ان کے تمام کارناموں میں ان کا اپنا رنگ وآہنگ، خداداد صلاحیت، گہرامطالعہ اور فکر سلیم اپنی جھلکیاں دکھائے بغیر نہیں رہتا‘‘۔ (۳۹)
نواب صاحب کی فکر کا خلاصہ یہ ہے کہ دلائل کے اعتبار سے زیادہ صحیح، قوی اور احوط طریقہ اختیار کیاجائے اور اہل علم کے اقوال کے مقابلہ میں کتاب وسنت کے دلائل کو ہر حال میں ترجیح دی جائے، اختلافی مسائل میں حتی الامکان مختلف مذاہب فقہیہ کے درمیان جمع وتطبیق کی راہ کو تلاش کیا جائے۔ (۴۰) یہی اصل میں حقیقی فکر اسلامی ہے، اور اس کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ فرقہ اہل حدیث میں جوجمودفکرپایاجاتاہے اوروہ ائمہ اربعہ خاص کرامام ابو حنیفہ ؒ کی جوتنقیص کررہے ہیں ا، س کے پیشِ نظران کا اپنے آپ کونواب صدیق حسن خاں کی طر ف منسوب کرناحقیقت سے دورمعلوم ہوتاہے۔ نواب صاحب کی فکر اور علمی خدمات پر کام ابھی کم ہواہے۔ ضرورت ہے کہ ان کے سرمایہ فکر کے مختلف پہلوؤں کو جائزہ وتحقیق کا موضوع بنایاجائے۔
مصادرومراجع
۱۔ نواب صدیق حسن خاں سیادت وشرافت نسب کے تصور کو تو درست سمجھتے ہیں اور کفائت کے لیے اسے ضروری جانتے ہیں، تاہم اپنی خودنوشت میں جابجا اس بات کا واضح اظہار کیاہے کہ ’’تقویٰ کے بغیر یہ شرف قطعا نفع بخش نہیں‘‘ یہ فخرکی نہیں ذمہ داری کی بات ہے، اور باعمل غیرسید بے عمل سید سے افضل ہے‘‘ اسی طرح انہوں نے بے عملی کے ساتھ سیادت کے غرور وتعلی کو سخت ناپسند کیاہے اور اس بارے میں سخت الفاظ لکھے ہیں۔ دیکھیے ابقاء المنن صفحہ 43تا 47(بڑی عمدہ بحث ہے)اور صفحات70,195۔
۲۔ پوراشجرۃ نسب ملاحظہ ہو ابقاء المنن، صفحہ 32
۳۔ نفس المصدر، صفحہ 33۔
۴۔ نواب صاحب نے والدہ محترمہ کی بڑی تعریف کی ہے۔ ان کے طریق تربیت کے بارے میں لکھاہے: میں سات برس کاتھا، میرے گھرکے دروازے پر مسجد تھی۔ مجھے خوب یاد ہے کہ صبح کے وقت اذان ہوتے ہی والدہ مرحومہ مجھے بیدار کردیتیں اور وضوکراکے مسجد میں بھیج دیتی تھیں اور گھر میں کبھی نماز پڑھنے دیتی تھیں۔ اگرنیند کی سستی کی وجہ سے نہ اٹھتا تو منہ پر پانی ڈال دیتی تھیں۔ اس وجہ سے بچپن ہی سے نماز کی عادت پڑگئی۔ شاید دس برس کی عمر میں والدہ نے روزہ رکھوایا اور اس وقت سے روزہ رکھنے کی عادت پڑگئی۔ (ابقاء المنن بالقاء المحن نواب صدیق حسن قنوجی اسلامک اکیڈمی لکھنؤ، طبع ثانی 2004، صفحہ52)۔
۵۔ مولاناحکیم سیدعبدالحی الحسنیؒ رائے بریلوی، نزہۃ الخواطر:ج8،صفحہ189,90
۶۔ اس سلسلہ میں ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ نواب کے خاندان کے افراد خاص کر ولیہ عہدسلطان جہاں بیگم اپنی والدہ رئیسۂ بھوپال اور نواب صدیق حسن سے اس لیے ناراض تھیں کہ انہوں نے خاندان سے باہرشادی کرلی۔ لیکن یہ کوئی قوی بات معلوم نہیں ہوتی۔ ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ انہیں یہ غلط فہمی ہوگئی تھی کہ صدیق حسن اپنے بیٹوں کو تخت کا وارث بناناچاہتے ہیں۔ لیکن آخر میں یہ بات بھی غلط ثابت ہوگئی۔ نواب صاحب نے خود اپنی خودنوشت میں متعددجگہ اس کا تذکرہ کیا ہے کہ ریاست وامارت سے طبعاً انہیں کوئی رغبت ودلچسپی نہیں ہے۔ وہ تو اسے عطائے خداوندی سمجھتے تھے اور ایک آزمائش بھی۔
بعض اہل علم نے نواب صاحب کی مخالفت کی توجیہ اختلاف مسلک میں تلاش کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سلطان جہاں بیگم نہ صرف کٹرحنفیہ تھیں بلکہ اکابرعلماء دیوبند سے ارادت کا تعلق بھی رکھتی تھیں۔ علامہ شبلیؒ نے جب ’’سیرت‘‘ کے لیے مالی امداد کی اپیل کی تھی توانہوں نے پہلے سیرت النبی کا مسودہ منگوایا اور اسے اپنے شیخ، شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کی خدمت میں ملاحظہ کے لیے بھیجا۔ جب شیخ الہند کے تلمیذخاص مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے اس کے بارے میں بلند کلمات کہے تب سیرت کے لیے امداد منظور ہوئی۔ نواب صاحب کے حاسدوں نے ان کے بارے میں بہت سی افواہیں اڑائی تھیں۔ مثلاً یہ کہ وہ تقلید کے مخالف ہیں۔ ائمہ اربعہ کو برا بھلاکہتے ہیں، کرامات اولیا کے منکر ہیں وغیرہ۔ حالانکہ ان تمام الزامات کی تردید اور وضاحت نواب صاحب نے اپنی خودنوشت ابقاء المنن میں کردی ہے۔ پھربھی معاندانہ پروپیگنڈہ سے ولیہ عہدکا متاثر ہوجانا بعید ازقیاس نہیں ہے۔
۷۔ ملاحظہ ہو ابراہم محمدالعلی، محمد ناصرالدین الالبانی محدث لعصر ناصرالسنۃ، ص:29، دارالعلم دمشق، الطبعۃ الثانیۃ، 2003۔
۸۔ جیساکہ پروفیسرمحمداجتباء ندوی مرحوم نے نواب صدیق حسن پر عربی میں اپنی کتاب کے مقدمہ میں تحریرکیاہے۔
۹۔ ملاحظہ ہو ابقاء المنن بالقاء المحن خودنوشت سوانح نواب صدیق حسن خان، تسہیل محمد خالدسیف تصحیح ونظرثانی قاری نعیم الحق، ناشر نواب صدیق حسن قنوجی اسلامک اکیڈمی لکھنؤ، ص:60۔
۱۰۔ نفس مصدر صفحہ78
۱۱۔ نفس مصدر صفحہ 73
۱۲۔ نفس مصدر 73
۱۳۔ نفس مصدر 69
۱۴۔ پروفیسراجتباء ندوی تاریخ فکراسلامی، المرکز العلمی، نئی دہلی، صفحہ 180 طبع 1998ء۔
۱۵۔ ابقاء المنن بالقاء المحن، صفحہ:69
۱۶۔ صفحہ:300
۱۷۔ صفحہ:83
۱۸۔ صفحہ:159
۱۹۔ صفحہ:83
۲۰۔ صفحہ:83
۲۱۔ صفحہ:84
۲۲۔ صفحہ:269-268
۲۳۔ صفحہ:267
۲۴۔ صفحہ:161-160
۲۵۔ صفحہ:90
۲۶۔ ملاحظہ ہو ابقاء المنن بالقاء المحن خودنوشت سوانح عمری (اردو) نواب صدیق حسن خاں بھوپالی، صفحہ:91
۲۷۔ صفحہ:93-92
۲۸۔ صفحہ:183 ۔ ایک جگہ انہوں نے لکھا: ’’میری اکثرتالیفات نہایت تحقیق سے لکھی گئی ہیں.... میں نہیں کہتا کہ میں نے جو کچھ لکھاپڑھاہے، اس میں کوئی نسیان نہیں ہواہوگا،بلکہ ہرتالیف میں ضرور خطائیں ہوں گی (صفحہ 81) نیز اسی طرح کی بات اس کتاب کے صفحہ 284پر لکھی ہے۔
۲۹۔ یہی کتاب، صفحہ 183-182
۳۰۔ صفحہ:268
۳۱۔ صفحہ:96
۳۲۔ صفحہ:331
۳۳۔ اسی بات کا اعتراف نواب صدیق صاحب نے خود بھی کیاہے۔ ایک جگہ لکھا: میری اکثر تالیفیں آثارسلف وعلماء راسخین کی مؤلفات کے تراجم (ترجموں) پر مشتمل ہیں۔ (صفحہ 184 وہی کتاب) وہ اپنے آپ کو ائمہ سابقین اور علماء امت کا حمال ونقال بتاتے ہیں۔ (ایضاً)
۳۴۔ وہی کتاب صفحہ:75
۳۵۔ صفحہ:65
۳۶۔ صفحہ:271
۳۷۔ صفحہ:167
۳۸۔ نواب صاحب نے اپنے مصارف سے جوعلمی کتابیں اور رسائل چھپواکر اہل علم اور طالبان حق کو مرحمت کیں ان کی تعداد تقریباً 5ہزار تک پہنچتی ہے۔ ملاحظہ ہو ابقاء المنن، صفحہ337
۳۹۔ پروفیسراجتباء ندوی، تاریخ اسلامی، صفحہ175، المرکز العلمی، نئی دہلی۔
۴۰۔ ابقاء المنن بالقاء المحن، نواب صدیق حسن خاں (اردو) صفحہ:88
امارت اسلامیہ کا قیام اور سقوط ۔ افغان طالبان کا نقطہ نظر
ادارہ
(زیر نظر سطور امارت اسلامیہ افغانستان کے سرکاری ترجمان ماہنامہ ’’شریعت‘‘ کے شمارہ نومبر/ دسمبر ۲۰۱۳ء میں ’’۱۵؍محرم: افغان عوام کی فتح کا دن‘‘ کے زیر عنوان شائع ہونے والے ایک مضمون سے ماخوذ ہیں۔ امارت اسلامیہ اور القاعدہ کے مابین تعلق کی نوعیت کے ضمن میں افغان طالبان کے موقف کے حوالے سے اہمیت کے پیش نظر اس حصے کو یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ اہل دانش کی طرف سے اس موضوع پر سنجیدہ تجزیاتی تحریروں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ مدیر)
طالبان تحریک کا ظہور وقت اور حالات کا ایک مثبت رد عمل تھا۔ یہ ایک مسلح تحریک تھی جس نے افغانستان کو ٹوٹنے، بکھرنے، فسادات سے تباہ ہونے اور طوائف الملوکی کا شکار ہونے سے بچا لیا او رمسلمانوں کو صدر اسلام کی ایک حقیقی خوب صورت تصویر دکھا دی۔ یہی اسباب وعوامل تھے جو تحریک کے آغاز کا باعث بنے۔
طالبان کو کون لایا؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب بہت آسان اور بہت واضح ہے۔ وہ یہ کہ طالبان ایک اسلامی اور قومی احساس کی بنیاد پر سامنے آئے ہیں۔ نہ انھیں کسی نے ورغلایا ہے اور نہ یہ باہر کا کوئی وارداتی گروہ ہے، بلکہ یہ حالات کا وہ فوری رد عمل تھا جس کے ریشے بہت کم وقت میں عوام کے بھرپور تعاون کی بدولت سپین بولدک سے اسلام قلعہ، تورخم اور شیر خان بندرہ تک پھیل گئے، جس نے اپنے ہم وطنوں کو قوم پرستی کی بجائے اخوت، بھائی چارے اور امن کا پیغام دیا۔
نہ کسی بیرونی جنرل نے اسے منظم کیا، نہ لندن کے سفارت خانے یا کسی اور بیرونی محور کے اشارے، دولت یا اسلحوں سے اس تحریک کی تنظیم سازی کی گئی۔ اگر کچھ مزید تحقیق میں جائیں تو تحریک اسلامی طالبان بہت پہلے سے ’’جمعیت طلبہ اہل السنت والجماعت‘‘ کے نام سے موجود تھی۔ اس تنظیم کی صوبائی، ضلعی اور علاقائی شوریٰ بھی فعال تھی۔ روس کے خلاف لوگوں کے جہادی جذبات بہت گرم تھے۔ ایک عینی شاہد کے طور پر وہ رکنیت فیس یا ماہانہ چندہ اب بھی مجھے یاد ہے جس کی ادائیگی زمانہ طالب علمی میں تہی دستی اور کس مپرسی کے باوجود صرف اس تحریک کو مضبوط کرنے کے لیے ہم کرتے تھے۔ اسی دور میں جنوبی علاقوں میں طلبہ کے بڑے بڑے جہادی محاذ پہلے سے موجود تھے جو کمیونسٹوں کی شکست کے بعد غفلت اور لاپرواہی کا شکار ہو کر غیر منظم ہو گئے تھے اور کسی نئی تحریک اور بیداری کے منتظر تھے۔ دینی مدارس اور جامعات میں جمعیت طلبہ اہل السنت والجماعت کی تحریک اور طلبہ کے سابقہ جہادی محاذ ساتھ ساتھ کام کر رہے تھے۔ ایک اسلامی امارت کے قیام نے ان جماعتوں اور محاذوں کو ایک نتیجے پر منتج کر دیا، اس لیے طالبان تحریک کی اٹھان کے اسباب اجنبی نہیں، داخلی تھے جس نے ایسی روشن تحریک کی شکل اختیار کر لی۔
طالبان کے مالی اور عسکری مآخذ
امریکی جارحیت کے خلاف جاری حالیہ جہاد کے دوران امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے جتنے مالی منابع اور مآخذ کام کر رہے ہیں، پہلے اس سے بھی زیادہ تھے، اس لیے کہ ملک کے مخلص صاحب حیثیت اور عسکری حضرات کے پاس جو اسلحہ اور رقم تھا، وہ انھوں نے طالبان تحریک کے حوالے کر دیا، اس لیے کہ وہ جنگجو فسادیوں سے تنگ آ چکے تھے۔ وہ جن کی جان، مال، عزت اور ناموس کو غیر قانونی شدت پسند جنگجووں سے خطرہ تھا، انھوں نے طالبان کے ساتھ کسی قسم کا تعاون کرنے سے گریز نہیں کیا۔
طالبان اور شیخ اسامہ بن لادن شہید رحمہ اللہ
اس میں شک نہیں کہ شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ ایک عالمی مجاہد اور تمام اسلامی ممالک کی آزادی کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ فلسطینیوں کو اپنا حق دیا جانا چاہیے۔ جزیرۂ عرب سے خارجی افواج کو نکالا جائے اور افغانستان میں بھی ایک اسلامی نظام کا قیام ہونا چاہیے۔ مگر یہ بات کسی کو بھولنی نہیں چاہیے کہ شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ طالبان سے پہلے بھی افغانستان میں موجود تھے۔ عبد اللہ عزام شہید رحمہ اللہ کے ہمراہ روسیوں کے خلاف سالہا سال تک بے دریغ قربانیاں دیں اور اسی وقت سے کچھ جہادی تنظیموں کے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔ طالبان نے اگر پوری جواں مردی اور بہادری سے آخری سانسوں تک ان کی حفاظت کی اوربالآخر اپنی سلطنت بھی اس پر قربان کر دی تو اس کی وجہ صرف اور صرف دین اسلام کا حکم اور افغانی روایات تھیں، طالبان نے آخری سانس تک جس کی لاج رکھی اور ہر طرح کے سیاسی اور فوجی دباؤ کو مسترد کیا۔ ایسی بات کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ طالبان نے شیخ اسامہ کو عالمی تحریکوں اور کارروائیوں کے حوالے سے کوئی ہدایات دی ہوں۔ وہ یہاں ایک مہمان تھے اور عالمی مسائل میںآزاد تھے۔ وہ یہاں تھے تو اپنے عالمی جہادی منصوبے وہ خود ترتیب دیتے تھے۔ طالبان نے کبھی اس میں دخل نہیں دیا اور نہ طالبان کو اس حوالے سے کوئی اطلاع ہوتی تھی۔
نیو یارک کا واقعہ اور طالبان کی بے خبری
جب عالمی تجارتی مرکز اور پینٹاگون پر حملہ ہوا تو طالبان نے اس سے بے خبری ظاہر کی۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح انھیں بھی حیرت تھی کہ یہ واقعہ کس نے ترتیب دیا تھا؟ بلکہ اس حوالے سے امارت اسلامیہ نے ایک مذمتی اعلامیہ بھی نشر کر دیا۔ جارج ڈبلیو بش جو پہلے سے امارت اسلامیہ کو برداشت نہیں کر پا رہا تھا، اسے اچھا موقع ہاتھ آ گیا۔ اس نے عالمی دنیا میں اعلان کر دیا کہ یا تو ہمارے ساتھ ہو جاؤ یا القاعدہ کے ساتھ۔ ایک پریس کانفرنس میں تو اس نے صلیبی جنگ کے آغاز کے الفاظ بھی استعمال کیے جس پر بعد میں شدید تنقید بھی کی گئی۔ امارت اسلامیہ افغانستان پر حملہ کیا گیا۔ یہ اس دور کی اپنے طرز کی ایک انتہائی غیر متوازن جنگ تھی، مگر طالبان نے اس جنگ کو بھی پیٹھ نہیں دکھائی۔ آج یہ اپنی شکست کا خواب دیکھ رہے ہیں، انھیں رسوائی کا سامنا ہے۔ افغانستان پر حملہ ایسے حالات میں کیا گیا کہ انھیں نہ گیارہ ستمبر کی خبر تھی اور نہ وہ اس میں ملوث رہے تھے۔
اسلامی جمہوریت کا فلسفہ ۔ شریعت اور مقاصد شریعت کی روشنی میں (۲)
مولانا سمیع اللہ سعدی
مساواتِ عامہ اور آزادی
لبرل جمہوریت میں ریاست کے تمام باشندے جنسی،مذہبی،سیاسی اور معاشرتی ہر اعتبار سے مساوی سمجھے جاتے ہیں اور ہر ایک کو ہر قسم کے افعال،اعمال اور نظریات اختیار کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے ،بشرطیکہ یہ آزادی امنِ عامہ اور ریاست کے نظم و نسق میں رکاوٹ نہ بنے۔جمہوریت کی اسلام کاری میں اس اصول میں درج ذیل ترامیم کرنی ہوں گی:
1۔اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی علاقہ،رنگ و نسل اور زبان کے اعتبار سے انسان مساوی حیثیت رکھتے ہیں،البتہ اسلام انسانوں کو مومن اور کافر دو بڑے گروہوں میں تقسیم کرتا ہے ۔اسلامی ریاست میں کفاراور غیر مسلموں کو بنیادی حقوق ملتے ہیں اور دنیا کا کوئی نظام اقلیتوں کو اس طرح کے حقوق فراہم نہیں کرتا ،جیسا کہ اسلام نے فراہم کیے۔البتہ اسلامی ریاست کے بنیادی مقاصد میں سے دین اسلام کی حفاظت،اشاعت اور اس کا دفاع ہے ، اس لیے جمہوریت کی اسلام کاری میں ریاست کی نظر میں تمام مذاہب برابر نہیں ہوں گے ،بلکہ اسلامی اقدارکازیادہ سے زیادہ فروغ اور غیر اسلامی تہذیب و ثقافت سے اسلامی معاشرے کو پاک کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ دریوں میں شامل ہوگا۔
2۔دوسرے مذاہب والوں کو تو انفرادی طور پر اپنے مذہب پر عمل کی مکمل اجازت ہو گی ،لیکن اپنے مذہب کی تشہیر،تبلیغ اور معاشرے میں اپنی ثقافت کی ترویج ممنوع ہوگی۔اسلامی ریاست میں مذاہبِ باطلہ کی ترویج کا کوئی تصور نہیں ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات کی رو سے ایک مسلم معاشرے میں مذاہبِ باطلہ کو تبلیغ کی اجازت ہے۔
3۔لبرل مغربی جمہوریت میں جنسی مساوات یعنی مرد و زن کو ہر طرح سے مساوی درجہ دیا گیا ہے ،جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عورت ووٹ دینے ،رکنِ پارلیمنٹ بننے ،کرسی اقتدار پر بیٹھنے اور سیاسی جماعت کی سربراہ بننے میں مر د کے بالکل مساوی ہے ،اسی طرح زندگی کے دوسرے شعبوں اور کاموں میں عورت اور مرد برابر ہیں ،جو کام مرد کر سکتاہے، جمہوری نظام میں مساوات کی خاطر عورت بھی اسے سرانجام دے سکتی ہے ۔جبکہ اسلام مردو زن میں مساوات کی بجائے حفظِ مراتب اور دائرہ کار کی تقسیم پر زور دیتا ہے اس لیے اسلامی جمہوریت میں عورتوں کے لیے ایسا مناصب قطعاً ممنوع ہوں گے ،جو شریعت کی رو سے صرف مرد کے ساتھ خاص ہیں ۔اسی طرح عورت کو ایسے کاموں کی بھی اجازت نہیں ہو گی جو اسلامی تعلیمات اور مقاصدِ شریعت سے ہم آہنگ نہ ہوں ۔
4۔لبرل مغربی جمہوریت میں ملکی باشندے ہر فعل،قول،نظریہ اور رائے کے اظہار میں مکمل آزاد ہوتے ہیں ،لہذا جمہوریت کی اسلام کاری کرتے وقت مطلق آزادی کے حدود طے کرنے ہوں گے۔حدود و قیود کی تعیین قابلِ بحث ہو سکتی ہے ،لیکن مکمل آزادی اسلامی تعلیمات سے کسی طرح سے بھی ہم آہنگ نہیں ہے۔
اختیارات کی تقسیم اور حکومت کی مدت
اسلامی نظامِ خلافت میں اگرچہ اختیارات کا منبع اور مرکز خلیفہ کی ذات ہوتی ہے ،لیکن اختیارات کی تقسیم کے خلاف بھی نص نہیں ہے ،اس لیے اباحتِ اصلیہ کے اصول پر اس کے جواز کی گنجائش نکل سکتی ہے کہ اختیارات انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ میں تقسیم ہوں ،کیونکہ اختیارات کا منبع ایک ذات ہو یا الگ الگ ،مقاصدِ شریعت پر خاص فرق نہیں پڑتا ،اس میں اصل مسئلہ اختیارات کا شریعت کی روشنی میں صحیح استعمال ہے ،خواہ سارے اختیارات ایک شخص کے پاس ہوں یا اشخاص اور اداروں میں تقسیم ہوں۔
البتہ حکومت کی خاص مدت مقرر کرنا قابلِ بحث ہے۔ اس سلسلہ میں درجہ ذیل گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔
1۔ سیاستِ شرعیہ اور اسلامی ریاست پر لکھنے والے فقھاء اور سیاسی مفکرین مثلاً علامہ ماوردی ،قاضی ابو یعلیٰ ،امام جوینی،امام ابن تیمیہ،شاہ ولی اللہ اور دیگر فقھاء نے عزل الامام کے ممکنہ طریقوں پرتفصیل سے بحث کی،لیکن کسی ایک مفکر اور فقیہ نے اختتامِ مدت کوعزل کے طرق میں شمار نہیں کیا۔اور نہ ہی پوری اسلامی تاریخ میں کبھی خلیفہ کی مدتِ حکومت مقرر ہوئی ہے ،کہ اس کے بعد امام خود بخود معزول ہو،گویا حکومت کی مدت کا تقرر ایسا مسئلہ ہے ،جس کی نظیر ہماری علمی،فکری اور سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔اس لیے اس کے جواز کے لیے شاید محض اتنی بات کا فی نہ ہو کہ نصوص اس بارے میں ساکت ہیں،کیونکہ پوری اسلامی تاریخ اور قدیم فقہی ذخیرے کو یکسر نظر انداز کرنا دقیق غور وفکر اور طویل سوچ بچار کا متقاضی ہے۔اگر مقاصدِ شریعت کی روشنی میں اس مسئلہ کا جائز لیا جائے تو درج ذیل باتیں سامنے آتی ہیں۔
۱۔جب ایک امیر اصولوں کے مطابق نظامِ حکومت چلا رہا ہے، تو صرف مخصوص مدت کے گزرنے پر اسے معزول کرنا محلِ نظر ہے ،خصوصاً جب اس کے عزل کی صورت میں اثارتِ فتنہ اور نا اہل افراد کی امارت کا خدشہ ہو۔
2۔حکومت کی مدت مقرر کرنے کی صورت میں ریاست میں ایک قسم کا اضطراب سا رہتا ہے ،کیونکہ سازشی عناصر، کرپٹ طبقہ اور غیروں کے آلہ کار کسی نہ کسی طریقے سے اگلی مدت میں برسرِ اقتدار آنا چاہتے ہیں جس کے لیے خفیہ منصوبے اور موجودہ حکومت کے خلاف رائے عامہ کی ہمواری کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔لیکن جب حکومت کی باقاعدہ مدت مقرر نہیں ہو گی تو یہ طبقہ مایوس ہو گا اور اسلامی ریاست میں حصولِ حکومت کی خاطر انارکی پھیلانے سے گریز کرے گا۔
3۔حکومت کی مدت مقرر کرنے میں یہ مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ملک کے سرکردہ افراد اور کسی نہ کسی حوالے سے حکومت کے اہل اشخاص کے دوران اندرونِ خانہ رسہ کشی اور سرد جنگ جاری رہتی ہے اور ہر کوئی اگلی مدت میں حکومت کے حصول کے لیے سرگرم رہتا ہے اور معاشرے کے بگاڑ کی صورت میں رسہ کشی کھلم کھلا نفرت اور عداوت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ لہٰذا حکومت کی مدت کا تقرر ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا موجودہ حالات ،عالمی تناظر، اسلامی ریاست کی مخصوص ساخت اور مقاصدِ شریعت کی روشنی میں دقت اور باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ جمہوریت کی اسلام کاری میں لبرل مغربی جمہوریت کی اتباع میں تمام خدشات و عواقب سے بے پرواہ ہو کر حکومت کی چاریا پانچ سال کی مدت کا تقرر نہیں ہوگا،بلکہ نفسِ مدت کے تقرر اور تحدیدِ مدت دونوں مسئلوں کے بارے میں مقاصدِ شریعت کو سامنے رکھ کر کوئی نیا لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا۔
جمہوریت کی اسلام کاری کی بحث کا خلاصہ
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ لبرل مغربی جمہوریت کے تقریبا تمام اصول اسلامی تعلیمات سے یا تو کلی طور پر متصادم ہیں یا مقاصدِ شریعت، اسلامی ریاست اور اسلامی معاشرے کی ساخت اور مزاج سے بالکل ہم آہنگ نہیں ہیں ،اس لیے جمہوریت کی اسلام کاری میں تمام اصولوں پر نظرثانی کرنی ہو گی اور اس کے تمام اصولوں میں اسلامی تعلیمات کے مطابق ترمیم کرنی ہو گی۔ پیچھے ذکر کردہ ترمیمات و اصلاحات کا مقصد ان کی حتمیت بتانا نہیں ،کہ اس کے علاوہ اور طریقے سے تبدیلی نہیں کر سکتے، بلکہ صرف لبرل مغربی جمہوریت کے اصولوں کا قابلِ ترمیم و تبدیل دکھانا مقصود تھا۔ اب چاہے ان ترمیمات سے لبرل جمہوریت کا اصل چہرہ ہی کیوں نہ مسخ ہو جائے جیسا کہ مذکورہ ترامیم سے واضح ہو تا ہے۔جو لوگ جمہوریت کی اسلام کاری کو ناممکن کہتے ہیں، ان کا مقصد و مدعا بھی شاید یہی ہے کہ لبرل مغربی جمہوریت کی اساسی اور بنیادی اصولوں کو باقی رکھتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق بنانا اور مقاصدِ شریعت سے ہم آہنگ کرنا ناممکن ہے۔
اسلامی ممالک خصوصا پاکستان میں رائج جمہوریت
جمہوریت کی اسلام کاری پر بحث کے بعد کے یہ اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ اسلامی ممالک نے لبرل مغربی جمہوریت کو کن تبدیلیوں اور ترمیمات کے ساتھ قبول کیا؟اور ان ترمیمات سے کیا لبرل مغربی جمہوریت’’ اسلامی‘‘ بن گئی؟ کیاسلامی ممالک میں رائج جمہوری نظام مقاصدِ شریعت سے ہم آہنگ ہے؟ خصوصا پاکستان کے حوالے سے اس کا ایک جائزہ لینا مقصود ہے۔
امتِ مسلمہ کا المیہ
امتِ مسلمہ کو عصرِ حاضر میں جو بڑے دہچکے لگے، ان میں ایک بہت بڑا دھچکہ ادارہ خلافت کا غیروں کی عیاری اور اپنوں کی سادگی سے شکست و ریخت کا شکارہوناہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خلافتکا ادارہ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجودمسلم امت کے سر پر ایک سائبان کا کردار ادا کر رہا تھا،جس سے امت مجموعی طور پر زوال کے تھپیڑوں سے کافی حد تک محفوظ تھی۔اور اسلامی تعلیمات اپنی اجتماعی شکل میں بڑی حد تک نافذ تھیں ۔خلافت کے ختم ہونے سے دیگر نقصانات کے علاوہ امت نے ایک بڑا خسارہ یہ اٹھایاکہ تقریبا تمام اسلامی ممالک بشمول پاکستان نے لبرل مغربی جمہوریت کو اس کے بنیادی اصولوں میں ترمیم کیے بغیر نظامِ حکومت کے طور پر قبول کیا ۔اگر کسی جگہ اسلام پسندوں اور علماء کی کوششوں سے اربابِ اقتدار ترمیم پر آمادہ ہوئے تو اتنی معمولی ترمیم کی کہ اس سے لبرل مغربی جمہوریت کے بنیادی اصول ،ڈھانچہ اور طریقہ کار با لکل متاثر نہیں ہوااور اس پر مستزاد یہ کہ جدت پسند اور مغرب سے انتہائی مرعوب مفکرین نے اسلامی ممالک میں رائج جمہوری نظام کو اسلامی جمہوریت کے نام سے موسوم کیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ایک تو اسلامی ممالک میں رائج جمہوریت پر شرعی حیثیت سے گفتگو کا دروازہ تقریبا بند ہوااور دوسرا یہ کہ اسلام کا آئیڈیل نظامِ حکومت ’خلافت ‘کے قیام کے لیے کما حقہ کوششیں نہیں ہو سکیں اورنظامِِ خلافت علمی،فکری اور عملی طور پر معدوم ہوتا گیا۔اور آج اسلامی ممالک کا منظر نامہ یہ ہے کہ لبرل مغربی جمہوریت اپنے تمام آثارِ سیۂ کے ساتھ قائم ہے اور دردمندانِ ملت اور غمخوارانِ امت اصلاحِ نظام کی بجائے تبدیلی افراد کے لیے تگ و دو کررہے ہیں۔
رائج جمہوری نظام پر بحث کے دو مرحلے
پاکستان میں رائج جمہوریت پر بحث کے دو مرحلے ہیں : ایک یہ کہ رائج جمہوری نظام اور لبرل مغربی جمہوریت میں کتنی چیزوں میں اشتراک و موافقت ہے ؟ دوسرا یہ کہ اس نظام کو اسلامی بنانے کے لیے اس میں کیا کیا ترمیم ہوئی ہے ا ور کیا یہ ترمیمات اس کی اسلامکاری کے لیے کافی ہیں؟ اور ان ترمیمات سے یہ ’’اسلامی جمہوریت‘‘ شریعت اور مقاصدِ شریعت سے ہم آہنگ ہو گئی؟
لبرل مغربی جمہوریت اور رائج جمہوری نظام میں اشتراکات
لبرل مغربی جمہوریت اور پاکستان میں رائج ’’اسلامی جمہوریت‘‘ میں درج ذیل باتوں اور اصولوں میں اشتراک و موافقت ہے۔
پارلیمنٹ کے اختیارات
لبرل مغربی جمہوریت میں پارلیمنٹ دو تھائی اکثریت سے کوئی بھی قانون پاس کر سکتی ہے اور پارلیمنٹ کی قانون سازی پر کوئی بھی پابندی و تحدید نہیں ہوتی ۔ ہمارے ہاں رائج جمہوریت میں بھی پارلیمنٹ کو قانون سازی کے بلا کسی تحدید کے مکمل اختیارات حاصل ہیں۔ چنانچہ آئین کے آرٹیکل 70 میں قانون سازی کا جو طریقہ بیان کیا گیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی جب بل دو تہائی اکثریت سے پاس کرے تو اسے دوسرے ایوان میں منظوری کے لیے پیش کیا جائیگا،سینٹ نے بھی اگر اسے اکثریت سے منظور کیا تو قانون کو صدر کے پاس منظوری کے لیے بھیجا جائیگا ۔ صدر کی منظوری کے بعد وہ ملک کا قانون بن جائیگا۔( یہ صرف خلاصہ ہے اس میں ایوانوں اور صدر کے اشکالات اور دیگرضمنی مباحث کاذکر نہیں ہے) اب قانون سازی کے عمل پر نہ کوئی پابندی لگائی گئی ہے اور نہ تحدید۔جو بھی بل مذکورہ طریقے سے منظور ہوجائیگا وہ ملک کا قانون بن جائیگا۔خواہ شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔
البتہ اگر اس پر یہ اشکال ہو کہ قردادِ مقاصد اور آرٹیکل 270 کے تحت تو یہ صراحت کی گئی ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائیگا،تو اس کا جواب یہ ہے کہ دستور کی ترمیم سے متعلق آرٹیکل 239 کے دفعات کے الفاظ یہ ہیں:
’’ دستور میں ترمیم پر کسی عدالت میں کسی بھی بنیاد پر چاہے جو کچھ ہو اعتراض نہیں کیا جائیگا ۔ ازالہ شک کے لیے بذریعہ ہذا قرار دیا جاتا ہے کہ دستور کے احکام میں سے کسی میں ترمیم کرنے کے مجلسِ شوری کے اختیارات پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے‘‘(آئینِ پاکستان صفحہ155)
لہٰذا اب اگر پارلیمان کی دوتہائی اکثریت قران و سنت کے خلاف قانون نہ بنانے کی شق ختم کرے ،پھر اس کے بعد کثرت سے جو قانون بنائے تو ان کی یہ ساری کاروائی آئین و قانون کے بالکل مطابق ہو گی۔ خلاصہ یہ نکلا کہ پارلیمنٹ ہر حال میں سپریم قرار پائی کہ پہلے پارلیمنٹ نے یہ پابندی لگائی ، پھر خود یہ پابندی ختم کی ۔ قران و سنت کے خلاف قانون نہ بنانے کی وجہ اس کی تقدیس و بالادستی نہیں ،بلکہ اس کے آئینی شق ہو نے کی وجہ سے ہے ۔ جب دو تہائی اکثریت نے یہ شق ختم کر دی تو اس کی بالادستی خود بخود ختم ہوگئی۔ اس کو شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے ان الفاظ میں بیان کیا:
’’ سیکولر جمہوریت میں پارلیمنٹ پرقا نون سازی کے سلسلے میں کوئی پابندی نہیں ہوتی سوائے اس پابندی کے جو دستور یا آئین نے خود اس پر لگائی ہو اور یہ دستوری پابندی بھی کسی پارلیمنٹ یا دستور ساز ادارے نے عائد کی ہو تی ہے اور پارلیمنٹ جب چاہے اس پابندی کو دستوری ترمیم کے ذریعے اٹھا بھی سکتی ہے ،لہذا مالِ کار پارلیمنٹ پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہوتی‘‘(272)
اسی طرح یہ اشکال نہ کیاجائے کہ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل اس قسم کی ترمیمات کے روک تھام کے لیے قائم کئے گئے ہیں ، کیونکہ دستور کے قوانین وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں ،چناچہ آرٹیکل 203 کے تحت اس قانون کی تشریح کی گئی ہے جو وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
’’قانون میں کوئی رسم یا رواج شامل ہے جو قانون کااثر رکھتا ہو، مگر اس میں دستور ،مسلم شخصی قانون ، کسی عدالت یا ٹربیونل کے ضابطہ کار سے متعلق کوئی قانون یا اس بات کے آغازِ نفاذ سے دس سال مدت گزرنے تک کوئی مالی قانون محصولات یا فیسوں کے عائد کرنے ، بنکاری یا بیمہ کے تعامل اور طریقہ سے متعلق کوئی قانون شامل نہیں ہے‘‘(آئین پاکستان صفحہ116 )
اسلامی نظریاتی کونسل بھی محض سفارش اور مشورہ تک محدود ہے اور وہ بھی اس وقت جب صدر یا اسمبلی از خود کسی قانون کے شرعی یا غیر شرعی ہونے کے بارے میں استفسار کرے ۔اسلامی نظریاتی کونسل کو از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے۔( ملاحظہ فرمائیے آرٹیکل 229 ،230 کے دفعات)
الغرض ایسا طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ اس ’’اسلامی جمہوریت‘‘ میں پارلیمنٹ کی بالادستی اور اس کو قانون سازی کے مکمل اختیارات کسی طرح بھی متاثر نہیں ہیں ۔
آئین و دستور کی بالا دستی اور تقدس
لبرل مغربی جمہوریت میں آئین و دستور ہر صورت میں بالا دست اور مقدس ہو تا ہے ۔پاکستان میں رائج جمہوری نظام میں بھی آئین و دستور کوہر صورت میں تقدس اور بالا دستی حاصل ہے۔ چناچہ آئین کی ابتدا ئیہ میں بنیادوں اصولوں کے تحت درج ہے۔
’’دستور اور قانون کی اطاعت ہر شخص خوہ جو بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو واجب التعمیل ذمہ داری ہے‘‘
کیا اس کے اندر یہ قید ہے کہ دستور اور قانون اسی وقت تک بالادست اور واجب التعمیل رہے گا ،جب تک وہ قران و سنت کے خلاف نہ ہو۔نیز تمام مناصب کے لیے جو حلف آئین میں درج ہیں ،ان سب میں علی الاطلاق دستور کی ہر صورت میں اطاعت اور اس کادفاع شامل ہے ۔ پاکستان کی تمام عدالتیں بھی دستور کے مطابق فیصلہ کرنے کی پابند ہیں ،خواہ دستور شریعت سے متعارض ہی کیوں نہ ہو ، کیونکہ ملک کے تمام افراد ، تمام ادارے، آئین کی رو سے صرف دستور اور قانون کی پابند ہیں ۔ دستور اور قانون کی بالا دستی کی یہی شکل لبرل مغربی جمہوریت میں ہوتی ہے ۔اس اصول میں مغربی جمہوریت اور رائج’’اسلامی جمہوریت‘‘ میں کوئی فرق نہیں ہے۔
بالغ رائے دہی کا تصور اور سیاسی مساوت
لبرل مغربی جمہوریت کی طرح ہمارے ہاں رائج جمہوری نظام میں بھی ملک کے تما م افرادوو ٹنگ کے عمل میں حصہ لے سکتے ہیں اور ان کا فیصلہ صرف کثرت کی بنیاد پر ہو تا ہے۔اسی طرح ملک کا ہر فرد پارلیمنٹ کا ممبر بن سکتا ہے ۔ اگرچہ آرٹیکل 62,63 کے تحت کچھ شرائط لگائی گئیں ہیں ، لیکن جیسا کہ پہلے اس پر بحث ہو چکی ہے کہ جب پارلیمنٹ ایک قانون ساز ادارہ ہے، تو اس کی رکنیت کے لیے اسلامی علوم سے مکمل واقفیت کی شرط لگانا ہو گی اور ہر خاص عام پارلیمان کا ممبر بننے کا اہل نہیں ہو گا ۔ لیکن ہمارا دستور اس قسم کی کوئی شرط نہیں لگاتا۔ چناچہ مشاہدہ ہے کہ اس قسم کے لوگ بھی پارلیمنٹ کے ممبر بن جاتے ہیں جو شاید کلمہ طیبہ کے درست تلفظ اور ترجمہ پر قادر نہ ہو،چناچہ اس قسم کے لوگ ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان ‘‘ کے مسلم عوام کے لیے قانون سازی کرتے ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ اس اصول میں بھی لبرل مغربی جمہوریت اور رائج ’’اسلامی جمہوریت ‘‘ میں موافقت ہے ۔
کثرتِ رائے کی حتمیت
کثرتِ رائے چونکہ جمہوریت کا بنیادی اور اساسی اصول ہے ، اس لیے اس اصول کو بھی ہماری ’’اسلامی جمہوریت‘‘ میں جوں کا توں رکھا گیا ہے اور کثرتِ راے آئینی و قانونی طور پر لازمی و حتمی ہے۔ ووٹنگ کا عمل ہو یا پارلیمنٹ میں قانون سازی کا معاملہ ، ہر مسئلے میں کثرتِ راے کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔
سیاسی جماعتیں اور حزبِ اختلاف
لبرل مغربی جمہوریت کی طرح رائج جمہوری نظام میں رنگ، نسل ،علاقہ،زبان،ثقافت غرض ہر اعتبار سیا سی جماعتیں بنانے کی مکمل اجازت ہے اور ان سیاسی جماعتوں کو اپنا منشور طے کرنے کے کلی اختیارات حاصل ہیں ،خواہ وہ منشور سیکولر ہو یا اسلامی ، صرف ایک شرط اور قید ہے کہ کہ منشور آئین و دستور نامی ’’مقدس صحیفے‘‘ کے خلاف نہ ہو ۔اس اجازت اور آزادی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان سمیت دیگر’’ اسلامی جمہوری‘‘ ملکوں میں ایک اللہ اور رسول کو ماننے والے رنگ ، نسل ،قومیت ، زبان اور طبقات کے اعتبارسے سیاسی جماعتوں کی صورت میں آپس میں دست و گریباں ہیں ۔ اسی طرح حزبِ اختلاف کا ادارہ مکمل مغربی تصور کے ساتھ قائم ہے ۔ اس مخالف شریعت اصول کے ہوتے ہوئے بھی ہمارے ہا ں رائج جمہوریت کی ’’اسلامیت‘‘ مکمل طور پر برقرار ہے۔
مساواتِ عامہ اور آزادی
ہمارے ہاں رائج جمہوریت میں دینی طبقات کے پر زور اسرار اور طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد جو ’’اسلامیت ‘‘ کی کچھ جھلک موجود ہے ، اس میں مساوات اور آزادی کے حوالے سے تمہید میں یہ جملہ شامل ہے :
’’جمہوریت ، آزادی ،مساوات ،رواداری اور عدلِ عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے پوری طرح عمل کیا جائے گا‘‘
اس سے قطع نظر کہ اسلام نے واقعی جمہوریت کی کوئی تشریح کی ہے یا نہیں؟ یہ جملہ امید افزا ہے ،لیکن آگے دستور کی دفعات خود اس تمہید کی مخالف ہیں کہ اس میں آزادی اور مساوات کی اسلام مخالف تشریح شامل ہے۔
۱ ۔اس تمہید کے ساتھ ایک دو جملوں کے بعد یہ جملہ شامل ہے:
’’جس میں قرارِ واقعی انتظام کیا جائے گا کہ اقلیتیں آزادی سے اپنے مذہب و عقیدہ رکھ سکیں اور ان پر عمل کر سکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں‘‘
کیا شریعت کی رو سے دیگر مذاہب کو اسلامی ریاست میں اپنی ثقافتوں کو ترقی دینے ،اسے بڑھانے کی اجازت ہے ؟کیا ثقافت کے لفظ میں خاص طور پر ان کے دینی شعائر نہیں آتے ؟ تو ایک اسلامی ریاست میں اہلِ کفر کے شعائر کے اظہار ہی نہیں بلکہ ترقی شرعی طور پر درست ہے؟ثقافت اور دینی شعائر کے اظہار اور اس کی حدود میں یقیناًفقہاء کے مختلف اقوال ہو سکتے ہیں لیکن ہر حد اور پابندی سے عاری اہل کفرکی کھلی آزادی کسی فقیہ کا قول نہیں ہے۔
2۔اقلیتوں کو مذہب کی نشر واشاعت ، تبلیغ اور مذہب کے نام پر انجمن سازی کی مکمل آزادی دستور میں فراہم کی گئی ہے ۔چنانچہ آرٹیکل 20 کے تحت دفعہ یوں ہے:
’’ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے ،اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کاحق ہو گا‘‘
کیا یہ شق اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہے؟ یہاں تبلیغ کے جواز و عدمِ جواز کا فتوی دینا مقصود نہیں ،بلکہ اصل اس بات کی نشاندہی کرنا مقصد ہے کہ اقلیتوں سے متعلق اسلام نے جتنے حقوق دیے ہیں، سب میں حدود ، قیود اور مخصوص شرائط لگائی ہیں ۔ ان حدود اور شرائط میں فقہاء کااختلاف ہے ،لیکن بغیر کسی قید کے مکمل آزادی کسی طرح سے بھی اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ مساواتِ عامہ اور آزادی جو لبرل جمہوریت کے بنیادی اصولوں میں سے ہے ، ہماری ’’اسلامی جمہوریت‘‘ میں تقریبا وہی ہے ۔ اس اصول میں اگرچہ کچھ ترمیم کی گئی ہے ،لیکن وہ اسلامی تعلیمات کے مکمل مطابق نہیں ہے۔گویا اس اصول میں بھی رائج جمہوریت لبرل مغربی جمہوریت کے تقریبا مماثل ہے۔
اختیارات کی تقسیم اور حکومت کی مدت
ہم یہ بحث پہلے کر چکے ہیں کہ اختیارات کی تقسیم اسلامی تعلیمات اور مقاصدِ شریعت کے منافی معلوم نہیں ہوتی۔ البتہ حکومت کی مدت پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور مقاصدِ شریعت سے ہم آہنگ اس مسئلے کا از سرنو جائزہ لینا ہوگا ،لیکن ہما رے جمہوری نظام میں محض لبرل جمہوریت کی اتباع میں حکومت کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی ہے۔
رائج جمہوریت میں ’’اسلامیت‘‘ کا عنصر
اب بحث یہ رہ جاتی ہے کہ وہ کونسی ترمیمات ہیں ؟جن کی بنیاد پر اسلامی ممالک خصوصاً پاکستان کے جمہوری نظام کو اسلامی کہا جاتا ہے اور ان ترمیمات سے یہ رائج نظام واقعی اسلامی بن گیا ہے؟ ان ترمیمات پر بحث سے پہلے یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ پچھلے ذکر کردہ تمام اصولوں میں ہمارا جمہوری نظام لبرل مغربی جمہوریت کے بالکل موافق و مماثل ہے اور وہ اصول اکثر اسلامی تعلیمات اور مقاصدِ شریعت سے ہم آہنگ نہیں ہیں ،اس لیے ان ذکر کردہ اصولوں میں موافقت رائج نظام کی ’’اسلامیت ‘‘ کو ختم کرنے کے لیے کا فی ہے، کیونکہ ایک بھی غیر اسلامی اور شریعت سے متصادم اصول کی شمولیت کسی کسی نظام کو غیر اسلامی بنا دیتی ہے ،خصوصاً جبکہ وہ اصول اس نظام کے ان اساسی اور بنیادی اصولوں اور تصورات میں سے ہوجس پر اس کی پوری عمارت کھڑی ہو۔لیکن اس کے باوجود جمہوریت کی اسلام کاری کے حوالے سے کی گئی ترمیمات اور تبدیلیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں تا کہ ’’اسلامی جمہوریت‘‘ کی حقیقت مزید منقح اور واضح ہو جائے۔
لبرل مغربی جمہوریت میں اسلام کی پیوند کاری درجہ ذیل نکات کی شکل میں کی گئی ہے:
1۔آئین و دستور میں قراردادِ مقاصد کو شامل کیا گیا ہے ، جس میں حاکمیتِ اعلی اور اقتدارِ اعلی کواللہ تعا لی کے لیے تسلیم کیا گیا ہے۔
2۔آئین و دستور میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنا یاجائیگااور شریعت سے متصادم قوانین کو اسلامیانے کی کوشش کی جائیگی اور اس مقصد کے لیے وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے بنائے گئے ہیں۔
3۔اسلام کو مملکتی مذہب قرار دیا گیا ہے۔
4۔ملک کے کلیدی عہدے جیسے صدر اور وزیر اعظم کے لیے مسلمان ہونے کی شرط لگائی گئی ہے ۔
5۔وزارتِ مذہبی امور کا باقا عدہ محکمہ بنا یا گیا ہے جو اوقاف ، حج ،زکوۃ ، روئیتِ ہلال اور دیگر مذہبی معاملات سر انجام دیتا ہے۔
کیا ان نکا ت سے جمہوریت اسلامی بن سکتی ہے؟
ان پانچ نکات میں سے آخری دو نکات تو کسی نظام کے اسلامی بنانے کے لیے کافی نہیں ہے ۔ کیونکہ کسی نظام کے سربراہ کا مسلمان اور بات ہے اور اس نظام کا اسلامی اصولوں کے مطابق ہونا ایک الگ بحث ہے۔اسی طرح وزارتِ مذہبی امور بنانے سے بھی کوئی نظام اسلامی نہیں بن سکتا ، کیونکہ مذہب سے متعلق معاملات کو چلانے کے لیے تو لبرل جمہوری ملکوں میں بھی وزارتیں اور محکمے بنے ہوئے ہیں۔ یہ بات چونکہ ایک قسم کی بدیہی ہے اس لیے پر مزید تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے ۔ اب بقیہ تین نکات کے بارے میں چند باتیں پیشِ خدمت ہیں۔
حاکمیتِ اعلیٰ اور اس کا مفہوم
ہمارے ہاں عمومی طور پر جمہوریت کے بارے میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ جمہوریت عوام کی حاکمیت اور اقتدارِ اعلی کا نام ہے ،جبکہ اسلامی ممالک خصوصاً پاکستان میں آئینی طور پر اقتدارِ اعلی اللہ تعالی کے لیے مانا گیا ہے ،اس لیے رائج جمہوریت آئینی و قانونی طور پر ’’اسلامی ‘‘ہے اور مقتدر اور ذی فہم حلقے بھی عام طور پر یہ بات دہراتے ہیں کہ پاکستان کا نظام اور قانون تو اسلامی ہے ، افراد ٹھیک نہیں ہے ،اس لیے جدو جہد کا نکتہ تبدیلی نظام کی بجائے تبدیلی افراد ہو تا ہے اور عمومی طور پر دینی قوتوں کی پوری طاقت افراد کے بدلنے اور صالح سے صالح قیادت لانے پر صرف ہو تی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ لبرل جمہوریت میں عوام کی حاکمیت کا مطلب یہ ہے کہ لبرل مغربی جمہوریت کا پورا ڈھانچہ اور اس کے بنیادی اصول عوام کی حاکمیت اور کلی اختیار کو فرض کر کے طے کئے گئے ہیں۔مغربی جمہوریت کا ایک ایک اصول ،پورا طریقہ کار، ووٹنگ کے عمل سے لیکر حکومت تک پہنچنے کے تمام مراحل اور حکومتی نظم و نسق چلانے کے جملہ طریقے ،سب میں عوام کی حاکمیتِ اعلی کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے ۔عوام کی حاکمیت محض خالی نظریہ اور مفرو ضہ نہیں ہے ،جس کا جمہوریت کے بنیادی اصولوں اور ڈھانچے سے تعلق نہ ہو۔بلکہ جمہوریت کا پورا نقشہ عوم کی حاکمیت کا مظہر اتم ہے،اس لیے جب یہ کہا جائے کہ ہم عوم کی حاکمیت کی بجائے اللہ کی حاکمیت کے قائل ہیں، تو لبرل مغربی جمہوریت کے اس پورے ڈھانچے میں ترمیم کرنی ہو گی، وہ تمام طریقے تبدیل کرنے ہو ں گے ،جو عوام کی حاکمیت کے غماز ہیں ۔اگر صرف آئین میں یہ جملہ درج ہو کہ حاکمیت اللہ کے لیے ہے ،جبکہ ڈھانچہ اور بنیادی اصول لبرل جمہوریت کے باقی رکھے گئے، جیسا کہ ہمارے ہاں رائج جمہوریت میں لبرل جمہوریت کا بنیادی ڈھانچہ ،اساسی اصول اور پورا طریقہ کار جوں کا توں ہے،تو اس نظام کو عوام کی حاکمیت پر بنی نظام ہی کہا جائیگا، کیونکہ صرف نام کے بدلنے سے شئی کی حقیقت اور ماہیت نہیں تبدیل نہیں ہو جاتی۔
شریعت کی اصطلاح میں منافق اسی کو تو کہتے ہیں جو اللہ کی وحدانیت کا اقرار زبان سے کرنے کے باوجود اپنی سوچ، بنیادی تصورات اور ان بنیادی افعال کو ترک نہیں کرتا جس سے ا س کے موحد ہونے کی بجائے مشرک ہونے کا اظہار ہو تا ہے۔تو شریعت زبان پر حکم لگانے کی بجائے اس کی حقیقت پر حکم لگا کر اسے کلمہ طیبہ پڑھنے کے باوجود کافر قرار دیتی ہے۔ لہذا شرعی اصطلاح میں ہمارے ہاں رائج جمہوریت کومنافق جمہوریت کہا جائے ،تو شاید تقریبِ فہم کے لیے یہ تعبیر مناسب ہو گی ،کہ اللہ کی حاکمیت کا اقرار کرنے کے باوجود اس کا بنیادی ڈھانچہ بالکل لبرل مغربی جمہوریت کی طرح ہے۔
اس کو دوسرے لفظوں میں یو ں بھی تعبیر کر سکتے ہیں کہ جمہوریت میں عوام کی حاکمیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لبرل جمہوری ملکوں میں آئین و دستور میں عوام کو ہر قسم کی حاکمیت کا سرچشمہ لفظا تسلیم کیا گیا ہے ، لہذا جمہوریت کی اسلام کاری میں آئین و دستور میں عوام کی حاکمیت کے الفاظ کی بجائے اللہ کی حاکمیت کے الفاظ لکھ لیے جائیں ۔بلکہ عوام کی حاکمیت کا مطلب یہ ہے کہ لبرل مغربی جمہوریت کے بنیادی اصول اور پورا ڈھانچہ عوام کی حاکمیت پر مشتمل ہے ،اس لیے اس پورے ڈھانچے کو مختصراً عوام کی حا کمیت سے تعبیر کیا جاتا ہے ا ور
یوں کہہ دیا جاتا ہے کہ جمہوریت عوام کی کلی حاکمیت کا نام ہے ۔اگر وہی اصول اور ڈھانچہ ہمارے ہاں بھی برقررار ہے، تو محض نام کے بدلنے یا آئین میں کچھ الفاظ بڑھانے سے عوام کی حاکمیت کا عنصر تبدیل نہیں ہو گا۔اور نام خواہ جو بھی رکھ لیں اس کی ماھیت اور حقیقت جب لبرل جمہوریت والی ہے ،تو اس پر حکم بھی لبرل جمہوریت کا لگے گا۔اور یہ کہنا صحیح ہو گا کہ ہماری ’’اسلامی جمہوریت‘‘ عوام کی حا کمیت کا نام ہے۔
خلاصہ یہ نکلا کہ جب اس کی حقیقت، ماہیت، بنیادی اصول ، طریقہ کار لبرل مغربی جمہوریت کی طرح ہے ،تو صرف آئین میں قرار دادِ مقاصد یا اللہ کی حاکمیت کے الفاظ بڑہا دینے سے یہ نظام اسلامی نہیں بنے گا،خصوصاً جبکہ وہ الفاظ بھی عوامی نمائندوں نے دو تہائی اکثریت سے پاس کئے ہوں اور انہیں اسے تبدیل کرنے کا مکمل اختیاربھی ہو۔
قرآن و سنت کے خلاف قانون نہ بنانے کی شق
رائج جمہوریت کو اسلامی کہنے کے لیے دوسرا استدلال اس سے کیا جاتا ہے کہ چونکہ آئین میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنیا جائیگااور موجودہ غیر اسلامی قونین کو بھی جلد از جلد اسلامی قالب میں ڈھالا جائیگا۔لہذا جب دستور میں قانون سازی اور پارلیمنٹ کے اختیارات کی حدود طے کی گئی ہیں، تو لبرل اور رائج جمہوری نظام میں خود بخود فرق ہو گیاکہ لبرل جمہوریت میں اس طرح کی کوئی قید و پابندی نہیں ہوتی۔
اس نکتے اور استدلال کے بارے میں چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں:
1۔قرآن و سنت کے خلاف قانون نہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ شریعت کے مامورات قانوناً لاگو ہو نگے اور منہیات قانوناً ممنوع ہو ں گے ۔جبکہ مباحات اور انتظامی امور میں مقاصدِ شریعت سے ہم آہنگ قانون سازی کی جائی گی۔تو کیا ہمارے آئین کی رو سے شریعت کے مامورات قانونا نافذ ہیں ؟کیا شریعت کی منہیات قانوناً ممنوع ہیں؟کیا ہماری عدالتیں محض اس وجہ سے ایک کام پر پابندی لگانے کی مجاز ہیں کہ وہ شریعت میں ممنوع ہیں ،خواہ دستور میں اسے صراحۃً منع نہ کیا گیا ہو۔کیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسی چیز لاگو اور ناافذ کرنے کا اختیار ہے جس کونافذ کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے؟اگر ان کو آئینی شقوں کے علاوہ باقی کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے تو گویا قرآن وسنت کے خلاف قانون نہ بنانے کی شق کے باوجود ملک میں قرآن وسنت کے خلاف قونین موجود ہیں۔اور ملک میں عملاً قرآن و سنت کی بجائے آئین و دستور کو بالادستی حاصل ہے۔
2۔قرآن و سنت کے خلاف قانون نہ بنانے کی شق کی خود کیا حیثیت ہے؟کیا پارلیمنٹ اسے اکثریت سے تبدیل کر سکتی ہے یا نہیں ؟ اگر ارکانِ پارلیمنٹ کو اسے تبدیل کرنے کا مکمل اختیار ہے ،تو انجامِ کار کے اعتبار سے عوامی نمائندوں کی بالادستی ہوئی ،نہ کہ قرآن وسنت کی بالادستی ۔
3۔قرآن و سنت کے خلاف اگر پارلیمنٹ کوئی قانون پاس کر لے، تو اس قانون کی آئینی حیثیت کیا ہو گی؟کیا صرف اس وجہ سے کہ شریعت کے خلاف ہے ،وہ آئینی شق خود بخود کالعدم ہوجائے گی ؟ یا کیا پارلیمنٹ سے بالادست ملک میں ایسا ادارہ موجود ہے جس کے پاس پارلیمنٹ کی غیر اسلامی قانون سازی کو منسوخ کرنے کا مکمل اختیار ہو؟اگر ایسی بات نہیں ہے تو کیا صرف آئین میں اس قسم کے الفاظ لکھنے سے یہ جمہوریت’’ اسلامی ‘‘بن جائی گی ؟ جبکہ عملاً پارلیمنٹ اسی طرح ملک کا سپریم ادارہ ہے ،جس طرح لبرل جمہوریت میں پارلیمنٹ ملک کا خود مختار ادارہ ہوتا ہے۔
4۔قرآن و سنت کو بالا دست رکھنے کا اصل طریقہ تو یوں تھا، کہ آئین میں دفعہ کی عبارت اس قسم کی ہوتی:
’’تمام قوانین دلائلِ شریعہ یعنی قرآن وسنت ، اجماع قیاس اور دیگر ماخذِ شریعہ سے اخذ کیے جائیں گے ۔اگر کوئی قانون غیر شرعی ماخذ سے لیا گیا اور وہ شریعت کے منافی ہو تو وہ کالعدم شمار ہو گا ،اس کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا اور آئین کی یہ شق ان بنیادی شقوں میں شامل ہے جو ہر صورت میں لاگوں ہوں گے اور ناقابلِ تبدیل ہیں‘‘ یا پارلیمنٹ سے اوپر ایک ایک ایسا سپریم ادارہ ہوتا ،جس کو پارلیمنٹ کے خلافِ شریعت قانون کا لعدم قرار دینے کا مکمل اختیار ہوتا۔ لہٰذا محض ایک بے جان قسم کی دفعہ شامل کرنے سے یہ پورانظام کیسے اسلامی بن سکتا ہے۔
5۔ اگر با لفرض مان بھی لیں کہ یہ دفعہ اپنی تمام تر ابہامات اور ضعف کے باوجود دستور کو ’’اسلامی‘‘ بنانے کے لیے کا فی ہے تو کیا پاکستان کا دستور اسلامی ہے؟تعجب کی بات یہ کہ دستور میں صرف ایک حصہ (نہم) چند اسلامی احکام کے لیے مختص کیا گیا ہے، اس کے علاوہ باقی پورے دستور کی دفعات میں اسلامی تعلیمات اور مقاصدِ شریعت سے ہم آہنگی سرے سے مفقود ہے۔ دستور کی ساری دفعات دنیا میں رائج پارلیمانی نظام کو سامنے رکھ کر طے کی گئی ہیں ۔ اگر یہ اشکال ہو کہ وہ دفعات مباحات اور انتظامی امور کے ذیل میں آتی ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اولاً تو یہ تسلیم ہی نہیں ہے کہ وہ سارے قوانین اس دائرے سے متعلق ہیں، کیونکہ اس میں حکمرانوں کے انتخاب، عزل ،رکنیت کی شرائط، مالیاتی امور اور دیگر بے شمار ایسے احکامات ہیں، جن میں قدم قدم پر شریعت کی رہنمائی کی ضرورت ہے ،لیکن ان تمام امور میں اسلامی تعلیمات کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔اور اگر تسلیم کر لیں کہ یہ ساری دفعات مباحات اور انتظامی امور سے متعلق ہیں تو سوال یہ ہے کہ پھر شریعت کی منصوصات اور متفقہ مسائل کے بارے میں دستور کیو ں خاموش ہے ؟ اس کی خاموشی اگر اجازت ہے تو گویا شریعت کی منہیات قانوناً جائز ہیں؟ اور اگر خاموشی منع کے زمرے میں آتی ہے تو مامورات قانوناً ممنوع ہیں؟ کیا ہماری عدالتیں فیصلہ کرتے وقت صرف دستور کو سامنے رکھتی ہیں یا شریعت کو؟کیا عدالتوں کا دائرہ اختیار ، طریقہ کار اور فیصلہ کرنے کے اصول دستور میں درج نہیں ہیں ؟ کیا ہماری عدالتیں آج بھی ہندوستانی عدالتوں کے لیے برطانیہ کے جاری کردہ ایکٹ کے تحت کام نہیں کر ہی ہیں ؟کیا عدالتوں کا سارا نظام شریعت کے مطابق ہے؟ کیا ان سب غیر شرعی امور کے باوجود ہمارا دستور ’’اسلامی‘‘ ہے؟
6۔آخر میں اگر مان بھی لیں کہ دستور با لکل’’ اسلامی ‘‘ہے تو دستور جمہوریت کے اجزا ء میں سے ایک جز ہے، تو صرف اس جز کے اسلامی بننے سے رائج پورا جمہوری نظام اسلامی بن جائیگا ؟جبکہ بقیہ اکثر اصولوں اور ڈھانچے میں یہ ’’اسلامی جمہوریت‘‘لبرل مغربی جمہوریت کے بالکل مطابق ہے اور لبرل جمہوریت کے ان اصولوں کا غیر اسلامی ہونا بالکل واضح ہے۔
اسلام مملکتی مذہب ہوگا
اس جملے کا مطلب اگر یہ ہے کہ حکومت کے افراد مسلمان ہو ں گے تو ظاہر ہے کہ محض افراد کے اسلام سے نظام اسلامی نہیں بنتا۔اور اگر یہ ہے کہ اسلام کو بالادستی حاصل ہو گی تو وہی سوالات اور ابحاث لوٹ کر آئیں گے جو دوسرے نکتے کے ذیل میں گزر چکے۔خلاصہ یہ کہ یہ جملہ بھی رائج جمہوریت کو اسلامی بنانے کے لیے کافی نہیں ہے۔
آخری گزارش: کرنے کا اصل کام
موجودہ نظام میں شامل ہو کر اس کے اصولوں کے اند ر رہتے ہوئے اس میں بہتری کی کوشش کرنا ، کثرتِ رائے سے زیادہ سے زیادہ اسلامی شقوں کا دستور میں اضافہ کرنا اور صالح سے صالح قیادت لانے کی جدو جہد کرنا یقیناًایک عظیم کام ہے اور اس میں ہر دینی ، مذہبی جماعت نے اپنی بساط کے مطابق، اثر و رسوخ اور اپنی حکمتِ عملی کے تحت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور آج جو اس ملک کے نظام میں اسلام کی کچھ’’ آمیزش ‘‘نظر آرہی ہے ،وہ انہی رجالِ باصفا کی انتھک کو ششوں کا نتیجہ ہے ،لیکن ہمیں اس پہلو پر بھی غور و فکر اور سوچ و بچار کرنا ہو گا کہ کہیں یہ کوششیں ، یہ جدو جہد اور تگ و دو اس لحا ظ سے عا رضی تو نہیں ہے کہ اگر کہیں (اللہ نہ کرے)سیکولر اور دین بیزار قسم کے لو گوں کو کثرت اور قوت حاصل ہو اوروہ ایک قررارداد سے ان ساری اسلامی شقوں کو یکسر ختم کر دے ،تو ان کا یہ عمل موجودہ نظام اور آئین کے بالکل مطابق ہو گا، کیونکہ موجودہ نظام انہیں اس بات کا مکمل اختیار دیتا ہے ۔ نیز جب اس نظام کی بنیادیں اور اساسی اصول لبرل مغربی جمہوریت کے تقریباً مطابق ہیں اور یہ نظام اسی لبرل مغربی جمہوریت ہی کا دوسرا رخ ہے ،تو کہیں اہلِ دین کی شرکت اور اصلاحِ نظام کی بجائے تبدیلی افراد کی یہ کو شش اس نظام کی ’’اسلامیت ‘‘ پر مہر نہ ثبت کر دے اور یہ شرکت اہلِ دین کی خاموش موافقت اور تائید نہ سمجھی جائے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مقتدر حلقوں کی خاموشی ااور اس نظام کا شریعت کی روشنی میں جائزہ لینے کی کوششوں کے فقدان سے اب عمومی طور پر یہ تاثر عام ہوتا جارہا ہے کہ ہمارا ملک آئینی اور قانونی طور پر ایک مکمل اسلامی ریاست ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک کو صحیح صالح قیادت میسر نہیں آسکی جو اس ’’اسلامی ‘‘ دستور کو نافذ کرے۔ خدا نخواستہ اگر یہ فکر و سوچ عمومی طور پر راسخ ہوگئی تو اس سے اس ملک کے نظام کی اسلام کاری کا باب مکمل بند ہو جائیگا اور اس نظام کو اسلامی سمجھنے کی وجہ سے خلافت کے احیا کی کوششیں بھی رفتہ رفتہ معدوم ہو جائیں گی۔ حالانکہ خلافت کے فریضے کو ترک کرنے کی پاداش میں در در کی ٹھو کریں امت کا مقدر ہیں اور اسلامی تحریکوں کی بے پناہ قربانیوں کے باوجود امتِ مسلمہ دینی، اخلاقی ،سیاسی ،عسکری ، علمی اور فکری غرض ہر اعتبار جانبِ زوال ہی گامزن ہے اور خلافت کی صورت میں ایک مرکز نہ ہونے کی وجہ سے ان کوششوں اور قربانیوں کے کما حقہ اثرات ظاہر نہیں ہو رہے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور دینِ اسلام کی تعلیمات کو ہر سطح پر مکمل طور پر نافذ کرنے کی قوت اور حکمت و بصیرت سے نوازے۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم۔
دینی رسالے ہائیڈ پارک نہیں بن سکتے
فصیح احمد
محترم مکرم و معظم جناب زاہد الراشدی صاحب نے نومبر ۲۰۱۳ء کے الشریعہ میں ’’الشریعہ اور ہائیڈیارک‘‘ کے عنوان سے ادارتی کلمات میں راقم کے البرہان ستمبر ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع ہونے والے مضمون ’’تار عنکبوت‘‘ کو اپنے موقف کو موکد کرنے کے لیے پیش کیا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ حضرت والا نے میری تحریر سے وہ نتائج اخذ فرمائے جو راقم کی تحریر کے منشاء، مدعا، مقصد، سے کوئی مطابقت ہی نہیں رکھتے۔ اس التباس ذہنی یا انتشار فکری کا سبب سوائے اس کے کچھ نہیں کہ حضرت والا ہر دینی رسالے کو ہائیڈیارک کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں جہاں ہر رنگ کا پھول کھلا ہو ، ہر پرندہ چہچہا رہا ہو اور ہر شخص کو سب کچھ کہنے کی آزادی ہو۔ مطلق اصول صرف یہ ہو کہ تم جو کہنا چاہتے ہو آزاد ہو، ہم بھی اس کے رد عمل میں جو کچھ لکھنا چاہیں گے، وہ لکھیں گے۔ اس عمل کو محترم راشدی صاحب تلاش حق اور خیر کی جستجو کا نام دیتے ہیں اور ان کاخیال ہے کہ اس مکالمے، مباحثے، تبادلے سے خیر کی شناخت آسان اور حق تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ اس صدی کے سب سے بڑے فلسفی ہیبر ماس کا خیال بھی یہی ہے اس باطل عمل کو وہ Intersubjective Communication کہتا ہے۔ ہیبر ماس کے خیال میں ہر مکتب فکر ، ہر گروہ، ہر مفکر کو تبادلہ خیالات کے عمل میں شریک کیا جائے ۔اس کے نتیجے میں ایسا خیر بر آمد ہوجائے گا جس پر سب کا اتفاق ہوگا۔ جناب راشدی صاحب نے ہیبر ماس کو پڑھے بغیر ہی اس کے فلسفے کو طائرانہ تعقل کے ذریعے ایک دینی امر بنادیا ہے۔
ہماری جس تحریر سے راشدی صاحب نے اپنے غلط موقف کی اصولی تائید دریافت کی ہے، وہ تحریر ہم دوبارہ ان کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:
’’ایک بات ہم مدیر البرہان ڈاکٹر محمد امین صاحب کی خدمت میں بصد احترام عرض کرنا چاہتے ہیں کہ البرہان ایک نظریاتی، تحقیقی اور علمی رسالہ ہے لہٰذا اس رسالے میں مضامین کا چناؤ اور مضامین کی اشاعت کے حوالہ سے بھی علمی تحقیقی رویہ اپنانا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ قارئین کو علمی و فکری انتشار سے بچایا جائے۔ انتشار ذہنی سے بچنے کے لیے اس بات کی کوشش کی جائے کہ ایسے گمراہ کن اور غیر علمی مضمون کو رسالے میں چھاپنے کی ضرورت ہی نہیں اور اگر کسی مصلحت کے تحت کبھی شائع کرنا ضروری ہو تو پہلے کسی اہل علم کو وہ مضمون بھجوادیا جائے اور ان سے جواب لکھوایا جائے۔ مضمون کا جواب ملنے کے بعد ا س مضمون کے ساتھ اس جواب کو بھی شائع کردیا جائے تاکہ قارئین دونوں کے موقف کو سامنے رکھ کر رائے قائم رسکیں، کیونکہ بسا اوقات قاری ایک ماہ کا رسالہ پڑھنے کے بعد دوسرے ماہ اس کا جواب کسی وجہ سے نہیں پڑھ سکا تو اس قاری کے فکری انتشار یا گمراہی کا ذمہ دار کون ہوگا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ قارئین البرہان کو علمی و فکری انتشار سے بچانے کا اس سے بہتر اور مناسب کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔ ہماری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ البرہان کو ہائیڈیارک نہیں بننا چاہیے‘‘۔ [ماہنامہ الشریعہ، کلمہ حق، ص۲،نومبر ۲۰۱۳ء]
اس تحریر سے درج ذیل اصول ثابت ہوتے ہیں:
(ا) دینی رسالے کے لیے مضامین کا چناؤ اور اشاعت کا مقصد قارئین کو علمی و فکری انتشار سے بچانا ہو۔
(ب) قارئین کو انتشار ذہنی سے بچانے کی کوشش کی جائے اور وحید الدین خان جیسے گمراہ فرد اوران کے غیر علمی مضمون کو چھاپنے کی ضرورت ہی نہیں۔جو اغلاط کا دفتر ہے۔
(پ) اگر جناب وحید الدین خان صاحب جیسے گمراہ شخص کی تحریر کو مصلحت کے تحت کبھی شائع کرنا ضروری ہو تو پہلے کسی اہل علم کو وہ مضمون بھجوادیا جائے اور ان سے جواب لکھوایا جائے مضمون کا جواب ملنے کے بعد اس گمراہ مضمون کے ساتھ اس کا جواب بھی شائع کردیا جائے تاکہ قارئین دونوں کے موقف کو سامنے رکھ کر رائے قائم کرسکیں۔ یہاں ہم نے خاص طور پر وضاحت کی ہے کہ اگر کسی مصلحت کے تحت کسی گمراہ کن ، غیر علمی مضمون کو شائع کرنا ضروری ہو تب اس حفاظتی طریقے کے ساتھ مضمون کی مجبوراً اشاعت کی جائے اس اشاعت کا مقصد لوگوں کو گمراہ مضمون کی گمراہیوں سے آگاہ کرنا ہے نہ کہ گم راہ مصنف کے خیالات کی اشاعت کرنا ۔
(ت) گمراہ مضمون اور اس کا جواب ایک ساتھ شائع کیا جائے تاکہ اس مضمون کی گمراہی واضح کردی جائے، اس کا ازالہ وامالہ بھی ہو جائے تاکہ دین کے نام پر پھیلائی جانے والی دینی گمراہیوں کو عوام پر واضح کردیا جائے۔ یہ کا م بھی مصلحت عامہ کے تحت مجبوراً ہی کیا جائے گا او راس کی حکمت یہ ہے کہ اگر گمراہ مضمون پہلے شائع کردیا جائے اور اس کا جواب بعد میں تو اس سے گمراہی کا ازالہ نہیں ہوسکے گا۔ اکثر اوقات ایک قاری ایک ماہ کا رسالہ پڑھنے کے بعد کسی مصروفیت یا کسی بھی دوسرے سبب سے اس کا جواب نہیں پڑھتا اور گمراہ مضمون کے سحر کا شکار ہو سکتا ہے اس صورت میں قاری کی گمراہی کا ذمہ دار کون ہوگا کیونکہ دینی رسالے کا مقصد انتشار اور خلفشار ذہنی عام کرنا نہیں، اسے ختم کرنا ہے۔ لہٰذا دینی رسالے کے قارئین کو فکری انتشار سے بچانے کا بہترین طریقہ یہی ہے۔
(ٹ) لہٰذا ہماری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ دینی رسالے (البرہان) کو ہائیڈیارک نہیں بننا چاہیے کیونکہ ہائیڈپارک وہ جگہ ہے جہاں جس کا جو دل چاہے کہہ سکتاہے۔ اس آزادی اظہار رائے کا کوئی اصول طے شدہ نہیں ہوتا، ہر بات اور دعویٰ الحق ہوتا ہے۔ ہائیڈیارک میں ہر طوطی آواز لگاسکتا ہے۔ وہ متفرق ، متنوع، رنگا رنگ، آوازوں کا دبستان ہوتا ہے جہاں ہر پرندے کو پرواز کی اور ہر بلبل کو گریبان چاک کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
دینی رسالہ ہائیڈپارک نہیں بن سکتا۔ وہاں مکالمے، مباحثے، تبادلۂ خیال کے اصول پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ ان اصولوں کے تحت کسی سے بھی مکالمہ ہوسکتا ہے۔ مکالمے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دونوں فریقین کی ما بعد الطبیعیاتی اساسات [Metaphysical Foundations] ایک ہوں۔ اس اصول کو طے کیے بغیر مکالمہ مکالمہ نہیں رہتا۔ مناظرے کا بھی اصول یہی ہے کہ فریقین پہلے کسی اصول پر متفق ہو جاتے ہیں جو دونوں کے لیے حجت ہوتا ہے۔ رسالت مآب نے اسی لیے کفار اور مشرکین کو مکالمے کی دعوت نہیں دی کیونکہ دونوں کے مابین مکالمے کی مشترکہ بنیاد نہیں تھی۔ دونوں کی ما بعد الطبیعیاتی اساسات یکسر مختلف تھیں۔ ان کو صرف دعوت دی گئی۔ لیکن اہل کتاب کو دعوت بھی دی گئی اور ساتھ ہی ساتھ مکالمے کی بھی دعوت دی گئی کیونکہ اہل کتاب کی ما بعد الطبیعیاتی اساسات اہل ایمان سے مماثل تھیں۔ ان میں تحریف ہوگئی تھی۔ توحید وہ بھی تسلیم کرتے تھے، لیکن ان کی توحید خالص نہیں تھی۔ اس کے باوجود ان کو دعوت ’’خالص توحید‘‘ کی بنیاد پر دی گئی کیونکہ وہ التوحید ، الکتاب اور الرسول کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح ایک ماں اپنے بیٹے کو پہچانتی ہے۔ مکالمے، مباحثے کی طرح مباہلہ کا اصول بھی یہی ہے کہ دونوں فریقین میں کوئی مشترک اساس ہو۔ جب ایک فریق دلیل برہان فرقان کے باوجود ایمان لانے پر تیار نہ ہو تو اسے مباہلے کی دعوت دی جاتی ہے کیونکہ دونوں فریق ایک ہی خدا پر یقین رکھتے ہیں اور دونوں کا خیال یہی ہوتا ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ لہٰذا مباہلہ کی دعوت اسے دی جاتی ہے جو خدا کے وجود کو تسلیم کرتا ہو۔ کسی ملحد کو مباہلے کی دعوت نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ خدا کو تسلیم نہیں کرتا، آپ کی دعوت کو قبول نہیں کرے گا۔ باطل فریق اہل کتاب خدا کو اپنا رب مانتے تھے لہٰذا اہل نجران کو دعوت مباہلہ دی گئی۔
اہل نجران کو معلوم تھا کہ رسالت مآب سچے ہیں قران اللہ کا کلام ہے لہٰذا وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اللہ کی نصرت رسالت مآبؐ کے ساتھ ہے۔ اگر مباہلہ ہوا تو اللہ کی لعنت ہم پر پڑے گی اور ہمارے گھر والے ہلاک ہو جائیں گے لہٰذا وہ بھاگ گئے۔ قرآن نے واضح کردیا کہ اہل کتاب قرآن کو اور اس کے لانے والے کو خوب پہچانتے تھے اور جب وہ آگیا تو اس سے منکر ہوگئے پس ان منکرین پر اللہ کی لعنت ہے قرآن حکیم نے کفار، مشرکین ،اہل کتاب سب سے مناظرے، مکالمے، مباحثے، کے آداب طے کردیے ہیں کہ یہ مشترکہ اساس کی بنیاد پر ہوگا۔ اساسات طے شدہ ہیں۔ اگر کوئی ان اساسات، بنیادی مقدمات، ایمانیات، بنیادی اصولوں کو تسلیم نہیں کرتا تو اس سے مکالمے و مباحثے و مناظرے کے بجائے اس کو دعوت دی جائے گی۔
الشریعہ پر ہمارا اعتراض یہی ہے کہ الشریعہ قرآن ، سنت اوراسلامی علمیت کی روشنی میں مکالمے مباحثے کے طے شدہ اصولوں کو اچھی طرح جاننے کے باوجود ان مکاتب فکر سے مکالمہ و مباحثہ کررہا ہے جن کے بنیادی اصول، مبادیات، منہج ہی مختلف ہے۔ مثلاً اہل السنت والجماعت کی مبادیات پر یقین رکھنے والے گروہ کو اہل سنت میں ہی شمار کیا جائے گا اور اس گروہ یا فرد سے مذاکرہ، مباحثہ ، مکالمہ جاری رہے گا لیکن اگر ایک گروہ اور ایک فرد ایک مکتب فکر اہل السنت و الجماعت کے بنیادی اصولوں قرآن سنت اجماع قیاس کو تسلیم ہی نہیں کرتا، صطلاحات اہل السنت کی استعمال کرتا ہے، لیکن ان کے مفاہیم میں تحریف، تغیر، تبدل کرکے مکالمہ کرنا چاہتا ہے تو اس سے مکالمہ نہیں ہوسکتا، لیکن اس گروہ کو دعوت ضرور دی جاسکتی ہے۔ الشریعہ کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان گمراہ فرقوں، مکاتب، اشخاص کی آرا نہایت کرو فر سے آزادی اظہار کے نام پر شائع کررہا ہے جو گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ اس طرح گمراہی کی تبلیغ، ترسیل، اشاعت میں نادانستہ طور پرشرکت کرکے وہ دینی حلقوں میں ذہنی انتشار اور فکری خلفشار پھیلا رہا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ان گمراہ افکار کا مسکت جواب لکھنے کے بجائے الشریعہ ان افکار کا دانستہ یا نادانستہ اتنا کم زور جواب دیتا ہے کہ گمراہ فکر کی قبولیت کا دریچہ کشادہ ہوتا جارہا ہے ہم نے اپنی تحریر میں اسی طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھا تھا:
’’دینی علمی رسالوں کو ہائیڈیارک میں تبدیل کرنے کا کام مولانا زاہد الراشدی صاحب نے الشریعہ کے ذریعہ بخوبی انجام دیا ہے۔ دنیا بھر کی غلط سلط تحریریں نہایت کرو فر کے ساتھ الشریعہ میں شائع ہوتی ہیں ۔ انتشار پھیلانے کے اس عمل کو وہ آزادانہ رائے اور علمی ترقی کہتے ہیں۔ موصوف جاوید غامدی صاحب کے نظریات اپنے صاحبزادے کے سائے میں پھیلانے کا کام کررہے ہیں ، تجدید دین کے نام پر تجدد عام ہورہا ہے‘‘۔ [ماہنامہ الشریعہ، کلمہ حق، ص۲،نومبر ۲۰۱۳ء]
اس تمہید کے بعداب حضرت والا محترم حضرت مولانا راشدی صاحب کا موقف پڑھیے:
’’الشریعہ‘‘ کے بارے میں جناب فصیح احمد کے ارشادات پر کچھ معروضات پیش کرنے سے پہلے ہم ان کا تہہ دل سے شکریہ اداکرتے ہیں کہ انہوں نے علمی وفکری مسائل پر باہمی تبادلۂ خیالات اور مباحثہ و مکالمہ کی اہمیت و افادیت کے ساتھ ساتھ دونوں طرف کے مضامین کو ایک ہی فورم پر شائع کرنے کی ضرورت بیان کرکے ہمارے اس موقف کی اصولی طور پر تائید فرمادی ہے کہ علمی و فکری مسائل پر مکالمہ و مباحثہ ہونا چاہیے اور کوئی ایسا فورم بھی ضرور موجود ہونا چاہیے جہاں کسی مسئلہ پر مختلف موقف رکھنے ولے دو یا دو سے زائد فریقوں کا موقف یک جا شائع ہوتا کہ قارئین کو سب لوگوں کا موقف سامنے رکھ کر رائے قائم کرنے میں آسانی رہے۔ الشریعہ گزشتہ ربع صدی سے یہی خدمت سر انجام دے رہا ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ہماری پالیسی پر ناقدانہ نظر رکھنے والے علمی حلقوں میں بھی اس کی اہمیت و ضرورت کا احساس پیدا ہورہا ہے، فالحمداللہ علی ذلک۔ ہمیں اعتراف ہے کہ ’’الشریعہ میں گزشتہ ربع صدی کے دوران شائع ہونے والے بہت سے مضامین کی زبان ’’ہائیڈپارک‘‘ اور ’’موچی دروازہ‘‘ سے مختلف نہیں ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ زبان کس نے استعمال کی ہے؟‘‘ [ماہنامہ الشریعہ، کلمہ حق، ص۲،۳،نومبر ۲۰۱۳ء]
حضرت والا نے ہماری عبارت سے جو معانی اخذ کیے ہیں متن کے فہم سے وہ معانی کسی صورت نہیں پھوٹتے ہم نے درج بالا سطور میں اپنے متن کا فہم دلا ئل سے واضح کردیا ہے تاکہ ہمارے متن سے گمراہی اخذ کرنے کا کوئی قرینہ باقی نہ رہے کوئی دریچہ نہ کھل سکے اور ہر امکان مسدود ہو جائے ۔ ہمارا موقف صرف یہ ہے کہ دینی رسالو ں میں بحث و مباحثہ ان مکاتب فکر کے افکار پر ہونا چاہیے جو اہل السنت و الجماعت کے اصولوں کو تسلیم کرتے ہوں اور ان مسلمہ اصولوں کے دائرے میں رہ کر اپنے خیالات افکار پیش کررہے ہوں اگر وہ ان مسلمات کو ہی تسلیم نہیں کرتے اور دین کی تعبیر و تشریح کے نئے اصول تخلیق کرکے اہل السنت و الجماعت کی پندرہ سو سالہ قدیم علمیت کے مقابلے پر نئی متوازی علمیت پیش کرتے ہیں تو ان سے مکالمہ نہیں ہوسکتا ان کو دعوت دی جاسکتی ہے یا ان کو مباہلے کا پیغام دیا جاسکتا ہے۔
اپنے اس موقف کی تائید میں ہم خودحضرت والا مولانا زاہد الراشدی صاحب کی ایک تحریر پیش کررہے ہیں محترم عمار ناصر صاحب کی کتاب’’حدود تعزیرات چند اہم مباحث ‘‘کے ’’دیباچے‘ ‘ میں وہ لکھتے ہیں:
۱۔ راقم الحروف کے نزدیک اسلامی قوانین و احکام کی تعبیر و تشریح کے لیے صحیح قابل عمل اور متوازن راستہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کے دائرہ کی بہر حال پابندی کی جائے [عمار ناصر، حدود و تعزیرات ، ص ۹، المورد لاہور طبع اول ۲۰۰۸ء]
۲۔ جن تقاضوں کو ہم قرآن و سنت کی تعلیمات اہل سنت کے علمی اور اجتہاد شرعی کے دائرے میں قبول کرسکتے ہیں انہیں کھلے دل سے قبول کرلیں ۔[ص ۱۰، محولہ بالا]
۳۔ جوامور قرآن و سنت کی نصوص صریحہ، اور اجتہاد شرعی کے مسلمہ اصولوں سے متصادم ہوں ان کے بارے میں کسی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیے بغیر پوری دل جمعی کے ساتھ ان پر قائم رہیں (ص ۱۰ محولہ بالا)
۴۔ سنت رسول سے مراد وہی ہے جو امت مسلمہ چودہ سو سال سے اس کا مفہوم سمجھتی آرہی ہے اور اس سے ہٹ کر سنت کا کوئی نیا مفہوم طے کرنا اور جمہور امت میں اب تک سنت کے متوارث طور پر چلے آنے والے مفہوم کو مسترد کردینا بھی عملًا سنت کو اسلامی قانون سازی کا ماخذ تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے (ص ۱۰، محولہ بالا )
۵۔ صرف قرآن کریم کو قانون سازی کی بنیاد بنانا اور سنت رسول کو قانون سازی کا ماخذ تسلیم کرنا قطعی طور پر ناقابل قبول ہے اور خود قرآنی تعلیمات کے منافی ہے (ص ۱۰، محولہ بالا )
۶۔ ایک رجحان آج کل عام طور پر یہ بھی پایا جاتاہے کہ سنت مستقل ماخذ قانون نہیں ہے (ص ۱۰ محولہ بالا)
۷۔ سنت کو اسلامی قانون سازی کا مستقل ماخذ اور قران و سنت کی تعبیر و تشریح کا حتمی معیار تسلیم کیا جائے جیسا کہ حضرات صحابہ کرام کے دور میں ہوتا تھا اور اسی پر امت مسلمہ کا اجماعی تعامل چلا آرہا ہے [ص ۱۱، محولہ بالا )
۸۔ قرآن و سنت دونوں کو قانون سازی کی بنیاد کے طور پر تسلیم کیا جائے ۔ (ص ۱۲ محولہ بالا )
۹۔ قدیم و جدید میں تطبیق کی کوشش ( احسن کام ہے ) صرف ایک شرط کے ساتھ کہ امت کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ و الجماعۃ کے علمی مسلمات کا دائرہ کراس نہ ہو کیونکہ اس دائرے سے آگے بہر حال گمراہی کی سلطنت شروع ہو جاتی ہے ( ص ۱۳، محولہ بالا )
راشدی صاحب کے ان دلائل سے ہمیں صد فی صد اتفاق ہے ہمارا منشاء بھی یہی ہے کہ الشریعہ اور تمام دینی رسالوں میں انہی اصولوں کے مطابق مباحثے، مکالمے اور مناظرے کا اہتمام ہونا چاہیے تمام علمی تحریریں ، اختلافی گفتگو ، تنقیدی آراء اگر قرآن و سنت کی نصوص صریحہ، امت کے اجماعی تعامل، اہل السنت و الجماعت کے علمی مسلمات کے دائرے کے اندر پیش کی جائیں تو ان پر بحث و مباحثے اور گفتگو کا دروازہ کھلا رکھا جائے لیکن الشریعہ اور راشدی صاحب پر ہمارا بنیادی اعتراض یہی ہے کہ انہوں نے ان طے شدہ اصولوں کے بر خلاف گمراہ مکاتب فکر کے خیالات کی ترسیل کو آزادی اظہار رائے کا نام دے کر الشریعہ کو ہائیڈ پارک میں تبدیل کردیا ہے۔
ان اصولی مباحث پر گفتگو کے بعدجو ہمارے اور راشدی صاحب کے مابین مشترک متفق علیہ ہیں اب ہم غامدی صاحب کے مکتب فکر کے افکار کی الشریعہ میں تشہیر ، تبلیغ ، تدریس ، ترسیل کے حوالے سے جناب محترم راشدی صاحب کے عذر کا جائزہ لیتے ہیں راشدی صاحب غامدی صاحب کے مکتب فکر کے افکار کی اشاعت کی دلیل دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’محترم فصیح احمد صاحب نے جناب جاوید احمد غامدی اور ان کے حلقۂ فکر کے بعض احباب کے مضامین کی ’’الشریعہ‘‘ میں اشاعت کا ’’طعنہ‘‘بھی دیا ہے، حالانکہ ہم نے غامدی صاحب پر تنقیدات بھی الشریعہ میں شائع کی ہیں۔ فصیح صاحب نے اسے نظر انداز کردیا۔‘‘ [ماہنامہ الشریعہ، کلمہ حق، ص۵،نومبر ۲۰۱۳ء]
لیکن راشدی صاحب کا یہ عذر، یہ دلیل ان کے طے شدہ اصولوں کے منافی ہے۔ غامدی صاحب کے مکتب فکر سے اہل سنت و الجماعت کا مکالمہ ممکن نہیں ہے، کیونکہ جناب غامدی صاحب کا مکتب فکر اہل السنت والجماعت کے اصولوں کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا۔ وہ سنت کو ماخذ قانون تسلیم نہیں کرتا، وہ اجماع کو ماخذ قانو ن تسلیم نہیں کرتا، وہ عقل و فطرت کو ماخذات دین کے طور پر قبول کرتا ہے۔ وہ نصوص کی تعبیر و تشریح میں تنوع، رنگا رنگی، تغیرات کا قائل ہے۔ ہمارا سوال صرف یہ ہے کہ ایک مکتب فکر جب سنت کو ماخذ قانون ہی تسلیم نہیں کرتا تو اس مکتب فکر سے مذاکرے مباحثے کی بنیاد کیا ہو؟ ایک مکتب فکر خدا اور رسول کو تسلیم کرنے سے انکار کردے یا قرآن کو کتاب اللہ تسلیم نہ کرے تو کیا تب بھی ہم اس مکتب فکر کے خیالات علم کی نئی روش، جدید جہت ،منفرد سطح کے طور پر پیش کرکے مکالمہ شروع کردیں گے؟ ظاہر ہے ہم اس مکتب فکر کو دعوت دیں گے۔ مکالمہ مباحثہ ان سے ممکن نہیں کیونکہ وہ ہمارے بنیادی مسلمات کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔
غامدی صاحب نے ’’میزان‘‘ میں صاف لفظو ں میں لکھ دیا ہے:
۱۔ سنت دین ابراہیمی کی روایت ہے سنت عبادات، معاشرت، خور و نوش رسوم و آداب تک محدود ہے سنت محض نماز، روزہ، اعتکاف، زکوٰۃ، صدقہ فطرہ، حج و عمرہ، قربانی تشریق کی تکبیروں ، نکاح و طلاق ، حیض و نفاس، سور یا خون، مردار، خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کی حرمت، جانروں کے تزکیہ، بسم اللہ سے دائیں ہاتھ سے کھانے پینے، السلام علیکم کہنے اور جواب دینے، چھینک پر الحمدللہ جواب میں یرحمک اللہ کہنے، مونچھیں پست رکھنے، زیر ناف کے بال کاٹنے، بغل کے بال اکھاڑنے ، ناخن کاٹنے، ختنہ، ناک منہ دانت صاف کرنے، استنجا، حیض و نفاس کے بعد غسل، غسل جنابت، میت کے غسل ، تجہیز و تکفین ،تدفین، عید الفطر اور عیدالاضحی کا نام ہے ان سنتوں کی کل تعداد ۱۶ ہے [غامدی میزان ، ص ۱۴، طبع پنجم ۲۰۱۰ء المور لاہور ]
۲۔ سنت صرف وہی چیز ہوسکتی ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے دین ہو (اور سنت میں مخفی دین صرف ۱۶ سنتوں میں محصور ہے ) سنت کا تمام تر تعلق عملی زندگی سے ہے علم و عقیدہ ، تاریخ، شان نزول ، اور اس طرح کی چیزوں کا سنت سے کوئی تعلق نہیں سنت کا لفظ ہی اس سے ابا کرتا ہے کہ ایمانیات کی قسم کی کسی چیز پر اس کا اطلاق کیا جائے لہٰذا علمی نوعیت کی کوئی بھی چیز سنت نہیں ہے اس کا دائرہ صرف کرنے کے کام ہیں اس دائرے سے باہر کی چیزیں اس میں کسی طرح شامل نہیں کی جاسکتیں عملی نوعیت کی وہ چیزیں بھی سنت نہیں ہوسکتیں جن کی ابتداء پیغمبر کے بجائے قرآن سے ہوئی ہے سنت قرآن کے کسی حکم پر عمل یا اس کی تفہیم و تبتین کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ نفل نماز ،روزے ،قربانی بھی سنت نہیں فطرت بھی سنت نہیں ہے۔ فطرت سنت سے الگ ہے نماز میں قعدے کے اذکار بھی سنت نہیں ہیں سنت خبر واحد سے ثابت نہیں ہوتی سنت قرآن کی طرح صحابہ کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے لہٰذا سنت بھی قرآن ہی کی طرح پوری قطعیت کے ساتھ متعین ہو جاتی ہے [میزان ص ۵۷، ۵۸، ۵۹، ۶۰، ۶۱ محولہ بالا] دوسرے معنوں میں جس طرح قرآن کی آیات کی تعداد متعین ہے سنتوں کی تعداد بھی متعین ہے ۔
میزان کے مقدمے میں پہلے صفحے پر ’’اصول و مبادی‘‘ کے تحت غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ دین کا تنہا ماخذ اس زمین پر اب محمدؐ کی ذات ہے (ص ۱۳ میزان ۲۰۱۰) قانون و حکمت دین حق ہے اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے ۱۔ قرآن مجید، ۲۔سنت(ص ۱۳ محولہ بالا)صفحہ ۴۷ پر غامدی صاحب لکھتے ہیں’’ سنت قرآن کے بعد نہیں بلکہ قرآن سے مقدم ہے [ص ۴۷ محولہ بالا] سنت دین ابراہیمی کی روایت ہے (ص ۱۴ محولہ بالا ) ان متضاد بیانات میں ترتیب قائم کی جائے تو ماخذات دین کی فہرست جو غامدی صاحب نے مرتب کی ہے خود ان کے اصول کی روشنی میں اس طرح مرتب ہوگی۔ ۱۔ سنت (کیونکہ سنت حضرت ابراہیم سے شروع ہورہی ہے معلوم نہیں دیگر انبیاء جو حضرت ابراہیم سے پہلے تھے کیا کرتے تھے ان کو توسنت کا علم ہی نہیں تھا ) ۲۔ رسالت مآبؐ ، ۳۔قرآن مجید لیکن غامدی صاحب نے اس ترتیب کو سہواً پیش نظر نہیں رکھا۔
راشدی صاحب کا اصول ہے کہ سنت ماخذ قانون ہے غامدی صاحب کے مکتب کا اصول ہے کہ وہ ماخذ قانون نہیں ہوسکتی۔ اس بنیادی اختلاف کی صورت میں غامدی صاحب کے مکتب فکر اور برادرِ مکرم عمار خان ناصرصاحب کے خیالات پر مکالمہ کیسے ممکن ہے جب بنیادی مقدمات ہی مختلف ہیں۔ ایک جانب غامدی صاحب کا دعویٰ ہے کہ سنت قرآن کی طرح قطعی الدلالہ ہے اور صحابہ کے اجماع و عملی تواتر سے متعین ہے لیکن اس تعین، اجماع، عملی تواتر کا حال یہ ہے کہ( ۱) میزان حصہ اول ۱۹۸۵ء میں سنتوں کی تعداد متعین نہیں تھی اس وقت اہل سنت کی تعریفِ سنت سے غامدی صاحب متفق تھے۔ (۲) محاضرات کراچی ۱۹ تا ۲۸ مارچ ۱۹۹۸ء میں غامدی صاحب نے سنتوں کی تعداد چالیس بیان کی ۔ (۳)اصول و مبادی تالیف جاوید احمد غامدی دانش سرا ۱۲۳ بی ماڈل ٹاؤن لاہور طبع اول ۲۰۰۰ء، کے مطابق سنتوں کی تعداد چالیس تھی ۔(۴)میزان طبع دوم اپریل ۲۰۰۲ء دارالاشراق ۱۲۳ بی ماڈل ٹاون لاہور میں ص ۱۰ پر اصول و مبادی کے تحت سنتوں کی تعداد صرف ۲۷ رہ گئی ۔(۵) میزان طبع اول ۲۰۰۸ء میں سنتوں کی تعداد صرف صرف اٹھارہ رہ گئی۔( ۶)میزان طبع پنجم فروری ۲۰۱۰ء میں سنتوں کی تعداد صحابہ کے اجماع و عملی تواتر سے صرف ۱۷ رہ گئی۔ (۷) میزان طبع اول ۲۰۰۸ء اور میزان ۲۰۰۹ء میں سنتوں کی تعداد ۱۸ تھی۔ ایک سنت جو ۲۰۰۸ء ، ۲۰۰۹ء تک صحابہ کے اجماع اور عملی تواتر سے قرآن کی طرح ہی امت کو منتقل ہوئی تھی، اچانک ۲۰۱۰ء میں کہاں غائب ہوگئی؟ وہ سنت تھی نومولود کے کان میں اذان ۔ ۲۰۱۰ء میں غامدی صاحب کو خبر ہوگئی کہ اس سنت پر صحابہ کا اجماع نہیں تھا نہ تواتر عملی تھا۔ لہٰذا یہ سنت خارج کردی گئی۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں ثبوت کے اعتبار سے سنت اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں وہ جس طرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے سنت اسی طرح ان کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے اور قرآن ہی کی طرح ہر دور میں مسلمانوں کے اجماع سے ثابت قرار پائی ہے لہٰذا اس کے بارے میں اب کسی بحث و نزاع کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ [میزان ص ۱۴، طبع پنجم ۲۰۱۰ء] تو سوال یہ ہے کہ سنت اتنی قطعی، واضح، قرآن کی طرح مستحکم تھی تو ۲۰۱۰ء میں وہ کیسے منسوخ ہوگئی؟ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کا اجماع عملی تواتر بھی منسوخ ہوسکتا ہے اور قرآن کی آیت کی تعداد بھی کم و بیش ہوسکتی ہے جس طرح سنت کی تعداد کم زیادہ ہو رہی ہے ماخذ ناقابل تغیر ہوتا ہے۔ اگر سنت ماخذ ہے تو یہ کیسا ماخذ ہے جو مسلسل تغیر و تبدل سے گزر رہا ہے۔
۳۔ غامدی صاحب دین کے صرف دو ماخذ تسلیم کرتے ہیں: قرآن، سنت۔ وہ قیاس، اجماع کو ماخذ تسلیم نہیں کرتے۔ ان کی نظر میں سنتوں کی تعداد صرف ۱۷ ہے۔ قرآن کی تشریح و تفسیر کے ضمن میں وہ سنت کو ماخذ، ذریعہ تسلیم نہیں کرتے کہ سنت تو صرف اعمال کا نام ہے۔ علم، قانون، اصول، تشریح و تفسیر کا نام نہیں۔ اصلاً غامدی صاحب کا ماخذ دین صرف اور صرف قرآن ہے، وہ سنت کو ماخذ قانون و ماخذ تفسیر قرآن تسلیم نہیں کرتے۔ منکر سنت کے بارے میں خود راشدی صاحب کی رائے یہ ہے کہ’’ صرف قرآن کریم کو قانون سازی کی بنیاد بنانا اور سنت کو قانون سازی کا ماخذ تسلیم نہ کرنا قطعی طو ر پر ناقابل قبول اور خود قرآنی تعلیمات کے منافی ہے۔‘‘ [ص ۱۰ دیباچہ حدود و تعزیرات عمار ناصر طبع اول جولائی ۲۰۰۸ء ] غامدی صاحب اوران کا مکتب فکر بشمول محترم عمار ناصر صاحب جب سنت کو ماخذ قانون ہی نہیں مانتے تو قرآنی تعلیمات کے خلاف غلط نقطۂ نظر بھی رکھتے ہیں تو ان کی تحریروں کی الشریعہ میں اشاعت کا کیا جواز ہے؟
الشریعہ پر ہمارا اعتراض یہی ہے کہ وہ ہائیڈپارک نہ بنے، قرآن و سنت اجماع قیاس کے اصولوں کا محافظ بنے۔ جدیدیت پسندوں، منکرین سنت کے افکار کو اپنے رسالے کی زینت بنا کر ان کو اعتبار وقار اور اعتماد مہیا نہ کرے۔ یہ دین کے ساتھ مذا ق ہے اور اپنے طے شدہ اصولوں کا انکار۔ قرآن نے یہی بات واضح کی ہے کہ اے ایمان والو، تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے۔
نیلسن منڈیلا کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
نیلسن منڈیلا تحریک آزادی کے عالمی لیڈروں میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف جنوبی افریقہ کی آزادی کے لیے طویل جنگ لڑی بلکہ دنیا کے نقشے پر دکھائی دینے والی نسلی امتیاز کی دو آخری نشانیوں میں سے ایک کے خاتمہ کی راہ ہموار کی۔ نیلسن منڈیلا سے قبل جنوبی افریقہ سفید فام، سیاہ فام اور انڈین کہلانے والے باشندوں کے درمیان تقسیم تھا۔ تینوں کی آبادیاں الگ الگ تھیں، رہن سہن الگ الگ تھا اور حقوق و مفادات کے معیارات الگ الگ تھے۔ گوروں کی حکومت تھی اور سیاہ فام اکثریت غلاموں جیسی زندگی بسر کر رہی تھی۔ انڈین کہلانے والی آبادی جو مسلمانوں، ہندوؤں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پر مشتمل تھی اور جس میں انڈونیشیا وغیرہ سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے، اپنی الگ شناخت رکھتی تھی۔ انڈین کمیونٹی تجارت و سیاست میں قدرے بیدار و متحرک ہونے کی وجہ سے سیاہ فاموں سے کسی حد تک مختلف معیار کی حامل تھی۔ اس نسلی تفریق و امتیاز اور گوروں کی اقلیتی حکومت کے خلاف نیلسن منڈیلا نے آزادی کا پرچم بلند کیا، زندگی کے کم و بیش تین عشرے جیل میں گزارے اور عدم تشدد پر مبنی پر اَمن جدوجہد کے نتیجے میں اپنی قوم کو آزادی کی منزل سے ہمکنار کرنے میں بالآخر کامیاب ہوگئے۔
میں جنوبی افریقہ کے حالیہ سفر کے دوران اس جیل کے سامنے سے گزرا ہوں جس کے بارے میں بتایا گیا کہ نیلسن منڈیلا نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اس کی سلاخوں کے پیچھے بسر کیا ہے۔ نسلی امتیاز کے خاتمہ کے لیے گزشتہ صدی کے دو بڑے لیڈروں کا نام تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ امریکہ کے مارٹن لوتھر کنگ اور جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا۔ دونوں کی جدوجہد میں یہ بات قدرِ مشترک تھی کہ انہوں نے سیاہ فام لوگوں کو سفید فام لوگوں کی بالاتری اور بالادستی سے نجات دلانے کے لیے جدوجہد کی اور دونوں کی جدوجہد تشدد سے ہٹ کر خالصتاً پر اَمن سیاسی تحریک پر مبنی تھی۔ البتہ مارٹن لوتھر کنگ نے امریکی دستور اور حکومت کے تحت رہتے ہوئے سیاہ فام باشندوں کے لیے برابر کے سیاسی و شہری حقوق کے لیے کامیاب جدوجہد کی، جبکہ نیلسن منڈیلا گوری اقلیت کی حکومت کے خاتمہ اور جمہوری بنیادوں پر ملک میں اکثریتی حکومت کے قیام کے لیے سرگرم عمل رہے، دونوں نے نسلی امتیاز کے خاتمہ میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دونوں کے ملکوں میں ان کی جدوجہد سے پہلے دور کے نسلی امتیاز کی نشانیاں اور آثار کچھ نہ کچھ اب بھی پائے جاتے ہیں، میں نے امریکہ اور جنوبی افریقہ دونوں جگہ گھوم پھر کر ان آثار کا مشاہدہ کیا ہے جو ماضی کی تلخ یادوں کی غمازی کرتے ہیں، اور انہیں دیکھ کر ان دونوں لیڈروں کی عزیمت و استقامت اور صبر و حوصلہ کی بے ساختہ داد دینا پڑتی ہے۔
میں 5 دسمبر جمعرات کو جوہانسبرگ سے سعودیہ ایئر لائن کے ذریعہ جدہ کی طرف روانہ ہوا تو اس وقت تک مجھے کوئی خبر نہیں تھی، مگر ایک رات جدہ ایئرپورٹ پر گزارنے کے بعد جمعہ کی شام کو لاہور پہنچا تو معلوم ہوا کہ نیلسن منڈیلا اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے ہیں۔ ایک عظیم حریت پسند راہ نما اور عوام دوست لیڈر کی وفات پر صدمہ ہوا اور دل جنوبی افریقہ کے عوام کے غم میں شریک ہوگیا۔
مکاتیب
ادارہ
محترم ابو عمار زاہد الراشدی صاحب
السلام علیکم ۔ امید ہے آپ، محترم عمار صاحب اور دیگر احباب ادارہ خیریت سے ہوں گے۔
چند ماہ قبل ’’الشریعہ‘‘ کے ایک شمارے میں مفتی ابولبابہ صاحب کا ایک مضمون جو امیر عبد القادر الجزائری صاحب کے متعلق تھا، پڑھ کر قلب بے تاب تو ہوا کہ ایسی زبان جو کسی ان پڑھ آدمی کو بھی زیب نہیں دیتی، ایک مفتی کے قلم سے کیسے صفحۂ قرطاس پر آگئی؟ تاہم کچھ گھریلو کچھ سیاسی اور کچھ پیشہ وارانہ مصروفیات آڑے آتی ہیں اور قبلہ و کعبہ مفتی صاحب کی زبانِ قلم پر قلم نہ اٹھ سکا۔
ایک مدت سے سوچ رہا تھا کہ لکھے ہوئے عرصہ بیت گیا، کچھ لکھا جائے۔ محترم مجید نظامی صاحب کا بھی اصرار رہا کہ نوائے وقت کے سنڈے میگزین میں ’’جیل کے دن۔ جیل کی راتیں‘‘ لگ بھگ دس ماہ تک لکھنے کے بعد مزید کچھ لکھوں، مگر نہ جانے طبیعت اس طرف کیوں مائل نہ ہو سکی۔ اب حال ہی میں جماعت اسلامی کے سابق امیر ضلع گوجرانوالہ چوہدری محمد اسلم صاحب (اللہ ان کی عمر دراز کرے اور صحت مند رکھے) کی یادداشتیں جو کتابی شکل میں آئی ہیں، مجھ تک منور ہاشمی صاحب ایڈووکیٹ کے ذریعے پہنچیں جس کے لیے میں ان کا مشکور ہوں۔ چوہدری صاحب کی یادداشتیں پڑھیں تو ایک گزرا ہوا دور یاد آگیا۔ کتاب ’’میری تحریکی یادداستیں‘‘ کے نام سے چھپی ہے۔ خوشی ہوئی کہ نوے سال کے لگ بھگ عمر ہونے کے باوجود چوہدری اسلم صاحب کی صحت اور یادداشت دونوں اللہ کے فضل سے درست ہیں۔ اس لیے کتاب میں بیان کردہ واقعات عمر کے عذر سے نادرست نہیں ہو سکتے۔
چوہدری صاحب کی یادداشتوں کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ذاتی، خاندانی، جماعتی، سماجی اور تحریکی حصوں میں۔ مگر فکری لحاظ سے کتاب بڑی بانجھ ہے۔ شاید چوہدری صاحب بھی صرف تحریکی یادداشتیں ہی لکھنا چاہتے تھے، کوئی فکری کام کرنے کا ان کا کوئی ارادہ ہی نہ ہو۔ لیکن اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ہر بڑا آدمی اپنی یادداشتیں یا سوانح عمریاں لکھتا آیا ہے جس میں قاری کی دلچسپی بھی فکری معاملات سے زیادہ واقعاتی معاملات میں ہوتی ہے۔ اپنے تئیں چوہدری اسلم صاحب نے جو کچھ لکھا، دیانتداری سے لکھا مگر افسوس کہ کچھ واقعات میں انہوں نے اندھی محبت اور کچھ میں اندھی نفرت کا برملا اظہار کیا ہے۔ اور یہ دونوں رویے انسان کو اعتدال سے دور کر دیتے ہیں اور یوں جو کچھ کہا یا لکھا جاتا ہے، یقیناًبے اعتدالی کے زمرے میں آتا ہے۔ ’’میری تحریکی یادداشتیں‘‘ کے کچھ واقعات پر عرض کرنا چاہوں گا۔
صفحہ 106 پر جن چوہدری اسماعیل ایڈووکیٹ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ لاہور ہائی کورٹ بارے میں ’’اسماعیل پھڈا‘‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ فوجداری مقدمات کا اچھا وکیل ہونے کے باوجود ذہنی طور پر بے اعتدالی ان کی شخصیت کا حصہ مرتے دم تک رہی۔ ویسے میرے 34 سالہ پیشہ وکالت کے تجربے میں کراچی سے پشاور تک ہر بار میں جماعت اسلامی کے اکثر وکلاء صاحبان انہی ’’خوبیوں‘‘ کے حامل ملے۔ چوہدری صاحب نے اگر ان کی ضمانت کے لیے سفارش کی تھی جو چوہدری صاحب کے بھائی نے منظور بھی کر لی تو اس واقعہ کا ذکر اگر وہ نہ بھی کرتے تو بہتر تھا۔ کیونکہ اس مظلوم عورت جو چوہدری اسماعیل کی بیوی تھی پر جو گزری، وہ بات چوہدری صاحب گول کر گئے۔ یاد رہے کہ ازاں بعد وہ خاتون پاگل ہوگئی تھی۔ کتاب میں صفحہ 135 پر جس ملت ہائی سکول گوجرانوالہ کا ذکر کیا گیا ہے، بے شک اس سکول نے اچھے طلبہ پیدا کیے مگر اخلاقی طور پر اس کا انجام بھی بد دیانتی پر ہوا۔
سکولوں کو قومیانے کے بعد جب ملت ہائی سکول کی بلڈنگ خالی کرالی گئی تو جماعت اسلامی کے یونس گھمن صاحب ایڈووکیٹ تب ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گوجرانوالہ کے صدر تھے۔ نیشنل سٹیڈیم کے صدر دروازے کے باہری طرف وکلاء کا ایک کلب تھا جہاں وہ اِن ڈور گیم اور ٹینس وغیرہ کھیلتے تھے۔ اس کلب کا نام گوجرانوالہ بار کے ایک صاحب ثروت ممبر لبھو رام ایڈووکیٹ کے نام پر ’’لبھو رام کلب‘‘ رکھا گیا تھا جنہوں نے یہ عظیم الشان بلڈنگ بار کو عنایت کر دی تھی۔ ادھر جونہی ملت ہائی سکول کی بلڈنگ خالی ہوئی، یونس گھمن صاحب نے بطور صدر بار فورًا لبھو رام کلب کی جگہ بلا اجازت بار ایسوسی ایشن کا کوئی اجلاس طلب کیے بغیر علامتی کرائے پر سکول انتظامیہ کے حوالے کر دی۔ اکثر وکلاء صاحبان نے اعتراض بھی کیا مگر چونکہ جماعت کے لوگ ’’پر عزم‘‘ ہوتے ہیں، اس لیے بات آگے نہ بڑھ سکی۔ بعد میں وکلاء کلب کے لیے مخصوص یہ جگہ کرکٹ سٹیڈیم میں شامل کر لی گئی اور یوں ایک بد دیانتی کی قیمت بار کو ادا کرنا پڑی اور بار ایک ارب کی قیمتی جائیداد سے محروم ہوگئی۔
صفحہ نمبر 162 پر چوہدری اسلم صاحب نے خواتین ارکان جماعت کے باب میں محترمہ کنیز فاطمہ کے شوہر ملک محمد رفیق صاحب اور ان کی گرانقدر مالی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کچھ ایسا انداز اپنایا ہے کہ گویا ملک رفیق مرحوم آخر دم تک جماعت کے ساتھ چلے۔ ایسا ہرگز نہیں۔ ملک محمد رفیق صاحب مرحوم نے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کر کے ’’تحریک استقلال‘‘ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ 1979ء کے انتخابات میں (جو ضیاء الحق نے ملتوی کر دیے تھے) ملک صاحب تحریک استقلال کے ٹکٹ پر گوجرانوالہ شہر کے صوبائی حلقے سے انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میاں محمود علی قصوری ایڈووکیٹ اس پارلیمانی بورڈ کے سربراہ اور میں ایک ممبر تھا جس نے ٹکٹوں کی تقسیم کا فیصلہ کرنا تھا۔ دیگر ممبران، ملک حامد سرفراز، ملک وزیر علی اور غالبًا ممتاز تارڑ نے جب ملک رفیق صاحب کا انٹرویو شروع کیا تو مرحوم نے اپنی بیگم صاحبہ کی خدمات گنوانا شروع کر دیں اور تحریک نظام مصطفی میں بیگم صاحبہ کے دلیرانہ کردار کو وضاحت سے پیش کیا تو میاں محمود علی قصوری صاحب نے اپنی روایتی گرجدار آواز میں اپنے مخصوص تکیہ کلام کو استعمال کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’’اوئے بیبا کجھ تویں کیتا کہ نئیں‘‘ (اے بھلے آدمی! تو نے بھی کچھ کیا ہے کہ نہیں؟)۔ معلوم نہیں کہ جماعت اسلامی چھوڑ کر جانے والوں کی واپسی کے لیے جماعت کا دستور کیا کہتا ہے، چوہدری صاحب نے وضاحت نہیں کی۔
بارے ذکر رفیق تارڑ صاحب کا ہو جائے۔ صفحہ نمبر189، 190، 191 پر چوہدری صاحب نے سابق صدر پاکستان کو سمارٹ، محنتی، دیانتدار، مستعد دیانت دار، منتہائے مقصود، خدمت اسلام اور صاحب عظمت کے ’’معدودے چند‘‘ لفظوں سے یاد کیا ہے۔ شاید چوہدری اسلم صاحب کی زنبیل میں ان کے لیے اس سے زائد الفاظ نہ تھے، ورنہ یہ صفحات کھولتے ہی خوشامد کی بو آنے لگتی ہے۔
رفیق تارڑ صاحب ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے انتخابات میں ایک پولنگ سٹیشن پر ایوب خان کے پولنگ ایجنٹ تھے۔ گوجرانوالہ بار کے ممبر ہونے کے ناطے پرانے وکلاء کو اب بھی وہ ناگفتنی الفاظ یاد ہیں جو وہ قائد اعظم کے بارے میں ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ پولنگ کا ’’ایجنٹ‘‘ ہونے کا انعام سپیکر ویسٹ پاکستان اسمبلی چوہدری محمد انور بھنڈر صاحب کے والد خان بہادر محمد حسین مرحوم نے گورنر مغربی پاکستان نواب کالا باغ سے یوں دلوایا کہ تارڑ صاحب کو ایڈیشنل سیشن جج بھرتی کر لیا گیا اور تمام قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں پہلے دن سے ہی کنفرم کر دیا گیا۔ ضیاء الحق نے 5 جولائی 77ء کو اقتدار سنبھالا تو حضرت نے داڑھی بھی بڑھالی اور ضیاء الحق کے PCO کے تحت حلف بھی اٹھا لیا۔ جب سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ سجاد علی شاہ صاحب نے وزیر اعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ میں طلب کیا تو یہ تارڑ صاحب ہی تھے جو ایک روایت کے مطابق ’’بریف کیس‘‘ لے کر کوئٹہ گئے اور بلوچستان ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو اپنے ہی چیف جسٹس کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا۔ سنا ہے کہ تارڑ صاحب بڑی بذلہ سنج اور ’’مخولیہ‘‘ طبیعت کے مالک ہیں۔ عدلیہ سے فراغت کے بعد ان کا زیادہ وقت میاں شریف مرحوم کی صحبت میں گزرتا۔ تارڑ صاحب انہیں بہت سے گفتنی و نا گفتنی لطائف سے محظوظ کرتے اور یوں میاں صاحب مرحوم کا وقت بھی اچھا کٹ جاتا۔ یہ لطائف پھر پاکستان کی صدارت میں تبدیل ہوگئے۔ اللہ عمر دراز کرے عطاء الحق قاسمی صاحب کی کہ پہلے یہی کام کر کے لطائف و ’’مخولیہ پن‘‘ کی بنا پر وہ میاں نواز شریف سے ناروے اور تھائی لینڈ کی سفارت حاصل کر چکے تھے۔ تارڑ صاحب کے اوصاف حمیدہ میں سازش، خوشامد اور جمہوریت دشمنی شامل ہو تو ہو، جو اوصاف چوہدری صاحب نے گنوائے ہیں، دور دور تک نہیں ہیں۔
جب کوئی بھی چھوٹا بڑا آدمی اپنی یادداشتوں کو کتابی شکل دیتا ہے تو اس میں لکھا ہوا سچ یا جھوٹ ایک دستاویز بن جاتا ہے۔ اس خدشے کا اظہار میں اس لیے کر رہا ہوں کہ چوہدری اسلم صاحب کی ’’میری تحریکی یادداشتیں‘‘ کے کچھ واقعات جو ذاتی یا بالواسطہ طور پر مجھے معلوم ہیں، ایک قاری کے لیے ان کی تصحیح کر سکوں، ورنہ چوہدری صاحب نے تو زندگی بھر کا توشہ سامنے رکھ دیا ہے۔ مثلاً کتاب کے صفحہ نمبر 227 پر چوہدری صاحب نے بیان کیا کہ وہ 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بننے والے ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کے صدر تھے۔ اس امر کی تصحیح ضروری ہے۔ گوجرانوالہ میں اس اتحاد کے صدر مسلم لیگ کے چوہدری فقیر اللہ ایڈووکیٹ تھے جو اس وقت ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گوجرانوالہ کے بھی صدر تھے۔
جہاں تک کتاب کے فکری اور سیاسی پہلو کا تعلق ہے تو اس پر آئندہ وقت ملا تو قلم اٹھاؤں گا۔ یہاں ایک امر کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں ذاتی طور پر ہمیشہ چوہدری اسلم صاحب کی سیاسی و انتظامی صلاحیتوں کا معترف رہا ہوں۔ آج بھی پورے گوجرانوالہ میں میرا شمار یقیناًان لوگوں میں ہوگا جو چوہدری صاحب کی ذات پر لگنے والے ایک داغ کا دفاع کرتے آئے ہیں، ایک ایسا داغ جس سے چوہدری صاحب کی ذات قطعاً معصوم ہے۔ اللہ انہیں صحت مند رکھے اور ان کے سایۂ شفقت کو دراز کرے۔ آمین
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ، گوجرانوالہ
تعارف و تبصرہ
ادارہ
’’خامہ بہ جوش‘‘
’’خامہ بہ جوش‘‘ برادرِ عزیز فصیح الدین اشرف کے کالموں پر مشتمل رشحاتِ قلم کا شاہکار ہے۔ مصنف پولیس سروسز آف پاکستان سے وابستہ ہیں اور علم و ادب کا طالب علمانہ ذوق رکھتے ہیں۔ ان کے مطالعات کا کینوس بڑا وسیع ہے۔ دنیائے علم کے تقریباً ہر موضوع پر وسیع معلومات رکھتے ہیں۔ اردو بازار میں ملازمت کے دوران ان کے پختہ علمی ذوق کے پیش نظر ان سے شناسائی ہوئی اور یہ تعلق خط و کتابت اور فون کے ذریعے تا دمِ ایں جاری ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے گوشہ ادب کوئٹہ سے شائع ہونے والی اپنی نادرِ روزگار تالیف ’’خامہ بہ جوش‘‘ ارسال فرمائی اور ساتھ ہی اس پر تبصرہ لکھنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ بڑے سائز کے 410 صفحات پر مشتمل یہ کتاب اگرچہ مجھ ایسے بے بضاعت اور کم علم کے تبصرے کی محتاج نہیں جس کو ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب اور احمد زین الدین صاحب مدیر روشنائی (کراچی) اور پروفیسر اسحاق وردگ صاحب جیسے اساطینِ علم و ادب نے خراجِ تحسین پیش کیا ہو۔ عجیب حُسنِ اتفاق کہیے یا پھر حُسنِ توارد سمجھیے کہ ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب نے لاہور میں بیٹھ کر اس پر ’’حرفِ چند‘‘ لکھا جبکہ زین الدین صاحب نے کراچی میں بیٹھ کر ’’علم کا جویا۔ فصیح الدین اشرف‘‘ کے عنوان سے لکھا اور دونوں نے اپنی اپنی تحریروں کا خاتمہ شاعر مشرق حکیمِ الامت علامہ اقبال کے اس شہرہ آفاق مصرع پر کہا۔
ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی
فکاہیہ کالم نگاری کے گل سرسید مشفق خواجہ مرحوم کے فکاہیہ کالموں کا مستقل عنوان ’’خامہ بہ گوش‘‘ ہوا کرتا تھا۔ فصیح الدین اشرف نے انہی سے اپنے کالموں کا عنوان مستعار لیا ہے جو ان کے کالموں پر ’’خامہ بہ جوش‘‘ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اتنی بڑی اور قد آور شخصیت کے اختیار کردہ نام کی خوشہ چینی کو مصنف موصوف نے بڑی خوبصورتی سے نبھایا ہے اور ان کے وقار کو قطعاً داغدار نہیں ہونے دیا۔ ’’خامہ بہ جوش‘‘ کا روپ دھار کر جب وہ اس وادئ پر خار میں نکلے ہیں تو ان کے سوزِ دروں، سیماب فطرتی اور علم کے ابلتے جوش نے نتیجتاً انہیں ’’خانہ بردوش‘‘ کر ہی چھوڑا۔ میری ان سے آخری بالمشافہ ملاقات پشاور میں ہوئی تھی، اس وقت سے لے کر تادمِ تحریر وہ ’’خانہ بردوش‘‘ ہی ہیں اور اگر ان کی فکر و نظر کے تیور یہی رہے تو ممکن نہیں کہ وہ کبھی اس ’’خانہ بردوشی‘‘ کی بساط لپیٹ پائیں گے اور اس آبلہ پا کالم نگار کی دیگر انفرادیتوں میں سے ایک انفرادیت بھی یہی ہے۔ وہ اس وقت آتشِ نمرود میں کودے ہیں جب گل و گلزار کی رنگینیوں سے متمتع ہونے کا سنہری وقت ہوتا ہے لیکن انہوں نے اس گنگا میں اشنان کو اپنی شان سے فروتر سمجھا اور قلندرانہ بانکپن کے ساتھ نعرۂ مستانہ لیے ہوئے صدائے جرس دینے لگے۔
انہوں نے اپنی کتاب کا انتساب جناب رسالت مآبؐ کی ذات بابرکات کے حضور نذرانۂ عقیدت کے طور پر پیش کیے جانے والے پرواز جالندھری کے ان اشعار سے کیا ہے:
لیتا ہوں تیرا نامؐ ہر اک جام سے پہلے
آتا ہی نہیں کیف تیرے نامؐ سے پہلے
ہر رنگ سے قرطاسِ عقیدت پہ نظر کی
ابھرا نہ کوئی نام تیرے نامؐ سے پہلے
دنیا تیری نسبت سے ہمیں جان رہی ہے
ورنہ یونہی پھرتے رہے بے نام سے پہلے
’’عرض کالم نگار‘‘، ڈاکٹر تحسین فراقی کے ’’حرفے چند‘‘ ، احمد زین الدین کے ’’علم کا جویا ۔ فصیح الدین اشرف‘‘ ، پروفیسر اسحاق وردگ کے فصیح الکالم اور آغا گل کے "Fasihuddin - A Regular Trajan" اور خود صاحب کتاب کے اپنے چشم کشا تعارف ’’میں کون ہوں‘‘ کے بعد کتاب کو مندرجہ ذیل جلی عنوانات کے تحت ترتیب دیا گیا ہے:
- سلوک و تصوف (اس میں چھ کالم ہیں)
- فوج اور قومی سلامتی (اس میں پانچ کالم ہیں)
- ہم، مغرب، امریکہ اور اسلام (اس میں تیرہ کالم ہیں)
- پولیس، علم الجرائم (کریمنالوجی) کرپشن اور امن عامہ (اس میں دس کالم ہیں)
- صحافت اور شعر و ادب (اس میں آٹھ کالم ہیں)
- چند سوالات (اس میں پانچ کالم ہیں)
- سیاست، قومی و سماجی مسائل اور نظریات و افکار (اس میں بیس کالم ہیں)
- عظیم پسندیدہ شخصیات (دو شخصیات پر کالم)
- عظیم زندہ شخصیات (اس میں چھ کالم ہیں)
- سیر و سیاحت اور بیرون ملک تقریریں (اس میں پانچ کالم ہیں)
- اسلامی مدارس اور امن و تحفظ (اس میں تین کالم ہیں)
- یادِ رفتگان (اس میں چار کالم ہیں)
- گوشۂ بلوچستان (اس میں سات کالم ہیں)
- قارئین کے تبصرے اور نقد و حرف (اس میں تین کالم ہیں)
- قندر مکرر (اس میں تین کالم ہیں)
- نقد و تاثرات (پروفیسر ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی مدظلہ کی تحریر)
اس طرح یہ کتاب سولہ جلی عنوانات اور بے شمار ذیلی عنوانات پر مشتمل کالموں کا ایک بصیرت افروز مرقع ہے۔ گویا کہ آسمانِ عبرت و بصیرت پر بکھری ہوئی کہکشاں ہے۔ اس میں نہ صرف وطن عزیز پاکستان کے سلگتے ہوئے مسائل کو موضوع بحث بنایا گیا ہے بلکہ عالمی سطح پر ان کے زوال و ادبار اور نکبت و بدحالی کے اسباب و علل کی دل لگتی ہوئی نشاندہی کی گئی ہے۔ مصنف بعض مقامات پر اپنے جذبات و احساسات کی ترجمانی کے نقطۂ عروج پر دکھائی دیتے ہیں۔ ہر کالم اس لائق ہے کہ اس پر ایک بسیط تبصرہ لکھا جا سکتا ہے۔ جب صریر نامہ کی وقعت کا یہ عالم ہو تو پھر جمیع کالموں پر ایک مختصر تبصرے میں قلم کشائی کا ر دارد ہے۔ مصنف کے استاد گرامی علی اصغر باواجی ان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اِک گونج بن کے پھیل رہے ہیں افق افق
ہم روحِ عصرِ نوا کی صدا کے سفیر ہیں
فصیح کے اندر ایک آفاقی اور تخلیقی صلاحیت موجود ہے جو ہر وقت ان کی معاونت کے لیے تیار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ زندگی میں وہ جس شعبے میں بھی داخل ہوئے وہاں انہوں نے کوئی اجنبیت محسوس نہیں کی۔ اپنی انفرادیت اور شناخت کو برقرار رکھا اور اس کی سر بلندی پر جا ٹھہرے۔ ایک بار کہنے لگے کہ باواجی! میری زندگی صرف ظاہری شکل و صورت پر مشتمل ایک وجود نہیں ہے بلکہ اس میں فطرت نے سوچنے اور محسوس کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھ دی ہے۔ میں نے قدرت کے دیے گئے ان عطیات کو بروئے کار لانا ہے اور اپنے تخلیقی عمل سے ایک جہانِ نو تخلیق کرنا ہے۔ ایسا نظام تعلیم رائج کرنا چاہتا ہوں جس سے انسانیت میں ایک وحدت پیدا ہو جائے اور یہ مذہبی، نسلی اور قبائلی تفاوت ختم ہو جائے۔ ایسے عمل ہی کو خیر کہتے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ فصیح اپنے اندر ایک تڑپ رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی معیار کے مطابق ان کے اپنے ملک میں ایک یونیورسٹی (انسٹیٹیوٹ آف کریمنالوجی) کا قیام ہو جہاں سے طالب علم ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کر کے ملک و قوم کی خدمت کریں۔‘‘ (بیک فلیپ)‘‘
فصیح الدین کے جذبات و احساسات کا ایک خوبصورت آئینہ خانہ ان کی یہ کتاب ہے جس کے مندرجات سے کماحقہ استفادہ کرنے کے لیے کتاب کا براہِ راست مطالعہ ناگزیر ہے۔ اس گنجینۂ معانی کو صوری و معنوی خوبیوں سے آراستہ کر کے اربابِ علم و دانش کی بارگاہ میں پیش کرنے کا سہرا جناب زعیم بخاری کے سر بندھتا ہے جنہوں نے خوبصورت گیٹ اپ، عمدہ طباعت اور حسین پیشکش کے باوجود قیمت قارئین کی دسترس سے ماورا نہیں ہونے دی۔
(مبصر : محمد شبیر قمر)
کھانسی سے وابستہ امراض اور ان سے حفاظت
حکیم محمد عمران مغل
قدیم اطباء عظام نے اپنے تجربات کی روشنی میں فرمایا کہ جس طرح زمین کو سیم برباد کر دیتی ہے، اسی طرح کھانسی نزلہ زکام جس مرد عورت کو لگ جائیں تو وہ بھی اپنے آپ کو سیم زدہ ہی سمجھے۔ یہ بیماریاں انسانی ہڈیوں کو کھوکھلا کر دیتی ہیں، کیونکہ آنے والی زندگی میں ان سے دمہ، دق، ٹی بی سیل اور لاتعداد دوسرے جان لیوا امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔ گزرے زمانہ میں تشویش پریشانی اس کا باعث ہوا کرتی تھی مگر آج خوراک کی کمی اور بے اعتدالی بھی اس کا بڑا باعث بن گئی ہے۔ اگر ڈالڈا سے بچیں اور ڈبے کا دودھ بھی نہ پئیں تو پھر مذکورہ امراض سے چھٹکارا قطعی ممکن ہے۔
ایک نہایت کم قیمت مگر مجرب ترین نسخہ پیش کرتا ہوں۔ کسی بھی قسم کی کھانسی نزلہ زکام یا دمہ دق ٹی بی یا سل کو پکڑے تو اجمل دواخانہ کی لعوق سپستان اور لعوق خیار شنبر دونوں کو یک جا کر کے صبح دوپہر شام بڑا چمچ چاٹ لیا کریں۔ نہایت خوش مزہ دلکش اور مفرح دوا ہے۔ ساتھ ہی حب کبدنو شادری ہمدرد کی دو دو گولیاں صبح شام کھانے کے بعد پانی سے پی لیا کریں۔ اگر فوری افاقہ چاہیں اور دیگر خطرناک کھانسی کی اقسام سے بھی بچنا چاہیں تو قرشی دواخانہ کی خمیرہ ابریشم حکیم ارشد والا استعمال کریں۔ صبح شام خالی پیٹ چھوٹا چمچہ لے لیں۔ اس سے خشک کھانسی اور سانس پھولنا آناً فاناً ختم ہو جائے گا۔ سینہ کی کھڑکھڑاہٹ اور آنے والے اوقات میں دمہ کا خطرے سے بھی ان شاء اللہ محفوظ رہیں گے۔
کھانسی شدت پکڑے اور لمبا عرصہ تک رہ جائے تو دمہ یا سل لازمی لگ جاتی ہے اور خدا نہ کرے پھیپھڑے کے مزمن امراض لگ سکتے ہیں۔ سینہ میں درد اور تنگی کے ساتھ عام جسمانی کمزوری شروع ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں اجمل دواخانہ کا شربت سیکو سونے پر سہاگہ ثابت ہوگا، ان شاء اللہ۔ مریض کو مکمل آرام سے رکھیں، مقوی اور زود ہضم اغذیہ دیں۔ دیسی چوزہ کی یخنی نہایت ضروری ہے۔ انڈہ اور گندم کا دلیہ بھی بے حد ضروری ہے۔ کبھی کبھی مونگ کی دال کی کھچڑی اور کھٹے پھلوں کے علاوہ ہر قسم کا پھل جو مریض پسند کرے دیں، لیکن بند پیکٹ کا دودھ اور جوس اور بوتلیں بالکل نہ دیں۔ آلو گوبھی، دال ماش اور چاول سے بھی مریض کو بچائیں۔ اگر سرد پانی سے غسل کر لیا تو تمام جسم میں درد پیدا ہو کر چلنا مشکل ہو جائے گا۔ ٹھنڈا پانی، برف، اے سی، کھلی ہوا میں چہل قدمی بھی نہ کریں۔ سرد ہوا کے جھونکے بڑے زیادہ خطرناک ہیں۔ جتنا ہو سکے جسم کو گرم رکھیں اور بادی اشیاء سے پرہیز کریں۔